Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-067

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 45
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی! آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھ لیں پہلے۔ فَصْلٌ. مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ يُسَمَّى كُلِّيّاً مَنْطِقِيّاً، وَمَعْرُوْضُهُ طَبِيْعِيّاً، وَالْمَجْمُوْعُ عَقْلِيّاً، وَكَذَا الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ، وَالْحَقُّ أَنَّ وُجُوْدَ الطَّبِيْعِيِّ بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ۔ فَصْلٌ مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ۔ بعض کتابوں میں یہاں فصل کی جگہ خاتمہ کا لفظ ہوگا، خاتمہ۔ تو مراد یہ ہے کہ یہ کلیات کی بحث کا خاتمہ ہے۔ کلیات کی بحث یہاں ختم ہو رہی ہے، یعنی اس فصل میں بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ، مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ يُسَمَّى كُلِّيّاً مَنْطِقِيّاً، وَمَعْرُوْضُهُ طَبِيْعِيّاً، وَالْمَجْمُوْعُ عَقْلِيّاً۔ یاد رکھو، یہ جو کلی ہے یہاں تین چیزیں ہیں بھئی، تین چیزیں۔ جب ہم کلی لفظ بولتے ہیں تو تین چیزیں ہوتی ہیں جن کا ارادہ کیا جا سکتا ہے۔ ایک کلی کا مفہوم ہے۔ کلی کا مفہوم کیا ہے؟ کہ جو کثیرین پر صادق آئے۔ کلی کا مفہوم کیا ہے؟ کہ جو کثیرین پر صادق آئے۔ اور ایک کلی کا معروض ہے، یعنی کلی جس کی صفت ہے، جیسے انسان۔ انسان کیا ہے؟ کلی ہے۔ فرس کیا ہے؟ کلی ہے۔ حیوان کیا ہے؟ کلی ہے۔ جسم کیا ہے؟ کلی ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ معروض جس کی صفت کلی بنتی ہے، تو یہ چیز جس کی صفت کلی بنتی ہے، اس کو معروض کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ معروض۔ تو ایک کیا ہوا؟ کلی کا مفہوم۔ کلی کا مفہوم کیا ہے؟ کہ کلی کثیرین پر صادق आती ہے۔ اور ایک کلی کا معروض ہے، یعنی کلی جس کی صفت بنتی ہے، جس کو آپ کلی کہتے ہیں، اور وہ کوئی چیز ہوگی، مثلاً یہاں انسان ہے، یا حیوان ہے، یا شجر ہے، یا حجر ہے، یا جسم ہے۔ تو یہ ہے کلی کا معروض بھئی۔ اور ایک ہے ان دونوں کا مجموعہ، یعنی وہ انسان جو کلی ہے، یعنی انسانِ کلی۔ انسانِ کلی۔ تو یہاں تین چیزیں ہیں۔ نمبر ایک کیا؟ اس کلی کا مفہوم۔ کلی کا مفہوم کیا ہے؟ کلی وہ مفہوم ہے جو کثیرین پر صادق آئے، تو کلی مفہوم کا نام ہے۔ اور دوسرا وہ کلی کا معروض ہے جس کو کلی عارض ہوتی ہے، جس کی صفت بنتی ہے، جس کے بارے میں آپ کہتے ہیں کہ یہ کلی ہے۔ کیا کہتے ہیں؟ یہ کلی ہے۔ یعنی انسان، حیوان، جسم، شجر، حجر وغیرہ۔ یہ سب کیا ہیں؟ کلی ہیں، یہ کثیرین پر صادق آتے ہیں۔ اور تیسرا ہے ان دونوں کا مجموعہ، یعنی معروض اور اس کا کلی ہونا۔ انسان ہو اور انسان اور کلی کیا ہو اس کی صفت؟ تو انسانِ کلی۔ دیکھا؟ یہ دونوں کا مجموعہ ہے۔ دونوں کا انسانِ کلی، یا جیسے جسمِ کلی، یا جیسے شجرِ کلی۔ شجر بھی تو ہر درخت پر صادق آتا ہے۔ شجرِ کلی، یا حجرِ کلی بھئی۔ تو یہ دونوں کا مجموعہ۔ تو ایک ہے کلی کا مفہوم، ایک ہے کلی کا معروض، اور ایک ہے دونوں کا مجموعہ۔ تو تین چیزیں ہو گئیں یہاں۔ تو یہ جو کلی کا مفہوم ہے، یاد رکھو اس کو کلی منطقی کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ اس کو کلی کا جو مفہوم ہے، کلی کا کیا مفہوم ہے؟ جو کثیرین پر صادق آئے، اس کو کلی منطقی کہتے ہیں، کیونکہ منطقی اس کے بارے میں بحث کرتا ہے۔ اس کا نام کیا؟ کلی منطقی۔ اور یہ جو کلی کا معروض ہے، اس کو کلی طبیعی کہتے ہیں، ط، ط ظ بھئی، ط ب ع اور یا، طبیعی۔ کلی طبیعی۔ یہ جو کلی کا معروض ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی طبیعی۔ اس لیے کیونکہ طبیعت کا معنی ہے حقیقت اور خارج۔ حقیقت اور خارج۔ تو چونکہ یہاں پر یہ معروض کا خارج میں وجود ہوتا ہے، اس لیے اس کو کلی طبیعی کہتے ہیں۔ اس کا خارج میں وجود کیسے ہوتا ہے، یاد رکھو اس میں بحث آگے آئے گی بھئی۔ اس میں تفصیل ہے بھئی، مناطقہ کا اختلاف ہے۔ تو بہرحال، اس کا خارج میں وجود ہوتا ہے، یا یوں کہیں، اس کے افراد خارج میں موجود ہوتے ہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی طبیعی کہتے ہیں۔ تو کلی منطقی کسے کہتے ہیں؟ کلی کا جو مفہوم ہے، یعنی وہ جو کثیرین پر صادق آئے۔ کلی طبیعی کسے کہتے ہیں؟ کلی کا جو معروض ہے۔ اور کلی عقلی، وہ ان دونوں کا مجموعہ ہے، یعنی انسان اور ساتھ کیا ملحوظ ہو اس کا کلی ہونا اس کی صفت بھی بھئی۔ تو انسانِ کلی، یہ کیا ہے؟ اس کو کلی عقلی کہتے ہیں۔ اس کو کلی عقلی کہتے ہیں۔ کلی منطقی کو منطقی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ مناطقہ اس سے بحث کرتے ہیں۔ کلی طبیعی کو طبیعی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ طبیعت کا معنی ہے حقیقت اور خارج۔ تو خارج میں چونکہ اس کے افراد کا وجود ہوتا ہے، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ کلی طبیعی کہتے ہیں۔ اور کلی عقلی جو ان دونوں کا مجموعہ ہے، اس کو کلی عقلی کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کا وجود عقل میں ہے، خارج میں نہیں ہے۔ کلی کے کتنے معنی آ گئے؟ تین معنی: کلی منطقی، کلی طبیعی، اور کلی عقلی۔ کلی عقلی، یہ جو دونوں کا مجموعہ ہے، اس کو کلی عقلی کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کا وجود صرف عقل میں ہے، خارج میں نہیں۔ خارج میں نہیں۔ کیونکہ یہ دونوں سے مرکب ہے نا؟ کس کس سے مرکب ہے؟ معروض سے، اور کلی کا جو مفہوم ہے۔ معروض سے اور کلی کا؟ معلوم ہوا یہ دونوں چیزیں ہوں گی تو کلی عقلی ہوگی۔ اور ان دونوں چیزوں میں سے، ان دونوں چیزوں میں سے جو کلی ہے، کلی جو صفت ہے، وہ صرف ذہن میں ہے۔ کیونکہ کلی کس کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے۔ توجہ ہے؟ کلی کس کا نام ہے؟ کثیرین پر صادق آنے کا ایک مفہوم تو وہ کلی ہے، اگر کثیرین پر صادق نہ آئے تو وہ مفہوم جزئی ہے۔ تو کلی کس کا نام ہے؟ مفہوم کا نام ہے۔ تو انسانِ کلی، اس کا ایک جز کیا؟ انسان۔ دوسرا جز کیا؟ کلی۔ یہ دونوں سے مرکب ہے۔ تو اس کا ایک جز جب خارج میں نہیں ہے، ذہن کے اندر ہے صرف، تو معلوم ہوا کل بھی ذہن ہی میں ہو سکتا ہے، کل بھی خارج میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خارج میں وجود کے لیے ایک جز چاہیے یا سارے جز چاہیے اس کے؟ کل کے خارج میں وجود کے لیے کیا چاہیے؟ سارے اجزاء۔ اگر ایک جز خارج میں ہو ہی نہیں سکتا، معلوم ہوا وہ کل بھی خارج میں نہیں ہو سکتا، جز کی نفی سے کل کی نفی ہو جاتی ہے۔ جب جز منتفی تو کل بھی منتفی، جب جز نہیں ہو سکتا تو کل بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ کل کے لیے جز ضرور چاہیے بھئی۔ تو کلی عقلی مرکب ہے کس سے؟ کلی طبیعی سے اور کلی منطقی سے۔ توجہ ہے؟ کلی طبیعی سے اور کلی منطقی سے۔ اور ان میں سے جو کلی منطقی ہے، اس کا وجود تو خارج میں نہیں ہے، وہ تو صرف مفہوم کا نام ہے، وہ صرف ذہن میں ہے۔ تو جب کل کا ایک جز خارج میں نہیں، تو معلوم ہوا یہ کل بھی خارج میں نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ خارج میں اس کے وجود کے لیے ضروری ہے اس کے سارے اجزاء خارج میں پائے جائیں، اور خارج میں تو اس کے سارے اجزاء نہیں پائے جاتے۔ تو انتفائے جز مستلزم ہے انتفائے کل کو۔ جب جز منتفی تو کل بھی منتفی۔ جب جز نہیں ہو سکتا تو کل بھی نہیں ہو سکتا، کیونکہ کل کے لیے جز ضرور چاہیے بھئی۔ تو کلی عقلی کو کلی عقلی کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ کہاں موجود ہے؟ عقل میں موجود ہے، خارج میں موجود نہیں ہے۔ یاد رکھو، یہ تین قسمیں کیوں بنائیں؟ وجہ اس کی یہ ہے کہ بھئی، مناطقہ کلی کا لفظ استعمال کرتے ہیں جگہ جگہ۔ تو کلی بول کر کبھی کلی کا مفہوم مراد ہوتا ہے، کبھی کلی بول کر کلی کا معروض مراد ہوتا ہے۔ آپ کو کہتے ہیں، مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: ایک کلی فرض کرو، مثلاً انسان۔ ایک کلی فرض کرو، مثلاً انسان۔ تو آپ نے کیا فرض کیا؟ انسان۔ اب انسان، یہ بھی کلی ہے، لیکن یہ کلی کا معروض ہے بھئی حقیقت میں۔ کیا ہے؟ کلی کا معروض۔ تو کبھی آپ کو بتلایا جاتا ہے کہ کلی جو ہے، وہ مفہوم ہے جو کثیرین پر صادق آئے۔ کبھی آپ کو بتایا جاتا ہے: دیکھو یہ انسان کیا ہے؟ یہ کلی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور کبھی کبھار معروض صفت کے ساتھ ملحوظ ہوتا ہے۔ تو مثلاً آپ سے کہا جاتا ہے کہ آپ انسانِ کلی کا تصور کر لیں، کس کا؟ انسانِ کلی کا۔ تو یہ جو کلی کا لفظ ہے، یہ عبارتوں میں کبھی مفہومِ کلی کے لیے استعمال ہوتا ہے، کبھی یہ کلی کا لفظ معروض کے لیے استعمال ہوتا ہے، معروض کا ارادہ کیا جاتا ہے، اور کبھی یہ کلی کا لفظ دونوں کے مجموعے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو منطقی بار بار جب کلی کا لفظ ذکر کرے گا، اب کہیں ایسا ہوگا اس کا ارادہ کلی کے مفہوم کا ہوگا، کبھی اس کا ارادہ کس کا ہوگا؟ کلی کے معروض کا ارادہ ہوگا، کبھی اس کا ارادہ دونوں کا ہوگا، دونوں کے مجموعے کا۔ تو سننے والے کو تو، پڑھنے والے کو تو پتہ ہی نہیں چلے گا یہ کون سی کلی کا ارادہ ہے۔ تو ایسی جگہ پر جہاں اشتباہ ہوتا ہے، پھر وہ یہ قید ساتھ لگاتے ہیں کہ مثلاً کلی طبیعی ہے یہاں مراد، یا یہاں کیا مراد ہے؟ کلی منطقی مراد ہے، یا یہاں پر کلی عقلی مراد ہے۔ تو اس کے ذریعے پھر وہ فرق کرتے ہیں تاکہ سننے والے کو بھی پتہ چلے کہ کس چیز کی بات کی جا رہی ہے، مفہوم کی بات کی جا رہی ہے کلی کے، یا اس کے معروض کی بات کی جا رہی ہے، یا دونوں کے مجموعے کی بات کی جا رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی، ترجمہ دیکھ لیں۔ فَصْلٌ. مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ يُسَمَّى كُلِّيّاً مَنْطِقِيّاً: کلی کا جو مفہوم ہے، اس کو کلی منطقی کہتے ہیں۔ وَمَعْرُوْضُهُ طَبِيْعِيّاً: اور کلی کے معروض کو طبیعی کہتے ہیں۔ وَالْمَجْمُوْعُ عَقْلِيّاً: اور دونوں کے مجموعے کو عقلی کہتے ہیں۔ وَكَذَا الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ: اور اسی طرح پانچوں انواع ہیں بھئی۔ کلی کی جو پانچ قسمیں ہیں ان میں بھی اسی طرح تقسیم ہے بھئی: جنس، نوع، فصل، خاصہ، اور عرضِ عام۔ جنس بھی اسی طرح: جنس صرف اس کا جو مفہوم ہے هُوَ كُلِّيٌّ مَقُوْلٌ عَلَى كَثِيْرِيْنَ مُخْتَلِفِيْنَ بِالْحَقَائِقِ فِيْ جَوَابِ مَا هُوَ، یہ کیا ہے؟ یہ جنسِ منطقی ہے۔ یہ اس کا مفہوم کیا ہے؟ جنسِ منطقی۔ اور جو جنس کے معروض ہے، جیسے حیوان، جسمِ نامی، جسم، جوہر، یہ سب کیا ہیں؟ یہ معروض، تو ان کو کیا کہیں گے؟ جنسِ طبیعی، جنسِ طبیعی کہیں گے۔ اور ان دونوں کا جو مجموعہ ہے، دونوں کا مجموعہ جو ہے، جیسے معروض کون؟ مثلاً حیوان۔ اور صفت کیا؟ کہ جنس ہے۔ تو الْحَيَوَانُ الْجِنْسُ، یہ کیا ہوا؟ کلی عقلی ہوا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر بولیں، جنس کا جو مفہوم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ جنسِ منطقی۔ اس کا جو معروض ہے، جیسے حیوان، اس کو کیا کہیں گے؟ جنسِ طبیعی، جنسِ طبیعی۔ اور دونوں کے مجموعے کو کیا کہیں گے؟ جنسِ عقلی کہیں گے۔ اس کی مثال کیا ہوگی؟ الْحَيَوَانُ اور ساتھ جنس کا لفظ بھی جوڑیں، الْحَيَوَانُ الْجِنْسُ، وہ حیوان جو جنس ہے، یعنی جنس اس کی صفت ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ نوع میں آ جاؤ۔ نوع، نوع کے اندر بھی یہی تقسیم جاری ہوگی۔ نوع بھی منطقی ہوگی، یا طبیعی ہوگی، یا عقلی ہوگی۔ نوعِ منطقی کسے کہیں گے؟ نوع کا جو مفہوم آپ کو انہوں نے بتایا تھا کہ نوع کسے کہتے ہیں: هُوَ الْمَقُوْلُ عَلَى مُتَّفِقِيْنَ بِالْحَقَائِقِ فِيْ جَوَابِ مَا هُوَ، یہ جو مفہوم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ نوعِ منطقی۔ اور نوع کا معروض کیا ہے؟ کوئی نوع کی مثال دیں: انسان۔ تو یہ انسان، یہ کیا ہے؟ یہ نوعِ طبیعی ہے۔ اور دونوں کا مجموعہ، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو نوعِ عقلی کہیں گے۔ اور اس کی مثال؟ اَلإِنْسَانُ اور ساتھ یہ نوع کا لفظ بھی جوڑو، اَلإِنْسَانُ النَّوْعُ، وہ انسان جو نوع ہے۔ جی، اسی طرح آ جائیں فصل میں۔ فصل کے اندر بھی وہ یا منطقی ہوگی، یا طبیعی ہوگی، یا عقلی۔ فصلِ منطقی کسے کہیں گے؟ فصل کا جو مفہوم ہے، فصل کا جو مفہوم ہے، جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ ذَاتِهِ کے جواب میں آئے، یعنی ذاتی ہوتی ہے اور کس کے جواب میں آتی ہے؟ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ ذَاتِهِ، یعنی یہ مشارکات سے جدا کرنے کے لیے آتی ہے اور ذات میں داخل ہوتی ہے۔ تو یہ جو فصل ہے، یہ فصل اس کا یہ جو مفہوم میں نے ذکر کیا، اس کو کیا کہیں گے؟ فصلِ منطقی۔ تو یہ جو فصل کا مفہوم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ اس کو فصلِ منطقی کہیں گے۔ اور فصل کی کوئی مثال ذکر کریں: ناطق۔ تو یہ جو ناطق ہے، یہ کیا ہے؟ فصلِ طبیعی ہے۔ یہ ناطق کیا ہے؟ فصلِ طبیعی ہے۔ اور فصلِ عقلی کی مثال ذکر کریں؟ فصلِ عقلی کسے کہیں گے جو دونوں کا مجموعہ ہو۔ اس کی مثال ذکر کریں: اَلنَّاطِقُ الْفَصْلُ، وہ ناطق جو کیا ہے؟ فصل ہے۔ ایسا ناطق فصل اس کی صفت ہے، یعنی دونوں کا مجموعہ۔ اس کے بعد کیا آیا؟ خاصہ آیا بھئی، خاصہ۔ اور خاصہ کس کے جواب میں آتا ہے؟ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ عَرَضِهِ کے جواب میں آتا ہے۔ تو یہ اس کا جو مفہوم ہم نے ذکر کیا کہ خاصہ وہ ہے جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِيْ عَرَضِهِ کے جواب میں آئے، یہ کیا ہے؟ خاصۂ منطقی ہے، یہ جو اس کا مفہوم ہے۔ اور اس کا کوئی، اس کی کوئی مثال ذکر کریں، جیسے ضاحک۔ یہ ضاحک کیا ہے؟ خاصۂ طبیعی ہے، خاصۂ طبیعی ہے۔ اور دونوں کا مجموعہ، وہ خاصۂ عقلی ہے۔ کیا مثال ہوگی؟ اَلضَّاحِكُ الْخَاصَّةُ، وہ ضاحک جو خاصہ ہے۔ اس کے بعد عرضِ عام آ گئی۔ عرضِ عام کا کیا مفہوم ہے؟ جو حقیقت سے خارج ہو اور مختلف حقیقتوں پر بولا جائے۔ یہ جو عرضِ عام کا مفہوم ہے، اس کو کیا کہیں گے؟ عرضِ عامِ منطقی، کیا کہیں گے؟ عرضِ عامِ منطقی کہیں گے۔ اس کی کوئی مثال ذکر کریں عرضِ عام کی: ماشی۔ تو یہ ماشی کیا ہے؟ عرضِ عامِ طبیعی ہے بھئی۔ اور دونوں کا مجموعہ، جو ماشی بھی ہو اور ایسا ماشی جو عرضِ عام ہے، اَلْمَاشِي الْعَرَضُ الْعَامُّ، وہ ماشی جو عرضِ عام ہے۔ دیکھا دونوں سے مرکب، اس کو کیا کہیں گے؟ عرضِ عامِ عقلی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ ہوا کہ یہ کلی منطقی، طبیعی، اور عقلی، یہ پانچوں قسموں کے اندر جاری ہوتی ہیں: جنس، نوع، فصل، خاصہ، اور عرضِ عام۔ یہ سب منطقی بھی ہو سکتے ہیں: جنسِ منطقی، نوعِ منطقی، اور فصلِ منطقی، خاصۂ منطقی، اور عرضِ عامِ منطقی۔ اور نیز یہ سارے طبیعی بھی ہوں گے، جیسے جنسِ طبیعی، نوعِ طبیعی، فصلِ طبیعی، خاصۂ طبیعی، اور عرضِ عامِ طبیعی۔ اور یہ سب عقلی بھی ہوں گے جب مجموعہ مرکب ہو، تو اس کو کیا کہیں گے؟ جنسِ عقلی، نوعِ عقلی، فصلِ عقلی، خاصۂ عقلی، اور عرضِ عقلی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ پھر دہرا لیں۔ کلی منطقی کسے کہتے ہیں؟ جو کلی کا مفہوم ہوتا ہے۔ کلی طبیعی کسے کہتے ہیں؟ وہ جو کلی کا معروض ہوتا ہے، جس کی کلی صفت بنتی ہے۔ اور کلی عقلی کسے کہتے ہیں؟ جو ان دونوں کا مجموعہ اور مرکب ہو بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَكَذَا الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ، اور اسی طرح پانچوں انواع ہیں، یعنی کلی کی پانچوں قسمیں بھی اسی طرح ہیں۔ وَالْحَقُّ أَنَّ وُجُوْدَ الطَّبِيْعِيِّ بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ، اور حق یہ ہے کہ طبیعی کا جو وجود ہے بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ، وہ اس کے اشخاص کے وجود کے معنی میں ہے۔ یاد رکھو، کلی منطقی کا خارج میں کوئی وجود نہیں۔ توجہ ہے؟ کلی منطقی کا؟ کیوں نہیں وجود خارج میں، وجہ آپ مجھے بتائیں؟ وہ تو مفہوم کا نام ہے۔ کلی منطقی کس کا نام ہے؟ مفہوم کا، اور مفہوم تو ذہن میں ہوتا ہے، خارج میں نہیں۔ اور کلی عقلی کا بھی خارج میں وجود نہیں ہے۔ کلی عقلی کا وجود خارج میں کیوں نہیں؟ کیونکہ وہ معروض اور عارض دونوں سے مرکب ہے، اور عارض کیا تھا؟ وہ کلی کا مفہوم، کلی کا مفہوم۔ تو اس، یہ دونوں سے مرکب ہے، یہ دونوں کے مجموعے کا نام ہے، اور اس مجموعے میں سے ایک تو یقینی طور پر صرف ذہن میں ہوتا ہے، خارج میں نہیں۔ جب ایک جز یقینی طور پر خارج میں نہیں ہوتا، تو معلوم ہوا یہ کل بھی خارج میں نہیں ہو سکتا۔ کل تو اس کو کہتے ہیں جس کے سارے اجزاء موجود ہوں خارج میں، تو اس کو کہیں گے کہ وہ خارج میں ہے۔ جب ایک جز خارج میں نہیں، تو معلوم ہوا یہ کل بھی خارج میں نہیں۔ تو یہ جو کلی منطقی ہے، اور یہ جو کلی عقلی ہے، بالاتفاق خارج میں ان کا وجود نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد کلی طبیعی رہ گئی۔ کلی طبیعی کے اندر بھی یاد رکھو، اس کا وجود بھی مستقلاً خارج میں نہیں ہے بالاتفاق۔ مشکل بحث ہے، توجہ سے سمجھ لیں۔ کلی طبیعی کا وجود بھی مستقلاً خارج میں نہیں کہ اس کا الگ مستقل وجود ہو، کلی طبیعی کا اس کا وجود خارج میں نہیں، اس پر بھی سب کا اتفاق ہے۔ ہاں، اختلاف اس چیز میں ہے کہ یہ جو معروض ہے، اس کا وجود خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں ہوتا ہے یا نہیں ہوتا؟ اس میں مناطقہ کا اختلاف ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ کلی، یہ جو انسان ہے، اس کا، اس کا وجود خارج میں اپنے افراد یعنی زید، عمر، بکر کے ضمن میں ہے۔ زید موجود ہے، تو انسان کیا ہے؟ موجود۔ بکر ہے، تو بکر بھی انسان۔ اور خالد موجود، تو انسان موجود۔ یعنی فلاسفہ کہتے ہیں کہ یہ کلی طبیعی کا وجود خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں، کس میں؟ یعنی مستقلاً علیحدہ تو وجود نہیں ہے، لیکن اس کے افراد موجود، جب افراد موجود تو افراد کے ضمن میں کلی کا بھی خارج میں وجود ہے۔ تو حکماء کیا کہتے ہیں؟ جب خارج میں کلی کے افراد موجود ہیں تو افراد کے ضمن میں کلی بھی موجود۔ زید موجود ہے، تو انسان بھی، اس کلی کا بھی خارج میں وجود ہے۔ بکر موجود ہے، تو انسان کا بھی خارج میں وجود ہے۔ کیونکہ زید کیا ہے؟ انسان ہے۔ تو زید کے ضمن میں کیا خارج میں موجود ہے؟ کلی بھی موجود ہے۔ زید تو ویسے جزئی ہے، لیکن اس جزئی کے ضمن میں کون موجود ہے؟ کلی موجود ہے۔ جبکہ بعض متاخرین کہتے ہیں: نہیں، خارج میں کلی موجود نہیں ہو سکتی، خارج میں کلی کا وجود نہیں ہے۔ خارج میں کلی کے صرف افراد ہوتے ہیں۔ خارج میں کلی کے صرف افراد ہوتے ہیں، کلی خود خارج میں موجود نہیں ہوتی۔ جبکہ فلاسفہ کہتے ہیں: نہیں، خارج میں کلی اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہوتی ہے، لہٰذا آپ کہہ سکتے ہیں کلی خارج میں موجود ہے۔ آپ کیا کہہ سکتے ہیں؟ کلی خارج میں موجود ہے۔ یہ تو ہمیں بھی تسلیم ہے کہ کلی کا الگ مستقل وجود نہیں ہوتا، لیکن اپنے افراد کے ضمن میں کلی بھی خارج میں موجود ہوتی ہے۔ جبکہ بعض متاخرین کہتے ہیں: نہیں نہیں، کلی خارج میں موجود نہیں، نہ مستقلاً موجود ہے اور نہ اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے۔ اپنے افراد کی صورت میں بھی یہ موجود نہیں ہے، بلکہ خارج میں صرف کلی کے افراد ہیں۔ کلی خود نہ مستقلاً موجود، نہ افراد کے ضمن میں موجود، خارج میں صرف کلی کے افراد موجود ہیں، کلی نہیں خارج میں موجود۔ تو حکماء کیا کہتے ہیں؟ کلی بھی خارج میں موجود ہے، کس طرح؟ اپنے افراد کے ضمن میں، اپنے افراد کے اندر۔ اور متاخرین بعض کیا کہتے ہیں؟ کہ کلی خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں، خارج میں صرف افراد ہیں، کلی کا خارج میں کوئی وجود نہیں، نہ علیحدہ وجود ہے، نہ اپنے افراد کے ضمن میں وجود ہے۔ تو چونکہ، چونکہ مصنف جو ہیں، وہ متاخرین کے ساتھ ہیں، ان کی بھی یہی رائے ہے کہ کلی کا خارج میں کوئی وجود نہیں ہے، نہ علیحدہ اور نہ اپنے افراد کے ضمن میں۔ تو بھئی، مناطقہ تو کہتے ہیں کہ کلی خارج میں موجود ہے؟ کہتے ہیں بھئی، ان کے کہنے کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ کلی کے افراد خارج میں موجود ہیں، کلی خود موجود نہیں ہے۔ تو یہی بات کر رہے ہیں: وَالْحَقُّ، اور حق یہ ہے۔ دیکھا؟ حق یہ ہے، معلوم ہوا اختلاف ہے یہاں پر مناطقہ کا، لیکن حق جس، کس کو یہ ترجیح دیں گے؟ متاخرین کے مذہب کو، کہ کلی کے صرف افراد موجود ہیں، کلی خود خارج میں موجود نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْحَقُّ أَنَّ وُجُوْدَ الطَّبِيْعِيِّ بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ، اور حق یہ ہے کہ طبیعی کا جو وجود ہے بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ، وہ اس کے اشخاص کے وجود کے معنی میں ہے۔ یعنی یوں کہیں، طبیعی کا جو وجود ہے، بایں معنی ہے کہ اس کے اشخاص کا وجود۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ وَالْحَقُّ أَنَّ وُجُوْدَ الطَّبِيْعِيِّ، اور حق یہ ہے کہ کلی طبیعی کا جو وجود ہے، بِمَعْنَى، وہ اس معنی میں ہے، نَّ وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ، کہ اس کے اشخاص کا وجود ہے۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ جی، اب آئیے شرح میں۔ قَوْلُهُ: مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ، أَيْ مَا يُطْلَقُ عَلَيْهِ لَفْظُ الْكُلِّيِّ۔ مفہومِ کلی سے کیا مراد ہے؟ کہتے ہیں: أَيْ مَا، وہ چیز، وہ مفہوم يُطْلَقُ عَلَيْهِ لَفْظُ الْكُلِّيِّ، جس پر کلی کا لفظ بولا جاتا ہے، اس کا حمل کیا جاتا ہے۔ يَعْنِي الْمَفْهُوْمَ الَّذِيْ لاَ يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ، یعنی وہ مفہوم کہ ممتنع نہیں ہے ممتنع نہیں ہے کیا؟ فَرْضُ صِدْقِهِ، فرض کا معنی انہوں نے جہاں کلی کی تعریف آئی تھی، وہاں بتلایا تھا۔ فرض کا کیا معنی؟ فرض کا معنی ہے عقل جائز سمجھے، عقل جائز سمجھے۔ لاَ يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ، کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو ممتنع نہ سمجھے، عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو ممتنع نہ سمجھے۔ تو کہتے ہیں: يَعْنِي الْمَفْهُوْمَ الَّذِيْ لاَ يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ يُسَمَّى كُلِّيّاً مَنْطِقِيّاً، یعنی وہ مفہوم کہ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو ممتنع نہ سمجھے، اس کو کلی منطقی کہتے ہیں۔ فَإِنَّ، اچھا، اس کو کلی منطقی کہتے ہیں، وجہ بھی ذکر کرنے لگے ہیں۔ فَإِنَّ الْمَنْطِقِيَّ، یہ ف، میں نے آپ کو بتلایا تھا، ف کا بھی عربی میں کس لیے لائی جاتی ہے؟ علت بیان کرنے کے لیے، آپ نے اصولِ الشاشی وغیرہ کے اندر نور الانوار میں پڑھا ہوگا، اور اس ف کا ترجمہ "اس وجہ سے" یا "کیونکہ" اس کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: يُسَمَّى كُلِّيّاً مَنْطِقِيّاً، اس کو کلی منطقی کہتے ہیں، فَإِنَّ الْمَنْطِقِيَّ يَقْصُدُ مِنَ الْكُلِّيِّ هٰذَا الْمَعْنَى، کیونکہ منطقی جو ہے وہ ارادہ کرتا ہے کلی سے اس معنی کا۔ منطقی کلی سے اس معنی کا ارادہ کرتا ہے، اس لیے اس کو کلی منطقی کہتے ہیں۔ قَوْلُهُ: وَمَعْرُوْضُهُ، أَيْ مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَفْهُوْمُ الْكُلِّيِّ۔ معروض سے مراد وہ چیز ہے جس پر کلی کا مفہوم صادق آئے، كَالإِنْسَانِ، جیسے کہ انسان، وَالْحَيَوَانِ، اور حیوان، يُسَمَّى كُلِّيّاً طَبِيْعِيّاً، اس کو کلی طبیعی کہتے ہیں، لِوُجُوْدِهِ فِي الطَّبَائِعِ۔ میں نے بتایا تھا، طبیعت کا کیا معنی ہے؟ حقیقت اور خارج۔ وہی بیان کر رہے ہیں: لِوُجُوْدِهِ فِي الطَّبَائِعِ، بوجہ اس کے پائے جانے کے فی الطبائع، یعنی فی الخارج، یعنی کہ خارج میں، عَلَى مَا سَيَأْتِي، اس وجہ سے جو عنقریب آ جائے گی۔ یعنی یہ خارج میں پائی جاتی ہے عَلَى مَا سَيَأْتِي، عنقریب جو آ جائے گی۔ آگے چند سطروں کے بعد ہی وہ ذکر کریں گے کہ خارج میں اس کے وجود کا کیا معنی ہے، یعنی مستقلاً کلی کا خارج میں وجود نہیں ہوتا، بلکہ اپنے افراد کے ضمن میں ہوتا ہے۔ قَوْلُهُ: وَالْمَجْمُوْعُ، اور مجموعے کو انہوں نے کیا کہا تھا؟ عقلی کہتے ہیں، وہی بتا رہے ہیں۔ کہتے ہیں مجموعے سے مراد یہ ہے: الْمُرَكَّبُ مِنْ هٰذَا الْعَارِضِ وَالْمَعْرُوْضِ، وہ جو مرکب ہو اس عارض اور معروض سے، یعنی صفت اور موصوف سے، كَالإِنْسَانِ الْكُلِّيِّ، یعنی وہ انسان جو کلی ہو، وَالْحَيَوَانِ الْكُلِّيِّ، اور اسی طرح حیوانِ کلی، يُسَمَّى كُلِّيّاً عَقْلِيّاً، اس کو کلی عقلی کہتے ہیں، إِذْ لاَ وُجُوْدَ لَهُ إِلاَّ فِي الْعَقْلِ، اس لیے کیونکہ اس کا کوئی وجود نہیں ہے مگر عقل ہی میں، یعنی خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ قَوْلُهُ: وَكَذَا الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ، متن کا قول جو ہے: وَكَذَا الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ، يَعْنِي كَمَا أَنَّ الْكُلِّيَّ يَكُوْنُ مَنْطِقِيّاً وَطَبِيْعِيّاً وَعَقْلِيّاً كَذٰلِكَ الأَنْوَاعُ الْخَمْسَةُ، یعنی جیسے کلی جو ہے وہ منطقی، طبیعی اور عقلی ہوتی ہے، اسی طرح انواعِ خمسہ، یعنی کلی کی جو پانچ قسمیں ہیں، وہ بھی ہیں۔ يَعْنِي الْجِنْسَ وَالْفَصْلَ وَالنَّوْعَ وَالْخَاصَّةَ وَالْعَرَضَ الْعَامَّ، یعنی جنس، فصل، نوع، خاصہ اور عرضِ عام جو ہیں، تَجْرِيْ فِيْ كُلٍّ مِنْهَا هٰذِهِ الإِعْتِبَارَاتُ الثَّلاَثُ، جاری ہوتے ہیں ان میں سے ہر ایک کے اندر تینوں اعتبارات۔ مَثَلاً، مثال کے طور پر، مَثَلاً مَفْهُوْمُ النَّوْعِ، نوع کا جو مفہوم ہے، نوع کا جو مفہوم ہے بھئی، کیا مفہوم ہے؟ خود بیان کر رہے ہیں: أَعْنِي الْكُلِّيَّ الْمَقُوْلَ عَلَى كَثِيْرِيْنَ مُتَّفِقِيْنَ بِالْحَقَائِقِ فِيْ جَوَابِ مَا هُوَ، یہ جو نوع کا مفہوم ہے، يُسَمَّى نَوْعاً مَنْطِقِيّاً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوعِ منطقی کہتے ہیں۔ وَمَعْرُوْضُهُ، اور نوع کا جو معروض ہے، كَالإِنْسَانِ وَالْفَرَسِ، جیسے انسان اور فرس ہیں، نَوْعاً طَبِيْعِيّاً، ان کو کیا کہتے ہیں؟ نوعِ طبیعی کہتے ہیں۔ وَمَجْمُوْعُ الْعَارِضِ وَالْمَعْرُوْضِ، اور عارض اور معروض کا جو مجموعہ ہے، یعنی جو ان کا مرکب ہے، كَالإِنْسَانِ النَّوْعِ، جیسے وہ انسان جو نوع ہو، اس کو نَوْعاً عَقْلِيّاً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ نوعِ عقلی کہتے ہیں۔ وَعَلَى هٰذَا فَقِسِ الْبَوَاقِيَ، اور اسی پر آپ باقیوں کو بھی قیاس کر لیں۔ میں نے تو کہتے ہیں صرف نوع کی مثال دی، جنس، فصل، خاصہ اور عرضِ عام سب کو آپ اسی پر قیاس کر لیں۔ بَلِ الإِعْتِبَارَاتُ الثَّلاَثُ تَجْرِيْ فِي الْجُزْئِيِّ أَيْضاً، شارح فرماتے ہیں: بلکہ یہ اعتباراتِ ثلاثہ جو ہیں، یعنی منطقی، طبیعی اور عقلی، یہ تو تَجْرِيْ فِي الْجُزْئِيِّ أَيْضاً، یہ تو جزئی میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ کس میں؟ جزئی میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: بَلِ الإِعْتِبَارَاتُ الثَّلاَثُ تَجْرِيْ فِي الْجُزْئِيِّ أَيْضاً، بلکہ یہ تینوں اعتبارات تو جزئی میں بھی جاری ہوتے ہیں۔ فَإِنَّا إِذَا قُلْنَا زَيْدٌ جُزْئِيٌّ، پس جب ہم کہتے ہیں کہ "زید جزئی ہے"، فَمَفْهُوْمُ الْجُزْئِيِّ أَعْنِي مَا يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ يُسَمَّى جُزْئِيّاً مَنْطِقِيّاً، تو یہ جو جزئی کا مفہوم ہے، أَعْنِي، میری مراد جو ہے کہ مَا يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ، کہ جس کے کثیرین پر صادق آنے کو عقل جائز قرار نہ دے، جائز نہ سمجھے، يُسَمَّى جُزْئِيّاً مَنْطِقِيّاً، اس کو کیا کہتے ہیں؟ جزئی منطقی کہتے ہیں۔ عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو؟ تو کہتے ہیں: فَمَفْهُوْمُ الْجُزْئِيِّ، تو جزئی کا جو مفہوم ہے، أَعْنِي مَا يَمْتَنِعُ فَرْضُ صِدْقِهِ عَلَى كَثِيْرِيْنَ، یعنی عقل اس کے کثیرین پر صادق آنے کو ممتنع سمجھے، يُسَمَّى جُزْئِيّاً مَنْطِقِيّاً، اس کو جزئی منطقی کہتے ہیں۔ وَمَعْرُوْضُهُ أَعْنِي زَيْداً يُسَمَّى جُزْئِيّاً طَبِيْعِيّاً، اور اس جزئی کا جو معروض ہے، یعنی زید، اس کو جزئی طبیعی کہتے ہیں۔ وَالْمَجْمُوْعُ أَعْنِي زَيْداً الْجُزْئِيَّ، اور جو مجموعہ ہے، یعنی وہ زید جو جزئی ہے، اس کو يُسَمَّى جُزْئِيّاً عَقْلِيّاً، اس کو جزئی عقلی کہتے ہیں۔ قَوْلُهُ: وَالْحَقُّ أَنَّ وُجُوْدَ الطَّبِيْعِيِّ بِمَعْنَى وُجُوْدِ أَشْخَاصِهِ۔ اوپر شرح میں چند سطریں پہلے آیا تھا: لِوُجُوْدِهِ فِي الطَّبَائِعِ يعني فِي الْخَارِجِ عَلَى مَا سَيَأْتِي، عنقریب آ جائے گا، وہ اس کی طرف اشارہ تھا، اب وہ بات کرنے لگے ہیں۔ میں نے آپ کو کیا بتایا تھا کہ تین قسمیں ہیں، کون سی؟ کلی منطقی ہے، طبیعی ہے، اور عقلی ہے۔ ان میں سے، ان میں سے منطقی اور عقلی کا وجود خارج میں نہیں بالاتفاق۔ البتہ طبیعی کے بارے میں اختلاف ہے۔ وہی بیان کرنے لگے ہیں کہ لاَ يَنْبَغِيْ، مناسب نہیں ہے، أَنْ يُّشَكَّ، کہ شک کیا جائے، کس بات میں شک کیا جائے؟ کہ فِي أَنَّ الْكُلِّيَّ الْمَنْطِقِيَّ غَيْرُ مَوْجُوْدٍ فِي الْخَارِجِ، کہ کلی منطقی موجود نہیں ہے خارج میں۔ کہتے ہیں: لاَ يَنْبَغِيْ أَنْ يُّشَكَّ فِي أَنَّ الْكُلِّيَّ الْمَنْطِقِيَّ غَيْرُ مَوْجُوْدٍ فِي الْخَارِجِ، مناسب نہیں ہے کہ اس بات میں شک کیا جائے کہ کلی منطقی خارج میں موجود نہیں ہے۔ یعنی کلی منطقی کا خارج میں وجود نہیں ہے، اس بات میں کبھی شک نہ کرنا، اس کا قطعاً خارج میں وجود نہیں ہے۔ کیوں؟ فَإِنَّ الْكُلِّيَّةَ إِنَّمَا تَعْرِضُ لِلْمَفْهُوْمَاتِ فِي الْعَقْلِ، اس لیے کیونکہ کلی ہونا یہ مفہومات کو عارض ہوتا ہے کہاں پر؟ عقل میں۔ کوئی مفہوم کلی ہوگا، کوئی مفہوم کیا ہوگا؟ جزئی ہوگا۔ تو یہ مفہوم عقل میں ہے، تو اس کا یہ کلی جزئی ہونا بھی کہاں پر ہوگا؟ عقل میں۔ کہتے ہیں: فَإِنَّ الْكُلِّيَّةَ إِنَّمَا تَعْرِضُ لِلْمَفْهُوْمَاتِ فِي الْعَقْلِ، اس لیے کیونکہ یہ کلی ہونا یہ عارض ہوتا ہے مفہوموں کو عقل میں۔ وَلِذَا كَانَتْ مِنَ الْمَعْقُوْلاَتِ الثَّانِيَةِ، اور اسی وجہ سے یہ معقولاتِ ثانیہ میں سے ہے۔ یہ کلی اور جزئی ہونا کس میں سے ہے؟ معقولاتِ ثانیہ میں سے ہے۔ میں نے کل آپ کو بتایا تھا کہ یہ کلی جزئی ہونا ہے، اس کو معقولِ ثانی کہتے ہیں، کیونکہ یہ عقل میں ثانیاً آتا ہے، دوسرے درجے میں۔ پہلے عقل میں انسان یا حیوان کا تصور آئے گا، اور پھر عقل فیصلہ کرے گی کہ یہ کلی ہے یا جزئی ہے۔ تو پہلے معروض ذہن میں آتا ہے، اور پھر اس کا کلی یا جزئی ہونا ذہن میں آتا ہے۔ تو معروض آتا ہے پہلے درجے میں، اور کلی جزئی ہونا اس کا دوسرے درجے میں، تو اس لیے اس کو معقولِ ثانی کہتے ہیں۔ معقول ہے، یعنی عقل میں آتا ہے، اور ثانی ہے، یعنی دوسرے درجے میں آتا ہے، خارج میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ وَلِذَا كَانَتْ مِنَ الْمَعْقُوْلاَتِ الثَّانِيَةِ، اور اسی وجہ سے یہ معقولاتِ ثانیہ میں سے ہے۔ وَكَذَا فِي، اس کا عطف بھی اوپر جو آیا تھا نا کہ اس بات میں لاَ يَنْبَغِيْ أَنْ يُّشَكَّ فِي أَنَّ الْكُلِّيَّ، اسی فِي أَنَّ الْكُلِّيَّ پر عطف ہے فِي أَنَّ الْعَقْلِيَّ کا بھی۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا فِي أَنَّ الْعَقْلِيَّ، اور اسی طرح شک نہیں کرنا چاہیے کس میں؟ فِي أَنَّ الْعَقْلِيَّ غَيْرُ مَوْجُوْدٍ فِيْهِ، کہ کلی عقلی جو ہے وہ موجود نہیں ہے فِيْهِ، أَيْ فِي الْخَارِجِ۔ دو چیزوں میں شک نہیں کرنا چاہیے، کون سی دو چیزیں؟ ایک تو یہ کہ کلی منطقی کا خارج میں وجود نہیں۔ دوسرا اس میں شک نہیں کرنا چاہیے کہ کلی عقلی کا بھی خارج میں وجود نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: وَكَذَا فِي أَنَّ الْعَقْلِيَّ غَيْرُ مَوْجُوْدٍ فِيْهِ، اور اسی طرح اس میں بھی شک نہیں کرنا چاہیے کہ عقلی بھی خارج میں موجود نہیں ہے۔ بھئی کیوں خارج میں کیوں نہیں موجود عقلی؟ کیا دلیل دی تھی؟ خارج میں، کیونکہ عقلی کس کا نام ہے؟ طبیعی اور منطقی دونوں کے مجموعے کا نام ہے، اور ان میں سے منطقی، وہ تو قطعی طور پر خارج میں نہیں، جب ایک جز خارج میں نہیں، تو کل یعنی کلی عقلی بھی خارج میں نہیں۔ یہ معنی ہے: فَإِنَّ انْتِفَاءَ الْجُزْئِيِ يَسْتَلْزِمُ انْتِفَاءَ الْكُلِّ، اس لیے کیونکہ جز کا منتفی ہونا، جز کا نہ ہونا، یعنی خارج میں، يَسْتَلْزِمُ انْتِفَاءَ الْكُلِّ، یہ مستلزم ہے کل کے نہ ہونے کو، یعنی کل بھی خارج میں نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے: فَإِنَّ انْتِفَاءَ الْجُزْئِيِ يَسْتَلْزِمُ انْتِفَاءَ الْكُلِّ، جز کا انتفاء مستلزم ہے کل کے انتفاء کو۔ وَإِنَّمَا النِّزَاعُ فِي أَنَّ الطَّبِيْعِيَّ كَالإِنْسَانِ مِنْ حَيْثُ هُوَ إِنْسَانٌ الَّذِيْ يَعْرِضُهُ الْكُلِّيَّةُ فِي الْعَقْلِ، هَلْ هُوَ مَوْجُوْدٌ فِي الْخَارِجِ فِيْ ضِمْنِ أَفْرَادِهِ أَمْ لاَ؟ نزاع کہتے ہیں جھگڑے کو۔ وَإِنَّمَا النِّزَاعُ، یعنی مناطقہ کا نزاع، جھگڑا ہے، اختلاف ہے۔ کہتے ہیں: وَإِنَّمَا النِّزَاعُ، کہ جھگڑا تو صرف اس بات میں ہے کہ أَنَّ الطَّبِيْعِيَّ، کہ طبیعی جو ہے، یعنی كَالإِنْسَانِ، جیسے کہ انسان، مِنْ حَيْثُ هُوَ إِنْسَانٌ، اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہے، الَّذِيْ يَعْرِضُهُ الْكُلِّيَّةُ فِي الْعَقْلِ، جس کو کلیت عارض ہوتی ہے عقل میں۔ انسان اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہے، اور اس پر ہم ذہن میں کیا حکم لگاتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ کلی۔ یعنی یہ انسان جو جس کو جس کو ہم کس سے موصوف کرتے ہیں؟ کلی سے۔ یہ والا انسان خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے یا نہیں؟ یعنی یہ انسان جو کیا ہے؟ جس کی کلی جس کی صفت بنتی ہے، کلی جس کی؟ یعنی یہ بھی کلی ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا النِّزَاعُ فِي أَنَّ الطَّبِيْعِيَّ كَالإِنْسَانِ مِنْ حَيْثُ هُوَ إِنْسَانٌ، جھگڑا اس میں ہے کہ طبیعی جیسے کہ انسان اس حیثیت سے کہ وہ انسان ہے، الَّذِيْ يَعْرِضُهُ الْكُلِّيَّةُ فِي الْعَقْلِ، وہ جس کو کلیت عارض ہوتی ہے، یعنی کلی ہونا اس کی صفت بنتا ہے فی العقل عقل میں، هَلْ هُوَ مَوْجُوْدٌ فِي الْخَارِجِ، کیا وہ خارج میں موجود ہے، فِيْ ضِمْنِ أَفْرَادِهِ، اپنے افراد کے ضمن میں، أَمْ لاَ، یا موجود نہیں ہے؟ بَلْ لَيْسَ الْمَوْجُوْدُ فِيْهِ إِلاَّ الأَفْرَادَ، بلکہ وہ خارج میں موجود نہیں ہے، إِلاَّ الأَفْرَادَ، سوائے کس کے؟ اس کے افراد۔ خارج میں وہ موجود نہیں ہے، صرف اس کے افراد موجود ہیں، اس میں مناطقہ کا جھگڑا ہے۔ وَالأَوَّلُ مَذْهَبُ جُمْهُوْرِ الْحُكَمَاءِ، اور پہلا مذہب ہے جمہوری حکماء یعنی فلاسفہ کا، جمہور فلاسفہ کا۔ جمہور کا معنی ہے اکثر، اکثر۔ یعنی اکثر فلاسفہ کی رائے یہ ہے کہ انسان جو ہے، اس کا خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں وجود ہے۔ انسان خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے، تو یعنی یہ کلی خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے۔ یہ جمہور، یعنی اکثر فلاسفہ کی رائے ہے۔ وَالثَّانِيْ مَذْهَبُ بَعْضِ الْمُتَأَخِّرِيْنَ، اور دوسرا مذہب ہے بعض متاخرین کا۔ مذہب، یعنی ان کی رائے ہے۔ کیا ہے؟ رائے ہے۔ اکثر فلاسفہ کی رائے ہے کہ کلی کے یہ جو انسان ہے، اس کا خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں وجود ہے۔ اور جبکہ بعض متاخرین کی رائے یہ ہے کہ کلی اپنے افراد کے ضمن میں خارج میں موجود نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالثَّانِيْ مَذْهَبُ بَعْضِ الْمُتَأَخِّرِيْنَ، اور دوسرا جو ہے بعض متاخرین کا مذہب ہے، وَمِنْهُمُ الْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللهُ، اور انہی میں سے مصنف رحمہ اللہ بھی ہیں۔ مصنف نے بھی اوپر متن میں کس کو ترجیح دی تھی؟ کہ حق یہ ہے کہ خارج میں کلی کے موجود ہونے کا معنی یہ ہے کہ کلی کے افراد موجود ہیں، خود کلی خارج میں موجود نہیں ہے۔ کہتے ہیں: وَلِذَا قَالَ، اسی لیے مصنف نے کہا تھا، الْحَقُّ هُوَ الثَّانِيْ، کہ حق کیا ہے؟ وہ دوسرا مذہب، یہ دوسری رائے ہے۔ وَذٰلِكَ لأَنَّهُ لَوْ وُجِدَ، جی، اب دلیل ذکر کرنے لگے ہیں۔ مصنف نے کس کو ترجیح دی؟ متاخرین کے مذہب کو۔ متاخرین کیا کہتے ہیں؟ کہ کلی کا خارج میں کوئی وجود نہیں، کلی کا نہ مستقلاً وجود ہے، نہ اپنے افراد کے ضمن میں وجود ہے۔ بھئی کیا وجہ؟ کہتے ہیں، وہ دلیل یہ دیتے ہیں، کہتے ہیں دیکھو: کہ اگر کلی خارج میں پائی جائے، کلی خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں پائی جائے، تو جو زید ہے اس کے ضمن میں کون ہوگا؟ انسان۔ بکر ہے، اس کے ضمن میں کون ہوگا؟ انسان۔ خالد کے ضمن میں کون ہوگا؟ انسان۔ تو ہر فرد کے ضمن میں وہ کلی پائی جائے گی۔ مثلاً اب خالد وہ سویا ہوا ہے، اور بکر وہ جاگ رہا ہے۔ تو ایک ہی چیز، ایک ہی انسان صفاتِ متضادہ سے متصف ہو رہا ہے۔ سونا اور جاگنا، یہ تو دو متضاد صفتیں ہیں۔ کوئی شخص یا سو رہا ہوگا یا جاگ رہا ہوگا، یہ دونوں جمع نہیں ہو سکتیں۔ جہاں سونا ہے وہاں جاگنا نہیں، جہاں جاگنا ہے وہاں سونا نہیں۔ تو متضاد صفتیں ہیں، یہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایک ہی فرد، ایک وقت میں سویا بھی ہو اور جاگ بھی رہا ہو ہو، یہ ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ تو اب زید تو سو رہا ہے اور بکر جاگ رہا ہے۔ اور زید کے ضمن میں بھی کون موجود؟ انسان۔ بکر کے ضمن میں بھی کون موجود؟ انسان۔ تو ایک ہی انسان دو متضاد صفتوں سے متصف ہو گیا۔ حالانکہ ایک چیز دو متضاد صفتوں سے متصف نہیں ہو سکتی۔ یا مثلاً یہی انسان بکر کے ضمن میں بھی موجود اور خالد کے ضمن میں بھی موجود۔ بکر بیٹھا ہوا ہے اور خالد کھڑا ہوا ہے۔ بیٹھنا اور کھڑا ہونا یہ متضاد صفتیں ہیں۔ یا تو کوئی شخص بیٹھا ہوگا یا کھڑا ہوگا۔ دونوں صفتیں جمع نہیں ہو سکتیں۔ تو جب بکر کے ضمن میں انسان موجود ہے تو بکر متصف ہے بیٹھنے سے، تو انسان کی صفت بھی کیا ہو گئی؟ کہ بیٹھا ہوا ہے۔ اور خالد متصف ہے کس کے ساتھ؟ قیام کے ساتھ، وہ کھڑا ہے۔ تو اس کے ضمن میں، خالد کے ضمن میں انسان بھی ہے، تو انسان متصف ہوا کس کے ساتھ؟ قیام کے ساتھ۔ تو ایک ہی انسان قیام اور قعود، بیٹھنا اور کھڑا ہونا، دو متضاد صفتوں سے متصف ہو گیا۔ حالانکہ ایک وقت میں یہ ایک صفت کسی میں پائی جا سکتی ہے، دونوں صفتیں اکٹھی نہیں پائی جا سکتیں۔ ایک ہی شخص ہو، وہ بیٹھا، اپ اسی کو کہیں یہ بیٹھا بھی ہے اور کھڑا بھی ہے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ تو اس صورت میں کیا خرابی لازم آئے گی اگر کلی کو تسلیم کر لیا جائے کہ خالد میں یا اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہے؟ تو اپ کو ماننا پڑے گا کہ یہ ایک ہی کلی صفاتِ متضادہ کے ساتھ متصف ہو رہی ہے ایک ہی وقت میں۔ بھئی وقت الگ الگ ہو پھر تو ٹھیک ہے۔ زید ایک وقت سویا ہوا ہے، دوسرے وقت جاگ رہا ہے۔ زید ایک وقت بیٹھا ہوا ہے، دوسرے وقت کھڑا ہوا ہے۔ وقت مختلف ہو پھر تو ایک شخص متضاد صفات سے متصف ہو سکتا ہے۔ لیکن شخص بھی ایک ہو، وقت بھی ایک ہو، اور دونوں صفتوں سے بیک وقت وہ کیا ہو رہا ہو؟ متصف ہو رہا ہو۔ وہ سو بھی اسی وقت رہا ہے اور جاگ بھی رہا ہے۔ وہ بیٹھا بھی ہے اور کھڑا بھی ہے۔ تو ایک شخص ایک وقت میں دو متضاد صفات سے متصف نہیں ہو سکتا۔ اگر اپ کی یہ بات مان لی جائے کہ کلی جو ہے خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہوتی ہے، تو اس کا ایک ہی وقت میں صفاتِ متضادہ سے متصف ہونا لازم آئے گا، اور شےِ واحد ایک ہی وقت میں صفاتِ متضادہ سے متصف نہیں ہو سکتی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ دوسری انہوں نے کلی اور جزئی کی مثال دی۔ خارج میں زید موجود ہے، اور اپ نے کیا کہا؟ اس زید کے ضمن میں کون موجود؟ انسان موجود ہے۔ تو زید تو ہے جزئی، اور انسان تو ہے کلی۔ تو ایک ہی شے، ایک ہی فرد کلیت سے بھی موصوف ہو رہا ہے اور جزئیت سے موصوف ہو رہا ہے۔ اس کو کلی بھی کہیں گے اور اس کو جزئی بھی کہیں گے۔ حالانکہ کلی اور جزئی ہونا یہ تو متضاد صفات ہیں، یہ تو جمع نہیں ہو سکتیں۔ ایک چیز یا کلی ہوگی یا جزئی ہوگی۔ دیکھیے بھئی دلیل۔ کہتے ہیں: وَذٰلِكَ اور یہ، ثانی مذہب کو مصنف نے حق قرار دیا۔ کیوں؟ وجہ کیا؟ کہتے ہیں: وَذٰلِكَ اور یہ اس وجہ سے، لِأَنَّهُ لَوْ وُجِدَ الكُلِّيُّ فِي الخَارِجِ فِي ضِمْنِ أَفْرَادِهِ اگر کلی پائی جائے خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں، لَلَزِمَ اتِّصَافُ الشَّيْءِ الوَاحِدِ بِالصِّفَاتِ المُتَضَادَّةِ تو لازم آئے گا ایک ہی شے کا متصف ہونا متضاد صفات کے ساتھ، كَالْكُلِّيَّةِ وَالْجُزْئِيَّةِ جیسے کلی اور جزئی ہونا۔ ایک ہی فرد کو کلی بھی کہنا پڑے گا اور جزئی بھی۔ وہی زید کلی بھی ہے کیونکہ وہ انسان ہے، اور وہی زید جزئی بھی ہے کیونکہ وہ ایک فرد ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وَوُجُودُ الشَّيْءِ الوَاحِدِ اس کا عطف ہے اتصاف پر۔ پیچھے کیا آیا تھا؟ لَلَزِمَ اتِّصَافُ الشَّيْءِ الوَاحِدِ بِالصِّفَاتِ المُتَضَادَّةِ، ایک تو یہ خرابی لازم آئے گی کہ ایک ہی شے متصف ہو جائے گی صفاتِ متضادہ کے ساتھ۔ اور دوسری خرابی کیا؟ وَوُجُودُ الشَّيْءِ الوَاحِدِ فِي الأَمْكِنَةِ المُتَعَدِّدَةِ أَيْ لَلَزِمَ وُجُودُ الشَّيْءِ، لازم آئے گا ایک ہی چیز کا ہونا فِي الأَمْكِنَةِ المُتَعَدِّدَةِ متعدد جگہوں پر۔ امکنہ جمع ہے مکان کی۔ اگر اپ کہیں کہ کلی اپنے افراد کے ضمن میں خارج میں موجود ہے، تو ایک ہی شے کا مختلف جگہوں پر ہونا لازم آئے گا۔ دیکھو، ایک شے ایک وقت میں ایک ہی جگہ ہو سکتی ہے، دو جگہ نہیں ہو سکتی۔ زید، مسجد کے اندر بھی زید ہو اور مسجد کے باہر بھی زید ہو، ایک ہی وقت میں نہیں ہو سکتا۔ الگ الگ وقت میں ہو سکتا ہے۔ ایک وقت میں مسجد میں ہے اور دوسرے وقت میں مسجد سے باہر۔ لیکن ایک ہی شے ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر پائی جائے، ایسا نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر اپ کی بات مان لی جائے کہ کلی خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں، اپنے افراد کے اندر وہ موجود ہوتی ہے، تو پھر ایک ہی شے جو ہے اس کا ایک ہی وقت میں متعدد جگہوں پر ہونا لازم آئے گا۔ مثلاً زید مسجد کے اندر ہے اور اس زید کے ضمن میں کون موجود ہے؟ انسان، انسان۔ تو انسان مسجد کے اندر ہے۔ اور یہ انسان خالد کے ضمن میں بھی موجود ہے اور خالد مسجد سے باہر ہے، تو انسان مسجد کے اندر بھی ہوا اور انسان کیا ہوا؟ مسجد سے باہر بھی ہوا۔ اور یہی انسان مثلاً بکر کے ضمن میں بھی موجود ہے اور بکر گھر پر ہے، تو دیکھو انسان کا وجود گھر پر بھی ہوا۔ اور اسی طرح ایک تیسرا انسان ہے، وہ بازار میں ہے، تو ایک ہی انسان دیکھو کتنی ہی جگہوں پر پایا گیا۔ حالانکہ شےِ واحد ایک وقت میں ایک جگہ ہو سکتی ہے، زیادہ جگہوں پر نہیں ہو سکتی۔ لیکن اپ کی بات مان لی جائے کہ کلی خارج میں اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہوتی ہے، تو، تو ایک ہی شے کا متعدد جگہوں پر، ایک شے کا ایک ہی وقت میں کئی جگہوں پر ہونا لازم آئے گا اور یہ درست نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں یہ معنی ہے، اور لازم آئے گا: وَوُجُودُ الشَّيْءِ الوَاحِدِ فِي الأَمْكِنَةِ المُتَعَدِّدَةِ، لازم آئے گا ایک ہی شے کا ہونا متعدد جگہوں میں۔ وَحِينَئِذٍ پھر کیا معنیٰ؟ مناطقہ تو سب کہتے ہیں کلی طبعی خارج میں موجود ہے۔ اور ان کی مراد کیا ہوتی ہے؟ کہ کلی طبعی اپنے افراد کے ضمن میں خارج میں موجود ہے۔ اور اپ نے اس کو بالکل رد کر دیا۔ تو کہتے ہیں بھئی ان کے قول کا معنیٰ یہ ہے کہ اس کے افراد خارج میں موجود ہیں، خود کلی موجود نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَحِينَئِذٍ فَمَعْنَى وُجُودِ الطَّبَعِيِّ تو اس وقت وجودِ طبعی کا معنیٰ یہ ہے کہ هُوَ أَنَّ أَفْرَادَهُ مَوْجُودَةٌ کہ اس کے افراد جو ہیں وہ خارج میں موجود ہیں۔ وَفِيهِ تَأَمُّلٌ اور اس دلیل میں تامل ہے۔ تامل کا معنیٰ غور، غور و فکر۔ یعنی یہ دلیل جو ہے محلِ نظر ہے۔ یہ دلیل محلِ نظر ہے، یعنی اس پر اعتراض ہوتا ہے۔ اپ نے دلیل کیا دی؟ کہ کلی اپنے افراد کے ضمن میں خارج میں نہیں ہو سکتی، ورنہ تو شےِ واحد کا وقتِ واحد میں متضاد صفات سے متصف ہونا لازم آئے گا، یا شےِ واحد کا ایک ہی وقت میں کئی جگہ ہونا لازم آئے گا۔ تو اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ بھئی ایک شے کا متعدد جگہ پر ہونا باطل ہے، اور ایک شے کا متضاد صفات سے متصف ہونا باطل ہے، یہ اس وقت ہے جب وہ واحدِ شخصی ہو۔ واحد، ایک واحدِ شخصی ہے، ایک واحدِ نوعی ہے۔ شخص جیسے زید ہے، وہ ایک ہے۔ بکر کیا ہے؟ ایک ہے۔ خالد ایک ہے۔ تو یہ ایک شخص جو ہوگا، یہ متضاد صفات سے متصف ہو جائے یہ باطل ہے، یہ نہیں ہو سکتا۔ ایک شخص ایک وقت میں متعدد جگہوں پر پایا جائے، یہ نہیں ہو سکتا۔ لیکن ہم یہاں واحدِ شخصی کی بات نہیں کر رہے، واحدِ نوعی کی بات کر رہے ہیں۔ وہ انسان زید کے ضمن میں بھی ہے، بکر کے ضمن میں بھی ہے، خالد کے ضمن میں بھی ہے، لیکن کیا یہ انسان یہ شخص ہے یا نوع ہے؟ انسان کیا ہے؟ نوع ہے۔ جب نوع ہے تو نوع کے افراد متعدد ہوتے ہیں۔ جب افراد متعدد ہوتے ہیں تو وہ صفاتِ متضادہ سے بھی متصف ہو سکتی ہے نوع، اور متعدد جگہوں پر بھی ہو سکتی ہے کیونکہ ایک فرد نہیں ہے۔ ایک فرد ہوتا تو پھر صفاتِ متضادہ نہیں ہو سکتی تھیں۔ لیکن یہاں تو ہم بات نوع کی کر رہے ہیں۔ یعنی یوں کہیں، ہم واحدِ شخصی کی بات نہیں کر رہے، ہم واحدِ نوعی کی بات کر رہے ہیں۔ اپ نے دلیل کیا ذکر کی؟ کہ ایک ہی چیز صفاتِ متضادہ سے متصف نہیں ہو سکتی، اور ایک ہی چیز کئی جگہوں پر نہیں ہو سکتی ایک وقت کے اندر۔ تو ہم کہتے ہیں یہ تو ہمیں بھی تسلیم ہے، لیکن یہ تو واحدِ شخصی کی بات ہے۔ واحدِ شخصی میں ہم بھی کہتے ہیں کہ واحدِ شخصی ہو، ایک فرد ہو، تو ایک وقت میں نہ صفاتِ متضادہ سے متصف ہو سکتا ہے، اور نہ وہ متعدد جگہوں پر ہو سکتا ہے۔ لیکن ہم بات کس کی چل رہی تھی؟ بات چل رہی تھی واحدِ نوعی کی، اور دلیل اپ نے کس کی دے دی؟ واحدِ شخصی کی دے دی۔ لہذا اس سے اپ کا دعویٰ ثابت نہیں ہوتا۔ واحدِ نوعی، اس کے تو بہت سے افراد ہوتے ہیں، ہر فرد کی اپنی اپنی صفت ہوگی، تو صفاتِ متضادہ بھی جمع ہو جائیں گی، اور بہت سے افراد ہیں، کوئی کہیں پر ہے کوئی کہیں پر، تو واحدِ نوعی متعدد امکنہ میں بھی پایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ وہ واحدِ نوعی ہے، واحدِ شخصی نہیں ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَفِيهِ تَأَمُّلٌ اور اس دلیل کے اندر تامل ہے۔ وَتَحْقِيقُ الحَقِّ فِي حَوَاشِي التَّجْرِيدِ اور حق بات کی تحقیق جو ہے فی حواشی التجھرید، تجرید یہ کتاب کا نام ہے۔ تجرید کے حواشی میں ہے، حواشی جمع ہے حاشیہ کی۔ تجرید کتاب کے جو حاشیے ہیں، وہاں پر تحقیقِ حق ہے بھئی۔ وہاں علماء نے اس بات پر خوب تفصیلی بحث کی ہے اور اس کو وہاں ذکر کیا ہے۔ فَانْظُرْ فِيهَا پس اپ وہاں اس کو دیکھ لیجیے۔ معنیٰ سمجھ میں آ گیا؟ تو کہتے ہیں: وَتَحْقِيقُ الحَقِّ فِي حَوَاشِي التَّجْرِيدِ فَانْظُرْ فِيهَا، اور حق بات کی تحقیق جو ہے تجرید کے حواشی میں ہے، پس اپ کیا کیجیے؟ اس میں دیکھ لیجیے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ کلی کا مفہوم، یہ صرف کہاں ہوتا ہے؟ عقل میں۔ اور کلی طبعی، یعنی کلی کا جو معروض ہے، یعنی وہ انسان جو موصوف ہوتا ہے کس سے؟ کلی ہوں۔ تو یہ جو معروض ہے، کیا یہ خارج میں ہوتا ہے یا نہیں؟ اج اپ نے قیمتی بحث پڑھی بھئی، کہ یہ کلی خارج میں مستقلاً اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ خارج میں اپ جو بھی دیکھیں گے وہ یا زید ہوگا یا عمرو ہوگا یا بکر ہوگا یا خالد ہوگا، کوئی نہ کوئی الگ ایک جزئی ہوگی۔ کیا ہوگی؟ جزئی ہوگی۔ ہاں، فلاسفہ کہتے ہیں کہ جو کلی ہوتی ہے، یہ اپنے فرد کے ضمن میں خارج میں موجود ہے۔ فرد کے ضمن میں خارج میں موجود ہے، کیونکہ جب زید خارج میں موجود ہے تو حیوانِ ناطق کیا ہے؟ خارج میں موجود ہے۔ تو خارج میں کلی جو ہے، وہ اپنے افراد کے ضمن میں موجود ہوتی ہے۔ جبکہ بعض متاخرین کہتے ہیں نہیں، خارج میں بھی اس کلی کا کوئی وجود نہیں، کلی صرف ایک ذہنی چیز ہے، ذہن ہی میں ہو سکتی ہے۔ خارج میں جو بھی چیز ہوگی، وہ ہمیشہ وہ شخص ہوگا، فرد ہوگا، وہ کلی نہیں ہوگی۔ بحث سمجھ میں آ گئی؟ اگے دیکھیے بھئی، متن دیکھ لیں۔ فَصْلٌ: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، وَيُشْتَرَطُ أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لَهُ أَوْ أَجْلَى، فَلَا يَصِحُّ بِالأَعَمِّ وَالأَخَصِّ وَالمُسَاوِي مَعْرِفَةً وَجَهَالَةً وَالأَخْفَى، وَالتَّعْرِيفُ بِالفَصْلِ القَرِيبِ حَدٌّ وَبِالخَاصَّةِ رَسْمٌ، فَإِنْ كَانَ مَعَ الجِنْسِ القَرِيبِ فَتَامٌّ وَإِلَّا فَنَاقِصٌ، وَلَمْ يَعْتَبِرُوا بِالعَرَضِ العَامِّ، وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ كَاللَّفْظِيِّ وَهُوَ مَا يُقْصَدُ بِهِ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ۔ اب معرف کا بیان بھئی۔ اپ کو شروع میں انہوں نے بتلایا تھا بھئی، کہ منطق کا موضوع جو ہے، وہ معرف اور حجت ہیں۔ توجہ ہے؟ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ یعنی معرف وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصور تک۔ اور اسی طرح وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تصدیق تک پہنچا دیں۔ وہ معلوم تصورات جو ہمیں مجہول تک پہنچا دیں، ان کو معرف کہتے ہیں۔ اسی طرح ان کا ایک نام قولِ شارح بھی ہے۔ قولِ شارح، یعنی یہ شارح یہ قول کی صفت ہے، یہ مضاف مضاف الیہ نہیں ہے، قولِ شارح۔ شارح کا قول؟ نہیں نہیں۔ یہ موصوف صفت ہیں، قولِ شارح، ایسا قول جو شرح کرنے والا ہے، یعنی تفسیر اور معنیٰ بیان کرنے والا ہے۔ اسی تعریف کو معرف بھی کہتے ہیں۔ اور اسی کو قولِ شارح بھی کہتے ہیں۔ قولِ شارح بھی۔ بھئی دیکھیے، منطق کا اصل مقصد یہ ہے کہ معلوم تصورات کو ملا کر مجہول تصور کو حاصل کیا جائے۔ اسی طرح معلوم تصدیقات کو ملا کر مجہول تصدیق کو حاصل کیا جائے۔ یہ منطق کی غرض ہے اور اس کا مقصد ہے بھئی۔ منطقی، وہ تصورات سے بحث کرتا ہے، لیکن مطلقاً نہیں، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تصور تک۔ اور منطقی جو ہے، وہ تصدیقات سے بحث کرتا ہے، لیکن مطلقاً نہیں، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ تصدیقات ہمیں کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تصدیق تک۔ تو وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں مجہول تک پہنچا دیں، تو یہ جو معلوم تصدیقات ہیں، ان کو حجت کہتے ہیں۔ اسی طرح ان کو دلیل کہتے ہیں۔ اسی طرح ان کو شاہد کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ شاہد کہتے ہیں۔ تو منطق کا موضوع اب جو تعریف جو ہے، اس کا بیان اگیا بھئی۔ یہی جو معلوم تصور جو ہمیں کہاں تک پہنچاتے ہیں؟ مجہول تک، ان کا کیا نام ہے؟ ان کو معرف کہتے ہیں۔ اسی کو تعریف کہتے ہیں۔ اسی کو مثلاً اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، الكلمہ، اس کی تعریف کرنے لگے۔ اپ کو چونکہ کلمہ کا پتہ نہیں تھا، تو کلمہ اپ کے لیے کیا تھا؟ مجہول تھا، اس کا تصور اپ کو حاصل نہیں تھا۔ پھر لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، یہ اپ کو لفظ کا بھی پتہ تھا، وضع کا بھی پتہ تھا کہ وضع کسے کہتے ہیں، کہ ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کر دیا جائے۔ اور معنیٰ کا بھی اپ کو پتہ تھا کہ معنیٰ کسی چیز کا مفہوم ہوتا ہے۔ اور مفرد کا بھی پتہ تھا اپ کو کہ مفرد کا معنیٰ ہے ایک بھئی۔ تو ان ساری چیزوں کو ملایا کہ کلمہ لَفْظٌ، وہ ایسا لفظ ہے وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، جس کو کسی مفرد معنیٰ کے لیے وضع کیا گیا ہو۔ تو دیکھا، اب اپ کو کلمہ کی پہچان ہو گئی۔ تین چار معلوم چیزوں کو ملایا اور اس سے مجہول جو کلمہ تھا، وہ اپ کو حاصل ہو گیا۔ تو جس کی تعریف کی، اس کو کہتے ہیں معرف۔ جس کی تعریف کی، اس کو کہتے ہیں معرف، را کے فتحہ کے ساتھ۔ اور جو تعریف ہے، اس کو کہتے ہیں معرف۔ تو اَلْكَلِمَةُ، یہ کلمہ کیا ہے؟ معرف ہے۔ اور لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، یہ کیا ہے؟ معرف ہے۔ دوسرا نام؟ تعریف ہے۔ تیسرا نام؟ قولِ شارح ہے، یہ ایسا قول ہے جو شرح کر رہا ہے، تفسیر کر رہا ہے کس کی؟ کلمہ کی۔ تو جس کی تعریف کی جائے، وہ ہے معرف۔ اور جو تعریف کی جائے، وہ ہے معرف بھئی۔ اور یاد رکھو، یاد رکھو، یہ جو تعریف ہوتی ہے، اس کا حمل ہوتا ہے معرف پر۔ یعنی یوں کہو، معرف کا حمل ہوتا ہے معرف پر۔ دیکھو، اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، الكلمہ کو میں نے بنایا مبتدا، اور لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ اس سارے کو اس کی خبر بنایا۔ توجہ ہے؟ تو تعریف کس طرح کی جاتی ہے؟ کہ معرف کو مبتدا بناتے ہیں، اور معرف کو اس کی خبر بناتے ہیں۔ جیسے میں نے اپ سے پوچھا: الإِنْسَانُ مَا هُوَ؟ انسان کیا چیز ہے؟ اپ جواب میں کہیں گے: الإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ۔ انسان کی تعریف کر رہے ہیں، تو انسان ہوا معرف، اس کو اپ نے مبتدا بنایا۔ اور تعریف کیا کی اس کی؟ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، یہ اس کی تعریف ہے، اس کو اس کے لیے خبر بنا دیا۔ تو معرف کو یوں کہو موضوع بناتے ہیں، مناطقہ جو ہیں، یہ منطقی جو ہیں، مبتدا کو کیا کہتے ہیں؟ موضوع، اور خبر کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ تو جب کسی چیز کی تعریف کی جائے، تو معرف کو بناتے ہیں موضوع، اور تعریف کو بناتے ہیں محمول بھئی۔ توجہ ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب کسی چیز کی تعریف کیسے کرنی ہے؟ اب اپ کو اج طریقہ سکھائیں گے۔ اپ کو بھی کبھی ضرورت پیش آ گئی، کسی چیز کی اپ تعریف کرنا چاہتے ہیں، کہیں پر ذکر نہیں وہ تعریف، تو تعریف کیسے کریں گے؟ اپ کو وہ طریقہ سکھائیں گے بھئی۔ ابھی تک یہ تمہید، چیزیں جن کی ضرورت تھی، کہ جن کے ذریعے پھر اپ کو تعریف کرنے کا طریقہ آئے، وہ ساری بیان کر رہے تھے۔ اور پھر اخر میں چونکہ تعریف کلیاتِ خمسہ کے ذریعے کی جاتی ہے: جنس، نوع، فصل، خاصہ، اور عرضِ عام۔ یہ کلیاتِ خمسہ ہیں۔ ان کے ذریعے چونکہ تعریف کی جاتی ہے، لہذا سب سے اخر میں یہ لے کر آئے تعریف کے بیان سے پہلے۔ اب یہ بھی بیان مکمل ہو گیا، اب تعریف کرنے لگے ہیں، طریقہ سکھانے لگے ہیں کہ کسی چیز کی تعریف کیسے کی جائے گی، اس کی پہچان کیسے کروائی جائے گی۔ پھر اس میں یاد رکھیں، ایک ہے تعریفِ حقیقی، ایک ہے تعریفِ لفظی۔ ایک کیا ہے؟ ایک ہے تعریفِ حقیقی، اور ایک ہے تعریفِ لفظی۔ اچھی طرح سمجھ لو بھئی، بڑی دلچسپ بحث ہے۔ منطق بڑا دلچسپ فن ہے۔ ہاں، اگر اپ اس کو بوجھ سمجھ کر پڑھیں گے تو پھر مشکل ہوگا۔ لیکن جب اپ اس کو دلچسپی کے ساتھ، شوق کے ساتھ اپ دیکھیں گے، وہی چیزیں جو اپ کے ذہن میں آتی ہیں، جو اپ کو ضرورت پیش آتی ہے، وہی ساری چیزیں منطقی ان کو علمی رنگ دے دیتے ہیں، اور اس کی گہرائی میں اپ کو لے جاتے ہیں اور ایک ایک چیز کھول کر بیان کرتے ہیں۔ تو اب دیکھیں، کسی چیز کی تعریف کرنی ہے، اپ کوئی کتاب لکھ رہے ہیں، کسی چیز کو ذکر کرنا پڑ رہا ہے، اس کی تعریف کیسے کریں گے بھئی؟ تو وہ تو سارا طریقہ اپ کو سکھائیں گے بھئی۔ تو دیکھو، ایک بات میں نے بیان کر دی، کہ جب کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے، تو معرف کو ہمیشہ کیا بناتے ہیں؟ مبتدا، اور تعریف کو اس کی خبر۔ یعنی یوں کہو، معرف کو بناتے ہیں موضوع، اور تعریف کو بناتے ہیں محمول، محمول۔ پھر یاد رکھنا، تعریف دو قسم پر ہے: ایک تعریفِ حقیقی، اور ایک تعریفِ لفظی۔ تعریف کتنی قسم پر ہے؟ دو۔ ایک تعریفِ حقیقی ہے اور ایک تعریفِ لفظی ہے۔ تعریفِ حقیقی یہ ہے، جس کے ذریعے صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جائے۔ اور تعریفِ لفظی وہ ہے، جس میں صورت کوئی حاصل نہیں ہوتی، بلکہ صرف صورت کی تعیین ہوتی ہے۔ صورت کی تعیین۔ دیکھو، اَلْكَلِمَةُ، اَلْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، کس کی تعریف کرنے لگے؟ کلمہ کی۔ کلمہ کا اپ کو پہلے پتہ تھا؟ طالبِ علم کو پہلے پتہ نہیں تھا۔ جب طالبِ علم کو کلمہ کا پتہ نہیں تھا، تو کلمہ کی صورت بھی ذہن میں نہیں ہے۔ صورت کا کیا معنیٰ؟ ایک چیز کی پہچان۔ جب کلمہ کا پتہ نہیں ہے تو اس کی پہچان بھی نہیں ہے۔ اب تو ٹھیک ہے، اب تو اپ کلمہ کی تعریف پڑھ چکے ہیں۔ لیکن، جب شروع میں جب اپ پڑھنے بیٹھے تھے علمِ نحو کے اندر، اس وقت جب شروع شروع میں کلمہ آیا تھا، اپ کو کلمہ کا کوئی پتہ نہیں تھا۔ پھر اس کی تعریف کی گئی، معنیٰ بیان کیا، پھر اپ کو سمجھ میں آ گیا۔ جیسے ابھی کچھ دیر پہلے، اپ کو کلی منطقی کا کچھ پتہ نہیں تھا، یہ کس چیز کا نام ہے؟ صورت اب اس کی پہچان، کوئی پہچان اپ کو نہیں تھی۔ پھر میں نے تقریر کی، تفصیل بیان کی، اپ کو سمجھ میں آ گیا۔ اسی طرح اپ کو کلی طبعی کا کچھ پتہ نہیں تھا۔ تو اس کی کوئی صورت اپ کے ذہن میں حاصل نہیں تھی۔ تفصیل بیان کی، اس کی تعریف کی، اپ کو سمجھ میں آ گئی۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تعریفِ حقیقی کے ذریعے صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ اپ کو ایک چیز کی پہچان نہیں، پتہ نہیں۔ جب پتہ نہیں تو ذہن میں اس کی کوئی صورت بھی نہیں ہے۔ جب صورت نہیں ہے، اب جب میں تعریف کروں گا اپ کو چیز سمجھ میں آ گئی، تو اب اس کی صورت ذہن میں حاصل ہو گئی۔ جیسے تھوڑی دیر پہلے کلی منطقی، کلی طبعی، اور کلی عقلی کی کوئی صورت اپ کے ذہن میں نہیں تھی۔ لیکن اب جیسے ہی میں کہتا ہوں کلی منطقی، فوراً ذہن میں ایک پہچان آ گئی یا نہیں آ گئی؟ ایک صورت آ گئی۔ میں نے کہا کلی طبعی، فوراً اس کی صورت ذہن میں آ گئی۔ میں نے کہا کلی عقلی، اس کی بھی صورت اپ کے ذہن میں آ گئی۔ یعنی اس کی پہچان اپ کے ذہن میں آ گئی۔ تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ تو یہاں تعریفِ حقیقی کی بحث کریں گے، کیسے کسی چیز کی تعریف کی جاتی ہے کہ اس کی جو صورت ہے، پڑھنے والے، سننے والے کو حاصل ہو جائے۔ تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے کیا کیا جاتا ہے؟ صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ اور ایک تعریفِ لفظی بھی ہوتی ہے۔ تعریفِ لفظی یاد رکھو، اسے کہتے ہیں کہ اپ کسی لفظ کا معنیٰ بیان کرتے ہیں۔ سننے والے کو ایک لفظ کا معنیٰ نہیں تھا پتہ، اپ اس کے لیے معنیٰ بیان کر دیتے ہیں۔ مثلاً شیر کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟ اسد۔ اسد کہتے ہیں، اور یہ سب کو پتہ ہے۔ لیکن اسی شیر کے عربی میں بہت سارے نام ہیں بھئی۔ سمجھ میں آیا؟ والد صاحب رحمہ اللہ کا ایک قصیدہ ہے، جس میں انہوں نے شیر کے نام اور متعلقات جمع کیے ہیں چھ سو سے زیادہ بھئی۔ چھ سو سے زیادہ، اور پھر ان کو اشعار کی صورت میں جمع کیا ہے۔ ایسا عجیب و غریب قصیدہ، اور وہ قصیدہ انہوں نے لکھا اپنے استاد، اپنے استاد مولانا عبد الحق رحمہ اللہ جو بانی و مہتمم تھے دار العلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک کے۔ تو ان کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے انہوں نے وہ قصیدہ لکھا بھئی۔ اور عجیب و غریب قصیدہ، ان کی وسعتِ مطالعہ اور ان کے علم کا اندازہ لگائیے کہ چھ سو شیر کے نام اور متعلقات جمع کیے انہوں نے بھئی۔ چھ سو۔ حتیٰ کہ عرب علماء، امامِ حرم وغیرہ اور وہاں جو مدینہ یونیورسٹی میں بڑے علماء اور جو بھی علمائے عرب اس کو دیکھتے، حیران رہ جاتے کہ عربی زبان میں شیر کے اتنے نام؟ ہمیں تو خود بھی اس کا علم نہیں ہے۔ ایک تو نام جمع کیے، اور پھر باقاعدہ اشعار کی صورت میں ان کو ترتیب دیا، تو اس سے لطف کئی گنا بڑھ گیا بھئی۔ تو وہ قصیدہ دیکھا، تو کہنے لگے کہ یہ تو بڑا ہی عجیب و غریب قصیدہ ہے، ہم اس پر اپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دیں گے، مدینہ یونیورسٹی کے جو علماء تھے، انہوں نے کہا کہ ہم اپ کو پی ایچ ڈی کی ڈگری دیں گے۔ یہ اتنا عظیم قصیدہ اپ نے لکھا ہے۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ نے انکار فرما دیا۔ کہ یہ قصیدہ میں نے کوئی پی ایچ ڈی کی ڈگری لینے کے لیے نہیں لکھا، یہ میں نے اپنے استاد کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے لکھا ہے۔ تو والد صاحب رحمہ اللہ کی ساری کتابیں ایسی ہیں، انسان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے۔ حیران رہ جاتا ہے۔ وہ جو علم جس کے جیسے ہم کتابوں میں علم پڑھتے ہیں، بڑے بڑے جبال العلم قدیم زمانے میں گزرے تھے، والد صاحب کی کتابیں پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اج بھی ایسے افراد دنیا میں اللہ پیدا فرماتے ہیں، جو ان کے مثل ہوتے ہیں بھئی، علوم کے اندر، اور تقویٰ کے اندر۔ اور وہ قصیدہ کا نام ہے "فتح الصمد" ہے بھئی نام۔ "فتح الصمد بنظم اسماء الاسد" بھئی۔ تو دیکھو، میں ذکر کر رہا تھا۔ میں ذکر کر رہا تھا کہ مثلاً عربی زبان میں شیر کے بہت سے نام ہیں۔ شیر کے بہت سے نام۔ انہی ناموں میں سے ایک نام غضنفر ہے، غضنفر۔ تو کسی شخص نے غضنفر لفظ ذکر کیا، اب دوسرے ساتھی کو اس کے پتہ نہیں۔ اس کو اسد کا معنیٰ تو معلوم ہے کہ اسد شیر کو کہتے ہیں، لیکن اس سے غضنفر کا معنیٰ معلوم نہیں۔ تو پھر وہ پوچھتا ہے کہ غضنفر کسے کہتے ہیں؟ تو اسے بتلایا جاتا ہے: الغَضَنْفَرُ أَسَدٌ۔ الغَضَنْفَرُ أَسَدٌ۔ دیکھو، غضنفر کی تعریف کر دی اس نے، لیکن یہ تعریفِ لفظی ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ تعریفِ لفظی ہے، تعریفِ حقیقی نہیں۔ کیونکہ تعریفِ حقیقی کسے کہتے تھے؟ جس میں صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جائے۔ جبکہ، جبکہ تعریفِ لفظی میں صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ صرف صورت کی تعیین کی جاتی ہے۔ دیکھو اس نے پوچھا غضنفر کیا چیز ہے، دوسرے نے جواب میں کیا کہا؟ الغَضَنْفَرُ أَسَدٌ، غضنفر کس کا نام ہے؟ اسد یعنی شیر کا نام ہے۔ تو کیا شیر کی صورت اس کو پہلے حاصل تھی ذہن میں کہ نہیں تھی؟ حاصل تھی۔ ذہن میں پہلے بھی ذہن میں شیر کی صورت حاصل تھی، اسے پتہ تھا اسد کسے کہتے ہیں۔ تو شیر کی صورت ذہن میں تھی، اس کی پہچان ذہن میں تھی۔ تو صرف اس کی تعیین کر دی۔ بھئی ذہن میں ہزاروں، لاکھوں صورتیں اور ہمارے ذہن میں موجود ہیں۔ تو بتلانے والے نے تعیین کر کے بتلا دیا کہ یہ ہے غضنفر کی صورت۔ یہ ہے غضنفر کی صورت، یعنی یہ شیر کا نام ہے، یہ شیر کو کہتے ہیں۔ تو اس کو کوئی نئی صورت حاصل نہیں ہوئی، بلکہ صرف کیا ہوا؟ تعیینِ صورت ہو گئی، تعیینِ۔ تو فرق سمجھ میں آ گیا؟ تعریفِ حقیقی میں کیا ہوتا ہے؟ صورتِ غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ ایک چیز کی اپ کو پہچان ہی نہیں ہے، اس کی پہچان کروائی جاتی ہے۔ اور تعریفِ لفظی میں ایک چیز کی پہچان تو پہلے سے ہے، لیکن تعیین نہیں کہ کون سی والی صورت اس کی ہے۔ غضنفر تو آ گیا ذکر، غضنفر ذکر ہو گیا، لیکن غضنفر کی کون سی صورت ہے؟ صورت اپ کو پہلے سے حاصل ہے، لیکن تعیین نہیں تھی کون سی والی صورت بھئی۔ تو اس نے تعیین کر دی۔ تو تعریفِ لفظی میں تعیینِ صورت ہوتی ہے، جبکہ تعریفِ حقیقی میں تحصیلِ صورت ہوتی ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا؟ حاصلِ کلام پھر دہرائو: تعریفِ حقیقی میں تحصیلِ صورت ہوتی ہے، اور تعریفِ لفظی میں تعیینِ صورت ہوتی ہے۔ پھر یاد رکھنا، یہ جو تعریفِ حقیقی ہے، تعریفِ حقیقی جس میں تحصیلِ صورت ہوتی ہے، اس کا مقصد جو ہے کہ کسی چیز کی پوری ذاتیات کا، پوری حقیقت کا پتہ چل جائے۔ ایک چیز کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، یا وہ تمامِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ یہ اچھی طرح سمجھ لیں، یہ ضروری ہے۔ ساری تعریف کا دارومدار اس پر ہوتا ہے۔ کیا؟ تعریفِ حقیقی کا مقصد دو چیزیں ہیں، دو چیزیں۔ یا تو چیز کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، یا جمیعِ مشارکات سے وہ جدا ہو جائے، الگ ہو جائے۔ کیا دو مقصد ہیں؟ یا تو پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، یا وہ جمیعِ مشارکات، تمام مشارکات سے جدا ہو جائے، الگ ہو جائے۔ تو یہ دو مقصد ہیں۔ اور دونوں حاصل ہو جائیں تو یہ سب سے افضل ہے، اور دونوں نہیں تو کم از کم ایک مقصد تو ضرور حاصل ہونا چاہیے۔ اگر ایک بھی مقصد حاصل نہیں ہو رہا، تو وہ تعریفِ حقیقی نہیں ہے بھئی، وہ تعریفِ حقیقی نہیں۔ تعریفِ حقیقی کا تو مقصد ہی کیا ہے؟ اس کسی چیز کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، اور یا وہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ اور جب پوری حقیقت کا یاد رکھو پتہ چلتا ہے، تو جمیعِ مشارکات سے بھی وہ خود بخود جدا ہو جاتی ہے۔ جیسے انسان کی حقیقت کیا؟ انسان کی تعریف اپ نے کیا کی؟ حیوانِ ناطق۔ الإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، تو انسان کی تعریف کیا کی؟ حیوانِ ناطق۔ اس حیوانِ ناطق نے انسان کی پوری حقیقت اپ کو بتلا دی۔ اور جب پوری حقیقت کا پتہ چل گیا، تو جمیعِ مشارکات سے یہ الگ ہو گیا۔ اب اور کوئی حیوان اس کے ساتھ شریک نہیں ہے۔ تو جہاں، جہاں پوری حقیقت کا پتہ چلتا ہے، وہاں وہ جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جہاں جمیعِ مشارکات سے جدا ہو، وہاں پوری حقیقت کا پتہ چلنا ضروری نہیں۔ جیسے میں صرف ناطق کہوں، صرف کیا کہوں؟ ناطق۔ یہ انسان کا فصل ہے۔ تو اس ناطق سے انسان جمیعِ مشارکات سے جدا ہو گیا۔ کوئی اور حیوان ناطق نہیں۔ لیکن کیا انسان کی پوری حقیقت ہے ناطق؟ نہیں۔ تو پوری حقیقت کا پتہ تو نہیں چلا، لیکن جمیعِ مشارکات سے وہ جدا ہو گیا۔ تو جب پوری حقیقت کا پتہ چلے گا، تو جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جائے گا۔ لیکن جب جمیعِ مشارکات سے جدا ہو، تو پوری حقیقت کا پتہ چلنا وہاں ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جب پوری حقیقت کا بھئی پتہ چل گیا، اور جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو گیا، تو یہ سب سے اعلیٰ درجے کی تعریف ہوئی بھئی، اعلیٰ درجے کی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر۔ کہتے ہیں: فَصْلٌ: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ، کسی چیز کا معرف جو ہوتا ہے، معرف کا دوسرا نام کیا؟ تعریف بھئی، اور تیسرا نام کیا؟ قولِ شارح۔ تو یہ تعریف کی بات کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ، کسی چیز کی جو تعریف ہوتی ہے، مَا وہ ہوتی ہے يُقَالُ عَلَيْهِ جو اس چیز پر بولی جاتی ہے، یعنی اس پر محمول ہوتی ہے۔ اس پر محمول ہوتی ہے۔ میں نے کیا بتایا تھا؟ معرف کو کیا بناتے ہیں؟ موضوع، اور تعریف کو کیا بناتے ہیں؟ محمول۔ دیکھا، اس پر حمل ہوتا ہے، یہی بیان کر رہے ہیں: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ، کسی چیز کا معرف وہ ہوتا ہے جو اس پر بولا جاتا ہے، یعنی اس پر محمول ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جو اس پر محمول ہوتا ہے۔ يُقَالُ عَلَيْهِ کا ترجمہ میں کیا کر رہا ہوں؟ محمول ہوتا ہے۔ یہ خود شرح میں بھی آ چکا ہے اگر اپ کے ذہن میں ہو بھئی۔ جہاں، جہاں جنس کی تعریف انہوں نے کی تھی: وَهُوَ المَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ۔ جنس کی تعریف مل گئی؟ وَهُوَ المَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ، تعریف مل گئی؟ ادھر اسی میں نیچے شرح میں آ جائیں: قَوْلُهُ: المَقُولُ، أَيِ المَحْمُولُ۔ مقول کا کیا معنیٰ ہے؟ محمول۔ ایک چیز، دوسری پر بولی جاتی ہے، یعنی اس پر اس کا حمل کیا جاتا ہے۔ تو یہاں بھی يُقَالُ آیا۔ يُقَالُ عَلَيْهِ، أَيْ يُحْمَلُ عَلَيْهِ، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ، کسی چیز کی جو تعریف وہ ہوتی ہے جس کا حمل ہوتا ہے اس چیز پر۔ بھئی کیوں حمل کیا جاتا ہے؟ کہتے ہیں: لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، تاکہ وہ فائدہ دے اس چیز کے تصور کا۔ تاکہ وہ فائدہ دے اس چیز کے تصور کا۔ اس چیز کا تصور، یعنی اس کی صورت ہمیں حاصل ہو جائے۔ پہلے صورت حاصل نہیں تھی، اب کیا ہو جائے گی؟ صورت حاصل ہو جائے گی۔ میں نے کیا بتلایا تھا؟ تعریفِ حقیقی کسے کہتے تھے؟ صورتِ غیر حاصلہ جس سے حاصل ہو، وہ کیا ہے؟ تعریفِ حقیقی۔ دیکھو، یہ بھی وہی بیان کر رہے ہیں کہ: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، کسی چیز کی تعریف وہ ہوتی ہے جس کا حمل ہوتا ہے اس چیز پر لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، تاکہ وہ اس کے تصور کا، یعنی اس کی صورت کا فائدہ۔ تصور آئے گا تو صورت آئے گی نا۔ تصور ویسے تو مجہول ہوتا ہے۔ اگر علم نہیں ہے تو وہ مجہول ہے، معلوم ہو گیا تو وہ تصور ذہن میں آ گیا، یعنی اس کی صورت آ گئی۔ یہ معنیٰ ہے لإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، اس کے تصور کا فائدہ دینے کے لیے، کہ اس سے اس چیز کا تصور حاصل ہو جائے۔ یعنی معرف کا، معرف کا تصور حاصل ہو جائے۔ وَيُشْتَرَطُ اور شرط ہے أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لَهُ وَأَجْلَى۔ یہ قیمتی شرط ہے بھئی، تعریف میں۔ وَيُشْتَرَطُ، شرط ہے أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لَهُ، کہ یہ جو معرف ہے، یہ معرف کے مساوی ہو۔ تعریف، تعریف۔ تعریف کیا ہو؟ معرف کے مساوی ہو، وَأَجْلَى یا اس سے زیادہ روشن ہو۔ یہ 'أَوْ' نہیں ہونا چاہیے بھئی، یہاں 'وَ' ہونا چاہیے: أَنْ يَكُونَ مُسَاوِيًا لَهُ وَأَجْلَى۔ یہاں کیا ہونا چاہیے؟ یہ 'وَ' ہونا چاہیے، کیونکہ یہ دونوں شرطیں ضروری ہیں بھئی۔ کہ ایک تو جو معرف ہے، وہ مساوی ہونا چاہیے معرف کے، یعنی افراد کے اعتبار سے، یا یوں کہو صدق کے اعتبار سے۔ وَأَجْلَى، اور نیز کیا ہونا چاہیے اس کو؟ زیادہ روشن ہونا چاہیے۔ تو یہ دونوں شرطیں ہیں۔ تو یہ 'أَوْ' نہیں بلکہ یہاں 'وَ' ہے بھئی، اور بعض نسخوں میں 'وَ' ہی موجود ہے یہاں پر بھئی۔ اس سے زیادہ روشن، احلیٰ اسمِ تفضیل ہے۔ جلیّ، جلی کا معنیٰ ہے روشن اور واضح۔ تو احلیٰ، زیادہ واضح، زیادہ واضح۔ بھئی ایک ہے معرف، ایک ہے معرف۔ الإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، انسان کیا ہے؟ معرف۔ اور حیوانِ ناطق کیا ہے؟ معرف۔ یہ جو معرف ہے، اس کو معرف سے زیادہ واضح اور زیادہ روشن ہونا چاہیے۔ اس کو معرف سے زیادہ، یعنی اس تعریف کو معرف سے زیادہ واضح اور روشن ہونا چاہیے۔ کیونکہ معرف کا تو اپ کو پتہ نہیں ہے۔ اگر تعریف بھی ایسی لے آئے کہ وہ بھی اسی کی طرح ہے، اس کا بھی کچھ پتہ نہیں ہے، تو سننے والے کو کچھ پتہ چلے گا؟ نہیں۔ معرف کا پتہ نہیں ہے، تعریف ایسی لے کر ائو جس کو وہ سمجھتا ہو اچھی طرح۔ جب تعریف اس کو سمجھ میں آئے گی تو معرف بھی سمجھ میں آ جائے گا۔ اگر تعریف ایسی لائے وہ معرف کی طرح ہے، معرف کا اپ کو پتہ نہیں ہے اچھی طرح، اور تعریف بھی ایسی لائے جو اچھی طرح اپ کو سمجھ میں نہیں ارہی، پھر تو وہ بھی اسی طرح ہو گئی، معرف کا پتہ نہیں تھا، تعریف بھی اپ کو سمجھ میں نہیں آئے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہذا، جو تعریف ہے ہمیشہ کیا ہونی چاہیے؟ زیادہ روشن، یعنی زیادہ واضح ہو جو سننے والے کو سمجھ میں آ جائے۔ تو دو شرطیں ذکر کر دیں۔ کیا؟ کہ جو تعریف ہے، یہ معرف کے مساوی ہونی چاہیے، اور اس سے زیادہ روشن ہو، زیادہ واضح ہو بھئی۔ تعریف معرف کے مساوی ہو، کیا معنیٰ؟ تعریف کو معرف کے مساوی ہونا چاہیے۔ معنیٰ یہ ہے کہ تعریف کو جامع مانع ہونا چاہیے۔ جہاں تعریف صادق آتی ہے، وہاں معرف کو بھی صادق آنا چاہیے۔ اور جہاں تعریف صادق نہیں آتی، وہاں معرف کو بھی صادق نہیں آنا چاہیے۔ توجہ ہے؟ الإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، انسان کی تعریف کیا کی؟ حیوانِ ناطق۔ یہ انسان اور حیوانِ ناطق، یہ مساوی ہونے چاہئیں۔ جہاں انسان صادق ائے، وہاں حیوانِ ناطق صادق آنا چاہیے۔ اور جہاں حیوانِ ناطق صادق ائے، وہاں انسان صادق آنا چاہیے۔ ایسا نہیں، ایک جگہ ایسی مل گئی جہاں حیوانِ ناطق تو صادق آ رہا ہے، اور انسان صادق نہیں آ رہا، معلوم ہوا پھر تو جامع مانع تعریف نہیں ہے بھئی۔ پھر تو غیر اس تعریف کے اندر داخل ہو گیا۔ توجہ ہے؟ اپ مثلاً تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ انسان کی۔ اور کیا تعریف کی؟ حیوانِ ناطق۔ فرض کرو یہ حیوانِ ناطق کسی اور چیز پر بھی صادق آ گیا۔ تو اس کو بھی کیا کہنا پڑے گا؟ انسان۔ حالانکہ وہ تو انسان نہیں ہے۔ تو معلوم ہوا اپ کی تعریف مانع نہیں، اس میں غیر چیزیں بھی تعریف کے اندر داخل ہو رہی ہیں۔ اور نیز اخص بھی نہیں ہونی چاہیے، اخص بھی نہیں، تمام افراد یعنی جامع مانع ہونا چاہیے تعریف کو۔ جہاں تعریف صادق ائے وہاں معرف صادق ائے، اور جہاں معرف صادق ائے وہاں تعریف صادق آنی چاہیے۔ جامع اور مانع ہونا چاہیے۔ یا دوسرے لفظوں میں کیا کہو، تعریف کو مطرد و منعکس ہونا چاہیے۔ تعریف کو مطرد و منعکس ہونا چاہیے۔ جامع مانع کہہ لیں، یا مطرد و منعکس کہہ لیں، ایک ہی بات ہے۔ مطرد کا معنیٰ ہے جامع۔ منعکس کا معنیٰ ہے مانع۔ توجہ ہے؟ تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ جامع، یعنی تمام افرادِ معرف اس تعریف کے اندر آنے چاہئیں۔ کوئی فرد باہر نہ رہے۔ اور تعریف کو مانع ہونا چاہیے۔ معرف کے علاوہ کوئی اور اس کے اندر نہ ائے، کسی اور پر یہ صادق نہ آئے۔ تو تعریف کو کیا ہونا چاہیے؟ جامع مانع۔ یا دوسرے لفظوں میں کیا کہو؟ مطرد و منعکس۔ مطرد کا کیا معنیٰ؟ جامع۔ وہی معنیٰ جامع، یعنی جہاں تعریف صادق ائے وہاں، وہی معنیٰ جامع، یعنی جہاں تعریف صادق ائے وہاں معرف صادق ائے، اور جہاں معرف صادق ائے وہاں تعریف صادق ائے۔ اور منعکس ہونا چاہیے، یعنی اس کا برعکس بھی ہو۔ منعکس یعنی اس کا برعکس بھی ہو۔ جہاں تعریف صادق نہیں، وہاں معرف صادق نہیں۔ جہاں معرف صادق نہیں، وہاں تعریف صادق نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جامع مانع کہہ لیں یا مطرد و منعکس کہہ لیں۔ مطرد، طاء ہے، طاء اور مشدد ہے، مطرد و منعکس بھئی۔ تو تعریف کو مساوی ہونا چاہیے کس کے اعتبار سے؟ افراد کے اعتبار سے۔ تعریف کو مساوی ہونا چاہیے افراد کے اعتبار سے، یعنی معرف اور معرف برابر ہونے چاہئیں۔ یعنی افراد کے اعتبار سے، جس پر معرف صادق ائے اس پر معرف بھی صادق ائے۔ اور جس پر معرف صادق ائے اس پر معرف بھی صادق ائے۔ .اور نیز تعریف کو اجلی، زیادہ روشن، زیادہ واضح ہونا چاہیے۔ چلیے بس کریں، باقی پھر انشاءاللہ اگلے سبق میں پڑھ لیں گے چلیے بس بھئی، ھَذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الْکَلَامِ۔
115 approved lectures · 67 of 115