کل مولانا آپ نے پڑھا کہ علماء وغیرہ نے علامہ تفتازانی سے درخواست کی تھی کہ اپنی اس شرح کا ذرا اختصار کریں، مختصر شرح لکھیں۔ تلخیص کی دو وجہیں بیان کی تھیں؛ ایک تو یہ کہ شرح بڑی مشکل ہے، طلباء نے دلچسپی لینا چھوڑ دی ہے اس کے اندر، اور دوسری وجہ یہ لکھی کہ آپ کی لوگ عبارتیں کیا کر رہے ہیں؟ چوری کر رہے ہیں۔
تو پہلے کا جواب علامہ تفتازانی نے دے دیا کہ بھئی میں پھر بھی لکھوں گا تو ضروری نہیں جیسے یہ شرح آپ کو پسند نہیں آئی، ہو سکتا ہے اگلی بھی شرح کسی کو بعض لوگوں کو پسند نہ آئے کیونکہ ایسی چیز تیار کرنا جو ہر ہر شخص کو پسند آئے یہ انسانی قدرت نہیں ہے، ایسی چیز تو صرف ذات باری تعالی ہی تیار کر سکتی ہے۔
اور ویسے بھی کہتے ہیں یہ علم جو ہے اب جا چکا ہے، ہمارے اسلاف جو اس علم کے ماہرین تھے، ائمہ تھے، ان کی باتیں ختم ہو چکی ہیں بڑی تیز رفتاری کے ساتھ، بڑی تیزی سے۔
وَأَمَّا الْأَخْذُ یہاں سے اب دوسری بات کہ یہ جو انہوں نے کہا تھا آپ کی عبارتیں چوری کر رہے ہیں اپنی کتابوں میں شامل کر رہے ہیں بھئی، اس کی بات لکھ رہے ہیں، اس کا جواب دے رہے ہیں۔
وَأَمَّا الْأَخْذُ وَالِانْتِهَابُ اور باقی اخذ و انتہاب یہ جو لوٹ مار ہے فَأَمْرٌ یہ ایسا معاملہ ہے، یہ ایسی چیز ہے يَرْتَاحُ بِهِ اللَّبِيبُ کہ خوش ہوتا ہے اس سے عقل والا۔ يَرْتَاحُ کا معنی خوش ہونا، سکون پانا، اور اللَّبِيبُ عقل والا بھئی۔ اس سے عقل والا کیا ہوتا ہے؟ خوش ہوتا ہے۔
بھئی کدھر ہے بھئی آپ کی جگہ؟ یہ جو آخر میں ائے۔ آؤ بھئی اپنی جگہ پہ آیا کرو، اپنی جگہ پہ۔
فَلِلْأَرْضِ مِنْ كَأْسِ الْكِرَامِ نَصِيبُ
پس زمین کے لیے مِنْ كَأْسِ الْكِرَامِ سخی لوگوں کے جام میں سے نَصِيبٌ کیا ہوتا ہے؟ حصہ ہوتا ہے۔ سخی لوگ جو ہیں ان کے جام جو ہیں اس کے اندر زمین کا بھی حصہ ہوتا ہے۔
یہ دراصل مصرع ہے ایک شعر کا، اشعار یوں ہیں مولانا، ایک شاعر نے کہا بھئی، آپ کے حاشیے میں موجود ہیں مولانا، دو نمبر حاشیے میں آپ دیکھ لیجیے:
شَرِبْنَا شَرَابًا طَيِّبًا عِنْدَ طَيِّبٍ
كَذَاكَ شَرَابُ الطَّيِّبِينَ يَطِيبُ
شَرِبْنَا وَأَهْرَقْنَا عَلَى الْأَرْضِ جُرْعَةً
وَلِلْأَرْضِ مِنْ كَأْسِ الْكِرَامِ نَصِيبُ
شاعر کہتا ہے شَرِبْنَا شَرَابًا طَيِّبًا ہم نے پاکیزہ شراب پی عِنْدَ طَيِّبٍ پاکیزہ شخص کے پاس، كَذَاكَ شَرَابُ الطَّيِّبِينَ يَطِيبُ اسی طرح پاکیزہ لوگوں کی شراب جو ہوتی ہے وہ پاکیزہ ہوتی ہے۔ شَرِبْنَا ہم نے پی بھی وَأَهْرَقْنَا عَلَى الْأَرْضِ جُرْعَةً اور بہایا زمین پر جُرْعَةً ایک گھونٹ، وَلِلْأَرْضِ مِنْ كَأْسِ الْكِرَامِ نَصِيبُ اور زمین کے لیے بھی سخی لوگوں کے جام میں سے حصہ ہوتا ہے۔
سمجھ میں آیا؟ تو سخی شخص ہر وقت دوسرے کو نفع پہنچانے اور مال خرچ کرنے کی فکر میں رہتا ہے بھئی۔ تو اور کوئی نہیں ملا تو ہم نے کیا کیا کہ پھر بھی دوسرے کو نفع پہنچایا اور کم از کم زمین پر کیا کر دیا اس شراب کا ایک گھونٹ گرا دیا بھئی۔
تو علامہ تفتازانی رحمہ اللہ فرما رہے ہیں کہ یہ جو لوٹ مار ہے میری کتاب سے، یہ ایسی چیز ہے، ایسا کام ہے جس سے عقل مند آدمی خوش ہوتا ہے بھئی۔ دیکھو ایک کام ہے کہ آپ دوسروں کی عبارتیں چوری کریں بھئی، اور ایک یہ ہے کہ لوگ آپ کی عبارتیں چوری کریں۔ یہ چیز بہتر ہے کہ لوگ آپ کی عبارتیں چوری کریں اس لیے کہ یہ دلالت کرتی ہے اس بات پر کہ آپ کی عبارتیں اتنی اعلیٰ و ارفع ہیں کہ لوگ بھی اب اسے کیا کر رہے ہیں اپنے مقصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور اسے نقل کر رہے ہیں بھئی۔
