اچھا بھئی دیکھیے بھئی آگے سبق متن دیکھیے بھئی متن: ثُمَّ الْأَجْنَاسُ قَدْ تَتَرَتَّبُ مُتَصَاعِدَةً إِلَى الْعَالِي كَالْجَوْهَرِ وَيُسَمَّى جِنْسَ الْأَجْنَاسِ، وَالْأَنْوَاعُ مُتَنَازِلَةً إِلَى السَّافِلِ وَيُسَمَّى نَوْعَ الْأَنْوَاعِ، وَمَا بَيْنَهُمَا مُتَوَسِّطَاتٌ۔ گزشتہ سبق کا خلاصہ پھر سن لیجیے۔ ماقبل میں نوع اضافی کی تعریف آئی تھی، انہوں نے بتلایا تھا کہ نوع اضافی وہ ماہیت ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں جنس واقع ہو۔ اس پر ایک اعتراض ذکر کیا تھا شارح نے اور اس کا جواب۔ اعتراض یہ ہوتا تھا کہ آپ کی یہ تعریف دخول غیر سے مانع نہیں، کیونکہ آپ کی اس تعریف کے اندر جزئی حقیقی بھی داخل ہو جاتی ہے اور صنف بھی داخل ہو جاتی ہے۔ صنف بھئی صاد نون فا صنف بھی داخل ہو جاتی ہے۔
اور صنف کسے کہتے ہیں؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ نوع جب مقید ہو کسی عرض کے ساتھ تو اس کو صنف کہتے ہیں۔ مثلا نوع جیسے انسان ہے، حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، تو انسان اس کو جب مقید کر دیا جائے ایک عرض کے ساتھ تو یہ صنف کہلاتی ہے۔ جیسے انسان ہو اور پاکستان کا رہنے والا ہو تو یہ قید اس کے ساتھ آپ نے بڑھا دی، صفت بڑھا دی تو اب یہ صنف بن گیا۔ تو پاکستانی یہ کیا ہے؟ صنف ہے۔ ہندوستانی یہ بھی کیا ہے؟ صنف ہے۔ تو جو بھی نوع اس کو مقید کر دیا جائے عرض کے ساتھ وہ صنف کہلاتی ہے۔ تو اعتراض یہ ہوتا تھا کہ آپ کی یہ تعریف جو نوع اضافی کی آپ نے کی یہ دخول غیر سے مانع نہیں، اس میں جزئی حقیقی بھی داخل ہے اور صنف بھی داخل ہے۔
جزئی حقیقی کے ساتھ کسی ماہیت کو ملا کر سوال کرے تو جواب میں جنس آتی ہے۔ مثلا زید جزئی حقیقی ہے، اس کے ساتھ ایک ماہیت کو ملایا کہ زَيْدٌ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا؟ تو جواب میں کیا آیا؟ جنس آ گئی حَيَوَانٌ بھئی۔ تو دیکھا جزئی حقیقی کے ساتھ ایک اور ماہیت کو ملایا تو جواب میں جنس آ گئی۔ معلوم ہوا جزئی حقیقی کو بھی کیا کہنا پڑے گا نوع اضافی۔ اسی طرح صنف کے ساتھ کسی ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو اس وقت بھی جواب میں جنس آئے گی۔ جیسے الْبَاكِسْتَانِيُّ وَالْفَرَسُ مَا هُمَا؟ تو جواب میں کیا آئے گا؟ حَيَوَانٌ، دیکھو جنس جواب میں آ گئی۔ تو آپ کی یہ جو تعریف ہے نوع اضافی کی اس میں جزئی حقیقی بھی داخل ہو رہی ہے اور صنف بھی داخل ہو رہی ہے۔
تو اس کا جواب انہوں نے دیا تھا کہ یہاں جو ماہیت ذکر ہوئی کہ وہ ماہیت جس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس۔ تو اس ماہیت سے ہر ماہیت مراد نہیں ہے۔ بلکہ وہ ماہیت مراد ہے جو مَا هُوَ کے جواب میں آئے۔ کس کے جواب میں؟ مَا هُوَ کے جواب میں آئے۔ اور مَا هُوَ کے جواب میں تو تین ہی چیزیں آتی ہیں: جنس، نوع، اور حد تام۔ جنس، نوع اور حد تام اور یہ سب کلیات ہیں اور سب ذاتی ہیں، بھئی کیا ہیں؟ ذات میں داخل ہیں۔ تو معلوم ہوا کہ یہاں ماہیت جو بولی گئی اس ماہیت سے مراد کلی ذاتی ہے۔ کلی ذاتی۔ لہذا جب یہ کلی ہے تو اس سے جزئی نکل گئی، جزئی اس کے اندر داخل نہیں ہو سکتی۔ اور جب یہ ذاتی ہے تو اس سے صنف بھی نکل گئی، کیونکہ صنف جو ہے وہ ذاتی نہیں ہوتی بلکہ عرضی ہوتی ہے۔ کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب ذاتی عرض کے ساتھ مرکب ہو جائے تو پھر وہ عرض ہے۔ وہ کیا ہے؟ ذاتی جب عرض سے مرکب ہو جائے تو وہ عرض کہلاتی ہے۔
جیسے انسان یہ کیا ہے؟ ذاتی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ عرض یعنی پاکستانی کو ملایا تو یہ کیا عرض بن گئی۔ یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا، کلی کے جو افراد ہوتے ہیں، کلی کی جو جزئیات ہوتی ہیں، ان میں اگر ذات کے اعتبار سے فرق ہو تو ان کو انواع کہتے ہیں۔ اور اگر ان میں عرض یعنی صفت کے اعتبار سے فرق ہو تو ان کو اصناف کہتے ہیں۔ صنف کی جمع ہے اصناف۔ توجہ ہے؟ کلی کے نیچے جو جزئیات ہوتی ہیں جو افراد ہوتے ہیں، اگر ان میں فرق جو ہے وہ ذات کے اعتبار سے ہے، ایک کی ذات دوسرے سے الگ ہے، ان کی حقیقتیں الگ ہیں تو ان کو انواع کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ انواع۔ جیسے حَيَوَانٌ کے تحت انسان بھی ہے، فرس بھی ہے، حمار بھی ہے، بقر بھی ہے وغیرہ۔ تو جب کلی کی جزئیات میں فرق کس اعتبار سے ہو؟ ذات کے اعتبار سے ہو تو ان کو کیا کہتے ہیں؟ انواع۔ اور اگر ان میں فرق صرف عرض کے اعتبار سے ہو تو ان کو اصناف کہتے ہیں۔ تو دیکھو پاکستانی، ہندوستانی، افغانی وغیرہ دیکھو ان میں فرق جو ہے وہ کس اعتبار سے ہے صرف؟ عرض کے اعتبار سے فرق ہے ذات کے اعتبار سے فرق نہیں، پاکستانی جو ہے انسان، وہ بھی کیا ہے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، ہندوستانی ہے وہ بھی کیا ہے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، افغانی ہے وہ بھی کیا ہے حَيَوَانٌ نَاطِقٌ، تو دیکھو ذاتیات میں کوئی فرق نہیں صرف صفت میں فرق ہے تو ان کو کیا کہتے ہیں اصناف۔ کہ کلی کے افراد میں فرق اگر کس اعتبار سے ہو؟ ذات کے اعتبار سے ہو تو پھر ان کو انواع کہتے ہیں اور اگر ان میں فرق صرف عرض کے اعتبار سے ہو تو ان کو اصناف کہتے ہیں۔
نوع اضافی کی جو تعریف انہوں نے کی کہ نوع اضافی اس ماہیت کو کہیں گے کہ اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کیا جائے تو جواب میں کیا آئے؟ جنس۔ معلوم ہوا نوع اضافی ہمیشہ وہی چیز بنے گی جس کے اوپر کوئی جنس ہو۔ تبھی جنس جواب میں آئے گی نا، ویسے تو جنس جواب میں نہیں آ سکتی۔ تو لہذا نوع اضافی ہمیشہ وہ چیز بنے گی جس کے اوپر کیا ہو؟ جنس ہو بھئی جنس ہو۔ اور وہ دو چیزیں ہیں صرف، ایک ہے نوع اور ایک ہے جنس خود بھئی۔ نوع کے اوپر کیا اتی ہے جنس، جیسے انسان کے اوپر حَيَوَانٌ کیا ہے جنس۔ اسی طرح جنس کے اوپر بھی جنس آتی ہے، حَيَوَانٌ جنس ہے لیکن اس کے اوپر جنس کیا ہے جِسْمِ نَامِيْ، اس کے اوپر جنس کیا ہے جِسْمِ مُطْلَقٌ اور اس سے اوپر جنس کیا ہے جوہر ہے بھئی۔ تو لہذا نوع اضافی صرف دو چیزیں ہو سکتی ہیں: ایسی نوع حقیقی جس کے اوپر کیا ہو کوئی جنس ہو، اور ایسی جنس جس کے اوپر کوئی جنس ہو۔ لہذا جوہر، اس کو نوع اضافی نہیں کہہ سکتے کیونکہ جوہر اس کے اوپر کوئی جنس نہیں ہے۔
