Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-092

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 52
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا کل ہم نے پڑھا، مولانا، کہ کبھی کبھار استفہام آتا ہے استبعاد کے لیے، ایک چیز کو بعید بتلانے کے لیے۔ جیسے: أَنَّىٰ لَهُمُ الذِّكْرَىٰ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ کہاں سے ہوگا ان کے لیے نصیحت قبول کرنا؟ یہاں پر اس کو حقیقتِ استفہام پر محمول کرنا جائز نہیں مولانا۔ کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ کلام کس کا ہے؟ اللہ کا، اور اللہ کا علم کامل ہے۔ اور یہاں پر استفہام ہو رہا ہے، تو اللہ کے حق میں اس کو حقیقتِ استفہام پر محمول کرنا درست نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اور نیز آگے اس سے حال بھی آ رہا ہے اس وجہ سے۔ بلکہ مراد یہ ہے کہ کہاں سے استبعاد کا بتلانا ہے کہ ان کے لیے نصیحت کہاں سے ہوگی؟ اور قرینہ اس کا کیا ہے؟ جو آگے حال آ رہا ہے مولانا: وَقَدْ جَاءَهُمْ رَسُولٌ مُّبِينٌ ثُمَّ تَوَلَّوْا عَنْهُ۔ یعنی کیسے یہ لوگ نصیحت قبول کریں گے اور وعدۂ ایمان پورا کریں گے جبکہ اس سے پہلے بھی ان کے پاس بڑی بڑی نشانیاں آ چکیں؟ تو جب کہ ہم ان سے اس قحط کو دور کر دیں گے تو پھر کیا یہ کیسے ایمان لے آئیں گے، بڑا بعید ہے یہ بھئی۔ اس کے بعد انواعِ طلب میں سے ہم نے امر پڑھا مولانا۔ امر کس کو کہتے تھے؟ طَلَبُ فِعْلٍ، فعل کو طلب کرنا، غَيْرَ كَفٍّ بھئی، جو کیا ہو، کف کے علاوہ ہو، روکنا نہ ہو اس میں، ورنہ نہی بن جائے گی، عَلَىٰ جِهَةِ الِاسْتِعْلَاءِ، کس طریقے پر؟ استعلاء، بلندی، اپنے آپ کو بلند سمجھتے ہوئے۔ اور اس کا صیغہ جو ہے کئی معانی میں استعمال ہوتا ہے اور اس میں علماء نے بڑا اختلاف کیا۔ بعض کہتے ہیں یہ وجوب کے لیے آتا ہے، بعض کہتے ہیں ندبت کے لیے آتا ہے، بعض کہتے ہیں اباحت کے لیے آتا ہے، اور ہر ایک دلائل ذکر کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں چونکہ ان دلائل میں سے کوئی بھی ایسی دلیل نہیں جو قطعی طور پر ایک بات کو ثابت کر دے، اسی لیے مصنف نے بھی کوئی قطعی بات نہیں کی بلکہ صرف یہ کہا کہ زیادہ ظاہر یہ ہے کہ اس کا صیغہ کیا ہے، موضوع ہے طلبِ فعل کے لیے استعلاء کے طریقے پر۔ تو دیکھا، زیادہ ظاہر کی بات کی، زیادہ ظاہر یہ ہے، یعنی قطعی بات انہوں نے نہیں کی مولانا۔ اب چاہے وہ فی الحقیقت میں بڑا ہو یا بڑا نہ ہو مولانا۔ اور پھر اس کے بعد امر کے کئی مجازی معنی بتلائے تھے کہ کئی دفعہ یہ اور معانی کے لیے بھی آتا ہے، جیسے اباحت ہے: وَجَالِسِ الْحَسَنَ أَوِ ابْنَ سِيرِينَ، کہ حسن بصری رحمہ اللہ یا ابن سیرین رحمہ اللہ جن کی مجلس میں بھی بیٹھنا ہو مباح ہے بھئی، چاہے ایک میں بھی بیٹھو، چاہے دوسری میں بیٹھو، چاہے دونوں میں بیٹھو، چاہے دونوں میں نہ بیٹھو۔ اور کبھی کبھار دھمکی کے لیے امر لایا جاتا ہے، جیسے: اعْمَلُوا مَا شِئْتُمْ بھئی۔ تو یہاں یہ معنی نہیں ہے کہ جو بھی چاہیں وہ کر لیں، بلکہ یہ امر کس لیے ہے؟ دھمکی کے طور پر ہے کہ جو کچھ بھی کرنا ہے کر لو، عنقریب تم دیکھ لو گے جو کچھ تم سے معاملہ پیش آئے گا بھئی۔ اور کبھی کبھار امر آتا ہے تعجیز کے لیے بھئی، کسی کو عاجز کرنے کے لیے، عجز کو ظاہر کرنے کے لیے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ عجز کو ظاہر کرنے کے لیے، جیسے: فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ۔ تو یہاں پر ان سے فَأْتُوا، لے آؤ بھئی اس کے مثل کوئی سورت، تو یہاں طلب نہیں ہے سورت لانے کی، اس لیے کہ یہ تو محال ہے، سورت تو وہ لا ہی نہیں سکتے، بلکہ یہاں پر ان کی عاجزی کو ظاہر کرنا ہے۔ اس کے بعد علامہ تفتازانی نے آپ کو ترکیب بتلائی تھی۔ بتلایا تھا کہ مِنْ مِثْلِهِ کو اگر آپ متعلق کر دیں کس سے؟ فَأْتُوا سے، تو اس صورت میں مِثْلِهِ کی ضمیر راجع ہوگی کس کو؟ عَبْدِنَا کو بھئی، عَبْدِنَا کو راجع ہوگی بھئی۔ تو تم لے آؤ کوئی سورت مِنْ مِثْلِ عَبْدِنَا، ہمارے بندے کے مثل سے۔ تو جو ہمارے بندے جیسا ہو اس سے لے آؤ تم بھی کوئی سورت لے آؤ، اور بندے جیسے یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم جیسے ہوں جو امی ہوں، تو یہ تو لوگ وہاں بکثرت موجود تھے، لیکن لوگ موجود ہیں لیکن اس کے باوجود تم ایسی سورت لا نہیں سکتے۔ یا یہ مِنْ مِثْلِهِ جار مجرور ظرف ہے اور یہ نکرہ کے بعد واقع ہو تو عموماً اس کے لیے صفت بنتا ہے، تو یہاں اگر صفت بنائیں گے تو اس صورت میں مِثْلِهِ کی ضمیر کو آپ عَبْدِنَا کو بھی راجع کر سکتے ہیں اور مَا نَزَّلْنَا کو بھی راجع کر سکتے ہیں، کہ لے آؤ تم ایسی سورت جو ثابت ہو مِنْ مِثْلِهِ، أَيْ مِنْ مِثْلِ الْمُنَزَّلِ، جو ہم نے نازل کیا ہے اس کے مثل میں سے ہو، اس کے مثل سے ہو۔ اور یا سورت لے آؤ جو ثابت ہو ایسے شخص سے جو ہمارے، یعنی یہ اول صورت میں مِنْ بن رہا تھا ابتدائیہ، دوسری صورت میں مِنْ کون سا بنے گا؟ تبعیضیہ۔ یعنی تم سورت لے آؤ، اگر ہم مَا نَزَّلْنَا کو راجع کریں، ایسی سورت جو کس کی جنس میں سے ہو؟ مِثْلِ الْمُنَزَّلِ، مِنْ مِثْلِ الْمُنَزَّلِ، جو ہماری نازل کردہ سورت کی جنس میں سے ہو، اس سورت کی جنس۔ یعنی جیسے ہماری سورت فصاحت و بلاغت میں ہے، اسی کی جنس کی تم کوئی سورت لے آؤ جو اسی کی طرح ہو، کس طرح؟ فصاحت اور بلاغت میں۔ یا تم لے آؤ مِثْلِهِ کی ضمیر عَبْدِنَا کو راجع کریں، ایسی سورت جو ثابت ہو ہمارے بندے کی جنس میں سے کسی سے، یعنی کوئی بھی بشر ہو، جو بھی بشر ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی جنس میں سے ہے۔ تو انہوں نے مولانا پہلی صورت کے اندر مِثْلِهِ کی ضمیر کس کو لوٹائی تھی؟ عَبْدِنَا کو، جبکہ مِنْ کو ابتدائیہ بنایا تھا۔ اور جب مِنْ کو تبعیضیہ بنایا تو ہ ضمیر مَا نَزَّلْنَا کو بھی راجع کرنے کا احتمال ذکر کیا اور عَبْدِنَا کو بھی۔ تو اس پر انہوں نے کہا، اشکال کیا بھئی، کہ بھئی پہلی صورت میں آپ نے مَا نَزَّلْنَا کو ضمیر کیوں نہیں راجع کی؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس صورت میں مِثْلِ قرآن کا ثبوت آئے گا لازم بھئی۔ مِثْلِ قرآن کا ثبوت، کہ قرآن کا مِثْل تو موجود ہے لیکن یہ اس سے سورت لانے پر قادر نہیں ہے، جی۔ کیونکہ کہتے ہیں عاجز چیز کو ظاہر کرنا مَأْتِيٍّ بِهِ کے اعتبار سے ہے، مَأْتِيٍّ مِنْهُ کے اعتبار سے نہیں ہے۔ تو اس پر کسی نے اشکال کیا کہ بھئی آپ یوں کر لیں کہ تعجیز کر دیں باعتبارِ مَأْتِيٍّ مِنْهُ کے اعتبار سے، یعنی جس سے لے کر آئیں، جس جس سے لے کر آئیں۔ تو مِنْ مِثْلِ الْمُنَزَّلِ، تم سورت لے آؤ کس سے؟ مِثْلِ مُنَزَّل یعنی قرآن جیسی کتاب سے لے آؤ، تو قرآن جیسی کتاب کی چونکہ مِثْل ہی نہیں تو مَأْتِيٍّ مِنْهُ میں ہی کیا آ گئی؟ تعجیز آ گئی۔ جب مَأْتِيٍّ مِنْهُ ہی موجود نہیں ہے تو مَأْتِيٍّ بِهِ بھی نہیں، جس سے لانا ہے وہی نہیں ہے تو جس کو لانا ہے وہ بھی نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں نہیں بھئی، یہ تو ایک احتمالِ عقلی آپ ذکر کر رہے ہیں، بات آپ کی ٹھیک ہے لیکن بات ہو رہی ہے لغت کی، اور لغت کے اندر بلغات کی جب ہم تراکیب دیکھتے ہیں ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اس قسم کی عبارت مَأْتِيٍّ بِهِ میں عجز کو ظاہر کرنے کے لیے لائی جاتی ہے نہ کہ مَأْتِيٍّ مِنْهُ کے اندر عاجزی کو ظاہر کرنے کے لیے۔ لہٰذا اس احتمالِ عقلی کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار تسخیر کے لیے امر آتا ہے جیسے: كُونُوا قِرَدَةً خَاسِئِينَ بھئی۔ تو یہاں یعنی تابع کرنا کسی کو، مجبور کرنا۔ تو اللہ نے فرمایا بھئی بنی اسرائیل والے سے کہ کیا بن جاؤ تم؟ بندر بن جاؤ دھتکارے ہوئے۔ اور کبھی کبھار امر اہانت کے لیے آتا ہے، جیسے پتھر بن جاؤ یا لوہا۔ تو دونوں میں فرق پھر آپ کو بتلایا تھا کہ تسخیر اور اہانت بھئی، تسخیر میں بھی اہانت ہے کیونکہ ایک شکل سے شکل دوسری شکل ایسی کی طرف تبدیل کیا جاتا ہے جس کے اندر کیا ہوتی ہے؟ اہانت ہوتی ہے۔ لیکن فرق یہ ہے کہ تسخیر کے اندر وہ فعل حاصل بھی ہوتا ہے اور اہانت کے اندر اس فعل کا حاصل ہونا نہیں ہوتا۔ بلکہ وہاں پر صرف یہ بتلانا ہوتا ہے کہ تم بڑے حقیر ہو، تمہارے تمہیں ہمیں تمہاری کوئی پروا نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار امر تسویہ کے لیے بھی لایا جاتا ہے، جیسے: اصْبِرُوا أَوْ لَا تَصْبِرُوا۔ یہ اس وقت ہوگا جبکہ مخاطب دو کاموں میں سے ایک کو راجح سمجھ رہا ہو، تو وہاں پر بتلایا جاتا ہے امر کے ساتھ کہ دونوں میں سے ایک بھی راجح نہیں ہے بلکہ دونوں آپس میں کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ اور کبھی کبھار امر تمنی کے لیے آتا ہے، جیسے: أَلَا أَيُّهَا اللَّيْلُ الطَّوِيلُ أَلَا انْجَلِي بِصُبْحٍ کہ اے طویل رات تو روشن ہو جا صبح کے ساتھ، روشن ہو جا صبح کے ساتھ، روشن ہو جا۔ تو یہاں تمنا کی جا رہی ہے، گویا کہ شاعر یہ سمجھتا ہے کہ اس رات کے صبح ہونے کی کوئی امید ہی نہیں ہے، تو اس کی وہ تمنا کرتا ہے کہ رات کیا ہو جائے، کس سے بدل جائے؟ صبح سے بدل جائے۔ پھر اس کو خیال آتا ہے: وَمَا الْإِصْبَاحُ مِنْكَ بِأَمْثَلِ، کہ صبح بھی تجھ سے کوئی بہتر نہیں ہے، میری مصیبتیں اسی طرح میرے ساتھ رہیں گی چاہے رات ہو اور چاہے دن ہو بھئی۔ اور کبھی کبھار امر کو دعا کے لیے لایا جاتا ہے، دعا کے لیے بھئی۔ اور ایک دعا ہوتی ہے، ایک التماس، ایک امر۔ امر ہوتا ہے عَلَىٰ سَبِيلِ الِاسْتِعْلَاءِ طلبِ فعل ہوتا ہے، اور دعا ہے طلبِ فعل عَلَىٰ سَبِيلِ التَّضَرُّعِ عاجزی کے طور پر، اور التماس ہے طَلَبُ الْفِعْلِ عَلَىٰ سَبِيلِ التَّسَاوِي بھئی، کہ مساوات ہوتی ہے دونوں رتبے میں برابر ہوتے ہیں۔ پھر اس کے بعد امر علامہ سکاکی فرماتے ہیں حق کہ مامور بہ کی فوراً ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے یا تاخیر سے اس کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے؟ یعنی جس کام کا حکم دیا گیا وہ فی الفور کرنا ہوتا ہے یا تراخی کے ساتھ بھئی؟ تو علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ حق یہ ہے کہ فی الفور مامور بہ کی ادائیگی کا تقاضا کرتا ہے، اس لیے کہ یہ بات طلب سے ظاہر ہے جب کہ طلب مطلق ہو جیسے کہ استفہام میں ہوتا ہے۔ جب آپ کسی سے سوال کرتے ہیں تو کیا چاہتے ہیں؟ فی الفور اس کا جواب چاہتے ہیں۔ تو اسی طرح امر بھی جو ہے اس میں بھی طلب ہے، وہ بھی فی الفور ادائیگی کو چاہے گا۔ نیز فہم سبقت کرتا ہے إِلَىٰ تَغْيِيرِ الْأَمْرِ کس بات کی طرف؟ امر کے تبدیلی کی طرف، جبکہ ایک چیز کے بعد آپ دوسری چیز کا حکم دیں۔ آپ نے پہلے ایک چیز کا حکم دیا قُمْ اپنے غلام کو، پھر چند لمحوں کے بعد مولانا، پھر آپ نے کچھ تراخی کے بعد اس سے کیا کہا؟ اضْطَجِعْ، تو اب وہ غلام کیا سمجھے گا کہ امر بدل دیا گیا، وہ یہ نہیں سمجھے گا کہ پہلے کھڑا ہو جاؤں اور پھر کیا کروں، لیٹ جاؤں، بلکہ وہ سمجھے گا کہ پہلے امر کو بدل دیا گیا۔ معلوم ہوا پہلا امر فی الفور ادائیگی کو چاہتا تھا، جب فی الفور ادائیگی نہیں ہوئی تو اسی لیے کیا ہوا اب ہم وہ سمجھتا ہے اس کو بدل دیا گیا۔ اگر تراخی ہوتی پھر تو وہ یہ سمجھتا کہ تاخیر ہو چکی ہے لیکن پھر بھی مجھے دونوں ہی کام کرنے ہیں، امر کو بدلا نہیں گیا، جی۔ مثال اس کی ذکر کرتے ہیں جیسے ایک شخص اپنے بندے کو کہتا ہے غلام کو، قُمْ کھڑا ہو جا، پھر قبل اس کے کہ وہ کھڑا ہو اس کو کہتا ہے: اضْطَجِعْ حَتَّى الْمَسَاءِ، تو لیٹ جا شام تک، تو لیٹ جا شام تک۔ تو وہ ذہن کی طرف یہ بات ذہن میں آتی ہے غلام کے کہ مالک نے حکم کو بدل دیا ہے، قیام سے کس کی طرف بدل دیا ہے؟ اضطجاع کی طرف بدل دیا ہے، اور اس کا یہ ارادہ نہیں ہے کہ دونوں کام کیے جائیں، قیام بھی اور اضطجاع بھی کیا جائے، جی۔ وجہ یہ کہ آپ کہتے ہیں: اضْطَجِعْ حَتَّى الْمَسَاءِ، اضطجع دیکھو لیٹ جا تو شام تک، تو یہاں مولانا غایت ذکر ہے، کب تک لیٹنے کا ذکر ہے؟ شام تک۔ تو جب غایت ذکر ہے تو کوئی مبدا بھی چاہیے، کب سے کب تک لیٹے؟ اور وہ تو کوئی اور ہو نہیں سکتا، لازمی بات ہے وہ کب سے شروع ہو رہا ہے؟ فعل کے فوراً بعد سے شروع ہو رہا ہے، مبدا کہ یہ لیٹنا کب سے کب تک ہے؟ امر کے فوراً بعد سے لے کر کہاں تک؟ شام تک ہے، جی۔ تو یہ معلوم ہوا کہ کیا، فی الفور امر آ جاتا ہے کیونکہ اضْطَجِعْ کی ابتدا کہاں سے ہو رہی ہے اضطجاع کی؟ امر کے فوراً بعد سے ہو رہی ہے۔ علامہ تفتازانی اس کو رد کر رہے ہیں بھئی، بلکہ صاحبِ تلخیص فرماتے ہیں، علامہ سکاکی کے قول کو صاحبِ تلخیص رد کر رہے ہیں، وَفِيهِ نَظَرٌ کہہ کے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ جب قرینہ موجود نہ ہو تو ہم یہ تسلیم نہیں کرتے کہ امر فی الفور ادائیگی کو چاہتا ہے۔ قرینے نے بتلایا کہ امر فی الفور ادائیگی کو چاہتا ہے اور وہ قرینہ کیا تھا؟ حَتَّى الْمَسَاءِ۔ یہ حَتَّى الْمَسَاءِ کو جو ساتھ ذکر کیا اس نے بتایا کہ لیٹنا فوراً ہے، لیٹنا امر کے فوراً بعد لیٹنا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ یہ غایت ہے اور غایت کس کو چاہتا ہے؟ مبدا کو چاہتا ہے، اور مبدا تو ذکر نہیں معلوم ہوا وہ کس کے بعد ہے؟ امر کے فوراً بعد ہے۔ تو یہاں پر اس قرینے نے بتلایا کہ امر فی الفور ادائیگی کا تقاضا کر رہا ہے، اور جہاں قرینہ نہ ہو وہاں ہمیں یہ بات تسلیم نہیں ہے بلکہ وہ مطلقِ طلب کے لیے آتا ہے، کبھی اس میں تراخی ہوگی اور کبھی فی الفور ہوگا۔ وَمِنْهَا، أَيْ وَمِنْ أَنْوَاعِ الطَّلَبِ النَّهْيُ، اور انواعِ طلب میں سے ایک نہی بھی ہے مولانا، جی۔ کیا کیا ہم نے پڑھا بھئی؟ ایک ہم نے تمنی پڑھی طلب میں سے، اس کے بعد استفہام پڑھا، اس کے بعد امر پڑھا اور اب نہی ہے۔ وَهُوَ طَلَبُ الْكَفِّ عَنِ الْفِعْلِ اسْتِعْلَاءً، اور وہ کف، کف عن الفعل کو طلب کرنا ہے بلندی کے طریقے پر، یعنی فعل سے رکنے کو طلب کرنا ہے۔ تو یہاں یاد رکھو مولانا دو مذاہب ہیں بھئی۔ ایک مذہب ہے اشاعرہ کا، اشاعرہ جو امام ابوالحسن اشعری جو امام المتکلمین ہیں مولانا، ان کے نزدیک کیا ہے اشاعرہ کے نزدیک؟ امر ہے طلبِ کف کے لیے، کسی کام فعل سے روکنے کے لیے۔ اور معتزلہ کہتے ہیں امر آتا ہے طلبِ ترک کے لیے۔ امر کس لیے آتا ہے؟ طلبِ ترک کے لیے، کسی فعل کے ترک کرنے کے لیے۔ اور اشاعرہ کہتے ہیں کسی فعل سے روکنے کے لیے آتا ہے مولانا۔ یہ آگے متن میں ہی ذکر کر دیں گے، جی۔ وَلَهُ حَرْفٌ وَاحِدٌ، اور اس کا ایک ہی حرف ہے نہی کا، وَهُوَ لَا الْجَازِمَةُ، اور وہ کیا ہے؟ لائے جازمہ ہے جو جزم دیتا ہے فعل مضارع کو، جیسے: لَا تَفْعَلْ۔ وَهُوَ كَالْأَمْرِ فِي الِاسْتِعْلَاءِ، اور یہ بھی امر کی طرح ہے استعلاء میں، لِأَنَّهُ الْمُتَبَادَرُ إِلَى الْفَهْمِ، اس لیے کہ یہی متبادر ہے کس کی طرف؟ ذہن کی طرف، یہی چیز سبقت کرتی ہے کہ یہاں پر کیا ہے؟ طلب ہے کس طریقے پر ہے؟ استعلاء کے طریقے پر ہے، جی۔ وَقَدْ يُسْتَعْمَلُ فِي غَيْرِ طَلَبِ الْكَفِّ، اور کبھی کبھار یہ استعمال ہوتا ہے طلبِ کف، طلبِ الکف عن الفعل، کف عن الفعل کی طلب کے علاوہ میں۔ یعنی کف عن الفعل کی طلب نہیں ہوتی بلکہ اس کے علاوہ کوئی اور چیز مطلوب ہوتی ہے۔ كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْبَعْضِ، جیسے کہ مذہب ہے بعض بعض کا اور وہ کون ہے مولانا؟ اشاعرہ ہیں جنہوں نے کہا تھا طَلَبُ الْكَفِّ عَنِ الْفِعْلِ یہ امر کا، نہی کا معنی ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو طَلَبُ الْكَفِّ عَنِ الْفِعْلِ یہ کیا ہے؟ نہی کا حقیقی معنی ہے، اشاعرہ کہتے ہیں، تو اس کے علاوہ کے لیے آتا ہے۔ أَوْ طَلَبِ التَّرْكِ، یا کبھی طلبِ ترک کے لیے آتا ہے، کے علاوہ کے لیے امر آتا، نہی آتی ہے۔ طلبِ ترک کیا ہے؟ یہ کس کے نزدیک ہے؟ معتزلہ کے نزدیک۔ تو طلبِ ترک نہی کا حقیقی معنی ہے، کبھی اس کے علاوہ کے لیے آتا ہے۔ كَمَا هُوَ مَذْهَبُ الْبَعْضِ، جیسے کہ مذہب ہے بعض کا۔ كَالتَّهْدِيدِ، وہ علاوہ یعنی مجازی معنی کچھ نہی کے ہیں، کبھی کبھار نہی کس لیے آتی ہے؟ جیسے کہ دھمکی ہے، كَقَوْلِكَ لِعَبْدٍ لَا يَمْتَثِلُ أَمْرَكَ، جیسے آپ ایک اپنے غلام سے کہتے ہیں ایسا غلام لَا يَمْتَثِلُ أَمْرَكَ جو آپ کے حکم کی تعمیل نہیں کرتا، امتثالِ امر کا معنی ہے تعمیلِ حکم کرنا بھئی: لَا تَمْتَثِلْ أَمْرِي، میرے حکم کی تعمیل نہ کر، میرے حکم کی تعمیل نہ کر۔ تو یہ مولانا نہی تو ہے لَا تَمْتَثِلْ، لیکن یہ نہی یہاں کف عن الفعل مراد نہیں ہے بلکہ کیا مراد ہے؟ دھمکی مراد ہے، اس لیے کہ یہ بات ظاہر ہے، کوئی بھی آقا اپنے غلام کو یہ نہیں کہتا کبھی بھی کہ میرے حکم کی تعمیل نہ کر۔ وَالدُّعَاءِ، اور کبھی کبھار یہ دعا کے طور پر بھی کیا آتا ہے؟ نہی آتی ہے۔ وَالِالْتِمَاسِ، جب کہ کیا ہو؟ عاجزی ہو، استعلاء نہ ہو۔ وَالِالْتِمَاسِ، اور کبھی کبھار التماس کے لیے بھی نہی آتی ہے، اور یہ بھی مجازی معنی ہے کیونکہ التماس میں تساوی ہوتی ہے جبکہ نہی میں کیا تھا؟ استعلاء تھا بھئی، استعلاء تھا۔ وَهُوَ ظَاهِرٌ، اور یہ بات ظاہر ہے بھئی۔ وَهَٰذِهِ الْأَرْبَعَةُ، اور یہ چار جو ہیں مولانا، جو چار طلب کی قسمیں ذکر ہوئیں، یعنی تمنی، استفہام، امر اور نہی، يَجُوزُ تَقْدِيرُ الشَّرْطِ بَعْدَهَا، ان چاروں کے بعد شرط کو مقدر نکالنا جائز ہے، شرط کا مقدر ہونا ان کے بعد جائز ہے۔ وَإِيرَادُ الْجَزَاءِ عَقِيبَهَا مَجْزُومًا بِإِنِ الْمُضْمَرَةِ مَعَ الشَّرْطِ، اور جائز ہے لانا جزا کا ان کے بعد مجزوماً، کہ وہ جزا اس حال میں ہو کہ کیا ہو؟ مجزوم ہو جزا، جزم آ رہا ہو، یعنی فعل مضارع تھا، تو فعل جب شرط مجزوم ہوتی ہے اسی طرح جزا بھی کیا ہوتی ہے؟ مجزوم ہوتی ہے۔ إِنْ تَضْرِبْ أَضْرِبْ، تو دیکھا جزا بھی مجزوم ہے مولانا۔ تو جزا مجزوم ہوتی ہے بِإِنِ الْمُضْمَرَةِ، کس کے ساتھ؟ اِن کے ساتھ جو مقدر ہوتا ہے، مَعَ الشَّرْطِ، کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ مقدر ہوتا ہے۔ آپ نے نحو کی کتابوں میں پڑھا ہوگا مولانا کہ ان پانچ جگہ مقدر ہوتا ہے، کتنی جگہ؟ پانچ جگہ مقدر ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک ہے تمنا، یہی جو، تمنی ہے، امر ہے، نہی ہے، اور استفہام ہے، اور عرض ہے، عرض۔ تو ان پانچ چیزوں کے بعد، تو مصنف نے چار ذکر کیں، پانچویں ذکر نہیں کی بھئی۔ اس کی وجہ آگے وہ ذکر کریں گے کہ یہ پانچویں کیوں نہیں ذکر کی۔ تو انہوں نے کہا چار کے بعد شرط کا مقدر ہونا اور شرط مقدر ہوگی اور آگے جزا جو ہے وہ مجزوم ہوگی اِن کے ساتھ جو مقدر ہوگا وہاں پر۔ جیسے دیکھیے، مثال سے بات سمجھ میں آئے گی: كَقَوْلِكَ فِي التَّمَنِّي، جیسے آپ تمنی میں کہتے ہیں: لَيْتَ لِي مَالًا أُنْفِقْهُ، کاش کہ میرے پاس مال ہوتا، تو میں اس کو کیا کرتا؟ خرچ کرتا۔ تو یہ أُنْفِقْهُ کو جزم کون دے رہا ہے بھئی؟ کہتے ہیں بھئی یہ لَيْتَ لِي مَالًا تمنی ہے، اور ابھی ہم نے ضابطہ بتلایا تمنی کے بعد کبھی شرط مقدر ہوتی ہے، تو یہاں پر شرط مقدر، اِن مقدر ہے اور ساتھ ساتھ شرط بھی مقدر ہے، اور اِن اس شرط کو بھی جزم دے رہا ہے شرطِ مقدر کو اور اس أُنْفِقْ جو جزا ہے اس کو بھی کیا کر رہا ہے؟ جزم دے رہا ہے۔ أَيْ إِنْ أُرْزَقْهُ أُنْفِقْهُ، تو دیکھا إِنْ أُرْزَقْهُ یہاں محذوف آپ نے نکال لیا، موقع محل کے مطابق آپ نکال لیں گے عبارت بھئی۔ لَيْتَ لِي مَالًا، کاش کہ میرے لیے مال ہوتا، إِنْ أُرْزَقْهُ اگر مجھے عطا کیا جائے، أُنْفِقْهُ تو میں کیا کروں اس کو؟ خرچ کروں گا۔ وَفِي الِاسْتِفْهَامِ، اور استفہام کی مثال جیسے: أَيْنَ بَيْتُكَ أَزُرْكَ۔ أَيْنَ بَيْتُكَ یہ استفہام ہے، کہاں ہے آپ کا گھر؟ أَزُرْكَ، میں آپ کی زیارت کروں گا۔ بھئی یہ أَزُرْ جزم مجزوم ہے، اس کو کس نے جزم دیا؟ یہاں پر اِن مقدرہ ہے، کس کے ساتھ مقدر ہے؟ شرط کے ساتھ۔ تو عبارت یوں ہے: إِنْ تُعَرِّفْنِيهِ أَزُرْكَ، اگر تو مجھے اس کی پہچان کروا دے، أَيْنَ بَيْتُكَ، کہاں ہے تیرا گھر، اگر تو مجھے اس کی پہچان کروا دے، أَزُرْكَ تو میں تیری کیا کروں گا؟ زیارت کروں گا۔ وَفِي الْأَمْرِ، اور امر کے اندر جیسے: أَكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ، تو میرا اکرام کر، یہ امر ہے، اور اس کے بعد أُكْرِمْكَ، میں تیرا کیا کروں گا؟ سوال یہ کہ یہ مجزوم کیوں؟ جواب کیا، یہاں اِن مقدر ہے کس کے ساتھ؟ شرط کے ساتھ۔ اصل عبارت یوں ہے: أَكْرِمْنِي، إِنْ تُكْرِمْنِي أُكْرِمْكَ، اگر تو میرا اکرام کرے گا تو میں بھی تیرا اکرام کروں گا۔ وَفِي النَّهْيِ، اسی طرح نہی چوتھی قسم اس میں بھی: لَا تَشْتِمْ، گالی نہ دو، يَكُنْ خَيْرًا لَكَ، أَيْ إِنْ لَا تَشْتِمْ يَكُنْ خَيْرًا، اگر گالی نہیں دو گے تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ بھئی ان چار کے بعد شرط کو مقدر کیوں نکالا جاتا ہے؟ کہتے ہیں اس لیے: لِأَنَّ الْحَامِلَ لِلْمُتَكَلِّمِ، اس لیے کہ وہ چیز جو آمادہ کرنے والی ہے، اکسانے والی ہے، ابھارنے والی ہے متکلم کو عَلَى الْكَلَامِ، کس پر؟ کلام پر، وہ چیز جس کی وجہ سے متکلم کلام کر رہا، کلام کون سا کر رہا ہے؟ کلامِ طلبی کر رہا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ كَوْنُ الْمَطْلُوبِ مَقْصُودًا لِلْمُتَكَلِّمِ لِذَاتِهِ أَوْ لِغَيْرِهِ، وہ مطلوب کا مقصود ہونا ہے متکلم کے لیے۔ وہ چیز جو ابھارنے والی ہے کس کو؟ کلامِ طلبی جو متکلم نے ذکر کیا بھئی، جو پہلے مثالیں ذکر کیں: أَيْنَ بَيْتُكَ، لَا تَشْتِمْ، لَيْتَ لِي مَالًا، یہ سارے جو کلامِ طلبی جو ذکر کر رہا ہے، ان کے اندر آمادہ کرنے والی، یہ کلام متکلم کیوں کر رہا ہے؟ اس لیے کہ یہ جو مطلوب ہے، کلامِ طلبی لایا نا، طلبی میں کیا ہے؟ طلب ہے کسی چیز کی، تو وہ مطلوب مقصود ہوگا کس کا؟ متکلم کا، تو مقصود لذاتہٖ ہوگا یا لغیرہٖ ہوگا، لذاتہٖ ہوگا یا لغیرہٖ ہوگا۔ یعنی وہی چیز ذات کے اعتبار سے اس کو مقصود ہوگی یا خود وہ ذات کے اعتبار سے مقصود نہیں ہے بلکہ چونکہ غیر تک پہنچنے کا وسیلہ ہے تو غیر کی وجہ سے یہ بھی کیا بن گئی؟ مقصود بن گئی، کیا بن گئی؟ مقصود بن گئی۔ دیکھیے، مثال دیکھیے بھئی۔ آپ کہتے ہیں مخاطب سے: أَيْنَ بَيْتُكَ أَزُرْكَ، تو آپ اس کے گھر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں۔ تو یہ طلبی ہے، کلامِ طلبی ہے۔ اب اس کلامِ طلبی کے اندر مطلوب کیا ہے؟ أَيْنَ بَيْتُكَ، گھر کے بارے میں پوچھنا مطلوب ہے، گھر کی معرفت مطلوب ہے، کہاں پر ہے گھر؟ لیکن یا تو یہ بالذات مقصود ہوگا، مقصد ہی آپ کا یہ ہے اس کے گھر کے بارے میں کیا کرنا چاہتے ہیں؟ پوچھنا چاہتے ہیں، یا اس کے گھر کے بارے میں پوچھنا اصل مقصد نہیں ہے، اصل مقصد ہے اس کی زیارت کرنا، اس کی ملاقات کے لیے جانا۔ تو چونکہ اس کی ملاقات کے لیے جانا یہ موقوف ہے کس چیز پر؟ گھر کے گھر کی پہچان پر، تو اس مقصود کی وجہ سے یہ بھی کیا بن گیا؟ مقصود، تو یہ مقصود لغیرہٖ ہوا، کیا ہوا؟ مقصود لغیرہٖ ہوا۔ سب کو سمجھ میں آ گئی بات؟ كَوْنُ الْمَطْلُوبِ، مطلوب کا مقصود ہونا ہے متکلم کے لیے لذاتہٖ أو لغیرہٖ، ذات کے اعتبار سے یا غیر کے اعتبار سے، لِتَوَقُّفِ ذَٰلِكَ الْغَيْرِ عَلَىٰ حُصُولِهِ، اس لیے کہ وہ غیر موقوف ہوتا ہے اس مطلوب کے حصول پر۔ یہ گھر کی معرفت ہوگی تو وہ غیر حاصل ہوگا۔ وَهَٰذَا مَعْنَى الشَّرْطِ، اور یہی معنی تو شرط کا ہے کہ ایک چیز موقوف ہوتی ہے کس پر؟ دوسرے پر موقوف ہوتی ہے۔ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ، گھر میں داخل ہوئی تو کیا ہوگی؟ طلاق، تو طلاق موقوف ہے کس پر؟ گھر پر داخل ہونے پر۔ تو یہاں پر بھی زیارت کرنا موقوف ہے کس پر؟ گھر کے پہچان پر۔ وَهَٰذَا مَعْنَى الشَّرْطِ، یہی معنی تو شرط کے ہیں۔ فَإِذَا ذَكَرْتَ الطَّلَبَ، جب تو ذکر کر دے کس کو؟ طلب کو، وَذَكَرْتَ بَعْدَهُ مَا يَصْلُحُ تَوَقُّفُهُ عَلَى الْمَطْلُوبِ، اور اس کے بعد ایسی چیز ذکر کر دے جو صلاحیت رکھتی ہے کہ مطلوب پر موقوف ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ بھی دیکھنا ہے بھئی، آپ نے پہلے کلامِ طلبی کیا، بعد میں کون سا لے کر آئے؟ وہ جزا لے کر آئے مولانا شرطِ محذوف کی۔ تو یہ جزا اس پر موقوف ہونے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے یا صلاحیت نہیں رکھتی؟ اگر صلاحیت رکھتی ہو پھر شرط مقدر نکالیں گے ورنہ نہیں۔ آسان لفظوں میں یوں کہو، اول سبب بن سکتا ہو ثانی کا تو ٹھیک، اگر اول ثانی کا سبب نہیں بن سکتا تو ٹھیک نہیں۔ تو یہاں پر بھی دیکھو، معرفتِ بیت سبب بنے گی کس چیز کی؟ زیارت کی، تو یہاں سبب بن رہا ہے، معرفتِ بیت سبب ہے کس چیز کی؟ زیارت کی۔ تو جہاں، تو جب آپ نے کلامِ طلبی کو ذکر کیا اور اس کے بعد ایسی چیز ذکر کی جو صلاحیت رکھتی تھی کہ موقوف ہو جائے کس پر؟ مطلوب پر، غَلَبَ عَلَىٰ ظَنِّ الْمُخَاطَبِ، تو غالب ہوگا مخاطب کے گمان پر: كَوْنُ الْمَطْلُوبِ مَقْصُودًا لِذَٰلِكَ الْمَذْكُورِ لَا لِنَفْسِهِ، تو مخاطب کے گمان بھی یہی ہوگا کہ یہ جو مطلوب ہے یہ مقصود ہے اس غیر کی وجہ سے، لَا لِنَفْسِهِ، نہ کہ نفس کی، لذاتہٖ نہیں مقصود۔ فَيَكُونُ إِذَنْ مَعْنَى الشَّرْطِ فِي الطَّلَبِ، تو پس اس وقت ہوگا شرط کا معنی کس کے اندر؟ طلب کے اندر، طلب کے اندر، ظَاهِرًا بھئی۔ دیکھیے: فَيَكُونُ إِذَنْ مَعْنَى الشَّرْطِ ظَاهِرًا، اس صورت میں شرط کا معنی ظاہر ہوگا۔ مَعْنَى الشَّرْطِ يَكُونُ کے لیے کیا ہے مولانا؟ اسم ہے، اور ظَاهِرًا اس کی کیا ہے؟ خبر ہے۔ اور آگے جو آ رہا ہے فِي الطَّلَبِ درمیان میں: فِي الطَّلَبِ مَعَ ذِكْرِ ذَٰلِكَ الشَّيْءِ، یہ متعلق ہے ظَاهِرًا سے، یہ کس سے متعلق ہے؟ تو اس وقت شرط کا معنی ظاہر ہوگا کس میں؟ فِي الطَّلَبِ، کس کے اندر؟ طلب، اس کلامِ طلبی میں شرط کا معنی پایا جائے گا اور یہ بات ظاہر ہوگی، مَعَ ذِكْرِ ذَٰلِكَ الشَّيْءِ، ساتھ اس چیز کے ذکر، وہ بعد میں وہ چیز بھی آپ ذکر کر رہے ہیں، تو اس چیز کے ساتھ خود بخود یہ پتہ چل جائے گا کہ اس طلب کے اندر شرط کا معنی پایا جا رہا ہے کیونکہ وہ اس پر موقوف ہے، وہ کیا ہے اس پر؟ موقوف ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ وَلَمَّا جَعَلَ النُّحَاةُ، بھئی میں نے کہا تھا کہ نحویوں نے پانچ چیزیں ذکر کیں ان کے بعد اِن مقدر ہوتا ہے، اور ماتن نے کتنی ذکر کیں؟ چار۔ تو اب وہ بات کرنے لگے ہیں پانچویں، عرض کو کیوں نہیں آپ نے ذکر کیا؟ کہتے ہیں: وَلَمَّا جَعَلَ النُّحَاةُ الْأَشْيَاءَ الَّتِي يُضْمَرُ الشَّرْطُ بَعْدَهَا خَمْسَةً، اور جب بنایا نحویوں نے ان اشیاء کو جن کے بعد شرط کو مقدر کیا جاتا ہے پانچ، پانچ انہوں نے قرار دیا ہے، أَشَارَ الْمُصَنِّفُ إِلَىٰ ذَٰلِكَ، اس بات اس بات کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ: وَأَمَّا الْعَرْضُ، اور باقی عرض جو ہے، كَقَوْلِكَ جیسے آپ کہتے ہیں: أَلَا تَنْزِلُ بِنَا تُصِبْ خَيْرًا، آپ کیوں ہمارے ہاں تشریف نہیں لاتے تاکہ آپ کو خیر پہنچے، آپ کو کوئی نفع حاصل ہو، آپ ہمارے ہاں تشریف لائیں بھئی تاکہ کیا کریں ہم آپ کی دعوت کریں بھئی۔ تو یہاں پر دیکھیے، کہتے ہیں اس کو اس لیے ذکر نہیں کیا، آگے ہے: یہ کہتے ہیں استفہام ہی سے پیدا ہے، یہ عرض کس سے پیدا ہے؟ استفہام سے۔ یہ وہ استفہامِ انکاری ہے مولانا، استفہامِ انکاری ہے، اور استفہامِ انکاری نفی لَا تَنْزِلُ پر داخل ہو رہا ہے، اور استفہامِ انکاری جب نفی نفی پر داخل ہوگی کس چیز کا فائدہ دے گی؟ اثبات کا فائدہ دے گی۔ اسی لیے انہوں نے مقدر بھی کیا نکالا: إِنْ تَنْزِلْ بِنَا تُصِبْ خَيْرًا، اگر آپ ہمارے پاس نازل ہوں گے تو آپ کو کیا پہنچے گی؟ خیر پہنچے گی۔ تو دیکھا نفی نے نفی نفی پر داخل ہوئی تو اثبات کا فائدہ دیا، اسی لیے شرطِ مقدر مثبت نکالی منفی نہیں نکالی، ورنہ تو شرط کا مطابق ہونا ضروری ہے کلامِ طلبی کے، اگر وہ مثبت ہے تو یہ بھی کیا ہونی چاہیے؟ مثبت، وہ منفی ہو تو یہ بھی منفی۔ تو کہتے ہیں: فَمُوَلَّدٌ مِنَ الِاسْتِفْهَامِ، کہتے ہیں یہ عرض پیدا ہوئی ہے استفہام سے، وَلَيْسَ شَيْئًا آخَرَ بِرَأْسِهِ، یہ کوئی مستقل چیز نہیں ہے، بِرَأْسِهِ یعنی مستقل، مستقل کے معنی میں آتا ہے، یہ کوئی مستقل چیز نہیں ہے، لِأَنَّ الْهَمْزَةَ فِيهِ لِلِاسْتِفْهَامِ، اس لیے کہ ہمزہ اس میں استفہامِ انکاری کے لیے ہے، دَخَلَتْ عَلَىٰ فِعْلٍ مَنْفِيٍّ، اور یہ داخل ہوا کس پر؟ فعلِ منفی پر، وَامْتَنَعَ حَمْلُهَا عَلَىٰ حَقِيقَةِ الِاسْتِفْهَامِ، اور کہتے ہیں اس کو استفہام کی حقیقت پر محمول کرنا درست نہیں ہے بھئی۔ ہمزہ استفہام کے لیے آیا ہے لیکن استفہام مراد نہیں، کیوں؟ لِلْعِلْمِ بِعَدَمِ النُّزُولِ مَثَلًا، اس لیے کہ اس مثال میں قطعی طور پر یہ معلوم ہے کہ نزول نہیں ہوا، وہ آیا نہیں، وہ آیا نہیں۔ کیونکہ قطعی طور پر لِلْعِلْمِ بِعَدَمِ النُّزُولِ، اس لیے کہ علم ہے عدمِ نزول کا مثال کے طور پر، وَتَوَلَّدَ عَنْهُ، اور پیدا ہوا اس سے، یہ ہ ضمیر راجع ہے امتناعِ حمل کو، کس کو؟ تو معلوم ہوا اس کو استفہام پر محمول کرنا کیا ہے؟ ممتنع ہے۔ تو اس امتناع کی وجہ سے پیدا ہوا، بِمَعُونَةِ قَرِينَةِ الْحَالِ، ساتھ مدد کے قرینۂ حال کی، ساتھ قرینۂ حالیہ نے بھی مدد کی، اور یہ امتناعِ حمل بھی پایا گیا، تو ان سے پیدا ہوا، کیا پیدا ہوا؟ عَرْضُ النُّزُولِ عَلَى الْمُخَاطَبِ، مخاطب پر نزول کی عرض پیدا ہوئی کہ اس پر آپ کیا کر رہے ہیں؟ عرض کر رہے ہیں، وَطَلَبُهُ مِنْهُ، اور کیا پیدا ہوئی اس کی؟ طلب پیدا ہوئی۔ وَيَجُوزُ تَقْدِيرُ الشَّرْطِ، یہاں سے الگ بات بتلا رہے ہیں کہ ان یہ تو تین چار جگہیں ہم نے بتا دیں جہاں شرط مقدر ہوتی ہے، اور یہ کلامِ طلبی آتا ہے اور کلامِ طلبی کے بعد فعلِ مضارع ہوتا ہے اور وہ فعلِ مضارع کیا ہوتا ہے؟ مجزوم ہوتا ہے کیونکہ درمیان میں اِن اور شرط کیا ہوتے ہیں؟ مقدر ہوتے ہیں، مقدر۔ کہتے ہیں بعض ایسی جگہیں اور بھی ہیں جہاں پر مضارع جزا میں مضارع نہیں آ رہا ہوتا، لیکن وہاں شرط کا معنی پایا جاتا ہے، وہاں شرط کیا ہوتی ہے؟ مقدر ہوتی ہے۔ وَيَجُوزُ تَقْدِيرُ الشَّرْطِ فِي غَيْرِهَا، اور جائز ہے شرط کو مقدر ماننا اس کے علاوہ میں بھی، أَيْ فِي غَيْرِ هَٰذِهِ الْمَوَاضِعِ، ان جگہوں کے علاوہ میں، بِقَرِينَةٍ تَدُلُّ عَلَيْهِ، ایسے قرینے کے ساتھ جو کس پر دلالت کر رہا ہو؟ شرط پر۔ جیسے: أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ، کیا انہوں نے پکڑا ہے اللہ کے علاوہ، پکڑے ہیں مددگار، أَوْلِيَاءَ مددگار، کیا انہوں نے اللہ کے علاوہ مددگار پکڑے ہیں؟ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ، اللہ ہی کیا ہے؟ مددگار ہے۔ تو یہ فا مولانا آیا، اور یہ فا بتلا رہا ہے کہ یہ جواب ہے کس چیز کا؟ شرط کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شرط کا۔ کیوں؟ اس لیے کہ یہ فا عاطفہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ فا اس صورت میں فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ یہ جملہ خبریہ ہے اور ماقبل میں أَمِ اتَّخَذُوا ہے مولانا، اَمْ منقطعہ ہے، یہ استفہام کے لیے آتا ہے، تو یہاں پر ماقبل میں استفہام ہے وہ کلامِ انشائی ہے اور یہ کلامِ خبری ہے، اور کلامِ خبری کا عطف کلامِ انشائی پر صحیح نہیں۔ أَيْ إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ، یہ وہ شرطِ مقدر نکال کر بتلا دی۔ عبارت یوں ہے، شرطِ مقدر درمیان میں لے آؤ ذرا: أَمِ اتَّخَذُوا مِن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ، کیا انہوں نے پکڑا ہے اللہ کے علاوہ مددگاروں کو؟ إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ، اگر ان کا ارادہ ہے سچے مددگار کا، فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ، تو وہ اللہ ہی سچا مددگار ہے بھئی، سچا مددگار ہے۔ فَاللَّهُ هُوَ الَّذِي يَجِبُ أَنْ يُتَوَلَّىٰ وَحْدَهُ، پس اللہ ہی وہ ایسی ذات ہے کہ واجب ہے کہ اس کو مددگار بنایا جائے اکیلا، وَيُعْتَقَدُ أَنَّهُ الْمَوْلَى وَالسَّيِّدُ، اور یہ اعتقاد رکھا جائے کہ وہی آقا ہے اور سید ہے، یہ عطف تفسیری ہے، ایک معنی ہے مولیٰ اور سید کا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو یہاں پر یہ فا سے پہلے شرط مقدر ہوئی۔ اس پر ایک اشکال ہوتا ہے مولانا۔ اشکال کیا، آپ نے شرطِ محذوف کیا نکالی؟ اگر وہ سچا مددگار چاہتے ہیں تو اللہ ہی سچا مددگار، اللہ ہی سچا مددگار ہے، اللہ ہی سچا مددگار ہے۔ کہتے ہیں یہ تو شرط اور جزا میں کوئی مناسبت ہی نہیں ہے۔ اگر وہ سچا مددگار چاہتے ہیں تو اللہ مددگار ہے، حالانکہ وہ چاہیں یا نہ چاہیں سچا مددگار تو صرف اللہ ہر حال میں ہے۔ تو یہ تو شرط اور جزا میں مناسبت نہیں ہے کہ اگر وہ چاہیں تو اللہ کیا ہیں؟ مددگار ہیں، معلوم ہوا اگر نہیں چاہیں تو نہیں، حالانکہ یہ تو درست نہیں ہے۔ تو جواب اس کا کیا کہ بھئی یہ جو فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ ہے، یہ جواب نہیں ہے، یہ جزا نہیں ہے مولانا، بلکہ یہ جزا کا، جزا کی دلیل ہے، جزا کی کیا ہے؟ دلیل ہے۔ اصل عبارت یوں ہے مولانا: إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ فَلْيَتَّخِذُوا اللَّهَ وَحْدَهُ، تو چاہیے ان کو پکڑیں اللہ کو، اکیلے اللہ کو مددگار، اب ان، جی۔ دیکھیے، یہ آپ کے حاشیہ نمبر 12 میں انہوں نے ترکیب بتلا دی ہے بھئی: إِنْ أَرَادُوا وَلِيًّا بِحَقٍّ فَلْيَتَّخِذُوا اللَّهَ وَحْدَهُ، فَلْيَتَّخِذُوا اللَّهَ وَحْدَهُ، اگر وہ سچا مددگار چاہتے ہیں تو چاہیے کہ اکیلے اللہ ہی کو بنائیں، اکیلے اللہ ہی کو بنائیں، یہ جزا ہے۔ آگے فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ یہ فا مولانا کہتے ہیں، یہ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ یہ دلیل ہے، تو وہ اللہ ہی کو مددگار بنائیں کیونکہ اللہ ہی ولی ہے، کیونکہ اللہ ہی ولی ہے۔ تو دیکھا یہ دلیل ہے اس جواب کی، نہ کہ یہ عینِ جواب ہے بھئی۔ وَقِيلَ لَا شَكَّ، یہ بعضوں نے اعتراض کیا بھئی۔ اس اعتراض کہتے ہیں: وَقِيلَ، اور کہا گیا: لَا شَكَّ، کوئی شک نہیں اس بات میں، أَنَّ قَوْلَهُ، کہ یہ جو قول ہے اللہ کا أَمِ اتَّخَذُوا: إِنْكَارُ تَوْبِيخٍ، یہ انکار ہے کس انکار کون سا ہے؟ توبیخ کے لیے، ڈانٹ ڈپٹ کے لیے ہے، کیا اللہ کے علاوہ انہوں نے مددگار پکڑ لیے ہیں؟ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ بِمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَنْبَغِي، ایسا مناسب نہیں ہے: أَنْ يَتَّخِذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ، اس کے علاوہ مددگار پکڑیں۔ تو یہ مولانا ماقبل کا کلام جو ہے، کسی کوئی اعتراض کر رہا ہے مولانا، کہتے ہیں بھئی اس فا کو کیا بناؤ؟ اس فا کو عاطفہ ہی بناؤ، ہم نے کیا بنایا تھا فا کو؟ جزائیہ۔ کوئی معترض کہتا ہے اس کو جزائیہ نہ بناؤ، عاطفہ بناؤ، کس طرح؟ کہ ماقبل میں استفہامِ انکاری ہے، اور استفہامِ انکاری کا معنی ہے لَا يَنْبَغِي، ایسا مناسب نہیں ہے، تو وہ بھی خبر کے درجے میں ہو گیا، ایسا مناسب نہیں ہے کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی کو دوست بنائیں، تو یہ مولانا اب تو استفہام ہے ہی نہیں، یہ تو خبر ہے مناسب نہیں ہے، اور خبر پر خبر کا عطف کیا ہوا؟ درست ہو گیا۔ تو یہ مولانا اسی طرح ہے جیسے معلول پر عطف ہوگا علت کا، معطوف پر کس کا عطف ہوگا؟ مسبب پر عطف ہوگا کس کا؟ سبب کا، اللہ کے علاوہ کسی کو دوست نہیں، مددگار نہیں بنانا چاہیے کیونکہ اللہ ہی مددگار ہیں۔ تو دیکھا مابعد میں علت ہے، مابعد میں دلیل ہے مولانا۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ معلول پہلے ہے، تو اللہ چونکہ مددگار اللہ ہی ہیں اس لیے کسی اور کو نہیں بنانا چاہیے۔ وَحِينَئِذٍ يَتَرَتَّبُ عَلَيْهِ، اور اس صورت میں مرتب ہوگا اس پر: قَوْلُهُ، یہ قول اللہ کا: فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ مِنْ غَيْرِ تَقْدِيرِ شَرْطٍ، اس صورت میں تقدیرِ شرط کی ضرورت نہیں، كَمَا يُقَالُ، جیسے کہ کہا جاتا ہے، جیسے کہ کہا، یوں کہا یہ کلام کہتے ہیں اسی طرح ہے جیسے یوں کہا گیا ہو: لَا يَنْبَغِي أَنْ يُعْبَدَ غَيْرُ اللَّهِ فَاللَّهُ هُوَ الْمُسْتَحِقُّ لِلْعِبَادَةِ، مناسب نہیں ہے کہ عبادت کی جائے غیر اللہ کی، اللہ ہی مستحق ہیں کس چیز کے؟ عبادت کے مستحق ہیں، جی۔ تو دیکھا ماقبل میں بھی کلامِ خبری بن گیا، مابعد میں بھی خبر ہے تو عطف درست ہو گیا۔ وَفِيهِ نَظَرٌ، اس کو علامہ تفتازانی رد کر رہے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں بھئی آپ نے کیا کہا کہ ماقبل کلام استفہامِ انکاری ہے اور استفہامِ انکاری لَا يَنْبَغِي کے معنی میں ہوتا ہے، کس کے معنی میں؟ یعنی خبر کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی کوئی ایک چیز دوسری چیز کے معنی میں ہو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ دونوں کے سارے احکامات بھی ایک جیسے ہوں۔ ایک یہ چیز ہے مولانا، ایک دوسری یہ چیز ہے، اس کے کچھ احکام ہیں، اس کے کچھ احکام ہیں، اگر یہ چیز اس چیز کے معنی میں ہو جائے تو ضروری نہیں کہ جو جو اس کے احکام ہیں وہ اب اس پر بھی لاگو ہو جائیں، ایسا نہیں ہے۔ وَفِيهِ نَظَرٌ، اور اس قول میں نظر ہے: إِذْ لَيْسَ كُلُّ مَا فِيهِ مَعْنَى الشَّيْءِ، جی۔ ہر وہ، ما سے مراد لفظ ہے مولانا، کیا ہے؟ لفظ۔ ہر وہ لفظ جس کے اندر، الشَّيْءِ سے مراد بھی کیا ہے؟ لفظ ہی مراد ہے، ہر وہ لفظ جس کے اندر کسی دوسرے لفظ کا معنی ہو، ہر وہ لفظ جس کے اندر کسی دوسرے لفظ کا معنی ہو ایسا نہیں ہے کہ: حُكْمُهُ حُكْمَ ذَٰلِكَ الشَّيْءِ، کہ اس شے کا حکم بھی اس شے کے حکم، اس لفظ کا حکم بھی اس لفظ کے حکم کی طرح ہو جائے۔ تو ترکیب یہ ہے مولانا کہ مَا ہے موصوفہ، فِيهِ مَعْنَى الشَّيْءِ، فِيهِ یہ صفت ہے مَا کی، اس سے پہلے ثَبَتَ نکال لیں: ثَبَتَ فِيهِ مَعْنَى الشَّيْءِ، یہ مَعْنَى الشَّيْءِ اس ثَبَتَ کا فاعل ہے۔ ہر وہ چیز کہ ثابت ہو اس کے اندر دوسری چیز کا معنی، حُكْمُهُ یہ لَيْسَ کی خبر ہے، یہ منصوب ہوگی، لَيْسَ کی خبر کیا ہوتی ہے؟ منصوب۔ اور آگے ہے حُكْمَ ذَٰلِكَ الشَّيْءِ، یہ مفعولِ مطلق ہے، یہ کیا ہے؟ مفعولِ مطلق ہے، کہ نہیں ہے ہر وہ لفظ کہ جس کے اندر دوسرے لفظ کا معنی ہو اس کا حکم، حُكْمَ ذَٰلِكَ الشَّيْءِ اس چیز کے حکم کی طرح ہو۔ وَالطَّبْعُ الْمُسْتَقِيمُ شَاهِدُ صِدْقٍ، یہاں جی، یہ شَاهِدُ صِدْقٍ موصوف صفت ہے مولانا، موصوف صفت بنا لیں یا اضافت کر دیں آپ، کبھی موصوف کی اضافت کس کی طرف ہوتی ہے؟ صفت کی طرف۔ اور طبعِ مستقیم یعنی عقلِ سلیم عادل گواہ ہے مولانا، سچی گواہ ہے عَلَىٰ صِحَّةِ قَوْلِنَا، ہمارے اس قول کی صحت پر۔ کس سے؟ جی، جیسے ہم کہتے ہیں ہمارا یہ قول جو ہے: لَا تَضْرِبُ زَيْدًا فَهُوَ أَخُوكَ، تو زید کی پٹائی نہیں کرتا کیونکہ وہ تیرا بھئی ہے۔ تو یہ فا تعلیلیہ ہے، یہ کیا ہے فا؟ تعلیلیہ۔ تو زید کی پٹائی نہیں کرتا کیونکہ وہ تیرا بھئی ہے، بِالْفَاءِ، یہ کلام تو فا کے ساتھ کہنا صحیح ہے، دیکھا۔ بِخِلَافِ: أَتَضْرِبُ زَيْدًا فَهُوَ أَخُوكَ، یہ کہنا صحیح نہیں ہے، کیا تو زید کی پٹائی کرتا ہے کیونکہ وہ تیرا بھئی ہے؟ اب حالانکہ ماقبل لَا تَضْرِبُ اور أَتَضْرِبُ، أَتَضْرِبُ میں استفہامِ انکاری ہے، وہ بھی کس معنی میں ہے؟ لَا تَضْرِبُ کے معنی میں ہے کہ تجھے پٹائی نہیں کرنی چاہیے۔ تو دیکھو لَا تَضْرِبُ زَيْدًا کے جواب میں فا کا لانا صحیح تھا، اور یہ أَتَضْرِبُ اسی کے معنی میں ہے لیکن جواب میں فا کا لانا صحیح نہیں ہے۔ تو یہ استفہامِ انکاری، یہ استفہامِ انکاری ہے: فَإِنَّهُ لَا يَصِحُّ إِلَّا بِالْوَاوِ الْحَالِيَّةِ، اور یہ ترکیب صحیح نہیں ہے مگر کس کے ساتھ؟ واوِ حالیہ۔ تو یہاں: أَتَضْرِبُ زَيْدًا وَهُوَ أَخُوكَ کہنا تو صحیح، فَهُوَ أَخُوكَ کہنا صحیح نہیں، اگرچہ دونوں اگرچہ یہ أَتَضْرِبُ، لَا تَضْرِبُ کے معنی میں ہے، تو معنی میں ہونے سے سارے احکام ایک جیسے نہیں ہو جاتے۔ وَمِنْهَا، أَيْ وَمِنْ أَنْوَاعِ الطَّلَبِ النِّدَاءُ، انواعِ طلب میں سے ایک ندا بھی ہے مولانا، وَهُوَ طَلَبُ الْإِقْبَالِ بِحَرْفٍ نَائِبٍ مَنَابَ أَدْعُو، اور وہ طلب ہے، اقبال کو طلب کرنا، کسی کی توجہ کو طلب کرنا ہے، بِحَرْفٍ ایسے حرف کے ساتھ، نَائِبٍ مَنَابَ أَدْعُو جو کس کا قائم مقام ہو؟ أَدْعُو کا قائم مقام ہو، وہ حرف بھئی، لَفْظًا وہ حرف یا تو لفظاً ہوگا یا کیا ہوگا؟ تقدیراً ہوگا، جیسے: يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا، أَيْ يَا يُوسُفُ أَعْرِضْ عَنْ هَٰذَا۔ یہ تو مولانا ندا کے بارے میں آپ کو بتلایا، ندا کس لیے آتا ہے؟ طلبِ اقبال کے لیے آتا ہے مولانا۔ لیکن یہاں پر مجازی معنی سے بحث کریں گے مولانا، حقیقی معنی سے بحث جو ہے وہ لغوی کرے گا یا وہ نحوی آپ کو بتلائے گا۔ اور استعمال کیا جاتا ہے اس کا صیغہ، أَيْ صِيغَةُ النِّدَاءِ فِي غَيْرِ مَعْنَاهُ، علاوہ اپنے معنی کے، اپنے معنی کے علاوہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی اپنے معنی کے علاوہ میں، اپنا معنی اس کا کیا ہے؟ وَهُوَ طَلَبُ الْإِقْبَالِ، طلبِ اقبال، توجہ کو طلب کرنے کے علاوہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ كَالْإِغْرَاءِ، جیسے کہ ابھارنا ہے، فِي قَوْلِكَ آپ کے اس قول میں: لِمَنْ أَقْبَلَ عَلَيْكَ يَتَظَلَّمُ، جو آپ پر متوجہ ہے اور يَتَظَلَّمُ اور شکوۂ ظلم کر رہا ہے، يَتَظَلَّمُ کا کیا معنی؟ شکوۂ ظلم کرنا، اپنے اوپر ظلم و ستم کو بیان کرنا: يَا مَظْلُومُ، آپ اس کو ابھارتے ہوئے کیا کہتے ہیں مولانا؟ وہ تو خود متوجہ ہے آپ کی طرف، پھر آپ کر رہے ہیں، یہ کہہ رہے ہیں يَا مَظْلُومُ، اور یا تو آتا ہے حرفِ ندا ہے اور یہ آتا ہے متوجہ کرنے کے لیے اور وہ تو پہلے ہی آپ کی طرف کیا ہے؟ متوجہ ہے، معلوم ہوا یہاں حقیقی معنی مراد نہیں ہے بلکہ یہاں پر کیا ہے؟ مجازی معنی مراد ہے، جی۔ قَصْدًا إِلَىٰ إِغْرَائِهِ، اس حال میں کہ آپ کا ارادہ کیا ہے؟ إِلَىٰ إِغْرَائِهِ وَحَثِّهِ، إِغْرَاء اور حَثّ کا ایک معنی ہے مولانا، ابھارنا۔ آپ کا ارادہ ہے اس کو ابھارنا عَلَىٰ زِيَادَةِ التَّظَلُّمِ، کس پر؟ شکوۂ ظلم کے زیادتی پر، یعنی اور تم کیا کرو، اپنے مظالم کو بیان کرو جو تم پر ہوئے ہیں، وَبَسْطِ الشَّكْوَى، شکوہ کی شکایت مولانا، بَسْط کا معنی پھیلانا، اور شکایت کو پھیلانے اور ظاہر کرنے پر ابھارتے ہیں آپ اس کو، اس لیے يَا مَظْلُومُ کہا اس کو، لِأَنَّ الْإِقْبَالَ حَاصِلٌ، کیونکہ اقبال اور توجہ تو پہلے سے ہی حاصل ہے۔ وَالِاخْتِصَاصِ، اور کبھی کبھار کس لیے آتا ہے ندا مولانا؟ اختصاص کے لیے، یہ بڑی عجیب بات انہوں نے کی، دیکھیے غور سے سنیے۔ فِي قَوْلِهِمْ: أَنَا أَفْعَلُ، اس قول کے اندر مولانا: أَنَا أَفْعَلُ كَذَا أَيُّهَا الرَّجُلُ۔ میں ہی ایسا کروں گا، أَيُّهَا الرَّجُلُ، اس حال میں کہ میں خاص ہوں لوگوں میں سے ایسا کرنے کے لیے۔ یہ ندا نہیں ہے، ندا ہے لیکن مجازی معنی ہے مولانا، یہاں کیا نکالیں گے؟ أَخُصُّ نکالتے ہیں، کیا نکالتے ہیں؟ أَخُصُّ فعل مقدر نکالیں گے، اور أَيُّهَا الرَّجُلُ یہ مولانا مفعول ہے، کیا ہے أَخُصُّ کا؟ جیسے بھئی يَا زَيْدُ کے اندر أَدْعُو زَيْدًا مفعول ہوتا ہے نا، تو یہاں بھی أَيُّهَا الرَّجُلُ کس کا مفعول ہے؟ أَخُصُّ، تو یہاں أَدْعُو نہیں نکالیں گے بلکہ کیا نکالیں گے؟ أَخُصُّ، یہ تخصیص کے لیے آتا ہے۔ تو میں خاص کرتا ہوں کس کو؟ الرَّجُل سے کون مراد؟ ہاں، اس مدلولِ رجل کو میں خاص کرتا ہوں اس کام کے ساتھ، اور وہ کون ہے؟ متکلم خود ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی، جی؟ أَنَا أَفْعَلُ كَذَا أَيُّهَا الرَّجُلُ، أَيْ أَخُصُّ الرَّجُلَ، أَيُّهَا الرَّجُلُ سے مراد متکلم کی اپنی ذات ہوتی ہے، أَيُّهَا الرَّجُلُ سے کس کی ذات؟ متکلم کی اپنی ذات مراد ہوتی ہے، میں ہی ایسا کروں گا۔ تو تخصیص دیکھیے مولانا، أَنَا أَفْعَلُ كَذَا، دیکھا، آپ نے أَنَا کو أَفْعَلُ پر مقدم کیا تو تخصیص کے معنی پیدا ہوئے، میں ہی ایسا کروں گا۔ تو وہ حکم جو لگ رہا تھا ضمیر پر، آپ نے اس کو کس کے ساتھ لگا دیا؟ اسمِ ظاہر کے ساتھ۔ أَيُّهَا الرَّجُلُ اسمِ ظاہر ہے یا نہیں مولانا؟ اس کو کہتے ہیں اختصاص، کہ وہ حکم جو لگ رہا تھا کس پہ؟ ضمیر پر، اب کس پر لگا دیا آپ نے؟ اسمِ ظاہر پر لگا دیا۔ تو ترجمہ کیا ہوگا؟ أَنَا أَفْعَلُ كَذَا، میں ہی ایسا کروں گا، أَيُّهَا الرَّجُلُ، أَيْ أَخُصُّ، میں خاص کرتا ہوں کس کو؟ مدلولِ رجل کو میں خاص کرتا ہوں اس کام کے ساتھ، اور وہ کون ہے؟ متکلم خود ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی، جی؟ فَقَوْلُنَا: أَيُّهَا الرَّجُلُ، أَيُّهَا الرَّجُلُ اصل میں کیا تھا؟ أَصْلُهُ تَخْصِيصُ الْمُنَادَى بِطَلَبِ إِقْبَالِهِ عَلَيْكَ، اصل میں تو یہ تھا منادیٰ کی تخصیص کے لیے بِطَلَبِ إِقْبَالِهِ عَلَيْكَ کہ آپ اس کے اقبال کو طلب کرتے ہیں اپنے لیے۔ يَا أَيُّهَا کس لیے کہا جاتا ہے يَا أَيُّهَا الرَّجُلُ؟ منادیٰ کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں، اس کی تخصیص کرتے ہیں، اس کی آپ اپنی طرف توجہ کو طلب کرتے ہیں خاص طور پر۔ ثُمَّ جُعِلَ مُجَرَّدًا عَنْ طَلَبِ الْإِقْبَالِ، پھر اس کو طلبِ اقبال سے خالی کر لیا گیا، یعنی توجہ کو طلب کرنا اس سے کیا کر لیا گیا؟ خالی کر لیا گیا۔ وَنُقِلَ إِلَىٰ تَخْصِيصِ مَدْلُولِهِ مِنْ بَيْنِ أَمْثَالِهِ، اور اس کو نقل کر لیا گیا کس بات کی طرف؟ کہ تخصیص کرتے ہیں آپ اس کے مدلول کی مِنْ بَيْنِ أَمْثَالِهِ، اپنے مماثلوں میں، اپنے اس کے جو مثل ہیں ان میں سے اس کی تخصیص کر دیتے ہیں، تخصیص کر دیتے ہیں۔ یعنی متکلم جیسے جو اور رجل ہیں مولانا، اس میں سے وہ اپنے آپ کی تخصیص کر دیتا ہے، اپنے آپ کی تخصیص، بِمَا نُسِبَ إِلَيْهِ، اس چیز کے ساتھ جو اس کی طرف منسوب ہے، جو اس کی طرف، جو پہلے متکلم کی طرف کیا منسوب تھا؟ أَفْعَلُ كَذَا، أَفْعَلُ كَذَا اس نے پہلے بھی اپنے ساتھ تخصیص کی تھی، اب آپ نے کیا کر دی اس کے پھر اس کے مدلول کے ساتھ اس کی تخصیص کر دی۔ إِذْ لَيْسَ الْمُرَادُ بِأَيٍّ وَوَصْفِهِ الْمُخَاطَبَ، اس لیے یہاں پر أَيُّ اور اس کے وصف سے، بھئی ترکیب آتی ہے آپ کو ندا منادیٰ کی؟ أَيُّ مبنی علی الضم موصوف، ہَا یہ ہا ضمیر نہیں ہوتی، یہ ہائے تنبیہ ہے مولانا، الرَّجُلُ صفت ہے کس کی؟ أَيُّ کی، یہی بات کر رہے ہیں۔ اس لیے کہ أَيُّ اور اس کا وصف، أَيُّ اور اس کی جو صفت ہے اس سے مراد مخاطب نہیں ہے بلکہ: مَا دَلَّ عَلَيْهِ ضَمِيرُ الْمُتَكَلِّمِ، بلکہ وہ ہے جس پر متکلم کی ضمیر دلالت، یعنی ذاتِ متکلم، یعنی ذاتِ متکلم مراد ہے۔ فَأَيُّ مَضْمُومٌ، أَيُّ کیا ہے؟ مضموم ہے، اس پر ضمہ آ رہا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ وَالرَّجُلُ مَرْفُوعٌ، اور رجل کیا ہے؟ مرفوع ہے۔ بھئی کیا فرق ہے مضموم، مرفوع؟ یاد رکھنا ہمیشہ بھئی قیمتی نحوی نکتہ آپ کو بتلائیں، یہاں تین قسم کے نام ہیں مولانا: ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ، ایک ہے ضَمَّةٌ، فَتْحَةٌ، كَسْرَةٌ، اور ایک ہے رَفْعٌ، نَصْبٌ، جَرٌّ۔ یاد رکھو یہ رَفْعٌ، نَصْبٌ، جَرٌّ یہ خاص ہیں معرب کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ ضَمٌّ، فَتْحٌ، كَسْرٌ بغیر تا کے، یہ خاص ہیں مبنی کے ساتھ، اسی کے ساتھ، جب بھی مضموم کا لفظ آئے معلوم ہوا یہ مبنی ہے۔ اور ضَمَّةٌ، فَتْحَةٌ، كَسْرَةٌ تا کے ساتھ، یہ دونوں کے ساتھ بولا جاتا ہے، معرب کے ساتھ بھی اور مبنی کے ساتھ بھی۔ تو یہاں کیا آیا مضموم، معلوم ہوا أَيُّ مبنی علی الضم ہے، اور رجل کیا ہے؟ مرفوع ہے یعنی معرب ہے مولانا۔ وَالْمَجْمُوعُ فِي مَحَلِّ النَّصْبِ، اور وہ سارا مجموعہ محلاًّ نصب میں ہے۔ بھئی ہم نے عامل کون نکالا تھا؟ أَخُصُّ، کیا نکالا تھا؟ أَخُصُّ أَيُّهَا الرَّجُلُ، یہ سارا مجموعہ محلاًّ نصب میں ہے عَلَىٰ أَنَّهُ حَالٌ، بنا بر اس کے کہ یہ کیا ہے؟ حال ہے۔ اور یہ حال ہے، اسی کی طرف ماتن بھی اشارہ کریں گے، دیکھیے: وَلِهَٰذَا قَالَ، اسی لیے ماتن نے کہا: أَيْ مُتَخَصِّصًا مِنْ بَيْنِ الرِّجَالِ، دیکھا مُتَخَصِّصًا نکالا، حال بنایا بھئی، اس حال میں کہ میں تخصیص کرنے والا ہوں کس کے درمیان؟ لوگوں کے درمیان، رجال کے بیچ میں، میں اپنی کیا کرنے والا ہوں؟ تخصیص کرنے والا ہوں۔ وَقَدْ تُسْتَعْمَلُ صِيغَةُ النِّدَاءِ فِي الِاسْتِغَاثَةِ، اور کبھی کبھار مولانا ندا کا صیغہ استعمال ہوتا ہے استغاثہ کے اندر۔ استغاثہ مدد طلب کرنے کے لیے مولانا، ندا کا صیغہ استعمال ہوتا ہے۔ آپ نے پڑھا ہوگا مولانا نحو کے اندر کہ کبھی کبھار منادیٰ جو ہے اس کو ندا دی جاتی ہے مدد طلب کرنے کے لیے، اس کو کہتے ہیں مستغاث، کیا کہتے ہیں؟ اور اس پر پھر لامِ مفتوح داخل کیا جاتا ہے، اس کو لامِ استغاثہ کہتے ہیں۔ مثلاً عمرو کو تکلیف پہنچی، آپ عمرو کے لیے آواز دیتے ہیں زید کو، تو زید کو کیا کہیں گے؟ يَا لَزَيْدٍ، يَا لَزَيْدٍ، تو یہاں پر مولانا یہ لَزَيْدٍ کیا ہے؟ مستغاث ہے، اس سے مدد طلب کر رہے ہیں، اور کس کے لیے طلب کر رہے ہیں؟ عمرو کے لیے، وہ مستغاث لہٗ ہے مولانا، اور کون طلب کر رہا ہے؟ آپ کر رہے ہیں، آپ مستغیث ہیں فریاد کرنے والے۔ تو آپ ہوئے مستغیث، جس سے مدد طلب کی وہ مستغاث، جس کے لیے مدد طلب کی وہ مستغاث لہٗ مولانا۔ تو یہ مستغاث پر لامِ مفتوح داخل ہوتا ہے جیسے: يَا لَلَّهِ، اے اللہ ہماری فریادرسی کر، جی آگے کل کلام آئے گا۔ وَالتَّعَجُّبِ، اور کبھی کبھار مولانا یہ صیغۂ ندا کس لیے استعمال ہوتا ہے؟ تعجب کے لیے بھی، جیسے: يَا لَلْمَاءِ، یہ بھی مولانا استغاثہ کی ایک قسم ہے تعجب کے لیے آتا ہے۔ کیا معنی؟ اے پانی! جب پانی کسی کو کہیں پیاسا تھا جنگل میں اس کو پانی مل گیا بھئی، بڑا ٹھنڈا میٹھا پانی بھئی، تو وہ کیا کہتا ہے: يَا لَلْمَاءِ، اے پانی میری فریادرسی کر، یعنی حاضر ہو جا کامل طور پر میرے تعجب کو انتہا تک پہنچا دے، یہ مولانا، جی۔ وَالتَّحَسُّرِ وَالتَّوَجُّعِ، اور کبھی کبھار ندا مولانا حسرت کے بیان کرنے کے لیے آتی ہے، وَالتَّوَجُّعِ اور کبھی کبھار دل کے دکھنے کو بیان کرنے کے لیے آتی ہے، مخاطب کا جب دل دکھ رہا ہو، متکلم کا غمزدہ ہو تو پھر وہ کیا لے کر آتا ہے؟ حرفِ ندا، ندا دیتا ہے مولانا، كَمَا فِي نِدَاءِ الْأَطْلَالِ، جیسے کہ مولانا اطلال جمع ہے طَلَل کی، طلل کہتے ہیں کھنڈر کو مولانا، کھنڈرات جو ہیں، کھنڈرات کی ندا کے اندر مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ مکانات کے جو بچے کچھے آثار ہوتے ہیں ان کو اطلال کہتے ہیں۔ وَالْمَنَازِلِ، منازل جمع ہے منزل کی، منزل کس کو کہتے ہیں مولانا؟ گھر، مکان، جائے قیام، سفر کے اندر جہاں نزول کیا جائے، پڑاؤ ڈالا جائے بھئی۔ وَالْمَطَايَا، مطایا جمع ہے مطیۃ کی، سواری کے جانور کو کہتے ہیں، وَمَا أَشْبَهَ ذَٰلِكَ، اور جو اس کے مشابہ ہیں۔ تو کبھی کبھار مولانا کھنڈرات کو ندا دی جاتی ہے، کیوں دی جاتی ہے؟ غم کا اظہار کرنا ہوتا ہے کہ یہاں میرے بڑے محبوب لوگ رہا کرتے تھے، آج وہ سب ختم ہو گئے مولانا۔ کبھی کبھار گھر اور پڑاؤ ڈالنے کی منزلیں جو ہوتی ہیں ان کو ندا دیتے ہیں آپ شعراء کے کلام میں دیکھتے ہیں، کس لیے بتلانا ہوتا ہے؟ یہاں ہمارے محبوب رہا کرتے تھے جو آج یہاں سے کوچ کر گئے۔ کبھی کبھار سواری کے جانور کو، اسی جب کہ وہ کیا ہو محبوب کی سواری ہو تو اس کو ندا دی جاتی ہے کہ جی، اظہارِ غم کے لیے۔ اردو میں اظہارِ غم کے لیے ندا کی مثال مولانا: اے ہم نشیں چل کہیں اور چل، اس چمن میں اب ہمارا گزارا نہیں بات پھولوں کی ہوتی تو سہہ لیتے ہم، اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں سمجھ میں آیا بھئی، جی۔ عجیب مولانا ملک کے اندر حالات بنا دیے گئے ہیں، انسان کل بھئی، پرسوں آپ نے پڑھا ہوگا، گوجرانوالہ میں قاضی حمید اللہ خان صاحب جو ہیں زخمی ہو گئے ہیں، ان کو گولی لگی ہے بھئی۔ عجیب مولانا، بہت بڑے ولی اللہ ہیں، بہت بڑے ولی اللہ، میں نے ایک سال ان سے پڑھا بھئی، عجیب مدرس ہیں زبردست قسم کے۔ ہدایہ وغیرہ ہمیں پڑھاتے تھے بھئی، ایک سطر پہ نظر ڈالتے تھے، دو تین لفظ پڑھتے تھے، پھر پورا مسئلہ ہمیں فوراً ایک دو منٹ کے اندر سمجھا دیتے تھے، پھر پورے صفحے کا ترجمہ کر دیتے تھے وہ۔ یوں تھا جیسے ان کو ہدایہ حفظ ہی ہوتی ہے بھئی۔ جہاں بھی ہدایہ بھئی دو صفحوں پہ مسئلہ چل رہا ہے، وہ مختصر سی بھئی تھوڑی سی عبارت دیکھتے، پورا مسئلہ بیان کر دیتے، اور پھر تیز تیز عبارت چلتی اور آرام سے سمجھ میں آ جاتی، اور مکمل کتاب کرواتے بھئی، عجیب انداز تھا ان کا۔ اللہ، عجیب بھئی دیکھیے بھئی، اور پھر اور عجیب، گولی چلا دی ان پر سیدھی بھئی، گولی ان کے بازو پر لگی ہے، زخمی ہیں، اور پھر دہشت گردی کا مقدمہ بھی کر دیا بھئی، یہ نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ جو دین کا کوئی کام کرنے لگے، ذرا کوئی بات ہو، دہشت گردی کا مقدمہ، دہشت گردی کا مقدمہ بھئی۔ ہاں جی، دعا کرو بھئی اللہ تعالیٰ ان کو صحت نصیب فرمائے، اور ان کی تمام تکالیف اور پریشانیاں دور فرمائے، اور یہ جو لوگ جو اس قسم کے کام کر رہے ہیں اور اسلام اور مسلمانوں اور علماء کے خلاف لگے ہوئے ہیں، دعا کرو اللہ ان کو ذلیل و رسوا فرما دے، اور جلد سے جلد ذلیل و رسوا اللہ فرما دے۔ ثُمَّ الْخَبَرُ قَدْ يَقَعُ مَوْقِعَ الْإِنْشَاءِ، اور کبھی کبھار پھر کہتے ہیں خبر جو ہے انشاء کی جگہ واقع ہوتی ہے، مقام تو انشاء کا تھا لیکن اس کی جگہ کیا لے آتے ہیں؟ کلامِ خبری لے آتے ہیں۔ إِمَّا لِلتَّفَاؤُلِ، یا تو اس لیے کرتے ہیں کہ تفاؤل ہو، تفاؤل کے لیے، تفاؤل کا معنی ہے مولانا نیک فالی مراد لینا، نیک فالی، بِلَفْظِ الْمَاضِي، کن لفظوں کے ساتھ؟ ماضی کے ساتھ، دَلَالَةً عَلَىٰ أَنَّهُ كَأَنَّهُ وَقَعَ، دلالت کرتے ہوئے اس بات پر گویا کہ وہ واقع ہو چکا ہے۔ جیسے بھئی عربی کے اندر آپ دیکھتے ہیں کہ دعا وغیرہ ہمیشہ ماضی کے صیغے سے دی جاتی ہے، کیوں؟ تفاؤل کے طور پر، نیک فالی کے طور پر: رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ، بھئی یہ تو ماضی ہے، اور مطلب کیا ہے؟ اللہ ان پر رحم فرمائے، تو ماضی کے ساتھ نیک فالی کے طور پر کہ تاکہ اللہ، یعنی کہ گویا کہ یہ ہو ہی چکا، گویا کہ ہو ہی چکا نیک فالی کہ اللہ ایسا یقیناً کر دیں بھئی۔ جیسے: وَفَّقَكَ اللَّهُ لِلتَّقْوَىٰ، اللہ تعالیٰ آپ سب کو توفیق دے تقویٰ کی بھئی۔ أَوْ لِإِظْهَارِ الْحِرْصِ فِي وُقُوعِهِ، یا مولانا اظہارِ حرص کے لیے، اپنی حرص کو ظاہر کرنا چاہتا ہے اس لیے انشاء کی جگہ کیا لے آتا ہے؟ خبر لے آتا ہے۔ حرص ظاہر کرتا ہے اس کے واقع ہونے میں، كَمَا مَرَّ فِي بَحْثِ الشَّرْطِ، شرط کی بحث میں گزرا تھا: مِنْ أَنَّ الطَّالِبَ إِذَا عَظُمَ رَغْبَتُهُ فِي شَيْءٍ، کہ طالب جو ہے جب بڑھ جاتی ہے اس کی رغبت کسی چیز کے اندر، يَكْثُرُ تَصَوُّرُهُ إِيَّاهُ، بڑھ جاتا ہے اس طالب کا تصور اس چیز کے بارے میں، فَرُبَّمَا يُخَيَّلُ إِلَيْهِ حَاصِلًا، تو بسا اوقات متخیل ہوتی ہے اس کے لیے وہ چیز حاصل کے طور پر، فَيُورِدُ بِلَفْظِ الْمَاضِي، تو اس کو لے کر آتا ہے کس کے ساتھ؟ ماضی کے ساتھ، نَحْوُ: رَزَقَنِي اللَّهُ تَعَالَىٰ لِقَاءَكَ، اللہ مجھے نصیب فرمائے آپ کی ملاقات۔ وَالدُّعَاءِ بِصِيغَةِ الْمَاضِي مِنَ الْبَلِيغِ، اور دعا جو دی جاتی ہے ماضی کے صیغے کے ساتھ، کس کی جانب سے ہو؟ کسی بلیغ کی طرف سے ہو جیسے وہ کہتا ہے رَحِمَهُ اللَّهُ: يَحْتَمِلُهُمَا، اس میں دونوں کا احتمال ہے مولانا، وہ تفاؤل کا بھی احتمال ہے اور اظہارِ حرص کا بھی، کہ وہ حریص ہے اس کے وقوع کے اندر، أَيِ التَّفَاؤُلَ وَإِظْهَارَ الْحِرْصِ، جی۔ أَمَّا غَيْرُ الْبَلِيغِ، باقی غیر بلیغ جب دعا دیتا ہے تو اس میں یہ دو نقطے ہونا ضروری نہیں: فَهُوَ ذَاهِلٌ عَنْ هَٰذِهِ الِاعْتِبَارَاتِ، اس لیے کہ وہ تو ان اعتبارات سے غافل ہے اس کو پتہ ہی کچھ نہیں۔ أَوْ لِلِاحْتِرَازِ عَنْ صُورَةِ الْأَمْرِ، یا مولانا کبھی کبھار انشاء کا مقام ہوتا ہے لیکن خبر ذکر کی جاتی ہے، کیوں؟ کیونکہ امر کی صورت سے بچنا چاہتا ہے، متکلم کیا ہے؟ امر کی صورت سے بچنا چاہتا ہے، صورتاً بھی امر نہیں لانا چاہتا اس مقام پر، كَقَوْلِ الْعَبْدِ لِلْمَوْلَىٰ، جیسے غلام اپنے آقا سے کہتا ہے: يَنْظُرُ الْمَوْلَىٰ إِلَيَّ سَاعَةً، دیکھے گا میرا آقا میری طرف کسی وقت، میرا آقا کسی نہ کسی وقت میری طرف دیکھے گا۔ تو کہنے کا مقصد یہ تھا کہ اے آقا میری طرف دیکھیے، میری طرف دیکھیے اور مجھ سے ناراضگی کو ختم کیجیے، لیکن چونکہ میری طرف دیکھیے، اُنْظُرْ یہ تو امر تھا اور امر میں استعلاء کا معنی آتا ہے، تو بے ادبی سے بچنے کے لیے وہ کیا کرتا ہے؟ انشاء کے بجائے خبر لاتا ہے اگرچہ معنی انشائی ہی ہے، دُونَ: اُنْظُرْ، اُنْظُرْ نہیں کہتا، لِأَنَّهُ فِي صُورَةِ الْأَمْرِ، اس لیے کہ وہ امر کی صورت میں ہے، وَإِنْ قُصِدَ بِهِ الدُّعَاءُ أَوِ الشَّفَاعَةُ، اگرچہ اس سے دعا اور شفاعت ہی کا ارادہ ہے، لیکن صورت تو کس کی ہے؟ بھئی غلام کہے گا تو بطورِ عاجزی کے کہے گا تو وہ دعا ہے، امر نہیں، لیکن صورت تو کس کی ہے؟ امر کی، یا مولانا سفارش کے لیے ہے غیر کی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ کسی نے امر کا معنی شفاعت کے ذکر نہیں کیے، تو یہاں کیا معنی شفاعت کے؟ کہتے ہیں بھئی شفاعت یہ دعا ہی میں داخل ہے، کس میں داخل ہے؟ دعا کس کو کہتے ہیں؟ طَلَبُ الْفِعْلِ عَلَىٰ طَرِيقِ التَّضَرُّعِ، عاجزی کے طریقے پر طلب کرنا کسی فعل کو، اب وہ طلب اپنے لیے ہو تو دعا ہے، غیر کے لیے ہو تو سفارش ہے، غیر کے لیے سفارش کرو۔ أَوْ لِحَمْلِ الْمُخَاطَبِ عَلَى الْمَطْلُوبِ، یا مخاطب کو ابھارنا ہے مطلوب پر، بِأَنْ يَكُونَ الْمُخَاطَبُ مِمَّنْ لَا يُحِبُّ أَنْ يُكَذَّبَ الطَّالِبُ، کہ مخاطب کو ابھارنا ہے مطلوب پر کہ مطلوب حاصل ہو جائے، بایں سبب کہ مخاطب ان لوگوں میں سے ہو جو پسند نہیں کرتا کہ طالب کی تکذیب کی جائے، طالب کی کیا کی جائے؟ بھئی جو کلامِ طلبی کرنے والا ہے، وہ کلام مقام تو کلامِ طلبی کا تھا، لیکن وہ امر نہیں لے کر آتا بلکہ کیا لے کر آتا ہے؟ کیا لے کر آتا ہے؟ خبر لے کر آتا ہے۔ مثلاً مولانا، میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں کہ مثلاً میں آپ لوگوں سے کہتا ہوں بھئی، عشاء کے بعد یقیناً آپ لوگ سبق کے لیے تشریف لائیں گے، میں کیا کہتا ہوں؟ عشاء کے بعد یقیناً آپ سب لوگ سبق کے لیے تشریف لائیں گے۔ تو دیکھیے، اب کیا مقام تو امر کا تھا، میں کیا کہتا کہ آپ عشاء کے بعد آئیں، لیکن اگر میں امر کہہ دیتا تو آپ نہ بھی آتے تو اس صورت میں میری تکذیب نہیں تھی، کیونکہ انشاء کے اندر صدق اور کذب کا احتمال نہیں ہوتا۔ لیکن جب میں نے اس کو کلامِ خبری کی صورت میں ذکر کیا کہ آپ تشریف لائیں گے، تو میں نے ایک خبر دے دی، اور اب آپ نہیں چاہتے کہ کیا ہے متکلم کسی طرح بھی اس کی طرف جھوٹ کی نسبت کی جائے، تو آپ ہر حال میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ کہیں متکلم کا جھوٹا ہونا لازم نہ آ جائے بھئی۔ اچھا جی۔ أَنْ يُنْسَبَ إِلَى الْكِذْبِ، کہ نسبت کی جائے اس کے کذب کی طرف، كَقَوْلِكَ لِصَاحِبِكَ الَّذِي لَا يُحِبُّ تَكْذِيبَكَ: تَأْتِينِي غَدًا، جیسے آپ کہتے ہیں اپنے ساتھی سے جو پسند نہیں کرتا آپ کی تکذیب کو، تَأْتِينِي غَدًا، آپ میرے پاس صبح تشریف لائیں گے، فِي مَقَامِ: ائْتِنِي، ائْتِنِي امر کے بجائے کہتے ہیں، لِحَمْلِهِ بِأَلْطَفِ وَجْهٍ عَلَى الْإِتْيَانِ، کہ آپ ابھارتے ہیں اس کو لطیف، انتہائی لطیف طریقے سے آنے پر، لِأَنَّهُ إِنْ لَمْ يَأْتِكَ غَدًا صِرْتَ كَاذِبًا، اس لیے کہ اگر وہ نہیں آیا آپ کے پاس غدًا تو آپ جھوٹے ہو جائیں گے، مِنْ حَيْثُ الظَّاهِرِ، ظاہر کے اعتبار سے جھوٹے ہوں گے اگرچہ آپ نے جو کہا نا تَأْتِينِي غَدًا، لفظاً خبر ہے معنیً پھر بھی انشاء ہی ہے، لیکن ظاہر کے اعتبار سے تو خبر ہے تو ظاہر میں جھوٹے ہو جائیں گے، لِكَوْنِ كَلَامِكَ فِي صُورَةِ الْخَبَرِ، آپ کا کلام خبر کی صورت میں ہے۔ تَنْبِيهٌ: الْإِنْشَاءُ كَالْخَبَرِ فِي كَثِيرٍ مِمَّا ذُكِرَ فِي الْأَبْوَابِ الْخَمْسَةِ، انشاء کہتے ہیں خبر کی طرح ہے اکثر ان چیزوں میں جو کہ ذکر کی گئیں کس کے اندر؟ ابوابِ خمسہ میں۔ بھئی ابوابِ خمسہ پچھلے جو تھے اس میں جو چیزیں چلیں وہ ساری کس میں جاری ہوں گی؟ انشاء میں بھی جاری ہوں گی مولانا، ابوابِ خمسہ سابقہ میں، یعنی أحوال الإسناد، والمسند إليه، والمسند، ومتعلقات الفعل، والقصر، یہ سارے اس میں بھی جاری ہوں گے۔ فَلْيَعْتَبِرْهُ النَّاظِرُ، پس اعتبار کرنا چاہیے اس کا دیکھنے والے کو، أَيْ ذَٰلِكَ الْكَثِيرَ الَّذِي يُشَارِكُ فِيهِ الْإِنْشَاءُ الْخَبَرَ، اس کثیر کا جس کے اندر انشاء خبر کے ساتھ شریک ہے، تو وہ سارے اس میں بھی جاری ہوں گے، تو اعتبار کرنا چاہیے ناظر، دیکھنے والے کو۔ بھئی دیکھنے والا کیا معنی؟ أَيْ اَلنَّاظِرُ بِنُورِ الْبَصِيرَةِ فِي لَطَائِفِ الْكَلَامِ، جو دیکھنے والا ہو نورِ بصیرت کے ساتھ کلام کے لطائف میں نظر ڈالنے والا ہو۔ مَثَلًا، مثال کے طور پر: اَلْكَلَامُ الْإِنْشَائِيُّ أَيْضًا إِمَّا مُؤَكَّدٌ أَوْ غَيْرُ مُؤَكَّدٍ، کلامِ انشائی بھی یا تو مؤکد ہوگا یا غیر مؤکد ہوگا، تو وہاں بھی آپ نے تاکید پڑھی تھی، یہاں بھی قیاس کر لینا۔ وَالْمُسْنَدُ إِلَيْهِ فِيهِ إِمَّا مَحْذُوفٌ أَوْ مَذْكُورٌ إِلَىٰ غَيْرِ ذَٰلِكَ، یا مسند الیہ جیسے وہاں محذوف تھا یا مذکور تھا، یہاں بھی اسی طرح کبھی مذکور ہوگا اور کبھی اور وہی نکات اس میں بھی جاری ہوں گے۔ هَٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
50 approved lectures · 38 of 50