تو اسی لیے کہا کہ یہ جو لوٹ مار ہے یہ ایسا معاملہ ہے جس سے عقل والا کیا ہے؟ خوش ہوتا ہے۔ یہ تو علامت ہے اس کی کتاب کی اور اس کی عبارتوں کی مقبولیت کی۔
فَلِلْأَرْضِ اور زمین کے لیے سخی لوگوں کے جام میں سے حصہ ہوتا ہے۔ كَأْسٌ کہتے ہیں شراب کا جام جبکہ وہ لبا لب بھرا ہوا ہو بھئی۔
تو یہاں علامہ تفتازانی نے یہ مصرع ذکر کیا تو گویا اپنے آپ کو سخی لوگوں کے ساتھ تشبیہ دی مولانا، یا سخی قرار دیا بھئی۔ اور اپنی کتاب کو کیا قرار دیا؟ جام، لبا لب بھرا ہوا جام۔ اور جو نقل کرنے والے ہیں ان کو کیا قرار دیا؟ زمین بھائی। تو جیسے سخی لوگوں کے جام میں زمین کا حصہ ہوتا ہے، اسی طرح میری کتاب کے اندر کس کا حصہ ہے؟ نقل کرنے والوں کا حصہ ہے، ہاں وہ نفع اٹھا سکتے ہیں، میں سخی آدمی ہوں، تو میری کتاب نقل کرتے ہیں، یہ تو کمال کی علامت ہے۔
وَكَيْفَ يُنْهَرُ عَنِ الْأَنْهَارِ السَّائِلُونَ
نَهَرَ يَنْهَرُ کے معنی ڈانٹنا، جھڑکنا مولانا۔ ڈانٹنا، جھڑکنا۔ قرآن میں آیا ہے: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ۔ سائل کو نہ جھڑکیے۔
تو سائل کو جھڑکنے سے منع کیا گیا ہے، تو کہتے ہیں وَكَيْفَ يُنْهَرُ عَنِ الْأَنْهَارِ تو سوال کرنے والوں کو دریاؤں سے کیسے جھڑکا جا سکتا ہے؟ کیسے روکا جا سکتا ہے بھئی؟ نَهَرٌ عربی میں دریا کو کہتے ہیں مولانا، یہ نہر جس کو آپ اردو میں کہتے ہیں یہ نہیں بھئی، نَهَرٌ عربی میں دریا کو کہتے ہیں بھئی۔
اور کیسے جھڑکا جا سکتا ہے؟ کیسے روکا جا سکتا ہے عَنِ الْأَنْهَارِ دریاؤں سے السَّائِلُونَ سوال کرنے والوں کو؟
تو میری شرح کس کی مثال ہے؟ ایک دریا کی مثال ہے جس پر سوال کرنے والے آتے ہیں اور اپنے اپنے ضرورت اس سے پوری کرتے ہیں۔ وَلِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ اور اسی کی مثال کامیابی کے لیے عمل کرنا چاہیے الْعَامِلُونَ عمل کرنے والوں کو۔ وَلِمِثْلِ هَذَا اور اس جیسی کامیابی کے لیے، پس عمل کرنا چاہیے عمل کرنے والوں کو۔
یہ اقتباس ہے مولانا، اقتباس کہتے ہیں اپنی عبارت کے اندر قرآن یا حدیث میں سے کچھ حصہ لے آنا اور اشارہ نہ کرنا کہ یہ قرآن یا حدیث کا حصہ ہے۔ ایک تو یہ ہے کہ آپ باقاعدہ کہیں کہ یہ کما کہ یہ اللہ کا قول ہے بھئی، یا یہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے۔ اور ایک یہ جیسے یہاں ذکر کیا وَلِمِثْلِ هَذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ یہاں اشارہ کوئی نہیں دیا کہ یہ قرآن کی آیت کا حصہ ہے، تو یہ اقتباس کہلاتا ہے علم بدیع کی اصطلاح میں مولانا۔
تو اسی جیسی کامیابی کے لیے کوشش کر، ایسی ہی کتاب لکھنی چاہیے کہ جس سے سارے علماء اس کے محتاج بن جائیں اور اس کے اس سے کیا کریں؟ اس سے اخذ کریں، نفع اٹھائیں بھئی۔
ثُمَّ مَا زَادَتْهُمْ مُدَافَعَتِي إِلَّا شَغَفًا وَغَرَامًا وَظَمَأً فِي هَوَاجِرِ الطَّلَبِ وَأُوَامًا
