کل کے سبق میں آپ نے مولانا پڑھا
کہ علامہ سکاکی نے استعارہ تخییلیہ کی کیا تعریف کی تھی، بھئی؟
کہ استعارہ تخییلیہ وہ ہے جس کے معنی کا نہ حساً تحقق ہو اور نہ عقلاً تحقق ہو، بلکہ یہ ایک وہمی صورت... وہمی کے ایک وہمی صورت ہے مولانا، جس کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ ایک حقیقی صورت کے ساتھ۔
جیسے کہ ہذلی شاعر کے قول میں: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“۔ یہاں پر جب کہتے ہیں جب تشبیہ دی شاعر نے موت کو کس کے ساتھ؟ درندے کے ساتھ، تو قوتِ واہمہ... وہم شروع ہوا اور اس نے کیا کیا؟ موت کے لیے درندے کی ایک صورت بنا ڈالی اور پھر اس کے لیے درندے کے لوازمات کا وہم بنانے لگا، چنانچہ اس کے لیے کیا بنائے؟ وہمی صورت بنائی جو پنجوں کے مشابہ تھی، بھئی۔
تو وہمی... وہ وہمی صورت جو پنجوں کے مشابہ تھی، اس کے لیے اظفار یعنی پنجوں کا لفظ جو کہ حقیقی پنجوں کے لیے وضع تھا، اس کو استعمال کر لیا گیا، بھئی۔ یہ لفظ مستعار لیا گیا، تو اس میں کیا آ گیا مولانا؟ استعارہ... استعارہ آ گیا، بھئی۔ اور چنانچہ وہ فرماتے ہیں کہ تخییلیہ جو ہے، یہ ت... استعارہ بالکنایہ یہ تو تخییلیہ کے بغیر نہیں پایا جاتا، لیکن تخییلیہ بغیر استعارے کے بھی... بغیر استعارہ بالکنایہ کے بھی ہاں پایا جا سکتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے یہ مثال ذکر کی اس کی کہ: ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“۔ تو یہاں پر دیکھو استعارہ تخییلیہ تو ہے لیکن استعارہ بالکنایہ نہیں، اس لیے کہ منیّہ کے ساتھ جو مشبہ ہے، مشبہ بہٖ یعنی سبع بھی ذکر ہے۔ اور استعارے میں تو ایک چیز ذکر ہوتی ہے، دونوں چیزیں، دونوں طرفینِ تشبیہ ذکر نہیں ہوتیں۔ اور علامہ سکاکی کی اس تعریف کو مصنف نے رد کیا کہ اس کے اندر تکلف ہے مولانا۔ تکلف ہے کہ کثرتِ اعتبارات... کثیر اعتبارات ہمیں کرنا پڑتے ہیں کہ ایک صورتِ وہ... پہلے کیا ہے کہ صورتِ وہمی بنانا پڑتی ہے، پھر اس صورتِ وہمی کو تشبیہ دینا پڑتی ہے حقیقی صورت کے ساتھ، پھر حقیقی صورت کے لفظ کو استعمال کرنا پڑتا ہے کس کے لیے؟ اس وہمی صورت کے لیے۔ اور یہ... تو اس میں بھی انتہا تکلف ہے، بھئی۔ اور چنانچہ کہتے ہیں علامہ سکا... اس میں تکلف ہے اور علامہ سکاکی کی یہ تعریف عام لوگوں... عام علمائے بیان نے جو استعارہ بالک... استعارہ تخییلیہ کی تعریف کی ہے، اس کے خلاف ہے، بھئی۔
انہوں نے استعارہ تخییلیہ کی کیا تعریف کی ہے؟ کہ ایک شے کو یعنی مشبہ... مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کیا جائے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ مشبہ کے لیے ثابت کیا جائے۔ اس سلسلے میں انہوں نے شیخ عبدالقاہر کے کلام کو بھی نقل کیا، بھئی، علامہ تفتازانی نے۔
لیکن کہتے ہیں علامہ تفتازانی فرماتے ہیں کہ یہ بات اس... پھر بھی باقی رہتی ہے کہ شیخ... علامہ سکاکی جو ہیں، علامہ سکاکی وہ تو اس فن کے مجتہد ہیں، لہٰذا ان پر یہ الزام لگانا کہ انہوں نے ایسی تعریف کی ہے جو کسی اور سے منقول نہیں ہے، یہ اعتراض صحیح نہیں ہے۔ کیونکہ وہ ت... وہ دوسروں کے تابع ہونا ان کے لیے ضروری نہیں، بھئی۔ اور پھر دوسری خرابی یہ لازم آتی ہے کہ انہوں نے کیا کیا تھا؟ تخییلیہ کے اندر ایک وہمی صورت بنائی تھی اور کس کے لیے تھا؟ وہمی صورت بنائی تھی۔ تو کہتے ہیں اس کیونکہ اظفار کا ذکر آیا تھا کس کے لیے؟ منیّہ کے لیے، اور منیّہ کے لیے تو اظفار نہیں، تو معلوم ہوا اظفار سے کیا مراد ہیں؟ وہمی اظفار۔ تو کہتے ہیں اس صورت میں تو پھر ترشیح بھی کیا بن جائے گا؟ تخییلیہ بن جائے گا۔ اس لیے کہ وہاں پر بھی مشبہ بہٖ ذکر ہوتا ہے اور کیا مراد ہوتا ہے؟ مشبہ مراد۔ تو مراد مشبہ ہوتا ہے اور ساتھ اس کے پھر مشبہ بہٖ کے مناسبات ذکر ہوتے ہیں اور مشبہ بہٖ کے مناسبات تو مشبہ بہٖ کے ساتھ آنے چاہییں، اور یہاں تو کیا مراد ہے؟ مشبہ۔ تو یہاں اور مشبہ کے لیے وہ مناسبات ہیں نہیں، تو پھر ہمیں بھی یہاں بھی کیا کرنا پڑے گا؟ ایک وہمی صورت بنا کر اس کا اثبات کرنا پڑے گا، تو دونوں میں کوئی فرق نہیں رہے گا، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو یہاں بھی وہمی صورت بنانا پڑے گی۔ صرف یہ فرق ہے مولانا کہ استعارہ تخییلیہ کے اندر، بھئی، کہ یہاں وہاں پر مشبہ ہی کا لفظ ذکر ہوتا ہے، جبکہ استعارہ ترشیحیہ کے اندر مشبہ... اس کے ساتھ مشبہ بہٖ کا لفظ ذکر ہوتا ہے۔ تو صرف اس فرق کی وجہ سے ایک کے اندر معنی متوہم کا اعتبار کرنا اور ترشیح کے اندر معنی متوہم کا اعتبار کرنا یہ صحیح نہیں۔ یہ تو تحکم ہے، حکم بلا دلیل کے ہے، یہ تو زبردستی ہے۔
جواب اس کا ذکر کرتے ہیں علامہ تفتازانی کہ جواب یہ ہے کہ بھئی جب وہاں پر مشبہ ذکر تھا عبارت کے اندر اور اس کے ساتھ کیا ذکر تھے؟ مشبہ بہٖ کے لوازم ذکر تھے، تو مشبہ کے لیے تو مشبہ بہٖ کے لوازم نہیں تھے، تو لہٰذا ہمیں ایک صورتِ وہمیہ بنانا پڑی۔ جبکہ استعارہ ترشیحیہ کے اندر کیا ذکر ہوتا ہے؟ مشبہ بہٖ خود ذکر ہوتا ہے۔ جب مشبہ بہٖ ذکر ہے، اگرچہ مراد اس سے کیا ہے؟ مشبہ۔ لیکن ذکر تو مشبہ بہٖ ہے اور ساتھ کیا ہیں؟ مشبہ بہٖ کے لوازم ہیں۔ تو ہم کیا... تو گویا کہ ہم یوں سمجھتے ہیں کہ مشبہ بہٖ ذکر ہے تو یہاں اس کے اپنے ہی حقیقی معنی مراد ہیں۔ اپنا... اور جب اپنا حقیقی معنی مراد ہے تو اس کے ساتھ اس کے لوازم ذکر ہو رہے ہیں، بھئی۔ اور اس کے لوازم جب وہ خود ذکر ہے جس چیز کے لوازم ہیں، تو یہاں کوئی خیالی صورت بنانے کی ذک... ضرورت نہیں ہے، بھئی۔ اس کے بعد کہتے ہیں علامہ سکاکی نے جو ہے وہ تعریف کی استعارہ بالکنایہ کی کہ جس کے اندر طرف جو ہے مشبہ مذکور ہو اور مراد کیا ہو؟ مشبہ بہٖ ہو۔ جیسے منیّہ مراد ہے اور اس سے مراد سبع ادعائی ہے۔ اور دلیل اس کی کیا ہے؟ قرینہ کیا ہے کہ یہاں سبع ادعائی مراد ہے؟ کہتے ہیں اس کا قرینہ جو ہے اظفار کی اضافت ہے منیّہ کی طرف، اور منیّہ کے تو اظفار نہیں ہوتے، معلوم ہوا منیّہ بول کر کیا مراد ہے؟ سبع ادعائی مراد ہے۔
اور اس کو بھی رد کیا گیا کہ یہاں... سمجھ میں آیا، بھئی؟
تو کہ یہ پھر اس صورت کے اندر، بھئی، یہ تو اپنے... اس میں استعارہ ہے ہی نہیں، کیونکہ لفظ استعمال ہو رہا ہے کس کے اندر؟ اپنے معنی موضوع لہ کے اندر استعمال ہو رہا ہے، اور استعارے کے اندر تو لفظ اپنے معنی موضوع لہ میں نہیں استعمال ہوتا بلکہ غیر موضوع لہ میں استعمال ہوتا ہے۔ جی۔
تو یہاں اپنے معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، منیّہ سے مراد منیّہ ہی ہے، بھئی۔ اس پر اشکال ہوا کہ اگر منیّہ علامہ سکاکی کی طرف سے کہ اگر منیّہ ہی مراد ہے تو پھر اس کے لیے اظفار کو ثابت کرنے کا کیا معنی، بھئی؟ موت کے تو پنجے نہیں ہوتے۔ تو جواب دیتے ہیں مصنف اس کا کہ جو اظفار کی اضافت کی ہے مولانا، وہ قرینہ ہے تشبیہ کا کہ دراصل ہم نے نفس کے اندر تشبیہ دی ہے منیّہ کو کس کے ساتھ؟ سبع کے ساتھ۔ اس کے لیے کوئی قرینہ چاہیے، کیونکہ عبارت میں تو ذکر نہیں ہے تشبیہ۔ تو اس کے لیے پھر یہ اظفار ہم قرینہ لے کر آتے ہیں، بھئی۔
تو یہ کہتے ہیں کہ مصنف کے سب سے قوی اعتراضات میں سے ہے جو علامہ سکاکی پر ابھی تک کیا انہوں نے، بھئی۔ تو اس کا اس کا یہ جواب دیا گیا مولانا کہ یہاں پر ل... اگرچہ منیّہ کے لفظ کی تصریح ہے لیکن اس سے سبع ادعائی مراد ہے۔ سبع... تو ہم نے منیّہ کو بھی سبع کے افراد میں سے بنا دیا، تو سبع کے دو افراد ہوئے: ایک سبع حقیقی اور ایک سبع... تو ایک متعارف ہوا، ایک غیر متعارف ہوا۔ تو ہم کہتے ہیں تو جیسے سبع کا لفظ سبع کے لیے وضع ہے، منیّہ کا لفظ بھی کس کے لیے وضع ہے؟ سبع ہی کے لیے وضع ہے، یعنی سبع ادعائی۔ تو دونوں سبع ہوئے، معلوم ہوا ایک ہی حقیقت کے لیے دو لفظ وضع ہیں۔ ایک ہی حقیقت کے لیے دو لفظ وضع ہیں تو دونوں آپس میں مترادف ہیں۔ تو جب سبع سے مراد سبع ہے اور منیّہ بھی اس کے مترادف ہوا، تو منیّہ سے بھی کیا مراد ہوا؟ سبع مراد ہوا مولانا۔ تو دیکھو منیّہ بول کر کیا مراد؟ سبع مراد ہوا، تو استعارہ آ گیا، بھئی۔
علامہ تفتازانی اس کو رد کرتے ہیں، کہتے ہیں اس کلام... جواب کے اندر بھی اشکال ہے۔ یہ تقاضا نہیں کرتا کہ منیّہ سے مراد غیر موضوع لہ حقیقی ہے، بلکہ پھر بھی مراد تو اس سے کیا ہے؟ آپ نے تاویل تو کر لی کہ منیّہ بول کر سبع ادعائی مراد ہے لیکن سبع ادعائی ہے کون؟ منیّہ ہی ہے۔ تو آپ نے اگرچہ اتنی تاویل بھی کر لی لیکن پھر بھی منیّہ بمعنی منیّہ ہی کے رہا، تو یہ تو استعارہ ہوا ہی نہ، بھئی۔ یہ تو معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے لفظ۔
تو کہتے ہیں یہ جواب دیا جا سکتا ہے کہ یہاں حیثیت کی قید منتفی ہے مولانا، حیثیت کی قید۔ اس لیے کہ مجاز کے اندر حیثیت کی قید تھی، حقیقت کے اندر حیثیت کی قید تھی۔ حقیقت کس کو کہتے ہیں؟ کہ کلمہ استعمال ہو اپنے معنی موضوع لہ کے اندر اس حیثیت سے کہ یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے مولانا، معنی موضوع لہ حقیقی ہے۔ اور جو منیّہ کا لفظ ہے، یہاں پر وہ بھی موت اور منیّہ ہی کے لیے استعمال ہو رہا ہے، لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ اس کا معنی موضوع لہ حقیقی ہے، بلکہ اس حیثیت سے کہ منیّہ سبع کے افراد میں سے ہے۔
