اچھا بھئی دیکھیے، سبق بھئی اگے۔ متن دیکھ لیں۔ `وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ` گزشتہ سبق میں ہم نے خَاصَّة اور عَرَضِ عَام کے بارے میں پڑھا تھا۔ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ خَاصَّة جو ہے وہ ماہیت کی حقیقت سے خارج ہوتا ہے، یعنی صفت ہوتا ہے اور ایک ہی حقیقت کے افراد پر بولا جاتا ہے۔ جبکہ عَرَضِ عَام جو ہے وہ بھی حقیقت سے خارج ہوتا ہے ماہیت کی لیکن وہ مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولا جاتا ہے۔
اور پھر اس کے بعد انہوں نے شرح میں آپ کو بتلایا تھا کہ جو متن میں `وَهُوَ الْخَارِجُ` ایا یہ خارج کس کی صفت ہے، کلی کی صفت ہے۔ تو یہ خارج جو ہے کلی کی صفت ہے اور اس سے مراد خَاصَّة ہے کیونکہ خَاصَّة بھی کلی ہے، کلی کی قسم ہے اور قسم کے اندر مقسم کی رعایت ہوتی ہے۔ قسم کے اندر مقسم معتبر ہوتا ہے۔ جیسے کلمہ کی قسم ہے اسم، فعل اور حرف۔ تو ہر قسم کے اندر وہ مقسم ملحوظ ہے۔ یعنی اسم بھی کلمہ ہے، فعل بھی کلمہ ہے اور حرف بھی کلمہ ہے۔ اور اسی وجہ سے انہوں نے `هُوَ` کی ضمیر خَاصَّة کی طرف راجع کی یعنی اس کو کلی کی تاویل میں لیا کیونکہ وہ کلی کی قسم ہے بھئی۔
اس کے بعد پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ خَاصَّة دو قسم پر ہے، ایک `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ` اور ایک `خَاصَّةٌ غَيْرُ شَامِلَةٍ`۔ `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ` وہ ہے جو اپنی حقیقت کے تمام افراد پر صادق ہے یعنی تمام افراد کو شامل ہو۔ یعنی `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ` وہ ہے جو ایک حقیقت کے تمام افراد کو شامل ہو، یعنی سب میں وہ صفت پائی جائے۔ اس کو کیا کہیں گے `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ`۔ اور اگر ایک حقیقت کے تمام افراد کے اندر وہ صفت موجود نہیں تو اس کو `خَاصَّةٌ غَيْرُ شَامِلَةٍ` کہتے ہیں۔ اور اس کی مثال میں نے ذکر کی تھی کہ `كَاتِبٌ بِالْقُوَّةِ` اور `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ`۔
بِالْفِعْلِ کا معنی میں نے بتلایا تھا کہ بِالْفِعْلِ کا معنی یہ ہے کہ کوئی اس چیز کو اسی وقت سرانجام دے رہا ہو، کر رہا ہو تو اس کو کہتے ہیں کہ یہ چیز بِالْفِعْلِ اس وقت اس کی صفت ہے۔ جیسے کوئی شخص ہنس رہا ہے تو ہم کہیں گے یہ `ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ` ہے۔ اسی طرح کوئی لکھ رہا ہے تو ہم کہیں گے یہ `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ` ہے، یعنی یہ کتابت والا فعل اس وقت باقاعدہ فعل کے طور پر اس کی صفت ہے کہ اس کو سرانجام دے رہا ہے۔ جبکہ بِالْقُوَّةِ کے اندر اس صفت کا بالفعل ہونا اس وقت ضروری نہیں ہوتا بلکہ معنی یہ ہوتا ہے کہ اس میں اس چیز کی صلاحیت ہے۔ جیسے ہر انسان وہ کیا ہے `كَاتِبٌ بِالْقُوَّةِ` ہے۔ چاہے اس نے کتابت سیکھی ہے یا نہیں سیکھی لیکن صلاحیت ہے، وہ سیکھ سکتا ہے۔ اسی طرح ہر انسان `ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ` ہے، چاہے وہ ہنس رہا ہے یا ہنس نہیں رہا لیکن اس میں ہنسنے کی صلاحیت ہے۔ تو یہی `كَاتِبٌ بِالْقُوَّةِ` یہ `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ` ہے۔ تمام انسان کے افراد کیا ہیں `كَاتِبٌ بِالْقُوَّةِ` ہیں، ان میں کتابت کی صلاحیت ہے۔ چاہے کتابت سیکھی ہے چاہے نہیں سیکھی لیکن صلاحیت ہے، سیکھنا چاہیں تو سیکھ سکتے ہیں۔
جبکہ تمام افراد انسان وہ `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ` نہیں۔ `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ` تو صرف وہ ہو گا جو فی الحال کیا کر رہا ہو، کتابت کر رہا ہو، لکھ رہا ہو تو `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ` یہ `خَاصَّةٌ غَيْرُ شَامِلَةٍ` کی مثال ہے کہ تمام افراد اس سے اس وقت موصوف نہیں ہیں بلکہ جو جو لکھ رہے ہیں صرف وہ اس سے موصوف ہیں۔ تو `كَاتِبٌ بِالْقُوَّةِ` یہ مثال ہے `خَاصَّةٌ شَامِلَةٌ` کی اور `كَاتِبٌ بِالْفِعْلِ` جو ہے یہ مثال ہے `خَاصَّةٌ غَيْرُ شَامِلَةٍ` کی بھئی۔
اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو خَاصَّة ہے، یہ خَاصَّة دو قسم پر ہے۔ ایک `خَاصَّةُ النَّوْعِ` ہے اور ایک `خَاصَّةُ الْجِنْسِ` ہے۔ `خَاصَّةُ النَّوْعِ` کی مثال جیسے `ضَاحِك`۔ وہ ایک حقیقت کے افراد یعنی حقیقت نوعیہ کے ساتھ خاص ہے۔ اور `خَاصَّةُ الْجِنْسِ` کی مثال جیسے `مَاشِي`۔ `مَاشِي` یہ بھی ایک حقیقت کے افراد یعنی حیوان کے ساتھ خاص ہے۔ حیوان کے تحت تو انواع ہیں لیکن انواع سے قطع نظر حیوان پر صرف نظر رکھیں، حیوان کے جتنے بھی افراد ہیں ان کی حقیقت کیا ہے وہ حیوان ہیں۔ تو یہ حقیقت جنسیہ کا خَاصَّة ہوا تو یہ `خَاصَّةُ الْجِنْسِ` ہے۔
اس پر پھر اشکال ہوا تھا کہ یہ تو اپ کی صورت میں ایک ہی چیز جو ہے وہ ایک ہی عَرَض جو ہے وہ خَاصَّة بھی کہلائے گی اور وہ عَرَضِ عَام بھی کہلائے گی۔ یہی `مَاشِي` اگر انسان کی طرف نسبت کریں تو یہ `مَاشِي` کیا کہلائے گا، عَرَضِ عَام کیا کہلائے گا کیونکہ یہ صرف انسان میں تو نہیں پایا جاتا، یہ تو اور حیوانات میں بھی پایا جاتا ہے۔ اور یہی `مَاشِي` صرف حیوان کی طرف نسبت کریں تو اسی `مَاشِي` کو کیا کہیں گے خَاصَّة کہیں گے، `خَاصَّةُ الْجِنْسِ` کہ یہ اس جنس کی حقیقت کے ساتھ خاص ہے۔ تو ایک ہی چیز یعنی `مَاشِي`، یعنی یوں کہو ایک ہی عَرَض جو ہے اس کو خَاصَّة بھی کہنا پڑے گا اور اس کو عَرَضِ عَام بھی کہنا پڑے گا۔
اعتراض یہ کہ خَاصَّة اور عَرَضِ عَام یہ تو `قَسِيمَيْنِ` ہیں اور `قَسِيمَيْنِ` تو اپس میں متباین ہوتی ہیں وہ جمع نہیں ہوتیں جیسے کلمہ کی تین قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف۔ کلمہ کی نسبت سے یہ قسمیں کہلاتی ہیں لیکن خود اپس میں یہ قسمیں کیا کہلاتی ہیں `قَسِيم` کہلاتی ہیں ایک دوسرے کی نسبت سے، اسی طرح `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ` کی دو قسمیں انہوں نے بیان کر دیں ایک کیا خَاصَّة اور ایک عَرَضِ عَام۔ جب یہ دو قسمیں ہیں `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ` کی تو یہ اپس میں `قَسِيمَيْنِ` ہوئیں اور `قَسِيمَيْنِ` جمع نہیں ہو سکتیں، ایک چیز یا خَاصَّة ہو سکتی ہے یا عَرَضِ عَام ہو سکتی ہے کیونکہ `قَسِيمَيْنِ` اپس میں `مُتَبَايِنَيْنِ` ہوتی ہیں جمع نہیں ہو سکتیں۔
