آگے سبق دیکھیے بھئی، شرح کے اندر:
"وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا، وَالصُّغْرَى أَيَّةَ قَضِيَّةٍ كَانَتْ سِوَى الْمُمْكِنَتَيْنِ لِمَا مَرَّ، إِذْ حِينَئِذٍ يَكُونُ نِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ بِضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا أَوْ بِدَوَامِهِ، وَلَا خَفَاءَ فِي مُنَافَاتِهِ مَعَ نِسْبَةِ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا"۔
گزشتہ سبق میں وہ ضابطہ ذکر ہو رہا تھا جو چاروں شکلوں کی شرائط کو سمیٹے ہوئے تھا، جس میں چاروں شکلوں کی شرطیں آ جاتی تھیں اور شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر آپ اس ضابطے کا لحاظ رکھ کر قیاس بنائیں گے تو وہ ہمیشہ منتج ہو گا، کیونکہ اس کے اندر چاروں شکلوں کی شرطیں آ جاتی ہیں۔ یعنی چاروں شکلوں کو الگ الگ یاد کرنے کے بجائے صرف یہ ضابطہ آپ کو اچھی طرح یاد ہوا اور اس ضابطے کے مطابق آپ نے قیاس بنایا، تو آپ کا ہر قیاس منتج ہو گا۔
تو کتنی آسانی ہو گئی بھئی! ایک قیاس آپ بنا رہے ہیں الگ الگ، ہر ہر شکل اس پر لاگو کرنے کے بجائے سیدھا سیدھا ایک مختصر سا ضابطہ بیان کر دیا۔ اور وہ ضابطہ کیا تھا؟ کہ دو چیزوں میں سے ایک ہونی چاہیے، یا تو اوسط کی موضوعیت عام ہونی چاہیے یا اکبر کی موضوعیت عام ہونی چاہیے۔ اوسط کی موضوعیت عام ہو تو اس کے ساتھ دو چیزوں میں سے ایک چیز ہونی چاہیے، یا تو صغریٰ موجبہ فعلیہ ہونا چاہیے یا اوسط کا حمل ہونا چاہیے اکبر پر ایجاباً۔ اور اگر دوسرا امر ہے یعنی اگر اکبر کی موضوعیت عام ہے، تو اس کے ساتھ ضروری ہے کہ دونوں مقدمتین کیفیت میں ایک دوسرے سے مختلف ہوں، ایک موجبہ ہو تو دوسرا سالبہ ہو۔
پھر یہ جو دوسرا امر ہے، دوسرا امر، یہ شکل ثانی میں پایا جاتا ہے۔ شکل ثانی جو ہے اس میں اختلاف مقدمتین اور کلیت کبریٰ ضروری ہے۔ شکل ثانی کے اندر اکبر کی موضوعیت بھی عام ہے اور دونوں مقدمتین بھی آپس میں مختلف ہیں، لیکن وہاں ایک جہت کی بھی ایک شرط ہے، اس کا بھی خیال رکھنا پڑے گا، اور وہ کیا؟ کہ وہ نسبت جو شکل ثانی کے صغریٰ میں ہو اور وہ نسبت جو کبریٰ میں ہو، ان دونوں میں منافات ہونی چاہیے، ان دونوں میں منافات ہونی چاہیے۔ جس کو انہوں نے کن لفظوں کے ساتھ ذکر کیا؟ کہ وہ جو نسبت ہو رہی ہے وصف اوسط کی ذات اصغر کی طرف صغریٰ میں، اس کی منافات ہو وہ جو نسبت ہو رہی ہے وصف اوسط کی وصف اکبر کی طرف، اس میں منافات ہو۔
میں نے آپ کو بتایا تھا ایک ہے وصف موضوع، ایک ہے ذات موضوع۔ وصف موضوع اور چیز ہے، ذات موضوع اور چیز ہے۔ وصف موضوع جو ہے وہ دال ہے، دلالت کرتا ہے، اور ذات موضوع مدلول ہے۔ مثلاً میں نے زبان سے کہا "زید"، تو جیسے ہی میں نے زید کہا، آپ کے ذہن میں فوراً زید کی صورت آ گئی، زید کی ذات آ گئی۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ قَائِمٌ"، تو یہ زید کیا ہے؟ وصف موضوع ہے، اور جو واقع میں زید کی ذات ہے وہ ذات موضوع ہے۔ تو وصف موضوع اور چیز، ذات موضوع اور چیز۔ وصف موضوع صادق آتا ہے کس پر؟ ذات موضوع پر۔ ذات موضوع مصداق ہے کس کا؟ وصف موضوع کا۔ یوں کہو، ذات موضوع کو تعبیر کیا جاتا ہے کس کے ساتھ؟ وصف موضوع کے ساتھ۔
اور پھر اس کے بعد میں نے آپ کو یہ بتلایا تھا کہ یہ جو قضیہ حملیہ ہوتا ہے اس میں ایک ہے موضوع، ایک ہے محمول۔ یہ جو موضوع ہے یہ ذات ہوتی ہے، اس سے مراد ذات ہوتی ہے، اور محمول سے وصف مراد ہوتا ہے۔ تو موضوع کو ذات سے تعبیر کرتے ہیں اور محمول کو وصف سے۔ مثلاً میں کہتا ہوں: "زَيْدٌ قَائِمٌ"، اب مجھے بتائیے، یہ قیام جو میں نے ثابت کیا، کیا یہ لفظ زید کے لیے ہے یا ذات زید کے لیے ہے؟ یہ لفظ زید قائم ہے یا ذات زید قائم ہے؟ تو یہاں دیکھا، موضوع کے اندر ذات ملحوظ ہوتی ہے، ذات مراد ہوتی ہے، ذات کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو اس کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ ذات کے ساتھ۔ اور یہ جو محمول ہوتا ہے یہ وصف ہوتا ہے، جیسے میں نے کہا: "زَيْدٌ قَائِمٌ"، کیا معنی؟ کہ وہ جو ذات زید ہے، اس کے لیے قیام کی صفت ثابت ہے بھئی۔ میرے کہنے کا کیا مطلب؟ کہ وہ جو ذات زید ہے، اس کے لیے وصف قیام ثابت ہے، "زَيْدٌ قَائِمٌ"۔ تو موضوع کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ ذات سے، اور محمول کو تعبیر کس سے کرتے ہیں؟ وصف سے، کیونکہ یہ وصف ہوتا ہے اس ذات کا۔
لہٰذا یہاں پر یہ ذکر کریں گے، یہاں پر یہ ذکر کریں گے کہ صغریٰ میں جو نسبت ہے وصف اوسط کی، کس کی طرف؟ ذات اصغر کی طرف۔ صغریٰ کی بات کر رہا ہوں۔ محمول کون ہے؟ شکل ثانی ہے۔ محمول کون؟ حد اوسط، اور موضوع کون؟ اصغر۔ تو اصغر کو تعبیر کس سے کریں گے؟ ذات اصغر سے، کیونکہ یہ موضوع ہے اور موضوع ذات ہوتی ہے۔ اور نیز اوسط حد اوسط جو محمول ہے، اس کو وصف اوسط کے ساتھ تعبیر کریں گے، کیونکہ محمول وصف ہوتا ہے۔ موضوع ذات ہوتی ہے اور محمول وصف ہوتا ہے۔ تو یوں کہیں گے کہ یہ جو نسبت ہو رہی ہے صغریٰ میں وصف اوسط کی ذات اصغر کی طرف، اس کی منافات ہونی چاہیے کس کے ساتھ؟ وہ جو کبریٰ کے اندر، کبریٰ میں بھی اسی طرح، کبریٰ میں بھی یاد رکھو، اکبر جو ہے وہ موضوع ہے اور حد اوسط محمول ہے۔ تو یوں کہیں گے، کبریٰ میں وصف اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذات اکبر کی طرف، کس کی طرف؟ بھئی موضوع ہے نا، اکبر موضوع ہے، تعبیر ذات سے کرتے ہیں، لیکن یہ آگے اس کو وصف کہیں گے، وہ میں آگے بیان کرتا ہوں۔ تو صغریٰ میں کون سی نسبت ہے؟ وصف اوسط کی نسبت ہے ذات اصغر کی طرف، اور کبریٰ میں نسبت ہے وصف اوسط کی ذات اکبر کی طرف، لیکن ذات اکبر کے بجائے یہ وصف اکبر کہیں گے، کیوں؟ اس لیے کیونکہ یہ جو اصغر اور اکبر ان کو کہا جاتا ہے، یہ نتیجے کے اعتبار سے کہا جاتا ہے۔ نتیجے میں جو موضوع ہوتا ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ اصغر، اور نتیجے میں جو محمول ہوتا ہے اس کو کہتے ہیں اکبر۔ تو حقیقت کے اندر نتیجے کے اعتبار سے اصغر کیا ہے؟ ذات، اور اکبر کیا ہے؟ وصف۔ توجہ ہے؟ اصغر کیا ہے؟ ذات۔ نتیجے میں بھی اصغر ذات، اور یہ قیاس کے اندر بھی، پہلے مقدمے میں، صغریٰ کے اندر، اصغر کیا ہے؟ ذات ہے، موضوع ہے۔ نتیجے میں بھی موضوع اور صغریٰ میں بھی موضوع، تو اس کو ذات اصغر سے تعبیر کریں گے۔ جبکہ کبریٰ کے اندر تو اکبر اس وقت موضوع ہے۔ کبریٰ کے اندر یہ جو اکبر ہے یہ کیا ہے؟ موضوع ہے، تو اس کو کس سے تعبیر کرنا چاہیے؟ ذات سے، موضوع کو ذات سے تعبیر کرتے ہیں۔ لیکن یہ اکبر حقیقت کے اعتبار سے وصف ہے، کیونکہ یہ نتیجے کا محمول ہے۔ جب یہ نتیجے کا محمول ہے تو حقیقت میں یہ کیا ہے؟ وصف ہے۔ تو لہٰذا اکبر میں یوں نہیں کہیں گے کہ یہ جو نسبت ہو رہی ہے وصف اوسط کی ذات اکبر کی طرف، بلکہ یوں کہیں گے کہ کبریٰ میں وصف اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصف اکبر کی طرف۔ اس کو وصف کے ساتھ تعبیر کریں گے، کیوں؟ وجہ کیا؟ کیونکہ یہ اکبر حقیقت میں وصف ہے نتیجے کے اعتبار سے، نتیجے میں یہ کیا ہے؟ وصف ہے۔
تو لہٰذا یوں کہیں گے کہ صغریٰ میں جو نسبت ہے وہ منافی ہونی چاہیے اس نسبت کے جو کبریٰ میں ہے۔ صغریٰ میں کیا نسبت ہے؟ وصف اوسط کی نسبت ہے ذات اصغر کی طرف، اور کبریٰ میں کیا نسبت ہے؟ وصف اوسط کی نسبت ہے وصف اکبر کی طرف۔ ذات اکبر سے نہیں، بلکہ کس سے تعبیر کریں گے؟ وصف اکبر سے۔ تو کبریٰ میں نسبت ہے وصف اوسط کی وصف اکبر کی طرف، ان دو نسبتوں میں منافات ہونی چاہیے۔
تو شکل ثانی میں تین شرطیں ہونی چاہییں، نمبر ایک کیا؟ اکبر کی موضوعیت عام ہو، وہ امر ثانی کی بات کر رہا ہوں، اکبر کی موضوعیت عام ہو، اور نیز دونوں مقدمے مختلف ہوں، اور تیسری شرط کیا؟ جہت کے اعتبار سے، کہ دونوں مقدموں میں جو نسبتیں ہیں ان میں منافات ہونی چاہیے۔ پھر ہی شکل ثانی منتج ہو گی، ورنہ منتج نہیں ہو گی بھئی، نتیجہ نہیں دے گی ہمیشہ، کبھی نتیجہ دے گی اور کبھی نہیں دے گی۔
تو چنانچہ اس کی تشریح شارح نے شروع کی تھی اور انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بھئی، شکل ثانی میں گویا تین شرطیں آ گئیں۔ کیا کیا شرطیں؟ اکبر کی موضوعیت عام ہونی چاہیے، دونوں مقدمتین ایک دوسرے سے کیفیت میں مختلف ہونے چاہییں، اور نیز صغریٰ اور کبریٰ کی نسبتوں کے درمیان منافات ہونی چاہیے، اور یہ منافات ہو گی، یہ شرط بھی پوری ہو گی، تو پھر شکل ثانی نتیجہ دے گی، ورنہ نتیجہ نہیں دے گی۔ اب اسی کو ثابت کر رہے تھے کہ شکل ثانی میں جہاں شکل ثانی کی شرطیں بیان ہوئی تھیں، وہاں جہت کے اعتبار سے دو شرطیں ذکر ہوئی تھیں۔ کتنی شرطیں؟ دو شرطیں ذکر ہوئی تھیں: یا تو صغریٰ کیا ہو؟ دائمتاں میں سے ہو اور کبریٰ جو بھی ہو سوائے ممکنتاں کے۔ صغریٰ دائمتاں میں سے ہو یعنی ضروریہ مطلقہ یا دائمہ مطلقہ، اور کبریٰ جو بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنتاں کے۔ یا کبریٰ، کبریٰ ان چھ موجہات میں سے ہو جن کے سوالب کا عکس آتا ہے، یعنی دائمتاں، عامتاں، یا خاصتاں، ان میں سے ہونا چاہیے، اور صغریٰ جو بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنتاں کے۔ یا اگر دونوں میں سے کوئی ایک ممکنتاں میں سے ہے، تو اگر صغریٰ جو ہے ممکنتاں میں سے ہے تو کبریٰ کو ضروریہ ہونا چاہیے یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ ہونا چاہیے، اور اگر کبریٰ ممکنتاں میں سے ہے تو صغریٰ کو ضروریہ ہونا چاہیے۔
تو کہتے ہیں یہ جو شرطیں لگائی تھیں، یہ دو شرطیں کس لیے لگائی تھیں؟ کہ یہ دو شرطیں ہوں گی تو دونوں نسبتوں میں منافات آ جائے گی، اور یہ دونوں شرطیں نہیں ہوں گی تو منافات بھی نہیں ہو گی۔ تو گویا منافات کا دار و مدار ان دو شرطوں پر ہو گیا جو شکل ثانی میں جہت کے اعتبار سے لگائی گئی تھیں۔ وہ دو شرطیں ہیں تو منافات ہے، وہ دونوں نہیں تو منافات بھی نہیں۔ اب ہمارا گویا دعویٰ یہ ہو گیا کہ منافات اسی وقت ہو گی جب وہ دو شرطیں ہوں گی۔ یہ پہلا دعویٰ: منافات اسی وقت ہو گی جب وہ دو شرطیں ہوں گی، اور منافات نہیں ہو گی جب وہ دو شرطیں نہیں ہوں گی، چاہے ان میں سے ایک نہ ہو، چاہے دونوں نہ ہوں۔
تو گویا ہمارے یہاں اب دو دعوے ہو گئے اور ان کو اب ثابت کریں گے۔ پہلا دعویٰ کیا؟ کہ یہ دونوں شرطیں ہوں گی تو منافات بھی ہو گی۔ منافات ضروری ہے نا، ابھی بیان کر دی۔ تو یہ دونوں شرطیں پوری ہوں گی تو منافات بھی پائی جائے گی۔ یہ پہلا دعویٰ۔ دوسرا دعویٰ کہ منافات نہیں ہو گی اگر یہ دو شرطیں نہ ہوئیں، جو کون سی دو شرطیں؟ وہ جو شکل ثانی کے اندر جہت کے اعتبار سے دو شرطیں لگائی تھیں۔ وہ دو شرطیں نہیں ہوں گی تو منافات بھی نہیں ہو گی، یہ دوسرا دعویٰ ہوا ہمارا۔ تو منافات کے لیے شرطیں ضروری، شرطیں ہیں تو منافات ہے، شرطیں نہیں تو منافات نہیں، تو یہ دونوں کو اب الگ الگ وہ ثابت کریں گے۔ دونوں میں سے پہلے کا بیان شروع کیا ہے انہوں نے اور بتلایا کہ یہ دو شرطیں ہوں گی تو منافات ہو گی، یہ دو شرطیں ہوں گی تو منافات ہو گی۔ اب اس میں چار صورتیں بن رہی تھیں، ان چاروں کو بیان کریں گے۔ کون سی چار صورتیں؟ کہ صغریٰ دائمتاں میں سے ہو اور کبریٰ ممکنتاں کے علاوہ جو بھی ہو جائے، ایک صورت۔ دوسری صورت: کبریٰ ان چھ میں سے ہو جن کے سوالب کا عکس آتا ہے اور صغریٰ جو بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنتاں کے، دوسری صورت۔ تیسری صورت: صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ ضروریہ ہونا چاہیے یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ، یہ تیسری صورت۔ چوتھی صورت کیا؟ کہ اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو صغریٰ کیا ہونا چاہیے؟ ضروریہ ہونا چاہیے، یہ چار صورتیں بنتی ہیں یہاں پر۔ یہ چاروں صورتوں میں منافات پائی جاتی ہے۔ اب ایک ایک کو بیان کریں گے ان میں سے کہ دیکھو منافات ہے، دوسری صورت کو بیان کریں گے کہ دیکھو اس میں بھی منافات ہے، شرط پوری ہے تو منافات ہے، شرط پوری ہے تو منافات ہے۔ اور پھر آگے ذکر کریں گے دیکھو جہاں شرط پوری نہیں، وہاں منافات نہیں ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو سب سے پہلے شارح نے آپ کو یہ بتلانا شروع کیا کہ صغریٰ کیا ہونا چاہیے؟ دائمتاں میں سے، اور کبریٰ جو بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنتاں کے، سوائے ممکنتاں کے۔ تو کہتے ہیں مثلاً یہ شکل ثانی کی بات چل رہی ہے، شکل ثانی میں ایک مقدمہ موجبہ ہو تو دوسرا کیا ہوتا ہے؟ سالبہ۔ ہم یوں کرتے ہیں صغریٰ دائمتاں میں سے لے لیتے ہیں، شرط پوری ہو گئی۔ صغریٰ کس میں سے؟ دائمتاں میں سے لے لیتے ہیں اور اس کو موجبہ فرض کر لیتے ہیں، کیونکہ ایک نے موجبہ ہونا ہے اور ایک نے سالبہ۔ ہم صغریٰ کو موجبہ فرض کر لیتے ہیں مثال کے طور پر، تو ظاہر سی بات ہے کبریٰ کیا ہو گا؟ سالبہ ہو گا۔ اور سالبہ ہے، کس میں سے ہو؟ ممکنتاں کے علاوہ ہو، اور ممکنتاں کے علاوہ کتنی جہتیں رہ گئیں؟ تین جہتیں رہ گئیں: یا تو جہت ہو گی ضرورت والی، یا جہت ہو گی دوام والی، یا جہت ہو گی بالفعل والی، اور چوتھی جہت ہے امکان والی اس کو تو ہم نے نکال دیا۔ تو کبریٰ میں تین جہتوں میں سے ایک لے آنی چاہیے: یا بالضرورۃ، یا بالدوام، یا بالفعل۔ اور ان تین میں سے یاد رکھنا، بالضرورۃ، بالدوام، بالفعل، ان میں سب سے عام بالفعل ہے، ان میں سب سے عام بالفعل ہے۔ بالفعل کا کیا معنی؟ تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں ہو۔ جب دیکھو ایک چیز دوسری چیز کے لیے ضروری ہے تو تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں وہ ہو گی۔ مثلاً میں کہتا ہوں انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، جب انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے تو تین زمانوں کے میں سے کسی زمانے میں بھی وہ حیوان ہو گا یا نہیں؟ بھئی وہ تو ہر زمانے میں حیوان ہو گا، تو ایک زمانہ چھوڑو، سارے زمانوں میں ہی وہ کیا ہو گا؟ حیوان ہو گا۔ جو چیز ضروری ہوتی ہے وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں ضرور ہوتی ہے، بلکہ جو چیز ضروری ہوتی ہے وہ دائماً ہوتی ہے، اور جب دائماً ہوئی، جب انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری تو انسان دائماً کیا ہو گا؟ حیوان، ہمیشہ حیوان ہو گا۔ ایسا نہیں ہو سکتا انسان اور حیوان نہ ہو۔ تو جہاں جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں دوام ہوتا ہے۔ "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ"، ہر انسان حیوان ہے بالضرورۃ، انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے کیونکہ حیوان انسان کی ذات کا حصہ ہے۔ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ حیوان ناطق یہ پورا ہو گا تو انسان ہو گا، ان میں سے ایک جز بھی نہ ہوا تو انسان نہیں ہو سکتا۔ تو حیوان انسان کی حقیقت کا جز، تو جو بھی انسان ہو گا وہ کیا ہو گا؟ حیوان۔ تو "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ"، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ جب ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے معلوم ہوا ہر انسان دائماً بھی حیوان ہو گا۔ جب ایک چیز دوسری چیز سے جدا ہی نہیں ہوتی، جب حیوان انسان سے جدا ہی نہیں ہوتا تو معلوم ہوا انسان دائماً کیا ہوتا ہے؟ حیوان ہوتا ہے، ہمیشہ حیوان ہوتا ہے۔ اور جب ایک چیز دائماً ہے تو وہ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں بھی ہے یا نہیں؟ جب ہر انسان حیوان ہے اور ہمیشہ حیوان ہے، تو تین زمانوں میں سے ایک زمانے میں بھی وہ کیا ہے؟ حیوان ہے۔ بلکہ ہر زمانے میں وہ حیوان ہے، بات تو تین کی کر رہا ہوں میں لیکن وہ تو ہر زمانے میں کیا ہے؟ حیوان، کیونکہ وہ دائماً حیوان ہے۔ تو تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں بھی وہ کیا ہو گا؟ حیوان۔ ثابت ہو گیا کہ جہاں ضرورت کی جہت ہو گی وہاں بالفعل کی جہت ضرور ہو گی تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، اور نیز جہاں دوام کی جہت ہو گی وہاں بھی بالفعل کی جہت ضرور ہو گی۔ معلوم ہوا بالضرورۃ، بالدوام، اور بالفعل، ان میں سب سے عام کیا ہے؟ بالفعل ہے۔ جہاں بالضرورۃ ہو وہاں بھی بالفعل ہو گا، جہاں دوام ہو وہاں بھی بالفعل ہو گا، تو ان میں سب سے عام بالفعل ہے۔
