وَأَيْضاً إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعاً عَلَمٌ. وَبِدُونِهِ مُتَوَاطِئٌ إِنْ تَسَاوَتْ أَفْرَادُهُ وَمُشَكِّكٌ إِنْ تَفَاوَتَتْ بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ. وَإِنْ كَثُرَ فَإِنْ وُضِعَ لِكُلٍّ ابْتِدَاءً فَمُشْتَرَكٌ، وَإِلَّا فَإِنِ اشْتَهَرَ فِي الثَّانِي فَمَنْقُولٌ يُنْسَبُ إِلَى النَّاقِلِ، وَإِلَّا فَحَقِيقَةٌ وَمَجَازٌ.
یہاں سے آگے پھر مفرد کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی۔ اور مفرد کی سات قسمیں آپ کو بتلائیں گے۔ ابھی تک کیا بتلایا تھا؟ کہ لفظ موضوع جو ہے یا وہ مفرد ہوگا یا مرکب۔ اگر جزو لفظ سے جزو معنی پر ارادہ کیا جائے تو وہ لفظ موضوع مرکب کہلاتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو وہ مفرد ہے۔ اور پھر مفرد کی تقسیم کی تھی کہ مفرد یا تو اس کا معنی مستقل ہوگا یا مستقل نہیں ہوگا۔ اگر مستقل نہیں ہے تو وہ ادات ہے، اگر مستقل ہے تو پھر اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ملا ہوا ہوگا یا ملا ہوا نہیں ہوگا۔ اگر کوئی زمانہ ساتھ ملا ہوا نہیں ہے تو وہ اسم ہے، اور اگر تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ ساتھ ملا ہوا ہے تو وہ کلمہ ہے۔ یہ وہی تقسیم ہے جو نحوی کرتے ہیں البتہ نحوی کلمہ کی تین قسمیں بناتے ہیں اسم، فعل اور حرف۔ جبکہ یہ جو تین قسمیں بناتے ہیں ان کے نام الگ ہیں یہ اسم کو تو اسم کہتے ہیں البتہ فعل کو یہ کلمہ کہتے ہیں۔ جس کو نحوی فعل کہتے ہیں منطقی اس کو کلمہ کہتے ہیں، اور جس کو نحوی حرف کہتے ہیں اس کو منطقی ادات کہتے ہیں، ادات گول تا ہے آخر میں۔ لیکن اس کا یہ معنی نہیں کہ یہ سب بالکل ایک جیسے ہیں، جو منطقی اسم ہو وہ ضروری نہیں کہ نحوی بھی اسم ہو۔ یا جو نحوی اسم ہو وہ منطق میں بھی اسم کہلائے یہ ضروری نہیں۔ اسی طرح نحو میں جو فعل کہلائے وہ ضروری نہیں کہ منطق میں کلمہ کہلائے یا منطق میں جو کلمہ کہلائے وہ ضروری نہیں کہ نحو میں وہ فعل کہلائے۔ اور نحو کے اندر جو حرف ہے وہ تو منطق میں ادات ہی کہلائے گا، لیکن منطق میں جو بھی ادات ہو اس کا حرف ہونا ضروری نہیں۔ جیسے افعال ناقصہ ہیں، منطقی ان کو ادات کہتے ہیں لیکن نحوی ان کو حرف نہیں کہتے بلکہ وہ ان کو فعل کہتے ہیں افعال ناقصہ، دیکھو نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو آج آگے مزید تقسیم کر رہے ہیں، کہتے ہیں مفرد جو ہے اس کا معنی متحد ہوگا یا اس کا معنی متکثر ہوگا۔ اس کا معنی متحد ہو یعنی اس کا ایک ہی معنی ہوگا یا وہ متکثر المعنی ہوگا۔ متحد المعنی یعنی ایک ہی معنی ہو، متکثر المعنی جس کے ایک سے زیادہ معانی ہوں بھئی۔ جیسے مثلاً دیکھو انسان۔ انسان کا کیا معنی ہے؟ حیوان ناطق، تو انسان کا ایک ہی معنی ہے کوئی اور معنی نہیں۔ افراد کو نہ دیکھیں، انسان کے افراد تو بہت زیادہ ہیں لیکن معنی کی بات کر رہا ہوں، معنی کیا ہے انسان کا؟ حیوان ناطق، یہی ایک معنی ہے اس کا اور کوئی معنی نہیں۔ جبکہ بعض لفظوں کے کئی کئی معانی ہوتے ہیں، مثلاً دیکھو عین کا لفظ۔ عین سورج کو بھی کہتے ہیں، عین سونے کو بھی کہتے ہیں سونا چاندی جو ہے، عین گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عین جاسوس کو بھی کہتے ہیں تو کئی معانی کے لیے یہ استعمال ہوتا ہے۔ تو اگر لفظ کا ایک ہی معنی ہے تو اسے کیا کہیں گے؟ متحد المعنی اور اگر کئی معانی ہیں تو وہ کیا ہے؟ متکثر المعنی۔
تو مفرد کی تقسیم کر رہے ہیں، کہتے ہیں مفرد یا تو وہ متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی ہوگا۔ اگر متحد المعنی ہے یعنی ایک ہی معنی ہے اس کا، تو پھر باعتبار وضع کے وہ ایک ہی ذات کے لیے مقرر کیا گیا ہوگا یا وہ کثیرین کے لیے وضع ہوگا۔ معنی کلی کے لیے وضع ہوگا۔ اگر ایک ذات کے لیے وضع ہے، ایک پر بولا جاتا ہے تو اس کو علم کہتے ہیں۔ اور اگر ایک ذات کے لیے وضع نہیں، زیادہ افراد پر وہ بولا جاتا ہے، زیادہ افراد پر وہ صادق آتا ہے یعنی کلی ہے، تو پھر اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے گا یا صادق نہیں آئے گا۔ اگر تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے تو وہ کلی متواطی ہے۔ یہ متن میں آ رہا ہے "وَبِدُونِهِ مُتَوَاطِئٌ" تو وہ کیا ہے کلی متواطی ہے طا کے ساتھ بھئی۔ اور اگر برابری کے ساتھ اپنے افراد پر صادق نہیں آتا تو اسے کلی مشکک کہتے ہیں۔
