کل کے سبق میں ہم نے صنعت موازنہ پڑھی تھی، اور وہ کہتے ہیں دو فاصلتین کا برابر ہونا وزن کے اندر نہ کہ تقفیہ میں بھئی۔ شعر میں یا نثر کے اندر آخری جو دو کلمات ہیں قرینے وغیرہ کے یا شعر کے، وہ وزن میں ایک جیسے ہوں، قافیے میں ایک جیسے نہ ہوں، اس کو موازنہ کہتے ہیں۔ اور پھر اس کی ایک قسم ہے مماثلہ جس کے اندر باقی تمام یا اکثر جو ہیں وزن میں ایک جیسے ہوتے ہیں چاہے تقفیہ میں مماثلت ہو یا مماثلت نہ ہو بھئی۔
اس کے بعد صنعت قلب پڑھی تھی اور وہ کہتے ہیں کلام کا اس طور پر ہونا ہے کہ اگر آپ اس کو عکس کر دیں اور آخری حرف سے اس کو پڑھنا شروع کریں تو پھر بھی اول کی طرح بعینہٖ وہی کلام بن جائے گا۔ یہ کبھی پورے شعر وغیرہ میں ہوتا ہے، کبھی بعض کلام میں ہوتا ہے، کبھی ایک مصرعے میں ہوتا ہے کہ اس کو الٹ دیں تو دوسرا مصرعہ بنتا ہے اور دوسرے کو الٹ دیں تو پہلا مصرعہ بن جاتا ہے۔
پھر ایک صنعت ہم نے تشریع پڑھی، اور وہ یہ کہ شعر کی بنا کرنا ہے دو قافیوں پر کہ جن میں سے جس قافیے پر بھی آپ وقف کر لیں شعر کا معنی صحیح رہے گا بھئی۔ جیسے یہ شعر تھا:
”يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ إِنَّهَا ... شَرَكُ الرَّدَى وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ“
تو دیکھو ”يَا خَاطِبَ الدُّنْيَا الدَّنِيَّةِ إِنَّهَا“ ایک مصرعہ، ”شَرَكُ الرَّدَى وَقَرَارَةُ الْأَكْدَارِ“ یہ دوسرا مصرعہ۔ لیکن اس میں دو قافیے ہیں، اگر آپ ”شَرَكُ الرَّدَى“ پر بھی رک جاتے ہیں تو پھر بھی شعر پورا رہتا ہے اور معنی بھی صحیح ہی رہتا ہے بھئی۔
اس کے بعد ایک صنعت پڑھی ہم نے لزوم ما لا یلزم، اور وہ یہ کہ حرفِ روی یا جو حرفِ روی کے حکم میں ہے اس سے پہلے ایسی چیز کے لانے کا اہتمام کرنا جو لازم نہ ہو سجع کے اندر۔ یعنی اگر ان قوافی یا ان فواصل سے ہم اور سجعیں بنا لیں تو ان سجعوں کے اندر اس ماقبل کی رعایت رکھنا واجب نہ ہو جن کی رعایت اس قافیے یا فاصلے میں رکھی گئی ہے مولانا۔
اور اس کے بعد مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو تھے حسنِ لفظی کے محسناتِ لفظیہ پورے ہو گئے، لیکن اس میں خیال رہے کہ اصل مقصود معنی ہونا چاہیے اور الفاظ کو تابع ہونا چاہیے، نہ کہ یہ کہ اصل مقصود الفاظ ہو جائیں اور معنی اس کے تابع ہو جائے، جیسے مولانا وہ قاضی کو انہوں نے لکھا تھا: ”أَيُّهَا الْقَاضِي بِقُمْ، قَدْ عَزَلْنَاكَ فَقُمْ“، تو وہاں پر اصل مقصود الفاظ تھے اور پھر بعد میں کس کی طرف نظر کی گئی؟ معنی کی طرف نظر کی گئی اور قاضی کو اس کی وجہ سے معزول کیا بھئی۔
”خَاتِمَةٌ مِنَ الْفَنِّ الثَّالِثِ فِي السَّرِقَاتِ الشِّعْرِيَّةِ“ خاتمہ ہے مولانا فنِ ثالث میں سے سرقاتِ شعریہ کے بارے میں۔ سرقاتِ شعریہ: ایک شاعر دوسرے شاعر کے الفاظ لے لیتا ہے مولانا بعینہٖ، یا اس کے بعض الفاظ لے لیتا ہے، یا اس کے معنی کو لے لیتا ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ سرقہ شعریہ کہتے ہیں کہ معنی یا الفاظ کو لے لیا اور اپنی طرف منسوب کر دیا۔ تو خاتمہ فنِ ثالث میں سے سرقاتِ شعریہ کے بارے میں ”وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا“ اور وہ جو اس کے ساتھ متصل ہیں سرقاتِ شعریہ سے جیسے کہ اقتباس ہے، تضمین ہے، عقد ہے، حل ہے، تلمیح ہے، یہ سب آگے آنے والے ہیں۔ ”وَغَيْرِ ذَلِكَ“ اور اس کے علاوہ کچھ چیزیں ہیں جیسے کہ ”مِثْلُ الْقَوْلِ فِي الِابْتِدَاءِ وَالتَّخَلُّصِ وَالِانْتِهَاءِ“ جیسے کہ قول فی الابتداء ہے، تخلص ہے اور انتہا کے اندر مولانا قول، یہ بھی چیزیں سب آگے آنے والی ہیں۔
علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں کہ یہ خاتمہ جو ہے ہم نے اس کو کتاب کا خاتمہ نہیں قرار دیا بلکہ اس کو فنِ ثالث کا خاتمہ قرار دیا۔ بعض علماء نے اس کو کتاب کا خاتمہ سمجھا اور اس کو فنِ اول، فنِ ثانی، فنِ ثالث تینوں سے خارج سمجھا۔ کہتے ہیں لیکن درحقیقت یہ ان تینوں فن جو ہیں ان سے خارج نہیں ہے بلکہ یہ تو فنِ ثالث ہی کا حصہ ہے۔ اور اس کی دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں دلیل یہ کہ مصنف نے جو تلخیص کی شرح لکھی ایضاح، اس کے اندر وہ خود لکھتے ہیں کہ بھئی یہاں تک وہ محسناتِ لفظیہ پورے ہو گئے اور کچھ چیزیں ابھی باقی ہیں مولانا۔ تو یہ کچھ چیزیں باقی ہونا جن کو اور مصنفین اسی فن میں ذکر کرتے ہیں، تو میں ان میں سے کچھ چیزوں کو ذکر کروں گا جو ضروری ہیں اور جو غیر ضروری ہیں ان کو میں ذکر نہیں کروں گا۔ تو ان کا یہ کلام دلالت کرتا ہے کہ کچھ چیزیں ابھی باقی ہیں جن کو باقی مصنفین کس میں ذکر کرتے ہیں؟ فنِ ثالث ہی میں ذکر کرتے ہیں۔ معلوم ہوا یہ جو آگے چیزیں ذکر ہو رہی ہیں یہ فنِ ثالث ہی میں سے ہیں اس سے خارج نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ فنِ ثالث کا خاتمہ ہے نہ کہ کتاب کا خاتمہ بھئی۔
”وَإِنَّمَا قُلْنَا إِنَّ الْخَاتِمَةَ مِنَ الْفَنِّ الثَّالِثِ“ اور ہم نے یہ کہا کہ یہ خاتمہ فنِ ثالث میں سے ہے ”دُونَ أَنْ نَجْعَلَهَا خَاتِمَةَ الْكِتَابِ خَارِجَةً عَنِ الْفُنُونِ الثَّلَاثَةِ“ علاوہ اس کے کہ ہم اس کو کتاب کا خاتمہ بنائیں اور خارج بنائیں اس کو فنونِ ثلاثہ سے، ”كَمَا تَوَهَّمَ غَيْرُنَا“ جیسے کہ ہمارے علاوہ بعضوں نے وہم کیا۔ دلیل یہ ہے کہ ہم نے فنِ ثالث کا خاتمہ کیوں بنایا؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمُصَنِّفَ قَالَ فِي آخِرِ بَحْثِ الْمُحَسِّنَاتِ اللَّفْظِيَّةِ“ اس لیے کہ مصنف ایضاح میں فرماتے ہیں محسناتِ لفظیہ کے آخر میں: ”هَذَا مَا تَيَسَّرَ لِي بِإِذْنِ اللَّهِ تَعَالَى جَمْعُهُ وَتَحْرِيرُهُ مِنْ أُصُولِ الْفَنِّ الثَّالِثِ“ یہ ہیں وہ چیزیں کہ آسان ہوا میرے لیے اللہ کے اذن سے ان کا جمع کرنا اور ان کی کانٹ چھانٹ، تہذیب کرنا۔ تحریر کا معنی ہے تہذیب کرنا، کانٹ چھانٹ کرنا مولانا، سمجھ میں آیا؟ عربی میں تحریر کا معنی یہ اردو والی تحریر نہیں ہے مولانا لکھنا، اور کانٹ چھانٹ کی ”مِنْ أُصُولِ الْفَنِّ الثَّالِثِ“ فنِ ثالث کے مسائل میں سے۔ ”وَبَقِيَتْ أَشْيَاءُ“ اور کچھ چیزیں کہتے ہیں باقی ہیں، دیکھا یہ لفظ مصنف نے ایضاح میں ذکر کیا، یہ دلالت کرتا ہے کہ یہ جو سرقاتِ شعریہ وغیرہ یہ سارے کس میں سے ہیں؟ فنِ ثالث۔ تو کچھ چیزیں باقی ہیں ”يَذْكُرُهَا فِي عِلْمِ الْبَدِيعِ بَعْضُ الْمُصَنِّفِينَ“ جن کو علمِ بدیع ہی میں ذکر کرتے ہیں بعض مصنفین۔