اس کے بعد پھر انہوں نے ان میں نسبت بیان کی تھی کہ ان دونوں میں نسبت جو ہے وہ عموم و خصوص من وجہ کی ہے۔ عموم و خصوص من وجہ کی نسبت کہ دو چیزوں کے اجتماع کو بھی عقل جائز سمجھے اور دونوں کے الگ الگ ہونے کو بھی جائز سمجھے، دونوں ایک دوسرے کے بغیر پائی جائیں تو اور اکٹھی بھی ہو سکیں تو یہ ہے عموم و خصوص من وجہ۔ اور یہاں یہ دونوں اکٹھی ہو جاتی ہیں، ایک چیز نوع حقیقی بھی ہو اور نوع اضافی بھی ہو جیسے انسان۔ یہ نوع حقیقی بھی ہے کیونکہ هُوَ الْمَقُوْلُ عَلَى كَثِيْرِيْنَ مُتَّفِقِيْنَ بِالْحَقَائِقِ فِيْ جَوَابِ مَا هُوَ، اس کے افراد کی حقیقتیں ایک ہیں تو یہ جزئی حقیقی بھی ہے، اور یہ نوع اضافی بھی ہے کہ اس کے ساتھ کسی اور ماہیت کو ملا کر سوال کریں تو جواب میں جنس آئے گی۔ اور حَيَوَانٌ وہ نوع اضافی تو ہے لیکن نوع حقیقی نہیں۔ تو نوع اضافی بغیر نوع حقیقی کے پائی گئی، کیونکہ حَيَوَانٌ وہ نوع حقیقی نہیں، اس کے افراد کی حقیقت ایک نہیں بلکہ افراد کی حقیقتیں الگ الگ ہیں بھئی۔ اور نقطہ جو ہے وہ نوع حقیقی تو ہے لیکن نوع اضافی نہیں، تو نوع حقیقی بغیر نوع اضافی کے پائی گئی کیونکہ نقطہ وہ نوع بسیط ہے بھئی۔ نوع بسیط نقطہ کسے کہتے ہیں؟ خط کی طرف کو۔ اور خط کسے کہتے ہیں؟ سطح کی طرف کو۔ اور سطح کسے کہتے ہیں؟ جسم کی طرف کو۔ اور جسم سے کیا مراد ہے؟ جسم تعلیمی، اور جسم تعلیمی بھی عرض، اور جو سطح ہے وہ بھی عرض، اور خط جو ہے وہ بھی عرض، اور نقطہ بھی عرض ہے۔
تو نقطہ جو ہے یہ نوع بسیط ہے اس کا کوئی جز نہیں، جب جز نہیں تو اس کے اوپر جنس بھی نہیں، کیونکہ جنس اسی چیز کے اوپر ہوگی جو جنس اور فصل سے مل کر مرکب ہو۔ تو جب اس کا جز کوئی نہیں تو معلوم ہوا اس کے اوپر کوئی جنس بھی نہیں ہے۔ جب اس کے اوپر کوئی جنس نہیں تو معلوم ہوا یہ نوع اضافی نہیں ہے کیونکہ نوع اضافی کے جواب میں تو ہمیشہ کیا اتی ہے جنس، جب اس کے اوپر جنس ہی نہیں ہے تو جنس کہاں سے جواب میں آئے گی۔ تو انہوں نے نقطے کو ذکر کیا تھا نوع بسیط کی مثال کے طور پر، یعنی ایسی نوع حقیقی جس کے اوپر کوئی جنس نہ ہو بھئی۔
اور پھر یہاں انہوں نے کہا تھا وَفِيْهِ مُنَاقَشَةٌ، یہاں کیا ہے؟ اعتراض ہے۔ میں نے بتلایا تھا مناقشہ ہلکا پھلکا اعتراض جو ذرا غور و فکر سے ختم ہو جائے اس کو کیا کہتے ہیں؟ مناقشہ یعنی یہاں اعتراض ہوتا ہے۔ کیا اعتراض ہوتا ہے شارحین فرماتے ہیں، آگے دو سطروں کے بعد جو اعتراض ہے یہی مراد ہے، شارحین کہتے ہیں یہی اعتراض مراد ہے۔ لیکن میں نے بتلایا تھا یہاں تین طرح اعتراض ہو سکتے ہیں۔ ایک اعتراض کی صورت یہ ہے کہ کوئی معترض کہے آپ نے جو نقطہ کی مثال ذکر کی ہے یہ مثال درست نہیں کیونکہ ہمیں نقطہ ہی تسلیم نہیں۔ نقطہ کوئی چیز ہے ہمیں یہ تسلیم ہی نہیں، متکلمین ہیں وہ نقطے کو تسلیم ہی نہیں کرتے۔ یا یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ آپ نے نقطے کو نوع حقیقی قرار دیا ہمیں اس کا نوع حقیقی ہونا تسلیم نہیں۔ اس لیے کیونکہ نوع حقیقی تو یہ تب ہوگی، نوع حقیقی کسے کہتے ہیں جس کے افراد کی حقیقتیں ایک جیسی ہوں، اور ہو سکتا ہے اس کے افراد کی حقیقتیں ایک جیسی نہ ہوں بلکہ الگ الگ ہوں مختلف ہوں تو ہمیں اس کا نوع حقیقی ہونا تسلیم نہیں۔ یا تیسرا اعتراض یہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے کہا کہ نقطہ نوع اضافی نہیں ہے۔ ہمیں اس کا نوع اضافی نہ ہونا تسلیم نہیں۔ خارج میں اس کا کوئی جز نہ ہو پھر بھی یہ کیا ہے نوع اضافی ہو سکتی ہے کہ اس کے لیے جنس اور فصل ہو۔
میں نے یہاں آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو نقطہ ہے، خط ہے، اور سطح، فلاسفہ ان کا اثبات کرتے ہیں لیکن متکلمین جو ہیں وہ ان کا انکار کرتے ہیں۔ متکلمین میں نے بتایا وہ علمائے اسلام جو علم کلام کے ماہر تھے اور یہ فلسفے کے بھی بہت بڑے ماہر تھے بھئی۔ تو یہ نقطہ، خط اور سطح کا انکار کرتے ہیں کہ یہ کوئی چیز نہیں ہے۔ اور پھر یہیں پر میں نے متقدمین اور متاخرین مناطقہ کا اختلاف بھی ذکر کیا تھا۔ متقدمین مناطقہ جو ہیں وہ کہتے ہیں کہ یہ جو نوع حقیقی اور یہ جو نوع اضافی ہیں ان کے درمیان عموم و خصوص مطلق کی نسبت ہے۔ وہ نوع بسیط کو مانتے ہی نہیں کہ نوع بسیط کوئی چیز ہی نہیں ہے۔ جب نوع بسیط کوئی چیز نہیں تو معلوم ہوا جو بھی نوع حقیقی ہوگی وہ کیا ہوگی نوع اضافی۔ نوع بسیط ہوتی تو صرف نوع حقیقی ہوتی اور نوع اضافی نہ ہوتی، جب نوع بسیط ہی کوئی نہیں تو معلوم ہوا جو بھی نوع حقیقی ہوگی وہ ہمیشہ کیا ہوگی نوع اضافی ہوگی لیکن جو بھی نوع اضافی ہو اس کا نوع حقیقی ہونا ضروری نہیں ہے۔ جیسے حَيَوَانٌ جو جِسْمِ نَامِيْ کے تحت ہے تو حَيَوَانٌ نوع اضافی تو ہے لیکن نوع حقیقی نہیں کیونکہ یہ تو جنس ہے بھئی اس کے افراد کی حقیقتیں تو الگ الگ ہیں بھئی۔ تو متقدمین کہتے ہیں ان دونوں میں جو نسبت ہے، وہ نوع حقیقی اور نوع اضافی میں، وہ عموم و خصوص مطلق کی ہے۔ جبکہ متاخرین جو ہیں وہ نوع بسیط کو تسلیم کرتے ہیں تو وہ کہتے ہیں ان میں جو نسبت ہے وہ عموم و خصوص من وجہ کی ہے۔ تو بہرحال سارا اختلاف اس بات پر ہے کہ متقدمین نوع بسیط کو تسلیم نہیں کرتے اور متاخرین نوع بسیط کو تسلیم کرتے ہیں۔
اور پھر اس کے بعد انہوں نے فِيْهِ نَظَرٌ کہہ کر اعتراض کی تقریر کی تھی کہ آپ نے کیا کہا کہ نقطہ جو ہے نہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے نہ چوڑائی میں اور نہ گہرائی میں لہذا نقطے کا کوئی جز نہیں۔ اور جب نقطے کا کوئی جز نہیں تو اس کے لیے کوئی جنس بھی نہیں۔ کیونکہ جس چیز کے لیے بھی جنس ہوتی ہے، تو جنس کے تحت جو افراد ہوں گے ان کی حقیقتیں الگ الگ ہوں گی تو ان کے لیے فصل بھی چاہیے ہوگا کہ نہیں چاہیے ہوگا تاکہ ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں، تو جنس کے نیچے جو بھی افراد ہوتے ہیں وہ جنس اور فصل سے مرکب ہوتے ہیں کیونکہ ان کی حقیقتیں الگ الگ ہیں تو ان کی جنس تو یہی ہے اور حقیقتیں الگ تو فصل چاہیے، ہر نوع دوسری نوع سے کیا ہو جائے جدا ہو جائے تو جو بھی چیزیں جنس کے تحت ہوں گی وہ جنس اور فصل سے مرکب ہوں گی تو آپ نے ہمیں کیا کہا کہ نقطے کا کوئی جز نہیں، جب جز نہیں تو اس کے لیے جنس نہیں۔ تو کہتے ہیں یہ اس سے آپ کی بات سے تو زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوتا ہے کہ خارج میں نقطے کا کوئی جز نہیں۔ نہ وہ لمبائی میں تقسیم کو قبول کرتا ہے نہ گہرائی میں اور نہ چوڑائی میں تو اس سے زیادہ سے زیادہ یہ ثابت ہوا کہ خارج میں اس کا کوئی جز نہیں ہے۔ لیکن اس سے جز عقلی اور جز ذہنی کی نفی تو نہیں ہوتی۔
