Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-003

Version 2 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 10
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
لکھیے۔ علمِ بلاغت تین علوم کا مجموعہ ہے: علمِ معانی، علمِ بیان اور علمِ بدیع۔ علمائے متقدمین ان تینوں علوم پر علمِ بیان کا اطلاق کیا کرتے تھے۔ ان تینوں علوم کے اندر پہلی پہلی تصانیف کن علماء کی ہیں؟ اس سلسلے میں علماء لکھتے ہیں کہ علمِ بیان کے اندر پہلی تصنیف ابو عبیدہ معمر ابنِ مثنیٰ کی ہے جس کا نام ہے "مجاز القرآن"۔ ابو عبیدہ تلمیذ ہیں امام خلیل ابنِ احمد رحمہم اللہ کے۔ ابو عبیدہ کی وفات 211 ہجری میں ہوئی۔ علمِ معانی میں پہلی تصنیف کن کی ہے؟ اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ البتہ تیسری صدی کے بعض علماء اور ائمۂ فنون کی کتابوں میں اس علم کے کچھ اشارات ملتے ہیں، مثلاً جاحظ کی کتاب "البیان والتبيين" اور "اعراب القرآن"، ابنِ قتیبہ کی کتاب "الشعر والشعراء"، اور امام مبرد کی کتاب "الکامل"۔ جبکہ علمِ بدیع میں پہلی تصنیف ہے خلیفہ عبد اللہ ابنِ معتز کی، آپ کا سنِ وفات ہے 296 ہجری۔ اس کے بعد یہ علوم بتدریج ترقی کرتے رہے، یہاں تک کہ شیخ عبد القاہر جرجانی متوفی 471 ہجری کا زمانہ آیا۔ شیخ عبد القاہر نے ان علوم و فنون کو بامِ عروج پر پہنچا دیا۔ آپ نے مشہورِ عالم کتابیں "أسرار البلاغة" اور "دلائل الإعجاز" لکھ کر علمی دنیا میں زلزلہ برپا کر دیا۔ آپ کے بعد علامہ زمخشری کا دور آتا ہے جنہوں نے اس فن کو مزید ترقی دی۔ اس سلسلے میں آپ کی کتاب "اساس البلاغۃ" اور تفسیرِ "کشاف" نہایت اہم ہیں۔ تفسیرِ کشاف میں علامہ زمخشری قرآن کے اسرار و نکات اور حقائق و دقائق بیان فرماتے ہیں اور ساتھ ساتھ علمِ بلاغت کے بہت سے قوانین و ضوابط ذکر کرتے چلے جاتے ہیں۔ علمی دنیا میں کشاف کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قیامت تک آنے والے تمام مفسرین کشاف کے محتاج ہیں۔ تو علمِ بلاغت کے امام دو ہیں: شیخ عبد القاہر جرجانی اور علامہ زمخشری۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ یہ دونوں بزرگ لنگڑے تھے، چنانچہ علماء میں یہ جملہ مشہور ہے: لَمْ يَدْرِ إِعْجَازَ الْقُرْآنِ إِلَّا الْأَعْرَجَانِ یعنی قرآنی بلاغت کو صحیح طور سے دو لنگڑے بزرگوں نے ہی جانا ہے۔ اس کے بعد علامہ ابو یعقوب یوسف سکاکی کا زمانہ آتا ہے جنہوں نے اپنی کتاب "مفتاح العلوم" کی قسمِ ثالث میں علمِ بلاغت کو بڑے جامع اور کامل طریقے سے بیان کیا ہے۔ آپ کا سنِ وفات ہے 626 ہجری۔ بعد کے علماء انہی مذکورہ علماء کے خوشہ چیں ہیں۔
71 approved lectures · 3 of 71