”وَهُوَ قِسْمَانِ“ اور یہ جو باقی چیزیں ہیں یہ دو قسم پر ہیں: ”أَحَدُهُمَا مَا يَجِبُ تَرْكُ التَّعَرُّضِ لَهُ“ کچھ وہ چیزیں ہیں جن سے تعرض کو ترک کرنا واجب ہے، یعنی ان کے درپے نہ ہوا جائے یہ واجب ہے، ان کو چھوڑ دیا جائے۔ کیوں؟ ”لِأَعْدَمِ كَوْنِهِ رَاجِعًا إِلَى تَحْسِينِ الْكَلَامِ“ اس لیے کہ یہ تحسینِ کلام کی طرف راجع ہی نہیں۔ بھئی علمِ بدیع تو وہ فن ہے جس کے اندر کیا کیا جاتا ہے؟ ایسی چیزوں کو ذکر کیا جاتا ہے جس سے کلام کے اندر حسن پیدا ہوتا ہے، اور یہ جو چیزیں ہیں ان میں سے کچھ ایسی چیزیں ہیں جن سے کلام میں حسن ہی نہیں پیدا ہوتا، تو ان کو تو ترک ہی کر دینا واجب ہے، یہ اس میں سے ہیں ہی نہیں۔ ”أَوْ لِعَدَمِ الْفَائِدَةِ فِي ذِكْرِهِ لِكَوْنِهِ دَاخِلًا فِيمَا سَبَقَ مِنَ الْأَبْوَابِ“ یا اس لیے ترک کرنا واجب ہے کیونکہ ان کا کوئی فائدہ نہیں ہے ان کے ذکر میں، بوجہ ان کے داخل ہونے کے ماقبل کے ابواب میں۔ ماقبل کے ابواب میں یہ کیا ہیں؟ وہ داخل ہیں، تو ان کو الگ ذکر کرنے کی دوبارہ ضرورت نہیں بھئی۔
”وَالثَّانِي“ اور دوسری قسم، ما بقیہ میں سے دو قسم کی ہیں جن میں سے کچھ کو ترک کرنا واجب ہے اور دوسری قسم کی وہ چیزیں ہیں ”مَا لَا بَأْسَ بِذِكْرِهِ“ جن کے ذکر میں کوئی حرج نہیں ہے ”لِاشْتِمَالِهِ عَلَى فَائِدَةٍ“ اس لیے کہ وہ مشتمل ہیں فائدے پر ”مَعَ عَدَمِ دُخُولِهِ فِيمَا سَبَقَ“ اور ساتھ اس کے کہ وہ ماقبل کے ابواب میں داخل بھی نہیں ہیں، تو ان کو ذکر کرنا ضروری ہے، ان کا فائدہ ہے، ”مِثْلُ الْقَوْلِ فِي السَّرِقَاتِ الشِّعْرِيَّةِ وَمَا يَتَّصِلُ بِهَا“ جیسے سرقاتِ شعریہ میں قول کرنا اور جو ان کے ساتھ چیزیں متصل ہیں، اقتباس، تضمین وغیرہ جو آگے آئیں گی۔
اب مصنف فرماتے ہیں کہ اگر دو قائلین ہیں مولانا، دو شعر کہنے والے شاعر ہیں، اگر غرض میں ان کا اتفاق ہو جائے، کس میں؟ غرض کے اندر۔ غرض کیا ہوگی؟ مثلاً ایک شاعر دوسرے شخص کی بہادری کی تعریف کرنا چاہتا ہے، بہادری کو بیان کرنا چاہتا ہے، یہ اس کی غرض ہے۔ یا ایک کی مذمت کرنا چاہتا ہے، یہ اس کی غرض ہے۔ یا ایک کی سخاوت کی تعریف کرنا چاہتا ہے، یہ کیا ہے اس کی؟ غرض ہے۔ تو جو بھی شعر کہے گا اس کی کوئی غرض ہوگی، یا کسی کی مدح ہوگی یا کسی کی ہجو ہوگی یا کسی کی تعریف وغیرہ، اس قسم کی چیزیں ہوں گی۔ تو کہتے ہیں اگر یہ غرض عام ہوئی، یعنی عام لوگوں کے اندر شائع ہے، رائج ہے، دوسرے لوگ بھی دوسرے کی بہادری کی تعریف کیا کرتے ہیں، سخاوت کی تعریف کیا کرتے ہیں، اس قسم کی چیزیں ہیں، تو پھر اس صورت میں آپ یہ حکم نہ لگانا کہ وہ شاعر سو سال پہلے گزرا ہے، یہ شاعر آج آیا ہے، معلوم ہوا اس نے اس کے کلام سے چوری کیا ہے۔ ایسا نہیں۔ اس لیے کہ یہ چیزیں تو عام ہیں، عام آدمی بھی کیا کرتا ہے؟ دوسرا بہادر ہو تو اس کی تعریف کرتا ہے، اگر دوسرا سخی ہے تو اس کی تعریف کرتا ہے، تو یہ چیزیں عقلوں میں اور عادتوں میں جم گئی ہیں، بیٹھ گئی ہیں، سب انسان اس طرح کرتے ہیں۔ تو لہٰذا اس چیز کو کہ ایک کی غرض بھی تعریف ہے سخاوت کی، دوسرے کی بھی غرض تعریف ہے سخاوت کی، تو اس چیز کے اندر دونوں میں اگر اتفاق بھی آ جائے، وہ بھی یہی چیز بیان کرنا چاہتا ہے دوسرا بھی یہی چیز بیان کرنا چاہتا ہے، تو اس پر سرقے وغیرہ کا حکم نہ لگانا۔
”اتِّفَاقُ الْقَائِلَيْنِ“ اتفاق کرنا دو کہنے والوں کا، ”عَلَى لَفْظِ التَّثْنِيَةِ“ یہ قائلین جو ہے تثنیہ کے لفظ کے ساتھ ہے مولانا، علامہ تفتازانی بتلا رہے ہیں، ”إِنْ كَانَ فِي الْغَرَضِ“ اگر وہ اتفاق غرض کے اندر تھا اور غرض بھی کیسی تھی؟ ”عَلَى الْعُمُومِ“ عام غرض تھی، عام لوگ بھی اس کا ارادہ کرتے ہیں، ”كَالْوَصْفِ بِالشَّجَاعَةِ وَالسَّخَاءِ“ جیسے سخاوت یا شجاعت کے ساتھ وصف بیان کرنا، ”وَحُسْنِ الْوَجْهِ وَالْبَهَاءِ“ یہ حسن الوزن نہیں مولانا، ”حُسْنِ الْوَجْهِ“ ہونا چاہیے: ”وَحُسْنِ الْوَجْهِ وَالْبَهَاءِ“ اور چہرے کے حسن اور خوبصورتی کے اندر لوگ تعریف کرتے ہیں، جیسے یہ بھی عام ہے، لوگ چہرے کے حسن اور خوبصورتی کی کیا کرتے ہیں؟ تعریف کرتے ہیں، ”وَنَحْوِ ذَلِكَ“ اس جیسی اور چیزیں ہیں، ”فَلَا يُعَدُّ هَذَا الِاتِّفَاقُ سَرِقَةً“ تو اس قسم کے اتفاق کو سرقہ نہیں شمار کیا جاتا، ”وَلَا اسْتِعَانَةً وَلَا أَخْذًا“ نہ ہی اس کو استعانہ شمار کیا جاتا ہے، نہ ہی اس کو اخذ شمار کیا جاتا ہے۔ سرقہ نہیں کہ اس نے اس سے چوری کیا، استعانت نہیں کہ اس نے مدد لی اس شاعر سے اس بات کے اندر، ”وَلَا أَخْذًا“ اخذ بھی نہیں ہے کہ اس نے اس کا کلام لے لیا یا اس کا معنی لے لیا، ”وَنَحْوَ ذَلِكَ مِمَّا يُؤَدِّي هَذَا الْمَعْنَى“ اور نہ ہی اس قسم کا کوئی اور نام اس کا رکھا جاتا ہے، کوئی اور چیز شمار کیا جاتا ہے جو یہی معنی ادا کرے، یعنی غصب ہے مثلاً، تو یہ چوری، استعانت، اخذ یہ بھی نہیں کہا جائے گا اور ان جیسا کوئی اور لفظ بھی نہیں کہا جائے گا جن میں انہی کا معنی پایا جائے کہ اس نے غیر سے چیز لی ہے۔
”لِتَقَرُّرِهِ“ کیوں؟ ”أَيْ لِتَقَرُّرِ هَذَا الْغَرَضِ الْعَامِّ فِي الْعُقُولِ وَالْعَادَاتِ“ اس لیے کہ جم گئی ہیں اس قسم کی عام غرضیں عقلوں میں اور عادتوں میں، ”يَشْتَرِكُ فِيهِ الْفَصِيحُ وَالْأَعْجَمُ“ مشترک ہیں اس کے اندر فصیح بھی اور غیر فصیح بھی، اعجم مولانا گونگے کو بھی کہتے ہیں غیر فصیح کو، ”وَالشَّاعِرُ وَالْمُفْحَمُ“ شاعر بھی، مفحم وہ مولانا جو عاجز و ساکت ہو یعنی جو شعر پر قادر نہ ہو مراد یہ ہے یہاں پر۔ تو فصیح آدمی بھی اس قسم کی تعریف کرتا ہے شجاعت سخاوت سے، غیر فصیح بھی کرتا ہے، شاعر بھی کرتا ہے، غیر شاعر بھی کرتا ہے، تو اس کو چوری نہیں شمار کرتے۔
