Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-017

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location Peshawar, Pakistan
📅 Approved Date 23 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 11
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا فصاحتِ کلام کی بحث ہم نے شروع کی تھی۔ صاحبِ تلخیص نے آپ کو بتلایا تھا کہ فصاحت فی الکلام کیا ہے—کلام کا خالی ہونا ضعفِ تالیف سے، تنافرِ کلمات سے اور تعقید سے۔ مع فصاحتها، ای مع فصاحة الكلمات، اور ساتھ ساتھ اس کے کلام کے سارے کلمات کیا ہوں؟ فصیح ہوں بھئی سارے۔ تو یہاں چار شرطیں ذکر ہوئی تھیں مولانا، تین عدمی ہیں ایک وجودی۔ عدمی کیا؟ ضعفِ تالیف، یہ نہ ہو۔ تنافرِ کلمات، نہ ہو۔ تعقید، نہ ہو۔ اور وجودی کیا ہے؟ کہ کلمات سارے کیا ہوں؟ فصیح ہوں بھئی، فصیح ہوں۔ اس کے بعد علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہ "مع فصاحتها" یہ حال ہے "خلوصه" کی ضمیر سے بھئی، "خلوصه" کے آخر میں جو "ه" ضمیر ہے یہ اس سے حال ہے مولانا، حال۔ جی، حال ہے۔ اور اس قید کو کیوں ذکر کیا؟ وجہ بتلائی تھی بھئی، تاکہ وہ کلام خارج ہو جائے جس میں ان تین عیوب میں سے کوئی بھی عیب نہ ہو، لیکن پھر بھی اسے ہم مولانا فصیح کلام اس وقت تک نہیں کہیں گے جب تک اس کے سارے کلمات فصیح نہ ہوں۔ جیسے آگے تین جملے انہوں نے ذکر کیے: زيد الأجلل، شعره مستشزر، اور أنفه مسرج بھئی۔ تو "زيد الأجلل" کے اندر نہ تنافرِ کلمات ہے مولانا، نہ تعقید ہے اور نہ ضعفِ تالیف ہے۔ تو تینوں عیوب نہیں لیکن پھر بھی اس کو کیا، فصیح نہیں کہہ سکتے اس لیے کہ اس کے اندر جو چوتھی وجودی شرط تھی کہ کلمات سارے فصیح ہوں وہ اس میں پائی نہیں جا رہی۔ اور اسی طرح "شعره مستشزر" بھی اسی طرح، "أنفه مسرج" بھی اسی طرح ہے۔ اس کے بعد علامہ تفتازانی نے بتلایا تھا آپ کو کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ یہ حال ہے مولانا "مع فصاحتها"، کس سے حال ہے؟ کلمات سے، اور درمیان میں اجنبی آ گیا "تعقید"। اور اگر اس "مع فصاحتها" کو کلمات کے ساتھ ذکر کر دیتے تو حال اور ذوالحال میں فصل بالاجنبی لازم نہ آتا بھئی۔ تو یہ فصل بالاجنبی آیا، فصل بالاجنبی کیوں آیا؟ اس لیے کہ یہ تعقید ہے مجرور، اس کا عطف کس پر ہوا؟ تنافر پر، اور تنافر کا عطف کس پر ہوا؟ ضعفِ تالیف پر، اور ضعفِ تالیف یہ مجرور ہے اور جار مجرور مل کر متعلق ہو رہے ہیں کس سے؟ خلوص سے۔ تو یہ سارے معمول ہیں خلوص کے، اور "مع فصاحتها" یہ کیا ہے؟ حال ہے، کس سے؟ کلمات سے، اور کلمات کے اندر عامل کون ہے؟ تنافر۔ تو دونوں کے عامل الگ الگ ہوئے تو لہٰذا فصل بالاجنبی آیا مولانا، تعقید میں عامل ہوا خلوص، اور "مع فصاحتها" میں تنافر عامل ہوا مولانا، تو دونوں کے عامل الگ مولانا، تو فصل بالاجنبی لازم آیا بھئی۔ یہاں آپ کے ذہن میں بھی اشکال آ سکتا ہے کہ بھئی "خلوصه" اس کی "ه" ضمیر سے حال بنایا اب تو فاصلہ اور بڑھ گیا بھئی، فاصلہ حال کا ذوالحال سے اور زیادہ بڑھ گیا۔ بھئی فاصلہ بڑھنے کی بات نہیں، ہم نے کہا فصل بالاجنبی نہ آئے اور یہاں سارے معمول ہیں مولانا خلوص کے۔ سارے معمول کس کے ہیں؟ حال بھی اور اس سے ماقبل کے سارے وہ بھی معمول ہیں کس کے؟ خلوص کے، تو فصل بالاجنبی لازم نہیں آیا بھئی۔ تو علامہ تفتازانی کہتے ہیں کہ اس کو کلمات سے حال بنانا صحیح نہیں، اس لیے کہ اس صورت میں یہ قید بن جائے گی کس کے لیے؟ تنافر کے لیے۔ اس لیے کہ حال جو ہوتا ہے وہ قید ہوتا ہے عاملِ ذوالحال کے لیے۔ میں کہتا ہوں: جاءني زيد راكباً، تو یہ "راكباً" حال ہے مولانا، کس سے؟ زید سے، اور زید میں عامل کون؟ جاء। تو "راكباً" قید ہوا کس کے لیے؟ جاء کے لیے۔ معلوم ہوا زید کی مجیئت مقید ہے کس کے ساتھ؟ رکوب کے ساتھ۔ اور اس مقید پر مولانا پھر نفی داخل ہوئی، تو تنافر کیا ہوا؟ مقید، اور اس پر کیا داخل ہوئی؟ نفی داخل ہوئی، اور مقید پر جب نفی داخل ہو تو وہ کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف، وہ رفع کرتی ہے قید کا۔ تو قید مرتفع ہوئی یعنی "مع فصاحتها" یعنی کلمات سارے فصیح نہ ہوں اور تنافر پایا جائے تو بھی وہ کلام کیا ہوگا؟ فصیح ہوگا، حالانکہ اس کلام کو کوئی بھی فصیح نہیں کہتا۔ پھر ضعفِ تالیف کی بات آئی بھئی۔ یہاں تک بات سب کو سمجھ میں آ گئی تھی بھئی؟ عبارت حل ہو گئی کوئی مشکل تو نہیں اس میں؟ اس کے بعد ضعفِ تالیف بھئی، ضعفِ تالیف کس کو کہتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ تالیفِ کلام ہو مشہور نحوی قانون کے خلاف بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا مولانا کہ اگر متفق علیہ قانون کے خلاف ہو جائے پھر تو کلام ہی فاسد ہے، ہاں اگر مشہور قانون کے خلاف ہے، البتہ بعض کا قول اس کی طرف بھی ہے اس میں، تو پھر اس صورت میں فصاحت سے تو کیا ہوا؟ خارج، لیکن کلام پھر بھی کیا رہے گا؟ صحیح رہے گا۔ جیسے اضمار قبل الذکر ہو جائے مولانا، لفظاً بھی، معناً بھی اور حکماً بھی، جیسے: ضرب غلامه زيداً، اب "غلامه" کی "ه" ضمیر راجع ہے زید کو، اور زید لفظوں کے اعتبار سے بھی مؤخر اور رتبے کے اعتبار سے بھی مؤخر کیونکہ مفعول ہے۔ تو لہٰذا یہ اضمار قبل الذکر لازم آیا مولانا۔ پھر اس کے بعد تنافر کی بات آئی تھی مولانا، تنافر کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلمات ایسے کلمات جمع ہو جائیں کہ اگرچہ ان میں سے ہر ایک فصیح ہو لیکن پھر بھی ان کی زبان پر ادائیگی کیا ہو جائے؟ ثقیل ہو جائے، جیسے: ليس قرب قبر حرب قبرٌ، یہ ایک شعر ذکر کیا مثال کے اندر بھئی، تو کہتے ہیں یہ بڑا ثقیل ہے، حتیٰ کہ تین دفعہ اس شعر کو کوئی مسلسل پڑھے تیزی سے تو ضرور اس کی زبان لڑکھڑا جائے گی بھئی، اتنا ثقیل یہ شعر ہے بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا یہ "قرب قبر"، یہ "قرب" کیا ہے؟ "ليس" کی خبرِ مقدم ہے اور "قبرٌ" جو آخر میں مصرعے کے آ رہا ہے وہ اسمِ مؤخر ہے بھئی۔ تو یہ جنات کا شعر ہے بھئی، اور انہوں نے حرب بن امیہ کو قتل کیا، جنگل ویرانے میں ان کی قبر بنی اور اس پر پھر یہ شعر کہہ رہے ہیں بھئی۔ تو یہ شعر دو مثالیں بھئی علامہ تفتازانی—یہ صاحبِ کتاب نے ذکر کیں، ایک یہ، دوسرا اگلا شعر ہے: كريم متى أمدحه أمدحه والورى معي، کہ میرا ممدوح سخی ہے، ایسا سخی کہ جب میں اس کی مدح کرتا ہوں تو میں اس کی مدح کرتا ہوں اس حال میں کہ ساری مخلوق میرے ساتھ ہوتی ہے، اور جب کبھی میں اس کو ملامت کرتا ہوں تو میں اس کو ملامت کرتا ہوں اس حال میں کہ وہ کیا ہوتا ہے؟ کہ میں اکیلا ہوتا ہوں بھئی، اکیلا ملامت کرنے والا۔ تو اس کے احسانات اتنے زیادہ ہیں کہ مدح میں میرے ساتھ سارے شریک ہو جاتے ہیں لیکن تکلیف اس نے کبھی کسی کو دی نہیں، کوئی وجہ ہے ہی نہیں ملامت کی تو میرے ساتھ ملامت میں اور کوئی شریک نہیں ہوتا بھئی۔ تو دو اشعار، اس پر اشکال ہوا کہ بھئی باقیوں کی ایک ایک مثال ذکر کی اس کے لیے دو مثالیں کیوں ذکر کیں؟ تو بتلایا علامہ تفتازانی نے آپ کو کہ بھئی پہلا جو پہلی مثال ہے وہ ثقل کے اندر انتہا درجے کو پہنچی ہوئی ہے، کیونکہ وہاں کلمات کا اجتماع ہوا ایسے اور اگرچہ ان میں سے ہر ایک فصیح ہے لیکن پھر ان کے جمع ہونے کی وجہ سے اب کیا ہوا؟ ثقل پیدا۔ اور دوسرے کے اندر ایسے کلمات جمع نہیں ہوئے بلکہ حروف کی وجہ سے کیا آ رہا ہے ادائیگی میں؟ تو "أمدحه" میں ح اور ه جمع ہو گئے اس کی وجہ سے معمولی سا ثقل پیدا ہو گیا کلام کے اندر بھئی، سمجھ میں آیا؟ صرف ح اور ه کا جمع ہونا یہ مخل بالفصاحت نہیں، کیونکہ یہ تو خود قرآن میں واقع ہوا ہے مولانا، قرآن میں کیا ہے؟ فَسَبِّحْهُ، تو ح اور ه جمع ہے۔ ہاں لیکن جب یہ "أمدحه" کا تکرار ہوا تو اب وہ جو ثقل تھا وہ دگنا ہو گیا اور اب مخل بالفصاحت ہوا بھئی۔ چنانچہ واقعہ بھی ذکر کیا کہ الصاحب اسماعیل بن عباد جو تھے انہوں نے اپنے استاد ابن العمید کے سامنے یہ اشعار پڑھے تو استاد نے ان سے پوچھا: کیا تم اس شعر کے اندر کوئی عیب جانتے ہو؟ انہوں نے کہا: ہاں، ایک عیب جانتا ہوں کہ مدح کا ذکر آیا ہے پہلے مصرعے میں اور اس کے مقابلے میں لوم کا ذکر کر دیا "لومته"، حالانکہ مدح کے مقابلے میں ذم یا ہجو آنی چاہیے بھئی۔ استاد نے کہا: اس کے علاوہ کوئی اور عیب بھئی، میں اس کو چاہتا ہوں کوئی اور عیب ذکر کرو اس کے علاوہ۔ انہوں نے کہا: اس کے علاوہ تو کوئی میں عیب نہیں جانتا۔ کہتے ہیں: یہ "أمدحه أمدحه" کا جو تکرار ہے اس لیے کہ ایک کے اندر ح اور ه آ گئے تھے اور اس کی وجہ سے معمولی ثقل آ گیا اور پھر اس کا شاعر نے کیا کر دیا؟ تکرار جس سے ثقل بڑھ گیا بھئی۔ والتعقيد أن لا يكون ظاهر الدلالة على المراد لخلل إما في النظم وإما في الانتقال، یہ اگلے سے اگلے صفحے پر آ رہا ہے بھئی: وإما في الانتقال۔ تعقید کیا ہے؟ أن لا يكون ظاهر الدلالة، درمیان میں علامہ تفتازانی نے بتلایا: أي كون الكلام معقداً بھئی۔ یہ عبارت کیوں نکالی انہوں نے؟ وجہ یہ مولانا، تعقید، تعقید کے کیا معنیٰ؟ مصدر ہے، پیچیدگی پیدا کرنا، پیچیدگی لانا بھئی، مشکل لانا بھئی مشکل، سمجھ میں آیا؟ صعوبت لانا کلام میں، اور یہ کس کی صفت ہے؟ متکلم کی، وہ کیا کرے گا کلام میں؟ پیچیدگی لانے والا کون ہے؟ متکلم ہے۔ اور أن لا يكون ظاهر الدلالة، ظاہر الدلالة ہونا یا نہ ہونا یہ کس کی صفت ہے؟ کلام کی بھئی، کلام ظاہر الدلالة ہوگا یا ظاہر الدلالة نہیں ہوگا۔ تو مولانا، تو وہ تو صفت ہے متکلم کی اور یہ خبر جو ہے یہ صفت ہے کس کی؟ کلام کی، تو مبتدا خبر میں خبر کا حمل مبتدا پر صحیح نہیں بن رہا تھا تو چنانچہ انہوں نے بتایا کہ تعقید مصدر ہے، لیکن مصدر کبھی مبنی للفاعل ہوتا ہے کبھی مبنی للمفعول، یعنی کبھی مصدر مجہول ہوتا ہے کبھی معروف ہوتا ہے، اور پھر معروف ہو تو کبھی وہ کس معنیٰ میں ہو جاتا ہے؟ اسمِ فاعل کے معنیٰ میں، اور کبھی مصدرِ مجہول ہو تو کس معنیٰ میں ہو جاتا ہے؟ اسمِ مفعول کے معنیٰ میں، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصدر بھی معروف و مجہول آیا کرتا ہے مولانا، آپ گردان نہیں پڑھتے بھئی: ضرب يضرب ضرباً بھئی، یہ ایک مصدر آیا مولانا۔ اور کون سے صیغوں کے بعد آیا؟ معروف کے، معلوم ہوا یہ مصدر بھی کون سا ہے؟ معروف۔ اور پھر آگے پھر گردان پڑھتے ہیں: ضرب يضرب ضرباً، دوبارہ مصدر ذکر کیا جاتا ہے، کیا بتلانے کے لیے؟ کہ اب کیا ہے یہ مصدرِ مجہول ہے، اور نیز اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا جاتا ہے کہ جس طرح عربی میں مصدرِ معروف جو مصدرِ معروف ہوتا ہے، مصدرِ مجہول کا بھی وہی وزن ہوتا ہے، وہی ہوتا ہے مولانا۔ وہی "ضرباً" مصدرِ معروف بھی ہے اور کبھی وہی "ضرباً" مصدرِ مجہول بھی ہے مولانا۔ تو بتایا کہ مصدر مبنی للمفعول ہے یعنی مجہول ہے اور کس کلام میں ہے؟ اسمِ مفعول کے معنیٰ میں، أي معقداً کے معنیٰ میں ہے۔ تو أي كون الكلام معقداً، کلام کا معقد ہونا کیا ہے مولانا؟ کہ أن لا يكون الكلام ظاهر الدلالة على المراد، کہ کلام کیا ہو؟ ظاہر الدلالة علی المراد یعنی مراد پر اس کی دلالت ظاہر نہ ہو بھئی۔ مراد پر اس کی دلالت ظاہر نہ ہو بھئی۔ لخلل، کسی خلل کی وجہ سے۔ بھئی ایک ہوتا ہے مراد، ایک ہوتا ہے معنیٰ لغوی۔ کبھی مراد اور معنیٰ لغوی ایک ہوتے ہیں۔ بھئی دور سے، بھئی آپ کا ساتھی آیا بھئی کمرے کے اندر، آپ نے کہا: لو بھئی بڑا سخی آدمی آ گیا بھئی، بڑا سخی آدمی آ گیا بھئی۔ ایسا سخی ڈھونڈو گے تو ملے گا نہیں بھئی، بڑا سخی آدمی ہے، یہ ابھی مجھے چائے پلائے گا بھئی، سمجھ میں آیا؟ تو دیکھو یہ معنیٰ لغوی کیا ہے؟ آپ سخاوت ذکر کر رہے ہیں، اور معنیٰ مراد بھی یہی ہے، ارادہ بھی کس چیز کے ذکر کرنے کا ہے؟ سخاوت کا مولانا، تو معنیٰ لغوی اور معنیٰ مرادی ایک ہوئے۔ اور کبھی مولانا معنیٰ لغوی اور ہوتا ہے اور معنیٰ مرادی اور ہوتا ہے۔ آپ کا ساتھی آیا مولانا، آپ نے کہا: لو بھئی حاتمِ طائی آ گیا بھئی، کیا آ گیا؟ تو یہ لغوی معنیٰ تو اور، کون آیا ہے؟ حاتمِ طائی آیا ہے، اور معنیٰ مرادی کیا ہے؟ سخی آدمی آیا ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دونوں کبھی ایک ہوتے ہیں کبھی مختلف۔ تو وہ جو مراد ہے جس کا ارادہ کیا گیا ہے اس پر کلام کی دلالت ظاہر نہ ہو اس کو، تو یہ کلام کیا ہوا؟ معقد ہوا، کلام کیا ہوا؟ معقد ہوا۔ اور یہ کس وجہ سے ہوگا؟ لخلل، کسی خلل کی وجہ سے، وہ خلل یا تو واقع ہوگا إما في النظم، نظم سے مراد ترکیب ہے مولانا، چاہے نثر ہو یا نظم ہو مولانا۔ یہ خلل یا تو نظم میں ہوگا یعنی ترکیب میں ہوگا، لفظوں میں ہوگا وإما في الانتقال مولانا، اگلے سے اگلے صفحے پر آ رہا ہے، یا کس کے اندر ہوگا؟ انتقال میں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی یا تو لفظوں میں، ترکیب میں ہی کوئی خرابی ہے مولانا، کیا خرابی ہے؟ تقديم و تاخير ہے، ایک چیز کو مقدم ہونا چاہیے تھا آپ نے اس کو کیا کر دیا ہے کلام میں؟ مؤخر کر دیا ہے، ایک چیز کو ذکر کرنا چاہیے تھا آپ نے اس کو حذف کر دیا ہے، ایک چیز کے لیے اسمِ ظاہر لانا چاہیے تھا آپ اس کی جگہ ضمیر لے آئے ہیں، تو اب کلام کی مراد کو سمجھنا مشکل ہو گیا، کلام کی دلالت معنیٰ مراد پر ظاہر نہ رہی مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ ظاہر نہ رہی بھئی۔ یہ خرابی کس میں آئی مولانا؟ ترکیب میں آئی، لفظوں میں آئی مولانا، سمجھ میں آیا؟ اور ایک مولانا کبھی خرابی انتقال میں آتی ہے مولانا، یعنی ذہن معنیٰ لغوی سے معنیٰ مرادی کی طرف آسانی سے انتقال نہیں کرتا۔ آپ نے کہا: وہ حاتمِ طائی آ گیا، فوراً ذہن نے انتقال کیا مولانا، کس کی طرف؟ سخاوت معنیٰ مرادی کی طرف، معنیٰ مراد کی طرف۔ اور کبھی یہ انتقال مولانا، درمیان میں واسطے آ جاتے ہیں، جب واسطے آ جائیں تو پھر ذہن جلدی انتقال نہیں کرتا مولانا، تو پھر اس صورت میں کہیں گے کہ یہ کلام کیا ہے؟ معقد ہے، اس کی دلالت مراد پر ظاہر نہیں ہے۔ بھئی گرمی نہیں ہے کمرے میں؟ کھولو دروازہ۔ تو یا تو وہ خلل واقع ہوگا إما في النظم ترکیب کے اندر، بسبب تقديم أو تأخير، تقديم و تاخير کے سبب سے، أو حذف، یا کس کے سبب سے؟ حذف کے، ایک مقام تھا ذکر کا آپ نے حذف کر دیا، أو إضمار، یا آپ کیا لے آئے؟ ضمیر لے آئے، مقام تھا اسمِ ظاہر کا، أو غير ذلك، یا اس کے علاوہ اور کوئی سبب ہوگا مما، ان چیزوں میں سے يوجب، جو ثابت کرنے والی ہیں صعوبة فهم المراد، مراد کے سمجھنے کے مشکل ہونے کو۔ مراد کا سمجھنا کیا ہو جاتا ہے؟ مشکل ہو جاتا ہے ان کی وجہ سے بھئی۔ كقول الفرزدق في مدح خال هشام بن عبد الملك بن مروان وهو إبراهيم بن هشام بن إسماعيل المخزومي، جیسے فرزدق کہتا ہے مولانا، فرزدق بھئی، یہ بہت بڑا شاعر گزرا ہے مولانا، یہ پہلی صدی کا تقریباً، جی پہلی صدی۔ بڑا شاعر گزرا ہے۔ تو وہ تعریف کرتا ہے، خال کہتے ہیں ماموں کو مولانا، ہشام بن عبدالملک بن مروان جو ہے خلیفہ، اس کے ماموں کی مدح بیان کر رہا ہے، اور ماموں وہ کون ہے بھئی اس کا؟ کہتے ہیں: وهو إبراهيم، وہ کون ہے؟ ماموں ابراہیم بن ہشام بن اسماعیل مخزومی ہے بھئی۔ تو خلیفہ کون ہوا مولانا؟ ہشام بن عبدالملک، اور اس کا ماموں کون ہوا؟ ابراہیم بن ہشام مولانا، ابراہیم بن۔ اور یہ مدح کس کی کر رہا ہے؟ ابراہیم بن ہشام، جی ہاں اس کے ماموں کی۔ وما مثله في الناس إلا مملَّكاً أبو أمه حَيٌّ أبوه يقاربه۔ جی آگے بعد میں چلتے ہیں، پہلے شعر کو اچھی طرح سمجھ لیں اس کی ترجمہ وغیرہ سب۔ جی یہ لکھ لیں مولانا، لکھ لیں۔ سیدھا کر کے اس کو لکھ لیں بھئی، یہ تقديم و تاخير وغیرہ اس میں بہت زیادہ ہے، تو: وما مثله في الناس وما مثله في الناس حيٌّ يقاربه حيٌّ يقاربه إلا مملَّكٌ إلا مملَّكٌ أبو أمه أبوه إلا مملَّكٌ أبو أمه أبوه اچھا اب ترکیب پہ غور کیجیے۔ ترجمہ پہلے سمجھ لیجیے۔ بھئی بطورِ تمہید کے یہ بات سمجھ لو بھئی، ماں کا باپ اور ماموں کا باپ ایک ہوتا ہے بھئی۔ جی؟ ایسا ہے یا نہیں؟ ماں کا باپ اور ماموں کا باپ ایک ہوتا ہے۔ دیکھیے: وما مثله، اور نہیں ہے اس کے مثل حَيٌّ، یعنی کوئی ایسا زندہ يقاربه أي يشابهه، جو اس کے مشابہ ہو، میرے ممدوح کے مشابہ۔ اس کے مثل کوئی نہیں یعنی کوئی زندہ جو اس کے، میرے ممدوح کے مشابہ ہو لوگوں میں، إلا مملَّكٌ، مگر ایک بادشاہ ہے، أبو أمه أبوه، کہ اس بادشاہ کی ماں کا باپ اس میرے ممدوح کا بھی باپ ہے بھئی۔ اس بادشاہ کی ماں کا باپ میرے ممدوح کا بھی باپ ہے۔ بھئی وہی بات کی نہ میں نے، کہ ماں کا باپ اور ماموں کا باپ ایک۔ تو وہی بات کر رہا ہے بھئی، کہ اس بادشاہ کی ماں کا باپ اس میرے ممدوح کا باپ ہے، یعنی یہ بادشاہ کا ماموں ہے۔ معنیٰ سمجھ میں آیا بھئی؟ نہیں ہے اس کے مثل یعنی کہ کوئی زندہ جو اس کے مشابہ ہو لوگوں میں، إلا مملَّكاً، مگر ایک بادشاہ ہے أبو أمه أبوه، کہ اس بادشاہ کی ماں کا باپ اس کا بھی باپ ہے۔ یعنی یہ بادشاہ کا ماموں ہے۔ اب ترکیب دیکھیے مولانا: ما مشابہ بـ ليس ہے بھئی۔ جی، اکثر یہ عبارت حل ہو جائے گی اس میں بھی شرَح میں بھی، لیکن آپ سن لیجیے ایک دفعہ: ما مشابہ بـ ليس، "مثلُ" مرفوع لفظاً مضاف مولانا، "ه" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مولانا مبدل منہ۔ "حيٌّ يقاربه"، ضابطہ آپ نے پڑھا ہے "حيٌّ" نکرہ ہے، "يقاربه" کیا ہے؟ فعل، نکرہ کے بعد فعل آئے تو کیا بنتے ہیں؟ موصوف صفت۔ تو "حيٌّ" مرفوع لفظاً موصوف، "يقاربُ" فعل، "هو" ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً اس کا فاعل جو راجع ہے کس کو؟ "حيٌّ" کو، "ه" ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، مفعول بہ، جو راجع ہے ممدوح کو۔ تو فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ خبریہ ہو کر صفت بھئی "حيٌّ" کے لیے، موصوف صفت مل کر بدل بھئی، سمجھ میں آیا؟ مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر مستثنٰی منہ، "إلا" حرفِ استثناء، "مملَّكاً" مرفوع لفظاً— "مملَّكٌ" مرفوع لفظاً موصوف، بھئی یاد رکھو جو جملہ ہوتا ہے جملہ، یہ نکرہ کے حکم میں ہوتا ہے تو یہ نکرہ کی صفت بنا کرتا ہے، معرفہ کی صفت، جملے میں چاہے معرفہ موجود ہوں لیکن جب وہ پورا جملہ بن جائے گا جڑ جائے گا مل جائیں گے آپس میں تو پھر جملہ کس کے حکم میں ہوگا؟ نکرہ کے حکم میں۔ تو "مملَّكٌ" کے بعد جملہ آ رہا ہے "أبو أمه أبوه"، تو پورا جملہ اس کی صفت بنے گا۔ "مملَّكٌ" مرفوع لفظاً موصوف، "أبو" مرفوع لفظاً مضاف، "أمِ" مجرور لفظاً مضاف الیہ، ماقبل کے لیے مضاف الیہ اور مابعد کے لیے مضاف، تو مضاف الیہ مضاف، "ه" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، یہ راجع ہے "مملَّكٌ" کو مولانا، مضاف تو مضاف مضاف الیہ مل کر یہ پھر مضاف الیہ ہوئے کس کے لیے؟ "أبو" کے لیے، اور یہ مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا، "أبو" مرفوع لفظاً مضاف، "ه" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر خبر بھئی، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر یہ صفت ہوئی کس کی؟ "مملَّكٌ" کی مولانا، صفت ہوئی، موصوف صفت مل کر مستثنٰی۔ یا "مملَّكاً" پڑھیں "مملَّكاً"، یہ کیا ہوا؟ "مملَّكاً" پڑھیں، یہ مستثنٰی ہوا مولانا "مملَّكاً" منصوب پڑھیں۔ مستثنٰی منہ اپنے مستثنٰی کے ساتھ مل کر یہ کیا ہوا؟ "ما" کا اسم ہوا بھئی، ما مشابہ بـ ليس کا اسم، اور "في الناس" خبر ہے، أي "ثابتاً في الناس"، جار مجرور متعلق ہوں گے "ثابتاً" سے۔ ترکیب سمجھ میں آئی سب کو بھئی؟ اچھی طرح؟ دوبارہ کرنے کی ضرورت تو نہیں؟ کہ دوبارہ کر دوں؟ جی؟ "وما مثله"، ما مشابہ بـ ليس، "مثلُ" مرفوع لفظاً مضاف، اچھا، تو "مثلُ" مرفوع لفظاً مضاف، "ه" ضمیر مجرور محلاً مضاف الیہ، مضاف مضاف الیہ مل کر مبدل منہ، "حيٌّ" مرفوع لفظاً موصوف، "يقاربُ" فعل، "هو" ضمیر اس کے اندر مرفوع محلاً فاعل جو راجع ہے "حيٌّ" کو، "ه" ضمیر منصوب محلاً مفعول بہ، فعل اپنے فاعل اور مفعول بہ سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر جی بدل، مبدل منہ اپنے بدل کے ساتھ مل کر مستثنٰی منہ، "إلا" حرفِ استثناء، "مملَّكاً" منصوب لفظاً موصوف، "أبو أمه" یہ تینوں مضاف مضاف الیہ ہیں مولانا آپس میں، تو مضاف مضاف الیہ مل کر مبتدا، اور "أبوه" مضاف مضاف الیہ مل کر خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ خبریہ ہو کر صفت، موصوف صفت مل کر مستثنٰی، مستثنٰی منہ اپنے مستثنٰی کے ساتھ مل کر ما مشابہ بـ ليس کا اسم، اور "في الناس"، أي "ثابتاً في الناس"، یہ اس کے لیے کیا ہوئی؟ خبر ہوئی، تو ما مشابہ بـ ليس کی خبر منصوب ہوتی ہے تو "ثابتاً" منصوب ہم نے نکالا بھئی، تو یہ خبر، تو ما مشابہ بـ ليس اپنے اسم اور خبر سے مل کر کیا ہوا جملہ اسمیہ خبریہ ہوا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ اب مولانا اس، یہ کلام، اس کلام میں تعقید ہے بھئی، کلام میں تعقید، اور چار اسباب ہیں تعقید کے، چار اسباب۔ اول کیا؟ اب مولانا ذرا شعر پہ غور کرو بھئی متن میں۔ دیکھو مولانا "حيٌّ"، "حيٌّ" کو ہم نے کیا بنایا تھا؟ "حيٌّ يقاربه"، آپس میں ان کو کیا بنایا تھا؟ تو دیکھو "حيٌّ" موصوف، "يقاربه" صفت، موصوف صفت کے درمیان کیا آیا؟ "أبوه"، فصل بالاجنبی آیا بھئی، ایک سبب تعقید کا، موصوف صفت کے درمیان فصل آیا۔ دوسرا مولانا "أبو أمه أبوه"، "أبو أمه" کو ہم نے کیا بنایا تھا؟ اور "أبوه" کو اس کی خبر، اب آپ دیکھیے یہاں مبتدا خبر کے درمیان "حيٌّ" کے ساتھ فصل آیا، فصل بالاجنبی آیا، یہ دوسرا سبب تعقید کا۔ تیسرا مولانا "مثله" کو "حيٌّ يقاربه" کے لیے کیا بنایا تھا؟ "مثله" مبدل منہ تھا اور "حيٌّ يقاربه" اس کے لیے بدل تھا، دیکھیے مبدل منہ اور بدل میں طویل فاصلہ آ گیا مولانا، فصل۔ تین سبب ہوئے، چوتھا مولانا مستثنٰی منہ کیا ہے؟ جی؟ "مثله حيٌّ يقاربه"، تو ان میں ایک مبدل منہ ہے اور ایک بدل، اور آپ نے پڑھا ہے مبدل منہ اور بدل میں اصل مقصود کون ہوتا ہے؟ بدل مقصود ہوتا ہے، تو دراصل یوں کہو مستثنٰی منہ "حيٌّ يقاربه" ہے، جو بدل ہے وہ کیا ہے؟ مستثنٰی منہ، اور آپ کلام میں بتائیے مستثنٰی مقدم ہے یا مستثنٰی منہ مقدم ہے بھئی؟ "مملَّكاً" یہ مقدم ہے اور "حيٌّ يقاربه" مستثنٰی منہ کیا ہے؟ یہ مولانا چوتھا سبب ہے تعقید کا۔ تو دیکھا یہ تقديم و تاخير اور فصل وغیرہ کی وجہ سے کیا آیا کلام میں کیا آ گئی؟ تعقید آ گئی، چاروں اسباب کا سب کو پتہ چل گیا بھئی؟ پہلا سبب کیا؟ "حيٌّ يقاربه" موصوف صفت کے درمیان فصل بالاجنبی، دوسرا "أبو أمه أبوه" مبتدا خبر کے درمیان فصل بالاجنبی کے ساتھ آیا "حيٌّ" مولانا، تیسرا کیا بھئی؟ "مثله" کیا تھا؟ مبدل منہ، اور "حيٌّ يقاربه" اس سے بدل، اور بدل اور مبدل منہ میں بھی کیا آیا؟ فصل آیا، اور اسی طرح چوتھا کیا تھا؟ کہ مستثنٰی کو مقدم کیا گیا ہے کس پر؟ مستثنٰی منہ پر۔ جی اب یہی بات علامہ تفتازانی کریں گے مولانا، دیکھیے "ليس" بتلا دیا ما مشابہ بـ ليس ہے "ليس" کے معنیٰ میں، أي ليس مثله في الناس، نہیں ہے اس کا کوئی مثل لوگوں کے اندر، حيٌّ يقاربه، وہ ملاتے جا رہے ہیں کہ موصوف صفت ملا دیا "حيٌّ يقاربه"، بھئی "يقاربه" کا معنیٰ کیا کیا تھا میں نے بھئی؟ "يشابهه"، أي أحد يشبه، وہ بھی یہی بات کر رہے ہیں، کوئی ایک بھی جو ان کے مشابہ ہو، "أشبه يشبه" مولانا آئے گا مولانا باب، سمجھ میں آیا؟ بابِ افعال، اس سے مجرد مستعمل نہیں مولانا۔ تو کوئی ایک بھی اس کے مشابہ نہیں ہے في الفضائل، فضیلتوں کے اندر، إلا مملَّكٌ، مگر کون ہے ایک؟ بادشاہ ہے، اسمِ مفعول کا صیغہ ہے جس کو بادشاہت دی گئی ہے، أي رجل أُعطي الملك، ایک ایسا شخص جس کو بادشاہت دی گئی ہے مولانا، یعنی هشاماً، یعنی کہ وہ کون ہے؟ وہ خلیفہ بھئی، "أبو أمه"، "ه" ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں: أي أبو أم ذلك المملَّك، کہ اس بادشاہ کی ماں کا باپ "أبوه"، أي إبراهيم، وہ باپ ہے کس کا؟ إبراهيم الممدوح، ابراہیم پر زبر الممدوح پر زیر، بھئی کیوں؟ شاباش، یہ "إبراهيم" اس وقت حالتِ جری میں ہے مولانا، ہاں اس کا جر تابع ہے کس کے؟ نصب کے اس صورت میں، اور "الممدوحِ" اس پر اب کسرہ آ گیا۔ تو یہ ابراہیم کیا ہے مولانا؟ "أبوه" "ه" ضمیر کا مرجع بتلایا، اور "ه" ضمیر کیا ہے؟ مضاف الیہ، تو یہ ابراہیم بھی مضاف الیہ ہوا مجرور ہوا بھئی۔ أبوه یعنی ابراہیمِ ممدوح کا باپ ہے بھئی، أي لا يماثله أحد، کوئی اس بادشاہ کے کوئی ایک بھی اس میرے ممدوح کے کوئی ایک بھی مماثل نہیں ہے، إلا ابن أخته، مگر اس کی بہن کا بیٹا، وهو هشامٌ، اور وہ ہشام ہے، ففيه فصلٌ بين المبتدأ والخبر، اس کلام میں فصل آیا مولانا مبتدا اور خبر کے بیچ، أعني، وہ کون ہیں مبتدا خبر؟ "أبو أمه أبوه"، یعنی کہ "أبو أمه أبوه" کے درمیان بالاجنبي، اجنبی کے ساتھ، الذي هو حيٌّ، جو کیا ہے؟ "حيٌّ"، وبين الموصوف والصفت، اور موصوف صفت کے درمیان فصل آیا، أعني، "حيٌّ يقاربه" ان کے درمیان فصل آیا بالاجنبي، اجنبی کے ساتھ، والذي هو أبوه، وہ کیا لفظ ہے؟ "أبوه"، وتقديد المستثنى، أعني مملَّكاً، على المستثنى منه، اور تقديم ہے مستثنٰی کی، یعنی کہ "مملَّكاً" کی کس پر؟ مستثنٰی منہ پر، أعني حيّاً، یعنی کہ "حيّاً" پر، وفصل كثير بين البدل، اور بڑا کثیر فصل ہے بدل کے درمیان، وهو حيٌّ، "حيٌّ" ہے، والمبدل منه، اور مبدل منہ کے درمیان، وهو مثله، اور وہ کیا ہے؟ "مثله"، فقوله مثله، یہ "مثله" جو ہے اسم ما، یہ "ما" کا کیا ہے؟ اسم ہے، وفي الناس خبره، اور "في الناس" اس کے خبر ہیں مولانا، ومملَّكاً منصوبٌ، بھئی دیکھیے مولانا، "مملَّكاً" شعر میں تھا منصوب، آگے مولانا آگے جب صاحبِ تلخیص اس کو درست کرتے ہیں تو کیسے درست کرتے ہیں؟ أي دیکھو یہ متن بیچ بیچ میں آیا ہے، یہ لکیر نہیں لگی ہوئی، أي حيٌّ يقاربه، یہ بھی متن ہے، إلا مملَّكٌ آتا ہے آگے، وہ بھی متن ہے، آگے أبو أمه آتا ہے، یہ بھی متن ہے، أبوه، یہ بھی متن ہے۔ ملا بھئی؟ بھئی "يقاربه" کے بعد "أي" آیا، یہ بھی متن ہے مولانا، شعر کے فوراً بعد، اس سے آگے آ رہا ہے "حيٌّ يقاربه"، یہ بھی متن ہے مولانا، آگے آ رہا ہے "إلا مملَّكٌ" اگلی سطر میں، یہ بھی متن ہے بھئی، آگے "أبو أمه" آ رہا ہے بھئی، یہ بھی کیا ہے؟ متن ہے، اور "أبوه"، یہ آ رہا ہے مولانا، یہ بھی کیا ہے؟ متن ہے۔ تو صاحبِ تلخیص خود اس عبارت کی درست ترکیب کو درست کر رہے ہیں مولانا، اور شعر کے اندر تو تھا "إلا مملَّكاً" منصوب، اور صاحبِ تلخیص نے آگے نکالا "إلا مملَّكٌ" مرفوع بھئی، "إلا مملَّكٌ" مرفوع نکالا۔ بھئی مستثنٰی بـ إلا، "إلا" کے ساتھ جو مستثنٰی آتا ہے اس کا اعراب یاد ہے آپ کو بھئی؟ بڑی مشکل بحث ہے یاد نہیں ہوتا بھئی، جی؟ ہماری ترتیب کے مطابق یاد کرنا مولانا انشاء اللہ کبھی بھی نہیں بھولے گا۔ "إلا" کا جو مستثنٰی آئے مولانا، سب سے پہلے اس میں یہ دیکھو مولانا کہ متصل ہے یا منقطع ہے بھئی؟ بات کو صرف سمجھ لو بس۔ متصل ہے یا منقطع ہے؟ "إلا" کے ساتھ جو آئے، اگر منقطع ہے تو منصوب ہوگا مولانا، اگر متصل ہے پھر دیکھو، کلامِ موجب ہے یا غیرِ موجب؟ کلامِ موجب کس کو کہتے ہیں؟ جس میں نفی، نہی اور استفہام نہ ہو۔ تو کلامِ موجب ہے یا غیرِ موجب؟ اگر مولانا کلامِ موجب ہے پھر بھی منصوب ہوگا۔ اگر کلامِ غیرِ موجب ہے پھر دیکھو مولانا، کہ مستثنٰی مستثنٰی منہ پر مقدم ہے یا مقدم نہیں؟ اگر مقدم ہے پھر بھی منصوب ہوگا مولانا، اگر مقدم نہیں مؤخر ہی ہے تو پھر اس صورت میں پھر دیکھیں، مستثنٰی منہ مذکور ہے یا مذکور نہیں؟ اگر مستثنٰی منہ مذکور ہے تو پھر اس میں دو وجہیں پڑھنا جائز، نصب بھی پڑھنا جائز اور بدل بنانا بھی جائز ہے مولانا، اور اگر مولانا مستثنٰی منہ مذکور نہیں تو پھر علی حسب العوامل ہوگا، عامل کے مطابق اعراب دیا جائے گا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی؟ جی مولانا۔ یہ تو نقشہ بنانا پڑتا ہے، بھئی ان کو پھر نقشہ بنا کر دکھاؤ کسی اور، سمجھ میں آیا بھئی؟ سب سے پہلے کیا دیکھیں گے؟ یہ نقشہ آپ کو بنا دیں گے بھئی، اس نقشے سے بالکل آسان ہے سمجھنا، کہ دیکھو مستثنٰی متصل ہے یا منقطع، اگر منقطع ہے تو منصوب، پھر دیکھو اگر متصل ہے کلامِ موجب ہے یا غیرِ موجب، اگر موجب ہے پھر بھی منصوب، اگر مولانا کلامِ غیرِ موجب ہے پھر دیکھو، مستثنٰی مستثنٰی منہ پر مقدم ہے یا مقدم نہیں، اگر مقدم ہے تو پھر بھی منصوب، اگر مقدم نہیں اپنی جگہ پر ہے تو پھر دیکھو مستثنٰی منہ مذکور ہے عبارت میں یا مذکور نہیں، اگر مذکور ہے تو دو وجہیں پڑھنا جائز، ایک وہی وجہ، کیا؟ نصب پڑھ لو، دوسری کیا؟ بدل بنا لو، جو اس کا اعراب ہے مستثنٰی منہ کا وہی کس کو دے دو؟ مستثنٰی کو بھی، کیونکہ مبدل منہ اور بدل کا اعراب ایک ہوتا ہے، اور اگر مستثنٰی منہ عبارت میں ذکر نہیں تو پھر اس صورت میں علی حسب العوامل ہو جائے گا، سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ تو دیکھیے مولانا، کیا میں نے آپ کو بتایا؟ مستثنٰی منہ اگر مستثنٰی مستثنٰی منہ پر مقدم ہو تو بھی کیا ہوگا؟ وہی بات کر رہے ہیں: ومملَّكاً منصوبٌ لتقدمه على المستثنى منه، اور "مملَّكاً" منصوب ہے شعر کے اندر کیونکہ وہ مقدم ہے کس پر؟ مستثنٰی منہ پر، اور چونکہ جو پھر انہوں نے جو ترکیب کی اس میں انہوں نے مؤخر کر دیا بھئی، کیا کیا؟ مؤخر کر دیا مولانا، "حيٌّ يقاربه" جو مستثنٰی منہ تھا اس کو کیا کر دیا؟ "أي" کے بعد جو عبارت نکالی بھئی، انہوں نے کیا کر دیا مستثنٰی منہ کو مقدم، تو مستثنٰی اپنی جگہ پر آ گیا، جب اپنی جگہ پر آ گیا تو اب اس میں دو وجہیں پڑھنا جائز تھیں، اس کو بدل بنانا بھی جائز اور اس پر نصب پڑھنا بھی جائز، لیکن بدل بنانا اولیٰ ہے بھئی، کیا بنانا؟ اور "حيٌّ" مرفوع ہے تو "مملَّكٌ" کو بھی کیا پڑھ دیا؟ مرفوع پڑھ دیا۔ یہاں تک سب کو بات سمجھ میں آئی؟ اب بعضوں نے اس پر اشکال ذکر کیا۔ بعض علماء کہتے ہیں جب ضعفِ تالیف کو ذکر کر دیا تھا تو پھر تعقیدِ لفظی کو ذکر کر— یہ تعقیدِ لفظی کے ذکر کی ضرورت نہیں بھئی۔ تعقیدِ لفظی کے ذکر کی ضرورت— بھئی اس لیے کہ ضعفِ تالیف کیا کہا تھا؟ کلام مشہور نحوی قانون کے خلاف ہو، اور یہاں تعقیدِ لفظی میں بھی کیا ہو رہا ہے مولانا؟ یہ نحوی قانون کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، فصل بالاجنبی لایا جا رہا ہے، تو وہ تو اسی تعقیدِ— ضعفِ تالیف میں آ گیا تھا، اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ علامہ تفتازانی اس کو رد کرتے ہیں، کہتے ہیں: نہیں بھئی، اس کو علیحدہ ذکر کرنے کی ضرورت تھی، اس لیے کہ ہو سکتا ہے کہ کلام میں کلام ہو تو نحوی قوانین کے مطابق لیکن اس میں چند ایسے امور جمع ہو جائیں وہ سب کے سب ہیں تو نحوی قانون کے مطابق لیکن ان کے جمع ہونے کی وجہ سے کلام کیا ہو اس کے معنیٰ کو سمجھنا دشوار ہو جائے، یہ ممکن ہے، سمجھ میں آیا بھئی؟ اس لیے اس کو ذکر کرنا چاہیے۔ قيل ذكر ضعف التأليف يغني عن ذكر التعقيد اللفظي، کہا گیا ہے کہ ضعفِ تالیف کا ذکر یہ مستغنی کر دیتا ہے کہ بے پروا کر دینے والا ہے عن ذکر التعقيد اللفظي، کس سے مولانا؟ تعقیدِ لفظی کے ذکر سے، وفيه نظر، اور اس میں کیا ہے اس قول میں؟ نظر ہے، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: لجواز أن يحصل التعقيد باجتماععدة أمور، اس لیے کہ ممکن ہے کہ حاصل ہو جائے تعقید چند ایسے امور کے جمع ہونے کے ساتھ، موجبة، جو ثابت کرنے والے ہوں، لصعوبة فهم المراد، مراد کے سمجھنے کے مشکل ہونے کو، یعنی وہ اس کے مشکل ہونے کو ثابت کر دیتے ہوں یعنی مشکل بنا دیتے ہوں، وإن كان كل منها جارياً على قانون النحو، اگرچہ ان میں سے ہر ایک جاری ہو کس پر مولانا؟ قانونِ نحو پر جاری ہوں مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ وبهذا يظهر فساد ما قيل، اور اس سے ظاہر ہو گیا فساد اس کا وہ جو کہا گیا ہے وہ اس قول کا، إنه لا حاجة في بيان التعقيد في البيت إلى ذكر تقديم المستثنى على المستثنى منه بل لا وجه له، بعضوں نے یہ کہا کہ بھئی یہ تعقید کے اسباب میں یہ ذکر کرنے کی ضرورت نہیں تھی کہ مستثنٰی کو مقدم کیا گیا ہے کس پر؟ مستثنٰی منہ پر۔ کیوں؟ یہ تو نحوی قانون کے مطابق ہے بھئی، کبھی کیا کیا جاتا ہے؟ مستثنٰی کو مستثنٰی منہ پر مقدم۔ تو اس کو ذکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، کہتے ہیں: نہیں بھئی، علامہ تفتازانی کہتے ہیں بھئی اس قول کا بطلان بھی اس کا فاسد ہونا بھی ظاہر ہو گیا، اس لیے کہ اگرچہ یہ ہے تو کس کے مطابق؟ نحوی قانون کے مطابق، لیکن اس وقت اس کی وجہ سے کلام میں تعقید بڑھ رہی ہے، تعقید بڑھ رہی ہے، تو کہتے ہیں بات وہی ہے جو ہم نے اس لیے کہ دیکھو، ہے نحوی قانون کے مطابق، لیکن اس کی وجہ سے تک- کلام میں کیا پیدا ہو رہی ہے؟ تعقید پیدا ہو رہی ہے، بڑھ رہی ہے بھئی۔ تو اس قول کا فساد بھی ظاہر ہوا جو کہا گیا کہ کوئی حاجت نہیں تھی بیانِ تعقید میں، شعر کے اندر تعقید کے بیان میں کس چیز کی ضرورت نہیں تھی؟ ذکرِ تقديم المستثنى على المستثنى منه، مستثنیٰ کے مستثنیٰ منہ پر تقديم کی وجہ کو۔ بَلْ لَا وَجْهَ لَهُ، بلکہ اس کی تو کوئی وجہ ہی نہیں ہے، اس کو تو ذکر کرنا ہی نہیں چاہیے تھا، لِأَنَّ ذٰلِكَ جَائِزٌ بِإِتِّفَاقِ النُّحَاةِ، اس لیے کہ یہ تو نحو یوں کے اتفاق کے ساتھ جائز ہے۔ إذْ لَا يَخْفَى، علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ اس قول کا فساد بھی ظاہر ہوا، کیونکہ یہ بات مخفی نہیں ہے، أَنَّهُ يُوجِبُ زِيَادَةَ التَّعْقِيدِ، کہ یہ تقديمِ مستثنیٰ یہ ثابت کرنے والی ہے کس چیز کو؟ زيادة تعقید کو۔ وَهُوَ مِمَّا يَقْبَلُ الشِّدَّةَ وَالضَّعْفَ، اور تعقید ان چیزوں میں سے ہے جو شدت و ضعف کو قبول کرنے والی ہے۔ یعنی کلی مشکک ہے، اس میں کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ جیسے سفیدی ہے، ایک چیز کم سفید ہے، ایک چیز زیادہ سفید ہے۔ تو یہ بھی اسی طرح ہے، یہ کم بھی ہو سکتی ہے، زیادہ بھی ہو سکتی ہے۔ تو یہاں بھی اس تقديم کی وجہ سے تعقید کیا ہو گئی؟ زیادہ ہو گئی۔ یہ کمی، زیادتی کو قبول کرتی ہے۔ تو اس، یہ سبب بنا اس میں زیادتی کا بھئی۔ چلیے مولانا، هٰذَا هُوَ المَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الكَلَامِ۔ اب آپ کیا کہہ رہے تھے؟ ہاں؟ چھٹی دے دیں؟ اچھا، عجیب طالب علم ہیں! میں چھٹی دے رہا ہوں، آپ کہہ رہے ہیں چھٹی نہیں۔ اچھا، حضرت شیخ صاحب کی کوئی بات یاد ہے؟ اللہ! استغفراللہ! بھئی! حضرت شیخ صاحب کی بڑی عجیب شخصیت تھی! آپ نے دیکھا ہوتا، دیکھ کر پتہ بھی چلتا کچھ بھئی! آپ نے ان کو دیکھا ہی نہیں! ان کا علم تو تھا ہی، علم تو بتلاتا ہے کہ یہ سب سے الگ ہیں۔ علم سے خود ہی پتہ چل جاتا ہے۔ ان کی شکل و صورت بھی آپ دیکھ لیتے تو آپ کہتے ان جیسا کوئی نہیں۔ عام آدمی، دنیا دار آدمی، جہلاء، عوام بھی ان کو دیکھ لیتے تھے تو ان پر رعب طاری ہو جاتا تھا، خود بخود! حضرت شیخ کے شاگرد نے ایک واقعہ سنایا وفات کے۔ سارے واقعات ہمیں، والد صاحب خود تو کبھی کوئی ذکر نہیں کرتے تھے، ان کا جلال اتنا زیادہ تھا کوئی۔ تو اور یہ نہیں کہ جلال صرف باہر تھا، گھر میں بھی اسی طرح جلال تھا۔ بڑی جلالی طبیعت تھی، کسی کو کوئی صورت بے ادبی ہو جائے تو کبھی نہیں معاف کرتے تھے۔ ایسا ڈانٹتے تھے کہ ساری عمر دوبارہ وہ غلطی نہیں ہوتی تھی آدمی سے۔ جو شاگرد تھے پڑھنے آتے تھے، کہتے: ہم نے اٹھ اٹھ سال، سات سات سال دوسری جگہوں پر پڑھا، دس دس سال پڑھا، حضرت شیخ کے پاس آ کر ایک سال پڑھا، ہم نے وہ وہ چیزیں اور ادب، وہ وہ چیزیں معلوم ہو گئیں، ادب معلوم ہوا کہ ادب کس چیز کا نام ہے کہ ہمیں سات اٹھ سالوں میں، دس سالوں میں بھی ان کا پتہ نہیں چلا۔ تو ان کی شکل و صورت بھی ایسی تھی کہ دیکھتے ہی پتہ چلتا تھا، یہ اس زمانے کا انسان نہیں ہے۔ تو وہ شاگرد بتا رہے ہیں: ایک مرتبہ میں جمعے کی نماز میں تھا، تو حضرت شیخ صاحب کی عادت تھی بھئی، جمعے کی نماز کے بعد وہی نوافل وغیرہ، سنتیں پڑھتے، پھر نوافل پڑھتے رہتے بڑی دیر تک، تقریباً مسجد بالکل خالی ہو جاتی، پھر اس کے بعد وہ نکل کر آتے تھے۔ تو کہتے ہیں: اسی طرح ایک دن میں کھڑا ہوا تھا، ابھی حضرت شیخ صاحب سامنے صحن کے، میں اگلے حصے میں نوافل میں مشغول ہیں، اور صحن کے وسط میں چھ سات کالج کے لڑکے کھڑے ہوئے ہیں بھئی نوجوان، آپس میں گپ شپ لگا رہے ہیں بھئی، نماز ہو چکی ہے، لوگ جا چکے ہیں، بڑے زور و شور سے ان کی بحث جاری ہے، باتیں ہو رہی ہیں۔ تو حضرت شیخ صاحب نفل ختم کیے، اٹھے، اپنا مصلیٰ اٹھایا اور چل پڑے۔ تو ان کے قریب سے گزر رہے تھے ابھی، تو ابھی ذرا کچھ فاصلے پر، یعنی ان تک پہنچے نہیں، تو ان کی ایک دو کی نظر پڑ گئی۔ وہ ان کی طرف دیکھنے لگے، پھر سارے ہی ان کی طرف دیکھنے لگ پڑے، وہ جتنے کھڑے ہوئے تھے، تو باتیں شاتے سب بھول گئے، ختم بھئی! اب ان کو دیکھ رہے ہیں، حضرت شیخ صاحب آہستہ آہستہ چلتے ہوئے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے، چل رہے ہیں، آرام آرام سے گئے، مسجد کے دروازے تک پہنچے، جوتے پہنے اور وہ باہر چلے گئے گھر کی طرف۔ اور کہتے ہیں: میں دیکھ رہا ہوں، یہ جو ہیں، انہوں نے باتیں ختم کر دی ہیں اور ساتھ ساتھ دیکھتے جا رہے ہیں، مڑتے جا رہے ہیں، جدھر کو وہ جا رہے ہیں، یہاں تک کہ وہ نظروں سے اوجھل ہو گئے۔ میں بڑا حیران ہوا! یہ کیا؟ میں قریب ہوا: بھئی! کیا بات ہے؟ خیریت ہے؟ آپ دیکھ رہے ہیں حضرت شیخ کو؟ کہتے ہیں: وہ ایسے حیرت میں ڈوبے ہوئے لہجوں میں جواب دیتے، انہوں نے جواب دیا کہ یہ شخص اس زمانے کا تو نہیں لگتا! اس زمانے کا یہ شخص نہیں ہے۔ ایسی حسین و جمیل شکل و صورت اور ایسی! حضرت مولانا طارق جمیل صاحب کی ملاقات ہوئی۔ کہنے لگے بعد میں، ملاقات کے بعد کسی کو کہا بھئی کہ یہ تو اس زمانے کا آدمی نہیں لگتا، یہ تو یوں لگتا ہے کوئی وہ قدیم زمانے کا، صحابہ وغیرہ کے زمانے کا کوئی شخص ہے، کوئی روح تھی جو پیچھے رہ گئی تھی، جس کو اللہ نے آج انسان کی شکل میں بھیج دیا ہو۔ عجیب جلال تھا مولانا، بے ادبی کسی کی نہیں! یہاں کویت کا وزیر آیا تھا بھئی، کویت! دنیا کا امیر ترین ملک ہے بھئی، اس کا وزیر آیا ہوا ہے۔ تو اس کا بڑا استقبال ہوا بھئی، پروگرام ہوا، اس کی دعوت وغیرہ ہوئی۔ اور پھر وہ والد صاحب سے بھی ملاقات، ان کو بھی بلوایا، ان سے ملاقات ہوئی۔ اب واپسی گھر آ رہے ہیں، وہ وزیر ساتھ چل رہا ہے، باتیں کرتا ہوا۔ کوئی عرب تھا۔ چلتے چلتے راستے میں اس نے پتہ نہیں کیا بات کی؟ کوئی بے ادبی والی ذرا سی بات کی، حضرت شیخ صاحب وہیں پر سخت غصے ہوئے، اس کو ایسا زبردست ڈانٹ دیا، ایسا زبردست ڈانٹ دیا! بعد میں پھر وہ معافی مانگتا رہا کہ واقعی مجھ سے غلطی ہوئی، مجھے ایسا نہیں کہنا چاہیے تھا۔ پتہ نہیں اب بات کیا ہوئی؟ لیکن بہرحال، وہ بے ادبی بالکل برداشت نہیں کرتے تھے۔ وفات کے بعد مولانا جمشید صاحب فرمانے لگے کہ لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ پٹھان تھے بھئی، اس لیے جلالی زیادہ تھے۔ کہتے ہیں: نہیں، بات یہ نہیں ہے، بات یہ تھی کہ اصل میں بے ادبی ان سے برداشت تھی نہیں ہوتی تھی، ان کی طبیعت ہی ایسی تھی، اللہ نے ایسی بنائی تھی کہ بے ادبی ان سے! اور مولانا عبد الرحمن صاحب فرماتے تھے: دراصل ان کے نام کے دو جز ہیں۔ ایک محمد ہے، ایک موسیٰ ہے۔ تو دونوں کی صفات اللہ نے ظاہر فرما دیں۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی بڑی جلالی طبیعت والے تھے۔ وہ طاہر القادری والا واقعہ! ہاں، وہ ایک مرتبہ مسجد سے نماز کے بعد دیر سے نکلتے بھئی۔ تو نماز پڑھ کے نکلے، مسجد لوگ نکل چکے ہیں۔ ادھر باہر جو ہے، طاہر القادری آیا اور پجارو سے اترا، گن مین وغیرہ ساتھ ہیں اور بڑے اس نے جو ہے، کپڑے وغیرہ پہنے ہوئے ہیں، جوتے اور بڑا! تو کھڑا ہوا ہے باہر۔ طلبہ کی تو عادت ہے، کوئی چیز نظر آ جائے بس! گھیر لیا سب نے بھئی، سارے کھڑے ہوئے تماشا کر رہے ہیں جی! کوئی خلائی مخلوق کوئی آئی ہوئی ہے۔ تو مولانا عبد الرحمن صاحب بھی نکلے، تو طاہر القادری ان سے ملا، تو باتیں ہو رہیں۔ تو حضرت شیخ صاحب مسجد سے آہستہ آہستہ نکلے، جوتے پہنے، آرام آرام سے آئے، تو مجمع بڑا لگا ہوا ہے، خیر وہ آرام سے پاس سے گزرنے لگے، تو مولانا عبد الرحمن صاحب نے فرمایا کہ حضرت! یہ پروفیسر ڈاکٹر علامہ طاہر القادری صاحب آئے ہوئے ہیں۔ تو والد صاحب نے عجیب جملہ ارشاد فرمایا! یوں اس کی طرف دیکھا اور پھر فرمایا: اس کے منہ سے تو مجھے شرک کی بدبو آ رہی ہے! اور پھر نیچے جھکے اور جوتا اتار لیا! جوتا اتار لیا اور وہ، طاہر القادری کو ایسا جھٹکا لگا، اس کی ٹوپی وہیں گر گئی! اتنا زور دار! جوتا پاؤں سے نکل گیا، وہ پیچھے کئی قدم پیچھے کو گرتے گرتے بچا، چلا گیا۔ اور مولانا عبد الرحمن صاحب نے حضرت شیخ صاحب کا ایک ہاتھ پکڑ لیا ایک ہاتھ سے کہ بس حضرت بس! اور دوسرے ہاتھ سے طاہر القادری کو اشارہ کر رہے ہیں، اور پیچھے ہو جاؤ! پیچھے ہو جاؤ! اچھا، تو وہ گن مین وغیرہ بھی ساتھ کھڑے ہیں، وہ آگے ہوا، پھر اس نے جو ہے نا، وہ جوتا اور ٹوپی اٹھائی، علامہ صاحب کو دی، علامہ صاحب نے پہنی اور بڑے غصے میں جی اپنی پجارو میں بیٹھے اور سیدھے نکل گئے، وہ دن اور آج کا دن کبھی جامعہ میں سے نہیں نکلے۔ عجیب باتیں ہیں، وہ جو ہم قدیم زمانے میں کبھی سنتے تھے علماء کی، وہ سننے میں آتی ہیں حضرت شیخ کی! نواز شریف آیا تھا یہاں، وزیر اعظم تھا بھئی! تو وزیر اعظم تھا۔ تو نماز کے بعد باہر کھڑا ہوا، غالباً کسی کا جنازہ تھا، جنازے میں شرکت کے لیے وہ آیا تھا۔ اور وزیر اعظم ہے بھئی! تو دروازے میں کھڑا ہے، تو اور لوگ بھی کھڑے ہیں، مولانا عبد الرحمن صاحب بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں، ان کے ساتھ باتیں ہو رہی ہیں۔ تو والد صاحب اسی طرح آرام سے مسجد سے نکلے آخر میں، تو پاس سے گزرنے لگے، مولانا عبد الرحمن صاحب نے فرمایا کہ حضرت! یہ ہمارے وزیر اعظم صاحب ہیں۔ والد صاحب نے تو نواز شریف کی طرف دیکھا بھی نہیں! اور مولانا عبد الرحمن صاحب کی طرف دیکھا اور فرمایا: تو میں کیا کروں؟ ہم بھی بادشاہ ہیں! یہ کہا اور سیدھے چلے گئے۔ وہ قافیہ کی جو شرح پہلی کتاب لکھی، وہ ایک واقعہ! کونسے والا؟ وہ قافیہ والی، وہ ٹرین میں اور پھر! ہاں! اچھا اسی طرح نواز شریف ایک اور مرتبہ آیا تھا۔ جبکہ غالباً وہ وزیر اعظم تھا اور اس کا بھئی، وزیر اعلیٰ تھا۔ ہاں، تو وہ آئے تھے صرف یہاں علماء سے ملاقات کے لیے۔ تو دروازے میں وہ کھڑے ہیں، مسجد کے علماء سے مل رہے ہیں، والد صاحب آئے، تو کھڑے ہوئے ہیں، تو والد صاحب آہستہ آہستہ اتر کر پاس سے گزرنے لگے، تو کہا گیا ان سے کہ حضرت! یہ ہمارے وزیر اعلیٰ اور وزیر اعظم ہیں، تو دعا کے لیے آئے ہیں، دعا چاہتے ہیں۔ ان دنوں انہوں نے غالباً سود کے خلاف ریٹ کی ہوئی تھی، سود کا مسئلہ چل رہا تھا بڑا، اخبارات میں آ رہا تھا۔ دعا کے لیے آئے ہیں۔ ایک دم کھڑے ہوئے، بڑے غصے سے دیکھا، فرمایا: میں اس کے لیے دعا کروں؟ جس نے سارے ملک میں سود کو پھیلا دیا ہے؟ بہت غصے سے یہ کہا اور پھر سیدھے ہوئے اور چل پڑے۔ نواز شریف تیزی سے دو تین قدم آگے ہوا اور کہا: حضرت! غلطی ہو گئی، معاف فرما دیں۔ تو والد صاحب ایک دم رکے، پیچھے کو مڑے، دیکھا اور بڑے تنزیہ اور غصے والے لہجے میں کہا: اچھا! اب معافی بھی مانگتے ہو؟ اور پھر واپس مڑے اور سیدھے چلے گئے، دعا پھر بھی نہیں کی اس کے لیے! دعا پھر بھی نہیں۔ یعنی عجیب شخص تھا! وہ جو ہم سنتے تھے، ہمارے علماء بادشاہوں سے، ان سے ڈرا کرتے تھے بھئی، بالکل بِعَيْنِهِ وہی حالت! اور علمی حیثیت بھئی، ہاں وہ قافیہ، انہوں نے حاصل محصول کی بحث آپ نے پڑھی ہوگی بھئی جامع میں! بڑی مشکل بحث ہے، بڑے بڑے علماء سے وہ اس کو، اس کو حل کرنا بڑے بڑے علماء مشکل سمجھتے ہیں، صحیح طریقے سے! تو والد صاحب جب فراغت کے بعد پڑھانا شروع کیا تو پہلی کتاب یہی حاصل محصول کی شرح لکھی بھئی! آج بھی اب موجود ہے، یہ تو نظر ثانی وغیرہ کی، تقریباً وہ حاصل محصول کوئی ایک صفحہ بنتا ہے یا ڈیڑھ صفحہ بنتا ہے، تو اس کی شرح ہے تقریباً ساڑھے چار سو صفحے میں، ساڑھے چار سو! تو یہ کتاب جب تصنیف کی، کہتے ہیں: ابتدائی زمانہ تھا، تو میں ٹرین میں مفتی محمود - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ رَحْمَةً وَاسِعَةً - ان کے ساتھ سفر کر رہا تھا، تو کچھ اور علماء، کوئٹہ وغیرہ کے علماء بھی موجود تھے، تو میں نے یہ، یہ کتاب جو تھی، کچھ عرصہ ہوا چھپ کے آئی تھی، میں نے ایک نسخہ کوئٹہ کے ایک عالمِ دین تھے، بوڑھے تھے، ان کو ایک کتاب یہ ہدیے میں دی کہ یہ میری طرف سے آپ ہدیہ رکھیں۔ انہوں نے کتاب اٹھائی، بیٹھ گئے، پڑھنا شروع کی، ابھی ایک ڈیڑھ صفحہ ہی دیکھا تھا کہ اٹھ کر اٹھے اور جیب سے دس روپے نکالے اور مجھے انعام کے طور پر دیے! دس روپے بھی اس زمانے میں بڑی دولت تھی بھئی! دس روپے مجھے دیے۔ مفتی محمود صاحب ہنسنے لگے اور فرمایا: کیا ہوا ابھی آپ نے ایک صفحہ نہیں دیکھا اور آپ دس روپے اتنی بڑی رقم انعام میں دے رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں چالیس سال سے شرحِ جامی پڑھا رہا ہوں، چالیس سال سے، کتنی تحقیقات ہوں گی ان کی! اور اس کتاب کے پہلے صفحے پر جو بات لکھی ہے وہ مجھے معلوم نہیں تھی، آج مجھے پتہ چلی! تو ان کی شخصیت بڑی عجیب تھی، بڑی عجیب شخصیت تھی! جہاں جاتے تھے ان کو، میں نے بتایا نا، ان کی شکل و صورت ایسی عجیب، ایسی با رعب اور ایسی وہ جو مَنْ كَانَ لِلَّهِ كَانَ اللَّهُ لَهُ، جو اللہ والا ہو جاتا ہے، ساری مخلوق اس کی ہو جاتی ہے، اس کی عملی مثال ہمارے سامنے آتی تھی۔ ہر شخص تابع ہو جاتا تھا، خود بخود تابع ہو جاتا تھا دیکھتے ہی! بڑے بڑے حکام! اور عجیب والد صاحب کا بھی شاہانہ مزاج تھا بھئی! صرف جاہ و جلال نہیں تھا ان کا، بلکہ شاہانہ جاہ و جلال تھا بھئی، بادشاہوں کی طرح رہتے تھے! تسامح کرتے تھے اکثر کچھ چیزوں میں، یوں کر دیتے جیسے میں نے دیکھا ہی نہیں! ہم چھوٹے تھے، کبھی شرارت کر رہے ہیں یا کچھ کر رہے ہیں، آ گئے، تو کوئی عام شرارت وغیرہ مطلب ہوتی تو بس یوں کر دیتے تسامح، جیسے میں نے دیکھا ہی نہیں بھئی، سیدھے نکل جاتے! ہاں، کوئی ایسی بات ہوتی جس کا سمجھانا ضروری ہوتا، پھر ڈانٹتے تھے بھئی! اسی لیے تسامح کرنا چاہیے بھئی، ہر بات کے پیچھے پڑھنا، ہر بات کے پیچھے پڑھنا، یہ درست نہیں ہے بھئی! حضرت مولانا درخواستِی صاحب بیمار تھے ایک مرتبہ، حضرت شیخ کے جاہ و جلال سے یوں معلوم ہوتا تھا، لوگ سمجھتے تھے شاید ان میں بڑا تکبر ہے! باتیں بھی سنتے تھے کہ لوگ کبھی کچھ کہتا، کوئی کچھ! کیونکہ مخالفین تو ہر ایک کے ہوتے ہیں بھئی، آپ جانتے ہیں امام ابو حنیفہ - رَحِمَهُ اللَّهُ - تھے بھئی، ان کی کتنے ہی، جتنے وہ بڑے تھے، اتنے مخالفین زیادہ! تو مخالفین کہتے تھے: دیکھا؟ کتنا تکبر ہے! لیکن جب بڑوں کے سامنے آتے، ہمیں پھر پتہ ہوتا چلتا، پھر اندازہ ہوتا، اس شخص میں کتنی عاجزی ہے، کتنی عاجزی ہے کہ بیان سے باہر ہے! حضرت مولانا خان محمد صاحب گھر میں تشریف لائے ایک مرتبہ، اور باتیں ہوتی رہیں، بیٹھے رہے، جب جانے لگے، والد صاحب آگے ہوئے تیزی سے اور حضرت کے جوتے سیدھے کر دیے بھئی! جوتے سیدھے کر دیے! حالانکہ کبھی ایک بڑا عالم ہو، وہ ایک دوسرے کی کون کرتا ہے بھئی؟ وہ بھی شیخ الحدیث ہیں اور امامِ دنیا، وہ آگے ہوئے جوتے سیدھے کر دیے! کتنی عاجزی کی بات! اور پھر حضرت مولانا خان محمد صاحب نے بھی عجیب جملہ ارشاد فرمایا! ایک دم جوتے پہننے لگے، والد صاحب نے سیدھے کر دیے، تو کھڑے ہو گئے، فرمایا: حضرت! یہ جوتے تو اب سر پر رکھنے کے قابل ہو گئے ہیں! اسی طرح ایک مرتبہ مولانا عبد اللہ درخواستِی صاحب - رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ - وہ بیمار ہوئے، میو ہسپتال میں داخل تھے، تو وہاں انہوں نے کسی طالب علم کو بھیجا والد صاحب کو بلوانے کے لیے، کہ ان کو بلا کر لاؤ! تو اس نے آ کر بتایا، تو والد صاحب عاجزی کا حالت آپ دیکھیں، بار بار کہتے، پوچھ رہے ہیں: کیا واقعی حضرت درخواستِی صاحب نے مجھے بلایا ہے بھئی؟ بھئی! کیا میرا نام لے کر بلایا انہوں نے؟ اتنی خوشی کہ بیان سے باہر بھئی! پھر چل گئے، ملنے گئے وہاں، حضرت درخواستِی صاحب کے پاس بیٹھے بھئی! وہ بستر پر لیٹے ہوئے ہیں ہسپتال میں، یہ ساتھ ہی بستر پر بیٹھے، حضرت کا ہاتھ تھاما ہوا ہے اور باتیں ہو رہی ہیں۔ باتوں باتوں میں بہت خوشی میں تھے کہ حضرت درخواستِی صاحب نے مجھے بلوا یا بھئی! تو فرمانے لگے کہ حضرت! آپ کو ایک عجیب واقعہ آج سناؤں، میں نے کبھی آج تک کسی کو نہیں سنایا! اور پھر فرمانے لگے کہ جب میں پہلی مرتبہ حج کے لیے گیا، غالباً سن چوہتر میں یا پچھتر میں گئے حج کے لیے، جب میں پہلی مرتبہ حج کے لیے گیا، تو کسی طرح کوشش کرتے کرتے میں میدانِ بدر تک پہنچ گیا، میدانِ بدر تو بہت دور ہے بھئی، شہر سے باہر! میں میدانِ بدر تک پہنچ گیا بھئی! اور یہ فرما رہے ہیں اور آہستہ، والد صاحب کی جیسے آواز ان پر رقت طاری ہوتی جا رہی تھی! اور پھر فرمایا کہ حضرت! وہاں پہنچ کر میں نے میدانِ بدر میں کھڑے ہو کر دعا کی، کہ اے اللہ! میں نے اب تک حدیث وغیرہ کی جو خدمت کی ہے، اگر آپ کی نظر میں مقبول ہے، تو مجھے اس اس مقام پر سے مطلع فر، اس مقام پر مطلع فرمائیں جہاں حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے قدمینِ مبارک لگے ہیں اس میدان میں! اور یہ فرماتے فرماتے، رقت طاری، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، رو رہے ہیں، اور پھر فرمانے لگے کہ حضرت! خدا گواہ ہے، اس وقت جب میں نے یہ دعا کی، وہاں کے ایک ایک پتھر نے مجھے پکار پکار کر کہا کہ مجھ پر حضور صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کے پاؤں لگے ہیں، مجھ پر پاؤں لگے ہیں! اللہ! چلیے جی، بس کافی ہیں بھئی یہ! تو، اور حضرت شیخ صاحب بیعت جو تھے وہ، یہ آخر میں حضرت پیر علاؤ الدین صاحب ہوتے تھے، شیخوپورہ میں، جو غالباً سن باانوے ترانوے میں ان کا انتقال ہوا، آخر میں ان سے بیعت تھے۔ آخر میں، اس سے پہلے کسی اور سے بیعت تھے، ان کا انتقال ہوا، اس سے پہلے حضرت مولانا شمس الحق افغانی - رَحِمَهُ اللَّهُ - وغیرہ ان کئیوں سے بیعت تھے جن کا انتقال ہوتا تو کسی اور سے بیعت ہو جاتے، تو خلافت کئیوں سے خلافت ملی ہوئی تھی، لیکن خود وہ بیعت وغیرہ کا سلسلہ نہیں تھا، کوئی خلیفہ ان کا نہیں تھا! فرماتے تھے بھئی: ہمارا کام یہ تدریس و تعلیم ہے، تو دوسرے کام کے لیے وقت نکالنا مشکل، اگر وہ شروع کرتے ہیں تو پھر اس کے لیے وقت نکالنا مشکل ہے! تو خلیفہ وغیرہ، کسی بعض، بھئی! بعض حضرات سے آپ سنیں گے، ہم ان کے خلیفہ یا کچھ ہیں بھئی، سمجھ جانا بھئی بڑا کذاب آدمی ہے بھئی یہ سمجھ لو، کوئی خلیفہ نہیں ہوا! بعض کہتے ہیں: ہم تعویذات ان سے سیکھے ہیں، بھئی! کوئی ان سے بات نہیں کر سکتا تھا! تعویذات کہاں سے سیکھ لیے آپ نے؟ لوگ بھی عجیب ہیں! تو پیر علاؤ الدین صاحب ان کو دیکھتے ہی، ان سے والد صاحب کی پہلی ملاقات تھی مولانا، انہوں نے فوراً محسوس، وہ انوارات ان کے محسوس کر لیے کہ یہ کوئی عام شخص نہیں ہے، عام پیر نہیں ہے، فوراً ان سے بیعت ہو گئے، ساتھ ایک شاگرد تھا، اس کو بھی کہا: فوراً بیعت ہو جاؤ ان سے بھئی! وہ عالم نہیں تھے لیکن انہوں نے بڑی دین کی خاطر مشقتیں برداشت کی تھیں، بہت دولت مند خاندان سے تعلق تھا، لیکن دین کی خاطر سب کچھ ٹھکرا دیا بھئی! ساری چیزیں چھوڑ دیں بھئی! اور ان کے حال یہ مولانا، اور علماء، عوام تو بھئی کشف وغیرہ کو دیکھتے ہیں، کرامات دیکھتے ہیں، اس کے بغیر مانتے ہی نہیں پیر کو! تو ان کی کشف و کرامت کا بھی یہ حال تھا کہ والد صاحب کبھی ان کو ملنے جایا کرتے تھے، والد صاحب ادھر گھر سے نکلتے، بغیر اطلاع کے کہ کس دن جائیں گے، کوئی پتہ نہیں، جس دن فرصت ہو گئی کبھی چلے جاتے، مہینے میں کبھی کبھار، تو جس دن گھر سے نکلتے اس دن وہ اپنے ساتھ تکیہ لگوا دیتے، جگہ بنوا دیتے کہ حضرت شیخ گھر سے چل پڑے ہیں، وہ پہنچنے والے ہیں، ان کے لیے جگہ بناؤ بھئی! جگہ بناؤ، اور جگہ بناؤ! اور وہ اتنے بڑے ولی تھے، ان کا آپریشن ہونے لگا، پتہ نہیں گردے کا یا کس چیز کا آپریشن تھا؟ جی! آپریشن تھا، تو ڈاکٹروں، ان کے ڈاکٹر بڑے بڑے مرید، انہوں نے کہا کہ حضرت! ہم آپ کا آپریشن کرتے ہیں، سارا انتظام کر دیتے ہیں، تکلیف ختم ہو جائے گی، بس یہ آپریشن آپ کروا لیں! وہ راضی نہیں ہوتے تھے، بڑی مشکل سے ان کو تیار کیا، تو تیار کرنے کے بعد پھر فرمایا کہ آپریشن کے لیے جب آئے تو فرمایا کہ حضرت! یہ ہم نے سارا انتظام کر دیا اور یہ خون وغیرہ کا بھی ہم نے بندوبست کر دیا آپ کے لیے اگر خون کی ضرورت پیش آئے آپریشن میں! انہوں نے عجیب بات کی، بزرگوں کی نظر کہاں ہوتی ہے؟ کہتے ہیں: دیکھو بھئی! یہ خون مجھے نہ لگانا! میں نے اپنے اس خون کی حرام سے بڑی حفاظت کی ہے! تو یہ پتہ نہیں کس کا تم خون مجھے لگاؤ گے؟ تو یہ خون مجھے نہ لگانا، چنانچہ اجازت نہیں دی خون لگانے کی کسی کو! شیخ صاحب کے متعلق کچھ خاص معمولات؟ ہاں؟ خاص معمولات کیا تھے؟ ادھر مختلف جگہوں پر پڑھیں بھئی، سب صوبہ سرحد میں، رابعہ، خامسہ تک، ہاں رابعہ خامسہ پھر بالآخر دار العلوم حقانیہ سے کیا، اکوڑا خٹک سے، مولانا عبد الحق صاحب ہوتے تھے وہاں! اور رابعہ، خامسہ میں کہتے ہیں وہاں جب بزم ہوا کرتی تھی طلبہ کی، تو وہ حضرت شیخ رابعہ، خامسہ میں تھے، تو اس وقت وہ عربی کے اندر تقریر کیا کرتے تھے! طالب علمی میں! اور اس زمانے میں عربی کے اشعار بھی کہا کرتے تھے! رابعہ، خامسہ میں! اور دیوبند سے بڑے بڑے علماء آئے، بڑے بڑے مولانا! مولانا حسین احمد مدنی - رَحِمَهُ اللَّهُ - وغیرہ وغیرہ بڑے بڑے علماء آئے، دار العلوم حقانیہ میں بہت بڑا جلسہ ہوا، تو وہاں پر پھر حضرت شیخ صاحب سے کہا انہوں نے مدرسے والوں نے کہ ان کے آنے پر کوئی استقبال کے طور پر کچھ اشعار آپ ہمیں لکھ کر دیں، جو ہم پھر پڑھیں گے۔ چنانچہ انہوں نے لکھ کر دیے اشعار اور پھر وہ مجلس کے اندر پڑھے گئے! سبقوں کے بعد وہ چلے جاتے جنگل میں بھئی، جنگل میں ایک جگہ کوئی تھی، کوئی دریا وغیرہ کے پاس، وہاں تکرار کیا کرتے تھے خود ہی! دن رات وہاں سبق یاد کیا کرتے تھے، دن رات! بس نماز کے لیے آئے، پھر چلے گئے! دن رات! خود ایک جگہ انہوں نے کاپی میں ان کے لکھا ہوا دیکھا، جس کو غالباً پھر انہوں نے کاٹ کر ختم بھی کیا تھا، کچھ چند لفظ سمجھ میں آئے، لکھا ہوا تھا کہ طالب علمی کے زمانے میں میرے پاس ایک روپیہ نہیں ہوتا تھا، ایک پیسہ نہیں ہوتا تھا! اتنی غربت تھی، اتنی غربت تھی کہ بیان سے باہر ہے بھئی! بیان سے باہر! نہ کوئی کھانے کی چیز، نہ کوئی صحیح پہننے کی چیز، نہ کوئی اور، کچھ بھی نہیں تھا میرے پاس! اور اتنی تکلیف تھی بھئی! لیکن فرماتے تھے: چائے کا میں بڑا شوقین تھا، چائے ضرور پیتا تھا! لیکن یہ آپ والی چائے نہیں، اعلیٰ قسم کی بھئی، بنی ہوئی، دودھ ہے اور فلاں! کہتے ہیں کہ میں پتی کچھ لے لیتا، حاصل کر لیتا، پھر اس سے چائے بناتا تھا، دودھ نہیں ہوتا تھا بھئی! چینی بھی نہیں ہوتی تھی، ویسے ہی چائے پیتا تھا! پانی میں ابالی پتی! اور پھر جب چائے بنا لیتا، اس پتی کو نکال کر دھوپ میں خشک کر لیتا، پھر رکھ لیتا! پھر دوبارہ جب بناتا اس سے پھر چائے بنا لیتا! پھر چائے بنا کر اس کو پھر خشک کر لیتا میں، کئی کئی مرتبہ ایک پتی کو میں استعمال کرتا تھا! اندازہ لگائیں، یہ کیسی حالت ہوگی؟ کیا آج کا کوئی طالب علم ایسا آپ کے ذہن میں آ سکتا ہے بھئی؟ اتنی غربت! اتنی غربت! جتنا بھی غریب ہو، کم از کم ایسا! لیکن کہتے تھے: اتنی غربت کے باوجود کبھی خلوت میں بھی شکوہ نہیں آیا کہ اے اللہ! تو نے مجھے اتنا غریب کیوں بنایا؟ کبھی خلوت میں بھی شکایت نہیں آئی زبان پر! اور کہتے ہیں: جتنے حالات تھے، معلوم ہوا یہ سب میرے علم کی تحصیل میں کیا تھے؟ معاون تھے اور مددگار تھے بھئی! اللہ خود ایسے اسباب بنا رہا تھا کہ دنیا میں کسی کو نہ اپنا دوست بنایا، نہ دوست بناؤ، نہ کسی کو اپنا ساتھی بناؤ، نہ کسی اور کی طرف توجہ کرو، بس پھر میری توجہ، کامل توجہ میں کس کی طرف کرتا تھا؟ علم کی طرف! تو دیکھا مولانا! علم میں جو محنت کرتا ہے، یہ علم اس کو اٹھا کر بڑی بلندی تک لے جاتا ہے، بشرطیکہ محنت کی جائے اخلاص اور کے ساتھ اور کوشش کی جائے! سمجھ میں آیا؟ تو آپ لوگ بھی محنت کریں، کوشش کریں! یہ نہیں ہو سکتا کوشش کبھی آپ کی ضائع چلی جائے! ہاں، یہ ہو سکتا ہے کہ اس کا محنت کا پھل دیر سے ملے، لیکن ملے گا ضرور! اللہ دیتے ضرور ہیں جیسے انسان کے ارادہ ہو، امید ہو، اس کے مطابق اللہ دیتے ضرور ہیں، چاہے کبھی کچھ دیر ہی کیوں نہ ہو جائے! اور آخرت میں تو ملنا ہی ملنا ہے! تو دعا کرو بھئی! اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلائے اور ہمیں بھی اسی طرح علم و عمل کی دولت سے مالا مال فرمائے! آمین! اگلا سبق نہیں ہے آپ کا؟ چلو بھئی! بس کرتے ہیں، باقی پھر کبھی انشاء اللہ کچھ سنائیں گے آپ کو انشاء اللہ، ابھی ایک۔ جی؟ وہ حدیث والی ایک بات سنا رہے تھے۔ کونسی؟ سبق میں چائے۔ ہاں! سبق میں وہ چائے کے، شیخ صاحب کبھی کبھی بھئی سبق میں بھی چائے منگوا لیتے، دورۂ حدیث کے اندر سبق ہوتا، کسی طالب علم کو گھر بھیجتے، وہ چائے لے آتا بھئی! ایک مرتبہ چائے منگوائی، ایک کپ میں ڈالی، کپ میں ڈال کر حضرت کو دی، عجیب، کبھی مذاق میں بھی فرماتے طلباء، چائے ایک کپ ہوئی، تو وہ پکڑتے ہاتھ میں اور پھر فرماتے کہ، ہنستے ہوئے کہتے: بھئی! آپ لوگ تو چائے نہیں پیئیں گے بھئی! بھئی! تم سب کو نہیں! بھئی! چائے تھوڑی ہے، سب کو تو نہیں پوری ہو سکتی! عجیب! ان کا عجیب انداز تھا، وہ بیان نہیں ہو سکتا! وہ جنہوں نے دیکھا، وہ دیکھنے سے ہی صرف تعلق رکھتا تھا! اور ایک مرتبہ چائے آئی، ایک اس میں اس سے ایک گھونٹ انہوں نے پیا بھئی! ایک گھونٹ کپ سے پی کر، پھر طالب علم کو دی: دو بھئی! یہ سب کو پلا دو بھئی! چنانچہ ڈھائی سو کے تین سو کے قریب طالب علم، وہ چائے کے کپ دیا بھئی ایک کو، وہ ہر ایک، ایک ایک گھونٹ اس میں سے چائے پیتا جا رہا ہے بھئی! بعض تو شرارتی تھے، وہ دو دو، تین تین گھونٹ پی لیتے! وہ طالب علم بتلاتا ہے کہ ڈھائی سو طالب علموں تک وہ کپ آخر تک چلا، لیکن وہ چائے ختم نہیں ہوئی بھئی! سبحان اللہ! چلیں!
71 approved lectures · 17 of 71