فصل ثالث علمِ بدیع ہم نے شروع کیا تھا مولانا جس اور بتلایا تھا مصنف نے آپ کو کہ وہ علم ہے جس کے ذریعے تحسینِ کلام کی وجوہ کو جانا جاتا ہے۔ اور اس کا اس کے بعد مطابقت کی رعایت کے بعد اور دلالت کے واضح ہونے کے بعد، تو بتلایا تھا معلوم ہوا اس کا درجہ علمِ بیان اور علمِ معانی کے بعد ہے مولانا۔
تو کیونکہ علمِ بیان اور علمِ معانی جو ہے یہ بلاغت ان کے ساتھ ہی آئے گی، جب ان چیزوں کی آپ رعایت رکھیں گے، تو یہ اصل کے درجے میں ہے اور یہ علمِ بدیع کے اندر محسنات بیان ہوں گے جو کلام میں حسن پیدا کرتے ہیں، اور یہ کیا ہیں؟ فرع کے درجے میں ہے، تو پہلے اصل کی رعایت رکھی جائے گی، اس کے بعد فرع کو دیکھا جائے گا۔
اور پھر بتلایا تھا آپ کو کہ یہ دو قسم پر ہیں مولانا، یہ کچھ معنوی ہیں یہ محسنات اور کچھ لفظی ہیں۔ معنوی وہ جو معنی میں حسن پیدا کرتے ہیں اگرچہ ان میں سے بعض لفظوں میں بھی حسن پیدا کریں گے لیکن اولاً اور بالذات معنی میں حسن پیدا کریں گے اور ثانیاً اور بالتبع کس میں؟ لفظوں میں۔
اور جبکہ امورِ لفظیہ جو ہیں محسناتِ لفظیہ جو ہیں وہ اولاً اور اصلاً کس میں حسن پیدا کریں گے؟ لفظوں کے اندر، اگرچہ ان میں سے بعض بالتبع کس میں؟ معنی میں بھی حسن کا سبب بنیں گے بھئی۔
اور اس میں سے پہلی صنعت ہم نے پڑھی تھی صنعتِ مطابقت اور اس کو طباق بھی اسی کا نام ہے، تضاد بھی اسی کا نام ہے، اور آپ کو بتلایا تھا کہ یہ دو متضاد معانی کو جمع کرنا ہے کلام کے اندر۔
متضاد معانی اس سے یہ معنی مراد نہیں ہے جو متضاد کا پہلے ذکر ہوا تھا کہ دو خصلتیں ہوں ایک جگہ جمع نہ ہو سکیں اور ان میں انتہا درجے کا اختلاف ہو، بلکہ یہاں متضاد سے یہ مراد ہے کہ دونوں متقابلین ہوں فی الجملہ یعنی مجموعی اعتبار سے۔
یعنی ان کے درمیان تقابل ہو اگرچہ بعض صورتوں میں ہی کیوں نہ ہو۔
وَيَكُونُ الْجَمْعُ بَيْنَ اثْنَيْنِ مِنْ نَوْعٍ۔ اور پھر بتلایا تھا کہ یہ جمع جو ہے یا تو ایک ہی نوع کے دو لفظ جمع ہوں گے، یعنی دونوں اسم جمع ہوں گے یا دونوں فعل جمع ہوں گے، اور دونوں اس کو ذکر کس کے ساتھ کیا جائے گا ان دو معانی کو؟ دونوں کو اسم کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا یا دونوں کو فعل کے ساتھ تعبیر کیا جائے گا یا دونوں کو حرف کے ساتھ، یا مختلف جنس کے ہوں گے، ایک فعل ہوگا تو دوسرا اسم، ایک اسم ہے تو دوسرا حرف بھئی، اور ایک حرف ہے تو دوسرا فعل ہوگا بھئی۔ تو چھ صورتیں بنتی تھیں، ہر ایک کی مثال انہوں نے ذکر کی۔
اس کے بعد بتلایا تھا کہ طباق پھر دو قسم پر ہے، ایک طباق ایجاب ہے اور ایک طباق سلب ہے۔ طباق ایجاب جس کی مثالیں اوپر کہتے ہیں گزریں، یعنی جس میں دو الگ الگ مثبت صفات ذکر ہوں گی ضدین بھئی، جبکہ طباق سلب یہ ہے کہ ایک ہی مصدر کے فعل کو ذکر کیا جائے، ایک مرتبہ مثبت طریقے سے اور دوسری مرتبہ منفی طریقے سے، یا ایک امر آئے تو دوسری نہی آئے بھئی۔
اور اس کے بعد طباق کی ایک اور قسم ہم نے پڑھی جس کا نام بعض علماء نے تدبیج رکھا ہے، اور تدبیج یہ کہ دو یا زیادہ رنگوں کو کلام کے اندر ذکر کیا جائے کنائے کے طور پر یا توریہ کے طور پر، رنگ سے اس کا حقیقی معنی مراد نہ ہو بلکہ کیا ہو وہ کنایہ ہو یا توریہ ہو کسی معنی سے۔
جیسے یہ شعر گزرا تھا:
تَرَدَّى ثِيَابَ الْمَوْتِ حُمْرًا فَمَا أَتَىٰ
لَهَا اللَّيْلُ إِلَّا وَهِيَ مِنْ سُنُدُسٍ خُضْرُ
اس نے اوڑھ لیے موت کے کپڑے پہن لیے اس حال میں کہ وہ سرخ تھے، پس رات اس پر نہیں آئی مگر یہ کہ وہ کس میں سے تھے؟ سبز ریشم میں سے۔ تو یہاں پر حمر سرخ ذکر کیا اور اس سے مراد کیا ہے؟ جی، ایک کنایہ ہے قتل سے مولانا، موت کے کپڑے یعنی سرخ موت، کیا معنی؟ عام موت میں سرخ ہوگی بھئی اس میں، تو یہاں پر قتل کنایہ قتل سے ہے بھئی، شدید موت، سخت موت کو بھی کہتے ہیں اور قتل، اور سبز یہ کس سے کنایہ ہے؟ دخولِ جنت سے کنایہ ہے مولانا، دخولِ جنت سے۔
اور اسی مولانا طباق کے ساتھ کہتے ہیں ملحق دو اور چیزیں بھی ہیں اور وہ یہ کہ دو معانی کو ذکر کیا جائے، ان دو معانی کے اندر تو تقابل اور تضاد نہیں ہے لیکن ان میں سے ایک معنی کا متعلق ایسا ہے جس کا دوسرے معنی کے ساتھ کیا ہے تقابل اور تضاد ہے، جیسے أَقِوِيَاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ، یہاں پر شدت ذکر ہوئی اور رحمت ذکر ہوئی مولانا، شدت کے مقابلے میں لین آتا ہے، تو شدت اور رحمت میں تو تقابل نہیں لیکن رحمت جو ہے وہ متعلق ہے کس کے ساتھ؟ لین کے ساتھ، لین اس کا سبب اور رحمت اس کا مسبب، اور اس لین اور شدت کے اندر کیا ہے؟ تقابل ہے، تو دو ایسے معانی لائے کہ ان دونوں میں تو تقابل نہیں، لیکن ایک معنی کا جو متعلق ہے اس کا پہلے معنی کے ساتھ کیا ہے؟ تقابل اور تضاد ہے۔
اور دوسرا یہ، دوسری قسم یہ کہ دو معانی جو ہیں وہ آپس میں مقابل تو نہیں لیکن ان کو تعبیر ایسے لفظوں کے ساتھ کر دیا کہ ان لفظوں میں آپس میں کیا ہے؟ تقابل ہے، تقابل ہے۔
اور اس کو ایہام التضاد بھی کہتے ہیں، اس لیے کہ ان معنی، ان دو معانی کو جو جن لفظوں سے تعبیر کیا گیا ہے بظاہر اس سے کس چیز کا شبہ پڑتا ہے؟ تضاد کا وہم پڑتا ہے۔
وَدَخَلَ فِيْهِ أَيْ فِي الطبَاقِ بالتَّفْسِيْرِ الَّذِيْ...
یہاں سے آپ کو بتلائیں گے مولانا کہ یہ طباق میں ہی داخل ہے وہ صنعت بھی جس کا نام مقابلہ ہے، وہ بھی طباق ہی میں داخل ہے۔ مقابلہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ وہ صنعت ہے جس کے اندر دو یا دو سے زیادہ متوافق معانی کو ذکر کیا جائے۔
کس کو ذکر کیا جائے؟ دو یا دو سے زیادہ متوافق معانی کو ذکر کیا جائے، متوافق کا یہ معنی نہیں کہ ان میں آپس میں مناسبت وغیرہ ہو، بلکہ معنی یہ ہے ان میں تضاد نہ ہو، جن میں بھی تضاد نہیں ہے وہ آپس میں کیا ہیں؟ تو متضاد تو جمع نہیں ہو سکتے، ایک چیز یا سفید ہو سکتی ہے یا سیاہ مولانا، سفید اور سیاہ ہو، ایک ہی محل ایک وقت میں ہو سکتا ہے؟ نہیں۔ تو تضاد یعنی ان میں نہ ہو، تو دو ایسی صفات یا تین ایسی صفات آپ چیزیں آپ نے ذکر کیں اور پھر ان کے بعد علی الترتیب ہر ایک کی ضد ذکر کر دی مولانا، پہلے اول کی ضد، پھر ثانی کی ضد، پھر ثالث یعنی ان کے مقابل کو ذکر کر دیا۔
جیسے یہ ہے مولانا۔
متن متن پہلے دیکھ لیں: وَدَخَلَ فِيْهِ، اور داخل ہے اس طباق کے اندر ہی، مَا يُخْتَصُّ بِاسْمِ الْمُقَابَلَةِ، وہ جو خاص ہے مقابلہ کے اسم کے ساتھ، وَهُوَ أَنْ يُؤْتَى بِمَعْنَيَيْنِ مُتَوَافِقَيْنِ، وہ یہ کہ لایا جائے دو متوافق معانی کو، أَوْ أَكْثَرَ، یا زیادہ کو، ثُمَّ يُؤْتَى بِمَا يُقَابِلُ ذٰلِكَ، پھر لایا جائے اس کو جو ان کے مقابل ہو، عَلَى التَّرْتِيْبِ، ترتیب کے مطابق۔ تو دو تین معانی کو ذکر کیا، پھر علی الترتیب ہر ایک کی کیا لے آئے؟ مقابل کو ذکر کیا۔
وَالْمُرَادُ بالتَّوَافُقِ خِلَافُ التَّقَابُلِ، توافق سے کیا مراد ہے؟ تقابل کے یعنی ان میں تقابل نہ ہو۔
جیسے فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا، تو دیکھو یہاں پر چاہیے کہ وہ تھوڑا ہنسیں اور زیادہ روئیں بھئی، ضحک ذکر ہوا اور پھر...
