دیکھیے بھئی آگے سبق! شرح میں دیکھیے:
قَوْلُهُ: ”أَجْزَاءُ الْعُلُومِ“. ”كُلُّ عِلْمٍ مِنَ الْعُلُومِ الْمُدَوَّنَةِ لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ أُمُورٍ ثَلَاثَةٍ: أَحَدُهَا مَا يُبْحَثُ عَنْ خَصَائِصِهِ وَالْآثَارِ الْمَطْلُوبَةِ عَنْهُ، أَيْ يَرْجِعُ جَمِيعُ أَبْحَاثِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ، وَهُوَ الْمَوْضُوعُ، وَتِلْكَ الْآثَارُ هِيَ الْأَعْرَاضُ الذَّاتِيَّةُ“۔
گزشتہ سبق میں کتاب کا آخری حصہ خاتمہ جو ہے، اس کو ہم نے شروع کیا تھا، جس میں مصنف نے اجزائے علوم آپ کو بتلائے۔ مصنف نے آپ کو بتلایا کہ علوم کے اجزا جو ہیں وہ تین چیزیں ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ موضوعات وہ چیزیں جن کے عوارضِ ذاتیہ سے کسی علم کے اندر بحث کی جائے۔ اور یہاں جمع لے کر آئے تا کہ شامل ہو جائے اس علم کے موضوع کو بھی اور اس علم کے جو مسائل کے موضوعات ہیں—مسائل کن کا نام؟ قضایا—تو ان قضایا کے جو موضوعات ہیں تا کہ ان کو بھی یہ شامل ہو جائے۔
اور یا موضوعات سے مراد ہے: ”مَا يَصْدُقُ عَلَيْهِ مَوْضُوعُ الْعِلْمِ“—وہ چیز جس پر موضوعِ علم صادق آئے۔ جیسے منطق کا موضوع کیا؟ معرف اور حجت۔ یعنی وہ معلوم تصورات ہیں اور معلوم تصدیقات۔ تو معلوم تصورات، دیکھو یہ بھی جمع۔ معلوم تصدیقات، دیکھو یہ بھی جمع۔ تو وہ تمام معلوم تصورات جو ہمیں پہنچانے والے ہیں مجهول تصورات تک، تو وہ منطق کا موضوع ہیں۔ اسی طرح وہ تمام معلوم تصدیقات جو ہمیں پہنچانے والی ہیں مجهول تصدیق تک، وہ بھی منطق کا موضوع ہیں۔ تو اس اعتبار سے جمع لے کر آئے۔
تو کسی علم کا موضوع وہ چیزیں، جن کے عوارضِ ذاتیہ سے اس علم میں بحث کی جائے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عوارض دو قسم پر ہیں: کچھ عوارضِ ذاتیہ کہلاتے ہیں اور کچھ عوارضِ غریبہ۔ عوارضِ ذاتیہ وہ ہیں جو کسی چیز کو لاحق ہوتے ہیں بلا واسطہ اس کی ذات کے اعتبار سے، اور ان کو عرضِ اولی بھی کہتے ہیں—یا یوں کہیں، ان کو عارض بذات اور عارض اولی بھی کہتے ہیں بھئی۔ عارض اولی اور عارض بذات؟ عارض بذات یعنی اس چیز کی ذات کو لاحق ہوتے ہیں، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں۔ عارضِ اولی کا معنی بھی یہی کہ اولاً اس چیز کو عارض ہوتے ہیں، درمیان میں کوئی واسطہ نہیں ہے۔ تو وہ عوارض جو بذات کسی چیز کو لاحق ہوتے ہیں، ان کو عوارضِ اولیہ بھی کہتے ہیں بھئی۔
تو عوارضِ ذاتیہ میں یہ عوارضِ اولیہ بھی داخل ہیں اور اسی طرح وہ عوارض جو کسی امرِ مساوی کے ذریعے کسی چیز کو لاحق ہوتے ہیں، وہ بھی اس میں داخل ہیں۔ اور امرِ مساوی جو ہے وہ داخل بھی ہو سکتا ہے، یعنی جز بھی ہو سکتا ہے اس شے کا، اور اس سے خارج بھی ہو سکتا ہے۔ جیسے ضحک انسان کو لاحق ہے کس کے واسطے سے؟ تعجب کے واسطے سے، اور تعجب کیا ہے؟ انسان کی حقیقت سے خارج۔ اور کبھی وہ امرِ مساوی جز ہوتا ہے، جیسے نطق لاحق ہے انسان کو کس کے واسطے سے؟ ناطق کے واسطے سے، اور ناطق جو امرِ مساوی ہے وہ انسان کا جز ہے بھئی۔
تو عوارضِ ذاتیہ وہ ہیں جو کسی چیز کو بذات لاحق ہوتے ہیں یا کسی امرِ مساوی کے واسطے سے۔ اور ان کے علاوہ جو ہیں وہ عوارضِ غریبہ ہیں، اور عوارضِ غریبہ ان کی پھر چار صورتیں بنتی ہیں: یا تو وہ عارض ہوں گے جزِ اعم کے ذریعے، یا خارجِ اعم کے ذریعے، یا اخص کے ذریعے، یا مباین کے ذریعے۔ اعم میں دو صورتیں بنتی ہیں: وہ اعم یا جز ہوگا یا خارج، جبکہ اخص اور مباین میں ایک ایک صورت ہے؛ تو یہ چار صورتیں بن گئیں۔
تو جزِ اعم کے واسطے سے عرض لاحق ہو، جیسے حرکت بالارادہ انسان کو لاحق ہوتی ہے حیوان کے واسطے سے، اور حیوان جو ہے وہ انسان کا جز ہے اور جزِ اعم ہے—یہ صرف انسان میں نہیں ہے، باقی حیوانات میں بھی یہ جز موجود ہے۔ اور کبھی وہ اعم جو ہے وہ حقیقت سے اور ماہیت سے خارج ہوتا ہے، جیسے ابيض کو حرکت لاحق ہو۔ تو ابيض متحرک ہے لیکن کس واسطے سے؟ جسم کے واسطے سے، اور یہ جسم ابيض کی حقیقت اور ماہیت سے خارج ہے۔ اور کبھی وہ جو واسطہ ہوتا ہے وہ اخص ہوتا ہے، جیسے نطق یا ضحک عارض ہوتا ہے حیوان کو بواسطۂ انسان کے، اور انسان اخص ہے حیوان کے مقابلے میں۔ اور کبھی وہ واسطہ جو ہوتا ہے وہ مباین ہوتا ہے، جیسے حرارت لاحق ہوتی ہے پانی کو اور واسطہ آگ ہے، اور آگ اور پانی ایک دوسرے کے مباین ہیں۔ یہ کہیں بھی جمع نہیں ہوتے کہ ایک ہی چیز کو آگ اور پانی کہا جائے۔ جو آگ ہے وہ پانی نہیں، اور جو پانی ہے وہ آگ نہیں۔
تو بات چل رہی تھی کسی علم کے موضوعات کی کہ وہ چیزیں جن کے عوارضِ ذاتیہ سے کسی علم میں بحث کی جائے۔ اور مبادی انہوں نے بتلایا کہ مبادی دو چیزیں ہیں: یا تو وہ تصورات ہیں یا تصدیقات۔ تصورات ہوں تو ان کو مبادیِ تصوریہ کہتے ہیں، اور تصدیقات ہوں تو ان کو مبادیِ تصدیقیہ کہتے ہیں۔
تو مبادی جو ہیں وہ مبادیِ تصوریہ بھی ہو سکتے ہیں اور مبادیِ تصدیقیہ بھی۔ مبادیِ تصوریہ کیا ہیں؟ انہوں نے آپ کو بتلایا تھا ان موضوعات کی تعریف، اور اگر یہ مرکب ہوں، ان کے اجزا ہوں تو ان کے اجزا کی تعریف، اور اسی طرح ان کے عوارضِ ذاتیہ کی جو تعریف ہے، وہ مبادیِ تصوریہ میں داخل ہیں؛ کیونکہ معرف ہیں، وہ سب معرف ہیں، اور معرف اور تعریف کس کی قبیل سے ہے؟ تصور کی قبیل سے۔
اور دوسرے کچھ مقدمات ہیں بھئی جو بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں، جن پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں، یعنی اس علم کے دلائل ان سے مرکب ہوتے ہیں۔
اور اس کے بعد تیسری چیز جو ہے وہ مسائل ہیں، اور مسائل کچھ ایسے قضایائے کا نام ہے جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، یعنی مقصود بالذات ہوتے ہیں۔ دلائل کے ذریعے ان کو ثابت کیا جاتا ہے اور انہی قضایا، انہی مسائل کی خاطر، انہی باتوں کی خاطر وہ علم اور فن پڑھا اور پڑھایا جاتا ہے، انہی فوائد کی وجہ سے۔
تو یہ مسائل قضایا کا نام ہے، اور قضیہ کے اندر ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول۔ تو یہ جو مسائل ہیں، قضایا ہیں، ان کے موضوعات کیا ہوں گے؟ محمولات کیا ہوں گے؟ وہ بھی انہوں نے آپ کو بتلایا۔ کہ ان مسائل کے جو موضوعات ہیں، وہ اس علم کا موضوع—وہی ان کا بھی موضوع ہو سکتا ہے—یا اس علم کے موضوع کی کوئی نوع، وہ ان قضایا کا موضوع بن سکتی ہے—یا اس علم کے موضوع کی کوئی عرضِ ذاتی جو ہے، وہ ان قضایا کا موضوع بن سکتی ہے—یا اسی طرح وہ موضوع مرکب ہوگا اس علم کے موضوع اور اس کی کسی عرضِ ذاتی سے—یا اس علم کے موضوع کی کوئی نوع اور اس کے عرضِ ذاتی سے وہ مرکب ہوگا۔ اور محمولات جو ہیں، انہوں نے بتلایا تھا کہ محمولات جو ہیں ان قضایا کے، وہ ان موضوعات کے عوارضِ ذاتیہ ہوں گے۔ کیا ہوں گے؟ ان موضوعات کے عوارضِ ذاتیہ ہوں گے۔ اور پھر وہاں پر انہوں نے ”لِذَوَاتِهَا“ کی قید لگائی تھی۔ تو اس پر اشکال ہوتا تھا کہ اس سے تو وہ صرف عوارض آ گئے جو بذات کسی چیز کو لاحق ہوتے ہیں، حالانکہ عوارضِ ذاتیہ تو اس میں تو بذات جو لاحق ہوتے ہیں وہ بھی داخل ہیں اور جو امرِ مساوی کے ذریعے لاحق ہوتے ہیں وہ بھی داخل ہیں؛ تو تعریف سے تو وہ داخل نہیں ہو رہے بھئی۔
تو بتلایا تھا کہ علماء فرماتے ہیں کہ ”لِذَوَاتِهَا“ کے بعد ”لِمَا يُسَاوِيهَا“ کی قید کا بھی اعتبار کرنا پڑے گا۔ یا اسی ”لِذَوَاتِهَا“ کے اندر بعض علماء تاویل کرتے ہیں اور وہ کہتے ہیں ”لِذَوَاتِهَا“ سے مراد کیا ہے؟ ”لِاسْتِعْدَادٍ مَخْصُوصَةٍ بِذَوَاتِهَا“—کہ ان کی ذاتوں میں مخصوص استعداد کی وجہ سے یہ عوارض ان کو لاحق ہوتے ہیں۔ اور مخصوص استعداد کی وجہ سے جو عوارض لاحق ہوتے ہیں وہ سب عوارضِ ذاتیہ ہیں، اس میں عرضِ اولی بھی داخل اور عرض بامرِ مساوی بھی اس میں داخل ہو جاتی ہے۔
تو یہ جو مبادی کی تعریف کی، یہ تو اس علم کے اندر داخل ہے بھئی؛ کیونکہ علم کے مسائل کا سمجھنا ان پر موقوف ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ علم کے مسائل کا سمجھنا ان پر موقوف ہے، تو یہ علم کے اندر داخل۔ جبکہ پھر مبادی کی ایک اور تعریف کی، جو علامہ ابنِ حاجب نے کی ہے، صاحبِ کافیہ نے۔ وہ فرماتے ہیں کہ مبادی وہ ابتدائی باتیں جو کسی علم کے شروع میں ذکر کی جائیں۔ جو بھی ابتدائی باتیں کسی علم کے آغاز میں، کتاب کے شروع میں ذکر کی جائیں وہ کیا ہیں؟ مبادی ہیں بھئی۔ اور وہ مبادی—وہ تو جو بھی باتیں ذکر کی جائیں—تو اس میں ایسی باتیں بھی ذکر ہو سکتی ہیں جو ہو سکتا ہے اس علم کے اندر داخل ہوں، اور ہو سکتا ہے اس علم میں داخل نہ ہوں؛ البتہ ان کے سمجھنے سے آگے علم کا سمجھنا آسان ہو جاتا ہے اور اس کا شوق پیدا ہو جاتا ہے۔
اب آگے دیکھیے بھئی شرح کے اندر! اب یہی جو متن میں ہم نے تفصیل پڑھی، اسی کی اب شرح کریں گے۔
قَوْلُهُ: ”أَجْزَاءُ الْعُلُومِ“. ”كُلُّ عِلْمٍ مِنَ الْعُلُومِ الْمُدَوَّنَةِ لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ أُمُورٍ ثَلَاثَةٍ“—ہر وہ علم جو علومِ مدونہ میں سے ہو، ضروری ہے اس میں تین چیزوں کا ہونا۔ علومِ مدونہ میں نے بتلایا تھا: وہ علوم جن کی تدوین کی گئی ہو۔ تدوین کا معنی ہے جمع کرنا، یعنی وہ علوم جو کتابی صورت میں جمع کیے گئے ہیں۔ وہ علوم جو کتابی صورت میں جمع کیے گئے ہیں اور ان کو قلمبند کیا گیا ہے، ان میں تین امور کا، تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔
”أَحَدُهَا مَا يُبْحَثُ عَنْ خَصَائِصِهِ وَالْآثَارِ الْمَطْلُوبَةِ عَنْهُ“—ایک تو وہ چیز جس کے خصوصیات، یعنی جس کے احوال کے بارے میں بحث کی جائے، ”وَالْآثَارِ الْمَطْلُوبَةِ عَنْهُ“—اور وہ نتائج جو ان سے مطلوب ہوتے ہیں۔ وہ نتائج اور فوائد جو ان سے مطلوب ہوتے ہیں۔ تین چیزیں ہونی چاہئیں ہر علم کے اندر بھئی! کون سی؟ ایک تو وہ چیز جس کی خصوصیات اور اس سے مطلوبہ نتائج، اس سے حاصل ہونے والے فائدے اور نتیجے، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اس علم کے اندر۔ ایک تو وہ چیز ہے، اور وہ کیا ہے؟ اس علم کا موضوع ہے، جس کے خاص احوال—خصوصیات سے کیا مراد؟ خاص احوال—جس کے خاص احوال اور نیز اس کے، اس سے حاصل ہونے والے نتائج، یعنی فوائد اور ثمرات جو ہیں، ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے اس علم کے اندر۔
تو کہتے ہیں: ”أَحَدُهَا مَا“—ان میں سے ایک تو وہ چیز ہے، ”يُبْحَثُ عَنْ خَصَائِصِهِ“—کہ بحث کی جاتی ہے اس کی خصوصیات کے بارے میں، ”وَالْآثَارِ الْمَطْلُوبَةِ عَنْهُ“—اور ان نتائج کے بارے میں جو اس چیز سے مطلوب ہوتے ہیں۔ اس چیز کی خصوصیات اور اس چیز سے مطلوبہ نتائج کے بارے میں بحث کی جاتی ہے۔ وہ چیز، ”أَيْ يَرْجِعُ جَمِيعُ أَبْحَاثِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ“—حاصلِ کلام یہ، یعنی لوٹتی ہیں تمام ابحاثِ علم اس چیز کی طرف۔ اسی کے احوال اور اسی کے فوائد اور ثمرات سے کیا کی جاتی ہے؟ بحث کی جاتی ہے، یعنی علم کی ساری بحثیں اسی چیز کی طرف لوٹتی ہیں۔ ہمارا معنی سمجھ میں آیا؟
تو ایک تو وہ چیز ہے جس کے خاص احوال سے اور اس سے جو نتائج مطلوب ہوتے ہیں ان کے بارے میں بحث کی جاتی ہے: ”أَيْ يَرْجِعُ جَمِيعُ أَبْحَاثِ الْعِلْمِ إِلَيْهِ“—یعنی علم کی تمام بحثیں اسی کی طرف لوٹتی ہیں، ”وَهُوَ الْمَوْضُوعُ“—اور وہ اس علم کا موضوع ہے۔ ”وَتِلْكَ الْآثَارُ هِيَ الْأَعْرَاضُ الذَّاتِيَّةُ“—اور یہ جو آثار ہیں اور یہ جو نتائج ہیں، یہ اس کے عوارضِ ذاتیہ ہی ہیں۔ یہ کیا ہیں اس چیز کے؟ عوارضِ ذاتیہ ہی ہیں۔
”الثَّانِي الْقَضَايَا“—دوسری چیز جو ضروری ہے: ”الْقَضَايَا الَّتِي يَقَعُ فِيهَا هَذَا الْبَحْثُ“—وہ قضیے جن کے اندر یہ بحث ہوتی ہے، جن میں خصوصیات اور آثار کی بحث ہوتی ہے، وہ قضیے۔ ”وَهِيَ الْمَسَائِلُ“—اور یہ مسائل ہی ہیں۔ ”وَهِيَ تَكُونُ نَظَرِيَّةً فِي الْأَغْلَبِ، وَقَدْ تَكُونُ بَدِيهِيَّاتٍ مُحْتَاجَةً إِلَى تَنْبِيهٍ“—اور یہ نظری ہوتے ہیں، یہ مسائل کیا ہوتے ہیں؟ نظری ہوتے ہیں ”فِي الْأَغْلَبِ“—اکثر اوقات میں، غالباً غالباً یہ کیا ہوتے ہیں؟ نظری ہوتے ہیں، جن کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے۔ ”وَقَدْ تَكُونُ بَدِيهِيَّاتٍ مُحْتَاجَةً إِلَى تَنْبِيهٍ“۔ ”بَدِيهِيَّاتٍ“ ہے موصوف اور ”مُحْتَاجَةً“ ہے اس کی صفت۔ سوال: ”بَدِيهِيَّاتٍ“ اس پر میں جر پڑھ رہا ہوں اور ”مُحْتَاجَةً“ اس پر میں نصب پڑھ رہا ہوں، حالانکہ موصوف صفت کا اعراب تو ایک ہوتا ہے؟
ہاں شاباش! یہ دونوں منصوب ہیں۔ ہاں، ”بَدِيهِيَّاتٍ“ چونکہ جمع مؤنث سالم ہے، اس کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے؛ تو یہ جر نہیں ہے، یہ کسرہ ہے، یہ نصب ہے۔ تو یہ منصوب، تو ”مُحْتَاجَةً“ اس کی صفت بھی منصوب، اور یہ کانَ کی خبر ہے، اور کانَ کی خبر منصوب ہوتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ تَكُونُ بَدِيهِيَّاتٍ مُحْتَاجَةً إِلَى تَنْبِيهٍ“—اور کبھی کبھار وہ جو مسائل ہوتے ہیں وہ ایسے بدیہی ہوتے ہیں جو محتاج ہوتے ہیں تنبیہ کے، جو کس کے محتاج ہوتے ہیں؟ تنبیہ کے محتاج ہوتے ہیں بھئی۔
انہوں نے کیا بتلایا؟ کہ اس علم کے مسائل وہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری۔ نظری ہوں پھر تو بات سمجھ میں آتی ہے۔ نظری کہ اس بات کے لیے دلیل کی ضرورت پڑتی ہے، تو اس علم میں بھی کیا کیا جائے گا؟ ان کے لیے دلائل ذکر کر کے دلائل سے ان کو ثابت کیا جائے گا۔ لیکن یہ کہا کہ وہ بدیہی ہوتے ہیں—بھئی بدیہی کے لیے تو کسی دلیل کی ضرورت نہیں، تو پھر ان کے بارے میں بحث کرنے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: بھئی بدیہی بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک بدیہی جلی ہوتا ہے—جلی یعنی ظاہر، ظاہر ہوتا ہے اور فوراً سمجھ میں آ جاتا ہے—اور کچھ بدیہی وہ ہوتے ہیں جن میں تھوڑا سا خفاء ہوتا ہے، پوشیدگی ہوتی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس کے لیے کچھ تھوڑی سی تنبیہ چاہیے، کوئی تھوڑا سا معمولی سا بیان چاہیے تا کہ اس سے خفاء کیا ہو جائے؟ دور ہو جائے۔
یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: ”وَهِيَ تَكُونُ نَظَرِيَّةً فِي الْأَغْلَبِ“—اور یہ مسائل جو ہیں نظری ہوتے ہیں اکثر اوقات، یعنی غالب اوقات میں، ”وَقَدْ تَكُونُ بَدِيهِيَّاتٍ مُحْتَاجَةً إِلَى تَنْبِيهٍ“—اور کبھی کبھار یہ ایسے بدیہی ہوتے ہیں جو محتاج ہوتے ہیں تنبیہ کے۔
”وَقَوْلُهُ: تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ يَعُمُّ الْقِسْمَيْنِ“—بعض کتابوں میں ہوگا: ”يَعُمُّ الْقَبِيلَتَيْنِ“—دونوں کا ایک ہی معنی ہے: ”الْقِسْمَيْنِ“ اور ”الْقَبِيلَتَيْنِ“۔ ”وَقَوْلُهُ: تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“—یہ مصنف کا قول، ذرا متن دیکھیے! متن میں جہاں بات آئی تھی کہ: ”وَالْمَسَائِلُ، وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“—اور مسائل جو ہیں وہ ایسے قضیے ہوتے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، اس علم میں کیا ہوتے ہیں؟ مطلوب ہوتے ہیں۔ تو اس پر بظاہر یہ لگتا ہے دیکھو: وہ، وہ قضیے مطلوب ہوتے ہیں، اور مطلوب کس کو کہتے ہیں؟ نتیجے کو۔ معلوم ہوا ان کے لیے ایک دلیل چاہیے۔ کیا چاہیے؟ قیاس کے ذریعے جو نتیجہ آتا ہے، وہ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مطلوب۔ تو اس کے لیے قیاس، یعنی دلیل کو ذکر کیا جاتا ہے۔ مطلوب تو نتیجے کو کہتے ہیں اور اس کے لیے کیا ذکر کرنا ضروری؟ دلیل، اور دلیل کس کے لیے ہوتی ہے؟ نظری کے لیے ہوتی ہے، بدیہی کے لیے دلیل کی ضرورت نہیں۔ تو بظاہر یوں لگتا ہے مصنف کا یہ جو قول متن میں آیا تھا: ”وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“—وہ ایسے قضیے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، تو بظاہر لگتا ہے کہ یہ مسائل ہمیشہ نظری ہوں گے۔ کیونکہ یہ مطلوب ہیں اور مطلوب وہ ہوتے ہیں جن کے لیے دلیل چاہیے، اور دلیل اس کے لیے چاہیے ہوتی ہے جو نظری ہوتے ہیں؛ معلوم ہوا یہ قضایا بھی کیا ہوں گے؟ نظری ہوں گے ہمیشہ۔ لیکن شارح آپ کو بتلا رہے ہیں: نہیں! دیکھیے شرح میں دیکھیے: ”وَقَوْلُهُ: تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ يَعُمُّ الْقِسْمَيْنِ“—اور مصنف کا قول جو آیا کہ ”تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“—یعنی وہ علم میں مطلوب ہوتے ہیں—”يَعُمُّ الْقِسْمَيْنِ“—یہ عام ہے، دونوں قسموں کو شامل ہے۔ دونوں قسموں کو شامل ہے۔ تو مطلوب ہونے کا یہ معنی نہیں کہ ان پر دلیل ذکر کی جائے۔
ہاں! وہ نظری ہوں گے، اور اکثر وہ نظری ہوتے ہیں، تو ان کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے۔ اور اگر وہ بدیہی ہیں لیکن ان میں خفاء ہے، تو پھر ان کے لیے کیا چاہیے؟ ان کے لیے تنبیہ چاہیے، تھوڑا سا بیان چاہیے۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ: تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ يَعُمُّ الْقِسْمَيْنِ“—اور مصنف کا قول ”تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“ وہ ”يَعُمُّ الْقِسْمَيْنِ“، وہ عام ہے دونوں قسموں کو شامل ہے، یعنی وہ قضایا نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی خفی بھی ہو سکتے ہیں۔
”وَأَمَّا مَا يُوجَدُ فِي بَعْضِ النُّسَخِ مِنَ التَّخْصِيصِ بِقَوْلِهِ: بِالْبُرْهَانِ، فَمِنْ زِيَادَاتِ النَّاسِخِ“۔
بھئی پھر متن پر آئیے! جہاں مسائل کی بات آئی تھی: ”وَالْمَسَائِلُ، وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ“—کہتے ہیں بعض نسخوں میں یہاں ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید بھی موجود ہے: ”وَهِيَ قَضَايَا تُطْلَبُ فِي الْعِلْمِ بِالْبُرْهَانِ“—یہ وہ قضیے ہوتے ہیں جو علم میں مطلوب ہوتے ہیں برہان کے ذریعے۔ برہان کی قید لگا دی، اور برہان تو قیاس کی قسم ہے، جس کے مقدمات کیا ہوتے ہیں؟ یقینی۔ تو یہ دلیل کا نام ہے، اور دلیل تو ہمیشہ کس کے لیے چاہیے؟ نظری کے لیے چاہیے؛ تو کہتے ہیں ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید بعض نسخوں میں موجود ہے، اور اس صورت میں نظری تو داخل مسائل معلوم ہوا نظری ہوں گے، بدیہی نہیں؛ کیونکہ برہان کی ضرورت نظری کے لیے پڑتی ہے، بدیہی کے لیے نہیں پڑتی۔ بدیہی کے لیے کبھی بیان چاہیے ہوتا ہے، کبھی تنبیہ چاہیے ہوتی ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا مَا يُوجَدُ فِي بَعْضِ النُّسَخِ مِنَ التَّخْصِيصِ بِقَوْلِهِ: بِالْبُرْهَانِ“—کہتے ہیں: باقی وہ جو بعض نسخوں میں تخصیص پائی جاتی ہے مصنف کے قول ”بِالْبُرْهَانِ“ کی—بعض نسخوں میں تخصیص پائی گئی ہے، ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید بھی متن میں موجود ہے—کہتے ہیں: ”فَمِنْ زِيَادَاتِ النَّاسِخِ“—یہ ناسخ—لکھنے والا—یہ لکھنے والوں کی زیادتی میں سے ہے۔ لکھنے والوں کی—یعنی بھئی پرانے زمانے میں یہ کتابیں ہاتھ سے نقل کی جاتی تھیں، تو کسی نقل کرنے والے نے غلطی سے یہاں کیا درج کر دیا؟ ”بِالْبُرْهَانِ“ درج کر دیا؛ تو یہ لکھنے والوں کی طرف سے یہ زیادتی ہوئی، یہ انہوں نے لفظ زیادہ کر دیا، بڑھا دیا۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ”بِالْبُرْهَانِ“ قید بن گئی، اور قید کے ذریعے ایک چیز میں تخصیص آتی ہے۔ ”بِالْبُرْهَانِ“ نہ ہو تو اس صورت میں یہ عام ہے، یہ بدیہیات کو بھی شامل اور نظریات کو بھی۔ لیکن اگر ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید آ گئی تو اس میں تخصیص آ جائے گی اور صرف کون رہ جائیں گے؟ نظری تو رہ جائیں گے اور بدیہی نکل جائیں گے، اس لیے اس کو تخصیص کے ساتھ ذکر کیا۔
کہتے ہیں: ”وَأَمَّا مَا يُوجَدُ فِي بَعْضِ النُّسَخِ مِنَ التَّخْصِيصِ بِقَوْلِهِ: بِالْبُرْهَانِ، فَمِنْ زِيَادَاتِ النَّاسِخِ“—اور وہ جو بعض نسخوں میں مصنف کے قول ”بِالْبُرْهَانِ“ کی تخصیص پائی گئی ہے، تو یہ لکھنے والوں کی زیادتی ہے، یعنی انہوں نے اپنی طرف سے یہ لفظ بڑھا دیا ہے۔ ”عَلَى أَنَّهُ يُمْكِنُ تَوْجِيهُهُ“—علاوہ اس کے کہ اس کی توجیہ بھی ممکن ہے۔ اس کی توجیہ بھی ممکن ہے بھئی، توجیہ! یعنی کلام کی توجیہ کہتے ہیں کلام کا ایسا معنی کرنا کہ اعتراض اور اشکال ختم ہو جائے، اعتراض اور اشکال ختم ہو جائے بھئی۔
تو کہتے ہیں: اس کی توجیہ بھی ممکن ہے ”بِأَنَّهُ بِنَاءً عَلَى الْأَغْلَبِ“—کہ یہ بناء بر اغلب کے ہے۔ یعنی غالب کا اعتبار کرتے ہوئے ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید لگا دی۔ اگر یہ مصنف نے لگائی ہے تو یہ غالب کا اعتبار کرتے ہوئے۔ بھئی اس علم کے مسائل ہیں، اور وہ مسائل نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی ہو سکتے ہیں جن میں خفاء ہے۔
تو دیکھو اس علم کے، اس علم کے جو مسائل ہیں وہ کچھ بدیہیات ہیں اور کچھ کیا ہیں؟ نظریات ہیں۔ تو جب مسائل بدیہیات اور نظریات دونوں ہیں، تو یہاں ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید درست نہیں بنتی؛ لیکن شارح آپ کو بتلا رہے ہیں کہ اس کی توجیہ کی جا سکتی ہے کہ یہ جو قید لگائی گئی بناء بر اغلب کے ہے، یعنی اکثر کے اعتبار سے ہے۔ چونکہ اکثر مسائل اس فن کے کیا ہیں؟ نظری ہیں، بدیہی ہیں لیکن وہ تھوڑے سے ہیں؛ تو ان کو گویا شمار ہی نہیں کیا۔ اکثر کا اعتبار کرتے ہوئے کون سی قید بڑھا دی؟ ”بِالْبُرْهَانِ“ کی، کہ چونکہ اکثر مسائل نظری ہیں، تو اغلب کے اعتبار سے وہ قید بڑھا دی بھئی۔ یہ معنی ہے کہ: ”عَلَى أَنَّهُ يُمْكِنُ تَوْجِيهُهُ بِأَنَّهُ بِنَاءً عَلَى الْأَغْلَبِ“—علاوہ اس کے کہ اس کی توجیہ بھی ممکن ہے کہ یہ بناء بر اغلب کے ہے—یعنی اکثر مسائل کے نظری ہونے کی وجہ سے ہے—”أَوْ بِأَنَّ الْمُرَادَ“—یا یہ دوسری توجیہ ہے—”أَوْ بِأَنَّ الْمُرَادَ بِالْبُرْهَانِ مَا يَشْمَلُ التَّنْبِيهَ“۔ میری کتاب میں ہے: ”مَا يَشْتَمِلُ“، یہ کتابت کی غلطی ہے، ”مَا يَشْمَلُ“ ہونا چاہیے۔ ”مَا يَشْمَلُ التَّنْبِيهَ“—دوسری توجیہ کر رہے ہیں، دوسری توجیہ: کہ برہان سے مراد آپ وہ دلیل نہ لیں جو پیچھے ذکر ہوئی تھی۔ برہان کا عام معنی کر لیں جو دونوں کو شامل ہو جائے۔ نظری کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل۔ اور بدیہۂ خفی کے لیے کیا چاہیے؟ تنبیہ چاہیے۔ تو برہان کا معنی عام کر لیں، اس سے وہ دلیل مراد نہ لیں—یعنی برہان کا کوئی ایسا معنی کر لیں جو دونوں کو شامل ہو جائے۔ یعنی برہان سے مراد لے لیں، یعنی بیان مراد لے لیں۔ کیا مراد لے لیں؟ برہان سے وہ خاص دلیل جو پیچھے ذکر ہوئی تھی وہ مراد نہ لیں۔ تو اس صورت میں جب بیان مراد لیا، تو بیان تنبیہ کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے اور بیان دلیل کے ذریعے بھی ہو سکتا ہے، دونوں اس کے اندر داخل ہو گئے۔ توجیحات سمجھ میں آئیں؟ کیا توجیہ؟ پہلی توجیہ کیا؟ پہلے تو سب سے پہلے تو مصنف نے یہ کہا کہ یہ برہان کی جو قید آئی متن کے اندر، یہ کسی لکھنے والے کی غلطی ہے۔ اور یا کہتے ہیں اس کی توجیہ بھی کی جا سکتی ہے: ایک توجیہ یہ کہ ”بِالْبُرْهَانِ“ کی قید لگائی اکثر مسائل کی طرف نظر کرتے ہوئے، اور اکثر چونکہ نظری ہیں، ان کے لیے برہان کی ضرورت ہے، اس لیے یہ قید بڑھا دی۔ اور یا ”بِالْبُرْهَانِ“ کا وہ معنی نہ کریں جو دلیل والا ہے، برہان کا معنی عام ایسا معنی کر لیں کہ جو شامل ہو جائے کس کو؟ دلیل کو بھی اور تنبیہ کو بھی شامل ہو جائے۔ تو اس صورت میں یہ برہان کی قید بھی رہے، پھر بھی معنی میں کوئی خلل نہیں آتا۔
تو یہ معنی ہے: ”أَوْ بِأَنَّ الْمُرَادَ بِالْبُرْهَانِ مَا يَشْمَلُ التَّنْبِيهَ“—اور یا یہ کہ جو برہان جو ہے، اس سے مراد وہ چیز ہے جو تنبیہ کو شامل ہے۔
”الثَّالِثُ مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“—تیسری چیز: پہلی چیز کیا تھی؟ تمام علومِ مدونہ میں تین چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔ نمبر ایک کیا؟ وہ چیز جس کی خصوصیات اور جو اس سے نتائج مطلوب ہوتے ہیں ان کے بارے میں اس علم میں بحث کی جائے، اور وہ اس علم کے موضوعات ہیں بھئی۔ اور دوسری بات کیا؟ کہ وہ اس علم کے مسائل ہوتے ہیں، وہ قضیے جو نظری بھی ہو سکتے ہیں اور بدیہی بھی ہو سکتے ہیں، لیکن ان میں خفاء ہوتا ہے۔ اور تیسری چیز اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں: ”الثَّالِثُ مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“—تیسری وہ چیز جن پر مسائل موقوف ہوتے ہیں، مسائل کی بنیاد ہوتی ہے، ”مِمَّا يُفِيدُ تَصَوُّرَاتِ أَطْرَافِهَا وَالتَّصْدِيقَاتِ بِالْقَضَايَا الْمَأْخُوذَةِ فِي دَلَائِلِهَا“—یعنی وہ چیزیں ”مِمَّا“—یہ ”مِنْ“ بیانیہ ہے—دیکھو: ”مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“—تیسری وہ چیز ہے جن پر مسائل کی بنیاد ہوتی ہے۔ بھئی وہ کیا چیز ہے؟ ہمیں تو نہیں سمجھ میں آیا! اب بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ وہ چیز جن پر مسائل کی بنیاد ہوتی ہے، وہ کیا چیز ہے؟ ہمیں تو نہیں سمجھ میں آیا! تو بعض اوقات موصول آتا ہے، موصول کا صلہ لایا جاتا ہے، جیسے یہاں ”مَا“ موصولہ ہے، ”يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“ اس کا صلہ ہے۔ اور موصول صلہ مل کر بھی بات پوری واضح نہیں ہوتی، تو آگے پھر ”مِنْ“ کے ذریعے اس کو کیا کر دیا جاتا ہے؟ بیان کر دیا جاتا ہے۔ تو یہ ”مِمَّا“ یہ بیان ہے اسی ”مَا يَبْتَنِي“ کا بھئی۔
تو تیسری وہ چیز ہے جن پر ان مسائل کی بنیاد ہوتی ہے، یعنی کہ وہ چیزیں ”مِمَّا“—یعنی کہ وہ چیزیں ”يُفِيدُ تَصَوُّرَاتِ أَطْرَافِهَا“—جو ان مسائل کے اطراف کے تصور کا فائدہ دیں، اور اسی طرح ”وَالتَّصْدِيقَاتِ بِالْقَضَايَا“—ایسے قضیوں کی تصدیقات ”الْمَأْخُوذَةِ فِي دَلَائِلِهَا“—جو ماخوذ ہوتے ہیں ان کے دلائل میں۔ جو ماخوذ—بھئی دیکھیے! ہر علم کے لیے تین چیزوں کا ہونا ضروری: پہلی چیز ہے اس کے موضوعات، دوسری چیز اس کے مسائل۔ اور یہ جو مسائل ہیں، مسائل قضیوں کا نام ہے۔ اور قضیہ کے اندر ایک موضوع ہوتا ہے اور ایک محمول: ”زَيْدٌ قَائِمٌ“، اس میں ”زَيْدٌ“ کیا ہے؟ موضوع، اور ”قَائِمٌ“ کیا ہے؟ محمول ہے۔ تو پہلے آپ کو موضوع کا پتہ تو ہونا چاہیے کہ زید کون ہے؟ اور یہ بھی آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ قائم اس کا کیا معنی ہے؟ اگر آپ کو زید کا معنی نہیں معلوم، زید کا تصور نہیں حاصل، تو بھی یہ کلام آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ اور اگر آپ کو قائم کا تصور حاصل نہیں ہے کہ قائم کا کیا معنی ہوتا ہے، تو بھی یہ کلام آپ کو فائدہ نہیں دے گا۔ یہ ویسے مثال سے سمجھا رہا ہوں، مثلاً دیکھو، اس علم میں آتا ہے: ”الْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ“۔ تو آپ کو ”الْكَلِمَةُ“ کا تصور چاہیے یا نہیں چاہیے؟ چاہیے! تو اس کی تعریف کرنا پڑے گی۔ اور اسی طرح آپ کو جو آگے محمول آ رہا ہے کہ وہ اسم ہوگا یا فعل ہوگا یا حرف ہوگا، اس کا بھی تصور چاہیے یا نہیں چاہیے؟ جب دونوں کا تصور آپ کو حاصل ہوگا پھر ہی آپ کو بات سمجھ میں آئے گی کہ ”الْكَلِمَةُ إِمَّا اسْمٌ أَوْ فِعْلٌ أَوْ حَرْفٌ“ اس جملے کا کیا معنی ہے۔
