آگے دیکھیے بھئی سبق، متن دیکھ لیجیے: وَلَا بُدَّ فِيهِ مِنَ اللُّزُومِ عَقْلًا أَوْ عُرْفًا وَتَلْزَمُهُمَا الْمُطَابَقَةُ وَلَوْ تَقْدِيرًا وَلَا عَكْسَ۔ گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا کہ دلالت لفظیہ وضعیہ کی تین قسمیں ہیں۔ ایک ہے دلالت مطابقی، ایک ہے دلالت تضمنی اور ایک ہے دلالت التزامی۔ دلالت مطابقی اسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے پورے معنی موضوع لہو پر دلالت کرے۔ اور دلالت تضمنی اسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہو کے جز پر دلالت کرے۔ اور دلالت التزامی اسے کہتے ہیں کہ لفظ اپنے معنی موضوع لہو کے لازم پر دلالت کرے۔ یعنی نہ کل پہ دلالت کرے نہ جز پر بلکہ ایک امر خارج ایک الگ چیز جو اس معنی موضوع لہو کے ساتھ لازم ہے اس پر کیا کرے؟ دلالت کرے بھئی۔
اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ ہم بھی عام کلام کے اندر اس کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ کبھی ہم لفظ بولتے ہیں اور اس کا معنی موضوع لہو جو ہے اسی کا ارادہ کر لیتے ہیں، کبھی ہم لفظ بولتے ہیں اور اس کے جز کا ارادہ کر لیتے ہیں اور کبھی ہم لفظ بولتے ہیں اور اس کے ذریعے کسی امر خارج کا، کسی تیسری چیز یعنی لازم کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ میں نے اس کی مثال دی تھی، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے، رمضان کے بعد اپنے ساتھیوں کو بتلاتا ہے کہ میں نے اس سال رمضان میں قرآن تراویح میں سنایا۔ تو اب اس قرآن کے ذریعے کیا مراد لیتا ہے؟ پورا قرآن، کتنے پاروں پر مشتمل ہے جو؟ جو 30 پاروں پر مشتمل ہے۔ تو دیکھو لفظ قرآن وضع بھی ان 30 پاروں کے لیے ہے اور اس نے ارادہ بھی کس کا کیا؟ 30 پاروں ہی کا کیا تو یہ کون سی ہوئی دلالت مطابقی۔
اور کبھی کبھار وہ لفظ قرآن آپ بولتے ہیں اور اس کے ذریعے صرف قرآن کے تھوڑے سے حصے کا ارادہ کر لیتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنے ساتھی کو بتلاتے ہیں کہ میں روزانہ صبح قرآن کی تلاوت کرتا ہوں۔ اب آپ نے لفظ قرآن کہا اور آپ روزانہ مثلاً ایک یا دو پاروں کی تلاوت کرتے ہیں تو آپ نے لفظ قرآن بولا اور قرآن تو وضع ہے 30 پاروں کے لیے لیکن آپ کتنے کا ارادہ کر رہے ہیں؟ ایک یا دو پاروں کا۔ تو دیکھا آپ نے کل بول کر جز مراد لیا۔ یا اسی طرح ہے جیسے میں نے دوسری مثال ذکر کی تھی، آپ اپنے ساتھی سے کہتے ہیں کہ میں پشاور میں رہتا ہوں۔ اب پشاور تو پورا بڑا شہر ہے کئی کلومیٹر میں پھیلا ہوا ہے اور آپ تو اس کے ایک چھوٹے سے محلے میں یا ایک مکان کے اندر رہتے ہیں۔ تو اب آپ نے کہا میں پشاور میں رہتا ہوں تو یہاں پشاور سے پورا شہر نہیں مراد بلکہ اس کا وہ تھوڑا سا حصہ مراد ہے وہ محلہ یا وہ گھر مراد ہے۔ تو دیکھا؟ آپ نے کل بول کر جز مراد لیا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور کبھی کبھار جو ہے آپ لفظ بولتے ہیں اور آپ نہ اس سے کل کا ارادہ کرتے ہیں نہ جز کا، بلکہ اس کے کسی لازم کا ارادہ کرتے ہیں۔ جیسے آپ کا ایک ساتھی آیا، وہ جیسے ہی آیا آپ نے کہا حاتم طائی آ گیا ہے یہ اب سب ساتھیوں کو چائے پلائے گا۔ اب حاتم طائی دیکھو، حاتم طائی کا لفظ تو وضع ہے عرب کے اندر ایک مشہور سخی گزرا تھا اس کا نام کیا تھا؟ حاتم طائی۔ تو وہ اس کی ذات کے لیے وضع ہے، اب نہ آپ نے اس سے حاتم طائی کل مراد لیا نہ اس کا جز مراد لیا بلکہ اس کے ساتھ جو ایک صفت لازم سمجھی جاتی ہے اور وہ ہے سخاوت تو آپ نے سخاوت کا ارادہ کیا۔ تو آپ نے کیا کہا حاتم طائی آ گیا ہے یعنی سخی آدمی آ گیا۔ تو دیکھا حاتم طائی کے ذریعے آپ نے کل کا بھی ارادہ نہیں کیا جز کا بھی نہیں کیا بلکہ اس کے ایک لازم وصف کا ارادہ کیا جو اس کے ساتھ لازم ہے۔ کیونکہ عرف میں سخاوت کو حاتم طائی کے ساتھ لازم سمجھا جاتا ہے کہ حاتم طائی ہو اور سخاوت نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا، لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے۔
یا جیسے آپ اپنے ساتھی کے بارے میں بتلاتے ہیں کہ وہ تو شیر ہے شیر بھئی۔ اب دیکھیے شیر تو ایک جنگلی درندے کا نام ہے لیکن یہاں آپ نے اس کے ایک لازم یعنی بہادری کا ارادہ کیا ہے کہ یعنی وہ بہادر آدمی ہے۔ شیر کا لفظ بولا ہے اور ایک انسان کے لیے آپ استعمال کر رہے ہیں تو نہ معنی موضوع لہو کا ارادہ درندہ مراد نہیں ہے۔ اور اس کا جز بھی مراد نہیں بلکہ اس کا ایک لازم وصف یعنی شجاعت اور بہادری مراد ہے بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟
تو یہ ہم بھی استعمال کرتے ہیں، تو میں نے بتلایا کہ منطق بڑا دلچسپ اور پیارا فن ہے بھئی۔ اس میں وہی باتیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں، جو ہم استعمال کرتے ہیں، جو ہم بولتے ہیں وہی چیزیں ہیں ساری، صرف ان کے نام علمی رکھ دیے۔ جیسے ہمارے ذہن میں مختلف قسم کے علم، صورتیں آتی ہیں مختلف چیزوں کی تو کسی کا نام انہوں نے تصور رکھ دیا، کسی کا نام تصدیق رکھ دیا۔ اسی طرح یہ جو مختلف لفظ ہم بولتے ہیں، کبھی پورے معنی موضوع لہو کا ہم ارادہ کرتے ہیں کبھی جز کا، کبھی امر خارج کا ارادہ کرتے ہیں تو پورے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کا نام انہوں نے کہا بھئی یہ ہے دلالت مطابقی۔ اور جز پر دلالت کا ارادہ ہو تو یہ کون سی دلالت ہے دلالت تضمنی ہے۔ اور اگر امر خارج کا ارادہ کرتے ہیں تو یہ دلالت کون سی ہوئی دلالت التزامی ہے۔ تو وہی چیزیں ہیں جو ہم عام استعمال کرتے ہیں البتہ منطق والوں نے اس کے علمی نام رکھ دیے۔
اب یہ دلالت مطابقی کو دلالت مطابقی کیوں کہتے ہیں، تضمنی کو تضمنی کیوں کہتے ہیں اور التزامی کو التزامی کیوں کہتے ہیں، تو اس کی وجہ اچھی طرح سمجھ لیجیے بھئی۔ دلالت مطابقی کو مطابقی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہاں لفظ اور معنی میں مطابقت ہے۔ کس کے اندر؟ لفظ اور معنی میں۔ دیکھو حافظ قرآن نے کہا میں نے قرآن سنایا ہے اور قرآن بول کر پورا قرآن مراد لیا۔ قرآن کا لفظ وضع بھی کس کے لیے؟ پورے قرآن کے لیے۔ اور مدلول جو ہے یہاں پر جو معنی جو ارادہ کیا وہ بھی کیا ہے؟ پورا قرآن۔ تو دیکھو لفظ بھی پورے قرآن کے لیے وضع اور مدلول بھی یہاں پر کیا ہے پورا قرآن۔ تو دونوں میں مطابقت ہے لفظ میں بھی لفظ میں اور اس کے مدلول اور معنی میں مطابقت ہے۔ لفظ بھی کس کے لیے؟ پورے قرآن کے لیے اور دلالت بھی کس پر کر رہا ہے؟ پورے قرآن پر تو دونوں میں کیا ہوئی؟ مطابقت ہوئی۔ لفظ اور معنی میں مطابقت ہوئی دونوں ایک دوسرے کے مطابق، لفظ معنی کے مطابق اور معنی لفظ کے مطابق، کیونکہ یہ لفظ اسی کے لیے وضع ہے اسی کے لیے مقرر ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں دلالت مطابقی کہتے ہیں۔
اور دلالت تضمنی، تضمن ضمن سے ہے، ضمن کا معنی بیچ میں آنا۔ تو جب آپ نے لفظ بول کر اس کے جز کا ارادہ کیا تو وہ جز اس معنی موضوع لہو کے بیچ میں آ گیا، اس کے ضمن میں آ گیا۔ جیسے آپ نے قرآن سے ایک دو پارے مراد لیے تو یہ ایک دو پارے قرآن کے ضمن میں ہیں قرآن کے بیچ میں ہیں۔ تو یہاں پر بھی آپ نے ایسے معنی، تو یوں کہو یہاں پر جو مدلول ہے وہ معنی موضوع لہو کے ضمن میں ہے۔ مدلول کیا؟ آپ نے لفظ قرآن بولا اور کتنے پاروں کا ارادہ کیا؟ مثلاً دو پاروں کا ارادہ کیا۔ اور لفظ وضع کس کے لیے ہے؟ پورے قرآن یعنی 30 پاروں کے لیے۔ تو یہ دو پارے ان 30 پاروں کے بیچ میں آ گئے یا نہیں آ گئے؟ بیچ میں آ گئے۔ تو یہاں پر دیکھو مدلول معنی موضوع لہو کے ضمن میں ہے۔ معنی موضوع لہو کیا؟ 30 پارے۔ اور معنی جو مدلول جس پر آپ دلالت کا ارادہ کر رہے ہیں وہ کیا؟ دو پارے۔ تو یہ دو پارے اس معنی موضوع لہو یعنی 30 پاروں کے ضمن میں آ گئے، بیچ میں آ گئے۔
یا دوسری مثال لے لو۔ جیسے مثلاً انسان کا لفظ وضع ہے حیوان ناطق کے لیے۔ انسان کے دو جز ہیں ایک حیوان اور ایک ناطق۔ یہ دونوں جز ملیں گے تو انسان کا وجود ہوگا۔ ان میں سے ایک چیز بھی کم ہو گئی تو انسان کا وجود نہیں ہو سکتا۔ تو اب میں نے جب انسان بولا اور اس سے پورے حیوان ناطق کا ارادہ کیا تو دیکھو لفظ اور معنی میں کیا ہے مطابقت ہے۔ تو دلالت کون سی ہوئی دلالت مطابقی؟ لفظ وضع بھی کس کے لیے حیوان ناطق کے لیے، معنی موضوع لہو کیا حیوان ناطق اور جو ارادہ کیا جو معنی کا وہ بھی کون سا ہے حیوان ناطق۔ تو معنی موضوع لہو اور مدلول میں کیا ہوئی؟ مطابقت ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے مطابق ہیں اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں دلالت مطابقی۔ اور اگر میں انسان بولوں اور صرف حیوان کا ارادہ کر لوں، یا صرف ناطق کا ارادہ کر لوں تو اب لفظ اپنے معنی موضوع لہو کے جز پر دلالت کر رہا ہے۔ اور جز یہ جو حیوان ہے وہ معنی موضوع لہو کے ضمن میں آ گیا یا نہیں؟ یہ حیوان اس حیوان ناطق، معنی موضوع لہو کیا؟ حیوان ناطق اور آپ کس کا ارادہ کر رہے ہیں؟ صرف حیوان۔ تو یہ حیوان اس حیوان ناطق کے ضمن میں آ گیا بیچ میں آ گیا۔ اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں دلالت تضمنی۔ کیونکہ جز کل کے ضمن میں آ جاتا ہے اس کے بیچ میں ہی آ جاتا ہے۔ کل بغیر جز کے ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ سمجھ میں آئی بات؟