جز ذہنی یا جز عقلی اور چیز ہے اور جز خارجی اور چیز ہے۔ دیکھو میں نے مثال ذکر کی تھی چائے جو ہے وہ دودھ چینی اور پتی سے ملا کر آپ بناتے ہیں تو یہ دودھ چینی اور پتی چائے کے اجزاء ہیں اور اجزائے خارجی ہیں۔ اجزائے خارجی وہ ہوتے ہیں جو خارج میں علیحدہ سے پائے جاتے ہیں۔ دیکھو دودھ الگ، چینی الگ، اور پتی الگ پائی جاتی ہے۔ تو اجزائے خارجی کیا ہوتے ہیں جو خارج میں اس کل سے اس چائے سے الگ بھی پائے جاتے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو اجزائے خارجی وہ ہیں جو خارج میں کل سے الگ پائے جاتے ہیں اور کل پر ان کا حمل صحیح نہیں ہوتا۔ جیسے چائے دودھ ہے یہ کہنا درست نہیں۔ چائے چینی ہے یہ کہنا درست نہیں۔ اسی طرح چائے پتی ہے یہ کہنا بھی درست نہیں۔ تو اجزائے خارجی کسے کہتے ہیں جو خارج میں کل کے علاوہ پائے جاتے ہیں اور کل پر ان کا حمل صحیح نہیں ہوتا کہ کل کو مبتدا بنائیں اور ان کو خبر بنا دیں تو بات درست نہیں رہتی۔ جبکہ جنس اور فصل وہ اجزائے ذہنی ہیں اجزائے عقلی ہیں اور اجزائے عقلی کسے کہتے ہیں؟ جو عقل میں پائے جائیں اور ایک ماہیت کے اندر داخل ہوتے ہیں، کیا ہوتے ہیں؟ جب داخل ہوں گے تبھی اس کا جز بنیں گے نا، اگر داخل ہی نہیں ہے تو جز کیسے بنیں گے۔ تو وہ عقل میں صرف پائے جاتے ہیں اور ایک ماہیت کے اندر داخل ہوتے ہیں اور یہ ماہیت سے علیحدہ نہیں ہوتے بھئی۔ ماہیت سے علیحدہ جیسے انسان کی حقیقت کیا حَيَوَانٌ نَاطِقٌ صرف حَيَوَانٌ الگ ہو جائے انسان سے یا صرف نَاطِقٌ الگ ہو جائے ایک چیز صرف نَاطِقٌ ہو اور حَيَوَانٌ نہ ہو یہ نہیں ہو سکتا بھئی۔ تو وہ عقل کے اندر بھی نَاطِقٌ انسان سے علیحدہ نہیں ہوتا، یہ حَيَوَانٌ انسان سے علیحدہ نہیں ہوتا حَيَوَانٌ تو علیحدہ ہو جائے گا کیونکہ حیوانات اور بھی ہیں لیکن وہاں بھی کوئی نہ کوئی فصل ساتھ ضرور جڑے گی، گھوڑا ہو تو کہیں گے حَيَوَانٌ صَاهِلٌ، گدھا ہو تو کہیں گے حَيَوَانٌ نَاهِقٌ، تو وہاں فصل ساتھ ضرور ملے گی اکیلا حَيَوَانٌ الگ ہو جائے یہ والا جز ایسا نہیں ہو سکتا، اسی طرح نَاطِقٌ بھی ہے۔
تو اجزائے ذہنی کس کو کہتے ہیں؟ اجزائے ذہنی وہ ہیں جو عقل میں ہوتے ہیں اور ایک ماہیت کے اندر داخل ہوتے ہیں اور ماہیت سے علیحدہ نہیں ہوتے۔ اور ماہیت پر ان کا حمل بھی صحیح ہوتا ہے۔ چنانچہ انسان کا ایک جز حَيَوَانٌ ہے۔ پھر بھی ہم کہہ سکتے ہیں الْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ، جو کل ہے انسان اس کو ہم نے مبتدا بنایا اور جو جز تھا حَيَوَانٌ اس کو ہم نے اس کی خبر بنا دیا، الْإِنْسَانُ حَيَوَانٌ کہنا صحیح ہے۔ اسی طرح دوسرا جز ہے اس کا حمل بھی صحیح ہے الْإِنْسَانُ نَاطِقٌ، جبکہ چائے دودھ ہے یہ کہنا صحیح نہیں تھا۔ لیکن الْإِنْسَانُ نَاطِقٌ کہنا صحیح ہے۔ تو معلوم ہوا جز خارجی اور چیز ہے، جز ذہنی اور چیز ہے۔ تو آپ نے جو نقطے کی تعریف کی اس سے صرف اتنا پتہ چلا کہ اس کے اجزائے خارجی نہیں ہیں تو اس سے یہ لازم نہیں کہ اس کے اجزائے عقلی بھی نہ ہوں کیونکہ اجزائے عقلی اور چیز ہیں، اجزائے خارجی نہ ہوں اور اجزائے عقلی ہوں یہ ہو سکتا ہے کیونکہ دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔
تو اس کا جواب ذکر کیا تھا میں نے کہ آپ کا یہ کہنا کہ اجزائے خارجی اور اجزائے عقلی دونوں الگ الگ ہیں یہ درست نہیں، اجزائے عقلی اور اجزائے ذہنی ایک ہی چیز ہیں۔ ان میں فرق صرف اعتباری ہے۔ جو معتبر کے اعتبار پر موقوف ہے۔ اس کا اعتبار کریں گے تو وہ فرق ہے اگر وہ اعتبار نہیں کریں گے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں ایک ہی چیز ہیں۔ اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ چیزوں میں تین طرح کے اعتبار ہوتے ہیں۔ کبھی اعتبار ہوتا ہے بِشَرْطِ شَيْءٍ کے ساتھ اور کبھی اعتبار ہوتا ہے بِشَرْطِ لَا شَيْءٍ کے ساتھ اور کبھی اعتبار ہوتا ہے لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ کے ساتھ۔ بِشَرْطِ شَيْءٍ، ان ترجمے پہ غور کر لیں کہ کسی چیز کی شرط لگانا، کوئی چیز شرط ہو ایک چیز کے لیے ضروری ہو، اور ایک ہے بِشَرْطِ لَا شَيْءٍ یعنی اس میں لَا شَيْءٍ کی شرط ہوتی ہے کہ عدم شے کی اس میں شرط ہوتی ہے نہ ہونے کی شرط ہوتی ہے، اور لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ یعنی شرط شے کی پورے پر لا داخل کر دیا، یعنی شرط شے نہیں ہوتی نہ ہونے کی شرط ہوتی ہے اور نہ نہ ہونے کی۔
میں نے جیسے مثال ذکر کی تھی، آپ اپنے ایک ساتھی سے کہتے ہیں کہ آپ میری دعوت کریں تو وہ کہتا ہے میں دعوت کروں گا لیکن اس میں چائے نہیں ہوگی، یا یوں کہیں اس میں دعوت کروں گا اور اس میں چائے ہوگی، تو دیکھو چائے کو اس نے دعوت میں لازم کر دیا تو یہ دعوت کس چیز کے ساتھ ہے چائے کی شرط کے ساتھ ہے، یہ بِشَرْطِ شَيْءٍ ہے۔ یا وہ کہتا ہے میں دعوت کروں گا لیکن اس میں چائے نہیں ہوگی دیکھو چائے کے نہ ہونے کو شرط قرار دے دیا اس کے لیے لازمی قرار دے دیا تو یہ دعوت کیسی ہے بِشَرْطِ لَا شَيْءٍ ہے، اور کبھی وہ صرف مطلقا کہہ دے، آپ نے اس سے کہا میری دعوت کریں اس نے کہا میں آپ کی دعوت کروں گا، نہ اس نے چائے کے ہونے کا ذکر کیا اور نہ نہ ہونے کا ذکر کیا، تو یہ ہے لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ یعنی اس میں کسی چیز کی شرط نہیں ہے نہ کسی چیز کے ہونے کی اور نہ نہ ہونے کی۔
تو یہ جو خارج میں چیزیں ہیں یاد رکھو جتنی مادی چیزیں ہیں علماء فرماتے ہیں کہ یہ مرکب ہیں مادے سے اور صورت سے۔ کس سے؟ مادے سے اور صورت سے۔ اور اس مادے کو ہیولی کہتے ہیں بھئی۔ مادہ جس سے اللہ نے اس عالم کی جو مادی چیزیں ہیں ان کو اللہ نے اس سے پیدا فرمایا۔ تو ہر چیز کا مٹیریل جو ہے، مادہ جو ہے اس کا نام ہیولا ہے۔ کیا نام ہے؟ ہیولا۔ اور اس کی کوئی خاص شکل و صورت نہیں، یہ ہر طرح کی شکلیں قبول کر لیتا ہے۔ جس شکل میں بھی اس کو ڈھالنا چاہیں یہ ڈھل جاتا ہے۔ اور نیز یہ ہر طرح کی صفات کو بھی قبول کر لیتا ہے۔ تو اس مادے کو ہیولا کہتے ہیں۔ اور اسی طرح ہر مادے کے لیے کوئی صورت چاہیے۔ ہیولا محتاج ہے صورت کا۔ مادے کے لیے ہمیشہ کوئی نہ کوئی صورت ہوگی، بغیر صورت کے مادہ ہو سکتا ہے؟ ہو ہی نہیں سکتا بھئی، آپ کوئی بھی چیز لا کر ڈالیں اس کی کوئی نہ کوئی شکل ہوگی یا نہیں؟ کوئی ڈھیر بن گیا یا ٹیڑھا میڑھا پھیل گیا کوئی نہ کوئی شکل تو اس کی بن گئی کہ نہیں بن گئی، تو مادہ بغیر صورت کے ہو ہی نہیں سکتا۔ تو مادہ محتاج ہوا کس کا صورت جسمیہ کا، اور صورت جسمیہ محتاج ہوئی مادے کی۔ مادہ بھی جوہر ہے اور یہ صورت جسمیہ بھی جوہر یہ یاد رکھنا یہ مادہ بھی جوہر اور صورت جسمیہ بھی جوہر ہے، اور اس کی وجہ سے مادے کی صورت ہوگی۔ اور پھر ایک صورت نوعیہ ہے بھئی جس کی وجہ سے یہ چیزیں الگ الگ انواع کو ہم ایک دوسرے سے پہچانتے ہیں۔ مادہ تو سب کا ایک ہے لیکن اس فرق کی وجہ سے ہم جانتے ہیں کہ یہ چیز کتاب ہے، یہ انسان ہے، یہ فرس ہے، یہ حمار ہے، یہ بقر ہے، یہ پہاڑ ہے، یہ پانی ہے وغیرہ، یہ سب چیزوں کو ہم جانتے ہیں۔ تو وہ اس کو صورت نوعیہ ہے۔ کیا ہے؟ صورت نوعیہ۔
