سرقہ کی اقسام پڑھ رہے تھے مولانا ہم۔ مصنف رحمہ اللہ تعالیٰ رحمۃ واسعۃ نے آپ کو بتلایا کہ سرقہ دو قسم پر ہے: ایک ظاہر، ایک غیر ظاہر۔
ظاہر وہ ہے جس کے اندر مصنف جو ہے، ایک شاعر دوسرے شاعر کے صرف معنی کو لے لیتا ہے یا معنی کے ساتھ سارے الفاظ لے لیتا ہے یا معنی کے ساتھ بعض الفاظ لے لیتا ہے۔ اگر سارے الفاظ معنی کے ساتھ لے لیتا ہے تو یہ سرقہ محض ہے اور مذموم ہے مولانا، غیر کے شعر کی اپنی طرف نسبت کر دی۔ اور اسی معنی میں ہے کہ الفاظ کو مترادفات سے بدل دیا جائے، یہ بھی مذموم ہے۔ اور اگر وہ سارے لفظ کو لے لیتا ہے لیکن اس میں کچھ تبدیلی کر دیتا ہے، یا صرف بعض لفظوں کو لے لیتا ہے تو اس کو اغارہ اور مسخ کہتے ہیں۔ پھر اس میں دیکھیں گے کہ ثانی اول کے برابر ہے یا اعلیٰ ہے یا ادنیٰ ہے۔ اگر ثانی ابلغ ہے تو پھر یہ مولانا مقبول ہے، اس کی مذمت نہیں کی جائے گی۔ اور اگر ثانی اس سے کم درجے کا ہے مولانا، تو پھر اس صورت میں یہ مذموم ہے، جیسے شعر ذکر کیے تھے:
”هَيْهَاتَ لَا يَأْتِي الزَّمَانُ بِمِثْلِهِ ... إِنَّ الزَّمَانَ بِمِثْلِهِ لَبَخِيلُ“
یہ ابو تمام کا شعر ہے۔ ابو طیب نے اسی معنی کو لیا اور کیا کہا:
”أَعَدَّ الزَّمَانُ سَخَاؤُهُ فَسَخَا بِهِ ... وَلَقَدْ يَكُونُ بِهِ الزَّمَانُ بَخِيلَا“
تو یہ ثانی شعر اول سے ادنیٰ درجے کا ہے مولانا، ادنیٰ درجے کا ہے۔ اور اگر ثانی اول کے جیسا ہے تو پھر اس صورت میں بتلایا تھا یہ مذمت سے بعید ہے لیکن فضیلت اول کے لیے ہی ہوگی۔ اور اگر مولانا صرف معنی کو لیا تو اس کو المام بھی کہتے ہیں اور سلخ بھی کہتے ہیں، اور یہ بھی تین قسم پر ہے کہ ثانی اول سے اعلیٰ ہوگا، ادنیٰ ہوگا یا اس کے برابر ہوگا۔
اس کے بعد سرقہ غیر ظاہر کی اقسام بتلائی تھیں مولانا۔ سرقہ غیر ظاہر یہ تھا کہ دو معنی ایک دوسرے کے متشابہ ہو جائیں، پہلے شاعر اور دوسرے شاعر نے جو شعر کہے ان کا معنی آپس میں متشابہ ہو جائے بھئی۔ اور سرقہ غیر ظاہر کے بارے میں مصنف نے یہ نہیں بتلایا کہ کون سے مقبول ہیں، کون سے غیر مقبول۔ یہ اشارہ کیا اس بات کی طرف کہ سرقہ غیر ظاہر کی تمام اقسام مقبول ہیں بھئی، کوئی بھی غیر مقبول نہیں ہے بھئی۔
اور پھر سرقہ غیر ظاہر میں بتلایا تھا کہ معانی کے اندر تشابہ ہوگا، دونوں شعروں میں اختلاف ہو سکتا ہے باعتبار مدح کے اور باعتبار ذم کے، فخر کے یا تشبیب وغیرہ کے۔ ایک میں اگر مدح ہے دوسرے میں مذمت بھی ہو سکتی ہے۔ کہتے ہیں اس لیے کہ ایک شاعر جب دوسرے شاعر کے معنی کا ارادہ کرتا ہے اور ماہر شاعر ہے تو وہ چھپانا چاہتا ہے اس بات کو کہ میں نے دوسرے سے یہ معنی لیا ہے، چنانچہ وہ وزن کے اندر، قافیے کے اندر اور نوع وغیرہ کے اندر، لفظوں کے اندر خوب تغیرات کر دیتا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا؟ خوب ان کو تبدیل کر دیتا ہے۔
تو جیسے اس میں سے ایک قسم یہ تھی کہ معنی ایک شاعر نے ایک جگہ بیان کیا ہے اس کا مصداق ایک کو بنایا، دوسرے نے اس کا مصداق دوسرے کو بنایا۔ اور اسی طرح کہ معنی ثانی کے اندر، اول میں بھی عموم ہے، ثانی میں بھی عموم ہے لیکن ثانی کا عموم اول کے عموم سے زیادہ ہے۔
”وَمِنْهُ أَيْ مِنْ غَيْرِ الظَّاهِرِ الْقَلْبُ“ اور غیر ظاہر میں سے قلب ہے، ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ مَعْنَى الثَّانِي نَقِيضَ مَعْنَى الْأَوَّلِ“ کہ معنی ثانی کیا ہو؟ معنی اول کی نقیض ہو، اس کی ضد ہو۔ ”كَقَوْلِ أَبِي الشِّيصِ“ جیسے کہ ابو الشیص کہتا ہے:
”أَجِدُ الْمَلَامَةَ فِي هَوَاكِ لَذِيذَةً ... حُبًّا لِذِكْرِكِ فَلْيَلُمْنِي اللُّوَّمُ“
شاعر کو معشوق نے کہا کہ کیا بات ہے تو مجھ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے اور لوگ تجھے ملامت کرتے ہیں، برا بھلا کہتے ہیں اور پھر تو ان کی ملامت کو سنتا رہتا ہے؟ تو معلوم ہوا تجھے مجھ سے محبت نہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ بات یہ ہے میں اس لیے لوگوں کی ملامت سنتا رہتا ہوں کہ جب وہ تیرے بارے میں مجھے ملامت کرتے ہیں تو اس میں بار بار تیرا نام آتا ہے، اور تیرا ذکر بھی مجھے بڑا محبوب ہے، تو صرف تیرا نام بار بار سننے کے لیے میں کیا کرتا ہوں؟ ان کی ملامت سنتا ہوں، اور اسی وجہ سے مجھے ملامت پسند ہے۔
”أَجِدُ الْمَلَامَةَ فِي هَوَاكِ لَذِيذَةً“ میں پاتا ہوں ملامت کو ”فِي هَوَاكِ“ کس بارے میں؟ تیری محبت کے بارے میں، محبت میں ملامت کو ”لَذِيذَةً“ لذیذ پاتا ہوں، یعنی مجھے لذیذ معلوم ہوتی ہے۔ ”حُبًّا لِذِكْرِكِ“ تیرے ذکر سے محبت کرتے ہوئے۔ ”فَلْيَلُمْنِي اللُّوَّمُ“ پس چاہیے کہ مجھے ملامت کریں ملامت کرنے والے۔ لوّم جمع ہے لائم کی بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ جی۔ تو جیسے اردو میں انہوں نے حاشیے میں شعر دیا ہے مولانا، اسی معنی کو ادا کر رہا ہے:
نہ مانوں گا نصیحت پر نہ میں سنتا تو کیا کرتا
کہ ہر ہر بات میں ناصح تمہارا نام لیتا تھا
تو دیکھو اس شعر کے اندر شاعر نے کیا کہا کہ مجھے ملامت پسند ہے۔ اگلا شعر ابو طیب کا ہے، اس کے اندر وہ بتلاتا ہے کہ مجھے ملامت ناپسند ہے بھئی، تو یہ دیکھو ایک دوسرے کے نقیض ہوئے۔
”أَأُحِبُّهُ وَأُحِبُّ فِيهِ مَلَامَةً ... إِنَّ الْمَلَامَةَ فِيهِ مِنْ أَعْدَائِهِ“
کیا میں اس محبوب سے محبت بھی رکھوں گا اس حال میں کہ اس کی محبت میں ملامت سے بھی محبت رکھوں بھئی؟ محبت کروں اس حال میں کہ اس کی ملامت سے بھی محبت رکھوں؟ ”إِنَّ الْمَلَامَةَ“ یقیناً ملامت ”فِيهِ“ اس محبوب کے بارے میں ”مِنْ أَعْدَائِهِ“ یہ اس کے دشمنوں سے ہے، دشمنوں میں سے ہے بھئی، دشمنوں کی طرف سے ہے۔
تو یہاں دیکھو کیا میں اس سے محبت کروں گا اس حال میں کہ اس کے بارے میں ملامت سے بھی محبت کروں؟ تو یہ مولانا حال ہے، اور حال آپ نے پڑھا ہے قید ہوتا ہے، اور یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ محبت کروں اس سے اس حال میں کہ... ہاں، تو جب آپ نے پڑھا ہے مقید پر نفی داخل ہو تو وہ کس کی طرف متوجہ ہوتی ہے؟ قید کی طرف متوجہ، تو شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ محبت کروں اس حال میں کہ ملامت سے بھی کروں، ایسی محبت نہیں کروں گا بلکہ محبت کروں گا لیکن اس میں ملامت سے محبت نہیں کروں گا۔ تو قید کی نفی کی، محبت کی نفی نہیں کی کہ محبت ہی نہیں کروں گا، بلکہ ایسی محبت جس کے اندر ملامت ہو۔
”أَأُحِبُّهُ الِاسْتِفْهَامُ لِلْإِنْكَارِ“ استفہام جو ہے انکار کے لیے ہے، ”وَالْإِنْكَارُ بِاعْتِبَارِ الْقَيْدِ الَّذِي هُوَ الْحَالُ أَعْنِي قَوْلَهُ: وَأُحِبُّ فِيهِ مَلَامَةً“ اور انکار اس قید کے اعتبار سے ہے جو حال ہے، یعنی یہ قول: ”وَأُحِبُّ فِيهِ مَلَامَةً“، ”كَمَا يُقَالُ: أَتُصَلِّي وَأَنْتَ مُحْدِثٌ“ جیسے یہ اسی طرح ہے کسی سے کہیں بھئی: ”أَتُصَلِّي وَأَنْتَ مُحْدِثٌ“ کیا تو نماز پڑھتا ہے اس حال میں کہ بے وضو ہے؟ تو کیا معنی؟ یہ معنی نہیں ہے کہ نماز ہی نہ پڑھو، کیا معنی ہے؟ بے وضو ہونے کی حالت میں نماز نہ پڑھو، تو یہاں بھی قید کی نفی ہے۔