تو یہاں پر ضحک ذکر ہوا اور قلت، دو معنی ذکر ہوئے اور آگے ان کے مقابل لائے گئے، ضحک کے مقابلے میں کیا ہے؟ بکاء، اور قلت کے مقابلے میں کیا ہے؟ کثرت بھئی، تو یہ مقابلہ ہے۔ طباق میں تو تھا صرف دو، یہاں پر دو یا زیادہ، اسی طرح بالکل۔
اور جیسے یہ شعر ہے مولانا:
مَا أَحْسَنَ الدِّينَ وَالدُّنْيَا إِذَا اجْتَمَعَا
وَأَقْبَحَ الْكُفْرَ وَالْإِفْلَاسَ بِالرَّجُلِ
کتنا اچھا ہے دین اور دنیا جب وہ جمع ہو جائیں، اور کتنا برا ہے کفر اور افلاس آدمی کے ساتھ! یہاں پر إِذَا اجْتَمَعَا مولانا محذوف ہے، صنعتِ احتباک ہے مولانا، ایک پہلے شعر مصرعے میں یا پہلے فق میں ایک چیز ذکر کی جائے اور دوسرے میں کیا ہو؟ پہلے کے حوالے کر دی کہ یعنی پہلے میں چونکہ آ چکی ہے تو مخاطب خود سمجھ جائے گا، اس کو ترک کر دیا جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں شاعر دیکھو کتنی عجیب بات کر رہا ہے، کہتا ہے کتنا اچھا ہے دین اور دنیا! دنیا سے مراد مالداری ہے، مال، کہ دین اور مال جب یہ جمع ہو جائیں، ایک شخص کو اللہ دین بھی دینداری بھی نصیب فرمائے اور اس کے پاس مال بھی ہو جب یہ دونوں جمع ہو جائیں، اور کتنا برا ہے کہ ایک شخص کے پاس اس کے پاس کفر اور افلاس دونوں اکٹھے ہو جائیں! سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو مال اکٹھا ہوا مال بھی ہے دین بھی ہے تو معلوم ہوا دنیا میں بھی بڑی نعمتوں میں رہے گا اور آخرت میں بھی ایمان کی وجہ سے کہاں جائے گا؟ جنت میں، اور کتنا برا ہے کفر اور افلاس، دنیا میں بھی بری حالت میں رہے گا تکلیف میں مولانا اور آخرت میں بھی کہاں جائے گا؟ جہنم میں جائے گا بھئی۔
تو یہاں پر دیکھو تین معانی ذکر کیے: حسن، دین، دنیا، اور اس کے مقابلے میں تین ذکر کیے: قبح، کفر اور افلاس۔ تو حسن کے مقابلے میں قبح آیا، دین کے مقابلے میں کفر آیا، دنیا مال کے مقابلے میں افلاس آیا۔
اور چار کی مثال: فَأَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى۔
پس جس نے عطا کیا اور وہ بچا، اور تقویٰ اختیار کیا، وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، اور اچھی خصلت یعنی ایمان کی، اچھی خصلت کی تصدیق کی یعنی ایمان لے کر آیا، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، تو ہم آسانی کر دیں گے اس کے لیے جنت کے لیے، جنت کے لیے اس کے آسانی بنا دیں گے۔
وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، اور وہ پس وہ جو بخیل ہوا اور بے پروا ہوا، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، ای بالخصلۃ الحسنیٰ، اور یعنی اس نے اچھی خصلت کی تکذیب کی، یعنی ایمان نہ لایا کفر کیا، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى، تو ہم اس کے آسانی کر دیں گے کس کے لیے؟ تنگی یعنی آگ کے لیے مولانا۔
تو دیکھو یہاں پر چار معانی ذکر ہوئے: اعطاء ذکر ہوا، اتفاء ذکر ہوا، صدق بالحسنیٰ ذکر ہوا، اور فسنیسره للیسریٰ۔
تو چار چیزیں ذکر ہوئیں اور علی الترتیب ان کے مقابل ذکر ہوئے آگے: اعطاء کے مقابلے میں کیا ذکر ہوا؟ بخل ذکر ہوا، اتقاء کے مقابلے میں کیا ذکر ہوا؟ استغنیٰ، صدق کے مقابلے میں، تصدیق کے مقابلے میں کیا ذکر ہوا؟ تکذیب، اور یہ فسنیسره للیسریٰ اس کے مقابلے میں کیا ذکر ہوا؟
چار۔ اب یہاں پر کہتے ہیں مولانا آگے اب ذکر کریں گے بھئی کہ اعطاء کے مقابلے میں بخل آیا یہ تو مقابل ظاہر ہے مقابل ہیں ایک دوسرے کے، عطا کرنا اور دوسرا ہے بخل کرنا، صدق تصدیق کے مقابلے میں تکذیب آئی ان کا تقابل مقابلہ بھی ظاہر ہے ایک دوسرے کے مقابل ہیں، اور اس طرح اسی طرح تیسیر للعسریٰ تیسیر للعسریٰ کے مقابلے میں آیا ان میں بھی تقابل کیا ہے؟ ظاہر ہے ایک دوسرے کے مقابل صفات باتیں ہیں، لیکن یہ اتقاء کے مقابلے میں استغنیٰ آیا ان میں تقابل کیسے ہے؟ کچھ خفی تھی بات، اس لیے مصنف نے اس کو ذکر کیا، کہتے ہیں: وَالْمُرَادُ بِاسْتَغْنَى أَنَّهُ زَهِدَ فِيمَا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى كَأَنَّهُ مُسْتَغْنٍ عَنْهُ، کہ اس نے بے رغبتی کی اس چیز سے جو اللہ کے نزدیک ہے، یعنی آخرت سے کیا ہوا وہ؟ بے پروا ہوا، كَأَنَّهُ مُسْتَغْنٍ عَنْهُ، گویا کہ وہ اس سے بے پروا، آخرت سے اس نے اعراض کیا گویا کہ وہ اس سے بے پروا ہے، فَلَمْ يَتَّقِ، تو اس نے تقویٰ اختیار نہیں کیا یا وہ ڈرا نہیں، جن تقویٰ کا معنی ہے وہ چیزیں جن کے اللہ نے منع فرمایا ہے ان سے بچنا، فَلَمْ يَتَّقِ، تو وہ ان حرام چیزوں سے بچا نہیں، یا تو یہ اس کے ساتھ لازم ہے مولانا۔
بے پروا ہونے کے ساتھ لازم ہے کیا؟ عدمِ اتقاء، اور اسی طرح مولانا کہا کہ وہ بے پروا ہوا دنیاوی شہوتوں کے ساتھ، کس سے بے پروا ہوا؟ جنت، بھئی ایک طرف تھا کہ ایک دنیا کی نعمت دنیا کی شہوتوں کو اختیار کر لو، یا کیا کر لو؟ جنت کی نعمتوں کو، دنیا میں شہوتوں سے بچو گے تو آخرت میں جنت ملے گی، اور اگر یہاں پر شہوتوں کو اختیار کرو گے تو آخرت میں جنت، تو اس نے کیا کیا مولانا؟ کس کو اختیار کیا؟ دنیاوی شہوتوں کو، کس کے اور اعراض کیا کس سے؟ جنت کی نعمتوں سے، تو وہ بے پروا ہو گیا وہ مولانا جنت کی نعمتوں سے، گویا فَلَمْ يَتَّقِ، تو وہ بچا حرام سے نہیں۔
تو دیکھو استغنیٰ کے مقابلے میں عدمِ تقویٰ آیا، تو یہاں پر استغنیٰ آیا کس کے مقابلے میں؟ اتقاء، دیکھو ادھر آیا تھا اتقاء، اس کے مقابلے میں کیا آیا؟ استغنیٰ۔
دو معانی ذکر کیے مولانا مصنف نے: ایک یہ کہ گویا اس نے اللہ کے نزدیک جو چیزیں، تقویٰ کا کیا معنی تھا؟ بچنا، کس سے؟ حرام چیزوں سے بچنا، اور دوسرا کیا ہے اس کے مقابلے میں؟ بے پروا ہونا، تو اس نے گویا ان چیزوں سے بے رغبتی کی جو اللہ کے نزدیک ہیں، یعنی آخرت میں اللہ نے تیار کر رکھی ہیں یا ثواب وغیرہ، فكأنہ مستغن عنه، گویا کہ وہ ان سے کیا ہوا؟ بے پروا ہوا، تو بے پروا ہونے کے ساتھ لازم ہے عدمِ تقویٰ۔
