آگے سبق دیکھیے بھئی متن میں دیکھیے۔ وَكَانَ الْقُدَمَاءُ يَذْكُرُونَ فِي صَدْرِ الْكِتَابِ مَا يُسَمُّونَهُ الرُّؤُوسَ الثَّمَانِيَةَ. الْأَوَّلُ الْغَرَضُ لِئَلَّا يَكُونَ طَلَبُهُ عَبَثًا، الثَّانِي الْمَنْفَعَةُ أَيْ مَا يَتَشَوَّقُ إِلَيْهِ الْكُلُّ طَبْعًا لِيَنْبَسِطَ فِي الطَّلَبِ وَيَتَحَمَّلَ الْمَشَقَّةَ، وَالثَّالِثُ التَّسْمِيَةُ وَهِيَ عُنْوَانُ الْعِلْمِ لِيَكُونَ عِنْدَهُ إِجْمَالُ مَا يُفَصِّلُهُ۔ شرح تہذیب کا آخری حصہ خاتمہ ہم پڑھ رہے ہیں۔ اور خاتمے کے اندر ماتن نے آپ کو اجزائے علوم بتلائے کہ علوم کے اجزاء تین چیزیں ہیں۔ موضوعات، مبادی، اور مسائل۔
موضوعات وہ چیزیں ہیں جن کے اعراض ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ اور مبادی جو ہیں کچھ ایسی چیزیں جن پر مسائل کا سمجھنا موقوف ہوتا ہے، یہ تصورات بھی ہو سکتے ہیں اور تصدیقات بھی۔ اس لیے ان مبادی کی بھی دو قسمیں ہو گئیں، کچھ مبادی تصورتیہ ہیں اور کچھ مبادی تصدیقیہ۔ مبادی تصورتیہ کے اندر موضوعات کی تعریف اور اگر وہ مرکب ہوں تو ان کے اجزاء کی تعریف اور ان کے اعراض ذاتیہ کی تعریف۔ اور مبادی تصدیقیہ جو ہیں ان سے اس علم کے جو دلائل ہیں وہ مرکب ہوتے ہیں، وہ بنتے ہیں۔ تو یہ مبادی تصورتیہ اور مبادی تصدیقیہ اس علم کے اندر داخل ہیں۔
اور جبکہ مسائل انہوں نے آپ کو بتلایا کہ کچھ قضایا ہیں کہ جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اس علم کو پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، تو یہ مسائل مقصود بالذات ہوتے ہیں۔ اور ان کے موضوعات بھی خاص ہوتے ہیں اور محمولات بھی خاص۔ ان کے موضوعات یا تو اسی علم کا موضوع ہوگا یا اس کی کوئی نوع ہوگی یا اس کی کوئی عرض ذاتی ہوگی۔ یا اس علم کے موضوع اور اس کی کسی عرض ذاتی سے یہ موضوع مرکب ہوگا یا اس علم کی کسی نوع اور اس کی عرض ذاتی سے یہ موضوع مرکب ہوگا، یہ مسائل کے موضوع۔ اور محمولات جو ہیں وہ ان موضوعات کے اعراض ذاتیہ ہوتے ہیں۔
اور پھر گزشتہ سبق کے آخر میں شارح نے آپ کو بتلایا تھا کہ جو مصنف نے یہ ذکر کیا کہ یہ جو مسائل کے محمولات ہوتے ہیں ان کے موضوعات کے اعراض ذاتیہ ہوتے ہیں۔ اس پر کہتے ہیں استاد محقق دوانی رحمہ اللہ انہوں نے اشکال اور اعتراض کیا ہے کہ بسا اوقات ان کے جو محمولات ہوتے ہیں وہ عوارض عامہ ہوتے ہیں۔ لہذا یہ کہنا کہ ان کے محمولات ہمیشہ ان موضوعات کے اعراض ذاتیہ ہوتے ہیں یہ درست نہیں کیونکہ بسا اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے جو محمولات ہیں وہ عوارض عامہ ہوتے ہیں اور بھی چیزوں میں پائے جاتے ہیں۔ ہاں معتبر یہ ہے، وہ فرماتے ہیں معتبر یہ ہے کہ یہ جو محمولات ہیں مسائل کے اس علم کے موضوع سے زیادہ عام نہیں ہونے چاہیے۔ یعنی اس علم کے موضوع سے زیادہ عام ہوں ان کے محمولات، وہ معتبر نہیں ہیں۔ معتبر کون سے ہیں؟ جو اس علم کے محمولات کے عوارض ذاتیہ ہوں، وہ معتبر ہیں، اعم جو ہیں وہ معتبر نہیں۔
اور اس پر پھر شارح نے اشکال کیا تھا کہ اگر اعم معتبر نہیں ہیں تو اخص بھی معتبر نہیں ہونے چاہیے۔ اس لیے کیونکہ اگر اخص جو ہیں، کچھ محمولات جو ہوتے ہیں وہ اخص ہوتے ہیں۔ تو ان کو تردید کے ذریعے ہم کس کی طرف لوٹا سکتے ہیں؟ عوارض ذاتیہ کی طرف لوٹا سکتے ہیں۔ جیسے کہا جائے الْحَيَوَانُ ضَاحِكٌ، تو ضَاحِكٌ یہ تو خاص ہے، ہر حیوان تو ضاحک نہیں ہے۔ لیکن یہاں اگر تردید کر دی جائے، میں نے بتایا تھا ایک ہے تردید ایک ہے تعیین۔ تعیین جس میں ایک چیز معین ہو اس کے ساتھ حکم لگایا جاتا ہے۔ اور تردید کے اندر دو یا زیادہ چیزوں کے درمیان تردید کر دی جاتی ہے کہ یہ ہے یا یہ ہے۔ مثلاً آپ کہتے ہیں زَيْدٌ عَالِمٌ، تو دیکھو آپ نے تعیین کر دی کہ زید کیا ہے؟ عَالِمٌ ہے۔ اور کبھی تعیین نہیں کی جاتی اس کو تردید کہتے ہیں مثلاً آپ کہتے ہیں زَيْدٌ عَالِمٌ أَوْ شَاعِرٌ أَوْ كَاتِبٌ، زید عالم ہے یا کاتب ہے یا شاعر ہے، تو یہ آپ نے تردید کر دی۔ تو یہ تردید تعیین کے مقابلے میں ہے۔ تعیین میں ایک چیز کو متعین کیا جاتا ہے اور تردید میں متعین نہیں کیا جاتا۔
تو بات چل رہی تھی کہ ان مسائل کے موضوعات جو ہیں کہتے ہیں استاد محقق فرماتے ہیں اگر اعم ہوں تو معتبر نہیں۔ معلوم ہوا اخص ہوں تو معتبر ہیں۔ تو اس پر شارح نے اعتراض کیا تھا کہ اگر اعم معتبر نہیں تو اخص کو بھی معتبر نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر اخص معتبر ہیں تو اعم کو بھی معتبر ہونا چاہیے۔ کیونکہ محمولات عامہ ہوں یا محمولات خاصہ دونوں کا عوارض ذاتیہ کی طرف لوٹایا جا سکتا ہے۔ اگر وہ محمولات عامہ ہیں تو وہاں پر کوئی قید مخصصہ بڑھا کر اس کو عرض ذاتی بنایا جا سکتا ہے۔ جیسے الْإِنْسَانُ مَاشٍ، انسان اپنے پاؤں پر چلنے والا ہے۔ مَشَى يَمْشِي کا کیا معنی؟ اپنے پاؤں پر چلنا۔ الْإِنْسَانُ مَاشٍ، اب یہ مَاشٍ عرض عام ہے، انسان میں بھی پایا جاتا ہے اور حیوانات میں بھی ہے۔ لیکن اسی کے ساتھ کوئی قید مخصصہ لگا دو تو یہ اس کو عرض ذاتی بنا دے گا۔ جیسے مُسْتَقِيمُ الْقَامَةِ، انسان بھی سیدھے کھڑے ہیں، درخت بھی سیدھے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو مَاشٍ بھی عرض عام تھا، مُسْتَقِيمُ الْقَامَةِ بھی عرض عام تھا، لیکن جب دونوں کو ملایا تو یہ کیا بن گئے عرض ذاتی۔ تو یوں کہیں گے الْإِنْسَانُ مَاشٍ مُسْتَقِيمُ الْقَامَةِ، انسان اپنے پاؤں پر چلنے والا ہے، سیدھے قد والا ہے۔ اب یہ دونوں چیزیں تو صرف انسان میں جمع ہیں اور کسی چیز میں جمع نہیں ہیں۔ تو دیکھا، ایک عرض عام تھا اس کے ساتھ ایک خاص قید لگا کر اس کو کیا بنا دیا گیا؟ عرض ذاتی۔
اسی طرح اگر کوئی عرض اخص ہو تو اس کے اندر بھی تردید کے ذریعے اس کو عرض ذاتی بنایا جا سکتا ہے۔ مثلاً میں کہتا ہوں الْحَيَوَانُ ضَاحِكٌ، حیوان کیا ہے؟ ضَاحِكٌ۔ اب ضَاحِكٌ تمام حیوانات تو نہیں ہیں، صرف انسان ہیں۔ باقی حیوانات تو غیر ضاحک ہیں۔ تو یہ ضَاحِكٌ یہ ایسا محمول ہے جو حیوان یعنی موضوع سے اخص ہے۔ اس کے بعض افراد میں ہے بعض میں نہیں ہے۔ ہاں اسی کو تردید کے ذریعے عرض ذاتی بنا سکتے ہیں کہ الْحَيَوَانُ إِمَّا ضَاحِكٌ أَوْ غَيْرُ ضَاحِكٍ، یا ضاحک ہوگا یا غیر ضاحک۔ اب دیکھو یہ عرض ذاتی بن گیا۔ تو لہذا جس طرح عرض اخص کو عرض ذاتی بنایا جا سکتا ہے تردید کے ذریعے، اسی طرح عرض اعم کو بھی قید مخصصہ کے ذریعے عرض ذاتی بنایا جا سکتا ہے۔ تو اگر استاد محقق دوانی کی بات مان لی جائے، یعنی یوں میں نے بتلایا تھا یا اس کو آپ اعتراض بنائیں ہی نہ استاد پر، بلکہ صرف اتنا کہیں کہ استاد نے تو صرف ایک جہت ذکر کی، لیکن دوسری جہت بھی معتبر ہونی چاہیے۔ انہوں نے صرف کیا کہا تھا کہ محمول اگر عرض اعم ہو وہ معتبر نہیں۔ اگر یہ معتبر نہیں ہے تو ہم کہتے ہیں، شارح کہتا ہے، تو پھر ہم کہتے ہیں کہ عرض اخص کو بھی معتبر نہیں ہونا چاہیے۔ اور اگر عرض اخص معتبر ہے تو پھر عرض اعم کو بھی معتبر ہونا چاہیے۔ کیونکہ دونوں چاہے عرض اخص ہو یا اعم ہو ان کو عرض ذاتی کی طرف لوٹایا جا سکتا ہے۔
اب آگے دیکھیے۔ وَكَانَ الْقُدَمَاءُ يَذْكُرُونَ فِي صَدْرِ الْكِتَابِ مَا يُسَمُّونَهُ الرُّؤُوسَ الثَّمَانِيَةَ۔ کہتے ہیں قدماء جو ہیں، قدیم علماء وہ ذکر کرتے تھے کتاب کے آغاز میں، کتاب کے شروع میں وہ چیز جس کو وہ رؤوس ثمانیہ کہتے تھے۔ رؤوس جمع ہے رَأْسٌ کی۔ اور رَأْسٌ سر کو کہتے ہیں سر۔ جیسے بدن انسانی میں سر انتہائی اہم ہے، اس کے بغیر انسان زندہ ہی نہیں رہ سکتا، تو اسی کے ذریعے عربی میں پورے انسان کو بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ انسان کے ایک فرد کے بجائے کیا کہہ دیتے ہیں؟ رَأْسٌ۔ یا مثلاً تین افراد آئے ہیں تو کہہ دیں گے ثَلَاثَةُ رُؤُوسٍ، کتنے افراد ہیں؟ تین افراد ہیں۔ تو رَأْسٌ کے ساتھ پورے انسان کو بھی مراد لے لیتے ہیں۔ اور نیز رَأْسٌ جیسے سر جسم کا، بدن کا اہم ترین حصہ ہے، اسی طرح جو قوم کا سردار ہے اس کو بھی رَأْسُ الْقَوْمِ کہتے ہیں عربی میں۔ تو یہاں بھی رؤوس سے مراد ہیں کچھ اہم اور بنیادی باتیں۔ علوم کے اندر آٹھ اہم اور بنیادی باتیں وہ ذکر کرتے تھے جن کو وہ رؤوس ثمانیہ کہتے تھے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ رُؤُوسُ الثَّمَانِيَةِ۔
تو جیسے رَأْسٌ جو ہے بدن کا اہم حصہ ہے، اس کے بغیر کوئی انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ ہاتھ کٹ جائے زندہ رہ سکتا ہے، پاؤں کٹ جائے زندہ رہ سکتا ہے، لیکن سر کٹ جائے تو انسان زندہ نہیں رہ سکتا۔ تو یہ سر چونکہ بدن کا سب سے اہم جز ہے، حصہ ہے، لہذا اس کے ساتھ پورے بدن کو تعبیر کر دیتے ہیں، رَأْسٌ بول کر پورا انسان مراد لے لیتے ہیں۔ مثلاً آپ کہتے ہیں میرے پاس پانچ افراد آئے تو آپ خَمْسَةُ رُؤُوسٍ کہہ دیتے ہیں، عربی میں اس کو رُؤُوسٍ سے تعبیر کر دیتے ہیں۔ اور اسی طرح سردار جو ہے اس کو بھی رَأْسٌ سے تعبیر کرتے ہیں، سردار چونکہ قوم کا سب سے اہم فرد ہے لہذا اس کو رَأْسُ الْقَوْمِ سے عربی میں تعبیر کرتے ہیں۔ تو یہاں بھی رؤوس کا جو لفظ آیا اس سے مراد ہیں اس علم کی اہم اور بنیادی باتیں۔ تو وہ آٹھ بنیادی باتیں جن کو انہوں نے، جو ان کو وہ درج کرتے تھے تمام علوم کی، تمام کتابوں کی ابتداء میں، ان کو کیا کہتے ہیں؟ رُؤُوسُ الثَّمَانِيَةِ کہتے ہیں، آٹھ بنیادی اور اہم باتیں۔ اور یاد رکھو یہ جو بنیادی اور اہم باتیں ہوتی تھیں یہ اس علم سے خارج ہوتی ہیں۔ علم کے اندر داخل نہیں۔ ہاں ان کو جان لے گا تو علم میں آگے بصیرت حاصل ہو جائے گی، اچھے طریقے سے اس علم کو سمجھے گا، جانے گا، اور قلبی اطمینان ہوگا بھئی اس کو معرفت حاصل ہوگی۔ تو یہ رؤوس ثمانیہ ہیں۔
تو کہتے ہیں وَكَانَ الْقُدَمَاءُ يَذْكُرُونَ فِي صَدْرِ الْكِتَابِ مَا يُسَمُّونَهُ الرُّؤُوسَ الثَّمَانِيَةَ اور قدیم علماء جو ہیں وہ ذکر کرتے تھے اپنی کتابوں کے شروع میں وہ چیز جس کو وہ رؤوس ثمانیہ کہتے تھے۔ تو یہ آٹھ اہم اور بنیادی باتیں یہ رؤوس ثمانیہ ہیں۔ الْأَوَّلُ الْغَرَضُ لِئَلَّا يَكُونَ طَلَبُهُ عَبَثًا، پہلی بات ان میں وہ غرض تھی کہ اس علم کی غرض کیا ہے، مقصد کیا ہے، تاکہ طالب علم کی طلب عبث یعنی بیکار نہ ہو بھئی۔ بیکار نہ ہو۔ کہ مقصد کیا ہے، یہ علم کس لیے اس کو مدون کیا گیا تاکہ اس کی طلب عبث نہ ہو، بیکار نہ ہو، اس علم کو حاصل کرنے کا مقصد کیا ہے۔ وَالثَّانِي الْمَنْفَعَةُ أَيْ مَا يَتَشَوَّقُ إِلَيْهِ الْكُلُّ طَبْعًا، اور دوسری چیز جو ہے اس علم کا نفع ہے، یہ یا تو يَتَشَوَّقُ ہے، اس صورت میں إِلَيْهِ یہاں پر محذوف نکال لیں گے۔ مَا يَتَشَوَّقُ إِلَيْهِ الْكُلُّ طَبْعًا، وہ چیز کہ مشتاق ہوتا ہے اس کی طرف الْكُلُّ، ہر شخص بھئی طَبْعًا طبعی طور پر۔ علم کے فائدے بھئی، جن کی طرف ہر شخص طبعی طور پر مائل ہوتا ہے۔ ہر شخص چاہتا ہے یہ فائدہ حاصل کر لے۔
تو کہتے ہیں الثَّانِي الْمَنْفَعَةُ اس علم کا فائدہ أَيْ مَا يَتَشَوَّقُ إِلَيْهِ الْكُلُّ طَبْعًا یعنی وہ چیز کہ جس کی طرف مشتاق ہو، جس کا شوق ہو، الْكُلُّ ہر ایک کو طَبْعًا طبعی طور پر، لِيَنْبَسِطَ فِي الطَّلَبِ وَيَتَحَمَّلَ الْمَشَقَّةَ تاکہ وہ خوش ہو، اِنْبَسَطَ يَنْبَسِطُ کے معنی ہیں خوش ہونا۔ تاکہ لِيَنْبَسِطَ فِي الطَّلَبِ تاکہ وہ اس علم کی طلب میں خوش ہو۔ وَيَتَحَمَّلَ الْمَشَقَّةَ اور تاکہ وہ اس میں مشقت برداشت کرے۔ جب جب اس علم کا فائدہ پیش نظر ہوگا تو طالب علم کیا کرے گا؟ مشقت بھی برداشت کرے گا اور خوشی خوشی اس علم کو حاصل کرے گا کہ یہ بڑا عظیم اور قیمتی علم ہے اس سے مجھے یہ یہ فوائد حاصل ہوں گے۔ تو دو چیزیں ذکر ہوگئیں، پہلی چیز کیا؟ غرض، تاکہ اس کا علم کی طلب بیکار نہ ہو، اور دوسرا اس علم کا نفع۔ اب آپ پریشان ہوں گے کہ بھئی غرض، وہ مقصد جس کے لیے علم حاصل کیا جائے، اور نفع، یہ دونوں تو ایک ہی جیسے لگتے ہیں۔ جو غرض ہے وہی کیا ہے؟ اس علم کا نفع ہے۔ یاد رکھو، غرض وہ مقصد جس کی خاطر کوئی کام کیا جائے، یعنی کوئی کام شروع کرنے سے پہلے جو آگے نتیجہ آئے گا جس کی خاطر اس فعل کو کیا جا رہا ہے، اس کو غرض کہتے ہیں۔ اور کام ہو جانے کے بعد وہی نتیجہ منفعت اور فائدہ اور غایت کہلائے گا بھئی۔