پھر سنو، مفرد کی تقسیم کر رہے ہیں کہ مفرد جو ہے یا تو وہ متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی۔ متکثر المعنی کی بات آگے آ رہی ہے۔ اب متحد المعنی ہو یعنی جس کا ایک ہی معنی ہو، تو پھر باعتبار وضع کے وہ ایک ہی ذات کے لیے مقرر کیا گیا ہے، یا ایک کے لیے نہیں ہوگا۔ اگر ایک ہی کے لیے وضع کیا گیا ہے تو پھر اس کو کہتے ہیں علم۔ اور اگر ایک سے زیادہ کے لیے وضع ہے یعنی اس کے افراد زیادہ ہیں، ان سب پر وہ بولا جاتا ہے یعنی کلی ہے، تو پھر وہ اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے گا یا برابری کے ساتھ صادق نہیں آئے گا۔ اگر برابری کے ساتھ صادق آئے تو اسے کہتے ہیں کلی متواطی، اور اگر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے تو اسے کہتے ہیں کلی مشکک۔ مثلاً دیکھو زید۔ زید کیا ہے؟ یہ علم ہے۔ اس کو ایک ہی ذات کے لیے متعین کیا اس کے والدین نے، مثلاً آپ کا ایک ساتھی ہے اس کا نام ہے زید، تو اس کے والدین نے اسی ایک ہی کا نام زید رکھا، تو دیکھو یہ متحد المعنی ہے، ایک ہی ذات مراد ہے اور وہ بھی جزی ہے یعنی اوروں پر بولا نہیں جا سکتا۔
جبکہ اگر افراد زیادہ ہیں جن پر وہ بولا جاتا ہے، تو پھر دیکھیں گے کہ وہ سارے افراد آپس میں برابر ہیں یا مختلف ہیں۔ اگر آپس میں ایک جیسے ہیں سب پر برابری کے ساتھ وہ لفظ بولا جاتا ہے تو اسے کلی متواطی کہتے ہیں، جیسے انسان۔ دیکھو انسان زید پر بھی بولا جاتا ہے، عمرو پر بھی، بکر پر بھی، خالد پر بھی، جتنے بھی انسان ہیں سب پر یہ لفظ انسان بولا جاتا ہے، یہ جزی نہیں بلکہ کیا ہے؟ کلی ہے کثیرین پر صادق آتا ہے۔ اور یہ سارے افراد انسان ہونے میں برابر ہیں۔ جتنا انسان زید ہے اتنا ہی انسان عمرو بھی ہے، آپ یہ نہیں کہہ سکتے زید زیادہ انسان ہے اور عمرو تھوڑا انسان ہے، نہیں نہیں۔ انسان ہونے یعنی حیوان ناطق ہونے میں سب کیا ہیں؟ برابر ہیں۔ چاہے کوئی بچہ ہو چاہے بوڑھا ہو، جتنا زید انسان ہے دو ماہ کا بچہ بھی اتنا ہی انسان ہے وہ بھی کیا ہے؟ حیوان ناطق۔ تو بدن کو نہ دیکھیں ایک کا بدن چھوٹا ہے ایک کا بڑا ہے نہیں، بدن کی بات نہیں ہو رہی بلکہ انسان ہونے کی بات ہو رہی ہے، انسان کے تمام افراد انسان ہونے میں برابر ہیں سب پر انسان برابری کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ آپ یہ نہیں کہہ سکتے کوئی زیادہ حیوان ناطق ہے کوئی تھوڑا حیوان ناطق ہے۔ یا جیسے دوسری مثال لے لو حیوان، حیوان کے کتنے افراد ہیں؟ انسان بھی ہے، گائے، بیل، بکری وغیرہ سب کیا ہیں؟ حیوان۔ اور حیوان ہونے میں سب برابر ہیں۔ ایک بکری اور ایک ہاتھی، ہاتھی بھی حیوان، بکری بھی حیوان۔ بدن ایک کا چھوٹا ہے دوسرے کا بڑا ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ بدن کی بات نہیں ہو رہی بلکہ حیوان ہونے کی بات ہو رہی ہے، حیوان ہونے کے اندر دونوں برابر ہیں۔ جیسے بکری حیوان ہے اسی طرح ہاتھی بھی حیوان ہے۔ اسی طرح انسان بھی حیوان ہے، گائے بھی حیوان ہے۔ حیوان ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے سب برابر ہیں۔ تو دیکھو یہ کلی اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق آ رہی ہے۔ جیسے انسان اور اسی طرح جیسے حیوان۔
جبکہ بعض اوقات کلی اپنے تمام افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتی، بلکہ افراد میں فرق ہوتا ہے۔ جیسے سفید، اب سفید بطخ بھی ہے، سفید یہ دیوار بھی ہے، سفید یہ کاغذ بھی ہے، سفید یہ کپڑا بھی ہے، لیکن ہر ایک کی سفیدی مختلف ہے بھئی۔ کوئی زیادہ سفید ہے کوئی کم سفید ہے۔ تو سفید تو سب پر صادق آ رہا ہے لیکن سفیدی میں سارے برابر نہیں تو اس کو کہتے ہیں کلی مشکک بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ آپ خود بلکہ آپ صرف کپڑوں میں ہی دیکھ لیں، بعض کپڑے زیادہ سفید ہوتے ہیں بعض کم سفید ہوتے ہیں حالانکہ ہے سفید ہی، لیکن بعض میں سفیدی اور خوب چمک دمک ہوتی ہے، بعض میں ویسی سفیدی اور چمک دمک نہیں ہوتی، تو یہ ہے کلی مشکک بھئی سفید۔ اسی طرح میٹھا، کوئی چیز زیادہ میٹھی ہوگی کوئی کم میٹھی ہوگی مختلف درجات ہیں، کڑوا، یہ سب کیا ہیں؟ کلی مشکک ہیں جن کے افراد آپس میں برابر نہ ہوں بھئی۔
مثلاً دیکھو سفید، آپ مجھے بتائیے ایک ہے یہ دیوار سفید، ایک ہے ہاتھی دانت سفید، اور ایک ہے برف سفید۔ دیوار بھی سفید، ہاتھی دانت جانتے ہو کہ نہیں؟ ہاتھی کے دانت ہوتے ہیں بڑے بڑے ہڈی ہوتی ہے، تو وہ دانت بڑے بڑے اس کے ہوتے ہیں وہ بھی سفید ہیں، اور ایک برف سفید ہے اور ایک کپڑا سفید ہے۔ کیا چیز زیادہ سفید ان میں سے؟ آپ اکثر کہیں گے کہ یہ ہاتھی دانت زیادہ سفید ہیں بھئی سب سے زیادہ سفیدی برف میں۔ کون سی، یہ آپ والی برف نہیں مراد جو آپ استعمال کرتے ہیں یہ تو شفاف ہوتی ہے پانی جیسا اس کا رنگ تقریباً ہوتا ہے۔ وہ جو برفباری جہاں ہوتی ہے تو وہ برف مراد ہے اور وہ کتنی سفید ہوتی ہے بھئی۔ تو اس کی سفیدی سب سے زیادہ۔ تو دیکھا سفید یہ کیا ہے؟ کلی مشکک ہے اس کے افراد مختلف ہیں۔