سبع ادعائی ہم نے بنا دیا نا۔ جب سبع ادعائی بنایا تو یہاں منیّہ سے مراد تو منیّہ ہی ہے، لیکن اس حیثیت سے نہیں کہ یہ اس کے لیے وضع ہے، بلکہ اس حیثیت سے کہ یہ مشبہ بہٖ یعنی سبع کے افراد میں سے ہے۔ تو یہاں پر حیثیت کی قید نہیں، اور حقیقت میں تو تھی حیثیت کی قید، لہٰذا معلوم ہوا یہ کلمہ حقیقت نہیں، بلکہ کیا ہے؟ مجاز ہے۔ اور مجاز ہوا تو یہ کیا بن گیا؟ استعارہ بالکنایہ۔ کہتے ہیں علامہ تفتازانی کہتے ہیں، بھئی اگر حیثیت کی قید ملحوظ نہ بھی ہو تو زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ کلمہ حقیقت نہیں رہے گا۔ لیکن کلمہ حقیقت نہ رہے تو اس کا یہ معنی نہیں کہ وہ مجاز بن جائے گا، کیونکہ مجاز کے لیے ضروری ہے کہ وہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو۔ اور یہ تو کس کے اندر استعمال ہو رہا ہے؟ معنی موضوع لہ کے اندر ہی استعمال ہو رہا ہے، ہاں حیثیت بدل گئی۔ معنی موضوع لہ میں ایک استعمال ہونا ہے اس حیثیت سے کہ یہ معنی... یہ اس کا معنی موضوع لہ ہے، اور ایک اس حیثیت سے کہ یہ سبع ادعائی ہے اور مشبہ بہٖ کے افراد میں سے ہے۔ تو صرف حیثیت کی قید بدلنے سے وہ مشبہ بہٖ کے... تو حیثیت کی قید یہاں پر منتفی ہوئی، لیکن اس حیثیت کی قید منتفی ہو... اور حیثیت کی قید منتفی ہوئی تو حقیقت نہ رہا۔ کلمہ اپنے معنی موضوع لہ میں اس حیثیت سے استعمال نہیں ہو رہا، لیکن حقیقت نہ رہے تو اس سے مجاز ہونا لازم نہیں آتا، کیونکہ مجاز کے لیے ضروری ہے کہ وہ معنی غیر موضوع لہ میں استعمال ہو، اور یہ تو پھر بھی کس میں استعمال ہے؟ موضوع لہ ہی میں استعمال ہو رہا ہے، البتہ صرف حیثیت بدل گئی۔ تو لہٰذا جب یہ مجاز ہی نہیں تو پھر استعارہ بطریقِ اولیٰ نہیں ہوگا مولانا۔ استعارہ، کیونکہ استعارہ کس کی قسم ہے؟ مجاز کی قسم ہے۔ تو یہ استعارہ پھر بھی نہیں ہو سکتا مولانا، سمجھ میں آیا، بھئی؟ ”وَاخْتَارَ السَّكَّاكِيُّ رَدَّ الإِسْتِعَارَةِ التَّبَعِيَّةِ، وَهِيَ مَا يَكُونُ فِي الْحُرُوفِ وَالْأَفْعَالِ وَمَا يُشْتَقُّ مِنْهَا، إِلَى الإِسْتِعَارَةِ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا، بِجَعْلِ قَرِينَتِهَا، أَيْ قَرِينَةِ التَّبَعِيَّةِ، إِسْتِعَارَةً مَكْنِيًّا عَنْهَا“ مولانا، صاحبِ تلخیص نے آپ کو بتلایا تھا کہ استعارہ جو ہے وہ ایک... استعارہ دو قسم پر ہے: استعارہ اصلیہ اور استعارہ تبعیہ۔
استعارہ اصلیہ وہ ہے جو اسمِ جنس کے اندر آئے، جیسے اسدٌ کے اندر اور قتلٌ کے اندر۔
اور استعارہ تبعیہ وہ ہے جو حروف کے اندر آئے، فعل کے اندر آئے اور مشتقات کے اندر آئے، بھئی۔
تو افعال اور مشتقات کے اندر جو استعارہ آئے وہ کیا کہلاتا ہے؟ اور حروف کے اندر؟ استعارہ تبعیہ کہلاتا ہے۔
جیسے ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر مولانا استعارہ کہ نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ کے تھا۔ لیکن کب؟ جبکہ پہلے نطق بمعنی دلالت کے لیا جائے، تو پہلے اصل استعارہ آیا مصدر کے اندر اور طبعاً کس کے اندر آیا؟ فعل میں آیا، تو یہ استعارہ تبعیہ ہے۔
اسی طرح تمام مشتقات میں ہے، اور حروف کے اندر کہتے ہیں پہلے استعارہ ہوگا حروف کے معانی کے متعلق... متعلقات میں، اور اس کے بعد کس میں؟ حروف میں آئے گا، تو یہ استعارہ تبعیہ کہلاتا ہے۔ جبکہ علامہ سکاکی استعارہ تبعیہ کو یعنی وہ استعارہ جو کس میں ہو؟ فعل میں ہو، مشتقات میں ہو اور حروف میں ہو، اس کو وہ لوٹاتے ہیں استعارہ بالکنایہ کی طرف کہ اس کے لیے اس کو قرینہ بناتے ہیں، اور استعارہ بالکنایہ کو اس کے لیے کیا بناتے ہیں؟ قرینہ۔ اس کے لیے قرینہ بناتے ہیں، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟
تو ”نَطَقَتِ الْحَالُ“، ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر مولانا، جمہور کیا کہتے تھے کہ یہ نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ کے ہے۔ صاحبِ تلخیص نے آپ کو کیا بتلایا کہ یہاں استعارہ مصرحہ ہے مولانا، کس طرح؟ کہ جی یہاں پر نطق... یہ دلالت کو تشبیہ دی گئی ہے کس کے ساتھ؟ نطق کے ساتھ، اور پھر دلالت کے لیے مشبہ بہٖ یعنی نطق کا لفظ مستعار لے لیا گیا، اور پھر اس نطق سے نَطَقَتْ فعل کا اشتقاق کیا، تو یہ تو وہ نطق جو بمعنی کس کے تھا؟ دلالت کے، تو نَطَقَتْ کس کے معنی میں ہوا؟ دَلَّتْ کے معنی میں ہوا، بھئی۔ اور اس کا قرینہ بتلایا تھا، قرینہ کبھی فاعل ہوتا ہے، کبھی مفعول ہوتا ہے، کبھی مجرور ہوتا ہے۔ تو یہاں نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ کے ہے، آپ کو کیسے پتہ چلا؟ کہتے ہیں اس طرح کہ نطق... نطق کی... کا اسناد ہو رہا ہے حال کی طرف۔ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“، حال نے کلام کیا، اور حال تو کلام نہیں... معلوم ہوا کہ نَطَقَتِ الْحَالُ دلالت کرتا ہے، تو نَطَقَتْ کس معنی میں ہے؟ دَلَّتْ کے معنی میں ہے، بھئی۔ جبکہ علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ استع... یہ جہاں جو ہے حال کو تشبیہ دی گئی ہے انسانِ متکلم کے ساتھ۔ انسانِ متکلم کے ساتھ تو تشبیہ دی گئی ہے، اور تشبیہ دی گئی ہے۔ کیا استعارہ بالکنایہ کی وہ کیا تعریف کرتے ہیں؟ کہ منیّہ کو جیسے تشبیہ دی تھی مولانا کس کے ساتھ؟ سبع کے ساتھ، اور منیّہ کو بھی ہم نے سبع کی جنس میں داخل کیا تھا اور اس کو سبعِ ادعائی بنایا تھا۔ یہاں پر بھی ”نَطَقَتِ الْحَالُ“، حال کو تشبیہ دی ہے انسانِ متکلم کے ساتھ اور حال کو داخل کیا ہے انسانِ متکلم کی افراد میں داخل کیا ہے، تو یہ بھی مولانا متکلمِ ادعائی ہوا۔ حال کیا ہے؟ متکلمِ ادعائی ہوا، تو یہ استعارہ بالکنایہ ہے۔ اور اس کے لیے استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ تخییلیہ ہوا کرتا ہے، تو کہتے ہیں یہاں نَطَقَتْ یہ استعارہ تخییلیہ ہے۔ ایک معنی وہمی جب متکلم ہے تو اس کے لیے تکلم پایا جائے گا، نطق پایا جائے گا، بھئی۔ تو ہم نے اس انسانِ متکلمِ ادعائی کے لیے ایک معنی وہمی مثلِ نطق کو ثابت کیا۔ معنی وہمی مثلِ... اس معنی وہمی جو نطق کے مثل تھا، اس کے لیے ہم نے نطق کا ہی لفظ استعمال کر لیا۔ تو یہاں نَطَقَتْ سے مراد نطقِ... جی، نطقِ وہمی مراد ہے، کیونکہ حال کلام نہیں کرتا مولانا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو نطقِ وہمی مراد ہے اور اس نطقِ وہمی کے لیے نطقِ حقیقی والا کلمہ ہم نے استعمال کر لیا، بھئی، تو یہ استعارہ تخییلیہ ہوا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ کہ نہیں آ رہی، بھئی؟
تو یہاں پر استعارہ دیکھو ا... استعارہ کس میں؟ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر حال میں استعارہ بالکنایہ ہے، اور نَطَقَتْ اس کے لیے قرینہ ہے تو یہ استعارہ تخییلیہ ہوا۔ تو نطقِ وہمی کو ہم نے... نطقِ وہمی مراد ہے، نَطَقَتْ سے کیا مراد ہے؟ تو دیکھو توہمی اور خیالی چیز آ گئی تو یہ استعارہ تخییلیہ ہوا، بھئی۔ جیسے موت کے لیے ہم نے وہمی پنجے ثابت کیے تھے، وہ کیا تھے؟ وہمی چیز تھی تو کیا کہلاتی ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ یہاں بھی اسی طرح ہے۔
تو علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ استعارہ جس کو جمہور نے استعارہ تبعیہ قرار دیا ہے، وہ اس کو استعارہ بالکنایہ کے ساتھ ملاتے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ جو نَطَقَتْ ہے یہ یہاں پر دراصل حال میں استعارہ بالکنایہ ہو رہا ہے، اور نَطَقَتْ یہ استعارہ تخییلیہ ہے اور اس کا قرینہ ہے۔ یہ اس کا قرینہ ہے۔ بات سمجھ میں آئی یہاں تک، بھئی؟ کہ مشکل ہے، بھئی؟
جی؟ دیکھو دوبارہ سنو، ایک ہے استعارہ اصلیہ، ایک ہے استعارہ تبعیہ۔ استعارہ تبعیہ کس کے اندر ہوتا تھا؟ فعل کے اندر، مشتق کے اندر اور حروف کے اندر، یہ کیا کہلاتا ہے؟ تو جمہور نے فعل کے اندر، مشتق کے اندر اور حروف کے اندر جو بھی استعارہ ہو، اس کا کیا نام رکھا؟ استعارہ تبعیہ۔ لیکن علامہ سکاکی اس کا نام استعارہ تبعیہ نہیں رکھتے، بلکہ اس کو کیا کرتے ہیں؟ استعارہ تخییلیہ بناتے ہیں۔ استعارہ... اور استعارہ بالکنایہ کے لیے اس کو قرینہ بناتے ہیں۔ جیسے دیکھو دو تقریریں میں کروں گا ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کی: ایک جمہور کی تقریر ہے، ایک علامہ سکاکی کی۔
جمہور ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کی یہ تقریر کرتے ہیں کہ نَطَقَتْ کے اندر نَطَقَتْ جو ہے یہ فعل ہے اور یہ بمعنی دَلَّتْ کے ہے، تو اس میں استعارہ ہے اور فعل کے اندر جو استعارہ ہو وہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تبعیہ کہلاتا ہے۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ تو دَلَّتْ، دلالت کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ نطق کے ساتھ، اور نطق جو ہے لفظ کون سا بولا مولانا؟ لفظ کون سا بولا؟ بھئی نطق... دلالت کو تشبیہ دے رہا ہوں میں کس کے ساتھ؟ نطق، تو دلالت مشبہ اور نطق مشبہ بہٖ۔ تو مشبہ بہٖ کا لفظ ذکر ہو اور مراد مشبہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استعارہ تصریحیہ، کیا کہتے ہیں؟
