Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-155

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Saeed
📍 Location Sacramento, USA
📅 Approved Date 25 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 0
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
گزشتہ سبق میں مولانا ہم نے صنعت تجاہل العارف پڑھی تھی بھئی کہ کوئی جاننے والا اپنے آپ کو بتکلف جاہل بنائے کسی نکتے کی وجہ سے بھئی۔ اور اس کے کئی نکات ہو سکتے ہیں جیسے توبیخ ہو سکتی ہے مولانا یا مبالغہ فی المدح ہو سکتا ہے یا مبالغہ فی الذم یا تدلہ اور تحیر مولانا۔ اور علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ میں اس صنعت کا نام سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِ الْمَعْلُومِ رکھتا ہوں بھئی اس لیے کہ یہ قرآن میں آئی ہے اور اس صورت میں اس کو تجاہل عارف کہنا یعنی جہل کی نسبت کسی لحاظ سے اللہ کی طرف آ رہی ہے تو یہ صحیح نہیں، تو وہ اس کا نام سَوْقُ الْمَعْلُومِ مَسَاقَ غَيْرِهِ رکھتے ہیں۔ اس کے بعد قَوْلٌ بِالْمُوجَبِ ہم نے پڑھی اور وہ دو قسم پر تھی۔ ایک یہ کہ ایک صفت تھی جو غیر کے کلام میں کنایہ واقع ہوئی تھی کسی سے اور اس پر کوئی حکم لگایا گیا تھا اور آپ اس صفت کو غیر کے لیے ثابت کرتے ہیں بغیر تعرض کے اس حکم کے، جیسے يَقُولُونَ لَئِنْ رَجَعْنَا إِلَى الْمَدِينَةِ لَيُخْرِجَنَّ الْأَعَزُّ مِنْهَا الْأَذَلَّ وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِهِ وَلِلْمُؤْمِنِينَ۔ منافقین نے دیکھو أَعَزُّ جو ہے صفت استعمال کی اپنے کلام کے اندر اور یہ کنایہ ہے ان کے گروہ سے یعنی منافقین مراد لیے اور أَذَلَّ صفت استعمال کی اور اس سے کنایہ کس کا کیا؟ مومنین کا اور ان کے لیے اپنے لیے ایک حکم ثابت کیا کہ کیا یہ جو أَعَزُّ ہیں یعنی گروہ منافقین یہ نکال دے گا کس کو؟ مومنین کو بھئی۔ تو اللہ نے فرمایا ذکر کیا کہ یہ جو وَلِلَّهِ الْعِزَّةُ یہ جو عزت ہے یہ تو اللہ اور اس کے رسول اور مومنین کے لیے ثابت ہے۔ اور دوسری قسم اس کی یہ تھی کہ غیر کے کلام میں ایک لفظ استعمال ہوا ہو ایک معنی کے اندر اور آپ اس لفظ کو محمول کرتے ہیں کس پر؟ دوسرے معنی پر محمول کرتے ہیں اس کے متعلق کو ذکر کرنے کے سبب سے بھئی۔ اس کے بعد صنعت اطراد تھی، وہ یہ کہ ممدوح وغیرہ، ممدوح اور یا غیر ممدوح ہو مذموم وغیرہ اور ان کے آباء کے اسماء ولادت کی ترتیب پر ذکر کیے جائیں بغیر کسی تکلف کے مولانا کلام کے اندر۔ اس کے بعد لفظی کی اقسام شروع ہوئی تھیں محسنات لفظیہ، اس میں سب سے پہلے جناس پڑھا مولانا۔ جناس کس کو کہتے تھے کہ دو لفظوں میں مشابہت ہو تلفظ کے اندر بھئی۔ اور پھر اس میں سے جناس تام یہ تھا کہ جس کے اندر انواع حروف کے اندر بھی کیا ہو؟ اتفاق ہو، ان کی تعداد کے اندر بھی، ان کی ہیئت یعنی حرکات و سکنات کے اندر بھی اور ترتیب کے اندر بھی تو اس کو کہتے ہیں جناس تام۔ پھر جناس تام کے اندر اگر دونوں کلمے ایک ہی نوع کے ہوں، دونوں اسم ہوں یا دونوں فعل ہوں یا دونوں حرف ہوں تو اس کو کہتے ہیں مولانا مماثل۔ اور اگر دونوں الگ الگ انواع کے ہوں، ایک فعل ہو اور دوسرا حرف ہو یا اسم ہو تو اس کو کہتے ہیں مستوفی۔ پھر اس کے بعد جناس تام کے اندر ایک مرکب ہے اور ایک مفرد ہے تو یہ جناس ترکیب ہے اور پھر اس میں سے اگر رسم الخط بھی ایک جیسا ہے تو اس کا نام متشابہ اور اگر رسم الخط ایک جیسا نہیں ہے تو اس کا نام مفروق ہے۔ اور اگر مختلف ہوں مولانا۔ بھئی چار چیزیں تھیں: انواع حروف، تعداد حروف، ہیئات حروف اور ترتیب حروف۔ تو اب ان میں سے ایک ایک مختلف ہوتی جائے گی، دو چیزیں نہیں مختلف ہوں گی بیک وقت، ایک چیز مختلف ہو گی اور باقی تینوں چیزیں ایک جیسی ہوں گی بھئی۔ تو اگر اختلاف کس کے اندر آئے؟ ہیئات حروف کے اندر بھئی، ایک لفظ پر ایک حرکت ہے اور دوسرے کلمے میں اس پہ دوسری حرکت ہے یا ایک متحرک ہے ایک کلمے میں دوسرے میں ساکن ہے تو اس کو جناس محرف کہتے ہیں مولانا، جیسے بُرْدٌ اور بَرْدٌ کا لفظ آیا تھا بھئی، مُفْرِطٌ اور مُفَرِّطٌ کا لفظ آیا تھا بھئی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا صاحب کتاب نے آپ کو کہ حرف مشدد جو ہے کس کے حکم میں ہے؟ مخفف کے حکم میں ہے ایک ہی۔ وَإِنِ اخْتَلَفَا أَيْ لَفْظَا الْمُتَجَانِسَيْنِ فِي أَعْدَادِهَا۔ دیکھو پہلے صرف ہیئت میں اختلاف آیا تھا، اب اگر مختلف ہوں دونوں لفظ متجانسین کس کے اندر؟ تعداد میں، باقی ہیئت، ترتیب، انواع سب ایک جیسے رہیں گے۔ أَيْ أَعْدَادِ الْحُرُوفِ بِأَنْ يَكُونَ فِي أَحَدِ اللَّفْظَيْنِ حَرْفٌ زَائِدٌ أَوْ أَكْثَرُ إِذَا سَقَطَ حَصَلَ الْجِنَاسُ التَّامُّ۔ کہ ایک لفظ کے اندر مولانا حرف زائد ہو دوسرے سے، ایک زائد ہو گا یا ایک سے زیادہ زائد ہوں گے۔ اس ایک زائد کو گرا دیں یا وہ جو زیادہ ہیں ان کو گرا دیں تو کیا حاصل ہو جائے؟ جناس تام حاصل ہو جائے گا بھئی۔ بھئی دیکھو انواع بھی ایک جیسی ہے اور تعداد میں صرف فرق ہے، ہیئت بھی ایک جیسی اور ترتیب بھی ایک جیسی ہے۔ وہ جو زائد ہیں وہ کبھی ایک زائد ہو گا کبھی ایک سے زیادہ زائد ہوں گے کہ ان کو اگر گرا دیا جائے تو پھر کیا حاصل ہو جائے گا؟ جناس تام حاصل ہو جائے گا۔ پھر مولانا اب انہوں نے بتایا آپ کو کبھی ایک زائد ہو گا کبھی ایک سے زیادہ زائد ہوں گے۔ پھر یہ ایک زائد کبھی ایک کلمے کے اول میں آئے گا یا وسط میں آئے گا یا آخر میں آئے گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ زائد ہیں تو یا کلمے کے اول میں آئیں گے یا درمیان میں آئیں گے یا آخر میں آئیں گے، مثالیں ذکر کریں گے بھئی۔ سُمِّيَ الْجِنَاسُ نَاقِصًا اس جناس کو ناقص کہتے ہیں لِنُقْصَانِ أَحَدِ اللَّفْظَيْنِ عَنِ الْآخَرِ بوجہ کم ہونے ایک لفظ کے دوسرے سے۔ وَذَلِكَ الِاخْتِلَافُ إِمَّا بِحَرْفٍ وَاحِدٍ فِي الْأَوَّلِ اور یہ اختلاف یا تو ایک حرف کے ساتھ ہو گا اور ابتداء میں ہو گا مثال کے طور پر وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إِلَى رَبِّكَ يَوْمَئِذٍ الْمَسَاقُ، اور لپٹ جائے گی پنڈلی کے ساتھ پنڈلی اور اس دن آپ کے رب کی طرف چلنا ہو گا، مَسَاقُ چلنا مولانا، موت کے وقت کا حال بیان ہو رہا ہے کہ موت کے وقت کیا آتی ہے؟ تمام تدبیریں رائیگاں جاتی ہیں اور بڑی شدت ہوتی ہے پنڈلی کے ساتھ پنڈلی لپٹ جاتی ہے اور رب کی طرف چلنا ہے۔ تو دیکھیے مولانا سَاقُ اور مَسَاقُ کا لفظ آیا دیکھو اور مَسَاقُ کے شروع میں کیا ہے ایک حرف زائد ہے بِزِيَادَةِ الْمِيمِ۔ أَوْ فِي الْوَسَطِ یا مولانا وہ ایک حرف زائد وسط میں ہو گا نَحْوُ جَدِّي جَهْدِي۔ جَدٌّ مولانا حصے کو کہتے ہیں اور جَهْدٌ کہتے ہیں مشقت محنت کو۔ میرا حصہ یعنی دنیا کے اندر جَهْدِي میری مشقت ہے، یعنی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ دنیا میں میرے حصے میں صرف محنت اور مشقت ہی آئی ہے یعنی تکلیف ہی تکلیف ہے۔ یا یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جَدِّي جَهْدِي کہ میرا حصہ مشقت ہے یعنی دنیا میں یہ جو میں نے حاصل کیا ہے دنیا کے اندر جو مال وغیرہ جو چیز حاصل کی ہے یہ مجھے کوئی وراثت میں نہیں ملی بلکہ یہ میری اپنی مشقت اور محنت ہے۔ تو دیکھو جَدِّي جَهْدِي دوسرے کلمے کے درمیان کیا ہے؟ ایک حرف زائد ہے اور وسط میں آ رہی ہے اس کے بِزِيَادَةِ الْهَاءِ ہاء کی زیادتی کے ساتھ۔ وَقَدْ سَبَقَ أَنَّ الْمُشَدَّدَ فِي حُكْمِ الْمُخَفَّفِ آپ کہیں گے بھئی ایک جَدِّي دال مشدد ہے اور دوسرے میں تو مخفف ہے تو کہتے ہیں یہ بات پہلے گزر چکی ہے مشدد بھی کس کے حکم میں ہے؟ مخفف میں۔ أَوْ فِي الْآخِرِ یا مولانا وہ حرف زائد آخر میں ہو گا ایک کلمے کے جیسے یہ شعر يَمُدُّونَ مِنْ أَيْدٍ عَوَاصٍ عَوَاصِمٍ۔ دیکھیے یہ پورا شعر دیکھ لیں نیچے درمیان میں مصرع دوسرا بھی آ رہا ہے يَمُدُّونَ مِنْ أَيْدٍ عَوَاصٍ عَوَاصِمٍ تَصُولُ بِأَسْيَافٍ قَوَاضٍ قَوَاضِبِ۔ مل گیا بھئی؟ اچھا، تو مَدَّ يَمُدُّ کے معنی لمبا کرنا، أَيْدٍ جمع ہے يَدٌ کی ہاتھ کو کہتے ہیں، عَوَاصٍ مولانا یہ جمع ہے عَاصِيَةٌ کی اور عَاصِيَةٌ کہتے ہیں لاٹھی سے پٹائی کرنے والا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ عَاصِيَةٌ کی جمع ہے کیونکہ يَدٌ جو ہے یہ مؤنث ہے مولانا، تو عَوَاصٍ اور یہ کس سے ہے؟ عَصَا يَعْصُو سے ہے مولانا جس کے معنی آتے ہیں لاٹھی سے پٹائی کرنا۔ عَوَاصِمٍ مولانا عَاصَمَ يُعَاصِمُ سے ہے بھئی اور اس کے معنی آتے ہیں بچانے کے، حفاظت کرنے کے بھئی۔ اور آگے تَصُولُ، صَالَ يَصُولُ کا معنی حملہ کرنا۔ سمجھ میں آیا؟ حملہ کرنا، جیسے گلستان میں وہ شعر آتا ہے إِذَا يَئِسَ الْإِنْسَانُ طَالَ لِسَانُهُ كَسِنِّورٍ مَغْلُوبٍ يَصُولُ عَلَى الْكَلْبِ، تو يَصُولُ حملہ کرنا۔ أَسْيَافٍ تلواریں، قَوَاضٍ قَاضٍ کی جمع ہے فیصلہ کرنے والی، قَوَاضِبِ کاٹنے والی بھئی۔ يَمُدُّونَ وہ لمبے کرتے ہیں مِنْ أَيْدٍ کن کو؟ اپنے ہاتھوں کو، عَوَاصٍ جو مارنے والے ہیں لیکن یہاں لاٹھی مارنا نہیں مراد یہاں تلوار مارنا مراد ہے، تلوار مارنے والے ہیں اپنے دشمنوں کو، عَوَاصِمٍ اور بچانے والے ہیں، کس کو بچانے والے ہیں؟ اپنے دوستوں کو بچانے والے ہیں، تَصُولُ وہ حملہ کرتے ہیں بِأَسْيَافٍ کس کے ساتھ؟ یہ ہاتھ حملہ کرتے ہیں مولانا تلواروں کے ساتھ، ایسی تلواریں قَوَاضٍ جو فیصلہ کرنے والی ہیں مولانا قتل کے ساتھ، قَوَاضِبِ اور کاٹنے والی ہیں۔ تو دیکھو مقام استشہاد ہے عَوَاصٍ اور عَوَاصِمٍ بھئی، تو دیکھو عَوَاصٍ اور عَوَاصِمٍ ایک کلمے کے اندر کیا ہے میم زائد ہے اور کہاں پر زائد ہے؟ آخر میں زائد ہے بِزِيَادَةِ الْمِيمِ میم کی زیادتی کے ساتھ۔ وَلَا اعْتِبَارَ بِالتَّنْوِينِ کہتے ہیں تنوین کا کوئی اعتبار نہیں اس لیے کیونکہ یہ انفصال کے حکم میں ہے یا یہ گرنے کا بھی امکان ہے اس کے اندر اگر اضافت وغیرہ ہو جائے۔ وَقَوْلُهُ مِنْ أَيْدٍ فِي مَوْقِعِ مَفْعُولِ يَمُدُّونَ عَلَى زِيَادَةِ مِنْ۔ بھئی یہ جو مِنْ آیا يَمُدُّونَ کے اندر بھئی تو کہتے ہیں بھئی مَدَّ يَمُدُّ آپ کو میں نے ضابطہ بتایا تھا کہ مضاعف از باب نَصَرَ آئے تو وہ متعدی ہو گا اور از باب ضَرَبَ آئے تو وہ کیا ہو گا؟ لازمی۔ فَرَّ يَفِرُّ بھاگنا یہ لازمی ہے، مَدَّ يَمُدُّ لمبا کرنا، بڑھاتے ہیں وہ اپنے ہاتھ بھئی، تو یہ تو متعدی خود ہے تو مِنْ لانے کی کیا ضرورت تھی یہاں پر؟ تو یا تو یہ مِنْ زائدہ ہو گا اور یا یہ کیا ہے؟ مِنْ تبعیضیہ۔ بعض علماء کہتے ہیں یہ مِنْ زائدہ ہے اور بعض کیا کہتے ہیں یہ مِنْ تبعیضیہ ہے۔ دراصل دو مذہب ہیں یہاں پر مولانا۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ مِنْ زائدہ کلام موجب میں نہیں آتا بلکہ کس میں آتا ہے؟ کلام غیر موجب میں آتا ہے۔ کلام موجب کس کو کہتے ہیں جس میں نفی، نہی اور استفہام نہ ہو اور غیر موجب جس میں نفی، نہی یا استفہام ہو۔ تو مِنْ زائدہ کلام موجب میں نہیں آتا بعض علماء کے نزدیک اور بعض علماء کیا کہتے ہیں کہ کلام موجب میں بھی مِنْ زائدہ آ جاتا ہے۔ تو یہ کلام ہے موجب مولانا، تو جو علماء یہ فرماتے ہیں کہ مِنْ زائدہ کلام موجب میں نہیں آتا وہ اس کو کیا بناتے ہیں؟ مِنْ تبعیضیہ۔ اور جن کے نزدیک وہ موجب میں بھی زائدہ آ سکتا ہے غیر موجب میں بھی وہ اس کو کیا بناتے ہیں؟ مِنْ زائدہ بناتے ہیں، یہ زائد ہے اور يَمُدُّونَ کے أَيْدٍ اس کا مفعول ہے مولانا۔ سمجھ میں آئی بات کہ نہیں آئی بھئی؟ وَقَوْلُهُ مِنْ أَيْدٍ فِي مَوْقِعِ مَفْعُولِ يَمُدُّونَ عَلَى زِيَادَةِ مِنْ یہ مِنْ أَيْدٍ جو ہے یہ مولانا مفعول کی جگہ پر واقع ہوا ہے يَمُدُّونَ کے لیے عَلَى زِيَادَةِ مِنْ مِنْ کی زیادتی پر كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْأَخْفَشِ جیسے کہ مذہب ہے امام اخفش کا وہ فرماتے ہیں مِنْ کلام غیر موجب میں زائدہ آ سکتا ہے۔ أَوْ عَلَى كَوْنِهَا لِلتَّبْعِيضِ باقی ائمہ فرماتے ہیں نہیں آ سکتا تو اس صورت میں یہ تبعیض کے لیے ہو گا كَمَا فِي قَوْلِهِمْ جیسے کہ اس قول کے اندر آتا ہے هَزَّ مِنْ عِطْفِهِ، حرکت دی اس نے اپنے بعض پہلو کو۔ عِطْفٌ پہلو کو کہتے ہیں، مراد کیا ہے بعض اعضاء یعنی کندھے وغیرہ کو اس نے حرکت دی وَحَرَّكَ مِنْ نَشَاطِهِ اور حرکت دی کس کی وجہ سے؟ خوشی کی وجہ سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو هَزَّ مِنْ عِطْفِهِ یہ کنایہ ہے خوشی سے، اردو میں اس کا معنی کریں گے جھومنا بھئی، کیا کریں گے؟ خوشی سے جھومنے لگا۔ أَوْ عَلَى أَنَّهُ صِفَةُ مَحْذُوفٍ تو تبعیض کی صورت میں مولانا جیسے یہاں هَزَّ مِنْ کے اندر تبعیض کے لیے آیا تھا اسی کی طرح ہے، یا مولانا تبعیض کے لیے ہے لیکن صفت ہے محذوف کی أَيْ يَمُدُّونَ سَوَاعِدَ مِنْ أَيْدٍ عَوَاصٍ، بڑھاتے ہیں سَوَاعِدَ کہتے ہیں مولانا یہ کندھے سے لے کر کہنی تک کے حصے کو کیا کہتے ہیں؟ سَاعِدٌ یہ بازو کا یہ حصہ۔ تو وہ اپنے بازوؤں کو بڑھاتے ہیں کس میں سے؟ مِنْ أَيْدٍ عَوَاصٍ اپنے ضرب لگانے والے ہاتھوں میں سے۔ تو دیکھو يَدٌ میں سے عَضُدٌ بعض ہے یا نہیں مولانا؟ بعض ہے تو یہ مِنْ تبعیضیہ بن گیا۔ عَوَاصٍ جَمْعُ عَاصِيَةٍ یہ جمع ہے کس کی؟ عَاصِيَةٌ کی مِنْ عَصَاهُ عَصَا يَعْصُو عَصًا سے ہے یہ مولانا أَيْ ضَرَبَهُ بِالْعَصَا یعنی اس کو لاٹھی سے پٹائی کی۔ وَعَوَاصِمُ مِنْ عَصَمَهُ أَيْ حَفِظَهُ وَحَمَاهُ یہ عَصَمَ سے ہے اور اس کے معنی کیا ہیں؟ بچانے کے، حَفِظَهُ وَحَمَاهُ دونوں کا ایک معنی ہے بچانا۔ وَتَمَامُهُ اور پورا شعر یہ ہے مولانا تَصُولُ بِأَسْيَافٍ قَوَاضٍ قَوَاضِبِ وہ حملہ کرتے ہیں ایسی تلواروں کے ساتھ جو فیصلہ کرنے والی ہیں کاٹنے والی ہیں۔ اب دیکھو پورے شعر کا ترجمہ کریں گے علامہ تفتازانی، شعر پر بھی نظر رکھنا اور ترجمے پر بھی: أَيْ يَمُدُّونَ أَيْدِيًا وہ مِنْ زائدہ نکال دیا، وہ بڑھاتے ہیں ایسے ہاتھوں کو ضَارِبَاتٍ لِلْأَعْدَاءِ جو مارنے والے ہیں کن کو؟ دشمنوں کو، یہ عَوَاصٍ کا ترجمہ کیا۔ آگے عَوَاصِمٍ کا ترجمہ ہے حَامِيَاتٍ لِلْأَوْلِيَاءِ اور کیا کرنے والے ہیں؟ حفاظت کرنے والے ہیں اپنے دوستوں کی۔ صَائِلَاتٍ یہ تَصُولُ کا ترجمہ کر رہے ہیں صَائِلَاتٍ عَلَى الْأَقْرَانِ اور حملہ کرنے والے ہیں کس پر؟ اپنے ہم پلہ لوگوں پر، أَقْرَانٌ جمع ہے قِرْنٌ کی اور کس کو کہتے ہیں؟ ہم پلہ ہمسر، اپنے ہم پلہ اور ہمسر لوگوں پر بِسُيُوفٍ ایسی تلواروں کے ساتھ، قَوَاضٍ کا ترجمہ کر رہے ہیں مولانا حَاكِمَةٍ بِالْقَتْلِ ایسی تلواریں جو فیصلہ کرنے والی ہیں قتل کے ساتھ، قَاطِعَاتٍ اور کاٹنے والی ہیں، یہ قَوَاضِبِ کا ترجمہ کیا۔ وَرُبَّمَا سُمِّيَ هَذَا الْقِسْمُ الَّذِي يَكُونُ الزِّيَادَةُ فِي الْآخِرِ اور بسا اوقات یہ قسم جس کے آخر میں زیادتی ہوتی ہے اس کو مُطَرَّفًا مطرف بھی کہہ دیتے ہیں۔ وَإِمَّا بِأَكْثَرَ یا زیادتی کیا ہو گی مولانا پہلے کہا ایک حرف کے ساتھ ہو گی یا ایک سے زیادہ، إِمَّا بِأَكْثَرَ مِنْ حَرْفٍ وَاحِدٍ یا وہ زیادتی ایک حرف سے زیادہ کے ساتھ ہو گی وَهُوَ عَطْفٌ عَلَى قَوْلِهِ إِمَّا بِحَرْفٍ یہ عطف ہے إِمَّا بِحَرْفٍ پر۔ وَلَمْ يَذْكُرْ مِنْ هَذَا الضَّرْبِ إِلَّا مَا يَكُونُ الزِّيَادَةُ فِي الْآخِرِ۔ بھئی زیادتی ایک سے زائد حرف کے ساتھ زیادتی ہو گی اور یہ ایک سے زائد جو حروف ہیں زائد یہ شروع میں آئیں گے یا وسط میں آئیں گے یا آخر میں آئیں گے، تو اس میں سے صرف آخر والی مثال ذکر کریں گے درمیان میں اور شروع والی مثال ذکر نہیں کی اس لیے کہ وہ بہت قلیل ہے۔ اسی لیے کہا اور ذکر نہیں کیا مصنف نے اس قسم میں سے إِلَّا مَا يَكُونُ الزِّيَادَةُ فِي الْآخِرِ مگر وہ کہ زیادتی کہاں پر آ رہی ہو؟ آخر میں ہو كَقَوْلِهَا جیسے خنساء کا شعر ہے إِنَّ الْبُكَاءَ هُوَ الشِّفَاءُ مِنَ الْجَوَى بَيْنَ الْجَوَانِحِ۔ بے شک رونا جو ہے وہ شفا دیتا ہے مِنَ الْجَوَى، جَوًى کہتے ہیں مولانا سوزش غم و عشق، عشق کی جو تپش ہے جلن ہے اس کو کہتے ہیں بھئی، مِنَ الْجَوَى أَيْ حُرْقَةِ الْقَلْبِ رونا جو ہے وہ شفا ہے کس سے مولانا؟ عشق کی تپش سے حُرْقَةِ الْقَلْبِ دل کی جلن سے بَيْنَ الْجَوَانِحِ کہاں پر؟ پسلیوں کے بیچ، پسلیوں کے بیچ جو سوزش قلب ہے مولانا سوزش عشق ہے اس کے لیے شفا دینے والی ہے کیا چیز؟ رونا۔ بِزِيَادَةِ النُّونِ وَالْهَاءِ دیکھو جَوَى اور جَوَانِحِ آیا بھئی، جَوَى اور جَوَانِحِ تو دیکھو ایک میں دو حرف زائد ہیں اور کہاں زائد ہیں؟ آخر میں نون اور حا۔ وَرُبَّمَا سُمِّيَ هَذَا النَّوْعُ مُذَيَّلًا بسا اوقات اس نوع کو کیا کہہ دیتے ہیں؟ مذیل کہتے ہیں مولانا۔ وَإِنِ اخْتَلَفَا اور اگر اختلاف ہو أَيْ لَفْظَا الْمُتَجَانِسَيْنِ فِي أَنْوَاعِهَا أَيْ أَنْوَاعِ الْحُرُوفِ انواع حروف میں اختلاف ہو مولانا، تعداد ایک جیسی ہو گی، ہیئت ایک جیسی ہو گی، ترتیب ایک جیسی صرف انواع حروف میں کیا ہو گا؟ اختلاف ہو گا۔ فَيُشْتَرَطُ أَلَّا يَقَعَ الِاخْتِلَافُ بِأَكْثَرَ مِنْ حَرْفٍ وَاحِدٍ تو شرط لگائی گئی ہے مولانا کہ ایک سے زیادہ حرف میں اختلاف نہیں ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے نَصَرَ نَظَرَ تو دیکھو صرف ایک حرف میں درمیان میں ایک میں صاد آ رہا ہے دوسرے میں کیا آ رہا ہے؟ ظاء۔ ایک سے زیادہ میں اختلاف نہیں آنا چاہیے، کیوں بھئی ایک سے زیادہ میں کیوں نہیں آنا چاہیے اختلاف؟ کہتے ہیں وَإِلَّا لَبَعُدَ بَيْنَهُمَا التَّشَابُهُ بھئی ورنہ ان کے درمیان مشابہت کیا ہو جائے گی؟ بعید ہو جائے گی وَلَمْ يَبْقَ التَّجَانُسُ اور تجانس باقی نہیں رہے گا كَلَفْظَيْ نَصَرَ وَنَكَلَ جیسے کہ نَصَرَ اور نَكَلَ کا لفظ ہے کہ ان میں تجانس ہے ہی نہیں کیونکہ دو لفظوں کا فرق آ گیا۔ اچھا مولانا دو حرفوں کا فرق ہو گا ایک میں ایک حرف آ رہا ہے دوسرے میں دوسرا حرف آ رہا ہے، پھر یہ جو دو حرف آ رہے ہیں یہ قریب المخرج ہوں گے یا بعید المخرج ہوں گے تو دو قسمیں بن جائیں گی۔ ثُمَّ الْحَرْفَانِ اللَّذَانِ وَقَعَ فِيهِمَا الِاخْتِلَافُ پھر وہ حرف جن کے درمیان اختلاف واقع ہو إِنْ كَانَا مُتَقَارِبَيْنِ فِي الْمَخْرَجِ اگر وہ دونوں قریبی ہیں مخرج کے اندر سُمِّيَ الْجِنَاسُ مُضَارِعًا تو اس جناس کو کیا کہتے ہیں؟ مضارع۔ وَهُوَ ثَلَاثَةُ أَضْرُبٍ اور یہ تین قسم پر ہے اس لیے کہ حرف اجنبی شروع میں آئے گا یا درمیان میں آئے گا یا آخر میں آئے گا لِأَنَّ الْحَرْفَ الْأَجْنَبِيَّ إِمَّا فِي الْأَوَّلِ یا تو اول میں ہو گا جیسے بَيْنِي وَبَيْنَ كِنِّي لَيْلٌ دَامِسٌ وَطَرِيقٌ طَامِسٌ، میرے درمیان اور میرے گھر کے درمیان، كِنٌّ کاف کے کسرے نون مشدد مولانا یہ گھر کو کہتے ہیں، میرے اور میرے گھر کے بیچ لَيْلٌ دَامِسٌ تاریک رات ہے وَطَرِيقٌ طَامِسٌ اور مٹے ہوئے نشانات والا راستہ ہے، طَامِسٌ کہتے ہیں وہ راستہ طَرِيقٌ طَامِسٌ جس کے نشانات مٹ گئے ہوں بھئی۔ تو دیکھو دَامِسٌ طَامِسٌ عدد حروف بھی ایک برابر ہے، حرکتیں بھی ایک جیسی اور ترتیب بھی ہے، صرف شروع میں ایک نوع میں فرق ہے ایک میں دال آ رہا ہے ایک میں طاء اور دونوں قریب المخرج ہیں دال طاء۔ أَوْ فِي الْوَسَطِ یا کیا ہو گا مولانا؟ یا وہ وسط میں آئے گا وہ حرف اجنبی جیسے اللہ کے اس قول میں وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ، يَنْهَوْنَ يَنْأَوْنَ بھئی ہاء اور ہمزہ درمیان میں آئے مولانا کلمے کے اور دونوں حلقی ہیں قریب المخرج ہیں۔ وَهُمْ يَنْهَوْنَ عَنْهُ اور وہ اس سے روکتے ہیں مولانا وَيَنْأَوْنَ عَنْهُ اور خود بھی اس سے دور رہتے ہیں، سمجھ میں آیا؟ خود بھی ایمان نہیں لے کر آتے اس سے رکتے ہیں اور دوسروں کو بھی روکتے ہیں اور خود بھی دور رہتے ہیں۔ أَوْ فِي الْآخِرِ یا مولانا وہ حرف اجنبی کہاں آئے گا؟ آخر میں آئے گا جیسے الْخَيْلُ مَعْقُودٌ بِنَوَاصِيهَا الْخَيْرُ، الْخَيْلُ الْخَيْرُ دیکھو ایک کے آخر میں لام ہے اور ایک کے آخر میں راء تو ایک حرف کا فرق ہے اور دونوں قریب المخرج ہیں۔ الْخَيْلُ گھوڑے، خَيْلٌ یاد رکھو گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں ایک گھوڑے کو نہیں کہتے، الْخَيْلُ مَعْقُودٌ گھوڑے جو ہیں مَعْقُودٌ باندھی گئی ہے بِنَوَاصِيهَا ان کی پیشانیوں کے ساتھ الْخَيْرُ کیا چیز؟ گھوڑوں کی پیشانی کے ساتھ بھلائی باندھی گئی یعنی گھوڑوں کی پیشانیوں میں خیر ہے۔ وَلَا يَخْفَى تَقَارُبُ الدَّالِ وَالطَّاءِ اور مخفی نہیں ہے مولانا دیکھو پہلی مثال میں دَامِسٌ طَامِسٌ دال اور طاء کا تقارب قریب المخرج ہونا مخفی نہیں ہے، وَكَذَا الْهَاءُ وَالْهَمْزَةُ اور دوسری میں يَنْهَوْنَ وَيَنْأَوْنَ ہاء اور ہمزہ کا قریب المخرج ہونا وہ بھی اسی طرح ہیں قریب المخرج، وَكَذَا اللَّامُ وَالرَّاءُ اور الْخَيْلُ اور الْخَيْرُ کے اندر لام اور راء بھی اسی طرح ہیں۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْحَرْفَانِ مُتَقَارِبَيْنِ یعنی اگر دونوں حرف متقاربین نہ ہوں سُمِّيَ لَاحِقًا اس کو کیا کہتے ہیں جناس کو؟ لاحق کہتے ہیں۔ وَهُوَ أَيْضًا پھر یہ بھی مولانا یا تو اول میں ہو گا یا وسط میں ہو گا یا آخر میں ہو گا جیسے وَيْلٌ لِكُلِّ هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ۔ تو دیکھو هُمَزَةٍ لُمَزَةٍ حرکات بھی ایک جیسی مولانا، تعداد بھی ایک جیسی، ترتیب بھی ایک جیسی صرف ایک نوع حرف میں فرق ہے ایک کے شروع میں لام اور ایک کے ہاء اور وہ شروع میں آیا بھئی۔ ہلاکت ہے ہر عیب نکالنے والے کے لیے اور طعنہ دینے والے کے لیے۔ الْهُمَزَةُ الْكَسْرُ، هُمَزَةٌ کا معنی ہے توڑنا یعنی توڑنے والا وَاللُّمَزَةُ الطَّعْنُ اور لُمَزَةٌ کا کیا معنی ہے؟ طعن۔ وَشَاعَ اسْتِعْمَالُهَا فِي الْكَسْرِ مِنْ أَعْرَاضِ النَّاسِ، توڑنا ہے هُمَزَةٌ کے معنی میں لیکن عام رائج کیا ہے عزت توڑنا یعنی ہتک عزت کرنا، عیب وغیرہ نکالنا۔ وَشَاعَ اسْتِعْمَالُهَا فِي الْكَسْرِ مِنْ أَعْرَاضِ النَّاسِ اور شائع ہے اس کا استعمال لوگوں کی عزتیں توڑنے میں یعنی عیب نکالنے میں وَالطَّعْنِ فِيهَا اور طعنہ دینے میں۔ وَبِنَاءُ فُعَلَةٍ يَدُلُّ عَلَى الِاعْتِيَادِ، فُعَلَةٌ کی بناء دلالت عادت پر کرتی ہے بھئی۔ فُعَلَةٌ یہ وزن آتا ہے عادت کے لیے، هُمَزَةٌ اس کو نہیں کہیں گے جس نے ایک دفعہ دو دفعہ عیب نکال دیا بلکہ جس کی عادت ہی عیب نکالنا ہو۔ لُمَزَةٌ اس کو نہیں کہیں گے جس نے ایک دو چار دفعہ طعنے دے دیے نہیں جس کی کیا ہو؟ عادت ہی ہو۔ اسی طرح ضُحَكَةٌ اس کو کہیں گے جس کی عادت ہی کیا ہو؟ ہنستے رہنے کی۔ تو بناء فُعَلَةٍ يَدُلُّ عَلَى الِاعْتِيَادِ یہ کس پر دلالت کرتا ہے؟ عادت پر۔ أَوْ فِي الْوَسَطِ یا کہاں آئے گا مولانا وہ حرف؟ وسط میں آئے گا جیسے ذَلِكَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْرَحُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُونَ، یہ سزا ان سے کہا جائے گا بھئی کہ تمہیں اس وجہ سے ہے بسب اس کے کہ تم زمین میں خوش ہوا کرتے تھے بِغَيْرِ الْحَقِّ بغیر حق کے زمین میں خوش، کفار وغیرہ کو سزا دی جائے گی تو زمین میں ناحق تم خوشیاں مناتے تھے وَبِمَا كُنْتُمْ تَمْرَحُونَ اور بسب اس کے جو تم اتراتے تھے بھئی فخر کرتے تھے۔ تو دیکھو تَفْرَحُونَ تَمْرَحُونَ فاء اور میم آئے مولانا۔ لیکن مولانا فاء بھی شفوی ہے ہونٹوں سے ادا، میم بھی شفوی ہونٹوں سے ادا اور یہ مثالیں کس کی چل رہی ہیں؟ بعید المخرج کی اور ان کے تو مخرج کیا ہیں؟ قریب، اسی لیے علامہ تفتازانی بھی اعتراض کر رہے ہیں وَفِي عَدَمِ تَقَارُبِ الْفَاءِ وَالْمِيمِ نَظَرٌ اور فاء اور میم کے عدم تقارب کے اندر کیا ہے؟ نظر ہے فَإِنَّهُمَا شَفَوِيَّتَانِ اس لیے کہ دونوں شفوی ہیں۔ کہتے ہیں وَإِنْ أُرِيدَ بِالتَّقَارُبِ کہتے ہیں بھئی یا تقارب کا یہ معنی تقارب کا معنی مخرج تھا اور مخرج کے اعتبار سے تو یہ دونوں بھی کیا ہیں؟ قریب، لہذا بعید کے طور پر بطور مثال ان کو ذکر کرنا صحیح نہیں۔ یا مراد آپ کی یہ ہو گی کہ دونوں کا ادغام ہو سکے بھئی، کیا ہو سکے؟ ادغام ہو سکے، جن کا ادغام ہو سکتا ہے وہ قریب ہیں جن کا ادغام نہیں ہو سکتا وہ بعید ہیں، تو کہتے ہیں پھر بھی اشکال نہیں ختم ہوتا۔ اگر آپ یہ کہتے ہیں فاء اور میم کا ادغام جیسے نہیں ہوتا اس لیے یہ بعید ہیں تو پھر تو کہتے ہیں وہ جو قریب کے اندر ہاء اور ہمزہ آئے تھے ان کا بھی ادغام نہیں ہوتا پھر تو ان کو بھی کس میں سے کرنا پڑے گا؟ بعید میں سے، تو بات کسی صورت میں درست نہیں ہوتی لہذا یہ مثال صحیح مطابق نہیں مولانا ممثل کے۔ وَإِنْ أُرِيدَ بِالتَّقَارُبِ أَنْ يَكُونَا بِحَيْثُ تُدْغَمُ إِحْدَاهُمَا فِي الْأُخْرَى فَالْهَاءُ وَالْهَمْزَةُ لَيْسَتَا كَذَلِكَ، فاء نہیں ہے فَالْفَاءُ مولانا فَالْهَاءُ ہونا چاہیے بھئی۔ اور اگر ارادہ کیا گیا تقارب سے کہ ہوں دونوں اس طور پر کہ ایک کا ادغام کیا جائے دوسرے کے اندر تو ہاء اور ہمزہ بھی اس طرح نہیں۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یا تو قریب المخرج کا معنی پہلے بتایا تھا اس کو اگر لیں کہ مخرج قریب قریب ہے تو پھر بھی یہ بعید کی مثال ہے فاء اور میم بعید المخرج نہیں ہیں بلکہ کیا ہیں؟ قریب المخرج۔ اور اگر آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ قریب المخرج ہونے کا یہ معنی کہ ان میں ادغام ہو سکے بعید المخرج ہونے کا یہ معنی کہ ان میں ادغام نہ ہو سکے اور فاء اور میم میں چونکہ ادغام نہیں ہوتا اس لیے یہ کیا ہے؟ بعید المخرج، کہتے ہیں پھر تو وہ قریب المخرج والی مثال غلط ہو جائے گی کیونکہ ہاء اور ہمزہ وہاں آیا اور ان میں بھی ادغام نہیں ہوتا۔ أَوْ فِي الْآخِرِ یا مولانا وہ بعید المخرج آخر میں آئیں گے جیسے وَإِذَا جَاءَهُمْ أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ، اور اگر آ جائے ان کے پاس منافقین کے پاس آ جائے مولانا أَمْرٌ مِنَ الْأَمْنِ کوئی امن کی خبر آ جائے، تو دیکھو أَمْرٌ أَمْنٌ راء اور نون کا فرق ہے اور آخر میں آیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَإِنِ اخْتَلَفَا أَيْ لَفْظَا الْمُتَجَانِسَيْنِ اور اگر اختلاف ہو لفظ متجانسین میں فِي تَرْتِيبِهِمَا کس کے اندر؟ ترتیب میں۔ دیکھو ہیئت کے اندر بھی اختلاف ذکر ہو گیا، تعداد کے اندر بھی ذکر ہو گیا، انواع میں بھی، اب صرف کیا رہ گیا؟ ترتیب میں، أَيْ تَرْتِيبِ الْحُرُوفِ ترتیب حروف میں بِأَنْ يَتَّحِدَ النَّوْعُ وَالْعَدَدُ وَالْهَيْئَةُ کہ عدد، نوع اور ہیئت میں تو اتفاق ہے لَكِنْ قُدِّمَ فِي أَحَدِ اللَّفْظَيْنِ بَعْضُ الْحُرُوفِ وَأُخِّرَ فِي اللَّفْظِ الْآخَرِ ایک لفظ میں بعض حروف کو مقدم کر دیا جائے اور دوسرے میں مؤخر سُمِّيَ هَذَا النَّوْعُ تَجْنِيسَ الْقَلْبِ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تجنیس القلب کہتے ہیں جیسے حُسَامُهُ فَتْحٌ لِأَوْلِيَائِهِ حَتْفٌ لِأَعْدَائِهِ، اس کی تلوار فتح ہے دوستوں کے لیے اور موت ہے دشمنوں کے لیے۔ فَتْحٌ حَتْفٌ مولانا دیکھو وہی حروف ہیں، تعداد بھی وہی، ہیئت بھی وہی اور نوع بھی وہی صرف ترتیب، فَتْحٌ میں فاء تاء حاء اور اس میں حاء تاء فاء عکس ہے، وَيُسَمَّى قَلْبَ كُلٍّ اور پھر اس کو کیا کہتے ہیں مولانا؟ قلب کل کیونکہ ساروں کی ترتیب الٹ گئی، اول آخر بن گیا آخر اول بن گیا لِانْعِكَاسِ تَرْتِيبِ الْحُرُوفِ كُلِّهَا اس لیے کہ سارے حروف کی ترتیب الٹ گئی۔ وَنَحْوُ اور جیسے اللّهُمَّ اسْتُرْ عَوْرَاتِنَا وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا، اے اللہ ہمارے عیبوں کو ڈھانپ لیجیے وَآمِنْ رَوْعَاتِنَا اور ہمارے خوفوں کو امن دے دیجیے یعنی ہمیں بے خوف کر دیجیے خوف ہم سے دور کر دیجیے۔ رَوْعَاتٌ رَوْعَةٌ کی جمع ہے اور خوف کو کہتے ہیں بھئی۔ اور عَوْرَةٌ مولانا کس کو کہتے ہیں؟ عیب کو کہتے ہیں بھئی، وہ چیز جس کا ظاہر کرنا عیب ہو اس کو کیا کہتے ہیں؟ عورت کہتے ہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اسی لیے حضرت شیخ الترمذی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اردو میں خاتون کو عورت کہا جاتا ہے اور اس میں نکتہ یہ ہے مولانا کہ اس کا ظاہر کرنا بھی کیا ہے؟ عیب ہے تو یہ نکتہ ہے بھئی۔ تو دیکھو عَوْرَاتِنَا رَوْعَاتِنَا، عین واو راء آیا تھا پہلے میں، دوسرے میں عین واو راء کو کیا کیا؟ راء واو عین، تو پورا کلمہ الٹا یا کچھ کلمہ بھئی؟ کچھ کلمہ الٹ گیا تو اس کو کیا کہتے ہیں وَيُسَمَّى قَلْبَ بَعْضٍ قلب بعض اس کو کہتے ہیں مولانا، جیسے اسی طرح اللّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الْمَرْحُومِينَ وَلَا تَجْعَلْنَا مِنَ الْمَحْرُومِينَ، تو ایک مَرْحُومِينَ ایک مَحْرُومِينَ یہ بھی کیا ہے مولانا؟ قلب بعض ہے إِذْ لَمْ يَقَعِ الِانْعِكَاسُ إِلَّا بَيْنَ بَعْضِ حُرُوفِ الْكَلِمَةِ اس لیے کہ واقع نہیں ہوا انعکاس مگر کلمے کے بعض حروف میں۔ وَإِذَا وَقَعَ أَحَدُهُمَا أَيْ أَحَدُ اللَّفْظَيْنِ الْمُتَجَانِسَيْنِ تَجَانُسَ الْقَلْبِ فِي أَوَّلِ الْبَيْتِ وَاللَّفْظُ الْآخَرُ فِي آخِرِهِ سُمِّيَ تَجْنِيسُ الْقَلْبِ حِينَئِذٍ مَقْلُوبًا مُجَنَّحًا۔ بھئی جن کے اندر جناس قلب ہے چاہے قلب کل ہے یا قلب بعض ہے مولانا، تو اس قسم کے متجانسین میں سے اگر ایک شعر کے شروع میں آئے اور دوسرا کہاں آئے؟ شعر کے آخر میں آئے تو اس کو کہتے ہیں مقلوب مجنح۔ کیا کہتے ہیں؟ مقلوب مجنح، مُجَنَّحٌ جَنَاحٌ سے ہے پر کو کہتے ہیں، ایک شعر کے بالکل شروع میں آ رہا ہے اور دوسرا آخر میں آ رہا ہے جیسے دیکھیے اگلے شعر میں لَاحَ أَنْوَارُ الْهُدَى مِنْ كَفِّهِ فِي كُلِّ حَالٍ۔ لَاحَ اور حَالٍ، لام الف حاء ایک میں تھا دوسرے کے اندر حاء الف لام تو دیکھو قلب ہوا ہے ان میں اور ایک شعر کے شروع میں ایک آخر میں تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مقلوب مجنح۔ اور جب واقع ہو دو لفظوں میں سے جن میں جناس قلب ہو ایک اول شعر میں اور دوسرا لفظ آخر کے اندر تو اس تجنیس قلب کو اس وقت مقلوب مجنح کہتے ہیں اس لیے کہ دونوں لفظ جو ہیں بمنزلہ دو پروں کے ہیں شعر کے لیے جیسے پر کناروں پر ہوتے ہیں یہ بھی کناروں پر ہیں كَقَوْلِهِ شاعر کہتا ہے لَاحَ أَنْوَارُ الْهُدَى ظاہر ہوئے ہدایت کے انوارات، چمکتے ہیں ہدایت کے انوارات مِنْ كَفِّهِ اس میرے ممدوح کی ہتھیلی سے فِي كُلِّ حَالٍ ہر حال میں۔ وَإِذَا وَلِيَ أَحَدَ الْمُتَجَانِسَيْنِ۔ بھئی یہ تو بات تھی کہ جن میں جناس قلب ہوا ایک شعر کے شروع میں آیا اور دوسرا شعر کے آخر میں آیا۔ اب مولانا دو متجانسین جن کے اندر کوئی بھی جناس ہو چاہے جناس تماثل ہو، تشابہ ہو، قلب ہو، ناقص ہو جو بھی قسم ہو اگر دو لفظ اکٹھے آ جائیں، ایک آیا اور ساتھ ہی دوسرا بھی آیا اور ان میں صنعت جناس ہے تو پھر اس کو کہتے ہیں مولانا مزدوج، مکرر، مردد، تین نام ہیں اس کے۔ وَإِذَا وَلِيَ أَحَدَ الْمُتَجَانِسَيْنِ اور جب مل جائے متجانسین میں سے ایک کے ساتھ مل جائے الْآخَرُ کون مل جائے؟ دوسرا سُمِّيَ الْجِنَاسُ مُزْدَوَجًا تو اس جناس کو کیا کہتے ہیں؟ مزدوج۔ تو دیکھو إِذَا وَلِيَ أَحَدَهُمَا کہنا چاہیے تھا لیکن ماتن کیا لے کر آئے ضمیر کے بجائے کیا لے آئے؟ اسم ظاہر۔ بھئی اوپر دو تین سطریں اوپر دیکھو وَإِذَا وَقَعَ أَحَدُهُمَا نظر آیا بھئی؟ تو دیکھو یہاں ضمیر لائے اور یہاں لے کر آئے أَحَدَ الْمُتَجَانِسَيْنِ، کیوں لے کر آئے؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اوپر هُمَا ضمیر کن کی طرف لوٹ رہی تھی جن میں جناس قلب تھا ابھی پاس بات گزری تھی، اور یہاں پر مراد عام ہے کوئی بھی تجانس ہو ان کے اندر تو لہذا یہاں ضمیر نہیں لائے ورنہ احتمال تھا کہ یہ کس کی طرف لوٹ رہی ہے جن میں جناس قلب ہے ان کی طرف لوٹ رہی ہے أَيَّ تَجَانُسٍ كَانَ جو بھی تجانس ہو وَلِذَا ذَكَرَهُ بِاسْمِهِ الظَّاهِرِ الْمُتَجَانِسِ اسی لیے اس کو ذکر کیا اس کے اسم ظاہر متجانس کے ساتھ۔ الْآخَرُ دوسرے کے ساتھ ملا ہوا ہو سُمِّيَ الْجِنَاسُ مُزْدَوَجًا وَمُكَرَّرًا وَمُرَدَّدًا مزدوج، مکرر، مردد کہتے ہیں نَحْوُ وَجِئْتُكَ مِنْ سَبَإٍ بِنَبَإٍ يَقِينٍ۔ سَبَإٍ نَبَإٍ یہ کون سا جناس ہے مولانا؟ انواع میں ہے فرق بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ هَذَا مِنَ التَّجْنِيسِ اللَّاحِقِ یہ کس سے ہے؟ تجنیس لاحق سے بھئی۔ وَأَمْثِلَةُ الْأَقْسَامِ الْأُخَرِ ظَاهِرَةٌ مِمَّا سَبَقَ اور باقیوں کی مثالیں بھی ظاہر ہیں جو پہلے گزر چکا ہے اس سے۔ وَيُلْحَقُ بِالْجِنَاسِ شَيْئَانِ جناس کے ساتھ ملحق ہیں دو چیزیں مولانا: أَحَدُهُمَا أَنْ يَجْمَعَ اللَّفْظَيْنِ الِاشْتِقَاقُ کہ جمع کرے دو لفظوں کو اشتقاق۔ بھئی جناس تو کیا تھا دو حرف کیا ہوں؟ تعداد، ہیئت، انواع اور ترتیب ان میں ایک جیسے ہوں یا کسی ایک میں فرق ہو۔ ایک اور قسم بھی ہے لیکن وہ جناس تو نہیں ملحق بجناس ہے کہ دو لفظوں کے اندر ترتیب وغیرہ کسی چیز کی رعایت نہیں ہاں دونوں ایک ہی مصدر سے مشتق ہیں، تو یہ ملحق بجناس کہلاتا ہے۔ دوسری قسم وہ ہے کہ بظاہر دونوں میں یوں لگے کہ ایک ہی مادے سے دونوں کا اشتقاق ہوا ہے لیکن حقیقت میں ایک مادے سے اشتقاق نہیں، تو کبھی اشتقاق حقیقتاً ہو گا کبھی حقیقتاً نہیں ہو گا تو مولانا دو قسمیں بن جائیں گی۔ جناس سے ملحق ہیں دو چیزیں ایک یہ کہ جمع کرے دو لفظوں کو اشتقاق وَهُوَ تَوَافُقُ الْكَلِمَتَيْنِ فِي الْحُرُوفِ الْأُصُولِ مَعَ الِاتِّفَاقِ فِي أَصْلِ الْمَعْنَى۔ اشتقاق کی تعریف سن لیں مولانا: اشتقاق کہتے ہیں ایک کلمے کو دوسرے کلمے سے بنانا، ایک کلمے کو دوسرے کلمے سے نکالنا اس طور پر کہ لفظوں میں اور معنی کے اندر مناسبت پائی جائے۔ لفظ میں اور معنی کے اندر کیا پائی جائے؟ مناسبت پائی جائے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا یوں کہیں بس دو کلموں کے درمیان مناسبت پائی جائے مولانا لفظ میں بھی اور معنی میں بھی۔ پھر یہ مولانا تین قسم پر ہے: اشتقاق صغیر، اشتقاق کبیر، اشتقاق اکبر بھئی۔ اشتقاق صغیر اس کو کہتے ہیں کہ دو لفظوں کے درمیان مناسبت ہو مولانا حروف اصلیہ کے اندر۔ دو لفظوں میں مناسبت ہو حروف اصلیہ کے اندر ساتھ ترتیب کے، جیسے مولانا ضَرَبَ مشتق ہے کس سے؟ ضَرْبٌ سے، تو دیکھو مولانا دونوں کے حروف اصلیہ میں مناسبت ہے ایک کے حروف اصلیہ ضاد راء باء تو دوسرے کے بھی ضاد راء باء اور مولانا ترتیب بھی وہی ہے ایک میں ضاد پہلے راء دوسرے نمبر پر باء تیسرے پر تو دوسرے کلمے میں بھی ضاد پہلے راء دوسرے پر اور باء تیسرے پر۔ تو اشتقاق صغیر کس کو کہتے ہیں کہ لفظوں کے اندر مناسبت ہو مولانا کس چیز کے اندر؟ حروف اصلیہ کے اندر اور کس کے ساتھ ہو؟ ترتیب کے ساتھ ہو۔ اور اشتقاق کبیر اس کو کہتے ہیں جس میں ترتیب نہ ہو، حروف اصلیہ دو لفظوں کے اندر مناسبت ہو حروف اصلیہ کے اندر بغیر ترتیب کے جیسے مولانا جَبَذَ مشتق ہے جَذَبَ سے، دیکھو ایک میں بھی جیم ذال باء دوسرے میں بھی جیم باء ذال تو حروف اصلیہ دونوں کے کیا ہیں؟ ایک، البتہ ترتیب الگ ہے ایک میں جیم باء ہے تو دوسرے میں جیم ذال ہے۔ اور تیسرا ہے اشتقاق اکبر، وہ کہتے ہیں کہ دو لفظوں کے درمیان مناسبت ہو مخرج میں۔ دو لفظوں میں مناسبت ہو کس کے اندر؟ مخرج میں جیسے نَهَقَ اور نَعَقَ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو نَعْقٌ مشتق ہے نَهْقٌ سے، نون عین قاف اور دوسرا نون ہاء قاف، تو دیکھو نون اور قاف دونوں میں مشترک ہے ہاء اور عین میں فرق لیکن مخرج ہاء کا بھی حلق اور عین کا بھی حلق ہے۔ تو اشتقاق صغیر کس کو کہتے ہیں بھئی؟ اشتقاق صغیر کی بات کر رہا ہوں: دو لفظوں میں مناسبت ہو حروف اصلیہ میں ساتھ کس کے؟ ترتیب کے۔ اور اگر مناسبت ہو دو لفظوں میں حروف اصلیہ میں بغیر ترتیب کے یہ کیا ہے؟ اشتقاق کبیر۔ اور اگر صرف مخرج میں مناسبت ہو تو یہ اشتقاق اکبر۔ اور معنی کے اندر مناسبت ذکر کی تھی میں نے معنی کے اندر تو تینوں میں کیا ہو گی؟ مناسبت ہو گی۔ تو یہ جو ہم اشتقاق ذکر کرتے ہیں یہ مشتق ہے یا مشتق ہے عام طور پر یہ اشتقاق صغیر ہوتا ہے، جیسے ہم کہتے ہیں ضَرَبَ مشتق ہے کس سے؟ ضَرْبٌ سے، تو یہ اشتقاق صغیر ہے مولانا معنی میں بھی مناسبت اور لفظوں میں بھی مناسبت، کس اعتبار سے لفظ میں مناسبت ہے؟ ترتیب کے ساتھ اور حروف اصلیہ میں کیا ہے؟ اتحاد ہے جو ایک کے حروف اصلیہ دوسرے کے بھی اور آپس میں ترتیب بھی ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اور یہ صغیر، کبیر، اکبر ان کو کیوں کہتے ہیں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اشتقاق اکبر اس میں بے انتہا غور و فکر بے انتہا قوی تامل کرنا پڑتا ہے اس کے بغیر پتہ نہیں چلتا، آپ کو پتہ چلے گا کبھی کہ نَعْقٌ یہ مشتق ہے نَهْقٌ سے؟ ہاں اس میں قوی تامل کرنا پڑتا ہے۔ اور کبیر مولانا اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں تامل کرنا پڑتا ہے، اکبر میں تو قوی تامل تھا اور کبیر میں تامل کرنا پڑتا ہے بغیر تامل کے بات نہیں سمجھ میں آتی جیسے جَبَذَ جَذْبٌ سے ہے، دیکھو یہاں تامل کرنا پڑا لیکن زیادہ تامل نہیں کیونکہ حروف دونوں کے کیا ہیں؟ ایک جیسے ہیں صرف ترتیب کا فرق ہے۔ اور پہلی قسم اس کے اندر تو غور و فکر کرنا ہی نہیں پڑتا ضَرَبَ اور ضَرْبٌ آتے ہی آپ کو فوراً پتہ چل جاتا ہے مولانا کہ ضَرَبَ کا کلمہ آئے گا فوراً سمجھ جاتے ہیں یہ کس سے مشتق ہے؟ ضَرْبٌ سے۔ تو دیکھیے یہاں پر اشتقاق سے مراد اشتقاق صغیر ہے مولانا، اسی لیے آپ دیکھیں تعریف کرتے ہیں وہ یہ مولانا ملحق بالجناس دو چیزیں ہیں ایک یہ کہ جمع کرے دو لفظوں کو اشتقاق، اشتقاق کس کو کہتے ہیں؟ وَهُوَ تَوَافُقُ الْكَلِمَتَيْنِ فِي الْحُرُوفِ الْأُصُولِ وہ دو کلموں کا اتفاق ہے حروف اصلیہ کے اندر مَعَ الِاتِّفَاقِ فِي أَصْلِ الْمَعْنَى اور ساتھ اتفاق کس کے؟ اصل معنی کے۔ اچھا تو حروف اصلیہ میں کیا ہو؟ موافقت ہو مع الترتیب، سمجھ میں آیا کس کے ساتھ ہو گا یہ؟ ترتیب کے ساتھ نَحْوُ فَأَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ الْقَيِّمِ پس سیدھا کیجیے اپنے چہرے کو سیدھے دین کی طرف یعنی کامل طور پر اے پیغمبر متوجہ ہو جائیے دین قیم کی طرف۔ تو دیکھو أَقِمْ قَيِّمِ ان میں دونوں مشتق ہیں کس سے؟ قیام سے۔ ہاں باقی ورنہ تعداد ہیئت وغیرہ میں ایک جیسے نہیں ہیں بلکہ ایک فعل ہے ایک اسم ہے لیکن اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے فَإِنَّهُمَا مُشْتَقَّانِ مِنْ قَامَ يَقُومُ اس لیے کہ یہ مشتق ہیں کس سے مولانا؟ قَامَ يَقُومُ سے۔ الثَّانِي أَنْ يَجْمَعَهُمَا أَيِ اللَّفْظَيْنِ الْمُشَابَهَةُ دوسری قسم یہ ہے کہ دو لفظوں کو مشابہت جمع کرے مولانا۔ پہلا تو کیا تھا دو لفظوں میں جامع کون ہو؟ اشتقاق بھئی دونوں کا اشتقاق ایک مادے سے ہے۔ دوسری قسم یہ کہ دونوں کا اشتقاق تو ایک مادے سے نہیں ہے لیکن بظاہر شبہ کس چیز کا ہوتا ہے؟ کہ اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے بظاہر نظر پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے آگے مثال آ رہی ہے قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ، تو دیکھو قَالَ اور قَالِينَ بظاہر کیا لگتا ہے دونوں کا مادہ ایک ہے حالانکہ ایک کا مادہ قَوْلٌ ہے ایک کا قَلْيٌ ہے مولانا دونوں بالکل مختلف ہیں۔ وَالثَّانِي دوسری قسم یہ ہے کہ أَنْ يَجْمَعَهُمَا أَيِ اللَّفْظَيْنِ الْمُشَابَهَةُ کہ جمع کرے ان دو لفظوں کو مشابہت مولانا وَهِيَ مَا يُشْبِهُ أَيِ اتِّفَاقٌ يُشْبِهُ الِاشْتِقَاقَ اور یہ وہ اتفاق ہے جو مشابہ ہے کس کے ساتھ؟ اشتقاق کے۔ تو یہ مشابہت اس اتفاق ایسا اتفاق ہے لفظوں میں جو کس کے مشابہ ہو؟ اشتقاق کے وہ مراد ہے وَلَيْسَ بِاشْتِقَاقٍ اور اشتقاق نہیں ہوتا، اشتقاق کے ساتھ مشابہ تو ہے لیکن لَيْسَ بِاشْتِقَاقٍ اشتقاق نہیں ہوتا۔ اب مولانا وَهِيَ مَا يُشْبِهُ توجہ سے بیٹھو بھئی وَهِيَ مَا يُشْبِهُ یہ مَا آیا یہ مَا موصولہ ہے، موصوفہ ہے، مصدریہ ہے کیا چیز ہے؟ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں چاہے مَا موصولہ بنا دو چاہے مَا موصوفہ بھئی، مَا مصدریہ نہیں۔ مَا مصدریہ کس کو کہتے ہیں جو مابعد فعل کو کس کے معنی میں کر دے؟ مصدر کے معنی میں کر دے۔ اور ایک مَا موصولہ ہوتا ہے ایک مَا موصوفہ، یاد رکھو مولانا مَا موصولہ اور موصوفہ میں کوئی فرق نہیں بظاہر کوئی فرق نہیں۔ صرف یہ ہے مَا موصولہ معرفہ ہوتا ہے کیونکہ اسم موصول کس کی قسم میں سے ہے بھئی؟ معرفہ میں سے، اور مَا موصوفہ نکرہ ہوتا ہے۔ اس لیے مَا موصولہ جو ہے وہ معرفہ کی صفت بنتا ہے اور مَا موصوفہ کس کی؟ نکرہ کی صفت بن سکتا ہے۔ اور مَا موصولہ کے بعد جو آتا ہے وہ اس کا صلہ کہلاتا ہے اور مَا موصوفہ کے بعد جو آتی ہے وہ اس کی صفت کہلاتی ہے۔ مَا کے بعد آگے جملہ آئے گا، اگر یہ مَا موصولہ آپ نے بنایا تو آگے جملے کو کیا بنا دو؟ صلہ۔ اگر آپ نے اس کو مَا موصوفہ بنایا تو موصوف کے بعد کیا آتی ہے؟ صفت، تو آگے جملے کو کیا بنا دو؟ صفت۔ اور جملہ کس کے حکم میں ہوتا ہے؟ نکرہ کے حکم میں تو لہذا مَا موصوفہ بھی معلوم ہوا کیا ہوتا ہے؟ نکرہ ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آئی بھئی؟ اور جیسے مَا موصولہ کے اندر مولانا عائد چاہیے موصول صلے کے اندر ربط کے لیے عائد چاہیے اور وہ عائد ضمیر ہوتی ہے اسی طرح مَا موصوفہ کے اندر بھی عائد چاہیے اور وہ کیا ہوتی ہے؟ ضمیر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مَا موصولہ بھی اسم ہے مَا موصوفہ بھی اسم ہے البتہ مَا مصدریہ حرف ہے بھئی۔ تو مَا موصولہ اور موصوفہ کی طرف ضمیر کا لوٹانا ضروری اور مَا مصدریہ کے اندر ایسا نہیں ہوتا۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ اب علامہ تفتازانی فرماتے ہیں چاہے اس کو مَا موصولہ بنا دیں چاہے اس کو مَا موصوفہ بنا دیں دونوں صورتوں میں صحیح۔ اور بعض علماء نے اس کو مَا مصدریہ بنایا کہتے ہیں نہ یہ لفظاً بات صحیح ہے اور نہ معناً، لفظاً بھی خرابی لازم آتی ہے معناً بھی خرابی لازم آتی ہے۔ دیکھیے پہلے عبارت پہ غور کریں وَهِيَ یہ مشابہت جو ہے مَا ایسا اتفاق ہے يُشْبِهُ الِاشْتِقَاقَ جو کس کے مشابہ ہے؟ اشتقاق کے۔ تو یہ مشابہت کے بارے میں بتلا رہے ہیں کہ ایسا اتفاق ہے لفظوں میں جو کس کے مشابہ ہو؟ اشتقاق کے، اشتقاق ہے نہیں اشتقاق کے مشابہ ہے یہ اتفاق بھئی۔ اب یہ مَا کو کیا بنایا؟ مصدریہ بنایا بھئی، لفظی اور معنوی خرابی لازم آتی ہے۔ معنوی خرابی کیا لازم آتی ہے؟ مَا يُشْبِهُ کا کیا معنی؟ اشباہ، مشابہ ہونا۔ کس کا مشابہ ہونا؟ ضمیر لوٹائیں گے دو لفظوں کو وہ دو لفظوں کا مشابہ ہونا کس کے ساتھ مشابہ ہونا؟ اشتقاق کے ساتھ، اور یہ کوئی بات نہیں ہے۔ دو لفظ اشتقاق کے مشابہ نہیں ہوتے ان میں جو اتفاق آتا ہے وہ کس کے مشابہ ہوتا ہے؟ اشتقاق کے، ان میں جو موافقت آتی ہے وہ موافقت اشتقاق کے مشابہ ہوتی ہے نہ کہ یہ دو لفظ کس کے مشابہ ہوتے ہیں؟ اشتقاق کے مشابہ نہیں ہوتے، تو یہ معنوی خرابی آئی۔ اور لفظی خرابی یہ مولانا کہ يُشْبِهُ کے اندر ایک ضمیر ہے اور مفرد کی ضمیر ہو گی یا تثنیہ کی یا جمع کی؟ مفرد کی، اور مَا يُشْبِهُ کس کے معنی میں ہے؟ اشباہ کے، تو یہ ضمیر لوٹانی پڑے گی لفظین کی طرف وہ دو لفظ بھئی جن کے اندر کیا ہے؟ جو متفق ہیں ان کی طرف لوٹے گی جن میں توافق ہے موافقت ہے تو ان کی طرف اور وہ تو ہیں تثنیہ اور ضمیر کون سی لوٹا رہے ہیں؟ مفرد کی اور ضمیر اور مرجع میں مطابقت نہیں لہذا یہ صحیح نہیں۔ تاویل کرنا پڑے گی بھئی مذکور کے معنی میں ہے دو لفظ کس کے؟ مذکور ہیں تو مذکور کی تاویل کر کے ان کی طرف ضمیر واحد کی لوٹائیں گے۔ تو جب بغیر تاویل کے کام چل سکتا ہے، جبکہ دوسری صورت میں اگر مَا کو موصولہ یا موصوفہ بنائیں تو يُشْبِهُ کے اندر ضمیر کس کو لوٹے گی؟ مَا کی طرف لوٹے گی۔ فَلَفْظَةُ مَا مَوْصُولَةٌ أَوْ مَوْصُوفَةٌ لفظ مَا موصولہ ہے یا موصوفہ ہے وَزَعَمَ بَعْضُهُمْ بعضوں نے یہ گمان کیا ہے أَنَّهَا مَصْدَرِيَّةٌ یہ مصدریہ ہے أَيْ إِشْبَاهُ اللَّفْظَيْنِ الِاشْتِقَاقَ دو لفظوں کا مشابہ ہونا اشتقاق کے ساتھ وَهُوَ غَلَطٌ لَفْظًا وَمَعْنًى یہ لفظاً بھی غلط ہے اور معناً بھی۔ أَمَّا لَفْظًا لفظاً جو ہے فَلِأَنَّهُ جَعَلَ الضَّمِيرَ الْمُفْرَدَ فِي يُشْبِهُ لِلَّفْظَيْنِ وَهُوَ لَا يَصِحُّ إِلَّا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ اس لیے کہ اس نے قرار دیا وہ ضمیر جو مفرد کی تھی کس کے اندر؟ يُشْبِهُ کے اندر تھی کس کے لیے قرار دے دی؟ لِلَّفْظَيْنِ لفظین کے لیے وَهُوَ لَا يَصِحُّ اور یہ صحیح نہیں کیونکہ لفظ تثنیہ ہے اور ضمیر مفرد کی تو یہ صحیح نہیں إِلَّا بِتَأْوِيلٍ بَعِيدٍ مگر یہ کہ کوئی بعید تاویل کی جائے یعنی مذکور کے معنی میں لیا جائے فَلَا يَصِحُّ عِنْدَ الِاسْتِغْنَاءِ عَنْهُ لہذا یہ تاویل صحیح نہیں جب اس سے کفایت ہو سکتی ہے، بغیر تاویل کے جب کام چل سکتا ہے تو تاویل کی طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ وَأَمَّا مَعْنًى اور معنوی خرابی فَلِأَنَّ اللَّفْظَيْنِ لَا يُشْبِهَانِ الِاشْتِقَاقَ اس لیے کہ دو لفظ اشتقاق کے مشابہ نہیں ہوتے بَلْ تَوَافُقُهُمَا قَدْ يُشْبِهُ الِاشْتِقَاقَ بلکہ ان کی موافقت کس کے مشابہ ہوتی ہے؟ اشتقاق کے بِأَنْ يَكُونَ فِي كُلٍّ مِنْهُمَا جَمِيعُ مَا يَكُونُ فِي الْآخَرِ أَوْ أَكْثَرُهَا بایں طور پر مولانا کہ ان میں سے ہر ایک کے اندر وہ سارے حروف ہوتے ہیں جو دوسرے کے اندر ہوتے ہیں یا اس کے اکثر ہوتے ہیں، سارے نہ بھی ہوں تو اکثر، لَكِنْ لَا يَرْجِعَانِ إِلَى أَصْلٍ وَاحِدٍ لیکن اصل واحد کی طرف لوٹتے نہیں كَمَا فِي الِاشْتِقَاقِ جیسے کس میں تھا؟ اشتقاق میں تو اصل واحد کی طرف لوٹ جاتے ہیں ضَارِبٌ اور ضَرَبَ یہ دونوں کیا ہیں ایک ہی اصل کی طرف لوٹتے ہیں جبکہ یہاں نہیں ہوتے جیسے قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ۔ حضرت لوط علیہ السلام نے فرمایا کہ بے شک میں تمہارے اس کام سے نفرت کرنے والا ہوں۔ تو دیکھو قَالَ اور قَالِينَ ان میں کیا ہے؟ شبہ اشتقاق ہے مولانا۔ تو قَالَ قَالِينَ بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ ایک ہی مادے سے ہیں لیکن فَالْأَوَّلُ مِنَ الْقَوْلِ وَالثَّانِي مِنَ الْقَلْيِ اول قَوْلٌ سے ہے اور ثانی قَلْيٌ سے۔ وَقَدْ تُوُهِّمَ أَنَّ الْمُرَادَ بِمَا يُشْبِهُ الِاشْتِقَاقَ هُوَ الِاشْتِقَاقُ الْكَبِيرُ وَهَذَا أَيْضًا غَلَطٌ۔ اور کہتے ہیں یہ بھی بعضوں نے وہم کیا کہ مشابہت اشتقاق سے یہ مراد ہے اشتقاق کبیر مراد ہے۔ بعض علماء کیا سمجھے بھئی؟ انہوں نے کہا کہ دو لفظوں کے درمیان جامع یا تو اشتقاق ہو گا یا شبہ اشتقاق اور شبہ اشتقاق سے کیا مراد لیا؟ اشتقاق کبیر، اور اشتقاق سے کیا مراد لیا تھا؟ اشتقاق صغیر۔ کہتے ہیں نہیں بھئی یہ بات صحیح نہیں ہے بھئی نہ اشتقاق کبیر ہو نہ اشتقاق اکبر کوئی خاص اشتقاق نہیں مراد بس دونوں کو دیکھ کر شبہ کس چیز کا ہوتا ہو؟ اشتقاق کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وَقَدْ تُوُهِّمَ وہم کیا گیا ہے کہ يُشْبِهُ الِاشْتِقَاقَ مشابہ اشتقاق سے کیا مراد ہے؟ اشتقاق کبیر مراد ہے وَهَذَا أَيْضًا غَلَطٌ یہ بھی غلط ہے لِأَنَّ الِاشْتِقَاقَ الْكَبِيرَ هُوَ الِاشْتِقَاقُ فِي الْحُرُوفِ الْأُصُولِ دُونَ التَّرْتِيبِ اس لیے کہ اشتقاق کبیر کس کو کہتے ہیں کہ اشتقاق ہو حروف اصلیہ میں دُونَ التَّرْتِيبِ بغیر کس کے؟ ترتیب کے مِثْلُ الْقَمَرِ وَالرَّقَمِ وَالْمَرَقِ دیکھو قَمَرٌ رَقَمٌ مَرَقٌ سب میں میم راء قاف آ رہے ہیں ترتیب الگ ہے تو یہ اس طرح ہوتا ہے مولانا اشتقاق کبیر۔ وَقَدْ مَثَّلُوا فِي هَذَا الْمَقَامِ بِقَوْلِهِ اور تحقیق مثال ذکر کی ہے علماء نے اس مقام پر اللہ کے اس قول کے ساتھ اثَّاقَلْتُمْ إِلَى الْأَرْضِ أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا کہ کیا بات ہے تمہیں جب جہاد کی طرف بلایا جاتا ہے تو تم بوجھل ہو جاتے ہو زمین کی طرف أَرَضِيتُمْ بِالْحَيَاةِ الدُّنْيَا کیا تم دنیاوی زندگی پر راضی ہو چکے؟ تو دیکھو أَرْضِ أَرَضِيتُمْ، الْأَرْضِ اور أَرَضِيتُمْ تو أَرْضٌ دونوں جگہ آ رہا ہے اور یہ مثال علماء ذکر کرتے ہیں تو معلوم ہوا شبہ اشتقاق سے مراد اشتقاق کبیر نہیں کیونکہ اشتقاق کبیر کس کو کہتے تھے کہ حروف اصلیہ میں اتفاق ہو صرف ترتیب الگ ہو اور یہاں تو حروف اصلیہ میں اتفاق نہیں ہے کیونکہ أَرْضٌ کا مادہ ہے الف راء ضاد جبکہ أَرَضِيتُمْ اس میں تو ہمزہ استفہام ہے اور رَضِيتُمْ راء ضاد یاء ہیں حروف اصلیہ، یہاں تو حروف اصلیہ میں اتفاق ہی نہیں۔ معلوم ہوا شبہ اشتقاق سے مراد اشتقاق کبیر نہیں مراد بلکہ عام ہے مولانا، کیا ہے؟ عام ہے بس جو بھی ایسی صورت بن جائے جس سے کس چیز کا شبہ پڑے؟ اشتقاق کا چاہے اشتقاق ہو یا اشتقاق نہ ہو۔ وَلَا يَخْفَى أَنَّ اور یہ بات مخفی نہیں ہے أَنَّ الْأَرْضَ مَعَ أَرَضِيتُمْ لَيْسَ كَذَلِكَ کہ أَرْضٌ جو ہے أَرَضِيتُمْ کے ساتھ ایسا نہیں ہے یعنی ان میں اشتقاق کبیر نہیں ہے۔ وَمِنْهُ أَيْ مِنَ اللَّفْظِيِّ رَدُّ الْعَجُزِ عَلَى الصَّدْرِ اور لفظی میں سے مولانا رد العجز علی الصدر ہے۔ یہ آسان ہے مولانا اور اس کے اندر وہ دس پندرہ بیس مثالیں آئیں گی بھئی۔ رد العجز علی الصدر دیکھو اس کو کہتے ہیں کہ ایک جملے کے اندر یا ایک شعر کے اندر دو لفظین کو ذکر کیا جائے کہ نثر کے اندر مولانا ایک ہی کلمے کو دو دفعہ لائیں لیکن ایک دفعہ فقرے کے شروع میں دوسری دفعہ فقرے کے آخر میں۔ یا مولانا دو کلمے لے کر آئیں وہی کلمے کی تکرار نہیں ہے جناس ہے دونوں کے اندر صنعت، ایک دوسرے کے مشابہ ہیں دونوں کلمے، ایک کو شروع میں لائے دوسرے کو آخر میں۔ یا مولانا ملحق بالجناس ہیں دو کلمے ایک شروع میں لائے اور ایک آخر میں۔ چار قسمیں بن گئیں مولانا۔ لانا ایک کو فقرے کے شروع میں ہے دوسرے کو آخر میں لیکن یہ کبھی ایک ہی کلمہ ہو گا تو یہ مکررین ہو گئے ایک ہی کلمے کا کیا آیا مولانا؟ تکرار۔ یا دونوں میں جناس ہو گا یا دونوں ملحق بالجناس ہوں گے اور ملحق بالجناس کتنی قسمیں تھیں؟ دو، ایک میں کیا تھا؟ جامع اشتقاق تھا اور ایک میں جامع کیا تھا؟ شبہ اشتقاق۔ کل کتنی قسمیں بنیں؟ کل چار بن جائیں گی بھئی۔ توجہ ہے بھئی سبق کی طرف؟ دیکھو ایک کلمہ ہم نے فقرے کے شروع میں لانا ہے ایک آخر میں لانا ہے تو یہ کبھی تو بعینہ وہی کلمہ جو شروع میں آیا اسی کو اٹھا کر کہاں لے آئیں گے؟ آخر میں، یہ تو مکررین ہوئے دونوں کا تکرار ہوا۔ اور کبھی کیا ہو گا مولانا ان دو شروع اور آخر کے کلموں میں جناس ہو گا سمجھ میں آیا؟ اور کبھی دونوں ملحق بالجناس ہوں گے اور ملحق بالجناس کی کتنی قسمیں ہیں؟ دو۔ تو دو قسمیں اس کی، ایک جناس ہوا، ایک مکررین ہوئے کل کتنی قسمیں بن گئیں؟ چار قسمیں بن گئیں۔ اب ان چاروں کی پھر آگے وہ مثال ذکر کریں گے بھئی۔ رَدُّ الْعَجُزِ عَلَى الصَّدْرِ وَهُوَ فِي النَّثْرِ أَنْ يُجْعَلَ أَحَدُ اللَّفْظَيْنِ الْمُكَرَّرَيْنِ اور وہ یہ کہ بنایا جائے مولانا دو مکرر لفظوں میں سے ایک کو بنایا جائے آگے مولانا تیسری سطر میں آ رہا ہے فِي أَوَّلِ الْفِقْرَةِ اول فقرہ میں وَالْآخَرُ فِي آخِرِهَا اور دوسرے کو آخر میں۔ یا مولانا بنایا جائے دو لفظ ایسے دو لفظ أَوِ الْمُتَجَانِسَيْنِ متن نظر آ رہا ہے درمیان میں؟ وہ دو لفظ جو متجانسین ہیں ایک کو اول فقرہ میں دوسرے کو آخر میں۔ اور آگے أَوِ الْمُلْحَقَيْنِ بِهِمَا یا دو ایسے لفظوں میں سے ایک کو جو ملحقین ہیں ایک کو اول فقرہ میں اور دوسرے کو آخر میں۔ وَهُوَ فِي النَّثْرِ نثر کے اندر یہ ہے أَنْ يُجْعَلَ أَحَدُ اللَّفْظَيْنِ الْمُكَرَّرَيْنِ کہ بنایا جائے رکھا جائے دو لفظوں میں سے ایک کو ایسے دو لفظ جو مکرر ہیں ان میں سے ایک لفظ کو۔ مکرر کا کیا معنی؟ أَيِ الْمُتَّفِقَيْنِ فِي اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى دونوں لفظ میں بھی متفق ہیں اور معنی میں بھی یعنی ایک ہی لفظ ہے۔ أَوِ الْمُتَجَانِسَيْنِ یا دو متجانسین کو، متجانسین کن کو کہتے ہیں؟ أَيِ الْمُتَشَابِهَيْنِ فِي اللَّفْظِ دُونَ الْمَعْنَى جو لفظ میں تو مشابہت ہوتی ہے لیکن معنی میں مشابہت نہیں۔ أَوِ الْمُلْحَقَيْنِ بِهِمَا یا ملحق بالجناس جو ہیں أَيْ بِالْمُتَجَانِسَيْنِ يَعْنِي اللَّفْظَيْنِ اللَّذَيْنِ يَجْمَعُهُمَا الِاشْتِقَاقُ أَوْ شِبْهُ الِاشْتِقَاقِ یعنی وہ لفظ جن کو اشتقاق یا شبہ اشتقاق جمع کرتا ہے، تو مکررین، متجانسین یا ملحقین بالمتجانسین کو ان میں سے ذکر کیا جائے فِي أَوَّلِ الْفِقْرَةِ کہاں پر؟ اول فقرہ میں۔ وَقَدْ عَرَفْتَ مَعْنَاهَا فقرہ کا معنی آپ جان چکے ہیں، فقرہ کس کو کہتے تھے مولانا؟ ریڑھ کی ہڈی کو، یہ تو لغوی معنی تھا اور کلام کا چھوٹا ٹکڑا فقرہ کہلاتا ہے، اس کا معنی آپ جان چکے ہیں وَاللَّفْظُ الْآخَرُ فِي آخِرِهَا اور دوسرا لفظ کہاں ہوتا ہے؟ أَيْ فِي آخِرِ الْفِقْرَةِ فَتَكُونُ الْأَقْسَامُ أَرْبَعَةً تو چار قسمیں بن گئیں۔ جیسے مولانا وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّهُ أَحَقُّ أَنْ تَخْشَاهُ، تو دیکھو ایک تَخْشَى شروع میں آیا اور دوسرا تَخْشَاهُ آخر میں آیا، تو لوگوں سے ڈرتا ہے اور اللہ زیادہ حقدار ہے کہ تو اس سے ڈرے فِي الْمُكَرَّرَيْنِ یہ مکررین کی مثال ہے۔ وَنَحْوُ سَائِلُ اللَّئِيمِ يَرْجِعُ وَدَمْعُهُ سَائِلٌ، کمینے شخص سے سوال کرنے والا واپس لوٹتا ہے اس حال میں کہ اس کے آنسو بہہ رہے ہوتے ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو سَائِلُ اللَّئِيمِ کمینے شخص سے سوال کرنے والا واپس لوٹتا ہے وَدَمْعُهُ سَائِلٌ اور اس کا آنسو بہہ رہا ہوتا ہے، تو سَائِلٌ شروع میں بھی آیا اور سَائِلٌ آخر میں بھی آیا لیکن معنی الگ ہے تو یہ کیا ہے؟ جناس فِي الْمُتَجَانِسَيْنِ متجانسین کی مثال ہے۔ وَنَحْوُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّكُمْ إِنَّهُ كَانَ غَفَّارًا، مغفرت طلب کرو اپنے پروردگار سے بے شک وہ بہت معاف کرنے والا ہے، تو اسْتَغْفِرُوا شروع میں آیا اور غَفَّارًا آخر میں آیا اور دونوں میں کیا ہے؟ ملحق بالجناس ہیں کس کی وجہ سے؟ اشتقاق، دونوں کا مادہ مغفرت ہے مولانا غَفَرَ مادہ۔ وَنَحْوُ قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِينَ، فرمایا لوط علیہ السلام نے بے شک میں تمہارے اس کام سے نفرت کرنے والوں میں سے ہوں، تو دیکھو قَالَ اور قَالِينَ ایک شروع میں آیا ایک آخر میں آیا اور جامع ان میں کیا ہے؟ شبہ اشتقاق ہے، شبہ پڑتا ہے اشتقاق کا فِي الْمُلْحَقَيْنِ بِشِبْهِ الِاشْتِقَاقِ جو ملحقین ہیں بِسَبَبِ شِبْهِ الِاشْتِقَاقِ شبہ اشتقاق کی وجہ سے ملحق ہیں بالجناس۔ یہ کس میں تھا مولانا؟ نثر میں کلام منثور کے اندر بھئی رد العجز علی الصدر کس کو کہتے ہیں؟ ایک کلمے کو کہاں ذکر کیا جائے؟ اول فقرہ میں اور دوسرے کو آخر میں۔ اور نظم کے اندر یہ ہے مولانا دیکھیے نظم کے اندر دو مصرعے ہوتے ہیں، ایک اول مصرع ایک ثانی۔ تو ایک کلمہ تو شعر کے بالکل آخر میں آئے گا کہاں پر آئے گا؟ شعر کے بالکل یعنی دوسرے مصرعے کے آخر میں آئے گا۔ اور جو دوسرا کلمہ ہے یا تو پہلے مصرعے کے شروع میں آئے گا یا وسط میں آئے گا یا آخر میں آئے گا، یا دوسرے مصرعے کے شروع میں۔ کتنی ہو گئیں؟ چار صورتیں ہو گئیں سمجھ میں آ گئیں؟ اور دیکھو مولانا چار صورتیں ہوئیں اور پھر ہر ایک کی چار قسمیں ہیں اس لیے کہ وہ جو دو حرف آئے ہیں یا تو مکررین ہوں گے یا متجانسین ہوں گے یا ملحقین ہوں گے بِسَبَبِ شِبْهِ الِاشْتِقَاقِ أَوْ بِالِاشْتِقَاقِ تو کتنے ہوئے؟ سولہ قسمیں بن گئیں۔ بھئی دیکھو ایک کلمہ آئے گا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور دوسرا کلمہ کہاں آئے گا؟ پہلے مصرعے کے شروع میں یا پہلے کے وسط میں یا پہلے کے آخر میں یا دوسرے کے شروع میں، کتنی قسمیں؟ چار۔ اور آنا تو دو کلموں نے ہے تو وہ دو کلمے یا تو مکررین ہوں گے یا متجانسین ہوں گے یا ملحقین ہوں گے بالاشتقاق یا بشبہ الاشتقاق تو کتنی قسمیں؟ چار، تو کل سولہ قسمیں۔ تو آگے پھر وہ سولہ میں سے تیرہ کی مثالیں ذکر کریں گے سمجھ میں آیا؟ وَهُوَ فِي النَّظْمِ نظم کے اندر یہ ہے أَنْ يَكُونَ أَحَدُهُمَا أَيْ أَحَدُ اللَّفْظَيْنِ الْمُكَرَّرَيْنِ أَوِ الْمُتَجَانِسَيْنِ أَوِ الْمُلْحَقَيْنِ بِهِمَا اشْتِقَاقًا أَوْ شِبْهَ اشْتِقَاقٍ فِي آخِرِ الْبَيْتِ وہ یہ مولانا کہ دو لفظین مکررین میں سے یا متجانسین میں سے یا ملحق مولانا بسبب الاشتقاق أَوْ بسبب شبہ الاشتقاق فِي آخِرِ الْبَيْتِ ایک لفظ کہاں پر آئے مولانا؟ شعر کے آخر میں وَاللَّفْظُ الْآخَرُ اور دوسرا لفظ آئے فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ مصرع اول کے شروع میں أَوْ حَشْوِهِ یعنی وسط میں أَوْ آخِرِهِ یا آخر میں أَوْ فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الثَّانِي یا دوسرے مصرعے کے شروع میں فَيَكُونُ الْأَقْسَامُ سِتَّةَ عَشَرَ پس سولہ قسمیں ہو گئیں حَاصِلَةً مِنْ ضَرْبِ أَرْبَعَةٍ فِي أَرْبَعَةٍ جو چار کو چار میں ضرب دینے سے حاصل ہوئیں۔ وَالْمُصَنِّفُ أَوْرَدَ ثَلَاثَةَ عَشَرَ مِثَالًا مصنف نے تیرہ مثالیں ذکر کیں وَأَهْمَلَ ثَلَاثَةً اور تین کو ترک کر دیا۔ اب مکررین کی مثالیں آئیں گی مولانا دیکھیے: سَرِيعٌ إِلَى ابْنِ الْعَمِّ يَلْطِمُ وَجْهَهُ وَلَيْسَ إِلَى دَاعِي النَّدَى بِسَرِيعٍ۔ سَرِيعٌ سَرِيعٍ، ایک سَرِيعٍ تو آخر میں آیا اور دوسرا پہلے مصرعے کے شروع میں۔ اگلی مثال: تَمَتَّعْ مِنْ شَمِيمِ عَرَارِ نَجْدٍ فَمَا بَعْدَ الْعَشِيَّةِ مِنْ عَرَارِ۔ تو دیکھو عَرَارِ ایک تو آخر میں آیا دوسرا پہلے مصرعے کے درمیان میں آیا۔ وَمَنْ كَانَ بِالْبِيضِ الْكَوَاعِبِ مُغْرَمًا فَمَا زِلْتُ بِالْبِيضِ الْقَوَاضِبِ مُغْرَمَا۔ مُغْرَمًا مُغْرَمَا، دوسرے نے تو آنا ہی دوسرے کے آخر میں ہے اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے آخر میں۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا مُعَرَّجَ سَاعَةٍ قَلِيلًا فَإِنِّي نَافِعٌ لِي قَلِيلُهَا۔ یہاں پر کیا آیا؟ قَلِيلًا قَلِيلُهَا، تو قَلِيلًا کہاں آیا؟ دوسرے مصرعے کے شروع میں آیا تو کتنی قسمیں ہوئیں؟ چار کی مثالیں گزر گئیں اور مکررین کی مثال ہے وہی کلمہ دوبارہ آیا۔ سمجھ میں آ گئی بات؟ آگے دیکھیے بھئی: دَعَانِي مِنْ مَلَامِكُمَا سَفَاهًا فَدَاعِي الشَّوْقِ قَبْلَكُمَا دَعَانِي۔ دَعَانِي اور دَعَانِي، دوسرا تو دوسرے مصرعے کے آخر میں آیا اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے شروع میں اور دونوں میں جناس ہے دونوں کا معنی الگ الگ ہے۔ اب جناس کی چار مثالیں آ رہی ہیں: وَإِذَا الْبَلَابِلُ أَفْصَحَتْ بِلُغَاتِهَا فَانْفِ الْبَلَابِلَ بِاحْتِسَاءِ بَلَابِلِ۔ بَلَابِلُ بَلَابِلِ مولانا، پہلے بَلَابِلُ اور آخری بَلَابِلِ کی بات ہو گی مولانا۔ تو آخری تو آیا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے درمیان میں۔ تو ایک تو آیا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے درمیان میں آیا اور یہ دونوں کیا ہیں؟ متجانسین۔ متجانسین کی مثالیں چل رہی ہیں جن میں صنعت جناس ہے لفظوں کے اعتبار سے ایک جیسے ہیں معنی میں فرق ہے۔ فَمَشْغُوفٌ بِآيَاتِ الْمَثَانِي وَمَفْتُونٌ بِرَنَّاتِ الْمَثَانِي۔ دیکھو الْمَثَانِي الْمَثَانِي مولانا ایک تو دوسرے مصرعے کے آخر میں آیا اور دوسرا پہلے مصرعے کے آخر میں اور دونوں میں صنعت جناس ہے پہلے الْمَثَانِي سے اور مراد دوسرے سے اور معنی۔ أَمَّلْتُهُمْ ثُمَّ تَأَمَّلْتُهُمْ فَلَاحَ لِي أَنْ لَيْسَ فِيهِمْ فَلَاحٌ۔ فَلَاحَ فَلَاحٌ مولانا ایک تو دوسرے مصرعے کے آخر میں آیا اور دوسرا دوسرے ہی کے شروع میں آیا اور دونوں میں جناس ہے مولانا معنی الگ الگ ہیں اگرچہ صورتاً ایک جیسے۔ ضَرَائِبُ أَبْدَعْتَهَا فِي السَّمَاحِ فَلَسْنَا نَرَى لَكَ فِيهَا ضَرِيبَا۔ ضَرَائِبُ اور ضَرِيبَا، ضَرِيبَا تو آیا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور پہلا کہاں آیا ضَرَائِبُ؟ پہلے مصرعے کے شروع میں اور یہ ہے مولانا ملحق بالجناس کی مثال، دونوں کا مادہ ایک ہے ضَرْبٌ۔ آگے إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَخْزُنْ عَلَيْهِ لِسَانَهُ فَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ سِوَاهُ بِخَزَّانِ۔ تو دیکھو خَزَّانِ اور يَخْزُنْ، دوسرا تو آیا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور پہلا پہلے مصرعے کے وسط میں اور دونوں کا مادہ کیا ہے؟ ایک ہے تو یہ مولانا ملحق بالجناس ہیں اور خَزَنَ سے اشتقاق۔ لَوِ اخْتَصَرْتُمْ مِنَ الْإِحْسَانِ زُرْتُكُمُ وَالْعَذْبُ يُهْجَرُ لِلْإِفْرَاطِ فِي الْخَصَرِ۔ دیکھو الْخَصَرِ ایک آیا آخر میں اور دوسرا اخْتَصَرْتُمْ کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے درمیان میں آیا اور یہ مولانا شبہ اشتقاق کی مثال ہے اور اس کی ایک ہی مثال ذکر کی مولانا مصنف نے۔ ہاں اشتقاق والی دو مثالیں گزری ہیں ابھی دو باقی ہیں وہ آگے آ رہی ہیں: فَدَعِ الْوَعِيدَ فَمَا وَعِيدُكَ ضَائِرِي أَطَنِينُ أَجْنِحَةِ الذُّبَابِ يَضِيرُ۔ دیکھو يَضِيرُ اور ضَائِرِي، يَضِيرُ مولانا کہاں آیا؟ دوسرے مصرعے کے آخر میں اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے کے آخر میں اور دونوں میں کیا ہے؟ اشتقاق ہے مادہ ایک ہے ضَيْرٌ سے۔ وَقَدْ كَانَتِ الْبِيضُ الْقَوَاضِبُ فِي الْوَغَى بَوَاتِرَ فَهِيَ الْآنَ مِنْ بَعْدِهِ بُتْرُ۔ بَوَاتِرَ اور بُتْرُ بھئی، بُتْرُ تو آیا دوسرے مصرعے کے آخر میں اور دوسرا دوسرے ہی مصرعے کے شروع میں آیا اور دونوں کا مادہ ایک ہے تو ملحق بالجناس ہیں کس وجہ سے؟ بِسَبَبِ الِاشْتِقَاقِ۔ تو تیرہ مثالیں ہیں اب تیز تیز ترجمہ دیکھتے جاؤ بھئی بس۔ سَرِيعٌ إِلَى ابْنِ الْعَمِّ بڑا تیز ہے اپنے چچا زاد بھئی کی طرف يَلْطِمُ وَجْهَهُ تھپڑ مارتا ہے اس کے چہرے پر وَلَيْسَ إِلَى دَاعِي النَّدَى بِسَرِيعٍ اور نہیں ہے سخاوت کی طرف بلانے والے کی طرف تیز، نَدًى سخاوت کو کہتے ہیں۔ کسی کے بارے میں مذمت کر رہا ہے کہ وہ بڑا تیز ہے کہ اپنے چچا زاد بھائیوں کے ساتھ تو لڑنے میں بڑا تیز ہے یعنی جو رشتہ دار وغیرہ ہوں، اور لیکن جب اس کو سخاوت وغیرہ کسی کام کی طرف دعوت دی جائے تو اس میں تیزی نہیں کرتا۔ فِيمَا يَكُونُ الْمُكَرَّرُ الْآخَرُ فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ۔ وَقَوْلُهُ دوسری مثال مولانا تَمَتَّعْ مِنْ شَمِيمِ عَرَارِ نَجْدٍ نفع اٹھا لے، شَمِيمٌ کہتے ہیں خوشبو کو اور ہر ایسی چیز جس کو سونگھا جائے مولانا، عَرَارٌ یہ جنگلی نرگس پھول ہے مولانا، نَجْدٌ جگہ کا نام ہے۔ نفع اٹھا لے نجد کے جنگلی نرگس کی خوشبو سے فَمَا بَعْدَ الْعَشِيَّةِ مِنْ عَرَارِ پس نہیں ہو گا عَشِيَّةٌ شام کے وقت یا عصر وغیرہ کا وقت، عصر کے بعد پھر عَرَارٌ جنگلی نرگس نہیں ہوں گے اس لیے کہ ہم یہاں سے نکل جائیں گے کوچ کر پڑیں گے۔ فِيمَا يَكُونُ الْمُكَرَّرُ الْآخَرُ فِي حَشْوِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ اس صورت میں جب کہ دوسرا مکرر کہاں پر آیا مصرع اول کے درمیان میں۔ وَمَعْنَى الْبَيْتِ اور شعر کا ترجمہ یہ ہے اسْتَمْتِعْ بِشَمِّ عَرَارِ نَجْدٍ تو نفع اٹھا لے عرار نجد کی خوشبو کے ساتھ وَهِيَ وَرْدَةٌ نَاعِمَةٌ صَفْرَاءُ طَيِّبَةُ الرَّائِحَةِ اور یہ ایک پھول ہے نَاعِمَةٌ نرم و نازک ہے صَفْرَاءُ زرد ہے طَيِّبَةُ الرَّائِحَةِ اچھی خوشبو والا ہے، تو ان کی خوشبو سے نفع اٹھا لے فَإِنَّا نَعْدَمُهُ اس لیے کہ ہم ان کو معدوم پائیں گے إِذَا أَمْسَيْنَا جب ہم شام کریں گے بِخُرُوجِنَا مِنْ أَرْضِ نَجْدٍ اپنے خروج کے ساتھ کہاں سے؟ ارض نجد سے وَمَنَابِتِهِ اور اس کے اگنے کی جگہوں سے جب ہم خروج کر لیں گے پھر ہم اس کو معدوم پائیں گے۔ قَوْلُهُ وَمَنْ كَانَ بِالْبِيضِ الْكَوَاعِبِ مُغْرَمًا فَمَا زِلْتُ بِالْبِيضِ الْقَوَاضِبِ مُغْرَمَا۔ شاعر کہتا ہے جو کوئی سفید رنگ کی ابھرے ہوئے پستانوں والی لڑکیوں کا عاشق ہے، فریفتہ ہے اور دلدادہ ہے تو وہ ان کا دلدادہ ہوتا رہے میں تو سفید چمکدار تلواروں کا دلدادہ ہوں بھئی۔ وَمَنْ كَانَ بِالْبِيضِ الْكَوَاعِبِ اور جو کوئی کیا ہے سفید جو کواعب ہیں جَمْعُ كَاعِبٍ کواعب جمع ہے كَاعِبٌ کی وَهِيَ الْجَارِيَةُ یہ وہ لڑکی ہے حِينَ يَبْدُو ثَدْيُهَا لِلنُّهُودِ جب ظاہر ہوتے ہیں اس کے پستان بوجہ ابھرنے کے بھئی، نُهُودٌ کا معنی ابھرنا۔ مُغْرَمًا مُولَعًا مولانا دلدادہ، عاشق، فریفتہ۔ فَمَا زِلْتُ بِالْبِيضِ الْقَوَاضِبِ پس میں تو ہمیشہ سفید کاٹنے والی تلواریں جو ہیں مُغْرَمًا ان کا دلدادہ ہوں، ان کا فریفتہ ہوں۔ سمجھ میں آیا؟ یہ مثال ہے فِيمَا يَكُونُ الْمُكَرَّرُ الْآخَرُ فِي آخِرِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ کہ دوسرا مکرر کہاں پر آ رہا ہے؟ مصرع اول کے آخر میں، یا جیسے اردو میں ایک شاعر کہتا ہے مولانا: انگڑائی بھی وہ لینے نہ پائے اٹھا کے ہاتھ، دیکھا جو مجھ کو چھوڑ دیے مسکرا کے ہاتھ۔ تو دیکھو ہاتھ اور ہاتھ دو لفظ آئے دوسرا آخر میں اور پہلا کہاں آیا؟ پہلے مصرعے کے آخر میں۔ وَقَوْلُهُ اور جیسے شاعر کا یہ قول ہے وَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا مُعَرَّجَ سَاعَةٍ اور اگر نہ ہو اترنا، يَكُنْ کے اندر ضمیر ہے جو المام کو لوٹ رہی ہے اور المام کا معنی ہوتا ہے نازل ہونا، پڑاؤ ڈالنا، اور اگر نازل ہونا نہ ہو إِلَّا مُعَرَّجَ سَاعَةٍ، مُعَرَّجٌ کا معنی اقامت اور سَاعَةٍ ایک گھڑی، اگر ایک گھڑی کا نزول ہی کیوں نہ ہو قَلِيلًا تھوڑا سا فَإِنِّي نَافِعٌ لِي قَلِيلُهَا تو میرے لیے تھوڑا سا بھی کیا ہے؟ کافی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو شاعر کہیں سے گزر رہا تھا بھئی اجڑے ہوئے گھر وہاں تھے تو شاعر کہنے لگا اپنے ان ساتھیوں سے کہ یہاں پر کیا کرتے ہیں یہاں پر پڑاؤ ڈالو یہاں ہم اترتے ہیں اور اس گھر کے اندر اگر اس کے گھر والے ہوتے تو پھر مجھے اتنی وحشت نہ ہوتی گھر والے چونکہ نہیں ہیں اس لیے یہاں پر کیا محسوس ہو رہی ہے؟ وحشت محسوس ہو رہی ہے اور اگرچہ ہم تھوڑی دیر کا ہی پڑاؤ کیوں نہ کر لیں تو یہ تھوڑی دیر اترنا بھی کیا ہے؟ نافع ہے کیونکہ یہاں سے میرے معشوق کی یادیں وابستہ ہیں بھئی۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ إِلَّا مُعَرَّجَ سَاعَةٍ اور اگر اترنا نہ ہو مگر ایک گھڑی کا ہی، هُوَ خَبَرُ كَانَ یہ مُعَرَّجَ سَاعَةٍ یہ کیا ہے كَانَ کی خبر ہے وَاسْمُهُ ضَمِيرٌ يَعُودُ إِلَى الْإِلْمَامِ اور يَكُنْ کے اندر ضمیر ہے جو اس کا اسم ہے لوٹ رہی ہے المام کی طرف۔ کون سا المام؟ کہتے ہیں الْمَدْلُولِ عَلَيْهِ فِي الْبَيْتِ السَّابِقِ جس پر دلالت کی گئی ہے کس میں؟ گزشتہ شعر میں اور وہ یہ شعر ہے: أَلِمَّا امر ہے مولانا أَلِمَّا المام سے، نازل ہو عَلَى الدَّارِ اس گھر پر الَّتِي لَوْ وَجَدْتُهَا بِهَا أَهْلُهَا کہ اگر میں پاتا اس میں ان کے گھر والوں کو مَا كَانَ وَحْشًا مَقِيلُهَا تو نہ ہوتا اس میں وحشت زدہ کرنے والا مَقِيلُهَا قیلولہ مولانا، تو وہاں پر قیلولہ اتنا وحشت ناک نہ ہوتا۔ اترو تم اس گھر پر کہ جس میں اگر میں ان کے گھر والوں کو پا لیتا تو وہاں پر قیلولہ اتنا وحشت ناک نہ ہوتا۔ قَلِيلًا صِفَةٌ مُؤَكِّدَةٌ لِفَهْمِ الْقِلَّةِ مِنْ إِضَافَةِ التَّعْرِيجِ إِلَى السَّاعَةِ۔ بھئی إِلَّا مُعَرَّجَ سَاعَةٍ کتنی دیر کا پڑاؤ ہے؟ ایک گھڑی کا تو یہ تھوڑا ہے یا نہیں؟ تو پھر قَلِيلًا مُعَرَّجَ کی صفت آئی مولانا تو کہتے ہیں یہ صِفَةٌ مُؤَكِّدَةٌ لِفَهْمِ الْقِلَّةِ جب قلت پہلے معلوم ہو رہی تھی تو یہ صفت مؤکدہ ہے اسی میں تاکید جیسے آپ کہتے ہیں رَجُلٌ وَاحِدٌ بھئی رَجُلٌ نے کیا بتلا دیا تھا؟ ایک ہے پھر وَاحِدٌ کیوں لے کر آئے؟ صرف تاکید کے لیے تو یہاں بھی قلت پہلے سے معلوم تھی قَلِيلًا صفت مؤکدہ تاکید کے لیے قَلِيلًا آئی لِفَهْمِ الْقِلَّةِ مِنْ إِضَافَةِ التَّعْرِيجِ إِلَى السَّاعَةِ بوجہ سمجھ میں آنے کے قلت کے جو تعریج کی اضافت ہوئی ہے کس کی طرف؟ ساعت کی طرف اس سے قلت سمجھ میں آ رہی تھی۔ أَوْ صِفَةٌ مُقَيِّدَةٌ یا یہ صفت کیسی صفت ہے؟ مقیدہ ہے قید کرنے والی ہے مولانا، کیسے؟ کہ پہلے مُعَرَّجٌ مطلق ہے اقامت قلیل بھی ہو سکتا ہے اور کثیر بھی، تو پھر یہ قلت کے ساتھ موصوف ہوا تھوڑا سا پڑاؤ اور پھر اس کے بعد کیا ہوا؟ پھر اضافت ہوئی ہے۔ تو یا تو موصوف بننے سے پہلے اضافت ہو گی تو وہ مطلق تعریج ہے وہ کثرت کا بھی احتمال ہے اور قلت کا بھی، اور ایک ہے مولانا قلت سے موصوف ہونے کے بعد اضافت ہو تو پھر یہ کیا ہے مقید پہلے ہی ہو چکا ہے۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات مشکل ہے؟ دیکھو تعریج اس کی اضافت ہم نے کرنی ہے کس کی طرف؟ ساعت کی طرف۔ تو تعریج کا معنی اقامت کرنا یہ اقامت تھوڑی بھی ہو سکتی ہے اور زیادہ بھی، تو جب ہم نے ساعت کی طرف اضافت کر دی تو اس میں اب قلت کا معنی آ گیا اور پھر قَلِيلًا جو صفت لائے اس نے صرف کیا پیدا کی؟ تاکید کیونکہ قلت کا معنی تو پہلے ہی معلوم ہو گیا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ قَلِيلًا صفت ہے جو اس کے لیے قید ہے قبل الاضافت، پہلے پڑاؤ کے لیے پہلے قلت کو قید بناؤ مولانا، پڑاؤ ہو اور کتنا پڑاؤ ہو؟ تھوڑا سا، تھوڑا سا پڑاؤ ایک گھڑی کا۔ سمجھ میں آیا؟ تو اب اس صورت میں مُعَرَّجٌ پہلے موصوف ہو گا قلت کے ساتھ اور پھر اس کے بعد کیا ہو گی؟ اضافت ہو گی۔ أَوْ صِفَةٌ مُقَيِّدَةٌ إِلَّا تَعْرِيجًا قَلِيلًا فِي سَاعَةٍ یعنی تھوڑی سی اقامت ہو ایک گھڑی میں ہی۔ فَإِنِّي نَافِعٌ لِي قَلِيلُهَا اس لیے کہ بے شک میں جو ہوں کہ نافع ہے میرے لیے وہ تھوڑی سی گھڑی بھی جس میں کیا ہو گا؟ تعریج ہو گی اقامت ہو گی۔ تو قَلِيلُهَا مَرْفُوعٌ فَاعِلُ نَافِعٌ یہ فاعل ہے کس کا؟ نَافِعٌ کا۔ میں نے بتایا تھا جیسے فعل فاعل چاہتا ہے اسم فاعل بھی کیا چاہتا ہے؟ فاعل، تو نَافِعٌ کا فاعل قَلِيلُهَا ہے بھئی وَالضَّمِيرُ لِلسَّاعَةِ اور ضمیر کس کو لوٹ رہی ہے؟ ساعت کو قَلِيلُهَا کی ہاء ضمیر، تھوڑی گھڑی بھی کافی ہے میرے لیے۔ معنی یہ ہے مولانا قَلِيلُ التَّعْرِيجِ فِي السَّاعَةِ يَنْفَعُنِي وَيَشْفِي غَلِيلَ وَجْدِي، معنی یہ ہے کہ تھوڑی سی اقامت بھی ایک گھڑی میں وہ مجھے نفع دیتی ہے اور شفا دیتی ہے، غَلِيلٌ کہتے ہیں مولانا حرارت کو، وَجْدٌ کہتے ہیں عشق کو، میرے عشق کی آگ اور میرے عشق کی حرارت کو یہ شفا دینے والی ہے، تھوڑا سا پڑاؤ بھی وہاں معشوق کے مقام پر کافی ہے۔ وَهَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُكَرَّرُ الْآخَرُ فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الثَّانِي یہ مثال کون سی تھی کہ دوسرا مکرر مصرع ثانی کے شروع میں تھا۔ اور دوسری مثال دَعَانِي أَيِ اتْرُكَانِي مِنْ مَلَامِكُمَا۔ شاعر کہتا ہے شاعر کے پاس وہ دوست وغیرہ اس کے آتے ہیں اور اس کو کہتے ہیں یہ عشق وغیرہ چھوڑ دو یہ تمہیں تباہ کر دے گا بھئی۔ شاعر کہتا ہے کہ دیکھو ضابطہ یہ ہے کہ جب دو دعوت دینے والے آئیں تو جو پہلے دعوت دے اس کی دعوت کو قبول کیا جاتا ہے دوسرے کی دعوت کو قبول نہیں، اور تم دونوں نے مجھے آ کر دعوت دی ہے کس بات کی؟ ترک محبت کی جبکہ اس سے پہلے محبوب کے حسن و جمال نے مجھے دعوت دی تھی کس کی؟ محبت کرنے کی، تو اس نے مجھے محبت کرنے کی دعوت دی تم نے مجھے ترک محبت کی دعوت دی اور پہلے اس نے دعوت دی تھی لہذا میں اس کی دعوت قبول کرتا ہوں محبت کو ترک نہیں کرتا۔ دَعَانِي أَيِ اتْرُكَانِي تم دونوں مجھے چھوڑ دو مِنْ مَلَامِكُمَا اپنے ملامت کرنے سے سَفَاهًا کس وجہ سے؟ سَفَاهًا بے وقوفی کی وجہ سے أَيْ خِفَّةً وَقِلَّةَ عَقْلٍ یعنی تم مجھے جو ملامت کرتے رہتے ہو باعتبار بے وقوفی کے ملامت کرتے ہو کہ یہ جو عشق کر رہے ہو یہ صحیح کام نہیں کر رہے تو خفت اور قلت عقل کے اعتبار سے جو تم مجھے ملامت کرتے ہو فَدَاعِي الشَّوْقِ قَبْلَكُمَا دَعَانِي جو عشق کی طرف بلانے والا ہے اس نے تم سے پہلے مجھے دعوت دے دی تھی۔ تو دیکھو دَعَانِي کا پہلے کیا معنی ہے؟ چھوڑ دو، اور دوسرے دَعَانِي کا معنی بلایا تو ایک دعوت سے ہے مولانا اور دوسرا وَدَعَ يَدَعُ سے چھوڑنے سے ہے، مِنَ الدُّعَاءِ یہ دعا سے ہے۔ هَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُتَجَانِسُ الْآخَرُ فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ کہ متجانس آخر صدر مصرع اول میں ہے۔ وَقَوْلُهُ دوسرا شعر ہے وَإِذَا الْبَلَابِلُ جَمْعُ بُلْبُلٍ جب بلبلیں أَفْصَحَتْ بِلُغَاتِهَا جب وہ بولنے لگیں اپنی زبان میں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب بلبلیں بولیں بھئی اپنی زبان میں تو اس موقع پر انسان کو اپنی محبت یاد آتی ہے، اپنا معشوق یاد آتا ہے اور غم میں مبتلا ہو جاتا ہے اس کی جدائی میں تو اس موقع پر شراب پینے سے انسان کا غم کیا ہو جاتا ہے؟ دور ہو جاتا ہے۔ وَإِذَا الْبَلَابِلُ جَمْعُ بُلْبُلٍ یہ جمع ہے بُلْبُلٌ کی مولانا وَهُوَ طَائِرٌ مَعْرُوفٌ مشہور معروف پرندہ ہے أَفْصَحَتْ بِلُغَاتِهَا جب وہ بولتی ہے اپنی زبان میں فَانْفِ الْبَلَابِلَ، نَفَى يَنْفِي کا امر ہے نفی کرو دور کرو الْبَلَابِلَ جمع ہے بَلْبَالٌ کی وَهُوَ الْحُزْنُ وہ کس کو کہتے ہیں؟ غم کو، پس نفی کرو مولانا غم کی بِاحْتِسَاءِ بَلَابِلِ، احْتِسَاءٌ کہتے ہیں تھوڑا تھوڑا کر کے پینا سمجھ میں آیا بھئی؟ چسکیاں لینا، شراب کی چینک سے چسکیاں لیتے ہوئے نفی کرو غم کی۔ جَمْعُ بُلْبُلَةٍ بِالضَّمِّ یہ بَلَابِلِ ثالث جو ہے یہ بُلْبُلَةٌ کی جمع ہے وَهُوَ إِبْرِيقٌ فِيهِ الْخَمْرُ وہ ایسی چینک ہے جس میں شراب ہوتی ہے۔ وَهَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُتَجَانِسُ الْآخَرُ أَعْنِي الْبَلَابِلَ الْأَوَّلَ، تو مولانا مقام استشہاد بَلَابِلُ اول اور بَلَابِلِ ثالث ہے، بَلَابِلَ ثانی نہیں سمجھ میں آیا بھئی؟ ہاں بَلَابِلُ اول آیا ہے مصرع اول کے وسط میں، تو متجانس آخر یعنی بَلَابِلُ اول آیا ہے فِي حَشْوِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ مصرع اول کے وسط میں لِأَنَّ صَدْرَهُ هُوَ قَوْلُهُ وَإِذَا، شروع میں نہیں آیا درمیان میں آیا اس لیے کہ شروع تو اس کا کیا ہے؟ وَإِذَا تو بَلَابِلُ کہاں ہوا؟ درمیان میں۔ وَقَوْلُهُ فَمَشْغُوفٌ بِآيَاتِ الْمَثَانِي أَيِ الْقُرْآنِ وَمَفْتُونٌ بِرَنَّاتِ الْمَثَانِي۔ شاعر بصرہ کی تعریف کر رہا ہے، بصرہ بڑا جامع شہر ہے ہر قسم کے لوگ ہیں ایسے لوگ بھی ہیں بڑے بڑے اولیاء ہیں جو عشق کرنے والے ہیں قرآن کی آیات سے اور اس قسم کے لوگ بھی ہیں جو ستار کی آوازوں کے عاشق ہیں بھئی یعنی گانے بجانے وغیرہ میں لگے ہوئے ہیں تو ہر قسم کے لوگ ہیں کچھ کا عشق جو ہے قرآن وغیرہ سے ہے کچھ کا عشق گانے بجانے وغیرہ سے۔ فَمَشْغُوفٌ أَيْ فَمِنْهَا مَشْغُوفٌ اس میں سے بعض ایسے ہیں جو عاشق ہیں بِآيَاتِ الْمَثَانِي، الْمَثَانِي قرآن اس لیے کہتے ہیں اس کے اندر قصے، آیات، وعظ وغیرہ یہ سارے مکرر ہیں مولانا، قرآن کی آیات کے عاشق ہیں مَشْغُوفٌ کا معنی عاشق۔ وَمَفْتُونٌ کا معنی بھی عاشق یا مولانا آزمائش میں ڈالے گئے ہیں بِرَنَّاتِ الْمَثَانِي، رَنَّاتٌ رَنَّةٌ کی جمع ہے آواز کو کہتے ہیں، الْمَثَانِي وہ گانے بجانے کا آلہ جس پر تاریں ہوتی ہیں تو اس سے آواز نکالنے کے لیے کیا کیا جاتا ہے دو تاروں کو ملایا جاتا ہے دو تاریں ملیں گی سمجھ میں آیا بھئی؟ وَمَفْتُونٌ بِرَنَّاتِ الْمَثَانِي اور بعض عاشق ہیں مولانا مثانی کی آواز کے ساتھ أَيْ بِنَغَمَاتِ أَوْتَارِ الْمَزَامِيرِ۔ بھئی وہ اوتار ہوتے ہیں میں نے بتایا تھا نا جیسے مولانا کمان کے اندر وہ جو چمڑا باندھا جاتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ وَتَرٌ تو اسی طرح ان آلات پہ بھی وتر لگے ہوتے ہیں تاریں ہوتی ہیں۔ أَيْ بِنَغَمَاتِ أَوْتَارِ الْمَزَامِيرِ، مَزَامِيرٌ باجے مولانا آلہ لہو مراد ہے، آلہ لہو کے اوتار جو ہیں وَتَرٌ کی جمع ہے ان کی جو تاریں ہوتی ہیں ان کے نغمات کے عاشق ہیں الَّتِي ضُمَّ طَاقٌ مِنْهَا إِلَى طَاقٍ کہ جس کے اندر ملایا جاتا ہے ایک طاق کو دوسرے طاق کے ساتھ یعنی ایک تار کو ایک وتر کو دوسرے وتر کے ساتھ۔ هَذَا فِيمَا يَكُونُ یہ مثال ہے کس کی جس میں متجانس آخر کہاں پر آ رہا ہے؟ مصرع اول کے آخر میں آ رہا ہے۔ وَقَوْلُهُ أَمَّلْتُهُمْ ثُمَّ تَأَمَّلْتُهُمْ میں نے ان سے امید کی شاعر کہتا ہے ثُمَّ تَأَمَّلْتُهُمْ پھر میں نے ان میں غور و فکر کیا فَلَاحَ پس ظاہر ہوا فاء مولانا عاطفہ پس ظاہر ہوئی یہ بات لِي أَنْ لَيْسَ فِيهِمْ فَلَاحٌ کہ ان میں کوئی بھلائی نہیں ہے، میں نے ان لوگوں سے امید کی اور ان کے اندر غور و فکر کیا تو مجھے پتہ چلا کہ ان لوگوں میں کوئی بھلائی نہیں ہے، تو دیکھو فَلَاحَ فَلَاحٌ أَيْ فَوْزٌ وَنَجَاةٌ فَلَاحٌ کا ترجمہ کر لیں کامیابی اور نجات نہیں ہے۔ هَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُتَجَانِسُ الْآخَرُ فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الثَّانِي کہ متجانس آخر کہاں آیا مولانا؟ مصرع ثانی کے شروع میں۔ دوسرا ضَرَائِبُ جَمْعُ ضَرِيبَةٍ، ضَرِيبَةٌ کی جمع ہے وَهِيَ الطَّبِيعَةُ الَّتِي ضُرِبَتْ لِلرَّجُلِ وہ طبیعت ہے جو ڈھالی گئی ہو آدمی کے لیے وَطُبِعَ عَلَيْهَا جس پر اس کی کیا ہوئی ہو؟ تخلیق ہوئی ہو۔ أَبْدَعْتَهَا فِي السَّمَاحِ، أَبْدَعَ کا معنی ہوتا ہے بنانا بھئی پہلی مرتبہ، بہت سی ایسی طبیعتیں ہیں جن کو پہلی مرتبہ تو نے بنایا فِي السَّمَاحِ سخاوت کے اندر فَلَسْنَا نَرَى لَكَ فِيهَا ضَرِيبَا پس ہم نہیں دیکھتے تیرا اس کے اندر کوئی مثل۔ اے ممدوح تو نے سخاوت کی ایسی طبیعتیں بنائی ہیں ان کے ایسے نشانات بنائے ہیں کہ ہم تیرا کوئی مثل نہیں دیکھتے کسی نے ایسی اور مثالیں نہیں پیش کیں۔ أَيْ مِثْلًا وَأَصْلُهُ الْمِثْلُ فِي ضَرْبِ الْقِدَاحِ، قِدَاحٌ مولانا قِدْحٌ کی جمع ہے جوئے کے تیر۔ جوئے کے تیر ہوتے تھے عرب جوا کھیلتے کسی پہ نَعَمْ ہوتا کسی پہ لَا ہوتا اور ان کو ہلاتے تھے اور پھر اس کے مطابق جو ہے نَعَمْ نکلتا یا لَا نکلتا اس کے مطابق ہار جیت کا فیصلہ ہوتا تھا، تو جوئے کے تیر قِدْحٌ ان کی جمع قِدَاحٌ آتی ہے۔ تو وہ بھی چونکہ ایک دوسرے کے مثل ہوا کرتے تھے تیر تو ان میں سے ہر ایک کو کیا کہتے تھے؟ ضَرِيبٌ کیونکہ وہ دوسرے کے مثل ہے، تو لہذا کہتے ہیں ضَرِيبٌ کا معنی ہے مِثْلًا وَأَصْلُهُ الْمِثْلُ فِي ضَرْبِ الْقِدَاحِ اور اصل اس کی کیا ہے مثل کس کے اندر؟ ضرب قداح أَيِ الْقِدَاحِ الْمَضْرُوبَةِ صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف جو وہ تیر تھے مولانا۔ یعنی الْمِثْلُ فِي الْقِدَاحِ الْمَضْرُوبَةِ مصدر بمعنی اسم مفعول کے ہے یعنی مثل ہو اور فِي بمعنی مِنْ کے ہے أَيِ الْمِثْلُ مِنَ الْقِدَاحِ الْمَضْرُوبَةِ اور مَضْرُوبَةٌ بمعنی مُحَرَّكَةٌ کے ہے بھئی، حرکت دیے گئے جوئے کے تیروں میں سے مثل۔ هَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُلْحَقُ الْآخَرُ بِالْمُتَجَانِسَيْنِ اشْتِقَاقًا فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ یہ اس میں ہے کہ ملحق آخر کیا ہے بِسَبَبِ الْمُتَجَانِسَيْنِ اشْتِقَاقًا مصرع اول کے شروع میں بھئی سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی وہ جو متجانسین ہیں باعتبار اشتقاق کے ان میں سے ایک آیا ہے کہاں پر؟ مصرع اول کے شروع میں۔ وَقَوْلُهُ إِذَا الْمَرْءُ لَمْ يَخْزُنْ عَلَيْهِ لِسَانَهُ فَلَيْسَ عَلَى شَيْءٍ سِوَاهُ بِخَزَّانِ۔ جب آدمی حفاظت نہیں کرتا اپنے اوپر اپنی زبان کی تو پس کسی اور چیز پر بھی اس کے علاوہ حفاظت کرنے والا نہیں بھئی۔ بھئی انسان کی زبان انسان کو نقصان پہنچاتی ہے، کوئی ایسی بات کر دیتا ہے جس کی وجہ سے نقصان بھی کس کو اٹھانا پڑتا ہے؟ تو جب انسان اپنی زبان کے سبب سے اپنے آپ کو نقصان پہنچا دیتا ہے اپنی ذات کی جب وہ پرواہ نہیں کرتا تو غیر کی بطریق اولی وہ کیا کرے گا؟ پرواہ نہیں کرے گا۔ تو جب ایک شخص اس چیز کی پرواہ نہیں کرتا کہ ایسا کلام کرتا ہے جس سے ہمیشہ اسی کو نقصان ہوتا ہے معلوم ہوا وہ آپ کی بھی کبھی کوئی پرواہ نہیں کرے گا کیونکہ جب وہ اپنے نفس کی پرواہ نہیں کر رہا تو آپ کی بھی کبھی پرواہ نہیں کرے گا۔ أَيْ إِذَا لَمْ يَحْفَظِ الْمَرْءُ لِسَانَهُ عَلَى نَفْسِهِ جب حفاظت نہیں کرتا آدمی اپنی زبان کی اپنے نفس پر مِمَّا يَعُودُ ضَرَرُهُ إِلَيْهِ اس چیز میں سے کہ جب کہ اس کا ضرر بھی اسی کی طرف لوٹے گا فَلَا يَحْفَظُ عَلَى غَيْرِهِ تو وہ حفاظت نہیں کرتا غیر پر بھی مِمَّا لَا ضَرَرَ فِيهِ ان چیزوں میں سے جن میں اس کے لیے کوئی ضرر بھی نہ ہو تو ان میں تو بطریق اولی نہیں کرے گا۔ وَهَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُلْحَقُ الْآخَرُ اشْتِقَاقًا فِي حَشْوِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ یہ وہ مثال ہے کہ جس میں ملحق آخر کس اعتبار سے ہے؟ باعتبار اشتقاق کے ہے مصرع اول کے وسط میں آ رہا ہے۔ وَقَوْلُهُ شاعر کا یہ قول لَوِ اخْتَصَرْتُمْ مِنَ الْإِحْسَانِ زُرْتُكُمُ وَالْعَذْبُ مِنَ الْمَاءِ يُهْجَرُ لِلْإِفْرَاطِ فِي الْخَصَرِ۔ شاعر کو بادشاہ نے کہا یا جاننے والے نے کہا کہ تم ہمارے پاس آتے کیوں نہیں ہو تم نے آنا کم کر دیا پہلے بہت آتے تھے۔ شاعر کہتا ہے تم نے اتنے زیادہ احسانات کر دیے مجھ پر اگر تم تھوڑے احسانات کچھ کرتے تو میں آیا کرتا لیکن تم نے اتنے احسانات کر دیے ہیں کہ اب میرے لیے آنا تمہارے پاس دشوار ہو گیا ہے اس لیے کہ کوئی چیز جب زیادہ ہو جائے تو پھر وہ دشوار ہو جاتی ہے جیسے پانی جب زیادہ ٹھنڈا ہو جائے تو پھر اس کو ترک کر دیا جاتا ہے پینا مشکل ہو جاتا ہے۔ لَوِ اخْتَصَرْتُمْ مِنَ الْإِحْسَانِ زُرْتُكُمُ اگر تم کم کر دیتے احسان میں سے تو میں تمہاری زیارت کرتا وَالْعَذْبُ اور میٹھا جو ہوتا ہے مِنَ الْمَاءِ پانی میں سے يُهْجَرُ ترک کر دیا جاتا ہے لِلْإِفْرَاطِ بوجہ زیادہ ہونے کے فِي الْخَصَرِ ٹھنڈک میں، ٹھنڈک میں زیادہ ہونے کی وجہ سے أَيِ الْبُرُودَةِ یعنی برودت ٹھنڈک، يَعْنِي أَنَّ بُعْدِي عَنْكُمْ لِكَثْرَةِ إِنْعَامِكُمْ عَلَيَّ میری تم سے جو دوری ہے وہ تمہارے زیادہ انعامات کرنے کی وجہ سے ہے مجھ پر۔ وَقَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ بعض علماء نے یہ وہم کیا دیکھو مولانا ایک تو الْخَصَرِ آیا آخر میں دوسرا کہاں آیا؟ درمیان میں آیا اور اوپر والی مثال میں بھی کیا تھا ایک بِخَزَّانِ آخر میں آیا تھا دوسرا کہاں آیا تھا؟ درمیان میں تو یہ تو بالکل ایک جیسے ہیں تو بعضوں کو وہم ہوا کہ یہ دو مثالیں مکرر ذکر کر دیں شاید مصنف نے۔ تو علامہ تفتازانی بتاتے ہیں نہیں بھئی اوپر خَزَنَ مادہ تھا دونوں کا جبکہ نیچے مادہ الگ الگ ہے ایک کس سے ماخوذ ہے؟ اختصار سے کم کرنا اور دوسرا خَصَرٌ جس کے معنی کیا ہیں؟ ٹھنڈک۔ تو ہیں تو دونوں خَصَرَ خَصَرَ لیکن ایک خَصَرَ کا معنی کیا ہے؟ کم کرنا اور دوسرے کا معنی ٹھنڈک ہے تو مادہ الگ الگ ہے دونوں کا بھئی۔ وَقَدْ تَوَهَّمَ بَعْضُهُمْ بعضوں نے یہ وہم کیا أَنَّ هَذَا الْمِثَالَ مُكَرَّرٌ حَيْثُ كَانَ اللَّفْظُ الْآخَرُ فِي حَشْوِ الْمِصْرَاعِ الْأَوَّلِ کہ یہ مثال مکرر ہے اس طور پر کہ دوسرا لفظ جو ہے مصرع اول کے وسط میں ہے كَمَا فِي الْبَيْتِ الَّذِي قَبْلَهُ جیسا کہ اس سے پہلے شعر کے اندر تھا وَلَمْ يَعْرِفْ اس نے یہ نہیں جانا أَنَّ اللَّفْظَيْنِ فِي الْبَيْتِ السَّابِقِ مِمَّا يَجْمَعُهُمَا الِاشْتِقَاقُ کہ پچھلے شعر کے اندر جو لفظ تھے ان میں جامع کیا تھا؟ اشتقاق اور اس شعر کے اندر جامع کیا ہے؟ شبہ اشتقاق، وَفِي هَذَا الْبَيْتِ مِمَّا يَجْمَعُهُمَا شِبْهُ الِاشْتِقَاقِ اور اس شعر کے اندر جامع جو ہے وہ شبہ اشتقاق ہے۔ وَالْمُصَنِّفُ لَمْ يَذْكُرْ مِنْ هَذَا الْقِسْمِ إِلَّا هَذَا الْمِثَالَ اور مصنف نے شبہ اشتقاق کی صرف ایک ہی مثال ذکر کی ہے اور تین ذکر نہیں کیں وَأَهْمَلَ الثَّلَاثَةَ الْبَاقِيَةَ اور تین باقی ترک کر دی ہیں قَدْ أَوْرَدْنَاهَا فِي الشَّرْحِ اور اب چونکہ آپ تحقیق کو پسند کرنے والے لوگ ہیں آپ ان مثالوں کو طلب کرنا چاہتے ہوں گے تو وہ ہم نے اپنی شرح میں ذکر کی ہیں وہاں پڑھ لیجیے بھئی۔ وَقَوْلُهُ فَدَعِ الْوَعِيدَ فَمَا وَعِيدُكَ ضَائِرِي أَطَنِينُ أَجْنِحَةِ الذُّبَابِ يَضِيرُ۔ شاعر کو کوئی شخص دھمکیاں دیا کرتا تھا بھئی میں یہ کر دوں گا میں وہ کر دوں گا بھئی۔ شاعر کہتا ہے بھئی تو دراصل خود جو ہے مکھی ہے اور تیری دھمکیاں مکھی کے پروں کی آواز ہے، تو مکھی کے پروں کی آواز سے کسی کو کبھی کوئی تکلیف نہیں پہنچ سکتی جتنی مرضی دھمکیاں دے لے مجھے تیرا کوئی خوف نہیں۔ فَدَعِ الْوَعِيدَ ترک کر دے دھمکی کو فَمَا وَعِيدُكَ ضَائِرِي پس نہیں ہے تیری وعید مجھے کوئی نقصان دینے والی، أَطَنِينُ، طَنِينٌ کہتے ہیں آواز کو ہمزہ استفہام کے لیے کیا آواز أَجْنِحَةِ الذُّبَابِ مکھی کے پروں کی يَضِيرُ نقصان دیتی ہے؟ کیا مکھی کے پروں کی آواز بھی کسی کو نقصان دیتی ہے؟ هَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُلْحَقُ الْآخَرُ اشْتِقَاقًا تو جامع اشتقاق ہے مولانا وَهُوَ ضَائِرِي اور ایک ضَائِرِي ہے ایک يَضِيرُ ہے اور کہاں پر آیا مولانا مصرع اول کے آخر میں۔ آگے وَقَدْ كَانَتِ الْبِيضُ الْقَوَاضِبُ فِي الْوَغَى بَوَاتِرَ فَهِيَ الْآنَ مِنْ بَعْدِهِ بُتْرُ۔ اور تحقیق وہ تلواریں الْقَوَاضِبُ جو کاٹنے والی تھیں یعنی گردنیں جو کاٹنے والی ہیں فِي الْوَغَى کس میں کاٹنے والی تھیں گردنیں؟ جنگوں میں، جنگ میں گردنیں کاٹنے والی سفید تلواریں بَوَاتِرَ یہ خبر ہے كَانَ کی، بَوَاتِرُ جمع ہے بَاتِرٌ کی اور یہ تیز تلوار کو کہتے ہیں، تو شاعر کہتا ہے کہ جنگ میں گردنیں کاٹنے والی سفید تلواریں بہت تیز تھیں فَهِيَ الْآنَ مِنْ بَعْدِهِ بُتْرُ اور ممدوح کی وفات کے بعد اب وہ ابتر ہیں، بُتْرٌ جمع ہے أَبْتَرُ کی اور أَبْتَرُ کہتے ہیں دم کٹا، ناقص، ادھورا، اب وہ ادھوری ہیں ناقص ہیں بے فائدہ ہیں وہ تلواریں۔ جنگ میں گردنیں کاٹنے والی تلواریں بہت تیز تھیں اب وہ تلواریں بے فائدہ ہیں اس لیے کہ پہلے ان کو استعمال کرنے والا موجود تھا اور اب ان کا کوئی استعمال کرنے والا موجود ہی نہیں۔ أَيِ السُّيُوفُ الْقَوَاطِعُ فِي الْحَرْبِ، وَغًى کا معنی جنگ وہ تلواریں جو کاٹنے والی تھیں جنگ کے اندر بَوَاتِرَ أَيْ قَوَاطِعَ بڑی تیز تھیں بِحُسْنِ اسْتِعْمَالِهِ إِيَّاهَا بوجہ اس کے اچھا استعمال کرنے کی وجہ سے إِيَّاهَا ان تلواروں کو، فَهِيَ الْآنَ مِنْ بَعْدِهِ بُتْرُ یہ تلواریں اس کے جانے کے بعد اب بے فائدہ ہیں جَمْعُ أَبْتَرَ، أَبْتَرُ کی جمع ہے بُتْرٌ إِذْ لَمْ يَبْقَ بَعْدَهُ مَنْ يَسْتَعْمِلُهَا اسْتِعْمَالَهُ اس لیے کہ اس کے بعد کوئی شخص ایسا باقی نہیں رہا جو ان تلواروں کو استعمال کرے اس کی طرح جیسے وہ استعمال کرتا تھا۔ هَذَا فِيمَا يَكُونُ الْمُلْحَقُ الْآخَرُ اشْتِقَاقًا فِي صَدْرِ الْمِصْرَاعِ الثَّانِي یہ کس کی مثال ہے کہ جس میں ملحق آخر کیا ہے باعتبار اشتقاق کے وہ صدر مصرع ثانی میں ہے، مصرع ثانی کے شروع میں آیا، ایک تو دوسرے مصرعے کے آخر میں اور دوسرا اس کے شروع میں۔ چلیے جی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
71 approved lectures · 85 of 71