کل ہم نے فنِ ثالث کا خاتمہ شروع کیا تھا اور یہ خاتمہ تھا سرقاتِ شعریہ میں۔ یہ سرقات لفظ نہیں ہے مولانا، مصدر ہے ”سَرَقَ يَسْرِقُ سَرِقَةً“، سمجھ میں آیا؟ یہ سرقہ مصدر نہیں آتا اس کا، تو یہ ہے سرقاتِ شعریہ کے اندر، اور جو اس کے ساتھ اور چیزیں ملی ہوئی ہیں جیسے قول بالابتداع ہے، جیسے اقتباس، تضمین، عقد، حل، تلمیح وغیرہ، یہ آگے چیزیں آ جائیں گی۔
علامہ تفتازانی رحمہ اللہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو خاتمہ ہے ہم نے اسے کتاب کا خاتمہ نہیں قرار دیا بلکہ اس کو کیا بنایا ہے؟ فنِ ثالث کا، یعنی یہ فنِ ثالث ہی کا جز ہے، اس سے خارج نہیں۔ اور دلیل کیا ذکر کی تھی؟ دلیل یہ ذکر کی کہ مصنف نے خود جو شرح لکھی ہے تلخیص کی اس میں وہ کہتے ہیں کہ فنِ ثالث کی کچھ چیزیں ابھی باقی ہیں جن کو بعض مصنفین ذکر کرتے ہیں۔ تو دیکھو باقی ہیں یہ بتلا رہا ہے کہ یہ چیزیں جو خاتمے میں آ رہی ہیں کس کی ہیں؟ فنِ ثالث ہی کی ہیں۔ تو کچھ چیزیں باقی ہیں جن کو بعض مصنفین ذکر کرتے ہیں تو فرماتے ہیں یہ دو قسم کی چیزیں ہیں: بعض وہ ہیں جن میں تو تحسینِ کلام ہی نہیں سرے سے یا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے سرے سے تو ان کو ہم نے ترک کر دیا، اور کچھ میں فائدہ تھا تو ان کو ہم کیا کریں گے؟ ذکر کریں گے۔
اس کے بعد بتلایا تھا کہ اگر دو قائلین کا اتفاق آ جائے کسی غرضِ عام کے اندر کہ عام لوگ بھی اس کا ارادہ کرتے ہیں، جیسے شجاعت کی صفت بیان کرتے ہیں، سخاوت کی تعریف کرتے ہیں، چہرے کا حسن اور خوبصورتی کی تعریف کرتے ہیں، تو اس چیز میں ایک شاعر بھی تعریف شجاعت کی کر رہا ہے، دوسرا بھی کر رہا ہے تو اس کو سرقہ وغیرہ یا اس سے ملتے جلتے، اس جیسے کسی نام کے ساتھ یاد نہیں کیا جائے گا اس لیے کہ یہ تمام عقلوں اور عادتوں میں مشترک ہے مولانا، سب اس کو استعمال کرتے ہیں۔
اور اگر اس غرض پر جو دلالت کا طریقہ ہے، شجاعت کو بیان کرنے کا، سخاوت کو بیان کرنے کا طریقہ ہے، اگر اس طریقے کے اندر اتفاق آ جائے تو پھر اس میں تفصیل ہے مولانا، تفصیل ہے۔ تو کہتے ہیں تفصیل اس میں یہ کہ اگر یہ طریقہ دلالت بھی عام ہے، عام لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں، بہادر کی تشبیہ دیتے ہیں شیر سے اور سخی کی تشبیہ دیتے ہیں سمندر کے ساتھ، تو یہ بھی پہلی قسم کی طرح ہے، پہلی قسم میں جیسے دو آدمیوں کا اتفاق ہو جائے، دو شعراء کا، تو اس کو سرقہ شمار نہیں کرتے تو اس کو بھی سرقہ شمار نہیں کریں گے۔ اور اگر ایسا نہ ہو مولانا، یعنی لوگ عام طور پر اس کو استعمال نہیں کرتے کیونکہ یہ طریقہ جو ہے اس میں غور و فکر کرنا پڑتا ہے یا یہ کوئی بڑی لطیف وجہ ہوتی ہے جو ہر ایک کے ذہن میں نہیں آتی، تو اس صورت میں اب آپ کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ ان دونوں میں سے کون جو ہے اعلیٰ ہے اور کون زائد ہے اور کون ناقص ہے۔ پہلے والا اعلیٰ ہے یا ثانی کہنے والا اعلیٰ ہے، الفاظ کو دیکھیں گے اور کون سا شعر زائد ہے، اعلیٰ درجے کا ہے مولانا اور قائل بھی اعلیٰ درجے کا۔
پھر یہ جو انہوں نے کہا کہ اگر وہ طریقہ دلالت ایسا نہیں ہے جو عام لوگوں میں مشترک ہے، تو پھر یہ جو عام نہ ہونے کی وجہ یا تو اس کی ذات ہی ایسی ہوگی کہ وہ عجیب اور انوکھا ہوگا، یا اس کی ذات تو ایسی نہیں ہے، وہ ہے تو عام ہی لیکن کہنے والے نے اس میں کچھ ایسی تبدیلی کر دی تھی جس کی وجہ سے وہ کیا بن گیا تھا؟ خاص بن گیا تھا۔ تو وہ خاص بن گیا تھا، تو یہ دو قسم پر ہوگا مولانا۔
اس کے بعد بتلایا یہ اخذ اور سرقہ جو ہیں یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں اور یہ دو قسم پر ہے: ایک ظاہر ہے، ایک غیر ظاہر ہے۔ ظاہر اس کو کہتے ہیں کہ ایک بعد میں آنے والا شاعر پہلے شاعر کے معنی اور لفظ دونوں کو لے لے، یا لفظ اور سارے معنی کو لے لے، یا معنی کے ساتھ بعض الفاظ کو لے لے سب کو نہ لے، اور تیسری صورت یہ ہے کہ صرف معنی کو لے لے اور الفاظ کو نہ لے۔ یہ تین طریقے ہیں ظاہر کے۔
پھر وہ صورت کہ جس کے اندر معنی کے ساتھ ساتھ سارے الفاظ بھی لے لیتا ہے اور کوئی تبدیلی بھی نہیں کرتا، اس میں پھر دو صورتیں ہیں: یا تو تبدیلی کرے گا یا تبدیلی کچھ نہیں۔ اگر کچھ بھی تبدیلی نہیں کرتا سارا کا سارا شعر اٹھایا اور اپنی طرف منسوب کر دیا، تو کہتے ہیں یہ مذموم ہے اس لیے کہ یہ تو سرقہ محضہ ہے اور اس کو نسخ و انتحال کہتے ہیں، جیسے عبداللہ ابن زبیر کا واقعہ آیا تھا، کسی اور شاعر کے اشعار کو کیا کیا تھا؟ اپنی طرف منسوب کر دیا تھا۔
اور اگر سارا معنی لے لیا لیکن الفاظ کو مترادفات سے بدل دیا مولانا، جیسے شعر گزرا تھا اس میں ”دَعْ“ کی جگہ ”ذَرْ“ کہہ دیا، ”مَكَارِمَ“ کی جگہ ”مَآثِرَ“ کہہ دیا، ”لَا تَرْحَلْ“ کی جگہ ”لَا تَذْهَبْ“ کہہ دیا، کہتے ہیں یہ بھی اسی کے حکم میں ہے۔ مترادفات لے آئیں، ایک لفظ کی جگہ دوسرا اسی جیسا لفظ لے آئیں تو یہ بھی اسی کے حکم میں ہے، تو لفظ بدلنے سے صرف مترادف لانے سے یہ کوئی نیا کلام نہیں ہوا، یہ بعینہٖ وہی کلام ہے گویا کہ۔
اور اگر مولانا سارے الفاظ لیے لیکن ان میں تبدیلی کر دی، انداز بدل دیا، ترتیب بدل دی، ترکیب بدل دی، یا الفاظ بعض لیے اور بعض کو سرے سے ہی چھوڑ دیا، تو اس کو کہتے ہیں اغارہ اور مسخ، کہ اس کے شعر کو اس نے کیا کر دیا؟ مسخ کر دیا مولانا۔ تو اب آپ غور کریں اس صورت میں کہ پہلے والے شاعر کا شعر اعلیٰ ہے یا دوسرے والے کا شعر اعلیٰ ہے بھئی۔ تو یہاں تین صورتیں بنتی ہیں: یا تو دوسرا شعر اعلیٰ ہوگا یا ادنیٰ ہوگا یا اس کے برابر ہوگا۔ اگر یہ پہلا شعر اعلیٰ ہے تو پھر یہ مقبول ہے، یہ ہے تو سرقہ لیکن کیا ہے؟ مقبول ہے۔
”وَإِنْ كَانَ الثَّانِي دُونَهُ أَيْ دُونَ الْأَوَّلِ فِي الْبَلَاغَةِ لِفَوَاتِ فَضِيلَةٍ تُوجَدُ فِي الْأَوَّلِ فَهُوَ أَيِ الثَّانِي مَذْمُومٌ“ اور اگر دوسرا جو ہے اس سے کم ہے یعنی پہلے سے کم ہے بلاغت کے اندر کیونکہ کوئی ایسی فضیلت فوت ہو گئی ہے جو پہلے میں پائی جا رہی تھی، تو پھر یہ ثانی کیا ہے؟ مذموم ہے۔ کہ دوسرے شاعر نے کیا کیا؟ پہلے شاعر کے معنی کو لے لیا اور سارے الفاظ کو لیا اور ان کو بدل دیا یا بعض الفاظ کو لے لیا، تو اس صورت میں اگر یہ ثانی کا شعر بلاغت میں کم درجے کا ہے تو یہ کیا ہے؟ مذموم ہے۔ جیسے مولانا: ”كَقَوْلِ أَبِي تَمَّامٍ فِي مَرْثِيَةِ مُحَمَّدِ بْنِ حُمَيْدٍ“ جیسے ابو تمام کا شعر ہے محمد ابن حمید کے مرثیے میں:
”هَيْهَاتَ لَا يَأْتِي الزَّمَانُ بِمِثْلِهِ ... إِنَّ الزَّمَانَ بِمِثْلِهِ لَبَخِيلُ“
ہیہات بڑی بعید ہے یہ بات، بڑی بعید ہے کہ زمانہ... اچھا، ”هَيْهَاتَ“ مولانا یہ کیا ہے؟ اسمِ فعل ہے بمعنی بَعُدَ کے، اور یہ فاعل کو چاہتا ہے اور یہاں اس کا فاعل ذکر نہیں۔ ایک صورت یہ ہے مولانا بھئی فاعل کیا ہے اس کا؟ کہتے ہیں آگے جو جملہ آ رہا ہے ”لَا يَأْتِي الزَّمَانُ بِمِثْلِهِ“ کہ زمانہ اس کے مثل نہیں لے کر آئے گا، توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی۔ زمانہ اس کے مثل نہیں لے کر آئے گا، یہ اس فاعل پہ دلالت کر رہا ہے، یعنی بعید ہو گئی، کیا چیز بعید ہو گئی؟ زمانے کا اس کے مثل لانا، یہ چیز بعید ہو گئی۔ تو آگے آنے والے جملے سے اس کا فاعل مفہوم ہو رہا ہے اس لیے یہاں ترک کر دیا گیا۔
لیکن جمہور کے نزدیک یہ جائز نہیں کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ فعل کو حذف کر کے فاعل کو باقی رکھا جا سکتا ہے لیکن فاعل کو حذف کر دیں اور فعل کو باقی رکھیں یہ جائز نہیں۔ تو یہ پھر بناء بر اس مذہب کے ہوگا جو علماء حذفِ فاعل کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ ورنہ دوسری صورت کے اندر ”هَيْهَاتَ“ کے اندر ضمیر مان لیں گے ہم اور ضمیر ماقبل کے شعر میں نسیان کا تذکرہ ہوا تھا مولانا، کہتے ہیں اس کی طرف ضمیر کو راجع کریں گے، اس کی طرف۔ اب اس صورت میں حذفِ فاعل کی خرابی لازم نہیں آئے گی: میرا بھول جانا دور ہو گیا، بعید ہو گیا، زمانہ اس کے مثل نہیں لائے گا۔