اتقاء سے کیا مراد ہے؟ تقویٰ، اور استغنیٰ کے ساتھ کیا لازم ہوا؟ تو دیکھو تقابل آیا یا نہیں آیا مولانا؟ تقابل آ گیا۔
تو دیکھو تین کے اعتبار سے، تو یہ ایہام التضاد کے قبیل سے ہوا مولانا، ایہام التضاد بھئی۔
یہ ملحق بالطباق کے قبیل سے ہوا۔
بھئی تین چار چیزیں ذکر ہوئی تھیں: ایک کیا؟ اعطاء اور اس کے مقابلے میں کیا آیا؟ بخل، اس میں بھی طباق ہے، اسی طرح تصدیق کے مقابلے میں کیا آیا؟ اس میں بھی طباق ہے، تیسیر للعسر کے مقابلے میں کیا آیا؟ تیسیر للعسر، اس میں بھی کیا ہے؟ طباق ہے۔
لیکن چوتھی صفت جو ذکر ہوئی وہ کیا تھی؟ اتقاء کے تقویٰ کے مقابلے میں کیا ذکر؟ استغنیٰ، اور تقویٰ اور استغنیٰ میں تقابل نہیں لیکن استغنیٰ کے ساتھ لازم کیا ہے؟ عدمِ تقویٰ، اور تقویٰ اور عدمِ تقویٰ میں کیا ہے؟ تقابل، تو یہ بھی اسی قبیل سے ہوا جیسے وہ شدت اور رحمت کے درمیان کیا آیا تھا؟ تقابل آیا تھا۔
علامہ سکاکی نے ایک اور یہاں پر کہتے ہیں قید بڑھائی ہے اور وہ فرماتے ہیں کہ جب دیکھیے آپ نے دو یا دو تین جو ہیں کیا کیں؟ چیزیں امور ذکر کیے اور پھر ان کی کیا ذکر کیے؟ مقابل ذکر کیے، وہ فرماتے ہیں اگر یہ پہلے دو تین کے اندر کوئی شرط لگائی جائے، کسی امرِ مشترک کو بیان کیا جائے تو اگلے دو تین مقابل میں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ اس کی ضد لانی پڑے گی، جو آپ نے امرِ مشترک یا جو شرط یہاں لگائی تھی وہاں پر اس کے ضد لانا پڑے گی، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
تو لہٰذا ان کی جیسے کہ اس آیت میں ہے، یہاں پر کیا ہے؟ یہاں پر تین چیزیں ذکر ہیں کہ جس نے جس نے اعطاء کیا اور تقویٰ اختیار کیا اور تصدیق کی، جس نے اعطاء کیا، تقویٰ اختیار کیا اور تصدیق کی، ہم اس کے لیے جنت میں جانا کیا کر دیں گے؟ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، یہ قید یہاں یہ امرِ مشترک تینوں کے لیے بیان کیا گیا۔
تو جب ان تین کے لیے یہ شرط لگائی گئی ہے تو اس کی ضدین کے لیے اس کی ضد لانا پڑے گی، اور اس کی ان کی ضد کیا تھی مولانا؟ اعطاء کے مقابلے میں جب بخل ذکر ہوا اور تقویٰ کے مقابلے میں استغنیٰ ذکر ہوا اور تصدیق کے مقابلے میں تکذیب ذکر ہوئی، تو وہاں پر شرط لگائی گئی کیا شرط تھی وہاں کہ آسان کر دیں گے جنت میں جانا، تو یہاں ضد کی شرط لگائی گئی اور وہ کیا کہ آسان کر دیں گے کہاں پر جانا؟ جہنم میں جانا بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟
ہاں اگر پہلے میں کوئی شرط نہیں لگائی گئی تو ثانی میں بھی کوئی شرط لگانے کی ضرورت نہیں، لیکن اگر پہلے میں لگائی گئی ہے تو ثانی میں بھی اس کی ضد لگانا پڑے گی۔
جیسے تو معلوم ہوا کہتے ہیں اگر علامہ سکاکی کی بات لے لی جائے تو پھر یہ جو شعر گزرا تھا مَا أَحْسَنَ الدِّينَ وَالدُّنْيَا إِذَا اجْتَمَعَا وَأَقْبَحَ الْكُفْرَ وَالْإِفْلَاسَ بِالرَّجُلِ، یہ پھر صنعتِ مقابلہ سے خارج ہوا، کیوں خارج ہوا؟ اس لیے کہ یہاں پر دیکھو حسن جمع حسن آیا اس کے مقابلے میں قبح، دین آیا اس کے مقابلے میں کفر، دنیا آئی اس کے مقابلے میں افلاس، لیکن پہلے تین کے اندر شرط لگائی گئی ہے إِذَا اجْتَمَعَا، جب یہ تینوں کیا ہو جائیں؟ جمع ہو جائیں، تو وہاں پر اس کی ضد میں بھی اس کی ضد کی شرط لگانی پڑے گی، کہ کفر قبح، کفر اور افلاس اس میں کیا کہنا پڑے گا؟ إذا افترقا، جب یہ آپس میں جدا ہو جائیں، اور یہ قید وہاں پر ہے؟ نہیں، بلکہ وہاں پر بھی جمع ہونا ہی مراد ہے، لہٰذا یہ صنعتِ مقابلہ سے ان کے نزدیک خارج ہے، اگرچہ مصنف کے نزدیک نہیں۔
اب دیکھو بھئی ترجمہ: وَدَخَلَ فِيْهِ أَيْ فِي الطبَاقِ بالتَّفْسِيْرِ الَّذِيْ سَبَقَ، طباق کے اندر داخل ہو گیا طباق التفسیر کے ساتھ جو گزرا ہے، طباق کی وہ تفسیر لی، بھئی دراصل یہ کہنا چاہتے ہیں کہ صنعتِ مقابلہ ہم نے ذکر کی اور یہ کس میں داخل ہے؟ طباق ہی میں داخل ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ کیونکہ طباق کی کیا تعریف کی تھی؟ دو متضاد معانی کو ذکر کیا جائے، تو مقابلہ میں بھی کیا تھا مولانا؟ متضاد معانی ہی کو جمع کیا گیا تھا صرف کیا تھا؟ ان کی تعداد زیادہ تھی علی الترتیب تھی بس، باقی تعریف تو صادق آ رہی ہے متضاد معانی تو اس میں بھی جمع ہو رہے ہیں تو یہ بھی کس میں داخل ہوا؟ طباق، جبکہ علامہ سکاکی وغیرہ نے اس کو الگ قسم الگ قسم بنایا ہے اور جیسے اور صنعتیں الگ شمار ہوئی ہیں انہوں نے بھی اس کو طباق سے الگ کیا کیا ہے؟ شمار کیا ہے، لیکن مصنف فرماتے ہیں کہ نہیں یہ اسی میں داخل ہے۔
تو داخل ہوا داخل ہوا ہوتا ہے مولانا طباق کے اندر بھی بالتفسیر الذی سبق اس تفسیر کے ساتھ جو گزری، مَا يُخْتَصُّ بِاسْمِ الْمُقَابَلَةِ، وہ چیز جو خاص ہے مقابلہ کے اسم کے ساتھ، وَإِنْ جَعَلَهُ السَّكَّاكِيُّ وَغَيْرُهُ قِسْمًا بِرَأْسِهِ مِنَ الْمُحَسِّنَاتِ الْمَعْنَوِيَّةِ، اگرچہ علامہ سکاکی وغیرہ نے اس کو ایک الگ قسم بنایا ہے محسناتِ معنویہ میں سے ایک مستقل قسم بنایا ہے، وَهِيَ أَنْ يُؤْتَى بِمَعْنَيَيْنِ مُتَوَافِقَيْنِ أَوْ أَكْثَرَ، اور وہ یہ کہ لایا جائے دو متوافق معانی کو یا زیادہ کو، ثُمَّ يُؤْتَى بِمَا يُقَابِلُ ذٰلِك، پھر ان کے مقابل کو لایا جائے، أَيِ الْمَذْكُوْرَ مِنَ الْمَعْنَيَيْنِ الْمُتَوَافِقَيْنِ، کس کے مقابل کو لایا جائے بھئی؟ وہ جو مذکور ہوئے تھے دو متوافق معانی یا زیادہ متوافق معانی ذکر ہوئے تھے، عَلَى التَّرْتِيْبِ، ترتیب کے ساتھ، فَيَدْخُلُ فِي الطبَاقِ، پس یہ مقابلہ بھی طباق کے اندر داخل ہو گیا، لِأَنَّهُ جَمَعَ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ مُتَقَابِلَيْنِ فِي الْجُمْلَةِ، اس لیے کہ اس میں بھی جمع کیا گیا ہے...