تو یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ مفرد کیا ہوگا، یا وہ متحد المعنی ہوگا یا متکثر المعنی۔ متحد المعنی کا کیا مطلب؟ کہ اس کا ایک ہی معنی ہو۔ تو اگر ایک ہی معنی ہے تو پھر وہ جو مفرد ہے وہ کسی جزی کے لیے وضع کیا گیا ہوگا یا معنی کلی کے لیے وضع ہوگا۔ اگر کسی جزی کے لیے وضع ہے تو اس کو کہتے ہیں علم۔ اور اگر ایک سے زیادہ کے لیے وضع ہے یعنی اس کے افراد زیادہ ہیں ان سب پر وہ بولا جاتا ہے یعنی کلی ہے تو پھر وہ افراد اس کے آپس میں برابر ہوں گے وہ ان پر برابری کے ساتھ صادق آئے گی تو اس کو کہتے ہیں کلی متواطی۔ اور اگر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے افراد میں فرق ہو تو پھر اس کو کلی مشکک کہتے ہیں۔ پھر یاد رکھیے، یہ جو فرق ہونا ہے، یہ چار قسم پر ہو سکتا ہے۔ کلی مشکک کے افراد میں فرق ہوتا ہے۔ یہ فرق چار قسم پر ہو سکتا ہے۔ اولیت لام کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملا دو اولیت واؤ پر بھی شد لکھیں اولیت۔ نمبر دو ہے اولویت یہ کتاب میں بھی لکھا ہوا ہے الف واؤ لام واؤ پھر یائے مشدد ہے اور گول تا ہے اولویت۔ تیسرا فرق ہوگا اشدیت کے اعتبار سے، اشدیت الف شین دال مشدد ہے، پھر یا مشدد اور گول تا ہے۔ اور چوتھا فرق ہو سکتا ہے ازیدیت کے اعتبار سے، ازید الف زا یا دال اور پھر یا مشدد اور گول تا، ازیدیت۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کلی مشکک کے افراد میں فرق ہوگا۔ یعنی کلی ان پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتی تو یہ فرق کتنی قسم کا ہو سکتا ہے؟ چار قسم کا ہو سکتا ہے، یا تو فرق ہوگا اولیت کے اعتبار سے، یا اولویت کے اعتبار سے، یا اشدیت کے اعتبار سے، یا ازیدیت کے اعتبار سے۔
اولیت اول سے ہے اول، اول کا کیا معنی ہوتا ہے؟ پہلا۔ یاد رکھو عربی میں کسی لفظ سے مصدر بنانا ہو صفت سے، تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ اس کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں۔ تو اول کا معنی پہلا اور اسی کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملا دی اولیت تو اب معنی ہو گیا پہلا ہونا، یہ مصدر بن گیا۔ عربی میں مصدر بنانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟ صفت کے آخر میں یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں تو اول کا کیا معنی؟ پہلا اور اولیت پہلا ہونا۔ اسی طرح ہے ضارب کا کیا معنی؟ مارنے والا اور ضاربیت مارنے والا ہونا، یعنی ضارب ہونا۔ مضروب کا کیا معنی؟ جس کو مارا گیا ہے، لیکن مضروبیت مضروب ہونا۔ تو یہاں بھی پہلا لفظ اول ہے جس کا معنی ہے پہلا، اسی کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملا دی تو کیا بن گیا اولیت پہلا ہونا۔ دوسرا ہے اولویت، یہ اولیٰ سے ہے۔ اولیٰ کا کیا معنی ہوتا ہے؟ زیادہ بہتر، زیادہ لائق، زیادہ مناسب۔ تو اسی کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملا دی اور اولیٰ کے آخر میں کیا تھی؟ یا، اس یا کو واؤ سے بدل دیا کیا بن گیا؟ اولویت۔ یعنی زیادہ مناسب ہونا، بہتر ہونا، اولیٰ کا تو مطلب تھا بہتر مناسب لیکن اب دیکھو اولویت کا معنی بن گیا زیادہ مناسب ہونا۔ اسی طرح شدید، اسی سے اسم تفضیل کیا ہے؟ اشد، زیادہ شدید کسی کے مقابلے میں۔ تو یہ اشدیت اسی سے ایک صفت کیا بن گئی؟ کیا معنی؟ زیادہ شدید ہونا۔ اور چوتھا ہے ازیدیت، یہ زیادہ سے ہے زیادت سے زائد ہونا، اور ازیدیت زیادہ ہونا یعنی کسی کے مقابلے میں زیادہ ہونا تو یہ مصدر بن گیا۔ تو یہ الفاظ سمجھ میں آ گئے؟ تو یہ فرق چار قسم کے ہو سکتے ہیں۔
اب یہاں ایک اور لفظ علت اور معلول کو بھی سمجھ لیں۔ علت اس چیز کو کہتے ہیں جس کا وجود سبب ہو دوسری چیز کے لیے۔ جب بھی ایک چیز کا وجود دوسری چیز کے وجود کا سبب ہو، تو پہلی کو کہتے ہیں علت اور دوسری کو کہتے ہیں معلول۔ علت ہوگی تو معلول ہوگا۔ علت نہیں تو معلول بھی نہیں۔ جیسے سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ تو سورج کا نکلنا یہ ہے علت اور دن کا ہونا یہ کیا ہے؟ معلول۔ تو دیکھو ایک چیز کا وجود دوسری چیز کے لیے سبب ہے۔ سورج کا نکلنا یہ کیا ہے؟ سبب یعنی علت ہے۔ تو جب بھی ایک چیز دوسری چیز کو وجود دینے والی ہو تو پہلی کو علت کہتے ہیں۔ یعنی ایک چیز دوسری چیز کے وجود کا سبب ہو تو پہلی کو علت اور دوسری کو معلول کہتے ہیں۔ جیسے سورج کا نکلنا یہ علت ہے اور دن کا ہونا یہ معلول ہے۔ سورج نکلے گا تو دن ہوگا۔ سورج نہیں نکلے گا تو دن بھی نہیں۔ تو جب بھی علت پائی جائے معلول ضرور پایا جائے گا۔ علت نہ ہو تو معلول بھی نہیں ہو سکتا۔ یا دوسری مثال لے لو جیسے چابی کا گھمانا یہ ہے علت اور تالے کا کھلنا یہ ہے معلول۔ چابی گھومے گی تو تالا کھلے گا۔ چابی نہیں گھومے گی تو تالا بھی نہیں کھلے گا۔ تو چابی کا گھومنا کیا ہوا؟ علت اور تالے کا کھلنا یہ معلول ہوا۔