تو ان مسائل کے جو دو طرفین ہوتی ہیں، کون سی طرفین؟ موضوع اور محمول۔ ان دونوں کا تصور چاہیے، اور دونوں کا تصور کس سے حاصل ہوگا؟ تعریف کے ذریعے، اور تعریف کس میں سے ہے؟ تصورات میں سے ہے۔ اسی طرح آگے اس علم کے مسائل بیان ہوں گے، اور مسائل کے لیے دلائل لائیں گے، اور دلائل کس پر مشتمل ہوتے ہیں؟ مقدموں پر۔ قیاس جو ہے، اسی کا نام دلیل ہے بھئی۔ آپ صغریٰ اور کبریٰ ملاتے ہیں اور نتیجہ نکل آتا ہے، بات ثابت کر دیتے ہیں آپ۔ تو یہ جو صغریٰ اور کبریٰ ہوں گے، یہ مقدمے ہوں گے بھئی۔ انہی سے، ان دو مقدموں سے یہ دلیل بنی ہے۔
تو یہ وہ مبادی کی بات چل رہی ہے۔ مبادی کیا ہوں گے؟ انہوں نے آپ کو اوپر بتلایا تھا: وہ موضوعات کی تعریف ہوتی ہے یا ان کے اجزا کی تعریف ہوتی ہے یا ان کے عوارضِ ذاتیہ کی تعریف۔ جب یہ تعریف کریں گے تو آپ کو ان کا تصور حاصل ہو جائے گا۔ اور نیز مبادی کچھ تصدیقات ہوتی ہیں، وہ تصدیقات کچھ ایسے مقدمات ہوتے ہیں جن سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں، جن سے اس علم کے دلائل بنتے ہیں۔
تو یہ مبادیِ تصوریہ بھی اس میں آ گئے اور مبادیِ تصدیقیہ بھی آ گئے۔ یہی بیان کر رہے ہیں کہ: ”الثَّالِثُ مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“—اور تیسری وہ چیز ہے جن پر اس علم کے مسائل کی بنیاد ہوتی ہے۔ ”مِمَّا يُفِيدُ تَصَوُّرَاتِ أَطْرَافِهَا“—یعنی وہ چیزیں، یعنی وہ تعریفات جو فائدہ دیتی ہیں ان مسائل کے اطراف—جو ہیں یعنی موضوع اور محمول—ان کے تصورات کا فائدہ دیں۔ موضوع اور محمول کے تصورات کا، اور وہ فائدہ کون دیں گے؟ مبادیِ تصوریہ، مبادیِ تصوریہ۔ ”وَالتَّصْدِيقَاتِ بِالْقَضَايَا“—یہ تصدیقات کا عطف ہے ”مِمَّا يُفِيدُ“، یہ ”مَا“ پر کر لیں عطف۔ تو ”التَّصْدِيقَاتِ“ اس کا عطف ہے ”مِمَّا“ کے اندر جو ”مَا“ موصولہ ہے، اور جو عبارت ہے تعریفات سے، یہ اس پر عطف ہے، یعنی کہ وہ تعریفات ”وَالتَّصْدِيقَاتِ“ اور وہ تصدیقات۔ ”مِمَّا يُفِيدُ تَصَوُّرَاتِ أَطْرَافِهَا، وَمِنَ التَّصْدِيقَاتِ بِالْقَضَايَا الْمَأْخُوذَةِ فِي دَلَائِلِهَا“—اور یعنی وہ تصدیقات بالقضایا، یعنی قضیوں کی وہ تصدیقات ”الْمَأْخُوذَةِ“—ہاں، یوں یوں ترجمہ کریں: ”بِالْقَضَايَا الْمَأْخُوذَةِ فِي دَلَائِلِهَا“ کا ترجمہ پہلے کریں اور ”التَّصْدِيقَاتِ“ کا ترجمہ بعد میں کریں—وہ قضیے جو ماخوذ ہوتے ہیں ان مسائل کے دلائل میں۔ وہ قضیے جو ماخوذ—یعنی وہ قضیے جو لیے جاتے ہیں اس علم کے دلائل میں، جن سے دلائل بنائے جاتے ہیں، ان کی جو تصدیقات۔
پھر سنو! تیسری وہ چیز ہے جن پر اس علم کے مسائل کی بنیاد ہوتی ہے۔ وہ کیا چیزیں ہیں بھئی؟ ”مِنْ“ کے ذریعے بیان ہے: ”مِمَّا يُفِيدُ تَصَوُّرَاتِ أَطْرَافِهَا“—یعنی وہ چیزیں، یعنی وہ تعریفات—”مَا“ سے مراد لے لیں تعریفات—یعنی وہ تعریفات جو فائدہ دیتی ہیں اس علم کے مسائل کے اطراف کے تصور کا۔ اس علم کے اطراف کے تصور کا فائدہ دیتی ہیں، وہ تعریفات ”وَالتَّصْدِيقَاتِ“—اور وہ قضیے جو لیے جاتے ہیں ان مسائل کے دلائل کے اندر، ان کی تصدیقات۔
”مَا يَبْتَنِي عَلَيْهِ الْمَسَائِلُ“—جن پر مسائل کی بنیاد ہوتی ہے وہ کیا چیزیں ہیں؟ وہ قضیے—توجه سے ادھر دیکھو—وہ قضیے جو اس علم کے مسائل میں اخذ کیے جاتے ہیں، لیے جاتے ہیں، یعنی جن سے اس علم کے مسائل کے دلائل بنائے جاتے ہیں، ان قضایا کی تصدیقات۔ ان قضایا کی تصدیقات۔ تو دو دو چیزیں ذکر کر دیں: جن پر علم کے مسائل کی بنیاد ہوتی ہے—”مِمَّا“—”مَا“ سے مراد کیا؟ تعریفات۔ یعنی کہ تعریفات ”وَالتَّصْدِيقَاتِ“ اور کیا چیز؟ تصدیقات۔ تعریفات کون سی؟ جو ان کے اطراف کے تصور کا فائدہ دیں—موضوع اور محمول کا—اور تصدیقات کون سی؟ ان قضایا کی جو اس علم کے دلائل میں ماخوذ ہوتے ہیں۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟
”فَالْأَوَّلُ هِيَ الْمَبَادِئُ التَّصَوُّرِيَّةُ، وَالثَّانِي هِيَ الْمَبَادِئُ التَّصْدِيقِيَّةُ“—تو اول جو ہیں وہ مبادیِ تصوریہ ہیں، اور دوسرے جو ہیں وہ مبادیِ تصدیقیہ ہیں۔
قَوْلُهُ: ”الْمَوْضُوعَاتُ“. ”هَاهُنَا إِشْكَالٌ مَشْهُورٌ، وَهُوَ أَنَّ مَنْ عَدَّ الْمَوْضُوعَ مِنْ أَجْزَاءِ الْعِلْمِ“—یہاں مشہور اشکال ہے، اعتراض ہے۔ ”وَهُوَ أَنَّ“—اور وہ یہ ”أَنَّ مَنْ عَدَّ الْمَوْضُوعَ مِنْ أَجْزَاءِ الْعِلْمِ“—کہ جس نے موضوع کو علم کے اجزا میں سے شمار کیا—اچھا بھئی، ادھر دیکھیے! بات کو سمجھ لیجیے۔ یہاں اشکال کریں گے۔ اشکال یہ: کہ آپ نے کیا کہا؟ کہ علم کے اجزا تین چیزیں ہیں۔ پہلی چیز کیا؟ موضوعات۔ آپ نے موضوعات کو علم کے اجزا میں سے قرار دے دیا۔ تو یہ موضوعات سے آپ کی کیا مراد ہے؟ کیا نفسِ موضوعات مراد ہیں؟ یا موضوعات کا معرف، یعنی ان کی تعریف مراد ہے؟ یا وہ تصدیق مراد ہے جو ان کے وجود کے بارے میں ہو؟ یا وہ تصدیق مراد ہے جو ان کے موضوع ہونے کے بارے میں ہو؟
توجہ ہے؟ یہاں اعتراض ہوتا ہے، اشکال ہوتا ہے۔ اعتراض یہ کہ آپ نے کہا کہ علوم کے اجزا تین ہیں، یعنی موضوعات، مبادی اور مسائل۔ تو آپ نے موضوعات کو علوم کا جز قرار دیا۔ آپ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ آپ کے کہنے کا یا تو مطلب یہ ہے کہ نفسِ موضوع جو ہے، وہ اس علم کا جز ہوتا ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع کی جو تعریف ہے، وہ اس علم کا جز ہوتا ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کے موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔
مثلاً ”الْكَلِمَةُ“ ہے۔ آپ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ ”الْكَلِمَةُ“ علمِ نحو کا موضوع ہے۔ آپ نے کیا کہا؟ موضوعات کیا ہوتے ہیں؟ علوم کے اجزا۔ علوم کے اجزا ہوتے ہیں۔ تو آپ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ یا تو اس سے مراد یہ ہے نفسِ کلمہ مراد ہے، مثلاً نحو کا موضوع میں ذکر کرتا ہوں۔ تو اس کے مطابق کلمہ اور کلام کیا ہیں؟ علمِ نحو کا جز ہیں۔ کیا ہیں؟ علوم کے تین اجزا ہیں نا: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ تو معلوم ہوا موضوعات بھی کیا ہیں؟ اس علم کے اجزا ہیں، اس کے اندر داخل ہیں۔ توجہ ہے؟ اجزا ہیں، اس کے اندر داخل ہیں۔ تو آپ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ یا تو اس سے مراد یہ ہے نفسِ کلمہ—آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے: نفسِ کلمہ کیا ہے؟ اس علم کا، وہ اس علم کے اندر داخل ہے۔ توجہ ہے؟ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے: کلمہ کی جو تعریف ہے: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“—یا تو تعریف مراد ہے۔
تو آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے، مثلاً کلمہ ہے۔ کلمہ علمِ نحو کا موضوع ہے۔ تو آپ کے کہنے کا مطلب یا تو یہ ہے کہ نفسِ کلمہ جو ہے، وہ اس علم کا جز ہے، اس کے اندر داخل ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ کی جو تعریف ہے: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، یہ کیا ہے؟ علمِ نحو کا جز ہے، اس کے اندر داخل ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلمہ کے وجود کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا، کا جز ہے۔ یا آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس کلمہ کے موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔ توجہ ہے؟ چار چیزیں!
آپ نے کہا کہ یہ جو موضوعات ہوتے ہیں، یہ علوم کا جز ہوتے ہیں۔ تو آپ کے اس کہنے کا کیا معنی؟ کیا معنی؟ یا تو آپ کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ نفسِ موضوع جو ہے، وہ اس علم کا جز ہوتا ہے۔ یا اس موضوع کی جو تعریف ہوتی ہے، وہ اس علم کا جز ہوتی ہے۔ یا اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہوتی ہے۔ یا اس موضوع کے موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔
بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ ذرا کتاب پہ دیکھو، بات اور واضح ہوگی۔
کہتے ہیں: ”هَاهُنَا إِشْكَالٌ مَشْهُورٌ“—اور یہاں پر مشہور اشکال ہے، مشہور اعتراض ہے۔ ”وَهُوَ“—اور وہ یہ ”أَنَّ مَنْ عَدَّ الْمَوْضُوعَ مِنْ أَجْزَاءِ الْعِلْمِ“—کہ جس نے موضوع کو علم کے اجزا میں سے شمار کیا، ”إِمَّا أَنْ يُرِيدَ بِهِ نَفْسَ الْمَوْضُوعِ“—یا تو اس نے ارادہ کیا اس کے ذریعے نفسِ موضوع کا کہ نفسِ موضوع کیا ہے؟ علم کا جز ہے۔ جیسے ”الْكَلِمَةُ“، یہ نفسِ کلمہ کیا ہے؟ اس علم کا جز ہے۔ ”أَوْ تَعْرِيفَهُ“—یا اس نے اس موضوع کی تعریف کا ارادہ کیا کہ اس موضوع کی جو تعریف ہے، وہ اس علم کا جز ہے، جیسے کلمہ کی تعریف کیا ہے: ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“۔ تو کہنے والے کا مطلب یہ ہے کہ یہ جو تعریف ہے، یہ اس علم کا جز ہے۔ ”أَوِ التَّصْدِيقَ بِوُجُودِهِ“—یا اس کا ارادہ یہ ہے کہ وہ جو تصدیق ہے اس موضوع کے وجود کی، وہ اس علم کا جز ہے۔ ”أَوِ التَّصْدِيقَ بِمَوْضُوعِيَّتِهِ“—یا وہ جو تصدیق ہے اس کے موضوع ہونے کی، اس موضوع کے اس علم کا موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔
دیکھیے، یہاں چار چیزیں ہیں بھئی! انہوں نے موضوعِ علم کو علم کا جز قرار دیا کہ علم کا موضوع کیا ہوتا ہے؟ اس علم کا جز ہوتا ہے۔ کہتے ہیں: آپ کے اس کہنے کا کیا مطلب ہے؟ یا تو آپ کی مراد ہوگی کہ وہ نفسِ موضوع کیا ہے؟ اس علم کا جز۔ یا اس موضوع کی جو تعریف ہے، یعنی جو معرف ہے، وہ ہے اس، وہ اس علم کا جز ہے۔ یا اس کے وجود کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔ یا اس موضوع کے اس علم کا موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔ آپ کی مراد کیا ہے؟
ایک ہے نفسِ موضوع۔ نفسِ موضوع سمجھ میں آیا؟ ”الْكَلِمَةُ“، مثلاً ”الْكَلِمَةُ“۔ جنہوں نے موضوع کو علم کا جز قرار دیا، یا تو ان کی مراد ہے نفسِ موضوع—نفسِ موضوع، جیسے ”الْكَلِمَةُ“ ہے—تو یا تو ان کا یہ ارادہ ہے کہ یہ جو نفسِ موضوع ہے، یہ اس علم کا جز ہوتا ہے۔ یا ان کا ارادہ یہ ہے کہ یہ جو اس موضوع کی جو تعریف ہوتی ہے، جیسے ”الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ“، یہ تعریف جو ہے، یہ اس علم کا جز ہے۔ یا اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے—اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے، وہ اس علم کا جز ہے—بھئی دیکھیے! دیکھیے! وجود کی تصدیق—علمِ نحو میں کس کے بارے میں بحث کی جاتی ہے؟ کلمہ اور کلام کے بارے میں۔ پہلے یہ تو بتلاؤ کلمہ کا وجود بھی ہے کہ نہیں؟ کلمہ کا وجود تو ثابت کرو، کلمہ ہے کوئی چیز! جب کلمہ کا وجود ہوگا تو پھر ہی آپ اس کے عوارضِ ذاتیہ سے بھی بحث کریں گے۔ پہلے ایک چیز کا وجود ہونا چاہیے، پھر اس کے لیے آپ اس کی صفات کو ثابت کریں، عوارضِ ذاتیہ کو ثابت کریں۔ تو پہلے ایک چیز کا وجود تو ثابت ہونا چاہیے کہ اس چیز کا وجود بھی ہے۔ پھر اس کے بعد آپ اس کے عوارضِ ذاتیہ کے بارے میں بحث کریں گے۔ تو ”الْكَلِمَةُ مَوْجُودٌ“، کلمہ کیا ہے؟ موجود ہے۔
نفسِ موضوع میں کلمہ کا وجود ہے۔
تو یہ دیکھو، یہ تصدیق ہے۔ "الکلمۃ موجودۃ"، کلمہ موجود ہے، اس کا وجود ہے۔ یا تو یہ تصدیق مراد ہے، یہ اس علم کا، اس علم کا جز ہے۔
اس علم کا جز ہے۔ تو یہ کون سی تصدیق ہے؟ موضوع کے وجود کی۔ یہ کون سی تصدیق ہے؟ موضوع کے وجود کی۔ اس میں موضوع کے وجود کو ذکر کیا گیا ہے کہ موضوع کا وجود ہے۔ نحو کا موضوع کیا؟ کلمہ اور کلام۔ تو اپ کہتے ہیں "الکلمۃ والکلام موجودان"، یہ دونوں کیا ہیں؟ موجود ہیں۔ تو یہ دیکھو، یہ تصدیق ہے یا تصور ہے؟ یہ پورا جملہ ہے، یہ تصدیق ہے اور یہ تصدیق ہے کس چیز کی؟ وجودِ موضوع کی۔ کس کے؟ جس میں وجودِ موضوع ذکر ہے کہ اس کا وجود ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو پہلے ایک چیز کا وجود تو ثابت ہو جائے، پھر اپ اس کے لیے اس کے اعراضِ ذاتیہ بھی ثابت کریں، ان کے بارے میں بحث کریں۔ تو یہ تصدیق ہوئی کس چیز کی؟ موضوع کے وجود کے بارے میں۔ تو یہ موضوع کے وجود کی تصدیق ہوئی بھئی۔
اور چوتھی صورت ہے کہ اس کے موضوع ہونے کی تصدیق۔ اس کے؟ اس کے موضوع ہونے کی تصدیق، جیسے اپ کو بتاتے ہیں، علمِ نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ یہ دیکھو یہ پورا جملہ ہے۔ تو یہ تصدیق ہے۔ اور اس میں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ اس میں بتلایا جا رہا ہے کہ علمِ نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ تو دیکھا، کلمہ اور کلام کے اس علم کا موضوع ہونے کی تصدیق ہے یہ۔ کلمہ اور کلام کے؟ یہ تصدیق ہے نا جس میں کیا ذکر ہے؟ موضوع ذکر ہے یا نہیں ہے؟ موضوع ذکر ہے۔
تو ایک ہے دیکھو، ایک ہے نفسِ موضوع۔ نفسِ موضوع تصور کا نام ہے۔ تو کہنے والے کا یا تو ارادہ یہ ہے کہ یہ جو نفسِ موضوع ہوتا ہے، یعنی الکلمہ اور الکلام، یہ کیا ہیں؟ اس علم یعنی علمِ نحو کا جز ہیں۔ توجہ ہے؟ یا اس سے کیا مراد ہے؟ اس موضوع کی تعریف بھئی۔ اور تعریف بھی کیا ہے؟ تصور ہے۔ یا اس کہنے والے کا معنی یہ ہے کہ تصدیق مراد ہے، اور تصدیق کون سی؟ وجودِ موضوع کی تصدیق، جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ اس چیز کا وجود ہے۔ جب یہ اس کا وجود ہے، تو اس کی صفات بھی ہیں بھئی۔ تو وجودِ موضوع کی تصدیق۔ یا اس موضوع کے اس علم کا موضوع ہونے کی تصدیق۔ اس موضوع کے؟ مثلاً اپ جب کسی کو علم پڑھاتے ہیں تو اپ کو بتلاتے ہیں یا نہیں کہ یہ اس علم کا موضوع یہ ہے؟ کیا بتلاتے ہیں؟ علمِ نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ یہ پورا جملہ ہے یا ادھورا جملہ ہے؟ پورا جملہ ہے، تو اس کو تصدیق کہیں گے یا تصور کہیں گے؟ یہ تصدیق ہے کس چیز کی؟ یہ تصدیق ہے جس میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ یہ چیز اس علم کا موضوع ہے۔ یا جیسے منطق کے بارے میں اپ کو بتاتے ہیں کہ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ تو دیکھا، یہ معرف اور حجت کے موضوع ہونے کی تصدیق ہے۔ کہ یہ موضوع ہیں، کس چیز کے لیے؟ علمِ منطق کے لیے۔ علمِ نحو کے شروع میں اپ کو بتلاتے ہیں، علمِ نحو کا موضوع کیا ہے؟ کلمہ اور کلام ہے۔ تو شروع میں ایک تصدیق لے کر آتے ہیں۔ ہر علم کے شروع میں، اس علم کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت کو ذکر کرتے ہیں۔ تو موضوع کے لیے کیا جملہ بولتے ہیں؟ اس علم کا موضوع مثلاً نحو ہے، اس علم کا موضوع کلمہ اور کلام ہے، یا یوں کہتے ہیں علمِ نحو کا موضوع کلمہ اور کلام ہے۔ دیکھا، یہ ایک تصدیق ہے۔ جس میں کیا ذکر ہے؟ کلمہ اور کلام کا موضوع ہونا ذکر ہے۔ کلمہ اور کلام کا؟ کہ یہ اس نحو کا موضوع ہے۔ یا دوسری تصدیق لے لیں، منطق کے لیے جو ابھی میں نے ذکر کی۔ علمِ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہے۔ یہ کون سی تصدیق ہے؟ یہ پورا کلام ہے، یہ تصدیق ہے، اس میں کیا ذکر ہو رہا ہے؟ معرف اور حجت کا موضوع ہونا ذکر کیا جا رہا ہے منطق کے لیے۔