اچھا، یہ تو تھی غرض۔ اب دیکھو اس شاعر نے بھی سخاوت کی تعریف کی، اس نے بھی سخاوت کی تعریف کی، تو یہ غرض ایک ہوئی، اس میں ایک کو نہیں کہا جائے گا ایک نے دوسرے سے چوری کی۔ اب اس سخاوت کو بیان کرنے کے لیے اس نے جو طریقہ اختیار کیا، یرحمک اللہ، اب اس سخاوت کو بیان کرنے کے لیے ایک نے جو طریقہ اختیار کیا، اگر ثانی بھی وہ طریقہ اختیار کرے، پھر اس صورت میں تفصیل ہے، سمجھ میں آیا؟ تو غرض وہی ہے، اس غرض پر دلالت کا کوئی طریقہ تو ہوگا۔ مثلاً میں زید کی شجاعت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، ایک صورت یہ ہے میں کہوں: ”زَيْدٌ شُجَاعٌ“ زید کیا ہے؟ بہادر۔ ایک طریقہ یہ ہے کہ میں کیا کروں؟ تشبیہ دے دوں: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ“ زید کس کی طرح ہے؟ شیر کی طرح ہے، تو دیکھو یہ میں کیا لے آیا؟ تشبیہ لے آیا۔ اسی طرح میں کنایہ لے آتا ہوں وغیرہ، تو یہ طریقے ہیں اس غرض پر دلالت کے۔ وہ جو شجاعت میں بیان کرنا چاہتا ہوں اس پر دلالت کے یہ طریقے ہیں مولانا، کبھی مولانا حقیقت ہوگا، کبھی مجاز، کبھی کنایہ، کبھی تشبیہ، کوئی طریقہ اختیار کرے گا شاعر۔ اس طریقے کے اندر اگر اتفاق آتا ہے، پھر تفصیل ہے اس کے اندر۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
”وَإِنْ كَانَ اتِّفَاقُ الْقَائِلَيْنِ فِي وَجْهِ الدَّلَالَةِ...“ اور اگر اتفاق تھا دو قائلین کا وجہ دلالت کے اندر، کیا معنی وجہ دلالت؟ ”أَيْ طَرِيقِ الدَّلَالَةِ عَلَى الْغَرَضِ“ اس غرض پر دلالت کے طریقے میں، ”كَالتَّشْبِيهِ“ جیسے کہ تشبیہ، اس نے بھی تشبیہ دی ہے اس نے بھی تشبیہ دی ہے، ”وَالْمَجَازِ وَالْكِنَايَةِ“ اس نے بھی مجاز استعمال کیا اور اس نے بھی مجاز، اس نے بھی کنایہ کے طور پر کلام ذکر کیا اس نے بھی کنایہ کے طور پر۔ تو جیسے تشبیہ وغیرہ ہے، اور جیسے ”كَذِكْرِ هَيْئَاتٍ تَدُلُّ عَلَى الصِّفَةِ“ یا ایسی صفات، ہیئات ذکر کرنا جو کس پر دلالت کرتی ہیں؟ اس صفت یعنی اس غرضِ عام پر، ”لِاخْتِصَاصِهَا بِمَنْ هِيَ لَهُ“ اس لیے کہ وہ صفات خاص ہوتی ہیں جس کے لیے وہ صفت ہے، وہ غرض ہے۔
بھئی میں کیا کرنا چاہتا ہوں؟ میں زید کی سخاوت کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، تو ایک طریقہ یہ ہے کہ میں اس کے لیے تشبیہ والا طریقہ اختیار کرتا ہوں۔ یا ایک طریقہ یہ ہے میں ایسی ہیئتیں ذکر کرتا ہوں جو سخی کے ساتھ خاص ہوتی ہیں، سخاوت پر دلالت کرتی ہیں کسی اور چیز پہ دلالت نہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں زید جب سوال کرنے والے کو دیکھتا ہے تو اس کا چہرہ چمکنے لگتا ہے۔ یہ کس کی علامت ہے؟ معلوم ہوا سخی آدمی ہے کہ اب مجھے مال دینا پڑے گا، وہ خوش ہوتا ہے مولانا۔ تو یہ دیکھا؟ یہ اب چہرے کا چمک اٹھنا اور اس کے چہرے پر خوشی کے آثار نمودار ہونا، یہ ایسی ہیئت ہے جو خاص ہے کس کے ساتھ؟ سخی کے ساتھ۔ کس کے ساتھ؟ سخی۔
یہ معنی ہے: ”كَذِكْرِ هَيْئَاتٍ تَدُلُّ عَلَى الصِّفَةِ“ یا ایسی ہیئات کا ذکر کرنا جو صفت یعنی سخاوت پر دلالت کریں، ”لِاخْتِصَاصِهَا“ اس لیے کہ یہ صفت یعنی چہرے پر چمک آنا مثال کے طور پر، یہ خاص ہے ”بِمَنْ“ اس شخص کے ساتھ ”هِيَ لَهُ“ کہ سخاوت اس کے لیے ہے، جس کے لیے سخاوت ہے اسی کے ساتھ یہ ہیئت بھی خاص ہے۔ ”أَيْ لِاخْتِصَاصِ تِلْكَ الْهَيْئَاتِ بِمَنْ ثَبَتَتْ تِلْكَ الصِّفَةُ لَهُ“ اس لیے کہ اس قسم کی ہیئتیں خاص ہیں اس شخص کے ساتھ جس کے لیے وہ صفت ثابت ہو۔ ”كَوَصْفِ الْجَوَادِ بِالتَّهَلُّلِ عِنْدَ وُرُودِ الْعُفَاةِ“ جیسے کہ صفت بیان کرنا سخی شخص کی چہرے کی چمک دمک کے ساتھ جب سوال کرنے والے وارد ہوں یعنی اس کے پاس آئیں۔ ”الْعُفَاةِ أَيِ السَّائِلِينَ“، عفاۃ کا کیا معنی ہے؟ سوال کرنے والے، ”جَمْعُ عَافٍ“ یہ کس کی جمع ہے؟ عافٍ کی۔
”وَكَوَصْفِ الْبَخِيلِ بِالْعُبُوسِ عِنْدَ ذَلِكَ“ اور جیسے آپ بخیل آدمی، کسی کے بخل کو بیان کرنا چاہتے ہیں، یہ تو غرض ہے مولانا، اب اس کے لیے دلالت کا کیا طریقہ اختیار کرتے ہیں؟ آپ ایسی ہیئات بیان کرتے ہیں جو کس کے ساتھ خاص ہیں؟ بخیل کے ساتھ۔ مثلاً آپ کہتے ہیں جب وہ کسی مانگنے والے سائل کو دیکھتا ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے، اس کے چہرے پر ترش روئی ظاہر ہوتی ہے، سمجھ میں آیا؟ ترش رو ہو جاتا ہے وہ مولانا۔
”كَوَصْفِ الْبَخِيلِ بِالْعُبُوسِ عِنْدَ ذَلِكَ“ جیسے کہ بخیل کا وصف بیان کرنا عبوس، ترش روئی کے ساتھ اس وقت یعنی جب سوال کرنے والا آئے، ”مَعَ سَعَةِ ذَاتِ الْيَدِ“ ذات الید کہتے ہیں مولانا مملوکہ اشیاء کو۔ ذات الید کس کو کہتے ہیں؟ مملوکہ اشیاء، مال وغیرہ بھئی، اس کو ذات الید کہتے ہیں، اس لیے علامہ تفتازانی نے اس کی تفسیر کس سے کی ہے؟ مال کے ساتھ کی ہے، مال کو کہتے ہیں۔ ”مَعَ سَعَةِ ذَاتِ الْيَدِ“ مال کی وسعت کے ساتھ، مال کی آسائش کے ساتھ۔ بھئی ایک آدمی کے پاس مال ہے پھر جب سوال کرنے والا آتا ہے تو اس کا چہرہ بگڑ جاتا ہے، تو یہ کس چیز کی علامت ہے؟ بخل کی۔ ہاں اگر اس بیچارے کے پاس مال ہی نہیں تھا، اب اس نے سوال کرنے والے کو دیکھا اور اس کا چہرہ بگڑ گیا تو کہتے ہیں یہ سخاوت کی علامت ہے، اس لیے کہ وہ بیچارہ پریشان ہوا، اس کو غم لاحق ہو گیا کہ میرے پاس یہ سوال کرنے والا آیا اور میرے پاس مال ہی نہیں کہ میں کیا کروں؟ اس کی مدد کروں۔ اسی لیے کہا: ”مَعَ سَعَةِ ذَاتِ الْيَدِ أَيِ الْمَالِ“ مال کی آسودگی کے ساتھ۔ ”وَأَمَّا الْعُبُوسُ عِنْدَ ذَلِكَ مَعَ قِلَّةِ ذَاتِ الْيَدِ فَمِنْ أَوْصَافِ الْأَسْخِيَاءِ“ باقی چہرے کا بگڑنا جبکہ مال قلیل ہو، جب سائل آئے اور مال قلیل ہو، تو استحيأ نہیں مولانا، ”الْأَسْخِيَاءِ“ کریں اس کو: یہ سخیوں کے اوصاف میں سے ہے۔