اس پر اشکال ہوتا ہے مولانا کہ آپ نے ”وَأُحِبُّ“ کو مولانا یہ تو مضارع ہے، اس کو حال بنایا، اور مضارع جب حال بنتا ہے تو اس کے شروع میں واو نہیں بڑھایا جاتا، آپ نے پڑھا بھئی فصل وصل کے آخر میں تذنیب میں بتایا تھا انہوں نے۔ تو کہتے ہیں بھئی یا تو یہ بناء بر اس مذہب کے ہے جو واو کو مضارع مثبت کے شروع میں لانے کو جائز کہتے ہیں۔ یا پھر یہاں پر مبتدا محذوف ہے: ”وَأَنَا أُحِبُّ“، تو مبتدا کے شروع میں واو آ رہا ہے نہ کہ مضارع کے شروع میں۔
”عَلَى تَجْوِيزِ وَاوِ الْحَالِ فِي الْمُضَارِعِ الْمُثْبَتِ“ بناء بر جائز قرار دینے کے واوِ حال کو مضارع مثبت کے اندر ”كَمَا هُوَ رَأْيُ الْبَعْضِ“ جیسا کہ بعض علماء کی رائے ہے، تو یہ اس مذہب پر مبنی ہے۔ ”أَوْ عَلَى حَذْفِ الْمُبْتَدَأِ أَيْ: وَأَنَا أُحِبُّ“ یا مولانا یہ حذفِ مبتدا پر مبنی ہے، یعنی: ”وَأَنَا أُحِبُّ“۔
”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْوَاوُ لِلْعَطْفِ فَالْإِنْكَارُ...“ یا مولانا یہ تو واو کہتے ہیں ہم نے حالیہ بنایا تھا، واو کو جمع کے لیے، عطف کے لیے بنانا بھی جائز، یعنی واو عطف کے لیے آیا اور وہ جمع کا فائدہ دے گا تو شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ میں، تو یہ انکار دو چیزوں میں جمع کی طرف راجع ہے کہ اس سے بھی محبت ہو اور اس کے ساتھ اس کی محبت میں جو ملامت ہو اس سے بھی محبت ہو، ان دونوں کے جمع ہونے کا انکار ہے مولانا، ان دونوں کے جمع ہونے کا انکار، کیونکہ یہ دونوں نہیں ہو سکتے بھئی۔
”وَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ الْوَاوُ لِلْعَطْفِ“ جائز ہے واو عطف کے لیے ہو، ”فَالْإِنْكَارُ رَاجِعٌ إِلَى الْجَمْعِ بَيْنَ الْأَمْرَيْنِ أَعْنِي مَحَبَّتَهُ وَمَحَبَّةَ الْمَلَامَةِ فِيهِ“ تو انکار راجع ہوگا ان دو کاموں کے جمع کی طرف، یعنی دونوں کام نہیں ہوں گے۔ ”إِنَّ الْمَلَامَةَ فِيهِ مِنْ أَعْدَائِهِ“ یقیناً ملامت جو اس کے بارے میں ہے یہ اس کے دشمنوں کی طرف سے ہے، ”وَمَا يَصْدُرُ مِنْ عَدُوِّ الْمَحْبُوبِ“ تو تیرے بارے میں جو ملامت ہے یہ تیرے دشمنوں کی طرف سے ہے، اور یقیناً تیرے دشمنوں کی طرف سے جو چیز آئے گی وہ مجھے ناپسند ہوگی۔ تو یہ ملامت بھی دراصل تیرے دشمنوں کی طرف سے ہے تو یہ بھی مجھے ناپسند ہے۔ ”وَمَا يَصْدُرُ مِنْ عَدُوِّ الْمَحْبُوبِ يَكُونُ مَبْغُوضًا“ اور وہ جو صادر ہوتی ہے محبوب کے دشمن سے وہ بھی مبغوض، ناپسند ہوتی ہے۔
”وَهَذَا نَقِيضُ مَعْنَى بَيْتِ أَبِي الشِّيصِ“ یہ ابو الشیص کے شعر کے معنی کی نقیض ہے یہ والا۔ اس نے کہا تھا مجھے ملامت پسند، اس نے کہا مجھے ملامت سے نفرت۔ ”لَكِنْ كُلٌّ مِنْهُمَا بِاعْتِبَارٍ آخَرَ“ لیکن دونوں میں اعتبار الگ ہے بھئی۔ اس نے کہا تھا مجھے ملامت پسند ہے بایں اعتبار کہ اس میں تیرا ذکر آتا ہے، اور اس نے کہا مجھے ملامت ناپسند بایں اعتبار کہ یہ کس کی طرف سے ہے؟ تیرے دشمن کی طرف سے ہے۔
”قَالُوا الْأَحْسَنُ فِي هَذَا النَّوْعِ أَنْ يُبَيَّنَ السَّبَبُ“ کہتے ہیں بہتر اس نوع کے اندر یہ ہے، قلب کے اندر، کہ شاعر بیان کرے سبب کو بھئی۔ سبب کو بیان کرے تاکہ پتہ چلے کہ یہ جو ثانی اول کی نقیض ہے یہ کسی اور اعتبار سے ہے، یہ اعتبار کی وجہ سے فرق ہے، حقیقت کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔
”وَمِنْهُ أَيْ مِنْ غَيْرِ الظَّاهِرِ أَنْ يُؤْخَذَ بَعْضُ الْمَعْنَى وَيُضَافُ إِلَيْهِ مَا يُحَسِّنُهُ“ غیر ظاہر میں سے یہ ہے کہ کچھ معنی لے لیا جائے اور اس کے ساتھ کوئی ایسی چیز ملا دی جائے جو اس میں حسن پیدا کرے، پہلے شاعر کا کچھ معنی لیا، کچھ چیزیں اپنی طرف سے ملائیں جس سے اس میں اور حسن پیدا ہو گیا۔ ”كَقَوْلِ الْأَفْوَهِ“ جیسے افوہ شاعر کہتا ہے۔ افوہ کہتے ہیں مولانا جس کا منہ بڑا ہو، دانت باہر نکلے ہوئے ہوں ہونٹوں سے، اس کو افوہ کہتے ہیں بھئی۔
”وَتَرَى الطَّيْرَ عَلَى آثَارِنَا ... رَأْيَ عَيْنٍ ثِقَةً أَنْ سَتُمَارُ“
شاعر کہتا ہے کہ ہم جنگوں کے لیے جاتے ہیں بھئی۔ جب ہم جنگوں کے لیے جاتے ہیں تو تو دیکھے گا کہ یہ پرندے، عقاب وغیرہ ہمارے پیچھے پیچھے آتے ہیں بھئی، اور تجھے وہ آنکھوں سے نظر آئیں گے بھئی، بالکل لشکر کے قریب ہوتے ہیں، یہ نہیں کہ دور ہوں نظر ہی نہ آئیں، لشکر کے ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ اس لیے کہ پرندوں کو ہماری شجاعت کا حال معلوم ہے، پتہ ہے یہ جنگ کرنے جا رہے ہیں، اب جا کر یہ دشمنوں کو قتل کریں گے تو اب پھر ہمیں ان کا گوشت کھانے کو ملے گا۔ تو پرندوں کو بھی ہماری شجاعت کا یقین ہے اور پتہ ہے، یہ اپنی بہادری کو بیان کر رہا ہے۔
”وَتَرَى الطَّيْرَ عَلَى آثَارِنَا“ اور تو دیکھے گا پرندوں کو، یا دیکھتا ہے پرندوں کو ہمارے نشانات پر یعنی ہمارے پیچھے، ”رَأْيَ عَيْنٍ أَيْ عِيَانًا“ آنکھ سے دیکھنا، یعنی عیاناً، بالمشاہدہ دیکھنا بھئی، مشاہدہ کرتا ہے ان کا۔ ”ثِقَةً“ یہ حال ہے، ”أَيْ وَاثِقَةً“ اس حال میں کہ ان پرندوں کو یقین ہوتا ہے، ”أَوْ مَفْعُولٌ لَهُ“ یا یہ مفعول لہٗ ہے مولانا۔ مفعول لہٗ کس کو کہتے ہیں جو ماقبل کے فعل کی کیا بیان کرے؟ علت بیان کرے۔ تو بھئی یہ کس کی علت بیان کر رہا ہے؟ کہتے ہیں: تو دیکھتا ہے، اس سے تو نہیں ہوگا کہ تو دیکھتا ہے اس لیے کہ انہیں یقین ہے۔ یہ اس کی علت تو نہیں بن سکتا۔ تو یہ دراصل ”عَلَى آثَارِنَا“ مولانا، یہ نکرہ کے بعد جار مجرور آئے عموماً میں نے بتلایا تھا وہ اس کی صفت بنتا ہے بھئی۔ معرفہ کے بعد جار مجرور آئے تو عموماً اس سے حال بنتا ہے، تو یہ ”عَلَى آثَارِنَا“ حال ہے، تو دیکھتا ہے پرندوں کو اس حال میں کہ وہ ہمارے نشانات پر ہوتے ہیں: ”تَرَى الطَّيْرَ ثَابِتَةً عَلَى آثَارِنَا“، تو یہ جو ثبوت آ رہا ہے، یہ ثبوت سے کیا ہے یہ؟ مفعول لہٗ ہے۔ یہ ہمارے نشانات پر پرندے کیوں ثابت ہیں؟ اس لیے کہ انہیں یقین ہے ”أَنْ سَتُمَارُ“ کہ عنقریب انہیں خوراک ملے گی، گوشت ملے گا۔
”مِمَّا يَتَضَمَّنُهُ قَوْلُهُ: عَلَى آثَارِنَا أَيْ كَائِنَةً عَلَى آثَارِنَا“ میں نے ثابتۃً نکالا، انہوں نے کائنۃً نکالا ایک ہی بات ہے، ”أَيْ كَائِنَةً عَلَى آثَارِنَا لِوُثُوقِهَا“ یہ دیکھو، یہ مفعول لہٗ بتلایا، ”لِوُثُوقِهَا أَنْ سَتُمَارُ“ اس لیے کہ ان کو یقین ہے کہ عنقریب ان کو کیا کیا جائے گا؟ گوشت کھلایا جائے گا بھئی۔ ”أَيْ سَتُطْعَمُ مِنْ لُحُومِ مَنْ نَقْتُلُهُمْ“ یعنی ان کو کھلایا جائے گا ان لوگوں کے گوشت میں سے جن کو ہم قتل کریں گے۔
اور اسی معنی کو ابو تمام نے بھی ادا کیا لیکن اس نے کچھ اضافہ کر دیا۔ وہ کہتا ہے: ”وَقَدْ ظُلِّلَتْ أَيْ أُلْقِيَ عَلَيْهَا الظِّلُّ فَصَارَتْ ذَوَاتِ ظِلِّ“ یعنی اس پر سایہ ڈالا گیا تو وہ سایے والے ہو گئے۔ ”وَقَدْ ظُلِّلَتْ عِقْبَانُ أَعْلَامِهِ“ اعلام علم کی جمع ہے، جھنڈے کو کہتے ہیں، اور عقبان عقاب کی جمع ہے، جھنڈوں کے عقاب۔ یہ مولانا از قبیل لجین الماء ہے، یہ اضافت کون سی ہے؟ لجین الماء، کیا معنی بھئی؟ جی، اصل میں کیا تھا؟ الماء اللجین، یعنی مشبہ بہٖ کی اضافت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ مشبہ کی طرف۔ یعنی وہ جھنڈے جو عقابوں کی طرح ہیں، وہ جھنڈے جو عقابوں کی طرح ہیں۔ تو ان پر سایہ ڈالا گیا تو وہ سایے والے ہو گئے، ”ضُحًى“ چاشت کے وقت۔ کس کے ساتھ سایہ ڈالا گیا؟ ”بِعِقْبَانِ طَيْرٍ“ عقاب پرندوں کے ساتھ۔ جو جھنڈوں کے عقاب تھے ان پر سایہ ڈالا گیا کس کے ساتھ؟ عقاب پرندوں، بھئی جھنڈے تھے اور وہ جھنڈے بھی کس کی طرح تھے؟ عقاب کی طرح، اور ان جھنڈوں پر سایہ ڈالا کنہوں نے؟ عقاب پرندوں نے۔