ایک ہوتا ہے سبب اور مسبب۔ یاد رکھو علت اور معلول اور سبب اور مسبب میں فرق یہ ہے کہ سبب کے ہونے کے بعد بھی مسبب کا ہونا ضروری نہیں۔ ایک چیز دوسری چیز تک پہنچانے والی ہے، تو پہلے کو کہیں گے سبب اور دوسرے کو مسبب۔ لیکن سبب کے بعد مسبب کا ہونا ضروری نہیں۔ دیکھو امتحان میں کامیابی کا دارومدار محنت پر ہے۔ محنت سبب ہے اور امتحان میں کامیابی مسبب ہے۔ یہ محنت کہاں تک پہنچاتی ہے؟ امتحان میں کامیابی تک۔ لیکن یہ سبب ہے علت نہیں، کوئی محنت کرے پھر بھی بعض اوقات فیل ہو جاتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ علت نہیں ہے، اگر علت ہوتی تو علت کے ہوتے ہی فوراً کس کا پایا جانا ضروری ہے؟ معلول کا ہونا ضرور ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو علت اور معلول اور سبب اور مسبب میں کیا فرق ہے؟ کہ علت کے ہوتے ہوئے معلول کا ہونا ضروری لیکن سبب کے ہوتے ہوئے مسبب کا ہونا ضروری نہیں ہے۔
تو میں بیان یہ کر رہا تھا کہ کلی مشکک کے افراد آپس میں مختلف ہوں گے یعنی کلی کے صادق آنے کے اعتبار سے وہ مختلف ہوں گے، اور یہ فرق چار قسم کا ہو سکتا ہے۔ یہ فرق اولیت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، یہ فرق اولویت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، یہ فرق اشدیت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے، اور یہ فرق ازیدیت کے اعتبار سے بھی ہو سکتا ہے۔ اب ان چاروں کی تفصیل لکھ لیجیے۔ اولیت یعنی بعض افراد کے لیے کلی کا ثبوت یہ علت ہو دیگر افراد میں کلی کے ثبوت کے لیے۔ لکھ لیا؟ دوسرا لکھیے اولویت، یعنی کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے بالذات ہو، با الف لام ذال الف اور لمبی تا بالذات ہو اور دیگر افراد کے لیے بالتبع با الف لام تا دو نقطوں والی با اور عین بالتبع تابع ہونا کسی کے پیچھے ہونا۔ اچھا یہ دو لکھ لیے؟ کلی کا ثبوت بعض افراد کے لیے بالذات ہو اور دیگر افراد کے لیے بالتبع۔ تیسرا فرق لکھیے اشدیت یعنی کلی کا ظہور ظا سے ہے طوا ظوا یعنی کلی کا ظہور بلحاظ کیفیت بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ لکھ لیا؟ اور چوتھا فرق ہے ازیدیت یعنی کلی کا ظہور بلحاظ کمیت کمیت چھوٹا کاف ہے میم یا اور لمبی تا اردو کے اعتبار سے لمبی تا عربی کے اعتبار سے گول تا کمیت یعنی مقدار اسی کے آگے لکھ لیں۔ کیا لکھا؟ کلی کا ظہور بلحاظ کمیت یعنی بلحاظ مقدار بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ لکھ لیا؟ ازیدیت یعنی کلی کا ظہور بلحاظ کمیت یعنی بلحاظ مقدار بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ کمیت کا کیا معنی ہے؟ مقدار۔ اب ان کو سمجھ لیں بھئی کہ یہ اولیت اولویت اشدیت اور ازیدیت کے اعتبار سے فرق کیا ہوتا ہے۔
سورج کے واسطے سے روشن ہے بھئی۔ تو لہٰذا روشن یہ كُلِّي صادق آتی ہے سورج پر بھی اور زمین پر بھی۔ لیکن کس پر اس کا صادق آنا اَوْلٰی ہے؟ سورج پر یا زمین پر؟ سورج پر اس کا صادق آنا اَوْلٰی ہے۔ زیادہ مناسب ہے۔ کس کے مقابلے میں؟ زمین کے مقابلے میں۔ کیونکہ سورج کیا ہے؟ بِالذَّات روشن ہے اور زمین کیا ہے؟ بِالتَّبَع ہے یعنی غیر کے واسطے سے ہے۔ تو یہ معنی ہے اَوْلَوِيَّت کا۔ تو اسی طرح وَاجِبُ الْوُجُود میں بھی ہے۔ وجود کا ثبوت وَاجِبُ الْوُجُود کے لیے بِالذَّات ہے۔ اس کی ذات ہی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ وجود کا۔ اور باقیوں کے لیے بھی، مُمْکِنَات کے لیے بھی وجود کا ثبوت ہے، لیکن یہ بِالتَّبَع ہے۔ یعنی غیر کے واسطے سے ہے۔ یعنی کس کے واسطے سے؟ وَاجِبُ الْوُجُود کے واسطے سے۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ جی۔