لہٰذا ہم نے صغریٰ کس میں سے لیا؟ دائمتاں میں سے، پہلی شرط پوری کی، اور کبریٰ ممکنتاں کے علاوہ جو بھی ہو، اور ممکنتاں کے علاوہ باقی جتنے ہیں ان میں سب سے اعم مطلقہ عامہ ہے کیونکہ اس میں بالفعل والی جہت ہے۔ توجہ ہے؟ بالفعل والی، اور ابھی ہم نے بتایا بالفعل والی جہت سب سے عام ہے۔ صغریٰ کیا؟ دائمتاں میں سے یعنی ضروریہ مطلقہ یا دائمہ مطلقہ، اور کبریٰ جو بھی ہو سوائے ممکنتاں کے۔ ممکنتاں کے علاوہ، تو کبریٰ بالضرورۃ جہت کے ساتھ بھی ہو سکتا ہے، بالدوام کے ساتھ بھی، اور بالفعل، لیکن ان میں سب سے اعم کیا؟ بالفعل، لہٰذا ہم اس کو بالفعل فرض کر لیتے ہیں۔ صغریٰ تھا موجبہ، تو کبریٰ کیا ہو گا؟ سالبہ۔ تو صغریٰ کے اندر یا تو ضرورت ایجاب ہے یا دوام ایجاب، بلکہ یوں کہو دوام ایجاب ہے کیونکہ جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں دوام ضرور ہوتا ہے۔ تو وہاں صغریٰ میں یا وہ ضروریہ ہو گا تو ضرورت ایجاب، وہ دائمہ ہو گا تو دوام ایجاب، اور ضرورت ایجاب میں بھی کیا موجود؟ دوام ایجاب۔ تو اس کو دوام ایجاب سے ہم تعبیر کر لیتے ہیں۔ تو صغریٰ میں کیا ہوا؟ دوام ایجاب۔ تو اس کو ہم نے موجبہ فرض کیا تو اس میں دوام ایجاب ہے، اور کبریٰ کو کیا فرض کیا؟ سالبہ۔ جب سالبہ ہے، اور بالضرورۃ، بالدوام، اور بالفعل، ان میں سب سے اعم کیا ہے؟ بالفعل، تو کبریٰ میں کم از کم فعلیت سلب ضرور ہو گی۔ کبریٰ کو ہم کیا فرض کر لیتے ہیں؟ اس میں فعلیت سلب ہے۔ صغریٰ میں کیا ہے؟ دوام ایجاب ہے، اور کبریٰ میں کیا ہے؟ فعلیت سلب۔ دیکھو کبریٰ میں فعلیت سلب بھی ہو سکتی ہے، سلب تو ضروری ہے، فعلیت سلب بھی ہو سکتی ہے، ضرورت سلب بھی ہو سکتی ہے، اور دوام سلب بھی، لیکن سب سے عام کیا ہے؟ فعلیت سلب، ہم وہ لے لیتے ہیں کیونکہ فعلیت سلب سب میں پائی جا رہی ہے۔ اور پھر اس اعم کے ساتھ ہم منافات ثابت کریں گے۔ صغریٰ میں کیا؟ دوام ایجاب، کبریٰ میں کیا؟ فعلیت سلب، اور ان دونوں میں منافات ہے۔
ان دونوں میں منافات، دوام ایجاب کا کیا معنی؟ ایک چیز دائماً ہے۔ اور فعلیت سلب کا کیا معنی؟ تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو دوام ایجاب ہو، جب ایک چیز دائماً ہے تو تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ اگر تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ نہیں ہے تو پھر دوام کہاں سے آیا بھئی؟ تو جب دوام ہے تو فعلیت سلب نہیں ہو سکتی، اور جہاں فعلیت سلب ہو وہاں دوام نہیں ہو سکتا۔ جب ایک چیز تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں نہیں ہے، معلوم ہوا دوام نہیں ہے بھئی۔ تو جہاں دوام ہو گا وہاں فعلیت سلب نہیں ہو سکتی، اور جہاں فعلیت سلب ہو وہاں دوام نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو دونوں میں منافات آ گئی، کیا آ گئی؟ منافات ثابت ہو گئی۔ اور ہم نے کبریٰ میں سب سے اعم فعلیت سلب کو لیا، اس لیے کیونکہ جب اعم کے ساتھ منافات ثابت ہو جائے گی تو اخص کے ساتھ بطریق اولیٰ منافات ثابت ہو جائے گی۔ مثلاً ایک چیز ہے پتھر، میں اس کی منافات ثابت کر دیتا ہوں حیوان کے ساتھ۔ دیکھو حیوان ہے اعم اور انسان ہے اخص۔ جو بھی انسان ہے وہ کیا ہے؟ حیوان، لیکن جو حیوان ہو وہ انسان ہونا اس کا ضروری نہیں۔ تو حیوان ہوا اعم اور انسان ہوا اخص۔ میں پتھر کی منافات ثابت کر دیتا ہوں حیوان سے کہ حیوان اور پتھر جمع نہیں ہو سکتے، تو جب اعم کے ساتھ منافات آ گئی پتھر کی تو اخص کے ساتھ بھی آ گئی یا نہیں؟ معلوم ہوا پتھر اور انسان بھی جمع نہیں ہو سکتے کیونکہ انسان کے اندر ہی حیوان بھی موجود ہے۔ تو جب پتھر کی حیوان کے ساتھ منافات آ گئی، اعم کے ساتھ، تو پھر اخص کے ساتھ بھی منافات آ جائے گی۔ جب کوئی حیوان پتھر نہیں ہو سکتا، تو حیوانات میں تو انسان اخص بھی ہے، معلوم ہوا وہ بھی پتھر نہیں ہو سکتا۔ تو جب اعم کے ساتھ منافات ثابت ہو جائے تو اخص کے ساتھ بھی منافات ثابت ہو جاتی ہے۔ تو ہم نے ہم نے صغریٰ جو دائمتاں تھا، اس کی منافات ثابت کر دی اعم یعنی مطلقہ عامہ کے ساتھ۔ جب مطلقہ عامہ کے ساتھ منافات ثابت ہو گئی، تو باقی ضرورت سلب اور دوام سلب کے ساتھ بطریق اولیٰ منافات ثابت ہو گئی۔
تو دیکھا، ہم نے کہا تھا ان دو شرطوں کا لحاظ رکھو گے تو منافات ہو گی، اب دیکھا اس شرط کا آپ نے لحاظ رکھا تو دونوں میں کیا آ گئی؟ منافات۔ اس شرط کے پہلے حصے کو ہم نے حل کر لیا۔ پہلا حصہ کیا تھا؟ کہ صغریٰ اگر دائمتاں میں سے ہو اور کبریٰ ممکنتاں کے علاوہ جو بھی ہو تو ان دونوں میں کیا ہو گی؟ منافات، اور ہم نے بھی بتا دیا کہ ان دونوں میں سے صغریٰ جو ہے اس میں دوام ایجاب ہے تو کبریٰ میں کیا ماننا پڑے گا؟ سب سے اعم فعلیت سلب مان لو، تو اس دوام ایجاب اور فعلیت سلب میں بھی منافات ہے۔ جب ان میں منافات ہے تو باقیوں کے ساتھ بطریق اولیٰ منافات ہو گی۔ دیکھا، شرط کا لحاظ رکھا تو منافات آ گئی دونوں نسبتوں کے درمیان۔
اس پر اشکال کرنے والا اشکال کرتا ہے کہ بھئی یہ تو آپ کا دعویٰ کچھ اور تھا، دلیل آپ کسی اور چیز کی لے آئے! دعویٰ آپ کا یہ تھا کہ وصف اوسط کی جو نسبت ہے ذات اصغر کی طرف، صغریٰ میں، وصف اوسط کی نسبت ہے کس کی طرف؟ ذات اصغر کی طرف، اس نسبت کی منافات ہونی چاہیے کس سے؟ وہ جو وصف اوسط کی نسبت ہے وصف اکبر کی طرف۔ لیکن آپ نے تو وصف اوسط کی جو نسبت ہے ذات اکبر کی طرف، اس کے ساتھ منافات ثابت کر دی! موضوع کو کس سے تعبیر کرتے ہیں؟ ذات سے۔ تو کبریٰ کے اندر اکبر کیا ہے؟ موضوع ہے، تو اس کو کس سے تعبیر کریں گے؟ ذات سے، جو ذات اکبر ہے۔ تو ٹھیک ہے آپ نے منافات تو ثابت کر دی، لیکن منافات کن میں ثابت کی؟ صغریٰ میں کون سی نسبت؟ وصف اوسط کی نسبت ذات اصغر کی طرف، اور کبریٰ میں وصف اوسط کی نسبت ذات اکبر کی طرف، ان دونوں میں آپ نے منافات ثابت کر دی۔ ہم نے تو کیا کہا تھا، کس میں منافات ہونی چاہیے؟ وہ جو وصف اوسط کی نسبت ہو کس کی طرف؟ وصف اکبر کی طرف، ان میں منافات ثابت ہونی چاہیے۔ بھئی آپ نے کہا نا کہ ایک میں ہے دوام ایجاب اور دوسرے میں کیا ہے؟ فعلیت سلب۔ تو دوام ایجاب کس نسبت کا ہے؟ کون سی نسبت کا دوام ایجاب ہے؟ وہ جو وصف اوسط کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ ذات اصغر کی طرف۔ اس نسبت کی منافات ثابت کی کس سے؟ وہ جو کبریٰ کے اندر نسبت ہے، اور کبریٰ میں کون سی نسبت ہے؟ وصف اوسط کی نسبت ہے ذات اکبر کی طرف، کیونکہ موضوع کو ذات سے تعبیر کرتے ہیں۔ تو آپ نے ان دو نسبتوں میں منافات ثابت کی، کون سی دو نسبتیں؟ وصف اوسط کی نسبت، صغریٰ کو صغریٰ کو لیں، وصف اوسط کی نسبت ذات اصغر کی طرف، ایک یہ والی نسبت، اور دوسری کون سی نسبت ہے کبریٰ میں؟ وصف اوسط کی نسبت کس کی طرف ہے؟ ذات اکبر کی طرف۔ آپ نے ان دونوں میں منافات ثابت کی، اور ہم نے کیا کہا تھا، کن دو میں منافات ثابت کرنی ہے؟ وہ جو کبریٰ میں وصف اوسط کی جو نسبت ہو کس کی طرف؟ وصف اکبر کی طرف، اس سے منافات ثابت کرنی ہے، لیکن آپ نے جو تقریر کی اس سے تو ذات اکبر کی طرف جو نسبت ہے اس میں منافات آئی بھئی۔
تو اس کا جواب بھی انہوں نے دیا تھا کہ بھئی یہ جو وصف ہوتا ہے، اس کے ساتھ ذات لازم ہوتی ہے۔ ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ "زَيْدٌ قَائِمٌ"، زید ہے تو قیام ہے، زید نہیں تو قیام بھی نہیں۔ یا "كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ"، "كُلُّ كَاتِبٍ"، "كُلُّ كَاتِبٍ" سے کیا مراد ہے؟ ذات کاتب۔ ذات کاتب ہے تو یہ "كُلُّ كَاتِبٍ" بھی ہے، ذات کاتب نہیں تو "كُلُّ كَاتِبٍ" کہاں سے ہوا؟ یہ وصف موضوع کا حمل ہوتا ہے کس پر؟ ذات موضوع پر۔ تو وہ ہے ذات، یہ ہے وصف۔ ذات ہو تو وصف ہو گا، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ زید ہے تو زید کی سخاوت بھی ہو گی، زید نہیں تو زید کی سخاوت کہاں سے؟ ایک ہے ذات، ایک ہے اس کا وصف۔ وصف تو تابع ہوتا ہے، ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ تو یہ جو وصف ہوتا ہے، اس کے ساتھ ذات لازم ہوتی ہے۔ آپ جیسے ہی زید کہتے ہیں آپ کے ذہن میں فوراً کس کی صورت آ گئی؟ زید کی صورت آ گئی۔ یہ وصف ذات سے جدا نہیں ہوتا، ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ دیکھو کبریٰ کیا تھا؟ سالبہ تھا۔ کبریٰ کیا تھا؟ سالبہ۔ صغریٰ کو ہم نے موجبہ فرض کیا اور کبریٰ کو سالبہ، اور اس میں کس کو ذکر کیا؟ فعلیت سلب کو، کس کو؟ صغریٰ میں کیا تھا؟ دوام ایجاب تھا، اور کبریٰ میں فعلیت سلب، اور یہ فعلیت سلب کس سے ہے؟ ذات اکبر سے ہے۔ فعلیت سلب کس سے ہے؟ ذات اکبر سے، اور ہمیں کس سے چاہیے؟ وصف اکبر سے فعلیت سلب چاہیے۔ کہتے ہیں بھئی ذات اکبر سے جب فعلیت سلب آ گئی، تو وصف اکبر سے بھی فعلیت سلب آ گئی، کیونکہ ذات وصف کے ساتھ لازم ہے، ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ تو جب ایک چیز ذات سے ایک چیز مسلوب ہو گئی، اس کی نفی ہو گئی، تو وصف سے بھی کیا ہو جائے گی؟ اس کی نفی، کیونکہ وصف سے اگر اس کی نفی نہ ہوئی تو وصف بغیر ذات کے پایا جائے گا۔ وصف کس کے ساتھ ہوتا ہے؟ ذات کے ساتھ۔ ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ تو جب ایک چیز کی نفی ذات سے ہے، ایک چیز جب ذات میں نہیں ہے تو وہ وصف میں کیسے آ سکتی ہے بھئی؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب ایک چیز کی نفی ذات سے ہے تو وصف سے بھی اس چیز کی نفی ہے، کیونکہ وصف ذات کے تابع ہے بھئی۔ ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ اور اگر آپ یہ کہیں ذات سے تو ایک چیز کی نفی ہو گئی لیکن وصف میں وہ چیز ہے، بھئی یہ تو صفت آ گئی بغیر ذات کے، اور صفت بغیر ذات کے نہیں ہو سکتی بھئی۔ لہٰذا جب صغریٰ کی جو نسبت ہے اس کی منافات ثابت ہو گئی کس کے ساتھ؟ وہ جو فعلیت سلب کی نسبت ہے ذات اکبر کی طرف، اور وہ جو فعلیت سلب ہے ذات اکبر کی طرف، اس کے ساتھ کیا لازم؟ فعلیت سلب وصف اکبر بھی لازم ہے۔ تو جب فعلیت سلب ذات اکبر سے ہو گئی، تو فعلیت سلب وصف اکبر سے بھی ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آگے آئیے بھئی۔ پہلی بات ثابت ہو گئی۔ کتنی صورتیں تھیں؟ چار۔ ان چار صورتوں میں پہلی صورت کو ہم نے ثابت کر دیا کہ صغریٰ کو اگر آپ دائمتاں میں سے مانیں اور کبریٰ ممکنتاں کے علاوہ جو بھی ہو تو دونوں نسبتوں میں منافات ہو گی۔ اب دوسری بات کریں گے کہ اگر کبریٰ ان موجہات میں سے ہو جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، یعنی دائمتاں، عامتاں، اور خاصتاں، جب کبریٰ ان چھ میں سے ہو، تو صغریٰ جو بھی ہو سوائے ممکنتاں کے، دونوں میں کیا آئے گا؟ منافات آئے گی، اب اس کو ثابت کریں گے۔ کبریٰ کو فرض کریں گے ان چھ میں سے، اور پھر صغریٰ اس کے مقابلے میں لائیں گے سب سے اعم، اور پھر بتائیں گے کہ دیکھو ان دونوں میں کیا ہے؟ منافات ہے۔ دیکھیے بھئی کتاب پر:
"وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا"، اور اسی طرح جب کبریٰ ان موجہات میں سے ہو کہ جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، جب کبریٰ ان میں سے ہو، "وَالصُّغْرَى أَيَّةَ قَضِيَّةٍ كَانَتْ"، اور صغریٰ جو بھی قضیہ ہو، "أَيَّةَ قَضِيَّةٍ كَانَتْ سِوَى الْمُمْكِنَتَيْنِ"، اور صغریٰ جو بھی قضیہ ہو سوائے دو ممکنتاں کے، "لِمَا مَرَّ"، اس وجہ سے جو گزر گئی، یہ "لِمَا مَرَّ" کا تعلق ہے "سِوَى الْمُمْكِنَتَيْنِ" سے، علاوہ کس کے؟ ممکنتاں کے۔ بھئی ممکنتاں کو کیوں نکال رہے ہو، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں اس وجہ سے جو پیچھے ہم نے بیان کر دیا تھا کہ ان کا حکم علیحدہ ہے، وہ آگے چل کے ہم ذکر کریں گے۔ تو کہا علاوہ ممکنتاں کے "لِمَا مَرَّ"، اس وجہ سے جو گزر گئی یعنی ان کا حکم علیحدہ ہے، "إِذْ حِينَئِذٍ"، اس لیے کیونکہ اس وقت، "يَكُونُ نِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ"، میری کتاب میں "وَصْفِ أَكْبَرِ" ہے، "الْأَكْبَرِ" ہونا چاہیے بھئی، "إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ بِضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا أَوْ بِدَوَامِهِ، وَلَا خَفَاءَ فِي مُنَافَاتِهِ مَعَ نِسْبَةِ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا"۔