تو دوسری بات کا جواب گزر گیا مولانا۔ ایک کیا کہا تھا؟ کہ دلچسپی لینا چھوڑ دیا، اس کا جواب کل گزرا تھا، دوسرا کیا تھا اشکال؟ دوسری بات انہوں نے کی تھی کہ لوٹ مار کر رہے ہیں آپ کی کتابوں سے، تو کہا یہ تو ایسا کام ہے اس سے کیا ہونا چاہیے؟ خوش ہونا چاہیے، یہ کوئی پریشانی والی بات نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں لہذا میں کتراتا رہا ان سے، کہتے ہیں ثُمَّ مَا زَادَتْهُمْ پھر نہیں بڑھایا ان لوگوں کو مُدَافَعَتِي میری مدافعت نے، یہ جو میں بار بار انکار کرتا تھا ان کو، رد کرتا تھا، اس نے اور زیادہ بڑھا دیا ان کو کس چیز میں؟ شَغَفًا وَغَرَامًا شَغَفٌ کہتے ہیں شدید محبت کو مولانا، غَرَامٌ بھی شدید محبت کو کہتے ہیں، شدید حرص بھئی۔ ظَمَأً پیاس بھئی۔ شَغَفٌ شدید محبت، غَرَامًا بھی شدید محبت بھئی، ظَمَأً شدید پیاس بھئی۔ هَوَاجِرُ جمع ہے هَاجِرَةٌ کی اور یہ شدید گرمیوں کی دوپہر کو کہتے ہیں بھئی۔ شدید گرمیوں کی دوپہر۔ أُوَامٌ یہ بھی شدید پیاس کو کہتے ہیں۔
پس نہیں ما نافیہ ہے، پس نہیں بڑھایا ان لوگوں کو میری مدافعت نے مگر شدید محبت کو اور شدید حرص کو، بھئی میں جوں میں تو کتراتا تھا لیکن میرے کترانے نے، میرے انکار کرنے نے ان لوگوں کی محبت کو اور بڑھا دیا، وہ اور زیادہ شدت سے اصرار کرنے لگے کہ ایسی شرح ضرور لکھیں۔ وَظَمَأً اور شدید پیاس کو فِي هَوَاجِرِ الطَّلَبِ طلب کی گرم دوپہروں میں۔ وَأُوَامًا اور شدید پیاس کو، یہ عطف تفسیری ہی سمجھو، عطف تفسیری ہے مولانا۔
تو میرے انکار نے ان کی محبت اور ان کی شدید پیاس گرمیوں طلب کی گرم دوپہروں میں ان کی شدید پیاس کو اور بڑھا دیا بھئی۔
تو جیسے مولانا گرمیوں کی شدید گرمی کی گرمیوں میں دوپہر کو شدید پیاس ہوتی ہے، تو اسی طرح شدید پیاس تھی ان کا شدید اصرار تھا اور میرے انکار کے ساتھ ساتھ ان کی وہ پیاس کیا ہے؟ بڑھتی گئی اس شرح کے لیے۔ فِي هَوَاجِرِ الطَّلَبِ یہ مولانا اس میں پھر یہ از قبیل لجین الماء ہے بھئی۔ لجین الماء جس میں کیا ہوتا ہے مولانا؟ مشبہ کی اضافت مشبہ بہ کی اضافت ہوتی ہے مشبہ کی طرف۔ تو یہ اصل میں عبارت کیسی تھی؟ فِي الطَّلَبِ كَالْهَوَاجِرِ، وہ طلب جو کس کی طرح تھی؟ گرم دوپہروں کی طرح۔
تو وہ طلب کس کی طرح تھی؟ گرم دوپہر، تو تشبیہ دی ہے طلب کو گرم دوپہروں کے ساتھ، اور وجہ تشبیہ ہے مشقت مولانا۔ جیسے گرمیوں کی دوپہر میں مشقت ہے، اسی طرح کسی چیز کی طلب کے اندر بھی کیا ہے؟ مشقت ہے۔
تو شدید پیاس سے بھی مراد وہی ان کی محبت ہے مولانا اور ان کا مائل ہونا ہے۔
فَانْتَصَبْتُ لِشَرْحِ الْكِتَابِ تو ان کی محبت بڑھتی گئی، ان کا اصرار اور ان کی طلب کی پیاس بڑھتی گئی، تو کہتے ہیں پس میں شروع ہوا فَانْتَصَبْتُ تو میں تیار ہوا لِشَرْحِ الْكِتَابِ کتاب کی شرح کے لیے عَلَى وَفْقِ مُقْتَرَحِهِمْ وَفْقٌ بمعنی موافق کے، وَفْقٌ بمعنی موافق کے، مُقْتَرَحٌ تجویز کو کہتے ہیں۔
تو میں شروع میں تیار ہوا کتاب کی شرح کرنے کے لیے عَلَى وَفْقِ مُقْتَرَحِهِمْ ان کی تجویز کے موافق، ان کی تجویز جیسا وہ کہتے تھے اس قسم کی شرح لکھنے کے لیے میں تیار ہوا ثَانِيًا دوسری مرتبہ، دوسری مرتبہ۔
تو یہ مولانا اس کو آپ چاہیں تو مفعول مطلق بنا لیں انتصاب سے، فَانْتِصَابًا ثَانِيًا، میں تیار ہوا انتصاباً ثانياً دوسری مرتبہ تیار ہونا، ایک تو میں پہلے لکھ چکا تھا پھر کیا ہوا؟ تیار ہوا۔ یا اس کو مولانا شرح کے لیے بنائیں، شَرْحًا ثَانِيًا دوسری شرح کے لیے میں کیا ہوا؟ تیار ہوا۔ یا مولانا اس کو آپ ظرف بنائیں، زَمَانًا ثَانِيًا یعنی دوسرے زمانے میں، ایک پہلے لکھ چکا تھا اور اب دوبارہ تیار ہوا میں۔
وَلِعِنَانِ الْعِنَايَةِ نَحْوَ اخْتِصَارِ الْأَوَّلِ ثَانِيًا
