اچھا بھئی، آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھ لیجیے۔
وَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ شَخْصًا مُعَيَّنًا سُمِّيَتِ الْقَضِيَّةُ شَخْصِيَّةً وَمَخْصُوصَةً، وَإِنْ كَانَ نَفْسَ الْحَقِيقَةِ فَطَبْعِيَّةً، وَإِلَّا فَإِنْ بُيِّنَ كَمِّيَّةُ أَفْرَادِهِ كُلًّا أَوْ بَعْضًا فَمَحْصُورَةً كُلِّيَّةً أَوْ جُزْئِيَّةً، وَمَا بِهِ الْبَيَانُ سُورٌ، وَإِلَّا فَمُهْمَلَةً وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ۔
گزشتہ سبق میں تصدیقات کا بیان چل رہا تھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا کہ قضیہ ایسے قول کو کہتے ہیں جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو، اور یہ جو قضیہ ہے یہ دو قسم پر ہے، یا یہ حملیہ ہو گا یا شرطیہ۔ اگر ایک شے کا ثبوت یا نفی ہے ایک چیز سے تو وہ قضیہ حملیہ ہے اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ قضیہ شرطیہ ہے۔
اور قضیہ حملیہ کے اندر جو محکوم علیہ ہوتا ہے اس کو موضوع کہتے ہیں، اور جو محکوم بہ ہوتا ہے اس کو محمول کہتے ہیں، اور وہ لفظ جو نسبت پر دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں، اور اس کے لیے ھُوَ کے لفظ کو مستعار لیا گیا ہے۔
جبکہ قضیہ شرطیہ جو ہے اس کے جز اول کو مقدم کہتے ہیں اور جز ثانی کو تالی کہتے ہیں۔ یا یوں کہو کہ قضیہ شرطیہ کے اندر جو محکوم علیہ ہوتا ہے وہ ہے مقدم، اور جو محکوم بہ ہوتا ہے وہ ہے تالی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ جی۔ قضیہ شرطیہ کے اندر جو محکوم علیہ ہے، یعنی جس پر حکم لگایا جا رہا ہے، وہ ہے مقدم، اور جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ ہے تالی، یعنی وہ محکوم بہ ہے بھئی، محکوم بہ۔
کل کے سبق میں قضیہ شرطیہ کی تفصیل آپ نے پڑھی۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ شرطیہ وہ ہے جس میں دو نسبتوں کے درمیان اتصال یا انفصال کو بیان کیا جائے۔ اگر اتصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ شرطیہ متصلہ ہے، اور اگر انفصال کو بیان کیا جائے تو وہ قضیہ شرطیہ منفصلہ ہے بھئی، منفصلہ۔
پھر یہ متصلہ اور منفصلہ دو دو قسم پر ہیں، کیونکہ یا یہ موجبہ ہوں گے یا سالبہ۔ تو گویا چار قسمیں ہو گئیں قضیہ شرطیہ کی: قضیہ متصلہ موجبہ اور متصلہ سالبہ، اور اسی طرح منفصلہ موجبہ اور منفصلہ سالبہ۔ اور ان سب کی میں نے مثالیں آپ کو لکھوائی تھیں بھئی۔
جیسے، قضیہ متصلہ موجبہ کی کیا مثال تھی؟ إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ۔ اور متصلہ سالبہ کی کیا مثال تھی؟ لَيْسَ الْبَتَّةَ إِذَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً كَانَ اللَّيْلُ مَوْجُودًا۔ اور منفصلہ موجبہ کی مثال تھی: هَذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجٌ أَوْ فَرْدٌ۔ اور منفصلہ سالبہ کی مثال تھی: لَيْسَ الْبَتَّةَ هَذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجًا أَوْ مُنْقَسِمًا بِمُتَسَاوِيَيْنِ۔
اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو متصلہ سالبہ ہے، یہ ضمناً منفصلہ موجبہ ہے۔ ضمناً کیا ہے؟ منفصلہ موجبہ۔ لیکن ہم اس کو منفصلہ موجبہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ اس پر حرف سلب داخل ہو رہا ہے، تو سالبہ ہی کہنا پڑے گا، اور سلب تو یہ اتصال کا کر رہا ہے، لہٰذا اس کو متصلہ سالبہ کہیں گے۔ اور اسی طرح جو قضیہ منفصلہ سالبہ ہے، کون سا؟ منفصلہ سالبہ۔ منفصلہ سالبہ جو ہے: لَيْسَ الْبَتَّةَ هَذَا الْعَدَدُ إِمَّا زَوْجًا أَوْ مُنْقَسِمًا بِمُتَسَاوِيَيْنِ۔ یہ جو منفصلہ سالبہ ہے، یہ ضمناً متصلہ موجبہ ہے۔ کیونکہ جب انفصال کا سلب کیا، اس کی نفی کی، تو کس کا ثبوت آ گیا؟ اتصال کا ثبوت آ گیا۔ تو ہر منفصلہ سالبہ وہ ضمناً متصلہ موجبہ ہے، لیکن اس کو متصلہ موجبہ نہیں کہہ سکتے کیونکہ یہاں حرف سلب لفظوں میں موجود ہے، تو نام سالبہ ہی رکھنا پڑے گا، اور سالبہ کہیں گے تو پھر منفصلہ سالبہ کہنا پڑے گا، متصلہ سالبہ تو یہ نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ جی۔
اور اسی طرح گزشتہ سبق میں آپ نے حصر کے بارے میں بھی پڑھا تھا۔ حصر کا معنی ہے بند کرنا۔ جو مختلف کتابوں میں آپ پڑھتے ہیں، مصنفین ایک چیز کی قسمیں بناتے ہیں، مثلاً کلمہ کی تین قسمیں بنائیں، تو یہ جو قسمیں بنائیں اس کو کہتے ہیں حصر، یعنی بند کرنا ایک چیز کو خاص تعداد میں۔ جیسے کلمہ کی کتنی قسمیں بنائیں؟ تین: اسم، فعل اور حرف۔ تو یوں کہیں گے کہ مصنف نے کلمہ کو بند کر دیا تین قسموں میں، یا یوں کہیں حصر کر دیا تین قسموں میں۔ تو یہ جو قسمیں بنائی جاتی ہیں اس کو حصر کہتے ہیں، ان قسموں میں ایک چیز کو بند کرنا۔
اور پھر یہ حصر دو قسم پر ہے: یا حصر عقلی ہو گا یا حصر استقرائی۔ حصر عقلی وہ ہے جو نفی اور اثبات کے درمیان دائر ہوتا ہے، کہ یہ چیز ایسی ہو گی یا ایسی نہیں ہو گی۔ تو وہاں تیسری کوئی صورت نہیں ہوتی۔ مثلاً، مثلاً جیسے انہوں نے کہا کہ قضیے میں ایک شے کا دوسری شے کے لیے ثبوت یا نفی ہو گی یا ایسا نہیں ہو گا۔ دیکھو یہاں تیسری کوئی صورت نہیں۔ تو جہاں حصر عقلی ہوتا ہے وہاں اور قسموں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ تو قضیہ کی جو تعریف کی متصلہ اور شرطیہ کی طرف، یہ حصر عقلی ہے۔
جبکہ قضیہ شرطیہ کی آگے جو تقسیم کی، متصلہ اور منفصلہ کی طرف، وہ حصر استقرائی ہے۔ یعنی علماء نے تلاش کیا، جستجو کی، تو قضیہ شرطیہ کی یہی دو قسمیں ملیں۔ ایک میں، ایک نسبت کی تقدیر پر دوسری نسبت کا ثبوت ہے یا سلب ہے، اور یا دو نسبتوں کے درمیان انفصال یا سلب انفصال کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اور ان کو کوئی صورت ملی نہیں، تو یہ حصر استقرائی ہے، یہ جو قضیہ شرطیہ کو متصلہ اور منفصلہ میں تقسیم کیا۔ یعنی اگر آپ کو کوئی اور صورت ملتی ہے تو آپ اس کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ شَخْصًا مُعَيَّنًا سُمِّيَتِ الْقَضِيَّةُ شَخْصِيَّةً وَمَخْصُوصَةً، وَإِنْ كَانَ نَفْسَ الْحَقِيقَةِ فَطَبْعِيَّةً، وَإِلَّا فَإِنْ بُيِّنَ كَمِّيَّةُ أَفْرَادِهِ كُلًّا أَوْ بَعْضًا فَمَحْصُورَةً كُلِّيَّةً أَوْ جُزْئِيَّةً۔
اب یہ قضیہ حملیہ کی تقسیم کر رہے ہیں موضوع کے اعتبار سے۔ قضیہ حملیہ کی یاد رکھنا آپ کئی تقسیمیں پڑھیں گے، کئی تقسیمیں یہ آپ کو بتائیں گے۔ جیسے اس سے پہلے ایک تقسیم کر دی تھی کہ وہ یا موجبہ ہو گا یا سالبہ ہو گا۔ تو وہ تو نسبت کے اعتبار سے تھا کہ نسبت کا ایجاب ہو گا یا نسبت کی نفی ہو گی۔ اگر نسبت کا ایجاب ہے تو موجبہ، اگر نسبت کا سلب ہے تو سالبہ۔ اور یہ تقسیم ہے موضوع کے اعتبار سے قضیہ حملیہ کی۔ یاد رکھو اس اعتبار سے قضیہ حملیہ کی چار قسمیں ہیں: یا تو وہ قضیہ شخصیہ ہو گا، یا قضیہ طبعیہ ہو گا، یا قضیہ محصورہ ہو گا، یا قضیہ مہملہ ہو گا بھئی۔
تو یہ تقسیم کس اعتبار سے ہے؟ موضوع کے اعتبار سے۔ یاد رکھو، قضیے کا موضوع جو ہے یا تو کوئی معین ذات اور معین چیز ہو گی یا کلی ہو گی۔ قضیہ حملیہ میں ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ اگر قضیہ حملیہ کا موضوع کوئی معین چیز، معین ذات ہو تو اس کو قضیہ شخصیہ کہتے ہیں، اور اسی طرح قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: زَيْدٌ قَائِمٌ۔ یہ قضیہ حملیہ ہے یا شرطیہ ہے؟ حملیہ ہے۔ ہاں ہاں، شخصیہ کو نہیں۔ یہ قضیہ حملیہ ہے یا شرطیہ ہے؟ حملیہ۔ قضیہ حملیہ ہے، توجہ ہے؟ جی۔ پھر آگے دیکھو قضیہ حملیہ کی ہم تقسیم کریں گے۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کیا ہے؟ قضیہ حملیہ ہے۔ اس میں زید کیا ہے؟ موضوع، اور قائم محمول ہے۔ تو یہ قضیہ حملیہ ہے۔ تو قضیہ شرطیہ میں نسبتوں کے درمیان جو ہے اتصال یا انفصال بیان ہوتا ہے، جبکہ قضیہ حملیہ میں ایک چیز کا ثبوت ہوتا ہے دوسری چیز کے لیے یا نفی ہوتی ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، اب بتائیے، زَيْدٌ قَائِمٌ یہ قضیہ شرطیہ ہے یا حملیہ ہے؟ حملیہ ہے۔ اور قضیہ حملیہ میں محکوم علیہ کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور محکوم بہ کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہوا؟ موضوع، اور قائم محمول۔
اور تو اس میں زید کے لیے قیام کا ثبوت ہے۔ اور اس کے موضوع پر ذرا غور کریں، موضوع کیا ہے اس کا؟ زید۔ زید ایک معین ذات کا نام ہے، تو اس کو قضیہ شخصیہ کہیں گے۔ یہ قضیہ حملیہ شخصیہ، قضیہ حملیہ شخصیہ کہہ دو یا قضیہ شخصیہ کہہ دو، ایک ہی بات ہے، کیونکہ قضیہ شخصیہ حملیہ ہی کی قسم ہے، وہ طالب علم جو بھی منطق پڑھتا ہو گا وہ جانتا ہو گا، تو وہاں حملیہ کہنے کی ضرورت نہیں، کہنا چاہیں تو کہہ دیں کہ یہ قضیہ حملیہ شخصیہ ہے، یا صرف کیا کہہ دیں؟ قضیہ شخصیہ ہے۔
تو یہ جو آگے قسمیں ہیں، یہ قضیہ حملیہ، اس کی تقسیم ہو رہی ہے۔ تو قضیہ حملیہ کا موضوع اگر شخص معین ہو تو اس کا کیا نام؟ قضیہ شخصیہ، یا یوں کہیں قضیہ مخصوصہ۔ اس کا موضوع مخصوص ذات ہے، مخصوص چیز ہے، تو اس کے دو نام ہیں، اس کو قضیہ شخصیہ بھی کہتے ہیں اور قضیہ مخصوصہ بھی کہتے ہیں۔ اب آپ نے غور کر کے مجھے بتانا ہے کہ یہ قضیہ شخصیہ ہے یا نہیں ہے۔
زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ شخصیہ۔
بَكْرٌ فَاضِلٌ، قضیہ شخصیہ، کیونکہ اس کا موضوع بکر ہے۔
اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ، اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ، جی؟ بس مجھے یہ بتائیں، شخصیہ ہے یا شخصیہ نہیں؟ کیوں سوچوں میں ڈوب گئے؟ میں نے کہا شخصیہ وہ ہے جس کا موضوع کوئی معین ذات، کوئی معین چیز ہو، انسان تو کلی ہے، معین ذات ہے کوئی؟ نہیں۔ تو قضیہ شخصیہ وہ ہے جس کا موضوع کوئی معین ذات یا معین چیز ہو، جیسے زَيْدٌ قَائِمٌ، بَكْرٌ فَاضِلٌ، یا مثلاً میں کہتا ہوں: أَنَا، أَنَا طَالِبٌ، میں کیا ہوں؟ طالب علم ہوں۔ تو دیکھو أَنَا، یہ ہے موضوع، اور طَالِبٌ یہ کیا ہے؟ محمول ہے۔ تو أَنَا طَالِبٌ یہ کیا ہے؟ قضیہ شخصیہ ہے، کیونکہ متکلم اپنی بات کر رہا ہے، ایک معین ذات، ایک معین چیز کی، یا میں کہتا ہوں: هَذَا الْكِتَابُ جَيِّدٌ، هَذَا الْكِتَابُ جَيِّدٌ، ایک خاص کتاب کی طرف میں نے اشارہ کر کے کہا: هَذَا الْكِتَابُ جَيِّدٌ، یہ کتاب کیا ہے؟ اچھی ہے۔ اس قضیے کا موضوع کلی ہے یا متعین چیز ہے؟ متعین چیز ہے۔ تو جس قضیے کا بھی موضوع متعین چیز ہو اس کو قضیہ شخصیہ کہتے ہیں اور دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ اس کا نام ہے۔
تو اس میں ضمیریں بھی آ گئیں، مثلاً: هُوَ رَجُلٌ، أَنَا طَالِبٌ۔ اور اس میں اشارہ وغیرہ بھی اس کے اندر آ گئے: هَذَا رَجُلٌ، میں نے ایک آدمی کی طرف اشارہ کر کے کہا: هَذَا رَجُلٌ عَالِمٌ، یا میں کہتا ہوں: هَذَا عَالِمٌ، یا میں کہتا ہوں: هَذَا إِنْسَانٌ، ایک متعین ذات کی طرف اشارہ کر کے میں نے کہا: هَذَا إِنْسَانٌ، تو یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ شخصیہ۔ تو قضیہ شخصیہ وہ ہے جس کا موضوع کوئی متعین ذات یا متعین چیز ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اگر قضیہ حملیہ کا موضوع کلی ہو، متعین ذات یا متعین چیز نہیں ہے بلکہ کلی ہے، تو پھر یا تو حکم کلی کی ماہیت پر ہو گا یا کلی کے افراد پر ہو گا۔ اگر کلی کی ماہیت پر حکم ہے تو پھر وہ قضیہ طبعیہ ہے۔ توجہ ہے؟ جی۔ قضیہ حملیہ پھر سنو، دوبارہ ساری تقسیم سنو، قضیہ حملیہ جو ہے اس کا موضوع یا تو کوئی معین ذات ہو گی یا اس کا موضوع کلی ہو گی۔ اگر معین ذات ہے تو اس کا کیا نام؟ قضیہ شخصیہ اور قضیہ مخصوصہ۔ اور اگر اس کا موضوع کلی ہے تو پھر جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ کلی کی ماہیت پر لگایا جا رہا ہے، اس کے مفہوم پر لگایا جا رہا ہے، یا اس کے افراد پر؟ توجہ ہے؟ کلی کے مفہوم یا اس کی حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جائے گا یا اس کے افراد پر؟ پھر افراد پر اگر حکم ہے، یا تو اس میں یہ بیان ہو گا کہ کتنے افراد کے لیے یہ حکم ہے یا بیان نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اگر قضیہ حملیہ کا موضوع کوئی معین شخص، معین ذات ہو تو اس کا نام قضیہ شخصیہ اور مخصوصہ، اور اگر قضیہ حملیہ کا موضوع کلی ہو اور وہ جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ کلی کی ماہیت اور حقیقت پر ہے، یا یوں کہو کلی کے مفہوم پر حکم لگایا جا رہا ہے قطع نظر افراد سے، افراد پر حکم نہیں لگایا جا رہا، تو اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں۔ قضیہ طبعیہ۔ آپ نے پڑھا تھا، طبیعت کا کیا معنی ہے؟ طبیعت کا ایک معنی ہے حقیقت اور طبیعت کا ایک معنی ہے خارج بھئی۔ طبیعت کا ایک معنی کیا؟ ایک طبیعت کا معنی حقیقت اور ایک خارج۔ آپ نے پیچھے پڑھا تھا کہ کلی تین قسم پر ہے: یا کلی منطقی ہو گی، یا کلی طبعی ہو گی، یا کلی عقلی ہو گی۔ کلی منطقی کس کو کہتے تھے؟ کلی کے مفہوم کو، اور کلی طبعی کسے کہتے تھے؟ کلی کا جو معروض ہوتا تھا، اور چونکہ معروض جو ہے وہ خارج میں افراد کے ضمن میں موجود ہوتا ہے تو اس کو کلی طبعی کہتے تھے۔ طبعی کیوں کہتے تھے؟ کیونکہ طبیعت خارج کو کہتے ہیں۔ کس کو کہتے ہیں؟ تو طبیعت کا ایک معنی خارج ہے، اسی طرح طبیعت کا ایک معنی حقیقت بھی ہے۔
تو وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کلی ہو، توجہ ہے؟ وہ قضیہ حملیہ جس کا موضوع کلی ہو، اور حکم کس پر لگایا جا رہا ہے؟ اس کلی کے مفہوم پر، اس کی حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جا رہا ہے، یا یوں کہیں، اور حکم جو ہے اس کلی کی حقیقت اور ماہیت پر حکم ہے، اس کے افراد پر حکم نہیں ہے، تو اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں۔ دیکھو مثال سے اور بات سمجھ میں آ جائے گی، جیسے میں کہتا ہوں: اَلْإِنْسَانُ نَوْعٌ، انسان نوع ہے۔ دیکھو انسان پر نوع ہونے کا حکم لگایا، اور انسان کلی ہے یا کوئی متعین چیز ہے؟ یہ کیا ہے؟ کوئی متعین ذات یا متعین چیز نہیں بلکہ انسان کیا ہے؟ کلی ہے، زید بھی انسان، بکر بھی انسان، خالد بھی انسان، عمر بھی انسان، تو انسان ایک کلی ہے۔ تو حکم کس پر لگایا جا رہا ہے؟ کلی پر، اور کلی کے افراد پر حکم نہیں ہے، کلی کی ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے۔ اَلْإِنْسَانُ نَوْعٌ، انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ تو یہ حکم افراد پر نہیں ہے۔ اگر یہ حکم افراد پر ہو تو آپ کو کہنا پڑے گا: زید بھی نوع ہے، بکر بھی نوع ہے، خالد بھی نوع ہے، کیونکہ آپ نے کیا کہا: اَلْإِنْسَانُ نَوْعٌ، انسان نوع ہے۔ تو اگر افراد مراد ہوں تو افراد تو کون ہیں انسان کے؟ زید، عمر، بکر، خالد، جو بھی خارج میں جتنے افراد موجود ہیں، ہر ایک کو کیا کہنا پڑے گا؟ نوع ہے، اور مجھے بتائیے، زید نوع ہے؟ نہیں، زید نوع نہیں، تو معلوم ہوا یہ جو حکم لگایا جا رہا ہے یہ کلی کی حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جا رہا ہے قطع نظر اس کے افراد سے۔ قطع نظر اس کے افراد سے۔
تو کلی میں جب کلی کے حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جائے قطع نظر افراد سے، قطع نظر اس کے وجود سے، تو اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں: ایسا قضیہ جس کا موضوع کلی ہو اور حکم جو ہے کلی کی حقیقت اور ماہیت پر لگایا جائے قطع نظر افراد سے، تو اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں۔ پھر دہرائیں: قضیہ حملیہ کا موضوع اگر کیا ہو؟ کلی ہو، اور حکم کس پر لگایا جا رہا ہے؟ کلی کے مفہوم، کلی کی حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جا رہا ہے قطع نظر اس کے افراد سے، تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ طبعیہ۔ طبعیہ، کیونکہ طبیعت کا معنی ہے حقیقت۔ تو یہاں بھی کلی کی ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے قطع نظر اس کے افراد سے۔ پھر دہرائیں: اس کو قضیہ طبعیہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہاں حکم کس پر لگایا جا رہا ہے؟ کلی کی حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے، اس لیے اس کو قضیہ طبعیہ کہتے ہیں، کیونکہ طبیعت کا بھی کیا معنی ہے؟ حقیقت۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے۔
اور اگر حکم کلی کے افراد پر لگایا جا رہا ہو، تو پھر اس قضیے میں ان افراد کی مقدار بیان ہو گی یا مقدار بیان نہیں ہو گی۔ اگر مقدار بیان ہے تو پھر اس کو قضیہ محصورہ کہیں گے۔ اگر مقدار بیان ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ قضیہ محصورہ۔ حصر، دیکھو حصر کا معنی ہے بند کرنا، اس میں بھی افراد جن پر حکم لگایا جا رہا ہے ان کو بند کر دیا جائے گا کہ اتنے افراد پر حکم ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ، انسان کیا ہیں؟ حیوان۔ انسان کیا ہیں؟ حیوان۔ اور پھر ساتھ مقدار بھی بیان کر دیتا ہوں: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان ہے۔ معلوم ہوا زید بھی حیوان، بکر بھی حیوان، خالد بھی حیوان، دیکھو افراد پہ حکم لگ رہا ہے۔ پچھلے میں فرق سمجھ میں آ رہا ہے؟ پچھلے میں آپ نہیں کہہ سکتے تھے: زید نوع ہے، بکر نوع ہے، خالد نوع ہے، لیکن یہاں اس میں آپ کہہ سکتے ہیں۔ یہاں میں نے کیا کہا: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، تو میں کہہ سکتا ہوں: زَيْدٌ حَيَوَانٌ، بَكْرٌ حَيَوَانٌ، خَالِدٌ حَيَوَانٌ۔ تو دیکھا، یہاں جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ افراد پر لگایا جا رہا ہے، اور ساتھ یہ بھی بیان کر دیا گیا کہ کتنے افراد پر حکم لگایا: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، معلوم ہوا ہر فرد پر یہ حکم لگایا گیا، تمام افراد پر لگایا گیا، تو یہ قضیہ محصورہ ہے۔
اس میں حکم کبھی تمام افراد پر ہوتا ہے، کبھی بعض افراد پر ہوتا ہے۔ اگر تمام پر حکم ہو تو اس کو کلیہ کہتے ہیں، اور اگر بعض پر ہو تو اس کو جزئیہ کہتے ہیں۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ قضیہ محصورہ ہے۔ محصورہ حصر سے ہے، ص کے ساتھ ہے محصورہ۔ حصر کا معنی بند کرنا۔ دیکھو كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، تمام انسانوں پر یہ حکم لگا دیا، اس لفظ کل نے کیا کر دیا؟ ان افراد کو بند کر دیا جن پر حکم لگایا جا رہا ہے، اور بتلا دیا کتنے افراد ہیں جن پر یہ حکم لگ رہا ہے؟ تمام افراد پر۔ جن افراد پر حکم لگایا جا رہا تھا ان کو کس لفظ نے بند کیا اور گھیر لیا؟ کل نے۔ تو محصورہ کا معنی ہے گھیرا ہوا، گھیرا ہوا۔ اس میں بھی موضوع کے بعض یا تمام افراد کو گھیرا گیا ہوتا ہے کہ جن پر حکم لگایا جا رہا ہے۔
توجہ ہے؟ حصر کا کیا معنی؟ بند کرنا، گھیر لینا۔ تو محصورہ کا کیا معنی؟ جس کو بند کیا گیا ہے، جس کو گھیرا گیا ہے۔ تو یہاں پر بھی كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، حکم کیا لگایا جا رہا ہے؟ توجہ ہے؟ حکم کیا ہے حکم؟ حیوان ہونے کا حکم لگا رہے ہیں، اور کتنے افراد پر ہے، ان کو بند کر دیا یا نہیں؟ بتلا دیا كُلُّ إِنْسَانٍ، تمام افراد کو گھیرے میں لے لیا کہ ان سب پر یہ حکم ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ محصورہ۔ تو بعض میں کلیت بیان ہوتی ہے، بعض میں جزئیت۔
