آگے سبق دیکھیے بھئی، متن دیکھیے پہلے۔
وَالتَّعْرِيفُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ حَدٌّ وَبِالْخَاصَّةِ رَسْمٌ فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَتَامٌّ وَإِلَّا فَنَاقِصٌ وَلَمْ يَعْتَبِرُوا بِالْعَرَضِ الْعَامِّ وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ كَاللَّفْظِيِّ وَهُوَ مَا يُقْصَدُ بِهِ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ۔
گزشتہ سبق میں ہم نے تعریف کے بارے میں پڑھا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو تعریف ہوتی ہے، اس کا حمل ہوتا ہے معرف پر۔ یعنی یوں کہیں، معرف، تعریف، معرف، قولِ شارح، یہ تینوں نام ہیں تعریف کے۔ اور بھی نام ہیں لیکن کم از کم یہ تین آپ یاد رکھیں۔ تو یہ جو تعریف ہے، اس کا حمل ہوتا ہے معرف پر۔ جیسے ”الْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“، یہ ”حَيَوَانٌ نَاطِقٌ“ انسان کی تعریف ہے، تو اس کا حمل ہو رہا ہے انسان پر، یعنی معرف کو موضوع بناتے ہیں اور تعریف کو محمول بناتے ہیں۔ یہ اس لیے تاکہ یہ تعریف فائدہ دے معرف کے تصور کا۔ معرف جس چیز کی تعریف کی جا رہی ہے، آپ کو معرف کے بارے میں علم نہیں، تو آگے تعریف جب آئے گی تو معرف کی وضاحت ہو جائے گی اور اس کا تصور آپ کو حاصل ہو جائے گا۔ تو یہ جو تعریفِ حقیقی ہوتی ہے، اس کے ذریعے صورتِ غیرِ حاصلہ کو حاصل کیا جاتا ہے، یعنی معرف کو حاصل کیا جاتا ہے۔ معرف کی صورت پہلے حاصل نہیں تھی، تعریف کے بعد ذہن میں حاصل ہو گئی۔ یہ تو تعریفِ حقیقی تھی، اور ایک تعریفِ لفظی ہوتی ہے جس میں صورتِ غیرِ حاصلہ کو حاصل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس میں صرف تعیینِ صورت ہوتی ہے۔ جیسے ”الْغَضَنْفَرُ“ کا لفظ عبارت میں آیا، اب غضنفر شیر کو کہتے ہیں لیکن سننے والے کو پتہ نہیں، تو شیر کی صورت تو اس کو پہلے سے ہی ذہن میں حاصل ہے، لیکن پھر وہ معنی پوچھتا ہے تو معنی ذکر کیا جاتا ہے کہ ”الْغَضَنْفَرُ أَسَدٌ“، غضنفر کیا ہے؟ شیر ہے۔ تو تعیین ہو گئی کہ غضنفر کا لفظ کس کے لیے وضع ہے، اس کا معنی کیا ہے، کوئی نئی صورت اسے حاصل نہیں ہوئی کیونکہ شیر کی صورت اس کے ذہن میں پہلے سے ہی موجود تھی، صرف تعیینِ صورت ہو گئی۔
اور میں نے بتلایا تھا کہ تعریفِ حقیقی جو ہے، اس کے دو بڑے مقصد ہیں بھئی، دو بڑے مقصد۔ ایک تو اس کے ذریعے جو معرف ہے، اس کی ذاتیات پر اطلاع ہو جائے۔ اس کی ذاتیات پر اطلاع ہو جائے، یعنی اس کی حقیقت اور ماہیت کا پتہ چل جائے۔ اور دوسرا مقصد ہوتا ہے کہ یہ جمیعِ ماعدا سے، جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے بھئی، جمیعِ مشارکات سے۔ تو اگر یہ دونوں مقصد حاصل ہو جائیں تو یوں کہیں یہ ”نُورٌ عَلَى نُورٍ“ ہے بھئی، اور اگر ایک مقصد بھی حاصل ہو جائے تو بھی کافی ہے۔ اور میں نے بتایا تھا جب پوری ماہیت کا پتہ چلتا ہے، تو دوسرا فائدہ بھی خود بخود ساتھ حاصل ہو جاتا ہے، یعنی وہ چیز جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جاتی ہے۔ لیکن وہ صورت جس میں وہ چیز جمیعِ مشارکات سے جدا ہو، اس میں ضروری نہیں کہ اس کی پوری ماہیت اور پوری حقیقت کا بھی پتہ چلے۔
اور انہوں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ تعریف کے اندر دو شرطیں ہیں بھئی۔ ایک تو یہ کہ تعریف جو ہے معرف کے مساوی ہونی چاہیے، یعنی افراد کے اعتبار سے، یا یوں کہیں صدق کے اعتبار سے، صدق کے اعتبار سے یعنی جہاں تعریف صادق ہے وہاں معرف صادق ہے، اور جہاں معرف صادق ہے وہاں تعریف صادق ہے۔ یا آسان لفظوں میں کہیں کہ تعریف کو جامع مانع ہونا چاہیے۔ یا دوسرے لفظوں میں کہیں، تعریف کو مطرد منعکس ہونا چاہیے۔ مطرد کا معنی جامع اور منعکس کا معنی مانع بھئی۔ اور دوسری شرط یہ ہے تعریف کے اندر کہ وہ اجلیٰ ہونی چاہیے، زیادہ واضح اور زیادہ روشن ہونی چاہیے معرف کے مقابلے میں۔
چنانچہ اسی پر پھر تفریع کرتے ہوئے کہا تھا کہ چونکہ تعریف کو مساوی ہونا چاہیے، لہذا تعریف بالاعم بھی صحیح نہیں اور تعریف بالاخص بھی صحیح نہیں۔ اس لیے کیونکہ اعم جو ہے، مثلاً آپ سے آپ سے کسی نے انسان کی تعریف پوچھی اور آپ نے حیوان کہہ دیا، صرف حیوان، تو حیوان تو اعم ہے بھئی انسان کے مقابلے میں، اس سے نہ تو انسان کی پوری حقیقت کا پتہ چلا، کیونکہ انسان کی حقیقت صرف حیوان تو نہیں ہے، انسان کی حقیقت تو حیوانِ ناطق ہے، تو پوری حقیقت کا بھی پتہ نہیں چلا، اور نیز جمیعِ مشارکات سے بھی جدا نہیں ہوا، کیونکہ حیوان تو فرس پر بھی بولا جاتا ہے، حیوان تو حمار پر بھی بولا جاتا ہے، حیوان تو بقر اور دوسرے حیوانات پر بھی بولا جاتا ہے۔ تو تعریفِ حقیقی کے جو دو بڑے مقصد ہیں، ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل نہیں ہو رہا، لہذا معلوم ہوا تعریف بالاعم صحیح نہیں ہے۔ اور تعریف بالاخص بھی صحیح نہیں ہے، تعریف بالاخص۔ اس لیے کیونکہ یہ جو اخص ہوتا ہے، یہ ذہن میں قلیل ہوتا ہے اعم کے مقابلے میں، یعنی یوں کہو اقل ہوتا ہے۔ یہ جو اخص ہوتا ہے، یہ ذہن میں اقل ہوتا ہے کس کے مقابلے میں؟ اعم کے مقابلے میں۔ اور نیز یہ ذہن میں اخفیٰ ہوتا ہے اعم کے مقابلے میں۔ تو اخص جو ہے، وہ اقل بھی ہے اور اخفیٰ بھی ہے، کس کے مقابلے میں؟ اعم کے مقابلے میں۔ وجہ یہ، وجہ یہ، وجہ یہ کہ یہ جو اعم ہوتا ہے، اس کی جہات کثیر ہوتی ہیں، یعنی ذہن میں حاصل ہونے کی۔ اعم کی ذہن میں حاصل ہونے کی جہات کثیر ہوتی ہیں، جبکہ اخص جو ہے اس کی ذہن میں حصول کی جہات قلیل ہوتی ہیں۔ اعم جو ہوتا ہے اس کی جہات کثیر ہوتی ہیں، یعنی ذہن میں حاصل ہونے کے اعتبار سے، وہ بہت سی جہتوں سے ذہن میں حاصل ہو سکتا ہے۔ مثلاً حیوان جو ہے، مثلاً حیوان اعم ہے، اور انسان کیا ہے؟ اخص ہے۔ اب یہ جو حیوان جو اعم ہے، اس کے حصولِ ذہنی کے بہت سی جہات ہیں۔ جب آپ فرس کا تصور کریں، تو بھی یہ حیوان یہ جو اعم ہے آپ کو حاصل ہوتا ہے، کیونکہ فرس بھی حیوان ہے۔ اسی طرح جب آپ بقر یعنی گائے بیل کا تصور کریں، تب بھی حیوان آپ کے ذہن میں آتا ہے، کیونکہ گائے بیل بھی کس میں سے؟ حیوانات میں سے۔ اسی طرح آپ حمار کا تصور کریں، تب بھی اعم جو ہے وہ آپ کے ذہن میں آتا ہے۔ تو اعم کے ذہن میں حاصل ہونے کے اعتبار سے اس کی جہات کثیر ہیں، کئی جہتوں سے وہ ذہن میں حاصل ہو سکتا ہے۔ اور جبکہ اخص جو ہے، اس کی ذہن میں حاصل ہونے کے اعتبار سے جہات قلیل ہیں۔ تو اعم کے ذہن میں حصول کے اعتبار سے جہات کثیر، اور اخص کی ذہن میں حاصل ہونے کے اعتبار سے جہات قلیل ہیں۔ اور نیز یہ جو اعم ہوتا ہے، اس میں شرائط قلیل ہوتی ہیں، ذہن میں حاصل ہونے کے لیے اس کی شرائط قلیل ہوتی ہیں۔ جبکہ اخص جو ہے، اس کے حصولِ ذہنی کے لیے شرائط کثیر ہوتی ہیں۔ کس طرح؟ دیکھو بھئی! حیوان ہے، مثلاً حیوان کسے کہتے ہیں؟ ”جِسْمٌ نَامٍ حَسَّاسٌ مُتَحَرِّكٌ بِالْإِرَادَةِ“، تو حیوان کا تصور کرنے کے لیے آپ کو چار چیزوں کا تصور کرنا پڑا: جسم کا بھی، نامی کا بھی، حساس کا بھی اور متحرک بالارادہ کا بھی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر انسان کا تصور کرنا پڑے، تو انسان میں پھر ایک اور شرط یعنی ناطق جو ہے اس کا بھی تصور کرنا پڑے گا۔ انسان کسے کہتے ہیں؟ حیوانِ ناطق کو، اور حیوان میں کتنی چیزیں تھیں؟ چار، اور ساتھ ناطق پانچویں چیز بھی مل گئی، تو انسان کا تصور کرنے کے لیے جسم، نامی، حساس، متحرک بالارادہ، اور اس کے ساتھ ساتھ ناطق کا بھی تصور کرنا پڑے گا۔ تو اعم کے حصولِ ذہنی کے لیے شرائط قلیل ہیں، اور اخص کے حصولِ ذہنی کے لیے شرائط کثیر ہیں۔ تو لہذا اخص جو ہے، وہ اخفیٰ ہے ذہن میں۔ وجہ سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ جو اعم ہوتا ہے، اس کی حصولِ ذہنی کی جہات کثیر ہوتی ہیں، اور حصولِ ذہنی کی شرائط قلیل ہوتی ہیں، جبکہ جو اخص ہوتا ہے، اس کے حصولِ ذہنی کی جہات قلیل ہوتی ہیں اور شرائط کثیر ہوتی ہیں، لہذا یہ اخفیٰ ہوا اعم کے مقابلے میں، یہ جو اخص ہے۔ لہذا اخص کے ذریعے بھی تعریف صحیح نہیں ہے۔ تعریف صحیح نہیں، اس لیے کیونکہ تعریف جو ہے، اس کو اجلیٰ ہونا چاہیے بھئی، کس کے مقابلے میں؟ معرف کے مقابلے میں، جبکہ اخص وہ تو اخفیٰ ہے، لہذا اس کے لیے تعریف صحیح نہیں ہے۔