لِأَنَّهُ جَمْعٌ بَيْنَ، اس لیے کہ یہ بھی کیا ہے مولانا؟ جمع کرنا ہے معنئین متقابلین کو فی الجملہ مجموعی اعتبار سے، وَالْمُرَادُ بالتَّوَافُقِ خِلَافُ التَّقَابُلِ، توافق سے کیا مراد ہے مولانا؟ خلافِ تقابل مراد ہے، یعنی دو معانی متوافق لے کر آئیں یعنی ان میں تقابل نہ ہو، حَتَّى لَا يُشْتَرَطَ أَنْ يَكُوْنَا مُتَنَاسِبَيْنِ أَوْ مُتَمَاثِلَيْنِ، لا يشترط أن يكونا متناسبين أو متماثلين، یہاں تک کہ یہ شرط نہیں لگائی جائے گی کہ دونوں متناسبین ہوں یا متماثلین، بھئی وہی معنی میں نے بتلایا متوافق کا کیا معنی ہے؟ کہ ان میں تضاد نہ ہو، یہ معنی نہیں ہے کہ ان میں مناسبت ہو یا وہ ایک دوسرے کے مماثل ہونا ضروری نہیں ہے۔
فَمُقَابَلَةُ اثْنَيْنِ باثْنَيْنِ، دو کا دو کے ساتھ مقابلہ، فَلْيَضْحَكُوا قَلِيلًا وَلْيَبْكُوا كَثِيرًا، أَتَى بالضَّحِكِ وَالْقِلَّةِ، اللہ تعالی لائے مولانا ضحک اور قلت کو ذکر کیا اللہ تعالی نے، الْمُتَوَافِقَيْنِ، جو متوافقین ہیں، ثُمَّ بالْبُكَاءِ وَالْكَثْرَةِ، پھر بکاء اور کثرت کو ذکر کیا گیا مولانا، الْمُتَقَابِلَيْنِ لَهُمَا، جو ان دونوں کے مقابل ہیں، وَمُقَابَلَةُ ثَلَاثَةٍ بثَلَاثَةٍ نَحْوُ قَوْلِهِ، اور تین کا تین سے مقابلہ جیسے اس شعر میں مَا أَحْسَنَ الدِّينَ وَالدُّنْيَا إِذَا اجْتَمَعَا، کہ کتنا ہی اچھا ہے دین اور دنیا جب وہ جمع ہو جائیں، وَأَقْبَحَ الْكُفْرَ وَالْإِفْلَاسَ بِالرَّجُلِ، اور کتنا ہی برا کفر اور افلاس ہے آدمی کے ساتھ! أَتَى بالحُسْنِ وَالدِّينِ وَالْغِنَى، لے کر آیا شاعر مولانا ذکر کیا اس نے حسن کو، پھر دین کو، اور غنیٰ مالداری کو، ثُمَّ بِمَا يُقَابِلُهَا، پھر اس چیز کو جو اس کے مقابل ہے، یعنی کہ قبح کو ذکر کیا، افلاس کفر کو اور افلاس کو، علی الترتیب ترتیب کے ساتھ، وَمُقَابَلَةُ أَرْبَعَةٍ بأَرْبَعَةٍ، چار کا چار سے مقابلہ جیسے أَمَّا مَنْ أَعْطَى وَاتَّقَى وَصَدَّقَ بِالْحُسْنَى، پس جس نے عطا کیا اور تقویٰ اختیار کیا اور تصدیق کی بالحسنیٰ، اچھی خصلت کی، اچھی خصلت کی تصدیق کی یعنی ایمان لے کر آیا، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى، ہم اس کے لیے جنت کی طرف آسانی فرما دیں گے، وَأَمَّا مَنْ بَخِلَ وَاسْتَغْنَى، پس اور جس نے بخل کیا اور بے پروا ہوا، وَكَذَّبَ بِالْحُسْنَى، اور تکذیب کی اس نے جھٹلایا، ایمان نہیں لے کر آیا، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى، تو آسانی کر دیں گے ہم اس کی اس تنگی کے لیے یعنی آگ کے لیے، وَالتَّقَابُلُ بَيْنَ الْجَمِيْعِ ظَاهِرٌ، ان سب کے درمیان تقابل جائز تقابل ظاہر ہے، إِلَّا بَيْنَ الِاتِّقَاءِ وَالِاسْتِغْنَاءِ، مگر اتقاء اور استغناء میں تقابل ظاہر نہیں تھا، فَبَيَّنَهُ بِقَوْلِهِ، تو مصنف نے اس کو بیان کیا اپنے اس قول کے ساتھ: وَالْمُرَادُ بالِاسْتِغْنَاءِ أَنَّهُ زَهِدَ فِيمَا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى، اور استغناء، یہاں ہمزہ مولانا اس کو پڑھیں گے کیونکہ استغناء سے کیا مراد ہے؟ لفظِ استغناء مراد ہے، تو یہ اب ہمزہ وصل نہیں رہا مولانا، وَالْمُرَادُ بالِاسْتِغْنَاءِ، اور استغناء سے مراد یہ ہے أَنَّهُ زَهِدَ فِيمَا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى، کہ وہ بے رغبت ہوا یعنی اس نے اعراض کیا، أَنَّهُ زَهِدَ، زہد کا صلہ فی آ جائے تو اس کا معنی ہے اعراض کرنا، أَنَّهُ زَهِدَ فِيمَا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى، کہ اس نے اعراض کیا اس چیز سے جو اللہ کے پاس ہے یعنی ثوابِ اخروی، كَأَنَّهُ مُسْتَغْنٍ عَنْهُ أَيْ عَمَّا عِنْدَ اللهِ تَعَالَى، تو گویا کہ وہ اس سے بے پروا ہے جو اللہ کے پاس ہے، فَلَمْ يَتَّقِ، تو اس نے تقویٰ اختیار نہیں کیا۔
أَوْ الْمُرَادُ بالِاسْتِغْنَاءِ الِاسْتِغْنَاءُ بِشَهَوَاتِ الدُّنْيَا عَنْ نَعِيْمِ الْجَنَّةِ، یا استغناء سے مراد یہ ہے کہ وہ بے پروا ہوا دنیاوی شہوتوں کے ساتھ عن نعیم الجنة، جنت کی نعمتوں سے، فَلَمْ يَتَّقِ، تو اس نے تقویٰ اختیار نہیں کیا، فَيَكُوْنُ الِاسْتِغْنَاءُ مُسْتَلْزِمًا لِعَدَمِ الِاتِّقَاءِ، تو استغناء مستلزم ہے عدمِ اتقاء کو، عدمِ اتقاء اس کے ساتھ لازم ہے، وَهُوَ مُقَابِلٌ لِلِاتِّقَاءِ، اور عدمِ اتقاء مقابل ہے کس کے؟ اتقاء کے، فَيَكُوْنُ هٰذَا مِنْ قَبِيْلِ قَوْلِهِ تَعَالَى، تو یہ اللہ کے اسی قول کی قبیل سے ہوا أَقِوِيَاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ، گزشتہ صفحے پر گزرا تھا مولانا شدت کے مقابلے میں رحمت آئی حالانکہ رحمت تو شدت کے مقابلے میں، لیکن رحمت جو ہے وہ مسبب ہے سبب لین سے تو اور وہ مقابل ہیں۔
وَزَادَ السَّكَّاكِيُّ فِيْ تَعْرِيْفِ الْمُقَابَلَةِ قَيْدًا آخَرَ، اور بڑھایا علامہ سکاکی نے مقابلہ کی تعریف میں ایک اور قید کو بھی، حَيْثُ قَالَ، ابو فرماتے ہیں: وَهُوَ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ شَيْئَيْنِ مُتَوَافِقَيْنِ، جمع کیا جائے دو متوافق چیزوں کو، أَوْ أَكْثَرَ، یا دو سے زیادہ کو جمع کیا جائے، وَبَيْنَ ضِدَّيْهِمَا، اور اس کو جمع کیا جائے ان کی ان دونوں کی ضدوں کو، وَإِذَا شُرِطَ هٰهُنَا أَيْ فِيْمَا بَيْنَ الْمُتَوَافِقَيْنِ، اور جب یہاں کوئی شرط لگائی جائے یعنی متوافقین کے اندر، أَوْ الْمُتَوَافِقَاتِ، یا متوافقات، جب متوافقین جب دو لے کر آئے، او المتوافقات یا دو سے اگر دو لے کر آئے ان کے وہاں پر کوئی شرط لگائی گئی یا دو سے زیادہ امور لے کر آئے وہاں پر کوئی شرط لگائی گئی، تو إذا شرط هٰهنا أمر، جب وہاں پر کوئی شرط لگائی گئی، شُرِطَ ثَمَّ، تو ان کی ضدین میں وہاں، ثمہ کا کیا معنی اس میں؟ اشارہ ہے وہاں، تو وہاں بھی شرط لگائی جائے گی، کہاں وہاں؟ کہتے ہیں: أَيْ فِيْمَا بَيْنَ ضِدَّيْهِمَا، ان دونوں کی ضدین، جب وہ دو ہوں، أَوْ أَضْدَادِهِمَا، یا جب وہ دو سے تو ان کی ضدوں میں، ضِدُّهُ، کس کی شرط لگائی جائے گی؟ جس جہاں وہ جو پہلی شرط تھی اس کی ضد لگائی جائے گی، أَيْ ضِدُّ ذٰلِكَ الْأَمْرِ، اس امر کی ضد، كَهَاتَيْنِ الْآيَتَيْنِ، جیسے یہ آیتیں تھیں، فَإِنَّهُ لَمَّا جُعِلَ التَّيْسِيْرُ مُشْتَرَكًا بَيْنَ الْإِعْطَاءِ وَالِاتِّقَاءِ، اس لیے کہ جب علامہ سکاکی نے...
فَإِنَّهُ لَمَّا جُعِلَ التَّيْسِيْرُ مُشْتَرَكًا بَيْنَ الْإِعْطَاءِ وَالِاتِّقَاءِ وَالتَّصْدِيْقِ، اس لیے کہ جب مولانا تیسیر کو مشترک بنایا گیا کہاں پر؟ اتقاء، اعطاء، اتقاء اور...
