گذشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ متکلم کے لیے مناسب ہے کہ وہ حسن پیدا کرے تین جگہوں میں، اچھا کلام لے کر آئے تین جگہوں میں: ایک ابتدا ہے، ایک وسط ہے، اور ایک انتہا ہے۔ تو ان تین جگہوں کے اندر تاکہ کلام جو ہے لفظوں کے اعتبار سے شیری ہو جائے، اور ترکیب کے اعتبار سے احسن ہو، اور معنی کے اعتبار سے اصح ہو۔ اس لیے کہ ابتدا کے اندر اچھا کلام لانا ضروری تاکہ سامع متوجہ ہو جائے بھئی، ورنہ اگر ابتدا میں کلام اچھا نہ ہوا بعد میں چاہے اچھا ہی کیوں نہ ہو تو سامع باقی کلام کو نہیں سنے گا بھئی۔ اور اس کی مثال ذکر کی تھی احبہ اور منازل کی یاد میں جیسے امرؤ القیس کا شعر ہے وہ قصیدہ شروع کرتا ہے: ”قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ بِسِقْطِ اللِّوَى بَيْنَ الدَّخُولِ فَحَوْمَلِ“۔ تو یہ بڑے اچھے طریقے سے ابتدا کی، اسی طرح گھر کی تعریف میں ایک شاعر نے کیا کہا تھا: ”قَصْرٌ عَلَيْهِ تَحِيَّةٌ وَسَلَامُ خَلَعَتْ عَلَيْهِ جَمَالَهَا الْأَيَّامُ“۔ اور اس کے بعد یہ بھی بتلایا تھا کہ تعریف کے اندر خیال رکھے ایسے الفاظ نہ لے کر آئے جن سے بدفالی لی جاتی ہے اور نحوست لی جاتی ہے، جیسے: ”مَوْعِدُ أَحْبَابِكَ بِالْفُرْقَةِ غَدْ“۔ تو یہاں پر فرقت کا ذکر کیا، فرقت اگرچہ جگہ ہے لیکن بظاہری معنی سے اس سے کس چیز کا وہم پڑتا تھا؟ جدائی کے معنی کا کہ جدا ہو جائیں گے، آنے والے دن آپ کے احباب آپ سے جدا ہو جائیں گے یعنی بچھڑ جائیں گے موت کی وجہ سے۔
اور سب سے بہترین ابتدا وہ ہے کہتے ہیں جس کی مناسبت ہو مقصود کے ساتھ بھئی، ابتدا میں ہی ایسے الفاظ لے آئیں جس کی وجہ سے آنے والے مقصود کی طرف اشارہ ہو جائے، اور اسے براعت استہلال کہتے ہیں بھئی۔ جیسے اس کی مثال وہ شعر ذکر کی مولانا: ”بُشْرَى فَقَدْ أَنْجَزَ الْإِقْبَالُ مَا وَعَدَا“۔ تو ”بُشْرَى“ وہ شروع سے بتلا دیا خوشخبری یا مبارک ہو، اس سے پتہ چل گیا کہ آگے کوئی خوشی کی خبر آنے والی ہے۔ اور جیسے مرثیے کے اندر مولانا مرثیہ ذکر کر رہا ہے تو ابتدا میں ہی اشارہ کر دیا موت وغیرہ کی طرف کہ: ”هِيَ الدُّنْيَا تَقُولُ بِمِلْءِ فِيهَا حَذَارِ حَذَارِ مِنْ بَطْشِي وَفَتْكِي“۔ اور اس کے بعد دوسرا مقام جو ہے متکلم کو جہاں پر خیال رکھنا چاہیے کہ جب وہ غیر مقصود سے نکل رہا ہو کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، جب انتقال کر رہا ہو ”مِمَّا شُبِّبَ الْكَلَامُ بِهِ“، جس سے کلام کی ابتدا کی جائے۔ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ تشبیب کہتے ہیں جوانی کے ایام کو ذکر کرنا اور عورتوں کا ذکر وغیرہ کرنا، اور یہ عرب کا طریقہ تھا کہ اپنے قصیدے وغیرہ کی ابتدا میں پہلے اس قسم کی چیزیں لاتے، اس کے بعد مقصود کو بیان کرتے، لیکن اس کے بعد پھر ہر ابتدا کو ہی تشبیب کہنے لگے بھئی۔