اور ثَانِيًا یہ جو آخر میں آ رہا ہے دوسرےفقرے کے، ثَنَى يَثْنِي کے معنی پھیرنے کے ہیں مولانا۔ ثَانِيًا پھیرنے والا۔ اور یہ حال ہے مولانا ثَانِيًا اِنْتَصَبْتُ کی فاعل کی ضمیر سے۔
میں تیار ہوا اس حال میں کہ میں پھیرنے والا تھا۔ اس حال میں کہ میں کس چیز کو پھیرنے والے تھے؟ وہ ماقبل میں ہے جار مجرور: وَلِعِنَانِ الْعِنَايَةِ توجہ کی لگام کو۔ عِنَانٌ کہتے ہیں لگام، عِنَايَةٌ کہتے ہیں توجہ، کامل توجہ۔ پھیرنے والا تھا میں، اس حال میں پھیرنے والا تھا کس چیز کو؟ لِعِنَانِ الْعِنَايَةِ توجہ کی لگام کو پھیرنے والا تھا کس طرف؟ کہتے ہیں نَحْوَ اخْتِصَارِ الْأَوَّلِ پہلی شرح کے اختصار کی جانب، نَحْوٌ کا معنی جانب۔ پہلی شرح کے اختصار کی جانب میں توجہ کی لگام کو پھیرنے والا تھا۔ ترجمہ سب کو سمجھ میں آ رہا ہے بھئی؟
اور مولانا یہ میں نے بتلایا ثَانِيًا کیا واقع ہو رہا ہے ترکیب کے اندر؟ حال واقع ہو رہا ہے، اور کس سے؟ انتصبتُ کی فاعل کی جو ضمیر ہے۔ اور یہ انتصبتُ مولانا یہ لِعِنَانِ سے پہلے مقدر نکالنا پڑے گا: وَانْتَصَبْتُ، وَانْتَصَبْتُ لِعِنَانِ الْعِنَايَةِ۔ اس ماقبل والے انتصبتُ سے یہ حال نہیں بن سکتا بھئی۔ ماقبل والے انتصبتُ سے حال نہیں بن سکتا، کیوں؟ کیا وجہ ہے؟ وجہ یہ کہ مولانا لِعِنَانِ سے پہلے واؤ آ رہی ہے۔ اور واؤ آیا اور واؤ جو ہے یہ ثَانِيًا جملہ ہے یا مفرد ہے مولانا؟ مفرد ہے، ثَانِيًا کیا ہے؟ مفرد ہے، اور واؤ حالیہ مفرد حال سے پہلے نہیں آتا، وہ جملہ ہو تو پھر آیا کرتا ہے چند صورتوں میں بھئی۔ اور یہاں واؤ آیا تو لہذا اب یہاں پر ایک اور واؤ کے بعد انتصبتُ محذوف نکالیں گے اور اس کی ضمیر سے اس کو کیا بنا دیں گے؟ حال بنا دیں گے۔
وَلِعِنَانِ الْعِنَايَةِ اس میں پھر مولانا وہ استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخئیلیہ اور استعارہ ترشیحیہ وغیرہ ہیں بھئی۔ توجہ کی لگام مولانا، معلوم ہوا توجہ کو کس سے تشبیہ دی ہے؟ گھوڑے کے ساتھ بھئی۔ توجہ کو تشبیہ دی ہے گھوڑے کے ساتھ، تو توجہ ہوئی مشبہ اور گھوڑا مشبہ بہ، اور عبارت میں کون ذکر؟ مشبہ، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ اور آپ کو کیسے پتہ چلا بھئی؟ کس چیز سے پتہ چلا؟ عنان سے کہ عنان کو ثابت کیا عنایت کے لیے، حالانکہ توجہ کی تو لگام نہیں ہوتی وہ تو کس کی ہوتی ہے؟ گھوڑے کی، تو یہ آپ نے مشبہ بہ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کر دیا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تخئیلیہ کہلاتا ہے۔ نیز گھوڑے کے مناسب ہے اس کو پھیرا جائے، جب آپ اس پر سوار ہوں گے کبھی دائیں پھیریں گے اس کو کبھی بائیں ضرورت کے مطابق، تو یہ استعارہ ترشیحیہ ہے ثَانِيًا کے اندر بھئی، ثَانِيًا کا معنی تھا پھیرنے والا، میں پھیرنے والا، تو اس میں استعارہ ترشیحیہ آ گیا بھئی۔
مَعَ جُمُودِ الْقَرِيحَةِ جُمُودٌ کا معنی جمنا، الْقَرِيحَةُ قریحہ کہتے ہیں طبیعت کو، بِصِرِّ الْبَلِيَّاتِ صِرٌّ یہ مولانا شدید سردی کو کہتے ہیں، شدید سردی جس میں پانی جم جاتا ہو، بَلِيَّاتٌ جمع ہے بَلِيَّةٌ کی مولانا، تکلیف اور آزمائش کو کہتے ہیں۔