تو کوئی بھی کام شروع کرنے سے پہلے جو فاعل اس فعل کا، اس فعل کو کرنے والا جو ہے، وہ اس نتیجے کو ذہن میں رکھتا ہے، اس مقصد کو ذہن میں رکھتا ہے کہ یہ کام میں کروں گا تو مجھے یہ فائدہ حاصل ہوگا، تو وہ اس کام کی غرض کہلاتی ہے۔ اور یہی غرض اور یہی نتیجہ جب کام ہو جائے اور حاصل ہو جائے، تو اس کو منفعت اور غایت کہتے ہیں بھئی۔ اس کو منفعت اور غایت کہتے ہیں۔ بلکہ منفعت اور غایت عام ہے بھئی۔ ایک فعل آپ کرتے ہیں کسی خاص مقصد کے لیے، تو وہ اس فعل کی غرض ہے۔ اور اس فعل کے ہو جانے کے بعد، وہی فائدہ، ہو سکتا ہے حاصل ہو، ہو سکتا ہے حاصل نہ ہو۔ تو اگر وہ فائدہ حاصل ہو جائے، تو اب اس کو فائدہ کہیں گے، غایہ کہیں گے۔ اور نیز فائدہ صرف وہی نہیں ہو سکتا، فوائد اور بھی ہو سکتے ہیں۔ جیسے مثلاً آپ چارپائی بناتے ہیں، چارپائی کس لیے بناتے ہیں؟ لیٹنے کے لیے، آرام کرنے کے لیے، لیکن کیا چارپائی پر آرام کرنے ہی کا کام لیا جاتا ہے چارپائی سے؟ یا چارپائی پر بیٹھتے بھی ہیں آپ؟ چارپائی پر بیٹھتے بھی ہیں۔ چارپائی پر کبھی سامان وغیرہ بھی رکھ لیا جاتا ہے، تو فوائد زیادہ ہو سکتے ہیں۔ البتہ فرق یہ ہے، ایک ہے فائدہ، ایک ہے غرض۔ وہ مقصد جو علت ہو، سبب ہو کسی کام کے کرنے کا، وہ اس کی غرض کہلاتا ہے۔ اور جو نتیجہ اس فعل کے ہونے کے بعد مرتب ہو، اس کو اس چیز کا فائدہ کہتے ہیں۔
یاد رکھو، فعل اختیاری کا صدور فاعل سے کسی فائدے کے تصور کے بغیر نہیں ہوتا۔ کوئی نہ کوئی فائدہ ذہن میں رکھ کر کوئی شخص کسی فعل کو کرتا ہے۔ تو یہ فائدہ، بہ ایں لحاظ کہ یہ سبب بنا اس فعل کے کرنے کا، اس کو غرض کہتے ہیں۔ اور فعل کے ہونے کے بعد، یہی چیز جب اس فعل پر مرتب ہو، یہ فائدہ اس فعل سے حاصل ہو، یا اس کے علاوہ کوئی اور فائدہ حاصل ہو، تو ان سب کو فوائد اور منفعتیں اور غایات کہتے ہیں۔ تو آسان لفظوں میں یوں کہو، یہ جو غرض ہوتی ہے، یہ کام کی علت ہوتی ہے، اسی کی وجہ سے وہ کام کیا جاتا ہے۔ اور فائدہ جو ہے، وہ عام ہے، ہو سکتا ہے جس مقصد کے لیے فعل کیا گیا تھا، وہی اس کا فائدہ ہو۔ اور ہو سکتا ہے اس کے فوائد اور بھی زیادہ ہوں۔ اور نیز کسی فعل کے بعد، جس مقصد کے لیے وہ کام کیا جائے، اس کا حاصل ہونا ضروری نہیں ہے۔
فرق سمجھ میں آیا؟ آپ کوئی علم حاصل کرنے لگے، آپ کا جو مقصد ہے وہ علم حاصل کرنے سے پہلے، اس کو غرض کہیں گے۔ علم حاصل کرنے سے پہلے وہ کیا کہلائے گا؟ غرض۔ اور علم حاصل کرنے کے بعد جب وہ آپ کو حاصل ہوگا تو وہی نتیجہ اب غایہ اور فائدہ کہلائے گا۔ اچھا، دیکھیے بھئی، اِعْلَمْ أَنَّ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْفِعْلِ إِنْ كَانَ بَاعِثًا لِلْفَاعِلِ عَلَى صُدُورِ ذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ يُسَمَّى غَرَضًا وَعِلَّةً غَائِيَّةً۔ جی، یہاں علت غائی کا تذکرہ آیا بھئی۔ جی پہلے یہ کچھ دو تین چیزیں لکھ لیجیے بھئی، یہ آپ کو ہر جگہ کام آئیں گی۔ لکھئے بھئی، فلاسفہ لکھتے ہیں، کہ ہر مصنوع شے کے لیے چار علتوں کا وجود لازم ہے۔ نمبر ایک، علت مادی، یعنی مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْقُوَّةِ۔ جیسے مٹی گھڑے کے لیے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْقُوَّةِ، وہ چیز جس کے ذریعے کوئی شے بالقوہ ہوتی ہے۔ بھئی یہ مٹی ہے تو یہ گھڑا بنے گا، مٹی نہیں تو گھڑا بھی نہیں بن سکتا۔ تو علت مادی سے یوں کہیں ایک چیز کا مٹیریل، جس سے وہ چیز تیار ہوتی ہے۔ وہ چیز ہے تو وہ چیز اس سے بن سکے گی، اگر وہ مٹیریل ہی نہیں ہے تو وہ چیز ہی نہیں بن سکتی۔ یہ جو مٹیریل ہوتا ہے اس کے ذریعے کوئی شے بالقوہ ہوتی ہے، یعنی اس کے ذریعے آپ وہ چیز بنا سکتے ہیں، اگر یہ ہوگی تو وہ چیز بھی بن سکے گی ورنہ نہیں۔ تو علت مادی کو کیا کہتے ہیں؟ مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْقُوَّةِ، یہ عربی الفاظ میں لکھوا رہا ہوں، یہ آپ نے یاد کرنے ہیں بھئی، یہ آپ کو کام آئیں گے ہر جگہ۔ اور آسان لفظ، آسان۔ نمبر دو، علت صوری، ص کے ساتھ ہے، مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْفِعْلِ، یعنی وہ شکل و صورت جس سے بالفعل کوئی شے متحقق ہوتی ہے۔
دیکھو، یہ جو صورت ہے، مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْفِعْلِ، جس کے ذریعے کوئی شے بالفعل ہوتی ہے، یعنی وہ اس کی صورت ہے۔ گلاس ہے، گلاس کی صورت ہے تو گلاس کا وجود ہے، گلاس کی صورت نہیں تو گلاس کا وجود بھی نہیں ہے۔ تو صورت جو ہے اس کو علت صوری کہتے ہیں، اس کے ذریعے کوئی شے بالفعل ہوتی ہے۔ اور نمبر تین ہے علت فاعلی، مَا بِهِ وُجُودُ الشَّيْءِ فِي الْوَاقِعِ وَالْخَارِجِ، یعنی وہ صانع جو کسی شے کو خارج میں وجود دے۔ نمبر چار ہے علت غائی، مَا لِأَجْلِهِ صُنِعَ الشَّيْءُ، یعنی وہ مقصد جس کے لیے کوئی چیز بنائی جائے۔ جیسے گھڑے میں پانی جمع کرنا اور محفوظ رکھنا۔ لکھ لیا؟ بحث مکمل ہوئی بھئی۔
اس کو سمجھ لیں بھئی، فلاسفہ فرماتے ہیں کہ ہر مصنوع شے، یعنی جس کے بنانے میں انسان کا عمل دخل ہو۔ اس کے لیے چار علتوں کا ہونا ضروری ہے۔ ایک علت مادی ہے، ایک علت صوری ہے، ایک علت فاعلی ہے اور ایک علت غائی ہے بھئی، علت غائی۔ علت مادی وہ مادہ جس سے وہ چیز تیار کی جائے۔ أَيْ مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْقُوَّةِ، جس کی وجہ سے شے بالقوہ ہوتی ہے۔ وہ مٹیریل ہے تو وہ چیز بن سکے گی ورنہ نہیں بن سکتی۔ جیسے مٹی ہے گھڑے کے لیے، گھڑا کس سے تیار کیا جاتا ہے مٹی سے۔ دوسری چیز ہے علت صوری بھئی، مَا بِهِ الشَّيْءُ بِالْفِعْلِ، جس کے ذریعے کوئی شے بالفعل ہوتی ہے۔ جیسے گھڑے کی صورت، گھڑے کی یہ صورت ہے تو گھڑا ہے، گھڑے کی صورت نہیں تو گھڑا بھی نہیں ہے بھئی، تو یہ اس کے ذریعے کوئی شے بالفعل ہوتی ہے۔ اور تیسری ہے علت فاعلی بھئی، علت فاعلی وہ ہے، جس پر موقوف ہے اس شے کا وجود خارجی، کیا تعریف کی؟ مَا بِهِ وُجُودُ الشَّيْءِ فِي الْوَاقِعِ وَالْخَارِجِ، جس کی وجہ سے کسی شے کا وجود ہوتا ہے واقع میں اور خارج میں، یعنی اس کا وہ بنانے والا۔ جیسے گھڑے کو بنانے والا ہے کمہار بھئی۔ تو کمہار جو ہے وہ اس گھڑے کے لیے، اس مٹکے کے لیے، وہ علت فاعلی ہے۔ اور چوتھی چیز ہے علت غائی بھئی، علت غائی وہ مقصد جس کے لیے اس چیز کو بنایا جائے۔ مَا لِأَجْلِهِ صُنِعَ الشَّيْءُ، جس کی وجہ سے شے کو بنایا جائے۔ جیسے گھڑا بنایا گیا مقصد کیا تھا؟ پانی کو جمع کرنے اور محفوظ کرنے کے لیے۔ تو یہ چار علتیں ہر مصنوع چیز میں ضروری ہیں۔ کوئی بھی چیز آپ دیکھیں اس میں چاروں علتیں ضرور ہوں گی۔ کوئی نہ کوئی اس کا مٹیریل ہوگا، کوئی اس کی صورت ہوگی، کوئی اس کو بنانے والا ہوگا، اور کوئی اس کے بنانے کا مقصد ہوگا۔ تو یہ چاروں علتیں اس میں موجود ہوں گی۔ اب دیکھیے کتاب پر۔
کہتے ہیں اِعْلَمْ أَنَّ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْفِعْلِ تو جان لے کہ وہ چیز جو مرتب ہوتی ہے فعل پر، إِنْ كَانَ بَاعِثًا لِلْفَاعِلِ عَلَى صُدُورِ ذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ اگر وہ باعث تھی، ابھارنے والی تھی فاعل کو، عَلَى صُدُورِ ذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ اس فعل کے صادر ہونے پر، مِنْهُ فاعل سے، اپنے سے، اگر وہ جو فعل پر مرتب ہوتا ہے یعنی جو نتیجہ فعل پر مرتب ہوتا ہے، اگر وہ نتیجہ فاعل کو ابھارنے والا تھا اس بات پر کہ اس فعل کا صدور ہو فاعل سے، اس فعل کو کرے، تو يُسَمَّى غَرَضًا وَعِلَّةً غَائِيَّةً تو اس کو غرض اور علت غائی کہتے ہیں۔ معلوم ہوا غرض جو ہے وہ علت غائی ہوتی ہے۔ اور اسی کی وجہ سے وہ کام کیا جاتا ہے۔ وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو يُسَمَّى فَائِدَةً وَمَنْفَعَةً وَغَايَةً اور اگر ایسا نہ ہو یعنی وہ نتیجہ جو تھا وہ فاعل کو اس کام پر ابھارنے والا نہیں تھا، تو اس کو فائدہ منفعت اور غایہ کہتے ہیں۔ وَقَالُوا اور علماء فرماتے ہیں أَفْعَالُ اللّٰهِ تَعَالَى لَا تُعَلَّلُ بِالْأَغْرَاضِ کہ اللہ تعالی کے افعال معلل بالاغراض نہیں ہوتے، وَإِنِ اشْتَمَلَتْ عَلَى غَايَاتٍ وَمَنَافِعَ لَا تُحْصَى اگرچہ وہ مشتمل ہوتے ہیں ایسی غایات اور نفعوں پر لَا تُحْصَى جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں اِعْلَمْ أَنَّ مَا يَتَرَتَّبُ عَلَى الْفِعْلِ جان لے تو کہ وہ نتیجہ جو مرتب ہوتا ہے فعل پر إِنْ كَانَ بَاعِثًا لِلْفَاعِلِ اگر وہ نتیجہ فاعل کو ابھارنے والا تھا عَلَى صُدُورِ ذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ اس بات پر کہ اس فعل کا صدور ہو فاعل سے تو يُسَمَّى غَرَضًا وَعِلَّةً غَائِيَّةً تو اس کو غرض اور علت غائی کہتے ہیں۔ معلوم ہوا غرض جو ہے وہ علت غائی ہوتی ہے۔ اور اسی کی وجہ سے وہ کام کیا جاتا ہے۔ وَإِلَّا يُسَمَّى فَائِدَةً وَمَنْفَعَةً وَغَايَةً اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر اس کو فائدہ، منفعت اور غایہ کہتے ہیں۔ وَقَالُوا أَفْعَالُ اللّٰهِ تَعَالَى لَا يُعَلَّلُ بِالْأَغْرَاضِ اور علماء فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی کے افعال معلل بالاغراض نہیں ہوتے وَإِنِ اشْتَمَلَتْ عَلَى غَايَاتٍ وَمَنَافِعَ لَا تُحْصَى اگرچہ وہ مشتمل ہوتے ہیں ایسی غایات اور نفعوں پر جن کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔
تو گویا کہ مصنف کی مقصود یہ ہے کہ قدماء جو ہیں یعنی قدیم علماء، وہ ذکر کیا کرتے تھے اپنی کتابوں کے شروع میں وہ چیز جو سبب تھا ابھارنے والا مدون اول کو اس علم کی تدوین پر۔ پھر اس کے پیچھے وہ لاتے تھے وہ چیز جس پر وہ مشتمل ہوتا ہے منافع اور مصلحتوں میں سے، جن کی طرف عموم طبائع مائل ہوتی ہیں، اگرچہ اس علم کے لیے کوئی منفعت اور مصلحت ہو سوائے اس غرض کے جو ابھارنے والی تھی واضع اول کو۔ یہاں سے بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ غرض اور نفع، غرض جس نے پہلی مرتبہ ایک علم کی تدوین کی اس کا کوئی مقصد تھا۔ اور بعد والوں کے لیے وہ اس علم کو حاصل کرتے ہیں ان کے منافع کی وجہ سے۔ واضع اول کے لیے اس علم پر ابھارنے والی چیز تھی وہ تھی غرض۔ اور بعد والوں کے لیے کیا ہے؟ اس علم کے منافع ہیں۔
ایک چیز کو دوسری چیز کے پیچھے لانا، تو پہلے یہ ذکر کرتے تھے کہ اس مدوِّنِ اول نے کیوں اس علم کی تدوین کی، کیوں اس کو جمع کیا، وہ سبب کیا تھا، کس چیز نے اس کو اس بات پر ابھارا اور اس کے پیچھے پھر یہ بتاتے تھے کہ اس علم کے فائدے کیا ہیں۔ جس کی طرف طبیعتیں مائل ہوں تاکہ طلباء علماء اس کی طرف رجوع کریں اس کو سیکھیں بھئی۔
ثُمَّ يُعَقِّبُونَهُ پھر اس کے پیچھے وہ لاتے تھے بِمَا ایسی چیز کو يَشْتَمِلُ عَلَيْهِ جو اس پر مشتمل تھی مِنْ مَنْفَعَةٍ وَمَصْلَحَةٍ یعنی ایسا نفع اور ایسی مصلحت يَمِيلُ إِلَيْهَا عُمُومُ الطَّبَائِعِ جس کی طرف مائل ہوتی ہیں عام طبیعتیں۔ یعنی ایسا نفع جس کی طرف عام لوگوں کی طبیعتیں مائل ہوتی ہیں، مثلاً اپ نحو کا نفع پڑھتے ہیں کہ ہم علم نحو کو سیکھ لیں گے تو ہم عربی عبارت اچھی طرح پڑھ سکیں گے، نیز ہمیں قرآن و حدیث کا صحیح معنی سمجھ میں آئے گا تو یہ دیکھو یہ اس علم کے منافع ہیں جس کی طرف عام لوگوں کی عام طلباء کی طبیعتیں مائل ہوتی ہیں بھئی۔ اور اس کا شوق پیدا ہوتا ہے۔
يَمِيلُ إِلَيْهَا عُمُومُ الطَّبَائِعِ جن کی طرف عام طبیعتیں مائل ہوتی ہیں، إِنْ كَانَتْ لِهَذَا الْعِلْمِ مَنْفَعَةٌ وَمَصْلَحَةٌ اگر اس علم کا کوئی نفع اور اس کی کوئی مصلحت یعنی بھلائی ہو، سِوَى الْغَرَضِ الْبَاعِثِ لِلْوَاضِعِ الْأَوَّلِ علاوہ اس غرض کے جو باعث تھی جو ابھارنے والی تھی واضعِ اول کو۔ واضعِ اول کو جس غرض اور جس مقصد نے ابھارا تھا اس کے علاوہ بھی اس علم کے اگر کوئی منافع ہوں گے تو لوگوں کی طبیعتیں اس کی طرف مائل ہوں گی اور اس سے وہ فائدہ حاصل کرنے کے لیے اسے سیکھیں گے بھئی۔