تو کہتے ہیں جب یہاں مقصود، جب ابتدا سے انتقال ہو کس کی طرف؟ مقصود کی طرف، تو درمیان میں مناسبت ہونی چاہیے بھئی، کسی مناسب طریقے سے انتقال کرے کہ دونوں میں مناسبت موجود ہو۔ اس لیے کہ جب آپ نے اچھی طرح کلام کی ابتدا کر دی تو اب سامع منتظر رہتا ہے کہ دیکھتے ہیں اب یہ انتقال کس طرح کرتا ہے اپنے مقصود کی طرف، اس وقت تو یہ غیر مقصود بیان کر رہا ہے اب دیکھتے ہیں کس انداز میں اور کس طریقے سے انتقال کرتا ہے، تو اگر انتقال اچھے طریقے سے ہوا تو اس کی وجہ سے اب وہ کلام کی طرف متوجہ رہے گا اور آپ کا کلام سنے گا بھئی۔
”فَالتَّخَلُّصُ الْحَسَنُ“، تخلص حسن: ”كَقَوْلِهِ أَيْ أَبِي تَمَّامٍ“، جیسے ابو تمام کا شعر ہے: ”يَقُولُ فِي قُومَسَ قَوْمِي وَقَدْ أَخَذَتْ مِنَّا السُّرَى وَخُطَى الْمَهْرِيَّةِ الْقُودِ، أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ تَبْغِي أَنْ تَؤُمَّ بِنَا فَقُلْتُ كَلَّا وَلَكِنْ مَطْلَعَ الْجُودِ“۔ شاعر کہتا ہے کہ میں اپنی قوم کو لے کر چلتا رہا ایک بادشاہ کے، سخی کے دربار کی طرف بھئی کہ وہاں سے ہمیں کیا ملے گا؟ انعام وغیرہ ملے گا۔ تو چلتے چلتے میری قوم نے قومس مقام میں مجھے کہا، اور جب کہ: ”يَقُولُ فِي قُومَسَ“، قومس مقام میں کہتی ہے، ”قَوْمِي“، میری قوم، ”وَقَدْ أَخَذَتْ مِنَّا السُّرَى“، اور تحقیق لے لیا تھا ہم سے رات کے چلنے نے، یعنی ہماری قوت ختم کر دی تھی، ساری رات سفر کرتے کرتے اس رات کے چلنے نے ہمارے اندر اثر ڈالا تھا اور ہماری قوت کمزور پڑ گئی تھی ساری رات سفر کی وجہ سے۔ اور اسی طرح مہری، لمبی کمر اور گردن والے اونٹ جو تھے ان کے قدموں نے، اونٹ بھی جب اونٹ جب چلتا ہے مولانا اوپر سوار ہلتا رہتا ہے، تو ساری رات وہ اونٹ کے چلنے اور ہلنے کی وجہ سے بھی ہمیں بے انتہا تھکن ہو گئی تھی، ہماری قوت ختم ہو گئی تھی۔
تو قومس مقام میں میری قوم نے مجھ سے کہا: ”أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ تَبْغِي أَنْ تَؤُمَّ بِنَا“۔ ”أَنْ تَؤُمَّ بِنَا“ یہ مفعول ہے ”تَبْغِي“ کا مولانا، اور یہاں پر مفعول محذوف نکالیں گے: ”أَنْ تَؤُمَّهُ بِنَا“۔ ”أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ“، کیا سورج کے طلوع ہونے کی جگہ؟ میری قوم بھئی ساری رات سفر کرتے رہے تو قومس میں آ کر مجھے کہنے لگے: کیا تو طلب کر رہا ہے، تو طلب کرتا ہے ہمارے ساتھ ارادہ کرنے کو کہ ہم ارادہ کریں کس چیز کا بھئی؟ سورج کے طلوع، کیا تو ہمارے ساتھ یہ چاہتا ہے کہ ہم کس چیز کا ارادہ کریں؟ سورج کے طلوع ہونے کی جگہ کا ارادہ کریں؟ یعنی ادھر ہمیں لے کر جا رہا ہے سورج کے طلوع ہونے کی جگہ؟ تو کہتے ہیں: ”فَقُلْتُ كَلَّا“، میں نے کہا ہرگز نہیں، ”وَلَكِنْ مَطْلَعَ الْجُودِ“، لیکن میں کس کو طلب کر رہا ہوں؟ سخاوت کے طلوع ہونے کی جگہ کو طلب کر رہا ہوں۔ تو دیکھو اب یہاں انتقال کر رہا ہے کس کی طرف؟ ممدوح کی طرف، اس کے ذکر کی طرف انتقال کر رہا ہے کس طریقے پر؟ کہ مطلع شمس کے بعد مطلع جود ذکر کر دیا۔ انتقال کرنے لگا ہے نا، پہلے اور بات کی اب ممدوح کا تذکرہ کرنے لگا ہے وہ بڑا سخی ہے، تو کس طریقے سے کہا کہ پہلے مطلع شمس کے ساتھ ساتھ کس کو ذکر کر دیا؟ مطلع جود کو ذکر کر دیا۔ تو دیکھو جیسے سورج کے طلوع ہونے کی جگہ وہاں سے سورج طلوع ہوتا ہے اور سب کو نفع دیتا ہے، اسی طرح یہ میرا ممدوح جو ہے وہ بھی سخاوت کے طلوع ہونے کی جگہ ہے اور اس کی سخاوت کی وجہ سے سب کو نفع حاصل ہوتا ہے۔ تو دیکھو مطلع شمس ذکر کرتے ہوئے پھر اس کے ساتھ مناسبت پیدا کر دی، کیا ذکر کر دیا؟ مطلع جود ذکر کر دیا، اب مناسبت آ گئی، اب سخاوت کا تذکرہ آ گیا، اب آگے کیا کر دے گا؟ ممدوح کا ذکر سارا شروع کر دے گا بھئی۔
”يَقُولُ فِي قُومَسَ“، ”اِسْمُ مَوْضِعٍ“، بھئی یہ کاتب کی غلطی ہے، با نہیں ہونی چاہیے یہاں۔ یہ ایک جگہ کا نام ہے، ”يُقَالُ لَهُ دَامَغَانُ“، جسے دامغان کہتے ہیں۔ تو کہا قومس مقام میں ”قَوْمِي“، میری قوم نے۔ کیا کہا؟ وہ آگے آخر میں آ رہا ہے ”أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ“، یہ مقولہ ہے قول کا۔ ”وَقَدْ أَخَذَتْ مِنَّا السُّرَى أَيْ أَثَّرَ فِينَا السَّيْرُ بِاللَّيْلِ“، ”أَخَذَتْ“ کا معنی بتلایا ”أَثَّرَ“ ہے، اثر ڈالنا۔ ”مِنَّا“ میں من بمعنی فی کے ہے، اور ”السُّرَى“ بمعنی سیر کے ہے بھئی، السير بالليل رات کو چلنا۔ یعنی اثر ڈالا تھا ہم میں رات کے چلنے نے، رات بھر کے چلنے نے، ”وَنَقَصَ مِنْ قُوَانَا“، اور کم کر دی تھی ہماری قوتیں۔
”وَخُطَى الْمَهْرِيَّةِ“، اور کس نے؟ رات کے چلنے نے ہمارے اندر اثر ڈالا تھا، اور مہری اونٹوں کے قدموں نے بھئی۔ ”خُطَى“ جمع ہے ”خُطْوَةٍ“ کی مولانا، اور خطوہ کہتے ہیں دو قدموں کے مابین فاصلہ بھئی، قدم اٹھانا یا قدموں کے مابین فاصلہ۔ مہری اونٹوں کے قدموں نے، ان کے قدم اٹھانے نے ہمارے اندر اثر ڈالا تھا، یعنی ان کے مسلسل چلنے اور حرکت کرنے کی وجہ سے ہم تھک گئے تھے، کمزور ہو گئے تھے۔ ”يَقُولُ فِي قُومَسَ قَوْمِي وَقَدْ أَخَذَتْ مِنَّا السُّرَى“، اور اثر ڈالا تھا ہم میں رات بھر کے چلنے نے اور لمبی گردن اور پشت والے اونٹوں کے قدموں نے۔ ”عَطْفٌ عَلَى السُّرَى“، یہ عطف ہے کس پر بھئی؟ ”السُّرَى“ پر ہے، تو جیسے وہ فاعل ہے ”أَخَذَتْ“ کا اسی طرح ”خُطَى الْمَهْرِيَّةِ“ بھی جو ہے یہ بھی فاعل ہوا، یعنی دونوں نے اثر ڈالا۔ تو یہ عطف ”السُّرَى“ پر ہے، ”لَا عَلَى الْمَجْرُورِ فِي مِنَّا“، ”مِنَّا“ کے اندر جو ضمیر مجرور متصل ہے اس پر عطف نہیں ہے، ”كَمَا سَبَقَ إِلَى بَعْضِ الْأَوْهَامِ“، جیسے کہ بعض اوہام یہ سمجھے ہیں کہ اس کا عطف ”مِنَّا“ کی نا ضمیر پر ہے، تو کہتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ اس لیے کہ اس صورت میں یہ ترجمہ بنتا ہے مولانا: ہم سے ہماری قوت بھی کمزور کر دی اور مہری اونٹوں کے قدموں کو بھی کمزور کر دیا، کس نے؟ رات بھر کے چلنے نے۔ اور کہتے ہیں یہ معنی مناسب نہیں ہے، صحیح نہیں ہے، کیونکہ آگے خود وہ ذکر کر رہے ہیں کہ: ”أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ تَبْغِي أَنْ تَؤُمَّ بِنَا“، کہ کس چیز کا ارادہ ہے؟ مطلع شمس کا ارادہ ہے تیرا؟ کیا اس کو طلب کرنا چاہتا ہے؟ معلوم ہوا ضعف نہیں آیا، اونٹوں کے چلنے میں ضعف نہیں آیا۔ تو یہ لفظا بھی صحیح نہیں ہے، معنا بھی صحیح نہیں۔ یہ تو معنوی وجہ، اور لفظا اس لیے مولانا کہ ضمیر مجرور متصل پر جب عطف کیا جائے تو اعادہ جار ضروری ہے مولانا، ”وَمِنْ خُطَى الْمَهْرِيَّةِ“ ہوتا اگر اس پر عطف ہوتا۔
”عَطْفٌ عَلَى السُّرَى لَا عَلَى الْمَجْرُورِ فِي مِنَّا كَمَا سَبَقَ إِلَى بَعْضِ الْأَوْهَامِ، وَهِيَ جَمْعُ خُطْوَةٍ“، خطی جمع ہے خطوہ کی، ”وَأَرَادَ بِالْمَهْرِيَّةِ الْإِبِلَ الْمَنْسُوبَةَ إِلَى مَهْرَةَ بْنِ حَيْدَانَ“، مہرہ ابن حیدان کی طرف جو منسوب ہیں ان اونٹوں کا ارادہ، ”أَبِي قَبِيلَةٍ“، جو قبیلے کے اب ہیں مولانا، مہر ابن حیدان کیا ہیں؟ کسی قبیلے کے اب گزرے ہیں بھئی۔ ”الْقُودِ: الطَّوِيلَةِ الظُّهُورِ وَالْأَعْنَاقِ“، لمبی پشت اور گردن والے، ”جَمْعُ أَقْوَدَ“، یہ اقود کی جمع ہے قود مولانا، جیسے احمر کی جمع حمر آتی ہے۔ ”أَيْ أَثَّرَ فِينَا مُزَاوَلَةُ السُّرَى وَمُسَايَرَةُ الْمَطَايَا بِالْخُطَى“، اثر کیا ہم میں مسلسل چلنے نے اور سواریوں کے رات بھر چلنے نے بالخطی قدموں کے ساتھ، یعنی قدم اٹھاتے ہوئے رات بھر چلنے نے ہمارے اندر اثر کیا۔ ”وَمَفْعُولُ يَقُولُ هُوَ قَوْلُهُ أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ“، اور یہ ”يَقُولُ“ کا مفعول یعنی مقولہ جو ہے وہ یہ ہے: ”أَمَطْلَعَ الشَّمْسِ تَبْغِي أَيْ تَطْلُبُ“، کیا سورج کے طلوع ہونے کی جگہ؟ ”أَيْ تَطْلُبُ“، تو طلب کرتا ہے، ”أَنْ تَؤُمَّ بِنَا“، کہ تو ارادہ کرے ہمارے ساتھ۔ ”فَقُلْتُ كَلَّا“، میں نے کہا ہرگز نہیں، ”رَدْعٌ“، بھئی کلا حرف ردع ہے۔ ”رَدْعٌ لِلْقَوْمِ وَتَنْبِيهٌ“، یہ قوم کے لیے ڈانٹ ڈپٹ ہے اور تنبیہ ہے کہ نہیں اس کا ارادہ نہیں ہے، ”وَلَكِنْ مَطْلَعَ الْجُودِ“، بلکہ کس کا ارادہ ہے؟ سخاوت کے طلوع ہونے کی جگہ کا۔ تو دیکھو مولانا انتقال ہوا غیر مقصود سے مقصود کی طرف مناسبت کے ساتھ دونوں کے۔
”وَقَدْ يُنْتَقَلُ مِنْهُ أَيْ مِمَّا يُشَبَّبُ بِهِ الْكَلَامُ إِلَى مَا لَا يُلَائِمُهُ وَيُسَمَّى ذَلِكَ الِانْتِقَالُ الِاقْتِضَابَ“، کبھی کبھار مولانا ابتدا سے انتقال ہوتا ہے مقصود کی طرف بغیر کسی مناسبت کے بھئی۔ ابتدا میں کوئی اور بات چل رہی ہے، چلتے چلتے ایک دم مولانا مقصود، مدح وغیرہ جس کے لیے قصیدہ تھا وہ شروع کر دیا جاتا ہے، اور اس کو اقتضاب کہتے ہیں۔ اور کبھی کبھار انتقال کیا جاتا ہے ”مِمَّا يُشَبَّبُ بِهِ الْكَلَامُ“، جس سے کلام کی ابتدا کی جائے اس سے، ”إِلَى مَا لَا يُلَائِمُهُ“، اس چیز کی طرف جو اس کے مناسب نہیں ہوتی یعنی وہ مقصود، ”وَيُسَمَّى ذَلِكَ الِانْتِقَالُ الِاقْتِضَابَ“، اور اس انتقال کو اقتضاب کہتے ہیں۔ ”وَهُوَ فِي اللُّغَةِ الِاقْتِطَاعُ وَالِارْتِجَالُ“، اور لغت میں یہ کاٹنے اور فی البدیہ کلام کرنے کے معنی میں ہے، بے ساختہ کلام کرنا، ارتجال کا معنی فی البدیہ کلام کرنا۔ یعنی جیسے وہ بغیر تیاری کے ہے، تو یہاں بھی اسی طرح بغیر تیاری کے کیا ہے؟ فورا غیر مقصود سے کس کی طرف انتقال ہوا؟ مقصود۔
”وَهُوَ“ أَيْ الِاقْتِضَابُ ”مَذْهَبُ الْعَرَبِ الْجَاهِلِيَّةِ وَمَنْ يَلِيهِمْ مِنَ الْمُخَضْرَمِينَ“، اور یہ اقتضاب مذہب ہے، طریقہ ہے جاہلی عرب کا، اور جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں مخضرمین میں سے۔ بھئی اقتضاب میں کیا کیا جاتا ہے؟ ابتدا کی جاتی ہے اور ابتدا سے پھر کس کی طرف انتقال ہوتا ہے؟ مقصود کی طرف، اور دونوں کے درمیان کوئی مناسبت پیدا نہیں کی جاتی۔ اور یہ کہتے ہیں جاہل عرب جو تھے مولانا، اسلام سے پہلے کے جو شعراء ہیں وہ ان کا طریقہ ہے، وہ اس طرح کرتے ہیں۔ اور اسی طرح ”وَمَنْ يَلِيهِمْ“، جو ان کے ساتھ ملے ہوئے ہیں یعنی کہ مخضرمین۔ مخضرمین وہ شعراء مولانا جنہوں نے اسلام سے قبل کا زمانہ بھی پایا ہو اور اسلام کو بھی پایا ہو بھئی۔ ”بِالْخَاءِ وَالضَّادِ الْمُعْجَمَتَيْنِ“، یہ مخضرمین جو ہے خاء اور ضاد معجمتین، نقطے والے ہیں مولانا، خا پر بھی نقطہ ضاد پہ بھی۔ ”أَيِ الَّذِينَ أَدْرَكُوا الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ“، وہ شعراء جنہوں نے جاہلیت کو بھی پایا اور اسلام کو، ”مِثْلُ لَبِيدٍ“، جیسے کہ لبید تھے مولانا۔ ”قَالَ فِي الْأَسَاسِ“، اساس میں کہتے ہیں، اساس کتاب ہے لغت کی اس میں لکھا ہوا ہے: ”نَاقَةٌ مُخَضْرَمَةٌ جُدِعَ نِصْفُ أُذُنِهَا“، ناقہ مخضرمہ کس کو کہتے ہیں؟ جس کا نصف کان کٹا ہوا ہو، نصف کان کاٹا گیا ہو۔ ”وَمِنْهُ الْمُخَضْرَمُ الَّذِي أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ“، جس نے جاہلیت کو بھی پایا ہو اور اسلام کو بھی پایا ہو، ”كَأَنَّمَا قُطِعَ نِصْفُهُ حَيْثُ كَانَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ“، تو جس نے اسلام اور جاہلیت دونوں کو پایا ہو اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ مخضرم کہتے ہیں بھئی، عام استعمال ہونے والا لفظ ہے۔ تو مخضرم گویا کہ اس کا نصف کٹ گیا، اس کی عمر کا آدھا حصہ کیونکہ اسلام لانے کے بعد جو جاہلیت کی آدھی عمر تھی وہ کٹ گئی مولانا، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔
”كَقَوْلِهِ“، جیسے کہ ابو تمام کہتا ہے، بڑھاپے کی مذمت بیان کر رہا ہے: ”لَوْ رَأَى اللَّهُ أَنَّ فِي الشَّيْبِ خَيْرًا جَاوَرَتْهُ الْأَبْرَارُ فِي الْخُلْدِ شِيبَا“۔ اور اگر اللہ سمجھتے بڑھاپے کے اندر کوئی خیر، تو پڑوسی ہوتے اس کے نیک لوگ جنت کے اندر اس حال میں کہ وہ بوڑھے ہوتے۔ اگر اللہ بڑھاپے میں کہتے ہیں کوئی خیر نہیں، اگر بڑھاپے میں خیر ہوتی تو اللہ جنتیوں کو بھی جنت میں کس حالت میں ٹھہراتے؟ بڑھاپے، لیکن وہاں تو جوان ہوں گے، معلوم ہوا بڑھاپے میں کوئی خیر نہیں۔ ”جَمْعُ أَشْيَبَ“، یہ شیب جمع ہے اشیب کی، ”وَهُوَ حَالٌ مِنَ الْأَبْرَارِ“، یہ ابرار سے حال ہے۔ تو دیکھو بڑھاپے کی مذمت کی، اب فورا ممدوح کی مدح شروع کر دیتا ہے، درمیان میں کوئی مناسبت نہیں ہے۔ ”ثُمَّ انْتَقَلَ مِنْ هَذَا الْكَلَامِ إِلَى مَا لَا يُلَائِمُهُ“، پھر انتقال کرتا ہے شاعر اس کلام سے اس کلام کی طرف جس کے ساتھ اس کی کوئی مناسبت نہیں ہے، ”فَقَالَ“، پس کہا: ”كُلَّ يَوْمٍ تُبْدِي أَيْ تُظْهِرُ صُرُوفُ اللَّيَالِي خُلُقًا مِنْ أَبِي سَعِيدٍ غَرِيبًا“۔ ہر روز ظاہر کرتے ہیں صروف اللیالی، راتوں کا پھرنا، یعنی زمانے کے حوادثات ہر روز ظاہر کرتے ہیں اخلاق ابو سعید سے، انوکھے اخلاق، ہر روز کے حوادثات ابو سعید سے انوکھے اخلاق کو ظاہر کرتے ہیں، جن کی کوئی مثال نہیں ملتی بھئی۔ تو دیکھو پہلے شعر میں بڑھاپے کی مذمت، اور دوسرے میں ابو سعید کی مدح شروع کر دی، اور درمیان میں کوئی مناسبت نہیں۔