تو اس میں تفصیل ہے مولانا، سمجھ میں آیا؟ اگر غرض میں دو کا اتفاق آ گیا، یہ بھی شجاعت بیان کرنا چاہتا ہے دوسرا بھی شجاعت، وہ سخاوت بیان کرنا چاہتا ہے یہ بھی سخاوت، وہ مذمت کر رہا ہے یہ بھی مذمت، تو اس کو مولانا سرقہ تو نہیں کہتے، لیکن اگر دلالت کا ایک ہی طریقہ اختیار کرتے ہیں دونوں: ایک نے بھی مجاز استعمال کیا دوسرے نے بھی مجاز، ایک نے بھی کنایہ کیا دوسرے نے بھی کنایہ، تو پھر اس کے اندر تفصیل ہے۔ اس کے اندر تفصیل ہے۔
تفصیل کیا ہے؟ کہتے ہیں آپ دیکھیں: ”فَإِنِ اشْتَرَكَ النَّاسُ فِي مَعْرِفَتِهِ“ کہ لوگ اگر مشترک ہیں اس دلالت کے طریقے کے جاننے میں، لوگ کیا ہیں؟ مشترک۔ سب لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں، اکثر لوگ بہادر ہو تو کہتے ہیں یہ تو شیر جیسا ہے، چاہے عام آدمی ہو چاہے شاعر ہو، فصیح ہو، غیر فصیح ہو، تو اس صورت میں بھی اس کو سرقہ شمار نہیں کریں گے، اس لیے کہ یہ چیز بھی عادتوں میں اور طبیعتوں میں جمی ہوئی ہے، بہادر کی تعریف کی ہی جاتی ہے شیر کے ساتھ مشابہت کرتے ہوئے، اس کی مشابہت دی جاتی ہے۔ تو اس وجہ دلالت میں اگر لوگ مشترک ہیں اس کے جاننے میں، ”أَيْ مَعْرِفَةِ وَجْهِ الدَّلَالَةِ“ وجہ دلالت کے جاننے میں مشترک ہیں، ”لِاسْتِقْرَارِهِ فِيهِمَا“ ہونا چاہیے، فیھا نہیں مولانا، اس لیے کہ یہ چیزیں جم گئی ہیں ”فِيهِمَا أَيْ فِي الْعُقُولِ وَالْعَادَاتِ“ کہاں پر؟ عقلوں میں اور عادات میں یہ چیزیں جم گئی ہیں، ”كَتَشْبِيهِ الشُّجَاعِ بِالْأَسَدِ وَالْجَوَادِ بِالْبَحْرِ“ جیسے شجاع کی تشبیہ کس سے دی جاتی ہے؟ اسد کے ساتھ، ہر شخص دیتا ہے، اور سخی آدمی کی تشبیہ دی جاتی ہے سمندر کے ساتھ، سب لوگوں میں یہ عام ہے، ”فَهُوَ كَالْأَوَّلِ“ تو یہ بھی اول کی طرح ہے، یعنی جیسے اس غرض کو سرقہ نہیں سمجھا جاتا تھا اس کو بھی اب سرقہ نہیں۔ اس نے کہا: ”زَيْدٌ كَالْأَسَدِ“، آپ نے عمرو کی آج تعریف کی دس سال بعد: ”عَمْرٌو كَالْأَسَدِ“، تو اب دلالت کا طریقہ بھی ایک دونوں کا لیکن اس کو سرقہ نہیں، ہم یہ نہیں کہیں گے آپ نے اس کی بات کو چوری کر کے اپنے شعر میں ذکر کیا اس لیے کہ یہ کیا ہے؟ طبیعتوں میں بیٹھی ہوئی ہے۔ ”أَيْ فَالِاتِّفَاقُ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ وَجْهِ الدَّلَالَةِ عَلَى الْغَرَضِ كَالِاتِّفَاقِ فِي الْغَرَضِ الْعَامِّ فِي أَنَّهُ لَا يُعَدُّ سَرِقَةً وَلَا أَخْذًا“ تو پس اتفاق ہونا اس نوع کے اندر وجہ دلالت علی الغرض میں یعنی غرض پر دلالت کے طریقے میں اتفاق ہونا، یہ اسی طرح ہے جیسے کہ اتفاق ہو غرضِ عام میں، اس بات میں کہ جیسے اس کو سرقہ نہیں شمار کیا جاتا اس کو بھی سرقہ شمار نہیں اور نہ اس کو اخذ شمار کیا جائے گا۔
”وَإِلَّا...“ اگر ایسا نہ ہو، اگر وجہ دلالت میں لوگوں کا اشتراک نہ ہو تو پھر مولانا اب دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ اس نے بھی کنایہ استعمال کیا ہے، خاص کنایہ کو استعمال کیا جو لوگوں کو پتہ نہیں ہے، لوگوں میں عام نہیں ہے، دوسرے نے بھی وہی کنایہ استعمال کیا اور یہ تو کنایہ عام لوگوں کو پتہ نہیں، معلوم ہوا اس نے اس سے چوری کیا ہے۔ ٹھیک ہے؟ اور اس صورت کے اندر اول کے بارے میں ہم کہیں گے اس کو فضیلت حاصل ہے، وہ بلند درجے والا ہے مولانا، اور وہ اس پر کیا ہے؟ زائد ہے، اور یہ اس سے ناقص ہے۔
”وَإِلَّا أَيْ وَإِنْ لَمْ يَشْتَرِكِ النَّاسُ فِي مَعْرِفَتِهِ“ اور اگر لوگ مشترک نہ ہوں اس کے دلالت کے طریقے کے جاننے میں، ”جَازَ أَنْ يُدَّعَى فِيهِ أَيْ فِي هَذَا النَّوْعِ مِنْ وَجْهِ الدَّلَالَةِ السَّبْقُ وَالزِّيَادَةُ“ جائز ہے کہ اس وجہ دلالت کے اندر کس چیز کا دعویٰ کیا جائے؟ سبقت اور زیادتی کا۔ سبقت کیا معنی بھئی؟ ”بِأَنْ يُحْكَمَ بَيْنَ الْقَائِلَيْنِ فِيهِ بِالتَّفَاضُلِ“ کہ فیصلہ کرنے کے دو قائلین میں اس وجہ دلالت میں، کس چیز کے ساتھ فیصلہ کرنے کا؟ تفاضل اور فضیلت کا، اور تفاضل کا کیا معنی؟ تفسیر کر رہے ہیں: ”وَأَنَّ أَحَدَهُمَا أَكْمَلُ مِنَ الْآخَرِ“ کہ ایک کیا ہے؟ دوسرے سے زیادہ کامل ہے، کہ اس نے ایک چیز ذکر کی تھی تو دوسرے نے اسی سے کیا کر لی؟ نقل کر لی۔ ”وَأَنَّ الثَّانِيَ زَادَ عَلَى الْأَوَّلِ أَوْ نَقَصَ عَنْهُ“ اور دوسرا جو ہے اول سے زیادہ ہے یا کم ہے، اول سے زیادہ ہے یا کم ہے۔ بھئی ایک بات اس نے بھی بیان کی تھی ایک بات اس نے بھی بیان کی، یہ نہ کہیں کہ اول ہی زائد ہے، ہو سکتا ہے یہ ثانی اس میں تھوڑی سی تبدیلی کر کے اس سے بھی اعلیٰ بنا دے۔ کیا کرے؟ اعلیٰ بنا دے۔ ہاں تو جب اس نے بھی کیا اس نے بھی کیا، اب ان دونوں کو دیکھ کر آپ فیصلہ کریں گے کہ کون کیا ہے؟ اعلیٰ ہے اور کون زائد ہے اور کون ناقص ہے۔
پھر مولانا انہوں نے کیا کہا؟ دوبارہ سنو: دو قائلین کا اتفاق آئے گا غرض میں، ایک سخاوت بیان کر رہا ہے دوسرے نے بھی کیا بیان کی؟ سخاوت۔ تو اس کو تو سرقہ نہیں شمار کرتے۔ دوسرا مولانا وجہ دلالت میں: اس نے کنایہ استعمال کیا اس نے بھی کیا استعمال کیا ہے؟ کنایہ۔ اگر اس کے اندر لوگ سارے مشترک ہیں تو اس کو بھی سرقہ شمار نہیں۔ اگر یہ عام نہیں ہے، عام لوگ اس کو استعمال نہیں کرتے تو پھر یہ دو قسم پر، دو طرح سے ہو سکتا ہے: یا تو اس وجہ سے عام لوگ اسے استعمال نہیں کرتے کہ یہ طریقہ دلالت فی ذاتہٖ ہی غریب ہے، عجیب اور غریب ہے، نیا ہے، انوکھا ہے، سمجھ میں آیا؟ یا فی ذاتہٖ انوکھا نہیں ہے، لوگ بھی اس کو استعمال کرتے ہیں لیکن آپ نے اس میں تبدیلی کر کے اس کو انوکھا بنا دیا۔ سمجھ میں آیا؟ تو وہ طریقہ دلالت جس میں لوگ مشترک نہیں ہیں یا تو وہ فی ذاتہٖ ہی کیا ہوگا؟ انوکھا ہوگا، یا فی ذاتہٖ تو انوکھا نہیں لیکن اس میں تبدیلی کر کے اس کو کیا بنا دیا گیا؟ انوکھا بنا دیا گیا۔