اور کبھی یہ فرق جو ہوتا ہے وہ اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ کس اعتبار سے؟ اَشَدِّيَّت۔ یعنی زیادہ شدید ہونا۔ اور اس کی مثال جیسے گزر گئی۔ جیسے سفید بطخ بھی ہے اور سفید دیوار بھی ہے، تو کیا زیادہ سفید؟ ظاہر سی بات ہے بطخ زیادہ سفید۔ یا جیسے یہ دیوار بھی سفید، یا یوں کہو ہاتھی دانت بھی سفید اور برف بھی سفید، تو ان دونوں میں سے کیا زیادہ سفید؟ برف زیادہ سفید ہے۔ تو دیکھو، كُلِّي کا ظہور، یعنی سفیدی، ہاتھی دانت میں بھی ہے ایک كُلِّي ہے۔ بطخ پر بھی صادق آ رہا ہے یا نہیں؟ یہ سفید ہے۔ دیوار پر بھی صادق آ رہا ہے، یہ سفید ہے۔ ہاتھی دانت پر بھی صادق آ رہا ہے، یہ سفید ہے۔ برف پر بھی صادق آ رہا ہے، یہ سفید ہے۔ تو یہ كُلِّي ہے۔ اور اس كُلِّي کے افراد آپس میں برابر نہیں۔ ان میں فرق ہے۔ اور کس اعتبار سے فرق ہے؟ اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے۔ کیا معنی اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے؟ میں نے کیا تعریف لکھوائی؟ کہ كُلِّي کا ظہور بِلِحَاظِ کَيْفِيَّت بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔ كُلِّي کا ثبوت کس میں ہے؟ كُلِّي کا ظہور یعنی سفیدی کا ظہور، ہاتھی دانت میں بھی ہے، اور سفیدی کا ظہور برف میں بھی ہے۔ تو كُلِّي کا ظہور تو دونوں میں ہے، لیکن بِلِحَاظِ کَيْفِيَّت کس میں زیادہ ہے؟ برف میں زیادہ ہے۔ تو دیکھا، ہے تو دونوں میں، لیکن کیفیت کس میں زیادہ ہے اس کی، سفیدی کی؟ برف میں زیادہ۔ تو یہ ہے اَشَدِّيَّت بھئی۔ کہ كُلِّي کا ظہور بِلِحَاظِ کَيْفِيَّت بعض افراد میں دوسروں کی بنسبت زیادہ ہو۔
یا جیسے کوئی چیز میٹھی ہے اور باقی کوئی کم میٹھی ہوتی ہے، کوئی زیادہ ہے۔ تو میٹھا ہونا، تو کوئی چیز کم میٹھی ہے کوئی زیادہ ہے۔ یا کڑوا ہونا، تو کوئی چیز کم کڑوی ہے کوئی زیادہ کڑوی ہے۔ تو یہ فرق ہے، کس اعتبار سے؟ اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے۔ اور چوتھا فرق ہے اَزْيَدِيَّت کے اعتبار سے۔ یعنی كُلِّي کا ظہور، توجہ ہے؟ کیا تعریف لکھوائی تھی؟ كُلِّي کا ظہور بِلِحَاظِ کَمِّيَّت، یعنی بِلِحَاظِ مِقْدَار بعض افراد میں زیادہ ہو بنسبت دوسرے افراد کے۔ مثلاً دیکھو، ایک طرف ایک من گندم پڑی ہے، دوسری طرف دو من گندم پڑی ہے۔ مقدار کس کی زیادہ؟ دو من۔ تو وہ بھی ایک من والی، وہ بھی گندم۔ دو من والی، یہ بھی گندم۔ تو گندم اس پر بھی صادق، گندم كُلِّي ہے نا؟ اس پر بھی صادق اور گندم اس پر بھی صادق۔ لیکن گندم کا ظہور بِلِحَاظِ مِقْدَار کس میں زیادہ؟ دو من میں زیادہ ہے۔
صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ تو یہ چار قسم کے فرق ہو سکتے ہیں۔ كُلِّي کی بات چل رہی تھی۔ كُلِّي مُشَکِّک کی، جو ہے اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق نہیں آتی۔ یعنی اس کے افراد كُلِّي اس کے افراد آپس میں برابر نہیں ہوتے۔ ان میں فرق ہوتا ہے۔ اور یہ فرق کتنی قسم کا ہو سکتا ہے؟ چار قسم کا۔ یا تو یہ فرق ہوگا اَوَّلِيَّت کے اعتبار سے، یا اَوْلَوِيَّت کے اعتبار سے، یا اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے، یا اَزْيَدِيَّت کے اعتبار سے۔ اَوَّلِيَّت کے اعتبار سے فرق ہو، کیا معنی؟ یعنی كُلِّي کا ثبوت بعض افراد کے لیے یہ عِلَّت ہو دیگر افراد میں كُلِّي کے ثبوت کے لیے۔ اور جیسے وجود، وجود وَاجِبُ الْوُجُود کے لیے اَوَّلاً ہے، اور مُمْکِنَات کے لیے ثَانِياً ہے۔ اور وَاجِبُ الْوُجُود کے لیے وجود کا ثبوت یہ عِلَّت ہے۔ یہ مانو گے تو مُمْکِنَات کا بھی وجود ہے۔ اگر وَاجِبُ الْوُجُود کا وجود نہ ہوتا تو مُمْکِنَات کا بھی وجود نہ ہوتا۔ اور دوسرا ہے اَوْلَوِيَّت کے اعتبار سے فرق، کہ كُلِّي کا ثبوت بعض افراد کے لیے یہ بِالذَّات ہو، اور دیگر افراد کے لیے بِالتَّبَع ہو۔ بِالذَّات ہو، یعنی اس کی ذات ہی اس کا تقاضا کر رہی ہو۔ جیسے وجود کا ثبوت وَاجِبُ الْوُجُود کے لیے ہے۔ اور بِالذَّات ہے کیونکہ اس کی ذات ہی کس کا تقاضا کرتی ہے؟ وجود۔ کیونکہ اس کا کیا نام ہے؟ وَاجِبُ الْوُجُود۔ دیکھو لفظ ہی بتلا رہے ہیں کہ اس کا ہونا ضروری ہے، واجب ہے۔ تو یہ بِالذَّات اس کی ذات ہی تقاضا کر رہی ہے۔ اور باقیوں کے لیے وجود کا ثبوت بِالتَّبَع ہے، یعنی غیر کے واسطے سے ہے، یعنی کس کے واسطے سے ہے؟ وَاجِبُ الْوُجُود کے واسطے۔
یا دوسری مثال لے لو جیسے روشن بھئی۔ روشن سورج بھی ہے اور زمین بھی ہے، لیکن روشن ہونا سورج کے لیے بِالذَّات ہے۔ سورج کی ذات ہی روشن ہے۔ اور زمین کے لیے بِالتَّبَع ہے۔ یعنی غیر کے واسطے سے ہے یعنی سورج کے واسطے سے۔ اور کبھی یہ فرق کس اعتبار سے ہوگا؟ اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے۔ کہ كُلِّي کا ظہور بعض افراد میں بِلِحَاظِ کَيْفِيَّت زیادہ ہو دوسروں کے مقابلے میں۔ جیسے سفید، بعض میں سفیدی کم ہوتی ہے، بعض میں سفیدی زیادہ ہوتی ہے۔ اور چوتھا فرق ہے اَزْيَدِيَّت کے اعتبار سے۔ اَزْيَدِيَّت، یعنی كُلِّي کا ظہور بعض افراد میں بِلِحَاظِ کَمِّيَّت، یعنی بِلِحَاظِ مِقْدَار تو كُلِّي کا ظہور بعض افراد میں بِلِحَاظِ مِقْدَار زیادہ ہو دوسروں کے مقابلے میں۔ جیسے ایک طرف ایک من گندم ہو اور دوسری طرف دو من ہو، تو دونوں ہیں تو گندم، لیکن بِلِحَاظِ مِقْدَار کس میں كُلِّي کا ظہور زیادہ؟ دو من کے اندر بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ جی۔ یا جیسے بکری اور ہاتھی۔ جسم، بکری کا بھی ہے، جسم، ہاتھی کا بھی ہے۔ لیکن بڑا کس کا جسم؟ ہاتھی کا جسم بڑا ہے۔ صورت سمجھ تو مقدار کے اعتبار سے وہ زیادہ ہے۔
