Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-070

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor Noman Ahmad
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 39
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی دیکھیے آگے سبق بھئی، متن دیکھیے پہلے: فَصْلٌ فِي التَّصْدِيقَاتِ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِثُبُوتِ شَيْءٍ لِشَيْءٍ أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ فَحَمْلِيَّةٌ مُوجِبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا وَالْمَحْكُومُ بِهِ مَحْمُولًا وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ وَإِلَّا فَشَرْطِيَّةٌ وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مُقَدَّمًا وَالثَّانِي تَالِيًا۔ گزشتہ سبق میں ہم معرف کے بارے میں پڑھ رہے تھے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مختلف علوم میں مختلف چیزوں کی تعریفات آپ پڑھتے رہتے ہیں، لیکن وہاں کسی علم میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ کسی چیز کی تعریف کیسے کرنی ہے۔ جبکہ علم منطق آپ کو بتلاتا ہے کہ تعریف کہتے کسے ہیں اور تعریف کیسے کی جائے گی، تعریف کی شرائط کتنی ہیں، تعریف کی اقسام کتنی ہیں۔ تو گزشتہ سبق میں آپ نے پڑھا تھا کہ تعریف جو ہے: مُعَرِّفُ الشَّيْءِ مَا يُقَالُ عَلَيْهِ لِإِفَادَةِ تَصَوُّرِهِ، کہ کسی چیز کی تعریف وہ ہے جس کا حمل ہوتا ہے اس چیز پر تاکہ اس چیز کا تصور حاصل ہو جائے۔ اس چیز کا... جیسے آپ کو کلمہ کی پہچان نہیں تھی تو صاحب ہدایت النحو اور صاحب کافیہ وغیرہ نے اس کی تعریف کی کہ الْكَلِمَةُ لَفْظٌ وُضِعَ لِمَعْنًى مُفْرَدٍ، تعریف کی اور اس کی پہچان آپ کو کروا دی گئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ تعریف دو قسم کی ہے، ایک تعریف حقیقی ہے یا اس کو تعریف کامل کہہ لیں اور دوسری جو ہے وہ تعریف لفظی ہے بھئی۔ تعریف حقیقی وہ ہے جس کے ذریعے صورت غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے۔ صورت غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے جیسے آپ کو الْكَلِمَةُ کی پہچان نہیں تھی یعنی اس کی صورت آپ کو حاصل نہیں تھی۔ تو جب تعریف کی گئی تو اس کی صورت اور پہچان آپ کو حاصل ہو گئی، صورت کا کیا معنیٰ ہے؟ پہچان اس کی، تو اس کی پہچان آپ کو حاصل ہو گئی بھئی۔ اور یہ تعریف حقیقی ہے اور ایک تعریف لفظی ہے جس میں تعین صورت ہوتی ہے مثلاً عربی میں شیر کو اسد کہتے ہیں۔ اور اسی طرح شیر کے بہت سے نام ہیں، ایک نام ان میں غضنفر بھی ہے، غضنفر۔ تو غضنفر بھی شیر کو کہتے ہیں لیکن کسی ساتھی کے سامنے آپ نے یہ لفظ ذکر کیا اسے یہ معنی معلوم نہیں تھا، تو اب وہ حیران ہوا کہ غضنفر کیا چیز ہے، تو آپ اس کو بتلاتے ہیں: الْغَضَنْفَرُ أَسَدٌ، غضنفر کیا ہے؟ شیر ہے، تو یہاں دیکھو اسے کوئی نئی صورت حاصل نہیں ہوئی، شیر کی اس کو پہلے سے ہی پہچان تھی لیکن اس کو یہ پتہ نہیں تھا کہ غضنفر یہ کس صورت کا نام ہے۔ تو اس کے ذہن میں ہزاروں لاکھوں چیزیں جو موجود تھیں، آپ نے تعین کر کے بتلا دیا کہ غضنفر یہ جو شیر ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ غضنفر، تو اس کی صرف تعین کر دی صورت پہلے سے حاصل تھی۔ تو تعریف حقیقی میں کیا کیا جاتا ہے؟ صورت غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے، اور تعریف لفظی کے اندر جو ہے وہ صرف تعین صورت ہوتی ہے بھئی، تعین صورت۔ اور تعریف حقیقی کے میں نے بتلایا تھا دو بڑے مقصد ہیں۔ یا تو اس کے ذریعے کسی چیز کی ذاتیات پر انسان مطلع ہو جائے، ذاتیات پر اطلاع حاصل ہو جائے کہ کسی چیز کی ماہیت کیا ہے، اس کی حقیقت کیا ہے، جیسے انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق بھئی۔ تو تعریف حقیقی کا جو بڑا مقصد ہے یا تو اس کے ذریعے کسی چیز کی ذاتیات کا پتہ چل جائے یا وہ جمیع مشارکات سے جدا ہو جائے۔ تو ان دو مقصدوں میں سے ایک مقصد ضرور حاصل ہونا چاہیے تعریف حقیقی میں۔ اور یہاں میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ جب کسی چیز کی پوری حقیقت کا ہمیں پتہ چلتا ہے تو وہ پھر اب تمام مشارکات سے بھی جدا ہو جاتی ہے۔ انسان کی حقیقت حیوان ناطق جب آپ کو پتہ چلی تو وہ جمیع مشارکات سے بھی جدا ہو گیا کیونکہ انسان کے علاوہ اور کوئی حیوان ناطق نہیں ہے بھئی۔ تو جہاں پوری ماہیت کا پتہ چلے گا وہاں جمیع مشارکات سے ضرور جدا ہوگا، لیکن جہاں جمیع مشارکات سے جدا ہو وہاں ضروری نہیں کہ پوری ماہیت کا پتہ چل جائے۔ جیسے انسان کے بارے میں آپ صرف ناطق کہہ دیں، اب یہ جمیع مشارکات سے تو جدا ہو گیا، ناطق صرف انسان ہے، لیکن پوری حقیقت کا پتہ نہیں چلا، یا آپ صرف ضاحک کہہ دیں، تو ضاحک سے بھی انسان کا خاصہ ہے، انسان جمیع مشارکات سے تو جدا ہو گیا لیکن اس کی پوری حقیقت کا پتہ نہیں چلا۔ تو جہاں پوری حقیقت کا پتہ چلے گا وہاں جمیع مشارکات سے بھی جدا ہو جائے گی وہ چیز، تو دونوں فائدے حاصل ہو جائیں گے۔ لیکن جہاں جمیع مشارکات سے جدا ہو وہاں پوری ماہیت کا پتہ چلنا ضروری نہیں، تو تعریف حقیقی کا کم سے کم درجہ یہ ہے کہ جمیع مشارکات سے جدا ہو جائے۔ اور اگر پوری حقیقت کا بھی پتہ چل جائے، یہ تو اور زیادہ اچھی بات ہے بھئی۔ تو انہوں نے بتلایا آپ کو کہ تعریف کسے کہتے ہیں، معرف کسے کہتے ہیں جس کے ذریعے کسی چیز کا تصور حاصل ہو جاتا ہے، اور اس کی دو شرطیں انہوں نے ذکر کیں، ایک تو یہ شرط ہے کہ معرف اور معرف میں مساوات ہونی چاہیے یعنی افراد کے اعتبار سے، یا یوں کہیں صدق کے اعتبار سے، جس پر معرف صادق آئے اس پر معرف بھی صادق آنا چاہیے۔ اور جس پر معرف صادق آئے اس پر معرف بھی صادق آنا چاہیے، یا یوں کہیں دونوں کے افراد مساوی ہوں، برابر ہوں، جو معرف ہے وہ معرف ہو اور جو معرف ہو وہ معرف ہو۔ ایسا نہ ہو ایک چیز پر معرف تو صادق آ رہا ہے اور معرف صادق نہیں آ رہا، یا ایک جگہ معرف تو صادق آ رہا ہے لیکن معرف صادق نہیں آ رہا، ایسا نہیں ہونا چاہیے، مساوات ہونی چاہیے، مساوات یوں کہہ لیں افراد کے اعتبار سے یا یوں کہہ لیں صدق کے اعتبار سے، یا سب سے آسان لفظوں میں کہیں کہ تعریف کو جامع مانع ہونا چاہیے۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ مطرد و منعکس ہونا چاہیے۔ مطرد کا کیا معنیٰ؟ جامع، منعکس کا کیا معنیٰ؟ مانع، جامع کا معنیٰ ہے تعریف جو ہے معرف کے تمام افراد کا احاطہ کر لے، اور مانع کا معنیٰ یہ ہے کہ کوئی غیر اس میں تعریف میں داخل نہ ہو بھئی۔ اور نیز تعریف کو اجلیٰ ہونا چاہیے، زیادہ روشن، زیادہ واضح ہونا چاہیے اس لیے کیونکہ مثلاً آپ کلمہ کی تعریف کر رہے ہیں اور کلمہ کا آپ کو پتہ نہیں تھا، آگے اللفظ الموضوع لمعنًى مفرد کی بھی تعریف اس کے ساتھ کی، اگر فرض کر لیں وہ تعریف بھی ایسی ہوتی اس کا بھی آپ کو پتہ نہ ہوتا پھر تو فائدہ ہی نہیں تھا بھئی، آپ تعریف کس کی کر رہے ہیں؟ کلمہ کی، اور تعریف بھی فرض کرو ایسی کر دی کہ اس کی خود اس کی بھی آپ کو پوری سمجھ میں سننے والے کو سمجھ میں نہیں آ رہی تو پھر تو یہ دونوں برابر ہو گئے، جتنا اس کو معرف کا پتہ تھا اتنا ہی اس کو معرف کا بھی پتہ ہے تو یہ تو اس کو پتہ نہیں چلے گا اس چیز کا، لہٰذا تعریف کو اجلیٰ ہونا چاہیے، زیادہ واضح، زیادہ روشن ہونا چاہیے۔ جیسے میں نے اس کی مثال ذکر کی تھی کہ ایک شخص ہے اس کو گینڈے کے بارے میں آپ بتلانا چاہتے ہیں، گینڈے کے بارے میں، اسے صرف اتنا پتہ ہے کہ گینڈا حیوان ہے اور کچھ نہیں پتہ، اور اسے یہ بھی پتہ ہے کہ ہاتھی حیوان ہے، ہاتھی کو بھی وہ نہیں پہچانتا، تو اب آپ اسے گینڈے کی پہچان کرواتے ہیں اور کہتے ہیں: شَبِيهٌ بِالْفِيلِ، گینڈا جو ہے وہ ہاتھی کے مشابہ ہوتا ہے، تو گینڈے کا اس کو صرف اتنا پتہ ہے حیوان اور شَبِيهٌ بِالْفِيلِ، یہاں فیل ہاتھی کے بارے میں بھی اس کو صرف کیا پتہ ہے کہ وہ بھی ایک حیوان ہے، اس کو بھی اس کا پورا پتہ نہیں، تو یہ تو دونوں مساوی ہو گئے ایک دوسرے کے واضح ہونے میں، تو یہاں اس کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا، گینڈے کے بارے میں اسے اتنا پتہ ہے وہ حیوان ہے، ہاتھی کے بارے میں بھی صرف اتنا پتہ ہے وہ حیوان ہے، تو کوئی مزید فائدہ حاصل ہوا؟ نہیں، تو لہٰذا تعریف کو زیادہ واضح ہونا چاہیے۔ یا مثلاً گینڈے کے بارے میں تو اسے پتہ ہے کہ وہ حیوان ہے، لیکن ہاتھی کے بارے میں اسے کچھ بھی نہیں پتہ، یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ حیوان بھی ہے یا کوئی اور چیز ہے، تو اب آپ اس کو کہتے ہیں وہ اس گینڈے کے بارے میں پوچھتا ہے آپ کہتے ہیں: شَبِيهٌ بِالْفِيلِ، وہ کس کے مشابہ ہے؟ ہاتھی، یہ تو آپ نے تعریف اخفیٰ کے ساتھ کر دی، ہاتھی تو اس کے لیے گینڈے سے بھی زیادہ خفی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا تعریف جو ہے اجلیٰ کے ساتھ ہونی چاہیے، اور اسی طرح دوسری مثال لے لیں، جو متضایفین ہیں جیسے ابنٌ، ابنٌ کی تعریف کیا ہے؟ مَنْ لَهُ الْأَبُ، ابن اسے کہتے ہیں جس کا باپ ہو، اور باپ کسے کہتے ہیں؟ مَنْ لَهُ الابْنُ، جس کا بیٹا ہو بھئی۔ تو بیٹے کا پتہ تب چلے گا جب باپ کا پتہ چلے، باپ کا پتہ تب چلے گا جب بیٹے کا پتہ چلے، لہٰذا تعریف یہاں تو یہ واضح نہیں ہوئی، بیٹے کو جاننے کے لیے باپ کو جاننا پڑے گا اور باپ کو جاننے کے لیے بیٹے کو جاننا پڑے گا، کسی ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا، صورت سمجھ میں آ گئی؟ وہ متضایفین نہ ہوں بھئی، معرف اور معرف آپس میں متضایفین نہ ہوں یعنی ایک کا جاننا دوسرے پر موقوف اور دوسرے کا جاننا پہلے پر موقوف ہو۔ بیٹا کسے کہتے ہیں؟ جس کا باپ ہو، تو اس کے لیے باپ کو جاننا پڑے گا، اور باپ کسے کہتے ہیں؟ اس کے لیے کس کو جاننا پڑے گا؟ بیٹے کو جاننا پڑے گا، یا یوں کہہ لیں، استاد کسے کہتے ہیں؟ جس کا شاگرد ہو، شاگرد کسے کہتے ہیں؟ جس کا استاد ہو، تو یہاں تو ایک کا بھی پتہ نہیں چلے گا، لہٰذا تعریف جو ہے وہ اجلیٰ ہونی چاہیے، زیادہ واضح کہ سننے والے کو پتہ چل جائے۔ تو لہٰذا تعریف بالاعم بھی صحیح نہیں، تعریف بالاخص بھی صحیح نہیں، اور اسی طرح معرفت اور جہالت میں جو مساوی ہو یا اخفیٰ ہو اس کے ذریعے بھی تعریف صحیح نہیں ہے، تو تعریف میں کم سے کم درجہ یہ ہے کہ وہ جمیع مشارکات سے جدا کر دے، اور جمیع مشارکات سے دو چیزیں جدا کرتی ہیں: ایک فصل ہے اور ایک خاصہ۔ فصل وہ ذات میں داخل ہوتا ہے، ماہیت اور حقیقت کے اندر داخل ہوتا ہے، اور خاصہ وہ ماہیت سے خارج ہوتا ہے، وہ صفت ہوتی ہے، تو تعریف کے اندر جو تعریف حقیقی ہے اس کے اندر فصل یا خاصہ کا ہونا ضروری ہے، کیونکہ تعریف کا کم سے کم درجہ کیا ہے؟ وہ جمیع مشارکات سے جدا کر دے، اور اعلیٰ درجہ کیا ہے؟ کہ پوری ماہیت کا بھی پتہ چل جائے، تو کم سے کم درجہ تو یہ ہے کہ جمیع مشارکات سے جدا کر دے اور جمیع مشارکات سے یا خاصہ جدا کرتا ہے یا فصل جدا کرتی ہے، تو تعریف حقیقی میں خاصہ یا فصل کا ہونا ضروری ہے۔ اگر فصل ہوگا تو اس تعریف کو حد کہیں گے اور اگر خاصہ ہوگا تو اس تعریف کو رسم کہیں گے، رسم، اور پھر اس حد میں اگر جنس قریب ساتھ آ گئی یعنی فصل قریب کے ساتھ جنس قریب آ گئی تو اس کو حد تام کہیں گے، اور اگر جنس قریب نہ آئی تو اس کو حد ناقص کہیں گے، اور اس کی پھر دو صورتیں ہیں۔ مثلاً انسان کی تعریف کرنا چاہتا ہوں، انسان کی فصل قریب کیا؟ ناطق، تو حد کے اندر ناطق ضرور آئے گا، اور انسان کا خاصہ کیا؟ ضاحک ہے یا کاتب ہے یا قابل للعلم ہے کہ اس میں علم کی صلاحیت اللہ نے رکھی ہے، تو یہ خاصے ہیں انسان کے، ان میں سے کوئی ایک خاصہ مثلاً لے لیا ضاحک، تو ضاحک کے ساتھ جو تعریف کی جائے گی وہ کیا کہلائے گی؟ رسم، اور ناطق کے ساتھ انسان کی جو تعریف کی جائے گی وہ حد کہلائے گی، اور پھر اس میں اگر ان کے ساتھ جنس قریب آ گئی مثلاً انسان کی تعریف کیا کرتے ہیں آپ؟ حیوان ناطق، تو اس کو کیا کہیں گے؟ اس میں فصل قریب بھی آ گئی، ناطق آیا، اور جنس قریب انسان کے کیا ہے؟ حیوان، وہ بھی آ گئی، تو اس کو حد تام کہیں گے، کیا کہیں گے؟ حد تام کہیں گے، اور یہ سب سے اعلیٰ درجے کی تعریف ہے، کیونکہ ناطق آیا اس نے جمیع مشارکات سے بھی جدا کر دیا اور جنس قریب بھی آ گئی تو انسان کی پوری حقیقت کا پتہ چل گیا کہ انسان کی حقیقت کیا ہے؟ حیوان ناطق، پوری حقیقت کا بھی پتہ چل گیا اور جمیع مشارکات سے بھی جدا ہو گیا اور تعریف حقیقی کے یہی دو تو بڑے مقصد تھے، تو لہٰذا یہ سب سے اعلیٰ درجے کی تعریف ہے۔ جبکہ دوسری صورت یہ ہے کہ جنس قریب نہ آئے، حد ہے، حد میں کیا ضروری؟ فصل، اس فصل کے ساتھ اگر جنس قریب نہ آئے تو اس کو حد ناقص کہیں گے اور اس میں پھر دو صورتیں ہیں، یا سرے سے کوئی جنس لاؤ ہی نہ، صرف ناطق کہو، تو بھی یہ حد ناقص، یا جنس تو لاؤ لیکن بعید والی لے آؤ، جسم ناطق کہہ دو، کیا کہہ دو؟ یا جوہر ناطق کہہ دو تو یہ کیا ہے؟ یہ بھی حد ناقص ہے، تو حد تام میں کیا ضروری؟ جنس قریب ہو، اور حد ناقص میں جنس قریب نہ ہو، نہ ہونے کی دو صورتیں ہیں: سرے سے کوئی جنس ہی نہ ہو یا ہو تو لیکن قریب والی جنس نہ ہو، دونوں صورتیں حد ناقص میں آ گئیں۔ اسی طرح رسم، رسم میں خاصے کا ہونا ضروری ہے جیسے انسان کی آپ تعریف کرنے لگیں تو ضاحک ضرور لانا پڑے گا یا کاتب ضرور لانا پڑے گا یا قابل للعلم ضرور لانا پڑے گا، اور ساتھ اگر جنس قریب بھی لے آئے یعنی حَيَوَانٌ كَاتِبٌ، تو یہ کیا ہے؟ یہ رسم تام ہے، کیا ہے؟ رسم تام ہے، اور اگر جنس قریب ساتھ نہ لائے پھر اس میں دو صورتیں ہیں، سرے سے کوئی جنس لائے ہی نہ یا لائے تو لیکن بعید لائے، تو یہ دونوں صورتوں میں یہ کیا ہوگی؟ رسم ناقص ہوگی، جیسے انسان کی رسم ناقص صرف ضاحک کہہ دو، یہ بھی کیا ہے؟ رسم ناقص، صرف خاصہ آیا، یا ساتھ کیا لے آؤ؟ جسم لے آؤ، جنس بعید لے آؤ، جِسْمٌ ضَاحِكٌ، یہ بھی کیا ہے؟ رسم ناقص ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ حد اور رسم کے درمیان فرق بڑا مشکل ہے، کسی تعریف کو حقیقتاً حد قرار دیا جائے اور کسی تعریف کو حقیقتاً رسم قرار دیا جائے یہ بڑا مشکل ہے، اس لیے کیونکہ حد اور رسم میں اشتباہ آ جاتا ہے اس وجہ سے کہ جنس اور عرض عام میں اشتباہ ہوتا ہے، ہو سکتا ہے جسے ہم جنس قرار دے رہے ہوں وہ عرض عام ہو اور جسے ہم عرض عام قرار دے رہے ہوں وہ کیا ہو؟ جنس ہو، کیونکہ دونوں مختلف حقیقتوں کے افراد پر بولی جاتی ہیں، اسی طرح اشتباہ آتا ہے فصل اور خاصہ کے درمیان بھی، فصل بھی ایک حقیقت والے افراد پر بولی جاتی ہے لیکن ماہیت کے اندر داخل ہوتی ہے اور خاصہ بھی ایک حقیقت کے افراد پر بولا جاتا ہے لیکن حقیقت سے خارج ہوتا ہے، لیکن ان دونوں میں اشتباہ ہے، ہو سکتا ہے جسے ہم فصل قرار دے رہے ہوں وہ حقیقت میں کیا ہو؟ خاصہ، اور جسے ہم خاصہ قرار دے رہے ہوں وہ حقیقت میں کیا ہو؟ فصل ہو، تو اسی پر تو رسم اور حد کا دار و مدار ہے، فصل ہو تو حد کہتے ہیں خاصہ ہو تو رسم کہتے ہیں، تو جب ان دونوں میں اشتباہ آ گیا تو حد اور رسم میں بھی اشتباہ آ گیا، ہو سکتا ہے جسے ہم حد کہہ رہے ہیں وہ رسم ہو اور جسے رسم کہہ رہے ہیں وہ حد، تو علماء فرماتے ہیں حقیقی حد اور حقیقی رسم میں فرق کرنا بڑا مشکل ہے، ہاں بس تعریف کا مقصد حل ہونا حاصل ہونا چاہیے اور تعریف کا مقصد کیا ہے؟ کہ کم از کم درجہ یہ ہے کہ جمیع مشارکات سے کوئی چیز علیحدہ ہو جائے، پھر ماہیت کا بھی ساتھ پتہ چل جائے تو وہ سب سے اعلیٰ درجہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ عرض عام جو ہے، عرض عام کے ذریعے تعریف درست نہیں ہے۔ عرض عام کے ذریعے تعریف درست نہیں کیونکہ تعریف حقیقی کے دو بڑے مقصد ہیں: یا تو کسی چیز کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے یا وہ جمیع مشارکات سے جدا ہو جائے، اور انسان کی تعریف میں جب آپ ماشی کہیں یعنی عرض عام لے کر آئیں تو کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہوا، نہ تو ماشی سے انسان کی حقیقت کا پتہ چلا اور نہ وہ جمیع مشارکات سے جدا ہوا، اس لیے علماء فرماتے ہیں عرض عام کے ذریعے تعریف صحیح نہیں، ہاں اگر کئی عرض عام اکٹھے کر دیے اور مل کر وہ خاصہ بن گئے تو پھر ایسے عرض عام کے ذریعے تعریف صحیح ہے، جیسے انسان کی تعریف کرنا ماشی اور مستقیم القامہ سے، ماشی ماشی انسان بھی ہے اور حیوانات بھی ہیں، صرف ماشی کہو انسان کا پتہ نہیں چلتا، اسی طرح مستقیم القامہ، سیدھے قد والا، اپنے پیروں پر سیدھا کھڑا ہونے والا، وہ انسان بھی ہے اور درخت بھی ہیں، تو صرف مستقیم القامہ کہو تو بھی انسان کا پتہ نہیں چلتا کیونکہ وہ تو درخت بھی ہیں، لیکن جب دونوں کو ملا دیا ماشی مستقیم القامہ کہ ماشی بھی ہو اور مستقیم القامہ بھی ہو تو اب یہ خاصہ بن گیا، کیونکہ ماشی بھی ہو اور مستقیم القامہ بھی ہو یہ تو صرف انسان ہے اور کوئی حیوان نہیں اور درخت وغیرہ بھی نہیں ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے تعریف ناقص کے بارے میں بتلایا تھا کہ ایک تعریف ناقص بھی ہوتی ہے، تعریف ناقص وہ ہے جس کے ذریعے بعض مشارکات سے جدا کرنا مقصود ہوتا ہے، سب سے جدا کرنا مقصود نہیں ہوتا، تو وہ تعریف ناقص اعم کے ذریعے بھی جائز قرار دی ہے متقدمین نے اور اخص کے ذریعے بھی جائز قرار، جیسے انسان کی تعریف کی جائے حیوان سے، اب انسان کی تعریف حیوان سے کی اور حیوان تو اعم ہے انسان کے مقابلے میں، لیکن یہ تعریف جائز ہے کیونکہ مثلاً مقصد یہ تھا آپ انسان کو شجر و حجر سے جدا کرنا چاہتے تھے، کس سے؟ شجر و حجر سے جدا کرنا چاہتے تھے، اور جب آپ نے حیوان کہا تو شجر اور حجر تو حیوان نہیں تو ان سے جدا ہو گیا، یا آپ نے ماشی کہہ دیا، اب ماشی تو عرض عام ہے، لیکن اس ماشی نے انسان کو کیا کیا؟ شجر اور حجر سے جدا کر دیا، ان میں سے کوئی بھی ماشی نہیں ہے، تو تعریف بالاعم بھی جائز ہے کس میں؟ تعریف ناقص میں، ابھی تک جو ذکر ہو رہی تھی وہ تعریف کامل تھی یا تعریف حقیقی تھی، یہ تعریف ناقص ہے، تعریف ناقص کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ بعض مشارکات سے جدا کرنا، اور جب میں صرف انسان کے بارے میں کوئی مجھ سے پوچھے اور میں کہوں حیوان، تو شجر و حجر سے جدا ہوا یا نہیں؟ اسی طرح یا میں صرف کیا کہہ دوں؟ ماشی، تو یہ بھی تعریف ہے انسان کی لیکن یہ تعریف ناقص ہے، بعض سے کیا کر دیتی ہے؟ جدا، تو بعض اوقات سب سے جدا کرنا مقصد ہوتا ہے بعض اوقات بعض سے جدا کرنا مقصد ہوتا ہے، جہاں بعض سے جدا کرنا مقصد ہو وہاں تعریف ناقص بھی صحیح ہے۔ اس کے بعد تعریف لفظی کے بارے میں بات آئی تھی، تعریف لفظی انہوں نے بتایا کہ تعریف لفظی وہ ہے جس کے ذریعے لفظ کے معنیٰ کی وضاحت کی جاتی ہے، جیسے آپ کے ساتھی کو پتہ نہیں تھا کہ غضنفر کس چیز کا نام ہے تو الْغَضَنْفَرُ أَسَدٌ، آپ اسد کے لفظ کے ذریعے آپ نے اس کی کیا کر دی؟ وضاحت کر دی، اس کا معنیٰ بیان کر دیا، اس کو تعریف لفظی کہتے ہیں۔ تو حاصل کلام کیا ہوا؟ کہ تعریف حقیقی یا تعریف کامل کے ذریعے صورت غیر حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے، اور تعریف لفظی کے ذریعے تعین صورت کی جاتی ہے، وہ صورت جو پہلے سے حاصل ہے، طریقہ سمجھ میں آیا؟ تو اس طرح جب بھی آپ کسی چیز کی تعریف کرنے لگیں تو اس کو کم از کم درجہ یہ ہے جمیع مشارکات سے جدا کر دیں، اور اگر اس سے اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ اس کی ماہیت کا بھی پورا پتہ چل جائے تعریف سے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی، اور پھر اس کے بعد آخر میں انہوں نے فَافْهَمْ کہا تھا، یا تو اس کے ذریعے اشارہ تھا تعریف حقیقی اور تعریف لفظی میں فرق کی طرف، کہ تعریف حقیقی میں تحصیل صورت ہوتی ہے اور تعریف لفظی میں تعین صورت ہوتی ہے، اور یا فَافْهَمْ کے ذریعے اشارہ ہے جو بعض منطقیین نے کہا کہ یہ جو تعریف لفظی ہے یہ تصور ہے ہی نہیں، یہ تصدیق کی قسم ہے، یہ کس کی قسم ہے؟ تصدیق کی، تو جب یہ تصدیق کی قسم ہے تو اس کو تصور کی بحث میں نہیں ہونا چاہیے، کہاں ہونا چاہیے؟ تصدیق کی بحث میں ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ طریقہ آ گیا کسی چیز کی آپ نے تعریف کیسے کرنی ہے۔ آگے دیکھیے بھئی: فَصْلٌ فِي التَّصْدِيقَاتِ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِثُبُوتِ شَيْءٍ لِشَيْءٍ أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ فَحَمْلِيَّةٌ مُوجِبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا وَالْمَحْكُومُ بِهِ مَحْمُولًا وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً وَقَدِ اسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ وَإِلَّا فَشَرْطِيَّةٌ وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مُقَدَّمًا وَالثَّانِي تَالِيًا۔ تصدیقات کے بارے میں بحث شروع ہوئی بھئی۔ بھئی آپ کو شروع میں انہوں نے بتلایا تھا کہ منطق کا موضوع وہ معرف اور حجت ہیں۔ منطق کا موضوع معرف اور حجت ہیں۔ معرف کسے کہتے تھے؟ وہ معلوم تصورات جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصور تک، اور حجت کسے کہتے ہیں؟ وہ معلوم تصدیقات جو ہمیں کہاں تک پہنچا دیں؟ مجہول تصدیق تک، جیسے مثلاً دیکھو، دیکھو میں آپ کے سامنے دو تصدیقات بولوں گا، تیسری تصدیق خود بخود آپ کو سمجھ میں آ جائے گی۔ زید درجہ ثالثہ میں پڑھتا ہے اور درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم بڑا منطقی ہے۔ اس سے ایک اور بات آپ کو معلوم ہو گئی، کیا؟ کہ زید بڑا منطقی ہے، دیکھو میں نے تو یہ نہیں کہا لیکن یہ دو تصدیقوں سے ایک تیسری تصدیق خود بخود آپ کو معلوم ہو گئی تو یہ کیا ہے؟ حجت ہے، تو منطق کا موضوع یہ معرف اور حجت ہیں، دیکھو ساری تصور کی بحثیں کرنے کے بعد آخر میں انہوں نے معرف کی تعریف کر دی، معرف کسے کہتے ہیں؟ اس کی شرطیں کیا ہیں؟ اس کی قسمیں کون سی ہیں؟ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اب منطق کا موضوع کیا چیز؟ معرف اور حجت، معرف کا بیان ہو گیا، اب کس کا بیان چاہیے؟ حجت کا بیان چاہیے لیکن آگے صاحب کتاب نے تصدیقات کا بیان شروع کر دیا، توجہ ہے؟ وجہ یہ کہ حجت وہ تصدیقات سے ہی بنتی ہے، تصدیقات کا آپ کو پتہ ہوگا تو حجت آپ کو سمجھ میں آئے گی، تصدیقات کا پتہ نہیں تو حجت بھی سمجھ میں نہیں آئے گی، جیسے معرف وہ کس سے بنتا معرف کا سمجھنا موقوف تھا کلیات خمسہ پر، کیونکہ معرف بنتا ہی کس سے ہے؟ اس میں فصل چاہیے یا نہیں چاہیے؟ خاصہ چاہیے یا نہیں چاہیے؟ جنس چاہیے یا نہیں چاہیے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا معرف چونکہ معرف کا سمجھنا موقوف تھا کلیات خمسہ پر، لہٰذا معرف سے پہلے انہوں نے کس کو ذکر کیا؟ کلیات خمسہ کو ذکر کیا، اسی طرح آگے اب حجت رہ گیا، حجت کا بیان موقوف ہے کس کے سمجھنے پر؟ تصدیقات کے سمجھنے پر، اس لیے صاحب کتاب معرف کے بیان کے بعد کس کو لے کر آئے؟ تصدیقات کو، کیونکہ آگے وہ کیا بیان کرنا چاہتے ہیں؟ حجت اور دلیل کو یا شاہد کو وہ بیان کرنا چاہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ فِي التَّصْدِيقَاتِ، أي هَذَا فَصْلٌ فِي التَّصْدِيقَاتِ، یہ فصل ہے فِي التَّصْدِيقَاتِ أي فِي بَيَانِ التَّصْدِيقَاتِ، أي فِي بَحْثِ التَّصْدِيقَاتِ، یہ فصل ہے تصدیقات کے بیان میں۔ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، قضیہ کسے کہتے ہیں بھئی؟ قضیہ۔ یاد رکھو قضیہ جس کو نحو میں ہم جملہ خبریہ کہتے ہیں، ایک جملہ انشائیہ ہے ایک جملہ خبریہ، جملہ خبریہ کسے کہتے ہیں؟ جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے، اسی طرح قضیہ بھی جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے اس کو قضیہ کہتے ہیں، یاء مشدد ہے بھئی، قَضِيَّةٌ۔ تو کہتے ہیں: الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، قضیہ ایسا قول ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو، میں نے کہا زید کھڑا ہے، دیکھو اس میں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا بھی احتمال۔ میں نے کہا زید محنتی ہے، اس میں صدق کا بھی احتمال، اس میں کذب کا بھی احتمال ہے، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو قضیہ الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، قضیہ ایسا قول ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو بھئی۔ آپ کو شرح میں بتلائیں گے کہ یہ لفظ قول لے کر آئے اور قول بظاہر شبہ ہوتا ہے کہ قول تو لفظ کا نام ہے، عربی زبان میں قول کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو، کسی نے کوئی بات کی تو کہتے ہیں یہ اس کا قول ہے، یہ اس نے کہا ہے، قول کا معنیٰ ہے نا بات، تو عربی زبان میں قول لفظ کو کہتے ہیں، اور لفظ، یاد رکھو، لفظ اس میں جنس ہے، قلیل پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے، کثیر پر بھی، ایک ہے مفرد اور ایک ہے جمع اور ایک ہے اسم جنس۔ دیکھو میرے سامنے ایک کتاب ہو میں کیا کہوں گا؟ یہ کتاب ہے، دو یا زیادہ کتابیں ہوں تو میں کیا کہوں گا؟ یہ کتابیں ہیں، دیکھو لفظ ہی میں نے بدل دیا، جمع کا لفظ لے آیا، دو یا زیادہ کتابیں ہوں تو میں کبھی نہیں کہوں گا یہ کتاب ہے، بلکہ میں کیا کہوں گا؟ یہ کتابیں ہیں، جمع کا لفظ لے کر آؤں گا اس کے لیے، لیکن اسم جنس وہ اسی طرح رہتا ہے، وہ قلیل اور کثیر سب پر بولا جاتا ہے، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی، ایک کتاب تھی تو آپ نے کہا کتاب، دو یا زیادہ ہوئیں تو آپ نے کیا کہا؟ کتابیں، جمع کا لفظ لائے، لیکن انسان ایک ہے تب بھی آپ کہیں گے انسان ہے، دو یا زیادہ ہوں تب بھی آپ کیا کہیں گے؟ یہ انسان ہیں، ہزار ہوں تب بھی آپ کیا کہیں گے؟ یہ انسان ہیں، دیکھو لفظ نہیں بدل رہے آپ، اس کو کہتے ہیں اسم جنس جس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی ہوتا ہے، یعنی ایک پر بھی ہوتا ہے اور زائد پر بھی ہوتا ہے، یہ ہے اسم جنس بھئی، تو یاد رکھو یہ جو لفظ ہے نا لفظ، یہ اسم جنس ہے۔ مصدر ہے نا مصدر، مصدر اسم جنس ہوتا ہے، ایک ضرب ہو اس کو بھی ضرب کہیں گے، ہزار ضربیں ہوں اس کو بھی ضرب کہیں گے۔ کیونکہ مصدر کیا ہوتا ہے؟ اسم جنس، لفظ بھی کیا ہے؟ مصدر، اور مصدر کیا ہوتا ہے؟ اسم جنس، اور اسم جنس کا اطلاق قلیل پر بھی ہوتا ہے اور کثیر پر بھی ہوتا ہے، لہٰذا آپ نے صرف ایک لفظ بولا: زید، یہ بھی لفظ ہے، آپ نے پورا جملہ بول دیا کہ زید کھڑا ہے تو یہ بھی کیا ہے؟ لفظ ہے، لفظ ایک ہو یا ہزار ہوں سب کو کیا کہتے ہیں؟ لفظ، جمع بھی استعمال کر لیتے ہیں: الفاظ، لیکن ضروری نہیں بلکہ لفظ بھی بول سکتے ہیں، تو لہٰذا یہ جو قول ہے، یہاں قول آیا بھئی قول، اور عربی زبان میں قول کس کا نام ہے؟ لفظ کا نام ہے، کس کا؟ لفظ کا نام ہے۔ تو، ہاں میں بتانا یہ چاہ رہا تھا کہ قول کس کو کہتے ہیں؟ لفظ، تو آپ کے ذہن میں کہیں یہ نہ آئے کہ لفظ ایک کو کہیں گے، ایک سے زیادہ کو لفظ نہیں کہیں گے بلکہ لفظ اسم جنس ہے، تو لہٰذا عربی زبان میں قول کس کو کہتے ہیں؟ لفظ، لفظ یہ جو ہم زبان سے بولتے ہیں، یہ جو میں تقریر کر رہا ہوں یہ سب کیا ہیں؟ لفظ ہیں، تو عربی زبان میں قول کسے کہتے ہیں؟ لفظ کو، اور میں نے شروع کتاب میں آپ کو بتلایا تھا کہ ہم جو کچھ زبان سے ادا کرتے ہیں پہلے ذہن میں سوچتے ہیں، دیکھو میں تقریر کر رہا ہوں مسلسل، لیکن کیا میری زبان خود بخود چل رہی ہے یا میں پہلے سوچتا جا رہا ہوں اور پھر اس پر تکلم کرتا جا رہا ہوں؟ سوچتا جا رہا ہوں اور اس کے مطابق تقریر کرتا جا رہا ہوں، تو جو بھی بات ہم کرتے ہیں پہلے ذہن میں وہ سوچتے ہیں اور پھر زبان کے ذریعے اس کو ادا کر دیتے ہیں، اس پر تلفظ کر دیتے ہیں، تو وہ بات جو ذہن میں ہو اس کو کہتے ہیں قول معقول، وہ عقل میں ہے، اور جب زبان پر تلفظ کرتے ہیں اس کا نام کیا ہے؟ قول ملفوظ ہے۔ اور یاد رکھو یہ جو منطقی ہے اس کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے، ہمارے ذہن میں جو جو باتیں آ سکتی ہیں ان کے نام اس نے رکھ دیے، کسی کا نام تصور رکھا، کسی کا نام تصدیق رکھا، کسی کا نام جزئی رکھا، کسی کا نام کلی رکھا، کسی کا نام جنس رکھا، کسی کا نام فصل رکھا، یہ ساری چیزیں جو ذہن میں آ رہی ہیں ان کے نام وہ رکھتا ہے، لیکن الفاظ کو بھی یہی کہہ دیتے ہیں، الفاظ پر بھی یہ چیزیں بول دیتے ہیں جیسے کہہ دیتے ہیں زید کیا ہے؟ جزئی ہے، انسان کیا ہے؟ کلی ہے، تو لفظ کو بھی کلی جزئی کہہ دیتے ہیں لیکن حقیقت میں آپ پڑھ چکے کہ کلی جزئی کیا ہے؟ مفہوم کا نام ہے، توجہ ہے؟ کلی اور جزئی کس کا نام ہے؟ مفہوم، تو منطقی کی اصل توجہ قول معقول کی طرف ہوتی ہے، جو جو باتیں ذہن میں آتی ہیں وہ کبھی وہ تصور ہوگا، کبھی تصدیق ہوگا، کبھی مفرد ہوگا، کبھی مرکب ہوگا، کبھی جزئی ہوگا، کبھی کلی ہوگا، کبھی معرف ہوگا، کبھی حجت ہوگی، تصدیق ہوگی وغیرہ، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قول معقول، جو جو باتیں ذہن میں آتی ہیں، لیکن چونکہ ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے، جیسے آپ کو سمجھانے کے لیے مجھے لمبی تقریر کرنا پڑ رہی ہے، تو دوسرے کو سمجھانے کے لیے چونکہ الفاظ کا سہارا لیتے ہیں اس لیے یہ جو الفاظ ہیں ان کے بارے میں بھی پھر وہ بحث کرتے ہیں، جیسے کہتے ہیں زید کیا ہے؟ جزئی، انسان کیا ہے؟ کلی، تو لفظوں کے بارے میں بحث کر رہا ہے، حالانکہ اصل توجہ اس کی کس کی طرف ہے؟ قول معقول کی طرف اصل توجہ ہے، لیکن چونکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور سمجھانے کے لیے الفاظ کا سہارا لینا پڑتا ہے لہٰذا وہ الفاظ کی بھی بحث کرتا ہے، آپ کو بتاتا ہے مفرد کسے کہتے ہیں، مرکب کسے کہتے ہیں اور دلالت کسے کہتے ہیں، دلالت لفظیہ کون سی ہے، دلالت غیر لفظیہ کون سی ہے، مختلف قسمیں پھر وہ آپ کو بتاتا ہے کیونکہ لفظوں کا سہارا لینا پڑتا ہے ایک دوسرے کو سمجھانے کے لیے۔ تو لہٰذا گویا قول دو قسم کا ہوا: ایک قول ملفوظ اور ایک قول معقول، اور منطقی کی اصل توجہ کس کی طرف؟ قول معقول کی طرف، تو انہوں نے تعریف کی: الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، یہ شرح میں آگے اعتراض آئے گا بس وہاں پھر آسانی سے آپ کو لمبی تقریر کی ضرورت نہیں پڑے گی یہی سمجھ لیں، کہ قضیہ ایسا قول ہے، دیکھو قول نکرہ آیا اور نکرہ کے بعد فعل آیا، نکرہ کے بعد فعل آئے تو اس کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت، قضیہ ایسا قول ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہو بھئی۔ تو قول کا لفظ لائے اور قول تو عربی زبان میں کس کو کہتے ہیں؟ لفظ کو کہتے ہیں، تو شبہ ہوتا ہے کہ یہ تو آپ نے قضیہ ملفوظہ کی بات کر دی، قضیہ معقولہ کی بھی تو بات کریں، اعتراض سمجھ میں آیا؟ تو آپ کو جواب دیں گے کہ ہاں عربی زبان میں تو قول لفظ کا نام ہے لیکن اس علم کی اصطلاح میں قول مرکب کو کہتے ہیں، کس کو؟ مرکب کو، قول کسے کہتے ہیں؟ مرکب کو کہتے ہیں، اور وہ مرکب پھر چاہے وہ مرکب ملفوظ ہو یا مرکب معقول ہو سب اس کے اندر داخل ہیں، تو اس علم کی اصطلاح ہے، وہ قول کا لفظ کہ اس علم میں قول لفظ کے لیے نہیں بولا جاتا بلکہ مرکب کے لیے بولا جاتا ہے یعنی اس علم کی اصطلاح ہے، لہٰذا جب قول کہہ دیا تو اس میں سب مرکبات آ گئے، پھر وہ مرکب دو قسم پر ہے، کبھی وہ ملفوظ ہوتا ہے جب ہم زبان سے بولتے ہیں اور کبھی وہ معقول ہوتا ہے جب وہ ذہن میں ہے اور عقل میں ہے، تو جب قول کہا تو سارے مرکب آ گئے اور مرکب آئے تو ملفوظ بھی آ گئے اور معقول بھی اس میں آ گئے، لہٰذا اب آپ یہ اعتراض نہیں کر سکتے کہ بھئی منطقی تو قول معقول کے بارے میں بات کرتا ہے اور آپ نے تو یہاں لفظ کی بحث شروع کر دی۔ جواب سمجھ میں آیا؟ شرح میں اور بہتر انداز میں اس کو ذکر کر دیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكَذِبَ، قضیہ ایسا قول ہے جو احتمال رکھتا ہو صدق اور کذب کا، بھئی دونوں احتمال ہونے چاہیے! ایک نہیں، صدق کا بھی احتمال ہو اور کذب کا بھی احتمال ہو، واؤ آیا واؤ، الصِّدْقَ أَوْ، أَوْ نہیں ہے، صدق یا کذب کا احتمال رکھتا ہو یہ نہیں کہا بلکہ صدق اور کذب، صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو۔ تو اس پر اعتراض ہوتا ہے کہ بھئی بعض باتیں ان میں تو صدق ہی صدق ہوتا ہے، کذب ہوتا ہی نہیں، جیسے اللَّهُ أَحَدٌ، اللَّهُ وَاحِدٌ یا اللَّهُ أَحَدٌ کہو، واحد کے بعد اثنین آتا ہے لیکن احد کا معنیٰ ایسا ایک جس کے بعد کوئی دوسرا نہ ہو، تو اللَّهُ أَحَدٌ، اللہ یکتا ہے، اس میں کذب کا احتمال ہے؟ نہیں، کذب کا تو اس میں احتمال ہی نہیں ہے، یہ تو صدق ہی صدق ہے، تو یہ تو قضیہ میں داخل نہیں، حالانکہ یہ بھی کیا ہے؟ بالاتفاق یہ بھی قضیہ ہے، کیونکہ یہاں آپ نے تو کیا کہا قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں صدق اور کذب کا احتمال ہو، معلوم ہوا دونوں کا احتمال ہونا چاہیے وہاں، تو یہاں تو صدق ہی صدق ہے کذب نہیں، اسی طرح اللہ تعالیٰ کوئی بات فرمائیں جیسے قرآن کی کوئی ایک مثال لے لو، کوئی مثال لے لو، مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ، اللہ کیا ہیں؟ قیامت کے دن کے مالک ہیں، یہ اللہ کا قول ہے، اب یہاں کذب کا احتمال ہے؟ نہیں، اسی طرح حضور صلى الله عليه وسلم کی کوئی ایک بات لے آئیں، جیسے حضور علیہ السلام نے فرمایا: الدِّينُ النَّصِيحَةُ، دین خیرخواہی ہی کا نام ہے۔ تو یہ تو حضور علیہ السلام کا قول ہے، یہاں تو کذب کا کوئی احتمال نہیں ہے، یا ویسے دلائل خارجیہ کو دیکھ لو، اللہ کے کلام کو یا حضور کے کلام کے علاوہ اور کوئی دلیل دیکھ لو، مثلاً ایک شخص کہتا ہے: الْأَرْضُ تَحْتَنَا، زمین ہمارے نیچے ہے، اور واقعی زمین ہمارے نیچے ہے، تو بعض باتیں ایسی ہیں کہ اس میں کہنے والے کی طرف دیکھا جائے تو اس میں کذب کا احتمال ہی نہیں، اور بعض باتیں ایسی ہیں ان میں دلائل خارجیہ کو دیکھا جائے تو وہاں کذب کا احتمال ہی نہیں، مثلاً اللہ کا کلام آ گیا تو اس میں کذب کا احتمال ہی نہیں، حضور صلى الله عليه وسلم خاتم النبیین کا کلام آ گیا تو اس میں کذب کا احتمال ہی نہیں، اور بعض اوقات دلائل خارجیہ بتلا دیتے ہیں کہ ایک چیز سچ ہے اس میں جھوٹ کا احتمال نہیں جیسے ایک آدمی کیا کہتا ہے؟ زمین ہمارے نیچے ہے، ہم بھی دیکھتے ہیں زمین کیا ہے ہمارے نیچے ہے، اس میں کذب کا کوئی احتمال نہیں، تو آپ کی تعریف تو ان پر صادق نہیں آ رہی، آپ نے تو کیا کہا؟ قضیہ ایسا قول جو صدق اور کذب دونوں کا احتمال رکھتا ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں کہ وہاں کذب ہی کذب ہوتا ہے وہاں صدق کا کوئی احتمال ہی نہیں، جیسے کوئی کہنے والا کہے: دو اور دو پانچ ہوتے ہیں۔ دو اور دو پانچ ہوتے ہیں، یہاں صدق کا احتمال ہے؟ نہیں، یہ کذب ہی کذب ہے، دو اور دو تو چار ہوتے ہیں، یا اسی طرح کوئی کہتا ہے: الْأَرْضُ فَوْقَنَا، زمین ہمارے اوپر ہے، دیکھو یہ کذب ہی کذب ہے اس میں کوئی سچ نہیں، تو بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف سچ ہوتی ہیں وہاں جھوٹ کا احتمال ہی نہیں ہوتا، اور بعض باتیں ایسی ہوتی ہیں جو صرف جھوٹ ہوتا ہے وہاں صدق کا کوئی احتمال نہیں، تو آپ کی تعریف ان کو شامل نہیں کیونکہ آپ نے تو ہمیں کیا بتایا کہ قضیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ بعضوں نے پھر یہ جواب دیا کہ یہ واؤ بمعنیٰ أَوْ کے ہے بھئی، یہ واؤ بمعنیٰ أَوْ کہ اس میں صدق یا کذب کا احتمال ہو، لیکن یہ جواب علماء نے پسند نہیں کیا کہ نہیں یہ واؤ بمعنیٰ أَوْ کے نہیں ہے، تو پھر دوسرا جواب دیتے ہیں کہ یہاں قطع نظر دلائل خارجیہ کے، قطع نظر دلائل خارجیہ کے ان سب میں صدق اور کذب کا احتمال ہے، جیسے اللَّهُ أَحَدٌ، واقع میں تو اللہ یکتا ہے لیکن قطع نظر دلیل خارجی کے، قطع نظر صرف اس قول پر نظر کرو تو اس میں صدق کا بھی احتمال اور جبھی تو کفار انکار کرتے ہیں یا نہیں کرتے؟ صدق اور کذب کا احتمال ہے تو وہ انکار کرتے ہیں نا، تو قطع نظر یا اللَّهُ أَحَدٌ، اللہ تعالیٰ قرآن میں کیا فرماتے ہیں: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ، تو اللَّهُ أَحَدٌ اگر اللہ کے کلام ہو یا اسی طرح حضور علیہ السلام کا کلام ہو، وہ ہے تو سچ اس میں جھوٹ کا کوئی احتمال نہیں، لیکن قطع نظر قائل کے، کہنے والا کون ہے اس سے قطع نظر صرف اس جملے پر نظر کی جائے تو اس میں دونوں احتمال ہیں، اسی لیے تو کفار کیا کرتے ہیں اس کا انکار کرتے ہیں، تو کیا جواب؟ قطع نظر دلائل خارجیہ سے یا یوں کہیں قطع نظر قائل کے، کہنے والے کے، قطع نظر دلائل خارجیہ سے ہر قضیے کے اندر صدق کا بھی احتمال اور کذب، ہاں جب دلائل خارجیہ کو آپ دیکھیں گے تو پھر ایک جانب متعین ہو جائے گی یا اس میں صرف صدق ہی صدق ہوگا یا صرف کذب ہوگا، لیکن قطع نظر دلائل خارجیہ سے وہاں دونوں احتمال ہیں بھئی، دونوں احتمال ہیں۔ یا یوں کہیں قطع نظر وہ خاص موضوع اور محمول کے، قطع نظر، جیسے ایک شخص نے کہا: الْأَرْضُ فَوْقَنَا، زمین ہمارے اوپر ہے، اب اس میں یہ کذب ہی کذب ہے اس میں صدق کا احتمال... حالانکہ آپ نے تو کیا کہا؟ دونوں احتمال ہونے چاہئیں، صدق کا بھی اور کذب کا بھی۔ احتمال کی بات ہو رہی۔ جی! ہے تو سچ لیکن احتمال دونوں ہونے چاہئیں، صدق کا بھی اور کذب کا بھی، دونوں احتمال ہونے چاہئیں۔ یہاں تو صدق کا احتمال ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں بھئی قطع نظر اس موضوع اور اس محمول کے۔ بھئی قضیہ دیکھو، یاد رکھو، جملہ خبریہ کو کہتے ہیں۔ اور آپ جانتے ہیں جملہ خبریہ میں ایک ہوتا ہے مبتدا اور ایک ہوتی ہے خبر، یا جملہ فعلیہ ہو تو ایک ہوتا ہے فعل اور ایک ہوتا ہے فاعل، یا آسان لفظوں میں کہو ایک ہوتا ہے مسند الیہ اور ایک ہوتا ہے مسند۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ مبتدا، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ اس کی خبر ہے، قَائِمٌ اس کی خبر ہے۔ تو یہ جو مبتدا ہے اس کو منطق میں کہتے ہیں مَوْضُوعٌ، مَوْضُوعٌ۔ یہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے بھی۔ اور جو خبر ہے اس کو وہ مَحْمُولٌ کہتے ہیں۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ مَوْضُوعٌ، اور قَائِمٌ یہ کیا ہے؟ مَحْمُولٌ ہے، مَحْمُولٌ ہے۔ تو کہتے ہیں کہ یہ جو بعض جملے آپ نے ذکر کیے، بعضوں میں صرف صدق ہی صدق ہے، کذب کا احتمال نہیں، بعضوں میں کذب ہی کذب ہے، صدق کا کوئی احتمال نہیں۔ کہتے ہیں یہ خاص طور پر وہ موضوع اور محمول کے اعتبار سے ہے۔ توجہ سے سمجھ لیں۔ جیسے الْأَرْضُ فَوْقَنَا، یہ موضوع کیا؟ الْأَرْضُ، اور محمول کیا؟ فَوْقَنَا۔ جب بھی آپ الْأَرْضُ موضوع لائیں گے اور محمول فَوْقَنَا لائیں گے تو پھر تو کذب ہی کذب ہے، ویسے قطع نظر اس خاص موضوع اور خاص محمول کے اس میں صدق اور کذب کا احتمال قطع نظر کس سے؟ اس خاص موضوع اور خاص محمول سے قطع نظر۔ یعنی یوں کہو الْأَرْضُ فَوْقَنَا، یہ کیا ہے؟ کذب ہی کذب ہے، سچ کا احتمال نہیں ہے، لیکن آپ قطع نظر اس موضوع کو اور قطع نظر اس محمول کے اس میں دونوں احتمال ہیں۔ بھئی! کیا معنی دونوں سے قطع نظر؟ معنی یہ ہے یوں کہو: یہ والا جو موضوع ہے اس کے لیے یہ محمول ثابت ہے۔ الْأَرْضُ فَوْقَنَا، الْأَرْضُ کے لفظ کو چھوڑ دیں۔ یہ والا جو موضوع ہے، فَوْقَنَا اس کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے، توجہ ہے؟ آپ جب بھی کہیں گے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے اس میں دونوں احتمال ہوں گے۔ ہو سکتا ہے ثابت ہو، ہو سکتا ہے ثابت نہ ہو۔ لہٰذا اس میں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا بھی۔ نہیں بات سمجھ میں آئی، نہیں سمجھ میں آئی۔ خاص موضوع اور محمول کے اعتبار سے اس میں کذب تھا۔ الْأَرْضُ فَوْقَنَا اس میں کیا ہے؟ کذب ہی کذب ہے، صدق کا کوئی احتمال نہیں۔ میں نے بتلایا کہ مراد یہ ہے کہ نفس مفہوم کی طرف نظر کریں، کس کی طرف؟ نفس مفہوم، نفس مفہوم جو ہے ان کا یعنی یہ والا جو موضوع ہے اس کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے۔ خاص موضوع اور خاص محمول لائیں گے تو پھر یا تو صرف صدق آ جائے گا یا صرف کذب ہو سکتا ہے۔ جیسے موضوع یہی لے آؤ الْأَرْضُ، محمول ذرا بدل دو: الْأَرْضُ تَحْتَنَا، جی! بدل گیا یا نہیں؟ جی، بدل گیا۔ لیکن وہی موضوع لاؤ، وہی محمول لاؤ پھر تو صرف کذب ہے، پھر وہاں صدق کا احتمال نہیں، یا الْأَرْضُ موضوع وہ والا لے آؤ محمول صرف بدل دو: الْأَرْضُ تَحْتَنَا، دیکھا؟ وہ خاص موضوع اور محمول تھے تو وہاں صرف کذب کا احتمال تھا، یہ والے خاص موضوع اور محمول آ گئے تو اب صرف کس کا احتمال؟ صدق کا احتمال ہے! تو خاص موضوع اور خاص محمول سے قطع نظر، بھئی وہ قطع نظر کیسے ہو گا؟ میں نے بیان کر دیا، کیسے ہو گا؟ الْأَرْضُ، ہاں الْأَرْضُ کی جگہ الْأَرْضُ کو چھوڑ دو، یہ والا جو موضوع ہے، جو بھی ہو یہ، یہ والا جو موضوع ہے، آگے کیا تھا؟ فَوْقَنَا، اس فَوْقَ کو چھوڑ دو، یہ والا جو محمول ہے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے، جب بھی آپ یوں کہیں گے وہاں صدق کا بھی احتمال ہو گا اور کذب کا بھی۔ ہاں، جب آپ موضوع خاص لے آئیں محمول ساتھ لے آئیں، صرف ایک کو بھی بدلیں گے صورت ہی بدل جائے گی۔ آپ الْأَرْضُ کو موضوع لے آئے اور فَوْقَنَا کو کیا لے آئے؟ محمول، تو یہ خاص موضوع خاص محمول جب آیا اب اس میں صدق کا احتمال ہی نہیں، صرف کیا رہ گیا؟ کذب ہی کذب! یا محمول کو ذرا بدلیں، موضوع یہی رکھیں، دیکھو خاص موضوع وہی ہے لیکن محمول بدلا: الْأَرْضُ تَحْتَنَا، یہی کس سے بدل گیا؟ صدق سے بدل گیا! تو یہ جو بعض اوقات صرف صدق ہوتا ہے یا بعض اوقات صرف کیا ہوتا ہے؟ کذب ہوتا ہے، وہ اس خاص موضوع اور خاص محمول کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو مراد یہ ہے قطع نظر کس سے؟ اس خاص موضوع اور خاص محمول سے، اس کلام کے اندر صدق کا بھی احتمال ہے اور کذب کا بھی۔ یعنی یوں کہا جائے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے تو وہاں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا بھی۔ خاص موضوع اور خاص محمول کی صورت میں صدق اور کذب دونوں کا احتمال نہیں رہتا۔ ہاں اگر قطع نظر وہ خاص موضوع اور خاص محمول کے، صرف یوں کہا جائے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے تو پھر وہاں صدق کا بھی احتمال اور کذب کا بھی احتمال ہوتا ہے۔ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ جب بھی کسی موضوع کے لیے کسی محمول کو ثابت کیا جائے، توجہ ہے؟ آسان لفظوں میں یوں کہو جب بھی کسی محمول کے لیے کسی موضوع کو ثابت کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے تو وہاں دونوں احتمال ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ واقعے میں بھی اس کے لیے یہ محمول ثابت ہو اور ہو سکتا ہے واقعے میں اس کے لیے محمول ثابت نہ ہو۔ اگر واقعے میں اس کے لیے وہ محمول ثابت ہے تو وہ صدق ہوا اور واقعے میں اس کے لیے وہ محمول ثابت نہیں تو وہ کذب ہوا، بات سمجھ میں آ رہی؟ جب بھی کسی موضوع کے لیے کسی محمول کو ثابت کیا جائے اور یوں کہا جائے اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے تو وہاں دونوں احتمال ہوتے ہیں بھئی قطع نظر دلائل خارجیہ سے۔ ہو سکتا ہے واقعے میں ثابت ہو، ہو سکتا ہے ثابت نہ ہو۔ اگر ہو گا تو وہ صدق، نہ ہو گا تو وہ کذب، تو وہاں دونوں احتمال ہوتے ہیں جب بھی کسی موضوع کے لیے کسی محمول کو ثابت کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ اس موضوع کے لیے یہ والا محمول ثابت ہے تو وہاں دونوں احتمال ہوتے ہیں۔ ہو سکتا ہے واقعے میں اس کے لیے وہ محمول ثابت ہو، ہو سکتا ہے واقعے میں اس کے لیے وہ محمول ثابت نہ ہو۔ تو یہ معنی ہے کہ قطع نظر ان کے خاص موضوع اور خاص محمول کے، وہاں صدق اور کذب دونوں کا احتمال ہوتا ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہو قطع نظر دلائل خارجیہ کے، دلائل خارجیہ سے قطع نظر کہ اس قول کو کہنے والا کون ہے یا واقعے کے اندر ایسا ہے یا ایسا نہیں، ان چیزوں کو چھوڑ دو پھر کوئی بھی قول لے لو، جو بھی نسبت خبریہ ہو گی اس میں صدق کا بھی احتمال ہو گا اور کذب کا بھی، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَالْقَضِيَّةُ قَوْلٌ يَحْتَمِلُ الصِّدْقَ وَالْكِذْبَ“ قضیہ ایسا قول ہے جو صدق اور کذب کا احتمال رکھتا ہے، ”فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِثُبُوتِ شَيْءٍ لِشَيْءٍ أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ فَحَمْلِيَّةٌ“ اب قضیہ کی تقسیم کریں گے، آپ کو بتلائیں گے قضیہ دو قسم پر ہے: یا قضیہ حملیہ ہو گا یا شرطیہ ہو گا۔ توجہ ہے؟ یہ ساری تقسیم آپ نے خوب توجہ سے سمجھنی ہے، پھر آگے چل کر آپ کو حجت صحیح سمجھ میں آئے گی۔ قضیہ دو قسم پر ہے: یا حملیہ ہو گا یا شرطیہ ہو گا۔ حملیہ یا شرطیہ۔ اور یہ جو حملیہ ہے اس میں ایک چیز کا ثبوت دوسری کے لیے ہوتا ہے یا ایک چیز کی نفی دوسری چیز سے ہوتی ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کے لیے کیا ثابت کیا؟ قیام، اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، اس میں زید سے قیام کی نفی کی تو یہ قضیہ حملیہ ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ بھی قضیہ حملیہ، زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، یہ بھی کیا ہے؟ قضیہ حملیہ۔ قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہو یا نفی ہو۔ توجہ ہے؟ قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک چیز کے لیے دوسری چیز کا ثبوت ہو یا نفی ہو۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ، اس میں زید کے لیے ضارب ہونے کا ثبوت، اور زَيْدٌ لَيْسَ بِضَارِبٍ، اس میں زید سے ضارب ہونے کی نفی ہے۔ تو اگر اثبات ہو اس کو مُوجَبَةٌ کہتے ہیں، ایجاب کا معنی ہے اثبات، اثبات۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، یہ کون سا قضیہ ہوا؟ قضیہ حملیہ موجبہ، اس میں ایجاب ہے، زید کے لیے قیام کا اثبات ہے۔ اور بعض اوقات نفی ہوتی ہے: زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ، اس کو کہتے ہیں سَالِبَةٌ، سلب کا معنی ہے نفی، نفی۔ تو موجبہ کا کیا معنی؟ جس میں کیا ہو؟ ایجاب، اور سالبہ کا کیا معنی؟ جس میں نفی ہو۔ زَيْدٌ قَائِمٌ موجبہ ہے، سالبہ؟ موجبہ، موجبہ۔ زَيْدٌ ضَارِبٌ؟ موجبہ۔ زَيْدٌ آكِلٌ؟ موجبہ۔ زَيْدٌ شَارِبٌ؟ موجبہ۔ اور زَيْدٌ لَيْسَ بِقَائِمٍ؟ سالبہ۔ زَيْدٌ لَيْسَ بِضَارِبٍ؟ سالبہ۔ زَيْدٌ لَيْسَ بِشَارِبٍ؟ یہ سب کیا ہیں؟ سالبہ۔ تو قضیہ حملیہ کسے کہتے ہیں؟ جس میں ایک چیز کا ثبوت ہو دوسری چیز کے لیے یا اس سے دوسری چیز کی نفی ہو، اور اس میں ایجاب ہو تو اس کو کیا کہیں گے؟ موجبہ، اور نفی ہو تو سالبہ کہیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ دیکھیے بھئی کتاب پر، کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا بِثُبُوتِ شَيْءٍ لِشَيْءٍ أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ فَحَمْلِيَّةٌ مُوجَبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ“ اگر اس میں حکم ہو، ”فَإِنْ كَانَ الْحُكْمُ فِيهَا“ اگر اس قضیے کے اندر حکم ہو ”بِثُبُوتِ شَيْءٍ لِشَيْءٍ“ ایک چیز کا دوسری چیز کے لیے ثبوت کا ”أَوْ نَفْيِهِ عَنْهُ“ یا نفی ہو ایک چیز کی ”عَنْهُ“ کس سے؟ دوسری چیز سے، ”فَحَمْلِيَّةٌ“ تو یہ کیا ہے؟ قضیہ حملیہ ہے، ”مُوجَبَةٌ أَوْ سَالِبَةٌ“ یہ موجبہ ہو گا یا سالبہ ہو گا۔ ”وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا وَالْمَحْكُومُ بِهِ مَحْمُولًا وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً“ بھئی قضیہ کے اندر ایک مسند الیہ ہو گا اور ایک مسند، زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ مبتدا، مبتدا کیا ہوتا ہے؟ مسند الیہ، یعنی اس کی طرف اسناد کیا گیا ہے، یعنی یوں کہیں اس پر حکم لگایا گیا ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، میں نے زید پر قیام کا حکم لگایا ہے۔ دیکھو عام زبان میں کہیں گے میں نے زید کے بارے میں بات کی، زَيْدٌ قَائِمٌ، میں نے کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، اور علمی انداز میں کہیں گے میں نے زید پر حکم لگایا، یا کہیں گے میں نے زید کی طرف اسناد کیا۔ حکم لگانے کا کیا معنی؟ بات کرنا، کیا معنی؟ بات کرنا۔ تو زَيْدٌ قَائِمٌ، کس کے بارے میں بات کی؟ زید کے بارے میں، یا یوں کہیں کس پر حکم لگایا؟ زید پر، تو زید وہ ہے جس کے بارے میں بات کی یا علمی انداز میں کہو زید وہ ہے جس پر حکم لگایا، تو جس پر حکم لگایا وہ ہے مَحْكُومٌ عَلَيْهِ۔ مَحْكُومٌ، لفظوں پہ غور کر لو، مَحْكُومٌ حکم لگایا گیا ہے عَلَيْهِ اس پر، مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، وہ چیز جس پر کیا کیا گیا ہے؟ حکم لگایا، تو زید کیا ہوا؟ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، اور کیا حکم لگایا؟ قَائِمٌ کا، تو قَائِمٌ ہوا مَحْكُومٌ بِهِ۔ جس پر حکم لگایا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، اور جو حکم لگایا جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَحْكُومٌ بِهِ۔ تو یہ جو مَحْكُومٌ عَلَيْهِ ہوتا ہے نحو میں اس کو کہتے ہیں مبتدا، زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ مبتدا، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ اس کی خبر، لیکن علم منطق میں مَحْكُومٌ عَلَيْهِ یعنی مبتدا جو ہے اس کو مَوْضُوعٌ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ مَوْضُوعٌ، اور جو خبر ہے اس کو علم منطق میں مَحْمُولٌ کہتے ہیں، یعنی مَحْكُومٌ بِهِ کو کیا کہتے ہیں؟ مَحْمُولٌ۔ پھر دہرائیں: زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کیا ہے؟ مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ مَحْكُومٌ بِهِ۔ علم نحو میں کیسے کہیں گے؟ زید کیا ہے؟ مبتدا، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ خبر، اور علم منطق میں کیا کہیں گے؟ زید کیا ہے؟ مَوْضُوعٌ، مَوْضُوعٌ ہے، اور قَائِمٌ کیا ہے؟ مَحْمُولٌ ہے۔ معنی بھی سمجھ لیں، یہ خود بھی بیان کریں گے، مَوْضُوعٌ، مَوْضُوعٌ وضع سے ہے، وَضَعَ کا معنی ہے مقرر کرنا، متعین کرنا۔ دیکھو زَيْدٌ قَائِمٌ، میں نے قَائِمٌ کا حکم لگانا ہے تو اس کے لیے کسی کو میں متعین کروں گا کس پر حکم لگانا ہے، تو اس کو میں پہلے لاؤں گا: زَيْدٌ، یہ ہے مَوْضُوعٌ، یعنی دیکھو اس کو متعین کیا گیا ہے کس کے لیے؟ حکم لگانے کے لیے، توجہ ہے؟ اس کو کیا کیا گیا؟ یہ حکم تو زید پہ بھی لگ سکتا تھا، بكر پر بھی، خالد پر بھی، لیکن میں نے کس کو متعین کیا؟ زید کو، تو زید ہوا مَوْضُوعٌ یعنی اس کو متعین کیا گیا ہے، مقرر کیا گیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو موضوع کو موضوع کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کو مقرر کیا گیا ہے، متعین کیا گیا ہے، کس چیز کے لیے؟ آگے آنے والے حکم کے لیے کہ اس پر یہ حکم لگایا جا رہا ہے۔ آپ نے کہا زَيْدٌ قَائِمٌ، آپ خَالِدٌ قَائِمٌ کہہ سکتے تھے یا نہیں؟ آپ بَكْرٌ قَائِمٌ کہہ سکتے تھے یا نہیں؟ لیکن آپ نے کس کو متعین کیا؟ زید کو، تو اس لیے اس کو موضوع کہتے ہیں کہ اس کو متعین کیا جاتا ہے، اس پر پھر آگے حکم لگایا جائے گا، تو اس حکم کے لیے اس کو متعین کیا جاتا ہے۔ تو زید کیا ہوا؟ مَوْضُوعٌ، اور قَائِمٌ کیا ہوا؟ مَحْمُولٌ۔ مَحْمُولٌ کو محمول اس لیے کہتے ہیں کیونکہ اس کا حمل کیا جاتا ہے، کیا کیا جاتا ہے؟ یعنی اس کا حکم لگایا جاتا ہے، توجہ ہے؟ اس کا کیا کیا جاتا ہے؟ حکم لگایا جاتا ہے۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زید ہے موضوع، اور کیا حکم لگایا؟ قیام کا، کس کا؟ قیام، تو اس کو مَحْمُولٌ کہتے ہیں۔ مَحْمُولٌ کا کیا معنی؟ جس کا حمل کیا گیا ہے، کیا کیا گیا ہے؟ حمل کیا گیا، کیا معنی حمل کیا گیا ہے؟ حکم لگایا گیا ہے اس پر۔ پہلے کو کہتے ہیں مَحْكُومٌ عَلَيْهِ، کیوں محکوم علیہ کہتے ہیں؟ اس پر حکم لگایا گیا ہے، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ مَحْكُومٌ بِهِ، یعنی اس کے ذریعے کیا کیا گیا؟ اس کے ساتھ حکم لگایا گیا، تو اسی کے لیے دوسرا لفظ کیا ہے؟ مَحْمُولٌ، یعنی اس کا حمل کیا گیا ہے، حمل کا کیا معنی؟ حکم لگایا گیا ہے اس پر، زید پر قیام کا۔ زَيْدٌ قَائِمٌ، زید کو کہتے ہیں موضوع، اور قَائِمٌ کو کیا کہتے ہیں؟ محمول۔ زید کو موضوع کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کو متعین کیا گیا، اس پر حکم لگانا ہے، اور قَائِمٌ کو کیا کہتے ہیں؟ محمول، محمول کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ اس کا حمل کیا گیا ہے، کیا کیا گیا ہے؟ حمل، کیا معنی حمل کیا گیا ہے؟ حکم لگایا گیا ہے اس پر، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا“ اور محکوم علیہ جو ہے اس کو موضوع کہتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا سَمَّى يُسَمِّي تَسْمِيَةً، یہ دو مفعول چاہتا ہے، کتنے؟ دو، سَمَّيْتُ الرَّجُلَ میں نے نام رکھا الرَّجُلَ اس آدمی کا زَيْدًا، کیا نام رکھا؟ زید، تو دو مفعول چاہیے۔ سَمَّيْتُ میں، میں ہوا فاعل، میں نے نام رکھا، الرَّجُلَ یہ مفعول اول، اور زَيْدًا یہ کیا ہے؟ مفعول ثانی، تو یہ سَمَّى دو مفعول چاہتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں آیا يُسَمَّى فعل مجہول آیا، اور فعل مجہول میں کیا کرتے ہیں؟ ہاں وہ جو مفعول ہوتا ہے اس کو کیا بناتے ہیں؟ نائب فاعل، تو سَمَّيْتُ الرَّجُلَ زَيْدًا، اس سَمَّيْتُ اس میں تا کیا ہے؟ فاعل، تا سَمَّيْتُ میں تا کیا ہے؟ فاعل ہے، اس فاعل کو حذف کر دو کیونکہ فعل مجہول میں فاعل کا ذکر نہیں کیا جاتا، تو سُمِّيَ، اور سُمِّيَ فعل مجہول آ گیا تو اس کے لیے مفعول کو کیا بنا دو؟ نائب فاعل، تو الرَّجُلُ کو نائب فاعل بنا دو اس پر رفع پڑھ دو: سُمِّيَ الرَّجُلُ، اور زَيْدًا مفعول تھا ابھی بھی کیا رہے گا؟ مفعول: سُمِّيَ الرَّجُلُ زَيْدًا، یہاں بھی اسی طرح ہے: ”وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ“ یہ محکوم علیہ کیا ہے؟ یہ نائب فاعل ہے کس کے لیے؟ يُسَمَّى کے لیے، اور ”مَوْضُوعًا“ یہ کیا ہے؟ مفعول ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا“ اور محکوم علیہ کو موضوع کہتے ہیں ”وَالْمَحْكُومُ بِهِ مَحْمُولًا“ اور محکوم بہ کو محمول کہتے ہیں ”وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً“ اور دال علی النسبة کو رابطہ، وہ چیز جو نسبت پر دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ رابطہ کہتے ہیں۔ جیسے دیکھو اردو میں مثال لے لو: زید ضارب ہے، زید ضارب ہے، زید کیا بنا؟ موضوع، اور ضارب؟ محمول، توجہ ہے؟ اور جب تک آخر میں میں "ہے" نہیں لاؤں گا ربط نہیں آئے گا، زید ضارب، زید ضارب آپ سارا دن کرتے رہیں، ساتھی کہیں گے بھئی کیا معنی ہے زید ضارب؟ بتاؤ ہے یا نہیں ہے؟ تو آپ کہتے ہیں زید ضارب ہے، یہ "ہے" نے کیا کر دیا دونوں کو؟ ربط دے دیا، تو اس کو رابطہ کہتے ہیں یعنی ربط دینے والی چیز، اس کو کیا کہتے ہیں؟ رَابِطَةٌ، ربط دینے والی چیز۔ یاد رکھو یہ جو موضوع اور محمول ہوتا ہے ان میں ربط ہوتا ہے، آپ حکم لگاتے ہیں، کس پر لگاتے ہیں؟ موضوع پر، توجہ ہے؟ تو ان میں ربط آ جاتا ہے۔ زید الگ لفظ تھا، قائم الگ لفظ تھا، آپ نے ان دونوں کو لا کر جوڑ دیا اور قائم کا حمل کر دیا کس پر؟ زید پر، تو دونوں میں ربط آ گیا، جوڑ آ گیا، معلوم ہوا بات کس کی ہو رہی ہے؟ زید کی، خالد یا بكر کی نہیں ہو رہی، اور کیا زید کے بارے میں کیا بات ہو رہی ہے؟ کہ وہ قائم ہے، یہ قائم زید کے بارے میں ہی کہہ رہے ہیں آپ، خالد یا بكر کے بارے میں نہیں کہہ رہے، یہ قائم تو زید بھی ہو سکتا ہے، بكر بھی ہو سکتا ہے، خالد بھی ہو سکتا ہے، لیکن آپ نے قائم کو کس سے جوڑا؟ زید سے، تو ان دونوں میں ربط آ گیا، ان میں نسبت آ گئی، اس نسبت حکمیہ کہتے ہیں، ان دونوں میں ربط اور جوڑ آ گیا۔ بھئی ایک کو کہہ دیا زید ہے مبتدا اور قائم کیا ہے؟ اس کی خبر ہے، توجہ ہے؟ مبتدا کسی لفظ کو کیوں کہتے ہیں؟ ویسے ہی کہہ دیتے ہیں؟ جب اس کے ساتھ کوئی خبر آپ جوڑیں گے پھر ہی مبتدا کسی چیز کو کہیں گے، جب تک خبر نہیں جوڑیں گے، زید کا لفظ اکیلا ہے، کوئی اس کو مبتدا کہے گا؟ نہیں، لیکن اسی کو جب میں نے قائم کے ساتھ اس زید کو جوڑ دیا اب آپ اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبتدا! اسی طرح قائم اکیلا لفظ ہے، کوئی آپ سے پوچھے یہ کیا لفظ ہے؟ آپ کہیں گے اس میں فاعل ہے۔ کوئی کہے گا کبھی کہ یہ خبر ہے؟ خبر کب کہیں گے؟ جب آپ اس کو مبتدا سے لا کر جوڑ دیں گے، تو یہ جب دونوں کو جوڑتے ہیں درمیان میں ربط آ جاتا ہے، وہ جو ربط بیچ میں آیا اس کو کہتے ہیں نسبت خبریہ، کیا کہتے ہیں؟ خبر ہے نا، یہ مبتدا خبر یہ جملہ خبریہ ہے نا، جملہ خبریہ کو بھی خبر کہتے ہیں، یہ کیا ہے؟ خبر، اور دوسری قسم ہو تو وہ ہے انشاء، قسم وغیرہ اور نداء وہ کیا ہیں؟ انشاء ہیں، تو جملہ خبریہ کو خبر کہتے ہیں، یہ خبر ہے، اور دوسرے کو کیا کہتے ہیں؟ یہ انشاء ہے، تو جو جملہ خبریہ ہے اس کے اندر یہ جو مبتدا اور خبر ہوتے ہیں ان کے درمیان جوڑ آتا ہے، ایک ربط آتا ہے، جوڑ اور ربط ہے تو یہ مبتدا اور خبر کہلا رہے ہیں، اگر یہ ربط اور جوڑ نہیں تو پھر یہ مبتدا اور خبر بھی نہیں، ورنہ تو دونوں لفظ ہیں، زید بھی ایک لفظ ہے قائم بھی ایک لفظ ہے، الگ الگ ہیں تو کوئی ان کو مبتدا خبر نہیں کہتا، لیکن جب آپ نے دونوں کو جوڑ دیا اب ایک کو لوگ کیا کہہ رہے ہیں؟ مبتدا، دوسرے کو کیا کہہ رہے ہیں؟ خبر، ویسے ہی کہہ رہے ہیں یا دونوں میں جوڑ آیا؟ جوڑ اور ربط، یہ جو بیچ میں جوڑ اور ربط آیا اس کو کہتے ہیں نسبت خبریہ، کیا کہتے ہیں؟ یا یوں کہو نسبت حکمیہ، نسبت خبریہ بھی کہتے ہیں اور نسبت حکمیہ بھی۔ جیسے ایک مرد ہے، ایک عورت، جب اس مرد کا اس عورت سے نکاح ہو گا تو اس مرد کو کہیں گے خاوند اور عورت کو کیا کہیں گے؟ بیوی، نکاح نہیں تو اس مرد کو کوئی خاوند کہے گا؟ نہیں، اس عورت کو کوئی بیوی کہے گا؟ نہیں، تو ان دونوں کے درمیان جیسے نکاح ہوتا ہے ان میں ایک ربط آتا ہے، ایک جوڑ آ جاتا ہے، اور وہ ربط کیا ہے دونوں میں؟ نکاح، نکاح ہے تو وہ مرد خاوند ہے اور وہ عورت کیا ہے؟ بیوی ہے، اسی طرح مبتدا اور خبر میں جوڑ ہے تو مبتدا مبتدا ہے اور خبر خبر، اگر جوڑ نہیں تو پھر ان میں ربط بھی نہیں ہے، اور وہ جوڑ کیا ہے؟ نسبت حکمیہ ہے۔ تو ان دونوں میں کیا آیا؟ ربط، ربط ہے تو ان کو مبتدا اور خبر کہیں گے، ربط نہیں تو مبتدا اور خبر بھی نہیں، یا یوں کہیں ربط ہے تو یہ موضوع اور محمول ہیں، ربط نہیں تو یہ موضوع اور محمول بھی نہیں، اسی طرح جیسے میں نے مثال ذکر کر دی میاں بیوی، نکاح ہے تو میاں بیوی کہلائیں گے، نکاح نہیں تو میاں بیوی بھی نہیں، تو یہ جو درمیان میں ربط ہے یہ جوڑ ہے، اس کا کیا نام ہے؟ نسبت خبریہ، یا یوں کہو نسبت حکمیہ، دونوں اسی کے نام ہیں، ایک نام کیا؟ نسبت خبریہ، یا ایک کیا؟ نسبت حکمیہ، نسبت حکمیہ۔ تو یہ جو نسبت حکمیہ پر جو چیز دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ جو چیز نسبت حکمیہ پر دلالت کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ، جیسے میں نے اردو میں مثال دی: زید ضارب ہے، زید ضارب ہے، یہ "ہے" یہ بتلا رہا ہے کہ ان دونوں میں جوڑ ہے، ربط ہے، صرف زید ضارب کہو اردو میں تو اس سے پتہ نہیں چلے گا کہ بات پوری ہے، ہاں جب آخر میں "ہے" آ گیا یا آخر میں "تھا" آ گیا: زید ضارب تھا، تو اس "تھا" نے یا "ہے" نے بتلا دیا کہ دونوں میں کیا ہے؟ ربط ہے، تو یہ "ہے" اور یہ "تھا" وغیرہ یہ اس نسبت پر دلالت کرتے ہیں، توجہ ہے؟ تو وہ چیز جو اس نسبت پر دلالت کرے اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ یہ معنی ہے: ”وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً“ اور وہ چیز جو دلالت کرتی ہے نسبت پر، ”رَابِطَةً“ اس کا نام کیا ہے؟ رابطہ ہے، یہ سب اسی يُسَمَّى پر کے لیے نائب فاعل اور مفعول بن رہے ہیں: ”وَيُسَمَّى الْمَحْكُومُ عَلَيْهِ مَوْضُوعًا وَالْمَحْكُومُ بِهِ مَحْمُولًا وَالدَّالُّ عَلَى النِّسْبَةِ رَابِطَةً“ عبارت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ سب کا اسی پر عطف ہے بھئی۔ ”وَقَدْ أُسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ“ اور اس کے لیے تحقیق مستعار لیا گیا ہے هُوَ کو، اس رابطہ کے لیے مستعار لیا گیا ہے کس کو؟ هُوَ کو۔ یاد رکھو اِسْتَعَارَ يَسْتَعِيرُ کے معنی ہیں عارضی طور پر استعمال کے لیے کوئی چیز لینا، جیسے گھروں میں مہمان آ جاتا ہے تو وہ ساتھ ہمسایوں سے برتن لے لیتے ہیں کہ ہمیں برتن دے دیں، استعمال کے بعد واپس کر دیں گے، یہ ہے عاریت، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عاریت، اور یہ عاریتاً کوئی چیز مانگنا اس کو کہتے ہیں استعارہ، سین طلب کے لیے آ گیا نا، عاریت کو طلب کرنا، استعارہ کا کیا معنی؟ کسی چیز کو استعمال کے لیے طلب کرنا، تو یہاں پر بھی هُوَ کے لفظ کو عاریتاً لے لیا گیا کس کے لیے؟ اس رابطہ کے لیے، کس کے لیے؟ رابطہ کے لیے، یہ شرح میں آپ کو بتائیں گے بھئی، کہ یہ جو نسبت حکمیہ ہے یہ غیر مستقل ہے، توجہ ہے؟ یہ نسبت حکمیہ یہ غیر مستقل ہے، لہٰذا جو لفظ اس پر دلالت کرے وہ بھی ادات ہو گا۔ آپ نے شروع کتاب میں پڑھا تھا ادات، یاد آیا کہ بھول گئے؟ آپ کو انہوں نے بتایا تھا کہ لفظ موضوع دو قسم پر ہے: یا مفرد ہو گا یا مرکب، مفرد اگر وہ مستقلاً اپنے معنی پر خود یعنی دلالت کر رہا ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہے تو وہ اسم ہے، اور اگر زمانہ ملا ہوا ہے تو وہ فعل ہے، اور اگر وہ مستقلاً اپنے معنی پر دلالت نہیں کرتا تو وہ ادات ہے، یعنی یعنی وہی جو نحو میں آپ نے کیا پڑھا تھا؟ اسم، فعل اور حرف، اسم کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہ ہو، فعل کسے کہتے ہیں؟ جو اپنے معنی پر مستقلاً دلالت کرے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا ہو، اور حرف وہ ہے جو اپنے معنی پر مستقلاً دلالت نہ کرے۔ تو دیکھو یہ جو اسم ہے یہ مستقلاً اپنے معنی پر دلالت کرتا ہے، مستقلاً دلالت کرنے کا معنی یہ ہے کہ یہ کسی اور کلمے کا محتاج نہیں، جیسے میں ایک لفظ بولوں گا وہ اسم ہو گا، آپ نے مجھے اس کا معنی بتانا ہے: اِبْتِدَاءٌ، ابتداء کا کیا معنی؟ دیکھا، میں نے صرف ایک لفظ اسم بولا آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آ گیا کہ ابتداء کا کیا معنی ہے؟ شروع کرنا، شروع کرنا۔ اب میں ایک فعل بولوں گا آپ نے مجھے اس کا معنی بتانا ہے: ضَرَبَ، مارا اس نے زمانہ ماضی میں، دیکھو ضَرَبَ صرف فعل میں نے بولا، آپ کو اس کا معنی سمجھ میں آ گیا، کسی اور کلمے کے ساتھ جڑنے کا وہ محتاج نہیں، اسی طرح اِبْتِدَاءٌ کا لفظ بولا، اس سے آپ کو اسم کا معنی سمجھ میں آ گیا، کسی اور کلمے کے ساتھ جڑنے کا وہ محتاج نہیں، یہی اسی طرح مِنْ، مِنْ حرف ہے، مِنْ حرف ہے اور اس مِنْ کا معنی ہے ابتداء، لیکن میں اکیلا مِنْ بولتا ہوں، کیا آپ کو کسی کو ابتداء کا معنی سمجھ میں آتا ہے اس سے؟ نہیں، تو مِنْ بھی ابتداء پر دلالت کر رہا ہے لیکن یہ مستقلاً دلالت نہیں کرتا، یعنی اکیلا اس معنی پر دلالت نہیں کرتا، یہ محتاج ہے، اس کے ساتھ اور کلمے جوڑو گے تو پھر یہ اپنے معنی پر دلالت کرے گا، جیسے مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں: سِرْتُ مِنَ الْبَيْتِ إِلَى الْمَسْجِدِ، سَارَ يَسِيرُ کا معنی ہوتا ہے چلنا، سین کے ساتھ ہے، سِرْتُ میں چلا، مِنَ الْبَيْتِ کہاں سے؟ کمرے سے یا گھر سے، إِلَى الْمَسْجِدِ کہاں تک؟ مسجد تک، دیکھا؟ اب بتائیے، یہ چلنے کی ابتداء کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے، بھئی میں نے تو کوئی ابتداء کا ذکر نہیں کیا، کیسے پتہ چلا؟ آپ کہیں گے آپ نے ذکر کیا ہے، مِنْ کہا ہے آپ نے، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا مِنْ کا کیا معنی ہے؟ ابتداء، لیکن کیا اکیلے مِنْ سے معنی سمجھ میں آ رہا تھا ابتداء والا؟ نہیں، لیکن جب اس کے ساتھ چلنے کا ذکر ہوا اور جب اس کے ساتھ گھر کا ذکر ہوا، اب پتہ چلا کہ ابتداء ذکر ہو رہی ہے چلنے کی اور کہاں سے ہو رہی ہے؟ گھر سے۔ تو اسم اپنے معنی پر مستقل دلالت کرتا ہے اور تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ اس کے ساتھ ملا ہوا نہیں ہوتا، اور فعل بھی اپنے معنی پر مستقل دلالت کرتا ہے یعنی خود بخود دلالت کرتا ہے، کسی اور کلمے کے ساتھ جڑنے کا محتاج نہیں، اور اس کے ساتھ تین زمانوں میں سے کوئی زمانہ بھی ملا ہوتا ہے، جبکہ حرف جو ہے وہ وہ غیر مستقل ہے، یعنی اپنے معنی پر خود اکیلا دلالت نہیں کرتا، جب تک اس کے ساتھ دوسرے لفظ نہیں جڑیں گے اس کا معنی ہمیں سمجھ میں نہیں آئے گا، یہی تعریف انہوں نے مفرد کی کی تھی کہ مفرد یا اسم ہو گا یا کلمہ ہو گا یا ادات ہو گا، بحث ذہن میں آ گئی؟ اس کتاب کے شروع میں انہوں نے کیا تعریف کی تھی؟ کہ مفرد انہوں نے مفرد کی کیا تقسیم کی تھی؟ مفرد یا تو اسم ہو گا یا کلمہ ہو گا یا ادات، جس کو نحو میں اسم کہتے ہیں منطق میں بھی اس کو اسم کہتے ہیں، جس کو نحو میں فعل کہتے ہیں منطق میں اس کو کلمہ کہتے ہیں، اور جس کو نحو میں حرف کہتے ہیں منطق میں اس کو ادات کہتے ہیں۔ تو بات چل رہی تھی یہ نسبت حکمیہ کی، یہ جو نسبت حکمیہ ہے، یہ موضوع اور محمول کے درمیان زَيْدٌ قَائِمٌ، زَيْدٌ اور قَائِمٌ کے درمیان کیا ہے؟ نسبت حکمیہ ہے، یاد رکھو یہ نسبت حکمیہ غیر مستقل ہے، یہ کیا ہے؟ کیسے غیر مستقل ہے؟ معنی یہ ہے، جب تک موضوع اور محمول نہیں آئیں گے درمیان میں نسبت حکمیہ نہیں آ سکتی، دو لفظ آئیں گے تو درمیان میں پھر کیا آئے گی؟ نسبت حکمیہ، اکیلی نسبت حکمیہ ہو سکتی ہے دو لفظوں کے بغیر؟ نہیں، اکیلی کیا، وہ تو آتی ہی کس کے درمیان ہے؟ دو لفظوں کے درمیان، تو یہ محتاج ہوئی محکوم علیہ کی بھی اور محکوم بہ کی بھی، تو نسبت حکمیہ یا یوں کہو نسبت خبریہ، وہ مستقل ہے یا غیر مستقل؟ غیر مستقل، وہ محتاج ہے کس کی؟ محکوم علیہ کی بھی اور محکوم بہ کی بھی، یعنی موضوع کی بھی اور محمول کی بھی، یا یوں کہو مسند الیہ کی بھی اور مسند کی بھی، تو یہ نسبت حکمیہ غیر مستقل ہوئی، اور جب یہ غیر مستقل ہے تو اس پر جو لفظ دلالت کرے گا وہ بھی کیا ہونا چاہیے؟ غیر مستقل، اور غیر مستقل اسم ہے، کلمہ ہے یا ادات ہے؟ وہ تو ادات ہے، لہٰذا اس نسبت حکمیہ پر جو لفظ دلالت کرے وہ کیا ہے؟ وہ ادات ہونا چاہیے، کیا ہونا چاہیے؟ ادات ہونا چاہیے، لیکن اس کے لیے کہتے ہیں عربی زبان میں کوئی لفظ نہیں ملا تو هُوَ استعمال کرنے لگے، یہ جو ضمیریں ہیں غائب کی: هُوَ ، هُمَا ، هُمْ ، هِيَ ، هُمَا ، هُنَّ، یہ غائب کی ضمیریں اس کے لیے استعمال کرنے لگے، اور یہ غائب کی ضمیریں یہ تو اسم ہیں بھئی، ضمیریں ہیں نا، یہ کیا ہیں؟ اسم ہیں، لیکن کس کی جگہ استعمال کر رہے ہیں؟ ادات کی جگہ، تو کہیں گے کہ یہ جو هُوَ ، هِيَ وغیرہ کا لفظ مستعار لے لیا اس معنی کے لیے، اس کے لیے ہونا تو کیا چاہیے تھا؟ ادات بھئی، کیونکہ یہ نسبت حکمیہ کیا ہے؟ غیر مستقل، تو اس کے لیے لفظ بھی کون سا ہونا چاہیے؟ غیر مستقل، اور وہ کیا ہے؟ ادات ہے، لیکن کس کو استعمال کیا؟ هُوَ اور هِيَ، یہ هُوَ ، هِيَ وغیرہ کو استعمال کرتے ہیں، جیسے کہتے ہیں: زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، یہ هُوَ کس پر دلالت کر رہا ہے؟ نسبت پر، منطق میں اس کو رابطہ کہتے ہیں۔ کبھی یہ لفظوں میں، توجہ سے سنو، یہ کبھی رابطہ لفظوں میں ذکر ہوتا ہے کبھی ذکر نہیں ہوتا: زَيْدٌ قَائِمٌ، رابطہ لفظوں میں ذکر ہے؟ نہیں ہے، اور زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، اب رابطہ کیا ہے؟ لفظوں میں ذکر ہے، تو آگے چل کر آپ کو شرح میں بتائیں گے کہ اگر قضیے کے میں رابطہ ذکر ہو تو تین چیزیں ہو گئیں: موضوع بھی، محمول بھی اور رابطہ بھی، تو اس کو ثلاثی کہیں گے، کیا کہیں گے؟ یوں کہیں گے: یہ قضیہ ثلاثیہ ہے، یہ قضیہ ثُلَاثِيَّةٌ ہے، اور اگر رابطہ کو حذف کر لیں صرف یوں کہیں: زَيْدٌ قَائِمٌ، هُوَ کو کیا کر دیا؟ حذف، رابطے کو کبھی ذکر کرتے ہیں اور کبھی حذف، جب رابطہ نہ ہو تو کتنی چیزیں رہ گئیں؟ دو: ایک موضوع اور ایک محمول، تو اس کو کہیں گے ثنائی، تثنیہ سے ہے، یوں کہیں گے: قَضِيَّةٌ ثَنَائِيَّةٌ، یہ قضیہ کیا ہے؟ ثنائیہ ہے یعنی دو جز والا ہے، اس کے دو جز ہیں، تو قضیہ ثلاثیہ بھی ہو سکتا ہے اور ثنائیہ بھی، ثلاثیہ کون سا ہو گا؟ جس میں رابطہ ذکر ہو، اور ثنائیہ کون سا ہو گا؟ جس میں رابطہ ذکر نہ ہو۔ تو دیکھو: زَيْدٌ هُوَ قَائِمٌ، زَيْدٌ کیا ہے؟ موضوع، قَائِمٌ کیا ہے؟ محمول، اور هُوَ کیا ہے؟ رابطہ، اور رابطہ انہوں نے بتایا وہ ادات ہے، کیا ہو گا؟ رابطہ کیا ہے؟ وہ ادات ہے، ادات ہے، تو اس کے لیے استعمال کیا کر رہے ہیں؟ هُوَ، حالانکہ هُوَ تو اس کے لیے وضع نہیں، هُوَ تو اسم ہے، هُوَ ضمیر ہے اسم ہے، تو کہتے ہیں کہ بھئی یہ مستعار لے لیا گیا ہے، کیا کیا گیا ہے؟ یعنی مجازاً اس کے لیے هُوَ کو اور هِيَ وغیرہ کو استعمال کر لیتے ہیں، اس کے لیے عربی زبان میں ہمیں کوئی لفظ ملا نہیں، تفصیل شرح میں آ جائے گی، آپ کو بتائیں گے کہ یہ جو رابطہ ہے یہ دو قسم پر ہے: ایک زمانی ہے یعنی جس میں زمانہ بھی ہوتا ہے، اور ایک غیر زمانی ہے جس میں زمانہ نہیں ہوتا، رابطہ زمانیہ جو ہے وہ افعال ناقصہ ہیں: كَانَ يَكُونُ وغیرہ، توجہ ہے؟ دیکھو زَيْدٌ قَائِمٌ کیا ترجمہ؟ زید کے لیے قیام ثابت ہے، اور كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا، كَانَ زَيْدٌ قَائِمًا ترجمہ کرو: زید کھڑا تھا، دیکھا؟ ماضی والا زمانہ آ گیا، تو یہ كَانَ جو افعال ناقصہ ہیں كَانَ يَكُونُ وغیرہ، یہ رابطہ زمانیہ ہیں، اس میں رابطہ بھی ربط بھی دیتے ہیں اور زمانہ بھی ہے ان کے اندر، تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ رابطہ زمانیہ، تو رابطہ زمانیہ کے لیے اب انہوں نے ان کتابوں کو ترجمہ کیا عربی میں تو وہاں دو طرح کے رابطے تھے: کچھ رابطہ زمانیہ تھے اور کچھ رابطہ غیر زمانی، رابطہ زمانیہ کے لیے تو افعال ناقصہ ان کو عربی میں مل گئے، ان مسلمان علماء کو انہوں نے استعمال کیے، لیکن رابطہ غیر زمانیہ کے لیے ان کو عربی میں کوئی لفظ ملا نہیں تو پھر اس کے لیے انہوں نے هُوَ ، هِيَ وغیرہ ضمیروں کو استعمال کر لیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ایک لفظ کو دوسرے لفظ کی جگہ استعمال کرنا اس کو کہتے ہیں استعارہ، استعارہ اصل میں کیا معنی تھا؟ میں نے کیا معنی بیان کیا؟ کسی سے عاریتاً عارضی طور پر کوئی چیز استعمال کے لیے لینا، تو یہاں بھی هُوَ تو اصل میں ضمیر ہے لیکن اس کو عاریتاً اس معنی کے لیے لے لیا اور استعمال کر لیا تو یہ کیا ہے؟ استعارہ ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یعنی مجاز ہے، کیا ہے؟ مجاز ہے، یہ معنی ہے: ”وَقَدْ أُسْتُعِيرَ لَهَا هُوَ“ اور تحقیق اس رابطے کے لیے مستعار لے لیا گیا هُوَ کو، هُوَ اور اسی طرح اور ضمیروں کو مستعار لے لیا گیا، ”وَإِلَّا فَشَرْطِيَّةٌ“ اور اگر ایسا نہ ہو تو پھر یہ قضیہ کیا ہے؟ شرطیہ ہے، ”وَإِلَّا“ میں نے آپ کو بتایا تھا یہ اِلَّا سے پہلے واؤ آ جائے تو یہ حرف استثناء نہیں ہے، یہ دراصل کس سے مرکب ہے؟ اِنْ اور لَا سے، ”أَيْ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذٰلِكَ“ اور اگر ایسا نہ ہو ”فَشَرْطِيَّةٌ“ تو پھر وہ قضیہ کیا ہے؟ شرطیہ ہے، انہوں نے آپ کو بتایا تھا، انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قضیہ، قضیہ وہ قول جو صدق اور کذب کا احتمال رکھے، پھر اس کے اندر اگر ایک شئے کا ثبوت ہو دوسری شئے کے لیے یا نفی ہو تو وہ قضیہ حملیہ ہے، ”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو ”فَشَرْطِيَّةٌ“ تو وہ کیا ہے؟ قضیہ شرطیہ ہے، معلوم ہوا قضیہ دو قسموں میں بند ہے: یا وہ ہمیشہ کیا ہو گا؟ حملیہ، حملیہ کب ہو گا؟ جب اس میں ایک شئے کا ثبوت ہو دوسری شئے کے لیے یا ایک شئے کی نفی ہو دوسری سے، اگر وہ حملیہ نہیں تو پھر وہ کیا ہے؟ شرطیہ ہے، تو کہتے ہیں: ”وَإِلَّا فَشَرْطِيَّةٌ“ اور اگر ایسا نہ ہو، کیا معنی؟ کیا نہ ہو؟ ایک شئے کا ثبوت دوسری کے لیے یا ایک شئے کی نفی دوسری شئے سے نہ ہو ”فَشَرْطِيَّةٌ“ تو وہ کیا ہے؟ شرطیہ ہے، ”وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مُقَدَّمًا وَالثَّانِي تَالِيًا“ اور اس کے پہلے جز کو مقدم کہتے ہیں اور دوسرے جز کو تالی کہتے ہیں۔ قضیہ حملیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے تھے یا یوں کہو محکوم علیہ کو کیا کہتے تھے؟ موضوع، اور دوسرے کو؟ محمول، لیکن جبکہ قضیہ شرطیہ میں پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے جز کو تالی، مثلاً: ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“ اگر سورج طلوع ہے ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“ تو دن موجود ہے، تو ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“ یہ پہلے آیا اس لیے اس کو کہتے ہیں مقدم، مقدم کا کیا معنی؟ جسے پہلے کیا گیا ہو، پہلے لایا گیا ہو، تو پہلے جز مقدم، اور تالی: ”تَلَا يَتْلُو تُلُوًّا“ کا معنی ہے پیچھے آنا، ایک چیز کے بعد آنا، تو ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، دیکھا؟ ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“، تو ”فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ“ بعد میں آ رہا ہے، پیچھے آ رہا ہے اس لیے اس کو تالی کہتے ہیں، ”تَلَا يَتْلُو تُلُوًّا فَهُوَ تَالٍ“، تالی کا کیا معنی؟ پیچھے آنے والا، بعد میں آنے والا، تو پہلے قضیہ شرطیہ کے پہلے جز کو کیا کہتے ہیں؟ مقدم، اور دوسرے جز کو تالی کہتے ہیں، ”إِنْ كَانَتِ الشَّمْسُ طَالِعَةً“ یہ کیا ہے؟ یہ مقدم... مقدم ہے، اور فَالنَّهَارُ مَوْجُودٌ یہ کیا ہے؟ تالی ہے۔ یا یوں کہو کہ قَضِيَّة شَرْطِيَّة کے اندر جو مَحْكُومٌ عَلَيْهِ ہوتا ہے، وہ ہے مقدم، اور جو مَحْكُومٌ بِهِ ہوتا ہے، وہ ہے تالی۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ جی۔ قَضِيَّة شَرْطِيَّة کے اندر جو مَحْكُومٌ عَلَيْهِ ہے، یعنی جس پر حکم لگایا جا رہا ہے، وہ ہے مقدم، اور جو حکم لگایا جا رہا ہے، وہ ہے تالی، یعنی وہ مَحْكُومٌ بِهِ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُسَمَّى الْجُزْءُ الْأَوَّلُ مُقَدَّمًا اور اس کے پہلے جز کو مقدم کہتے ہیں، وَالثَّانِي تَالِيًا اور دوسرے جز کو تالی کہتے ہیں۔ حاصلِ کلام یہ کہ آج ہم نے تصدیقات کی بحث شروع کی۔ اس سے قبل مُعَرِّف کا بیان ہوا تھا، میں نے آپ کو بتلایا کہ منطق کا موضوع مُعَرِّف اور حُجَّة ہیں۔ لہذا مُعَرِّف کے بیان کے بعد حُجَّة کا بیان چاہیے، لیکن حُجَّة کا سمجھنا تصدیقات پر موقوف ہے، اس لیے پہلے تصدیقات کا بیان شروع کیا۔ جیسے کہ مُعَرِّف کا سمجھنا كُلِّيَّاتِ خَمْسَة پر موقوف تھا، تو اس سے پہلے مُعَرِّف سے پہلے مصنف نے كُلِّيَّاتِ خَمْسَة کا بیان کیا۔ اور تصدیقات میں پھر انہوں نے آپ کو سب سے پہلے قَضِيَّة کے بارے میں بتلایا، قَضِيَّة کسے کہتے ہیں۔ قَضِيَّة وہ قول ہے جو صِدْق اور كِذْب دونوں کا احتمال رکھتا ہو۔ اور اسی کو نحو کے اندر جملہ خبریہ کہتے ہیں، یعنی جس کے کہنے والے کو سچا یا جھوٹا کہا جا سکے۔ اور پھر انہوں نے بتلایا تھا کہ قَضِيَّة کے اندر اگر اس میں حکم لگایا جائے کہ ایک چیز دوسری چیز کے لیے ثابت ہے یا ایک چیز کی دوسری چیز سے نفی ہو، تو اس کو قَضِيَّة حَمْلِيَّة کہتے ہیں۔ اور پھر یہ دو قسم پر ہے، یا یہ مُوجِبَة ہوگا یا سَالِبَة۔ اگر ایک چیز کا ثبوت ہے دوسری چیز کے لیے، تو اس کو مُوجِبَة کہیں گے، اور اگر ایک چیز کی نفی ہے دوسری چیز سے، تو اس کو سَالِبَة کہیں گے۔ اور پھر انہوں نے یہ بھی بتلایا تھا کہ قَضِيَّة حَمْلِيَّة جو ہے اس کے اندر جو مَحْكُومٌ عَلَيْهِ ہے اس کو مَوْضُوع کہتے ہیں، کیونکہ اس کو مقرر کیا گیا ہے، متعین کیا گیا ہے حکم لگانے کے لیے۔ اور جو مَحْكُومٌ بِهِ ہے قَضِيَّة حَمْلِيَّة کے اندر، اس کو مَحْمُول کہتے ہیں۔ مَحْمُول یعنی اس کا حمل کیا گیا ہے، یعنی اس کا حکم لگایا گیا ہے مَوْضُوع پر، اس لیے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مَحْمُول۔ اور وہ چیز جو نسبت پر دلالت کرے اس کو کیا کہتے ہیں؟ رَابِطَة۔ اور رَابِطَة تو غیر مستقل چیز ہے، لہذا اس پر دلالت کے لیے اَدَاة ہونا چاہیے تھا، لیکن چونکہ عربی زبان میں کوئی رَابِطَة غیر زمانی ان کو نہیں ملا، تو انہوں نے اس کے لیے هُوَ کو مستعار لے لیا، اس کو استعمال کیا۔ تو یہ جو هُوَ کو رَابِطَة کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، یہ مستعار ہے۔ بات سمجھ میں آرہی ہے؟ یعنی مجازاً اس کو استعمال کیا جاتا ہے، حقیقت میں تو یہ اسم ہے، لیکن ایک لفظ کو دوسرے لفظ کی جگہ استعمال کیا جائے تو اس کو کہتے ہیں مجاز بھئی۔ یہ کیا ہے؟ مجاز۔ اور اگر قَضِيَّة کے اندر ایک شئے کے لیے دوسری شئے کا ثبوت یا ایک شئے کی دوسری شئے سے نفی نہ ہو، تو پھر وہ قَضِيَّة شَرْطِيَّة کہلاتا ہے۔ اور قَضِيَّة شَرْطِيَّة اس کے دو جز ہوتے ہیں، پہلے جز کو مقدم کہتے ہیں، اور دوسرے جز کو تالی کہتے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ جی۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 70 of 115