تو یوں کہیں کہ ہر چیز گویا مرکب ہے ان تین چیزوں سے اور یہ تینوں جوہر ہیں۔ یہ مادہ یعنی ہیولا بھی کیا ہے؟ جوہر، صورت جسمیہ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے، اور یہ جو صورت نوعیہ یہ بھی کیا ہے؟ جوہر ہے۔ تو گویا ہر چیز کے تین جز ہیں، کتنے جز ہیں؟ تین جز ہیں یا یوں کہہ لیں آسانی کے لیے دو کہہ لیں بھئی کیونکہ ایک صورت جسمیہ ایک صورت نوعیہ، تو یوں کہیں ہر چیز اس کے دو اجزاء ہیں، ایک مادہ ہے اور ایک صورت ہے۔ صورت میں صورت جسمیہ بھی آ گئی اور صورت نوعیہ بھی آ گئی۔ تو ہر چیز محتاج ہے ہر چیز کے دو اجزاء ہیں ایک صورت ہے اس کی اور ایک اس کا مادہ ہے۔ توجہ ہے؟ صورت اور مادہ۔ تو یہ صورت اور مادہ جو ہیں اجزائے خارجی ہیں۔ ہر چیز ان سے مرکب ہے۔ تو علمائے منطق فرماتے ہیں کہ یہی مادہ اور صورت بایں اعتبار کہ یہ خارج میں ان کی وجہ سے چیز کا وجود ہے ان کو اجزائے خارجی کہتے ہیں۔ توجہ ہے؟ یہی مادہ اور یہی صورت بایں لحاظ بایں اعتبار کہ ان کی وجہ سے خارج میں چیز کا وجود ہے، یہ مادہ اور صورت ہوگی تو یہ چیز ہے، یہ مادہ اور صورت نہیں تو وہ چیز بھی نہیں، تو ان کو کیا کہتے ہیں اجزائے خارجی، اور ذہن میں جو چیز کے اجزاء ہیں وہ ہیں جنس اور فصل، وہ بھی یہی مادہ اور صورت انہی کو جنس اور فصل کہتے ہیں قطع نظر اس کے کہ اس سے ان چیز کا وجود ہے یا وجود نہیں۔
تو یہی مادہ اور صورت بایں لحاظ کہ ان سے چیز کا وجود ہے ان کو اجزائے خارجی کہتے ہیں، دیکھو بایں لحاظ کہ اس سے ان چیزوں کا وجود ہے تو یہ ہے بِشَرْطِ شَيْءٍ، بِشَرْطِ بائیں شرط کہ ان کی وجہ سے کیا ہے چیزوں کا وجود یہ اجزاء ہیں تو چیز ہے، یہ اجزاء نہیں تو چیز بھی نہیں، تو یہی مادہ اور صورت بِشَرْطِ شَيْءٍ کے اعتبار سے یہ کیا ہیں اجزائے خارجی۔ توجہ ہے؟ بات ہو رہی ہے اجزائے خارجی کی اور اجزائے ذہنی کی۔ ثابت یہ کرنا ہے کہ وہ جو اجزائے خارجی ہیں بعینہ وہی کیا ہیں اجزائے ذہنی ہیں صرف اعتبار کا فرق ہے۔ خارج میں یہی اجزاء اجزائے خارجی کہلاتے ہیں بِشَرْطِ شَيْءٍ، شے کی شرط کے ساتھ کیا شرط ہے کہ ان کی وجہ سے اس چیز کا وجود ہے، یہ ہوں گے تو یہ چیز ہے، یہ نہیں تو یہ چیز بھی نہیں، تو بِشَرْطِ شَيْءٍ یہی مادہ اور صورت بِشَرْطِ شَيْءٍ کے درجے میں ہوں تو یہ اجزائے خارجی ہیں۔ اور یہی مادہ اور صورت لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ ہوں تو پھر یہ اجزائے ذہنی ہیں اجزائے عقلی ہیں یعنی جنس اور فصل ہیں، لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ اس میں اس چیز کے ہونے یا نہ ہونے کی کوئی شرط نہیں ہے۔
فرق سمجھ میں آیا؟ تو یہی مادہ بِشَرْطِ شَيْءٍ ہو تو جز خارجی اور یہی مادہ لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ ہو تو جنس ہے۔ اسی طرح صورت، یہی صورت بِشَرْطِ شَيْءٍ ہو کہ اس کی وجہ سے چیز کا وجود ہے تو یہ جز خارجی اور یہی صورت لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ ہو تو یہ جز ذہنی ہے جز عقلی ہے۔ فرق سمجھ میں آ گیا۔ تو معلوم ہوا کہ اجزائے خارجی اور اجزائے ذہنی دونوں ایک ہی چیز ہیں، فرق صرف اعتباری ہے، ایک بِشَرْطِ شَيْءٍ ہے تو دوسرا لَا بِشَرْطِ شَيْءٍ ہے۔ چیز وہی ہے۔ جیسے میں نے مثال ذکر کی تھی کہ دو طلبہ سے تپائی کی لمبائی پوچھی تو ایک نے کہا دائیں طرف سے ناپیں تو یہ کتنے فٹ ہے؟ پانچ فٹ ہے۔ دوسرے سے پوچھا تو اس نے کہا بائیں طرف سے ناپیں تو یہ کتنی ہے؟ پانچ فٹ ہے۔ تو ایک نے ایک طرف سے لمبائی کا اعتبار کیا دوسرے نے دوسری طرف سے لمبائی کا اعتبار کیا لیکن چیز ایک ہی ہے۔ لمبائی پانچ ہی فٹ ہے چاہے دائیں طرف سے ناپیں چاہے بائیں طرف سے ناپیں۔ تو اجزائے خارجی اور اجزائے ذہنی ایک ہی چیز ہیں فرق صرف ان میں اعتباری ہے، جب یہ بات ثابت ہو گئی کہ اجزائے خارجی اور اجزائے ذہنی ایک ہی چیز ہیں تو اس سے یہ جو آپ نے اعتراض کیا تھا وہ بھی ختم ہو گیا، آپ نے تو کیا کہا تھا کہ اجزائے خارجی اور چیز ہیں اجزائے ذہنی اور چیز ہیں، آپ کی تقریر سے کہ نقطے کے لیے لمبائی بھی نہیں چوڑائی بھی نہیں اور گہرائی بھی نہیں اس سے تو اجزائے خارجی کی نفی ہوئی تھی اجزائے ذہنی کی نفی اس سے نہیں ہوتی، لیکن اب ہماری تقریر سے واضح ہو گیا کہ جب اجزائے خارجی کی نفی ہو گئی تو اجزائے ذہنی کی بھی نفی ہو گئی کیونکہ اجزائے ذہنی وہی چیز ہیں فرق صرف اعتبار کا ہے، جب خارج میں اجزاء نہیں تو ذہن میں بھی اجزاء نہیں ہیں۔
تو بہرحال یہ اعتراض بڑا کمزور سا اعتراض تھا اس لیے کیونکہ اعتراض صرف مثال پر تھا کہ آپ نے جو یہ مثال ذکر کی نوع بسیط کی نقطہ، یہ مثال ہمیں تسلیم نہیں، اس کا نوع اضافی نہ ہونا ہمیں تسلیم نہیں، ہو سکتا ہے یہ نوع اضافی ہو، تو اعتراض اس مثال پر تھا لیکن کمزور سا اعتراض تھا اس لیے کیونکہ مثال کے باطل ہونے سے دعوے کا باطل ہونا لازم نہیں ہے۔ مثال کوئی اور بھی چیز ذکر کی جا سکتی ہے، اگر ایک مثال غلط ہو گئی تو کوئی حرج نہیں، دوسری چیز کو بھی مثال میں ذکر کیا جا سکتا ہے، جیسے وَاجِبُ الْوُجُوْدِ ہے، وَاجِبُ الْوُجُوْدِ کی ذات کیا نوع بسیط ہے، اس کے اوپر کوئی ایسی ماہیت کلیہ موجود نہیں جس کے تحت یہ داخل ہو جو اس کے لیے جنس بنے، تو دیکھو نوع حقیقی پائی گئی اور بغیر نوع اضافی کے۔ یا دوسری مثال وحدت کو ذکر کیا جا سکتا ہے۔ وحدت کا معنی ہے ایک ہونا واحد ہونا۔ دیکھو کبھی حقیقتا واحد ہونا ہے اور کبھی مجازا۔ حقیقتا واحد ہے جیسے اللہ تعالی کی ذات واحد ہے حقیقتا بھئی۔ اور کبھی واحد ہونا مجازا ہوتا ہے جیسے نوع ہم کہتے ہیں یہ ایک نوع ہے، یا جیسے ایک جنس ہو تو ہم کہتے ہیں یہ ایک جنس ہے۔ تو دیکھو جنس کے اندر بھی وحدت آ گئی اور صرف ایک نوع ہو اس میں بھی کیا آ گئی وحدت، لیکن یہ وحدت مجازا ہے حقیقت میں نہیں، ایک اعتبار سے ان کو ایک کہا ورنہ تو ہر ایک کے افراد کثیر ہیں، نوع کے افراد بھی کیا ہوتے ہیں کثیر ہوتے ہیں جنس کے افراد بھی کیا ہوتے ہیں کثیر ہوتے ہیں، تو افراد تو بے شک زیادہ لیکن ہے تو جنس تو ایک ہی ہے نا یا نوع تو ایک ہی ہے تو یہاں بھی وحدت ہے۔ ایک نوع ہو اس میں بھی وحدت ہے۔ ایک جنس ہو اس میں بھی وحدت ہے۔ لیکن حقیقتا وحدت نہیں ہے۔ حقیقت میں وہ واحد نہیں ہے بلکہ ان کے افراد کثیر ہیں۔ ہاں صرف اس اعتبار سے ان کو ایک کہا کہ نوع ایک ہے یا جنس ایک ہے۔
تو وحدت جو ہے یہ کبھی حقیقتا ہوتی ہے اور کبھی مجازا۔ تو جو حقیقتا وحدت ہو واحد حقیقی، تو جو حقیقتا وحدت ہو جیسے اللہ تعالی کی ذات میں کیا ہے؟ حقیقتا وحدت ہے، وہاں کوئی اور ایسی ذات ہونے کا امکان ہی نہیں۔ جب وحدت ہوگی تو معلوم ہوا جز کوئی نہیں۔ اگر جز ہے تو وحدت ہے یا مرکب ہو گئی، وہ چیز مرکب ہو گئی تو معلوم ہوا اس میں تو وحدت نہیں ہے۔ تو وحدت جو ہے اس کو بھی نوع بسیط کے طور پر ذکر کیا جا سکتا ہے کیونکہ وحدت جب وحدت ہے تو اس کے اوپر کوئی جنس نہیں ہے۔