اچھا، اب ادھر دیکھیے، دوسری صورت کو سمجھ لیں۔ دوسری صورت کیا؟ کہ کبریٰ کس میں سے ہو؟ ان چھ میں سے جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، اور صغریٰ جو بھی ہو سوائے سوائے ممکنتاں کے۔ ادھر دیکھو بھئی، اب ان چھ کو ہم دیکھتے ہیں۔ کبریٰ ان چھ میں سے ہے، وہ چھ کون سے ہیں؟ دائمتاں ہیں، یا عامتاں، یا خاصتاں، خاصتاں۔ مثلاً اب ہم کبریٰ کو موجبہ فرض کر لیتے ہیں۔ کبریٰ ان چھ میں سے ہے اور موجبہ ہے، تو صغریٰ کیا ہو گا؟ سالبہ ہو گا۔ توجہ ہے؟ صغریٰ کیا ہو گا؟ سالبہ۔ اب کبریٰ ہم نے موجبہ فرض کر لیا، موجبہ، اور یہ ان چھ میں سے ہے، اور ان چھ میں سے دائمتاں ہیں، اور عامتاں، اور خاصتاں۔ کبریٰ موجبہ ہے اور وہ دائمتاں میں سے ہے، یا عامتاں میں سے ہے، یا خاصتاں میں سے۔ دائمتاں میں کون کون آ گئے؟ ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ۔ ضروریہ مطلقہ میں بالضرورۃ کی جہت ہوتی ہے، دائمہ مطلقہ میں دوام ذاتی ہوتا ہے۔ اور عامتاں آ گئے، عامتاں میں ایک عرفیہ عامہ ہے، ایک مشروطہ عامہ۔ مشروطہ عامہ میں ضرورت وصفی ہوتی ہے اور عرفیہ عامہ میں دوام وصفی ہوتا ہے۔ اور خاصتاں، ایک مشروطہ خاصہ ہے اور ایک عرفیہ خاصہ۔ مشروطہ خاصہ وہی مشروطہ عامہ ہوتا ہے اس کے ساتھ لا دوام ذاتی کی قید ہوتی ہے، اور عرفیہ خاصہ وہی عرفیہ عامہ ہوتا ہے اس میں لا دوام ذاتی کی قید ہوتی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو یہ چھ ہوئے بھئی، اور ان میں سے آپ دیکھ لیں، کسی میں دوام ہے، کسی میں ضرورت ہے۔ ضروریہ مطلقہ میں کیا ہو گا؟ ضرورت ہے، اور کبریٰ کیا ہے؟ موجبہ، تو یوں کہو اس میں ضرورت ایجاب ہے، ضرورت ایجاب ہے بحسب الذات، ذات کے اعتبار سے۔ اور جو مشروطہ عامہ ہے اس میں اس میں ضرورت ایجاب ہے بحسب الوصف، چاہے مشروطہ عامہ ہو چاہے مشروطہ خاصہ۔ مشروطہ خاصہ میں بھی وہی مشروطہ عامہ ہوتا ہے نا، صرف لا دوام کی قید زائد ہوتی ہے، تو دونوں مشروطہ جو ہیں ان میں ضرورت ایجاب ہے بحسب الوصف۔ ضروریہ میں کیا ہے؟ ضرورت ایجاب بحسب الذات، اور مشروطہ میں ضرورت ایجاب بحسب الوصف۔ مثلاً آپ کہتے ہیں: "كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا"، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کیا کر رہا ہو؟ کتابت کر رہا ہو، دیکھا، تو یہ مشروطہ عامہ میں ضرورت وصفی ذکر ہوتی ہے۔ اور اگر دوام وصفی ہو تو وہ عرفیہ عامہ ہے، مثلاً: "كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالدَّوَامِ مَا دَامَ كَاتِبًا"، ہر کاتب کی انگلیاں دائماً حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہے، تو مشروطہ عامہ میں کیا ذکر؟ ضرورت ضرورت وصفی، اور عرفیہ عامہ میں کیا ذکر؟ دوام وصفی، توجہ ہے؟ تو دوام وصفی۔ دونوں مشروطہ چاہے عامہ ہو چاہے خاصہ، ان میں ضرورت وصفی ہو گی۔ دونوں عرفیہ چاہے عامہ ہو چاہے خاصہ، ان میں دوام وصفی ہوتا ہے۔ پھر دہراؤ ذرا بھئی: ضروریہ مطلقہ میں ضرورت ضرورت ذاتی، اور دائمہ مطلقہ میں دوام، بلکہ ترتیب ذرا بدل لو۔ ضروریہ مطلقہ میں دوام ذاتی، اور دونوں مشروطہ جو ہیں چاہے عامہ ہو چاہے خاصہ، ان میں ضرورت وصفی۔ پھر دہراؤ: ضروریہ مطلقہ میں ضرورت ذاتی، اور دونوں مشروطہ میں ضرورت کو ہی رکھو، ضرورت وصفی۔ پھر دہراؤ: ضروریہ مطلقہ میں ضرورت ذاتی، اور دونوں مشروطہ میں ضرورت وصفی۔ اسی طرح دائمہ مطلقہ کے اندر دوام ذاتی، اور دونوں عرفیہ کے اندر دوام وصفی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو گویا ضرورت اور دوام دو ہی چیزیں یہاں آ رہی ہیں۔
تو لہٰذا کبریٰ کے اندر جو ایجاب والی نسبت ہے، کون سی نسبت ہے؟ ایجاب والی، تو یہ ضرورت ایجاب ہو گا یا دوام ایجاب ہو گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ایک دفعہ دہرا لیں: ضروریہ میں کیا؟ ضرورت ذاتی۔ مشروطہ میں دوام ذاتی۔ ہنہنہنہن، پھر بھول جاتے ہیں نا، میں اس لیے بار بار کہہ رہا ہوں دہراؤ۔ پھر دہراؤ بھئی، ضروریہ میں ضرورت ذاتی، اور مشروطہ دونوں میں ضرورت وصفی، اور دائمہ مطلقہ میں دوام ذاتی، اور دونوں عرفیہ میں دوام وصفی ہے بھئی۔ اب ایک اور بات یاد رکھنا: ایک ہے ضرورت ذاتی، ایک ہے ضرورت وصفی۔ ضرورت ذاتی عام ہے اور ضرورت وصفی خاص ہے۔ جہاں ذات کے اعتبار سے ایک چیز ضروری ہو گی، وہاں وصف کے اعتبار سے بھی ضروری ہو گی۔ جب ایک انسان ہر وقت اس کا حیوان ہونا ضروری ہے، تو کتابت کرتے وقت بھی اس کا حیوان ہونا ضروری ہے۔ کتابت کرتے وقت بھی اس کا حیوان ہونا، تو جو ضرورت ذاتی ہوتی ہے، جب ایک چیز ذات کے اعتبار سے ضروری ہے تو وہ وصف کے اعتبار سے بھی ضروری ہو گی۔ تو ضرورت ذاتی عام ہے کس کے مقابلے میں؟ وصف ذاتی کے، اور جو چیز وصف کے اعتبار سے ضروری ہو، وہ ذات کے اعتبار سے بھی ضروری ہو، یہ ضروری نہیں ہے۔ توجہ ہے؟ تو ایک ہے ضرورت ذاتی، ایک ہے ضرورت وصفی۔ ضرورت ذاتی عام ہے اور ضرورت وصفی خاص ہے۔ جہاں ضرورت ذاتی ہو گی وہاں ضرورت وصفی بھی ہو گی، لیکن جہاں ضرورت وصفی ہو وہاں ضرورت ذاتی کا ہونا ضروری نہیں۔ اسی طرح ایک ہے دوام ذاتی، ایک ہے دوام وصفی۔ دوام ذاتی عام ہے کس کے مقابلے میں؟ دوام وصفی کے مقابلے میں۔ جب ایک جگہ دوام ذاتی ہے تو وہاں دوام وصفی بھی ہو گا، اور جہاں دوام وصفی ہو وہاں دوام ذاتی کا ہونا ضروری نہیں۔ جب آسمان کے ساتھ حرکت دائمی ہے، آسمانوں کے ساتھ حرکت دائمی ہے، تو کسی وصف کا بھی اعتبار کریں تو یہ حرکت ان کے ساتھ دائمی ہو گی۔
تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ ضرورت ذاتی عام ہے کس کے مقابلے میں؟ ضرورت وصفی کے مقابلے میں، اور دوام ذاتی یہ عام ہے کس کے مقابلے میں؟ دوام وصفی کے مقابلے میں۔ تو گویا یہاں دو باتیں آ گئیں کہ کبریٰ جو ہے وہ ہم نے موجبہ فرض کیا ہے، اس میں یا تو دوام ہو گا یا ضرورت، دوام ہو گا یا ضرورت۔ تو گویا اس میں ضرورت ایجاب یا دوام ایجاب ان دو میں سے ایک چیز ہو گی: ضرورت ایجاب اور دوام ایجاب، دوام ایجاب۔ اور پھر صغریٰ کوئی بھی قضیہ ہو۔ انہوں نے کیا کہا؟ کبریٰ ان چھ میں سے ہو جن کے سوالب کا عکس آتا ہے اور کبریٰ کوئی بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنتاں کے، اور ممکنتاں کے علاوہ باقی تین نسبتیں رہ گئیں: ایک ضرورت سلب کیونکہ یہ سالبہ ہو گا جب کبریٰ کیا ہے؟ موجبہ، تو یہ سالبہ ہو گا۔ تو ایک ضرورت سلب، ایک دوام سلب، اور ایک فعلیت سلب، اور ان میں سب سے عام کیا ہے؟ فعلیت سلب۔ تو صغریٰ میں آ گئی فعلیت سلب کم از کم، یہ ضرور ہو گی۔ اور کبریٰ میں کیا ہے؟ دوام ایجاب ہے یا ضرورت ایجاب، اور ان دونوں میں منافات ہے۔ یہ جو ضرورت ایجاب ہے یا دوام ایجاب ہے اس کی منافات ہے کس کے ساتھ؟ فعلیت سلب کے ساتھ۔ جب ایک چیز کا جب ہونا ضروری، تو تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا۔ یا ایک چیز کا جب دوام ہے، تو تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ نہ ہو، یہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ اگر تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں وہ نہ ہوئی تو پھر تو دوام نہیں ہے۔ جب دوام ہے تو سلب کسی زمانے میں نہیں ہو سکتا، اور اگر کسی زمانے میں سلب ہے تو دوام نہیں ہو سکتا۔ تو کبریٰ میں کیا آئی؟ ضرورت ایجاب یا دوام ایجاب، اور صغریٰ میں کیا ہے؟ فعلیت سلب، اور ان دونوں میں منافات ہے۔ جہاں ضرورت ایجاب ہو وہاں فعلیت سلب نہیں ہو سکتا، یا جہاں دوام ایجاب ہو وہاں فعلیت سلب نہیں ہو سکتا۔ منافات سمجھ میں آ گئی دونوں میں اچھی طرح؟ اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں:
"وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا"، اور اسی طرح جب کبریٰ ان موجہوں میں سے ہو جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، "وَالصُّغْرَى أَيَّةَ قَضِيَّةٍ كَانَتْ سِوَى الْمُمْكِنَتَيْنِ"، اور صغریٰ جو ہے جو بھی قضیہ ہو سوائے ممکنتاں کے، "لِمَا مَرَّ"، اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ ممکنتاں کا حکم علیحدہ آگے آئے گا، "إِذْ حِينَئِذٍ"، تو اس وقت، "يَكُونُ نِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ بِضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا أَوْ بِدَوَامِهِ"، اس لیے کیونکہ اس وقت وصف اوسط کی نسبت وصف اکبر کی طرف یا تو ضرورت ایجاب کے ساتھ ہو گی یا دوام ایجاب کے ساتھ، "وَلَا خَفَاءَ فِي مُنَافَاتِهِ"، اور اس کے منافی ہونے میں کوئی پوشیدگی نہیں ہے، "مَعَ نِسْبَةِ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا"۔
بِضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا، تو اس وقت جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف بِضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا أَوْ بِدَوَامِهِ، تو وہ ضرورتِ ایجاب کی نسبت ہو گی یا دوامِ ایجاب کی نسبت ہو گی۔ بِدَوَامِهِ کی ہا ضمیر کس کو راجع؟ ایجاب کو۔ اور مَثَلًا کہا۔ کیوں؟ کیونکہ کبریٰ کو ہم نے موجبہ فرض کیا ہے، حالانکہ وہ سالبہ بھی ہو سکتا ہے، دونوں میں سے ایک ہو گا اور صغریٰ پھر اس کے منافی ہو گا اور ہم اس کو موجبہ فرض کر لیتے ہیں مثال کے طور پر تو صغریٰ کیا ہو جائے گا؟ سالبہ۔ تو پھر کبریٰ کے اندر جو نسبت ہو رہی ہے وصفِ اوسط کی وصفِ اکبر کی طرف وہ ضرورتِ ایجاب کی ہو گی یا دوامِ ایجاب کی ہو گی مثال کے طور پر۔
وَلَا خَفَاءَ فِي مُنَافَاتِهِ مَعَ نِسْبَةِ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا، اور اس بات میں کوئی خفا نہیں یہ جو ایجاب بالضرورت یا ایجاب بالدوام اوپر آیا، اوپر ذکر ہوا، اس کی منافات ہے۔ یہ جو ایجاب بالضرورت یا ایجاب بالدوام کبریٰ میں آ گیا، اس کی منافات میں کوئی خفا نہیں، کس کے ساتھ منافات؟ مَعَ نِسْبَةِ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ، وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذاتِ اصغر کی طرف بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ، کس کے ساتھ؟ فعلیۃ السلب کے ساتھ۔ ان دونوں نسبتوں میں منافات میں کوئی خفا نہیں ہے۔ کبریٰ میں کون سی نسبت؟ ضرورتِ ایجاب ہے یا دوامِ ایجاب، اور صغریٰ میں کیا ہے؟ فعلیۃ السلب۔ ان میں منافات ہونے میں کوئی خفا نہیں ہے۔
أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا، یا اس سے جو زیادہ خاص ہو۔ ادھر دیکھیے، کبریٰ میں کیا؟ ضرورتِ ایجاب یا دوامِ ایجاب، اور صغریٰ میں کم از کم کیا؟ فعلیۃ السلب جو سب سے عام ہے۔ اگر فعلیۃ السلب کے ساتھ اس کی منافات ہے تو فعلیۃ السلب تو سب سے عام ہے، تو اگر اخص ہوتا صغریٰ میں، کیا ہوتا؟ اخص، یعنی ضرورتِ سلب ہوتا یا دوامِ سلب ہوتا تو اس کے ساتھ بطریقِ اولیٰ کیا آئے گی؟ منافات آئے گی۔ یہ معنی ہے بِفِعْلِيَّةِ السَّلْبِ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا، کہ صغریٰ کے اندر وہ جو نسبت ہے وہ فعلیۃ السلب کے ساتھ ہو یا اس سے زیادہ خاص ہو، یعنی ضرورتِ سلب یا دوامِ سلب کے ساتھ ہو۔ أَوْ أَخَصَّ مِنْهَا، تو اس سے اگر کوئی زیادہ خاص ہو، یعنی فعلیۃ السلب کے بجائے ضرورتِ سلب ہو یا دوامِ سلب ہو تو اس کے ساتھ بطریقِ اولیٰ اس کی منافات ہو گی بھئی۔
دونوں باتیں ثابت ہو گئیں۔ صغریٰ اگر دائمَتان میں سے ہو تو کبریٰ جو بھی ہو سوائے ممکنَتان کے، دونوں میں منافات ہو گی۔ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ کبریٰ ان چھ میں سے ہو تو صغریٰ جو بھی ہو سوائے کس کے؟ ممکنَتان کے، ان میں کیا ہو گی؟ منافات ہو گی۔ اب ثابت کریں گے کہ اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کا کیا ہونا ضروری؟ ضروریہ یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ، پھر ہی منافات ہو گی۔ اور پھر اس کے بعد ثابت کریں گے اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو صغریٰ کا ضروریہ ہونا ضروری ہے، پھر ہی منافات ہو گی۔ تو سب سے پہلے کیا ثابت کرنے لگے ہیں؟ کہ صغریٰ کیا ہو؟ ممکنہ، تو کبریٰ ان تین میں سے ہو گا، یا ضروریہ ہو گا یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ، پھر منافات پائی جائے گی، دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً، اور اسی طرح جب صغریٰ ممکنہ ہو۔ بھئی یہ وہ پیچھے ذکر کیا تھا، انہوں نے کیا کہا تھا جب پہلی صورت ذکر کی تھی؟ کہ اگر صغریٰ دائمَتان میں سے ہو اور کبریٰ جو بھی قضیہ ہو سوائے ممکنَتان کے، اور وہاں بتایا تھا کہ ممکنَتان کا استثنا ہم اس لیے کر رہے ہیں کہ ان کا حکم باقاعدہ آگے قریب آنے والا ہے، تو یہاں پر یہ اب اس وعدے کی تکمیل کر رہے ہیں بھئی۔ وہ وعدے کی، وعدہ کیا تھا کہ ممکنَتان کا حکم آگے آ جائے گا تو اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً، اور جب صغریٰ کیا ہو؟ ممکنہ ہو، اور اسی طرح آگے بیان کریں گے اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو پھر کیا صورت ہو گی۔ تو وہ جو وعدہ کیا تھا اس کو یہاں وہ پورا کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً، اور اسی طرح جب صغریٰ ممکنہ ہو، وَالْكُبْرَى ضَرُورِيَّةً أَوْ مَشْرُوطَةً، اور کبریٰ ضروریہ یا مشروطہ ہو، یعنی مشروطہ چاہے عامہ ہو چاہے خاصہ ہو۔ إِذْ حِينَئِذٍ، کیونکہ اس وقت جو ہے، يَكُونُ نِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِإِمْكَانِ الْإِيجَابِ مَثَلًا، تو وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذاتِ اصغر کی طرف وہ امکانِ ایجاب کی ہو گی مثال کے طور پر۔ مثال کے طور پر کیوں لائے؟ کیونکہ صغریٰ موجبہ بھی ہو سکتا ہے اور سالبہ بھی، اور کبریٰ اس کے برعکس ہو گا۔ تو صغریٰ ہم مثلاً موجبہ فرض کر لیتے ہیں، کیا فرض کر لیتے ہیں؟ اور ممکنہ ہے تو اس میں کون سی نسبت آئی؟ امکانِ ایجاب، کیا آیا؟ امکانِ ایجاب آیا، امکانِ ایجاب، مَثَلًا۔ وَنِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ بِضَرُورَةِ السَّلْبِ، اور وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف وہ ضرورتِ سلب کی ہو گی، کیا ہو گی؟ اس میں ضرورتِ سلب ہو گا۔
بھئی دیکھو، انہوں نے کیا کہا؟ صغریٰ اگر ممکنہ ہو تو کبریٰ کیا ہونا چاہیے؟ ضروریہ یا مشروطہ، اور مشروطہ چاہے خاصہ ہو چاہے عامہ ہو۔ دیکھو ضروریہ کے اندر ضرورتِ ذاتی ذکر ہوتی ہے اور مشروطہ عامہ کے اندر ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے، اور اسی مشروطہ عامہ کے ساتھ لا دوام کی قید آ جائے تو وہ کیا بنتا ہے؟ وہ مشروطہ خاصہ بن جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ مشروطہ عامہ کے ساتھ اگر لا دوام کی قید آ جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ مشروطہ خاصہ بن جاتا ہے، اور مشروطہ عامہ میں کیا ذکر تھا؟ ضرورتِ وصفی، تو مشروطہ خاصہ میں بھی کیا ہو گی؟ ضرورتِ وصفی کیونکہ اس کے اندر مشروطہ عامہ موجود ہے۔ تو لہٰذا ضروریہ میں کیا ذکر ہو گا؟ ضرورتِ ذاتی، اور مشروطہ دونوں ان کے اندر ضرورتِ وصفی۔ معلوم ہوا جب صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کے اندر ضرورت کی جہت کا ہونا ضروری ہے۔
