آگے سبق دیکھیے بھئی۔
فَصْلٌ: عَكْسُ النَّقِيضِ تَبْدِيلُ نَقِيضَيِ الطَّرَفَيْنِ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ، أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا مَعَ مُخَالَفَةِ الْكَيْفِ، وَحُكْمُ الْمُوجَبَاتِ هَاهُنَا حُكْمُ السَّوَالِبِ فِي الْمُسْتَوِي وَبِالْعَكْسِ، وَالْبَيَانُ الْبَيَانُ، وَالنَّقْضُ النَّقْضُ.
اچھا بھئی، گزشتہ سبق میں عکس کا بیان چل رہا تھا کہ موجهات جو ہیں، ان کے جو سوالب ہیں ان کی عکس کیسے نکالی جاتی ہے۔ کل کے سبق میں انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو خاصتان ہیں، یعنی جو سالبہ ہیں سالبہ، یہ جو سالبہ خاصتان ہیں، ان کا عکس عرفیہ لا دائمہ فی البعض آتا ہے۔ خاصتان سے کیا مراد ہے؟ مشروطہ خاصہ اور عرفیہ خاصہ۔ مشروطہ خاصہ وہ بنتا ہے مشروطہ عامہ جو مقید ہو لا دوام کے ساتھ، اور عرفیہ خاصہ جو ہے وہ بنتا ہے عرفیہ عامہ جو مقید ہو لا دوام کے ساتھ۔ تو دونوں خاصتان کے ساتھ عامتان لازم ہیں۔ وہی عامتان ہیں مگر مقید ہیں کس قید کے ساتھ؟ لا دوام کے ساتھ۔ تو خاصتان کے ساتھ عامتان لازم ہیں، اور عامتان کا عکس جو ہے انہوں نے آپ کو بتایا تھا کہ عرفیہ عامہ آتا ہے۔
تو خاصتان کے گویا دو جز ہو گئے: ایک عامتان اور ایک لا دوام بھئی۔ تو پہلا جز ان کا کیا ہوا؟ خاصتان کا پہلا جز ہوا عامتان اور دوسرا جز ہوا لا دوام۔ پہلے جز جو عامتان ہیں ان کا عکس عرفیہ عامہ آتا ہے، یہ بات آپ پہلے پڑھ چکے ہیں۔ تو خاصتان کا جو پہلا جز ہے اس کا عکس عرفیہ عامہ آئے گا، یہ دوبارہ ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ خاصتان کے ساتھ عامتان لازم، اور عامتان کے ساتھ عرفیہ عامہ لازم، اور لازم کا لازم بھی لازم ہوتا ہے، تو خاصتان کے ساتھ عرفیہ عامہ لازم۔
باقی دلیل رہ گئی تھی دوسرے جز کی کہ خاصتان کا جو لا دوام ہے اس کا عکس لا دوام فی البعض آتا ہے، یعنی موجبہ جزئیہ مطلقہ عامہ۔ لا دائمہ فی البعض، وہ لا دائمہ جو بعض میں ہو، لا فی الکل، کل میں نہ ہو۔ تو لا دائمہ فی البعض جو ہے وہ موجبہ جزئیہ ہوا۔ موجبہ اس لیے کیونکہ اس لا دوام کے ساتھ کون مقید ہیں؟ سوالب۔ اور سالبہ کے ساتھ جو لا دوام آتا ہے، لا دوام میں مقدار کو برقرار رکھتے ہیں اور کیفیت کو بدلتے ہیں۔ تو وہ جب سالبہ ہے اصل قضیہ، تو لا دوام کیسا آئے گا؟ وہ موجبہ آئے گا، وہ موجبہ۔ اور بتلا دیا فی البعض ہو گا، تو معلوم ہوا موجبہ جزئیہ۔ اور لا دوام کے ذریعے اشارہ ہوتا ہے کس کی طرف؟ مطلقہ عامہ کی طرف۔ تو معلوم ہوا یہ ایسا مطلقہ عامہ ہے جو موجبہ جزئیہ ہے۔ تقریر سمجھ میں آ رہی ہے؟
پھر یہ، یہ مطلقہ عامہ جو عکس نکالا ہم نے، کس کا؟ خاصتان کے لا دوام کا عکس کیا نکالا؟ مطلقہ عامہ موجبہ جزئیہ۔ یہ موجبہ جزئیہ آپ نے کیوں نکالا بھئی؟ موجبہ جزئیہ کیوں نکالا؟ موجبہ کلیہ کیوں نہیں نکالا؟ تو مصنف نے بتلایا تھا کہ اس میں راز یہ ہے، اس میں نکتہ یہ ہے کہ چونکہ یہ لا دوام جو ہے، کس کا لا دوام؟ یہ خاصتان کا۔ کس کا؟ یہ جو خاصتان کا لا دوام ہوتا ہے، یہ موجبہ کلیہ ہوتا ہے۔ یہ کیا ہوتا ہے؟ کیوں موجبہ کلیہ کیوں ہوتا ہے؟ کیونکہ لا دوام کو جب کھولتے ہیں کون سا قضیہ بناتے ہیں؟ مطلقہ عامہ بناتے ہیں۔ اور یہ مطلقہ عامہ جس قضیے کے ساتھ جڑا ہوا ہے، تو مقدار وہی رکھیں گے اور کیفیت بدلیں گے۔ وہ سالبہ کلیہ تھا تو یہ بھی کلیہ ہو گا۔ البتہ کیفیت بدلیں گے، وہ سالبہ تھا تو یہ موجبہ ہو گا۔
مصنف فرماتے ہیں کہ خاصتان کے اندر جو لا دوام ہوتا ہے وہ موجبہ کلیہ ہوتا ہے، اور موجبہ کلیہ کا عکس آپ کو بتا چکے ہیں وہ کیا آتا ہے؟ موجبہ جزئیہ آتا ہے۔ اس لیے یہ جو عکس کے اندر لا دوام آیا، یہ موجبہ جزئیہ مطلقہ عامہ ہے۔ اس پر شارح نے اعتراض کیا تھا کہ آپ کی اس تقریر سے لازم آتا ہے کہ جب بھی مجموعے کا عکس مجموعہ آ رہا ہو، تو اس کا دار و مدار اجزا کے عکسوں پر ہے۔ کس پر ہے دار و مدار؟ کہ اب اس کے جو اجزا ہیں ان کا عکس آتا ہو۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا، دیکھو ایک مجموعہ ہے، اس کا عکس دوسرا مجموعہ آ رہا ہے، تو یہ ایک مجموعے کا جو عکس دوسرا مجموعہ آ رہا ہے، اس کا دار و مدار کس پر ہے؟ اجزا کے عکسوں پر ہے، کس پر ہے؟ اجزا کے عکسوں پر اس کا دار و مدار ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اگر اجزا کے عکسوں پر مجموعے کے عکس کا دار و مدار ہو جائے، پھر تو موجبات کے اندر آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ وہ جو خاصتان ہیں ان کا عکس حینیہ لا دائمہ آتا ہے۔ ان کا عکس کیا آتا ہے؟ حینیہ لا دائمہ۔ حالانکہ وہ جو خاصتان ہیں موجبہ، کون سے خاصتان؟ وہ جو موجبہ تھے ان کا عکس کیا آتا ہے؟ حینیہ لا دائمہ، کیا آتا ہے؟ تو وہ جو خاصتان ہیں موجبہ کے اندر، ان کے لا دوام کو کھولیں تو وہ سالبہ کلیہ مطلقہ عامہ نکلتا ہے۔
وہ موجبہ ہے نا، تو لا دوام وہ کیا بنے گا؟ سالبہ بنے گا، اور لا دوام سے کون سا قضیہ ہوتا ہے؟ مطلقہ عامہ، تو سالبہ مطلقہ عامہ بنے گا۔ اور آگے آپ کو بتائیں گے کہ سوالب میں سے مطلقہ عامہ کا عکس تو آتا ہی نہیں ہے۔ تو وہ خاصتان جو موجبہ میں تھے، ان کے ساتھ جو لا دوام آیا وہ لا دوام کیا ہے حقیقت میں؟ سالبہ کلیہ مطلقہ عامہ۔ اور مطلقہ عامہ جب سالبہ ہو تو اس کا عکس نہیں آتا، تو اس کا عکس نہیں آنا چاہیے تھا، لیکن آپ نے ہمیں بتایا کہ ان خاصتان کا عکس کیا آتا ہے؟ حینیہ لا دائمہ آتا ہے۔ معلوم ہوا مجموعے کے عکس کا دار و مدار اجزا کے عکس پر نہیں ہے، ورنہ یہاں تو اجزا کا عکس آ ہی نہیں سکتا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
اور پھر "فَتَدَبَّرْ" کے ذریعے مصنف کی طرف سے جواب کی طرف بھی اشارہ کیا تھا۔ مصنف کی طرف سے کہتے ہیں یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ ہاں، ایسا ہی ہے۔ آپ نے تو کہا کہ مجموعہ آئے تو اس کا دار و مدار کس پر؟ اجزا پر نہیں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: نہیں، ایسا ہی ہے، مجموعہ جب ایک مجموعے کا عکس دوسرا مجموعہ آئے تو اس کا دار و مدار اجزا کے عکسوں پر ہوتا ہے۔ اگر اجزا کے عکس آتے ہیں تو اس مجموعے کا عکس بھی آئے گا۔ اگر اجزا کا عکس نہیں آتا تو پھر اس مجموعے کا عکس یا تو سرے سے آئے گا ہی نہیں، یا آئے گا تو اس کے لیے پھر کوئی دوسرا راستہ اختیار کرنا پڑے گا۔
اس کے بعد انہوں نے بتلایا تھا کہ باقی جتنے سالبہ ہیں ان کا عکس نہیں آتا۔ دائمَتان کا عکس آتا ہے، عامّتان کا عکس آتا ہے، اور خاصتان۔ دائمَتان کون کون سے ہیں؟ ضروریہ مطلقہ اور دائمہ مطلقہ، یہ کیا ہیں؟ دائمَتان۔ اور اسی طرح عامّتان، یعنی مشروطہ عامہ اور عرفیہ عامہ، ان کا بھی عکس آتا ہے۔ اور خاصتان، یعنی مشروطہ خاصہ اور عرفیہ خاصہ، ان کا بھی عکس آتا ہے۔ تو یہ چھ کا عکس آتا ہے، باقیوں کا عکس نہیں آتا نقض کی وجہ سے، کس کی وجہ سے؟ نقض کی وجہ سے۔ نقض کا کیا معنی؟ یعنی بعض جگہ اصل تو صادق آتا ہے، اور اصل جہاں صادق آئے وہاں عکس کو بھی صادق آنا چاہیے، لیکن بعض مادوں کے اندر وہ جو عکس ہے وہ صادق نہیں آتا۔ اصل تو صادق آتا ہے لیکن عکس صادق نہیں آتا، اور حالانکہ منطق کے قوانین تو کلی ہوتے ہیں۔ جہاں بھی اصل صادق آئے وہاں ہمیشہ عکس کو صادق آنا چاہیے۔
تو بعض جگہوں پر جب عکس صادق نہیں آ رہا باقی موجهات میں، کس میں؟ باقی موجهات جو نو رہ گئے ان میں بعض جگہ کے اندر وہ عکس صادق نہیں آتا، جب بعض جگہ عکس صادق نہیں آتا تو قانون ہمارا کلی نہیں بن سکتا، اور منطق کے قوانین تو کیا ہوتے ہیں؟ کلی ہوتے ہیں۔ لہٰذا انہوں نے کہہ دیا کہ باقی سوالب کا عکس آتا ہی نہیں، یعنی وہ جو نو موجهات ہیں ان کا عکس نہیں آتا۔ اور وہ کون کون سے ہیں؟ انہوں نے شرح میں آپ کو گنوائے بھی کہ وہ وقتیہ مطلقہ، منتشرہ مطلقہ، مطلقہ عامہ، اور ممکنہ عامہ ہیں بسائط میں سے، اور مرکبات میں سے دونوں وقتیہ ہیں، دونوں وجودیہ ہیں، اور ممکنہ خاصہ ہیں بھئی۔
تو یہ نو کے اندر، یہ جو نو موجهات ہیں، ان کا عکس نہیں آتا، عکس نہیں آتا۔ اور اس کی دلیل بھی شارح نے ایک ہی دلیل دے دی سب کے لیے۔ انہوں نے کیا کہا؟ کہ یہ جو نو سوالب ہیں موجهات، ان میں سے سب سے اخص جو ہے وہ وقتیہ ہے، وہ وقتیہ ہے۔ اور ضابطہ یہ ہے، کہتے ہیں اخص کا اگر عکس آتا ہو تو اعم کا بھی عکس آتا ہے، کیونکہ اعم جو ہے وہ اخص کے اندر ہوتا ہے، یا یوں کہیں اعم جو ہوتا ہے وہ اخص کے ساتھ لازم ہوتا ہے۔ توجہ ہے؟ جیسے خاصتان ہیں، مشروطہ خاصہ اور عرفیہ خاصہ، ان کے ساتھ کیا لازم ہے؟ عامتان لازم ہیں۔ جہاں خاصتان ہوں گے وہاں عامتان ہوں گے۔ تو ہم نے ان نو میں سے سب سے جو اخص تھا موجهہ وہ وقتیہ ہے، وہ ہم نے لے لیا۔ اب اس وقتیہ کا اگر عکس نہ آیا، تو معلوم ہوا جو اعم ہیں ان کا بھی عکس، باقی نو ایک ہم نے لے لیا باقی سارے کیا ہیں؟ اعم۔ اور ضابطہ کیا ہے؟ کہ اخص کے ساتھ اعم لازم ہوتا ہے، اور اگر اعم کا عکس آتا ہو تو اخص کا بھی عکس آتا ہے۔