حیوان ناطق یہ کیا ہے کل؟ اور اس میں دونوں جز حیوان اور ناطق ہیں یا نہیں۔ ایک جز بھی نکال دو تو کل رہے گا؟ اس کا ایک جز حیوان ہے وہ نکال دیا تو حیوان ناطق تو نہ رہا صرف ناطق رہ گیا تو کل بھی ختم ہوا۔ یا صرف ناطق کو نکال دیں تو صرف حیوان رہ گیا تو کل نہ رہا۔ تو کل کے لیے جز کا ہونا ضروری ہے۔ تو کل کے ضمن میں جز بھی آ جاتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں دلالت تضمنی کہتے ہیں۔ اور دلالت التزامی کو التزامی اس لیے کہتے ہیں کیونکہ وہاں معنی موضوع لہو، آپ کس کا ارادہ کرتے ہیں اس کے ذریعے؟ معنی موضوع لہو کا یا دوسرے معنی کا؟ نہ کل کا ارادہ کرتے ہیں نہ جز کا بلکہ ایک تیسرے معنی کا ارادہ کرتے ہیں۔ جیسے حاتم طائی آپ نے بولا اور نہ اس سے کل کا ارادہ کیا اور نہ جز کا بلکہ ایک امر خارج ایک تیسری چیز کا ارادہ کیا جو اس کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے۔ تو اس دلالت کو دلالت التزامی کہتے ہیں کیونکہ یہاں پر معنی موضوع لہو اور اس امر خارج میں لزوم ہوتا ہے۔ ذہن اس کو لازم سمجھتا ہے ذہن حاتم طائی اور سخاوت میں سمجھتا ہے کہ لزوم ہے۔ سخاوت حاتم طائی کے ساتھ لازم ہے۔ حاتم طائی بغیر سخاوت کے نہیں ہو سکتا۔
یا جیسے اور مثال لے لو۔ جیسے شیر، شیر کے ساتھ، آپ نے لفظ شیر بولا، آپ کا ایک ساتھی کمرے میں آیا اور آپ نے کیا کہا شیر آ گیا ہے۔ اب یہاں کوئی جنگلی درندہ آیا ہے یا ایک بہادر انسان آیا ہے؟ بہادر انسان۔ تو یہاں دیکھو شیر تو وضع ہے جنگلی درندے کے لیے تو آپ نے جنگلی درندے والے معنی کا ارادہ نہیں کیا، نہ پورے درندے کا، نہ اس کے کسی جز کا ارادہ کیا۔ بلکہ ایک امر خارج یعنی بہادری کا ارادہ کیا۔ کیونکہ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شیر کے ساتھ بہادری لازم ہے۔ بہادری اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔ جب آپ نے کہا شیر آ گیا، کیا کل کا ارادہ کیا؟ نہیں۔ جز کا ارادہ کیا؟ نہیں۔ بلکہ کس کا ارادہ کیا؟ بہادری کا۔ اور معنی موضوع لہو کیا؟ وہ جنگلی درندہ۔ اور ارادہ کس کا کیا؟ بہادری کا۔ اور یہ بہادری اس معنی موضوع لہو یعنی جنگلی درندے کے ساتھ آپ کا ذہن، آپ کی عقل لازم سمجھتی ہے۔ یعنی جیسے حاتم طائی کے ساتھ آپ کا ذہن سخاوت کو لازم سمجھتا ہے، یا جیسے گدھے کے ساتھ انسان حماقت کو لازم سمجھتا ہے، جیسے کوئی بیوقوف آئے اور آپ کہیں کہ گدھا آ گیا۔ تو دیکھا، یہاں نہ کل مراد نہ جز مراد بلکہ اس کا ایک وصف لازم مراد ہے بھئی۔ تو گدھے اور حماقت میں انسان کیا سمجھتا ہے؟ لزوم سمجھتا ہے یہاں پر لزوم سمجھا جاتا ہے۔
یا جیسے شیطان ہے بھئی شیطان۔ مثلاً کوئی شخص آیا اور وہ ہر وقت لوگوں کو تکلیف دیتا رہتا ہے تو جیسے ہی وہ آیا کسی نے کہا شیطان آ گیا۔ اب یہاں حالانکہ شیطان تو ابلیس اور اس کی اولاد پر بولا جاتا ہے لیکن یہاں تو انسان آیا ہے، تو یہاں نہ معنی موضوع لہو کا کل بھی مراد نہیں، اس کا جز بھی مراد نہیں بلکہ ایک تیسری چیز یعنی اس کا وصف شرارت مراد ہے تکلیف دینا مراد ہے۔ اور عقل کیا سمجھتی ہے؟ شیطان کے ساتھ تکلیف دینا لازم ہے۔ تو یہاں یاد رکھو کہ دلالت التزامی میں معنی موضوع لہو اور مدلول میں کیا ہوتا ہے؟ لزوم ہوتا ہے۔ حاتم طائی کے ساتھ کیا لازم؟ سخاوت، تو آپ لفظ حاتم طائی بولیں اور ارادہ کس کا کریں سخاوت کا۔ یا آپ شیطان بولیں اور ارادہ شرارت کا کریں۔ یا آپ گدھے کا لفظ بولیں اور ارادہ کس کا کریں حماقت کا ارادہ کریں۔ یا آپ شیر کا لفظ بولیں اور کس کا ارادہ کریں بہادری کا۔ تو یہاں دیکھو معنی موضوع لہو اور جو جس معنی کا آپ ارادہ کر رہے ہیں یعنی مدلول، معنی موضوع لہو اور مدلول دونوں میں کیا ہے؟ لزوم ہے۔ ذہن ان کو کیا سمجھتا ہے؟ لازم کہ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے، شیر کے ساتھ بہادری لازم ہے، گدھے کے ساتھ حماقت لازم ہے، شیطان کے ساتھ شرارت لازم ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو دلالت التزامی کو التزامی اس لیے کہتے ہیں کہ معنی موضوع لہو اور اس امر خارج میں عقل لزوم سمجھتی ہے کہ ان میں لزوم ہے یہ اس کے ساتھ لازم ہے۔ اسی لیے اس کو دلالت التزامی کہتے ہیں۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ دلالت التزامی میں لزوم کا ہونا ضروری ہے۔ جب بھی آپ ایک لفظ بولیں اور نہ معنی موضوع لہو کا ارادہ کریں نہ اس کے جز کا ارادہ کریں بلکہ ایک تیسری خارجی چیز کا ارادہ کریں، تو اس تیسری چیز میں اور معنی موضوع لہو میں کیا ضروری ہے؟ لزوم ضروری ہے۔ پھر یہ لزوم عقلاً بھی ہو سکتا ہے اور عرفاً بھی۔ یعنی عقل ان دونوں میں لزوم سمجھتی ہے۔ عقلاً لزوم کا معنی یہ ہے کہ عقل محال سمجھتی ہے کہ یہ پہلی چیز پائی جائے اور دوسری چیز نہ پائی جائے ایسا نہیں ہو سکتا۔ جیسے مثلاً حاتم طائی پایا جائے اور سخاوت نہ پائی جائے ایسا نہیں ہو سکتا، شیر پایا جائے اور بہادری نہ پائی جائے ایسا نہیں ہو سکتا، شیطان ہو اور شرارت نہ ہو ایسا عقل ان میں کیا سمجھتی ہے؟ لزوم سمجھتی ہے۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ پہلی چیز پائی جائے اور دوسری نہ پائی جائے دونوں لازم ہیں بھئی۔ تو یہ لزوم کون سا ہوا؟ لزوم عقلی۔
تو معلوم ہوا دلالت التزامی میں معنی موضوع لہو اور مدلول کے درمیان کیا ہوگا؟ لزوم ہوگا۔ تو لزوم ضرور ہوگا۔ ضروری ہے دلالت التزامی میں لزوم کا ہونا عقلاً یا عرفا۔ یہ معنی ہے وَلَا بُدَّ فِيهِ مِنَ اللُّزُومِ عَقْلًا أَوْ عُرْفًا اور ضروری ہے دلالت التزامی میں لزوم کا ہونا عقلاً یا عرفا۔ قَوْلُهُ وَلَا بُدَّ فِيهِ أَيْ فِي دَلَالَةِ الِالْتِزَامِ، قَوْلُهُ مِنَ اللُّزُومِ کیا ہونا ضروری ہے لزوم کا ہونا ضروری، تو مصنف کا قول مِنَ اللُّزُومِ کا معنی کیا ہے؟ أَيْ كَوْنُ الْأَمْرِ الْخَارِجِ بِحَيْثُ يَسْتَحِيلُ تَصَوُّرُ الْمَوْضُوعِ لَهُ بِدُونِهِ۔
تو معلوم ہوا، دلالت التزامی میں معنی موضوع لہو اور مدلول کے درمیان کیا ہوگا؟ لزوم ہوگا۔ تو لزوم ضرور ہوگا۔ چاہے لزوم عقلاً ہو چاہے عرفاً ہو۔ لزوم ضرور ہوگا۔ تو کبھی کبھار تو لزوم عقلاً ہوگا۔ یعنی عقل سمجھتی ہے کہ اس معنی موضوع لہو کے ساتھ یہ دوسرا معنی کیا ہے لازم ہے، یہ اس کے بغیر آ ہی نہیں سکتا۔ اور لزوم عرفاً کا معنی یہ ہے کہ عقل تو لازم نہیں سمجھتی لیکن عام لوگ کیا ہیں اس کو لازم سمجھتے ہیں۔ جیسے شیر کے ساتھ بہادری، عقل تو کہتی ہے شیر بغیر بہادری کے بھی ہو سکتا ہے لیکن عرفاً کیا ہے شیر کے ساتھ بہادری کو لازم سمجھا جاتا ہے۔
اب ذرا شرح میں آ جائیے۔ قَوْلُهُ وَلَا بُدَّ فِيهِ، مصنف کا قول وَلَا بُدَّ فِيهِ، أَيْ فِي دَلَالَةِ الِالْتِزَامِ، کیا بتلانا چاہ رہے ہیں؟ ضمیر کا مرجع۔ وَلَا بُدَّ فِيهِ أَيْ فِي دَلَالَةِ الِالْتِزَامِ، بتلانا کیا چاہتے ہیں؟ فِيهِ کی ضمیر کس کو راجع ہے، دلالت التزامی کو۔ قَوْلُهُ مِنَ اللُّزُومِ، کیا ہونا ضروری ہے؟ لزوم کا ہونا ضروری۔ تو مصنف کا قول مِنَ اللُّزُومِ کا معنی کیا ہے؟ یعنی عقل اس بات کو محال سمجھتی ہے کہ موضوع لہو پایا جائے اور یہ دوسری چیز نہ پائی جائے، ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ جب بھی معنی موضوع لہو پایا جائے گا، ساتھ اس کا وہ امر خارج ضرور پایا جائے گا۔ حاتم طائی جب بھی پایا جائے گا، سخاوت ضرور پائی جائے گی۔ سورج جب بھی نکلے گا، دن ضرور پایا جائے گا۔ تو لزوم کا یہ معنی ہے کہ عقل ان دونوں کو لازم سمجھتی ہے۔
یہ معنی ہے أَيْ كَوْنُ الْأَمْرِ الْخَارِجِ، یعنی وہ امر خارج کا ہونا بِحَيْثُ يَسْتَحِيلُ تَصَوُّرُ الْمَوْضُوعِ لَهُ بِدُونِهِ اس طور پر کہ محال ہو موضوع لہو کا تصور اس کے بغیر۔ وہ امر خارج اس طور پر ہو کہ موضوع لہو یعنی حاتم طائی کا تصور، اس امر خارج یعنی سخاوت کے بغیر محال ہو۔ سَوَاءٌ كَانَ هَذَا اللُّزُومُ الذِّهْنِيُّ عَقْلًا، برابر ہے کہ یہ لزوم ذہنی عقلاً ہو، كَالْبَصَرِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْعَمَى، جیسے کہ بینائی نسبت کرتے ہوئے اندھے پن کی طرف، أَوْ عُرْفًا كَالْجُودِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى حَاتِمٍ، یا وہ لزوم ذہنی کیا ہو؟ عرفاً ہو۔ جیسے سخاوت حاتم کی طرف نسبت کرتے ہوئے۔