دو ہی تو قسمیں تھیں، یا استعارہ تصریحیہ ہوگا یا بالکنایہ ہوگا۔ تصریحیہ میں مشبہ بہٖ ذکر ہوتا ہے اور بالکنایہ میں مشبہ ذکر۔ تو یہاں نَطَقَتْ ہے اور مراد دَلَّتْ ہے، اور یہ نطق کو... دلالت کو تشبیہ دی گئی ہے نطق سے، تو نطق بول کر کیا مراد؟ دلالت۔ مشبہ بہٖ بول کر کیا مراد؟ مشبہ۔ تو عبارت میں جب مشبہ بہٖ ذکر ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ مصرحہ۔ اور پھر استعارہ مصرحہ کے اندر اگر یہ دیکھنا پڑے گا کہ اگر فعل ہے مستعار تو وہ کیا کہلائے گا؟ استعارہ تبعیہ کہلائے گا، تو یہ استعارہ مصرحہ تبعیہ ہوا۔ استعارہ مصرحہ تبعیہ ہوا۔ تو چنانچہ اور پھر علامہ م... مصنف نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو استعارہ تبعیہ ہوتا ہے، اس کا قرینہ کبھی فاعل ہوتا ہے، کبھی مفعول ہوتا ہے، اور کبھی مجرور ہوتا ہے۔ جیسے مثال ذکر کی تھی: ”نَطَقَتِ الْحَالُ“۔ تو دیکھو نطق کی اضافت حال کی طرف ہو رہی ہے، حال نے تکلم کیا، اور حال کبھی تکلم کرتا ہے؟ تو یہ فاعل جب حال آ گیا، اس نے بتا دیا کہ نَطَقَتْ بمعنی نَطَقَتْ کے نہیں ہے بلکہ یہ بمعنی دَلَّتْ کے ہے۔ تو یہ قرینہ ہے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ جمہور کی تقریر ہے۔ تو جمہور کے نزدیک کیا ہوا؟ استعارہ صرف نَطَقَتْ میں ہے اور کون سا ہے؟ استعارہ مصرحہ تبعیہ۔ اور حال اس کا قرینہ ہے، حال کی طرف جو اسناد ہو رہا ہے وہ اس کا قرینہ ہے۔ یہ جمہور کی تقریر۔ علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر الحال میں استعارہ بالکنایہ ہے، اور یہ استعارہ تبعیہ اس کا قرینہ ہے، اور استعارہ بالکنایہ کا قرینہ تو تخییلیہ ہوتا ہے، معلوم ہوا یہ استعارہ تخییلیہ ہے۔ تو حال میں وہ کہتے ہیں استعارہ بالکنایہ ہے، اور نَطَقَتْ میں کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ ہے، بھئی۔
جمہور نے کیا کہا تھا؟ کہ نَطَقَتْ میں استعارہ ہے لیکن استعارہ مصرحہ ہے، اور حال کے اندر کوئی استعارہ نہیں۔ حال صرف فاعل ہے اور یہ فاعل اس کی طرف اسناد جو ہے یہ قرینہ ہے۔
تقریر کچھ سمجھ میں آ رہی ہے، بھئی؟ تو علامہ سکاکی فرماتے ہیں کہ یہاں ”نَطَقَتِ الْحَالُ“، الحال میں ہے استعارہ بالکنایہ اور نَطَقَتْ اس کا کیا ہے؟ قرینہ ہے۔ کہتے ہیں الحال میں استعارہ بالکنایہ یوں ہے کہ حال کو ہم نے تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ نفس کے اندر انسانِ متکلم کے ساتھ۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ اور انسانِ مت... تو نفس کے اندر تشبیہ دی، تو کون مشبہ اور کون مشبہ بہٖ، بھئی؟ حال مشبہ اور انسانِ متکلم مشبہ بہٖ۔ اور عبارت میں ہم نے صرف مشبہ یعنی حال کو ذکر کیا اور مشبہ بہٖ انسانِ متکلم کو ذکر نہیں کیا، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔
یہ تو میں نے اس کی مصنف کی تقریر شروع... علامہ سکاکی کی، بھئی۔ ہاں، علامہ استعارہ اب یہ میں نے جو استعارہ بالک... ہے استعارہ بالکنایہ ہی لیکن میں نے جمہور کی تعریف... علامہ سکاکی کی بات کر رہے ہیں نا ہم۔ علامہ سکاکی کہہ رہے ہیں کہ حال میں استعارہ بالکنایہ ہے، اور نَطَقَتْ کے اندر استعارہ تخییلیہ ہے، یہ اس کا قرینہ ہے۔ تو دیکھو حال کے اندر استعارہ بالکنایہ، پہلے استعارہ بالکنایہ کی تعریف کر لیں وہ کیا کرتے تھے استعارہ بالکنایہ؟ وہ کہتے تھے ذکر مشبہ ہو اور مراد کیا ہو؟ مشبہ بہٖ۔ معلوم ہوا یہاں بول تو ہم حال رہے ہیں، اور مراد متکلم ہے۔ اور کون سا متکلم ہے؟ متکلمِ ادعائی مراد ہے کہ حال کو بھی ہم کیا بنا لیتے ہیں؟ متکلم کے افراد میں سے بنا دیتے ہیں، اس کی جنس میں، تو یہ بھی کیا ہوا؟ متکلم، لیکن یہ حقیقتاً متکلم ہے؟ یہ تو متکلمِ ادعائی ہے۔ جیسے ہم نے وہاں کہا تھا: ”أَنْشَبَتِ الْمَنِيَّةُ أَظْفَارَهَا“، منیّہ سے مراد منیّہ مراد ہے، منیّہ بول کر منیّہ ہی مراد ہے لیکن اس حیثیت سے کہ یہ سبعِ ادعائی ہے۔ کیا ہے؟ سبعِ... تو یہاں بھی حال بول کر مولانا کیا مراد ہے؟ متکلم مراد ہے لیکن کون سا متکلم؟ متکلمِ ادعائی مراد ہے، تو یہ کیا ہوا؟ استعارہ بالکنایہ ہوا۔
اور اس استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ کس کو بنایا انہوں نے؟ اس کے لیے قرینہ آیا نَطَقَتْ مولانا، کیا آیا؟ نَطَقَتْ قرینہ آیا، بھئی، کہ نَطَقَتْ کا اسناد بتلا رہا ہے۔
اور پھر نَطَقَتْ، بھئی حال تو تکلم نہیں کرتا، یہ استعارہ تخییلیہ کیسے ہے؟ کہتے ہیں نطق کے لیے ایک ہے نطقِ حقیقی۔ تو جب ہم نے حال کو انسان کس کے ساتھ؟ متکلم کے ساتھ تشبیہ دی، تو عقل جو ہے اس حال کی صورت اس عقل نے بنا لی کس جیسی؟ متکلم جیسی، اور متکلم کے لیے نطق ثابت تھا، تو اس کے لیے بھی ایک معنی ہم نے عقل نے بنا دیا اور وہ کیا تھا؟ جو کس معنی کے مشابہ تھا؟ نطق کے مشابہ تھا۔ اور اس نطقِ وہمی پر پھر لفظِ نطق بولا گیا جو کس کے لیے وضع تھا؟ نطقِ حقیقی کے لیے۔ تو نطق کا لفظ تو وضع ہے نطقِ حقیقی کے لیے، اور ہم نے کس کے لیے استعمال کر لیا؟ نطقِ وہمی کے لیے۔ تو دیکھو ایک وہمی چیز کا اثبات آیا اور وہمی چیز کا اثبات کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تخییلیہ کہلاتا ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ جواب بھی سن لیں مولانا، علامہ تفتازانی بڑی لمبی تقریر کریں گے، مختصر الفاظ میں آپ ت... سن لیں، خلاصۂ کلام سن لیں۔
اعتراض، علامہ سکاکی نے کہا کہ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ میں الحال میں استعارہ بالکنایہ ہے اور نَطَقَتْ کے اندر کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ ہے۔
اس پر مصنف کہتے ہیں کہ نَطَقَتْ کے اندر کہ اگر حال کو استعارہ بالکنایہ مانا جائے، تو پھر دو صورتیں، دو حال سے خالی نہیں: نَطَقَتْ کو اپنے معنی حقیقی میں لینا پڑے گا یا نَطَقَتْ کو معنی مجازی میں لینا پڑے گا یعنی دَلَّتْ کے معنی میں۔ دو احتمال ہیں۔ اگر حال میں ہم کیا لیں مولانا؟ استعارہ بالکنایہ۔ علامہ سکاکی نے حال میں کیا بنایا؟ استعارہ بالکنایہ، اور نَطَقَتْ کے اندر استعارہ تخییلیہ۔ تو کہتے ہیں بھئی جب حال میں ہم استعارہ بالکنایہ مان لیں، کیا مان لیں؟ استعارہ بالکنایہ، تو نَطَقَتْ دو حال سے خالی نہیں: یہ یا تو معنی حقیقی میں نَطَقَتْ بمعنی نَطَقَتْ ہی کے ہوگا یا یہ معنی مجازی یعنی نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ کے ہوگا۔ دو ہی صورتیں ہیں۔ یا نَطَقَتْ اپنے معنی میں ہے یا غیر کے معنی میں، دو ہی صورتیں ہیں۔ تو نَطَقَتْ یا اپنے معنی میں ہوگا یا غیر کے معنی میں۔ اگر یہ اپنے معنی میں ہے، نَطَقَتْ، تو پھر تو یہ معنی نَطَقَتْ بمعنی نَطَقَتْ کے ہوا، تو یہ موضوع لہ میں ہوا یا غیر موضوع لہ میں؟ موضوع لہ میں۔ تو پھر تو یہ است... مجاز رہا ہی نہ، پھر تو یہ کیا بن گیا؟ حقیقت۔ جب یہ مجاز نہیں ہے تو استعارہ بھی نہیں ہے، کیونکہ استعارہ بھی کس کی قسم ہے؟ مجاز کی قسم۔ جب یہ استعارہ نہیں ہے تو معلوم استعارہ تخییلیہ بھی نہیں ہے، کیونکہ تخییلیہ بھی کس کی قسم ہے؟ استعارہ کی۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ آ گیا اور استعارہ تخییلیہ ساتھ نہیں آیا۔ استعارہ تخییلیہ... حالانکہ آپ خود کہتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے نہیں آ سکتا۔ تو اگر ہم نَطَقَتْ کو اپنے حقیقی معنی میں مراد لیں تو پھر استعارہ بالکنایہ بغیر استعارہ تخییلیہ کے رہ جائے گا۔ اور اگر ہم نَطَقَتْ کس معنی میں لیں؟ مجازی معنی، دَلَّتْ کے معنی میں لیں، تو پھر مولانا نَطَقَتْ تو ہے فعل، اور فعل کے اندر جو استعارہ ہوتا ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ تبعیہ کہلاتا ہے۔ تو پھر آپ کو استعارہ تبعیہ ماننا پڑے گا۔ انہوں نے تو تبعیہ کو ذکر ہی نہیں کیا، مانا ہی نہیں بلکہ اس کو کیا بنا دیا؟ تخییلیہ بنا دیا۔ سمجھ میں آئی بات؟
تو دو باتوں میں سے، اے علامہ تفتازانی پر، دو چیزوں میں سے ایک ضرور لازم آتی ہے۔ اگر آپ حال میں، اے علامہ سکاکی، استعارہ بالکنایہ مانتے ہیں تو پھر اس حال... اس کے لیے قرینہ چاہیے، اور وہ قرینہ کیا ہے؟ نَطَقَتْ ہے۔ تو نَطَقَتْ میں یا تو اپنے معنی حقیقی میں استعمال ہوگا یا معنی مجازی میں، دو ہی صورتیں ہیں۔ اگر معنی حقیقی میں استعمال ہو تو پھر تو یہ استعارہ ہی نہیں، تو استعارہ تخییلیہ نہیں۔ تو مجا... تو استعارہ بالکنایہ کس کے بغیر آ گیا؟ استعارہ تخییلیہ کے بغیر آ گیا۔ اور اگر ہم نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ مجازی معنی میں لیں، تو پھر یہ تو ہے فعل، اور فعل کے اندر جو استعارہ ہوتا ہے وہ کیا کہلاتا ہے؟ تبعیہ۔ تو پھر آپ کو استعارہ تبعیہ کو قبول کرنا پڑے گا۔ تو یا تو استعارہ بالکنایہ بغیر استعارہ تخییلیہ کے رہ جائے گا، یا آپ کو استعارہ تبعیہ کو کیا کرنا پڑے گا؟ قبول کرنا، ماننا پڑے گا، بھئی۔ یہ اشکالات ہوئے، سمجھ میں آئی ساری بات، بھئی؟ دیکھیے بھئی، یہی بات کریں گے دو تین چار صفحات میں مولانا۔
”وَاخْتَارَ السَّكَّاكِيُّ“ اور اختیار کیا علامہ سکاکی نے ”رَدَّ الإِسْتِعَارَةِ التَّبَعِيَّةِ“ لوٹانا استعارہ تبعیہ کو، وہ کس کو کہتے ہیں؟ ”وَهِيَ مَا يَكُونُ فِي الْحُرُوفِ وَالْأَفْعَالِ وَمَا يُشْتَقُّ مِنْهَا“ جو حروف میں ہوتا ہے، افعال میں اور مشتقات میں ہوتا ہے، اس کو تو استعارہ تبعیہ کو لوٹایا ہے مولانا علامہ سکاکی نے، اختیار کیا اس کا لوٹانا ”إِلَى الإِسْتِعَارَةِ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا“ کس کی طرف؟ استعارہ بالکنایہ کی طرف، ”بِجَعْلِ قَرِينَتِهَا أَيْ قَرِينَةِ التَّبَعِيَّةِ“ ساتھ بنانے... اس تبعیہ کے قرینے کو ”بِجَعْلِ قَرِينَتِهَا أَيْ قَرِينَةِ التَّبَعِيَّةِ إِسْتِعَارَةً مَكْنِيًّا عَنْهَا“ کہ بنایا ہے انہوں نے مولانا است... قرینہ تبعیہ کے قرینے کو استعارہ بالکنایہ۔