جب صغریٰ کیا ہو؟ ممکنہ ہو تو کبریٰ یا ضروریہ ہو گا یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ۔ اگر وہ ضروریہ ہے تو اس میں ضرورتِ ذاتی ہے اور اگر وہ مشروطہ میں سے کوئی ہے تو اس میں ضرورتِ وصفی ہے۔ معلوم ہوا کبریٰ کے اندر ضرورت ہونی چاہیے، چاہے ذات کے اعتبار سے ہو چاہے وصف کے اعتبار سے ہو۔ اس لیے کیونکہ صغریٰ میں کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، تو کبریٰ میں کیا آ جائے گا؟ ضرورتِ سلب آ جائے گی کہ سلب ضروری ہے، سلب ضروری ہے۔ تو صغریٰ میں ہو گا امکانِ ایجاب اور کبریٰ میں کیا ہو گا؟ ضرورتِ سلب، اور امکانِ ایجاب اور ضرورتِ سلب میں منافات ہے۔ جب ایک چیز ضروری ہے تو اس کا سلب نہیں ہو سکتا، یوں کہیں اگر ایک چیز کا ایجاب ممکن ہے تو اس کا سلب ضروری نہیں ہو سکتا، اگر سلب ضروری ہوتا تو ایجاب ممکن نہیں تھا۔
جیسے انسان اور پتھر۔ انسان کا پتھر نہ ہونا ضروری ہے، کیا ہے؟ جب پتھر نہ ہونا ضروری ہے تو آپ کہیں انسان کا پتھر ہونا ممکن ہے، یہ نہیں کہہ سکتے آپ۔ امکانِ ایجاب، انسان پتھر ہو سکتا ہے، ایک ہے ہونا ایک ہے نہ ہونا۔ جب نہ ہونا ضروری ہے، انسان کا پتھر نہ ہونا، جب نہ ہونا ضروری ہے تو ہونا ممکن نہیں ہو سکتا۔ آپ کہیں کہ انسان کا پتھر ہونا ممکن ہے، نہیں کہہ سکتے، دونوں میں منافات ہے۔ اور اگر پتھر ہونا ممکن ہے پھر سلب ضروری نہیں ہو گا بھئی۔ تو منافات ہے کس کے درمیان؟ امکانِ ایجاب اور ضرورتِ سلب کے درمیان۔ ایک طرف ہو امکانِ ایجاب دوسری طرف ہو ضرورتِ سلب، دونوں میں منافات ہے اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ اگر امکانِ ایجاب ہے تو ضرورتِ سلب نہیں ہو سکتی اور اگر ضرورتِ سلب ہے تو امکانِ ایجاب نہیں ہو سکتا بھئی۔
یا اس کا برعکس کر دو۔ ایجاب کے بجائے امکانِ سلب لے آؤ، امکانِ سلب، اور ضرورتِ سلب کے بجائے ضرورتِ ایجاب لے آؤ۔ فرض کرو صغریٰ سالبہ ہے اور کبریٰ کیا ہے؟ موجبہ ہے، تو صغریٰ میں کیا آیا؟ امکانِ سلب، ممکنہ ہے نا، امکانِ سلب، اور کبریٰ میں کیا ہو؟ ضرورتِ ایجاب۔ یاد رکھو امکانِ سلب اور ضرورتِ ایجاب اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ ضرورتِ ایجاب کا معنی ہے ایک چیز کا ہونا ضروری ہے، اور امکانِ سلب کا کیا معنی؟ کہ ہو سکتا ہے نہ ہو۔ بھئی جب ایک چیز کا ہونا ضروری ہے تو نہ ہو یہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ امکان کے ساتھ پہلے ایجاب لگا لو اور ضرورت کے ساتھ سلب لگا لو، پھر امکان کے ساتھ سلب لگا لو اور ضرورت کے ساتھ ایجاب لگا لو، ان دونوں میں منافات ہے۔ جب امکانِ ایجاب ہو تو ضرورتِ سلب نہیں ہو سکتی، یا جہاں ضرورتِ سلب ہو تو امکانِ ایجاب نہیں ہو سکتا۔ اب ایجاب اور سلب کی جگہ بدلیں، امکانِ سلب ہو تو ضرورتِ ایجاب نہیں ہو سکتی، یا یوں کہیں ضرورتِ ایجاب ہو تو امکانِ سلب نہیں ہو سکتا، دونوں میں منافات ہے۔
تو کہتے ہیں إِذْ حِينَئِذٍ يَكُونُ نِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى ذَاتِ الْأَصْغَرِ بِإِمْكَانِ الْإِيجَابِ مَثَلًا، تو اس وقت جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذاتِ اصغر کی طرف وہ امکانِ ایجاب کے ساتھ ہو گی مثال کے طور پر۔ وَنِسْبَةُ وَصْفِ الْأَوْسَطِ إِلَى وَصْفِ الْأَكْبَرِ بِضَرُورَةِ السَّلْبِ، اور وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف وہ ضرورتِ سلب کے ساتھ ہو گی۔ وصفِ اوسط کی نسبت ہے کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کہا، ذاتِ اکبر نہیں کہا۔ وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف وہ بِضَرُورَةِ السَّلْبِ، وہ کس کے ساتھ ہو گی؟ ضرورتِ سلب کے ساتھ۔
وصفِ اکبر کہا، کیوں؟ آگے خود بتا رہے ہیں۔ کہتے ہیں أَمَّا فِي الْمَشْرُوطَةِ فَظَاهِرَةٌ وَأَمَّا فِي الضَّرُورِيَّةِ فَلِأَنَّ الْمَحْمُولَ إِذَا كَانَ ضَرُورِيًّا لِلذَّاتِ مَا دَامَتْ مَوْجُودَةً كَانَ ضَرُورِيًّا لِوَصْفِهَا الْعُنْوَانِيِّ لِأَنَّ الذَّاتَ لَازِمٌ لِلْوَصْفِ وَالْمَحْمُولَ لَازِمٌ لِلذَّاتِ وَلَازِمُ اللَّازِمِ لَازِمٌ۔ بھئی دیکھیے، صغریٰ میں کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، اور کبریٰ کس میں سے مان لیا؟ ضروریہ یا مشروطہ۔ جب ضروریہ یا مشروطہ ہے تو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف بِضَرُورَةِ السَّلْبِ، کس کے ساتھ ہو رہی ہے؟ صغریٰ میں امکانِ ایجاب ہے تو ادھر کیا ہو گی؟ ضرورتِ سلب، کیونکہ ادھر ضروریہ ہے یا مشروطہ ہے، ضروریہ میں بھی ضرورت اور مشروطہ میں بھی ضرورت ہے۔ ایک میں ضرورتِ ذاتی ہے تو دوسرے میں ضرورتِ وصفی ہے۔ تو جب صغریٰ میں امکانِ ایجاب ہے تو کبریٰ میں کیا ہو گا؟ ضرورتِ سلب ہو گی۔
اور یہ ضرورتِ سلب کس چیز کی ہے؟ یہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے، توجہ سے، یہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کی طرف۔ بھئی وصفِ اکبر کی طرف کہاں، نسبت تو کس کی طرف ہو رہی ہے؟ ذاتِ اکبر کی طرف، کہتے ہیں نہیں، وصفِ اکبر کی طرف ہو رہی ہے۔ بھئی کس طرح وصفِ اکبر کی طرف کیسے نسبت ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ مشروطہ چاہے خاصہ ہو چاہے عامہ، اس میں ضرورت کس اعتبار سے ذکر ہوتی ہے؟ وصف کے اعتبار سے ذکر ہوتی ہے۔ كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے۔ تو یہ انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے ذاتِ کاتب کے اعتبار سے یا یہ وصفِ کاتب کے اعتبار سے؟ وصفِ کاتب کے اعتبار سے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مشروطہ عامہ کے اندر جو ضرورت ہوتی ہے وہ وصف کے اعتبار سے، یعنی وصفِ عنوانی، وہ جو وصفِ موضوع ہے اس کے اعتبار سے۔ تو لہٰذا یہاں پر کبریٰ میں وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کی طرف، اور یہ بات ظاہر ہے۔ مشروطہ میں تو ظاہر ہے لیکن ضروریہ میں یہ بات ظاہر نہیں، کیونکہ ضروریہ میں ضرورت ہوتی ہے ذات کے اعتبار سے، وصف کے اعتبار سے نہیں۔ جب ضرورت ذات کے اعتبار سے ہے تو مثلاً میں کہتا ہوں كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، تو کیا معنی؟ انسان کے وصف کے اعتبار سے اس کا حیوان ہونا ضروری ہے یا ذات کے اعتبار سے؟ ذات کے اعتبار سے، تو ضروریہ کے اندر ذات کے اعتبار سے حکم ہے۔
تو لہٰذا اب انہوں نے کیا کہا؟ صغریٰ میں کیا ہو؟ امکانِ ایجاب، تو کبریٰ میں کیا ہو گی؟ ضرورتِ سلب، کس چیز سے ضرورتِ سلب ہو گی؟ کس سے؟ یہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہے کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کی طرف۔ اچھا، مشروطہ میں تو یہ بات ظاہر ہے کہ یہ جو نسبت ہے وصفِ اوسط کی کس کی طرف ہو رہی ہے؟ وصفِ اکبر کی طرف کیونکہ مشروطہ میں ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے، لیکن ضروریہ میں یہ بات ظاہر نہیں ہے، کیونکہ اس میں ضرورت وصف کے اعتبار سے نہیں ہوتی بلکہ ذات کے اعتبار سے ہوتی ہے، تو اس کو بھی ثابت کریں گے اب۔ بھئی یہ بات پہلے ثابت کر چکے ہیں، پہلے ذکر کر چکے ہیں کہ جو ذات ہوتی ہے یہ وصف کے ساتھ لازم ہوتی ہے۔ ذات ہے تو وصف ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں، تو ذات کیا ہے؟ وصف کے ساتھ لازم۔ تو ایک ہے ذاتِ موضوع، ایک ہے وصفِ موضوع، اور وصفِ موضوع کے ساتھ ذاتِ موضوع لازم ہے بھئی، جدا نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ ذات ہے اور یہ وصف ہے، ذات ہو تو وصف ہوتا ہے، ذات نہیں تو وصف بھی نہیں۔ تو وصفِ موضوع کے ساتھ ذاتِ موضوع لازم، اور ذاتِ موضوع کے ساتھ ابھی ہم نے بتایا محمول لازم ہے، ضروری ہے نا، ضروری ہے۔ جب ضروری کہہ دیا آپ نے، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، معلوم ہوا انسان کے ساتھ حیوان لازمی ہے، اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔ كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، حیوان کیا ہے؟ محمول ہے، کیا ہے؟ معلوم ہوا یہ محمول اس ذاتِ موضوع کے ساتھ لازم ہے۔
كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، تو بتائیے مجھے، یہ حیوان ہونا انسان سے جدا ہو سکتا ہے؟ نہیں، تو یہ انسان کے ساتھ لازمی ہے، یہ انسان کے ساتھ، یعنی ذات کے ساتھ لازم ہے، ذاتِ موضوع کے ساتھ۔ توجہ سے سنو، محمول کیا ہے؟ ذاتِ موضوع کے ساتھ لازم ہے، اور ذاتِ موضوع تو لازم تھی وصفِ موضوع کے ساتھ، تو لازم کا لازم لازم ہوتا ہے۔ تو وصفِ موضوع کے ساتھ ذاتِ موضوع لازم، ذاتِ موضوع کے ساتھ محمول لازم، تو محمول وصف کے ساتھ بھی لازم ہوا، لازم کا لازم لازم ہوتا ہے۔ پھر سنو، وصفِ موضوع کے ساتھ ذاتِ موضوع لازم اور ذاتِ موضوع کے ساتھ محمول لازم، تو وہ محمول وصف کے ساتھ بھی لازم ہوا کیونکہ لازم کا لازم لازم ہوتا ہے۔ جب بھی وصف ہو گا ذات ضرور ہو گی، اور جب بھی ذات ہو گی محمول ضرور ہو گا، تو معلوم ہوا جب بھی وصف ہو گا محمول ضرور ہو گا، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ جب کبریٰ ضروریہ ہو تو اس میں وصفِ اوسط کا حمل ہے، وصفِ اوسط کی نسبت ہے کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کی طرف، وصفِ اوسط کی نسبت ہے کس کی طرف؟ ذاتِ اکبر کی طرف، لیکن جب ذاتِ اکبر کی طرف نسبت ہے تو وصفِ اکبر کی طرف بھی کیا ہو گئی؟ نسبت ہو گئی۔
کہتے ہیں وَأَمَّا فِي الضَّرُورِيَّةِ، اور باقی ضروریہ کے اندر، فَلِأَنَّ الْمَحْمُولَ إِذَا كَانَ ضَرُورِيًّا، اس لیے کیونکہ محمول جب وہ ضروری ہوتا ہے، لِلذَّاتِ مَا دَامَتْ مَوْجُودَةً، اس ذات کے لیے جب تک وہ ذات موجود ہوتی ہے، كَانَ ضَرُورِيًّا لِوَصْفِهَا الْعُنْوَانِيِّ، تو پھر یہ محمول اس ذات کے وصفِ عنوانی کے لیے بھی ضروری ہو گا، لِأَنَّ الذَّاتَ لَازِمٌ لِلْوَصْفِ، اس لیے کیونکہ یہ جو ذات ہوتی ہے یہ لازم ہوتی ہے وصف کے ساتھ، یعنی ذاتِ موضوع لازم ہوتی ہے وصفِ موضوع کے ساتھ، وَالْمَحْمُولَ لَازِمٌ لِلذَّاتِ، اور محمول جو ہے وہ ذات کے ساتھ لازم ہوتا ہے، وَلَازِمُ اللَّازِمِ لَازِمٌ، اور لازم کا لازم جو ہے وہ بھی لازم ہوتا ہے۔ تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ جو ہے، کبریٰ میں ضرورتِ سلب ہو گا کس سے؟ ذاتِ اکبر سے، اور جب ذاتِ اکبر سے ضرورتِ سلب ہے تو وصفِ اکبر سے بھی کیا ہو گئی؟ ضرورتِ سلب۔ تو ان دو نسبتوں میں منافات آ گئی، کون سی نسبت؟ وہ جو صغریٰ میں ہے وصفِ اوسط کی نسبت ذاتِ اصغر کی طرف، اور جو کبریٰ میں نسبت ہے وصفِ اوسط کی نسبت وصفِ اکبر کی طرف، ان دونوں میں کیا آ گئی؟ منافات آ گئی، اور یہی ہمارا دعویٰ تھا کہ جب شرط پوری ہو گی تو ان دونوں نسبتوں میں منافات پائی جائے گی۔
اب چوتھی صورت آ گئی کہ اب کبریٰ اگر ممکنہ ہو تو صغریٰ ضروریہ ہونا چاہیے، صغریٰ ضروریہ۔ جب کبریٰ ممکنہ ہو، پہلے کیا تھا؟ صغریٰ ممکنہ تھا تو کبریٰ ضروریہ ہو یا مشروطہ ہو، لیکن اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو صغریٰ ضروریہ ہونا چاہیے۔ تو کبریٰ جب ممکنہ ہے تو اس میں فرض کر لو امکانِ ایجاب، اور صغریٰ کیا ہے؟ ضروریہ ہے، تو اس میں کیا فرض کر لو؟ ضرورتِ سلب، اور ابھی ہم نے بتایا کہ امکانِ ایجاب اور ضرورتِ سلب کے اندر کیا ہے؟ منافات ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا كَانَتِ الْكُبْرَى مُمْكِنَةً وَالصُّغْرَى ضَرُورِيَّةً، اور اسی طرح ہے جب کبریٰ ممکنہ ہو اور صغریٰ ضروریہ ہو مثلاً مثال کے طور پر، لِمَا مَرَّ، اس وجہ سے جو گزر گئی، جو ابھی ہم نے پیچھے بیان کر دی کہ امکانِ ایجاب اور ضرورتِ سلب کے درمیان منافات ہے، اور اسی طرح امکانِ سلب اور ضرورتِ ایجاب کے درمیان بھی منافات ہے۔
وَأَمَّا أَنَّهَا دَائِرَةٌ مَعَ الشَّرْطَيْنِ عَدَمًا، اب وہ دوسرا دعویٰ آ گیا ہمارا۔ پہلا دعویٰ ثابت ہوا، پہلا دعویٰ کیا تھا؟ کہ جب بھی وہ شرطیں پوری ہوں گی تو دونوں مقدمتین کی نسبتوں میں منافات ہو گی۔ اب ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ جب وہ شرطیں پوری نہیں ہوں گی تو منافات بھی نہیں ہو گی، اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں دوسرا دعویٰ ہے۔ تو کہتے ہیں وَأَمَّا أَنَّهَا دَائِرَةٌ مَعَ الشَّرْطَيْنِ عَدَمًا، اور باقی یہ کہ وہ جو منافات ہے وہ دائر ہے ان دو شرطوں کے ساتھ باعتبار عدم کے بھی، یعنی وہ شرطیں نہیں ہوں گی تو منافات بھی نہیں ہو گی، أَيْ كُلَّمَا انْتَفَى أَحَدُ الشَّرْطَيْنِ الْمَذْكُورَيْنِ لَمْ يَتَحَقَّقِ الْمُنَافَاةُ الْمَذْكُورَةُ، یعنی جب بھی وہ دو مذکورہ شرطیں منتفی ہوں گی تو منافاتِ مذکورہ نہیں پائی جائے گی۔ کون سی منافات؟ وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے ذاتِ اصغر کی طرف، اور وہ جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو رہی ہے وصفِ اکبر کی طرف، وہ منافات نہیں پائی جائے گی اگر یہ دو شرطیں پوری نہ ہوئیں۔
اب وہ تفصیل بیان کرنے لگے ہیں، کہتے ہیں فَلِأَنَّهُ إِذَا لَمْ يَكُنِ الصُّغْرَى مِمَّا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الدَّوَامُ وَلَا الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا لَمْ يَكُنْ فِي الصُّغْرَيَاتِ أَخَصُّ مِنَ الْمَشْرُوطَةِ الْخَاصَّةِ وَلَا فِي الْكُبْرَيَاتِ أَخَصُّ مِنَ الْوَقْتِيَّةِ۔ اچھا جی، اب بتائیں گے کہ وہ شرطیں پوری نہیں تو منافات بھی نہیں ہے۔ کہتے ہیں فَلِأَنَّهُ، اس لیے کیونکہ إِذَا لَمْ يَكُنِ الصُّغْرَى مِمَّا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الدَّوَامُ، جب صغریٰ ان قضیوں میں سے نہ ہوا جن پر دوام صادق آتا ہو، جن پر دوام صادق آتا ہو، یعنی دائمَتان میں سے نہ ہو، جن پر دوام صادق نہیں آتا، معلوم ہوا دائمَتان میں سے نہ ہو۔ دوامِ ذاتی کی بات ہو رہی ہے، دوامِ ذاتی۔ دوامِ ذاتی کس میں ہوتا ہے؟ ضروریہ میں بھی اور، بھئی وہی دائمَتان، ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ۔ میں نے آپ کو ابھی بتایا، جہاں ایک چیز کا ہونا ضروری، جب ایک چیز ضروری ہو گی تو وہاں دوام بھی ہو گا۔ جب انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے تو معلوم ہوا انسان دائماً کیا ہو گا؟ حیوان ہو گا، تو جہاں ضرورت ہو گی وہاں دوام بھی ہو گا، یا یوں کہو، جہاں ضرورتِ ذاتی ہو گی وہاں دوامِ ذاتی ہو گا، اور جہاں ضرورتِ وصفی ہو گی وہاں دوامِ وصفی ہو گا۔ اور انسان کی ذات کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے تو انسان کی ذات کے لیے حیوان کا دائم ہونا بھی ہو گا، جہاں ضرورتِ ذاتی ہو گی وہاں دوامِ ذاتی ہو گا۔