تو یہ چار قسم کے فرق ہو سکتے ہیں۔ لیکن یاد رکھو، ان میں سے جو چوتھا فرق ہے یعنی بِلِحَاظِ کَمِّيَّت جو فرق ہو، اَزْيَدِيَّت والا، اس کا اعتبار منطق میں نہیں کیا جاتا۔ یعنی مقدار کے اعتبار سے كُلِّي کا ظہور بعض افراد کے لیے زیادہ ہو، دوسروں کے مقابلے میں، یہ معتبر نہیں ہے۔ معتبر صرف تین ہیں۔ فرق صرف یہی تین شمار ہوتے ہیں۔ یہ مقدار کے ایک کے اندر مقدار تھوڑی ہو، ایک میں مقدار زیادہ ہو، اس کو فرق نہیں شمار کیا جاتا۔ ہے تو یہ بھی فرق لیکن اس کو شمار نہیں کیا جاتا۔ وہ البتہ پہلے تین چیزیں جو ہیں وہ معتبر ہیں۔ تو كُلِّي مُشَکِّک کے افراد آپس میں مختلف ہوں گے۔ اور جو وہ اختلاف وہ مختلف ہونا جو معتبر بھی ہے، وہ صرف تین قسم پر ہو گیا گویا۔ اَوَّلِيَّت، اَوْلَوِيَّت اور اَشَدِّيَّت والا۔ اور اَزْيَدِيَّت والا فرق ہوتا تو ہے لیکن وہ معتبر نہیں، اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔
یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ بحث کیا چل رہی تھی؟ کہ مفرد کی تقسیم بیان ہو رہی تھی۔ کہ مفرد یا مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہوگا یا مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی۔ مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی کا مطلب یہ ہے کہ اس کا ایک ہی معنی ہو، جیسے انسان۔ انسان کا ایک ہی معنی ہے حَيَوَانِ نَاطِق۔ افراد کو نہیں دیکھنا، افراد نہیں۔ معنی کی بات ہو رہی ہے۔ تو انسان کا صرف ایک ہی معنی ہے کیا؟ حَيَوَانِ نَاطِق۔ تو یہ مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہوا۔ اور بعض اوقات ایک لفظ کے ایک سے زیادہ معانی ہوتے ہیں۔ جیسے مثال ذکر کر دی، لفظِ عَيْن۔ عَيْن کے کئی معانی ذکر ہیں۔ تو وہ ہے مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی۔ تو پھر یہ جو مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہے، اس کی تقسیم کی اور بتلایا، یہ تین قسم پر ہو سکتا ہے۔ یا یہ عَلَم ہوگا، یا یہ مُتَوَاطِی ہوگا، یا یہ مُشَکِّک ہوگا۔ عَلَم کسے کہتے ہیں؟ جو ایک ذات پر صادق آئے۔ ایک ذات کے لیے وضع کیا جائے۔ ایک ذات پر صادق آئے۔ جیسے زید، عمرو، بکر وغیرہ۔ اور مُتَوَاطِی اور مُشَکِّک جو کثیرین پر صادق آئیں۔ البتہ مُتَوَاطِی کے افراد آپس میں کیا ہوں گے؟ برابر ہوں گے۔ وہ كُلِّي ان سے اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے گی۔ یا یوں تقسیم کرو۔ کہ مفرد یا مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہوگا یا مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہوگا۔ مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی، پھر یا جُزْئِی ہوگا یا كُلِّي ہوگا۔ جُزْئِی ہوگا تو وہ عَلَم ہے۔ اگر كُلِّي ہے یعنی کثیرین پر صادق آتا ہے، پھر وہ اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے گا یا برابری کے ساتھ صادق نہیں آئے گا۔ اگر برابری کے ساتھ صادق آئے تو وہ كُلِّي مُتَوَاطِی ہے۔ اور اگر برابری کے ساتھ صادق نہ آئے تو وہ كُلِّي مُشَکِّک ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر كُلِّي مُشَکِّک کے اندر جو فرق ہیں وہ چار قسم پر ہو سکتے ہیں۔ وہ فرق یا تو اَوَّلِيَّت کے اعتبار سے ہوگا، یا اَوْلَوِيَّت کے اعتبار سے، یا اَشَدِّيَّت کے اعتبار سے، یا اَزْيَدِيَّت کے اعتبار سے۔ لیکن اَزْيَدِيَّت کا اعتبار نہیں ہے یہاں پر، تو گویا تین اعتبار سے وہ افراد اس کے مختلف ہو سکتے ہیں۔