وَقَدْ عَرَفْتَ فِي صَدْرِ الْكِتَابِ أَنَّ الْغَرَضَ مِنْ عِلْمِ الْمَنْطِقِ هِيَ الْعِصْمَةُ فَتَذَكَّرْ اور تحقیق یہ بات اپ جان چکے ہیں کتاب کے آغاز میں کہ علم منطق کی غرض جو ہے ہِيَ الْعِصْمَةُ عصمت ہے حفاظت ہے کہ نظر و فکر میں انسان غلطی سے محفوظ رہے فَتَذَكَّرْ تو اس کو اپ یاد رکھنا بھئی۔ اس بات کو یاد رکھنا، ہر علم کے اندر اٹھ چیزیں ذکر کیا کرتے تھے قدماء اور ماتن نے بھی کیا کیا، کتاب کے آغاز میں اس علم کی غرض ذکر کر دی اور یہ فائدہ بھی اس کا یہی ہے بھئی۔
اب آئیے متن پر۔
وَالثَّالِثُ التَّسْمِيَةُ اور तीसरी چیز جو ہے تسمیہ ہے وَهِيَ عُنْوَانُ الْعِلْمِ اور یہ اس علم کا عنوان ہے لِيَكُونَ عِنْدَهُ إِجْمَالُ مَا يُفَصِّلُهُ تاکہ اس طالب علم کے پاس اجمال ہو ما اس چیز کا يُفَصِّلُهُ جس کی وہ علم تفصیل بیان کرتا ہے۔ تاکہ طالب علم کے پاس وہ علم جس چیز کی تفصیل بیان کرتا ہے اس کا اجمالی علم ہو۔ ایک ہوتا ہے اجمال، ایک ہے تفصیل۔ اجمال اور تفصیل ایک دوسرے کے مخالف ہیں۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں میرے پاس چار آدمی آئے، دیکھا میں نے اجمالی طور پر ذکر کر دیا، کچھ اپ کو پتہ چلا کون کون آئے تھے؟ نہیں، ہاں اتنا پتہ چل گیا کہ چار آدمی آئے تھے۔ اور اس کے بجائے ایک میں یوں کہتا ہوں، میرے پاس زید، عمرو، بکر اور خالد آئے تھے، یہ ہے تفصیل بھئی، ایک ایک فرد کے بارے میں میں نے اپ کو بتا دیا۔ تو اجمال میں تفصیل نہیں ہوتی یعنی اس میں ایک ایک فرد ایک ایک چیز کا ذکر نہیں ہوتا، اس میں اجمالاً ساروں کو اکٹھا ذکر کر دیا جاتا ہے۔ اور تفصیل کے اندر پھر ایک ایک فرد کے بارے میں وضاحت آ جاتی ہے کہ کون کون آیا تھا۔ تو میرے پاس چار آدمی آئے تھے، یہ کیا ہے؟ اجمال۔ اور میرے پاس زید، عمرو، بکر اور خالد آئے تھے، یہ کیا ہے؟ تفصیل۔ تو علم کا نام جب اپ کو معلوم ہوگا تو اپ کو اجمالی طور پر پتہ چل جائے گا یعنی یوں کہو وجہِ تسمیہ۔ اپ کو بتائیں گے علم کے نام سے مراد وجہِ تسمیہ ہے۔ کیا مراد ہے؟ کہ اس علم کو یہ نام کیوں دیا گیا۔ اس علم کو یہ نام کیوں دیا گیا؟ منطق کو منطق کیوں کہتے ہیں؟ صرف منطق میں نے کہا تو کیا اپ کو پتہ چلا اس علم میں کیا باتیں آئیں گی؟ نہیں۔ لیکن جب میں اپ کو منطق کی وجہِ تسمیہ بتاؤں گا، منطق کو منطق کیوں کہتے ہیں تو پھر اپ کو بھی اندازہ ہوگا اچھا معلوم ہوا اس علم کی یہ نام اس لیے دیا گیا، معلوم ہوا اس علم میں اس طرح کی باتیں آئیں گی بھئی۔ تو صرف نام سے نہیں پتہ چلتا کہ اس علم میں کیا ہے، اپ کو شارح بتائیں گے نام سے اشارہ ہے وجہِ تسمیہ کی طرف کہ یہ نام کیوں دیا گیا، اس کو منطق کیوں کہتے ہیں؟ صرف منطق بتاؤ پھر طالب علم کو کچھ پتہ نہیں، لیکن منطق کیوں کہتے ہیں اب یہ وجہ جب بتاؤ گے تفصیل آ جائے گی تو وہاں اس کو کچھ نہ کچھ اندازہ ہو جائے گا کہ آگے کس قسم کے مسائل آنے والے ہیں۔ تو تسمیہ سے نام مراد ہے یا وجہِ تسمیہ مراد ہے؟ وجہِ تسمیہ مراد ہے۔ جیسے دیکھو ایک مضمون ہے، ایک لمبا مضمون ہوتا ہے اس کے عنوان سے اپ کو مضمون کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کوئی کتاب ہوتی ہے، کتاب کے نام سے اپ کو کتاب کے کچھ نہ کچھ اس کے اندر کیا بحثیں ہیں ان کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جب اپ کو علم کے نام کا پتہ ہوگا اور یہ پتہ ہوگا اس کو یہ نام کیوں دیا گیا تو اس علم کی ابحاث بھی اجمالی طور پر اپ کے ذہن میں آ جائیں گی۔
تو کہتے ہیں وَالثَّالِثُ التَّسْمِيَةُ اور تیسری چیز تسمیہ ہے وَهِيَ عُنْوَانُ الْعِلْمِ اور یہ اس علم کا عنوان ہے لِيَكُونَ عِنْدَهُ تاکہ اس علم کو سیکھنے والے کے پاس إِجْمَالُ مَا يُفَصِّلُهُ اجمال ہو ما اس چیز کا يُفَصِّلُهُ جس کی وہ علم تفصیل بیان کرتا ہے۔ یعنی اس علم میں جس چیز کی تفصیل ہے اس کا اجمالی علم ہو طالب علم کے پاس۔
اب آئیے شرح پر۔
قَوْلُهُ وَالثَّالِثُ التَّسْمِيَةُ
التَّسْمِيَةُ الْعَلَامَةُ میری کتاب میں یوں ہے، لیکن درست عبارت یوں ہے جو اور نسخوں میں ہے: السِّمَةُ الْعَلَامَةُ۔ السِّمَةُ الْعَلَامَةُ تو یہ جو دوسرا تسمیہ ہے شرح میں، یہاں السِّمَةُ ہونا چاہیے۔ السِّمَةُ الْعَلَامَةُ کہتے ہیں سمہ جو ہے علامت کو کہتے ہیں۔ سمۃٌ عربی زبان میں کسے کہتے ہیں؟ علامت۔ وجہِ تسمیہ ذکر کر رہے ہیں بھئی۔ کہ اسم کو اسم کیوں کہتے ہیں، اپ نحو میں پڑھ چکے ہیں کہ یہ کس سے اخذ کیا گیا ہے؟ وسمٌ سے یا سموٌ سے۔ اور وسمٌ کیوں ہے؟ کیونکہ وسمٌ کا معنی ہے علامت۔ تو اسی سے کیا ہے؟ سمۃٌ۔ وعد یدع، مصدر کیا ہے؟ عدۃٌ۔ عدۃٌ ہے تو یہاں بھی وسمٌ سے کیا بن گیا؟ سمۃٌ بھئی سمۃٌ۔ تو السِّمَةُ الْعَلَامَةُ، سمہ جو ہے علامت کے معنی ہیں۔ تو جیسے نام جو ہے ایک چیز پر علامت ہوتی ہے، اس چیز کی خبر دے دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں السِّمَةُ الْعَلَامَةُ، سمہ جو ہے علامت کو کہتے ہیں۔ سمۃٌ کا لفظ کہاں سے آیا بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ وسمٌ سے ہے اور اسی سے یہ تسمیہ بھی ہے۔ تو کہتے ہیں یہ علامت کو کہتے ہیں وَكَأَنَّ الْمَقْصُودَ هَاهُنَا الْإِشَارَةُ إِلَى وَجْهِ تَسْمِيَةِ الْعِلْمِ اور گویا کہ مقصود جو ہے یہاں پر وہ اشارہ کرنا ہے علم کی وجہِ تسمیہ کی طرف كَمَا يُقَالُ جیسے کہا جاتا ہے إِنَّمَا سُمِّيَ الْمَنْطِقُ مَنْطِقًا لِأَنَّ الْمَنْطِقَ يُطْلَقُ عَلَى النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ جیسے کہ کہا جاتا ہے کہ منطق کو منطق کہتے ہیں اس لیے کیونکہ منطق جو ہے يُطْلَقُ عَلَى النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ اس کا اطلاق ہوتا ہے نطقِ ظاہری پر۔
نطقِ ظاہری یعنی ظاہری بولنا زبان سے، گفتگو کرنا، اس کو بھی نطق کہتے ہیں۔ دیکھیے عَلَى النُّطْقِ الظَّاهِرِيِّ اس کا اطلاق ہوتا ہے یعنی یہ بولا جاتا ہے نطقِ ظاہری پر۔ بھئی نطقِ ظاہری کیا ہے؟ کہتے ہیں وَهُوَ التَّكَلُّمُ وہ تکلم ہے زبان سے بولنا وَالْبَاطِنِيِّ اور اس نیز اس کا اطلاق نطقِ باطنی پر بھی ہوتا ہے، بھئی وہ کیا چیز؟ کہتے ہیں وَهُوَ إِدْرَاكُ الْكُلِّيَّاتِ اور وہ کلیات کا ادراک ہے۔ نطق کا معنی زبان سے بولنا بھی اور نطق کا معنی ادراکِ کلیات بھی بھئی۔ وَهَذَا الْعِلْمُ يُقَوِّي الْأَوَّلَ اور یہ علم جو ہے پہلی چیز کو قوت دیتا ہے یعنی تکلمِ ظاہری میں بھی قوت دیتا ہے جس طرح مضبوط کلام جو ہے اور مدلل کلام منطقی کر سکتا ہے، غیر منطقی نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں وَهَذَا الْعِلْمُ يُقَوِّي الْأَوَّلَ اور یہ علم جو ہے قوت دیتا ہے پہلی چیز کو یعنی نطقِ ظاہری کو بھی وَيَسْلُكُ بِالثَّانِي مَسْلَكَ السَّدَادِ اور چلاتا ہے دوسرے میں مَسْلَكَ السَّدَادِ سیدھے راستے پر۔ مسلک، سلک یسلک سلوکاً کا معنی ہے چلنا۔ اور نیز یاد رکھنا اسی کا معنی چلانا بھی، چلنا بھی، چلنا ہے خود، چلنا یعنی خود چلنا اور اسی کا معنی چلانا بھی یعنی دوسرے کو چلانا۔ اور مسلک، چلنے کی جگہ۔ اور سداد کا معنی ہے سیدھا، درست، صحیح بھئی، جو غلط نہ ہو۔ یاد رکھو یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا کہ سلوک کا معنی یہ عام ظاہری راستے پر چلنا نہیں ہے بلکہ عملی راستے پر چلنا ہے۔ کس پر چلنا ہے؟ عملی راستے پر چلنا ہے۔ اپ کو ایک شخص نے راستہ دکھایا بھئی یہ راستہ فلاں طرف جاتا ہے، اپ اس راستے پر چل پڑے، یہ سلوک نہیں ہے بلکہ سلوک یہ ہے کہ اپ کو کوئی عمل کا طریقہ بتلائے مثلاً استاد اپ کو نصیحت کرتا ہے کہ ان ان چیزوں پر عمل کرو تو اپ کو کامیابی حاصل ہوگی۔ تو اب یہ اپ استاد کے بتلائے ہوئے راستے پر چلتے ہیں، یہ ہے سلوک بھئی۔ دیکھا، اپ اس کے مطابق عمل کرتے ہیں، کیا کرتے ہیں؟ عمل کرتے ہیں، تو اس کو سلوک کہتے ہیں۔
تو مسلک، وہ عملی راستہ بھئی۔ تو کہتے ہیں وَيَسْلُكُ بِالثَّانِي مَسْلَكَ السَّدَادِ تو یسلک کا یہاں متعدی والا ترجمہ کریں گے۔ وَيَسْلُكُ اور یہ چلاتا ہے بِالثَّانِي دوسرے معنی میں بھی مَسْلَكَ السَّدَادِ سیدھے راستے پر۔ یہ علمِ منطق جو ہے یہ نطقِ ظاہری میں بھی فائدہ دیتا ہے اور نطقِ باطنی میں بھی فائدہ دیتا ہے کہ انسان کو سیدھے راستے پر چلاتا ہے، نظر و فکر میں غلطی سے بچاتا ہے۔ جب غلطی سے بچے گا تو سیدھے راستے پر چلے گا۔
تو یسلک پڑھیں اس کو، وَيَسْلُكُ بِالثَّانِي۔ اور چاہیں تو اس کو اپ بابِ افعال سے بھی پڑھ سکتے ہیں۔ اسلک یسلک اصلاح کا معنی دوسرے کو سیدھے راستے پر چلانا۔ تو چاہے اپ یسلک پڑھ لیں، چاہے اپ یسلک پڑھ لیں، معنی دونوں کا وہی ہے بھئی، چلانا۔ میں نے بتایا اس کا معنی چلنا بھی اور چلانا بھی، یہاں چلانا ہے۔ تو کہتے ہیں وَيَسْلُكُ بِالثَّانِي مَسْلَكَ السَّدَادِ اور یہ دوسرے میں بھی چلاتا ہے یا یوں کہو دوسرے معنی کے اعتبار سے بھی یہ چلاتا ہے مَسْلَكَ السَّدَادِ سیدھے راستے پر فَاشْتُقَّ لَهُ اسْمٌ مِنَ النُّطْقِ میری کتاب میں مِنَ الْمَنْطِقِ، یہ کتابت کی غلطی ہے، مِنَ النُّطْقِ ہونا چاہیے۔ فَاشْتُقَّ لَهُ اسْمٌ مِنَ النُّطْقِ پس اس کے لیے ایک اسم مشتق کیا گیا یعنی اسم بنایا گیا مِنَ النُّطْقِ کس سے؟ نطق سے۔ بھئی منطق کا لفظ نطق سے بنایا گیا ہے کیونکہ یہ نطقِ ظاہری میں بھی فائدہ دیتا ہے اور نطقِ باطنی میں بھی۔ فَاشْتُقَّ لَهُ اسْمٌ مِنَ النُّطْقِ تو اس کے لیے اشتقاق کیا گیا ایک اسم کا نطق سے فَالْمَنْطِقُ إِمَّا مَصْدَرٌ مِيمِيٌّ پس منطق یا تو مصدرِ میمی ہے یعنی جس کے شروع میں میم ہے۔ بِمَعْنَى النُّطْقِ اور یہ کس معنی میں ہے؟ نطق، مصدر ہے نا، نطق بھی مصدر اور منطق بھی مصدر۔ تو کہتے ہیں فَالْمَنْطِقُ إِمَّا مَصْدَرٌ مِيمِيٌّ بِمَعْنَى النُّطْقِ تو مصدر منطق یا تو مصدرِ میمی ہے نطق کے معنی میں أُطْلِقَ عَلَى الْعِلْمِ الْمَذْكُورِ مُبَالَغَةً فِي مَدْخَلِيَّتِهِ فِي تَكْمِيلِ الْمَنْطِقِ۔
بھئی اپ نے پڑھا ہے کہ مصدر کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا۔ زيدٌ عدلٌ، اس کتاب کے شروع میں بحث آئی تھی۔ تو زيدٌ عدلٌ، عدلتُ مصدر ہے اور مصدر تو وصف ہے اور وصف کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا۔ زيدٌ عدلٌ، زید ہے ذات اور عدل کیا ہے؟ وصف ہے، صفت ہے۔ صفت کا حمل ذات پر نہیں ہو سکتا۔ تو لہذا یہ عدل بمعنی عادل کے لینا پڑے گا یعنی اسمِ فاعل کے معنی میں ہے۔ زيدٌ عدلٌ أي زيدٌ عادلٌ، زید عدل کرنے والا ہے۔ جبکہ علماءِ محققین فرماتے ہیں کہ عدل کو عادل کے معنی میں لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ عدل کا حمل ہوا ہے زید پر بطورِ مبالغہ کے۔ بطورِ مبالغہ۔ زيدٌ عدلٌ، معنی یہ ہے زید سراپا انصاف ہے۔ اور اپ مجھے بتائیے، زيدٌ عادلٌ، زید عدل کرنے والا ہے۔ اور ایک ہے زيدٌ عدلٌ، زید سراپا انصاف ہے یعنی سر سے پاؤں تک وہ سارا انصاف ہی انصاف ہے، کس میں تعریف زیادہ؟ زيدٌ عدلٌ میں، تو دیکھا یہ بطورِ مبالغہ کے مصدر کا حمل ذات پر کر دیا جاتا ہے۔ زید کو اگر ہم زيدٌ عادلٌ کہیں اس میں اتنی تعریف نہیں، لیکن جب ہم کہیں زيدٌ عدلٌ، زید سراپا انصاف ہے، معلوم ہوا کسی بھی معاملے میں وہ کسی سے ناانصافی نہیں کرتا بھئی۔ تو کس میں مبالغہ زیادہ کہ مصدر کا حمل براہِ راست ذات پر کر دیا جائے بطورِ مبالغہ کے۔ تو یہاں پر بھی منطق، منطق تو مصدرِ میمی ہے، لیکن اس کا اطلاق کر دیا گیا ہے اس علم پر بطورِ مبالغہ کے کہ اس علم کا بہت زیادہ دخل ہے نطق کے اندر، نطق کو کمال تک پہنچانے میں، چاہے نطقِ ظاہری ہو چاہے نطقِ باطنی ہو۔