بھئی، است... انہوں نے کیا کہا؟ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ ہے، الحال کے اندر کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ ہے، اور نَطَقَتْ کے اندر کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ ہے۔ اس... اس کی دلیل یہ ہے اور اس کی دلیل... نَطَقَتْ کی دلیل کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، استعارہ تخییلیہ کی دلیل کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، اور اس کا قرینہ یہ ہے۔ استعارہ تخییلیہ کا قرینہ کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ، اور استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کیا ہے؟ تخییلیہ ہے۔ ”بِجَعْلِ قَرِينَتِهَا أَيْ قَرِينَةِ التَّبَعِيَّةِ إِسْتِعَارَةً مَكْنِيًّا عَنْهَا“ استعارہ تبعیہ کا قرینہ استعارہ مکنیہ کو بناتے ہوئے، ”وَجَعْلِ الإِسْتِعَارَةِ التَّبَعِيَّةِ قَرِينَتَهَا“ ہاں، اور استعارہ تبعیہ کو کس کا قرینہ بنایا؟ استعارہ بالک... یعنی قرینۃ الاستعارۃ المکنی عنہا، استعارہ بالکنایہ کا قرینہ بنایا ہے۔
”عَلَى نَحْوِ قَوْلِهِ“ نحو بمعنی طریق کے، راستہ... طریقہ طریقے کے۔ ”عَلَى نَحْوِ قَوْلِهِ“ اپنے اس قول کے طریقے پر ”فِي الْمَنِيَّةِ وَأَظْفَارِهَا“ جو منیّہ میں اور اظفار۔ جیسے منیّہ اور اظفار کے اندر مولانا، منیّہ کے اندر تھا استعارہ بالکنایہ اور اس کی دلیل کیا تھی؟ اس کا قرینہ تھا اظفار، اور اظفار کے اندر استعارہ تخییلیہ تھا اور اس کا قرینہ کیا تھا؟ منیّہ تھا مولانا۔ استعارہ بالکنایہ قرینہ تھا استعارہ تخییلیہ کا، اور استعارہ تخییلیہ قرینہ تھا استعارہ بالکنایہ کا۔
”حَيْثُ جَعَلَ الْمَنِيَّةَ إِسْتِعَارَةً بِالْكِنَايَةِ“ اس طور پر کہ منیّہ کو استعارہ بالکنایہ بنایا، ”وَإِضَافَةَ الْأَظْفَارِ إِلَيْهَا قَرِينَتَهَا“ اور اظفار کی جو اضافت کی تھی اس کی طرف، اس کو قرینہ بنایا استعارہ بالکنایہ کا۔ ”فَفِي قَوْلِنَا“ پس ہمارے اس قول کے اندر ”نَطَقَتِ الْحَالُ بِكَذَا“ کہ حال نے یوں تکلم کیا، ”جَعَلَ الْقَوْمُ“ علمائے بیان نے کیا کیا ہے؟ بنایا ہے ”نَطَقَتْ إِسْتِعَارَةً عَنْ دَلَّتْ“ نَطَقَتْ کو استعارہ بنایا ہے کس سے؟ دَلَّتْ سے، ”بِقَرِينَةِ الْحَالِ“ کس قرینے کے ساتھ؟ حال کے، ”وَالْحَالُ حَقِيقَةٌ“ اور حال حقیقت ہی ہے، اپنے معنی میں استعمال ہو رہا ہے۔ یہ تو تھا جمہور کا مذہب۔
”وَهُوَ“ جبکہ علامہ سکاکی جو ہے ”يَجْعَلُ الْحَالَ إِسْتِعَارَةً بِالْكِنَايَةِ عَنِ الْمُتَكَلِّمِ“ وہ حال کو استعارہ بالکنایہ بناتا ہے متکلم سے یعنی متکلمِ ادعائی سے، ”وَالنِّسْبَةَ النُّطْقِ إِلَيْهَا قَرِينَةَ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ“ اور نسبت جو نطق کی ہو رہی ہے اس کی طرف، اس کو کیا بناتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ بناتا ہے۔
”وَهَكَذَا فِي قَوْلِهِ“ اور اسی طرح ہے اس کے اس قول میں بھی: ”نَقْرِيهِمْ لَهْذَمِيَّاتٍ“ کہ ہم نے ان کی مہمان نوازی کی تیز نیزوں کی ضربوں کے ساتھ، ”بِجَعْلِ اللَّهْذَمِيَّاتِ إِسْتِعَارَةً بِالْكِنَايَةِ“ ساتھ بنانے لہذمیات کے استعارہ بالکنایہ۔ علامہ سکاکی نے لہذمیات کو کیا بنایا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ دیکھو ہم نے ان کی مہمان نوازی کی، کس کے ساتھ؟ نیزوں کی ضربوں کے ساتھ، نیزوں کی ضربوں کے ساتھ۔ تو دیکھو مہمان نوازی تو کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ کی جاتی ہے، نہ کہ نیزوں کے... تو یہاں پر نیزوں کی ضربوں... ضربیں اس میں استعارہ بالکنایہ ہے، کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ ہے۔ یعنی نیزوں کی ضربوں کو تشبیہ دی ہے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ، تو کھانے پینے کی چیزوں۔ تو لہٰذا بنایا ہے لہذمیات میں استعارہ بالکنایہ ”عَنِ الْمَطْعُومَاتِ“ کھانے پینے کی چیزوں سے ”اَلشَّبِيهَةِ“ جو کہ اس کے مشابہ ہیں۔ تو نیزوں کی ضربیں مشابہ ہیں کس کے مولانا؟ کھانے پینے کی... بھئی یہ تو اس کی کس طرح؟ کہتے ہیں ”عَلَى سَبِيلِ التَّهَكُّمِ“ استہزاء کے طریقے پر مولانا، استہزاء کرتے ہوئے اس کو اس کے مشابہ بنایا ہے۔
”وَنِسْبَةَ الْقِرَى إِلَيْهَا قَرِينَةً“ اور قِریٰ کی نسبت اس کی طرف ہو رہی ہے، اس کو قرینہ بنایا ہے۔ نیزوں کی ضربوں کی طرف مہمان نوازی کی نسبت جو ہو رہی ہے، معلوم ہوا ان ضربوں کو تشبیہ دی گئی ہے کھانے پینے کی چیزوں کے ساتھ، جبھی تو لفظ کیا ذکر آیا؟ مہمان نوازی کا لفظ ذکر آیا۔
”وَعَلَى هَذَا الْقِيَاسِ“ اسی طریقے پر باقی مثالیں۔
”وَإِنَّمَا اخْتَارَ ذَلِكَ“ بھئی علامہ سکاکی نے ایسا کیوں کیا؟ استعارہ تبعیہ کو انہوں نے استعارہ مکنیہ کی طرف کیوں لوٹا دیا، اس کے ساتھ کیوں جوڑ دیا؟ کہتے ہیں ”لِمَا فِيهِ مِنَ الضَّبْطِ وَتَقْلِيلِ الْأَقْسَامِ“ کہ اس کے اندر ضبط اور اقسام کی تقلیل ہے مولانا۔ بات کیا ہے؟ ضبط ہو جائے گی اور قسمیں... قسمیں کم ہو گئیں مولانا، اچھی طرح بات ضبط ہو جائے گی۔ ”وَرُدَّ مَا اخْتَارَهُ السَّكَّاكِيُّ“ اور رد کیا گیا ہے اس چیز کو جس کو اختیار کیا علامہ سکاکی نے۔ اب یہ رد کر رہے ہیں، میں نے بتایا تھا رد... دو ح... دو جواب کیا دیں... اعتراض کیا کریں گے؟ کہ نَطَقَتْ کو یا معنی حقیقی میں لو گے یا معنی مجازی۔ معنی حقیقی میں لو گے تو پھر بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے رہ جائے گا، اور بالکنایہ تو بغیر تخییلیہ کے نہیں رہ سکتا۔ پہلی بات یہ کر رہے ہیں۔
”وَرُدَّ مَا اخْتَارَهُ السَّكَّاكِيُّ بِأَنَّهُ إِنْ قُدِّرَتِ التَّبَعِيَّةُ“ کہ اگر فرض کر لیا جائے تبعیہ کو جیسے کہ نَطَقَتْ تھا ”نَطَقَتِ الْحَالُ بِكَذَا“ کے اندر، ”حَقِيقَةً“ اگر اس کو حقیقت... حقیقتًا ہونا چاہیے مولانا۔ اگر اس کو حقیقت فرض کر لیا جائے، ”بِأَنْ يُرَادَ مَعْنَاهَا الْحَقِيقِيُّ“ بایں طور کہ اس سے مراد کیا ہے؟ معنی حقیقی ہے، ”لَمْ تَكُنِ التَّبَعِيَّةُ إِسْتِعَارَةً“ معنی حقیقی اگر مراد ہے تو ”لَمْ تَكُنِ التَّبَعِيَّةُ إِسْتِعَارَةً تَخْيِيلِيَّةً“ تو یہ تبعیہ پھر استعارہ تخییلیہ نہیں رہا، ”لِأَنَّهَا أَيِ التَّخْيِيلِيَّةَ مَجَازٌ عِنْدَهُ“ اس لیے کہ تخییلیہ تو ان کے نزدیک کیا ہے؟ مجاز ہے۔ بھئی میں نے کیا بتایا تھا کہ نَطَقَتْ کیا معنی حقیقی میں استعمال ہے یا معنی مجازی؟ اگر معنی حقیقی میں استعمال ہے تو پھر یہ استعارہ... تخییلیہ ہے؟ نہیں، پھر تو یہ معنی موضوع لہ میں استعمال ہو رہا ہے، اور تخییلیہ تو معنی موضوع لہ میں استعمال نہیں ہوتا۔ تو دیکھو استعارہ تخییلیہ کے بغیر بالکنایہ... بالکنایہ تخییلیہ کے بغیر رہ جائے گا۔
”لِأَنَّهُ“ یہ علامہ سکاکی کے نزدیک کہ تخییلیہ کے بغیر رہ جائے گا مکنیہ، ”لِأَنَّهُ جَعَلَهَا مِنْ أَقْسَامِ الإِسْتِعَارَةِ الْمُصَرَّحِ بِهَا الْمُفَسَّرَةِ بِذِكْرِ الْمُشَبَّهِ بِهِ وَإِرَادَةِ الْمُشَبَّهِ“ اس لیے کہ علامہ سکاکی نے استعارہ تخییلیہ کو کس کی اقسام میں سے بنایا ہے؟ استعارہ تصریحیہ کی اقسام میں سے، ”الْمُفَسَّرَةِ“ جس کی تفسیر کی گئی ہے ”بِذِكْرِ الْمُشَبَّهِ بِهِ وَإِرَادَةِ الْمُشَبَّهِ“ کہ ذکر مشبہ کا ہو... مشبہ بہٖ کا ہو اور مراد کون ہو؟ مشبہ ہو۔ ”إِلَّا أَنَّ الْمُشَبَّهَ فِيهَا“ مگر یہ... بھئی علامہ سکاکی نے دیکھو یہ تعریف کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ اگر تشبیہ طرفین میں سے صرف ایک عبارت میں ذکر ہو، تو اگر مشبہ ذکر اور مراد مشبہ بہٖ تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ اور اگر مشبہ بہٖ ذکر اور مراد کیا ہے؟ مشبہ، یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تصریحیہ یا استعارہ مصرحہ کہلاتا ہے۔ اس استعارہ تصریحیہ کی پھر وہ تقسیم کرتے ہیں۔ بتائیے پہلے، استعارہ تصریحیہ کے اندر مشبہ ذکر ہوگا یا مشبہ بہٖ ذکر ہوگا؟ مشبہ بہٖ ذکر ہوگا، بھئی۔ تو جو مشبہ متروک ہے، اس کا تحقق حساً ہوگا اور یا عقلاً ہوگا، یا حساً اور عقلاً نہیں؟ اگر حساً اور عقلاً اس مشبہ کا تحقق ہے تو یہ استعارہ تحقیقیہ، اور اگر اس کا تحقق حساً نہیں ہے بلکہ وہماً ہے، خیلاً ہے، تو پھر یہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ ہے۔ یہ علامہ سکاکی کی تقسیم تھی۔ ”إِلَّا أَنَّ الْمُشَبَّهَ فِيهَا“ کہ مشبہ جو اس کے اندر تخییلیہ کے اندر تھا، ”يَجِبُ أَنْ يَكُونَ مِمَّا لَا تَحَقُّقَ لِمَعْنَاهُ حِسًّا وَلَا عَقْلًا“ یہ واجب ہے کہ نہ ہو ان چیزوں میں سے جن کا معنی... کہ جن کے معنی کا تحقق نہ حساً ہو اور نہ عقلاً۔ اس لیے کہ حساً اور عقلاً اگر تحقق ہو گیا پھر تو یہ تخییلیہ نہ رہا، پھر تو یہ کیا بن گیا؟ تحقیقیہ بن گیا۔ تو کہتے ہیں تخییلیہ کے اندر تو کیا ہوتا ہے؟ وہماً ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں اس کے اندر معنی کا تحقق حساً اور عقلاً نہیں ہوگا بلکہ وہماً، بلکہ کس طور پر ہونا چاہیے؟ ”فَتَكُونُ مُسْتَعْمَلَةً فِي غَيْرِ مَا وُضِعَتْ لَهُ بِالتَّحْقِيقِ“ تو پھر اس صورت میں یہ استعمال ہوگا غیر موضوع لہ حقیقی کے اندر، ”فَتَكُونُ مَجَازًا“ اور کیا بن جائے گا؟ مجاز بن جائے گا۔ جی، اور یہاں تو ایسا نہیں، نَطَقَتْ تو کیا ہے؟ مجاز نہیں ہے۔ ”وَإِذَا لَمْ تَكُنِ التَّبَعِيَّةُ تَخْيِيلِيَّةً“ اور جب تبعیہ تخییلیہ نہ ہوا، ابھی ہم نے کیا ت... کیا نَطَقَتْ کے اگر معنی حقیقی مراد لیں تو یہ مجاز رہا؟ نہیں۔ جب مجاز نہیں رہا تو تخییلی... استعارہ تخییلیہ رہا؟ نہیں رہا۔ تو بالکنایہ کس کے بغیر رہ گیا؟ تخییلیہ کے بغیر رہ گیا۔ یہی بات کر رہے ہیں۔