”وَهُوَ أَيْ مَا لَا يَشْتَرِكُ النَّاسُ فِي مَعْرِفَتِهِ مِنْ وَجْهِ الدَّلَالَةِ عَلَى الْغَرَضِ ضَرْبَانِ“ کہ جس کے جاننے میں مشترک نہیں ہیں لوگ، یعنی غرض پر وجہ دلالت کے اندر مشترک نہیں ہیں لوگ، یہ دو قسم پر ہے: ”أَحَدُهُمَا خَاصِّيٌّ فِي نَفْسِهِ أَيْ فِي ذَاتِهِ غَرِيبٌ لَا يُنَالُ إِلَّا بِفِكْرٍ“ ایک ان میں سے خاصی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے ہی خاص ہے، انوکھا ہے، اور اس کو پایا نہیں جا سکتا مگر کس کے ساتھ؟ غور و فکر کے ساتھ۔ ”وَالْآخَرُ عَامِّيٌّ“ اور دوسرا کیا ہے؟ عامی ہے، سب لوگ استعمال کرتے ہیں، لیکن ایسا عامی ہے ”تُصُرِّفَ فِيهِ بِمَا أَخْرَجَهُ مِنَ الِابْتِذَالِ إِلَى الْغَرَابَةِ“ جس میں تصرف کر دیا گیا ہے جس نے اس کو شہرت سے نکال دیا کس کی طرف؟ غرابت کی طرف، ”كَمَا مَرَّ فِي بَابِ التَّشْبِيهِ وَالِاسْتِعَارَةِ“ جیسے تشبیہ کے باب میں گزرا تھا مولانا کہ کبھی تشبیہ عام ہوتی ہے لیکن تشبیہ دینے والا اس کے اندر تھوڑی سی تبدیلی کر کے اس کو کیا بنا دیتا ہے؟ غریب بنا دیتا ہے۔ جیسے کہ بابِ تشبیہ اور استعارہ میں گزرا تھا ”مِنْ تَقْسِيمِهِمَا إِلَى الْغَرِيبِ الْخَاصِّيِّ وَالْمُبْتَذَلِ الْعَامِّيِّ“ کہ ان کی تقسیم ہوئی تھی غریبِ خاصی کی طرف اور مبتذلِ عامی کی طرف، اور مبتذلِ عامی کیا تھا؟ ”الْبَاقِي عَلَى ابْتِذَالِهِ“ جو اپنی شہرت پر باقی تھا، رائج تھا سب کو پتہ تھا، ”وَالْمُتَصَرَّفِ فِيهِ بِمَا يُخْرِجُهُ مِنَ الِابْتِذَالِ إِلَى الْغَرَابَةِ“ اور وہ جس کے اندر تصرف کیا گیا، ایسا تصرف جو اس کو نکال دیتا ہے ابتذال سے غرابت کی طرف۔ تو یہ اس دو طریقے پر ہو سکتی ہے مولانا جس میں لوگ مشترک نہیں۔
”فَالْأَخْذُ وَالسَّرِقَةُ أَيْ مَا يُسَمَّى بِهَذَيْنِ الِاسْمَيْنِ نَوْعَانِ“ تو پس اخذ اور سرقہ یعنی جو مسمیٰ ہے ان دو ناموں کے ساتھ، یعنی بتلایا اس کے ذریعے کہ یہ ایک ہی چیز کے دو نام ہیں، تو پس اخذ اور سرقہ یعنی وہ جو مسمیٰ ہے ان دو ناموں سے یہ کتنی قسم پر ہے؟ دو قسم پر ہے: ”ظَاهِرٌ وَغَيْرُ ظَاهِرٍ“ ایک ظاہر اور ایک غیر ظاہر ہے۔ تو ایک نے انوکھے طریقے سے تشبیہ دی ہے، دوسرے نے بھی اسی طریقے پر تشبیہ دی ہے، یہ دو قسم پر ہے مولانا، یہ سرقہ ہے، اخذ ہے لیکن دو قسم پر ہے: یا تو یہ ظاہر ہوگا، آرام سے فوراً ہی دیکھتے ہی پتہ چل گیا مولانا کہ یہ اس نے اس سے لیا ہے، یا ظاہر نہیں ہوگا، غیر ظاہر ہوگا۔ سمجھ میں آیا؟ اس نے اتنی اس میں تبدیلی کر دی ہے، معنی لے لیا ہے لیکن اس میں اس طرح کا تغیر وغیرہ یا ایسے طریقے پر استعمال کیا ہے کہ ظاہر نہیں ہوتا اس سے لیا ہے، لیکن غور کریں گے تو آپ کا ذوق آپ کو کہے گا کہ یہ بات اس نے اس سے لی ہے۔ تو یہ دو قسم پر ہے ظاہر اور غیر ظاہر۔
”أَمَّا الظَّاهِرُ...“ ظاہر پھر یہ ہے مولانا، سرقہ ظاہر مولانا، کہ پہلے کے معنی بھی لے لیا ساتھ الفاظ بھی لے لیے، سمجھ میں آیا؟ یا بعض الفاظ لیے، کیا کیے؟ بعض الفاظ۔ ایک صورت تو تھی یہ کہ لفظ اور معنی دونوں کو لے لیا سارا اسی کا۔ دوسری صورت یہ کہ بعض الفاظ لے لیے، بعض الفاظ اس کے نہیں لیے بھئی۔ تیسری صورت یہ کہ ایک لفظ بھی نہیں لیا، صرف معنی اس کا لے لیا۔ یہ کتنی قسم پر ہوا؟ تین قسم پر۔
تو دیکھیے: ”أَمَّا الظَّاهِرُ فَهُوَ أَنْ يُؤْخَذَ الْمَعْنَى كُلُّهُ إِمَّا حَالَ كَوْنِهِ مَعَ اللَّفْظِ كُلِّهِ“ کہ سارا معنی لے لیا جائے، یا تو وہ اس حال میں ہوگا کہ سارے لفظوں کے ساتھ ہوگا یعنی معنی کے ساتھ ساتھ سارے لفظ بھی لے لیے، ”أَوْ بَعْضِهِ“ یا وہ اس حال میں ہوگا کہ کس کے ساتھ ہوگا معنی؟ بعض الفاظ کے ساتھ، ”أَوْ حَالَ كَوْنِهِ وَحْدَهُ مِنْ غَيْرِ أَخْذِ شَيْءٍ مِنَ اللَّفْظِ“ یا معنی اس حال میں ہوگا کہ اکیلا ہوگا یعنی لفظوں سے کچھ نہیں لیا ہوگا۔
”فَإِنْ أُخِذَ اللَّفْظُ كُلُّهُ مِنْ غَيْرِ تَغْيِيرٍ لِنَظْمِهِ...“ اچھا مولانا، سارے لفظ دوسرے کے لے لیے، معنی کے ساتھ ساتھ لفظ بھی لے لیے، یہ پھر دو قسم پر ہے: لفظوں میں کچھ تبدیلی بھی کی یا تبدیلی بھی نہیں کی بالکل بھئی، سارا اسی کا شعر اٹھا کے کہہ دیا یہ میرا ہے؟ تو دو صورتیں ہیں: کچھ تبدیلی وہ دوسرا شاعر اس میں کرے گا یا تبدیلی نہیں کرے گا۔ اگر تبدیلی نہیں کرتا پھر تو کہتے ہیں یہ سرقہ محض ہے، تو بڑا مذموم ہے، شعر بھی اس کا، سارا شعر اٹھا کے آپ نے ایک مجلس میں پڑھ دیا اور کہا یہ میرا شعر ہے، آپ نے کوئی تبدیلی، معنی بھی لیا، سارے لفظ بھی لیے، کوئی تبدیلی کی؟ نہیں، اور نسبت اپنی طرف کر دی۔
”فَإِنْ أُخِذَ اللَّفْظُ كُلُّهُ مِنْ غَيْرِ تَغْيِيرٍ لِنَظْمِهِ“ اگر پورے کے پورے لفظ لے لیے مولانا بغیر نظم میں کوئی تبدیلی کیے، ”أَيْ لِكَيْفِيَّةِ التَّرْتِيبِ وَالتَّأْلِيفِ الْوَاقِعِ بَيْنَ الْمُفْرَدَاتِ“ یعنی نظم سے کیا مراد ہے؟ یعنی ترتیب کی کیفیت اور تالیف، ان کا جو آپس میں جوڑنا ہے مفردات کے درمیان جو جوڑ واقع ہوا ہے اور جو ترتیب آئی ہے، اس میں کسی میں تبدیلی نہیں کی، ”فَهُوَ مَذْمُومٌ لِأَنَّهُ سَرِقَةٌ مَحْضَةٌ“ یہ مذموم ہے اس لیے کہ یہ تو سرقہ محضہ ہے، ”وَيُسَمَّى نَسْخًا وَانْتِحَالًا“ اور اس کو نسخ اور انتحال کہتے ہیں۔
”كَمَا حُكِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزَّبِيرِ أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ بِقَوْلِ مَعْنِ بْنِ أَوْسٍ“ جیسے عبداللہ ابن زبیر مولانا، انہوں نے یہ کیا تھا معن ابن اوس کے قول کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا؟ یہ حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئے بھئی عبداللہ ابن زبیر بھئی، یہ آئے اور دو شعر سنائے مولانا۔ حضرت معاویہ خلیفہ تھے، آتے شعراء اپنا کلام ذکر کرتے۔ اشعار سنائے، حضرت معاویہ نے شعر سنے تو بھئی زبردست اشعار! کہا: بھئی واہ بھئی واہ، تو تو بڑا شاعر بن گیا ہے، جب میں پہلے تجھ سے ملا تھا اس وقت تو تو شاعر نہیں تھا، اب تو تو بڑا شاعر بن گیا ہے!