تو کہتے ہیں أُطْلِقَ عَلَى الْعِلْمِ الْمَذْكُورِ مُبَالَغَةً اس کا اطلاق کیا گیا اس مذکورہ علم پر بطورِ مبالغہ کے فِي مَدْخَلِيَّتِهِ فِي تَكْمِيلِ الْمَنْطِقِ اس کے دخل ہونے کی وجہ سے منطق یعنی نطق کی تکمیل میں۔ نطق کی تکمیل میں اس کا دخل ہونے کی وجہ سے بطورِ مبالغہ کے اس کو منطق کہا گیا حَتَّى كَأَنَّهُ هُوَ حَتَّى كَأَنَّهُ هُوَ گویا وہ جو نطق ہے هُوَ وہ علمِ منطق ہی ہے۔ كَأَنَّهُ، ہا ضمیر راجع ہے نطق کو۔ کس کو؟ نطق۔ یا منطق کو راجع کر لیں لیکن منطق بھی بمعنی نطق کے ہے۔ اور ہو ضمیر راجع کریں علمِ منطق کو، كَأَنَّهُ هُوَ گویا کہ وہ نطق جو ہے وہ علمِ منطق ہی ہے۔ وہ نطق، بطورِ مبالغہ کے کہ گویا علمِ منطق ہی نطق ہے۔ جس کے پاس علمِ منطق نہیں نہ اس کے پاس نطقِ ظاہری ہے، نہ اس کے پاس نطقِ باطنی ہے، یہ نطق تو یہی ہے بھئی۔ كَأَنَّهُ هُوَ گویا کہ نطق جو ہے وہ علمِ منطق ہی ہے وَإِمَّا اسْمُ مَكَانٍ یا یہ جو منطق ہے یہ اسمِ مکان ہے یعنی ظرف کا صیغہ ہے۔ منطق کیا ہے؟ ظرف کا صیغہ ہے، مضربٌ کے وزن پر۔ اسمِ ظرف کا صیغہ ہے كَأَنَّ هَذَا الْعِلْمَ مَحَلُّ النُّطْقِ وَمَظْهَرُهُ گویا کہ یہ والا جو علم ہے یہ نطق کا محل ہے وَمَظْهَرُهُ اور نطق کا مظہر ہے۔ نطق کی جائے ظہور ہے۔ نطق کی، گویا کہ یہ علم جو ہے نطق کی جائے ظہور ہے۔ یعنی یہ علم ہوگا تو نطق کا ظہور ہوگا بھئی۔ یہ علم کیا ہے؟ نطق کی جائے ظہور ہے، یہاں آ کر نطق کا کیا ہوتا ہے؟ ظہور ہوتا ہے، نطق ظاہر ہوتا ہے۔ كَأَنَّ هَذَا الْعِلْمَ مَحَلُّ النُّطْقِ وَمَظْهَرُهُ گویا کہ یہ علم جو ہے نطق کا محل ہے اور اس کی جائے ظہور ہے یعنی ظاہر ہونے کی جگہ ہے وَفِي ذِكْرِ وَجْهِ التَّسْمِيَةِ إِشَارَةٌ إِجْمَالِيَّةٌ إِلَى مَا يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ اور اس کی وجہِ تسمیہ ذکر کرنے میں اجمالی اشارہ ہے إِلَى مَا اس چیز کی طرف يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ جس کی تفصیل یہ علم کرتا ہے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ آگے مِن بیانیہ ہے مِنَ الْمَقَاصِدِ یعنی اس علم کے جو مقاصد ہیں۔
میں نے بتایا تھا بھئی، ما موصولہ لاتے ہیں، آگے صلہ آتا ہے اور پھر بھی بات پوری واضح نہیں ہوتی تو مِن کے ذریعے آگے بیان لایا جاتا ہے۔ جیسے ما موصولہ آیا اور يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ یہ اس کا صلہ۔ وہ چیز جس کی علم تفصیل بیان کرتا ہے، بھئی وہ کیا چیز ہے ہمیں تو بات سمجھ میں نہیں آئی۔ آگے مِن کے ذریعے بیان کر دیا مِنَ الْمَقَاصِدِ یعنی اس علم کے جو مقاصد ہیں۔ دیکھو الف لام آیا، المقاصد، خاص مقاصد مراد ہیں یعنی اس علم کے جو مقاصد ہیں۔ اور میں نے اپ کو یہ بھی بتایا تھا کہ یہ جو مِن بیانیہ ہے یہ دوسرا صلہ بنتا ہے۔ تو اس ما کے دو صلے ہو گئے، ایک يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ اور دوسرا مِنَ الْمَقَاصِدِ۔ اور یہ کیسے صلہ بنے گا؟ صلہ ہمیشہ جملہ ہوتا ہے تو یہ ثبت سے متعلق ہوگا، جار مجرور ہے نا۔ تو جار مجرور ثبت سے متعلق ہوگا اور پھر یہ پورا جملہ دوسرا صلہ بن جائے گا۔ اور نیز میں نے اپ کو ترجمہ کرنے کا طریقہ بھی بتلایا تھا، یا تو 'یعنی' کے ساتھ یہ مِن کا ترجمہ کرو۔ کس کے ساتھ؟ یوں ترجمہ کرو۔ إِلَى مَا يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ مِنَ الْمَقَاصِدِ اور وجہِ تسمیہ کے اندر اجمالی اشارہ ہے اس چیز کی طرف جس کی یہ علم تفصیل بیان کرتا ہے یعنی کے مقاصد، یعنی کے اس علم کے مقاصد۔ اور دوسرا طریقہ یہ ہے کہ یہ مِنَ الْمَقَاصِدِ کس کا بیان ہے؟ ما يُفَصِّلُهُ، یہ ما موصولہ کا بیان ہے۔ تو اس ما موصولہ کی جگہ اس مقاصد کو لے آؤ ترجمے میں۔ اب ترجمہ سنو، ما کی جگہ میں مقاصد کا لفظ لاؤں گا۔ کہتے ہیں وَفِي ذِكْرِ وَجْهِ التَّسْمِيَةِ اور وجہِ تسمیہ کے اندر إِشَارَةٌ إِجْمَالِيَّةٌ اجمالی اشارہ ہے إِلَى مَا ان مقاصد کی طرف يُفَصِّلُهُ الْعِلْمُ جن کی تفصیل یہ علم کرتا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟
آگے بھئی متن دیکھیے۔
وَالرَّابِعُ الْمُؤَلِّفُ لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ اور چوتھی چیز رؤوسِ ثطانیہ میں سے وہ مؤلف ہے بھئی، مصنف بھئی۔ مؤلف یعنی مؤلفِ علم بھی مراد ہو سکتا ہے اور مؤلفِ کتاب بھی۔ ایک مؤلفِ علم ہے جس نے اس علم کو مدون کیا، اس کو جمع کیا، اس کی تدوین کی۔ اور یہاں مؤلف سے مراد مؤلفِ کتاب ہے کہ اس کتاب کا مؤلف کون ہے۔ لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ تاکہ طالب علم کا دل جو ہے وہ اس کو سکون ہو جائے، اس کو اطمینان ہو جائے۔ طالب علم کو جب کتاب پڑھانے لگے ہیں تو شروع میں کیا کیا جائے؟ اس کو مصنف کے بارے میں اجمالاً بتا دیں گے مختصر طور پر تاکہ اس کا دل مطمئن ہو جائے کہ میں فلاں بڑے عالم کی کتاب پڑھ رہا ہوں بھئی۔ کیونکہ جب بڑے عالم کو وہ جانتا ہے، بڑے عالم سے اس کو عقیدت ہے تو علم کے اندر بھی شوق پیدا ہوگا اور رغبت سے اس کو پڑھے گا کہ اتنے بڑے عالم کے لکھی ہوئی کتاب اور اس کا تدوین کیا ہوا علم میں پڑھ رہا ہوں۔ تو کہتے ہیں وَالرَّابِعُ الْمُؤَلِّفُ اور چوتھی چیز مؤلف ہے۔ الف یولف تالیف کا معنی ہوتا ہے جوڑنا بھئی، ترکیب، رکب یرکب ترکیب جوڑنا بھئی۔ تو کہتے ہیں چوتھا جو ہے وہ مؤلف ہے یعنی جس نے اس علم کی باتوں کی تدوین کی ہے، ان کو جمع کیا ہے۔ لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ تاکہ طالب علم کے دل کو اطمینان ہو۔
جی، آئیے اب شرح پر دیکھیے۔
قَوْلُهُ وَالرَّابِعُ الْمُؤَلِّفُ أَيْ مَعْرِفَةُ حَالِهِ إِجْمَالًا لِيَسْكُنَ حَالُ الْمُتَعَلِّمِ میری کتاب میں حال ہے، قلب ہونا چاہیے بھئی قلب، لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ۔
جی، یہاں سے اپ کو بتلائیں گے کہ ابتدائی طالب علم اس کو چونکہ زیادہ چیزوں کا علم نہیں تو اب جب اپ اس کو کتاب پڑھانے لگے ہیں یا کوئی علم پڑھانے لگے ہیں تو اس علم کے مدون یا اس کتاب کے مصنف کے بارے میں اجمالی طور پر کچھ باتیں بتا دیں گے تو اس کے دل کو اطمینان ہو جائے گا۔ کیونکہ ابتدائی طالب علم کی معلومات تھوڑی ہوتی ہیں اور وہ اقوال کو رجال کے ذریعے جانتا ہے۔ اقوال کو کس کے ذریعے جانتا ہے؟ رجال کے ذریعے، یعنی بات کرنے والا بڑا آدمی ہے تو طالب علم سمجھتا ہے جو اس نے بات کی وہ بھی بہت بڑی ہے۔ تو طالب علم جب جان لیتا ہے کہ یہ اس علم کا، اس کتاب کا مصنف بڑا عالم ہے تو اس کی ہر بات کو بڑی اہمیت دیتا ہے، توجہ سے پڑھتا ہے کیونکہ یہ ابتدائی طلباء کو زیادہ معلومات نہیں ہوتیں اور یہ اقوال یعنی یوں کہو کلام، کلام کو کہنے والے کے ذریعے جانتے ہیں۔ کہنے والا بڑا آدمی تو اس کی بات کی طالب علم کے نزدیک اہمیت ہوگی، اگر کہنے والا چھوٹا آدمی ہے تو اس کی بات کی اس کے دل میں کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اور آگے اپ کو شارح بتلائیں گے کہ بھئی یہ ابتدائی طالب علم کا حال یہ ہوتا ہے۔ وہ اقوال کے درجے کا اندازہ کس کے ذریعے لگاتا ہے؟ رجال، کہنے والے کے ذریعے لگاتا ہے، حالانکہ، حالانکہ جو محققین ہیں وہ اس طرح نہیں کرتے۔ وہ کلام سے آدمی کا اندازہ لگاتے ہیں، جس آدمی کی باتیں گہری ہوں گی معلوم ہوا وہ آدمی بڑا عالم ہے۔ اور جس آدمی کی باتیں سرسری ہیں معلوم ہوا وہ بڑا عالم نہیں ہے۔ تو محققین وہ اقوال کے ذریعے رجال کے مرتبوں کا اندازہ لگاتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک آدمی ہے اس نے دو چار گہری باتیں کر دیں تو اس کا یہ معنی ہے کہ وہ بڑا علامہ سمجھیں گے؟ نہیں نہیں، اس کی باتیں دیکھیں گے، دو چار اونچی باتیں بے شک کر دیں، لیکن آگے باتیں دیکھیں تو اس نے بڑی سرسری سی باتیں کی ہوئی ہیں، معلوم ہوا یہ کوئی بڑا عالم نہیں ہے بھئی۔ تو محققین کس کے ذریعے اندازہ لگاتے ہیں؟ اقوال کے ذریعے رجال کا اندازہ لگاتے ہیں برخلاف مبتدی طلباء کے کہ وہ رجال کے ذریعے اقوال کا اندازہ لگاتے ہیں۔
تو کہتے ہیں قَوْلُهُ وَالرَّابِعُ الْمُؤَلِّفُ أَيْ مَعْرِفَةُ حَالِهِ إِجْمَالًا یعنی مؤلف کے حال کو جاننا اجمالی طور پر لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ تاکہ طالب علم کا دل جو ہے اس کو اطمینان ہو جائے۔ دیکھا، لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ، متعلم کے دل کو کیا ہو جائے؟ اطمینان ہو جائے، کیونکہ وہ ابتدائی طالب علم ہے بھئی۔ آگے خود بتا رہے ہیں، کہتے ہیں عَلَى مَا هُوَ الشَّأْنُ فِي مَبَادِئِ الْحَالِ، عَلَى مَا هُوَ الشَّأْنُ، شان کا معنی بھی حال، عَلَى مَا هُوَ الشَّأْنُ بناء بر اس کے جو حالت ہوتی ہے یعنی ابتدائی طالب علم کی جو حالت ہوتی ہے فِي مَبَادِئِ الْحَالِ کس میں؟ ابتدائی احوال میں، ابتدائی احوال میں جو طالب علم کی حالت ہوتی ہے، مِن بیان ہے، مِنْ مَعْرِفَةِ حَالِ الْأَقْوَالِ بِمَرَاتِبِ الرِّجَالِ یعنی کہ وہ اقوال کے حال کو جانتا ہے بِمَرَاتِبِ الرِّجَالِ کس کے ذریعے؟ رجال کے مرتبوں کے ذریعے۔ اگر کہنے والا بڑا آدمی ہے تو وہ سمجھتا ہے یہ قول بھی بہت بڑا ہے بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ دوبارہ سنیں، عَلَى مَا هُوَ الشَّأْنُ فِي مَبَادِئِ الْحَالِ مِنْ مَعْرِفَةِ حَالِ الْأَقْوَالِ بِمَرَاتِبِ الرِّجَالِ بناء بر اس کے جو شان ہوتی ہے، شان سے مراد ہے متعلم کی شان، کس کی شان؟ جو متعلم یعنی طالب علم کی حالت ہوتی ہے فِي مَبَادِئِ الْحَالِ ابتدائی احوال میں، کیا حالت ہوتی ہے بھئی؟ کہتے ہیں مِنْ مَعْرِفَةِ حَالِ الْأَقْوَالِ بِمَرَاتِبِ الرِّجَالِ یعنی اقوال کی حالت کو جاننا مردوں کے مرتبے کے ذریعے۔ وَأَمَّا الْمُحَقِّقُونَ فَيَعْرِفُونَ الرِّجَالَ بِالْحَقِّ لَا الْحَقَّ بِالرِّجَالِ اور باقی جو محققین ہوتے ہیں یعنی بڑے علماء فَيَعْرِفُونَ الرِّجَالَ تو وہ مردوں کو پہچانتے ہیں یعنی اہل علم بڑے علماء کو پہچانتے ہیں بِالْحَقِّ کس کے ذریعے؟ حق کے ذریعے لَا الْحَقَّ بِالرِّجَالِ نہ کہ حق کو رجال کے ذریعے۔ وہ کس کے ذریعے؟ رجال کے ذریعے حق کو نہیں پہچانتے بلکہ حق کے ذریعے کس کو پہچانتے ہیں؟ رجال کو۔ جو حق بات کہنے والا ہے معلوم ہوا یہ بڑا آدمی ہے۔ تو رجال کے ذریعے حق کو نہیں پہچانتے، بڑا آدمی ہے اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ جو بھی کہے گا وہ ٹھیک ہوگا، بلکہ کس کے ذریعے دیکھتے ہیں؟ حق کے ذریعے دیکھتے ہیں کہ جو حق بات کہتا ہے معلوم ہوا وہ ہے بڑا آدمی بھئی۔ کہتے ہیں وَأَمَّا الْمُحَقِّقُونَ فَيَعْرِفُونَ الرِّجَالَ بِالْحَقِّ لَا الْحَقَّ بِالرِّجَالِ باقی محققین علماء جو ہوتے ہیں وہ رجال کو حق کے ذریعے پہچانتے ہیں نہ کہ حق کو رجال کے ذریعے۔ وَلَنِعْمَ مَا قَالَ وَلِيُّ ذِي الْجَلَالِ عَلَيْهِ سَلَامُ اللهِ الْمَلِكِ الْمُتَعَالِ اور کیا ہی خوب کہا ہے وليُّ ذي الجلال، ذو الجلال اللہ تعالیٰ بھئی۔ جلال والی ذات جو ہے، اللہ کے ولی نے عَلَيْهِ سَلَامُ اللهِ ان پر اللہ کی سلامتی ہو الْمَلِكِ الْمُتَعَالِ وہ اللہ جو بادشاہ ہے الْمُتَعَالِ جو عظمت والا ہے، اونچی شان والا ہے۔