اس پر یہاں پھر اشکال ہوتا تھا کہ آپ نے کیا کہا؟ یہ جاہلی شعراء کا طریقہ ہے اور مخضرمین کا طریقہ ہے، اور آپ نے بطور مثال کے ابو تمام کا شعر ذکر کر دیا، اور ابو تمام تو شعراء اسلامی میں سے ہے، اس لیے کہ جب اسلام پھیل گیا اسلامی سلطنت قائم ہو گئی اس کے بعد کا یہ شاعر ہے، اس زمانے کا یہ شاعر ہے۔ تو یہ تو مخضرمین میں سے نہیں ہے بلکہ کس میں سے ہے؟ شعراء اسلام میں سے ہے۔ تو علامہ تفتازانی کہہ رہے ہیں: بھئی مصنف نے یہ کب کہا ہے کہ جاہلی شعراء اور مخضرمین ہی کرتے تھے اور کوئی نہیں کرتا یہ طریقہ؟ یہ تو صرف مصنف نے یہ بتلایا کہ ان کا طریقہ ہے، ہاں چاہے بعد میں شعراء اسلامی بھی اس کو استعمال کر سکتے ہیں اس کو بھئی۔
”ثُمَّ كَوْنُ الِاقْتِضَابِ مَذْهَبَ الْعَرَبِ وَالْمُخَضْرَمِينَ“، پھر اقتضاب کا عرب کا مذہب اور مخضرمین کا مذہب ہونا، ”أَيْ دَأْبَهُمْ وَطَرِيقَهُمْ“، یعنی ان کا طریقہ اور عادت ہونا، ”لَا يُنَافِي أَنْ يَسْلُكَهُ الْإِسْلَامِيُّونَ“، یہ اس بات کے منافی نہیں ہے کہ اسلامی شعراء بھی اس راستے پر چلیں، ”وَيَتَّبِعُونَهُمْ فِي ذَلِكَ“، اور ان کی پیروی کریں اس چیز میں، ”فَإِنَّ الْبَيْتَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ لِأَبِي تَمَّامٍ“، اس لیے کہ دونوں شعر ابو تمام کے ہیں، ”وَهُوَ مِنَ الشُّعَرَاءِ الْإِسْلَامِيَّةِ فِي الدَّوْلَةِ الْعَبَّاسِيَّةِ“، اور وہ شعراء اسلام میں سے ہے دولت عباسیہ کے اندر، ”وَهَذَا الْمَعْنَى مَعَ وُضُوحِهِ قَدْ خَفِيَ عَلَى بَعْضِهِمْ“، اور یہ معنی بے انتہا واضح ہونے کے باوجود مولانا بعض علماء پر خفی رہا، ”حَتَّى اعْتَرَضَ عَلَى الْمُصَنِّفِ“، یہاں تک کہ اعتراض کیا مصنف پر انہوں نے: ”بِأَنَّ أَبَا تَمَّامٍ لَمْ يَكُنْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ“، کہ ابو تمام تو جاہلی شعراء میں سے نہیں تھا، ”فَكَيْفَ يَكُونُ مِنَ الْمُخَضْرَمِينَ“، تو وہ کیسے مخضرمین میں سے ہو سکتا ہے؟ سمجھ میں آیا؟ انہوں نے اعتراض کیا حالانکہ یہ اعتراض کا محل نہیں تھا، شارح نے یہ کب کہا کہ ابو تمام مخضرمین میں سے ہے؟ مصنف نے صرف یہ کہا کہ یہ طریقہ مخضرمین اور جاہلی شعراء کا ہے، ہاں اس طریقے کو بعد والے بھی اپنا لیں تو کیا کر سکتے ہیں؟ اس کو اپنا سکتے ہیں جیسے ابو تمام نے اپنایا بھئی۔ چلیے جی، ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