محسنات لفظیہ مولانا ہم نے شروع کی تھیں۔ صنعت جناس کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ دو لفظوں میں تشابہ کو کہتے ہیں بھئی۔ پھر مولانا یہ جناس تام وہ کہلاتا ہے کہ لفظ انواع حروف کے اندر بھی اتفاق ہو، اعداد میں بھی، ہیئت میں بھی اور ترتیب کے اندر بھی۔ پھر اس کے بعد اگر ان چاروں چیزوں میں اتفاق ہے اور دونوں کلمے ایک ہی نوع سے ہیں، دونوں اسم یا دونوں فعل یا دونوں حرف ہیں تو اس کو مماثل کہتے ہیں۔ اور اگر دو الگ الگ انواع سے ہیں تو اس کا نام جناس مستوفی ہے مولانا۔ اور پھر ان میں سے اگر ایک لفظ مرکب ہے اور دوسرا مفرد ہے تو اس کو جناس ترکیب کہتے ہیں۔ پھر ان میں اگر رسم الخط ایک جیسا ہے تو اس کو متشابہ کہتے ہیں، اگر رسم الخط الگ الگ ہے تو اس کو مفروق کہتے ہیں۔
اور اگر دونوں لفظوں میں اختلاف آئے چار چیزوں میں سے کسی ایک کے اندر، یعنی یا تو صرف انواع حروف میں اختلاف آئے گا، یا صرف عدد میں، یا ان کی ہیئت میں، یا ان کی ترتیب میں۔ تو اگر ہیئت کے اندر اختلاف آئے تو اس کو جناس محرف کہتے ہیں بھئی۔ اور جناس محرف کہتے ہیں۔ اور اگر اختلاف آئے عدد حروف کے اندر، یعنی ایک کلمے میں حرف زائد ہے، ایک زائد ہو گا یا زیادہ زائد ہوں گے۔ اگر ایک زائد ہے تو پھر وہ ایک زائد کلمے کے شروع میں ہو گا، یا وسط میں ہو گا، یا آخر میں ہو گا۔ اور اگر ایک سے زیادہ زائد ہیں تو وہ بھی یا شروع میں ہو گا، یا وسط میں ہو گا، یا آخر میں ہو گا۔ تو اگر ایک زائد ہے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ جناس ناقص کہتے ہیں بھئی۔
اور اگر مولانا انواع حروف میں اختلاف ہے تو کہتے ہیں اس میں شرط لگائی گئی ہے کہ ایک سے زیادہ حرف کے اندر اختلاف نہیں ہونا چاہیے، ورنہ اب یہ جناس سے بعید ہو جائیں گے دو کلمات بھئی۔ پھر دونوں حرف اگر قریب المخرج ہیں تو اس کو جناس مضارع کہتے ہیں۔ اور پھر یہ تین قسم پر انہوں نے بتلایا تھا کہ وہ حرف اجنبی وہ شروع میں آئے گا، یا وسط میں آئے گا، یا آخر میں آئے گا۔ اور اگر حروف جو ہیں قریب المخرج نہیں تو پھر اس صورت میں اس کو جناس لاحق کہتے ہیں بھئی۔ اور یہ بھی اس صورت میں بھی یا تو وہ اجنبی کلمہ اول میں آئے گا، یا وسط میں آئے گا، یا آخر میں آئے گا۔ آخر میں آئے گا۔
اور اگر مولانا ترتیب حروف کے اندر اختلاف آئے تو پھر اس کے اندر دیکھیں گے کہ اگر کل کا انعکاس ہوا ہے، سارے حروف کی ترتیب الٹی ہو گئی، تو اس کو تجنیس قلب کہتے ہیں، اور اگر بعض کی ترتیب الٹی تو اس کو قلب بعض کہتے ہیں۔ اور اگر یہ قلب جس کے اندر قلب ہوا ہے یہ دو کلمے ایک مولانا شعر کے شروع میں آ جائے اور دوسرا آخر میں آ جائے تو اس کو مقلوب مجنح کہتے ہیں۔ مجنح۔ اور اگر ایک متجانسین میں سے ایک دوسرے کے ساتھ مل جائے جن میں صنعت جناس ہو، جن میں مشابہت ہو مولانا، دو کلمے اکٹھے آ جائیں تو اس کو مزدوج بھی کہتے ہیں، مکرر بھی کہتے ہیں اور مردد بھی کہتے ہیں۔
اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ جناس کے ساتھ ملحق دو چیزیں اور بھی ہیں۔ ایک یہ کہ دو کلموں کے درمیان بظاہر تشابہ تو نہیں لیکن ان میں جامع ہے کہ دونوں کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے۔ دونوں کا اشتقاق ایک ہی مادے سے ہے۔ تو ایک یہ قسم ہوئی۔ اور ایک وہ کہ دونوں میں جامع شبہ اشتقاق ہے۔ جامع اشتقاق ہو گا یا جامع شبہ اشتقاق۔ یہ دو ملحق بالجناس ہیں مولانا۔
اس کے بعد صنعت رد العجز علی الصدر پڑھی تھی ہم نے۔ اور وہ نثر میں کہتے تھے کہ ایک کلمے کو فقرے کے شروع میں لانا اور دوسرے کلمے کو فقرے کے آخر میں لے کر آنا۔ ایسے دو کلمے کہ جو مکرر ہوں گے یعنی وہی پہلا کلمہ دوبارہ آئے گا، یا دونوں میں جناس ہو گا، یا دونوں کیا ہوں گے ملحق بالجناس ہوں گے اور ملحق بالجناس یا تو اشتقاق کی وجہ سے ہوں گے یا شبہ اشتقاق، تو چار صورتیں ہوئی تھیں۔ اور اسی طرح نظم کے اندر بھی یہ ہے کہ وہ دو کلمے جو مکرر آ رہا ہے یا ان میں جناس ہے یا ملحق بالجناس ہیں اشتقاق کی وجہ سے یا ملحق بالجناس ہیں شبہ اشتقاق کی وجہ سے، تو ان میں سے ایک دوسرے مصرعے کے آخر میں آئے گا ہمیشہ اور ایک جو ہے وہ پہلے مصرعے کے شروع میں، یا وسط میں، یا آخر میں، یا دوسرے مصرعے کے شروع میں، تو چار صورتیں ہوئیں۔ تو چار کو چار سے ضرب دی کتنی قسمیں بن گئیں؟ سولہ۔ سولہ میں سے تیرہ کی انہوں نے مثالیں ذکر کی تھیں۔
وَمِنْهُ أَيْ مِنَ اللَّفْظِيِّ السَّجْعُ، قِيلَ هُوَ تَوَاطُؤُ الْفَاصِلَتَيْنِ مِنَ النَّثْرِ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ فِي الْآخِرِ۔ یہاں تین چار پانچ اصطلاحات کو پہلے سمجھ لیں اچھی طرح بھئی۔ چار پانچ اصطلاحات۔ ایک ہے قرینہ۔ قرینہ کہتے ہیں مولانا کلام کے چھوٹے ٹکڑے کو جس کے ساتھ دوسرے ٹکڑے کو ملایا جائے بھئی۔ کلام کا چھوٹا ٹکڑا جس کے ساتھ دوسرے ٹکڑے کو ملایا جائے، یہ قرینہ کہلاتا ہے بھئی۔ اور دوسرا ہے فقرہ۔ فقرہ مولانا عام ہے، کبھی تو اس میں شرط لگائی جاتی ہے کہ اس کے ساتھ دوسرا فقرہ بھی کلام کے چھوٹے ٹکڑے کو کہتے ہیں لیکن یہ عام ہے کہ اس کے ساتھ دوسرا ٹکڑا ملا ہوا ہو یا نہ ملا ہوا ہو۔ بعض اوقات شرط لگاتے ہیں تو پھر اس صورت میں فقرہ اور قرینہ ایک ہی چیز بن گئے بھئی۔ فقرہ کس کو کہتے ہیں مولانا؟ کلام کے چھوٹے ٹکڑے کو اور یہ عام ہے، بعض اوقات بعض علماء اس میں شرط لگاتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک اور ٹکڑا بھی آئے کلام کا اور بعض اس میں شرط نہیں لگاتے۔
اس کے بعد ایک ہے سجع، ایک ہے فاصلہ۔ سجع اور فاصلہ ایک چیز ہیں مولانا۔ فقرے کا آخری لفظ جو ہے، آخری لفظ وہ سجع کہلاتا ہے اور فاصلہ کہلاتا ہے۔ دو فقرے آئے مولانا، یہ جو آخری لفظ ہیں یہ کیا کہلاتے ہیں؟ سجع کہلاتے ہیں یا فاصلہ کہلاتے ہیں بایں اعتبار کہ ان میں موافقت ہوتی ہے، ایک کلمہ کس کی طرح ہوتا ہے؟ دوسرے جیسا ہوتا ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے مولانا فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ، تو مَرْفُوعَةٌ، مَوْضُوعَةٌ، دیکھو یہ دونوں کیا ہیں؟ فاصلہ ہیں، فاصلہ بھئی آخری کلمہ۔ یہ جو کلام کے ٹکڑے ہیں فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ یہ ایک فقرہ یا ایک قرینہ ہے مولانا۔ دوسرا ہے وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ، یہ بھی ایک فقرہ ہے یا ایک قرینہ ہے۔ اور یہ مَرْفُوعَةٌ، مَوْضُوعَةٌ یہ کیا ہے؟ فاصلہ۔ اور اسی کو غیر قرآن میں کیا کہتے ہیں؟ سجع کہتے ہیں۔ قرآن میں ہو تو پھر اس کو فاصلہ کہتے ہیں بھئی۔ يَرْحَمُكَ اللّٰهُ۔
اس کے بعد ایک لفظ ہے قافیہ۔ قافیہ جیسے نثر کے اندر سجع یا فاصلہ ہے، اسی طرح شعر کے اندر اس کا نام ہے قافیہ۔ یعنی شعر کا آخری لفظ مولانا، نظم کے اندر شعر کے آخری الفاظ یا آخری لفظ کا جز مولانا، کچھ حصہ، آخری حصہ، یہ ایک جیسے ہوتے ہیں، اس کو کہتے ہیں قافیہ۔ تو قافیہ کس کو کہتے ہیں؟ شعر کے آخری کلمے کو کہتے ہیں، بعض علماء لکھتے ہیں۔ بعض کہتے ہیں پورے آخری کلمے کو نہیں کہتے بلکہ اس کے ایک جز کو کہتے ہیں، اور بعض کہتے ہیں اس کے ایک حرف کو کہتے ہیں بھئی، آخری حرف کو مولانا۔ جیسے شعر آئے آخر میں دال آ رہا ہے تو اس کا قافیہ کیا ہے؟ دال۔ اور اگر دال سے پورا کلمہ بعض کہتے ہیں تو ان کے نزدیک مثلاً کیا لفظ آیا؟ ضَرَبَ کا لفظ پورا شعر کے آخر میں آ رہا ہے تو پھر یہ کیا ہو گا؟ قافیہ ہو گا مولانا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یا جیسے شعر اوپر گزرا تھا لَوِ اقْتَصَرْتُمْ مِنَ الْإِحْسَانِ زُرْتُكُمُ، وَالْعَذْبُ يُهْجَرُ لِلْإِفْرَاطِ فِي الْخَصَرِ۔ تو بعض علماء کیا فرماتے ہیں؟ الْخَصَرِ یہ پورا کیا ہے؟ قافیہ۔ اور بعض کیا کہتے ہیں؟ آخری حرف را ہے مولانا، یہ قافیہ ہے۔ اور بھی بعض علماء نے تعریفات کی ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ بعضوں نے کہا آخری دو ساکن جو ہوں گے ان سے ماقبل کا جو متحرک ہو گا وہاں سے لے کر آخر تک یہ قافیہ کہلاتا ہے۔ وہ کیا کہتے ہیں؟ شعر کے آخری دو ساکن جو آ رہے ہیں اس سے ماقبل کا جو متحرک ہے وہاں سے لے کر آخر تک یہ سارا کیا کہلاتا ہے؟ قافیہ کہلاتا ہے۔