مَعَ جُمُودِ الْقَرِيحَةِ باوجود طبیعت کے جم جانے، طبیعت کے بند ہو جانے کے، بھئی انسان خوش ہو، راحت میں ہو تو ہر کام وہ خوشی سے کرتا ہے، اور وہ تکلیف اور پریشانی میں ہو تو کسی کام میں بھی دل نہیں لگتا، اس کی طبیعت بند ہوتی ہے۔ تو یہ بھی علامہ تفتازانی یہی فرما رہے ہیں کہ میری طبیعت جمی ہوئی تھی یعنی بند تھی بِصِرِّ الْبَلِيَّاتِ آزمائشوں کی شدید سردی کے سبب سے، آزمائشوں کی شدید سردی کے سبب سے میری طبیعت بند تھی۔ تو میں کہتے ہیں تیار ہوا دوسری شرح کے لیے باوجود طبیعت کے بند ہونے کے بسبب آزمائشوں کے شدید سردی کے سبب۔
تو یہاں صِرِّ الْبَلِيَّاتِ یہ پھر مولانا یہ از قبیل لجین الماء ہے بھئی۔ البلیات کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ شدید سردی کے ساتھ، بھئی لجین الماء فوراً ادھر بھئی اس مثال کو بنایا کریں فوراً، لجین الماء اصل میں کیا تھا؟ الماء كاللجين، تو یہاں بھی اسی طرح البليات كالصّرّ، وہ آزمائشیں جو کس کی طرح تھیں؟ شدید سردی، تو جیسے شدید سردی سخت تکلیف کا باعث ہوتی ہے، اسی طرح یہ آزمائشیں تھیں۔
وَخُمُودِ الْفِطْنَةِ بِصَرْصَرِ النَّكَبَاتِ اور طبیعت کے، خُمُودٌ کا معنی بجھنا، فِطْنَةٌ کا معنی ذہانت، صَرْصَرٌ کہتے ہیں شدید تیز ہوا، شدید تیز ہوا، یہ علماء کے مختلف اقوال ہیں مولانا ائمہ لغت کے، بعض کہتے ہیں شدید گرم ہوا کو، بعض کہتے ہیں شدید سرد ہوا کو، بعض کہتے ہیں وہ تیز ہوا جس کے اندر پتھر بھی ہوں اسے صرصر کہتے ہیں۔ بِصَرْصَرِ النَّكَبَاتِ نَكَبَاتٌ جمع ہے نَكْبَةٌ کی، یہ بھی مولانا مصیبت کو کہتے ہیں، تکلیف کو کہتے ہیں۔
اور باوجود ذہانت کے بجھنے کے، تو میں شروع ہوا، میں تیار ہوا کتاب کی شرح کے لیے باوجود ذہانت کے بجھنے کے، خُمُودِ الْفِطْنَةِ، بِصَرْصَرِ النَّكَبَاتِ بسبب کس کے؟ مصیبتوں کے شدید آندھی کے، مصیبتوں کی شدید مجھ پر شدید مصیبتیں تھیں اور وہ مصیبتیں کس کی طرح تھیں؟ شدید آندھیوں کی طرح تھیں، ان کے سبب سے میری ذہانت بجھ چکی تھی لیکن میں تیار ہوا اس کی شرح لکھنے کے لیے۔
تو خُمُودِ کا عطف ہوا جُمُودِ پر، اسی طرح آگے تَرَامِي کا عطف بھی ہوگا جُمُودِ پر، آگے نُبُوءِ نُبُوءِ الْأَوْطَانِ اس کا عطف بھی ہوگا جُمُودِ پر۔
تو مَعَ کا ترجمہ یہاں آپ کیا کریں گے؟ باوجود کے بھئی، باوجود طبیعت کے بند ہونے کے، باوجود ذہانت کے بجھنے کے، وَتَرَامِي تَرَامِي کا معنی پھینکنا بھئی ایک دوسرے کی جانب، بُلْدَانٌ شہر، أَقْطَارٌ کنارے، اور باوجود شہروں اور کناروں کے پھینکنے کے بھی مجھے بھئی، یہ یا ضمیر متکلم کی آ گئی مولانا۔
باوجود اس کے کہ شہر اور کنارے باہم مجھے ایک دوسرے کی جانب پھینک رہے تھے۔ علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں کہ یہ شرح میں نے اس حال میں لکھی ہے اس کیفیت میں کہ میں ہر وقت حالت سفر میں تھا، مصیبتیں اور تکلیفیں تھیں مجھ پر، کبھی میں ایک جگہ پر پڑاؤ ڈالتا، کبھی دوسرے شہر جاتا، کبھی پھر تیسرے شہر جاتا، تو گویا ہر شہر مجھے ایک شہر دوسرے شہر کی طرف اچھال دیتا، دوسرا شہر مجھے تیسرے شہر کی طرف اچھال دیتا، تو اس تکلیف کے عالم میں میں نے میں تیار ہوا اس کتاب کی شرح لکھنے کے لیے۔
وَتَرَامِي الْبُلْدَانِ بِي وَالْأَقْطَارِ اور شہروں کے اور کناروں کے مجھے پھینکنے کے باوجود، وَنُبُوءِ الْأَوْطَانِ عَنِّي نُبُوءٌ کہتے ہیں دور ہونا بھئی، أَوْطَانٌ جمع ہے وطن کی، أَوْطَارٌ جمع ہے وطر کی، حاجت کو کہتے ہیں۔