اب حاتم طائی ایک انسان ہے، سخاوت اس کے ساتھ عقلاً تو لازم نہیں، عقل تو کہتی ہے حاتم طائی ہو اور سخاوت نہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ ایک انسان ہے۔ لیکن عرف میں لوگ کیا سمجھتے ہیں کہ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے، یہ اس سے جدا ہو ہی نہیں سکتی۔ جب بھی حاتم طائی ہوگا، سخی ضرور ہوگا۔ سخاوت کی صفت اس کے ساتھ ضرور ہوگی۔ تو یہاں بھی حاتم طائی اور سخاوت میں لزوم سمجھا جاتا ہے، لیکن کیا یہ لزوم عقلاً ہے یا عرفاً ہے؟ عرفاً ہے۔ یعنی عام لوگ اس طرح سمجھتے ہیں۔ جبکہ عقل تو بتلاتی ہے کہ نہیں ایسا ہو سکتا ہے۔ حاتم طائی ایک انسان ہے جیسے عام انسان بغیر سخاوت کے ہو سکتے ہیں تو حاتم طائی بھی ایک انسان ہے، وہ بھی بغیر سخاوت کے ہو سکتا ہے۔
تو حاصل کلام یہ ہوا کہ دلالت التزامی کے اندر لزوم کا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ لزوم عقلاً بھی ہو سکتا ہے اور عرفاً بھی۔ لیکن ہوگا لزوم ضرور۔ لزوم نہ ہو تو دلالت التزامی ہو ہی نہیں سکتی۔ اس کا نام ہی اس لیے رکھا گیا التزامی کیونکہ یہاں پر لزوم ہے۔ اس معنی خارجی میں اور معنی موضوع لہو میں۔
اور لازم ہیں ان دونوں کے ساتھ دلالت مطابقی۔ کن دونوں کے ساتھ؟ دلالت تضمنی اور دلالت التزامی۔ کہتے ہیں وَتَلْزَمُهُمَا، اور ان دونوں کے ساتھ یعنی دلالت تضمنی اور التزامی کے ساتھ لازم ہے الْمُطَابَقَةُ کون سی دلالت؟ دلالت مطابقی۔ وَلَوْ تَقْدِيرًا اگرچہ تقدیراً ہی کیوں نہ ہو۔ وَلَا عَكْسَ اور اس کا عکس نہیں ہے۔ کہنا یہ چاہتے ہیں، جہاں بھی دلالت تضمنی ہوگی وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ اور جہاں کہیں بھی دلالت التزامی ہوگی وہاں دلالت مطابقی ضرور ہوگی۔ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ دلالت تضمنی پائی جائے اور مطابقی نہ ہو۔ یا دلالت التزامی پائی جائے اور مطابقی نہ ہو۔ ایسا نہیں ہو سکتا، مطابقی بھی ضرور ہوگی۔ چاہے دونوں میں سے ایک پائی جائے، صرف تضمنی ہے تو بھی مطابقی ضرور ہوگی۔ صرف التزامی ہے تو بھی مطابقی ضرور ہوگی۔ یا دونوں ہیں، تضمنی بھی ہے اور التزامی بھی ہے تو مطابقی ضرور ہوگی۔ مطابقی کے بغیر یہ دونوں ہو ہی نہیں سکتے، اکیلے اکیلے بھی نہیں ہو سکتے اور اکٹھے بھی نہیں ہو سکتے۔ تو جب بھی دلالت تضمنی ہوگی، دلالت مطابقی ضرور۔ جب بھی دلالت التزامی ہوگی، مطابقی ضرور ہوگی۔
لفظ دراصل اسی کے لیے وضع ہے۔ اس کے لیے وضع نہیں، اگر لفظ اسی کے لیے وضع ہوتا پھر تو یہ مُطَابِقِي تھی۔ لفظ اس جُزْء کے لیے وضع نہیں، اگر لفظ اسی جُزْء کے لیے وضع تھا، انسان کا لفظ کس کے لیے وضع فرض کرو، کس کے لیے؟ حَيَوَان کے لیے۔ تو پھر تو لفظ اپنے مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ پہ دلالت کر رہا ہے، پھر تو یہ کونسی ہوتی؟ دَلَالَة مُطَابِقِي۔ پھر تو یہ مُطَابِقِي ہوتی، اس کو تَضَمُّنِي کیوں کہہ رہے ہو؟ تَضَمُّنِي کہنے کا مطلب یہ ہے لفظ اس کے لیے وضع نہیں، جب اس کے لیے وضع نہیں معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ جُزْء ہے۔ جب یہ جُزْء ہے تو اس کا کوئی نہ کوئی كُلّ بھی ہوگا اور لفظ دراصل اس کے لیے وضع ہے، تو جب بھی دَلَالَة تَضَمُّنِي پائی جائے تو دَلَالَة مُطَابِقِي ضرور پائی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آگئی؟ تَضَمُّنِي پائی جائے اور مُطَابِقِي نہ ہو ایسا نہیں ہو سکتا، تو دَلَالَة تَضَمُّنِي کے ساتھ دَلَالَة مُطَابِقِي ضروری ہے، لازم ہے، اس کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی۔
اسی طرح دَلَالَة الْتِزَامِي کے ساتھ بھی مُطَابِقِي ضروری ہے۔ مثلاً میں نے لفظ انسان بولا، اس کا مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ کیا؟ حَيَوَان نَاطِق۔ میں حَيَوَان نَاطِق کا ارادہ نہیں کرتا، میں انسان کے اندر اللہ نے عِلْم کی صلاحیت رکھی ہے، عِلْم میں صلاحیت عِلْم مراد لیتا ہوں۔ کیا مراد لیتا ہوں؟ صلاحیت عِلْم۔ اور یہ صلاحیت عِلْم انسان کے ساتھ، حَيَوَان نَاطِق کے ساتھ کیا ہے؟ لازم ہے۔ جو بھی انسان ہے اس میں اللہ نے کس چیز کی صلاحیت رکھی؟ عِلْم کی صلاحیت رکھی۔ تو یہ صلاحیت عِلْم کیا ہے؟ لازم ہے۔ تو میں نے انسان کا لفظ بولا اور صلاحیت عِلْم کا ارادہ کیا، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة الْتِزَامِي۔ مَوْضُوع لَهُ کے لازم پر دلالت کر رہا ہے کیونکہ یہ قابلیت عِلْم، صلاحیت عِلْم انسان کے ساتھ کیا ہے؟ لازم۔ تو میں نے انسان بولا اور کس کا ارادہ کیا؟ قابلیت عِلْم کا۔ تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة الْتِزَامِي۔