جیسے ابھی دلیل گزری: خاصتان کے ساتھ عامتان لازم، اور عامتان کا عکس کیا آتا ہے؟ عرفیہ عامہ، تو خاصتان کے ساتھ بھی عرفیہ عامہ لازم ہے۔ یہ عکس لازم ہوتا ہے نا اصل قضیے کے ساتھ، تو عکس کہہ لو یا یوں کہہ لو یہ اس کے ساتھ لازم ہے، بات ایک ہی ہے۔ تو خاصتان کے ساتھ کیا لازم؟ عامتان، اور عامتان کے ساتھ کیا لازم؟ عرفیہ عامہ۔ معلوم ہوا خاصتان کے ساتھ بھی کیا لازم؟ عرفیہ عامہ لازم ہے۔ معلوم ہوا اخص کا جب عکس نہیں آتا تو معلوم ہوا اعم کا بھی عکس نہیں آتا۔ اس لیے کیونکہ اگر اعم کا عکس آتا تو اعم تو لازم ہے کس کے ساتھ؟ اخص کے ساتھ، تو اخص کا بھی عکس آنا چاہیے تھا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟
چنانچہ انہوں نے کہا کہ یہ جو نو سوالب ہیں ان میں سے جو سب سے اخص ہے وقتیہ، وہ ہم لے لیتے ہیں۔ اس کا ہم عکس نکالیں گے، اگر اس کا عکس آ گیا تو باقی جو اعم ہیں ان کا بھی عکس آئے گا، اس کا مطلب ہے۔ اور اگر اس کا عکس نہیں آتا تو پھر معلوم ہوا اعم کا عکس بھی نہیں، کیونکہ اعم کا عکس آتا تو اخص کا بھی عکس آتا ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو لہٰذا انہوں نے پھر وہ قضیہ ذکر کیا کہ "لَا شَيْءَ مِنَ الْقَمَرِ بِمُنْخَسِفٍ وَقْتَ التَّرْبِيعِ لَا دَائِمًا"، یہ وقتیہ ہے۔ یہ کیا ہے؟ یہ وہی یعنی وقتیہ مطلقہ مقید ہے کس کے ساتھ؟ لا دوام کے ساتھ، تو یہ مرکبہ ہے یعنی وقتیہ ہے۔ اور اس کا عکس جو ہے انہوں نے کیا نکالا؟ "بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَيْسَ بِقَمَرٍ بِالْإمْكَانِ الْعَامِّ"، یہ ممکنہ عامہ سالبہ جزئیہ۔ ممکنہ عامہ سالبہ جزئیہ اس کا عکس انہوں نے نکالا۔
حالانکہ اصل کیا ہے؟ اصل سالبہ کلیہ ہے، اور انہوں نے آپ کو ضابطہ بتایا تھا کہ اصل سالبہ کلیہ ہو تو اس کا عکس بھی کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ آتا ہے، لیکن یہاں عکس کیا بنا رہے ہیں؟ سالبہ جزئیہ بنا رہے ہیں۔ نیز، کہتے ہیں وقتیہ کا عکس تو نہیں آتا لیکن اگر آتا بھی تو وہ بالفعل والا عکس آنا چاہیے تھا، یعنی مطلقہ عامہ۔ کیا آنا چاہیے تھا؟ مطلقہ عامہ آنا چاہیے تھا، لیکن مطلقہ عامہ کے بجائے کس کو ذکر کر دیا؟ ممکنہ عامہ کو۔ اور پھر بتلایا کہ یہ جو عکس، یہ جو سالبہ جزئیہ ہے اور ممکنہ عامہ ہے، یہ صادق نہیں۔ یہ، جب یہ صادق نہیں تو معلوم ہوا جو سب سے اخص تھا یعنی وقتیہ، اس کا عکس نہیں آتا بھئی۔ اس کا عکس نہیں آتا۔
اور جب اس کا عکس نہیں آتا تو اعم جو ہیں ان کا بھی عکس نہیں آئے گا، کیونکہ اعم کا عکس آتا تو اخص کا بھی عکس آتا، لیکن اخص کا عکس نہیں آ رہا، معلوم ہوا اعم کا عکس بھی نہیں آئے گا بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ اس پر پھر اشکال ہوتا تھا کہ آپ نے اس کا عکس سالبہ جزئیہ، سالبہ جزئیہ ممکنہ عامہ کیوں نکالا؟ اگر اصل سالبہ کلیہ ہو تو عکس کیا آتا ہے؟ سالبہ کلیہ، لہٰذا آپ کو سالبہ کلیہ بنانا چاہیے تھا عکس، لیکن آپ نے سالبہ جزئیہ بنایا۔ اور نیز، اگر ہوتا بھی عکس تو مطلقہ عامہ آنا چاہیے تھا، آپ نے کس کو نکالا؟ آپ نے ممکنہ عامہ نکال دیا، بالإمکان ذکر کیا نا عکس کے اندر کہ "بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَيْسَ بِقَمَرٍ بِالْإمْكَانِ الْعَامِّ"، آپ نے ممکنہ عامہ ذکر کر دیا، حالانکہ ہونا کیا چاہیے تھا؟ مطلقہ عامہ ہونا چاہیے تھا۔
آپ نے کیا کہا، پہلا اعتراض کیا؟ کہ عکس کلیہ آنا چاہیے تھا، آپ نے جزئیہ نکالا۔ کہتے ہیں بھئی: ایک ہے کلیہ، ایک ہے جزئیہ۔ یہ جو کلیہ ہوتا ہے یہ اخص ہوتا ہے، اور جزئیہ اعم۔ جہاں کلیہ صادق آتا ہے وہاں جزئیہ ضرور صادق آتا ہے، لیکن جہاں جزئیہ صادق آئے وہاں کلیہ کا صادق آنا ضروری نہیں۔ جیسے انسان اور حیوان، انسان اخص ہے اور حیوان اعم۔ جو انسان ہو گا وہ حیوان ضرور ہو گا، لیکن جو حیوان ہو اس کا انسان ہونا ضروری نہیں ہے۔ تو لہٰذا جب ہم انسان کی نفی کریں گے، کس کی؟ انسان کی نفی کریں گے تو ضروری نہیں حیوان کی بھی نفی ہو، کیونکہ انسان نہیں ہے تو ہو سکتا ہے پھر بھی حیوان ہو: گھوڑا ہو، گدھا ہو، گائے ہو، بیل ہو، بکری ہو، کوئی اور حیوان ہو سکتا ہے۔ لیکن جب آپ حیوان کی نفی کر دیں گے کہ یہ چیز حیوان نہیں ہے، معلوم ہوا انسان بھی نہیں ہو سکتی بھئی۔
تو اعم کی نفی سے اخص کی نفی ہو جاتی ہے، لیکن اخص کی نفی سے اعم کی نفی نہیں ہوتی۔ تو ہم نے یہاں پر، ہم نے یہاں پر اعم نکالا۔ اعم کی نفی سے اخص کی نفی ہو جائے گی، حیوان کی نفی سے انسان کی نفی ہو جائے گی۔ تو ایک ہے جزئیہ، ایک ہے کلیہ، ہم نے کس کو عکس بنایا؟ جزئیہ۔ ہونا تو چاہیے تھا کلیہ، آپ کی بات ٹھیک ہے، لیکن ہم نے کس کو نکالا؟ جزئیہ کو، اور جزئیہ اعم ہے، اور جزئیہ بھی عکس یہاں نہیں بن رہا تو کلیہ بھی بطریق اولیٰ عکس نہیں بن سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ جب اعم کی نفی ہو گی تو اخص کی بھی نفی ہو جائے گی، حیوان کی نفی ہو گی تو انسان کی بھی نفی ہو جائے گی۔
اور دوسرا ہم نے ممکنہ عامہ نکالا بھئی، ممکنہ عامہ نکالا۔ تو مطلقہ عامہ کے بجائے ممکنہ عامہ اس لیے نکالا کیونکہ یہ سب سے زیادہ اعم ہے۔ ممکنہ عامہ سب سے زیادہ اعم ہے ان سب کے اندر۔ کس طرح سب سے زیادہ اعم ہے؟ مثلاً آپ ایک چیز کی نفی کرتے ہیں کہ زید کاتب نہیں ہے تین زمانوں میں سے کسی ایک زمانے میں، یعنی زید کاتب بالفعل نہیں ہے۔ جب آپ نے زید سے بالفعل کتابت کی نفی کی، تو بالإمکان کتابت کی نفی آ گئی یا نہیں؟ میں کہہ سکتا ہوں یا نہیں کہ زید سے کتابت کی نفی ممکن ہے؟ یہاں تو بالفعل ہے باقاعدہ، تو امکان تو بطریق اولیٰ ہو گا بھئی۔ جب زید تین زمانوں میں سے کسی زمانے میں، اس سے کتابت کی نفی ہو سکتی ہے تو معلوم ہوا اس سے کتابت کی نفی ممکن ہے۔ یا اگر میں کتابت کی نفی کروں دائماً کسی چیز سے، تو بھی معلوم ہوا اس سے کتابت کی نفی ممکن ہے۔ اور یا اگر میں کسی سے کتابت کی نفی کر دوں ضرورت کے اعتبار سے، تو بھی معلوم ہوا کتابت کی نفی ممکن ہے۔
مثلاً میں کہتا ہوں: کوئی انسان پتھر نہیں بالضرورۃ، کوئی انسان؟ تو انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے، کیا ہے؟ جب انسان سے پتھر کی نفی ضروری ہے تو میں یہ کہہ سکتا ہوں یا نہیں کہ انسان سے پتھر کی نفی ممکن ہے؟ انسان سے پتھر کی نفی ممکن ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو چاہے آپ بالضرورۃ کی جہت لا کر نفی کریں، چاہے آپ بالدوام کی جہت لا کر نفی کریں، چاہے آپ بالفعل کی جہت لا کر نفی کریں، تمام صورتوں میں بالإمکان کے ساتھ بھی نفی وہاں آ جائے گی۔ وہاں نفی یعنی نفی ممکن ہو گی، چاہے نفی بالفعل ہو تب بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ نفی ممکن ہے۔ جب نفی چاہے دائماً ہو پھر بھی آپ کہہ سکتے ہیں نفی یہاں پر ممکن ہے۔ جہاں پر نفی بالضرورۃ ہو تو بھی آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہاں پر نفی ممکن ہے۔ تو ان میں سب سے اعم کیا ہوا؟ ممکنہ عامہ۔
اور ابھی آپ کو بتایا تھا کہ جب اعم کی نفی ہوتی ہے تو اخص کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔ حیوان کی نفی ہو گی تو انسان کی بھی نفی ہو جائے گی۔ تو ان میں سب سے اعم کیا؟ ممکنہ عامہ۔ آپ کیا کہتے ہیں: ہونا کیا چاہیے تھا، مطلقہ عامہ، لیکن ہم کیا لے آئے؟ ممکنہ عامہ، اعم کو لے آئے، جب ممکنہ عامہ کی نفی ہو گئی تو بالفعل والے کی بھی خود بخود نفی ہو گئی، کیونکہ اعم کی نفی ہو تو اخص کی بھی نفی ہو جاتی ہے۔ جب اس کا عکس ممکنہ عامہ، جب اس کا عکس ممکنہ عامہ نہیں آ سکتا تو بالفعل بھی نہیں آ سکتا۔ جب کوئی چیز حیوان نہیں ہے تو معلوم ہوا وہ انسان بھی نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں: ہم نے کلیہ کے بجائے جزئیہ کو اختیار کیا کیونکہ جزئیہ اعم ہے، اور بالفعل کے بجائے کس کو اختیار کیا؟ بالإمکان کو اختیار کیا کیونکہ وہ اس سے اعم۔ تو سب سے اعم جہت بالإمکان تھی وہ لائے، اور پھر بالإمکان کے اندر بھی کلیہ کے بجائے جزئیہ کو لیا جو زیادہ اعم تھا، تو سب سے اعم صورت ہم نے اختیار کر لی۔ جہت کے اعتبار سے بھی اور کلیت اور جزئیت کے اعتبار سے بھی: جزئیہ بنایا جو کلیہ سے اعم تھا، اور ممکنہ عامہ بنایا جو باقی سب سے اعم، تو سب سے اعم ہم عکس لے آئے، کون سا عکس؟ "بَعْضُ الْمُنْخَسِفِ لَيْسَ بِقَمَرٍ بِالْإمْكَانِ الْعَامِّ"، یہ سب سے اعم عکس ہم نے نکالا۔ اگر یہ عکس صادق نہیں آ سکتا، یہ عکس؟ جب یہ والا عکس صادق نہیں آ سکتا، معلوم ہوا اس کے علاوہ کوئی اور عکس تو بطریق اولیٰ صادق نہیں آئے گا، کیونکہ جب اعم نہیں آ رہا صادق تو اخص بھی صادق، جب ایک چیز پر حیوان صادق نہیں آ رہا تو اس پر انسان بطریق اولیٰ صادق نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