اور باوجود وطنوں کے اور حاجتوں کے مجھ سے دور ہونے کے، تو میں تیار ہوا اس کتاب کی شرح کے لیے باوجود اس کے کہ میں وطن سے کیا تھا؟ دور تھا، اور حاجتوں سے دور، یعنی وطن سے بھئی، وطن سے دور کوئی آدمی خوش نہیں رہتا، جس علاقے کا ہوگا اسی علاقے میں وہ جائے گا تو اس کو کیا ہوگا؟ راحت اور سکون محسوس ہوگا، باقی کہیں بھی مشکل ہے رہنا۔ اسی طرح اوطار، حاجتیں بھی مجھ سے دور تھیں، میری حاجتیں بھی پوری نہیں ہوتی تھیں کیونکہ سفر میں تھا بھئی، اور قدیم زمانہ تھا، قدیم زمانہ تھا جس میں تو آج کل تو بہت آسان سہولتیں، آسانیاں آ گئیں، اس زمانے میں تو سفر مولانا بہت ہی مشکل تھا۔ تو حاجتیں اور وطنوں کے دور ہونے کے باوجود میں تیار ہوا اس کتاب کی شرح لکھنے کے لیے۔
حَتَّى طَفِقْتُ طَفِقَ مولانا افعال مقاربہ میں سے ہے، شروع ہونا کسی کام میں، طَفِقْتُ أَجُوبُ جَابَ يَجُوبُ کا معنی ہے گھومنا، چکر لگانا، طے کرنا۔
یہاں تک کہ میں شروع طے کرنا شروع ہوا كُلَّ أَغْبَرَ أَغْبَرُ کہتے ہیں کس کو مولانا؟ كُلُّ مَكَانٍ ذِي غُبْرَةٍ، كُلُّ مَكَانٍ ذِي غُبْرَةٍ، ہر وہ مکان جو غبار آلود ہو، غبار والا ہو، گرد و غبار والا۔
قَاتِمٍ کہتے ہیں سیاہ مولانا، سیاہ، تاریک۔ الْأَرْجَاءِ رَجَا کی جمع ہے، کناروں کو کہتے ہیں۔
یہاں تک کہ میں شروع ہوا چکر لگانا ہر غبار آلود سیاہ کناروں والی جگہ کے۔
سمجھ میں آیا؟ وہ علاقہ مولانا جس میں وحشت چھائی ہوئی ہو، کوئی مانوس شخص نہ ہو، تو اور تکلیف اور غم کا عالم ہو تو ساری دنیا انسان کو کیسی دکھائی دیتی ہے؟ تاریک دکھائی دیتی ہے، تو وہی ذکر کر رہے ہیں ہر غبار آلود جگہ اور ایسی غبار آلود جگہ جس کے کنارے کیا تھے؟ سیاہ تھے، ان میں میں گھومنا شروع ہوا ایک طرف سے دوسری اور دوسری طرف سے تیسری طرف جاتا بھئی۔
وَأُحَرِّرُ حَرَّرَ يُحَرِّرُ تحریر کے معنی عربی میں ہیں تہذیب کے مولانا، اردو میں اردو والا تحریر نہیں مولانا، عربی میں تحریر کے معنی کیا آتے ہیں؟ تہذیب کے، تہذیب کا معنی کانٹ چھانٹ کرنا، کہتے ہیں جیسے یہ جیسے مولانا پودا ہو، تو سال کے بعد مالی کیا کرتا ہے؟ اس سے جو زائد شاخیں ہوتی ہیں ان کو کاٹتا ہے، ان کو آپس میں کیا کرتا ہے سب کو؟ برابر کرتا ہے، باڑ کو آپ نے دیکھا ہے باڑ جب برابر کرتے ہیں مالی بھئی، جو زائد شاخیں ہوتی ہیں ان کو کیا کرتے ہیں؟ کاٹتے ہیں، اس کو کہتے ہیں تہذیب مولانا، زائد چیز کو نکالنا، ختم کرنا، اور چیز کو سنوارنا، اور یہی تحریر کے معنی ہیں مولانا۔
اور میں نے تہذیب شروع کی كُلَّ سَطْرٍ مِنْهُ اس شرح کی ہر سطر کی فِي شَطْرٍ مِنَ الْغَبْرَاءِ شَطْرٌ معنی حصہ، غَبْرَاءُ زمین کو کہتے ہیں۔
ہر سطر کی اس وہ جو شرح تھی بھئی میری پہلے والی، اب میں نے اس کی کیا شروع کی؟ تہذیب، کانٹ چھانٹ شروع کی، زائد چیزیں نکال رہا ہوں مولانا اور اصلاح کرتا جا رہا ہوں۔ تو میں تہذیب کرتا تھا اس کی ہر سطر کی فِي شَطْرٍ مِنَ الْغَبْرَاءِ زمین کے ایک ٹکڑے میں بھئی۔ زمین کے یعنی ہر سطر کی اصلاح الگ ٹکڑے میں کرتا تھا کیونکہ مسلسل کس میں تھا؟ سفر میں، تکلیف میں، پریشانی میں، ایک جگہ کبھی دوسری جگہ کوئی ٹھکانا نہیں وطن سے دور، تو مختلف جگہوں پر میں نے اس کتاب کی اصلاح کی لکھی، دراصل یہ علامہ تفتازانی اپنا عذر ذکر کر رہے ہیں کہ میں نے تکلیف کے عالم میں لکھی ہے یہ شرح، اب اس میں اگر علمائے فن کو کوئی کمی کوتاہی نظر آئے تو مجھ پر ملامت ہرگز نہ کریں کیونکہ میں نے بڑی تکلیف کے عالم میں یہ شرح لکھی ہے۔
فَيَوْمًا بِحُزْوَى وَيَوْمًا بِالْعُقَيْقِ وَبِالْعُذَيْبِ يَوْمًا وَيَوْمًا بِالخُلَيْصَاءِ