یہ دَلَالَة الْتِزَامِي کہہ رہے ہو آپ اس کو۔ لفظ انسان بول رہا ہوں اور دلالت کس پہ کر رہا ہے قابلیت عِلْم پر، آپ اس کو کیا کہہ رہے ہو؟ دَلَالَة الْتِزَامِي۔ جب یہ دَلَالَة الْتِزَامِي کہہ رہے ہو تو آپ کے کہنے کا مطلب ہی یہ ہے کہ یہ اس کا مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ نہیں ہے۔ تو کوئی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ بھی ہوگا یا نہیں ہوگا؟ وہی تو کیا ہے دَلَالَة مُطَابِقِي۔ تو جہاں بھی دَلَالَة الْتِزَامِي ہوگی وہاں کیا ہوگا؟ دَلَالَة مُطَابِقِي ضرور ہوگی، کوئی ایسا معنی ہوگا جس کے لیے وہ لفظ وضع ہے، کیونکہ جب آپ دَلَالَة الْتِزَامِي کہہ رہے ہو تو دَلَالَة الْتِزَامِي تو اسے کہتے ہیں جس میں أَمْر خَارِج پہ دلالت ہوتی ہے۔ معلوم ہوا آپ الْتِزَامِي کہہ رہے ہو اس کا مطلب ہے یہ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ نہیں بلکہ کیا ہے؟ أَمْر خَارِج ہے۔ جب یہ أَمْر خَارِج ہے تو کیا ہوگا؟ کوئی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ بھی ہوگا اور وہی کیا ہے دَلَالَة مُطَابِقِي ہے۔
تو معلوم ہوا دَلَالَة تَضَمُّنِي بغیر مُطَابِقِي کے نہیں ہو سکتی اور اسی طرح دَلَالَة الْتِزَامِي بھی بغیر مُطَابِقِي کے نہیں ہو سکتی۔ صورت سمجھ میں آگئی بھئی؟ تَضَمُّنِي بغیر مُطَابِقِي کے نہیں ہو سکتی اور اسی طرح دَلَالَة الْتِزَامِي بھی بغیر مُطَابِقِي کے نہیں ہو سکتی، کیونکہ تَضَمُّنِي کہنے کا مطلب ہی یہ ہے جب آپ کہہ دیں یہ دَلَالَة تَضَمُّنِي ہے، معلوم ہوا یہ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ نہیں ہے، یہ اس کا جُزْء ہے۔ جب جُزْء ہے تو اس کا کوئی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ یعنی كُلّ بھی ہوگا، تو وہ کیا ہے دَلَالَة مُطَابِقِي۔ اور جب آپ کہتے ہیں دَلَالَة الْتِزَامِي ہے، تو الْتِزَامِي کا کیا معنی؟ یہ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ ہے یا مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ سے خارج ہے؟ جب یہ خارج ہے تو کوئی نہ کوئی کیا ہوگا؟ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ ضرور ہوگا۔
یہ معنی ہے وَتَلْزَمُهُمَا الْمُطَابَقَةُ وَلَوْ تَقْدِيرًا وَلَا عَكْسَ۔ اور ان دونوں یعنی تَضَمُّنِي اور الْتِزَامِي کے ساتھ لازم ہے الْمُطَابَقَةُ، دَلَالَة مُطَابِقِي، وَلَوْ تَقْدِيرًا، اگرچہ تقدیراً ہی کیوں نہ ہو، وَلَا عَكْسَ، اور اس کا عکس نہیں ہے۔ قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِير کا معنی ہوتا ہے، ایک معنی ہے اندازہ لگانا، اندازہ کرنا۔ اور ایک قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِير کا معنی ہے فرض کرنا۔ یہاں فرض کرنے کے معنی میں ہے۔ بات کیا کر رہے ہیں کہ ہر دَلَالَة تَضَمُّنِي کے ساتھ دَلَالَة مُطَابِقِي لازم ہے، اسی طرح ہر دَلَالَة الْتِزَامِي کے ساتھ دَلَالَة مُطَابِقِي لازم ہے، وَلَوْ تَقْدِيرًا اگرچہ تقدیراً ہی کیوں نہ ہو۔
بھئی دیکھیے کہنا یہ چاہتے ہیں، مثلاً آپ ایک لفظ بولتے ہیں اور آپ اس سے مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ کے جُزْء کا ارادہ کرتے ہیں۔ مثلاً میں نے انسان بولا اور میں نے صرف حَيَوَان کا ارادہ کیا، تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة تَضَمُّنِي۔ لیکن جب یہ اس کو آپ دَلَالَة تَضَمُّنِي کہہ رہے ہیں تو معلوم ہوا یہ جُزْء پر دلالت ہے تو کوئی نہ کوئی كُلّ بھی ہوگا جس کے لیے انسان کا لفظ وضع ہے اور وہ کیا ہے؟ حَيَوَان نَاطِق، وہ کیا ہے دَلَالَة مُطَابِقِي۔ تو جب تَضَمُّنِي ہے تو ساتھ مُطَابِقِي بھی ضرور ہوگی۔ اسی طرح جب آپ نے کہا، جیسے آپ نے انسان کا لفظ بولا اور ارادہ کیا قابلیت عِلْم کا، تو جب آپ اس کو دَلَالَة الْتِزَامِي کہہ رہے ہو، معلوم ہوا یہ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ نہیں، اس کا کوئی نہ کوئی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ بھی ہوگا۔