دیکھو تین چیزیں اعطاء، اتقاء اور تصدیق، اور ان کے لیے امرِ مشترک کیا ذکر کیا گیا؟ تیسیر، مولانا تیسیر للیسرا، فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْيُسْرَى۔
جُعِلَ ضِدُّهُ مُشْتَرَكًا بَيْنَ أَضْدَادِهَا، تو بنایا گیا اس کی ضد کو مشترک ان کی ضدوں کے بیچ، تو تیسیر کے مقابلے میں کس کو ذکر کیا گیا؟ تعسیر کو۔
أَيْ ضِدُّ التَّيْسِيْرِ، تیسیر کی ضد، وَهُوَ التَّعْسِيْرُ، وہ تعسیر ہے، الْمُعَبَّرُ عَنْهُ بِقَوْلِهِ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى، جس کو تعبیر کیا گیا ہے اس اللہ کے قول کے ساتھ فَسَنُيَسِّرُهُ لِلْعُسْرَى۔
وَهِيَ الْبُخْلُ وَالِاسْتِغْنَاءُ وَالتَّكْذِيْبُ، اور وہ ضدین کیا ہیں؟ بخل، استغناء اور تکذیب ہیں، فَعَلَى هٰذَا لَا يَكُوْنُ قَوْلُهُ مَا أَحْسَنَ الدِّينَ وَالدُّنْيَا مِنَ الْمُقَابَلَةِ، علامہ سکاکی کی اس قول کی بناء پر یہ ما یہ جو شعر تھا مَا أَحْسَنَ الدِّينَ وَالدُّنْيَا لَيْسَ مِنَ الْمُقَابَلَةِ، یہ کیا ہے؟ مقابلہ میں سے نہیں، لِأَنَّهُ اشْتَرَطَ فِي الدِّينِ وَالدُّنْيَا الْاجْتِمَاعَ، اس لیے کہ شاعر نے دین اور دنیا میں کیا ہے؟ اجتماع کی شرط لگائی ہے، وَلَمْ يَشْتَرِطْ فِي الْكُفْرِ وَالْإِفْلَاسِ ضِدَّهُ، اور کفر اور افلاس میں اس کی ضد کی شرط نہیں لگائی۔
بھا یہاں تک بات سمجھ میں آئی کوئی مشکل تو نہیں؟
وَمِنْهُ، اس کے بعد کہہ رہے ہیں: وَمِنْهُ أَيْ مِنَ الْمَعْنَوِْيِّ مُرَاعَاةُ النَّظِيْرِ، محسناتِ معنویہ میں سے مولانا مراعاۃ النظیر ہے۔
وَتُسَمَّى التَّنَاسُبَ وَالتَّوْفِيْقَ وَالِائْتِلَافَ وَالتَّلْفِيْقَ، اس کو تناسب بھی کہتے ہیں مراعاۃ النظیر کو، توفیق بھی کہتے ہیں صنعتِ توفیق، صنعتِ ائتلاف بھی کہتے ہیں اور صنعتِ تلفیق بھی، چار نام ذکر کیے۔
وَهِيَ جَمْعُ أَمْرٍ، جميع امرٍ مولانا، جمع امرٍ، یہ جمع کرنا ہے ایک امر کو، وَمَا يُنَاسِبُهُ، اور وہ جو اس کے مناسب ہو، لَا بالتَّضَادِّ۔
بھا انہوں نے کہا ایک دوسری صنعت ذکر کر رہے ہیں مراعاۃ النظیر، مراعاۃ النظیر کس کو کہتے ہیں بھئی؟ کہ دو یا زیادہ امورِ مناسبہ کو جمع کرنا بھئی، دو یا زیادہ امورِ کلام میں جمع کرنا، طباق میں ضد تھی کہ تقابل متقابلین کو جمع کیا جائے گا، اور یہاں پر کیا ہے؟ متناسبین کو۔
سمجھ میں آیا؟ لیکن کہتے ہیں وَهِيَ جَمْعُ أَمْرٍ وَمَا يُنَاسِبُهُ، یہ جمع کرنا ایک امر کو اور اس کے مناسب کو، لَا بالتَّضَادِّ، لیکن یہ مناسبت تضاد والی نہ ہو مولانا، اس لیے کہ تضاد بھی تو ایک مناسبت ہے، مناسبت ہے یا نہیں مولانا؟ ایک ضد کو ذکر کریں تو دوسری ضد اس کے خود بخود ذہن میں آ جاتی ہے، سفید کو ذکر کریں تو خود بخود ذہن میں کیا آ جاتا ہے؟ سیاہ آ جاتا ہے، تو وہ بھی مناسبت ہے لیکن وہ مراد نہیں، کیونکہ وہ تو گزر گئی طباق میں۔
وَالْمُنَاسَبَةُ بالتَّضَادِّ أَنْ يَكُوْنَ كُلٌّ مِنْهُمَا مُقَابِلًا لِلْآخَرِ، اور مناسبت بالتضاد یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک دوسرے کا مقابل ہو، بِهٰذَا الْقَيْدِ يَخْرُجُ الطبَاقُ، اس قید سے کیا نکل گئی صنعتِ طباق؟ لا بالتضاد کی قید سے طباق نکل گئی، وَذٰلِكَ قَدْ يَكُوْنُ بالْجَمْعِ بَيْنَ الْأَمْرَيْنِ، اور وہ بھی کیا تھا؟ جمع کرنا تھا دو امور۔
تو مراعاۃ النظیر اس کو کہتے ہیں، جیسے مولانا الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، شمس اور قمر کیا ہیں؟ ایک حساب سے چل رہے ہیں بھئی۔
شمس اور، تو دیکھو کلام کے اندر مولانا شمس اور اس کے ساتھ کس کو ذکر کیا گیا؟ قمر، اور شمس و قمر میں کیا ہے؟ مناسبت ہے، دونوں میں مناسبت ہے۔
نَحْوُ الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، جمع بین امرین۔
جمع کیا اللہ تعالی نے جمع فرمایا دو امور کو، وَقَدْ يَكُوْنُ بالْجَمْعِ بَيْنَ ثَلَاثَةِ أُمُوْرٍ، اور کبھی کبھار مراعاۃ النظیر کس کے ساتھ ہوتی ہے؟ تین امور کو جمع کرنے کے ساتھ ہوتی ہے، جیسے نَحْوُ قَوْلِهِ فِي صِفَةِ الْإِبِلِ، جیسے ایک شاعر کہتے ہیں مولانا اونٹوں کی صفت وصف اور مدح کرتے ہوئے، اپنے اونٹوں کی تعریف کرتا ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟
اونٹ اور...
اونٹ ہے، اور گھوڑا ہے، ان میں پسندیدہ صفت کیا ہے؟ پتلا ہونا، سمجھ میں آیا بھئی؟ یہ نہ گھوڑا آپ نے رکھا ہوا ہے پیٹ اس کا خوب پھولا ہوا ہے، یا اونٹ ہے اس کا پیٹ خوب بڑا ہے، تو یہ پسندیدہ یا خوب موٹا ہے تو وہ گھوڑا بھی تیز رفتار نہیں ہوگا، اور اس...
تو اونٹوں میں بھی صفت پتلا پن، دبلا پن جو ہے وہ کا یہ حسن کی علامت ہے، تو شاعر اپنے اونٹوں کی تعریف کر رہا ہے کہ میرے اونٹ کیا ہیں؟ دبلے پتلے ہیں۔
کمان دیکھی ہے آپ لوگوں نے؟ تیر کمان بھئی؟
بھا تیر کمان میں ایک تو وہ کمان میں وہ لکڑی ٹیڑھی ہوتی ہے۔
اور پھر اس لکڑی کو باندھا جاتا ہے ایک کنارے کو دوسرے کنارے کے ساتھ چمڑے کے ساتھ بھئی۔
اور پھر اس کے ذریعے تیر چلایا جاتا ہے۔
تو ان تین چیزوں میں سب سے موٹی چیز وہ جو کمان کی مڑی ہوئی لکڑی ہے، وہ کیا ہوتی ہے؟ سب سے اس سے پتلی جو ہیں اس سے پتلے تیر ہوتے ہیں، اور تیروں سے بھی پتلا کیا ہے؟ وہ جو وتر اس وتر جو وہ جو چمڑا باندھا ہے وہ تیر سے بھی کیا ہوتا ہے؟ پتلا ہوتا ہے بھئی۔
تو شاعر کہتا ہے: كَالْقِسِيِّ، میرے اونٹ کس کی طرح ہیں؟ کمان کی طرح ہیں، قسی جمعِ قوس، یہ جمع ہے کس کی؟ قوس کی جمع ہے، کمان کی طرح دبلے پتلے ہیں، پھر کہتا ہے: الْمُعَطَّفَاتِ، ای المنحنیات۔
مڑی ہوئی، وہ کس کمان کی طرح ہے؟ مڑی ہوئی کمان کی طرح دبلے پتلے ہیں، معطفات منحنیات اس کا ترجمہ بتلا رہے ہیں مولانا، مڑی ہوئی، ٹیڑھی، ٹیڑھی کمان کی طرح، پھر کہتا ہے: نہیں نہیں، کمان بھی کچھ موٹی ہوتی ہے، بَلِ الْأَسْهُـمُ، بلکہ کس کی طرح ہیں؟ تیروں کی طرح ہیں، جمع سہم، مَبْرِيَّةً، اس حال میں کہ وہ تراشے گئے ہوں مولانا، منحوتةً، وہ تیر تیروں کو کیا کیا جاتا ہے مولانا؟ تراشا جاتا ہے۔
پھر کہتا ہے: نہیں، تیر بھی کچھ موٹے ہیں، بَلِ الْأَوْتَارُ، بلکہ وہ تو کس کی طرح ہیں؟ وتر کی طرح ہیں کمان کے، تو دیکھو شاعر نے تین تشبیہات دے دیں مولانا اپنے اونٹوں کی: پہلی تشبیہ دی ٹیڑھی کمان کے ساتھ، پھر اس سے اعراض کیا اور تشبیہ کس سے دی؟ تیروں کے ساتھ، پھر اس سے اعراض کیا اور تشبیہ کس سے دی؟ وتر کے ساتھ، تو دیکھو تین چیزیں ذکر ہوئیں: قوس، سہم اور وتر، اور یہ تینوں آپس میں کیا ہیں؟ مناسب ہیں، تو تین مناسب چیزیں کلام میں ذکر کیں۔
بَلِ الْأَوْتَارُ، جمع وترٍ مولانا، یہ وتر کی جمع ہے۔