حُزْوَى جگہ کا نام، عُقَيْقٌ جگہ کا نام، عُذَيْبٌ جگہ کا نام، اور اسی طرح خُلَيْصَاءُ یہ بھی کیا ہے؟ جگہ کا نام۔
تو کہتے ہیں میری کیفیت اس شاعر کی سی تھی جس نے یہ شعر کہا ہے، یہ شاعر کیا کہتا ہے؟ فَيَوْمًا بِحُزْوَى ایک ایک دن کس میں؟ حزویٰ میں ہوتا ہوں، وَيَوْمًا بِالْعُقَيْقِ اور ایک دن عقیق میں ہوتا ہوں، اور ایک دن عذیب میں، اور ایک دن خلیصاء میں۔ تو کہتے ہیں میری بھی یہی حالت تھی، کبھی ادھر، کبھی ادھر۔
در بدر میں گھوم رہا تھا۔ ثُمَّ لَمَّا وُفِّقْتُ بِعَوْنِ اللَّهِ تَعَالَى پھر جب مجھے توفیق دی گئی اللہ کی مدد کے ساتھ، پھر جب مجھے توفیق دی گئی بِعَوْنِ اللَّهِ تَعَالَى اللہ کی مدد کے ساتھ وَتَأْيِيدِهِ اور اس کی تائید یعنی قوت دینے کے ساتھ لِلْإِتْمَامِ مکمل کرنے کے، مکمل کرنے کی مجھے توفیق دی گئی اللہ کی مدد اور اس کی تائید کے ساتھ۔
وَقَوَّزْتُ قَوَّزَ کے معنی ہیں مولانا گرانا، گرانا، عمارت وغیرہ کو گرانا، اس کو قَوَّزَ کہتے ہیں۔ وَقَوَّزْتُ عَنْهُ خِيَامَهُ اور میں نے گرا دیا اس سے اس کے خیموں کو بِالِاخْتِتَامِ اختتام کے ساتھ۔
میں نے اس شرح سے کیا کیا؟ بسبب اختتام کے میں نے اس کے اوپر سے خیموں کو کیا کر دیا؟ گرا دیا۔
تو جیسے مولانا قیمتی چیز ہو، قیمتی چیز کو کیا کرتے ہیں؟ چھپا کر رکھتے ہیں خیمے کے اندر، ظاہر میدان میں اس کو نہیں رکھیں گے۔ تو اسی طرح میری یہ شرح اس کے ساتھ تشبیہ دی ہے میری یہ شرح بھی تھی چھپی ہوئی۔ اور لوگوں کی جب تک یہ مکمل نہیں کی تھی، لوگوں پر ظاہر بھی نہیں تھی، چھپی ہوئی تھی۔ پھر جب یہ مکمل ہو گئی، پوری ہو گئی، تو پھر میں نے کیا کیا؟ اس پر سے خیمے گرا دیے یعنی لوگوں کے سامنے اس کو کیا کیا؟ ظاہر کر دیا۔
وَقَوَّزْتُ عَنْهُ خِيَامَهُ اور میں نے اسے گرا دیا اس پر سے اس کے خیموں کو بِالِاخْتِتَامِ بسبب اختتام کے بَعْدَ مَا كَشَفْتُ عَنْ وُجُوهِ خَرَائِدِهِ اللِّثَامَ بعد اس کے کہ میں نے کھول دیا تھا عَنْ وُجُوهِ خَرَائِدِهِ وُجُوهٌ چہرے، خَرَائِدُ جمع ہے خَرِيدَةٌ کی مولانا، یہ حسین و جمیل باکرہ کو کہتے ہیں بھئی، اللِّثَامَ لِثَامٌ کہتے ہیں مولانا نقاب کو، نقاب کو۔
بعد اس کے کہ میں نے ہٹا دیا تھا اس کی حسین و جمیل باکرہ عورتوں کے چہروں سے نقاب کو، میں نے اس کی حسین و جمیل عورتوں کے چہروں سے نقاب ہٹانے کے بعد اب اس کے اوپر سے خیمہ گرا دیا اور اس کو لوگوں کے سامنے کیا کیا؟ ظاہر کر دیا۔ تو یہ اپنی کتاب کی عبارتوں کو تشبیہ دے رہے ہیں حسین و جمیل باکرہ عورتوں کے ساتھ، سمجھ میں آیا؟ جیسے وہ محبوب ہوتی ہیں، اسی طرح اس کتاب کی عبارتیں بھی کیا ہیں؟ بڑی ہی اعلیٰ و ارفع اور محبوب ہیں۔
وَوَضَعْتُ كُنُوزَ الْفَرَائِدِ عَلَى طَرَفِ الثُّمَامِ اور میں نے رکھ دیا كُنُوزَ الْفَرَائِدِ كُنُوزٌ خزانوں کو کہتے ہیں مولانا، بمعنی مکنوز کے، الْفَرَائِدِ كَنَزَ يَكْنِزُ کے معنی ہوتے ہیں جمع کرنا، تو مکنوز کے معنی میں جمع کیا ہوا، کیونکہ خزانے میں بھی کیا ہوتا ہے؟ مال و دولت کو جمع کیا جاتا ہے۔ الْفَرَائِدُ جمع ہے فَرِيدَةٌ کی، فَرِيدَةٌ کہتے ہیں عمدہ، نفیس، قیمتی موتی کو۔
طَرَفٌ کنارہ، ثُمَامٌ یہ گھاس ہے مولانا، ثُمَامٌ ایک بڑی خاص نرم گھاس ہے اس کو کہتے ہیں بھئی۔