بھئی یہ قَالَ وَلِيُّ ذِي الْجَلَالِ، مراد ہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ بھئی، کون مراد ہیں؟ حضرت علی۔ کہتے ہیں کیا ہی خوب کہا ہے کس نے؟ وليُّ ذي الجلال اللہ کے ولی نے۔ بھئی اپ کو میں نے شروع میں بتلایا تھا یہ جو شرح لکھنے والا ہے عبداللہ یزدی یہ شیعہ ہے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ شیعہ، اور ان کے کلمے کا جزو ہے بھئی 'علي ولی اللہ'، ان کے کلمے کا جزو ہے علی اللہ کے دوست ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ چونکہ شیعہ ہیں اس لیے اپنے مذہب کے مطابق کلام کر رہے ہیں۔ عَلَيْهِ سَلَامُ اللهِ ان پر اللہ کی سلامتی ہو، یہ بھی دیکھو وہی شیعہ عقیدے کے مطابق، اہل سنت والجماعت کے نزدیک علیہ الصلوۃ والسلام یہ صرف پیغمبروں کے ساتھ مخصوص ہے، ان کے لیے یہ دعا کی جا سکتی ہے، غیر پیغمبر کے لیے نہیں کی جا سکتی، بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں وَلَنِعْمَ مَا قَالَ وَلِيُّ ذِي الْجَلَالِ عَلَيْهِ سَلَامُ اللهِ الْمَلِكِ الْمُتَعَالِ یعنی کیا ہی خوب کہا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے، وہ فرماتے ہیں لَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ قَالَ وَانْظُرْ إِلَى مَا قَالَ تو نہ دیکھ اس کی طرف جس نے کہا ہے وَانْظُرْ اور تو دیکھ إِلَى مَا قَالَ اس بات کی طرف جو اس نے کہی ہے۔ کہنے والے کو نہ دیکھو، اس کی بات کو دیکھو کہ اس نے بات حق بات کہی ہے یا نہیں کہی بھئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چوتھے خلیفہ راشد ہیں بھئی۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور خلفائے راشدین ان سب میں اپس میں اتنی محبت تھی جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ حضرت علی نے اپنے بچوں میں سے ایک کا نام ابوبکر رکھا، ایک کا نام عمر رکھا، ایک کا نام عثمان رکھا بھئی۔ تین ہی خلفائے راشدین ان سے پہلے گزرے اور انہوں نے اپنے بچوں کے نام انہی، اسی ترتیب سے تین بچوں کے نام رکھے، اس سے زیادہ محبت کی کیا دلیل ہوگی بھئی؟ تو الحمد للہ اللہ نے ہمیں تمام صحابہ کی محبت نصیب فرمائی ہے بھئی۔ اور صحابہ ان کا اتنا اونچا مقام، اتنا اونچا مقام کہ ہم تصور نہیں کر سکتے۔ تمام علماء کا اس بات پر اجماع ہے، کوئی بڑے سے بڑا ولی جتنا بھی بڑا ولی ہو، ادنیٰ سے ادنیٰ درجے کے صحابی کے مقام کو بھی نہیں پہنچ سکتا۔ اور صحابی کا یہ مقام کیوں ہے؟ کیونکہ اس نے سرورِ کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت کی ہے۔ ایک لمحے کی زیارت سے وہ مقام اس کو مل گیا کہ دنیا کا بڑے سے بڑا ولی اس کے قریب بھی نہیں پہنچ سکتا بھئی۔ اور پھر چہ جائیکہ وہ صحابہ جنہوں نے ساری زندگیاں حضور علیہ السلام کے ساتھ گزار دیں بھئی، وہ ایک ایک دین کی بات پہنچا دی آگے۔ دینِ اسلام محبتوں کا دین ہے، اہل سنت والجماعت کا مذہب محبتیں ہی محبتیں ہیں، کہیں نفرت نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقولہ ہے لَا تَنْظُرْ إِلَى مَنْ قَالَ وَانْظُرْ إِلَى مَا قَالَ تو نہ دیکھ اس شخص کی طرف جس نے کہا ہے اور تو دیکھ اس بات کی طرف جو اس نے کہی ہے هَذَا أَيْ خُذْ هَذَا۔ اس بات کو لے لو، میں نے بتایا علماء اپنی کتابوں میں اس طرح کوئی قیمتی بات ذکر کرنے کے بعد 'هَذَا' کہتے ہیں اور یہ مفعول ہوتا ہے 'خُذْ' کے لیے، أَيْ خُذْ هَذَا یعنی اس بات کو لے لو اس کو یاد رکھو یہ قیمتی بات ہے۔
کہتے ہیں وَمُؤَلِّفُ قَوَانِينِ الْمَنْطِقِ وَالْفَلْسَفَةِ هُوَ الْحَكِيمُ جی اب اوپر آیا تھا وَالرَّابِعُ الْمُؤَلِّفُ لِيَسْكُنَ قَلْبُ الْمُتَعَلِّمِ، اب اس علمِ منطق کا مدونِ اول کون ہے وغیرہ وہ اب یہاں بیان کرنے لگے ہیں بھئی۔
کہتے ہیں وَمُؤَلِّفُ قَوَانِينِ الْمَنْطِقِ وَالْفَلْسَفَةِ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَظِيمُ أَرَسْطُو اور ان منطق اور فلسفہ کے قوانین کا مدون، ان کی تدوین کرنے والا، کتابی صورت میں جمع کرنے والا هُوَ الْحَكِيمُ الْعَظِيمُ أَرَسْطُو وہ عظیم فلسفی ارسطو ہے بھئی۔ ارسطو ہے، اور یاد رکھیے یہ ارسطو کا زمانہ ہے، ارسطو یہ 384 قبلِ مسیح سے 322 قبلِ مسیح بھئی۔ یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے 384 سال پہلے اس کی پیدائش ہوئی۔ 384 قبلِ مسیح یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے۔ اور اس حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے یہ سنِ عیسوی کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ آج کل جو 2021 چل رہا ہے بھئی۔ تو یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے یہ سال شروع اور حضور علیہ السلام کی ہجرت سے جو ہیں وہ اسلامی سال ہیں سنِ ہجری بھئی۔ اس وقت سے ان کو شمار کیا جاتا ہے۔ اور یہ جو قبلِ مسیح ہے اس میں یاد رکھو، اس میں پھر سن الٹے چلنا شروع ہو جاتے ہیں، سالوں کا حساب الٹا چلتا ہے۔ کیونکہ 384 کا کیا معنی؟ 384 قبلِ مسیح حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 384 سال پہلے۔ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے 384 سال پہلے یہ ارسطو کی پیدائش ہوئی ہے۔ اور 322 میں اس کا انتقال ہوا ہے قبلِ مسیح میں۔ تو اب اپ، تو اپ کے ذہن میں یہ نہ آئے بھئی 384 میں پیدا ہوئے اور 322 میں فوت ہوئے، یہ تو عدد الٹے چل رہے ہیں، نہیں بھئی۔ یہ میں نے بتلا دیا قبلِ مسیح کا کیا معنی؟ حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پہلے، تو 384 سال پہلے یہ اس کی پیدائش ہوئی اور پھر تقریباً یہ 60، 62 سال اس کی عمر تھی، اتنے سال مزید گزر گئے تو اب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش میں صرف کتنے سال رہ گئے؟ 322 رہ گئے، تو اس وقت اس کا انتقال ہوا۔ اور یہ، یہ استاد تھا سکندرِ اعظم کا بھئی، سکندرِ اعظم۔ اور سکندرِ اعظم مشہور فاتح گزرا ہے۔ تو یہ استاد تھا مشہور فاتح سکندرِ اعظم کا بھئی۔ سکندرِ اعظم بہت بڑا بادشاہ گزرا ہے انسانی تاریخ کا۔ اور اس نے بہت سے ملکوں کو فتح کر لیا مصر، فلسطین، شام وغیرہ ان تمام جگہوں پر اس کی حکومت تھی۔ اور یہ فتح کرتا چلا آیا یہاں تک کہ برصغیر کو بھی یہ فتح کرنا چاہتا تھا۔ سندھ کا کچھ حصہ کہتے ہیں اس نے فتح بھی کر لیا تھا۔ لیکن یہاں پہنچ کر اس کے فوجیوں کو پتہ چلا کہ آگے جو ہندوستان کے بادشاہ ہیں مختلف راجہ، جگہ جگہ مختلف بادشاہ حکومت کر رہے تھے، ان کے پاس ہاتھی ہوتے ہیں فوج کے اندر بھئی۔ تو وہ ڈر گئی فوج، انہوں نے آگے جانے سے انکار کر دیا۔ اس نے کوشش کی لیکن وہ فوج تیار نہیں ہوئی چنانچہ وہاں سے پھر یہ واپس چلا گیا بھئی۔ اور پھر واپس جانے کے بعد کہتے ہیں یہ بیمار ہوا اور 11 دن بیمار رہ کر مر گیا، بعض کہتے ہیں اس کو زہر دیا گیا تھا اور انتقال کے وقت اس کی عمر صرف 32، 33 سال تھی بھئی۔ تو 32، 33 سال کی عمر میں بڑا جنگجو انسان تھا، ہر وقت جنگوں میں مشغول رہتا تھا اور بڑا ہی ظالم اور خونریز قسم کا انسان تھا، ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کی جان لینا اس کا شیوہ تھا بھئی۔ اور یہ بت پرست تھا، کسی بھی جنگ پر جانے سے پہلے بتوں کے پر بڑے بڑے چڑھاوے چڑھاتا اور وہاں نذر و نیاز پیش کرتا اور پھر اس کے بعد ان سے دعائیں مانگ کر جنگ کے لیے روانہ ہوتا تھا۔ اور اسی کو ذوالقرنین بھی کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ ذوالقرنین، لیکن یہ وہ ذوالقرنین نہیں جو جس کا ذکر قرآن میں آتا ہے، وہ ذوالقرنین اس کی تو اللہ نے تعریف فرمائی ہے اور وہ بھی بہت بڑا بادشاہ گزرا ہے۔ اور نیز یہ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے صرف ساڑھے تین سو سال قبل یہ گزرا ہے۔ یہ سکندرِ اعظم۔ جبکہ وہ جو ذوالقرنین ہے وہ تو کہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے زمانے میں تھا بھئی۔ اور اس کو بھی اللہ نے بڑی بادشاہت نصیب فرمائی تھی۔ ذوالقرنین کیوں کہتے ہیں اس کو؟ علماء نے مختلف وجوہِ تسمیہ ذکر کی ہیں۔ قرن، قرن سیگھ کو کہتے ہیں بھئی، جیسے گائے وغیرہ کے سینگ ہوتے ہیں۔ تو ذوالقرنین دو سینگوں والا، جس کے دو سینگ ہوں۔ تو بعض کہتے ہیں یہ سر پر ایک اس نے کوئی لوہے کی ٹوپی خود وغیرہ پہنتا تھا اور اس پر دو سینگ اس نے بنوائے ہوئے تھے، اس لیے اس کو ذوالقرنین کہتے تھے۔ جبکہ بعض کہتے ہیں ذوالقرنین اس لیے کہتے تھے کیونکہ یہ مشرق و مغرب کا بادشاہ تھا یعنی ساری دنیا پر یعنی بڑے بادشاہ تھے۔ مشرق سے مغرب تک ان کی حکومت تھی اس لیے مشرق سے مغرب تک پوری دنیا پر اس کی حکومت تھی، اس لیے اس کو ذوالقرنین کہتے ہیں۔ دنیا کے جو دو سینگ ہیں یعنی مشرق اور مغرب دونوں پر اس کی حکومت تھی یا اس لیے ذوالقرنین ان کو کہا جاتا کیونکہ دنیا کی دو سپر پاور تھیں ایک فارس اور روم دونوں پر ان کی حکومت تھی اس لیے ان کو ذوالقرنین کہتے تھے۔ تو بہرحال میں نے بتایا کہ بعض کہتے ہیں کہ یہ وہی سکندرِ اعظم ہے اسی کا ذکر قرآن میں ہے، لیکن یہ درست بات نہیں ہے بھئی۔ یہ اس کو بھی ذوالقرنین کہتے ہیں، لیکن یہ بڑا ظالم تھا اور ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کی جان لینا بلکہ اپنوں کی، اپنے اس کے اپنے جو ساتھی ہوتے تھے ذرا سی بات پر ان کے قتل سے بھی دریغ نہیں کرتا تھا بھئی۔ خون بہانا اس کی فطرت میں تھا اور یہ دنیا کو، پوری دنیا کو فتح کرنا چاہتا تھا اور بہت بڑی بادشاہت تھی، لیکن سندھ سے آگے اس کی پھر فوج نے جانے سے انکار کر دیا۔ جبکہ دوسرا ذوالقرنین وہ تو بڑا نیک، رحم دل بادشاہ تھا بھئی، وہ تو اللہ کی دعوت اور اللہ کا پیغام ہر ایک کو پہنچاتا تھا بلکہ روایات میں آتا ہے یہ کسی جگہ یہ پہنچا بھئی کسی جگہ اور وہاں پتہ چلا اس کو کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام بھی یہاں پر ہیں۔ تو اس نے پھر یہ اپنی سواری پر بھی نہیں سوار ہوا کہ وہ مقام جہاں پر خلیل اللہ موجود ہوں میرے لیے مناسب نہیں ہے، میں سواری پر وہاں سے سواری پر چلوں چنانچہ یہ سواری سے اتر کر پھر زمین پر چلا وہاں پر اور پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے، غالباً مکہ تھا اس وقت، ابتدائی حالت ہوگی کوئی ایک آدھ گھر ہوگا بالکل ابتدائی حالت، بات سمجھ میں آ گئی؟ جس وقت ابراہیم علیہ السلام نے بیت اللہ کی تعمیر کی تھی حضرت اسماعیل علیہ السلام، تو اس زمانے میں کوئی ایک دو چار گھر ہوں گے تو وہاں ان کو اطلاع ملی تو وہ اپنی سواری سے اتر گیا اور جا کر پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا اور کہتے ہیں جس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام سے ملا تو اس، یہ ان سے گلے ملا۔ اس نے آغاز کیا گلے ملنے کا۔ اس سے پہلے گلے ملنے کا گلے سلام کے وقت لوگ گلے نہیں ملتے تھے، تو اس نے آغاز کیا۔
تو یہ بڑا نیک اور رحم دل بادشاہ تھا جو قرآن میں جس کا ذکر آتا ہے، موحد تھا اور لوگوں کو توحید ہی کی دعوت دیتا تھا بھئی۔
تو کہتے ہیں وَمُؤَلِّفُ قَوَانِينِ الْمَنْطِقِ وَالْفَلْسَفَةِ هُوَ الْحَكِيمُ الْعَظِيمُ أَرَسْطُو اور منطق اور فلسفہ کے قوانین کا مؤلف جو ہے وہ عظیم فلسفی ارسطو ہے دَوَّنَهَا بِأَمْرِ إِسْكَنْدَرَ اور اس نے اس کو اس علم کو مدون کیا سکندرِ اعظم کے حکم سے وَلِهَذَا لُقِّبَ بِالْمُعَلِّمِ الْأَوَّلِ اور اسی لیے اس کو لقب دیا گیا معلمِ اول کا، اس کو معلمِ اول کہتے ہیں بھئی وَقِيلَ لِلْمَنْطِقِ اور منطق کے بارے میں کہا جاتا ہے قِيلَ لِلْمَنْطِقِ أَيْ قِيلَ عَنِ الْمَنْطِقِ، یہ لام کس معنی میں ہے؟ عن کے۔ اور منطق کے بارے میں کہا جاتا ہے إِنَّهُ مِيرَاثُ ذِي الْقَرْنَيْنِ کہ یہ ذوالقرنین کی میراث ہے۔ کس کی میراث ہے؟ یعنی وہی سکندرِ اعظم میں نے بتایا اس کو بھی کیا کہتے تھے؟ ذوالقرنین کہتے تھے، یہ اس کی میراث ہے۔ یعنی اس کو وہ چھوڑ کر مرا ہے۔ کیا معنی اس کی میراث ہے؟ بھئی دراصل اسی کے حکم پر ارسطو نے اس علم کو مدون کیا۔
ویسے تو فلسفیانہ باتیں ذکر کی جاتی تھیں علم طلباء سیکھنے بھی آتے تھے، لیکن باقاعدہ کتابی صورت میں یہ مدون نہیں تھا تو اسکندرِ اعظم کے درخواست پر ان کے استاد ارسطو نے اس علم کو باقاعدہ مدون کیا، اس لیے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ ذوالقرنین کی میراث ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں وَقِيلَ لِلْمَنْطِقِ إِنَّهُ مِيرَاثُ ذِي الْقَرْنَيْنِ اور منطق کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ ذوالقرنین کی میراث ہے ثُمَّ بَعْدَ ذَلِكَ نَقَلَ الْمُتَرْجِمُونَ تِلْكَ الْفَلْسَفِيَّاتِ مِنْ لُغَةِ يُونَانَ إِلَى لُغَةِ الْعَرَبِ پھر اس کے بعد نقل کیا ترجمہ کرنے والوں نے ان فلسفی باتوں کو مِنْ لُغَةِ يُونَانَ یونانی زبان سے إِلَى لُغَةِ الْعَرَبِ عربی لغت کی طرف۔ يُونَانَ غیر منصرِف ہے۔
دو سبب ہیں کون کون سے؟ علمیت ہے اور عجمہ ہے۔ اسی طرح إِسْكَنْدَرَ، بِأَمْرِ إِسْكَنْدَرَ یہ بھی غیر منصرِف ہے، اس میں بھی کیا دو سبب ہیں؟ علم ہے اور عجمہ ہے، عجمی نام۔
نام ہیں بھئی غیر عرب کے۔
تو کہتے ہیں: پھر اس کے بعد نقل کیا ترجمہ کرنے والوں نے ان فلسفی مباحث کو مِن لُغَةِ يُونَانَ إِلَى لُغَةِ العَرَبِ، یونانی زبان سے عربی زبان کی طرف، هَذَّبَهَا وَرَتَّبَهَا وَأَحْكَمَهَا وَأَتْقَنَهَا ثَانِيًا المُعَلِّمُ الثَّانِي الحَكِيمُ أَبُو نَصْرٍ الفَارَابِيُّ۔
پھر اس علم کو مہذب کیا۔ ہذب یہذب تہذیب کا معنی ہے زائد چیزوں کو نکالنا۔ کتاب کے شروع میں میں نے بتایا تھا، اس کتاب کا کیا نام ہے؟ تہذیب المنطق۔ اور تہذیب کا کیا معنی؟ صاف ستھرا کرنا، زائد چیزوں کو نکال دینا۔ جیسے یہ جو مالی ہیں، یہ سال کے اندر باغ کے جو پودے ہیں، ان کو صاف ستھرا کرتے ہیں، زائد شاخیں جو نکلی ہوتی ہیں ان کو کاٹ کر ان پودوں کو برابر کرتے ہیں، اس کو کہتے ہیں تہذیب بھئی!