تو جنہوں نے کہا کہ یہ جو موضوعات ہیں، یہ علم کا جز ہوتے ہیں، ان کی کیا مراد ہے؟ اگر ان کی مراد نفسِ موضوع ہے کہ یہ جو الکلمہ ہے، یہ کیا ہے؟ اس علم کا جز ہے۔ یا الکلام، یہ کیا ہے اس علمِ نحو کا؟ جز ہے۔ یا معرف کیا ہے علمِ منطق کا؟ جز ہے۔ یا حجت کیا ہے؟ جز ہے۔ تو نفسِ، نفسِ موضوع مراد ہے۔ یا موضوع کی تعریف مراد ہوگی کہ وہ کیا ہے اس علم کا جز ہے۔ یا اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے، جس میں یہ ذکر ہو کہ اس کا وجود ہے، وہ تصدیق مراد ہے۔ وہ مراد ہے کہ وہ کیا ہوتی ہے علم کا جز ہوتی ہے۔ یا مراد کیا ہے؟ وہ تصدیق مراد ہے جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ یہ اس علم کا موضوع ہے بھئی، اس کے موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب دیکھیے کتاب پر۔
"أن من عد الموضوع من أجزاء العلوم"، وہ جس نے شمار کیا موضوع کو علم کے اجزاء میں سے، "إما أن يريد به نفس الموضوع"، یا تو اس کا ارادہ ہے اس کے ذریعے نفسِ موضوع کا، یعنی نفسِ موضوع کا کہ یہ اس علم کا جز ہوتا ہے، "أو تعريفه"، یا اس نے ارادہ کیا اس موضوع کی تعریف کا کہ یہ کیا ہوتی ہے اس علم کا جز ہوتی ہے، "أو التصديق بوجوده"، یا اس نے ارادہ کیا اس تصدیق کا جو اس موضوع کے وجود کی ہے، جو اس موضوع کے وجود کی جو تصدیق ہے اس کا اس نے ارادہ کیا کہ یہ کیا ہوتی ہے علم کا جز ہوتی ہے، "أو التصديق بموضوعيته"، یا اس نے ارادہ کیا اس تصدیق کا جو اس چیز کے اس علم کا موضوع ہونے کی تصدیق ہے، اس کا ارادہ کیا۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں سمجھ میں آئی؟ جی؟ نہیں سمجھ میں آئی؟
بزرگو، پھر سنو، پھر سنو۔ جب بات سمجھ میں نہ آئے تو مجھے بتایا کریں، ویسے نہ سر ہلایا کریں۔ دیکھو، اوپر متن میں بھی بتایا کہ علوم کے اجزاء تین ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ اب اسی پر ذکر کر رہے ہیں کہ جنہوں نے یہ کہا ہے کہ یہ جو موضوعات ہوتے ہیں، وہ اس علم کا جز ہوتے ہیں، ان کے کہنے کا کیا مطلب ہے؟ یا تو ان کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ یہ جو نفسِ موضوع ہے، یہ اس علم کا کیا ہوتا ہے؟ جز ہوتا ہے۔ یا تو یہ معنی ہوگا۔ یا ان کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اس موضوع کی جو تعریف اور معرف ہے، وہ کیا ہوتی ہے اس علم کا جز ہوتی ہے؟ یا تو ان کا یہ معنی ہوگا۔ یا ان کے کہنے کا معنی یہ ہوگا کہ اس موضوع کے جو وجود کی تصدیق ہے، جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ اس کا وجود ہے، اس کا وجود ہے۔ یہ اگر یا تو وہ تصدیق مراد ہے کہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ وہ تصدیق جس میں اس موضوع کے وجود کا ذکر ہوتا ہے کہ یہ اس کا وجود ہے، یہ موجود ہے، وہ اس علم کا جز ہے۔ یا ان کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ وہ تصدیق جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ یہ اس علم کا موضوع ہے بھئی۔ ہر علم کے شروع میں بتاتے ہیں یا نہیں؟ اس علم کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت۔ موضوع میں کیا بتاتے ہیں؟ منطق کا موضوع کیا بتاتے ہیں؟ علمِ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ دیکھو یہ ایک پورا قضیہ ہے، پوری تصدیق ہے۔ تو یا تو یہ والی تصدیق مراد ہے کہ یہ کیا ہوتی ہے اس علم کا جز ہوتی ہے۔ کیا معنی ہے ان کے کہنے کا؟ یا تو ان کے کہنے کا معنی یہ ہے، نفسِ موضوع اس علم کا جز ہوتا ہے، یا اس موضوع کی تعریف علم کا جز ہوتی ہے، یا اس کے وجود کی جو تصدیق ہوتی ہے وہ اس علم کا جز ہوتی ہے، یا اس کے موضوع ہونے کی جو تصدیق ہے وہ اس علم کا جز ہوتی ہے۔ اب بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "والأول مندرج في موضوعات المسائل"، اور پہلی چیز جو ہے، پہلی چیز کیا؟ نفسِ موضوع، اگر ان کا ارادہ کس کا ہے؟ نفسِ موضوع کا ہے، تو کہتے ہیں پھر تو وہ، تو وہ تو درج ہے بھئی پہلے ہی۔ ادھر دیکھیے، مسائل کا ذکر ہوا یا نہیں؟ مسائل کس کا نام ہے؟ قضیوں کا نام ہے۔ اور ان قضیوں کے کچھ موضوعات ہوتے ہیں اور کچھ محمولات۔ موضوعات کیا کیا ہوتے ہیں؟ اس علم کا موضوع ہوگا یا اس کی کوئی نوع ہوگی یا اس کے عرضِ ذاتی ہوگا یا ان سے مرکب ہوگا۔ توجہ ہے؟ ان قضیوں کے موضوع کیا ہوتے ہیں؟ یا تو وہی اس علم کا موضوع جو ہو، جیسے "الکلمۃ إما معرب أو مبنی"، یہ علمِ نحو کا ایک مسئلہ ہے اور اس میں دیکھو اس کا موضوع کیا؟ الکلمہ۔ اور الکلمہ کیا ہے؟ وہ اس علم کا موضوع ہے۔ تو اگر، اگر کہنے والے کا ارادہ یہ ہے کہ موضوع سے مراد نفسِ موضوع مراد ہے، تو نفسِ موضوع تو مسائل کے اندر موضوع بن گیا یا نہیں بن گیا؟ تو وہ تو مسائل کے اندر ہی داخل ہو گیا۔ پھر اس کو علیحدہ کیوں شمار کیا؟ علم کے اجزاء تین ہیں: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ مسائل آ گئے یا نہیں اس کے اندر؟ جب مسائل آ گئے تو مسائل کے موضوعات بھی آ گئے اور محمولات بھی آ گئے، اور مسائل کے موضوعات میں اس علم کا بھی موضوع ہوتا ہے یا نہیں؟ تو وہ تو وہیں پر داخل ہو گیا تھا، اس کو پھر علیحدہ کیوں ذکر کیا؟ جب کہہ دیا اس علم کے اجزاء مسائل ہیں، تو موضوعات بھی اس کے اندر آ گئے۔ تو اس موضوع کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟
تو کہتے ہیں: "والأول مندرج في موضوعات المسائل التي هي أجزاء المسائل"، اور اول یعنی نفسِ موضوع وہ تو داخل ہے ان موضوعاتِ مسائل کے اندر جو مسائل کے اجزاء ہیں۔ بھئی ہر مسئلے کا دو جز ہوتے ہیں: ایک موضوع اور ایک محمول، تو یہ موضوعات کیا ہوئے؟ ان مسائل کے اجزاء ہو گئے۔ "والأول مندرج في موضوعات المسائل التي هي أجزاء المسائل فلا يكون جزءا على حدة"، اور اول یعنی نفسِ موضوع وہ تو داخل ہے ان موضوعاتِ مسائل کے اندر جو مسائل کے اجزاء ہیں، تو پھر یہ علیحدہ جز نہ ہوگا۔ پھر تو یہ انہی مسائل میں داخل ہو گیا۔ الکلمہ کو علیحدہ شمار کیوں کرتے ہو؟ الکلمہ تو کہاں آ گیا تھا؟ مسائل کے اندر آ گیا تھا، جب مسائل میں آیا جب یہ مسائل کا جز ہے تو علم کا بھی جز ہوا، جب علم کا جز ہے تو پھر اس کو مسائل سے علیحدہ کیوں ذکر کرتے ہو؟ یہ تو کہاں آ گیا؟ مسائل ہی کے اندر آ گیا۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟ یہ معنی ہے: "فلا يكون جزءا على حدة"، تو یہ علیحدہ جز تو نہ ہوا، یہ تو مسائل ہی کے اندر داخل ہے۔
"والثاني"، اور دوسری صورت، اگر موضوع سے کیا مراد ہو؟ موضوع کی تعریف مراد لیں، تو کہتے ہیں: "والثاني من المبادي التصورية"، وہ تو مبادیِ تصوریہ میں سے ہے بھئی۔ وہ تو کس میں سے ہے؟ بھئی اگر موضوع کی تعریف مراد لیتے ہیں، کہنے والے کا مطلب یہ تھا کہ یہ جو موضوع کی تعریف ہوتی ہے، وہ اس علم کا جز ہوتی ہے۔ وہ اس علم کا جز ہوتی ہے، جیسے "الکلمۃ لفظ وضع لمعنی مفرد"، یہ جو کلمہ کی تعریف ہے، کہنے والے کا مطلب اگر یہ ہے کہ یہ جو تعریف ہے یہ کیا ہے اس علمِ نحو کا جز ہے، تو بھئی یہ تو مبادیِ تصوریہ میں داخل ہو گئی، وہ مبادیِ تصوریہ میں کیا ذکر ہوتا تھا؟ موضوعات کی تعریف، ان کے اجزاء کی تعریف اور ان کے، اور ان کے اعراض کی تعریف۔ تو مبادیِ تصوریہ میں ان موضوعات کی تعریف آ گئی؟ وہ تو مبادی کے اندر داخل ہو گئے، پھر ان کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟ تین چیزیں ہیں نا علم کے اجزاء: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ تو یہ موضوعات یا تو مسائل کے اندر داخل ہو گئے پہلی صورت میں، دوسری صورت میں کس کے اندر آ گئے؟ مبادی، اگر تعریف مراد ہے تو مبادی کے اندر آ گئے، تو پھر ان کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟
تیسری صورت: "والثالث من المبادي التصديقية"، تیسری صورت میں یہ مبادیِ تصدیقیہ میں سے ہیں۔ کس میں سے؟ کیا معنی؟ تیسری چیز کیا ذکر تھی؟ موضوع سے یا تو نفسِ موضوع مراد ہے، یا اس کی تعریف مراد ہے، یا اس کے وجود کی تصدیق مراد ہے، یا تو اس کے وجود کی تصدیق مراد ہے ان کی کہ یہ موضوع کا جز ہوتے ہیں، تو کہتے ہیں بھئی وہ تو مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہو گیا۔ کس کے اندر؟ کلمہ کا وجود ہے، کلمہ ایک چیز ہے، پہلے وجود ثابت کرتے ہیں پھر اس کے بعد اس سے بحثیں کرتے ہیں کہ یہ معرب، مبنی وغیرہ ہوتا ہے، اس پر اعراب آتے ہیں، تفصیلات۔ تو پہلے وجود کے بارے میں جو تصدیق ہوگی وہ، اور وجود کی تصدیق اگر مراد ہے وہ تو مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہو گئی۔ تصدیق ہے نا؟ کیا ہے؟ تو تصدیق ہے تو یہ مبادیِ تصوریہ میں داخل ہوگی یا مبادیِ تصدیقیہ میں؟ تو یہ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہو گئی، تو پھر اس کو علیحدہ کیوں ذکر کیا؟ وہ مبادی میں چلی گئی، تو گویا یوں کہو نا علوم کے اجزاء دو ہیں: مبادی یا مسائل۔ موضوعات یا مسائل میں داخل یا مبادی میں داخل ہیں۔ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے؟
تو کہتے ہیں: "والثالث من المبادي التصديقية فلا يكون جزءا على حدة"، اور تیسری چیز جو ہے یعنی "التصديق بوجوده"، یہ مبادیِ تصدیقیہ میں سے ہے، تو یہ علیحدہ جز نہ ہوا، پھر اس کو علیحدہ کیوں شمار کیا؟
"والرابع من مقدمات الشروع"، جی، چوتھی صورت کیا تھی؟ "التصديق بموضوعيته"، کون سی تصدیق؟ جس میں کیا ذکر ہوتا ہے؟ کہ یہ اس علم کا موضوع ہے۔ یہ اس علم کا موضوع ہے۔ اور اپ کو بتایا تھا کہ مبادی کے دو معنی ہیں: ایک یہ والے مبادی جو یہاں ذکر ہیں، اور ایک دوسرا معنی ہے مبادی کا جو کس نے کیا ہے؟ علامہ ابنِ حاجب، وہ کیا فرماتے ہیں؟ مبادی کس کا نام؟ کچھ ابتدائی باتیں ہیں اور کچھ مقدمات ہوتے ہیں، اور مقدمات کون سے ہیں؟ جس میں اس علم کی تعریف، موضوع اور غرض و غایت ذکر ہوتی ہے۔ اور وہ کس لیے ذکر کیے جاتے ہیں وہ مقدمات؟ تاکہ طالبِ علم اس فن کو "على وجه البصیرۃ" شروع کر سکے، بصیرت کے طریقے پر اور شوق کے ساتھ اس کو شروع کرے۔ بصیرت اور معلوم ہوا اس کے بغیر بھی علم سمجھ میں آ جائے گا، لیکن پوری بصیرت شروع میں نہیں ہوگی، اور پورا شوق نہیں ہوا۔ تو یہ ان مقدمات فی الشروع کے اندر، اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو تعریف، موضوع اور غرض و غایت جن مقدمات میں ذکر کیے جاتے ہیں، یہ اس علم سے خارج ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ وہ قضیے جن میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ علمِ منطق کی یہ تعریف ہے، جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ علمِ منطق کا یہ موضوع ہے، جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ اس میں علمِ منطق کے یہ مقاصد، یہ غایا ہے، تین چیزیں ہیں نا: تعریف، موضوع اور غرض و غایت۔ تو وہ مقدمے جن کے اندر یہ تین چیزیں ذکر ہوتی ہیں، تین چیزیں ذکر ہوتی ہیں، تو وہ تو، وہ تو اس علم سے خارج ہیں بھئی۔
تو یہاں انہوں نے چوتھی صورت کیا ذکر کی؟ "التصديق بموضوعيته"، اس چیز کے اس علم کا موضوع ہونے کی تصدیق، تو وہ تو ان مقدمات میں سے تھا جن میں، جن پر علم کو "على وجه البصیرۃ" اور "على فرط الرغبۃ" شروع کرنا موقوف تھا، یعنی علم سے خارج تھے۔ کیا تھے؟ تو اس صورت میں تو یہ ان مقدمات میں داخل ہو گیا، اور جب ان مقدمات میں داخل ہے پھر تو یہ علم سے خارج ہے، جب علم سے خارج ہے تو اس کو علم کا جز کیسے قرار دے دیا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: "والرابع من مقدمات الشروع فلا يكون جزءا"، اور چوتھی چیز یعنی "التصديق بموضوعيته"، وہ تو "من مقدمات الشروع"، وہ کس میں سے ہے؟ شروع کے جو مقدمات ہیں ان میں سے ہے، "فلا يكون جزءا"، پھر تو یہ اس علم کا جز ہی نہیں ہوگا بھئی۔
تو ہر صورت پر اعتراض ہوتا ہے۔ اپ نے کیا کہا؟ کہ موضوع کیا ہوتا ہے اس علم کا جز؟ اپ کی اس سے مراد یا تو نفسِ موضوع ہے، یا تعریفِ موضوع ہے، یا تصدیق بوجودہ ہے، یا تصدیق بموضوعیتہ ہے۔ اگر نفسِ موضوع مراد لیتے ہیں، تو یہ تو مسائل کے اندر داخل ہے، اس کو علیحدہ ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا؛ اگر اپ اس سے اس کی تعریف مراد لیتے ہیں کہ وہ اس علم کا جز ہوتی ہے، تو بھئی تعریف وہ تو مبادیِ تصوریہ میں آ گئی تھی، لہٰذا اس کو علیحدہ شمار نہیں کرنا چاہیے؛ اور اگر اپ اس کی تصدیق بوجودہ کی بات کرتے ہیں کہ وہ تصدیق جس میں اس کے وجود کا ذکر ہوتا ہے، تو وہ تو اس کے مبادیِ تصدیقیہ میں شامل ہے، لہٰذا اس کو علیحدہ ذکر نہیں کرنا چاہیے تھا؛ تو ان تین صورتوں میں، یہ جو موضوع ہے، یہ تو علم کے اندر داخل ہے، مبادی میں یا مسائل میں، لہٰذا علیحدہ نہیں شمار کرنا چاہیے۔ اور چوتھی صورت میں تو یہ کس میں سے ہے؟ اگر اس سے اس کے موضوعیت کی تصدیق مراد ہے، تو موضوعیت کی تصدیق تو مقدماتِ شروع میں سے ہے، شروع کے جو مقدمات ہیں ان میں داخل ہے، پھر اس کو اپ جز کیسے قرار دے دیتے ہو؟ اشکال سمجھ میں آ گیا؟