وَوَضَعْتُ اور میں نے رکھ دیا كُنُوزَ الْفَرَائِدِ اس کے نفیس موتیوں کے خزانوں کو، تو میں نے نفیس موتیوں کے خزانوں کو رکھ دیا عَلَى طَرَفِ الثُّمَامِ ثُمَام گھاس کے کناروں پر بھئی، ثُمَام گھاس کے کناروں پر میں نے رکھ دیا۔
یہ محاورہ ہے عربی کا مولانا۔ عربی میں جب آپ کسی چیز کو ایسا بنا دیں کہ جس کو ہر ایک حاصل کر سکے، تو کہتے ہیں وَضَعْتُهُ عَلَى طَرَفِ الثُّمَامِ، وَضَعْتُهُ عَلَى طَرَفِ الثُّمَامِ۔ بھئی آپ خود بتائیے مولانا، آپ کے سامنے گھاس پر ایک چیز پڑی ہو اسے حاصل کرنا آسان ہے یا بلندی پہ کوئی چیز پڑی ہو اسے حاصل کرنا آسان ہے؟ جو گھاس پہ پڑی ہے اسے ہر ایک آسانی سے حاصل کر لے گا، تو یہاں بھی یہی مراد ہے کہ میں نے اس کو ممکن الحصول بنایا ہے یعنی ہر ایک اب اس سے نفع اٹھا سکتا ہے، یہ نہیں کہ کوئی اس تک پہنچ ہی نہ سکے۔
اور میں نے رکھ دیا اس کے نفیس موتیوں کے خزانوں کو عَلَى طَرَفِ الثُّمَامِ ثُمَام گھاس کے کناروں پر، فَجَاءَ بِحَمْدِ اللَّهِ كَمَا يَرُوقُ النَّوَاظِرَ پس آئی یہ شرح اللہ کی حمد کے ساتھ، کہتے ہیں الحمد للہ یہ شرح کیسی آئی؟ كَمَا ایسی چیز کی طرح يَرُوقُ النَّوَاظِرَ جو پسند آتی ہے، نَوَاظِرُ جمع ہے نَاظِرَةٌ کی، آنکھیں بھئی، جو آنکھوں کو پسند آتی ہے۔
ایسی چیز کی طرح تھی یہ شرح جو آنکھوں کو پسند آتی ہے، وَيَجْلُو صَدَأَ الْأَذْهَانِ صَدَأٌ کہتے ہیں زنگ کو، يَجْلُو کا معنی صاف کرنا۔
اور صاف ایسی چیز کی طرح تھی جو صاف کرتی ہے ذہنوں کے زنگ کو، میری شرح ایسی ہے جو آنکھوں کو پسند آتی ہے، اس چیز کے مثل ہے جو آنکھوں کو پسند آتی ہے اور ذہنوں کے زنگ کو صاف کرتی ہے، وَيَرْهَفُ الْبَصَائِرَ اور بصیرتوں بصیرتیں یعنی عقلوں کو تیز کرتی ہے، يَرْهَفُ کا معنی تیز کرنا، وَيَرْهَفُ الْبَصَائِرَ اور بصیرتوں کو اس چیز کے مثل جو بصیرتوں کو تیز کرتی ہے، وَيُضِيءُ أَلْبَابَ أَرْبَابِ الْبَيَانِ يُضِيءُ روشن کرنا، چمکانا، أَلْبَابٌ جمع ہے لُبٌّ کی، عقل کو کہتے ہیں، أَرْبَابُ الْبَيَانِ علم بیان والے، علم بیان والے۔
اور یہ شرح آئی اس چیز کے مثل وَيُضِيءُ أَلْبَابَ أَرْبَابِ الْبَيَانِ جو علم بیان والوں کی عقلوں کو روشن کرتی ہے، تو یہ شرح اس چیز کے مثل ہے۔
تو علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں میں نے اتنی تکلیف کے عالم میں اس کو لکھا، لیکن پھر بھی اللہ کی حمد کے ساتھ یہ ایسی کتاب نکلی، ایسی کتاب بن گئی، كَمَا اس چیز کے مثل تھی جو تمام آنکھوں کو پسند آتی ہے اور تمام ذہنوں کے زنگوں کو کیا کرتی ہے؟ صاف کرتی ہے، اور وَيَرْهَفُ الْبَصَائِرَ اور بصیرتوں کو، عقلوں کو تیز کرتی ہے، تیز کرنے والی چیز کی مثال، اور علم بیان والوں کے عقلوں کو چمکدار بنانے والی چیز کے مثل بن کر آئی بھئی۔
وَمِنَ اللَّهِ التَّوْفِيقُ وَالْهِدَايَةُ اور اللہ ہی کی طرف سے توفیق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے ہدایت ہے، وہی ہدایت دینے والے ہیں، وَعَلَيْهِ التَّوَكُّلُ اور اللہ ہی پر بھروسہ ہے فِي الْبِدَايَةِ وَالنِّهَايَةِ ابتداء میں بھی اور انتہاء میں بھی، یعنی شرح کی ابتداء میں بھی اور انتہاء میں بھی اسی پر ہی بھروسہ کیا جاتا ہے، وَهُوَ حَسْبِي اور وہ میرے لیے کافی ہے وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اور وہ بہترین کارساز ہے۔ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ اور وہ بہترین کارساز ہے۔
چلیے مولانا هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