تو ہم نے ثابت کر دیا کہ ان نو میں سے کسی کا بھی عکس نہیں آتا۔ پھر سنیں، ہم نے کیا طریقہ اختیار کیا؟ کہ قضیہ سب سے پہلے قضیہ کون سا لیا؟ وقتیہ، جو سب سے اخص تھا، اور اخص کے ساتھ اعم کیا ہوتا ہے؟ لازم۔ جب اخص کا عکس نہیں آتا تو معلوم ہو جائے گا اعم کا بھی عکس، جیسے، جیسے خاصتان وہ، وہ اخص ہیں کس کے مقابلے میں؟ عامتان کے مقابلے میں، اور خاصتان کے ساتھ کیا لازم؟ عامتان لازم، اور عامتان کا عکس آتا ہے تو خاصتان کا بھی عکس آتا ہے۔ تو ان میں سب سے اخص کون سا ہے؟ وقتیہ، وقتیہ لیا، اور اخص کے ساتھ اعم کیا ہوتے ہیں؟ لازم۔ معلوم ہوا باقی جو ہیں وہ اس وقتیہ کے ساتھ لازم ہیں، جتنی بھی جہتیں ہیں وہ اس کے ساتھ لازم۔ اور اگر ان کا عکس آتا تو اس اخص کا بھی عکس آتا، لیکن اس کا عکس نہیں آیا معلوم ہوا باقی جو اعم ہیں، جو نو میں سے باقی اعم ہیں ان میں سے بھی کسی کا عکس نہیں آئے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟
اب آئیے آج کے سبق پر بھئی۔
فَصْلٌ: عَكْسُ النَّقِيضِ تَبْدِيلُ نَقِيضَيِ الطَّرَفَيْنِ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ، أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا مَعَ مُخَالَفَةِ الْكَيْفِ۔
اب عکس نقیض کا بیان آ گیا بھئی، عکس نقیض۔ عکس نقیض بھئی نام سے ہی پتہ چل رہا ہے کہ اس میں نقیض لے کر عکس بناتے ہیں، نقیض لے کر عکس بناتے ہیں۔ مثلاً انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان۔ حیوان کی نقیض کیا؟ لا حیوان۔ کتاب کی نقیض کیا؟ لا کتاب۔ اور قلم کی نقیض کیا؟ لا قلم۔ اور لا انسان کی نقیض کیا؟ انسان۔ لا حیوان کی نقیض کیا؟ حیوان۔ لا کتاب کی نقیض کیا؟ کتاب۔ لا قلم کی نقیض کیا؟ قلم۔ انسان اور لا انسان دونوں ایک دوسرے کی نقیضیں ہیں۔ دونوں صادق آ جائیں یہ بھی نہیں ہو سکتا، ایک ہی چیز انسان بھی ہو اور لا انسان بھی ہو۔ اور دونوں ہی اٹھ جائیں، کوئی ایسی چیز دنیا میں آپ کو مل جائے جو انسان بھی نہ ہو اور لا انسان بھی نہ ہو، ایسا بھی نہیں ہو سکتا۔ نہ تو اجتماع نقیضین جائز ہے، نہ ارتفاع نقیضین جائز ہے۔
تو یہ عکس نقیض ہے بھئی۔ عکس نقیض میں یاد رکھو دو طریقے ہیں: ایک قدما کا طریقہ ہے، ایک متاخرین کا۔ تو ایک قدما کا کہہ لیں یا یوں کہیں متقدمین، ایک متقدمین کا طریقہ ہے، ایک متاخرین کا۔ متقدمین بھئی جو پہلے گزرے تھے، جو پہلے فلاسفہ گزرے ابتدائی زمانے کے، ان کے نزدیک ایک طریقہ تھا، اور جو بعد والے منطقی اور فلاسفہ آئے ان کا دوسرا طریقہ ہے بھئی۔ تو ایک عکس نقیض کا طریقہ کس کا ہے؟ قدما کا، اور ایک عکس نقیض کا طریقہ کس کا ہے؟ متاخرین کا بھئی۔ اور عموماً جو قدما کا طریقہ ہے اسی کو بیان کیا جاتا ہے کتابوں کے اندر، متاخرین کے طریقے کو عموماً ذکر نہیں کیا جاتا۔
اب اس کا طریقہ کیا ہے؟ دونوں کا طریقہ سیکھ لیں۔ قدما کا عکس نقیض یہ ہے کہ اصل آپ کے پاس جو قضیہ ہے اس کے موضوع کی بھی نقیض تیار کریں، اور محمول کی بھی نقیض تیار کریں، اور موضوع کی نقیض کہاں لے جائیں؟ محمول کی جگہ، اور محمول کی نقیض کہاں لے آئیں؟ موضوع کی جگہ۔ جیسے "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، ہر انسان حیوان ہے، ہر انسان حیوان ہے۔ تو اس کا عکس کیا آئے گا؟ انسان کی نقیض کیا؟ لا انسان۔ حیوان کی نقیض کیا؟ لا حیوان۔ تو اب انسان کی جگہ لا انسان لے آؤ، اور حیوان کی جگہ لا حیوان لے آؤ، اور دونوں کی جگہ بدل دو۔ بنائیے، "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ" اس کا عکس نقیض بنائیے۔ "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ"، جو بھی لا حیوان ہے وہ لا انسان ہے۔ یہ ہے عکس نقیض، یہ قدما کا طریقہ۔
اور شرطیں وہی ہیں، جیسے عکس مستوی کے اندر صدق کو بھی برقرار رکھنا ہے اور کیفیت کو بھی برقرار رکھنا ہے۔ توجہ ہے؟ صدق کو بھی برقرار رکھنا ہے اور کیفیت کو بھی برقرار رکھنا ہے، یعنی "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ" یہ صادق تھا تو "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ" یہ بھی صادق ہونا چاہیے۔ تو صدق کو بھی برقرار رکھنا ہے اور کیفیت کو بھی برقرار رکھنا ہے، یعنی اگر اصل موجبہ ہے تو عکس نقیض بھی کیا ہونا چاہیے؟ موجبہ، اور اگر اصل جو ہے وہ سالبہ ہے تو عکس نقیض بھی کیا ہونا چاہیے؟ سالبہ ہونا چاہیے۔
جبکہ متاخرین کے نزدیک ان کا طریقہ مختلف ہے، مختلف ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ عکس نقیض میں موضوع اور محمول دونوں کی نقیض نہیں لینی، بلکہ صرف محمول کی نقیض لینی ہے۔ صرف، صرف محمول کی نقیض لینی ہے، صرف اس کی نقیض لیں گے اور پھر جگہ بدل دیں گے۔ تو محمول کی نقیض اس کو موضوع کی جگہ لے جائیں گے، اور موضوع کو محمول کی جگہ اسی طرح لے آئیں گے، موضوع کی نقیض نہیں تیار کرنی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز، قدما کے نزدیک تو کیفیت کو برقرار رکھتے تھے، پہلا موجبہ ہو تو دوسرا بھی موجبہ، پہلا سالبہ ہو تو عکس نقیض بھی سالبہ ہونا چاہیے، جبکہ متاخرین کہتے ہیں نہیں، کیفیت کو بدلیں گے۔ اگر اصل موجبہ ہے تو عکس نقیض کیا بناؤ؟ سالبہ، اور اگر اصل جو ہے وہ سالبہ ہے تو عکس نقیض کیا بناؤ؟ موجبہ بناؤ۔ اور صدق کو اس میں بھی برقرار رکھنا ہے، صدق کو اس میں بھی برقرار رکھنا ہے۔
تو متقدمین کے نزدیک عکس نقیض بنانے کا طریقہ کیا؟ کہ موضوع کی بھی نقیض لیں اور محمول کی بھی نقیض لیں، دونوں کی جگہ بدل دیں، اور نیز صدق اور کیفیت کو برقرار رکھنا ہے۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک صرف محمول کی نقیض لیں گے اور پھر موضوع اور محمول کی جگہ بدل دیں گے، اور صدق کو برقرار رکھنا ہے البتہ کیفیت کو بدلنا ہے۔ موجبہ ہو تو سالبہ بنا لو، اور سالبہ ہو تو موجبہ بنا لو۔
لہٰذا متقدمین کے نزدیک "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، اس کا عکس نقیض تیار کیجیے متقدمین کے نزدیک۔ کیفیت کو برقرار رکھو، یہ موجبہ ہے تو آپ بھی کیا بناؤ؟ موجبہ بناؤ، اور صدق کو بھی برقرار رکھو، یہ بھی صادق ہے تو وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ عکس نقیض بھی صادق۔ اور نیز موضوع اور محمول دونوں کی نقیض لے لو اور جگہ بدل دو۔ تو "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ" اس کا عکس نقیض کیا آیا قدما کے طریقے پر؟ شاباش، "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ"، یہ قدما کے طریقے پر عکس نقیض نکل آیا۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک صرف محمول کی نقیض لیں گے اور جگہیں دونوں کی بدل دیں گے، صدق بھی برقرار رکھیں گے اور کیفیت کو بدل دیں گے، کیفیت کو۔ لہٰذا "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ" اس کا عکس نقیض بنائیے بھئی۔ یہ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، تو اب آپ نے کیا بنانا ہے؟ سالبہ کلیہ بھئی، یہ موجبہ ہے تو آپ نے کیا بنانا ہے؟ سالبہ بنانا ہے، بنائیے۔ "كُلُّ" تو ہٹا دیں، سالبہ کلیہ کا سور کیا آتا ہے؟ "لَا شَيْءَ"، بنائیے۔ "لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ"، حیوان کی جگہ کیا لے آؤ؟ لا حیوان۔ "لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ"، "لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ"۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ متقدمین کے نزدیک عکس نقیض کیا تھا؟ "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ"، اور ان کے نزدیک "لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔
دیکھیے بھئی کتاب پر:
فَصْلٌ: عَكْسُ النَّقِيضِ تَبْدِيلُ نَقِيضَيِ الطَّرَفَيْنِ
عکس نقیض جو ہے وہ تبدیل کرنا ہے طرفین کی دو نقیضوں کو، اصل میں تھا "نَقِيضَيْنِ"، نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو عکس نقیض وہ "تَبْدِيلُ نَقِيضَيِ الطَّرَفَيْنِ"، دونوں طرفین یعنی موضوع اور جو محمول ہیں یا مقدم اور تالی جو ہیں ان کی نقیضوں کو، موضوع کی جگہ موضوع کی نقیض لے آئیں گے اور محمول کی جگہ محمول کی نقیض لے آئیں گے، یا مقدم کی جگہ مقدم کی نقیض لے آئیں گے اور تالی کی جگہ تالی کی نقیض لے آئیں گے اور پھر ان کی جگہ تبدیل کر دیں گے۔
مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ
ساتھ صدق اور کیفیت کے برقرار رکھنے کے، یعنی صدق بھی باقی ہونا چاہیے، اگر اصل صادق ہے تو عکس نقیض بھی صادق، اور کیفیت بھی برقرار رکھنی ہے کہ اگر اصل جو ہے وہ موجبہ ہے تو عکس نقیض بھی موجبہ ہونا چاہیے، اور اگر اصل سالبہ ہے تو عکس نقیض بھی سالبہ ہونا چاہیے۔