”فِي الدِّمَاءِ نَوَاهِلِ“ خون کے اندر مولانا، اور نواہل، سیر تھے وہ، خون کے اندر سیراب تھے۔ ”مِنْ نَهِلَ إِذَا رَوِيَ“ یہ نہل سے ہے جب کوئی سیراب ہو جائے تو اس کو کہتے ہیں نہل مولانا، ”نَقِيضُ عَطِشَ“ یہ کس کی نقیض ہے؟ عطش، پیاسا ہونے کی نقیض۔ ”أَقَامَتْ“ قیام کیا ہے، ٹھہرے ہیں، ”أَيْ عِقْبَانُ الطَّيْرِ“ عقاب پرندے جو ہیں ”مَعَ الرَّايَاتِ“ رایۃ کی جمع جھنڈے کو کہتے ہیں، جھنڈوں کے ساتھ یہ ٹھہرے ہوئے ہیں۔ ”أَيِ الْأَعْلَامِ“ رایات کا معنی بتلا دیا، ”وُثُوقًا“ یقین ہونے کی وجہ سے ”بِأَنَّهَا سَتُطْعَمُ مِنْ لُحُومِ الْقَتْلَى“ کہ انہیں عنقریب مقتولین کا گوشت کھلایا جائے گا، ”حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“ یہاں تک کہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ یہ عقاب پرندے بھی لشکر میں سے ہیں، ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ مگر یہ قتال نہیں کرتے۔
تو شاعرِ اول نے کہا تھا کہ ہمارا لشکر جب چلتا ہے تو ہمارے پیچھے پیچھے آپ بالکل ساتھ ہی قریب ہی مشاہدہ کرتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے ہیں، وہ اس لیے ہمارے پیچھے آتے ہیں کیونکہ ان کو ہماری شجاعت کا پتہ ہے، انہیں اب یقین ہے کہ اب انہیں گوشت کھانے کو ملے گا۔ ابو تمام نے اسی معنی کو ادا کیا، وہ کہتا ہے کہ ہم جب لشکر کے لیے، لشکر میں چلے، جنگ کے لیے چلے، تو جو جھنڈے تھے ان پر عقاب پرندوں کا سایہ پڑ رہا تھا، وہ عقاب جو تھے وہ سیر تھے دشمن کے خون سے، اور وہ جھنڈوں کے ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے، اس کے قریب ہی تھے، جھنڈوں کے ساتھ تھے، گویا کہ یوں معلوم ہوتا تھا یہ بھی لشکر میں سے ہیں، یہ بھی کیا ہیں؟ لشکر میں سے ہیں۔ اس پر شبہ پیدا ہوا کہ بھئی جب لشکر میں سے ہیں تو انہوں نے کیا کی ہوگی؟ قتال بھی کیا ہوگا جنگ، کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ مگر یہ بات ہے کہ انہوں نے جنگ نہیں کی۔
”فَإِنَّ أَبَا تَمَّامٍ لَمْ يُلِمَّ بِشَيْءٍ مِنْ مَعْنَى قَوْلِ الْأَفْوَهِ: رَأْيَ عَيْنٍ، وَلَا بِشَيْءٍ مِنْ مَعْنَى قَوْلِهِ: ثِقَةً أَنْ سَتُمَارُ“ کہتے ہیں بھئی ابو تمام نے کچھ معنی لیا، کچھ نہیں لیا۔ کیا نہیں لیا؟ یہ دو چیزیں نہیں لیں: ”رَأْيَ عَيْنٍ“، پہلے مصنف نے کہا تھا آپ آنکھوں سے مشاہدہ کرو گے، ابو تمام نے یہ بات نہیں کی۔ نیز اس نے کہا تھا کہ پرندوں کو یقین ہے عنقریب ان کو گوشت کھانے کو ملے گا، یہاں پر یہ ابو تمام نے ذکر نہیں کیا کہ ان کو یقین ہے کہ ان کو گوشت کھانے کو ملے گا۔ تو دیکھا؟ بعض معنی کو لیا۔
”فَإِنَّ أَبَا تَمَّامٍ لَمْ يُلِمَّ بِشَيْءٍ مِنْ مَعْنَى قَوْلِ الْأَفْوَهِ: رَأْيَ عَيْنٍ الدَّالِّ عَلَى قُرْبِ الطَّيْرِ“ جو دلالت، یہ ”رَأْيَ عَيْنٍ“ دلالت کر رہا تھا کہ پرندے قریب ہی ہیں لشکر کے، ”بِحَيْثُ تَرَى عِيَانًا لَا تَخَيُّلًا“ کہ اے مخاطب تو اس کو دیکھتا ہے مشاہدہ کرتے ہوئے، خیالی طور پر نہیں۔ ”وَهَذَا مِمَّا يُؤَكِّدُ شَجَاعَتَهُمْ وَقَتْلَهُمُ الْأَعَادِيَ“ اور یہ وہ صفت ہے جو پکا کرتی ہے، کیا کرتی ہے؟ ان کی شجاعت میں تاکید پیدا کرتی ہے، اور یہ کہ وہ بڑے بہادر ہیں اور دشمن کو قتل کرنے پر قادر ہیں۔ جب بھئی پرندے آنکھوں سے آپ دیکھتے ہیں قریب ہیں، تو اس سے پتہ، پرندے کیوں ساتھ ہیں بھئی؟ گوشت کھانے، معلوم ہوا کہ یہ بڑے بہادر ہیں، ایک تو اس میں تاکید آ گئی بہادر ہونے میں، اس وصف کو جو بیان کر رہا ہے، اور دوسرا کہ دشمن کے قتل پر یہ قادر بھی ہیں۔ جب پرندے ساتھ ہیں کس لیے ساتھ ہیں؟ کیونکہ ان کو یقین ہے قتل کریں گے، معلوم ہوا یہ قتل پر قادر بھی ہیں۔
”وَلَا بِشَيْءٍ مِنْ مَعْنَى قَوْلِهِ: ثِقَةً أَنْ سَتُمَارُ“ اس ”ثِقَةً أَنْ سَتُمَارُ“ کے معنی کو بھی نہیں لیا اس نے، ”الدَّالِّ عَلَى وُثُوقِ الطَّيْرِ بِالْمِيرَةِ“ میرہ طعام کو کہتے ہیں بھئی، جو دلالت کر رہا ہے پرندوں کے یقین ہونے پر طعام پر کہ ان کو طعام ملنے کا یقین ہے، ”لِاعْتِيَادِهَا بِذَلِكَ، وَهَذَا أَيْضًا مِمَّا يُؤَكِّدُ الْمَقْصُودَ“ اس لیے کہ ان کو اس کی عادت ہے، اور یہ بھی مقصود کو پکا کر رہا ہے یعنی شجاعت کے اثبات۔
”قِيلَ“ بھئی آپ نے کیا کہا؟ مصنف نے کیا کہا بھئی؟ کہ بھئی ابو تمام نے ”رَأْيَ عَيْنٍ“ کے لفظ کا جو معنی ہے وہ نہیں لیا، اور ”ثِقَةً أَنْ سَتُمَارُ“ کا معنی بھی نہیں لیا۔ کسی معترض نے اعتراض کیا بھئی: ابو تمام نے کہا تھا ”ظُلِّلَتْ“ سایہ ڈالا ہوا ہے عقابوں نے، یہ سایہ اسی وقت ہوگا جب پرندے قریب ہوں گے۔ معلوم ہوا پرندے قریب ہیں، تو معنی لے لیا یا نہیں لے لیا؟ اس نے بھی کہا تھا مشاہدہ کر رہے ہیں آپ، قریب ہیں یعنی کہ۔ تو علامہ تفتازانی فرماتے ہیں: نہیں بھئی، سایہ ہونا یہ ان کے قریب ہونے پر دلالت نہیں کرتا، اس لیے کہ بعض اوقات پرندہ بہت اوپر ہوتا ہے نظر بھی نہیں آتا لیکن اس کا سایہ زمین پر پڑ رہا ہوتا ہے، تو عقاب بھی ممکن ہے بہت اوپر ہوں اور ان کا سایہ پڑ رہا ہو لشکر پر۔
کہتے ہیں یہ تو سایہ ڈالنا اس سے ان کا قرب ثابت نہیں ہوتا۔ ہاں، یہ جو کہا نا کہ یوں محسوس ہوتا ہے لشکر ہی میں سے ہیں، یہ بات البتہ اس سے اشارہ ملتا ہے کچھ نہ کچھ اس بات کا کہ یہ لشکر کے قریب ہیں۔ تو اس صورت میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ بات آپ کی ٹھیک ہے کہ یہ جو لشکر میں سے ہے اس کے ذریعے اس نے ارادہ کیا ہو ”رَأْيَ عَيْنٍ“ ہی کا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو دراصل مقصد مصنف پر اعتراض کرنا، مصنف نے کہا تھا ”رَأْيَ عَيْنٍ“ کے معنی کا ارادہ نہیں کیا، یہ کیا کہنا چاہتے ہیں؟ اس کے معنی کا بھی ارادہ کیا ہے۔
”قِيلَ إِنَّ قَوْلَ أَبِي تَمَّامٍ: ظُلِّلَتْ إِلْمَامٌ بِمَعْنَى قَوْلِهِ: رَأْيَ عَيْنٍ“ کہا گیا ابو تمام کا قول ”ظُلِّلَتْ“ جو ہے یہ ارادہ ہے پہلے مصنف کے قول ”رَأْيَ عَيْنٍ“ کے معنی کا ارادہ ہے، ”لِأَنَّ وُقُوعَ الظِّلِّ عَلَى الرَّايَاتِ مُشْعِرٌ بِقُرْبِهَا مِنَ الْجَيْشِ“ اس لیے کہ سایے کا پڑنا جھنڈوں پر یہ خبر دے رہا ہے ان کے پرندوں کے قریب ہونے کی لشکر سے۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں اس اعتراض میں نظر ہے، ”إِذْ قَدْ يَقَعُ ظِلُّ الطَّيْرِ عَلَى الرَّايَاتِ وَهُوَ فِي جَوِّ السَّمَاءِ بِحَيْثُ لَا يُرَى أَصْلًا“ اس لیے کہ کبھی کبھار پرندے کا سایہ جھنڈے پر پڑتا ہے اور وہ فضا میں ہوتا ہے اوپر آسمان میں اس طور پر کہ بالکل دکھائی بھی نہیں دیتا۔ ”نَعَمْ لَوْ قِيلَ: إِنَّ قَوْلَهُ: حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“ ہاں اگر یہ کہا جائے کہ دوسرے شاعر نے جو کہا نا: ”حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“ گویا کہ یہ لشکر میں سے ہیں، ”إِلْمَامٌ بِمَعْنَى قَوْلِهِ: رَأْيَ عَيْنٍ“ یہ ”رَأْيَ عَيْنٍ“ کا جو قول تھا اس کے معنی کا ارادہ ہو سکتا ہے، اس میں اس معنی کا ارادہ، ”فَإِنَّهَا إِنَّمَا تَكُونُ مِنَ الْجَيْشِ إِذَا كَانَ قَرِيبًا مِنْهُمْ وَمُخْتَلِطًا بِهِمْ“ اس لیے کہ یہ اسی وقت لشکر میں سے ہو سکتے ہیں جب لشکر کے قریب ہوں اور ان کے ساتھ ملے ہوئے ہوں، ”لَمْ يَبْعُدْ عَنِ الصَّوَابِ“ اس صورت میں یہ بات درستگی سے دور نہیں، یہ کچھ درست بات ہے۔ پہلا اعتراض صحیح نہیں تھا، سایے سے یہ بات ثابت نہیں ہوتی، اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے۔