دیکھیے بھئی آگے سبق متن دیکھیے بھئی متن: ثُمَّ الْأَجْنَاسُ قَدْ تَتَرَتَّبُ مُتَصَاعِدَةً إِلَى الْعَالِي كَالْجَوْهَرِ وَيُسَمَّى جِنْسَ الْأَجْنَاسِ، وَالْأَنْوَاعُ مُتَنَازِلَةً إِلَى السَّافِلِ وَيُسَمَّى نَوْعَ الْأَنْوَاعِ، وَمَا بَيْنَهُمَا مُتَوَسِّطَاتٌ۔ بھئی یہاں سے جنس کی تقسیم کر رہے ہیں بھئی کہ جنس کے کئی درجے ہیں۔ نیچے سے اوپر کی طرف چلیں تو ایک جنس کے بعد دوسری جنس آتی ہے پھر تیسری اور پھر چوتھی جنس آتی ہے۔ جیسے دیکھو انسان، انسان کے اوپر جنس کیا ہے حَيَوَانٌ، اور حَيَوَانٌ کے اوپر جنس کیا جِسْمِ نَامِيْ، اور جِسْمِ نَامِيْ کے اوپر جنس جِسْمِ مُطْلَقٌ ہے، اور جِسْمِ مُطْلَقٌ کے اوپر جنس کیا ہے جوہر ہے۔ تو جنسیں جو ہیں، ان میں ترتیب ہے۔ انسان کے لیے یہ حَيَوَانٌ جو ہے جنس قریب ہے اور باقی جنسیں بعید ہیں بھئی بعید ہیں۔ تو جنسوں کے اندر ترتیب ہے نیچے سے اوپر کی طرف چڑھتے ہوئے۔ یہ ذرا اپنے سامنے ذرا لکھ لیں تاکہ بات جلدی سمجھ میں آجائے آپ کو بھئی۔ اچھا بھئی لکھیے ذرا کاپی پر یہ لکھ لیجیے بھئی جنسوں کی ترتیب۔
اوپر لکھیے بھئی جوہر بھئی، جوہر، الگ ایک سطر میں لکھنا ہے آپ نے جوہر بھئی۔ جوہر، جوہر کے نیچے کیا جنس ہے جِسْمِ مُطْلَقٌ بھئی، اس کے نیچے لکھیں جِسْمِ مُطْلَقٌ۔ جِسْمِ مُطْلَقٌ کے نیچے لکھیں جِسْمِ نَامِيْ۔ جِسْمِ نَامِيْ کے نیچے لکھیں حَيَوَانٌ بھئی۔ اور حَيَوَانٌ کے نیچے لکھیں انسان۔ دیکھو انواع کا بھی ذکر آئے گا اس لیے میں نے انسان جو نوع ہے جنس نہیں وہ بھی میں نے لکھوا دی۔ بھئی دیکھو یہ جو جنسیں ہیں اور یہ جو انواع ہیں یعنی نوع اضافی مراد ہے۔ نوع اضافی کس کو کہتے تھے؟ ہر ایسی نوع حقیقی جس کے اوپر جنس ہو یا ہر ایسی جنس جس کے اوپر جنس ہو۔ تو یہ جنس اور انواع کے درجے بیان کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھیے جنس جو ہے وہ نیچے سے اوپر کی طرف اس میں ترقی ہوتی ہے اور عموم بڑھتا جاتا ہے۔ اور نوع کے اندر اوپر سے نیچے کی طرف وہ اترتی ہے اور اس میں خصوص بڑھتا ہے۔ جنس کے اندر کمال ہے کہ اس میں جتنا زیادہ عموم ہو تاکہ زیادہ سے زیادہ چیزیں اس کے اندر آ جائیں۔ اور نوع کے اندر جو کمال ہے کہ زیادہ سے زیادہ اس میں خصوص ہو تاکہ جتنے بھی مشارکات ہیں وہ سب نکل جائیں بھئی تاکہ افراد کم سے کم ہو جائیں بھئی۔ تو جنس کے بھی کئی درجے اور نوع کے بھی کئی درجے۔
جیسے میں نے ترتیب سے آپ کو لکھوایا بھئی سب سے اوپر کیا ہے؟ جوہر ہے، اس کے نیچے جِسْمِ مُطْلَقٌ ہے، پھر جِسْمِ نَامِيْ ہے، پھر حَيَوَانٌ ہے، اور پھر انسان۔ سب سے پہلے جنسوں میں ترتیب دیکھ لیں بھئی۔ ان میں سے سب سے نیچے والی جنس کون سی ہے؟ انسان تو نوع ہے جنس کی بات کر رہا ہوں جنس کی۔ حَيَوَانٌ، یہ حَيَوَانٌ سب سے نیچے والی جنس ہے۔ لہذا اس کے ساتھ لکھ لیں جِنْسِ سَافِلٌ۔ تو یہ حیوان جِنْسِ سَافِلٌ ہے، سافل کا معنی ہے نیچے والی بھئی، یہ سب سے نیچے والی جنس ہے۔ اس کے اوپر جِسْمِ نَامِيْ ہے۔ دیکھو حَيَوَانٌ کے اندر صرف حیوانات آئے بھئی۔ لیکن جب اوپر گئے جِسْمِ نَامِيْ میں تو وہاں پر حیوانات کے ساتھ ساتھ شجر بھی آ گئے۔ شجر بھی آ گئے دیکھو عموم بڑھ گیا افراد بڑھ گئے۔ پھر اس سے اوپر والی جنس جِسْمِ مُطْلَقٌ میں گئے تو اس میں جِسْمِ نَامِيْ کے ساتھ جسم غیر نامی بھی آ گئے یعنی حجر وغیرہ بھی داخل ہو گئے تو عموم اور بڑھ گیا۔ اس سے اوپر جوہر ہے بھئی، جوہر کے اندر یہ جسم بھی داخل ہے اسی طرح عقل بھی، نفس بھی، ہیولا وغیرہ یہ چیزیں تو دیکھو جوہر میں عموم اور بڑھ گیا بھئی۔
تو ان میں سب سے کم عموم کس کے اندر ہے جنسوں میں؟ حَيَوَانٌ میں۔ حَيَوَانٌ سے اوپر جِسْمِ نَامِيْ میں آئیں تو اس میں عموم بڑھ گیا۔ پھر جسم میں آئیں جِسْمِ مُطْلَقٌ میں تو عموم اور بڑھ گیا۔ اور جوہر میں آئیں تو اس میں سب سے زیادہ عموم ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو حَيَوَانٌ کیا ہے جِنْسِ سَافِلٌ سب سے نیچے والی جنس ہے۔ اور جو سب سے اوپر والی جنس ہو اس کو جِنْسِ عَالِيْ کہتے ہیں۔ تو جوہر کے ساتھ جِنْسِ عَالِيْ لکھ لیں بھئی چھوٹا سا۔ تو جوہر کیا ہے؟ جِنْسِ عَالِيْ، اور حَيَوَانٌ کیا ہے؟ جِنْسِ سَافِلٌ۔ جِنْسِ سَافِلٌ سب سے نیچے والی جنس۔ جِنْسِ عَالِيْ سب سے اوپر والی جنس۔ اور یاد رکھیں یہ جو جِنْسِ عَالِيْ ہے اس کو جِنْسُ الْأَجْنَاسِ بھی کہتے ہیں۔ اس کے ساتھ یہ بھی لکھ لیں چھوٹا سا جِنْسُ الْأَجْنَاسِ۔
جِنْسِ عَالِيْ کے ساتھ لکھ لیں جِنْسُ الْأَجْنَاسِ۔ یہ جو جوہر ہے یہ جِنْسِ عَالِيْ ہے اور اسی کا دوسرا نام کیا؟ جِنْسُ الْأَجْنَاسِ اس کو جِنْسُ الْأَجْنَاسِ کہتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتایا کہ جنس کے اندر کمال یہ ہے کہ اس میں عموم زیادہ ہونا چاہیے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد اس کے اندر آ جائیں۔ تو حَيَوَانٌ میں سب سے کم عموم، جِسْمِ نَامِيْ میں اس سے زیادہ عموم، اور جِسْمِ مُطْلَقٌ میں اس سے بھی زیادہ عموم، اور جوہر میں سب سے زیادہ عموم ہے۔ تو اس کو جِنْسُ الْأَجْنَاسِ کہتے ہیں یعنی تمام جنسوں کی جنس۔ جِنْسُ الْأَجْنَاسِ کا کیا معنی؟ تمام جنسوں کی جنس۔ یعنی یہ سب سے زیادہ عموم ہے یہ سب سے اوپر ہے۔ اسی کو جِنْسِ عَالِيْ بھی کہتے ہیں اور درمیان والی جو ہیں وہ جِنْسِ مُتَوَسِّطٌ ہیں۔ یہ جِسْمِ مُطْلَقٌ بھی جِنْسِ مُتَوَسِّطٌ اور یہ جِسْمِ نَامِيْ بھی جِنْسِ مُتَوَسِّطٌ ہے۔ تو دیکھو جنسوں میں ترتیب ہے نیچے سے اوپر کی طرف ترقی کرتے ہوئے۔ نیچے سے اوپر کی طرف جاتے ہوئے عموم زیادہ ہے۔ سب سے نیچے والی میں سب سے کم عموم اس کو جِنْسِ سَافِلٌ کہتے ہیں اور سب سے اوپر والی میں سب سے زیادہ عموم اس کو جِنْسِ عَالِيْ کہتے ہیں اور اس کا نام کیا ہے؟ جِنْسُ الْأَجْنَاسِ، تمام جنسوں کی یہ جنس ہے بھئی۔ اور درمیان والی جو ہیں وہ جِنْسِ مُتَوَسِّطٌ ہیں۔ایا تھا اور عقل کو جنس بنایا تھا اور اس کے نیچے جو افراد تھے ان کو انواع بنایا تھا۔ اب کیا کرو عقل کو کیا بناؤ نوع کی بات چل رہی ہے۔ اور جوہر کو اس کے لیے کیا بنا دو جنس بنا دو اور نیچے جو افراد ہیں ان کی حقیقت ایک ہی رکھو کیونکہ نوع کے افراد کی حقیقت ایک۔ اگر عقل کو اپ جنس بناتے ہو تو افراد کی حقیقتیں الگ الگ۔ اور اگر عقل کو اپ نوع بناتے ہو تو افراد کی حقیقت ایک ہے۔ تو لہذا یہ نوع ہے اس کے نیچے 10 افراد ہیں اور اوپر اس کے جنس ہے تو یہ ایسی نوع ہے جس کے اوپر کوئی نوع نہیں اور نیچے بھی کوئی نوع نہیں ہے۔ اوپر جنس تو ہے لیکن نوع نہیں ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی تو یہ وہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ نوع مفرد ہیں اور یہ جنس مفرد ہیں تفصیل اچھی طرح سمجھ میں ا گئی۔