تو یہ اعتراض ہوا بھئی۔ اعتراض کیا ہوا؟ کہ موضوع جو ہوتا ہے، علم کے اجزاء میں سے ہوتا ہے، یا تو اس کی مراد کیا ہوگی؟ نفسِ موضوع، یا تعریفِ موضوع، یا تصدیق بوجودہ، یا تصدیق بموضوعیتہ۔ اور چاروں صورتوں پر اعتراض ہوتا ہے، کہ اس کو علیحدہ جز شمار ہی نہیں کرنا چاہیے، تین صورتوں میں تو علیحدہ جز کیوں شمار کیا؟ اور چوتھی صورت میں تو یہ جز ہی نہیں بنتا، اس کو جز کیسے شمار کر لیا؟ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو اب جواب دیں گے۔ کہتے ہیں: "ويمكن الجواب باختيار كل من الشقوق الأربعة"، اور ممکن ہے جواب دینا ان چار شقوں میں سے، یعنی چار اجزاء میں سے ہر ایک کو اختیار کرتے ہوئے۔ ہر ایک کو اختیار کرتے ہوئے جواب دیا جا سکتا ہے۔ موضوع سے اگر نفسِ موضوع مراد لیں، تو بھی جواب دیا جا سکتا ہے؛ اگر تعریفِ موضوع مراد لیں، تو بھی جواب دیا جا سکتا ہے؛ تصدیق بوجودہ مراد ہو، تو بھی جواب دیا جا سکتا ہے؛ اور تصدیق بموضوعیتہ ہو، تب بھی جواب دیا جا سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: "ويمكن الجواب باختيار كل من الشقوق الأربعة"، شقوق جمع ہے شق کی بھئی، شق جز کو کہتے ہیں، ٹکڑے، حصے کو۔ مراد یہ چار احتمالات ہیں بھئی، مراد چار احتمالات ہیں۔ "وممكن ہے جواب دینا ان چار احتمالات میں سے ہر ایک کو اختیار کرتے ہوئے، أما على الأول"، تو پہلی احتمال پر یا پہلی شق پر، "فيقال"، پس یوں کہا جائے گا، "إن نفس الموضوع وإن اندرج في المسائل"، کہ نفسِ موضوع اگرچہ وہ داخل ہے مسائل کے اندر، نفسِ موضوع اگرچہ مسائل کے اندر داخل ہے کیونکہ مسائل کا موضوع بنتا ہے، "لكنه لشدة الاعتنائه به"، "اعتناء" لفظ ہے، میری کتاب میں "اعتبار" ہے، یہ درست نہیں بھئی، "اعتناء" ہونا چاہیے۔ "لشدة الاعتناء به"، اعتناء کا معنی ہے کسی چیز کو اہمیت دینا، کسی چیز کو حاصلِ جواب سن لیجیے، کہنا یہ چاہتے ہیں کہ بھئی، اپ نے کیا کہا؟ نفسِ موضوع اگر مراد لیں تو وہ کس کے اندر داخل ہے؟ مسائل کے اندر داخل ہے، اس کو علیحدہ جز کیوں شمار کیا؟ تو ہم کہتے ہیں: ہاں، اپ کی بات ٹھیک ہے، یہ مسائل کے اندر داخل ہے، لیکن چونکہ اس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، اس لیے اس کو علیحدہ جز شمار کیا۔ اس کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، علم کے تمام مسائل اسی چیز کے گرد گھومتے ہیں، اسی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے، لہٰذا اس کو بہت زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے علیحدہ جز شمار کیا، ورنہ واقعی یہ مسائل کے اندر داخل تھا بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فيقال إن نفس الموضوع وإن اندرج في المسائل لكنه لشدة الاعتناء به"، پس کہا جائے گا کہ نفسِ موضوع اگرچہ وہ داخل ہے مسائل کے اندر، لیکن اس کے بہت زیادہ اہمیت ہونے کی وجہ سے، "من حيث"، بھئی کس طرح؟ بہت زیادہ اہمیت کس طرح ہے اس کی؟ کہتے ہیں: "من حيث إن المقصود من العلم معرفة أحواله والبحث عنها"، یہ اس حیثیت سے کہ علم میں جو مقصود ہوتا ہے، وہ اسی کے احوال کی معرفت، اسی کے احوال کو جاننا مقصود ہوتا ہے، "والبحث عنها"، اور علم کے اندر جو مقصود ہوتا ہے، وہ اسی سے بحث کرنا ہے۔ علم میں کیونکہ علم کے تمام مسائل اسی کے گرد گھومتے ہیں، اسی کے احوال کو جانا جاتا ہے اور انہی کے بارے میں بحث کی جاتی ہے، "فعد جزءا على حدة"، تو اس کو علیحدہ جز شمار کیا گیا۔ جواب سمجھ میں آیا؟
"أو يقال"، یا یوں کہا جا سکتا ہے کہ "إن المسائل"، یہاں سے آگے دوسرا جواب دیں گے، کہ یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ اپ نے کیا کہا؟ کہ نفسِ موضوع کس کے اندر داخل؟ مسائل کے اندر، کیونکہ یہ مسائل کا موضوع بنتا ہے۔ تو اپ کو جواب دیں گے کہ یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ جو مسائل ذکر ہوتے ہیں، یہ مسائل قضیوں کا نام نہیں ہے، مصنف نے تو کیا بتلایا؟ مسائل کس کا نام ہے؟ وہ قضیے ہیں جو اس علم میں مطلوب ہوتے ہیں، لیکن محققِ دوانی فرماتے ہیں، محققِ محققِ دوانی فرماتے ہیں کہ علم کے جو مسائل ہوتے ہیں، وہ ان کے محمولات ہوتے ہیں۔ وہ ان کے وہ جو قضیے ذکر ہوئے مسائل کے اندر، ان قضیوں کے کچھ موضوعات ہیں اور کچھ، اور کچھ محمولات ہیں، تو علم کے جو مسائل ہوتے ہیں، وہ صرف وہ محمولات ہوتے ہیں۔ وہ صرف تو موضوعات معلوم ہوا مسائل میں داخل ہی نہیں، جب داخل ہی نہیں ہے تو موضوع بھی انہی میں سے تھا، تو وہ بھی مسائل کے اندر داخل نہیں، جب مسائل میں داخل نہیں، اس لیے اس کو علیحدہ شمار کرنا پڑا بھئی۔ جواب سمجھ میں آیا؟
"أو يقال إن المسائل ليست هي مجموع الموضوعات والمحمولات والنسب"، یا یہ کہا جائے گا کہ مسائل جو ہیں، وہ موضوعات، محمولات اور نسبتوں کا مجموعہ نہیں ہے۔ قضیہ تو مجموعہ ہوتا ہے نا، کس چیز کا؟ موضوع بھی، محمول بھی اور اس کے ان دونوں کے درمیان نسبت بھی، تو ان تینوں کا مجموعہ جو ہے وہ قضیہ ہوتا ہے۔ تو وہ سارے علم کے مسائل نہیں ہوتے، بلکہ صرف کیا چیز علم کے مسائل ہیں؟ ان قضیوں کے جو محمولات ہیں، وہ مسائل ہیں۔ ان قضیوں کے موضوعات اور نسبتیں، وہ وہ اس علم کے مسائل نہیں ہیں۔
"إن المسائل ليست هي مجموع الموضوعات والمحمولات والنسب"، نسب جمع ہے نسبت کی بھئی، کہ مسائل جو ہیں، یہ موضوعات، محمولات اور نسبتوں کا مجموعہ نہیں ہے، "بل المحمولات المنصوبة إلى الموضوعات"، بلکہ مسائل وہ محمولات ہوتے ہیں "المنصوبة إلى الموضوعات"، جو منسوب ہوتے ہیں ان موضوعات کی طرف، وہ محمولات صرف مسائل ہیں۔ "قال المحقق الدواني"، محققِ دوانی فرماتے ہیں۔ محققِ دوانی بھئی یہ بہت بڑے منطقی اور فلسفی گزرے ہیں، اور یہ 918 ہجری میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ اج کل کیا ہے؟ اج کل 1442 ہجری چل رہی ہے، تو یہ محققِ دوانی جو ہیں، ان کا انتقال ہوا ہے 918 ہجری میں۔ اور ان کا نام جلال الدین ہے بھئی، جلال الدین دوانی بھئی، اور یہ شافعی المسلک ہیں، اور انہوں نے خود بھی اس متن کی شرح لکھی ہے، اور اس کا نام ہے ملا جلال بھئی۔ ملا جلال انہی کے نام سے مشہور ہے، اور وہ انہوں نے اس متن کی شرح لکھی ہے اور مدارس میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہے بھئی۔
"قال المحقق الدواني في حاشية المطالع"، محققِ دوانی فرماتے ہیں مطالب کے حاشیے میں۔ مطالب کتاب کا نام ہے۔ تو مطالب کتاب کے حاشیے میں وہ فرماتے ہیں: "المسائل هي المحمولات المثبتة بالدليل"، کہ مسائل جو ہیں، وہ محمولات ہوتے ہیں جو ثابت کیے جاتے ہیں دلیل کے ذریعے سے۔ مسائل صرف کس کا نام؟ کسی علم کے مسائل، وہ موضوعات، محمولات اور نسبتوں کے مجموعے کا نام نہیں ہے، بلکہ صرف کس کا نام ہے؟ محمولات کا نام، وہ محمولات "المثبتة بالدليل"، جو کس کے ذریعے ثابت کیے جاتے ہیں؟ دلیل کے ذریعے ثابت کیے جاتے ہیں۔
آگے شارح فرماتے ہیں: "وفيه نظر"، محققِ دوانی کے اس قول میں نظر ہے، اشکال ہے۔ اپ کو آگے بتائیں گے کہ اشکال یہ کہ مصنف کے قول سے اس کی مناسبت نہیں بنتی۔ مصنف نے تو کیا بتلایا کہ مسائل کس کا نام ہے؟ قضایا کا نام ہے، اور قضیے کے اندر موضوع بھی ہوتا ہے، محمول بھی ہوتا ہے اور نسبت بھی ہوتی ہے۔ تو یہ مصنف کے قول کے سے اس کی مناسبت اور مطابقت نہیں ہے۔ لہٰذا یہ جواب یہاں نہیں چل سکتا بھئی۔
جنہوں نے موضوعات کو علوم کا جز قرار دیا، توجہ ہے؟ جنہوں نے موضوعات کو علوم کا جز قرار دیا، اس سے یا تو ان کی مراد کیا ہے؟ نفسِ موضوع، یا موضوع کی تعریف، یا اس کے وجود کی تصدیق، یا اس کے موضوعیت کی تصدیق۔ اگر نفسِ موضوع مراد لیں، تو وہ کس کے اندر داخل ہے؟ وہ مسائل کے اندر داخل ہے۔ جب مسائل کے اندر داخل ہے تو اس کو علیحدہ شمار کرنے کی ضرورت نہیں، تو اس کا ایک جواب کیا دیا کہ ہاں، یہ مسائل کے اندر داخل تو ہے، لیکن شدید اہمیت ہونے کی وجہ سے اس کو کیا کر لیا؟ علیحدہ شمار کر لیا۔ اور دوسرا جواب کیا دیا کہ محققِ دوانی کیا فرماتے ہیں؟ کہ کسی علم کے مسائل وہ موضوعات، محمولات اور نسبتوں کا مجموعہ نہیں ہوتے، بلکہ صرف کیا چیزیں ہوتی ہیں؟ محمولات۔ جب محمولات صرف مسائل ہیں، تو موضوعات تو مسائل کے اندر داخل ہی نہیں، جب وہ داخل نہیں، تو اس لیے اس کو کیا کر دیا؟ علیحدہ ذکر کیا۔ لیکن یہ جواب یہاں نہیں چل سکتا، کیوں نہیں چل سکتا؟ کیونکہ مصنف نے کیا بتلایا، مسائل کس کا نام ہے؟ قضیوں کا نام ہے، اور قضیہ کس چیز سے مرکب ہوتا ہے؟ موضوع، محمول اور نسبت سے، تو لہٰذا موضوع تو مسائل کے اندر داخل ہو گیا۔ مصنف نے جو بات کی، اس کے مطابق اپ موضوع کو مسائل سے نہیں نکال سکتے۔ اور جب یہ مسائل کے اندر داخل ہے، تو اعتراض اسی طرح رہتا ہے کہ پھر اس کو علیحدہ ذکر کیوں کیا؟
تو کہتے ہیں: "وفيه نظر"، اور محققِ دوانی کے اس قول میں نظر ہے، اشکال ہے، "فإنه لا يلائم ظاهر قول المصنف"، اس لیے کیونکہ یہ مناسب نہیں ہے مصنف کے ظاہرِ قول سے۔ اور ظاہرِ قول کیا ہے مصنف کا؟ انہوں نے فرمایا: "والمسائل هي قضايا كذا، وموضوعاتها كذا، ومحمولاتها كذا"، یہ سارے مصنف کی عبارت نقل کر رہے ہیں کہ مصنف کا یہ جو قول آیا تھا اوپر کہ علم کے جو مسائل ہیں "هي قضايا كذا"، وہ ایسے قضیے ہوتے ہیں، "وموضوعاتها كذا"، اور ان کے موضوعات ایسے ہوتے ہیں، "ومحمولاتها كذا"، اور ان کے محمولات ایسے ہوتے ہیں۔ تو اس سے تو پتہ چل رہا ہے کہ موضوعات اور محمولات دونوں مسائل کے اندر داخل ہیں۔
"وأيضا"، اور نیز، اور نیز، یعنی یہ دوسرا اعتراض بھی ہوتا ہے۔ دوسرا اعتراض کیا؟ ادھر دیکھیے۔ اگر اپ کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ موضوع کو علم کا جز قرار دیا، کیونکہ یہ مسائل کے اندر داخل ہی نہیں ہے۔ علامہ دوانی کے اگر جواب کو اگر ذکر کیا جائے، کیونکہ یہ مسائل کے اندر داخل ہی نہیں ہے، کیونکہ مسائل تو صرف کس کا نام؟ محمولات کا نام ہے۔ تو پھر تو اشکال اور بھی زیادہ ہو جائے گا کہ پھر تو ان مسائل کے جتنے بھی موضوعات ہیں، ان سب کو بھی علیحدہ جز شمار کرنا چاہیے۔ ان مسائل کے موضوعات کیا کیا ہوتے تھے؟ پانچ چیزیں تھیں ان مسائل کے موضوعات، کیا کیا؟ ایک اس علم کا موضوع، یا اس موضوع کی کوئی قسم، یا اس کی عرضِ ذاتی، یا ان میں سے کسی سے مرکب۔ پھر تو وہ چار پانچ صورتیں بنتی ہیں، تو پھر تو ان ساروں کو بھی کیا قرار دینا چاہیے؟ علم کے اجزاء قرار دینا چاہیے۔ صرف موضوعِ علم کو کیوں علم کا جز قرار دیا ہے؟ باقی بھی تو اجزاء بن گئے، باقی بھی تو اجزاء ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔
کہتے ہیں: "وأيضا فلو كان المسائل نفس المحمولات المنصوبة لوجب عد سائر الموضوعات للمسائل التي هي وراء موضوع العلم جزءا على حدة"، اور نیز، اگر مسائل وہ نفسِ محمولات ہیں جن کی نسبت کی جاتی ہے، "لوجب عد سائر الموضوعات للمسائل"، تو واجب ہوگا، ضروری ہوگا مسائل کے باقی موضوعات کو شمار کرنا، مسائل کے باقی موضوعات کو شمار کرنا واجب ہوگا، کیا شمار کرنا؟ اخر میں آ رہا ہے "جزءا على حدة"، علیحدہ جز، ان کو علیحدہ جز شمار کرنا واجب ہوگا۔ مسائل کے باقی موضوعات، کون سے باقی موضوعات؟ "التي هي وراء موضوع العلم"، وہ جو موضوعِ علم کے علاوہ ہیں۔
موضوعِ علم کے علاوہ۔ بھئی مسائل کے موضوع کیا کیا چیزیں تھیں؟ پانچ چیزیں تھیں نا، ایک کیا تھا؟ موضوعِ علم، اس کو تو اپ نے پھر علم کا جز قرار دے دیا۔ تو پھر باقیوں کو بھی کیا قرار دینا چاہیے؟ علم کا جز قرار دینا چاہیے، تو ترجمہ پھر دیکھ لیں۔ کہتے ہیں: "وأيضا فلو كان المسائل نفس المحمولات المنصوبة لوجب عد سائر الموضوعات للمسائل التي هي وراء موضوع العلم جزءا على حدة"، اور نیز، اگر مسائل وہ نفسِ محمولات ہیں جن کی نسبت کی گئی ہے، تو واجب ہوگا شمار کرنا مسائل کے باقی موضوعات بھی جو موضوعِ علم کے علاوہ ہیں۔ وہ جو موضوعِ علم کے علاوہ مسائل کے باقی موضوعات ہیں، واجب ہوگا کہ ان کو بھی شمار کیا جائے علیحدہ جز۔
"فتدبر"، تو اپ اس میں غور کر لیجیے۔ اپ اس میں غور کر لیجیے۔
دو اعتراض کیے بھئی، دو اعتراض۔ کہ علامہ دوانی کی بات یہاں نہیں چل سکتی، کیونکہ مصنف نے مسائل جو ہے وہ محمولات کو نہیں قرار دیا، بلکہ کس کو قرار دیا؟ قضایا کو قرار دیا۔ اور نیز، اگر ان مسائل کے جو موضوعات ہیں وہ مسائل کے اندر داخل نہیں، تو وہ جو تمام موضوعات ہیں ان کو اس علم کا علیحدہ جز شمار کرنا چاہیے بھئی، حالانکہ ان باقیوں کو تو علیحدہ جز شمار نہیں کیا۔ تو "فتدبر" کے ذریعے جواب دیا جا سکتا ہے کہ بھئی باقی جتنے بھی موضوعات ہیں، مسائل کے جتنے بھی موضوعات ہیں، پانچ قسم کے موضوعات بنتے تھے نا؟ ان میں سے ایک تو تھا موضوعِ علم، باقی چار میں بھی کہتے ہیں اگر اپ غور کر لیں، تو وہ سب موضوعِ علم ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ موضوعِ لہٰذا ان کو علیحدہ جز شمار کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یعنی یہ جو دوسرا اعتراض کیا کہ نیز یہ اعتراض بھی ہوتا ہے کہ اپ نے موضوعِ علم کو علیحدہ جز شمار کیا ہے، تو مسائل کے جو باقی موضوعات ہیں، ان کو بھی کیا شمار کرنا چاہیے؟ علیحدہ جز شمار کرنا چاہیے، اس کے جواب کی طرف اشارہ کر دیا کہ ہاں، اس اعتراض کا جواب دیا جا سکتا ہے۔ اس اعتراض کا کہ باقی چیزوں کو بھی جز شمار کرو علیحدہ، کہتے ہیں بھئی باقی چیزیں وہ اسی موضوعِ علم کے اندر داخل ہیں، کیونکہ وہ اسی موضوع کی تعریف یا نوع ہوگی، مسائل کا جو موضوعات ہیں، نہیں توجہ، نہیں توجہ۔ انہوں نے کیا کہا؟