اچھا جی! آگے دیکھیے بھئی۔ کہتے ہیں: وَالتَّعْرِيفُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ حَدٌّ وَبِالْخَاصَّةِ رَسْمٌ فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَتَامٌّ وَإِلَّا فَنَاقِصٌ۔ یاد رکھو یہ جو تعریف ہے، تعریف جو ہے اس کی چار قسمیں ہیں: ایک حدِ تام، ایک حدِ ناقص، ایک رسمِ تام اور ایک رسمِ ناقص۔ تعریف میں میں نے بتایا تھا دو چیزوں میں سے ایک ضرور ہونی چاہیے: یا تو معرف کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، یا وہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے، جدا ہو جائے۔ اور جدا جو ہوتا ہے، وہ خاصہ یا فصل کے ذریعے ہوتا ہے۔ فصل ذاتی ہے، ذات کے اندر داخل ہے، اور خاصہ وہ خارج ہے، وہ ذاتی نہیں ہے وہ صفت ہے۔ فصل جو ہے، وہ بھی ایک ماہیت کے ساتھ خاص ہوتی ہے، اور خاصہ بھی ایک ماہیت کے ساتھ خاص ہوتا ہے۔ تو لہذا انسان کے لیے، آپ چاہے ناطق کہہ دیں، یا چاہے آپ ضاحک کہہ دیں، دونوں صورتوں میں یہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جاتا ہے، کیونکہ ناطق جو ذاتی ہے انسان کے لیے، یہ اس کو سب سے کیوں جدا کرتی ہے؟ کیونکہ ناطق صرف انسان ہے اور کوئی بھی نہیں۔ اور ضاحک وہ بھی صرف انسان ہے، تو وہ بھی سب سے کیا کر دیتا ہے؟ انسان کو جدا کر دیتا ہے۔ بس فرق صرف اتنا کہ ناطق وہ انسان کے لیے ذاتی ہے، اس کی ذات میں، اس کی ماہیت میں، اس کی حقیقت میں داخل ہے، جبکہ جو ضاحک ہے یعنی خاصہ، وہ ماہیت میں داخل نہیں ہوتا، اس سے خارج ہوتا ہے۔ تو تعریف کے اندر ان دو میں سے ایک کا ہونا ضروری ہے۔ کیونکہ تعریف میں دو چیزیں تھیں بھئی، ایک کیا؟ پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، یا جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ تو جب پوری حقیقت کا پتہ چلتا ہے، تو ساتھ ہی وہ جمیعِ مشارکات سے بھی کیا ہو جاتا ہے؟ جدا ہو جاتا ہے۔ لیکن جب جمیعِ مشارکات سے جدا ہو، تو ضروری نہیں کہ پوری حقیقت کا پتہ چل جائے۔ لہذا جب پوری حقیقت ذکر ہوتی ہے، تو دونوں فائدے حاصل ہو جاتے ہیں۔ پوری حقیقت کا بھی پتہ چل گیا اور جمیعِ مشارکات سے سے بھی جدا ہو گیا۔ جبکہ جمیعِ مشارکات سے جب جدا ہو، تو پھر پوری تعریف کا پتہ چلنا ضروری نہیں۔ معلوم ہوا کم از کم درجہ تعریف کا یہ ہے کہ وہ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ اور دوسرا درجہ کیا ہے؟ پوری حقیقت کا پتہ چلے، اور جب پوری حقیقت کا پتہ چلے گا پھر تو یہ دونوں چیزیں حاصل ہو جائیں گی۔ پھر تو دونوں چیزیں حاصل ہوں گی۔ لہذا کم سے کم درجہ کیا ہوا؟ کم از کم جمیعِ مشارکات سے جدا ہو جائے۔ کم سے کم، یہ نہیں کہ کم سے کم درجہ آپ کہیں کہ پوری ماہیت کا پتہ چل جائے، بھئی جب پوری ماہیت کا پتہ چلے گا پھر تو دونوں چیزیں حاصل ہو جائیں گی، جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جائے گا، لہذا کم سے کم درجہ کیا ہوا تعریف کیسی ہو؟ جمیعِ مشارکات سے جدا کر دے، اور جمیعِ مشارکات سے دو ہی چیزیں جدا کرتی ہیں: یا خاصہ یا فصل بھئی۔ تو لہذا تعریف میں ان دو میں سے ایک چیز ضرور ہونی چاہیے: یا تعریف میں فصل ہو یا خاصہ ہو۔ تو جس تعریف میں فصل آئے، اس کو حد کہتے ہیں۔ ”حَدٌّ“، ح اور دال ہے۔ اس کو حد کہتے ہیں، اور جس تعریف میں خاصہ آئے اس کو رسم کہتے ہیں۔ کیا کہتے ہیں؟ رسم کہتے ہیں، رسم۔ اور پھر یاد رکھو! اس حد یا رسم کے اندر، فصل یا خاصہ کے ساتھ، اگر جنسِ قریب آ جائے، کیا آ جائے؟ جنسِ قریب آ جائے، تو پھر ان کو تام کہیں گے ورنہ ناقص کہیں گے۔ اگر جنسِ قریب آ جائے تو تام کہیں گے، تام ہے یعنی کامل ہے، اور یا ناقص کہیں گے۔ لہذا، حد کے اندر کیا ضروری؟ فصل ضروری، فصل کے ساتھ اگر جنسِ قریب بھی آ گئی، تو پھر اس کو کیا کہیں گے؟ حدِ تام، اور اگر جنسِ قریب نہ آئی ساتھ، تو یہ حدِ ناقص ہے۔ توجہ ہے؟ حد حد ہے، یعنی حد کس پر مشتمل ہوتی ہے کم از کم؟ فصل پر، اس فصل کے ساتھ اگر جنسِ قریب آ گئی تو کیا کہیں گے؟ حدِ تام، اور اگر جنسِ قریب نہ آئی تو؟ حدِ ناقص بھئی! اور اسی طرح رسم کے اندر ہے، رسم کے اندر کیا ضروری؟ خاصہ، اس خاصہ کے ساتھ اگر جنسِ قریب آ گئی تو کیا کہیں گے؟ رسمِ تام، اور اگر جنسِ قریب ساتھ نہ آئی تو؟ رسمِ ناقص کہیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَالتَّعْرِيفُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ حَدٌّ، اور وہ تعریف جو فصلِ قریب کے ساتھ ہو حَدٌّ وہ کیا ہے؟ حد ہے، وَبِالْخَاصَّةِ، یا یوں کہیں: وَالتَّعْرِيفُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ حَدٌّ اور وہ تعریف جو فصلِ قریب کے ذریعے ہو حَدٌّ وہ حد ہے، وَبِالْخَاصَّةِ رَسْمٌ اور وہ تعریف جو خاصہ کے ذریعے ہو وہ رسم ہے۔ فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَتَامٌّ پس اگر وہ جنسِ قریب کے ساتھ ہو، چاہے حد ہو چاہے رسم، اگر وہ جنسِ قریب کے ساتھ ہے، فَتَامٌّ تو وہ تام ہے، وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، فَنَاقِصٌ تو وہ ناقص ہے۔ معلوم ہوا حدِ تام میں کیا کیا آئے گا؟ حدِ تام۔ حد ہے، حد ہے، تو معلوم ہوا فصل تو ضرور ہے، فصلِ قریب، فصل بھی کون سی؟ قریب، کیونکہ فصلِ قریب کی بات ہو رہی ہے، وہ جدا کرتی ہے سب سے، فصلِ بعید جدا نہیں کرتی۔ تو لہذا، جب حد کی بات آ گئی، فصلِ قریب تو ضرور ہے، اور فصلِ قریب کے ساتھ کیا آ جائے تو اس کو حدِ تام کہیں گے؟ جنسِ قریب، جنسِ قریب، لہذا انسان کی تعریف آپ نے کی حیوانِ ناطق کے ساتھ، یہ حدِ تام ہے، کیونکہ انسان کی جنسِ قریب کیا ہے؟ حیوان، وہ بھی آ گئی، اور جو فصل ہے ناطق وہ بھی آ گیا، تو یہ کیسی تعریف ہے؟ حدِ تام، اور یاد رکھو یہ جو چار قسم کی تعریفیں ہیں، یہی معتبر ہیں، یہی معتبر ہیں، کسی بھی چیز کی تعریف کرنی ہے، یا تو اس کے لیے کیا کرو؟ حدِ تام لے کر آؤ یا حدِ ناقص یا رسمِ تام یا رسمِ ناقص لے کر آؤ بھئی! اور ان میں سے سب سے اعلیٰ درجہ حدِ تام کا ہے، کیونکہ اس کے ذریعے پوری حقیقت کا بھی پتہ چل جاتا ہے، اور جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہو جاتا ہے، تو حیوانِ ناطق انسان کے لیے حدِ تام ہے، جو مشتمل ہے کس پر؟ جنسِ قریب پر بھی اور فصل پر بھی، اس سے کیا فائدہ ہوا؟ انسان کی پوری حقیقت کا بھی پتہ چل گیا، اور جمیعِ مشارکات سے بھی وہ جدا ہو گیا، تو دیکھو اس میں دونوں فائدے ہیں، باقی سب میں دونوں فائدے نہیں ہوں گے، اس میں دونوں فائدے آ گئے، لہذا سب سے اعلیٰ درجے کی تعریف کیا ہے؟ حدِ تام ہے بھئی! اور حدِ ناقص، حد ہے، کیا پتہ چلا کیا ضروری ہے اس میں؟ فصل ضروری ہے، اور جنسِ قریب نہیں ہے اس کے اندر، کیونکہ حدِ ناقص ہے نا، اگر جنسِ قریب ہوتی پھر تو ہم کیا کہتے اس کو؟ حدِ تام کہتے، اور یہ حدِ ناقص ہے، تو معلوم ہوا فصلِ قریب تو ضرور ہو گی، فصلِ قریب کے ساتھ، اگر جنسِ بعید آ گئی، یا کوئی بھی جنس نہیں آئی صرف فصل ہی ہے، تو دونوں صورتوں میں یہ حدِ ناقص ہے۔ توجہ ہے؟ حدِ ناقص میں کیا ضروری؟ فصلِ قریب، کیا ضروری؟ فصلِ قریب ضروری، اور جنسِ قریب نہیں ہو گی اس کے اندر۔ جنسِ قریب نہ ہو، اس کی دو صورتیں ہیں: سرے سے کوئی جنس ہی نہیں ہے، صرف ناطق ہے۔ تو انسان کی تعریف صرف ناطق کے ساتھ کر دی۔ تو اس کو کہیں گے حدِ ناقص، کیا کہیں گے؟ جمیعِ مشارکات سے جدا ہوا یا نہیں؟ جمیعِ مشارکات سے جدا ہو گیا۔ یا ساتھ جنسِ بعید بھی لے آؤ، مثلاً جسمِ نامی لے آؤ، ”جِسْمٌ نَامٍ نَاطِقٌ“۔ ”جِسْمٌ نَامٍ نَاطِقٌ“، دیکھو یہ حدِ ناقص ہے، کس چیز پر مشتمل ہے؟ فصل، حد کے اندر فصلِ قریب ضرور ہونی چاہیے بس، تو کیا ہے؟ جب فصلِ قریب ہے تو حد تو یہ ہے ہی، اور تام کون سی ہوتی ہے؟ جس میں جنسِ قریب ساتھ ہو، یہاں جنسِ قریب ہے؟ نہیں، تو اس کو حدِ ناقص کہیں گے۔ پھر جب جنسِ قریب نہیں ہے، تو سرے سے کوئی جنس ہی نہ لاؤ، صرف کس پر اکتفا کر لو؟ فصل پر، یا جنسِ بعید بھی ساتھ لے آؤ، تو دو صورتیں بن گئیں حدِ ناقص کی۔ جنسِ بعید اور فصل ہو، یا صرف فصل ہو۔ تو انسان کی حدِ ناقص بیان کرو، کوئی ایک صورت بیان کرو۔ صرف ناطق کہہ دیا، صرف ناطق، تو یہ کیا ہے؟ حدِ ناقص ہے۔ کوئی دوسری صورت کرو حدِ ناقص کی؟ ”جِسْمٌ نَامٍ نَاطِقٌ“، دیکھو جنسِ بعید لے آئے، یا صرف جسم لے آؤ، ”جِسْمٌ نَاطِقٌ“، یا صرف جوہر لے آؤ، ”جَوْهَرٌ نَاطِقٌ“، تو یہ فصل آ گئی، لہذا حد ہے، اور جنسِ قریب ہے؟ نہیں، تو لہذا یہ حد کون سی ہوئی؟ ناقص ہو گئی، تو حدِ ناقص میں دونوں صورتیں آ گئیں: فصل تو ضرور ہونی چاہیے، پھر ساتھ چاہے جنسِ بعید ہو یا نہ ہو، لہذا صرف ناطق، یہ بھی کیا ہے؟ حدِ ناقص، اور ”جِسْمٌ نَاطِقٌ“ یہ بھی کیا ہے؟ حدِ ناقص ہے، صورت سمجھ میں آ گئی۔ اور رسم، رسم کا دارومدار خاصہ پر ہے۔ خاصہ، یعنی ایسی صفت، جو ذات میں تو داخل نہیں، لیکن اسی ماہیت کے ساتھ خاص ہے، اور جمیعِ مشارکات سے جدا کر دیتی ہے۔ پھر، اس رسم میں، اگر جنسِ قریب آ گئی تو اس کو کہیں گے رسمِ تام۔ رسمِ تام بنائیے انسان کے لیے۔ خاصہ لے کر آؤ، خاصہ تو ضروری ہے۔ کیا ہے خاصہ انسان کے لیے؟ ضاحک کہہ دو، یا کاتب کہہ دو، یا قابل للعلم کہہ دو، جس میں علم کی قابلیت ہے، تو کاتب کہہ دیا آپ نے، اب کاتب کے ساتھ جنسِ قریب لاؤ۔ کاتب یا ضاحک کے ساتھ جنسِ قریب کیا ہے انسان کے لیے؟ حیوان ہے، تو ”حَيَوَانٌ كَاتِبٌ“۔ خاصہ بھی ہے اور جنسِ قریب، یا ”حَيَوَانٌ ضَاحِكٌ“، جنسِ قریب بھی ہے اور خاصہ بھی ہے، تو یہ انسان کے لیے رسمِ تام ہے۔ رسمِ تام میں کیا چیز ہوتی ہے؟ خاصہ اور جنسِ قریب، تو یہ ہے رسمِ تام۔ اور اگر ایسا نہ ہو، تو پھر وہ رسمِ ناقص ہے، رسمِ ناقص میں پھر وہی دو صورتیں: صرف کس کو لے آؤ؟ صرف خاصہ کو لے آؤ، یا خاصہ کے ساتھ جنسِ بعید کو لے آؤ۔ جی، انسان کے لیے رسمِ ناقص بیان کریں بھئی! ایک صورت کیا؟ ”كَاتِبٌ“ کہہ دو صرف، یا صرف ”ضَاحِكٌ“ کہہ دو، یا صرف ”قَابِلٌ لِلْعِلْمِ“ کہہ دو، تو یہ کیا ہے؟ رسمِ ناقص، یا ساتھ جنسِ بعید کو بھی لے آؤ۔ ”جِسْمٌ ضَاحِكٌ“، یا ”جَوْهَرٌ ضَاحِكٌ“، تو یہ یہ کیا ہے؟ یہ رسمِ ناقص ہے، بات اچھی طرح سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَالتَّعْرِيفُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ حَدٌّ وَبِالْخَاصَّةِ رَسْمٌ، تعریف جو ہے وہ فصلِ قریب کے ذریعے وہ حد ہے، اور خاصہ کے ذریعے رسم ہے، فَإِنْ كَانَ مَعَ الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَتَامٌّ وَإِلَّا فَنَاقِصٌ، پس اگر وہ حد یا رسم جو ہے، اگر وہ جنسِ قریب کے ساتھ ہو تو وہ تام ہے، ”تَامٌّ“ یہ میم مشدد ہے بھئی، وَإِلَّا اور اگر ایسا نہ ہو، فَنَاقِصٌ ورنہ وہ تو ناقص ہے بھئی۔ پھر یاد رکھنا یہ حد کو حد کیوں کہتے ہیں اور رسم کو رسم کیوں کہتے ہیں؟ حد کا معنی ہے منع کرنا، روکنا، چونکہ یہ حد بھی مانع ہوتی ہے دخولِ غیر سے، کوئی اور تعریف کے اندر داخل نہیں ہوتا، ایسی تعریف کر دی جو جامع مانع ہے، کوئی اور تعریف کے اندر داخل نہیں ہو سکتا، لہذا اس کو کیا کہتے ہیں؟ حد کہتے ہیں۔ اور رسم، رسم کا معنی ہوتا ہے علامت، علامت۔ چونکہ یہ خاصہ بھی علامت ہوتا ہے اس ماہیت کی۔ ضاحک، یہ کیا ہے انسان کی؟ علامت ہے، ضاحک، ضحک سے آپ جان لیتے ہیں کہ یہ کیا ہے؟ انسان ہے، یہ صرف اسی ماہیت میں پایا جاتا ہے اور کسی ماہیت میں نہیں ہوتا، تو رسم کا کیا معنی ہے؟ علامت اور نشانی، جب دیکھو میں نے ضاحک کہا، تو آپ کو انسان کی پہچان ہو گئی، لیکن کیا انسان کی ذاتیات اور ماہیت کا کچھ پتہ چلا؟ نہیں، کچھ ماہیت وغیرہ کسی چیز کا پتہ نہیں چلا، لہذا یہ جو خاصہ ہوتا ہے، اس سے ماہیت کا پتہ تو نہیں چلتا، لیکن وہ سب سے جدا ضرور ہو جاتی ہے، یہ اس کی علامت ہے، اس کے ذریعے وہ باقی چیزوں سے جدا ہو جاتی ہے، تو رسم کو رسم کیوں کہتے ہیں؟ کیونکہ یہ علامت ہے بھئی، اس کے ذریعے اس کی پہچان ہو جاتی ہے، کاتب جیسے یہ اس کی نشانی ہے، انسان کی۔
دیکھیے بھئی اب شرح کے اندر: قَوْلُهُ بِالْفَصْلِ الْقَرِيبِ، التَّعْرِيفُ لَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَى أَمْرٍ يَخْتَصُّ بِالْمُعَرَّفِ وَيُسَاوِيهِ، تعریف میں ”لَا بُدَّ لَهُ“ تعریف کے لیے ضروری ہے ”أَنْ يَشْتَمِلَ“ کہ وہ مشتمل ہو ”عَلَى أَمْرٍ“ ایسی چیز پر ”يَخْتَصُّ بِالْمُعَرَّفِ“ جو خاص ہو کس کے ساتھ؟ معرف کے ساتھ، بھئی! تعریف میں کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جو معرف کے ساتھ خاص ہو، کیا معنیٰ؟ یعنی اس کو جمیعِ مشارکات سے جدا کر دے، تعریف کا کم سے کم درجہ کیا ہے؟ جمیعِ مشارکات، تعریف میں دو چیزیں ضروری ہیں نا، یا تو پوری حقیقت کا پتہ چل جائے یا جمیعِ مشارکات سے جدا کر دے، تو کم سے کم درجہ یہ ہے کہ جمیعِ مشارکات سے جدا کر دے، لہذا کہتے ہیں: التَّعْرِيفُ لَا بُدَّ لَهُ أَنْ يَشْتَمِلَ عَلَى أَمْرٍ يَخْتَصُّ بِالْمُعَرَّفِ، تعریف میں ضروری ہے کہ وہ مشتمل ہو کسی ایسی چیز پر جو خاص ہو اس معرف کے ساتھ، وَيُسَاوِيهِ اور اس کے برابر ہو، بِنَاءً عَلَى مَا سَبَقَ مِنْ اشْتِرَاطِ الْمُسَاوَاةِ، اس کے برابر ہو بناء بر اس کے جو ماقبل میں گزر چکا ہے مساوات، یعنی کہ مساوات کی شرط، ماقبل میں گزر چکا ہے کہ تعریف کیا ہونی چاہیے؟ معرف کے مساوی ہونی چاہیے۔ فَهَذَا الْأَمْرُ إِنْ كَانَ ذَاتِيًّا، اچھا بھئی! انہوں نے کیا کہا؟ ادھر دیکھیے۔ انہوں نے کیا کہا؟ تعریف ہمیشہ کسی ایسی چیز پر مشتمل ہونی چاہیے جو اسی ماہیت کے ساتھ، اسی معرف کے ساتھ خاص ہو، کسی اور میں نہ پائی جائے، یعنی آسان لفظوں میں، تعریف میں کوئی نہ کوئی ایسی چیز ہونی چاہیے جو اس کو باقی مشارکات سے جدا کر دے، اور وہ چیز جو اسی کے ساتھ خاص ہے اور باقی مشارکات سے جدا کر دیتی ہے، وہ یا تو خاصہ ہے یا فصل۔ یا وہ خاصہ ہے یا فصل، اور ان میں سے ایک ذاتی ہے اور ایک ذاتی نہیں ہے، فصل جو ہے وہ ذاتی ہے، ذات اور ماہیت میں داخل ہے، اور خاصہ ذات میں داخل نہیں، تو لہذا تعریف میں ان دو چیزوں میں سے ایک تو ضرور ہونی چاہیے: یا خاصہ ہونا چاہیے یا فصل ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں: کہ تعریف میں ضروری ہے کہ وہ مشتمل ہو کسی ایسی چیز پر جو معرف کے ساتھ خاص ہو اور اس کے برابر ہو بناء بر اس کے جو ماقبل میں گزر چکا ہے مساوات یعنی کہ مساوات کی شرط، فَهَذَا الْأَمْرُ إِنْ كَانَ ذَاتِيًّا كَانَ فَصْلًا قَرِيبًا، اگر یہ چیز جو ہے، اگر وہ ذاتی ہو تو كَانَ فَصْلًا قَرِيبًا وہ کیا ہو گی؟ فصلِ قریب ہو گی، وَإِنْ كَانَ عَرَضِيًّا اور اگر یہ چیز جو اس کے ساتھ خاص ہے، اگر وہ عرضی ہے یعنی صفت ہے، كَانَ خَاصَّةً لَا مَحَالَةَ تو پھر یہ خاصہ ہے لَا مَحَالَةَ قطعی طور پر۔ فَعَلَى الْأَوَّلِ يُسَمَّى الْمُعَرِّفُ حَدًّ، پس پہلی صورت پر جو معرف ہے اس کو حد کہتے ہیں، یعنی جب وہ فصل پر مشتمل ہو، وَعَلَى الثَّانِي رَسْمًا اور دوسری صورت پر اس کو رسم کہتے ہیں، یعنی جب وہ خاصہ پر مشتمل ہو۔ ثُمَّ كُلٌّ مِنْهُمَا إِنْ اشْتَمَلَ عَلَى الْجِنْسِ الْقَرِيبِ يُسَمَّى حَدًّا تَامًّا وَرَسْمًا تَامًّا، پھر ان میں سے ہر ایک اگر مشتمل ہو جنسِ قریب پر، تو اس کو حدِ تام اور رسمِ تام کہتے ہیں، وَإِنْ لَمْ يَشْتَمِلْ عَلَى الْجِنْسِ الْقَرِيبِ، اور اگر وہ جنسِ قریب پر مشتمل نہ ہو، اس میں کتنی صورتیں تھیں؟ دو، کون سی دو صورتیں؟ سرے سے کوئی جنس ہی نہ ہو، یا جنس تو ہو لیکن بعید ہو۔ وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَشْتَمِلْ عَلَى الْجِنْسِ الْقَرِيبِ، اور اگر وہ جنسِ قریب پر مشتمل نہیں ہے، سَوَاءٌ اشْتَمَلَ عَلَى الْجِنْسِ الْبَعِيدِ، برابر ہے کہ وہ مشتمل ہو جنسِ بعید پر، أَوْ كَانَ هُنَاكَ فَصْلٌ قَرِيبٌ وَحْدَهُ، یا وہاں صرف فصلِ قریب ہی ہو، صرف کیا ہو؟ فصلِ قریب ہو، أَوْ خَاصَّةٌ وَحْدَهَا، یا صرف اکیلا خاصہ ہو، يُسَمَّى حَدًّا نَاقِصًا وَرَسْمًا نَاقِصًا، تو اس کو حدِ ناقص اور رسمِ ناقص کہتے ہیں، هَذَا مُحَصَّلُ كَلَامِهِمْ، یہ ان منطقیہ کے کلام کا حاصل ہے۔ یہ منطقیہ کے کلام کا حاصل ہے۔ یعنی ان کے کلام کا خلاصہ یہ ہے۔ وَفِيهِ أَبْحَاثٌ، اور اس میں ایسی بحثیں ہیں، لَا يَسَعُهَا الْمَقَامُ، جن کی اس مقام پر گنجائش نہیں۔ ہم نے تو مختصر حاصلِ کلام ذکر کر دیا کہ یہ چار قسمیں ہیں تعریف کی: حدِ تام، حدِ ناقص، رسمِ تام اور رسمِ ناقص، اور یہاں پر اور بھی بحثیں علماء نے منطقیہ نے کی ہیں، لیکن اس چھوٹی کتاب میں ان کی گنجائش نہیں ان کو یہاں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَفِيهِ أَبْحَاثٌ اور اس میں اور بھی بحثیں ہیں لَا يَسَعُهَا الْمَقَامُ جن کی اس مقام پر گنجائش نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
تو لہذا یہ چار قسم کی تعریفات ہیں جو مقبول ہیں بھئی، یہ تعریفِ حقیقی ہے، یا اس کو یوں کہیں یہ تعریفِ کامل ہے، تعریفِ کامل ہے۔ تو ان میں سب سے اعلیٰ درجہ کس کا؟ حدِ تام کا، تو اس کے ذریعے پوری ماہیت کا بھی پتہ چلا اور جمیعِ مشارکات سے بھی جدا ہوا، جبکہ باقی تینوں جو ہیں حدِ ناقص یا رسمِ تام یا رسمِ ناقص، ان کے ذریعے جمیعِ مشارکات سے تو چیز جدا ہو جاتی ہے، لیکن پوری ماہیت کا پتہ نہیں چلتا۔ تو لہذا سب سے اعلیٰ درجہ حدِ تام کا ہے بھئی، حدِ تام کا ہے۔ پھر ایک اور بات یاد رکھنا بڑی ہی قیمتی بات، یاد رکھو! علماء فرماتے ہیں کہ کسی چیز کی حد اور رسم میں فرق بڑا مشکل ہے۔ تعریفِ حقیقی کی کتنی قسمیں ہیں؟ چار قسمیں ہیں، اب آپ کے سامنے کوئی تعریف کرتا ہے، یا آپ تعریف کرتے ہیں، تو قطعی طور پر کہا جائے کہ یہ حد ہے، یا قطعی طور پر کہا جائے یہ رسم ہے، یہ مشکل ہے، یہ فرق نہیں ہو سکتا۔ ایک آدمی ایک چیز، توجہ ہے؟ ایک آدمی کیا کرتا ہے ایک چیز کی؟ تعریف کرتا ہے، آپ قطعی طور پر کہہ دیں یہ رسم ہے، یا قطعی طور پر کہہ دیں یہ حد ہے، یہ بڑا مشکل کام ہے۔ لہذا انسان کی تعریف کی: حیوانِ ناطق۔ میں نے کیا بتایا؟ یہ کیا ہے؟ حدِ تام ہے، علماء فرماتے ہیں نہیں، یہ قطعی طور پر یہ نہیں کہا جا سکتا، کسی بھی چیز کی حدِ تام یا حدِ ناقص، رسمِ تام یا رسمِ ناقص ان میں فرق نہیں ہو سکتا، یعنی یوں کہو آسان لفظوں میں: حد اور رسم میں فرق بڑا مشکل ہے۔ حد اور رسم میں فرق بڑا مشکل ہے، بھئی کیوں مشکل ہے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جنس کی مشابہت ہے عرضِ عام کے ساتھ۔ جنس بھی کیا ہے؟ ”كُلِّيٌّ مَقُولٌ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ“، تو جنس بھی مختلف حقیقتوں والے پر بولی جاتی ہے۔ کس پر؟ مختلف حقیقتوں والے پر۔ اور عرضِ عام بھی مختلف حقیقتوں پر بولا جاتا ہے، جیسے ماشٍ، انسان بھی ہے، گھوڑا بھی ہے، گدھا بھی ہے، گائے بیل سب کیا ہیں؟ ماشٍ ہیں۔ اب ہم نے جنس کسے قرار دیا؟ حیوان کو، اور ماشٍ کو کیا قرار دیا؟ عرضِ عام قرار دیا، لیکن بھئی قطعی طور پر یہ معلوم نہیں ہو سکتا۔ ہو سکتا ہے یہ ماشٍ جنس ہو۔ اور حیوان کیا ہو؟ عرضِ عام ہو۔ توجہ ہے؟ جنس بھی مختلف حقیقتوں پر بولا جاتا ہے اور حقیقت کے اندر ماہیت کے اندر داخل ہوتا ہے۔ جنس بھی مختلف حقیقتوں پر بولا جاتا ہے اور عرضِ عام بھی مختلف، لیکن جنس کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ یہ ماہیت کے اندر داخل ہے، یہ ذاتی ہے، اور عرضِ عام کے بارے میں ہم کیا کہتے ہیں؟ یہ ماہیت سے خارج ہے، کہتے ہیں ان دونوں میں فرق نہیں ہو سکتا، ہو سکتا ہے حیوان جس کو ہم نے کیا قرار دیا ہے؟ جنس قرار، ہو سکتا ہے یہ کیا ہو؟ عرضِ عام ہو، اور ماشٍ جس کو ہم نے کیا قرار دیا ہے؟ عرضِ عام قرار دیا ہے، ہو سکتا ہے وہ کیا ہو؟ جنس ہو، کیونکہ دونوں میں اشتباہ ہے، ہم نے تو اپنی عقل لڑا لی، ہم نے تو پورا غور کر لیا، ہمیں تو حیوان جنس لگی، اور ماشٍ کیا لگی؟ عرضِ عام لگی، لیکن ہو سکتا ہے برعکس ہو، حقیقت کے اندر ماشٍ کیا ہو ان کی؟ جنس ہو، اور حیوان کیا ہو؟ عرضِ عام ہو بھئی! اسی طرح فصل اور خاصہ میں بھی اشتباہ ہوتا ہے۔ انسان کے لیے ناطق کو ہم نے کیا قرار دیا؟ فصل، اور ضاحک کو کیا قرار دیا؟ خاصہ، ہو سکتا ہے انسان کی حقیقت ضاحک ہو، یعنی یہ فصل ہو اور جو ناطق ہے وہ انسان کے لیے خاصہ ہو، وہ حقیقت سے خارج ہو۔ بات سمجھ، کیونکہ خاصہ بھی ایک حقیقت والوں پر بولا جاتا ہے اور فصل بھی ایک حقیقت والی افراد پر بولی جاتی ہے، تو ہو سکتا ہے ہم نے تو اپنی پوری کوشش کر لی، ہمیں ناطق جو ہے وہ کیا لگا؟ فصل، اور ہمیں ضاحک کیا لگا؟ خاصہ لگا، لیکن حقیقت تو اللہ جانتے ہیں، ہو سکتا ہے جس کو ہم خاصہ سمجھ رہے ہوں وہ کیا ہو؟ وہ فصل ہو اس کی ذات میں داخل ہو بھئی! اور ہو سکتا ہے ناطق جس کو ہم کیا سمجھ رہے ہیں؟ فصل سمجھ رہے ہیں، وہ کیا ہو؟ خاصہ ہو۔ اور حد اور رسم کا دارومدار ہی کس پر تھا؟ فصل اور خاصے پر، فصل جس میں ہو آپ اسے کیا کہتے تھے؟ حد، اور خاصہ جس میں ہوتا تھا آپ اسے کیا کہتے تھے؟ رسم، تو جب خاصہ اور فصل میں اشتباہ آ گیا، پتہ نہیں واقعی یہ فصل ہے یا یہ خاصہ ہے، تو جب دونوں میں اشتباہ آ گیا، تو اسی پر تو دارومدار تھا آپ ایک چیز کو حد کہتے تھے اور اسی پر کیا کہتے تھے؟ رسم، فصل ہوتا تھا تو کیا کہتے تھے؟ حد، اور خاصہ ہوتا تھا تو کیا کہتے تھے؟ رسم کہتے تھے، تو جب ان دونوں میں اشتباہ آ گیا تو حد اور رسم میں بھی کیا آ گیا؟ اشتباہ، ہو سکتا ہے جسے آپ حد کہہ رہے ہیں وہ کیا ہو؟ رسم، اور جسے آپ رسم کہہ رہے ہیں وہ کیا ہو؟ حد ہو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو علماء فرماتے ہیں کہ کسی چیز کی حقیقی حد یا حقیقی رسم میں فرق کرنا بڑا مشکل ہے، ہو سکتا ہے ایک چیز کو ہم حد کہہ رہے ہوں وہ حقیقت میں کیا ہو؟ رسم ہو، اور جس کو ہم رسم کہہ رہے ہوں وہ کیا ہو؟ حد ہو۔ تو بہرحال ہم نے آپ کو تعریف بتلا دی کہ تعریف کی چار قسمیں ہیں، سب سے اعلیٰ درجہ کس کا ہے؟ حدِ تام کا ہے، اور باقی تینوں کے درجے اس کے بعد ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ کیونکہ حدِ تام کے ذریعے ماہیت کا بھی پتہ چلتا ہے اور جمیعِ مشارکات سے بھی وہ چیز جدا ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہذا آپ چیزوں کی تعریف کریں، لیکن ایک تعریف کو قطعی طور پر کہنا کہ یہ حد ہے، اور ایک تعریف کے بارے میں قطعی طور پر کہنا کہ یہ رسم ہے، یہ کہنا بڑا مشکل ہے، کیونکہ اشتباہ ہے، کس کس کے درمیان؟ جنس اور عرضِ عام کے درمیان، اور اسی طرح خاصہ اور فصل کے درمیان اشتباہ کی وجہ سے بھئی۔
اب پھر متن پر آئیے۔ کہتے ہیں: وَلَمْ يَعْتَبِرُوا بِالْعَرَضِ الْعَامِّ، اور معتبر نہیں کیا، اعتبار نہیں کیا منطقیہ نے بِالْعَرَضِ الْعَامِّ، عرضِ عام کا، یعنی وہ تعریف جو عرضِ عام کے ساتھ ہو اس کا منطقیہ نے اعتبار نہیں کیا۔ وہ معتبر نہیں۔ کیوں؟ وجہ اب آپ بتائیں، منطقیہ عرضِ عام کے ذریعے تعریف کا اعتبار کیوں نہیں کرتے؟ منطقیہ، آسان سی بات ہے سب میں بیان کر چکا ہوں بھئی! تعریف کا کیا مقصد ہوتا ہے؟ پوری حقیقت کا پتہ چل جائے یا جمیعِ مشارکات سے جدا کر دے، آپ سے کسی نے پوچھا انسان کسے کہتے ہیں؟ آپ نے کہا ماشٍ کو، کس کو؟ ماشٍ، کیا اس سے انسان کی پوری حقیقت کا پتہ چلا؟ نہیں، یہ تو حقیقت میں داخل ہی نہیں، اور کیا اس سے جمیعِ مشارکات سے جدا ہوا؟ نہیں جمیعِ مشارکات سے بھی جدا نہیں ہوا، تو تعریفِ حقیقی کے ذریعے جو دو چیزیں مقصود ہوتی ہیں ان میں سے ایک بھی اس کے ذریعے حاصل نہ ہوئی۔ یہ معنی ہے: وَلَمْ يَعْتَبِرُوا بِالْعَرَضِ الْعَامِّ، اور منطقیہ نے اعتبار نہیں کیا تعریف کا عرضِ عام کے ساتھ۔
اب آئیے شرح میں بھئی! قَوْلُهُ وَلَمْ يَعْتَبِرُوا بِالْعَرَضِ الْعَامِّ، قَالُوا، منطقیہ کہتے ہیں: الْغَرَضُ مِنْ التَّعْرِيفِ، کہ تعریف کے ذریعے جو غرض اور مقصد ہوتا ہے، إِمَّا الِاطِّلَاعُ عَلَى كُنْهِ الْمُعَرَّفِ، أَوْ امْتِيَازُهُ عَنْ جَمِيعِ مَا عَدَاهُ، یا تو مطلع ہونا ہوتا ہے، تعریف کے ذریعے جو مقصد ہوتا ہے إِمَّا الِاطِّلَاعُ عَلَى كُنْهِ الْمُعَرَّفِ، یا تو مطلع ہونا ہے معرف کی حقیقت پر، کہ معرف کی پوری حقیقت کا پتہ چل جائے، أَوْ امْتِيَازُهُ عَنْ جَمِيعِ مَا عَدَاهُ، یا اس کا ممتاز ہونا، اس کا جدا ہونا جمیعِ ماعداہ سے یعنی باقی تمام چیزوں سے اس کا جدا ہونا ہے، وَالْعَرَضُ الْعَامُّ لَا يُفِيدُ شَيْئًا مِنْهُمَا، اور عرضِ عام ان دونوں میں سے کسی بھی چیز کا فائدہ نہیں دیتی، منها ہے کسی کی کتاب میں؟ لَا يُفِيدُ شَيْئًا مِنْهُمَا، ہاں میری کتاب میں منها ہے یہ درست نہیں ہے، منهما ہونا چاہیے، کہتے ہیں: وَالْعَرَضُ الْعَامُّ لَا يُفِيدُ شَيْئًا مِنْهُمَا، اور عرضِ عام ان دونوں میں سے کسی بھی چیز کا فائدہ نہیں دیتی، فَلِذَا لَمْ يَعْتَبِرُوهُ فِي مَقَامِ التَّعْرِيفِ، اسی لیے منطقیہ نے عرضِ عام کا اعتبار نہیں کیا تعریف کے مقام میں۔ وَالظَّاهِرُ، یہاں سے فائدہ بتلا رہے ہیں۔ کہ منطقیہ نے تعریف کے اندر عرضِ عام کا اعتبار نہیں کیا، اس سے ان کی مراد کہتے ہیں، اس سے ان کی مراد عرضِ عام مفرد ہے۔ یعنی عرضِ عام مفرد اکیلی ایک عرضِ عام ہو، وہ مراد ہے، وہ تعریف میں معتبر نہیں، جیسے انسان کی تعریف آپ نے کیا کر دی؟ ماشٍ کے ساتھ کر دی، یہ معتبر نہیں، لیکن اگر دو تین عرضِ عام ذکر کر دیے، اور ان کو ملائیں تو وہ خاصہ بن جاتا ہے۔ ان کو ملائیں تو؟ تو اس کا وہ اعتبار کرتے ہیں۔ مثلاً ماشٍ، یہ بھی انسان کے لیے کیا ہے؟ عرضِ عام ہے، یہ انسان میں بھی ہے، فرس اور بقر اور حمار میں بھی ہے۔ اور اسی طرح مستقیم القامة، سیدھے قد والا ہونا، یعنی سیدھا کھڑا ہونا، سیدھا کھڑا ہونا یہ تو انسان بھی ہے، اور یہ درخت اور پودے وغیرہ بھی ہیں۔ لیکن، جب دونوں کو ملایا، کسی نے پوچھا انسان کے بارے میں، تو آپ اس کو کہتے ہیں کہ ”الْإِنْسَانُ مَاشٍ مُسْتَقِيمُ الْقَامَةِ“، انسان اپنے پیروں پر چلنے والا اور اپنے سیدھا کھڑا ہونے والا ہے۔ اب دیکھو، اب یہ دونوں عرضِ عام ہیں، لیکن جب دونوں کو ملایا تو یہ صرف انسان کے ساتھ خاص ہے۔ ماشٍ بھی ہو اور مستقیم القامة بھی ہو، یہ صرف انسان ہے، باقی حیوانات ماشٍ تو ہیں لیکن مستقیم القامة نہیں، اور شجر جو ہے وہ مستقیم القامة تو ہے لیکن ماشٍ نہیں، تو یہ دونوں عرضِ عام ہیں لیکن جب مرکب ہو گئے تو یہ خاصۂ مرکب بن گئے۔ ایک خاصۂ مفرد تھا جیسے ضاحک، یا کاتب، یا قابل للعلم، اور یہ بھی خاصہ بن گیا، لیکن یہ خاصہ کس قسم کا ہے؟ مرکب ہے، یہ دونوں صفتوں کو ملاؤ، تو یہ صرف انسان میں پائی جاتی ہے اور کسی میں نہیں۔ تو کہتے ہیں یہ جو منطقیہ نے کہا کہ ان کے نزدیک عرضِ عام معتبر نہیں ہے، ان کا مطلب یہ ہے کہ عرضِ عام اکیلی ہو، اگر کئی ہوں اور مل کر وہ کیا بن جائیں؟ خاصہ بن جائیں، تو پھر وہ معتبر ہے۔ کہتے ہیں: وَالظَّاهِرُ أَنَّ غَرَضَهُمْ مِنْ ذَلِكَ، اور ظاہر یہ ہے کہ منطقیہ کی اس سے غرض یہ ہے أَنَّهُ لَمْ يَعْتَبِرُوهُ مُنْفَرِدًا، کہ انہوں نے عرضِ عام کو اکیلے جو ہے اس کا اعتبار نہیں کیا، وَأَمَّا التَّعْرِيفُ بِمَجْمُوعِ أُمُورٍ، اور باقی تعریف کرنا ایسی چیزوں کے مجموعے کے ذریعے كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَرَضٌ عَامٌّ، کہ ان میں سے ہر ایک جو ہے وہ عرضِ عام ہو۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ امور نکرہ آیا، اور اس کے بعد كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَرَضٌ عَامٌّ یہ جملہ آیا، كُلُّ وَاحِدٍ ہے مبتدا، اور عَرَضٌ عَامٌّ ہے اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ، توجہ ہے؟ امور آیا،
نَكِرَةٌ، اور كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَرَضٌ عَامٌّ یہ اس کے بعد جملہ اسمیہ آگیا۔ اور نکرہ کے بعد جملہ آئے تو وہ اس کے لیے عموماً کیا بنتا ہے؟ صفت۔ اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لے آؤ۔ دیکھو اب ترجمہ سنو۔ کہتے ہیں: وَأَمَّا التَّعْرِيفُ بِمَجْمُوعِ أُمُورٍ اور باقی تعریف کرنا ایسے امور کے مجموعے کے ساتھ کہ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهَا عَرَضٌ عَامٌّ کہ ان میں سے ہر ایک کیا ہے؟ عرضِ عام ہے لِلْمُعَرَّفِ کس کے لیے؟ معرف کے لیے لٰكِنَّ الْمَجْمُوعَ يَخُصُّهُ لیکن پورا مجموعہ خاص ہے اسی کے ساتھ كَتَعْرِيفِ الْإِنْسَانِ بِمَاشٍ مُسْتَقِيمِ الْقَامَةِ جیسے انسان کی تعریف کرنا ماشٍ مستقیم القامہ کے ساتھ۔