تو معلوم ہوا جب میں کہوں دائمہ، اور دوام سے کون سا دوام مراد لوں؟ ذاتی، تو اس میں ضروریہ بھی داخل ہو گیا اور دائمہ مطلقہ بھی داخل ہو گیا۔ میں اگر دوام ذکر کروں اور دوام بھی کون سا؟ ذاتی، دوامِ ذاتی کن میں ہوتا ہے؟ دائمہ مطلقہ میں بھی دوامِ ذاتی ہوتا ہے اور ضروریہ مطلقہ میں بھی دوامِ ذاتی ہوتا ہے، کیونکہ جب ایک چیز ذات کے اعتبار سے ضروری ہے تو وہ ذات کے اعتبار سے دائم بھی ہے بھئی، اس سے جدا نہیں ہوتی بھئی۔ کہتے ہیں فَلِأَنَّهُ إِذَا لَمْ يَكُنِ الصُّغْرَى مِمَّا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الدَّوَامُ، جب صغریٰ ان، ان قضیوں میں سے نہ ہوا جن پر دوام صادق آتا ہے، کیا معنی؟ دائمَتان میں سے جب نہ ہوا، ہماری شرط پوری نہ ہوئی، وَلَا الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا، اور کبریٰ بھی ان قضیوں میں سے نہ ہوا جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، نہ صغریٰ دائمَتان میں سے ہوا نہ کبریٰ ان چھ میں سے ہوا، تو پھر منافات نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں لَمْ يَكُنْ فِي الصُّغْرَيَاتِ أَخَصُّ مِنَ الْمَشْرُوطَةِ الْخَاصَّةِ، تو اس صورت میں صغریات میں مشروطہ خاصہ سے زیادہ اخص کوئی نہیں۔ پہلے اعم کی بات چل رہی تھی، جب منافات ہم ثابت کرتے تھے تو اعم کے ساتھ جب منافات ثابت ہو جاتی تھی تو اخص کے ساتھ بھی منافات ثابت ہو جاتی تھی۔ مثلاً پتھر کی جب حیوان کے ساتھ منافات آ گئی تو اخص یعنی انسان کے ساتھ بھی کیا ہو گئی؟ منافات آ گئی۔ لیکن یہاں ذکر کریں گے عدمِ منافات کو، کس چیز کو؟ عدمِ منافات، اور عدمِ منافات میں جب عدم کو ذکر کر رہے ہیں تو پھر یہاں اخص کو ذکر کریں گے اور کہیں گے دیکھو، جب اخص کے ساتھ اس کی منافات نہیں ہے معلوم ہوا اعم کے ساتھ بھی منافات نہیں ہے۔ وہاں اعم کے ساتھ منافات ہوتی تھی تو اخص کے ساتھ بھی منافات ہوتی تھی، لیکن یہاں بات کریں گے اخص کی، کہ اخص کے ساتھ دیکھو منافات نہیں ہے معلوم ہوا اعم کے ساتھ بھی منافات نہیں ہے۔
مثلاً کاتب ہونا اور ایک ہے انسان، انسان اخص ہے اور حیوان اعم ہے۔ جب کاتب ہونے کی منافات انسان کے ساتھ نہیں ہے، انسان کاتب ہو سکتا ہے، تو معلوم ہوا کاتب کی حیوان کے ساتھ بھی منافات نہیں ہے۔ جب کاتب انسان کے ساتھ جمع ہو سکتا ہے تو انسان کے ضمن میں کون ہے؟ حیوان بھی تو ہے، اعم بھی ہے، معلوم ہوا وہ اعم کے ساتھ بھی جمع ہو سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں کس کی بات کریں گے؟ یہاں بات کر رہے ہیں عدمِ منافات کو انہوں نے ثابت کرنا ہے کہ اگر ہماری شرطیں نہیں مانیں گے تو منافات نہیں ہو گی، اور اس کے لیے سب سے اخص کو لائیں گے اور کہیں گے دیکھو، اخص کے ساتھ اس کی منافات نہیں، جب اخص کے ساتھ منافات نہیں تو اخص کے ضمن میں کون موجود ہے؟ اعم، تو اعم کے ساتھ بھی اس کی منافات نہیں ہے بھئی، اور ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا۔ ہم نے کہا تھا یہ شرطیں نہیں مانو گے تو پھر منافات بھی نہیں ہو گی، جب اخص کے ساتھ آپ دیکھ رہے ہیں منافات نہیں ہے تو معلوم ہوا اعم باقی سب جو ہیں ان میں بھی منافات نہیں ہو گی۔
تو دیکھیے کہتے ہیں کہ جب صغریٰ، جب صغریٰ دائمَتان میں سے نہ ہو اور کبریٰ ان چھ میں سے نہ ہو، جب صغریٰ دائمَتان میں سے نہ ہو اور کبریٰ ان چھ میں سے نہ ہو، تو جو باقی رہ گئے ان میں سے سب سے اخص نکالیں گے۔ جب صغریٰ دائمَتان میں سے نہ ہو تو باقی جتنے رہ گئے ان میں سب سے اخص مشروطہ خاصہ ہے۔ شرط پوری نہیں ہے، صغریٰ دائمَتان میں سے نہیں ہے، تو پھر جب دائمَتان میں سے نہیں ہے تو پھر باقیوں میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے لیکن ہم کون سا لے لیں گے؟ سب سے اخص اور وہ کیا ہے؟ مشروطہ خاصہ۔ دائمَتان کے علاوہ باقی جو رہ گئے ان میں سب سے خاص کیا ہے؟ مشروطہ خاصہ، اس کو لے لیں گے۔ اور کبریٰ، جب کبریٰ ان چھ میں سے نہیں ہے جن کے سوالب کا عکس آتا ہے، یعنی دائمَتان، عامّتان اور خاصّتان، تو ان چھ کے میں سے نہیں ہے تو باقی جو رہ گئے ان میں سب سے اخص وقتیہ ہے۔
تو ہم صغریٰ فرض کر لیتے ہیں مشروطہ خاصہ، اور کبریٰ کو کیا فرض کر لیں؟ سب سے اخص جو وقتیہ ہے۔ توجہ ہے؟ صغریٰ جب دائمَتان میں سے نہیں تو باقیوں میں سب سے اخص کون سا؟ مشروطہ خاصہ، وہ ہم مشروطہ خاصہ فرض کر لیتے ہیں، اور کبریٰ جو ان چھ میں سے نہیں تو وہ جو باقی رہ گئے ان میں سب سے اخص کیا ہے؟ وقتیہ ہے۔ اب ہم بتائیں گے کہ مشروطہ خاصہ اور وقتیہ کے درمیان منافات نہیں، جب سب سے اخص کے درمیان منافات نہیں تو پھر اعم کے اندر بطریقِ اولیٰ منافات نہیں ہو گی، دعویٰ سمجھ میں آیا؟ اب دیکھیے بھئی۔
کہتے ہیں فَلِأَنَّهُ إِذَا لَمْ يَكُنِ الصُّغْرَى مِمَّا يَصْدُقُ عَلَيْهِ الدَّوَامُ، اس لیے کیونکہ جب صغریٰ ان قضیوں میں سے نہیں ہے جن پر دوام صادق آتا ہے یعنی دائمَتان میں سے نہیں ہے، وَلَا الْكُبْرَى مِمَّا يَنْعَكِسُ سَالِبَتُهَا، اور نہ کبریٰ ان قضیوں میں سے ہے جن کے سالبہ کا عکس آتا ہے، تو لَمْ يَكُنْ فِي الصُّغْرَيَاتِ أَخَصُّ مِنَ الْمَشْرُوطَةِ الْخَاصَّةِ، تو تمام صغروؤں کے اندر جو مشروطہ خاصہ سے زیادہ اخص کوئی اور قضیہ نہیں، وَلَا فِي الْكُبْرَيَاتِ أَخَصُّ مِنَ الْوَقْتِيَّةِ، اور تمام کبروؤں کے اندر وقتیہ سے زیادہ اخص کوئی نہیں، وَلَا مُنَافَاةَ، اور ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ یہ ذرا لمبی عبارت ذکر کریں گے۔
کہتے ہیں وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا، یہ اسی مشروطہ خاصہ کو کھول لیا اور وقتیہ کو کھول لیا، ان دونوں میں منافات نہیں ہے۔ صغریٰ دائمَتان کے علاوہ کوئی فرض کرو اور ان میں سب سے اخص ہم نے مشروطہ خاصہ فرض کر لیا، اور کبریٰ ان چھ کے علاوہ فرض کر لو اور سب سے اخص ہم نے وقتیہ فرض کر لیا، تو ان میں سے ایک موجبہ ہو گا دوسرا سالبہ۔ مثلاً ہم صغریٰ کو موجبہ فرض کر لیتے ہیں اور کبریٰ کو سالبہ فرض کر لیتے ہیں، دیکھیے۔ کہتے ہیں وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا، دیکھا؟ ایجاب کے ساتھ مثلاً لائے، ایجاب کے ساتھ مثلاً، کیونکہ صغریٰ کو مثلاً ہم موجبہ فرض کر لیتے ہیں اگرچہ وہ سالبہ بھی ہو سکتا ہے۔ کہتے ہیں وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ، اور کوئی منافات نہیں ضرورتِ ایجاب کے درمیان مثال کے طور پر بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا، ضرورتِ ایجاب کس اعتبار سے ہو؟ بِحَسَبِ الْوَصْفِ، وصف کے اعتبار سے، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں۔
بھئی ادھر دیکھیے، مشروطہ عامہ اس کے اندر ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے، ابھی میں نے ذکر کیا، مشروطہ عامہ، تو اس میں ضرورتِ وصفی، اور اسی کے ساتھ لا دائماً کی قید لگا دو، لا دوام، یوں کہو لا دوامِ ذاتی کی قید لگا دو تو یہی مشروطہ خاصہ بن جاتا ہے۔ تو ہم نے صغریٰ کو کیا فرض کیا؟ مشروطہ خاصہ اور موجبہ، موجبہ، اور اس میں قید ہے کون سی؟ لا دوامِ ذاتی کی، لا دوامِ ذاتی۔ مشروطہ خاصہ، مشروطہ عامہ جو ہوتا ہے اس میں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے لیکن ساتھ لا دوامِ ذاتی آ جائے تو وہ کیا بن جاتا ہے؟ مشروطہ خاصہ بن جاتا ہے۔ تو یہاں مشروطہ عامہ اور ساتھ لا دوام کی قید آئے گی یعنی مشروطہ خاصہ آئے گا بھئی۔
کہتے ہیں وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا، اور کوئی منافات نہیں ہے وہ جو ضرورتِ ایجاب ہے مثال کے طور پر بِحَسَبِ الْوَصْفِ، وصف کے اعتبار سے، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں، وہ ایجاب جو ضروری ہے وصف کے اعتبار سے، لَا دَائِمًا، ہمیشہ ضروری نہیں ہے، اس میں وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا، اور وہ سلب ضروری ہے کسی وقتِ معین میں، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں، یہ وقتیہ آ گیا۔ وقتیہ کے اندر بھی لا دوامِ ذاتی کی قید ہوتی ہے۔ تو دو نسبتیں آ گئیں، ادھر دیکھیے، ایک ہے مشروطہ خاصہ صغریٰ اور کبریٰ کیا ہے؟ وقتیہ۔ صغریٰ میں کیا ذکر ہو گا؟ ایجاب، کبریٰ میں کیا ہو گا؟ سلب، تو یہاں پر ضرورتِ ایجاب ہے صغریٰ میں، ضرورتِ ایجاب، کیونکہ مشروطہ ہے نا، مشروطہ میں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے، تو یہاں ضرورتِ ایجاب ہے بِحَسَبِ الْوَصْفِ، وصف کے اعتبار سے، لَا دَائِمًا، لیکن ہمیشہ نہیں، ذات کے اعتبار سے ہمیشہ نہیں، وصف کے اعتبار سے ضرورتِ ایجاب ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ، کہ یہاں ایجاب ضروری ہے وصف کے اعتبار سے، لَا دَائِمًا، یعنی ذات کے اعتبار سے ہمیشہ ضروری نہیں ہے، تو یہ ایجاب ہے وصف کے اعتبار سے، ذات کے اعتبار سے ہمیشہ نہیں ہے۔
اور دوسری طرف کیا ہے؟ ضرورتِ سلب، ادھر کیا ہے؟ ضرورتِ ایجاب، ادھر کیا ہو گا؟ ضرورتِ سلب، اور کسی وقتِ معین کے اندر ہو گا، لَا دَائِمًا، ہمیشہ نہیں۔ تو ایک میں ضرورتِ ایجاب ہے صغریٰ میں اور یہ ضرورتِ ایجاب وصف کے اعتبار سے ہے ہمیشہ نہیں، اور دوسرا وقتیہ ہے اس کے اندر ضرورتِ سلب ہے کسی وقتِ معین کے اندر وہ ضرورت، وہ ضروری ہے ہمیشہ نہیں، توجہ ہے؟ تو ان دونوں میں کوئی منافات نہیں، کیونکہ صغریٰ میں کیا؟ کہ ایک چیز ضروری ہے، یہ جو وصفِ اوسط کی نسبت کی جا رہی ہے کس کی طرف؟ ذاتِ اصغر کی طرف، یہ نسبت ضروری ہے وصف کے اعتبار سے، یعنی جب تک یہ کاتب ہے اس کی انگلیاں کیا کرتی رہیں گی؟ حرکت کرتی رہیں گی۔ اور کبریٰ میں کیا ذکر ہے؟ ضرورتِ سلب کسی معین وقت میں، کہ کسی معین وقت میں یہ نسبت کا سلب ضروری ہے، کسی معین وقت میں۔ تو صغریٰ میں کیا ذکر؟ نسبت کا ایجاب ضروری کب؟ وصف کے دوران، نسبت کا ایجاب ضروری، نسبت کا ایجاب ضروری وصف کے دوران، اور کبریٰ میں کیا ہے؟ نسبت کا سلب ضروری ہے کسی معین وقت میں، تو ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔ اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے وہ جو نسبت ضروری ہے وصف کے وقت میں وہ اور وقت میں ہو اور یہ جو نسبت کا سلب ہے یہ ایک معین وقت میں ہے، ہو سکتا ہے یہ اور وقت ہو، یہ ایک وقتِ معین ہے اس میں سلب ہے۔ اور وہ نسبت کیا ہے؟ صغریٰ میں، اس میں ضرورتِ ایجاب ہے وصف کے اعتبار سے، تو ہو سکتا ہے وہ وصف جو ہے اس معین وقت کے علاوہ میں ہو، تو اس وقت وہ نسبت ضروری ہے اور معین وقت میں سلب ضروری ہے تو دونوں جمع ہو سکتے ہیں۔
مثلاً میں کہتا ہوں، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کتابت کرتا ہے، اور دوسری طرف کہتا ہوں، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت نہ کرنا ضروری ہے جب وہ سویا ہوا ہو، جمع ہو گئی یا نہیں؟ دونوں صادق ہیں۔ ایک میں ہے جب وہ کتابت کرتا ہے اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری، دوسری میں ہے ایک وقتِ معین کے اندر حرکت نہ کرنا ضروری اور وہ کس وقت؟ جب وہ سو رہا ہو، اور دونوں صادق ہیں۔ منافات تو یہ ہے کہ دونوں صادق نہ ہو سکیں، یہ دونوں صادق آ رہے ہیں یا نہیں؟ کہ انگلیاں حرکت کریں کتابت کے وقت، بالکل ٹھیک بات ہے، اور انگلیاں حرکت نہ کریں جب وہ معین وقت ہے یعنی سویا ہوا ہے، تو دونوں جمع ہو گئیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ان دونوں میں منافات نہیں۔ اور ہم نے بھی یہی کہا تھا کہ ان دو شرطوں کا لحاظ رکھو گے تو دونوں نسبتوں میں منافات آئے گی، نہیں رکھو گے تو منافات نہیں آئے گی۔ اور جب مشروطہ خاصہ اور وقتیہ کے اندر منافات نہیں جو سب سے اخص ہیں، تو جو باقی اعم ہیں ان میں بطریقِ اولیٰ منافات نہیں ہو گی۔
تو کہتے ہیں وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ ضَرُورَةِ الْإِيجَابِ مَثَلًا بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا، اور کوئی منافات نہیں ضرورتِ ایجاب بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا کے درمیان، وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا، اور ضرورتِ سلب فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا کے درمیان، إِذْ لَعَلَّ ذَلِكَ الْوَقْتَ غَيْرُ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ الْعُنْوَانِيِّ، اس لیے کیونکہ شاید وہ والا وقت جو ہے، وہ وقتِ معین، شاید وہ غیر ہو اوقاتِ وصفِ عنوانی سے، وصفِ عنوانی کے اوقات سے غیر۔ یہ وصفِ عنوانی کسے کہتے ہیں؟ وہی وصفِ موضوع، كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ مَا دَامَ كَاتِبًا، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے یعنی جب تک اس کے لیے یہ وصفِ عنوانی ثابت ہے بھئی۔ تو یہ وصفِ عنوانی جس وقت ثابت ہوتا ہے وہ اور وقت تھا، اس میں میں نے بھی کہا کہ انگلیاں حرکت کرتی ہیں جب وہ کتابت کرتا ہے، اور دوسرے وقت میں وہ سویا ہوتا ہے تو اس وقت انگلیاں حرکت نہیں کرتیں۔ یہ معنی ہے، إِذْ لَعَلَّ ذَلِكَ الْوَقْتَ غَيْرُ أَوْقَاتِ الْوَصْفِ الْعُنْوَانِيِّ، اس لیے کیونکہ شاید وہ وقت جو ہے، وہ وقتِ معین، وہ علاوہ ہو وصفِ عنوانی کے اوقات کے۔
وَإِذَا ارْتَفَعَتْ بَيْنَ الْأَخَصَّيْنِ ارْتَفَعَتْ بَيْنَ مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُمَا ضَرُورَةً، اور جب منافات اٹھ گئی یعنی ختم ہو گئی دو اخص کے درمیان تو وہ اٹھ گئی، ختم ہو گئی بَيْنَ مَا هُوَ أَعَمُّ مِنْهُمَا، ان کے درمیان بھی جو ان دونوں سے زیادہ عام ہوں، ضَرُورَةً، یقینی طور پر۔ جب دو اخص میں منافات نہیں تو ان کے اعم میں بطریقِ اولیٰ منافات نہیں ہو گی۔
وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الْكُبْرَى ضَرُورِيَّةً وَلَا مَشْرُوطَةً حِينَ كَوْنِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً كَانَ أَخَصُّ الْكُبْرَيَاتِ الدَّائِمَةَ وَالْعُرْفِيَّةَ الْخَاصَّةَ وَالْوَقْتِيَّةَ وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ، جی، اب دیکھیے بھئی۔ صغریٰ دائمَتان میں سے نہ ہو اور کبریٰ ان چھ میں سے نہ ہو جن کے سوالب کا عکس آتا ہے تو پھر دونوں میں منافات نہیں ہو گی۔ اسی طرح دوسری شرط کیا تھی؟ کہ اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کس میں سے ہونا چاہیے؟ ضروریہ ہونا چاہیے یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ، اور اگر یہ شرط پوری نہیں ہو گی تو منافات نہیں ہو گی، اب یہ ثابت کریں گے۔ کیا کہا تھا؟ کہ اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کو ضروریہ ہونا چاہیے یا مشروطہ خاصہ یا مشروطہ عامہ ہونا چاہیے، تو پھر ہی منافات ہو گی، اگر ایسا نہیں تو منافات بھی نہیں، اب وہ ثابت کریں گے۔