پھر سن لو مختصرا ایک صورت میں عقل کو کیا بناؤ جنس بناؤ اور نیچے جو 10 عقول ہیں ان کو اس کے انواع بناؤ لیکن ہر نوع کا ایک ایک ہی فرد ہے۔ یعنی ہر ایک کی حقیقت دوسرے سے الگ اور جوہر کو کیا بنا دو عرض بنا دو تو یہ ایسی جنس ہے جس کے نہ اوپر کوئی جنس ہے اور نہ نیچے کوئی جنس ہے تو یہ جنس مفرد ہے۔ اور دوسری صورت کیا بناؤ اس عقل کو نوع اور جو نیچے 10 عقول ہیں ان کو اس کے افراد بناؤ اور جوہر کو اس کے لیے جنس بناؤ۔ تو یہ ایسی نوع ہے جس کے اوپر اور نیچے کوئی نوع نہیں نیچے افراد ہیں اور اوپر جنس ہے بات سمجھ میں ا گئی تو یہ نوع مفرد کی مثال ہو گئی۔
تو کہتے ہیں دیکھیے کتاب پر ثُمَّ اعْلَمْ پیر تو جان لے کہ أَنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْجِنْسِ الْمُفْرَدِ وَالنَّوْعِ الْمُفْرَدِ کہ مصنف وہ انہوں وہ پیچھے نہیں پڑے جنس مفرد نوع مفرد کے یعنی ان کو ذکر نہیں کیا إِمَّا لِأَنَّ الْكَلَامَ فِيمَا يَتَرَتَّبُ اس لیے کیونکہ کلام ان چیزوں میں ہے جو ترتیب پا جائیں جن میں ترتیب ہو سکے۔ اور ایک ہی چیز میں ترتیب ہو سکتی ہے؟ نہیں ترتیب کے لیے تو دو یا چار چیزیں ہوں گی تو ترتیب ہو گی۔ جب جنس مفرد ہے تو نہ اوپر جنس نہ نیچے جنس تو اب یہاں ترتیب کیسے ہو گی؟ جب نوع مفرد ہے نہ اوپر نوع نہ نیچے نوع پھر یہاں ترتیب نہیں یعنی تو یہاں ترتیب نہیں ہو سکتی اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا۔
کہتے ہیں إِمَّا لِأَنَّ الْكَلَامَ فِيمَا يَتَرَتَّبُ یا تو اس وجہ سے کیونکہ کلام ان انواع اور اجناس میں ہے جو ترتیب جن میں ترتیب ہو سکے وَالْمُفْرَدُ لَيْسَ دَاخِلًا فِي سِلْسِلَةِ التَّرْتِيبِ اور مفرد جو ہے وہ تو ترتیب کے سلسلے میں داخل نہیں ہے داخل نہیں ہو سکتا وَإِمَّا لِعَدَمِ تَيَقُّنِ وُجُودِهِ یا اس وجہ سے کہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ کیونکہ نوع مفرد اور جنس مفرد کا وجود یقینی نہیں ہے۔ ایک ہی چیز کو نوع مفرد کا بھی قرار دیتے ہیں اور کبھی اسی کو جنس مفرد قرار دے کر مثال بناتے ہیں۔ معلوم ہوا ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ اس لیے مصنف نے ذکر نہیں کیا۔ تو دو جواب ہو گئے۔ کس لیے نہیں ذکر کیا مصنف نے؟ یا تو اس لیے کیونکہ وہ ایک ہیں اور ترتیب وہاں نہیں ہو سکتی۔ ان کے اوپر نیچے کوئی جنس یا نوع نہیں۔ یا اس وجہ سے کیونکہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
اوپر کوئی جِنْس نہ ہو۔
جِنْسِ عَالِي وہ جِنْس ہے جس کے نیچے تو جِنْس ہو، اس کے اوپر کوئی جِنْس نہ ہو اور وہ جَوْهَر ہے۔ جَوْهَر کے نیچے تو جِنْس ہے، اوپر کوئی جِنْس نہیں اور جِنْسِ سَافِل اسے کہتے ہیں، جس کے اوپر تو جِنْس ہو، نیچے کوئی جِنْس نہ ہو، لہذا حَيَوَان کو دیکھیں۔ اس کے اوپر تو جِنْس ہے، نیچے جِنْس نہیں۔
اور جِنْسِ مُتَوَسِّط اس کو کہتے ہیں، کہ جس کے اوپر بھی جِنْس ہو اور نیچے بھی جِنْس ہو۔ دیکھو جِسْمِ نَامِي کے اوپر بھی جِنْس ہے اور نیچے بھی جِنْس، اسی طرح جِسْم ہے، اس کے اوپر بھی جِنْس ہے اور اس کے نیچے بھی جِنْس ہے۔ تعریف سمجھ میں آگئی؟ جِنْسِ عَالِي کسے کہتے ہیں؟ وہ جِنْس جس کے نیچے تو جِنْس ہو، اوپر کوئی جِنْس نہ ہو۔ جِنْسِ سَافِل کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر کوئی جِنْس ہو، نیچے کوئی جِنْس نہ ہو۔ اور جِنْسِ مُتَوَسِّط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر بھی کوئی جِنْس ہو اور نیچے بھی جِنْس ہو۔
اسی طرح ترتیب ہے أَنْوَاع کے اندر بھی بھئی۔ کس میں؟ أَنْوَاع کے اندر۔ نَوْعِ حَقِيقِي نہیں، أَنْوَاعِ إِضَافِي مراد ہیں۔ نَوْعِ حَقِيقِي تو ایک ہی ہوتی ہے، جس کے افراد کی حقیقتیں ایک جیسی ہوں۔ جبکہ باقی أَنْوَاعِ إِضَافِي کہلاتی ہیں، جو اوپر کی طرف نسبت کرتے ہوئے نَوْع کہلاتی ہیں۔
جیسے انسان نَوْعِ حَقِيقِي بھی ہے اور نَوْعِ إِضَافِي بھی ہے کیونکہ اس کے اوپر کیا موجود ہے؟ جِنْس حَيَوَان موجود ہے۔ حَيَوَان یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے کیونکہ اس کے اوپر بھی جِنْس موجود ہے۔ جِسْمِ نَامِي وہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے کیونکہ اس کے اوپر بھی جِسْمِ مُطْلَق جِنْس موجود ہے۔ اسی طرح جِسْم، اس کے اوپر بھی جِنْس ہے اور اس کے نیچے بھی جِنْس ہے۔
تعریف سمجھ میں آگئی؟ جِنْسِ عَالِي کسے کہتے ہیں؟ وہ جِنْس جس کے نیچے تو جِنْس ہو، اوپر کوئی جِنْس نہ ہو۔ جِنْسِ سَافِل کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر کوئی جِنْس ہو، نیچے کوئی جِنْس نہ ہو۔ اور جِنْسِ مُتَوَسِّط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر بھی کوئی جِنْس ہو اور نیچے بھی جِنْس ہو۔
اسی طرح ترتیب ہے أَنْوَاع کے اندر بھی بھئی۔ أَنْوَاعِ حَقِيقِي نہیں، أَنْوَاعِ إِضَافِي مراد ہیں۔ نَوْعِ حَقِيقِي تو ایک ہی ہوتی ہے، جس کے افراد کی حقیقتیں ایک جیسی ہوں۔ جبکہ باقی أَنْوَاعِ إِضَافِي کہلاتی ہیں، جو اوپر کی طرف نسبت کرتے ہوئے نَوْع کہلاتی ہیں۔ انسان نَوْعِ حَقِيقِي بھی ہے اور نَوْعِ إِضَافِي بھی ہے، کیونکہ اس کے اوپر جِنْس حَيَوَان موجود ہے۔
حَيَوَان یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے، کیونکہ اس کے اوپر بھی جِنْس موجود ہے۔ جِسْمِ نَامِي یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے، کیونکہ اس کے اوپر جِسْمِ مُطْلَق جِنْس موجود ہے۔ اور جِسْمِ مُطْلَق یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے، کیونکہ اس کے اوپر بھی جِنْس موجود ہے۔ لیکن جَوْهَر وہ نَوْعِ إِضَافِي نہیں ہے۔ کیونکہ نَوْعِ إِضَافِي کے اوپر جِنْس کا ہونا ضروری ہے اور جَوْهَر کے اوپر کوئی جِنْس نہیں ہے۔ یہ تو جِنْسُ الْأَجْنَاس ہے۔ یہ تو سب سے اوپر والی جِنْس ہے۔
أَنْوَاع میں بھی اسی طرح ترتیب ہے بھئی۔ لیکن جِنْس کے اندر ترتیب تھی نیچے سے اوپر کی طرف جائیں تاکہ عُمُوم بڑھتا جائے۔ کیونکہ جِنْس میں کمال کیا ہے؟ جتنا عُمُوم زیادہ ہوگا اتنی ہی بڑی جِنْس ہوگی۔ جبکہ نَوْع کے اندر خُصُوص کمال ہے۔ جتنی خاص ہوگی وہ، یعنی افراد کم سے کم ہوں گے، یہ اس کے اندر کمال ہے۔
انسان جو ہے یہ سب سے نیچے والی نَوْع ہے، تو اس کو کہیں گے نَوْعِ سَافِل۔ اس کے ساتھ لکھ لیں بھئی، نَوْعِ سَافِل۔ نَوْعِ إِضَافِي کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر کوئی جِنْس ہو۔ تو انسان کے اوپر جِنْس موجود ہے، حَيَوَان، لہذا یہ بھی نَوْع ہے۔ حَيَوَان پر نظر رکھیں، اس کے اوپر بھی ایک جِنْس موجود ہے تو حَيَوَان بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے۔
