Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

شرح التهذيب · dars-041

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor NOMAN AHMAD
📍 Location PESHAWAR, Pakistan
📅 Approved Date 14 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 54
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اچھا بھئی آگے سبق دیکھیے، فَأَقْسَامُ الدَّلَالَةِ سِتَّةٌ وَالْمَقْصُودُ بِالْبَحْثِ هَاهُنَا هِيَ الدَّلَالَةُ اللَّفْظِيَّةُ الْوَضْعِيَّةُ إِذْ عَلَيْهَا مَدَارُ الْإِفَادَةِ وَالِاسْتِفَادَةِ وَهِيَ تَنْقَسِمُ إِلَى مُطَابَقَةٍ وَتَضَمُّنٍ وَالْتِزَامٍ لِأَنَّ دَلَالَةَ اللَّفْظِ بِسَبَبِ وَضْعِ الْوَاضِعِ إِمَّا عَلَى تَمَامِ الْمَوْضُوعِ لَهُ أَوْ جُزْئِهِ أَوْ عَلَى أَمْرٍ خَارِجٍ عَنْهُ۔ گزشتہ سبق میں ہم دلالت کی بحث پڑھ رہے تھے۔ آپ نے پڑھا کہ دلالت اسے کہتے ہیں کہ ایک چیز سے آپ کو دوسری چیز کا پتہ لگ جائے۔ اور پہلی چیز کو کہتے ہیں دَالٌّ، لام مشدد ہے بھئی، اور دوسری چیز کو مَدْلُوْلٌ کہتے ہیں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ دلالت کی یہ تقسیم دَالٌّ کے اعتبار سے ہے۔ دَالٌّ بدلے گا، دَالٌّ کی قسم بدلے گی تو دلالت کی قسم بدل جائے گی۔ تو یہ دَالٌّ لفظ بھی ہو سکتا ہے اور غیر لفظ بھی ہو سکتا ہے۔ تو اگر دَالٌّ لفظ ہو تو یہ دلالت لفظیہ اور اگر دَالٌّ غیر لفظ ہو تو پھر دلالت غیر لفظیہ۔ پھر ان دونوں کی تین تین قسمیں ہیں، یا تو دلالت وضعیہ ہوگی یا دلالت طبعیہ ہوگی یا دلالت عقلیہ ہوگی۔ دلالت وضعیہ وہ ہے جس میں وضع کا دخل ہو۔ میں نے بتلایا تھا وضع کا معنی ہے مقرر کرنا، یعنی جس میں انسانوں نے کسی ایک چیز کو دوسری چیز کے لیے مقرر کیا ہو، خود بخود عقل سے اس کا پتہ نہ چلتا ہو۔ جیسے ہم نے اپنی زبان میں مختلف چیزوں کے نام مقرر کر رکھے ہیں، جب وہ لفظ بولتے ہیں تو دوسرا وہ سمجھ لیتا ہے اس کے معنی کو کہ اس سے کیا مراد ہے، کیا بات ہو رہی ہے۔ لیکن یہ دلالت صرف عقل کی وجہ سے نہیں ہے، ہمارے مقرر کرنے کی وجہ سے ہے۔ لہذا یہی بات آپ کسی دوسری زبان والے کے سامنے کہیں تو دیکھو اس کو نہیں سمجھ آتی۔ اگر صرف عقل کے ذریعے پتہ چلتا تو پھر تو اس کو بھی وہی معنی سمجھ میں آنا چاہیے تھا، لیکن اسے وہ بات سمجھ میں نہیں آتی کیونکہ انہوں نے ان معانی کے لیے اپنے الفاظ مقرر کیے ہوئے ہیں۔ تو معلوم ہوا ہر زبان میں اسی طرح ہے، انہوں نے مختلف معانی کے لیے اپنے اپنے الفاظ مقرر کیے ہیں اور بات چیت میں وہی الفاظ استعمال کرتے ہیں اور ان میں سے جو دوسرے کو کوئی بات سمجھانا چاہتا ہے تو وہ دوسرا اس کو پھر سمجھتا چلا جاتا ہے۔ تو اس کو کہتے ہیں وَضْعٌ بھئی، وَضْعٌ۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ جس لفظ کو جس چیز کو مقرر کیا گیا یعنی دَالٌّ اس کو کہیں گے مَوْضُوْعٌ۔ مَوْضُوْعٌ یعنی مقرر کیا ہوا۔ جیسے لفظ زید کو کس کے لیے مقرر کیا ہے؟ ذات زید کے لیے۔ تو لفظ زید ہوا مَوْضُوْعٌ، اور کس کے لیے مقرر کیا ہے؟ وہ مَدْلُوْلٌ جو ہے اس کو کہیں گے مَوْضُوْعٌ لَهُ کہ اس کے لیے مقرر کیا گیا ہے۔ ترجمے پہ نظر ہے؟ مَوْضُوْعٌ مقرر کیا گیا ہے، لَهُ اس کے لیے۔ تو جو مَدْلُوْلٌ ہوگا اس کو مَوْضُوْعٌ لَهُ کہیں گے بھئی، مَوْضُوْعٌ لَهُ۔ تو دلالت وضعیہ کی بات چل رہی تھی کہ جس میں وضع کا دخل ہو، تو اس کو دلالت وضعیہ کہتے ہیں۔ اور اگر دلالت میں طبیعت کا دخل ہو تو اسے دلالت طبعیہ کہتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا کہ دلالت طبعیہ میں طبیعت کو پہلے مَدْلُوْلٌ پیش آتا ہے اور پھر اس مَدْلُوْلٌ کی وجہ سے طبیعت دَالٌّ کو وجود دیتی ہے، اور پھر اس دَالٌّ کے ذریعے باقی لوگوں کو بھی مَدْلُوْلٌ کا پتہ چل جاتا ہے۔ جیسے کسی شخص کو سینے میں درد ہوا اور اس نے اُح اُح کہا۔ تو دیکھا، پہلے درد تکلیف لاحق ہوئی، تو یہ مَدْلُوْلٌ ہے، اور پھر اس تکلیف کی وجہ سے اس نے اُح اُح کو طبیعت نے وجود دیا، اور اس اُح اُح کے ذریعے دوسرے کو بھی پتہ چل گیا کہ اس کو مَدْلُوْلٌ لاحق ہوا ہے، یعنی اس کو کوئی سینے میں تکلیف وغیرہ ہوئی ہے۔ اور یا اسی طرح کسی کو غم لاحق ہوا تو اس نے ہائے ہائے کہا۔ تو دوسروں کو بھی اس ہائے ہائے سے اس کے غم کا پتہ چل گیا کہ یہ غمگین ہے یا تکلیف میں ہے یا پریشانی میں ہے۔ تو یہ ہے دلالت طبعیہ۔ اور اگر دلالت کے اندر نہ تو وضع کا دخل ہو اور نہ طبیعت کا دخل ہو تو پھر اس کو دلالت عقلیہ کہتے ہیں۔ میں نے آپ کو تفصیلاً بتلایا تھا کہ دلالت عقلیہ کا یہ معنی نہیں کہ صرف اسی میں عقل کا دخل ہے۔ عقل کا دخل تو تینوں میں ہے، چاہے وضعیہ ہو، چاہے طبعیہ ہو، چاہے عقلیہ ہو۔ عقل نہیں تو کوئی بھی دلالت نہیں ہوگی، سننے والے کو دوسری چیزوں کا پتہ ہی نہیں چلے گا اگر اس کے پاس عقل نہیں ہے۔ تو عقل کا دخل تو تینوں میں ہے۔ لیکن باقی دو کے اندر ایک میں وضع کا بھی دخل ہے اور ایک میں طبیعت کا بھی دخل ہے۔ تو جہاں وضع کا دخل تھا تو اس کا نام وضعیہ رکھ دیا، جہاں طبیعت کا دخل تھا اس کا نام طبعیہ رکھ دیا، اور جہاں ان دونوں میں سے کسی کا بھی دخل نہیں تو اب اس کا نام عقلیہ رکھ دیا۔ تو بہرحال عقل کا تعلق تینوں سے ہے بھئی، تینوں میں عقل کا دخل ہے۔ تو بایں اعتبار دلالت کی چھ قسمیں ہو گئیں بھئی۔ دلالت لفظیہ وضعیہ، دلالت لفظیہ طبعیہ، دلالت لفظیہ عقلیہ۔ اور اسی طرح تین قسمیں دلالت غیر لفظیہ کی ہو گئیں۔ دلالت غیر لفظیہ وضعیہ، دلالت غیر لفظیہ طبعیہ، اور دلالت غیر لفظیہ عقلیہ۔ تو یہ چھ قسمیں ہو گئیں۔ اور ان میں سے ہر ایک کی مثالیں شارح نے شرح کے اندر ذکر کر دی تھیں بھئی۔ البتہ ان میں سے ایک، دَوَالُّ أَرْبَعَة کے بارے میں میں نے کہا تھا کہ کل میں اس کو بیان کروں گا۔ کتاب میں کیا آیا تھا؟ دلالت وضعیہ کی قسم آئی تھی كَدَلَالَةِ لَفْظِ زَيْدٍ عَلَى ذَاتِهِ۔ لفظ زید کی دلالت ذات زید پر۔ یہ کون سی دلالت ہے؟ لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ لفظیہ ہے۔ اور کون سی ہے؟ وضعیہ ہے۔ تو یہ دلالت لفظیہ وضعیہ کی قسم ہوئی۔ اور آگے جو آ رہا ہے وَدَلَالَةِ الدَّوَالِّ الْأَرْبَعِ عَلَى مَدْلُولَاتِهَا۔ یہ دلالت غیر لفظیہ وضعیہ ہے۔ یہ بھی وضعیہ ہے لیکن غیر لفظیہ۔ اور دَوَالُّ أَرْبَعَة کی دلالت ان کے مدلولات پر۔ اب یہ دَوَالُّ أَرْبَعَة کسے کہتے ہیں، یہ اچھی طرح سمجھ لیں، یہ منطق کی کتابوں میں ان کا عام ذکر آتا ہے بھئی۔ اَلدَّوَالُّ، یہ لام مشدد ہے اور یہ غیر منصرف ہے اس لیے اس پر تنوین نہیں آئے گی بھئی۔ اَلدَّوَالُّ أَرْبَعٌ۔ چار، اور تو دَوَالُّ یہ جمع ہے دَالَّةٌ کی۔ دَالَّةٌ دلالت کرنے والی چیز۔ تو دَالَّةٌ، اس میں لام مشدد ہے، یہ مفرد ہے، اور اس کی جمع ہے دَوَالُّ۔ جیسے دَابَّةٌ اس کی جمع دَوَابُّ آتی ہے بھئی۔ تو دَوَالُّ کس کی جمع ہے؟ دَالَّةٌ کی۔ دونوں جگہ لام مشدد ہے۔ دَالَّةٌ، یہ لام بھی مشدد۔ اور دَوَالُّ، یہ لام بھی مشدد ہے۔ لیکن غیر منصرف ہے اس پر تنوین نہیں آئے گی۔ اور کیا آیا؟ دَوَالُّ أَرْبَعَة بھئی، یہ چار دَوَالُّ ہیں، چار دلالت کرنے والی چیزیں ہیں۔ چار دلالت کرنے والی۔ یہ کون کون سی ہیں؟ بَيْنَ السُّطُوْرِ ان کے نام دیے ہوئے ہیں۔ وَهِيَ الْعُقُودُ وَالْخُطُوطُ وَالنُّصُبُ وَالْإِشَارَاتُ۔ عُقُوْد، خُطُوْط، نُصُب، اور إِشَارَات۔ تو یہ چار چیزیں ہوئیں: خُطُوْط، عُقُوْد، نُصُب، اور إِشَارَات۔ ان میں سے ہر ایک کی تفصیل یہ ہے بھئی۔ یاد رکھیے خُطُوْط، یہ جمع ہے خَطٌّ کی، خا اور طا، خَطٌّ۔ اور خَطّ کہتے ہیں تحریر اور لکھائی کو۔ خُطُوْط سے کیا مراد ہیں؟ لکھائیاں، تحریریں۔ دیکھو یہ لکھائی کتنی قیمتی چیز ہے۔ خَطّ کا معنی ہے لکیر، دیکھو یہ لکیریں ہی ہیں نا۔ لیکن خاص آوازوں کے لیے آپ نے مختلف لکیریں یا مختلف حروف مقرر کیے ہیں۔ مثلاً الف ایک سیدھی اوپر سے نیچے کی طرف لکیر، اس کو ہم کیا کہتے ہیں؟ أَلِف۔ أَلِف کی یہ خط ہم نے مقرر کیا ہے۔ با کے لیے ایک تھوڑا سا لمبا گول سا کنارے اوپر کی طرف اٹھے ہوں اور نیچے ایک نقطہ لگا ہو، اس کو ہم نے با کے لیے مقرر کیا ہے۔ اور اسی کے اوپر اگر نیچے نہ ہو نقطہ بلکہ اوپر دو نقطے ڈال دیں، تو اسی کو ہم نے تا کے لیے مقرر کیا ہے۔ تو یہ مختلف لکیریں ہیں جن کو ہم نے مختلف حروف کے لیے مقرر کیا ہے۔ تو یہ مختلف حروف انہی کے ذریعے پھر ہم مختلف الفاظ لکھتے ہیں۔ دیکھو یہ جو حروف ہیں نا حروف، یہ مختلف آوازوں کے لیے ہم نے مقرر کیے ہیں۔ مختلف آوازوں کے لیے۔ زا، دیکھو زا کے لیے ہم نے وہ ایک لکیر ہے جو تھوڑی سی ٹیڑھی سی اور اس کے اوپر ایک نقطہ لگا دیتے ہیں، یہ کیا ہے؟ زَا۔ تو ہم جو آپس میں بولتے ہیں، جس جس طرح کی آوازیں ہم زبان میں بولتے ہوئے ادا کرتے ہیں، ان کے لیے مختلف حروف مقرر کر دیے ہیں۔ چنانچہ جب میں بول رہا ہوں اور کوئی تقریر لکھنا چاہے تو جیسے جیسے الفاظ میری زبان سے وہ سنتا جائے گا، ان آوازوں کے مطابق وہ ان کو لکھتا جا رہا ہے۔ تو یہ جو حروف ہیں ہم نے کس کے لیے مقرر کیے ہیں؟ آوازوں کے لیے، مختلف آوازوں کے لیے۔ اور جو آوازیں، جو حروف ہم بولتے نہیں، تو ان کی آوازوں کے لیے کچھ مقرر بھی ہم نے نہیں کیا۔ مثلاً عرب والے گاف نہیں بولتے، تو گاف کے لیے انہوں نے کوئی حرف ہی نہیں مقرر کیا، وہ بولتے ہی نہیں ہیں گاف۔ یا ڈال ہے ڈال، ہم ڈال بولتے ہیں ہم نے اس کے لیے ایک حرف باقاعدہ شکل مقرر کی ہے کہ اگر میں کبھی ڈال زبان سے ادا کروں تو آپ نے اس طرح لکھنا ہے مثلاً مثلاً ڈھول بھئی، تو آپ وہ آپ فوراً سمجھ جاتے ہیں شروع میں کس طرح کی کس طرح حروف کے ساتھ اس کو لکھنا ہے۔ لیکن عرب والے ڈال بولتے ہی نہیں، اس کے لیے انہوں نے کوئی حرف مقرر ہی نہیں کیا۔ تو ہر زبان والے جو جو زبان سے آوازیں ادا کرتے ہیں، جو جو لفظ بولتے ہیں، ان آوازوں کے اعتبار سے اپنے اپنے انہوں نے حروف بنائے ہوئے ہیں اور پھر وہ اس کے مطابق لکھتے چلے جاتے ہیں۔ سمجھ میں آ رہی ہے بات؟ تو یہ آوازوں کے لیے ہم نے حروف مقرر کیے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص تقریر کر رہا ہے اور وہ کوئی نیا لفظ بولتا ہے، جو آپ نے اس سے پہلے کہیں دیکھا نہیں۔ لیکن پھر بھی آپ اس کو لکھ لیتے ہیں یا نہیں لکھ لیتے؟ کیوں؟ وہ آپ اس کی آوازوں کے انداز سے اندازہ لگا لیتے ہیں کہ اس کو کس طرح لکھنا ہے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں زید لکھو، تو آپ زید پہ غور کرتے ہیں کہ ایک زا ہے شروع میں زا کی آواز ہے، پھر یا کی آواز ہے، پھر آخر میں دال کی آواز ہے، تو زید، زَا یَا دَال کے ساتھ آپ اس کو لکھ لیتے ہیں بھئی۔ تو اس طرح جو بھی میں لفظ بولوں گا چاہے آپ نے کہیں نہ بھی پڑھا ہو لیکن آپ کیا کریں گے؟ آوازوں سے پورا اندازہ لگا کر اس کے مطابق اس کو لکھ لیں گے بھئی۔ تو یہ مختلف زبانوں والوں نے جو جو حروف ادا کرتے ہیں زبان سے، ان کے لیے انہوں نے مختلف یہ حروف مقرر کیے ہیں، مختلف لکھائیاں مقرر کی ہیں، تحریر بھئی، تحریر بھئی۔ اور یہ اتنی قیمتی چیز ہے کہ جسے لفظوں میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔ مثلاً دیکھو ایک ہے میں زبان سے زید کہتا ہوں، آپ سننے والوں کو سمجھ گیا کہ یہ زید کی بات ہو رہی ہے، فوراً زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ گئی۔ اور ایک صورت یہ ہے کہ میں زبان سے کچھ بھی نہیں کہتا، صرف کتاب کاپی پر میں زَا یَا دَال لکھ دیتا ہوں خاموشی سے، زَا یَا دَال۔ لیکن اس کو پڑھتے ہی آپ کیا سمجھ گئے کہ یہ کیا لکھا ہے؟ زید۔ حالانکہ میں نے تو کوئی تلفظ نہیں کیا زبان سے، لیکن آپ سمجھ جاتے ہیں کہ یہ لفظ زید لکھا ہے اور زید کی صورت آپ کے ذہن میں آ جاتی ہے۔ لہذا تحریر کا فائدہ یہ ہے کہ آپ زبان ہلائے بغیر اپنے دل کی بات دوسرے تک پہنچا سکتے ہیں بھئی۔ چنانچہ لوگ دور دراز رہتے ہیں تو ایک دوسرے کو خط بھیجتے ہیں بھئی۔ خط کے اندر کیا ہوتا ہے؟ یہی لکیریں اس نے لگائی ہوتی ہیں، حروف لکھے ہوتے ہیں، باتیں لکھی ہوتی ہیں، وہی باتیں جو وہ اس سے کرنا چاہتا ہے۔ اور اس کے پاس خط پہنچتا ہے وہ ساری باتیں سمجھ جاتا ہے کہ وہ مجھے کیا کہہ رہا ہے، پوری تفصیل کے ساتھ۔ دیکھا؟ کتنی دور ہے وہ اس سے، لیکن پیغام پورا کا پورا پہنچ گیا یا نہیں پہنچ گیا؟ ایک ایک بات جو وہ کہنا چاہتا تھا دوسرے تک پہنچ گئی۔ حالانکہ وہ اس سے میلوں دور، سینکڑوں میل دور رہتا ہے۔ اسی طرح یہ لکھائیوں کا اتنا عظیم فائدہ ہے کہ قدیم زمانے کی کتابیں ہم اٹھاتے ہیں، وہاں کے اس زمانے والوں نے جو جو باتیں لکھی ہیں، ہم پورے تفصیل کے ساتھ ان کو سمجھتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً آپ کا دل چاہتا ہے کہ آج سے پانچ سو سال پہلے کی میں سیر کروں، اس زمانے میں دنیا میں کیا ہوتا تھا، فلاں شہر میں کیا حالات تھے، کس طرح تھا زمانہ۔ تو آپ اس زمانے والوں کی کوئی کتاب اٹھاتے ہیں اور آپ پڑھتے چلے جاتے ہیں اور آپ کو پوری اس کی صورت آپ کے ذہن میں آتی جاتی ہے، آپ سمجھتے چلے جاتے ہیں کہ کیا کیا بیان ہو رہا ہے۔ تو دیکھو یہ تحریر کا کتنا عظیم فائدہ، سینکڑوں سال پرانے لوگوں کی باتیں بِعَيْنِهِ آپ کے سامنے آ جاتی ہیں جیسے وہ آپ کے سامنے بیٹھ کر یہ ساری باتیں ذکر کر رہا ہو، اتنے آرام سے آپ پوری تفصیل سے ایک ایک بات سمجھ جاتے ہیں۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ یا جیسے آپ احادیث کی کتاب اٹھاتے ہیں اور حضور صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ کی باتیں آپ کے سامنے آ جاتی ہیں کہ حضور صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے اس موقع پر یہ ارشاد فرمایا تھا۔ بِعَيْنِهِ وہی الفاظ ذکر ہوتے ہیں جو حضور نے فرمائے تھے، آپ سوچیں تو سہی چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا اور بِعَيْنِهِ وہی الفاظ آپ کے سامنے ہیں جو حضور صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نے فلاں موقع پر فرمائے تھے یا فلاں موقع پر فرمائے تھے یا فلاں صحابی سے فرمائے تھے، وہ وہی الفاظ پوری طرح آپ کے سامنے آ جاتے ہیں بھئی۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ تحریر کتنی قیمتی چیز ہے۔ تو یہ تحریر جو ہے نا جو لکھائی ہے اس کو کہتے ہیں خَطٌّ، خَطّ بھئی۔ میں نے بتایا یہ لکیریں ہی ہیں نا ساری، تو لیکن ہر زبان والوں کا اپنا انداز ہے۔ جیسے دیکھو اردو والے اور عرب والے الف با وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ لیکن جو انگریز ہیں، انہوں نے اپنے لیے اے بی سی وغیرہ مختلف حروف کی صورتیں مقرر کی ہوئی ہیں اور وہ اس کے مطابق لکھتے ہیں بھئی۔ تو یہ کیا ہیں؟ خُطُوْط بھئی۔ دَوَالُّ أَرْبَعَة کی بات چل رہی ہے، یہ پہلی قسم کیا ہے؟ خُطُوْط۔ خُطُوْط کس کی جمع؟ خَطّ کی، اور خَطّ کسے کہتے ہیں؟ لکھائی اور تحریر کو۔ تو یہ لکھائیاں اور تحریریں کتنی قیمتی چیز ہیں بھئی اس کے ذریعے کوئی آدمی پاس ہو یا نہ ہو لیکن اپنا پیغام دوسرے کو پہنچا سکتا ہے بھئی، پہنچا سکتا ہے۔ تو یہ خُطُوْط ہیں بھئی۔ اور خُطُوْط میں دیکھو میں نے آپ کے سامنے لکھا، زبان سے کچھ نہیں کہتا، خاموشی سے قلم اٹھاتا ہوں اور زَا یَا دَال لکھ دیتا ہوں۔ آپ سمجھ گئے کہ نہیں سمجھے میں نے کیا لکھا ہے؟ آپ سمجھ گئے کیا لکھا میں نے؟ زید۔ میں نے تو زبان سے کچھ بھی نہیں کہا صرف آپ کے سامنے حروف لکھے کچھ کچھ ٹیڑھے میڑھے خط کھینچے، اور آپ سمجھ گئے۔ تو یہ کون سی دلالت ہوئی؟ لفظیہ یا غیر لفظیہ؟ غیر لفظیہ۔ کیونکہ میں نے زبان سے کچھ نہیں کہا۔ اور کیا یہ خود بخود اسی طرح ہے کہ جو بھی اس کو دیکھے گا یا اس میں وضع کا دخل ہے؟ وضع کا دخل ہے۔ آپ کو پتہ ہے یہ زَا فلاں آواز کے لیے مقرر ہے، یہ یَا فلاں کے لیے آواز کے لیے ہے، دَال فلاں آواز کے لیے مقرر ہے، یہ ایک ایک لکیر کو آپ جانتے ہیں ایک ایک حرف کو آپ جانتے ہیں تو آپ نے اس کو پڑھ لیا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ کون سی قسم ہوئی؟ دلالت غیر لفظیہ وضعیہ۔ تو یہ دَوَالُّ أَرْبَعَة یہ چاروں جو ہیں یہ غیر لفظیہ وضعیہ کی قسمیں ہیں۔ تو پہلی قسم کیا ہوئی؟ خُطُوْط۔ دوسری قسم ہے عُقُوْد بھئی، عُقُوْد۔ عُقُوْد عَقْدٌ کی جمع ہے۔ عَقْدٌ کہتے ہیں گرہ کو۔ بھئی آپ دھاگے یا رسی کے درمیان میں گرہ لگاتے ہیں، اس کو باندھتے ہیں، یہ گرہ، یہ باندھنا یہ کیا ہے؟ اس کو گرہ کہتے ہیں، عَقْدٌ کہتے ہیں اس کو عربی میں عَقْدٌ۔ تو عُقُوْد جمع ہے عَقْدٌ کی۔ اور عَقْدٌ کسے کہتے ہیں؟ گرہ کو۔ اور مراد اس سے یہ انگلیوں کے درمیان جو جوڑ ہیں، یہ مراد ہیں۔ جیسے دیکھو یہ ایک انگلی کے درمیان کتنے جوڑ؟ تین پورے ہیں۔ اور درمیان میں کتنے جوڑ ہیں؟ دو جوڑ ہیں۔ ایک تو بالکل جڑ پہ ہے نا، ہاں، باقی درمیان میں اس کے دو جوڑ ہیں۔ تو یہ جوڑ گرہیں مراد ہیں، یہ جوڑ مراد ہیں بھئی عُقُوْد سے۔ اور ان کو کہتے ہیں عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ۔ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ۔ أَنَامِل جمع ہے أُنْمُلَةٌ کی۔ أُنْمُلَةٌ انگلی کو کہتے ہیں۔ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ انگلیوں کے جوڑ۔ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ انگلیوں کے جوڑ۔ یاد رکھیے عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ عرب کے ہاں عدد بتلانے کا ایک خاص طریقہ تھا۔ عرب یہ دونوں ہاتھوں کی کتنی انگلیاں ہیں؟ دس۔ ان دس انگلیوں کے ذریعے عرب دس ہزار تک عدد بتلایا کرتے تھے۔ دس انگلیوں کے ذریعے؟ دس ہزار تک عدد وہ بتلایا کرتے تھے بھئی، دس ہزار تک۔ تو اس کو کہتے ہیں عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ بھئی، عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ۔ اور یاد رکھیے اس کا ذکر احادیث میں بھی آتا ہے عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ کا ذکر احادیث میں بھی آتا ہے۔ اب احادیث میں عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ سے کیا مراد ہے؟ کیا وہ جو دس ہزار تک گنتی کا طریقہ تھا وہ مراد ہے؟ یا عام؟ تو بعض علماء کہتے ہیں وہی طریقہ مراد ہے، وہ جو عرب انگلیوں پر ایک ایک سے لے کر دس ہزار تک عدد شمار کرتے تھے وہ بعض علماء نے لکھا۔ جبکہ بعض عرب علماء وغیرہ، عام علماء کہتے ہیں کہ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ سے جو احادیث میں عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ کا ذکر آیا ہے اس سے مراد یہ ہے کہ بس یہ انگلیوں کے سروں پر حضور پڑھتے تھے، یعنی حضور صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تسبیحات کس پر پڑھتے تھے؟ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ پر۔ تو بعض علماء نے کیا کہا؟ وہ خاص گنتی والا طریقہ مراد ہے۔ اس طریقے سے۔ اور عام عرب علماء کیا کہتے ہیں کہ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ سے جو احادیث میں عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ کا ذکر آیا ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ بس یہ انگلیوں کے سروں پر پڑھتے تھے، مثلاً سُبْحَانَ اللہِ، ایک دفعہ سُبْحَانَ اللہِ پڑھا، ایک انگلی بند کر دی۔ پھر سُبْحَانَ اللہِ پڑھا دوسری انگلی بند کی۔ پھر سُبْحَانَ اللہِ تیسری انگلی بند کی۔ اس طرح پانچ دفعہ میں پانچوں انگلیاں بند کر دیں، اور پھر ان کو کھولتے، اگلی دفعہ پھر کھولتے چلے گئے۔ چھ پر ایک انگلی واپس کھول دی، سات پر دوسری کھول دی، آٹھ پر تیسری کھول دی۔ تو اس طرح جو انگلیوں کے ذریعے حضور صَلَّی اللہُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تسبیحات شمار کرتے تھے، یہ ہے عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ۔ جبکہ بعض علماء نے لکھا کہ وہ خاص طریقہ عرب کا مراد ہے کہ جس میں دونوں ہاتھوں پر ایک سے لے کر دس ہزار تک عرب لوگ عدد شمار کیا کرتے تھے۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ عام عرب علماء کیا کہتے ہیں احادیث میں کس طرح ہے؟ کہ احادیث میں جو عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ کا ذکر ہے، تو عام عرب علماء کیا کہتے ہیں؟ کہ جو انگلیوں کے سروں پر شمار کرتے تھے، یعنی ایک ایک مرتبہ تسبیح پڑھتے جا رہے ہیں، ایک ایک انگلی کو ہاتھ، مثلاً دائیں ہاتھ کی انگلی کو بند کرتے جا رہے ہیں۔ پانچ پر پہنچ کر ساری انگلیاں بند ہو گئیں، پھر چھ، سات، آٹھ، تو پھر ایک ایک انگلی ساتھ ساتھ کھولتے چلے گئے، تو دس پر پھر ساری انگلیاں کھل گئیں۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا بھئی؟ یہاں جو عُقُوْد ہے یہ کتاب میں آیا، یہ عُقُوْد وہ جو گنتی کا خاص طریقہ تھا، وہ مراد ہے۔ پہلے جو میں نے ذکر کیا وہ کس کا ہے؟ حدیث میں۔ حدیث کے بارے میں دونوں قول میں نے ذکر کر دیے۔ لیکن یہاں جو عُقُوْد ہے، یہ وہ عُقُوْدُ الْأَنَامِلِ جو دس ہزار تک عرب شمار کرتے تھے وہ مراد ہے۔ وہ کس طرح طریقہ ہے وہ دیکھ لیں بھئی، سمجھ لیں اچھی طرح۔ یاد رکھیے دائیں ہاتھ کے ذریعے اکائیاں اور دہائیاں بتلائی جاتی ہیں۔ کیا؟ اکائیاں اور دہائیاں۔ اور بائیں ہاتھ کے ذریعے سینکڑے اور ہزار بتلائے جاتے ہیں۔ سو، دو سو، تین سو، چار سو، یہ بائیں ہاتھ کے ذریعے بتلائیں گے، یا ہزار، دو ہزار، پانچ ہزار، چھ ہزار، یہ بائیں ہاتھ کے ذریعے بتائیں گے۔ تو دائیں ہاتھ کے ذریعے کیا بتائیں گے؟ اکائیاں یعنی ایک، دو، تین، چار، یا دہائیاں دس، بیس، تیس، چالیس۔ تو اکائیاں اور دہائیاں کس ہاتھ کے ذریعے؟ دائیں ہاتھ کے ذریعے۔ اور سینکڑے اور ہزار کس کے ذریعے؟ بائیں ہاتھ کے ذریعے۔ البتہ طریقہ دونوں طرف ایک ہی ہے، لیکن ایک طرف اکائیاں اور دہائیاں شمار ہوں گی اور دوسرے ہاتھ بائیں ہاتھ پر سینکڑے اور ہزار شمار ہوں گے۔ اب وہ کس طرح تھا دیکھیے۔ دیکھیے یہ میرا دایاں ہاتھ ہے، اس کی ہتھیلی آپ لوگوں کی طرف ہے۔ یہ میرا دایاں ہاتھ ہے، اس کا رخ آپ کی طرف ہے۔ اس دائیں ہاتھ میں یاد رکھیے جو سب سے چھوٹی انگلی ہے اس کو ان کے نام یاد رکھیں بھئی۔ پہلی چھوٹی انگلی کو کہتے ہیں خِنْصَر عربی میں، خِنْصَر، خا نون صاد را، خِنْصَر۔ اس کے ساتھ والی انگلی کو کہتے ہیں بِنْصَر، با نون صاد را۔ نام یاد رہیں گے؟ پہلی چھوٹی انگلی کا سب سے چھوٹی انگلی کا کیا نام؟ خِنْصَر۔ دوسری کا نام؟ بِنْصَر، با نون صاد را۔ تیسری جو درمیان والی لمبی انگلی ہے اس کا نام ہے وُسْطَى، وُسْطَى، درمیان والی۔ نام سے ہی پتہ چل رہا ہے۔ جو شہادت کی انگلی ہے اس کو عربی میں کہتے ہیں سَبَّابَةٌ، سَبَّابَةٌ۔ تو یہ کون سی ہے؟ شہادت کی انگلی۔ اور انگوٹھے کو کہتے ہیں إِبْهَامٌ، انگوٹھے کو کیا کہتے ہیں؟ إِبْهَامٌ۔ اب دہرائیے چھوٹی انگلی خِنْصَر، ساتھ والی بِنْصَر، اس کے ساتھ والی وُسْطَى، اس کے ساتھ والی سَبَّابَةٌ، اور انگوٹھا إِبْهَام۔ تو اب یہ نام یاد رکھنے میں انہی کے ذریعے بیان کروں گا۔ خِنْصَر، بِنْصَر، وُسْطَى، سَبَّابَةٌ اور إِبْهَام۔ ان میں سے یاد رکھیے جو خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى، یہ تین جو انگلیاں ہیں، ان کے ذریعے اکائیاں بیان کریں گے۔ کیا بیان کریں گے؟ اکائیاں۔ یعنی ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، نو تک ان کے ذریعے بیان ہوگا۔ اور یہ جو سَبَّابَةٌ ہے اور إِبْهَام ہے، سَبَّابَةٌ اور إِبْهَام۔ یعنی شہادت کی انگلی اور جو انگوٹھا ہے۔ اس کے ذریعے دہائیاں بیان ہوں گی۔ تو خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى کے ذریعے اکائیاں۔ اور سَبَّابَةٌ اور إِبْهَام کے ذریعے دہائیاں بیان ہوں گی۔ کس طرح؟ دیکھیے، میں بیان کرنا چاہتا ہوں ایک، ایک کا اشارہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ طریقہ عرب میں عام رائج تھا۔ وہ کسی کو کوئی عدد بتلانا چاہتے تھے تو زبان سے بعض اوقات بولنے کے بجائے ہاتھ سے اشارہ کر دیتے تھے۔ مثلاً میں نے آپ کو کہنا ہے پچپن، تو میں زبان سے کہنے کے بجائے ہاتھ سے اشارہ کر دیتا تھا۔ سننے والا فوراً سمجھ، بچے بچے کو پتہ ہوتا تھا یہ ان کے ہاں عام رائج تھا یہ طریقہ بھئی۔ اور خصوصاً تاجروں میں تو بالکل ہی عام تھا، سب تاجر اس کو استعمال کرتے تھے۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے ایک تاجر نے دوسرے کو کوئی بات بتلانی ہے، اس نے اس سے قیمت پوچھی، وہ ساتھ والوں کو نہیں بتانا چاہتا، وہ ہاتھ سے اس کو چھپا کر اشارہ کر دیتا تھا، وہ سمجھ جاتا تھا کہ یہ چیز اتنے کی ہے بھئی۔ تو دیکھیے اب میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں، یہ میرا سیدھا ہاتھ ہے اور سیدھے ہاتھ کے ہتھیلی کا رخ آپ کی طرف ہے، میں اب آپ کو ایک کا عدد بتلانا چاہتا ہوں۔ تو یہ جو خِنْصَر ہے اس کو میں موڑ دوں گا تھوڑا سا۔ خِنْصَر کو پورا موڑ دیں لیکن اس طریقے پر موڑنا ہے کہ خِنْصَر کا سر اس کی اپنی جڑ کے قریب رہے۔ دور نہیں لے کے جانا۔ خِنْصَر کا جتنا موڑ سکتے ہیں، چند دن مشق کریں گے انشاءاللہ آپ دیکھیں گے بہترین آپ عدد بیان کرنے لگیں۔ تو خِنْصَر کو موڑا درمیان سے لیکن اس طریقے سے کہ خِنْصَر کا سر کہاں رہے اس کی اپنی جڑ کے قریب ہی رہے۔ یہ ہے ایک کی علامت۔ دو کے لیے بِنْصَر کو بھی ساتھ موڑ دیں اسی طریقے سے کہ بِنْصَر کا سر اپنی ہی جڑ کے قریب رہے۔ یہ کیا ہے؟ دو۔ باقی انگلیوں کو سیدھا رکھنا ہے۔ باقی انگلیوں کو نہیں ٹیڑھا کرنا، جتنا ہو سکے۔ تین کے لیے یوں کریں وُسْطَى کو بھی ساتھ موڑ دیں۔ خِنْصَر، بِنْصَر، وُسْطَى تینوں کو آپ نے موڑ دیا، تینوں اپنی جڑ کے قریب ہی ہیں۔ تینوں کے سر اپنی جڑ کے قریب ہیں۔ جڑ سے یہ انگلیوں کو نیچے نہیں لے کے جانا ہتھیلی کی طرف نہیں لے کے جانا۔ بس اپنی جگہ پہ رہیں اور انگلیوں کے صرف درمیان سے مڑی ہوئی ہیں۔ تو یہ تین کی علامت ہے، کیا ہے تین کی علامت؟ تینوں انگلیاں جھکی ہوئی ہیں لیکن تینوں کے سر اپنی جڑوں کے قریب ہیں۔ اب میں بتلانا چاہتا ہوں چار۔ چار کا طریقہ یہ ہے کہ خِنْصَر کو سیدھا کر دیں، بِنْصَر اور وُسْطَى کو جھکا رہنے دیں۔ یہ چار کی علامت ہے۔ پانچ کی علامت یہ ہے کہ خِنْصَر کے ساتھ بِنْصَر کو بھی سیدھا کر دیں۔ وُسْطَى کو جھکا رہنے دیں، اس کا سر اپنی جڑ کے قریب ہی رہنے دیں۔ یہ ہوا پانچ۔ چھ کے لیے یوں کریں، وُسْطَى کو سیدھا کر دیں اور بِنْصَر کو واپس جھکا دیں کہ اس کا سر اپنی جڑ کے قریب رہے۔ یہ ہے چھ کی علامت۔ چھ کی کیا علامت ہے؟ خِنْصَر بھی سیدھی، وُسْطَى بھی سیدھی، لیکن بِنْصَر جو ہے وہ اس کا سر اپنی جڑ کے قریب۔ یہ چھ۔ سات کے لیے یوں کریں، اب واپس ساری انگلیوں کو سیدھا کریں اور صرف خِنْصَر کو موڑ کر ہتھیلی کے جتنا موڑ سکتے ہیں ہتھیلی کے آخری کنارے تک بھئی آخری کنارے تک اس کو موڑ کر لے آئیں۔ ہاں شاباش، جتنا دور تک، پہلے تو خِنْصَر کہاں تھی؟ اپنی جڑ کے قریب تھی، تو وہ کس کی علامت تھی؟ ایک۔ اور اس کو خوب آگے تک لے جاؤ، وہ ہتھیلی کے جتنا دور تک لے جا سکیں، تو یہ کیا ہے؟ یہ سات کی علامت ہے۔ آٹھ کے لیے یوں کریں، اب اسی کے ساتھ بِنْصَر کو بھی اسی طرح موڑ دیں کہ پورے ہتھیلی کے آخری حصے تک وہ چلی جائے بھئی۔ انگوٹھے کے انگوٹھے کا نچلا موٹا حصہ نہیں ہے؟ اس کے اوپر رکھیں تقریباً۔ بہت دور تک، بہت دور تک، ہاں۔ یہ کیا ہے؟ سات۔ سات میں کیا ہے؟ خِنْصَر اور بِنْصَر دونوں کو آپ نے انگوٹھے کا جو آخری نچلا موٹا حصہ ہے اس کے اوپر رکھا ہوا ہے۔ اور نو کے لیے یوں کریں، وُسْطَى کو بھی ان کے ساتھ موڑ دیں۔ یہ ہے نو کی علامت۔ انگوٹھے کو سیدھا رکھنا ہے، سَبَّابَةٌ کو بھی سیدھا رکھنا ہے۔ ان کو آپ موڑیں گے تو کوئی اور عدد بن جائے گا۔ ان کو سیدھا، انگوٹھا بھی سیدھا، سَبَّابَةٌ بھی سیدھی۔ لیکن خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى کہاں پر ہیں؟ انگوٹھے کے آخری جو بڑا حصہ ہے اور اس کے اوپر رکھ دیا، پوری ہتھیلی ان کے نیچے آ گئی بھئی۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ پھر دیکھ لیں۔ ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو۔ طریقہ سمجھ میں آیا؟ یہ تھی اکائیاں۔ اب یہ جو سَبَّابَةٌ اور إِبْهَام ہے، ان کے ذریعے دہائیاں بیان ہوں گی۔ کس طرح؟ دیکھو انگوٹھے کے درمیان کا جو جوڑ ہے اس پر اس پر سَبَّابَةٌ کا سر رکھ دیں۔ ہاں، یعنی ایک درمیانہ دائرہ بن جائے۔ درمیانہ دائرہ۔ ایک صورت یہ ہے نا انگوٹھے کے سر پر سَبَّابَةٌ کو رکھیں، یہ تو بڑا دائرہ بن جائے گا۔ ایک درمیان میں رکھیں تو متوسط دائرہ بنے گا۔ ایک بالکل جڑ کے قریب رکھیں تو سب سے چھوٹا دائرہ بنے گا۔ ہم نے درمیانہ دائرہ بنانا ہے۔ دس کی علامت، انگوٹھے کی درمیان والی جو لکیر ہے اسی پر آپ کیا رکھ دیں؟ سَبَّابَةٌ کو رکھ دیں۔ یہ کیا ہے؟ دس۔ بیس کی علامت یہ ہے کہ انگلیوں کو سَبَّابَةٌ اور وُسْطَى کو سیدھا رکھیں، سَبَّابَةٌ اور وُسْطَى کو سیدھا رکھیں اور انگوٹھا بھی بالکل سیدھا ہو، لیکن ان کے بیچ میں تھوڑا سا اندر داخل کر دیں۔ سَبَّابَةٌ اور وُسْطَى کے بیچ میں انگوٹھا داخل کر دیں تھوڑا سا، آپ دیکھ رہے ہیں یہ انگوٹھے سَبَّابَةٌ کی پہلی لکیر جو ہے، سَبَّابَةٌ کے درمیان ایک تو جڑ والی لکیر ہے نا، درمیان والی پہلی لکیر جو ہے، اس کے قریب انگوٹھے کا سر بنے گا، اس سے اوپر نہیں جائے گا انگوٹھا۔ اور یہ انگوٹھے کے ناخن کو آپ نے سَبَّابَةٌ کے ساتھ جوڑ کے رکھنا ہے۔ یہ ہے بیس کی علامت۔ نہیں سمجھ میں آیا؟ سَبَّابَةٌ یعنی شہادت کی انگلی، اور وُسْطَى یعنی درمیان والی لمبی انگلی۔ ان کو تھوڑا سا کھلا رکھیں اور ان کے بیچ انگوٹھے کو لے آئیں۔ بیچ میں۔ انگوٹھے کا ناخن اب کس کے ساتھ لگے گا؟ سَبَّابَةٌ کے ساتھ انگوٹھے کا ناخن لگ رہا ہے بھئی۔ اور ساری انگلیاں سیدھی ہیں، انگوٹھا بھی بالکل سیدھا ہے بھئی۔ اور یہ انگوٹھا سَبَّابَةٌ کی درمیان جو پہلی لکیر ہے پہلا جوڑ ہے اس سے اوپر نہیں جا رہا بھئی۔ یہ کیا ہے؟ بیس کی علامت۔ تیس کی علامت آسان ہے، انگوٹھے کے سر پر سَبَّابَةٌ کا سر رکھ دیں، دس کے لیے ایک چھوٹا دائرہ بنایا تھا نا، سَبَّابَةٌ کو کہاں رکھا تھا؟ انگوٹھے کی درمیان والی لکیر پر۔ اب انگوٹھے کے سر کے اوپر سر کے قریب اس کو رکھ دیں، جیسے آپ چونٹی میں کوئی چیز نہیں اٹھاتے، نمک اٹھایا یا کوئی چیز، بس اس طرح کی چونٹی بنا لیں، یہ یہ کیا بنا؟ یہ تیس کی علامت ہے۔ تیس کی علامت۔ انگوٹھے کے سر اور سَبَّابَةٌ کے سر کو ملا دیا۔ چالیس کی علامت یہ ہے کہ سَبَّابَةٌ کو بھی سیدھا رکھیں اور انگوٹھے کو بھی بالکل سیدھا رکھیں، سَبَّابَةٌ کے ساتھ ملا دیں۔ سَبَّابَةٌ کو بالکل سیدھا رکھا، انگوٹھے کو بھی بالکل سیدھا رکھا، اب دیکھ رہے ہیں آپ انگوٹھے اور ہتھیلی اور سَبَّابَةٌ میں کوئی درمیان میں کوئی فاصلہ نہیں ہے، انگوٹھا بھی بالکل سیدھا۔ اور انگوٹھا کہاں تک آ رہا ہے؟ سَبَّابَةٌ کے پہلے جوڑ تک آ رہا ہے۔ اب اسی حالت میں انگوٹھے کو تھوڑا سا سَبَّابَةٌ کے پیچھے کی طرف لے جائیں، کتنا لے جا سکتے ہیں۔ ہاں یہ پیچھے کی طرف تھوڑا لے جائیں، انگوٹھے کو جوڑ کے رکھنا ہے، سَبَّابَةٌ کے پیچھے، سَبَّابَةٌ کے اوپر لگا کے رکھنا ہے انگوٹھے کو۔ ہاں شاباش، ٹھیک ہے۔ ہاں جتنا کر سکیں، تو یہ انگوٹھے کو سَبَّابَةٌ کی پشت پر یعنی یوں سمجھیں سَبَّابَةٌ کا سب سے نیچے والا جو پورا ہے، اس پورے کے پچھلی طرف انگوٹھا لگا ہوا ہو۔ اس طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ یہ ہے چالیس کی علامت، چالیس۔ پچاس کی علامت، پچاس کی علامت یہ ہے کہ آپ باقی انگلیاں ساری سیدھی رکھیں، سَبَّابَةٌ یعنی شہادت کی انگلی کو سیدھا رکھیں، اور انگوٹھے کو پورا موڑ لیں ہتھیلی کے درمیان۔ انگوٹھے کو اتنا جتنا موڑ سکتے ہیں کہ یہ اپنی جڑ کے قریب آ جائے۔ ہتھیلی سے باہر نہیں جانا چاہیے انگوٹھا۔ اپنی ہی جڑ کے قریب رہے اس کا سر۔ دیکھا ہتھیلی کے اندر ہی اندر انگوٹھا آ گیا سارا۔ یہ ہے پچاس کی علامت، کس کی علامت؟ پچاس کی۔ ساٹھ کی علامت اب سمجھ لو۔ ساٹھ کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے سَبَّابَةٌ کو سَبَّابَةٌ کو انگوٹھے کی پشت پر لائیں اور سَبَّابَةٌ کا جو درمیان والا پورا ہے وہ انگوٹھے کے ناخن کو اپنے نیچے چھپا لے۔ ہاں سَبَّابَةٌ کا درمیان والا پورا کیا کرے؟ درمیان والا پورا ناخن کے اوپر آئے، ناخن چھپ جائے اس کے نیچے۔ ناخن کے اوپر ناخن کے سَبَّابَةٌ انگوٹھے کے سر پر نہیں۔ پیچھے کی طرف لے کر جاؤ۔ ادھر دیکھو بھئی، دیکھو ناخن نظر آ رہا ہے؟ نہیں، کسی طرف سے آپ دیکھ لیں میرے انگوٹھے کا ناخن نہیں نظر آ رہا سارا سَبَّابَةٌ کے درمیانے پورے کے نیچے چھپ گیا۔ اور دیکھو سَبَّابَةٌ کا سر دیکھ رہے ہیں آپ؟ ایک پورا انگوٹھے سے آگے نکلا ہوا ہے۔ جی۔ ہاں یہ ہے ساٹھ کی علامت۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا؟ ستّر کی علامت یہ ہے کہ سَبَّابَةٌ کو سیدھا کر دیں، انگوٹھے کو بھی سیدھا کر دیں، اور اب انگوٹھے کو سَبَّابَةٌ کی درمیان والی لکیر پر لے جائیں۔ درمیان والی لکیر پر۔ یعنی یوں سمجھیں کہ انگوٹھا انگلی انگوٹھے یہ جو درمیان والا پورا ہے نا سَبَّابَةٌ کا درمیان والا پورا، انگوٹھا سَبَّابَةٌ کے ساتھ جڑا ہوا ہے اور انگوٹھے کا سر جو ہے وہ درمیان والے پورے کے بیچ میں آ رہا ہے۔ انگوٹھے کا سر کہاں آ رہا ہے؟ درمیانے پورے پر آپ نے انگوٹھے کو رکھ دیا۔ یہ ہے ستّر کی علامت، ستّر۔ اسّی کی علامت یہ ہے کہ آپ سَبَّابَةٌ کو انگوٹھے کی پشت پر لائیں اور انگوٹھے کی پشت پر جو جوڑ ہے اس کے اوپر سَبَّابَةٌ کا پہلا پورا رکھ دیں۔ ہاں پہلا پورا، شاباش، انگوٹھے کے درمیان میں جو لکیر ہے، اس پر سَبَّابَةٌ کا پہلا پورا رکھنا ہے، لیکن پشت کی طرف، ناخن والی سائیڈ پر، یہ پہلا پورا سَبَّابَةٌ کا، یہ انگوٹھے کے اوپر لگا ہوا ہو۔ دیکھو یہ بھی ایک دائرہ سا بن گیا۔ دائرہ بن گیا، لیکن دس والے دائرے اور اس دائرے میں فرق ہے۔ اس میں کیا تھا؟ دس والے دائرے میں انگوٹھے کی ایک جانب ہم نے سَبَّابَةٌ کا سر رکھا تھا۔ اب ہم نے انگوٹھے کی پشت پر سَبَّابَةٌ کا پہلا پورا پورا رکھ دیا۔ یہ کیا ہے؟ اسّی۔ اور نوّے کی علامت یہ ہے کہ سَبَّابَةٌ کو بالکل اس کی جڑ سے موڑ دیں، اتنا موڑ دیں کہ سَبَّابَةٌ کا سر انگوٹھے کی جڑ میں لگ جائے۔ سَبَّابَةٌ کا سر کہاں لگ جائے؟ انگوٹھے کی جڑ میں۔ اور انگوٹھے کو بالکل سیدھا رکھیں اوپر کی طرف۔ یہ ہے نوّے کی علامت۔ 90 کے لیے یوں کریں کہ انگوٹھے کو سیدھا رکھیں اور سَبَّابَة کو اپنی جڑ میں پورا موڑ کر نیچے اس کا سر لگا دیں۔ ہاں یہ چھوٹے سے چھوٹا دائرہ سَبَّابَة کے ذریعے بنا لیں۔ اپ سَبَّابَة کو پورا موڑ کر چھوٹے سے چھوٹا دائرہ بنا لیں۔ یہ کیا ہے 90 کی علامت ہے۔ طریقہ سمجھ میں ایا بھئی؟ پھر دیکھ لیں 10 کی علامت کیا ہے کہ إِبْهَام کے درمیان والی لکیر پر سَبَّابَة کا سر رکھ دیں۔ 20 کی علامت یہ ہے کہ إِبْهَام کو سَبَّابَة اور وُسْطَى کے بیچ لے ائیں لیکن اس انگوٹھے کا ناخن جو ہے وہ سَبَّابَة کے ساتھ لگا ہوا ہو۔ 30 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے سر پر سَبَّابَة کا سر رکھ دیں۔ یہ ہے 30 کی علامت ایک بڑا دائرہ بن گیا۔ اور 40 کی علامت یہ ہے کہ سَبَّابَة کی پشت پر پہلے پشت پر انگوٹھے کو لے جائیں پہلے پورے کے پیچھے جتنا پیچھے لے جا پیچھے نیچے ہاں یہ، پہلے پورا یا چاہے پورا پورے کے پیچھے نہ بھی ائے لیکن جڑ کے ساتھ پیچھے کی طرف اجائے انگوٹھا یہ ہے 40 بھئی۔ اور 50 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کو ہتھیلی کے درمیان پورا موڑ لیں کہ انگوٹھے کے سر اپنی جڑ کے قریب سے قریب اپ رکھ دیں۔ انگوٹھا ہتھیلی کے اندر ہو باہر نہ جائے یہ ہے 50 کی علامت۔ اور 60 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے ناخن پر اپ سَبَّابَة کا درمیانہ پورا رکھ کر اس ناخن کو چھپا لیں اس میں۔ یہ ہے 60۔ 70 کی علامت یہ ہے کہ انگوٹھے کے سَبَّابَة کے درمیان والے پہلے جوڑ پر یعنی نیچے کی طرف سے جو پہلا جوڑ اتا ہے سَبَّابَة کے اندر ایک تو جڑ میں ہے نا؟ جڑ نہیں۔ جڑ سے اوپر دو جوڑ ہیں درمیان میں۔ تو جو پہلا جوڑ ہے نیچے کی طرف سے اس پر اپ انگوٹھے کا سر لگا دیں۔ یہ ہے 70 بھئی۔ 80 کی علامت یہ ہے کہ اپ انگوٹھے کی پشت پر جو اس کا پہلا جوڑ ہے اس پر سَبَّابَة کا پہلا پورا رکھ دیں۔ ہاں۔ ذرا نیچے بھئی نیچے ذرا خوب تاکہ واضح ہو جائے۔ ہاں بالکل واضح ہو جائے۔ یہ چونکہ صرف إِشَارَات کے ذریعے دوسرے کو بتانا ہوتا ہے نا تو خوب واضح اور نمایاں ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کے ساتھ التباس نہ ائے کہ ایک ایک اشارہ دوسرے سے ملتا ہو۔ تو یہ 80۔ اور 90 کی علامت کیا ہے؟ کہ سَبَّابَة کو بالکل انگوٹھے کی جڑ میں پورا موڑ کر نیچے اس کا سر لگا دیں تو یہ چھوٹے سے چھوٹا دائرہ بن گیا اور انگوٹھے کو سیدھا رکھیں۔ تو یہ کیا ہے؟ 90۔ تو یہ ہیں اکائیاں اور دہائیاں۔ اکائیاں کس کے ذریعے؟ خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى کے ذریعے۔ اور دہائیاں کس کے ذریعے؟ سَبَّابَة اور إِبْهَام کے ذریعے۔ اب دیکھیے بھئی۔ اب میں اپ کے سامنے مثلاً ایک سے 100 تک گنتی گنتا ہوں اپ دیکھتے جائیے۔ دیکھیے، یہ ہے ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، اٹھ، نو۔ اور یہ ہوا 10۔ اب میں 11 کیسے بتاؤں گا؟ یہ 11۔ دیکھو 10 کا عدد بھی میں نے بنایا ہوا ہے۔ دائرہ اور ساتھ میں نے خِنْصَر کو بھی موڑ لیا یہ کیا ہوا؟ 11۔ یہ کیا ہے؟ 12۔ یہ کیا ہے؟ 13۔ یہ کیا ہے؟ 14۔ 15۔ 16۔ 17۔ 18۔ 19۔ اور 20؟ یہ 20 ہے۔ انگوٹھے کو میں درمیان میں لے ایا۔ 21، 22، 23، 24، 25، 26، 27، 28، 29۔ اور یہ 30 ہے۔ یہ 31، 32، 33، 34، 35، 36، 37، 38، 39۔ 40۔ 41، 42، 43، 44، 45، 46، 47، 48، 49۔ اور یہ 50۔ 51، 52، 53، 54، 55، 56، 57، 58، 59۔ جی۔ یہ ہے 60۔ 61، 62، 63، 64، 65، 66، 67، 68، 69۔ اور یہ ہے 70۔ 71، 72، 73، 74، 75، 76، 77، 78، 79۔ اور یہ ہے 80۔ 81، 82، 83، 84، 85، 86، 87، 88، 89۔ اور یہ ہے 90۔ 91، 92، 93، 94، 95، 96، 97، 98، 99۔ تو ایک سے 99 تک گنتی ہم سیدھے ہاتھ پر گنتے ہیں۔ اور بعینہٖ یہی طریقہ ہے الٹے ہاتھ میں۔ الٹے ہاتھ میں کیا ہے؟ وہی طریقہ لیکن یہاں اکائیوں کی جگہ سینکڑے حساب ہوں گے۔ وہی طریقہ بعینہٖ وہاں خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى کے ذریعے کیا بیان ہوئی تھیں؟ اکائیاں۔ اب یہاں وہی سینکڑے بیان ہوں گے۔ دیکھو، یہ میں نے صرف خِنْصَر کو موڑا۔ یہ کیا ہے؟ 100۔ دوسری کو بھی ساتھ موڑ دیا لیکن سر اپنی جڑ کے قریب ہی رہے یہ کیا ہے؟ 200۔ تیسری کو موڑا یہ کیا ہے؟ 300۔ یہ 400۔ یہ 500۔ یہ 600۔ وہاں 6 تھا یہاں 600 ہے۔ وہاں پانچ تھا یہاں 500 ہے۔ بالکل وہی طریقہ ہے۔ اس کے بعد سات، اٹھ، نو، دیکھا؟ یہ وہاں کیا تھا؟ سات، اٹھ، نو۔ یہاں کیا ہے؟ 700، 800 اور 900۔ پھر وہاں جو دہائیاں تھیں وہ دہائیوں کے ذریعے 10، 20، 30 بیان ہوتا تھا یہاں ہزار، دو ہزار، تین ہزار بیان ہوگا۔ مثلاً یہ 10 کی علامت الٹے ہاتھ سے بناؤ۔ یہ ہے 1000۔ 20 کی علامت بناؤ۔ 2000۔ اور 30 کی علامت بناؤ۔ یہ ہے 3000۔ صورت سمجھ میں ا رہی ہے؟ اور 40 کی علامت بناؤ۔ یہ ہے 4000۔ 50 کی علامت ادھر الٹے ہاتھ سے بناؤ تو یہ ہے 5000۔ 60 کی علامت بناؤ تو یہ ہے 6000۔ اور 70 کی علامت بناؤ تو یہ کیا ہے؟ 7000۔ اور 80 کی علامت بناؤ۔ تو یہ ہے 8000۔ 90 کی علامت بناؤ تو یہ ہے 9000۔ طریقہ سمجھ میں ا گیا؟ تو اس طرح 9000 اس ہاتھ پر الٹے ہاتھ پر۔ اور 99 کس ہاتھ پر؟ دائیں ہاتھ پر۔ تو یہ کتنے ہو گئے؟ او نہیں 9000 بھی اور 900 بھی۔ 9000 تو دو انگلیوں کے ذریعے اور تین ساتھ والی انگلیوں کے ذریعے 900۔ تو 9900 یہ ہیں بائیں ہاتھ کے ذریعے اور 99 یہ کس کے ذریعے؟ دائیں ہاتھ کے ذریعے تو کتنے ہو گئے؟ 9999۔ اب دس ہزار کی کیا علامت ہے؟ تو دس ہزار کی علامت کہتے ہیں وہ یہ ہے کہ اپ انگوٹھے کے سر کے ساتھ سَبَّابَة کو اس طرح جوڑنا ہے کہ انگوٹھے کا پہلا پورا پورا سَبَّابَة کے پہلے پورے پورے کے ساتھ چپکا دیں۔ سمجھ میں ایا بھئی؟ سَبَّابَة کا پورا دوسری طرف کو، انگوٹھے، سَبَّابَة کا ناخن اور انگوٹھے کا ناخن ایک دوسرے کے مخالف سمت میں، اندر والی جانب کو جوڑنا ہے، اندر والی جانب۔ وہی جو اپ نے 30 کی علامت تھی، لیکن 30 میں صرف سر جوڑے تھے اپ نے۔ اب کیا کرنا ہے؟ پورا پورا کوشش کرنی ہے جتنی زیادہ سے زیادہ سَبَّابَة کو اپ انگوٹھے کے ساتھ جوڑ دیں۔ ایک یا ڈیڑھ پورا جڑ جائے گا یہ ایک چونچ بن جائے گی جیسے پرندے کی چونچ ہوتی ہے نا؟ اس طرح کی شکل۔ اور یہی شکل دونوں ہاتھوں سے بنا لیں۔ یہ ہے دس ہزار کی علامت بھئی۔ کس کی علامت ہے؟ دس ہزار کی علامت ہے۔ تو عرب اس طرح، یہ ہے عُقُودُ الْأَنَامِل۔ طریقہ سمجھ میں ا گیا؟ تو اب احادیث میں جو عُقُودُ الْأَنَامِل اتا ہے اس سے کیا یہی طریقہ مراد ہے؟ میں نے بتلایا کہ بعض علماء نے لکھا کہ ہاں یہی طریقہ مراد ہے۔ عرب میں یہ عام رائج تھا۔ جبکہ بعض عام اج کل کے عام عرب علماء وہ کہتے ہیں کہ بس یہ انگلیوں پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم گنتے تھے ہاتھ تسبیح کے ساتھ انگلی بند کرتے جا رہے ہیں اور پھر انہی کو کھولتے جا رہے ہیں۔ تو یہ ہیں عُقُودُ الْأَنَامِل۔ اب دیکھیے، میں نے اپ کی طرف 10 کا ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ اپ سمجھ گئے، کتنا عدد مراد ہے؟ 10۔ میں نے زبان سے کچھ کہا؟ نہیں۔ تو یہ کونسی دَلَالَة ہوئی؟ غَيْرِ لَفْظِيَّة۔ اور یہ خود بخود 10 پہ دلالت ہوئی یا ہم نے مقرر کیا ہے؟ ہم نے مقرر کیا ہے تو یہ کونسی دلالت ہوئی؟ دَلَالَة غَيْرِ لَفْظِيَّة وَضْعِيَّة ہوئی بھئی۔ یہ تھے عُقُود بھئی، عُقُود۔ اور پھر ہے نُصُب۔ تیسری چیز ہے نُصُب۔ نُصُب جمع ہے نُصْبَة کی۔ نُصْبَة کہتے ہیں، نصب کے معنی ہوتے ہیں کسی چیز کو گاڑنا، گاڑنا، کھڑا کرنا، زمین میں گاڑ کر اس کو، صورت سمجھ میں ا گئی؟ تو نُصُب جمع ہے نُصْبَة کی۔ جیسے اج کل اپ دیکھتے ہیں، اپ سفر کرتے ہیں ایک شہر سے دوسرے شہر کی طرف تو راستے میں حکومت نے پتھر لگائے ہوتے ہیں ان پتھروں پر فاصلہ درج ہوتا ہے کہ اب اتنے کلومیٹر رہ گیا، اب اتنے کلومیٹر رہ گیا۔ دیکھے ہیں یا نہیں اپ نے؟ یہ، یہ ہیں نُصُب، یہ کیا ہیں؟ نُصُب ہیں۔ تو یہ قدیم زمانے میں بھی اس طرح گاڑے جاتے تھے۔ مطلب اب تو ہے ہر ہر کلومیٹر پہ لگائے ہوتے ہیں۔ قدیم زمانے میں ایک ایک منزل یا چند میل، مخصوص میلوں کے بعد ایک پتھر گاڑا جاتا تھا۔ وہ ہیں بھئی نُصُب۔ اور ان پر کچھ لکھا نہیں ہوتا تھا۔ بس گزرنے والے گنتے جاتے تھے۔ مثلاً ان کو پتہ ہے پشاور یہاں سے 30 منزل دور ہے، کتنی منزل؟ 30 منزل۔ فرض کرو ویسے بتا رہا ہوں۔ یعنی ہر روز جو سفر انسان کرتا ہے وہ ہے ایک منزل۔ تو ہر منزل پہ انہوں نے ایک پتھر گاڑا ہوتا تھا۔ اور سوار ان کو گنتا جاتا تھا، تو وہ 30 منزلیں ہیں۔ اب جس نے تیز جانا ہے وہ تیز گھوڑے پر جائے گا وہ دن میں ایک، دو یا تین منزلیں طے کر لے گا تو اس کو پتہ ہوگا اتنی منزلیں گزر گئیں اور اتنی منزلیں رہ گئیں بھئی۔ تو وہ ہیں نُصُب۔ لیکن جو اج کل یہ پتھر گاڑے گئے ہیں یہ وہ نُصُب نہیں۔ کیوں؟ بھئی ان کے اوپر تو لکھا ہوتا ہے۔ تو اپ کو فاصلے کا پتہ چلتا ہے اس پتھر کے ذریعے یا اس کے اوپر لکھائی کے ذریعے؟ لکھائی کے ذریعے۔ جب لکھائی کے ذریعے ہے تو یہ کونسی قسم ہو گئی؟ دَلَالَة غَيْرِ لَفْظِيَّة خُطُوط میں چلی گئی۔ لکھائی کے ذریعے دلالت ہو رہی ہے تو یہ کونسی قسم ہوئی؟ یہ خُطُوط میں داخل ہو گئی نُصُب میں داخل نہیں۔ تو قدیم زمانے میں اوپر لکھا نہیں ہوتا تھا بس وہ گنتے تھے بس وہ علامت ہوتی تھی کہ ایک منزل پوری ہو گئی، اگلی منزل پوری ہو گئی۔ تو وہ ہیں نُصُب بھئی، نُصُب۔ اور چوتھی چیز ہے إِشَارَات۔ إِشَارَات بھئی جو ہم مختلف قسم کے إِشَارَات مقرر کر لیتے ہیں۔ جیسے اج کل اسان ہے ٹریفک کے اشارے ہیں یا نہیں؟ ہاں اشارہ جلتا ہے اپ سمجھ جاتے ہیں کب گاڑی روکنی ہے اور کب، سرخ لائٹ جلے تو گاڑی روکنی ہے، سبز لائٹ جلے تو گاڑی چلانی ہے۔ یا جیسے ہم نے ہاں اور نہیں کا اشارہ مقرر کر رکھا ہے۔ ہم اوپر سے نیچے سر ہلائیں تو معنی کیا ہے؟ ہاں۔ اور اگر ہم دائیں بائیں سر ہلائیں تو معنی کیا ہے؟ نہیں تو یہ ہیں إِشَارَات۔ یا جیسے اپ نے ا کر میرے سے پوچھا زید کدھر ہے؟ تو میں نے ہاتھ سے اشارہ کر دیا۔ تو اپ سمجھ گئے یا نہیں سمجھ گئے؟ تو یہ سارے إِشَارَات جو ہیں دیکھو اس میں بھی دَلَالَة غَيْرِ لَفْظِيَّة ہے۔ اشارے سے پتہ چل رہا ہے۔ بات سمجھ میں ا رہی ہے؟ تو یہ ہیں دَوَالِّ أَرْبَعَة۔ خُطُوط سے کیا مراد؟ لکھائیاں۔ عُقُود سے کیا مراد؟ عُقُودُ الْأَنَامِل، وہ انگلیوں کے ذریعے جو عدد بتلایا کرتے تھے۔ اور یاد رکھیں یہ پوری دنیا میں رائج تھا۔ لیکن ہر علاقے والوں کا مختلف تھا۔ جیسے عربوں میں دائیں ہاتھ کے ذریعے اکائیاں اور دہائیاں بتاتے ہیں اور بائیں ہاتھ کے ذریعے سینکڑے اور ہزار بتاتے ہیں۔ یورپ میں اس کا برعکس تھا۔ وہ الٹے ہاتھ کے ذریعے اکائیاں اور دہائیاں بتاتے تھے اور سیدھے ہاتھ کے ذریعے وہ سینکڑے اور ہزار بتایا کرتے تھے۔ اور پھر اج بھی یہ دنیا میں رائج ہیں۔ سٹاک ایکسچینج اپ نے سنا ہوگا، تجارت کا مرکز ہے جہاں کوئی خاص طریقے سے کوئی تجارت وغیرہ ہوتی ہے، سٹاک ایکسچینج۔ وہ سٹاک ایکسچینج جو ہے جہاں حصے وغیرہ حصوں وغیرہ کی خرید و فروخت ہوتی ہے، تو وہاں بھی یہ رائج ہیں لیکن ان کا اپنا الگ انداز ہے بھئی۔ وہ انگلیوں کے ذریعے فوراً اشارہ کر دیتے ہیں کوئی چیز خریدنی ہے یا بیچنی ہے یا کچھ تو وہ بس انگلی کے ذریعے اشارہ کرتے چلے جاتے ہیں بھئی۔ تو ہر مختلف دنیا کے اندر یہ مختلف طریقے رائج ہیں۔ تو عرب میں یہ طریقہ تھا اور اس میں بھی پھر یاد رکھیں کہ اکائیوں میں تو اتفاق ہے۔ اکائیاں سارے اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے میں نے بیان کیں۔ یا یوں کہو سینکڑے اسی طرح بیان کرتے ہیں جیسے میں نے بیان کیے ۔ سینکڑے الٹے ہاتھ میں ا گئے نا۔ وہ جیسے اکائیاں ویسے ہی سینکڑے۔ تو اکائیاں اور سینکڑوں میں اتفاق ہے۔ دہائیوں میں تھوڑا سا فرق ہے۔ بعض نے کس انداز میں دہائیاں بیان کی ہیں، بعض نے کسی اور انداز میں دہائیوں کے کچھ اشارے لکھے ہیں۔ بہرحال طریقہ اسی طرح تھا کہ یہ جو خِنْصَر، بِنْصَر اور وُسْطَى کے ذریعے اکائیاں بیان ہوتی تھیں اور سَبَّابَة اور إِبْهَام کے ذریعے دہائیاں بیان ہوتی تھیں۔ تو یہ کتابوں والوں نے مختلف لکھا ہے، دہائیوں میں تھوڑا تھوڑا فرق ہے بھئی۔ دہائیوں میں۔ تو بہرحال طریقہ یہی تھا۔ بات اچھی طرح سمجھ میں اگئی؟ یہ ہیں دَوَالِّ أَرْبَعَة بھئی دَوَالِّ أَرْبَعَة۔ تو کہتے ہیں وَدَلَالَةُ الدَّوَالِّ الْأَرْبَعِ عَلَى مَدْلُولَاتِهَا یہ کس کی قسم ہے؟ غَيْرِ لَفْظِيَّة وَضْعِيَّة کیونکہ ان سب میں وضع ہے اور ان سب میں دلالت غیر لفظ کے ذریعے ہو رہی ہے۔ اچھا بھئی اگے دَلَالَة مُطَابِقِي, تَضَمُّنِي اور الْتِزَامِي کا ذکر ا رہا ہے۔ چلیے یہ پھر اگلے سبق میں کر لیں گے۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
115 approved lectures · 41 of 115