”لَكِنْ زَادَ أَبُو تَمَّامٍ عَلَيْهِ أَيْ عَلَى الْأَفْوَهِ زِيَادَاتٍ مُحَسِّنَةً لِلْمَعْنَى الْمَأْخُوذِ مِنَ الْأَفْوَهِ“ لیکن کہتے ہیں ابو تمام نے اس پر زیادہ کر دیا، یعنی افوہ کے قول پر کچھ چیزیں زیادہ کیں، تین چیزیں زیادہ کیں مولانا، جو افوہ سے لیے گئے معنی کو حسین بناتی ہیں، ایسی تین زیادات کیں۔ یعنی وہ جو معنی لیا تھا افوہ سے، کیا معنی لیا تھا کہ پرندے ان کے پیچھے چلتے ہیں، یہ معنی لیا تھا۔ اس کے ساتھ کیا ملایا؟ ”بِقَوْلِهِ: إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ مگر یہ بات ہے کہ انہوں نے قتال نہیں کیا، ایک یہ چیز۔ دوسرا ”وَبِقَوْلِهِ: فِي الدِّمَاءِ نَوَاهِلِ“ خون کے اندر وہ سیراب ہیں، یہ بھی نئی چیز ذکر کی۔ تیسری چیز: ”وَبِإِقَامَتِهَا مَعَ الرَّايَاتِ حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“ اور وہ ٹھہرے رہتے ہیں جھنڈوں کے ساتھ یہاں تک کہ گویا کہ وہ بھی لشکر میں سے ہیں۔ تو تین چیزیں: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، ”فِي الدِّمَاءِ نَوَاهِلِ“، اور ”بِإِقَامَتِهَا مَعَ الرَّايَاتِ حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“، یہ تین چیزیں زیادہ کر دیں۔
”وَبِهَا يَتِمُّ حُسْنُ الْأَوَّلِ“ اور اس کے ساتھ اول کا حسن تام ہوتا ہے، اس کے ساتھ اول سے کیا مراد ہے؟ یہ جو انہوں نے تین چیزیں بتلائیں بھئی، تین چیزیں جو بڑھائی ہیں: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، اس کا حسن تام ہوتا ہے یہ آخری کے ساتھ: ”بِإِقَامَتِهَا مَعَ الرَّايَاتِ حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“۔ سمجھ میں آیا؟ تو بہا ضمیر اس کو راجع ہے، باقامتھا کو راجع ہے۔
شاعر نے کیا کہا دیکھو: مگر ایک بات ہے کہ انہوں نے جنگ نہیں کی۔ کہتے ہیں یہ جو کہا نا انہوں نے جنگ نہیں کی، اس میں حسن پیدا ہوا باقامتھا والے کلام سے کہ وہ جھنڈوں کے ساتھ ٹھہرے رہتے ہیں۔ اگر یہ نہ ہوتے تو پھر شاعر نے جو کہا انہوں نے جنگ نہیں کی یا جنگ نہیں کرتے، اس میں کوئی حسن نہیں تھا۔ تو جب وہ دوسرا کلام کیا تو اب اس کے اندر کیا پیدا ہوا؟ حسن۔ اس لیے کہ یہ استدراک ہے، اور استدراک کس کو کہتے ہیں ماقبل کلام سے جو وہم پیدا ہو اس کو دور کیا جائے، اور یہاں پر کسی جملے سے یہ بات وہم نہیں پڑتا تھا کہ انہوں نے جنگ کی ہے، کسی جملے سے یہ وہم؟ ہاں، اس جملے سے یہ وہم پڑتا ہے جب اس نے کہا کہ وہ ٹھہرے رہتے ہیں جھنڈوں کے ساتھ، یوں معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی لشکر میں سے ہیں۔ جب یہ کہا کہ وہ بھی لشکر میں سے ہیں، اب وہم پیدا ہوا کہ جب وہ لشکر میں سے ہیں تو پھر شاید انہوں نے جنگ بھی کی ہو، تو پھر کہا: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ مگر یہ کہ انہوں نے جنگ نہیں کی۔ تو یہ استدراک اسی جملے کی وجہ سے صحیح ہوگا ورنہ نہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
”وَبِهَا“ تو ہا ضمیر اقامت کو راجع ہے، دیکھا خود بتلا رہے ہیں: ”أَيْ بِإِقَامَتِهَا مَعَ الرَّايَاتِ حَتَّى كَأَنَّهَا مِنَ الْجَيْشِ“ اس جملے سے ”يَتِمُّ حُسْنُ الْأَوَّلِ“ اول کا حسن بھی تام ہوتا ہے، اول کون؟ ”يَعْنِي قَوْلَهُ: إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، ”لِأَنَّهُ لَا يَحْسُنُ الِاسْتِدْرَاكُ الَّذِي هُوَ قَوْلُهُ: إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ اس لیے کہ اچھا نہیں ہے وہ استدراک جو کہ مصنف کا یہ قول ہے: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، یہ استدراک ہے، یہ اچھا نہیں ہے ”ذَلِكَ الْحُسْنَ“ اتنا اچھا جتنا کہ اس کے آنے کے بعد ہے، اس سے پہلے اتنا نہیں، ”إِلَّا بَعْدَ أَنْ تُجْعَلَ الطَّيْرُ مُقِيمَةً مَعَ الرَّايَاتِ مَعْدُودَةً فِي عِدَادِ الْجَيْشِ“ مگر بعد اس کے کہ قرار دیا جائے پرندوں کو کہ وہ مقیم ہیں جھنڈوں کے ساتھ اور شمار کیے گئے ہیں لشکر والوں میں سے، یہاں تک کہ وہم کیا جائے کہ یہ بھی لڑنے والوں میں سے ہے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یہاں تک کہ پرندوں کو کیا قرار دیا جائے کہ یہ جھنڈوں کے ساتھ رہتے ہیں، لشکر والوں میں شمار ہوتے ہیں، اب وہم پڑے گا کہ شاید انہوں نے قتال کیا ہو، پھر اب کہنا صحیح ہے: ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، اور اب اس ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ میں حسن ہے۔ ”هَذَا هُوَ الْمَفْهُومُ مِنَ الْإِيضَاحِ“ یہ ہے وہ جو مفہوم ہوا ایضاح سے۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو بعضوں نے یہ ایک تقریر کی مولانا، جو مصنف نے کی تھی کہ ہا ضمیر کس کو راجع کی؟ اقامت کو، اور اقامت کی وجہ سے پہلے کا حسن تام، اور پہلے سے کیا مراد ہے؟ ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“، تو اقامت کی وجہ سے ”إِلَّا أَنَّهَا لَمْ تُقَاتِلْ“ کا حسن تام۔ بعضوں نے کلام کا اور ترجمہ کیا: ”وَبِهَا يَتِمُّ حُسْنُ الْأَوَّلِ“، انہوں نے کہا ان تین چیزوں کی وجہ سے جو ابو تمام نے زیادہ کیں، ان کے سبب سے اول یعنی شعرِ اول کا حسن تام ہوتا ہے۔ شعرِ اول میں اتنا حسن نہیں ہے لیکن یہ تین چیزیں جو ابو تمام نے زائد کیں ان کی وجہ سے شعرِ اول کے معنی کا حسن کیا ہو جاتا ہے؟ تام ہو جاتا ہے۔ تو ابو تمام نے شعرِ اول کا معنی لیا اور اس میں یہ تین زیادتیاں کیں جس کی وجہ سے اب اس کا معنی کیا ہوا؟ حسین ہوا۔ ”وَقِيلَ مَعْنَى قَوْلِهِ: وَبِهَا يَتِمُّ حُسْنُ الْأَوَّلِ“ اس کا معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ ”أَيْ بِهَذِهِ الزِّيَادَاتِ الثَّلَاثَةِ يَتِمُّ حُسْنُ مَعْنَى الْبَيْتِ الْأَوَّلِ“ ان تین زیادتیوں کی وجہ سے بیتِ اول کا معنی حسین بنتا ہے۔
آگے یہ بتلا رہے ہیں مولانا کہ یہ جو غیر ظاہر کی جتنی اقسام ہیں ساری کی ساری مقبول ہیں۔ بلکہ ان میں سب میں آپ دیکھتے ہیں کہ شاعرِ ثانی کچھ نہ کچھ تصرف کرتا ہے، تو بلکہ کہتے ہیں بسا اوقات یہ تصرف اس کو اتباع کے قبیل سے نکال دیتا ہے اور یوں ایک جدید چیز بن جاتی ہے۔ یہ نہیں کہا جاتا کہ یہ اس نے پہلے شاعر سے معنی لیا ہے، بلکہ اتنا تصرف کر دیتا ہے کہ گویا بالکل ایک نئی چیز، نیا معنی بن گیا۔ تو جتنا کہتے ہیں اس غیر ظاہر میں خفاء زیادہ ہوگا اتنا ہی قبولیت کے زیادہ قریب ہوگا۔
”وَأَكْثَرُ هَذِهِ الْأَنْوَاعِ الْمَذْكُورَةِ لِغَيْرِ الظَّاهِرِ وَنَحْوِهَا مَقْبُولَةٌ“ اور اکثر یہ انواع جو ہیں غیر ظاہر کی یہ مقبول ہیں کیونکہ ان میں ایک نوع کا تصرف کیا جاتا ہے، بلکہ ان میں سے بعض وہ انواع ہیں ”مِمَّا يُخْرِجُهُ حُسْنُ التَّصَرُّفِ“ کہ جن کو نکال دیتا ہے، حسنِ تصرف نکال دیتا ہے کس سے؟ ”مِنْ قَبِيلِ الِاتِّبَاعِ“ اتباع کے قبیل سے نکال دیتا ہے ”إِلَى حَيِّزِ الِابْتِدَاعِ“ ابتداع کس کو کہتے ہیں بھئی؟ نئی چیز بنانا، اور ابتدا کی جگہ پر لے جاتا ہے ان کو۔ اتباع سے نکال کر کہاں لے جاتا ہے؟ ابتدا کی جگہ پر لے جاتا ہے، جدید۔