جَمَعَ بَيْنَ ثَلَاثَةِ أُمُوْرٍ، جمع کیا تین امور میں، وَمِنْهَا أَيْ مِنَ الْمُرَاعَاةِ النَّظِيْرِ مَا يُسَمِّيْهِ بَعْضُهُمْ تَشَابُهَ الْأَطْرَافِ، مراعاۃ النظیر ہی میں سے ہے جس کا نام بعض نے تشابہ الاطراف رکھا ہے، وَهُوَ أَنْ يُخْتَمَ الْكَلَامُ بِمَا يُنَاسِبُ ابْتِدَاءَهُ فِي الْمَعْنَى، اور وہ یہ کہ ختم کیا جائے کلام کو اس چیز کے ساتھ جو اس کے ابتداء کے مناسب ہو معنی میں۔ دیکھو مولانا یہ آپ نے کلام ایک ذکر کیا بھئی، کلام کے یہ ہے ابتدائی حصہ اور یہ ہے آخری حصہ، آخری حصے میں ایسی چیز لانا جو ابتداء کے کیا ہو؟ مناسب ہو، سمجھ میں آیا؟ یعنی جیسے مثال ابتداء میں اگر کوئی بات ذکر تھی تو اختتام میں اس کی دلیل ذکر ہے، ابتداء میں مولانا معلول ذکر تھا تو انتہاء میں کیا ذکر ہے اس کے؟ علت ذکر ہے، جیسے اس میں تو دیکھو ابتداء اور انتہاء میں کیا آ گئی مولانا؟ مناسبت آ گئی، تو امورِ مناسبہ، جیسے لَا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ۔
جی، آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کر سکتیں، وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ، اور اللہ کیا ہیں؟ آنکھوں کا دیکھتا ادراک کرتے ہیں۔
تو دیکھو: آنکھیں اللہ کا ادراک نہیں کر سکتیں، کی علت کیا ہے؟ کہتے ہیں اللطیف، آگے کیا آ رہا ہے؟ کیونکہ اللہ کی ذات کیا ہے؟ لطیف ہے، اور اللہ آنکھوں کا ادراک کرتے ہیں، علت کیا ہے؟ الخبیر، کیونکہ اللہ کیا ہیں؟ خبیر ہیں، تو دیکھو ابتداء انتہاء کے موافق ہوئی۔
فَإِنَّ اللَّطِيْفَ يُنَاسِبُ كَوْنَهُ غَيْرَ مُدْرَكٍ بالْأَبْصَارِ، اس لیے کہ لطیف جو ہے یہ مناسب ہے غیر مدرک بالابصار کے، وَالْخَبِيْرُ يُنَاسِبُ كَوْنَهُ مُدْرِكًا لِلْأَبْصَارِ، اور خبیر خبیر کیا ہے؟ مناسب ہے مدرک للابصار ہونے کے، لِأَنَّ الْمُدْرِكَ لِلشَّيْءِ يَكُوْنُ خَبِيْرًا عَالِمًا، اس لیے کہ مدرک کسی چیز کے مدرک جو ہے وہ اس چیز سے باخبر ہوگا اور اس کو جاننے والا ہوگا، سمجھ میں آیا بھئی؟
اردو میں اس کی مثالیں بھئی کچھ اشعار میں بھئی۔
جیسے یہ شعر ہے مولانا:
چراغ و مسجد و محراب و منبر، ابو بکر و عمر عثمان و حیدر
چراغ و مسجد و محراب و منبر، ابو بکر و عمر عثمان و حیدر
رضی اللہ تعالی عنہم
تو دیکھا امورِ مناسبت ذکر ہوئے مولانا، چراغ کے ساتھ کس کا ذکر آیا؟ مسجد کا ذکر آیا، مسجد کے ساتھ محراب، محراب کے ساتھ منبر، اور اس کے ساتھ چراغ اور ان سب کے آپس میں مناسبت ظاہر ہے۔
اسی طرح مولانا صحابہ کا تذکرہ آیا، حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کا تذکرہ آیا، پھر کس کا آیا بھئی؟ جی، تو چاروں خلفائے راشدین کا بھی ذکر آ گیا بھئی، ان میں بھی مناسبت ظاہر ہے چاروں کیا ہیں؟ خلفائے راشدین، صحابہ ہیں۔
جی دوسری مثال بھئی:
لیلائے سخن کو آنکھ بھر کر دیکھو
لیلائے سخن کو آنکھ بھر کر دیکھو،
قاموس و لغات سے گزر کر دیکھو
الفاظ کے سروں پر نہیں اڑتے معنی،
الفاظ کے سینوں میں اتر کے دیکھو
دیکھا بھئی، سخن بات کا آئی بھئی بات کے ساتھ لغت کا لفظ آ گیا بھئی ان کی مناسبت ہے بھئی، اسی طرح لفظ کے ساتھ معنی کا ذکر آ گیا اور لفظ اور معنی میں بھی مناسبت ہے۔
اسی طرح:
شمع نے سر پہ رکھی آگ قسم کھانے کو
شمع نے سر پہ رکھی آگ قسم کھانے کو، بخدا میں نے جلایا نہیں پروانے کو
تو دیکھا یہاں پر شمع کا ذکر آیا، آگ کا ذکر آیا، پروانے کا ذکر آیا اور ان تینوں میں کیا ہے؟ مناسبت ہے۔
جی ایک اور بھی مثال لکھ لیں، یہ شعر حضرت شیخِ ترمذی رحمہ اللہ کو بڑے پسند تھے بھئی، عجیب بھئی عبرت کا پہلو لیے ہوئے یہ اشعار بھئی:
چمن کے تخت پر جس دن شہِ گل کا تجمل تھا
چمن کے تخت پر جس دن شہِ گل کا تجمل تھا، ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی اِک شور تھا غل تھا
چمن کے تخت پر جس دن شہِ گل کا تجمل تھا، ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی اِک شور تھا غل تھا
آئے دن خضاں کے کچھ نہ تھا جز خار گلشن میں
آئے دن خضاں کے کچھ نہ تھا جز خار گلشن میں، بتاتا باغباں رو رو یہاں غنچہ یہاں گل تھا
سمجھ میں آیا بھئی؟
چمن کے تخت پر جس دن شہِ گل کا تجمل تھا، ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی اِک شور تھا غل تھا، آئے دن خضاں کے کچھ نہ تھا جز خار گلشن میں، بتاتا باغباں رو رو یہاں غنچہ یہاں گل تھا۔
شاعر کہتا ہے کہ جس وقت چمن کے تخت پر گل کی حکومت تھی، سمجھ میں آیا؟ گل کی حیثیت کیا ہے؟ باغ کے اندر بادشاہ کی سی ہے، تو کہتے ہیں جس وقت باغ کے اندر پھول کی حکومت تھی، پھول موجود تھا، تو اس وقت ہر طرف خوش ہر طرف خوشنما رنگ دکھائی دیتے تھے اور ہر طرف خوشبوئیں پھیلی ہوتی تھیں، اور ہزاروں بلبلوں کی فوج تھی ان پھولوں کے عاشق بلبلیں وہاں پر منڈلاتی رہتی تھیں، لیکن جب خضاں کے دن آئے تو پھر اس باغ کے اندر کچھ بھی نہیں تھا، سارا کچھ ختم ہوا، اور وہ جو باغباں تھا وہاں کا وہ رو رو کر لوگوں کو بتایا کرتا تھا کہ یہاں پر بھی پھول ہوا کرتے تھے بھئی، یہاں پر کیا تھے؟ یہاں پھول ہوا کرتے تھے۔
تو جب بزرگ جب تک دنیا کے اندر ہوتے ہیں مولانا، ان کی وجہ سے دنیا کے اندر رونق ہوتی ہے، رحمتیں ہوتی ہیں ان کی برکتیں ہوتی ہیں، اور ان کے ارد گرد سینکڑوں ہزاروں پروانے جن کے دلوں میں اللہ ان کی محبت ڈال دیتے ہیں ان کے گرد منڈلاتے رہتے ہیں، لیکن جس وقت ان کے وہ اس دنیا سے چلے جاتے ہیں، تو اس وقت پھر بس ان کی یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں، انسان یاد کرتا ہے کہ فلاں جگہ یہ بزرگ مجھے ملے اور مجھے انہوں نے یہ دعا دی تھی، فلاں ستون کے پاس یہ مجھے ملے تھے اور انہوں نے میری طرف شفقت سے نظر ڈالی تھی، فلاں جگہ انہوں نے میری طرف مسکرا کر دیکھا تھا، فلاں جگہ انہوں نے میرے ساتھ یہ نیکی کی یہ احسان کیا اور فلاں جگہ ان کی برکت سے مجھے یہ فائدہ حاصل ہوا اور یہ فائدہ حاصل ہوا، تو بزرگ چلے جاتے ہیں اور ان کی یادیں ہی باقی رہ جاتی ہیں مولانا۔
وَيُلْحَقُ بِهَا أَيْ بِمُرَاعَاةِ النَّظِيْرِ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَ مَعْنَيَيْنِ غَيْرِ مُتَنَاسِبَيْنِ بِلَفْظَيْنِ يَكُوْنُ لَهُمَا مَعْنَيَانِ مُتَنَاسِبَانِ وَإِنْ لَمْ يَكُوْنَا مَقْصُوْدَيْنِ هٰهُنَا۔
کہتے ہیں ملحق بمراعاة النظیر ہے کہ دو غیر مناسب لفظوں کو غیر مناسب معانی کو جمع کیا جائے، کس کو؟ مراعاۃ النظیر میں کیا تھا؟ دو متناسب معانی کو جمع، اور ملحق بمراعاة النظیر ہے مولانا کہ دو غیر متناسب معانی کو جمع کیا جائے، لیکن ایسے لفظوں کے ساتھ کہ جن میں آپس میں کیا ہو؟ مناسبت ہو، جیسے الشَّمْسُ وَالْقَمَرُ بِحُسْبَانٍ، شمس و قمر ایک حساب سے چل رہے ہیں، وَالنَّجْمُ وَالشَّجَرُ يَسْجُدَانِ، اور بغیر...