تو یہاں اپ کی اس تعریف سے تو `مَاشِي` کے اندر دونوں جمع ہو گئیں۔ یہی `مَاشِي` انسان کی طرف نسبت کریں تو عَرَضِ عَام ہے۔ اور یہی `مَاشِي` حقیقت جنسیہ یعنی جنس یعنی حیوان کی طرف نسبت کریں تو یہی کیا ہے خَاصَّة ہے۔ تو جواب دیا تھا کہ بھئی یہاں جہت مختلف ہے۔ جہت کیا ہے، مختلف ہے۔ یعنی یہ خَاصَّة ہے حقیقت جنسیہ کے اعتبار سے اور یہ عَرَضِ عَام ہے حقیقت نوعیہ کے اعتبار سے۔ توجہ ہے؟ تو یہ جہت الگ الگ ہے جیسے ایک ہی شخص جو ہے وہ باپ بھی ہوتا ہے اور بیٹا بھی ہوتا ہے۔ لیکن وہ باپ ہوتا ہے اپنے بیٹے کی نسبت سے اور وہی شخص بیٹا ہوتا ہے اپنے باپ کی نسبت سے بھئی۔ تو جہت الگ الگ ہے۔
لیکن بہرحال یہ بڑا کمزور جواب ہے بھئی۔ بڑا ہی کمزور جواب ہے۔ کیونکہ جو `قَسِيمَيْنِ` ہوتی ہیں ان میں صرف جہت کا فرق نہیں ہوتا ان کی ذات ہی الگ الگ ہوتی ہے، وہ اکٹھے ہو ہی نہیں سکتے بھئی یہ تو جہت کا جواب دے کر ویسے ہی جان چھڑانے والی بات ہے کہ جہت الگ الگ ہے بھئی نہیں بھئی `قَسِيمَيْنِ` میں صرف جہت نہیں الگ ہوتی ان کی ذات ہی الگ ہوتی ہے جیسے کلمہ کی کتنی قسمیں ہیں اسم، فعل اور حرف۔ اب کوئی ایسا کلمہ نہیں کہ اپ کہیں یہ ایک جہت سے تو اسم ہے دوسری جہت سے یہ کیا ہے فعل ہے بلکہ کلمے کے بارے میں واضح جو بھی لفظ ائے گا عربی کا واضح اپ کو بتاتے ہیں نحوی علماء کہ یہ اسم ہے یا فعل ہے یا حرف ہے وہاں یہ نہیں کہتے کہ ایک جہت سے یہ اسم ہے تو دوسری جہت سے فعل ہے۔ تو یہ بڑا ہی کمزور جواب انہوں نے دیا بھئی۔
اسی لیے حاشیے میں یہ جواب ذکر کیا گیا ہے `اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ` سے۔ `اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ`، جواب میں کہتے ہیں `اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ` مگر یہ کہ یوں کہا جائے کہ جہت کیا ہے دونوں میں اعتراض کیا ہوا تھا؟ کہ یہ تو ایک ہی چیز کیا ہوئی خَاصَّة بھی بن گئی اور عَرَضِ عَام بھی حالانکہ یہ خَاصَّة اور عَرَضِ عَام تو `قَسِيمَيْنِ` ہیں اور ان میں تو تباین ہوتا ہے۔ تو جواب پھر اس کا دیا تھا `اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ` کے ساتھ کہ بھئی جہت الگ الگ ہے اور یاد رکھو `اَللّٰهُمَّ إِلَّا أَنْ يُقَالَ` کے ذریعے جو جواب دیا جاتا ہے وہ کمزور جواب ہوتا ہے۔ بڑا ہی کمزور جواب یعنی اور تو کوئی جواب اس کا بن ہی نہیں سکتا، ہاں بس صرف ہم اتنا کہہ سکتے ہیں کہ جہت الگ الگ ہے۔ بات سمجھ میں اگئی تو `اَللّٰهُمَّ` کے ذریعے بڑا ہی کمزور جواب ذکر کیا جاتا ہے چنانچہ حاشیے میں بھی انہوں نے اسی طرح جواب دیا ہے۔
اس کے بعد گزشتہ سبق میں خَاصَّة اور عَرَضِ عَام کی انہوں نے تقسیم شروع کی تھی اور بتلایا تھا کہ خَاصَّة اور عَرَضِ عَام یعنی `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ`۔ `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ` دیکھو دونوں کو شامل ہے چاہے خَاصَّة ہو چاہے عَرَضِ عَام تو `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ` جو ہے یا تو یہ اپنے معروض سے جدا ہو سکے گی یا جدا نہیں ہو سکتی اگر جدا ہو سکتی ہے تو اس کو `عَرَضٌ مُفَارِقٌ` کہتے ہیں اور اگر یہ جدا نہیں ہو سکتی، اس کا جدا ہونا ممکن ہی نہیں ہے تو اس کو `لَازِمٌ` کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ `لَازِمٌ` کہتے ہیں اور پھر اس `لَازِمٌ` کی دو تقسیمیں کی تھیں، ایک تقسیم تھی مَلْزُوم کے اعتبار سے اور ایک تقسیم تھی لُزُوم کے اعتبار سے۔ مَلْزُوم کے اعتبار سے بتلایا تھا کہ یہ جو `لَازِمٌ` ہے یہ تین قسم پر ہے یا یہ `لَازِمُ الْمَاهِيَّةِ` ہو گا یا یہ `لَازِمُ الْوُجُودِ الذِّهْنِيِّ` ہو گا یا یہ `لَازِمُ الْوُجُودِ الْخَارِجِيِّ` ہو گا بھئی۔
`لَازِمُ الْمَاهِيَّةِ` وہ لَازِم وہ عَرَض جو ایک ماہیت کے ساتھ لازم ہے جیسے چار کے ساتھ جفت ہونا لازم ہے۔ قطع نظر خارج اور ذہن کے۔ بعض چیزیں صرف ذہن میں لازم، بعض چیزیں صرف خارج میں لازم لیکن چار کے ساتھ جفت ہونا اس ماہیت کے ساتھ لازم ہے قطع نظر وجود خارجی کے اور قطع نظر وجود ذہنی کے۔ ذہن میں بھی کوئی چیز سوچو گے جو چار ہو تو وہ کیا ہو گی جفت ہو گی۔ خارج میں بھی کوئی چیز سوچو گے جو چار ہو تو وہ کیا ہو گی جفت ہو گی۔ تو یہ جفت ہونا کیا ہے چار کے ساتھ لازم ہے اس ماہیت کے ساتھ اور ایک ہے لازم وجود خارجی، وہ عَرَض جو وجود خارجی کے ساتھ لازم ہو وجود ذہنی کے ساتھ لازم نہ ہو۔ جیسے اگ کے ساتھ جلانا۔ جلانا یہ اگ کی صفت ہے لیکن کونسی اگ جو کہاں پائی جائے، خارج میں پائی جائے۔ ذہن میں اگ کا تصور کریں تو یہاں اس کے ساتھ جلانا نہیں ہے۔
اور کبھی جو عَرَض ہوتی ہے وہ وجود ذہنی کے ساتھ لازم ہوتی ہے۔ جیسے انسان کا کلی ہونا یا زید کا جزیی ہونا۔ تو انسان کا کلی ہونا یہ دیکھو یہ ذہن میں ہے کیونکہ کلی اور جزیی کس کا نام ہے، مفہوم کا نام ہے اور مفہوم کہاں ہوتا ہے، ذہن میں ہوتا ہے۔ تو انسان کیا ہے کلی ہے یا جزیی؟ کلی ہے۔ دیکھو ہمارے ذہن میں انسان اتا ہے اور جیسے ہی انسان اتا ہے ایک صفت بھی ساتھ ا جاتی ہے کہ یہ کیا ہے کلی ہے۔ جیسے ہی ہمارے ذہن میں زید اتا ہے ہمارے ذہن میں ساتھ ہی ایک صفت ا جاتی ہے کیا کہ یہ جزیی ہے۔ تو دیکھو یہ کلی اور جزیی ہونا یہ صفت ہے لازم۔ صفت کیسی ہے؟ لازم ہے۔ اور کس چیز کے ساتھ، وجود خارجی کے ساتھ یا وجود ذہنی کے ساتھ؟ وجود ذہنی کے ساتھ۔ ذہن میں اپ کوئی بھی چیز سوچیں گے تو ساتھ ہی اس کا کلی یا جزیی ہونا بھی ذہن میں ا جائے گا۔