اس کے بعد ایک ہے حرف روی۔ حرف روی آخری حرف کو کہتے ہیں شعر کے اندر۔ تو آخری حرف کو کہتے ہیں شعر کے اندر جو آخری حرف ہو گا فِي الْخَصَرِ، یہ را کیا ہے؟ حرف روی ہے۔ تو آپ اشعار میں وہ پڑھتے ہیں ایک شعر کا اختتام جس حرف پر ہوتا ہے دوسرے شعر کا اختتام بھی اسی حرف پر ہوتا ہے۔ تو یعنی پورا کا پورا قصیدہ آپ اٹھا کر دیکھتے ہیں اگر پہلے شعر کا اختتام دال پر ہے تو آخر تک تمام اشعار کا اختتام کس پر ہو گا؟ دال پر ہو گا بھئی۔ یہ جو آخری حرف ہے یہ حرف روی کہلاتا ہے۔ نظم کے اندر جو آخری حرف ہوتا ہے شعر کا وہ کیا کہلاتا ہے؟ حرف روی کہلاتا ہے بھئی۔ اور اسی کے اعتبار سے قصیدے کا نام بھی ہوتا ہے۔ اگر دال پر ختم ہو رہا ہے تو قصیدہ کیا کہلائے گا؟ قصیدہ دالیہ۔ سمجھ میں آیا؟ تو اسی طرح بھئی یہ نام ہوتے ہیں بھئی۔
تو قرینہ کس کو کہتے ہیں؟ کلام کا چھوٹا ٹکڑا جس کے ساتھ دوسرے ٹکڑے کو ملایا جائے۔ فقرہ بھی کلام کا چھوٹا ٹکڑا لیکن کبھی اس میں شرط لگائی جاتی ہے دوسرا کلمہ ساتھ ملانے کی اور کبھی نہیں لگائی جاتی تو اس صورت میں یہ عام ہو گا چاہے دوسرا ٹکڑا ساتھ ملا ہو یا نہ ملا ہو۔ اس کے بعد سجع اور فاصلہ، میں نے بتلایا سجع اور فاصلہ دونوں کیا ہیں؟ ایک ہی چیز ہیں۔ ہاں نثر کے اندر مولانا فقرے کا آخری کلمہ پورا یہ کیا کہلاتا ہے؟ فاصلہ۔ اور یہی کیا کہلاتا ہے؟ سجع، بایں اعتبار مولانا کہ اس میں موافقت ہوتی ہے دونوں فقروں کے آخر کی مولانا۔ ایک فقرے کے آخر میں کیا آیا تھا؟ مَرْفُوعَةٌ۔ دوسرے کے آخر میں کیا آیا؟ مَوْضُوعَةٌ۔ تو یہ کیا ہے؟ فاصلہ اور سجع۔ اور اس کے بعد حرف روی میں نے بتلایا آخری حرف کو کہتے ہیں، کیا؟ حرف روی۔ اور ایک حرف روی کے اندر موافقت آتی ہے مولانا، اس کو کہتے ہیں تقفیہ۔ کیا کہتے ہیں؟ تقفیہ۔ بھئی کیسے؟ فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ، تو دیکھو مَرْفُوعَةٌ، مَوْضُوعَةٌ آخر میں کیا آ رہا ہے؟ عین۔ ہا کا اعتبار نہیں میں نے بتلایا، عین آخر میں آیا۔ تو دیکھو ان میں حرف روی میں موافقت آئی یا نہیں آئی؟ آئی۔ ایک میں عین ہے تو دوسرے میں بھی عین۔ تو یہ موافقت جو آ رہی ہے اس کا نام ہے تقفیہ۔ اس موافقت کا نام تقفیہ ہے مولانا۔ یہ اصطلاحات یاد رکھیں بھئی۔
اب ایک اور بات سن لیں بھئی۔ ابھی سجع بتلایا، سجع کس کو کہتے ہیں بھئی؟ قرینے کا آخری کلمہ۔ اور سجع بھی کس کو کہتے ہیں؟ آخری کلمہ بایں اعتبار کہ ان میں موافقت ہوتی ہے۔ آخری کلمے میں کیا ہوتی ہے؟ موافقت۔ جو ایک قرینے میں جو آ رہا ہوتا ہے اسی قسم کا دوسرے قرینے میں بھی آ رہا۔ تو یہ جو آخری کلمہ ہے بایں اعتبار کہ ان میں موافقت ہوتی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ سجع۔ اور بعض کہتے ہیں سجع موافقت کا نام ہے۔ کلمے کا نام نہیں، موافقت ہونے کا نام ہے، انہوں نے معنی مصدری کیا ہے۔ کیا کیا ہے؟ تو بعضوں نے تو کہا آخری کلمے کا نام سجع ہے، بعض کہتے ہیں نہیں، آخری کلموں میں جو موافقت آتی ہے اس موافقت آنے کا نام کیا ہے؟ سجع ہے، یعنی آخری کلمے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ معنی مصدری ہے موافقت ہونا۔
قِيلَ هُوَ تَوَاطُؤُ الْفَاصِلَتَيْنِ مِنَ النَّثْرِ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ فِي الْآخِرِ۔ سجع کہا گیا ہے هُوَ تَوَاطُؤُ، تَوَاطُؤُ کا معنی تَوَافُقُ، وہ موافقت ہے فَاصِلَتَيْنِ دو فاصلوں کی موافقت ہے مولانا، قرینے کے آخر میں جو دو کلمے آ رہے ہیں ان کے درمیان کیا آ جائے؟ موافقت۔ یہ موافقت آ جائے مِنَ النَّثْرِ نثر میں سے، نظم میں نہیں مولانا۔ عَلَى حَرْفٍ وَاحِدٍ کس پر موافقت آئے؟ ایک حرف پر۔ کہاں پر؟ فِي الْآخِرِ آخر میں۔ ایک کے آخر میں جو حرف آ رہا ہے دوسرے کے آخر میں بھی وہی حرف آئے، یعنی تقفیہ۔ وَهُوَ مَعْنِيُّ قَوْلِ السَّكَّاكِيِّ اور یہی مراد ہے علامہ سکاکی کے قول کی۔ مَعْنِيُّ پڑھیں مولانا، مَعْنَى نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ مراد ہے۔ وَهُوَ، یہ واو مولانا غلط ہے کاتب کی غلطی ہے، آگے علامہ سکاکی کے قول کو ذکر کر رہے ہیں۔ اور یہی مراد ہے علامہ سکاکی کے قول کی: هُوَ فِي النَّثْرِ۔ یہ علامہ سکاکی کا قول ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ هُوَ فِي النَّثْرِ كَالْقَافِيَةِ فِي الشِّعْرِ۔ هُوَ کا مرجع بتلایا أَيِ السَّجْعُ۔ سجع جو ہے نثر کے اندر ایسے ہی ہے جیسے کہ قافیہ ہے کس کے اندر؟ شعر کے اندر۔ تو جیسے شعر کے اندر قافیہ ہوتا ہے اسی طرح نثر کے اندر کیا کہلاتا ہے؟ سجع کہلاتا ہے۔ يَعْنِي مراد یہ ہے أَنَّ هَذَا مَقْصُودُ كَلَامِ السَّكَّاكِيِّ وَمَحْصُولُهُ کہ یہ ہے کلام سکاکی کا مقصود اور اس کا حاصل مولانا۔ مَحْصُولُهُ معنی حاصل۔
وَإِلَّا فَالسَّجْعُ عَلَى التَّفْسِيرِ۔ تو مولانا مصنف علامہ سکاکی نے کیا ذکر کیا؟ بات یہاں پر یہ ذکر کریں گے کہ علامہ سکاکی کی بات سے یہ سمجھ میں آتی ہے کہ سجع اس آخری کلمے کا نام ہے۔ سجع کس چیز کا نام ہے؟ آخری کلمے کا۔ کیونکہ انہوں نے کیا فرمایا؟ هُوَ فِي النَّثْرِ كَالْقَافِيَةِ فِي الشِّعْرِ۔ اور شعر کے اندر قافیہ تو کہتے ہیں آخری کلمے کو، تو نثر کے اندر بھی آخری کلمے کو کیا کہیں گے؟ سجع کہیں گے۔ سمجھ میں آیا؟ کیونکہ سجع کس کی طرح ہے؟ قافیے کی طرح، اور قافیہ کس کو کہتے ہیں؟ شعر کے آخری کلمے کو، تو سجع کس کو کہیں گے نثر کے اندر؟ آخری کلمے کو کہیں گے بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟ تو اب علامہ سکاکی کی اس بات سے یہ پتہ چلا کہ قافیہ کس کا نام ہے؟ نفس لفظ کا، تو سجع بھی کس کا نام ہوا؟ نفس لفظ کا نام ہوا۔ جبکہ مصنف نے جو تعریف کی انہوں نے تَوَاطُؤُ سے کی، معنی مصدری سے، موافقت ہونا۔ تو انہوں نے جو تعریف کی مصنف نے وہ کیا؟ دو کلموں میں موافقت کا آنا یہ کیا کہلاتا ہے؟ سجع۔ اور علامہ سکاکی کیا فرماتے ہیں کہ وہ کلمہ کیا کہلاتا ہے؟ سجع۔ تو ان کے نزدیک ہے معنی مصدری، علامہ سکاکی کے قول سے کیا ظاہر ہو رہا ہے؟ بھئی ان کے نزدیک ہے دیکھو یہ کلمہ آخر میں آ رہا ہے اس کلمے کا نام سجع ہے، اور یہ مصنف جو ذکر کر رہے ہیں کہ اس کلمے کا نام سجع نہیں ہے، اس کلمے کی دوسرے کلمے کے ساتھ جو موافقت ہو رہی ہے اس موافقت ہونے یعنی معنی مصدری، موافقت ہونے کا نام کیا ہے؟ سجع ہے۔ فرق سمجھ میں آیا بھئی؟ تو مصنف فرماتے ہیں کہ یہ جو تعریف کی گئی موافقت ہونا، یہی مراد ہے علامہ سکاکی کے قول سے۔ ان کی بھی یہی مراد ہے۔
وَإِلَّا، اگر ایسا نہ ہو تو فَالسَّجْعُ عَلَى التَّفْسِيرِ الْمَذْكُورِ بِمَعْنَى الْمَصْدَرِ تو سجع جو ہے اوپر جو تفسیر مذکور ہوئی بِمَعْنَى الْمَصْدَرِ کس معنی میں ہے؟ مصدری معنی میں ہے، أَعْنِي تَوَافُقَ الْفَاصِلَتَيْنِ فِي الْحَرْفِ الْأَخِيرِ یعنی موافقت آنا دو فاصلتین کی حرف اخیر کے اندر۔ یہ اوپر مصنف کی تعریف کے مطابق تو معنی مصدری ہوا۔ وَعَلَى كَلَامِ السَّكَّاكِيِّ هُوَ نَفْسُ اللَّفْظِ الْمُتَوَاطِئِ لِلْآخَرِ فِي أَوَاخِرِ الْفِقَرِ۔ وہ نفس لفظ ہے الْمُتَوَاطِئِ جو موافق ہے لِلْآخَرِ دوسرے کے۔ وہ لفظ جو دوسرے کے موافق ہے فِي أَوَاخِرِ الْفِقَرِ کہاں پر؟ فقروں کے آخر میں۔ اس نفس لفظ کا نام کیا ہے اب؟ سجع۔ نفس لفظ موافق ہی کا کیا نام ہے علامہ سکاکی کے نزدیک؟ سجع۔ وَلِذَا ذَكَرَهُ، کہتے ہیں اسی وجہ سے، دلیل دے رہے ہیں کہ ان کے نزدیک لفظ کا نام ہے یہ معنی مصدری کا نام نہیں، کہ اسی لیے انہوں نے علامہ سکاکی نے ذکر کیا ہے بِلَفْظِ الْجَمْعِ جمع کے لفظ کے ساتھ حَيْثُ قَالَ اس طور پر کہ وہ فرماتے ہیں: إِنَّهَا فِي النَّثْرِ كَالْقَوَافِي فِي الشِّعْرِ۔ دیکھا جمع کا لفظ لے کر آئے كَالْقَوَافِي۔ إِنَّهَا، ہا ضمیر مولانا لوٹ رہی ہے کس کی طرف؟ سجع کی جمع مولانا، اسجاع کلام کے نثر کے اندر اسی طرح ہیں جیسے قافیے ہیں کس کے اندر؟ شعر کے اندر۔ اور سجع ہے مصدر اور مصدر کا اطلاق قلیل اور کثیر سب پر ہوتا ہے تو اس کی جمع نہیں لائی جاتی۔ لیکن جب جمع لائی جائے گی تو دراصل اشارہ کیا جاتا ہے انواع کی طرف اور یہاں تو انواع مراد ہو نہیں سکتیں، تو لہذا معلوم ہوا ان کا ارادہ لفظ کا ہے اسی لیے جمع لے کر آئے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ مصدر کو جمع کس لیے لاتے ہیں؟ انواع کے لیے، اور یہاں تو انواع کا ارادہ نہیں، اور لے کر تو وہ جمع آئے ہیں تو معلوم ہوا اس سے ان کی مراد کیا ہے؟ لفظ ہیں۔