”وَإِذَا لَمْ تَكُنِ التَّبَعِيَّةُ تَخْيِيلِيَّةً فَلَمْ تَكُنِ الإِسْتِعَارَةُ الْمَكْنِيُّ عَنْهَا مُسْتَلْزِمَةً لِلتَّخْيِيلِيَّةِ“ اور جب تبع... استعارہ تبعیہ تخییلیہ نہ ہوا، تو اس صورت میں استعارہ بالکنایہ مستلزم نہیں ہوا تخییلیہ کو یعنی اس کے ساتھ تخییلیہ لازم نہیں آیا۔ حالانکہ آپ خود فرماتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ کیا لازم ہے؟ تخییلیہ۔ اور اگر آپ ہم اس سے حقیقی معنی مراد لیں تو بالکنایہ تو رہ جائے گا، اور تخییلیہ نہیں رہے گا۔
”بِمَعْنَى أَنَّهَا لَا تُوجَدُ بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ بایں معنی کہ استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے نہیں پایا جاتا، ”وَذَلِكَ لِأَنَّ الْمَكْنِيَّ عَنْهَا قَدْ وُجِدَتْ بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ اور وہ اس وجہ سے کہ اس لیے کہ مکنیہ جو ہے وہ ت... کہ کبھی کبھار پایا جائے گا تخییلیہ کے بغیر پایا جائے گا، ”فِي مِثْلِ نَطَقَتِ الْحَالُ أَوْ الْحَالُ نَاطِقَةٌ“ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر یا ”اَلْحَالُ نَاطِقَةٌ“ اس جملے کے اندر، ”عَلَى هَذَا التَّقْدِيرِ“ اس تقدیر پر، یہ فرض کرنے کی صورت میں۔
”وَذَلِكَ أَيْ عَدَمُ اسْتِلْزَامِ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا لِلتَّخْيِيلِيَّةِ بَاطِلٌ“ اور یہ جو مکنی عنہا کے ساتھ تخییلیہ کا استلزام نہ ہو، یہ باطل ہے۔ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ تخییلیہ کا لزوم نہ ہو، یہ باطل ہے بالاتفاق۔ کیونکہ جہاں بھی بالکنایہ آئے گا وہاں استعارہ تخییلیہ آئے گا۔ ”وَإِنَّمَا الْخِلَافُ...“ دیکھو اس بات میں تو اتفاق ہے کہ جہاں بھی استعارہ بالکنایہ آئے گا، ساتھ کیا آئے گا؟ استعارہ تخییلیہ آئے گا۔ اور اگر اپ کے علامہ سکاکی، آپ کی بات ہم مان لیں، الحال میں استعارہ بالکنایہ مراد لے لیں، تو نَطَقَتْ کے اندر تو استعارہ ہے نہیں کیونکہ ہم نے کون سا معنی لیا؟ معنی حقیقی مراد لیا۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ آیا اور استعارہ تخییلیہ ساتھ نہیں آیا۔ اور استعارہ بالکنایہ میں کے ساتھ استعارہ تخییلیہ نہ آئے، یہ تو باطل ہے بالاتفاق، کیا ہے؟ باطل ہے۔
ہاں اختلاف اس میں ہے، جمہور نے یہ کہا: جہاں استعارہ بالکنایہ آئے گا وہاں استعارہ تخییلیہ، اور جہاں استعارہ تخییلیہ آئے گا وہاں استعارہ بالکنایہ۔ علامہ سکاکی یہ فرماتے ہیں کہ جہاں استعارہ بالکنایہ آئے گا وہاں استعارہ تخییلیہ، لیکن جہاں استعارہ تخییلیہ آئے وہاں ضروری نہیں کہ کیا آئے؟ استعارہ بالکنایہ آئے۔ جمہور کہتے ہیں جہاں ایک آئے گا دوسرا بھی آئے گا، لیکن علامہ سکاکی کیا فرما رہے ہیں؟ جہاں کنایہ آئے گا وہاں تخییلیہ تو ضرور، لیکن جہاں تخییلیہ آئے وہاں اس کنایہ کا ہونا ضروری نہیں ہے۔ ”وَإِنَّمَا الْخِلَافُ فِي أَنَّ التَّخْيِيلَ هَلْ تَسْتَلْزِمُ الْمَكْنِيَّ عَنْهَا؟“ اور اختلاف تو اس بات میں ہے ”فِي أَنَّ التَّخْيِيلَ هَلْ تَسْتَلْزِمُ الْمَكْنِيَّ عَنْهَا؟“ کہ تخییلیہ کیا وہ لازم ہے مکنی عنہا کے ساتھ؟ ”فَعِنْدَ السَّكَّاكِيِّ لَا تَسْتَلْزِمُ“ وہ مستلزم ہے مکنی عنہ کا، علامہ سکاکی کے نزدیک ”لَا تَسْتَلْزِمُ“ یہ مستلزم نہیں ہے، ”كَمَا فِي قَوْلِنَا“ جیسے ہمارے اس قول کے اندر تھا: ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“۔ علامہ سکاکی نے کہا دیکھو اظفار یہ استعارہ... اس کے اندر استعارہ تخییلیہ ہے، لیکن ”اَلْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ اس کے اندر استعارہ بالکنایہ نہیں ہے، کیونکہ مشبہ بھی ذکر اور مشبہ بہٖ بھی ذکر۔ تو استعارہ تخییلیہ آ رہا ہے اور استعارہ بالکنایہ... تو استعارہ تخییلیہ بغیر کنایہ کے بھی آ سکتا ہے۔
”وَبِهَذَا ظَهَرَ فَسَادُ...“ اختلاف کس چیز میں ہے صرف؟ جمہور کیا کہتے ہیں مولانا؟ جہاں استعارہ بالکنایہ آئے گا وہاں استعارہ تخییلیہ، اور جہاں استعارہ تخییلیہ آئے گا وہاں استعارہ بالکنایہ۔ جبکہ علامہ سکاکی ایک جانب سے تو لزوم کو مانتے ہیں، دوسری جانب سے نہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جہاں استعارہ بالکنایہ آئے گا اس کے ساتھ کیا آئے گا؟ استعارہ تخییلیہ آئے گا، لیکن جہاں تخییلیہ آئے یہ ضروری نہیں کہ اس کے ساتھ استعارہ بالکنایہ بھی آئے۔ بعضوں نے اس کا عکس کیا، کہتے ہیں علامہ سکاکی کے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں بھی استعارہ بالکنایہ آئے اس کے ساتھ تخییلیہ لازم نہیں۔ عکس کیا نا، اسی بات کو الٹا دو۔ انہوں نے فرمایا کیا تھا؟ کہ جہاں بھی استعارہ تخییلیہ آئے وہاں بالکنایہ کا آنا ضروری نہیں۔ بعضوں نے کہا نہیں، وہ یوں کہنا چاہتے ہیں کہ جہاں بھی استعارہ بالکنایہ آئے اس کے ساتھ تخییلیہ ضروری نہیں، ہاں تخییلیہ جب بھی آئے گا کس کے ساتھ آئے گا؟ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ۔ تو اسی بات کو الٹا دیا۔ علامہ تفتازانی فرماتے ہیں جنہوں نے یہ قول کیا، اس قول کا فساد بھی ظاہر ہو گیا۔ اس لیے کہ استلزام اس نے جس جانب سے ذکر کیا اس جانب سے نہیں ہے بلکہ جانبِ آخر سے ہے۔ ”وَبِهَذَا ظَهَرَ فَسَادُ مَا قِيلَ“ اور اس سے ظاہر ہو گیا فساد اس قول کا ”إِنَّ الْمُرَادَ السَّكَّاكِيِّ بِقَوْلِهِ: لَا يَنْفَكُّ الْمَكْنِيُّ عَنْهَا“ کہ سکاکی کی مراد اس قول کے ساتھ ”لَا يَنْفَكُّ الْمَكْنِيُّ عَنْهَا“ کہ جدا نہیں ہوتا مکنی عنہا تخییلیہ سے، اس کا کیا معنی انہوں نے کیا تھا؟ کہتے ہیں اس سے مراد یہ ہے ”أَنَّ التَّخْيِيلِيَّةَ مُسْتَلْزِمٌ لِلْمَكْنِيِّ عَنْهَا“ کہ تخییلیہ مستلزم ہے کس کو؟ استعارہ بالکنایہ کو، جہاں تخییلیہ آئے گا وہاں کیا آئے گا؟ استعارہ بالکنایہ۔ لیکن جہاں استعارہ بالکنایہ آئے وہاں استعارہ تخییلیہ نہیں آئے گا، حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں تو یہ مراد ہے ”لَا عَلَى الْعَكْسِ كَمَا فَهِمَهُ الْمُصَنِّفُ“ نہ کہ اس کا عکس ہے جیسا کہ مصنف سمجھے، جیسا کہ مصنف سمجھے۔ یہ کسی نے قول ذکر کیا، بھئی، کسی اور عالم کی بات ذکر کر رہے ہیں کہ مصنف نے علامہ سکاکی کی بات کو سمجھا نہیں ہے۔ مصنف تو یہ سمجھے ہیں کہ شاید علامہ سکاکی یہ فرمانا چاہتے ہیں کہ تخییلیہ بغیر استعارہ بالکنایہ کے آ سکتا ہے، لیکن بات یہ نہیں ہے بلکہ علامہ سکاکی کے نزدیک استعارہ بالکنایہ تخییلیہ کے بغیر آ سکتا ہے۔ سمجھ میں آئی بات، بھئی؟ کہ پچھلی بھی گئی؟ ”نَعَمْ يُمْكِنُ أَنْ يُنَازَعَ فِي الإِتِّفَاقِ...“ ہاں، علامہ کہتے ہیں مصنف پر یہ اعتراض کرنا کہ وہ بات کو نہیں سمجھے، یہ صحیح نہیں۔ مصنف صحیح سمجھے ہیں اور جس نے اعتراض کیا وہ صحیح طور پر نہیں سمجھا۔ ہاں مصنف نے ایک یہ بات ذکر کی تھی کہ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ استعارہ تخییلیہ لازم ہے بالاتفاق۔ جہاں بھی بالکنایہ آئے گا وہاں کیا آئے گا؟ تخییلیہ آئے گا، بالاتفاق ہے یہ بات۔ مصنف نے یہ جو کہا نا ”بالاتفاق“، اس میں ہم ان سے جھگڑا کر سکتے ہیں، ان پر اعتراض کر سکتے ہیں کہ بالاتفاق تو نہیں ضروری۔ صاحبِ کشاف علامہ زمخشری نے ذکر کیا ہے کہ استعارہ بالکنایہ جی؟ استعارہ بالکنایہ آ رہا ہے اور اس کے ساتھ استعارہ تخییلیہ نہیں آ رہا، تو آپ نے تو کہا بالاتفاق جہاں بھی بالکنایہ آئے گا وہاں کیا آئے گا؟ تخییلیہ آئے گا، تو یہاں تو اتفاق نہ رہا، اختلاف آ گیا، بھئی۔ ”نَعَمْ يُمْكِنُ“ ہاں یہ ممکن ہے ”أَنْ يُنَازَعَ فِي الإِتِّفَاقِ عَلَى اسْتِلْزَامِ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا لِلتَّخْيِيلِيَّةِ“ کہ منازعہ کیا جائے اتفاق کے اندر علی استلزام المکنی عنہا للتخییلیۃ کہ مکنی عنہا مستلزم ہے تخییلیہ کو، اس میں اختلاف... اس پہ جو اتفاق ذکر کیا ہے اس میں منازعہ کیا جائے۔ ”لِأَنَّ كَلَامَ صَاحِبِ الْكَشَّافِ مُشْعِرٌ بِخِلَافِ ذَلِكَ“ اس لیے کہ صاحبِ کشاف علامہ زمخشری، ان کا کلام مشعرٌ وہ کیا ہے؟ وہ بت... یہ بتلاتا ہے بخلاف ذلک اس کے خلاف، وہ اس کے خلاف بتلاتا ہے بات، بھئی، کہ یہ دونوں جدا ہو سکتے ہیں۔ ”وَقَدْ صُرِّحَ فِي الْمِفْتَاحِ أَيْضًا“ نیز مولانا، اچھا؟ مصنف پر کیا اعتراض ہو سکتا ہے کہ آپ نے کہا بالاتفاق مکنی عنہا تخییلیہ کے بغیر نہیں آ سکتا، بالاتفاق تو ہم نے بتلایا کہ بھئی آ سکتا ہے، بھئی، علامہ زمخشری بھی اس کے قائل ہیں۔ بعضوں نے کہا اچھا چلو بھئی، انہوں نے سارے علماء نہیں مراد لیے، مصنف نے صرف اپنا اور علامہ سکاکی کا کہا کہ ہم دونوں کے نزدیک بالاتفاق مکنی عنہا بغیر تخییلیہ کے نہیں آ سکتا۔ باقی سب کی بات ہی نہیں کی، علامہ زمخشری کی بات ہی نہیں کی تو ان پہ اعتراض کیوں؟ اتفاق سے سب کا اتفاق نہیں مراد، صرف کس کا اتفاق مراد ہے؟ دو افراد کا۔ کہتے ہیں ان دو کا اتفاق بھی نہیں صحیح، اس لیے کہ علامہ سکاکی نے خود ذکر کیا ہے اپنی کتاب کے اندر اور وہاں پر لکھا ہے کہ استعارہ بالکنایہ استعارہ تخییلیہ کے بغیر آ سکتا ہے، معلوم ہوا ان دونوں میں بھی اتفاق نہیں ہے، بھئی۔ ”وَقَدْ صُرِّحَ فِي الْمِفْتَاحِ أَيْضًا“ نیز مفتاح کے اندر... ”وَقَدْ صُرِّحَ فِي الْمِفْتَاحِ أَيْضًا“ نیز مولانا تصریح کی گئی ہے مفتاح العلوم کے اندر بھی یعنی علامہ سکاکی نے کی ہے ”فِي بَحْثِ الْمَجَازِ الْعَقْلِيِّ“ مجازِ عقلی کے اندر ”بِأَنَّ قَرِينَةَ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا قَدْ تَكُونُ أَمْرًا وَهْمِيًّا“ کہ مکنی عنہا کا قرینہ کبھی تو کیا ہوگا؟ امرِ وہمی ہوگا ”كَأَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ“ جیسے منیّہ کے پنجے، تو دیکھو اظفار وہمی ہے۔ ”وَقَدْ تَكُونُ أَمْرًا مُحَقَّقًا“ اور کبھی کبھار کیا ہوگا؟ امرِ محقق ہوگا۔ جب امرِ محقق ہوا تو تخییلیہ رہا؟ نہیں رہا، کیونکہ وہ تو امرِ وہمی ہوتا ہے۔ ”كَالإِنْبَاتِ فِي أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ جیسے انبات کا لفظ، یہ قرینہ ہے مولانا ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ کے اندر۔ انبت کا اسناد ہو رہا ہے ربیع کے اندر، معلوم ہوا ربیع سے مراد کیا ہے؟ فاعلِ حقیقی ہے یعنی ذاتِ باری تعالیٰ مراد ہے، اور قرینہ کیا ہے؟ انبات کی نسبت، کیونکہ انبات کس کا فعل ہے؟ اللہ تعالیٰ کا۔ اچھا، مولانا، بات یہ چل رہی تھی کہ علامہ سکاکی نے بھی مفتاح العلوم میں مجازِ عقلی کی بحث میں یہ تصریح کی ہے کہ قرینۂ... مکنی عنہ... کہ مکنی استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کبھی امرِ وہمی ہوگا جیسے اظفار تھے منیّہ کے لیے، اور کبھی امرِ محقق ہوگا جیسے انبات ہے مولانا اس قول کے اندر: ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“۔ تو الربیع یہاں مولانا مشبہ ذکر اور سمجھ... تو یہاں فاعلِ حقیقی مراد، اور اس کا قرینہ کیا ہے؟ انبات کی نسبت ربیع کی طرف۔ انبات تو فاعلِ حقیقی کا کام ہے، معلوم ہوا الربیع سے کیا مراد ہے؟ فاعلِ حقیقی۔ تو یہ استعارہ بالکنایہ ہوا اور انبات اس کا قرینہ ہے۔ اور اسی طرح ”وَهَزَمَ“ قرینہ ہے اس قول کے اندر: ”هَزَمَ الْأَمِيرُ الْجُنْدَ“، امیر نے لشکر کو شکست دے دی۔ تو یہاں پر بھی الامیر کے اندر کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ ہے کہ امیر کو تشبیہ دی ہے کس کے ساتھ؟ لشکر کے ساتھ، اور ہزم جو ہے، شکست، یہ استعارہ بال... یہ اس کا قرینہ ہے۔ اور انبات اور ہزم، شکست، یہ دونوں کیا ہیں؟ امورِ حقیقیہ میں سے ہیں نہ کہ امورِ وہمیہ میں سے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ انبات اور ہزم، شکست۔ ”إِلَّا أَنَّ هَذَا لَا يَدْفَعُ الإِعْتِرَاضَ عَنِ السَّكَّاكِيِّ“ لیکن یہ یہ اعتراض دفع نہیں کرتا علامہ سکاکی سے، کیوں؟ ”لِأَنَّهُ قَدْ صَرَّحَ فِي الْمَجَازِ بِأَنَّ نَطَقَتْ فِي نَطَقَتِ الْحَالُ أَمْرٌ وَهْمِيٌّ“ اس لیے کہ انہوں نے تصریح کی ہے مجاز کے اندر کہ نَطَقَتْ جو ہے اس کے اندر، یہ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر جو نَطَقَتْ کا لفظ ہے، یہ کیا ہے؟ امرِ وہمی ہے۔ ”جُعِلَ قَرِينَةً لِلْمَكْنِيِّ عَنْهَا“ جس کو قرینہ بنایا گیا ہے کس کے لیے؟ مکنی عنہا کے لیے۔ ”وَأَيْضًا فَلَمَّا جَوَّزُوا وُجُودَ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ كَمَا فِي أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ اور اسی طرح جب انہوں نے جب جائز قرار دیا مکنی عنہا، استعارہ بالکنایہ کے وجود کو بغیر تخییلیہ کے، کما جیسے کس کے اندر تھا؟ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“۔ یہاں استعارہ بالکنایہ تو ہے لیکن تخییلیہ نہیں ہے۔ تو مولانا، انہوں نے جو علامہ سکاکی سے پھر بھی کہتے ہیں اعتراض دفع نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ استعارہ بال... انہوں نے کیا کہا تھا؟ استعارہ بالکنایہ کے ساتھ کیا لازم ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ اور استعارہ تخییلیہ کو تخییلیہ کہتے ہی کیوں ہیں؟ کیونکہ ایک امری اور وہمی چیز ہے مولانا۔ اور جبکہ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ کے اندر اور ”هَزَمَ الْأَمِيرُ الْجُنْدَ“ کے اندر مولانا، یہ تو وہمی چیز نہیں ہے، وہمی چیز نہیں ہے۔ نیز یہاں پر علامہ سکاکی نے کیا کہا کہ استعارہ بالکنایہ وہ استعارہ تخییلیہ سے جدا نہیں ہوتا، جب بھی استعارہ بالکنایہ آئے گا ساتھ کیا آئے گا؟ استعارہ تخییلیہ آئے گا۔ تو ان کے اپنے کلام میں تضاد ہے مولانا۔ وہاں اسنادِ عقلی کے باب میں وہ فرماتے ہیں کہ استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے آ رہا ہے، اور یہاں پر کیا فرما رہے ہیں کہ بغیر تخییلیہ کے آ ہی نہیں سکتا۔ ”وَأَيْضًا فَلَمَّا جَوَّزُوا...“
”وَأَيْضًا فَلَمَّا جَوَّزُوا وُجُودَ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ اور جب جائز قرار دیا مکنی... استعارہ بالکنایہ کے وجود کو بغیر تخییلیہ کے، کما جیسے کس کے اندر تھا؟ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“۔ یہاں استعارہ بالکنایہ تو ہے لیکن تخییلیہ نہیں ہے۔ ”وَوُجُودَ التَّخْيِيلِيَّةِ بِدُونِهَا“ اور اسی طرح تخییلیہ کا وجود بغیر کس کے پایا جا رہا ہے؟ استعارہ بالکنایہ کے، جیسے اظفار اس قول کے اندر تھا، بھئی: ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ کے اندر۔ اس لیے کہ اظفار منیّہ کے لیے ثابت ہیں لیکن منیّہ استعارہ... تو یہ استعارہ تخییلیہ ہوا، لیکن منیّہ کے یہاں یہ استعارہ بالکنایہ نہیں کیونکہ منیّہ بھی ذکر، سبع بھی ذکر، مشبہ بھی ذکر اور مشبہ بہٖ بھی ذکر۔ جبکہ استعارہ کے اندر ایک چیز ذکر ہوتی ہے، دونوں نہیں ہوتیں۔ تو دیکھو ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ کے اندر استعارہ بالکنایہ ہے تخییلیہ نہیں، اور ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ اس کے اندر تخییلیہ تو ہے اور بالکنایہ نہیں۔ تو دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ آ رہے ہیں۔ ”فَلَا جِهَةَ لِقَوْلِهِ: أَنَّ الْمَكْنِيَّ عَنْهَا لَا تَنْفَكُّ عَنِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ لہٰذا کوئی وجہ نہیں ان کے اس قول کی کہ تخییلیہ سے مکنی عنہ جدا نہیں ہوتا۔ تو دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ آ رہے ہیں، تو پھر یہ کہنے کا کیا معنی کہ استعارہ تخییلیہ... مکنیہ استعارہ تخییلیہ سے جدا نہیں ہوتا؟
یہاں تک بات سمجھ میں آئی، بھئی؟ اچھا، ”وَإِلَّا“ وہی بات کر رہے ہیں مولانا جو میں نے آپ کو بتلائی تھی کہ استعارہ انہوں نے کیا کہا؟ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر نَطَقَتْ کیا ہے؟ یہ قرینہ ہے استعارہ بالکنایہ کا۔ ہم نے کہا یا تو یہ حقیقی معنی میں مستعمل ہوگا یا یہ مجازی معنی میں۔ اگر حقیقی معنی میں ہے تو بالکنایہ کس کے بغیر آ گیا؟ استعارہ تخییلیہ کے بغیر آ گیا، اور اگر مجازی معنی مراد لے لو تو پھر تو استعارہ تبعیہ آپ کو ماننا ہی پڑے گا، کیونکہ نَطَقَتْ فعل ہے اور فعل کے اندر جب استعارہ آ جائے وہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تبعیہ۔ یہی بات کہہ رہے ہیں۔
”وَإِلَّا“ اور اگر ایسا نہ ہو، ”أَيْ وَإِنْ لَمْ يُقَدَّرِ التَّبَعِيَّةُ الَّتِي جَعَلَهَا السَّكَّاكِيُّ قَرِينَةً لِلْمَكْنِيِّ عَنْهَا حَقِيقَةً“ اور اگر استعارہ تبعیہ کو فرض نہ کیا جائے جس کو علامہ سکاکی نے قرینہ بنایا تھا کس کے لیے؟ بالکنایہ کے لیے، اگر اس کو حقیقت فرض نہ کیا جائے، ”بَلْ قُدِّرَتْ مَجَازًا“ بلکہ اس کو کیا مقدر کیا جائے؟ مجاز مقدر کر لیا جائے، ”فَتَكُونُ التَّبَعِيَّةُ كَنَطَقَتْ مَثَلًا إِسْتِعَارَةً“ تو پھر تو تبعیہ جیسے نَطَقَتْ کا لفظ تھا، یہ کون... کیا بن جائے گا مولانا؟ استعارہ۔ کیونکہ پھر تو جب حقیقی معنی میں نہیں مستعمل تو کس میں مستعمل ہو رہا ہے؟ مجازی معنی میں۔ ”ضَرُورَةَ أَنَّهُ مَجَازٌ عِلَاقَتُهُ الْمُشَابَهَةُ“ بوجۂ یقینی ہونے کے اس کے کہ وہ مجاز ہے جس کا علاقہ مشابہت ہے، ”وَالإِسْتِعَارَةُ فِي الْفِعْلِ لَا تَكُونُ إِلَّا تَبَعِيَّةً“ اور فعل کے اندر تو استعارہ نہیں ہو سکتا مگر تبعیہ ہی۔ ”فَلَمْ يَكُنْ مَا ذَهَبَ إِلَيْهِ السَّكَّاكِيُّ مِنْ رَدِّ التَّبَعِيَّةِ إِلَى الْمَكْنِيِّ عَنْهَا مُغْنِيًا عَمَّا ذَكَرَهُ غَيْرُهُ“ لہٰذا نہیں ہوگا علامہ سکاکی کا مذہب کہ وہ جو انہوں نے لوٹایا ہے تبعیہ کو کس کی طرف؟ مکنی عنہا، یہ جو علامہ سکاکی کا مذہب ہے کہ وہ لوٹاتے ہیں تبعیہ کو کس کی طرف؟ مکنیہ، تو یہ علامہ سکاکی کا مذہب مغنیاً یہ بے پرواہ نہیں ہو سکتا عما اس چیز سے ذکرہ غیرہ جس کو غیر نے ذکر کیا، ان کے علاوہ نے ذکر کیا ہے، ”مِنْ تَقْسِيمِ الإِسْتِعَارَةِ إِلَى التَّبَعِيَّةِ وَغَيْرِهَا“ یعنی کہ تقسیم کی ہے استعارہ کی تبعیہ کی طرف اور غیر تبعیہ کی طرف۔ ”لِأَنَّهُ اضْطُرَّ آخِرَ الْأَمْرِ إِلَى الْقَوْلِ بِالإِسْتِعَارَةِ التَّبَعِيَّةِ“ اس لیے کہ وہ جو ہیں مجبور ہو جائیں گے آخرِ امر میں کیا کہنے کی طرف مجبور ہو جائیں گے؟ کہ استعارہ... استعارہ تبعیہ کا قول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے، بھئی۔ بھئی، یہ بات یہ وہی بات کر رہے ہیں کہ اگر آپ نَطَقَتْ سے مراد حقیقی معنی نہیں لیتے تو پھر کیا مراد لیں گے؟ معنی مجازی مراد لیں گے۔ جب معنی مجازی مراد لیں گے تو یہ استعارہ ہوا، اور جب استعارہ ہوا تو پھر یہ فعل کے اندر استعارہ ہے اور جب فعل کے اندر استعارہ آیا تو پھر کیا ماننا پڑے گا اس کو؟ استعارہ تبعیہ ماننا پڑے گا۔ اور آپ تو اس کو استعارہ تبعیہ نہیں مان رہے تھے، لیکن اگر اس کو مجاز مان لیں تو پھر آپ کو بالاخر ماننا ہی پڑے گا کس کو؟ استعارہ تبعیہ کو۔ ”وَقَدْ يُجَابُ...“ اور جواب دیا جاتا ہے ”بِأَنَّ كُلَّ مَجَازٍ يَكُونُ...“ یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں، بھئی، کہ علامہ ان کی طرف سے جواب دے رہے ہیں۔