اور یہ جو کلی اور جزیی ہونا اس کو `مَعْقُولُ ثَانِي` بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ `مَعْقُولُ ثَانِي`، معقول وہ چیز جو عقل میں ائے اور ثانی یعنی جو دوسرے درجے میں ائے، دوسرے مرتبے پر ائے۔ تو یہ بھی چونکہ دوسرے مرتبے میں اور دوسرے درجے میں اتی ہے، پہلے مَعْرُوض کا تصور ذہن میں اتا ہے اور پھر عَارِض یعنی کلی اور جزیی ہونے کا، پہلے انسان ذہن میں ائے گا اور پھر ساتھ ہی کیا ا جائے گا کہ یہ کلی ہے۔ پہلے فرس کا ذہن میں تصور ائے گا اور ساتھ ہی ذہن میں کیا ا جائے گا کہ یہ کلی ہے۔ اسی طرح پہلے ذہن میں جیسے ہی زید کا تصور ائے گا ساتھ ہی کیا صفت ا جائے گی کہ یہ جزیی ہے۔ تو پہلے مَعْرُوض یعنی وہ جس کو یہ صفت عارض ہے۔ تو پہلے مَعْرُوض کا تصور ذہن میں اتا ہے اور پھر اس عَارِض کا، لہذا یہ کلی اور جزیی اس کو `مَعْقُولُ ثَانِي` کہتے ہیں کیونکہ یہ دوسرے درجے میں ذہن میں اتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں اگئی۔
اس کے بعد انہوں نے `لَازِمٌ` کی تقسیم کی تھی بَيِّن اور غَيْرُ بَيِّنٍ کی طرف۔ اور بَيِّن کے دو معنی بیان کیے تھے بھئی ایک `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور ایک `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` بھئی۔ تو گویا درحقیقت یہ دو تقسیمیں ہیں۔ درحقیقت کتنی تقسیمیں ہیں یہ؟ دو تقسیمیں ہیں بَيِّن اور غَيْرُ بَيِّنٍ والی۔ ایک بَيِّن کیا کیا تعریف کی؟ کہ مَلْزُوم کے تصور سے لازم کا تصور ذہن میں ا جائے یہ ہے `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور اس کے مقابلے میں ہو گا `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ`۔ وہ کیا ہے؟ اسی کی نقیض بنا لو یہ کیا تھا کہ مَلْزُوم کے تصور سے لازم کا تصور ذہن میں ا جائے تو وہ `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` کیا ہو گا؟ کہ مَلْزُوم کے تصور سے لازم کا تصور ذہن میں نہ ائے۔ اور دوسرے `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ`، وہ کیا تعریف کی؟ کہ مَلْزُوم کا بھی تصور کریں، لازم کا بھی تصور کریں اور ان کے درمیان نسبت کا بھی تصور کریں تو پھر ذہن کو یقین ہو جائے کہ یہ صفت اس چیز کے ساتھ، اس مَلْزُوم کے ساتھ لازم ہے اس سے جدا نہیں ہو سکتی۔ تو دراصل یوں سمجھیں یہ دو تقسیمیں ہیں، کتنی؟ دو تقسیمیں لیکن دونوں کو بَيِّن اور غَيْرُ بَيِّنٍ کہتے ہیں۔ پہلا بَيِّن کیا؟ کہ مَلْزُوم کا تصور ذہن میں ائے تو ساتھ ہی کس کا ا جاتا ہے لازم کا بھی اور غَيْرُ بَيِّنٍ اس کے مقابلے میں کیا بنے گا کہ مَلْزُوم کے تصور سے لازم کا تصور ذہن میں نہ ائے۔ دوسرا بَيِّن کا کیا معنی کرتے ہیں کہ مَلْزُوم کا تصور کریں اور لازم کا تصور کریں اور نسبت کا تصور کریں تو ان میں لُزُوم کا یقین ہو جائے۔ تو غَيْرُ بَيِّنٍ کیا ہوا اس کے مقابلے میں پھر؟ کہ ان تینوں کا تصور کرنے سے لُزُوم کا یقین نہ ائے بھئی۔
تو پہلا بھی بَيِّن ہے اور مقابلے میں کیا ہے غَيْرُ بَيِّنٍ اور دوسرا بھی بَيِّن ہے اور مقابلے میں کیا ہے غَيْرُ بَيِّنٍ، تو یہ دراصل دو تقسیمیں ہیں دو الگ الگ تقسیمیں ہیں۔ لیکن نام دونوں کے ایک جیسے ہیں، پہلی قسم بھی بَيِّن اور غَيْرُ بَيِّنٍ، دوسری قسم بھی بَيِّن اور غَيْرُ بَيِّنٍ، تو فرق کرنے کے لیے یوں کہتے ہیں کہ پہلا بَيِّن ہے `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور دوسرا بَيِّن ہے `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ`۔ توجہ ہے؟ پھر ان کو الْأَخَصّ اور الْأَعَمّ کیوں کہتے ہیں؟ میں نے بتلایا تھا ایک دوسرے کی نسبت سے۔ بَيِّن کے دو معنی کر دیے لیکن ان میں سے جو پہلا ہے وہ ہے الْأَخَصّ اور دوسرا کیا ہے الْأَعَمّ ہے۔ توجہ ہے؟ پہلا کیا الْأَخَصّ، دوسرا الْأَعَمّ، جیسے انسان اور حیوان، انسان کیا ہے الْأَخَصّ اور اس کس کے مقابلے میں، حیوان کے مقابلے میں اور حیوان کیا ہے الْأَعَمّ، کس کے مقابلے میں انسان کے مقابلے میں، تو یہاں پر بھی بَيِّن کے جو دو معنی ہیں وہ ایک دوسرے کے اعتبار سے الْأَخَصّ اور الْأَعَمّ ہیں، بَيِّن کا پہلا معنی الْأَخَصّ کس کے مقابلے میں، بَيِّن کے دوسرے معنی کے مقابلے میں اور بَيِّن کا دوسرا معنی وہ کیا ہے الْأَعَمّ ہے کس کے مقابلے میں، بَيِّن کے پہلے معنی کے مقابلے میں تو وہ الْأَخَصّ ہوا اور ثانی کیا ہوا الْأَعَمّ۔
اور اپ جانتے ہیں کہ جہاں بھی الْأَخَصّ ہو الْأَعَمّ ضرور ہوتا ہے لیکن جہاں الْأَعَمّ ہو وہاں الْأَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں جیسے انسان کیا ہے الْأَخَصّ اور حیوان کیا ہے الْأَعَمّ، جو جو بھی انسان ہو گا وہ ہمیشہ کیا ہو گا حیوان ہو گا، تو جہاں الْأَخَصّ ہے وہاں یا یوں کہو جو الْأَخَصّ ہے وہ الْأَعَمّ بھی ضرور ہے لیکن جو الْأَعَمّ ہو اس کا الْأَخَصّ ہونا ضروری نہیں یعنی جو بھی حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں۔ تو یہاں پر بھی جہاں پر بَيِّن کا پہلا معنی ہو گا دوسرا ضرور پایا جائے گا لیکن جہاں دوسرا معنی ہو وہاں پہلے کا ہونا ضروری نہیں۔ کس طرح پہلا معنی کیا تھا؟ بھئی دیکھو یہ تقسیم ہے لُزُوم کے اعتبار سے۔ کس اعتبار سے؟ ذہن کو یقین ہو جائے کہ دو چیزوں میں لُزُوم ہے۔ ذہن کو یقین ہو جائے کہ دو چیزوں میں لُزُوم ہے۔ یہ پہلی چیز یہ جو مَعْرُوض ہے اس کے ساتھ یہ صفت لازم ہے ذہن کو یقین ہو جائیں۔ تو پہلی قسم میں جب اپ نے کیا سوچا، کس کے بارے میں؟ صرف مَلْزُوم کا تصور کیا تو ساتھ ہی کس کا تصور ا گیا؟ لازم کا بھی تصور ا گیا۔ جب مَلْزُوم کا تصور کرتے ہی لازم کا تصور ا جاتا ہے معلوم ہوا ذہن کو یقین ہے کہ ان دونوں میں لُزُوم ہے، یہ دونوں جدا ہی نہیں ہو سکتے جبھی تو جیسے ہی مَلْزُوم سوچتے ہو کیا ا جاتا ہے لازم بھی، معلوم ہوا ذہن کو کیا ہے یقین ہے کہ ان دونوں میں لُزُوم ہے۔