”وَكُلَّمَا كَانَ أَشَدَّ خَفَاءً“ اور جتنا زیادہ مولانا خفاء زیادہ ہوگا ”بِحَيْثُ لَا يُعْرَفُ كَوْنُهُ مَأْخُوذًا مِنَ الْأَوَّلِ“ اس طور پر کہ جانا ہی نہ جائے کہ یہ اول میں سے ہے، بھئی اور کہتے ہیں: جتنا بھی زیادہ خفاء والا، جتنا بھی زیادہ خفاء ہوگا، خفاء کے اعتبار سے زیادہ شدید ہوگا اس طور پر کہ اتنا خفاء ہو کہ جانا ہی نہ جائے کہ یہ شعرِ ثانی کس سے ماخوذ ہے؟ شعرِ اول سے، معلوم ہی نہ ہوتا ہو ”إِلَّا بَعْدَ مَزِيدِ تَأَمُّلٍ“ مگر کس کے بعد پتہ چلتا ہو؟ اور زیادہ غور و فکر کرنے کے بعد، ”كَانَ أَقْرَبَ إِلَى الْقَبُولِ“ تو یہ زیادہ قریب ہے کس کے؟ قبول کے، ”لِكَوْنِهِ أَبْعَدَ مِنَ الِاتِّبَاعِ وَأَدْخَلَ فِي الِابْتِدَاعِ“ اس لیے کہ یہ اتباع سے زیادہ دور ہے اور ابتدا میں زیادہ داخل ہے۔
”هَذَا الَّذِي ذُكِرَ فِي الظَّاهِرِ وَغَيْرِهِ مِنْ ادِّعَاءِ سَبْقِ...“ بھئی یہاں سے یہ بات بیان کر رہے ہیں دیکھو بھئی۔ کہتے ہیں یہ جو ہم کہتے ہیں نا کہ شاعرِ ثانی نے شاعرِ اول کے معنی کو لیا، غیر ظاہر، ظاہر ہو یا غیر ظاہر جو بھی ہو مولانا۔ یہ جو ہم کہتے ہیں کہ شاعرِ ثانی نے شاعرِ اول سے لیا، یہ آپ ویسے ہی آنکھیں بند کر کے نہ کہہ دینا، ایک شعر دوسرے شعر سے ملتا جلتا ہو اور آپ کہہ دیں یہ ثانی نے اول سے لیا، یہ تو جھوٹ ہو جائے گا۔ آپ کو یقین ہے اس نے اس سے لیا ہے؟ نہیں۔ بلکہ جب آپ کو پتہ ہو کہ یہ اول شعر شاعر کو یاد تھا، جس نے ثانی شعر کہا ہے اس کو پہلا شعر بھی یاد تھا، جب یاد تھا معلوم ہوا اس کو علم ہے اب وہ کہہ سکتے ہو کہ اس نے اس سے معنی لیا۔ یا وہ خود کہے مولانا، ذکر کرے کہ مجھے وہ پہلا شعر یاد ہے، معلوم ہے، تو اب آپ کہہ سکتے ہیں کہ اس نے اس سے لیا۔ اور اگر یقین نہ ہو تو صرف یوں کہو کہ ثانی نے یوں کہا ہے اور اس سے پہلے بھی ایک شاعر اس قسم کی بات کر چکا ہے، تاکہ آپ کی بات بھی سچ رہے، آپ کو سچ کی فضیلت بھی حاصل ہو اور علمِ غیب کا دعویٰ بھی، اس سے بھی محفوظ رہیں آپ، ورنہ تو آپ گویا علمِ غیب کا دعویٰ کر رہے ہیں، پتہ ہے نہیں اور ویسے ہی کہہ رہے ہیں کہ ثانی نے کس سے لیا ہے؟ اول سے لیا ہے۔ اور نیز غیر کی طرف عیب کی نسبت کرنے سے بھی بچ جائیں، ورنہ تو غیر کی طرف بلا وجہ ہی آپ کیا کریں گے؟ عیب کی نسبت کر دیں گے کیونکہ یہ عیب ہے نا کہ ثانی اول کے معنی کو چوری کرے اور لے لے۔ یہ بات سمجھ میں آئی؟ اب یہ پورے صفحے میں صرف اتنی سی بات ذکر کریں گے۔
”هَذَا الَّذِي ذُكِرَ فِي الظَّاهِرِ وَغَيْرِهِ“ یہ جو ذکر کیا گیا سرقہ ظاہر اور غیر ظاہر کے اندر ”مِنْ ادِّعَاءِ سَبْقِ أَحَدِهِمَا وَأَخْذِ الثَّانِي مِنْهُ“ کہ یہ جو دعویٰ کرنا ہے کہ اول جو ہے وہ کیا ہے؟ وہ اعلیٰ ہے، سبقت والا ہے، ”وَأَخْذِ الثَّانِي مِنْهُ“ اور یہ دعویٰ جو ہے کہ ثانی نے اس سے لیا ہے، ”وَكَوْنِهِ مَقْبُولًا أَوْ مَرْدُودًا“ اور یہ کہ یہ مقبول ہے یا مردود ہے، ”وَتَسْمِيَةِ كُلٍّ بِالْأَسَامِي الْمَذْكُورَةِ“ اور ہر ایک کا نام رکھنا جو نام ذکر ہوئے: اغارہ، مسخ، المام وغیرہ، یہ سارے نام رکھنا ”كُلُّهُ إِنَّمَا يَكُونُ إِذَا عُلِمَ أَنَّ الثَّانِيَ أَخَذَ مِنَ الْأَوَّلِ“ یہ سب کے سب اس وقت ہوں گے جب یہ بات معلوم ہو کہ ثانی نے اول سے لیا ہے، ”بِأَنْ يُعْلَمَ أَنَّهُ كَانَ يَحْفَظُ قَوْلَ الْأَوَّلِ حِينَ نَظَمَ“ بایں طور کہ معلوم ہو یہ بات کہ شاعرِ ثانی جو تھا ”كَانَ يَحْفَظُ قَوْلَ الْأَوَّلِ“ اس کو قولِ اول کیا تھا؟ یاد تھا جب اس نے دوسرا شعر کہا، ”أَوْ بِأَنْ يُخْبِرَ هُوَ عَنْ نَفْسِهِ أَنَّهُ أَخَذَهُ مِنْهُ“ یا وہ خود اپنے بارے میں خبر دے کہ میں نے یہ کس سے لیا ہے؟ اول سے لیا ہے۔ ”وَإِلَّا فَلَا يُحْكَمُ بِشَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ“ اور اگر ایسا نہ ہو تو کوئی حکم ان میں سے نہیں لگایا جائے گا کہ اول سبقت کرنے والا ہے، ثانی لینے والا ہے، مقبول ہے، مردود ہے، اغارہ ہے، کوئی چیز نہیں کی جائے گی۔
”لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ الِاتِّفَاقُ فِي اللَّفْظِ وَالْمَعْنَى جَمِيعًا أَوْ فِي الْمَعْنَى وَحْدَهُ مِنْ قَبِيلِ تَوَارُدِ الْخَوَاطِرِ“ اس لیے کہ ممکن ہے کہ لفظ اور معنی دونوں میں اتفاق آیا ہے یا پھر جو معنی میں اتفاق آیا ہے یہ توارد الخواطر کے قبیل سے ہو۔ کس قبیل سے ہو؟ توارد الخواطر۔ خاطر، خواطر جمع ہے خاطر کی۔ خاطر کہتے ہیں وہ خیال جو دل میں آئے، کبھی کبھی مجازاً قلب کو بھی خاطر کہہ دیتے ہیں، تو دل میں جو خیال آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ خاطر۔ تو وارد ہونا: آنا، نازل ہونا، تو توارد الخواطر کا معنی ہے کہ دو دلوں میں ایک ہی جیسا خیال آئے، ایک ہی معنی وارد ہو دو دلوں پر۔ جیسے ایک شاعر نے وہ جھنڈوں کے اپنے پیچھے پرندوں کے چلنے کا ذکر کیا تھا، ہو سکتا ہے دوسرے نے کبھی اس کا شعر سنا بھی نہ ہو، ویسے ہی اس کے دل میں بھی یہ خیال آیا ہو، یہ معنی آیا ہو اور اس نے اس کو کس میں ذکر کر دیا؟ شعر میں۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ ہو سکتا ہے توارد الخواطر کے قبیل سے ہو۔
بھئی توارد الخواطر کا خود معنی بتلا رہے ہیں: ”أَيْ مَجِيئِهِ عَلَى سَبِيلِ الِاتِّفَاقِ مِنْ غَيْرِ قَصْدٍ إِلَى الْأَخْذِ“ یعنی اس خیال کا آنا کس طریقے پر ہو؟ اتفاقی طور پر ہو، اخذ کا ارادہ کیے بغیر۔ جیسے حکایت کیا گیا ہے: ”عَنِ ابْنِ مَيَّادَةَ أَنَّهُ أَنْشَدَ لِنَفْسِهِ“ ابن میادہ ایک شاعر ہے اس نے یہ شعر پڑھا بھئی، اپنے لیے، یعنی دعویٰ کیا یہ شعر میرا ہے، کسی کے سامنے یہ شعر مجلس میں پڑھا، کیا کہتا ہے:
”مُفِيدٌ وَمِتْلَافٌ إِذَا مَا أَتَيْتَهُ ... تَهَلَّلَ وَاهْتَزَّ اهْتِزَازَ الْمُهَنَّدِ“
کہ میرا ممدوح جو ہے مفید فائدہ دینے والا ہے، لوگوں کو کیا کرتا ہے؟ مال دیتا ہے۔ ”وَمِتْلَافٌ“ اور فضول خرچ ہے اور ضائع کرنے والا ہے۔ کیا معنی؟ بھئی مال دیتا ہے دوسروں کو، تو لوگوں کو فائدہ دیتا ہے، اور جب مال دوسروں کے پاس چلا گیا تو اس کے لیے اپنے نفس کے لیے کیا ہوا مال؟ ضائع ہو گیا۔ تو وہ مفید ہے لوگوں کے لیے، متلاف ہے اپنے نفس کے لیے، متلاف فضول خرچ اور ضائع کرنے والا۔ ”إِذَا مَا أَتَيْتَهُ“ جب تو اس کے پاس آئے گا، ”تَهَلَّلَ“ تو اس کا چہرہ کھل اٹھتا ہے، ”وَاهْتَزَّ“ اور وہ جھومنے لگتا ہے ”اهْتِزَازَ الْمُهَنَّدِ“ ہندی تلوار کی طرح۔ ہندی تلوار، ہندوستان کا لوہا مشہور تھا مولانا، سمجھ میں آیا؟ تلوار ہندوستان میں بنتی یا یہاں کے لوہے سے بنتی وہ سیفِ مہند کہلاتی۔ اچھا، تو جیسے ہندی تلوار حرکت کرتی ہے میدانِ جنگ کے اندر، اسی طرح جب میرے ممدوح کے پاس کوئی مانگنے والا آتا ہے تو وہ بھی کیا کرتا ہے؟ اس کا چہرہ بھی کھل اٹھتا ہے، چمکنے لگتا ہے اور وہ جھومنے لگتا ہے، اس تلوار کی طرح حرکت کرنے لگتا ہے خوشی سے کہ اب مجھے دینا پڑے گا۔