تو اس کے بعد پھر هَذَّبَهَا، اس علم کی تہذیب کی، زائد چیزوں کو نکالا۔ وَرَتَّبَهَا، اور اس کو ترتیب دی۔ وَأَحْكَمَهَا، اور اس کو مضبوط بنایا۔ وَأَتْقَنَهَا، اور اس میں مہارت حاصل کی، ثَانِيًا، دوسری مرتبہ، المُعَلِّمُ الثَّانِي الحَكِيمُ أَبُو نَصْرٍ الفَارَابِيُّ۔
مسلمان فلسفی ابو نصر فارابی نے، اس نے دوسری مرتبہ اس علم کی تہذیب کی، اس کو ترتیب دیا، اس کو مضبوط کیا، وَأَتْقَنَهَا، اور اس میں خوب مہارت حاصل کی۔
وَقَدْ فَصَّلَهَا وَحَرَّرَهَا بَعْدَ إِذَاعَةِ، اچھا! تو یہ ابو نصر فارابی، اس کو معلم ثانی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ معلم ثانی کہتے ہیں۔
وَقَدْ فَصَّلَهَا وَحَرَّرَهَا بَعْدَ إِذَاعَةِ كُتُبِ أَبِي نَصْرٍ، اور پھر اس کی تفصیل کی، وَحَرَّرَهَا، اور اس کو دوبارہ لکھا۔ اچھا بھئی! ابو نصر فارابی یہ بہت بڑے مسلمان فلسفی تھے اور اس علوم اس علم کو انہوں نے بڑا مضبوط بنایا اور بہترین صورت دی اس کو۔ یہ سربراہ تھے ترجمہ کرنے والوں کے، وہ جو جماعت تھی، جو خلیفہ کے حکم سے کتابیں منگوائی جاتی تھیں یونان سے منطق اور فلسفہ کی اور یہ ترجمہ کرنے والے ترجمہ کرتے تھے اس کا، تو یہ سربراہ تھا، تو اس نے اس علم کی خوب آبیاری کی، بہترین صورت دی، اس سے کفرِیہ باتیں نکال لیں اور اسلامی صورت دی اس کو۔ فارابی نے بہت سی کتابیں بھی لکھیں منطق اور فلسفہ میں، لیکن پھر وہ جو مکتبہ تھا، لائبریری تھی، اس کو آگ لگ گئی، ساری ان کی تصنیفات جل کر ضائع ہو گئیں۔
تو پھر اس کے بعد، اس کے بعد شیخ بو علی ابن سینا جو ہیں، انہوں نے دوبارہ اس علوم ان علوم کو لکھا اور کچھ کتابیں بچ گئی ہوں گی کوئی چند ایک اور پھر دوبارہ اس علم کو مہذب کیا، تفصیل بیان کی، کتابی صورت میں لکھا، تو اس لیے ان کو شیخِ رئیس کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ شیخِ رئیس۔
اور یاد رکھیے یہ ابو نصر فارابی، یہ ان کی پیدائش ہوئی ہے 260 ہجری میں۔ 260 ہجری میں اور وفات ہوئی ہے 339 ہجری میں، یعنی تقریبا 80 سال کے لگ بھگ ان کی عمر تھی بھئی! تو 260 ہجری سے 339 ہجری تک۔ جبکہ شیخ ابو علی ابن سینا جو ہیں، ان کی پیدائش ہوئی ہے 370 ہجری میں۔ 370 ہجری میں، یعنی فارابی کے انتقال کے بھی کئی سال کے بعد، تو 370 ہجری میں ان کی پیدائش ہوئی ہے اور 428 ہجری میں ان کا انتقال ہوا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ فَصَّلَهَا وَحَرَّرَهَا بَعْدَ إِذَاعَةِ كُتُبِ أَبِي نَصْرٍ، پھر اس کے بعد ان فلسفی باتوں کی تفصیل کی، وَحَرَّرَهَا، اور ان کو لکھا، بَعْدَ إِذَاعَةِ كُتُبِ أَبِي نَصْرٍ، ابو نصر کی کتابوں کے ضائع ہو جانے کے بعد۔ کس نے تفصیل کی؟ کس نے لکھا؟ فاعل آگے آ رہا ہے۔ الشَّيْخُ الرَّئِيسُ أَبُو عَلِيِّ بْنُ سِينَا، شیخ رئیس ابو علی ابن سینا نے۔ شَكَرَ اللهُ مَسَاعِيَهُمُ الجَمِيلَةَ، شَكَرَ، شکر کا ویسے معنی ہے شکریہ ادا کرنا، لیکن جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو، شَكَرَ اللهُ، اللہ کی طرف نسبت کی جائے، تو اس صورت میں اس کا معنی ہے اجر و ثواب دینا۔ شَكَرَ اللهُ، اللہ اجر و ثواب عنایت فرمائے مَسَاعِيَهُمُ الجَمِيلَةَ، ان علماء کی خوبصورت کاوشوں کو، خوبصورت کوششوں پر اللہ ان کو اجر و ثواب نصیب فرمائے۔ تو جب اس کی نسبت اللہ کی طرف ہو، تو اس کا کیا معنی ہے؟ اجر و ثواب دینا، یعنی قدر دانی کرنا۔
آگے متن دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: وَالخَامِسُ أَنَّهُ مِنْ أَيِّ عِلْمٍ هُوَ لِيُطْلَبَ فِيهِ مَا يَلِيقُ بِهِ، وَالخَامِسُ أَنَّهُ مِنْ أَيِّ عِلْمٍ، بھئی میری کتاب میں یہاں "أَيِّ" کا لفظ نہیں ہے، ہونا چاہیے: مِنْ أَيِّ عِلْمٍ هُوَ۔
پانچویں بات جو رؤوسِ ثانیہ میں سے ہے، وہ یہ کہ أَنَّهُ مِنْ أَيِّ عِلْمٍ هُوَ، یہ ذکر کرتے تھے علماء کہ یہ جو علم ہے، وہ کون سے علوم میں سے ہے لِيُطْلَبَ فِيهِ مَا يَلِيقُ بِهِ، تاکہ طلب کیا جائے اس کے اندر وہ بحثیں جو اس کے مناسب ہیں۔ یعنی طالب علم کو یہ بتایا جائے یہ کس قسم کا علم ہے، علوم عقلیہ میں سے ہے یا علوم نقلیہ میں سے ہے؟ اور علوم اصلیہ میں سے ہے یا علوم فرعیہ میں سے ہے؟ تاکہ اس قسم کے مسائل پھر اس میں طالب علم دیکھے، تلاش کرے بھئی، تاکہ اس کو پتہ ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ شرح میں تفصیل آ رہی ہے۔
تو کہتے ہیں: وَالخَامِسُ، اور پانچویں بات یہ کہ أَنَّهُ مِنْ أَيِّ عِلْمٍ هُوَ، کہ یہ کن علوم میں سے ہے لِيُطْلَبَ فِيهِ مَا يَلِيقُ بِهِ، تاکہ طلب کیا جائے اس کے اندر وہ بحثیں جو اس کے مناسب ہیں۔ بھئی پتہ ہو گا یہ فلاں علم ہے، تو اس کے اندر وہ بحثیں تلاش کرے گا۔ اور دوسری بحثیں ہیں تو وہ دوسرے علم میں تلاش کرے گا۔
دیکھیے شرح میں: قَوْلُهُ مِنْ أَيِّ عِلْمٍ هُوَ أَيْ مِنْ أَيِّ جِنْسٍ مِنْ أَجْنَاسِ العُلُومِ العَقْلِيَّةِ أَوِ النَّقْلِيَّةِ الفَرْعِيَّةِ أَوِ الأَصْلِيَّةِ، یعنی یہ اجناسِ علوم میں سے کس جنس میں سے ہے؟ یہ علوم کی جو جنسیں ہیں، ان میں سے یہ کس جنس میں سے ہے؟ علومِ عقلیہ میں سے ہے یا نقلیہ میں سے؟ الفَرْعِيَّةِ أَوِ الأَصْلِيَّةِ، فرعیہ علوم میں سے ہے یا اصلیہ علوم میں سے؟
بھئی! جس طرح آپ نے پڑھا ہے کہ جنس جو ہے اوپر سے نیچے کی طرف تقسیم ہوتی ہے۔ سب سے اوپر جنس کون سی ہے؟ جوہر۔ جوہر، اور پھر جوہر تقسیم ہوتا ہے، وہ جسم ہو گا یا غیر جسم۔ پھر جسم تقسیم ہوتا ہے، وہ نامی ہو گا یا غیر نامی۔ پھر نامی تقسیم ہوتا ہے، وہ حیوان ہو گا یا غیر حیوان ہو گا۔ تو جس طرح جنس کی اوپر سے نیچے کی طرف تقسیم ہوتی ہے، اسی طرح علوم جو ہے، ایک ہے مطلقِ علم اور پھر اس کی نیچے تقسیم ہوتی ہے کہ وہ علم جو ہے، وہ عقلی ہو گا یا نقلی ہو گا۔ اگر عقلی ہے، پھر اس کی نیچے تقسیم ہوتی ہیں، قسمیں بنتی ہیں۔ اگر وہ نقلی علوم میں سے ہے، تو پھر اس کی نیچے تقسیم ہوتی ہے، اس کی قسمیں بنتی ہیں۔ علومِ عقلیہ اور نقلیہ، علومِ عقلیہ جس میں عقل کا دخل ہو اور علومِ نقلیہ جس میں نقل ہوتی ہے، روایت ہوتی ہے ایک سے دوسرے کی طرف بھئی۔ تو علم جو ہے، وہ مثلا جنسِ عالی ہے، پھر وہ دو قسم پر ہو گا، یا وہ عقلی ہو گا یا نقلی ہو گا۔ پھر عقلی کی کئی قسمیں بنیں گی جن کو علومِ عقلیہ کہیں گے، پھر نقلی کی کئی قسمیں بنیں گی ان کو علومِ نقلیہ کہیں گے۔
پھر کچھ علومِ اصلیہ ہیں، کچھ علومِ فرعیہ ہیں۔ اصلیہ جو اصل ہیں، بنیاد ہیں۔ فرعیہ جو ان سے علوم آگے نکلتے ہیں۔ تو یہ کس میں سے ہے؟ علومِ اصلیہ میں سے ہے یا فرعیہ میں سے ہے بھئی؟
کہتے ہیں: أَيْ مِنْ أَيِّ جِنْسٍ مِنْ أَجْنَاسِ العُلُومِ العَقْلِيَّةِ أَوِ النَّقْلِيَّةِ الفَرْعِيَّةِ أَوِ الأَصْلِيَّةِ، یعنی یہ علومِ عقلیہ یا نقلیہ کی اجناس میں سے کون سی جنس میں سے ہے؟ فرعیہ میں سے ہے یا اصلیہ میں سے ہے؟ كَمَا يُبْحَثُ عَنِ المَنْطِقِ أَنَّهُ مِنْ جِنْسِ العُلُومِ الحِكْمِيَّةِ أَمْ لاَ، جیسے منطق کے بارے میں بحث کی جاتی ہے کہ یہ علومِ حکمیہ میں سے ہے یا نہیں؟
یعنی یہ حکمت کے علوم میں سے ہے یا شامل نہیں؟ منطق کے بارے میں علماء بحث کرتے ہیں۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ حکمت میں سے ہے۔ علومِ حکمیہ میں سے، فلسفی علوم میں سے ہے۔ جبکہ بعض فرماتے ہیں کہ یہ فلسفی علوم میں سے نہیں ہے۔ لیکن حق یہی ہے کہ منطق بھی علومِ حکمیہ میں سے ہے، فلسفی علوم میں سے ہے بھئی۔
کہتے ہیں: كَمَا يُبْحَثُ عَنِ المَنْطِقِ، جیسے کہ بحث کی جاتی ہے منطق کے بارے میں، أَنَّهُ مِنْ جِنْسِ العُلُومِ الحِكْمِيَّةِ أَمْ لاَ، کہ یہ علومِ حکمیہ کی جنس میں سے ہے یا نہیں۔ فَإِنْ فُسِّرَتِ الحِكْمَةُ بِالعِلْمِ بِأَحْوَالِ أَعْيَانِ المَوْجُودَاتِ عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ بِقَدْرِ الطَّاقَةِ البَشَرِيَّةِ لَمْ يَكُنْ مِنْهَا إِذْ لَيْسَ بَحْثُهُ إِلاَّ عَنِ المَفْهُومَاتِ وَالمَوْجُودَاتِ الذِّهْنِيَّةِ المُوصِلَةِ إِلَى التَّصَوُّرِ وَالتَّصْدِيقِ۔
بھئی یاد رکھیے! جو منطق ہے، اس کے اندر موجوداتِ ذہن یہ اور مفہومات کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ وہ باتیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں۔ میں نے بتلایا تھا ایک ہے قولِ ملفوظ اور ایک ہے قولِ معقول۔ منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قولِ معقول کی طرف جو ہماری عقل میں باتیں آتی ہیں۔ تو یہ علم بحث کرتا ہے مفہومات کے بارے میں، وہ باتیں جو ہمارے ذہن میں آتی ہیں، وَالمَوْجُودَاتِ الذِّهْنِيَّةِ، اور کس کے بارے میں؟ وہ چیزیں جو ہمارے ذہن میں موجود ہیں۔
اور حکمت جو ہے، اس کی تعریف کرتے ہیں کہ حکمت بحث کرتی ہے موجوداتِ عینیہ کے بارے میں۔ کس کے بارے میں؟ موجوداتِ عینیہ۔ یا یوں کہو اعیانِ موجودہ کے بارے میں، وہ چیزیں جو خارج میں موجود ہیں۔
اگر اس میں اعیان کی قید لگا دیتے ہیں، وہ چیزیں جو خارج میں موجود ہیں، تو منطق نکل گیا، کیونکہ منطق میں تو موجوداتِ خارجیہ سے بحث نہیں ہوتی، بلکہ کس کے بارے میں بحث ہوتی ہے؟ موجوداتِ ذہنیہ۔ توجہ ہے؟ منطق میں بھی موجودات کی بحث اور حکمت میں بھی موجودات کی بحث۔ لیکن اس حکمت میں بعض علماء قید لگاتے ہیں کہ اس میں موجوداتِ عینیہ، یعنی جو خارج میں چیزیں موجود ہیں، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ خارج میں یا نفس الامر میں جو چیزیں موجود ہیں، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اگر اس قید کا وہاں اعتبار کر لیا جائے کہ حکمت واقعی کس علم کا نام ہے جس میں اعیانِ موجودات کے بارے میں بحث کی جاتی ہے، پھر تو منطق خارج ہو جائے گی، کیونکہ منطق کے اندر تو اعیانِ موجودات کے بارے میں بحث نہیں کی جاتی، بلکہ موجوداتِ ذہنیہ کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ اور اگر یہ اعیان کی قید وہاں سے نکال دیں کہ فلسفہ حکمت جو ہے وہ صرف موجودات کے بارے میں بحث کرتا ہے، پھر منطق داخل ہو جائے گی، کیونکہ موجودات پھر دو قسم پر ہیں، کچھ موجوداتِ خارجیہ اور واقعیہ ہیں اور کچھ موجوداتِ ذہنیہ ہیں۔ تو مطلقا موجود کہہ دے، اس میں اعیان کی قید نہ لگاؤ، تو پھر منطق اس کے اندر داخل ہو جائے گا۔
فَإِنْ فُسِّرَتِ الحِكْمَةُ بِالعِلْمِ بِأَحْوَالِ أَعْيَانِ المَوْجُودَاتِ، اگر تفسیر کی جائے حکمت کی کہ یہ اعیانِ موجودات کے احوال کو جاننے کا نام ہے، اگر تفسیر کی جائے حکمت کی بِالعِلْمِ، کہ یہ جاننا ہے کس چیز کو؟ بِأَحْوَالِ أَعْيَانِ المَوْجُودَاتِ، یہ اعیان مضاف ہے اور المَوْجُودَاتِ مضاف الیہ، لیکن یہ دراصل صفت کی اضافت ہو رہی ہے موصوف کی طرف۔ اور تو یہ اعیان کو آخر میں لے جائیں: بِأَحْوَالِ المَوْجُودَاتِ العَيْنِيَّةِ۔ اگر تفسیر کی جائے حکمت کی کہ وہ جاننا ہے موجوداتِ عینیہ کے احوال کو، یعنی وہ چیزیں جن کا خارج میں وجود ہے ان کے احوال کو جاننے کا نام ہے حکمت، عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ، اسی حالت پر جس پر وہ نفس الامر میں ہیں۔ یعنی جیسے کہ وہ نفس الامر میں ہیں، واقعے میں ہیں، بِقَدْرِ الطَّاقَةِ البَشَرِيَّةِ، انسانی طاقت کے بقدر۔
انسانی طاقت کے بقدر، حکمت نام ہے موجوداتِ عینیہ کو جاننا عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ، نفس الامر میں جیسی وہ ہے، واقعے میں جیسے وہ ہے۔ حکمت کس چیز کا نام ہے؟ حکمت نام ہے جاننا موجوداتِ عینیہ کے احوال کو جیسا کہ واقعے میں ہے۔ جیسا کہ اس کے احوال نفس الامر اور واقعے میں ہیں، اسی طرح اس کو جاننا بِقَدْرِ الطَّاقَةِ البَشَرِيَّةِ، انسانی طاقت کے بقدر۔ کیونکہ انسان اتنا ہی جان سکتا ہے جتنی اس میں قوت ہے، جتنی اس میں استعداد اور صلاحیت ہے۔ تو انسانی طاقت کے بقدر نفس الامر میں جو چیزیں موجود ہیں، ان کو جاننے کا نام حکمت ہے۔ اگر حکمت کی تفسیر یہ کی جائے، لَمْ يَكُنْ مِنْهَا، تو پھر منطق علومِ حکمیہ میں سے نہیں ہو گی، کیونکہ منطق میں تو مفہومات اور موجوداتِ ذہنیہ کی بحث ہوتی ہے، موجوداتِ عینیہ کی بحث نہیں ہوتی۔
إِذْ لَيْسَ بَحْثُهُ إِلاَّ عَنِ المَفْهُومَاتِ وَالمَوْجُودَاتِ الذِّهْنِيَّةِ، اس لیے کیونکہ منطق کی بحث نہیں ہوتی مگر وہ مفہومات اور وہ موجوداتِ ذہنیہ المُوصِلَةِ إِلَى التَّصَوُّرِ وَالتَّصْدِيقِ، جو پہنچانے والے ہیں تصور اور تصدیق تک۔
وَإِنْ حُذِفَتِ الأَعْيَانُ مِنَ التَّفْسِيرِ، اچھا! اگر فلسفہ کی کیا تعریف کی جائے؟ کہ یہ بحث کرتا ہے کس کے بارے میں؟ اعیانِ موجودات کے بارے میں، پھر تو منطق اس میں سے خارج۔ لیکن اگر فلسفہ کی تعریف میں سے اعیان کا لفظ حذف کر دیں کہ فلسفہ وہ علم ہے جو موجودات کے بارے میں بحث کرتا ہے، اب منطق داخل ہو گئی، کیونکہ موجودات وہ عام ہو گئے، وہ اعیان بھی ہو سکتے ہیں اور مفہومات بھی ہو سکتے ہیں، تو منطق بھی موجوداتِ ذہنیہ یعنی مفہومات کے بارے میں بحث کرتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ حُذِفَتِ الأَعْيَانُ مِنَ التَّفْسِيرِ المَذْكُورِ فَهُوَ مِنَ الحِكْمَةِ، اور اگر حذف کر لیا جائے اعیان کو اس مذکورہ تفسیر میں سے، تو پھر منطق جو ہے، حکمت میں سے ہے۔ یعنی فلسفے میں سے ہے۔