کہ علامہ دوانی نے کیا ذکر کیا ہے؟ کہ کسی علم کے مسائل صرف وہ محمولات ہوتے ہیں، موضوعات نہیں موضوعات نہیں ہوتے۔ کہتے ہیں لیکن یہ بات یہاں نہیں چل سکتی، کیوں نہیں چل سکتی؟ کیونکہ مصنف نے مسائل محمولات کو نہیں قرار دیا، کس کو قرار دیا ہے؟ قضایا کو، اور قضایا کے اندر موضوعات بھی ہوتے ہیں اور محمولات بھی ہوتے ہیں، بلکہ باقاعدہ مصنف نے آگے موضوعات اور محمولات کو علیحدہ ذکر بھی کیا کہ یہ یہ موضوعات ہوں گے اور یہ محمولات ہوں گے۔ تو یہاں علامہ دوانی کی بات نہیں چل سکتی، ان کی یعنی ان کی بات لے کر جواب نہیں دیا جا سکتا۔ نیز بلکہ یہاں دوسرا اعتراض ہوتا ہے کہ ان مسائل کے موضوعات کتنی قسم کے تھے؟ پانچ، ان میں سے ایک تو موضوعِ علم تھا۔ باقی تو چار اور چیزیں تھیں، تو موضوعِ علم کو تو اپ نے علیحدہ جز قرار دے دیا کیونکہ اپ نے کیا کہا؟ یہ مسائل کے اندر داخل لہٰذا اس لیے اس کو علیحدہ جز شمار کیا۔ پھر تو باقی چار چیزیں جو ہیں، ان کو بھی کیا کرنا چاہیے؟ علیحدہ جز قرار دینا چاہیے۔ تو اس کے جواب کی طرف اشارہ کر دیا کہ باقی چار چیزیں بھی وہ موضوعِ علم سے علیحدہ نہیں ہیں بھئی، وہ اسی کے اندر داخل ہیں۔ لہٰذا یہ اعتراض اپ نہیں کر سکتے کہ ان کو علیحدہ جز قرار دینا چاہیے، وہ موضوعِ علم کے اندر ہی آ جاتے ہیں۔ تو "فتدبر" کے ذریعے اس جواب کی طرف اشارہ ہے۔
"وأما على الثاني"، دوسری صورت کیا تھی؟ کہ انہوں نے کیا کہا؟ موضوع جز ہے علم کا، اس سے مراد یا تو نفسِ موضوع ہے، یا موضوع کی تعریف ہے، یا تصدیق بوجودہ ہے، یا تصدیق بموضوعیتہ ہے۔ نفسِ موضوع کا ہم نے جواب دے دیا، اس کو کیوں علیحدہ ذکر کیا؟ اگرچہ وہ مسائل میں داخل تھا، لیکن کیوں علیحدہ ذکر کیا اس کی اہمیت کی وجہ سے۔ دوسرے اور تیسرے کا بھی یہی جواب ہے۔ اگر تعریف مراد لیں موضوع کی تعریف، وہ کس میں داخل؟ مبادیِ تصوریہ میں، لیکن اہمیت کی وجہ سے اس کو علیحدہ ذکر کیا۔ اور تیسری صورت کیا مراد؟ تصدیق بوجودہ، وہ کس کے اندر داخل؟ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہے، لیکن پھر بھی اس کو علیحدہ ذکر کیا، کس وجہ سے؟ اس کی اہمیت کی وجہ سے۔
تو کہتے ہیں: "وأما على الثاني فيقال إن تعريف الموضوع وإن كان مندرجا في المبادي التصورية لكن عد جزءا على حدة لمزيد الاعتناء به كما سبق"، تو دوسری شق جو ہے اس میں کہا جائے گا کہ موضوع کی جو تعریف ہے، اگرچہ وہ داخل ہے مبادیِ تصوریہ میں، لیکن اس کو علیحدہ جز شمار کیا گیا اس کے زیادہ اہمیت دینے کی وجہ سے کما سبق، جیسے بات گزر گئی، جیسے کہ بات پہلے گزر گئی جیسے ہم نے پہلے بیان کر دیا۔ تو یہ بھی "الاعتناء به" لفظ ہے بھئی، اس کی بھی اصلاح کر لیں، میری کتاب میں "لمزيد الاعتبار به" ہے، یہ درست نہیں بھئی، "لمزيد الاعتناء به"۔
"وأما على الثالث"، اور باقی تیسری صورت جو ہے، کون سی تیسری صورت؟ کہ "التصديق بوجوده" جو ہے، یا تو اس سے مراد کیا ہے؟ ہاں، انہوں نے کیا کہا تھا؟ کہ موضوع جو ہے وہ علم کا جز ہوتا ہے۔ یا تو اس سے مراد نفسِ موضوع ہے، یا موضوع کی تعریف ہے، یا تصدیق بوجودہ ہے، اب اس کا جواب دے رہے ہیں۔ "وأما على الثالث"، اور باقی تیسری صورت جو ہے، تیسری شق جو ہے اس پر "فيقال"، یوں کہا جائے گا "بمثل ما مر"، اسی کے مثل جو گزر گیا۔ تصدیق بوجودہ اگرچہ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہے، لیکن اس کو علیحدہ شمار کیا گیا اس کی اہمیت کی وجہ سے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تصدیق بوجودہ، اس کے وجود کی تصدیق بھئی، مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہے نا، تیسری بات ہے۔ تیسری چیز کیا تھی کہ موضوع سے کیا مراد ہے؟ تصدیق بوجودہ، اس کے وجود کی تصدیق، یعنی وہ تصدیق جس میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ اس کا وجود ہے، یہ چیز یہ موضوع موجود ہے۔ تو اگر وہ مراد لیں، تو وہ، تو وہ کس میں داخل؟ مبادیِ تصدیقیہ میں، تو اس کو علیحدہ جز کیوں شمار کیا؟ تو اس کا بھی یہی جواب ہے جو پہلے دو میں گزر گیا کہ ہاں، وہ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہے، لیکن اہمیت کی وجہ سے اس کو علیحدہ ذکر کیا۔
تو کہتے ہیں: "فيقال"، تو اس میں بھی کہا جائے گا "بمثل ما مر"، اسی کے مثل جو گزر گیا، یعنی پہلے اور دوسرے جواب میں۔ "أو يقال"، یا یوں کہا جائے گا، یہ دوسرا جواب دینے لگے ہیں۔ تیسری شق کا دوسرا جواب دینے لگے ہیں، پہلا جواب کیا کہ یہ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل تھا، اس کو علیحدہ کیوں شمار کیا اس کی اہمیت کی وجہ سے؟ اب دوسرا جواب دیں گے کہ نہیں بھئی، یہ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہی نہیں ہے۔ مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہی نہیں ہے، اور جب مبادیِ تصدیقیہ میں نہیں داخل، تو اس کو علیحدہ شمار کرنا چاہیے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
"أو يقال بأن عد التصديق بوجود الموضوع من المبادي التصديقية كما نقل عن الشيخ تسامح"، یا یوں کہا جائے گا کہ شمار کرنا، یوں کہا جائے گا "بأن عد التصديق"، کہ شمار کرنا وہ جو تصدیق ہے وجودِ موضوع کی، اس کو شمار کرنا "من المبادي التصديقية"، مبادیِ تصدیقیہ میں سے، "كما نقل عن الشيخ"، جیسے کہ منقول ہے شیخ سے، یعنی شیخ بو علی سینا سے، "تسامح"، یہ تسامح ہے، یہ چشم پوشی ہے۔ شیخ سے کیا منقول ہے؟ بعضوں نے نقل کیا کہ شیخ بو علی سینا کیا فرماتے ہیں؟ کہ یہ جو تصدیق بوجود الموضوع جو ہے، یہ کس کے اندر داخل ہے؟ مبادیِ تصدیقیہ، تو اس کا مبادیِ تصدیقیہ میں داخل ہونا، اس کو جو شیخ سے نقل کیا گیا ہے، یہ کس پر مبنی ہے؟ تسامح پر مبنی ہے بھئی۔ یعنی، یعنی یہ درست نہیں ہے بھئی، تسامح پر مبنی ہے، "فإن المبادي التصديقية هي القضايا التي تتألف منها قياسات العلم"، اس لیے کیونکہ مبادیِ تصدیقیہ تو وہ قضایا ہیں جو تتالف منہا، ادھر دیکھیے۔ مبادیِ تصدیقیہ، انہوں نے اوپر متن میں اپ کو بتایا تھا کہ علم تین چیزوں سے مرکب ہوتا ہے: موضوعات، مبادی اور مسائل۔ اور مبادی کیا ہوتے ہیں؟ وہ دو قسم کے ہیں: مبادیِ تصوریہ اور مبادیِ تصدیقیہ۔ مبادیِ تصوریہ کیا ہوتے ہیں؟ ان موضوعات اور ان کے اجزاء اور ان کے اعراض کی تعریفیں، ان کی تعریفیں جو ہیں، یہ مبادیِ تصوریہ ہیں، اور مبادیِ تصدیقیہ کیا چیز ہیں؟ ہاں، کچھ ایسے قضیے ہوتے ہیں جن پر اس علم کے دلائل موقوف۔
ہوتے ہیں۔ کیا معنی موقوف ہوتے ہیں؟ یعنی ان سے علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔
تو وہ کچھ قضیے ہیں اور وہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی ہو سکتے ہیں۔
تو معلوم ہوا، مبادئ تصدیقیہ کس چیز کا نام؟ مبادئ تصدیقیہ کس چیز کا نام؟ ابھی بتایا میں نے آپ کو۔
کچھ قضیے ہیں۔
کچھ قضیے۔
جن سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ جن سے اس علم کے دلائل مرکب۔
تو مبادئ تصدیقیہ تو وہ ان قضیوں کا نام ہے جس سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔ ان میں یہ تصدیق بوجود الموضوع تو داخل نہیں ہے۔
ان میں یہ تو نہیں ذکر کیا جاتا کہ اس چیز کا وجود ہے، یہ تو ان کے اندر داخل ہی نہیں ہے۔ وہ تو وہ تصدیقات ہیں جو کیا کیا بنیں گی؟ جن سے اس علم کے دلائل بنیں گے، بھئی۔
تو تصدیق بوجود الموضوع وہ اس کو مبادئ تصدیقیہ میں شمار کرنا صحیح نہیں، وہ اس کے اندر داخل ہی نہیں ہے، بھئی۔
یہ دیکھیے: أَوْ يُقَالُ یا یہ کہا جائے گا کہ بِأَنَّ عَدَّ التَّصْدِيقِ بِوُجُودِ الْمَوْضُوعِ مِنَ الْمَبَادِئِ التَّصْدِيقِيَّةِ کہ شمار کرنا وہ جو تصدیق ہے وجود موضوع کی، اس کو شمار کرنا مبادئ تصدیقیہ میں سے جیسے کہ منقول ہے شیخ سے تَسَامُحٌ، یہ کیا ہے؟ تسامح ہے، یعنی چشم پوشی ہے یا یوں کہیں کہ یہ بھول ہوئی ہے، غلطی ہوئی ہے۔ فَإِنَّ الْمَبَادِئَ التَّصْدِيقِيَّةَ، اس لیے کیونکہ مبادئ تصدیقیہ جو ہیں هِيَ الْقَضَايَا، وہ تو ایسے قضیے ہیں الَّتِي تَتَأَلَّفُ مِنْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ کہ جن سے مرکب ہوتے ہیں علم کے دلائل۔ وَنَصَّ عَلَى ذَلِكَ الْعَلَّامَةُ فِي شَرْحِ الْكُلِّيَّاتِ اور تصریح کی ہے، نَصَّ کا معنیٰ تصریح یعنی صاف لفظوں میں ذکر کیا ہے۔ وَنَصَّ عَلَى ذَلِكَ اور اس بات پر تصریح کی ہے الْعَلَّامَةُ فِي شَرْحِ الْكُلِّيَّاتِ علامہ نے کلیات کی شرح کے اندر۔ وَأَيَّدَهُ بِكَلَامِ الشَّيْخِ أَيْضًا اور اس کی تائید کی ہے کلامِ شیخ کے ذریعے بھی۔
کلامِ شیخ کے ذریعے بھی اس کی تائید کی ہے۔ بھئی، یہ علامہ ذکر کیا انھوں نے، نام نہیں بتلایا۔ نام نہیں بتلایا، اس سے کون مراد ہیں، بھئی؟ شاید، شاید اس سے مراد امام رازی ہوں، بھئی۔ کون مراد ہوں؟ امام رازی، کیونکہ ان کی بھی شرح الکلیات ہے بھئی، تصنیف۔ کلیات کی شرح انھوں نے بھی کی ہے۔ لیکن زیادہ غالب گمان یہی ہے کہ اس سے قطب الدین شیرازی مراد ہیں، بھئی۔ کون مراد ہیں؟ قطب الدین شیرازی مراد ہیں۔ اور یہ، یہ بہت بڑے منطقی اور فلسفی گزرے ہیں۔ ان کا انتقال ہوا ہے 710 ہجری میں۔
710 ہجری۔ محقق دوانی کا انتقال کب ہوا ہے؟ 918 ہجری میں، یعنی یہ ان سے بہت مؤخر ہیں۔ تو یہ قطب الدین شیرازی بہت بڑے منطقی گزرے ہیں۔ اور یہ، یہ، یہ شاگرد ہیں طوسی کے، محقق طوسی کے شاگرد ہیں، بھئی۔ تو 710 ہجری میں ان کا انتقال ہوا۔ اور ان کی بھی شرح کلیات کتاب ہے، بھئی۔
تو غالب گمان یہی ہے، یہی مراد ہیں۔ العلامہ سے کون مراد ہیں؟ قطب الدین شیرازی، بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَنَصَّ عَلَى ذَلِكَ الْعَلَّامَةُ فِي شَرْحِ الْكُلِّيَّاتِ اور علامہ نے، علامہ قطب الدین شیرازی نے بھی اس کی تصریح کی ہے فِي شَرْحِ الْكُلِّيَّاتِ اپنی کتاب شرحِ کلیات کے اندر۔ وَأَيَّدَهُ بِكَلَامِ الشَّيْخِ أَيْضًا اور انھوں نے اس کی تائید کی ہے کلامِ شیخ کے ذریعے بھی۔
علامہ نے کیا ذکر کیا شرح الکلیات کے اندر؟ کہ یہ جو مبادئ تصدیقیہ ہوتے ہیں، یہ ان قضیوں کا نام ہے جن سے اس علم کے دلائل بنتے ہیں۔ اس سے ان، اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔
اور پھر اس کی تائید میں شیخ ابو علی ابن سینا کا، کا، کا قول بھی ذکر کیا کہ وہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ ان کے قول کو بھی نقل کر دیا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا بات ہوئی؟ کہ علامہ نے شرح الکلیات میں کیا ذکر کیا ہے؟ کہ مبادئ تصدیقیہ وہ قضیے ہیں جن سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا، تصدیق بوجودہ اس کے اندر داخل نہیں۔ اور نیز علامہ نے شرح الکلیات میں اپنے اس دعوے کی تائید میں کس کا کلام ذکر کیا؟ شیخ بو علی سینا کا بھی کلام ذکر کیا۔ معلوم ہوا، وہ جو کسی اور نے شیخ بو علی سینا سے نقل کیا ہے، وہ ان سے بھول ہوئی ہے۔ غلطی سے ان کی طرف نسبت کر دی ہے۔ شیخ کا بھی یہی، شیخ کی بھی یہی رائے ہے کہ یہ مبادئ تصدیقیہ کے اندر داخل نہیں ہے۔ کون سی، کون سی تصدیق نہیں داخل؟ تصدیق بوجود الموضوع جو ہے، وہ مبادئ تصدیقیہ میں داخل نہیں ہے۔
فَقَوْلُ الْمُصَنِّفِ پس مصنف کا قول: يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ ان پر بنیاد ہوتی ہے علم کے دلائل کی۔ اوپر متن میں آیا تھا، بھئی: يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ ان پر بنیاد ہوتی ہے علم کی دلائل کی۔ تَعْرِيفٌ أَوْ تَفْسِيرٌ بِالْأَعَمِّ، یہ تعریف بالاعم ہے یا تفسیر بالاعم ہے۔ بالاعم علی سبیل البدل دونوں سے جڑے گا۔ تعریف بالاعم یا تفسیر بالاعم ہے۔
بھئی، آپ نے پڑھا تھا، ایک تعریف حقیقی ہے، ایک تعریف لفظی ہے۔
تعریف حقیقی کے ذریعے تحصیل صورت ہوتی ہے اور تعریف لفظی کے ذریعے تعیین صورت ہوتی ہے۔
بات ذہن میں آئی کہ نہیں آئی؟ آپ نے پڑھا تھا کہ ایک تعریف حقیقی ہے، ایک تعریف لفظی ہے۔ تعریف حقیقی، آپ کو ایک چیز کا تصور حاصل نہیں، آپ کو ایک چیز کی پہچان نہیں ہے تو پھر وہ تعریف کر کے اس کی پہچان آپ کو کرواتے ہیں۔ مثلاً طالب علم کو پتہ نہیں ہوتا کہ الکلمۃ کسے کہتے ہیں، اس کلمہ کی تعریف کی جاتی ہے کہ وہ لفظ ہوتا ہے اور اس میں وضع ہوتی ہے، وہ وضع ہوتا ہے کسی معنی کے لیے اور وہ مفرد ہوتا ہے۔ یہ تین چار تصورات ملائے، اس سے طالب علم کو کلمہ کا تصور حاصل ہو گیا۔ اس کو پہلے کلمہ کا تصور حاصل تھا ہی نہیں۔ یہ تعریف کی تو اب اس کو پتہ چل گیا، اچھا! کلمہ اس چیز کو کہتے ہیں۔
یہ ہے تعریف حقیقی۔ دیکھو، اس میں ایک تصور حاصل ہوا، یہ تصور پہلے حاصل نہیں تھا۔ تو تعریفی حقیقی کے ذریعے تحصیل صورت ہوتی ہے۔
تحصیل صورت ہوتی ہے، یعنی تحصیل تصور ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی؟ جبکہ تفسیر لفظی کے ذریعے تعیین صورت ہوتی ہے۔
صورت کہہ لو یا تصور کہہ لو، ایک ہی بات ہے۔ ایک صورت، کلمہ کی صورت یعنی اس کی پہچان آپ کو پہلے حاصل نہیں تھی، تعریف سے حاصل ہو گئی۔ اور ایک ہے کہ آپ کو ایک صورت یا ایک تصور پہلے سے حاصل ہے۔
مثلاً کتاب میں لفظ آیا الغضنفر۔
اب طالب علم پریشان ہے کہ غضنفر کس کو کہتے ہیں؟ اور غضنفر شیر کو کہتے ہیں۔ کس کو؟ شیر۔ تو دوسرا ساتھی اس کو بتاتا ہے: الغضنفر اسد، غضنفر شیر ہے۔
اب دیکھو، شیر کی اس کو پہلے سے پہچان تھی۔ لیکن یہ نہیں تھا پتہ کہ غضنفر اس چیز کو کہتے ہیں۔
تو اب جب طالب علم نے اس کو بتایا کہ الغضنفر اسد، تو کیا کوئی نیا تصور اس کو حاصل ہوا؟ نہیں۔ وہی ذہن میں جو شیر کی صورت تھی، اس میں تعیین کر کے بتا دیا کہ یہ والا جو تصور ہے، اس کو غضنفر کہتے ہیں۔ یہ والی جو صورت ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ غضنفر۔