نجم کہتے ہیں مولانا وہ پودا جس کی تنا یا وہ ڈنڈی نہ ہو مولانا، زمین پر پھیلا ہوا ہو، بیل وغیرہ، وہ پودا جس کی تنا یا ڈنڈی نہ ہو بیل کہہ لیں جیسے زمین پر پھیلی ہوئی ہو، تو نجم اور شجر، اور شجر وہ جس کی جس کا کیا ہو؟ تنا ہو، تو بے تنے کے درخت اور تنے والے بے تنے کے پودے اور تنے والے پودے اور درخت سب کیا ہیں؟ يسجدان، سجدہ کر رہے ہیں اللہ کے لیے، یعنی اللہ کی فرمانبرداری کر رہے ہیں، جس کام کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے اسی کو سرانجام دے رہے ہیں مولانا۔
تو دیکھو یہاں پر ذکر کیا گیا النجم کو، اور نجم سے کیا مراد ہے یہاں پر؟ بغیر تنے اور بغیر ڈنڈی کے پودا مراد ہے، تو اس کی شمس و قمر کے ساتھ مناسبت تو نہیں، لیکن اس کو تعبیر النجم سے کیا گیا ہے، اور النجم کا ایک معنی ستارے کے آتے ہیں اور اس النجم کی کیا ہے مناسبت ہے؟ سورج اور جی۔
یا ثریا، النجم الف لام جب آئے تو یہ ثریا کو کہتے ہیں اور اس کی مناسبت ہے کس کے ساتھ؟ شمس و قمر کے ساتھ بھئی۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟
وَالنَّجْمُ أَيِ النَّبَاتُ الَّذِيْ يَنْجُمُ أَيْ يَظْهَرُ مِنَ الْأَرْضِ لَا سَاقَ لَهُ، وہ نبات جو ظاہر ہوتی ہے زمین سے لا ساق لہ اور اس کی کوئی ڈنڈی نہیں ہوتی، كَالْبُقُوْلِ، جیسے کہ سبزیوں اور ترکاریاں ہیں، بقول سبزی ترکاری کو کہتے ہیں، وَالشَّجَرُ الَّذِيْ لَهُ سَاقٌ، اور وہ درخت جس کی ساق ہو مولانا، يَسْجُدَانِ، سجدہ کر رہے ہیں، کیا معنی سجدہ کر رہے ہیں؟ يَنْقَادَانِ لِلَّهِ تَعَالَى، اللہ کی فرمانبرداری کر رہے ہیں، فِيمَا خُلِقَ لَهُ، يَنْقَادَانِ لِلَّهِ تَعَالَى، وہ فرمانبرداری کر رہے ہیں اللہ کی اس چیز میں جس کے لیے ان کو تخلیق کیا گیا ہے، فَالنَّجْمُ بِهٰذَا الْمَعْنَى وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُنَاسِبًا لِلشَّمْسِ وَالْقَمَرِ، تو النجم اس معنی کے اعتبار سے یعنی پودے کے اعتبار سے اگرچہ شمس و قمر کے مناسب نہیں ہے، لٰكِنَّهُ قَدْ يَكُوْنُ بِمَعْنَى الْكَوْكَبِ، لیکن یہ کبھی کبھار کس معنی میں آتا ہے؟ کوکب کے معنی، وَهُوَ مُنَاسِبٌ لَهُمَا، اور وہ ان دونوں کے مناسب ہے۔
وَيُسَمَّى إِيْهَامَ التَّنَاسُبِ، اور اس کو کیا کہتے ہیں؟ ایہام التناسب کہتے ہیں اس لیے کہ بظاہر دیکھنے میں مناسبت کا وہم پڑتا ہے، اگرچہ معنی کے اعتبار سے حقیقتاً مناسبت لِمِثْلِ مَا مَرَّ فِيْ إِيْهَامِ التَّضَادِ، اسی وجہ سے جو گزرا کس میں مولانا؟ ایہام التضاد میں۔
وَمِنْهُ أَيْ الْمَعْنَوِْيِّ الْإِرْصَادُ، معنوی میں سے ایک قسم ارصاد ہے۔
ارصاد مولانا۔
ارصاد کس کو کہتے ہیں؟
ارصاد کا معنی گھات لگانا مولانا، گھات لگانا، محافظ وغیرہ مقرر کرنا مولانا نگرانی کے لیے۔
وہ یہ کہ شعر کے اختتام سے پہلے کوئی ایسا لفظ ذکر کر دینا جو اس کے آخری کلمہ کا پتہ بتلا دے۔
شعر میں کتنے مصرعے ہیں؟ دو مصرعے، آخری جو کلمہ ہوتا ہے اس کو عجُز کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ عجُز کہتے ہیں۔
تو شعر کے ختم ہونے سے پہلے ہی درمیان میں کوئی ایسا لفظ ذکر کر دینا جو کس کی طرف اشارہ کر دے؟ عجُز کی طرف اشارہ کر دے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ارصاد، سمجھ میں آئی بات بھئی؟ یا اسی طرح یہ تو تھا مولانا نظم میں، نثر میں فقرہ کہتے ہیں بھئی جو جن میں رعایتِ سجع رکھی جاتی ہے، کلام کے اندر چھوٹے چھوٹے مولانا جملے لائے جاتے ہیں جن کی آپس میں کیا ہوتا ہے؟ جن کے آپس میں وزن ایک جیسا مناسبت ہوتی ہے ایک دوسرے کے ساتھ، جیسے مولانا یہ آگے مثال بھی ذکر کریں گے: وَهُوَ يَتْبَعُ الْأَسْجَاعَ بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ، وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ، تو دیکھو دونوں لفظ دونوں فقرے اس کو فقرہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ وہ کلام کے چھوٹے حصے جن کے آپس میں کیا ہو؟ سجع ہو، قافیہ ایک جیسا ہو مولانا، اس کو فقرہ کہتے ہیں۔
تو اس فقرے کے اندر کوئی ایسا لفظ لانا جس سے آنے آخری عجُز کا کیا ہو؟ پتہ چل جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے یا نہیں بھئی؟ کیا کہتے ہیں، کس کو کہتے ہیں ارصاد؟
آخر سے پہلے ایسا لفظ لانا جو آخری لفظ کی طرف کیا کر دے؟ اسی طرح فقرے کے اندر ایسا لفظ لانا کہ جو آخری لفظ کی طرف کیا کر دے؟ یعنی عجُز کی طرف۔
الْإِرْصَادُ وَهُوَ نَصْبُ الرَّقِيْبِ فِيْ الطَّرِيْقِ، اور وہ نگہبان کو مقرر کرنا ہے راستے کے اندر، وَيُسَمِّيْهِ بَعْضُهُمُ التَّسْهِيْمَ، اور اس کا بعض نام بعض علماء تسہیم نام رکھتے ہیں، وَبُرْدٌ مُسَهَّمٌ فِيْهِ خُطُوْطٌ مُسْتَوِيَةٌ، اور بردِ مسہم وہ چادر ہے جس کے اندر سیدھے خط ہوں، سیدھی لکیریں ہوں، یعنی دھاری دار چادر کو مولانا کیا کہتے ہیں؟ بردٌ مسہم، تو یہاں پر بھی مولانا ارصاد دیکھو گھات لگانا، یہاں بھی آپ نے ایک ایسا نگہبان ایک ایسا کلمہ مقرر کر دیا ہے جو آخری کی طرف کیا کر رہا ہے؟ تو جیسے کسی کو نگران مقرر کر دیں وہ بھی آپ کو اطلاع دیتا ہے کسی آنے والے کی جس کے لیے آپ نے مقرر کیا، تو یہ کلمہ بھی آخر میں آنے والے کلمے کی طرف کیا دے رہا ہے؟ اس کی خبر دے رہا ہے، اور اسی طرح بردِ مسہم دھاری دار چادر جس میں خطوط ہوتے ہیں، لائنیں ہوتی ہیں، تو یہاں پر بھی ایک لفظ آپ درمیان میں لائے ہیں اور ایک کلمہ کیا ہے آخر میں لائے ہیں، تو یہ یہ بھی کس کی طرح ہے؟ دو متوازی خطوط کی طرح ہے، کلام میں کس کی طرح ہے؟ دو متوازی خطوط کی طرح ہے، یا اس اعتبار سے مولانا جیسے خطوط اصلِ کپڑے پر زائد ہوتے ہیں اور اس میں حسن پیدا کرتے ہیں، اسی طرح یہاں پر ایسا کلمہ لانا جو آخر کی طرف اشارہ کر دے، یہ بھی اصلِ کلام پر کیا ہے؟ زائد ہے اور کلام میں کیا پیدا کر رہا ہے؟ حسن پیدا کر رہا ہے، تو وجہِ تسمیہ کی مناسبت پتہ چل گئی بھئی؟
وَهُوَ أَنْ يُجْعَلَ قَبْلَ الْعَجُزِ مِنَ الْفِقْرَةِ، اور وہ یہ کہ کیا جائے لایا جائے مولانا قبل العجز عجُز سے پہلے من الفقرة فقرے میں، آگے آ رہا ہے متن میں: أَوْ مِنَ الْبَيْتِ، یا کس میں؟ شعر بیت پورے شعر کو کہتے ہیں، یا شعر میں، مَا ایسی چیز کو لایا جائے يَدُلُّ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْعَجُزِ، جو کس پر دلالت کرے؟ عجُز پر دلالت کرے، إِذَا عُرِفَ الرَّوِيُّ، جبکہ آپ کو روی کا پتہ ہو، روی شعر کا بالکل آخری حرف جو ہوتا ہے وہ روی کہلاتا ہے مولانا، اور پوری نظم عربی میں آپ دیکھیں جس ایک حرف پر ختم ہو رہا ہے شعر، اگلا شعر بھی اسی پہ ختم ہوگا، اس سے اگلا شعر بھی اسی پر ختم ہوگا، سب معلقات پڑھتے ہیں آپ دیکھتے ہوں گے مولانا، کیا ہوتا ہے؟ ایک ہی حرف پر کیا ہیں اشعار ختم ہوتے ہیں، پہلے شعر کے آخر میں را آیا تو دوسرے شعر کے آخر میں بھی کیا آئے گا؟ را اور اس کا ماقبل بھی۔
تو جب آپ کو روی کا پتہ ہے، آخری کلم حرف کا پتہ ہے تو پھر آپ اب آپ اب صيغے کا بھی پتہ ہے، تو اب آپ آخری کلمے کا کیا کر سکتے ہیں؟ اندازہ لگا سکتے ہیں۔
دیکھیے، جیسے وہ مثال آ رہی ہے: وَمَا كَانَ اللهُ لِيَظْلِمَهُمْ، اور اللہ نہیں ہے ان پر ظلم کرنے والے، ظلم کرنے والے نہیں تھے، وَلٰكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ، لیکن وہ تھے اپنے نفسوں پر يظلمون ظلم کرنے والے، تو دیکھو یہ جو آخر میں يظلمون آیا اس کا پہلے سے ہی پتہ چل گیا، ليظلمهم نے بتلا دیا کہ آخر میں بھی کیا آئے گا؟ دیکھو اللہ نے اللہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں تھے بلکہ وہ خود اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے، خود بخود آپ کو پتہ چل گیا، نیز آپ کو یہ پتہ تھا مولانا اس سے گزشتہ ماقبل جو آیت ہے اس کے اندر آخر میں آ رہا ہے تعملون۔
بما کنتم تعملون آ رہا ہے۔
جی؟
ہاں اس کے آخر اس سے پہلی آیت کیا ہے؟
یہ آیت لکھی ہوئی ہے حاشیہ نمبر تین میں دیکھو بھئی۔
الَّذِيْنَ تَتَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ، پڑھو بھئی...
آگے...
