Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-108

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 38
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
‏وہِإمَّا جَدَلِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ الْمَشْهُورَاتِ وَالْمُسَلَّمَاتِ، وَإِمَّا خَطَابِيٌّ يَتَأَلَّفُ عَنِ الْمَقْبُولَاتِ وَالْمَظْنُونَاتِ، وَإِمَّا شِعْرِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ الْمُخَيَّلَاتِ، وَإِمَّا سَفْسَطِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ الْوَهْمِيَّاتِ وَالْمُشَبَّهَاتِ۔‏ ‏گزشتہ سبق میں مادہ قیاس کے بارے میں ہم نے پڑھنا شروع کیا تھا۔ اور میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ مادہ قیاس سے مراد وہ تصدیقات ہیں، وہ مقدمات ہیں جن سے قیاس مرکب ہوتا ہے۔ اور یہ مقدمات جتنے قوی اور مضبوط ہوں گے، قیاس بھی اسی درجے کا مضبوط ہوگا۔ اور اس اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں بنتی ہیں بھئی، پانچ قسمیں۔ سب سے پہلی قسم قیاس برہانی ہے۔ ہم نے اس کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ قیاس برہانی وہ ہے جو یقینیات سے مرکب ہو بھئی، یقینیات سے۔‏ ‏اور یاد رکھنا، یہ آگے چل کر اپ کو شرح میں بتلائیں گے کہ یہ جو قیاس برہانی ہے، یہ صرف بدیہیات سے مرکب نہیں ہوتا بلکہ بدیہیات کے ساتھ ساتھ ایسے نظریات بھی اس میں استعمال ہوتے ہیں جن کی انتہا بدیہیات پر ہو رہی ہو بھئی۔ جن کی انتہا کس پر ہو؟ بدیہیات پر۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو قیاس برہانی ہے، یہ صرف بدیہیات سے مرکب ہوگا۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو قیاس برہانی ہے، یہ صرف بدیہیات سے مرکب ہوگا۔ لیکن اپ کو شارح بتلائیں گے کہ نہیں، کہ یقینیات جو ہیں وہ بدیہیات بھی ہو سکتے ہیں اور ایسے نظریات بھی ہو سکتے ہیں جن کی انتہا بدیہیات پر ہوتی ہے۔ کیا معنیٰ بدیہیات پر انتہا ہوتی ہے؟ یعنی وہ نظریات جو ہیں، وہ بدیہیات سے حاصل ہوئے ہیں۔‏ ‏توَجُّہ ہے؟ مقدمات قیاس کے بدیہی بھی ہو سکتے ہیں اور نظری بھی، لیکن ایسے نظری ہوں گے جو کس سے حاصل ہوئے ہیں؟ بدیہیات سے حاصل ہوئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ بدیہیات نے نظریات تک پہنچا دیا، یعنی بدیہیات میں غور و فکر کر کے یہ نظری حاصل ہوئے ہیں بھئی۔ اور پھر انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ اصول بدیہیات جو ہیں، وہ چھ ہیں بھئی۔ اولیات، مشاہدات، تجربیات، حدسیات، متواترات اور فطریات۔‏ ‏اولیات جو ہیں، وہ بدیہیات ہیں جن میں طرفین اور نسبت کا تصور کرتے ہی ذہن فوراً ان کو تسلیم کر لیتا ہے، ان کا اعتقاد کر لیتا ہے، ان پر یقین کر لیتا ہے۔ جیسے "الْكُلُّ أَعْظَمُ مِنَ الْجُزْءِ"، کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ دیکھو، اس میں ذرا بھی غور و فکر کرنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ جیسے ہی ذہن نے کل کا تصور کیا اور جز کا تصور کیا اور دونوں کے درمیان نسبت کا تصور کیا، اپ کے ذہن نے فوراً تسلیم کر لیا کہ کل جز سے بڑا ہوتا ہے۔ اس میں کسی دلیل کا وہ محتاج نہیں ہوا، ذہن نے فوراً تسلیم کر لیا۔‏ ‏یہ یقینیات ہیں جن کو ذہن فوراً تسلیم کر لیتا ہے، ان پر یقین کر لیتا ہے، ان کو مان لیتا ہے، ان کا اعتقاد کر لیتا ہے۔ تو یہاں پر بھی دیکھو طرفین جو ہیں، یعنی موضوع اور محمول کا تصور کیا اور بڑے ہونے کی نسبت کا تصور کیا اور پھر فوراً ذہن نے مان لیا، کسی دلیل کی حاجت یہاں پیش نہ آئی بھئی۔ جبکہ باقی جو پانچ قسمیں ہیں بدیہیات کی، ان سب میں کوئی نہ کوئی واسطہ اور دلیل موجود ہوتی ہے۔ جیسے مثلاً اگلی قسم ہے مشاہدات بھئی۔ مشاہدات وہ بدیہیات ہیں جو ہمیں حواس خمسہ ظاہرہ اور باطنہ کے ذریعے حاصل ہوں۔‏ ‏حواس خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جو بدیہیات ہمیں حاصل ہوتے ہیں، ان کو محسوسات اور حسیات کہتے ہیں بھئی۔ محسوسات، کیونکہ یہ حواس خمسہ ظاہرہ سے حاصل ہوئے ہیں۔ اور اسی طرح حسیات بھی کہتے ہیں ان کو، کیونکہ یہ حس کے ذریعے حاصل ہوئے ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں اگئی؟ یہ مختلف حسیں ہیں، مختلف قوتیں ہیں جو اللہ نے انسان کو نصیب فرمائی ہیں۔ اور جبکہ ان مشاہدات میں سے وہ، وہ چیزیں جن کا ہمیں حواس خمسہ باطنہ کے ذریعے پتہ چلا، ان کو وجدانیات کہتے ہیں۔‏ ‏اور میں نے بتلایا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حصول علم کے لیے قوتیں نصیب فرمائی ہیں۔ حصول علم کے لیے اللہ نے انسان کو عقل نصیب فرمائی ہے، لیکن عقل صرف کلیات کا ادراک کرتی ہے، جبکہ نفس کو جزئیات کا ادراک بھی چاہیے۔ تو جزئیات کے ادراک کے لیے اللہ نے اسے حواس خمسہ ظاہرہ اور حواس خمسہ باطنہ نصیب فرمائے۔ حواس خمسہ ظاہرہ جو ہیں، قوت باصرہ ہے، قوت سامعہ ہے، قوت شامہ ہے، قوت ذائقہ ہے اور قوت لامسہ ہے۔ اور ان کے ذریعے جو علم حاصل ہوتا ہے، مختلف قسم کا، ہر ایک ایک خاص قسم کا علم حاصل کر رہا ہے۔‏ ‏آنکھوں کے ذریعے ہم چیزوں کو دیکھتے ہیں بھئی۔ ہمیں دکھائی دیتی ہے، مثلاً یہ زید ہے، یہ عمرو ہے، یہ بقر ہے، یہ فلاں چیز ہے، اس کا رنگ ایسا ہے، اس کا رنگ ایسا ہے، یہ چیز چھوٹی ہے، یہ چیز بڑی ہے۔ جو جو کچھ ہمیں آنکھوں سے دکھائی دیتا ہے، وہ ساری معلومات پھر یہ حس مشترک میں پہنچاتی ہے۔ کان مختلف آوازیں سنتے ہیں، انسانوں کی آواز ہے، جانوروں کی آواز ہے، مشینوں کی آواز ہے اور چیزوں کی آوازیں ہیں، وہ کان، وہ ساری معلومات حس مشترک میں پہنچاتے ہیں۔‏ ‏اسی طرح زبان جو ہے، مختلف قسم کے ذائقوں کا علم جو ہے، حس مشترک میں پہنچاتی ہے۔ اسی طرح ناک جو ہے، مختلف قسم کی جو بو ہے، اچھی ہے، بری ہے، وہ ساری معلومات حس مشترک میں پہنچاتی ہے۔ اور قوت لامسہ جن چیزوں کو ہم چھوتے ہیں یا ہمارے بدن پر لگتی ہیں، ان کے ساری معلومات اور خبریں وہ حس مشترک میں پہنچاتی ہے۔ اور حس مشترک جو ہے، گویا یہ ان کا ایک مرکزی دفتر ہے جہاں یہ ساری معلومات ارہی ہیں۔ یا یوں کہو جہاں علم سے لبالب بھری ہوئی پانچ نہریں اکر اس تالاب میں گرتی ہیں۔‏ ‏اور یہ تالاب جو ہے، پھر اس کو محفوظ کرتا ہے اپنے اسٹور میں اور گودام میں، جو کہ خیال ہے بھئی۔ تو یہ حس مشترک اور یہ جو خیال ہے، یہ مقدم دماغ کے اندر ہیں بھئی۔ جبکہ مؤخر دماغ کے اندر دو قوتیں اللہ نے رکھی ہیں؛ ایک قوت حافظہ ہے اور ایک قوت واہمہ ہے۔ جبکہ قوت متصرفہ جو ہے، وہ درمیان، وسط دماغ کے اندر ہے بھئی۔ تو یہ جو حس مشترک ہے، اس میں چیزوں کی صورتیں اتی ہیں۔‏ ‏یہ جو حواس خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جو چیزیں ہم جانتے ہیں، جو علم ہمیں حاصل ہوتا ہے، ان کو صورتیں کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ صورت سے مراد وہ صورت نہیں ہے جس کو اپ تصویر کہتے ہیں، بلکہ مراد پہچان ہے بھئی۔ یہ ان تمام چیزوں کی پہچان یہ ہمارے ذہن میں محفوظ ہوتی ہے۔ دیکھو، ایک چیز اپ کھاتے ہیں، اپ کو اس کا ذائقہ اچھا لگتا ہے۔ 10 دن بعد بھی وہ چیز سامنے اتی ہے یا کوئی اس چیز کا ذکر کرتا ہے، تو اپ کو فوراً اس کا ذائقہ ذہن میں ا جاتا ہے کہ وہ بڑی لذیذ چیز تھی بھئی۔‏ ‏دیکھا؟ یہ کہاں پر محفوظ تھی اس کی صورت؟ یہ خیال کے اندر محفوظ تھی۔ تو یہ ساری چیزیں ذہن میں محفوظ ہوتی چلی جاتی ہیں۔ تو یہ جزئی صورتیں ہیں، کیا ہیں؟ جزئی صورتیں ہیں؛ زید ہے، عمرو ہے، بقر ہے، جو جو کچھ اپ دیکھ رہے ہیں، یہ سب جزئی چیزیں ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ جزئی چیزیں ہیں، جو کچھ اپ دیکھ رہے ہیں۔ تو یہ ساری معلومات جو ہیں، حس مشترک محفوظ کرتی چلی جاتی ہے خیال میں۔‏ ‏اور نفس کو جزئی معانی کا ادراک بھی چاہیے، تو جزئی معانی کے ادراک کے لیے اللہ تعالیٰ نے اس کو قوت واہمہ نصیب فرمائی ہے۔ قوت واہمہ معانی جزئیہ کا ادراک کرتی ہے۔ مثلاً ایک خوف کلی ہے، خوف، اور ایک اسی طرح پیاس ہے، بھوک ہے، سخاوت ہے، اس طرح یہ جو معانی ہیں جن کی صورت نہیں ہوتی، جن کی صورت نہیں ہوتی۔ دیکھو، سخاوت کی کوئی صورت ہے؟ اپ نے دیکھی ہے؟ خوف کی کوئی صورت ہے؟ بھوک کی کوئی صورت ہو، پیاس کی کوئی صورت ہو؟ تو یہ معانی ہیں بھئی، ان کی کوئی صورتیں نہیں۔‏ ‏تو ان کے ادراک کے لیے اللہ نے قوت واہمہ نصیب فرمائی ہے۔ تو ایک ہے مطلق سخاوت، ایک ہے زید کی یا بقر کی یا عمرو کی یا اپ کی سخاوت ہے۔ اسی طرح ایک مطلق خوف ہے اور ایک اپ کا خوف یا کسی اور کا خوف، کسی چیز سے بھئی۔ تو یہ جو مطلق خوف ہے، مطلق بھوک ہے، مطلق پیاس ہے، یہ تو کلیات ہیں، ان کا ادراک تو عقل کرتی ہے۔ لیکن یہ جزئی خوف ہے کہ اپ کسی سانپ کو دیکھ کر ڈر گئے یا کوئی اور شخص کسی درندے کو دیکھ کر ڈر گیا۔‏ ‏دیکھو، ایک تو اس کا ڈرنا ہے، وہ اپ کو آنکھوں سے نظر ا رہا ہے، لیکن اس سے ایک کیفیت جو اپ نے محسوس کی کہ اس کے دل میں کیا ایا ہے اس وقت؟ خوف ایا ہے۔ خوف جو محسوس ہوا، وہ ایک معنیٰ تھا، اس کی ظاہر میں کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ ایک آدمی شیر سے ڈر گیا، تو کیا کوئی وہ ڈر کی کوئی صورت تھی؟ نہیں نہیں، اپ نے البتہ محسوس کیا کہ یہ اس سے ڈر گیا ہے بہت زیادہ، رنگ زرد پڑ گیا ہے۔ تو یہ جو معانی جزئیہ ہے، ان کا ادراک جو ہے، یہ قوت واہمہ کرتی ہے۔‏ ‏اور پھر ان معانی جزئیہ کو وہ محفوظ کرتی ہے قوت حافظہ میں، اور قوت حافظہ کا دوسرا نام قوت ذاکرہ ہے۔ تو یہ جو قوت واہمہ ہے اور قوت ذاکرہ یا حافظہ ہے، یہ دونوں مؤخر دماغ میں ہیں، دماغ کے اخری حصے میں۔ جبکہ درمیان دماغ میں اللہ نے ایک قوت رکھی ہے، قوت متصرفہ بھئی۔ قوت متصرفہ جوڑ توڑ والا کام کرتی ہے۔ وہ خیال سے مختلف صورتیں لیتی ہے اور وہ قوت حافظہ سے مختلف معانی لیتی ہے اور ان معانی اور صورتوں کو جوڑ توڑ کر نئی نئی صورتیں پیش کرتی ہے۔‏ ‏چنانچہ اپ بھی جب کوئی چیز بنانے لگتے ہیں، اپ کے ذہن میں خیال اتا ہے، اس کو اس طرح بناؤں گا، اس طرح اور اس طرح کروں گا۔ دیکھا؟ یہ جو اپ کے ذہن میں خیال اتا ہے، یہ کون کرتی ہے؟ قوت متصرفہ۔ قوت متصرفہ اپ کو بتاتی ہے کہ دیکھو، ایک ہے لوہا، اس لوہے کی اس طرح کی چیز ہو اگر، اپ اس کو اس طرح جوڑیں گے، اس طرح ٹیڑھا کریں گے، تو فلاں ایک صورت بن جائے گی بھئی۔ تو یہ جوڑ توڑ والا یہ سارے کام کون کرتی ہے؟ قوت متصرفہ۔ اس کا نام ہی متصرفہ ہے، یہ تصرفات کرتی ہے مختلف قسم کے بھئی۔ تو یہ قوت متصرفہ ہے۔‏ ‏اور اسی طرح ہمیں بھوک لگتی ہے، ہمیں پیاس لگتی ہے، ہمیں کبھی ہم کبھی ہم بہت خوش ہوتے ہیں، کبھی ہم دکھی ہوتے ہیں، غمزدہ ہوتے ہیں، کبھی ہمیں تکلیف ہوتی ہے، تو یہ سارے احساسات، یہ سارے جزئی معانی ہیں، ان کا ادراک بھی قوت واہمہ کرتی ہے۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ وجدان ایک علیحدہ قوت ہے جو نفس کی صفات کا ادراک کرتی ہے۔ ہمیں خوشی ہوتی ہے، غم ہوتا ہے، بھوک لگتی ہے، پیاس لگتی ہے، یہ جو نفس کی صفات کا ادراک جو قوت کرتی ہے، اس کا نام وجدان ہے۔‏ ‏وجدان ہے، لیکن دیگر علماء فرماتے ہیں کہ یہ عین قوت واہمہ ہی ہے۔ ان سارے، یہ سارے جزئی معانی ان کا ادراک قوت واہمہ کرتی ہے بھئی۔ تو قوت واہمہ ان کا ادراک کرتی ہے۔ تو یہ جو حواس خمسہ باطنہ کے ذریعے جو مختلف قسم کے معانی ہمیں حاصل ہوئے، ان کو وجدانیات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ تو جو صورتیں ہمیں حواس خمسہ ظاہرہ کے ذریعے حاصل ہوئیں، وہ ہیں محسوسات۔ اور جو چیزیں ہمیں، جو چیزیں ہمیں حواس خمسہ باطنہ کے ذریعے حاصل ہوئیں، وہ کیا ہیں؟ وجدانیات ہیں بھئی۔ وہ کیا ہیں؟‏ ‏اور ان دونوں کا نام مشاہدات ہے۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کا ہم مشاہدہ کرتے ہیں۔ کوئی چیز آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں، کوئی کانوں سے سن رہے ہیں، کوئی ہمیں خود محسوس ہو رہی ہے۔ تو یہ سارے مشاہدات ہیں۔ تو ان میں واسطہ، یہ مشاہدات میں واسطہ جو ہے، حواس خمسہ ظاہرہ یا باطنہ ہوتے ہیں۔ دیکھو، اپ کوئی چیز دیکھتے ہیں، دیکھتے ہی اپ کو یقین ا جاتا ہے یا پھر بھی اس میں کوئی شک رہتا ہے؟ یقین ا جاتا ہے، تو یہ یقین ان کے ذریعے جو علم حاصل ہوتا ہے، وہ یقینی ہوتا ہے۔‏ ‏تو یہ دوسری قسم ہوئی بدیہیات کی۔ اور تیسری قسم بدیہیات کی تجربیات ہے بھئی۔ وہ علم جو مختلف تجربوں سے ہمیں حاصل ہوتا ہے۔ اپ بھی زندگی میں مختلف چیزیں کرتے ہیں، اپ کو تجربات سے علم حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔ چھوٹا بچہ ہے، چھوٹا بچہ ہے، وہ مختلف کام کرتا ہے، لیکن بعض جگہ اس کو جب چوٹ لگتی ہے، تو دوبارہ وہ ویسا نہیں کرتا۔ اپ اس کو 10 دفعہ سمجھائیں، وہ نہیں سمجھے گا، لیکن جب اس کو ایک دو دفعہ چوٹ لگتی ہے، اب اس کو تجربہ ہو گیا کہ اس چیز سے مجھے تکلیف ہوتی ہے، وہ پھر ویسا نہیں کرتا بھئی۔‏ ‏تو یہ تجربیات، ان کے ذریعے بھی کیسا علم حاصل ہوتا ہے؟ یقینی۔ مثلاً کوئی چیز اپ کو فائدہ دینے والی ہے یا کوئی نقصان دینے والی ہے، تو یہ سب تجربیات کے اندر داخل ہیں۔ چوتھی قسم ہے بدیہیات کی حدسیات بھئی۔ حدسیات جو ہے، اس کے اندر ذہن ایک دم مبادی سے نتیجے تک پہنچتا ہے بھئی۔ تو اس کے مقابلے میں فکر ہے۔ نظر و فکر کے اندر دو حرکتیں ہوتی ہیں، نظر و فکر میں۔ مثلاً اپ ایک نتیجے تک پہنچنا چاہتے ہیں، ایک مطلوب تک پہنچنا چاہتے ہیں، قیاس بنا کر ایک نتیجہ ثابت کرنا چاہتے ہیں، تو پھر اپ کے ذہن میں دو حرکتیں ہوتی ہیں۔‏ ‏پہلے کیا حرکت ہوگی؟ کہ وہ فکر جائے گی اور وہ جو چیزیں محفوظ ہیں اپ کے ذہن کے اندر، ان میں سے جو مناسب باتیں ہوں گی، وہاں سے نکال کر لے ائے گی۔ اور پھر اس کے بعد وہ دوسری حرکت فکر یہ کرے گی کہ ان دو کو اپس میں جوڑ دے گی، ترتیب دے دے گی۔ جیسے میں نے اس کی مثال دی تھی کہ اپ نے شروع میں علم صرف پڑھا، تو اپ سے جب استاد کوئی صیغہ پوچھتا تھا، تو اپ غور و فکر میں لگ جاتے تھے، فکر کرنے لگتے تھے۔ وہ اپ کا ذہن چلا گیا، جو جو گردانیں اپ کے ذہن میں محفوظ ہیں، جو صیغے یاد ہیں، ان میں چکر لگا رہے ہیں کہ کون سا والا ہو سکتا ہے۔‏ ‏ایک ایک کی طرف ذہن بڑی رفتار سے جا رہا ہے، لیکن پھر بھی اس میں اچھا خاصا وقت لگ جاتا تھا۔ لیکن پھر اہستہ اہستہ اپ کو اتنی مہارت ہو گئی، اب جیسے ہی استاد کی زبان سے کوئی صیغہ نکلتا ہے، اسی لمحے ذہن اپ کے سامنے لا کر پیش کر دیتا ہے کہ یہ فلاں صیغہ ہے۔ ابھی وہی دو حرکتیں ہوئیں، ذہن گیا کہاں پر؟ فکر گئی وہ جو ذہن میں صیغے محفوظ تھے ان کے اندر، اور ان میں ساروں میں تیزی سے غور کیا اور اس میں سے جو جو مطلوبہ صیغہ تھا، وہ نکال کر اپ کے سامنے پیش کر دیا کہ یہ فلاں صیغہ ہے بھئی۔‏ ‏دیکھا؟ تو ایک لمحہ بھی اس میں نہیں لگتا بھئی۔ ادھر استاد کی زبان سے صیغہ نکلتا ہے، ادھر فوراً اپ بتا دیتے ہیں کہ یہ فلاں صیغہ ہے۔ حالانکہ اب بھی وہی حرکتیں ہوئی ہیں، لیکن انً فاناً ہوئی ہیں بھئی۔ مبادی سے نتیجے تک اپ فوراً پہنچ گئے، ذرا بھی وقت نہیں لگا۔ یا اس کی دوسری مثال، اپ علم النحو پڑھتے ہیں، اپ کے کہاں عبارت میں رفع پڑھنا ہے، کہاں نصب، کہاں جر۔ شروع میں اپ کو بڑا، بڑا غور کرنا پڑتا تھا، بڑی دیر سوچتے رہتے تھے، پھر جا کر کچھ اندازہ ہوتا تھا، کبھی ٹھیک اندازہ ہوتا، کبھی غلط ہوتا تھا۔‏ ‏لیکن اہستہ اہستہ اپ کو اتنی مہارت اس میں حاصل ہو گئی کہ اب اپ عبارت پڑھ رہے ہوتے ہیں، اپ عبارت پڑھ رہے ہوتے ہیں، دیکھو، اپ نے اس پر کوئی زیر زبر نہیں لگائے، لیکن اپ جوں جوں پڑھتے جا رہے ہیں، اتنی ہی رفتار سے ذہن اپ کو بتاتا جا رہا ہے، یہاں رفع پڑھنا ہے، یہاں نصب، یہاں رفع، یہاں نصب۔ اور اتنی رفتار کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو یہ ہے حدس بھئی۔ اور یہ کبھی کبھار تو اللہ کی طرف سے خاص عطا ہوتی ہے، کسی کو اللہ ایسی ذہانت نصیب فرما دیتے ہیں، اور بسا اوقات یہ شوق اور محنت کے ذریعے انسان حاصل کر لیتا ہے۔‏ ‏یہ ہے حدس بھئی۔ تو حدس کے ذریعے جو علم حاصل ہوگا، وہ بھی بدیہی ہے بھئی۔ کیا ہے؟ بدیہی ہے۔ کہنا تو اس کو نظری چاہیے، کیونکہ دلیل یہاں پر بھی ہے۔ اپ کے سامنے لکھا ہوا ہے "ضَرَبَ زَيْدٌ"، اپ اس کو "ضَرَبَ زَيْدٌ" پڑھیں گے، "زَيْداً" نہیں پڑھیں گے۔ تو "زَيْدٌ" پڑھیں گے، تو ظاہر سی بات ہے اپ کے ذہن میں یہ پہلے یہ بات आती ہے کہ یہ فاعل ہے، اور پھر دوسری بات आती ہے کہ فاعل کیا ہوتا ہے؟ مرفوع، لہٰذا اس پر بھی کیا پڑھو؟ رفع پڑھو۔‏ ‏تو یہ ساری دلیل ذہن میں आती ہے، اس کو نظری کہنا چاہیے، لیکن یہ اتنی رفتار سے ہوتا ہے کہ بالکل پتہ ہی نہیں چلتا۔ تو یہاں پر بھی یوں سمجھو، گویا یہ جو دلیل ہے، وہ بھی لا دلیل کے درجے میں ہے، تو اس لیے اس کو بدیہیات میں شمار کرتے ہیں۔ اور پانچویں قسم ہے بدیہیات کی متواترات۔ متواترات وہ باتیں جو اپ کو لوگوں کے ذریعے پہنچی ہیں بھئی۔ لیکن وہ لوگ اطلاع دینے والے اتنے زیادہ ہیں کہ عقل ان کے اجتماع علی الكذب کو محال سمجھتی ہے، اتنے لوگ جھوٹ پر اکٹھے نہیں ہو سکتے۔‏ ‏اتنے لوگ خبر دے رہے ہیں، معلوم ہوا بات ایسی ہی ہے۔ اور یہاں اپ کو ایک اور عظیم فائدہ حاصل ہو گیا، معلوم ہوا کہ برہان کے اندر جو مقدمات ہوں گے، وہ صرف عقلی نہیں ہو سکتے، بلکہ نقلی بھی ہو سکتے ہیں، جو روایت کے ذریعے، نقل کے ذریعے، سمع کے ذریعے اپ کو دلائل حاصل ہوئے، جو باتیں حاصل ہوئی ہیں بھئی۔ اور اخری قسم ہے بدیہیات کی، ان کو فطریات کہتے ہیں۔ ان کو فطریات کہتے ہیں۔‏ ‏فطریات کے اندر بھی واسطہ ہوتا ہے۔ ایک چیز اپ کے ذہن میں आती ہے، موضوع کا بھی تصور کیا، محمول کا بھی تصور کیا، نسبت کا بھی تصور کیا، لیکن اس سے بھی ذہن کو یقین نہیں ہوا، ہاں، اس کے ساتھ ایک دلیل بھی ا جاتی ہے اور پھر ذہن اس کو مان لیتا ہے۔ تو اولیات اور فطریات میں کیا فرق ہے؟ کہ اولیات میں واسطے کی طرف ذہن نہیں جاتا، دلیل کی طرف ذہن نہیں جاتا، فوراً ذہن اس کو قبول کر لیتا ہے۔ اور جبکہ فطریات میں ذہن دلیل کی طرف جاتا ہے۔‏ ‏لیکن، لیکن وہ دلیل اس قضیے سے جدا نہیں ہوتی۔ جس لمحے میں یہ قضیہ اپ کے ذہن میں اتا ہے کہ مثلاً، مثلاً کہ چھ جو ہے، وہ جفت ہے، جس لمحے میں یہ قضیہ اپ کے ذہن میں اتا ہے، یہ بات اپ کے ذہن میں आती ہے، ساتھ ہی اس کی دلیل بھی ا جاتی ہے کہ چھ کے دو برابر حصے ہو جاتے ہیں۔ اور جس چیز کے دو برابر حصے ہوں، وہ کیا ہوتی ہے؟ جفت، لہٰذا چھ بھی کیا ہے؟ جفت، اور اپ کا ذہن اس کو مان لیتا ہے، یقین کر لیتا ہے۔‏ ‏تو یہاں دلیل ساتھ ا جاتی ہے، تو اسی لیے ان کو قضايا قياساتها معها، یہ ایسے قضیے ہیں کہ جن کی قیاس، یعنی جن کے دلائل ان کے ساتھ ہی ہوتے ہیں۔ قیاس کا کیا معنیٰ؟ دلیل بھئی، دلیل، جن کی دلیل ان کے ساتھ ہی ہوتی ہے بھئی۔ تو یہ چھ قسمیں ہیں بدیہیات کی۔ تو یہ چھ، یہ جو بدیہیات ہیں، یہ استعمال ہوتے ہیں دلیل برہان کے اندر۔ یہ اس، یہ اصول یقینیات جو ہیں، یہ اصول بدیہیات جو ہیں، یہ کس کے اندر استعمال ہوتے ہیں؟ برہان کے اندر۔‏ ‏تو برہان کو، برہان کا معنیٰ ہے دلیل۔ تو چونکہ اس برہان کے تمام مقدمات یقینی ہیں اور اس سے جو نتیجہ ائے گا، وہ بھی بڑا ہی یقینی ہوگا، اس لیے اس کو دلیل کہتے ہیں۔ یعنی دلیل کہلانے کی تو یہی حقدار ہے، باقی دلیل کہلانے کے حقدار نہیں۔ اس کے ذریعے یقین کا فائدہ حاصل ہوتا ہے، جبکہ باقی دلائل کے ذریعے یقین کا فائدہ حاصل نہیں ہوتا بھئی۔ تو قیاس برہانی جو ہے، اس کے دونوں مقدمات یقینی ہونے چاہئیں اور اس کا نتیجہ بھی کیا ہوگا؟ یقینی ہوگا بھئی۔