ثُمَّ عَلَى التَّقْدِيرِ الثَّانِي فَهُوَ مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ البَاحِثَةِ عَمَّا لَيْسَ وُجُودُهَا بِقُدْرَتِنَا وَاخْتِيَارِنَا۔
پھر دوسری تقدیر پر، یعنی اگر منطق کس میں سے ہو؟ حکمت میں سے ہو، علومِ حکمیہ میں سے ہو، تو پھر یہ حکمتِ نظریہ میں سے ہو گی۔ کس میں سے ہو گی؟ حکمتِ نظریہ سے۔ یاد رکھو! انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں۔ ایک قوت ہے جاننے کی، یعنی قوتِ علم۔ اور ایک قوت ہے عمل کرنے والی، یعنی قوتِ عملیہ۔ تو انسان کو اللہ نے دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں، ایک قوتِ علمیہ اور ایک قوتِ عملیہ۔ ایک ہے جاننے کی قوت اور ایک ہے عمل کرنے کی قوت ہے بھئی! اور یاد رکھو! انسان دونوں قوتوں کی تکمیل کے لیے حکمت یعنی فلسفے کا محتاج ہے۔ قوتِ علمیہ یعنی جاننے کی جو قوت ہے، اس کی تکمیل بھی کس کے ذریعے ہو گی؟ فلسفے کے ذریعے۔ اور قوتِ عملیہ کی تکمیل بھی کس کے ذریعے ہو گی؟ فلسفے کے ذریعے ہو گی۔ یہ فلسفہ ہمیں بتلائے گا کون سا عمل ہمارے لیے نافع ہے، کون سا عمل ہمارے لیے نافع نہیں۔ اور یہ فلسفہ ہمیں بتلائے گا کہ علم کی تکمیل کیسے ہو گی، کس طرح چیزوں کو جاننا ہے، ان کی تفصیلات وغیرہ کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو انسان کو اللہ تعالیٰ نے دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں، ایک قوتِ عملیہ اور ایک قوتِ علمیہ۔ اور دونوں قوتوں کی تکمیل کے لیے انسان محتاج ہے حکمت کا بھئی! پھر یاد رکھنا یہ جو موجودات ہیں، یہ بھی دو قسم کی ہیں بھئی! جو موجودات جو ہیں، یہ بھی دو قسم کی ہیں۔ ایک وہ جن کو وجود میں لانا، جن کو وجود میں لانا ہماری قدرت اور اختیار میں ہے۔ اور ایک کچھ وہ موجودات ہیں جن کو وجود میں لانا ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں۔ ہمارے اختیار میں ہے مثلا دیکھو بھئی! یہ انسانی چیزیں جو آپ دیکھتے ہیں، جو انسان بناتا ہے، تیار کرتا ہے، یہ چیزیں بنانا بھی ہمارے اختیار میں۔ اسی طرح ہمارے جو افعال ہیں، اچھے افعال ہیں یا برے افعال ہیں، یہ بھی ہمارے اختیار میں۔ تو یہ موجودات جو ہیں، وہ دو قسم پر ہیں۔ یا تو وہ ہماری قدرت اور اختیار میں ہیں یا ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں۔ ہمارے قدرت اور اختیار میں ہیں، یہ انسان کی بنائی ہوئی تمام چیزیں بھی اور اسی طرح ہمارے افعال بھی اچھے اور برے ہر قسم کے بھئی! یہ بھی کیا ہیں؟ ہمارے قدرت اور اختیار میں ہیں۔ جبکہ کچھ چیزیں وہ ہیں جو ہمارے اختیار میں نہیں ہیں۔ ان کو اللہ نے پیدا فرمایا ہے۔ جیسے زمین ہے، آسمان ہے، سورج، چاند، ستارے، یہ انسان ہے، یہ حیوانات ہیں، یہ پہاڑ ہیں، یہ دریا ہیں، یہ کیا ہیں؟ یہ موجودات ہیں اور یہ ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں۔
تو موجودات گویا دو قسم کے ہو گئے، کچھ وہ ہیں جو ہماری قدرت اور اختیار میں ہیں اور اس میں وہ چیزیں بھی آ گئیں جن کو انسان تیار کرتا ہے اور ہمارے اچھے اور برے افعال بھی آ گئے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کا وجود ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
تو یاد رکھنا! وہ چیزیں جو ہماری قدرت اور اختیار میں ہیں، ان کے حالات سے بحث کرنا یہ حکمتِ عملیہ میں ہے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ حکمتِ عملیہ۔ کیونکہ اس کا تعلق عمل سے ہے، انسان جو کچھ تیار کرتا ہے یا جو افعال کرتا ہے سب اس کے اندر آ گئے بھئی۔ اور وہ چیزیں جو ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں، ان کے بارے میں بحث کرنا یہ حکمتِ نظریہ ہے۔
تو حکمت کی دو قسمیں ہو گئیں، ایک حکمتِ عملیہ اور ایک حکمتِ نظریہ۔ توجہ ہے؟ پھر سنو! انسان کو اللہ نے دو قوتیں نصیب فرمائی ہیں، ایک قوتِ علمیہ اور ایک قوتِ عملیہ۔ یہ جو حکمتِ نظریہ ہے، اس میں قوتِ علمیہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اور حکمتِ عملیہ کے اندر قوتِ عملیہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ اس میں ہم دیکھتے ہیں جو چیزیں ہمارے قدرت اور اختیار میں ہیں، کن چیزوں کے بنانے سے ہمیں دنیا میں فائدہ ہے، اسی طرح کون سے اعمال کرنے سے ہمیں دنیا میں فائدہ ہے اور کون سے اعمال کرنے سے ہمیں آخرت میں فائدہ ہے، ساری بحث اس کے اندر ہوتی ہے۔ یہ قرآن، حدیث، فقہ وغیرہ سب اسی کے اندر آ گئے۔ اسی طرح تمام یہ سائنس کی چیزیں کہ اگر آپ اس طرح یہ یہ چیزیں سیکھ لیں گے تو آپ یہ چیزیں دنیا کے اندر اپنے نفع کے لیے بنا سکتے ہیں، یہ چیزیں اپنے نفع کے لیے بنا سکتے ہیں۔ تو یہ ان سب کا تعلق کس سے ہے؟ حکمتِ عملیہ سے ہے۔ اور دوسری حکمتِ نظریہ ہے، اس میں صرف علم کی تکمیل ہوتی ہے۔
اس میں صرف علم، دیکھو انسان کو اللہ نے ایسا بنایا ہے کہ یہ ہر چیز کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ بچہ بھی ایک چھوٹا سا ہوتا ہے، جب بھی کوئی نئی چیز دیکھتا ہے، فورا ماں باپ سے پوچھتا ہے کہ یہ کیا ہے۔ تو اسی طرح انسان بھی یہ کائنات کے اثرات، یہ چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہیں، یہ زمین، آسمان، یہ ستارے وغیرہ، یہ حیوانات، لیکن انسان ان سب کو جاننے کی کوشش کرتا ہے۔ حکمتِ عملیہ میں ہمارے قوتِ عملیہ کی تکمیل ہوتی ہے، اگر ہم اس کو جانتے ہوں گے تو خوب زیادہ سے زیادہ عمل میں ہم آگے بڑھیں گے۔ اور حکمتِ نظریہ کے ذریعے ہمارے قوتِ علمیہ کی تکمیل ہوتی ہے۔ یہ چیزیں یہ آسمان وغیرہ اگرچہ ان کے بنانے میں ہماری کوئی قدرت اور اختیار نہیں، لیکن ہم ان کی زیادہ سے زیادہ معلومات اکٹھی کرتے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ثُمَّ عَلَى التَّقْدِيرِ الثَّانِي فَهُوَ مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ، پھر دوسری تقدیر پر فَهْوَ مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ، پھر دوسری تقدیر پر، یعنی اگر یہ حکمت میں سے ہو، فَهُوَ مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ، تو پھر یہ حکمتِ نظریہ کی اقسام میں سے ہے، البَاحِثَةِ عَمَّا لَيْسَ وُجُودُهَا بِقُدْرَتِنَا وَاخْتِيَارِنَا، وہ حکمتِ نظریہ جو بحث کرتی ہے عَمَّا، ان چیزوں کے بارے میں، لَيْسَ وُجُودُهَا بِقُدْرَتِنَا وَاخْتِيَارِنَا، کہ ان کا وجود نہیں ہے ہماری قدرت اور اختیار سے۔ حکمتِ نظریہ بھئی! یہ نظریہ بدیہی کے مقابلے میں ہے۔ نظریہ کیا معنی؟ نظری ہو، بدیہی نہ ہو، کیونکہ بدیہیات کے جاننے کو حکمت نہیں کہتے، بلکہ نظری چیزوں کو جاننے کا نام کیا ہے؟ حکمت ہے، اس لیے اس کو حکمتِ نظریہ کہتے ہیں۔
یہاں یہ حاشیہ بھی دیکھ لیں بھئی! یہ حاشیے میں بڑی بہترین تفصیل دی ہوئی ہے۔ جی دیکھ لیجیے، یہ دو نمبر حاشیہ ہے میری کتاب میں بھئی: "مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ" پر۔
کہتے ہیں: "الحِكْمَةُ النَّظَرِيَّةُ اعْلَمْ أَنَّ الحِكْمَةَ عِلْمٌ بِأَحْوَالِ أَعْيَانِ المَوْجُودَاتِ عَلَى مَا هِيَ عَلَيْهِ فِي نَفْسِ الأَمْرِ بِقَدْرِ الطَّاقَةِ البَشَرِيَّةِ"، کہ حکمت وہ جاننا ہے اعیانِ موجودات کے احوال کو اس پر جیسے کہ وہ نفس الأمر میں ہیں انسانی قوت کے بقدر۔ "وَتِلْكَ الأَعْيَانُ إِمَّا الأَفْعَالُ وَالأَعْمَالُ الَّتِي وُجُودُهَا بِقُدْرَتِنَا وَاخْتِيَارِنَا أَوْ لاَ"، پھر یہ جو اعیان ہیں، یا تو یہ افعال و اعمال ہوں گے جن کا وجود ہماری قدرت اور اختیار میں ہے، أَوْ لاَ، یا ایسا نہیں ہو گا۔ "فَاعْلَمْ"، تو جان لے، "فَالعِلْمُ بِأَحْوَالِ الأَوَّلِ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى صَلاَحِ المَعَاشِ وَالمَعَادِ يُسَمَّى حِكْمَةً عَمَلِيَّةً"، کہ اول کے احوال کو جاننا اس حیثیت سے کہ یہ پہنچانے والے ہیں ہماری معاش اور معاد، یعنی دنیا اور آخرت کی اصلاح کی طرف۔ حکمتِ عملیہ میں ہم کیا سیکھتے ہیں؟ وہ عمل، وہ چیزیں جو ہمیں دنیا میں اور آخرت میں فائدہ پہنچائیں۔ دنیا میں دیکھو مختلف فنون لوگ سیکھتے ہیں تاکہ دنیاوی زندگی میں آسانیاں آ جائیں، خوب پیسے کما لیں۔ اور آخرت کے لیے بھی، پھر قرآن و حدیث ہمیں بتلاتا ہے کہ ان چیزوں میں ہماری آخرت بہتر ہو گی، تو یہ سب حکمتِ عملیہ میں داخل ہیں۔
تو کہتے ہیں: "فَالعِلْمُ بِأَحْوَالِ الأَوَّلِ مِنْ حَيْثُ أَنَّهُ يُؤَدِّي إِلَى صَلاَحِ المَعَاشِ وَالمَعَادِ يُسَمَّى حِكْمَةً عَمَلِيَّةً"، تو اول کے احوال کو جاننا اس حیثیت سے، کون سے احوال؟ وہ اعمال و افعال جو ہماری قدرت اور اختیار سے ہیں، ان کو جاننا اس حیثیت سے کہ یہ ہمیں پہنچانے والے ہیں ہمارے معاش یعنی ہمارے گزر بسر دنیا میں، وَالمَعَادِ، اور جو آخرت کی طرف لوٹنا ہے، اس میں بہتری کی طرف، يُسَمَّى حِكْمَةً عَمَلِيَّةً، اس کو حکمتِ عملی کہتے ہیں۔ "وَالعِلْمُ بِأَحْوَالِ الثَّانِي يُسَمَّى حِكْمَةً نَظَرِيَّةً"، اور دوسرے کے احوال کو جاننا وہ حکمتِ نظریہ کہلاتا ہے۔ کون سے احوال؟ جو ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں۔
"وَكُلٌّ مِنْهُمَا عَلَى ثَلاَثَةِ أَقْسَامٍ"، ان میں سے ہر ایک پھر تین قسم پر ہے۔ "أَمَّا العَمَلِيَّةُ فَلأَنَّهَا إِمَّا عِلْمٌ بِمَصَالِحِ شَخْصٍ بِانْفِرَادِهِ"، پھر ان میں سے ہر ایک تین قسم پر ہے بھئی! حکمتِ عملیہ بھی تین قسم پر اور حکمتِ نظریہ بھی۔ कहते हैं: "أَمَّا العَمَلِيَّةُ فَلأَنَّهَا إِمَّا عِلْمٌ بِمَصَالِحِ شَخْصٍ بِانْفِرَادِهِ"، یا تو اس کا تعلق ہو گا ایک شخص کے ذاتی مصلحتوں سے۔ توجہ ہے؟ ایک شخص کی ذاتی مصلحتوں سے اس حکمت کا تعلق ہو گا کہ کس طرح وہ اچھی عادات کو اپنائے اور بری عادات کو چھوڑ دے، تو اس کو تہذیب الاخلاق کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ کیا کہتے ہیں؟ تہذیب الاخلاق۔ اخلاق کو صاف ستھرا بنانا، اچھا بنانا۔ اس کا تعلق کس سے ہے؟ ایک شخص کی ذاتی نفعوں سے، مصلحتوں سے کہ کس طرح اپنے اخلاق کو اچھا بنایا جائے، اچھی عادتیں اپنائی جائیں اور بری عادتوں کو چھوڑا جائے۔
تو کہتے ہیں: "فَلأَنَّهَا إِمَّا عِلْمٌ بِمَصَالِحِ شَخْصٍ بِانْفِرَادِهِ"، اس لیے کیونکہ یا تو یہ جاننا ہو گا ایک شخص کی مصلحتوں کو بِانْفِرَادِهِ اکیلے، "لِيَتَحَلاَّ بِالفَضَائِلِ وَيَتَخَلاَّ عَنِ الرَّذَائِلِ"، تاکہ وہ فضیلت والی باتوں کے ساتھ اپنے آپ کو آراستہ کر لے اور تاکہ اپنے آپ کو خالی کر لے الرَّذَائِلِ، ادنی باتوں سے، بری عادتوں سے۔ تو اس کو "يُسَمَّى تَهْذِيبَ الأَخْلاَقِ"، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تہذیب الاخلاق۔ "وَإِمَّا عِلْمٌ بِمَصَالِحِ جَمَاعَةٍ مُشَارِكَةٍ فِي المَنْزِلِ"، یا یہ علم ہو گا ایسی مصلحتوں کے ساتھ جس میں ایک جماعت شریک ہے، ایک جماعت پوری شریک ہے۔ "كَالوَالِدِ وَالمَوْلُودِ"، جیسے کہ والد اور مولود ہیں، باپ ہے، ماں باپ ہیں اور اولاد ہے ان کی، "وَيُسَمَّى تَدْبِيرَ المَنْزِلِ"، اور اس کو تدبیرِ منزل کہتے ہیں۔ تدبیر کا معنی انتظام کرنا۔ بھئی! ایک ہے اپنے آپ کو آراستہ کرنا، وہ ہے تہذیب الاخلاق۔ اور ایک ہے پوری جماعت کی مصلحتیں، یعنی ایک گھر میں جو رہنے والے ہیں، میاں بیوی ہیں، ماں باپ اور بچے ہیں، تو اس کا نام کیا ہے؟ تدبیرِ منزل کہ گھر کا انتظام کیسے چلایا جائے، کس طریقے سے چلانا اچھا ہے۔
"وَإِمَّا عِلْمٌ بِمَصَالِحِ جَمَاعَةٍ مُشَارِكَةٍ فِي المَدِينَةِ"، یا یہ علم ہو گا ایک ایسی جماعت کی مصلحتوں کا جو شریک ہوں گی ایک شہر کے اندر، "وَيُسَمَّى بِالسِّيَاسَةِ المَدَنِيَّةِ"، اور اس کو سیاستِ مدنیہ کہتے ہیں۔ سیاست کا معنی تدبیر بھئی! پورے شہر کا انتظام کیسے چلایا جائے گا؟ کس طرح سیاسی چیزیں کہ ہر ایک کے لیے آسانی ہو، راحتیں ہوں، یہ سارا اس کے اندر آ گیا بھئی۔
"أَمَّا النَّظَرِيَّةُ"، باقی دوسری قسم حکمتِ نظریہ، "فَلأَنَّهَا"، جی! حکمتِ نظریہ یاد رکھو، یا تو اس کے بارے میں ایسی چیزوں کے احوال سے بحث ہو گی جو خارج میں بھی مادے کی محتاج ہیں اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہیں۔ اور اس کا نام علمِ طبیعی ہے۔ کیا نام ہے؟ علمِ طبیعی۔ اور یا یہ ایسی چیز کے احوال کے بارے میں بحث کرے گا جو خارج میں تو مادے کی محتاج ہے، ذہن میں مادے کی محتاج نہیں ہے۔ اس کا نام علمِ ریاضی ہے۔ کیا نام ہے؟ علمِ ریاضی ہے۔ اور یا، یا ایسی چیزوں کے احوال سے جو نہ خارج میں مادے کی محتاج ہیں اور نہ ذہن میں مادے کی محتاج ہیں۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات اور عقولِ عشرہ ہیں۔ تو اس کا نام علمِ الٰہی ہے۔ کیا نام ہے؟ علمِ الٰہی ہے۔