اب دیکھیے ذرا عبارت، ترجمہ دیکھ لیجیے متن کا بھئی۔ کہتے ہیں وَأَيْضاً إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ، اور اسی طرح اگر مفرد کا معنی مُتَّحِد ہو۔ وَأَيْضاً اور اسی طرح إِنِ اتَّحَدَ مَعْنَاهُ اگر مفرد کا معنی مُتَّحِد ہو، یعنی وہ مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہو۔ فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعاً، تَشَخُّص کا معنی ہے جُزْئِی ہونا۔ کیا معنی ہے؟ جُزْئِی۔ فَمَعَ تَشَخُّصِهِ وَضْعاً تو اس کا جُزْئِی ہونا باعتبارِ وَضْع کے عَلَمٌ وہ کیا ہے؟ عَلَم ہے۔ تو اپنے تَشَخُّص کے ساتھ باعتبارِ وَضْع کے وہ عَلَم ہے۔ وَبِدُونِهِ مُتَوَاطٍ اور بغیر تَشَخُّص کے یعنی وہ جُزْئِی نہیں ہے۔ تَشَخُّص کا کیا معنی؟ جُزْئِی ہونا۔ اگر وہ جُزْئِی نہیں ہے، تو وہ مُتَوَاطِی ہے۔ إِنْ تَسَاوَتْ أَفْرَادُهُ اگر اس کے افراد برابر ہوں۔ یعنی كُلِّي اپنے افراد پر برابری کے ساتھ صادق آئے۔ وَمُشَکِّکٌ اور مُشَکِّک ہے إِنْ تَفَاوَتَتْ بِأَوَّلِيَّةٍ أَوْ أَوْلَوِيَّةٍ، اگر اس کے افراد مختلف ہوں، اَوَّلِيَّت اور اَوْلَوِيَّت کے اعتبار سے۔ اَوَّلِيَّت اور اَوْلَوِيَّت کے لحاظ سے مختلف ہوں تو وہ كُلِّي مُشَکِّک ہے۔ آگے دیکھیے، وَإِنْ کَثُرَ، اور اگر لفظ مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہو۔ وہ مفرد کیا ہو؟ مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہو۔ تو پھر پہلے بات کو سمجھ لیں پھر عبارت دیکھیے بھئی۔
اور اگر وہ مفرد مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہو، یعنی ایک سے زیادہ معانی ہیں۔ تو اگر اس کو ہر معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا ہو، تو وہ مُشْتَرَک ہے۔ اگر اس کو ہر ایک معنی کے لیے الگ وضع کیا گیا ہو باقاعدہ، تو وہ مُشْتَرَک ہے۔ اور اگر ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع نہیں کیا گیا، وضع تو ایک ہی معنی کے لیے کیا گیا تھا، اور پھر دوسرے معنی میں یہ استعمال ہونے لگ پڑا۔ تو پھر پہلے معنی کو چھوڑ دیا گیا ہوگا یا پہلے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہوگا۔ توجہ ہے؟ مفرد یا مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہوگا یا مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی۔ مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہو تو تین قسمیں، عَلَم، مُتَوَاطِی اور مُشَکِّک۔ اگر مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہے، یعنی اس کے ایک سے زیادہ معانی ہیں۔ مثلاً دو معنی ہیں۔ اگر ان دونوں کے لیے اس کو علیحدہ علیحدہ وضع کیا گیا ہوگا، تو پھر یہ کیا ہے؟ مُشْتَرَک۔ اور اگر دونوں کے لیے علیحدہ وضع نہیں کیا گیا، وضع تو ایک کے لیے کیا گیا تھا لیکن بعد میں دوسرے معنی میں یہ استعمال ہونے لگ پڑا۔ توجہ ہے؟ وضع ایک کے لیے تھا اور استعمال دوسرے میں۔ تو پھر پہلے معنی میں بھی استعمال اب ہوتا ہے یا پہلے کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے؟ استعمال دوسرے میں ہو رہا ہے۔ تو کیا پہلے میں بھی استعمال ہوتا ہے یا پہلے کو بالکل چھوڑ دیا گیا؟ دو صورتیں بن گئیں۔ اگر پہلے کو بالکل چھوڑ دیا گیا، تو پھر اس کو کہتے ہیں مَنْقُول۔ کیا کہتے ہیں؟ مَنْقُول۔ دیکھو نقل سے ہے، ایک معنی سے دوسرے معنی کی طرف لفظ کو کیا کر لیا گیا؟ نقل کر لیا گیا۔ تو اس کو کہتے ہیں مَنْقُول۔ اور اگر دوسرے معنی میں لفظ استعمال ہوتا ہے اور پہلے معنی کو بھی نہیں چھوڑا گیا، اس میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ یعنی مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں بھی استعمال ہوتا ہے، اور غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ مَوْضُوع لَهُ جس کے لیے اس کو وضع کیا گیا تھا۔ غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ جس کے لیے وضع نہیں کیا گیا لیکن اس میں استعمال ہو رہا ہے۔ تو اگر مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں استعمال ہو، تو اس کو کہتے ہیں حَقِیقَت۔ اور غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ میں، یعنی دوسرے معنی میں استعمال ہو تو اسے کہتے ہیں مَجَاز۔ اسے کیا کہتے ہیں؟ مَجَاز کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر سنو۔ مفرد یا مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہوگا یا مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی۔ اگر مُتَّحِدُ الْمَعْنٰی ہے، تو پھر تو اس کی تین قسمیں ہیں: یا عَلَم ہوگا، یا مُتَوَاطِی ہوگا، اور یا مُشَکِّک ہوگا۔ اور اگر مُتَکَثِّرُ الْمَعْنٰی ہے، یعنی ایک سے زیادہ معانی ہیں، یا تو ان میں سے ہر معنی کے لیے اس کو علیحدہ وضع کیا گیا ہوگا۔ تو پھر اسے کیا کہتے ہیں؟ مُشْتَرَک۔ اگر ہر معنی کے لیے علیحدہ وضع نہیں کیا گیا، وضع تو ایک ہی معنی کے لیے تھا البتہ بعد میں دوسرے معنی میں استعمال ہونے لگ پڑا۔ تو پھر پہلے معنی میں بھی یہ استعمال اب ہوتا ہے یا اس کو بالکل چھوڑ دیا گیا ہے؟ اگر پہلے معنی کو بالکل چھوڑ دیا گیا، دوسرے ہی معنی میں استعمال ہوتا ہے، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَنْقُول۔ اور اگر دونوں میں استعمال ہوتا ہے، دوسرے معنی کے ساتھ ساتھ پہلے معنی میں بھی استعمال ہو رہا ہے، تو پھر اگر پہلے معنی میں استعمال ہو جس کے لیے وضع کیا گیا تھا، تو اس اعتبار سے اس کو کہیں گے حَقِیقَت۔ اور اگر دوسرے معنی کے اعتبار میں استعمال ہو تو اسے کیا کہیں گے؟ مَجَاز۔