جزئی کی مثال بھی کر لیں، جیسے: بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ۔ بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان۔ بعض حیوان انسان ہیں یا سارے حیوان انسان ہیں؟ بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں، تو دیکھو یہاں پر بعض حیوانات پر کیا حکم لگایا جا رہا ہے؟ انسان ہونے کا، اور افراد پر حکم ہے، ماہیت اور حقیقت پر نہیں، جب افراد پر حکم ہے تو بعض حیوان وہ زید بھی ہے، وہ بکر بھی ہے، وہ خالد، تو ہم کہہ سکتے ہیں، وہاں کیا تھا: بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، تو وہ انسان کا حمل اب زید پر بھی کر سکتے ہیں: زَيْدٌ إِنْسَانٌ، بَكْرٌ إِنْسَانٌ، خَالِدٌ إِنْسَانٌ، دیکھا افراد پر حکم لگا رہے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو اس کو قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔ حصر کا معنی بند کرنا یا گھیرنا۔ اس میں بھی جن افراد پر حکم لگایا جاتا ہے ان کو گھیرا جاتا ہے، یعنی بیان کیا جاتا ہے کہ آگے آنے والا حکم تمام افراد پر ہے یا بعض پر ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قضیہ محصورہ، محصورہ۔ تو قضیہ محصورہ کو محصورہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں احاطہ کر لیا جاتا ہے موضوع کے افراد کا جن پر حکم لگایا جا رہا ہے۔ دہراؤ زبان سے، زبان سے دہراؤ: قضیہ محصورہ کو محصورہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس میں احاطہ کر لیا جاتا ہے موضوع کے افراد کی مقدار کا، موضوع کے افراد کی مقدار کا جن پر حکم لگایا جا رہا ہے، یعنی اس میں بتا دیا جاتا ہے حکم تمام افراد پر ہے یا بعض افراد پر ہے، تو اس لیے اس کو قضیہ محصورہ کہتے ہیں۔
اور نیز اسی کا نام مسوَّرہ بھی ہے، مسوَّرہ۔ مسوَّرہ سور سے ہے، سور۔ کیونکہ اس میں کل یا بعض کا لفظ آتا ہے۔ کل یا بعض۔ کل کس لیے آتا ہے؟ تمام افراد کے احاطے کے لیے، اور بعض کس لیے آتا ہے؟ بعض افراد کے احاطے کے لیے۔ اور وہ لفظ جو افراد کی مقدار کو بیان کرے کہ سارے مراد ہیں یا بعض، اس کو سور کہتے ہیں۔ تو جیسے كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ جو کُل کا لفظ ہے یہ ہے سور۔ اسی طرح بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، یہ بعض کیا ہے؟ یہ بھی سور ہے۔ تو وہ لفظ جس کے ذریعے موضوع کے افراد کی مقدار بیان کی جائے، توجہ ہے؟ وہ لفظ جس کے ذریعے موضوع کے افراد کی مقدار بیان کی جائے اس کو، اس کو سور کہتے ہیں۔
یہ ماخوذ ہے سُورُ الْبَلَدِ سے، سُورُ الْبَلَدِ، شہر کی فصیل بھئی۔ قدیم زمانے میں شہر کے، شہر کے ارد گرد ایک مضبوط دیوار بنائی جاتی تھی تاکہ کسی طرف سے دشمن حملہ نہ کر سکے، اور پھر اس کے خاص مخصوص جگہوں پر دروازے ہوتے تھے، جس نے بھی شہر میں داخل ہونا ہوتا وہ انہی دروازوں کے ذریعے داخل ہو سکتا تھا۔ تو وہ جو پورے شہر کو گھیرے میں لیے ہوئے دیوار ہوتی تھی اس کو سُورُ الْبَلَدِ کہتے تھے، سُورُ الْبَلَدِ۔ اردو میں اس کو فصیل کہیں گے، شہر کی فصیل، یا شہر پناہ بھی کہتے تھے اس کو۔ اس دیوار کا کیا نام ہوتا تھا؟ شہر پناہ، عربی میں اس کو سور کہتے ہیں۔ تو جیسے اس دیوار نے پورے شہر کو اپنے گھیرے میں لیا ہوا ہوتا تھا، اسی طرح یہ جو کُل اور بعض ہیں، یہ بھی کیا کرتے ہیں موضوع کے کل یا بعض افراد کو اپنے گھیرے میں لے لیتے ہیں، اس لیے ان کو سور کہتے ہیں۔
تو قضیہ محصورہ میں ہمیشہ کوئی ایسا لفظ ضرور ہو گا جو، جو موضوع کے افراد کی مقدار کو ظاہر کرے، کہ کل افراد مراد ہیں یا بعض، یا بعض مراد ہیں، اسی لیے تو اس کو محصورہ کہتے ہیں، اور اسی کا دوسرا نام مسوَّرہ بھی ہے۔ مسوَّرہ، سور والا جس میں سور لایا گیا ہے۔
اور اگر حکم موضوع کے افراد پر تو لگایا گیا لیکن افراد کی مقدار نہیں بیان کی گئی، تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔ جیسے: اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ۔ انسان، انسان کے افراد حیوان ہیں، افراد پر حکم لگایا جا رہا ہے، لیکن یہ نہیں بیان کیا گیا کہ تمام افراد مراد ہیں یا بعض مراد ہیں، مطلقاً کہہ دیا: اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ، دیکھو انسان پر حیوان ہونے کا حکم لگایا گیا ہے اور ماہیت پر نہیں بلکہ افراد پر حکم لگایا جا رہا ہے، انسان کے افراد کیا ہیں؟ حیوان ہیں، لیکن سارے افراد مراد ہیں یا بعض، اس کو بیان نہیں کیا گیا تو اس کو قضیہ مہملہ کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ مہملہ۔ اَھْمَلَ یُھْمِلُ اِھْمَال کا معنی ہے کسی چیز کو ویسے ہی چھوڑ دینا، بیکار چھوڑ دینا، اس کی طرف توجہ نہ کرنا۔ تو یہاں پر بھی موضوع کے جو افراد ہیں ان کو ویسے ہی چھوڑ دیا گیا، ان کی مقدار کو بیان نہیں کیا گیا، تو اس کو قضیہ مہملہ کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو قضیہ حملیہ جو ہے، موضوع کے اعتبار سے اس کی چار قسمیں ہیں: یا وہ شخصیہ اور مخصوصہ ہو گا، یا وہ طبعیہ ہو گا، یا وہ محصورہ اور مسوَّرہ ہو گا، یا وہ مہملہ ہو گا بھئی۔ یا پھر سن لو، قضیہ حملیہ موضوع کے اعتبار سے اس کی چار قسمیں ہیں: یا وہ شخصیہ ہو گا، یا طبعیہ ہو گا، یا محصورہ ہو گا، یا مہملہ ہو گا۔ اور شخصیہ کا دوسرا نام کیا؟ مخصوصہ، اور اسی طرح محصورہ کا دوسرا نام کیا؟ مسوَّرہ۔ پھر دہرائیں: قضیہ حملیہ کی کتنی قسمیں ہو گئیں؟ چار۔ نمبر ایک: قضیہ شخصیہ، نمبر دو: قضیہ طبعیہ، نمبر تین: قضیہ محصورہ، اور نمبر چار: قضیہ مہملہ۔ اور اس میں سے قضیہ شخصیہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ قضیہ مخصوصہ، اور قضیہ محصورہ کا دوسرا نام کیا ہے؟ مسوَّرہ۔ تو یہ چار قسمیں ہیں۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟
حاصل کلام پھر سن لیں، کہ قضیہ حملیہ موضوع کے اعتبار سے اس کی چار قسمیں ہیں۔ قضیہ حملیہ کا موضوع جو ہے یا تو وہ کوئی معین ذات اور معین چیز ہو گی یا اس کا موضوع کلی ہو گی۔ اس کا موضوع یا معین ذات ہو گی یا کلی ہو گی۔ اگر معین ذات ہو تو اس کا نام قضیہ شخصیہ اور دوسرا نام قضیہ مخصوصہ، اور اگر اس کا موضوع کلی ہے تو پھر حکم جو ہے وہ کلی کی ماہیت اور حقیقت پر ہو گا یا اس کے افراد پر۔ اگر کلی کی ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا گیا ہے تو وہ قضیہ طبعیہ ہے۔ اس کی کیا مثال ہے؟ جیسے: اَلْإِنْسَانُ نَوْعٌ، انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ اب انسان کے افراد پر یہ حکم نہیں، اگر یہ انسان کے افراد پر ہوتا تو پھر تو آپ کہہ سکتے تھے: زَيْدٌ نَوْعٌ، بَكْرٌ نَوْعٌ، خَالِدٌ نَوْعٌ، لیکن کیا آپ یہ کہہ سکتے ہیں؟ نہیں، جب آپ یہ نہیں کہہ سکتے تو آپ سمجھ جائیں کہ یہ حکم افراد پر نہیں لگایا جا رہا بلکہ کس پر لگایا جا رہا ہے؟ موضوع کی ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے، یا یوں کہو اس کے مفہوم پر حکم لگایا جا رہا ہے، اس کے افراد پر حکم نہیں لگایا جا رہا۔
دوسری مثال کر لیں: اَلْحَيَوَانُ جِنْسٌ، حیوان کیا ہے؟ جنس ہے۔ تو دیکھا یہ حیوان کی ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے کہ ماہیت کے اعتبار سے حیوان جنس ہے۔ جیسے انسان: اَلْإِنْسَانُ نَوْعٌ، انسان ماہیت کے اعتبار سے کیا ہے؟ نوع ہے۔ انسان حقیقت کے اعتبار سے کیا ہے؟ نوع ہے۔ اور اَلْحَيَوَانُ جِنْسٌ، حیوان اپنی ماہیت اور حقیقت کے اعتبار سے جنس ہے، یہ حکم افراد پر نہیں ہے۔ اگر افراد پر حکم ہو تو حیوان کے افراد تو زید بھی ہے، بکر بھی ہے، آپ کہہ سکتے ہیں زید کیا ہے؟ زید، زید جنس، زید جنس ہے، اور آپ یہ کہہ سکتے ہیں زید جنس ہے؟ بکر جنس ہے؟ نہیں کہہ سکتے، معلوم ہوا یہاں جو حکم لگایا جا رہا ہے وہ اس کلی کے ماہیت اور حقیقت پر حکم لگایا جا رہا ہے، اس کے افراد سے قطع نظر۔ بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ مشکل ہو گئی؟ اچھی طرح؟
تو قضیہ طبعیہ میں حکم کس پر ہوتا ہے؟ اس کلی کے، کلی ہے نا، موضوع کیا ہو گا؟ کلی۔ اس کلی کے حقیقت اور ماہیت پر حکم لگایا جاتا ہے افراد سے قطع نظر۔ اور اگر افراد پر حکم لگایا گیا تو پھر اس میں یا تو یہ بیان ہو گا کہ یہ حکم تمام یا بعض افراد پر ہے یا یہ بیان نہیں ہو گا۔ اگر بیان ہو کہ کتنے افراد پر یہ حکم ہے تو اس کو کیا کہیں گے؟ محصورہ، اور اگر بیان نہ ہو تو اس کو مہملہ کہیں گے۔
دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: وَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ شَخْصًا مُعَيَّنًا، یہ نہیں کہا، یہ نہیں کہا کہ قضیہ حملیہ کی ہم تقسیم کر رہے ہیں، توجہ ہے؟ جی۔ بلکہ کیا کہا: وَالْمَوْضُوعُ إِنْ كَانَ شَخْصًا، موضوع کہہ دیا، اور موضوع تو ہوتا ہی کس میں ہے؟ قضیہ حملیہ میں ہوتا ہے، قضیہ شرطیہ میں تو مقدم اور تالی ہوتے ہیں، وہاں تو موضوع ہوتا ہی نہیں، تو کہتے ہیں: وَالْمَوْضُوعُ، اور قضیہ حملیہ کا موضوع جو ہے: إِنْ كَانَ شَخْصًا مُعَيَّنًا، اگر وہ کوئی معین شخص ہے: سُمِّيَتِ الْقَضِيَّةُ شَخْصِيَّةً، تو اس قضیہ کو شخصیہ کہتے ہیں: وَمَخْصُوصَةً، اور مخصوصہ کہتے ہیں۔ وَإِنْ كَانَ نَفْسَ الْحَقِيقَةِ، اور اگر اس کا موضوع جو ہے نفس حقیقت ہو: فَطَبْعِيَّةً، تو وہ طبعیہ ہے، یعنی قضیہ کا موضوع اگر کیا ہو؟ نفس حقیقت ہو، حقیقت اور ماہیت مراد ہو، اس کا مفہوم مراد ہو، افراد مراد نہ ہوں: فَطَبْعِيَّةً، تو اس کا کیا نام ہے؟ اس کا نام قضیہ طبعیہ ہے۔
وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو، یعنی موضوع کلی ہے اور نفس حقیقت مراد نہیں ہے، جب حقیقت نہیں مراد تو پھر لازمی بات ہے کیا مراد ہیں؟ افراد مراد ہیں، تو پھر اگر افراد ہیں پھر اس میں دو حال ہیں: یا افراد کی کلیت اور جزئیت بیان ہو گی یا بیان نہیں، اگر کلیت اور جزئیت بیان ہے تو وہ محصورہ، اور اگر بیان نہیں تو وہ مہملہ ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی اس کا موضوع نفس حقیقت نہ ہو: فَإِنْ بُيِّنَ كَمِّيَّةُ أَفْرَادِهِ، کَم اور کمیت دونوں کا معنی ہے مقدار، مقدار، اور یہ میم مشدد ہے: كَمِّيَّةُ، میم بھی مشدد ہے اور یا نسبت والی ہے۔ لاہوری، یا نسبت والی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ کیا معنی ہوتا ہے لاہوری؟ لاہور والا۔ تو یہاں بھی یہ بھی کَم اور کمیت، میم بھی مشدد ہے اور یا بھی۔
تو کہتے ہیں: فَإِنْ بُيِّنَ، اگر اس میں بیان کیا گیا ہو: كَمِّيَّةُ أَفْرَادِهِ، اس موضوع کے افراد کی مقدار کو: كُلًّا أَوْ بَعْضًا، کل یا بعض کے اعتبار سے، اگر موضوع کے افراد کی مقدار کو بیان کیا گیا ہو کس اعتبار سے؟ كُلًّا أَوْ بَعْضًا، کل یا بعض کے اعتبار سے کہ سارے مراد ہیں یا بعض مراد ہیں: فَمَحْصُورَةً، تو وہ کیا ہے؟ محصورہ ہے: كُلِّيَّةً أَوْ جُزْئِيَّةً، کلیہ یا جزئیہ بھئی۔ محصورہ کلیہ یا محصورہ جزئیہ۔ محصورہ کلیہ کی مثال دیں: محصورہ ہو اور کلیہ ہو: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ اور محصورہ جزئیہ کی مثال دیں: بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، بعض حیوان انسان ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
فَمَحْصُورَةً كُلِّيَّةً أَوْ جُزْئِيَّةً، تو وہ محصورہ کلیہ یا محصورہ جزئیہ ہے: وَمَا بِهِ الْبَيَانُ سُورٌ، اور وہ چیز جس کے ذریعے کمیت کو بیان کیا جائے، کس چیز کو؟ مقدار کو بیان کیا جائے: سُورٌ، وہ سور ہے: وَإِلَّا، اور اگر ایسا نہ ہو یعنی افراد کی مقدار بیان نہ کی گئی ہو، حکم تو افراد پر ہے لیکن افراد کی مقدار بیان نہیں کی گئی: فَمُهْمَلَةً، تو وہ قضیہ مہملہ ہے، أَيْ فَتُسَمَّى مُهْمَلَةً، پھر اس کو مہملہ کہتے ہیں۔ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟
وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ، اور یہ جو مہملہ ہے یہ محصورہ جزئیہ کے ساتھ لازم ہے۔ یہ مہملہ کی بات کر رہے ہیں: وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ، اور یہ جو مہملہ ہے یہ لازم ہے، کس کے ساتھ؟ جزئیہ کے ساتھ، یعنی محصورہ جزئیہ کے ساتھ یہ لازم ہے، یعنی جہاں محصورہ جزئیہ ہو گا وہاں مہملہ ضرور ہو گا۔ جہاں محصورہ جزئیہ ہو گا وہاں مہملہ ضرور ہو گا۔ اس بات کو بھی سمجھ لیں یہیں پر بھئی، آگے شرح میں بھی بیان کریں گے۔
بھئی یاد رکھو، آپ کو آگے چل کر یہ بتلائیں گے کہ یہ جو چار قسم کے قضیے ہیں، چار قسم کے، کون کون سے؟ قضیہ شخصیہ، قضیہ طبعیہ، قضیہ محصورہ اور قضیہ مہملہ، ان میں سے صرف محصورہ جو ہے یہ معتبر ہے علوم میں، اور اس کی چار قسمیں ہیں آپ کو بتائیں گے، کیونکہ محصورہ یا تو کلیہ ہو گا یا جزئیہ، پھر کلیہ ہو تو اس میں بھی دو حال: یا موجبہ ہو گا یا سالبہ، اور جزئیہ ہو تو اس میں بھی دو حال: یا موجبہ ہو گا یا سالبہ ہو گا، تو چار قسمیں بن گئیں محصورہ کی، کون کون سی؟ محصورہ موجبہ کلیہ، محصورہ موجبہ کلیہ یا محصورہ سالبہ کلیہ، اور یا محصورہ موجبہ جزئیہ یا سالبہ جزئیہ۔
پھر دہرائیں: چار قسمیں ہو گئیں محصورہ کی بھئی: موجبہ کلیہ یا سالبہ کلیہ، یا موجبہ جزئیہ یا سالبہ جزئیہ۔ ہر ایک کی مثال بھی کر لو۔ موجبہ کلیہ لاؤ بھئی، ایجاب ہو اور کل ہو: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، ہر انسان حیوان ہے، کیا حرف سلب آیا؟ نہیں، تو موجبہ ہے۔ اور کل پر حکم لگا رہے ہیں یا بعض پر؟ کل پر، تو كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ کس کی مثال ہے؟ موجبہ کلیہ۔ زبان سے دہراؤ بھئی میں تکرار کروا رہا ہوں، یہ موجبہ کلیہ، یہ کس کی مثال ہے؟ موجبہ کلیہ۔ اچھا، سالبہ کلیہ کی کوئی مثال لاؤ: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ، کوئی انسان پتھر نہیں ہے۔ دیکھو نفی کر رہا ہوں ہر انسان سے، انسان سے میں پتھر ہونے کی نفی کر رہا ہوں، اور بعض انسانوں سے یا سب انسانوں سے؟ سب انسانوں سے، تو یہ کیا ہوا؟ سالبہ کلیہ: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ۔
اچھا، موجبہ جزئیہ لاؤ بھئی، موجبہ ہو اور جزئیہ ہو: بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ، بعض حیوان انسان ہیں، دیکھو موجبہ ہے اور جزئیہ ہے بھئی، بعض کی بات ہو رہی ہے سب کی بات نہیں ہو رہی۔ اور سالبہ جزئیہ لاؤ، سالبہ جزئیہ: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ، بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ، بعض حیوان انسان نہیں ہیں، تو سالبہ ہے یا موجبہ ہے؟ سالبہ، اور بعض کی بات ہوئی ہے یا سب کی؟ بعض کی، تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا، مثالیں سمجھ میں آ گئیں۔
تو بات چل رہی تھی: وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ، وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ، میں اس کا بیان کر رہا تھا، یاد رکھو اس میں مصنف نے یہ بیان کیا کہ یہ جو قضیہ مہملہ ہے یہ قضیہ جزئیہ، یعنی یوں کہو محصورہ جزئیہ کے ساتھ لازم ہے۔ قضیہ مہملہ، محصورہ جزئیہ۔ میں نے آپ کو بتلایا محصورہ کی کتنی قسمیں ہیں؟ چار: محصورہ کلیہ ہو گا یا جزئیہ ہو گا، توجہ ہے؟ محصورہ کلیہ ہو گا یا جزئیہ ہو گا، پھر ان میں سے ہر ایک یا موجبہ ہو گا یا سالبہ، تو چار قسمیں بن گئیں قضیہ محصورہ کی: موجبہ، موجبہ کلیہ اور سالبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ، توجہ ہے؟ کون کون سی قسمیں بنیں؟ دہرائیں زبان سے: نمبر ایک: موجبہ کلیہ، نمبر دو: سالبہ کلیہ، نمبر تین: موجبہ جزئیہ، نمبر چار: سالبہ جزئیہ۔
تو آگے چل کر علماء فرماتے ہیں کتابوں کے اندر کہ علوم کے اندر یہ محصورات جو ہیں، یہ چار محصورات یہی معتبر ہیں۔ کون سے چار محصورات؟ موجبہ کلیہ یا سالبہ کلیہ، موجبہ جزئیہ یا سالبہ جزئیہ، یہ چار جو ہیں علوم میں معتبر ہیں، تو اس پر شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ قضیہ مہملہ یہ بھی علوم کے اندر معتبر نہیں ہے۔ جیسے قضیہ شخصیہ علوم میں معتبر نہیں، اسی طرح قضیہ طبعیہ بھی علوم میں معتبر نہیں، تو شبہ ہوتا ہے کہ محصورات اربعہ ہی جب معتبر ہیںاس کی کیا مثال ہے؟ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ تو تمام حیوانات سے انسان ہونے کی نفی کی یا بعض سے؟ تمام سے، بعض سے۔ ترجمے پہ غور کرو۔ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ تو ہر حیوان سے نفی کی یا بعض سے نفی کی؟ بعض سے؟ ہر حیوان سے۔
معنی پہ غور کرو۔ لفظوں کو نہ دیکھو معنی پہ غور کرو۔ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ کیا ترجمہ ہے؟ کوئی ایک بھی نہیں ہے یا بعض نہیں ہیں؟ بعض۔ دیکھو ترجمے پہ غور کرو۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے، معلوم ہوا کہ بعض ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بعض حیوانوں سے انسان ہونے کی نفی کی ہے، سب سے نہیں کی۔
پھر بولیں، کیا قضیہ ہوا؟ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ معلوم ہوا بعض ہیں، بعض نہیں ہیں۔ تو یہ معنی ہے۔ وَسُورُ السَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّةِ، اور سالبہ جزئیہ کا سور جو ہے، وَلَيْسَ بَعْضٌ، اور بَعْضٌ لَيْسَ، اور لَيْسَ كُلٌّ ہے، وَمَا يُرَادِفُهَا اور جو ان کے مترادف ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
تو معلوم ہوا قضیہ مہملہ بھی معتبر نہیں، تو ماتن نے اس کا جواب دے دیا کہ بھئی قضیہ مہملہ بھی معتبر ہے۔ لیکن یہ قضیہ محصورہ جزئیہ ہی میں داخل ہے۔ یہ قضیہ محصورہ جزئیہ ہی کے اندر داخل ہے، اسی لیے کہا ”وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ“۔ یہ جو مہملہ ہے، یہ لازم ہے کس کے ساتھ؟ جزئیہ کے ساتھ۔ کون سا جزئیہ؟ محصورہ، کیونکہ جزئیہ اور کلیہ کس میں ہوتا ہے؟ محصورہ میں۔ تو یہ محصورہ جزئیہ کے ساتھ لازم ہے۔ ”وَتُلَازِمُ“ باب مفاعلہ لے کر آئے اور باب مفاعلہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے۔ باب مفاعلہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے، جیسے ”ضَارَبَ زَيْدٌ عَمْرًا“ کیا معنی کریں گے؟ زید نے عمرو کی پٹائی کی اور عمرو نے زید کی پٹائی کی، تو یوں کہتے ہیں باہم دونوں نے ایک دوسرے کی پٹائی کی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے ”وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ“، یعنی یہ مہملہ لازم ہے جزئیہ کے ساتھ اور جزئیہ لازم ہے مہملہ کے ساتھ۔ مطلب یہ ہے جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا اور جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ضرور ہوگا۔ توجہ ہے؟ کیا بتلایا انہوں نے؟ شبہ کیا ہوتا تھا کہ علماء کیا فرماتے ہیں کہ علوم کے اندر صرف محصورات اربعہ معتبر ہیں، صرف ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اور قضایا جو ہیں ان سے بحث نہیں کی جاتی۔