جیسے حاتم طائی کا جیسے ہی تصور کریں ذہن میں کیا ا جاتی ہے سخاوت۔ حقیقت میں تو یہ سخاوت حاتم طائی کے ساتھ لازم نہیں، حاتم طائی ایک انسان ہے انسان سخی بھی ہو سکتا ہے اور غیر سخی بھی لیکن عرف میں عام لوگ اس کو کیا سمجھتے ہیں کہ حاتم طائی کے ساتھ سخاوت لازم ہے، حاتم طائی ہو اور سخی نہ ہو ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو وہ اس کو عرف میں کیا سمجھتے ہیں لازم تو جیسے ہی حاتم طائی کا تصور اپ نے کیا ذہن میں ساتھ ہی کیا ا گئی سخاوت بھی ا گئی، معلوم ہوا اپ کا ذہن اپ کے ذہن کو دونوں میں لُزُوم کا یقین ہے۔ اپ کے ذہن کو دونوں میں لُزُوم کا یقین کہ یہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ لازم ہیں یعنی یہ اس مَلْزُوم کے ساتھ یہ صفت کیا ہے لازم ہے، جہاں یہ مَلْزُوم پایا جائے گا یہ صفت ضرور پائی جائے گی، لازم ہے اس کے ساتھ۔ تو دیکھو مَلْزُوم کا تصور کرتے ہی کس کا تصور ا جاتا ہے؟ لازم کا تصور، معلوم ہوا ذہن کو یقین ہے کہ یہ ان دونوں میں کیا ہے لُزُوم ہے۔ تو جب صرف مَلْزُوم کا تصور کرنے سے لُزُوم کا یقین ہے تو مَلْزُوم کا بھی تصور کرو، لازم کا بھی تصور کرو اور ان کے درمیان نسبت کا بھی تصور کرو تو پھر تو بطریق اولی لُزُوم کا یقین ہو گا۔ یہ یوں کہو ایک چیز کے تصور یعنی صرف مَلْزُوم کے تصور سے ذہن کو لُزُوم کا یقین ہو جاتا ہے تو تین چیزوں کے تصور سے تو اس کو بطریق اولی کیا ہو گا لُزُوم کا یقین ہو گا۔ بات سمجھ میں اگئی؟ تو جہاں پہلی قسم ہو گی وہاں دوسری قسم ضرور ہو گی۔ یعنی جہاں صرف مَلْزُوم کے تصور سے لُزُوم کا یقین ہوتا ہے وہاں تینوں کے تصور سے بطریق اولی لُزُوم کا یقین ہو گا۔ لیکن جہاں الْأَعَمّ ہو وہاں الْأَخَصّ کا ہونا ضروری نہیں۔ جہاں تین چیزوں کے تصور سے لُزُوم کا یقین ہوتا ہے وہاں ایک کے تصور سے لُزُوم کا یقین ہونا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں اگئی۔ اچھی طرح؟ اس لیے پہلے معنی کو کیا کہتے ہیں `لَازِمٌ بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ`۔ یا یوں کہیں `لَازِمٌ` کو بھی نہ ذکر کریں `لَازِمٌ` تو ہے ہی بات ہی کس کی چل رہی ہے؟ لازم کی، تو پہلی قسم کیا ہوئی `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور دوسری کیا ہوئی `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ`۔ اور ان کے مقابلے میں جو ہے وہ `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` ہیں۔
اچھا ہاں اور لازم کی میں نے اسان لفظوں میں اپ کو بتایا تھا کہ لازم جو بَيِّن ہو گا یا غَيْرُ بَيِّنٍ، بَيِّن کا معنی واضح۔ تو لازم بَيِّن وہ ہے جو واضح ہو گا۔ جو کیا ہو گا؟ واضح ہو گا یعنی وہاں کسی دلیل کی ضرورت نہیں اور لازم غَيْرُ بَيِّنٍ وہ ہے جو واضح نہیں یعنی وہاں لُزُوم کے لیے کوئی نہ کوئی دلیل چاہیے۔ تو یہاں بھی نقشے میں پہلی قسم کیا `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ`، یہ کس کے درجے میں میں نے بتایا انسان کے درجے میں تو اس کے سامنے اس کی نقیض ائی۔ تو انسان کی نقیض کیا ہے `لَا إِنْسَان` یا لا نہ کہیں بلکہ غیر کہیں تاکہ یہ بات سمجھا سکوں میں واضح طور پر انسان کی نقیض کیا ہے؟ `غَيْرُ إِنْسَان`۔ یعنی اسی انسان پر غیر کا لفظ اپ نے داخل کر دیا تو یہ اس کی نقیض بن گئی۔ تو یہاں پر بھی `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اس پر غیر کا لفظ داخل کر دیں `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` یہ اس کی نقیض بن گئی۔ اور دوسری قسم کیا تھی؟ `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` تو وہاں پر بھی وہ کس کے درجے میں تھا؟ حیوان کے درجے میں اور اس کے سامنے جو نقیض ہے وہ کس کے درجے میں `لَا حَيَوَان` یا یوں کہیں `غَيْرُ حَيَوَان` تو حیوان کی نقیض کیا `غَيْرُ حَيَوَان`، تو یہاں پر بھی `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` اس کی نقیض کیسے بنائیں گے؟ اس پر کیا داخل کر دیں گے غیر، `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` تو نام اسی طرح رہے گا کیونکہ نقیضیں ہیں یہ اپس میں `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` اور `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ`۔ اسی طرح `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` اور `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` یہ اپس میں نقیضیں ہیں۔ نقیضیں اس پر صرف غیر یا لا کا لفظ داخل کرتے ہیں۔
ہاں باقی تفصیل میں نے الگ بتلائی تھی کہ یہ جو `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` ہے۔ `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` ہے یہ حقیقت میں الْأَعَمّ ہے۔ نام تو `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` ہے لیکن حقیقت میں یہ کیا ہے؟ الْأَعَمّ ہے۔ اور نیچے والا `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` ہے نام تو اس کا `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` ہے لیکن حقیقت میں وہ کیا ہے الْأَخَصّ ہے۔ کیونکہ ایک ہے انسان اور ایک ہے `لَا إِنْسَان`، انسان اور `لَا إِنْسَان` تو میں نے بتایا تھا تین دائرے فرض کر لیں۔ ایک میں صرف کون ہے انسان ان کی تعداد بھی 50، دوسرے دائرے میں باقی سارے حیوانات ان کی تعداد بھی 50 اور تیسرے دائرے میں دنیا کی تمام چیزیں ا گئیں فرض کریں ان کی تعداد بھی 50 ہے۔ تو میں نے کہا انسان یہ کتنے دائروں پر بولا جائے گا؟ ایک دائرے پر معلوم ہوا انسان کے افراد کتنے؟ 50، اور باقی دو دائرے معلوم ہوا وہ `غَيْرُ إِنْسَان` ہیں تو `غَيْرُ إِنْسَان` کے افراد کتنے؟ 100 تو یہاں پر بھی دیکھیں اوپر جو نقشہ بنوایا تھا `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` کس کے درجے میں؟ انسان، اور `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` یہ کس کے درجے میں `غَيْرُ إِنْسَان` تو پہلا اگر الْأَخَصّ ہے تو دوسرا کیا ہے الْأَعَمّ ہے اگرچہ نام اس کا ہے `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` لیکن وہ کیا ہے الْأَعَمّ اور نیچے جو تھا `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` وہ کس کے درجے میں تھا؟ حیوان کے درجے میں اور `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` وہ کس کے درجے میں؟ `غَيْرُ حَيَوَان` کے درجے میں ہے تو وہ تین دائرے تھے اس میں سے حیوان کتنے؟ دو، معلوم ہوا حیوان ہیں 100 تو تیسرا دائرہ کیا ہوا `غَيْرُ حَيَوَان` کا تو حیوان کے افراد ہیں 100 اور `غَيْرُ حَيَوَان` کے کتنے افراد ہیں 50، معلوم ہوا وہ الْأَخَصّ ہے تو یہاں پر بھی یہ جو `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` یہ کس کے درجے میں؟ حیوان، تو یہ الْأَعَمّ ہے تو اس کی جو نقیض ہے `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَعَمِّ` یعنی جو `غَيْرُ حَيَوَان` کے درجے میں ہے وہ کیا بن گئی وہ الْأَخَصّ ہے۔ تو یہ الْأَخَصّ اور الْأَعَمّ ہیں تو بعض شارحین سمجھے کہ یہ چونکہ پہلی قسم الْأَعَمّ ہے لہذا اس کو کہنا بھی کیا چاہیے الْأَعَمّ نام بھی الْأَعَمّ ہونا چاہیے۔ نہیں نہیں نام ہم نے اس کے الْأَعَمّ و الْأَخَصّ ہونے کی وجہ سے نہیں رکھا۔ نام ہم نے اس کا نقیض ہونے کی وجہ سے رکھا ہے۔ اور `لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` توجہ ہے؟ اوپر جو ہے نقیض۔ `لَازِمٌ غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` یہ الْأَعَمّ ہے لیکن ہم نے اس کو الْأَخَصّ کیوں کہا؟ کیونکہ یہ نقیض ہے الْأَخَصّ کی۔ وہ `بَيِّنٌ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` تھا تو یہ `غَيْرُ بَيِّنٍ بِمَعْنَى الْأَخَصِّ` ہے۔
اگے دیکھیے بھئی متن دیکھیے `وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ يَدُومُ أَوْ يَزُولُ بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ` انہوں نے بتلایا تھا کہ `كُلِّيٌّ عَرَضِيٌّ` اگر معروض سے جدا نہ ہو سکے تو اس کو `لَازِمٌ` کہتے ہیں اور اگر معروض سے جدا ہو سکے تو اس کو کیا کہتے ہیں `عَرَضٌ مُفَارِقٌ`۔ کیا کہتے ہیں؟ `عَرَضٌ مُفَارِقٌ`۔ اور پھر یہ `عَرَضٌ مُفَارِقٌ` جو ہے یہ تین قسم پر ہے۔ یا تو یہ `عَرَضٌ مُفَارِقٌ دَائِمٌ` ہو گا۔ دَائِمٌ کا مطلب کہ جدا ہو تو سکتا ہے لیکن جدا ہوتا نہیں ہے۔ ایک چیز ہے اس کا جدا ہونا ممکن ہے لیکن تمام عمر وہ جدا نہ ہو۔ تمام عمر جدا نہ ہو تو اس کو `عَرَضٌ مُفَارِقٌ دَائِمٌ` کہیں گے۔ کیا کہیں گے؟ `عَرَضٌ مُفَارِقٌ دَائِمٌ` جیسے نیلگوں ہونا اسمان کا۔ یہ جو اسمان کا رنگ ہمیں نیلا نظر اتا ہے یہ اس کی صفت ہے اور یہ صفت اس سے الگ ہو سکتی ہے ممکن ہے۔ کوئی دلیل ایسی نہیں ہے کہ ہم کہیں کہ اس سے الگ نہیں ہو سکتی، عقلی طور پر الگ ہو سکتی ہے لیکن تمام عمر یہ صفت اس سے الگ نہیں ہوتی تو اس کو کہیں گے `عَرَضٌ مُفَارِقٌ دَائِمٌ` کہ مفارق تو ہے جدا تو ہو سکتا ہے لیکن دَائِمٌ ہے یعنی ہمیشہ رہتا ہے جدا ہوتا نہیں۔
اور دوسری قسم ہے `عَرَضٌ مُفَارِقٌ سَرِيعُ الزَّوَالِ` جو تیزی کے ساتھ زائل ہو جائے۔ یعنی ایسی صفت جو معروض پر ائے تو صحیح لیکن تیزی سے جدا بھی ہو جائے جیسے شرمندہ ہونے والے کے چہرے کی سرخی۔ ایک ادمی شرمندہ ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر ایک سرخی ا جاتی ہے، اب یہ سرخی دیکھو اس کی صفت بن گئی۔ لیکن وہ تھوڑی دیر بعد سرخی کیا ہو جاتی ہے ختم ہو جاتی ہے جدا ہو جاتی ہے تو وہ ہے تو `عَرَضٌ مُفَارِقٌ` لیکن کیسا `سَرِيعُ الزَّوَالِ` جلدی سے ختم ہو جانے والا زائل ہو جانے والا اور تیسری قسم ہے `عَرَضٌ مُفَارِقٌ بَطِيءُ الزَّوَالِ`۔ بَطِيءُ یعنی دیر سے زائل ہونے والا۔ کہ جو صفت انسان پر ائے یا کسی بھی معروض پر ائے اور وہ جدا تو ہو لیکن دیر سے جدا ہو۔ جیسے جوانی ایک انسان کی صفت ہے لیکن یہ صفت اتی ہے تو پھر جلدی نہیں جاتی بلکہ کافی دیر کے بعد جا کر یہ زائل ہوتی ہے تو اس کو کہتے ہیں `عَرَضٌ مُفَارِقٌ بَطِيءُ الزَّوَالِ`۔ تو `عَرَضٌ مُفَارِقٌ` کی یہ تین قسمیں ہوئیں بھئی۔
تو بعض ستارے ہیں ان کی روشنی ہمیں 50 ہزار سال میں پہنچتی ہے یہ جو قطبی ستارہ ہے قطبی تارا آپ نے سنا ہوگا شمال کی طرف ہے اور اس کے ذریعے پرانے لوگ سمت کا پتہ لگاتے تھے کہ شمال مشرق جنوب کس طرف ہے رات کے وقت اگر سفر کرنا پڑتا تو یہ جو قطبی تارا ہے کہتے ہیں اس کی روشنی ہمیں 50 ہزار سال میں پہنچتی ہے اندازہ لگاؤ ہر ہر سیکنڈ میں روشنی تین لاکھ کلومیٹر کر رہی ہے اور اسی رفتار سے وہ 50 ہزار سال تک چلتی رہی پھر زمین پر پہنچی آپ کو اگر ایک راکٹ میں بٹھایا جائے اور اس راکٹ کو روشنی کی رفتار سے چلائیں کتنی ہر سیکنڈ میں کتنا تین لاکھ تو 50 ہزار سال بعد یہ راکٹ پہنچے گا قطبی ستارے پر اور آپ تو سب کچھ موجود بھی ہوا کوئی حادثہ بھی نہ ہوا تمام اسباب بھی ہوئے تو 50 سال زندہ رہیں گے 60 سال زندہ رہیں گے 70 سال اور روشنی یہ کتنے میں پہنچتی ہے 50 تو یہ بعض ستارے ایسے ہیں ان کی کروڑوں سال میں روشنی پہنچتی ہے اتنی وسیع کائنات ہے انسان حیران ہوتا ہے چلیے یہ تو ویسے بات آگئی آئیے بھئی سبق کی طرف
تو یہ جو فلک ہیں یہ جو آسمان ہیں یہ ہر وقت گھوم رہے ہیں چکر لگا رہے ہیں بھئی یہ فلاسفہ کا نظریہ تھا بھئی یہ آسمان کیا ہیں ہر وقت چکر لگا رہے ہیں تو یہ جو حرکت ہے یہ آسمان جو ہے اس کی حقیقت میں تو داخل نہیں اس کی صفت ہے کیا ہے اس کی صفت ہے اور یہ حرکت اس سے جدا نہیں ہوتی جدا ہو سکتی ہے کیونکہ یہ اس کی حقیقت میں داخل نہیں اور آسمان بھی ایک جسم ہے اور ہر جسم جیسے وہ قابل حرکت ہوتا ہے وہ قابل سکون بھی ہوتا ہے ہر جسم کو حرکت دی جا سکتی ہے وہ جیسے وہ قابل حرکت ہے اسی طرح وہ قابل سکون بھی ہے اس میں سکون بھی آسکتا ہے تو یہ جو آسمان ہیں یہ گھوم تو ہر وقت رہے ہیں ان میں سکون آسکتا ہے لیکن سکون آتا نہیں تو یہ جو عرض ہے ان کی حرکت ہے یہ ان کے ساتھ دَائِمٌ ہے کیا ہے دَائِمٌ ہے ہم کس کی بات کر رہے ہیں كُلِّيّ عَرَضِيّ کی تو یہ حرکت ان کی حقیقت میں داخل ہے یا ان کا ایک وصف ہے وصف ہے اور ان سے جدا ہو سکتا ہے یا نہیں جدا ہو سکتا ہے اس کے بغیر بھی آسمان پائے جا سکتے ہیں لیکن ہوتا نہیں