وَتَعْرِيفُ الْخُفَّاشِ بِالطَّائِرِ الْوَلُودِ اور اسی طرح خفاش کہتے ہیں چمگادڑ کو بھئی، چمگادڑ۔ اور اس کی تعریف کرنا بِالطَّائِرِ الْوَلُودِ، طائر کا معنیٰ پرندہ، ولود، ولود اصل میں کہتے ہیں ماں کو بھئی، ماں۔ ماں جو بچے کو جنم دیتی ہے۔ تو ولود ولادت سے ہے، کس سے ہے؟ ولادت، وہ بھی ماں بھی کیا ہے؟ بچے کو جنم دیتی ہے تو وہ ولود ہے۔ اسی طرح ولود اس عورت کو بھی کہتے ہیں جو کثرت سے اولاد کو جنم دینے والی ہو۔ جو کثرت سے اولاد کو جنم دینے والی ہو اس کو بھی ولود کہتے ہیں۔ لیکن یہاں ولود جو آیا یہ مطلقاً بچوں کو جنم دینے والا، اس کا کیا معنیٰ ہے؟ ہاں کثرت یہاں ملحوظ نہیں ہے، بس بچوں کو جنم دینے والا۔ تو یہ جو چمگادڑ ہے، یاد رکھیں، یاد رکھیں، باقی تمام پرندے جو ہیں وہ انڈے دیتے ہیں لیکن یہ جو چمگادڑ ہے یہ بچے دیتی ہے۔ یہ انڈے نہیں دیتی بلکہ بچے دیتی ہے، بچے پیدا ہوتے ہیں اس کے۔ تو چمگادڑ کی تعریف کرنا طائرِ ولود کے ساتھ۔
اب دیکھو طائر پرندہ، یہ تو ہر پرندے پر صادق آتا ہے۔ ہر پرندے پر، تو یہ بھی کیا ہے؟ عرضِ عام۔ اور ولود بچوں کو جنم دینا، یہ جو زمین پر رہے چلنے پھرنے والے حیوانات ہیں یہ کیا ہیں؟ اکثر بچوں کو جنم دیتے ہیں۔ تو بچوں کو جنم دینا یہ بھی عرضِ عام ہے اور طائر یہ بھی کیا ہے؟ عرضِ عام۔ لیکن جب دونوں کو ملایا کہ طائرِ ولود وہ پرندہ جو بچوں کو جنم دیتا ہے، اب پرندوں میں تو صرف یہی ایک چمگادڑ ہے اور کوئی بھی بچوں کو جنم نہیں دیتا، سب انڈے دیتے ہیں۔ تو اب یہ عرضِ عام کیا بن گئی؟ خاصہ بن گئی اور خاصۂ مرکبہ، تو اس کے ذریعے بھی تعریف کرنا صحیح ہے۔
تو کہتے ہیں كَتَعْرِيفِ الْإِنْسَانِ بِمَاشٍ مُسْتَقِيمِ الْقَامَةِ جیسے انسان کی تعریف کرنا ماشٍ مستقیم القامہ سے وَتَعْرِيفُ الْخُفَّاشِ بِالطَّائِرِ الْوَلُودِ اور خفاش یعنی چمگادڑ کی تعریف کرنا بچوں کو جنم دینے والے پرندے کے ساتھ فَهُوَ تَعْرِيفٌ بِخَاصَّةٍ مُرَكَّبَةٍ تو یہ تعریف ہے خاصۂ مرکبہ کے ساتھ وَهُوَ مُعْتَبَرٌ عِنْدَهُمْ اور یہ معتبر ہے مناطقہ کے نزدیک كَمَا صَرَّحَ بِهِ بَعْضُ الْمُتَأَخِّرِينَ جیسے کہ اس کی تصریح کی ہے بعض متاخرین نے۔ تصریح کسے کہتے ہیں؟ صاف لفظوں میں ایک بات کو ذکر کرنا، واضح طور پر ذکر کرنا۔
اچھا یہاں ایک اور بات یاد رکھنا، ایک اور بات یاد رکھنا۔ تعریف میں یاد رکھو کوئی ایسا لفظ ذکر نہیں کرنا چاہیے جس کا معنیٰ سب کو معلوم نہیں، جو عام استعمال نہیں ہوتا۔ کیونکہ تعریف کا کیا مقصد ہے؟ تاکہ معرف جو اس کی پہچان ہو جائے۔ اگر آپ تعریف میں ایسے لفظ لے کر آتے ہیں جس کا معنیٰ ہی ہر ایک کو سمجھ میں نہیں آتا، بڑے ہی غریب، انوکھے الفاظ ہیں جو بہت قلیل استعمال ہوتے ہیں، عام لوگ تو کیا پڑھے لکھے بھی سارے اس کو اچھی طرح نہیں جانتے، تو ایسی یہ بھی الفاظ کا لانا تعریف میں درست نہیں ہے۔ ایسے لفظوں کے ساتھ تعریف کرنا درست نہیں۔ اسی طرح یاد رکھو تعریف لفظِ مشترک کے ساتھ کرنا یہ بھی صحیح نہیں ہے۔ مشترک وہ لفظ جس کے کئی معانی آتے ہوں۔ تو آپ نے لفظِ مشترک تعریف میں استعمال کر لیا تو اب پڑھنے والا حیران ہوگا کہ پتہ نہیں اس کا کون سا معنیٰ یہاں مراد ہے۔ تو تعریف میں الفاظِ غریبہ یعنی ایسے الفاظ جن کا معنیٰ سب کو معلوم نہیں، جو قلیل الاستعمال ہیں ان کا استعمال بھی صحیح نہیں اور لفظِ مشترک یعنی وہ لفظ جس کے کئی معانی آتے ہیں اس کا استعمال بھی صحیح نہیں ہے۔
آگے دیکھیے پھر متن بھئی، کہتے ہیں وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ كَاللَّفْظِيِّ اور تحقیق اجازت دی گئی ہے ناقص کے اندر، جائز قرار دیا گیا ہے کس کے اندر؟ ناقص کے اندر أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ کہ وہ اعم ہو كَاللَّفْظِيِّ جیسے کہ لفظی ہے۔ ابھی تک جو بات چل رہی تھی وہ تعریفِ حقیقی کی تھی، یا یوں کہو وہ تعریفِ کامل کی بات چل رہی تھی، کس کے؟ تعریفِ کامل کی بات چل رہی تھی اور اس کی چار قسمیں ہیں: حدِ تام، حدِ ناقص، رسمِ تام اور رسمِ ناقص۔ اور تعریفِ کامل کے اندر یا تو پوری حقیقت کا پتہ چلنا چاہیے یا وہ جمیع ماعدیٰ سے ممتاز اور جدا ہونا چاہیے۔
اب تعریفِ ناقص کی بات آگئی۔ تعریفِ ناقص جو ہے اس میں مقصد پوری ماہیت پر مطلع ہونا یہ بھی مقصود نہیں ہوتا اور جمیع مشارکات سے جدا کرنا بھی مقصد نہیں ہوتا، وہاں بعض سے جدا کرنا کافی ہوتا ہے، اس کو تعریفِ ناقص کہتے ہیں۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریفِ ناقص کہتے ہیں، بعض سے بس جدا کر دے، نہ پوری حقیقت کا پتہ چلے، نہ جمیع مشارکات سے جدا ہو بلکہ بعض مشارکات سے جدا ہو جائے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعریفِ ناقص۔ اور یہ جو تعریفِ ناقص ہے یہ اعم کے ساتھ بھی جائز قرار دی ہے اور اخص کے ساتھ بھی۔ متقدمین کہتے ہیں کہ تعریفِ ناقص، توجہ ہے؟ تعریفِ کامل کی بات گزر گئی، اب تعریفِ ناقص کی بات آگئی کہ تعریفِ ناقص اعم کے ساتھ بھی جائز، اخص کے ساتھ بھی جائز، حالانکہ تعریفِ کامل میں تو کہا تھا وہ اعم کے ذریعے بھی جائز نہیں اور اخص کے ساتھ بھی جائز نہیں، لیکن تعریفِ ناقص میں کہتے ہیں یہ دونوں جائز ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟
جیسے مثلاً کسی نے آپ سے فرس کی تعریف پوچھی، فرس گھوڑا کسے کہتے ہیں؟ آپ کہتے ہیں حَيَوَانٌ، آپ نے کیا کہا؟ حَيَوَانٌ، کیا پوری ماہیت کا پتہ چلا؟ نہیں، کیا جمیع ماعدیٰ سے جدا ہوا؟ نہیں، کیونکہ حیوانات تو اور بھی ہیں۔ ہاں بعض سے جدا ہو گیا، بعض سے مثلاً شجر سے، حجر سے، اور آپ کا بھی یہی مقصد تھا، آپ اس کو صرف شجر اور حجر سے جدا کرنا چاہتے تھے اور وہ مقصد حیوان سے حاصل ہو گیا یا نہیں؟ جی ہو گیا صاحب۔ کسی نے پوچھا کہ گھوڑا کیا چیز ہے؟ آپ کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں اس کو جدا کر دوں کس سے؟ شجر و حجر سے، شجر و حجر سے جدا کر دوں، لہٰذا آپ کہتے ہیں حَيَوَانٌ، تو اس نے شجر و حجر سے کیا کر دیا؟ فرس کو جدا کر دیا، لیکن یہ تعریفِ ناقص ہے، لیکن تعریفِ ناقص اعم و اخص دونوں کے ساتھ جائز ہے یا کسی نے پوچھا کہ کسی نے پوچھا فرس کے بارے میں کہ فرس کیا چیز ہے؟ آپ نے کہا مَاشٍ، اپنے پیروں پر چلنے والا۔ اور مقصد صرف کیا تھا؟ کس سے جدا کرنا چاہتے ہیں؟ شجر و حجر سے، کس سے؟ شجر و حجر سے صرف آپ جدا کرنا چاہتے تھے اور ماشٍ نے جدا کر دیا یا نہیں کر دیا؟ لہٰذا یہ تعریف صحیح ہے لیکن یہ تعریف ناقص ہے، تعریفِ ناقص میں یہ جائز ہے، تعریفِ کامل میں جائز نہیں ہے۔
تو یہ معنیٰ ہے وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ اور تحقیق جائز قرار دیا گیا ہے فِي النَّاقِصِ تعریفِ ناقص کے اندر أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ کہ وہ اعم ہو، یعنی تعریفِ ناقص اعم ہو سکتی ہے كَاللَّفْظِيِّ جیسے کہ لفظی ہے، یعنی جیسے تعریفِ لفظی جو ہے وہ اعم کے ساتھ جائز ہے، جیسے کہ تعریفِ لفظی، تعریفِ لفظی کسے کہتے تھے؟ میں نے پہلے بتایا تھا جس میں تعیینِ صورت ہوتی ہے یعنی کسی لفظ کا معنیٰ بیان کیا جاتا ہے بس، صورتِ غیر حاصلہ کو اس میں حاصل نہیں کیا جاتا، تو جیسے تعریفِ لفظی وہ اعم کے ساتھ صحیح ہے، کس کے ساتھ؟ اعم کے ساتھ صحیح ہے، اسی طرح تعریفِ ناقص بھی اعم کے ساتھ صحیح ہے۔