اس سے پہلے يختلفون آیا ہے؟
جی؟
تو بہرحال اس سے ماقبل کی آیت آپ دیکھیں گے، اس کا اختتام جو ہے فعل پر ہو رہا ہے، اور اس فعل کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ نون اور اس سے ماقبل کیا ہے؟ واؤ۔
گزشتہ آیت کا اختتام کس پہ؟ فعل پہ، اور اس کے آخر میں کیا آ رہا ہے؟ نون، اور نون سے ماقبل کیا ہوگا؟ واؤ، تو یہ پتہ چل گیا کہ اس آیت کے اختتام پر بھی کیا آئے گا؟ فعل آئے گا، اور فعل کے آخر میں نون اور اس سے ماقبل کیا ہوگا؟ واؤ، یہ واؤ اور نون کا پتہ تو آپ کو گزشتہ اس سے پتہ چل گیا مولانا گزشتہ آیت سے، اور اس آیت میں جب آیا ليظلمهم، تو اس نے بتلا دیا کہ آخر میں کیا آنے والا ہے؟ يظلمون آ رہا ہے، ظلم کے مادے سے ہے اور آخر میں کیا ہے واؤ اور نون ہے بھئی۔
جیسے جیسے شعر ہے اگلا: إِذَا لَمْ تَسْتَطِعْ شَيْئًا فَدَعْهُ، جب تو کسی چیز کی استطاعت نہیں رکھتا فدعہ تو اس کو کیا کر دے؟ چھوڑ دے، وجاوزہ إلیٰ ما، اور بڑھ جا اس چیز کی طرف جو کہ جس کی تو استطاعت رکھتا ہے، تو اس سے ماقبل دیکھو لم تستطع پہلے تستطع ذکر ہوا اس نے بتلا دیا کہ اختتام کس پر ہوگا؟ استطاعت پر ہوگا، مادہ استطاعت ہوگا، اور اس سے گزشتہ شعر دیکھا گیا تو اس میں آخر میں عین تھا اور عین سے پہلے یا تھی، معلوم ہوا اس کے آخر میں اب کیا آئے گا؟ تستطيع، استطاعت مادے سے ہے اور عین سے پہلے کیا ہے؟ یا ہے۔
وَهُوَ أَنْ يُجْعَلَ قَبْلَ الْعَجُزِ مِنَ الْفِقْرَةِ، اور وہ یہ کہ بنایا جائے لایا جائے مولانا عجُز سے پہلے، عجُز سے پہلے، عجُز کس کو کہتے ہیں مولانا؟ جس پر شعر کا اختتام ہو فقرے کا وہ کلمہ، مِنَ الْفِقْرَةِ، فقرے میں سے، وَهِيَ فِي النَّثْرِ، بتلا رہے ہیں فقرہ کس کو کہتے ہیں، کہتے ہیں: وَهِيَ فِي النَّثْرِ بِمَنْزِلَةِ الْبَيْتِ مِنَ النَّظْمِ، جیسے نظم کے اندر ایک شعر ہوتا ہے اسی طرح نثر کے اندر کیا ہوتا ہے؟ فقرہ، فَقَوْلُهُ، جیسے حریری کا یہ قول ہے: وَهُوَ يَتْبَعُ الْأَسْجَاعَ بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ، یہ فقرۃٌ، یہ ایک فقرہ ہے، وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ فِقْرَةٌ أُخْرَى، یہ کیا ہے دوسرا فقرہ ہے، تو دیکھو چھوٹے چھوٹے حصے کلام کے، وَهُوَ يَتْبَعُ الْأَسْجَاعَ، وہ ڈھال رہا تھا سجعوں کو بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ، اپنے لفظوں کے جواہر کے ساتھ، اپنے لفظ کے اپنے لفظوں کے جواہر کے ساتھ سجعوں کو ڈھال رہا تھا بھئی۔
جواہرِ لفظ کی اضافت، جواہر کی جو اضافت لفظ کی طرف ہے، وہ لجین الماء کی قبیل سے ہے، کس قبیل سے ہے؟ لجین الماء، کیا بتلایا تھا میں نے بھئی؟ الماء كاللجين، مشبہ کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ مشبہ بہ کی طرف یہاں۔
وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ، اور وہ کھٹکھٹا رہا تھا سماعتوں کو بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ، اپنے وعظ کے زجروں کے ساتھ، ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ، فِقْرَةٌ أُخْرَى، یہ دوسرا فقرہ ہے، وَالْفِقْرَةُ فِي الْأَصْلِ، اور فقرہ اصل میں کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: حَلْيٌ، وہ زیور ہے، يُصَاغُ عَلَى شَكْلِ فِقْرَةِ الظَّهْرِ، جس کو ڈھالا گیا ہو ریڑھ کی کمر کی ریڑھ کی ہڈی کی شکل پر، وہ زیور جو کس کی شکل پہ بنایا گیا ہو؟ فقره کہتے ہیں ریڑھ کی ہڈی کو مولانا۔
فقیر اس شخص کو کہتے ہیں جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہوئی ہو۔
فقیر کو بھی فقیر اس لیے کہتے ہیں، جیسے فقیر جس کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹی ہو وہ محتاج ہوتا ہے، اسی طرح فقیر بھی کیا ہوتا ہے؟ محتاج ہوتا ہے۔
أَوْ مِنَ الْبَيْتِ، یا شعر میں سے مَا يَدُلُّ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْعَجُزِ، ایسا لفظ لانا جو عجُز پر دلالت کر رہا ہو، عجُز کس کو کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: وَهُوَ آخِرُ كَلِمَةٍ مِنَ الْفِقْرَةِ أَوْ مِنَ الْبَيْتِ، وہ فقرے یا بیت کا آخری کلمہ ہے، إِذَا عُرِفَ الرَّوِيُّ، جو جب روی معلوم ہو، روی کس کو کہتے ہیں مولانا؟ شعر یا فقرے کا بالکل آخری حرف کو۔
فَقَوْلُهُ مَا يَدُلُّ، پس ماتن کا یہ کہنا ماتن نے جو کہا ما يدل، فَاعِلُ يُجْعَلُ، یہ يجعل کا کیا ہے؟ فاعل یعنی نائب فاعل ہے، ماتن نے کیا کہا تھا؟ و ان يجعل ما يدل عليه، یہ ما يدل کیا ہے؟ نائب فاعل ہے۔
وَقَوْلُهُ إِذَا عُرِفَ، اب یہ إذا عرف، إذا ظرف ہے، مُتَعَلِّقٌ بِقَوْلِهِ يَدُلُّ، یہ کس کے ساتھ متعلق ہے؟ کہ یہ دلالت کرے گا جب حرفِ روی معلوم ہو، وَالرَّوِيُّ الْحَرْفُ الَّذِيْ يُبْنَى عَلَيْهِ أَوَاخِرُ الْأَبْيَاتِ أَوْ الْفِقَرِ، اور روی وہ حرف ہے جس پر بناء ہوتی ہے شعروں کے آخر کی یا فقروں کے آخر کی، فقر جمع ہے فقرہ کی، وَوَجَبَ تَكَرُّرُهُ فِيْ كُلٍّ مِنْهُمَا، اور اس کا واجب ہے اس کا تکرار ان میں سے ہر ایک کے اندر، شعر کے آخر میں بھی حرفِ روی کا باطہر لانا اور اسی طرح فقروں میں بھی۔
وَقَيَّدَ بِقَوْلِهِ إِذَا عُرِفَ الرَّوِيُّ، ماتن نے اس کو یہ قید کیوں لگائی؟ کہ جب حرفِ روی معلوم ہو تب وہ دلالت کرے گا، کہتے ہیں: لِأَنَّ مِنَ الْإِرْصَادِ، کیونکہ ارصاد میں سے ما ایک قسم وہ ہے لَا يُعْرَفُ لَهُ الْعَجُزُ وہاں جہاں عجُز کا پتہ نہیں چلتا لِعَدَمِ مَعْرِفَةِ حَرْفِ الرَّوِيِّ، کہ حرفِ روی کا پتہ نہیں ہوتا، كَمَا فِيْ قَوْلِهِ تَعَالَى، جیسے اللہ کے اس قول کے اندر، بھئی اگر اللہ کے اس قول کے اندر حرفِ روی کا پتہ نہ ہوتا تو ہمیں یہاں پر آخری کلمے کا پتہ نہ چلتا، یعنی اس کے وزن کا پتہ نہ چلتا، وَمَا كَانَ النَّاسُ إِلَّا أُمَّةً وَاحِدَةً فَاخْتَلَفُوا، نہیں تھے لوگ مگر ایک ہی امت، فاختلفوا پس انہوں نے اختلاف کیا، وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ، اور اگر کلمہ آپ کے رب کی طرف سے سبقت نہ کر چکا ہوتا، لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ فِيمَا هُمْ فِيهِ يَخْتَلِفُونَ، تو حتمی فیصلہ کر دیا جاتا ان کے درمیان اس چیز میں جس میں وہ اختلاف کرتے ہیں۔
تو دیکھو فاختلفوا لوگوں نے آپس میں اختلاف کیا، اور اگر آپ کے رب کی طرف سے کلمہ سبقت پہلے نہ آ چکا ہوتا تو ان کے درمیان فیصلہ کر دیا جاتا اس چیز کے اندر جس میں وہ اختلاف کر رہے ہیں، تو فاختلفوا نے بتلا دیا آخر میں کیا آئے گا؟ یختلفون آئے گا۔
فَلَوْ لَمْ تُعْرَفْ أَنَّ حَرْفَ الرَّوِيِّ هُوَ النَّوْنُ، اگر یہ نہ جانا جاتا کہ حرفِ روی وہ نون ہے، لَرُبَمَا تُوُهِّمَ، تو بسا اوقات یہ وہم کیا جاتا أَنَّ الْعَجُزَ فِيمَا هُمْ فِيهِ اخْتَلَفُوا، کہ عجُز کیا آئے گا؟ فِيمَا هُمْ فِيهِ اخْتَلَفُوا آئے گا، تو یہ بھی ایک امکان تھا، أَوْ فِيمَا اخْتَلَفُوا فِيهِ، یا یہ بھی آنے کا امکان تھا اختلفوا فیہ، اس طرح بھی، اتنا تو پتہ تھا آخر میں کیا آ رہا ہے؟ اختلاف آئے گا، اتنی تو بات آپ کو پتہ چل گئی، لیکن اختلاف کے مادے سے وزن کیا آئے گا؟ اختلفوا آئے گا، اختلفوا فیہ آئے گا، یختلفون آئے گا، مختلفون آئے گا، یہ آپ کو پتہ نہ چلتا، تو حرفِ روی پچھلے پچھلی آیت کے آخری حرف کا پتہ ہے، تو اگلی آیت کے آخری حرف کا بھی اس سے اندازہ ہو جائے گا۔
فَالْإِرْصَادُ فِي الْفِقْرَةِ، ارشاد فقرہ کے اندر جیسے اللہ کا یہ قول ہے: وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيَظْلِمَهُمْ وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ، اللہ ان پر ظلم کرنے والے نہیں تھے بلکہ وہ اپنے نفسوں پر ظلم کرنے والے تھے، وَفِي الْبَيْتِ، اور شعر کے اندر جیسے یہ قول ہے شاعر کا: إِذَا لَمْ تَسْتَطِعْ شَيْئًا فَدَعْهُ وَجَاوِزْهُ إِلَى مَا تَسْتَطِيعُ، جب تو کسی چیز کی استطاعت نہ رکھے تو اس کو چھوڑ دے اور تجاوز کر جا اس چیز کی طرف جس کی تو استطاعت رکھتا ہے۔
هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيْقَةِ الْكَلَامِ۔