اچھا، مجلس ابھی جاری ہے، تھوڑی دیر بعد ایک اور شاعر آیا۔ اس نے آ کر کہا میں بھی اپنا قصیدہ پیش کرتا ہوں، پیش کیا قصیدہ، قصیدہ شروع کر دیا، پڑھتے پڑھتے اس میں وہی دو شعر آ گئے بھئی! اس نے قصیدہ پڑھ دیا، تو حضرت معاویہ بعد میں اس پہلے شاعر کو کہا: بھئی تو نے تو کہا تھا یہ میرے شعر ہیں، اس نے تو یہ ذکر کر دیے ہیں! کہتا ہے: ہاں خلیفہ صاحب، بات یہ ہے کہ یہ شعر، الفاظ، معنی سارا اسی کا ہے، لیکن یہ میرا رضاعی بھئی ہے، میرا سب سے زیادہ حق ہے اس کے شعروں پر، اس لیے میں نے کہا تھا یہ کیا ہیں؟ میرے شعر ہیں۔ سمجھ میں آیا؟ تو یہ سرقہ محض ہے مولانا۔
جیسے مولانا ہمارا ایک ساتھی ہوا کرتا تھا، وہ بھی اسی طرح کرتا تھا، دوسروں کی چیز اپنی طرف منسوب۔ ایک دن مجلس میں بیٹھا ہوا سنا رہا تھا کہیں، باہر سے آئے ہوئے اس کے کالج کے دوست مولانا چار پانچ سات بیٹھے ہوئے ہیں، مدرسے کے بھی بیٹھے ہوئے ہیں، تو جس نے مجھے واقعہ سنایا کہتا ہے میں گیا مجلس میں، وہاں جا کر بیٹھا، یہ ان کو سنا رہا ہے: بھئی یہ پرسوں رات میں نے یہ غزل لکھی ہے بھئی! اب غزل سنا رہا ہے، ایک شعر سنایا: واہ واہ، زبردست قسم کا شعر بھئی! دوسرا سنایا، تیسرا، سارے عش عش کر اٹھے کہ بھئی کمال کی غزل لکھی ہے آپ نے تو! ابھی وہ سنا ہی رہا تھا کہ درمیان میں اس کا ایک اور دوست آ گیا۔ وہ آ کر بیٹھا، یہ سناتا جا رہا ہے، اس نے ایک دو شعر اور سنائے تو وہ نیا بیچ میں بول پڑا کہ: ہاں بھئی ہاں، یہ فلاں شاعر کی یہ غزل مجھے بھی بڑی پسند ہے، میں نے بھی اپنی کاپی میں لکھی ہوئی ہے! کہتے ہیں بڑا شرمندہ ہوا بھئی وہاں پر۔
”كَمَا حُكِيَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزَّبِيرِ“ زَبِير بروزنِ امیر کے ہے مولانا، جیسے حکایت کیا گیا عبداللہ ابن زبیر سے ”أَنَّهُ فَعَلَ ذَلِكَ بِقَوْلِ مَعْنِ بْنِ أَوْسٍ“ کہ انہوں نے ایسا ہی کیا تھا معن ابن اوس کے قول کے ساتھ۔ وہ شعر یہ ہے:
”إِذَا أَنْتَ لَمْ تُنْصِفْ أَخَاكَ وَجَدْتَهُ ... عَلَى طَرَفِ الْهُجْرَانِ إِنْ كَانَ يَعْقِلُ“
”وَيَرْكَبُ حَدَّ السَّيْفِ مِنْ أَنْ تَضِيمَهُ ... إِذَا لَمْ يَكُنْ عَنْ شَفْرَةِ السَّيْفِ مَزْحَلُ“
”إِذَا أَنْتَ لَمْ تُنْصِفْ أَخَاكَ“ جب تو انصاف نہ کرے اپنے بھئی کے ساتھ، ”أَيْ لَمْ تُعْطِهِ النَّصَفَةَ وَلَمْ تُوفِهِ حُقُوقَهُ“ یعنی جب تو اسے انصاف نہ دے اور ادا نہ کرے اس کے حقوق کو، ”وَجَدْتَهُ“ تو تو اس کو پائے گا ”عَلَى طَرَفِ الْهُجْرَانِ“ جدائی کے کنارے پر، ”أَيْ هَاجِرًا لَكَ مُبْتَدِئًا بِقَطْعِ مُؤَاخَاتِكَ“ یعنی وہ تجھے چھوڑنے والا ہوگا اور تیرے بھئی چارے کو چھوڑ دے گا۔ اگر تو اپنے بھئی کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا تو پھر وہ تجھے کیا کر دے گا؟ چھوڑ دے گا ”إِنْ كَانَ يَعْقِلُ“ اگر وہ سمجھدار ہوا۔
”وَيَرْكَبُ حَدَّ السَّيْفِ مِنْ أَنْ تَضِيمَهُ“ اور تو جو انصاف نہیں کر رہا اس پہ تو ظلم کر رہا ہے، تیرے ظلم کو برداشت کرنے کے بجائے وہ تلوار کی دھار پر بیٹھنا پسند کرے گا، یعنی مشکل سے مشکل مشقت کو بھی برداشت کر لے گا لیکن تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا۔ ”وَيَرْكَبُ حَدَّ السَّيْفِ“ اور سوار ہو جائے گا تلوار کی دھار پر، یہ کنایہ ہے مولانا مشکلات برداشت کرنے سے، جیسے علامہ تفتازانی خود بتلا رہے ہیں: ”أَيْ يَتَحَمَّلُ الشَّدَائِدَ تُؤَثِّرُ فِيهِ تَأْثِيرَ السَّيْفِ وَتُقَطِّعُهُ تَقْطِيعَهَا“ یعنی ایسے شدائد برداشت کرے گا جو اس کے اندر تلوار کی طرح اثر انداز ہوتے ہوں اور اس کو تلوار کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہوں۔ ”مِنْ أَنْ تَضِيمَهُ“ مِن مولانا یہ بدلے کے لیے ہے، مِن کبھی بدلے کے لیے بھی آتا ہے: بجائے اس کے کہ تو اس پر ظلم کرے، ”أَيْ بَدَلًا مِنْ أَنْ تَظْلِمَهُ“ بدلے میں اس کے کہ تو اس پر کیا کرے؟ ظلم، ہاں تیرے ظلم کے بجائے وہ ان چیزوں کو برداشت کرے گا، ”إِذَا لَمْ يَكُنْ عَنْ شَفْرَةِ السَّيْفِ مَزْحَلُ“ جبکہ نہ ہو تلوار کی دھار سے دور ہونے کی جگہ۔ تو اگر تو اپنے بھئی کے ساتھ انصاف نہیں کرے گا تو وہ تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا کسی صورت کے اندر بھی اور تجھے چھوڑ دے گا، تجھ سے چلا جائے گا، اور اگر اس سلسلے میں اور کوئی صورت نہ ہوئی، اسے بڑی سخت مشقت برداشت کرنی پڑی وہ اس کو بھی برداشت کرے گا لیکن تیرے ظلم کو برداشت نہیں کرے گا۔ ”أَيْ عَنْ رُكُوبِ حَدِّ السَّيْفِ وَتَحَمُّلِ الْمَشَاقِّ“ مشاق جمع ہے مشقت کی مولانا، یعنی تلوار کی دھار پر سوار ہونے سے اور مشقتوں کو اٹھانے سے ”مَزْحَلُ أَيْ مَبْعَدٌ“ کوئی دور ہونے کی جگہ نہ ہو۔
”فَقَدْ حُكِيَ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الزَّبِيرِ دَخَلَ عَلَى مُعَاوِيَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حکایت کیا گیا کہ عبداللہ ابن زبیر داخل ہوئے معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر، ”فَأَنْشَدَهُ هَذَيْنِ الْبَيْتَيْنِ“ پس ان کو سنائے انہوں نے یہ دو شعر، ”فَقَالَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: لَقَدْ شَعَرْتَ بَعْدِي يَا أَبَا بَكْرٍ“ اے ابوبکر تو تو میرے بعد، میری جدائی کے بعد بڑا شاعر بن گیا ہے! ”وَلَمْ يُفَارِقْ عَبْدُ اللَّهِ الْمَجْلِسَ حَتَّى دَخَلَ مَعْنُ بْنُ أَوْسٍ الْمُزَنِيُّ“ اور عبداللہ کہتے ہیں ابھی مجلس سے گئے نہیں تھے یہاں تک کہ داخل ہوئے کون؟ معن ابن اوس مزنی، ”فَأَنْشَدَ قَصِيدَتَهُ الَّتِي أَوَّلُهَا“ تو انہوں نے اپنا یہ قصیدہ پڑھا جس کے شروع میں یہ تھا:
”لَعَمْرُكَ مَا أَدْرِي وَإِنِّي لَأَوْجَلُ ... عَلَى أَيِّنَا تَغْدُو الْمَنِيَّةُ أَوَّلُ“
قسم ہے تیری عمر کی میں نہیں جانتا اور بے شک میں خوفزدہ ہوں، میں نہیں جانتا، کیا نہیں جانتا؟ ”عَلَى أَيِّنَا تَغْدُو الْمَنِيَّةُ أَوَّلُ“ کہ ہم میں سے کس پر صبح کرے گی موت پہلے۔ ”أَوَّلُ أَيْ أَوَّلَ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ“ یہ مبنی علی الضم ہے، کہ میں نہیں جانتا اور مجھے خوف ہے کہ ہم دونوں میں سے پہلے موت کس پر آئے گی، تو موت ہم میں سے کس پر پہلے صبح کرے گی میں یہ نہیں جانتا۔ تو یہ قصیدہ پڑھنا شروع کیا ”حَتَّى أَتَمَّهَا“ یہاں تک کہ پورا کر لیا، ”وَفِيهَا هَذَانِ الْبَيْتَانِ“ اور اس قصیدے میں یہ دو شعر بھی تھے۔ ”فَأَقْبَلَ مُعَاوِيَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزَّبِيرِ وَقَالَ لَهُ: أَلَمْ تُخْبِرْنِي أَنَّهُمَا لَكَ؟“ اور حضرت معاویہ متوجہ ہوئے عبداللہ ابن زبیر کی طرف اور ان سے کہا: کیا تو نے مجھے خبر نہیں دی تھی کہ یہ تو تیرے ہیں؟ ”فَقَالَ: اللَّفْظُ لَهُ وَالْمَعْنَى لَهُ، وَبَعْدُ فَهُوَ أَخِي مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأَنَا أَحَقُّ بِشِعْرِهِ“ لفظ بھی اسی کا ہے، معنی بھی اسی کا ہے، لیکن سب چیزوں کے بعد وہ میرا رضاعی بھئی ہے اور میں سب سے زیادہ اس کے شعروں کا حقدار ہوں!