تو تعریف حقیقی میں تحصیل صورت ہوتی ہے اور تعریف لفظی میں تعیین صورت ہوتی ہے۔ شیر کی صورت اس کو پہلے سے حاصل تھی، ذہن میں تھی، لیکن پتہ نہیں تھا کہ اس شیر کا نام اسد کے ساتھ ساتھ غضنفر بھی ہے، بھئی۔ یہ اس کو پتہ نہیں تھا۔
فرق سمجھ میں آیا؟ تو تعریف حقیقی میں کیا ہوتا ہے؟ تحصیل صورت۔ اور تعریف لفظی میں تعیین صورت ہوتی ہے کہ یہ صورت ہے۔ اور پھر یاد رکھنا۔ کہتے ہیں جو مصنف نے یہاں کہا نہ اوپر متن میں کہ مقدمات جو ہیں، وہ قضیے ہیں جو بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی اور يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، ان پر علم کے دلائل کی بنیاد ہوتی ہے۔
ان پر علم کے دلائل کی بنیاد ہوتی ہے۔
کہتے ہیں: یہ تعریف بالاعم ہے یا تفسیر بالاعم ہے۔ یعنی یا تو یہ تعریف حقیقی ہے تو پھر اس صورت میں تعریف بالاعم ہوئی۔ یا یہ تفسیر بیان کر رہے ہیں اور یہ کیا ہوئی پھر؟ تفسیر بالاعم ہوئی۔
بات سمجھ میں آئی؟ کیا معنیٰ؟ ادھر سنو، بھئی۔ کہتے ہیں مصنف نے اوپر یہ کہا کہ مبادئ تصدیقیہ کس چیز کا نام ہے؟ کچھ مقدمات ہوتے ہیں بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی، اور ان پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں۔
ان پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں۔ یاد رکھو، یہ موقوف ہونا دو قسم پر ہو سکتا ہے۔
کہ وہ موقوف علیہ اس شے سے خارج ہو گا یا اس کے اندر داخل ہو گا؟ وہ موقوف علیہ اس شے سے خارج ہو گا یا داخل ہو گا؟ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: نماز وضو پر موقوف ہے۔
یا میں یوں کہتا ہوں: نماز قیام، رکوع اور سجدے پر موقوف ہے۔
دیکھو، میں نے کہا نماز وضو پر موقوف ہے اور وضو کیا نماز کے اندر داخل ہے یا نماز سے خارج ہے؟ نماز سے خارج ہے۔ اور وضو ہے شرط اور نماز ہے مشروط۔ تو موقوف ہونا شرط کے لیے بھی بولتے ہیں۔
اور شرط شے شے سے خارج ہوتی ہے۔ اور موقوف ہونا جز کے لیے بھی بولتے ہیں۔
میں نے کہا نماز موقوف ہے قیام، رکوع اور سجدے پر، اور قیام، رکوع اور سجدہ یہ نماز کے اجزا ہیں۔ یعنی نماز کے اندر داخل ہیں۔ تو موقوف کا لفظ بولا جاتا ہے کس کے لیے؟ شرط کے لیے بھی اور اجزا کے لیے بھی۔
یا یوں کہیں شرط کے لیے بھی اور جز کے لیے بھی، اور شرط شے شے سے خارج ہوتی ہے اور جز شے شے میں داخل ہوتا ہے۔ تو مصنف نے یہاں يَبْتَنِي کا لفظ استعمال کیا کہ ان پر اس علم کے دلائل کی بنیاد ہوتی ہے، یعنی اس پر اس علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں۔ کیا ہوتے ہیں؟ موقوف ہوتے ہیں، اور موقوف ہونا تو دو قسم پر ہو سکتا ہے۔
یا تو وہ اس شے کے اندر داخل ہوں گے یا اس سے خارج ہوں گے۔
اور انھوں نے بتایا، ابھی اوپر بتایا کہ ان سے یہ قضایا جو ہیں، یہ مقدمات، ان سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ مبادئ تصدیقیہ کس چیز کا نام ہے؟ کچھ ایسے مقدمات ہیں جو بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی، اور ان سے اس علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا وہ علم کے اندر داخل ہیں، علم کے کا جز ہیں۔
علم کا جز ہیں۔ لیکن مصنف نے جو الفاظ استعمال کیے کہ ان پر علم کے دلائل موقوف ہوتے ہیں، موقوف ہونا تو عام ہے۔ ہو سکتا ہے داخل ہو، ہو سکتا ہے داخل نہ ہو، دونوں صورتیں۔ اور حقیقت میں یہ تصدیقات، یہ مقدمات علم کے اندر داخل ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہ ہیں تو داخل، لیکن مصنف نے لفظ کیسا ذکر کیا؟ جس میں دونوں احتمال تھے، ہو سکتا ہے داخل ہوں، ہو سکتا ہے داخل نہ ہوں۔ انھوں نے موقوف ہونے کو ذکر کر دیا۔ تو یہ موقوف ہونا تو دو قسم پر ہو سکتا ہے، ہو سکتا ہے داخل ہو، ہو سکتا ہے داخل نہ ہو۔ تو انھوں نے یہ جو تعریف کی مبادئ تصدیقیہ کی، یہ تعریف بالاعم ہے۔ انھوں نے موقوف لفظ کو ذکر کیا اور مراد کیا ہے؟ مراد جز ہے، اور حالانکہ شرط بھی اس کے لفظ میں داخل ہو رہی ہے۔ تو یہ تفسیر بالاعم ہوئی۔
یعنی ایسے لفظوں سے تعریف کرنا جس میں غیر بھی کیا ہو جائے؟ داخل ہو جائے۔ یہ جو مقدمات ہیں، یہ علم کے اندر داخل ہوتے ہیں یا داخل نہیں ہوتے؟ داخل ہوتے ہیں۔ لیکن لفظ کیا ذکر کیا؟ موقوف ہونا، اور موقوف ہونے میں شرط بھی اس کے اندر آ رہی ہے۔ حالانکہ شرط شے تو شے سے خارج ہوتی ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ کیا اشکال ہوا؟ کہ مصنف نے يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ ذکر کیا۔ اور ابتناء کا کیا معنیٰ؟ موقوف ہونا۔ اور موقوف ہونا دو قسم پر ہے۔ جیسے کل موقوف ہوتا ہے کس پر؟ جز پر، یا جیسے مشروط موقوف ہوتا ہے کس پر؟ شرط پر۔ تو یہ دونوں کو شامل ہے۔ تو تعریف کر رہے ہیں اس موقوف کی جو جز ہے۔ اور داخل جز کے ساتھ ساتھ اور کون ہو گیا؟ شرط بھی داخل ہو گئی۔ تو یہ تعریف بالاعم ہوئی۔ یعنی ایسی تعریف جو عام ہے۔ معرف کے علاوہ اور چیزیں بھی اس کے اندر داخل ہو رہی ہیں۔
فَقَوْلُ الْمُصَنِّفِ رحمہ اللہ يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، مصنف کا یہ جو قول ہے کہ يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، یہ تَعْرِيفٌ أَوْ تَفْسِيرٌ بِالْأَعَمِّ، یہ یا تو تعریف بالاعم ہے یا تفسیر بالاعم ہے۔ اگر آپ اس کو تعریف حقیقی شمار کریں تو یہ تعریف بالاعم ہوئی۔ اور اگر آپ اس کو تفسیر شمار کریں، یعنی تعریف لفظی شمار کریں تو یہ تفسیر بالاعم۔
توجہ ہے؟ یہ جو انھوں نے کہا نہ يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، یہ تعریف حقیقی بھی ہو سکتی ہے اور یہ تعریف لفظی بھی، دونوں احتمال ہیں۔ اگر آپ اس کو تعریف حقیقی قرار دیتے ہیں تو یہ تعریف کیسی ہوئی؟ یہ تعریف بالاعم ہوئی۔ اور اگر آپ اس کو تفسیر قرار دیتے ہیں، یعنی تعریف لفظی قرار دیتے ہیں تو یہ تفسیر کیا ہوئی؟ تفسیر بالاعم ہوئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
وَأَمَّا عَلَى الرَّابِعِ، اور چوتھی شق پر یعنی چوتھی صورت میں، چوتھی صورت کیا تھی؟ کہ جنھوں نے موضوع کو علم کا جز قرار دیا، تو اس سے کیا مراد؟ یا تو نفس موضوع یا موضوع کی تعریف یا موضوع کے وجود کی تصدیق یا اس کی موضوعیت کی تصدیق۔ اس کی موضوعیت کی تصدیق والا اگر چوتھی شق لیں، چوتھا احتمال لیں تو اس صورت میں یہ تو کس میں سے ہے؟ مقدماتِ شروع کے اندر داخل ہے، یہ تو علم میں ہی داخل نہیں ہے تو اس کو جز کیسے شمار کر لیا؟ اب اس کا جواب دینے لگے ہیں۔
کہتے ہیں: وَأَمَّا عَلَى الرَّابِعِ اور چوتھی شق پر فَيُقَالُ تو یوں کہا جائے گا کہ إِنَّ التَّصْدِيقَ بِالْمَوْضُوعِيَّةِ کہ تصدیق بالموضوعیت، وہ جو موضوع ہونے کی تصدیق ہے لَمَّا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ عَلَى بَصِيرَةٍ، کہ جب اس پر موقوف ہے شروع کرنا عَلَى بَصِيرَةٍ، کس طریقے پر؟ بصیرت کے طریقے پر، یعنی پوری سمجھ کے ساتھ۔
تو چوتھی شق پر جواب دیں گے، بھئی۔ جواب یہ کہ چونکہ یہ تصدیق بموضوعیتہ، یہ اگرچہ اس علم کے اندر داخل نہیں۔
اگرچہ اس علم کے اندر داخل نہیں، لیکن یہ جان لینے سے چونکہ طالب علم کو بصیرت حاصل ہو جاتی ہے۔
طالب علم کو بصیرت حاصل ہو جاتی ہے، اور اس کا چونکہ بڑا دخل ہے، جس کی وجہ سے طالب علم جو ہے، علم کے مباحث کو جان لیتا ہے اور یہ جان لیتا ہے کہ کون سے مباحث اس علم میں سے ہیں اور کون سے اس علم میں سے نہیں ہیں۔ تو چونکہ اس کا بڑا دخل ہے علم کے مباحث کے جاننے میں، لہٰذا اس لیے اس کو تسامح کرتے ہوئے علم کا جز قرار دے دیا گیا۔
مسامحہ یعنی تسامح کرتے ہوئے، چشم پوشی کرتے ہوئے اس کو کیا قرار دے دیا؟ اس علم کا جز قرار دے دیا۔ توجہ ہے؟ تصدیق بموضوعیتہ جو ہے، اس کو یہ اگرچہ علم سے خارج ہے۔ لیکن یہ جان لینے کے بعد، اس تصدیق کو جب کوئی جان لے گا، اس کو پتہ چل جائے گا کہ مثلاً علمِ نحو کا موضوع کلمہ یا کلام ہے۔ یا جب اس کو پتہ چل جائے گا کہ علمِ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ تو اس کو علم کے مباحث کی معرفت حاصل ہو جائے گی اور اس کو پتہ چل جائے گا کہ کون سے مباحث جو ہیں، وہ اس علم میں سے ہیں اور کون سے مباحث اس علم میں سے نہیں ہیں۔ تو چونکہ اس علم کے مباحث کا جاننا، جاننے میں اس کا بڑا دخل ہے کہ آپ کو پتہ چل جائے کہ اس علم کا موضوع کیا چیز ہے۔ چونکہ اس کا بڑا دخل ہے علم کے مباحث کو جاننے میں، اس لیے تسامح کرتے ہوئے، چشم پوشی کرتے ہوئے اس کو، اس تصدیق کو کیا قرار دے دیا گیا؟ تصدیق بموضوعیتہ کو اس علم کا جز قرار دے دیا گیا، اگرچہ یہ اس علم کا جز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: وَأَمَّا عَلَى الرَّابِعِ فَيُقَالُ، تو چوتھی شق جو ہے، اس پر یوں کہا جائے گا کہ إِنَّ التَّصْدِيقَ بِالْمَوْضُوعِيَّةِ لَمَّا يَتَوَقَّفُ عَلَيْهِ الشُّرُوعُ عَلَى بَصِيرَةٍ، کہ تصدیق بالموضوعیت جب اس پر موقوف ہے بصیرت کے طریقے پر شروع کرنا وَكَانَ لَهُ مَزِيدُ مَدْخَلٍ فِي مَعْرِفَةِ مَبَاحِثِ الْعِلْمِ، اور اس کا زیادہ دخل ہے علم کے مباحث کے جاننے میں وَتَمْيِيزِهَا عَمَّا لَيْسَ مِنْهُ، اور ان مباحث کو جدا کرنے میں ان چیزوں سے جو اس میں سے نہیں ہیں۔
تمییزہا، ضمیر مباحث کو راجع کر رہے ہیں۔
کہ ان مباحث کو جدا کرنا، عَمَّا، ان چیزوں سے لَيْسَ مِنْهُ، جو اس علم میں سے نہیں ہیں۔
تو کہتے ہیں: پھر ترجمہ سنو، کہ جب یہ بصیرت کے طریقے پر شروع کرنا اس تصدیق بالموضوعیت پر موقوف ہے، اور نیز اس کا زیادہ دخل ہے علم کے مباحث کے جاننے میں اور ان مباحث کو جدا کرنے میں ان چیزوں سے جو مباحث میں سے نہیں ہیں، تو اس وجہ سے عُدَّ جُزْءًا مِنَ الْعِلْمِ مُسَامَحَةً، تو اس کو شمار کر لیا گیا علم کا جز مُسَامَحَةً، تسامح کرتے ہوئے، وسعت سے کام لیتے ہوئے۔ وَهَذَا أَبْعَدُ الْمُحْتَمَلَاتِ، اور یہ احتمالات میں سب سے بعید احتمال ہے۔
یہ ان احتمالات میں سے سب سے بعید احتمال ہے۔ باقی پہلی تین صورتوں میں وہ موضوع داخل تو ہو رہا تھا علم کے اندر، سوال صرف یہ تھا اس کو علیحدہ جز کیوں شمار کیا؟ اور یہاں پر تو یہ سرے سے علم کے اندر داخل ہی نہیں ہے۔ تو یہ ان احتمالات میں سے سب سے بعید احتمال ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
قَوْلُهُ وَأَجْزَائِهَا، اوپر متن پر آئیے، بھئی۔
متن میں کیا آیا تھا؟ وَأَجْزَائِهَا وَأَعْرَاضِهَا، میں نے کیا بتلایا تھا یہ أَجْزَائِهَا اور أَعْرَاضِهَا کا عطف کس پر ہے؟ الموضوعات پر، اور اس پر کیا داخل ہے؟ حدود، مضاف۔ تو ان سب پر بھی حدود، مضاف داخل ہے۔ یہی بیان کریں گے۔
کہتے ہیں: قَوْلُهُ وَأَجْزَائِهَا أَيْ حُدُودُ أَجْزَائِهَا، یعنی یعنی اس موضوع کے اجزا کی تعریفات إِذَا كَانَتِ الْمَوْضُوعَاتُ مُرَكَّبَةً، جب موضوعات مرکب ہوں۔ موضوع کے اجزا اسی وقت ہوں گے نہ، جب موضوع مرکب ہو۔ اگر مرکب نہیں ہے تو اس کے پھر اجزا بھی نہیں ہوں گے۔
تو کہتے ہیں: أَيْ حُدُودُ أَجْزَائِهَا، موضوعات کے اجزا کی تعریفات إِذَا كَانَتِ الْمَوْضُوعَاتُ مُرَكَّبَةً، جب موضوعات جو ہیں، وہ مرکب ہوں۔ قَوْلُهُ وَأَعْرَاضِهَا أَيْ حُدُودُ الْعَوَارِضِ الْمُشَبَّهَةِ، میری کتاب میں مشبہہ ہے، بھئی۔ یہ کتابت کی غلطی ہے۔ أَيْ حُدُودُ الْعَوَارِضِ الْمُثْبَتَةِ لِتِلْكَ الْمَوْضُوعَاتِ، حُدُودُ الْعَوَارِضِ الْمُثْبَتَةِ، یعنی ان عوارض کی تعریف الْمُثْبَتَةِ لِتِلْكَ الْمَوْضُوعَاتِ، جو ثابت کیے گئے ہوں ان موضوعات کے لیے۔
جو وہ عوارض، عرض کیا ہوتا ہے؟ صفت ہوتی ہے نہ۔ تو وہ عوارض، الْمُثْبَتَةِ لِتِلْكَ الْمَوْضُوعَاتِ، جو ان موضوعات کے لیے ثابت کیے گئے ہوں۔ قَوْلُهُ وَمُقَدِّمَاتٌ۔
اوپر متن میں آئیے۔ متن میں کیا آیا تھا؟ کہ مبادئ تصدیقیہ کیا ہیں؟ وَمُقَدِّمَاتٌ، کچھ ایسے مقدمات ہیں بَيِّنَةٌ أَوْ مَأْخُوذَةٌ، جو بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے، اور يَبْتَنِي عَلَيْهَا قِيَاسَاتُ الْعِلْمِ، ان پر بنیاد ہوتی ہے علم کے دلائل کی، یعنی ان سے علم کے دلائل مرکب ہوتے ہیں۔
اب آئیے شرح میں: قَوْلُهُ وَمُقَدِّمَاتٌ بَيِّنَةٌ، الْمَبَادِئُ التَّصْدِيقِيَّةُ إِمَّا مُقَدِّمَاتٌ بَيِّنَةٌ بِأَنْفُسِهَا أَيْ بَدِيهِيَّةٌ، کہتے ہیں: مبادئ تصدیقیہ یا تو وہ ایسے مقدمات ہوں گے بَيِّنَةٌ بِأَنْفُسِهَا، جو اپنی ذات کے اعتبار سے ہی واضح ہوں گے۔ بھئی، کیا معنیٰ؟ کہتے ہیں: أَيْ بَدِيهِيَّةٌ، یعنی بدیہی ہوں گے۔ أَوْ مُقَدِّمَاتٌ مَأْخُوذَةٌ أَيْ نَظَرِيَّةٌ، یا ایسے مقدمات ہوں گے جو اخذ کیے گئے ہوں گے، أَيْ نَظَرِيَّةٌ، یعنی نظری ہوں گے۔ مأخوذۃ کے نیچے انھوں نے لکھا ہوا ہے: أَيْ مِنَ الدَّلِيلِ، اخذ کیے گئے ہوں گے، کس سے؟ دلیل سے، اور دلیل سے جس کو اخذ کیا جائے، اس کو نظری کہتے ہیں۔ تو نظریۃ، تو وہ نظری ہوں گے۔ فَالْأُولَى تُسَمَّى عُلُومًا مُتَعَارَفًا، ادھر دیکھیے۔ انھوں نے کیا بتایا؟ مبادئ تصدیقیہ کچھ ایسے مقدمات ہیں جو بدیہی ہوں گے یا نظری ہوں گے، اور ان سے علم کے دلائل مرکب ہوں گے۔
ان سے علم کے دلائل، یعنی یہی مقدمات یہ علم کے دلائل بنیں گے اور ان کے ذریعے علم کے مسائل کو ثابت کیا جائے گا۔
تو یہ دو قسم کے ہو سکتے ہیں: بدیہی بھی اور نظری بھی۔ بدیہی ہو گا تو اس کو تو ہر ایک مان لے گا کہ ہاں! بات ایسی ہی ہے۔
میں نے آپ کو بتایا چار جفت ہے، تو آپ فوراً مان لیں گے یا نہیں؟ کیونکہ یہ بدیہی ہے، بھئی۔ تو ان مقدمات میں سے کچھ بدیہی ہیں اور کچھ نظری ہیں۔ بدیہی جو ہے، اس کو تو طالب علم مان لے گا، استاد جب پڑھا رہا ہے۔