جواب کیا دیا؟ علامہ سکاکی جو ہیں، انہوں نے کیا کیا تھا؟ استعارہ تبعیہ کو نہیں مانا، بلکہ استعارہ تبعیہ کو قرینہ بنا دیا کس کے لیے؟ استعارہ بالکنایہ کے لیے۔ یعنی اس کو بھی استعارہ تخییلیہ بنا دیا، کیا بنا دیا؟ تخییلیہ۔ تو کہتے ہیں، ہاں، تو کہتے ہیں بھئی، اگر آپ اس کو مجاز مانیں گے تو آپ کو استعارہ تبعیہ ماننا ہی پڑے گا۔ کیا ماننا پڑے گا؟ استعارہ تبعیہ ماننا پڑے گا۔ تو استعارہ بالکنایہ ہوگا اور ساتھ کیا آ رہا ہے؟ استعارہ تبعیہ۔ تو تبعیہ کا وجود آپ کو تسلیم کرنا پڑے گا۔ تو جواب دیتے ہیں کہ بھئی نہیں، اس کے اندر پھر بھی علامہ سکاکی کو استعارہ تبعیہ ماننا لازم نہیں۔ کیونکہ یہاں نَطَقَتْ بمعنی کس کے ہے؟ دَلَّتْ کے۔ اور یہ استعارہ تبعیہ ماننا اسی وقت لازم آئے گا اگر نَطَقَتْ بمعنی دَلَّتْ کے ہو اور درمیان میں علاقہ تشبیہ کا ہو۔ علاقہ کون سا ہو؟ تشبیہ کا، کیونکہ پھر ہی استعارہ بنے گا۔ اگر علاقہ تشبیہ کا نہیں بناتے بلکہ لازم ملزوم کا بناتے ہیں کہ نطق جب بھی ہوگا، اس کے ساتھ لازم ہے دلالت، وہ اپنے معنی پر کیا کرے گا؟ دلالت۔ تو ہم علاقہ تشبیہ کا بناتے ہی نہیں، علاقہ کون سا بنا لیتے ہیں؟ لازم و ملزوم کا۔ تو دیکھو اب یہ استعارہ رہا ہی نہیں بلکہ مجازِ مرسل بن گیا، کیا بن گیا؟ مجازِ مرسل۔ تو دیکھو استعارہ بالکنایہ کا قرینہ مجازِ مرسل ہو گیا۔ تو فعل کے اندر استعارہ آیا ہی نہیں، جب فعل کے اندر استعارہ آیا ہی نہیں بلکہ یہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل۔ تو استعارہ جب فعل میں نہیں آیا تو استعارہ تبعیہ بھی نہیں۔ اور آپ تو یہ کہہ رہے تھے کہ علامہ سکاکی کو اب استعارہ تبعیہ ماننا پڑے گا۔ تو اب بھی ان کے لیے استعارہ ان پر لازم نہیں ہے کہ استعارہ بالتبعیہ کو مانیں، بلکہ وہ کیا کر لیں گے؟ اس کو کیا بنا سکتے ہیں؟ استعارہ... مجازِ مرسل بھی بنا سکتے ہیں۔ اس لیے کہ یہاں دونوں کا امکان ہے۔ کہ ہر وہ مجاز جس کا علاقہ مشابہت ہو یعنی مشابہت بنانا بھی ممکن ہو اور مشابہت کے علاوہ بھی بنا سکتے ہیں، ”فَلَا يَجِبُ أَنْ يَكُونَ إِسْتِعَارَةً“ تو واجب نہیں ہے کہ وہ استعارہ ہو۔ ”لِجَوَازِ أَنْ يَكُونَ لَهُ عِلَاقَةٌ أُخْرَى“ کیونکہ ممکن ہے اس کے لیے کوئی اور علاقہ ہو ”بِاعْتِبَارِهَا وَقَعَ الإِسْتِعْمَالُ“ اور اس دوسرے علاقے کے اعتبار سے استعمال واقع ہوا ہو، ”كَمَا بَيْنَ النُّطْقِ وَالدَّلَالَةِ“ جیسے نطق اور دلالت کے درمیان ہے۔ ”فَإِنَّهَا لَازِمَةٌ لِلنُّطْقِ“ اس لیے کہ دلالت لازم ہے نطق کے ساتھ۔ ”بَلْ إِنَّمَا يَكُونُ الإِسْتِعَارَةُ إِذَا كَانَ الإِسْتِعْمَالُ بِاعْتِبَارِ عِلَاقَةِ التَّشْبِيهِ“ بلکہ یہ تو استعارہ اس وقت ہوگا جب استعمال کس علاقے کے اعتبار سے ہو؟ تشبیہ کے، مشابہت کے علاقے سے ہو۔ ”وَقَصْدِ الْمُبَالَغَةِ فِي التَّشْبِيهِ“ اور مبالغے میں... اور تشبیہ میں مبالغے کے ارادے سے ہو، تو پھر ہی ایسا ہوگا یہ استعارہ بنے گا اور پھر استعارہ تبعیہ بن جائے گا، جبکہ اس کو کیا بنانا؟ مجازِ مرسل بنانا بھی جائز ہے۔ ”وَفِيهِ نَظَرٌ“ اس جواب کے اندر بھی نظر ہے کہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟ استعارہ تبعیہ کو پھر بھی تسلیم نہیں کرتے بلکہ اس کو کیا بنا لیتے ہیں؟ مجازِ مرسل۔ یہ بھی اس میں یہ یہ بھی قابلِ اعتراض ہے، کیوں؟ ”لِأَنَّ السَّكَّاكِيَّ قَدْ صَرَّحَ“ اس لیے کہ علامہ سکاکی نے خود تصریح کی ہے ”بِأَنَّ نَطَقَتْ هَاهُنَا أَمْرٌ مُقَدَّرٌ وَهْمِيٌّ“ کہ نَطَقَتْ یہاں پر کیا ہے؟ ایک امرِ مفروضِ وہمی ہے۔ ”كَأَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ“ جیسے کہ منیّہ کے اظفار تھے، جیسے موت کے لیے کیا تھے؟ پنجے، وہ کیا تھے؟ وہمی چیز تھے۔ اسی طرح یہاں نطق سے کیا بھی کیا مراد ہے؟ نطقِ وہمی مراد ہے۔ ”كَأَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ الْمُسْتَعَارَةِ لِلصُّورَةِ الْوَهْمِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالْأَظْفَارِ الْحَقِيقِيَّةِ“ جس کو مستعار لیا گیا تھا مولانا صورتِ وہمیہ کے لیے جو مشابہ تھی کس کے ساتھ؟ اظفارِ حقیقی کے ساتھ۔ ”وَلَوْ كَانَ مَجَازًا مُرْسَلًا“ اگر یہ مجازِ مرسل ہوتا تو پھر تو امرِ وہمی نہ رہتا۔ مجازِ مرسل ہوتا پھر تو اب امرِ وہمی نہ رہتا۔ ”وَلَوْ كَانَ مَجَازًا مُرْسَلًا عَنِ الدَّلَالَةِ لَكَانَ أَمْرًا مُحَقَّقًا عَقْلِيًّا“ اگر یہ مجازِ مرسل ہوتا دلالت سے، تو پھر تو یہ کیا تھا؟ امرِ محققِ عقلی ہے، کیونکہ نطق کے ساتھ کیا ہے؟ دلالت، اور دلالت کیا ہے؟ امرِ وہمی ہے یا مولانا امرِ محقق ہے؟ وہم میں بناتے ہیں آپ یا حقیقتاً ہے نطق کے ساتھ دلالت، بھئی؟ دلالت تو ہے، تو یہ دلالت حقیقتاً ہو رہی ہے۔ ”لَكَانَ أَمْرًا مُحَقَّقًا عَقْلِيًّا“ تو یہ امرِ محققِ عقلی ہوا نہ کہ توہمی، اور جب وہمی نہیں تو تخییلیہ بھی نہیں۔
”عَلَى أَنَّ هَذَا لَا يَجْرِي فِي جَمِيعِ الْأَمْثِلَةِ“ نیز یہ مولانا تمام مثالوں میں بھی نہیں جاری ہوتا، تمام مثالوں میں بھی نہیں جاری ہوتا۔ یہ تو وہاں جہاں پر تشبیہ اور غیر تشبیہ دونوں علاقوں کا احتمال ہو تو وہاں پھر آپ جواب دے سکتے ہیں کہ مجازِ مرسل ہے، لیکن ہر جگہ تو ایسا نہیں ہوتا، بعض جگہ تو تشبیہ کے علاوہ اور کوئی علاقے کا امکان ہی نہیں ہوتا۔ ”وَلَوْ سُلِّمَ“ اگر تسلیم بھی کر لیجیے یہ بات تسلیم بھی کر لی جائے کہ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کیا ہے؟ مجازِ مرسل ہے یہاں پر، ”فَحِينَئِذٍ يَعُودُ الإِعْتِرَاضُ الْأَوَّلُ“ تو پھر اس وقت دوبارہ پہلا اعتراض پھر لوٹ آئے گا۔ اور وہ کیا تھا؟ کہ بھئی استعارہ بالکنایہ کا قرینہ آپ نے یہاں کیا بنا دیا؟ مجازِ مرسل بنا دیا۔ تو بات تو پھر وہی آ گئی، استعارہ بالکنایہ کا قرینہ تو استعارہ تخییلیہ کو ہونا چاہیے نہ کہ مجازِ مرسل کو، تو یہ تو پھر وہی اعتراض ہوا۔ ”وَهُوَ وُجُودُ الْمَكْنِيِّ عَنْهَا“ اور مکنی... وہ استعارہ بالکنایہ کا وجود ہے ”بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ بغیر کس کے؟ تخییلیہ کے۔ ”وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ“ اور یہ جواب دینا بھی ممکن ہے ”بِأَنَّ الْمُرَادَ بِعَدَمِ انْفِكَاكِ“ مولانا یہ الف لام زائد ہے مولانا، کاتب کتابت کی غلطی ہے۔ ”وَيُمْكِنُ الْجَوَابُ بِأَنَّ الْمُرَادَ بِعَدَمِ انْفِكَاكِ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ عَنِ التَّخْيِيلِيَّةِ“ کہ استعارہ بالکنایہ سے استعارہ بالکنایہ کا جدا نہ ہونا کس سے؟ تخییلیہ سے، اس سے مراد یہ ہے ”أَنَّ التَّخْيِيلِيَّةَ لَا تُوجَدُ بِدُونِهَا“ کہ تخییلیہ اس کے بغیر پایا نہیں جاتا۔ ”فِيمَا شَاعَ مِنْ كَلَامِ الْفُصَحَاءِ“ وہ جو شائع ہے کلامِ فصحاء... فصیح لوگوں کا جو کلام ہے، اس کے اندر ایسا نہیں ہوا۔
بھئی انفكاک سے یہ مراد نہیں ہے کہ استعارہ بالکنایہ سے استعارہ تخییلیہ جدا نہیں ہو سکتا، یہ معنی نہیں ہے۔ جدا تو ہو سکتا ہے، لیکن فصیح لوگوں کا جو کلام ہے، اس میں جہاں بھی استعارہ بالکنایہ آیا ہے اس کے ساتھ ہمیشہ کیا ہے؟ استعارہ تخییلیہ، تو اس کلامِ فصیح میں کبھی جدا نہیں ہوا۔ ”إِذْ لَا نِزَاعَ فِي عَدَمِ شُيُوعِ مِثْلِ أَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ اس لیے کہ کوئی نزاع نہیں ہے کہ جی کہ اظفارِ منیّہ جو مشابہ ہیں سبع کے ساتھ، اس کے اندر شیوع نہیں ہے، مطلب یہ شائع نہیں ہے۔ یہ شائع... آپ نے کیا کہا تھا؟ ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ الشَّبِيهَةِ بِالسَّبُعِ“ کہ یہاں دیکھو استعارہ تخییلیہ تو ہے، استعارہ بالکنایہ نہیں ہے۔ ٹھیک ہے، عقلاً آپ نے ایک مثال پیش کر دی، لیکن ہم بات کر رہے ہیں کلامِ فصیح میں، اور کلامِ فصیح میں استعارہ تخییلیہ آئے اور بالکنایہ نہ آئے ایسا... وہاں جب بھی استعارہ تخییلیہ آئے گا اس کے ساتھ کیا آئے گا؟ استعارہ بالکنایہ آئے گا، اور یہ جو آپ نے استعارہ تخییلیہ کی مثال ذکر کی جس میں استعارہ بالکنایہ نہیں، تو یہ فصیح کلام نہیں اور اس کی ہم بات نہیں کر رہے۔