تو یہ مثال ہوئی عَرَضٌ مُفَارِقٌ دَائِمٌ کی کس کی دَائِمٌ کی تو عَرَضٌ مُفَارِقٌ کتنی قسم پر میں نے بتایا دو قسم یا دَائِمٌ ہوگا یا زَائِلٌ دَائِمٌ کا معنی یہ ہے کہ ایک چیز سے جدا ہو تو سکتا ہے لیکن ہوتا نہیں ہمیشہ اسی کے ساتھ رہتا ہے امکان ہے جدا ہونے کا لیکن ہوتا نہیں تو امکان بھی کافی ہے بھئی جدا تو ہو سکتا ہے تو یہ کس کی قسم ہوئی عَرَضٌ مُفَارِقٌ کی اور بعض وہ عَرَضٌ مُفَارِقٌ ہیں جو جدا ہو جاتے ہیں ان کا نام ہے زَائِلٌ پھر یہ زَائِلٌ جو جدا ہونے والے ہیں یہ پھر دو قسم پر ہیں ایک ہے سَرِيعُ الزَّوَالِ اور ایک ہے بَطِيءُ الزَّوَالِ سَرِيعُ الزَّوَالِ وہ وصف جو جلدی جدا ہو جاتا ہے اور ایک ہے بَطِيءُ الزَّوَالِ بطی کا معنی سست بھئی آہستہ بَطِيءُ الزَّوَالِ جو بڑی آہستہ جدا ہوتا ہے یعنی بڑی دیر سے جدا ہوتا ہے سَرِيعُ الزَّوَالِ کی مثال جیسے ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ ایک شخص ہنستا ہے پھر وہ ہنستا ہی رہتا ہے یا چند لمحوں میں خاموش ہو جاتا ہے چند لمحوں میں وہ خاموش ہو جاتا ہے تو یہ ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ جو ہے یہ ضَاحِكٌ بِالْفِعْلِ یہ ایسی صفت ہے جو سَرِيعُ الزَّوَالِ ہے جو کیا ہے سَرِيعُ الزَّوَالِ ہے
یا جیسے کوئی شخص شرمندہ ہوتا ہے تو اس کا چہرہ سرخ ہو جاتا ہے تو یہ چہرے کی سرخی یہ صفت ہے یہ عرض ہے اور عَرَضٌ مُفَارِقٌ ہے اور عَرَضٌ مُفَارِقٌ یہ دَائِمٌ ہے یا زَائِلٌ ہے زَائِلٌ دائمی اس کے ساتھ رہتی ہے یا جدا ہو جاتی ہے جدا ہو جاتی ہے اور پھر جدا جلدی ہوتی ہے یا دیر سے جلدی ہو جاتی ہے تو یہ سَرِيعُ الزَّوَالِ ہے یا جیسے کسی شخص کوئی شخص ڈر جاتا ہے تو چہرہ اس کا زرد پڑ جاتا ہے یہ زردی بھی کیا ہے سَرِيعُ الزَّوَالِ ہے جبکہ کچھ صفات ہوتی ہیں وہ بَطِيءُ الزَّوَالِ ہوتی ہیں وہ بڑی دیر سے جدا ہوتی ہیں جیسے جوانی انسان کی کیا ہے ایک صفت ہے ایک حالت ہے جب اس کے تمام قوتیں اپنے عروج پر پہنچتی ہیں اور پھر یہ جوانی فوراً ختم نہیں ہوتی کئی سال تک یہ جوانی رہتی ہے اور اس کے بعد ختم ہوتی ہے تو یہ جوانی کس کی مثال ہے بَطِيءُ الزَّوَالِ کی بات سمجھ میں آگئی تو یہ معنی ہے دیکھیے بھئی ترجمہ دیکھ لیں متن میں
وَإِلَّا فَعَرَضٌ مُفَارِقٌ ورنہ وہ پھر عَرَضٌ مُفَارِقٌ ہے یعنی اگر وہ عرض اپنے معروض سے جدا ہونا اس کا ممکن ہو اگر عرض کا اپنے معروض سے جدا ہونا ممکن پیچھے آیا تھا اگر عرض اپنے معروض سے جدا نہ ہو سکے تو وہ لَازِمٌ ہے اور اگر ایسا نہ ہو یعنی جدا ہونا ممکن ہو تو پھر عَرَضٌ مُفَارِقٌ یہ کیا ہے عَرَضٌ مُفَارِقٌ ہے يَدُومُ پھر یہ عَرَضٌ مُفَارِقٌ یا تو دائمی ہوگی أَوْ يَزُولُ یا زَائِلٌ ہوگی بِسُرْعَةٍ أَوْ بُطْءٍ جلدی سے زَائِلٌ ہوگی أَوْ بُطْءٍ یا دیر سے بھئی اب آئیے شرح پر
قَوْلُهُ وَكُلٌّ مِنْهُمَا أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الْخَاصَّةِ وَالْعَرَضِ الْعَامِّ وَكُلٌّ مِنْهُمَا أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ جی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ کُلّ کا لفظ ہمیشہ مضاف الیہ چاہتا ہے کُلّ کا معنی ہے سارا تو کس چیز کا سارا کیا سارے قلم مراد ہیں یا ساری کتابیں مراد ہیں یا سارے طلبہ مراد ہیں تو کُلّ کے لیے ہمیشہ کیا چاہیے مضاف الیہ لیکن کبھی کبھار کُلّ کے مضاف الیہ کو حذف کر دیتے ہیں اور اس پر تنوین لے آتے ہیں تو یہ کُلّ اور بَعْض پر جو تنوین آئے وہ مضاف الیہ کا عوض ہوتی ہے تو متن میں بھی کیا آیا تھا وَكُلٌّ مِنْهُمَا کُلّ پر تنوین آئی تھی تو یہ تنوین کس کا عوض ہے مضاف الیہ کا چنانچہ شرح میں یہی بتلا رہے ہیں أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ تنوین کی جگہ کیا لے آئے وَاحِد کا لفظ ہر ایک اور متن میں کیا آیا تھا وَكُلٌّ مِنْهُمَا هُمَا ضمیر کا مرجع بھی شرح میں بتلا دیا أَيْ مِنَ الْخَاصَّةِ وَالْعَرَضِ الْعَامِّ تو کہتے ہیں قَوْلُهُ وَكُلٌّ مِنْهُمَا أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِنَ الْخَاصَّةِ وَالْعَرَضِ الْعَامِّ یعنی ہر ایک جو ہے خَاصَّة اور عَرَضِ عَامّ میں سے وَبِالْجُمْلَةِ اور حاصل ایک کلام یہ کہ الْكُلِّيُّ الَّذِي هُوَ عَرَضِيٌّ لِأَفْرَادِهِ کہ وہ كُلِّيّ جو عَرَضِيّ ہوتی ہے اپنے افراد کے لیے یعنی ذَاتِيّ نہیں ہوتی بلکہ عَرَضِيّ ہوتی ہے إِمَّا لَازِمٌ أَوْ مُفَارِقٌ یا تو وہ لَازِمٌ ہوگی یا مُفَارِقٌ ہوگی بھئی لَازِمٌ اور مُفَارِقٌ کیوں کہتے ہیں إِذْ لَا يَخْلُو اس لیے کیونکہ یہ عَرَضِيّ یہ خالی نہیں ہے اس میں یہ دو باتوں میں سے ایک ضرور ہوگی إِمَّا أَنْ يَسْتَحِيلَ انْفِكَاكُهُ عَنْ مَعْرُوضِهِ أَوْ لَا یا تو محال ہوگا اس کا جدا ہونا کس سے اپنے معروض سے جدا ہونا محال ہوگا أَوْ لَا یا محال نہیں ہوگا توجہ ہے یا تو صفت اپنے معروض سے جدا ہو سکے گی یا جدا نہیں ہو سکے گی اگر جدا ہونا محال ہو تو اس کو کیا کہیں گے لَازِمٌ اور اگر جدا ہونا محال نہ ہو جدا ہو سکتی ہے تو اس کو کیا کہیں گے مُفَارِقٌ اب دیکھو دو چیزیں ذکر کیں إِمَّا لَازِمٌ أَوْ مُفَارِقٌ پہلے کس کو ذکر کیا لَازِمٌ دوسرے نمبر پر مُفَارِقٌ آگے جب تفصیل بیان کر رہے ہیں وہاں بھی دو چیزیں ہیں إِذْ لَا يَخْلُو اس لیے کیونکہ وہ عرض وہ خالی نہیں ہے یعنی دو باتوں میں سے ایک اس میں ضرور ہوگی إِمَّا أَنْ يَسْتَحِيلَ انْفِكَاكُهُ يا تو محال ہوگا اس کا جدا ہونا کس سے اپنے معروض سے جدا ہونا محال ہوگا أَوْ لَا یا محال نہیں ہوگا توجہ ہے فَالْأَوَّلُ هُوَ الْأَوَّلُ وَالثَّانِي هُوَ الثَّانِي تو اول اول ہے اور ثانی ثانی ہے اول کون سی یہ جو بعد میں دو چیزیں ذکر کیں جدا ہونا محال ہوگا یا محال نہیں ہوگا محال ہوگا پہلی صورت محال نہیں ہوگا دوسری جدا ہونا محال ہو یہ جو پہلی صورت ہے فَالْأَوَّلُ یہ جو اول ہے هُوَ الْأَوَّلُ یہ اول ہے یعنی وہ جو لَازِمٌ اور مُفَارِقٌ میں کون تھا پہلے لَازِمٌ تو یہ جو اول جس کا جدا ہونا محال ہے وہ لَازِمٌ ہے وَالثَّانِي یہ جو دوسرا ہے یعنی جو أَوْ لَا یہ جو أَوْ لَا آیا تھا جس کا جدا ہونا محال نہیں یہ دوسرا جو ہے هُوَ الثَّانِي یہ وہ دوسرا ہے کون سا دوسرا مُفَارِقٌ ہے عبارت سمجھ میں آگئی