شاعر مدح کر رہا ہے کسی شخص کے مرثیے میں، مرثیہ کہتے ہیں کسی کے انتقال کے بعد اس کی مدح وغیرہ میں قصیدہ کہنا مولانا۔ تو اس کی تعریف کر رہا ہے کہ اب اس جیسا شخص دوبارہ نہیں آئے گا بھئی، اس لیے کہ زمانہ اس جیسے آدمیوں کے لانے میں بڑا بخیل ہے، ایسے آدمی وہ بار بار نہیں لے کر آتا زمانہ۔ اسی معنی کو ابو طیب نے ادا کیا اپنے اس شعر کے اندر:
”أَعْدَى الزَّمَانَ سَخَاؤُهُ فَسَخَا بِهِ ... وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ الزَّمَانُ بَخِيلَا“
ابو طیب کہتے ہیں کہ دیکھو زمانہ بڑا بخیل تھا اس کے لانے کے اندر، اس کو لا ہی نہیں رہا تھا، لیکن کیا ہوا کہ ابھی میرا ممدوح جو ہے وہ معدوم تھا، زمانہ اس کو پیدا ہی نہیں کر رہا، لا ہی نہیں رہا، وجود ہی نہیں دے رہا اس کو، تو میرا ممدوح بڑا سخی ہے، اس کے معدوم ہونے کی حالت میں اس کی سخاوت، میرا ممدوح تو بڑا سخی ہے، تو معدوم ہونے کی صورت میں بھی اس کی سخاوت جو تھی وہ متعدی ہوئی زمانے کی طرف۔ زمانے کو اس کی سخاوت نے اپنے اخلاق دے دیے مولانا، زمانے کو بھی کیا بنا دیا؟ سخی بنا دیا۔ جب زمانے کی طرف اس کی سخاوت متعدی ہوئی، وہ بھی سخی بن گیا تو اب اس نے سخاوت کی اور ممدوح کو وجود دے دیا اور اس کو پیدا کر دیا۔ صورت سمجھ میں آئی؟
تو آگے ذکر کریں گے یہ معنی کیا ہے علامہ ابن جنی نے بھئی، یہ بڑے عالم ادیب نحوی گزرے ہیں مولانا، انہوں نے ذکر کیا کہ یہ معنی ہے کہ شاعر کیا کہنا چاہتا ہے کہ میرے ممدوح کے پیدا ہونے سے پہلے زمانہ اس کے لانے میں بڑا بخیل تھا، تو میرے ممدوح کی سخاوت متعدی ہو کر کس کے پاس چلی گئی؟ جیسے مولانا ایک بیماری ایک شخص سے دوسرے شخص کو منتقل ہوتی ہے، ایک اخلاق بعض اوقات ایک آدمی سے دوسرے شخص کی طرف منتقل، تو میرے ممدوح کی سخاوت کا جو خلق ہے وہ متعدی ہوا کس کی طرف؟ زمانے کی طرف، تو زمانہ بھی سخی ہوا اور اس نے پھر سخاوت کرتے ہوئے میرے ممدوح کو دنیا کے حوالے کر دیا بھئی۔ یہ علامہ ابن جنی نے کیا ترجمہ۔
لیکن علامہ ابن فورجہ فرماتے ہیں کہ یہ تاویل فاسد ہے، اس لیے کہ اس مبالغے میں غلو ہے، غلو مبالغے کی وہ قسم ہے جو نہ عقلاً ممکن ہو نہ عادتاً ممکن ہو۔ علامہ ابن فورجہ فرماتے ہیں کہ ایک چیز جس کا وجود ہی نہیں ہے، اس کی سخاوت متعدی ہو سکتی ہے؟ جب اس کا وجود ہی نہیں ہے تو اس کی تو سخاوت بھی نہیں ہے، جب سخاوت نہیں ہے تو متعدی کہاں سے ہو؟ کہتے ہیں یہ غلو، جیسے وہ نہیں آپ نے شعر پڑھا تھا شاعر نے کہا تھا کہ اے میرے ممدوح تو نے مشرکین کو اتنا ڈرا دیا ہے کہ ابھی جو نطفے پیدا نہیں ہوئے وہ بھی تیرے سے ڈرتے ہیں، تو نہ وہ عقلاً ممکن تھا اور نہ عادتاً ممکن تھا اور یہ مقبول نہیں ہے۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے، نہ عقلاً ممکن ہے نہ عادتاً ممکن ہے کہ ایک چیز کا وجود نہ ہو اور اس کی سخاوت متعدی ہو جائے۔
تو پھر کیا معنی؟ وہ معنی پھر کہتے ہیں بھئی اس کا معنی یہ ہے کہ زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا یعنی زمانہ اس سے میری ملاقات نہیں کروا رہا تھا، وہ پیدا تو ہو چکا تھا، سخی بھی تھا، سب کچھ تھا لیکن زمانہ بخیل تھا اور اس سے میری ملاقات نہیں کرواتا تھا، میری رہنمائی نہیں ہوتی تھی اس کی طرف۔ تو پھر میرے ممدوح جو موجود تھا اس موجود کی سخاوت متعدی ہوئی، زمانے کو چلی گئی، اور زمانے نے اس کے اثر کو قبول کیا اور زمانہ بھی سخی ہوا، اور اس اثر کی وجہ سے اس نے پھر کیا کیا؟ اس میرے ممدوح سے میری ملاقات کروا دی اور میری رہنمائی کر دی۔ تو اب دیکھو ایک موجود چیز کی سخاوت کیا ہے؟ متعدی ہوئی زمانے کی طرف، اب معنی کیا ہوا؟ صحیح ہو گیا۔
”أَعْدَى الزَّمَانَ سَخَاؤُهُ“ متعدی ہوئی زمانے کی طرف، منتقل ہوئی زمانے کی طرف ”سَخَاؤُهُ“ اس کی سخاوت بھئی، ”يَعْنِي تَعَلَّمَ الزَّمَانُ مِنْهُ السَّخَاءَ وَسَرَتْ سَخَاوَتُهُ إِلَى الزَّمَانِ فَسَخَا بِهِ“ زمانے نے سیکھ لی اس سے سخاوت اور سرایت کی اس کی سخاوت نے زمانے کی طرف، پس زمانے نے ممدوح کے ساتھ سخاوت کی ”وَأَخْرَجَهُ مِنَ الْعَدَمِ إِلَى الْوُجُودِ“ اور نکالا اس کو عدم سے وجود کی طرف، ”وَلَوْلَا سَخَاؤُهُ الَّذِي اسْتَفَادَ مِنْهُ“ ہاں، اگر وہ زمانے کی سخاوت نہ ہوتی، کون سی زمانے کی سخاوت؟ ”الَّذِي اسْتَفَادَ مِنْهُ“ جو کہ اس نے کہاں سے حاصل کی ہے؟ میرے ہی ممدوح سے حاصل کی ہے، اگر زمانے کی وہ سخاوت جو اس نے میرے ممدوح سے حاصل کی ہے وہ نہ ہوتی ”لَبَخِلَ بِهِ عَلَى الدُّنْيَا“ تو زمانہ اس کا بخل کرتا دنیا پر بھئی، دنیا کے حوالے اس کو نہ کرتا ”وَاسْتَبْقَاهُ لِنَفْسِهِ“ اور اس ممدوح کو زمانہ اپنے ہی لیے باقی رکھتا، ”كَذَا ذَكَرَهُ ابْنُ جِنِّي“ جیسا کہ ذکر کیا علامہ ابن جنی نے۔
”وَقَالَ ابْنُ فُورَّجَةَ: هَذَا تَأْوِيلٌ فَاسِدٌ“ اور ابن فورجہ فرماتے ہیں یہ تاویل فاسد ہے، ”لِأَنَّ سَخَاءَ غَيْرِ مَوْجُودٍ لَا يُوصَفُ بِالْعَدْوَى“ اس لیے کہ غیر موجود شخص کی سخاوت کا وصف بیان نہیں کیا جاتا منتقل ہونے کے ساتھ، ”وَإِنَّمَا الْمُرَادُ سَخَا بِهِ عَلَيَّ“ مراد یہ ہے کہ مجھ پر سخاوت کی زمانے نے ممدوح کے ساتھ ”وَكَانَ بَخِيلًا بِهِ عَلَيَّ“ اور اس کے بارے میں وہ مجھ پر بخیل تھا زمانہ، ”فَلَمَّا أَعْدَاهُ سَخَاؤُهُ“ پھر جب زمانے کی طرف منتقل ہوئی میرے ممدوح کی سخاوت، پھر اب ”أَسْعَدَنِي بِضَمِّي إِلَيْهِ وَهِدَايَتِي لَهُ“ تو اس نے مجھے نیک بخت بنا دیا اس کے ساتھ ملاتے ہوئے اور اس کی طرف میری رہنمائی کرتے ہوئے، ”وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ الزَّمَانُ بَخِيلَا“ اور تحقیق زمانہ اس کے بارے میں بخیل تھا۔
تو کہتے ہیں: ”فَالْمِصْرَاعُ الثَّانِي مَأْخُوذٌ مِنَ الْمِصْرَاعِ الثَّانِي لِأَبِي تَمَّامٍ“ کہتے ہیں دیکھو مصرعہ ثانی اس کا کیا تھا پہلے شعر کا؟ ”إِنَّ الزَّمَانَ بِمِثْلِهِ لَبَخِيلُ“، اور ابو طیب کا بھی یہی مصرعہ ہے: ”وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ الزَّمَانُ بَخِيلَا“، تو مصرعہ ثانی ابو طیب کا یہ ابو تمام کے مصرعہ ثانی سے ماخوذ ہے ”عَلَى كُلٍّ مِنْ تَفْسِيرَيِ ابْنِ جِنِّي وَابْنِ فُورَّجَةَ“ ابن جنی اور ابن فورجہ دونوں میں سے ہر ایک کی تفسیر پر یہ اسی سے ماخوذ ہے، ”إِذْ لَا يُشْتَرَطُ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنَ الْأَخْذِ عَدَمُ تَغَايُرِ الْمَعْنَيَيْنِ أَصْلًا“ اگرچہ تھوڑا بہت فرق آ رہا ہے مولانا، لیکن کہتے ہیں اخذ کی اس نوع کے اندر شرط نہیں لگائی جاتی کہ دونوں معانی کے اندر سرے سے کوئی فرق ہی نہیں آنا چاہیے، تھوڑا بہت فرق بھی آ جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں، ہم یہی کہیں گے یہ اس نے پہلے ہی سے لیا ہے، ”كَمَا تَوَهَّمَهُ الْبَعْضُ“ جیسا کہ بعض علماء نے وہم کیا ہے بھئی۔
”وَإِلَّا لَمْ يَكُنْ مَأْخُوذًا مِنْهُ عَلَى تَأْوِيلِ ابْنِ جِنِّي أَيْضًا“ ورنہ تو اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ تھوڑا بہت فرق ہو تو پھر یہ اخذ نہیں ہوا، کہتے ہیں پھر تو علامہ ابن جنی کی تاویل کے مطابق بھی یہ ماخوذ نہیں۔ کیوں؟ ”لِأَنَّ أَبَا تَمَّامٍ عَلَّقَ الْبُخْلَ بِمِثْلِ الْمَرْثِيِّ وَأَبَا الطَّيِّبِ بِنَفْسِ الْمَمْدُوحِ“ اس لیے کہ ابو تمام جو ہے اس نے معلق کیا تھا بخل کو مثلِ مرثی کے ساتھ اور ابو طیب نے نفسِ ممدوح کے ساتھ۔ دیکھو پھر شعر پیچھے نکالو: ابو تمام نے کیا کہا؟ زمانہ اس کے مثل جو ہے، اس جیسوں کے سلسلے میں بخیل ہے، دیکھو ”بِمِثْلِهِ“ کہا۔ اور آگے ابو طیب نے کیا کہا کہ زمانہ اس کے ساتھ بخیل تھا، اس کی ذات کے بارے میں۔ تو دیکھو اس نے مثل کی بات کی اور اس نے مثل کی بات نہیں کی بلکہ ممدوح کی ذات کے بارے میں بات کی، تو پھر تو فرق ان دونوں میں بھی آ رہا ہے، لیکن اس طرح کا تھوڑا بہت فرق آ جائے تو وہ قابلِ اعتبار نہیں ہے، پھر بھی ہم یہی کہیں گے کہ اسی سے اخذ کیا ہے بھئی۔