وَذَلِكَ لِأَنَّ الْقَافِيَةَ، دوسری دلیل مولانا کہ قافیہ جو ہے، یہ بتلا رہے ہیں ثابت کر رہے ہیں کہ سجع کیا ہے؟ نفس لفظ کا نام ہے۔ ایک علامہ سکاکی کے قول سے بھی یہ مفہوم ہوتا ہے کہ یہ نفس لفظ کا نام ہے۔ نیز قافیہ کی جو تعریف علماء کرتے ہیں قافیہ کلمے کا نام ہے، اور علامہ سکاکی فرما رہے ہیں سجع بھی کس کی طرح ہے؟ قافیہ کی طرح۔ تو جب قافیہ لفظ کا نام ہے تو سجع بھی کس کا نام ہوا؟ لفظ کا نام ہوا۔ وَذَلِكَ دوسری دلیل لِأَنَّ الْقَافِيَةَ لَفْظٌ فِي آخِرِ الْبَيْتِ وہ لفظ ہے شعر کے آخر میں۔ إِمَّا الْكَلِمَةُ نَفْسُهَا یا تو نفس کلمہ ہی ہے بعض علماء کے نزدیک، أَوِ الْأَخِيرُ مِنْهَا یا بعض کے نزدیک کیا ہے؟ اس کا آخر ہے، أَوْ غَيْرُ ذَلِكَ یا اس کے علاوہ اور تعریف بعض علماء نے کی ہے عَلَى تَفْصِيلِ الْمَذْهَبِ أَيْ عَلَى اخْتِلَافِ الْمَذْهَبِ بنا بر اختلاف مذاہب کے کہ مختلف مذاہب ہیں۔ وَلَيْسَتْ عِبَارَةً عَنْ تَوَاطُؤِ الْكَلِمَتَيْنِ مِنْ أَوَاخِرِ الْأَبْيَاتِ اور یہ قوافی جو ہیں مولانا عبارت نہیں ہے اس سے کلمات کے موافق ہونا اشعار کے آخر میں۔ کلمات کا موافق ہونا یعنی معنی مصدری سے عبارت نہیں ہے قافیہ، بلکہ قافیہ تو عبارت ہے کس سے؟ نفس کلمات سے، تو معنی مصدری سے عبارت نہیں۔
فَالْحَاصِلُ، حاصل کلام یہ مولانا کہ أَنَّ السَّجْعَ قَدْ يُطْلَقُ عَلَى الْكَلِمَةِ الْأَخِيرَةِ مِنَ الْفِقْرَةِ سجع کا کبھی کبھار اطلاق ہوتا ہے فقرے کے آخری کلمے پر بِاعْتِبَارِ تَوَافُقِهَا لِلْكَلِمَةِ الْأَخِيرَةِ مِنَ الْفِقْرَةِ الْأُخْرَى بایں اعتبار کہ اس کی موافقت آ رہی ہے دوسرے فقرے کے کلمہ اخیرہ سے۔ وَقَدْ يُطْلَقُ عَلَى نَفْسِ تَوَافُقِهِمَا اور کبھی کبھار اس کا اطلاق کس پر ہوتا ہے؟ نفس دونوں کے موافق ہونے پر ہوتا ہے۔ وَمَرْجِعُ الْمَعْنَيَيْنِ وَاحِدٌ اور ان دونوں معنوں کا مرجع ایک ہی ہے۔ مآل اور مرجع کیا ہے؟ ایک ہی ہے۔ اس لیے کہ پہلے نے کیا کہا؟ بعضوں نے کہا نفس کلمے کا نام ہے لیکن بایں اعتبار کہ اس کی موافقت ہے کس کے ساتھ؟ دوسرے کلمے کے۔ تو موافقت آیا یا نہیں آیا؟ اور بعضوں نے کہا ہے موافقت ہونے کا نام ہی ہے، موافقت ہی کا نام کیا ہے؟ سجع ہے۔ تو اس میں بھی اعتبار کس کا ہے؟ موافقت کا ہے۔
وَهُوَ أَيِ السَّجْعُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ۔ سجع مولانا تین قسم پر ہے: ایک مطرف ہے، ایک مولانا مرصع ہے، ایک متوازی ہے، تین قسمیں آئیں گی بھئی۔ دیکھو یہاں دو چیزیں ہیں بھئی۔ دو چیزیں۔ ایک ہے وزن، ایک ہے تقفیہ۔ کتنی چیزیں؟ دو۔ ایک وزن اور ایک تقفیہ، قاف کے ساتھ، قافیہ سے۔ تقفیہ کس کو کہتے ہیں بھئی؟ ابھی تعریف میں نے آپ کو بتلائی تھی۔ آخری حرف کا ایک جیسا ہونا۔ ایک کے آخر میں را تو دوسرے کے آخر میں بھی را۔ ایک کے آخر میں عین تو دوسرے کے آخر میں بھی عین۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تقفیہ، حرف آخر کا موافق ہونا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یاد رکھو مولانا سجع کی تمام قسموں کے اندر حرف اخیر کا موافق ہونا ضروری ہے، یعنی تقفیہ تو ہر حال میں آئے گا بھئی۔ کیا آئے گا؟ تقفیہ آئے گا۔ ہاں وزن کبھی برابر ہو گا آخری کلمے کا یا وزن برابر نہیں ہو گا۔ ہاں آخری کلمے کا حرف اخیر ایک جیسا ہو گا سب کا، لیکن کبھی وزن برابر ہو گا یا وزن برابر نہیں ہو گا۔
اب تقفیہ اور وزن کے اعتبار سے اس کی تین قسمیں بن گئیں۔ کس طرح تین بنیں؟ دیکھو سجع کے اندر یا تو دونوں کلموں میں موافقت صرف کس کے اندر ہو گی؟ تقفیہ کے اعتبار سے موافقت، تقفیہ تو ضروری ہے مولانا۔ تو کبھی صرف تقفیہ کے اعتبار سے موافقت ہو گی وزن کے اعتبار سے موافقت نہیں ہو گی۔ یہ ایک قسم بن گئی کہ تقفیہ تو ہے لیکن وزن میں موافقت نہیں۔ دوسری قسم وزن میں بھی موافقت اور تقفیہ بھی موجود ہے مولانا یعنی حرف اخیر میں بھی موافقت ہے۔ یہ پھر دو قسم پر ہے۔ کہ بھئی آخری کلمے میں تو وزن بھی ایک جیسا ہے اور تقفیہ بھی ہے، حرف اخیر میں بھی کیا ہے؟ موافقت۔ تو فقرے کے باقی کلمات جو ہیں ان میں بھی سب کے اندر یا اکثر کے اندر وزن اور تقفیہ میں موافقت ہو گی یا نہیں ہو گی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو اگر ہے اکثر کے اندر یا تمام کے اندر تو یہ مرصع، اگر نہیں ہے تو یہ متوازی۔
دیکھو بھئی دو تین قلم دو بھئی۔ لو بھئی یہ مولانا ایک قرینہ ہے، یہ دوسرا قرینہ ہے۔ فاصلہ کس کو کہیں گے بھئی؟ آخری حرف۔ یہ جو آخری حرف اس کا ہے، یہ آخری حرف یہ کیا ہے؟ فاصلہ۔ ان کا ایک دوسرے کے ساتھ موافق ہونا یہ کیا کہلاتا ہے؟ سجع کہلاتا ہے۔ کیا کہلاتا ہے؟ سجع کہلاتا ہے۔ اب یہ جو دو آخری کلمے ہیں ان کے اندر تقفیہ تو ہر حال میں چاہیے کیونکہ سجع میں یہ ضروری ہے، آخری حرف متفق۔ ہاں وزن ان دونوں کا ایک جیسا ہو گا یا نہیں، اس کا اور اس کا؟ اگر ایک جیسا وزن نہیں تو اس کا نام کیا ہے؟ مطرف۔ صرف تقفیہ ہے، وزن ایک جیسا ان دونوں کا نہیں ہے۔ اور اگر وزن بھی ایک جیسا ہے ان دونوں کا، پھر ان باقیوں کے اندر بھی دیکھ لو، ان باقیوں میں بھی وزن اور تقفیہ پایا جائے گا، آپس میں ایک جیسے ہوں گے یا نہیں ہوں گے۔ تو اس اعتبار سے کتنی قسمیں بن گئیں؟ تین قسمیں بن جائیں گی وہاں۔
مولانا میں نے آپ کو بتلایا سجع جو ہے تین قسم پر ہے: مطرف، مرصع اور متوازی۔ اس لیے کہ یہاں دو چیزیں ہیں: ایک تقفیہ ہے اور ایک وزن ہے۔ تو تقفیہ کے اندر تو موافقت، تقفیہ تو پایا جائے گا یعنی حرف اخیر کے اندر تو ہمیشہ موافقت ہو گی سجع کے اندر۔ وزن کے اندر بھی دونوں کلمے ایک کلمے کا وزن دوسرے کلمے جیسا ہو گا یا نہیں۔ اگر آخری کلمے میں تقفیہ تو ہے لیکن وزن ایک جیسا نہیں تو اس کو کہتے ہیں مطرف بھئی، سجع مطرف کہتے ہیں۔ اور اگر تقفیے کے ساتھ ساتھ آخری کلموں کا وزن بھی ایک جیسا ہے، پھر قرینے کے باقی الفاظ جو ہیں ان میں بھی وزن اور تقفیہ میں موافقت ہو گی یا نہیں ہو گی۔ یعنی اگر اکثر کے اندر یا تمام کے اندر تقفیہ اور وزن میں برابری ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مرصع۔ کیا کہلاتا ہے؟ مرصع۔ آخری کلموں کے اندر کیا ہے؟ تقفیہ بھی ہے اور وزن بھی ہے، اور باقی کلموں کے اندر بھی تمام کے اندر یا اکثر کے اندر تقفیہ اور وزن ایک جیسا ہے تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ مرصع۔ اور اگر ایسا نہیں، یعنی آخری کلمے کے اندر تو تقفیہ اور وزن ایک جیسا ہے لیکن باقی تمام یا اکثر کے اندر وزن اور تقفیہ نہیں تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ متوازی کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آ گئی سب کو تعریف؟
وَهُوَ أَيِ السَّجْعُ عَلَى ثَلَاثَةِ أَضْرُبٍ۔ یہ تین قسم پر ہے: مُطَرَّفٌ، ایک مطرف ہے إِنِ اخْتَلَفَتَا أَيِ الْفَاصِلَتَانِ فِي الْوَزْنِ جب کہ اختلاف ہو دونوں فاصلوں کا وزن کے اندر، نَحْوُ مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلّٰهِ وَقَارًا وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا۔ تو دیکھو ایک قرینہ ہے مَا لَكُمْ لَا تَرْجُونَ لِلّٰهِ وَقَارًا، دوسرا ہے وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا۔ اب اس میں فاصلہ کیا ہے مولانا؟ وَقَارًا اور أَطْوَارًا۔ تو دیکھیے کیا ہے اس میں؟ تقفیہ تو ہے، حرف اخیر تو ایک جیسے، البتہ وزن ایک جیسا نہیں۔ وَقَارًا، أَطْوَارًا وزن الگ الگ ہیں دونوں کے۔ تو یہ مطرف ہے۔ فَإِنَّ الْوَقَارَ وَالْأَطْوَارَ مُخْتَلِفَانِ وَزْنًا۔ وَقَارَ اور أَطْوَارَ مختلف ہیں باعتبار وزن کے۔
وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو أَيْ وَإِنْ لَمْ تَخْتَلِفَا فِي الْوَزْنِ اگر دونوں وزن میں مختلف نہ ہوں، فَإِنْ كَانَ مَا فِي إِحْدَى الْقَرِينَتَيْنِ مِنَ الْأَلْفَاظِ پس پھر اگر مولانا ایک قرینے کے جو الفاظ ہیں سارے کے سارے أَوْ كَانَ أَكْثَرُهُ أَيْ أَكْثَرُ مَا فِي إِحْدَى الْقَرِينَتَيْنِ یعنی یا اکثر وہ جو ایک قرینے کے اندر ہیں، ایک قرینے کے سارے الفاظ یا اکثر مِثْلَ مَا يُقَابِلُهُ مِنَ الْقَرِينَةِ الْأُخْرَى وہ اسی کے مثل ہیں جو دوسرا قرینہ ہے اس کے مقابلے میں فِي الْوَزْنِ وَالتَّقْفِيَةِ وزن کے اندر اور تقفیہ أَيْ التَّوَافُقِ عَلَى الْحَرْفِ الْأَخِيرِ یعنی حرف اخیر میں موافقت کے اندر، فَتَرْصِيعٌ تو یہ کیا ہے؟ ترصیع۔ تو میں نے اس کو ذکر کیا مرصع سے بھئی جو موافق ہے، اوپر مطرف آیا تھا آگے متوازی آئے گا تو یہ مرصع ہوا۔ نَحْوُ فَهُوَ يَطْبَعُ الْأَسْجَاعَ بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ، وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ۔ تو دیکھو ایک قرینہ کیا ہے؟ يَطْبَعُ الْأَسْجَاعَ بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ۔ دوسرا کیا ہے؟ يَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ۔ یہ قرینہ، اور فاصلہ کیا ہے؟ لَفْظِهِ اور وَعْظِهِ۔ اور ان دونوں کے اندر مولانا تقفیہ بھی ہے، ایک کے آخر میں ہا تو دوسرے کے آخر میں بھی ہا، اور وزن بھی ایک جیسا لَفْظِهِ، وَعْظِهِ بالکل وزن ایک جیسا ہے۔ اور باقی قرینے کے جو الفاظ ہیں ان کے اندر بھی وزن اور تقفیہ تمام میں ہے: دیکھو يَطْبَعُ اس کے مقابلے میں دوسرے میں آ رہا ہے يَقْرَعُ، ایک میں ہے الْأَسْجَاعَ دوسرے میں ہے الْأَسْمَاعَ، تیسرا ہے بِجَوَاهِرِ آگے ہے بِزَوَاجِرِ۔ تو اب سارے کلمات کا وزن بھی ایک جیسا اور ان میں تقفیہ بھی ہے۔ معنی کیا ہے؟ فَهُوَ يَطْبَعُ الْأَسْجَاعَ وہ ڈھال رہا تھا سجعوں کو بِجَوَاهِرِ لَفْظِهِ اپنے لفظوں کے جواہرات کے ساتھ، وَيَقْرَعُ الْأَسْمَاعَ اور کھٹکھٹا رہا تھا کانوں کو بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ اپنے وعظ کی ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ۔ فَجَمِيعُ مَا فِي الْقَرِينَةِ الثَّانِيَةِ مُوَافِقٌ لِمَا يُقَابِلُهُ مِنَ الْقَرِينَةِ الْأُولَى پس وہ سارا جو کہ قرینہ ثانیہ میں ہے وہ موافق ہے اس کے جو اس کے مقابل ہے قرینہ اولی میں۔ وَأَمَّا لَفْظُ فَهُوَ، بھئی فَهُوَ کا لفظ شروع میں آ رہا ہے فَهُوَ يَطْبَعُ، فَهُوَ یہ جو ہے لفظ فَلَا يُقَابِلُهُ شَيْءٌ مِنَ الثَّانِيَةِ اس کے مقابلے میں ثانیہ میں کوئی چیز نہیں۔ وَلَوْ قِيلَ اگر یہ کہا جاتا بَدَلَ الْأَسْمَاعِ الْآذَانَ، الْأَسْمَاعِ کی جگہ کیا کہہ دیا جاتا؟ الْآذَانَ کہہ دیا جاتا، يَقْرَعُ الْآذَانَ بِزَوَاجِرِ وَعْظِهِ، تو پھر مولانا سارے کلمات میں تقفیہ اور وزن نہ آتا بلکہ اکثر میں آ جاتا کیونکہ ایک میں تو فرق آ گیا، ادھر تھا الْأَسْجَاعَ اور ادھر کیا تھا؟ الْآذَانَ، اور وزن دونوں کا مختلف ہے۔ تو لَكَانَ مِثَالًا لِمَا يَكُونُ أَكْثَرُ مَا فِي الثَّانِيَةِ مُوَافِقًا لِمَا يُقَابِلُهُ تو یہ مثال بن جاتا اس کی کہ جس کے اندر ثانی کے اکثر موافق ہوتے اول کے۔
وَإِلَّا فَمُتَوَازٍ اور اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی ہے ایسا نہ ہو؟ آخری کلمے کے اندر تو تقفیہ بھی ہے اور وزن میں برابری بھی ہے لیکن باقی تمام کلمات یا اکثر کلمات میں وزن اور تقفیہ میں برابری نہیں، تو پھر فَمُتَوَازٍ تو وہ متوازی ہے، أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ جَمِيعُ مَا فِي الْقَرِينَةِ وَلَا أَكْثَرُهُ مِثْلَ مَا يُقَابِلُهُ مِنَ الْأُخْرَى فَهُوَ السَّجْعُ الْمُتَوَازِي تو یہ سجع متوازی ہے۔ نَحْوُ فِيهَا سُرُرٌ مَرْفُوعَةٌ وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ۔ جنت کے اندر سُرُرٌ تخت ہوں گے اونچے اونچے، بلند تخت ہوں گے، وَأَكْوَابٌ مَوْضُوعَةٌ اور آبخورے رکھے گئے ہوں گے۔ أَكْوَابٌ مولانا كُوبٌ کی جمع ہے، وہ کوزہ وہ صراحی جس کا دستہ نہ ہو مولانا۔ ایک وہ صراحی یا کوزہ ہوتا ہے جس کا دستہ ہوتا ہے، ایک بغیر دستے کے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اس کو كُوبٌ کہتے ہیں، پیالے کو بھی كُوبٌ کہتے ہیں۔ اور وہ کوزے ہوں گے بغیر دستے کے رکھے ہوئے۔ تو دیکھو مولانا مَرْفُوعَةٌ، مَوْضُوعَةٌ یہ فاصلہ کے اندر تو تقفیہ بھی ہے اور وزن بھی ایک جیسا دونوں کا، لیکن باقی الفاظ أَكْوَابٌ، سُرُرٌ دونوں میں موافقت ہے وزن کے اندر؟ تقفیہ بھی نہیں، وزن بھی نہیں۔
تو اس میں تین صورتیں بنتی ہیں مولانا۔ بھئی آخری کلمے کے اندر تو وزن اور تقفیہ ہو گا، برابری۔ باقی کلمات کے اندر اکثر یا ساروں کے اندر موافقت تقفیہ میں اور وزن کے اندر نہیں ہو گی۔ یا تو مولانا نہ تو وزن برابر ہو گا باقی کلمات کا اور نہ ہی تقفیہ ہو گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ نہ تو وزن ہو گا اور نہ ہی تقفیہ باقی کلمات میں۔ یا صرف تقفیہ ہو گا وزن نہیں، یا صرف وزن ہو گا تقفیہ نہیں۔ تو تین صورتیں بن گئیں۔ تو دیکھو یہ جو سُرُرٌ اور أَكْوَابٌ آیا نہ ان میں تقفیہ ہے، آخری حرف ایک کا ہے را دوسرے کا ہے با تو دونوں میں موافقت تقفیہ میں نہیں، اور وزن بھی ایک جیسا نہیں دونوں کا۔ لِاخْتِلَافِ سُرُرٍ وَأَكْوَابٍ فِي الْوَزْنِ وَالتَّقْفِيَةِ بوجہ اختلاف سُرُرٍ اور أَكْوَابٍ کے وزن اور تقفیہ میں۔ وَقَدْ يَخْتَلِفُ الْوَزْنُ فَقَطْ اور کبھی کبھار صرف وزن مختلف ہو گا تقفیہ ہو گا، جیسے وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا۔ اور قسم ہے ان ہواؤں کی جو بھیجی جاتی ہیں نفع دینے کے لیے، فَالْعَاصِفَاتِ عَصْفًا پھر ان ہواؤں کی جو تیزی سے چلتی ہیں۔ تو دیکھیے عُرْفًا، عَصْفًا ان میں کیا ہے مولانا؟ وزن ایک جیسا ہے یا الگ الگ ہے؟ وزن ایک ہے مولانا۔ بھئی وزن شعری مراد ہے۔ ایک ہوتا ہے وزن شعری، ایک ہوتا ہے وزن تصریفی۔ وزن تصریفی وہ ہوتا ہے جس میں ایک حرف پر جو حرکت آ رہی ہے اس کے مقابل دوسرے حرف پر بھی وہی حرکت آئے، جیسے ضَرَبَ اور قَتَلَ دونوں کا وزن ایک ہے کیونکہ ضَرَبَ ضاد پر فتحہ ہے تو ادھر قاف پہ بھی فتحہ، را پہ فتحہ ہے تو ادھر تا پر بھی فتحہ ہے۔ جبکہ ایک وزن شعری ہوتا ہے، وزن شعری کے اندر متحرک کے مقابلے میں متحرک آتا ہے ساکن کے مقابلے میں ساکن آتا ہے۔ سمجھ میں آیا؟ اب متحرک کے مقابلے میں دیکھو یہاں متحرک ہے، عین متحرک ہے تو دوسرے میں بھی عین متحرک۔ ہاں حرکت کو نہیں دیکھنا، حرکت چاہے مختلف ہو، صرف حرکت کے مقابلے میں حرکت اور سکون کے مقابلے میں سکون آنا چاہیے، یہ وہ ہے مولانا۔ تو لہذا اس صورت میں یہ تو مولانا یہ مرصع بن جائے گی اس لیے کہ الْمُرْسَلَاتِ اور الْعَاصِفَاتِ کے اندر بھی مولانا وزن شعری ہے بھئی۔ الْمُرْسَلَاتِ میم متحرک، الْعَاصِفَاتِ کے اندر عین متحرک، حرکت کو نہیں دیکھنا بھئی صرف متحرک ہیں دونوں۔ را ساکن، عین کے بعد الف ساکن۔ پھر سین متحرک تو صاد بھی متحرک۔ پھر فا متحرک تو لام بھی متحرک۔ فا کے بعد الف ساکن تو لام کے بعد بھی الف ساکن۔ تو یہ تو مرصع کی مثال ہوئی بھئی، اس کو بطور مثال ذکر کرنا معلوم ہوا صحیح نہیں۔ وَقَدْ تَخْتَلِفُ التَّقْفِيَةُ فَقَطْ اور کبھی صرف تقفیہ میں اختلاف آئے گا كَقَوْلِنَا جیسے ہمارا یہ قول: حَصَلَ النَّاطِقُ وَالصَّامِتُ، وَهَلَكَ الْحَاسِدُ وَالشَّامِتُ۔ حاصل ہوا ناطق، ناطق بولنے والا، صامت خاموش بے زبان، یعنی غلام مراد ہے بولنے والا اور صامت سے خاموش بے زبان یعنی سواری جانور مراد ہے، غلام بھی اور سواری کا جانور بھی حاصل ہو گیا۔ وَهَلَكَ الْحَاسِدُ وَالشَّامِتُ اور ہلاک ہو گیا حسد کرنے والا اور شامت کہتے ہیں اس کو جو دوسروں کی مصیبت پر خوش ہوتا ہے یعنی دشمن مراد ہے۔ دشمن مراد۔ اور ہلاک ہوا حاسد اور دشمن۔ تو دیکھیے ایک قرینہ ہے حَصَلَ النَّاطِقُ وَالصَّامِتُ، دوسرا قرینہ ہے هَلَكَ الْحَاسِدُ وَالشَّامِتُ۔ اب دیکھیے مولانا سجع سب سے پہلے الصَّامِتُ، الشَّامِتُ وزن بھی ایک جیسا اور آخری حرف بھی ایک جیسا یعنی تقفیہ بھی ہے۔ اور باقی حَصَلَ اس کے مقابلے میں کیا آیا؟ هَلَكَ آیا، ان میں وزن تو ایک جیسا ہے لیکن تقفیہ نہیں ہے، ایک کے آخر میں لام ہے تو دوسرے کے آخر میں کاف۔ اسی طرح النَّاطِقُ، الْحَاسِدُ مولانا وزن تو ایک جیسا ہے لیکن تقفیہ نہیں، ایک کے آخر میں دال ہے ایک کے آخر میں قاف ہے۔