مثلاً میں نے ابھی کہا، میں نے شیر دیکھا۔ تو یہ شیر کیا ہے؟ کس معنی میں استعمال ہوا؟ مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں۔ تو کیا کہیں گے یہ لفظ اس وقت کیا ہے؟ حَقِیقَت ہے۔ اور میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ یہ شیر کیا ہے؟ مَجَاز ہے۔ تو استعمال کے اعتبار سے اب ان کا نام ہی حَقِیقَت اور مَجَاز پڑ گیا۔ اس کو کہیں گے حَقِیقَت، اس کو کیا کہیں گے؟ مَجَاز۔ تو یہ جو حَقِیقَت اور مَجَاز ہیں نا، ہمیشہ یاد رکھنا، یہ لفظ کی قسمیں ہیں استعمال کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ استعمال۔ لفظ کو دیکھو اپنے مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں استعمال کیا، تو کہو گے یہ لفظ حَقِیقَت ہے۔ جیسے میں نے ابھی کہا، میں نے شیر دیکھا۔ تو یہ شیر کیا ہے؟ کس معنی میں استعمال ہوا؟ مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں۔ تو کیا کہیں گے یہ لفظ اس وقت کیا ہے؟ حَقِیقَت ہے۔ اور اگر مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں استعمال نہیں ہوتا، دوسرے معنی میں استعمال ہوتا ہے، مثلاً میں نے کہا، کل میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ اب اس شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ کیونکہ تیر تو جنگلی درندہ نہیں چلاتا۔ کون چلاتا ہے؟ بہادر آدمی۔ تو یہ اس سے پتہ چل گیا کہ یہ کیا ہے؟ مَجَاز ہے۔ تو استعمال کے اعتبار سے اب ان کا نام ہی حَقِیقَت اور مَجَاز پڑ گیا۔ اس کو کہیں گے حَقِیقَت، اس کو کیا کہیں گے؟ مَجَاز۔
تو یہ وَضْع کے اعتبار سے تقسیم نہیں ہے، بلکہ یہ کس اعتبار سے تقسیم ہے؟ استعمال کے اعتبار سے تقسیم ہے۔ استعمال کیا لفظ کو، اسی مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ کے لیے، یا غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ کے لیے؟ اگر مَوْضُوع لَهُ کے لیے استعمال کیا، تو اسے کیا کہیں گے؟ حَقِیقَت۔ غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ کے لیے استعمال کیا تو اسے کیا کہیں گے؟ مَجَاز کہیں گے۔ مثلاً میں نے کہا کل میں چڑیا گھر گیا تھا، اور میں نے وہاں شیر دیکھا۔ اب بتاؤ یہ شیر کیا ہے؟ حَقِیقَت ہے۔ یوں نہ کہیں حَقِیقَت میں استعمال ہو رہا ہے، نہیں نہیں نہیں۔ اس لفظ کا نام ہی اب کیا ہے؟ حَقِیقَت ہے۔ کیونکہ یہ اب کس معنی میں استعمال ہو رہا ہے؟ مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں۔ تو یہ جو حَقِیقَت اور مَجَاز ہیں نا ہمیشہ یاد رکھنا یہ لفظ کی قسمیں ہیں استعمال کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ استعمال کے اعتبار سے۔ لفظ کو دیکھو، اپنے مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ میں استعمال کیا تو کہو گے یہ لفظ حَقِیقَت ہے۔ اور اگر اپنے مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ کی بجائے کسی دوسرے معنی میں استعمال کیا تو اسے کیا کہو گے؟ مَجَاز ہے۔
حَقِیقَت اور مَجَاز اپنے حقیقی معنی میں استعمال ہو تو وہ ہے حَقِیقَت، معنی غَيْرِ مَوْضُوع لَهُ میں استعمال ہو تو مَجَاز ہے۔ تو ان کے لیے مَجَاز کے لیے ہمیشہ قَرِينَة چاہیے۔ کیا چاہیے؟ قَرِينَة چاہیے۔ کوئی قَرِينَة چاہیے کوئی چیز ایسی ہو جو بتلا دے کہ اس وقت معنی حقیقی مراد نہیں ہے، مَعْنَیِ مَوْضُوع لَهُ مراد نہیں ہے۔ مثلاً میں نے کہا میں نے ایک شیر کو تیر چلاتے ہوئے دیکھا۔ آپ کو پتہ چل گیا شیر سے کیا مراد ہے؟ بہادر آدمی۔ کیسے پتہ چلا؟ تیر چلاتے ہوئے۔ تیر تو جنگلی درندہ نہیں چلاتا۔ تو یہ دیکھا، قَرِينَة ہے۔ قَرِينَة کسے کہتے ہیں؟ جو بھی چیز جو مقصود کی طرف اشارہ کر دے۔ کہ میرا اس لفظ سے کون سا معنی مقصود ہے، کس کا میں ارادہ کر رہا ہوں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ قَرِينَة۔ تو یہاں قَرِينَة لفظیہ ہے۔ لفظ ہی بتلا رہے ہیں۔ اور کبھی قَرِينَة حالیہ ہوتا ہے۔ حالت بتلاتی ہے۔ مثلاً آپ ایک ساتھی کمرے میں آیا، جیسے ہی اندر آیا، میں نے کہا شیر آ گیا۔ اب آپ سمجھ گئے۔ کون سا معنی مراد ہے؟ مَجَازِی بہادر آدمی۔ کس سے پتہ چلا؟ حالت سے پتہ چلا۔ جنگلی درندہ تو اندر نہیں آیا، تو حال بتلا رہا ہے۔ تو قَرِينَة، وہ چیز جو بتلا دے کہ اس وقت کون سا معنی مقصود ہے، اس وقت معنی مجازی مراد ہے۔ معنی حقیقی مراد نہیں ہے۔