Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-021

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 21 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 12
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل کے سبق میں مولانا بلاغت کی بات شروع کی تھی ہم نے۔ بتلایا تھا انہوں نے کہ بلاغت کس کو کہتے ہیں؟ کلام کا مطابق ہونا کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ مع فصاحت الکلام، کہ ساتھ ساتھ کلام بھی کیا ہو؟ فصیح ہو۔ تو دو باتیں آئی تھیں: ایک آئی تھی مطابقت کلام کی مقتضائے حال کے ساتھ، اور دوسری بات آئی تھی فصاحت کلام کی۔ پہلی بات گزر چکی ہے فصاحتِ کلام تفصیل کے ساتھ، تو انہوں نے بات شروع کی مقتضائے حال کی بھئی، مطابقت مقتضائے حال کے ساتھ بھئی۔ تو سب سے پہلے حال کے بارے میں آپ کو بتلایا بھئی، حال کے بارے میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مخاطب کے ساتھ مثال کے طور پر آپ کلام کرتے ہیں، تو وہ تین حال سے خالی نہیں: یا تو وہ منکر ہوگا، یا متردد ہوگا، یا خالی الذہن ہوگا بھئی۔ اور تو منکر، تو یہ حال ہے مولانا، منکر ہونا یا متردد ہونا یا خالی الذہن ہونا۔ اور یہ حال تقاضا کرتا ہے، اگر منکر ہے تو کس چیز کا ارادہ، تقاضا کرتا ہے؟ تاکید کا وجوباً۔ تو یہ تاکید ہوئی مقتضائے حال۔ تاکید کیا ہوئی؟ مقتضائے حال۔ تو تاکید وجوباً ہوئی، یہ مقتضائے حال۔ تو اب بتلا رہے ہیں حال کے بارے میں بھئی، "والحالُ" کہ حال وہ امر ہے جو بلانے والا ہے اس بات کی طرف کہ اعتبار کیا جائے کسی خصوصیت کا مولانا، کسی نقطے کا اعتبار کیا جائے، اس کی رعایت رکھی جائے، اس کا لحاظ رکھا جائے، اس کلام کے ساتھ جس کے ساتھ آپ کس کو ادا کر رہے ہیں؟ اصلِ مراد۔ مثلاً میں آپ کو قیامِ زید کی خبر دینا چاہتا ہوں، تو یہ اصلِ مراد ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اصلِ مراد قیامِ زید کی خبر۔ اور پھر مولانا اگر مخاطب منکر ہے تو ساتھ میں خصوصیت یعنی تاکید کا بھی لحاظ رکھوں گا مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو وہ امر جس نے کہا کہ اس تاکید کا لحاظ رکھو، وہ کیا ہے؟ حال ہے۔ وہ کیا ہے؟ حال۔ ہاں، اس نے دعوت دی اس بات کی طرف کہ اس نقطے، اس خصوصیت کا بھی لحاظ رکھو۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہی خصوصیت، یہ مقتضائے حال ہے۔ یہ خصوصیت کیا ہے؟ مقتضائے حال ہے بھئی۔ اور کہا تھا مثال کے طور پر آپ منکر کے سامنے کیا کہتے ہیں؟ "انّ زیداً فی الدار"۔ "انّ زیداً فی الدار"، تو یہ کلامِ مؤکد ہے، "انّ" کے ساتھ آپ نے اس کی تاکید لے کر آئے، اور یہ کلام مطابق ہے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال۔ اور مقتضائے حال کا کیا معنی کیا تھا؟ خصوصیت بھئی۔ تو کلام مطابق ہے خصوصیت کے، یعنی مشتمل ہے خصوصیت پر۔ تو مطابق کس معنی میں ہوا؟ مشتمل۔ اور مقتضائے حال کس معنی میں ہوا؟ خصوصیت۔ جی، تو کلام کا مشتمل ہونا اس خصوصیت پر، یہ کیا ہے مولانا؟ جی، یہ ہے بلاغت مولانا، کلام کا اس خصوصیت پر مشتمل ہونا۔ اور پھر علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا کہ یہ تو سرسری بات ہے، ظاہری بات ہے، تحقیقی بات یہ ہے مولانا، کہ سرسری بات کیا بتلائی مولانا؟ ظاہری بات کیا بتلائی؟ مقتضائے حال کس چیز کا نام ہے؟ خصوصیت کا۔ کہتے ہیں تحقیقی بات یہ ہے کہ خصوصیت کا نام نہیں بھئی، یہ ایک کلامِ کلی کا نام ہے۔ مقتضائے حال کس کا نام ہے؟ کلامِ کلی۔ ایسا کلامِ کلی جو مشتمل ہو اس خصوصیت پر۔ مثلاً وہ خصوصیت کیا تھی؟ تاکید تھی۔ تو وہ کلام جو اس تاکید پر مشتمل ہو، وہ کلامِ کلی جو اس تاکید پر مشتمل ہو، یعنی کلامِ مؤکد۔ تو کلامِ مؤکد یہ کیا ہے؟ مقتضائے حال۔ اور وہ آپ جو کلام کرتے ہیں، یہ مطابق ہونا چاہیے اس کلامِ مؤکد کے، یعنی اس کے افراد میں سے ہونا چاہیے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب تاکید کی کتنی، کلامِ مؤکد ہے، میں کہتا ہوں بھئی: "زیدٌ قائمٌ" یہ بھی کلامِ مؤکد، میں کہتا ہوں: "انّ زیداً قائمٌ" یہ بھی کلامِ مؤکد، میں کہتا ہوں: "انّ زیداً لقائمٌ" یہ بھی کلامِ مؤکد، میں کہتا ہوں: "واللہِ انّ زیداً لقائمٌ" یہ بھی کیا ہے؟ کلامِ مؤکد۔ تو کلامِ مؤکد یہ کلی ہوا، اور باقی جو بھی آپ کوئی ایک خاص کلام کریں گے وہ کیا ہوگا؟ اس کے افراد میں سے، تو وہ کیا ہوا؟ جزئی۔ تو وہ جو جزئی یا وہ جو فرد جس پر تکلم کرتا ہے متکلم، اس کو اس کلامِ کلی، اس کا اس کلامِ کلی کے افراد میں سے ہونا، اس کی جزئیات میں سے ہونا، یہ کیا ہے؟ یہ بلاغت ہے بھئی۔ جی، تو یہ کلامِ جزئی مطابق ہے اس کلامِ کلی کے۔ بھئی آپ نے کہا: "انّ زیداً فی الدار"، تو یہ کلامِ جزئی جو ہے مطابق ہوا کس کے؟ اس کلامِ کلی کے مولانا۔ کیا معنی؟ یعنی کہ وہ کلامِ کلی اس پر صادق آ رہا ہے، اس کا حمل کرنا اس پر صحیح ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں: "انّ زیداً فی الدار"، یہ سارا کلام جو ہے، "انّ زیداً فی الدار کلامٌ مؤکدٌ"، یہ کلام کیا ہے؟ مؤکد ہے۔ تو حمل ہوا مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو کہتے ہیں یہ برعکس ہے اس کے جو حکماء کہتے ہیں، وہ کیا کہتے ہیں؟ کہ کلی مطابق ہے کس کے؟ جزئی کے، اور یہ تو آیا جزئی مطابق ہے کس کے؟ کلی کے۔ تو اس کی وجہ علامہ تفتازانی نے بتلائی کہ بھئی میں شارح ہوں اور میں پابند ہوں کس کا؟ متن کا، اور متن کے اندر چونکہ جزئی کو مطابق بنایا گیا تھا اور کلی کو مطابق، تو میں نے بھی اس لیے کیا کیا؟ جزئی کو مطابق بنایا اور کلی کو مطابق بنایا بھئی۔ ورنہ کہتے ہیں اصل بات یوں ہے بھئی، اور لیکن پھر بھی کہتے ہیں فرق کوئی نہیں پڑتا، نتیجہ ایک ہی نکلے گا بھئی۔ اور پھر بتلایا تھا انہوں نے کہ مقتضیاتِ احوال مختلف ہیں، کیوں؟ کیونکہ مقاماتِ کلام کیا ہیں؟ مختلف ہیں بھئی۔ اس پر بھئی اشکال ہوا بھئی کہ مقتضیاتِ احوال مختلف ہیں، آپ کو یہ کہنا چاہیے یہ مقتضیات کیوں مختلف ہیں؟ کیونکہ احوال کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ جب احوال مختلف ہیں تو ہر حال کا مقتضیٰ بھی الگ ہوگا، تو مقتضیاتِ احوال بھی کیا ہوئے؟ مختلف۔ اور آپ کیا کہہ رہے ہیں کہ مقتضیاتِ احوال مختلف ہیں کیونکہ مقاماتِ کلام کیا ہیں؟ مختلف ہیں۔ تو آپ احوال کے بجائے مقام کا لفظ لے آئے، تو علامہ تفتازانی نے بتلایا بھئی کہ دونوں میں فرق اعتباری ہے، دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ اگر وہ، اگر اس امرِ داعی کے اندر معتبر نے اعتبار کس چیز کا کیا؟ زمانے کا، تو وہ کیا ہے؟ حال، کیونکہ اس میں حال ہے، اس زمانے کے اندر کلام ہوا ہے۔ اور اگر معتبر نے اس امرِ داعی کے اندر بھئی کس چیز کا لحاظ کیا؟ محل کا ارادہ کیا، کہ یہ محل ہے کہ جہاں پر کیا کیا گیا ہے؟ کلام کیا گیا ہے، تو اس اعتبار سے یہ کیا ہے؟ مقام ہے بھئی۔ تو دونوں میں فرق اعتباری ہے۔ پھر اس کے بعد مولانا، صاحبِ تلخیص نے اپنی عبارت کے اندر مقتضیاتِ احوال کو بند کرنے کی کوشش کی بھئی، اجمالاً ان کو بند کیا۔ اور بتلایا تھا کہ مقامات مختلف ہیں: کوئی مقام کس کا تقاضا کرتا ہے؟ تنکیر کا، کوئی تنکیر کا، کوئی تعریف کا، کوئی اطلاق کا، کوئی تقیید کا، کوئی تقدیم کا، کوئی تاخیر کا، کوئی ذکر کا، کوئی حذف کا۔ تو ان میں سے یہ آپس میں ایک دوسرے کے مخالف ہیں: تنکیر تعریف کے مقام کے مخالف ہے مولانا، اور مقامِ اطلاق مقامِ تقیید کے مخالف ہے مباین ہے مولانا، اور مقامِ تقدیم مقامِ تاخیر کے مباین ہے بھئی۔ پھر اس کے بعد ماتن نے ذکر کیا کہ مقامِ فصل مباین ہے کس کے؟ مقامِ وصل کے۔ اس پر اشکال ہوا تھا: اس کو علیحدہ کیوں ذکر کیا بھئی؟ اس کو بھی اسی کے ساتھ ذکر کر دیتے۔ تو بتلایا تھا انہوں نے علامہ تفتازانی نے کہ بھئی چونکہ فصل اور وصل کا باب نہایت اہم ہے، یہاں تک کہ بعض علماء نے تو یہ بھی کہا کہ جس کو فصل اور وصل کا پتہ چل گیا اس کو بلاغت آئی، جس کو فصل وصل کا پتہ نہیں چلا اسے علمِ بلاغت کا علم پتہ بھی نہیں۔ تو اس لیے اس کو علیحدہ ذکر کیا بھئی۔ "وللتنبیہ علی عِظم الشان فصّل قولہ"، یہاں بھی وہی بات کر رہے ہیں۔ آگے کیا آ رہا ہے؟ "ومقامُ الایجازِ یُباینُ مقامَ خلافِہ"۔ ایک ہے ایجاز مولانا، ایک ہے اطناب، ایک ہے مساوات بھئی۔ ایجاز، اطناب اور مساوات۔ بھئی ایجاز کہتے ہیں کہ زیادہ معنی کو تھوڑے لفظوں کے ساتھ ادا کر دیا جائے، زیادہ معنی کو تھوڑے لفظوں کے۔ اور مساوات کہتے ہیں کہ جتنا لفظ ہیں اتنا ہی معنی ہے، جتنا معنی ادا کیا اتنے ہی لفظ آپ نے استعمال کیے۔ اور اطناب کہتے ہیں مولانا کہ معنیٰ مراد تو تھوڑا تھا لیکن لفظ کیا ہیں؟ زیادہ ہیں۔ یرحمک اللہ۔ اور اطناب کیا ہے؟ کہ معنیٰ مراد تھوڑا ہے اور الفاظ کیا ہیں؟ زیادہ ہیں۔ لیکن جو زیادہ ہیں وہ بھی بغیر فائدے کے نہیں، ان کا بھی کچھ نہ کچھ فائدہ ہے، اس کو کہتے ہیں اطناب بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ایجاز، اطناب اور مساوات، یہ ہے مولانا۔ تو ایک مقام ہے ایجاز کا، وہ تقاضا کرتا ہے کہ یہاں پر کیسا کلام کیا جائے؟ مختصر کلام کیا جائے جس کا معنی کیا ہو؟ زیادہ۔ ایک مقام ہے مولانا وہ اطناب کا تقاضا کرتا ہے کہ یہاں پر کیا کرنا چاہیے؟ تفصیلی کلام کرنا چاہیے، اور ایک مساوات کا۔ تو کہتے ہیں ایجاز کا مقام مباین ہے اپنے مخالف کے مقام کے، کون ہے اس کے مخالف بھئی؟ اطناب اور مساوات۔ تو اس پر بھی اشکال ہوا کہ اس کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟ اس کو بھی پچھلوں کے ساتھ ذکر کر دیتے، تو بتلایا: "للتنبیہ علی عظم الشان"، یہاں پر بھی ان کی عظمتِ شان پر تنبیہ کرنے کے لیے "فصّل قولہ" جدا کر دیا اپنے اس قول کو مصنف نے: "ومقامُ الایجاز یُباین مقام خلافہ"، کہ ایجاز کا مقام وہ مباین ہے اپنے مخالف کے مقام کے، اور وہ کون ہیں؟ "ای الاطناب والمسواۃ"، یعنی کہ وہ اطناب اور مساوات ہیں بھئی۔ "وکذا خطابُ الذکیّ مع خطاب الغبیّ"، اور اسی طرح حال ہے خطابِ ذکی کا خطابِ غبی کے ساتھ۔ خطاب کس کو کہتے ہیں؟ وہ کلام جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ خطاب کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بھئی آپ لوگ بیٹھے ہیں، میں آپ سے کوئی بات کر رہا ہوں، یہ خطاب ہے، یہ کیا ہے؟ یہ کلام میں کس کی طرف متوجہ ہو کر کر رہا ہوں؟ مخاطب کی طرف متوجہ ہو کر کر رہا ہوں، اس کو خطاب کہتے ہیں بھئی، اس کلام کا نام خطاب ہے۔ تو ایک خطاب ہے مولانا غبی کے ساتھ کیا جائے گا اور ایک خطاب ہے ذکی کے ساتھ، غبی کند ذہن، ذکی ذہین بھئی۔ غبی کے سامنے جب میں تقریر کروں گا مولانا لازمی بات ہے کیا کروں گا؟ تفصیل کے ساتھ کلام کروں گا بھئی، تاکہ وہ اچھی طرح سمجھے۔ اور ایک ذہین ہے اس کے سامنے جب میں تقریر کروں گا تو صرف اشارات سے ہی کام چلاتا جاؤں گا کیونکہ مجھے پتہ ہے کہ یہ بات کو کیا کر رہا ہے؟ اشارات ہی کو سمجھتا جا رہا ہے۔ تو دونوں مقام کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے مباین ہیں، یہ معنی ہے۔ اسی طرح خطاب ذکی کا ہے کس کے ساتھ؟ غبی کے خطاب کے ساتھ، یعنی یہ بھی آپس میں اسی طرح ہے، خطابِ ذکی کا مقام جو ہے وہ مباین ہے کس کے؟ غبی۔ جی، "فانّ مقام الاول یُباین مقام الثانی"، اس لیے کہ اول کا مقام جو ہے، یعنی وہ خطابِ ذکی کا مقام، وہ مباین ہے ثانی کے مقام کے، یعنی خطابِ غبی کے۔ "فانّ الذکیّ یُناسبہ"، جی اس کے نیچے دیکھیں سطر کے اندر ذکی کے نیچے: "فانّ الذکی یُناسبہ ما لا یُناسب الغبیّ"، اس لیے کہ ذکی کے مناسب ہیں کچھ وہ چیزیں "ما لا یناسب الغبیّ" جو کہ غبی کے مناسب نہیں ہیں۔ بھئی وہ کیا چیزیں ہیں؟ درمیان میں مولانا بیان کر رہے ہیں: "من الاعتبارات اللطیفۃ والمعانی الدقیقۃ الخفیۃ"، کہ ذکی کے مناسب کیا ہیں؟ اعتباراتِ لطیفہ، لطیف باریک اعتبارات آپ کرتے ہیں مولانا، "والمعانی الدقیقۃ الخفیۃ" اور بڑے باریک اور خفی معانی لے کر آتے ہیں اس کے سامنے، وہ ان کو سمجھ لیتا ہے، لیکن یہ چیزیں کس کے؟ غبی کے مناسب نہیں ہیں، وہ ان باتوں کو نہیں سمجھے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے سب کو؟ جی۔ "ولکلّ کلمۃٍ مع صاحبتِہا مقامٌ"، اور ہر کلمے کا اپنے ساتھی کلمے کے ساتھ ایک مقام ہے بھئی۔ ہر کلمے کا اپنے ساتھی کلمے کے ساتھ ایک مقام ہے، کہ دوسرے کلمے کے ساتھ اس کا وہ مقام نہیں بھئی۔ دیکھو مولانا! "اِنْ" ہے، "اِذَا" ہے۔ "اِنْ" بھی شرط کے لیے آتا ہے اور "اِذَا" بھی کس لیے آتا ہے؟ شرط کے لیے۔ لیکن "اِنْ" آئے گا مقامِ شک میں، اور "اِذَا" آئے گا مقامِ یقین میں بھئی۔ "اِنْ" کس میں آئے گا؟ مقامِ شک میں، اور "اِذَا" کس میں آئے گا؟ مقامِ یقین میں۔ اب میں کہتا ہوں: "اِنْ ضَرَبْتَ"، اور پھر یا کہتا ہوں: "اِذَا ضَرَبْتَ"، تو دیکھو اس "ضَرَبْتَ" کا مقام "اِنْ" کے ساتھ اور ہے اور "اِذَا" کے ساتھ اور ہے۔ کیونکہ "اِنْ" نے شرط کے ساتھ ساتھ کس چیز کا فائدہ دیا؟ شک کا، کس کا؟ شک کا۔ اور "اِذَا" نے کس چیز کا فائدہ دیا؟ یقین کا۔ حالانکہ اصل معنی میں دونوں شریک بھی ہیں، وہ بھی شرط کے لیے آ رہا ہے، یہ بھی کس کے لیے آ رہا ہے؟ شرط کے لیے۔ تو "ضَرَبْتَ" کا جو مقام "اِنْ" کے ساتھ ہے "ضَرَبْتَ" کا وہ مقام "اِذَا" کے ساتھ نہیں، اور "ضَرَبْتَ" کا جو مقام "اِذَا" کے ساتھ ہے "ضَرَبْتَ" کا وہ مقام "اِنْ" کے ساتھ نہیں ہے۔ تو ہر کلمے کا اپنے ساتھی کلمے کے ساتھ ایک مقام ہے جو دوسرے کلمے کے ساتھ نہیں، اگرچہ دونوں اصل معنی میں شریک ہوں۔ "اِنْ" اور "اِذَا" اصل معنی کیا ہے مولانا؟ شرط، اس میں دونوں کیا ہیں؟ شریک ہیں۔ "ولکلّ کلمۃٍ مع صاحبتِہا"، اور ہر کلمے کا اپنے ساتھی کلمے کے ساتھ، خود بتلا رہے ہیں: "ای مع صاحبتِہا"، مع صاحبتہا کا کیا معنی؟ "ای مع کلمۃٍ اخریٰ"، دوسرے کلمے کے ساتھ، ایسا کلمہ "مصاحبۃٍ لہا" جو اس کا مصاحب ہے اس کے ساتھ ہے، تو اس کے ساتھ "مقامٌ" ایک ایسا مقام ہے "لیس لتلک الکلمۃِ"، کہ نہیں ہے اس کلمے کا "مع ما"، "ما" بھی عبارت ہے کلمے سے۔ یرحمک اللہ۔ مثال کے طور پر دیکھو بھئی، دوبارہ دیکھو: "ولکلّ کلمۃٍ"، اور ہر کلمے کا، مثلاً "ضَرَبْتَ" ہے، کیا ہے؟ "ضَرَبْتَ" کا، "مع صاحبتِہا" اس کا اپنے ساتھی کلمے کے ساتھ، یعنی "اِنْ" کے ساتھ، "مقامٌ" کیا ہے؟ ایک مقام ہے، "لیس لتلک الکلمۃِ" کہ نہیں ہے اس کلمے کا، وہ کون سا کلمہ ہے؟ "ضَرَبْتَ"، کیا؟ کہ نہیں ہے "ضَرَبْتَ" کا مقام "مع ما" اس کلمے کے ساتھ "یُشارک تلک الصاحبۃ" جو اس کے ساتھی کے ساتھ شریک ہے "فی اصل المعنیٰ" کس کے اندر؟ اصل معنی، یعنی "اِذَا"۔ "اِذَا" "اِنْ" کے ساتھ شریک ہے کس کے اندر مولانا؟ اصل معنی کے، تو اس "ضَرَبْتَ" کا مقام نہیں ہے "اِذَا" کے ساتھ، وہ مقام اس "اِذَا" کے ساتھ نہیں۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے سب کو بھئی؟ حالانکہ اصل معنی میں شریک ہیں دونوں بھئی۔ مثلاً مثال کے طور پر: "الفعل الذی قُصد اقترانہ بالشرط"، جس کا ارادہ کیا گیا ہو شرط کے ساتھ ملانے کا، "فلہ مع اِنْ مقامٌ" اس کا "اِنْ" کے ساتھ ایک مقام ہے، "لیس لہ مع اذا" کہ نہیں ہے اس کا وہ مقام کس کے ساتھ؟ "اِذَا" کے ساتھ۔ جی۔ اسی طرح "اِنْ" کے بعد "اِنْ ضَرَبْتَ" میں کہتا ہوں، ماضی لے کر آیا، یا میں کہتا ہوں: "اِنْ تَضْرِبْ"، کیا لے کر آیا؟ مضارع لے کر آیا۔ تو "اِنْ" کے ساتھ "ضَرَبْتَ" کا جو مقام ہے، ماضی کا جو مقام ہے، وہ مضارع کا مقام نہیں۔ ماضی کس لیے آتا ہے مولانا؟ گزرے ہوئے زمانے کے لیے اور یقین کے لیے آتا ہے، ایک چیز یقیناً یقینی ہو چکی، اور مضارع کس لیے آتا ہے؟ حال اور استقبال کے لیے آتا ہے اور استمرار کا فائدہ دیتا ہے۔ تو "اِنْ" کا جو مقام ماضی کے ساتھ ہے، وہ مباین ہے "اِنْ" کے مقام کس کے ساتھ؟ مضارع کے ساتھ۔ "وکذا لکلّ کلمۃٍ من ادوات الشرط مع الماضی مقامٌ لیس لہ مع المضارع"، اور اسی طرح ہر وہ کلمہ جو کہ ادواتِ شرط میں سے ہو اس کا ماضی کے ساتھ ایک مقام ہے کہ وہ مقام اس کا مضارع کے ساتھ نہیں ہے۔ "وعلیٰ ھذا القیاس"، "ای القیاس ثابت علی ھذا"، قیاس اسی طریقے پر ثابت ہے، یعنی اسی پر قیاس کر لیجیے بھئی، کہ ہر کلمے کا دوسرے کلمے کے ساتھ ایک مقام ہوتا ہے جو کسی تیسرے کلمے کے ساتھ نہیں ہوتا، باقی سب چیزوں کو اسی پر قیاس کر لو۔ "وارتفاعُ شان الکلام فی الحسن والقبول بمطابقتہ للاعتبار المناسب، وانحطاطہ ای انحطاط شانہ بعدمہا ای بعدم مطابقتہ للاعتبار المناسب"۔ یہاں سے نئی بات بتلا رہے ہیں مولانا، نئی بات۔ ایک ہے مولانا نفسِ بلاغت، ایک ہے مولانا کمالِ بلاغت۔ ایک کیا ہے؟ نفسِ بلاغت، ایک ہے کمالِ بلاغت۔ نفسِ بلاغت آئے گی نفسِ مطابقت کے ساتھ، اور کمالِ بلاغت آئے گی کمالِ مطابقت کے ساتھ بھئی۔ نفسِ بلاغت کس سے آئے گی؟ نفسِ مطابقت کلام میں آ جائے تو نفسِ بلاغت آ گئی، اور کمالِ مطابقت آ جائے تو کیا آ جائے گی مولانا؟ کمالِ بلاغت بھئی۔ دیکھیے مولانا! میرے سامنے جیسے انکار ہے مولانا، میرے سامنے مخاطب کون ہے؟ منکر، کیا کرنے والا ہے؟ انکار کرنے والا ہے ایک بات کا۔ اب اس انکار کے کئی درجے ہیں: یہ انکار یا تو ضعیف ہوگا، یا یہ انکار شدید ہوگا، یا یہ اشد ہوگا مولانا۔ ضعیف انکار ہوگا اس بات کا، یا کیا ہوگا؟ شدید ہوگا، یا اشد ہوگا مولانا، اشد ہوگا۔ اب میرے سامنے مثلاً مولانا ایک شخص ہے وہ منکر ہے اشد قسم کا، سخت منکر ہے ایک بات کا، اور یہ شدید منکر ہونا اس کا مولانا، اشد منکر ہونا، یہ تقاضا کرتا ہے کہ میں کلام میں چار تاکیدات لے کر آؤں۔ ایک آدھی سے کام نہیں چلے گا مولانا، انکار کس قسم کا ہے؟ بڑا زبردست ہے، تو تاکیدات بھی وہ اتنی ہی زیادہ چاہے گا۔ تو مثلاً وہ کتنی تاکیدات چاہتا ہے؟ چار تاکیدات چاہتا ہے۔ اس منکرِ اشد کے سامنے میں نے کہا: "زیدٌ قامَ"، میں جملہ اسمیہ لے کر آیا مولانا، اور جملہ اسمیہ میں کیا ہوتی ہے؟ ایک تاکید ہوتی ہے۔ تو نفسِ مطابقت آ گئی مولانا، مقام بھی تقاضا کر رہا تھا تاکید کا اور میں بھی کلام میں کیا لے آیا؟ تاکید۔ تو نفسِ مطابقت آ گئی، نفسِ بلاغت آ گئی، یہ کلام بلیغ ہے مولانا، یہ کلام کیا ہے؟ بلیغ ہے۔ لیکن یہ مقام تو تقاضا کر رہا تھا چار کا، اور میں کتنی لے کر آیا؟ ایک۔ اب میں اس کے سامنے یوں کہتا ہوں مولانا: "انّ زیداً قامَ"، یا مولانا "زیدٌ قائمٌ" کی مثال بنا لو، پہلے میں نے کیا کہا: "زیدٌ قائمٌ" مولانا، تو یہ کیا ہے؟ نفسِ مطابقت آ گئی، نفسِ بلاغت آ گئی۔ پھر میں ایک تاکید بڑھاتا ہوں: "انّ زیداً قائمٌ" بھئی، "انّ زیداً"، کتنی تاکیدات آئیں کلام میں؟ دو۔ اور مطابقت بڑھ گئی مولانا۔ پہلے چار چاہتا تھا، ایک تھی، اب بھی چار چاہتا ہے، کتنی آ گئیں؟ دو آ گئیں مولانا، تو بلاغت میں کلام کا رتبہ بڑھ گیا کیونکہ مطابقت بڑھ گئی۔ پھر میں تین لے کر آتا ہوں: "انّ زیداً لقائمٌ" مولانا، ایک جملہ اسمیہ، ایک "انّ"، ایک لامِ تاکید مولانا، مطابقت کلام کی اور بڑھ گئی مولانا، تو بلاغت میں اس کا مرتبہ اور بڑھ گیا۔ پھر میں کہتا ہوں: "واللہِ انّ زیداً لقائمٌ" بھئی، مقام بھی چار کا تقاضا کر رہا تھا، میں بھی چار لے آیا مولانا، تو اب کمالِ مطابقت آ گئی مولانا، تو کیا آئی مولانا؟ کمالِ بلاغت آ گئی، بلاغت میں کلام اپنی انتہا کو پہنچ گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جتنی مطابقت آئے گی اتنے کلام کا رتبہ بڑھتا جائے گا، اور جتنی مطابقت کم ہوتی جائے گی اس کا رتبہ، اب یہ چار تاکیدات چاہتا تھا مقام اور میں نے چار میں سے ایک کم کر دی، میں نے کہا: "انّ زیداً لقائمٌ"، تو کلام کا مقام کیا ہوا؟ گر گیا۔ پھر میں نے ایک اور کم کر دی: "انّ زیداً قائمٌ"، دو لے آیا صرف، تو کلام کا کیا ہوا؟ اور گر گیا۔ میں ایک لے کر آیا: "زیدٌ قائمٌ"، تو مقام کلام کا کیا ہوا؟ مرتبہ اور گر گیا اس کا، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جتنی مطابقت بڑھتی جائے گی مقتضائے حال کے ساتھ، کلام کا رتبہ بڑھتا جائے گا، اور جتنی کم ہوتی جائے گی اس کا رتبہ یہ کم ہوتا اور گرتا جائے گا بھئی۔ یہی بات کر رہے ہیں مولانا: "وارتفاعُ شان الکلام"، ارتفاع کا معنی بلند ہونا، شان مولانا مرتبہ، کلام کے مرتبے کی بلندی، "فی الحسن والقبول" کس کے اندر مولانا؟ حسن و قبولیت کے اندر، یعنی بلاغت کے اندر، کس کے اندر؟ ہاں، کلام کے مرتبے کی بلندی بلاغت کے اندر، "بمطابقتہ للاعتبار المناسب"، باء سببیہ ہے، بوجہ اس کے مطابقت کے ہے۔ کس کے ساتھ مطابقت بھئی؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ اعتبارِ مناسب وہی مقتضائے حال ہے مولانا، جتنی مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت ہوگی کلام کی شان بھی کیا ہوگی؟ بلند۔ "وانحطاطہ ای انحطاط شانہ بعدمہا"، ضمیر کا مرجع بتلایا، اور کلام کے مرتبے کا گرنا ہوگا "بعدمہا ای بعدم مطابقتہ"، کس کے ساتھ مولانا؟ عدمِ مطابقت کس کے ساتھ؟ "للاعتبار المناسب" اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ اچھا تو کیا کہا مولانا؟ کلام کا مرتبے کی بلندی حسن و قبولیت میں، یعنی بلاغت کے اندر، کس کے سبب سے ہوگی؟ "بمطابقتہ" اس کلام کی مطابقت کے سبب سے ہوگی، کس چیز کے ساتھ مطابقت؟ "للاعتبار المناسب"، اعتبار مصدر ہے مولانا بمعنی معتبر کے بھئی، اعتبار بمعنی معتبر کے ہے، موصوف نکال لیں یعنی امرِ معتبر، کہ جتنی اس کلام کی مطابقت ہوگی اس امرِ معتبر کے ساتھ "المناسب للحال" جو مناسب ہو کس کے؟ حال کے۔ بھئی امرِ معتبر وہ جس کا اعتبار کیا بھئی، کس نے؟ متکلم نے۔ متکلم نے کیا کیا؟ بھئی یہ منکر تھا تو میں نے اس کے اس انکار کا کیا کیا؟ اعتبار کیا یا نہیں؟ اس کی رعایت رکھی یا نہیں رکھی مولانا؟ تو وہ امر جس کی میں نے رعایت رکھی اور جو مناسب تھا کس کے؟ حال کے۔ حال کے کیا تھا؟ مناسب تھا یا نہیں تھا مولانا؟ جس کی میں نے رعایت رکھی، اور انکار اس کے لیے پھر میں کیا لے کر آیا کلام میں؟ تاکیدات لے کر آیا۔ خود دیکھیے آگے تشریح کریں گے بھئی علامہ تفتازانی۔ کہتے ہیں: "والمراد بالاعتبار المناسب"، اعتبارِ مناسب سے مراد کیا ہے؟ کہتے ہیں: "الامر الذی اعتبرہ المتکلم"، وہ امر ہے جس کا اعتبار کس نے کیا ہو؟ یعنی جس کی رعایت رکھی ہو متکلم نے اس حال میں کہ "مناسباً للمقام" وہ کیا ہو؟ مناسب ہو، مقام کے مناسب بھی ہو مولانا۔ تو مقام کے مناسب ایک امر تھا، اس کی متکلم نے رعایت رکھی بھئی۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ "بحسب السلیقۃ او بحسب تتبع تراکیب البلغاء"، اب یہ جو متکلم رعایت رکھتا ہے اس امرِ معتبر کی بھئی، یعنی مقتضائے حال بھئی، امرِ معتبر کیا ہے؟ مقتضائے حال، ہاں مقتضائے حال کر لیں آپ۔ تو یہ جو متکلم نے مقتضائے حال کی رعایت رکھی، یہ دو طریقے پر ہوگی مولانا: یا تو متکلم خالص عرب ہوگا مولانا، جب خالص عرب ہے تو اس کا اپنا ذوق اس کو بتلائے گا یہاں کس قسم کا کلام لے کر آنا ہے بھئی، تاکید لے کر آنی ہے کس طریقے پر تاکید لے کر آئیں گے۔ اچھا تو دو طریقے ہیں مولانا، اگر وہ خالص اگر وہ مولانا عجمی ہوا، اگر ایک شخص عجمی ہے مولانا وہ بھی رعایت رکھتا ہے اس امرِ معتبر کی، لیکن اس کو پتہ کس سے چلے گا بھئی؟ وہ تو غیر عربی ہے، کہتے ہیں اس کو اور عرب بلغاء جو ہیں ان کی تراکیب کا تتبع کرنا پڑے گا، ان کی تلاش و جستجو کرنا پڑے گی، دیکھے گا اور عرب کے جو بلیغ لوگ ہیں وہ اس موقع پر کس قسم کا کلام لے کر آتے ہیں، تو یہ بھی ویسا ہی کلام لے آئے گا۔ اور اگر عربی ہے تو پھر اس کو تلاش و جستجو کرنا پڑے گی؟ نہیں، اس کا سلیقہ، اس کی فطرت، اس کی طبیعت اس کو بتلا دے گی کہ یہاں پر کس قسم کا کلام لے کر آنا ہے بھئی۔ تو وہ امر جس کی رعایت کی ہو متکلم نے اس حال میں کہ وہ مناسب ہو کس کے؟ مقام کے، اور وہ رعایت کی متکلم نے بھئی "بحسب السلیقۃ"، سلیقہ کا معنی فطرت اور طبیعت مولانا، کس اعتبار سے؟ طبیعت کے لحاظ سے اس نے اس کی رعایت کی ہے مولانا، کیونکہ وہ عربی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ دیکھیے نیچے لکھا ہوا ہے: "ھذا اذا کان المتکلم من العرب العرباء"، جبکہ وہ خالص عربوں میں سے ہو، "او بحسب تتبع تراکیب البلغاء" یا مولانا اس نے رعایت کی ہے کس لحاظ سے؟ بلغاء کی تراکیب کی تلاش و جستجو کر کے رعایت رکھی ہے اس امرِ معتبر کی، یہ کب ہے؟ "اذا کان المتکلم من غیر العرب"، جبکہ متکلم کن میں سے ہو؟ غیر عرب۔ بات سمجھ میں بھی آ رہی ہے سب کو بھئی؟ جی۔ تو علامہ تفتازانی نے آپ کو یہاں پر بتلایا کہ متن کے اندر جو اعتبارِ مناسب کا لفظ آیا، یہاں پر اعتبار کس معنی میں ہے؟ معتبر کے معنی میں ہے، اسی لیے کہا: "الامر الذی اعتبرہ المتکلم"، وہ امر جس کا متکلم نے کیا کیا ہو؟ اعتبار کیا ہو اور مناسب ہو مقام کے۔ اچھا اب اس پر دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں کہ میں نے جو اعتبار کا معنی معتبر کے کیا اور رعایت کا ترجمہ کیا میں نے اس کا، کہتے ہیں: "یُقال"، عربی میں کہتے ہیں بھئی: "اعتبرتُ الشیءَ"، کب کہتے ہیں؟ "اذا نظرتَ الیہ وراعیتَ حالہ"، جب آپ کسی چیز کی طرف نظر کریں اور اس کے حال کی رعایت رکھیں۔ جب آپ کیا کریں؟ کسی چیز کی طرف نظر کریں اور اس کے حال کی رعایت رکھیں، تب آپ کہیں گے: "اعتبرتُ الشیءَ"، میں نے اس کی رعایت رکھی اس چیز کی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی بھئی؟ جی۔ "واراد بالکلام الکلامَ الفصیح"، اور کلام جو آیا بھئی، متن کے اندر دیکھیے بھئی: "وارتفاعُ شان الکلام"، اس کلام سے کیا مراد ہے؟ کلامِ فصیح۔ یہ دراصل علامہ تفتازانی ایک اعتراض کا جواب دینے لگے ہیں بھئی، جواب دے رہے ہیں۔ اعتراض یہ واقع ہوتا ہے بھئی، کہ ماتن نے جو بات کی وہ درست نہیں بھئی، یہ بات، کیوں؟ اس لیے کہ ماتن کہہ رہے ہیں کہ کلام کا رتبہ بڑھتا ہے، کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ مطابقت کے ذریعے، کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ مطابقت کے ذریعے بڑھتا ہے۔ بھئی مطابقت ہوگی تو کلام کے اندر حسن ہے، مطابقت نہیں تو کلام کے اندر سرے سے حسن ہی نہیں ہے بھئی۔ ہاں پھر، تو لہٰذا ماتن کو یہ نہیں کہنا چاہیے کہ کلام کا رتبہ بڑھتا ہے نفسِ مطابقت سے، بلکہ کہنا چاہیے کلام کا رتبہ بڑھتا ہے کمالِ مطابقت کے ساتھ۔ کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ کمالِ مطابقت کے ساتھ۔ تو حسن، حسن و قبولیت کے اندر کلام کا رتبہ کس سے بڑھتا ہے؟ کمال، نفسِ مطابقت سے تو حسن آئے گا بھئی۔ ماتن کہہ رہے ہیں کلام کا رتبہ بڑھتا ہے حسن کے اندر، بھئی حسن کے اندر رتبہ تب بڑھے گا جب پہلے نفسِ حسن تو آ جائے، اور نفسِ حسن کس سے آئے گا؟ مطابقت سے، کس سے آئے گا؟ مطابقت سے۔ مثلاً منکرِ اشد کے سامنے چار تاکیدات کی ضرورت تھی، میں اس کے سامنے "زیدٌ قائمٌ" کہوں گا، تو اب کلام کی نفسِ مطابقت آ گئی بھئی، اور نفسِ مطابقت آئی تو نفسِ حسن بھی آ گیا، اس سے پہلے کلام کے اندر کوئی حسن نہیں تھا۔ تو آپ کہہ رہے ہیں حسن میں کلام کا رتبہ بڑھے گا، حسن میں رتبہ بڑھنا تب ہوگا جب پہلے کیا پایا جائے؟ نفسِ حسن تو ہو، اگر نفسِ حسن ہی نہیں ہے تو پھر رتبہ بڑھنے کا کیا معنی؟ تو پہلے نفسِ حسن آئے گا، اور نفسِ حسن کس سے آتا ہے بھئی؟ نفسِ مطابقت سے۔ اور یہ بتلا رہے ہیں رتبہ بڑھے گا، اور رتبہ میں نے بتلایا پھر کس سے بڑھے گا بھئی؟ کمالِ مطابقت سے رتبہ بڑھے گا بھئی۔ حسن کے اندر رتبہ کس سے بڑھے گا؟ کمالِ مطابقت سے، اور نفسِ حسن کس سے آئے گا؟ نفسِ مطابقت سے آئے گا بھئی، نفسِ مطابقت سے۔ تو نفسِ مطابقت ہوئی تو کلام میں حسن آ گیا، اب اس کے اندر مطابقت بڑھتی چلی جائے گی تو کلام کا رتبہ بھی حسن کے اندر، اگر مطابقت ہی نہیں ہے تو نفسِ حسن بھی کلام کے اندر نہیں۔ تو متکلم، ماتن کو یوں کہنا چاہیے تھا: "وارتفاع شان الکلام فی الحسن والقبول بکمال مطابقتہ للاعتبار المناسب، وانحطاطہ وانحطاط شانہ بعدم کمال المطابقۃ" بھئی، اور رتبہ کس کے ذریعے گرے گا بھئی حسن و قبولیت میں؟ عدمِ کمالِ مطابقت کے ذریعے رتبہ گرے گا بھئی۔ اعتراض سمجھ میں آیا بھئی؟ کہ نہیں سمجھ میں آیا سب کو بھئی؟ جی، کچھ خاموش بیٹھے ہیں بھئی۔ جی؟ بھئی انہوں نے کہا کہ حسن کے اندر کلام کا مرتبہ بڑھے گا۔ بھئی حسن میں تب مرتبہ بڑھے گا نا جب پہلے کلام کے اندر حسن تو ہو۔ اگر حسن ہی نہیں ہے تو رتبہ بڑھنے کی بات تو بعد کی ہے، پہلے تو کیا چاہیے؟ حسن چاہیے، اور حسن کس کے ذریعے آئے گا؟ نفسِ مطابقت بھئی۔ کسی نہ کسی درجے میں تو کیا آ جائے بھئی؟ مطابقت آ گئی، جب مطابقت آ گئی اب کلام کے اندر کیا پیدا ہو گیا؟ حسن۔ اب اس کے رتبے کے بڑھنے کی بات کرو، اس سے پہلے تو رتبے کے بڑھنے کی بات ہی، پہلے تو نفسِ حسن ہی چاہیے اس کے لیے، اور وہ کس کے ذریعے آتا ہے؟ نفسِ مطابقت کے ذریعے بھئی۔ کسی نہ کسی درجے میں مطابقت آ جائے، اب جب مطابقت آ گئی اب اس مطابقت کو آپ جوں جوں بڑھاتے چلے جائیں گے کلام کا درجہ بھی حسن کے اندر بڑھتا چلا جائے گا۔ تو انہوں نے تو کہا کہ کلام کا رتبہ حسن میں بڑھے گا کس کے ذریعے؟ نفسِ مطابقت کے ذریعے بھئی، اور حالانکہ کہنا کیا چاہیے تھا؟ کمالِ مطابقت کے ذریعے بھئی۔ اور انہوں نے کہا کہ رتبہ گرے گا عدمِ مطابقت سے، حالانکہ رتبہ کس سے گرنا چاہیے؟ عدمِ کمالِ مطابقت سے۔ اب اشکال سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ تو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں، اسی کا جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: "واراد بالکلام الکلامَ الفصیح"، اور ماتن نے کلام کا لفظ جو متن میں ذکر کیا، اس کے ذریعے کس کا ارادہ کیا ہے؟ کلامِ فصیح کا۔ تو "ارتفاع شان الکلام الفصیح" بھئی، کس کلام کا رتبہ بڑھے گا؟ کلامِ فصیح کا۔ معلوم ہوا بھئی، کہتے ہیں بھئی مطابقت سے حسن نہیں، کلام کون سا کلام یہاں مراد ہے؟ کلامِ فصیح، اور کلامِ فصیح کسے کہتے ہیں جس کے اندر کسی قسم کا کوئی عیب نہ ہو، تو معلوم ہوا حسن اس کے اندر پہلے سے ہی موجود ہے۔ جب اس میں کوئی عیب نہیں ہے تو اس میں حسن پہلے سے ہی، تو کلامِ فصیح مراد ہے اور کلامِ فصیح اسے کہتے ہیں جس میں کسی قسم کا کوئی عیب نہ ہو تو اس کے اندر حسن پہلے سے ہی موجود ہے، اب مطابقت بھی آ جائے گی اس کے اندر تو اب اس کا درجہ کیا ہوگا؟ بڑھ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ "وبالحسنِ الحسنَ الذاتیَّ الداخلَ فی البلاغۃ" بھئی۔ اچھا بھئی، یہ بھی اعتراض کا جواب دے رہے ہیں بھئی۔ بھئی آپ نے کہا حسن کے اندر کلام کا درجہ کس کے ذریعے بڑھے گا؟ مطابقت کے ذریعے، کس کے ذریعے؟ مطابقت کے ذریعے۔ ٹھیک ہے ہم آپ کی بات مان لیتے ہیں بھئی، کلام سے مراد کلامِ فصیح ہے اور جب وہ کلام فصیح ہے تو حسن اس کے اندر آ چکا، اب اس کے اندر مطابقت بھی آ جائے گی تو اس کا حسن میں مرتبہ بڑھ جائے گا، بڑھ جائے گا۔ لیکن بھئی حسن میں درجہ تو محسنات کے ذریعے بڑھے گا، مطابقت کے ذریعے، بھئی محسناتِ بدیعیہ، علمِ بدیع کے اندر جا کر ہم کچھ صنعتیں پڑھیں گے بھئی، کچھ صنعتیں پڑھیں گے جن کے ذریعے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے بھئی۔ مثلاً وہاں ایک صنعتِ طباق ہے، صنعتِ طباق کسے کہتے ہیں؟ کہ کلام کے اندر دو ایسے معنی جمع کیے جائیں جو آپس میں ایک دوسرے کی ضد ہوں بھئی: سردی گرمی بھئی، صبح شام بھئی، روشنی اندھیرا، دو ضد جو معنی آپس میں ایک دوسرے کے ضدین ہوں ان کو کلام میں جمع کیا جائے تو یہ صنعتِ طباق ہے، اس سے کلام میں کیا پیدا ہوتا ہے؟ حسن پیدا۔ بہت سی چیزیں وہاں ذکر کریں گے جس سے کلام میں حسن پیدا ہوتا ہے۔ اور اسی طرح بعض چیزوں سے لفظوں کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے، مثلاً ایسے لفظ لے کر آئے جن کا تلفظ ایک جیسا ہے اور معنی الگ الگ ہیں، تلفظ ایک جیسا اور معنی، جیسے ایک شاعر کہتا ہے: "انّ فی بستاننا نارنجنا، من جنٰی ناراً جنٰی ناراً جنٰی"۔ یرحمک اللہ۔ تو دیکھو یہ لفظ ایک جیسے آ رہے ہیں لیکن معنی ان کے الگ الگ ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ جو محسناتِ لفظیہ اور معنویہ ہیں جو ذکر ہوں گے علمِ بدیع کے اندر، یہ جو کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں تو ان کے ذریعے حسن کلام کا بڑھے گا بھئی، یہ لے کر آؤ گے تو کلام کا حسن کیا ہو جائے گا؟ بڑھ جائے گا۔ تو لہٰذا آپ کا یہ کہنا کہ حسن مطابقت سے بڑھے گا یہ بات درست نہیں، حسن تو کس کے ذریعے بڑھے گا؟ ان محسناتِ علمِ بدیع کے اندر جو ہم پڑھیں گے محسناتِ بدیعیہ بھئی۔ تو یہاں علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں بھئی کہ وہ حسن زائد ہے بھئی، اور یہ جو ذکر کر رہے ہیں یہاں، یہاں حسنِ ذاتی مراد ہے جو بلاغت و فصاحت کے اندر داخل ہے بھئی۔ اور بلاغت اور فصاحت کے اندر کیا ہے؟ کہ کلمات سارے اس کے فصیح ہوں اور پھر اس کی اس حال کے ساتھ کیا آ جائے؟ مقتضائے حال کے ساتھ کلام کی کیا آ جائے بھئی؟ مطابقت آ جائے، یہ والے حسن مراد ہیں جو بلاغت کے اندر داخل ہیں۔ جو بلاغت کسے کہتے تھے بھئی؟ کلام بھی فصیح ہو اور مقتضائے حال کے بھی مطابق ہو، یہ والے یہ حسنِ ذاتی جو بلاغت کے اندر داخل ہیں بھئی جن کے بغیر بلاغت پائی ہی نہیں جاتی، تو یہ مراد ہیں۔ اور جبکہ وہ جو علمِ بدیع کے اندر صنعتیں پڑھیں گے ان کے ذریعے تو کلام میں حسن تو آتا ہے لیکن وہ حسن زائد ہے بھئی، وہ حسن کیا ہے؟ وہ ہو یا نہ ہو بھئی، کلام پھر بھی بہترین ہے اس لیے کہ اس کے سارے کلمات سارا کلام فصیح ہے اور اس کی مقتضائے حال کے ساتھ بھی کیا ہے؟ مطابقت ہے بھئی، تو بلاغت تو کلام کے اندر موجود ہے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو کہتے ہیں: "وبالحسنِ الحسنَ الذاتیَّ الداخلَ فی البلاغۃ"، اور حسن سے مراد کیا ہے؟ وہ حسن ہے جو ذاتی ہے اور داخل ہے بلاغت کی تعریف میں بھئی، "دون العرضیّ الخارجیّ"، نہ کہ وہ حسن جو عرضی ہو بھئی، عارض ہو زائد ہو مولانا، "الخارجیّ" خارج ہو بھئی بلاغت سے، "لحصولہ" اس وجہ سے کہ وہ حاصل ہوتا ہے کس کے ذریعے بھئی؟ وہ حسن جو زائد ہے اور خارج ہے کس کے ذریعے حاصل ہوتا ہے؟ محسناتِ بدیعیہ کے اندر، وہ تو بلاغت سے خارج ہیں بھئی، یہاں پر کون سا حسن مراد ہے جو بلاغت کے اندر داخل ہے، اور وہ کیا ہے؟ کون کون سا حسن ہے؟ کہ کلام سارا فصیح ہونا چاہیے اور اس کے مطابقت ہونی چاہیے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ بھئی۔ "فمقتضی الحالِ ھو الاعتبارُ المناسبُ للحال والمقام" بھئی۔ پس مقتضائے حال وہ اعتبارِ مناسب ہی ہے بھئی۔ "فمقتضی الحال ھو الاعتبار المناسب"، مقتضائے حال وہ اعتبارِ مناسب ہی ہے بھئی۔ دیکھو میں حصر لے کر آ رہا ہوں بھئی۔ یہ درمیان میں آپ "ھُو" دیکھ رہے ہیں، یہ ضمیرِ فصل ہے۔ ضمیرِ فصل کسے کہتے ہیں؟ آپ نے پڑھا ہوگا علمِ نحو کے اندر، کہ مبتدا تو ہوتا ہی معرفہ ہے، کبھی کبھار خبر بھی معرفہ آ جاتی ہے۔ اب مبتدا بھی معرفہ، خبر بھی معرفہ، تو اولِ نظر میں یوں معلوم ہوتا ہے شاید یہ مبتدا خبر نہیں ہیں بلکہ موصوف صفت ہیں، کیا ہیں؟ موصوف صفت، اس لیے کہ معرفہ کے بعد معرفہ آئے تو وہ عموماً کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت بھئی۔ تو لہٰذا ایسے موقع پر جب خبر بھی معرفہ ہو تو فرق کرنے کے لیے درمیان میں ایک مرفوع منفصل کا صیغہ لے آتے ہیں، ضمیر لے آتے ہیں بھئی، ضمیرِ مرفوع منفصل۔ یہ ضمیر آئی، دیکھو "فمقتضی الحال" یہ بھی معرفہ، "الاعتبار المناسب" یہ بھی کیا ہے؟ معرفہ، تو موصوف صفت کا شبہ ہو رہا تھا، تو یہاں درمیان میں کیا لے آئے؟ "ھُو" ضمیر۔ اب اس "ھُو" ضمیر نے بتلا دیا کہ یہ آپس میں موصوف صفت نہیں ہیں بلکہ کیا ہیں؟ مبتدا اور خبر ہیں۔ اسی لیے اسے ضمیرِ فصل کہتے ہیں، اس نے جدائی ڈال دی اس بات کے اندر کہ آگے آنے والا لفظ صفت نہیں ہے بلکہ خبر ہے، بلکہ خبر ہے۔ "فمقتضی الحال ھو الاعتبار المناسب"، پس مقتضائے حال وہ اعتبارِ مناسب ہی ہے، بھئی مناسب "للحال والمقام" وہ جو مناسب ہے کس کے؟ حال اور، پس مقتضائے حال وہ اعتبار ہے جو مناسب ہے حال اور مقام کے، یعنی دونوں ایک چیز ہیں، دونوں ایک چیز ہیں۔ اچھا بھئی، بھئی پیچھے متن میں ذرا دیکھیے بھئی، متن میں ماتن نے کیا کہا کہ کلام کا رتبہ بڑھتا ہے حسن و قبولیت میں کس کے ذریعے؟ مطابقت کے ذریعے، کس کے ساتھ اس کی مطابقت ہو جب؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ اسی بات کو اب علامہ تفتازانی بیان کرنے لگے ہیں، دیکھیے بھئی: "یعنی اذا عُلم"، یعنی جب یہ بات جان لی گئی، کیا؟ "ان لیس ارتفاعُ شان الکلام الفصیح فی الحسن الذاتی الا بمطابقتہ للاعتبار المناسب"، جب یہ جان لیا گیا کہ نہیں ہے کلام کے شان کی بلندی، ایسا کلام جو فصیح ہے، اس کا مرتبے کی بلندی نہیں ہے کس کے اندر؟ حسنِ ذاتی میں، "الا بمطابقتہ" مگر یہ کہ اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ "للاعتبار المناسب"۔ معلوم ہوا کلام کے مطابق، کلام کا رتبہ تب بڑھے گا جب اس کی مطابقت کس کے ساتھ ہو؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ تو کلام کا رتبے کا بڑھنا صرف کس کے ذریعے ہوگا؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ مطابقت سے۔ اعتبارِ مناسب کے ساتھ کلام کی مطابقت ہوگی تو رتبہ بڑھے گا، اگر مطابقت نہیں تو رتبہ بھی نہیں بڑھے گا۔ معلوم ہوا صرف اعتبارِ مناسب کے ساتھ مطابقت کے ذریعے کلام کا رتبہ بڑھتا ہے اور کسی چیز کے ذریعے نہیں بڑھتا۔ کیوں؟ میں نے حصر کے ساتھ ترجمہ کیا، علامہ کیوں؟ علامہ تفتازانی حصر والی عبارت لے کر آئے ہیں۔ دیکھیے "لیس" اور "الا" لے کر آئے، جیسے "ما" اور "الا"، "ما" اور "الا" کس لیے آیا کرتے ہیں بھئی؟ حصر کے لیے، تو یہاں پر بھی نفی اور "الا" لے کر آئے حصر کے لیے۔ یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ کلام کے مرتبے کا بڑھنا وہ صرف کس کے ذریعے ہے؟ جب اس کی مطابقت کس کے ساتھ ہو؟ اعتبارِ مناسب، کسی اور چیز کے ذریعے کلام کا رتبہ نہ بڑھتا ہے، نہ کم ہوتا ہے بھئی، نہ بڑھتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے، صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ اس پر علامہ تفتازانی پر اشکال ہوتا ہے، کہ اے علامہ تفتازانی! آپ حصر والی عبارت لے کر آئے، معلوم ہوا کسی اور چیز کے ذریعے کلام کا نہ رتبہ بڑھتا ہے اور نہ کم ہوتا ہے، حالانکہ ماتن نے تو ایسی کوئی بات نہیں کی۔ انہوں نے تو صرف یہ کہا تھا مطابقت کے ذریعے کلام کا رتبہ بڑھے گا، اور مطابقت نہیں ہوگی تو کلام کا رتبہ کم ہوگا، کسی اور چیز کے ذریعے بڑھتا ہے یا نہیں بڑھتا اس کا تو انہوں نے ذکر ہی نہیں کیا۔ انہوں نے حصر کیا تھا؟ کہ صرف مطابقت سے بڑھے گا اور صرف عدمِ مطابقت کے ذریعے کم ہوگا اور کسی چیز کے ذریعے نہ بڑھے گا اور نہ، انہوں نے تو کوئی حصر ذکر نہیں کیا بھئی اپنے کلام میں۔ یہ آپ کہاں سے حصر اٹھا کر لے آئے اور کہہ رہے ہیں کہ صرف مطابقت کے ذریعے ہی بڑھے گا اور کسی چیز کے ذریعے نہیں بڑھے گا؟ علامہ تفتازانی اسی کا جواب دے رہے ہیں آگے: "علیٰ ما یُفیدہ اضافۃُ المصدر"، بنا بر اس کے جس کا فائدہ مصدر کی اضافت دے رہا ہے۔ یہ جو بھئی، یہ جو حصر کہتے ہیں میں نے ذکر کیا اس کا فائدہ کون دے رہا ہے؟ مصدر کی اضافت یہ فائدہ دے رہی ہے۔ دیکھو بھئی پیچھے متن نکالو: "وارتفاعُ شانہ"، یہ دیکھو "ارتفاع" مصدر ہے، اس کی اضافت ہو رہی ہے بھئی، اور یاد رکھو بھئی ضابطہ یہ ہے: آپ نے اسمِ جنس کے بارے میں پڑھا ہوگا، جانتے ہوں گے، اسمِ جنس اسے کہتے ہیں جس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی ہوتا ہے۔ مثلاً انسان بھئی، ایک شخص بھی میرے سامنے کھڑا ہے میں کہہ سکتا ہوں یہ انسان ہے، اور یہی لفظِ انسان بول کر سارے دنیا کے انسان بھی میں مراد لے سکتا ہوں، ساری دنیا کے۔ تو انسان اسمِ جنس ہے جس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی۔ تو بھئی کسی وقت جب آپ اس کو لفظوں میں استعمال کرتے ہیں اپنے کلام میں اسمِ جنس کو، تو اس سے کیا مراد لیں گے؟ قلیل مراد لیں گے یا کثیر؟ تو ضابطہ یہ علماء ذکر کرتے ہیں کہ اگر اس سے قلیل مراد ہو تو اس پر کوئی قرینہ موجود ہوگا۔ کوئی قرینہ بتلائے گا کہ اس وقت انسان کے لفظ سے کتنے انسان مراد ہیں؟ ایک انسان۔ اور اگر اس کے ساتھ کوئی ایسا قرینہ نہ ملا ہوا ہو تو پھر وہ استغراق کا فائدہ دے گا اور ساری اس جنس کا احاطہ کر لے گا، ساری جنس کا۔ تو انسان کا لفظ اگر آپ نے بولا اور اس کے ساتھ کوئی قرینہ ایسا نہیں تھا جس سے یہ پتہ چلتا کہ کتنے انسان مراد ہیں؟ ایک مراد ہے، تو پھر اس سے کتنے مراد لیں گے بھئی؟ استغراق کا فائدہ دے گا، ساری جنس مراد ہوگی، تمام انسان مراد ہوں گے بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ جی۔ تو مصدر بھی اسی طرح اسمِ جنس ہے بھئی، اس کا بھی اطلاق قلیل اور کثیر پر ہوتا ہے، اور یہاں پر مصدر لے کر آئے اور کوئی قرینہ یہاں پر نہیں ہے جس سے یہ پتہ چلے کہ یہ قلیل کے لیے آیا ہے، کس کے لیے آیا ہے؟ اور جب قلیل کے لیے استعمال ہونے کا کوئی قرینہ نہ ہو تو پھر کس چیز کا وہ فائدہ دیتا ہے؟ استغراق کا فائدہ دیتا ہے، معلوم ہوا "ارتفاع" مصدر بھی یہاں استغراق کا فائدہ دے گا۔ تو ترجمہ یہ ہوگا کہ کلام کا ہر مرتبہ، کہ کلام کے مرتبے کی ہر بلندی کس کے ذریعے آئے گی بھئی؟ مطابقت کے ذریعے آئے گی۔ کلام کے مرتبے کی ہر بلندی کس کے ذریعے آئے گی؟ مطابقت کے۔ جب ہر بلندی مطابقت کے ذریعے آ رہی ہے، معلوم ہوا کسی اور کے ذریعے بلندی، کیونکہ ہر بلندی تو کس کے ذریعے آ رہی ہے؟ مطابقت کے، جب ہر بلندی مطابقت سے، معلوم ہوا کوئی بھی ایسی بلندی نہیں ہے جو کسی اور چیز کے ذریعے آ رہی ہو۔ صورت سمجھ میں آ گئی بھئی؟ تو اس نے استغراق کا فائدہ دیا اور حصر کا فائدہ دیا تھا، اسی کو علامہ تفتازانی نے اپنی عبارت میں ذکر کر دیا "لیس" اور "الا" کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: "علیٰ ما یُفیدہ اضافۃ المصدر"، بنا بر اس کے جس کا فائدہ دیتا ہے مصدر کی اضافت بھئی، "ومعلومٌ انہ انما یرتفعُ بالبلاغۃ التی ھی عبارۃٌ عن مطابقۃ الکلام الفصیح لمقتضی الحال"۔ ایک بات تو کہتے ہیں آپ کو متن سے پتہ چل گئی، متن سے کس بات کا پتہ چلا؟ کہ کلام کا رتبہ صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ جب اس کی مطابقت ہو اعتبارِ مناسب کے ساتھ، صرف اسی کے ذریعے بڑھے گا بھئی۔ "ومعلومٌ" اور یہ بات بھی معلوم ہے اس سے کہ "انہ انما یرتفع بالبلاغۃ"، کہ کلام کا رتبہ بلاغت ہی کے ذریعے بڑھتا ہے۔ کلام کا رتبہ کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ متن میں آیا کہ کلام کا رتبے کا بڑھنا صرف کس کے ذریعے ہوگا؟ جب اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ تو ایک حصر کا پتہ ہمیں متن سے چلا، اور ایک دوسری بات ذکر کر رہے ہیں جو اس علم والوں کے درمیان معروف و مشہور ہے، وہ کیا؟ کہ "انما یرتفع بالبلاغۃ"، کہ کلام کا رتبہ صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ بلاغت کے ذریعے۔ "انما" لے کر آئے، یہ بھی حصر کا فائدہ دے رہا ہے، کلام کا رتبہ صرف بلاغت کے ذریعے بڑھتا ہے۔ بھئی بلاغت کسے کہتے ہیں؟ آگے خود بتلا رہے ہیں: "التی ھی عبارۃٌ"، بلاغت وہ جو کہ عبارت ہے کس سے؟ "عن مطابقۃ الکلام الفصیح لمقتضی الحال"، کلامِ فصیح کی مطابقت کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ، اسی کو بلاغت کہتے ہیں، تو بلاغت اس سے عبارت ہے۔ تو معلوم ہوا کلام کا رتبہ صرف جب اس کی مطابقت ہوگی مقتضائے حال کے ساتھ صرف اسی کے ذریعے بڑھتا ہے بھئی۔ صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ بھئی ایک حصر کا پتہ متن سے چلا، آگے ایک اور حصر کا بتلا رہے ہیں جو معروف ہے اس علم والوں میں بھئی مشہور ہے۔ متن سے کیا پتہ چلا؟ کہ کلام کا رتبہ صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ جب اس کی مطابقت کس کے ساتھ ہو؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ یہ ایک حصر ہے مولانا، یہ سنبھال کر رکھیں اپنی جیب میں بھئی، ابھی میں واپس لوں گا آپ سے۔ دوسرا بھئی، دوسرا حصر اب ذکر کر رہے ہیں کہ یہ بات بھی اس علم والوں میں معلوم ہے، مشہور ہے کہ کلام کا رتبہ صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے؟ بلاغت کے ذریعے۔ اور بلاغت کس چیز کا نام تھا؟ کلامِ فصیح کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو صرف بلاغت کے ذریعے بڑھتا ہے، معلوم ہوا جب صرف اس کی مطابقت ہو مقتضائے حال کے ساتھ اسی کے ذریعے اس کا رتبہ بڑھے گا اور کسی چیز کے ذریعے اس کا رتبہ، ماقبل حصر میں تھا کہ اس کا رتبہ بڑھتا ہے صرف کس کے ذریعے جب اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ۔ اب کہہ رہے ہیں صرف اس کا رتبہ بڑھتا ہے جب اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو دو حصر آ گئے، معلوم ہوا اعتبارِ مناسب اور مقتضائے حال ایک ہیں، ورنہ دونوں حصر صحیح نہیں ہو سکتے۔ اگر دونوں الگ الگ چیزیں ہوئیں، پھر تو بھئی ایک طرف کہہ رہے ہیں صرف کس کے ذریعے بڑھتا ہے جب اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ، اور دوسری طرف کہہ رہے ہیں صرف اس کا رتبہ کس کے ذریعے بڑھتا ہے جب اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ معلوم ہوا مقتضائے حال سے بھی بڑھ رہا ہے اور اعتبارِ مناسب کے ذریعے بھی بڑھ رہا ہے، تو پھر تو حصر ایک بھی صحیح نہیں ہوا کیونکہ ہر ایک میں یہ کہا جا رہا ہے صرف اس سے بڑھتا ہے، صرف اس سے بڑھتا ہے، حالانکہ دوسرے کے ذریعے بھی اس کا مرتبہ بڑھ رہا ہے۔ اور یہ دونوں حصر اسی صورت میں صحیح ہو سکتے ہیں جبکہ اعتبارِ مناسب اور مقتضائے حال دونوں کیا ہوں؟ ایک ہی چیز ہوں، متحد ہوں بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی سب کو بھئی؟ جی۔ "ومعلومٌ"، اور پھر یہ بات معلوم ہے، "انہ انما یرتفع بالبلاغۃ"، کہ کلام جو ہے اس کا رتبہ بلند ہوتا ہے، کلام بلند ہوتا ہے بلاغت کے ذریعے، "التی ھی عبارۃٌ عن مطابقۃ الکلام الفصیح لمقتضی الحال"، وہ بلاغت جو کہ عبارت ہے کس چیز سے؟ کلامِ فصیح کی مطابقت ہونا مقتضائے حال کے ساتھ۔ "فقد عُلم"، تو تحقیق یہ جان لیا گیا، "ان المراد بالاعتبار المناسب ومقتضی الحال واحدٌ"، کہ اعتبارِ مناسب اور مقتضائے حال سے مراد واحد ایک ہی ہے بھئی، دونوں سے مراد دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ "والا لما صدقا"، ورنہ تو صادق نہیں آئیں گے، یہ دونوں حصر جو ابھی ذکر ہوئے تھے علامہ تفتازانی دونوں کو الگ ذکر کر رہے ہیں، اگر ایسا نہ ہو، دونوں ایک چیز نہ ہوں تو دونوں حصر صادق نہیں آئیں گے، دونوں باطل ہو جائیں گے۔ "والا لما صدقا"، ورنہ یہ دو حصر صادق نہ آتے۔ پہلا حصر یہ: "انہ لا یرتفع الا بالمطابقۃ للاعتبار المناسب"، کلام بلند نہیں ہوتا مگر، مگر یہ کہ اس کی مطابقت ہو کس کے ساتھ؟ اعتبارِ مناسب کے ساتھ، یہ ایک حصر۔ اور دوسرا حصر یہ: "ولا یرتفع الا بالمطابقۃ لمقتضی الحال"، کلام نہیں بڑھتا اس کا رتبہ مگر کہ اس کی مطابقت کس کے ساتھ ہو؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو ایک میں کہہ رہے ہیں صرف اعتبارِ مناسب سے مطابقت کے ذریعے بڑھتا ہے، دوسرے میں کہہ رہے ہیں صرف مقتضائے حال کے ساتھ مطابقت میں بڑھتا ہے، تو یہ اسی صورت میں صادق آ سکتے ہیں جبکہ مقتضائے حال اور اعتبارِ مناسب سے مراد ایک ہی چیز ہو۔ "فلیتأمل"، پس چاہیے کہ غور و فکر کر لے بھئی اس مقام میں پڑھنے والا۔ سمجھ میں آیا؟ الحمد للہ، یرحمک اللہ۔ یعنی اس پر اشکالات بھی وارد ہو سکتے ہیں بعض بھئی، جی۔ "فالبلاغۃ صفۃٌ راجعۃٌ الی اللفظ"، سمجھ میں آیا "فلیتأمل"؟ یعنی یہ کوئی حتمی بات نہیں ہے مولانا، اس پر اشکالات بھی ہو سکتے ہیں، آپ غور و فکر کر لیں۔ "فالبلاغۃ صفۃٌ راجعۃٌ الی اللفظ"۔ دیکھو! اس فن کے جو امام ہیں مولانا، شیخ عبد القاہر، جو مدوّن ہیں اس فن کے، ان کی کتابیں دلائل الاعجاز اور اسرار البلاغہ وغیرہ میں ان کی عبارتیں دیکھی جائیں، تو ایک تعارض معلوم ہوتا ہے ان کی عبارتوں میں۔ کیونکہ ایک جگہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ فصاحت جو ہے، یہ کس کی صفت ہے؟ لفظوں کی صفت ہے، معنی کی صفت نہیں ہے۔ اور دوسری جگہ ان کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ فصاحت یہ معنی کی صفت ہے، لفظوں کی صفت نہیں ہے۔ بعض جگہ کیا معلوم ہوتا ہے کہ فصاحت کس کی صفت ہے؟ لفظوں کی صفت ہے، اور بعض جگہ کیا معلوم ہوتا ہے؟ معنی کی صفت ہے۔ تو اس آگے پوری عبارت میں آپ کو بتلائیں گے: سب سے پہلے تو یہ کہ یہ جو علامہ شیخ عبد القاہر نے فصاحت کا لفظ کہا، یہ فصاحت بمعنی بلاغت کے ہے۔ کیونکہ فصاحت بمعنی بلاغت، بلاغت کو کبھی کبھار فصاحت بھی کہہ دیتے ہیں۔ کہتے نہیں قران فصاحت کے اعتبار سے معجزہ ہے، کیا معنی بھئی؟ بلاغت کے اعتبار سے کیا ہے؟ معجزہ ہے۔ تو بلاغت کو کبھی کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ فصاحت۔ یہ آگے ذکر کریں گے: "ویُسمّٰی ذلک الوصف المذکور فصاحۃً"، کہ اس وصفِ مذکور کو کبھی، یعنی بلاغت کو کبھی کیا کہہ دیتے ہیں؟ فصاحت بھی، یہ بھی ذکر کریں گے۔ اور نیز جو ان کے کلام میں تعارض آ رہا ہے اس کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں گے۔ تعارض کیا ہے؟ بعض جگہ کہتے ہیں بلاغت کس کی صفت ہے؟ لفظوں کی، اور بعض جگہ کہتے ہیں بلاغت کس کی صفت ہے؟ معنی کی صفت ہے بھئی۔ کہتے ہیں بھئی دیکھو، کہ بلاغت صفت ہے لفظوں کی، لیکن بایں لحاظ کہ یہ لفظ دلالت کرتے ہیں معنی پر۔ یہ لفظ دلالت کرتے ہیں کس پر؟ معنی پر۔ تو معنی ہوا مدلول اور لفظ کیا ہوئے؟ دال۔ تو بلاغت دراصل صفت ہے معنی کی، لیکن اس معنی پر دلالت چونکہ کون کر رہے ہیں؟ لفظ کر رہے ہیں، تو اس وجہ سے لفظ بھی کیا ہو گئے؟ جب معنی موصوف ہے بلاغت کے ساتھ تو لفظ بھی موصوف ہو گیا کس کے ساتھ؟ بلاغت کے ساتھ۔ جب مدلول موصوف ہوا تو دال بھی کیا ہوا؟ موصوف ہوا، بات سمجھ میں آئی بھئی؟ یہی بات کرنے لگے ہیں۔ "فالبلاغۃ صفۃٌ راجعۃٌ الی اللفظ"، پس بلاغت ایسی صفت ہے جو لوٹنے والی ہے کس کی طرف؟ لفظ کی طرف، یعنی لفظ اس کے ساتھ موصوف ہوتا ہے۔ "بمعنیٰ انہ کلامٌ بلیغٌ"، بایں معنی کہ یہ کیا ہے؟ کلامِ بلیغ ہے۔ یہ کلام وہ کلامِ بلیغ ہوتا ہے، آپ کہتے نہیں کلامِ بلیغ ہے، کلام کس چیز کا نام ہے؟ لفظوں کا، کس چیز کا نام ہے؟ لفظوں کا۔ "لا من حیث انہ لفظٌ وصوتٌ"، لیکن یہ جو لفظ موصوف ہوئے بلاغت سے مولانا، آپ نے کیا کہا: یہ کلام کیسا ہے؟ بلیغ۔ تو اس اعتبار سے کہا کہ یہ لفظ ہیں، آوازیں، کچھ آوازیں ہیں مولانا، لفظ بھی کیا ہے؟ آواز ہی کا نام ہے، تو یہ لفظ ہے آواز وغیرہ ہے، اس اعتبار سے کہتے ہیں؟ نہیں، بلکہ اس اعتبار سے کہ اس کا جو معنی ہے وہ مطابق ہے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ "بل باعتبار افادتہ المعنیٰ"، بلکہ بایں اعتبار کہ یہ لفظ فائدہ دے رہے ہیں کس چیز کا؟ معنی کا۔ یہ لفظ فائدہ دے رہے ہیں کس چیز کا؟ معنی کا۔ بھئی یاد رکھو، ایک معنی اول ہے ایک معنی ثانی، معنی ثانی یہاں مراد ہے معنی اول نہیں۔ معنی ثانی مراد ہے، معنی اول مراد نہیں۔ بھئی میں نے آپ کے سامنے قیامِ زید کو ذکر کرنا ہے، یہ قیامِ زید اصلِ مراد ہے، یہ معنی اول ہے۔ میں نے آپ کے سامنے کہا: "زیدٌ قامَ"۔ "زیدٌ قامَ"، تو میں نے کس چیز کی خبر دی آپ کو؟ زید کے قیام کی خبر دی۔ یہ زید کے قیام کی خبر یہ کیا ہے؟ اصلِ مراد۔ میری اصلِ مراد کیا ہے؟ زید کے قیام کی خبر، تو قیامِ زید اصلِ مراد ہوا۔ اور لیکن میں کلام کیا لے کر آیا؟ "زیدٌ قامَ"، جملہ اسمیہ لے کر آیا مولانا، ساتھ ہی ساتھ اس کلام نے ایک اور معنی کا بھی فائدہ دے دیا اور وہ کیا تھا؟ تاکید، کس چیز کا فائدہ دیا؟ تاکید، یہ معنی ثانی ہے مولانا۔ یہ اصلِ مراد پر زائد چیز ہے مولانا، کیونکہ قیامِ زید تو میں یوں بھی کہہ سکتا تھا: "قامَ زیدٌ"، جملہ فعلیہ لے آتا، لیکن میں کیا لے کر آیا؟ جملہ اسمیہ۔ اب ایک زائد معنی بھی آ گیا، اصلِ مراد تو تھا قیامِ زید اور ایک زائد معنی بھی آیا اور وہ کیا مولانا؟ تاکید، تو یہ تاکید کیا ہے؟ معنی ثانی، وہ خصوصیت وہ معنی ثانی ہوگی۔ تو مولانا بلاغت صفت ہے جو لفظ کی طرف لوٹنے والی ہے، بایں اعتبار کہ وہ لفظ فائدہ دیتا ہے اس معنی ثانی کا بھئی، وہ لفظ فائدہ دیتا ہے معنی ثانی کا۔ خود بتلا رہے ہیں: "ای الغرضَ المصوغَ لہ الکلام"، وہ غرض جس کے لیے کلام کو ڈھالا گیا ہے، کلام کو کیا کیا گیا ہے؟ ڈھالا گیا ہے۔ بھئی خاص طرز پر کلام کو تیار، بھئی میں نے ویسے ہی کلام کر دیا یا اس کو ایک خاص طرز پر اس کو ڈھالا؟ خاص طرز پر۔ میں نے "قامَ زیدٌ" نہیں کہا بلکہ کیا کہا: "زیدٌ قامَ"، تو میں نے اس کو جملہ فعلیہ نہیں بنایا بلکہ ایک خاص طرز دی اور کیا بنا دیا اس کو؟ جملہ اسمیہ بنا دیا۔ تو اس نے، تو وہ غرض، تو میں نے کس لیے بھئی یہ جملہ اسمیہ میں کیوں لے کر آیا؟ کیا غرض تھی میری؟ تاکید، یہی بات کر رہے ہیں: "ای الغرض"، وہ غرض یعنی وہ تاکید "المصوغ لہ الکلام" جس کے لیے کلام کو خاص طرز پر ڈھالا گیا ہے، "بالترکیب" یہ متعلق ہے افادہ سے، کہ لفظ فائدہ دیتے ہیں کس چیز کا؟ معنی کا، "بالترکیب" کس کے ساتھ؟ ترکیب کے ساتھ۔ یعنی اس معنی، تو اس ترکیب، یہ جو میں نے ترکیب آپ کے سامنے "زیدٌ قامَ" ذکر کی، اس ترکیب کے ساتھ لفظوں نے فائدہ دیا کس چیز کا؟ اصلِ مراد کے ساتھ ساتھ تاکید کا بھی فائدہ دیا۔ تو لفظ فائدہ دیتے ہیں معنی کا ترکیب کے ساتھ، متعلق ہے افادتہ کے ساتھ، یہ جار مجرور ہے وہ ہمیشہ کسی سے متعلق ہونا چاہتا ہے، یہ کس سے متعلق ہے بھئی؟ افادہ کے ساتھ، افادہ دیتے ہیں وہ لفظ بالترکیب کس کے ساتھ؟ ترکیب کے ساتھ۔ "وذلك"، اور یہ اس وجہ سے، "لان البلاغۃ کما مرّ"، کہ بلاغت جیسے کہ بات گزر گئی، "عبارۃٌ عن مطابقۃ الکلام الفصیح لمقتضی الحال"، بلاغت عبارت ہے کس چیز سے؟ کلام کی مطابق، کلامِ فصیح کی مطابقت کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو کلامِ فصیح مطابق ہے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ۔ تو کلامِ فصیح، کلام کس کو کہتے ہیں؟ لفظوں کا نام ہے، کس کا؟ لفظوں کا۔ تو بلاغت لفظوں کی بھی صفت ہوئی۔ اور یہ کلامِ فصیح مطابق ہے کس کے ساتھ؟ مقتضائے حال کے ساتھ، کیا معنی؟ یعنی اس میں ایک معنی ثانی موجود ہے جو مطابق ہے کس کے؟ مقتضائے حال کے۔ تو صفت کس کی ہوئی مولانا؟ معنی کی بھی صفت ہوئی۔ "والظاہر"، اور ظاہر ہے، "ان اعتبار المطابقۃ وعدمہا"، کہ مطابقت کا اعتبار اور عدمِ مطابقت کا اعتبار، "انما یکون باعتبار المعانی"، وہ کس کے اعتبار سے ہوگا؟ ان معانی اور اغراض کے اعتبار سے ہوگا "التی یُصاغ لہا الکلام" جن کے لیے کلام کو کیا کیا گیا ہے؟ ڈھالا گیا ہے، "لا باعتبار الالفاظ المفردۃ" صرف الفاظ کے اعتبار سے نہیں، "والکلم المجرد" اور صرف کلمات کے اعتبار سے نہیں۔ محض کلمات اور محض الفاظ کے اعتبار سے نہیں کلام کو ہم بلیغ کہتے، بھئی آپ نے کہا یہ کلام بلیغ ہے، صرف الفاظ کے اعتبار سے کہا؟ نہیں، بلکہ کس اعتبار سے کہا؟ کہ یہ مشتمل ہے اس معنی پر جس کا تقاضا کون کر رہا تھا؟ حال کر رہا تھا۔ تو آپ نے اس کو موصوف کیا بلاغت کے ساتھ، کیوں؟ کیونکہ اس میں کیا موجود ہے؟ وہ معنی موجود ہے، اس میں کیا ہے؟ وہ معنی وہ خصوصیت موجود ہے جس کا تقاضا کون کر رہا تھا؟ حال۔ تو مطابقت اور عدمِ مطابقت مولانا مقتضائے حال کے ساتھ، یہ کلام کی نہیں ہوتی بلکہ کس کی ہوتی ہے؟ معنی کی ہوتی ہے، کہ معنی مقتضائے حال کے مطابق ہے یا معنی مقتضائے حال کے مطابق نہیں ہے۔ کلام تو صرف لفظوں کا نام ہے بھئی، مطابقت اور عدمِ مطابقت کا تعلق کس چیز سے ہے؟ معنی سے۔ تو اصل میں بلاغت صفت ہوئی کس کی؟ معنی کی، اور اس معنی پر دلالت کس نے کی؟ لفظوں نے، تو لفظ ہوئے دال۔ تو جب مدلول موصوف ہوا بلاغت کے ساتھ، تو دال بھی موصوف ہو گیا کس کے ساتھ؟ بلاغت کے ساتھ۔ سب کو یہ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے مولانا، ھذا ھو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
50 approved lectures · 13 of 50