قِيلَ کہا گیا ہے وَأَحْسَنُ السَّجْعِ۔ یہاں سے آپ کو بتلا رہے ہیں بہترین سجع کون سی ہے۔ کہتے ہیں بہترین سجع وہ ہے کہ جس کے قرینے برابر ہوں آپس میں۔ ایک قرینے میں دو کلمے تو دوسرے قرینے میں بھی دو کلمے، پہلے میں تین تو دوسرے میں بھی تین، پہلے میں چار تو دوسرے میں بھی چار، یہ بہترین سجع ہے۔ دوسری سجع اس سے جو کم درجے کی ہے وہ یہ کہ اگر برابر نہ ہو۔ یہ تو تھا برابر ہو تو یہ سب سے بہترین۔ اگر برابر نہ ہو پھر کون سی بہترین؟ کہتے ہیں پھر وہ بہترین جس میں پہلا قرینہ چھوٹا ہو دوسرا قرینہ کیا ہو؟ لمبا ہو۔ سمجھ میں آیا؟ یہ نہیں کہ پہلا لمبا ہو اور ثانی چھوٹا ہو، یہ پسندیدہ نہیں بھئی۔ وَأَحْسَنُ السَّجْعِ بہترین سجع جو ہے مَا تَسَاوَتْ قَرَائِنُهُ برابر ہوں جس کے قرینے جیسے فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ وَطَلْحٍ مَنْضُودٍ وَظِلٍّ مَمْدُودٍ۔ تو دیکھو ایک ہے سِدْرٍ مَخْضُودٍ، ایک ہے طَلْحٍ مَنْضُودٍ، ایک ہے ظِلٍّ مَمْدُودٍ، سب میں کتنے کلمے آ رہے ہیں؟ دو دو کلمے آ رہے ہیں۔ فِي سِدْرٍ مَخْضُودٍ بھئی کس میں ہوں گے جنتی بھئی؟ ایسے باغات میں ہوں گے فِي سِدْرٍ، سدر بیری، مَخْضُودٍ بغیر کانٹوں کے، بغیر کانٹوں کی بیریوں میں، وَطَلْحٍ، طلح کیلے کے درخت، مَنْضُودٍ تہہ بہ تہہ، اور تہہ بہ تہہ کیلوں کے درختوں میں، وَظِلٍّ مَمْدُودٍ اور لمبے لمبے سایوں میں ہوں گے۔ ثُمَّ أَيْ بَعْدَ أَنْ لَا تَتَسَاوَى قَرَائِنُهُ پھر بعد اس کے کہ اگر برابر نہ ہوں قرینے، فَالْأَحْسَنُ مَا طَالَتْ قَرِينَتُهُ الثَّانِيَةُ وہ سجع بہتر ہے جس کا قرینہ ثانیہ لمبا ہو جیسے وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَى ایک قرینہ، مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَمَا غَوَى تو یہ دوسرا قرینہ اور اس میں الفاظ زیادہ ہیں بھئی آپ دیکھ رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے یا وہ غروب ہو، مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ نہ تو تمہارا ساتھی جو ہے ضَلَّ حق سے ہٹا ہے وَمَا غَوَى اور نہ ہی غلط راستے پر چلا ہے۔ أَوْ قَرِينَتُهُ الثَّالِثَةُ یا مولانا تیسرا قرینہ لمبا ہو یہ بھی کیا ہے؟ احسن ہے۔ جیسے خُذُوهُ فَغُلُّوهُ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ۔ خُذُوهُ ایک قرینہ، فَغُلُّوهُ دوسرا قرینہ، ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ تیسرا قرینہ اور تیسرا کیا ہے؟ لمبا۔ یہ بھی احسن ہے۔ کہا جائے گا پکڑو اس کو کافر کو فَغُلُّوهُ اور اس کو کیا کرو بیڑیاں پہناؤ ثُمَّ الْجَحِيمَ صَلُّوهُ پھر جہنم میں اس کو داخل کرو۔ صَلُّوهُ مِنَ التَّصْلِيَةِ یہ کس سے ہے؟ تصلیہ سے ہے، صَلَّى يُصَلِّي تَصْلِيَةً کا معنی ہوتا ہے آگ میں جلانا اور آگ میں داخل کرنا۔
وَلَا يَحْسُنُ أَنْ يُؤْتَى قَرِينَتُهُ أَيْ تُؤْتَى بَعْدَ قَرِينَةٍ قَرِينَةٌ أُخْرَى أَقْصَرُ مِنْهَا قِصَرًا كَثِيرًا۔ اور بہتر نہیں ہے کہ لایا جائے اس کا قرینہ، سجع کا قرینہ یعنی ایک قرینے کے بعد دوسرا قرینہ جو أَقْصَرُ مِنْهَا جو اس سے چھوٹا ہو۔ پہلا لمبا ہو دوسرا چھوٹا ہو یہ پسندیدہ نہیں۔ بھئی تھوڑا چھوٹا ہو تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، قِصَرًا كَثِيرًا زیادہ چھوٹا ہو یہ پسندیدہ نہیں ہے۔ لِأَنَّ السَّجْعَ قَدِ اسْتَوْفَى أَمَدَهُ فِي الْأَوَّلِ اس لیے کہ سجع نے تحقیق پورا پا لیا ہے أَمَدَهُ اپنی انتہا کو فِي الْأَوَّلِ اول میں بِطُولِهِ لمبائی کے ساتھ۔ اول قرینے کے اندر سجع نے اپنا پورا حصہ پوری انتہا وصول کر لی لمبائی کے ساتھ، یعنی پہلا قرینہ لمبا آ گیا، تو اگلے قرینے کے اندر بھی انسان منتظر رہتا ہے کہ اگلا بھی اسی کی طرح طویل آئے گا لیکن وہ کیا آتا ہے چھوٹا آ جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کسی منزل کی طرف چلے اور منزل تک پہنچنے سے پہلے ہی پھسل کر گر جائے۔ تو یہاں بھی ہمارا ذہن تو یہ تھا پہلا قرینہ لمبا آیا ثانی بھی کیا آئے گا؟ لمبا آئے گا، لیکن وہ تو پہلے ہی بات ختم ہو گئی، پہلے ہی پورا ہو گیا چھوٹا۔ فَإِذَا جَاءَ الثَّانِي أَقْصَرَ مِنْهُ كَثِيرًا جب دوسرا آ جاتا ہے اس سے بہت چھوٹا يَبْقَى الْإِنْسَانُ عِنْدَ سَمَاعِهِ تو باقی رہ جاتا ہے انسان اس کو سنتے وقت كَمَنْ اس شخص کی طرح يُرِيدُ الْإِنْتِهَاءَ إِلَى غَايَةٍ جو ایک غایت تک پہنچنا چاہتا ہے فَيَعْثُرُ دُونَهَا تو اس سے پہلے ہی پھسل کر گر جاتا ہے۔ عَثَرَ يَعْثُرُ کا معنی پھسل کر گرنا یا ٹھوکر کھا کر گرنا۔ وَإِنَّمَا قَالَ كَثِيرًا، بھئی یہ كَثِيرًا کیوں کہا؟ کہتے ہیں اس لیے احْتِرَازًا عَنْ نَحْوِ قَوْلِهِ تَعَالَى یہ احتراز ہے اللہ کے اس قول سے: أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ ایک قرینہ، أَلَمْ يَجْعَلْ كَيْدَهُمْ فِي تَضْلِيلٍ یہ دوسرا قرینہ، اور دوسرا قرینہ چھوٹا ہے پہلے سے لیکن زیادہ چھوٹا نہیں ہے۔
وَالْأَسْجَاعُ مَبْنِيَّةٌ عَلَى سُكُونِ الْأَعْجَازِ۔ اور یہ سجعیں مبنی ہوتی ہیں اعجاز بمعنی فاصلہ، عجز کی جمع ہے آخر کو کہتے ہیں، فاصلہ مراد ہے۔ بھئی سجعوں کی بنا ہوتی ہے سکون اعجاز پر، یعنی اس کے آخر کو ساکن پڑھا جائے۔ ایک قرینے کے آخر کو بھی ساکن پڑھیں اگلے قرینے کے آخر کو بھی ساکن۔ کب؟ جب کہ ایک پر مثلاً فتحہ آ رہا ہے تو دوسرے کے فاصلے پر کیا آ رہا ہے؟ کسرہ آ رہا ہے۔ تو اگر آپ ایک پر فتحہ پڑھیں گے دوسری پر کسرہ پڑھیں گے تو دونوں میں موافقت نہ رہے گی۔ اس لیے جیسے دیکھو مثال ہے: مَا أَبْعَدَ مَا فَاتَ، وَمَا أَقْرَبَ مَا هُوَ آتٍ۔ تو دیکھو یوں پڑھنا چاہیے: مَا أَبْعَدَ مَا فَاتْ، وَمَا أَقْرَبَ مَا هُوَ آتْ۔ اب وزن ایک بن گیا فَاتْ اور آتْ۔ اور اگر آپ اس پر حرکت پڑھیں گے تو پھر تو وزن ایک جیسا نہیں رہے گا۔ ہاں اگر وزن ایک جیسا ہو حرکت کے پڑھنے کے باوجود پھر پڑھ سکتے ہیں۔ اور سجعوں کی بنا ہے عَلَى سُكُونِ الْأَعْجَازِ أَيْ سُكُونِ أَوَاخِرِ الْأَعْجَازِ بھئی۔ اعجاز کس کو کہتے ہیں؟ آخر کو، آخری کلمے۔ آخری کلمے کا جو آخر ہے اس کے سکون پر بنا ہوتی ہے، أَيْ أَوَاخِرِ فَوَاصِلِ الْقَرَائِنِ قرینوں کے جو فاصلے ہیں ان کے اواخر بھئی، ان پر کیا پڑھنا چاہیے؟ سکون۔ إِذْ لَا يَتِمُّ التَّوَاطُؤُ وَالتَّزَاوُجُ فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ اس لیے کہ تام نہیں ہو گی موافقت اور ملنا تمام صورتوں میں۔ اگر ہم حرکت پڑھیں تو ہمیشہ دونوں میں موافقت کبھی تو آئے گی اور کبھی نہیں آئے گی، تو تمام صورتوں میں موافقت اور ملنا نہیں آئے گا تشابہ نہیں آئے گا إِلَّا بِالْوَقْفِ وَالسُّكُونِ مگر کس صورت میں آئے گا؟ وقف اور سکون کی صورت میں، كَقَوْلِهِمْ جیسے کہتے ہیں کتنا دور ہے وہ چیز جو فوت ہو گئی اور کتنی قریب ہے جو آنے والی ہے۔ جو گزر گئی وہ فوت ہوئی مولانا وہ بعید دوبارہ کبھی نہیں آ سکتی، اور جو آنے والی ہے جتنی بھی دور ہو کبھی نہ کبھی آ جائے گی تو وہ بڑی قریب ہے۔ إِذْ لَوْ لَمْ يُعْتَبَرِ السُّكُونُ لَفَاتَ السَّجْعُ اس لیے کہ اگر سکون کا اعتبار نہ کیا جائے تو سجع فوت ہو جائے گی لِأَنَّ التَّاءَ مِنْ فَاتَ مَفْتُوحٌ اس لیے کہ فَاتَ کی تا مفتوح ہے وَمِنْ آتٍ مُنَوَّنٌ مَكْسُورٌ اور آتٍ کی تا کیا ہے؟ منون ہے اس پر تنوین ہے اور مکسور ہے۔