کہتے ہیں وَإِذَا لَمْ تَكُنِ الْكُبْرَى ضَرُورِيَّةً وَلَا مَشْرُوطَةً، اور جس وقت کبریٰ ضروریہ نہ ہو وَلَا مَشْرُوطَةً اور مشروطہ بھی نہ ہو، حِينَ كَوْنِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً، جس وقت صغریٰ ممکنہ ہو۔ صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کا ضروریہ یا مشروطہ ہونا ضروری، لیکن اگر وہ مشروطہ نہیں ہے، صغریٰ تو ممکنہ ہے لیکن وہ کبریٰ ضروریہ یا مشروطہ نہیں ہے، تو پھر بھی منافات نہیں ہو گی، دیکھیے بھئی۔ تو کہتے ہیں وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الْكُبْرَى ضَرُورِيَّةً وَلَا مَشْرُوطَةً حِينَ كَوْنِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً، اور جب صغریٰ جو ہے وہ ضروریہ اور مشروطہ نہ ہو جس وقت صغریٰ ممکنہ ہو، كَانَ أَخَصُّ الْكُبْرَيَاتِ، تو اس وقت کبروؤں میں سب سے زیادہ خاص جو ہے وہ دائمہ ہو گا، وَالْعُرْفِيَّةَ الْخَاصَّةَ، اور عرفیہ خاصہ ہو گا اور وقتیہ ہو گا۔ کبروؤں میں سب سے اخص دائمہ ہو گا، اسی طرح عرفیہ خاصہ ہو گا اور اسی طرح وقتیہ ہو گا، اور صغریٰ تو کیا ہے؟ ممکنہ۔
صغریٰ، توجہ ہے، صغریٰ تو ممکنہ ہے لیکن کبریٰ ضروریہ بھی نہیں، مشروطہ خاصہ بھی نہیں اور مشروطہ عامہ بھی نہیں۔ جب ان تین میں سے نہیں تو باقیوں میں جو سب سے اخص ہیں وہ ایک دائمہ ہے، ایک عرفیہ خاصہ ہے اور ایک وقتیہ۔ ان تینوں کی صغریٰ جو ممکنہ ہے اس کے ساتھ منافات نہیں۔ صغریٰ جو ممکنہ ہے اس کے ساتھ یہ کبریٰ کے اندر جو تینوں سب سے اخص ہیں، ان کے ساتھ اس کی منافات نہیں، اور جب اخص کے ساتھ منافات نہیں تو اعم کے ساتھ بطریقِ اولیٰ منافات نہیں۔ صغریٰ کیا ہے؟ ممکنہ ہے، اور کبریٰ ضروریہ بھی نہیں ہے، مشروطہ خاصہ بھی نہیں ہے اور مشروطہ عامہ بھی نہیں ہے۔ تو جب ان میں سے نہیں ہے تو پھر باقی جو رہ گئے ان میں سب سے اخص کیا کیا؟ دائمہ اور عرفیہ خاصہ اور وقتیہ۔ یہ سب سے زیادہ اخص انہوں نے ذکر کیے، دیکھو بھئی کس طرح۔
کہتے ہیں دیکھو، جب صغریٰ ممکنہ ہے اور کبریٰ ضروریہ بھی نہیں، مشروطہ خاصہ بھی نہیں اور مشروطہ عامہ بھی نہیں، تو پھر کبریٰ جو ہے وہ ان قضیوں میں سے ہو گا جن کے سالبوں کا عکس آتا ہے، یا ان میں سے ہو گا جن کے سالبوں کا عکس نہیں آتا۔ صغریٰ کیا ہے؟ ممکنہ، اور کبریٰ جب ضروریہ بھی نہیں، مشروطہ خاصہ بھی نہیں، مشروطہ عامہ بھی نہیں تو پھر باقیوں میں سے یا تو یہ ان موجهات میں سے ہو گا جن کے سوالب کا عکس آتا ہے یا ان میں سے ہو گا جن کے سوالب کا عکس نہیں آتا، جن کے سوالب کا
عکس نہیں آتا، وہ نو ہیں اور ان میں سب سے اخص وقتیہ ہے۔ ان میں سب سے اخص وقتیہ ہے۔ لہٰذا اس وقتیہ کو بھی انہوں نے یہاں ذکر کر دیا۔ اور باقی کیا رہ گیا جن کے سوالب کا عکس آتا ہے؟ جن کے سوالب کا عکس آتا ہے اگر کبریٰ ان میں سے ہے، تو ان میں، اس میں کون کون سے تھے؟ دائمَتان تھے، عامّتان تھے، اور خاصّتان۔
دیکھو، وہ چھ قضیہ ہیں جن کے سوالب کا عکس آتا ہے اور نو ہیں جن کے سوالب کا عکس نہیں آتا۔ جن کے سوالب کا عکس نہیں آتا ان میں سب سے اخص وقتیہ ہے، اس کو بھی دیکھو انہوں نے عبارت میں ذکر کر دیا۔ اور جن کے سوالب کا عکس آتا ہے وہ کتنے ہیں؟ چھ۔ کون کون سے؟ ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ، عرفیہ عامہ اور مشروطہ عامہ، اور عرفیہ خاصہ اور مشروطہ خاصہ۔ چھ ہیں۔ ان چھ میں سے انہوں نے کیا کہا؟ کبریٰ ضروریہ بھی نہ ہو، مشروطہ خاصہ بھی نہ ہو، مشروطہ عامہ بھی نہ ہو، تو تین نکل گئے۔ کتنے رہ گئے؟ تین رہ گئے۔ کتنے رہ گئے؟ تین رہ گئے۔
ان تین میں سے، ان تین میں سے ایک دائمہ ہے اس کو بھی ذکر کر دیا، اور عرفیہ عامہ اور عرفیہ خاصہ رہ گئے۔ ان میں سے خاصہ اخص ہے، اس کو ذکر کر دیا۔ خاصہ اخص ہے کیونکہ خاصہ کے اندر وہی عرفیہ عامہ بھی ہے اور ساتھ لادوام کی قید بھی ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں جوں جوں قیدیں بڑھتی ہیں چیز اخص ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو عرفیہ خاصہ کس کو کہتے تھے؟ جس میں عرفیہ عامہ بھی ہوتا تھا اور ساتھ لادوام کی قید بھی ہوتی تھی۔ تو لہٰذا چھ میں سے تین رہ گئے تھے۔ تین تو آپ نے کہہ دیا کہ کبریٰ نہ ضروریہ ہو، نہ مشروطہ خاصہ ہو، نہ مشروطہ عامہ، تو باقی تین رہ گئے۔ کون کون سے؟ دائمہ مطلقہ، عرفیہ خاصہ، اور عرفیہ عامہ۔ ان میں سے دائمہ کو بھی ذکر کر دیا الگ، اور عرفیہ عامہ اور خاصہ میں سے زیادہ خاص کیا ہے؟ عرفیہ خاصہ ہے، اس کو بھی ذکر کر دیا۔
اس لیے کہا کہ جب، دیکھیے پھر عبارت، کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ تَكُنِ الْكُبْرَى ضَرُورِيَّةً وَلَا مَشْرُوطَةً“، اور جب کبریٰ ضروریہ بھی نہ ہو اور مشروطہ بھی نہ ہو، ”حِينَ كَوْنِ الصُّغْرَى مُمْكِنَةً“، جس وقت صغریٰ ممکنہ ہو، ”كَانَ أَخَصُّ الْكُبْرَيَاتِ الدَّائِمَةَ“، تو تمام کبریاؤں میں سب سے اخص دائمہ ہے، ”وَالْعُرْفِيَّةَ الْخَاصَّةَ“، اور عرفیہ خاصہ ہے، ”وَالْوَقْتِيَّةَ“، اور وقتیہ ہے۔ یہ تین ہیں، تینوں کو ذکر کر دیا۔ یہ تین ہیں، تینوں کو ذکر کر دیا کہ یہ زیادہ سے زیادہ خاص ہیں بھئی۔
کیونکہ دائمَتان میں سے، دائمَتان میں سے تو ضروریہ کی نفی کر دی کہ کبریٰ ضروریہ نہ ہو تو دائمہ رہ گیا، اور عامّتان اور خاصّتان میں سے مشروطہ کی نفی کر دی تو عرفیہ رہ گئے اور ان میں سے عرفیہ خاصہ سب سے خاص ہے، اس کو ذکر کر دیا۔ اور باقی جو نو تھے جن کے سوالب کا عکس نہیں آتا ان میں سب سے اخص کیا تھا؟ وقتیہ، تینوں کو ذکر کر دیا۔ اور بتائیں گے ان تینوں کی صغریٰ ممکنہ کے ساتھ منافات نہیں۔ صغریٰ کیا ہے؟ ممکنہ ہے، اور کبریٰ میں سب سے اخص یہ تین ہیں، اور ان تینوں کی ممکنہ کے ساتھ منافات نہیں۔ ان تینوں کی ممکنہ کے ساتھ منافات نہیں۔ دیکھیے، خود بیان کریں گے۔
کہتے ہیں: ”وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ“، اور کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب کے درمیان، بھئی صغریٰ کو کیا فرض کیا؟ ممکنہ، اور کون سا ممکنہ؟ موجبہ۔ تو کہتے ہیں کوئی منافات نہیں ”بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“۔ ادھر دیکھیے، صغریٰ کیا؟ ممکنہ موجبہ۔ توجہ ہے؟ صغریٰ کیا؟ ممکنہ موجبہ، اور کبریٰ میں اخص تین لے آئے۔ دائمہ، عرفیہ خاصہ، اور وقتیہ۔
اب باری باری تینوں سے بیان کریں گے کہ دیکھو امکانِ ایجاب جو صغریٰ ہے اس کا، اس کی منافات نہیں ہے کس کے ساتھ؟ دائمہ کے ساتھ بھی۔ اور اسی طرح امکانِ ایجاب اس کی منافات نہیں ہے کس کے ساتھ؟ یوں کہو ممکنہ کی منافات نہیں ہے دائمہ کے ساتھ۔ پھر بتائیں گے کہ ممکنہ کی منافات نہیں ہے عرفیہ خاصہ کے ساتھ۔ پھر بتائیں گے ممکنہ کی منافات نہیں ہے کس کے ساتھ؟ وقتیہ کے ساتھ۔ جب اخص کے ساتھ منافات نہیں، تو باقی جو اعم ہیں ان کے ساتھ بھی منافات نہیں ہے۔ دیکھا، ہمارا دعویٰ ثابت ہو گیا۔ ہم نے کہا تھا شرطوں کا لحاظ رکھو گے تو منافات ہوگی، شرطوں کا لحاظ نہیں رکھو گے تو منافات بھی نہیں، تو آپ نے شرطوں کا لحاظ نہ رکھا تو منافات بھی ختم ہوئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ“، اور کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب کے درمیان، ”وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“، اور دوامِ سلب جب تک ذات ہے۔ یہ دائمہ مطلقہ کو بیان کر رہے ہیں، اس میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ دوامِ سلب۔ بھئی صغریٰ ہے موجبہ، تو اس میں امکانِ ایجاب کہا، اور کبریٰ میں کیا آئے گا؟ سلب آئے گا۔ تو اس میں دوامِ سلب کہا، اور یہ دوام دائمہ ہے نا؟ دائمہ میں دوام ہوتا ہے، اور یہ دوامِ سلب کون سا دوام ہے؟ ذات کے اعتبار سے ہے، اسی لیے کہا ”دَوَامُ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“۔ تو کہتے ہیں کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب کے درمیان اور ذات کے اعتبار سے دوامِ سلب کے درمیان۔
اور اسی طرح ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا“، کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب کے درمیان اور وہ جو وصف کے اعتبار سے دوامِ سلب ہوتا ہے ”لَا دَائِمًا“، یعنی عرفیہ خاصہ، ان میں بھی کوئی منافات نہیں۔ ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا“، اور اسی طرح امکانِ ایجاب اور وقتِ معین کے اندر ضرورتِ سلب کے درمیان ”لَا دَائِمًا“ نہ کہ ہمیشہ، ان میں کوئی منافات نہیں۔
بھئی کس طرح نہیں؟ ادھر دیکھیے۔ ایک ہے امکانِ ایجاب، اور دوسرے کو ہم بنا لیں دائمہ، اس میں دوامِ سلب ہوگا۔ توجہ ہے؟ صغریٰ میں کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، اور کبریٰ کو کیا فرض کر لیا؟ سالبہ ہے اور دائمہ ہے، تو اس میں دوامِ سلب ہوگا۔ کیا ہوگا؟ دوامِ سلب ہے۔ اور ایک طرف ہے امکانِ ایجاب، امکانِ ایجاب اور دوامِ سلب میں کوئی منافات نہیں ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں، دوامِ سلب لاؤ کبریٰ میں۔ دوامِ سلب لاؤ: ہر آسمان ساکن نہیں ہے دائماً۔ دیکھو، ہر آسمان سے سکون کی نفی کر دی میں نے دائماً۔ ہر آسمان سے نفی کر دی دوام کے طریقے پر، کہ دوام کے طریقے پر سکون کی نفی ہو رہی ہے کس سے؟ آسمان سے۔ توجہ ہے؟ اور اس کے مقابلے میں میں کہتا ہوں امکانِ ایجاب: آسمان کے لیے ساکن ہونا ممکن ہے۔ آسمان کے لیے ساکن ہونا ممکن ہے۔ دوسری طرف میں کیا کہتا ہوں؟ آسمان سے دائماً سکون کی نفی ہے۔ دائماً بے شک سکون کی نفی ہو، لیکن کیا سکون ممکن ہے یا نہیں آسمان کے لیے؟ ممکن تو ہے، کیونکہ یہ اس کی ذات کا حصہ نہیں ہے بھئی۔ آسمان ہمیشہ حرکت کرتا ہے، لیکن کیا یہ حرکت اس کی ذات کا حصہ ہے یا اس کا ایک وصف ہے؟ وصف ہے، اور وصف موصوف سے جدا ہو سکتا ہے یا نہیں ہو سکتا؟ ممکن تو ہے۔ بے شک ہوتا نہیں، لیکن ممکن تو ہے، امکان تو ہے۔
میں کیا کہتا ہوں؟ آسمان سے سکون کی نفی کرتا ہوں دوام کے طریقے پر۔ میں نے کیا کہا؟ آسمان سے سکون کی نفی ہے دوام کے طریقے پر، لیکن ساکن ہو سکتا ہے، ممکن ہے۔ تو دیکھا، امکانِ ایجاب اور دوامِ سلب کے درمیان منافات نہیں ہے۔ سلب بے شک دائماً ہو لیکن پھر بھی ایجاب تو ممکن ہے۔
تو ایک ہے ضرورت، ضرورت اور چیز ہوتی ہے۔ جہاں ایک چیز ضروری ہو وہاں سلب ممکن ہی نہیں ہو سکتا۔ جب ایک چیز کیا ہو؟ ضروری ہو تو سلب نہیں ہو سکتا، ممکن ہی نہیں ہے۔ اگر سلب ممکن ہے تو معلوم ہوا وہ چیز ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو اسی لیے انہوں نے کہا تھا کہ جب صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کے اندر، کبریٰ ضروریہ ہونا چاہیے یا مشروطہ۔ ضروریہ کے اندر بھی ضرورت ذکر، اور مشروطہ عامہ اور خاصہ میں بھی کیا ذکر ہے؟ ضرورت ذکر ہے بھئی۔ تو جب ایک چیز ضروری ہے، تو معلوم ہوا جانبِ مخالف ممکن ہی نہیں ہے۔
جب کہ دوام اور چیز ہے۔ ایک چیز دائماً بے شک ہو، لیکن جب وہ ذات کا حصہ نہیں ہے، ذات میں داخل نہیں ہے، تو جدا ہو تو سکتی ہے۔ آسمان ہر وقت حرکت کرتے رہتے ہیں، یہ حرکت ان سے جدا ہوتی نہیں ہے لیکن یہ ان کی ذات کا حصہ نہیں ہے، لہٰذا حرکت ان سے جدا ہونا ممکن تو ہے۔ تو لہٰذا جب صغریٰ میں کیا آیا؟ امکانِ ایجاب، اور کبریٰ کو کیا بنایا؟ دائمہ، اور اس میں دوامِ سلب آیا، تو دوامِ سلب اور امکانِ ایجاب میں کوئی منافات نہیں ہے۔
دوسری صورت: صغریٰ میں کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، کبریٰ میں، کبریٰ عرفیہ خاصہ ہو۔ عرفیہ خاصہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ دوامِ وصفی ذکر ہوتا ہے۔ دوامِ وصفی، تو جب دوامِ ذاتی اور امکانِ ایجاب کے درمیان منافات نہیں، دوامِ سلب اور امکانِ ایجاب۔ جب ایک چیز کی ذات حرکت کر رہی ہے ہر وقت، ایک طرف کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، اور دوامِ سلب کس اعتبار سے ہے؟ ذات کے اعتبار سے۔ جب ان دونوں میں منافات نہیں ہے، تو وہ دوام جو وصف کے اعتبار سے ہو اس میں اور امکانِ ایجاب میں بطریقِ اولیٰ منافات نہیں ہے۔
مثلاً آپ کہتے ہیں: ہر کاتب کی انگلیاں حرکت کرتی ہیں دائماً جب تک وہ کتابت کرتا ہے۔ تو یہاں دیکھو دوامِ ایجاب آ گیا۔ کیا آ گیا؟ لیکن یہ دوام کون سا ہے؟ وصفی ہے، وصف کے اعتبار سے، جب تک کتابت کرتا ہے۔ تو معلوم ہوا جب کتابت نہ کرے انگلیاں ساکن ہو سکتی ہیں یا نہیں؟ انگلیاں ساکن ہو سکتی ہیں۔ تو جہاں دوامِ ایجاب ہو وصف کے اعتبار سے، وہاں امکانِ سلب ہو سکتا ہے، اور جہاں دوامِ سلب ہو وصف کے اعتبار سے، وہاں امکانِ ایجاب ہو سکتا ہے، بھئی دونوں میں کوئی منافات نہیں ہے۔
اور تیسرا کیا تھا؟ وقتیہ ذکر تھا، وقتیہ۔ وقتیہ کے ساتھ بھی امکانِ ایجاب کی کوئی منافات نہیں۔ وقتیہ میں تو کیا ذکر ہوتا ہے؟ ایک وقتِ معین میں ایک چیز ضروری ہے۔ معلوم ہوا باقی اوقات میں ضروری نہیں ہے، جب باقی اوقات میں ضروری نہیں تو باقی اوقات میں جانبِ مخالف ممکن ہے یا نہیں؟ ممکن ہے۔ اگر وہاں ایجاب ہے وقتِ معین میں تو دوسرے وقت میں امکانِ سلب بھی ہو سکتا ہے، یا وہاں پر اگر سلب ہے کسی وقتِ معین میں تو دوسرے وقت میں امکانِ ایجاب ہو سکتا ہے، تو تینوں میں منافات نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، اب عبارت میں یہی بات وہ ذکر کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“، اور کوئی منافات نہیں ہے امکانِ ایجاب کے درمیان اور ذات کے اعتبار سے دوامِ سلب کے درمیان، ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا“، اور اسی طرح کوئی منافات نہیں ہے امکانِ ایجاب کے درمیان اور وہ دوامِ سلب جو وصف کے اعتبار سے ہو ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہ ہو، ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ فِي وَقْتٍ مُعَيَّنٍ لَا دَائِمًا“، اور کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب کے درمیان اور اس ضرورتِ سلب کے درمیان جو وقتِ معین میں ہو ہمیشہ نہ ہو، ”وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الصُّغْرَى ضَرُورِيَّةً عَلَى تَقْدِيرِ كَوْنِ الْكُبْرَى مُمْكِنَةً كَانَ أَخَصُّ الصُّغْرَيَاتِ الْمَشْرُوطَةَ الْخَاصَّةَ وَالدَّائِمَةَ“۔