”فَقِيلَ لَهُ“ کہتے ہیں اس نے یہ شعر پڑھا اور اس طور پر پڑھا کہ یہ میرا شعر ہے تو اسے کہا گیا: ”أَيْنَ يَذْهَبُ بِكَ هَذَا لِلْحُطَيْئَةِ“ بھئی یہ حطیئہ کا یہ شعر تجھے کدھر لے کر جا رہا ہے؟ یہ شعر تو حطیئہ کا شعر ہے مولانا، حطیئہ تو بہت بڑا شاعر گزرا ہے بھئی، سمجھ میں آیا بھئی؟ تو اے ابن میادہ یہ شعر تجھے کہاں لے کر جا رہا ہے؟ یہ کوئی غلط راستے پر چلے اس کو کہتے ہیں بھئی کدھر جا رہے ہو، غلط روش اختیار کرے، سمجھ میں آیا بھئی؟ یعنی غلط طرف کو جا رہے ہو، تمہیں پتہ بھی ہے کدھر کو جا رہے ہو تم بھئی، جب کوئی غلطی کرے۔ تو اسے بھی یہ کہا: تجھے پتہ ہے کدھر لے کر جا رہا ہے تجھے حطیئہ کا یہ شعر بھئی، اپنی طرف منسوب کرتا ہے؟
تو اس نے کہا: اچھا، یہ حطیئہ کا شعر ہے، مجھے تو پتہ ہی نہیں تھا، آج تک میں نے سنا ہی نہیں ہے۔ آج مجھے پتہ، میں شعر تو کہتا تھا لیکن مجھے پتہ نہیں تھا کہ میں اتنا شاعر ہوں، آج مجھے پتہ چلا میں بہت بڑا شاعر ہوں کہ میرا شعر حطیئہ کے شعر جیسا ہو گیا بالکل بھئی۔ تو دیکھا؟ یہ توارد الخواطر کے قبیل سے ہے۔ وہی معنی جو حطیئہ کے ذہن میں آیا تھا کس کے ذہن میں آ گیا؟ شاعر ابن میادہ، حالانکہ اس نے سنا بھی نہیں تھا۔
”فَقَالَ: الْآنَ عَلِمْتُ أَنِّي شَاعِرٌ إِذْ وَافَقْتُهُ عَلَى قَوْلِهِ وَلَمْ أَسْمَعْهُ“ کہنے لگا: مجھے آج پتہ چلا ہے کہ میں شاعر ہوں جب میں نے موافقت کر دی اس حطیئہ کے قول پر اور حال یہ ہے کہ میں نے اس کو سنا بھی نہیں، اس شعر کو۔ ”فَإِذَا لَمْ يُعْلَمْ أَنَّ الثَّانِيَ أَخَذَ مِنَ الْأَوَّلِ قِيلَ: قَالَ فُلَانٌ كَذَا، وَقَدْ سَبَقَهُ إِلَيْهِ فُلَانٌ فَقَالَ كَذَا“ جب یہ پتہ نہ چلے کہ ثانی نے اول سے لیا ہے تو یوں کہا جائے: فلاں نے یوں کہا ہے اور تحقیق اس معنی کی طرف ایک اور شخص بھی سبقت کر چکا ہے، ایک اور شاعر بھی، پس اس نے یوں کہا ہے۔ اس نے یوں کہا ہے اور ایک اور شاعر نے بھی سبقت کی ہے اور اس نے یوں کہا ہے۔ ”لِيَغْتَنِمَ بِذَلِكَ فَضِيلَةَ الصِّدْقِ“ بھئی یہ اس لیے کہے، اغتنام کا معنی فائدہ اٹھانا، تاکہ فائدہ اٹھا لے اس قول کے ذریعے سچائی کی فضیلت کا، ”وَيَسْلَمَ مِنْ دَعْوَى عِلْمِ الْغَيْبِ“ اور علمِ غیب کے دعویٰ سے بھی محفوظ رہے، ”وَنِسْبَةِ النَّقْصِ إِلَى الْغَيْرِ“ اور غیر کی طرف عیب کی نسبت سے بھی بچا رہے۔
”وَمِمَّا يَتَّصِلُ بِهَذَا أَيْ بِالْقَوْلِ فِي السَّرِقَاتِ...“ کہتے ہیں بھئی سرقاتِ شعریہ کے ساتھ کچھ اور چیزیں بھی ملی ہوئی ہیں: اقتباس، تضمین، عقد، حل اور تلمیح۔ اور یہ سرقاتِ شعریہ کے ساتھ اس لیے ملی ہوئی ہیں کہ سرقہ کے اندر جیسے غیر کے معنی کو لیا جاتا ہے، ان سب کے اندر بھی غیر سے کچھ نہ کچھ لیا جاتا ہے، تو اس لیے یہ بھی متصل ہیں، ملے ہوئے ہیں کس کے ساتھ؟ سرقہ کے ساتھ۔
”وَمِمَّا يَتَّصِلُ بِهَذَا“ اور ان چیزوں میں سے جو اس کے ساتھ ملی ہوئی ہیں، ہذا مشارٌ الیہ کون بتلایا؟ ”أَيْ بِالْقَوْلِ فِي السَّرِقَاتِ الشِّعْرِيَّةِ“ سرقاتِ شعریہ کے قول کے ساتھ ملی ہوئی ہیں: ”الْقَوْلُ فِي الِاقْتِبَاسِ وَالتَّضْمِينِ وَالْعَقْدِ وَالْحَلِّ وَالتَّلْمِيحِ“ کیا ملا ہوا ہے؟ اقتباس کے بارے میں جو قول، اقتباس میں ہے، اور تضمین، اور عقد، اور حل، اور تلمیح۔ ”بِتَقْدِيمِ اللَّامِ عَلَى الْمِيمِ مِنْ لَمَحَهُ“ میم پر لام کی تقدیم کے ساتھ، من لمحہٗ، تلمیح مولانا اس میں لام مقدم ہے میم پر، اور لمحہٗ سے ہے: ”إِذَا أَبْصَرَهُ“ جب کوئی کسی کو دیکھے تو کیا کہتے ہیں؟ لمحہٗ۔ ”وَذَلِكَ لِأَنَّ فِي كُلٍّ مِنْهَا أَخْذَ شَيْءٍ مِنَ الْآخَرِ“ مادہ بتلایا اس کا بھئی لغوی، اس لیے کہ ان سب کے اندر کیا ہے؟ غیر سے چیز لینا ہے، تو جیسے سرقہ میں غیر سے معنی اور لفظ لیے جاتے ہیں یہاں بھی غیر سے کچھ نہ کچھ لیا جاتا ہے، اس لیے یہ بھی اس کے ساتھ متصل ہیں۔
”أَمَّا الِاقْتِبَاسُ...“ اقتباس اس کو کہتے ہیں مولانا کہ نظم یا نثر میں قرآن یا حدیث سے کچھ حصہ لے لیا جائے، کوئی آیت کا ٹکڑا وہ آپ اپنے قول کے ساتھ ملا دیتے ہیں، یا حدیث کا کچھ ٹکڑا لیتے ہیں اپنے قول کے ساتھ ملا دیتے ہیں، لیکن یہ نہیں کہتے یہ حدیث کا ٹکڑا ہے یا یہ قرآن کی آیت کا ٹکڑا ہے، بلکہ اس طور پر ملاتے ہیں کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ گویا کہ یہ آپ ہی کے کلام کا حصہ ہے۔ یہ اقتباس ہے، آسان ہے۔
پھر یہ مولانا بتلائیں گے یہ چار قسم پر ہے بھئی۔ سمجھ میں آیا کتنی قسم پر ہے؟ چار۔ اس لیے کہ یا تو قرآن سے اخذ ہوگا یا حدیث سے اخذ ہوگا۔ اور پھر یہ قرآن اور حدیث سے اخذ یا تو نثر میں ہوگا یا نظم میں ہوگا، تو دونوں کی دو دو صورتیں بن گئیں، کل کتنی ہوئیں؟ چار۔ سمجھ میں آیا؟ یہ پتہ نہ چلے یہ حدیث سے لیا ہے، اگر یہ کہہ دیا: ”قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ پھر اقتباس نہیں۔ یا ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى“ یا ”فِي الْقُرْآنِ الْحَكِيمِ“ کہا، تو حوالہ دے دیا پھر یہ اقتباس نہیں ہے۔
”أَمَّا الِاقْتِبَاسُ فَهُوَ أَنْ يُضَمَّنَ الْكَلَامُ نَثْرًا كَانَ أَوْ نَظْمًا شَيْئًا مِنَ الْقُرْآنِ أَوِ الْحَدِيثِ لَا عَلَى أَنَّهُ مِنْهُ“ وہ یہ ہے کہ مشتمل کیا جائے کلام کو، نظم ہو یا نثر ہو، قرآن میں سے یا حدیث میں سے کوئی چیز، اس طریقے پر نہ ہو کہ وہ اس میں سے ہے۔ ”لَا عَلَى أَنَّهُ مِنْهُ أَيْ لَا عَلَى طَرِيقَةٍ أَنَّ ذَلِكَ شَيْءٌ مِنَ الْقُرْآنِ أَوِ الْحَدِيثِ“ اس طریقے پر، خود بتلا رہے ہیں، یعنی ایسے طریقے پر نہ ہو کہ وہ چیز قرآن یا حدیث میں سے ہے، ”يَعْنِي عَلَى وَجْهٍ لَا يَكُونُ فِيهِ إِشْعَارٌ بِأَنَّهُ مِنْهُ“ یعنی ایسے طریقے پر ہو کہ نہ ہو اس میں کوئی اطلاع اس بات کی کہ یہ قرآن یا حدیث میں سے ہے، ”كَمَا يُقَالُ فِي أَثْنَاءِ الْكَلَامِ: قَالَ اللَّهُ تَعَالَى كَذَا، أَوْ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَذَا، أَوْ نَحْوُ ذَلِكَ“ جیسا کہ کہا جاتا ہے کلام کے دوران: اللہ نے یوں فرمایا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یوں فرمایا ہے، یا اس جیسا کوئی طریقہ، یہ نہ ہو مولانا، یہ نہ ہو۔ ”فَإِنَّهُ لَا يَكُونُ اقْتِبَاسًا“ یہ اقتباس نہیں ہوگا۔
”وَمَثَّلَ لِلِاقْتِبَاسِ بِأَرْبَعَةِ أَمْثِلَةٍ“ مصنف نے چار مثالیں ذکر کیں اقتباس کی، ”لِأَنَّهُ إِمَّا مِنَ الْقُرْآنِ أَوْ مِنَ الْحَدِيثِ، وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِمَّا فِي النَّثْرِ أَوْ فِي النَّظْمِ“ اس لیے کہ یا تو قرآن میں سے ہوگا یا حدیث میں سے ہوگا، اور دونوں میں سے ہر ایک پھر یا نثر میں ہوگا یا نظم میں ہوگا۔
”فَالْأَوَّلُ“ پہلے کی مثال کہ اقتباس قرآن سے ہے اور نثر میں ہے: ”كَقَوْلِ الْحَرِيرِيِّ“ علامہ حریری فرماتے ہیں:
”فَلَمْ يَكُنْ إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ حَتَّى أَنْشَدَ وَأَغْرَبَ“
دیکھو: ”فَلَمْ يَكُنْ“، تو دیکھو ”إِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ أَوْ هُوَ أَقْرَبُ“ یہ کہاں سے لیا بھئی؟ قرآن سے لیا۔ پس نہیں تھا وہ مگر آنکھ جھپکنے کی طرح یا اس سے بھی قریب، یہاں تک کہ اس نے اشعار پڑھے اور عجیب پڑھے بھئی۔