میں نے آپ کو بتایا کہ تعریفِ ناقص جو ہے وہ اعم کے ساتھ بھی متقدمین نے جائز قرار دی ہے اور اخص کے ساتھ بھی جائز قرار دی ہے، لیکن مصنف نے اخص کو ذکر نہیں کیا، صرف اتنا کہا وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ کہ تعریفِ ناقص میں جائز قرار دیا گیا ہے کہ وہ کیا ہو سکتی ہے؟ اعم ہو سکتی ہے معرف سے۔ تو بھئی اخص بھی تو ہو سکتی ہے، متقدمین نے اعم ہونا بھی جائز قرار دیا ہے اور اخص ہونا بھی، اخص کو ماتن نے ذکر نہیں کیا، شرح میں آپ کو بتلائیں گے وجہ یہ ہے: ماتن کو تعریفِ ناقص کا اعم ہونا یہ بھی پسند نہیں۔ پسند نہیں، اسی لیے وَقَدْ أُجِيزَ صیغے۔ یاد رکھو یہ جو مجہول صیغے ہوتے ہیں نا مجہول، ان کو صِيغَةُ تَمْرِيض کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ تمریض، کس سے ہے؟ مَرَّضَ يُمَرِّضُ تَمْرِيضاً، تو اس کو صیغۂ تمریض کہتے ہیں، مَرَّضَ يُمَرِّضُ تَمْرِيضاً، یہ مرض سے ہے، مرض۔ تمریض کا معنیٰ ہے بیمار کر دینا، دوسرے کو مریض بنا دینا، لیکن یہاں یہ معنیٰ نہیں ہے بلکہ تمریض کا ایک معنیٰ ہے کمزور کلام، کمزور بات۔ کمزور کلام یا کمزور بات کو بھی تمریض کہتے ہیں، یہ کَلِمَةُ تَمْرِيض ہے تو کمزور کلام کے لیے بھی تمریض بولا جاتا ہے، تو یہاں اسی معنیٰ میں ہے۔ جب کوئی کمزور بات ہو تو عموماً اس کو مصنفین مجہول صیغے کے ساتھ ذکر کرتے ہیں کہ قِيلَ، قیل کون سا صیغہ ہے؟ مجہول کا، تو یہ صیغۂ تمریض کہلاتا ہے، اس کے ذریعے کمزور بات ذکر کی جاتی ہے، تو تمریض کا کیا معنیٰ؟ ہاں ایک معنیٰ ہے بیمار کر دینا، لیکن وہ معنیٰ یہاں نہیں مراد بلکہ یہاں معنیٰ کیا ہے؟ کمزور کلام بھئی، کلام کمزور ہو تو اس کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، تو دیکھو ماتن نے بھی وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ کہ تعریفِ ناقص میں اجازت دی گئی ہے، صیغۂ تمریض استعمال کیا یعنی یوں کہیں کلمۂ تمریض استعمال کیا، جس کے ذریعے اشارہ کر دیا کہ یہ قول کمزور ہے بھئی، یہ قول کمزور ہے، دیکھا؟ مصنف کو پسند نہیں، تو لہٰذا صیغۂ تمریض کے ساتھ اس کو ذکر کیا۔
اور کیا کہا؟ کہ ناقص کے اندر اعم ہونے کو بھی جائز قرار دیا ہے کہ تعریفِ ناقص کیا ہو؟ اعم، اس کو بھی بعض نے جائز قرار دیا ہے اور باقی تعریف بالاقل، وہ بھی تو بعضوں نے جائز قرار دی ہے، اس کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا کیونکہ وہ تو مصنف کے نزدیک بالکل جائز ہی نہیں۔ وہ تو سرے سے جائز ہی نہیں ہے کہ تعریف بالاقل کی جائے، کیونکہ اخص جو ہوتا ہے وہ ذہن میں اقل ہوتا ہے کس کے مقابلے میں؟ اعم کے مقابلے میں، اور وہ جو ہے ذہن میں اخفیٰ ہوتا ہے اعم کے مقابلے میں۔ تو جو اخص ہوتا ہے وہ اعم کے مقابلے میں ذہن میں اقل بھی ہوتا ہے اور اخفیٰ بھی ہوتا ہے، اس لیے کیونکہ اعم کے حصولِ ذہنی کی جہات زیادہ ہیں لیکن اس کی شرائط حصولِ ذہنی کی وہ کم ہیں، جبکہ جو اخص ہوتا ہے اس کی حصولِ ذہنی کی جہات قلیل ہیں اور حصولِ ذہنی کی شرائط کثیر ہیں، تو وہ تو مصنف کے نزدیک بالکل جائز ہی نہیں ہے، اسی لیے انہوں نے اعم کو تو متن میں ذکر کیا اور تعریفِ ناقص کا اخص کے ساتھ جائز ہونا اس کو سرے سے ذکر ہی نہیں کیا۔
تو کہتے ہیں وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ أَنْ يَكُونَ أَعَمَّ كَاللَّفْظِيِّ اور تحقیق جائز قرار دیا گیا ہے ناقص کے اندر کہ وہ اعم ہو سکتی ہے، تعریفِ ناقص اعم ہو سکتی ہے كَاللَّفْظِيِّ جیسے کہ تعریفِ لفظی ہے، جیسے تعریفِ لفظی وہ اعم جائز ہے اسی طرح تعریفِ ناقص بھی بعضوں نے جائز قرار دی ہے اعم کے ساتھ۔ اور تعریفِ لفظی کسے کہتے ہیں؟ کہتے ہیں وَهُوَ مَا يُقْصَدُ بِهِ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ وہ تعریف ہے کہ جس کے ذریعے ارادہ کیا جائے تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ لفظ کے مدلول کی تفسیر کا، لفظ کا مدلول یعنی جس پر لفظ دلالت کرتا ہے یعنی وہ جو معنیٰ ہے اس کا، جو ہاں تو اس کے ذریعے لفظ کے معنیٰ کی تفسیر کی جاتی ہے یعنی لفظ کا معنیٰ کھول کر بیان کیا جاتا ہے، سننے والے کو پتہ نہیں تھا کہ غضنفر کسے کہتے ہیں تو اسد کے ذریعے اس کا معنیٰ متعین کر دیا، اس کے معنیٰ کھول کر بیان کر دیا، اس کی تفسیر کر دی، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنیٰ ہے وَهُوَ مَا يُقْصَدُ بِهِ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ کہ تعریفِ لفظی وہ ہے جس کے ذریعے لفظ کے مدلول کا یعنی لفظ کے معنیٰ کی تفسیر کا ارادہ کیا جائے، یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟
دیکھیے بھئی اب شرح میں، قَوْلُهُ وَقَدْ أُجِيزَ فِي النَّاقِصِ اھ یہ اھ مخفف ہے، اصل میں کیا ہے؟ إِلَىٰ آخِرِهِ، اور ایک اور معنیٰ بھی میں نے بیان کیا تھا، کبھی اھ بمعنیٰ انْتَهَىٰ کے ہوتا ہے یعنی یہاں پر بات کیا ہو گئی؟ بات ختم ہو گئی، بات پوری ہو گئی۔ کہتے ہیں إِشَارَةٌ إِلَى مَا أَجَازَهُ الْمُتَقَدِّمُونَ کہتے ہیں یہ اشارہ ہے اس کی طرف وہ جو جائز قرار دیا ہے متقدمین نے حَيْثُ حَقَّقُوا أَنَّهُ يَجُوزُ التَّعْرِيفُ بِالذَّاتِيِّ الْأَعَمِّ اس حیثیت سے کہ انہوں نے ثابت کیا ہے کہ تعریف جائز ہے ایسے ذاتی کے ذریعے الْأَعَمِّ جو اعم ہو، جو زیادہ عام ہو كَتَعْرِيفِ الْإِنْسَانِ بِالْحَيَوَانِ جیسے کہ انسان کی تعریف حیوان کے ذریعے کرنا فَيَكُونُ حَدّاً نَاقِصاً تو پھر یہ کیا ہوگی؟ حدِ ناقص، یعنی اس میں داخل ہو جائے گی، یہ ہے تو تعریفِ ناقص لیکن کس میں داخل ہو جائے گی؟ حدِ ناقص میں، حد میں کیوں داخل ہو رہی ہے؟ کیونکہ انسان کی تعریف حیوان کے ساتھ کی اور حیوان انسان کے لیے ذاتی ہے، اس کی ذات میں داخل ہے، تو چونکہ یہ ذاتی پر مشتمل ہے لہٰذا اس کو حدِ ناقص کہہ دیں گے، اور اگر وہ عرضِ عام پر مشتمل ہوئی تو اس کو رسمِ ناقص کہہ دیں گے۔ كَتَعْرِيفِ الْإِنْسَانِ بِالْحَيَوَانِ جیسے کہ انسان کی تعریف حیوان کے ساتھ فَيَكُونُ حَدّاً نَاقِصاً تو یہ حدِ ناقص ہوگی أَوْ بِالْعَرَضِ الْعَامِّ یا عرضِ عام کے ساتھ تعریف جو ہے كَتَعْرِيفِهِ بِالْمَاشِي جیسے انسان کی تعریف ماشی کے ساتھ فَيَكُونُ رَسْماً نَاقِصاً تو یہ کیا ہوگی؟ رسمِ ناقص۔ یہ تو تھی تعریف بالاعم۔
آگے کہتے ہیں بَلْ جَوَّزُوا التَّعْرِيفَ بِالْعَرَضِ الْأَخَصِّ أَيْضاً بلکہ انہوں نے تعریف کو جائز قرار دیا ہے عرضِ اخص کے ذریعے بھی كَتَعْرِيفِ الْحَيَوَانِ بِالضَّاحِكِ جیسے حیوان کی تعریف کی جائے کس کے ساتھ؟ ضاحک، بھئی حیوان، کس نے حیوان کے بارے میں پوچھا کہ حیوان کسے کہتے ہیں؟ اس نے کہا ضَاحِكٌ، کیا کہا؟ ضاحک کہا، تو ضاحک یہ تو ذاتی نہیں ہے، یہ تو عرضی ہے، اور حیوان کے تمام افراد کے ساتھ یا بعض افراد کے ساتھ؟ حیوان کے بعض افراد کیا ہیں؟ ضاحک، وہ ان کی صفت، وہ ضاحک ہے نا، صرف انسان کیا ہے؟ ضاحک، تعریف کس کی پوچھی؟ حیوان کی، تو اعم کی تعریف کس کے ساتھ کر دی؟ اخصِ عرضی کے ساتھ، اخصِ عرضی، اس کے ساتھ بھی متقدمین نے تعریف کو جائز قرار دیا ہے، لیکن مصنف نے اس کو ذکر نہیں کیا، کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک یہ سرے سے جائز ہی نہیں، کیونکہ یہ تعریف بالاخفیٰ ہے اور تعریف بالاخفیٰ صحیح نہیں، تعریف کے اندر شرط ہے کہ وہ اجلیٰ ہونی چاہیے معرف کے مقابلے میں۔ کہتے ہیں بَلْ جَوَّزُوا التَّعْرِيفَ بِالْعَرَضِ الْأَخَصِّ أَيْضاً بلکہ متقدمین نے عرضِ اخص کے ساتھ بھی تعریف کو جائز قرار دیا ہے كَتَعْرِيفِ الْحَيَوَانِ بِالضَّاحِكِ جیسے کہ حیوان کی تعریف ضاحک کے ساتھ لٰكِنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَعْتَدَّ بِهِ لیکن مصنف رحمہ اللہ نے اس کو شمار نہیں کیا، مصنف کے نزدیک یہ قابلِ شمار ہی نہیں، اس کو کوئی اہمیت ہی نہیں دی لِزَعْمِهِ أَنَّهُ تَعْرِيفٌ بِالْأَخْفَى اس لیے کیونکہ مصنف کا یہ گمان ہے، دیکھا؟ یہ مصنف پر گویا رد کر دیا، زعم کہتے ہیں گمانِ باطل کو بھئی، کس کو؟ گمانِ باطل، یعنی مصنف کا یہ غلط خیال ہے، اوپر اعم کو تو ذکر کر دیا تعریفِ ناقص کے اندر لیکن اخص کو ذکر نہیں کیا، یہ ان کا غلط گمان ہے کہ یہ جائز ہی نہیں ہے، تعریف بالاخص بھی جائز ہے بھئی۔ لٰكِنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَعْتَدَّ بِهِ لیکن مصنف رحمہ اللہ نے اس کو شمار ہی نہیں کیا لِزَعْمِهِ اس لیے کیونکہ اس کا یہ گمان ہے أَنَّهُ تَعْرِيفٌ بِالْأَخْفَى کہ یہ تو تعریف بالاخفیٰ ہے وَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ أَصْلاً اور یہ سرے سے جائز ہی نہیں ہے، یا یوں کہیں وَهُوَ غَيْرُ جَائِزٍ أَصْلاً أَيْ قَطْعاً یہ قطعی طور پر جائز ہی نہیں۔
قَوْلُهُ كَاللَّفْظِيِّ أَيْ كَمَا أُجِيزَ فِي التَّعْرِيفِ اللَّفْظِيِّ یعنی جیسے کہ اجازت دی گئی ہے تعریفِ لفظی میں كَوْنُهُ أَعَمَّ کہ وہ اعم ہو سکتی ہے كَقَوْلِهِمْ جیسے کہ عربوں کا قول ہے: السَّعْدَانَةُ نَبْتٌ، سعدانہ، سعدانہ یہ کسی پودے کا نام ہے بھئی سعدانہ، نَبْتٌ پودے کو کہتے ہیں، کسی کو سعدانہ کا پتہ نہیں تھا، دوسرا اس کو بتلاتا ہے: السَّعْدَانَةُ نَبْتٌ، سعدانہ پودا ہے، بھئی پودا؟ پودا تو بہت سی قسموں کا ہے، تو یہ تعریف بالاعم کی ہے کس میں؟ تعریفِ لفظی میں، تو یہ تعریفِ لفظی اعم کے ساتھ کر دی اور یہ جائز ہے۔ اور انہوں نے میں نے کیا کہا؟ السَّعْدَانَةُ نَبْتٌ، حاشیے میں سُعْدَانَہ لکھا گیا ہے اس کو کہ سین کے ضمہ کے ساتھ ہے، لیکن لغت کی تمام کتابوں میں سین کے زبر کے ساتھ ہے بھئی، سین کے زبر، اور نیز تمام کتابوں میں یہ اسی طرح ہے جبکہ لغت میں یہ ساتھ گول تا بھی نہیں جڑی ہوئی، السَّعْدَانُ نَبْتٌ، السَّعْدَانُ نَبْتٌ، لیکن بہرحال تا گول تا وحدت کے لیے ہو سکتا ہے جوڑ دی گئی ہو، یعنی ایک کا معنیٰ ادا کرنے کے لیے، السَّعْدَانَةُ نَبْتٌ سعدانہ پودا ہے۔
قَوْلُهُ تَفْسِيرُ مَدْلُولِ اللَّفْظِ أَيْ تَعْيِينُ مُسَمَّى اللَّفْظِ یعنی لفظ کے مسمیٰ کی تعیین کرنا، لفظ کے بھئی دیکھو یہ جو تعریفِ لفظی ہے اس میں ایک معنیٰ کی تعیین کر دی جاتی ہے، جیسے سننے والے کو پتہ نہیں تھا کہ غضنفر کس چیز کو کہتے ہیں، تو آپ نے تعیین کر دی: الْغَضَنْفَرُ أَسَدٌ، تو یہ شیر کی صورت تو اس کے ذہن میں پہلے سے موجود تھی، تو صرف اس کی تعیین کر دی، کیا کر دی؟ یعنی مسمیٰ کی تعیین کر دی، ایک ہوتا ہے اسم، ایک ہے مسمیٰ، اسم وہ لفظ ہے مثلاً اور مسمیٰ وہ ذات جس کا وہ نام ہے، جیسے زید، اور مسمیٰ ہے ذاتِ زید، ایک شخص نے اپنے بیٹے کا نام زید رکھا، تو زید ہے اسم اور وہ جو بیٹا ہے وہ ہے مسمیٰ جس کا نام ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح ہے کہ لفظ کے مسمیٰ کی تعیین کی جاتی ہے یعنی وہ جس ذات یا وہ جس مفہوم کے لیے وہ لفظ مقرر کیا گیا ہے اس کی تعیین کر دی جاتی ہے کہ اس لفظ کا یہ والا معنیٰ ہے، آپ کے ذہن میں جو سینکڑوں لاکھوں معانی موجود ہیں ان میں سے اس معنیٰ کے لیے یہ لفظ بولا گیا ہے، اس کا یہ والا معنیٰ ہے، بات سمجھ میں آگئی؟ أَيْ تَعْيِينُ مُسَمَّى اللَّفْظِ مِنْ بَيْنِ الْمَعَانِي الْمَخْزُونَةِ فِي الْخَاطِرِ یعنی لفظ کے مسمیٰ یعنی اس کے معنیٰ و مفہوم کی تعیین کرنا، کون سا معنیٰ؟ مِنْ بَيْنِ الْمَعَانِي الْمَخْزُونَةِ فِي الْخَاطِرِ ان معانی کے بیچ میں الْمَخْزُونَةِ جو محفوظ ہیں فِي الْخَاطِرِ دل میں، یعنی دل میں یعنی ذہن میں جو معانی محفوظ ہیں ان میں سے ایک صورت کی تعیین کر دی کہ غضنفر اس صورت کا نام ہے، اس کو کہتے ہیں یعنی اسد کو کہتے ہیں، کس کو؟ اسد، ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ أَيْ تَعْيِينُ مُسَمَّى اللَّفْظِ مِنْ بَيْنِ الْمَعَانِي الْمَخْزُونَةِ فِي الْخَاطِرِ یعنی لفظ کے مسمیٰ کی تعیین کرنا ان معانی کے بیچ میں سے وہ جو دل میں یعنی ذہن میں معانی محفوظ ہیں ان کے بیچ میں سے لفظ کے مسمیٰ کی تعیین کر دینا۔
فَلَيْسَ فِيهِ تَحْصِيلُ مَجْهُولٍ پس اس میں تحصیلِ مجہول نہیں ہوتی، اس تعریفِ لفظی میں تحصیلِ مجہول نہیں ہوتی، فَلَيْسَ فِيهِ تَحْصِيلُ مَجْهُولٍ عَنْ مَعْلُومٍ كَمَا فِي الْمُعَرِّفِ الْحَقِيقِيِّ تو اس تعریفِ لفظی کے اندر معلوم کے ذریعے، بھئی عام تعریف میں کیا کرتے ہیں؟ معلوم چیزوں کو ملا کر مجہول چیز کو حاصل کرتے ہیں، تعریفِ حقیقی میں کیا کرتے ہیں؟ معلوم چیزوں کے ذریعے کس کو حاصل کرتے ہیں؟ مجہول کو، مجہول کو حاصل کرتے ہیں، لیکن تعریفِ لفظی میں ایسا نہیں ہوتا، یہی بیان کر رہے ہیں: فَلَيْسَ فِيهِ تَحْصِيلُ مَجْهُولٍ عَنْ مَعْلُومٍ تو اس تعریفِ لفظی کے اندر تحصیلِ مجہول عن معلوم یعنی معلوم کے ذریعے مجہول کی تحصیل نہیں ہوتی كَمَا فِي الْمُعَرِّفِ الْحَقِيقِيِّ جیسے معرفِ حقیقی یعنی تعریفِ حقیقی میں ہوتی ہے فَافْهَمْ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو۔
تو فافہم کے ذریعے یا تو اشارہ ہے تعریفِ لفظی اور تعریفِ حقیقی کے درمیان فرق کی طرف کہ آپ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں، تعریفِ حقیقی اور چیز ہے اور تعریفِ لفظی اور چیز، تعریفِ حقیقی میں تحصیلِ صورت ہوتی ہے، مجہول صورت کو حاصل کیا جاتا ہے، جبکہ تعریفِ لفظی میں تعیینِ صورت ہوتی ہے تحصیلِ صورت نہیں ہوتی، تو یا تو فافہم کے ذریعے اس فرق کی طرف اشارہ ہے، یا فافہم کے ذریعے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ تعریفِ لفظی کے اندر اختلاف ہے، بعض مناطقہ تعریفِ لفظی کو تصور کہتے ہیں اور بعض مناطقہ تعریفِ لفظی کو تصدیق کہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو یا تو اس کی طرف اشارہ ہے کہ یہ جو تعریفِ لفظی ہے اس کے اندر مناطقہ کا اختلاف ہے، کوئی اس کو تصور کی قسم بناتا ہے، کوئی اس کو تصدیق کی قسم، جب یہ تصدیق کی قسم ہے تو اس کو تو تعریف کہنا ہی نہیں چاہیے، کیونکہ معرف، تعریف اور قولِ شارح یہ تو کس کا نام ہے؟ یہ تو تصورات کا نام ہے، کس کا نام ہے؟ وہ معلوم تصورات جو کہاں تک پہنچائیں؟ مجہول تک، تو وہ تو تصورات کا نام ہے اور یہ تعریف، یہ تو تصورات میں سے بعضوں نے شمار ہی نہیں کی، کس میں شمار کی ہے؟ تصدیقات میں شمار کی ہے، تو اس کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے کہ یہ تعریفِ لفظی ہے بعضوں نے تو اس کو تصور کی قسم قرار دیا ہے جبکہ بعض مناطقہ نے اسے تصدیق کی قسم قرار دیا ہے۔
بات سمجھ میں آگئی اچھی طرح؟ تعریف کی بحث سمجھ میں آگئی بھئی؟ کسی چیز کی تعریف کیسے کرنی ہے بھئی؟ اس کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ اور کتنی قسمیں ہیں جو معتبر ہیں مناطقہ کے نزدیک؟ انہوں نے بتایا چار قسمیں ہیں وہ معتبر ہیں: یا حدِ تام ہو یا حدِ ناقص ہو یا رسمِ تام ہو یا رسمِ ناقص ہو، وہ معتبر ہیں اور اس میں یا چیز کی پوری حقیقت کا پتہ چلے یا وہ جمیع مشارکات سے جدا ہو جائے، یہ ضروری ہے بھئی۔
چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