Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-006

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
جی مختصرالمعانی کا خطبہ، بڑا مشکل اور فصیح، فصیح و بلیغ خطبہ مولانا۔ جی یہ عبارت مشکل ہے، چلیے دوبارہ سن لیجیے۔ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ. نَحْمَدُكَ يَا مَنْ شَرَحَ صُدُورَنَا لِتَلْخِيصِ الْبَيَانِ، ہم آپ کی حمد بیان کرتے ہیں اے وہ ذات شَرَحَ صُدُورَنَا جس نے کھول دیا ہمارے سینوں کو لِتَلْخِيصِ الْبَيَانِ بیان کے خلاصہ کرنے کے لیے، فِي إِيضَاحِ الْمَعَانِي معانی کی وضاحت کے ساتھ، وَنَوَّرَ قُلُوبَنَا اور منور کیا ہمارے دلوں کو، نَوَّرَ کا عطف ہے مولانا شَرَحَ پر، اے وہ ذات جس نے منور کیا ہمارے دلوں کو بِلَوَامِعِ التِّبْيَانِ ایسے مدلل کلام کے ساتھ جو چمکتے ہوئے ستاروں کی طرح ہے۔ بُدُو بیان کے چمکتے ہوئے ستاروں کے ساتھ جو کہ طلوع حاصل ہونے والے ہیں مِنْ مَطَالِعِ الْمَثَانِي قرآن کے الفاظ سے، وَنُصَلِّي عَلَى نَبِيِّكَ مُحَمَّدٍ اور ہم رحمت کی دعا کرتے ہیں آپ کے پیغمبر پر، آپ کے نبی پر جن کا نام محمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم، الْمُؤَيَّدِ دَلَائِلُ إِعْجَازِهِ تائید کی گئی ہے جن کے عاجز کر دینے والے دلائل یعنی ان کے معجزات کی، یعنی ان کے معجزات کو قوت عطا کی گئی ہے بِأَسْرَارِ الْبَلَاغَةِ بلاغت کے اسرار اور رازوں کے ساتھ، وَعَلَى آلِهِ اور رحمت کی دعا کرتے ہیں ان کی آل کے لیے، وَأَصْحَابِهِ اور ان کے صحابہ کے لیے، الْمُحْرِزِينَ قَصَبَاتِ السَّبْقِ جو جمع کرنے والے ہیں سبقت کے تیروں کو فِي مِذْمَارِ الْفَصَاحَةِ وَالْبَرَاعَةِ کمال اور فصاحت کے میدانوں میں۔ اور ہم رحمت کی دعا کرتے ہیں ان کے ان صحابہ کے لیے جو بازی لے جانے والے ہیں کمال اور فصاحت کے میدانوں میں سب پر، وَبَعْدُ اور حمد و صلاۃ کے بعد، فَيَقُولُ الْعَبْدُ الْفَقِيرُ إِلَى اللَّهِ الْغَنِيِّ پس کہتا ہے وہ بندہ جو محتاج ہے اللہ کی طرف جو کہ بے پرواہ ہے، مَسْعُودُ بْنُ عُمَرَ جو مسعود ہیں بیٹے ہیں عمر کے، الْمَدْعُوُّ جو پکارے جاتے ہیں بِسَعْدِ التَّفْتَازَانِيِّ جو سعد تفتازانی کے نام سے پکارے جاتے ہیں، هَدَاهُ اللَّهُ سَوَاءَ الطَّرِيقِ اللہ ان کو ہدایت دے سیدھے راستے کی طرف، وَأَذَاقَهُ حَلَاوَةَ التَّحْقِيقِ اور چکھائے ان کو تحقیق کی مٹھاس، قَدْ شَرَحْتُ فِيمَا مَضَى تحقیق میں نے شرح کی تھی ماضی کے زمانہ گزشتہ کے اندر، تَلْخِيصَ الْمِفْتَاحِ تلخیص المفتاح کی، وَأَغْنَيْتُهُ بِالْإِصْبَاحِ عَنِ الْمِصْبَاحِ اور میں نے اس کو بے پرواہ کر دیا تھا صبح کے ساتھ چراغوں سے، وَأَوْدَعْتُهُ غَرَائِبَ النُّكَتِ سَمَحَتْ بِهَا الْأَنْظَارُ اور میں نے اس میں ذکر کیے تھے انوکھی باریک باتیں جن کی سخاوت کی تھی میری فکروں نے یعنی وہ میری فکروں کا نتیجہ تھے، وَوَشَّحْتُهُ بِلَطَائِفِ فِقَرٍ سَبَكَتْهَا يَدُ الْأَفْكَارِ اور میں نے اس کو مزین کیا تھا ایسے لطیف فکروں کے ساتھ جن کو ڈھالا تھا میرے میری فکروں کے ہاتھوں نے، ثُمَّ رَأَيْتُ الْكَثِيرَ مِنَ الْفُضَلَاءِ وَالْجَمَّ الْغَفِيرَ مِنَ الْأَذْكِيَاءِ پھر میں نے دیکھا کہ فضلاء کی ایک بہت بڑی تعداد اور ذہین لوگوں کا ایک بہت بڑا ہجوم، يَسْأَلُونَنِي وہ مجھ سے سوال کر رہے ہیں، صَرْفَ الْهِمَّةِ ہمت کو خرچ کرنے کے بارے میں کہ میں اپنی ہمت خرچ کروں، نَحْوَ اخْتِصَارِهِ اس مطول کے اختصار کی طرف، اس شرح کے اختصار کی طرف میں اپنی ہمت خرچ کروں یعنی اسے مختصر بنا دوں، وَالِاقْتِصَارِ عَلَى بَيَانِ مَعَانِيهِ اور مجھ سے سوال کر رہے تھے کہ میں ہمت خرچ کروں بھئی، نَحْوَ اخْتِصَارِهِ کس چیز پر؟ اکتفاء کرنے پر عَلَى بَيَانِ مَعَانِيهِ اس تلخیص کے معانی بیان کرنے پر، صرف اس کے معانی بیان کروں، وَكَشْفِ أَسْتَارِهِ اور اس کے پردے کھولوں یعنی اس کے مشکل مقامات کی شرح کروں۔ لَمَّا شَاهَدُوا جب انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ مِنْ أَنَّ الْمُحَصِّلِينَ قَدْ تَقَاصَرَتْ هِمَمُهُمْ کہ وہ لوگ جو تحصیل اس علم کی تحصیل کا ارادہ کرتے ہیں رکھتے ہیں قَدْ تَقَاصَرَتْ هِمَمُهُمْ تحقیق عاجز آ گئی ہیں ان کی ہمتیں، عَنِ اسْتِطْلَاعِ طَوَالِعِ أَنْوَارِهِ اس اس کتاب کے روشن انوارات پر مطلع ہونے سے۔ یعنی محصلین جو ہیں ان کی ہمتیں عاجز آ گئی ہیں کہ وہ مطلع ہوں اس کتاب کے روشن یعنی ظاہر باتوں پر مطلع ہونے سے بھی وہ عاجز آ گئے ہیں، وَتَقَاعَدَتْ عَزَائِمُهُمْ اور دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے ان کے عزموں نے، عَنِ اسْتِكْشَافِ خَبِيَّاتِ أَسْرَارِهِ کہ وہ کھولیں اس کے پوشیدہ رازوں کو۔ ان کے راز جو چھپے ہوئے ہیں ان کو کیا کریں؟ کھولیں، تو یعنی ظاہری باتوں میں بھی سے بھی وہ عاجز آ گئے ہیں تو پوشیدہ باتیں کہاں اس میں تلاش محنت کریں گے، اس میں بھی انہوں نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے۔ وَأَنَّ الْمُنْتَحِلِينَ قَدْ قَلَّبُوا أَحْدَاقَ الْأَخْذِ وَالِانْتِهَابِ، وَأَنَّ الْمُنْتَحِلِينَ یہ عطف ہے مولانا اوپر جو گزرا تھا أَنَّ الْمُحَصِّلِينَ۔ تو یوں عبارت بن جائے گی، وہ اوپر والی عبارت ساتھ ملائیں: لَمَّا شَاهَدُوا مِنْ أَنَّ الْمُنْتَحِلِينَ اور جب انہوں نے یہ مشاہدہ کیا۔ منتحل کہتے ہیں مولانا وہ شخص جو غیر کے کلام یا شعر کو لیتا ہے، ذکر کرتا ہے اور اپنی طرف نسبت کرتا ہے کہ یہ میرا شعر ہے یا یہ میرا کلام ہے۔ کلام غیر کا ہوتا ہے اور وہ کیا کرتا ہے؟ اپنی طرف نسبت کرتا ہے، یعنی یہ علمی سرقہ ہے مولانا، علمی چوری کرتا ہے غیر کی چیز لے کر اپنی طرف نسبت کرتا ہے۔ اور جب انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ علمی چوری کرنے والے جو ہیں قَدْ قَلَّبُوا أَحْدَاقَ الْأَخْذِ، قلب کا معنی ہے مولانا پلٹنا، احداق جمع ہے حدقہ کی، آنکھ کی سیاہی کو کہتے ہیں، آنکھ کی سیاہی جو۔ انہوں نے پلٹا ہے الاخذ کہتے ہیں لینا بھئی، پکڑنا، اور انتہاب کہتے ہیں لوٹنا بھئی، لوٹنا۔ انتہاب اور نہب کا معنی ہے لوٹنا بھئی۔ تو اخذ و انتہاب کا معنی ہوا لوٹ مار، دونوں کا ایک ہی معنی۔ لوٹ مار کی آنکھوں کو، نگاہوں کو پلٹا ہے انہوں نے۔ یہ کنایہ ہے مولانا توجہ سے کہ وہ میری اس کتاب کی طرف کیا ہو گئے ہیں؟ متوجہ ہو گئے ہیں لوٹ مار کے لیے، اس میں سے عبارتیں لیتے ہیں اور اپنی جانب منسوب کرتے ہیں، یہ نہیں بتلاتے کہ انہوں نے یہ باتیں کس سے لی ہیں؟ میری شرح سے لی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ وَمدُّوا اور لمبی کی ہیں انہوں نے، مد یمد کے معنی لمبا کرنا، اعناق جمع ہے عنق کی بھئی، گردن کو کہتے ہیں۔ مسخ، مسخ کہتے ہیں مولانا اعلیٰ صورت سے بدل کر ادنیٰ صورت بنانا، کوئی چیز حسین ہے مولانا اس کی آپ صورت خراب کر کے ادنیٰ درجے کی بنا دیتے ہیں تو اس کو کیا کہیں گے کہ آپ نے اس چیز کو کیا کر دیا؟ مسخ کر دیا۔ اور انہوں نے لمبی کی ہیں مسخ کی گردنیں عَلَى ذَلِكَ الْكِتَابِ اس کتاب پر۔ اس کا تعلق دونوں سے ہے مولانا، مدوا گردنیں لمبی کی ہیں اس کتاب پر اور لوٹ مار کی نگاہیں پھیری ہیں اس کتاب پر، اس کتاب کی طرف۔ یہ بھی مولانا کنایہ ہے لمبی گردن لمبی کرنا، یہ بھی کنایہ ہے توجہ دینے سے، جیسے قلبوا احداق کا معنی بھی توجہ دینے کے تھا، اس کا معنی بھی توجہ دینے کے ہیں۔ بھئی انسان جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو گردن لمبی کرتا ہے بھئی، آپ نے کبھی مشاہدہ کیا ہے بھئی؟ جی؟ جی؟ دکھاؤ اب۔ تو کھڑا ہو بھئی، تجھے کہا، یہ پڑھ یہ کیا لکھا ہے؟ کوشش کر۔ آپ نے دیکھا اس نے گردن لمبی کی یا نہیں کی مولانا؟ انسان جب کسی چیز کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ گردن لمبی کرتا ہے اس کی طرف جھک جاتا ہے جی۔ توجہ سے کنایہ ہے۔ وَأَنَّ الْمُنْتَحِلِينَ جب انہوں نے یہ مشاہدہ کیا کہ لوٹ مار والوں نے توجہ کہ علمی سرقہ کرنے والوں نے لوٹ مار کی نگاہیں پھیری ہیں اس کتاب، پلٹی ہیں اس کتاب پر اور مسخ کی گردنیں لمبی کی ہیں اس کتاب پر۔ مسخ اس لیے کہا مولانا کہ کہتے ہیں کہ میری عبارتیں تو بڑی شاندار اور زبردست ہیں لیکن دوسرے جب لیتے ہیں میری عبارتوں کو اپنی عبارتوں کے ساتھ ملاتے ہیں تو گویا ان کے سارے حسن کو کیا کر دیتے ہیں؟ ختم کر دیتے ہیں۔ تو دو وجہیں بیان کیں علامہ تفتازانی نے بھئی، دو وجہ سے علماء طلباء میرے پاس آتے تھے اور کہتے تھے اس کو مختصر کریں اس شرح کو۔ پہلی وجہ کیا تھی؟ کہ طلباء کی ہمتیں کیا ہو گئی تھیں؟ پست ہو گئی تھیں، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ لوٹ مار کرنے والوں نے کیا کیا تھا میری کتاب سے؟ علمی سرقہ شروع کر دیا تھا، ان دو وجہوں سے۔ تو ایک وجہ ہے أَنَّ الْمُحَصِّلِينَ میں آ گئی، دوسری أَنَّ الْمُنْتَحِلِينَ میں آ گئی۔ وَكُنْتُ أُضْرِبُ عَنْ هَذَا الْخَطْبِ، ضرب یضرب اضراب کے معنی، ضرب یضرب، ضرب یضرب کے معنی مارنا کے بھی ہیں اور اس کے معنی اعراض کرنے کے بھی ہیں مولانا، اعراض کرنے، یہاں اعراض کرنے کے معنی میں ہے ضرب یضرب۔ خطب کہتے ہیں معاملے کو، بات کو، کسی کام کو چاہے چھوٹا ہو یا بڑا، چھوٹے کام کے لیے بھی کہہ سکتے ہیں خطب، اور بڑے کے لیے بھی کہ هذا خطب عظیم۔ صَفْحًا، صفح یصفح کے معنی بھی مولانا اعراض کرنے کے ہیں بھئی، اضرب کا بھی کیا معنی بتلایا؟ اور صفحاً بھی اعراض کرنا، اور تو یہ مولانا مفعول مطلق ہے بھئی اضرب کے لیے۔ مفعول مطلق جانتے ہیں مولانا، وہ مصدر جو ماقبل فعل کے معنی میں ہو، تو یہ اسی معنی میں ہے، ہاں اسی لفظ سے ہونا ضروری نہیں، آپ نے پڑھا ہے مولانا کہ کبھی اسی باب سے آئے گا اور کبھی جلست جلسۃ، یا کبھی دوسرے باب سے آئے گا جیسے انبت نباتاً، اور کبھی مادہ ہی بالکل الگ ہو گا جیسے قعدت جلوساً، ہم معنی ایک ہونا چاہیے یہ ضروری ہے، یہاں بھی اسی طرح ہے۔ جی؟ تاکید کے لیے؟ تاکید کے لیے آئے گا جی۔ وَكُنْتُ أُضْرِبُ عَنْ هَذَا الْخَطْبِ اور میں اعراض کرتا تھا اس معاملے سے، اس بات سے، وہ مجھے کہتے تھے شرح لکھو، کہتے ہیں میں اعراض کرتا تھا۔ وَأَطْوِي، طوی یطوی کے معنی ہیں مولانا موڑنے کے، لپیٹنے، موڑنے کے۔ دُونَ مَرَامِهِمْ، مرام مقصود اور مطلوب مولانا، کشح پہلو کو کہتے ہیں بھئی، جانب، ایک پہلو۔ اور میں موڑتا تھا دُونَ مَرَامِهِمْ ان کے مقصود سے ورے، ان کے مقصود کے علاوہ یعنی اس کی طرف نہیں دوسری طرف اپنے پہلو کو موڑتا تھا، وَأَطْوِي دُونَ مَرَامِهِمْ اور میں ان کے مقصود کے علاوہ کی طرف کیا کرتا تھا؟ موڑتا تھا پہلو کو یعنی میں پہلو تہی کرتا تھا، پہلو تہی۔ سمجھ میں آیا؟ عربی میں کہتے ہیں مولانا طویت عنہ کشحی، طویت عنہ کشحی، کیا معنی؟ میں نے اس سے پہلو تہی کی، میں نے اس سے پہلو تہی کی، طویت عنہ کشحی، میں نے اس سے پہلو تہی کی، یعنی میں اس سے کترا یا بھئی، اس کے سامنے نہیں آیا، اس سے کترا یا ایک طرف نکل گیا۔ اور میں ان سے کتراتا تھا عِلْمًا مِنِّي، علماً یہ مولانا مفعول لہ ہے جو ماقبل کی علت بیان کرتا ہے، ضربت زیداً تادیباً، تادیباً نے کیا کیا مولانا؟ میں نے زید کی پٹائی کس لیے کی؟ تو اس نے علت بیان کی کہ یہ پٹائی کی علت کیا ہے؟ ادب سکھانا، یہاں بھی یہ علماً یہ مفعول لہ ہے علت بیان کر رہا ہے، میں کیوں کتراتا تھا؟ علماً منی کیونکہ مجھے اس بات کا علم، یہ بات جاننے کی وجہ سے بِأَنَّ مُسْتَحْسَنَ الطَّبَائِعِ بِأَسْرِهَا وَمَقْبُولَ الْأَسْمَاعِ عَنْ آخِرِهَا أَمْرٌ لَا يَسَعُهُ مَقْدِرَةُ الْبَشَرِ وَإِنَّمَا هُوَ شَأْنُ خَالِقِ الْقُوَى وَالْقُدَرِ۔ بِأَنَّ مُسْتَحْسَنَ یہ جاننے کی وجہ سے کہ پسندیدہ مستحسن پسندیدہ چیز بھئی، بِأَسْرِهَا ای بجميعها بھئی، بجميعها، یعنی تمام طبیعتوں کو جو چیز پسند آئے، مستحسن پسند آنے والی چیز، طبیعتیں طبائع، باسرہا تمام کی تمام، تمام کی تمام طبیعتوں کو جو چیز پسند آئے وَمَقْبُولَ الْأَسْمَاعِ اور تمام کانوں کو جو مقبول ہو یعنی ان کو جو بھلی لگے، ایسی چیز لانا جو تمام طبیعتوں کو پسند آئے اور تمام کانوں کو بھلی لگے عَنْ آخِرِهَا، یہ اصل میں تھا مولانا عن اولہا الی آخرہا، اصل میں کیا تھا یہ؟ تو اول سے لے کر آخر تک یعنی تمام مراد ہیں، جیسے طبیعتیں باسرہا یعنی ساری کی ساری طبیعتیں، اسی طرح اسماء کے بعد کیا ذکر کیا؟ کہ کان جو ہیں اول سے لے کر آخر تک، جب اول سے آخر تک ہوئے تو کیا معنی؟ سارے کے سارے، تو سارے کام کانوں کو جو چیز بھلی لگے یہ معنی ہوا، ایسی چیز لانا جو پسندیدہ ہو تمام طبیعتوں کی اور جو بھلی لگے تمام کانوں کو۔ تو لہذا یہ تھا عن اولہا الی آخرہا، تو ایک عن کے بعد مجرور حذف کر دیا اولہا، اور الی آخرہا میں سے جار الی کو حذف کر دیا تو کیا رہ گیا؟ عن آخرہا۔ تو ایسی چیز جو پسندیدہ ہو تمام طبیعتوں کی اور جو بھلی لگے تمام کانوں کو أَمْرٌ یہ ایسا کام ہے لَا يَسَعُهُ کہ وسعت نہیں ہے مَقْدِرَةُ الْبَشَرِ، مقدرہ بمعنی قدرت کے مولانا، انسانی قدرت میں اتنی وسعت نہیں بھئی۔ انسانی قدرت میں اتنی وسعت نہیں، اتنی گنجائش نہیں کہ وہ ایسی چیز لائے بھئی، کوئی انسان اس چیز پر قادر نہیں مولانا کہ کوئی ایسی چیز لے کر آئے جس کو جو ہر طبیعت کو پسند آئے اور جو ہر کان کو کیا کرے؟ ہر کان کو بھلی لگے، بلکہ آپ جو بھی چیز اعلیٰ سے اعلیٰ بھی بنا لیں گے اس میں نکتہ چینی کرنے والے بھیڑوں اور ہزاروں آپ پائیں گے بھئی۔ تو یہ انسانی قدرت میں اس کی گنجائش نہیں، وَإِنَّمَا هُوَ شَأْنُ خَالِقِ الْقُوَى وَالْقُدَرِ، قویٰ جمع ہے قوت کی، قدر جمع ہے قدرت کی، اور یہ تو شان ہے صرف قوتوں اور قدرتوں کے پیدا کرنے والے کی، تمام قوتوں اور تمام قوتوں اور قدرتوں کے پیدا کرنے والے کی یہ شان ہے، وہ کوئی ایسی چیز بنا سکتی ہے وہ ذات جو تمام طبیعتوں کو پسند آئے اور تمام کانوں کو بھلی لگے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو انہوں نے دو سبب ذکر کیے تھے مولانا کہ نئی شرح مختصر ذرا لکھ کر دیں، کیا دو سبب تھے؟ ایک تو یہ کہ طلباء عاجز آ گئے ہیں، دوسری وجہ یہ کہ علمی سرقہ کرنے والوں نے بھی کیا کر دیا ہے؟ سرقہ شروع کر دیا ہے، تو یہ کہتے ہیں بھئی میں پہلو تہی کرتا تھا کیونکہ میں جانتا تھا کہ بھئی اب بھی میں جو بھی شرح لکھوں گا وہ پھر ایسی چیز تو ہو گی جو کچھ کو پسند آئے گی کچھ کو پسند نہیں آئے گی، جیسے یہ والی میں نے شرح لکھی ہے طویل یہ کچھ کو پسند ہے تو کچھ اب کیا کہہ رہے ہیں؟ نہیں اس کو کیا کریں؟ تو ایسی چیز تو کوئی بھی نہیں بنا سکتا جو سب کو پسند آئے، تو دوسری بھی لکھوں گا اس میں بھی کیا کریں گے لوگ؟ کہیں گے کہ اس میں اس کو یوں کریں یا یوں کریں۔ وَأَنَّ هَذَا الْفَنَّ، اس کا عطف ہے مولانا أن مستحسن الطبائع پر، أن مستحسن الطبائع، تو اس سے ملائیں ذرا مولانا بان مستحسن الطبائع کو اٹھا کر یہ عبارت وہاں لے جائیں بھئی، علماً منی تو میں پہلو تہی کرتا تھا یہ جاننے کی وجہ سے وَأَنَّ هَذَا الْفَنَّ قَدْ نَضَبَ الْيَوْمَ مَاؤُهُ کہ یہ فن جو ہے یہ بلاغت کا، تحقیق گہرائی میں چلا گیا ہے آج اس کا پانی، آج اس کا پانی کیا ہے؟ گہرائی میں، نضب کا معنی گہرائی میں جانا بھئی۔ بھئی کنواں کھودا ہو، کنویں میں پانی ہوتا ہے، کبھی پانی زمین میں گہرائی میں چلا جاتا ہے مولانا نیچے اور کنواں کیا ہو جاتا ہے؟ خشک ہو جاتا ہے، تو پانی چلا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی یہی مراد ہے کہ اس فن کا پانی گہرائی میں چلا گیا ہے یعنی یہ ختم ہو گیا ہے اب اس باقی نہیں رہا، تو یہ ختم ہو چکا ہے اس فن کے ماہرین ہیں ہی نہیں۔ فَصَارَ جِدَالًا بِلَا أَثَرٍ، پس یہ ہو گیا ہے جدالاً ای محل جدالٍ، مضاف یہاں پر کیا ہے؟ محذوف ہے، تو یہ اب محلِ جدال جھگڑے کا محل بن گیا ہے بِلَا أَثَرٍ ای بلا فائدۃٍ، ایسا جھگڑا جو بے فائدہ ہے۔ یہ فن کیا ہے اب؟ جھگڑے بھئی اس میں بس علماء کے اختلافات وغیرہ ہی رہ گئے ہیں بھئی، اصل جو اس کے بڑے جاننے والے تھے وہ تو چلے گئے۔ وَذَهَبَ رُوَّاؤُهُ، روآء کہتے ہیں مولانا رونق کو، آب و تاب کو، چمک دمک کو، اور یہ فن جو ہے تحقیق ذَهَبَ رُوَّاؤُهُ اس کی رونق کیا ہے؟ چلی گئی ہے فَعَادَ خِلَافًا بِلَا ثَمَرٍ، عاد آپ نے پڑھا افعال ناقصہ میں سے ہے بمعنی صار کے، فصار خلافاً بلا ثمرٍ، تو یہ ایسا خلاف اختلاف رہ گیا ہے بلا ثمرٍ جو کیا ہے؟ بے فائدہ ہے۔ تو یہ اب بس اختلاف ہی اختلاف رہ گیا اور جھگڑے ہی اس میں علماء کے رہ گئے ہیں، ایک کچھ کہتا ہے دوسرا کچھ کہتا ہے ایک ہی مسئلے کے بارے میں، حقیقی جاننے والے نہیں رہے علم کو۔ حَتَّى طَارَتْ بَقِيَّةُ آثَارِ السَّلَفِ أَدْرَاجَ الرِّيَاحِ، یہاں تک طارت کہ اڑ گئے بَقِيَّةُ آثَارٍ باقی نشانات، باقی آثار، باقی آثار اڑ گئے، کن کے باقی آثار؟ سلف کے مولانا، پچھلے بزرگوں کے بقیہ آثار اڑ گئے۔ مراد عام بزرگ نہیں بھئی، اس علم کے ماہرین بزرگ مراد ہیں، سمجھ میں آیا؟ تو اس فن کے بڑے ماہرین تھے ان کے جو باقی آثار تھے وہ بھی آہستہ آہستہ کیا ہو گئے ہیں؟ اڑ گئے ہیں، ختم ہو گئے ہیں، ادراج الرياح، ادراج جمع ہے درج کی یا درج کی اور یہ کہتے ہیں راستے کو مولانا، راستے کو، ریاح ہوائیں بھئی، ہوائیں۔ بھئی یہ محاورہ ہے عربی میں کہتے ہیں ذهب دمه درج الرياح، ذهب دمه درج الرياح، تو اس کا خون رائےگاں گیا یعنی ضائع گیا۔ بھئی کوئی ایسا شخص ہے جو مارا گیا کسی طرح، مر گیا ہے اور اس کے اور اس کے خون کی وجہ سے نہ کسی پر دیت آ رہی ہے نہ کسی پر قصاص آ رہا ہے تو کیا کہتے ہیں کہ فلاں کا خون کیا ہوا؟ رائےگاں گیا، مثلاً آپ نے مولانا اپنی زمین میں کنواں کھودا ہوا ہے اور اپنی زمین میں ہے راستے میں بھی نہیں ہے اور خوب کسی عام ایسی جگہ نہیں کہ کوئی اس میں گر سکے، حفاظت وغیرہ کا انتظام بھی کیا ہوا ہے، پھر بھی کوئی غلطی سے گھومتے گھومتے جاتا ہے اور اس کے اندر گر جاتا ہے، تو کیا اب آپ سے مولانا دیت لی جائے گی؟ نہیں لی جائے گی مولانا، تو اس کا خون کیا ہوا؟ رائےگاں گیا، تو اس موقع پر کہیں گے ذهب دمه درج الرياح۔ تو یہاں معنی کیا کریں گے اب؟ یہاں تک کہ اسلاف کے باقی آثار اڑ گئے یعنی ختم ہو گئے رائےگاں بھئی، ہواؤں کے راستے میں اڑ گئے بھئی یعنی وہ رائےگاں گئے یعنی وہ ضائع چلے گئے ان کے آثار جو تھے اس علم میں وہ رائےگاں ضائع ہو گئے مولانا۔ وَسَالَتْ اور بہہ پڑی، بِأَعْنَاقِ مَطَايَا مطایا جمع ہے مطیہ کی، سواری کو کہتے ہیں، سواری کو کہتے ہیں، یہ مضاف ہے، تِلْكَ الْأَحَادِيثِ ان باتوں کی سواریاں، کون سی باتیں بھئی؟ اس علم اور اس فن کی جو باتیں تھیں ان کی سواریاں، الْبِطَاحُ، البطاح جمع ہے ابطح و بطحاء کی مولانا، ابطح و بطحاء اس وادی کو کہتے ہیں جہاں سیلاب کا پانی بہتا ہو، جہاں سیلاب کا پانی بہتا ہو اور جہاں ریت اور باریک کنکر وغیرہ ہوں اور جہاں ریت اور باریک کنکر وغیرہ ہوں، اس کو کہتے ہیں ابطح یا اس کو کہتے ہیں بطحاء۔ تو بطاح یہ فاعل ہے سالت کا، یہ فاعل ہے، بہہ پڑیں البطاح وادیاں، وادیاں بہہ پڑیں، کس چیز کے ساتھ بہہ پڑیں بھئی؟ بِأَعْنَاقِ مَطَايَا تِلْكَ الْأَحَادِيثِ، ان باتوں کی سواریوں کی گردنوں کے ساتھ، اس فن کی بھئی احادیث سے ترجمہ شروع کر رہا ہوں تلک الاحادیث سے، مضاف علیہ ہے، تو وادیاں بہہ پڑیں اس فن کی باتوں کی سواریوں کی گردنوں کے ساتھ، گردنوں کے ساتھ، اور بہہ پڑیں وادیاں ان باتوں کی سواریوں کی گردنوں کے ساتھ، یہ کنایہ ہے کہ بڑی تیزی سے اس فن کی باتیں ختم ہو گئیں مولانا۔ وادی بہہ پڑی، یہ اس وقت کہتے ہیں مولانا جب وادی کے اندر خوب کثرت کے ساتھ پانی بہہ رہا ہو، بھری ہوئی ہو، ویسے نہیں کہتے وادی بہہ پڑی مولانا، تھوڑا سا پانی سیلاب کا آئے تو پھر یہ نہیں کہیں گے کہ وادی، بھری ہوئی ہے تو پھر کہہ سکتے ہیں کہ کیا ہے وادی؟ وادی بہہ پڑی ہے بھئی، سمجھ میں آیا؟ وادی بہہ پڑی۔ تو جیسے پانی بہتا ہے گزرتا چلا جاتا ہے، اسی طرح وادی میں سے جب قافلہ گزرے مولانا، اور قافلے والے اتنے زیادہ ہوں کہ پوری وادی کو بھر لیں تو پھر بھی آپ کہیں گے کہ وادی بہہ پڑی کس کے ساتھ؟ سواریوں کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ قافلے والوں کے ساتھ، معلوم ہوا وہ بہت کثرت سے ہیں کہ پوری وادی ان سے کیا ہے؟ بھری ہوئی ہے۔ اور نیز کہا سواریوں کی گردنیں، گردنوں کا ذکر کیا مولانا، کیونکہ گردنوں کا ذکر اس لیے کیا کہ اونٹ جو ہے یہ جس پر سفر کیا جاتا ہے قافلے وغیرہ میں تو یہ اونٹ کی رفتار کا پتہ اس کی گردن سے چلتا ہے بھئی، اونٹ چلتے ہوئے گردن اس کی حرکت کرتی ہے، جتنی تیز گردن کی حرکت ہو گی وہ بتلائے گی یہ اس وقت نہایت تیزی سے چل رہا ہے، گردن کی حرکت اگر آہستہ ہے تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ آہستہ آہستہ چل رہا ہے، تو گردن کو ذکر کیا، تو کہنا یہ چاہتے ہیں کہ وہ وادیاں بہہ پڑیں ان باتوں کی سواریوں کی گردنوں کے ساتھ یعنی اس فن کی باتیں چلی گئیں اور بڑی ساری کی ساری اور نہایت کیا ہے؟ تیزی سے چلیں بھئی، ختم ہو گئیں۔ مفہوم سب کو سمجھ میں آ گیا بھئی؟ تو اس عبارت میں مجاز عقلی ہے مولانا، مجاز عقلی آپ نے پڑھا ہے کہ اسناد فعل کی وغیرہ کی کس کی طرف کرنا؟ غیر ما ہو لہ کی طرف کرنا، بھئی بہتا پانی ہے یا وادی بہتی ہے؟ پانی بہتا ہے، لیکن یہاں بہنے کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ ہاں تو یا تو سواریوں کی طرف ہوتی ٹھیک ہے، سواریاں بھی چل رہی ہیں حرکت میں ہیں، تو لیکن یہاں پر نسبت کر دی وادی کی طرف تو یہ کیا ہے؟ مجاز عقلی ہے، تو اسناد فعل کا ہوا کہ فاعل کی طرف یا غیر فاعل کی طرف؟ تو یہ مجاز عقلی ہے۔ وَأَمَّا الْأَخْذُ وَالِانْتِهَابُ، یہاں تک صرف پہلی بات کا جواب دیا بھئی، انہوں نے دو وجہ سے درخواست کی تھی، کیا تھیں دو وجہیں؟ پہلی کیا تھی؟ طلباء نے ہمت لینا دلچسپی لینا چھوڑ دی، دوسری کیا وجہ تھی؟ کہ لوٹ مار اب اس میں شروع ہو گئی ہے، تو پہلی کا جواب دے دیا کہ تم مجھے کہتے ہو کہ طلباء نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے تو میں ایسا کہاں کہ ایسی عبارتیں لاؤں ایسی کتاب لکھوں جو ہر ایک کو پسند آئے، نیز مولانا اب تو یہ تم جانتے ہو یہ فن کیا ہے؟ ختم ہو چکا ہے، اس کی باتیں چلی گئیں، بزرگوں کی باتیں ساری ضائع ہو گئیں، اب تو اس میں صرف جھگڑا اور فساد ہی رہ گیا ہے، تو لہذا اس لیے میں اس سے کیا کرتا ہوں؟ پہلو تہی کرتا ہوں۔ چلیے مولانا، هذا هو المرام، والله أعلم بحقيقة الكلام۔ محنت ضروری ہے محنت بھئی، حضرت شیخ رحمہ اللہ کتنی محنت کیا کرتے تھے، ان کے ساتھی بتلاتے ہیں آج مولانا شیر علی شاہ صاحب، مولانا سمیع الحق صاحب، یہ بھی اس زمانے میں وہیں پڑھتے تھے دارالعلوم حقانیہ میں جب پڑھتے تھے، رابعہ خامسہ میں بھئی، تو کہتے تھے کہ حضرت شیخ اتنا پڑھا کرتے تھے کہ سبق ختم ہوتے کتابیں اٹھاتے دور جنگل میں ایک جگہ انہوں نے جگہ بنائی ہوئی تھی اپنی، وہاں جا کر بیٹھ جاتے، سارا دن وہاں سبق یاد کیا کرتے تھے۔ تو دیکھو ایک غریب مسکین لڑکا یتیم بھئی، والد صاحب پانچ چھ سال کے تھے جب والد کا بھی انتقال ہو گیا، کوئی چیز نہیں ہے، نہ کہتے ہیں کہ حضرت شیخ فرماتے تھے کہ میں پڑھا کرتا تھا، آج کل تو طلباء کے مزے ہیں بھئی، کھانا وغیرہ بہترین ملتا ہے اور چیزیں ضروریات، اس زمانے میں کہتے ہیں کہ کچھ میری جیب میں کبھی کچھ بھی نہیں ہوتا تھا بھئی، کچھ بھی نہیں ہوتا تھا، تو کوئی چیز لینے وغیرہ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا، کہتے ہیں ہاں ایک چیز تھی میں چائے کا بڑا شوقین تھا، چائے ضرور پیتا تھا، اور یہ بھی نہیں جیسے آپ پیتے ہیں مولانا، آپ تو بڑی شاہانہ چائے پیتے ہیں، ذرا پتی تیز ہو تو لو بھئی پتی تیز کر دی، میٹھا تیز کر دیا فلاں ہو گیا، کہتے ہیں پتی کہیں اس طرح میں کچھ لے لیتا اس کی پھر میں چائے بنایا کرتا تھا بھئی، اور اتنے حالات ایسے تھے کہ چینی بھی نہیں لے سکتا تھا، دودھ کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، بس وہ صرف پتی ابال لی پانی کے اندر بس چائے تیار ہو گئی بھئی، یہ چائے میں پی لیتا تھا، اور پھر یہ بھی نہیں کہ چائے بنا لی پی لی بس، پھر اس پتی کو میں نکال کر دھوپ میں خشک کر کے پھر باندھ کے رکھ لیتا، پھر دوسرے وقت میں پھر اسی سے چائے بناتا، کئی کئی وقت تک میں وہ ایک ہی پتی استعمال کرتا رہتا تھا، اور پڑھتے رہتے تھے دن رات بس، تو اتنے غریب اور مسکین طالب علم، لیکن محنت کی، اساتذہ کا ادب کیا، کتابوں کا احترام کیا، تو پھر آپ نے دیکھا مولانا کہ یہ علم پھر انسان کو اتنا اتنی بلندی پہ لے جاتا ہے اتنی بلندی پر کہ انسان سوچ نہیں سکتا۔ کوئی سوچ سکتا ہے بھئی؟ کدھر بھئی ڈیرہ اسماعیل خان کے گاؤں سے ایک بچہ اٹھا ہے بھئی، اور اتنا نام کہ پوری دنیا میں آپ چلے جائیں کوئی مقام آپ کو ایسا نہیں ملے گا جہاں ان کو جاننے والے اور ان سے محبت کرنے والے اور عقیدت رکھنے والے نہ ہوں بھئی۔ یہ سارا مولانا محنت، ادب، اخلاص سے سارا کچھ ہوتا ہے بھئی، اخلاص سے۔ کہیں چلے جائیں بلکہ جامعہ کو بھی کوئی نہیں جانتا مولانا، جامعہ کو یہ چند جگہ جانتے ہیں، جہاں بھی چلے جائیں وہ کہتے ہیں بھئی وہ مدرسہ جس میں حضرت شیخ صاحب پڑھایا کرتے تھے؟ اچھا وہ والا مدرسہ؟ وہ والا مدرسہ۔ فرماتے تھے کبھی تو کہتے ہیں میں رات کو پڑھا کرتا تھا اور ایک جگہ پر، اور یہ رہٹ آپ نے دیکھے ہوں گے بھئی وہ بیل چلتے ہیں بھئی کنویں کے گرد اور وہ گھومتا ہے اور پانی نکلتا ہے، تو وہ بیل باندھے ہوتے ہیں ان کی گھنٹی ہوتی ہے اس کی آواز آتی رہتی، تو میں رات کو پڑھتا رہتا پڑھتا رہتا بہت دیر ہو جاتی مجھے نیند آنے لگتی تو پھر مجھے خیال آتا کہ یہ باہر دیکھو یہ آدمی لگا ہوا ہے بیل کو چلا رہا ہے صرف دنیا کے لیے لگا ہوا ہے اور ابھی اتنی رات گزر گئی ہے سو نہیں رہا، تو میں اللہ کے دین کے لیے کیوں نہ وقت لگاؤں؟ میں پھر اور جذبے کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیتا، تو کہتے ہیں اکثر اوقات ایسا ہوتا میرا ان سے مقابلہ رہتا تھا، دیکھتے ہیں پہلے میں بس کرتا ہوں یا یہ بس کرتے ہیں؟ فجر ہو جایا کرتی تھی اس مقابلے میں اور اکثر کہتے ہیں میں جیت جاتا تھا۔ اور پھر کسی نے بعد میں مجھے بتایا کہ بھئی یہ آپ کیا کرتے ہو بھئی؟ یہ تو ایک آدمی نہیں ہوتا ساری رات، یہ تو ایک دو گھنٹے کے لیے ایک آدمی آتا ہے پھر وہ چلا جاتا ہے پھر دوسرے کی باری ہوتی ہے پھر وہ آتا ہے پھر وہ چلا جاتا ہے پھر تیسرے کی باری ہوتی ہے، تو معلوم ہوا تمہارا مقابلہ ایک آدمی سے نہیں کئی آدمیوں سے بیک وقت ہوا کرتا تھا، کئی آدمیوں سے۔ تو دیکھو علم کے لیے سب کچھ دے دیا، تو علم نے بھی کتنا اونچا مقام دے دیا کہ یہاں مولانا بڑے بڑے لوگ ان سے ملنے کے لیے تڑپتے تھے لیکن وہ کسی کو وقت نہیں دیتے تھے، ہاں علماء آ جاتے، طلباء آ جاتے، اللہ کے سے تعلق والے آ جاتے، تبلیغی جماعت والے جب آ جاتے مولانا ان سے ملاقات کرتے تھے بڑا وقت دیتے تھے بٹھاتے اکرام وغیرہ کرتے، لیکن اور کوئی ہوتا صرف عصر سے مغرب کا وقت رکھا ہوا تھا کچھ لوگوں سے ملنے کے لیے، اس کے علاوہ ادھر مغرب کی اذان ہوئی ادھر وقت ختم بھئی، پھر کسی سے نہیں ملتے تھے، پھر کسی سے نہیں ملتے تھے۔ اور ایسا جلال اللہ نے دیا تھا ایسا جلال کہ انسان حیران ہوتا ہے بھئی، زندگی گزاری، زندگی بھی گزاری مولانا ایسی عجیب زندگی گزاری انسان حیران رہتا ہے بھئی، شاہانہ شاہانہ ایک ہوتا ہے جلال مولانا، عام جلال والی زندگی نہیں تھی بھئی جلال و جمال والی، بلکہ شاہانہ جلال ہوتا تھا ان کا بھئی، شاہانہ جلال ہوتا تھا۔ اور عجیب دیکھو مولانا عجیب، کبھی کبھی عجیب بات درس میں فرماتے تھے، فرماتے تھے مولانا عجیب بات یہ ہے کبھی نیند بیداری میں تو چھوڑو کبھی نیند کی حالت میں بھی مجھ پر شیطان مسلط نہیں ہوا بھئی، سبحان اللہ! اور پھر عجیب کبھی کبھی پھر صراحتًا بتلاتے، کہتے ہیں مولانا عجیب بات ہے مجھے آج تک کبھی احتلام نہیں ہوا بھئی، سبحان اللہ! خود بڑے کبھی بڑی حیرت میں آ جاتے، حیران ہو کر یہ بات ذکر کرتے، اور پھر کتابوں کے اندر مولانا بعد میں میں نے دیکھا روایات ملیں، کہتے ہیں کہ انبیاء کو کبھی احتلام نہیں ہوتا بھئی، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کیا ہے کہ العلماء ورثۃ الانبیاء بھئی، وہ انبیاء کے وارث ہیں بھئی، تو یہ شیطان احتلام کا ہونا یہ بھی تو شیطانی اثر ہے بھئی۔ اللہ! اور عجیب ان کے جملے بڑے عجیب ہوتے تھے، ایسے عجیب جملہ فرماتے کہ معمولی بات کو اتنا قیمتی بنا دیتے کہ انسان حیران رہ جاتا۔ ایک مرتبہ پریزیڈنٹ ہاؤس اسلام آباد میں تھے، بھئی بھی ساتھ تھے، تو وہاں کمرے میں عشاء کا وقت ہوا، عشاء کی نماز کا وقت بھئی، عشاء کی نماز کا وقت ہوا تو اب بھئی وہ جو میرے بھئی تھے ان سے کہا، ان سے کہنا تھا کہ مطلب اذان دے دو بھئی ہم جماعت کروا لیں نماز پڑھ لیں، لیکن کتنے عجیب الفاظ اختیار کیے سنیں ذرا مولانا، عجیب بھئی! بیٹے سے فرمایا: اٹھو بھئی اعلائے کلمۃ اللہ کرو بھئی، سبحان اللہ! پتہ نہیں معلوم نہیں یہاں کیسے کیسے لوگ آ کر اس رہتے رہے ہوں گے، اٹھ کر اعلائے کلمۃ اللہ کرو بھئی، اور پھر فرمایا کہ ٹھہرو بھئی ٹھہرو، میں خود اذان دوں گا بھئی، پھر خود اٹھے اور اذان دی، اور واقعی ہے بھی ایسا بادشاہوں کے پاس تو پتہ نہیں کیسے اکثر فاسق و فاجر لوگوں کا ہی ہجوم رہتا ہے بھئی، تو خود اذان دی، اور دیکھو معمولی سی بات تھی کہ اذان دے دو لیکن کتنے عجیب الفاظ فرمائے کہ کیا کرو اعلائے کلمۃ اللہ کرو بھئی، کتنے عجیب الفاظ انسان پہ رعب طاری کر دیتے ہیں بھئی۔ ایک مرتبہ اسی طرح بھئی یہ، یہ طاہر القادری آیا بھئی مدرسے کے اندر، اچھا جی بڑا، کپڑے وغیرہ زبردست پہنے ہوئے ہیں، اور ٹوپی پہنی ہوئی ہے اور گارڈ وغیرہ ساتھ ہیں، اسلحہ ساتھ ہے، ملازم ساتھ ہیں، بڑی زبردست قسم کی گاڑی بھئی پجارو، آیا گیٹ سے عصر کی نماز کے بعد کا غالباً یا ظہر کے بعد کا وقت تھا۔ تو اب آ کر کھڑا ہوا، گاڑی سے نکلا اور کسی سے ملاقات کے لیے آیا ہو گا۔ طلبہ نے دیکھا، طلبہ کو تو ایسی کوئی چیز نظر آ جائے، ہجوم لگ گیا بھئی پورے مدرسے کے طالب علم جمع، کون آیا ہے جی؟ طاہر القادری آیا ہوا ہے۔ ذرا شکل تو دیکھیں ذرا کیا ہے۔ اچھا تو پھر نماز کے بعد مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب دامت برکاتہم، وہ بھی نکلے بھئی۔ ان سے ملاقات ہوئی، ابھی باتیں ہو رہی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد حضرت شیخ مسجد سے نکلے بھئی۔ اب آرام سے دیکھا بڑا ہجوم لگا ہوا ہے، آرام آرام سے اترے سیڑھیاں چلتے ہوئے گھر کی طرف، قریب سے گزر رہے ہیں تو مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب نے تعارف کروایا بھئی، حضرت کی تو بہت زیادہ شفقت ہوتی ہے بھئی۔ تو اب تعارف بھی کروایا تو اس کی تھوڑی تعریف بھی کر دی طاہر القادری کی کہ یہ ہیں جی حضرت، یہ ہمارے پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب آئے ہوئے ہیں۔ تو حضرت شیخ نے دیکھا تھوڑا سا نظر اٹھا کر اور پھر عجیب جملہ فرمایا۔ فرمایا: مجھے تو اس کے منہ سے شرک کی بدبو آ رہی ہے۔ اور ایک دم نیچے جھکے اور جوتا اتارا لیا مولانا۔ جوتا اتار کر اس کو لگانے لگے، مولانا عبد الرحمن اشرفی صاحب دامت برکاتہم نے ہاتھ پکڑ لیا کہ بس حضرت جانے دیں، جانے دیں بس۔ ایک ہاتھ سے حضرت کا ہاتھ پکڑا دوسرے سے اشارہ طاہر القادری کو کر رہے ہیں پیچھے ہو جاؤ، پیچھے ہو جاؤ۔ اور طاہر القادری ایسا بدحواس ہوا اس کی ٹوپی نیچے گر گئی، بدحواس ہو کر پیچھے تین چار قدم، گرنے لگا تھا پیچھے کو۔ جوتا پاؤں سے نکل گیا ایک اس کا، ایسا بدحواس ہوا، ٹوپی گر گئی، پیچھے کئی قدم پیچھے چلا گیا ایک دم۔ اور بڑی مشکل سے حضرت کو روکا اور پھر وہ گن مین اس کا آیا اس نے اس ٹوپی اٹھائی، جوتی اٹھا کے دی، وہ پہنی اور گاڑی میں اسی وقت بڑے غصے میں بیٹھا ایسا نکلا اس کے بعد آج تک جامعہ میں قدم نہیں رکھ سکا۔ الحمد للہ، ثم الحمد للہ۔ عجیب جلال ہوتا تھا۔ بڑے بڑے بادشاہ حضرت سے ملنے کی تڑپ رکھتے تھے مولانا۔ یہاں مجھے، صدرِ پاکستان آیا ہوا تھا بھئی، سارے صدرِ پاکستان سے ملنے کی کوشش کر رہے ہیں، نماز ہوئی اس میں بھی وہ شریک، نماز پڑھ کے حضرت شیخ نکلے، بڑا ہجوم تھا مولانا، یہ یہاں سے لے کر وہ دروازے تک بھرا ہوا ہے راستہ۔ بالکل لوگ اکٹھے کھڑے ہوئے ہیں، طالب علم بھی ہیں اور لوگ بھی ہیں۔ تو وہ پہلے بھی جب صدر آیا، صدر کے لیے وہ بڑی مشکل سے راستہ بنا رہے ہیں بھئی کہ راستہ دو بھئی ان کو جانے، آگے نماز کے لیے۔ اور پھر واپسی پہ بھی اسی طرح رش، حضرت شیخ کا عجیب انداز ہوتا تھا مولانا، اتنی رفت، نماز پڑھی اور اتنی رفتار سے نکلے ہیں اور وہ ہجوم جیسے فرشتے کوئی راستہ بنا رہے ہیں مولانا، بجلی کی رفتار سے راستہ بنتا جا رہا ہے اور بالکل پوری رفتار سے وہ نکل گئے اور اور صدر پیچھے دوڑ کر پہنچا بھئی کہ حضرت، میں ملنا چاہتا تھا اپ سے۔ دوڑ کر پیچھے پہنچا۔ بس نام رہنے دیں آپ بھئی۔ باتیں زیادہ ہو گئیں، میرا خیال تھوڑا سبق نہ ہو جائے بھئی؟ حضرت! یہ سوانح... ہمم؟ کہ یہ اب کہتے ہیں ان کے ملفوظات لکھے ہوئے ہیں؟ ابھی تک تو نہیں، وہ سوانح پہ کام ہو رہا ہے، دعا کریں اللہ جلدی اور احسن طریقے سے مکمل کرنے کی توفیق دے۔ یہ سب بھائیوں کی کچھ مصروفیات زیادہ ہیں، اس پہ کام ذرا آہستہ ہو جاتا ہے۔ ایسی عجیب شخصیت تھی جو ان سے ایک مرتبہ ملتا تھا، متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتا تھا بھئی۔ دورہ کرنے کے بعد سب سے پہلی کتاب جو لکھی مولانا، وہ شرحِ جامی میں جو حاصلِ محصول کی بحث آتی ہے، ایک ڈیڑھ صفحے کی ہے بھئی، اس کی شرح لکھی اور دورۂ حدیث کے بعد پہلی تصنیف تھی یہ ان کی۔ اور پہلی تصنیف تھی۔ چنانچہ حضرت مفتی محمود رَحِمَهُ اللَّهُ تعالی رحمة واسعة، ان کے خاص شاگرد تھے بھئی، خاص شاگرد تھے، ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے بھئی۔ چنانچہ کتاب لکھی، کہتے ہیں کتاب لکھنے کے بعد سفر کر رہے تھے ریل گاڑی کے اندر بھئی۔ ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے، مفتی محمود رحمہ اللہ بھی ساتھ ہیں۔ ایک اور مولانا، بلوچستان کے ایک بڑی عمر کے عالم، وہ بھی ساتھ تھے اور بھی لوگ ہوں گے۔ تو حضرت شیخ رحمہ اللہ کی وہ کتاب جو تھی بغیۃ الکامل حاصلِ محصول کی شرح بھئی، وہ اس وقت نئی نئی چھپ کر آئی تھی۔ تو حضرت شیخ رحمہ اللہ نے وہ سفر میں وہ ایک نسخہ نکالا اور وہ جو نئے، وہ جو عالم تھے بھئی، کوئٹہ وغیرہ بلوچستان کے، ان کو وہ دیا کہ یہ میری طرف سے آپ ہدیہ رکھیں، یہ۔ انھوں نے کتاب اٹھائی بھئی اور دیکھنا شروع کی بھئی۔ دو چار منٹ کتاب کو دیکھا، ایک آدھ صفحہ دیکھا، پھر اپنی جگہ سے اٹھے، جیب سے 10 روپے نکالے اور حضرت شیخ رحمہ اللہ کو انعام میں دیے۔ اس زمانے میں 10 روپے بھی مولانا پتہ نہیں کتنے زیادہ تھے جس وقت تنخواہ ہی چند روپے ہوا کرتی تھی۔ مفتی محمود رحمہ اللہ بھی ساتھ تھے، حیران ہوئے کہنے لگے: ابھی آپ نے صفحہ دو بھی نہیں دیکھے اس کتاب کے، آپ نے اٹھ کے ان کو انعام دے دیا، کیا بات ہے؟ وہ کہنے لگے کہ: میں 40 سال سے شرحِ جامی پڑھا رہا ہوں اور اس کتاب کے پہلے صفحے پر ہی جو بات ہے وہ مجھے آج تک معلوم نہیں تھی بھئی۔ کوئٹہ میں جب شروع شروع میں مدرس مقرر ہوئے، وہاں کے ان کے ایک شاگرد نے واقعہ سنایا بھئی، ابھی ایک آدھ سال پہلے ہی ہمیں علم ہوا۔ کہتے ہیں: ایک مرتبہ سبق پڑھا رہے، بالکل نوجوان، ابھی داڑھی وغیرہ بھی پوری طرح نہیں آئی اور شرحِ جامی ہمیں پڑھایا کرتے تھے، صدر مدرس تھے اس زمانے میں اور اپنی توجیحات بیان کرتے بھئی نحو کے اندر۔ بعض اوقات مشکل مسئلہ ہوتا کسی سے حل نہیں ہو رہا، حضرت شیخ اپنی طرف سے تقریر ایسی کر دیتے کہ مسئلہ حل ہو جاتا۔ تو پھر ایک دن تقریر کرتے کرتے جذبات میں آئے اور فرمانے لگے، عجیب کیفیت طاری ہو گئی ان پر اور فرمایا کہ: مجھے لگتا ہے کہ شاید مجھے اللہ نے ایک سے، ایک بات کی وجہ سے علم عطا فرمایا ہے کہ ایک جگہ جب میں پڑھا کرتا تھا تو پڑھنے کے لیے میں بڑی دور جاتا تھا ایک نہر کے کنارے، ایک جگہ تھی آبادی سے ذرا کافی دور، وہاں بیٹھ کے میں سارا دن پڑھتا تھا اور پھر آ جایا کرتا تھا شام کو۔ تو کہتے ہیں: میں وہاں سے وہاں پڑھ کر آیا، پڑھنے کے بعد آیا اور پھر میں نماز وغیرہ پڑھ رہا تھا غالباً مغرب کی ہو گی یا عشاء کی کوئی نماز پڑھ رہا تھا تو مجھے محسوس ہوا قمیض کے اندر کوئی چیونٹی وغیرہ حرکت کر رہی ہے بھئی بدن پہ۔ نماز کے بعد میں نے دیکھا، ٹٹولا تو دیکھا ایک چیونٹی ہے بھئی میرے بدن پہ چل رہی ہے۔ اور ایک دم مجھے خیال آیا، میں پہلے سوچ میں پڑ گیا یہ کہاں سے آ گئی یہاں؟ پھر ایک دم مجھے خیال آیا کہ ہاں! وہ جو جہاں میں پڑھ، جہاں وہ پڑھنے جاتے تھے بھئی ایک دو تین کلومیٹر فاصلے، دور فاصلے پہ تھی آبادی، دم مجھے کہتے ہیں خیال آیا کہ جہاں جس جگہ میں پڑھ رہا تھا وہاں چیونٹیوں کا بل تھا، بہت چیونٹیاں گھوم رہی تھیں اور یہ بھی بالکل ان جیسی لگ رہی ہے، لگتا ہے وہاں سے کہیں میرے کپڑوں پر چڑھی ہے اور پھر میرے ساتھ ہی یہاں پہنچ گئی۔ تو کہتے ہیں: رات کا وقت تھا لیکن اس کو میں نے آرام سے ہاتھ میں پکڑا اور وہ دو تین کلومیٹر تک میں واپس گیا اور اس کے بل کے پاس اس کو رکھ کر میں واپس آ گیا۔ کہتے ہیں: مجھے لگتا ہے شاید مجھے اس کی وجہ سے اللہ نے علم عطا فرمایا۔ پڑھتے، ہر وقت مولانا مطالعہ کرتے تھے یہ۔ علماء حیران ہوتے تھے کہ یہ شخص عجیب ہے، کہیں جاتا نہیں، آتا نہیں اور اس کی شہرت ہے کہ بڑھتی جا رہی ہے، بڑھتی جا رہی ہے۔ مطالعہ کرتے تھے، کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ارادتاً سوئے ہوں مولانا۔ جب بھی دیکھا سوتے ہوئے، رات کو مطالعہ کرتے یا تصنیف میں مشغول رہتے، جب نیند زیادہ آ جاتی تو کتاب پکڑ کر ہی لیٹ جاتے اور مطالعہ کرتے رہتے اور اسی حالت میں کتاب سینے پر ہوتی، حضرت شیخ سو جاتے، پتہ ہی نہیں چلتا تھا، دو تین بجے، کبھی اس سے بھی لیٹ، مولانا، بہت تھوڑا سویا کرتے تھے، بہت کم بھئی۔ ہمیشہ اسی طرح سوتے، وہ مطالعے کے دوران اگر نیند آ گئی، سو گئے تو ٹھیک ورنہ نہیں بھئی۔ قیلولہ بھی اسی طرح کرتے تھے بھئی، قیلولہ ضرور کرتے تھے، عجیب عادتیں تھیں، سنتوں پہ اتنا عمل تھا، اتنا عمل کہ ہم سوچ نہیں سکتے۔ قیلولہ کرنا یہ بھی سنت ہے اور بڑی باقاعدگی سے اس پہ عمل کرتے تھے اور طریقہ وہی تھا، کتاب اٹھا کر لیٹ جاتے بھئی، لیٹے ہوئے مطالعہ کر رہے ہیں، اسی میں نیند آ گئی تو ٹھیک، نیند نہ آئی تو پھر اٹھ گئے بھئی وقت پر اپنے۔ اتنی سنتوں کے پابند تھے، اتنی ہماری والدہ بھی بڑی عجیب، کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے ہمیں بھی نہیں پتہ ہوتا، ایک بات ہوتی ہے، کہتی ہیں: یہ سنت ہے۔ ہم حیران ہو جاتے ہیں، آپ کو کس نے بتایا یہ سنت ہے؟ بہت باریک بات ہوتی ہے۔ کہتی ہے بھئی: آپ کے والد صاحب اس طرح کیا کرتے تھے۔ اور ان کا کوئی کام سنت کے خلاف نہیں ہوتا، ہر کام سنت کے مطابق کرتے تھے، معلوم ہوا یہ سنت ہے بھئی اور واقعی ایسا ہوتا ہے، وہ کام سنت ہوتی ہے۔ تبلیغی جماعت کا مولانا، بڑا اکرام کرتے تھے، بڑا احترام، ہر دینی جماعت کا احترام کرتے تھے بھئی، آپ بھی اسی طرح یاد رکھیں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ہر دینی جماعت کا احترام کرو بھئی، عجیب طریقہ آ گیا مسلمانوں میں، حیران ہوتا ہے انسان، ایک جماعت سے تعلق ہے تو دوسرے کی ایسی تحقیر کریں گے، ایسی تذلیل کریں گے کہ بس جیسے میں تو حق پر ہوں، یہ تو کیا ہے؟ غلط راستے پر ہے۔ نہیں بھئی، یہ سب دین کے شعبے ہیں، کسی نے ایک شعبہ سنبھالا ہوا ہے تو کسی نے دوسرا شعبہ سنبھالا ہوا ہے۔ تو یہ کرنا، اپنے آپ کو صحیح سمجھنا، باقیوں کو غلط سمجھنا، یہ بہت غلط طریقہ ہے، بہت غلط طریقہ ہے بھئی۔ کیا پتہ ہے بھئی وہ، وہ حق پر ہو، اس کا اخلاص آپ سے زیادہ ہو بھئی۔ اخلاص زیادہ ہو بھئی۔ دین کے بہت شعبے ہیں، ہر ایک نے، ہر جماعت نے اپنے اپنے شعبے کو سنبھالا ہوا ہے، دین کے کام کر رہے ہیں بھئی۔ اور یہ بھی میں منع کرتا ہوں طلبہ کو بھئی، بات کرتے ہیں تبلیغی جماعت کے ساتھ کا مذاق کرتے ہیں بھئی، نہیں بھئی، مذاق کبھی نہ کرو بھئی، کسی جماعت کے ساتھ بھی مذاق نہ کرو بھئی۔ ہر جماعت میں ہمارے ہی علماء لگے ہوئے ہیں، سارے، سارے اولیاء اللہ ہیں بھئی، ہر ایک اپنی طرف سے پورے اخلاص سے لگا ہوا ہے، کوشش کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ آپ نے مذاق ہی کسی کا کرنا ہے تو اتنی چیزیں ہیں بھئی، کفار پڑے ہیں آپ کے سامنے، دشمنانِ اسلام ہیں، ان کے بارے میں کوئی مذاق کر لیں بھئی، کیا ضرورت ہے ان سے کے بارے میں کوئی بات کرنے کی؟ ان کی تعریف کیوں نہیں کرتے آپ؟ دو لفظ تعریف پہ کیوں نہیں خرچ کرتے، برا کہنے کے بجائے؟ حضرت شیخ کی عادت تھی مولانا، ہر ایک کی تعریف کرتے تھے، ہر ایک کی جس میں معمولی خوبی ہوتی ہمیں دکھائی نہ دیتی لیکن وہ ہر ایک میں خوبیاں دیکھنے کے عادی تھے، کسی پہ اعتراض نہیں کیا کرتے تھے اور اس بات کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ اور جس کی یہ عادت ہوتی ہے دوسروں پہ اعتراض کرتا رہے، وہ کبھی خوش نہیں رہتا، کوئی دوسرا بھی اس سے خوش نہیں رہتا کبھی، ہر ایک کہتا ہے اس کی تو اعتراض کی عادت ہے۔ ہر ایک کی تعریف کرو اچھے طریقے سے۔ حضرت شیخ سال کے شروع میں طلبہ دورۂ حدیث کے ہوتے، فرما دیتے تھے کہ بھئی: آپ مجھ سے پورا سال کبھی کسی کی غیبت نہیں سنو گے بھئی۔ غیبت کبھی نہیں کرتے تھے مولانا، کبھی بھی نہیں کرتے تھے کسی کی غیبت بھئی۔ اور وہ طلبہ بتاتے تھے کہ پورا سال گزر جاتا تھا، ہم حضرت شیخ سے کبھی ایسا نہیں ہوا کسی کی ہم نے غیبت سنی ہو۔ جس کی بھی کرتے تھے، تعریف کرتے تھے، تعریف کرتے تھے۔ حتیٰ کہ جو ملنے آتے تھے بھئی، ملنے والے ہوتے کوئی تو وہ کسی کے خلاف کوئی بات شروع کر دیتا کہ فلاں نے مجھے یہ کیا یا وہ کیا، فلاں کیا اس طرح کی کوئی بات غیبت شروع کرنے لگتا جیسے عام لوگوں کی عادت ہوتی ہے، حضرت شیخ درمیان میں ہی بات ٹوک دیتے فوراً۔ وہ برائی کر رہا، حضرت شیخ فرماتے: بھئی وہ تو بڑا اچھا آدمی ہے، اس میں تو فلاں خوبی ہے بھئی، اس میں تو یہ کمال ہے، وہ تو یہ اچھا آدمی ہے۔ وہ بات کرنے والا خود ہی چپ ہو جاتا کہ اب اگر میں نے کوئی بات کی تو مجھے ڈانٹ پڑے گی بھئی، حضرت شیخ تعریف کر رہے ہیں اور میں اس کی کیا کر دوں؟ برائی، عجیب طریقہ تھا، دوسرے منع ہو جاتے غیبت سے، خود بھی بچتے، دوسرے کو بھی نہیں کرنے دیتے تھے۔ تو تعریف کرتے تھے، تبلیغی جماعت والوں کا بڑا اکرام کرتے تھے بھئی۔ ہر جماعت کا اکرام کرو بھئی، سمجھ میں آیا؟ حدیث شریف میں آتا ہے، بعض اوقات ایک آدمی ایک معمولی سی بات کرتا ہے، کوئی مذاق کر رہا ہے یا کچھ کیا، معمولی سی بات کر رہا ہے جس کی اس کے نزدیک کوئی حیثیت بھی نہیں ہوتی لیکن اس چھوٹی سی بات کی وجہ سے وہ جنتی بن جاتا ہے بھئی، اس اللہ کے ہاں اس کو کیا لکھ لیا جاتا ہے؟ جنتی لکھ لیا۔ اور بعض اوقات چھوٹی سی ایک بات ہوتی ہے، پرواہ بھی نہیں ہوتی وہ کر دیتا ہے لیکن اس ایک چھوٹی سی کی بات کی وجہ سے اللہ کے ہاں اس کو جہنمی لکھ دیا جاتا ہے۔ تبلیغی جماعت تو بڑی پیاری جماعت ہے، کتنی برکات ہیں، کتنی رحمتیں ہیں اس کی، کتنے ماحول کو بدلا ہے! آپ میں سے ہی کتنے ایسے ہوں گے جو تبلیغی جماعت کی وجہ سے دین پڑھنے آئے، ان کے خاندان میں اور کوئی عالم نہیں ہو گا۔ بہت سے ایسے ہوں گے۔ ہر جماعت مولانا، ہماری پیاری ہے بشرطیکہ علماءِ حق کی جماعت ہو، سمجھ میں آیا؟ لیکن اس کے خدمات بہت وسیع ہیں اس کے۔ تو اکرام کرتے تھے بڑا بھئی۔ طالب علم بھی رائے ونڈ والے آتے، ان کا بھی خصوصی اکرام کرتے بھئی، ان کو امتیازی حیثیت دیتے تھے سبق میں اور سال کے آخر میں جب کتابیں تقسیم فرماتے تو رائے ونڈ والے طلبہ کو کچھ کتابیں زائد دیا کرتے تھے۔ تو وفات ہوئی، وفات کے بعد جامعہ کے ایک استاد ہیں، بڑے ولی آدمی ہیں، انھوں نے رائے ونڈ ہی گئے ہوئے تھے، وہاں خواب دیکھا بھئی، خواب میں حضرت شیخ رحمہ اللہ کی زیارت ہوئی۔ تو خواب میں زیارت ہوئی تو فرمایا کہ: حضرت! چند، وفات کے کچھ دنوں کے بعد کی بات ہے یہ۔ تو پوچھا کہ: حضرت! آپ کا تو انتقال ہو گیا تھا، اللہ نے آپ کے ساتھ کیا معاملہ فرمایا؟ فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ نے میری مغفرت فرما دی۔ دو باتوں کی وجہ سے، دو باتوں کی وجہ سے۔ ایک تو یہ کہ جس وقت میرا انتقال ہوا، میں نے ابھی عصر کی نماز پوری نہیں کی تھی، عصر کی نماز میں ہی دل کا دورہ پڑا اور پھر اسی میں انتقال ہوا تو میں نے ابھی عصر کی نماز پوری نہیں کی تھی تو فرشتے حساب کتاب کے لیے آئے تو میں نے کہا، اس وقت ان سے کہا: ٹھہرو بھئی! اور اللہ سے دعا کی کہ اے اللہ! ابھی میں نے عصر کی نماز پوری نہیں کی، مجھے وقت دے دیں کہ میں کیا کر لوں؟ عصر کی نماز پوری کر لوں پھر میرا حساب کتاب شروع ہو۔ اللہ کو میری یہ بات بڑی پسند آئی۔ اور دوسری بات جو اللہ کو پسند آئی وہ یہ کہ میں تبلیغی جماعت والوں کا اکرام کیا کرتا تھا۔ دیکھو جس کے اکرام کی وجہ سے یہ حال ہو اس میں کام کرنے والوں کا کیا عالم ہو گا! بس میرا خیال بھئی آج تو کافی سارا سبق ہی اس میں گزر گیا بھئی۔ حضرت شیخ کی باتیں ہیں بھئی، ان کو دیکھنے کے سے تعلق رکھتے تھے بھئی، ان کو دیکھتے تو پھر بات تھی۔ یہ نہیں کہ بد نسیب تو نہ کہیں لیکن بہرحال وہ عجیب شخصیت تھی، عجیب شخصیت۔ طلبہ بتاتے ہیں بھئی خود ہی، ابھی بھی کہتے ہیں: ہم پڑھا کرتے تھے، امام، امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ ایسے تھے، امام بخاری ایسے تھے، فلاں ایسے تھے، بڑے بڑے ائمہ جبال العلوم کا ذکر پڑھتے تھے۔ تو دل میں ایک تڑپ ہوتی تھی پتہ نہیں یہ کیسے لوگ ہوں گے، پتہ نہیں کس طرح کے لوگ ہوں گے۔ لیکن کہتے ہیں: جب جامعہ میں آتے حضرت شیخ رحمہ اللہ کو دیکھتے تو فوراً دل گواہی دیتا کہ یقیناً وہ لوگ اس طرح کے ہوں گے، اس طرح کی شکل و صورت ہو گی، اس طرح کا جاہ و جلال، جمال ہو گا، جلال ہو گا۔ چلو بھئی! اللہ آپ سب کو بڑا عالم بنائے اور بس آپ لگے رہیں بھئی انشاء اللہ، دین کا کام اللہ ہر ایک سے لیں گے، انسان کی ہر خواہش کو اللہ ضرور پورا فرماتے ہیں بھئی، ضرور پورا فرماتے ہیں، ہاں کبھی تاخیر ہو جاتی ہے، اس کو جانچا جاتا ہے بھئی اس کی طلب سچی ہے یا سچی نہیں، سب دیکھ لیں اچھی طرح کہ اس کی طلب سچی ہے پھر اس کو وہ دیا جاتا ہے۔ چلو بھئی! دعا کر لیں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! جتنے حاضرین یہاں موجود ہیں، اللہ سب کی تمام حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تمام تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! سب کی پریشانیاں حل فرما۔ اے اللہ! تحصیلِ علم کے سلسلے میں آسانیاں پیدا فرما۔ اے اللہ! مشکلات اور رکاوٹوں کو دور فرما۔ اے اللہ! تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما۔ اے اللہ! گھروں میں اطمینان و سکون نازل فرما۔ اے اللہ! گھروں میں اطمینان و سکون اور خوشیاں نازل فرما۔ اے اللہ! اے اللہ! دین کا کام کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! دین کے لیے سب کو قبول فرما لے، اے اللہ! سب کو دین کے لیے قبول فرما لے۔ اے اللہ! دین کا کام اخلاص سے کرنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! بدعات اور گمراہیوں کو مٹانے والا بنا۔ اے اللہ! جو رزق کے مسئلے میں پریشان ہیں، اللہ ان کو وسیع حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! حلال رزق نصیب فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! تمام علماء، طلبہ، مدارس، مساجد، مجاہدین، مبلغین اور جو بھی جس انداز میں دین کے کام میں لگا ہوا ہے، اللہ سب کی مدد و نصرت فرما۔ اے اللہ! سب کی حفاظت فرما۔ اے اللہ! جو بیمار ہیں، اللہ ان کو شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! جن کے گھروں میں کوئی بیمار ہیں، انھیں بھی شفاء نصیب فرما۔ اے اللہ! ان میں سے ہر ایک کو اپنے گھر والوں کے لیے، سب کے لیے نہایت مبارک فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرما۔ اے اللہ! ہم سب کی قبروں کو منور فرما۔ اے اللہ! ہم سب کے گناہوں کو معاف فرما۔ اے اللہ! گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! گناہوں سے بچنے کی توفیق نصیب فرما۔ اے اللہ! اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما لے، اے اللہ! اپنے محبوب بندوں میں شامل فرما لے۔ اے اللہ! قیامت کے دن جب ہم آئیں، اس حال میں ہوں کہ آپ بھی ہم سے راضی ہوں، اے اللہ! آپ کے پیغمبر بھی ہم سے راضی ہوں۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ یہ آپ کے بعض ساتھیوں نے بھی دعاؤں کا کہا ہے، اے اللہ! آپ عَالِمُ الْغَيْبِ ہیں، اللہ سب کی حاجت جانتے ہیں، اللہ سب کی حاجات پوری فرما۔ اے اللہ! سب کی تکالیف دور فرما۔ اے اللہ! جو خود بیمار ہیں، جن کے جو عزیز و اقارب بیمار ہیں، اللہ انھیں شفاء نصیب فرما، اے اللہ! صِحَّةً كَامِلَةً عَاجِلَةً مُسْتَمِرَّةً نصیب فرما۔ اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ ہم سے رخصت ہو چکے، اے اللہ! ان کی قبروں کو منور فرما، اے اللہ! ان کی لغزشوں سے درگزر فرما، اے اللہ! ان کے درجات بلند فرما، اے اللہ! ان کی جو اولاد اور گھر والے باقی ہیں، اللہ دنیا میں ان کو خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! ان کی ہر پریشانی سے حفاظت فرما اور اے اللہ! ہمارے جو اساتذہ زندہ ہیں، اللہ انھیں بھی خوشیاں نصیب فرما، اے اللہ! ان کی تمام تکالیف اور پریشانیوں کو دور فرما، اے اللہ! ہماری تمام دعائیں قبول فرما۔ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَىٰ۔
71 approved lectures · 6 of 71