تو مولانا! ”إن“ اور ”إذا“ کی بحث چل رہی تھی۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ”إن“ اور ”إذا“ چونکہ تعلیق کے لیے آتے ہیں، تو لہٰذا اس کے دونوں جملوں میں سے، ان دونوں کے ہر ایک جملے کا فعلی اور استقبالی ہونا ضروری ہے بھئی۔ یعنی ”إن“ بھی دو جملوں پر داخل ہوتا ہے، شرط اور جزا پر۔ اسی طرح ”إذا“ بھی شرط اور جزا پر۔ تو ان دونوں میں سے ہر ایک کے دونوں دونوں جملے بھئی، شرط بھی، ”إذا“ کی بھی شرط اور جزا، ”إن“ کی بھی شرط اور جزا، ان کا فعلیہ ہونا بھی ضروری دونوں جملوں کا اور استقبالیہ ہونا بھی ضروری ہے۔ تو دونوں فعلیہ ہوں گے، اسمیہ نہیں ہوں گے۔ اور دونوں استقبالیہ جملے ہوں گے مولانا، مضارع کے صیغے آئیں گے بھئی، ماضی کے صیغے نہیں آئیں گے۔ لیکن کبھی کبھار اس کی مخالفت کی جاتی ہے کسی نکتے کی وجہ سے۔ اور وہ ایک نکتہ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا، کیا؟ ”كَإِبْرَازِ غَيْرِ الْحَاصِلِ فِي مَعْرِضِ الْحَاصِلِ“۔ کہ غیر حاصل کو کس کے درجے میں دکھلانا مقصود ہوتا ہے؟ حاصل کے درجے میں۔ ایک چیز حاصل نہیں لیکن اس کو حاصل کے درجے میں دکھایا جاتا ہے، ظاہر کیا جاتا ہے اور اس وجہ سے مضارع کے بجائے کون سا صیغہ لے آتے ہیں؟ ماضی کا، ماضی کا صیغہ۔ کیونکہ حاصل کس زمانے میں ہوگی چیز بھئی؟ جو حاصل ہو چکی ہے وہ کب ہے؟ ماضی میں۔ تو ”إن“ وغیرہ کے ساتھ آنا تو مضارع چاہیے، لیکن کبھی کبھار کیا کرتے ہیں؟ ماضی لے آتے ہیں۔ کس لیے لے کر آتے ہیں؟ غیر حاصل چیز کو کس کے درجے میں دکھلانا ہے؟ حاصل چیز کے درجے میں دکھلانا ہے۔ یہ ایک نکتہ ہے۔ کس چیز کا نکتہ ہے بھئی؟ آپ جملہ کون سا لانا چاہیے تھا ”إن“ وغیرہ کے ساتھ؟ مضارع کا۔ اور لائے کون سا؟ ماضی کا۔ تو یہ آپ نے عدول کیا اور اس کے لیے نکتہ کیا بتلایا انہوں نے؟ غیر حاصل کو کس کے درجے میں دکھا رہے ہیں؟ حاصل کے درجے میں۔ اب یہ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں کیوں دکھاتے ہیں؟ اس کی چار وجہیں انہوں نے بیان کیں بھئی۔ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں آپ اس لیے دکھلاتے ہیں کیونکہ اسباب بڑے قوی ہوتے ہیں، تو اس چیز، اس چیز کے اسباب بڑے قوی ہیں۔ ایک وجہ یہ۔ جیسے انہوں نے مثال ذکر کی تھی اشترا کی، ”إِنِ اشْتَرَيْنَا“ ماضی کا صیغہ استعمال کیا، حالانکہ کیا ہونا چاہیے تھا؟ ”إِنْ نَشْتَرِي“ ہونا چاہیے تھا۔ لیکن اسباب شرا کے سارے موجود ہیں، چیز بھی موجود ہے، آپ کے پاس سامان خریدنے کے لیے رقم بھی موجود ہے، اسباب سارے موجود ہیں، تو اس وجہ سے قوتِ اسباب کی وجہ سے اب آپ نے کیا کہہ دیا؟ ”إِنِ اشْتَرَيْنَا“۔ تو غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں دکھایا کس لیے؟ کہ اسباب بڑے قوی ہیں۔ یا اس لیے ایسا، غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اس لیے دکھایا جاتا ہے کہ وہ چیز، اس کا وقوع بڑا یقینی ہوتا ہے۔ جب اس کا ہونا نہایت یقینی ہے تو ہم اس کو کس کے درجے میں اتار لیتے ہیں؟ گویا کہ حاصل ہی ہے۔ تو غیر حاصل کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ اور مضارع کے بجائے کون سا صیغہ لے آئے؟ ماضی کا۔ دو وجہیں۔ تیسری وجہ، تفاؤل کے طور پر، کہ غیر حاصل کو آپ نے حاصل کے درجے میں دکھایا، کس وجہ سے؟ نیک فالی کے طور پر۔ مخاطب ایک چیز کو پسند کرتا ہے، تو آپ نے نیک فالی کے طور پر اس کو کیا کیا؟ حاصل کے درجے میں دکھلایا کہ اس سے مخاطب کو خوشی حاصل ہوگی۔ مثلاً مخاطب کیا چاہتا ہے کہ مجھے آخرت میں کیا حاصل ہو؟ کامیابی حاصل ہو، تو آپ نے کیا کہا: ”إِنْ ظَفِرْتَ“۔ حالانکہ کہنا کیا چاہیے تھا؟ ”ظَفِرْتَ“ تو ماضی کا صیغہ ہے اور آخرت تو ابھی آنے والی ہے، آپ نے کیا استعمال، کہنا کیا چاہیے تھا آپ کو؟ ”إِنْ تَظْفَرْ“ کہنا چاہیے تھا، اگر تم کامیاب ہوئے یہی مقصد ہے، یہی مطلوب ہے۔ لیکن آپ نے ”تَظْفَرْ“ کے بجائے کون سا صیغہ استعمال کیا؟ ماضی کا صیغہ استعمال کیا۔ کس لیے؟ نیک فالی کے طور پر، کہ آپ نے اس غیر حاصل چیز کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل چیز کے درجے میں اتار لیا۔ مخاطب خوش ہوگا بھئی، جو ایک چیز مطلوب ہے آپ نے پہلے ہی اس کے سامنے کس کے درجے میں اتار لی؟ گویا کہ حاصل ہو چکی۔ ”أَوْ إِظْهَارِ الرَّغْبَةِ“، یہ چوتھی وجہ ہے۔ غیر حاصل کو کس چیز کے درجے میں اتارتے ہیں؟ کس وجہ سے؟ اظہارِ رغبت کی وجہ سے، یعنی متکلم اپنی رغبت ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ یہ چیز مجھے بڑی مرغوب ہے۔ تو کیا کہتا ہے: ”إِنْ ظَفِرْتُ بِحُسْنِ الْعَاقِبَةِ فَهُوَ الْمَرَامُ“۔ تو کیا، اصل میں کیا کلام ہونا چاہیے تھا؟ ”إِنْ ظَفِرْتُ“ بھئی یہ تو ماضی ہے، مضارع کیا؟ ”إِنْ أَظْفَرْ بِحُسْنِ الْعَاقِبَةِ“، کیونکہ مستقبل ہے، مستقبل کے لیے مضارع کا صیغہ ہونا چاہیے، لیکن ماضی کا صیغہ استعمال کیا کس لیے؟ اظہارِ رغبت کے لیے۔ غیر حاصل چیز کو حاصل کے درجے میں اتار لیا رغبت کی وجہ سے، متکلم بتلانا چاہتا ہے کہ یہ آخرت کی کامیابی مجھے بڑی مرغوب ہے۔ تو یہ چار وجہیں ذکر ہوئیں بھئی، غیر حاصل چیز کو کس کے درجے میں اتارتے ہیں؟ حاصل چیز کے درجے میں۔ اول کس وجہ سے؟ قوتِ اسباب کی وجہ سے۔ ثانی کس وجہ سے؟ اس کے وقوع یقینی ہونے کی وجہ سے۔ ثالث کس وجہ سے؟ تفاؤل، اور چوتھی وجہ؟ اظہارِ رغبت کی وجہ سے۔ تو اس اظہارِ رغبت کے اندر بھئی، اظہارِ رغبت کے طور پر کیسے بھئی غیر حاصل کو آپ حاصل کے درجے میں اتارتے ہیں، اس کی مصنف نے پھر تشریح کی تھی اور بتلایا تھا کہ جب کوئی چیز، کسی چیز کا جو طالب ہوتا ہے، اس کے دل میں رغبت جب بڑھ جاتی ہے کسی چیز کی، تو اکثر اس کا تصور رہتا ہے اسے، اور کئی مرتبہ اسے یہ خیال گمان گزرتا ہے گویا کہ وہ چیز اسے حاصل ہو ہی چکی ہے۔ ایک چیز ہے بھئی، اس کے لیے انسان کو بہت زیادہ اس کی طلب ہے تو کیا ہوگا؟ اس کا اکثر و بیشتر اس کے ذہن پر اس کا خیال اور تصور رہے گا، تو وہ گویا اس کو حاصل ہے، بعض اوقات ایسے ہی متخیل ہو جاتی ہے، وہ اپنی رغبت بتلانے کے لیے کیا کرتا ہے؟ اس کو کس کے درجے میں اتار لیتا ہے؟ حاصل کے۔ ”وَعَلَيْهِ“، أَيْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الْمَاضِي مَعَ إِنْ لِإِظْهَارِ الرَّغْبَةِ فِي الْوُقُوعِ، ”وَرَدَ قَوْلُهُ تَعَالَى“، اور اسی پر وارد ہوا ہے اللہ کا یہ قول: ”إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا“۔ ”وَعَلَيْهِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا“، اور اسی پر وارد ہوا ہے اللہ کا یہ قول ”إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا“۔ بھئی کس پر وارد ہے؟ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا بھئی، أَيْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الْمَاضِي مَعَ إِنْ، کہ یہاں پر بھی کیا کیا گیا ہے؟ ”إِنْ“ کو کس کے ساتھ استعمال کیا گیا ہے؟ ماضی کے ساتھ، اور کس لیے؟ اظہارِ رغبت فی الوقوع، کہ یہاں بھی رغبت کا اظہار ہے وقوع کے اندر۔ تو جیسے اوپر والی مثال میں تھا کہ غیر حاصل چیز کو حاصل چیز کے درجے میں اتارتے ہیں کس وجہ سے؟ رغبت کا اظہار کرنا مقصود ہوتا ہے، رغبت بتلانی مقصود ہوتی ہے۔ اسی پر اللہ کا یہ قول بھی ہے ”إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا“، یہاں پر بھی ”إِنْ“ کے ساتھ کس کو لے کر آئے؟ ماضی کا صیغہ ذکر کیا گیا یہ بتلانے کے لیے کہ یہ تحصن بڑا مرغوب ہے، یہ تحصن اور عفت کیا ہے؟ بڑی مرغوب چیز ہے۔ ”وَعَلَيْهِ“، أَيْ عَلَى اسْتِعْمَالِ الْمَاضِي مَعَ إِنْ، اور یا اسی پر یعنی کہ استعمالِ ماضی کس کے ساتھ؟ ”إِنْ“ کے ساتھ ہو۔ ”لِإِظْهَارِ الرَّغْبَةِ“، اور یہ کس لیے ہو بھئی ماضی کا استعمال ”إِنْ“ کے ساتھ؟ اظہارِ رغبت کے لیے کسی چیز کے وقوع میں۔ اسی پر وارد ہوا ہے ”قَوْلُهُ تَعَالَى“، اللہ کا یہ قول بھی: ”وَلَا تُكْرِهُوا فَتَيَاتِكُمْ عَلَى الْبِغَاءِ إِنْ أَرَدْنَ تَحَصُّنًا“، اور تم مجبور نہ کرو اپنی باندیوں کو زنا پر، اگر وہ ارادہ کریں پاکدامنی کا اور عفت کا۔ قرآن میں کیا آیا ہے بھئی؟ کہ اگر تمہاری باندیاں عفت اور پاکدامنی چاہتی ہیں تو انہیں زنا پر مجبور نہ کرو۔ تو یہاں ”إِنْ“ آیا بھئی، اور ”إِنْ“ کے ساتھ کیا ذکر تھا؟ کون سا صیغہ آنا چاہیے؟ مضارع کا صیغہ آنا چاہیے۔ لیکن یہاں پر ”إِنْ“ کے ساتھ کون سا صیغہ ذکر ہوا؟ ماضی کا۔ تو یہاں عدول ہوا کس سے؟ اصل سے، اور اصل سے عدول کسی نکتے کی وجہ سے ہوتا ہے اور وہ نکتہ یہاں کیا ہے؟ غیر حاصل کو کس کے درجے میں اتارا؟ حاصل، نکتہ تو یہی ہوگا ہر جگہ پر۔ تو غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتارا، اور یہ کیوں اتارا غیر حاصل چیز کو حاصل کے درجے میں؟ اظہارِ رغبت کے لیے، کہ یہ پاکدامنی بڑی مرغوب چیز ہے، پاکدامنی بڑی مرغوب چیز ہے۔ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے مولانا، کہ ”وَعَلَيْهِ“، مصنف نے انداز کیوں بدلا بھئی؟ اسی پر ہے اللہ کا یہ قول بھی، تو جواب یہ مولانا، وجہ یہ کہ ماقبل میں مثال گزری تھی، کیا؟ نحو ”إِنْ ظَفِرْتُ بِحُسْنِ الْعَاقِبَةِ فَهُوَ الْمَرَامُ“، ایک یہ مثال گزری تھی اور آگے بھی کہہ رہے ہیں ”وَعَلَيْهِ“، بھئی اسی کے ساتھ ذکر کیا جاتا یا نحو وغیرہ کے ساتھ ذکر کیا جاتا، یہ ”عَلَيْهِ“ یہ الگ انداز کیوں لے کر آئے؟ وجہ یہ کہتے ہیں کہ فرق ہے دونوں مثالوں میں بھئی۔ پہلی مثال تھی انسانی کلام کی اور دوسری مثال کس کی ہے؟ اللہ کے کلام کی۔ اور اللہ کے، اللہ تعالی جو ہیں رغبت سے منزہ ہیں۔ اللہ تعالی رغبت سے منزہ ہیں اور پاک ہیں۔ یہ انسان ہے کہ اس چیز کی رغبت ہوتی ہے کہ یہ ہو جائے، اور اللہ تعالی رغبت سے پاک ہیں مولانا۔ تو یہاں رغبت سے مراد اللہ کی کامل رضا مراد ہے، کیا مراد ہے؟ کامل رضا۔ تو یعنی اللہ تعالی بتلانا چاہتے ہیں کہ میری کامل رضا کس چیز کے ساتھ ہے؟ کس میں ہے؟ پاکدامنی میں ہے، کس میں ہے؟ پاکدامنی میں کامل رضا ہے مولانا، تو اس کو الگ انداز میں ذکر کیا۔ ”حَيْثُ لَمْ يَقُلْ إِنْ يُرِدْنَ“، بایں حیثیت کہ یہ نہیں فرمایا اللہ تعالی نے ”إِنْ يُرِدْنَ“، حالانکہ ”إِنْ يُرِدْنَ“ مقام تھا ”إِنْ يُرِدْنَ“ کا۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ یہاں پر اصل میں کیا کلام، کیا تقاضا کرتا ہے، کس طرح ہو؟ ”إِنْ يُرِدْنَ“ بھئی، ”إِنْ“ تقاضا کرتا ہے کہ میرے ساتھ مضارع آئے تو ”إِنْ يُرِدْنَ“ ہونا چاہیے۔ لیکن عدول کیا گیا کس کی طرف؟ ماضی کی طرف، ماضی کی طرف بھئی، اظہارِ رغبت کے لیے۔ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے بھئی۔ شرط کیا ہوئی؟ تم اپنی باندیوں کو مجبور نہ کرو زنا پر اگر وہ کس کو چاہیں؟ پاکدامنی کو چاہیں۔ معلوم اس سے یہ ہو رہا ہے بظاہر، اگر وہ پاکدامنی کو نہ چاہیں تو زنا پر مجبور، یہی مفہوم ہو رہا ہے نا؟ تم اپنی باندیوں کو مجبور نہ کرو زنا پر اگر وہ کس کو چاہیں؟ کیا مفہوم ہوا؟ اگر پاکدامنی نہیں چاہتیں تو پھر زنا پر مجبور کر سکتے ہو۔ یہ اشکال ہو رہا ہے بھئی، یہ اشکال۔ دیکھیے، پہلے اشکال پڑھ لیں: ”فَإِنْ قِيلَ“، اگر یہ اعتراض کیا گیا، ”تَعْلِيقُ النَّهْيِ عَنِ الْإِكْرَاهِ“، کہ یہ جو معلق کرنا ہے کس چیز کو؟ نہی عن الاکراہ کو، یہ جو نہی آئی ہے مولانا اکراہ سے، مجبور کرنے سے جو منع کیا گیا ہے، اس کو معلق کیا گیا ہے کس کے ساتھ معلق کرنا ہے مولانا؟ ”بِإِرَادَتِهِنَّ التَّحَصُّنَ“، ان کے پاکدامنی کے ارادے کے ساتھ، یعنی ان کو مجبور نہ کرنا یہ معلق ہے ان کے پاکدامنی کے ارادے کے ساتھ۔ یعنی جب یہ پاکدامنی کا ارادہ کریں تو ان کو مجبور نہ کرو۔ ”يُشْعِرُ“، یہ خبر دیتا ہے، ”بِجَوَازِ الْإِكْرَاهِ عِنْدَ انْتِفَائِهَا“، کہ مجبور کرنا جائز ہے عند انتفائها جب ارادۂ تحصن کیا ہو؟ منتفی ہو۔ یعنی بھئی مجبور نہ کرو جب کیا ہو ارادۂ تحصن ہو، اور جب ارادۂ تحصن نہ ہو تو پھر مجبور کرنا جائز ہے۔ ”عَلَى مَا هُوَ مُقْتَضَى التَّعْلِيقِ بِالشَّرْطِ“، بناء بر اس کے جو کہ مقتضا ہے کس کا؟ تعلیق بالشرط، تعلیق بالشرط یہ تقاضا کر رہی ہے کہ جب یہ شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ ہو۔ جب شرط نہ ہو تو مشروط بھی نہ ہو۔ اس کے علامہ تفتازانی دو جواب ذکر کریں گے مولانا۔ پہلا جواب یہ، کہتے ہیں کہ اول تو پہلے، ہمارے نزدیک تو ویسے ہی مولانا مفہومِ مخالف معتبر نہیں ہے، لیکن بظاہر یہاں سے مفہوم تو ہو رہا ہے۔ تو جواب یہ مولانا کہ وہ لوگ جو مفہومِ مخالف کے قائل ہیں، وہ مفہومِ مخالف اس وقت لیتے ہیں جبکہ شرط کا کوئی اور فائدہ نہ ہو۔ شرط کا کوئی اور فائدہ نہ ہو، اگر شرط کا کوئی اور فائدہ ہو تو پھر وہ بھی مفہومِ مخالف مراد نہیں لیتے۔ اور کہتے ہیں یہاں ممکن ہے مبالغہ، مبالغہ کرنا مقصود ہے نہی عن الاکراہ کے اندر۔ نہی عن الاکراہ میں کیا بتلانا مقصود ہے؟ مبالغہ کرنا مقصود ہے، یہ بتلانا کہ بھئی جب وہ باندیاں، حالانکہ باندی ایسی چیز ہے کہ ادنیٰ درجے کی ذات ہے، اور ان کا میلان بھی ہے کس کی طرف؟ زنا کی طرف، جب وہ ارادۂ عفت رکھتی ہیں، تو ان کا آقا زیادہ لائق ہے اس بات کا کہ وہ بھی کس چیز کا ارادہ کرے؟ رکھے عفت کا ارادہ۔ جب وہ ادنیٰ درجے کی ذات جو ہے کس چیز کو چاہتی ہے؟ پاکدامنی کو چاہتی ہے، تو اعلیٰ درجے کی ذات کو بطریقِ اولیٰ کیا چاہیے؟ پاکدامنی کا ارادہ کرنا چاہیے۔ تو یہاں مبالغہ کرنا مقصود ہے، مبالغہ بھئی۔ تو یہ ایک فائدۂ زائد ہوا، جب فائدۂ زائد ہو جہاں پر، وہاں پر مفہومِ مخالف مراد نہیں لیتے۔ ”أُجِيبَ بِأَنَّ الْقَائِلِينَ“، جواب دیا گیا ہے کہ جو قائلین جو ہیں، قائلین کس چیز کے قائلین بھئی؟ ”بِأَنَّ التَّقْيِيدَ بِالشَّرْطِ“ کہ یہ جو قید کیا جاتا ہے شرط کے ساتھ، یہ دلالت کرتا ہے ”عَلَى نَفْيِ الْحُكْمِ“، کس چیز پر؟ نفیِ حکم پر۔ ”عِنْدَ انْتِفَائِهِ“، کس چیز پر نفیِ حکم پر کب دلالت کرتا ہے؟ بھئی جب آپ نے کسی چیز کو شرط کے ساتھ معلق کر دیا، تو جب شرط ہے، مشروط ہے۔ شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ تو یہ دلالت کرتا ہے کہ جب ”عَلَى نَفْيِ الْحُكْمِ“، کہ حکم بھی منتفی ہوگا ”عِنْدَ انْتِفَائِهِ“ جب کیا نہ ہو؟ جب شرط نہ ہو، جب شرط نہ ہو تو حکم بھی منتفی ہو جائے گا۔ بھئی دیکھیے، آپ کہتے ہیں مثلاً ایک شخص کہتا ہے: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ“، اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے، تو دیکھو طلاق کب آئے گی؟ ہاں، تو مشروط اس وقت آئے گا جب شرط پائی جائے گی، اور جب شرط نہیں تو مشروط بھی، دخولِ دار نہیں تو طلاق بھی نہیں۔ تو شرط دلالت کرتی ہے کہ حکم بھی منتفی ہے عند انتفائه، جب شرط کیا ہو؟ جب شرط منتفی ہے تو حکم بھی منتفی ہوگا۔ تو یہ وہ جو یہ کہنے والے ہیں کہ تقیید بالشرط دلالت کرتی ہے نفیِ حکم پر، انتفائے، بھئی ترجمہ دیکھو غور سے، بھئی ترجمہ یہاں ذرا مشکل ہے بھئی۔ جواب دیا گیا کہ وہ لوگ جو یہ کہنے والے ہیں، کیا کہنے والے ہیں بھئی؟ کہ تقیید بالشرط دلالت کرتی ہے نفیِ، حکم کی نفی پر دلالت کرتی ہے، کب بھئی حکم کی نفی پر دلالت کرتی ہے؟ عند انتفائه، جب کیا ہو؟ شرط منتفی ہو۔ ”إِنَّمَا“، تو یہ لوگ ”يَقُولُونَ بِهِ“، یہ مفہومِ مخالف کے قائل ہیں، کب؟ ”إِذَا لَمْ يَظْهَرْ لِلشَّرْطِ فَائِدَةٌ أُخْرَى“، جبکہ شرط کے لیے کوئی اور فائدہ ظاہر نہ ہو۔ تو وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ بھئی جب کسی چیز کو آپ نے شرط کے ساتھ مقید کر دیا، تو یہ شرط کے ساتھ مقید کرنا دلالت کرتا ہے اس بات پر کہ شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، وہ اس بات کے قائل اس وقت ہیں جبکہ شرط کا کوئی اور فائدہ نہ ہو۔ جب شرط کا کوئی اور فائدہ نہیں ہوگا تو اس وقت شرط کے منتفی ہونے سے مشروط بھی کیا ہو جائے گا؟ منتفی ہو جائے گا، لیکن اگر کوئی اور فائدہ ہو تو پھر شرط کے منتفی ہونے سے مشروط کا منتفی ہونا لازم نہیں آئے گا۔ ”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ فَائِدَتُهُ فِي الْآيَةِ الْمُبَالَغَةَ“، اور ممکن ہے کہ اس کا فائدہ کیا ہو مولانا اس شرط کا؟ مبالغہ مقصود ہو ”فِي النَّهْيِ عَنِ الْإِكْرَاهِ“، نہی عن الاکراہ کے اندر مبالغہ، ”يَعْنِي أَنَّهُنَّ إِذَا أَرَدْنَ الْعِفَّةَ فَالْمَوْلَى أَحَقُّ بِإِرَادَتِهَا“، یعنی جب وہ باندیاں جب ارادہ کرتی ہیں عفت اور پاکدامنی کا، تو مولا زیادہ، ان کا آقا زیادہ حقدار ہے ارادۂ عفت کا کہ وہ عفت کا ارادہ کرے۔ یہ ایک جواب ہوا بھئی۔ کہ یہاں پر شرط کے منتفی ہونے سے حکم کا منتفی ہونا لازم نہیں آئے گا کیونکہ یہاں شرط ایک اور فائدہ بھی دے رہی ہے اور وہ شرط کیا، وہ کیا ہے فائدہ؟ مبالغہ۔ تو یہاں مبالغہ پیدا کرنے کے لیے ایسا کیا گیا، لہٰذا اب مفہومِ مخالف آپ یہاں پر نہیں لے سکتے۔ دوسرا جواب: ”وَأَيْضًا دَلَالَةُ الشَّرْطِ عَلَى انْتِفَاءِ الْحُكْمِ“، کہ یہ جو شرط کی دلالت ہے کس چیز پر؟ ہاں، یعنی جب شرط منتفی ہوگی تو حکم بھی کیا ہو جائے گا؟ ”إِنَّمَا هُوَ بِحَسَبِ الظَّاهِرِ“، یہ ظاہر کے حساب سے ہے، ”وَالْإِجْمَاعُ الْقَاطِعُ عَلَى حُرْمَةِ الْإِكْرَاهِ مُطْلَقًا قَدْ عَارَضَهُ“، اور اجماع۔ بھئی آپ نے مفہومِ مخالف یہاں آ رہا ہے، اور مفہومِ مخالف کلام سے ظاہر ہو رہا ہے، کلام سے ظاہر ہو رہا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ جب وہ ارادۂ تحصن نہ کریں تو پھر ان کو کیا کر سکتے ہو؟ زنا پر مجبور کر سکتے ہو۔ کہتے ہیں یہ کلام کے ظاہر سے یہ بات سمجھ میں آ رہی ہے، لیکن اس کے مقابلے میں اجماع ہے، اجماع ہے۔ اور اجماع کیا ہے؟ قطعی دلیل ہے۔ تو اس اجماع کی وجہ سے یہ ظاہر مدفوع اور دور ہو جائے گا۔ ظاہر کیا سمجھ آ رہا ہے بھئی کلام سے سمجھ میں؟ کہ اگر وہ پاکدامنی کا ارادہ نہیں کرتیں تو پھر ان کو زنا پر مجبور کر سکتے ہو، یہ ہے ظاہر۔ اور اجماع قطعی ہے مولانا، اجماع کیا کہتا ہے مولانا؟ کہ کسی صورت میں بھی ان کو مجبور نہیں کر سکتے۔ تو اجماع اس ظاہر کے مقابلے میں آ گیا، تو اجماع کی وجہ سے اب یہ ظاہر کیا ہوا؟ ختم ہو گیا۔ ”وَالْإِجْمَاعُ الْقَاطِعُ“، اور اجماع جو کہ قطعی ہے، ”عَلَى حُرْمَةِ الْإِكْرَاهِ“، وہ کس پر ہے؟ حرمتِ اکراہ پر ہے کہ مجبور کرنا حرام ہے ”مُطْلَقًا“، چاہے، مطلقاً یعنی ارادہ ہو ان کا یا ارادہ نہ ہو۔ ”قَدْ عَارَضَهُ“، یہ اجماع اس کے مقابل ہوا اس ظاہر کے، ”وَالظَّاهِرُ يُدْفَعُ بِالْقَاطِعِ“، اور ظاہر مدفوع ہوگا، دور ہوگا کس کی وجہ سے؟ قطعی چیز کی وجہ سے دور ہو جائے گا۔ بحث سمجھ میں آئی یہاں تک بھئی؟ اس کا ایک اور جواب بھی ہے مولانا، کہ یہ شرط واقعے کے اعتبار سے ہے۔ یہ شرط کس اعتبار سے ہے؟ واقعے کے اعتبار سے ہے۔ کیونکہ یہ آیت ان کے بارے میں نازل ہوئی تھی جن کو، جو اپنی باندیوں کو کیا کرتے تھے؟ مجبور کرتے تھے زنا پر، تو ان کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی۔ نیز مولانا، مجبور کرنا اسی صورت میں ہو سکتا ہے جبکہ وہ، ان کا ارادۂ مخالف ہو، ان کا ارادہ کیا ہو؟ ایک شخص ایک کام کو نہیں چاہتا پھر اس کام کے لیے اس کو کہا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مجبور کرنا۔ اور ایک کام کو خود بھی چاہتا ہے اور اس کو کام کا کہا جائے اس کو مجبور کرنا کہتے ہی نہیں۔ اور قرآن میں تو آیا کہ ان کو مجبور نہ کرو، اور مجبور کرنا ہو ہی اسی وقت سکتا ہے جبکہ وہ کس چیز کا ارادہ کر رہی ہوں؟ پاکدامنی کا ارادہ کر رہی ہوں۔ اور اگر وہ پاکدامنی کا ارادہ ہی نہیں کرتیں تو پھر تو مجبور کرنا ہے ہی نہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آئی سب کو؟ ”قَالَ السَّكَّاكِيُّ أَوْ لِلتَّعْرِيضِ“، علامہ سکاکی فرماتے ہیں یا تعریض کے لیے، یا تعریض کے لیے۔ بھئی انہوں نے بتلایا کہ ”إِنْ“ کے ساتھ فعل مضارع آنا چاہیے، لیکن ہم کبھی کبھار کیا کرتے ہیں؟ ماضی لے آتے ہیں، صرف ایک نکتے کی وجہ سے، اور وہ نکتہ کیا ہے؟ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں بتلانا ہے۔ اور یہ حاصل کے درجے میں کیوں بتلانا چاہتے ہیں؟ اس کی کتنی وجہیں؟
ذکر ہوئی تھیں۔ چار وجہیں ذکر ہوئی تھیں۔ اب پانچویں وجہ بھی اس کی ذکر کر رہے ہیں۔ پانچویں وجہ: کہ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں کیوں اتارتے ہیں؟ علامہ سکاکی فرماتے ہیں: للتعریض، تعریض کی وجہ سے۔ کس کی وجہ سے؟ تعریض۔ جی۔
”أي إبراز غير الحاصل في معرض الحاصل“ ظاہر کرنا غیر حاصل کو حاصل چیز کے درجے میں، ”إما لما ذكر“ یا تو اس وجہ سے ہوا جو مذکور ہوئیں، یعنی وہ جو چار چیزیں تھیں ان کی وجہ سے ہوگا غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتارنا، ”وإما للتعريض“ یا کس وجہ سے ہوگا؟ تعریض کی وجہ سے آپ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتاریں گے۔