ثُمَّ اللَّازِمُ يَنْقَسِمُ بِتَقْسِيمَيْنِ پھر یہ لَازِمٌ یہ تقسیم ہوتا ہے دو تقسیموں کے ساتھ آگے بھئی لَازِمٌ کی دو تقسیمیں کریں گے ایک تقسیم ہے ملزوم کے اعتبار سے اور ایک تقسیم تھی لزوم کے اعتبار سے ملزوم کے اعتبار سے کتنی قسمیں تین لَازِمُ الْمَاهِيَّةِ لَازِمُ وُجُودِ خَارِجِيّ اور لَازِمُ وُجُودِ ذِهْنِيّ اور لزوم کے اعتبار سے دو قسمیں تھیں بَيِّنٌ اور غَيْرُ بَيِّنٍ وہی بیان کر رہے ہیں ثُمَّ اللَّازِمُ يَنْقَسِمُ بِتَقْسِيمَيْنِ پھر یہ لَازِمٌ یہ تقسیم ہوتا ہے بِتَقْسِيمَيْنِ دو تقسیموں کے ساتھ یعنی اس میں دو تقسیمیں ہوتی ہیں أَحَدُهُمَا ان میں سے ایک یہ ہے أَنَّ لَازِمَ الشَّيْءِ مَا لَازِمٌ لَهُ کہ کسی شے کا جو لَازِمٌ ہوتا ہے یا تو وہ لَازِمٌ ہوگا بِالنَّظَرِ إِلَى نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ نظر کرتے ہوئے نَفْسِ مَاهِيَّةِ کی طرف مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنْ خُصُوصِ وُجُودِهَا فِي الْخَارِجِ أَوْ فِي الذِّهْنِ قطع نظر وُجُودِ خَارِجِيّ اور قطع نظر وُجُودِ ذِهْنِيّ کبھی تو ایک شے لَازِمٌ ہوتی ہے ایک مَاهِيَّةِ کے ساتھ قطع نظر وُجُودِ خَارِجِيّ اور قطع نظر وُجُودِ ذِهْنِيّ کہ وہی بیان کر رہے ہیں کہ إِمَّا لَازِمٌ لَهُ کہ کسی شے کا جو لَازِمٌ ہے یا تو اس کے ساتھ لَازِمٌ ہوگا بِالنَّظَرِ إِلَى نَفْسِ الْمَاهِيَّةِ نظر کرتے ہوئے نَفْسِ مَاهِيَّةِ اور حقیقت کی طرف مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ قطع نظر کرتے ہوئے عَنْ خُصُوصِ وُجُودِهَا اس کا جو خاص وجود ہے فِي الْخَارِجِ أَوْ فِي الذِّهْنِ خارج یا ذہن میں اس سے قطع نظر نَفْسِ مَاهِيَّةِ کے ساتھ خاص ہوگی وَذَلِكَ بِأَنْ يَكُونَ هَذَا الشَّيْءُ بِحَيْثُ كُلَّمَا تَحَقَّقَ فِي الذِّهْنِ أَوْ فِي الْخَارِجِ كَانَ هَذَا اللَّازِمُ ثَابِتًا لَهُ اور وہ اس طور پر کہ یہ والی چیز جو ہے بِحَيْثُ كُلَّمَا تَحَقَّقَ فِي الذِّهْنِ أَوْ فِي الْخَارِجِ کہ یہ چیز جب بھی پائی جائے ذہن میں یا خارج میں كَانَ هَذَا اللَّازِمُ ثَابِتًا لَهُ تو یہ والا لَازِمٌ بھی اس کے لیے ثابت ہوگا وَإِمَّا لَازِمٌ لَهُ بِالنَّظَرِ إِلَى وُجُودِهِ الْخَارِجِيِّ أَوِ الذِّهْنِيِّ یا وہ جو لَازِمٌ ہوگا وہ ایک چیز کے ساتھ لَازِمٌ ہوگا نظر کرتے ہوئے اس کے وُجُودِ خَارِجِيّ کی طرف أَوِ الذِّهْنِيِّ یا نظر کرتے ہوئے اس کے وُجُودِ ذِهْنِيّ کی طرف فَهَذَا الْقِسْمُ بِالْحَقِيقَةِ قِسْمَانِ حَاصِلَانِ تو یہ والی قسم جو ہے حقیقت میں دو قسمیں ہیں حاصل ہونے والی بھئی آپ کی کتابوں میں قِسْمَانِ حَاصِلَانِ حَاصِلَانِ صفت ہے نہیں حَاصِلَانِ نہیں ہونا چاہیے میری کتاب میں ہے لیکن یہ نہیں ہونا چاہیے فَهَذَا الْقِسْمُ بِالْحَقِيقَةِ قِسْمَانِ اچھا بھئی متن میں آؤ متن میں کیا تھا وَكُلٌّ مِنْهُمَا إِنِ امْتَنَعَ انْفِكَاكُهُ عَنِ الشَّيْءِ فَلَازِمٌ بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ أَوِ الْوُجُودِ کتنی قسمیں بنائیں دو بظاہر لگ رہا ہے دو قسمیں بنائیں لیکن تمام مناطقہ یہاں کتنی قسمیں بناتے ہیں تین میں نے جواب بھی بتلایا تھا کیا جواب تھا کہ یہ جو وجود کہا اس وجود سے خاص وجود مراد ہے اور وہ کون سا وُجُودِ خَارِجِيّ یا وُجُودِ ذِهْنِيّ خاص وجود مراد ہے بات سمجھ میں آگئی اور کیوں خاص وجود کیوں مراد مطلق وجود نہیں ورنہ تو مطلقا تین وجود ہیں وُجُودِ خَارِجِيّ وُجُودِ ذِهْنِيّ اور وُجُودِ نَفْسُ الْأَمْرِيّ تو وہ تینوں کو شامل نہیں ہے بلکہ خاص وجود ہے اور وہ کتنی قسمیں وُجُودِ خَارِجِيّ اور وُجُودِ ذِهْنِيّ تو یہ والی جو قسم ہے توجہ ہے یہ جو متن میں آیا بِالنَّظَرِ إِلَى الْمَاهِيَّةِ نظر کرتے ہوئے مَاهِيَّةِ کی طرف یہ ایک قسم ہو گئی أَوِ الْوُجُودِ یا نظر کرتے ہوئے کس کی طرف وجود کی طرف یہ دراصل کتنی قسمیں ہیں دو ہیں وُجُودِ ذِهْنِيّ بھی اور وُجُودِ خَارِجِيّ بھی یہی بیان کر رہے ہیں فَهَذَا الْقِسْمُ یہ جو دوسری قسم ہے یہ جو أَوِ الْوُجُودِ کہا بِالْحَقِيقَةِ قِسْمَانِ یہ حقیقت میں دو قسمیں ہیں
میں نے ایک اور بات کہی کہ یہ الْوُجُودِ پر الف لام آیا معلوم ہوا خاص وجود مراد ہے اور کون سا وجود وُجُودِ خَارِجِيّ اور وُجُودِ ذِهْنِيّ وُجُودِ نَفْسُ الْأَمْرِيّ مراد نہیں تو یہ الف لام اس کے ذریعے اشارہ ہے کس کی طرف خاص وجود کی طرف چنانچہ اسی لیے دیکھو شرح میں آیا تھا یہ ابھی دو سطریں پہلے مَعَ قَطْعِ النَّظَرِ عَنْ خُصُوصِ وُجُودِهَا فِي الْخَارِجِ أَوْ فِي الذِّهْنِ دیکھا خُصُوصِ وُجُودِهَا وجود سے پہلے خُصُوصِ کا لفظ لے آئے اسی بات کی طرف اشارہ کرنے کے لیے کہ متن میں جو الْوُجُودِ آیا تھا وہ ہر وجود مراد نہیں وہ خاص وجود مراد ہے اسی لیے کہا عَنْ خُصُوصِ وُجُودِهَا اس کا جو خاص وجود ہے فِي الْخَارِجِ أَوْ فِي الذِّهْنِ خارج میں یا ذہن میں یعنی وہ مراد ہے وُجُودِ نَفْسُ الْأَمْرِيّ مراد نہیں ہے
فَأَقْسَامُ اللَّازِمِ بِهَذَا التَّقْسِيمِ ثَلَاثَةٌ فَأَقْسَامُ اللَّازِمِ پس لَازِمٌ کی جو اقسام ہیں بِهَذَا التَّقْسِيمِ اس تقسیم کی وجہ سے ثَلَاثَةٌ وہ کتنی ہیں تین ہیں لَازِمُ الْمَاهِيَّةِ ایک لَازِمُ الْمَاهِيَّةِ ہے كَزَوْجِيَّةِ الْأَرْبَعَةِ جیسے چار کا جفت ہونا وَلَازِمُ الْوُجُودِ الْخَارِجِيِّ دوسری قسم لَازِمُ الْوُجُودِ الْخَارِجِيِّ ہے كَإِحْرَاقِ النَّارِ جیسے آگ کا جلانا وَلَازِمُ الْوُجُودِ الذِّهْنِيِّ اور تیسری قسم ہے لَازِمُ وُجُودِ ذِهْنِيّ كَكَوْنِ حَقِيقَةِ الْإِنْسَانِ كُلِّيَّةً جیسے انسانی حقیقت کا كُلِّيّ ہونا انسان کیا ہے كُلِّيّ ہے دیکھو انسان کا كُلِّيّ ہونا اور زید کا جُزْئِيّ ہونا یہ صرف ذہن میں ہے خارج میں نہیں تو یہ لَازِمُ وُجُودِ ذِهْنِيّ ہے