‏ ‏اس کے بعد پھر انہوں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو برہان ہے، یہ دو قسم پر ہے؛ ایک برہان لِمی اور ایک برہان اِنی۔ برہان لِمی وہ ہے جس میں علت کے ذریعے استدلال کیا جائے معلول پر، علت کے ذریعے معلول کو ثابت کیا جائے۔ جیسے سورج کا نکلنا علت ہے اور دن کا ہونا معلول ہے۔ تو اب اپ سورج کے ذریعے استدلال کریں دن پر کہ سورج نکلا ہوا ہے، معلوم ہوا دن بھی موجود ہے۔ تو یہ دیکھو، علت کے ذریعے اپ نے دن کو، یعنی معلول کو ثابت کیا، تو اس کو دلیل لِمی کہتے ہیں۔‏ ‏کیا کہتے ہیں؟ دلیل لِمی کہتے ہیں۔ اور دوسری اس کے مقابلے میں دلیل اِنی ہے، جس میں معلول کے ذریعے علت پر استدلال کیا جاتا ہے۔ میں نے اپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو حد اوسط ہے، یہ قیاس کے اندر بنیادی چیز ہے۔ حد اوسط اصغر اور اکبر کو ملاتی ہے۔ اصغر تو صغریٰ میں تھا، اکبر تو کبریٰ میں تھا، دونوں الگ الگ مقدمات میں ہیں۔ ان کو جوڑا کس نے؟ ملایا کس نے؟ حد اوسط نے۔ حد اوسط دونوں کے ساتھ جڑی اور اس نے پھر لا کر دونوں کو اپس میں نتیجے میں ملا دیا۔‏ ‏تو یہ جو حد اوسط ہوتی ہے، اس کو واسطہ فی الاثبات کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ واسطہ، یہ واسطہ بنی اس اثبات کے لیے جو نتیجہ ایا، یا اس کو واسطہ فی التصدیق کہتے ہیں کہ یہ، یہ واسطہ بنا یہ جو تصدیق آئی، یعنی نتیجے کی صورت میں بھئی۔ تو حد اوسط سب سے قیمتی چیز ہے بھئی۔ اور یہ حد اوسط جو ہے، اگر یہ علت ہو، حد اوسط کیا ہو؟ علت ہو اور نتیجے میں پھر معلول ائے، تو اس کو دلیل لِمی کہتے ہیں۔‏ ‏اور اگر یہ جو حد اوسط ہے، یہ معلول ہو اور نتیجے میں پھر علت ائے، تو اس کو دلیل اِنی کہتے ہیں بھئی۔ مثلاً میں اپ سے کہتا ہوں، زید کی نبض تیز چل رہی ہے اور جس کی نبض تیز چلتی ہے، اسے بخار ہوتا ہے۔ تو کیا ثابت ہوا؟ کہ زید کو بخار ہے۔ توجہ ہے؟ زید کی نبض تیز چل رہی ہے اور جس کی نبض تیز چلتی ہے، اسے بخار ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ کہ زید کو بخار ہے۔ اب مجھے بتائیے، واقعے کے اندر بخار سے نبض تیز ہوتی ہے یا نبض کے تیز ہونے سے بخار ہو جاتا ہے؟ بخار سے نبض تیز ہوتی ہے بھئی، جس کو بخار ہوگا اس کی نبض تیز ہو جائے گی۔‏ ‏تو یہاں پر کس کے ذریعے استدلال کیا؟ زید کی نبض تیز چل رہی ہے اور جس کی نبض تیز چلتی ہے، اسے بخار ہوتا ہے۔ نتیجہ کیا ایا؟ زید کو بخار ہے۔ اب مجھے بتائیے، استدلال علت کے ذریعے کیا یا معلول کے ذریعے؟ معلول کے ذریعے استدلال کیا، کس پر؟ علت پر، تو یہ کون سی دلیل ہے؟ دلیل اِنی ہے۔ اسی کو ذرا پلٹ دیں؛ زید کو بخار ہے اور جس کو بخار ہوتا ہے، اس کی نبض تیز چلتی ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ زید کی نبض تیز چل رہی ہے۔‏ ‏یہ دیکھو، بخار کے ذریعے استدلال ہوا کس پر؟ نبض کے تیز ہونے پر، تو یہ کون سی دلیل ہوئی؟ دلیل لِمی۔ تو لِمی، یاد رکھو یہ لِمَّنْ سے ہے، لِمَّنْ، اور لِمَّنْ اخذ کیا گیا ہے لِمَ سے۔ لِمَ کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے کہ یہ چیز ایسی کیوں ہے؟ یعنی علت کے بارے میں۔ اپ سے کوئی پوچھتا ہے، زید کی نبض تیز کیوں چل رہی ہے؟ اس وقت دن کیوں ہے؟ تو دیکھو، یہ لِمَ کے ذریعے علت کے بارے میں سوال کیا جاتا ہے بھئی۔‏ ‏تو وہ دلیل جو ایک چیز کے علت ہونے پر دلالت کرے واقعے کے اندر، اس کو دلیل لِمی کہتے ہیں۔ دلیل لِمی کے اندر حد اوسط وہ علت ہوتی ہے، تو ذہن میں بھی وہ علت اور واقعے میں بھی علت۔ تو یہ دلیل ایک چیز کے علت ہونے پر دلالت کر رہی ہے۔ یہ دلیل ہمیں بتلا رہی ہے کہ سورج کے نکلنے کی وجہ سے دن ہوتا ہے۔ سورج علت ہے اور دن کا نکلنا معلول ہے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیل لِمی بھئی، کیونکہ یہ علت پر دلالت کر رہی ہے۔‏ ‏اور دوسری دلیل جو ہے، اس کو دلیل اِنی کہتے ہیں۔ اِنَّنْ جو ہے، یہ وہی حرف مشبہ بالفعل ہے، اِنَّ۔ اور "إِنَّ زَيْداً قَائِمٌ"، کیا معنیٰ؟ یقیناً زید کھڑا ہے، بے شک زید کھڑا ہے۔ تو یہ جو اِنَّ ہے، یہ وجود اور ثبوت پر دلالت کرتا ہے۔ تو یہ جو دلیل اِنی ہے، یہ بھی صرف، یہ بھی صرف ذہن میں ایک چیز کے ثبوت پر دلالت کرتی ہے، اس کے علت ہونے پر دلالت نہیں کرتی۔ مثلاً دن ہے، تو سورج نکلا ہوا ہے۔‏ ‏تو دیکھو، ذہن میں دن جو ہے، وہ علت ہے اور سورج کا نکلنا معلول ہے، واقعے میں ایسا نہیں ہے۔ اس لیے اس کو دلیل اِنی کہتے ہیں۔ یہ ایک چیز کے ثبوت فی الذهن پر دلالت کر رہی ہے۔ یعنی ذہن میں صرف علت ہونے پر دلالت کر رہی ہے، واقعے میں علت ہونے پر دلالت نہیں کرتی، اس کو دلیل اِنی کہتے ہیں۔ یہ ذہن میں ایک چیز کے ثبوت پر دلالت کرتی ہے کہ یہ چیز ذہن میں ہے، یعنی ذہن میں اس کے لیے سبب اور علت ہے۔ واقعے میں سبب اور علت نہیں ہے۔‏ ‏اب یاد رکھنا، یہ جو پہلی قسم اپ نے پڑھی قیاس کی، یہ قیاس برہانی ہے۔ یاد رکھو، یہ مادے کے اعتبار سے قیاس کی پانچ قسمیں بنتی ہیں جن کو صناعات خمسہ کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ صناعات خمسہ۔ صناعات جمع ہے صنعت کی، اور صنعت فن کو کہتے ہیں۔ تو یہ پانچ قسم کے قیاس ہیں، گویا پانچ قسم کے فنون ہیں، پانچ فن ہیں بھئی۔ تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ صناعات خمسہ۔ صناعات خمسہ کہتے ہیں۔‏ ‏ان میں سے پہلی قسم قیاس برہانی ہے، وہ اپ نے پڑھ لی۔ دوسری قسم قیاس جدلی ہے بھئی۔ قیاس جدلی ہے۔ तीसरी قسم جو ہے، وہ قیاس خطابی ہے۔ چوتھی قسم قیاس شعری ہے اور پانچویں قسم قیاس سفسطی ہے۔ کتنی قسمیں ہیں؟ پانچ قسمیں۔ نمبر 1: قیاس برہانی۔ نمبر 2: قیاس جدلی۔ نمبر 3: قیاس خطابی، خا کے فتحہ کے ساتھ بھئی، قیاس خطابی۔ نمبر 4: قیاس شعری۔ اور نمبر 5: قیاس سفسطی ہے بھئی۔‏ ‏تو قیاس برہانی کے بارے میں اپ نے پڑھ لیا۔ آگے اج ہم پڑھیں گے بقیہ اقسام کے بارے میں۔ بقیہ اقسام کے بارے میں۔ یاد رکھو، قیاس کی دوسری قسم ہے قیاس جدلی بھئی۔ قیاس جدلی۔ اور قیاس جدلی، جدل، جدل کا معنیٰ جھگڑنا، بحث کرنا، مباحثہ کرنا۔ تو قیاس جدلی، یہ چونکہ زیادہ تر مناظروں میں استعمال ہوتا ہے۔ قدیم زمانے میں علماء کے درمیان بکثرت مناظرے ہوتے تھے حق تک پہنچنے کے لیے۔‏ ‏حق تک پہنچنے کے لیے بکثرت مناظرے ہوتے تھے۔ تو جس قیاس کی مدد سے مناظرے کے اندر مقابلہ کیا جاتا تھا، اس کو قیاس جدلی کہتے ہیں بھئی۔ قیاس جدلی۔ جدل کا کیا معنیٰ ہے؟ بحث مباحثہ کرنا اور جھگڑنا، تو یہ بھی بحث مباحثے میں چونکہ کام دیتا ہے، اس لیے اس کا نام قیاس جدلی رکھا۔ دال پر فتحہ ہے بھئی، جدلی۔ اور یہ یاد رکھو، مشہور اور مسلمہ باتوں سے مرکب ہوتا ہے۔ قیاس جدلی کے اندر مشہور باتیں ذکر ہوتی ہیں یا مسلمہ، یعنی تسلیم شدہ باتیں۔‏ ‏تسلیم شدہ۔ یاد رکھو، کچھ باتیں لوگوں کے اندر مشہور ہوتی ہیں۔ بعض اوقات، بعض اوقات تمام لوگوں میں باتیں مشہور ہوتی ہیں، بعض اوقات خاص جماعت یا خاص لوگوں کے اندر کچھ باتیں مشہور ہوتی ہیں۔ مثلاً انصاف اچھی چیز ہے۔ ساری دنیا کے لوگوں میں یہ بات مشہور ہے۔ ظلم بری چیز ہے۔ تمام دنیا کے لوگوں میں یہ مشہور ہے۔ اسی طرح سچ بولنا اچھی چیز ہے۔ جھوٹ بری چیز ہے۔‏ ‏دیکھو، یہ ساری دنیا کے لوگوں میں یہ باتیں مشہور ہیں، ان کو مشہورات کہتے ہیں۔ اور کچھ باتیں ہوتی ہیں خاص علاقے والوں میں یا خاص علوم والے یا خاص فنون والوں میں مشہور ہوتی ہیں۔ جیسے ہندوستان والے، وہ کہتے ہیں جانور کو ذبح کرنا برا ہے۔ ہندوستان کے ہندو کیا کہتے ہیں؟ جانوروں کو ذبح کرنا برا ہے بھئی، برا ہے۔ تو یہ دیکھو، یہ ان کے اندر مشہور ہے۔ باقی دنیا کے لوگ اس کو برا نہیں سمجھتے، وہ جانور ذبح بھی کرتے ہیں، کھاتے بھی ہیں۔‏ ‏اسی طرح بعض باتیں کچھ فنون، مختلف علوم و فنون والوں میں مشہور ہوتی ہیں۔ جیسے نحوی، نحویوں کے ہاں مشہور ہے: "الْفَاعِلُ مَرْفُوعٌ، وَالْمَفْعُولُ مَنْصُوبٌ، وَالْمُضَافُ إِلَيْهِ مَجْرُورٌ"۔ یہ باتیں نحویوں کے ہاں مشہور ہیں۔ اسی طرح علماءِ اصول فقہ والوں میں مشہور ہے: "الأَمْرُ لِلْوُجُوبِ"، امر کس لیے اتا ہے؟ وجوب کے لیے اتا ہے۔ تو یہ مختلف باتیں مشہور ہوتی ہیں۔ بعض اوقات تمام لوگوں میں مشہور ہوتی ہیں، بعض اوقات خاص جماعت میں یا خاص علم والوں میں مشہور ہوتی ہیں۔‏ ‏اور یہ سچی بھی ہو سکتی ہیں، جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ جیسے عدل، انصاف اچھی چیز ہے۔ یہ ٹھیک بات ہے۔ اسی طرح سچ اچھا ہے، جھوٹ برا ہے، ظلم برا ہے، یہ سب کیا ہیں؟ یہ مشہور بھی ہیں اور سچی باتیں ہیں۔ اور یہ مشہور ہے کہ حیوانات کو ذبح نہیں کرنا چاہیے، ان کو ذبح کرنا برا ہے، یہ بھی مشہور ہے۔ لیکن یہ، یہ، یہ سچی نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ یہ تمام چیزیں اللہ نے انسانوں کے لیے پیدا کی ہیں بھئی۔‏ ‏انسانوں کے لیے یہ حیوانات پیدا فرمائے تاکہ وہ ان کو ذبح کرے اور ان کا گوشت بھی کھائے بھئی۔ ہاں، ظلم نہ کرے بھئی، ظلم نہ کرے بھئی۔ ظلم کرتا ہے تو پھر یہ برا ہے بھئی۔ ظلم نہ کرے۔ اور چنانچہ اس کی نشانیاں بھی دے دیں۔ بعض لوگ بھئی سبزی خور ہوتے ہیں۔ وہ ساری عمر سبزیاں کھاتے ہیں، گوشت کو ہاتھ بھی نہیں لگاتے۔ وہ یہی کہتے ہیں کہ یہ حیوانات کو ذبح کرنا اچھا نہیں ہے، یہ تو ظلم کر رہے ہیں اپ ان کو ذبح کر رہے ہیں۔‏ ‏دیکھا؟ عقل انسان کی کامل رہنمائی نہیں کر سکتی، جبکہ، جب تک شریعت کی طرف سے، اللہ کی طرف سے رہنمائی نہ ہو بھئی۔ ہماری عقل اتنی ناقص ہے، بعض چیزوں میں اتنی گہرائی تک ہم چلے جاتے ہیں، لیکن غور کریں تو عقل میں اتنے نقصانات بھی نظر آتے ہیں کہ انسان حیران رہ جاتا ہے۔ چنانچہ سائنسدانوں نے تجربات کیے بھئی۔ بعض کھلے میدان کے اندر انسانوں کو لے گئے، اس کی آنکھوں پر بالکل پٹی باندھ دی۔ اس کو کچھ دکھائی نہ دے، پوری تسلی کر لی، کچھ نظر نہیں ا رہا، آنکھیں کھولے بھی تو اسے کچھ نظر نہیں ائے گا، ایسی پٹی باندھ دی۔‏ ‏اور پھر اس کو ایک جگہ میدان میں کھڑا کیا اور کہا کہ وہ سیدھا اپ نے جانا ہے اور وہ، وہ سامنے ہم اپ کا انتظار کریں گے، اپ پہنچیں گے، ہم بتا دیں گے کہ اپ پہنچ گئے ہیں۔ بالکل سیدھا جانا ہے، سیدھا کھڑا کر دیا اس کو۔ اور اس کو کہا اب چلو۔ اب وہ چلنے لگ پڑا۔ اب وہ سیدھا جانے کے بجائے وہ گول چکر لگا رہا ہے۔ اس میدان کے اندر کیا کر رہا ہے؟ گول چکر لگا رہا ہے۔ وہ ساری ویڈیو بنا رہے ہیں، دکھا رہے ہیں کہ دیکھو بھئی۔‏ ‏یہ اپنی عقل کے مطابق بالکل سیدھا چل رہا ہے۔ لیکن دیکھو، یہ چکر لگا رہا ہے دائرے کی صورت میں۔ تو عقل کسی چیز میں رہنمائی، کامل رہنمائی کر ہی نہیں سکتی بھئی۔ عقل کے ساتھ شریعت کی رہنمائی ہوگی تو پھر ہی انسان صحیح راستے پر چل سکتا ہے۔ تو کچھ لوگ ساری عمر سبزی کھاتے ہیں کہ نہیں بھئی، یہ حیوانات کو ذبح کرنا یہ ظلم ہے۔ لیکن شریعت نے بتلایا کہ نہیں، یہ سب چیزیں اللہ نے اپ کے لیے پیدا کی ہیں، اپ ان کو استعمال کریں، لیکن شرط یہ ہے، ظلم نہیں ہونا چاہیے، زیادتی نہیں ہونی چاہیے۔‏ ‏ظلم ہے، اپ بلاوجہ ہی حیوانات کو مارتے چلے جا رہے ہیں۔ ضرورت سے زائد ضائع ان بیچاروں کو ختم کر رہے ہیں۔ یا مار رہے ہیں تو ظلم، ظلم کے طریقے سے ان کو مار رہے ہیں۔ نہیں نہیں، ذبح کرنا ہے، جلدی سے ذبح کر لو اور جو ضرورت ہے اس کے مطابق اس کو استعمال کر لو بھئی۔ یہ نہیں کہ اپ بلاوجہ ہی قتل کرتے چلے جا رہے ہیں، صرف اپنے نفس کی تسکین کے لیے بھئی۔ بعض لوگ شکار کھیلنے کے لیے جاتے ہیں، اتنے حیوانات بیچاروں کو مار کر ا جاتے ہیں، یہ ظلم ہے بھئی۔‏ ‏اپ کو ضرورت جتنی ہے، اپ ضرور شکار کریں، شریعت نے اجازت دی ہے بھئی۔ تو بعض لوگ ہمیشہ سبزی ہی کھاتے ہیں۔ لیکن اللہ نے نشانیاں دے دیں بھئی۔ جیسے دیکھو، یہ جو سبزی خور حیوانات ہوتے ہیں، ان کے سارے دانت ہموار ہوتے ہیں، کیونکہ ان کو سبزی اور گھاس کھانے کے لیے ہموار دانتوں کی ضرورت ہے۔ اور یہ جو گوشت خور درندے وغیرہ ہیں، ان کے سارے دانت بڑے نوک دار ہوتے ہیں، اگر اپ غور کریں؛ بلی ہے، کتا ہے، شیر ہے، چیتا ہے، ان کے سارے دانت بڑے نوک دار ہوتے ہیں۔‏ ‏اور انسان کو اللہ نے دونوں طرح کے دانت دیے، اس میں اشارہ ہے یہ سبزی بھی کھا سکتا ہے اور گوشت بھی کھا سکتا ہے۔ یہ اگر اپ اپنے سامنے کے چار دانت، اوپر والے اور نیچے والے، ان چار دانتوں کو چھوڑ کر پانچواں اور چھٹا دانت ان کے ساتھ دائیں بائیں اوپر نیچے دیکھیں، یہ ذرا نوک دار ہیں بھئی۔ ذرا نوک دار ہیں، اس میں اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ انسان گوشت بھی کھا سکتا ہے بھئی۔ تو یہ کچھ باتیں لوگوں میں مشہور ہو جاتی ہیں، تو ان باتوں کا سچا ہونا ضروری نہیں۔ سچی بھی ہو سکتی ہیں، جیسے سب میں مشہور ہے، سچ اچھی چیز ہے۔‏ ‏اور جھوٹ بری چیز ہے۔ انصاف اچھی چیز ہے، ظلم بری چیز ہے، یہ سچی باتیں ہیں۔ لیکن یہ بھی مشہور ہے بعض میں کہ گوشت نہیں کھانا چاہیے، جانور کو ذبح کرنا برا ہے، یہ سچی باتیں نہیں ہیں بھئی۔ تو یہ جو مشہور باتیں ہوتی ہیں، مشہورات، یہ سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ اور دوسرا یہ مرکب ہوتا ہے مسلمات سے۔ مسلمہ باتیں، تسلیم شدہ، یعنی جن کو فریق مخالف تسلیم کرتا ہے۔‏ ‏اپ کا مناظرہ چل رہا ہے، اپ اس کو دلائل دیتے ہیں۔ اب اگر اس کے سامنے ایسی بات ذکر کریں گے جس کو وہ تسلیم کرتا ہے، تو اس کے ذریعے اپ اپنی بات کو ثابت کر دیں گے اور اس پر غالب ا جائیں گے اور مناظرے کو جیت لیں گے۔ بے شک وہ بات غلط ہو، لیکن وہ کیا کر رہا ہے؟ ان باتوں کو، مخالف جب ایک بات کو تسلیم کرتا ہے، تو اپ دلیل دے کر کیا کر دیں گے؟ اپنے دعویٰ کو ثابت کر دیں گے بھئی۔ تو مسلمہ بات جو فریق مخالف کے نزدیک تسلیم شدہ ہو۔‏ ‏اپ نے اپنا دعویٰ ثابت کرنا ہے نا؟ چاہے سچی بات ہے، چاہے جھوٹی ہے، لیکن فریق مخالف جو ہے، اپ کا مقابل مناظرے کے اندر، وہ ایک بات کو تسلیم کرتا ہے، تو اپ وہی دلیل بنائیں اور اس، اب وہ انکار نہیں کر سکے گا، کیونکہ وہ اس بات کو تسلیم کرتا ہے۔ تو یہ جو قیاس جدلی ہوتا ہے، یہ مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے۔ اس میں کس قسم کے قضیے استعمال ہوتے ہیں؟ جو لوگوں میں مشہور ہوں، چاہے پورے دنیا والوں میں، چاہے خاص جماعت یا خاص علاقے کے لوگوں میں۔‏ ‏یا اسی طرح جو مسلمہ باتیں جن کو یہ فریق مخالف قبول کرتا ہے، تسلیم کرتا ہے۔ ایسے مقدمات کو اپ ذکر کریں گے قیاس جدلی کے اندر۔ تو قیاس جدلی کا فائدہ یہ ہے کہ اس کے ذریعے اپ اپنی بات ثابت کر دیں گے اور اگر مخالف کوئی بات کر رہا ہے، تو اپ اس پر اعتراض کر کے اس کی بات کو رد کر سکتے ہیں۔ تو اپنی رائے کی حفاظت کر سکتے ہیں اور مخالف پر اعتراض کر سکتے ہیں، یہ فائدہ ہے قیاس جدلی کا۔ تو قیاس کی دوسری قسم کیا ہے؟ قیاس جدلی۔ اور یہ کس سے مرکب ہوتا ہے؟ مشہورات اور مسلمات سے۔‏ وَإِمَّا جَدَلِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المَشْهُورَاتِ وَالمُسَلَّمَاتِ۔ يا قياس جو ہے وہ جدلی ہوگا۔ يَتَأَلَّفُ مِنَ المَشْهُورَاتِ وَالمُسَلَّمَاتِ، جو مرکب ہوتا ہے مشہور اور مسلمہ باتوں سے۔ یہ مشہورات اور مسلمات سچی باتیں بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی باتیں بھی ہو سکتی ہیں، لیکن یہاں مقصد صرف فریقِ مخالف پر انسان غالب آ جائے بھئی۔ تو چونکہ مسائل میں باہمی اختلاف کے موقع پر اس قياس سے کام لیا جاتا ہے، بحث مباحثے کے موقع پر اس قياس سے کام لیا جاتا ہے، اس لیے اس کو قياسِ جدلی کہتے ہیں۔ آگے دیکھیے: وَإِمَّا خَطَابِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المَقْبُولَاتِ وَالمَظْنُونَاتِ۔ تیسری قسم آ گئی قياسِ خطابی۔ یہ خا کے فتحہ کے ساتھ ہے بھئی، خا کے فتحہ کے ساتھ۔ اور چونکہ یہ خطاب وغیرہ میں، وعظ و نصیحت میں ان سے کام لیا جاتا ہے، اس لیے اس کو قياسِ خطابی کہتے ہیں۔ یہ واعظ لوگ، یہ مقررین حضرات اور مقررین حضرات چونکہ اس کے ذریعے بہت کام لیتے ہیں لوگوں کی اصلاح کے لیے، تو اس لیے اس کو قياسِ خطابی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قياسِ خطابی کہتے ہیں۔ قياسِ خطابی یاد رکھو، یہ مقبولات اور مظنونات سے مرکب ہوتا ہے۔ مقبولات، وہ باتیں جن کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ مظنونات، وہ باتیں جو ظن کا فائدہ دیتی ہیں، یقین کا فائدہ نہیں دیتی ہیں۔ تو یہ ان سے مرکب ہوتا ہے۔ یاد رکھو مقبولات، توجہ سے بھئی۔ مقبولات وہ قضیے ہیں، وہ باتیں ہیں جن کو کسی کے بارے میں حسنِ ظن، یعنی اچھا گمان رکھنے کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے۔ جیسے آپ کو بزرگوں کی باتیں سنائی جاتی ہیں۔ تقاریر میں کیا کرتے ہیں؟ واعظ حضرات بزرگوں کی باتیں سناتے ہیں۔ آپ کو ایک بزرگ پر اعتماد ہے، عقیدت ہے، محبت ہے، جب اس کی بات آپ کے سامنے ذکر کی جاتی ہے تو آپ اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ دیکھا؟ مگر یہ ہے مقبولات۔ یا اسی طرح کسی بڑے عقل مند کی بات آپ کے سامنے ذکر کی جاتی ہے تو پھر آپ تحقیق وغیرہ میں نہیں پڑتے، بس اس کو قبول کر لیتے ہیں۔ اور اس میں دوسری جانب کا بھی خیال آتا ہے کبھی کہ ہو سکتا ہے ایسا نہ ہو۔ تو یہ باتیں ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ دوسری جانب کا بھی خیال آتا ہے لیکن ذہن قبول کر لیتا ہے کہ بھئی اتنے عقل مند آدمی نے کہا یا اتنے بڑے اللہ کے ولی نے کہا ہے، یقیناً بات ایسی ہی ہوگی۔ تو یہاں دوسری جانب کا بھی تھوڑا خیال آتا ہے لیکن بہرحال ذہن مطمئن ہو جاتا ہے کہ یہ کسی بڑے اللہ والے نے یا کسی بڑے عقل والے نے بات کہی ہے۔ جیسے آج کل بھی آپ دیکھتے ہیں، آپ کو کوئی ڈاکٹر کوئی مشورہ وغیرہ دیتا ہے، آپ کو اس کی کوئی تحقیق نہیں لیکن آپ مان لیتے ہیں یا نہیں مان لیتے؟ اور آپ اس کے مشورے کے مطابق پھر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگرچہ ذہن میں یہ کبھی آتا ہے کہ پتہ نہیں فائدہ ہوگا یا فائدہ نہیں ہوگا، لیکن بہرحال آپ کے نزدیک چونکہ وہ عقل میں آپ سے زیادہ ہے، علم میں آپ سے زیادہ ہے، اس لیے آپ اس کی بات قبول کر لیتے ہیں۔ اور اسی طرح بزرگوں کی باتیں بھی آپ سوچتے ہیں کہ یہ تو اللہ کا ولی ہے، یہ بڑے لوگ ہیں، آپ ان کی باتیں بھی قبول کر لیتے ہیں۔ تو یہ ہیں مقبولات بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ مقبولات۔ تو مقبولات وہ باتیں ہیں جن کو حسنِ ظن کی وجہ سے، اچھے گمان کی وجہ سے قبول کر لیا جاتا ہے، کسی شخص کے علم میں زیادہ ہونے کی وجہ سے یا اللہ کا ولی ہونے کی وجہ سے اس کی باتوں کو قبول کر لیا جاتا ہے۔ اور مظنونات وہ باتیں جو ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ وہ باتیں جو ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ مثلاً آپ سے کوئی کہتا ہے کہ بھئی بادل آئے ہوئے ہیں، آج بارش ہوگی۔ دیکھا؟ آپ اس کو قبول کر لیتے ہیں کہ ہاں، اگرچہ ذہن میں آتا ہے کہ ہو سکتا ہے نہ ہو، تھوڑا سا خیال آ جاتا ہے، لیکن زیادہ گمان اسی طرف جاتا ہے کہ بھئی واقعی بادل آئے ہوئے ہیں، کیا ہوگی؟ بارش ہوگی۔ یا جیسے آپ کو کوئی کہتا ہے کہ بھئی زید وہ سارا دن بازاروں میں گھومتا ہے اور وہ آوارہ آدمی ہے۔ سننے والے قبول کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں۔ اگرچہ یہ بات ظن کا فائدہ دے رہی ہے، یقین کا نہیں، کیونکہ ہو سکتا ہے بھئی وہ بازاروں میں اس لیے گھومتا ہو اس کا کاروبار ہی اس طرح کا ہے کہ سارا دن اس کو چیزیں ایک جگہ سے دوسری جگہ بازاروں میں لے جانا پڑتی ہیں۔ تو یہ مظنونات ہیں بھئی۔ یہ کیا ہیں؟ مظنونات، جو وہ باتیں جو ظن کا فائدہ دیتی ہیں، یقین کا فائدہ نہیں دیتی ہیں۔ اور وہ جو مقبولات تھے، وہ بھی ظن کا فائدہ دیتی ہیں۔ تو سوال پیدا ہوا وہ مقبولات بھی تو اسی مظنونات کے اندر داخل ہو گئے۔ بزرگوں سے یا عقل والوں سے باتیں سنیں، وہ بھی تو کیا ہیں؟ مظنونات۔ ان کا نام آپ نے مقبولات رکھا اور ان کا نام کیا رکھا؟ مظنونات۔ صرف مظنونات کہہ دیتے۔ تو کہتے ہیں بھئی اس میں چونکہ حسنِ ظن کی وجہ سے قبول کیا جاتا ہے اور یہاں خود اپنی عقل کا غالب گمان ہوتا ہے۔ اور وہ اس کے اندر واقعی داخل ہیں، لیکن مظنون ہیں عام، یوں کہو، مظنونات ہیں عام اور مقبولات ہیں خاص۔ مقبولات بھی ظن کا فائدہ دیتی ہیں اور مظنونات بھی ظن کا فائدہ، لیکن جب مظنونات کہہ دیے اس میں ساری چیزیں آ گئیں، جو جو بھی ظن کا فائدہ دینے والی ہیں۔ مقبولات بھی اس کے اندر داخل ہو رہے تھے، لیکن جب مقبولات اس کے مقابلے میں الگ ذکر کیے گئے تو معلوم ہوا مظنونات سے باقی ساری ظنی باتیں مراد ہیں، مقبولات مراد نہیں۔ جیسے مثلاً دیکھو، ایک چیز کی طرف اشارہ کر کے میں آپ کو کہتا ہوں: هَذَا حَيَوَانٌ، اور دوسری کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہوں: وَذَلِكَ إِنْسَانٌ۔ هَذَا حَيَوَانٌ وَذَلِكَ إِنْسَانٌ۔ دیکھو انسان، انسان تو خود بھی تو حیوان کے اندر داخل ہے۔ تو حیوان ہوا عام اور انسان ہوا خاص۔ یاد رکھو، جب بھی خاص کو عام کے مقابلے میں ذکر کیا جائے تو وہاں عام سے اس خاص کے علاوہ باقی چیزیں مراد ہوتی ہیں۔ معلوم ہوا یہاں جب میں نے حیوان کو انسان کے مقابلے میں ذکر کیا تو انسان کو نکال کر باقی حیوانات مراد ہیں، انسان مراد نہیں کیونکہ انسان اس کے مقابلے میں آ رہا ہے۔ تو یہاں پر بھی مظنونات میں تو ساری ظنی باتیں داخل ہو رہی تھیں، لیکن یہ مظنونات کس کے مقابلے میں ہے؟ مقبولات۔ معلوم ہوا مقبولات کے علاوہ باقی عام ظنی باتیں اس میں داخل ہیں، مقبولات اس کے اندر داخل نہیں، ان کو الگ شمار کرو۔ تو اس کو قياسِ خطابی کہتے ہیں۔ چونکہ خطیب حضرات جو ہیں وعظ میں، خطاب میں اس سے بہت زیادہ کام لیتے ہیں، اس لیے اس کو قياسِ خطابی کہتے ہیں۔ اور اس کا بہت عظیم فائدہ ہے، کیونکہ لوگ ایک دوسرے کو وعظ و نصیحت کرتے ہیں، بزرگوں کی باتیں ذکر کرتے ہیں کہ فلاں بزرگ نے اس طرح فرمایا ہے، اور ان باتوں کی وجہ سے لوگوں کی دنیاوی زندگی میں بھی آسانی آتی ہے اور ان کی آخرت بھی سنبھلتی ہے بھئی۔ دنیا کے فائدوں سے متعلق باتیں ذکر کی جاتی ہیں کہ فلاں عقل مند آدمی نے یوں کہا ہے، اس طرح زندگی گزارو۔ تو لوگ اس کی بات پر عمل کرتے ہیں اور ان کی دنیا بہتر ہو جاتی ہے۔ اور فلاں بزرگوں نے کہا ہے یہ عمل کر لو تو آپ کی آخرت بہتر ہو جائے گی، تو لوگ اس پر عمل کرتے ہیں، اس کو حسنِ ظن رکھنے کی وجہ سے، اور اس طرح ان کی آخرت بھی بہتر ہو جاتی ہے۔ تو دنیا کا نظام چلانے میں اور آخرت کی بہتری کے لیے یہ قياسِ خطابی سے بہت زیادہ مدد لی جاتی ہے۔ یہ جتنے خطیب حضرات منبر پر بیٹھ کر تقاریر کر رہے ہوتے ہیں، یہ سارے قياسِ خطابی چل رہے ہیں بھئی، جس کے ذریعے وہ لوگوں کو قائل کرتے ہیں کہ یہ عمل کرنا چاہیے اور یہ عمل نہیں کرنا چاہیے۔ اچھی باتوں کے کرنے کا حکم دیتے ہیں اور بری باتوں سے روکتے ہیں بھئی۔ اس سے دنیا بھی سنبھلتی ہے اور آخرت بھی بہتر ہوتی چلی جاتی ہے۔ تو یہ قياسِ خطابی ہے بھئی، قياسِ خطابی۔ چنانچہ دیکھو، لوگ بزرگوں کے اور عقل مندوں کے اقوال کو باقاعدہ لکھتے ہیں، ایک دوسرے کو بھیجتے ہیں، اور پھر لوگ ان پر عمل کرتے ہیں اور ان کے لیے دنیا اور آخرت دونوں میں آسانیاں ہو جاتی ہیں۔ اور پھر یاد رکھو، یہ جو قياسِ خطابی ہوتے ہیں، ان کو عوام بہت پسند کرتے ہیں، کیونکہ یہ ان کے ذہن کے مطابق ہوتی ہیں، آسان آسان باتیں ہوتی ہیں۔ جبکہ گہری علمی باتوں کو تو وہ سمجھ ہی نہیں سکتے، تو عوام کے سامنے گہری علمی باتیں نہیں کی جاتیں، ان کے سامنے یہ قياسِ خطابی ذکر کیا جاتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ گہری علمی باتیں نہیں سمجھیں گے، ان کے سامنے اگر آپ جو ہے وہ موجہات کو ذکر کرنا شروع کر دیں تو کوئی موجہہ ان کو سمجھ میں نہیں آئے گا کہ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں بھئی۔ ہاں، بزرگوں کی باتیں ذکر کریں، آسان آسان باتیں ذکر کریں جو ظن کا فائدہ دیں، ان کو، ان کے ذہن فوراً قبول کرتے چلے جاتے ہیں۔ تو یہ ان سے خطیب، واعظ حضرات بہت مدد لیتے ہیں، لوگوں کی دنیا اور آخرت سنوارنے کے لیے۔ یہ ہے قياسِ خطابی۔ اور یاد رکھنا، اس کو قياسِ اقناعی بھی کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قياسِ اقناعی یا دلیلِ اقناعی بھی کہتے ہیں۔ اقناع، قناعت سے ہے، قناعت۔ دلیلِ اقناعی، جس پر قناعت کر لی جائے۔ وہ دلیل جس پر قناعت، یعنی اکتفا کر لیا جائے۔ تو اس قياسِ خطابی کو دلیلِ اقناعی بھی کہتے ہیں، یا یوں کہو، یہ دلیلِ خطابی کو دلیلِ اقناعی بھی کہتے ہیں۔ یعنی لوگ اس پر اکتفا کر لیتے ہیں، مان لیتے ہیں، تسلیم کر لیتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں قناعت ہمیشہ کم چیز پر کی جاتی ہے۔ آپ کہتے ہیں فلاں آدمی بڑا قناعت پسند ہے، کیا معنی؟ (کم چیز پر) یعنی کم چیز پر ہی وہ راضی ہو جاتا ہے، کم چیز پر ہی خوش ہو جاتا ہے۔ تو دیکھو، یہ بھی جو قياس ہے، یہ ظن کا فائدہ دیتا ہے، پورے کامل اعتقاد کا اور یقین کا فائدہ نہیں دیتا، لیکن اس پر ہی لوگ کیا کر لیتے ہیں؟ اکتفا کر لیتے ہیں، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ دلیلِ اقناعی کہتے ہیں۔ اب دیکھیے ترجمہ: وَإِمَّا جَدَلِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المَشْهُورَاتِ وَالمُسَلَّمَاتِ، یا قياس جو ہے وہ جدلی ہوگا جو مرکب ہوتا ہے مشہورات اور مسلمات سے، یعنی مشہور اور مسلمہ باتوں سے۔ وَإِمَّا خَطَابِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المَقْبُولَاتِ وَالمَظْنُونَاتِ، اور یا قياس جو ہے وہ خطابی ہوگا جو مرکب ہوتا ہے مقبولات و مظنونات سے، یعنی مقبول اور مظنون باتوں سے مرکب ہوتا ہے۔ وَإِمَّا شِعْرِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المُخَيَّلَاتِ۔ اگلی قسم آ گئی بھئی قياسِ شعری بھئی۔ قياسِ شعری وہ ہے جو خیالی باتوں سے مرکب ہو، جو مخیلات سے مرکب ہو، جس سے لوگ متاثر ہوں۔ اور یہ باتیں نفس میں کبھی خوشی پیدا کرتی ہیں، کبھی غم پیدا کرتی ہیں، تو کبھی انبساط ہوتا ہے، کبھی انقباض ہوتا ہے، چاہے یہ صادق ہوں یا کاذب، ممکن ہوں یا محال ہوں۔ یہ جو قياسِ شعری ہے، یہ خیالی باتوں سے مرکب ہوتا ہے۔ وہ باتیں سچی بھی ہو سکتی ہیں، جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں، ممکن بھی ہو سکتی ہیں اور ناممکن باتیں بھی ہو سکتی ہیں۔ اس میں ساری خیالی باتیں آ گئیں، خیالی باتیں۔ جیسے شاعر بھئی خیالی باتیں کرتے ہیں اپنے اشعار میں۔ اور جتنا زیادہ بڑا جھوٹ شاعر بولتا ہے، اتنا ہی لوگ اس کو پسند کرتے ہیں۔ عجیب و غریب خیالات جو ممکن ہی نہیں ہوتے بھئی۔ تو لوگ اس کو بڑا پسند کرتے ہیں اور اس کا طبیعتوں پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں کہ کئی کئی تقریریں مل کر بھی کسی انسان پر اتنا اثر نہیں ڈالتیں جو بعض اوقات ایک شعر جو ہے انسان پر اثر ڈالتا ہے بھئی۔ ایک شعر کی وجہ سے انسان کی طبیعت میں عجیب قسم کے نشاط، سرور، خوشی محسوس کرنے لگتا ہے۔ اور کبھی بعض اشعار ایسے ہوتے ہیں کہ انسان پر غم کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے، طبیعت میں انقباض آ جاتا ہے۔ تو یہ اشعار کا طبیعت پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ تو یہ جو خیالی باتوں سے جو قياس مرکب ہو، اس کو قياسِ شعری کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ قياسِ شعری۔ بھئی اس میں اشعار ہونا ضروری نہیں۔ نام سے دھوکے میں نہ پڑیں کہ شاید اس میں اشعار ہوں گے، نہیں۔ بھئی شعر کا اپنا مخصوص وزن ہوتا ہے، جبکہ آپ کو بتائیں گے علمِ منطق کے اندر وزن شرط نہیں ہے شعر کے اندر، بس خیال اونچے سے اونچا ہونا چاہیے، جو کسی کے ذہن میں نہ آیا ہو، تو اتنا ہی اس کو لوگ پسند کریں گے بھئی۔ نئی سے نئی بات، انوکھی سے انوکھی بات آپ کریں تو لوگ اس کو اتنا ہی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اور پھر کہتے ہیں، اس کے ساتھ اگر وزن بھی آ جائے، کیا آ جائے؟ وزن بھی آ جائے، باقاعدہ شعر کی صورت بھی اس کو دے دیں تو پھر اس کا اثر اور بڑھ جاتا ہے۔ اور پھر اگر اس کے ساتھ آواز بھی اچھی آ جائے، اچھی آواز کے ساتھ کوئی اس شعر کو پڑھے تو اس کی لذت کئی گنا اور اس کا اثر اور تاثیر کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ تو یہ ہے قياسِ شعری۔ اور یہ سچی باتیں بھی ہو سکتی ہیں، جھوٹی باتیں بھی ہو سکتی ہیں، ممکن بھی ہو سکتی ہیں اور ناممکن بھی ہو سکتی ہیں۔ مثلاً ایک شاعر تھا، اس کے محبوب نے بنیان پہنی ہوئی تھی اور وہ پھٹی ہوئی تھی۔ وہ بنیان کیا تھی؟ پھٹی ہوئی۔ اب دیکھو، بنیان پھٹی ہوئی ہو کتنی بری معلوم ہوگی، لیکن دیکھو، وہ اس کو ایسے لفظوں میں ذکر کرے گا کہ وہ اور زیادہ حسین معلوم ہونے لگے گی۔ حسین معلوم ہونے لگے گی۔ چنانچہ وہ کہتا ہے: لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ شعر ہے، شاعر کہتا ہے: لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ یاد رکھو، یہ جو سورج اور چاند ہیں، سورج کی روشنی زمین تک پہنچتی ہے، دیکھو اس کے ذریعے زمین والے بے شمار فائدے حاصل کرتے ہیں۔ اس کے ذریعے دن ہوتا ہے، اس کے ذریعے ہماری فصلیں تیار ہوتی ہیں، اس کے ذریعے یہ درخت جو ہیں، پودے وغیرہ بڑھتے ہیں، اور تو بہت زیادہ فائدے ہیں سورج کے بھئی۔ اسی طرح چاند ہے، چاند کے بھی بہت سے فائدے ہیں۔ اور یاد رکھو، یہ جو سورج ہے، یہ سمندروں کی سطح پر بھی اثر ڈالتا ہے، اور جس جانب سورج ہوتا ہے، اس طرف سمندر کی سطح اونچی ہو جاتی ہے۔ سورج جو ہے، اپنی طرف کھینچتا ہے چیزوں کو۔ تو پانی چونکہ نرم ہے، سیال ہے، لہٰذا وہ تھوڑا سا اوپر کو اٹھ جاتا ہے سورج کی طرف۔ لیکن سورج دور ہے، چاند بہت قریب ہے زمین کے، تو چاند کا اثر بہت زیادہ پڑتا ہے۔ چنانچہ چاند جو ہے، پانی پر اثر انداز ہوتا ہے، اور جس طرف چاند ہو تو اس طرف سمندروں کی سطح کئی فٹ اونچی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ ساحل کے قریب رہنے والے لوگ جن دنوں میں چاند اس طرف ہو تو وہ پانی کئی فٹ اونچا ہو جاتا ہے اور ساحل کا بڑا دور تک علاقہ پانی میں ڈوب جاتا ہے۔ تو لوگ بالکل پانی کے پاس پھر گھر نہیں بناتے بھئی، کیونکہ وہ ہر مہینے میں پانی اوپر اٹھے گا اور وہ ان کے گھروں کے اندر داخل ہو جائے گا، وہ ڈوب جائیں گے کئی کئی دن تک بھئی۔ تو یہ اس کو جوار بھاٹا کہتے ہیں۔ جوار بھاٹا اور سمندروں میں جوار بھاٹا ہوتا ہے، اور یعنی پانی کبھی اونچا ہوتا ہے اور کبھی نیچے ہوتا ہے، اور اس کی وجہ یہ چاند اور سورج ہیں۔ لیکن سورج کا اثر کم ہوتا ہے اور چاند کا اثر زیادہ۔ اور اگر سورج اور چاند دونوں ایک طرف ہوں تو پھر اس کا اثر اور زیادہ ہو جاتا ہے، دونوں پانی کو کھینچ رہے ہیں اپنی طرف، تو پانی کئی فٹ اونچا ہو جاتا ہے بھئی۔ تو یہ چاند کے اثرات ہیں زمین پر۔ اسی طرح کہتے ہیں، یہ چاند جو ہے سوتی کپڑے پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ جیسے دھوپ جو ہے، دھوپ کے سامنے اگر آپ کے کمرے میں کوئی تحریر ہو اور وہ دیوار پر آپ نے لگائی ہے اور وہ سرخ رنگ وغیرہ کی ہے یا رنگ مختلف کسی رنگ کی ہے اور اس پر روز دھوپ پڑتی ہے، آپ دیکھیں گے کچھ عرصے بعد وہ تحریر کا رنگ پھیکا ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یہ دھوپ کے اثرات ہوتے ہیں، دھوپ آہستہ آہستہ وہ رنگ کو اڑاتی ہے، ختم کرتی ہے۔ سورج کے اثرات ہیں۔ اسی طرح یہ جو چاند ہے، یہ سوتی کپڑے کو کہتے ہیں جب سوتی کپڑے پر چاند کی روشنی پڑتی ہے تو وہ آہستہ آہستہ گلتا چلا جاتا ہے، بوسیدہ ہوتا چلا جاتا ہے۔ اور جتنی زیادہ چاند کی روشنی پڑے گی اس پر، اتنی ہی جلدی وہ بوسیدہ ہو جائے گا، گل جائے گا، پھٹ جائے گا۔ تو شاعر کہتا ہے، شاعر کے معشوق نے، محبوب نے، اس نے پھٹی ہوئی بنیان پہنی ہوئی تھی، تو شاعر کہتا ہے: لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ بِلَا، بوسیدہ ہونا۔ غِلَالَة، بنیان کو کہتے ہیں۔ لَا تَعْجَبُوا مِنْ بِلَا غِلَالَتِهِ اے لوگو! میرے معشوق کی، میرے محبوب کی پھٹی ہوئی بنیان پر حیرت کا اظہار نہ کرو، اس پر تعجب نہ کرو۔ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ زُرَّ کے معنی بٹن بند کرنا، اور أَزْرَار جمع ہے زِرٌّ کی، بٹن کو کہتے ہیں۔ قَدْ زُرَّ أَزْرَارُهُ عَلَى القَمَرِ تحقیق اس بنیان کے جو بٹن ہیں، وہ تو چاند کے اوپر باندھے گئے ہیں۔ کس پر؟ (چاند کے اوپر)۔ کہنا یہ چاہتا ہے کہ آپ جانتے ہو کہ سوتی کپڑے پر جب چاند کی روشنی پڑے تو وہ کپڑا جلدی بوسیدہ ہو جاتا ہے اور پھٹ جاتا ہے۔ اور میرا محبوب، میرا محبوب تو خود چاند ہے، تو جو بنیان پہنی ہوئی ہے وہ اس پر چاند کی صرف روشنی نہیں پڑ رہی، وہ چاند کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ جب چاند کے ساتھ لگی ہوئی ہے تو ظاہر سی بات ہے وہ اتنی ہی جلدی بوسیدہ ہوگی اور پھٹ جائے گی، اس لیے اس کی بنیان پھٹی ہوئی ہے کیونکہ میرا محبوب چاند کی طرح حسین و جمیل ہے بھئی۔ دیکھا؟ یہ شاعروں کی باتیں اس طرح کی ہوتی ہیں۔ اب یہ خیالی باتیں ہیں بھئی۔ اور یہ خیالی باتیں ذہن میں آتی ہیں، دیکھو انسان کو ایک عجیب سا سرور، سرور محسوس ہوتا ہے، کیسی عجیب بات اس نے کی بھئی، طبیعت میں انبساط آ جاتا ہے۔ یا جیسے، جیسے کہ امرؤ القیس کہتا ہے، امرؤ القیس کہتا ہے: وَقَدْ أَغْتَدِي وَالطَّيْرُ فِي وُكُنَاتِهَا بِمُنْجَرِدٍ قَيْدِ الأَوَابِدِ هَيْكَلِ مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعًا كَجُلْمُودِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ اپنے گھوڑے کی تعریف کر رہا ہے۔ کہتا ہے میرا گھوڑا بڑا طاقتور ہے، میں صبح سویرے اس پر نکلتا ہوں، اتنے سویرے نکلتا ہوں ابھی پرندے بھی اپنے گھونسلوں میں ہوتے ہیں، یعنی اندھیرے منہ اندھیرے ہی میں نکل جاتا ہوں اس گھوڑے پر۔ مِكَرٍّ مِفَرٍّ مُقْبِلٍ مُدْبِرٍ مَعًا میرا گھوڑا عجیب ہے، کبھی آگے بڑھتا ہے، کبھی پیچھے بڑھتا ہے، اور کبھی پیش قدمی کرتا ہے اور یعنی بیک وقت وہ کئی حرکتیں کرتا ہے بھئی جنگ کے دوران۔ اور كَجُلْمُودِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ یہ بتلانا میں چاہتا تھا۔ دیکھو، کَجُلْمُودِ، وہ اس طرح ہے، میرا گھوڑا اتنا ہولناک ہے، جنگ کے میدان میں جب وہ بڑھتا ہے آگے، دشمن جو جو سامنے آتا ہے ان کے دل دہل جاتے ہیں۔ کَجُلْمُودِ صَخْرٍ، جیسے بڑی سخت چٹان جو ہے، حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ، جیسے اس کو اوپر سے پانی نے لڑھکا دیا ہو۔ پہاڑ پر بارش وغیرہ ہوئی، پانی آیا اور اس پانی کی وجہ سے اوپر سے ایک بڑا سا پتھر لڑھکتے ہوئے نیچے آتا ہے۔ آپ نے چونکہ یہ کبھی منظر دیکھا نہیں، آپ کو اس کی ہولناکی کا اندازہ نہیں ہے بھئی۔ آپ نیچے کھڑے ہوں اور پہاڑ کے اوپر سے ایک بہت بڑا پتھر لڑھکتا ہوا آ رہا ہے بھئی، ایک کمرے جتنا ہے یا کمرے سے بھی بڑا ہے، اور وہ اچھلتا، اچھلتا اور اتنی رفتار سے آتا ہے، دیکھنے والوں کے دل دہل جاتے ہیں بھئی۔ جو سامنے چیز آئے اس کو ملیا میٹ کر دیتا ہے، ختم کر دیتا ہے، چاہے مکان ہو، چاہے انسان ہو، چاہے حیوان ہوں، ان کو بالکل کچلتا ہوا نکل جاتا ہے بھئی۔ اور اس طرح اچھلتا ہوا آتا ہے، انسان ایک بالکل آپ نیچے کھڑے ہیں وہ اوپر سے آ رہا ہے، آپ دائیں طرف دو قدم بڑھائیں گے، آپ کو لگے گا یہ تو شاید ادھر کو آ رہا ہے، آپ دوسری طرف کو قدم بڑھائیں گے، آپ کو لگے گا دوسری طرف کو آ رہا ہے۔ انسان کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ جان کس طرف نکالے بھئی۔ تو یہ ایک عجیب ہولناک منظر ہوتا ہے۔ تو امرؤ القیس کہتا ہے: میرا گھوڑا بھی ایسا ہی ہے: كَجُلْمُودِ صَخْرٍ حَطَّهُ السَّيْلُ مِنْ عَلِ جیسے ایک بڑی سخت چٹان ہو جس کو اوپر سے سیلاب نے لڑھکا دیا ہو۔ جیسے وہ چٹان اوپر سے آتی ہے اور نیچے سامنے والے لوگوں کے دل دہل جاتے ہیں، میرا گھوڑا جب میدانِ جنگ میں بڑھتا ہے تو سامنے والوں کے دل اس طرح دہل جاتے ہیں۔ دیکھو عجیب تشبیہ بیان کی، انسان حیران رہ جاتا ہے۔ یہ تشبیہات ہیں۔ عرب عجیب تشبیہات دیتے ہیں۔ اور پھر صحابہ، صحابہ کی تو عجیب ہی تشبیہات ہیں۔ ایک صحابی کی تشبیہ سنیں بھئی۔ وہ فرماتے ہیں کہ حضور صلى اللہ علیہ وسلم آخری ایام میں زندگی کے تھے، بیمار تھے، کبھی مسجد میں تشریف لا رہے ہیں، کبھی نہیں لا رہے۔ ایک دن حضور علیہ السلام نے بہت بیمار تھے، اب گھر کا پردہ اٹھایا، مسجد کی طرف جھانکا، لیکن پھر بیماری کی وجہ سے ہمت نہیں ہو سکی، تشریف نہیں لا سکے۔ تو صحابی کہتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے پردہ اٹھایا اور آپ کا چہرۂ مبارک ظاہر ہوا۔ حضور علیہ السلام کا چہرۂ مبارک اس طرح چمک رہا تھا جیسے قرآن کا ورق ہوتا ہے بھئی۔ عجیب تشبیہ دی، کتنی مبارک اور پیاری تشبیہ دی بھئی۔ اور جیسے وہ صحابی ذکر کرتے ہیں کہ میں نے چودھویں رات کے چاند نکلا ہوا تھا اور حضور علیہ السلام میرے سامنے تھے، میں کبھی چاند کو دیکھتا تھا، کبھی حضور کو دیکھتا تھا کہ کون زیادہ حسین ہیں۔ آخر میرے دل نے کہا کہ بھئی حضور بہت زیادہ حسین ہیں بھئی۔ یہ چاند کیا چیز ہے بھئی؟ تو یہ تشبیہات بھئی، یہ دیکھو دل میں ایک عجیب کیفیت اور لذت پیدا کرتی ہیں بھئی۔ یا جیسے ایک شاعر کہتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ میرا محبوب بڑا نرم و نازک ہے اور نرم و نازک چیز نرم و نازک چیز کے پاس ہی رہنا پسند کرتی ہے۔ تو میرا محبوب جو ہے وہ پھول کے پاس سویا ہوا تھا۔ پھول بھی نازک ہے، میرا محبوب بھی نازک تھا۔ یَارِ مَنْ أَزْ نَازُكِی زِیرِ گل خوابِیدَه بُوَدْ یَارِ مَنْ أَزْ نَازُكِی زِیرِ گل خوابِیدَه بُوَدْ میرا محبوب جو ہے نزاکت کی وجہ سے پھول کے نیچے لیٹا ہوا تھا، سو رہا تھا۔ گل مَبَادَا بَشْ گُفَتْ أَزْ خوابَشْ بَیدَارْ كُنَدْ لیکن میرا محبوب اتنا نازک ہے، اتنا نازک ہے، مجھے خوف ہے کہیں پھول کے کھلنے کی آواز سن کر وہ جاگ نہ جائے بھئی۔ اندازہ لگائیے بھئی۔ یعنی پھول کے کھلنے کی جس کی آواز ہی کوئی نہیں ہوتی، وہ کہتا ہے کہ کہیں میرا محبوب تو اتنا نازک ہے، کہیں پھول کھلنے کی آواز سن کر جاگ ہی نہ جائے۔ یا جیسے شاعر، ایک شاعر اپنے محبوب کی تعریف کرتا ہے بھئی۔ یاد رکھو، یہ جو پتلی کمر ہونا، یہ حسن و جمال کی علامت ہے۔ یہ نہیں کہ پیٹ بڑھا ہوا ہو اور خوب نکلا ہوا ہو، نہیں نہیں، پتلی کمر حسن و جمال کی علامت ہے۔ تو اب ایک شاعر اپنے محبوب کی پتلی کمر کی تعریف کر رہا ہے۔ عجیب الفاظ ہیں، انسان سنتا ہے، حیران رہ جاتا ہے۔ شاعر کہتا ہے: صنم سنا ہے تیری بھی کمر ہے۔ صنم، محبوب، محبوب۔ صنم سنا ہے تیری بھی کمر ہے، کہاں ہے؟ کدھر ہے؟ کس طرف ہے؟ یعنی اتنی پتلی کمر ہے، مجھے تو آج تک پتہ ہی نہیں چلا کہ اس کی بھی کمر ہے بھئی۔ دیکھو عجیب سی ایک بات ہے۔ صنم سنا ہے تیری بھی کمر ہے، کہاں ہے؟ کدھر ہے؟ کس طرف ہے بھئی؟ تو یہ، یہ، یہ جو خیالی باتیں ہیں، دیکھو دلوں میں خوشی کی، خوشی کی ایک کیفیت کبھی پیدا ہو جاتی ہے، کبھی کوئی غم کی بات آئے گی تو غم کی کیفیت دل میں پیدا ہو جائے گی۔ تو کبھی انقباض ہوگا، کبھی انبساط ہوگا۔ یہ سب خیالی باتیں ہیں۔ یہ سب کیا ہیں؟ خیالی باتیں ہیں۔ یہ قياسِ شعری، ان کو کیا کہتے ہیں؟ قياسِ شعری کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَإِمَّا شِعْرِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ المُخَيَّلَاتِ، اور یا قياس جو ہے وہ شعری ہوگا جو مرکب ہوتا ہے مخیلات سے، یعنی خیالی باتوں سے۔ میں نے بتایا یہ سچی بھی ہو سکتی ہیں اور جھوٹی بھی، ممکن بھی ہو سکتی ہیں اور ناممکن بھی۔ وَإِمَّا سَفْسَطِيٌّ يَتَأَلَّفُ مِنَ الوَهْمِيَّاتِ وَالمُشَبَّهَاتِ۔ پانچویں قسم آ گئی بھئی صناعاتِ خمسہ میں سے قياسِ سفسطی۔ قياسِ سفسطی یاد رکھو وهمیات اور مشبہات سے مرکب ہوتا ہے۔ وهمیات اور مشبہات سے۔ وهمیات وہ وہمی مقدمے جن کو قوتِ واہمہ گھڑ لیتی ہے، حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اور قوتِ واہمہ یہ یاد رکھو، قوتِ واہمہ جو ابھی میں نے ذکر کی، جو معانیٔ جزئیہ کا ادراک کرتی ہے، یہ قوت جو ہے یہ انسان پر اس کا بڑا غلبہ ہوتا ہے، بڑا غلبہ ہوتا ہے۔ اور یہ بعض اوقات جھوٹی چیز کو سچی بنا کر پیش کر دیتی ہے۔ مثلاً آپ کے ذہن میں سانپ کا بھی تصور ہے، سانپ کو آپ جانتے ہیں، دیکھا ہوا ہے، اور آپ کے ذہن میں آپ رسی کو بھی جانتے ہیں۔ کبھی کبھی آپ چل رہے ہوتے ہیں، راستے میں رسی کا ایک ٹکڑا پڑا ہوتا ہے، آپ ایک دم اس سے ڈر جاتے ہیں۔ یہ کس نے کیا؟ یہ قوتِ واہمہ نے۔ قوتِ واہمہ نے اس رسی کی صورت اٹھائی اور دوسری طرف سے سانپ کی صورت اٹھائی اور ان دونوں کو جوڑ کر آپ کے سامنے پیش کر دیا کہ یہ تو شاید سانپ ہے بھئی۔ آپ ایک دم اس سے ڈر جاتے ہیں۔ اور اس کا فائدہ بھی ہوتا ہے بھئی، کئی دفعہ انسان احتیاط کی وجہ سے پھر بچ بھی جاتا ہے بھئی۔ اور یاد رکھنا، یہ جو قوتِ واہمہ ہوتی ہے، قوتِ واہمہ، اس کا نفس پر بڑا غلبہ ہوتا ہے۔ حتیٰ کہ یہ عقل پر بھی غالب آ جاتی ہے، یہ قوتِ واہمہ ایسی ہے بھئی۔ قوتِ واہمہ، چنانچہ آپ بھی دیکھتے ہیں، کسی جگہ پر زندہ افراد بیٹھے ہوں، آپ کو وہاں بیٹھتے ہوئے ذرا بھی خوف نہیں آتا، لیکن کسی گھر کے اندر اگر میت پڑی ہوئی ہو اور آپ کو وہاں اکیلے بیٹھنا پڑ جائے تو خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ حالانکہ میت تو مردہ ہے، ڈرنا تو زندہ سے چاہیے، یہ بیچارہ تو ہل بھی نہیں سکتا، لیکن قوتِ واہمہ کیا کرتی ہے؟ انسان کو خوف میں مبتلا کر دیتی ہے۔ یا اور مثال لے لیں، بھئی دیکھیے، زمین پر ایک دو فٹ چوڑی، دو فٹ چوڑی لکڑی پڑی ہے اور پچاس فٹ لمبی ہے، دو فٹ چوڑی، پچاس فٹ لمبی زمین پر پڑی ہے، آپ کو کہیں کہ یہاں سے وہاں تک اس پر چلو، آپ بڑے اطمینان سے اس پر چلتے ہیں۔ کوئی گرنے کا خطرہ ہے؟ کوئی ڈولتے ہوئے ادھر ادھر جاتے ہیں؟ نہیں، بڑے آرام سے زمین پر پڑی ہے، آرام سے چلے جاتے ہیں۔ لیکن اسی لکڑی کو دو بلڈنگوں کے درمیان اوپر چھت پر لگا دیں، اب آپ کو کہیں یہاں سے وہاں تک جانا ہے، تو ہر ایک انکار کرے گا، نہیں، میں جاتا ہی نہیں۔ بھئی یہ وہی لکڑی ہے جس پر آپ بڑے اطمینان سے جا رہے تھے۔ نہیں، قوتِ واہمہ اب آپ کو خوف میں مبتلا کر دیتی ہے کہ کہیں گر نہ جائیں۔ اور اگر اول تو کوئی جائے گا ہی نہیں، اور اگر کوئی جائے گا بھی تو آپ دیکھیں گے بڑی آہستہ آہستہ جا رہا ہے، یہ کبھی ایک طرف ڈولتا ہے، کبھی دوسری طرف ڈولتا ہے۔ یہ کون کرتی ہے؟ قوتِ واہمہ کرتی ہے۔ تو اس کا نفس پر بڑا غلبہ ہوتا ہے، حتیٰ کہ بعض لوگوں کو آپ دیکھتے ہیں کہ وہ وہم کی بیماری ہو جاتی ہے بھئی ان کو۔ مثلاً وہ وضو کر رہے ہیں، انہوں نے اپنا چہرہ دھویا یا ہاتھ دھوئے، پھر وہم کہتا ہے نہیں بھئی ہاتھ اچھی طرح نہیں دھلے، وہ پھر ان کو دھوتا ہے۔ پھر وہ اگلے عضو کی طرف پاؤں دھونے لگتا ہے، پھر خیال آتا ہے نہیں بھئی ہاتھ اچھی طرح نہیں دھلے، تو وہ 15-15، 20-20 مرتبہ ایک عضو کو دھوتا چلا جاتا ہے۔ تو یہ قوتِ واہمہ ہے جو یہ اس سے کام کروا رہی ہے، جو اس پر حد سے زیادہ غالب آ گئی ہے۔ تو یہ قوتِ واہمہ انسان کو وہم میں مبتلا کرتی ہے، لیکن پھر آگے جب شریعت کی رہنمائی آتی ہے اور عقل کی مدد ہوتی ہے تو پھر ان وہموں سے انسان بچ جاتا ہے۔ تو یہ ہے وهمیات بھئی۔ تو یہ جو قياسِ سفسطی جو ہے، یہ ان وهمیات، وہمی باتوں سے اور مشبہات سے مرکب ہوتا ہے۔ وهمیات اور مشبہات سے۔ وهمیات وہ جھوٹے قضیے جن کو ہماری قوتِ واہمہ گھڑ لیتی ہے اور غیر محسوس کو محسوس کے درجے میں اتار کر ہمارے سامنے پیش کر دیتی ہے۔ یا یوں کہیں کہ غیر محسوس پر محسوس والا حکم لگا دیتی ہے۔ غیر محسوس پر محسوس والا حکم۔ یہاں وہ محسوس نہیں مراد جو پیچھے ذکر ہوا تھا، میں نے کل آپ کو بتایا تھا۔ ایک محسوس وہ ہے جو حواسِ خمسہ ظاہرہ کے ذریعے جو کچھ ہمیں معلوم ہو۔ جو آواز سنتے ہیں وہ بھی محسوس، جو چیز دیکھتے ہیں وہ بھی محسوس، جو چکھتے ہیں وہ بھی محسوس، جو سونگھتے ہیں وہ بھی محسوس اور جسے چھوتے ہیں وہ بھی محسوس، ان سب کو بھی محسوسات کہتے ہیں۔ لیکن عرف میں محسوس اس چیز کو کہتے ہیں جو آنکھوں سے نظر آئے۔ عام لوگوں کو جو آنکھوں سے دکھائی دے کہتے ہیں یہ محسوس ہے، اور جو دکھائی نہ دے اسے کیا کہتے ہیں؟ کہ یہ غیر محسوس ہے۔ تو وہ آواز کو غیر محسوس کہتے ہیں، ذائقے کو غیر محسوس کہتے ہیں، خوشبو یا بدبو کو غیر محسوس کہتے ہیں۔ تو یہاں جو محسوس کا لفظ میں ذکر کر رہا ہوں کہ یہ جو قوتِ واہمہ ہے غیر محسوس کو کس کی صورت میں پیش کر دیتی ہے؟ محسوس کی صورت میں پیش کر دیتی ہے۔ یہاں سے مراد ہے جو آنکھوں سے دکھائی دے۔ محسوس سے مراد وہ ہے جو آنکھوں سے۔ تو قوتِ واہمہ ایک چیز جو غیر محسوس ہے، آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتی، اس کو کس صورت میں بنا کر پیش کر دیتی ہے؟ محسوس کی صورت میں پیش کر دیتی ہے۔ تو یہ ہے وهمیات جو قوتِ واہمہ جھوٹے قضیے اپنی طرف سے گھڑ لیتی ہے۔ اور دوسری قسم ہے مشبہات۔ مشبہات وہ قضیے ہیں جو سچے قضیوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ سچے تو نہیں ہیں لیکن سچوں کے مشابہ ہیں۔ انسان سمجھتا ہے شاید یہ سچے ہیں کیونکہ ان کی مشابہت ہوتی ہے سچے قضیوں کے ساتھ، یا صورت کے اعتبار سے مشابہت ہوتی ہے یا معنی کے اعتبار سے مشابہت ہوتی ہے۔ مثلاً دیکھو، دیوار پر ایک تصویر لگی ہے گھوڑے کی، آپ کہتے ہیں: یہ گھوڑا ہے۔ اور جو گھوڑا ہوتا ہے وہ ہنہناتا ہے، معلوم ہوا یہ بھی ہنہناتا ہے۔ دیکھا؟ قياس کیا بنایا؟ یہ گھوڑا ہے، اشارہ کس کی طرف؟ گھوڑے کی تصویر کی طرف۔ اور آگے دوسرا قضیہ ملایا، کبریٰ، اور جو گھوڑا ہوتا ہے وہ ہنہناتا ہے۔ نتیجہ کیا نکلا؟ یہ گھوڑا ہنہناتا ہے۔ تو یہ صورتاً لگتا ہے کہ شاید یہ قياس سچا ہے، لیکن یہ سچا نہیں ہے بھئی، کیونکہ کیونکہ حدِ اوسط دونوں جگہ ایک ہونا چاہیے، حالانکہ یہاں الگ ہے۔ پہلا جملہ جو کہا، صغریٰ: یہ گھوڑا ہے، اس میں جو گھوڑا ذکر ہے اس میں حقیقی گھوڑا ذکر ہے یا اس کی تصویر مراد ہے؟ اس کی تصویر۔ اور آگے جو حکم لگایا: ہر گھوڑا ہنہناتا ہے، اس سے کون سا گھوڑا مراد ہے؟ اس سے حقیقی گھوڑا مراد ہے۔ تو یہاں پر حدِ اوسط ایک چیز نہیں ہے۔ صغریٰ کے اندر جو محمول ذکر ہے وہ اور چیز ہے اور کبریٰ کے اندر جو موضوع ذکر ہے وہ اور ہے بھئی۔ صغریٰ میں جو گھوڑا ذکر ہے وہ اور ہے، کبریٰ میں جو گھوڑا ذکر ہے وہ اور ہے بھئی۔ لیکن دیکھو یہ لفظوں میں مشابہت تھی۔ وہ جو حقیقت میں گھوڑا ہوتا ہے اس کو بھی گھوڑا کہتے ہیں، جو تصویر ہو اس کی، اس کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یہ گھوڑا ہے۔ تو یہاں دیکھو، یہاں صورت میں مشابہت آ گئی، اس کی وجہ سے یہ غلطی لگ گئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے قياسِ سفسطی بھئی، جو کس سے مرکب ہو؟ وهمیات سے، وہ جھوٹے قضیے جن کو ہمارا ذہن گھڑ لیتا ہے، اور اسی طرح وہ مشبہات، وہ جھوٹے قضیے جو سچے قضیوں کے مشابہ ہوتے ہیں۔ اور یاد رکھو، یہ قياسِ سفسطی، یہ صُوفْ اور اِسْطَا سے ماخوذ ہے۔ صُوفْ کا معنی ہے حکمت۔ یونانی زبان میں صُوفْ کا کیا معنی؟ حکمت، دانائی بھئی، فلسفہ۔ اور اِسْطَا کا معنی ہے ملمع بھئی، دھوکے والی۔ مموہ بھئی، مموہ وہ چیز جس پر سونے وغیرہ یا چاندی کا پانی چڑھا دیا جائے۔ اب وہ سونے جیسی دکھائی دے گی، لیکن اندر سے وہ سونا ہے؟ نہیں۔ اسی طرح یا چاندی کا پانی چڑھا دیا، اب دیکھنے میں وہ چاندی کی طرح چمکدار لیکن اندر چاندی نہیں ہے۔ تو جیسے یہ مموہ چیز جو ہے، یعنی یہ ملمع کی ہوئی جس پر سونے یا چاندی کا پانی چڑھا دیا گیا، جیسے یہ چیز جو ہے دیکھنے میں کچھ اور اندر سے کچھ ہے، اسی طرح یہ جو قياسِ سفسطی ہے یہ دیکھنے میں کچھ ہے، حقیقت میں کچھ ہے، یعنی یہ دھوکے والی حکمت ہے۔ صُوفْ اِسْطَا، صُوفْ کا کیا معنی؟ حکمت، اور اِسْطَا کا معنی ملمع کی ہوئی، یعنی دھوکے والی، دھوکے والی۔ تو صُوفَا اِسْطَا، صُوفَا اِسْطَا، دھوکے والی حکمت، دھوکے والا قياس، دھوکے والا قياس۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اور اسی سے پھر یہ صُوفَا اِسْطَا سے اخذ کرتے ہوئے بابِ دحرجہ بنا لیا گیا۔ سَفْسَطَ يُسَفْسِطُ سَفْسَطَةً۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اسی سے بابِ دحرجہ بنا لیا گیا۔ تو یہ قياسِ سفسطی ہے بھئی۔ اور قياسِ سفسطی چونکہ عام لوگوں کو دھوکے میں ڈالتا ہے اور غلطی میں مبتلا کرتا ہے، اس لیے اسے قياسِ سفسطہ اور قياسِ مغالطہ بھی کہتے ہیں۔ قياسِ سفسطی جو ہے اس کے ذریعے چونکہ عام لوگوں کو دھوکے میں ڈالا جاتا ہے، اور اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ قياسِ سفسطی بھئی۔ اور اسی طرح اسے قياسِ مغالطہ بھی کہتے ہیں۔ قياسِ سفسطی بھی کہتے ہیں اور قياسِ مغالطہ بھی کہتے ہیں۔ اس کا عام نام قياسِ مغالطہ ہے۔ یہ قياسِ سفسطی جو ہے اگر اسے کسی حکیم کے مقابلے میں استعمال کیا جائے، کسی سے بحث مباحثے کے لیے استعمال کیا جائے، اس کو رد کرنے کے لیے، اس کو جواب دینے کے لیے تو اس کو قياسِ سفسطی کہتے ہیں، یعنی دھوکے والا قياس۔ کیا کہتے ہیں؟ دھوکے والا۔ اور اگر عام لوگوں کے اندر اس کو استعمال کیا جائے تو اس کو مشاغبہ کہتے ہیں۔ شَاغَبَ يُشَاغِبُ مُشَاغَبَةً کا معنی ہے بحث مباحثہ کرنا۔ بحث مباحثہ، یعنی اس آدمی کو مشاغبی کہیں گے کہ یہ ویسے ہی لوگوں سے بحث مباحثہ کرنے والا ہے، یعنی شور ڈالنے والا ہے، شور کرنے والا ہے۔ تو قياسِ سفسطی کو اگر کسی حکیم کے مقابلے میں استعمال کیا جائے گا، اس کے مقابلے میں تو اس کو کیا کہیں گے؟ قياسِ سفسطی کہ یہ دھوکے والا قياس ہے بھئی۔ صحیح دلائل نہیں دے رہے، دھوکہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اگر عام لوگوں میں استعمال کر رہے ہیں تو عام لوگوں کے اندر اس کو جو استعمال کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مشاغبی کہتے ہیں اور یہ قياس اس کا مشاغبہ کہلاتا ہے۔ یعنی یہ آدمی ویسے ہی ہر جگہ جہاں جاتا ہے لوگوں سے بحث مباحثہ شروع کر دیتا ہے۔ تو اس کو مشاغبی کہتے ہیں بھئی۔ تو اس کا اپنا فائدہ کوئی نہیں ہے۔ قياسِ سفسطی کا بذاتِ خود کوئی فائدہ نہیں کہ آپ اس کو دلائل کے میدان میں پیش کر کے اپنی بات ثابت کر سکیں۔ نہیں بھئی، یہ تو دھوکہ ہوتا ہے۔ جو جاننے والے ہوتے ہیں فوراً اس کو سمجھ لیتے ہیں۔ تو اس کے یہ بذاتِ خود آپ کو کوئی فائدہ نہیں دے گا، آپ اس کے ذریعے اپنا دعویٰ ثابت نہیں کر سکتے، دوسرے سے تسلیم نہیں کروا سکتے۔ ہاں، بالعرض اس کا فائدہ ہے کہ اگر آپ کو اس کا پتہ ہوگا تو کوئی آپ کو دھوکہ نہیں دے سکتا قياسِ سفسطی کے ذریعے۔ آپ کے سامنے جو بھی کوئی قياسِ سفسطی پیش کرے گا، آپ فوراً اس کی غلطی پکڑ لیں گے کہ آپ یہ دھوکہ دے رہے ہیں۔ جیسے وہ قياس تھا کہ یہ گھوڑا ہے اور ہر گھوڑا ہنہناتا ہے، معلوم ہوا یہ تصویر والا گھوڑا بھی ہنہناتا ہے۔ تو دیکھو یہ قياسِ سفسطی ہے بھئی۔ تو اس کے ذریعے جب آپ جانتے ہوں گے، آپ اس کو فوراً غلطی کو پکڑ لیں گے اور جان جائیں گے کہ یہ شخص دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے بھئی۔ اور پھر ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا، ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا کہ یہ جو صناعاتِ خمسہ آپ نے پڑھیں، پانچ قسمیں قياس کی: برہانی، جدلی، خطابی، شعری اور سفسطی۔ ان میں سے جو قياسِ برہانی ہے، اس کے دونوں مقدموں کا یقینی ہونا ضروری، اور یقینیات چھ ہیں، انہوں نے آپ کو بتلا دیے۔ بدہیات کتنے ہیں؟ چھ۔ تو قياسِ برہانی کے دونوں مقدمات کا بدہی ہونا، یقینی ہونا ضروری ہے۔ جبکہ باقی جو قياسات ہیں، ان کے دونوں مقدمات اسی قسم میں سے ہوں جو ان کے ساتھ ذکر کیے گئے۔ جیسے قياسِ جدلی میں کون سے مقدمات ہوتے ہیں؟ مشہورات اور مسلمات۔ خطابی میں کون سے ہوتے ہیں؟ مقبولات اور مظنونات۔ قياسِ شعری میں کون سے ہوتے ہیں؟ مخیلات ہوتے ہیں۔ اور قياسِ سفسطی میں کیا ہوتے ہیں؟ وهمیات اور مشبہات۔ تو ان میں، ان میں دونوں قسمیں، دونوں مقدمے اسی قسم کے ہونا ضروری نہیں۔ آپ نے قياسِ جدلی پیش کیا، دونوں مشہورہ یا دونوں مسلمہ یا ایک مشہورہ، ایک مسلمہ، دونوں استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن آپ اس میں یقینی بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس میں ایک مقدمہ یقینیہ لے آئے کہاں سے؟ وہ اولیات وغیرہ میں سے، اور ایک آپ نے مشہورات یا مسلمات میں سے ملا لیا۔ توجہ ہے؟ تو یاد رکھنا، قياسِ برہانی میں دونوں مقدمے یقینیات سے ہونا ضروری، اور باقی کے اندر جو جو قسمیں قضایا کی ان کے ساتھ ذکر ہوئیں، وہی ہونا ضروری نہیں۔ ہاں، ان میں سے ایک ہو سکتا ہے، ایک وہ ہو، ہو سکتا ہے دونوں ہی وہ ہوں، ہو سکتا ہے ایک یقینی ہو اور ایک وہ ہو بھئی، ایک وہی قسم جو اس کے ساتھ ذکر ہوئی۔ اور جب قياس کے اندر دو قسم کے مقدمے آ جائیں، مثلاً ایک یقینیات میں سے ہے اور ایک مشہورات میں سے ہے، تو جو ادنیٰ مقدمہ ہے، اس کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور مجھے بتائیے، یقینی مقدمہ ادنیٰ ہے یا مشہور جو مقدمہ ہے وہ ادنیٰ ہے؟ مشہور جو ہے یقیناً اس کا درجہ، یقینی تو یقینی ہے اس میں تو کسی قسم کا شک و شبہ نہیں، اور مشہور باتیں وہ تو سچی بھی ہو سکتی ہیں، جھوٹی بھی ہو سکتی ہیں۔ تو ایک مقدمہ ہے یقینی اور ایک کیا ہے؟ مشہورہ، ایک مشہورہ مقدمہ، ایک مشہور مقدمہ ہے۔ تو ادنیٰ کون سا؟ مشہور۔ لہٰذا مشہور کا اعتبار کیا جائے گا اور اس قياس کو برہانی نہیں کہیں گے بلکہ کیا کہیں گے؟ جدلی کہیں گے۔ حالانکہ ایک مقدمہ تو یقینی ہے، لیکن ادنیٰ کا اعتبار کریں گے۔ اسی طرح ایک قياس کے اندر آپ ایک مقدمہ مشہورہ ہے اور ایک مقبولہ ہے، مقبولات میں سے ہے، تو کس کا اعتبار کریں گے؟ مقبولات کا۔ لہٰذا اس کو قياسِ جدلی نہیں کہیں گے بلکہ قياسِ خطابی کہیں گے۔ اسی طرح ایک قياس ہے، اس کے اندر ایک مقدمہ یقینی ہے اور ایک مقدمہ جو ہے وہ تخئیل ہے، خیالی بات ہے، تو کس کا اعتبار کریں گے؟ خیالی بات کا، لہٰذا اس کو کیا... کہیں گے، قياسِ شعری کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو قياس کے اندر جو دو مقدمات ہیں وہ صرف برہانی قياسِ برہانی میں دونوں یقینی ہونا ضروری، باقیوں کے اندر کوئی بھی مقدمہ ایک کسی ایک قسم کا لے لیا، دوسرا دوسری قسم کا لے لیا۔ البتہ جو ان میں سے ادنیٰ ہوگا اس کا اعتبار کریں گے اور اس کا نام اس کو دے دیں گے بھئی۔ اور ان میں سب سے اعلیٰ درجہ قياسِ برہانی کا ہے، اس کے بعد دوسرے نمبر پر جو درجہ ہے وہ قياسِ جدلی کا ہے، جس ترتیب سے انہوں نے ذکر کیے ہیں وہی درجہ ہے۔ اور تیسرا درجہ قياسِ خطابی کا ہے، چوتھا درجہ قياسِ شعری کا ہے اس میں خیالی باتیں ہیں، اور قياسِ سفسطی کا سب سے آخری درجہ ہے کیونکہ وہ تو دھوکے والی باتوں پر مشتمل ہے بھئی۔ تو یہ ہیں صَناعَاتِ خَمْسَۃ بھئی اور اس میں خوب مہارت انسان کو ہو تاکہ فوراً پتہ چل جائے یہ کس قسم کا قياس ہے۔ خصوصاً جو مناظرے والے ہیں وہ اس قياسِ جدلی سے مدد لیتے ہیں بھئی، اپنی بات کو ثابت کرتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ ہم نے قياس کی صَناعَاتِ خَمْسَۃ بھی پڑھ لیں کہ قياس پانچ قسم پر ہے، یا قياسِ برہانی ہوگا، یا قياسِ جدلی ہوگا، یا قياسِ خطابی ہوگا، یا قياسِ شعری ہوگا، اور یا قياسِ سفسطی۔ قياسِ برہانی جو ہے اس کا درجہ سب سے اعلیٰ، وہ یقینیات سے مرکب ہوتا ہے اور اصولِ یقینیات جو ہیں وہ چھ قسم کے ہیں یعنی بدیہیات چھ قسم پر ہیں۔ یا اولیات ہیں، یا مشاہدات ہیں، یا تجربیات ہیں، یا حدسیات ہیں، یا متواترات ہیں، یا فطریات ہیں۔ اور میں نے بتایا تھا آپ کو کہ ان میں سے جو اولیات ہیں ان میں کسی واسطے کی ضرورت نہیں، واسطے کے بغیر ہی ذہن ان کو قبول کر لیتا ہے اور مان لیتا ہے، جبکہ باقی بدیہیات کی جو پانچ قسمیں ہیں ان میں سب میں کوئی نہ کوئی واسطہ ہے۔ مشاہدات میں حِسِّ ظاہر یا حِسِّ باطن جو ہے وہ واسطہ ہے، اور تجربیات میں تجربہ واسطہ ہے، اور حدسیات میں حدس واسطہ ہے، متواترات میں تواتر واسطہ ہے، اور فطریات میں فطریات میں ساتھ اس کا قياس یا دلیل ساتھ آتی ہے لیکن وہ چونکہ جدا نہیں ہوتی اس لیے اس کو ان سب کو بدیہیات میں شمار کرتے ہیں۔ اور پھر پھر جو قياسِ جدلی ہے وہ مشہورات اور مسلمات سے مرکب ہوتا ہے۔ مشہورات وہ قضیے جو مختلف علاقے والوں میں یا پوری دنیا والوں میں مشہور ہوں، وہ سچے بھی ہو سکتے ہیں، جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں۔ اور مسلمات وہ ہیں جن کو فریقِ مخالف تسلیم کرتا ہے، وہ بھی سچے بھی ہو سکتے ہیں اور جھوٹے بھی ہو سکتے ہیں، لیکن وہ ان کو تسلیم کرتا ہے، یہ ہے مسلمات۔ یا کسی اور علم میں کیا ہیں؟ ثابت ہیں اور یہاں پر ان کو دوبارہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے، اسی کو اسی طرح استعمال کر لیا، ایک مسلمہ قضیہ ہے، ثابت شدہ ہے بھئی۔ اور جبکہ قياسِ خطابی وہ مقبولات اور مظنونات سے مرکب ہوتا ہے۔ مقبولات وہ باتیں جو تسلیم کر لی جائیں حسنِ ظن کی وجہ سے، کسی کے بارے میں اچھا گمان کرتے ہوئے جیسے بزرگوں کی باتیں ہیں یا جیسے عقل مند لوگوں کی باتیں ہیں۔ اور مظنونات وہ باتیں جو ظن کا فائدہ دیں، اور یہ عام ہے، یہ سب کو شامل ہے، لیکن یہاں پر یہ مقبولات کے علاوہ باقی مظنونات مراد ہیں۔ تو مقبولات بھی ظن کا فائدہ دیتے ہیں اور مظنونات بھی ظن کا فائدہ دیتے ہیں۔ اور اگلی قسم ہے قياسِ شعری اور وہ مخیلات سے مرکب ہوتا ہے۔ مخیلات خیالی باتیں، جو ذہن میں آتی ہیں، جو ذہن پر اثر انداز ہوتی ہیں، کبھی خوشی دیتی ہیں، کبھی غم دیتی ہیں، کبھی انبساط پیدا ہوتا ہے، کبھی انقباض پیدا ہوتا ہے، کبھی اس کی وجہ سے کوئی چیز اچھی لگنے لگتی ہے، کبھی کوئی چیز بری لگنے لگتی ہے۔ کبھی بہت ہی بری چیز ہے لیکن شاعر ایسے لفظوں میں ذکر کرے گا آپ کو بھی اچھی لگنے لگے گی، کبھی بڑی ہی اچھی چیز ہوتی ہے شاعر ایسے لفظوں میں ذکر کرے گا کہ آپ کو بھی بری لگنا شروع ہو جائے گی۔ تو یہ قياسِ شعری ہے۔ اور آخری قسم قياسِ سفسطی ہے، اور قياسِ سفسطی یہ جو ہے دھوکے کی حکمت ہے جس کے اندر وهميات یعنی وہ قضیے جن کو قوتِ واہمہ گھڑ لیتی ہے اور غیر محسوس کو کس کا حکم دے دیتی ہے؟ محسوس والا حکم دے دیتی ہے، یا ایسے قضیے مشبہات یعنی وہ قضیے جو ہیں تو جھوٹے لیکن مشابہ کس کے ہیں؟ سچے قضیوں کے، ان کو ان سے یہ مرکب ہوتا ہے۔ تو یہ ہیں صَناعَاتِ خَمْسَۃ بھئی۔ بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 108 of 115