قِيلَ کہا گیا ہے وَلَا يُقَالُ فِي الْقُرْآنِ أَسْجَاعٌ، قرآن کے اندر اسجاع نہیں کہتے، بَلْ يُقَالُ فَوَاصِلُ بلکہ کیا کہتے ہیں؟ فواصل کہتے ہیں بھئی۔ کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے رِعَايَةً لِلْأَدَبِ وَتَعْظِيمًا ادب کی رعایت رکھتے ہوئے اور تعظیم کرتے ہوئے، اس لیے إِذِ السَّجْعُ فِي الْأَصْلِ هَدِيرُ الْحَمَامِ وَنَحْوِهَا اس لیے کہ سجع اصل کے اندر مولانا کبوتر کی اور اونٹنی وغیرہ کی آواز کو کہتے ہیں۔ کبوتر کی آواز اور اونٹنی کی آواز کو کیا کہتے ہیں؟ سجع کہتے ہیں، تو قرآن کے الفاظ پر یہ اطلاق مناسب نہیں ہے۔ وَقِيلَ اور یہ تو بعضوں نے یہ وجہ بیان کی کہ چونکہ یہ کبوتر اور اونٹنی کی آواز کو کہتے ہیں اس لیے قرآن پر اس کا اطلاق مناسب نہیں ادب کی رعایت رکھتے ہوئے۔ وَقِيلَ بعضوں نے کہا لِعَدَمِ الْإِذْنِ الشَّرْعِيِّ، قرآن میں سجع اس لیے نہیں کہہ سکتے کہ اذن شرعی نہیں، شریعت نے اجازت نہیں دی۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں یہ بات صحیح نہیں کہ شریعت کی اس میں اجازت نہیں ہے یہ کہنے کی۔ کہتے ہیں بھئی وہ تو اسماء اللہ، اللہ کے اسماء کا مسئلہ ہے۔ اللہ پر کسی اسم کا اطلاق نہیں کر سکتے جب تک کہ شریعت نے اس کی اجازت نہ ہو۔ بعض علماء فرماتے ہیں اگر معنی ٹھیک ہے تو اطلاق کر سکتے ہیں، بعض کہتے ہیں کہ اطلاق نہیں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو جو حدیث میں قرآن میں جو ثابت ہیں جو اللہ پر جن اسماء کا اطلاق ہوا ہے آپ ان کا اطلاق تو کر سکتے ہیں ان کے علاوہ کسی اور لفظ کا اطلاق نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں وہ اسماء اللہ میں بات ہے، اس قسم کے کہ قرآن کے لفظ پر یہ نام بولا جائے یا نہ بولا جائے اس میں اذن شرعی والی بات نہیں تو یہ درست بات نہیں۔ وَفِيهِ نَظَرٌ اس قول میں نظر ہے إِذْ لَمْ يَقُلْ أَحَدٌ بِتَوَقُّفِ أَمْثَالِ هَذَا عَلَى إِذْنِ الشَّارِعِ اس لیے کہ کسی ایک نے بھی نہیں کہا کہ اس قسم کی مثالیں موقوف ہیں اذن شارع پر، وَإِنَّمَا الْكَلَامُ فِي أَسْمَاءِ اللّٰهِ تَعَالَى اور یہ جو اختلاف والا کلام ہے یہ تو صرف کس میں ہے؟ اسماء اللہ میں ہے۔ بَلْ يُقَالُ لِلْأَسْجَاعِ فِي الْقُرْآنِ بلکہ سجعوں کو قرآن میں کہتے ہیں، سجعیں أَعْنِي الْكَلِمَةَ الْأَخِيرَةَ مِنَ الْفِقْرَةِ یعنی فقرے کا آخری کلمہ اس کو قرآن میں کیا کہتے ہیں؟ فواصل کہتے ہیں، فاصلہ کہتے ہیں۔
وَقِيلَ، یہ تو بات چل رہی تھی ابھی تک کہ سجع ہوتی ہے نثر میں اور قافیہ ہوتا ہے شعر میں۔ لیکن اب بعض علماء کہتے ہیں نہیں سجع صرف نثر میں نہیں آتا بلکہ شعر میں بھی آتا ہے، جیسے وَقِيلَ السَّجْعُ غَيْرُ مُخْتَصٍّ بِالنَّثْرِ اور کہا گیا ہے کہ سجع نثر کے ساتھ خاص نہیں، وَمِثَالُهُ مِنَ النَّظْمِ اور نظم میں اس کی مثال یہ قول ہے مولانا: تَجَلَّى بِهِ رُشْدِي، وَأَثْرَتْ بِهِ يَدِي، وَفَاضَ بِهِ ثَمْدِي، وَأَوْرَى بِهِ زَنْدِي۔ سمجھ میں آیا؟ بھئی شعر کے اندر سجع یوں آئے گی کہ ایک پورے پہلے مصرعے کو ایک قرینہ بنا لو اور اگلے پورے مصرعے کو کیا بنا لو؟ دوسرا قرینہ، اور ایک کے آخر میں جو آخری حرف ہے دوسرے کے آخر میں بھی وہی حرف۔ یہ ایک صورت ہے کہ پورے مصرعے کو آپ نے کیا بنایا؟ قرینہ۔ دوسری صورت یہ کہ ایک مصرعے کے اندر دو قرینے ادھر ہیں اور دوسرے مصرعے کے اندر بھی دو قرینے موجود۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ایک قرینہ دوسرے کے ساتھ مطابق اور اس میں دونوں قرینے ایک دوسرے کے مطابق ہوں گے۔ جیسے یہاں تَجَلَّى بِهِ رُشْدِي تو دیکھو یہ ایک قرینہ، وَأَثْرَتْ بِهِ يَدِي یہ دوسرا قرینہ ایک ہی مصرعے میں۔ وَفَاضَ بِهِ ثَمْدِي یہ ایک قرینہ دوسرے مصرعے میں، وَأَوْرَى بِهِ زَنْدِي یہ کیا ہے؟ دوسرا قرینہ۔
تَجَلَّى بِهِ رُشْدِي ظاہر ہو گئی اس ممدوح کے سبب سے رُشْدِي میری ہدایت، میرا سیدھے راستے پر ہونا کس کی وجہ سے ظاہر ہوا؟ ممدوح کی وجہ سے۔ وَأَثْرَتْ، أَثْرَى يُثْرِي کا معنی ہوتا ہے مالدار ہونا مولانا، دولتمند ہونا۔ دولتمند ہو گیا بِهِ يَدِي اس ممدوح کے سبب سے میرا ہاتھ دولت والا ہو گیا۔ خود بتلا رہے ہیں أَثْرَتْ کا معنی ہے دولتمند ہونا أَيْ صَارَتْ ذَاتَ ثَرْوَةٍ کیسا بن گیا؟ دولت والا ہو گیا، دولت والا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ جیسے آپ کہتے ہیں مولانا ذُو مَالٍ یہ مذکر کے لیے کہتے ہیں، مؤنث کے لیے کہتے ہیں ذَاتَ مَالٍ بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو ذَاتَ لے کر آئے اس لیے کہ ید کیا ہے؟ مؤنث ہے۔ تو ہو گیا ہاتھ دولت والا، ثروت دولت کو کہتے ہیں۔ وَفَاضَ بِهِ ثَمْدِي یا ثِمْدِي مولانا۔ عام لغات میں ثَمْدِي ملتا ہے بِفَتْحِ الثَّاءِ لیکن علامہ تفتازانی فرما رہے ہیں هُوَ بِالْكَسْرِ کس کے ساتھ ہے؟ کسرے کے ساتھ، تو دونوں ٹھیک ثَمْدِي اور ثِمْدِي۔ اور یہ کس کو کہتے ہیں؟ الْمَاءُ الْقَلِيلُ تھوڑے پانی کو کہتے ہیں۔ اور فَاضَ کا معنی کثیر ہونا، اور ممدوح کے سبب سے میرا تھوڑا پانی کیا ہوا؟ زیادہ، یعنی میرا مال بڑھ گیا مراد یہ ہے۔ وَالْمُرَادُ هُنَا هُوَ الْمَالُ اور یہاں پر کیا مراد ہے؟ مال۔ وَأَوْرَى، أَوْرَى کا معنی آگ دینا۔ آگ دینا۔ آگے آ رہا ہے زَنْدِي، زند کہتے ہیں مولانا چقماق پتھر۔ چقماق پتھر جانتے ہو بھئی؟ بھئی قدیم زمانے میں وہ خاص پتھر ہوتا تھا اس کے ذریعے آگ جلایا کرتے تھے بھئی، چقماق پتھر کہتے تھے، وہ دو پتھر ان کو ٹکراتے ان سے آگ نکلتی چنگاریاں نکلتیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ بڑا یہ کہتے ہیں مشقت والا کام ہوا کرتا تھا آگ جلانا بھئی، آسانی سے نہیں جلتی تھی بھئی، بڑی مشقت۔ اور آج کل تو بڑی ہی آسانیاں ہر چیز میں اللہ نے اتنی نعمتیں دے دیں بھئی اتنی نعمتیں۔ سمجھ میں آیا؟ آگ جلانا بڑا مشقت طلب کام ہوا کرتا تھا، بڑی دیر لگے رہتے لگے رہتے تب کہیں جا کے بمشکل آگ جلتی۔ چنانچہ دیہات میں بھی عموماً ایک دوسرے کے گھروں سے آگ لایا کرتے تھے بھئی، دوبارہ جلانا بڑا مشقت والا کام، کسی کے تو وہ بعض کچھ نہ کچھ جلائے رکھتے کسی نہ کسی گھر میں۔
اللہ! امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے بارے میں آتا ہے، امام دنیا ہیں مولانا، تقوی کا حال عجیب تقوی کا حال! اتنی احتیاط کرتے تھے اتنی احتیاط کہ مثال نہیں ملتی اس کی بھئی۔ ان کے بیٹے تھے بھئی، بیٹے بھی بڑے ولی اللہ اور بڑے متقی اور فقیہ انسان تھے، لیکن بیٹے حکومت کے اندر ملازمت کوئی کرتے تھے وہ۔ تو چنانچہ امام احمد رحمہ اللہ حکومت کی کوئی چیز استعمال نہیں کرتے تھے۔ حتی کہ بیٹا چونکہ حکومت میں اگرچہ بڑا متقی بیٹا تھا علماء لکھتے ہیں بھئی بہت متقی تھا سارے لوگ ان کے تقوی کے معترف تھے اور جائز بھی تھا شرعاً کیا تھا؟ جائز بھی تھا ملازمت کرتے ہیں اور جو وظیفہ وغیرہ تنخواہ ملتی۔ لیکن امام احمد کا مقام بڑا اونچا تھا بھئی، وہ حکومت کے مال کو کسی صورت میں جائز نہیں سمجھتے تھے بھئی اپنے لیے، اپنے لیے۔ اس لیے کہ عموماً جو ہوتا ہے یہ ٹیکس وغیرہ یہ چیزیں جو ہیں لوگوں پر ظلم وغیرہ کرتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ٹیکس وصول کرنے والے زیادتی وغیرہ کرتے ہیں لوگوں سے ناجائز پیسے لے لیتے ہیں زائد۔ تو چنانچہ یہ نہیں لیتے تھے۔ حتی کہ ایک مرتبہ کہتے ہیں امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے گھر کھانا پکانے کے لیے آگ نہیں تھی تو ساتھ ہی بیٹے کا گھر تھا بھئی، تو بیٹے کے گھر سے آگ لائی گئی اور پھر یہاں آگ جلائی اور روٹیاں پکائیں۔ امام احمد ابن حنبل بھی بڑے دیکھو عجیب اللہ نے پھر کشف وغیرہ بھی ایسا عطا فرمایا، روٹی سامنے رکھی گئی تو پوچھا بھئی یہ آگ کدھر سے لائے؟ کیسے پکائی ہے روٹی؟ بتایا کہ یہ آپ کے بیٹے کے گھر سے ہم آگ لے آئے تھے، آگ گھر میں نہیں تھی بھئی۔ فرمایا نہیں یہ کھانا لے جاؤ مجھ سے لے جاؤ میں یہ نہیں کھا سکتا، اس کے گھر کی چیز کو استعمال کیوں کیا آپ لوگوں نے بھئی، آگ بھی کیوں وہاں سے لے کر آئے؟ حالانکہ یہ بیٹے اتنے متقی تھے کہ رات کو اپنے گھر نہیں سویا کرتے تھے، باپ کے گھر کے دروازے پر چارپائی ڈال کر سویا کرتے تھے کہ کہیں میرے والد کو رات کو کسی کام کی ضرورت نہ پیش آ جائے۔ عجیب اولیاء اللہ بھئی عجیب!
