Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

مختصر المعاني · dars-136

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Rawaid ullah
📍 Location Islamabad, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 57
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
کل مولانا ہم نے استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کی بحث شروع کی تھی۔ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ یہ دونوں مصنف کے نزدیک امورِ معنویہ میں سے ہیں بھئی۔ امورِ معنویہ میں سے ہیں، اس لیے یہ استعارہ... ان کے لیے علیحدہ فصل ذکر کی، اس لیے کہ یہ استعارے میں داخل ہی نہیں ہیں بھئی، اس کا... ان کا ویسے ہی نام کیا رکھا گیا ہے؟ استعارہ رکھا گیا ہے۔ اور امورِ معنویہ میں سے اس... سے ہیں، امورِ لفظیہ میں سے نہیں۔ امورِ معنویہ میں سے اس لیے کہ استعارہ بالکنایہ کی تعریف مصنف کیا کرتے ہیں؟ کہ کبھی کبھار تشبیہ کو نفس کے اندر چھپایا جاتا ہے، تشبیہ دیتا ہے متکلم اپنے نفس کے اندر ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ۔ تو تشبیہ دینا، یہ کیا ہے معنیٰ مصـ... معنیٰ مصدر... یہ مصدری معنیٰ ہے مولانا۔ تو یہ ایک معنوی چیز ہے مولانا۔ تشبیہ دیتا ہے متکلم اپنے نفس کے اندر ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ۔ اور ارکانِ تشبیہ میں سے صرف کس کو ذکر کیا جاتا ہے؟ مشبہ کو ذکر کیا جاتا ہے۔ اور پھر اس تشبیہ پر دلالت کی جاتی ہے کہ مشبہ بہٖ کے کسی لازم کو کس کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے؟ مشبہ کے لیے ثابت کر دیا جاتا ہے بھئی۔ تو یہ جو مشـ... تشبیہ تشبیہ نفس کے اندر دی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ بالکنایہ کہتے ہیں۔ اور یہ جو امرِ مختص بالمشبہ بہٖ کو ثابت کیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تخییلیہ کہلاتا ہے۔ جیسے یہ ہذلی شاعر کا یہ قول مولانا: ”إِذَا المَنِيَّةُ أَنشَبَتْ أَظْفَارَهَا“ جس وقت موت اپنے پنجے گاڑ دے۔ تو یہاں استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ موجود ہے۔ جی۔ ہاں، یہاں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ امرِ مختص جو کہ مخـ... مشبہ بہٖ کا وہ امرِ مختص جس کو آپ نے کس کے لیے ثابت کیا ہے؟ مشبہ کے لیے ثابت کیا ہے، وہ دو قسم پر ہو گا۔ یا تو اس امرِ مختص کی وجہ سے مشبہ بہٖ میں کمال آئے گا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ اور یا اس کی وجہ سے وجہِ... مشبہ بہٖ کا قوام ہو گا مولانا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ تو یہاں پر جو پہلی مثال ذکر کی، اس کے اندر وہ امرِ مختص ذکر کیا جس میں مشبہ بہٖ کا کمال ہے کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ اور دوسری مثال ذکر کریں گے اس میں مشبہ بہٖ کا قوام ہے یعنی اجزائے ترکیبی ہیں وجہِ تشبیہ کے اندر۔ تو دیکھو یہاں موت کو تشبیہ دی درندے کے ساتھ اور ارکانِ تشبیہ میں سے صرف کس کو ذکر کر دیا؟ مشبہ کو ذکر کر دیا اور پھر اس مشبہ کے لیے مشبہ بہٖ کے امرِ مختص کو ثابت کیا اور وہ کیا ہے؟ ناخن اور پنجے مولانا، پنجے ثابت کیے۔ اور یہ پنجے مشبہ بہٖ کے اندر وجہـ... اور دونوں میں وجہِ تشبیہ کیا ہے بھئی؟ اہلاک ہے، کیا ہے؟ اہلاک، کہ جیسے درندہ ہلاک کر دیتا ہے کسی شـ... ہر چیز کو، یہ نہیں دیکھتا نفع والی ہے یا نقصان والی ہے، اسی طرح موت بھی کسی کو نہیں چھوڑتی، یہ نہیں دیکھتی کہ یہ نفع دینے والا ہے یا نقصان دینے والا ہے بھئی۔ اب کس چیز کو کس کے لیے ثابت کیا؟ پنجوں کو کس کے لیے؟ موت کے لیے۔ تو یہ جو پنجے ہیں اس کی وجہ سے مشبہ بہٖ میں اہلاک کامل طور پر پایا جائے گا، وجہِ تشبیہ اس کے اندر کامل طور پر۔ اگر پنجے نہ ہوں تو اہلاک پھر بھی موجود، لیکن پنجے ہوں گے تو اہلاک کس طرح ہو گا؟ کامل طور پر ہو گا۔ تو دیکھو یہ وہ امرِ مختص تھا مشبہ بہٖ کا جس کی وجہ سے مشبہ بہٖ کامل ہو رہا ہے کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ یعنی اہلاک کے اندر۔ ہاں اگر یہ نہ بھی ہو، اہلاک پھر بھی پایا جائے گا۔ جبکہ دوسری مثال ذکر کی جس کے اندر وہ امرِ مختص نہ ہو تو پھر وجہِ تشبیہ ہی نہیں پائی جائے گی بھئی۔ قوام ہی نہیں ہو گا مشبہ بہٖ کا وجہِ تشبیہ کے اندر۔ جیسے شاعر کہتا ہے: ”وَلَئِنْ نَطَقْتُ بِشُكْرِ بِرِّكَ مُفْصِحًا فَلِسَانُ حَالِي بِالشِّكَايَةِ أَنْطَقُ“ اگر میں آپ کی نیکیوں... تکلم کروں اس حال میں کہ میں کیا کرنے والا ہوں؟ ظاہر کرنے والا ہوں آپ کی نیکیوں کے شکر کو، تو میری حال کی زبان جو ہے وہ شکایت کا زیادہ... شکایت پر زیادہ تکلم کرنے والی ہو گی۔ یعنی اگر میں زبان سے آپ کی تعریف بھی کر دوں اور شکریہ ادا بھی کر دوں، لیکن میری حالت جو ہے وہ کیا کر رہی ہے؟ وہ آپ کے خلاف شکایت کر رہی ہے بھئی، شکایت کر رہی ہے۔ تو یہاں دیکھو حال کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ انسانِ متکلم کے ساتھ، کیونکہ حال کے... ”فَلِسَانُ حَالِي“ کہا، میری حال کی زبان۔ مالـ... ہر حال کی تو زبان نہیں ہوتی، معلوم ہوا حال کو تشبیہ دیا کس کے ساتھ؟ انسانِ متکلم کے ساتھ۔ اور اس انسانِ متکلم کے ساتھ کیا ہے؟ زبان لازم ہے، امرِ مختص ہے، تو اس کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ تو حال کو تشبیہ دی انسانِ متکلم کے ساتھ اور عبارت میں صرف کس کو ذکر کیا؟ مشبہ کو ذکر کیا، مشبہ بہٖ کو ذکر نہیں کیا۔ تو یہ استعارہ بالکنایہ ہوا اور اس حال کے لیے مشبہ بہٖ کے کس امرِ مختص کو ثابت کیا؟ لسان بھئی، مشبہ بہٖ کا امرِ مختص کیا ہے؟ اس لسان کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے مولانا؟ دلالت علی المقصود ہے، کیا ہے؟ دلالت علی المقصود ہے بھئی۔ تو جیسے حال دلالت علی المقصود کرتا ہے، اسی طرح انسانِ متکلم بھی کیا کرتا ہے؟ دلالت علی المقصود کرتا ہے۔ اب میں نے آپ کو بتلایا تھا انسان دلالت علی المقصود دو طریقے سے کر سکتا ہے، یا تو تکلم کے ساتھ کرے گا، نطق کے ساتھ کرے گا، یا اشارے کے ساتھ کرے گا، اور یہاں کون سا انسان مراد ہے؟ انسانِ متکلم مراد ہے، معلوم ہوا انسانِ مشیر مراد نہیں۔ تو دیکھو یہاں پر جس چیز... مشبہ بہٖ کے کس امرِ مختص کو مشبہ کے لیے ثابت کیا؟ لسان کو۔ اس لسان کی وجہ سے قوام ہے مشبہ بہٖ کا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ وجہِ تشبیہ کیا تھی؟ دلالت علی المقصود۔ تو دلالت علی المقصود مشبہ بہٖ میں پائی جائے گی لسان کی وجہ سے، اگر لسان ہے تو دلالت علی المقصود ہے، اگر لسان نہیں تو دلالت علی المقصود بھی نہیں ہے۔ تو دیکھو یہ وہ امرِ مختص ہے جس کے نہ ہونے سے وجہِ تشبیہ ہی نہیں ہو گی، اور پہلے کے اندر وہ امرِ مختص تھا کہ اس کے نہ ہونے کے باوجود پھر بھی کیا تھی؟ وجہِ تشبیہ پائی جاتی تھی، اہلاک پھر بھی پایا جاتا تھا اگر پنجے نہ ہوتے، لیکن اگر لسان نہ ہو تو پھر دلالت علی المقصود بھی نہیں، کیونکہ انسانِ متکلم مراد ہے، اشارے سے دلالت تو ہو سکتی ہے لیکن انسانِ مشیر تو یہاں مراد ہی نہیں ہے۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ پھر اس پر... تو چنانچہ علامہ تفتازانی نے آپ کو بتلایا کہ یہ استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ یہ دونوں متکلم کے افعال ہیں، ایک تشبیہ کا نام ہے ایک اثبات کا نام۔ تشبیہ بھی فعل، اثبات بھی فعل ہے مولانا۔ اور یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں، جہاں بھی استعارہ تخییلیہ آئے گا تو واجب ہے کہ وہ قرینہ ہو کس کے لیے؟ استعارہ بالکنایہ کے لیے، اور جہاں بھی استعارہ بالکنایہ آئے گا تو اس کے لیے واجب ہے کہ قرینہ کیا ہو؟ استعارہ تخییلیہ ہو، تو دونوں ایک دوسرے کے ساتھ واجب ہیں مولانا۔ اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی ہم آپ کو ایسی عبارت دکھا دیتے ہیں جس کے اندر استعارہ تخییلیہ بھی ہے یعنی مشبہ بہٖ کا لازم کس کے لیے ثابت ہے؟ مشبہ کے لیے ثابت ہے، لیکن استعارہ بالکنایہ نہیں ہے، اور حالانکہ ابھی آپ نے کہا استعارہ تخییلیہ استعارہ بالکنایہ کے بغیر نہیں۔ جیسے: ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ أَهْلَكَتْ فُلَانًا“ موت کے پنجوں نے، ایسی موت جو مشابہ ہے درندے کے ساتھ، ایسی موت جو درندے کے ساتھ مشابہ ہے اس کے پنجوں نے ہلاک کر دیا فلاں کو۔ اب یہاں پر دیکھو ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ“ کہا، موت کے پنجے، موت کے لیے کیا ثابت کر دیے؟ پنجے ثابت کر دیے، اور آگے ”الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“، کس کے مشابہ ہے؟ درندے کے مشابہ ہے بھئی۔ تو دیکھو موت مشبہ بھی ذکر اور سبع مشبہ بہٖ بھی ذکر، معلوم ہوا یہ استعارہ بالکنایہ نہیں، اس لیے کہ استعارہ بالکنایہ کے اندر آپ نے شرط لگائی تھی صرف مشبہ ذکر ہو، مشبہ بہٖ ذکر نہ ہو، تو معلوم ہوا یہ استعارہ بالکنایہ بھی نہیں ہے اور استعارہ پھر بھی ساتھ استعارہ تخییلیہ آ رہا ہے، مشبہ بہٖ کے لازم کو کس کے لیے ذکر کیا جا رہا ہے؟ مشبہ کے لیے۔ تو آپ کا ضابطہ صحیح نہ رہا، آپ کی بات صحیح نہ رہی۔ تو جواب دیا علامہ تفتازانی نے کہ بھئی مشبہ بہٖ کا لازم مشبہ کے لیے استعارہ بالکنایہ میں بھی آ سکتا ہے اور اس کے علاوہ میں بھی آ سکتا ہے، لیکن جب استعارہ بالکنایہ میں لازم آئے گا تو اس کا نام ہو گا استعارہ تخییلیہ، اور جب اس کے علاوہ میں آئے گا تو اس کا نام کیا ہو گا؟ ترشیح ہو گا۔ تو یہ ہے تو مشبہ بہٖ کا لازم، کس کے لیے ثابت ہو رہا ہے؟ مشبہ کے لیے، لیکن اس کا نام استعارہ تخییلیہ ہے ہی نہیں کیونکہ استعارہ بالکنایہ نہیں۔ استعارہ بالکنایہ ہوتا تو ہم اس کا کیا نام رکھتے؟ استعارہ تخییلیہ، لیکن اب چونکہ استعارہ بالکنایہ نہیں تو اس کا نام بھی استعارہ تخییلیہ نہیں بلکہ یہ ترشیح ہے بھئی۔ بلکہ یہ کہتے ہیں مجاز کے اندر بھی... مجازِ مرسل میں بھی آتا ہے کہ جہاں معنیٰ موضوع لہٗ کے لیے جس میں غیرِ موضوع لہٗ کے لیے کیا ثابت کر دیا جاتا ہے؟ موضوع لہٗ کے لازم کو ثابت کر دیا جاتا ہے، جیسے اس حدیث کے اندر آیا، حضور علیہ السلام نے ازواجِ مطہرات سے فرمایا: ”أَسْرَعُكُنَّ لُحُوقًا بِي أَطْوَلُكُنَّ يَدًا“ کہ تم میں سب سے پہلے مجھ سے ملاقات کرنے والی یعنی انتقال کے... کیا فرمایا؟ کہ میں جب انتقال کر جاؤں گا تو تم میں سے سب سے پہلے جو مجھ سے ملاقات کرے گی یعنی جس کا انتقال ہو گا وہ ہو گی جس کے... جو زیادہ عطا کرنے والی ہو گی باعتبارِ نعمت کے بھئی۔ تو یہاں ”يَدٌ“ بول کر نعمت مراد ہے اور ید سبب ہے کس چیز کا؟ اعطائے نعمت کا مولانا۔ تو یہاں معنیٰ موضوع لہٗ اور غیرِ موضوع لہٗ کے درمیان علاقہ کون سا ہے؟ سبب مسبب کا، معلوم ہوا یہ استعارہ نہیں ہے بلکہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل ہے۔ اور یہاں پر ید بول کر مراد کیا ہے؟ نعمت، یعنی غیرِ موضوع لہٗ مراد ہے اور اس غیرِ موضوع لہٗ کے لیے موضوع لہٗ کا لا... موضوع لہٗ کا لازم اور وہ کیا ہے؟ اس کا امرِ مختص، وہ کیا ہے؟ عطا کرنا، اس کو ثابت کیا گیا ہے۔ عطا کرنا تو کس سے ہوتا ہے؟ ہاتھ سے، اور اس کو ثابت کس کے لیے کیا گیا؟ نعمت کے لیے۔ تو یہ بھی ترشیح ہے۔ پھر اس کے بعد علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ جو مصنف نے استعارہ بالکنایہ کی تعریف کی یہ سلف سے منقول نہیں ہے، متقدمین علماء جو ہیں وہ یہ تعریف نہیں کرتے، یہ انہوں نے نئی تعریف کی۔ کیونکہ یہ بھی اس فن کے مجتہد ہیں مولانا، تو جہاں ان کی رائے بدلے تو کیا کرتے ہیں؟ اپنی رائے دیتے ہیں مولانا، سب کو کیا کر دیتے ہیں؟ رد کر دیتے ہیں۔ تو یہاں پر بھی انہوں نے خود تعـ... الگ تعریف کر دی، ہاں سلف سلف کے... وہ استعارہ بالکنایہ کی کیا تعریف کرتے ہیں؟ کہتے ہیں ان کے نزدیک استعارہ بالکنایہ نام ہے اس چیز کا کہ انسان ایک چیز کو کیا کرے؟ تشبیہ دے دوسری چیز کے ساتھ اور پھر مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے مستعار لے لے۔ تو اب دیکھو استعارہ آ گیا کیونکہ ہم نے مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے لے لیا مولانا۔ اور پھر اس کی صراحت عبارت میں نہ کی جائے کہ ہم نے کیا کیا ہے؟ مشبہ بہٖ کے لفظ کو مستعار لے لیا ہے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ ہاں اس کی طرف اشارہ کر دیا جائے کہ اس کے کسی لازم کو کیا کر دیا جائے؟ عبارت کے اندر ذکر کر دیا جائے، تو یہ تعریف سلف کرتے ہیں بھئی۔ سمجھ میں آئی بات بھئی؟ جی۔ اور تیسرا مذہب اس بارے میں علامہ سکاکی کا ہے، وہ استعارہ بالکنایہ کی الگ تعریف کرتے ہیں، لیکن کہتے ہیں اس کو ہم نے یہاں نہیں چھیڑا کیونکہ اس کا آگے باقاعدہ ذکر آنے والا ہے، تو دو مذاہب یہ ذکر ہوئے اور تیسرا آگے آ جائے گا بھئی۔ ”وَكَذَا قَوْلُ زُهَيْرٍ:“ شعرٌ: ”صَحَا“ أَيْ: سَلَا مَجَازًا مِنَ الصَّحْوِ خِلَافِ السُّكْرِ، ”الْقَلْبُ عَنْ سَلْمَى وَأَقْصَرَ بَاطِلُهْ“ يُقَالُ: أَقْصَرَ عَنِ الشَّيْءِ إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ، أَيْ: تَرَكَهُ وَامْتَنَعَ عَنْهُ، أَيِ امْتَنَعَ بَاطِلُهُ عَنْهُ وَتَرَكَهُ بِحَالِهِ. دیکھیے شعر کا ترجمہ مولانا: ”صَحَا الْقَلْبُ عَنْ سَلْمَى“ جی، تو یہ مولانا زہیر ابن ابی سلمیٰ، یہ بہت بڑا شاعر گزرا ہے، اس کا شعر ہے: ”صَحَا الْقَلْبُ عَنْ سَلْمَى“ صبر آ گیا میرے دل کو عن سلمیٰ، أی عن حب سلمیٰ، سلمیٰ کی محبت سے، ”وَأَقْصَرَ بَاطِلُهْ“ اور اس کے جو میلان تھا، باطل سے مراد کیا ہے؟ خواہشات کی طرف میلان، اور خواہشات اور شہوات کی طرف جو اس کا میلان تھا اس سے یہ باز آ گیا اور رک گیا، ”وَعُرِّيَ أَفْرَاصُ الصِّبَا وَرَوَاحِلُهْ“. صِبا کہتے ہیں مولانا جہالت والے کاموں کی طرف مائل ہونا، لذتیں پوری کرنے کی طرف مائل ہونا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ تو صبا سے کیا مراد ہے مولانا؟ مائل ہونا کس کی طرف؟ جہالت والے کاموں کی طرف مائل ہونا اور لذتیں پوری کرنے کی طرف مائل ہونا، یعنی جوانی کا زمانہ مراد ہے جس میں انسان عموماً جہالت والے کاموں کی طرف مائل ہوتا ہے اور لذتیں پوری کرنے کی طرف مائل ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ میرے دل کو قرار آ گیا سلمیٰ کی محبت سے اور یہ باز آ گیا اپنی خواہشات اور شہوات سے، ”وَعُرِّيَ أَفْرَاصُ الصِّبَا“، اور جوانی کے زمانے کے گھوڑے، افراص فرس کی جمع، رواحل جمع ہے راحلہ کی، اور راحلہ وہ اونٹ جس پر سفر کیا جائے، اونٹ کی سواری، سمجھ میں آیا؟ سواری کو کہتے ہیں، سواری جس پر سفر کیا جائے لیکن ہر سواری نہیں بلکہ کون سی سواری؟ اونٹ کی۔ تو ننگے ہو گئے گھوڑے... جی، ”وَعُرِّيَ أَفْرَاصُ الصِّبَا وَرَوَاحِلُهْ“، جوانی کے زمانے کے گھوڑے اور اونٹ جو ہیں وہ ننگے ہو گئے، یعنی گھوڑوں سے زین وغیرہ اتار لی گئی اور اونٹوں سے کجاوے وغیرہ اتار لیے گئے بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ شعر کا ترجمہ سب کو سمجھ میں آ گیا؟ ”عُرِّيَ أَفْرَاصُ الصِّبَا“، صبا کیا مراد ہے بھئی؟ جوانی کا زمانہ جس میں میلان ہے کس کی طرف؟ جہالت اور شہوتوں کی طرف بھئی۔ تو جوانی کے زمانے کے گھوڑے اور اونٹ ننگے ہو گئے، کیا معنیٰ؟ گھوڑوں سے زین وغیرہ اتار لی گئی اور اونٹوں سے کجاوے وغیرہ اتار لیے گئے۔ تو یعنی... ہاں؟ تو اس شعر کے اندر مولانا... یہ شعر تیسری مثال ذکر کر رہے ہیں کس کی مولانا؟ استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تصریحیہ کی بھئی... استعارہ تخییلیہ کی بھئی۔ پہلی مثال کون سی ذکر کی تھی؟ جس کے اندر کمالِ مشبہ بہٖ تھا کس میں؟ وجہِ تشبیہ میں۔ دوسرا شعر جو ذکر کیا اس میں قوامِ مشبہ بہٖ تھا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ اب یہ تیسرا شعر ذکر کر رہے ہیں جس کے اندر مولانا یاد رکھنا استعارہ بالکنایہ اور تخییلیہ کا بھی امکان ہے اور اس میں استعارہ تصریحیہ کا بھی امکان ہے۔ تو دو تقریریں ہوں گی، ایک تقریر کے مطابق یہاں استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ بنے گا اور دوسری تقریر کے مطابق استعارہ تصریحیہ بنے گا۔ تو دیکھو یہاں پر شاعر نے کیا کیا؟ صبا، بھئی جوانی کے زمانے کے گھوڑے اور اونٹ... جوانی کے زمانے کے گھوڑے اور اونٹ بھئی، تو خواہشات کے میلان کی طرف کے اونٹ اور گھوڑے، بھئی خواہشات کی... کی طرف میلان کے تو اونٹ اور گھوڑے نہیں ہوتے، معلوم ہوا یہاں پر صبا، جوانی کے زمانے کو تشبیہ دی گئی ہے سفر کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ سفر کے ساتھ، کسی جیسے وہاں مختلف قسم کے سفر ہیں، سفرِ حج ہے، سفرِ تجارت ہے اور کی جـ... مختلف اقسام ہیں۔ تو ایک نوعِ سفر کے ساتھ اس کو تشبیہ دے دی ہے، ایک نوعِ سفر کے ساتھ اس کو تشبیہ دے دی ہے اور سفر کے لیے تو گھوڑے اور اونٹوں کا ہونا لازم ہے، لمبا سفر ہو تو پھر گھوڑے اور اونٹوں کے بغیر نہیں ہو سکتا بھئی۔ جیسے آج کل لمبا سفر ہے تو گاڑی کے بغیر نہیں ہو سکتا، تو سفر... تو اس کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ سفر کے ساتھ، اور سفر کے ساتھ لازم ہیں مولانا کیا چیزیں؟ گھوڑے اور اونٹ وغیرہ۔ تو سفر پر جب انسان روانہ ہوتا ہے، گھوڑے کو تیار کرتا ہے، اس پر زین باندھتا ہے اور اس پر مولانا اونٹ پر کجاوہ رکھتا ہے، مشکیزہ باندھتا ہے، راستے کے کھانے پینے کا سامان لیتا ہے اور ضروریات ساتھ لے کر پھر چلتا ہے، اور پھر جب سفر پورا ہو جاتا ہے انسان واپس پہنچتا ہے تو کیا کرتا ہے؟ وہ مشکیزہ بھی اتار کر ایک طرف ڈال دیتا ہے، کجاوہ بھی اتار کر ایک طرف ڈال دیا اور ساری چیزیں ایک طرف ڈال دیں کیونکہ اب ان چیزوں کی ضرورت نہیں نہیں رہی کیونکہ انسان نے اپنی ضرورت ان سے پوری کر لی، سفر کے دوران جو ان کی ضرورت تھی وہ پوری ہو گئی مولانا۔ تو یہاں بھی تشبیہ دی اس جوانی کے زمانے کو سفر کے ساتھ، تو اور جو سفر کے لیے کیا ضروری... تو جوانی کا زمانہ یہ مشبہ اور سفر یہ کیا ہے؟ مشبہ بہٖ۔ تو عبارت میں صرف کس کو ذکر کیا؟ مشبہ کو ذکر کیا اور مشبہ کے لیے مشبہ بہٖ کے لازم یعنی سفر گھوڑے اور اونٹوں کو تـ... ذکر کر دیا۔ آپ کہیں گے کہ سفر کے لیے تو گھوڑے اور اونٹ لازم نہیں ہیں، بعض سفر پیدل بھی کیے جاتے ہیں جو چھوٹے ہوں بھئی، تو ان کے بغیر بھی ہو سکتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں نہیں مولانا کہ اس سے مراد مشکل اور طویل سفر ہے، پر صعوبت سفر ہے اور صعوبت والا سفر لمبا سفر بغیر اونٹیں اونٹوں اور گھوڑوں کے نہیں ہو سکتا۔ تو یہاں دیکھو مشبہ بہٖ کے ایک امرِ مختص کو ثابت کر دیا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے ثابت کر دیا بھئی، اور یہ کیا بن... تو مولانا دیکھو صبا کے اندر استعارہ بالکنایہ ہوا کہ مشبہ ذکر ہے اور مشبہ بہٖ ذکر نہیں۔ اور افراص اور رواحل کا جو تذکرہ کیا یہ کیا ہوا؟ استعارہ تخییلیہ ہوا کہ یہ لازم تھے کس کے ساتھ؟ مشبہ بہٖ یعنی سفر کے ساتھ۔ اور لازم کی پھر دو قسمیں تھیں مولانا میں نے بتایا تھا، ایک وہ جس کی وجہ سے کمالِ مشبہ بہٖ ہو گا وجہِ تشبیہ میں، ایک وہ جس کی وجہ سے قوامِ مشبہ بہٖ ہو گا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ میں۔ تو یہاں کون سا مراد ہے؟ قوامِ مشبہ بہٖ ہے کیونکہ افراص اور سـ... افراص اور رواحل ہیں تو سفر ہے، افراص اور رواحل نہیں تو سفر بھی نہیں، یعنی سفرِ طویل مراد ہے۔ تو قوامِ مشبہ بہٖ وجہِ تشبیہ کے اندر ہے ان کی وجہ سے۔ یہ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ دیکھیے پہلے یہ تـ... دیکھ لیں بھئی۔ ”صَحَا“ أَيْ: ”سَلَا مَجَازًا“ صحاو کا معنیٰ ہے مولانا ہوش میں آنا، صحا کا کیا معنیٰ ہے؟ ہوش میں آنا، لیکن یہاں بمعنیٰ سلا کے ہے، مجازاً مولانا۔ اور سلا کا معنیٰ ہے دل سے محبت اور عشق کا زائل ہو جانا۔ تو صحا ہوش میں آنا، أی سلا، یعنی کہ کس معنیٰ میں ہے یہ؟ دل سے عشق کا زائل ہو جانا، اس کو صبر آ جانا، قرار آ جانا۔ مجازاً، تو یہ حقیقی معنیٰ ہوئے یا مجازی معنیٰ ہوئے؟ مجازی۔ تو یہ صحا سلا کے معنیٰ میں ہے اس حال میں کہ یہ مجاز ہے، ”مِنَ الصَّحْوِ“، یہ خبر ہے مولانا، أی ھو مشتق من الصحو، اور یہ مشتق ہے صحا کس سے؟ صحو سے، ”خِلَافِ السُّكْرِ“، کس کے برخلاف؟ سکر، سکر کا کیا معنیٰ ہوتا ہے؟ نشہ ہونا، اور سلا کا کیا معـ... صحا کا کیا معنیٰ ہے؟ نشے کا زائل ہونا بھئی۔ ”صَحَا الْقَلْبُ“، تو دل کو قرار آ گیا یعنی اس کی محبت زائل ہو گئی، قرار آ گیا، ”عَنْ سَلْمَى أَيْ عَنْ حُبِّ سَلْمَى“، سلمیٰ کی محبت سے، ”وَأَقْصَرَ بَاطِلُهُ“، اور باز آ گیا اس کا باطل، اس قلب کا جو باطل تھا یعنی خواہشات اور لذات کی طرف جو اس کا میلان تھا وہ کیا ہوا؟ ختم ہوا۔ آگے علامہ تفتازانی آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اقصر فعل جو ہے، اقصر فعل اس کا صلہ ”عَنْ“ آتا ہے اس وقت اقصر کے معنیٰ باز رہنے کے اور یہ متعدی کس کے ساتھ ہو گا؟ عن کے ساتھ، اس کا صلہ عن آئے گا، ”أَقْصَرَ عَنِ الشَّيْءِ“، وہ شخص اس چیز سے باز آ گیا۔ لیکن شرط یہ ہے کہ اس کے اندر یہ باز آنا اختیاری ہو، غیر اختیاری نہ ہو، غیر اختیاری نہ ہو۔ تو معلوم ہوا اس کا فاعل جو ہے وہ باز آئے گا اپنے اختیار سے، اور یہاں پر تو اس کا فاعل آ رہا ہے ”بَاطِلُهُ“، میلان خواہشات وغیرہ کا، وہ باز آ گئیں اور ان کا باز آنا کیا اختیاری ہے یا غیر اختیاری؟ غیر اختیاری بھئی۔ تو پھر یہ کیا بھئی؟ یہ تو ایسے یہ عن کے ساتھ تب ہی متعدی ہوتا ہے جب کہ اس کا فاعل کیا ہو؟ اپنے اختیار سے اس چیز کو ترک کرے، اور یہاں تو غیر اختیاری ہے۔ تو جواب یہ مولانا کہ یہ مطلقِ باز رہنے کے معنیٰ میں ہے یعنی حقیقی معنیٰ میں مستعمل نہیں ہے بلکہ کس معنیٰ میں ہے؟ مجازی معنیٰ میں ہے، تو مطلقِ باز رہنا چاہے ارادے کے ساتھ ہو چاہے ارادے کے بغیر ہو۔ ”وَأَقْصَرَ بَاطِلُهُ“، اور باز آ گیا اس کا باطل، ”يُقَالُ“، دیکھیے اقصـ... کہا جاتا ہے عربی میں: ”أَقْصَرَ عَنِ الشَّيْءِ“، کب کہا جاتا ہے؟ ”إِذَا أَقْلَعَ عَنْهُ“، جب ایک آدمی اس چیز سے رک جائے، اقلاع کا معنیٰ رکنا، ”أَيْ: تَرَكَهُ“، اس کو ترک کر دیا، ”وَامْتَنَعَ عَنْهُ“، اور اس سے باز آ گیا۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ یرحمک اللہ۔ تو دیکھو امتناع یہ دیکھو ان سب کے اندر باز آ گیا، رک گیا، لیکن کس معنیٰ میں ہے؟ اپنے ارادے سے ہے، اور آگے مرادی معنیٰ ذکر کر رہے ہیں کہ یہاں امتناع بالارادہ نہیں مراد بلکہ یہاں مطلقِ امتناع کے معنیٰ میں ہے، ”أَيِ امْتَنَعَ بَاطِلُهُ عَنْهُ“، یعنی وہ دل کا جو باطل ہے وہ اس سے باز آ گیا دل سے، ”وَتَرَكَهُ بِحَالِهِ“، اور اس نے چھوڑ دیا دل کو اس کی حالت پر، یعنی جیسے وہ حالتِ اصلی پر جیسے دل پہلے عشق اور محبت سے خالی تھا اسی حالت پر اس کو چھوڑ دیا۔ ”وَعُرِّيَ“، اور ننگے ہو کر دیے گئے، ”أَفْرَاصُ الصِّبَا“، جوانی کے زمانے کے گھوڑے، ”وَرَوَاحِلُهُ“، اور اس کی سواریاں۔ ”أَرَادَ زُهَيْرٌ أَنْ يُبَيِّنَ أَنَّهُ تَرَكَ مَا كَانَ يَرْتَكِبُهُ زَمَنَ المَحَبَّةِ“، کہ وہ بیان کرے کہ اس نے ترک کر دیا ہے ما وہ چیزیں جن کا وہ ارتکاب کیا کرتا تھا محبت کے زمانے میں۔ تو وہ کہتا ہے کہ میں نے ان تمام چیزوں کو ترک کر دیا جن کا میں مرتکب تھا محبت کے زمانے میں۔ بھئی وہ کیا چیزیں تھیں؟ ”مِنَ“ بیانیہ ہے یعنی کہ جہل، جہالت والے کام، ”وَالْغَيِّ“، اور گمراہی، جہالت اور گمراہی۔ ”وَأَعْرَضَ عَنْ مُعَاوَدَتِهِ“، معاودت کہتے ہیں کسی کام کو لوٹ کر پھر کرنا بھئی، دوبارہ کرنا، کہ اس نے چھوڑ دیا ہے ان کاموں کو جو اس کا وہ محبت کے زمانے میں جن کو وہ سرانجام دیا کرتا تھا اور اس نے منہ موڑ لیا ہے ان کو دوبارہ کرنے سے، ”فَبَطَلَتْ آلَاتُهُ“، تو اس کے آلات باطل پڑے ہیں، معطل پڑے ہیں۔ تو دیکھو مولانا، سفر سے آنے کے بعد جیسے سفر کے آلات معطل ہو گئے، گھوڑا بھی ایک طرف، اونٹ بھی ایک طرف، کجاوہ دوسری طرف، سب چیزیں ویسے ہی رکھ دیں مولانا کیونکہ اب ان سے حاجت پوری ہو گئی۔ اسی طرح یہ کہتا ہے کہ میری جوانی کا زمانہ گزرا اور جوانی کے زمانے میں جو میں نے محبت وغیرہ اور گمراہی کے کام سرانجام دیا کرتا تھا، تو وہ آلات بھی اب معطل پڑے ہیں جو جوانی کے زمانے کے تھے، مثلاً مال تھا مولانا اور ساتھی مددگار وغیرہ یہ سب تھے جن کے ذریعے میں کیا کرتا تھا؟ گمراہی وغیرہ کے کام سرانجام دیا کرتا تھا، اور یہ سب بھی اب جیسے سفر کے بعد اس کے آلات معطل ہو جاتے ہیں تو جوانی کے زمانے کے بعد اب یہ سارے آلات کیا ہیں؟ معطل پڑے ہیں۔ ”فَبَطَلَتْ آلَاتُهُ“، تو اس کے آلات باطل ہیں، ”الضَّمِيرُ فِي مُعَاوَدَتِهِ وَآلَاتِهِ لِمَا كَانَ يَرْتَكِبُهُ“، کہتے ہیں ”مُعَاوَدَتِهِ“ کے آخر میں بھی ضمیر آئی، ”آلَاتِهِ“ کے آخر میں بھی ضمیر آئی، یہ دونوں ضمیریں لوٹ رہی ہیں ”لِمَا كَانَ يَرْتَكِبُهُ“ مولانا، ما موصولہ کی طرف لوٹ رہی ہیں، سمجھ میں آیا بھئی؟ ”مَا كَانَ يَرْتَكِبُهُ“ کے اندر۔ تو آلات اس... اور دیکھو دوبارہ دیکھو، ”أَعْرَضَ عَنْ مُعَاوَدَتِهِ“، اس نے منہ موڑ لیا ہے ان کو دوبارہ کرنے سے، کن کو؟ ”مَا كَانَ يَرْتَكِبُهُ“، وہ چیزیں جن کو وہ زمانی میں... زمانہ جوانی میں کیا کرتا تھا مولانا۔ اور اس کے آلات باطل ہیں، کس کے آلات؟ ان چیزوں کو جن کو وہ جوانی میں کیا کرتا تھا۔ ”فَشَبَّهَ زُهَيْرٌ فِي نَفْسِهِ الصِّبَا“، پس تشبیہ دی شاعر نے اپنے نفس کے اندر ہی صبا کو، ”بِجِهَةٍ مِنْ جِهَاتِ المَسِيرِ“، جہت معنیٰ نوع کے مولانا، ”بِجِهَةٍ مِنْ جِهَاتِ المَسِيرِ“، مسیر معنیٰ چلنا، مراد سفر ہے مولانا، سفر کی انواع میں سے ایک نوع کے ساتھ تشبیہ دی، سفر کی انواع جیسے حج و تجارت، جیسے کجہۃ الحج و جہۃ التجارۃ، جیسے نوعِ حج ہے ایک نوع، اور جیسے سفر کی ایک نوع کیا ہے؟ تجارت ہے۔ ”قُضِيَ مِنْهَا“، کہ پورا کر لیا جائے اس سے، أی من تلک الجہۃ، ھا ضمیر کا مرجع بتلا رہے ہیں کہ اس جہت سے پورا یعنی اس نوع سے پورا اس نوعِ سفر سے پورا کر لیا جائے، ”الْوَطَرُ“، کس کو؟ جب حاجت پوری ہو جائے، ”فَأُهْمِلَتْ آلَاتُهَا“، تو کیا بیکار ہو کر دیے جاتے ہیں اس کے آلات، بھئی ضرورت کی چیزیں۔ ”وَوَجْهُ الشَّبَهِ“، بھئی وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ کس کو کس سے تشبیہ دی ہے؟ جوانی کے زمانے کو کس کے ساتھ؟ سفر کے ساتھ۔ کہتے ہیں وجہِ تشبیہ یہ کہ جیسے سفر میں انسان پوری طرح مشغول ہو جاتا ہے ہر چیز سے کٹ جاتا ہے، اسی طرح جوانی میں بھی ان کاموں کے ان کے اندر انسان کیا ہوتا ہے؟ محبت وغیرہ کے اندر پوری طرح مشغول ہو جاتا ہے باقی چیزوں سے کٹ جاتا ہے۔ ”وَرُكُوبِ الْمَسَالِكِ الصَّعْبَةِ فِيهِ“، نیز مولانا سفر کے اندر جیسے بڑے دشوار گزار راہوں پر گزرنا پڑتا ہے، اسی طرح جوانی کے اندر بھی کیا ہوتا ہے؟ بھئی جن شہوت شہوات اور خواہشات اور محبتوں کے لیے انسان کوشش کرتا ہے اس کے لیے اس کو بڑی دشوار گزار راہوں سے گزرنا پڑتا ہے، ”غَيْرَ مُبَالٍ بِمَهْلَكَةٍ“، لیکن اس حال میں کہ انسان پروا ہی نہیں کرتا ہلاکت کی، سفر پر نکلتا ہے تو مشکل ترین راستے ہوتے ہیں لیکن ہلاکت کی پروا نہیں کرتا، اسی طرح محبت اور عشق وغیرہ ان چیزوں کے اندر بھی انسان کیا کرتا ہے؟ ہلاکت وغیرہ کی پروا ہی نہیں کرتا بھئی۔ ”وَلَا مُحْتَرِزٍ عَنْ مَعْرَكَةٍ“، اسی طرح انسان سفر کے اندر چلتا ہے نکلتا ہے اور وہاں کسی فساد وغیرہ کا بھی اندیشہ ہوتا ہے لیکن وہ اس سے بھی بچنے کی کوشش... سفر میں فساد کا امکان لڑائی وغیرہ کا امکان ہے یا نہیں ہے مولانا؟ ہے بھئی۔ تو وہاں فساد کا بھی امکان ہے لیکن اس سے بھی نہیں بچتا، اس کی بھی پروا نہیں کرتا۔ اسی طرح یہاں خواہشات پوری کرنے میں بھی فساد کا امکان ہے لیکن انسان اس کی پروا نہیں کرتا بھئی۔ ”وَوَجْهُ الشَّبَهِ“، وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ ”الِاشْتِغَالُ التَّامُّ“، پوری طرح مشغول ہونا ہے، اور اور کیا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَرُكُوبُ الْمَسَالِكِ الصَّعْبَةِ أَيْ: رُكُوبُ الْمُشْتَغِلِ“، وہ مشتغل سوار ہوتا ہے، مسالک راہیں، الصعبۃ مشکل، دشوار گزار، دشوار گزار راہوں پر سفر کرتا ہے، رکوب سے کیا مراد ہے؟ سفر، وہ سفر کرتا ہے ”فِيهِ“، ہر ایک کے اندر۔ سفر میں بھی مولانا مشکل راہوں دشوار گزار راہوں پر سفر کرتا ہے اور جوانی میں بھی مشکل اور دشوار گزار راستوں پر سفر کرتا ہے۔ ”غَيْرَ مُبَالٍ“، اس حال میں کہ وہ جو مشتغل ہے وہ پروا نہیں کرتا ”بِمَهْلَكَةٍ“، کس چیز کا؟ ہلاکت کا، ”وَلَا مُحْتَرِزٍ عَنْ مَعْرَكَةٍ“، اور وہ اس حال میں کہ احتراز بچتا نہیں ہے کس سے؟ فساد وغیرہ سے۔ ”وَهَذَا التَّشْبِيهُ الْمُضْمَرُ فِي النَّفْسِ“، اور یہ جو تشبیہ مضمر ہے کس کے اندر؟ نفس کے اندر، ”اسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ“، یہ استعارہ بالکنایہ ہے، ”فَأَثْبَتَ لَهُ“، تو صبا کو تشبیہ دی سفر سے، یہ استعارہ بالکنایہ نفس کے اندر، ”فَأَثْبَتَ لَهُ أَيْ لِلصِّبَا“، پس ثابت کیا صبا کے لیے ”بَعْضَ مَا يَخْتَصُّ بِتِلْكَ الْجِهَةِ“، بعض وہ چیزیں جو خاص ہیں کس کے ساتھ؟ اس نوعِ سفر کے ساتھ، ”عَنِ الْأَفْرَاسِ عَنِ الْأَفْرَاصِ وَالرَّوَاحِلِ“، یعنی گھوڑے اور سواریاں، ”الَّتِي بِهَا قِوَامُ جِهَةِ الْمَسِيرِ“، جن کے سبب سے کیا ہوتا ہے؟ جہتِ مسیر ”وَالسَّفَرِ“، مسیر اور سفر ایک معنیٰ۔ سفر کی سفر کا کیا ہوتا ہے؟ اس نوعِ سفر کا قوام ہے بھئی، گھوڑے اور اونٹ سواریوں کی وجہ سے، گھوڑے اور سواریاں ہیں تو سفر ہے ورنہ سفر ہی نہیں۔ ”فَإِثْبَاتُ الْأَفْرَاسِ وَالرَّوَاحِلِ اسْتِعَارَةٌ تَخْيِيلِيَّةٌ“، پس گھوڑوں اور رواحل کو صبا کے لیے ثابت کرنا یہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ ”فَالصِّبَا عَلَى هَذَا التَّقْدِيرِ“، پس صبا اس تقدیر پر مولانا، یہ جو ہم نے تقریر کی بھئی، اس اس صورت میں ”مِنَ الصَّبْوَةِ“، کس سے ہے؟ صبوۃ سے ہے، ”بِمَعْنَى المَيْلِ إِلَى الجَهْلِ وَالفُتُوَّةِ“، بمعنیٰ جہالت کی طرف مائل ہونے کے، ”وَالفُتُوَّةِ“، فتوۃ کہتے ہیں مولانا جوانمردی اور سخاوت والے اوصاف اختیار کرنا، لیکن یہاں مراد ہے شہوتیں اور لذتیں پوری کرنا، اس معنیٰ میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے۔ مائل ہونا جہالت کی طرف اور ”وَالفُتُوَّةِ“، اور شہوتیں اور لذتیں پوری کرنے کی طرف۔ ”يُقَالُ“، کہا جاتا ہے عربی میں: ”صَبَا يَصْبُو صَبْوَةً وَصُبُوًّا أَيْ مَالَ إِلَى الجَهْلِ وَالفُتُوَّةِ“، یعنی مائل ہوا جہالت کی طرف اور لذتیں پوری کرنے کی طرف، ”كَمَا فِي الصِّحَاحِ“، جیسے کہ صحاح یا صحاح مولانا، جیسے کہ صحاحِ جوہری کے اندر ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا عربی زبان کی اصح ترین لغت کون سی ہے؟ صحاحِ جوہری ہے، جیسے کہ اس لغت میں یہ معنیٰ لکھا ہوا ہے۔ ”لَا مِنَ الصِّبَا“، یہ صبا صَبا سے نہیں ہے بالفتح، فتح صاد کے ساتھ، ”يُقَالُ: صَبِيَ صَبَاءً مِثْلُ: سَمِعَ سَمَاعًا أَيْ: لَعِبَ مَعَ الصِّبْيَانِ“، یعنی بچوں کے ساتھ کھیلنا۔ تو یہاں بچوں کے ساتھ صَبا صِبا بمعنیٰ بچوں کے ساتھ کھیلنے کے نہیں ہے۔ کیونکہ صبا کے دو معنیٰ، ایک کیا معنیٰ ہوا؟ جہالت والے کاموں اور خواہشات پوری کرنے کی طرف مائل ہونا، اور ایک معنیٰ اس کا کیا آتا ہے؟ بچوں کے ساتھ کھیلنا، اور یہاں بچوں کے ساتھ کھیلنے والا معنیٰ مراد نہیں۔ دلیل کیا؟ قرینہ کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی اوپر آیا تو تھا ”صَحَا الْقَلْبُ“، دل کیا ہوا؟ دل کو قرار آ گیا اس کی محبت اور عشق زائل ہو گیا، اور بچپن میں تو عشق نہیں کیا جاتا، عشق کس میں کیا جاتا ہے؟ جوانی میں، معلوم ہوا کہ یہ صبا سے مراد جوانی کا زمانہ ہے۔ ”وَيَحْتَمِلُ“، جی، یہ تھا مولانا بیان استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کا۔ میں نے بتایا اس شعر کے اندر دوسرا احتمال یہ ہے کہ استعارہ بالکنایہ اور تخییلیہ نہ ہو بلکہ کیا ہے؟ استعارہ تصریحیہ۔ استعارہ تصریحیہ کس کو کہتے تھے؟ ایک چیز کو تشبیہ دی جائے دوسری چیز کے ساتھ اور مشبہ بہٖ کو ذکر کیا جائے اور مشبہ کو حذف کر دیا جائے، تو مشبہ بہٖ جو ذکر ہے اس سے مراد مشبہ ہو۔ میں نے کہا ”رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي“، میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا، اسد بول کر کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، یہ استعارہ مصرحہ ہے کہ اس کے اندر مشبہ بہٖ ذکر اور مشبہ... کس کو تشبیہ دی تھی شیر کے ساتھ؟ رجلِ شجاع، عبارت میں ذکر نہیں۔ تو دوسری ترکیب دیکھو، وہ کیسے؟ ”وَيَحْتَمِلُ“، اور یہ بھی احتمال ہے ”أَنَّهُ“، أی زھیراً، ”أَرَادَ بِالْأَفْرَاسِ وَالرَّوَاحِلِ دَوَاعِيَ النُّفُوسِ وَشَهَوَاتِهَا وَالْقُوَى الْحَاصِلَةَ لَهَا فِي اسْتِيفَاءِ اللَّذَّاتِ“، نفس کے دواعی اور اس کی شہوتیں مولانا۔ کیا مراد ہیں؟ غور سے سنو بھئی۔ نفس کے دواعی اور اس کی شہوتیں، ”وَالْقُوَى الْحَاصِلَةَ لَهَا فِي اسْتِيفَاءِ اللَّذَّاتِ“، اور وہ قوتیں جو نفس کو حاصل ہیں لذتیں پوری کرنے کے اندر بھئی۔ بھئی جوانی کے زمانے میں نفس کو جو قوتیں حاصل ہیں کس کے سلسلے میں؟ لذتیں پوری کرنے... صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور فرصت بھی خوب ہوتی ہے، تو یہ وہ سمجھ میں آیا بھئی؟ جی۔ تو وہ قوتیں جس کو حاصل ہوتی ہیں لذتوں کے پورا کرنے میں وہ مراد ہیں مولانا۔ معلوم ہوا دوسری دوسری تقریر، مولانا ”عُرِّيَ أَفْرَاصُ الصِّبَا“، صبا پہلے تو ہم نے کیا کہا تھا؟ صبا کو کس سے تشبیہ دی ہے؟ سفر کے ساتھ، سفر کے ساتھ۔ سفر کے ساتھ۔ نہیں بھئی، دوسری تقریر صبا کو سفر کے ساتھ تقرـ... تشبیہ نہیں دی، بس صبا اپنے معنیٰ میں استعمال ہو رہا ہے، یہاں کوئی تشبیہ نہیں ہے۔ ہاں افراص کے اندر تشبیہ ہے کہ نفس کی جو قوتیں تھیں اور وہ دواعی تھے جوانی کے زمانے کے اندر، ان دواعی اور ان قوتوں کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ گھوڑوں اور سواریوں کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ وہ سفر کی بات نکال دیں مولانا، وہ استعارہ تخییلیہ اور بالکنایہ میں تھی، یہ دوسری تقریر ہے، بالکل الگ ہے اس سے۔ کہ صبا کے اندر کوئی استعارہ یا وغیرہ نہیں مولانا، البتہ افراص افراص کو تشبیہ دی گئی ہے دواعی اور نفس کی قوتوں کے۔ تو جوانی کے زمانے میں نفس کو جو قوتیں حاصل تھیں اور اور جو دواعی تھے اور دواعی تھے یعنی شہوتیں وغیرہ تھیں، ان کو تشبیہ دی ہے گھوڑوں کے ساتھ۔ گھوڑوں کے ساتھ۔ بھئی وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ گھوڑے میں اور ان شہوتوں اور دواعی کے اندر وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ کہتے ہیں بھئی یہ آلہ ہیں، ذریعہ ہیں پر مشقت چیز تک پہنچنے کا۔ جیسے سفر کے اندر گھوڑوں اور سواریوں کے ذریعے انسان کہاں تک پہنچ جاتا ہے؟ اپنی منزلِ مقصود تک مشقت کے ساتھ، درمیان میں مشقت والی چیز تک ان کی وجہ سے پہنچ جاتا ہے، اسی طرح شہوات اور دواعیِ شہوات کے ذریعے بھی انسان جہالت والے کام کرتا ہے جس میں اس کو کیا پیش آتی ہے؟ مشقت، تو پر مشقت مقصود حاصل ہو جاتا ہے دونوں میں۔ گھوڑوں سے بھی پر مشقت حصول پر مشقت کیا ہوا؟ مقصود حاصل ہوا مولانا، اور اسی طرح ان قوتوں سے بھی کیا ہوا؟ پر مشقت مقصود حاصل ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے بھئی؟ تو دیکھو کس کو کس سے تشبیہ دی؟ خواہش دواعی اور شہوات کو کس سے تشبیہ دی؟ گھوڑوں کے ساتھ۔ تو دواعی مشبہ اور افراص مشبہ بہٖ، اور عبارت میں کس کو ذکر کیا؟ افراص یعنی مشبہ بہٖ کو، اور مراد کیا ہے؟ مشبہ، تو یہ کون سا استعارہ ہوا؟ استعارہ تصریحیہ ہوا، جیسے اسد مستعمل تھا کس معنیٰ میں؟ رجلِ شجاع کے معنیٰ، یہ بعینہٖ اسی کی طرح بن گیا بھئی۔ سمجھ میں آیا بھئی؟ ”أَوْ أَرَادَ بِهَا“، یا ارادہ کیا ہے اس نے افراص اور رواحل سے، ”الْأَسْبَابَ الَّتِي قَلَّمَا تُتَّاخَذُ“، یا تتـ... تُتَّخَذُ، دونوں طرح پڑھنا صحیح ہے۔ جو بہت کم، شاذ و نادر اختیار کیے جاتے ہیں ”فِي اتِّبَاعِ الْغَيِّ“، سرکشی... گمراہی کی اتباع میں، ”إِلَّا أَوَانَ“، اوان کا معنیٰ وقت اور زمانہ بھئی، توجہ ہے بھئی؟ وقت اور زمانہ، ”الصِّبَا“، وہ جوانی کا زمانہ، ”وَعُنْفُوَانَ الشَّبَابِ“، عنفوان الشباب، عنفوان الشئ کہتے ہیں ابتدائے شئے کو، تو عنفوان الشباب کا معنیٰ ہے آغازِ جوانی۔ یہ تو تھی مولانا استعارہ تصریحیہ میں ایک تقریر، اس میں دو تقریریں ہیں۔ ایک تقریر کیا گزر گئی؟ کہ گھوڑوں دواعی کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ دوسرا ہے اسباب کو تشبیہ دی ہے گھوڑوں کے ساتھ۔ تھوڑا سا فرق آ گیا بس۔ کہ مولانا افراص اور گھوڑوں سے مراد کیا ہیں؟ وہ اسباب ہیں ”الَّتِي“، جو بہت شاذ و نادر اختیار کیے جاتے ہیں گمراہی کے اتباع میں ”إِلَّا أَوَانَ الصِّبَا وَعُنْفُوَانَ الشَّبَابِ“، ”أَوَانَ الصِّبَا وَعُنْفُوَانَ الشَّبَابِ“، مگر کس وقت بھئی؟ جوانی کے زمانے میں اور جوانی کے آغاز میں۔ یعنی وہ اسباب جن کو گمراہی کے لیے بہت کم اختیار کیا جاتا ہے دیگر زمانوں میں، مگر کس کے اندر؟ یعنی جوانی ہی میں استعـ... اختیار کیے جاتے ہیں، وہ اسباب مراد ہیں۔ اور ان اسباب کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ گھوڑوں کے ساتھ۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے؟ مقصود تک پہنچنا، بس مقصود تک پہنچنا۔ پچھلے میں تھا پر مشقت مقصود تک پہنچنا اور یہاں کیا ہے؟ مقصود تک پہنچنا، یا اس میں بھی وہی کر لیں مولانا۔ تو جیسے گھوڑوں کے ذریعے انسان مقصود تک پہنچ جاتا ہے، اسی طرح جوانی کے زمانے کے جو اسباب ہیں ان کے ذریعے بھی کیا پہنچ جاتا ہے؟ اپنے... مثلاً مال ہوتا ہے، مددگار دوست ساتھی وغیرہ ہوتے ہیں اور چیزیں بھئی، یہ اسباب مراد۔ ”مِثْلُ الْمَالِ وَالْمَنَالِ وَالْأَعْوَانِ“، یہ اسباب کا ذکر کر رہے ہیں، ”وَالْمَنَالِ“، اور مطلوبہ چیزیں ہیں، ”وَالْأَعْوَانِ“، اور کیا ہیں؟ مددگار ہیں، ”فَتَكُونُ“، تو اب دیکھو مولانا یہاں کون سا استعارہ ہوا؟ استعارہ تصریح، ”فَتَكُونُ الِاسْتِعَارَةُ“، أی استعارۃ الافراص والرواحل، ”تَحْقِيقِيَّةً“، کون سا ہوا؟ تحقیقیہ۔ بھئی استعارہ تصریحیہ ہی کو تحقیقیہ بھی کہتے تھے، آپ نے پڑھا تھا کہ کبھی کبھار تصریحیہ کے ساتھ کس کی قید بڑھاتے ہیں؟ تحقیقیہ کی قید بڑھاتے ہیں، کیوں بڑھاتے ہیں؟ اس لیے کہ اس میں معنیٰ مرادی یعنی مشبہ، بھئی اسد بول کر کیا مراد ہے؟ رجلِ شجاع، تو رجلِ شجاع معنیٰ مرادی ہے، اسد سے حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ رجلِ شجاع، اور رجلِ شجاع کون ہے؟ مشبہ ہے۔ تو اس لیے کہ مولانا استعارہ تصریحیہ کے اندر مشبہ جو ہوتا ہے اس کا تحقق ہوتا ہے، یہ تحقق کبھی حساً ہو گا اور کبھی عقلاً ہو گا۔ تو یہاں پر بھی مولانا دیکھیے دو چیزیں ذکر کر دیں، یا تو وہ دواعی مراد ہو سکتے ہیں، شہوتیں مراد ہو سکتی ہیں یا وہ اسباب مراد ہو سکتے ہیں۔ تو ذکر ہے افراص اور رواحل کا اور مراد ہیں دواعی، یا ذکر ہے افراص اور رواحل کا اور مراد ہیں اسباب، اور اسباب معنیٰ مرادی ہوا، اور یہ جو معنیٰ مرادی ہے یہ جو مرادی چیزیں ہیں یہ حساً ان کا تحقق ہے، مال بھی آپ آنکھوں سے دیکھتے ہیں، مطلوبہ چیزیں بھی اس میں آ گئیں وہ بھی آنکھوں سے، مددگار بھی کیا ہوتے ہیں؟ سارے دوست وغیرہ بھی آنکھوں سے... تو اس کا تحقق ہے حساً، معنیٰ مرادی کا اس میں تحقق ہے حساً، اور اگر اس سے مراد وہ دواعی لے لیے جائیں تو ان کا تحقق کیا ہے؟ عقلاً ہے، دواعی آنکھوں سے نظر نہیں آتے۔ ”لِتَحَقُّقِ“، تو اس کو تحقیقیہ تصریحیہ کو تحقیقیہ بھی کہتے ہیں، اور یہ تحقیقیہ کیوں کہا؟ ”لِتَحَقُّقِ مَعْنَاهَا عَقْلًا“، اس لیے کہ اس کا معنیٰ کے کا تحقق عقلاً ہے یعنی معنیٰ مرادی کا، ”إِذَا أُرِيدَ بِهِ الدَّوَاعِي“، جب کہ اس سے کس چیز کا ارادہ کیا جائے؟ ”وَحِسًّا“، اور اس کے معنیٰ کا تحقق حساً ہو گا ”إِذَا أُرِيدَ بِهَا أَسْبَابُ اتِّبَاعِ الْغَيِّ“، جب کہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جائے مولانا گمراہی کے اتباع کے اسباب کا، بھئی وہ کیا ہیں اسباب؟ ”مِنَ الْمَالِ وَالْمَنَالِ“، جیسے کہ مال ہے اور مطلوبہ چیزیں ہیں۔ تو دیکھیے مولانا مصنف نے تین اشعار ذکر کیے تھے بھئی، تین اشعار ذکر کیے: ایک: ”إِذَا المَنِيَّةُ أَنشَبَتْ“، اس کے اندر مولانا کیا تھا؟ کمال وہ امر اس امرِ مختص کے سبب سے کمالِ مشبہ تھا کس چیز کے اندر؟ وجہِ تشبیہ میں۔ پھر دوسرا شعر ذکر کیا: ”وَلَئِنْ نَطَقْتُ“، اس کے اندر کیا تھا؟ قوامِ مشبہ بہٖ تھا کس کے اندر؟ وجہِ تشبیہ کے اندر۔ اور تیسرا شعر ذکر کیا، اس کے اندر استعارہ بالکنایہ اور تخییلیہ کا بھی امکان ہے اور استعارہ تصریحیہ ہونے کا بھی، اور جب استعارہ تخییلیہ اور بالکنایہ ہو تو اس میں جو امرِ مختص ذکر کیا اس کی وجہ سے مشبہ بہٖ کا قوام ہے کس میں؟ وجہِ تشبیہ کے اندر بھئی، کیونکہ افراص اور رواحل ہیں تو سفر ہے ورنہ نہیں۔ ”مَثَّلَ الْمُصَنِّفُ بِثَلَاثَةِ أَمْثِلَةٍ“، مصنف نے ذکر کیں تین مثالیں، ”الْأَوَّلُ“، پہلی وہ تھی ”مَا يَكُونُ التَّخْيِيلِيَّةُ إِثْبَاتَ مَا بِهِ كَمَالُ الْمُشَبَّهِ بِهِ“، تخییلیہ کیا تھا؟ اثبات تھا ایسی چیز کا جس کے سبب سے کیا تھا؟ مشبہ بہٖ کا کمال تھا وجہِ تشبیہ میں۔ ”وَالثَّانِي مَا يَكُونُ إِثْبَاتَ مَا بِهِ قِوَامُ الْمُشَبَّهِ بِهِ“، اور ثانی وہ تھا شعر جس کے اندر استعارہ تخییلیہ کیا تھا؟ وہ ثابت کا ”إِثْبَاتَ مَا بِهِ“، وہ ثابت کرنا تھا ایسی چیز کو جس کے سبب سے قوام تھا کس کا؟ مشبہ بہٖ کا وجہِ تشبیہ میں۔ ”وَالثَّالِثُ“، اور تیسرا وہ تھا تیسرا وہ شعر ”مَا يَحْتَمِلُ التَّخْيِيلِيَّةَ وَالتَّحْقِيقِيَّةَ“، جو تحقیقیہ کا بھی احتمال رکھتا ہے اور تخییلیہ کا بھی احتمال رکھتا ہے۔ ”فَصْلٌ فِي مَبَاحِثَ مِنَ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ وَالِاسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ وَالِاسْتِعَارَةِ التَّخْيِيلِيَّةِ وَقَعَتْ فِي الْمِفْتَاحِ مُخَالِفَةً لِمَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ وَالْكَلَامِ عَلَيْهَا“. ”فَصْلٌ فِي مَبَاحِثَ“، یہ فصل ہے چند مباحث میں، ”مِنْ“ تبعیضیہ ہے مولانا، ”أَيْ مِنْ جُمْلَةِ مَبَاحِثِ الْحَقِيقَةِ وَالْمَجَازِ“، بھئی اس فصل کے اندر استعارہ تحقیقیہ، مجاز، استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کی کچھ مزید ابحاث ذکر کریں گے اور اس بارے میں علامہ سکاکی سے جو اقوال آتے ہیں اور جن کی مصنف کی رائے میں صحیح نہیں، مصنف نے ان سے اختلاف کیا، اب ان چیزوں کو ذکر کریں گے علامہ سکاکی کی اور اس کو مصنف کیا کریں گے؟ رد کریں گے۔ یہ فصل ہے چند مباحث کے بارے میں حقیقت، مجاز، استعارہ بالکنایہ اور استعارہ تخییلیہ کی، ”وَقَعَتْ فِي الْمِفْتَاحِ“، جو واقع ہوئی ہیں کس کے اندر؟ مفتاح العلوم کے اندر علامہ سکاکی کی جو کتاب ہے جس سے تلخیص ماخوذ ہے، ”مُخَالِفَةً“، اور وہ کیا ہیں؟ مخالف ہیں کس کے؟ اس حال میں کہ وہ مخالف ہیں ”لِمَا ذَكَرَهُ الْمُصَنِّفُ“، اس چیز کے جس کو مصنف نے ذکر کیا۔ ”وَالْكَلَامِ عَلَيْهَا“، اور فصل فی مباحث، فصل فی الکلام علیہا، تو وہ مباحث کے بارے میں ہے اور ان پر کلام کرنے کے بارے میں یہ فصل ہے۔ ”عَرَّفَ السَّكَّاكِيُّ“، تعریف کی علامہ سکاکی نے ”الْحَقِيقَةَ اللُّغَوِيَّةَ“، أی غیر العقلیۃ، یعنی کہ غیر حقیقت لغویہ یعنی عقلی نہ ہو۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ ایک ہے حقیقت اور ایک ہے مجاز، اور کبھی کبھار اس کے ساتھ لغوی کی قید بڑھاتے ہیں، حقیقتِ لغوی، مجازِ لغوی کہتے ہیں، کس سے فرق کرنا کرنے کے لیے؟ حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی۔ کسے حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ حقیقتِ لغویہ: لفظ کو اپنے معنیٰ موضوع لہٗ میں استعمال کرنا، مجازِ لغوی کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو معنیٰ غیر موضوع لہٗ، اور حقیقتِ عقلیہ کس کو کہتے ہیں؟ اسناد کرنا فعل یا معنیٰ فعل کا کس کا کس کی طرف؟ ما ھو لہٗ، اور مجازِ عقلی کس کو کہتے ہیں؟ اسناد کرنا غیر ما ھو لہٗ کی طرف۔ تو کبھی کبھار حقیقت اور مجاز کے ساتھ لغوی کی قید لگا دی جاتی ہے یہ بتلانے کے لیے کہ اس سے حقیقتِ عقلیہ اور مجازِ عقلی مراد نہیں، لیکن مولانا ایک تو یہاں پر کبھی کبھار ہم قید لگا دیتے ہیں تو یہ حقیقتِ عقلیہ کے مقابلے میں بھی حقیقتِ لغویہ آتی ہے، اور پھر آگے انہوں نے آپ کو اس میں بتلایا تھا کہ حقیقت اور مجاز دونوں کی کتنی چار چار قسمیں ہیں مولانا: عرفی، شرعی... کیا تھا؟ لغوی، لغوی، شرعی، عرفِ عام اور عرفِ خاص۔ تو دیکھو وہاں بھی لغوی کا ذکر آ گیا۔ تو ایک لغوی وہ ہے جو کس کے مقابلے میں ہے؟ عقلی کے مقابلے میں، اور ایک لغوی وہ ہے جو کس کے مقابلے میں ہے؟ عرفی اور شرعی کے مقابلے میں ہے۔ بات سمجھ میں آئی؟ ایک لغوی وہ ہے جو کس کے مقابلے میں ہے؟ عقلی کے، اور ایک لغوی وہ ہے جو کس کے مقابلے میں ہے؟ عرفی اور شرعی، اور یہاں کون سا مراد ہے جو کس کے مقابلے میں ہے؟ عقلی کے مقابلے میں ہے، عرفی اور شرعی کے مقابلے میں نہیں، عرفی اور شرعی اسی میں داخل ہیں ل حقیقتِ لغویہ میں۔ تو علامہ سکاکی نے حقیقتِ لغویہ کی یہ تعریف کی ہے: بالکلمۃ المستعملۃ، کلمہ مستعملہ کے ساتھ تعریف کی ہے، ایسا کلمہ جو استعمال ہو رہا ہو ”فِي مَا“، اس معنیٰ کے اندر، ”وُضِعَتْ لَهُ“، جس کے لیے اس کلمے کو وضع کیا گیا ہو، ”مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ“، وضع کے اندر بغیر کوئی تاویل کیے۔ وضع کے اندر بغیر کوئی تاویل کیے اس کو استعمال کیا جائے بھئی۔ اچھا، بھئی یہ بات تو ٹھیک ہے کہ علامہ سکاکی نے حقیقتِ لغویہ کی کیا تعریف کی ہے؟ وہ کلمہ جو استعمال ہو رہا ہو کس معنیٰ کے اندر؟ معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر، معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر۔ یہ ”مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ“ اس قید کا کیا فائدہ؟ یہ کیوں ذکر کی؟ تو بتلا رہے ہیں آپ کو، کہتے ہیں: واحترز بالقید، پہلے سن لیں آپ بھئی۔ دیکھو میں کہتا ہوں: ”رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي“، میں نے ایک رجلِ شجاع کو دیکھا جو کیا کر رہا تھا؟ تیر چلا رہا تھا۔ تو دیکھو یہاں ذکر اسد ہے اور مراد کیا ہے؟ رجلِ شجاع۔ تو اسد کا حقیقی معنیٰ کیا؟ حیوانِ مفترس، تو حیوانِ مفترس اس کا معنیٰ موضوع لہٗ ہوا حقیقۃً، حیوانِ مفترس اس کا معنیٰ موضوع لہٗ ہوا حقیقۃً۔ لیکن پھر آپ کو انہوں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ ہم جو ہے اس مشبہ بہٖ کے اندر یا معنیٰ لفظ اس کلمہ مستعمل کے اندر کیا کر لیتے ہیں؟ تاویل کرتے ہیں، تاویل کس طرح کرتے ہیں؟ کہ یہ اس سے مراد اسد سے مراد حیوانِ ر... حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ اس سے کیا مراد ہے؟ حیوانِ شجاع مراد ہے۔ ہم نے کیا تاویل کی؟ اس سے حیوانِ مفترس نہیں مراد بلکہ حیوانِ شجاع مراد ہے، اور حیوانِ شجاع کے دو افراد ہیں: ایک تو وہ جو آپ جانتے ہیں مولانا، وہ کیا؟ شیر ہے، اور دوسرا کیا ہے؟ رجلِ شجاع ہے جس کو آپ... تو ایک متعارف ہے اور ایک غیر متعارف۔ تو ہم نے اسد کے لفظ میں تاویل کر کے اس کے دو افراد بنا دیے: ایک متعارف جو شیر ہے آپ جانتے ہیں اور ایک غیر متعارف جو کون ہے؟ رجلِ شجاع۔ تو لہٰذا یہاں تو تاویل کر کے ہم کہتے ہیں کہ یہ جو اسد ہے یہ دونوں کے لیے وضع ہے، کیا ہے؟ کیونکہ یہ حیوانِ مفترس کے معنیٰ میں نہیں ہے بلکہ کس معنیٰ میں ہے؟ حیوانِ شجاع کے معنیٰ میں، اور شیر ہو وہ بھی حیوانِ شجاع ہے، رجلِ شجاع ہو وہ بھی کیا ہے؟ حیوانِ شجاع ہے۔ تو اس کا معنیٰ ہی حیوانِ شجاع ہے، جب اس کا معنیٰ ہی حیوانِ شجاع ہے تو یہ بھی اس کا معنیٰ موضوع لہٗ اور یہ بھی اس کا معنیٰ... لیکن فرق یہ ہے یہ اس کا معنیٰ موضوع لہٗ ہے حقیقۃً، یہ اس کا معنیٰ موضوع لہٗ ہے تاویلاً۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ کہ ہم نے تاویل کر کے اس کے کتنے افراد بنائے تھے؟ ایک متعارف، اور متعارف تو ہے اس کا معنیٰ موضوع لہٗ حقیقۃً، اور دوسرا بنایا تھا غیر متعارف، تاویل کر کے ہم نے داخل کر دیا، تو یہ بھی اس کا معنیٰ موضوع لہٗ ہوا لیکن تاویلاً ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ“، وضع کے اندر بغیر کوئی تاویل کیے، تو اس کے ذریعے کس کو نکال دیا مولانا؟ استعارہ کو نکال دیا، کس کو نکال دیا؟ میں نے کہا ”رَأَيْتُ أَسَدًا يَرْمِي“، تو اسد سے میں کیا مراد لیتا ہوں؟ رجلِ شجاع، اور میں کیا کہہ... کیا کہتا ہوں؟ یہ اسد اپنے معنیٰ موضوع لہٗ میں استعمال ہو رہا ہے یا غیر موضوع لہٗ میں؟ موضوع لہٗ میں بھئی، کس میں؟ لیکن موضوع لہٗ ہے تاویلاً بھئی، حقیقۃً نہیں ہے۔ تو اب جب میں نے کہا نا کلمہ استعمال ہو ما... الكلمۃ المستعملۃ فیما وضع... اس معنیٰ میں جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، تو اب اس سے میں شیر مراد لوں تو بھی معنیٰ موضوع لہٗ، اس سے میں رجلِ شجاع مراد لوں تو بھی معنیٰ موضوع لہٗ، لیکن ایک ہے حقیقۃً اور ایک ہے تاویلاً، تو دونوں اس کے معنیٰ موضوع لہٗ ہیں۔ تو جب میں نے کہا کلمہ اس کو استعمال کرنا اس معنیٰ کے اندر جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا ہے، تو مولانا استعارہ بھی داخل ہوا کیونکہ وہ بھی کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ موضوع لہٗ میں، اور حقیقت بھی داخل ہوئی کیونکہ وہ بھی کس میں ہے؟ موضوع لہٗ میں۔ تو بھئی استعارہ تو وہ حقیقت اس کو تو اب نکالنا چاہیے، تو اس کے لیے قید بڑھا دی: ”مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ“، وضع کے اندر کوئی تاویل نہ کی جائے، تو اب اس سے کیا خارج ہو گیا؟ استعارہ خارج ہو گیا۔ ”وَاحْتَرَزَ بِالْقَيْدِ الْأَخِيرِ“، اور احتراز کیا علامہ سکاکی نے آخری قید کے ذریعے، آخری قید کیا ہے؟ ”وَهُوَ قَوْلُهُ مِنْ غَيْرِ تَأْوِيلٍ فِي الْوَضْعِ“، یہ قول ہے مولانا بغیر کسی تاویل کے وضع میں، کس سے احتراز کیا؟ ”عَنِ الِاسْتِعَارَةِ“، استعارہ سے بھئی، اور احتراز کیا ”عَلَى أَصَحِّ الْقَوْلَيْنِ“، صحیح دو قولوں میں سے صحیح قول پر بھئی۔ بھئی استعارہ کے بارے میں آپ نے دو قول پڑھے تھے، ایک کیا قول تھا؟ ایک کہتے تھے کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے، بعض کہتے تھے استعارہ مجازِ عقلی ہے۔ بعض لوگ کیا کہتے تھے؟ مجازِ لغوی، جمہور کہتے تھے استعارہ مجازِ لغوی ہے، مجازِ لغوی ہے، اور بعض علماء کیا کہتے تھے؟ یہ مجازِ عقلی ہے۔ وہ کہتے تھے کہ اس کے اندر استعارہ کے اندر مجاز تو ہے، اس میں دونوں کا اتفاق، لیکن ایک کہتا ہے لغوی دوسرا کہتا ہے عقلی۔ لغوی والوں نے کیا کہا کہ یہ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر استعمال تو ہو رہا ہے لیکن تاویلاً، جب تاویلاً ہو رہا ہے تو یہ گویا کس کے اندر ہے؟ غیر موضوع لہٗ میں ہی ہو رہا ہے بھئی، تاویلاً داخل کر دیں تو تاویل سے کوئی چیز حقیقت تو نہیں بن جاتی۔ اور دوسروں نے کہا نہیں، یہ کلمہ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ ہی میں استعمال ہو رہا ہے لیکن عقل نے تصرف کیا اور رجلِ شجاع کو بھی فرد بنا دیا کس کا؟ حیوان کا... اسد کا، تو اسد کے دو افراد ہیں: ایک متعارف اور ایک غیر متعارف، تو رجلِ شجاع بھی اس کا معنیٰ موضوع لہٗ بن گیا اور حیوانِ مفترس بھی اس کا معنیٰ... تو جس کے اندر بھی استعمال کر لیں یہ کیا ہے؟ مجازِ... حقیقتِ لغوی ہے، یہ کیا ہے؟ حقیقتِ لغویہ ہے کیونکہ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر ہی استعمال ہو رہا ہے، ہاں مجازِ مجازِ عقلی ہے، عقل نے تصرف کیا اور ایک فردِ غیر متعارف کو لا کر کیا کر دیا؟ اس متعارف کے ساتھ ملا دیا اور کلمے کے مفہوم میں اس کو داخل کر دیا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ مشکل ہے۔ یہ بحث تو گزر چکی ہے بھئی، اس کی طرف تو اشارہ ہی کافی تھا۔ دو قول تھے: ایک قول یہ کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے، دوسرا کیا ہے؟ استعارہ مجازِ عقلی ہے۔ مجازِ لغوی والے کہتے ہیں کہ یہ کلمہ استعمال ہو رہا ہے غیر موضوع لہٗ کے اندر، اور مجازِ عقلی والے کیا کہتے ہیں؟ یہ اپنے معنیٰ موضوع لہٗ میں استعمال ہو رہا ہے، ہاں آپ مجازِ عقلی کیا، مجازِ عقلی کیا؟ عقل نے تصرف کر کے اسد کے دو افراد بنا دیے: ایک متعارف اور ایک غیر متعارف، تو جب افراد دو ہیں تو ہم نے اسد بول کر رجلِ شجاع مراد لیا اور وہ بھی اسی کا فرد ہے، اسی کا معنیٰ ہے، تو کلمہ کس میں استعمال ہو رہا ہے؟ موضوع لہٗ میں، تو مجازِ لغوی تو نہیں آیا، حقیقت تو وہی لغت کے اعتبار سے حقیقت ہی ہے البتہ مجازِ عقلی آ گیا، مجازِ اپنے کیونکہ معنیٰ موضوع لہٗ ہی میں استعمال ہو رہا ہے۔ تو دیکھیے دو صحیح قولوں میں سے، اور وہ کیا تھے مولانا؟ ”وَهُوَ الْقَوْلُ“، صحیح قول یہ تھا دو میں سے کہ استعارہ جو ہے مجازِ لغوی ہے۔ تو جمہور کے نزدیک یہ قول ہے مولانا، علامہ سکاکی اور مصنف بھی یہ اسی کی تائید کرتے ہیں کہ استعارہ مجازِ لغوی ہے، ”لِكَوْنِهَا مُسْتَعْمَلَةً فِي غَيْرِ الْمَوْضُوعِ لَهُ“، اس لیے کہ وہ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر کلمہ؟ غیر موضوع لہٗ کے اندر۔ بھئی موضوع لہٗ میں تو استعمال ہو رہا ہے الحقیقی مولانا، موضوع لہٗ حقیقی کے اندر استعمال... بھئی مجازِ لغوی میں ہم نے بھی کہا موضوع لہٗ میں استعمال ہو رہا ہے، ایک فردِ متعارف ہے اور ایک فردِ... تو متعارف میں استعمال ہو گا تو یہ بھی موضوع لہٗ میں، غیر متعارف میں استعمال ہو گا یہ بھی کیا ہے؟ لیکن ایک ہے حقیقۃً موضوع لہٗ اور ایک ہے تاویلاً موضوع لہٗ، تو تو غیر موضوع لہٗ ہوا حقیـ... غیر وہ موضوع جو موضوع لہٗ نہیں ہے حقیقۃً، تو کلمہ استعمال ہو رہا ہے غیر موضوع لہٗ کے اندر یعنی جو موضوع لہٗ نہیں ہے حقیقی طور پر، ”فَيَجِبُ الِاحْتِرَازُ عَنْهَا“، لہٰذا اس سے احتراز کرنا واجب تھا، کیونکہ مولانا بھئی تاویلاً اگرچہ وہ موضوع لہٗ تو ہے لیکن حقیقۃً تو... تو اس کو تو نکالنا چاہیے تھا حقیقتِ لغویہ کی قید سے، اس لیے یہ قید ذکر کی۔ ”وَأَمَّا عَلَى الْقَوْلِ“، باقی بنا پر اس قول کے کہ ”بِأَنَّهَا مَجَازٌ عَقْلِيٌّ“، کہ یہ جو استعارہ ہے مجازِ عقلی ہے، ”وَاللَّفْظُ مُسْتَعْمَلٌ فِي مَعْنَاهُ اللُّغَوِيِّ“، اور لفظ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ اپنے معنیٰ لغوی ہی میں استعمال ہو رہا ہے، ”فَلَا يَصِحُّ الِاحْتِرَازُ عَنْهَا“، لہٰذا اس سے احتراز کرنا صحیح نہیں، ”فَإِنَّهَا“، أی إنما وقع، فا بتلا رہے ہیں سببیہ ہے، ”أَيْ: إِنَّمَا وَقَعَ الِاحْتِرَازُ بِهَذَا الْقَيْدِ عَنِ الِاسْتِعَارَةِ“، کہ احتراز کی واقع ہوا اس قید سے، اس قید کے ذریعے احتراز ہوا مولانا عن الاستعارۃ، کس سے؟ استعارہ سے احتراز ہوا، ”لِأَنَّهَا“، اس لیے کہ استعارہ جو ہے ”مُسْتَعْمَلَةٌ فِيمَا وُضِعَتْ لَهُ“، وہ استعمال ہوا وہ کلمہ ہے جو استعمال ہوا ہے کس کے اندر؟ معنیٰ موضوع لہٗ کے اندر، لیکن ”بِتَأْوِيلٍ“، کس کے ساتھ؟ تاویل، وہ اور وہ کیا ہے مولانا تاویل؟ ”وَهُوَ ادِّعَاءُ دُخُولِ الْمُشَبَّهِ فِي جِنْسِ الْمُشَبَّهِ بِهِ“، کہ مشبہ بہٖ داخل ہے کس کے اندر؟ جنسِ مشبہ بہٖ کے اندر، ”بِجَعْلِ أَفْرَادِهِ قِسْمَيْنِ“، کیسے داخل کیا جائے گا؟ کہ مشبہ بہٖ کے افراد کتنی قسم پر بنا دیے جائیں گے؟ ”مُتَعَارَفًا وَغَيْرَ مُتَعَارَفٍ“، ایک متعارف ہو گا اور ایک غیر متعارف ہو گا۔ چلیے مولانا، ھٰذا ھو المرام، واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
69 approved lectures · 77 of 69