بھئی دیکھیے، اب چوتھی صورت لے آئے جہاں پر اگر آپ ہماری شرط نہیں مانیں گے تو منافات نہیں رہے گی، اور وہ کیا؟ کہ کبریٰ اگر ممکنہ ہو تو صغریٰ کو ضروریہ ہونا چاہیے۔ اگر صغریٰ ضروریہ نہیں ہوگا تو پھر منافات نہیں آئے گی۔ تو آپ کو بتائیں گے: کبریٰ کو اگر آپ ممکنہ فرض کرتے ہیں، اور مثلاً اس کو موجبہ فرض کرتے ہیں، کبریٰ کو کیا فرض کیا؟ ممکنہ اور موجبہ، تو اس میں کیا آیا؟ امکانِ ایجاب، اور صغریٰ، صغریٰ کو اگر آپ ضروریہ نہیں لاتے، شرط کا لحاظ نہیں رکھتے، تو پھر باقی جو موجہات بچ گئے ان میں سب سے اخص مشروطہ خاصہ اور دائمہ ہیں۔ مشروطہ خاصہ اور دائمہ۔
تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الصُّغْرَى ضَرُورِيَّةً عَلَى تَقْدِيرِ كَوْنِ الْكُبْرَى مُمْكِنَةً“، اور اسی طرح جب صغریٰ ضروریہ نہ ہو اس تقدیر پر کہ کبریٰ ممکنہ ہے، ”كَانَ أَخَصُّ الصُّغْرَيَاتِ الْمَشْرُوطَةَ الْخَاصَّةَ وَالدَّائِمَةَ“، تو صغراؤں میں سب سے خاص جو ہے وہ مشروطہ خاصہ اور دائمہ ہے۔ کہتے ہیں دیکھیے، کبریٰ کے ممکنہ ہونے کی تقدیر پر اگر صغریٰ ضروریہ نہیں ہوگا، یعنی آپ ہماری شرط جو ہم نے لگائی تھی وہ نہیں مانیں گے، تو پھر دونوں میں منافات نہیں ہوگی۔ کبریٰ کیا ہو؟ ممکنہ، اور صغریٰ ضروریہ کے علاوہ کوئی اور ہو، ضروریہ نہ ہو۔ ہم نے تو کہا اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو صغریٰ کا کیا ہونا ضروری؟ ضروریہ ہونا ضروری۔ اگر آپ یہ شرط نہیں مانیں گے تو پھر دونوں میں منافات نہیں ہوگی۔
مثلاً کبریٰ ہے ممکنہ، اس کے اندر ہم ایجاب فرض کر لیتے ہیں، تو کبریٰ میں ہوا امکانِ ایجاب۔ کبریٰ میں کیا آیا؟ امکانِ ایجاب، اور صغریٰ یقیناً کیفیت میں اس کے مخالف ہوگا تو وہاں سلب آئے گا۔ کیا آئے گا؟ سلب آئے گا۔ اب یہ سلب اگر ضروریہ مانیں گے، ضرورتِ سلب ہوگی ذات کے اعتبار سے، پھر تو دونوں میں منافات ہے۔ اگر ضرورتِ سلب نہیں، ضروریہ کے علاوہ کوئی اور صغریٰ مانتے ہیں تو اس صورت میں منافات نہیں۔ تو چنانچہ ضروریہ تو نکل گیا، اس کے آپ شرط پوری نہیں کرتے، تو باقی جتنے موجہات رہ گئے ان میں سب سے اخص مشروطہ خاصہ ہے اور دائمہ ہے۔
تو صغریٰ ان دونوں میں سے کوئی ایک ہوگا۔ یا وہ مشروطہ خاصہ ہوگا یا دائمہ، ان میں سے ہم ایک آدھ فرض کر لیتے ہیں۔ یہ سب سے اخص ہیں، اور جب اخص کے ساتھ آپ دیکھیں گے منافات نہیں ہے تو معلوم ہوا اعم کے ساتھ بھی منافات نہیں ہے، جیسے کاتب اور انسان۔ کاتب کی جب انسان کے ساتھ منافات نہیں، تو انسان ہے اخص اور حیوان کیا ہے؟ اعم۔ جب کاتب کی انسان کے ساتھ منافات نہیں ہوگی یعنی اخص کے ساتھ، تو اعم یعنی حیوان کے ساتھ بطریقِ اولیٰ منافات نہیں ہوگی، کیونکہ اخص کے ضمن میں کون ہوتا ہے؟ اعم موجود ہوتا ہے۔ تو جب کاتب انسان کے ساتھ جمع ہو رہا ہے، تو انسان کے ضمن میں تو حیوان بھی آ گیا، تو وہ حیوان کے ساتھ بھی معلوم ہوا جمع ہوگا جو کہ اعم ہے، اس کے ساتھ اس کی منافات نہیں۔ تو یہاں پر بھی وہ سب سے اخص جو ہیں ان کو لے کر منافات کی نفی کر رہے ہیں، اور جب اخص کے ساتھ منافات نہیں ہے تو معلوم ہوا اعم کے ساتھ بھی منافات نہیں ہوگی۔
تو بات کیا چل رہی ہے؟ کبریٰ کو کس میں سے مان لیا؟ ممکنہ اور موجبہ، تو اس میں امکانِ ایجاب آیا۔ اور صغریٰ کو آپ ضروریہ کے علاوہ مانیں، یعنی شرط پوری نہ ہو، تو آپ دیکھیں گے منافات نہیں ہے۔ چنانچہ ضروریہ کے علاوہ باقی جتنے موجہات ہم نے دیکھے، ان میں سب سے اخص ایک مشروطہ خاصہ ہے اور ایک دائمہ ہے۔ ایک کیا ہے؟ دائمہ۔ دونوں کو ذکر کیا۔ وجہ یہ، یاد رکھو، یہ جو مشروطہ خاصہ ہے اس میں اور دائمَتان میں تباین ہے۔ توجہ ہے؟ مشروطہ خاصہ اور دائمَتان میں تباین ہے، یعنی یہ دونوں اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ جہاں پر کیفیت مشروطہ خاصہ والی ہو وہاں دائمَتان والی کیفیت نہیں ہو سکتی۔ توجہ ہے؟ وہاں دائمَتان والی کیفیت نہیں ہو سکتی۔
دائمَتان میں کون کون داخل ہیں؟ ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ۔ ضروریہ مطلقہ میں ضرورتِ ذاتی ذکر ہوتی ہے: ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، ”كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ بِالضَّرُورَةِ“، ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری۔ انسان کی ذات ہی تقاضا کرتی ہے اس کو کیا ہونا چاہیے؟ حیوان، کیونکہ انسان کہتے ہی کسے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو۔ تو حیوان کا جز ہوگا تو انسان ہوگا، حیوان والا جز نہیں تو انسان بھی نہیں۔ تو ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے ذات کے اعتبار سے، تو ضروریہ مطلقہ میں ضرورت ہوتی ہے ذات کے اعتبار سے۔
اور دائمہ مطلقہ جو ہے اس کے اندر دوامِ ذاتی ذکر ہوتا ہے۔ دوام، دوام دو قسم پر ہے: ایک ذاتی ہے اور ایک وصفی۔ دوامِ ذاتی ہوتا ہے دائمہ مطلقہ میں، اور دوامِ وصفی ہوتا ہے عرفیہ عامہ میں۔ دوامِ ذاتی مثلاً میں کہتا ہوں: ”كُلُّ فَلَكٍ مُتَحَرِّكٌ بِالدَّوَامِ“، ہر فلک، ہر آسمان چکر لگا رہا ہے، حرکت کر رہا ہے دائمی طور پر۔ اس کی ذات ہی کیا ہے؟ ہر وقت حرکت کرتی رہتی ہے۔ تو یہ ہے تو اس کا وصف، لیکن جب تک اس کی ذات ہے اس کے ساتھ یہ حرکت دائم ہے۔ تو یہ دوام کون سا ہوا؟ ذاتی ہوا، اور کبھی دوام وصفی ہوتا ہے وصف کے اعتبار سے، جیسے آپ کہتے ہیں: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ دَائِمًا مَا دَامَ كَاتِبًا“، ہر کاتب کی انگلیاں دائماً حرکت کرتی ہیں جب تک وہ کاتب ہوتا ہے۔ تو یہاں دیکھو، یہاں بھی دوام ذکر ہے، لیکن دوام کیا ذات کے اعتبار سے ہے یا وصفِ کتابت کے اعتبار سے ہے؟ وصفِ کتابت، تو یہ دوامِ وصفی ہے۔ تو ایک ہے دوامِ ذاتی، وہ دائمہ مطلقہ میں ہے، ایک ہے دوامِ وصفی، وہ عرفیہ عامہ میں ہے۔ اور ضروریہ مطلقہ میں کیا ہوتی ہے؟ ضرورتِ ذاتی۔
اور یاد رکھو، جہاں ضرورتِ ذاتی ہوتی ہے وہاں دوامِ ذاتی بھی ہوتا ہے۔ جب ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، تو ہر انسان کے لیے حیوان ہونا دائمی بھی ہوگا۔ جب ضروری ہے جدا ہی نہیں ہو سکتا، تو دائمی بھی ہوگا، اس کے ساتھ ہمیشہ رہے گا۔ تو ہر انسان حیوان ہے دائماً بھی۔ تو جہاں ضرورتِ ذاتی ہوتی ہے وہاں دوامِ ذاتی ضرور ہوتا ہے، لیکن جہاں دوامِ ذاتی ہو وہاں ضرورتِ ذاتی ہونا ضروری نہیں۔ ہر آسمان حرکت کرتا ہے اور یہ حرکت دائمی ہے، لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ اس کی ذات کا حصہ ہے، یہ اس کی ذات کے لیے ضروری ہے۔ آسمان بغیر حرکت کے بھی ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ اس کا وصف ہے، اور موصوف بغیر وصف کے ہو سکتا ہے۔
ضروریہ مطلقہ میں کیا ذکر ہوگی؟ ضرورتِ ذاتی، اور جہاں ضرورتِ ذاتی ہوتی ہے وہاں دوامِ ذاتی ضرور ہوتا ہے۔ اور دائمہ جو ہے اس میں دوامِ ذاتی ذکر ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ اس میں دوامِ ذاتی ذکر ہوتا ہے۔ اچھا، میں ذکر کر رہا تھا کہ یہ دائمَتان کا تباین ہے کس کے ساتھ؟ مشروطہ خاصہ کے ساتھ۔ اب وہ تباین کس طرح ہے وہ سمجھ لیں۔ دیکھیں، مشروطہ خاصہ جو ہے اس میں ضرورتِ وصفی ذکر ہوتی ہے، ایک چیز ضروری ہے وصف کے اعتبار سے، جیسے: ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“۔
دیکھو، بالضرورۃ کی قید اس میں میں لگا دوں تو یہ مشروطہ عامہ بن جائے گا، اور میں بالدوام کی قید اس میں لگا دوں تو یہ عرفیہ عامہ بن جائے گا۔ تو میں کیا کہتا ہوں؟ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا“، ہر کاتب کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے، یعنی جب تک وہ کتابت کر رہا ہے۔ توجہ ہے؟ تو جب اس کی انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے کتابت کے وقت، تو معلوم ہوا اس وقت انگلیوں کی حرکت میں دوام بھی ہوگا۔ اس سے جب ضروری ہے تو معلوم ہوا جدا نہیں ہو سکتا اس دوران، جب جدا نہیں ہو سکتا تو معلوم ہوا اس دوران دوام بھی ہوگا۔ تو جہاں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔
جب کاتب کے لیے کتابت کرتے ہوئے انگلیوں کی حرکت ضروری ہے، جب ضروری ہے معلوم ہوا جدا نہیں ہوتی اس دوران، اس وصف کے دوران، جب جدا نہیں ہوتی معلوم ہوا اس وصف کے دوران دائمی رہتی ہے۔ دائمی، تو جہاں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے وہاں دوامِ وصفی ضرور ہوتا ہے۔ یہ بھی یاد رکھیں: ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ، ان دونوں میں کیا تھا؟ ضروریہ مطلقہ میں ضرورتِ ذاتی تھی، اور دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی تھا، اور جہاں ضرورتِ ذاتی ہو وہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھنا جہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔ وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے، جب ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے، تو اس کے لیے وصف کے دوران بھی حیوان ہونا ضروری ہے بھئی۔
پھر سنو، پھر سنو: ضروریہ مطلقہ میں ضرورتِ ذاتی ہے، دائمہ مطلقہ میں دوامِ ذاتی ہے، اور جہاں ضرورتِ ذاتی ہو وہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے۔ اور مشروطہ عامہ کے اندر ضرورتِ وصفی ہے، اور عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی ہے۔ تو مشروطہ عامہ میں ضرورتِ وصفی اور عرفیہ عامہ میں دوامِ وصفی، اور یاد رکھو جہاں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر اس پر مزید ایک بات یاد رکھنا، جہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔ جہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔ جب ہر انسان کے لیے حیوان ہونا ضروری، تو معلوم ہوا ہر انسان کے لیے حیوان ہونا دائماً بھی ہوگا وہ حیوان، کیا ہوگا؟ دائماً بھی ہوگا۔ اور نیز اس کے لیے کوئی بھی محمول ثابت ہوگا، کوئی بھی محمول ثابت ہوگا، تو اس وقت بھی اس کے لیے حیوان ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو جہاں دوامِ ذاتی ہوتا ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ضرور ہوتا ہے۔
اچھا، بات کر رہا تھا میں مشروطہ عامہ کی، مشروطہ عامہ کے اندر ضرورتِ وصفی ہے، اور جہاں ضرورتِ وصفی ہوتی ہے وہاں دوامِ وصفی بھی ہوتا ہے۔ اب اسی مشروطہ عامہ کے ساتھ لادوام کی قید لگا دیں، لادوامِ ذاتی کی، تو یہ مشروطہ خاصہ بن جاتا ہے۔ ”كُلُّ كَاتِبٍ مُتَحَرِّكُ الْأَصَابِعِ بِالضَّرُورَةِ مَا دَامَ كَاتِبًا لَا دَائِمًا“، یہ ”لَا دَائِمًا“ ساتھ لگا دو تو یہی کیا بن گیا؟ مشروطہ خاصہ بن گیا۔ اب ترجمہ ذرا سنو مشروطہ خاصہ کا: ہر کاتب کے لیے انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے جب تک وہ کاتب ہے، ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں، یعنی ہمیشہ نہیں ذات کے اعتبار سے، یہ لادوام کون سا ہے؟ ذاتی۔ ذات کے اعتبار سے ہمیشہ نہیں، یعنی ذات کے اعتبار سے انگلیوں کی حرکت کرنا ہمیشہ نہیں ہے، یہ انگلیوں کا حرکت کرنا ضروری ہے صرف کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے۔
توجہ ہے؟ مشروطہ خاصہ میں وہی مشروطہ عامہ ہوتا ہے اور اس میں کون سی قید ہوتی ہے؟ لادوامِ ذاتی کی، معلوم ہوا اس میں دوامِ ذاتی نہیں ہوگا۔ دوامِ ذاتی نہیں، اور دائمَتان جو ہیں ان دونوں میں تو دوامِ ذاتی ہوتا ہے۔ دائمَتان دونوں میں تو، ان میں تو دونوں میں دوامِ ذاتی ہوتا ہے، اور مشروطہ خاصہ میں دوامِ ذاتی کی نفی ہوتی ہے، تو دونوں میں تباین ہے۔ جہاں دوامِ ذاتی کی نفی ہوگی وہاں اثبات نہیں ہو سکتا، اور جہاں دوامِ ذاتی کا اثبات ہے وہاں نفی نہیں ہو سکتی بھئی، تو دونوں میں کیا ہے؟ تباین۔ مشروطہ خاصہ میں کیا قید ہے؟ لادوامِ ذاتی، دوام ذاتی نہیں ہوگا اس میں، اور دائمَتان میں کیا ذکر ہوتا ہے کہ اس میں دوام ذاتی ہے، تو ایک میں دوامِ ذاتی ہے دوسرے میں دوامِ ذاتی نہیں ہے، دونوں ایک دوسرے کے مقابل ہیں، ایک چیز ہو سکتی ہے دونوں نہیں ہو سکتیں، تو دونوں میں تباین ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ بات چل رہی تھی کہ اگر کبریٰ ممکنہ ہو تو صغریٰ کو کیا ہونا چاہیے؟ ضروریہ، پھر ہی منافات آئے گی۔ اگر آپ ہماری یہ شرط نہیں مانیں گے، آپ اس شرط کا لحاظ نہیں رکھیں گے، تو پھر دونوں میں منافات نہیں رہے گی۔ تو کبریٰ کو کیا فرض کر لیا؟ ممکنہ موجبہ، تو اس میں امکانِ ایجاب آ گیا۔ کیا آ گیا؟ امکانِ ایجاب، اور باقی جو صغریٰ تھے ان میں سے ضروریہ کو تو نکال دیا، ضروریہ نہیں ہے، آپ شرط کا لحاظ نہیں رکھتے، تو اور جتنے رہ گئے ان میں سب سے اخص جو ہے ایک مشروطہ خاصہ ہے اور ایک دائمہ ہے۔
توجہ ہے؟ بھئی دیکھیے نا، ذرا دائمَتان کو الگ کر لیں۔ دائمَتان الگ، باقی سب کے اندر سب سے اخص کیا؟ مشروطہ خاصہ۔ باقی دائمَتان رہ گئے، دائمَتان میں کون کون سے ہیں؟ ایک ضروریہ، ایک دائمہ۔ اور ضروریہ کی تو ابھی نفی کی، ہم نے کہا تھا صغریٰ کو ضروریہ ہونا چاہیے، اگر نہیں ہوگا، اگر نہیں ہوگا تو منافات نہیں ہوگی۔ تو ضروریہ کی تو نفی ہو گئی، باقی کیا رہ گیا؟ دائمہ رہ گیا۔ اسی لیے کہا: ”كَانَ أَخَصُّ الصُّغْرَيَاتِ الْمَشْرُوطَةَ الْخَاصَّةَ وَالدَّائِمَةَ“، تو تمام صغراؤں میں سب سے اخص کون سا ہے؟ مشروطہ خاصہ ہے اور دائمہ ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ ان دونوں کو اس لیے ذکر کیا کہ یہ دونوں ہوں گے بھئی، یعنی مشروطہ بھی ہو سکتا ہے اور دائمہ بھی ہو سکتا ہے، اور ان دونوں میں تباین ہے بھئی۔
اب ہم نے یہ ثابت کرنا ہے کہ اگر کبریٰ جو ہے اس کو ہم نے ممکنہ موجبہ فرض کیا ہے، تو اس میں امکانِ ایجاب آیا۔ کیا آیا؟ امکانِ ایجاب آیا، اور دائمہ کے اندر کیا ذکر ہوگا پھر؟ صغریٰ جو ہے اس میں یا وہ مشروطہ خاصہ ہوگا یا دائمہ۔ فرض کرو اگر وہ دائمہ ہے، پہلے دائمہ بنا لیتے ہیں، تو کبریٰ میں کیا امکانِ ایجاب، اور اس میں دوامِ سلب ہوگا۔ دائمہ کے اندر صغریٰ میں دوامِ سلب ہوگا، اور ابھی دو سطریں قبل پہلے گزرا تھا اگر آپ کتاب پر دیکھیں: ”وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“، امکانِ ایجاب اور دوامِ سلب کے درمیان منافات نہیں۔ امکانِ ایجاب اور دوامِ سلب کے درمیان منافات نہیں، مثلاً آپ آسمان سے نفی کرتے ہیں کہ آسمان ساکن نہیں ہے دائماً۔ سکون کی نفی کر دی دوام کے طریقے پر کیونکہ یہ حرکت کرتا ہے۔ جب حرکت کر رہا ہے تو سکون کی نفی ہے، اور جب حرکت دائمی ہے تو سکون کی نفی بھی کیا ہے؟ دائمی ہے۔ معلوم ہوا آسمان ساکن نہیں ہے دائماً، یعنی تمام زمانوں میں، اس سے سکون کی نفی ہے۔