جب یہ محصورات اربعہ معتبر ہیں تو معلوم ہوا قضیہ شخصیہ بھی علوم میں معتبر نہیں، اسی طرح قضیہ طبعیہ بھی معتبر نہیں۔ تو شبہ پیدا ہوا کہ شاید مہملہ بھی علوم کے اندر معتبر نہیں ہے۔ تو ماتن نے اس اعتراض کا جواب اور اس شبہے کا جواب دے دیا کہ نہیں بھئی، مہملہ علوم میں معتبر ہے۔ بھئی کس طرح معتبر ہے؟ علماء صراحتاً کیا فرماتے ہیں کہ علوم میں کتنے قضایا معتبر؟ محصورات اربعہ، کتنے معتبر؟ محصورات اربعہ۔ صرف وہ معتبر ہیں، انہوں نے صاف لفظوں میں لکھا ہوا ہے، تو اس کا جواب انہوں نے دیا کہ یہ جو مہملہ ہے یہ محصورہ جزئیہ کے ساتھ لازم ہے۔ جہاں محصورہ جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ہوگا، اور جہاں مہملہ ہوگا تو وہاں قضیہ محصورہ تو یہ اس کے ضمن میں یہ بھی آ گیا، یہ بھی علوم میں معتبر ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مہملہ بھی کیا ہے؟ علوم میں معتبر ہے کیونکہ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ہوگا، بعض کا لفظ وہاں موجود ہوگا لیکن جب بعض کا ذکر آ گیا تو مہملہ بھی وہاں پر آ گیا۔ معلوم ہوا مہملہ بھی علوم کے اندر معتبر ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے ”وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ“ اور مہملہ جو ہے وہ جزئیہ کے ساتھ لازم ہے۔ اب کس طرح لازم ہے وہ بھی یہیں سمجھ لیں۔ یہاں گویا دو دعوے ہو گئے۔ باب مفاعلہ لائے نا، باب مفاعلہ جانبین سے فعل کو چاہتا ہے، اس سے دو باتیں آپ کو سمجھ میں آ گئیں۔ کیا باتیں؟ نمبر ایک، جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ہوگا، اور دوسری بات کیا؟ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ہوگا۔ دو دعوے ہو گئے، پہلا دعویٰ کیا؟ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ اور جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ۔ کہتے ہیں دیکھو، پہلا دعویٰ مثلاً جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا۔ میں نے کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، مہملہ ہے یا جزئیہ ہے؟ یہ کیا ہے؟ مہملہ۔ دیکھو یہ مہملہ میں لے کر آیا، ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان کیا ہے؟ حیوان۔ میں حکم ماہیت پر لگا رہا ہوں یا افراد پر؟ افراد پر، توجہ ہے؟ افراد پر حکم لگا رہا ہوں، ماہیت پر نہیں۔ افراد، آپ ایک ایک فرد لائیں آپ دیکھیں گے خود ہی آپ کو پتہ لگ جائے گا۔ میں نے کیا کہا؟ ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان کا کوئی ایک فرد لے آؤ، ”زَيْدٌ حَيَوَانٌ“، حکم صحیح ہے یا غلط ہے؟ صحیح ہے، معلوم ہوا حکم میں افراد پر لگا رہا ہوں۔
آپ فرد کو لے آیا کریں، آپ کو خود ہی پتہ چل جائے گا کہ حکم افراد پر ہے یا افراد پر نہیں۔ تو ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“ میں کس پر حکم لگا رہا ہوں؟ افراد پر، لیکن کتنے افراد ہیں؟ تمام انسان یا بعض انسان؟ یہ اس میں بیان نہیں۔ تو معلوم ہوا یہ کون سا قضیہ ہے؟ مہملہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اب ہم نے ثابت یہ کرنا ہے کہ جہاں مہملہ ہوتا ہے وہاں جزئیہ بھی ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جہاں مہملہ ہوتا ہے وہاں جزئیہ بھی ہوتا ہے۔ دیکھو بھئی، میں نے کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان حیوان ہے، حکم کس پہ لگا رہا ہوں؟ افراد پر، جب افراد پر حکم لگا رہا ہوں تو دو ہی صورتیں ہیں، یا سب پہ لگے گا حکم یا بعض پہ لگے گا، تیسری کوئی صورت ہے؟ نہیں۔ تو یہاں صورتیں ہی دو بنتی ہیں، یا تو یہ حکم سب کے لیے ہے یا بعض کے لیے ہے۔ اگر سب کے لیے بھی حکم ہو جائے تو سب کے ضمن میں بعض آ گئے یا نہیں آ گئے؟ سب کے ضمن میں بعض آ گئے۔ تو دیکھا، دونوں صورتوں میں بعض پہ ضرور حکم آئے گا۔
نہیں بات سمجھ میں آئی؟ پھر سنو، پھر سنو۔ میں نے کیا کہا؟ ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، میں نے حکم کس پہ لگایا؟ افراد پر، افراد پر۔ کیا میں نے بیان کیا سب پر ہے یا بعض پر؟ نہیں، معلوم ہوا یہ کون سا قضیہ ہے؟ مہملہ ہے، ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“ مہملہ۔ دعویٰ میرا یہ ہے جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا، جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا۔ دیکھو، میں نے کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان حیوان ہے، انسان کے افراد پر حکم لگایا، لیکن کتنے پر لگایا یہ بیان نہیں کیا۔ چلو بیان تو میں نے نہیں کیا لیکن احتمال تو دو ہی ہیں، یہ حکم یا تو سب کے لیے ہوگا یا بعض کے لیے ہوگا۔ تیسرا کوئی احتمال بنتا ہے یہاں؟ اب میں نے کہا انسان کے جو افراد ہیں وہ حیوان ہیں، تو یہ یا تو سب ہوں گے یا بعض ہوں گے، یہی صورت بنتی ہے نا؟ تو دیکھو، یا سب ہوں گے یا بعض، جزئیہ آیا یا نہیں؟ دو صورتیں بنی نا، دو صورتیں بن گئیں۔ ایک کیا؟ یا تو تمام افراد کے لیے حکم ہے یا بعض کے لیے، تیسری کوئی صورت ہے؟ نہیں۔ تو دیکھو، ایک احتمال کیا ہوا؟ بعض افراد کے لیے حکم ہے، دوسرا احتمال کیا ہوا؟ تمام افراد کے لیے یہ حکم ہے۔ جب تمام کے لیے ہوگا تو بعض کے لیے ہو جائے گا یا نہیں؟ تو اس تمام میں بھی بعض آ گئے یا نہیں؟ اس تمام میں بھی بعض آ گئے۔
دیکھو، جب کل پہ آپ حکم لگاتے ہیں تو بعض پر خود ہی اس کے اندر حکم آ جاتا ہے۔ میں کہتا ہوں ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان۔ جب ہر انسان حیوان ہے تو میرا یہ کہنا بھی صحیح ہے ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَيَوَانٌ“، بعض انسان حیوان ہیں۔ آپ یہ نہ کہیں کیا باقی حیوان نہیں؟ نہیں نہیں، میں نے باقیوں کی بات نہیں کی، میں نے صرف بعض کی بات کی ہے۔ میں نے جب یہ کہا ”بَعْضُ الْإِنْسَانِ حَيَوَانٌ“، بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان ہیں۔ آپ یہ نہ کہیں کہ سارے ہی حیوان ہیں، آپ نے بعض کیوں کہا؟ بھئی میں نے بعض کی بات کی، باقی جو بعض ہیں میں نے ان کے بارے میں یہ تو نہیں کہا کہ وہ حیوان نہیں ہیں، ان کے بارے میں تو میں خاموش ہوں۔ ان کے بارے میں تو میں تو بعض کے بارے میں صرف بات کر رہا ہوں۔ تو جب میں یہ کہوں کہ بعض انسان حیوان ہیں، تو اس کا یہ معنی نہیں نکالنا آپ نے کہ بعض انسان نہیں ہیں۔ میں نے کب کہا ہے بعض نہیں ہیں؟ میں نے تو صرف بعض کی بات کی، بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان ہیں، اور مجھے بتاؤ یہ بات درست ہے یا نہیں؟
فرض کرو میرے سامنے دس انسان ہیں، پوری دنیا کے انسان فرض کرو دس ہیں، اس دس میں سے پانچ کے بارے میں، میں کہتا ہوں یہ انسان حیوان ہیں۔ کتنے کے بارے میں کہا؟ پانچ کے بارے میں، تو کیا باقی پانچ کے بارے میں، میں نے یہ کہا ہے کہ وہ انسان نہیں ہیں؟ نہیں، ان کے بارے میں، میں خاموش ہوں، ان کی میں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔ ہاں میں نے تو بعض کی بات کی ہے اور مجھے بتائیں جو بعض کے بارے میں، میں نے کہا کہ یہ والے بعض حیوان ہیں، غلط کہا؟ صحیح کہا؟ صحیح کہا۔ تو اس کا الٹ معنی، اس کا مفہوم مخالف آپ نے نہیں لینا کہ بعض انسان حیوان ہیں تو اس کا تو مطلب ہوا بعض حیوان نہیں ہیں۔ نہیں بھئی، میں نے کب کہا ہے بعض نہیں ہیں؟ میں نے تو صرف بعض کی بات کی ہے کہ بعض انسان کیا ہیں؟ حیوان ہیں، باقیوں کے بارے میں، میں خاموش ہوں۔ ان میں احتمال ہے ہو سکتا ہے انسان ہوں ہو سکتا ہے نہ ہوں، میں نے ان کی بات ہی نہیں کی۔ تو جب کل کی بات کی جاتی ہے تو اس میں بعض کی بھی بات آ جاتی ہے۔ میں نے کیا کہا؟ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، تمام انسان کیا ہیں؟ حیوان، تو بعض انسان حیوان ہیں یہ کہنا بھی صحیح ہو گیا یا نہیں؟
ایک آدمی نے کہا ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ہر انسان کیا ہے؟ حیوان، تو اس جملے کو سن کر دوسرے نے کہا کہ جب کل انسان کیا ہیں؟ حیوان، تو معلوم ہوا بعض انسان بھی کیا ہیں؟ حیوان ہیں، اس کا یہ نتیجہ اخذ کرنا صحیح ہے یا نہیں؟ صحیح ہے۔ جیسے کوئی شخص کہے اس مدرسے کے تمام طلباء محنتی ہیں، ایک اور آدمی یہ جملہ سن کے کہتا ہے اچھا جب تمام محنتی ہیں، معلوم ہوا بعض طلباء بھی اس مدرسے کے بعض طلباء محنتی ہیں۔ تو یہ غلط ہے اس کا کہنا یا صحیح؟ صحیح ہے۔ اس نے باقی بعض کے بارے میں یہ تو نہیں کہا کہ وہ محنتی نہیں، اس نے تو صرف بعض کی بات کی۔ جب کل میں سب کی بات ہو گئی تھی تو اس میں بعض بھی آ گئے یا نہیں آ گئے؟ لہٰذا جہاں کلی ہو وہاں جزئی بھی ضرور ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ جہاں کل ہو وہاں جز ضرور ہوتا ہے۔
لہٰذا اب پھر آؤ، میں نے کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان حیوان، یہ مہملہ ہے، یہ قضیہ مہملہ ہے اور دعویٰ تھا جہاں مہملہ ہو وہاں جزئیہ ضرور ہوتا ہے۔ جہاں مہملہ ہو وہاں جزئیہ ضرور ہوتا ہے۔ میں نے کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان حیوان ہے، میں حکم کس پر لگا رہا ہوں؟ افراد پر، تو دو ہی صورتیں ہیں، یا تو تمام افراد مراد ہوں گے یا بعض، تیسری کوئی صورت ہے؟ نہیں۔ جب افراد پر حکم لگا رہے ہیں تو یہی دو صورتیں بنتی ہیں، یا بعض پہ حکم ہوتا ہے یا تمام۔ اس میں بیان تو نہیں کیا گیا لیکن احتمال تو یہی دو بنتے ہیں نا کہ حکم کس پہ لگا رہے ہیں؟ افراد پہ، تو کتنے احتمال؟ دو احتمال، کون کون سے؟ یا بعض پر ہے یا تمام پر۔ بعض لیں پھر تو بعض ہیں ہی، اگر تمام مراد لیں تو بھی بعض پر حکم لگ گیا۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟ جہاں مہملہ ہو وہاں جزئیہ ضرور ہوگا۔
جب ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“ کہہ دیا تو معلوم ہوا حکم افراد پر لگ رہا ہے، اور افراد پر حکم کے تو دو ہی احتمال ہیں، یا تو یہ حکم ہوگا بعض پر یا سب پر۔ بعض پر ہو تو دیکھو یہ بھی جزئیہ، اور سب پر حکم ہو تو اس کے ضمن میں بھی یہ آ گیا، جزئیہ آ گیا۔ معلوم ہوا مہملہ جہاں بھی آئے گا جزئیہ ضرور آئے گا۔ دعویٰ سمجھ میں آ گیا؟ دعویٰ کیا تھا؟ جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا۔ کس طرح ہوگا؟ کیونکہ مہملہ میں حکم کس پر ہے؟ افراد پر، اور افراد میں کتنے احتمال؟ دو، یا بعض یا سب۔ اگر بعض ہے تو جزئیہ آ گیا، اور اگر سب مراد ہیں تو سب میں بھی جزئیہ ضرور آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔
دوسرا دعویٰ کیا تھا؟ کہ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ضرور ہوگا۔ پہلا دعویٰ کیا تھا؟ جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ، اب دوسرا دعویٰ کیا ہے؟ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ضرور ہوگا۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، بعض حیوان انسان ہیں، یہ جزئیہ ہے، کلیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ توجہ ہے؟ تھک تو نہیں گئے؟ یہ جزئیہ ہے، کلیہ ہے؟ جزئیہ ہے۔ جب جزئیہ ہے تو جہاں جزئیہ ہوتا ہے وہاں مہملہ ضرور ہوتا ہے۔ کیا کہا اس میں؟ حیوان کے بعض افراد پر کیا حکم لگا دیا؟ انسان ہونے کا، جب بعض افراد پر حکم لگا دیا تو فی الجملہ افراد پر حکم لگ گیا، مجموعی اعتبار سے افراد پر حکم لگ گیا۔
نہیں سمجھ میں آ رہی، پھر دہرائیں ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، یہ کون سا ہے؟ جزئیہ، اور دعویٰ کیا ہے؟ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ہوگا۔ تو اس سے مہملہ بنا لو خود ہی، جب میں یہ کہوں ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“ تو میرا یہ کہنا بھی صحیح ”اَلْحَيَوَانُ إِنْسَانٌ“، ”اَلْحَيَوَانُ إِنْسَانٌ“۔ میں نے یہ تو نہیں کہا سارے حیوان کیا ہیں؟ انسان، میں نے مطلقاً یہ کہا حیوان کے افراد انسان ہیں۔ اس میں دو احتمال، ہو سکتا ہے سارے مراد ہوں ہو سکتا ہے بعض، نہیں سمجھ میں آ رہی بات میرا خیال۔
دیکھو پھر سنو، مہملہ پہ ذرا غور کرو، ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، اس پر غور کرو، ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، یہ کون سا قضیہ ہے؟ قضیہ مہملہ ہے۔ مہملہ میں حکم کس پر ہوتا ہے؟ افراد پر ہوتا ہے، اور اس میں یہ بیان نہیں ہوتا بعض پر ہے یا سب پر، تو یوں کہو گے مجموعی اعتبار سے افراد پر یہ حکم لگا ہے۔ کس اعتبار سے؟ مجموعی اعتبار سے افراد پر حکم لگ رہا ہے، تو یاد رکھو جو قضیہ مہملہ ہوتا ہے اس میں مجموعی اعتبار سے افراد پر حکم ہوتا ہے، ہاں یہ نہیں بیان ہوتا سب کے لیے ہے یا بعض کے لیے، ہاں مجموعی طور پر حکم ہے کس پر؟ افراد پر ہی ہے۔ توجہ ہے؟ مجموعی اعتبار سے یہ حکم کس پر ہے؟ افراد پر ہے، پھر اس میں دونوں احتمال ہیں ہو سکتا ہے بعض کے لیے ہو سکتا ہے سب کے لیے، لیکن مہملہ میں ہوتا حکم کس پر ہے؟ افراد پر ہے۔ جہاں مہملہ آ گیا وہاں گویا مجموعی اعتبار سے آپ نے افراد پر حکم لگا دیا، مجموعی اعتبار سے افراد پر، ہاں اس میں احتمال پھر دونوں ہیں ہو سکتا ہے یہ سب کے لیے ہو سکتا ہے بعض، لیکن وہ اس نے وہاں بیان نہیں کیا کہنے والے نے، تو مجموعی اعتبار سے حکم کس پر لگ گیا؟ افراد پر، اور اس میں پھر کتنے احتمال؟ دو احتمال۔
ان احتمال کو ذرا چھوڑ دو، بس مجموعی اعتبار سے حکم کس پر لگا؟ افراد پر، چاہے تھوڑے ہوں چاہے زیادہ، افراد پر حکم لگ گیا یا نہیں لگ گیا؟ تو جب میں نے کہا ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان ہیں، جب بعض افراد پر حکم لگ گیا تو مجموعی اعتبار سے افراد پر حکم لگ گیا یا نہیں؟ مجموعی اعتبار سے کس پر حکم لگ گیا؟ افراد پر، جب افراد پر حکم لگ گیا مجموعی اعتبار سے، یہی تو مہملہ ہوتا ہے۔ اس میں افراد پر حکم ہوتا ہے قطع نظر سارے یا بعض، تو جب بعض پہ حکم لگ گیا تو افراد پر لگ گیا یا نہیں؟ تو جب افراد پر لگ گیا تو مہملہ پایا گیا۔ نہیں سمجھ میں آئی، ویسے سر ہلا رہے ہیں۔
پھر سنو، یاد رکھو مہملہ میں حکم ہوتا ہے افراد پر، جیسے ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان کے افراد پر حیوان ہونے کا حکم لگایا، لیکن بیان نہیں کیا کل پر یا بعض، لیکن مجموعی طور پر افراد پر حکم لگا دیا۔ چاہے کچھ کے لیے ہو چاہے سب کے لیے ہو لیکن یہ حکم افراد پر لگے گا ضرور، تو مجموعی اعتبار سے یہ حکم کس پر ہے؟ افراد پر، قطع نظر بعض یا سب، اس سے قطع نظر حکم افراد پر ہے، بس حکم افراد پر لگ جائے تو مہملہ پایا جاتا ہے۔ مہملہ پایا، یعنی حکم افراد پر ہے چاہے بعض پر لگ جائے تو بھی ٹھیک ہے، سب پر لگ جائے تو بھی ٹھیک ہے۔ تو جب میں نے کہا ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، بعض حیوان کے جو افراد ہیں وہ کیا ہیں؟ انسان ہیں، جب بعض افراد پر حکم لگا دیا تو مجموعی طور پر افراد پر حکم لگ گیا یا نہیں؟ جب حکم افراد پر لگ گیا یہی تو مہملہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مجموعی اعتبار سے افراد پر بس حکم لگ گیا تو مہملہ ہے۔
معلوم ہوا جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ضرور اور جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ حاصل کلام پھر ایک دفعہ سمجھ لو جس کو سمجھ میں نہیں آئی، دیکھو یہاں انہوں نے کیا کہا ”وَتُلَازِمُ الْجُزْئِيَّةَ“، یہ مہملہ جو ہے لازم ہے کس کے ساتھ؟ جزئیہ کے ساتھ، اور باب مفاعلہ لائے، معلوم ہوا مہملہ لازم ہے جزئیہ کے ساتھ اور جزئیہ لازم ہے مہملہ کے ساتھ۔ یعنی جہاں مہملہ ہوگا جزئیہ ضرور پایا جائے گا اور جہاں جزئیہ پایا جائے گا مہملہ ضرور پایا جائے گا۔ تو جب مہملہ پایا گیا، مثلاً میں نے کیا کہا ”اَلْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ“، انسان کیا ہیں؟ حیوان ہیں، جب حکم افراد پر لگ رہا ہے تو یا تو بعض پہ لگے گا یا سب پر، بعض پر لگے تو بھی جزئیہ ثابت، سب پر لگے تو کل کے ضمن میں بعض بھی آ گئے تو وہاں بھی دیکھو بعض جہاں مہملہ ہوگا وہاں بعض افراد پر حکم ضرور ہوگا۔ یہ ہو ہی نہیں سکتا بعض پر نہ ہو کیونکہ حکم آپ نے لگایا ہی کس پر ہے؟ حکم لگایا ہی افراد پر ہے، تو بعض پر تو ضرور یہ حکم پھر لگے گا، ویسے تو ہو ہی نہیں سکتا، تو جہاں مہملہ ہوگا وہاں جزئیہ ضرور، اور جہاں جزئیہ ہوگا وہاں مہملہ ضرور ہوگا کیونکہ جزئیہ میں بعض افراد پر حکم لگایا، تو جب بعض پر لگ گیا تو مجموعی اعتبار سے افراد پر حکم لگ گیا یا نہیں لگ گیا؟ اور یہی تو مہملہ ہوتا ہے، دعویٰ سمجھ میں آ گیا؟
تو حاصل کلام یہ، وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ علوم میں یہ محصورات اربعہ معتبر ہیں، اس کا یہ معنی نہ سمجھنا کہ مہملہ معتبر نہیں، مہملہ بھی معتبر ہے لیکن وہ انہی محصورات اربعہ کے اندر آ جاتا ہے، کیونکہ جہاں جزئیہ ہوگا وہاں کیا ہوگا؟ مہملہ، اور جہاں کہیں مہملہ آیا تو وہ بھی کیا ہوگا؟ جزئیہ ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو معلوم ہوا دو معتبر نہیں ہیں، ایک شخصیہ اور ایک طبعیہ، باقی معتبر ہیں، لیکن مہملہ کو الگ سے بتاتے نہیں ہیں، بس صرف یہ کہہ دیتے ہیں کہ علوم میں یہ چار محصورات اربعہ معتبر ہیں، موجبہ کلیہ یا سالبہ کلیہ، اور یا موجبہ جزئیہ اور سالبہ جزئیہ، یہ چار معتبر ہیں۔ مہملہ کو ساتھ ذکر نہیں کرتے کیونکہ مہملہ کس کے ضمن میں آ گیا؟ جزئیہ کے ضمن میں آ گیا، بات سمجھ میں آ گئی۔
جی، اب دیکھیے شرح میں: ”قَوْلُهُ: وَالْمَوْضُوْعُ“، کہتے ہیں ”هٰذَا تَقْسِيمٌ لِلْقَضِيَّةِ الْحَمْلِيَّةِ بِاعْتِبَارِ الْمَوْضُوعِ“، یہ تقسیم ہے قضیہ حملیہ کی موضوع کے اعتبار سے، ”وَلِذَا لُوْحِظَ فِي تَسْمِيَةِ الْأَقْسَامِ حَالُ الْمَوْضُوعِ“، اور اسی لیے لحاظ رکھا گیا ہے قسموں کا نام رکھنے میں موضوع کے حال کا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ان کے نام جو مختلف نام رکھے گئے، ایک کا نام کیا رکھا؟ شخصیہ، ایک کا کیا نام؟ طبعیہ، ایک کا کیا نام؟ محصورہ، اور ایک کا نام مہملہ، یہ کس اعتبار سے ہیں؟ موضوع کے اعتبار سے۔ یہ نام کس اعتبار سے ہیں؟ موضوع، موضوع اگر شخص ہے تو شخصیہ، موضوع اگر طبیعت اور حقیقت ہے تو طبعیہ، موضوع کے اندر اگر افراد ہیں تو اگر وہ افراد ان کا مقدار بیان کی گئی ہے ان کا احاطہ کیا گیا ہے تو محصورہ، اور اگر ان کا احاطہ نہیں کیا گیا ان کی مقدار نہیں تو وہ مہملہ، تو یہ نام کس اعتبار سے ہیں؟ موضوع کے اعتبار سے۔
تو کہتے ہیں یہ قضیہ حملیہ کی تقسیم ہے ”بِاعْتِبَارِ الْمَوْضُوعِ“، موضوع کے اعتبار سے، ”وَلِذَا لُوْحِظَ فِي تَسْمِيَةِ الْأَقْسَامِ حَالُ الْمَوْضُوعِ“، اسی لیے لحاظ رکھا گیا ہے ان قسموں کا نام رکھنے میں موضوع کے حال کا، ”فَيُسَمَّى“، پس نام رکھا گیا ہے ”مَا“، وہ قضیہ ”مَوْضُوعُهُ شَخْصٌ“، جس کا موضوع کیا ہو؟ شخص، یہ ما سے مراد قضیہ ہے، پس نام رکھا گیا ہے اس قضیہ حملیہ کا ”مَوْضُوعُهُ شَخْصٌ“، جس کا موضوع شخص ہے، ”شَخْصِيَّةً“، کیا نام رکھا گیا ہے؟ شخصیہ، ”وَعَلَى هٰذَا الْقِيَاسُ“، اور اسی پر قیاس ہے یعنی اسی طریقے پر سب کے نام رکھے گئے ہیں۔
