Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-035

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 13 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 52
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اور علم کیا ہے؟ علم کو حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تو ایک ہے حُصُول اس کا کیا معنی؟ حاصل ہونا۔ اور ایک کیا ہے؟ تَحْصِيل کیا معنی؟ حاصل کرنا۔ تو علم خود حاصل ہوتا ہے یا حاصل کرنا پڑتا ہے؟ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا جہاں پر علم کا لفظ آیا تھا، تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم وہاں تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ الْمَسَائِلِ، فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ جَمِيعِ الْمَسَائِلِ، یا فِي تَحْصِيلِ عِلْمِ الْقَدْرِ الْمُعْتَدِّ بِهِ مِنَ الْمَسَائِلِ۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو بعض صورتوں میں کیا نکالیں گے؟ بَيَان۔ اور بعض صورتوں میں؟ تَحْصِيل۔ علم جہاں پر علم آیا تھا، تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم وہاں کیا نکالیں گے؟ تَحْصِيل۔ جہاں مَلَكَة آیا تھا وہاں کیا نکالیں گے؟ حُصُول۔ محنت کی جائے تو مَلَكَة حاصل ہو جاتا ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ حُصُول۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ وہاں بھی تَحْصِيل نکالیں گے مَلَكَة مہارت حاصل کر لی جاتی ہے جب خوب محنت کی جائے تو مَلَكَة آئے تو وہاں حُصُول بھی نکال سکتے ہیں اور تَحْصِيل بھی۔ اسی طرح جہاں علم آیا تھا وہاں کیا نکالیں گے؟ تَحْصِيل۔ جبکہ بعضوں نے بعض کہتے ہیں حُصُول وہاں بھی نکال سکتے ہیں آپ بھی غور کر لیں جہاں آپ کو جیسا مناسب لگے۔ اور جب منطق سے مراد تمام مسائل خود مراد لے لیں یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل مراد لے لیں تو پھر لفظ بَيَان کیا کریں گے مقدر نکالیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ چلیے کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ میں اس کا نقشہ بھی بنوا دوں گا، یہ 35 احتمالات کیسے بنتے ہیں اور کہاں پر حُصُول نکالیں گے، کہاں تَحْصِيل اور کہاں پر بَيَان بھئی۔ حاصل کلام آخر میں پھر سن لو بھئی۔ آج ہم نے پڑھا اشکال یہ ہوا تھا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ پر الف لام عَهْد خَارِجِي ہے۔ اور الف لام عَهْد خَارِجِي کے ذریعے کسی چیز کی طرف اشارہ ہوتا ہے، تو ماقبل میں تو کہیں قسم اول کا ذکر نہیں ہوا تو پھر یہ الف لام کے ذریعے پھر الف لام کیوں لائے، کس کی طرف اشارہ ہے؟ یا یوں کہیں کہ یہ الف لام کا لانا ٹھیک نہیں ہے۔ تو جواب دے دیا کہ ماقبل میں اگرچہ صراحتاً قسم اول اور ثانی کا ذکر تو نہیں ہوا، لیکن ضمناً کیا ہو چکا قسم اول اور ثانی کا ذکر ہو چکا۔ جب ایک دفعہ ذکر ہو گیا تو وہ مَعْهُود ہو گیا مُتَعَيَّن ہو گیا تو اب الف لام عَهْد خَارِجِي کے ذریعے اس کی طرف اشارہ کرنا صحیح ہے۔ اور مقدمہ کا تو چونکہ پیچھے کہیں ذکر آیا ہی نہیں تھا اس لیے اس کو نَكِرَہ لے کر آئے اس پر الف لام عَهْد خَارِجِي نہیں لے کر آئے۔ اس کے بعد پھر اشکال ہوا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي الْمَنْطِقِ، قسم اول سے بھی منطق مراد ہے اور فِي کے مابعد بھی منطق ہے تو عبارت یوں بن گئی اَلْمَنْطِقُ فِي الْمَنْطِقِ یا یوں کہہ لو منطق سے مراد ہیں مَسَائِل مَنْطِقِيَّة اور قسم اول سے بھی کیا مراد ہیں مَسَائِل مَنْطِقِيَّة تو وہی بات آئی اَلْمَسَائِلُ الْمَنْطِقِيَّةُ فِي الْمَسَائِلِ الْمَنْطِقِيَّةِ تو پھر کیا خرابی لازم آئی ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ کی خرابی لازم آئی اور ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ تو کیا ہے؟ بَاطِل ہے۔ درست نہیں ہے۔ تو جواب دے دیا انہوں نے ایک جواب یہ دیا کہ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ سے مراد لے لیں الفاظ اور عبارتیں اور منطق سے مراد لے لیں مَعَانِي تو اب ظرف اور مظروف ایک دوسرے سے غیر ہو گئے تو اب وہ ظَرْفِيَّةُ الشَّيْءِ لِنَفْسِهِ والی خرابی لازم نہیں آئے گی۔ معنی کیا ہوا؟ یہ الفاظ اور عبارتیں ہیں ان مَعَانِي کے بیان میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہاں پر اور بھی وجوہ اور بھی احتمالات ہیں، اور کل 35 احتمال بنتے ہیں۔ وہ کس طرح کہ قسم اول سے کیا مراد ہیں قسم اول میں سات احتمال اور منطق میں پانچ احتمال۔ قسم اول میں سات احتمال کیا؟ نمبر ایک نُقُوش، نمبر دو أَلْفَاظ، نمبر تین مَعَانِي اور نمبر چار نُقُوش اور أَلْفَاظ، نمبر پانچ نُقُوش اور مَعَانِي، نمبر چھ أَلْفَاظ اور مَعَانِي اور نمبر سات تینوں کا مجموعہ یعنی نُقُوش أَلْفَاظ اور مَعَانِي۔ یہ سات احتمال ہیں قسم اول میں۔ اور منطق کے اندر پانچ احتمال، نمبر ایک مَلَكَة یعنی مہارت، نمبر دو تمام مسائل کا علم، تمام مسائل سے مراد منطق کے مسائل مراد ہیں تمام مسائل منطق کا علم، دوسرا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم جن کے ذریعے خطا سے حفاظت ہو جائے نظر و فکر میں۔ اور چوتھا احتمال خود نَفْسِ جَمِيعِ مَسَائِل مراد ہوں۔ یا پانچویں صورت کہ قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل خود قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل مراد ہوں۔ تو یہ پانچ احتمال ہوئے۔ اور پھر یہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ان سب کے اندر ایک مُضَاف کو محذوف نکالنا پڑے گا، لفظ منطق سے پہلے اور وہ محذوف جو ہے مقدر جو ہے لفظ بَيَان بھی ہو سکتا ہے، تَحْصِيل بھی اور حُصُول بھی ہو سکتا ہے۔ جہاں جس کو عقلِ سلیم مناسب سمجھے ان تین میں سے کوئی ایک کو مقدر نکال لے۔ بعض احتمالات میں بَيَان کا لفظ مقدر نکالیں گے، بعض احتمالات میں تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے اور بعض احتمالات میں حُصُول کا لفظ مقدر نکالیں گے۔ تو مثلاً اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ سے ہم مراد لیں نُقُوش اور منطق سے مراد لیں پہلا احتمال مَلَكَة مراد لیں۔ تو پھر اس صورت میں حُصُول کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ مَلَكَة حاصل ہوتا ہے۔ تو اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي حُصُولِ الْمَنْطِقِ کیونکہ مَلَكَة کیا ہے؟ حاصل۔ جبکہ بعض نے لکھا کہ یہاں بھی پھر تَحْصِيل نکالیں گے۔ تو جو بھی آپ کو مناسب سمجھے آپ موقع کے مطابق نکال سکتے ہیں۔ اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ الْمَلَكَةِ مَلَكَة کے حاصل کرنے کے بارے میں کہ اس فن میں کیسے مَلَكَة حاصل کیا جائے بھئی۔ اور اگر منطق سے مراد لیں ان مسائل کا علم تمام مسائل کا علم یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل کا علم۔ تو اس صورت میں پھر تَحْصِيل کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ علم کو کیا کیا جاتا ہے؟ تَحْصِيل تو پھر تَحْصِيل مقدر نکالیں گے اَلْقِسْمُ الْأَوَّلُ فِي تَحْصِيلِ الْمَنْطِقِ۔ اور اگر منطق سے آپ مراد لیتے ہیں نَفْسِ مَسَائِل تمام مسائل یا قَدْرِ مُعْتَدّ بِهِ مسائل۔ تو پھر بَيَان کا لفظ مقدر نکالیں گے کیونکہ مسائل کو بیان کیا جاتا ہے۔ تو کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ میں اس کا نقشہ بھی بنوا دوں گا یہ 35 احتمالات کیسے بنتے ہیں اور کہاں پر حُصُول نکالیں گے، کہاں تَحْصِيل اور کہاں پر بَيَان بھئی۔ چلیے بس بھئی هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔ وَمِنْهَا التَّنْبِيهُ عَلَى أَنَّ الْفِكْرَ إِنَّمَا يَجْرِي فِي الْمَعْقُولَاتِ أَيِ الْأُمُورِ الْكُلِّيَّةِ الْحَاصِلَةِ فِي الْعَقْلِ دُونَ الْأُمُورِ الْجُزْئِيَّةِ فَإِنَّ الْجُزْئِيَّ لَا يَكُونُ كَاسِبًا وَلَا مُكْتَسَبًا. وَمِنْهَا رِعَايَةُ السَّجْعِ، قَوْلُهُ فِيهِ الْخَطَأُ بِدَلِيلِ أَنَّ الْفِكْرَ قَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَتِيجَةٍ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ وَقَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَقِيضِهَا كَقِدَمِ الْعَالَمِ فَأَحَدُ الْفِكْرَيْنِ خَطَأٌ حِينَئِذٍ لَا مَحَالَةَ وَإِلَّا لَزِمَ اجْتِمَاعُ النَّقِيضَيْنِ. گزشتہ سبق میں نظر و فکر کی تعریف آپ نے پڑھی اور پھر حَوَاسِّ خَمْسَہ بَاطِنَہ کا بیان چل رہا تھا بھئی۔ آئیے پہلے اس سبق کا پھر ذرا خلاصہ سن لیجیے تاکہ ساری باتیں آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائیں اور اگر کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی تو خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جائے اور واضح ہو جائے بھئی۔ کل آپ نے متن میں پڑھا تھا وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ کہ نظر و فکر جو ہے وہ مَعْقُول کا ملاحظہ کرنا مجہول کو حاصل کرنے کے لیے، اسے نظر و فکر کہتے ہیں۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کل کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق، جتنی بھی آپ کی معلومات ہیں یا وہ تصور ہوں گی یا تصدیق۔ اور یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمیں ہر چیز کا علم نہیں، کچھ چیزوں کا ہمیں علم ہے، کچھ چیزوں کو ہمیں جاننا پڑتا ہے۔ پھر آپ نے پڑھا کہ جن چیزوں کا ہمیں علم نہیں یعنی جو ہمارے لیے نامعلوم ہیں یا یوں کہیں وہ چیزیں جو ہمارے لیے مجہول ہیں ان کو معلوم چیزوں کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً آپ قرآن پڑھتے ہیں تو شروع میں آپ کو قاعدہ پڑھایا جاتا ہے، الف، با، تا، ثا ایک ایک حرف کی پہچان کروائی جاتی ہے، پھر ان حروف کو پہچان لیا آپ نے، اب انہی حروف کو جوڑ کے ساتھ بتلایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے لکھے ہوتے ہیں مثلاً س، ل، ا، اور م، سَلَامٌ تو دیکھو وہی سین ہے جو پہلے آپ نے حُرُوفِ تَهَجِّي میں پڑھا تھا، وہی لام ہے جو پہلے آپ نے حُرُوفِ تَهَجِّي میں پڑھا تھا، وہی الف ہے جو آپ نے کہاں پڑھا تھا حُرُوفِ تَهَجِّي میں۔ تو ایک چیز جو آپ کو معلوم ہو چکی تھی، آپ اس کو جان گئے تھے اس کے ذریعے اب آگے مزید حروف آپ کو جڑے ہوئے کیسے لکھے جاتے ہیں وہ بتلائے جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہی حروف پر مختلف قسم کی حرکتیں زبر، زیر، پیش وغیرہ کیسے پڑھی جاتی ہے وہ بتلائی جاتی ہے اور پھر اس طرح قرآن کی آیتیں کیسے پڑھیں گے وہ پھر آپ کو سکھایا جاتا ہے۔ تو دیکھا ایک ایک چیز سیکھتے ہیں اور پھر اس سیکھی ہوئی چیز کے ذریعے آگے آپ کو مجہول چیزوں کا علم ہوتا چلا جاتا ہے بتلایا جاتا ہے آپ کو۔ تو معلوم ہوا کہ مجہول چیز کو ہمیشہ کس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں؟ معلوم چیز کے ذریعے۔ اب یہ مجہول چیز تصور بھی ہو سکتا ہے اور تصدیق بھی کیونکہ ہمارا علم تو یہی دو قسم پر ہے یا تصور ہے یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں۔ تو جو بھی مجہول چیز آپ حاصل کرنا چاہیں گے یا وہ تصور کی قبیل سے ہوگا یا تصدیق۔ تو اب یاد رکھیے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تصور کو تصور کے ذریعے حاصل کرتے ہیں اور تصدیق کو تصدیق کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ آپ تصورِ مجہول حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دو یا تین معلوم تصوروں کو ملائیں گے اور وہ معلوم تصور آپ کو کہاں تک پہنچا دیں گے؟ مجہول تصور تک بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا آپ کو یہ جو معلوم تصور ہیں جنہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ مجہول تصور تک، تو یہ جو معلوم تصور ہیں ان کو کہیں گے تَعْرِيف اور مُعَرِّف، عَرَّفَ يُعَرِّفُ تَعْرِيف کا کیا معنی ہے؟ پہچان کروانا اور مُعَرِّف پہچان کروانے والا۔ آپ پڑھتے ہیں یا نہیں جگہ جگہ اس کی یہ تعریف ہے اس کی یہ تعریف ہے، تو وہ یہ کچھ معلوم تصور ہوتے ہیں جن کو جمع کیا جاتا ہے اور پھر وہ آگے مجہول تصور آپ کو اس کی مدد سے حاصل ہو جاتا ہے۔ تو یہ جو معلوم تصور ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ تَعْرِيف اور مُعَرِّف اور وہ جو مجہول تصور آپ کو حاصل ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مُعَرَّف کہتے ہیں بھئی مُعَرَّف۔ جیسے حَيَوَان اور نَاطِق کو ملایا تو پھر آپ کو کیا حاصل ہوا؟ انسان کی حقیقت کا پتہ چلا۔ تو حَيَوَان اور نَاطِق یہ کیا ہیں؟ تَعْرِيف اور انسان کیا ہوا؟ مُعَرَّف ہوا۔ حَيَوَان اور نَاطِق کیا ہیں؟ تَعْرِيف اور مُعَرِّف اور انسان کیا ہوا؟ مُعَرَّف۔ اسی طرح تصدیق کے اندر بھی ہے، دو یا تین معلوم تصدیقوں کو ملایا تو انہوں نے آپ کو کہاں تک پہنچا دیا؟ مجہول تصدیق تک۔ مثلاً آپ کے سامنے ایک جملہ لکھا ہوا ہے ضَرَبَ زَيْدٌ۔ اب یہ زید فاعل ہے اس پر کون سا اعراب پڑھنا ہے آپ کو علم نہیں ابھی تو آپ کیا کرتے ہیں؟ دلیل بناتے ہیں، دو تین تصدیقیں جو آپ کو معلوم ہیں ان کو جوڑتے ہیں۔ آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ یہ زید کیا ہے؟ فاعل۔ دوسری بات آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ تو نتیجہ کیا نکلا کہ یہاں لفظ زید بھی کیا ہے؟ مرفوع۔ تو دلیل کیسے بنائیں گے؟ زید فاعل ہے اور ہر فاعل مرفوع ہوتا ہے نتیجہ کیا نکلا کہ زید بھی مرفوع ہے تو ضَرَبَ زَيْدٌ، دیکھا پھر آپ نے اس پر رفع پڑھ دیا۔ اسی طرح جیسے دوسری مثال زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے۔ تو دیکھو یہ جو تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہوئی یہ غور و فکر کے ساتھ ہوئی یا بغیر غور و فکر کے؟ غور و فکر کی، دلیل بنائی باقاعدہ پھر جا کے آپ کو حاصل ہوئی۔ تو یہ ہے تصدیقِ نظری جو کس کی مدد سے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر سے، دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملایا تو ایک تیسری تصدیق حاصل ہو گئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیقِ نظری کیونکہ وہ کس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر کے ذریعے۔ تو یہ جو معلوم چیزوں کو آپ ملاتے ہیں اور کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجہول چیز کو۔ یہ معلوم چیزوں کو ملا کر ترتیب دے کر مجہول چیز تک پہنچنا یہ منطق میں نظر و فکر کہلاتا ہے۔ تین نام ہیں اس کے نظر، فکر اور کَسْب۔ نظر، فکر اور کَسْب۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ قَدِيم مَنَاطِقَہ اور مُتَأَخِّرِين میں اختلاف ہے۔ قَدِيم مَنَاطِقَہ کے نزدیک نظر و فکر میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک انتخاب کرنا، کون کون سے تصور چاہئیں یا کون کون سی تصدیق چاہئیں اور پھر دوسرا کام کیا ہے؟ ان کو ترتیب دینا۔ تو یہ انتخاب اور یہ ترتیب اس کا نام ان کے نزدیک نظر و فکر ہے جبکہ متأخرینِ منطقہ کے نزدیک صرف ترتیب دینے جو ہے، ترتیب دینا جو ہے اس کو نظر و فکر کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھا یہ ہے نظر و فکر، نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجہول چیز کو حاصل کرنا۔ یہ کیا ہے نظر اور فکر۔ یہ جو آپ نے کہا کہ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے تو یہ نظر و فکر ہے۔ دیکھا یہ تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہو گئی۔ یا آپ نے حیوان اور ناطق کو ملایا تو کیا حاصل ہوا؟ انسان تو یہ کیا ہے؟ نظر اور فکر ہے۔ اسی سے آپ کو تصورِ بَدِيهِي اور نظری اس کا بھی پتہ چل گیا۔ تصورِ نظری کون سا تصور ہوگا؟ جو نظر کے ذریعے حاصل ہو۔ کس کے ذریعے؟ یعنی دو معلوم تصوروں کو ملایا تو آپ کو کیا حاصل ہوا؟ مجہول تصور، یہ مجہول تصور یہ ہے تصورِ نظری، کس سے حاصل ہو رہا ہے؟ نظر اور فکر سے۔ اسی طرح تصدیق میں بھی آپ نے پڑھا ایک بَدِيهِي ہے اور ایک نظری، تو تصدیقِ نظری اب آپ کو سمجھ میں آ گئی تصدیقِ نظری کسے کہتے ہیں جو نظر اور فکر سے حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے کہا زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے نتیجہ کیا آیا؟ زید بڑا منطقی ہے تو دیکھو یہ جو تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہوئی یہ غور و فکر کے ساتھ ہوئی یا بغیر غور و فکر کے؟ غور و فکر کی، دلیل بنائی باقاعدہ پھر جا کے آپ کو حاصل ہوئی، تو یہ ہے تصدیقِ نظری جو کس کی مدد سے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر سے۔ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملایا تو ایک تیسری تصدیق حاصل ہو گئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیقِ نظری کیونکہ وہ کس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر کے ذریعے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تصورِ بَدِيهِي کسے کہیں گے جو بغیر نظر و فکر کے یعنی بغیر غور و فکر کے ہمیں حاصل ہو جائے اور تصورِ نظری کسے کہیں گے جو نظر اور فکر کے ذریعے ہمیں حاصل ہو، پہلے ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔ اور اسی طرح تصدیقِ بَدِيهِي اور تصدیقِ ضروری وہ تصدیق ہے جس کا ہمیں پہلے سے علم ہے، بغیر غور و فکر کے اور تصدیقِ نظری کسے کہیں گے جو نظر کے بعد ہمیں حاصل ہو یعنی غور و فکر کے بعد۔ اب تصورِ نظری سمجھ میں آیا اور تصدیقِ نظری بھئی؟ وہ جو نظر کے بعد ہمیں حاصل ہوتے ہیں بھئی، نظر کے بعد۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو شرح کے اندر، وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، ملاحظہ کا معنی بتلایا۔ نہیں، پہلے انہوں نے آپ کو بتلایا کہ هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ نظر کو راجع ہے۔ کس کو؟ نظر کو راجع ہے اور یہ نظر کی تعریف کر رہے ہیں کہ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، اور ملاحظہ کا کیا معنی تھا؟ نفس کا متوجہ ہونا۔ نفس کا ایک چیز کی طرف متوجہ ہونا۔ اور مَعْقُول کا لفظ استعمال کیا بھئی۔ مَعْقُول کا کیا معنی تھا؟ وہ چیز جس کی صورت عقل میں حاصل ہو۔ مَضْرُوب جس پر ضرب لگے، مَأْكُول جس کو کھایا جائے، مَشْرُوب جس کو پیا جائے تو مَعْقُول، لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے عقل سے ہے، مَعْقُول وہ صورت جو عقل میں حاصل ہو وہ کیا ہے؟ مَعْقُول ہے۔ پھر اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی عام مصنفین جو ہیں وہ تو لفظ مَعْلُوم استعمال کرتے ہیں کہ معلوم کے ذریعے کس کو حاصل کرنا؟ مجہول کو۔ انہوں نے مَعْقُول بولا کہ مَعْقُول کے ذریعے کس کو حاصل کرنا؟ مجہول کو۔ تو انہوں نے مَعْلُوم کا لفظ کیوں چھوڑ دیا؟ معلوم کا لفظ انہوں نے کیوں چھوڑ دیا اور مَعْقُول کا لفظ کیوں اختیار کیا؟ تو اس کے انہوں نے بتلایا آپ کو کہ اس کے کئی فائدے ہیں بھئی۔ ایک فائدہ یہ کہ معلوم کا لفظ مشترک ہے۔ اور تعریف کے اندر مشترک لفظ کا لانا پسندیدہ نہیں، کیونکہ مشترک کے تو ایک سے زیادہ معانی آتے ہیں، تو سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کون سا معنی کا یہاں ارادہ کیا جا رہا ہے۔ مثلاً عَيْن کا لفظ ہے، عَيْن کا لفظ سونے کو بھی کہتے ہیں، عَيْن سورج کو بھی کہتے ہیں، عَيْن گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عَيْن جاسوس کو بھی کہتے ہیں، اب اگر آپ اپنی عبارت میں عَيْن کا لفظ لائیں گے، کسی چیز کی تعریف کر رہے ہیں، تو سننے والے کو تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کون سا معنی اس کا مراد ہے۔ تو لہٰذا تعریف کے اندر مشترک لفظ کا لانا پسندیدہ نہیں، تعریف بالکل واضح ہونی چاہیے اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو معلوم کا لفظ مشترک ہے۔ معلوم، معلوم کے ذریعے ہر وہ چیز جو آپ کو معلوم ہے اس کو بھی کہتے ہیں، چاہے وہ تصور ہو، چاہے وہ تصدیق۔ تو معلوم کا ایک معنی ایسا ہے جس میں تصور بھی داخل اور ہمارا علم کتنی قسم کا؟ جو بھی ہمیں معلوم ہے وہ یا تصور ہوگا یا تصدیق، تو دیکھو معلوم کا لفظ تصور پر بھی بولا جا رہا ہے اور تصدیق پر دونوں شامل ہیں اس کے اندر۔ یہ ایک معنی ہے معلوم کا۔ جو بھی معلوم ہے آپ کو اس سے قطع نظر کہ وہ تصور ہے یا تصدیق، بس جس چیز کی بھی صورت حاصل ہوئی عقل میں وہ کیا ہے؟ معلوم۔ تو معلوم کا ایک معنی ایسا ہے جس میں تصور اور تصدیق دونوں داخل ہیں۔ اور معلوم کا ایک معنی کیا ہے؟ تصدیق کی ایک قسم جو ہے، یقین، اس کو بھی معلوم کہتے ہیں۔ تصدیق کی چار قسمیں میں نے بیان کی تھیں، ایک ظَنّ، ایک تَقْلِيد، ایک يَقِين اور ایک جَهْلِ مُرَكَّب۔ ظَنّ وہ تصدیق ہے جس میں آپ ایک چیز کا اعتقاد کر لیتے ہیں مان لیتے ہیں لیکن جانبِ مخالف کا بھی تھوڑا بہت خیال ہوتا ہے۔ تقلید کے اندر آپ ایک بات کو مان لیتے ہیں، جانبِ مخالف کا خیال اس میں نہیں ہوتا لیکن یہ علم اتنا پکا نہیں ہوتا کوئی تشکیکِ مُشَکِّک سے زائل بھی ہو جاتا ہے۔ کوئی آ کر دوسری دلیل وغیرہ یا کچھ باتیں کرے گا تو یہ علم کیا ہو جائے گا آپ کا؟ ختم کیونکہ آپ کو یقین نہیں۔ اور یقین وہ علم ہے جو جَازِم ہو، پکا ہو، تشکیکِ مُشَکِّک سے زائل نہ ہو، اور واقع کے بھی مطابق ہو، جیسے اللہ ایک ہے، محمد ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، دیکھو اب یہ کوئی دلائل بھی دے کر آپ کے ذہن سے نکالنے کی کوشش کرے نہیں نکال سکتا بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ اور یقین واقع کے مطابق ہوتا ہے، جبکہ جہلِ مرکب جو ہے وہ واقع کے مطابق نہیں ہوگی۔ جیسے کفار کے عقائد، جیسے کفار کے عقائد ہیں اب وہ واقع کے مطابق تو نہیں، کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے کسی چیز کو، کوئی اللہ کے وجود کا انکار کرتا ہے، کوئی کچھ کرتا ہے، لیکن یہ سارے عقائد واقع کے مطابق تو نہیں، لیکن ان کو اس پر اتنا پکا یقین اعتماد ہے کہ آپ ہزار دلائل دیں وہ تسلیم کرتے ہی نہیں، الا یہ کہ اللہ کسی کو ہدایت دے دیں۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ تسلیم کرتے ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ تصدیق کی کون سی قسم ہے؟ جہلِ مرکب ہے۔ جہلِ مرکب ہے۔ تو یہ جو تصدیق کی چار قسمیں ہوئیں ظَنّ، تَقْلِيد، يَقِين اور جَهْلِ مُرَكَّب، اس میں سے جو یقین ہے اس کو بھی معلوم کہہ دیتے ہیں۔ اس پر بھی معلوم کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یا یوں کہو، معلوم کا لفظ تصدیق پر بولا جاتا ہے۔ کس پر؟ تصدیق۔ تو معلوم کا ایک معنی کیا تھا؟ اس میں تصور اور تصدیق دونوں داخل تھے اور معلوم کا دوسرا معنی کیا ہے؟ کہ صرف اس میں کون داخل ہے؟ تصدیق۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ اور نظر و فکر میں ہمیں دونوں چیزیں چاہیے یا ایک؟ نظر و فکر میں تصور اور تصدیق دونوں کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ بھئی نظر و فکر میں مجہول تصور کو بھی حاصل کرنا ہے یا نہیں اور مجہول تصدیق کو بھی حاصل کرنا ہے یا نہیں؟ اور مجہول تصور کو کس سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصوروں سے۔ اور مجہول تصدیق کو کس سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصدیقوں سے۔ تو معلوم ہوا نظر و فکر میں تو معلوم تصوروں کی بھی مدد لی جاتی ہے اور معلوم تصدیقوں کی۔ تو دونوں شامل ہونے چاہیے۔ ایسی تعریف کرو۔ اور اگر ہم معلوم کا لفظ بولیں، معلوم کا ایک معنی تو ٹھیک ہے اس میں تصور اور تصدیق دونوں مراد ہیں، لیکن معلوم کا ایک معنی کیا ہے؟ صرف تصدیق۔ تو دیکھا اب سننے والا پریشان ہوگا پتہ نہیں کون سا معنی مراد ہے۔ تصور اور تصدیق دونوں مراد ہیں یا صرف تصدیق مراد ہے۔ اگر یوں کہہ دیتے، مُلَاحَظَةُ الْمَعْلُومِ معلوم کو ملاحظہ کرنا۔ اب وہ معلوم تصور اور تصدیق دونوں ہیں یا صرف تصدیق ہے؟ کیونکہ معلوم کا لفظ تو تصدیق پر بھی بولا جاتا ہے اور صرف تصدیق پر بھی بولا جاتا ہے۔ تو ایک لفظ مشترک آ جاتا سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلتا وہ پریشان ہوتا کہ کون سا معنی اس کا مراد ہے۔ تصور اور تصدیق دونوں مراد ہیں یا صرف تصدیق مراد ہیں۔ اور چاہیے تو ہمیں دونوں۔ چاہیے تو دونوں۔ تو لہٰذا اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ استعمال کیا؟ مَعْقُول کا لفظ استعمال کیا۔ مَعْقُول جو عقل میں صورت حاصل ہو اب وہ تو عام ہے۔ چاہے تصور ہو چاہے تصدیق ہو دونوں اس میں داخل ہو گئے بھئی، دونوں۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک فائدہ تو یہ ہوا۔ معلوم کے بجائے مَعْقُول لفظ استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ کہ مشترک لفظ سے بچ گئے مصنف نے مشترک لفظ سے بچنے کے لیے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معلوم کا لفظ چھوڑ دیا کیونکہ وہ کیا تھا مشترک تھا۔ دو معنوں میں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ فِکْر جو ہے، نظر و فکر یہ صِرف کُلِّيَّات میں جاری ہوتی ہے۔ جُزْئِيَّات میں جاری نہیں ہوتی۔ یہ جو دو معلوم چیزوں کو ملایا اور کس کو حاصل کیا؟ مجہول کو۔ یاد رکھیے، ان کا کُلِّي ہونا ضروری ہے۔ ایک ہوتا ہے کُلِّي، ایک ہے جُزْئِي۔ کُلِّي کسے کہتے ہیں؟ جو کثیرین پر صادق آئے، کثیرین پر بولا جائے۔ اور جُزْئِي کسے کہتے ہیں؟ جو کثیرین پر نہ بولا جائے۔ جیسے زید، دیکھو زید صرف ایک شخص زید پر بولا جاتا ہے، خالد صرف ایک شخص خالد پر بولا جاتا ہے۔ اور کُلِّي وہ ہے جو کثیرین پر بولی جائے، جیسے انسان۔ زید، عمرو، بکر، خالد، دیکھو سب پر بولا جاتا ہے انسان کا لفظ۔ کتاب، یہ آپ کے سامنے بھی کتاب، ساتھی کے آپ کے ساتھی کے پاس جو ہے یہ بھی کتاب، دوسرے ساتھی کے پاس یہ بھی کیا ہے؟ کتاب، دیکھو یہ کُلِّي ہے۔ یہ کیا ہے؟ کُلِّي۔ لیکن جب میں کہوں یہ کتاب، اب ایک خاص کتاب کی طرف اشارہ ہوا، تو یہ کیا ہے؟ جُزْئِي ہے۔ اس کے اندر تو شرکت نہیں۔ یہ کثیرین پر نہیں صادق آئے گی یہ ایک ہی کتاب پر صادق آئے گی۔ تو کُلِّي اور جُزْئِي کی سمجھ، کُلِّي اور جُزْئِي سمجھ میں آ گئی؟ تو یاد رکھو، یہ جو نظر و فکر ہے نا؟ کچھ معلوم چیزوں کو ملاتے ہیں اور کس کو حاصل کر لیتے ہیں؟ مجہول چیز کو، یہ معلوم چیزوں کا کُلِّي ہونا ضروری ہے۔ کُلِّي کے ذریعے ایک کُلِّي کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دو یا تین کُلِّيَّات ملائیں گے اور ایک مجہول کُلِّي آپ کو حاصل ہو جائے گی۔ جُزْئِي کے ذریعے کبھی بھی جُزْئِي کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً زید بھی ایک جُزْئِي اور خالد بھی ایک جُزْئِي ہے۔ آپ زید کو تو جانتے ہیں، خالد کو نہیں جانتے، اب زید کی مدد سے آپ خالد کو بھی جان لیں۔ نہیں۔ کبھی بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ زیادہ سے زیادہ نشانیاں آپ لائیں گے، لیکن وہ نشانیاں کُلِّي ہوں گی۔ اس جیسا ایک آدمی آ جائے اس پہ بھی وہ صادق آئیں گی، دوسرے پہ بھی صادق آئیں گی، تیسرے پر بھی۔ مثلاً آپ خالد کی نشانیاں ذکر کرتے ہیں کہ اس نے نیلے کپڑے پہنے ہوں گے، بھئی نیلے کپڑے والے ایک فرد اور آ گیا وہ بھی اس پر بھی وہ نیلے کپڑوں والا ہے یا نہیں؟ دوسرا آیا وہ بھی کیا ہے نیلے کپڑوں والا، ایک تیسرا آیا وہ بھی کیا ہے نیلے کپڑوں والا، تو دیکھو جو بھی نشانیاں آپ ذکر کریں گے وہ کُلِّي ہوں گی جُزْئِي نہیں۔ تو کُلِّي کے ذریعے کُلِّي کا علم تو حاصل ہوتا ہے، جُزْئِي کے ذریعے جُزْئِي کا علم حاصل نہیں ہوتا۔ تو یہ جو دو تین معلوم چیزیں اپ ملاتے ہیں، ان کا کیا ہونا ضروری ہے؟ کُلِّي۔ اور کُلِّيَّات کا ادراک عقل کرتی ہے۔ کُلِّيَّات کا ادراک کون کرتی ہے؟ عقل۔ عقل کے ذریعے کُلِّيَّات کا ادراک ہوتا ہے۔ جبکہ جُزْئِيَّات کا ادراک حواس کرتی ہیں۔ جُزْئِيَّات کا ادراک کون کرتی ہیں؟ یہ حواس کرتی ہیں۔ تو اگر معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم کا لفظ تو عام ہے۔ اس میں کُلِّيَّات بھی داخل اور جُزْئِيَّات بھی۔ اور ہمیں چاہیے کیا؟ صرف کُلِّيَّات تو اگر مصنف یوں کہہ دیتے، مُلَاحَظَةُ الْمَعْلُومِ تو اس میں تو کُلِّي بھی شامل ہے اور جُزْئِي بھی کیونکہ معلوم کا لفظ تو عام ہے، اس میں تو معلوم کُلِّي بھی شامل ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ جُزْئِيَّات کی صورت تو حواس کے اندر حاصل ہوتی ہے۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ جُزْئِيَّات تو خود بخود خارج ہو گئے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ دو فائدے ہیں معلوم کے بجائے مَعْقُول کا لفظ لانے میں۔ ایک فائدہ یہ کہ مشترک لفظ سے بچ گئے۔ مصنف نے مشترک لفظ سے بچنے کے لیے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معلوم کا لفظ چھوڑ دیا کیونکہ وہ کیا تھا مشترک تھا۔ دو معنوں میں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ فِکْر جو ہے، نظر و فکر یہ صِرف کُلِّيَّات میں جاری ہوتی ہے۔ جُزْئِيَّات میں جاری نہیں ہوتی۔ اور اگر ہم معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ یہ دو فائدے ہیں بھئی معلوم کی بجائے معقول کا لفظ لانے کے۔ پھر اس کے بعد اپ کو میں نے حَوَاسِّ خَمْسَہ بَاطِنَہ کا بیان شروع کیا تھا۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ اصل مُدْرِک نَفْس ہے۔ اصل علم حاصل کرنے والا کون ہے؟ نَفْس ہے، ہماری ذات ہماری روح ہے۔ اور یہ جسم کیا ہے اس کے لیے آلہ ہے۔ اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو پیچھے جسم رہ جاتا ہے لیکن وہ کوئی حرکت نہیں کر سکتا کوئی کام نہیں کر سکتا۔ تو علم اور ادراک کا ایک معنی جاننے والا، اور مُدْرِک وہ کون ہے اصل میں نفس ہے۔ اور اس نفس کو اللہ نے مختلف قسم کی قوتیں دی ہیں جن کے ذریعے وہ چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ اس نفس کو اللہ نے عقل دی ہے۔ عقل کے ذریعے یہ نفس کیا کرتا ہے؟ ادراک کرتا ہے چیزوں کا۔ لیکن عقل صرف کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے۔ عقل صرف کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے۔ وہ چیزیں جو کُلِّي ہیں، ان کا ادراک کون کرتی ہے؟ عقل۔ اور جُزْئِيَّات، زید، عمرو، بکر، خالد، ان کا ادراک عقل نہیں کرتی۔ ان کا ادراک حواس کرتی ہیں۔ ان کا ادراک کون کرتی ہیں؟ یہ حواس کرتی ہیں۔ تو اگر معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ یہ دو فائدے ہیں بھئی معلوم کی بجائے معقول کا لفظ لانے کے۔ پھر اس کے بعد اپ کو میں نے حَوَاسِّ خَمْسَہ بَاطِنَہ کا بیان شروع کیا تھا۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ اصل مُدْرِک نَفْس ہے۔ اور اس نفس کو اللہ نے مختلف قسم کی قوتیں دی ہیں جن کے ذریعے وہ چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ اس نفس کو اللہ نے عقل دی ہے۔ عقل کے ذریعے یہ نفس کیا کرتا ہے؟ ادراک کرتا ہے چیزوں کا۔ لیکن عقل صرف کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے۔ اور جُزْئِيَّات، زید، عمرو، بکر، خالد، ان کا ادراک عقل نہیں کرتی۔ ان کا ادراک حواس کرتی ہیں۔ تو جُزْئِيَّات کا ادراک حواس کرتی ہیں اور حواس کی دو قسمیں ہیں، حَوَاسِّ ظَاهِرَہ اور حَوَاسِّ بَاطِنَہ۔ حَوَاسِّ ظَاهِرَہ پانچ ہیں، اور وہ اپ جانتے ہیں، کون کون سے؟ ایک ہے دیکھنے کی قوت یعنی قُوَّةُ بَاصِرَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ آنکھوں میں۔ ایک ہے سننے کی طاقت یعنی قُوَّةُ سَامِعَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ کانوں میں۔ ایک ہے سونگھنے کی طاقت یعنی قُوَّةُ شَامَّة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ ناک میں۔ ایک ہے ذائقہ چکھنے کی قوت یعنی قُوَّةُ ذَائِقَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی زبان میں۔ اور ایک ہے چھونے کی قوت یعنی قُوَّةُ لَامِسَة، یہ اللہ نے سارے بدن میں پھیلائی ہوئی ہے۔ تو یہ پانچ قوتیں اللہ نے دی ہیں۔ ان کے ذریعے مختلف چیزوں کا ہم ادراک کرتے ہیں۔ آنکھوں کے ذریعے دیکھی جانے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ کانوں کے ذریعے سنی جانے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ ناک کے ذریعے سونگھی جانے والی خوشبو وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ زبان کے ذریعے مختلف ذائقوں کا علم ہوتا ہے۔ اور چھونے کی قوت کے ذریعے گرم، سرد، نرم، سخت ان چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ تو یہ حَوَاسِّ خَمْسَہ ظَاهِرَہ ہیں جو اپ کو نظر بھی اتی ہیں یہ ساری چیزیں۔ اور پانچ حَوَاس بَاطِنَہ ہیں، جو نظر تو نہیں اتے لیکن اندر ہیں۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ دماغ میں تین خانے ہیں۔ ایک مقدم دماغ ہے، دماغ کا اگلا حصہ۔ ایک ہاتھ اپ اپنے سر کے اگلے حصے پر رکھیں، یہ دماغ کا اگلا حصہ یہ اس کے نیچے جو ایا یہ ہے مقدم دماغ۔ ہاتھ کو درمیان سر میں اوپر رکھیں، یہ یہاں کیا ہے؟ مُتَوَسِّط دماغ ہے۔ اور ہاتھ کو پچھلی گدی کی جانب اپنے سر پر رکھیں تو یہ کیا ہے؟ مُؤَخَّر دماغ ہے۔ تو یہ تین خانے ہیں دماغ کے۔ اور اس میں پانچ قوتیں اللہ نے رکھی ہیں حَوَاسِّ خَمْسَہ بَاطِنَہ۔ ان کے نام میں نے لکھوائے تھے کیا؟ حِسِّ مُشْتَرَک۔ اور خَیَال۔ اور وَهْم۔ اور حَافِظَہ۔ اور قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ صاد کے ساتھ، قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ پانچ حواس ہیں بھئی پانچ حواس۔ انسان ان کا بیان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، اللہ نے کیا کیا چیزیں بنائی ہیں، کیسی قوتیں بنائی ہیں کہ اس کو سمجھنے کے لیے بھی کتنا دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے پھر جا کر کچھ سمجھ میں اتی ہیں چیزیں۔ تو یہ جو پہلا خانہ ہے دماغ کا مقدم راس، اس میں اللہ نے دو قوتیں رکھی ہیں حِسِّ مُشْتَرَک اور خَیَال۔ اور یہ جو درمیانی خانہ ہے اس میں اللہ نے ایک قوت رکھی ہے وَهْم۔ اور پچھلے خانے میں ایک قوت رکھی ہے حَافِظَہ۔ اور پورے دماغ میں پھیلی ہوئی ہے کون سی قوت؟ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ تو یہ پانچ حَوَاس بَاطِنَہ ہیں۔ تو یہ جو پہلا خانہ ہے، دماغ کا مقدم راس، اس میں اللہ نے قوة حِسِّ مُشْتَرَک رکھی ہے۔ یہ حِسِّ مُشْتَرَک اللہ نے یہ قوت رکھی ہے۔ یہ قوت یہ امور محسوسہ کا ادراک کرتی ہے۔ توجہ ہے؟ اب سمجھ لینا اچھی طرح۔ یہ کس کا ادراک کرتی ہے؟ امور محسوسہ کا۔ امور محسوسہ کا۔ وہ چیزیں جو محسوس ہوتی ہیں۔ کون سی محسوس؟ بھئی وہ جو حَوَاسِّ خَمْسَہ ظَاهِرَہ آنکھیں، کان، ناک، زبان اور پورے جسم میں جو قوة لَامِسَہ وہ جو پانچ قوتیں ہیں وہ معلومات اکٹھی کرتی ہیں یا نہیں کرتیں؟ جو جو چیزیں آپ کو نظر اتی ہیں ساری خبریں دماغ کو جا رہی ہیں۔ انکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں دماغ میں بات پہنچ رہی ہیں۔ کان جو کچھ سن رہے ہیں وہ خبریں دماغ میں پہنچ رہی ہیں۔ زبان جو ذائقہ چکھتی ہے وہ دماغ میں وہ خبر پہنچ رہی ہے۔ اور اسی طرح ناک جو بو سونگھتی ہے خوشبو ہو اچھی ہو بری ہو وہ دماغ میں خبر پہنچ رہی ہے۔ جسم کے کسی حصے پر چیونٹی بھی چل رہی ہو خبر دماغ میں پہنچتی ہے فورا۔ یہ خبریں کہاں پہنچتی ہیں؟ یہ حِسِّ مُشْتَرَک میں پہنچتی ہیں۔ جیسے حکومت نے پورے شہر میں مختلف جاسوس پھیلائے ہوئے ہوں۔ ایک جاسوس فلاں علاقے کی خبر لاتا ہے، ایک فلاں علاقے کی، ایک فلاں علاقے کی، ساری خبریں لا کر کہاں پہنچاتے ہیں؟ دفتر کے اندر۔ تو وہ مرکزی دفتر یہاں پر کون ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک ہے۔ انکھوں نے جو کچھ دیکھا حِسِّ مُشْتَرَک کو جا کر خبر پہنچا دی کہ اس وقت بادل ائے ہوئے ہیں، بارش ہونے والی ہے۔ سمجھ میں ایا؟ دل خوش ہو گیا دیکھا یہ دماغ تک ذہن تک خبر پہنچی۔ کہ اب تو بارش ہونے والی ہے اچھا اور خوبصورت موسم ہے۔ تو انکھوں نے جو دیکھا یہ بات کہاں پہنچائی؟ حِسِّ مُشْتَرَک۔ کہاں پر ہے حِسِّ مُشْتَرَک؟ مقدم دماغ، دماغ کے اگلے حصے میں۔ اچھا، کانوں نے جو کچھ سنا وہ خبر کہاں پہنچائی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں کہ یہ یہ سبق ہوا یا یہ باتیں ہم نے سنی یا زید اس طرح کی باتیں کر رہا تھا بکر یہ کہہ رہا تھا خالد یہ کہہ رہا تھا۔ یہ ساری خبریں کہاں پہنچیں؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ زبان نے کوئی چیز کھائی اس کا ذائقہ چکھا کہ یہ اس چیز کا ذائقہ تو ایسا ہوتا ہے، یہ خبر کہاں پہنچی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ ناک نے جو خوشبو وغیرہ سونگھی خبر کہاں پہنچی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ جسم پر کوئی چیونٹی بھی چل رہی ہو دیکھو اپ کو پتہ بھی نہیں ہوتا اللہ نے کیسا جاسوسی کا نظام بنایا ہے، علم کیسے اکٹھا ہوتا ہے؟ حکومت کے مختلف شعبے جیسے مختلف جگہوں سے خبریں اکٹھی کرتے ہیں اپ بیٹھے ہوتے ہیں اچانک محسوس ہوتا ہے کہ اپ کے پاؤں پر کوئی چیونٹی رینگ رہی ہے، اپ کی اس طرف نظر بھی نہیں ہوتی لیکن وہ جاسوسی کا نظام اللہ نے ایسا بنایا ہے وہ فورا خبر پہنچاتا ہے کہ بھئی جسم کے فلاں حصے پر کچھ حرکت ہو رہی ہے اور اپ فورا اس طرف دیکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے اور کیا ہے۔ تو وہ قوة لَامِسَہ بھی یہ خبر کہاں پہنچاتی ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یوں سمجھو حِسِّ مُشْتَرَک مرکز ہے جہاں یہ ساری خبریں ارہی ہیں، یا یوں سمجھو حِسِّ مُشْتَرَک ایک تالاب ہے جس میں پانچ نہریں ا کر گر رہی ہیں ان ساروں کا پانی کہاں اتا ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں، یہ پانچ قسم کی معلومات جمع ہوتی ہیں کس میں حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یاد رکھو یہ حَوَاسِّ خَمْسَہ ظَاهِرَہ کی خبریں ہیں۔ یہ خبریں کون لا رہے ہیں؟ حَوَاسِّ خَمْسَہ ظَاهِرَہ۔ تو یہ جو حواس ہیں نا حواس تو ان کے ذریعے جس جس چیز کا پتہ چلے ان کو محسوس کہتے ہیں۔ یہ جو کچھ ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ کیا ہے؟ محسوس۔ جو ہمیں سنائی دیتا ہے وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ جو ہمیں چکھتے ہیں وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ تو یہ محسوسات ہیں سارے۔ ان ساری چیزوں کو کیا کہتے ہیں؟ محسوسات۔ جو انکھوں سے ہم دیکھتے ہیں وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ جو کانوں سے ہم اوازیں سنتے ہیں اوازیں بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ یہ ذائقے بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ ان کو ہم محسوس کرتے ہیں مختلف حواس کے ذریعے۔ یہ خوشبوئیں بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ یہ سب چیزیں اپ محسوس کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو ان کو محسوسات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ یا یوں کہہ دو اُمُورِ مَحْسُوسَہ۔ تو یہ اُمُورِ مَحْسُوسَہ کی ساری خبریں کہاں اتی ہیں؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یہ معنی تھا جو میں نے بتلایا کہ حِسِّ مُشْتَرَک یہ قوت اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک کرتی ہے۔ یہ ادراک تو کرتی ہے یہ جانتی تو ہے، اور حِسِّ مُشْتَرَک کو سب پتہ ہے کہ انکھوں نے یہ دیکھا کانوں نے یہ سنا لیکن جب تک اپ اس چیز کو دیکھ رہے ہیں یہ خبر حِسِّ مُشْتَرَک میں موجود ہے۔ لیکن جیسے ہی اپ نے انکھیں بند کیں، تو جو چیزیں اپ نے دیکھی تھیں ان کی صورتیں اب حِسِّ مُشْتَرَک میں نہیں۔ یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ حِسِّ مُشْتَرَک یہ قوت اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک کرتی ہے، یہ ادراک تو کرتی ہے یہ جانتی تو ہے، لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ جب تک وہ چیزیں اپ کے سامنے ہیں وہ خبریں حِسِّ مُشْتَرَک میں پہنچ رہی ہیں جیسے ہی اپ نے انکھیں بند کر لیں تو جو چیزیں اپ نے دیکھی تھیں ان کی صورتیں اب حِسِّ مُشْتَرَک میں نہیں، یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ تو وہ صورتیں کہاں چلی گئیں؟ وہ صورتیں اسی کے ساتھ ایک اور خانہ ہے خیال۔ وہ صورتیں وہاں جا کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ تو بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ ایک قوت ہے حِسِّ مُشْتَرَک اور ایک قوت ہے خیال۔ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان محسوسات کو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان محسوسات کو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان محسوسات کو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جیسے بادشاہ کا ایک وزیر ہو جو بادشاہ کی طرف سے دیکھتا ہے کہ کون ارہا ہے، کون جا رہا ہے، سب خبریں اس کے پاس اتی ہیں لیکن وہ ان کو یاد نہیں رکھ سکتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اس نے ایک منشی رکھا ہوا ہے جو ان ساری خبروں کو لکھتا جاتا ہے اور اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ تو جو وزیر ہے وہ تو کیا ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک، جو سب کچھ جانتا ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ اور جو منشی ہے وہ کیا ہے؟ خَیَال، جو ان خبروں کو جانتا نہیں لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ تو حِسِّ مُشْتَرَک کیا کرتی ہے؟ اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک کرتی ہے، لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تو حِسِّ مُشْتَرَک اور خیال، یہ دونوں کہاں پر ہیں؟ مقدم دماغ میں۔ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک کرتی ہے امور محسوسہ کا اور خیال ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ پھر ایک خانہ ہے دماغ کا درمیانی حصہ۔ اس میں اللہ نے قوتِ وَهْم رکھی ہے۔ کون سی قوت رکھی ہے؟ وَهْم۔ یہ وَهْم یہ جو قوت ہے، یہ بھی ادراک کرتی ہے۔ یہ بھی کیا کرتی ہے؟ ادراک۔ لیکن یہ محسوسات کا ادراک نہیں کرتی، ان چیزوں کا ادراک نہیں کرتی جو نظر ائیں یا جو سنی جائیں یا جن کو چکھا جائے ان کا ادراک نہیں کرتی۔ بلکہ یہ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے۔ کس کا ادراک کرتی ہے؟ مَعَانِي۔ مَعَانِي کا۔ مَعَانِي کیا ہیں؟ مَعَانِي ان کو کہتے ہیں جو نظر نہ ائیں۔ جو نظر نہ ائیں۔ تو یہ وَهْم جو ہے یہ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے۔ جیسے محبت، دشمنی، دوستی، بغض، یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ مَعَانِي۔ یہ مَعَانِي ہیں۔ یہ نظر نہیں اتے لیکن ان کا ادراک ہوتا ہے۔ تو یہ مَعَانِي کا ادراک کون کرتی ہے؟ قوتِ وَهْم۔ یہ درمیانی دماغ میں اللہ نے رکھی ہے۔ یہ ادراک تو کرتی ہے لیکن یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ یہ ادراک تو کرتی ہے لیکن یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ تو وہ صورتیں کہاں چلی گئیں؟ وہ صورتیں اسی کے ساتھ ایک اور خانہ ہے حَافِظَہ۔ وہ صورتیں وہاں جا کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ تو بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ ایک قوت ہے وَهْم اور ایک قوت ہے حَافِظَہ۔ وَهْم ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان مَعَانِي کو، ان مَعَانِي کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ وَهْم ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان مَعَانِي کو، ان مَعَانِي کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ یہ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ وَهْم ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان مَعَانِي کو، ان مَعَانِي کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جیسے بادشاہ کا ایک وزیر ہو جو بادشاہ کی طرف سے دیکھتا ہے کہ کون ارہا ہے، کون جا رہا ہے، سب خبریں اس کے پاس اتی ہیں لیکن وہ ان کو یاد نہیں رکھ سکتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اس نے ایک منشی رکھا ہوا ہے جو ان ساری خبروں کو لکھتا جاتا ہے اور اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ تو جو وزیر ہے وہ تو کیا ہے؟ وَهْم، جو سب کچھ جانتا ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ اور جو منشی ہے وہ کیا ہے؟ حَافِظَہ، جو ان خبروں کو جانتا نہیں لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ تو وَهْم کیا کرتی ہے؟ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے، لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تو وَهْم اور حَافِظَہ، یہ دونوں کہاں پر ہیں؟ درمیانی دماغ میں۔ وَهْم ادراک کرتی ہے مَعَانِي کا اور حَافِظَہ ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ تو کتنی قوتیں ہو گئیں؟ چار۔ حِسِّ مُشْتَرَک اور خیال، یہ دونوں مقدم دماغ میں ہیں۔ حِسِّ مُشْتَرَک امور محسوسہ کا ادراک کرتی ہے اور خیال ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ اور وَهْم اور حَافِظَہ، یہ دونوں درمیانی دماغ میں ہیں۔ وَهْم مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے اور حَافِظَہ ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ اور پانچویں قوت ہے قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ پورے دماغ میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ تصرف کیسے کرتی ہے؟ تصرف کا معنی ہے ان میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تصرف کا کیا معنی؟ تبدیلی پیدا کرنا۔ یعنی ان میں کچھ جوڑ توڑ کرتی ہے، کچھ تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تصرف کا معنی ہے ان میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تصرف کا کیا معنی؟ تبدیلی پیدا کرنا۔ یعنی ان میں کچھ جوڑ توڑ کرتی ہے، کچھ تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ کبھی ایک صورت کو دوسری صورت کے ساتھ ملا دیتی ہے، کبھی ایک صورت کو دوسری صورت سے جدا کر دیتی ہے۔ تو یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ تصرف کیسے کرتی ہے؟ تصرف کا معنی ہے ان میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ تصرف کا کیا معنی؟ تبدیلی پیدا کرنا۔ یعنی ان میں کچھ جوڑ توڑ کرتی ہے، کچھ تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ کبھی ایک صورت کو دوسری صورت کے ساتھ ملا دیتی ہے، کبھی ایک صورت کو دوسری صورت سے جدا کر دیتی ہے۔ تو یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام ہے۔ تو یہ پانچ حواس باطنہ ہیں۔ حِسِّ مُشْتَرَک، خَیَال، وَهْم، حَافِظَہ اور قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ پانچ حواس باطنہ ہیں۔ اور حَوَاسِّ خَمْسَہ ظَاهِرَہ بھی پانچ ہیں، انکھیں، کان، ناک، زبان اور پورے جسم میں جو قوة لَامِسَہ ہے۔ تو یہ کل دس حواس ہو گئے۔ ان کے ذریعے انسان ادراک کرتا ہے چیزوں کا۔ یہ ساری معلومات اکٹھی ہوتی ہیں دماغ میں، اور پھر عقل ان معلومات کی مدد سے کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے، کُلِّيَّات کا۔ تو یہ جو نظر و فکر ہے، نظر و فکر میں کس کی مدد لی جاتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ نظر و فکر میں کس کی مدد لی جاتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو یہ معلوم کا لفظ چھوڑ کر معقول کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ کیونکہ معقول میں کُلِّيَّات داخل ہیں، اور نظر و فکر میں بھی کُلِّيَّات ہی کی مدد لی جاتی ہے۔ اور اگر معلوم کا لفظ استعمال کرتے تو معلوم میں تو جُزْئِيَّات بھی داخل ہیں، اور نظر و فکر میں جُزْئِيَّات کی مدد نہیں لی جاتی۔ تو معلوم کا لفظ چھوڑ کر معقول کا لفظ استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ کہ مشترک لفظ سے بچ گئے مصنف نے مشترک لفظ سے بچنے کے لیے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معلوم کا لفظ چھوڑ دیا کیونکہ وہ کیا تھا مشترک تھا۔ دو معنوں میں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ فِکْر جو ہے، نظر و فکر یہ صِرف کُلِّيَّات میں جاری ہوتی ہے۔ جُزْئِيَّات میں جاری نہیں ہوتی۔ اور اگر ہم معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ یہ دو فائدے ہیں بھئی معلوم کی بجائے معقول کا لفظ لانے کے۔ چلیے کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ پھر اگے پڑھیں گے۔ +++ وَمِنْهَا التَّنْبِيهُ عَلَى أَنَّ الْفِكْرَ إِنَّمَا يَجْرِي فِي الْمَعْقُولَاتِ أَيِ الْأُمُورِ الْكُلِّيَّةِ الْحَاصِلَةِ فِي الْعَقْلِ دُونَ الْأُمُورِ الْجُزْئِيَّةِ فَإِنَّ الْجُزْئِيَّ لَا يَكُونُ كَاسِبًا وَلَا مُكْتَسَبًا. وَمِنْهَا رِعَايَةُ السَّجْعِ، قَوْلُهُ فِيهِ الْخَطَأُ بِدَلِيلِ أَنَّ الْفِكْرَ قَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَتِيجَةٍ كَحُدُوثِ الْعَالَمِ وَقَدْ يَنْتَهِي إِلَى نَقِيضِهَا كَقِدَمِ الْعَالَمِ فَأَحَدُ الْفِكْرَيْنِ خَطَأٌ حِينَئِذٍ لَا مَحَالَةَ وَإِلَّا لَزِمَ اجْتِمَاعُ النَّقِيضَيْنِ. گزشتہ سبق میں نظر و فکر کی تعریف آپ نے پڑھی اور پھر حَوَاسِّ خَمْسَة بَاطِنَة کا بیان چل رہا تھا بھئی۔ آئیے پہلے اس سبق کا پھر ذرا خلاصہ سن لیجیے تاکہ ساری باتیں آپ کے ذہن میں تازہ ہو جائیں اور اگر کوئی بات سمجھ میں نہیں آئی تو خوب اچھی طرح سمجھ میں آ جائے اور واضح ہو جائے بھئی۔ کل آپ نے متن میں پڑھا تھا وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ کہ نظر و فکر جو ہے وہ مَعْقُول کا ملاحظہ کرنا مجہول کو حاصل کرنے کے لیے، اسے نظر و فکر کہتے ہیں۔ بھئی آپ نے پڑھا تھا کل کہ ہمارا علم دو قسم پر ہے یا وہ تصور ہوگا یا تصدیق، جتنی بھی آپ کی معلومات ہیں یا وہ تصور ہوں گی یا تصدیق۔ اور یہ بات تو بچہ بچہ جانتا ہے کہ ہمیں ہر چیز کا علم نہیں، کچھ چیزوں کا ہمیں علم ہے، کچھ چیزوں کو ہمیں جاننا پڑتا ہے۔ پھر آپ نے پڑھا کہ جن چیزوں کا ہمیں علم نہیں یعنی جو ہمارے لیے نامعلوم ہیں یا یوں کہیں وہ چیزیں جو ہمارے لیے مجہول ہیں ان کو معلوم چیزوں کے ذریعے جانا جاتا ہے۔ جیسے مثلاً آپ قرآن پڑھتے ہیں تو شروع میں آپ کو قاعدہ پڑھایا جاتا ہے، الف، با، تا، ثا ایک ایک حرف کی پہچان کروائی جاتی ہے، پھر ان حروف کو پہچان لیا آپ نے، اب انہی حروف کو جوڑ کے ساتھ بتلایا جاتا ہے۔ ایک دوسرے کے ساتھ جڑے ہوئے لکھے ہوتے ہیں مثلاً س، ل، ا، اور م، سَلَامٌ تو دیکھو وہی سین ہے جو پہلے آپ نے حُرُوفِ تَهَجِّي میں پڑھا تھا، وہی لام ہے جو پہلے آپ نے حُرُوفِ تَهَجِّي میں پڑھا تھا، وہی الف ہے جو آپ نے کہاں پڑھا تھا حُرُوفِ تَهَجِّي میں۔ تو ایک چیز جو آپ کو معلوم ہو چکی تھی، آپ اس کو جان گئے تھے اس کے ذریعے اب آگے مزید حروف آپ کو جڑے ہوئے کیسے لکھے جاتے ہیں وہ بتلائے جاتے ہیں۔ پھر اس کے بعد انہی حروف پر مختلف قسم کی حرکتیں زبر، زیر، پیش وغیرہ کیسے پڑھی جاتی ہے وہ بتلائی جاتی ہے اور پھر اس طرح قرآن کی آیتیں کیسے پڑھیں گے وہ پھر آپ کو سکھایا جاتا ہے۔ تو دیکھا ایک ایک چیز سیکھتے ہیں اور پھر اس سیکھی ہوئی چیز کے ذریعے آگے آپ کو مجہول چیزوں کا علم ہوتا چلا جاتا ہے بتلایا جاتا ہے آپ کو۔ تو معلوم ہوا کہ مجہول چیز کو ہمیشہ کس کے ذریعے حاصل کرتے ہیں؟ معلوم چیز کے ذریعے۔ اب یہ مجہول چیز تصور بھی ہو سکتا ہے اور تصدیق بھی کیونکہ ہمارا علم تو یہی دو قسم پر ہے یا تصور ہے یا تصدیق، تیسری کوئی صورت نہیں۔ تو جو بھی مجہول چیز آپ حاصل کرنا چاہیں گے یا وہ تصور کی قبیل سے ہوگا یا تصدیق۔ تو اب یاد رکھیے میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تصور کو تصور کے ذریعے حاصل کرتے ہیں اور تصدیق کو تصدیق کے ذریعے حاصل کرتے ہیں۔ آپ تصورِ مجہول حاصل کرنا چاہتے ہیں تو دو یا تین معلوم تصوروں کو ملائیں گے اور وہ معلوم تصور آپ کو کہاں تک پہنچا دیں گے؟ مجہول تصور تک بھئی۔ اور میں نے بتلایا تھا آپ کو یہ جو معلوم تصور ہیں جنہوں نے کہاں تک پہنچایا؟ مجہول تصور تک، تو یہ جو معلوم تصور ہیں ان کو کہیں گے تَعْرِيف اور مُعَرِّف، عَرَّفَ يُعَرِّفُ تَعْرِيف کا کیا معنی ہے؟ پہچان کروانا اور مُعَرِّف پہچان کروانے والا۔ آپ پڑھتے ہیں یا نہیں جگہ جگہ اس کی یہ تعریف ہے اس کی یہ تعریف ہے، تو وہ یہ کچھ معلوم تصور ہوتے ہیں جن کو جمع کیا جاتا ہے اور پھر وہ آگے مجہول تصور آپ کو اس کی مدد سے حاصل ہو جاتا ہے۔ تو یہ جو معلوم تصور ہیں ان کو کیا کہتے ہیں؟ تَعْرِيف اور مُعَرِّف اور وہ جو مجہول تصور آپ کو حاصل ہوا اس کو کیا کہتے ہیں؟ مُعَرَّف کہتے ہیں بھئی مُعَرَّف۔ جیسے حَيَوَان اور نَاطِق کو ملایا تو پھر آپ کو کیا حاصل ہوا؟ انسان کی حقیقت کا پتہ چلا۔ تو حَيَوَان اور نَاطِق یہ کیا ہیں؟ تَعْرِيف اور انسان کیا ہوا؟ مُعَرَّف ہوا۔ حَيَوَان اور نَاطِق کیا ہیں؟ تَعْرِيف اور مُعَرِّف اور انسان کیا ہوا؟ مُعَرَّف۔ اسی طرح تصدیق کے اندر بھی ہے، دو یا تین معلوم تصدیقوں کو ملایا تو انہوں نے آپ کو کہاں تک پہنچا دیا؟ مجہول تصدیق تک۔ مثلاً آپ کے سامنے ایک جملہ لکھا ہوا ہے ضَرَبَ زَيْدٌ۔ اب یہ زید فاعل ہے اس پر کون سا اعراب پڑھنا ہے آپ کو علم نہیں ابھی تو آپ کیا کرتے ہیں؟ دلیل بناتے ہیں، دو تین تصدیقیں جو آپ کو معلوم ہیں ان کو جوڑتے ہیں۔ آپ کو اتنا پتہ چل گیا کہ یہ زید کیا ہے؟ فاعل۔ دوسری بات آپ کو یہ بھی معلوم ہے کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا کہ یہاں لفظ زید بھی کیا ہے؟ مرفوع۔ تو دلیل کیسے بنائیں گے؟ زید فاعل ہے اور ہر فاعل مرفوع ہوتا ہے نتیجہ کیا نکلا کہ زید بھی مرفوع ہے تو ضَرَبَ زَيْدٌ، دیکھا پھر آپ نے اس پر رفع پڑھ دیا۔ اسی طرح جیسے دوسری مثال زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے، نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے۔ تو دیکھو یہ جو تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہوئی یہ غور و فکر کے ساتھ ہوئی یا بغیر غور و فکر کے؟ غور و فکر کی، دلیل بنائی باقاعدہ پھر جا کے آپ کو حاصل ہوئی۔ تو یہ ہے تصدیقِ نظری جو کس کی مدد سے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر سے، دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملایا تو ایک تیسری تصدیق حاصل ہو گئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیقِ نظری کیونکہ وہ کس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر کے ذریعے۔ تو یہ جو معلوم چیزوں کو آپ ملاتے ہیں اور کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجہول چیز کو۔ یہ معلوم چیزوں کو ملا کر ترتیب دے کر مجہول چیز تک پہنچنا یہ منطق میں نظر و فکر کہلاتا ہے۔ تین نام ہیں اس کے نظر، فکر اور کَسْب۔ تو میں نے بتلایا تھا کہ قَدِيم مَنَاطِقَة اور مُتَأَخِّرِين میں اختلاف ہے۔ قَدِيم مَنَاطِقَة کے نزدیک نظر و فکر میں دو چیزیں ہوتی ہیں ایک انتخاب کرنا، کون کون سے تصور چاہئیں یا کون کون سی تصدیق چاہئیں اور پھر دوسرا کام کیا ہے؟ ان کو ترتیب دینا۔ تو یہ انتخاب اور یہ ترتیب اس کا نام ان کے نزدیک نظر و فکر ہے جبکہ متأخرینِ منطقہ کے نزدیک صرف ترتیب دینے جو ہے، ترتیب دینا جو ہے اس کو نظر و فکر کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ دیکھا یہ ہے نظر و فکر، نظر و فکر کسے کہتے ہیں؟ معلوم چیزوں کو ترتیب دے کر مجہول چیز کو حاصل کرنا۔ یہ کیا ہے نظر اور فکر۔ یہ جو آپ نے کہا کہ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے نتیجہ کیا نکلا؟ زید بڑا منطقی ہے تو یہ نظر و فکر ہے۔ دیکھا یہ تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہو گئی۔ یا آپ نے حیوان اور ناطق کو ملایا تو کیا حاصل ہوا؟ انسان تو یہ کیا ہے؟ نظر اور فکر ہے۔ اسی سے آپ کو تصورِ بَدِيهِي اور نظری اس کا بھی پتہ چل گیا۔ تصورِ نظری کون سا تصور ہوگا؟ جو نظر کے ذریعے حاصل ہو۔ کس کے ذریعے؟ یعنی دو معلوم تصوروں کو ملایا تو آپ کو کیا حاصل ہوا؟ مجہول تصور، یہ مجہول تصور یہ ہے تصورِ نظری، کس سے حاصل ہو رہا ہے؟ نظر اور فکر سے۔ اسی طرح تصدیق میں بھی آپ نے پڑھا ایک بَدِيهِي ہے اور ایک نظری، تو تصدیقِ نظری اب آپ کو سمجھ میں آ گئی تصدیقِ نظری کسے کہتے ہیں جو نظر اور فکر سے حاصل ہو۔ مثلاً آپ نے کہا زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے نتیجہ کیا آیا؟ زید بڑا منطقی ہے تو دیکھو یہ جو تیسری تصدیق آپ کو حاصل ہوئی یہ غور و فکر کے ساتھ ہوئی یا بغیر غور و فکر کے؟ غور و فکر کی، دلیل بنائی باقاعدہ پھر جا کے آپ کو حاصل ہوئی، تو یہ ہے تصدیقِ نظری جو کس کی مدد سے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر سے۔ دو یا زیادہ معلوم تصدیقوں کو ملایا تو ایک تیسری تصدیق حاصل ہو گئی اس کو کیا کہتے ہیں؟ تصدیقِ نظری کیونکہ وہ کس کے ذریعے حاصل ہوئی ہے؟ نظر اور فکر کے ذریعے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تصورِ بَدِيهِي کسے کہیں گے جو بغیر نظر و فکر کے یعنی بغیر غور و فکر کے ہمیں حاصل ہو جائے اور تصورِ نظری کسے کہیں گے جو نظر اور فکر کے ذریعے ہمیں حاصل ہو، پہلے ہمیں اس کا علم نہیں تھا۔ اور اسی طرح تصدیقِ بَدِيهِي اور تصدیقِ ضروری وہ تصدیق ہے جس کا ہمیں پہلے سے علم ہے، بغیر غور و فکر کے اور تصدیقِ نظری کسے کہیں گے جو نظر کے بعد ہمیں حاصل ہو یعنی غور و فکر کے بعد۔ اب تصورِ نظری سمجھ میں آیا اور تصدیقِ نظری بھئی؟ وہ جو نظر کے بعد ہمیں حاصل ہوتے ہیں بھئی، نظر کے بعد۔ اس کے بعد انہوں نے آپ کو شرح کے اندر، وَهُوَ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، ملاحظہ کا معنی بتلایا۔ نہیں، پہلے انہوں نے آپ کو بتلایا کہ هُوَ ضمیر کس کو راجع ہے؟ نظر کو راجع ہے۔ اور یہ نظر کی تعریف کر رہے ہیں کہ مُلَاحَظَةُ الْمَعْقُولِ لِتَحْصِيلِ الْمَجْهُولِ، اور ملاحظہ کا کیا معنی تھا؟ نفس کا متوجہ ہونا۔ نفس کا ایک چیز کی طرف متوجہ ہونا۔ اور مَعْقُول کا لفظ استعمال کیا بھئی۔ مَعْقُول کا کیا معنی تھا؟ وہ چیز جس کی صورت عقل میں حاصل ہو۔ مَضْرُوب جس پر ضرب لگے، مَأْكُول جس کو کھایا جائے، مَشْرُوب جس کو پیا جائے تو مَعْقُول، لفظ سے ہی پتہ چل رہا ہے عقل سے ہے، مَعْقُول وہ صورت جو عقل میں حاصل ہو وہ کیا ہے؟ مَعْقُول ہے۔ پھر اس پر اشکال ہوا تھا کہ بھئی عام مصنفین جو ہیں وہ تو لفظ مَعْلُوم استعمال کرتے ہیں کہ معلوم کے ذریعے کس کو حاصل کرنا؟ مجہول کو۔ انہوں نے مَعْقُول بولا کہ مَعْقُول کے ذریعے کس کو حاصل کرنا؟ مجہول کو۔ تو انہوں نے مَعْلُوم کا لفظ کیوں چھوڑ دیا؟ معلوم کا لفظ انہوں نے کیوں چھوڑ دیا اور مَعْقُول کا لفظ کیوں اختیار کیا؟ تو اس کے انہوں نے بتلایا آپ کو کہ اس کے کئی فائدے ہیں بھئی۔ ایک فائدہ یہ کہ معلوم کا لفظ مشترک ہے۔ اور تعریف کے اندر مشترک لفظ کا لانا پسندیدہ نہیں، کیونکہ مشترک کے تو ایک سے زیادہ معانی آتے ہیں، تو سننے والے کو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کون سا معنی کا یہاں ارادہ کیا جا رہا ہے۔ مثلاً عَيْن کا لفظ ہے، عَيْن کا لفظ سونے کو بھی کہتے ہیں، عَيْن سورج کو بھی کہتے ہیں، عَيْن گھٹنے کو بھی کہتے ہیں، عَيْن جاسوس کو بھی کہتے ہیں، اب اگر آپ اپنی عبارت میں عَيْن کا لفظ لائیں گے، کسی چیز کی تعریف کر رہے ہیں، تو سننے والے کو تو پتہ ہی نہیں چلے گا کہ کون سا معنی اس کا مراد ہے۔ تو لہٰذا تعریف کے اندر مشترک لفظ کا لانا پسندیدہ نہیں، تعریف بالکل واضح ہونی چاہیے اس میں کسی قسم کا اشتباہ نہیں ہونا چاہیے۔ تو معلوم کا لفظ مشترک ہے۔ معلوم، معلوم کے ذریعے ہر وہ چیز جو آپ کو معلوم ہے اس کو بھی کہتے ہیں، چاہے وہ تصور ہو، چاہے وہ تصدیق۔ تو معلوم کا ایک معنی ایسا ہے جس میں تصور بھی داخل اور ہمارا علم کتنی قسم کا؟ جو بھی ہمیں معلوم ہے وہ یا تصور ہوگا یا تصدیق، تو دیکھو معلوم کا لفظ تصور پر بھی بولا جا رہا ہے اور تصدیق پر دونوں شامل ہیں اس کے اندر۔ یہ ایک معنی ہے معلوم کا۔ جو بھی معلوم ہے آپ کو اس سے قطع نظر کہ وہ تصور ہے یا تصدیق، بس جس چیز کی بھی صورت حاصل ہوئی عقل میں وہ کیا ہے؟ معلوم۔ تو معلوم کا ایک معنی ایسا ہے جس میں تصور اور تصدیق دونوں داخل ہیں۔ اور معلوم کا ایک معنی کیا ہے؟ تصدیق کی ایک قسم جو ہے، یقین، اس کو بھی معلوم کہتے ہیں۔ تصدیق کی چار قسمیں میں نے بیان کی تھیں، ایک ظَنّ، ایک تَقْلِيد، ایک يَقِين اور ایک جَهْلِ مُرَكَّب۔ ظَنّ وہ تصدیق ہے جس میں آپ ایک چیز کا اعتقاد کر لیتے ہیں مان لیتے ہیں لیکن جانبِ مخالف کا بھی تھوڑا بہت خیال ہوتا ہے۔ تقلید کے اندر آپ ایک بات کو مان لیتے ہیں، جانبِ مخالف کا خیال اس میں نہیں ہوتا لیکن یہ علم اتنا پکا نہیں ہوتا کوئی تشکیکِ مُشَکِّک سے زائل بھی ہو جاتا ہے۔ کوئی آ کر دوسری دلیل وغیرہ یا کچھ باتیں کرے گا تو یہ علم کیا ہو جائے گا آپ کا؟ ختم کیونکہ آپ کو یقین نہیں۔ اور یقین وہ علم ہے جو جَازِم ہو، پکا ہو، تشکیکِ مُشَکِّک سے زائل نہ ہو، اور واقع کے بھی مطابق ہو، جیسے اللہ ایک ہے، محمد ﷺ اللہ کے آخری پیغمبر ہیں، قیامت قائم ہوگی، جنت موجود ہے، جہنم موجود ہے، دیکھو اب یہ کوئی دلائل بھی دے کر آپ کے ذہن سے نکالنے کی کوشش کرے نہیں نکال سکتا بھئی۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ یقین۔ اور یقین واقع کے مطابق ہوتا ہے، جبکہ جہلِ مرکب جو ہے وہ واقع کے مطابق نہیں ہوگی۔ جیسے کفار کے عقائد، جیسے کفار کے عقائد ہیں اب وہ واقع کے مطابق تو نہیں، کوئی اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے کسی چیز کو، کوئی اللہ کے وجود کا انکار کرتا ہے، کوئی کچھ کرتا ہے، لیکن یہ سارے عقائد واقع کے مطابق تو نہیں، لیکن ان کو اس پر اتنا پکا یقین اعتماد ہے کہ آپ ہزار دلائل دیں وہ تسلیم کرتے ہی نہیں، الا یہ کہ اللہ کسی کو ہدایت دے دیں۔ تو صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ تسلیم کرتے ہی نہیں، تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ تصدیق کی کون سی قسم ہے؟ جہلِ مرکب ہے۔ تو یہ جو تصدیق کی چار قسمیں ہوئیں ظَنّ، تَقْلِيد، يَقِين اور جَهْلِ مُرَكَّب، اس میں سے جو یقین ہے اس کو بھی معلوم کہہ دیتے ہیں۔ اس پر بھی معلوم کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یا یوں کہو، معلوم کا لفظ تصدیق پر بولا جاتا ہے۔ کس پر؟ تصدیق۔ تو معلوم کا ایک معنی کیا تھا؟ اس میں تصور اور تصدیق دونوں داخل تھے اور معلوم کا دوسرا معنی کیا ہے؟ کہ صرف اس میں کون داخل ہے؟ تصدیق۔ اور نظر و فکر میں ہمیں دونوں چیزیں چاہیے یا ایک؟ نظر و فکر میں تصور اور تصدیق دونوں کو شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ بھئی نظر و فکر میں مجہول تصور کو بھی حاصل کرنا ہے یا نہیں اور مجہول تصدیق کو بھی حاصل کرنا ہے یا نہیں؟ اور مجہول تصور کو کس سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصوروں سے۔ اور مجہول تصدیق کو کس سے حاصل کریں گے؟ معلوم تصدیقوں سے۔ تو معلوم ہوا نظر و فکر میں تو معلوم تصوروں کی بھی مدد لی جاتی ہے اور معلوم تصدیقوں کی۔ تو دونوں شامل ہونے چاہیے۔ ایسی تعریف کرو۔ اور اگر ہم معلوم کا لفظ بولیں، معلوم کا ایک معنی تو ٹھیک ہے اس میں تصور اور تصدیق دونوں مراد ہیں، لیکن معلوم کا ایک معنی کیا ہے؟ صرف تصدیق۔ تو دیکھا اب سننے والا پریشان ہوگا پتہ نہیں کون سا معنی مراد ہے۔ تصور اور تصدیق دونوں مراد ہیں یا صرف تصدیق مراد ہیں۔ اور چاہیے تو ہمیں دونوں۔ تو لہٰذا اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ استعمال کیا؟ مَعْقُول کا لفظ استعمال کیا۔ مَعْقُول جو عقل میں صورت حاصل ہو اب وہ تو عام ہے۔ چاہے تصور ہو چاہے تصدیق ہو دونوں اس میں داخل ہو گئے بھئی، دونوں۔ تو ایک فائدہ تو یہ ہوا۔ معلوم کے بجائے مَعْقُول لفظ استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ کہ مشترک لفظ سے بچ گئے مصنف نے مشترک لفظ سے بچنے کے لیے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معلوم کا لفظ چھوڑ دیا کیونکہ وہ کیا تھا مشترک تھا۔ دو معنوں میں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ فِکْر جو ہے، نظر و فکر یہ صِرف کُلِّيَّات میں جاری ہوتی ہے۔ جُزْئِيَّات میں جاری نہیں ہوتی۔ یہ جو دو معلوم چیزوں کو ملایا اور کس کو حاصل کیا؟ مجہول کو۔ یاد رکھیے، ان کا کُلِّي ہونا ضروری ہے۔ ایک ہوتا ہے کُلِّي، ایک ہے جُزْئِي۔ کُلِّي کسے کہتے ہیں؟ جو کثیرین پر صادق آئے، کثیرین پر بولا جائے۔ اور جُزْئِي کسے کہتے ہیں؟ جو کثیرین پر نہ بولا جائے۔ جیسے زید، دیکھو زید صرف ایک شخص زید پر بولا جاتا ہے، خالد صرف ایک شخص خالد پر بولا جاتا ہے۔ اور کُلِّي وہ ہے جو کثیرین پر بولی جائے، جیسے انسان۔ زید، عمرو، بکر، خالد، دیکھو سب پر بولا جاتا ہے انسان کا لفظ۔ کتاب، یہ آپ کے سامنے بھی کتاب، ساتھی کے آپ کے ساتھی کے پاس جو ہے یہ بھی کتاب، دوسرے ساتھی کے پاس یہ بھی کیا ہے؟ کتاب، دیکھو یہ کُلِّي ہے۔ یہ کیا ہے؟ کُلِّي۔ لیکن جب میں کہوں یہ کتاب، اب ایک خاص کتاب کی طرف اشارہ ہوا، تو یہ کیا ہے؟ جُزْئِي ہے۔ اس کے اندر تو شرکت نہیں۔ یہ کثیرین پر نہیں صادق آئے گی یہ ایک ہی کتاب پر صادق آئے گی۔ تو کُلِّي اور جُزْئِي کی سمجھ، کُلِّي اور جُزْئِي سمجھ میں آ گئی؟ تو یاد رکھو، یہ جو نظر و فکر ہے نا؟ کچھ معلوم چیزوں کو ملاتے ہیں اور کس کو حاصل کر لیتے ہیں؟ مجہول چیز کو، یہ معلوم چیزوں کا کُلِّي ہونا ضروری ہے۔ کُلِّي کے ذریعے ایک کُلِّي کو حاصل کیا جا سکتا ہے۔ دو یا تین کُلِّيَّات ملائیں گے اور ایک مجہول کُلِّي آپ کو حاصل ہو جائے گی۔ جُزْئِي کے ذریعے کبھی بھی جُزْئِي کو حاصل نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً زید بھی ایک جُزْئِي اور خالد بھی ایک جُزْئِي ہے۔ آپ زید کو تو جانتے ہیں، خالد کو نہیں جانتے، اب زید کی مدد سے آپ خالد کو بھی جان لیں۔ نہیں۔ کبھی بھی نہیں ہو سکتا بھئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ زیادہ سے زیادہ نشانیاں آپ لائیں گے، لیکن وہ نشانیاں کُلِّي ہوں گی۔ اس جیسا ایک آدمی آ جائے اس پہ بھی وہ صادق آئیں گی، دوسرے پہ بھی صادق آئیں گی، تیسرے پر بھی۔ مثلاً آپ خالد کی نشانیاں ذکر کرتے ہیں کہ اس نے نیلے کپڑے پہنے ہوں گے، بھئی نیلے کپڑے والے ایک فرد اور آ گیا وہ بھی اس پر بھی وہ نیلے کپڑوں والا ہے یا نہیں؟ دوسرا آیا وہ بھی کیا ہے نیلے کپڑوں والا، ایک تیسرا آیا وہ بھی کیا ہے نیلے کپڑوں والا، تو دیکھو جو بھی نشانیاں آپ ذکر کریں گے وہ کُلِّي ہوں گی جُزْئِي نہیں۔ تو کُلِّي کے ذریعے کُلِّي کا علم تو حاصل ہوتا ہے، جُزْئِي کے ذریعے جُزْئِي کا علم حاصل نہیں ہوتا۔ تو یہ جو دو تین معلوم چیزیں اپ ملاتے ہیں، ان کا کیا ہونا ضروری ہے؟ کُلِّي۔ اور کُلِّيَّات کا ادراک عقل کرتی ہے۔ عقل کے ذریعے کُلِّيَّات کا ادراک ہوتا ہے۔ جبکہ جُزْئِيَّات کا ادراک حواس کرتی ہیں۔ ان کا ادراک کون کرتی ہیں؟ یہ حواس کرتی ہیں۔ تو اگر معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو معلوم کا لفظ تو عام ہے۔ اس میں کُلِّيَّات بھی داخل اور جُزْئِيَّات بھی۔ اور ہمیں چاہیے کیا؟ صرف کُلِّيَّات تو اگر مصنف یوں کہہ دیتے، مُلَاحَظَةُ الْمَعْلُومِ تو اس میں تو کُلِّي بھی شامل ہے اور جُزْئِي بھی کیونکہ معلوم کا لفظ تو عام ہے، اس میں تو معلوم کُلِّي بھی شامل ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ یہ دو فائدے ہیں بھئی معلوم کی بجائے معقول کا لفظ لانے کے۔ پھر اس کے بعد اپ کو میں نے حَوَاسِّ خَمْسَة بَاطِنَة کا بیان شروع کیا تھا۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ اصل مُدْرِک نَفْس ہے۔ اصل علم حاصل کرنے والا کون ہے؟ نَفْس ہے، ہماری ذات ہماری روح ہے۔ اور یہ جسم کیا ہے اس کے لیے آلہ ہے۔ اور جب یہ روح نکل جاتی ہے تو پیچھے جسم رہ جاتا ہے لیکن وہ کوئی حرکت نہیں کر سکتا کوئی کام نہیں کر سکتا۔ تو علم اور ادراک کا ایک معنی جاننے والا، اور مُدْرِک وہ کون ہے اصل میں نفس ہے۔ اور اس نفس کو اللہ نے مختلف قسم کی قوتیں دی ہیں جن کے ذریعے وہ چیزوں کا علم حاصل کرتا ہے۔ اس نفس کو اللہ نے عقل دی ہے۔ عقل کے ذریعے یہ نفس کیا کرتا ہے؟ ادراک کرتا ہے چیزوں کا۔ لیکن عقل صرف کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے۔ وہ چیزیں جو کُلِّي ہیں، ان کا ادراک کون کرتی ہے؟ عقل۔ اور جُزْئِيَّات، زید، عمرو، بکر، خالد، ان کا ادراک عقل نہیں کرتی۔ ان کا ادراک حواس کرتی ہیں۔ تو جُزْئِيَّات کا ادراک حواس کرتی ہیں اور حواس کی دو قسمیں ہیں، حَوَاسِّ ظَاهِرَة اور حَوَاسِّ بَاطِنَة۔ حَوَاسِّ ظَاهِرَة پانچ ہیں، اور وہ اپ جانتے ہیں، کون کون سے؟ ایک ہے دیکھنے کی قوت یعنی قُوَّةُ بَاصِرَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ آنکھوں میں۔ ایک ہے سننے کی طاقت یعنی قُوَّةُ سَامِعَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ کانوں میں۔ ایک ہے سونگھنے کی طاقت یعنی قُوَّةُ شَامَّة، یہ اللہ نے کہاں رکھی؟ ناک میں۔ ایک ہے ذائقہ چکھنے کی قوت یعنی قُوَّةُ ذَائِقَة، یہ اللہ نے کہاں رکھی زبان میں۔ اور ایک ہے چھونے کی قوت یعنی قُوَّةُ لَامِسَة، یہ اللہ نے سارے بدن میں پھیلائی ہوئی ہے۔ تو یہ پانچ قوتیں اللہ نے دی ہیں۔ ان کے ذریعے مختلف چیزوں کا ہم ادراک کرتے ہیں۔ آنکھوں کے ذریعے دیکھی جانے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ کانوں کے ذریعے سنی جانے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ ناک کے ذریعے سونگھی جانے والی خوشبو وغیرہ کا علم ہوتا ہے۔ زبان کے ذریعے مختلف ذائقوں کا علم ہوتا ہے۔ اور چھونے کی قوت کے ذریعے گرم، سرد، نرم، سخت ان چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ تو یہ حَوَاسِّ خَمْسَة ظَاهِرَة ہیں جو اپ کو نظر بھی اتی ہیں یہ ساری چیزیں۔ اور پانچ حَوَاس بَاطِنَة ہیں، جو نظر تو نہیں اتے لیکن اندر ہیں۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ دماغ میں تین خانے ہیں۔ ایک مقدم دماغ ہے، دماغ کا اگلا حصہ۔ ایک ہاتھ اپ اپنے سر کے اگلے حصے پر رکھیں، یہ دماغ کا اگلا حصہ یہ اس کے نیچے جو ایا یہ ہے مقدم دماغ۔ ہاتھ کو درمیان سر میں اوپر رکھیں، یہ یہاں کیا ہے؟ مُتَوَسِّط دماغ ہے۔ اور ہاتھ کو پچھلی گدی کی جانب اپنے سر پر رکھیں تو یہ کیا ہے؟ مُؤَخَّر دماغ ہے۔ تو یہ تین خانے ہیں دماغ کے۔ اور اس میں پانچ قوتیں اللہ نے رکھی ہیں حَوَاسِّ خَمْسَة بَاطِنَة۔ ان کے نام میں نے لکھوائے تھے کیا؟ حِسِّ مُشْتَرَک۔ اور خَیَال۔ اور وَهْم۔ اور حَافِظَہ۔ اور قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ صاد کے ساتھ، قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ پانچ حواس ہیں بھئی پانچ حواس۔ انسان ان کا بیان پڑھتا ہے، حیران رہ جاتا ہے، اللہ نے کیا کیا چیزیں بنائی ہیں، کیسی قوتیں بنائی ہیں کہ اس کو سمجھنے کے لیے بھی کتنا دماغ خرچ کرنا پڑتا ہے پھر جا کر کچھ سمجھ میں اتی ہیں چیزیں۔ تو یہ جو پہلا خانہ ہے دماغ کا مقدم راس، اس میں اللہ نے دو قوتیں رکھی ہیں حِسِّ مُشْتَرَک اور خَیَال۔ اور یہ جو درمیانی خانہ ہے اس میں اللہ نے ایک قوت رکھی ہے وَهْم۔ اور پچھلے خانے میں ایک قوت رکھی ہے حَافِظَہ۔ اور پورے دماغ میں پھیلی ہوئی ہے کون سی قوت؟ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ تو یہ پانچ حَوَاس بَاطِنَة ہیں۔ تو یہ جو پہلا خانہ ہے، دماغ کا مقدم راس، اس میں اللہ نے قُوَّة حِسِّ مُشْتَرَک رکھی ہے۔ یہ حِسِّ مُشْتَرَک اللہ نے یہ قوت رکھی ہے۔ یہ قوت یہ امور محسوسہ کا ادراک کرتی ہے۔ توجہ ہے؟ اب سمجھ لینا اچھی طرح۔ یہ کس کا ادراک کرتی ہے؟ امور محسوسہ کا۔ امور محسوسہ کا۔ وہ چیزیں جو محسوس ہوتی ہیں۔ کون سی محسوس؟ بھئی وہ جو حَوَاسِّ خَمْسَة ظَاهِرَة آنکھیں، کان، ناک، زبان اور پورے جسم میں جو قُوَّة لَامِسَة وہ جو پانچ قوتیں ہیں وہ معلومات اکٹھی کرتی ہیں یا نہیں کرتیں؟ جو جو چیزیں آپ کو نظر اتی ہیں ساری خبریں دماغ کو جا رہی ہیں۔ انکھیں جو کچھ دیکھ رہی ہیں دماغ میں بات پہنچ رہی ہیں۔ کان جو کچھ سن رہے ہیں وہ خبریں دماغ میں پہنچ رہی ہیں۔ زبان جو ذائقہ چکھتی ہے وہ دماغ میں وہ خبر پہنچ رہی ہے۔ اور اسی طرح ناک جو بو سونگھتی ہے خوشبو ہو اچھی ہو بری ہو وہ دماغ میں خبر پہنچ رہی ہے۔ جسم کے کسی حصے پر چیونٹی بھی چل رہی ہو خبر دماغ میں پہنچتی ہے فورا۔ یہ خبریں کہاں پہنچتی ہیں؟ یہ حِسِّ مُشْتَرَک میں پہنچتی ہیں۔ جیسے حکومت نے پورے شہر میں مختلف جاسوس پھیلائے ہوئے ہوں۔ ایک جاسوس فلاں علاقے کی خبر لاتا ہے، ایک فلاں علاقے کی، ایک فلاں علاقے کی، ساری خبریں لا کر کہاں پہنچاتے ہیں؟ دفتر کے اندر۔ تو وہ مرکزی دفتر یہاں پر کون ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک ہے۔ انکھوں نے جو کچھ دیکھا حِسِّ مُشْتَرَک کو جا کر خبر پہنچا دی کہ اس وقت بادل ائے ہوئے ہیں، بارش ہونے والی ہے۔ سمجھ میں ایا؟ دل خوش ہو گیا دیکھا یہ دماغ تک ذہن تک خبر پہنچی۔ کہ اب تو بارش ہونے والی ہے اچھا اور خوبصورت موسم ہے۔ تو انکھوں نے جو دیکھا یہ بات کہاں پہنچائی؟ حِسِّ مُشْتَرَک۔ کہاں پر ہے حِسِّ مُشْتَرَک؟ مقدم دماغ، دماغ کے اگلے حصے میں۔ اچھا، کانوں نے جو کچھ سنا وہ خبر کہاں پہنچائی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں کہ یہ یہ سبق ہوا یا یہ باتیں ہم نے سنی یا زید اس طرح کی باتیں کر رہا تھا بکر یہ کہہ رہا تھا خالد یہ کہہ رہا تھا۔ یہ ساری خبریں کہاں پہنچیں؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ زبان نے کوئی چیز کھائی اس کا ذائقہ چکھا کہ یہ اس چیز کا ذائقہ تو ایسا ہوتا ہے، یہ خبر کہاں پہنچی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ ناک نے جو خوشبو وغیرہ سونگھی خبر کہاں پہنچی؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ جسم پر کوئی چیونٹی بھی چل رہی ہو دیکھو اپ کو پتہ بھی نہیں ہوتا اللہ نے کیسا جاسوسی کا نظام بنایا ہے، علم کیسے اکٹھا ہوتا ہے؟ حکومت کے مختلف شعبے جیسے مختلف جگہوں سے خبریں اکٹھی کرتے ہیں اپ بیٹھے ہوتے ہیں اچانک محسوس ہوتا ہے کہ اپ کے پاؤں پر کوئی چیونٹی رینگ رہی ہے، اپ کی اس طرف نظر بھی نہیں ہوتی لیکن وہ جاسوسی کا نظام اللہ نے ایسا بنایا ہے وہ فورا خبر پہنچاتا ہے کہ بھئی جسم کے فلاں حصے پر کچھ حرکت ہو رہی ہے اور اپ فورا اس طرف دیکھتے ہیں کہ کیا چیز ہے اور کیا ہے۔ تو وہ قُوَّة لَامِسَة بھی یہ خبر کہاں پہنچاتی ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یوں سمجھو حِسِّ مُشْتَرَک مرکز ہے جہاں یہ ساری خبریں ارہی ہیں، یا یوں سمجھو حِسِّ مُشْتَرَک ایک تالاب ہے جس میں پانچ نہریں ا کر گر رہی ہیں ان ساروں کا پانی کہاں اتا ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں، یہ پانچ قسم کی معلومات جمع ہوتی ہیں کس میں حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یاد رکھو یہ حَوَاسِّ خَمْسَة ظَاهِرَة کی خبریں ہیں۔ یہ خبریں کون لا رہے ہیں؟ حَوَاسِّ خَمْسَة ظَاهِرَة۔ تو یہ جو حواس ہیں نا حواس تو ان کے ذریعے جس جس چیز کا پتہ چلے ان کو محسوس کہتے ہیں۔ یہ جو کچھ ہمیں دکھائی دیتا ہے یہ کیا ہے؟ محسوس۔ جو ہمیں سنائی دیتا ہے وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ جو ہمیں چکھتے ہیں وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ تو یہ محسوسات ہیں سارے۔ ان ساری چیزوں کو کیا کہتے ہیں؟ محسوسات۔ جو انکھوں سے ہم دیکھتے ہیں وہ بھی کیا ہے؟ محسوس۔ جو کانوں سے ہم اوازیں سنتے ہیں اوازیں بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ یہ ذائقے بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ ان کو ہم محسوس کرتے ہیں مختلف حواس کے ذریعے۔ یہ خوشبوئیں بھی کیا ہیں؟ محسوس۔ یہ سب چیزیں اپ محسوس کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ تو ان کو محسوسات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ یا یوں کہہ دو اُمُورِ مَحْسُوسَہ۔ تو یہ اُمُورِ مَحْسُوسَہ کی ساری خبریں کہاں اتی ہیں؟ حِسِّ مُشْتَرَک میں۔ یہ معنی تھا جو میں نے بتلایا کہ حِسِّ مُشْتَرَک یہ قوت اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک کرتی ہے۔ یہ ادراک تو کرتی ہے یہ جانتی تو ہے، اور حِسِّ مُشْتَرَک کو سب پتہ ہے کہ انکھوں نے یہ دیکھا کانوں نے یہ سنا لیکن جب تک اپ اس چیز کو دیکھ رہے ہیں یہ خبر حِسِّ مُشْتَرَک میں موجود ہے۔ لیکن جیسے ہی اپ نے انکھیں بند کیں، تو جو چیزیں اپ نے دیکھی تھیں ان کی صورتیں اب حِسِّ مُشْتَرَک میں نہیں۔ یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان محسوسات کو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جیسے بادشاہ کا ایک وزیر ہو جو بادشاہ کی طرف سے دیکھتا ہے کہ کون ارہا ہے، کون جا رہا ہے، سب خبریں اس کے پاس اتی ہیں لیکن وہ ان کو یاد نہیں رکھ سکتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اس نے ایک منشی رکھا ہوا ہے جو ان ساری خبروں کو لکھتا جاتا ہے اور اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ تو جو وزیر ہے وہ تو کیا ہے؟ حِسِّ مُشْتَرَک، جو سب کچھ جانتا ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ اور جو منشی ہے وہ کیا ہے؟ خَیَال، جو ان خبروں کو جانتا نہیں لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ تو حِسِّ مُشْتَرَک کیا کرتی ہے؟ اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک کرتی ہے، لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور خَیَال یہ وہ قوت ہے جو ان اُمُورِ مَحْسُوسَہ کا ادراک نہیں کرتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تو حِسِّ مُشْتَرَک اور خیال، یہ دونوں کہاں پر ہیں؟ مقدم دماغ میں۔ حِسِّ مُشْتَرَک ادراک کرتی ہے امور محسوسہ کا اور خیال ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ پھر ایک خانہ ہے دماغ کا درمیانی حصہ۔ اس میں اللہ نے قوتِ وَهْم رکھی ہے۔ کون سی قوت رکھی ہے؟ وَهْم۔ یہ وَهْم یہ جو قوت ہے، یہ بھی ادراک کرتی ہے۔ یہ بھی کیا کرتی ہے؟ ادراک۔ لیکن یہ محسوسات کا ادراک نہیں کرتی، ان چیزوں کا ادراک نہیں کرتی جو نظر ائیں یا جو سنی جائیں یا جن کو چکھا جائے ان کا ادراک نہیں کرتی۔ بلکہ یہ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے۔ کس کا ادراک کرتی ہے؟ مَعَانِي۔ مَعَانِي کا۔ مَعَانِي کیا ہیں؟ مَعَانِي ان کو کہتے ہیں جو نظر نہ ائیں۔ جو نظر نہ ائیں۔ تو یہ وَهْم جو ہے یہ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے۔ جیسے محبت، دشمنی، دوستی، بغض، یہ ساری چیزیں کیا ہیں؟ مَعَانِي۔ یہ مَعَانِي ہیں۔ یہ نظر نہیں اتے لیکن ان کا ادراک ہوتا ہے۔ تو یہ مَعَانِي کا ادراک کون کرتی ہے؟ قوتِ وَهْم۔ یہ درمیانی دماغ میں اللہ نے رکھی ہے۔ یہ ادراک تو کرتی ہے لیکن یہ ان کو محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ تو وہ صورتیں کہاں چلی گئیں؟ وہ صورتیں اسی کے ساتھ ایک اور خانہ ہے حَافِظَہ۔ وہ صورتیں وہاں جا کر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ تو بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ ایک قوت ہے وَهْم اور ایک قوت ہے حَافِظَہ۔ وَهْم ادراک تو کرتی ہے، جانتی تو ہے، ان مَعَانِي کو، ان مَعَانِي کا ادراک تو کرتی ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، خود نہیں ان کو جانتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ جیسے بادشاہ کا ایک وزیر ہو جو بادشاہ کی طرف سے دیکھتا ہے کہ کون ارہا ہے، کون جا رہا ہے، سب خبریں اس کے پاس اتی ہیں لیکن وہ ان کو یاد نہیں رکھ سکتا، تو وہ کیا کرتا ہے؟ اس نے ایک منشی رکھا ہوا ہے جو ان ساری خبروں کو لکھتا جاتا ہے اور اپنے پاس محفوظ رکھتا ہے۔ تو جو وزیر ہے وہ تو کیا ہے؟ وَهْم، جو سب کچھ جانتا ہے لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتا۔ اور جو منشی ہے وہ کیا ہے؟ حَافِظَہ، جو ان خبروں کو جانتا نہیں لیکن وہ کیا کرتا ہے؟ ان کو محفوظ رکھتا ہے۔ تو وَهْم کیا کرتی ہے؟ مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے، لیکن محفوظ نہیں رکھ سکتی۔ اور حَافِظَہ یہ وہ قوت ہے جو ان مَعَانِي کا ادراک نہیں کرتی، لیکن ان کو محفوظ رکھ سکتی ہے۔ تو وَهْم اور حَافِظَہ، یہ دونوں کہاں پر ہیں؟ درمیانی دماغ میں۔ وَهْم ادراک کرتی ہے مَعَانِي کا اور حَافِظَہ ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں ا گئی؟ تو کتنی قوتیں ہو گئیں؟ چار۔ حِسِّ مُشْتَرَک اور خیال، یہ دونوں مقدم دماغ میں ہیں۔ حِسِّ مُشْتَرَک امور محسوسہ کا ادراک کرتی ہے اور خیال ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ اور وَهْم اور حَافِظَہ، یہ دونوں درمیانی دماغ میں ہیں۔ وَهْم مَعَانِي کا ادراک کرتی ہے اور حَافِظَہ ان کو کیا رکھتا ہے؟ محفوظ رکھتا ہے۔ اور پانچویں قوت ہے قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ پورے دماغ میں پھیلی ہوئی ہے۔ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام کیا ہے؟ یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ جو ہے، یہ جو صورتیں خیال میں محفوظ ہیں اور وہ جو مَعَانِي حَافِظَہ میں محفوظ ہیں، ان میں تصرف کرتی ہے۔ تصرف کیسے کرتی ہے؟ تصرف کا معنی ہے ان میں تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ یعنی ان میں کچھ جوڑ توڑ کرتی ہے، کچھ تبدیلی پیدا کرتی ہے۔ کبھی ایک صورت کو دوسری صورت کے ساتھ ملا دیتی ہے، کبھی ایک صورت کو دوسری صورت سے جدا کر دیتی ہے۔ تو یہ قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ کا کام ہے۔ تو یہ پانچ حواس باطنہ ہیں۔ حِسِّ مُشْتَرَک، خَیَال، وَهْم، حَافِظَہ اور قُوَّةُ مُتَصَرِّفَہ۔ یہ پانچ حواس باطنہ ہیں۔ اور حَوَاسِّ خَمْسَة ظَاهِرَة بھی پانچ ہیں، انکھیں، کان، ناک، زبان اور پورے جسم میں جو قُوَّة لَامِسَة ہے۔ تو یہ کل دس حواس ہو گئے۔ ان کے ذریعے انسان ادراک کرتا ہے چیزوں کا۔ یہ ساری معلومات اکٹھی ہوتی ہیں دماغ میں، اور پھر عقل ان معلومات کی مدد سے کُلِّيَّات کا ادراک کرتی ہے، کُلِّيَّات کا۔ تو یہ جو نظر و فکر ہے، نظر و فکر میں کس کی مدد لی جاتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو یہ معلوم کا لفظ چھوڑ کر معقول کا لفظ کیوں استعمال کیا؟ کیونکہ معقول میں کُلِّيَّات داخل ہیں، اور نظر و فکر میں بھی کُلِّيَّات ہی کی مدد لی جاتی ہے۔ اور اگر معلوم کا لفظ استعمال کرتے تو معلوم میں تو جُزْئِيَّات بھی داخل ہیں، اور نظر و فکر میں جُزْئِيَّات کی مدد نہیں لی جاتی۔ تو معلوم کا لفظ چھوڑ کر معقول کا لفظ استعمال کرنے کا کیا فائدہ ہوا؟ کہ مشترک لفظ سے بچ گئے مصنف نے مشترک لفظ سے بچنے کے لیے معقول کا لفظ استعمال کیا اور معلوم کا لفظ چھوڑ دیا کیونکہ وہ کیا تھا مشترک تھا۔ دو معنوں میں۔ دوسرا فائدہ یہ کہ فِکْر جو ہے، نظر و فکر یہ صِرف کُلِّيَّات میں جاری ہوتی ہے۔ جُزْئِيَّات میں جاری نہیں ہوتی۔ اور اگر ہم معلوم کا لفظ بولیں، معلوم تو عام ہے۔ اس میں معلوم کُلِّي بھی ہو سکتا ہے اور معلوم جُزْئِي بھی۔ تو ہمیں تو صرف کُلِّيَّات چاہیے کیونکہ نظر و فکر تو کس میں جاری ہوتی ہے صرف کُلِّيَّات میں۔ تو اس لیے مصنف نے معلوم کا لفظ چھوڑ کر کون سا لفظ لائے؟ مَعْقُول کا۔ مَعْقُول یعنی وہ چیز جو عقل میں جس کی صورت حاصل ہو۔ اور عقل میں کس کی صورت حاصل ہوتی ہے؟ کُلِّيَّات کی۔ تو دیکھا؟ مَعْقُول کا لفظ لانے سے اب صرف کون مراد ہوئے؟ کُلِّيَّات مراد ہوئے۔ جُزْئِيَّات خود بخود خارج ہو گئے۔ یہ دو فائدے ہیں بھئی معلوم کی بجائے معقول کا لفظ لانے کے۔ چلیے کل إِنْ شَاءَ اللّٰهُ پھر اگے پڑھیں گے۔
115 approved lectures · 35 of 115