”وَفِي مَعْنَاهُ أَيْ فِي مَعْنَى مَا لَمْ يُغَيَّرْ فِيهِ النَّظْمُ أَنْ يُبْدَلَ...“ اور اسی معنی میں ہے، ”أَنْ يُبْدَلَ“ ہونا چاہیے مولانا: ”أَنْ يُبْدَلَ بِالْكَلِمَاتِ كُلِّهَا أَوْ بَعْضِهَا مَا يُرَادِفُهَا“ بھئی دیکھو یہ تو ایک طریقہ تھا اس کو سرقہ کہتے ہیں کہ شاعر نے معنی بھی لے لیا، سارے لفظ بھی لے لیے اور درمیان میں کوئی تبدیلی بھی نہیں کی۔ دوسرا طریقہ یہ کہ معنی بھی لے لیا، لفظ بھی سارے لیے لیکن کچھ لفظوں کو بدل دیا: اسد کے بجائے غضنفر کہہ دیا، سمجھ میں آیا؟ اور مترادفات: مطر کے بجائے غیث کہہ دیا، مطر کا بھی وہی معنی غیث کا بھی وہی معنی، اسد کا بھی وہی معنی غضنفر کا بھی وہی معنی، تو مترادفات لے آیا بس یہ تبدیلی کی۔ یہ بھی اسی طرح ہے بھئی، اس سے کیا ہوتا ہے؟ مترادفات بھی لے آیا تو چوری تو اسی کا کیا۔
اور اسی معنی میں ہے یعنی جس میں نظم کو تبدیل نہیں کیا گیا اسی کے حکم میں ہے کہ تبدیل کر دیا جائے بعض کلمات کو یا سارے کلمات کو اس چیز کے ساتھ جو ان کے مترادف ہو یعنی مترادف الفاظ سے بدل دیا جائے، ”يَعْنِي أَنَّهُ أَيْضًا مَذْمُومٌ وَسَرِقَةٌ مَحْضَةٌ“ یہ بھی مذموم ہے اور سرقہ محضہ ہے، ”كَمَا يُقَالُ فِي قَوْلِ الْحُطَيْئَةِ“ جیسے حطیئہ کا قول ہے اس کے بارے میں کہا گیا، یہ شاعر کا ایک قول ہے کیا:
”دَعِ الْمَكَارِمَ لَا تَرْحَلْ لِبُغْيَتِهَا ... وَاقْعُدْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الطَّاعِمُ الْكَاسِي“
مکارم کہتے ہیں کارنامے مولانا، سمجھ میں آیا بھئی؟ مکرمہ کی جمع، قابلِ قدر کام۔ شاعر دوسرے کو کہتا ہے: تو بھئی قابلِ قدر کام اور کارنامے چھوڑ دے، ”لَا تَرْحَلْ لِبُغْيَتِهَا“ ان کو طلب کرنے کے لیے تو سفر نہ کر، کارناموں کو طلب کرنے کے لیے سفر نہ کر، ”وَاقْعُدْ“ بیٹھ جا، ”فَإِنَّكَ أَنْتَ الطَّاعِمُ“ تو تو صرف چکھنے یعنی کھانے والا ہے ”الْكَاسِي“ اور صرف لباس پہننے والا ہے۔ کسا یکسو کا کیا معنی؟ لباس پہننا۔ تو تو صرف کھانے پینے والا ہے، بس کھا پی زندگی گزار، کارنامے دکھانے کی کوشش دنیا میں نہ کر۔
کسی نے اسی کے بارے میں یہ شعر کہا، دیکھو بھئی وہی بات کر رہا ہے شاعر، لفظوں کو بدلتا چلا جائے گا دوسرا شاعر:
”ذَرِ الْمَآثِرَ لَا تَذْهَبْ لِمَطْلَبِهَا ... وَاجْلِسْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْآكِلُ اللَّابِسُ“
”ذَرِ الْمَآثِرَ“: ”دَعْ“ کی جگہ ”ذَرْ“ لے آیا، دونوں کا ایک معنی۔ ”مَكَارِمَ“ کی جگہ ”مَآثِرَ“ لے آیا، دونوں کا ایک معنی۔ ”لَا تَرْحَلْ“ کی جگہ ”لَا تَذْهَبْ“ لے آیا مولانا۔ ”لِبُغْيَتِهَا“ کی جگہ ”لِمَطْلَبِهَا“ لے آیا، دونوں کا ایک معنی۔ ”وَاقْعُدْ“ کی جگہ ”وَاجْلِسْ“ لے آیا۔ ”فَإِنَّكَ أَنْتَ“ یہ تو اسی طرح ہے۔ ”الطَّاعِمُ“ کی جگہ ”الْآكِلُ“ لے آیا۔ ”الْكَاسِي“ کی جگہ ”اللَّابِسُ“ لے آیا۔ بعینہٖ وہی معنی ہے، مآثر مأثرۃ کی جمع ہے، یہ بھی کارنامے اور قابلِ تحسین کام کو: کہ چھوڑ دے تو قابلِ تحسین کام اور ان کو طلب کرنے کے لیے نہ جا، بیٹھ جا کیونکہ تو کھانے پینے اور پہننے والا ہے۔ تو یہ بھی کیا ہے مولانا؟ سرقہ محضہ ہے کیونکہ دوسرے شاعر نے کیا کیا؟ پہلے شاعر کا سارا معنی لے لیا اور کچھ لفظوں کو کیا کر دیا؟ تبدیل کر کے ان کے مترادف لے آیا۔
”وَكَمَا قَالَ امْرُؤُ الْقَيْسِ“ جیسے امرؤ القیس نے کہا:
”وُقُوفًا بِهَا صَحْبِي عَلَيَّ مَطِيَّهُمْ ... يَقُولُونَ لَا تَهْلِكْ أَسًى وَتَجَمَّلِ“
”وُقُوفًا بِهَا“ یہ ماقبل سے حال واقع ہو رہا ہے، سمجھ میں آیا؟ کہا ہے: ”قِفَا نَبْكِ مِنْ ذِكْرَى حَبِيبٍ وَمَنْزِلِ“ اے میرے دو ساتھیو کھڑے ہو جاؤ یہاں کہ ہم رو لیں، ”وُقُوفًا“ اس حال میں کہ روکا ہوا ہے میرے ساتھیوں نے وہاں پر، ”صَحْبِي“ کون بھئی؟ صاحب کی جمع میرے ساتھی، ”عَلَيَّ“ علیٰ بمعنی اجل کے معنی میں ہے، لام کے معنی میں ہے: ”لِأَجْلِي“ کس لیے؟ روکا ہوا ہے میرے ساتھیوں نے وہاں پر میری وجہ سے ”مَطِيَّهُمْ“ کس کو؟ اپنی سواریوں کو روکا ہوا ہے، ”يَقُولُونَ“ اور وہ یہ کہہ رہے ہیں: ”لَا تَهْلِكْ أَسًى“ کہ اے امرؤ القیس تو غم کی وجہ سے اپنے آپ کو ہلاک نہ کر ”وَتَجَمَّلِ“ اور کیا کر؟ صبر کر۔ صبر کر۔
تو اسی شعر کو اٹھایا طرفہ شاعر نے، اور اس نے کیا تبدیلی کی بھئی؟ اس نے قصیدہ کہا، وہ قصیدہ تھا دالیہ، قصیدہ کیا تھا؟ دالیہ۔ قصیدہ دالیہ کس کو کہیں گے؟ جس کا حرفِ روی کیا ہو؟ دال ہو۔ تو قصیدہ دالیہ کے اندر پورا شعر اٹھا کر لے گیا اور صرف ”تَجَمَّلِ“ کی جگہ اس نے ”تَجَلَّدِ“ کہہ دیا۔ کیا کہا؟ ”تَجَلَّدِ“۔ تو دیکھو معنی دونوں کا ایک ہی تھا: صبر کرنا مصیبتوں پر۔ ”فَأَوْرَدَهُ طَرَفَةُ فِي دَالِيَّتِهِ إِلَّا أَنَّهُ أَقَامَ تَجَلَّدِ مَقَامَ تَجَمَّلِ“ پس اس کو لے آیا طرفہ اپنے دالیہ قصیدے کے اندر لیکن اس نے قائم کر دیا ”تَجَلَّدِ“ کو ”تَجَمَّلِ“ کی جگہ۔
”وَإِنْ كَانَ أَخْذًا لِلَّفْظِ كُلِّهِ مَعَ تَغْيِيرٍ لِنَظْمِهِ أَيْ لِنَظْمِ اللَّفْظِ أَوْ أَخْذًا لِبَعْضِ اللَّفْظِ لَا كُلِّهِ سُمِّيَ هَذَا الْأَخْذُ إِغَارَةً وَمَسْخًا“ بھئی پہلی صورت کیا تھی؟ لفظ بھی لے لیا معنی بھی، کوئی تبدیلی نہیں کی۔ دوسری صورت کیا تھی؟ لفظ و معنی لیے لیکن کیا کیا؟ لفظوں کو مترادفات سے بدل دیا۔ تیسری صورت کہ لفظ تو سارے لے لیے لیکن ان کی ترتیب کو بدل دیا، ان میں کیا کیا؟ تبدیلی پیدا کر دی، یا یوں کیا کہ بعض لفظ لے لیے سارے نہیں لیے۔ یا تو سارے لے لیے لیکن ان کی ترتیب نئی بنا دی، یا بعض لفظ لے لیے مولانا، تو اس کو مولانا اغارہ اور مسخ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اغارہ اور مسخ کہتے ہیں۔