تعریض کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہتے ہیں: ”بأن ينسب الفعل إلى أحد والمراد غيره“ کہ فعل کی نسبت ایک کی طرف کی جائے اور مراد کیا ہو؟ دوسرا ہو۔ بھئی آپ اپنے ساتھی کو ایک کلام کہتے ہیں، لیکن مقصود وہ نہیں ہے، سنانا آپ ایک تیسرے کو چاہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریض کہتے ہیں، تعریض کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آئی؟ ”بأن ينسب الفعل إلى أحد“ کہ نسبت کی جائے فعل کی ایک کی طرف ”والمراد غيره“ اور مراد غیر ہوں۔ جیسے اللہ کا یہ قول ہے:
”وَلَقَدْ أُوحِيَ إِلَيْكَ وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ“ اور تحقیق وحی کی گئی ہے آپ کی طرف اور ”وَإِلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكَ“ اور ان کی طرف بھی جو آپ سے پہلے تھے۔ کیا وحی کی گئی ہے؟ ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ“ کہ اگر آپ نے شرک کیا تو البتہ آپ کے اعمال ضائع ہو جائیں گے۔ آپ کا عمل کیا ہوگا؟ ضائع ہو جائے گا۔
”فالمخاطب هو النبي صلى الله عليه وسلم“ مخاطَب جو ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں، ”وعدم إشراكه مقطوع به“ اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شرک... شریک نہ بنانا، یعنی اللہ کا شریک کسی کو نہ بنانا، یہ شریک نہ بنانا مقطوع بہ، یہ کیا ہے؟ قطعی چیز ہے۔ ”لكن جيء بلفظ الماضي“ لیکن یہاں لایا گیا اس کو مولانا ماضی کے لفظ کے ساتھ، ”إبرازا للإشراك غير الحاصل في معرض الحاصل على سبيل الفرض والتقدير“ کہ اشراک جو کہ غیر حاصل تھا، اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل کے درجے میں اتار لیا ”على سبيل الفرض والتقدير“ فرض و تقدیر کے طریقے پر، یعنی فرض کے... فرض کرتے ہوئے اس کو کس کے درجے میں اتار لیا؟ حاصل کے درجے میں اتار لیا۔ ”تعريضا“ اشارہ کرتے ہوئے ”لمن صدر عنهم الإشراك“ کہ جن سے کس چیز کا صدور ہوا ہے؟ اشراک کا صدور ہوا ہے، ”بأنه قد حبطت أعمالهم“ بایں صورت کہ ان کے اعمال کیا ہوئے؟ ضائع ہوئے۔
اچھا مولانا، علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار 'اِن' کے ساتھ ماضی کا صیغہ لاتے ہیں، غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتارتے ہیں، کس وجہ سے؟ تعریض کے لیے کہ ایک بات... ایک فعل کی نسبت ایک کی طرف ہوتی ہے اور سنانا دوسرے کو مقصود ہوتا ہے۔ جیسے اس آیت کے اندر ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“ میں 'اِن' کے ساتھ کیا ذکر کیا گیا؟ ماضی کو ذکر کیا گیا اور یہ ایسا کس لیے کیا گیا؟ تعریض کے لیے۔ اشارہ کرنا مقصود ہے کس کی طرف؟ وہ کفار جنہوں نے شرک کیا، جو شرک کرنے والے ہیں، ان کی طرف اشارہ مقصود ہے بھئی۔
تو مخاطَب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے شرک کا صدور نہیں ہوا، کبھی بھی نہیں ہوا۔ اس کے باوجود ان کی طرف نسبت کرتے ہوئے کیا کیا... کیا کہا گیا؟ ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“، اگر آپ نے شرک کیا، آپ کے اعمال کیا ہو جائیں گے؟ ضائع ہو جائیں گے۔
تو اس تعریض... ایسا کس لیے کیا گیا؟ ایک تو اس میں بتلایا یہ گیا مولانا، کہ دو فائدے ہوئے بھئی، دو فائدے ہوئے۔ ایک تو یہ فائدہ ہوا کہ وہ ذات جو سب سے اعلیٰ و ارفع ہے، وہ اگر شرک کر لے تو اس کے تمام عمل کیا ہوں گے؟ ضائع ہو جائیں گے۔ تو ادنیٰ کا کیا پوچھتے ہو؟ اس کے تو بطریقِ اولیٰ کیا ہیں؟ سارے عمل ضائع ہو جائیں گے۔
دوسرا، تعریض کے اندر کیا؟ خطاب ایک کو ہو رہا ہے اور سنانا دوسرے کو مقصود ہے۔ تو یہ خطاب تو ہونا چاہیے تھا کفار کو کہ تم نے شریک بنایا ہے اللہ کا، لہٰذا تمہارے سارے عمل کیا ہوئے؟ ضائع ہو گئے، ضائع ہو گئے، ساری نیکیاں ختم ہو گئیں۔ تو یہاں خطاب ان کو نہیں کیا گیا، بلکہ خطاب کیا گیا حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو۔ یعنی اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ کفار اتنے ذلیل، اتنے حقیر ہیں کہ اس قابل ہی نہیں ہیں کہ ان کے ساتھ کیا کیا جائے؟ خطاب کیا جائے۔ وہ جانوروں کی مانند ہیں، خطاب کے لائق ہی نہیں ہیں۔
تو یہاں پر مولانا دیکھیے دوبارہ: ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“، فالْمُخاطَب حضور صلی اللہ علیہ وسلم مخاطَب ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا شرک نہ کرنا یقینی ہے، لیکن ماضی کے لفظ کے ساتھ ذکر کیا گیا۔ کہ اشراک... وہ کہ شرک جو غیر حاصل تھا اس کو کس کے درجے میں اتارا؟ حاصل کے درجے میں ”على سبيل الفرض والتقدير“ فرض... فرض کے طریقے پر، ”تعريضا“ اشارہ کرتے ہوئے ان... ”لمن صدر عنهم الإشراك“ جن سے کیا... کس چیز کا صدور ہوا ہے؟ جن سے اشراک کا صدور ہوا ہے کہ ان کے عمل ضائع ہو گئے۔ تو ان کو ڈانٹنا مقصود ہے مولانا، ڈانٹنا بھئی۔
”كما إذا شتمك أحد“ جیسے کہ آپ کو کوئی شخص گالی دے، ”فتقول“ آپ کہتے ہیں: ”والله إن شتمني الأمير لضربته“۔ آپ کو کس نے گالی دی بھئی؟ آپ نے کیا کہا؟ واللہ! اگر مجھے صدر بھی گالی دے دے تو میں اس کی بھی کیا کروں گا؟ پٹائی کروں گا بھئی، اس کی پٹائی کروں گا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کان پکڑوا کے جوتے لگائیں گے۔