”هَذَا أَيْ خُذْ هَذَا“ یہ بات یاد رکھو بھئی۔ ”وَلَكِنَّ مِصْرَاعَ أَبِي تَمَّامٍ أَجْوَدُ سَبْكًا“ ہاں، لیکن اب بتلا رہے ہیں کہ بھئی مثال کس کی چل رہی ہے کہ دوسرے شاعر کا شعر پہلے شاعر کے شعر سے بلاغت میں کم درجے کا ہے، تو یہاں بھی کہہ رہے ہیں ابو طیب کا شعر کم درجے کا ہے، ابو تمام کا لفظوں کے اعتبار سے اعلیٰ ہے۔ کم درجے کا اس لیے کہ اس نے نیچے کیا کہا؟ ”وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ“، کہنا کیا چاہیے تھا؟ ”لَقَدْ كَانَ بِهِ“، ماضی کا صیغہ استعمال کرنا چاہیے تھا لیکن ابو طیب نے کیا کیا؟ مضارع کا صیغہ استعمال کیا، تو معنی تو پھر بھی ماضی والا ہی کرنا پڑے گا، تو یہ مولانا اس خرابی کی وجہ سے اب اعلیٰ کس کا ہوا شعر؟ ابو تمام کا۔
”وَلَكِنَّ مِصْرَاعَ أَبِي تَمَّامٍ أَجْوَدُ سَبْكًا“ لیکن ابو تمام کا مصرعہ جو ہے وہ عمدہ ہے نظم کے اعتبار سے، ”لِأَنَّ قَوْلَ أَبِي الطَّيِّبِ: لَقَدْ يَكُونُ بِلَفْظِ الْمُضَارِعِ لَمْ يَقَعْ مَوْقِعَهُ إِذِ الْمَعْنَى عَلَى الْمُضِيِّ“ اس لیے کہ ابو طیب کا جو قول ہے ”لَقَدْ يَكُونُ“ مضارع کے لفظ کے ساتھ، یہ اپنی جگہ پر واقع نہیں اس لیے کہ معنی تو کس پر ہے؟ معنی تو ماضی پر ہے اور صیغہ کون سا استعمال کیا؟ مضارع کا، تو یہ اپنی جگہ پر نہیں آیا۔
اس پر بعضوں نے جواب دینے کی کوشش کی، کیا جواب؟ کہتے ہیں ”وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ الزَّمَانُ بَخِيلَا“ یہ مضارع اپنے ہی معنی میں مستعمل ہے اور معنی یہ ہے کہ زمانہ جو ہے اس کے ہلاک کرنے میں بخیل ہے۔ تو بھئی وجود تو آ چکا ہے ٹھیک ہے، وجود کے اعتبار سے ”لَقَدْ يَكُونُ“ نہیں ”لَقَدْ كَانَ“ ہونا چاہیے تھا کیونکہ وجود پہلے آیا تھا تو اس وقت زمانہ بخیل تھا، اس کو وجود دیتے وقت زمانہ کیا تھا؟ بخیل تھا۔ تو ماضی کا صیغہ آنا چاہیے تھا لیکن انہوں نے یکون مضارع کیا، تو کہتے ہیں بھئی یہاں یکون کا معنی ہم کر لیتے ہیں یکون سے کوئی مستقبل والی چیز مراد لے لیتے ہیں، تو وجود تو آ چکا ہے لیکن ہلاکت تو ابھی مستقبل میں آنی ہے، تو اس صورت میں اب ہلاکت کے معنی مراد لے لیے کہ زمانہ اس کے ہلاک کرنے کے بارے میں بخیل ہوگا۔ زمانہ کیا ہوگا اس کے بارے میں؟ بخیل ہوگا۔ تو یہ تو اب مستقبل کی چیز آ گئی، اب دیکھو ”لَقَدْ يَكُونُ“ اپنے ہی معنی میں رہا اور آپ نے جو خرابی ذکر کی تھی کہ معنی ماضی کا ہونا چاہیے اور استعمال مضارع کر رہے ہیں یہ خرابی ہے، تو اب تو صیغہ بھی مضارع کا ہے اور معنی بھی کون سا ہوا؟ مضارع کا ہوا۔
تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ آپ نے عجیب نئی تقریر کی بھئی، یہاں پر کوئی قرینہ کچھ بھی موجود نہیں ہے، اور نیز اگر ایسا مان بھی لیا جائے تو پھر بھی مولانا آپ کو تاویل کرنا پڑتی ہے اور یہاں پر تکلف کرنا پڑتا ہے اور ہلاکت وغیرہ کے لفظ کو نکالنا پڑتا ہے، جبکہ ابو تمام کے شعر میں اس قسم کے تکلف اور تاویل کی ضرورت نہیں پڑتی، تو وہ پھر بھی اعلیٰ ہی رہے گا اگر آپ کی بات مان بھی لی جائے۔
”فَإِنْ قِيلَ الْمُرَادُ: لَقَدْ يَكُونُ بَخِيلًا بِهَلَاكِهِ“ اگر کہا جائے کہ مراد یہ ہوگی: اس کی ہلاکت کے بارے میں بخیل ہوگا، ”أَيْ لَا يَسْمَحُ بِهَلَاكِهِ قَطُّ لِعِلْمِهِ بِأَنَّهُ سَبَبُ إِصْلَاحِ الْعَالَمِ“ یعنی اجازت نہیں دے گا اس کو ہلاک کرنے کی کبھی بھی، اس لیے کہ زمانہ جانتا ہے کہ میرا ممدوح کیا ہے؟ عالم کی اصلاح کا سبب ہے، تو زمانہ کبھی بھی اب اس کی ہلاکت کی اجازت نہیں دے گا، اس کی ہلاکت کے بارے میں بخیل ہوگا، تو اب مستقبل والا معنی آ گیا۔
”وَالزَّمَانُ وَإِنْ سَخَا بِوُجُودِهِ وَبَذَلَهُ لِلْغَيْرِ“ یہ وہی تقریر چل رہی ہے: تو اصلاحِ عالم کی وجہ سے زمانہ اس کو کبھی بھی ہلاک نہیں کرے گا، اور زمانے نے اگرچہ سخاوت کر دی ہے اس کے وجود کے ساتھ اور اس کو غیر کے لیے خرچ کر دیا ہے یعنی غیر کو دے دیا ہے، زمانے نے اپنے لیے باقی نہیں رکھا بلکہ اس کو وجود دے کر کس کو دے دیا ہے؟ زمانے والوں کو دے دیا ہے، لیکن پھر بھی وجود دینا تو گزر چکا لیکن اس کا معدوم کرنا اور اس کا فنا کرنا یہ تو ابھی بھی باقی ہے اور مستقبل میں آئے گا۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ تو پھر معنی ٹھیک ہوا۔
”وَالزَّمَانُ وَإِنْ سَخَا بِوُجُودِهِ وَبَذَلَهُ لِلْغَيْرِ لَكِنْ إِعْدَامُهُ وَإِفْنَاؤُهُ بَاقٍ بَعْدُ أَيْ بَعْدَ وُجُودِهِ فِي تَصَرُّفِهِ“ زمانے کے تصرف میں، زمانے نے اس کو وجود تو دے دیا لیکن اس کو ہلاکت کا تصرف تو ابھی بھی زمانے کے پاس باقی ہے، تو اس میں وہ بخل کرے گا۔ ”قُلْتُ“ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ”هَذَا تَقْرِيرٌ لَا قَرِينَةَ عَلَيْهِ“ یہ ایسی تقریر ہے جس پر کوئی قرینہ نہیں ہے، ”وَبَعْدَ صِحَّتِهِ فَمِصْرَاعُ أَبِي تَمَّامٍ أَجْوَدُ“ اور اس کو صحیح مان لینے کے بعد بھی ابو تمام کا مصرعہ اعلیٰ عمدہ ہے، ”لِاسْتِغْنَائِهِ عَنْ مِثْلِ هَذَا التَّكَلُّفِ“ اس لیے کہ وہ محتاج نہیں ہے اس قسم کے تکلف کا، اس میں اس قسم کا تکلف نہیں کرنا پڑتا کہ آپ نے کہا ہلاکت مراد لیں اور وہ مستقبل میں ہو، یہاں اس نے ہلاکت کا کوئی تذکرہ ہی نہیں کیا آپ کیسے مراد لیتے ہیں بھئی؟
”وَإِنْ كَانَ الثَّانِي مِثْلَهُ...“ بھئی کیا بات چل رہی تھی؟ پہلے شاعر نے ایک شعر کہا تھا، دوسرے شاعر نے بھی اس کے معنی کو لے لیا، سارے الفاظ کو لے کر کچھ بدل دیا یا صرف بعض الفاظ لیے۔ پھر اس صورت میں بتایا تھا کبھی اعلیٰ ہوگا بعد والے کا شعر یا کبھی ادنیٰ ہوگا اور کبھی برابر۔ اعلیٰ کی مثال بھی گزر گئی، ادنیٰ کی مثال بھی گزر گئی، اب وہ کہ ثانی اول کے برابر ہو۔ ”وَإِنْ كَانَ الثَّانِي مِثْلَهُ أَيْ مِثْلَ الْأَوَّلِ فَأَبْعَدُ أَيْ فَالثَّانِي أَبْعَدُ مِنَ الذَّمِّ“ اور اگر ثانی اول کے مثل تھا تو اس صورت میں مولانا ثانی مذمت سے دور ہوتا ہے۔ پہلے شاعر نے ایک شعر کہا تھا، دوسرے شاعر نے اس کے کچھ الفاظ لے لیے، اس نے بھی ایک شعر کہا اور بلاغت میں دونوں برابر ہیں، تو اس صورت میں یہ مذمت سے دور ہے، ثانی کی آپ مذمت نہیں کر سکتے کہ یہ شعر برا ہے، ”وَالْفَضْلُ لِلْأَوَّلِ“ لیکن فضیلت پھر بھی کس کو حاصل ہے؟ پہلے ہی کو۔
”كَقَوْلِ أَبِي تَمَّامٍ“ جیسے ابو تمام کہتا ہے:
”لَوْ حَارَ مُرْتَادُ الْمَنِيَّةِ لَمْ يَجِدْ ... إِلَّا الْفِرَاقَ عَلَى النُّفُوسِ دَلِيلَا“
ابو تمام کہتا ہے اگر حیران ہو، مرتاد کا معنی تلاش کرنے والا، طلب کرنے والا، المنیۃ موت کو کہتے ہیں۔ ”مُرْتَادُ الْمَنِيَّةِ“ مضاف مضاف الیہ ہیں لیکن اضافت بیانی ہے، اضافت کون سی ہے؟ بیانی، جس میں مضاف الیہ مضاف کو آ کر اس کی تفسیر کرتا ہے، اس کو بیان کرتا ہے: اگر حیران ہو تلاش کرنے والا، وہ کون ہے بھئی تلاش کرنے والا؟ ”الْمَنِيَّةِ“ کون ہے؟ موت۔ تو اگر وہ حیران ہو جائے وہ موت جو تلاش کرنے والی ہے، ”لَمْ يَجِدْ“ وہ ہرگز نہیں پائے گی ”إِلَّا الْفِرَاقَ...“۔
اچھا، مولانا یہ تو شاعر نے شعر کے مطابق آگے پیچھے کیے الفاظ کو، ذرا ترتیب دیں، دیکھیے بھئی کلام یوں ہے اصل میں: ”لَمْ يَجِدْ دَلِيلًا عَلَى النُّفُوسِ إِلَّا الْفِرَاقَ“، ”إِلَّا الْفِرَاقَ“ کو آخر میں لے جائیں اور ”دَلِيلًا“ کو یہاں لے آئیں بھئی: ”لَمْ يَجِدْ دَلِيلًا عَلَى النُّفُوسِ إِلَّا الْفِرَاقَ“۔ شاعر کہتا ہے کہ موت جو ہے پہنچنا چاہتی ہے، نفسوں کو ہلاک کرنا چاہتی ہے، لیکن اگر وہ حیران و سرگرداں رہے گی، پریشان رہے گی، اس کو نفسوں تک، روحوں تک پہنچنے کا ایک ہی راستہ ملے گا صرف، اور وہ کیا ہے کہ محب محبوب وغیرہ کے اندر جدائی پیدا کر دے بھئی، احباء کے اندر کیا کر دے؟ جدائی پیدا کر دے، اور کوئی راستہ اس کو نہیں ملے گا مارنے کا سوائے یہ کہ جدائی کر دے تو خود بخود کیا آ جائے گی ان پر؟ موت۔
”لَوْ حَارَ أَيْ تَحَيَّرَ فِي التَّوَصُّلِ إِلَى إِهْلَاكِ النُّفُوسِ“ اگر نفسوں کو ہلاک کرنے کی طرف پہنچنے کے اندر حیران و سرگرداں ہو تلاش کرنے والی موت، ”أَيِ الطَّالِبُ الَّذِي هِيَ الْمَنِيَّةُ عَلَى أَنَّهَا إِضَافَةٌ بَيَانِيَّةٌ“ وہ طلب کرنے والی جو موت ہے، بناء بر اس کے کہ اضافت کون سی ہے؟ بیانی ہے، ”لَمْ يَجِدْ“ تو یہ موت نہیں پائے گی ”دَلِيلًا عَلَى النُّفُوسِ“ کوئی راستہ نفسوں پر، نفسوں کے خلاف، نفسوں پر کوئی راستہ یعنی ان کو ہلاک کرنے کا کوئی راستہ اس کو نہیں ملے گا ”إِلَّا الْفِرَاقَ“ مگر جدائی ہی۔
اسی معنی کو ابو طیب نے ادا کیا:
”لَوْلَا مُفَارَقَةُ الْأَحْبَابِ مَا وَجَدَتْ ... لَهَا الْمَنَايَا إِلَى أَرْوَاحِنَا سُبُلَا“
”لَوْلَا مُفَارَقَةُ الْأَحْبَابِ“ اگر عزیز و اقارب اور دوستوں کی جدائی نہ ہوتی، ”مَا وَجَدَتْ“ تو نہ پاتیں ”الْمَنَايَا“ یہ منیۃ کی جمع ہے، موتیں، اموات جو ہیں وہ نہ پاتیں، کیا نہ پاتیں؟ ”سُبُلًا“ آگے آ رہا ہے، کوئی راستہ۔ کس طرف کو راستہ؟ ”إِلَى أَرْوَاحِنَا“ کس کی طرف؟ ہماری روحوں کی طرف۔ تو موتیں ہماری روحوں کی طرف کوئی راستہ نہ پاتیں۔ درمیان میں آیا تھا ”لَهَا“، یہ ”سُبُلًا“ سے حال ہے اور ہا ضمیر راجع ہے المنیۃ، المنایا کا مفرد کیا ہے؟ المنایا جمع ہے المنیۃ کی، تو یہ المنیۃ کو راجع ہے: ایسا راستہ ”لَهَا“ جو اس موت کے لیے ہو، کس کے لیے ہو؟ موت کے۔ تو کہتے ہیں اگر احباب کی جدائی نہ ہوتی تو موت اپنے لیے کوئی ایسا راستہ نہ پاتی جو ہماری روحوں تک پہنچتا۔
”الضَّمِيرُ فِي لَهَا لِلْمَنِيَّةِ“ لہا کے اندر جو ضمیر ہے یہ کس کو راجع ہے؟ منیۃ کو راجع ہے بھئی، ”وَهُوَ حَالٌ مِنْ سُبُلَا“ اور یہ حال ہے کس سے؟ سبلا سے، اس لیے کہ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ حال اور ذوالحال میں اگر ذوالحال نکرہ آئے تو حال کو اس پر کیا کیا جاتا ہے؟ مقدم کیا جاتا ہے۔ ”وَالْمَنَايَا فَاعِلُ وَجَدَتْ“ اور منایا فاعل ہے کس کا؟ وجدت کا۔ ”وَرُوِيَ: يَدُ الْمَنَايَا“ بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے، روایت کیا گیا ہے کیا؟ ”يَدُ الْمَنَايَا“، ”لَهَا الْمَنَايَا“ کے بجائے ”يَدُ الْمَنَايَا“ آیا ہے: ”مَا وَجَدَتْ يَدُ الْمَنَايَا“ نہ پاتے موت کے ہاتھ، کوئی راستہ نہ پاتے۔
”فَقَدْ أَخَذَ الْمَعْنَى كُلَّهُ“ تو دیکھیے شاعر نے سارا کا سارا معنی لے لیا پہلے شاعر کا ”مَعَ لَفْظِ الْمَنِيَّةِ“ اور کچھ لفظ بھی لے لیے، کون کون سے لفظ؟ منیۃ کا لفظ لیا، دیکھو پہلے شاعر نے کیا لفظ ذکر کیا تھا؟ منیۃ، دوسرے نے اسی کو جمع کی صورت ”مَنَايَا“ ذکر کر دیا۔ ”وَالْفِرَاقِ“ فراق کا لفظ بھی لے لیا، اس نے فراق کہا تھا اس نے مفارقت کہا۔ وجدان کا لفظ بھی لے لیا، پہلے شاعر نے ”لَمْ يَجِدْ“ کہا تھا اس نے ”وَجَدَتْ“ کہا۔ اور اسی طرح نفوس، اس نے نفوس کا لفظ کہا تھا، اس نے نفوس کو کس سے بدل دیا؟ ارواح سے، معنی دونوں کا ایک ہی ہے۔ تو دیکھیے دوسرے شاعر نے پہلے کے پورے معنی کو اور کچھ الفاظ کو لے لیا، اور یہ دونوں شعر کیا ہیں؟ بلاغت میں ایک دوسرے کے برابر ہیں، برابر ہیں۔ تو اس صورت میں بتلایا تھا آپ کو یہ مذموم نہیں ہے لیکن اول افضل ہے۔
”وَإِنْ كَانَ أَخْذُ الْمَعْنَى وَحْدَهُ سُمِّيَ هَذَا الْأَخْذُ إِلْمَامًا“ اگر صرف معنی لیا جائے اکیلا تو اس اخذ کو کیا کہتے ہیں؟ المام کہتے ہیں، ”مِنْ أَلَمَّ إِذَا قَصَدَ“ یہ ألمّ سے ہے جب کوئی ارادہ کرے مولانا، تو کیا کہتے ہیں؟ ألمّ، کیا معنی؟ کوئی شخص ارادہ کرے تو کیا کہتے ہیں؟ ألمّ۔ ”وَأَصْلُهُ مِنْ أَلَمَّ بِالْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلَ بِهِ“ اور اصل اس کی کیا ہے؟ ألمّ عربی میں کہتے ہیں ”أَلَمَّ بِالْمَنْزِلِ“ کب؟ ”إِذَا نَزَلَ بِهِ“ جب کوئی گھر میں نازل ہو، کسی جگہ پر اترے تو کیا کہتے ہیں؟ ”أَلَمَّ بِهِ“ وہ ادھر نازل ہوا ہے، اترا ہے۔ تو اترنے کے لیے، تو اب مولانا معنی تو تھا اس کا اترنا لیکن پھر اس کو کس معنی میں استعمال کیا؟ ارادے کے معنی میں، یعنی سبب کے معنی میں، اس لیے کہ اترنے کے لیے کیا ضروری؟ ارادہ ضروری۔ تو ارادہ کیا ہوا؟ سببِ نزول ہوا، تو اصل معنی تو تھا اس کا نزول لیکن پھر یہ نزول کے سبب یعنی ارادے کے لیے استعمال ہونے لگا کیونکہ نزول کے لیے پہلے کیا چاہیے؟ ارادہ چاہیے، تو ارادہ سبب ہوتا ہے نزول کا۔ ”وَأَصْلُهُ مِنْ أَلَمَّ بِالْمَنْزِلِ إِذَا نَزَلَ بِهِ“ اور اصل یہ ألمّ بالمنزل سے ہے جب وہ نازل ہو اس گھر میں۔
”وَسَلْخًا“ سمجھ میں آ رہی ہے بات بھئی؟ کہ یہ آخری صورت آ رہی ہے بھئی، کہ شاعر صرف کس کو لے لیتا ہے؟ معنی کو لیتا ہے، الفاظ کو نہیں لیتا۔ تو اس کو المام بھی کہتے ہیں ”وَسَلْخًا“ اور سلخ بھی کہتے ہیں۔ سلخ کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ كَشْطُ الْجِلْدِ عَنِ الشَّاةِ وَنَحْوِهَا“ یہ بھیڑ بکری وغیرہ سے کھال کا اتارنا ہے، ”فَكَأَنَّهُ كَشَطَ مِنَ الْمَعْنَى جِلْدًا وَأَلْبَسَهُ جِلْدًا آخَرَ“ دیکھو اس کو سلخ بھی کہتے ہیں، سلخ کا معنی ہوتا ہے کھال اتارنا، تو پہلے شاعر نے ایک معنی ادا کیا تھا اپنے الفاظ میں، دوسرا شاعر معنی لے لیتا ہے وہی، الفاظ اپنے لے آتا ہے نئے، تو یوں سمجھو گویا شاعر نے اس معنی سے وہ والی کھال اتار دی اور نئی کھال پہنا دی۔ تو کھال کا فرق آ گیا مولانا، لفظوں کا فرق آیا، معنی میں کوئی تبدیلی نہیں ہے۔ ”فَكَأَنَّهُ كَشَطَ مِنَ الْمَعْنَى جِلْدًا وَأَلْبَسَهُ جِلْدًا آخَرَ“ گویا کہ شاعر نے اتار دی کھال ایک معنی سے اور اس کو دوسری کھال پہنا دی، ”فَإِنَّ اللَّفْظَ لِلْمَعْنَى بِمَنْزِلَةِ اللِّبَاسِ“ اس لیے کہ لفظ معنی کے لیے لباس کے درجے میں ہے۔
”وَهُوَ ثَلَاثَةُ أَقْسَامٍ كَذَلِكَ“ یہ بھی اسی طرح تین قسم پر ہے، جیسے مولانا اغارہ اور مسخ تین قسم پر تھا: ثانی اعلیٰ ہوگا یا ثانی ادنیٰ ہوگا یا اس کے مثل ہوگا۔ یہ بھی اسی طرح ہے: ”لِأَنَّ الثَّانِيَ إِمَّا أَبْلَغُ مِنَ الْأَوَّلِ أَوْ دُونَهُ أَوْ مِثْلُهُ“ ثانی ابلغ ہوگا اول سے یا اس سے کم ہوگا یا اس کے مثل ہوگا۔
”أَوَّلُهَا أَيْ أَوَّلُ الْأَقْسَامِ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ الثَّانِي أَبْلَغَ مِنَ الْأَوَّلِ“ پہلی قسم مولانا وہ یہ کہ ثانی اول سے کیا ہو؟ ہاں، ثانی بلیغ ہو اول سے، ”كَقَوْلِ أَبِي تَمَّامٍ“ ابو تمام کہتا ہے:
”هُوَ الصُّنْعُ إِنْ يَعْجَلْ فَخَيْرٌ وَإِنْ يَرِثْ ... فَلِلرَّيْثِ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ أَنْفَعُ“
”هُوَ“ شان یہ ہے، ضمیرِ شان ہے۔ ”الصُّنْعُ أَيِ الْإِحْسَانُ“، ضمیرِ شان آپ نے پڑھا ہے کبھی کبھار آتی ہے مولانا کلام کے اندر ایک مبہم ضمیر، اس کو کیا کہتے ہیں؟ ضمیرِ شان، اور آگے آنے والا جملہ اس کی تفسیر بیان کرتا ہے، آگے آنے والا پورا جملہ اس کی تفسیر۔ تو کہتے ہیں یہ ہُو ضمیرِ شان ہے اور ”الصُّنْعُ“ آگے یہ، تو ضمیر مبتدا اول ہوئی اور ”الصُّنْعُ“ سے لے کر آگے آخر تک یہ پورا جملہ یہ اس کے لیے کیا ہے؟ تفسیر ہے۔ ”الصُّنْعُ أَيِ الْإِحْسَانُ، وَالصُّنْعُ مُبْتَدَأٌ وَخَبَرُهُ الْجُمْلَةُ الشَّرْطِيَّةُ أَعْنِي قَوْلَهُ: إِنْ يَعْجَلْ“ کہتے ہیں صنع جو ہے یہ مبتدا ہے، ہُو ضمیرِ شان جو ہے یہ مبتدا اول اور پھر آگے پورا جملہ وہ اس کے لیے خبر، تو پورے جملے میں بھی پھر ہمیں کیا چاہیے؟ مبتدا اور خبر چاہیے، تو لہٰذا ”الصُّنْعُ“ مبتدا ثانی اور آگے جملہ شرطیہ یہ اس کی خبر ہے صنع کے لیے: ”إِنْ يَعْجَلْ فَخَيْرٌ“ احسان اگر جلدی ہو تو یہ بہتر ہے، ”وَإِنْ يَرِثْ أَيْ يُبْطِئْ“ اور اگر مؤخر ہو جائے، اس میں تاخیر ہو جائے، ”فَالرَّيْثُ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ أَنْفَعُ“ تو تاخیر جو ہے وہ بعض مواضع میں کیا ہوتی ہے؟ زیادہ نفع دینے والی ہوتی ہے۔
سمجھ میں آیا؟ شاعر کہتا ہے کہ بھئی اگر کوئی آپ کے ساتھ احسان کرتا ہے، بادشاہ آپ کے ساتھ احسان کرتا ہے، انعام و اکرام دیتا ہے تو احسان کے اندر جلدی ہونی چاہیے، کیا کرنا چاہیے؟ جلدی دینا چاہیے، اے بادشاہ تجھے جلد سے جلد ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ انعامات دیتے رہنے چاہئیں جلدی جلدی۔ لیکن اگر کبھی تاخیر بھی ہو جائے تو کوئی حرج والی بات نہیں، اس لیے کہ جو چیز دیر سے آتی ہے وہ پھر خوب اچھے طریقے، جو جلدی آتی ہے جلدی چلی جاتی ہے اور دیر سے آتی ہے تو وہ دیر تک رہتی ہے یعنی خوب نفع دینے والی ہوتی ہے۔