”وَمُحَصَّلُ التَّقْسِيمِ“، اور تقسیم کا حاصل یہ ہے، اب چار قسمیں بنائیں گے۔ کس طرح چار بنائیں گے؟ کہ قضیہ حملیہ کا موضوع یا تو شخص ہوگا یا کلی، اگر کلی ہے تو پھر کلی کی حقیقت پر حکم ہوگا اور ماہیت پر یا اس کے افراد، اگر افراد پر حکم ہے تو پھر ان کی مقدار بیان کی جائے گی یا مقدار بیان نہیں کی جائے گی، تو چار قسمیں ہو جائیں گی اور پھر ان کے نام بتا دیں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَمُحَصَّلُ التَّقْسِيمِ“، اور اس تقسیم کا حاصل یہ ہے ”أَنَّ الْمَوْضُوعَ إِمَّا جُزْئِيٌّ حَقِيقِيٌّ“، کہ قضیہ حملیہ کا موضوع یا تو جزئی حقیقی ہوگا ”كَقَوْلِنَا“، جیسے ہمارا یہ قول ”هٰذَا إِنْسَانٌ“، ایک معین شخص کی طرف اشارہ کر کے کہا ”هٰذَا إِنْسَانٌ“، یہ کیا ہے؟ انسان، تو دیکھو موضوع معین شخص ہوا تو یہ شخصیہ ہوا، ”أَوْ كُلِّيٌّ“، یا اس کا موضوع کیا ہوگا؟ کلی ہوگا، ”وَعَلَى الثَّانِي“، اور دوسری صورت میں، کون سی دوسری صورت؟ جب موضوع کلی ہو، ”فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ عَلَى نَفْسِ حَقِيقَةِ هٰذَا الْكُلِّيِّ وَطَبِيعَتِهِ“، یا تو حکم ہوگا اس کلی کی نفس حقیقت پر اور اس کی طبیعت اور ماہیت پر ”مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، اس کی ذات کے اعتبار سے، اس کی ذات کے اعتبار سے، ”أَوْ عَلَى أَفْرَادِهِ“، یا حکم ہوگا اس کے افراد پر۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر دیکھیں، تقسیم کا حاصل یہ ہے، ترجمے پہ نظر رکھیں، ”وَمُحَصَّلُ التَّقْسِيمِ“، اس تقسیم کا حاصل یہ ہے کہ قضیے کا موضوع یا تو جزئی حقیقی ہوگا ”أَوْ كُلِّيٌّ“، یا کیا ہوگا؟ کلی ہوگا، اور دوسری صورت میں یعنی جب وہ کلی ہو ”فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ عَلَى نَفْسِ حَقِيقَةِ هٰذَا الْكُلِّيِّ وَطَبِيعَتِهِ مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، یا تو حکم ہوگا اس کلی کی نفس حقیقت پر اور اس کی طبیعت پر اس کی ذات کے اعتبار سے، ”أَوْ عَلَى أَفْرَادِهِ“، یا حکم ہوگا اس کے افراد پر۔ اور دوسری صورت میں یعنی جب حکم کس پر ہو؟ افراد پر ہو، ”فَإِمَّا أَنْ يُبَيَّنَ كَمِّيَّةُ أَفْرَادِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ“، پھر یا تو اس میں بیان کیا جائے گا محکوم علیہ کے افراد کی مقدار کو، ”فَإِمَّا أَنْ يُبَيَّنَ كَمِّيَّةُ أَفْرَادِ الْمَحْكُومِ عَلَيْهِ“، یا تو اس میں پھر بیان کیا جائے گا محکوم علیہ کے افراد کی مقدار کو ”بِأَنْ يُبَيَّنَ“، بایں صورت کہ یہ بیان کیا جائے گا ”أَنَّ الْحُكْمَ عَلَى كُلِّهَا أَوْ عَلَى بَعْضِهَا“، کہ حکم ان میں سے کل پر ہے یا بعض پر ہے، ”أَوْ لَا يُبَيَّنَ ذٰلِكَ“، یا اس مقدار کو بیان نہیں کیا جائے گا ”بَلْ يُهْمَلَ“، بلکہ اس کو مہمل چھوڑ دیا جائے گا۔
”فَالْأَوَّلُ شَخْصِيَّةٌ“، تو پہلا کیا ہے؟ شخصیہ ہے، ”وَالثَّانِي طَبِيعِيَّةٌ“، اور دوسرا طبعیہ ہے جس میں حقیقت اور ماہیت پر حکم ہے، ”وَالثَّالِثُ مَحْصُورَةٌ“، اور تیسرا محصورہ ہے جس میں حکم افراد پر ہے اور مقدار بھی بیان ہے، ”وَالرَّابِعُ مُهْمَلَةٌ“، اور چوتھا مہملہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھا یہاں بیچ میں تھوڑی سی عبارت سمجھ لیں، یہاں کیا آیا تھا؟ ”مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، ”مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“ یہاں آیا، ذرا اس کو سمجھ لیں۔ یاد رکھو، یہ ”هِيَ“ اول جو ہے یہ ہے مبتداء اور ”هِيَ“ ثانی اس کی تاکید ہے۔ بھئی ایک ہی لفظ جب دو دفعہ لائیں تو دوسرا پہلے کے لیے تاکید ہوتا ہے، ”جَاءَنِي زَيْدٌ زَيْدٌ“، زید دو دفعہ لایا تو یہ دوسرا زید کیا ہے؟ اول کے لیے تاکید۔ مثلاً میں اگر یہ کہتا، صرف ایک دفعہ لاتا ”جَاءَنِي زَيْدٌ“، میرے پاس زید آیا، تو سننے والے کے ذہن میں وہم آ سکتا تھا کہ زید تو بڑا آدمی ہے وہ خود نہیں آیا ہوگا، ہو سکتا ہے اس نے اپنا سیکرٹری وغیرہ بھیج دیا ہوگا۔ تو میں اس وہم کو ختم کرتا ہوں ”جَاءَنِي زَيْدٌ زَيْدٌ“، دوسری دفعہ زید لا کر میں نے اس زید کو پکا کر دیا کہ آنے کا فعل زید نے ہی کیا ہے وہی آیا ہے کوئی سیکرٹری وغیرہ اس نے نہیں بھیجا۔ تو اس ثانی کو کیا کہتے ہیں؟ ایک ہی لفظ جب دوبارہ لایا جائے تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ تاکید، تو یہاں پر بھی یہ جو ”هِيَ“ دوبارہ لایا گیا یہ پہلے ”هِيَ“ کی تاکید ہے اور وہ پہلا ”هِيَ“ ہے مبتداء، اور آگے خبر محذوف ہے ”مَقْصُودَةٌ“، ”مِنْ حَيْثُ هِيَ مَقْصُودَةٌ“، ضمیر راجع ہے طبیعت اور حقیقت کو، ”مِنْ حَيْثُ هِيَ مَقْصُودَةٌ“، اس حیثیت سے کہ وہ حقیقت ہی مقصود ہے۔
توجہ ہے؟ حکم لگایا کس پر؟ قضیہ طبعیہ میں حکم کس پر ہوتا ہے؟ کلی پر ہے اور کلی کی حقیقت پر ہے، قطع نظر کس سے؟ افراد سے۔ توجہ ہے؟ تو قضیہ طبعیہ میں حکم کس پر لگایا جاتا ہے؟ کلی کی حقیقت اور ماہیت پر، تو یہاں پر یہی بیان کر رہے ہیں کہ ادھر دیکھیے، حکم لگایا گیا ہو کلی کی حقیقت اور ماہیت پر ”مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، اس حیثیت سے کہ یہ ماہیت ہی مقصود ہے، افراد یہاں پر مقصود نہیں ہیں، بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ یہ معنی ہے۔
ترجمہ ذرا اس کا دوبارہ دیکھ لیں، تقسیم کا حاصل یہ ہے کہ ”أَنَّ الْمَوْضُوعَ إِمَّا جُزْئِيٌّ حَقِيقِيٌّ“، کہ اس قضیے کا موضوع یا تو جزئی حقیقی ہوگا ”أَوْ كُلِّيٌّ“، یا کیا ہوگا؟ کلی ہوگا، ”وَعَلَى الثَّانِي“، اور دوسری صورت میں یعنی جب وہ کلی ہو ”فَإِمَّا أَنْ يَكُونَ الْحُكْمُ عَلَى نَفْسِ حَقِيقَةِ هٰذَا الْكُلِّيِّ وَطَبِيعَتِهِ“، یا تو حکم ہوگا اس کلی کی نفس حقیقت پر اور اس کی طبیعت، نفس حقیقت یعنی ذات حقیقت پر، کس پر؟ یعنی کلی کی حقیقت کی ذات پر حکم ہوگا ”وَطَبِيعَتِهِ“، اور اس کی طبیعت پر ”مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ“، اس حیثیت سے کہ وہ حقیقت ہی مقصود ہے، افراد مقصود نہیں ہیں۔ تو حقیقت پر حکم لگایا گیا، بات ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ تو یا تو حکم لگایا جائے گا ”عَلَى نَفْسِ حَقِيقَةِ هٰذَا الْكُلِّيِّ وَطَبِيعَتِهِ مِنْ حَيْثُ هِيَ هِيَ أَوْ عَلَى أَفْرَادِهِ“، یا تو وہ حکم لگایا جائے گا اس کلی کی نفس حقیقت اور اس کی طبیعت پر اس حیثیت سے کہ وہ ماہیت اور وہ حقیقت ہی مقصود ہے اس پر حکم ہوگا، ”أَوْ عَلَى أَفْرَادِهِ“، یا اس کے افراد پر بھئی۔ یہاں تک ساری بحث سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں ”ثُمَّ الْمَحْصُورَةُ“، پھر جو محصورہ ہے ”إِنْ بُيِّنَ فِيهَا أَنَّ الْحُكْمَ عَلَى كُلِّ أَفْرَادِ الْمَوْضُوعِ فَكُلِّيَّةٌ“، اگر اس میں یہ بیان کیا جائے کہ حکم جو ہے موضوع کے تمام افراد پر ہے ”فَكُلِّيَّةٌ“، تو وہ محصورہ کلیہ ہے، ”وَإِنْ بُيِّنَ أَنَّ الْحُكْمَ عَلَى بَعْضِ أَفْرَادِهِ فَجُزْئِيَّةٌ“، اور اگر اس میں یہ بیان کیا جائے کہ حکم جو ہے اس کے بعض افراد پر ہے ”فَجُزْئِيَّةٌ“، تو وہ جزئی ہے، ”وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِمَّا مُوجِبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ“، اور ان دونوں میں سے ہر ایک یا تو وہ موجبہ ہوگا یا سالبہ۔ یعنی کلیہ جو ہے وہ بھی موجبہ ہوگا یا سالبہ، اور جزئیہ جو ہے وہ بھی موجبہ ہوگا یا سالبہ ہوگا۔
”وَلَا بُدَّ فِي كُلٍّ مِنْ تِلْكَ الْمَحْصُورَاتِ الْأَرْبَعِ مِنْ أَمْرٍ يُبَيِّنُ كَمِّيَّةَ أَفْرَادِ الْمَوْضُوعِ“، اور ضروری ہے ان چاروں محصورات میں ایک ایسی چیز کا ہونا جو بیان کرے موضوع کے افراد کی مقدار کو۔ محصورات اربعہ وہ یا کلی ہیں یا جزئی، تو اس میں کوئی نہ کوئی لفظ ایسا ضرور ہوگا جو کلی یا جزئی ہونے کو بیان کرے اور اس کو سور کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں اور ضروری ہے ان محصورات اربعہ میں ایک ایسی چیز کا ہونا جو موضوع کے افراد کی مقدار کو بیان کرے، ”يُسَمَّى ذٰلِكَ الْأَمْرُ بِالسُّورِ“، اور موسوم کیا جاتا ہے یعنی نام رکھا جاتا ہے اس چیز کا سور، یعنی اس کو سور کہتے ہیں۔ ”أُخِذَ مِنْ سُورِ الْبَلَدِ“، اور یہ لیا گیا ہے یہ لفظ کس سے؟ سور البلد سے، شہر کی جو فصیل ہوتی ہے جو شہر پناہ ہوتی ہے۔ اب وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی اس سے یہ لفظ کیوں لیا؟ کہتے ہیں ”إِذْ كَمَا أَنَّ سُورَ الْبَلَدِ مُحِيطٌ بِهِ“، کہتے ہیں جیسے کہ شہر کی جو فصیل ہوتی ہے وہ شہر پر محیط ہوتی ہے، ”مُحِيطٌ بِهِ“، وہ اس شہر پر محیط ہوتی ہے یعنی اس نے شہر کا احاطہ کیا ہوتا ہے، شہر کو گھیرا ہوتا ہے، ”كَذٰلِكَ هٰذَا الْأَمْرُ مُحِيطٌ بِمَا حُكِمَ عَلَيْهِ“، اسی طرح یہ جو چیز ہے اس نے بھی گھیرا ہوتا ہے ان کو جن پر حکم لگایا، اس کے افراد کو، اس نے گھیرا ہوتا ہے اس چیز کو جس پر حکم لگایا گیا ہے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ من کے ساتھ بیان آیا ”مِنْ أَفْرَادِ الْمَوْضُوعِ“، یعنی موضوع کے افراد۔ ادھر دیکھیے، اس نے گھیرا ہوتا ہے اس چیز کو جس پر حکم لگایا گیا ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے؟ یعنی موضوع کے افراد۔ اس نے گھیرا ہوتا ہے موضوع کے افراد کو جن پر حکم لگایا جا رہا ہے اور یہ بیان کرتا ہے کہ کل مراد ہیں یا بعض۔
ترجمہ سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھ لیں، یاد رکھو یہ جو ”مَا“ ہے نا، ”مَا“ موصولہ ہے اور آگے ”حُكِمَ عَلَيْهِ“ اس کا صلہ ہے۔ ”مُحِيطٌ“، اس نے گھیرا ہوا ہے ”بِمَا“، اس چیز کو ”حُكِمَ عَلَيْهِ“، جس پر حکم لگایا گیا، تو بعض اوقات ابہام ہوتا ہے اس میں، پڑھنے والے کو ابھی بھی پتہ نہیں چلا کہ کیا چیز مراد ہے۔ گھیرا ہوتا ہے اس چیز کو جس پر حکم لگایا گیا ہے، تو آگے پھر ”مِنْ“ کے ساتھ اس کا بیان لاتے ہیں اور اس کا ”مِنْ“ کا ترجمہ کرتے ہیں یعنی کے ساتھ، کس کے ساتھ؟ اب دیکھو ترجمہ سننا، ”مِنْ“ کا ترجمہ میں یعنی کے ساتھ کروں گا: ”وَكَذٰلِكَ“، اور اسی طرح ”هٰذَا الْأَمْرُ“، یہ جو امر ہے یہ والی جو چیز ہے ”مُحِيطٌ“، اس نے گھیرا ہوا ہے ”بِمَا حُكِمَ عَلَيْهِ“، اس چیز کو جس پر حکم لگایا گیا ہے ”مِنْ أَفْرَادِ الْمَوْضُوعِ“، یعنی موضوع کے افراد کو۔ تو یہ جو ”مِنْ“ ہے یہ بیان کر رہا ہے ”مَا“ کا، کس کا بیان ہے؟ کہ ”مَا“ سے کیا مراد ہے۔ بتایا ”مَا“ سے مراد افراد الموضوع ہیں۔ توجہ ہے؟ ”مَا“ سے کیا مراد ہے؟ افراد الموضوع، کس نے بتایا؟ ”مِنْ“ نے، لہٰذا اس ”مَا“ کو اٹھاؤ اور اس کی جگہ افراد الموضوع کو لے آؤ۔ اب ترجمہ سننا، اب میں ”مَا“ کی جگہ افراد الموضوع لاؤں گا، ترجمہ ذرا سنو: ”كَذٰلِكَ“، اسی طرح ”هٰذَا الْأَمْرُ“، یہ والی جو چیز ہے ”مُحِيطٌ“، اس نے گھیرا ہوا ہے ”بِمَا حُكِمَ عَلَيْهِ“، موضوع کے ان افراد کو جن پر حکم لگایا گیا ہے۔ اب ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟
”فَسُورُ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ“، اب سور بتلانے لگے ہیں۔ بھئی دیکھو، محصورات اربعہ، محصورات کتنے ہیں؟ چار ہیں۔ یا کلی ہوگا یا جزئی، پھر یا موجبہ ہوگا یا سالبہ، تو چار ہیں۔ تو ان کے لیے جو سور استعمال ہوتے ہیں وہ کون کون سے ہیں؟ آپ کو پہچان کروانے لگے ہیں تاکہ جب بھی کوئی قضیہ آپ کے سامنے آئے آپ فوراً پہچان لیں یہ جزئیہ ہے یا کلیہ، یا موجبہ ہے یا سالبہ ہے، آپ اس کو پہچان لیں، یا آپ خود کوئی مثالیں اپنے سے بنانا چاہیں تو آپ کو پتہ ہو جو قضیہ مقصود ہوگا آپ اس سے بنا سکتے ہیں۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں ”فَسُورُ الْمُوجِبَةِ الْكُلِّيَّةِ هُوَ كُلٌّ وَلَامُ الِاسْتِغْرَاقِ وَمَا يُفِيدُ مَعْنَاهُمَا مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ“، تو موجبہ کلیہ کا سور جو ہے وہ ”كُلٌّ“ ہے اور لام استغراق ہے اور وہ لفظ جو انہی کا فائدہ دے جس زبان سے بھی وہ ہو۔ اب وہ سور بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں موجبہ کلیہ جو ہے اس کا سور ”كُلٌّ“ ہے اور لام استغراق ہے۔ کوئی مثال ذکر کریں بھئی؟ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، اور اسی طرح لام استغراق۔ آپ نے پڑھا ہے کہ الف لام جو ہے یہ دو قسم پر ہے، یا اسمی ہوگا یا حرفی۔ جو اسم فاعل اور اسم مفعول کے صیغوں پر داخل ہو وہ الف لام اسمی ہے، وہ دراصل اسم ہے، اسم موصول ہے، اور دوسری قسم جو ہے وہ الف لام حرفی کی ہے جس کے ذریعے کسی لفظ کو معرفہ بناتے ہیں اور اس کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے۔ اگر اشارہ ماہیت اور حقیقت کی طرف ہو تو الف لام جنسی۔ اگر افراد کی طرف ہو تو پھر سب افراد مراد ہوں گے یا بعض، اگر سب افراد مراد ہیں تو الف لام استغراقی۔ اگر بعض مراد ہیں تو وہ خارج میں متعین ہوں گے یا متعین نہیں، اگر خارج میں متعین ہیں تو الف لام عہد خارجی، عہد کا معنی متعین ہونا، عہد خارجی یعنی جو خارج میں متعین ہیں، اور اگر خارج میں متعین نہیں وہ بعض تو پھر ذہن میں متعین ہوں گے تو وہ عہد ذہنی ہے۔
تو الف لام استغراقی وہ بھی کس چیز کا فائدہ دیتا ہے؟ تمام افراد کا احاطہ کر لیتا ہے، جیسے قرآن میں ہے ”وَالْعَصْرِ إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ“، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں۔ ”إِنَّ الْإِنْسَانَ“، یقیناً تمام انسان، اب اگر آپ سے کوئی پوچھے کہ یہ تمام کا ترجمہ آپ کہاں سے لے آئے؟ تو آپ بتائیں گے اس کو کہ یہ جو الانسان پر الف لام ہے یہ الف لام استغراقی ہے اور یہ کل اور تمام کے معنی میں ہوتا ہے۔ تو الانسان کا یہاں کیا ترجمہ ہے؟ تمام انسان۔ تو یہی مثال بن گئی اس کی ”إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ“، یہ مثال ہے موجبہ کلیہ کی۔ پہلی مثال کیا؟ کل کی کیا مثال دی آپ نے؟ ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ“، یہ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، اسی طرح ”إِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ“، یقیناً تمام انسان خسارے میں ہیں، یہ بھی کیا ہے؟ موجبہ کلیہ ہے۔ ”وَمَا يُفِيدُ مَعْنَاهُمَا“، اور وہ لفظ جو ان کا فائدہ دے یعنی کل یا لام استغراق والا فائدہ دے ”مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ“، جس زبان سے بھی وہ ہو۔ یاد رکھو یہ جو منطق کے قوانین ہیں یہ کوئی عربی زبان کے قوانین نہیں ہیں، یہ ہر زبان کے اندر اسی طرح ہوگا۔ ہر زبان کے اندر جو محصورہ ہوگا اس کے لیے کچھ نہ کچھ سور ہوں گے، تو جو سور جو ہے کل یا لام استغراق والا معنی ادا کرے گا اس زبان میں موجبہ کلیہ کے لیے وہ استعمال ہوگا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ یہ معنی ہے ”وَمَا يُفِيدُ مَعْنَاهُمَا مِنْ أَيِّ لُغَةٍ كَانَتْ“، اور وہ لفظ جو ان دونوں کا ان کے معنی کا فائدہ دے یعنی کل یا لام استغراق والا جس زبان سے بھی وہ ہو۔
”وَسُورُ الْمُوجِبَةِ الْجُزْئِيَّةِ بَعْضٌ وَوَاحِدٌ“، اور موجبہ جزئیہ کا سور جو ہے ”بَعْضٌ“ ہے اور ”وَاحِدٌ“ ہے۔ کیسے بنائیں گے جملہ؟ بعض کو لے کر آئیں بھئی، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، ”وَوَاحِدٌ“، اسی طرح واحد بھی ہے۔ واحد بھی لے کر آئیں کیسے؟ ”وَاحِدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، ”وَاحِدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، وہی بعض کی جگہ واحد لے آئیں اور واحد کے بعد بس ”مِنْ“ کا لفظ بڑھا دیں۔ کیا جملہ بنایا تھا پہلا؟ ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، بعض حیوان کیا ہیں؟ انسان، اسی جگہ بعض کی جگہ ”وَاحِدٌ مِنْ“ لے آؤ، ”وَاحِدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“، حیوان میں سے ایک فرد کیا ہے؟ انسان بھی ہے، تو ”وَاحِدٌ مِنَ الْحَيَوَانِ إِنْسَانٌ“۔ تو کہتے ہیں ”وَسُورُ الْمُوجِبَةِ الْجُزْئِيَّةِ بَعْضٌ وَوَاحِدٌ“، موجبہ جزئیہ کا سور بعض اور واحد ہے، ”وَمَا يُفِيدُ مَعْنَاهُمَا“، اور وہ لفظ جو ان دونوں کا فائدہ دے، یعنی جس لغت میں بھی ہے ان جیسا معنی جو ادا کرے۔
”وَسُورُ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ لَا شَيْءَ وَلَا وَاحِدَ“، اور سالبہ کلیہ کا سور جو ہے ”لَا شَيْءَ“ اور ”لَا وَاحِدَ“ ہے۔ بنائیے بھئی، لا شَیء، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، کیا ترجمہ؟ کوئی انسان حجر نہیں، دیکھو کلی ہے، کلی ہے، سب کا احاطہ کر لیا اور سب سے نفی کر دی حجر ہونے کی۔ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، کوئی انسان حجر نہیں، نفی ہے یا اثبات ہے؟ نفی ہے، اور بعض سے ہے یا سب سے ہے؟ سب سے ہے، تو یہ ہے سالبہ کلیہ کا سور۔ اسی طرح ”وَلَا وَاحِدَ“، لا شَیء کی جگہ لا واحد لے آئیں، ”لَا وَاحِدَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“۔ پہلے کیا تھا؟ ”لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، اب لا شَیء کی جگہ لا واحد لے آؤ، ”لَا وَاحِدَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ“، انسان میں سے کوئی ایک بھی حجر نہیں ہے، جب ہر ایک سے نفی کر دی تو سالبہ کلیہ بن گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ سالبہ کلیہ ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَسُورُ السَّالِبَةِ الْكُلِّيَّةِ لَا شَيْءَ وَلَا وَاحِدَ وَنَظَائِرُهُمَا“، اور جو ان کی نظیریں ہیں یعنی جو ان کے مثل ہیں۔
”وَسُورُ السَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّةِ هُوَ لَيْسَ بَعْضُ وَبَعْضُ لَيْسَ وَلَيْسَ كُلُّ وَمَا يُرَادِفُهَا“، اور سالبہ جزئیہ کا سور جو ہے وہ ”لَيْسَ بَعْضُ“، ”بَعْضُ لَيْسَ“، اور ”لَيْسَ كُلُّ“ ہے، اور جو ان کے مترادف ہو۔ ”لَيْسَ بَعْضُ“، بنائیے بھئی، ”لَيْسَ بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانًا“، ”لَيْسَ بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانًا“، بعض حیوان انسان نہیں ہیں۔ توجہ ہے؟ تو بعض سے انسان ہونے کی نفی کر رہا ہوں یا سب سے؟ بعض سے، تو جزئیہ ہوا، اور نفی کر رہا ہوں یا اثبات کر رہا ہوں؟ نفی، تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا۔ ”لَيْسَ بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانًا“، ”إِنْسَانًا“، لیس نصب دے گا خبر کو، ”لَيْسَ بَعْضُ الْحَيَوَانِ إِنْسَانًا“۔
اور اسی طرح ”بَعْضُ لَيْسَ“، ”بَعْضُ لَيْسَ“، بنائیے، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“، ”بَعْضُ لَيْسَ“، بعض کو موضوع پر داخل کرو اور لیس کو آگے لے جاؤ، ”بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ“، بعض حیوان جو ہیں وہ انسان نہیں ہیں، دیکھا سب سے نفی کی یا بعض سے؟ بعض سے، تو جزئیہ ہوا، اور نفی کیا یا اثبات کیا؟ نفی، تو یہ سالبہ جزئیہ ہوا۔ ”وَلَيْسَ كُلُّ“، اور ایک سالبہ جزئیہ کا سور جو ہے ”لَيْسَ كُلُّ“ ہے۔
اس کی کیا مثال ہے؟ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ تو تمام حیوانات سے انسان ہونے کی نفی کی یا بعض سے؟ تمام سے، بعض سے۔ ترجمے پہ غور کرو۔ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ تو ہر حیوان سے نفی کی یا بعض سے نفی کی؟ بعض سے؟ ہر حیوان سے۔
معنی پہ غور کرو۔ لفظوں کو نہ دیکھو معنی پہ غور کرو۔ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ کیا ترجمہ ہے؟ کوئی ایک بھی نہیں ہے یا بعض نہیں ہیں؟ بعض۔ دیکھو ترجمے پہ غور کرو۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے، معلوم ہوا کہ بعض ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ بعض حیوانوں سے انسان ہونے کی نفی کی ہے، سب سے نہیں کی۔
پھر بولیں، کیا قضیہ ہوا؟ لَيْسَ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَاناً۔ ہر حیوان انسان نہیں ہے۔ معلوم ہوا بعض ہیں، بعض نہیں ہیں۔ تو یہ معنی ہے۔ وَسُورُ السَّالِبَةِ الْجُزْئِيَّةِ، اور سالبہ جزئیہ کا سور جو ہے، وَلَيْسَ بَعْضٌ، اور بَعْضٌ لَيْسَ، اور لَيْسَ كُلٌّ ہے، وَمَا يُرَادِفُهَا اور جو ان کے مترادف ہوں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