أَوْ جَعْلُ
یہ اب متاخرین کا طریقہ بیان کرنے لگے ہیں۔
أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا
یا کر دینا ثانی کی نقیض کو اول۔ ثانی کی نقیض کو اول کر دینا، کیا معنی؟ محمول کی نقیض کو کیا کر دیں؟ محمول کی نقیض بنائیں اور اس کو اول کر دیں یعنی موضوع، اور موضوع کو اسی طرح اٹھا کر محمول کی جگہ لے جائیں۔ یہ تو تھا، یہ تو قضیہ حملیہ میں ہے، شرطیہ میں بھی اسی طرح ہو گا۔ یعنی تالی کی نقیض بنا کر اس کو مقدم بنا دو، اور مقدم کو اسی طرح اٹھا کر تالی کی جگہ لے جائیں۔ تو یہ معنی ہے "أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا"، یا ثانی جز کی نقیض کو کر دینا اولاً اول۔ ثانی کی نقیض "أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا"، یا ثانی کی نقیض کو اول بنا دینا۔
مَعَ مُخَالَفَةِ الْكَيْفِ
ساتھ کیف کی مخالفت کے، یعنی اگر اصل جو ہے وہ موجبہ تھا تو عکس نقیض سالبہ ہونا چاہیے، اور اگر اصل سالبہ تھا تو عکس نقیض موجبہ ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں:
وَحُكْمُ الْمُوجَبَاتِ هَاهُنَا حُكْمُ السَّوَالِبِ فِي الْمُسْتَوِي
اور یہاں پر جو موجبہ کا حکم ہے، یہاں عکس نقیض میں جو موجبات کا حکم ہے، وہ "حُكْمُ السَّوَالِبِ فِي الْمُسْتَوِي"، وہ ایسا ہی ہے جیسے سوالب کا حکم تھا فی المستوی عکس مستوی میں۔ توجہ ہے؟ عکس مستوی میں جو سوالب کا حکم تھا یہاں پر وہ موجبات کا حکم ہو گا۔
وَبِالْعَكْسِ
اور اس کا برعکس بھی ہے، یعنی وہاں پر جو موجبات کا حکم تھا یہاں سوالب کا حکم ہو گا۔ توجہ ہے؟ وہاں کیا حکم تھا؟ جو موجبات کا حکم تھا یہاں عکس نقیض میں سوالبات کا حکم ہو گا، اور جو سوالبات کا حکم تھا وہاں پر وہ یہاں موجبات کے اندر آ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟
مثلاً دیکھو، وہاں موجبہ کلیہ ہو یا موجبہ جزئیہ، دونوں کا عکس کیا آتا تھا؟ موجبہ جزئیہ۔ یہاں یہی ضابطہ سالبہ میں بنا دو: سالبہ چاہے کلیہ ہو چاہے سالبہ جزئیہ ہو، دونوں کا عکس نقیض کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ آئے گا۔ اور وہاں پر سالبہ کلیہ کا عکس کیا آتا تھا؟ سالبہ کلیہ۔ یہاں وہی بات موجبہ میں کر دو: موجبہ کلیہ کا عکس نقیض موجبہ کلیہ آئے گا۔ اور وہاں پر سالبہ جزئیہ کا عکس نہیں آتا تھا، یہاں پر موجبہ جزئیہ کا عکس نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہاں معلوم ہوا جو سالبہ کا حکم تھا یہاں کس میں آ جائے گا؟ موجبہ میں، اور جو موجبہ کا حکم تھا وہاں وہ یہاں سالبہ میں آ جائے گا۔ تقریر سمجھ میں آ گئی؟
تو کہتے ہیں: کہتے ہیں "وَحُكْمُ الْمُوجَبَاتِ هَاهُنَا"، کہ یہاں پر موجبات کا جو حکم ہے، "حُكْمُ السَّوَالِبِ فِي الْمُسْتَوِي"، وہ وہی حکم تھا جو سوالب کا تھا مستوی میں۔ "وَبِالْعَكْسِ"، اور اس کا برعکس یعنی مستوی میں جو موجبات کا حکم تھا وہ یہاں پر سوالب کا حکم ہو گا۔
وَالْبَيَانُ الْبَيَانُ، وَالنَّقْضُ النَّقْضُ
اور وہاں جو بیان تھا وہی یہاں پر بھی بیان ہے، یعنی وہاں پر جو دلائل تھے یہاں پر بھی وہی دلائل۔ وہاں جو دلیل تھی یعنی دلیل خلف، وہی یہاں پر بھی دلیل ہے۔ تو البیان سے مراد ہے وہ جو عکس مستوی میں بیان آیا تھا، اور البیان ثانی سے مراد ہے یہ جو عکس نقیض کا بیان ہے۔ تو عکس مستوی میں جو بیان تھا وہی عکس نقیض کا بھی بیان ہے۔ یا یوں کہہ لو البیان اول سے مراد لے لو عکس نقیض، جو عکس نقیض کا جو بیان ہے یعنی جو دلیل ہے، وہی ہے جو عکس مستوی کا بیان اور اس کی دلیل، کہ عکس نقیض کی وہی دلیل ہے جو دلیل کس کی تھی؟ عکس مستوی کی، جیسے وہاں دلیل خلف دلیل تھی یہاں بھی دلیل خلف دلیل ہے بھئی۔ یا اور جو بھی تفصیل وہاں بیان کی تھی وہ، جو دلیل وہاں تھی وہی دلیل یہاں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے "وَالْبَيَانُ الْبَيَانُ"، اور یہاں پر جو دلیل ہے، "الْبَيَانُ" وہ وہی دلیل ہے جو کس میں تھی؟ عکس مستوی میں۔ "وَالنَّقْضُ النَّقْضُ"، اور یہاں پر جو نقض ہے وہ وہی نقض ہے جو کس کے اندر تھا؟ عکس مستوی میں۔ وہاں جن مادوں کے اندر تخلف ہوتا تھا عکس نہیں آتا تھا، یہاں پر بھی ان مادوں میں تخلف ہو گا اور عکس نہیں آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اچھا، اب یوں کیجیے کچھ مثالیں لکھ لیجیے بھئی عکس نقیض کی، عکس نقیض کی۔
لکھیے بھئی، عکس نقیض میں قدما کا طریقہ، عکس نقیض میں قدما کا طریقہ۔ یہ جو سارا بیان چل رہا تھا متن کے اندر، یہ سارا قدما کے طریقے کا بیان تھا، متاخرین کا صرف طریقہ بتایا۔ آگے جو کہا نا کہ یہاں سوالب میں وہی حکم ہے جو وہاں پر موجبات میں تھا، اور وہاں جو موجبات کا حکم تھا وہ یہاں پر سوالب کا حکم ہے، یہ عکس نقیض بطریق قدما بیان ہو رہا ہے، بطریق قدما بھئی۔
کیا لکھا بھئی؟ ہاں، لکھیے بھئی: عکس نقیض میں قدما کا طریقہ۔ نیچے۔ نیچے لکھیے بھئی: موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ۔ بھئی وہاں سالبہ کلیہ کا عکس کیا آتا تھا؟ سالبہ کلیہ، تو یہاں موجبہ کلیہ کا عکس نقیض موجبہ کلیہ آئے گا۔ لہٰذا لکھیے: "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"، "كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ"۔ اس کے سامنے اس کا عکس نقیض لکھیے بھئی: "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ"، "كُلُّ لَا حَيَوَانٍ لَا إِنْسَانٌ"۔ دیکھا، دونوں کی نقیض لے کر جگہ بدل دی۔ اور موجبہ کلیہ کا عکس نقیض کیا آیا؟ موجبہ کلیہ آیا۔
اور دوسرا اگلا کیا ہے؟ موجبہ جزئیہ؟ بھئی موجبہ جزئیہ نہ لکھیں، موجبہ جزئیہ کا عکس نقیض نہیں آتا، کیونکہ ادھر سالبہ جزئیہ کا عکس نہیں آتا تھا۔ لہٰذا اس سے آگے لکھیے بھئی، سالبہ کلیہ لکھیے: سالبہ کلیہ، "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ"، "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ"، "لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِحَجَرٍ"۔ جی، اب عکس نقیض آپ نے بتانا ہے مجھے۔ ادھر موجبہ کلیہ کا عکس کیا آتا تھا؟ موجبہ جزئیہ، تو ادھر سالبہ کلیہ کا عکس نقیض کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ۔ بنائیے بھئی، جگہیں بدل دیں، نقیض بنا کر جگہیں بدل دیں اور جزئیہ بنا دیں، سالبہ جزئیہ بنا دیں۔ ہاں، "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ"، لکھیے بھئی: "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ"۔ لا حجر پر الف لام بھی داخل کرنا ہے تو اللاحجر ہو جائے گا۔ دو لام ہو جائیں گے اور ساتھ الف، "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ لَيْسَ بِلَا إِنْسَانٍ"، "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ لَيْسَ بِلَا إِنْسَانٍ"۔ دونوں کی نقیضیں تیار کیں، جگہ بدل دی، اور سالبہ جزئیہ بنا دیا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟
اب اس سے نیچے لکھیے: سالبہ جزئیہ۔ وہاں موجبہ جزئیہ کا عکس کیا آتا تھا؟ موجبہ جزئیہ، تو ادھر سالبہ جزئیہ کا عکس بھی کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ آئے گا۔ تو نیچے لکھیے سالبہ جزئیہ، سالبہ جزئیہ: "بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَجَرٍ"، "بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَيْسَ بِحَجَرٍ"۔ اس کا عکس نقیض بناؤ بھئی، سالبہ جزئیہ ہے اس کا عکس سالبہ جزئیہ ہی آئے گا۔ یہ سالبہ جزئیہ ہے تو اس کا عکس نقیض بھی سالبہ جزئیہ ہی آئے گا، بنائیے بھئی۔ ہاں، سالبہ جزئیہ، سالبہ جزئیہ کلیہ نہیں بھئی، کیا؟ شاباش بنائیے، شاباش: "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ لَيْسَ بِلَا إِنْسَانٍ"، "بَعْضُ اللَّا حَجَرِ لَيْسَ بِلَا إِنْسَانٍ"۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ اور موجبہ جزئیہ کا عکس نقیض نہیں آتا، یہ بھی چاہے لکھ لیں ساتھ: موجبہ جزئیہ کا عکس نقیض نہیں آتا، موجبہ جزئیہ کا عکس نقیض نہیں آتا۔
ایک مثال قضیہ شرطیہ کی بھی کر لیں بھئی، نیچے لکھ دیں: موجبہ کلیہ، موجبہ کلیہ شرطیہ متصلہ، موجبہ کلیہ شرطیہ متصلہ: "كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً"، "كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً"، "كُلَّمَا كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا"، "كَانَ النَّهَارُ مَوْجُودًا"۔ یہ کیا ہے؟ موجبہ کلیہ، تو اس کا عکس نقیض کیا آئے گا؟ وہ بھی موجبہ کلیہ آئے گا، تو نیچے لکھیے بھئی عکس نقیض بھئی۔ بنائیے بھئی، ایک میں طلوعِ آفتاب کا ذکر ہے تو اس کی نفی کر دو نقیض لے آؤ، اور دوسرے میں وجودِ نہار کا ذکر ہے تو اس کا بھی سلب کر دو۔ بنائیے لکھیے بھئی: "كُلَّمَا لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا"، "كُلَّمَا لَمْ يَكُنْ"، "كُلَّمَا لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا"، "كُلَّمَا لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا لَمْ تَكُنْ"، "لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً"، "لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً"۔ لکھ لیا بھئی؟ دیکھیے کیا بنا عکس نقیض: "كُلَّمَا لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً"۔
لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً۔ اصل میں کیا ذکر تھا؟ آفتاب کا طلوع ہونا، اور عکسِ نقیض میں کیا ہے؟ آفتاب کے طلوع کی نفی ذکر ہے، اور اصل کے اندر وجودِ نہار ذکر تھا، تو عکسِ نقیض میں وجودِ نہار کی نفی ذکر ہے۔ كُلَّمَا لَمْ يَكُنِ النَّهَارُ مَوْجُودًا، جب دن موجود نہیں ہوگا، تو لَمْ تَكُنِ الشَّمْسُ طَالِعَةً، تو آفتاب طلوع نہیں ہوگا۔ عجیب قوانین ہیں منطق کے بھئی۔ اب آپ جو بھی، کوئی بھی موضوع اور محمول لے آئیں دنیا کا، اور اس سے ایک قضیہ بنا لیں، لیکن بشرطیکہ وہ سچا ہو، یا آپ اس کو سچا فرض کر لیں، پھر آپ اس کا عکس بنائیں گے تو ضابطوں کے مطابق ٹھیک بنے گا، اور آپ اس کا عکسِ نقیض بنائیں گے وہ بھی ٹھیک بنے گا بھئی۔ اب کچھ مثالیں، دو تین مثالیں متاخرین کے طریقے کے مطابق بھی کر لیں بھئی۔
عکسِ نقیض متاخرین کے طریقے پر۔ متاخرین کا کیا طریقہ تھا؟ دونوں جزوں کی نقیض لاتے تھے یا صرف جزِ ثانی کی؟ صرف جزِ ثانی کی نقیض۔ اور نیز صدق کو تو برقرار رکھنا ہے، لیکن کیفیت کو بدلنا ہے، یعنی موجبہ کا عکسِ نقیض سالبہ آئے گا، اور سالبہ کا عکسِ نقیض موجبہ آئے گا۔ لکھیے بھئی۔ موجبہ کلیہ لکھیں بھئی، موجبہ کلیہ: كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ۔ بنائیے بھئی متاخرین کے طریقے کے مطابق۔ جی؟ كُلُّ لَا حَيَوَانٍ؟ بھئی وہ موجبہ ہے، آپ نے سالبہ بنانا ہے۔ ہاں، لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ۔ انسان کو اسی طرح رکھنا ہے، موضوع کی نقیض نہیں تیار کرنی۔ لَا شَيْءَ مِنَ اللَّا حَيَوَانِ بِإِنْسَانٍ۔ دوسری مثال لکھیے، سالبہ کلیہ: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِإِنْسَانٍ۔
اس کا عکسِ نقیض لکھیے بھئی، کیا آئے گا؟ بتائیے بھئی: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَجَرِ بِإِنْسَانٍ۔ جی؟ یہ سالبہ کلیہ ہے، تو اس کا عکس جو ہے متاخرین کے نزدیک جو ہے وہ موجبہ جزئیہ آئے گا۔ کیفیت کو بدلنا ہے، تو موجبہ جزئیہ آئے گا۔ موجبہ جزئیہ بنائیے بھئی۔ شاباش، بَعْضُ اللَّا إِنْسَانِ حَجَرٌ۔ موجبہ ہے اور جزئیہ ہے، کیفیت بدل دی بھئی۔ بَعْضُ اللَّا إِنْسَانِ حَجَرٌ۔ یہ کیا تھا؟ سالبہ کلیہ۔ اب بنائیے سالبہ جزئیہ۔ سالبہ جزئیہ: بَعْضُ الْحَجَرِ لَيْسَ بِإِنْسَانٍ۔ لکھ لیا؟ جی، اس کا عکسِ نقیض بنائیے متاخرین کے طریقے کے مطابق بھئی۔ یہ اب موجبہ جزئیہ آئے گا بھئی، کیونکہ یہ سالبہ ہے، تو موجبہ جزئیہ بنائیے بھئی۔ شاباش، بَعْضُ اللَّا إِنْسَانِ حَجَرٌ۔
نیچے لکھیے بھئی، متاخرین کے طریقے پر قضیہ حملیہ میں سے موجبہ کلیہ کا عکسِ نقیض سالبہ کلیہ ہے، اور موجبہ جزئیہ کا عکسِ نقیض نہیں آتا، اور سالبہ کلیہ و جزئیہ کا عکس النقیض موجبہ جزئیہ ہے۔ لکھ لیا بھئی؟ اور سالبہ کلیہ و جزئیہ کا عکس النقیض موجبہ جزئیہ ہے۔ لکھ لیا؟ جی، اب آئیے کتاب پر بھئی۔
شرح میں دیکھیے: قَوْلُهُ تَبْدِيلُ نَقِيضَيِ الطَّرَفَيْنِ۔ طرفین کی نقیضوں کو بدلنا، کیا معنی؟ شرح کر رہے ہیں: أَيْ جَعْلُ نَقِيضِ الْجُزْءِ الْأَوَّلِ مِنَ الْأَصْلِ جُزْءًا ثَانِيًا وَنَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا۔ یعنی بنا دینا نقیض الجزء الاول، جزِ اول کی نقیض کو من الاصل، کس میں سے؟ اصل۔ اصل میں سے جزِ اول کی نقیض کو بنا دینا جزءًا ثانیاً، کیا بنا دینا؟ جزِ ثانی۔ ونقیض الثانی اولاً، اور ثانی کی نقیض کو اول بنا دینا۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ قَوْلُهُ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ، أَيْ إِنْ كَانَ الْأَصْلُ صَادِقًا كَانَ الْعَكْسُ صَادِقًا۔ یعنی اگر اصل صادق ہو تو عکسِ نقیض بھی کیا ہو؟ صادق۔ قَوْلُهُ وَمَعَ بَقَاءِ الْكَيْفِ، أَيْ إِنْ كَانَ الْأَصْلُ مُوجَبًا كَانَ الْعَكْسُ مُوجَبًا وَإِنْ كَانَ سَالِبًا كَانَ سَالِبًا۔ یعنی اگر اصل موجبہ ہے تو عکس بھی کیا ہوگا؟ موجبہ ہوگا۔ وان کان سالباً، اور اگر اصل سالبہ ہے تو عکسِ نقیض بھی سالبہ ہوگا۔ مَثَلًا قَوْلُنَا، مثال کے طور پر ہمارا یہ قول: كُلُّ جَ بَ، ہر ج ب ہے۔ يَنْعَكِسُ بِعَكْسِ النَّقِيضِ إِلَى قَوْلِنَا، یہ منعکس ہوتا ہے عکسِ نقیض کے ساتھ ہمارے اس قول کی طرف: كُلُّ مَا لَيْسَ بَ لَيْسَ جَ۔ جو ب نہیں وہ ج نہیں۔ وَهَذَا طَرِيقُ الْقُدَمَاءِ، اور یہ قدماء کا طریقہ ہے۔
وَأَمَّا الْمُتَأَخِّرُونَ فَقَالُوا، اور باقی متاخرین جو ہیں تو وہ کہتے ہیں، إِنَّ عَكْسَ النَّقِيضِ، کہ عکسِ نقیض جو ہے، هُوَ جَعْلُ نَقِيضِ الْجُزْءِ الثَّانِي أَوَّلًا، وہ جزِ ثانی کی نقیض کو اول بنا دینا، وَعَيْنِ الْأَوَّلِ ثَانِيًا، اور عینِ اول کو ثانی بنا دینا۔ یعنی موضوع کی نقیض نہیں، عینِ موضوع کو کیا کر دینا؟ ثانی بنا دینا، یا عینِ مقدم کو تالی بنا دینا۔ مَعَ مُخَالَفَةِ الْكَيْفِ، ساتھ کیفیت کی مخالفت کے۔ أَيْ إِنْ كَانَ الْأَصْلُ مُوجَبًا كَانَ الْعَكْسُ سَالِبًا وَبِالْعَكْسِ، یعنی اصل اگر موجبہ ہو تو عکس سالبہ ہوگا، وبالعکس، اور اس کا برعکس ہے، یعنی اگر اصل سالبہ ہے تو عکسِ نقیض موجبہ ہوگا۔ وَيُعْتَبَرُ بَقَاءُ الصِّدْقِ كَمَا مَرَّ، اور بقائے صدق بھی معتبر ہے متاخرین کے نزدیک كما مر، جیسے کہ بات گزر گئی۔ فَقَوْلُنَا كُلُّ جَ بَ، پس ہمارا یہ قول: كُلُّ جَ بَ۔ بھئی پہلے بھی کیا بتایا تھا؟ كُلُّ جَ بَ۔ وہ قدماء کا طریقہ تھا اور وہاں عکسِ نقیض کیا آیا تھا؟ كُلُّ مَا لَيْسَ بَ لَيْسَ جَ۔ اب یہ متاخرین کا طریقہ ہے۔ تو کہتے ہیں: فَقَوْلُنَا كُلُّ جَ بَ يَنْعَكِسُ إِلَى قَوْلِنَا، یہ منعکس ہوتا ہے ہمارے اس قول کی طرف: لَا شَيْءَ مِمَّا لَيْسَ بَ جَ۔ لَا شَيْءَ، دیکھو سالبہ لے آئے، اور وہ موجبہ کلیہ تھا تو یہ سالبہ کلیہ۔ اور وہاں پر ب محمول تھا، تو مَا لَيْسَ بَ، اس کا عکس لے آئے یہاں پر۔ اور ج وہاں پر موضوع جیسا تھا ویسا ہی یہاں بھی برقرار رکھنا۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ لَا شَيْءَ مِمَّا لَيْسَ بَ جَ۔
وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يُصَرِّحْ بِقَوْلِهِمْ وَعَيْنِ الْأَوَّلِ ثَانِيًا لِلْعِلْمِ بِهِ ضِمْنًا۔ بھئی ذرا متن پر آئیے۔ متن میں آیا تھا: أَوْ جَعْلُ نَقِيضِ الثَّانِي أَوَّلًا۔ یا عکسِ نقیض یہ ہے کہ ثانی کی نقیض کو اول بنا دینا۔ متاخرین کا طریقہ بیان ہو رہا ہے، ثانی کی نقیض کو اول بنا دینا، اور ساتھ یہ نہیں کہا کہ عینِ اول کو ثانی بنا دو۔ عینِ اول کو ثانی بنا دو یہ نہیں کہا مصنف نے۔ کہتے ہیں بھئی کیونکہ یہ خود ہی ظاہر تھا۔ بھئی ایک تو یہ عکس ہے، جگہ تو ضرور بدلنی ہے۔ عکس ہے، جگہ تو ضرور بدلنی ہے۔ تو ثانی کی تو نقیض چاہیے تھی، وہ تو ذکر کر دی۔ اول کی چونکہ نقیض نہیں چاہیے لہٰذا اس کو ذکر نہیں کیا۔ تو جب ثانی کی نقیض کو مقدم کریں گے تو اصل جو عین ہے وہ خود بخود کیا ہو جائے گا؟ وہ خود مؤخر ہو جائے گا۔ اسی سے پتہ چل گیا، ضمناً پتہ چل گیا، لہٰذا صاف لفظوں میں ذکر نہیں کیا۔ کہتے ہیں: وَالْمُصَنِّفُ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يُصَرِّحْ بِقَوْلِهِمْ، مصنف نے متاخرین کے اس قول کی تصریح نہیں کی، کون سے قول کی؟ کہ وَعَيْنِ الْأَوَّلِ ثَانِيًا، کہ عینِ اول کو ثانی بنا دینا، اس کی تصریح نہیں کی یعنی اس کو صاف لفظوں میں ذکر نہیں کیا۔ کہتے ہیں: لِلْعِلْمِ بِهِ ضِمْنًا، کیونکہ یہ ضمناً معلوم ہو جاتا ہے۔