تو حاصلِ کلام کیا ہوا؟ اچھا، چلو! ہاں، ترجمہ بھی دیکھ لیں بھئی! اس کا بھی ترجمہ دیکھ لیں۔
کہتے ہیں: "أَمَّا النَّظَرِيَّةُ فَلأَنَّهَا إِمَّا عِلْمٌ بِأَحْوَالِ مَا لاَ يَفْتَقِرُ فِي الوُجُودِ الخَارِجِيِّ وَالتَّعَقُّلِ إِلَى المَادَّةِ"، یا تو اس میں بحث ہو گی ان چیزوں کے بارے میں جو نہ وجودِ خارجی میں مادے کی محتاج ہیں اور نہ تعقل میں، یعنی نہ ذہن میں۔ "كَالإِلَهِ"، جیسے کہ الٰہ ہیں، معبود ہیں۔ "وَيُسَمَّى العِلْمَ الأَعْلَى"، اور اس کو علمِ اعلیٰ بھی کہتے ہیں، "وَالإِلَهِيَّ"، اور علمِ الٰہی بھی کہتے ہیں، "وَالفَلْسَفَةَ الأُولَى"، اور اس کو فلسفہ اولیٰ بھی کہتے ہیں، "وَالعِلْمَ الكُلِّيَّ"، اور اس کو علمِ کلی بھی کہتے ہیں، "وَمَا بَعْدَ الطَّبِيعَةِ"، اور اس کو علمِ ما بعد الطبیعہ بھی کہتے ہیں، "وَقَدْ يُطْلَقُ عَلَيْهِ مَا قَبْلَ الطَّبِيعَةِ أَيْضًا نَادِرًا"، اور کبھی کبھار اس پر ماقبل الطبیعت کا، کا اطلاق بھی کیا جاتا ہے۔ بھئی یہ علمِ الٰہی ہے۔ ان احوال ان چیزوں کے احوال کے بارے میں بحث جو نہ خارج میں مادے کی محتاج ہیں اور نہ ذہن، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور جیسے منطقہ کے نزدیک ان کا عقیدہ ہے جی عقولِ عشرہ ہیں۔ جو 10 عقلیں ہیں جو اللہ نے پیدا فرمائیں، وہ کیا کر رہی ہیں؟ اس کائنات کا نظام چلا رہی ہیں، اگرچہ یہ غلط عقیدہ ہے۔ تو لیکن بہرحال اس میں ان چیزوں کے بارے میں بحث ہوتی ہے جو نہ وجودِ خارج میں مادے کی محتاج ہیں اور نہ ذہن میں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اللہ اپنے وجود میں کسی مادے کے محتاج نہیں ہیں۔ نہ خارج میں اور نہ ذہن میں بھئی۔ اور اس کو علمِ الٰہی کہتے ہیں، کیونکہ اس کا سب سے اعلیٰ جز الٰہ یعنی معبود ہے۔ لہذا اس کا نام کیا؟ علمِ الٰہی۔ اور نیز چونکہ اس میں معبود کے بارے میں بات ہوتی ہے، اس لیے اس کا نام علمِ اعلیٰ بھی ہے اور اس کا نام فلسفہ اولیٰ بھی ہے اور نیز اس کا نام علمِ کلی کلی بھی ہے، کئی نام انہوں نے آپ کو بتلا دیے۔
"وَإِمَّا عِلْمٌ بِأَحْوَالِ مَا يَفْتَقِرُ إِلَيْهَا فِي الوُجُودِ الخَارِجِيِّ دُونَ التَّعَقُّلِ كَالكُرَةِ"، یا علم ہو گا ان چیزوں کے احوال کا جو وجودِ خارجی کے اندر تو مادے کی محتاج ہیں، ذہن کے اندر مادے کی محتاج نہیں ہیں، كَالكُرَةِ، جیسے کرہ ہے۔ کرہ؟ گول جسم۔ دیکھو! یہ کرہ خارج میں تو اپنے وجود میں مادے کا محتاج ہے۔ خارج میں جب بھی ہو گا کرہ، گول، جسم، وہ یا مٹی کا ہو گا یا لوہے کا ہو گا یا تانبے یا سونے کا یا چاندی، کسی نہ کسی چیز کا ہو گا۔ لیکن ذہن میں اس کے تعقل کے لیے یہ مادے کا محتاج نہیں۔ انسان کا جب بھی آپ تعقل کریں، انسان کس چیز سے بنا ہے؟ گوشت اور ہڈیوں سے، تو آپ کو بھی ذہن میں کیا تصور کرنا پڑے گا؟ گوشت اور ہڈیوں سے بنا ہوا انسان۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
"وَأَمَّا عِلْمٌ بِأَحْوَالِ مَا يَفْتَقِرُ إِلَيْهَا فِي الوُجُودِ الخَارِجِيِّ دُونَ التَّعَقُّلِ كَالكُرَةِ وَهُوَ العِلْمُ الأَوْسَطُ وَيُسَمَّى بِالرِّيَاضِيِّ وَالتَّعْلِيمِيِّ"، اور باقی جاننا اس چیز کے احوال کو جو مادے کی محتاج ہے وجودِ خارجی میں نہ کہ تعقل میں، جیسے کہ کرہ ہے، گول جسم۔ "وَهُوَ العِلْمُ الأَوْسَطُ"، اور یہ علمِ اوسط ہے، "وَيُسَمَّى بِالرِّيَاضِيِّ وَالتَّعْلِيمِيِّ"، اور اس کو علمِ ریاضی بھی کہتے ہیں اور علمِ تعلیمی بھی۔
"وَإِمَّا بِأَحْوَالِ مَا يَفْتَقِرُ إِلَيْهَا فِي الوُجُودِ وَالتَّعَقُّلِ كَالإِنْسَانِ"، یا یہ علم ہو گا اس چیز کے احوال کے بارے میں جو مادے کی محتاج ہے وجود اور تعقل دونوں میں، جیسے کہ انسان ہے، "وَهُوَ العِلْمُ الأَوَّلُ وَيُسَمَّى العِلْمَ الطَّبِيعِيَّ"، اور وہ علمِ اول ہے اور اس کو علمِ طبیعی بھی کہتے ہیں۔
بھئی دیکھیے! پھر حاصلِ کلام پھر سن لیجیے اس کا جو یہاں انہوں نے تفصیل بیان کی۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ حکمت جو ہے، اس میں یا تو ان چیزوں کی بحث ہو گی جو ہمارے اختیار اور قدرت میں ہے یا ان چیزوں کی بحث ہو گی جو ہمارے اختیار اور قدرت میں نہیں۔ اگر وہ ہمارے اختیار اور قدرت میں ہے، تو وہ حکمتِ عملیہ ہے اور اگر وہ ہمارے اختیار اور قدرت میں نہیں ہے، تو وہ حکمتِ نظریہ ہے۔ حکمتِ عملیہ کے ذریعے ہماری قوتِ عملیہ کی تکمیل ہوتی ہے اور حکمتِ نظریہ کے ذریعے ہماری قوتِ علمیہ کی تکمیل ہوتی ہے۔
اور پھر یہ حکمتِ عملیہ جو ہے، یہ تین قسم پر ہے۔ یا تو اس کا تعلق ہو گا ایسے مصالح سے جس کا تعلق ایک فرد سے ہے اور اس کا نام تہذیب الاخلاق ہے۔ یا اس کا تعلق ایک جماعت سے ہو گا، لیکن وہ جماعت ایک گھر میں رہنے والی ہے، یعنی میاں بیوی ہیں یا ماں باپ اور اولاد وغیرہ ہیں اور اس کا نام کیا ہے؟ تدبیرِ منزل ہے۔ اس پوری جماعت کی مصلحتوں سے جو علم متعلق ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تدبیرِ منزل۔ یا ایسی جماعت کی مصلحتوں سے اس علم کا تعلق ہے جو ایک شہر میں یا ایک ملک میں رہنے والے ہیں، تو اس کو سیاستِ مدنیہ کہتے ہیں۔ تین قسمیں ہو گئیں۔ حکمتِ عملیہ کی تین قسمیں ہو گئیں: تہذیب الاخلاق، تدبیرِ منزل اور سیاستِ مدنیہ۔
اور حکمتِ نظریہ جو ہے، وہ ان چیزوں کے احوال کو جاننے کا نام جو ہماری قدرت اور اختیار میں نہیں ہیں۔ اور یہ پھر تین قسم پر ہے۔ یا یہ علمِ الٰہی ہو گا یا علمِ طبیعی ہو گا یا علمِ ریاضی ہو گا۔ علمِ الٰہی وہ ہے جس کے اندر ان چیزوں کے احوال سے بحث ہوتی ہے جو نہ خارج میں مادے کی محتاج ہیں اور نہ ذہن میں، جیسے اللہ تعالیٰ کی ذات۔ اللہ تعالیٰ کی ذات اپنے وجود میں مادے کی محتاج نہیں۔ تو نہ خارج میں مادے کی محتاج اور نہ ذہن میں مادے کی محتاج اور اس کا نام کیا ہے؟ اس کا نام کیا ہے؟ علمِ الٰہی۔ اور یا خارج میں بھی مادے کی محتاج ہے اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہے اور اس کا نام علمِ طبیعی ہے۔ جیسے انسان ہے، یہ پہاڑ وغیرہ، جو کچھ آپ دیکھتے ہیں۔ دیکھو خارج میں انسان کس چیز سے بنا ہے؟ گوشت اور ہڈیوں سے۔ ذہن میں تعقل کے لیے بھی آپ کو انسان کا جب تصور کرنا پڑتا ہے، تو اس کا ویسے ہی صورت ذہن میں آتی ہے کہ کس سے بنا ہوا ہے؟ گوشت اور ہڈیوں سے بنا ہوا ہے۔ تو یہ اس کو علمِ طبیعی کہتے ہیں جو ان چیز کے احوال سے بحث کرتا ہے جو خارج میں بھی مادے کی محتاج اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج۔
یا اس حکمت کے اندر ایسی چیزوں کے احوال سے بحث ہو گی جو خارج میں تو مادے کی محتاج ہیں، ذہن میں مادے کی محتاج نہیں۔ اس کو علمِ ریاضی وغیرہ کہتے ہیں، جس میں علمِ ریاضی آ گیا، ہندسہ وغیرہ آ گئے، جس یہ جومیٹری کی شکلیں۔ جیسے دیکھو ایک کرہ ہے، گول جسم ہے۔ یہ خارج میں ہو تو یہ کسی نہ کسی چیز کا ہو گا، لیکن ذہن میں اس کے تعقل کے لیے، اس کا تصور کرنے کے لیے کسی خاص مادے کا یہ محتاج نہیں ہے۔ آپ کرہ کا تصور کرتے ہیں گول جسم یا ایک چوکور جسم کا تصور کرتے ہیں، جس کو مربع کہتے ہیں یا مستطیل ہے جو ذرا لمبا ہے یا مثلث ہے جس کے تین کونے ہوتے ہیں۔ یہ چیزیں خارج میں جب بھی ہوں گی، کسی نہ کسی چیز کی ہوں گی، یا پتھر کی ہیں یا لکڑی کی ہیں یا لوہے کی ہیں۔ تو خارج میں یہ اپنے وجود کے اندر یہ مادے کی محتاج ہیں، کسی مخصوص مادے کی، لیکن ذہن میں یہ تعقل کے لیے کسی مخصوص مادے کی محتاج نہیں ہیں۔
تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ علمِ ریاضی اور علمِ ہندسہ وغیرہ۔ تو معلوم ہوا حکمتِ نظریہ کی بھی تین قسمیں ہو گئیں۔ نمبر ایک: علمِ الٰہی، اور نمبر دو کیا ہے؟ علمِ ریاضی، اور نمبر تین کیا ہے؟ علمِ طبیعی۔ علمِ الٰہی میں ان چیزوں کے احوال سے بحث جو نہ خارج میں مادے کی محتاج، نہ ذہن میں۔ اور علمِ ریاضی میں ان چیزوں کے احوال سے بحث جو خارج میں تو مادے کی محتاج ہیں، ذہن میں مادے کی محتاج نہیں۔ اور علمِ طبیعی میں ان چیزوں کے احوال سے بحث جو خارج میں بھی مادے کی محتاج ہیں اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
جی! اب دیکھیے بھئی کتاب پر، شرح کے اندر۔
تو کہتے ہیں: ثُمَّ عَلَى التَّقْدِيرِ الثَّانِي، پھر دوسری تقدیر پر، یعنی اگر منطق بھی حکمت میں سے ہو، فَهُوَ مِنْ أَقْسَامِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ، تو یہ کس کی اقسام میں سے ہے؟ حکمتِ نظریہ کی اقسام میں سے ہے، حکمتِ عملیہ کی اقسام میں سے نہیں ہے۔ تو یہ حکمتِ نظریہ کی اقسام میں سے ہے۔ البَاحِثَةِ، وہ حکمتِ نظریہ جو بحث کرتی ہے عَمَّا لَيْسَ وُجُودُهَا بِقُدْرَتِنَا وَاخْتِيَارِنَا، ان چیزوں کے بارے میں جن کا وجود ہماری قدرت اور اختیار سے نہیں ہے۔ ثُمَّ هَلْ هُوَ حِينَئِذٍ أَصْلٌ مِنْ أُصُولِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ أَوْ مِنْ فُرُوعِ الإِلَهِيِّ، پھر جب یہ منطق علومِ حکمت میں سے ہے اور حکمتِ نظریہ میں سے ہے، تو پھر اس وقت یہ دیکھا جائے گا کہ یہ اصولِ حکمتِ نظریہ میں سے ہے یا فروعِ الٰہی میں سے ہے۔
یاد رکھیے! حکمتِ نظریہ کے اصول پانچ ہیں اور اسی طرح فروعِ الٰہی کے دو فروع ہیں، تو پھر یہ دیکھا جائے گا کہ یہ ان میں سے کس میں سے ہے، اصولِ حکمتِ نظریہ میں سے کوئی اصل ہے یا یہ فروعِ الٰہیہ میں سے کوئی فرع ہے بھئی!
تو مزید تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں، کچھ تفصیل میں نے بیان کر دی کہ علماء اس میں اختلاف کرتے ہیں، بعض علماء کیا فرماتے ہیں کہ منطق علومِ حکمت میں سے ہے، بعض فرماتے ہیں کہ علومِ حکمت میں سے نہیں ہے۔ اگر علومِ حکمت میں سے ہو، تو پھر یہ علومِ نظریہ میں سے ہو گا، یعنی حکمتِ نظریہ میں سے ہو گا اور پھر اس کے بعد یہ دیکھا جائے گا کہ حکمتِ نظریہ کی کون سی قسم ہے، اصولِ حکمتِ نظریہ میں سے ہے یا فروعِ الٰہی میں سے ہے بھئی۔ بس مزید تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ثُمَّ هَلْ هُوَ حِينَئِذٍ أَصْلٌ مِنْ أُصُولِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ أَوْ مِنْ فُرُوعِ الإِلَهِيِّ، پھر یہ اس وقت، یعنی جب یہ حکمتِ نظریہ میں سے ہے، یہ حکمتِ نظریہ کے اصول میں سے کوئی اصل ہے؟ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ وَحِينَئِذٍ أَصْلٌ، کیا اس وقت یہ کوئی اصل ہے مِنْ أُصُولِ الحِكْمَةِ النَّظَرِيَّةِ، حکمتِ نظریہ کے اصول میں سے کوئی اصل ہے أَوْ مِنْ فُرُوعِ الإِلَهِيِّ، یا فروعِ الٰہی میں سے ہے، علمِ الٰہی کی فروعات میں سے ہے؟ وَالمَقَامُ لاَ يَسَعُ بَسْطَ ذَلِكَ الكَلاَمِ، اور کہتے ہیں اس مقام پر اس سے زیادہ تفصیل کی گنجائش نہیں ہے۔ بسط تفصیل کو کہتے ہیں۔ وَالمَقَامُ، اور یہ جو مقام ہے، لاَ يَسَعُ، اس میں گنجائش نہیں ہے بَسْطَ ذَلِكَ الكَلاَمِ، اس کلام کی تفصیل کی، اس میں یہاں گنجائش نہیں۔ ابتدائی طلباء کی کتاب ہے، ان کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
چلیے بس کریں! بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ حاصلِ کلام یہ آخر میں جو تھوڑی سی بحث آئی، وہ صرف یہ انہوں نے ذکر کی کہ پھر طالب علم کے لیے پانچویں چیز یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کو یہ بتلایا جائے کہ یہ کس نوع کا علم ہے تاکہ وہ اسی قسم کے مسائل اس علم میں تلاش کرے کہ یہ علومِ حکمیہ میں سے ہے یا نہیں؟ اگر ہے، تو پھر یہ حکمتِ عملیہ میں سے ہے یا حکمتِ نظریہ میں سے ہے؟ جیسے منطق جو ہے اس کے بارے میں بھی اختلاف ہے کہ یہ حکمت میں سے ہے یا نہیں۔ پھر اگر حکمت میں سے ہے، تو پھر یہ حکمتِ نظریہ کے اندر شامل ہو گا اور حکمتِ نظریہ
حِكْمَتِ نَظَرِيَّة جو ہے، اس کے اندر ہماری قُوَّتِ عِلْمِيَّة کی تکمیل ہوتی ہے اور اس میں ان چیزوں کے احوال سے بحث ہوتی ہے جو ہمارے قدرت اور اختیار میں نہیں ہے۔ اور پھر اس کے بعد پھر یہ بحث ہوگی کہ یہ حِكْمَتِ نَظَرِيَّة کے اصول میں سے ایک اصل ہے یا یہ فُرُوعِ إِلٰهِي میں سے ایک فرع ہے بھئی۔ اور کہتے ہیں مزید تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
تو حاصل کلام کیا؟ حِكْمَتِ عَمَلِيَّة کی کتنی قسمیں؟ تین۔ کون کون سی؟ تَهْذِيبُ الْأَخْلَاق، تَدْبِيرِ مَنْزِل اور سِيَاسَة مَدَنِيَّة۔ اور حِكْمَتِ نَظَرِيَّة کی کتنی قسمیں؟ تین قسمیں۔ کون کون سی؟ عِلْمِ إِلٰهِي ہے اور عِلْمِ طَبِيعِي ہے اور عِلْمِ رِيَاضِي ہے۔
عِلْمِ إِلٰهِي کون سا علم؟ جو ان چیزوں کے احوال سے بحث جو نہ خارج میں مادے کی محتاج اور نہ ذہن میں۔ اور عِلْمِ رِيَاضِي ان چیزوں کے احوال سے بحث جو خارج میں تو مادے کی محتاج ہیں ذہن میں مادے کی محتاج نہیں۔ اور عِلْمِ طَبِيعِي وہ ہے جو خارج میں بھی مادے کی محتاج اور ذہن میں بھی مادے کی محتاج ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَام، وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَام۔