یہ تو ایک ترکیب تھی مولانا، دیکھو ہُو ضمیر کیا ہے؟ ضمیرِ شان، اور آگے پورا جملہ اس کی تفسیر ہے، اس کی خبر ہے مولانا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں یہاں ایک اور ترکیب میں آپ کو بتاؤں، عجیب ترکیب۔ کہتے ہیں ہُو ضمیر اس کو ذہن کے اندر ایک چیز کی طرف لوٹایا ہم نے، کس کی طرف؟ جس کا تعقل کیا۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ کہتے ہیں ”الصُّنْعُ“ احسان ہے، کس کا تعقل کیا تھا ہم نے ذہن میں؟ احسان کا۔ تو ہُو کو ضمیرِ شان نہ بناؤ بلکہ اس کو کیا بنا لو؟ ضمیر ہے جو راجع ہے کس کی طرف؟ ایک ایسی چیز کی طرف جس کا ہم نے کیا کیا ہے؟ تعقل کیا ہے، اور وہ کیا ہے؟ احسان۔ تو اب ہُو مبتدا، ”الصُّنْعُ“ اس کی خبر۔ ضمیرِ شان میں تو آگے پورا جملہ تفسیر بنتا ہے اس کی، لیکن اس صورت میں مفرد ہی اس کی کیا بن جائے گا؟ تفسیر بن جائے گا۔ صورت سمجھ میں آئی؟ یہ عجیب ترکیب کی مولانا، سمجھ میں آیا؟ عجیب ترکیب، حالانکہ ضمیر کے لیے ہمیشہ کوئی مرجع ہوتا ہے یا پھر وہ ضمیرِ شان ہوتی ہے جس کے اندر آگے جملہ اس کی تفسیر کرتا ہے۔
”وَالْأَحْسَنُ أَنْ يَكُونَ هُوَ عَائِدًا إِلَى حَاضِرٍ فِي الذِّهْنِ“ اور احسن یہ ہے کہ ہُو ضمیر لوٹنے والی ہو کس کی طرف مولانا؟ ذہن میں حاضر چیز، وہ چیز جو ذہن میں حاضر ہے جس کا آپ نے تعقل کیا ہے، ”وَهُوَ مُبْتَدَأٌ“ تو یہ کیا بن جائے گی ضمیر؟ مبتدا، ”وَخَبَرُهُ الصُّنْعُ“ اور خبر اس کی کیا ہوگی؟ ”الصُّنْعُ“، ”وَالشَّرْطِيَّةُ ابْتِدَاءُ الْكَلَامِ“ اور جملہ شرطیہ وہ پھر الگ کلام ہے مولانا، ابتدائے کلام ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
علامہ تفتازانی نے کہا یہ طریقہ بہتر ہے بھئی۔ توجہ ہے سبق کی طرف؟ جی۔ اس لیے کہتے ہیں کہ پہلی صورت میں بھئی ضمیرِ شان کے بارے میں بتلایا تھا آپ کو انہوں نے، ضمیرِ شان کے اندر پہلے اجمال آتا ہے پھر تفصیل آتی ہے، اور اجمال کے بعد جب تفصیل آئے تو وہ ذہن میں اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے۔ شاعر نے کہا ”هُوَ“ وہ، اب آپ کی توجہ ہو گئی مولانا، حیران ہوئے کہ وہ کیا چیز؟ کوئی مرجع تو گزرا نہیں ہے، آگے پھر وہ پورا جملہ اس کی تفسیر بیان کرتا ہے، تو پہلے اجمال آیا تھا پھر تفصیل آ گئی مولانا، اور اجمال کے بعد جب تفصیل آ جائے تو وہ ذہن میں بات اچھی طرح بیٹھ جاتی ہے انتظار کے بعد، اور شوق پیدا ہو جاتا ہے کہ آگے کیا آنے والی ہے بات۔
تو کہتے ہیں جو فائدہ وہ اجمال و تفصیل کا دے رہا تھا، وہ یہاں پر ہمارا کلام بھی دے رہا ہے جو ہم نے ترکیب بتائی۔ کیسے؟ ہُو ضمیر لوٹائی ذہن میں ایک حاضر چیز کی طرف، ”هُوَ“ وہ، کیا بھئی؟ مجمل چیز آ گئی، پتہ ہی نہیں اس کی تفصیل کا ہمیں پتہ ہی نہیں۔ آگے اور ذہن میں تعقل کس کا کیا تھا؟ ”الصُّنْعُ“ احسان کا، پھر آگے اس کو لفظوں میں بھی ذکر کر دیا کہ وہ کیا ہے؟ احسان ہے، تو مولانا پہلے مجمل تھی بات مولانا، مبہم تھی، اور آگے اس کی تفسیر آ گئی مولانا، تفصیل آ گئی مولانا۔ تو دیکھو جو نکتہ ضمیرِ شان میں تھا وہ نکتہ ہماری ترکیب میں بھی ہے، وہاں اجمال کے بعد تفصیل تھی یہاں بھی اجمال کے بعد تفصیل آ گئی۔
نیز ایک اور فائدہ ہے ہماری ترکیب میں جو پچھلی ترکیب میں نہیں تھا: ہماری ترکیب کے مطابق یہاں دو جملے بن گئے۔ ایک جملہ ہے ”هُوَ الصُّنْعُ“ وہ کیا ہے؟ احسان ہے، اور آگے ”إِنْ يَعْجَلْ فَخَيْرٌ وَإِنْ يَرِثْ فَالرَّيْثُ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ أَنْفَعُ“ یہ الگ کلام ہوا۔ تو دو کلام حاصل ہوئے، دو حکم ہمیں حاصل ہو گئے مولانا، جبکہ پہلی صورت کے اندر ہمیں ایک ہی حکم حاصل ہو رہا تھا۔ کیا حاصل ہو رہا تھا؟ ایک ہی حکم حاصل ہو رہا تھا اس لیے کہ پہلے ضمیرِ شان آئی تھی اور آگے پورا جملہ ایک تھا جو اسی کی تفسیر کر رہا تھا، تو پورے جملے میں ایک ہی حکم بیان ہوگا، ایک ہی اسناد ہوگا۔ تو مولانا ایک حکم پہلے سے حاصل ہو رہا تھا اور اب کتنے حکم حاصل ہو رہے ہیں؟ دو ہو رہے ہیں۔
علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ بات کوئی میں اپنی طرف سے نہیں کر رہا کہ آپ کہیں یہ آپ نے ایک نئی قسم نکال لی ہے بھئی، ہُو ضمیر کو ذہن میں حاضر چیز کی طرف لوٹا رہے ہیں، پہلے تو کبھی کسی نے اس کا تذکرہ نہیں کیا! کہتے ہیں نہیں بھئی، ابو العلاء مشہور شاعر گزرا ہے اس کا کلام میں ذکر کرتا ہوں، وہاں بھی اس قسم کی ضمیر آئی ہے، دیکھیے: ”وَهَذَا كَقَوْلِ أَبِي الْعَلَاءِ“ یہ ابو العلاء کے قول کی طرح ہے، وہ کہتا ہے:
”هُوَ الْهَجْرُ حَتَّى مَا يُلِمُّ خَيَالُهُ ... وَبَعْضُ صُدُودِ الزَّائِرِينَ وِصَالُ“
”هُوَ الْهَجْرُ“ وہ، یہ ضمیر راجع ہے ذہن میں حاضر چیز کی طرف، بھئی وہ کیا ہے؟ جدائی، ”الْهَجْرُ“ وہ کیا ہے؟ جدائی ہے۔
کہتے ہیں علامہ تفتازانی پچھلے شعر میں تو ضمیرِ شان بنانے کا احتمال تھا اور جو ہم نے ضمیر جس طرح کی بنائی یعنی ذہن میں حاضر کی طرف لوٹانے کا بھی امکان تھا، اس میں دونوں امکان تھے۔ یہاں ضمیرِ شان بنانے کا امکان ہی نہیں ہے مولانا، اس لیے کہ ضمیرِ شان کے بعد جملہ آیا کرتا ہے جو اس کی تفسیر بنتا ہے جبکہ یہاں اس ضمیر کے بعد مفرد آ رہا ہے، معلوم ہوا یہ ضمیرِ شان نہیں، یہ اسی قسم کی ضمیر ہے جو ابھی ہم نے بیان کی تھی: ”هُوَ الْهَجْرُ“ وہ ہجر ہے۔
سنو مولانا، یہ بڑا مشکل شعر ہے، ترجمہ توجہ سے سن لو بھئی: ”هُوَ الْهَجْرُ“ وہ جدائی ہے، ”حَتَّى مَا يَلُمُّ“ لکھا ہے لیکن ”يُلِمُّ“ ہونا چاہیے مولانا، یہاں تک کہ جب وہ جدائی نازل ہوتی ہے۔ لَمَّ یَلُمُّ ہو تو یہ متعدی ہے مولانا، تو یہ یُلِمُّ ہونا چاہیے لازمی: یہاں تک کہ مولانا یُلِمُّ میں ضمیر ہے جو ہجر کو لوٹ رہی ہے، یہاں تک مولانا کہ جدائی جب نازل ہوتی ہے، حاصل ہوتی ہے۔
شاعر کہنا چاہتا ہے، شاعر کہتا ہے جب ہم سے کوئی شخص، وہ جدائی ہے جدائی، جب ہم سے کوئی شخص جدائی اختیار کر لیتا ہے تو پھر ہم اس کی طرف ذرہ برابر توجہ ہی نہیں کرتے، ہم اس کے ساتھ پھر کبھی ملتے ہی نہیں ہیں، ملاقات ہی نہیں کرتے، اس کی طرف دیکھتے ہی نہیں ہیں، نہ نیند میں اس سے ملنے کی کوشش کرتے ہیں نہ بیداری میں اس کے ساتھ ملنے کی کوشش کرتے ہیں، تو وہ ہمارے لیے اسی طرح معدوم ہو جاتا ہے جیسے کہ خیال ہوتا ہے۔ خیال بھی ایک عدمی چیز ہے، خارج میں کوئی وجود ہے؟ نہیں۔ تو جیسے خیال ایک عدمی چیز ہے، جس کو ہم ترک کر دیں وہ بھی ہمارے لیے کیا ہوتا ہے؟ خیال کی طرح معدوم ہو جاتا ہے، خیال کی طرح معدوم ہو جاتا ہے۔
اور جب وہ معدوم ہو گیا، ہم نے اس کو اس طرح چھوڑ دیا کہ کبھی اس سے ملتے ہی نہیں ہیں، اس کی طرف دیکھتے ہی نہیں ہیں، توجہ ہی نہیں کرتے تو اس کو ہم سے منہ موڑنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ بھئی ہو سکتا ہے میں اس کو ملنے جاؤں وہ منہ موڑ لے، میرے ساتھ ملاقات سے انکار کر دے، تو جب میں اس کے پاس جاتا ہی نہیں، بات ہی نہیں کرتا، سوچتا ہی نہیں تو اس کو منہ موڑنا کبھی پیش آئے گا؟ کبھی پیش ہی نہیں۔ تو لہٰذا جب ہم اس سے ملتے نہیں، وہ خیال کی طرح معدوم ہو گیا مولانا، تو اب ہمیں اس کے اعراض کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا، اس کے اعراض کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے کہ زیارت کرنے، جو ملنے والے ہوتے ہیں ان کا اعراض کرنا یہ بھی وصال کی طرح سمجھا جاتا ہے۔ کس کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ وصال۔ کیا تو اس نے آپ سے اعراض لیکن اس کو سمجھا کیا جاتا ہے؟ وصال۔ آمنا سامنا ہوا یا نہ ہوا مولانا؟ آمنا سامنا تو پھر بھی ہوا، تو وہ جو اعراض ہوتا ہے وہ بھی وصال کی طرح ہوتا ہے، لہٰذا ہم ان کو اس طرح چھوڑ دیتے ہیں کہ پھر دوبارہ اعراض بھی درپیش نہ ہو، اس لیے کہ اعراض بھی کس کی طرح سمجھا جاتا ہے؟ وصال کی طرح، اور ہم کسی درجے میں اس کے ساتھ کوئی تعلق باقی نہیں رکھتے۔
”هُوَ الْهَجْرُ“ وہ جدائی ہے، ”حَتَّى مَا“ یہ ما زائدہ ہے، ”يُلِمُّ“ میں ضمیر ہے جو ہجر کو راجع ہے: یہاں تک کہ جب جدائی نازل ہوتی ہے، ألمّ یلمّ ابھی بتایا کیا معنی تھا؟ نازل ہونا، یہاں تک کہ جب جدائی نازل ہوتی ہے یعنی حاصل ہوتی ہے، تو آگے ”خَيَالٌ“ مبتدا محذوف کے لیے خبر ہے: ”فَهُوَ خَيَالٌ“ وہ کیا بن جاتا ہے؟ خیال بن جاتا ہے، یعنی معدوم ہو جاتا ہے پھر ہم کبھی اس سے نہیں ملتے، تو چنانچہ ہمیں اعراض کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑتا۔ کیوں؟ کیونکہ ”وَبَعْضُ صُدُودِ الزَّائِرِينَ وِصَالُ“ اس لیے کہ بعض اعراض زیارت کرنے والوں کے وہ بھی کیا شمار ہوتے ہیں؟ وصال شمار ہوتے ہیں۔ صدود یہ اعراض مولانا، اعراض کہتے ہیں، زائرین زیارت کرنے والا، کرنے والے۔