اب یاد رکھیے یہ مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ میں استعمال ہونا کبھی یہ حقیقتاً ہو سکتا ہے اور کبھی تقدیراً ہوگا۔ کبھی حقیقتاً اور کبھی تقدیراً کہنے کا مطلب یہ ہے، ہوتا یوں ہے کہ ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے لوگ مقرر کرتے ہیں، توجہ ہے؟ ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے لوگ مقرر کرتے ہیں، اور پھر اس معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے جو مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ ہے اور کبھی اس کے جُزْء میں بھی استعمال کر لیتے ہیں۔ جیسے انسان کا لفظ وضع کس کے لیے؟ حَيَوَان نَاطِق کے لیے، اور کبھی صرف کس کے لیے بول لیتے ہیں؟ حَيَوَان کے لیے یا صرف ناطِق کے لیے بھی بول لیتے ہیں بھئی۔ تو اب دیکھیے دونوں میں استعمال ہو رہا ہے، مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ میں بھی کبھی استعمال ہو جاتا ہے اور مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ کے جُزْء میں بھی کبھی استعمال ہو جاتا ہے۔
تو یہاں دیکھو، جب آپ نے انسان بولا اور ارادہ کس کا کیا؟ جُزْء کا۔ تو معنی مُطَابِقِي بھی موجود ہے یا نہیں؟ اور حقیقتاً ہے یا آپ کو فرض کرنا پڑا؟ یوں کہو معنی حقیقی میں بھی یہ استعمال ہوتا ہے یا نہیں؟ تو معنی حقیقی میں بھی استعمال ہوتا ہے حقیقتاً۔ یہ اس وقت تو آپ کس میں استعمال کر رہے ہیں تقدیراً؟ اس وقت تو آپ استعمال کر رہے ہیں جُزْء میں۔ کس میں؟ جُزْء۔ لیکن كُلّ میں بھی یہ حقیقتاً استعمال ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ حقیقتاً كُلّ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک لفظ کو وضع کیا گیا ایک معنی کے لیے، توجہ ہے؟ لیکن وہ جو معنی حقیقی ہے اس کو سب نے چھوڑ دیا، اب اس لفظ کو کوئی بھی اس معنی حقیقی یعنی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ میں استعمال نہیں کرتا، سب اس کو ایک جُزْء میں استعمال کرتے ہیں، سارے لوگ اس لفظ کو کس میں استعمال کرتے ہیں جُزْء کے لیے۔ یعنی اس سے صرف دَلَالَة تَضَمُّنِي کا ارادہ کرتے ہیں، توجہ ہے؟ ایک لفظ کو وضع کیا کس کے لیے؟ ایک كُلّ کے لیے، ایک معنی کے لیے۔ لیکن اس میں اب کوئی استعمال کرتا ہے تو بالکل چھوڑ دیا لوگوں نے اور ہمیشہ اس سے کونسی دلالت کا ارادہ کرتے ہیں؟ جُزْء کا یعنی دَلَالَة تَضَمُّنِي کا۔
تو اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہاں تو میں جب بھی لفظ بول رہا ہوں جُزْء ہی ذہن میں آتا ہے، كُلّ تو کبھی آتا ہی نہیں۔ کیونکہ لوگ كُلّ میں جب ایک چیز جس میں استعمال ہی نہیں ہوتی اس طرف ذہن بھی نہیں جاتا، تو میں جب بھی وہ لفظ بولوں گا ساری دنیا اسے جُزْء سمجھتی ہے، آپ بھی کیا سمجھیں گے؟ جُزْء ہی سمجھیں گے۔ تو دیکھو یہاں تو دَلَالَة تَضَمُّنِي ہے، مُطَابِقِي ہے ہی نہیں۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ کہ ایک چیز سے دوسری چیز کا پتہ لگے، ایک چیز سے دوسری چیز ذہن میں آئے۔ یہاں جب جُزْء تو ذہن میں آ رہا ہے، كُلّ تو ذہن میں آ ہی نہیں رہا، اس کی طرف ذہن جاتا ہی نہیں ہے۔ تو کونسی دلالت ہوئی؟ تَضَمُّنِي تو ہوئی مُطَابِقِي تو نہ ہوئی۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ آپ نے ہمیں ابھی کیا بتایا کہ دَلَالَة تَضَمُّنِي کے ساتھ دَلَالَة مُطَابِقِي لازم ہے، جب بھی جُزْء پر دلالت ہوگی ساتھ ہی كُلّ بھی ذہن میں ضرور آئے گا۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ جب بھی انسان میں بولوں اور صرف کس کا ارادہ کروں حَيَوَان کا، تو حَيَوَان نَاطِق بھی خود بخود ذہن میں آ جائے گا کہ اصل میں وضع تو یہ اس کے لیے ہے۔ لیکن یہاں تو ایک لفظ ہے جو وضع تو ہوا تھا ایک معنی کے لیے لیکن سارے لوگوں نے اس معنی کو اب چھوڑ دیا ہے، کوئی ایک آدمی بھی اس معنی میں استعمال نہیں کرتا، اب میں جب بھی لفظ بولتا ہوں آپ کے ذہن میں کون سا معنی آتا ہے؟ جُزْء والا یعنی کونسی دلالت ہوتی ہے؟ تَضَمُّنِي۔ اور یہاں تو كُلّ ذہن میں ہی نہیں آتا، دَلَالَة مُطَابِقِي تو نہ پائی گئی۔ آپ نے تو ہمیں کیا کہا تھا تَضَمُّنِي کے ساتھ مُطَابِقِي لازم ہے۔
یا دوسری مثال لے لو، ایک لفظ کو ایک معنی کے لیے وضع کیا گیا لیکن اب استعمال اس کے لازم میں ہوتا ہے، پہلے کس میں تھا؟ جُزْء میں۔ اور كُلّ کو سب نے بالکل چھوڑ دیا کوئی بھی نہیں استعمال کرتا، اب جیسے ہی میں وہ لفظ بولا کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة تَضَمُّنِي ہوئی، اور مُطَابِقِي تو نہ پائی گئی، اس کی طرف تو ذہن ہی نہیں گیا، نہ وہ ذہن میں چیز ہی آئی۔ دلالت کسے کہتے ہیں؟ ایک چیز سے کیا ہو دوسری چیز کا پتہ لگے۔ تو دوسری چیز آئی ہی نہیں، ذہن میں ہی نہیں آئی کیونکہ اس میں لوگ استعمال ہی نہیں کرتے، یعنی مَعْنَى مَوْضُوع لَهُ ذہن میں آیا ہی نہیں، تو صرف کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة الْتِزَامِي ہوئی، مُطَابِقِي نہ ہوئی۔ یا ایک لفظ ہے وہ صرف کس میں؟ جُزْء میں مشہور ہو گیا، كُلّ کو بالکل لوگوں نے چھوڑ دیا۔ اب جب میں وہ لفظ بولوں گا تو صرف کونسی دلالت ہوگی؟ تَضَمُّنِي ہوگی مُطَابِقِي نہیں ہوگی۔