پھر کہتے ہیں اس صورت کے اندر اب آپ غور کریں بھئی کہ ثانی شاعر جو ہے اس کا شعر وہ زیادہ بلیغ ہے پہلے سے، یا اس سے کم درجے کا ہے، یا اس کے برابر کا ہے؟ تین ہی درجے ممکن ہیں: ایک پہلے شاعر نے کہا تھا، دوسرے شاعر نے اس کے کچھ الفاظ لے لیے یا سارے لیے لیکن ترتیب بدل دی مولانا، اس صورت میں غور کریں کہ یہ ثانی شعر پہلے سے زیادہ بلیغ ہے یا پہلے سے کم درجے کا ہے یا پہلے کے برابر ہے؟ تو تین صورتیں بن گئیں۔
”وَلَا يَخْلُو إِمَّا أَنْ يَكُونَ الثَّانِي أَبْلَغَ مِنَ الْأَوَّلِ أَوْ دُونَهُ أَوْ مِثْلَهُ“ اور یہ خالی نہیں ہوگا: یا تو ثانی اول سے ابلغ ہوگا یا اس سے کم رتبے کا ہوگا یا اس کے مثل ہوگا۔ ”فَإِنْ كَانَ الثَّانِي أَبْلَغَ مِنَ الْأَوَّلِ لِاخْتِصَاصِهِ بِفَضِيلَةٍ لَا تُوجَدُ فِي الْأَوَّلِ“ اگر ثانی زیادہ بلیغ تھا کسی فضیلت کے اختصاص کی وجہ سے، اس میں کوئی خاص فضیلت تھی اس شعر میں جو پہلے کے اندر نہیں تھی، ”كَحُسْنِ السَّبْكِ“ سبک کہتے ہیں مولانا میل کچیل سے پاک ہونا، سبک کس کو کہتے ہیں؟ میل کچیل سے پاک ہونا، یہاں مراد ہے تعقید سے خالی ہوگا۔ کس سے؟ تعقید سے خالی۔ پہلے نے ایک شعر کہا تھا، دوسرے شاعر نے اس کا معنی لے لیا اور کچھ لفظ لیے یا سارے لیے لیکن آپس میں بدل دیا، لیکن پہلے شاعر کے شعر میں تعقید تھی، اس کے شعر میں تعقید نہیں۔ ”أَوِ الِاخْتِصَارِ“ یا اس میں اختصار نہیں تھا اس کے اندر کیا ہے؟ اختصار۔ ”أَوِ الْإِيضَاحِ“ اس میں اتنی وضاحت نہیں تھی اس کے اندر کیا تھی؟ وضاحت۔ ”أَوْ زِيَادَةِ مَعْنًى“ یا اس کے اندر جو چیزیں تھیں اس نے ان کے ساتھ ساتھ ایک اور معنی کا بھی اس میں کیا کر دیا؟ اضافہ کر دیا، تو زیادہ تخصیص آ گئی۔ تو اس صورت میں ”فَمَمْدُوحٌ أَيْ فَالثَّانِي مَقْبُولٌ“ یہ ممدوح ہے یعنی ثانی بھی مقبول ہے۔ پہلی صورتوں میں تو سرقہ تھا لیکن اس قسم کی اگر تبدیلی کر دی ہے تو یہ بھی مقبول ہے۔
”كَقَوْلِ بَشَّارٍ“ جیسے بشار شاعر کہتا ہے:
”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ لَمْ يَظْفَرْ بِحَاجَتِهِ ... وَفَازَ بِالطَّيِّبَاتِ الْفَاتِكُ اللَّهِجُ“
کسی نے اس کو کہا: کیا بات ہے اے شاعر، تو اپنے ہر مقصد میں کامیاب ہو جاتا ہے، جو کام کرنا چاہتا ہے پورا کر لیتا ہے! شاعر نے کہا کہ بھئی بات یہ ہے کہ میں ہوں بہادر آدمی، اور بہادر آدمی جو ہے نا وہ ہر کام میں کود پڑتا ہے یا آر یا پار، اور بالاخر وہ کامیاب ہو جاتا ہے۔ جبکہ بزدل آدمی ڈرتا رہتا ہے کہ اگر میں کروں گا پتہ نہیں کیا ہو جائے گا، پتہ نہیں کیا ہو جائے گا، تو وہ ویسے ہی رہ جاتا ہے اس سے کام ہوتا نہیں، اور بہادر آدمی کیا ہو جاتا ہے؟ لذتوں اور طیبات کے ساتھ کیا ہو جاتا ہے؟ کامیاب ہو جاتا ہے۔
”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ أَيْ حَاذَرَهُمْ“ جو لوگوں سے ڈرتا ہے، ”لَمْ يَظْفَرْ بِحَاجَتِهِ“ وہ کامیاب نہیں ہوتا اپنی حاجت کے ساتھ، ”وَفَازَ بِالطَّيِّبَاتِ“ اور پاکیزہ چیزوں کے ساتھ کامیاب ہوتا ہے یعنی اپنے مقاصد کے ساتھ، کون؟ ”الْفَاتِكُ“ فاتک کہتے ہیں مولانا بڑا بہادر اور بڑا قاتل مولانا، ”اللَّهِجُ“ لہج کہتے ہیں مولانا دلدادہ کو، شوقین، لیکن کس چیز کا شوقین؟ یہاں قتل کا شوقین مراد ہے، حریص علی القتل مراد ہے۔ اور کامیاب ہو جاتا ہے طیبات پر ”الْفَاتِكُ“ بڑا شجاع اور قاتل، ”اللَّهِجُ“ اور بڑا قتل کا دلدادہ۔ خود تفسیر کر رہے ہیں: ”أَيِ الشُّجَاعُ الْحَرِيصُ عَلَى الْقَتْلِ“ بہادر اور حریص ہو کس پر؟ قتل پر۔ تو دیکھو ایک شاعر نے یہ کلام ذکر کیا، کیا کہا کہ جو لوگوں سے ڈرتا نہیں ہے وہ کامیاب ہو جاتا ہے اور جو لوگوں سے ڈرتا ہے وہ کامیاب نہیں ہوتا۔
تو اس کے بعد ایک اور شاعر نے اسی معنی کو ادا کیا اس سے لیتے ہوئے یوں: ”وَقَوْلِ سَلْمٍ بَعْدَهُ“ اس کے بعد سلم شاعر آیا اس نے یوں کہا:
”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ مَاتَ هَمًّا ... وَفَازَ بِاللَّذَّةِ الْجَسُورُ“
”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ مَاتَ هَمًّا“ جو لوگوں سے ڈرتا ہے وہ غم کی وجہ سے مر جاتا ہے، ”وَفَازَ بِاللَّذَّةِ الْجَسُورُ“ اور لذتوں کے ساتھ کامیاب ہو جاتا ہے الجسور، جرأت والا۔ جرأت والا آدمی کیا ہوتا ہے؟ لذتوں کے ساتھ کامیاب ہو جاتا ہے۔
تو کہتے ہیں مولانا یہ ثانی شاعر نے اسی کا معنی لیا پہلے والے کا، لیکن اس نے کیا کیا؟ ترکیب بدل دی، آپ غور کریں کچھ لفظ لے لیے: ”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ“ وغیرہ، اور باقی اس نے کیا کیا؟ بدل دیے، باقی الفاظ اپنے لایا اور ترتیب دی، اور نیز اس میں مولانا روانگی زیادہ ہے مولانا، کیا ہے؟ روانگی زیادہ ہے اس شعر کے اندر، یہ عمدہ ہے یہ شعر مولانا بناوٹ کے اعتبار سے، اور لفظوں کے اعتبار سے مختصر ہے۔ پہلے شاعر نے ”الْفَاتِكُ اللَّهِجُ“ دو لفظ استعمال کیے تھے، اس نے ”الْجَسُورُ“ ایک ہی لفظ کو استعمال کر لیا۔
”مَنْ رَاقَبَ النَّاسَ مَاتَ هَمًّا أَيْ حُزْنًا“ جو لوگوں سے ڈرتا ہے وہ غم کی وجہ سے مر جاتا ہے، ”وَهُوَ مَفْعُولٌ لَهُ أَوْ تَمْيِيزٌ“ یہ مفعول لہٗ ہے یا یہ ہماً کیا ہے؟ تمییز۔ ”وَفَازَ بِاللَّذَّةِ الْجَسُورُ أَيِ الشَّدِيدُ الْجُرْأَةِ“ اور کامیاب ہو جاتا ہے لذت کے ساتھ الجسور، شدید جرأت والا۔ ”فَبَيْتُ سَلْمٍ أَجْوَدُ سَبْكًا“ سلم کا شعر جو ہے یہ عمدہ ہے بناوٹ کے اعتبار سے، ”وَأَقْصَرُ لَفْظًا“ اور لفظوں کے اعتبار سے مختصر ہے۔ ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