”وَهَذَا نَوْعٌ مِنَ الْإِعْرَابِ لَطِيفٌ“ اور یہ ایک قسم ہے اعراب کی لطیف، یہ جو کہتے ہیں ہم نے ضمیر نہیں لوٹائی ذہن میں حاضر چیز کی طرف، کہتے ہیں یہ ایک لطیف قسم کا اعراب ہے، ”لَا يَكَادُ يَتَنَبَّهُ لَهُ إِلَّا“ یہاں إِلَّا کا لفظ لگائیں مولانا اس کے بغیر بات بنتی نہیں ہے: ”لَا يَكَادُ يَتَنَبَّهُ لَهُ إِلَّا الْأَذْهَانُ الرَّائِضَةُ مِنْ أَئِمَّةِ الْإِعْرَابِ“ رائضہ کا معنی گرفت میں کرنے والے، رائضہ کا کیا معنی؟ گرفت، کہ یہ بڑی لطیف قسم ہے اعراب کی، قریب نہیں ہے کہ اس کو سمجھ لے کوئی سوائے اعراب کے ائمہ کے وہ ذہن ”الرَّائِضَةُ“ جو گرفت میں کرنے والے ہیں اعراب کو مولانا۔ ترکیب کے جو ائمہ ہیں مولانا، ان کے وہ ذہن جو گرفت کرنے والے ہیں کس چیز کی؟ ترکیب کی۔ ہر شخص پوری ترکیب کی گرفت نہیں کر سکتا مولانا، جستجو کرنا پڑتی ہے ائمہ اس بارے میں کیا لکھتے ہیں مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ تو ائمہ کے، صرف جو ذہین ائمہ ہیں ترکیب کے ان کے اذہان جو گرفت کرنے والے ہیں کس چیز کی؟ مشکل سے مشکل ترکیبوں کی بھی گرفت کر لیتے ہیں ان کے ذہن، صرف وہی اس پر متنبہ ہو سکتے ہیں، اس قسم کی ترکیب کو سمجھ سکتے ہیں، ہر ایک نہیں سمجھ سکتا جو ہم نے بیان کی مولانا۔
بات یہ چل رہی تھی مولانا کہ اگر دوسرے شاعر نے صرف معنی لیا ہو، الفاظ نہ لیے ہوں تو اس کو المام اور سلخ کہتے ہیں اور یہ تین قسم پر ہے کیونکہ ثانی شعر پہلے شعر سے اعلیٰ ہوگا یا ادنیٰ ہوگا یا اس کے برابر ہوگا مولانا۔ پہلی صورت کہ ثانی شعر اول سے اعلیٰ ہو، وہ یہ مثال چل رہی تھی ابو تمام نے ایک بات کہی تھی کہ:
”هُوَ الصُّنْعُ إِنْ يَعْجَلْ فَخَيْرٌ وَإِنْ يَرِثْ ... فَلِلرَّيْثِ فِي بَعْضِ الْمَوَاضِعِ أَنْفَعُ“
کہ وہ احسان ہے، احسان جو ہے وہ اگر جلدی ہو جائے تو بہتر ہے نیکی، اور اگر تاخیر بھی ہو جائے تو تاخیر بھی بعض چیزوں میں کیا ہوتی ہے؟ وہ زیادہ مفید ہوتی ہے۔
”وَقَوْلِ أَبِي الطَّيِّبِ“ جبکہ ابو طیب نے اسی معنی کو ادا کیا اپنے اس شعر کے اندر:
”وَمِنَ الْخَيْرِ بُطْءُ سَيْبِكَ عَنِّي ... أَسْرَعُ السُّحْبِ فِي الْمَسِيرِ الْجَهَامُ“
”وَمِنَ الْخَيْرِ بُطْءُ سَيْبِكَ“ اور خیر میں سے ہے تیری عطا کا مؤخر ہونا، سیب کس کو کہتے ہیں؟ عطا، مؤخر ہونا تیری عطا کا، ”أَيْ تَأْخِيرُ عَطَائِكَ عَنِّي“ مجھ سے، ”أَسْرَعُ السُّحْبِ فِي الْمَسِيرِ الْجَهَامُ“ اس لیے کہ بادلوں میں سے سب سے تیز چلنے والے بادل وہ ہوتے ہیں ”الْجَهَامُ“ جن میں پانی نہیں ہوتا۔ کہ اے بادشاہ تیرے عطایا میں، مجھے جو چیزیں دیتا ہے اس کے اندر تاخیر ہو جاتی ہے تو اس میں بھی کیا ہوتی ہے؟ خیر ہوتی ہے، اس لیے کہ جو بادل، پانی جن میں نہیں ہوتا وہ تیزی سے، تیز تیز چلتے ہیں، تو تیری عطا جو جلدی جلدی آئے گی اس کے اندر اتنا نفع نہیں ہوگا، لیکن جو عطا تیری دیر سے آئے گی اس میں نفع زیادہ ہوگا، جیسے وہ بادل جس کے اندر پانی خوب زیادہ ہو وہ تیز نہیں چلتے بلکہ بڑے آرام سے چلتے ہیں۔
تو اب کہتے ہیں یہ ثانی شعر اعلیٰ ہے مولانا، اس لیے کہ وہی بات جو پہلے نے بیان کی تھی ثانی نے بھی بیان کی، لیکن اس نے ساتھ ضرب المثل بھی بیان کر دی: کیا؟ ”أَسْرَعُ السُّحْبِ فِي الْمَسِيرِ الْجَهَامُ“ کہ بادل جو ہلکے ہوتے ہیں وہ چلنے میں بڑے تیز ہوتے ہیں، تو دیکھو یہ ضرب المثل کے ذریعے بات اور واضح ہو جاتی ہے اور لذیذ ہو جاتی ہے۔ ”أَيِ السَّحَابُ الَّذِي لَا مَاءَ فِيهِ“ جہام کا معنی یہ وہ بادل جس کے اندر پانی نہ ہو، ”وَأَمَّا مَا فِيهِ مَاءٌ فَيَكُونُ بَطِيئًا ثَقِيلَ الْمَشْيِ“ باقی وہ بادل جس کے اندر پانی ہو وہ سست ہوں گے اور چلنے میں بوجھل ہوں گے، ”وَكَذَا حَالُ الْعَطَاءِ“ اسی طرح عطا کا حال بھی ہے: جلدی ہوگی تو تھوڑی ہوگی، دیر سے ہوگی تو زیادہ ہوگی۔ ”فَفِي بَيْتِ أَبِي الطَّيِّبِ زِيَادَةُ بَيَانٍ لِاشْتِمَالِهِ عَلَى ضَرْبِ الْمَثَلِ فِي السَّحَابِ“ تو ابو طیب کے شعر میں زیادتِ بیان ہے اس لیے کہ وہ کس پر مشتمل ہے؟ ضرب المثل پر مشتمل ہے کس میں؟ بادلوں کے۔
”وَثَانِيهَا...“ دوسری قسم کیا ہے مولانا کہ شاعر نے صرف معنی لیا ہے لیکن ثانی شعر اول شعر سے ادنیٰ درجے کا ہے۔ ”أَيْ ثَانِي الْأَقْسَامِ وَهُوَ أَنْ يَكُونَ الثَّانِي دُونَ الْأَوَّلِ“ کہ ثانی اول سے کم درجے کا ہو، ”كَقَوْلِ الْبُحْتُرِيِّ“ جیسے ایک شاعر بحتری، اس نے پہلے شعر کہا کیا:
”وَإِذَا تَأَلَّقَ فِي النَّدِيِّ كَلَامُهُ الْـ ... ـمَصْقُولُ خِلْتَ لِسَانَهُ مِنْ عَضْبِهِ“
”وَإِذَا تَأَلَّقَ أَيْ لَمَعَ“ اور جس وقت چمکتا ہے ”فِي النَّدِيِّ أَيِ الْمَجْلِسِ“ مجلس کے اندر ”كَلَامُهُ“ میرے ممدوح کا کلام، کون سا کلام؟ ”الْمَصْقُولُ“ صیقل کیا ہوا۔ بھئی صیقل کرنا ہے چمکانا، تلوار کو کیا کرتے ہیں؟ چمکاتے ہیں، وہ پالش وغیرہ جو بھی لگاتے ہیں لوہار کرتے ہیں اس کو چمکا دیتے ہیں، اس چمکی ہوئی تلوار کو صیقل کہتے ہیں۔ تو اس کا روشن کلام جب چمکتا ہے مجلس میں، مصقول کا کیا معنی کیا میں نے؟ روشن۔ اس کا معنی کر رہے ہیں ”الْمُنَقَّحُ“، مراد کیا ہے یہاں؟ کلام تو چمکتا نہیں ہے بلکہ یہاں مراد کیا ہے؟ صاف ستھرا کلام، مہذب مولانا۔ ”خِلْتَ“ جب اس کا روشن کلام چمکتا ہے مجلس کے اندر، ”خِلْتَ أَيْ حَسِبْتَ“ تو گمان کرے گا ”لِسَانَهُ مِنْ عَضْبِهِ“ کہ اس کی زبان جو ہے اس کی تلوار میں سے ہے۔ عضب کہتے ہیں کاٹنے والی تلوار، اس کی زبان کیا ہے؟ اس کی تیز تلوار کی طرح ہے، یعنی اس کا کلام اتنا زبردست ہوتا ہے کہ لوگوں کو کاٹ کر رکھ دیتا ہے۔ ”مِنْ عَضْبِهِ أَيْ سَيْفِهِ الْقَاطِعِ“۔
اسی معنی کو ادا کیا، تو دیکھو مولانا بحتری نے کیا کیا؟ اگلے شعر کے ساتھ ملا کر بتلاتا ہوں بھئی۔ ابو طیب کہتا ہے:
”وَكَأَنَّ أَلْسُنَهُمْ فِي النُّطْقِ قَدْ جُعِلَتْ ... عَلَى رِمَاحِهِمُ فِي الطَّعْنِ خُرْصَانَا“
”كَأَنَّ أَلْسُنَهُمْ“ گویا کہ ان کی زبانیں، لسان کی جمع السنہ بھی آتی ہے اور السن بھی آتی ہے، السنہ بالتاء ہے، السن بدون التاء ہے: ”كَأَنَّ أَلْسُنَهُمْ فِي النُّطْقِ“ گویا کہ ان لوگوں کی زبانیں گفتگو کے اندر ”قَدْ جُعِلَتْ“ تحقیق وہ بنائی گئی ہیں، کیا بنائی گئی ہیں؟ ”خُرْصَانًا“، وہ زبانیں کیا بنائی گئی ہیں؟ خرصان جمع ہے خرص کی اور وہ نیزے کی نوک کو کہتے ہیں، وہ نیزے کی نوک بنائی گئی ہے ”عَلَى رِمَاحِهِمْ“ ان کے نیزوں پر ”فِي الطَّعْنِ“ کس میں؟ طعن میں، نیزہ مارنے کے اندر۔ نیزہ مارتے وقت جیسے اس کا پھل کیا ہے؟ وہ تیز ہوتا ہے اور اثر کرتا ہے دوسرے کے اندر، اسی طرح وہ جو میرے ممدوحین ہیں ان کی زبانیں بھی نیزے کے پھل کی طرح اور نیزے کی نوک کی طرح ہوتی ہیں، جب وہ گفتگو کرتے ہیں اسی کی طرح کاٹ رکھتی ہیں۔
تو دیکھو مولانا اسی معنی کو بحتری نے ادا کیا تھا اور اسی معنی کو ابو طیب نے ادا کیا۔ دونوں نے ممدوح کی گفتگو کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ آلہ حرب کے ساتھ، جنگ لڑنے والے آلے کے ساتھ، ایک نے تلوار سے ایک نے نیزے کے ساتھ۔ لیکن کہتے ہیں جو بحتری کا شعر ہے وہ اعلیٰ ہے، وہ کیا ہے؟ اعلیٰ۔ اس لیے کہ اس نے وہاں ذکر کیا تالق اور مصقول ہونے کو ذکر کیا ہے۔ تالق کا معنی ہے چمکنا، اس کا کلام چمکتا ہے، بھئی کلام میں چمک ہوتی ہے؟ نہیں۔ اسی طرح مصقول، روشن ہوتا ہے کلام؟ نہیں۔ تو یہ صفات تو تھیں تلوار کی، ان صفات کو ثابت کیا کلام کے لیے، تو یہ استعارہ تخییلیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ جیسے مولانا موت کے لیے کیا ثابت کیے تھے؟ پنجے ثابت کیے تھے، تو یہاں پر بھی اس کے لیے کیا ثابت کیا؟ چمک کو اور روشن ہونے کو۔ اور یہ استعارہ تخییلیہ تو بغیر کس کے نہیں آتا؟ استعارہ بالکنایہ کے بغیر نہیں۔ معلوم ہوا اس نے اس کے کلام کو تشبیہ دی ہے تلوار کے ساتھ، اور تلوار میں چمک اور روشنی ہوتی ہے تو وہ روشنی اور چمک کس کے لیے ثابت کر دی اس نے؟ مشبہ کے لیے ثابت کر دی۔ تو استعارہ بالکنایہ بھی آیا اور استعارہ تخییلیہ بھی آیا، تو یہ کلام کیا ہوا؟ اعلیٰ ہوا بنسبت دوسرے کلام کے۔