تو جواب دے رہے ہیں کہ بھئی التزامی اور تضمنی کے ساتھ مطابقی لازم ہے، چاہے فرض کر لیں۔ اگرچہ فرض کرنے کے طریقے پر ہی کیوں نہ ہو۔ مثلاً ایک لفظ ہے، وہ ایک معنی کے لیے وضع تھا اور اس کو لوگوں نے چھوڑ کر اب ایک أَمْر خَارِج کے لیے استعمال کر رہے ہیں، توجہ ہے؟ ایک لفظ وضع تھا کس کے لیے؟ ایک معنی کے لیے اور اس کو سب لوگوں نے چھوڑ دیا، اب کس کے لیے استعمال کر رہے ہیں؟ جُزْء کے لیے۔ ایک چلو جُزْء کے لیے بنا لیں، ایک جُزْء پر دلالت کر رہا ہے۔ اب جب بھی یہ لفظ بولا جاتا ہے تو لوگ کس کا ارادہ کرتے ہیں؟ جُزْء کا ارادہ کرتے ہیں۔ تو کونسی دلالت پائی گئی؟ آپ کیا کہہ رہے ہیں مُطَابِقِي نہیں پائی گئی؟ ہم کہتے ہیں نہیں، مُطَابِقِي ابھی بھی اگر وہ ارادہ کرے تو کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ استعمال تو کس میں کر رہا ہے جُزْء میں، لیکن اصل معنی کا بھی ارادہ کیا جا سکتا ہے یا نہیں؟ ممکن ہے یا نہیں؟ ممکن ہے۔ تو فرض کر لو، کوئی اس میں ارادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے، تو دیکھا تَضَمُّنِي کے ساتھ کیا آ جائے گی؟ مُطَابِقِي آ جائے گی، وَلَوْ تَقْدِيرًا اگرچہ فرض کرنے کے طریقے پر ہی کیوں نہ ہو۔
تو حقیقتاً تو لوگ چھوڑ چکے ہیں لیکن فرض کرو اگر کوئی کرنا چاہے تو ارادہ کر سکتا ہے تو اس کے ساتھ دَلَالَة مُطَابِقِي بھی ہو سکتی ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یا ایک لفظ ہے اس کو لوگ کس میں استعمال کرتے ہیں؟ ایک أَمْر خَارِج میں، اور اصل معنی کو چھوڑ دیا۔ لیکن فرض کر لیں کوئی اصل معنی کے لیے بھی اس لفظ کو استعمال کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ کر سکتا ہے۔ تو دلالت تو اس صورت میں دیکھو دَلَالَة الْتِزَامِي کے ساتھ کیا ہے دَلَالَة مُطَابِقِي۔ میں نے لفظ بولا، لفظ استعمال ہوتا ہے ایک أَمْر خَارِج میں، مَوْضُوع لَهُ کو سب لوگوں نے چھوڑ دیا، اب جب بھی میں لفظ بولوں گا تو کیا پائی گئی؟ دَلَالَة الْتِزَامِي، تو مُطَابِقِي تو نہ پائی گئی۔ لیکن مُطَابِقِي کا میں ارادہ کر سکتا ہوں یا نہیں؟ تو فرض کرو اگرچہ فرض کر لیں آپ بطور فرض کے کوئی دَلَالَة مُطَابِقِي کا ارادہ بھی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ تو فرض کر لو وہ پائی جا رہی ہے۔ جب کر سکتا ہے تو یوں سمجھو پائی جا رہی ہے۔
میں نے پھر سنو لفظ بولا میں نے اور ارادہ کس کا کیا؟ دَلَالَة الْتِزَامِي کیونکہ دَلَالَة مُطَابِقِي میں کوئی استعمال کرتا ہی نہیں، تو یہاں صرف دَلَالَة الْتِزَامِي پائی گئی مُطَابِقِي نہ پائی گئی۔ کہتے ہیں بھئی مُطَابِقِي بھی فرض کر لو پائی جا رہی ہے۔ کیا معنی پائی جا رہی ہے بھئی؟ کیونکہ اس کا کوئی ارادہ کرنا چاہے تو کر سکتا ہے یا نہیں کر سکتا؟ جب کر سکتا ہے تو معلوم ہوا دلالت پائی جا رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر دلالت نہ پائی جاتی تو پھر تو کوئی ارادہ ہی نہ کر سکتا۔ ارادہ کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دلالت کیا ہے؟ پائی جا رہی ہے۔ آپ فرض کر لیں دلالت پائی جا رہی ہے، اگرچہ آپ کا ذہن اس طرف نہیں جاتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہ معنی ہے وَتَلْزَمُهُمَا الْمُطَابَقَةُ اور ان دونوں کے ساتھ تو مُطَابِقِي لازم ہے، وَلَوْ تَقْدِيرًا اگرچہ تقدیراً ہو، وَلَا عَكْسَ اور اس کا عکس نہیں ہے۔ یعنی دَلَالَة مُطَابِقِي کے ساتھ تَضَمُّنِي اور الْتِزَامِي لازم نہیں ہے۔ ایسی مُطَابِقِي بھی ہو سکتی ہے جس میں صرف تَضَمُّنِي ہو یا صرف الْتِزَامِي ہو یا دونوں میں سے کوئی بھی نہ ہو، صرف کیا ہو؟ دَلَالَة مُطَابِقِي۔ کیونکہ وہاں نہ جُزْء ہے اور نہ کوئی أَمْر خَارِج لازم اس کے ساتھ ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بھئی یہ مشکل بحث ہے کل انشاءاللہ میں پھر بھی اس کو دہرا دوں گا اور آپ بھی تکرار کر کے آئیں انشاءاللہ کل پھر اس کو دوبارہ مختصراً کر لیں گے بھئی۔
چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