Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-063

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 53
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی آگے سبق متن دیکھیے پہلے اَلثَّالِثُ الْفَصْلُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ فَإِنْ مَيَّزَهُ عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَقَرِيبٌ وَإِلَّا فَبَعِيدٌ کلیات خمسہ کا بیان چل رہا ہے۔ جنس اور نوع کا بیان پیچھے گزر گیا، جنس کے بارے میں انہوں نے آپ کو بتلایا کہ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُخْتَلِفِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ کہ وہ کلی ہے جو ایسے کثیر افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں، یا یوں کہیں کہ وہ ایسی کلی ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں ایسے افراد پر بولی جاتی ہے جن کی حقیقتیں مختلف ہوں۔ اور نوع جو ہے هُوَ الْمَقُولُ عَلَى كَثِيرِينَ مُتَّفِقِينَ بِالْحَقَائِقِ فِي جَوَابِ مَا هُوَ اور نوع ایسی کلی ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں ایسے افراد پر بولی جاتی ہے کہ جن کی حقیقتیں متفق ہوں، ایک ہی حقیقت ہو۔ اور پھر جنس کے اندر انہوں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جنس دو قسم پر ہے، یا جنس قریب ہوگی یا جنس بعید ہوگی۔ اور نوع کے اندر پھر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ ایک نوع حقیقی ہے کہ وہ کلی جس کے افراد کیا ہوں متفق الحقیقت ہوں اور مَا هُوَ کے جواب میں ان پر بولی جائے۔ اور ایک نوع اضافی ہے کہ جو اس ماہیت کو کہتے ہیں کہ اس کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں جنس واقع ہو۔ نوع اضافی ہمیشہ وہی ماہیت بنے گی جس کے اوپر کوئی نہ کوئی جنس ہو، اگر اس کے اوپر جنس نہ ہو تو وہ نوع اضافی بھی نہیں ہے۔ تو نوع اضافی صرف دو چیزیں پھر بن سکتی ہیں کیونکہ دو چیزوں کے اوپر جنس آتی ہے۔ ایک تو نوع حقیقی اس کے اوپر کیا آتی ہے جنس، جیسے انسان کے اوپر کیا ہے حیوان۔ اور دوسرا جنس، بھئی کیونکہ جنس کے اوپر بھی کبھی جنس آتی ہے جیسے حیوان جنس ہے اور اس کے اوپر جسم نامی جنس موجود ہے بھئی۔ پھر کل کے سبق میں انہوں نے آپ کو جنس اور فصل کی مختلف قسمیں بتلائی تھیں کہ جنس جو ہے وہ تین قسم پر ہے، یا عالی ہوگی یا سافل ہوگی یا متوسط۔ جنس عالی وہ ہے کہ جس کے نیچے تو جنس ہو اوپر کوئی جنس نہ ہو۔ جنس سافل وہ ہے جس کے اوپر تو جنس ہو نیچے کوئی جنس نہ ہو۔ اور جنس متوسط وہ ہے جس کے اوپر بھی جنس ہو اور نیچے بھی جنس ہو۔ اور اسی طرح نوع کے بارے میں بھی بتلایا کہ نوع عالی ہوگی یا متوسط ہوگی یا سافل ہوگی۔ نوع عالی وہ ہے کہ جس کے نیچے تو نوع ہو اوپر نوع نہ ہو۔ نوع سافل وہ ہے کہ جس کے اوپر تو نوع ہو نیچے نوع نہ ہو۔ اور نوع متوسط وہ ہے جس کے اوپر بھی نوع ہو اور نیچے بھی نوع ہو بھئی۔ اور پھر اس کے بعد ایک اعتراض بھی ذکر کیا تھا کہ مصنف نے نوع مفرد کو اور جنس مفرد کو ذکر نہیں کیا۔ نوع مفرد میں نے بتایا اس کو کہتے ہیں جس کے اوپر بھی کوئی نوع نہ ہو اور نیچے بھی کوئی نوع نہ ہو۔ اور جنس مفرد وہ ہے کہ جس کے اوپر بھی کوئی جنس نہ ہو اور نیچے بھی کوئی جنس نہ ہو بھئی۔ تو ان کو مصنف نے ذکر نہیں کیا کیونکہ ان کے اندر ترتیب نہیں، وہ صرف ان اجناس اور ان انواع کو بیان کرنا چاہتے تھے جن کے درمیان ترتیب ہو، اور یہ تو صرف ایک ایک ہیں لہذا ان میں ترتیب نہیں ہو سکتی اس لیے ذکر نہیں فرمایا۔ یا اس وجہ سے ان کو ذکر نہیں فرمایا کیونکہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے بھئی۔ اس کے لیے وہی عقل جو ہے، اسی عقل کو جنس مفرد کی مثال کے طور پر بھی پیش کرتے ہیں اور اسی عقل کو نوع مفرد کی مثال کے طور پر بھی پیش کیا جاتا ہے۔ تو ان کا وجود یقینی نہیں اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا، میں نے آپ کو بتلایا بھئی۔ کہ مناطقہ کا یہ عقیدہ ہے، یہ کفریہ عقیدہ ان کا کہ اللہ تعالیٰ جو ہیں، اللہ تعالیٰ ہر جہت سے ایک ہی ہیں۔ اور اَلْوَاحِدُ لَا يَصْدُرُ عَنْهُ إِلَّا الْوَاحِدُ اور جو ہر جہت سے ایک ہو اس سے ایک ہی چیز ہو سکتی ہے، ایک سے زیادہ نہیں، ایک ہی چیز کو وہ وجود دے سکتا ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ جب ہر جہت سے ایک ہیں تو اللہ سے ایک ہی چیز پیدا ہو سکتی ہے، یہ ساری کائنات کو اکیلے اللہ پیدا نہیں فرما سکتے، اگرچہ یہ کفریہ عقیدہ ہے بھئی۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ جو ہے ہر چیز پر قادر ہیں بھئی، اللہ جو چاہیں وہ کر سکتے ہیں۔ هُوَ فَعَّالٌ لِّمَا يُرِيدُ وہ جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اور جب اللہ کسی چیز کو پیدا کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو صرف كُنْ فرماتے ہیں اور وہ چیز وجود میں آ جاتی ہے۔ تو اللہ سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ تو بہرحال یہ مناطقہ کا کفریہ عقیدہ ہے اور اس کے مطابق وہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے صرف ایک عقل اول کو پیدا کیا۔ اور پھر اس عقل اول نے عقل ثانی کو اور پھر عقل ثانی نے عقل ثالث کو اور پھر عقل ثالث نے عقل رابع کو، اسی طرح سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ عقل تاسع نے عقل عاشر کو پیدا فرمایا۔ اور تو یہ دس عقلیں ہیں ۔ اور ان میں سے جو آخری عقل ہے عقل عاشر، اس کو عقل فعال کہتے ہیں کیونکہ ساری کائنات کا نظام اس وقت یہ چلا رہی ہے۔ تو یہ عقل فعال ہے۔ کہتے ہیں یہ عقلیں بے انتہا قوتوں کی مالک ہیں بھئی۔ اور یہ اپنے وجود میں جوہر کی محتاج نہیں۔ اور یہ غیر مرئی ہیں، دکھائی نہیں دیتیں بھئی۔ اور انہی عقلوں نے کائنات کی مختلف چیزوں کو پیدا کیا اور اس کی تکمیل کی بھئی تکمیل کی۔ تو جنس مفرد کی مثال میں مناطقہ جو ہیں عقل کو ذکر کرتے ہیں۔ اور یہ جو عقول عشرہ ہیں ان کے لیے عقل کو جنس بناتے ہیں، کیا بناتے ہیں جنس۔ اور جنس کے تحت افراد کی حقیقتیں الگ الگ ہوتی ہیں، معلوم ہوا اس کے نیچے جو یہ دس عقول ہیں ان سب کی حقیقتیں الگ الگ ہیں۔ اور یہ سب انواع ہیں، یہ سب کیا ہیں انواع۔ لیکن ہر نوع کا ایک ہی فرد پایا جاتا ہے اور فرد ممکن ہی نہیں ہے۔ تو یہ ہیں تو انواع لیکن فرد ایک ایک ہی ہے اور ان کی حقیقتیں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ جب ان کی حقیقتیں ایک دوسرے سے مختلف تو عقل ان کے لیے کیا بن گئی جنس بن گئی۔ اور اس عقل کے لیے جوہر جو ہے، اس کو جنس نہیں بناتے بلکہ اس کو وہ اس کے لیے عرض ہے، وہ اس کے لیے کیا ہے عرض۔ تو جوہر کو اس کے لیے عرض بنا دیا تو یہ عقل ایسی جنس ہے جس کے اوپر بھی کوئی جنس نہیں اور نیچے بھی کوئی جنس نہیں۔ نیچے تو انواع ہیں کیا ہیں انواع ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ جنس مفرد کی مثال ہے۔ اور نوع مفرد کی مثال میں بھی اسی کو پیش کرتے ہیں۔ اس صورت میں پھر نیچے جو عقول عشرہ جو افراد ہیں ان کو متفق الحقیقت قرار دیتے ہیں کہ ان سب کی حقیقت کیا ہو ایک ہو۔ جب سب کی حقیقت ایک ہے تو پھر ان کے اوپر جو عقل ہے اس عقل کو جنس نہیں قرار دیں گے بلکہ نوع قرار دیں گے کیونکہ نوع کے افراد کی حقیقت ایک ہوتی ہے۔ تو عقل کو نوع قرار دیا اور اس عقل کے اوپر جوہر کو جنس قرار دیا۔ تو یہ عقل ایسی نوع ہے جس کے اوپر جنس تو ہے لیکن کوئی نوع نہیں۔ اور نیز نیچے بھی کوئی نوع نہیں، نیچے افراد ہیں۔ تو یہ ایسی نوع ہے جس کے نہ اوپر کوئی نوع اور نہ نیچے کوئی نوع، تو یہ مثال ہے نوع مفرد کی۔ تو مصنف نے ان کو ذکر نہیں کیا، نوع مفرد اور جنس مفرد کو کیونکہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ ایک ہی چیز کو ذکر کرتے ہیں جنس مفرد میں بھی اور اسی چیز کو ذکر کرتے ہیں نوع مفرد میں بھی بھئی۔ چونکہ اس کے افراد کی حقیقت کا پتہ ہی نہیں تو اس میں دونوں احتمال ہیں متفق الحقیقت بھی اور مختلف الحقیقت بھی۔ تو متفق الحقیقت قرار دیں تو عقل کو نوع قرار دینا پڑے گا۔ اور مختلف الحقیقت قرار دیں عقلوں کو تو پھر عقل کو جنس قرار دینا پڑے گا، صورت سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے بھئی۔ اَلثَّالِثُ الْفَصْلُ وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ تیسری کلی آ گئی فصل بھئی فصل۔ کہتے ہیں وَهُوَ الْمَقُولُ وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے عَلَى الشَّيْءِ کسی چیز پر فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں۔ یہ وہ کلی ہے جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں بولی جاتی ہے یعنی محمول ہوتی ہے کسی چیز پر۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایک ہے مَا هُوَ اور ایک ہے أَيُّ شَيْءٍ هُوَ۔ مَا هُوَ کے ذریعے منطقی جو ہیں کسی چیز کی حقیقت کے بارے میں سوال کرتے ہیں اور اس کے جواب میں تین چیزیں آ سکتی ہیں۔ کون کون سی؟ جنس نوع اور حد تام۔ جنس نوع اور حد تام۔ اور جبکہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ اس کے ذریعے مناطقہ ایسی چیز کا سوال کرتے ہیں جو اس چیز کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے، ممتاز کر دے۔ اور پھر اس کے ذریعے ذاتی کا بھی سوال ہو سکتا ہے اور عرضی کا بھی سوال ہو سکتا ہے۔ لہذا اگر ذاتی کے بارے میں سوال کیا جائے اور یوں کہا جائے اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ دیکھو فِي ذَاتِهِ کی قید لگا دی۔ دیکھو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے کس چیز کو طلب کیا جاتا ہے جو اس کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے، توجہ ہے، جو اس کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ اور یاد رکھو اس کے جواب میں فصل بھی آتی ہے اور خاصہ بھی۔ فصل وہ کلی ذاتی ہے جو ایک ہی حقیقت والے افراد کے ساتھ خاص ہو جیسے ناطق۔ جیسے ناطق انسان کے ساتھ خاص ہے بھئی ہے اور کلی ذاتی ہے۔ اور خاصہ وہ کلی عرضی ہے جو ایک حقیقت کے افراد کے ساتھ خاص ہو جیسے انسان کا خاصہ کیا ہے ضاحک ہے۔ یا اسی طرح قابل للعلم ہے بھئی قابل للعلم اس میں قابلیت علم ہے علم حاصل کرنے کی صلاحیت ہے، وہ مختلف چیزوں کا ادراک کر سکتا ہے۔ تو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے جواب میں کیا کیا آتا ہے؟ خاصہ بھی اور فصل بھی۔ تو اس کے ذریعے ممیز طلب کیا جاتا ہے جو اس کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ اور وہ ممیز کبھی ذاتی کو طلب کیا جاتا ہے اور کبھی عرضی کو، وہ سوال میں ہی ذکر ہوگا۔ مثلاً سوال کیا ہوا اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ وہ چیز کیا ہے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ دیکھو فِي ذَاتِهِ کی قید لگا دی، معلوم ہوا ذاتی کو طلب کیا جا رہا ہے۔ ایسا ممیز جو ذاتی ہو یعنی ذات میں داخل ہو، ماہیت کے اندر داخل ہو اور وہ کیا ہے؟ وہ فصل ہے۔ اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ انسان کیا چیز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، یعنی اس کے لیے ایسا ممیز لاؤ جو ذاتی ہو، تو جواب میں فصل آئے گا اور کہیں گے ناطق، کہ هُوَ نَاطِقٌ۔ اور اگر سوال یوں کیا جائے اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ انسان کیا چیز ہے فِي عَرَضِهِ اپنی عرض، اپنی صفت کے اعتبار سے۔ تو اب ناطق نہیں کہیں گے، ناطق تو ذاتی ہے عرض تو نہیں ہے، وہ تو عرضی طلب کر رہا ہے، کوئی صفت ہونی چاہیے۔ اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي عَرَضِهِ تو جواب میں خاصہ کہیں گے بھئی۔ یہ خاصہ جب آپ نے ضاحک کہہ دیا مثلاً، اس نے انسان کو اور چیزوں سے جدا کر دیا اور نیز یہ خاصہ ہے یعنی عرض ہے، اس کی ذات میں داخل نہیں ہے۔ تو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ کے ذریعے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے کس کو ممیز، اور وہ ممیز ذات کے اعتبار سے بھی طلب کیا جا سکتا ہے اور عرض کے اعتبار سے بھی۔ اگر ذات کے اعتبار سے طلب کیا جائے تو جواب میں فصل، اور اگر عرض کے اعتبار سے طلب کیا جائے تو جواب میں خاصہ آئے گا۔ تو یہاں آیا، کہتے ہیں اَلثَّالِثُ الْفَصْلُ تیسری کلی جو ہے وہ فصل ہے وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّيْءِ اور وہ کلی ہے جو بولی جاتی ہے کسی چیز پر یعنی محمول ہوتی ہے کسی چیز پر فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں۔ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ جواب میں فصل بھی آ سکتی ہے اور خاصہ بھی لیکن أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ فِي ذَاتِهِ کی قید بھی ساتھ بڑھا دی، اب تو جواب میں صرف کیا آئے گا فصل آئے گی۔ تو فصل وہ چیز ہے جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں آئے۔ بات سمجھ میں آ گئی، معلوم ہوا أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے ذریعے سوال کیا جائے تو جواب میں صرف فصل آئے گی اور کوئی چیز نہیں آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں وَهُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّيْءِ فِي جَوَابِ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ فِي جَوَابِ یہ جواب مضاف ہے اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ یہ ہے مضاف الیہ توجہ ہے۔ اور مضاف الیہ پورا جملہ ہے۔ اور جملہ مبنی ہوتا ہے۔ جملہ مبنی تو یہ مَحَلًّا مَجْرُورٌ ہے۔ یہ مضاف الیہ ہے جواب کے لیے۔ جواب مضاف اور أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ مضاف الیہ۔ لہذا اگر آپ پر کوئی اعتراض کرے کہ جواب مضاف ہے تو أَيِّ شَيْءٍ ہونا چاہیے۔ أَيِّ شَيْءٍ مضاف الیہ کیا ہوتا ہے مجرور، تو أَيِّ مجرور ہونا چاہیے، تو آپ جواب میں کیا کہیں گے کہ یہ جواب مضاف صرف أَيُّ شَيْءٍ کی طرف مضاف نہیں ہے، پورے جملے کی طرف مضاف ہے أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ پورا جملہ ہے اور جملہ کیا ہوتا ہے مبنی، تو یہ مَحَلًّا مَجْرُورٌ ہے۔ اگر صرف أَيُّ شَيْءٍ ہوتا تو پھر أَيِّ شَيْءٍ ہمیں پڑھنا پڑتا، پھر جملہ اگر نہ ہوتا بات سمجھ میں آ گئی۔ تو وہ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کے جواب میں جو ہے وہ فصل بولی جاتی ہے۔ فَإِنْ مَيَّزَهُ عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَقَرِيبٌ وَإِلَّا فَبَعِيدٌ پھر یہ فصل یاد رکھیے دو قسم پر ہے اس کی دو قسمیں ہیں۔ ایک فصل قریب اور ایک فصل بعید۔ فصل قریب وہ ہے جو جنس قریب کے مشارکات سے جدا کرے۔ مشارکات جو اس کے ساتھ اس جنس میں شریک ہیں۔ فصل کیا کرتی ہے جدا کرتی ہے۔ اگر یہ جنس قریب کے مشارکات سے جدا کرے تو یہ فصل قریب۔ اور اگر یہ جنس بعید کے مشارکات سے صرف جدا کرے تو یہ فصل بعید۔ جیسے دیکھو انسان کے لیے جنس کیا ہے حیوان، اور حیوان کے اوپر اگلی جنس کیا ہے جسم نامی، جسم نامی کے اوپر جنس کیا ہے جسم مطلق، جسم مطلق کے اوپر جنس کیا ہے جوہر۔ تو انسان کے لیے کتنی ہی جنسیں ہیں۔ لیکن حیوان جو ہے وہ جنس قریب ہے جو درمیان میں کوئی اور واسطہ نہیں ہے، انسان کے لیے براہ راست یہ جنس ہے۔ اور باقی جنسیں دور والی ہیں ان کے درمیان واسطے آ گئے، جسم نامی بھی جنس ہے انسان کے لیے لیکن درمیان میں حیوان کا واسطہ ہے۔ اور جسم بھی، جسم مطلق بھی انسان کے لیے جنس ہے لیکن درمیان میں جسم نامی کا بھی واسطہ ہے اور حیوان کا بھی۔ جوہر بھی انسان کے لیے جنس ہے لیکن یہاں درمیان میں تین واسطے آ گئے، جسم مطلق بھی، جسم نامی بھی اور حیوان بھی۔ تو جنس قریب وہ ہے جو بلا واسطہ کسی چیز کے لیے جنس بنے یعنی درمیان میں کوئی واسطہ نہ ہو۔ تو فصل اگر جنس قریب کے مشارکات سے چیزوں کو جدا کرے تو اس کو فصل قریب کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں فصل قریب۔ مثلاً میں نے پوچھا اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ انسان اپنی ذات کے اعتبار سے کیا چیز ہے، تو اب آپ جواب میں فصل لائیں گے۔ تو آپ نے جواب میں کیا کہا ناطق، تو دیکھو اس ناطق نے انسان کو جنس قریب کیا ہے حیوان، حیوان کے اندر جو انسان کے ساتھ شریک ہیں جو مشارکات ہیں یعنی فرس، بقر، حمار وغیرہ ان سے کیا کر دیا انسان کو جدا کر دیا۔ تو جنس قریب کے مشارکات سے جو فصل جدا کرے اس کو کیا کہتے ہیں فصل قریب کہتے ہیں۔ اور جنس بعید کے مشارکات سے جو فصل جدا کرے اس کو فصل بعید کہتے ہیں۔ مثلاً میں نے آپ سے پوچھا اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ تو آپ نے مثلاً جواب میں کیا کہا حساس کیا کہا حساس۔ دیکھو اس حساس نے حیوان کے مشارکات سے تو جدا نہیں کیا کیونکہ ہر حیوان کیا ہے جسم نامی حساس متحرک بالارادہ، ہر حیوان جسم نامی بھی ہے حساس بھی ہے اور متحرک بالارادہ، تو جب حساس کہا تو حیوان کے مشارکات یعنی جنس قریب کے مشارکات سے تو جدا نہیں کیا۔ البتہ جنس بعید یعنی جسم نامی کے افراد سے جدا کر دیا۔ جسم نامی میں شجر بھی داخل تھے اور حیوانات بھی داخل تھے شجر بھی، اور کیونکہ ان کا جسم ہے بڑھنے والا۔ تو جب حساس کہا تو شجر نکل گئے کیونکہ شجر وہ حساس نہیں ہیں۔ تو فصل قریب کسے کہتے ہیں جو جنس قریب کے مشارکات سے جدا کرے، اور فصل بعید کسے کہتے ہیں جو جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے۔ یاد رکھیں یہ جو فصل قریب ہوتی ہے فصل قریب، یہ تمام مشارکات سے جدا کر دیتی ہے، توجہ ہے۔ تعریف کیا کی میں نے، فصل قریب کسے کہتے ہیں جو جنس قریب کے مشارکات سے جدا کرے۔ جب جنس قریب کے مشارکات سے جدا کر دیا معلوم ہوا جنس بعید کے مشارکات سے بطریق اولی جدا کر دیا۔ جنس بعید لے لو مثلاً جسم نامی، جسم نامی میں کون کون تھے، انسان بھی تھا اور حیوانات بھی تھے اور شجر بھی تھے۔ جب میں نے ناطق کہا تو اور حیوانات بھی نکل گئے اور شجر بھی نکل گیا، تو دیکھو جسم بعید کے مشارکات سے بھی جدا کر دیا۔ اس سے اوپر چلے جاؤ اوپر ہے جسم مطلق، اس میں انسان بھی ہے، تمام حیوانات بھی ہیں، درخت بھی ہیں اور حجر بھی داخل ہے، توجہ ہے۔ تو جب میں نے ناطق کہا تو ان سب سے بھی انسان کو اس نے جدا کر دیا، حیوانات بھی نکل گئے اور شجر بھی نکل گیا اور حجر بھی نکل گیا، سب چیزیں نکل گئیں۔ فصل قریب جو ہوتی ہے وہ تمام مشارکات سے جدا کرتی ہے، جنس قریب کے مشارکات سے بھی جدا کرتی ہے اور جنس بعید کے مشارکات سے بھی جدا کرتی ہے۔ اور فصل بعید جو ہے وہ صرف جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرتی ہے، جنس قریب کے مشارکات سے جدا نہیں کرتی۔ لہذا اگر آپ پر کوئی اعتراض کرے کہ آپ نے تو کیا کہا، کہ فصل بعید وہ ہے جو جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے، توجہ ہے۔ فصل بعید کس کو کہتے ہیں جو جنس بعید سے جدا کرے، جنس بعید کے مشارکات سے، تو فصل قریب بھی تو بعید والوں سے جدا کرتی ہے۔ فصل قریب سب سے جدا کرتی ہے یا نہیں، ناطق نے سب سے جدا کیا یا نہیں، تو جسم نامی کے مشارکات سے بھی جدا کر دیا سب سے، تو یہ بھی فصل بعید کی تعریف میں داخل ہو رہی ہے۔ آپ نے فصل بعید کی تعریف کیا کی جو جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے، بھئی فصل قریب بھی تو بعید والوں سے جدا کر دیتی ہے۔ تو جواب یہ کہ بھئی جو فصل بعید ہوتی ہے فصل بعید، وہ صرف کس سے جدا کرتی ہے جنس بعید کے مشارکات سے، بس صرف کی قید بڑھا دیں گے تو اعتراض ختم ہو جائے گا کہ فصل بعید کیا ہے جو صرف جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے، اب فصل قریب اس میں داخل نہیں۔ فصل قریب بے شک بعید والے مشارکات سے بھی جدا کرتی ہے لیکن ساتھ ساتھ قریب والوں سے بھی تو جدا کر رہی ہے۔ فصل قریب قریب اور بعید سب سے کیا کرتی ہے سب مشارکات سے جدا کرتی ہے چاہے جنس قریب ہے چاہے جنس بعید ہے، سب مشارکات سے جدا کرتی ہے۔ تو اعتراض یہ ہوتا ہے کہ آپ نے کہا فصل بعید وہ ہے جو جنس بعید کے مشارکات سے کیا کرے جدا کرے، ٹھیک ہے حساس فصل بعید ہے، یہ جنس بعید کے مشارکات سے انسان کو کیا کرتا ہے جدا کر، لیکن ناطق پر بھی تو یہ تعریف صادق آ رہی ہے، ناطق بھی تو جنس بعید کے مشارکات سے کیا کر دیتا ہے قریب سے جدا کرتا ہے تو بعید والوں سے بھی، تو لہذا اس کو بھی کیا کہنا چاہیے فصل بعید۔ تو فصل بعید کی تعریف میں صرف کی قید بڑھا دیں کہ فصل بعید وہ ہے جو صرف جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے۔ فصل بعید وہ ہے جو صرف جنس بعید کے مشارکات سے جدا کرے، اب فصل قریب نکل گئی کیونکہ فصل قریب تو صرف بعید والوں میں جدا نہیں کرتی بلکہ قریب والوں میں بھی جدا کرتی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی کتاب پر کہتے ہیں فَإِنْ مَيَّزَهُ عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْقَرِيبِ فَقَرِيبٌ اگر وہ جدا کرے اگر وہ فصل جدا کرے اس چیز کو عَنِ الْمُشَارَكَاتِ فِي الْجِنْسِ الْقَرِيبِ ان سے وہ جو مشارکات ہیں جنس قریب میں ان سے جدا کرے فَقَرِيبٌ تو یہ فصل کیا ہے فصل قریب ہے۔ وَإِلَّا میں نے بتایا تھا وَإِلَّا سے پہلے واؤ آ جائے تو یہ کس سے مرکب ہے إِنْ اور لَا سے، وَإِنْ لَّمْ يَكُنْ كَذَلِكَ اور اگر ایسا نہ ہو یعنی جنس قریب کے مشارکات سے جدا نہ کرے فَبَعِيدٌ تو وہ فصل بعید ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی، اب آئیے شرح پر بھئی۔ قَوْلُهُ أَيُّ شَيْءٍ اِعْلَمْ أَنَّ كَلِمَةَ أَيٍّ مَوْضُوعَةٌ فِي الْأَصْلِ لِيُطْلَبَ بِهَا مَا يُمَيِّزُ الشَّيْءَ عَمَّا يُشَارِكُهُ فِيمَا أُضِيفَ إِلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةُ مَثَلًا یہاں ایک اعتراض کریں گے بھئی، اعتراض۔ اور پھر آگے اس کے دو جواب ذکر کریں گے۔ اعتراض سمجھ لیں، اعتراض یہ کہ دیکھو یہ جو أَيُّ شَيْءٍ هُوَ ہے اس کے ذریعے جب سوال کیا جاتا ہے تو اس أَيُّ شَيْءٍ سے پہلے ایک لفظ کو ذکر کیا جاتا ہے جس کے لیے ممیز کو طلب کیا جا رہا ہے۔ اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ تو أَيُّ شَيْءٍ سے پہلے کیا لفظ لائے؟ اَلْإِنْسَانُ، یعنی وہ ماہیت لائے جس کے لیے ممیز کو طلب کر رہے ہیں کہ اس کے لیے ممیز لاؤ جو اس کو باقی چیزوں سے کیا کر دے جدا کر دے، تو أَيُّ سے پہلے ایک لفظ لایا جاتا ہے۔ اور آگے أَيُّ شَيْءٍ، أَيُّ مضاف ہے اور شَيْءٍ مضاف الیہ، یہ جو شَيْءٍ مضاف الیہ ہے مضاف الیہ ہے۔ اس کے مشارکات سے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے۔ توجہ ہے أَيُّ شَيْءٍ أَيُّ کیا ہے مضاف اور شَيْءٍ مضاف الیہ یعنی شے، شے چیز اور تمام جن کا وجود ہے جن چیزوں کا ان کو کیا کہتے ہیں شے۔ تو شے، أَيُّ شَيْءٍ کون سی چیز ہے، اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ انسان وہ کیا چیز ہے فِي ذَاتِهِ اپنی ذات کے اعتبار سے۔ تو أَيُّ شَيْءٍ أَيُّ کے بعد کیا آیا شَيْءٍ، یہ مضاف الیہ ہے۔ اس شے ہونے میں انسان کے ساتھ جو جو چیزیں شریک ہیں ان سے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے ان سے، کہ ان سے انسان کو علیحدہ کر دے جو أَيُّ سے پہلے آیا، کون آیا؟ انسان، اس کو جدا کرنا چاہتے ہیں، آپ ممیز طلب کر رہے ہیں کس سے ممیز کس سے جدا کرنا چاہتے ہیں؟ یہ جو أَيُّ کا مضاف الیہ ہے۔ أَيُّ کے مضاف الیہ کے اندر وہ انسان کے جو جو مشارکات ہیں آپ اس سے ممیز طلب کر رہے ہیں کہ مجھے کوئی ایسی چیز بتاؤ جو شے ہونے میں انسان کے ساتھ ساتھ جو جو چیزیں شریک ہیں ان سے انسان کو جدا کر دے۔ تقریر سمجھ میں آ رہی ہے۔ أَيُّ سے پہلے ایک لفظ ہوتا ہے اس کے لیے ممیز طلب کرتے ہیں کہ جو اس کو کیا کر دے جدا کر دے، کس چیز سے جدا کر دے؟ یہ جو أَيُّ کا مضاف الیہ ہے۔ أَيُّ کے مضاف الیہ کے اندر وہ انسان کے، دیکھو انسان بھی کیا ہے شے، بقر بھی کیا ہے شے، فرس بھی کیا ہے شے، حمار بھی کیا ہے شے، حجر بھی کیا ہے شے، شجر بھی کیا ہے شے ہے۔ تو یہ أَيُّ شَيْءٍ یہ جو أَيُّ کا مضاف الیہ ہے شے، اس کے اندر جو جو انسان کے مشارکات ہیں أَيُّ کے ذریعے ممیز طلب کیا جاتا ہے کہ ان مشارکات سے اس کو جدا کر دے۔ تو أَيُّ کس لیے آتا ہے کہ اس کے ذریعے کس کو طلب کرتے ہیں ممیز کو، اور کس سے ممیز کو طلب کرتے ہیں؟ کس چیز کے مشارکات سے جدا کرنا چاہتے ہیں؟ أَيُّ کے مضاف الیہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اعتراض یہ کریں گے کہ اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ کہ أَيُّ شَيْءٍ کے ذریعے جو أَيُّ کا مضاف الیہ ہوتا ہے اس کے مشارکات سے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے، کہ اس کے مشارکات سے جو جدا کر دے ایسی چیز کو طلب کیا جاتا ہے۔ ترجمہ ذرا دیکھ لیں آگے پھر میں تفصیل ذکر کرتا ہوں۔ قَوْلُهُ أَيُّ شَيْءٍ اِعْلَمْ تو جان لے أَنَّ كَلِمَةَ أَيٍّ کہ کلمہ أَيٍّ جو ہے مَوْضُوعَةٌ اس کو وضع کیا گیا ہے مقرر کیا گیا ہے فِي الْأَصْلِ اصل میں یعنی لغت کے اندر عربی زبان میں لِيُطْلَبَ بِهَا تاکہ اس کے ذریعے طلب کیا جائے مَا ایسی چیز کو يُمَيِّزُ الشَّيْءَ جو اس شے کو کیا کر دے اس کو جدا کر دے عَمَّا يُشَارِكُهُ ان چیزوں سے يُشَارِكُهُ جو اس چیز کے مشارک ہیں اس کے ساتھ شریک ہیں، کس چیز میں شریک ہیں؟ فِيمَا أُضِيفَ إِلَيْهِ هَذِهِ الْكَلِمَةُ اس چیز میں جس کی طرف اضافت کی گئی ہے هَذِهِ الْكَلِمَةُ اس کلمے کی یعنی أَيُّ کی جس کی طرف اضافت کی گئی ہے، اس کے مشارکات سے اس کو جدا کر دے۔ مَثَلًا مثال کے طور پر إِذَا أَبْصَرْتَ شَيْئًا مِنْ بَعِيدٍ جب آپ نے کوئی چیز دیکھی دور سے وَتَيَقَّنْتَ اور آپ کو یہ یقین ہو گیا أَنَّهُ حَيَوَانٌ کہ وہ چیز کیا ہے حیوان لَكِنْ تَرَدَّدْتَ فِي أَنَّهُ هَلْ هُوَ إِنْسَانٌ أَوْ فَرَسٌ أَوْ غَيْرُهُمَا لیکن آپ کو تردد ہوا یعنی شک ہوا کہ پتہ نہیں هَلْ هُوَ إِنْسَانٌ کہ کیا وہ انسان ہے أَوْ فَرَسٌ یا گھوڑا ہے أَوْ غَيْرُهُمَا یا ان دونوں کے علاوہ کوئی چیز ہے، تَقُولُ تو آپ کہتے ہیں یعنی سوال کرتے ہیں أَيُّ حَيَوَانٍ هَذَا یہ کون سا حیوان ہے، فَيُجَابُ عَنْهُ بِمَا يُخَصِّصُهُ وَيُمَيِّزُهُ عَنْ مُشَارِكَاتِهِ فِي الْحَيَوَانِ تو اس کا جواب دیا جاتا ہے ایسی چیز کے ذریعے جو اس کی تخصیص کر دے اور اس کو جدا کر دے حَيَوَانِ کے مشارکات سے کس میں؟ حیوان میں یعنی وہ جو مضاف الیہ تھا، مضاف الیہ کیا تھا حیوان تھا أَيُّ حَيَوَانٍ هَذَا میں، تو اس کے مشارکات سے جدا کر دے۔ إِذَا عَرَفْتَ هَذَا جب آپ کو یہ پتہ چل گیا فَنَقُولُ تو ہم کہتے ہیں إِذَا قُلْنَا جب ہم یہ کہیں کہ اَلْإِنْسَانُ أَيُّ شَيْءٍ هُوَ فِي ذَاتِهِ تو كَانَ الْمَطْلُوبُ ذَاتِيًّا مِنْ ذَاتِيَّاتِ الْإِنْسَانِ... تو فَکَانَ الْمَطْلُوبُ ذَاتِیًّا مِنْ ذَاتِیَّاتِ الْإِنْسَانِ تو مطلوب جو ہے انسان کی ذاتیات میں سے ایسی ذاتی ہے، یُمَیِّزُهُ عَمَّا یُشَارِکُهُ فِی الشَّیْئِیَّتِ کہ جو اس کو جدا کر دے، اس کے ساتھ جو مشارک ہیں فِی الشَّیْئِیَّتِ شے ہونے میں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عربی میں کسی لفظ سے مصدر بنانا ہو، تو اس کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملا دیتے ہیں۔ شے کے ساتھ یائے مشدد اور گول تا ملائی، شیئیت، تو شیئیت کا معنی ہے شے ہونا۔ ضارب پٹائی کرنے والا، اسی سے میں مصدر بنانا چاہتا ہوں، تو ضاربیت، کیا ترجمہ ہوگا؟ ضارب ہونا۔ مضروب سے میں بنانا چاہتا ہوں، مضروبیت، کیا معنی؟ مضروب ہونا۔ تو فَکَانَ الْمَطْلُوبُ ذَاتِیًّا مِنْ ذَاتِیَّاتِ الْإِنْسَانِ تو مطلوب جو ہے، انسان کی ذاتیات میں سے ایسی ذاتی ہوتی ہے یُمَیِّزُهُ یہ صفت ہے، ذاتی کی۔ توجہ ہے؟ ذَاتِیًّا یہ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد کیا آیا؟ یُمَیِّزُهُ فعل آیا۔ یہ کیا ہے؟ صفت ہے۔ اور یہ مِنْ ذَاتِیَّاتِ الْإِنْسَانِ یہ بھی صفت ہے، نکرہ کے بعد جار مجرور آئے، اور وہ کسی سے جڑ نہ رہا ہو، تو وہ اسی کے لیے کیا بنتا ہے؟ صفت۔ تو ذَاتِیًّا ہے موصوف، مِنْ ذَاتِیَّاتِ الْإِنْسَانِ ہے یہ اس کی صفت اول، اور یہ یُمَیِّزُهُ یہ بھی اس کے لیے صفت ہے۔ تو جب ہم کہیں اَلْإِنْسَانُ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ تو فَکَانَ الْمَطْلُوبُ ذَاتِیًّا مِنْ ذَاتِیَّاتِ الْإِنْسَانِ تو مطلوب جو ہے انسان کی ذاتیات میں سے ایسی ذاتی ہوتی ہے، یُمَیِّزُهُ جو اس کو جدا کر دے عَمَّا یُشَارِکُهُ ان چیزوں سے جو اس کے مشارک ہیں، جو اس کے ساتھ شریک ہیں فِی الشَّیْئِیَّتِ شے ہونے میں۔ یہ شے ہونے میں شریک ہوں، کیونکہ یہ أَیُّ شَیْءٍ ابھی پیچھے آیا نا، اَلْإِنْسَانُ أَیُّ شَیْءٍ مضاف الیہ کیا ہے؟ شے ہے، تو اس شے ہونے میں جو شریک ہیں ان سے ممیز کو طلب کیا جاتا ہے۔ فَیَصِحُّ أَنْ یُجَابَ بِأَنَّهُ حَیَوَانٌ نَاطِقٌ تو صحیح ہے کہ اس کا جواب دیا جائے حَیَوَانٌ نَاطِقٌ کے ساتھ۔ تو صحیح ہے اس کا جواب دینا اس چیز کے ساتھ کہ یہ حَیَوَانٌ نَاطِقٌ ہے۔ تو دیکھا؟ تعریف آپ کس کی کر رہے ہیں؟ اوپر متن میں کیا آیا تھا؟ فصل کس کے جواب میں آتی ہے؟ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ اس کے جواب میں صرف کیا آنا چاہیے تھا؟ فصل، لیکن دیکھو حَیَوَانٌ نَاطِقٌ اس کے جواب میں آ سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں فَیَصِحُّ أَنْ یُجَابَ بِأَنَّهُ حَیَوَانٌ نَاطِقٌ تو صحیح ہے کہ اس کا جواب دیا جائے حَیَوَانٌ نَاطِقٌ کے ساتھ، کَمَا یَصِحُّ أَنْ یُجَابَ بِأَنَّهُ نَاطِقٌ جیسے صحیح ہے کہ اس کا جواب دیا جائے کہ وہ نَاطِقٌ ہے۔ فَیَلْزَمُ صِحَّةُ وُقُوعِ الْحَدِّ فِی جَوَابِ أَیِّ شَیْءٍ تو لازم آیا اس سے، کیا لازم آیا؟ ترجمہ آخر سے ہوگا۔ أَیِّ شَیْءٍ کے جواب میں حد کے واقع ہونے کا صحیح ہونا۔ أَیُّ کے جواب میں حد، حد تام ہے نا، حَیَوَانٌ نَاطِقٌ یہ ہے جامع مانع تعریف، اس کو حد تام کہتے ہیں۔ اَلْإِنْسَانُ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ اس کے جواب میں صرف ناطق آنا چاہیے تھا، لیکن ابھی ہم نے بتایا کہ حَیَوَانٌ نَاطِقٌ کا آنا بھی صحیح ہے۔ تو فَیَلْزَمُ صِحَّةُ وُقُوعِ الْحَدِّ فِی جَوَابِ أَیِّ شَیْءٍ تو لازم آیا کہ حد کا واقع ہونا صحیح ہو جائے، فِی جَوَابِ أَیِّ شَیْءٍ کس کے جواب میں؟ أَیِّ شَیْءٍ کے جواب میں۔ وَأَیْضًا یَلْزَمُ أَنْ لَا یَکُونَ تَعْرِیفُ الْفَصْلِ مَانِعًا اور نیز یہ بات بھی لازم آئی کہ فصل کی تعریف مانع نہیں ہے، لِصِدْقِهِ عَلَى الْحَدِّ بوجہ اس کے صادق آنے حد پر، یہ کس پر صادق آ رہی ہے؟ حد حیوان ناطق یعنی حد پر بھی صادق آ رہی ہے۔ وَهَذَا مِمَّا اسْتَشْکَلَهُ الْإِمَامُ الرَّازِیُّ اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا اعتراض کیا ہے امام رازی نے۔ اسْتَشْکَلَهُ کا معنی اعتراض کرنا۔ اسْتَشْکَلَهُ الْإِمَامُ الرَّازِیُّ کہ جس کا اشکال کیا ہے امام رازی نے۔ یہ اشکال کس نے ذکر کیا ہے؟ یہ امام رازی کا اشکال ذکر کر رہے ہیں کہ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ کے جواب میں تو صرف فصل آنی چاہیے تھی لیکن حَیَوَانٌ نَاطِقٌ کہہ دیا جائے تو وہ بھی جواب میں واقع ہو سکتا ہے، تو فصل کی تعریف دخول غیر سے مانع نہیں ہے۔ یاد رکھیے یہ امام رازی جو ہیں نا، یہ رے شہر کے رہنے والے تھے۔ رے، رے، را ہے اور یا ہے۔ رے شہر کے رہنے والے تھے۔ سمجھ میں آیا؟ جیسے لاہور کا رہنے والا اس کو کیا کہتے ہیں؟ لاہوری۔ تو امام رازی رے شہر کے رہنے والے تھے، تو اس وجہ سے ان کو رازی کہتے ہیں۔ رازی کا کیا معنی؟ رے شہر کے رہنے والے، امام رازی۔ وہ امام جو رے شہر کے رہنے والے تھے۔ تو یہاں رے شہر کا نام ہے، اور جب شہر کی طرف نسبت کرتے ہیں، تو خلاف القیاس زا کو بیچ میں بڑھا دیا جاتا ہے۔ رے شہر کے رہنے والوں کو کیا کہا جاتا ہے؟ رازی کہا جاتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جیسے لاہور کے رہنے والوں کو لاہوری کہتے ہیں۔ وَهَذَا مِمَّا اسْتَشْکَلَهُ الْإِمَامُ الرَّازِیُّ فِی هَذَا الْمَقَامِ یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا اعتراض کیا ہے امام رازی نے اس مقام پر۔ عظیم ولی اللہ بھئی، امام رازی، جنہوں نے دین کی بڑی خدمات سرانجام دیں بھئی۔ دیکھو منطق کے بہت بڑے ماہر تھے بھئی، اور منطق، یہ انسان کو بولنے کا فن آتا ہے، جواب دینے کا فن، اپنی بات ثابت کرنے کا فن، چنانچہ ان کی کتابیں پڑھیں، انسان حیران رہ جاتا ہے، دشمنان اسلام کو زبردست جواب دیتے تھے بھئی۔ ہر چیز کا، ایسا جامع مانع دلیل کے ساتھ، منطقی دلیلوں کے ساتھ جواب دیتے تھے کہ ان کو خاموش کروا دیتے تھے بھئی۔ تو انہوں نے دین کی بڑی عظیم خدمات سرانجام دیں بھئی۔ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً۔ تو کہتے ہیں وَهَذَا مِمَّا اسْتَشْکَلَهُ الْإِمَامُ الرَّازِیُّ فِی هَذَا الْمَقَامِ اور یہ ان چیزوں میں سے ہے جس کا اعتراض کیا ہے امام رازی نے اس مقام پر۔ وَأَجَابَ عَنْ هَذَا صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ پھر اس کا جواب دیا وَأَجَابَ عَنْ هَذَا اور اس اعتراض کا جواب دیا صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ۔ صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ، یہ محاکمات کتاب کا نام ہے۔ صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ یعنی محاکمات والے نے۔ صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ کا کیا ترجمہ؟ محاکمات والے نے، یعنی محاکمات کتاب کے مصنف، اور یہ کتاب ہے علامہ قطب الدین رازی رحمہ اللہ کی بھئی، یہ بھی بہت بڑے منطقی گزرے ہیں بھئی۔ رَحِمَهُ اللَّهُ۔ تو أَجَابَ عَنْ هَذَا صَاحِبُ الْمُحَاکَمَاتِ جواب سمجھ لیں بھئی، صاحب محاکمات یعنی علامہ قطب الدین رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ کہ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ کے جواب میں ناطق آ سکتا ہے، حیوان ناطق نہیں آ سکتا۔ وجہ یہ کہ یہ منطق کی اصطلاح ذکر ہو رہی ہے، کس کی اصطلاح ہے؟ منطق کی اصطلاح ذکر ہو رہی ہے، اور علمائے منطق کے نزدیک أَیُّ شَیْءٍ کے جواب میں وہ چیز آئے گی جو مَا هُوَ کے جواب میں نہ آئے۔ کچھ چیزوں کے بارے میں مَا هُوَ کے ذریعے سوال کیا جاتا ہے، اور کچھ چیزوں کے بارے میں أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے، تو مَا هُوَ کے جواب میں وہ چیزیں آئیں گی جو أَیُّ شَیْءٍ کے جواب میں نہ آئیں۔ اور آپ نے کیا کہا تھا؟ کیا کیا چیزیں داخل ہو گئیں تعریف میں؟ حد تام بھی آ گئی، اَلْإِنْسَانُ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ انسان کیا چیز ہے اپنی ذات کے اعتبار سے؟ جواب میں ناطق بھی کہہ سکتے ہیں، جواب میں حَیَوَانٌ نَاطِقٌ بھی کہہ سکتے ہیں، اور جواب میں حَیَوَانٌ بھی کہہ سکتے ہیں، تو تین چیزیں داخل ہو رہی تھیں۔ کیا کیا؟ فصل، حد تام، اور جنس۔ اور ان میں سے حد تام کس کے جواب میں آتی ہے؟ مَا هُوَ کے جواب میں آتی ہے۔ اور اسی طرح حیوان بھی کس کے جواب میں آتی ہے؟ مَا هُوَ کے جواب میں۔ تو یہ دونوں نکل گئیں۔ لہذا صرف کیا رہ گئی؟ صرف فصل رہ گئی۔ جواب سمجھ میں آ گیا؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا ہے کہ بِأَنَّ مَعْنَى أَیٍّ کہ أَیٍّ کا جو معنی ہے، وَإِنْ کَانَ بِحَسَبِ اللُّغَةِ طَلَبَ الْمُمَیِّزِ مُطْلَقًا اگرچہ وہ عربی زبان کے اعتبار سے مطلقاً ممیز کو طلب کرنا ہے۔ کس کو؟ مطلقاً، کوئی ایسی چیز جو اس چیز کو، جو اس ماہیت کو مشارکات سے جدا کر دے۔ توجہ ہے؟ عربی زبان کے اعتبار سے أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے مطلقاً ممیز کو طلب کیا جاتا ہے، اور ممیز ناطق بھی ہے، ممیز حیوان ناطق بھی ہے، اور ممیز حیوان بھی ہے۔ لیکن یہ عربی زبان کے اعتبار سے ہے، مُطْلَقًا کوئی بھی ممیز جو اس کو دوسری چیزوں سے جدا کر دے۔ لیکن یہاں بات کس کی چل رہی ہے؟ علم منطق کی، اور علم منطق والوں کے نزدیک أَیُّ شَیْءٍ کے جواب میں وہ چیز آنی چاہیے جو مَا هُوَ کے جواب میں نہ آئے۔ لہذا حد تام بھی نکل گئی، اور جنس بھی نکل گئی۔ جواب سمجھ میں آ گیا؟ تو انہوں نے یہ جواب دیا کہ بِأَنَّ مَعْنَى أَیٍّ کہ أَیٍّ کا جو معنی ہے، وَإِنْ کَانَ بِحَسَبِ اللُّغَةِ طَلَبَ الْمُمَیِّزِ مُطْلَقًا اگرچہ وہ عربی زبان کے اعتبار سے مطلقاً ممیز کو طلب کرنا ہے، لَکِنَّ أَرْبَابَ الْمَعْقُولِ اصْطَلَحُوا لیکن ارباب معقول، ارباب معقول یعنی علم معقول والے، یعنی مناطقہ جو ہیں۔ علم معقول والے، علم معقول جو ہے یہ منطق کو کہتے ہیں، منطق اور فلسفہ۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ جو ارباب معقول ہیں، علم معقول والے یعنی مناطقہ، لَکِنَّ أَرْبَابَ الْمَعْقُولِ اصْطَلَحُوا لیکن علم منطق والے جو ہیں، انہوں نے اصطلاح اس پر مقرر کی ہے، ان کی اصطلاح ہے۔ کیا؟ عَلَى أَنَّهُ لِطَلَبِ مُمَیِّزٍ کہ یہ ایسے ممیز کو طلب کرنے کے لیے ہے، لَا یَکُونُ مَقُولًا فِی جَوَابِ مَا هُوَ جو مَا هُوَ کے جواب میں نہ بولا جائے۔ وَبِهَذَا یَخْرُجُ الْحَدُّ وَالْجِنْسُ أَیْضًا اور اس کے ذریعے نکل گیا، الْحَدُّ، کون نکل گئی تعریف سے؟ حد بھی، وَالْجِنْسُ أَیْضًا اور جنس بھی نکل گئی فصل کی تعریف سے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ کہ بھئی مطلق عربی میں أَیُّ شَیْءٍ مطلق ممیز کے لیے آتا ہے، لیکن علم منطق والوں کی اصطلاح میں أَیُّ شَیْءٍ کے جواب میں وہ چیز آئے گی جو مَا هُوَ کے جواب میں نہ آئے۔ لہذا حد بھی جواب میں اب نہیں آ سکتی اور جنس بھی جواب میں نہیں آ سکتی۔ وَلِلْمُحَقِّقِ الطُّوسِیِّ هَاهُنَا مَسْلَکٌ آخَرُ اور محقق طوسی کا یہاں دوسرا مسلک ہے۔ طوسی کا ذکر آیا۔ یاد رکھو، طوسی، طوسی علماء لکھتے ہیں، کَانَ شَیْطَانًا مِنْ شَیَاطِینِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ بھئی۔ انسان اور جنات کے بڑے شیاطین میں سے ایک بڑا شیطان تھا بھئی۔ اس نے امت مسلمہ کو اتنا عظیم نقصان پہنچایا کہ انسان سوچتا ہے تو کانپ اٹھتا ہے۔ یہ، یہ شیعہ تھا بھئی، شیعہ تھا، اور اہل سنت والجماعت کا سخت دشمن تھا بھئی۔ اور اسی کے کہنے پر، اسی کے اکسانے پر ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا۔ ہلاکو خان ڈرتا تھا بھئی، بغداد پر حملہ نہیں کرتا تھا، مسلمانوں کی خلافت بہت بڑی سلطنت تھی، تو وہ ڈرتا تھا کہ کہیں ایسا نہ ہو ان کی مسلمانوں کی طاقت زیادہ ہوگی، میں مقابلہ نہیں کر سکوں گا۔ اس نے اس کو بار بار حوصلہ دیا اور اکسایا اور تیار کیا اور ساری تفصیل بتائی ہوگی، کمی کمزوری وغیرہ جس چیز میں ہے وہ سب بیان کیا ہوگا۔ چنانچہ اس کی دعوت پر پھر ہلاکو خان نے حملہ کیا اور لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا، علماء کو اور ان کو ذبح کیا گیا، قتل کیا گیا، خون کی ندیاں بہا دی گئیں۔ تو یہ شخص تھا اس عظیم اسلامی سلطنت کو ختم کرنے والا۔ اور کہتے ہیں پھر اس کو ہلاکو نے اپنا وزیر بنایا بھئی۔ اس کو اپنا کیا بنایا؟ اس کو اپنا وزیر بنایا تھا۔ لیکن اس کے باوجود، اگرچہ یہ بڑا ہی شیطان اور امت مسلمہ کو عظیم نقصان پہنچانے والا انسان تھا، لیکن اس نے علم منطق اور فلسفہ کی عظیم خدمات سرانجام دیں، اس طوسی نے بھئی۔ اس محقق طوسی نے علم منطق کی عظیم خدمات سرانجام دیں۔ کہتے ہیں اس کا ذہن انسان دیکھتا ہے تو حیران رہ جاتا ہے، ایسا روشن ذہن دیا تھا جیسے سورج ہوتا ہے، اللہ نے اس کو ایسا ذہن دیا ہوا تھا بھئی۔ اور ایسی ایسی گہری باتیں کرتا ہے کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی، حیران رہ جاتا ہے۔ چنانچہ اس نے منطق اور فلسفہ کی بڑی عظیم خدمات کیں، بے انتہا قیمتی کتابیں لکھیں بھئی۔ میں نے بتایا علماء لکھتے ہیں کہ انسان اس کے ذہن کو دیکھ کر حیران ہوتے ہیں کہ ایسا ذہن، ایسا عجیب ذہن۔ لیکن پھر انسان دیکھتا ہے، معلوم ہوا واقعی ہدایت اللہ کے ہاتھ میں ہے بھئی۔ اگر ہدایت ذہانت کی بنیاد پر ہوتی، تو یہ بڑا ولی ہوتا، لیکن دیکھو ذہن کی تیزی کوئی چیز نہیں، اصل ہدایت ہی ہے بھئی۔ اللہ جس کو چاہتے ہیں ہدایت دیتے ہیں، اور اللہ ہدایت اسی کو دیتے ہیں جو ہدایت کو چاہتا ہے، جو ہدایت کو چاہتا ہی نہیں، اللہ بھی اس کو ہدایت نہیں دیتے بھئی۔ یہ اصل میں جس شخص کی تربیت میں رہا تھا، وہ بڑا کٹر شیعہ تھا بھئی، اور اہل سنت کا بہت سخت دشمن تھا، تو بس تعلیم کے دوران وہ تربیت اثر کر گئی، اور یہ اس طرح مسلمانوں کا اور اسلام کا دشمن بن گیا بھئی۔ اور اسی لیے کہتے ہیں کہ انسان اچھے لوگوں کی صحبت میں رہے، نیک لوگوں کی صحبت ہوگی، تو اس کے بڑے نیک اثرات ہوں گے، اور برے لوگوں کی صحبت ہوگی، انسان جتنا بھی مرضی احتیاط کر لے، اس کو کوئی نہ کوئی نقصان ضرور پہنچے گا۔ جیسے لوہار کی بھٹی کے پاس بیٹھیں گے، تو اور کچھ نہیں، تو کم از کم وہ دھواں اور اس کی لوہے کی بدبو وغیرہ ضرور پہنچتی رہے گی بھئی۔ اور اگر اچھے لوگوں کی صحبت ہو، تو غیر محسوس طریقے پر بھی ضرور فائدہ ہو جائے گا، جیسے خوشبو والے کے پاس بیٹھیں، تو اور کچھ نہیں، تو کم از کم خوشبو کا فائدہ ضرور ہوتا رہے گا۔ تو یہ طوسی، یہ چونکہ شیعہ تھا، اور بہت علوم فلسفہ اور منطق کا بہت بڑا ماہر تھا، چنانچہ یہ اپنی کتابوں میں امام رازی کا جا بجا مذاق اڑاتا ہوا چلا جاتا ہے بھئی۔ جو عالم ہوتا ہے، عالم کی شان اور ہوتی ہے، وہ کسی کی تضحیک اور توہین نہیں کرتا، اعتراض بھی کرتا ہے اچھے طریقے سے کرتا ہوا چلا جاتا ہے، کیونکہ یہ جو ذہن اس کے پاس ہے، یہ اس کا کوئی اپنا کمال نہیں ہے بھئی، یہ اس کو اللہ نے دیا ہے بھئی۔ لیکن دوسرے کا مذاق اڑانا اور استہزاء کرنا، یہ، یہ تو تکبر ہے بھئی، اور یہ علماء کی شان سے بعید ہے۔ تو یہ چونکہ شیعہ تھا، تو امام رازی کا جگہ جگہ پر اپنی کتابوں میں خوب مذاق اڑاتا ہے بھئی۔ دیکھو جتنا بھی نقصان کیا، بالاخر دنیا سے چلا گیا بھئی، اب اللہ کے دربار میں حاضر ہوگا، اور اپنی ایک ایک چیز کا حساب اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ تو اللہ ہم سب کا خاتمہ ایمان پر فرمائے بھئی۔ کہتے ہیں وَلِلْمُحَقِّقِ الطُّوسِیِّ هَاهُنَا مَسْلَکٌ آخَرُ أَدَقُّ وَأَتْقَنُ ان کا یہاں دوسرا مسلک ہے أَدَقُّ جو بڑا دقیق، جو زیادہ دقیق ہے، وَأَتْقَنُ اور زیادہ مضبوط ہے۔ زیادہ، ادق کا معنی باریک، باریک، یعنی بڑا گہرا ہے، وَأَتْقَنُ اور زیادہ مضبوط ہے۔ پہلے جواب سمجھ لیں بھئی۔ محقق طوسی کہتے ہیں کہ کوئی سوال کرنے والا فصل یعنی ممیز کے بارے میں تب ہی سوال کرے گا، جب اس کو جنس کا پتہ ہوگا۔ توجہ ہے؟ سوال کرنے والا فصل کے بارے میں تب ہی سوال کرے گا جب اس کو جنس کا پتہ ہے، کہ یہ چیز فلاں جنس کی ہے، یہ چیز جب یہ فلاں جنس کی ہے تو اس میں تو اور بھی چیزیں اس کے ساتھ شریک ہیں، اب وہ کیا کرتا ہے؟ جنس کا تو اس کو پتہ ہے، اب وہ فصل کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ فصل بتلاؤ تاکہ جنس کے اندر جو مشارکات ہیں، اس سے یہ چیز جدا ہو جائے۔ توجہ ہے؟ فصل کے بارے میں پوچھنے والا جنس کو جانتا ہے، اس کو جنس کا پہلے ہی پتہ ہوتا ہے، جب اس کو جنس کا پتہ ہے، تو اس کو یہ بھی پتہ ہے کہ اس چیز کے اور بھی مشارکات ہیں اس جنس کے اندر، چنانچہ وہ فصل کے بارے میں سوال کرتا ہے کہ مجھے کوئی ایسا ممیز بتاؤ، جو اس جنس کے مشارکات سے اس ماہیت کو جدا کر دے۔ تو ان کا دوسرا مسلک ہے جو زیادہ دقیق ہے اور زیادہ مضبوط ہے، وَهُوَ أَنَّا لَا نَسْأَلُ عَنِ الْفَصْلِ اور وہ یہ ہے، کہ ہم نہیں پوچھتے فصل کے بارے میں، إِلَّا بَعْدَ أَنْ نَعْلَمَ أَنَّ لِلشَّیْءِ جِنْسًا مگر بعد اس کے کہ ہم جانتے ہوں کہ اس چیز کے لیے کوئی جنس ہے۔ بِنَاءً عَلَى أَنَّ مَا لَا جِنْسَ لَهُ لَا فَصْلَ لَهُ بناء پر اس کے کہ جس چیز کے لیے جنس نہیں ہوتی، اس کے لیے کوئی فصل بھی نہیں ہوتی۔ وَإِذَا عَلِمْنَا الشَّیْءَ بِالْجِنْسِ اور جب ہم ایک چیز کو جان لیتے ہیں جنس کے ذریعے، فَنَطْلُبُ مَا یُمَیِّزُهُ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی ذَلِکَ الْجِنْسِ تو پھر ہم طلب کرتے ہیں ایسی چیز کو جو جدا کر دے اس کو اس جنس کے اندر جو مشارکات ہیں، ان سے۔ تو وہ اس کو جدا کر دے، عَنِ الْمُشَارِکَاتِ ان مشارکات سے، فِی ذَلِکَ الْجِنْسِ جو اس جنس میں ہیں۔ فَنَقُولُ پس ہم کہتے ہیں، اَلْإِنْسَانُ أَیُّ حَیَوَانٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ کہ انسان وہ کون سا حیوان ہے اپنی ذات کے اعتبار سے؟ دیکھا؟ أَیُّ شَیْءٍ کی جگہ کیا لے آئے؟ حیوان لے آئے۔ دیکھا؟ کیونکہ ہمیں حیوان ہونے کا پتہ تھا۔ تو شے ان سے یہاں ہر چیز مراد نہیں، توجہ ہے؟ أَیُّ حَیَوَانٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ، شَیْءٍ کی جگہ کیا لے آئے؟ حیوان۔ کیونکہ ہمیں جنس کا پتہ تھا۔ اور جنس کیا ہے؟ حیوان ہے۔ تو معلوم ہوا آگے چل کر آپ کو بھی یہ بتائیں گے، کہ معلوم ہوا یہ جو أَیُّ شَیْءٍ کے اندر شَیْءٍ لفظ آتا ہے، اس شے سے ہر چیز مراد نہیں ہوتی، اس سے جنس مراد ہوتی ہے۔ کیا؟ جنس مراد ہوتی ہے۔ جیسے یہاں حیوان کا لفظ لے آئے، جو جنس معلوم ہے، وہ یہاں مراد ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن سوال میں نہیں، سوال اسی طرح ہوگا اَلْإِنْسَانُ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ لیکن اس شے سے ہر شے مراد نہیں، بلکہ کیا مراد ہے؟ جنس مراد ہے۔ اور جنسیں تو بہت ساری ہیں، ہر چیز کی الگ الگ جنس ہے، چیزوں کی مختلف جنسیں ہو سکتی ہیں، تو ہر ہر جنس کو لانا مشکل کام ہے، لہذا ایک ہی لفظ شَیْءٍ کو ذکر کر دیا جاتا ہے، اور اس شے سے وہی جنس مراد ہوتی ہے، جس کا سوال کرنے والے کو پتہ ہے۔ اس کو جنس کا پتہ ہے، اب وہ صرف کیا چاہتا ہے؟ کہ اب مجھے فصل بتاؤ، جو اس جنس کے مشارکات سے اس چیز کو کیا کر دے؟ جدا کر دے۔ فَنَقُولُ اَلْإِنْسَانُ أَیُّ حَیَوَانٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ تو ہم کہتے ہیں انسان وہ کون سا حیوان ہے اپنی ذات کے اعتبار سے، فَتَعَیَّنَ الْجَوَابُ بِالنَّاطِقِ تو جواب متعین ہو گیا ناطق کے ساتھ، لَا غَیْرُ اس کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں آئے گی۔ فَکَلِمَةُ شَیْءٍ فِی التَّعْرِیفِ تو شے کا جو کلمہ آیا اس تعریف کے اندر، اوپر جو آیا تھا نا، اَلْفَصْلُ هُوَ الْمَقُولُ عَلَى الشَّیْءِ فِی جَوَابِ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ، یہ أَیُّ شَیْءٍ کے اندر جو شے کا لفظ آیا، تعریف کے اندر جو شے آیا، کِنَایَةٌ عَنِ الْجِنْسِ الْمَعْلُومِ یہ کنایہ ہے اس جنس سے جو معلوم ہے، یہ کنایہ ہے اس جنس سے جو سوال کرنے والے کو معلوم ہے۔ اَلَّذِی یُطْلَبُ مَا یُمَیِّزُ الشَّیْءَ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی ذَلِکَ الْجِنْسِ کہ طلب کیا جاتا ہے ایسی چیز کو، جو اس چیز کو جدا کر دے، اس جنس کے مشارکات سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ پھر ذرا ترجمہ دیکھ لیں۔ فَکَلِمَةُ شَیْءٍ فِی التَّعْرِیفِ کِنَایَةٌ پس تعریف کے اندر شے کا جو لفظ آیا وہ کنایہ ہے، عَنِ الْجِنْسِ الْمَعْلُومِ اس معلوم جنس سے، اَلَّذِی یُطْلَبُ مَا یُمَیِّزُ الشَّیْءَ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی ذَلِکَ الْجِنْسِ وہ کنایہ ہے اس معلوم جنس سے کہ طلب کیا جاتا ہے ایسی چیز کو جو اس چیز کو جدا کر دے اس جنس کے مشارکات سے۔ ترجمہ سمجھ میں آ گیا؟ وَحِینَئِذٍ یَنْدَفِعُ الْإِشْکَالُ بِحَذَافِیرِهِ اور اس وقت یعنی جب سوال کرنے والے کو جنس کا پتہ ہے، اب وہ صرف کس کو مانگ رہا ہے؟ فصل کو۔ تو جواب میں صرف فصل ہی آئے گی، کوئی اور چیز نہیں آئے گی۔ تو حِینَئِذٍ اس وقت یَنْدَفِعُ الْإِشْکَالُ اشکال دفع ہو گیا، اشکال دور ہوا، یعنی ختم ہو گیا، بِحَذَافِیرِهِ پورے طور پر۔ اشکال ختم ہو گیا پورے طور پر۔ حَذَافِیرِ جمع ہے حُذْفُورِ کی، اور حُذْفُورِ کنارے کو کہتے ہیں۔ حُذْفُورِ کسے کہتے ہیں؟ کنارے۔ یَنْدَفِعُ الْإِشْکَالُ بِحَذَافِیرِهِ اشکال ختم ہو گیا اپنے سارے کناروں کے ساتھ، یعنی پورے طور پر، معنی کیا ہے؟ اشکال پورے طور پر ختم ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ محقق طوسی کی جو تقریر ہے، اور ان کا جو جواب ہے، اس کو انہوں نے کہا تھا أَدَقُّ وَأَتْقَنُ یہ زیادہ دقیق ہے، اور زیادہ مضبوط ہے۔ ادق اس لیے کہا، کیونکہ اس میں، اس میں فصل کے معنی کی بھی رعایت ہے، اور اس میں سوال کرنے والے کے حال کی بھی رعایت ہے۔ کہ سوال کرنے والے کا لحاظ ہے کہ اس کو معلوم ہے جنس کا پتہ ہے، اب وہ صرف کیا کرنا چاہتا ہے؟ فصل کو طلب کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی کہ اس کو جنس کا علم ہے۔ اور نیز اس کو اتقن کہا، زیادہ مضبوط ہے، زیادہ مضبوط ہے، کیونکہ اس پر اعتراض نہیں ہوتا۔ قطب الدین رازی کا جو جواب تھا، انہوں نے تو کیا کہا تھا؟ کہ عربی زبان میں أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے مطلق ممیز طلب کرتے ہیں، لیکن یہاں أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے مطلق ممیز مطلوب نہیں ہوتا، بلکہ ایسا ممیز جو مَا هُوَ کے جواب میں نہ آئے۔ تو انہوں نے منطق کی اصطلاح قرار دے کر اعتراض سے جان چھڑا لی، جبکہ محقق طوسی کا مسلک کیا ہے؟ زیادہ ادق اور اتقن ہے۔ محقق طوسی کا جواب اپنی جگہ، لیکن علامہ قطب الدین رازی کا جواب کوئی کمزور نہیں ہے بھئی۔ بات چل رہی ہے منطق کی، منطق کی اصطلاحات ہیں بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ منطق کی اصطلاحات چل رہی ہیں، اور علوم میں آپ نے پڑھے ہیں جنس اور فصل وغیرہ، نہیں، باقی علوم میں نہیں۔ عام لوگوں کو بھی نہ عربی بولنے والوں کو بھی نہ جنس کا پتہ ہے نہ فصل کا پتہ ہے۔ جنس کیا ہوتی ہے، فصل کیا ہوتی ہے، تو علم منطق کی اصطلاح چل رہی ہے بھئی۔ تو علامہ قطب الدین رازی کو جواب کو کمزور کہنا یہ درست نہیں ہے بھئی، ان کا جواب بھی قوی ہے، اور واقعے کے مطابق ہے۔ یہ منطق کی اصطلاح ہے، ہم منطق کی بات کر رہے ہیں، اور منطق کے مطابق مَا هُوَ کے جواب میں، آپ نے کہا جی مَا پیچھے ذکر تھا مَا هُوَ کے جواب میں ذاتی آئے گی، اور أَیُّ شَیْءٍ اس کے ذریعے کوئی ذاتی بھی پوچھی جا سکتی ہے، اور عرضی بھی پوچھی جا سکتی ہے۔ آپ یہ عربی زبان کے ضابطے تو نہیں ذکر کر رہے، آپ کس کے ضابطے ذکر کر رہے ہیں؟ منطق کے ضابطے ذکر کر رہے ہیں، تو یہ منطق کی اصطلاحات ہیں۔ تو انہوں نے بھی اس کے مطابق جواب دیا کہ منطق کی اصطلاح یہ ہے بھئی، تو یہ عام عربیت کے ضابطے تو یہاں ذکر نہیں ہو رہے۔ تو ان کا جواب کمزور نہیں ہے بھئی، ان کا جواب بھی بڑا قوی ہے، بلکہ یہی طعن تو محقق طوسی کے جواب پر بھی ہوتا ہے۔ محقق طوسی نے بھی تو، انہوں نے بھی تو منطق کی اصطلاحات کا سہارا لیا یا نہیں؟ کہ سوال کرنے والے کو جنس کا پتہ ہوگا، اب وہ کس کو پوچھ رہا ہے؟ فصل کے بارے میں۔ بھئی یہ جنس اور فصل یہ کس کے اندر آپ پڑھتے ہیں؟ یہ تو علم منطق کی چیزیں ہیں۔ علم منطق کے علاوہ تو اور کہیں یہ ذکر نہیں ہوتیں۔ اگر دوسرے علوم میں بھی علماء ذکر کرتے ہیں تو وہ منطق کی اصطلاح ہی کو لے کر وہاں ذکر کرتے ہیں، تو محقق طوسی بھی جواب دے رہے ہیں علم منطق کی اصطلاحات لے کر جواب دے رہے ہیں، اور پھر ایک تو یہ اعتراض کہ جواب دے رہے ہیں علم منطق کی اصطلاحات لے کر، نیز ان کا جواب بھی اعتراض سے خالی نہیں۔ اس پر بھی اعتراض ہوتا ہے، کیا اعتراض ہوتا ہے؟ انہوں نے کیا کہا؟ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ فِی ذَاتِهِ یہ شے سے کیا مراد ہے؟ جنس مراد ہے۔ تو دیکھو انہوں نے سوال میں موجود لفظ شے کی ایک نئی مراد اور نیا معنی ذکر کر دیا جو اس سے پہلے کسی نے ذکر نہیں کیا۔ دیکھو ایک نئی مراد اور نیا معنی ذکر کر دیا جو اس سے پہلے کسی اور عالم نے، کسی منطقی نے ذکر نہیں کیا۔ سوال کرنے والا تو سوال میں لفظ شے ذکر کر رہا ہے، لیکن محقق طوسی کیا فرماتے ہیں یہ شے سے کیا مراد ہے؟ جنس مراد ہے، تو اس کی مراد متعین کر رہے ہیں، حالانکہ ان سے پہلے کسی نے بھی ذکر نہیں کیا کہ یہ جو شے آیا، اس سے مراد جنس ہے۔ ہو سکتا ہے سوال کرنے والے کو جنس کا بھی پورا پتہ نہ ہو۔ تو لہذا محقق طوسی کا یہ کہنا کہ یہ شے کنایہ ہے کس سے؟ اس جنس سے جس کا اس کو پتہ ہے، تو انہوں نے اپنے طور پر کیا کر لیا؟ شے کو ایک جنس سے کنایہ بنا لیا حالانکہ کسی نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ تو محقق طوسی نے بھی منطق کی اصطلاحات کا سہارا لے کر جواب دیا، اور نیز انہوں نے شے کو کنایہ بنایا حیوان سے، حالانکہ کسی نے بھی یہ بات ذکر نہیں کی کہ اس شے کو کنایہ بنایا جائے گا اس جنس سے جو معلوم ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے معلوم ہوا وہ شخص سوال کر ہی نہیں سکتا جس کو جنس کا پتہ نہ ہو۔ معلوم ہوا وہی ہمیشہ سوال کرے گا جس کو جنس کا پتہ ہو، جنس کا پتہ ہو۔ تو محقق طوسی کے جواب اس پر طعن بھی ہوتا ہے کہ انہوں نے شے سے کیا کیا؟ جنس مراد لے لی، اور نیز انہوں نے بھی منطق ہی کی اصطلاحات کا سہارا لیا۔ اور نیز اگر ان کی بات مان لی جائے تو معلوم ہوا أَیُّ شَیْءٍ کے ذریعے عام عرب بھی جو ہیں صرف وہی شخص سوال کرے گا جس کو جنس کے بارے میں پتہ ہوگا۔ کیونکہ یہ تو عربی زبان کے الفاظ ہیں نا، مطلق عام لغت کی بات انہوں نے کی کہ مطلق لغت کے اعتبار سے۔ تو منطق کے اصطلاح کے اعتبار سے تو انہوں نے کہا جواب نہیں دے رہے بلکہ کس اعتبار سے جواب دے رہے ہیں؟ عام جواب دے رہے ہیں جو لغت کے اعتبار سے بھی ہو اور منطق کے اعتبار سے بھی ہو۔ تو اس کا تو معنی یہ ہوا پھر کہ جس شخص کو کسی چیز کی جنس کا نہیں پتہ، وہ أَیُّ شَیْءٍ هُوَ کے ذریعے اس کے بارے میں سوال بھی نہیں کر سکتا۔ لہذا علامہ قطب الدین رازی کے جواب کو کمزور کہنا، اور غیر اتقن یا غیر ادق قرار دینا صحیح نہیں۔ بلکہ ان کا جواب بھی اسی طرح ادق اور اتقن ہے جس طرح آپ نے محقق طوسی کے جواب کو ادق اور اتقن قرار دیا۔ تو جیسے طعن قطب الدین رازی کے جواب پر ہوتا تھا تو وہی طعن کس پر ہوتا ہے؟ محقق طوسی کے جواب پر بھی۔ بلکہ حق یہ ہے کہ یہاں پر قطب الدین رازی کا جواب وہ ادق و اتقن ہے کس کے مقابلے میں؟ محقق طوسی کے جواب کے مقابلے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ زیادہ ادق و اتقن ہے اور وہ واقعے کے مطابق ہے۔ بھئی ہم ادق کی بات کر رہے ہیں۔ آگے دیکھیے۔ قَوْلُهُ فَقَرِیبٌ مصنف کا قول فَقَرِیبٌ کَالنَّاطِقِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْإِنْسَانِ جیسے کہ ناطق ہیں انسان کی نسبت سے، حَیْثُ مَیَّزَهُ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی جِنْسِهِ الْقَرِیبِ بھئی انہوں نے بتایا تھا کہ فصل دو قسم پر ہے، ایک فصل قریب اور ایک فصل بعید۔ فصل قریب کس سے جدا کرتی ہے؟ جنس قریب سے، جیسے انسان کے لیے ناطق ہے، کس سے جدا کیا؟ حیوان کے تمام افراد سے یعنی جنس قریب کے مشارکات سے۔ اور انسان کے لیے فصل بعید کیا ہے؟ جیسے حساس ہے، یہ انسان کو حیوان کے افراد سے تو جدا نہیں کرتا لیکن جسم نامی یعنی جنس بعید کے افراد اور مشارکات سے جدا کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں قَوْلُهُ فَقَرِیبٌ کَالنَّاطِقِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْإِنْسَانِ جیسے کہ ناطق ہے انسان کی نسبت سے، حَیْثُ مَیَّزَهُ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی جِنْسِهِ الْقَرِیبِ کیونکہ یہ جدا کر دیتا ہے اس کو وہ جو مشارکات ہیں اس کی جنس قریب میں۔ وَهُوَ الْحَیَوَانُ اور وہ جنس قریب کیا ہے؟ حیوان ہے۔ یعنی اس کے مشارکات سے جدا کر دیتا ہے۔ قَوْلُهُ فَبَعِیدٌ کَالْحَسَّاسِ بِالنِّسْبَةِ إِلَى الْإِنْسَانِ جیسے کہ حساس ہے انسان کی نسبت سے، حَیْثُ مَیَّزَهُ عَنِ الْمُشَارِکَاتِ فِی الْجِنْسِ الْبَعِیدِ کیونکہ یہ جدا کر دیتا ہے انسان کو اس کے وہ جو مشارکات ہیں جنس بعید میں۔ وَهُوَ الْجِسْمُ النَّامِی اور وہ جسم نامی ہے۔ انسان کے لیے بات سمجھ میں آ گئی اچھی طرح؟ چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِیقَةِ الْکَلَامِ۔
115 approved lectures · 63 of 115