”وَالثَّانِي“ اور دوسرے کی مثال کہ اقتباس قرآن سے ہے اور نظم میں ہے، ایک اور شاعر کا قول ہے:
”إِنْ كُنْتِ أَزْمَعْتِ عَلَى هِجْرِنَا ... مِنْ غَيْرِ جُرْمٍ فَصَبْرٌ جَمِيلُ“
”وَإِنْ تَبَدَّلْتِ بِنَا غَيْرَنَا ... فَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“
شاعر کہتا ہے اپنی معشوقہ سے کہ کیا بات ہے تو نے آج کل مجھ سے جدائی اختیار کر لی ہے؟ کیا تو مجھے چھوڑنا چاہتی ہے بغیر کسی جرم کے؟ اگر بغیر کسی جرم کے چھوڑنا چاہتی ہے تو ”فَصَبْرٌ جَمِيلُ“ میں کیا کروں گا؟ صبرِ جمیل کروں گا بھئی۔ یا تو یہ بغیر جرم کے تو مجھے چھوڑنا چاہتی ہے، یا میرے بجائے تو نے کسی اور سے عاشقی شروع کر دی ہے اور میرے بجائے اس کو بدل دیا ہے مجھ سے، میری جگہ، تو پھر اس صورت میں ”فَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ اللہ ہی ہمارے لیے کافی ہے اور وہ بہترین کارساز ہے۔ اور کیا کر سکتا ہے بھئی؟
”إِنْ كُنْتِ أَزْمَعْتِ أَيْ عَزَمْتِ“ اگر تو نے عزم کیا ہے ”عَلَى هَجْرِنَا“ ہمیں چھوڑنے پر ”مِنْ غَيْرِ مَا جُرْمٍ“ ما زائدہ ہے، ”مِنْ غَيْرِ جُرْمٍ“ بغیر کسی جرم کے، ”فَصَبْرٌ جَمِيلُ“ یہ دیکھو یہ بھی قرآن سے ہے۔ ”وَإِنْ تَبَدَّلْتِ بِنَا غَيْرَنَا“ اگر ہم سے دوسرے کو بدل ڈالا ہے تو نے، ”فَحَسْبُنَا اللَّهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ یہ بھی کس سے ہے؟ قرآن سے ہے، اور حوالہ دیا؟ نہیں، اپنے کلام میں۔
”وَالثَّالِثُ...“ تیسری بھئی، تیسری کس کی مثال ہے؟ حدیث ہو اور کس میں ہو؟ نثر میں ہو۔ جیسے حریری کہتا ہے بھئی:
”قُلْنَا شَاهَتِ الْوُجُوهُ، وَقُبِّحَ اللُّكَعُ وَمَنْ يَرْجُوهُ“
یہ مولانا کسی مجلس میں گیا ابو زید سروجی گیا، وہاں پر اس نے چندہ وغیرہ جیسے یہ کرتا تھا ہمیشہ، تقریر کر کے لوگوں کو حیران کرتا ہے اور پھر پیسے جمع کرتا ہے، تو وہاں اس نے کوئی تقریر وغیرہ کی، اشعار زبردست پڑھے، لوگوں پہ اثر ہوا، ایک آدمی پہ بڑا اثر ہوا اس نے تھیلی نکالی، اس کو اب تھیلی انعام میں دینے لگا ہے۔ تو وہاں کوئی بخیل بیٹھا ہوا ہوگا اس نے، اور کوئی معتبر آدمی تھا اس نے وہ دینے والے کو بڑے غصے سے دیکھا، اور گویا منع کیا ہوگا، اس نے وہ پیسے واپس رکھ لیے بھئی۔ تو ابو زید سروجی کو بڑا غصہ چڑھا بھئی، تو کیا کہتا ہے: ”قُلْنَا شَاهَتِ الْوُجُوهُ“ چہرے بگڑ جائیں، ”وَقُبِّحَ اللُّكَعُ“ اور کمینے پر لعنت ہو، ”وَمَنْ يَرْجُوهُ“ اور جنہوں نے روکا ہے نا اس کے بارے میں کہہ رہا ہے، کمینہ شخص جو ہے اس پر کیا ہو؟ لعنت ہو، اور جو اس سے ڈرتا ہے اس پر بھی کیا ہو؟ لعنت ہو، یعنی جس نے نہیں دیا اس پر بھی، وہ اس سے ڈر گیا اور دیے نہیں پیسے۔
تو دیکھو یہ ”شَاهَتِ الْوُجُوهُ“ لفظ کہا بھئی، یہ حدیث سے ہے۔ کہتے ہیں کہ غزوہ حنین میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم، کفار نے بڑا سخت حملہ کیا مولانا، اور تیروں کی زبردست بارش کی انہوں نے، اتنے تیر چلائے اتنے تیر چلائے، بارش ہو رہی ہے ہر طرف سے تیروں کی، کچھ پتہ نہ چلا صحابہ کو بھی، اور لوگ ادھر ادھر تتر بتر ہوئے مولانا، گھوڑے وغیرہ اونٹ کو جدھر رخ ہوا دوڑ پڑا، بہت انہوں نے جنگی چال چلی تھی، بہت زیادہ تیر انداز اکٹھے بٹھائے ہوئے تھے وہ سارے ایک ساتھ تیر چلاتے تھے، تو اس وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی کہتے ہیں جرأت ظاہر ہوئی، پورا میدان خالی تھا، حضور صلی اللہ علیہ وسلم خچر پر سوار ہیں یا گدھے پر، اور اس کو آگے بڑھا رہے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ لوگ دوڑ رہے ہیں اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم اکیلے ہیں اور اس کو کیا کر رہے ہیں؟ آگے بڑھا رہے ہیں، اور حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس موقعے پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے خچر کی لگام تھامی ہوئی تھی اور حضور کو روک رہے تھے کہ آپ آگے نہ جائیں آگے نہ جائیں، دشمن تو آپ ہی کو تو دراصل وہ ختم کرنا چاہتے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر وہ کچھ کنکریاں مٹی ریت وغیرہ زمین سے اٹھائی اور وہ پھینکیں ان کی طرف، کفار کی طرف، اور فرمایا: ”شَاهَتِ الْوُجُوهُ“ چہرے بگڑ جائیں بھئی، یعنی شکست ہو جائے اور ان کا تکبر وغیرہ ٹوٹ جائے۔ تو چنانچہ اس کی وجہ سے سب کی آنکھوں میں پڑی اور پھر کفار کو شکست ہوئی مولانا، صحابہ واپس آئے اور حملہ کیا۔
”أَيْ قَبُحَتْ، قُلْنَا شَاهَتِ الْوُجُوهُ أَيْ قَبُحَتْ“ قبیح ہو جائیں یعنی بگڑ جائیں، ”وَهُوَ لَفْظُ الْحَدِيثِ“ یہ حدیث کا لفظ ہے، ”عَلَى مَا رُوِيَ أَنَّهُ لَمَّا اشْتَدَّتِ الْحَرْبُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَفًّا مِنَ الْحَصَى فَرَمَى بِهَا وُجُوهَ الْمُشْرِكِينَ وَقَالَ: شَاهَتِ الْوُجُوهُ“ حضور نے فرمایا: چہرے بگڑ جائیں۔ اچھا، تو یہ حدیث سے ماخوذ ہے۔ ”وَقُبِّحَ عَلَى الْمَبْنِيِّ لِلْمَفْعُولِ أَيْ لُعِنَ مِنْ قَبَحَهُ اللَّهُ بِالْفَتْحِ“ یہ کس سے ہے؟ قبحہ اللہ، قبح سے ہے مولانا، ”أَيْ أَبْعَدَهُ مِنَ الْخَيْرِ“ لعنت کا کیا معنی ہوتا ہے مولانا؟ خیر سے بعید، یعنی خیر سے بعید کر دیں۔ تو لعنت کی جائے، کس پر لعنت کی جائے؟ ”اللُّكَعُ أَيِ اللَّئِيمُ“ کمینے پر، ”وَمَنْ يَرْجُوهُ“ اور جو اس کے... اوہو، جو اس سے ڈرتے ہیں، رجا یرجو، اس کے معنی امید کے بھی آتے ہیں، امید کا بھی کر لیں اگر معنی صحیح بنتا ہے، اور ڈرنے کے بھی آتے ہیں۔
”وَالرَّابِعُ...“ چوتھی مثال مولانا، چوتھی کیا ہے؟ حدیث کا اقتباس ہو اور کس میں آئے؟ نظم میں آئے، جیسے ابن عباد کہتا ہے:
”قَالَ لِيَ الْحَبِيبُ: إِنَّ رَقِيبِي ... سَيِّئُ الْخُلْقِ فَادَارِهِ“
”قُلْتُ: دَعْنِي، وَجْهُكَ الْجَنَّةُ حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ“
شاعر اپنے معشوق سے ملنے جاتا ہے، تو معشوق اس کو کہتا ہے بھئی دیکھو تم مجھے ملنے آتے ہو لیکن یہ جو میری حفاظت پر مامور چوکیدار، پہرے دار ہے یہ بڑا بد اخلاق آدمی ہے۔ تو یہ کہیں تمہارے آنے میں رکاوٹ نہ ڈالے، مشکلات نہ درپیش ہوں، اس لیے تم یوں کرو اس سے ذرا اچھا برتاؤ، نرمی والا برتاؤ کیا کرو، تھوڑا دھوکہ وغیرہ دیا کرو اور پھر آ جایا کرو، اچھے طریقے سے اس سے پیش آیا کرو۔ تو شاعر کہتا ہے کہ بھئی چھوڑ دو مجھے، یہ مدارات وغیرہ کی دعوت مجھے نہ دو، بات دراصل یہ ہے کہ تیرا چہرہ جو ہے وہ جنت کی طرح ہے، اور جنت جو ہے اس کو ڈھانپا گیا ہے تکالیف اور مشقتوں کے ساتھ، تو میں یہاں بھی اس پہرے دار کی جو مشقت ہے اس سے جیسے تیسے بھی ہو، گزر کر تیرے چہرے کی جنت تک ضرور پہنچوں گا۔
”قَالَ لِيَ الْحَبِيبُ“ محبوب نے مجھ سے کہا: ”إِنَّ رَقِيبِي سَيِّئُ الْخُلْقِ“ میرا جو رقیب ہے وہ بد اخلاق ہے، خُلق ہے مولانا اخلاق اس کی جمع آتی ہے، وزنِ شعری کی وجہ سے لام ساکن پڑھا: بد اخلاق ہے، ”فَدَارِهِ“ اس کی مدارات کر، مدارات سے ہے: ”هُوَ الْمُلَاطَفَةُ“ ملاطفت کہتے ہیں نرمی اور محبت سے پیش آنا، ”وَالْمُخَاتَلَةُ“ مخاتلہ کہتے ہیں مولانا دھوکے کو، تو مدارات کا معنی ہوتا ہے نرمی اور محبت سے کسی سے پیش آنا اور دھوکہ وغیرہ دینا اس کو۔ ”وَضَمِيرُ الْمَفْعُولِ لِلرَّقِيبِ“ مولانا یہ رقیب لفظ ہونا چاہیے قریب نہیں بھئی، ”وَضَمِيرُ الْمَفْعُولِ لِلرَّقِيبِ“ یہ رقیب کا لفظ ہے مولانا دیگر نسخوں میں رقیب موجود ہے، اور یہ رقیب کے لیے ہے۔