”جَمْعُ خُرْصٍ بِالضَّمِّ وَالْكَسْرِ“ ضمے کسرے دونوں کے ساتھ ہے مولانا، خرصان اور خرص مفرد اور جمع دونوں ضمے کسرے دونوں کے ساتھ، ”وَهُوَ السِّنَانُ“ اور وہ کس کو کہتے ہیں؟ نیزے کا پھل، ”يَعْنِي أَنَّ أَلْسِنَتَهُمْ جُعِلَتْ أَسِنَّةَ رِمَاحِهِمْ“ ان کی زبانوں کو نیزے کی نوکیں بنا دیا گیا ہے۔ ”فَبَيْتُ الْبُحْتُرِيِّ أَبْلَغُ لِمَا فِي لَفْظِ تَأَلَّقَ وَمَصْقُولٍ مِنَ الِاسْتِعَارَةِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ اس لیے کہ تالق اور مصقول کے لفظ میں کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ، ”فَإِنَّ التَّأَلُّقَ وَالصَّقَالَةَ لِلْكَلَامِ بِمَنْزِلَةِ الْأَظْفَارِ لِلْمَنِيَّةِ“ اس لیے کہ تالق اور صقالہ یعنی چمک اور روشنی جو ہے کلام کے لیے اسی طرح ہے جیسے اظفار تھے کس کے لیے؟ موت کے لیے، ”وَلَزِمَ مِنْ ذَلِكَ تَشْبِيهُ كَلَامِهِ بِالسَّيْفِ وَهُوَ اسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ“ اور اس کے ساتھ لازم ہے کہ تشبیہ دی گئی ہے کلام کو کس کے ساتھ؟ تلوار کے ساتھ، اور وہ استعارہ بالکنایہ، تو یہ اعلیٰ ہے۔
”وَثَالِثُهَا...“ تیسری قسم مولانا اور وہ یہ ہے کہ ”أَنْ يَكُونَ الثَّانِي مِثْلَ الْأَوَّلِ“ کہ ثانی اول کے مثل ہو، ”كَقَوْلِ الْأَعْرَابِيِّ أَبِي زِيَادٍ“ جیسے ابو زیاد دیہاتی کہتا ہے:
”وَلَمْ يَكُ أَكْثَرَ الْفِتْيَانِ مَالًا ... وَلَكِنْ كَانَ أَرْحَبَهُمْ ذِرَاعَا“
اور میرا ممدوح جو ہے اور نوجوانوں سے زیادہ نہیں ہے باعتبار مال کے، لیکن یہ اور نوجوانوں سے زیادہ وسیع ہے باعتبار ذراع یعنی سخاوت کے۔ شاعر کیا کہتا ہے کہ میرا جو ممدوح ہے بڑا سخی آدمی ہے لیکن اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ یہ باقیوں سے زیادہ مالدار ہے، مال باقیوں کی بنسبت زیادہ نہیں ہے لیکن سخاوت باقیوں کی بنسبت زیادہ ہے۔
تو دیکھو ”أَرْحَبَهُمْ ذِرَاعًا أَيْ أَسْخَاهُمْ“ یعنی ان سے زیادہ سخی ہے، ”يُقَالُ“ عربی میں کہتے ہیں: ”فُلَانٌ رَحْبُ الْبَاعِ وَالذِّرَاعِ“ بھئی سخی ہو تو کیا کہتے ہیں؟ ”فُلَانٌ رَحْبُ الْبَاعِ“، باع کہتے ہیں اس کو مولانا، یہ دونوں ہاتھوں کی اس انگلی سے اس انگلی تک یہ جو فاصلہ ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ باع کہتے ہیں، اور ذراع کہنی سے لے کر ہاتھ کی نوک تک مولانا۔ تو کہتے ہیں: ”فُلَانٌ رَحْبُ الْبَاعِ“ یا ”فُلَانٌ رَحْبُ الذِّرَاعِ“ یا ”فُلَانٌ رَحِيبُ الْبَاعِ“ یا ”فُلَانٌ رَحِيبُ الذِّرَاعِ“، تو رحب الذراع اور رحیب الذراع وغیرہ یہ لفظ استعمال ہوتے ہیں اور مراد کیا ہوتی ہے؟ سخی ہونا مراد کہ وہ سخی ہے۔
”وَقَوْلِ أَشْجَعَ“ اور ایک اشجع شاعر نے بھی اسی معنی کو ادا کیا:
”وَلَيْسَ بِأَوْسَعِهِمْ فِي الْغِنَى ... وَلَكِنَّ مَعْرُوفَهُ أَوْسَعُ“
”وَلَيْسَ أَيِ الْمَمْدُوحُ يَعْنِي جَعْفَرَ بْنَ يَحْيَى“ نہیں ہے ممدوح یعنی کہ جعفر ابن یحییٰ ”بِأَوْسَعِهِمْ“ ان سے زیادہ وسیع، ”الضَّمِيرُ لِلْمُلُوكِ“ بادشاہوں سے یعنی، بادشاہوں سے زیادہ وسیع نہیں ہے ”فِي الْغِنَى“ مالداری کے اندر۔ میرا ممدوح جعفر ابن یحییٰ اور بادشاہوں سے زیادہ مالدار نہیں ہے، ”وَلَكِنَّ مَعْرُوفَهُ أَيْ إِحْسَانَهُ أَوْسَعُ“ لیکن اس کے جو احسانات ہیں وہ زیادہ وسیع ہیں، ان سب سے زیادہ وسیع ہیں۔ تو اسی معنی کو اس نے بھی ادا کیا مولانا، اسی معنی کو اس نے بھی۔ ”فَالْبَيْتَانِ مُتَمَاثِلَانِ“ پس دونوں بیت ایک دوسرے کے مثل ہیں، ”هَذَا أَيْ خُذْ هَذَا“۔
لیکن علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: ”وَلَكِنْ لَا يُعْجِبُنِي: مَعْرُوفُهُ أَوْسَعُ“ کہتے ہیں مصنف نے تو بتلایا کہ دونوں شعر ایک جیسے ہیں، لیکن مجھے یہ دوسرا مصرعہ پسند نہیں: ”مَعْرُوفُهُ أَوْسَعُ“ اس کی نیکی کیا ہے؟ اس کا احسان زیادہ وسیع ہے، یہ پسند نہیں۔ پہلا شعر اعلیٰ ہے مولانا، لہٰذا ان دو کو بطورِ مثال کے ذکر کرنا صحیح نہیں۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کہ اس نے کہا تھا فلاں وسیع ہے باعتبار ذراع اور باع کے مولانا، تو اس نے کلام میں مجاز استعمال کیا، اور اس نے کہا ”مَعْرُوفُهُ أَوْسَعُ“ اس کا احسان وسیع ہے، اس نے کلام میں حقیقت کو ذکر کیا، اور آپ نے پڑھا ہے کون اولیٰ ہے، مجاز یا حقیقت بھئی؟ مجاز۔ کتاب ختم ہو رہی ہے بھئی۔
”وَأَمَّا غَيْرُ الظَّاهِرِ...“ یہ تو تھا مولانا سرقہ ظاہر، جس میں سارے لفظ لیتا تھا یا بعض لیتا تھا یا صرف کس کو؟ معنی کو لے لیتا تھا۔ ”وَأَمَّا غَيْرُ الظَّاهِرِ“ باقی سرقہ غیر ظاہر مولانا، ”فَمِنْهُ أَنْ يَتَشَابَهَ الْمَعْنَيَانِ“ وہ یہ ہے کہ دو معنی متشابہ ہو جائیں، ”أَيْ مَعْنَى الْبَيْتِ الْأَوَّلِ وَمَعْنَى الْبَيْتِ الثَّانِي“ یعنی پہلے شعر اور ثانی شعر کا معنی کیا ہو جائیں؟ ایک جیسے ہو جائیں بس۔ ”كَقَوْلِ جَرِيرٍ“ جیسے جریر کہتا ہے:
”فَلَا يَمْنَعْكَ مِنْ أَرَبٍ لِحَاهُمْ ... سَوَاءٌ ذُو الْعِمَامَةِ وَالْخِمَارِ“
جریر شاعر کہتا ہے بھئی: تو ان لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے، فلاں لوگوں کو قتل کرنا چاہتا ہے تو تو ان کی داڑھیوں کو دیکھ کر ڈرنا نہ کبھی بھی، اس لیے کہ ان میں پگڑیوں والے اور مولانا دوپٹوں والی عورتیں اور پگڑیوں والے مرد سارے برابر ہیں، ایک جیسے ہیں۔ جیسے عورتیں ضعیف ہیں ان کے مرد بھی کیا ہیں؟ ضعیف ہیں، تو ان کی داڑھیوں کو دیکھ کر ڈرنا مت، تم نے کھوپڑیوں کو ان کے اڑانے کا ارادہ کیا ہے تم اپنے مقصد کو پورا کرو۔
”كَقَوْلِ جَرِيرٍ: فَلَا يَمْنَعْكَ مِنْ أَرَبٍ“ أَرَبٍ یا إِرْبٍ دونوں صحیح ہیں مولانا، ”أَيْ حَاجَةٍ“ حاجت کو کہتے ہیں: تجھے منع نہ کرے حاجت سے ”لِحَاهُمْ“ لحیٰ لحیۃ کی جمع ہے، ان کی داڑھیاں نہ روکیں، ”جَمْعُ لِحْيَةٍ يَعْنِي كَوْنَهُمْ صُورَةَ الرِّجَالِ“ ان کا مردوں کی صورت میں ہونا تجھے نہ روکے، ”سَوَاءٌ ذُو الْعِمَامَةِ“ برابر ہیں ان میں پگڑی والا بھی ”وَالْخِمَارِ“ اور دوپٹے والے بھی، ”يَعْنِي أَنَّ الرِّجَالَ مِنْهُمْ وَالنِّسَاءَ سَوَاءٌ فِي الضَّعْفِ“ یعنی مرد اور عورتیں ان میں برابر ہیں ضعف میں۔
اسی معنی کو ابو طیب نے ادا کیا ہے مولانا:
”وَمَنْ فِي كَفِّهِ مِنْهُمْ قَنَاةٌ ... كَمَنْ فِي كَفِّهِ مِنْهُمْ خِضَابُ“
ان میں سے وہ جس کے ہاتھوں میں نیزے ہیں وہ اسی کی طرح ہے جس کے ہاتھوں میں مہندی لگی ہوئی ہے۔ وہ قبیلے والے لوگ ایسے ہیں کہ جس کے ہاتھ میں نیزہ ہے وہ بھی اسی کی طرح ہے، عورت کی طرح جس کے ہاتھ میں کیا لگی ہوئی ہے؟ مہندی۔ تو دیکھو ایک ہی معنی، دونوں ایک دوسرے کے متشابہ ہیں: وہ بتلانا چاہتا تھا مرد عورتوں کی طرح ہیں، یہ بھی کیا کہنا چاہتا ہے؟ مرد کس کی طرح ہیں؟ عورتوں کی طرح ہیں، اگرچہ بات الگ الگ انداز میں کی ہے لیکن معنی مشابہ۔ تو یہ ہے مولانا سرقہ لیکن کس قسم کا سرقہ ہے؟ سرقہ غیر ظاہر ہے، اور یہ محمود ہے مولانا، یہ مقبول ہے۔
”وَاعْلَمْ أَنَّهُ يَجُوزُ فِي تَشَابُهِ الْمَعْنَيَيْنِ اخْتِلَافُ الْبَيْتَيْنِ تَشْبِيبًا وَمَدِيحًا وَهِجَاءً وَافْتِخَارًا وَنَحْوَ ذَلِكَ“ یہ تشبیب کریں اس کو مولانا، تسبیباً لکھا ہے نا، ”تَشْبِيبًا وَمَدِيحًا“، مدیح سے پہلے بھی واو لکھیں بھئی۔ بھئی آپ یہ نہ سوچیں کہ یہ دونوں شعروں میں الگ الگ بات کی گئی ہے، مشابہ پھر بھی ہوں گے چاہے ایک کے اندر تعریف ہو رہی ہے، دوسرے کے اندر ہجو بیان ہو رہی ہے، ایک کے اندر تشبیب ہے، دوسرے کے اندر افتخار ہے، فخر کی بات کر رہا ہے۔ تو غرض بھی بدل دے گا شاعر لیکن معنی ایک دوسرے کے جب مشابہ ہوں کسی لحاظ سے تو ہم کیا کہیں گے یہ ثانی نے کس سے اخذ کیا ہے؟ اول سے۔