تو اب آپ نے امیر کا ذکر کیا، لیکن سنانا کس کو مقصود ہے بھئی؟ مراد کون ہے یہاں پر؟ وہ شخص کہ جب وہ... وہ بھی پٹائی... اس کی بھی میں پٹائی کروں گا تو یقیناً تو بھی کس چیز کا مستحق ہے؟ پٹائی کا مستحق ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں تعریض۔
”ولا يخفى أنه لا معنى للتعريض“ علامہ سکاکی نے کیا فرمایا؟ کہ کبھی کبھار 'اِن' کے ساتھ ماضی لے کر آتے ہیں۔ کس لیے لے کر آتے ہیں؟ غیر حاصل کو حاصل کے درجے میں اتارتے ہیں، کس وجہ سے؟ تعریض کی وجہ سے، تعریض کی وجہ سے۔ تو یعنی اس... جب آپ نے مضارع کے بجائے ماضی کو استعمال کیا تو آپ نے عدول کیا اصل سے، اور اصل سے عدول کیا جاتا ہے ہمیشہ کسی نکتے کی وجہ سے، اور وہ نکتہ یہاں پر کیا ہے؟ تعریض ہے، تعریض ہے کہ آپ اشارہ کر رہے ہیں، اشارہ کر رہے ہیں۔
علامہ خلخالی نے اس اعتراض... اس تقریر کو رد کیا بھئی۔ علامہ خلخالی نے علامہ سکاکی کے اس قول کو رد کیا، دو اعتبار سے رد کیا بھئی، دو اعتبار سے۔
ایک انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ اس سے سنانا کن کو مقصود ہے؟ جنہوں نے شرک کیا ہے، جنہوں نے کیا کیا ہے؟ شرک کیا ہے۔ علامہ خلخالی فرماتے ہیں: نہیں، سب کو، چاہے شرک کیا ہے یا شرک نہیں کیا، سب کو سنانا مقصود ہے۔ تو تعریض صرف شرک کرنے والوں کے لیے نہیں بلکہ تعریض چاہے شرک کیا ہے یا شرک نہیں کیا، سب کے لیے ہے۔ ایک یہ اعتراض۔
دوسرا، کہ مضارع جو ہے... آپ نے کیا کہا اے علامہ سکاکی؟ آپ نے یہ کہا کہ ماضی... مضارع کے بجائے کیا استعمال کیا؟ ماضی کو استعمال کیا، تو یہاں پر اس ماضی کی وجہ سے تعریض ہوئی کس کی طرف؟ غیر کی طرف۔ اگر ماضی یہاں نہ لے کر آتے بلکہ کیا لے آتے؟ مضارع لے آتے تو تعریض نہ ہوتی، تو تعریض نہ ہوتی۔ علامہ خلخالی فرماتے ہیں: آپ کی یہ بات قبول نہیں، یہ بات بھی آپ کی صحیح نہیں ہے۔ کہتے ہیں: تعریض تو یہاں ویسے ہی آ رہی تھی، کیونکہ ایک ایسا فعل کو منسوب کر دیا ایسی ذات کی طرف جو اس سے ممکن ہی نہیں۔ یعنی شرک جیسے قبیح فعل کی نسبت کس کی طرف ہو رہی ہے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف، اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے شرک کا صدور ہو جائے یہ محال ہے، یہ کیا ہے؟ یہ محال ہے۔ تو جب ایک ایسے فعل کو ایسی ذات کی طرف منسوب کر دیا جس سے اس کا وقوع ہو ہی نہیں سکتا، تو پتہ خود بخود چل گیا کہ یہاں مراد یہ نہیں ہے بلکہ مراد کیا ہے؟ تعریض ہے۔ بھئی پیغمبر سے شرک ہو سکتا ہے؟ اور پھر کہا جا رہا ہے ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“، معلوم ہوا آپ سے... اور آپ سے تو شرک ہو نہیں سکتا، معلوم ہوا یہ ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“ کے ذریعے کس کو سنانا مقصود ہے؟ غیر کو سنانا مقصود ہے۔ تو چاہے ماضی نہ بھی لاتے، مضارع بھی رہتا، پھر بھی ایک فعل ایسا فعل جو قبیح ہے اور اس کی نسبت آ رہی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور یہ محال ہے، جب یہ محال ہے تو معلوم ہوا حضور صلی اللہ علیہ وسلم مراد نہیں ہیں بلکہ غیر کو سنانا مقصود ہے۔
تو تعریض پھر بھی آ جاتی۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کس طریقے سے، دو طریقے سے رد کیا؟
ایک، آپ نے کیا کہا تعریض صرف کس کو ہے؟ صرف مشرک... شرک کرنے والوں کو تعریض ہے۔ علامہ خلخالی کیا فرماتے ہیں؟ سب کو ہے بھئی، سب کو سنانا مقصود ہے۔
اور دوسرا، آپ نے کیا کہا ماضی کو لے کر آئے اس لیے تعریض ہے، بھئی ہم کہتے ہیں ماضی نہ بھی ہوتی یہاں پر کیا ہوتا؟ مضارع ہوتا، پھر بھی کیا تھی؟ تعریض پھر بھی تھی، تعریض پھر بھی تھی۔
جواب اس کے دے رہے ہیں مولانا، علامہ تفتازانی جواب دیں گے بھئی۔
”ولا يخفى“ اور یہ بات مخفی نہیں ہے ”أنه لا معنى للتعريض“ کہ تعریض کا کوئی معنی نہیں ہے ”بمن“ اس شخص کو ”لم يصدر عنهم الإشراك“ جن سے شرک کا صدور... بھئی ان لوگوں کو تعریض کا کوئی علت نہیں ہے، کوئی اس کی... کوئی اس کا سبب نہیں ہے۔ ایک شخص سے شرک کا صدور ہی نہ ہو اور ان کی طرف اشارہ کیا جائے، یہ درست نہیں۔ وجہ یہ کہ یہاں تعریض کی گئی ان کو سنایا گیا کس وجہ سے؟ ڈانٹ کے طور پر۔ تو جب ایک شخص سے غلطی ہوئی نہیں ہے تو ڈانٹنے کا کیا معنی بھئی؟ ڈانٹا کس پر جاتا ہے؟ جس سے غلطی ہو جائے، جس سے غلطی ہو چکی ہو اس کو ڈانٹا جاتا ہے بھئی۔ پہلے سے ہی اس جس سے غلطی کے امکان ہوں اس کو پہلے سے ہی ڈانٹ دیا جائے ایسا نہیں ہوتا بھئی، ایسا نہیں ہوتا۔ جیسے وہ ایک استاد تھا تو پانی منگوایا بھئی شاگرد سے، پانی لے کر آؤ بھئی گلاس میں۔ شیشے کا گلاس تھا اس کو پکڑایا جا پانی لے آ، ساتھ ہی تین چار تھپڑ بھی لگا دیے۔ اس نے کہا: بھئی یہ کیا کیا آپ نے؟ تھپڑ کیوں لگایا؟ کہتے ہیں کہ بھئی یہ نہ ہو کہیں راستے میں جائے اور گلاس گرا دے اور گلاس کو توڑ نہ دے، شیشے کا گلاس۔ کہتا ہے: بھئی توڑتا تو پھر بعد میں پٹائی کی جاتی، آپ پہلے سے ہی پٹائی کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں: بعد میں مارنے کا کیا فائدہ؟