”قُلْتُ“ میں نے کہا: ”دَعْنِي“ تو مجھے چھوڑ دے، ”وَجْهُكَ الْجَنَّةُ“ تیرا چہرہ تو جنت ہے اس حال میں ”حُفَّتْ بِالْمَكَارِهِ“ کہ کس سے ڈھانپا گیا ہے؟ تکالیف اور مشقتوں سے۔ کہتے ہیں یہ اقتباس حضور علیہ السلام کے قول سے، حضور نے فرمایا: ”حُفَّتِ الْجَنَّةُ بِالْمَكَارِهِ وَحُفَّتِ النَّارُ بِالشَّهَوَاتِ“ جنت کو ڈھانپا گیا ہے کس کے ساتھ؟ مکاره، مکروہ کی جمع ہے، تکالیف کے، مشقتوں کے ساتھ، اور آگ کو ڈھانپا گیا کس کے ساتھ؟ شہوتوں کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ڈھانپا گیا ہے، ”أَيْ أُحِيطَتْ“ اس کا احاطہ کیا گیا ہے، اس کا احاطہ کیا گیا ہے۔
جیسے حدیث میں آتا ہے اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی، جہنم بنائی، اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کو بھیجا بھئی، جاؤ دیکھ کر آؤ بھئی ذرا۔ وہ دیکھ کر آئے جنت جہنم، فرمایا: اے اللہ، جہنم تو بیکار ہی ہے، جنت اتنی حسین ہے سارے لوگ تو جنت میں جائیں گے، جہنم میں تو کوئی جائے گا ہی نہیں۔ جہنم خالی ہی رہے گی۔ تو اللہ تعالیٰ نے پھر جنت کے راستے میں جو ہیں تکالیف بچھا دیں، تکالیف۔ اور جہنم کی طرف شہوتیں اور لذتیں ڈال دیں، پھر کہا: اب دیکھ کر آؤ۔ پھر دیکھا، کہا: اب تو سارے جہنم میں ہی جائیں گے، جنت تو خالی ہی رہ جائے گی بھئی، کیونکہ جنت کی طرف تکالیف ہیں اور اس سے لوگ بچیں گے، اور جہنم میں کیا ہیں؟ شہوتیں اور لذتیں ہیں جو انہیں اندھا کر دیں گی بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟
تو یہ جو تکالیف بھی آج کل آ رہی ہیں مولانا یہ بھی، بھئی تکالیف: ”أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا آمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ“ کیا لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ایمان لے آئے ہیں تو بس ان کو چھوڑ دیا جائے گا بھئی، جنت میں آرام سے چلے جائیں گے؟ نہیں بھئی، آزمائشیں آئیں گی، تکالیف آئیں گی، پریشانیاں آئیں گی، لیکن جو ثابت قدمی سے ان کو برداشت کر لے گا تو بہت جلد یہ تکالیف بھی چلی جائیں گی، یہ تکالیف انسان کو جانچنے پرکھنے کے لیے اور اس کی آزمائش کے لیے من جانب اللہ آتی ہیں۔
”أَيْ لَا بُدَّ لِطَالِبِ جَنَّةِ وَجْهِكَ مِنْ تَحَمُّلِ مَكَارِهِ الرَّقِيبِ كَمَا لَا بُدَّ لِطَالِبِ الْجَنَّةِ مِنْ مَشَاقِّ التَّكَالِيفِ“ یعنی ضروری ہے تیرے چہرے کی جنت کے طالب کے لیے محافظ کی مشقتوں کو اٹھانا، جیسے ضروری ہے جنت کے طالب کے لیے تکالیف کی مشقتیں۔
”وَهُوَ أَيِ الِاقْتِبَاسُ ضَرْبَانِ“ یہ اقتباس پھر دو قسم پر ہے مولانا: ”أَحَدُهُمَا مَا لَمْ يُنْقَلْ فِيهِ الْمُقْتَبَسُ عَنْ مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ“ ایک تو یہ مولانا دیکھو: اقتباس کس کو کہتے ہیں؟ قرآن یا حدیث سے الفاظ لینا۔ تو پھر اسی معنی میں استعمال کیا جائے گا یا اس کے الگ معنی میں استعمال کیا جائے گا؟ تو یہ دو قسم پر ہوا مولانا۔ اس لیے کہ یا تو اس کو نقل نہیں کرے گا اقتباس کرنے والا معنی اصلی سے ”كَمَا تَقَدَّمَ مِنَ الْأَمْثِلَةِ“ جیسے اوپر والی مثالوں میں گزرا۔ ”وَالثَّانِي خِلَافُهُ“ اور ثانی اس کے خلاف ہے، ”أَيْ مَا نَقَلَ فِيهِ الْمُقْتَبَسُ عَنْ مَعْنَاهُ الْأَصْلِيِّ“ جس میں مقتبس نقل کرتا ہے اس کو معنی اصلی سے، ”كَقَوْلِ ابْنِ الرُّومِيِّ“ جیسے ابن رومی کہتا ہے مولانا:
”لَئِنْ أَخْطَأْتُ فِي مَدْحِكَ مَا أَخْطَأْتَ فِي مَنْعِي“
”لَقَدْ أَنْزَلْتُ حَاجَاتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ“
بھئی اس نے کسی کی تعریف کی شاعر نے، شاعر تعریف کیا کرتے تھے بادشاہوں کی، بادشاہ بڑے انعام وغیرہ دیتے تھے۔ اس نے بادشاہ کی تعریف وغیرہ کی، اس نے کچھ بھی نہیں دیا۔ تو پھر اس نے شعر کہا، کہتا ہے: اے بادشاہ، میں نے تیری جو مدح کی ہے اس میں میں نے غلطی کی ہے، تو اس قابل نہیں تھا کہ تیری مدح کی جائے۔ اور تو نے مجھے انعام نہیں دیا، تو نے کوئی غلطی نہیں کی۔ میں تھا ہی اسی قابل کہ مجھے انعام نہ دیا جاتا کیونکہ میں نے ایسے شخص کی مدح کی تھی جو مدح کے قابل ہی نہیں تھا وہ۔
اچھا بھئی: ”أَخْطَأْتُ فِي مَدْحِكَ“ میں نے غلطی کی ہے تیری مدح کے اندر، ”مَا أَخْطَأْتَ فِي مَنْعِي“ اور تو نے کوئی غلطی نہیں کی مجھے منع کرنے میں، ”لَقَدْ أَنْزَلْتُ حَاجَاتِي“ کیونکہ میں نے اتارا اپنی حاجتوں کو ”بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ“ ایسی وادی میں جو قابل کاشت نہیں، تو کاشت کے قابل نہیں ہے وہاں پر میں اپنی حاجتیں پوری کرنا، وہاں سے کرنا چاہتا تھا، وہاں تو حاجتیں پوری نہیں ہو سکتی تھیں۔
”هَذَا مُقْتَبَسٌ مِنْ قَوْلِهِ تَعَالَى: رَبَّنَا إِنِّي أَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّيَّتِي بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ“ یہ مقتبس ہے اللہ کے اس قول سے: اے اللہ میں نے ٹھہرایا اپنی اولاد کو ”بِوَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ“ کہاں پر؟ ایسی وادی میں جو قابل کاشت نہیں، ”عِنْدَ بَيْتِكَ الْمُحَرَّمِ“ آپ کے حرمت والے گھر کے نزدیک، حضرت ابراہیم علیہ السلام نے۔ تو دیکھا؟ ”وَادٍ غَيْرِ ذِي زَرْعٍ“ قرآن سے لیا، اور وہاں اس سے مراد مکہ ہے اور یہاں اس سے کیا مراد ہے؟ ایسی ذات ہے جس میں کوئی خیر اور نفع نہیں۔
”لَكِنَّ مَعْنَاهُ فِي الْقُرْآنِ وَادٍ لَا مَاءَ فِيهِ وَلَا نَبَاتَ“ لیکن قرآن میں اس کا معنی یہ ہے کہ ایسی وادی ہے جس کے اندر نہ کوئی پانی ہو اور نہ کوئی سبزہ وغیرہ ہو، اور ابن رومی نے اس کو نقل کیا اس معنی سے ایسی ذات کی طرف جس میں کوئی خیر اور نفع نہ ہو۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو یہ دیکھا؟ الگ معنی میں لے گیا۔
”وَلَا بَأْسَ بِتَغْيِيرٍ يَسِيرٍ فِي اللَّفْظِ الْمُقْتَبَسِ لِلْوَزْنِ أَوْ غَيْرِهِ“ بھئی کہتے ہیں مقتبس کے لفظ میں تھوڑی سی تبدیلی کر دینا وزن یا قافیے وغیرہ کی رعایت کے لیے، اس میں کوئی حرج نہیں، ”كَقَوْلِ الشَّاعِرِ“ جیسے شاعر کہتا ہے:
”قَدْ كَانَ مَا خِفْتُ أَنْ يَكُونَا ... إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاجِعُونَا“
تو دیکھو قرآن میں ہے: ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“، اور شاعر نے کیا کہا: ”إِنَّا إِلَى اللَّهِ رَاجِعُونَا“، تو تبدیلی کی، کچھ الفاظ حذف کیے، کچھ زائد کیے۔
”قَدْ كَانَ أَيْ وَقَعَ“ بتلایا بھئی کانہ تامہ ہے بھئی، ”أَيْ ثَبَتَ مَا خِفْتُ أَنْ يَكُونَا“ ثابت ہو گئی وہ چیز کہ میں اس کے ہونے سے ڈرتا تھا۔ شاعر کہتا ہے جب اس کا، ممدوح کا انتقال ہوا تو اس کے بارے میں کہتا ہے بھئی: جس چیز کا مجھے ڈر تھا وہ واقع ہو ہی گئی، ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“، اور قرآن میں ہے ”إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ“۔ ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