لیکن یہ آسمان کی حرکت، کیا یہ اس کی ذات کا حصہ ہے یا اس کا وصف ہے؟ وصف ہے، اور وصف موصوف سے جدا ہو سکتا ہے۔ جب حرکت جدا ہوگی تو کیا آ سکتا ہے؟ سکون آ سکتا ہے، تو سکون کا آنا ممکن ہے۔ اگرچہ آتا نہیں لیکن آنا ممکن ہے۔ انسان کا تو حیوان ہونا ضروری ہے، جہاں ضرورت ہوتی ہے وہاں جانبِ مخالف کا امکان نہیں آتا۔ انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، اس سے حیوان کی نفی نہیں ہو سکتی کیونکہ ضروری ہے۔ جب کہ دوام اور چیز ہے: آسمان کے لیے حرکت دائمی ہے، جدا ہوتی نہیں لیکن جدا ہونا ممکن ہے، جدا ہو جائے کیونکہ یہ اس کا وصف ہے اور موصوف سے وصف جدا ہو سکتا ہے بھئی۔ تو لہٰذا امکانِ ایجاب اور دوامِ سلب کے درمیان منافات نہیں، یہ ابھی کچھ دیر پہلے تفصیلاً بیان ہو چکا۔
اب رہ گیا کیا؟ کہ امکانِ ایجاب اور مشروطہ خاصہ کے درمیان بھی منافات نہیں ہے۔ امکانِ ایجاب اور مشروطہ خاصہ کے اندر بھی منافات نہیں ہے۔ مشروطہ خاصہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ سلب کو ساتھ جوڑنا ہے کیونکہ کبریٰ کو کیا رکھا ہے؟ موجبہ، تو صغریٰ کیا ہے؟ سالبہ۔ مشروطہ خاصہ بنائیں، مشروطہ خاصہ میں کیا ہوتا ہے؟ ضرورتِ وصفی ہوتی ہے، کیا ہوتی ہے؟ ضرورتِ وصفی ہوتی ہے ”لَا دَائِمًا“۔ توجہ ہے؟ پھر دہرائیں: مشروطہ خاصہ میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ ضرورتِ وصفی ”لَا دَائِمًا“، یعنی وصف کے اعتبار سے ضروری ہے ہمیشہ ذات کے اعتبار سے نہیں۔ کبریٰ کیا ہے اس میں امکانِ ایجاب آ جائے گا، اور صغریٰ میں کیا ہوگا؟ ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“، ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“، اور ان دونوں میں کوئی منافات نہیں۔
کیونکہ ضرورتِ سلب، دیکھو لفظوں پر ہی غور کر لو، لفظوں پر ہی غور کر لو: ضرورتِ سلب، سلب ضروری ہے بحسب الوصف، کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے سلب ضروری ہے، ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں، جب ہمیشہ نہیں ہے معلوم ہوا ایجاب ہو سکتا ہے۔ یہاں ضرورتِ سلب ہے کس اعتبار سے؟ وصف کے، وصف کے اعتبار سے سلب ضروری ہے، ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں، یہ ہمیشہ نہیں معلوم ہوا ایجاب بھی ہو سکتا ہے۔ سلب ضروری ہے تو جانبِ مخالف کیا؟ ایجاب۔ تو جب سلب ضروری ہے کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے، اور ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں ہے، جب ہمیشہ نہیں ہے تو امکانِ ایجاب آ گیا یا نہیں آ گیا؟ امکانِ ایجاب آ گیا، معلوم ہوا ایجاب ہو سکتا ہے۔ اگر سلب ضروری ہوتا ذات کے اعتبار سے پھر امکانِ ایجاب نہیں ہو سکتا، جب ایک چیز ذات کے اعتبار سے ضروری ہے تو پھر وہاں جانبِ مخالف نہیں ہو سکتی۔ ہر انسان کا حیوان ہونا ضروری ہے، لہٰذا لاحیوان ہو انسان یہ ممکن ہی نہیں ہے۔
توجہ ہے؟ جہاں ضرورتِ ذاتی ہو وہاں جانبِ مخالف ممکن نہیں ہوتی۔ یہاں ضرورت ہے لیکن یہ ضرورت ذاتی نہیں ہے بلکہ وصفی ہے، اور ساتھ قید بھی موجود ہے ”لَا دَائِمًا“۔ یہ سلب ضروری ہے وصف کے اعتبار سے لیکن ہمیشہ نہیں، معلوم ہوا یہ سلب ختم ہو سکتا ہے، ایجاب آ سکتا ہے۔ تو امکانِ ایجاب اور ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“ ان کے درمیان کوئی منافات نہیں ہے۔ دعویٰ سمجھ میں آ گیا؟ یہ معنی ہے۔
کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الصُّغْرَى ضَرُورِيَّةً عَلَى تَقْدِيرِ كَوْنِ الْكُبْرَى مُمْكِنَةً“، اور اسی طرح جب صغریٰ ضروریہ نہ ہو اس تقدیر پر کہ کبریٰ ممکنہ ہے، ”كَانَ أَخَصُّ الصُّغْرَيَاتِ الْمَشْرُوطَةَ الْخَاصَّةَ وَالدَّائِمَةَ“، تو صغراؤں میں سب سے اخص جو ہے وہ مشروطہ خاصہ اور دائمہ ہے، ”وَلَا مُنَافَاةَ بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا“، یہ مشروطہ خاصہ کو ذکر کر دیا، تو کوئی منافات نہیں ہے امکانِ ایجاب کے درمیان اور وہ جو ضرورتِ سلب ہے وصف کے اعتبار سے ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں، ان میں کوئی منافات نہیں۔ ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“، اور اسی طرح کوئی منافات نہیں ہے امکانِ ایجاب کے درمیان اور وہ دوامِ سلب جو ذات کے اعتبار سے ہو، ان دونوں میں بھی کوئی منافات نہیں، یہ اشارہ ہو گیا دائمہ کی طرف۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب یہاں ایک اشکال آپ کے ذہن میں آئے گا۔ اشکال یہ، توجہ سے سنیے، اشکال یہ کہ ابھی آپ نے کہا کہ اگر کبریٰ ممکنہ میں سے ہو تو صغریٰ دائمہ فرض کر لو یا مشروطہ خاصہ۔ تو کبریٰ ہوا ممکنہ اور صغریٰ ہوا مشروطہ خاصہ، ان دونوں میں منافات نہیں ہے، آپ نے ابھی ثابت کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور اس سے پہلے آپ نے ہمیں کہا تھا شرطوں میں، شرطوں میں کہا تھا اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ کو تین چیزوں میں سے ایک ہونا چاہیے: یا ضروریہ، یا مشروطہ خاصہ، یا مشروطہ عامہ، پھر ہی منافات آئے گی، پھر ہی۔ معلوم ہوا صغریٰ میں اگر امکانِ ایجاب ہوگا، تو کبریٰ میں، کبریٰ ضروریہ ہو یا مشروطہ خاصہ ہو یا مشروطہ عامہ۔ مشروطہ خاصہ کی بھی بات آ گئی یا نہیں؟ مشروطہ خاصہ۔ صغریٰ اگر ممکنہ ہو اور کبریٰ مشروطہ خاصہ ہو تو شرط پوری ہوئی، اور آپ نے کہا تھا اس صورت میں منافات آ جائے گی۔
بات نہیں سمجھ میں آئی؟ آپ نے کہا تھا کہ اگر صغریٰ ممکنہ ہو تو کبریٰ تین میں سے کوئی ایک ہونا چاہیے: یا ضروریہ، یا مشروطہ خاصہ، یا مشروطہ عامہ، کیونکہ ان تین میں سے کوئی ایک آ جائے گا تو اس کی صغریٰ کے ساتھ منافات آ جائے گی۔ توجہ ہے؟ اور اب بالکل یہی صورت اس کے برعکس ہے: کبریٰ کو کیا فرض کیا؟ ممکنہ، اور صغریٰ کو کیا فرض کیا؟ مشروطہ خاصہ، اب آپ کہہ رہے ہیں منافات نہیں ہے۔ اشکال سمجھ میں آیا؟ پہلے آپ نے کیا کہا تھا کہ صغریٰ اگر ممکنہ ہو تو کبریٰ اگر ضروریہ ہوا، یا مشروطہ خاصہ ہوا، یا مشروطہ عامہ ہوا، تو دونوں میں کیا آ جائے گی؟ منافات، اور ابھی آپ نے بتایا کہ کبریٰ اگر ممکنہ ہو تو صغریٰ اگر مشروطہ خاصہ ہو جائے تو دونوں میں منافات نہیں، یہ تو آپ کے دعوے کا برعکس ہو گیا۔ پہلے آپ نے ثابت کیا ان دونوں میں منافات ہے، اب آپ ثابت کر رہے ہیں دونوں میں منافات نہیں۔
کہتے ہیں بھئی دونوں کے اندر فرق ہے، آپ نے غور نہیں کیا، ہم نے کیا کہا تھا؟ دو نسبتوں میں منافات ہونی چاہیے، کون سی دو نسبتیں ذرا ان لفظوں پر غور کریں: کیا نسبت تھی؟ صغریٰ میں جو وصفِ اوسط کی نسبت ہو کس کی طرف؟ ذاتِ اصغر کی طرف، اور کبریٰ میں کون سی نسبت ہو؟ وصفِ اوسط کی نسبت ہو وصفِ اکبر کی طرف۔ یہ وصفِ اکبر کی قید جو یہاں لگی ہے یہ اب فائدہ آپ کو بتلائے گی بھئی۔ یہاں ذاتِ اکبر نہیں کہا بلکہ کیا کہا؟ وصفِ اکبر کہا۔ تو اس میں دیکھو کبریٰ میں کون سی نسبت؟ وصفِ اوسط کی نسبت کس کی طرف؟ وصفِ اکبر کی طرف، ان دو نسبتوں میں منافات ہونی چاہیے۔ کن میں؟ ان دو نسبتوں میں منافات ہونی چاہیے۔
لہٰذا صغریٰ اگر ممکنہ ہو، صغریٰ اگر ممکنہ ہو تو کبریٰ کے اندر جو مشروطہ خاصہ آئے گا، مشروطہ خاصہ، اور اس میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ صغریٰ کو اگر ممکنہ فرض کریں اور کبریٰ کو کیا فرض کریں؟ مشروطہ خاصہ۔ کبریٰ یا ضروریہ ہوگا، یا مشروطہ خاصہ، یا مشروطہ عامہ، ہم اس کو مشروطہ خاصہ فرض کر لیتے ہیں، تو صغریٰ میں کیا ہے؟ امکانِ ایجاب، اور کبریٰ میں کیا آ جائے گا؟ ضرورتِ سلب، ابھی ذکر ہوئی۔ ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“، ”لَا دَائِمًا“، اور ان دونوں میں منافات ہے۔ بھئی ابھی تو کہا تھا منافات نہیں ہے، اب کہہ رہے ہیں منافات ہے؟ بھئی اگر اس کی نسبت کریں ذات کی طرف، کیا، یہ جو ضرورتِ سلب ہے بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“، اس کی نسبت کریں اگر وصفِ اکبر کی طرف تو پھر منافات آئے گی، اور اگر اس کی نسبت کریں ذاتِ اکبر کی طرف پھر منافات نہیں آئے گی۔
توجہ ہے؟ کس چیز کی نسبت؟ وہ جو مشروطہ خاصہ کی جہت ذکر ہوئی ابھی، وہ جو ضرورتِ سلب ہے بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“، اس کی نسبت اگر کس کی طرف کریں گے؟ وصفِ اکبر کی طرف کر دیں گے، تو پھر، پھر دونوں میں امکانِ ایجاب اور اس مشروطہ خاصہ میں منافات آئے گی۔ توجہ ہے؟ پھر اس میں منافات آئے گی۔ کس طرح منافات آئے گی؟ صغریٰ میں کیا ذکر؟ امکانِ ایجاب، امکانِ ایجاب، اور کبریٰ میں کیا ذکر ہے؟ کبریٰ میں کیا ذکر ہوگا؟ ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“۔ ٹھیک ہے، ذات کے اعتبار سے تو ضروری نہیں، ”لَا دَائِمًا“ کی قید لگی ہوئی ہے، لیکن وصف کے اعتبار سے ضروری ہے یا نہیں؟ اور ہم بھی کس اعتبار سے دیکھ رہے ہیں؟ وصفِ اوسط کی نسبت کس کی طرف؟ وصفِ اکبر، ہم وصف کے اعتبار سے صرف دیکھ رہے ہیں، اور وصف کے اعتبار سے تو یہ جدا نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا ان دونوں میں کیا آ گئی؟ منافات۔ ایک طرف امکانِ ایجاب ہے اور دوسری طرف ضرورتِ سلب ہے وصف کے اعتبار سے، اور وہ ضرورتِ سلب جب وصف کے اعتبار سے ہے تو جب تک وہ وصف ہے وہ جدا ہو ہی نہیں سکتی، اور ہم بات بھی کس اعتبار سے کر رہے ہیں؟ وصف ہی کے اعتبار سے کر رہے ہیں، اور وصف کے اعتبار سے تو یہ جدا ہو ہی نہیں سکتی، یہ تو ضروری ہے۔ جب ایک چیز ضروری ہو تو جانبِ مخالف کا امکان وہاں نہیں ہو سکتا بھئی، دونوں میں کیا آ گئی؟ منافات آ گئی۔
لیکن یہاں پر منافات نہیں، یہ جو ابھی ہم صورت کر رہے تھے کہ کبریٰ کو اگر کیا فرض کر لو؟ ممکنہ، اور صغریٰ کو کیا فرض کرو؟ مشروطہ خاصہ فرض کر لو، تو صغریٰ کے اندر تو وصفِ اوسط کی نسبت وصفِ اصغر کی طرف نہیں ملحوظ، بلکہ کس کی طرف ملحوظ ہے؟ ذاتِ اصغر کی طرف ملحوظ ہے، کس کی طرف؟ صغریٰ میں، دیکھو کبریٰ کو کیا فرض کر لو اگر؟ ممکنہ فرض کر لو آخری صورت جو ہے، اور صغریٰ اگر ضروریہ نہیں ہوگا، ضروریہ نہیں تو پھر ہم نے بتایا سب سے اخص کون سے ہیں؟ مشروطہ خاصہ اور دائمہ، مشروطہ خاصہ ہی صغریٰ کو فرض کر لو۔ کبریٰ ہو ممکنہ اور صغریٰ کیا ہو؟ مشروطہ خاصہ، تو ان دونوں میں منافات نہیں۔ کیوں نہیں منافات؟ کیونکہ یہاں جو مشروطہ خاصہ ہے صغریٰ کے اندر، کبریٰ میں ہوگا امکانِ ایجاب، اور یہاں صغریٰ میں کیا مانیں گے؟ ضرورتِ سلب۔ تو یہ جو صغریٰ میں ضرورتِ سلب ہے بحسب الوصف ہے، ”لَا دَائِمًا“ ہمیشہ نہیں۔
صغریٰ میں کیا ہے؟ ضرورتِ سلب ہے کس اعتبار سے؟ وصف کے اعتبار سے ہے، ”لَا دَائِمًا“ یعنی ذات کے اعتبار سے ہمیشہ نہیں، اور یہ نسبت ہو کس کی طرف رہی ہے صغریٰ میں؟ ذاتِ اصغر کی طرف ہو رہی ہے یا وصفِ اصغر کی طرف؟ ذاتِ اصغر کی طرف ہو رہی ہے، اور بتا تو رہے ہیں ”لَا دَائِمًا“، مشروطہ خاصہ کے آخر میں قید ہے، ذات کے اعتبار سے دائمی نہیں، جب ذات کے اعتبار سے دائمی نہیں ہے تو معلوم ہوا امکانِ ایجاب ہو سکتا ہے۔ یہ ضرورتِ سلب ذات کے اعتبار سے جب ضروری نہیں اور ذات ہی کی طرف تو ہم نسبت کر رہے ہیں، ذاتِ اصغر کی طرف ہی تو ہم نسبت کر رہے ہیں، تو ذات کے اعتبار سے یہ نسبت ضروری نہیں ہے، جب ذات کے اعتبار سے ضروری نہیں تو امکانِ ایجاب ہو سکتا ہے۔ جب ذات کے لیے ضروری نہیں تو اس سے جدا ہو سکتی ہے، اور جب جدا ہوئی تو ایجاب آ جائے گا۔ یہ سلب جدا ہوا تو کیا آ جائے گا؟ ایجاب۔
بات سمجھ میں آئی؟ فرق دونوں میں سمجھ میں آ گیا کہ وہاں پر وہ جو ضرورتِ سلب بحسب الوصف ”لَا دَائِمًا“ کی نسبت تھی، وہ وصفِ اکبر کی طرف ہوتی تھی، اور
اُس اعتبار سے تو وہ ضروری تھا، وصف کے اعتبار سے ہی تو ضروری تھا، جدا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور یہاں پر اصغر کے اندر ایسی بات نہیں ہے۔ یہاں جو کبریٰ میں امکانِ ایجاب ہے اور صغریٰ میں ضرورتِ سلب ہے، لیکن یہ ضرورتِ سلب بِحَسَبِ الْوَصْفِ ہے، ذات کے اعتبار سے تو نہیں ضروری۔ اور نسبت تو کس کی طرف ہو رہی ہے؟ ذات کی طرف، کیونکہ ذاتِ اصغر کی طرف نسبت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
تو کہتے ہیں:
”وَكَذَا إِذَا لَمْ تَكُنِ الصُّغْرَى ضَرُورِيَّةً عَلَى تَقْدِيرِ كَوْنِ الْكُبْرَى مُمْكِنَةً“ اور اسی طرح جب صغریٰ ضروریہ نہ ہو اس تقدیر پر کہ کبریٰ ممکنہ ہو، ”فَكَانَ أَخَصُّ الصُّغْرَيَاتِ الْمَشْرُوطَةَ الْخَاصَّةَ وَالدَّائِمَةَ“ تو اس وقت تمام صغراؤں میں سب سے خاص جو ہے وہ مشروطہ خاصہ اور دائمہ ہیں، ”وَلَا مُنَافَاةَ“ اور کوئی منافات نہیں ”بَيْنَ إِمْكَانِ الْإِيجَابِ“ امکانِ ایجاب کے درمیان ”وَبَيْنَ ضَرُورَةِ السَّلْبِ بِحَسَبِ الْوَصْفِ لَا دَائِمًا“ اور اس ضرورتِ سلب کے درمیان، کوئی منافات نہیں امکانِ ایجاب اور اس ضرورتِ سلب کے درمیان جو وصف کے اعتبار سے ہو، لا دائماً ہمیشہ نہ ہو، ”وَلَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ دَوَامِ السَّلْبِ مَا دَامَ الذَّاتُ“ اور اسی طرح کوئی منافات نہیں ہے امکانِ ایجاب اور اس دوامِ سلب کے درمیان جو ذات کے اعتبار سے ہو، ”وَتَحْقِيقُ هَذَا الْمَبْحَثِ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ الْوَجِيهِ مِمَّا تَفَرَّدْتُ بِهِ بِعَوْنِ اللَّهِ الْجَلِيلِ“۔
جی، وجیہ کا معنی ہے رتبے والا، رتبے والا۔ یہاں مراد ہے خوبصورت بھئی یا یوں کہو شاندار۔ شارح فرماتے ہیں کہ میں نے یہ جو تقریر کی اور اس مقام کو حل کیا اتنے شاندار انداز میں، یہ اللہ کے خاص فضل و کرم سے میں نے کیا، میرے جیسی شاندار اور خوب واضح تقریر کسی اور نے نہیں کی بھئی۔ تو واقعی دیکھو، پوری بحث کو انہوں نے بہترین انداز میں حل کیا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَتَحْقِيقُ هَذَا الْمَبْحَثِ“ اور اس بحث کی تحقیق ”عَلَى هَذَا الْوَجْهِ الْوَجِيهِ“ اس خوبصورت اور اس شاندار طریقے پر ”مِمَّا“ یہ ان چیزوں میں سے ہے ”تَفَرَّدْتُ بِهِ“ جن کے ساتھ میں یکتا ہوں، اکیلا ہوں، یعنی تنہا ہوں، ”بِعَوْنِ اللَّهِ الْجَلِيلِ“ اللہ جو عظیم ہے اس کی مدد سے۔ الجلیل کا معنی عظیم۔ تو وہ اللہ جو عظیم ہے اس کی مدد سے میں نے یہ اس مقام کو اس طریقے بہترین انداز میں حل کیا ہے۔ عون کا معنی مدد۔ ”بِعَوْنِ اللَّهِ الْجَلِيلِ“ وہ اللہ جو عظیم ہے اس کی مدد سے۔
”وَاللَّهُ يَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى سَوَاءِ السَّبِيلِ“ اور اللہ ہدایت دیتے ہیں جس کو چاہتے ہیں سیدھے راستے کی، ”وَهُوَ حَسْبِي“ اور وہ میرے لیے کافی ہے، ”وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ اور وہ بہترین کارساز ہے۔ وکیل کا کیا معنی؟ کارساز، یعنی کام بنانے والا۔ ”وَنِعْمَ الْوَكِيلُ“ اور اللہ ہی بہترین کام بنانے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
چلیے بس بھئی،
هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