مولانا ایک ہے تشبیب: مدیح تو آپ جانتے ہیں مدح کرنا، کبھی شاعر کیا کرتا ہے دوسرے کی؟ مدح۔ ہجاء بھی آپ جانتے ہیں ہجو کرتا ہے۔ افتخار بھی آپ جانتے ہیں مولانا فخر کرتا ہے اپنی قوم کے بارے میں، اپنے بارے میں کارنامے ذکر کرتا ہے۔ اور تشبیب ایک نیا لفظ آیا، یہ آگے ذکر بھی کریں گے خود کتاب والے: تشبیب کہتے ہیں عرب شعراء یوں کرتے تھے جب بھی کوئی قصیدہ کہتے ہیں، چاہے کسی کا مرثیہ ہی کیوں نہ کہہ رہے ہوں، شروع شروع کے جو اشعار ہوتے ہیں اس میں جوانی کا تذکرہ کرتے ہیں، عورتوں کی باتیں کرتے ہیں، اپنے عشق و محبت کے تذکرے کرتے ہیں، لڑکیوں کے صفات اور حسن وغیرہ کو بیان کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں تشبیب۔ کیا کہتے ہیں؟ تشبیب، سمجھ میں آیا بھئی؟
”وَاعْلَمْ أَنَّهُ يَجُوزُ فِي تَشَابُهِ الْمَعْنَيَيْنِ“ جائز ہے مولانا تشابہ معنیین کے اندر ”اخْتِلَافُ الْبَيْتَيْنِ“ کہ دونوں شعر ان کا اختلاف ہو ”تَشْبِيبًا“ کس اعتبار سے؟ تشبیب کے اعتبار سے، ایک میں تشبیب ہے دوسرے میں تشبیب نہیں، پھر بھی تشابہ آئے تو پھر بھی یہ کہلائے گا کہ یہ اخذ ہے، ”وَمَدِيحًا وَهِجَاءً وَافْتِخَارًا وَنَحْوَ ذَلِكَ“۔
”فَإِنَّ الشَّاعِرَ الْحَاذِقَ“ حاذق ماہر، اس لیے کہ ماہر شاعر جو ہوتا ہے ”إِذَا قَصَدَ إِلَى الْمَعْنَى الْمُخْتَلَسِ“ اختلس یختلس کا معنی اچک لینا، کسی کی چیز اچانک لے لینا، تو یہاں بھی دیکھو مولانا ایک شاعر دوسرے شاعر کے معنی کو لیتا ہے لیکن چونکہ یہ خود ہی بڑا ماہر شاعر ہے اس کو پتہ ہے اگر میں اسی طریقے پہ استعمال کروں گا تو لوگوں کو پتہ چل جائے گا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اس نے ایک جگہ استعمال کیا ہوتا ہے یہ دوسری جگہ استعمال کر لیتا ہے اسی چیز کو، اس نے مدح میں استعمال کیا تھا یہ اسی چیز کو کس میں استعمال کر لیتا ہے؟ ہجو میں استعمال کر لیتا ہے یا تشبیب میں کر لیتا ہے یا افتخار، فخر کے اندر استعمال کر لیتا ہے، لفظوں کو بھی بدل دیتا ہے، وزن کو بھی بدل دیتا ہے، نوع، سب کچھ بدل دیتا ہے تاکہ کسی کو پتہ نہ چلے، لیکن جو ذوق والا ہوگا وہ پھر بھی پتہ چلا لے گا کہ اس نے کیا کیا ہے؟ وہاں سے اخذ کیا ہے۔
”فَإِنَّ الشَّاعِرَ الْحَاذِقَ إِذَا قَصَدَ إِلَى الْمَعْنَى الْمُخْتَلَسِ لِيَنْظِمَهُ“ اس لیے کہ ماہر شاعر جب وہ ارادہ کرتا ہے ایسے معنی کا جو اس نے اچکا ہو تاکہ اس سے نظم بنا لے، ”احْتَالَ فِي إِخْفَائِهِ“ تو وہ حیلہ کرتا ہے اس کو چھپانے کے اندر، ”فَغَيَّرَهُ عَنْ لَفْظِهِ“ تو بدلتا ہے اس کو لفظ سے، ”وَصَرَفَهُ عَنْ نَوْعِهِ“ اور پھیرتا ہے اس کو اس کی نوع سے، پہلے میں مدح تھی تو یہ ذم بنا دیتا ہے، ”وَوَزْنِهِ وَقَافِيَتِهِ“ وزن بھی بدلتا ہے اور قافیہ بھی بدلتا ہے، ”وَإِلَى هَذَا أَشَارَ بِقَوْلِهِ“ اسی کی طرف اشارہ کیا مصنف نے اپنے اس قول کے ساتھ:
”وَمِنْهُ أَيْ مِنْ غَيْرِ الظَّاهِرِ أَنْ يُنْقَلَ الْمَعْنَى إِلَى مَحَلٍّ آخَرَ“ اور سرقہ غیر ظاہر میں سے یہ ہے کہ معنی کو نقل کر دیا جائے ایک جگہ سے دوسری جگہ، جیسے شاعر نے ایک جگہ استعمال کیا ہو آپ دوسری جگہ استعمال کر لیں، ”كَقَوْلِ الْبُحْتُرِيِّ“ بحتری شاعر کہتا ہے:
”سُلِبُوا وَأَشْرَقَتِ الدِّمَاءُ عَلَيْهِمُ ... مُحْمَرَّةً فَكَأَنَّهُمْ لَمْ يُسْلَبُوا“
”سُلِبُوا أَيْ ثِيَابَهُمْ“ چھینے گئے یعنی چھین لیے گئے ان کے کپڑے، ”وَأَشْرَقَتِ الدِّمَاءُ عَلَيْهِمْ“ اور چمکنے لگا خون ان کے اوپر، ”مُحْمَرَّةً“ اس حال میں کہ وہ سرخ تھا، ”فَكَأَنَّهُمْ لَمْ يُسْلَبُوا“ تو گویا کہ ان سے کپڑے چھینے ہی نہیں گئے۔ کہتے ہیں ان لوگوں کو قتل کرنے کے بعد ان کے کپڑے اتار لیے گئے لیکن ان کے سارے بدن خون میں نہائے ہوئے تھے اور وہ خون ان کے بدن پر چمک رہا تھا، تو اس خون کی وجہ سے یوں معلوم ہوتا تھا ان کے لباس اترے نہیں ہیں بلکہ انہوں نے ابھی بھی لباس پہنے ہوئے ہیں۔ ”لِأَنَّ الدِّمَاءَ الْمُشْرِقَةَ كَانَتْ بِمَنْزِلَةِ ثِيَابٍ لَهُمْ“ اس لیے کہ وہ چمکتا ہوا خون جو ہے وہ ان پر کپڑوں کے درجے میں تھا۔
اسی معنی کو ابو طیب نے لیا لیکن اس نے جگہ بدل دی، دیکھو وہ کیا کہتا ہے:
”يَبِسَ النَّجِيعُ عَلَيْهِ وَهُوَ مُجَرَّدٌ ... عَنْ غِمْدِهِ فَكَأَنَّمَا هُوَ مُغْمَدُ“
”يَبِسَ النَّجِيعُ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى السَّيْفِ“، نجیع کہتے ہیں مولانا وہ خون جو سیاہی کی طرف کچھ مائل ہو، یا کہتے ہیں بدن کے اندر کا خون، اس کو کہتے ہیں مولانا، یا پیٹ کے اندر کا خون۔ ابو طیب کہتا ہے خشک ہو گیا اندر کا خون، یعنی بدن کے اندر سے جو خون نکلا تھا وہ اس پر خشک ہوا، کس پر؟ ”أَيْ عَلَى السَّيْفِ“ تلوار پر، ”وَهُوَ مُجَرَّدٌ“ اس حال میں کہ تلوار ننگی تھی ”عَنْ غِمْدِهِ“ اپنی نیام سے، ”فَكَأَنَّمَا هُوَ مُغْمَدُ“ تو گویا کہ وہ مولانا نیام ہی میں تھی، نیام میں ڈالی گئی تھی۔ دیکھو شاعر کیا کہتا ہے: تلوار سے میں نے دشمن کو قتل کیا اور وہ تلوار ننگی تھی لیکن دشمن کا خون اس پر لگا، وہ سرخ ہوئی تو یوں معلوم ہوتا تھا، تلوار تھی تو ننگی لیکن یوں معلوم ہوتا تھا یہ کس کے اندر ہے؟ نیام میں۔ تو دیکھو اسی معنی کو لیا شاعر نے، اس نے استعمال کیا تھا کہ یہ لباس ہے، چھپانے والا ہے خون کس کو؟ انسانوں کو، اور اس نے کس کے لیے استعمال کر لیا؟ تلوار کے لیے بھئی۔
”لِأَنَّ الدَّمَ الْيَابِسَ بِمَنْزِلَةِ غِمْدٍ لَهُ“ اس لیے کہ خشک خون جو ہے تلوار کے لیے نیام کے درجے میں تھا، ”فَنُقِلَ الْمَعْنَى مِنَ الْقَتْلَى وَالْجَرْحَى إِلَى السَّيْفِ“ پس نقل کر دیا گیا معنی کو، یعنی خون نے جو ستر کیا تھا اس ستر کے معنی کو نقل کر لیا گیا ”مِنَ الْقَتْلَى“ مقتولین سے ”وَالْجَرْحَى“ اور مجروحین سے ”إِلَى السَّيْفِ“ کس کی طرف؟ تلوار کی طرف۔ قتلیٰ قتیل کی جمع، جرحیٰ جریح کی جمع۔
”وَمِنْهُ أَيْ مِنْ غَيْرِ الظَّاهِرِ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى الثَّانِي أَشْمَلَ مِنْ مَعْنَى الْأَوَّلِ“ اور غیر ظاہر میں سے یہ بھی ہے مولانا کہ معنی ثانی اس میں زیادہ عموم ہو معنی اول کی بنسبت۔ ایک شاعر نے ایک بات کہی تھی جس کے اندر عموم تھا مولانا، ثانی نے بھی اسی معنی کی بات کی لیکن اس کے کلام میں جو عموم ہے وہ پہلے شاعر سے زیادہ ہے، دیکھیے:
”إِذَا غَضِبَتْ عَلَيْكَ بَنُو تَمِيمٍ ... وَجَدْتَ النَّاسَ كُلَّهُمُ غِضَابَا“
”إِذَا غَضِبَتْ عَلَيْكَ بَنُو تَمِيمٍ“ جب تیرے اوپر غضبناک ہو جائیں بنو تمیم والے، بنو تمیم کا شاعر کہہ رہا ہے بھئی، جب تجھ پر بنو تمیم والے غضبناک ہو جائیں ”وَجَدْتَ النَّاسَ كُلَّهُمُ غِضَابَا“ تو تو پائے گا کہ سارے کے سارے لوگ تیرے اوپر غضبناک ہیں، ”لِأَنَّهُمْ يَقُومُونَ مَقَامَ كُلِّهِمْ“ اس لیے کہ یہ ان سب کے قائم مقام ہیں۔ شاعر کہتا ہے بنو تمیم والی بڑی عظیم قوم ہے، اگر وہ تجھ سے ناراض ہوئے اور غضبناک ہوئے تو تجھے یوں معلوم ہوگا جیسے کہ پوری دنیا ہی مجھ پر غضبناک ہے اس لیے کہ یہ پوری دنیا والوں کے، انسانوں کے قائم مقام ہیں۔
اسی معنی کو دیکھو کہہ رہا ہے: ”وَقَوْلِ أَبِي نُوَاسٍ“ ابو نواس کہتا ہے:
”وَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ بِمُسْتَنْكَرٍ ... أَنْ يَجْمَعَ الْعَالَمَ فِي وَاحِدِ“
”وَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ بِمُسْتَنْكَرٍ“ اور یہ بات کوئی اللہ کے لیے عجیب نہیں ہے ”أَنْ يَجْمَعَ الْعَالَمَ“ کہ وہ جمع کر دے پورے جہان کو ”فِي وَاحِدٍ“ ایک شخص میں۔ شاعر تعریف کر رہا ہے کہ میرے ممدوح کے اندر پورے عالم کے اندر جو صفات ہیں کمال والی وہ ساری جمع ہو گئی ہیں، چاہے انسانوں والی کمال کی صفات ہیں، چاہے جنات والی ہیں، چاہے ملائکہ کی ہیں، ساری صفات میرے ممدوح کے اندر جمع ہو گئی ہیں۔
تو دیکھو پہلے شاعر نے کیا کہا تھا بھئی؟ بنو تمیم کو سارے لوگوں کے درجے میں بنایا، کس کے درجے میں؟ سارے لوگوں کے درجے میں، جبکہ اس نے اپنے ممدوح کو سارے عالم کو جمع کرنے والا بنایا کہ اس میں سارے عالم کی صفات، انسان بھی آ گئے، جنات بھی۔ تو اس میں صرف عموم تھا انسان شامل تھے، اور اس میں عموم ہے انسان کے ساتھ جنات اور فرشتے بھی شامل ہیں، ”فَإِنَّهُ يَشْمَلُ النَّاسَ وَغَيْرَهُمْ“ اس لیے کہ یہ شامل ہے انسانوں کو بھی اور غیرِ انسانوں کو بھی، ”فَهُوَ أَشْمَلُ مِنْ مَعْنَى بَيْتِ جَرِيرٍ“ لہٰذا یہ جریر کے شعر کے معنی سے زیادہ عام ہے۔ ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