جِسْمِ نَامِي یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے کیونکہ اس کے اوپر جِسْمِ مُطْلَق جِنْس موجود ہے۔ جِسْمِ مُطْلَق یہ بھی نَوْعِ إِضَافِي ہے کیونکہ اس کے اوپر جَوْهَر جِنْس موجود ہے۔ لیکن جَوْهَر نَوْعِ إِضَافِي نہیں کیونکہ نَوْعِ إِضَافِي کے اوپر جِنْس کا ہونا ضروری ہے، اور جَوْهَر کے اوپر کوئی جِنْس نہیں ہے۔ یہ تو جِنْسُ الْأَجْنَاس ہے۔ تو جِنْسُ الْأَجْنَاس کون سی جِنْس کو کہتے ہیں؟ اور نَوْعُ الْأَنْوَاع کس نَوْع کو کہتے ہیں؟
ثُمَّ الْأَجْنَاسُ قَدْ تَتَرَتَّبُ مُتَصَاعِدَةً اور پھر جنسیں جو ہیں وہ کبھی ترتیب پاتی ہیں مُتَصَاعِدَةً اوپر چڑھتے ہوئے إِلَى الْعَالِي عالی تک بھئی۔ جِنْسیں کبھی ترتیب پاتی ہیں قَدْ لے کر آئے، یعنی ہمیشہ نہیں ہوگا۔ ترتیب وہی ہوگی نا جہاں جِنْس کے اوپر جِنْس کے اوپر دو تین جنسیں ہوں گی تبھی ترتیب بنے گی۔ اگر ایک ہی جِنْس ہو پھر ترتیب ہو سکتی ہے؟ نہیں، ترتیب کے لیے کم از کم کچھ افراد تو ہونے چاہیے بھئی۔
وَالْأَنْوَاعُ مُتَنَازِلَةً یہ أَنْوَاع کا عطف ہے، قَدْ تَتَرَتَّبُ ترتیب پاتی ہیں۔ اس کے اندر هِيَ ضمیر ہے اور وہ راجع ہے أَجْنَاس کو۔ کیا چیز ترتیب پاتی ہیں؟ جنسیں، أَجْنَاس یعنی جنسیں ترتیب پاتی ہیں۔ تو تَتَرَتَّبُ کے اندر هِيَ ضمیر جو راجع ہے أَجْنَاس کو۔ اور اسی هِيَ ضمیر پر عطف ہے أَنْوَاع کا بھی۔
أَيْ قَدْ تَتَرَتَّبُ الْأَنْوَاعُ مُتَنَازِلَةً اور کبھی أَنْوَاع ترتیب پاتی ہیں مُتَنَازِلَةً نیچے کی طرف اترتے ہوئے إِلَى السَّافِل کہاں تک؟ نَوْعِ سَافِل تک۔ وَيُسَمَّى نَوْعُ الْأَنْوَاعِ اور اس نَوْعِ سَافِل کو کیا کہتے ہیں؟ نَوْعُ الْأَنْوَاعِ یعنی تمام نوعوں کی یہ نَوْع ہے یعنی اس میں سب سے زیادہ خُصُوص ہے۔
وَمَا بَيْنَهُمَا مُتَوَسِّطَاتٌ اور وہ جو ان دونوں کے درمیان ہیں یعنی عَالِي اور سَافِل کے درمیان وہ مُتَوَسِّطَات ہیں۔ چاہے وہ جِنْس ہو تو جِنْسِ مُتَوَسِّط اور اگر وہ نَوْع ہو تو نَوْعِ مُتَوَسِّط ہے۔ جِنْسِ عَالِي کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر کوئی جِنْس نہ ہو اور نیچے جِنْس ہو۔ اور جِنْسِ سَافِل کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر کوئی جِنْس ہو اور نیچے کوئی جِنْس نہ ہو۔ اور جِنْسِ مُتَوَسِّط کسے کہتے ہیں؟ جس کے اوپر بھی کوئی جِنْس ہو اور نیچے بھی کوئی جِنْس ہو۔
یہی ترتیب أَنْوَاع میں بھی ہے۔ نَوْعِ عَالِي کسے کہیں گے؟ جس کے اوپر تو کوئی نَوْع نہ ہو لیکن نیچے نَوْع ہو۔ اور نَوْعِ سَافِل کسے کہیں گے؟ جس کے اوپر تو کوئی نَوْع ہو، نیچے کوئی نَوْع نہ ہو۔ اور نَوْعِ مُتَوَسِّط کسے کہیں گے؟ جس کے اوپر بھی نَوْع اور جس کے نیچے بھی نَوْع ہو۔ تفصیل سمجھ میں آگئی؟
قَوْلُهُ مُتَصَاعِدَةً مصنف کا قول مُتَصَاعِدَةً اوپر چڑھتے ہوئے بِأَنْ يَكُونَ التَّرَقِّي مِنَ الْخَاصِّ إِلَى الْعَامِّ بائیں صورت کہ ترقی ہوتی ہے خَاصّ سے عَامّ کی طرف۔ وَذَلِكَ لِأَنَّ جِنْسَ الْجِنْسِ أَعَمُّ مِنَ الْجِنْسِ کیونکہ کسی جِنْس کی جو جِنْس ہوتی ہے وہ اس جِنْس سے زیادہ عَامّ ہوتی ہے۔
وَهَكَذَا إِلَى جِنْسٍ لَا جِنْسَ لَهُ فَوْقَهُ اور اسی طرح ترقی ہوتی ہے ایسی جِنْس تک کہ اس کے لیے اس کے اوپر کوئی جِنْس نہیں ہے۔ وَهُوَ الْعَالِي اور وہ عَالِي ہے یعنی جِنْسِ عَالِي ہے۔ وَجِنْسُ الْأَجْنَاسِ اور وہ جِنْسُ الْأَجْنَاسِ ہے، یعنی تمام جنسوں کی جِنْس ہے۔ كَالْجَوْهَرِ جیسے کہ جَوْهَر ہے۔
قَوْلُهُ مُتَنَازِلَةً مصنف کا قول مُتَنَازِلَةً بِأَنْ يَكُونَ التَّنَزُّلُ مِنَ الْعَامِّ إِلَى الْخَاصِّ بائیں طور کہ اترنا ہو عَامّ سے خَاصّ کی طرف۔ خُصُوص کمال ہے، جتنے افراد کم ہوتے جائیں، وہ نیچے اترتے ہوئے ہے۔ وَذَلِكَ لِأَنَّ نَوْعَ النَّوْعِ يَكُونُ أَخَصَّ مِنَ النَّوْعِ اور یہ اس وجہ سے کیونکہ ایک نَوْع کی جو نَوْع ہوتی ہے وہ اس نَوْع سے زیادہ خَاصّ ہوتی ہے۔
وَهَكَذَا إِلَى نَوْعٍ اور اسی طرح نیچے کی طرف اترتے ہیں ایسی نَوْع تک لَا نَوْعَ لَهُ تَحْتَهُ کہ اس کے نیچے اس کی کوئی نَوْع نہیں ہوتی۔ وَهُوَ السَّافِلُ اور یہ نَوْعِ سَافِل ہے، نیچے والی نَوْع ہے۔ وَنَوْعُ الْأَنْوَاعِ اور یہ نَوْعُ الْأَنْوَاعِ ہے، یعنی تمام نوعوں کی أَنْوَاع۔ كَالْإِنْسَانِ جیسے کہ انسان ہے۔
قَوْلُهُ وَمَا بَيْنَهُمَا مُتَوَسِّطَاتٌ اور وہ جو ان دونوں کے درمیان ہیں وہ مُتَوَسِّطَات ہیں۔ أَيْ مَا بَيْنَ الْعَالِي وَالسَّافِلِ وہ جو عَالِي اور سَافِل کے درمیان ہیں فِي سِلْسِلَتَيِ الْأَنْوَاعِ وَالْأَجْنَاسِ أَنْوَاع اور أَجْنَاس کے دونوں سلسلوں میں، تُسَمَّى مُتَوَسِّطَاتٍ ان کو مُتَوَسِّطَات کہتے ہیں۔
یہ تُسَمَّى کا مَفْعُول ہے۔ تُسَمَّى دو مَفْعُول چاہتا ہے۔ سَمَّيْتُ الرَّجُلَ زَيْدًا میں نے نام رکھا الرَّجُل یہ ہے مَفْعُول أَوَّل اور زَيْدًا یہ کیا ہے مَفْعُول ثَانِي تو یہ دو مَفْعُول چاہتا ہے۔ فَمَا بَيْنَ الْجِنْسِ الْعَالِي وَالْجِنْسِ السَّافِلِ أَجْنَاسٌ مُتَوَسِّطَةٌ تو وہ جو جِنْسِ عَالِي اور جِنْسِ سَافِل کے بیچ ہیں وہ أَجْنَاسِ مُتَوَسِّطَة ہیں۔ وَمَا بَيْنَ النَّوْعِ الْعَالِي وَالنَّوْعِ السَّافِلِ أَنْوَاعٌ مُتَوَسِّطَةٌ اور وہ جو نَوْعِ عَالِي اور نَوْعِ سَافِل کے بیچ میں ہیں أَنْوَاعِ مُتَوَسِّطَة ہیں۔
هَذَا إِنْ رَجَعَ الضَّمِيرُ إِلَى مُجَرَّدِ الْعَالِي وَالسَّافِلِ یہ اس وقت ہے کہ اگر ضمیر لوٹے مجرد عَالِي اور سَافِل کو۔ وَإِنْ عَادَ إِلَى الْجِنْسِ الْعَالِي وَالنَّوْعِ السَّافِلِ الْمَذْكُورَيْنِ صَرِيحًا اور اگر یہ ضمیر لوٹے جِنْسِ عَالِي اور نَوْعِ سَافِل کو جو صراحتاً مذکور ہیں كَانَ الْمَعْنَى تو معنی یہ ہوگا کہ مَا بَيْنَ الْجِنْسِ الْعَالِي وَالنَّوْعِ السَّافِلِ مُتَوَسِّطَاتٌ کہ وہ جو جِنْسِ عَالِي اور نَوْعِ سَافِل کے بیچ میں ہیں مُتَوَسِّطَات ہیں۔
إِمَّا جِنْسٌ مُتَوَسِّطٌ فَقَطْ یا تو صرف وہ جِنْسِ مُتَوَسِّط ہوں گی كَالنَّوْعِ الْعَالِي جیسے نَوْعِ عَالِي۔ جِسْم یہ صرف جِنْسِ مُتَوَسِّط ہے نَوْعِ مُتَوَسِّط نہیں ہے بلکہ یہ تو نَوْعِ عَالِي ہے۔ أَوْ نَوْعٌ مُتَوَسِّطٌ فَقَطْ یا صرف نَوْعِ مُتَوَسِّط ہوگا كَالْجِنْسِ السَّافِلِ جیسے کہ جِنْسِ سَافِل۔ حَيَوَان یہ جِنْسِ مُتَوَسِّط نہیں یہ تو جِنْسِ سَافِل ہے۔ ہاں، یہ نَوْعِ مُتَوَسِّط ہے۔
أَوْ جِنْسٌ مُتَوَسِّطٌ وَنَوْعٌ مُتَوَسِّطٌ مَعًا یا وہ جِنْسِ مُتَوَسِّط اور نَوْعِ مُتَوَسِّط ہوگی اکٹھی یعنی دونوں ہوگا۔ كَالْجِسْمِ النَّامِي جیسے کہ جِسْمِ نَامِي ہے۔ ثُمَّ اعْلَمْ پھر تو جان لے أَنَّ الْمُصَنِّفَ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْجِنْسِ الْمُفْرَدِ وَالنَّوْعِ الْمُفْرَدِ کہ مصنف جو ہے وہ پیچھے نہیں پڑے جِنْسِ مُفْرَد کے اور نَوْعِ مُفْرَد کے، مصنف نے ذکر نہیں کیا جِنْسِ مُفْرَد اور نَوْعِ مُفْرَد کو۔