”وَإِنَّمَا الْكَلَامُ فِي الصِّحَّةِ“ اور کلام کس کے اندر ہے؟ صحیح ہونے کے اندر ہے۔ ہاں تو یہ صحیح تو ہے لیکن فصیح کلام نہیں۔ تو صحیح ہونے کے اعتبار سے آپ کی بات صحیح کہ یہ بغیر تخییلیہ کے آ سکتا ہے، عقلاً ممکن ہے، لیکن فصیح کلام میں نہیں آتا، یہ مراد تھی علامہ سکاکی کی۔ ”وَأَمَّا وُجُودُ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ...“ سمجھ میں آیا؟ علامہ سکاکی کے کہنے کا یہ مطلب ہے کہ آ سکتا ہے، آنا صحیح ہے، لیکن یہ رائج... رائج نہیں ہے۔ تو علامہ سکاکی صرف صحیح ہونے کی بات کر رہے تھے، اور صحیح ہونے کے اعتبار سے ان کی بات صحیح۔ ”وَأَمَّا وُجُودُ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ بِدُونِ التَّخْيِيلِيَّةِ فَشَائِعٌ“ باقی استعارہ بالکنایہ کا وجود بغیر تخییلیہ کے ”فَشَائِعٌ“ وہ کیا ہے؟ یعنی جہاں پہلے تو ہے تخییلیہ بغیر بالکنایہ کے نہیں آئے گا، لیکن استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے آ سکتا ہے۔ ”عَلَى مَا قَرَّرَهُ صَاحِبُ الْكَشَّافِ“ جیسے کہ ثابت کیا ہے کس نے؟ صاحبِ کشاف نے اللہ کے اس قول کے اندر: ”الَّذِينَ يَنْقُضُونَ عَهْدَ اللَّهِ“ وہ لوگ جو توڑتے ہیں اللہ کے عہد کو۔ تو یہاں پر دیکھو عہد کو تشبیہ دی ہے رسی کے ساتھ، کس کے ساتھ تشبیہ دی ہے؟ کیونکہ توڑنا رسی کا ہوتا ہے، عہد کو باطل تو کیا جا سکتا ہے مولانا، اس کو توڑا نہیں جا سکتا۔ تو یہاں پر عہد کو تشبیہ دی ہے رسی کے ساتھ، تو یہ استعارہ بالکنایہ ہے، کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ۔ اور ”يَنْقُضُونَ“ یہ کیا ہے؟ استعارہ... ”يَنْقُضُونَ“ یہ بمعنی ابطال کے ہے، ”يُبْطِلُونَ“۔ تو نقض کس کے معنی میں ہے؟ ابطال کے معنی میں۔ تو یہاں دیکھو استعارہ بالکنایہ تو ہے لیکن استعارہ تخییلیہ نہیں، اس لیے کہ نقض کس کے معنی میں ہے؟ ابطال کے معنی میں، تو یہ استعارہ تخییلیہ نہیں۔ کیونکہ استعارہ تخییلیہ کی دو تعریفیں ہم نے پڑھیں: ایک مصنف کی، ایک علامہ سکاکی کی۔ مصنف نے کیا کہا تھا، جمہور کی تعریف؟ کہ مشبہ بہٖ کے لازم کو ثابت کرنا کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ اور یہاں ہم نقض کو عہد کے لیے نہیں ثابت کر رہے، بلکہ یہ نقض بمعنی ابطال کے ہے تو ابطال ثابت ہو رہا ہے کس کے لیے؟ عہد کے لیے۔ مشبہ کون؟ عہد۔ مشبہ بہٖ کون؟ رسی۔ مشبہ بہٖ کون؟ رسی۔ اور یہاں پر آ رہا ہے ”يَنْقُضُونَ“، تو عہد کے اندر تو استعارہ بالکنایہ ہے، اور استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کیا ہوتا ہے؟ استعارہ تخییلیہ۔ تو یہ استعارہ بالکنایہ تو ہے لیکن تخییلیہ نہیں ہے، اس لیے کہ ”يَنْقُضُونَ“ کس کے معنی میں ہے؟ ”يُبْطِلُونَ“ کے معنی میں، اس میں بھی استعارہ ہے۔ تو یہ جب ”يُبْطِلُونَ“ کے معنی میں ہوا، تو آپ نے ابطال کو ثابت کیا کس کے لیے؟ عہد کے لیے، اور عہد کا تو ابطال ہوتا ہے عہد کے اندر۔ عہد کے اندر کیا ہوتا ہے؟ ابطال ہوتا ہے۔ تو آپ نے مشبہ بہٖ کے لازم کو مشبہ کے لیے ثابت کیا؟ ایسا نہیں کیا، بلکہ کیونکہ نقض بول کر ابطال مراد ہے۔
نیز علامہ سکاکی کے نزدیک استعارہ تخییلیہ کس کو کہتے تھے؟ کہ ایک وہ وہمی چیز ہو، کیا ہو؟ وہمی۔ اور یہاں پر بھی کوئی وہمی چیز نہیں ہے، سمجھ میں آیا، بھئی؟ وہمی چیز نہیں ہے، ابطال مراد ہے۔ تو نقض... کیا ہوا؟ وہمی چیز کو ثابت کیا جائے کس کے لیے؟ مشبہ کے لیے۔ تو یہاں ایسا بھی نہیں مولانا، سمجھ میں آیا، بھئی؟
بس سمجھ میں آیا، بھئی؟ یہ تو یہاں نقض ابطال کے معنی میں ہے اور ابطال تو عہد کے لیے آتا ہے، یہ کوئی وہمی چیز نہیں ہے۔ لہٰذا نہ یہ استعارہ تخییلیہ جمہور کی تعریف کے مطابق بن سکتا ہے، اور نہ ہی یہ استعارہ تخییلیہ علامہ سکاکی کی تعریف کے مطابق بن سکتا ہے، تو دیکھو استعارہ بالکنایہ بغیر تخییلیہ کے آ گیا۔ ”وَصَاحِبُ الْمِفْتَاحِ...“ اور اسی طرح جو ثابت کیا ہے علامہ سکاکی نے فی مثلِ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“ اس مثال کے اندر۔ تو یہاں پر بھی دیکھو انبت کا اسناد ہے ربیع کی طرف، تو یہاں الربیع کے اندر استعارہ بالکنایہ ہے، اور اس کے لیے قرینہ کیا ہے؟ انبات کا اسناد ہو رہا ہے ربیع کی طرف۔ حالانکہ انبات، اگانا، یہ تو ربیع کا کام نہیں ہے بلکہ فاعلِ حقیقی کا کام ہے، تو ربیع سے مراد فاعلِ حقیقی ہے، یہ استعارہ بالکنایہ۔ اور انبات جو اس کے لیے ثابت ہے، یہ انبات استعارہ تخییلیہ نہیں کیونکہ تخییلیہ کہتے ہیں وہمی چیز کو اور یہاں انبات کوئی وہمی چیز نہیں ہے بلکہ حقیقی۔ ”فَصَارَ الْحَاصِلُ مِنْ مَذْهَبِهِ...“ پس علامہ سکاکی کے مذہب کا حاصل یہ ہے کہ حاصل یہ کہ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کبھی استعارہ تخییلیہ بھی ہو سکتا ہے، جیسے مولانا ”أَظْفَارُ الْمَنِيَّةِ“، منیّہ کے لیے قرینہ کیا... یہاں منیّہ میں کیا ہے؟ استعارہ بالکنایہ اور اس کے لیے قرینہ کیا ہے؟ اظفار، اور کیا اظفار کون سے مراد ہیں؟ وہمی، تو یہ استعارہ کون سا ہوا؟ تخییلیہ۔ اسی طرح ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ میں بھی ہے۔
اور کبھی کبھار اس کا قرینہ استعارہ بالکنایہ کا وہ استعارہ تحقیقیہ ہوگا مولانا، وہمی نہیں بلکہ ایسی چیز ہوگی جس کا تحقق حساً یا عقلاً ہوگا، جیسے اللہ کا قول ہے: ”يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“، اے زمین، تو اپنے پانی کو نگل جا۔ اے زمین، تو اپنے پانی کو نگل جا مولانا۔ عجیب استعارہ ہے، کہتے ہیں فصاحت و بلاغت کی انتہا کو پہنچا ہوا ہے مولانا۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ کہتے ہیں سبعہ معلقات مولانا، یہ سات قصیدے عرب والوں نے لٹکائے ہوئے تھے بیت اللہ کے اندر، بھئی۔ تو غالباً غالباً زہیر بن ابی سلمیٰ یا امرؤ القیس کی جو بہن تھی، امرؤ القیس کا تو انتقال ہو چکا تھا، یہ قصیدہ اس کا لٹکا ہوا تھا بیت اللہ کے مولانا۔ اس نے جب یہ کلام سنا، اللہ فرماتے ہیں، بھئی، طوفانِ نوح آیا، طوفانِ نوح کے بعد ہم نے زمین سے کہا: ”يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“، اے زمین، اپنا پانی نگل جا۔ پانی نگل جا۔ اس نے جب اتنا فصیح و بلیغ کلام سنا، تو گئی بیت اللہ میں جا کر اپنے بھئی کے قصیدے کو اتار لیا کہ اب یہ اس قابل نہیں ہے، اس کے مقابلے میں ایسا کلام آ چکا ہے کہ یہ اس قابل نہیں کہ اس کو کہاں پر لٹکایا جائے؟ بیت اللہ کے اندر، بھئی۔ اے زمین، اپنے پانی کو نگل جا۔
تو دیکھو یہاں پر اس کے اندر پانی کو کس سے... پانی کے اندر استعارہ ہے غذا سے، پانی کو تشبیہ دی کس سے؟ غذا سے، بھئی۔ سمجھ میں آیا، بھئی؟ پانی کو تشبیہ دی ہے غذا سے، اور پھر اس غذا کے لفظ کو مستعار لے لیا گیا کس کے لیے؟ پانی کے لیے، یہ تو جمہور کے قول پر۔ اور پھر ہم نے اس مستعار استعارے پر تصریح نہیں کی بلکہ اشارہ کر دیا کس کے ذریعے؟ ابلعی کے ذریعے۔ یہ قرینہ ہوا اس کا مولانا۔
اور یہ ابلع... بلع کے اندر بھی استعارہ ہے مولانا، یعنی پانی کا گہرائی میں جانا۔ نگلنے سے کیا مراد ہے؟ زمین کے اندر نیچے چلے جانا، اس کی سطح نیچے چلی جائے، بھئی، گہرائی میں چلا جائے پانی۔ اچھا، تو یہاں پر مولانا دیکھو نگلنے میں استعارہ ہے اور اس سے کیا مراد ہے؟ پانی کا گہرائی میں جانا۔ پانی کا... تو دیکھو پانی کو کے گہرائی میں جانے کو تشبیہ دی نگلنے کے ساتھ۔ اس کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ نگلنے کے ساتھ۔ اور وجہِ تشبیہ کیا ہے مولانا؟ وجہِ تشبیہ کیا ہے، بھئی؟ کہ دونوں چیزیں دونوں میں خفا آ جائے گا، کیا آ جائے گا؟ بھئی، پیٹ میں بھی جب کوئی چیز گئی، مخفی ہو گئی یا نہیں؟ پانی بھی جب گہرائی میں چلا گیا تو کیا ہوا؟ مخفی ہو گیا۔ تو یہاں پر اس نگلنے... اور تو مشبہ کون؟ پانی کا گہرائی میں جانا۔ مشبہ بہٖ کون؟ نگلنا۔ اور لفظ کون سا ذکر؟ مشبہ بہٖ۔ اور مشبہ بہٖ ذکر ہو تو یہ کیا کہلاتا ہے؟ استعارہ تحقیقیہ۔ تو ماء کے اندر استعارہ بالکنایہ تھا اور اس کا قرینہ ابلعی ہے، اور ابلعی استعارہ تحقیقیہ ہے، تخییلیہ نہیں ہے۔ اور کبھی کبھار کہتے ہیں اس کا قرینہ حقیقت ہوگی جیسے ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“، دیکھو ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ الْبَقْلَ“، ربیع کو تشبیہ دی کس کے ساتھ؟ فاعلِ حقیقی کے ساتھ، یہ استعارہ بالکنایہ۔ اور استعارہ بالکنایہ کے لیے قرینہ کیا؟ انبات، اور انبات کس معنی میں ہے؟ حقیقی معنی میں یا غیر حقیقی معنی میں؟ حقیقی معنی میں۔ تو دیکھو علامہ سکاکی کے مذہب کا خلاصہ یہ کہ استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کبھی استعارہ تخییلیہ بھی ہو سکتا ہے، کبھی استعارہ تحقیقیہ بھی ہو سکتا ہے، اور کبھی حقیقت بھی ہو سکتی ہے۔ کبھی کیا ہو سکتی ہے؟ دیکھیے:
”فَصَارَ الْحَاصِلُ مِنْ مَذْهَبِهِ“ حاصل یہ ہے ان کے مذہب سے ”أَنَّ قَرِينَةَ الإِسْتِعَارَةِ بِالْكِنَايَةِ قَدْ تَكُونُ إِسْتِعَارَةً تَخْيِيلِيَّةً“ کہ قرینہ استعارہ بالکنایہ کا کبھی تو کیا ہوگا؟ استعارہ تخییلیہ ہوگا، ”مِثْلُ أَظْفَارِ الْمَنِيَّةِ“ جیسے منیّہ کے اظفار ہیں، اور نَطَقَتْ ”نَطَقَتِ الْحَالُ“ کے اندر مولانا، ”وَقَدْ تَكُونُ إِسْتِعَارَةً تَحْقِيقِيَّةً“ اور کبھی کیا ہوگا قرینۂ استعارہ؟ تحقیقیہ۔ ”عَلَى مَا ذُكِرَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى: يَا أَرْضُ ابْلَعِي مَاءَكِ“ اللہ کے اس قول میں جیسے ذکر کیا گیا: اے زمین، اپنا پانی نگل جا، ”أَنَّ الْبَلْعَ إِسْتِعَارَةٌ عَنْ غَوْرِ الْمَاءِ“ بلع کیا ہے؟ استعارہ ہے پانی کے گہرائی میں جانے سے ”فِي الْأَرْضِ“ زمین میں، ”وَالْمَاءُ إِسْتِعَارَةٌ بِالْكِنَايَةِ عَنِ الْغِذَاءِ“ اور ماء استعارہ بالکنایہ ہے کس سے؟ غذا سے۔ ”وَقَدْ تَكُونُ حَقِيقَةً“ اور کبھی کبھار مولانا استعارہ بالکنایہ کا قرینہ کیا ہوگا؟ حقیقت ہوگا، ”كَمَا فِي أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“ جیسے کہ ”أَنْبَتَ الرَّبِيعُ“ کے اندر تھا۔ چلیے مولانا، ھذا ہو المرام واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