Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-104

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 41
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے دیکھیے سبق بھئی، متن دیکھیے: فَصْلٌ: اَلشَّرْطِيُّ مِنَ الِاقْتِرَانِيِّ إِمَّا أَنْ يَتَرَكَّبَ مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ، أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُتَّصِلَةٍ، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، أَوْ مُتَّصِلَةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، وَيَنْعَقِدُ فِيهِ الْأَشْكَالُ الْأَرْبَعَةُ، وَفِي تَفْصِيلِهَا طُولٌ۔ اچھا بھئی! گزشتہ سبق کے اندر وہ ضابطہ ذکر ہو رہا تھا، مصنف نے آپ کو بتلایا تھا، ایک مختصر ضابطہ، آپ اس کو ذہن میں رکھیں، ان شاء اللہ آپ جو بھی قیاس بنائیں گے وہ منتج ہوگا بھئی۔ اور وہ ضابطہ کیا تھا؟ کہ دو چیزوں میں سے ایک چیز ہونی چاہیے، یا تو اوسط کی موضوعیت عام ہونی چاہیے یا اکبر کی موضوعیت عام ہونی چاہیے۔ اگر اوسط کی موضوعیت عام ہے تو دو چیزوں میں سے ایک چیز اس کے ساتھ ہونی چاہیے: یا تو صغریٰ جو ہے وہ موجبہ فعلیہ ہونا چاہیے یا اوسط کا حمل اکبر پر ایجاباً ہونا چاہیے۔ اور اگر دوسرا امر ہے یعنی اکبر کی موضوعیت عام ہے، تو اس کے ساتھ، اس کے ساتھ دونوں مقدمتین ایک دوسرے سے مختلف ہونے چاہییں اور اس کے ساتھ اگر شکلِ ثانی ہے تو وہاں پر، تو وہاں پر دو نسبتوں کے درمیان منافات بھی ہونی چاہیے جہت کے اعتبار سے۔ یعنی اگر صغریٰ کے اندر جو حدِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذاتِ اصغر کی طرف، ایک وہ نسبت ہے، اور دوسری جو کبریٰ کے اندر حدِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف، ان دو نسبتوں میں منافات ہونی چاہیے۔ آج کے سبق پر آئیے بھئی: فَصْلٌ: اَلشَّرْطِيُّ مِنَ الِاقْتِرَانِيِّ إِمَّا أَنْ يَتَرَكَّبَ مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ، أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُتَّصِلَةٍ، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، أَوْ مُتَّصِلَةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ۔ اب قیاسِ شرطی اقترانی کا ذکر کرنے لگے ہیں بھئی مصنف۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قیاس جو ہے، وہ قول ہے جو مرکب ہو دو قضیوں سے اور ان کے ساتھ ایک اور قول یعنی نتیجہ بھی لازم ہو۔ اگر اس قول کو آپ مانتے ہیں، یعنی ان دو قضیوں کو، ان دو مقدموں کو آپ تسلیم کرتے ہیں، تو آپ کو ایک اور مقدمہ یعنی نتیجہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا۔ اور پھر یہ جو قیاس ہے، یہ دو قسم پر ہے: ایک قیاسِ استثنائی ہے اور ایک قیاسِ اقترانی ہے۔ قیاسِ استثنائی وہ تھا جس کے اندر نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ جو ہے، وہ مذکور ہوتی ہے۔ قیاس کے اندر ہی نتیجہ یا نتیجے کی نقیض مذکور ہوتی ہے، جس کو انہوں نے تعبیر کیا تھا کہ قیاسِ استثنائی وہ ہے جس میں وہ جو نتیجہ ہے، اپنے مادے اور اپنی صورت کے ساتھ مذکور ہوتا ہے۔ قیاس کے اندر ہی نتیجہ جو ہے اپنے مادے اور اپنی صورت کے ساتھ مذکور ہوتا ہے، یعنی اس نتیجے کا مادہ بھی ہوتا ہے، یعنی وہی محکوم علیہ اور محکوم بہ جو نتیجے میں ہیں، وہی اسی طرح قیاس کے اندر بھی مذکور ہوتے ہیں، اور صورت بھی وہی ہوتی ہے جو وہاں محکوم علیہ ہے، یہاں محکوم علیہ ہوتا ہے، جو وہاں محکوم بہ ہے، وہ یہاں قیاس میں بھی محکوم بہ ہوتا ہے۔ اور اس کی نشانی میں نے بتلائی تھی کہ اس کے اندر عموماً جو ہے لٰکِنَّ کا لفظ آئے گا، یعنی حرفِ استثنا آئے گا۔ لٰکِنَّ آئے گا یا إِلَّا آ جائے گا، جو بھی استثنا والے لفظ ہیں۔ اور اس کو قیاسِ استثنائی کہتے ہیں کیونکہ اس میں حرفِ استثنا مذکور ہوتا ہے۔ جبکہ دوسرا قیاس جو ہے وہ قیاسِ اقترانی ہے۔ اس کے اندر حرفِ استثنا مذکور نہیں ہوتا، بلکہ حرفِ اقتران یعنی واؤ مذکور ہوتا ہے، واؤ مذکور ہوتا ہے۔ اور یہ قیاسِ اقترانی پھر دو قسم پر ہے: یا یہ حملی ہوگا یا شرطی ہوگا۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے، قیاسِ اقترانی حملی وہ ہے جو دو قضیہ حملیہ سے مرکب ہو، جو کس سے مرکب ہو؟ جو دو، وہ قیاسِ اقترانی جو دو قضیہ حملیہ سے مرکب ہو اس کو قیاسِ اقترانی حملی کہتے ہیں۔ اور دوسری قسم ہے شرطی بھئی، اور قیاسِ اقترانی شرطی یا تو اس میں دونوں قضیے، دونوں مقدمے شرطیہ ہوں گے یا دونوں میں سے ایک شرطیہ ہوگا اور دوسرا حملیہ ہوگا۔ بھئی! یہاں قضیہ حملیہ اور شرطیہ کا ذکر آیا، تو تفصیل یاد رکھیے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ اس قول کا نام ہے، اس مرکب کا نام ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو، اس میں صدق کا بھی احتمال ہو اور کذب کا بھی احتمال ہو۔ اور پھر اس قضیے کے اندر اگر ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی ہو دوسری چیز سے، تو اس کو قضیہ حملیہ کہتے ہیں۔ یہ موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی ہو سکتا ہے۔ اور یہ جو قضیہ حملیہ ہے، اس میں ایک چیز کا ثبوت ہوتا ہے دوسری چیز کے لیے یا ایک چیز کی نفی ہوتی ہے، تو اس کے اندر جو محکوم علیہ ہوتا ہے، یعنی اس کا پہلا جز جو ہوتا ہے، اس کو موضوع کہتے ہیں اور جو اس کا دوسرا جز ہوتا ہے، یعنی محکوم بہ، اس کو، اس کو محمول کہتے ہیں۔ تو قضیہ حملیہ کے دو جز ہو گئے: ایک موضوع اور ایک محمول، اور اس کے علاوہ جو چیز ربط پر دلالت کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ کہتے ہیں۔ اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی قضیے کے اندر ایک چیز کا ثبوت یا نفی دوسری چیز سے نہ ہو، تو اس کا نام قضیہ شرطیہ ہے بھئی۔ اور میں نے بتایا تھا قضیہ شرطیہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا انفصال کو ذکر کیا جائے، دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا انفصال کو ذکر کیا جائے۔ اگر اتصال کو ذکر کیا جا رہا ہے، تو وہ شرطیہ متصلہ ہے اور اگر انفصال کو ذکر کیا جا رہا ہے، تو وہ شرطیہ منفصلہ ہے۔ پھر جہاں اتصال کو ذکر کیا جا رہا ہے، وہاں کہیں اتصال کا ثبوت ہوگا اور کبھی اتصال کی نفی ہوگی، تو وہ اگر اتصال کا ثبوت ہے، تو وہ شرطیہ متصلہ موجبہ ہوگا اور اگر اس میں اتصال کی نفی ذکر کی جائے، تو وہ شرطیہ متصلہ سالبہ ہوگا۔ اور اسی طرح انفصال ہے، اگر انفصال ہونے کا ذکر ہو، تو وہ منفصلہ موجبہ ہے اور اگر انفصال نہ ہونے کا ذکر ہو، تو وہ منفصلہ سالبہ ہے۔ تو قضیہ شرطیہ جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا، یا انفصال کو بیان کیا جائے، پھر اتصال کو اگر ذکر کیا جا رہا ہے، تو اس میں یہ بیان کیا جائے گا کہ اتصال ہے یا اتصال نہیں ہے۔ اگر اتصال ہے تو وہ ہوا موجبہ، متصلہ موجبہ، اور اگر یہ بیان کیا جائے کہ اتصال نہیں ہے تو وہ ہوا متصلہ سالبہ۔ اور اگر منفصلہ ہے، تو اس میں اگر انفصال ہونا ذکر ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ منفصلہ موجبہ، اور اگر یہ ذکر ہو کہ انفصال ان دو نسبتوں میں نہیں ہے، تو وہ منفصلہ سالبہ ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا، نشانی بھی بتلائی تھی، کہ یہ جو منفصلہ ہے اس میں إِمَّا اور أَوْ، جو انفصال کے لیے آتے ہیں، یہ حروف استعمال ہوں گے۔ هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ، یہ شرطیہ منفصلہ ہے۔ اور اگر، اگر اداتِ شرط استعمال ہوں اس قضیے کے اندر، جیسے إِنْ ہے، إِذَا ہے، كُلَّمَا ہے وغیرہ، تو پھر وہ شرطیہ متصلہ ہے، جیسے إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ۔ توجہ ہے؟ تو قضیہ شرطیہ متصلہ میں اداتِ شرط استعمال ہوں گی جس کو آپ جملہ شرطیہ کہتے ہیں۔ اور جبکہ شرطیہ منفصلہ کے اندر إِمَّا اور أَوْ ذکر ہوں گے اور اس میں دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا عدمِ انفصال کو بیان کیا جائے گا۔ تو حاصلِ تعریف کیا ہوا؟ قضیہ شرطیہ متصلہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا عدمِ اتصال کو بیان کیا جائے، اگر اتصال بیان ہوگا تو وہ متصلہ موجبہ ہے اور اگر عدمِ اتصال بیان ہوگا دو نسبتوں میں تو وہ متصلہ سالبہ ہے۔ اسی طرح قضیہ شرطیہ منفصلہ کے اندر دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا عدمِ انفصال کو بیان کیا جائے گا، اگر انفصال ذکر ہو تو اس کو منفصلہ موجبہ کہیں گے اور اگر عدمِ انفصال ذکر ہو تو اس کو منفصلہ سالبہ کہیں گے۔ تو بات سمجھ میں آ گئی؟ قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں، شرطیہ متصلہ کسے کہتے ہیں، اور شرطیہ منفصلہ کسے کہتے ہیں۔ تو یہ جو قیاسِ اقترانی ہے، یہ حملی بھی ہو سکتا ہے اور شرطی بھی۔ قیاسِ اقترانی حملی ہو، تو اس میں دونوں مقدمے قضیہ حملیہ ہوں گے اور اگر ایسا نہ ہو، دونوں مقدمے قضیہ حملیہ نہ ہوں، تو وہ قیاسِ شرطی ہے۔ تو قیاسِ شرطی کے اندر دو صورتیں آ گئیں: یا تو دونوں مقدمہ شرطیہ ہوں گے، یا دونوں میں سے ایک شرطیہ ہوگا اور ایک حملیہ ہوگا۔ تو وہ اب تفصیل بیان کر رہے ہیں، تو اس میں پھر یہ پانچ صورتیں یہاں بنتی ہیں۔ تو اب بات چل رہی ہے شرطی اقترانی کی بھئی۔ شرطی اقترانی میں نے بتلایا وہ قیاس ہے جس میں حرفِ اقتران ذکر ہوتا ہے اور دو مقدمے ہوں گے اور دونوں میں سے یا تو دونوں ہی شرطیہ ہوں گے یا ایک شرطیہ ہوگا اور ایک حملیہ ہوگا۔ اگر دونوں شرطیہ ہیں، تو پھر تین صورتیں بنتی ہیں: یا تو دونوں شرطیہ متصلہ ہوں گے، یا دونوں شرطیہ منفصلہ ہوں گے، یا ایک ان میں سے متصلہ ہوگا اور ایک منفصلہ، تو دونوں شرطیہ ہونے کی صورت میں تین صورتیں بن گئیں۔ اور اگر ان میں سے ایک شرطیہ ہے اور ایک حملیہ ہے، تو پھر دو صورتیں بنیں گی، کیونکہ ایک تو ہے حملیہ، دوسرا جو اس کے ساتھ آئے گا، یا وہ شرطیہ متصلہ ہوگا یا شرطیہ منفصلہ۔ اگر شرطیہ متصلہ ہے حملیہ کے ساتھ، تو یہ ایک قسم، اور اگر شرطیہ منفصلہ ہے کس کے ساتھ؟ قضیہ حملیہ کے ساتھ، تو یہ دوسری قسم۔ تو کل کتنی صورتیں ہو گئیں؟ پانچ۔ یہ دو مقدمے ہیں قیاس کے، قیاسِ اقترانی شرطی ہے، یا دونوں مقدمے شرطیہ ہوں گے یا ایک شرطیہ ہوگا اور ایک حملیہ۔ اگر دونوں شرطیہ ہیں تو یا دونوں متصلہ ہوں گے، یا دونوں منفصلہ ہوں گے، یا ایک متصلہ اور ایک منفصلہ، تو تین یہ صورتیں بن گئیں۔ اور اگر دونوں مقدموں میں سے ایک حملیہ ہے، تو جو دوسرا مقدمہ ہے، وہ یا متصلہ ہوگا یا منفصلہ ہوگا، تو دو صورتیں یہاں بن گئیں، تو کل کتنی صورتیں بن گئیں؟ پانچ صورتیں بن گئیں۔ وہی اب بیان کر رہے ہیں، دیکھیے متن میں۔ کہتے ہیں: فَصْلٌ: اَلشَّرْطِيُّ مِنَ الِاقْتِرَانِيِّ، قیاسِ شرطی اقترانی میں سے، إِمَّا أَنْ يَتَرَكَّبَ مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ، یا تو وہ مرکب ہوگا دو متصلہ سے۔ دیکھا؟ قیاسِ شرطی کے دونوں مقدمے کیا ہوں گے؟ متصلہ۔ تو کہتے ہیں: إِمَّا أَنْ يَتَرَكَّبَ مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، یا تو وہ مرکب ہوگا دو متصلہ سے، یا وہ مرکب ہوگا دو منفصلہ سے، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُتَّصِلَةٍ، یا ایک حملیہ اور ایک متصلہ سے، أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، یا ایک حملیہ اور ایک منفصلہ سے، أَوْ مُتَّصِلَةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، یا ایک ان میں سے شرطیہ متصلہ ہوگا اور دوسرا شرطیہ منفصلہ ہوگا، یہ پانچ صورتیں بن گئیں۔ دیکھ رہے ہیں آپ؟ یا تو دونوں کیا ہوں گے؟ متصلہ، یا دونوں کیا ہوں گے؟ منفصلہ، یا ایک حملیہ اور دوسرا متصلہ، تین صورتیں ہو گئیں، یا ایک حملیہ اور ایک منفصلہ، چار صورتیں، اور یا ایک متصلہ اور دوسرا منفصلہ، یہ پانچ صورتیں بنتی ہیں۔ وَيَنْعَقِدُ فِيهِ الْأَشْكَالُ الْأَرْبَعَةُ، اور اس میں چاروں شکلیں منعقد ہوتی ہیں۔ اس میں قیاس کی چاروں شکلیں، وہ جو ابھی ذکر ہوا تھا قیاسِ اقترانی حملی کے اندر، شکلِ اول ہے اس کی شرط کیا ہے؟ ایجاب و فعلیتِ صغریٰ اور کلیتِ کبریٰ۔ اس کے بعد شکلِ ثانی آئی تھی کہ دونوں مقدمے ایک دوسرے سے کیفیت میں مختلف ہوں اور کبریٰ کلیہ ہونا چاہیے۔ پھر شکلِ ثالث آئی تھی کہ صغریٰ جو ہے موجبہ فعلیہ ہونا چاہیے اور إِحْدَى الْمُقَدَّمَتَيْنِ کلیہ ہونا چاہیے۔ پھر شکلِ رابع آئی تھی کہ دونوں مقدمے موجبہ ہوں تو صغریٰ کلیہ ہونا چاہیے، اور اگر دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں تو دونوں میں سے ایک کو کلیہ ہونا چاہیے۔ تو وہ جو چاروں شکلیں قیاسِ حملی کے اندر جاری ہوتی تھیں، قیاسِ شرطی کے اندر بھی اسی طرح جاری ہوتی ہیں، اور جو وہاں شرطیں تھیں وہی یہاں پر بھی شرطیں ہیں۔ یہ معنی ہے: وَيَنْعَقِدُ فِيهِ الْأَشْكَالُ الْأَرْبَعَةُ، اور اس کے اندر بھی چاروں شکلیں منعقد ہوتی ہیں، وَفِي تَفْصِيلِهَا طُولٌ، اور ان کی تفصیل میں طوالت ہے، لمبائی ہے، یعنی ان کی تفصیل بڑی طویل ہے، اس مختصر رسالے میں اس کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ کہتے ہیں: وَفِي تَفْصِيلِهَا طُولٌ، اور ان کی تفصیل میں طول ہے، وہ جو چار شکلیں بنتی ہیں، ان کی تفصیل میں بڑی طوالت ہے، اس مختصر رسالے میں اتنی گنجائش نہیں کہ اس کو بیان کیا جائے۔ متن سمجھ میں آ گیا؟ اب آئیے شرح پر۔ اب شرح میں جو پانچ صورتیں بنیں ان میں سے ہر ایک کی ایک ایک مثال ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: قَوْلُهُ: مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ كَقَوْلِنَا، جیسے ہمارا یہ قول۔ اب ایسا قیاسِ شرطی اقترانی ذکر کریں گے، ایسا قیاسِ شرطی اقترانی ذکر کریں گے جو کس سے مرکب ہوگا؟ دو متصلہ سے، دونوں مقدمے شرطیہ متصلہ ہوں گے۔ پھر اگلے متن میں آئے گا أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، اس میں دونوں مقدمے قیاس کے شرطیہ منفصلہ ہوں گے، اور پھر آگے ہر ایک کی ترتیب سے تفصیل کرتے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: كَقَوْلِهِ: مِنْ مُتَّصِلَتَيْنِ كَقَوْلِنَا: إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، یہ پہلا مقدمہ اور یہ شرطیہ متصلہ ہے۔ وَكُلَّمَا كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا فَالْعَالَمُ مُضِيءٌ، اور جب بھی دن موجود ہوتا ہے تو جہان جو ہے وہ روشن ہوتا ہے، تو جہان، تو دنیا کیا ہوتی ہے؟ روشن ہوتی ہے، مُضِيءٌ کا معنی ہے روشن، چمکدار۔ یہ دوسرا مقدمہ آ گیا اور یہ بھی شرطیہ متصلہ ہے۔ يُنْتِجُ، اب یہ نتیجہ دے گا۔ جی، بتائیے مجھے کون سا جز مکرر ہے؟ ہاں، كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا، تو وجودِ نہار کا ذکر ثانی میں بھی ہے اور اول میں بھی ہے، اس کو نکال دیں گے اور پہلے کے مقدم کو لے لیں گے اور دوسرے کے تالی کو لے لیں گے اور نتیجہ بنائیں گے، تو کہتے ہیں: يُنْتِجُ: كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالْعَالَمُ مُضِيءٌ، سورج جب بھی طلوع ہوگا تو جہان روشن ہوگا۔ قَوْلُهُ: أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، ماتن کا قول أَوْ مُنْفَصِلَتَيْنِ، یعنی وہ دونوں مقدمے کیا ہوں گے؟ منفصلہ ہوں گے، كَقَوْلِنَا، جیسے ہمارا قول: إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدَدُ زَوْجًا وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ فَرْدًا، کہ یہ عدد جو ہے یا تو زوج ہے یا فرد ہے، یہ پہلا مقدمہ۔ اب یہ واؤ کے ساتھ اگلا مقدمہ ذکر کرنے لگے ہیں: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ زَوْجَ الزَّوْجِ أَوْ يَكُونَ زَوْجَ الْفَرْدِ، اور یہ زوج جو ہے، یا تو یہ زوج الزوج ہے یا یہ زوج الفرد ہے، یہ دوسرا مقدمہ۔ زوج الزوج کسے کہتے ہیں اور زوج الفرد، اسے سمجھ لیں بھئی۔ زوج اور فرد تو آپ جانتے ہیں۔ زوج، جفت بھئی، وہ عدد جو دو برابر حصوں میں تقسیم ہو سکے، جیسے چار ہے، اس کو تقسیم کریں تو دو اور دو، دو برابر حصوں میں تقسیم ہو گیا، تو اس کے دو حصے بن گئے۔ اسی طرح چھ ہے، چھ کو تقسیم کریں تو ایک نصف میں بھی تین آئیں گے اور دوسرے نصف میں بھی تین آئیں گے، تو یہ دیکھو تقسیم ہو گیا۔ تو جو عدد دو برابر حصوں میں تقسیم ہوتا ہے اس کو زَوْجٌ کہتے ہیں، جفت، اور جو عدد دو برابر حصوں میں تقسیم نہیں ہوتا اس کو فرد کہتے ہیں یعنی طاق، اردو میں کیا کہتے ہیں؟ طاق، جفت اور طاق۔ پھر یاد رکھو، یہ جو زوج ہے نا، جفت، یہ دو قسم پر ہے: ایک زوج الزوج ہے، ایک زوج الفرد ہے۔ زوج الزوج وہ ہے، وہ زوج، وہ جفت جس کو تقسیم کریں تو دونوں جز جو حاصل ہوں، دونوں حصے جو حاصل ہوں، وہ جفت ہوں، جیسے چار، چار کو تقسیم کیا تو دو حصے بن گئے، ہر حصے میں کیا کیا آیا؟ دو اور دو، اور دو بھی جفت ہے یعنی زوج ہے، تو دو زوج حصے بن گئے۔ اور ایک ہے چھ، چھ زوج ہے، لیکن آپ اس کو تقسیم کریں، تو ہر نصف میں کتنا آئے گا؟ تین تین، اور تین جو حصہ آیا ہر نصف میں، یہ زوج ہے یا فرد ہے؟ فرد ہے، فرد ہے۔ تو چار بھی زوج، چھ بھی زوج، لیکن فرق کیا؟ چار جو ہے وہ زوج الزوج ہے، زوج کا زوج ہے، اس کو تقسیم کریں تو آگے بھی زوج ہی حاصل ہوتے ہیں، اور جو چھ ہے وہ زوج الفرد ہے، اس چھ کو تقسیم کریں تو تین حاصل ہوگا، تین اور تین حاصل ہوں گے جو فرد ہیں، طاق ہیں بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو زوج کتنی قسم پر ہو گیا؟ دو قسم پر، یا وہ زوج الزوج ہوگا یا زوج الفرد ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ، کہ زوج جو ہے یعنی زوج عدد جو ہے، یا تو وہ زَوْجَ الزَّوْجِ، یا تو وہ زوج الزوج ہوگا، أَوْ يَكُونَ زَوْجَ الْفَرْدِ، یا وہ زوج الفرد ہوگا۔ اب دیکھیے، پہلے مقدمے میں بھی آیا: إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدَدُ زَوْجًا، یا تو عدد کیا ہوگا؟ زوج ہوگا، زوج ہوگا۔ اور اگلے میں بھی آیا: وَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الزَّوْجُ۔ تو یہ جو زوج ہے یہ ہے حدِ اوسط، دونوں میں مکرر آیا، اس کو نکال دیں گے اور پھر اس طرح کہیں گے، ادھر دیکھیے، اب نتیجہ کیا نکالیں گے؟ کہ یہ عدد یا تو فرد ہوگا، یا تو، اور آگے کہنا تھا یا زوج ہوگا، وہ تو حدِ اوسط تھا وہ تو گر گیا، تو یوں کہیں گے: یہ عدد یا تو فرد ہوگا، یا زوج الزوج یا زوج الفرد ہوگا۔ اگر زوج ہے تو اس میں دو ہی صورتیں بنتی ہیں نا؟ تو یہ عدد یا تو فرد ہے یا زوج الزوج یا زوج الفرد ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: يُنْتِجُ، تو یہ نتیجہ دے گا: إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدَدُ زَوْجَ الزَّوْجِ، أَوْ يَكُونَ زَوْجَ الْفَرْدِ، أَوْ يَكُونَ فَرْدًا، کہ یہ عدد یا تو زوج الزوج ہوگا یا زوج الفرد ہوگا یا فرد ہوگا۔ قَوْلُهُ: أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُتَّصِلَةٍ، جی، اب وہ قیاس ذکر کریں گے جو ایک حملیہ اور ایک متصلہ سے مرکب ہوگا: نَحْوُ: كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ۔ كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، جب بھی یہ چیز انسان ہوگی تو یہ حیوان ہوگی، یہ شرطیہ آ گیا مقدمۂ اولیٰ، شرطیہ متصلہ۔ اور وَكُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ، یہ حملیہ آ گیا بھئی۔ یہ قضیہ حملیہ ہے، یہ دوسرا جز آ گیا، دوسرا جز آ گیا۔ اور اب نتیجہ نکالیں گے، کون سا جز مکرر ہے؟ پہلا مقدمہ کیا ہے؟ كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، یہ ہے مقدمۂ اولیٰ۔ كُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ، یہ ہے مقدمۂ ثانیہ۔ اور اس میں حیوان مکرر ہے، حیوان مکرر ہے، تو اب اس حیوان کی جگہ کیا آ جائے گا؟ جسم آ جائے گا۔ دیکھیے بھئی، يُنْتِجُ، یہ نتیجہ دیتا ہے: كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا كَانَ جِسْمًا، یہ چیز جب بھی انسان ہوگی، كَانَ جِسْمًا، تو یہ جسم ہوگی۔ نتیجہ سمجھ میں آیا؟ ادھر دیکھیے، انہوں نے کہا: اگر یہ چیز انسان ہے تو یہ حیوان ہوگی، تو یہ حیوان ہوگی۔ اور دوسرا مقدمہ ملایا کہ ہر حیوان کیا ہوتا ہے؟ جسم ہوتا ہے۔ تو نتیجہ کیا نکلا؟ کہ اگر یہ چیز انسان ہے تو جسم ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا كَانَ جِسْمًا، جب بھی یہ چیز انسان ہوگی تو یہ جسم ہوگی۔ وَالنَّحْوُ، اور دوسری مثال، بھئی پہلی صورت یہ تھی کہ مقدمۂ اولیٰ شرطیہ تھا اور مقدمۂ ثانیہ حملیہ تھا، توجہ ہے؟ مقدمۂ اولیٰ کیا تھا؟ شرطیہ، كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا یہ پہلے آیا، اور حملیہ جو تھا كُلُّ حَيَوَانٍ جِسْمٌ وہ بعد میں آیا تھا۔ اب دوسری صورت بنائیں گے، حملیہ کو پہلے لائیں گے اور شرطیہ متصلہ کو بعد میں لائیں گے، مثلاً هٰذَا إِنْسَانٌ، دیکھا؟ یہ ہے حملیہ، پہلے لے آئے۔ اور آگے ہے: وَكُلَّمَا كَانَ إِنْسَانًا كَانَ حَيَوَانًا، اور جب بھی یہ چیز انسان ہوگی تو یہ حیوان ہوگی، یہ ہے متصلہ، دوسرا مقدمہ۔ يُنْتِجُ، تو یہ نتیجہ دے گا: هٰذَا حَيَوَانٌ، یہ حیوان۔ دیکھیے بھئی، یہ انسان ہے، یہ چیز انسان، اور جب بھی یہ چیز انسان ہوگی تو یہ حیوان ہوگی، تو نتیجہ کیا نکلا کہ یہ حیوان ہے بھئی، یہ معنی ہے: يُنْتِجُ: هٰذَا حَيَوَانٌ۔ قَوْلُهُ: أَوْ حَمْلِيَّةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، نَحْوُ: هٰذَا عَدَدٌ، جی، اب وہ قیاس ذکر کریں گے، وہ قیاسِ شرطی جو ایک حملیہ اور ایک منفصلہ سے مرکب ہوگا۔ کہتے ہیں: نَحْوُ: هٰذَا عَدَدٌ، جی، یہ حملیہ آ گیا، هٰذَا عَدَدٌ۔ اب اگلا منفصلہ ذکر کریں گے: وَدَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ يَكُونَ فَرْدًا، اور ہمیشہ ایک عدد یا تو زوج ہوتا ہے یا فرد ہوتا ہے۔ یہ عدد ہے، اور ہمیشہ ایک عدد یا تو زوج ہوتا ہے یا فرد، تو نتیجہ کیا نکلا کہ یہ عدد بھی یا تو زوج ہوگا یا فرد ہوگا۔ فَهٰذَا إِمَّا أَنْ يَكُونَ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، تو یہ عدد بھی یا تو زوج ہے یا فرد ہے۔ قَوْلُهُ: أَوْ مُتَّصِلَةٍ وَمُنْفَصِلَةٍ، اب اس قیاس کی مثال ذکر کر رہے ہیں جو دو قضیہ شرطیہ سے بنا ہے، لیکن ان میں سے ایک متصلہ ہے اور ایک منفصلہ ہے: نَحْوُ: كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ ثَلَاثَةً فَهُوَ عَدَدٌ، جب بھی یہ شے تین ہوگی تو یہ عدد ہے، کیا ہے؟ عدد ہے۔ آگے یہ شرطیہ متصلہ تھا مقدمۂ اولیٰ، اب مقدمۂ ثانیہ آیا اور وہ منفصلہ ہے: وَدَائِمًا إِمَّا أَنْ يَكُونَ الْعَدَدُ زَوْجًا أَوْ يَكُونَ فَرْدًا، اور ہمیشہ کوئی عدد جو ہے وہ زوج ہوتا ہے یا فرد ہوتا ہے۔ پہلا مقدمہ کیا تھا؟ اگر یہ چیز تین ہے، ثلاثہ ہے، تو یہ عدد ہے۔ اگر یہ چیز ثلاثہ ہے تو یہ عدد ہے۔ اور دوسرا مقدمہ ہے: جب بھی کوئی چیز عدد ہو تو وہ جفت ہوتی ہے یا طاق۔ تو نتیجہ کیا نکلا کہ اگر یہ شے ثلاثہ ہے، تو پھر یا یہ زوج ہوگی یا فرد ہوگی۔ تو کہتے ہیں: يُنْتِجُ، یہ نتیجہ دیتا ہے: كُلَّمَا كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ ثَلَاثَةً، کہ جب بھی یہ چیز تین ہوگی یعنی ثلاثہ ہوگی، فَهُوَ إِمَّا أَنْ يَكُونَ زَوْجًا أَوْ فَرْدًا، تو پھر یہ یا زوج ہوگی یا فرد ہوگی۔ اوپر متن میں آیا تھا بھئی کہ اس میں چار شکلیں بنتی ہیں، اب اس کی تفصیل بیان کر رہے ہیں: قَوْلُهُ: وَيَنْعَقِدُ، يَعْنِي: لَا بُدَّ فِي تِلْكَ الْأَقْسَامِ مِنِ اشْتِرَاكِ الْمُقَدَّمَتَيْنِ فِي جُزْءٍ يَكُونُ هُوَ الْحَدَّ الْأَوْسَطَ۔ یعنی ضروری ہے، بھئی جیسے قیاسِ حملی اقترانی میں تھا، کس میں؟ قیاسِ حملی میں۔ ابھی جتنی چار شکلیں ہم پڑھ کر آ رہے ہیں تفصیل سے وہ کیا تھا؟ قیاسِ حملی اقترانی تھا۔ اس قیاسِ حملی اقترانی کے اندر کیا ہوتا تھا؟ دو مقدمے ہوتے تھے، ایک کے اندر اصغر آتا تھا، ایک میں اکبر آتا تھا، اور درمیان میں ایک جز مشترک ہوتا تھا، اس کو کیا کہتے تھے؟ حدِ اوسط۔ تو یہاں بھی اسی طرح بھئی، حدِ اوسط آئے گا، کیا آئے گا؟ ایک جز مکرر آئے گا، حدِ اوسط آئے گا، اور باقی اجزا کو ہم ملائیں گے تو نتیجہ ہمیں حاصل ہو جائے گا۔ اور وہ حدِ اوسط آپ نے جیسے وہاں پڑھا تھا، اس کے اعتبار سے چار شکلیں بنتی تھیں، تو یہاں بھی کتنی شکلیں بنیں گی؟ چار شکلیں بنیں گی۔ تو کہتے ہیں: يَعْنِي: لَا بُدَّ فِي تِلْكَ الْأَقْسَامِ مِنِ اشْتِرَاكِ الْمُقَدَّمَتَيْنِ فِي جُزْءٍ، تو ضروری ہے ان اقسام کے اندر کہ دونوں مقدمے شریک ہوں فِي جُزْءٍ، کسی ایسے جز میں، يَكُونُ هُوَ الْحَدَّ الْأَوْسَطَ، جو حدِ اوسط ہوگا، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا بِهِ فِي كِلْتَا الْمُقَدَّمَتَيْنِ، پھر یہ جو حدِ اوسط ہے، یا تو یہ محکوم بہ ہوگا دونوں مقدموں میں، أَوْ مَحْكُومًا عَلَيْهِ فِيهِمَا، یا دونوں مقدموں میں یہ محکوم علیہ ہوگا، أَوْ مَحْكُومًا بِهِ فِي الصُّغْرَى وَمَحْكُومًا عَلَيْهِ فِي الْكُبْرَى، یا یہ صغریٰ میں محکوم بہ ہوگا اور کبریٰ میں محکوم علیہ ہوگا، أَوْ بِالْعَكْسِ، یا اس کا برعکس ہوگا۔ توجہ ہے؟ بھئی جیسے وہاں تھا قیاسِ حملی اقترانی میں، حدِ اوسط یا دونوں جگہ موضوع بنتا تھا، یا دونوں جگہ محمول بنتا تھا، یا ایک میں موضوع ہے، دوسرے میں محمول، یا پہلے میں محمول، دوسرے میں موضوع، چار صورتیں بنتی تھیں۔ وہی یہاں پر بھی ہیں، وہی یہاں پر بھی ہیں۔ وہاں یا دونوں جگہ حدِ اوسط موضوع ہوتا تھا، یا دونوں جگہ حدِ اوسط محمول ہوتا تھا، یا ایک میں موضوع، ایک میں محمول وغیرہ، لیکن یہاں موضوع محمول نہیں کہیں گے، بلکہ، بلکہ یہاں چونکہ قضیہ بعض صورتوں میں قضیہ حملیہ آتا ہے اور بعض صورتوں میں قضیہ شرطیہ آتا ہے، اور قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو تو مقدم کہتے ہیں اور ثانی کو تالی، جیسے قضیہ حملیہ کے پہلے جز کو موضوع اور دوسرے کو محمول کہتے ہیں، تو شرطیہ کے پہلے جز کو مقدم اور ثانی کو تالی کہتے ہیں۔ تو یہاں پر یہ مقدم اور تالی، وہ بھی نہیں کہیں گے، موضوع اور محمول، وہ بھی نہیں کہیں گے کیونکہ دونوں صورتیں ہو سکتی ہیں، تو اس کو محکوم بہ اور محکوم علیہ کے ساتھ تعبیر کریں گے۔ محکوم بہ اور محکوم علیہ۔ بھئی موضوع کیا ہوتا ہے؟ محکوم علیہ، اور محمول کیا ہوتا ہے؟ محکوم بہ، اور مقدم کیا ہوتا ہے؟ محکوم علیہ، اور تالی کیا ہوتا ہے؟ محکوم بہ۔ تو محکوم بہ کے ساتھ اور محکوم علیہ کے ساتھ تعبیر کریں گے، اس میں دونوں آ جائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا بِهِ فِي كِلْتَا الْمُقَدَّمَتَيْنِ، یا تو حدِ اوسط جو ہے وہ محکوم بہ ہوگا دونوں مقدموں میں۔ توجہ ہے عبارت پر؟ دونوں مقدموں میں حدِ اوسط محکوم بہ ہو، ابھی قیاسِ حملی اقترانی جو ہم پڑھ کر آئے ہیں، دونوں مقدموں میں اگر حدِ اوسط محکوم بہ ہو یعنی محمول کی جگہ آئے، تو یہ کون سی شکل تھی؟ شکلِ ثانی، یہ کیا تھی؟ شکلِ ثانی۔ أَوْ مَحْكُومًا عَلَيْهِ فِيهِمَا، عبارت پر نظر ہے؟ یا دونوں میں حدِ اوسط محکوم علیہ ہوگا، حدِ اوسط دونوں جگہ موضوع یعنی محکوم علیہ ہوتا تھا، یہ کس شکل میں تھا؟ یہ شکلِ ثالث میں، کس میں؟ شکلِ ثالث میں۔ معلوم ہوا فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ، عبارت پہ نظر رکھیں، فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ مَحْكُومًا بِهِ فِي كِلْتَا الْمُقَدَّمَتَيْنِ، اس سے کون سی شکل مراد ہے؟ شکلِ ثانی۔ أَوْ مَحْكُومًا عَلَيْهِ فِيهِمَا، اس سے کون سی شکل مراد ہے؟ شکلِ ثالث۔ أَوْ مَحْكُومًا بِهِ فِي الصُّغْرَى وَمَحْكُومًا عَلَيْهِ فِي الْكُبْرَى، یا حدِ اوسط محکوم بہ ہوگا صغریٰ میں اور محکوم علیہ ہوگا کبریٰ میں، یہ کون سی شکل ہے؟ یہ شکلِ اول ہے، یہ کیا ہے؟ حدِ اوسط صغریٰ میں محمول کی جگہ آتا تھا یعنی محکوم بہ ہوتا تھا، اور کبریٰ میں موضوع ہوتا تھا یعنی محکوم علیہ، یہ شکلِ اول ہے۔ أَوْ بِالْعَكْسِ، یا اس کا برعکس ہوگا، اور وہ کس میں ہوتا تھا؟ شکلِ رابع میں ہوتا تھا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو عبارت کے اندر انہوں نے سب سے پہلے کس کو ذکر کر دیا؟ شکلِ ثانی کو، پھر، پھر شکلِ ثالث کو، پھر، پھر شکلِ اول کو، اور اس کے بعد شکلِ رابع کو۔ اب اسی کو بیان کریں گے: فَالْأَوَّلُ هُوَ الثَّانِي، تو جو اول ہم نے ذکر کیا وہ ثانی ہے یعنی شکلِ ثانی ہے۔ اوپر جو عبارت میں جس کو ہم نے سب سے پہلے ذکر کیا کہ حدِ اوسط دونوں مقدموں میں محکوم بہ ہو، یہ کون سی شکل ہے؟ شکلِ ثانی۔ تو جو اول ہم نے ذکر کیا هُوَ الثَّانِي، وہ شکلِ ثانی ہے۔ وَالثَّانِي هُوَ الثَّالِثُ، اور جو دوسرے نمبر پر ہم نے ذکر کیا وہ کیا ہے؟ شکلِ ثالث ہے۔ وَالثَّالِثُ هُوَ الْأَوَّلُ، اور جو تیسرے نمبر پر ہم نے ذکر کیا وہ شکلِ اول ہے۔ وَالرَّابِعُ هُوَ الرَّابِعُ، اور جو چوتھے نمبر پر ہم نے ذکر کیا وہ شکلِ رابع ہے۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: قَوْلُهُ: وَفِي تَفْصِيلِهَا، أَيْ: فِي تَفْصِيلِ الْأَشْكَالِ الْأَرْبَعَةِ فِي تِلْكَ الْأَقْسَامِ الْخَمْسَةِ بِحَسَبِ الشَّرَائِطِ وَالضُّرُوبِ وَالنَّتَائِجِ طُولٌ لَا يَلِيقُ بِالْمُخْتَصَرَاتِ۔ کہتے ہیں ان چار شکلوں کی تفصیل میں، فِي تِلْكَ الْأَقْسَامِ الْخَمْسَةِ، ان پانچ قسموں میں۔ ان پانچ قسموں میں ان چار شکلوں کی تفصیل کے اندر بِحَسَبِ الشَّرَائِطِ، شرطوں کے اعتبار سے، وَالضُّرُوبِ، اور ضربوں کے اعتبار سے، وَالنَّتَائِجِ، اور نتیجوں کے اعتبار سے، طُولٌ، ایسا طول ہے، طول نکرہ آیا اور اس کے بعد فعل آ رہا ہے، یہ اس کی صفت بنے گا، ان میں ایسا طول ہے یعنی اتنی طوالت ہے، لَا يَلِيقُ بِالْمُخْتَصَرَاتِ، جو مختصر کتابوں کے، مختصر رسالوں کے لائق نہیں، ان کو یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ فَلْيُطْلَبْ مِنْ مُطَوَّلَاتِ الْمُتَأَخِّرِينَ، پس اس کو متأخرین کی لمبی کتابوں سے، بڑی کتابوں سے طلب کرنا چاہیے۔ جو ان کو دیکھنا چاہتا ہے کہاں پر طلب کر لے ان کو؟ متأخرین نے جو منطق کی بڑی بڑی کتابیں لکھیں ان کے اندر طلب کرے، وہاں اس کو پوری تفصیل مل جائے گی۔ عبارت سمجھ میں آ گئی؟ پھر ایک دفعہ ترجمہ دیکھ لیں۔ أَيْ: فِي تَفْصِيلِ الْأَشْكَالِ الْأَرْبَعَةِ فِي تِلْكَ الْأَقْسَامِ الْخَمْسَةِ بِحَسَبِ الشَّرَائِطِ وَالضُّرُوبِ وَالنَّتَائِجِ طُولٌ لَا يَلِيقُ بِالْمُخْتَصَرَاتِ، اور ان پانچ قسموں کے اندر چاروں شکلوں کے اندر جو تفصیل ہے شرائط کے اعتبار سے اور ضربوں کے اعتبار سے اور نتیجوں کے اعتبار سے، طُولٌ، اس میں ایسی طوالت ہے، لَا يَلِيقُ بِالْمُخْتَصَرَاتِ، جو مختصر کتابوں کے لائق نہیں، یعنی ان میں بیان نہیں کی جا سکتی، فَلْيُطْلَبْ مِنْ مُطَوَّلَاتِ الْمُتَأَخِّرِينَ، پس چاہیے کہ اس کو طلب کیا جائے متأخرین کی بڑی کتابوں میں سے، ان کی لمبی یعنی بڑی کتابوں میں سے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ اب آئیے متن میں: قَوْلُهُ: فَصْلٌ: اَلِاسْتِثْنَائِيُّ يُنْتِجُ مِنَ الْمُتَّصِلَةِ وَضْعُ الْمُقَدَّمِ وَرَفْعُ التَّالِي، وَمِنَ الْحَقِيقِيَّةِ وَضْعُ كُلٍّ كَمَانِعَةِ الْجَمْعِ، وَرَفْعُهُ كَمَانِعَةِ الْخُلُوِّ، وَقَدْ يُخْتَصُّ بِاسْمِ قِيَاسِ الْخُلْفِ وَهُوَ مَا يُقْصَدُ بِهِ إِثْبَاتُ الْمَطْلُوبِ بِإِبْطَالِ نَقِيضِهِ، وَمَرْجِعُهُ إِلَى اسْتِثْنَائِيٍّ وَاقْتِرَانِيٍّ۔ اب قیاسِ استثنائی کی بات آئی بھئی، قیاسِ استثنائی۔ قیاسِ استثنائی وہ قیاس ہے کہ جس کے اندر نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ جو ہے، وہ قیاس کے اندر ہی مذکور ہوتا ہے۔ نتیجہ یا نقیضِ نتیجہ قیاس کے اندر ہی مذکور ہوتا ہے۔ اور یہ بات پہلے بیان ہو چکی کہ قیاسِ استثنائی کو استثنائی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کے اندر حرفِ استثنا ذکر ہوتا ہے، لٰکِنَّ یا إِلَّا وغیرہ جو حرفِ استثنا ہیں وہ اس کے اندر ذکر ہوں گے، اس لیے اس کو قیاسِ استثنائی کہتے ہیں۔ اور یہ مرکب ہوتا ہے دو قضیوں سے، یاد رکھنا، دو قضیوں سے۔ یاد رکھو، ان دو قضیوں میں سے اول شرطیہ ہوتا ہے اور ثانی جو ہے وہ حملیہ ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ قیاسِ استثنائی کی بات کر رہا ہوں، یہ دو مقدموں سے مرکب ہوگا، ان میں سے پہلا مقدمہ جو ہے وہ شرطیہ ہوگا اور دوسرا حملیہ ہوگا۔ اور پھر یہ جو شرطیہ ہے، یہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی ہو سکتا ہے، منفصلہ۔ اور منفصلہ تو آپ جانتے ہیں کہ وہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، مانعۃ الجمع بھی اور مانعۃ الخلو بھی، مانعۃ الخلو بھی۔ تو قیاسِ استثنائی مرکب ہوا دو قضیوں سے، دو قضیوں سے، تو پہلا قضیہ شرطیہ اور دوسرا حملیہ، اور جو شرطیہ ہے وہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی۔ اور پھر منفصلہ جو ہے اس میں تین صورتیں بنتی ہیں: وہ حقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، مانعۃ الجمع بھی اور مانعۃ الخلو بھی۔ تو کل گویا چار صورتیں یہاں بنیں گی۔ کتنی صورتیں؟ چار صورتیں بنیں گی۔ پہلا مقدمہ کیا ہو؟ شرطیہ متصلہ ہو اور دوسرا قضیہ حملیہ۔ اور اگر منفصلہ ہو تو اس میں تین صورتیں بنتی ہیں: یا وہ حقیقیہ ہوگا، یا مانعۃ الجمع، یا مانعۃ الخلو۔ تو تین صورتیں منفصلہ میں بن گئیں اور ایک صورت متصلہ میں بن گئی، تو کل کتنی صورتیں؟ چار۔ پہلی صورت کیا؟ کہ مقدمۂ اولیٰ کیا ہو؟ شرطیہ متصلہ، اور دوسرا کیا ہو؟ حملیہ۔ تو دوسرا تو حملیہ ہی رہے گا، پہلے میں فرق پڑ رہا ہے اور اس اعتبار سے چار صورتیں بنتی ہیں۔ پہلا مقدمہ کیا ہو؟ شرطیہ متصلہ، تو ایک صورت۔ دوسری صورت: پہلا مقدمہ منفصلہ حقیقیہ ہو، دوسری صورت۔ تیسری صورت: پہلا مقدمہ جو ہے وہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہو۔ اور چوتھی صورت کہ پہلا مقدمہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہو۔ کل کتنی صورتیں بنتی ہیں؟ چار۔ تو قیاسِ استثنائی کے اندر چار صورتیں بنیں گی۔ اور اس میں ایک بات یاد رکھنا کہ اس کے اندر جو قضیہ حملیہ دوسرا آئے گا، جو دوسرا مقدمہ آئے گا، وہ باہر سے نہیں آتا، وہ اسی قیاس کے اندر ہی سے لیا جاتا ہے، اسی قیاس کے اندر ہی سے لیا جاتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: إِنْ كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ، وَلٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ۔ اگر یہ چیز انسان ہے تو حیوان ہوگی، لیکن یہ انسان ہے، نتیجہ کیا نکلا کہ یہ حیوان ہے۔ تو یہ جو دوسرا وَلٰكِنَّ اور حرفِ استثنا کے بعد جو قضیہ حملیہ آئے گا وہ اسی قیاس کے اندر سے آئے گا۔ اور اسی طرح یاد رکھو نتیجہ بھی اس کے اندر ہی مذکور ہوتا ہے، آپ پہلے ہی پڑھ چکے ہیں۔ یعنی پہلا مقدمہ کیا ہے؟ شرطیہ، دوسرا کیا ہے؟ حملیہ۔ یہ جو حملیہ آئے گا یہ کہاں سے لیا جائے گا؟ اسی شرطیہ سے لیں گے، اور یاد رکھو نتیجہ بھی اسی سے لیں گے۔ نتیجہ بھی اسی جو پہلا مقدمہ شرطیہ ہے، چاہے متصلہ ہے، چاہے منفصلہ حقیقیہ ہے یا مانعۃ الجمع ہے یا مانعۃ الخلو، اسی سے دوسرا مقدمہ بھی لیتے ہیں اور اسی سے نتیجہ بھی لیتے ہیں۔ اور پھر یاد رکھنا، اگر یہ جو پہلا مقدمہ ہے، اگر یہ شرطیہ متصلہ ہوا، تو اس کو کہیں گے قیاسِ استثنائی متصل۔ پہلا مقدمہ اگر شرطیہ متصلہ ہوا، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قیاسِ استثنائی متصل۔ متصلہ نہیں کہیں گے، متصل مذکر کہیں گے کیونکہ قیاس مذکر ہے، تو صفت متصل بھی کیا آئے گی؟ مذکر آئے گی۔ تو قیاسِ استثنائی اگر اس میں پہلا مقدمہ شرطیہ متصلہ ہو، تو اس کو قیاسِ استثنائی متصل کہتے ہیں۔ اور اگر پہلا مقدمہ منفصلہ ہے، تو اس کو قیاسِ استثنائی منفصل کہتے ہیں۔ تو یہ دو قسمیں ہو گئیں: قیاسِ استثنائی متصل اور قیاسِ استثنائی منفصل۔ پھر یہ بھی یاد رکھنا، اسی قیاسِ استثنائی متصل، اس کو کبھی قیاسِ اتصالی بھی کہہ دیتے ہیں، اور جس میں پہلا مقدمہ منفصلہ ہے، اس کو قیاسِ انفصالی بھی کہہ دیتے ہیں۔ توجہ ہے؟ قیاسِ اتصالی جس میں کون سا قضیہ ہوگا؟ شرطیہ متصلہ، اور قیاسِ انفصالی جس کے اندر کون سا شرطیہ ہوگا؟ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہوگا۔ تو لہٰذا آپ نے پریشان نہیں ہونا، کہیں پر قیاسِ اتصالی یا قیاسِ انفصالی کا لفظ آ جائے تو آپ پریشان ہوں کہ یہ کون سی قسم ہے، تو یاد رکھو قیاسِ استثنائی متصل اور قیاسِ اتصالی ایک ہی چیز ہیں۔ قیاسِ استثنائی متصل اور قیاسِ اتصالی ایک ہی چیز ہیں۔ اسی طرح قیاسِ استثنائی منفصل اور قیاسِ انفصالی ایک ہی چیز ہیں۔ اسی طرح یاد رکھنا، یہ آگے اسی کے آگے جو دوسرا مقدمہ ہے، میں نے بتایا، یہ اسی پہلے مقدمے سے لیا جائے گا، اسی شرطیہ سے دوسرا قضیہ حملیہ مقدمہ لیا جائے گا۔ یاد رکھو، یہ جو دوسرا مقدمہ ہے، اس کا استثنا کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ اور اسی سے پھر نتیجے کی طرف بھی، نتیجے کا بھی پتہ چل جاتا ہے۔ تو یہ جو استثنا ہوتا ہے، استثنا، یہ کبھی عینِ مقدم کا استثنا ہوگا، کبھی عینِ تالی کا، کبھی نقیضِ مقدم کا، کبھی نقیضِ تالی کا۔ بھئی دیکھیے نا، پہلا قضیہ کون سا ہے؟ شرطیہ، اور قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ تالی۔ توجہ ہے؟ تو اس، وہ جو قضیہ شرطیہ پہلا مقدمہ ہے، اس میں ایک مقدم ہوگا اور ایک تالی۔ تو آگے لٰکِنَّ کے بعد جو قضیہ حملیہ ذکر ہوتا ہے، اس کا استثنا کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ استثنا۔ تو اس کے اندر کبھی عینِ مقدم کو ذکر کریں گے، کبھی عینِ تالی کو ذکر کریں گے۔ کریں گے، کبھی نقیض مقدم کو ذکر کریں گے، کبھی نقیض تالی کو۔ عین مقدم مثلاً: ”إِنْ كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ“. اگر یہ چیز انسان ہے تو یہ حیوان ہے۔ مقدم میں کیا ذکر؟ انسان ہونے کا ذکر ہے یا نہ ہونے کا؟ ہونے کا ذکر ہے، تو میں بھی آگے کہتا ہوں: ”لٰكِنَّهُ إِنْسَانٌ“. تو یہ ہے عین مقدم میں لے آیا، اور کبھی نقیض مقدم میں لے آؤں گا: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“. ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“. مقدم تو تھا انسان ہونا اور میں کیا لے آیا؟ انسان نہ ہونا، اس کی نقیض لے آیا۔ اسی طرح کبھی اس ”لٰكِنَّ“ کے بعد عین تالی کو لے آئیں گے: ”إِنْ كَانَ هٰذَا الشَّيْءُ إِنْسَانًا فَهُوَ حَيَوَانٌ“، ”لٰكِنَّهُ حَيَوَانٌ“، دیکھا؟ وہاں حیوان ہونے کا ذکر میں بھی کیا لے آیا؟ ”لٰكِنَّهُ حَيَوَانٌ“. اور کبھی اس کی نقیض لے آئیں گے: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِحَيَوَانٍ“. تو یہ جس کا استثناء کیا جا رہا ہے یعنی یہ جو دوسرا مقدمہ ہے قضیہ حملیہ، یہ اسی شرطیہ سے لیں گے اور اس میں ایک مقدم ہے اور ایک تالی۔ تو یہاں پر بھی کبھی عین مقدم لے آئیں گے یعنی جیسا ہے اسی طرح لے آئیں گے۔ وہاں موجبہ تو یہاں بھی موجبہ، وہاں سالبہ تو یہاں بھی سالبہ۔ تو کبھی عین مقدم لے آئیں گے، کبھی عین تالی لے آئیں گے، یوں کہیں، کبھی عین مقدم لے آئیں گے کبھی نقیض مقدم، کبھی عین تالی لے آئیں گے کبھی نقیض تالی لے آئیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قیاس استثنائی کی کل کتنی صورتیں بن رہی تھیں؟ چار، چار۔ تو ہر ایک میں یہ چار چار صورتیں آ گئیں کہ استثناء یا عین مقدم کا ہو گا یا نقیض مقدم، یا عین تالی کا یا نقیض تالی کا، تو چار چار صورتیں ہر ایک میں بن گئیں تو کل کتنی ضربیں ہو گئیں؟ سولہ ضربیں ہو گئیں۔ سولہ ضربیں ہو گئیں۔ اچھا بھئی، اس قیاس استثنائی کا پہلا مقدمہ قضیہ شرطیہ ہو گا اور وہ شرطیہ متصلہ بھی ہو سکتا ہے اور منفصلہ بھی ہو سکتا ہے، تو اس کی تفصیل ایک دفعہ پھر اپنے ذہن میں تازہ کر لیں۔ آپ نے پڑھا تھا کہ قضیہ شرطیہ متصلہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا عدم اتصال کو بیان کیا جاتا ہے، اور قضیہ شرطیہ منفصلہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا عدم انفصال کو ذکر کیا جاتا ہے، اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ یہ جو شرطیہ متصلہ ہے یا یہ لزومیہ ہو گا یا اتفاقیہ۔ یا یہ لزومیہ ہو گا یا اتفاقیہ۔ لزومیہ وہ ہے جس میں مقدم اور تالی کے درمیان لزوم والا علاقہ ہو کہ مقدم ہے تو تالی ضرور ہے۔ مقدم ہے تو تالی ضرور ہے، تو یہ لزومیہ ہے۔ اور اگر ایسا نہیں مقدم کے ساتھ تالی لازم نہیں، ضروری نہیں، تو اس کو اتفاقیہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ اتفاقیہ دو چیزیں جمع ہو گئی ہیں، مثلاً اگر زید کاتب ہے تو بکر شاعر ہے۔ یہ اتفاقاً ایسا ہو گیا زید کاتب بن گیا اور بکر کیا بن گیا؟ شاعر بن گیا۔ یہ ضروری ہے جب بھی زید پایا جاتا دنیا میں اس کا کاتب ہونا اور بکر کا شاعر ہونا ضروری تھا؟ نہیں، اتفاقاً چیزیں جمع ہو گئیں۔ لیکن مقدم اور تالی ان میں اگر لزوم والا علاقہ ہو تو اس کو متصلہ لزومیہ کہتے ہیں، اور آپ کو میں نے بتایا تھا کہ لزوم کے علاقے چار ہیں۔ یا اول علت ہو ثانی کے لیے، یا ثانی علت ہو اول کے لیے، یا دونوں معلول ہوں ایک ہی علت کے، یا دونوں آپس میں متضایفین ہوں۔ آپ کو میں نے بتایا تھا علت وہ ہے جس پر دوسری چیز کا وجود موقوف ہوتا ہے۔ علت کسے کہتے ہیں؟ ایک ہے علت، ایک ہے سبب۔ علت پر ایک چیز کا وجود موقوف ہوتا ہے، وہ علت ہے تو وہ چیز یعنی معلول بھی ہے، علت نہیں تو معلول بھی نہیں۔ اور ایک ہے سبب اور مسبب، سبب بھی ایک چیز تک پہنچاتا ہے لیکن سبب پر اس مسبب کا وجود موقوف نہیں ہوتا کہ سبب پایا جائے تو مسبب بھی ضرور پایا جائے ایسا ضروری نہیں ہے۔ علت جب بھی پائی جائے گی معلول ضرور ہو گا کیونکہ علت اس کو وجود دیتی ہے۔ سورج جب بھی نکلے گا دن ضرور ہو گا۔ بلب جب بھی جلے گا روشنی ضرور ہو گی۔ تو علت جب بھی پائی جائے معلول ضرور پایا جاتا ہے۔ اور دوسری چیز سبب ہے، سبب بھی ایک چیز تک پہنچاتا ہے لیکن سبب بذات اس کی ذات میں موثر نہیں ہوتا، لہٰذا سبب کے ہوتے ہوئے مسبب کا ہونا ضروری نہیں، سبب پہنچاتا ضرور ہے لیکن بذات اس کے اندر موثر نہیں، جبکہ علت بذات اس چیز کے اندر موثر ہوتی ہے۔ جیسے چابی کا گھومنا علت ہے تالے کے کھلنے کے لیے، چابی گھومے گی تو تالا ضرور کھلے گا۔ تو یہ ہے علت اور معلول، تو میں بیان کر رہا تھا کہ شرطیہ متصلہ کے اندر مقدم اور تالی کے اندر اگر لزوم والا علاقہ ہو تو وہ شرطیہ متصلہ لزومیہ کہلاتا ہے اور وہ علاقے چار ہیں: یا مقدم علت ہو گا کس کے لیے؟ تالی کے لیے۔ جیسے اگر سورج نکلے گا تو دن ہو گا۔ سورج کا نکلنا علت ہے کس کے لیے؟ دن کے لیے۔ کبھی تالی علت ہوتا ہے مقدم کے لیے، اگر دن ہے تو سورج نکلا ہوا ہے۔ دیکھو، دن ہے تو سورج نکلا ہوا ہے اور وہ سورج علت ہے اس مقدم کے لیے۔ اور کبھی دونوں ایک ہی علت کے معلول ہوتے ہیں، دونوں ایک ہی علت، ایک ہی علت کی وجہ سے دو چیزوں کو وجود مل رہا ہے، تو جب ایک چیز موجود ہے تو معلوم ہوا دوسری بھی ہو گی کیونکہ علت کے ساتھ دونوں چیزیں ہوتی ہیں۔ مثلاً میں کہتا ہوں اگر دن ہے تو جہان روشن ہے، تو دن بھی سورج کی وجہ سے اور جہان کا روشن ہونا بھی کس کی وجہ سے؟ سورج، دونوں کی علت ایک ہی چیز ہے۔ اور کبھی دونوں آپس میں متضایفین ہوتے ہیں مقدم اور تالی، اگر زید عمرو کا باپ ہے تو عمرو اس کا بیٹا ہے۔ متضایفین وہ ہیں جن میں سے ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہوتا ہے۔ باپ کسے کہتے ہیں؟ جس کا بیٹا یا بیٹی ہو، اور بیٹا بیٹی کسے کہتے ہیں؟ جن کا کوئی باپ ہو بھئی، مالک کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی مملوک ہو، مملوک کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی مالک ہو، استاد کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی شاگرد، شاگرد کسے کہتے ہیں؟ جس کا کوئی استاد، خاوند کسے کہتے ہیں؟ جس کی بیوی ہو، اور بیوی کسے کہتے ہیں؟ جس کا خاوند ہو، تو یہ دیکھو یہ متضایفین ہیں، ایک کا سمجھنا دوسرے کے سمجھنے پر موقوف ہے، تو اگر مقدم اور تالی بھی اس طرح کے ہیں تو پھر تو پھر ان میں لزوم کا علاقہ ہے۔ اگر زید عمرو کا باپ ہے تو عمرو اس کا بیٹا ہے، دیکھا؟ یہ دونوں آپس میں متضایفین ہیں بھئی۔ تو شرطیہ متصلہ لزومیہ بھی ہو سکتا ہے اور اتفاقیہ بھی، اور یاد رکھو یہاں جو قیاس کے اندر ہے صرف لزومیہ معتبر ہے، اتفاقیہ معتبر نہیں، میں پہلے بھی بیان کر چکا بھئی کہ قیاس کے اندر شرطیہ متصلہ لزومیہ معتبر ہے، جہاں مقدم اور تالی میں لزوم کا علاقہ ہو، مقدم پایا جائے تو تالی ضرور پایا جائے بھئی، پھر ہی وہ معتبر ہے۔ اسی طرح اگر شرطیہ منفصلہ ہو اس میں آپ کو میں نے بتایا تھا کہ قضیہ شرطیہ منفصلہ کے اندر دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا عدم انفصال بیان ہوتا ہے، انفصال بیان ہو تو وہ موجبہ ہے اور عدم انفصال بیان ہو تو وہ سالبہ ہے بھئی، اور پھر یہ منفصلہ جو ہے جس میں دو نسبتوں میں انفصال یا عدم انفصال بیان ہوتا ہے، اگر یہ انفصال اور عدم انفصال وجوداً بھی ہو اور عدماً بھی ہو تو وہ منفصلہ حقیقیہ ہے، اور اگر یہ انفصال اور عدم انفصال صرف وجوداً ہو تو اس کو مانعۃ الجمع کہتے ہیں، اور اگر یہ انفصال اور عدم انفصال صرف عدماً ہو تو اس کو مانعۃ الخلو کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، یہ عدد یا زوج ہے یا فرد ہے۔ اب دیکھو جو بھی عدد ہو گا وہ ان دونوں میں سے ایک ضرور ہو گا، یا وہ زوج ہو گا یا فرد یعنی وہ جفت ہو گا یا طاق ہو گا۔ دونوں ہو جائیں یہ نہیں ہو سکتا اور دونوں ہی اٹھ جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، نہ زوج ہو اور نہ فرد ہو یہ بھی نہیں ہو سکتا، تو یہ منفصلہ حقیقیہ ہے۔ دو چیزیں ہیں، ایک اس عدد کا زوج ہونا اور ایک اس عدد کا فرد ہونا، یہ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتیں اور اٹھ بھی نہیں سکتیں، ان میں انفصال اور عدم انفصال ہے وجوداً بھی جب پائی جائیں تب بھی انفصال، نہ پائی جائیں تب بھی انفصال، یعنی دونوں نہ پائی جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، دونوں اکٹھی پائی جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا اور دونوں ہی نہ پائی جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، تو ان میں انفصال اور عدم انفصال ہے وجوداً بھی اور عدماً بھی۔ اور کبھی جو انفصال اور عدم انفصال ہوتا ہے صرف وجوداً ہوتا ہے اور وہ مانعۃ الجمع ہے یعنی دونوں اکٹھے نہیں پائے جا سکتیں یہ دونوں نسبتیں، جیسے: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا حَجَرٌ أَوْ شَجَرٌ“، یہ چیز یا تو شجر ہے یا حجر ہے۔ اب یہ دونوں اکٹھی نہیں ہو سکتیں کہ ایک ہی چیز شجر بھی ہو جائے حجر بھی ہو جائے، نہیں ہو سکتا، ہاں دونوں اٹھ سکتی ہیں کہ ایک چیز نہ شجر ہو نہ حجر ہو کوئی تیسری چیز ہو مثلاً کتاب ہے یا قلم ہے، اب کتاب نہ شجر ہے نہ حجر ہے، تو دونوں شجر اور حجر کا جمع ہونا اس میں انفصال ہے، ان دونوں کے اٹھنے میں انفصال نہیں، تو مانعۃ الجمع میں انفصال اور عدم انفصال صرف وجوداً ہوتا ہے عدماً نہیں یعنی دونوں اٹھ سکتے ہیں۔ جبکہ مانعۃ الخلو کے اندر انفصال اور عدم انفصال جو ہوتا ہے وہ صرف اٹھنے کے اعتبار سے ہوتا ہے یعنی عدم کے اعتبار سے ہوتا ہے، وجود کے اعتبار سے نہیں ہوتا، وجود کے اعتبار سے۔ جیسے اس کی مثال انہوں نے کیا ذکر کی تھی کہ زید یا تو دریا میں ہے یا ڈوب نہیں رہا، یا تو دریا میں ہے یا ڈوب نہیں رہا، ان دونوں میں سے ایک چیز ضرور ہے، یا تو وہ دریا میں ہے یا ڈوب نہیں رہا، توجہ ہے؟ تو ان دونوں سے خالی ہو یہ نہیں ہو سکتا بھئی، یہ دونوں چیزیں اٹھ نہیں سکتیں، دونوں جمع ہو سکتی ہیں، دریا میں بھی ہو اور نہ ڈوب رہا ہو بھئی، تیر رہا ہو یا کشتی میں بیٹھا ہو، یہ دونوں جمع ہو سکتے ہیں لیکن دونوں اٹھ نہیں سکتے، کہ کیا بات کی تھی میں نے کہ زید یا تو دریا میں ہے یا ڈوب نہیں رہا، یہ دونوں اٹھ نہیں سکتیں۔ مثلاً دریا میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو یہ نہیں ہو سکتا، یا تو دریا میں ہے اس کی نفی لے آؤ، دریا میں نہیں ہے اور آگے تھا ڈوب نہیں رہا اس کی نفی لے آؤ، ڈوب رہا ہے، دریا میں نہ ہو اور ڈوب رہا ہو ایسا نہیں ہو سکتا، یا تو عمرو دریا میں ہے یا ڈوب نہیں رہا بھئی، تو یہ تین قسمیں ہو گئیں قضیہ شرطیہ منفصلہ کی: یا تو وہ کیا ہو گا؟ حقیقیہ ہو گا، یا مانعۃ الجمع ہو گا، یا مانعۃ الخلو۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو حقیقیہ ہوتا ہے یہ بیک وقت مانعۃ الجمع بھی ہوتا ہے مانعۃ الخلو بھی، یعنی یہ دونوں جمع بھی نہیں ہو سکتے اور یہ دونوں اٹھ بھی نہیں سکتے، تو یہ مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو دونوں ہے۔ اور پھر آپ نے یہ بھی پڑھا تھا کہ یہ جو منفصلہ کی تینوں قسمیں ہیں یا یہ عنادیہ ہوں گی یا اتفاقیہ، یا عنادیہ، عنادیہ یہ ہے کہ یہ جو دو چیزیں ذکر ہوئیں ان کی ذات میں ہی عناد اور مخالفت ہے، توجہ ہے؟ ان کی ذات میں ہی مخالفت ہو گی اور کبھی اتفاقاً مخالفت آئی ہو گی، تو اتفاقیہ یہ معتبر نہیں بلکہ اس میں سے کون سا معتبر ہے؟ عنادیہ معتبر ہے، یہ تینوں مثالیں جو آپ نے کیں یہ عنادیہ کی تھیں بھئی، کہ ان کی ذات ہی میں مخالفت ہو، تو قیاس کے اندر یہ منفصلہ کی جو تین قسمیں ہیں حقیقیہ، مانعۃ الجمع اور مانعۃ الخلو، یہ تینوں آئیں گی لیکن تینوں عنادیہ ہونے چاہئیں، اتفاقیہ نہیں ہونے چاہئیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تفصیل اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھیے بھئی، یہ جو قیاس استثنائی ہے اس میں جو پہلا مقدمہ شرطیہ ہے اس کو کبریٰ کہتے ہیں، اور جو دوسرا مقدمہ ہے قضیہ حملیہ جس کا استثناء کیا جا رہا ہے اس کو صغریٰ کہتے ہیں۔ قیاس اقترانی میں تو صغریٰ پہلے آتا ہے اور کبریٰ بعد میں، لیکن قیاس استثنائی کے اندر جو پہلا مقدمہ ہے یہ ہے کبریٰ اور جو دوسرا قضیہ حملیہ ہے چھوٹا مقدمہ اس کو صغریٰ کہتے ہیں، تو گویا قیاس استثنائی میں کبریٰ پہلے آتا ہے اور صغریٰ بعد میں آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ قیاس استثنائی میں پہلا مقدمہ جو شرطیہ ہے وہ کبریٰ ہے اور جو دوسرا حملیہ ہے وہ صغریٰ ہے بھئی صغریٰ ہے۔ اچھا بھئی، آگے ایک نقشہ اپنی کاپیوں پر بنا لیجیے بھئی، ان شاء اللہ یہ نقشہ جب آپ کو سمجھ میں آ جائے گا تو پھر ساری عبارت حل ہو جائے گی بھئی ساری عبارت۔ اوپر لکھیے بھئی، یہ پورے صفحے پر نقشہ بنے گا بھئی پورے صفحے پر۔ سب سے اوپر لکھیے: نقشہ قیاس استثنائی متصل و منفصل، یہ عنوان ہے۔ نقشہ قیاس استثنائی نقشۂ قیاس استثنائی متصل و منفصل نقشۂ قیاس استثنائی متصل و منفصل لکھ لیا؟ اب یوں کیجیے بھئی، اوپر سے نیچے تک پانچ لکیریں آپ نے کھینچنی ہیں، پانچ لکیریں۔ ہمیں چھ خانے چاہئیں، توجہ ہے؟ پورے صفحے پہ چوڑائی میں ہمیں چھ خانے چاہئیں لیکن جو چوتھے نمبر پر خانہ ہو گا وہ چوڑا ہونا چاہیے۔ اوپر سے نیچے کی طرف لکیریں کھینچیں، چھ خانے چاہئیں ہمیں، چھ خانے۔ لیکن چوتھا خانہ جو ہے وہ تھوڑا سا باقیوں کی بنسبت تھوڑا سا چوڑا ہونا چاہیے۔ اوپر سے نیچے کی طرف خط کھینچیے، چھ خانے بنا لیں صفحے کی چوڑائی میں، باقی خانے برابر ہوں لیکن چوتھے نمبر پر خانہ جو آئے وہ ذرا سا چوڑا ہونا چاہیے باقیوں کی بنسبت۔ جی، جلدی جلدی بنائیے بھئی۔ اوپر سے نیچے کی طرف پانچ لکیریں کھینچیں گے تو چھ خانے بن جائیں گے۔ بنا لیا؟ جی، اب سب سے اوپر لکھیے پہلی سطر میں، پہلے خانے میں سب سے اوپر لکھیے بھئی: مقدمۂ اولیٰ، مقدمۂ اولیٰ، جو پہلا خانہ ہے دائیں طرف اس میں سب سے اوپر لکھ لیں مقدمۂ اولیٰ، یہ عنوانات ہیں۔ دوسرے خانے میں لکھیے: مقدمۂ ثانیہ، مقدمۂ ثانیہ۔ تیسرے میں لکھیے: نتیجہ، نتیجہ۔ چوتھے خانے میں لکھیے جو بڑا خانہ ہے اس کے اوپر لکھیے: مثالِ مقدمۂ اولیٰ، مثالِ مقدمۂ اولیٰ یعنی مقدمۂ اولیٰ کی مثال۔ پانچویں خانے کے اوپر عنوان دیجیے: مثالِ مقدمۂ ثانیہ، مثالِ مقدمۂ ثانیہ یعنی مقدمۂ ثانیہ کی مثال یہاں آئے گی بھئی۔ اور آخری میں لکھیں: مثالِ نتیجہ، مثالِ نتیجہ۔ لکھ لیا؟ اب یہ جو آپ نے عنوانات دیے اس سارے کے نیچے ایک لکیر کھینچ لیجیے شروع سے آخر تک پورے صفحے پر بھئی، تاکہ یہ نیچے اب ہم جو کچھ لکھیں گے یہ عنوانات اس سے جدا ہو جائیں۔ یہ جو آپ نے مقدمۂ اولیٰ سے لے کر آخر تک مثالِ نتیجہ ہے اس سارے کے نیچے ایک لکیر کھینچ دیں، یہ سارے عنوانات بن گئے بھئی۔ اب آگے یہ مقدمۂ اولیٰ کے اندر سب سے اوپر پہلی سطر میں لکھیے: شرطیہ متصلہ، شرطیہ متصلہ۔ شرطیہ متصلہ لکھ لیا؟ اس کو نمبر دیجیے ایک بھئی، اس کے شروع میں ایک کا نمبر بھی لگا دیں، ایک۔ اس سے نچلی سطر میں نمبر لگائیں دو، اس سے نچلی سطر میں تین، اسی طرح سولہ تک نمبر نیچے لگاتے چلے جائیں بھئی۔ ایک سے لے کر سولہ تک نمبر لگاتے چلے جائیں۔ جی، نمبر لگا لیے؟ نمبر لگا لیے بھئی؟ سولہ نمبر لگانے ہیں، ایک سے لے کر سولہ تک۔ ایک نمبر پر کیا لکھا؟ شرطیہ متصلہ۔ اب یوں کیجیے، پانچ نمبر پر لکھیے: منفصلہ حقیقیہ۔ یہ مقدمۂ اولیٰ کے خانے کی بات کر رہا ہوں، اسی میں پانچویں سطر پر لکھیے: منفصلہ حقیقیہ، منفصلہ حقیقیہ۔ اور اسی میں نویں سطر پر لکھیے: منفصلہ مانعۃ الجمع، یہی مقدمۂ اولیٰ کے خانے کے اندر، نویں سطر میں لکھیے: منفصلہ مانعۃ الجمع۔ تیرہ نمبر میں منفصلہ مانعۃ الخلو لکھیے، تیرہ نمبر سطر ہے، مقدمۂ اولیٰ والے خانے میں تیرہ نمبر سطر میں تیرہ نمبر کے ساتھ لکھیے: منفصلہ مانعۃ الخلو بھئی، منفصلہ مانعۃ الخلو۔ تو یہ مقدمۂ اولیٰ والے خانے میں ایک نمبر کے سامنے آپ نے لکھا شرطیہ متصلہ، پانچ نمبر کے سامنے لکھا منفصلہ حقیقیہ، نو نمبر کے سامنے لکھا منفصلہ مانعۃ الجمع اور تیرہ نمبر کے سامنے لکھا منفصلہ مانعۃ الخلو۔ تو دیکھو یہ مقدمۂ اولیٰ یہ چار صورتیں بنتی ہیں: یا یہ شرطیہ متصلہ ہو گا، یا یہ منفصلہ حقیقیہ ہو گا، یا یہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہو گا، یا یہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہو گا۔ اور پھر ہر ایک کے اندر آگے جو مقدمۂ ثانیہ آئے گا اس میں چار چار صورتیں بنیں گی بھئی، تو کل سولہ ضربیں بن جائیں گی۔ تو اب دوسرے خانے میں آئیے، مقدمۂ ثانیہ کا جو خانہ ہے اس میں پہلی سطر میں جو ایک نمبر والی ہے اس میں لکھیے: عینِ مقدم، عینِ مقدم۔ دوسری سطر میں لکھیے اسی مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں: عینِ تالی، عینِ تالی۔ تین نمبر سطر میں اسی مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں لکھیے: نقیضِ مقدم، نقیضِ مقدم۔ اور چار نمبر سطر میں لکھیے اسی خانے میں: نقیضِ تالی، نقیضِ تالی۔ تو یہ چار صورتیں بن گئیں شرطیہ متصلہ کے ساتھ ایک سے لے کر چار تک کہ مقدمۂ اولیٰ کیا ہو گا؟ شرطیہ متصلہ۔ آگے جو حرف استثناء کے بعد جو مقدمۂ ثانیہ یعنی قضیہ حملیہ ذکر ہو گا اس میں کبھی تو عین مقدم ذکر ہو گا، کبھی عین تالی، کبھی نقیض مقدم اور کبھی نقیض تالی۔ یہ چار صورتیں بن گئیں شرطیہ متصلہ کے اندر۔ یہی چار صورتیں بنیں گی منفصلہ حقیقیہ میں بھی بھئی۔ تو پانچ نمبر سطر میں منفصلہ حقیقیہ جہاں آپ نے لکھا ہے اس سے اگلے خانے میں مقدمۂ ثانیہ کے اندر بھی یہی اسی ترتیب سے چاروں لکھ لیں بھئی۔ پانچ نمبر میں عین مقدم لکھیں بھئی، یہ مقدمۂ ثانیہ والے خانے کی بات کر رہا ہوں بھئی۔ پانچ نمبر سطر میں یہاں کیا لکھیے؟ عین مقدم، اس سے نیچے لکھیے عین تالی، اس سے نیچے لکھیے نقیض مقدم اور اس سے نیچے لکھیے نقیض تالی۔ عین مقدم، عین تالی، نقیض مقدم، نقیض تالی، تو یہ آٹھ نمبر سطر تک بات ہو گئی۔ یہ چار صورتیں کس میں آ گئیں؟ منفصلہ حقیقیہ، یعنی اگر مقدمۂ اولیٰ منفصلہ حقیقیہ ہو تو جو دوسرا مقدمہ آئے گا وہ عین مقدم بھی ہو سکتا ہے، عین تالی بھی ہو سکتا ہے، نقیض مقدم بھی ہو سکتا ہے اور نقیض تالی بھی ہو سکتا ہے۔ اب آئیے نویں سطر میں، نویں سطر میں آپ نے پہلے خانے میں لکھا تھا منفصلہ مانعۃ الجمع، اس کے سامنے یہ جو دوسرا خانہ ہے مقدمۂ ثانیہ والا اس میں اسی طرح پھر وہی چاروں لکھ لیں اوپر سے نیچے کی طرف۔ نویں سطر میں لکھیں: عین مقدم، دسویں میں: عین تالی، گیارہویں میں: نقیض مقدم اور بارہویں میں: نقیض تالی۔ عین مقدم، عین تالی، نقیض مقدم اور نقیض تالی، یہ چار صورتیں منفصلہ مانعۃ الجمع میں بھی بن گئیں۔ اس سے آگے تیرہ نمبر سطر میں آئیے، اس میں آپ نے پہلے خانے میں لکھا تھا منفصلہ مانعۃ الخلو، دوسرے خانے میں یعنی مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں پھر اسی طرح وہی چاروں صورتیں لکھ دیں بھئی۔ تیرہ نمبر سطر میں آئے گا: عین مقدم، چودہ نمبر سطر میں آئے گا: عین تالی، پندرہ نمبر سطر میں آئے گا: نقیض مقدم اور سولہ نمبر میں آئے گا: نقیض تالی۔ تو پہلا قضیہ جو ہے وہ منفصلہ مانعۃ الخلو ہو اور دوسرا مقدمہ وہ یا عین مقدم ہو گا یا عین تالی یا نقیض مقدم یا نقیض تالی، اس میں بھی چار صورتیں بن گئیں۔ تو کل کتنی ضربیں ہو گئیں؟ سولہ ضربیں ہو گئیں۔ اب اس میں سے کچھ نتیجہ دیں گی اور کچھ نتیجہ نہیں دیں گی، کچھ منتج ہیں کچھ عقیم ہیں یعنی نتیجہ نہیں دیتیں، کون کون سی نتیجہ دیتی ہیں؟ یہ جو ایک نمبر آپ نے لکھا تھا، مقدمۂ اولیٰ کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ، اور مقدمۂ ثانیہ کیا ہے؟ عین مقدم، تو یہاں اب نتیجے والے خانے میں لکھیے: عینِ تالی۔ جو تیسرا خانہ ہے نتیجہ اس میں لکھیے: عینِ تالی۔ تو یہ پہلی ضرب نتیجہ دیتی ہے۔ اس سے نیچے دوسری اور تیسری ضرب نتیجہ نہیں دیتی بھئی، تو لہٰذا اس نتیجے والے خانے میں دوسری اور تیسری سطر میں کراس کا نشان لگا دیں، چھوٹا سا وہ کاٹے کا نشان لگا دیں یعنی اس کا نتیجہ نہیں آتا۔ چوتھی ضرب میں آئیے، مقدمۂ اولیٰ کیا ہے؟ شرطیہ متصلہ، اور مقدمۂ ثانیہ کیا ہے؟ نقیض تالی، یاد رکھو اس کا نتیجہ نقیضِ مقدم آئے گا۔ اس کا نتیجہ نقیضِ مقدم آئے گا۔ اب اس سے نیچے آئیے پانچ نمبر سطر میں نتیجے والے خانے میں لکھیے: نقیضِ تالی، نقیضِ تالی۔ چھ نمبر سطر میں نتیجے والے خانے میں لکھیے: نقیضِ مقدم۔ سات نمبر میں لکھیے: عینِ تالی۔ آٹھ نمبر میں لکھیے: عینِ مقدم۔ یہ نتیجے والے خانے کی تفصیل بیان کر رہا ہوں، پانچ نمبر میں پانچ نمبر سطر میں نقیض تالی، اس سے نیچے نقیض مقدم، اس سے نیچے عین تالی، اس کے نیچے عین مقدم۔ نویں سطر میں آئیے، اگر پہلا مقدمہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہو اور مقدمۂ ثانیہ عین مقدم ہو تو یاد رکھو اس کا نتیجہ نقیضِ تالی آتا ہے۔ تو نتیجے والے خانے میں نو نمبر سطر میں لکھ لیجیے: نقیضِ تالی، نقیضِ تالی۔ اس سے نیچے اسی خانے میں دس نمبر کے سامنے لکھیے: نقیضِ مقدم، نقیضِ مقدم۔ تو یہ نتیجے والے خانے میں نو نمبر میں کیا لکھا؟ نقیض تالی، اور دس میں؟ نقیض مقدم۔ آگے گیارہ، بارہ، تیرہ، چودہ ان ضربوں کے نتیجے نہیں آتے تو گیارہ، بارہ، تیرہ، چودہ ان سطروں کے اندر نتیجے والے خانے میں کراس کے نشان لگا دیں، کاٹے کے نشان لگا دیں تاکہ پتہ چلے کہ ان کا نتیجہ نہیں آتا۔ پندرہ نمبر سطر میں آئیے بھئی، پندرہ نمبر، اس میں مقدمۂ ثانیہ ہے نقیض مقدم بھئی اور نتیجے والے خانے میں نتیجہ لکھیے: عینِ تالی، عینِ تالی، عینِ تالی۔ اور سولہ نمبر میں سولہ نمبر نتیجے والے خانے میں لکھیے: عینِ مقدم۔ نتیجے والے خانے کی بات کر رہا ہوں، پندرہ نمبر سطر میں کیا لکھا؟ عین تالی، اور سولہ میں؟ عین مقدم، عین مقدم۔ یہ تفصیل ہے بھئی سولہ ضربیں جو قیاس استثنائی متصل و منفصل کی، اور ان میں سے کچھ منتج ہیں اور کچھ منتج نہیں۔ کتنی کا نتیجہ نہیں آتا؟ چھ ہیں، چھ ضربیں ہیں جن کا نتیجہ نہیں آتا اور دس ضربیں ہیں جن کا نتیجہ آتا ہے۔ اب آگے مثالِ مقدمۂ اولیٰ اور مثالِ مقدمۂ ثانیہ اور مثالِ نتیجہ، اس کے اندر ہم ان کی مثالیں کر لیں گے بھئی مثالیں کر لیں گے۔ مقدمۂ اولیٰ کی مثال لکھیے بھئی، پہلی سطر میں ایک نمبر کے سامنے مثالِ مقدمۂ اولیٰ پہلی سطر میں لکھیے: ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“. اور یہ ایک سے لے کر چار تک چاروں میں یہی مثال ہے مقدمۂ اولیٰ کی: ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، یہی مثال مقدمۂ اولیٰ کی چاروں ضربوں میں آئے گی۔ تو ایک سطر میں آپ نے یہ مثال لکھ لی، باقی کے نیچے وہ ایضاً کی علامت لگا دیں، دو برابر چھوٹی چھوٹی دو لکیریں ٹیڑھی کر کر جس کا معنی یہ ہے کہ اوپر جو ہے نیچے بھی وہی ہے۔ ایک میں تو آپ نے مثال لکھی باقی تینوں میں ایضاً کی علامتیں لگائیں، یہ سارے شرطیہ متصلہ۔ اب ان کے ساتھ مقدمۂ ثانیہ کیا تھا؟ ایک نمبر میں عین مقدم، ایک میں کیا تھا؟ عین مقدم، لہٰذا اب مثالِ مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں آئیے۔ یہ جو آپ نے مثال لکھی: ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، اس میں اس میں مقدم کیا ہے؟ ”الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، یہی یہی مثال بن جائے گی کس کی؟ مقدمۂ ثانیہ کی، مقدمۂ ثانیہ، مقدمۂ ثانیہ کیا تھا؟ پیچھے دیکھیں دوسرے خانے میں: عین مقدم، تو اسی عین مقدم کو ہم نے یہاں مثال والے خانے میں بھی لکھنا ہے، مثالِ مقدمۂ ثانیہ، اس کے اندر ایک نمبر سطر میں لکھیے وہی مقدم، ”لٰكِنَّ“ کے ساتھ لکھ دیں: ”لٰكِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ“، ”لٰكِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ“. اب مجھے بتائیے، ادھر دیکھیے: ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، ”لٰكِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ“، لیکن سورج تو موجود ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، دیکھا؟ وہ عین تالی نتیجہ آ گیا، ہم نے بھی پیچھے نتیجے والے خانے میں کیا لکھا تھا؟ عین تالی، تو یہاں بھی نتیجہ عین تالی آئے گا۔ تو یہاں مثالِ نتیجہ والے خانے میں لکھ دیجیے: ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، یہ ایک نمبر سطر میں، یہ ایک نمبر سطر میں۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ پورا قیاس کیا بنا؟ ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ لٰكِنَّ الشَّمْسَ طَالِعَةٌ“، نتیجہ کیا نکلا؟ ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“. دوسری اور تیسری ضرب ہاں، یہ دوسری اور تیسری ضرب اس کا تو نتیجہ ہی نہیں آتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ دوسری تیسری ضرب کا نتیجہ ہی نہیں آتا۔ چوتھی ضرب، چوتھی ضرب میں مقدمۂ ثانیہ کیا لکھا تھا ہم نے؟ پیچھے دیکھیں دوسرے خانے میں: نقیض تالی، اور تالی کیا ہے یہاں پر؟ ”اَلنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، اس کی نقیض لے آئیں: ”اَلنَّهَارُ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“، تو لکھیے بھئی یہ مثالِ مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں چار نمبر کے سامنے: ”لٰكِنَّ النَّهَارَ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“، ”لٰكِنَّ النَّهَارَ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“. اور اس کا نتیجہ کیا آئے گا بھئی؟ دیکھو پیچھے چار نمبر میں نتیجہ کیا تھا؟ نقیض مقدم، مقدم کیا ہے؟ ”الشَّمْسُ طَالِعَةٌ“، تو اس کی نقیض نکال لیں: ”الشَّمْسُ لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“، تو یہ مثالِ نتیجہ والے خانے میں چار نمبر کے سامنے سطر میں لکھیے: ”فَالشَّمْسُ لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“، ”فَالشَّمْسُ لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“. تو قیاس کیا بنا؟ ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ لٰكِنَّ النَّهَارَ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“، نتیجہ کیا نکلا؟ ”فَالشَّمْسُ لَيْسَتْ بِطَالِعَةٍ“، یہ نتیجہ آ گیا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ اب دیکھیے ذرا اس قیاس پر غور کیجیے، قیاس کیا بنا؟ ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، اگر سورج طلوع ہے تو دن موجود ہے، ”لٰكِنَّ النَّهَارَ لَيْسَ بِمَوْجُودٍ“، لیکن دن تو موجود نہیں، نتیجہ کیا نکلا کہ سورج بھی موجود نہیں ہے بھئی، نتیجہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ اور آپ دیکھ رہے ہیں، غور کر رہے ہیں کہ جو مقدمۂ ثانیہ ہے وہ بھی اسی اسی مقدمۂ اولیٰ سے لیا جاتا ہے، اور جو نتیجہ ہے وہ بھی اسی مقدمۂ اولیٰ سے لیتے ہیں، توجہ ہے؟ وہ بھی اسی سے لیتے ہیں۔ تو یہاں دیکھو یہ چار نمبر میں مقدمۂ ثانیہ کیا لیا؟ نقیض تالی، تالی کی نقیض لی، اور نتیجہ کیا آیا؟ نقیض مقدم نتیجہ آیا بھئی۔ اب آئیے پانچ نمبر میں بھئی، پانچ نمبر میں مقدمۂ اولیٰ ہے منفصلہ حقیقیہ، مقدمۂ ثانیہ ہے عین مقدم اور نتیجہ ہے نقیض تالی۔ اب اس کے آگے مثال لکھیے بھئی، مثالِ مقدمۂ اولیٰ کے خانے میں پانچ نمبر کے سامنے: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“. اور مثالِ مقدمۂ ثانیہ میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ زَوْجٌ“، ”لٰكِنَّهُ زَوْجٌ“. اور مثالِ نتیجہ میں لکھیے: ”فَهُوَ لَيْسَ بِفَرْدٍ“، ”فَهُوَ لَيْسَ بِفَرْدٍ“. دیکھو ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“ یہ منفصلہ حقیقیہ ہے اور اس میں مقدمۂ ثانیہ ہم کس کو لائے؟ کس کا استثناء کیا؟ پانچ نمبر میں دیکھیے، مقدمۂ ثانیہ کیا ذکر ہے؟ عین مقدم، اس عین مقدم کو ہم لائے اور ہم نے کیا کہا: ”لٰكِنَّهُ زَوْجٌ“، ”لٰكِنَّهُ“ یہ عین مقدم ہے، تو نتیجہ کیا آیا؟ نقیض تالی: ”فَهُوَ لَيْسَ بِفَرْدٍ“. آپ خود غور کر لیجیے، ادھر دیکھیے، میں کہتا ہوں یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے لیکن یہ زوج ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ یہ فرد نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جو مثال آپ نے لکھی مقدمۂ اولیٰ کی: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، یہ پانچویں سے لے کر آٹھویں ضرب تک سب میں یہی مثال ہے۔ لہٰذا اس کے نیچے تین سطریں جو ہیں ان میں ایضاً کی علامت ڈال دیں کہ یہاں بھی وہی مثال ہے بھئی۔ اب مثالِ مقدمۂ ثانیہ والے خانے میں آئیے، مقدمۂ اولیٰ کیا ہے؟ ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ“، چھ نمبر میں بھئی چھ نمبر میں، اور یہاں مثالِ مقدمۂ ثانیہ میں لکھیے چھ نمبر کے سامنے: ”لٰكِنَّهُ فَرْدٌ“، ”لٰكِنَّهُ فَرْدٌ“. ادھر دیکھیے، میں آپ سے کہتا ہوں یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے لیکن یہ فرد ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا یہ زوج نہیں، یہی نتیجہ ہے بھئی، نتیجے والے خانے میں لکھیے: ”فَهُوَ لَيْسَ بِزَوْجٍ“، ”فَهُوَ لَيْسَ بِزَوْجٍ“. سات نمبر سطر میں مثالِ مقدمۂ ثانیہ کے خانے میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِزَوْجٍ“، سات نمبر سطر ہے بھئی: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِزَوْجٍ“. اور آٹھ نمبر میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِفَرْدٍ“، اسی خانے میں آٹھ نمبر کے سامنے لکھیے: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِفَرْدٍ“. لکھ لیا؟ اب دیکھیے یہ سات نمبر ذرا دیکھیں: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِزَوْجٍ“، دیکھیے قیاس کیا بنا؟ ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِزَوْجٍ“، یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے لیکن یہ زوج نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ تو یہ فرد ہے، تو یہ نتیجہ لکھیے: ”فَهُوَ فَرْدٌ“، سات نمبر کے سامنے مثالِ نتیجہ کے اندر: ”فَهُوَ فَرْدٌ“. تو قیاس پورا کیا بنا؟ پھر دیکھیے: ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِزَوْجٍ“، تو نتیجہ آیا: ”فَهُوَ فَرْدٌ“. آٹھ نمبر میں دیکھیے، ادھر دیکھیے، آٹھ نمبر میں قیاس کیا ہے؟ یہ عدد یا تو زوج ہے یا فرد ہے لیکن یہ فرد نہیں ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ تو یہ زوج ہے، تو آٹھ نمبر میں نتیجے میں لکھیے: ”فَهُوَ زَوْجٌ“، ”فَهُوَ زَوْجٌ“. پورا قیاس کیا بنا؟ ”هٰذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِفَرْدٍ“، نتیجہ کیا آیا؟ ”فَهُوَ زَوْجٌ“، یہ آٹھ نمبر ضرب بیان ہو رہی ہے۔ جو مقدمۂ اولیٰ ہے وہ منفصلہ حقیقیہ ہے اور مقدمۂ ثانیہ جو ہے وہ نقیض تالی ہے اور نتیجہ جو ہے وہ عین مقدم ہے بھئی۔ اب آئیے نو نمبر ضرب میں بھئی، نو نمبر ضرب میں مثالِ مقدمۂ اولیٰ کے خانے میں لکھیے: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ“، ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ“، ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ“. اور مثالِ مقدمۂ ثانیہ کے خانے میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ شَجَرٌ“، ”لٰكِنَّهُ شَجَرٌ“. ادھر دیکھیے، میں آپ سے کہتا ہوں یہ چیز یا تو شجر ہے یا حجر ہے لیکن یہ شجر ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ کہ یہ حجر نہیں ہے، تو نتیجہ لکھیے: ”فَهُوَ لَيْسَ بِحَجَرٍ“، ”فَهُوَ لَيْسَ بِحَجَرٍ“. نو نمبر ضرب کیا بن گئی؟ ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ لٰكِنَّهُ شَجَرٌ“، نتیجہ آیا: ”فَهُوَ لَيْسَ بِحَجَرٍ“. دس نمبر ضرب میں آئیے اور مثالِ مقدمۂ اولیٰ کے اندر لکھیے ہاں، اس میں بھی وہی اوپر والی مثال آئے گی، ایضاً کی علامت ڈال دیں یا دوبارہ لکھنا ہو دوبارہ لکھ لیں: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ“. اور آگے مقدمۂ ثانیہ کی مثال والے خانے میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ حَجَرٌ“، ”لٰكِنَّهُ حَجَرٌ“. اور نتیجے والے خانے میں لکھیے: ”فَهُوَ لَيْسَ بِشَجَرٍ“، ”فَهُوَ لَيْسَ بِشَجَرٍ“. کیا قیاس بنا بھئی؟ دسویں ضرب کی بات ہو رہی ہے، شروع سے دیکھیے دسویں ضرب میں مقدمۂ اولیٰ ہے منفصلہ مانعۃ الجمع، اور مقدمۂ ثانیہ ہے عین تالی، اور نتیجہ کیا آئے گا؟ نقیض مقدم، اور پھر اس کی مثال بھی ہم نے کر لی: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا شَجَرٌ أَوْ حَجَرٌ“، اور مقدمۂ ثانیہ کی مثال: ”لٰكِنَّهُ حَجَرٌ“، اور نتیجہ کیا آیا؟ ”فَهُوَ لَيْسَ بِشَجَرٍ“. اگلی چار ضربوں کا نتیجہ نہیں آتا، لہٰذا پندرھویں ضرب پر آئیے، پندرھویں ضرب، جس میں مقدمۂ اولیٰ ہے منفصلہ مانعۃ الخلو اور مقدمۂ ثانیہ ہے۔ ہے نقیضِ مقدم اور نتیجہ جو آئے گا وہ عینِ تالی آئے گا۔ اس کی مثال لکھیے بھئی، مثالِ مقدمہ اولیٰ کے خانے میں۔ مثالِ مقدمہ اولیٰ کے خانے میں: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا لَا شَجَرٌ أَوْ لَا حَجَرٌ“، ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا لَا شَجَرٌ أَوْ لَا حَجَرٌ“، ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا لَا شَجَرٌ أَوْ لَا حَجَرٌ“۔ اور مثالِ مقدمہ ثانیہ کے خانے میں لکھیے بھئی، پندرہ نمبر سطر میں: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِلَا شَجَرٍ“، ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِلَا شَجَرٍ“۔ نتیجہ لکھیے: ”فَهُوَ لَا حَجَرٌ“، ”فَهُوَ لَا حَجَرٌ“۔ میں کہتا ہوں آپ سے، یہ چیز یا تو لا شجر ہے یا لا حجر ہے اور پھر کہتا ہوں لیکن یہ لا شجر نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا کیا ہے؟ لا حجر ہے، یہی نتیجہ ہے: ”فَهُوَ لَا حَجَرٌ“، ”فَهُوَ لَا حَجَرٌ“۔ سولہ نمبر ضرب میں آئیے بھئی۔ اس میں بھی مقدمہ اولیٰ کی جو مثال ہے وہی ہوگی: ”هٰذَا الشَّيْءُ إِمَّا لَا شَجَرٌ أَوْ لَا حَجَرٌ“۔ اور مثالِ مقدمہ ثانیہ کے خانے میں لکھیے: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِلَا حَجَرٍ“، ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِلَا حَجَرٍ“۔ یہ سولہ نمبر سطر میں مثالِ مقدمہ ثانیہ کے خانے میں: ”لٰكِنَّهُ لَيْسَ بِلَا حَجَرٍ“۔ نتیجہ ہے: ”فَهُوَ لَا شَجَرٌ“، ”فَهُوَ لَا شَجَرٌ“۔ ادھر دیکھیے۔ قیاس کیا بنا؟ ادھر دیکھیے، یہ شے یا تو لا شجر ہے یا لا حجر ہے لیکن یہ لا حجر نہیں ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ معلوم ہوا یہ لا شجر ہے، یہی نتیجہ آیا بھئی۔ جی، نقشہ مکمل ہوا بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ یہ سولہ ضربیں بنیں، ان میں سے دس نتیجہ دیتی ہیں اور چھ نتیجہ نہیں دیتیں اور ہم نے سب کی مثالیں بھی کر لیں بھئی، مثالیں۔ اور اس میں اور اس میں آپ غور کیجیے، جو منفصلہ مانعۃ الجمع ہے۔ منفصلہ مانعۃ الجمع، اس میں صرف دو ضربیں نتیجہ دے رہی ہیں۔ کون سی دو ضربیں؟ جن میں مقدمہ ثانیہ کیا ہے؟ عینِ مقدم یا عینِ تالی ہے۔ دوسرے خانے پہ دیکھیے۔ نو اور دس، یہ نتیجہ دے رہی ہیں۔ مقدمہ اولیٰ کیا ہے؟ منفصلہ مانعۃ الجمع اور مقدمہ ثانیہ کیا ہے؟ عینِ مقدم یا عینِ تالی۔ یہ دو نتیجہ دے رہی ہیں۔ اب نیچے آئیے پندرہ اور سولہ میں، یہاں پر دیکھیے مقدمہ اولیٰ منفصلہ مانعۃ الخلو ہے۔ اور اس میں مقدمہ ثانیہ کیا ہے جو نتیجہ دے رہا ہے پندرہ اور سولہ میں؟ نقیضِ مقدم اور نقیضِ اور نقیضِ تالی۔ تو معلوم ہوا مانعۃ الجمع میں وہ دو، وہ دو ضربیں نتیجہ دے رہی ہیں جہاں کس کا استثناء ہے؟ عینِ مقدم کا۔ توجہ ہے؟ نو اور دس میں دوسرے خانے میں دیکھیے، عینِ مقدم اور عینِ تالی۔ اور پندرہ اور سولہ میں دوسرے خانے میں دیکھیے، نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی۔ معلوم ہوا ادھر دیکھیے، جب پہلا مقدمہ منفصلہ مانعۃ الجمع ہو، مانعۃ الجمع، تو اس کی وہ دو ضربیں نتیجہ دیں گی جن میں عینِ مقدم یا عینِ تالی کا استثناء ہوگا۔ اور مانعۃ الخلو کے اندر وہ ضربیں نتیجہ دیں گی جس میں نقیضِ مقدم یا نقیضِ تالی کا استثناء ہوگا۔ توجہ ہے؟ مانعۃ الجمع میں عینِ مقدم اور عینِ تالی کا استثناء ہو تو نتیجہ آئے گا اور مانعۃ الخلو میں نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی کا استثناء ہو تو نتیجہ آئے گا۔ اور میں نے آپ کو بتایا تھا جو حقیقیہ ہوتا ہے، وہ مانعۃ الجمع بھی ہوتا ہے اور مانعۃ الخلو۔ تو اس میں عینِ مقدم اور عینِ تالی، یہ دو صورتیں بھی نتیجہ دیں گی اور نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی، یہ دونوں بھی نتیجہ دیں گی۔ اسی لیے آپ دیکھیں کہ جو پانچ سے لے کر آٹھ تک منفصلہ حقیقیہ ہے، اس میں عینِ مقدم اور عینِ تالی والی صورت بھی نتیجہ دے رہی ہے اور نقیضِ مقدم اور نقیضِ تالی والی صورت بھی نتیجہ دے رہی ہے۔ کیونکہ یہ جو منفصلہ حقیقیہ ہے، یہ مانعۃ الجمع بھی ہے اور مانعۃ الخلو بھی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی، اچھی طرح؟ تو یہ تفصیل تھی قیاسِ استثنائی کی اور اس کی سولہ ضربیں ساری آپ نے لکھ لیں۔ انشاء اللہ اب اگلے سبق میں ہم جو عبارت حل کریں گے تو وہ آپ کو پوری سمجھ میں آئے گی، اچھے طریقے سے حل ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ”هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“۔
115 approved lectures · 104 of 115