وَلَا بِاعْتِبَارِ بَقَاءِ الصِّدْقِ، بھئی یاد رکھیے، متاخرین کے نزدیک بھی بقائے صدق معتبر ہے۔ اگر اصل صادق ہو تو عکسِ نقیض بھی کیا ہونا چاہیے؟ صادق۔ لیکن اس کو بھی ذکر نہیں کیا۔ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ بقائے صدق پیچھے ذکر ہو چکا تھا۔ قدماء کے نزدیک بقائے صدق جب ضروری ہے، تو متاخرین میں ذکر نہیں کیا، معلوم ہوا وہاں بھی بقائے صدق معتبر ہے۔ جس چیزوں میں فرق تھا وہ بیان کر دیا، تو باقی چیزوں میں فرق نہیں ہے، معلوم ہوا وہاں بقائے صدق تھا تو یہاں بھی کیا ہوگا؟ بقائے صدق ہوگا۔ کہتے ہیں: وَلَا بِاعْتِبَارِ بَقَاءِ الصِّدْقِ فِي التَّعْرِيفِ الثَّانِي، اور نیز بقائے صدق کا معتبر ہونے کو بھی ذکر نہیں کیا دوسری تعریف میں، لِذِكْرِهِ سَابِقًا، اس وجہ سے کہ وہ سابق میں ذکر ہو چکا تھا یعنی ماقبل میں ذکر ہو چکا تھا، فَحَيْثُ لَمْ يُخَالِفْهُ فِي هَذَا التَّعْرِيفِ، تو پس چونکہ بقائے صدق وہ مخالف نہیں ہے اس تعریف میں، اس تعریف میں بقائے صدق تھا تو اس تعریف میں بھی بقائے صدق کا جو اعتبار ہے اس کے مخالف نہیں ہے، عُلِمَ اعْتِبَارُهُ هَاهُنَا أَيْضًا، تو اس کا معتبر ہونا بھی یہاں پر معلوم ہو گیا۔ جب وہاں معتبر تھا اور یہاں ذکر نہیں کیا، معلوم ہوا یہاں پر بھی وہ معتبر ہے۔ اگر مخالف ہوتا تو ذکر کر دیتے بھئی یہاں پر۔ جن چیزوں میں مخالفت تھی اس کو ذکر کر دیا انہوں نے، کہ کیفیت میں بھی مخالفت ہے، اور نیز نقیض صرف کس کی لینی ہے؟ جزِ ثانی کی لینی ہے، یہ بھی ذکر کر دیا۔ معلوم ہوا باقی چیزوں میں مخالفت نہیں ہے تو ان کو ذکر نہیں کیا، تو وہ یہاں خود ہی پتہ چل گیا کہ وہ یہاں معتبر ہیں۔
ثُمَّ أَنَّهُ بَيَّنَ أَحْكَامَ عَكْسِ النَّقِيضِ عَلَى طَرِيقَةِ الْقُدَمَاءِ، پھر مصنف نے بیان کیا کس چیز کو؟ عکسِ نقیض کے احکام کو، عَلَى طَرِيقَةِ الْقُدَمَاءِ، کس طریقے پر؟ قدماء کے طریقے پر۔ إِذْ فِيهِ غُنْيَةٌ لِطَالِبِ الْكَمَالِ، اس لیے کیونکہ اس میں کفایت ہے طالبِ کمال کے لیے۔ جو کمال حاصل کرنا چاہتا ہے، منطق میں مہارت حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کے لیے یہ قدماء کا طریقہ کافی ہے۔ اس کے لیے قدماء کا طریقہ کافی ہے، لہٰذا اس کو متاخرین کے طریقے کی حاجت نہیں، لہٰذا صرف قدماء ہی کے طریقے کو ذکر کر دیا۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں: إِذْ فِيهِ غُنْيَةٌ لِطَالِبِ الْكَمَالِ، اس لیے کیونکہ اس کے اندر کفایت ہے طالبِ کمال کے لیے، یعنی یہ کافی ہے طالبِ کمال کے لیے، وہ طالب علم جو علمِ منطق میں کمال حاصل کرنا چاہتا ہے اس کے لیے یہ کافی ہے۔ یا یوں ترجمہ کر لیں، غنیٰ کا ترجمہ بے نیازی کے کر لیں: إِذْ فِيهِ غُنْيَةٌ، اس میں بے نیازی ہے طالبِ کمال کے لیے۔ یعنی یہ قدماء کا طریقہ سیکھ لو تو یہ آپ کو بے نیاز کر دیتا ہے متاخرین کے طریقے سے، اس کی حاجت نہیں رہتی۔
وَتَرَكَ مَا أَوْرَدَهُ الْمُتَأَخِّرُونَ، اور مصنف نے چھوڑ دیا وہ جو متاخرین لائے ہیں، متاخرین نے ذکر کیا ہے۔ وہ عکسِ نقیض کا طریقہ جو متاخرین لائے ہیں اس کو مصنف نے چھوڑ دیا۔ تو کہتے ہیں: وَتَرَكَ مَا أَوْرَدَهُ الْمُتَأَخِّرُونَ، اور چھوڑ دیا مصنف نے اس چیز کو جو متاخرین لے کر آئے ہیں، یعنی عکسِ نقیض کا وہ طریقہ، إِذْ تَفْصِيلُ الْقَوْلِ فِيهِ، اس لیے کیونکہ اس میں قول کی تفصیل کرنا، وَفِيمَا فِيهِ، اور جو اس کے اندر ہے، وَفِيمَا فِيهِ، اور جو کچھ اس میں ہے، کیونکہ اس کے اندر قول کی تفصیل کرنا، اور جو کچھ اس میں ہے یعنی اس میں جو اعتراض ہوتے ہیں، مراد کیا ہے؟ کیونکہ اس میں قول کی تفصیل کرنا اور پھر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں ان کی تفصیل کرنا، لَا يَسَعُهُ الْمَجَالُ، اس جولان گاہ میں اس کی گنجائش نہیں۔ اس جولان گاہ میں اس کی گنجائش نہیں۔ مجال جو ہے اسمِ ظرف ہے۔ جَالَ يَجُولُ کا معنی ہوتا ہے گھومنا، مجال گھومنے کی جگہ، گھومنے کی جگہ۔ تو یہ جو مجال ہے، یعنی یہ جو گھومنے کی جگہ ہے، یہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ یعنی قدماء کے جو طریقے کی تفصیلات ہیں اور ان پر پھر جو اعتراضات وارد ہوتے ہیں، یہ جو گھومنے والی جگہ ہے یہ اس کا احاطہ نہیں کر سکتی۔ بھئی یہ کتاب، یہ مبتدی طلباء کے لیے ہے یا منتہی طلباء کے لیے؟ یہ مبتدی طلباء کے لیے ہے۔ تو مجھے بتائیے، ایک ہے مبتدی طلباء کی بحثیں جو ان کے سامنے رکھی جائیں، اور ایک ہے جو منتہی طلباء کے سامنے رکھی جائیں، کس کا دائرہ بڑا ہوگا؟ ظاہر سی بات ہے منتہی طلباء کو جو ہے ان کو مشکل مشکل بحثیں کروائی جائیں گی، مبتدی طلباء کو تو مشکل بحثیں نہیں کروائی جاتیں۔ تو یوں کہو، مبتدی طلباء کا جو مجال ہے، ان کے جو جولان گاہ ہے جو ان کے گھومنے کی جگہ ہے، وہ چھوٹی ہے۔ اور منتہی طلباء کی جولان گاہ کیا ہے؟ بڑی ہے، وہاں آپ ہر طرح کی بحثیں کر سکتے ہیں۔ تو یہ مبتدی طلباء کی گھومنے کی جگہ ہے، اس میں اتنی گنجائش نہیں کہ ان بحثوں کو اور ان کے اعتراضات کا احاطہ کر لے، ان کو اپنے گھیرے میں لے لے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ عربی میں کہتے ہیں: يَسَعُ الشَّيْءُ الشَّيْءَ، جب ایک چیز دوسری چیز کو اپنے گھیرے میں لے لے، ایک چیز دوسری چیز کو اپنے احاطے میں لے لے، تو کہتے ہیں: يَسَعُ الشَّيْءُ الشَّيْءَ، اس چیز نے اس چیز کو کیا کر لیا؟ اپنے گھیرے میں لے لیا۔ تو کیا کہہ رہے ہیں؟ لَا يَسَعُهُ الْمَجَالُ، کہ اس کو گھیرے میں نہیں لے سکتا یہ والا مجال، یہ جولان گاہ ان کا احاطہ نہیں کر سکتی، ان بحثوں کو اپنے گھیرے میں نہیں لے سکتی۔ وہ مشکل بحثیں ہیں، یہاں اگر ہم بیان کریں گے تو طلباء ان کو نہیں سمجھ سکیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں: وَتَرَكَ مَا أَوْرَدَهُ الْمُتَأَخِّرُونَ إِذْ تَفْصِيلُ الْقَوْلِ فِيهِ وَفِيمَا فِيهِ لَا يَسَعُهُ الْمَجَالُ، اور چھوڑ دیا عکسِ نقیض کا وہ طریقہ جو متاخرین لے کر آئے ہیں، کیونکہ اس کے اندر قول کی تفصیل بیان کرنا اور اس میں جو اعتراضات ہوتے ہیں، لَا يَسَعُهُ الْمَجَالُ، یہ جولان گاہ ان کا احاطہ نہیں کر سکتی۔
قَوْلُهُ هَاهُنَا أَيْ فِي عَكْسِ النَّقِيضِ۔ بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ وَحُكْمُ الْمُوجَبَاتِ هَاهُنَا، موجبات کا حکم یہاں پر، حُكْمُ السَّوَالِبِ فِي الْمُسْتَوِي، وہی ہے جو سوالب کا حکم تھا مستوی میں۔ تو یہاں ہاہنا سے کیا مراد ہے؟ یہاں، کہتے ہیں: أَيْ فِي عَكْسِ النَّقِيضِ، عکسِ نقیض بھئی، اس میں۔ قَوْلُهُ فِي الْمُسْتَوِي، یعنی کما ان السالبۃ، اب وہ پوری بحث کریں گے۔ کیا کریں گے؟ پوری بحث کریں گے، بیان کریں گے۔ وہاں موجبات کا کیا حکم تھا، وہی حکم یہاں سالبات کا ہے، اور وہاں جو سالبات کا حکم تھا، وہی حکم یہاں موجبات کا ہے۔ اب پوری تفصیل بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: قَوْلُهُ فِي الْمُسْتَوِي۔ تو عکسِ نقیض میں یہ پہلے موجبات کو ذکر کر رہے ہیں، یہ شرح کے اندر موجبات، اور عکسِ نقیض موجبات کا وہی حکم ہے جو عکسِ مستوی میں سوالب کا حکم تھا، تو دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: قَوْلُهُ فِي الْمُسْتَوِي، يَعْنِي كَمَا أَنَّ السَّالِبَةَ الْكُلِّيَّةَ تَنْعَكِسُ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي كَنَفْسِهَا، یعنی جیسے سالبہ کلیہ منعکس ہوتا تھا عکسِ مستوی میں کنفسہا، اپنے ہی جیسے کی طرف۔ یعنی سالبہ کلیہ کا عکس اپنے ہی جیسا آتا تھا، اپنی ہی ذات جیسا یعنی سالبہ کلیہ ہی آتا تھا۔ وَالْجُزْئِيَّةَ لَا تَنْعَكِسُ، اور سالبہ جزئیہ منعکس وہاں نہیں ہوتا تھا اصلاً، سرے سے ہی۔ وَالْجُزْئِيَّةَ لَا تَنْعَكِسُ أَصْلًا، اور جیسے کہ سالبہ جزئیہ جو ہے وہ منعکس ہوتا ہی نہیں تھا قطعی طور پر، یعنی وہاں پر، وہاں پر۔ کہتے ہیں: كَذَلِكَ الْمُوجَبَةُ الْكُلِّيَّةُ فِي عَكْسِ النَّقِيضِ تَنْعَكِسُ كَنَفْسِهَا، تو اسی طرح موجبہ کلیہ جو ہے وہ عکسِ نقیض میں وہ منعکس ہوتا ہے کنفسہا، اپنے ہی جیسے کی طرف۔ یعنی وہاں سالبہ کلیہ کا عکس سالبہ کلیہ آتا تھا، تو یہاں موجبہ کلیہ کا عکس موجبہ کلیہ آتا ہے۔ اور وہاں سالبہ جزئیہ کا عکس نہیں آتا تھا، یہاں موجبہ جزئیہ کا عکس نہیں آئے گا۔ دیکھیے: وَالْجُزْئِيَّةُ لَا تَنْعَكِسُ أَصْلًا، اور یہاں پر جزئیہ یعنی موجبہ جزئیہ وہ منعکس ہوتا ہی نہیں قطعی طور پر، لِصِدْقِ قَوْلِنَا، بوجہ صادق آنے ہمارے اس قول کے: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ۔ بعض حیوان کیا ہیں؟ لا انسان ہیں۔ صادق ہے یا نہیں؟ بعض حیوان کیا ہیں؟ لا انسان ہیں، گائے، بیل، بکری ہیں بھئی، وہ لا انسان ہیں۔ وَكَذِبِ، اور اس کے جھوٹا ہونے کی وجہ سے کہ بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَا حَيَوَانٌ۔ بھئی موجبہ جزئیہ کا عکس بنا رہے ہیں۔ وہاں سالبہ جزئیہ کا عکس نہیں آتا تھا، یہاں موجبہ جزئیہ کا عکس نہیں۔ اب موجبہ جزئیہ کا عکس موجبہ جزئیہ ہی بنا رہے ہیں اور آپ دیکھیے، اصل تو صادق ہے، لیکن عکسِ نقیض صادق نہیں۔ کہتے ہیں: لِصِدْقِ قَوْلِنَا، ہمارے اس قول کے صادق ہونے کی وجہ سے: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ، یہ تو صادق آ رہا ہے یعنی اصل جو ہے، موجبہ جزئیہ۔ وَكَذِبِ بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَا حَيَوَانٌ، اس کے کاذب ہونے کی وجہ سے، کون سا؟ یہ جو عکسِ نقیض ہے: بَعْضُ الْإِنْسَانِ۔ کیا کیا؟ ادھر حیوان تھا، عکسِ نقیض میں کیا لے آئے؟ لا حیوان۔ ادھر لا انسان تھا، عکسِ نقیض میں کیا لے آئے؟ انسان۔ اور جگہ بدل دی تو کیا بن گیا؟ بَعْضُ الْإِنْسَانِ لَا حَيَوَانٌ۔ بعض انسان کیا ہیں؟ لا حیوان۔ مجھے بتائیے، بعض انسان لا حیوان ہیں؟ نہیں، تو دیکھا، اصل تو صادق آ رہا ہے لیکن عکسِ نقیض صادق نہیں آتا۔ معلوم ہوا موجبہ جزئیہ کا عکسِ نقیض نہیں آتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو بات یہ کس کی چل رہی ہے؟ عکسِ نقیض میں جو موجبہ ہیں ان کی بات چل رہی ہے، لیکن ان کا وہی حکم ہے جو کس کا تھا؟ جو عکسِ مستوی میں سوالب کا حکم تھا۔ اور عکسِ مستوی سوالب کے اندر آپ نے پڑھا تھا کہ نو موجہات ہیں جن کا عکسِ مستوی نہیں آتا۔ آخر میں آیا تھا۔ نو موجہات جو ہیں ان کا عکس نہیں آتا، جب وہ سوالب ہوں تو عکسِ مستوی نہیں آتا۔ معلوم ہوا عکسِ نقیض میں جب وہ موجبہ ہوں گے وہی نو موجہات، تو ان کا عکسِ نقیض نہیں آئے گا۔ دیکھیے، یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ تِسْعٌ مِنَ الْمُوَجَّهَاتِ، اور اسی طرح ہیں نو موجہات، أَعْنِي الْوَقْتِيَّتَيْنِ الْمُطْلَقَتَيْنِ، وَالْوَقْتِيَّتَيْنِ، وَالْوُجُودِيَّتَيْنِ، وَالْمُمْكِنَتَيْنِ، وَالْمُطْلَقَةَ الْعَامَّةَ لَا تَنْعَكِسُ، وَالْبَوَاقِي تَنْعَكِسُ عَلَى مَا سَبَقَ تَفْصِيلُهُ فِي السَّوَالِبِ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي۔ تو کہتے ہیں اسی طرح نو موجہات جو ہیں ان کا عکس نہیں آتا۔ میری مراد دو وقتیہ مطلقہ ہیں۔ وقتیہ مطلقہ سے کون سے مراد؟ وقتیہ مطلقہ اور منتشرہ مطلقہ۔ والوقتیتین، وقتیتین سے کیا مراد؟ وقتیہ اور منتشرہ۔ اور وجودیتین سے کیا مراد؟ وجودیہ لا دائمہ اور وجودیہ لا ضروریہ۔ والمطلقۃ العامۃ، اور اسی طرح جو مطلقہ عامہ ہے، یہ نو جو ہیں لَا تَنْعَكِسُ، ان کا، یہ جب موجبہ ہوں، تو ان کا عکس نہیں آتا یعنی عکسِ نقیض نہیں آتا۔ وَالْبَوَاقِي تَنْعَكِسُ، اور باقی جو ہیں چھ، ان کا عکس آتا ہے یعنی عکسِ نقیض آتا ہے، عَلَى مَا سَبَقَ تَفْصِيلُهُ فِي السَّوَالِبِ، بناء پر اس کے جو تفصیل گزر گئی فِي السَّوَالِبِ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي، وہ جو سوالب تھے کس کے اندر؟ عکسِ مستوی میں۔
قَوْلُهُ وَبِالْعَكْسِ، مصنف کا قول اور بالعکس بھی۔ ادھر دیکھیے، جو عکسِ نقیض تھے موجبات، ان کا بیان گزر گیا۔ وہ موجبات کس کی طرح ہیں؟ عکسِ مستوی کے سوالب کی طرح۔ اب عکسِ نقیض کے جو سوالب ہیں وہ کس کی طرح ہیں؟ وہ عکسِ مستوی کے موجبات کی طرح ہیں، اب وہ بیان کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: قَوْلُهُ وَبِالْعَكْسِ، أَيْ حُكْمُ السَّوَالِبِ هَاهُنَا حُكْمُ الْمُوجَبَاتِ فِي الْمُسْتَوِي۔ یعنی سوالب کا حکم یہاں پر وہ موجبات کا حکم ہے مستوی میں، یعنی ان کی طرح ہے۔ فَكَمَا أَنَّ الْمُوجَبَةَ فِي الْمُسْتَوِي لَا تَنْعَكِسُ إِلَّا جُزْئِيَّةً، تو جیسے موجبہ جو ہے وہ مستوی کے اندر وہ منعکس نہیں ہوتا تھا مگر جزئیہ کی طرف۔ یعنی موجبہ کلیہ ہو یا موجبہ جزئیہ، دونوں کا عکس کیا آتا تھا؟ موجبہ جزئیہ آتا تھا۔ تو یہاں پر بھی عکسِ نقیض میں جو سالبہ کلیہ اور سالبہ جزئیہ ہوگا دونوں کا عکس کیا آئے گا؟ سالبہ جزئیہ آئے گا۔ فَكَذَلِكَ السَّالِبَةُ هَاهُنَا لَا تَنْعَكِسُ إِلَّا جُزْئِيَّةً، تو اسی طرح سالبہ یہاں پر وہ منعکس نہیں ہوگا مگر جزئیہ کی طرف۔ یعنی چاہے سالبہ کلیہ ہو، چاہے سالبہ جزئیہ ہو، اس کا عکسِ نقیض جزئیہ آئے گا۔ لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ نَقِيضُ الْمَحْمُولِ فِي السَّالِبَةِ أَعَمَّ مِنَ الْمَوْضُوعِ، اس لیے کیونکہ جائز ہے کہ محمول کی نقیض سالبہ کے اندر وہ موضوع سے زیادہ عام ہو۔ موضوع سے زیادہ عام ہو۔ جی، یہ ایک دو مثالیں لکھیے پھر آپ کو بات سمجھ میں آئے گی۔
لکھیے بھئی: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ اس کے نیچے لکھیے: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ۔ پہلا کیا لکھا؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ دوسرا لکھیں: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ۔ اب آپ کو بتائیں گے، یہ جو پہلا ہے یہ ہے صادق، توجہ ہے؟ یہ کتاب میں آپ کو بتائیں گے، یہیں سمجھ لیں۔ آپ کو کتاب میں بتائیں گے شرح کے اندر کہ یہ جو پہلا ہے یہ صادق آ رہا ہے۔ لیکن یہ جو دوسرا ہے: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ، یہ صادق نہیں۔ یہ کیوں نہیں صادق؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اس کی نقیض صادق آتی ہے۔ اس کی نقیض صادق آتی ہے۔ ذرا نقیض نکالو: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ۔ موجبہ ہے سالبہ ہے؟ سالبہ ہے۔ جزئیہ ہے کلیہ ہے؟ کلیہ، تو یہ سالبہ کلیہ ہوا۔ اور سالبہ کلیہ کی نقیض کیا آتی ہے؟ نقیض، نقیض، کیفیت بھی بدلنی ہے، مقدار بھی بدلنی ہے، جہت بھی بدلتے ہیں۔ سالبہ کلیہ، اس کی نقیض کیا آئے گی؟ موجبہ جزئیہ۔ موجبہ جزئیہ بنائیے، موضوع کو موضوع رکھیں، محمول کو محمول رکھیں، موجبہ جزئیہ بنائیے۔ ہاں، بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ۔ یہ نقیض آ گئی۔ لکھیے بھئی: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ۔ یہ نقیض ہے، کس کی؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ، اس کی یہ نقیض ہے۔ اور یہ صادق ہے یا نہیں: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ؟ بعض حیوان کیا ہیں؟ لا انسان ہیں، یہ نقیض صادق ہے۔ اور آپ نے پڑھا ہے اجتماع نقیضین تو نہیں ہو سکتا، جب نقیض صادق تو اصل یعنی لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ وہ کاذب ہوگا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
اب دیکھیے بھئی: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ موضوع کیا؟ انسان۔ محمول کیا؟ لا حیوان۔ اس لا حیوان کی نقیض ذرا نکالو۔ کیا؟ حیوان آ گیا۔ اور یہ حیوان موضوع سے اعم ہے یا نہیں؟ موضوع کیا ہے؟ انسان۔ تو محمول کی نقیض جو ہے وہ موضوع سے اعم ہو سکتی ہے، اور اس صورت میں پھر اس کا عکس نہیں آتا۔ جیسے آپ نے وہاں پر پڑھا تھا، کیا آیا تھا وہاں متن میں؟ انہوں نے کہا تھا، دیکھیے وہ متن نکالیے: فَصْلٌ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي۔ انہوں نے کہا تھا: الْعَكْسُ الْمُسْتَوِي تَبْدِيلُ طَرَفَيِ الْقَضِيَّةِ مَعَ بَقَاءِ الصِّدْقِ وَالْكَيْفِ۔ متن مل گیا بھئی؟ جہاں عکسِ مستوی کی فصل شروع ہوئی تھی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُوجَبَةُ إِنَّمَا تَنْعَكِسُ جُزْئِيَّةً، موجبہ کا عکس جزئیہ آتا ہے، کیوں؟ لِجَوَازِ عُمُومِ الْمَحْمُولِ، اس لیے کیونکہ جائز ہے کہ اس کا محمول عام ہو۔ اس کا محمول عام ہو، كُلُّ إِنْسَانٍ حَيَوَانٌ، یہ حیوان کیا ہے؟ انسان سے عام ہے۔ تو اگر آپ اس کا عکس کیا بنائیں، کلیہ ہی بنائیں تو کیا بنے گا؟ كُلُّ حَيَوَانٍ إِنْسَانٌ، وہ تو صادق نہیں رہے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہاں بھی یہی دلیل دے رہے ہیں، کہ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ، جو ابھی آپ نے لکھا ذرا اس پہ اب دیکھیں: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ یہاں ہم عکسِ نقیض تیار کریں گے، اور عکسِ نقیض میں لا حیوان کی جگہ کیا آ جائے گا؟ حیوان، اور حیوان جو ہے یہ اس وقت جو موضوع ہے انسان سے زیادہ عام ہے، اور جب یہ اس سے زیادہ عام ہے تو معلوم ہوا اس کا عکس کلیہ نہیں آ سکتا، توجہ ہے؟ اس کا عکس کلیہ، عکسِ نقیض کلیہ نہیں آ سکتا۔ چنانچہ آپ نے نیچے نکالا بھی: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ، اوپر والا بھی کلیہ اور اس کا عکسِ نقیض بھی کیا نکالا؟ کلیہ، اور وہ صادق نہیں آ رہا، کیونکہ محمول کی نقیض کیا ہے؟ اعم ہے کس کے مقابلے میں؟ موضوع کے، کیونکہ محمول کی نقیض وہ اعم ہے کس کے مقابلے میں؟ عینِ موضوع کے مقابلے میں۔ پھر دیکھو: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ، عینِ موضوع کیا؟ انسان۔ اور محمول کیا؟ لا حیوان۔ اس لا حیوان کی نقیض نکالو: حیوان۔ تو دیکھو، کہتے ہیں دلیل یہ کہ اصل کے اندر جو محمول کی نقیض ہے، وہ عینِ اول سے اعم ہو سکتی ہے۔ عینِ اصل سے، تو یہ حیوان یہ عینِ موضوع یعنی انسان سے زیادہ عام ہے۔ جب یہ زیادہ عام ہے تو اس کا عکسِ نقیض کلیہ نہیں آ سکتا۔ چنانچہ اسی لیے لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ جو اس کا عکسِ نقیض بنایا وہ صادق نہیں، کیونکہ اس کی نقیض بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ صادق آ رہی ہے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی: لِجَوَازِ، اس لیے کیونکہ یہ جائز ہے، أَنْ يَكُونَ نَقِيضُ الْمَحْمُولِ فِي السَّالِبَةِ، یہ سالبہ بنایا ہم نے یا موجبہ؟ سالبہ، سالبہ کی بات چل رہی ہے۔ اس لیے کیونکہ جائز ہے یعنی ممکن ہے کہ محمول کی نقیض سالبہ میں، أَعَمَّ مِنَ الْمَوْضُوعِ، وہ زیادہ عام ہو کس کے مقابلے میں؟ موضوع، موضوع کہا، نقیضِ موضوع نہیں کہا، زیادہ عام ہو۔ وَلَا يَجُوزُ سَلْبُ نَقِيضِ الْأَخَصِّ مِنْ عَيْنِ الْأَعَمِّ كُلِّيًّا، اور جائز نہیں ہے کہ اخص کی نقیض اس کی نفی کر دی جائے عینِ اعم سے کلی طور پر۔ جائز نہیں، یہ جو ہم نے نقیض نکالی تھی ذرا پھر آؤ وہ جو میں نے لکھوایا۔ پہلا کیا لکھا؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ اس کا عکسِ نقیض ہم کلی بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کیا بنایا؟ لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ۔ اب دیکھو، ان میں سے اخص کون تھا؟ انسان۔ اس کی نقیض کا سلب کر رہے ہیں، دیکھو لا انسان کا سلب کر رہے ہیں، کیونکہ لَا شَيْءَ پیچھے آ رہا ہے۔ تو لَا شَيْءَ کے ذریعے ہم کیا کر رہے ہیں؟ لا انسان یعنی وہ جو اخص کی نقیض ہے اس کی نفی کر رہے ہیں، مِنْ عَيْنِ الْأَعَمِّ، کس سے؟ عینِ اعم سے، یعنی حیوان سے، کلی طور پر، دیکھو لَا شَيْءَ ہے، اور کلی طور پر یہ سلب نہیں ہو سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: وَلَا يَجُوزُ سَلْبُ نَقِيضِ الْأَخَصِّ مِنْ عَيْنِ الْأَعَمِّ كُلِّيًّا، اور جائز نہیں ہے کہ اخص کی نقیض کی نفی کر دی جائے عینِ اعم سے کلی طور پر۔ عینِ اعم کیا ہے؟ حیوان، حیوان، اس سے نفی کر دی جائے یہ درست نہیں۔
مَثَلًا، مثال کے طور پر، يَصِحُّ، یہ تو صحیح ہے کہ لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ۔ یہ وہ جو میں نے پہلا قضیہ آپ کو ابھی لکھوایا کہ یہ صادق ہے: لَا شَيْءَ مِنَ الْإِنْسَانِ بِلَا حَيَوَانٍ، کوئی بھی انسان وہ لا حیوان نہیں ہے۔ وَلَا يَصِحُّ، لیکن یہ صحیح نہیں ہے: لَا شَيْءَ مِنَ الْحَيَوَانِ بِلَا إِنْسَانٍ۔ یہ جو دوسرا میں نے قضیہ لکھوایا، یہ عکسِ نقیض نکالا، یہ صحیح نہیں۔ کیوں نہیں صحیح؟ کہتے ہیں: لِصِدْقِ بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ، اس وجہ سے کہ بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ صادق آ رہا ہے جو اس کی نقیض ہے۔ اور جب نقیض صادق آئی معلوم ہوا اصل صادق نہیں آ سکتا۔ تو یہ صادق ہے، بھئی کس طرح یہ صادق ہے؟ ادھر دیکھیے: بَعْضُ الْحَيَوَانِ لَا إِنْسَانٌ، بعض حیوان کیا ہیں؟ لا انسان ہیں۔ کہتے ہیں: كَالْفَرَسِ، جیسے گھوڑا، فرس ہے، یہ حیوان تو ہے لیکن لا انسان ہے بھئی۔
وَكَذَلِكَ بِحَسَبِ الْجِهَةِ، اور اسی طرح ہے جہت کے اعتبار سے بھی۔ یہ بیان کس کا چل رہا ہے؟ عکسِ نقیض کے سوالب کا، اور ان کا وہی حکم ہے جو عکسِ مستوی کے موجبات کا حکم تھا۔ اور موجبات میں کیا پڑھا تھا آپ نے؟ کہ دائمتاں اور عامتاں کا عکس کیا آتا ہے؟ حینیہ مطلقہ آتا ہے۔ اور خاصتاں کا عکس حینیہ لا دائمہ آتا ہے، یہاں سالبہ میں اسی طرح آئے گا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ بِحَسَبِ الْجِهَةِ، اور اسی طرح جہت کے اعتبار سے، الدَّائِمَتَانِ وَالْعَامَّتَانِ تَنْعَكِسُ حِينِيَّةً مُطْلَقَةً، دائمتاں اور عامتاں جو ہیں وہ منعکس ہوتے ہیں حینیہ مطلقہ کی طرف۔ وَالْخَاصَّتَانِ حِينِيَّةً لَا دَائِمَةً، اور خاصتاں وہ منعکس ہوتے ہیں حینیہ لا دائمہ کی طرف۔ وَالْوَقْتِيَّتَانِ وَالْوُجُودِيَّتَانِ وَالْمُطْلَقَةُ الْعَامَّةُ مُطْلَقَةً عَامَّةً، اور یہ دو وقتیہ جو ہیں، یعنی وقتیہ اور منتشرہ، اور اسی طرح دو وجودیہ جو ہیں، اور اسی طرح مطلقہ عامہ، یہ سب منعکس ہوتے ہیں مطلقہ عامہ کی طرف۔ وَلَا عَكْسَ لِلْمُمْكِنَتَيْنِ عَلَى قِيَاسِ الْعَكْسِ فِي الْمُوجَبَاتِ، اور اسی طرح ممکنتاں کا عکس نہیں آتا، عَلَى قِيَاسِ الْعَكْسِ فِي الْمُوجَبَاتِ، قیاس کرتے ہوئے کس پر؟ موجبات کے عکس پر۔ یعنی یہ سارے موجہات جو ہیں، جو وہاں، یہاں سوالب کا بیان چل رہا ہے، اور وہاں جو موجبات کے اندر جن کا عکس آتا تھا ان کا عکس یہاں آئے گا، اور جن کا عکس نہیں آتا تھا ان کا عکس یہاں نہیں آئے گا۔ تو یہ انہی پر قیاس کرتے ہوئے ہے۔ یہ معنی ہے: عَلَى قِيَاسِ الْعَكْسِ فِي الْمُوجَبَاتِ، موجبات کے عکس پر قیاس کرتے ہوئے۔
آگے دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: قَوْلُهُ وَالْبَيَانُ الْبَيَانُ، بیان، یعنی وہ جو دلائل، جو دلیلوں کا بیان تھا۔ وہاں اپنے دعوے کے اثبات کے لیے کیا دلیل ذکر کی گئی؟ دلیلِ خلف۔ تو جیسے وہاں پر دلیلِ خلف ذکر کی گئی دعووں کے اثبات کے لیے، اسی طرح یہاں پر بھی دعووں کے اثبات کے لیے وہی دلیلِ خلف ہے بھئی۔ یعنی البیان البیان، وہ جو وہاں پر دلیل کا بیان تھا، وہی یہاں پر بھی عکسِ نقیض کے اندر بھی دلیل کا بیان ہے۔ يَعْنِي كَمَا أَنَّ الْمَطَالِبَ الْمَذْكُورَةَ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي كَانَتْ تَثْبُتُ بِالْخُلْفِ الْمَذْكُورِ فَكَذَا هَاهُنَا، یعنی جیسے کہ المطالب المذکورہ، وہ مذکورہ مطالب جو ہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مطلوب دعوے ہی کو کہتے ہیں۔ دعوے کا دوسرا نام کیا؟ مطلوب، کیونکہ اس کا اثبات کیا جاتا ہے، وہ مطلوب ہوتا ہے اس کا اثبات دلیل کے ذریعے۔ تو جو دعوے تھے پیچھے، ان کو ثابت کرنے کے لیے کون سی دلیل ذکر کی گئی؟ دلیلِ خلف۔ تو یہاں پر بھی دعووں کے اثبات کے لیے کون سی دلیل ذکر کی جاتی ہے؟ دلیلِ خلف۔ تو یہ مطالب جمع ہے اسی مطلوب کی۔ يَعْنِي كَمَا أَنَّ الْمَطَالِبَ الْمَذْكُورَةَ فِي الْعَكْسِ الْمُسْتَوِي، یعنی وہ جو دعوے مذکور تھے عکسِ مستوی میں، كَانَتْ تَثْبُتُ بِالْخُلْفِ الْمَذْكُورِ، جیسے وہ ثابت ہوتے تھے اس دلیلِ خلف کے ذریعے المذکور جو ذکر کی گئی، فَكَذَا هَاهُنَا، تو یہاں بھی اسی طرح ہے، یعنی یہاں پر بھی ان دعووں کے اثبات کے لیے دلیلِ خلف ذکر کی جاتی ہے۔
قَوْلُهُ وَالنَّقْضُ النَّقْضُ، اور یہاں جو نقض ہے وہ وہی نقض ہے جو کس کے اندر تھا؟ عکسِ مستوی میں۔ کیا معنی نقض؟ کہتے ہیں: أَيْ مَادَّةُ التَّخَلُّفِ هَاهُنَا هِيَ مَادَّةُ التَّخَلُّفِ ثَمَّةَ، یعنی یہاں پر جو مادہ تخلف ہے، عکسِ نقیض میں جو مادہ تخلف ہے جہاں عکس صادق نہیں آتا، هِيَ مَادَّةُ التَّخَلُّفِ ثَمَّةَ، یہ وہ مادہ تخلف ہے وہاں پر۔ ثَمَّةَ کا معنی ہے وہاں، وہاں۔ یعنی یہاں پر نقض کا وہی بیان ہے جو وہاں پر نقض کا بیان تھا۔ یعنی یہاں پر جن مادوں کے اندر عکس صادق نہیں آتا، وہاں پر بھی انہی مادوں میں صادق نہیں آتا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے کہ أَيْ مَادَّةُ التَّخَلُّفِ هَاهُنَا هِيَ مَادَّةُ التَّخَلُّفِ ثَمَّةَ، یعنی مادہ تخلف یہاں پر جو ہے، یہ وہی مادہ تخلف ہے جو وہاں پر تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
حاصلِ کلام یہ کہ آج آپ نے عکسِ نقیض کے بارے میں پڑھا، اور انہوں نے آپ کو بتلایا کہ عکسِ نقیض ایک طریقہ ہے قدماء کا اور ایک طریقہ ہے متاخرین کا۔ قدماء کے نزدیک عکسِ نقیض کا طریقہ یہ ہے کہ موضوع کی جو نقیض ہے وہ محمول کی جگہ لے جائیں، اور محمول کی نقیض جو ہے وہ موضوع کی جگہ لے آئیں، اور صدق اور کیفیت کو برقرار رکھنا ہے۔ جبکہ متاخرین کے نزدیک وہ صرف محمول کی نقیض کو موضوع کی جگہ لے جائیں گے، اور عینِ موضوع کو کہاں لے آئیں گے؟ محمول کی جگہ پر، اور کیفیت کو بدل دیں گے، یعنی اصل اگر موجبہ تھا تو عکس کو سالبہ بنائیں گے، اور اگر اصل سالبہ تھا تو عکسِ نقیض موجبہ آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر انہوں نے آگے تفصیل بیان کی، وہ تفصیل قدماء کے مذہب پر بیان کی، متاخرین کے مذہب کی تفصیل ذکر نہیں کی۔ اور بتلایا کہ قدماء کے مذہب میں عکسِ نقیض جو ہے اس میں سوالب کا وہی حکم ہے جو عکسِ مستوی میں موجبات کا تھا، اور عکسِ نقیض موجبات کا وہی حکم ہے جو عکسِ مستوی میں سوالب کا حکم تھا۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی۔ اور دلائل بھی وہی، جو دلیل وہاں پر تھی دعوے کے اثبات کے لیے وہی دلیل یہاں پر بھی ذکر کی جاتی ہے، اور وہاں پر جہاں عکس صادق نہیں آتا تھا، نقض ہوتا تھا، وہی نقض یہاں پر بھی ہے، یعنی یہاں پر بھی وہ عکسِ نقیض پھر وہاں اس مادے میں صادق نہیں آئے گا۔
مادے میں صادق نہیں آتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
چلیے بس بھئی ھٰذَا ھُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الْكَلَامِ۔ اَللّٰهُ۔