اس کو تو ہر ایک مان لیتا ہے، اس لیے ان کو علومِ متعارفہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ۔ متعارف معنیٰ مشہور، یعنی مشہور علوم ہیں، یعنی سب اس کو مانتے ہیں، کوئی ان کا انکار نہیں کرتا۔ بدیہی کا س، بدیہی کو تو ہر ایک تسلیم کرتا ہے، چاہے کوئی بڑا ہو، کوئی بوڑھا ہو، کوئی جوان ہو، کوئی بچہ ہو، سب کیا کرتے ہیں؟ بدیہی کو تسلیم کرتے ہیں۔ متعارف کا معنیٰ مشہور ہیں، اور تصدیق علم کا نام ہے نہ۔ تصدیق کس کا نام؟ آپ کا ادراک یا تصور ہو گا یا تصدیق ہو گی، تو علوم سے مراد ہیں تصدیقات۔ یہ تصدیقات متعارف ہیں، یعنی مشہور ہیں، سب ان کو تسلیم کرتے ہیں۔
تو اس لیے ان کو کیا کہیں گے؟ اگر یہ بدیہی ہوں تو ان کو علومِ متعارفہ کہیں گے۔
علومِ متعارفہ، توجہ ہے؟ اور اگر یہ نظری ہوں، بھئی دیکھو، یہ بدیہی، یہ ان کے ذریعے ہم علم کے مسائل کو ثابت کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ ہم کیا کر رہے ہیں؟ ان کے ذریعے ہم علم کے مسائل کو ثابت کر رہے ہیں، یعنی یہ دلیل بن رہے ہیں اور آگے نتیجے میں کیا آ رہے ہیں؟ وہ علم کے مسائل۔ تو یہ دلیل بن رہے ہیں، مبادئ تصدیقیہ۔ تو یہ بدیہی ہوں گے یا نظری۔ جب دلیل دیتے ہوئے بدیہی آئیں گے تو طالب علم ان کو تو تسلیم کر لے گا۔ وہاں کسی شک اور شبہے اور انکار کی گنجائش نہیں، اس لیے ان کو علومِ متعارفہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ۔ اور اگر یہ نظری ہوں گے، اور ان کے ذریعے دلیل دے کر ایک مسئلے کو ثابت کیا جا رہا ہے، ان سے استدلال کیا جا رہا ہے۔ توجہ ہے؟ مقدمات کیسے ہیں؟ نظری، اور ان کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ استدلال، اور کس کو ثابت کیا جا رہا ہے؟ علم کے مسائل کو۔ توجہ ہے؟ تو اگر یہ نظری ہوں گے تو پھر دو صورتیں ہیں۔ یا تو طالب علم استاد کے ساتھ حسنِ ظن رکھتے ہوئے قبول کر لے گا کہ جب میرے استاد یہ مجھے بتلا رہے ہیں تو بات ایسی ہی ہے۔
چاہے اس کی سمجھ میں پوری طرح بات نہ آئے، تسلی نہ بھی ہو، لیکن استاد کے بارے میں اع اچھا اعتقاد کرتے ہوئے وہ کیا کر لیتا ہے؟ اس کو مان لیتا ہے۔
بھئی، ہیں نظری، نظری کے لیے کیا چاہیے؟ دلیل چاہیے، لیکن دلیل تو یہاں ذکر نہیں ہو گی۔ دلیل تو ہو سکتا ہے یہ کسی اور علم سے مقدمات لیے ہوں، وہاں دلیل تھی، یہاں دلیل دینے کی ضرورت نہیں۔ اب یہ خود دلیل بن رہے ہیں۔ ہیں نظری اور خود کیا بن رہے ہیں؟ دلیل بن رہے ہیں۔ جب ان کو دلیل بنائیں گے، یا تو طالب علم استاد کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے ان کو تسلیم کر لے گا، یا طالب علم کے ذہن میں کچھ شکوک و شبہات ہوں گے، اگرچہ مان تو لے گا، لیکن کچھ شکوک و شبہات اس کے ذہن میں آئیں گے۔
دو مقدمات میں ذکر کرتا ہوں اور ان کے ذریعے میں کیا کرتا ہوں؟ ایک نتیجہ نکالتا ہوں۔ بھئی، پہلے یہ مقدمات جن کے ذریعے آپ نتیجہ نکال رہے ہیں، ان کو کیا ہونا چاہیے؟ پہلے یہ تو تسلیم شدہ ہوں، اس کے بعد ہی کیا ہو گا؟ نتیجہ بھی تسلیم کریں گے۔ تو لہٰذا، جب یہ مقدمات آئے، دلیل بنائی اور یہ دلیل کی کے مقدمات کس قسم کے ہیں؟ نظری ہیں۔ تو طالب علم یا تو، استاد کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے ان کو تسلیم کر لے گا کہ ہاں! بات ایسی ہی ہے۔
اور یا طالب علم اس میں شک اور انکار کو دخل دے گا، شک اور انکار اس کے دل میں آئے گا کہ بھئی! یہ کیسے؟ یہ پتہ نہیں ہے بھی ایسا یا نہیں۔
تو اگر طالب علم اس کو استاد کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے قبول کر لے تو ان کو اصولِ موضوعہ کہتے ہیں۔ طالب علم استاد کے بارے میں اچھا گمان رکھتے ہوئے کہ میرے استاد کہہ رہے ہیں، بات مان لیتا ہے کہ ہاں! اسی طرح ہے بات، تو ان کو کیا کہیں گے؟ اصولِ موضوعہ۔ اور اگر طالب علم جو ہے، شک اور انکار اس کے ذہن میں آتا ہے تو ان کو مصادرہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ مصادرہ۔ ص کے ساتھ ہے مصادرہ، اور جمع ہے مصادرات، بھئی۔
مصادرات۔ تو ان کو مصادرات کہتے ہیں۔
توجہ ہے؟ وہ نظری مقدمات کے ذریعے کیا کیا جا رہا ہے؟ استدلال کیا جا رہا ہے، دلیل بنا کر کیا کیا جا رہا ہے؟ مسائل کو ثابت کیا جا رہا ہے۔ اگر طالب علم استاد کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے ان نظری مقدمات کو ویسے ہی تسلیم کر لیتا ہے کہ میرے استاد کہہ رہے ہیں تو معلوم ہوا بات ایسی ہی ہو گی۔ تو ان کو کیا کہیں گے؟ اصولِ موضوعہ۔ اور اگر طالب علم شک اور انکار کو دخل دیتا ہے، کوئی تھوڑا سا اعتراض وغیرہ کرتا ہے یا اس کے دل میں اعتراض و انکار وغیرہ آتا ہے تو ان کو مصادرات کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا، ایک ہی مقدمہ، مختلف طلبہ کے اعتبار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ ایک طالب علم ہو سکتا ہے استاد کے اعتبار سے اس کو قبول کر لے تو اسی کو اصولِ موضوعہ کہیں گے۔ اور دوسرے طالب علم کے ذہن میں ہو سکتا ہے شک و شبہ اور انکار آئے یا وہ اعتراض بھی کرے کہ یہاں اس میرے ذہن میں یہ اشکال آ رہا ہے، پوری طرح مطمئن نہیں ہوتا، تو اسی کو پھر کیا کہیں گے؟ مصادرہ۔ معلوم ہوا، ایک ہی مقدمہ ایک طالب علم کی طرف نظر کرتے ہوئے اصلِ موضوع ہو سکتا ہے اور دوسرے کی طرف نظر کرتے ہوئے، مصادرہ ہو سکتا ہے۔
اصولِ موضوعہ، اصول اصل کی جمع ہے۔ اور موضوعہ، مقررہ، متعینہ۔ استاد نے ذکر کیا، طالب علم نے بھی کیا کر لیا؟ اس کو مان لیا، تو یہ کیا ہے؟ اصولِ موضوعہ ہے، مقررہ اصول ہے۔ اور دوسرے میں طالب علم کیا کر رہا ہے؟ شک اور انکار کو دخل دے رہا ہے تو اس کو مصادرہ کہیں گے۔
مصادرہ، یا تو اس وجہ سے انھوں نے لکھا ہے کیونکہ چونکہ اس سے آگے مسائل نکل رہے ہیں۔ یہ دلیل ہے نہ اور دلیل سے کیا ثابت ہوتے ہیں؟ مسائل۔ تو ان سے چونکہ مسائل نکلتے ہیں، اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ مصادرہ۔ اور یا لغت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو صَادَرَ يُصَادِرُ مُصَادَرَةً کے معنیٰ ہیں اصرار کرنا۔ کسی چیز پر کیا کرنا؟ اصرار کرنا۔ یعنی طالب علم کو تو اشکال ہے ذہن میں، لیکن استاد کے اصرار کی وجہ سے اس کو ایک بات کو ماننا پڑا۔
تو یہ معنیٰ یہاں زیادہ مناسب بنتا ہے۔ ایک اصلِ موضوع ہے، جس میں طالب علم کیا کر لیتا ہے؟ مان لیتا ہے۔ اور دوسرے میں شک و انکار اس کے ذہن میں آتا ہے، اگرچہ مان لیتا ہے، لیکن اس کے ذہن میں کیا ہے؟ شک و انکار ہے تو وہ کیا ہے؟ مصادرہ۔ اور یہاں پر شک و انکار ہے جس وقت ان سے استدلال کیا جا رہا ہے۔
کیا کیا جا رہا ہے؟ ہاں، جب ان کی تحقیق کرے گا، پیچھے اپنے مقام پر جا کر اس کو دیکھے گا تو وہاں دیکھے گا کہ یہ کیا ہے؟ صحیح ہے، دلائل سے ثابت ہے۔ وہاں اس پر وہ بات واضح ہو جائے گی۔ لیکن جس وقت استدلال کیا جا رہا ہے، استاد نے ذکر، استاد ذکر کر رہا ہے اور اس کے ذریعے ایک مسئلہ ثابت کر رہا ہے، اس وقت اس کے ذہن میں کیا آ رہا ہے؟ اشکال آ رہا ہے۔ اگرچہ اپنے مقام پر جا کر وہ اشکال کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا جب پیچھے اس کی تحقیق کرے گا، اس کو دیکھے گا، بھئی۔
مصادرہ کا یہ معنیٰ نہیں کہ وہ غلط ہوں گے۔ معنیٰ یہ ہے کہ طالب علم اس کو بغیر شک و انکار کے قبول کرے تو وہ اصولِ موضوعہ، اور شک و انکار کے ساتھ قبول کرے تو، وہ مصادرہ ہے۔ لیکن شک و انکار استدلال کے وقت ہے، ہر وقت نہیں ہے۔ بعد میں جا کر جب وقت آئے گا اور تحقیق کرے گا اور پی دیکھے گا کہ یہ کس علم میں کیسے ثابت کیا گیا ہے یا اس کے دل اس کی اپنی کہیں دلیل آ جائے گی تو پھر، اس پر وہ بات واضح ہو جائے گی، کہ یہاں شک و انکار کی ضرورت نہیں ہے۔ اشکال اس کے ختم ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا، وہ جو مقدمات ہیں کتنی قسم کے ہوں گے جو مبادئ تصدیقیہ ہیں؟ یا وہ بدیہی ہوں گے یا نظری۔ بدیہی ہوں تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ۔ ان کو کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ۔ اور اگر وہ نظری ہوں اور طالب علم استاد کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے ان کو قبول کر لے تو ان کو کیا کہیں گے؟ اصولِ موضوعہ۔ اور اگر طالب علم شک و انکار کو دخل دے تو اس کا نام مصادرہ ہے۔
فَالْأُولَى تُسَمَّى عُلُومًا مُتَعَارَفًا، بھئی، میری کتاب میں ہے: عُلُومًا مُتَعَارَفًا۔ یہ ہونا چاہیے: عُلُومًا مُتَعَارَفَةً۔ علوم چونکہ جمع ہے، اور جمع کی صفت یا تو جمع لائی جاتی ہے یا واحد مؤنث۔ اور متعارف، یہ تو مفرد ہے، بھئی! تو علوم جمع اور متعارف مفرد، یہ اس کی صفت نہیں بن سکتا۔ تو عُلُومًا مُتَعَارَفَةً، یہاں گول تا ہونی چاہیے۔
فَالْأُولَى تُسَمَّى عُلُومًا مُتَعَارَفَةً، تو پہلے جو ہیں، یعنی وہ مقدماتِ بدیہیہ جو ہیں، ان کو علومِ متعارفہ کہتے ہیں۔
علومِ متعارفہ، کیونکہ علم، تصدیق علم کا نام ہے نہ۔ آپ کا ادراک دو قسم پر ہے، یا تصور ہو گا یا تصدیق، بھئی۔ تو ادراک علم کا نام ہے، تو معلوم ہوا تصدیق اور تصور یہ بھی کس کا نام ہے؟ علم کا نام ہے۔ اور یہ تصدیقات ہیں، بدیہی تصدیقات ہیں تو ان کو علوم کہیں گے۔ علم کی جمع کیا؟ علوم۔ اور متعارف یعنی مشہور ہیں، یعنی سب ان کو مانتے ہیں کیونکہ بدیہی ہے، بھئی۔ تو ان تصدیقات کو یہ جو بدیہی ہوتی ہیں، یہ جو مقدمات بدیہی ہوتے ہیں، ان کو تُسَمَّى عُلُومًا مُتَعَارَفَةً، ان کو علومِ متعارفہ کہتے ہیں۔
وَالثَّانِيَةُ، اور دوسری قسم جو ہے، إِنْ أَذْعَنَ الْمُتَعَلِّمُ، أَذْعَنَ يُذْعِنُ إِذْعَانٌ کا کیا معنیٰ؟ مان لینا، اعتقاد کر لینا۔ إِنْ أَذْعَنَ الْمُتَعَلِّمُ بِحُسْنِ ظَنِّهِ بِالْمُعَلِّمِ، اگر اس کو مان لیتا ہے پڑھنے والا، استاد کے بارے میں، معلم کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے، سُمِّيَتْ أُصُولًا مَوْضُوعَةً، تو ان کو اصولِ موضوعہ کہتے ہیں، یعنی مقررہ اصول۔ وَإِنْ أَخَذَهَا مَعَ اسْتِنْكَارٍ سُمِّيَتْ مُصَادَرَةً، اور اگر متعلم یعنی طالب علم اس کو لے لیتا ہے مَعَ اسْتِنْكَارٍ، ناپسندیدگی کے ساتھ، استنکار کا معنیٰ ہے ناپسندیدہ ہونا، بھئی۔ یعنی اس کے ذہن میں شک اور انکار ہے، تو ناپسندیدگی کے ساتھ وہ لے لیتا ہے۔
تو کہتے ہیں: وَإِنْ أَخَذَهَا مَعَ اسْتِنْكَارٍ سُمِّيَتْ مُصَادَرَةً، اور اگر وہ اس کو ناپسندیدگی کے ساتھ لے لیتا ہے تو اس کو مصادرہ کہتے ہیں۔
مراد وہی ہے، یعنی انکار کے ساتھ لے لیتا ہے، دل میں شک ہے، شبہ ہے، اعتراض ہے اور پھر بھی لے لیا تو اس کو مصادرہ کہتے ہیں۔
وَمِنْ هَاهُنَا يُعْلَمُ، اور یہاں سے یہ بات معلوم ہو گئی أَنَّ الْمُقَدِّمَةَ الْوَاحِدَةَ يَجُوزُ أَنْ تَكُونَ أَصْلًا مَوْضُوعًا بِالنِّسْبَةِ إِلَى شَخْصٍ مُصَادَرَةً بِالْقِيَاسِ إِلَى آخَرَ، اور یہاں سے یہ بات معلوم ہو گئی کہ ایک ہی مقدمہ جائز ہے، یعنی ممکن ہے کہ وہ اصلِ موضوع ہو بِالنِّسْبَةِ إِلَى شَخْصٍ، ایک شخص کی طرف نسبت کرتے ہوئے، مُصَادَرَةً بِالْقِيَاسِ إِلَى آخَرَ، اور وہی مقدمہ مصادرہ ہو دوسرے کی طرف قیاس کرتے ہوئے۔
ایک ہی مقدمہ ایک طالب علم کی طرف نظر کرتے ہوئے اصولِ موضوعہ میں سے ہو سکتا ہے اور دوسرے کے نزدیک یہ مصادرہ میں سے ہو سکتا ہے۔
تو یہ جو مقدمات ہیں، یہ بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی۔ بدیہی ہوں تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ۔ اور اگر یہ نظری ہوں اور طالب علم استاد کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے ان کو قبول کر لے تو ان کو کیا کہیں گے؟ اصولِ موضوعہ۔ اور اگر طالب علم شک اور انکار کو دخل دے تو اس کا نام مصادرہ ہے۔
وجہ سمجھ میں آ گئی ان کی؟ وجہِ تسمیہ؟ کہ جو بدیہی ہوتے ہیں، ان کو علومِ متعارفہ کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ متعارف کا معنیٰ ہے مشہور، تو یہ مشہور علوم ہیں، سب مانتے ہیں، بدیہی چیز ہے، لہٰذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ علومِ متعارفہ، جو بدیہی مقدمات ہوتے ہیں۔ اور جو نظری ہیں، ان کو اصولِ موضوعہ کہتے ہیں یا مصادرہ۔ اصولِ موضوعہ، موضوعہ کا معنیٰ مقررہ، طے شدہ، طے شدہ، یعنی وہ اصول ہیں جو طے شدہ ہیں۔ مقررہ ہیں، استاد جیسے بیان کر رہا ہے، طالب علم نے بھی کوئی اعتراض نہیں کیا، مان لیا، تو یہ گویا طے شدہ اصول ہیں۔ یہ طے شدہ، یہ مقررہ اصول ہیں، اس لیے ان کو اصولِ موضوعہ کہتے ہیں۔ اور مصادرہ، مصادرہ، یا تو یہ صَدَرَ يَصْدُرُ سے ہے، صَدَرَ يَصْدُرُ کا معنیٰ ہے ایک چیز کا صادر ہونا، نکلنا۔ یا اسی طرح یا یہ صَدَّرَ يُصَدِّرُ کا معنیٰ بھی کسی چیز کا نکلنا۔ تو چونکہ ان اصولوں سے آگے یہ دلیل بنتے ہیں، آگے ان سے مسائل ثابت ہوتے ہیں، مسائل نکلتے ہیں، اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ مصادرہ کہ ان سے آگے مسائل نکلتے ہیں، نتائج حاصل ہوتے ہیں۔ یا مصادرہ کا میں نے بتایا کہ صَادَرَ يُصَادِرُ کا معنیٰ ہے اصرار کرنا۔ ان کو مصادرہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ طالب علم جو ہے، استاد کے اصرار کی وجہ سے ان کو مان لیتا ہے۔ اس کے خود پوری وہاں پر تسلی نہیں ہوتی، اگرچہ بعد میں دوسرے مقام پر جا کر اس کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے اور پھر وہ شک اور انکار اس کا ختم ہو جاتا ہے۔ لیکن وقتِ استدلال چونکہ اس کے دل میں شک اور انکار ہے اور استاد کے اصرار کی وجہ سے اس کو ماننے پڑے یہ، اس لیے ان کو کیا کہتے ہیں؟ مصادرہ کہتے ہیں۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ اچھی طرح؟
چلیے، بس بھئی!
هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