فَهَذَا الْقِسْمُ يُسَمَّى مَعْقُولًا ثَانِيًا أَيْضًا تو یہ جو قسم ہے تیسری قسم کون سی تیسری قسم لَازِمُ وُجُودِ ذِهْنِيّ يُسَمَّى مَعْقُولًا ثَانِيًا أَيْضًا اس کو مَعْقُولًا ثَانِيًا بھی کہتے ہیں کیا کہتے ہیں مَعْقُول ثَانِي مَعْقُول ہے یعنی عقل میں آتی ہے اور ثَانِي ہے یعنی دوسرے درجے میں آتی ہے پہلے معروض آتا ہے پھر یہ كُلِّيّ یا جُزْئِيّ ہونا آتا ہے پہلے انسان ذہن میں آتا ہے اور اس کے بعد اس کا كُلِّيّ ہونا تو یہ كُلِّيّ ہونا دوسرے درجے میں آتا ہے اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں مَعْقُول ثَانِي کہتے ہیں
الثَّانِي دوسری تقسیم کس کی لَازِمٌ کی پیچھے بتایا تھا نا کہ ثُمَّ اللَّازِمُ يَنْقَسِمُ بِتَقْسِيمَيْنِ کہ لَازِمٌ تقسیم ہوتا ہے کتنی تقسیموں کے ساتھ دو کے ساتھ پہلی کے مطابق اس کی تین قسمیں اب دوسری جو بَيِّنٌ اور غَيْرُ بَيِّنٍ والی ہے اس کو بیان کرنے لگے ہیں وَالثَّانِي اور دوسری تقسیم جو ہے لَازِمٌ کی أَنَّ اللَّازِمَ إِمَّا بَيِّنٌ أَوْ غَيْرُ بَيِّنٍ کہ لَازِمٌ یا تو بَيِّنٌ ہوگا یا غَيْرُ بَيِّنٍ ہوگا وَالْبَيِّنُ لَهُمْ مَعْنَيَانِ اور بَيِّنٌ کے دو معنی ہیں أَحَدُهُمَا ان میں سے ایک یہ ہے الَّذِي يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ کہ لَازِمٌ ہو اس کا تصور ملزوم کے تصور سے كَمَا يَلْزَمُ تَصَوُّرُ الْبَصَرِ مِنْ تَصَوُّرِ الْعَمَى جیسے کہ لَازِمٌ ہے بَصَرٌ کا تصور اندھے پن کے تصور سے بھئی ایک ہے أَعْمَى اندھا بَصَرٌ بینائی اور عَمًى اندھا پن یاد رکھو یہ جو نابینا ہونا ہے اس کے ساتھ بَصَرٌ کا تصور لَازِمٌ ہے جیسے ہی آپ اندھے ہونے کا تصور کرتے ہیں بینا ہونے کا تصور بھی ساتھ آجاتا ہے کیونکہ نابینا کسے کہتے ہیں جس کو دکھائی نہ دے تو دکھائی دینے کی نفی ہو گئی نا تو نابینا کہتے ہی اس کو ہیں جس میں بینائی کی صلاحیت تھی لیکن اب ختم ہو چکی چونکہ دیوار میں بینائی کی صلاحیت ہی نہیں لہذا اس کو کوئی نابینا بھی نہیں کہتا تو نابینا ہونے کے ساتھ کس کا تصور لَازِمٌ بینا ہونے کا تصور لَازِمٌ ہے تو یہ معنی ہے كَمَا يَلْزَمُ تَصَوُّرُ الْبَصَرِ جیسے کہ بَصَرٌ یعنی بینائی کا تصور لَازِمٌ ہے مِنْ تَصَوُّرِ الْعَمَى اندھے پن کے تصور سے فَهَذَا مَا يُقَالُ لَهُ بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصِّ پس یہ وہ لَازِمٌ ہے يُقَالُ لَهُ جس کو کہا جاتا ہے بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَخَصِّ وَحِينَئِذٍ اور اس وقت فَغَيْرُ الْبَيِّنِ تو پھر غَيْرُ بَيِّنٍ جو ہے هُوَ اللَّازِمُ الَّذِي لَا يَلْزَمُ تَصَوُّرُهُ مِنْ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ تو غَيْرُ بَيِّنٍ وہ لَازِمٌ ہے کہ لَازِمٌ نہ ہو اس کا تصور ملزوم کے تصور سے كَالْكِتَابَةِ بِالْقُوَّةِ لِلْإِنْسَانِ جیسے کِتَابَت بِالْقُوَّة ہے انسان کے لیے
وَالثَّانِي مِنْ مَعْنَى الْبَيِّنِ اور بَيِّنٌ کا جو دوسرا معنی ہے هُوَ الَّذِي يَلْزَمُ مِنْ تَصَوُّرِهِ مَعَ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ وَالنِّسْبَةِ بَيْنَهُمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ اور وہ یہ ہے کہ لَازِمٌ ہو مِنْ تَصَوُّرِهِ اس کے تصور کے ساتھ مَعَ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ ملزوم کے تصور کے ساتھ وَالنِّسْبَةِ بَيْنَهُمَا اور ان دونوں کے درمیان نسبت کے تصور کے ساتھ الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ لزوم کا یقین آجاتا ہے كَزَوْجِيَّةٍ لِلْأَرْبَعَةِ جیسے چار کا جفت ہونا فَإِنَّ الْعَقْلَ بَعْدَ تَصَوُّرِ الْأَرْبَعَةِ وَالزَّوْجِيَّةِ وَنِسْبَةِ الزَّوْجِيَّةِ إِلَيْهَا اس لیے کیونکہ عقل بَعْدَ تَصَوُّرِ الْأَرْبَعَةِ چار کا تصور کرنے اور زَوْجِيَّةِ کا تصور کرنے وَنِسْبَةِ الزَّوْجِيَّةِ إِلَيْهَا اور اس زَوْجِيَّةِ کی چار کی طرف نسبت کا تصور کرنے کے بعد يَحْكُمُ قَطْعًا قطعاً فیصلہ کر دیتی ہے بِأَنَّ الزَّوْجِيَّةَ لَازِمَةٌ لَهَا کہ یہ زَوْجِيَّةِ لَازِمٌ ہے اس چار کے لیے وَذَلِكَ يُقَالُ لَهُ الْبَيِّنُ بِالْمَعْنَى الْأَعَمِّ اور اس کو بَيِّنٌ بِالْمَعْنَى الْأَعَمِّ کہتے ہیں وَحِينَئِذٍ اور اس وقت فَغَيْرُ الْبَيِّنِ هُوَ اللَّازِمُ الَّذِي لَا يَلْزَمُ مِنْ تَصَوُّرِهِ مَعَ تَصَوُّرِ الْمَلْزُومِ وَالنِّسْبَةِ بَيْنَهُمَا الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ تو غَيْرُ بَيِّنٍ وہ لَازِمٌ ہے کہ لَازِمٌ نہیں ہوتا اس کے تصور سے ساتھ ملزوم کے تصور کے اور ان دونوں کے درمیان نسبت کے تصور کے ساتھ الْجَزْمُ بِاللُّزُومِ لزوم کا یقین نہیں آتا كَالْحُدُوثِ لِلْعَالَمِ جیسے عالم کے لیے حَادِث ہونا فَهَذَا التَّقْسِيمُ الثَّانِي بِالْحَقِيقَةِ قِسْمَانِ پس یہ جو دوسری تقسیم ہے یہ بھی حقیقت میں دو قسمیں ہیں إِلَّا أَنَّ الْقِسْمَيْنِ الْحَاصِلَيْنِ عَلَى كُلِّ تَقْدِيرٍ مگر یہ کہ وہ جو دو قسمیں ہیں حاصل ہونے والی ہر تقدیر پر إِنَّمَا يُسَمَّيَانِ بِالْبَيِّنِ وَغَيْرِ الْبَيِّنِ ان دونوں کا نام موسوم ہوتی ہیں بَيِّنٌ اور غَيْرُ بَيِّنٍ کے ساتھ ہی
قَوْلُهُ يَدُومُ متن میں آیا تھا يَدُومُ کہ ماتن کا قول يَدُومُ عَرَضٌ مُفَارِقٌ ہے لیکن دائم رہتی ہے كَحَرَكَةِ الْفَلَكِ جیسے فلک کی حرکت فَإِنَّهَا دَائِمَةٌ لِلْفَلَكِ اس لیے کیونکہ یہ حرکت دائمی ہے فلک کے لیے وَإِنْ لَمْ يَمْتَنِعِ انْكَاکُهَا بِالنَّظَرِ إِلَى ذَاتِهِ اگرچہ ممتنع نہیں ہے اس کا جدا ہونا نظر کرتے ہوئے اس کی ذات کی طرف قَوْلُهُ بِسُرْعَةٍ یا وہ جلدی جدا ہوتی ہے كَحُمْرَةِ الْخَجِلِ وَصُفْرَةِ الْوَجِلِ جیسے شرمندہ آدمی کی سرخی وَصُفْرَةِ الْوَجِلِ اور ڈرے ہوئے آدمی کی زردی قَوْلُهُ أَوْ بُطْءٍ یا دیر سے جدا ہوتی ہے كَالشَّبَابِ جیسے کہ جوانی
فَهَذَا الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