تو ہمیشہ غلطی کے بعد کیا کیا جاتا ہے؟ ڈانٹ ڈپٹ غلطی کے بعد ہوتی ہے، غلطی سے پہلے نہیں۔ اور یہاں پر جب ایک شخص سے شرک کا صدور ہوا ہی نہیں تو ان کی طرف تعریض اور ان کو ڈانٹ ڈپٹ کا کوئی فائدہ نہیں، کوئی سبب نہیں اس کا۔ ”ولا يخفى أنه لا معنى للتعريض بمن لم يصدر عنهم الإشراك“ اور یہ بات مخفی نہیں ہے کہ کوئی معنی نہیں ہے تعریض کا ان لوگوں سے ”لم يصدر عنهم الإشراك“ جن سے صدور نہیں ہوا شرک کا۔ ”وأن ذكر المضارع لا يفيد التعريض لكونه على أصله“ دوسری بات اے علامہ خلخالی آپ نے یہ کہی کہ مضارع کا ذکر کر دیتے پھر بھی کیا ہو جاتی؟ تعریض ہو جاتی۔ کہتے ہیں: نہیں بھئی، اگر مضارع ذکر کرتے تو پھر تعریض نہ ہوتی۔ کیوں؟ کیونکہ مضارع تو ہے اصل مولانا۔ 'اِن' کے ساتھ آنا ہی کیا چاہیے؟ مضارع۔ جب 'اِن' اپنی اصل پر... جب کلام اپنی اصل پر ہے تو تعریض نہیں، لیکن یہاں پر جب عدول ہوا اور عدول کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے؟ نکتہ چاہیے، اور وہ نکتہ یہاں پر کیا ہے؟ تعریض ہے۔ تو جب کلام اپنی اصل پر ہوگا تو نکتہ ہی نہیں مولانا، اور جب اصل سے عدول کیا تو پھر کیا ائے گا؟ نکتہ ائے گا اور وہ نکتہ کیا ہے؟ تعریض۔ ”وأن ذكر المضارع لا يفيد التعريض لكونه على أصله“ اور یہ کہ مضارع کا ذکر کرنا یہ تعریض کا فائدہ نہیں دیتا ”لكونه على أصله“ کیونکہ یہ کس پر ہوگا کلام؟ اصل پر ہوگا۔
”ولما كان في هذا الكلام نوع خفاء وضعف نسبه إلى السكاكي“ اور جب تھا اس کلام کے اندر، جی یہ ایک اور اشکال کا جواب دے رہے ہیں علامہ تفتازانی بھئی۔ اشکال یہ ہوتا ہے کہ یہ جو ذکر ہوئے نا ”كإبراز غير الحاصل في معرض الحاصل لقوة الأسباب، أو كونه مأمول الوقوع، أو التفاؤل، أو إظهار الرغبة“ اور ”للتعريض“ یہ سارے علامہ سکاکی کا قول چل رہا ہے بھئی۔ یہ جو چار پانچ وجہیں ذکر ہوئیں ساری کس کی چل رہی ہیں؟ علامہ سکاکی کی۔ تو بھئی کیا بات ہے ان چار پانچ میں تو مصنف نے نہیں کہا ”قال السكاكي“ اور آخری میں ا کر کیا کہہ دیا؟ ”قال السكاكي“، حالانکہ پچھلی چار پانچ بھی انہی کی ذکر کردہ وجوہات ہیں۔ تو جواب دیا مولانا کہ بھئی پچھلی جو تھیں باتیں واضح تھیں، کیا تھیں؟ واضح تھیں، ان میں کسی قسم کی مشکل نہیں تھی۔ اور یہ... یہ بات جو تھی تعریض والی اس کے اندر کچھ خفا تھا، یہ بات پوشیدہ تھی اور اس کے اندر ضعف بھی تھا کہ علماء اس پر کیا کر رہے ہیں؟ اعتراض کر رہے ہیں۔ اس وجہ سے اس کو منسوب کر دیا کس کی طرف؟ علامہ سکاکی کی طرف کہ علامہ سکاکی نے ایسا کہا ہے، میں ایسا نہیں کہتا۔
”ولما كان في هذا الكلام نوع خفاء“ اور جب تھا اس کلام کے اندر مولانا، یعنی یہ تعریض کی جو بات کی اس میں ایک درجے کا خفا تھا، ”وضعف“ اور ایک درجے کا ضعف تھا، ”نسبه إلى السكاكي“ اس کی نسبت کر دی سکاکی کی طرف، ”وإلا فهو قد ذكر جميع ما تقدما“ ورنہ انہی نے ذکر کیا ہے اس سارے کو جو گزر چکا ہے۔ ”ثم قال“ پھر علامہ سکاکی فرماتے ہیں: ”ونظيره“ اور نظیر کس کی مولانا؟ نظیر ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“ کی نظیر ”في التعريض“ کس کے اندر؟ تعریض کے اندر۔ بھئی ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“ کے اندر کیا بتلایا تھا مصنف نے اپ کو کہ کیا ہوا یہاں پر؟ تعریض ہوئی ہے۔ اور نسبت ہوئی ہے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف اور اشارہ کس کی طرف ہے؟ مشرکین... اشارہ مشرکین کی طرف ہے۔ تو جیسے وہاں تعریض ہوئی اسی طرح اللہ کے اس قول میں بھی تعریض ہے: ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي“ کہ مجھے کیا ہوا کہ میں نہ عبادت کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا، ”وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ“، ”وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ“ بتلاتا ہے کہ یہاں ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ“ میں تعریض ہے۔ ”لَا أَعْبُدُ“ میں کون سا صیغہ ا رہا ہے؟ متکلم، مجھے کیا ہے میں عبادت نہ کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا، اور آگے جا کر کیا ا رہا ہے؟ اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ یہ اخر میں مخاطَب کا صیغہ لانا... ذکر جو ہوا یہ بتلا رہا ہے کہ ماقبل سے بھی کون مراد ہیں؟ مخاطَب ہی مراد ہیں، البتہ نسبت اپنی طرف کی۔
”أي ومالكم لا تعبدون“ تو بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جیسے وہاں تعریض ہوئی تھی اسی طرح ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ“ کے اندر بھی کیا ہے؟ تعریض ہے، تعریض ہے۔ ”ونظيره أي نظير لئن أشركت“ ”لَئِنْ أَشْرَكْتَ“ کی نظیر ہے ”في التعريض“ کس چیز میں مولانا؟ صرف تعریض میں ہے۔ وہ جو ذکر ہوا تھا نا کہ ”إِنْ أَشْرَكْتَ“ میں 'اِن' ایا اور 'اِن' کے آنے کے بعد ”أَشْرَكْتَ“ نہیں آنا چاہیے بلکہ کیا آنا چاہیے؟ مضارع کا صیغہ آنا چاہیے، کہتے ہیں یہ مراد نہیں ہے، یہ مراد نہیں ہے۔ صرف تعریض کے اندر اس کی نظیر ہے۔ استعمالِ ماضی مقامِ مضارع میں ہو اس کی نظیر نہیں ہے۔ ”لا في استعمال الماضي مقام المضارع في الشرط“ نہ کہ ماضی کا استعمال کس کی جگہ پر؟ مضارع کی جگہ پر ”في الشرط“ شرط میں، ”للتعريض“ اور کس... کس لیے؟ تعریض کی۔ اس کی مثال نہیں ہے، صرف تعریض کی مثال ہے، بس۔