مَنَاطِقَة کہتے ہیں کہ اس کائنات کو دس عقلوں نے پیدا کیا۔ اللہ کی ذات ایک ہے، وَاجِبُ الْوُجُود کی ذات ایک ہے، یہ وہ بھی تسلیم کرتے ہیں، لیکن پھر کچھ چیزیں انہوں نے اپنی طرف سے ملا دیں جو ان کے کفریہ عقیدے ہیں۔ اللہ کی ذات ہر اعتبار سے ایک ہی ایک ہے۔ وہاں دو ہونے کا کوئی احتمال ہی نہیں۔ جو خود ایک ہے اس سے چیزیں بھی کتنی ہو سکتی ہیں؟ ایک ہی۔ تو اللہ نے یہ ساری کائنات یہ ساری چیزیں اللہ نے خود نہیں پیدا فرمائیں، اللہ نے صرف عَقْلِ أَوَّل کو پیدا فرمایا۔
عَقْلِ أَوَّل اس کی پھر تین جہتیں تھیں۔ ایک جہت سے اس نے عَقْلِ ثَانِي کو پیدا کیا اور دو جہتوں سے کائنات کی کچھ چیزیں بنائیں۔ پھر جو اگلی عَقْل پیدا ہوئی اس میں بھی تین جہتیں تھیں، ایک جہت سے اس نے عَقْلِ ثَالِث کو پیدا کیا اور دو جہتوں سے کائنات کی کچھ چیزیں بنائیں۔ اس عَقْلِ ثَالِث نے عَقْلِ رَابِع کو پیدا کیا، عَقْلِ رَابِع نے خَامِس کو، سَادِس کو، اسی طرح یہاں تک کہ عَقْلِ تَاسِع نے عَقْلِ عَاشِر کو پیدا کیا، دسویں عَقْل کو۔
یہ جو دس عقلیں ہیں، یہ جَوْهَر سے مجرد ہیں۔ یہ نظر نہ آنے والی ہیں اور یہ بے انتہا طاقتوں کی مالک ہیں۔ انتہائی پاکیزہ ہیں اور بے انتہا طاقتوں کی مالک ہیں۔ تو یہ جو دس عقلیں ہیں انہوں نے کائنات کو سارا بنایا۔ اور یہ جو عَقْلِ عَاشِر ہے، دسویں عَقْل، یہ اس وقت اس ساری کائنات کا نظام چلا رہی ہے اور اس کو وہ عَقْلِ فَعَّال کہتے ہیں۔ عَقْلِ فَعَّال جو یہ سارے فعل کرنے والی ہے، سارے کام سرانجام دینے والی ہے۔
یہ مَنَاطِقَة کے کفریہ عقائد ہیں۔ اسلام ان تمام چیزوں کی نفی کرتا ہے۔ اللہ فَعَّالٌ لِمَا يُرِيدُ، اللہ جو چاہتے ہیں کرتے ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہیں۔ اللہ ان چیزوں کے محتاج نہیں ہیں۔ تو بہرحال یہ مَنَاطِقَة کے کفریہ عقائد، تو وہ کہتے ہیں یہ دس عقلیں ہیں۔ انہوں نے کائنات کو بنایا اور انہی میں سے جو دسویں عَقْل ہے وہ کائنات کا نظام چلا رہی ہے۔ یہ عُقُولِ عَشَرَة ہیں۔
تو جِنْسِ مُفْرَد اور نَوْعِ مُفْرَد کی مثال میں انہی کو مَنَاطِقَة ذکر کرتے ہیں۔ جِنْسِ مُفْرَد، اسی عَقْل کو کیا کہہ دیتے ہیں کہ یہ جِنْسِ مُفْرَد ہے۔ یہ جَوْهَر اس کے لیے عَرَض ہے۔ یہ ایسی جِنْس ہے جس کے اوپر کوئی جِنْس نہیں، اور نیچے بھی جِنْس نہیں۔ نیچے جو دس افراد ہیں، وہ دس أَنْوَاعِ عَقْل ہیں۔ وہ الگ الگ ہر نَوْع دوسری سے الگ ہے۔ لیکن ہر نَوْع کا ایک ایک ہی فرد پایا جاتا ہے۔ ہر نَوْع کی ایک ہی فرد ہے، ایک ہی عَقْل ہے۔ دس عقلیں ہیں نا، دس افراد ہیں، تو ہر نَوْع کا ایک ایک فرد ہے اور افراد ممکن ہی نہیں۔
تو عَقْل کو کیا قرار دیا؟ جِنْس۔ اور جَوْهَر کو کیا بنا دیا اس کے لیے؟ عَرَض۔ اور نیچے جو افراد تھے ان کو کیا بنا دیا؟ أَنْوَاع۔ تو یہ دیکھو یہ عَقْل ایسی جِنْس ہے جس کے نہ اوپر کوئی جِنْس ہے اور نہ کوئی نیچے جِنْس ہے، تو یہ جِنْسِ مُفْرَد ہے۔ نَوْعِ مُفْرَد میں بھی اسی کو مثال میں پیش کرتے ہیں۔ عَقْل کو نَوْع بنا دو۔ اور اس نَوْع کے تحت دس افراد ہیں، اور وہ عُقُولِ عَشَرَة ہیں۔ اور جَوْهَر کو ان کے لیے جِنْس بنا دو۔ تو پہلے جَوْهَر کو عَرَض بنایا تھا۔ تو یہ عَقْل ایسی نَوْع ہے جس کے نہ اوپر کوئی نَوْع ہے اور نہ نیچے کوئی نَوْع ہے۔
ایا تھا اور عقل کو جنس بنایا تھا اور اس کے نیچے جو افراد تھے ان کو انواع بنایا تھا۔ اب کیا کرو عقل کو کیا بناؤ نوع کی بات چل رہی ہے۔ اور جوہر کو اس کے لیے کیا بنا دو جنس بنا دو اور نیچے جو افراد ہیں ان کی حقیقت ایک ہی رکھو کیونکہ نوع کے افراد کی حقیقت ایک۔ اگر عقل کو اپ جنس بناتے ہو تو افراد کی حقیقتیں الگ الگ۔ اور اگر عقل کو اپ نوع بناتے ہو تو افراد کی حقیقت ایک ہے۔ تو لہذا یہ نوع ہے اس کے نیچے 10 افراد ہیں اور اوپر اس کے جنس ہے تو یہ ایسی نوع ہے جس کے اوپر کوئی نوع نہیں اور نیچے بھی کوئی نوع نہیں ہے۔ اوپر جنس تو ہے لیکن نوع نہیں ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی تو یہ وہ ذکر کرتے ہیں کہ یہ نوع مفرد ہیں اور یہ جنس مفرد ہیں تفصیل اچھی طرح سمجھ میں ا گئی۔
پھر سن لو مختصرا ایک صورت میں عقل کو کیا بناؤ جنس بناؤ اور نیچے جو 10 عقول ہیں ان کو اس کے انواع بناؤ لیکن ہر نوع کا ایک ایک ہی فرد ہے۔ یعنی ہر ایک کی حقیقت دوسرے سے الگ اور جوہر کو کیا بنا دو عرض بنا دو تو یہ ایسی جنس ہے جس کے نہ اوپر کوئی جنس ہے اور نہ نیچے کوئی جنس ہے تو یہ جنس مفرد ہے۔ اور دوسری صورت کیا بناؤ اس عقل کو نوع اور جو نیچے 10 عقول ہیں ان کو اس کے افراد بناؤ اور جوہر کو اس کے لیے جنس بناؤ۔ تو یہ ایسی نوع ہے جس کے اوپر اور نیچے کوئی نوع نہیں نیچے افراد ہیں اور اوپر جنس ہے بات سمجھ میں ا گئی تو یہ نوع مفرد کی مثال ہو گئی۔
تو کہتے ہیں دیکھیے کتاب پر ثُمَّ اعْلَمْ پیر تو جان لے کہ أَنَّ الْمُصَنِّفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَمْ يَتَعَرَّضْ لِلْجِنْسِ الْمُفْرَدِ وَالنَّوْعِ الْمُفْرَدِ کہ مصنف وہ انہوں وہ پیچھے نہیں پڑے جنس مفرد نوع مفرد کے یعنی ان کو ذکر نہیں کیا إِمَّا لِأَنَّ الْكَلَامَ فِيمَا يَتَرَتَّبُ اس لیے کیونکہ کلام ان چیزوں میں ہے جو ترتیب پا جائیں جن میں ترتیب ہو سکے۔ اور ایک ہی چیز میں ترتیب ہو سکتی ہے؟ نہیں ترتیب کے لیے تو دو یا چار چیزیں ہوں گی تو ترتیب ہو گی۔ جب جنس مفرد ہے تو نہ اوپر جنس نہ نیچے جنس تو اب یہاں ترتیب کیسے ہو گی؟ جب نوع مفرد ہے نہ اوپر نوع نہ نیچے نوع پھر یہاں ترتیب نہیں یعنی تو یہاں ترتیب نہیں ہو سکتی اس لیے ان کو ذکر نہیں کیا۔
کہتے ہیں إِمَّا لِأَنَّ الْكَلَامَ فِيمَا يَتَرَتَّبُ یا تو اس وجہ سے کیونکہ کلام ان انواع اور اجناس میں ہے جو ترتیب جن میں ترتیب ہو سکے وَالْمُفْرَدُ لَيْسَ دَاخِلًا فِي سِلْسِلَةِ التَّرْتِيبِ اور مفرد جو ہے وہ تو ترتیب کے سلسلے میں داخل نہیں ہے داخل نہیں ہو سکتا وَإِمَّا لِعَدَمِ تَيَقُّنِ وُجُودِهِ یا اس وجہ سے کہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ کیونکہ نوع مفرد اور جنس مفرد کا وجود یقینی نہیں ہے۔ ایک ہی چیز کو نوع مفرد کا بھی قرار دیتے ہیں اور کبھی اسی کو جنس مفرد قرار دے کر مثال بناتے ہیں۔ معلوم ہوا ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ اس لیے مصنف نے ذکر نہیں کیا۔ تو دو جواب ہو گئے۔ کس لیے نہیں ذکر کیا مصنف نے؟ یا تو اس لیے کیونکہ وہ ایک ہیں اور ترتیب وہاں نہیں ہو سکتی۔ ان کے اوپر نیچے کوئی جنس یا نوع نہیں۔ یا اس وجہ سے کیونکہ ان کا وجود یقینی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں ا گئی؟ چلیے بس بھئی هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