امام احمد ابن حنبل پر بڑی بڑی تکالیف آئیں بھئی۔ خلق قرآن کے مسئلے میں ان پر بڑی تکلیف آئی بھئی۔ معتزلہ ایک گمراہ فرقہ پیدا ہوا بھئی وہ کہتے تھے قرآن مخلوق ہے اور جمہور ہم کیا کہتے ہیں بھئی قرآن مخلوق نہیں ہے، قرآن کلام اللہ ہے بھئی اور کلام اللہ، اللہ کی صفت ہے اور قدیم ہے بھئی۔ تو اس پر بھئی پھر معتزلہ کا آہستہ آہستہ غلبہ ہوا اور وہ حکومت پر چھا گئے بھئی اور ہارون الرشید کی وفات کے بعد اس کا بیٹا مامون جو تھا وہ پوری طرح ان کے زیر اثر آ گیا بھئی۔ چنانچہ قاضی القضاۃ احمد ابن ابی داؤد غالباً بھئی اس کو قاضی القضاۃ چیف جسٹس بنا دیا گیا بھئی اور ظلم کی انتہا کر دی گئی بھئی، علماء کو پکڑ کر لایا جاتا بھئی پوچھا جاتا ہاں بھئی چیف جسٹس بھی بیٹھا ہوا ہے خلیفہ بھی بیٹھا ہوا ہے، بتاؤ بھئی قرآن مخلوق ہے یا قرآن غیر مخلوق ہے؟ وہ کہتا بھئی قرآن غیر مخلوق ہے کلام اللہ ہے بھئی۔ قاضی چیف جسٹس حکم کرتا اس کی گردن اڑا دو بھئی میں ذمہ دار ہوں قیامت کے دن بھئی۔ چنانچہ اس کی گردن اڑا دی جاتی۔ ہزارہا لاکھوں علماء اولیاء کو قتل کر دیا گیا، وہ زمانہ تو ایسا تھا اولیاء ہی اولیاء ہر طرف تھے بھئی، بہت علماء کو قتل کیا گیا۔ چنانچہ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کو بھی گرفتار کیا گیا بھئی۔ امام احمد ابن حنبل کو گرفتار کر کے لایا گیا خلیفہ کے سامنے اور پوچھا گیا کہ آپ کی کیا رائے ہے بھئی خلق قرآن کے مسئلے میں؟ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا قرآن کلام اللہ ہے غیر مخلوق ہے۔ اب امام احمد ابن حنبل چونکہ بڑی مقبولیت تھی ان کی عوام کے اندر بہت زیادہ مقبولیت تھی، اب ان کو قتل تو نہیں کروا سکتا تھا ورنہ خطرہ تھا خلیفہ کو اپنا بھی، تو چنانچہ ان کو پھر کوڑے لگائے جاتے وہیں پر بھئی۔ کوڑے لگائے جاتے یہاں تک کہ کوڑے کھاتے کھاتے امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ بے ہوش ہو جاتے بھئی۔
اور اس سے پہلے بھئی امام شافعی رحمہ اللہ وہ استاد ہیں امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کے۔ انہوں نے خط لکھا بھئی، ایک شخص کو پیغام دے کر بھیجا مصر میں تھے بھئی کہ جاؤ بھئی بغداد جاؤ اور احمد ابن حنبل میرے شاگرد ہیں وہاں اور ان کو کہنا کہ مجھے خواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہوئی ہے اور حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ احمد ابن حنبل سے کہو کہ تم پر ایک بڑی آزمائش آنے والی ہے دیکھو ثابت قدم رہنا ڈگمگانا نہیں بھئی۔ چنانچہ امام شافعی رحمہ اللہ نے ایک شخص کو تیار کیا بھیجا، وہ شخص آئے اور امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ کو بتلایا کہ ابھی یہ فتنہ شروع نہیں ہوا تھا بھئی کہ آپ پر ایک بڑی تکلیف آنے والی ہے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ دیکھو بھئی ثابت قدم رہنا۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرمانے لگے بھئی میں اس قابل کہاں کہ دین کی خاطر آزمائش میں ڈالا جاؤں۔ چنانچہ پھر بھئی اس شخص کو بھئی کہ تم بڑی خوشخبری لے کر آئے ہو بھئی میرے پاس اور تو کچھ بھی نہیں، یہ حال تھا مولانا امام دنیا کا یہ حال تھا کچھ بھی نہیں ہے، چنانچہ اپنی قمیص اتاری اور وہ قمیص اس کو دے دی لو بھئی تم اتنی بڑی خوشخبری لے کر آئے ہو اور جو شخص خوشخبری لے کر آئے اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹایا جاتا یہ میری قمیص لے جاؤ۔ چنانچہ وہ قمیص لے گئے بھئی۔ واپس مصر پہنچے بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے پوچھا ہاں بھئی پیغام پہنچا دیا؟ عرض کیا جی حضرت پیغام پہنچا دیا۔ بھئی انہوں نے کوئی خوشخبری سنانے پر کوئی چیز نہیں ہدیہ دیا آپ کو؟ انہوں نے کہا کہ حضرت یہ اپنی قمیص مجھے انہوں نے اپنی قمیص مبارک مجھے دے دی ہے بھئی۔ فرمایا اوہو یہ تو میں اب آپ سے لے نہیں سکتا، ہاں چلو یوں کرو بھئی یہ قمیص تو آپ کا حق ہے میں آپ سے لے نہیں سکتا، یوں کرو اس قمیص کے ایک کنارے کو پانی کے ایک پیالے کے اندر بھگو دو اور وہ پانی مجھے لے آؤ تاکہ میں اس کو پی لوں اور مجھے بھی کچھ برکت حاصل ہو جائے بھئی۔ عجیب مقام تھا بھئی عجیب!
چنانچہ امام احمد ابن حنبل کو پکڑا گیا بھئی۔ روزانہ ان کو کوڑے لگائے جاتے وہ کوڑے کھاتے کھاتے بے ہوش ہو جاتے پھر قید میں لے جاتے قید میں ڈال دیتے بھئی۔ چنانچہ کچھ عرصے کے بعد یہ فتنہ آہستہ آہستہ ختم ہوا بھئی۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ بعد میں ایک ڈاکو کے لیے بڑی دعا کیا کرتے تھے بھئی۔ کسی نے پوچھا حضرت کیا بات ہے آپ اتنے بڑے عالم دین ہیں اور ڈاکو کے لیے آپ اتنی دعائیں کرتے ہیں بھئی؟ فرمایا اس ڈاکو نے میرا بڑا ساتھ دیا۔ مجھے جس قید خانے میں ڈالا گیا تھا وہیں پر یہ ڈاکو بھی موجود تھا اور وہ ڈاکو میرے پاس روزانہ آ کر مجھے کہتا تھا کہ اے احمد ابن حنبل خبردار ڈگمگا نہ جانا، مجھے دیکھو میں نے ڈاکے بھی ڈالے ہیں مجھے اب تک ایک ہزار کوڑے لگ چکے ہیں میں نے ابھی تک اپنے ڈاکے قبول نہیں کیے، اور تم تو حق پر ہو تم کہیں کوڑے کھا کر کہیں ناحق بات کو قبول نہ کر لینا۔ وہ مجھے روزانہ آ کر حوصلہ اور ہمت دیتا تھا اور اس کی وجہ سے میری ہمت بلند ہو جاتی کہ یہ شخص ایک ناحق کام میں اتنی تکلیف اٹھا سکتا ہے تو میں کیوں حق کے لیے تکلیف نہ اٹھاؤں۔ چنانچہ روایات میں یہ بھی آتا ہے بھئی کہ ایک مرتبہ کوڑے کھاتے کھاتے اچانک ایک نور سا آیا، امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ نے اوپر کی طرف دیکھا ایک نور سا آیا اور ایک نور نے ان کا احاطہ کر لیا۔ بعد میں ایک مرتبہ کسی شخص نے پوچھا کہ حضرت کیا بات ہے ایک دن آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا تھا کوڑے کھاتے کھاتے آپ نے آسمان کی طرف سر اٹھایا اور ایک نور ہم نے دیکھا کہ اترا اور اس نے آپ کو گھیر لیا۔ امام احمد ابن حنبل رحمہ اللہ فرمانے لگے کہ وہ جب کوڑے لگاتے میری قمیص اتار دیا کرتے تھے ننگی پیٹھ پر کوڑے لگاتے تھے اور میں تہبند باندھے ہوئے ہوتا تھا دربار کے اندر بھئی بھرے دربار میں۔ تو ایک دن وہ مجھے کوڑے لگا رہا تھا میری نظر پڑی کہ میرا تہبند کھلنے والا ہے بھئی۔ تو میں نے آسمان کی طرف نظر کی کہ اے اللہ آپ کے دین کی خاطر اتنی تکلیف تو اٹھا رہا ہوں کم از کم ان لوگوں کے سامنے مجھے بے ستر تو نہ کیجیے۔ تو کہتے ہیں اسی وقت آسمان سے ایک فرشتہ تیزی سے لپکا اور اس نے آ کر میرا تہبند باندھ دیا۔ تو وہ نور جو تم نے دیکھا وہ فرشتہ تھا بھئی۔ چلیے بھئی کہاں سے بات کہاں نکل گئی۔
بات زند سے چل رہی تھی بھئی وہ پتھر جس سے آگ جلاتے ہیں بھئی۔ وَأَوْرَى اور آگ دینے لگا بِهِ زَنْدِي اس ممدوح کے سبب سے میرا چقماق پتھر۔ کس کے سبب سے آگ دینے لگا؟ ممدوح کے سبب۔ وَأَوْرَى أَيْ صَارَ ذَا وَرْيٍ آگ والا ہو گیا اس کے سبب سے، آگ دینے والا ہو گیا اس کے سبب سے زَنْدِي میرا چقماق پتھر۔ علامہ تفتازانی نے بتلایا أَوْرَى پڑھو مولانا اس کو ماضی پڑھو۔ بعضوں نے اس کو أُورِي پڑھا۔ أَوْرَى يُورِي تو اسی سے متکلم کا صیغہ أُورِي، کہ میں آگ نکالتا ہوں اس ممدوح کے سبب سے زَنْدِي اپنے چقماق پتھر سے۔ تو أُورِي کا کیا معنی؟ میں آگ نکالتا ہوں۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں یہ غلط پڑھا ہے، لفظ چونکہ ایک جیسے ہیں أَوْرَى اور أُورِي لکھنے میں ایک جیسے تو اس کی وجہ سے بعضوں نے اس کو کیا سمجھا أُورِي پڑھا حالانکہ أُورِي نہیں ہے اس لیے کہ طبیعت اس کا انکار کرتی ہے مولانا اس لیے کہ باقی سارے غائب کے صیغے ہیں تَجَلَّى، أَثْرَتْ، فَاضَ تو یہاں بھی أَوْرَى کون سا صیغہ آنا چاہیے؟ غائب کا صیغہ ہونا چاہیے۔ وَأَمَّا أُورِي بِضَمِّ الْهَمْزَةِ اور باقی أُورِي ہمزہ کے ضمے کے ساتھ عَلَى أَنَّهُ مُتَكَلِّمُ الْمُضَارِعِ بنا بر اس کے کہ یہ مضارع متکلم ہے مِنْ أَوْرَيْتُ الزَّنْدَ کس سے ہے یہ؟ أَوْرَيْتُ الزَّنْدَ میں نے چقماق سے آگ نکالی أَيْ أَخْرَجْتُ نَارَهُ میں نے اس سے آگ نکالی، فَتَصْحِيفٌ یہ کیا ہے؟ تصحیف ہے۔ تصحیف کس کو کہتے ہیں؟ حروف میں اشتباہ کی وجہ سے کلمے کو غلط پڑھنا۔ حروف میں اشتباہ کی وجہ سے کلمے کو غلط پڑھنا یہ تصحیف، وَمَعَ ذَلِكَ يَأْبَاهُ الطَّبْعُ اور ساتھ ہی اس کے طبیعت بھی اس کا انکار کرتی ہے کہ یہ معنی یہاں صحیح نہیں بنتا۔
وَمِنَ السَّجْعِ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ أَيِ الْقَوْلِ بِعَدَمِ اخْتِصَاصِهِ بِالنَّثْرِ مَا يُسَمَّى التَّشْطِيرَ۔ اور سجع ہی میں سے ہے بنا بر اسی قول کے، بھئی پہلا قول تو یہ تھا کہ سجع شعر میں آتی ہی نہیں لیکن اگر اس قول کو لے لیں کہ شعر میں آتی ہے تو اسی قول کی بنا پر ایک قسم سجع کی تشطیر بھی ہے جب کہ یہ شعر میں بھی آتا ہو، تشطیر ہے۔ وَمِنَ السَّجْعِ عَلَى هَذَا الْقَوْلِ اور اسی قول پر یہ قول جو ہے أَيِ الْقَوْلِ بِعَدَمِ اخْتِصَاصِهِ بِالنَّثْرِ کہ یہ نثر کے ساتھ خاص نہیں ہے مَا وہ قسم ہے يُسَمَّى التَّشْطِيرَ جس کو کیا کہتے ہیں؟ تشطیر۔ وَهُوَ جَعْلُ كُلٍّ مِنْ شَطْرَيِ الْبَيْتِ سَجْعَةً مُخَالِفَةً لِأُخْتِهَا اور وہ بنانا ہے شعر کے دونوں شطروں میں، حصوں میں، شطر نصف کو کہتے ہیں، دونوں نصفوں کے اندر بنانا ہے سَجْعَةً مُخَالِفَةً لِأُخْتِهَا ایسی سجع ہو جو مخالف ہو اس کے مشابہ کے، یعنی ایک مصرعے، اخت سے مراد جو مشابہ ہے اس کے چونکہ بہنیں بھی ایک دوسرے کے مشابہ ہوتی ہیں تو ایک مصرع بھی دوسرے کے مشابہ۔ تو مولانا دیکھیے کہتے ہیں تشطیر یہ ہے کہ یہ پہلا مصرع ادھر دیکھو بھئی یہ پہلا مصرع یہ دوسرا مصرع، پہلے مصرعے کے اندر بھی ایک سجع آ رہی ہے دو قرینے ہیں، ایک یہ قرینہ ایک یہ قرینہ، اس کے آخری کلمے اور اس کے آخری کلمے کے اندر کیا ہے حرف اخیر با آیا۔ اگلے مصرعے کے اندر بھی دو قرینے ہیں لیکن ان کے آخر میں با نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ را ہے مثلاً، جو بھی ہے ایک جیسے نہیں ہیں دونوں کیا ہیں آپس میں؟ مختلف۔ تو اس کو کہتے ہیں تشطیر بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ تو ایک مصرعے کی سجع مخالف ہو دوسرے مصرعے کی سجع سے۔ لِأُخْتِهَا کا بتلا رہے ہیں لِأُخْتِهَا سے کیا مراد ہے أَيْ لِلسَّجْعَةِ الَّتِي فِي الشَّطْرِ الْآخَرِ یعنی وہ سجعہ جو کس کے اندر ہو؟ دوسرے شطر میں۔ ہاں سمجھ میں آیا؟ سجعہ، ایک سجع کو دوسری سجع تو اخت سے مراد سجعہ ہے مولانا سجعہ، ایک سجع دوسری کے مخالف ہو۔
فَقَوْلُهُ سَجْعَةً فِي مَوْضِعِ الْمَصْدَرِ۔ بھئی انہوں نے کیا کہا؟ بنانا شعر کے دونوں حصوں میں سے کیا بنانا؟ دونوں میں سجعہ بنانا۔ تو بھئی دونوں قرینے مل کر سجعہ نہیں کہلاتے اور یہاں سے تو کیا سمجھ میں آ رہا ہے؟ پورے مصرعے کو ہی کیا کہہ رہے ہیں یہ؟ سجعہ کہہ رہے ہیں دونوں حصوں کو، حالانکہ دونوں حصوں کو تو سجع تو کس کو کہتے ہیں صرف کلمہ اخیر کو کہتے ہیں تو کہتے ہیں جَعَلَ کا مفعول ثانی بنایا وَجَعْلُ كُلٍّ مِنْ شَطْرَيِ الْبَيْتِ سَجْعَةً دونوں حصوں کو کیا بنانا؟ سجعہ بنانا، یعنی ہر ایک مصرعے کو سجعہ بنا دینا، اور پورے مصرعے کو سجعہ کہتے ہیں؟ نہیں۔ تو یہ تو اشکال وارد ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی یہ سَجْعَةً مفعول ثانی نہیں ہے جَعَلَ کے لیے۔ جَعَلَ کتنے مفعول چاہتا ہے؟ دو۔ دونوں مصرعوں کو یہ مفعول اول، دونوں مصرعوں کو کیا بنایا؟ سجعہ بنایا، تو سَجْعَةً کیا ہے مفعول ثانی ہے۔ تو یہ کہتے ہیں دراصل یہ مصدر ہے اور اس سے پہلے مفعول محذوف ہے مَسْجُوعًا سَجْعَةً بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے نہیں کہتے بھئی ضَرَبَ ضَرْبًا تو ضَرَبَ کے بعد فعل کے بعد کیا آتا ہے مفعول مطلق، تو یہاں بھی یہ جو سَجْعَةً آیا یہ کیا آ رہا ہے مفعول مطلق آ رہا ہے۔ تو شعر کے ہر حصے کو مسجوع بنانا، سجع والا بنانا، ایسی سجع جو دوسری کے مخالف۔ تو اب دیکھو مولانا بات صحیح ہو گئی۔ پورے مصرعے کو سجعہ نہیں کہا بلکہ مصرعے کو سجع والا کہا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ فَقَوْلُهُ سَجْعَةً فِي مَوْضِعِ الْمَصْدَرِ یہ مصدر کی جگہ پر ہے أَيْ مَسْجُوعًا سَجْعَةً بھئی، لِأَنَّ الشَّطْرَ نَفْسَهُ لَيْسَ بِسَجْعَةٍ اس لیے کہ پورا نصف حصہ وہ سجعہ نہیں ہے۔ أَوْ هُوَ مَجَازٌ تَسْمِيَةُ الْكُلِّ بِاسْمِ جُزْئِهِ یا وہ مجاز ہے مولانا، یعنی سجعہ تو ایک جز کا نام تھا پورے مصرعے کا نہیں، تو کل کا نام ہی وہ رکھ دیا جو کس کا تھا؟ جز کا تھا۔
كَقَوْلِهِ، تشطیر کی مثال ہے: تَدْبِيرُ مُعْتَصِمٍ بِاللّٰهِ مُنْتَقِمٍ، لِلّٰهِ مُرْتَغِبٍ فِي اللّٰهِ مُرْتَقِبٍ۔ یہ الف زائد ہے مولانا غلط ہے کاتب کی غلطی ہے، مُنْتَقِمٍ لِلّٰهِ مُرْتَغِبٍ فِي اللّٰهِ مُرْتَقِبٍ۔ تدبیر معتصم باللہ کی، یہ خلیفہ، مُنْتَقِمٍ انتقام لینے والا ہے لِلّٰهِ اللہ کے لیے، مُرْتَغِبٍ فِي اللّٰهِ رغبت کرنے والا ہے اللہ میں یعنی اللہ کی رضامندی میں رغبت رکھتا ہے، أَيْ رَاغِبٍ فِيمَا يُقَرِّبُهُ رِضْوَانَهُ وہ راغب ہے اس چیز کے اندر جو اس کو قریب کر دے اللہ کی رضامندی کے، مُرْتَقِبٍ انتظار کرنے والا ہے، سمجھ میں آیا؟ رَقَبَ کا معنی انتظار کرنا بھی ہے اور خوف کے بھی ہیں، أَيْ مُنْتَظِرٍ ثَوَابَهُ اللہ کے ثواب کا انتظار کرنے والا ہے یعنی امید کرنے والا ہے أَوْ خَائِفٍ عِقَابَهُ یا ڈرنے والا ہے اللہ کی سزا سے۔ تو مُرْتَقِبٍ کا معنی امید کرنے کے بھی ہیں اور اس کے معنی خوف کرنے کے بھی ہیں دونوں معنی کر دیے علامہ تفتازانی نے۔ تو دیکھیے مولانا فَالشَّطْرُ الْأَوَّلُ سَجْعَةٌ مَبْنِيَّةٌ عَلَى الْمِيمِ شطر اول جو ہے وہ سجعہ ہے مبنی کس پر ہے؟ میم پر۔ بھئی اس میں سجع میم پر ہے: تَدْبِيرُ مُعْتَصِمٍ، بِاللّٰهِ مُنْتَقِمٍ۔ تَدْبِيرُ مُعْتَصِمٍ ایک قرینہ، بِاللّٰهِ مُنْتَقِمٍ دوسرا قرینہ۔ تو یہ دیکھو میم پر ختم سجع ہے۔ اگلے مصرعے میں دو قرینے: لِلّٰهِ مُرْتَغِبٍ، فِي اللّٰهِ مُرْتَقِبٍ دونوں میں کیا آ رہا ہے؟ با۔ تو پہلے میں مبنی علی المیم ہے اور ثانی میں سجع مبنی علی الباء ہے۔ چلیے جی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