تو اللہ کا یہ قول ہے: ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ الَّذِي فَطَرَنِي“ ”أي فما لكم لا تعبدون“ کیا ہوا تمہیں، تم عبادت نہیں کرتے ”الَّذِي فَطَرَكُمْ“ جس نے تمہیں پیدا کیا۔ ”بدليل“ دلیل کیا ہے بھئی اس کے اندر تعریض کیسے ہے؟ کہتے ہیں: وہ ”وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ“، ”وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ“ کی دلیل۔ ”إذ لولا التعريض“ اس لیے کہ اگر تعریض نہ ہوتی ”لكان المناسب“ تو مناسب یہ تھا ”أن يقال“ یوں کہا جاتا ”وإليه أرجع“ اور میں اللہ ہی کی طرف لوٹایا جاؤں گا، ”على ما هو الموافق للسياق“ بناء پر اس کے جو کہ موافق ہے کس کے؟ سیاقِ کلام کے۔
”ووجه حسنه“ بھئی ایسا کیوں کیا گیا؟ اس تعریض کے حسن کی وجہ کیا ہے بھئی؟ ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ“ کیوں کہا گیا؟ ”وَمَا لَكُمْ لَا تَعْبُدُونَ“ ہونا چاہیے... کہنا چاہیے تھا بھئی۔ کہتے ہیں: اس کی وجہ یہ ہے، ضابطہ یہ کہ تبلیغ کر رہے ہیں مولانا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھیجا تھا نا وہ، تو اس نے جا کر کیا کہا؟ کہ مجھے کیا ہے کہ میں کیوں نہ عبادت کروں اس ذات کی جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ تو یہ تبلیغ کر رہے ہیں اور تبلیغ میں ہمیشہ کیا کیا جاتا ہے مولانا؟ برائی کی نسبت مخاطَب کی طرف نہیں کی جاتی بلکہ اپنی طرف کی جاتی ہے تاکہ وہ آپ کی بات توجہ سے سنے اور اس پر بات اثر انداز ہو۔ اگر آپ اس کی طرف بات کو منسوب کریں گے تو وہ آپ کی بات کو توجہ سے سنے گا ہی نہیں۔
”ووجه حسنه أي حسن هذا التعريض“ اس تعریض کے حسن کی وجہ یہ جو ”وَمَا لِيَ لَا أَعْبُدُ“ ہے، ”إسماع المتكلم“ سنانا ہے، کس کا سنانا؟ متکلم کا، کس کو سنانا؟ مخاطَبِین کو۔ بھئی اصل میں تھا ”إسماع المخاطَبين“ مخاطَبِین کو سنانا ہے، کیا سنانا ہے؟ ”الحق“ حق بات۔ اس تعریض کے حسن کی کیا وجہ ہے؟ اس میں حسن کیوں ایا؟ کہتے ہیں: مخاطَبِین کو ہم نے کیا سنانا ہے؟ حق سنانا ہے۔ تو درمیان میں ”المتكلم“ نکال کر بتلا دیا کہ اسْماع مصدر ہے، اس کی اضافت ہو رہی ہے مخاطَبِین کی طرف اور مخاطَبِین اس کے کیا ہیں؟ مفعول ہیں، فاعل نہیں، بلکہ فاعل کون ہے؟ متکلم، متکلم سنانا چاہتا ہے اور کس کو سنانا چاہتا ہے؟ مخاطَب کو۔ کیونکہ بھئی مصدر کی اضافت کبھی فاعل کی طرف ہوتی ہے اور کبھی مفعول کی طرف، تو یہاں بتلایا مفعول کی طرف ہے المتکلم کے ذریعے۔
سنانا ہے متکلم کا مخاطَبِین کو، کون مخاطَبِین؟ کہتے ہیں: ”الَّذِينَ هُمْ أَعْدَاؤُهُ“ جو کیا تھے ان کے؟ دشمن تھے، کیا سنانا مقصود ہے؟ حق بات۔ ”هو المفعول الثاني“ یہ کیا ہے؟ مفعولِ ثانی۔ مفعولِ اول کون ہے بھئی؟ مخاطَب، سنانا ہے مخاطَبِین کو حق، تو مخاطَبِین مفعولِ اول اور حق مفعولِ ثانی۔ ”هو المفعول الثاني للإسماع“ یہ مفعولِ ثانی ہے اسْماع کے لیے، ”على وجه“ ان کو حق سنانا ہے ایسے طریقے پر ”لا يزيد ذلك الوجه غضبهم“ کہ نہ بڑھا دے یہ طریقہ ان کے غضب کو۔ یعنی بھئی جب آپ نے غلطی کی نسبت اپنی طرف کی تو مخاطَبِین کا غصہ بڑھے گا؟ نہیں بڑھے گا۔
”وهو أي ذلك الوجه“ اور وہ وجہ کیا ہے مولانا؟ ”ترك التصريح بنسبتهم إلى الباطل“ ترک کرنا ہے تصریح کو، کس چیز کی تصریح بھئی؟ ”بنسبتهم إلى الباطل“ کہ ان کی طرف کس چیز کی نسبت کی جائے؟ مخاطَبِین کی طرف باطل کی نسبت کی تصریح کو کیا کر دینا ہے؟ چھوڑ دینا ہے۔ ”ويعين“ اور یہ مددگار ہوتی ہے کس چیز پر؟ آگے ا رہا ہے مولانا ”على قبوله“ یعنی ”على قبول الحق“ اور یہ طریقہ مددگار ہوتا ہے حق کے قبول کرنے پر۔ ”ويعين“ اور عطفٌ علیٰ ”لا يزيد“ اس کا عطف کس پر ہے مولانا؟ کدھر ہے ”لا يزيد“؟ ہاں ”على وجه لا يزيد“ مخاطَبِین کو حق سنانا ہے ”على وجه“ ایسے طریقے پر کہ ان کے غضب کو نہ بڑھائے اور ایسے طریقے پر کہ ”يعين على قبول الحق“ حق کے قبول کرنے میں کیا ہو؟ مددگار ہو۔
”وليس هذا في كلام السكاكي“ کہتے ہیں: یہ کلامِ سکاکی کے میں سے نہیں ہے مولانا، کون سا؟ ”يعين على قبوله“۔ مصنف کیا فرما رہے ہیں؟ ”يعين على... على وجه يعين على قبول“ تو یہ سکاکی کا قول نہیں ہے مولانا، لیکن ان کے کلام سے مفہوم ہے، ان کے کلام سے مفہوم ہے۔ کیونکہ جب ایسے طریقے سے کلام کیا جائے جس سے ان کا غصہ نہ بڑھے، مخاطَبِین کا غصہ نہ بڑھے، آپ ان کو حق پہنچا رہے ہیں ایسے طریقے سے کہ ان کا غصہ نہ بڑھے، جب غصہ نہیں بڑھے گا تو یقیناً یہ طریقہ معاون ہوگا کس چیز کے اندر؟ حق کے قبول کرنے میں۔
”أي على وجه يعين على قبوله أي على قبول الحق“ حق کے قبول کرنے پر، ”لكونه أي لكون ذلك الوجه أدخل في إمحاض النصح“ اس وجہ سے کہ یہ طریقہ جو ہے زیادہ داخل ہے مولانا... اس کا زیادہ دخل ہے ”في إمحاض النصح“ کس چیز میں؟ امحاض کہتے ہیں اخلاص کو، نصیحت کے اخلاص میں اس کا زیادہ دخل ہے، نصیحت کے اخلاص میں۔ ”حيث لا يريد المتكلم بهم إلا ما يريد لنفسه“ بایں حیثیت کہ متکلم نہیں ارادہ کرتا ان کے ساتھ بھی مگر اسی چیز کا جو اپنے لیے ارادہ کرتا ہے۔
تو دیکھو، سنانا ان کو تھا، کہنا چاہیے تھا ”مَا لَكُمْ لَا تَعْبُدُونَ“ لیکن متکلم نے کس کی طرف نسبت کی؟ اپنی طرف نسبت کر دی۔ یہ اپنی نصیحت میں اپنے اخلاص... اس متکلم کا اخلاص ظاہر ہو گیا کہ متکلم ان کے لیے بھی وہی چیز چاہتا ہے جو اپنے لیے چاہتا ہے مولانا۔
بس مولانا، ھٰذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام