Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-026

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 81
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَمَنْ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً فَزَوَّجَهُ اثْنَتَيْنِ فِي عَقْدَةٍ لَمْ تَلْزَمْهُ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا؛ لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى تَنْفِيذِهِمَا لِلْمُخَالَفَةِ، وَلَا إِلَى التَّنْفِيذِ فِي إِحْدَاهُمَا غَيْرِ عَيْنٍ لِلْجَهَالَةِ، وَلَا إِلَى التَّعْيِينِ لِعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ، فَتَعَيَّنَتِ التَّفْرِيقُ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے فضولی کے نکاح کے بارے میں پڑھا تھا بھئی، آپ نے مسئلہ پڑھا کہ اگر کوئی فضولی جو ہے وہ کسی غلام یا باندی کا نکاح کرواتا ہے ان کے آقا کی اجازت کے بغیر تو یہ نکاح منعقد ہو جائے گا البتہ آقا کی اجازت پر موقوف ہے، وہ اجازت دے گا تو یہ نکاح نافذ ہو جائے گا ورنہ باطل ہو جائے گا۔ اور اسی طرح اگر کسی شخص نے کسی آزاد مرد یا آزاد عورت کا نکاح کروایا ان کی اجازت کے بغیر تو یہ جو فضولی کا نکاح ہے یہ بھی منعقد ہو جائے گا البتہ اس مرد یا عورت کی اجازت پر موقوف رہے گا، اگر وہ اجازت دے دیں گے تو یہ نکاح نافذ ہو جائے گا اور اگر وہ اجازت نہیں دیں گے تو یہ نکاح نافذ نہیں ہوگا بھئی۔ اور صاحب ہدایہ نے آپ کو ضابطہ بتلایا تھا کہ عند الاحناف ہر ایسا عقد جو فضولی کی طرف سے ہوا ہو وہ اس وقت منعقد ہوتا ہے جب اس کا کوئی اجازت دینے والا ہو، یعنی کوئی ایسا شخص ہو جس کی اجازت سے وہ نافذ بھی ہو سکے، تو اگر کوئی مجیز موجود ہے تو پھر فضولی کا نکاح منعقد ہو جائے گا البتہ اجازت پر موقوف رہے گا، تو اس نکاح کے لیے کوئی اجازت دینے والا ہونا چاہیے۔ یہ دراصل احتراز ہے مثلاً کوئی یتیم یا یتیمہ کا نکاح کرواتا ہے کوئی فضولی اور اس یتیم یا یتیمہ کا کوئی بھی ولی موجود نہیں ہے، تو پھر اس پر اشکال ہوتا ہے اگر کوئی ولی نہ ہو تو پھر قاضی یا خلیفہ اس کا ولی ہوتا ہے، تو ولی تو موجود ہے؟ کہتے ہیں صورت مسئلہ آپ دار الحرب میں فرض کر لیں جہاں پر یتیم یا یتیمہ مسلمان ہے اور اس کا کوئی نکاح کروانا چاہتا ہے فضولی، تو یاد رکھو اس نکاح کا کوئی مجیز ہی نہیں ہے لہٰذا یہ منعقد ہی نہیں ہوگا۔ یا اسی طرح یہ احتراز ہے مکاتب کے غلام سے، مکاتب وہ غلام ہے جس سے آقا نے عقد کتابت کر لیا کہ اتنی مدت کے اندر اتنا مال لے آؤ تو تم آزاد ہو، اور غلام نے اس کو قبول کر لیا تو یہ جو دونوں کے درمیان عقد ہوا اس کو عقد کتابت کہتے ہیں، کتابت کا معنی یہاں لکھنا نہیں ہے اس عقد کا نام ہی کیا ہے؟ عقد کتابت، اور یہ جو مکاتب ہوتا ہے یہ آزاد آدمی کی طرح ہو جاتا ہے آقا اس سے زبردستی خدمت نہیں لے سکتا، ہاں وہ اپنی مرضی سے خدمت کرنا چاہے تو الگ بات ہے، تو یہ آقا کی خدمت اب اس کے ذمے نہیں ہے یہ جائے گا پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، تو یہ مکاتب جو ہے تجارت کرنے لگا اور پھر کچھ پیسہ جمع ہوا اس نے غلاموں کی تجارت شروع کر دی، تو یہ جو مکاتب ہے غلاموں کی بیع و شراء تو کر سکتا ہے ان کا نکاح نہیں کروا سکتا، وجہ یہ کہ غلام کے اندر یہ جو نکاح ہے یہ تاجروں کے ہاں عیب شمار ہوتا ہے اس سے غلام کی قیمت کم ہو جاتی ہے، تو لہٰذا مکاتب غلاموں کا نکاح نہیں کروا سکتا کیونکہ اس کو تجارت کی اجازت شریعت نے دی ہے اس مال کے اندر عیب پیدا کرنے کی اجازت نہیں ہے یہ تو نقصان ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا مکاتب اپنے غلام کا نکاح نہیں کروا سکتا۔ اب اس مکاتب کے غلام کا کوئی فضولی نکاح کروانا چاہتا ہے تو یاد رکھو اس صورت میں یہ نکاح منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اس نکاح کا کوئی مجیز ہی نہیں ہے، خود مکاتب بھی اجازت نہیں دے سکتا اس نکاح کی اور مکاتب کا جو آقا ہے جس کے ساتھ مکاتب نے عقد کتابت کیا تھا وہ بھی اس عقد کی اجازت نہیں دے سکتا کیونکہ یہ اس کا تو غلام ہے ہی نہیں یہ تو مکاتب کا غلام ہے بھئی، لہٰذا یہ جو فضولی جس نے مکاتب کے غلام کا نکاح کروایا یہ نکاح باطل ہے یہ موقوف ہو کر بھی منعقد نہیں ہوگا کیونکہ اس کا کوئی مجیز ہی نہیں ہے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فضولی کے تمام تصرفات باطل ہوتے ہیں، فضولی کوئی عقد وغیرہ کر لے اس کا کوئی اعتبار نہیں ورنہ دنیا کا نظام بگڑ جائے گا بھئی، جس شخص کا دل چاہے گا کسی کا نکاح کروا رہا ہے یا کسی کی کوئی چیز بیچ رہا ہے کوئی خرید رہا ہے وغیرہ۔ وہ دلیل دیتے ہیں کہ یہ فضولی کے تصرفات باطل ہیں اس لیے کیونکہ جو بھی عقد کیا جاتا ہے جو بھی عقد کیا جاتا ہے وہ دراصل اس عقد کے حکم کو حاصل کرنے کے لیے کیا جاتا ہے، دیکھو نکاح اس لیے کیا جاتا ہے کہ وہ مرد اور عورت میاں بیوی بن جائیں اور ایک دوسرے کے لیے حلال ہو جائیں، اسی طرح بیع اس لیے کی جاتی ہے تاکہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے، تو یہ ان عقدوں کے احکام ہیں اور فضولی جب ان احکام کو ہی ثابت نہیں کر سکتا تو عقد کے کرنے کا فائدہ ہی کوئی نہیں یہ عقد تو لغو ہوا بے کار ہوا۔ جبکہ ہمارے نزدیک فضولی جو ہے وہ ایک آزاد، عاقل، بالغ آدمی ہے، وہ اہل تصرف ہے فی ذاتہ اپنی ذات کے اعتبار سے اس کو تمام تصرفات کا حق دیا ہے شریعت نے، وہ اپنا نکاح بھی کر سکتا ہے وہ بیع و شراء وغیرہ اور عقد بھی کر سکتا ہے، تو فضولی ایک آزاد عاقل بالغ آدمی ہے اس میں عقد کرنے کی صلاحیت موجود ہے وہ اہل تصرف ہے، اور اس نے ایک محل تصرف کے اندر یہ تصرف کیا ہے یعنی ایک ایسی عورت سے نکاح کروایا ہے جس کے ساتھ اس آدمی کا نکاح جائز ہے، اس آزاد عورت یا آزاد مرد کا جہاں نکاح کروایا وہاں ان کا نکاح جائز تھا کوئی محرم وغیرہ نہیں تھے اس کے، تو یہ عقد کس نے کروایا ہے؟ ایک اہل تصرف نے جس میں صلاحیت ہے تصرف کی، اور کس سے کروایا؟ جہاں عقد ہو سکتا تھا، اور اس میں کوئی نقصان بھی نہیں ہے اگر اس کو منعقد قرار دے دیا جائے بلکہ یہ تو اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کرنا ہے اور لوگ ایک دوسرے کے کاموں میں مدد کرتے ہیں، تو کسی کا ایک جگہ نکاح کروا رہا ہے یا کسی کی کوئی چیز بیچ رہا ہے تو دراصل یہ اس کی مدد کر رہا ہے اور اس میں اس صاحب تصرف وہ جو اصل مالک وغیرہ ہے اس کا کوئی نقصان بھی نہیں ہے، تو وہ اس میں اگر کوئی فائدہ دیکھے گا تو اجازت دے دے گا نافذ کر دے گا اس کو اور اگر اس کو فائدہ نظر نہ آیا یا نقصان نظر آیا تو وہ اس کو باطل کر دے گا، تو معاملہ سارا اس کے اختیار میں ہے لہٰذا اس فضولی کے عقد کو منعقد قرار دینے میں کوئی خرابی نہیں ہے، اور باقی امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل کا جواب بھی دیا کہ آپ یہ نہ کہیں کہ حکم پایا ہی نہیں گیا بلکہ یوں کہیں گے ہم کہ حکم موخر ہو گیا ہے اور کبھی کبھار حکم عقد سے موخر ہو جاتا ہے جیسے وہ بیع جو خیار شرط کے ساتھ کی جائے۔ میں نے بتایا جب بیع کسی کے ساتھ آپ کریں گے تو ایجاب اور قبول کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بھی بن گیا، بیع نافذ ہو گئی اور نیز بیع لازم ہو گئی، بیع لازم ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دونوں میں سے اگر صرف کوئی ایک چاہتا ہے اس بیع کو فسخ کر دے نہیں اب اختیار نہیں ہے، صرف بائع فسخ کرنا چاہتا ہے یا صرف مشتری فسخ کرنا چاہتا ہے نہیں کسی ایک کو بھی بیع کو فسخ کرنے کا اختیار نہیں، ہاں اگر دونوں مل کر فسخ کرتے ہیں پھر تو بھئی انہی کے درمیان عقد ہوا تھا ان کی مرضی ہے فسخ کر دیں، لیکن بہرحال کسی ایک اکیلے کو اختیار نہیں ہے اس بیع کو فسخ کرنے کا کیونکہ یہ بیع لازم ہو چکی، لیکن خیار شرط کے ساتھ جو بیع کی جائے وہ لازم نہیں ہوتی، وہ دو تین دن کا جس نے اختیار رکھا ہے وہ اس کو فسخ کر سکتا ہے، تو دیکھو بیع پائی گئی لیکن بیع کا حکم یعنی اس کا لازم ہونا نہیں پایا گیا، تو کبھی کبھار عقد پایا جاتا ہے اور اس کا حکم موخر ہو جاتا ہے۔ یا اسی طرح میں نے بتایا امام صاحب کے نزدیک خیار شرط چاہے مشتری رکھے چاہے بائع رکھے دونوں صورتوں میں مشتری مالک نہیں بنتا، خیار شرط مثلاً بائع نے رکھا کہ میں بیع فسخ کر سکتا ہوں تین دن میں مجھے اختیار ہے تو بھی مشتری مالک نہیں، اور خیار فسخ مشتری نے رکھا کہ مجھے اختیار ہے میں بیع کو تین دن میں فسخ کر سکتا ہوں ایجاب اور قبول کر لیا لیکن امام صاحب فرماتے ہیں مشتری اس مبیع کا مالک نہیں، حالانکہ بیع کا حکم ہی کیا ہے کہ مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو دیکھو عقد پایا جا رہا ہے لیکن اس کا حکم موخر ہو گیا ہے، جب وہ خیار شرط والا اجازت دے دے گا تو پھر مشتری مالک بن جائے گا، تو دیکھا بیع کا حکم یعنی مشتری کا مالک بننا وہ موخر ہو گیا بیع سے، بیع پائی جا رہی ہے اور دو تین دن تک مشتری مالک ہی نہیں بن رہا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں یہاں پر بھی ہم کہتے ہیں کہ فضولی نے جو عقد کیا ہے یوں نہ کہا جائے کہ اس کا حکم ہی نہیں پایا جا رہا اس عقد کا بلکہ ہم یوں کہیں گے حکم موخر ہو گیا ہے، جب اصل مالک اجازت دے گا تو پھر وہ عقد منعقد ہو جائے گا۔ اور پھر میں نے یہاں یہ بھی بیان کیا تھا کہ عام اردو شارحین یہاں ذکر فرماتے ہیں کہ جو متن میں آیا: وَتَزْوِيجُ الْعَبْدِ وَالأَمَةِ، کہ غلام یا باندی کا نکاح کروانا، اس میں وہ دو صورتیں ذکر کرتے ہیں کہ غلام یا باندی کا نکاح کوئی فضولی کروا دے یا غلام یا باندی اپنا نکاح خود کر لیں وہ بھی اس کے اندر داخل ہے، لیکن میں نے بتایا نہیں غلام یا باندی خود اپنا نکاح کریں وہ یہاں داخل نہیں ہو سکتا، وجہ یہ کہ آگے جو دلیل دے رہے ہیں ہماری صاحب ہدایہ کہ رکن تصرف صادر ہوا ہے اہل تصرف سے، کس سے؟ اہل تصرف سے رکن تصرف صادر ہوا ہے، اور حالانکہ غلام یا باندی ان میں تو عقد کی صلاحیت اور اہلیت ہی نہیں ہے، تو وہ تو اہل تصرف ہی نہیں ہیں، دلیل کیا؟ کہ نکاح کس نے کروایا ہے؟ اہل تصرف نے، اور غلام یا باندی تو اہل تصرف ہی نہیں ہیں لہٰذا وہ اس دلیل کے تحت داخل ہی نہیں ہوتے۔ اور نیز میں نے بتایا اوپر متن میں تزویج کا لفظ آیا ہے، تزویج زَوَّجَ يُزَوِّجُ تزویج کا معنی ہوتا ہے کسی دوسرے کا نکاح کرنا، اپنا نکاح کرنا ہو اس کے لیے تَزَوُّج کا لفظ استعمال ہوتا ہے، تو اگر غلام یا باندی کا اپنا نکاح مراد ہوتا کہ وہ خود نکاح کریں تو تزوج کا لفظ ہونا چاہیے تھا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو غلام یا باندی اپنا نکاح کروائیں وہ اس عبارت کے تحت داخل نہیں، ہاں البتہ یاد رکھنا حکم اس کا بھی یہی ہے، وہ اس عبارت کے تحت تو داخل نہیں لیکن حکم اس کا بھی یہی ہے، غلام یا باندی اپنا نکاح کروائیں گے تو وہ آقا کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ جیسے فضولی کسی کا نکاح کرواتا ہے حالانکہ فضولی کے پاس اختیار نہیں ہوتا وہ نکاح کروانے کا اسی طرح یہ غلام یا باندی جب اپنا نکاح کریں گے تو ان کے پاس اختیار نہیں ہے اپنا نکاح کروانے کا تو یہ بھی کیا ہوئے؟ فضولی ہی ہو گئے، کیا ہو گئے؟ فضولی ہو گئے، لہٰذا یہ خود اپنا نکاح کریں گے تو وہ بھی آقا کی اجازت پر موقوف رہے گا، تو غلام یا باندی اپنا نکاح خود کرتے ہیں وہ اس مسئلے کے تحت داخل نہیں البتہ حکم اس کا بھی یہی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر اسی فضولی کے نکاح میں صاحب ہدایہ نے مزید مسائل ذکر فرمائے کہ اگر کوئی فضولی نکاح کرواتا ہے تو وہاں دو صورتیں بنتی ہیں: یا تو وہ فضولی دونوں طرف کا متولی ہوگا یا دونوں طرف کا متولی نہیں ہوگا، فضولی دونوں طرف کا متولی ہے اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو دونوں طرف سے فضولی ہوگا یا ایک طرف سے اصیل ہے اور ایک طرف سے فضولی ہے۔ فضولی ایک شخص جو فضولی بن رہا ہے وہ نکاح کی دونوں طرف کا متولی ہو مثلاً یعنی دونوں طرف سے فضولی ہے، ایک مرد یا ایک عورت کا نکاح کروا رہا ہے اور نہ وہ مرد کی طرف سے وکیل ہے اور نہ عورت کی طرف سے وکیل ہے تو فضولی نکاح کا متولی ہوا اور دونوں طرف سے فضولی ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ فضولی نے نکاح کروایا اپنا نکاح کروایا کسی عورت سے اور مثلاً اس عورت نے اس کو وکیل نہیں بنایا تو یہ فضولی کیا ہوا؟ یہ اس عورت کی طرف سے تو فضولی ہے لیکن اپنی جانب سے اصیل ہے، تو دیکھو ایک ہی شخص نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہے اور ایک طرف سے اصیل ہے اور ایک طرف سے فضولی ہے۔ تو جب فضولی نکاح کروائے یا تو وہ دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہوگا یا دونوں طرف کا متولی نہیں ہوگا، دونوں طرف کا متولی ہو اس میں دو صورتیں آ گئیں: کیا؟ دونوں طرف سے ہی فضولی ہو یا ایک طرف سے فضولی ہے اور ایک طرف سے اصیل ہے، توجہ ہے؟ دوسری صورت یہ ہے کہ فضولی نکاح کروا رہا ہے لیکن وہ دونوں جانب کا متولی نہیں ہے، ایک طرف کا اصیل ہے اور دوسرا فضولی ہے، ایک شخص نے کہا میں نے فلانی عورت سے نکاح کیا اور ایک آدمی اسی مجلس میں کہتا ہے میں نے اس عورت کی طرف سے قبول کیا تو اب دیکھو فضولی نے نکاح کروایا لیکن وہ نکاح کی دونوں طرف کا متولی نہیں بن رہا، یا دونوں طرف ہی فضولی ہیں، زید کی طرف سے ایک آدمی نکاح کروا رہا ہے حالانکہ وہ زید کا وکیل نہیں اور ادھر سے دوسری عورت کی طرف سے ایک شخص نکاح کروا رہا ہے حالانکہ اس عورت کا وکیل نہیں تو یہ دونوں فضولی ہیں، اب یہ جو نکاح کروا رہے ہیں اس میں دیکھو فضولی تو ہیں لیکن دونوں جانب کے متولی نہیں۔ تو ضابطہ یہ ذکر ہوا تھا کہ طرفین کے نزدیک جب ایک ہی شخص دونوں جانب سے نکاح کا متولی بن رہا ہو تو اس کو کسی بھی طرف سے فضولی نہیں ہونا چاہیے، وہ دونوں طرف سے فضولی ہوا تو بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا اور اگر کسی ایک طرف سے فضولی ہوا تو بھی نکاح منعقد نہیں ہوگا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، فضولی اگر نکاح کی دونوں جانب کا متولی ہو تو بھی نکاح منعقد ہو جائے گا۔ اب اسی پر ایک مسئلے کو ذہن میں رکھو آپ اس پر ساری ان کے دلائل منطبق کرتے جاؤ۔ مثلاً ایک صورت یہ ہے ایک شخص ایک مجلس میں بیٹھا ہوا ہے اور وہ اپنا نکاح کرواتا ہے کسی عورت سے تو اپنے لیے ہوا اصیل اور اس عورت کے لیے کیا ہوا؟ فضولی، اب ان گواہوں کے سامنے وہ کہتا ہے کہ تم لوگ گواہ رہو میں نے اس عورت سے اپنا نکاح کر دیا۔ تو دونوں جانب سے متولی بن رہا ہے، اپنے لیے ہے اصیل اور عورت کے لیے کیا ہے؟ فضولی، تو طرفین کے نزدیک یہ نکاح باطل ہے لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نکاح منعقد ہو جائے گا اور بعد میں وہ عورت اجازت دے دے گی تو نکاح نافذ بھی ہو جائے گا یہ میاں بیوی بن جائیں گے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس فضولی کے نکاح کو قیاس کرتے ہیں وکیل پر، جیسے وکیل جب دونوں طرف سے نکاح کا متولی ہو اور وہ یہی جملہ کہے گواہوں کے سامنے، لڑکے والوں نے بھی زید کو وکیل بنایا لڑکی والوں نے بھی زید ہی کو وکیل بنایا اب زید جو ہے دونوں طرف سے نکاح کا وکیل ہے، زید نکاح کی دونوں طرف کا متولی ہے، یہ گواہوں کے سامنے کہہ دیتا ہے میں نے زید کا زینب سے نکاح کر دیا تو صرف اس کا یہ کلام جو ہے یہ اسی سے نکاح منعقد ہو جائے گا، یہاں کوئی علیحدہ قبول کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے وکیل جب دونوں جانب کا متولی ہوتا ہے تو صرف اس کے ایک ہی کلام سے وہ نکاح منعقد ہو جاتا ہے تو فضولی جب دونوں طرف سے فضولی ہے یا ایک طرف سے فضولی ہے تو اس کا نکاح بھی اسی طرح منعقد ہو جائے گا البتہ موقوف رہے گا، وکیل کا نکاح نافذ ہو گیا تھا اور فضولی کا نکاح موقوف ہونا چاہیے، اور نیز وہ اس کو قیاس کرتے ہیں خلع اور طلاق علی مال اور اسی طرح اعتاق علی مال پر، کہتے ہیں جیسے اس کے اندر ایک ہی شخص کے بولنے پر وہ عقد تام ہو جاتا ہے۔ میں نے بتایا خلع اسے کہتے ہیں کہ جس میں بیوی کچھ مال دے کر خاوند سے اپنے آپ کو چھڑوا لیتی ہے آزاد کروا لیتی ہے اور اس میں طلاق کا لفظ نہیں بولا جاتا خلع کا لفظ بولتے ہیں، مثلاً عورت کہتی ہے کہ میں تمہیں دس لاکھ روپے دوں گی تم مجھ سے خلع کر لو، خاوند کہتا ہے مجھے قبول ہے، جیسے ہی قبول ہے کہا ساتھ ہی دونوں میں جدائی آ گئی اور وہ پیسے اب عورت پر لازم ہو گئے وہ اس کو ادا کرنے پڑیں گے، تو اس کو کہتے ہیں خلع، اور خلع میں نے بتایا اس میں طلاق کا لفظ نہیں ہوتا ہاں یہ حکم میں طلاق ہی کے ہے کیونکہ جدائی کس کی طرف سے آ رہی ہے؟ مرد کی طرف سے وہ قبول کر رہا ہے اس کو اور مرد تو طلاق دینے کا اہل ہے لہٰذا یہ جدائی یہ طلاق بائن کے حکم میں ہے۔ اور جبکہ دوسرا ہے طلاق علی عوض، طلاق علی عوض یہ بھی بالکل خلع کی طرح ہے لیکن اس میں صرف طلاق کا لفظ باقاعدہ بولا جاتا ہے، مثلاً عورت نے یہ نہیں کہا مجھ سے دس لاکھ روپے لے کر مجھ سے خلع کر لو بلکہ عورت کہتی ہے دس لاکھ روپے لے کر مجھے طلاق دے دو، تو اس کو خلع نہیں کہیں گے ہے اگرچہ وہی چیز لیکن بہرحال لفظوں کا فرق آ گیا، اس کو کہیں گے طلاق علی مال کہ مال کی شرط پر طلاق دے رہا ہے۔ اور اسی طرح ایک ہے اعتاق علی مال، ایک تو ہے صورت آقا ویسے ہی اپنے غلام کو آزاد کر دے اس میں تو صرف آقا کی مرضی چلے گی اس میں غلام کے قبول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، لیکن اگر آقا اعتاق علی مال کرتا ہے کہ میں اپنے غلام کو آزاد کرتا ہوں اگر وہ مجھے دس لاکھ روپے ادا کر دے تو یہ اب وہ آقا غلام سے عقد کر رہا ہے تو اس میں غلام کا قبول کرنا ضروری ہے، تو غلام کو جب بھی یہ اطلاع ملی اس نے فوراً کہا مجھے قبول ہے یاد رکھو فوراً وہ آزاد ہو گیا، فوراً کیا ہوا؟ آزاد ہو گیا ہاں اب وہ مال اس کے ذمے لازم ہو گیا بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس آدمی کے قول کو قیاس کرتے ہیں خلع، طلاق علی مال اور اعتاق علی مال پر، جیسے خلع میں اگر خاوند دیکھو کسی ایک مجلس میں کہتا ہے میں اپنی بیوی سے دس لاکھ پر خلع کرتا ہوں، تو دیکھو اب یہ عورت اس مجلس میں نہیں ہے صرف خاوند نے کلام کیا ہے اور عورت بعد میں کسی اور مجلس میں اس کو اطلاع ملی کہ خاوند نے یہ کہا ہے تو وہ کہتی ہے مجھے منظور ہے، یاد رکھو جیسے ہی اس نے اجازت دی ساتھ ہی خلع ہو گیا اب اس عورت کے ذمے مال لازم، یا خاوند کہتا ہے کسی الگ مجلس میں جہاں بیوی نہیں ہے کہ میں اپنی بیوی کو دس لاکھ کے عوض طلاق دیتا ہوں صرف خاوند نے کہا، اب حالانکہ طلاق علی عوض یہ خاوند اور بیوی کے درمیان ایک عقد اور ایک معاہدہ ہو رہا ہے، بغیر معاہدے کے تو عورت پر مال نہیں آئے گا، تو خاوند نے ایک مجلس میں کہا اور بیوی کو دوسری مجلس میں پتہ چلا اور اس نے کہا مجھے منظور ہے تو ساتھ ہی طلاق ہو گئی البتہ اس کو اب وہ مال دینا پڑے گا، یا اسی طرح آقا نے ایک مجلس میں کہا میں نے اپنے غلام کو آزاد کیا دس لاکھ روپے کے عوض میں غلام کو بعد میں پتہ چلا اور اس نے اجازت دے دی تو دیکھو وہ آزاد ہو جائے گا اور اس کے ذمے مال آ جائے گا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے یہاں خلع اور طلاق علی مال اور اعتاق علی مال یہاں ایک ہی شخص کے بولنے سے وہ عقد تام ہو گیا اور دوسری مجلس میں اگر عورت یا وہ غلام اجازت دے دے تب بھی وہ نافذ ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ جو جس شخص نے کیا کہا تھا کہ تم لوگ گواہ رہو میں نے فلانی عورت سے کیا کر دیا اپنا نکاح کر دیا تو اس کو بھی منعقد ہونا چاہیے اور وہ عورت بعد میں بھی اجازت دے دے تو اس کو نافذ ہو جانا چاہیے۔ جبکہ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ جو اس شخص نے کلام کیا ہے یہ عقد کا ایک جز ہے اور عقد ایجاب اور قبول دو جزوں پر مشتمل ہوتا ہے، اور یہ جو آدمی نے کلام کیا یہ صرف ایجاب ہے کیا ہے؟ ایجاب، اور اس کے لیے قبول ضرور چاہیے اور قبول اسی مجلس میں چاہیے، توجہ ہے؟ قبول اسی مجلس میں چاہیے اور اس مجلس میں تو کوئی قبول کرنے والا نہیں تھا لہٰذا یہ ایجاب لغو چلا گیا اور بعد میں وہ عورت اجازت دے بھی تو اب نکاح نہیں ہو سکتا کیونکہ جس مجلس میں ایجاب ہو قبول اسی مجلس میں چاہیے بعد میں نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ وہ فرماتے ہیں طرفین فرماتے ہیں کہ دیکھو اگر وہ عورت اس مجلس میں موجود ہوتی اور پھر یہ آدمی یہی جملہ کہتا کہ تم لوگ گواہ ہو جاؤ میں نے اس عورت سے کیا کر دیا؟ اپنا نکاح کر دیا، تو صرف یہ کہنے سے نکاح نہیں ہونا تھا اس عورت جو مجلس میں موجود ہے اس کا قبول کرنا بھی ضروری تھا۔ معلوم ہوا وہ عورت موجود ہوتی تو آدمی کا کلام صرف ایجاب تھا پورا عقد نہیں اس کے لیے قبول بھی چاہیے تھا، تو جب عورت کی موجودگی میں یہ صرف ایجاب ہے تو عورت کی غیر موجودگی کے اندر بھی یہ کلام عقد کا ایک ہی جز بنے گا اور ایک ہی جز سے تو عقد منعقد نہیں ہوتا اس کے لیے تو قبول بھی ضرور چاہیے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر وہ نکاح دو فضولیوں کے درمیان ہو پھر تو وہ عقد تام ہے کیونکہ دو فضولی ہیں ایک کی طرف سے ایجاب آیا دوسرے کی طرف سے قبول آیا تو وہ عقد کیا ہوگا؟ تام ہو جائے گا وہ اب ان کی اجازت پر موقوف رہے گا جن جن کا نکاح کروایا ہے وہ اگر اجازت دیں گے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو فضولی جب دونوں طرف کا متولی ہو تو اس کا کلام عقد کا ایک جز ہے، عقد کا ایک جز ہے، اور جب دو الگ الگ فضولی ہیں پھر تو ایجاب بھی پایا گیا قبول بھی پایا گیا لہٰذا عقد منعقد ہو جائے گا۔ اسی طرح خلع ہے اور طلاق علی مال ہے اور اعتاق علی مال، یاد رکھو یہ بھی عقد تام ہیں، کیا ہیں؟ عقد تام، کیونکہ دراصل یہ تعلیق ہیں بھئی تعلیق ہیں۔ اور جب یہ تعلیق ہیں تعلیق تو ایک ہی آدمی کے قول سے تعلیق ہو جاتی ہے اس میں دوسرے کے قبول کرنے کی کوئی ضرورت نہیں، مثلاً خاوند نے اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے تو اب دیکھو صرف خاوند کے کہنے سے یہ تعلیق ہو گئی اب اس میں عورت کے قبول کی کوئی ضرورت نہیں ہے عورت جب بھی اس گھر میں جائے گی اس کو طلاق ہو جائے گی، تو تعلیق ایک آدمی پر پوری ہو جاتی ہے۔ تو طرفین فرماتے ہیں کہ وہ جو خلع تھا اور وہ جو طلاق علی مال اور اعتاق علی مال تھے وہ تعلیق تھے، وہ کیا تھے؟ تعلیق، یعنی وہ عقد تام تھے ایک ہی آدمی کے قول سے وہ بات پوری ہو گئی تھی، گویا خاوند نے خلع میں گویا خاوند نے کیا کہا تھا کہ میں اپنی بیوی سے دس لاکھ پر خلع کرتا ہوں، توجہ ہے؟ میں اپنی بیوی سے دس لاکھ پر خلع کرتا ہوں دیکھو یہاں شرط اور جزا نہیں لیکن غور کریں تو آپ یہاں دراصل حقیقت میں تعلیق آ رہی ہے گویا خاوند کے کہنے کا مطلب یہ ہے اگر میری بیوی مجھے دس لاکھ دینے پر راضی ہوتی ہے تو میں خلع کرتا ہوں، اگر وہ راضی ہوتی ہے تو میں خلع کرتا ہوں دیکھو تعلیق آ گئی، اب بعد میں بھی وہ قبول کرے گی تو شرط پوری ہو گئی تو خلع بھی ہو جائے گا۔ تو یہ خلع اور طلاق علی مال اور اعتاق علی مال یہ سب دراصل تعلیق ہیں اور تعلیق ایک ہی آدمی پر پوری ہو جاتی ہے، تو آپ اس فضولی کے نکاح کو اس خلع وغیرہ پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ فضولی کا نکاح وہ عقد تام نہیں تھا وہ عقد کا صرف ایک جز تھا ایجاب، جبکہ تعلیق کے اندر تو دونوں جز آ گئے بھئی عقد کے، تو یہ ایک ہی آدمی پر پوری ہو گئی اور نیز یہ لازم بھی ہو گئی اس سے اب رجوع بھی نہیں ہو سکتا۔ تعلیق کیا ہے؟ تعلیق لازم ہو جاتی ہے اس سے رجوع نہیں ہو سکتا، ایجاب سے رجوع ہو سکتا ہے۔ آپ ایک آدمی کو ایک گاڑی بیچتے ہیں مجلس کے اندر مثلاً آپ اس سے کہتے ہیں میں نے یہ گاڑی آپ کو دس لاکھ روپے میں بیچ دی اب اس کو قبول کرنے کا اختیار ہے، آپ نے صرف ایجاب کیا ہے، تو یاد رکھو قبول سے پہلے پہلے ایجاب سے رجوع بھی کیا جا سکتا ہے، آپ کہہ سکتے ہیں اس نے ابھی قبول نہیں کیا تھا آپ کہتے ہیں نہیں نہیں بھئی میں نہیں بیچنا چاہتا بس بھئی آپ کا ایجاب باطل ہو گیا اب وہ قبول کرے بھی تو بیع منعقد نہیں ہوگی، تو ایجاب کے اندر قبول سے پہلے رجوع ہو سکتا ہے لیکن تعلیق کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا۔ چنانچہ طرفین فرماتے ہیں کہ یہ جو خلع، طلاق علی مال اور اعتاق علی مال کو آپ نے ذکر کیا یہ تعلیق ہیں اسی لیے یہ خاوند یا آقا ان سے رجوع نہیں کر سکتا اب معاملہ اس کے ہاتھ سے نکل گیا۔ خاوند نے کیا کہا تھا؟ میں اپنی بیوی سے دس لاکھ پر خلع کرتا ہوں، پھر کہتا ہے نہیں نہیں میں خلع نہیں کرتا، نہیں بھئی معاملہ آپ کے ہاتھ سے نکل چکا ہے، اب تعلیق ہو چکی ہے بیوی جب قبول کرے گی خلع ہو جائے گا جدائی آ جائے گی۔ تو طرفین فرماتے ہیں دیکھو خاوند کا اس خلع، طلاق علی مال اور اعتاق علی مال سے رجوع نہیں ہو سکتا یہی بتلا رہا ہے کہ یہ تعلیق ہے، یہ تعلیق ہے بات سمجھ میں آ گئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے اس تعلیق کو تصرف یمین کے نام سے ذکر کیا، کس نام سے؟ تصرف یمین، میں نے بتایا ایک ہے یمین، یمین کا معنی ہے قسم، یمین کا معنی ہے قسم، تعلیق الگ چیز ہے یمین الگ چیز ہے، لیکن فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں۔ کیونکہ جیسے یمین کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے قسم کھائی جاتی ہے، ایک آدمی کہتا ہے واللہ یہ کام میں ضرور کروں گا وہ قسم کیوں کھا رہا ہے؟ اپنے نفس کو ابھارنے کے لیے کہ اب یہ کام کرنا پڑے گا میں نے قسم کھا لی ہے، اور کبھی کہتا ہے واللہ میں یہ کام نہیں کروں گا یہ اپنے نفس کو روک رہا ہے کہ تمہیں میں نے قسم کھا لی ہے اب یہ کام نہیں کرنا، تو یمین کسی کام سے روکنے یا کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوتی ہے، اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے کے لیے یا کسی کام سے روکنے کے لیے ہوتی ہے، خاوند نے اگر اپنی بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے معلوم ہوا وہ عورت کو روک رہا ہے ابھار رہا ہے کہ اگر گئی تو تو پھر کیا ہو جائے گی؟ طلاق لہٰذا تمہیں اس گھر میں نہیں جانا چاہیے، تو یہ روک رہا ہے، اور کبھی کبھار تعلیق ہوگی کسی کام پر ابھارنے کے لیے ہوگی، مثلاً خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے اگر تو شام تک اس گھر میں نہ گئی تو تجھے طلاق ہے، گویا ابھار رہا ہے کہ تمہیں شام سے پہلے پہلے اس گھر میں جانا پڑے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو حاصل کلام یہ کہ تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جس طرح یمین کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے اسی طرح تعلیق بھی کسی کام پر ابھارنے یا روکنے کے لیے ہوتی ہے۔ یہاں ایک اور قیمتی بات یاد رکھنا: فقہ کے اندر تعلیق کو بھی یمین کہتے ہیں لیکن اس تعلیق کو جس میں کسی کام پر ابھارا جا رہا ہے یا روکا جا رہا ہے، ہر تعلیق کو یمین نہیں کہتے۔ ہر تعلیق کو یمین نہیں، میں نے ابھی مثال ذکر کر دی: خاوند کہتا ہے اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق معلوم ہوا روکنا چاہ رہا ہے اس کو یمین کہیں گے، روکنے کے لیے یہ تعلیق ہے، یا خاوند کہتا ہے بیوی کو اگر تو اس گھر میں شام تک نہ گئی تو تجھے طلاق معلوم ہوا اب اس کو ابھار رہا ہے کہ اس کو وہاں جانا پڑے گا، تو یہ جو تعلیق ہے جس میں کسی کام پر ابھارا جا رہا ہے یا کسی کام سے روکا جا رہا ہے اس تعلیق کو یمین کہیں گے، ہر تعلیق کو یمین نہیں کہیں گے اگر ایک شخص تعلیق کرتا ہے لیکن نہ وہاں ابھارنا ہے نہ روکنا ہے اس کو یمین نہیں کہیں گے، مثلاً ایک شخص کہتا ہے کہ کل جب سورج طلوع ہوگا تو اس وقت میری بیوی کو طلاق ہے۔ کل جب سورج طلوع ہوگا تو اس وقت میری بیوی کو طلاق ہے، تو دیکھو کل صبح سورج طلوع ہوگا تو اس کی بیوی کو طلاق ہو جائے گی اب یہاں نہ ابھارنا ہے کسی کام پر اور نہ کسی کام سے روکنا ہے، تو تعلیق تو ہے لیکن اس کو یمین نہیں کہیں گے، تو یمین کس تعلیق کو کہتے ہیں جس میں کسی کام پر ابھارنا یا روکنا ہو بھئی، یہ قیمتی بات ہی یاد رکھنا بھئی۔ تو فقہ میں تعلیق کو بھی کیا کہتے ہیں؟ یمین کہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو لہٰذا یہ خلع اور طلاق اور اعتاق علی مال یہ تینوں کیا ہیں؟ تعلیق ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: وَمَنْ أَمَرَ رَجُلًا أَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً فَزَوَّجَهُ اثْنَتَيْنِ فِي عَقْدَةٍ لَمْ تَلْزَمْهُ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا یاد رکھو یہاں آپ کو یہ بتلائیں گے کہ اگر کسی شخص کو آپ کسی معاملے میں اپنا وکیل بناتے ہیں تو وکیل اگر آپ کے کہے ہوئے کے مطابق عقد کرے گا تو وہ عقد آپ پر لازم ہو جائے گا۔ آپ نے ایک شخص کو وکیل بنایا کہ جاؤ جا کر میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ تو وہ شخص گیا اور اس نے آپ کے لیے گاڑی خریدی، یاد رکھو اب یہ گاڑی آپ پر لازم ہو گئی اب آپ اس سے انکار نہیں کر سکتے، لیکن اگر وکیل نے آپ کی مخالفت کر دی تو پھر اس صورت میں وکیل کا عقد موکل پر لازم نہیں بلکہ اس صورت میں پھر وکیل جو ہے وہ فضولی کے درجے میں ہو گیا، مثلاً آپ نے اس کو بھیجا تھا کہ جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ اور وہ آپ کے لیے موٹر سائیکل خرید کر لے آیا تو یہ تو وکیل نے آپ کی مخالفت کر دی بھئی، آپ نے تو اس کو موٹر سائیکل کا نہیں کہا تھا، معلوم ہوا موٹر سائیکل کے عقد کے اندر وہ ایک اب فضولی ہے بھئی، اور فضولی کا عقد وہ صاحب اجازت کی اجازت پر موقوف ہوتا ہے، اگر وہ اجازت دے گا تو وہ عقد اس کی طرف سے ہو جائے گا ورنہ اس کی طرف سے یہ عقد نہیں ہوگا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب صورت مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص نے کسی دوسرے کو وکیل بنایا کہ میرا کسی جگہ کسی عورت سے نکاح کروا دو، اب وکیل نے اس کا دو جگہ نکاح کروا دیا تو یہاں دو صورتیں بنتی ہیں: ایک صورت یہ کہ پہلے ایک عورت کے ساتھ اس کا نکاح کروایا اور پھر دوسری عورت کے ساتھ نکاح کروایا، اور دوسری صورت یہ ہے کہ دونوں عورتوں سے ایک ہی عقد میں نکاح کروا دیا۔ تو دونوں کے حکم الگ الگ ہیں یاد رکھو۔ پہلی صورت لے لیں جب وکیل نے دو الگ الگ نکاح کروائے، آپ نے کسی وکیل کو بھیجا کہ جاؤ میرا کسی عورت سے نکاح کروا دو اور اس نے جا کر پہلے ایک جگہ آپ کا نکاح کروایا اور پھر دوسری جگہ نکاح کروایا، تو یاد رکھو اس صورت میں پہلا نکاح تو موکل پر لازم ہو جائے گا کیونکہ اس نے بھی ایک نکاح کا کہا تھا اور وکیل نے بھی ایک نکاح کروا دیا، لیکن اب وکیل کی ذمہ داری پوری ہو گئی، اب وہ جب دوسری جگہ نکاح کرواتا ہے تو اب وہ وکیل نہ رہا بلکہ اب وہ یہاں پر فضولی ہے وہ ایک زائد نکاح کروا رہا ہے، اب دوسرا نکاح جو ہے وہ اس موکل کی اجازت پر موقوف ہے، اگر اس نے اجازت دے دی تو یہ دوسرا نکاح بھی نافذ ہو جائے گا ورنہ اگر اس نے رد کر دیا تو یہ نکاح باطل ہو جائے گا۔ یہ تو تھی ایک صورت کہ دونوں نکاح اس نے الگ الگ عقد کے ساتھ کروائے۔ اور اگر وکیل نے دو نکاح ایک ہی عقد میں کروائے یہ صورت جو ہے کتاب کے اندر ذکر ہے، کہ مثلاً اس زید کا میں فلانی اور فلانی عورت سے نکاح کرتا ہوں ایک ہی ایجاب کیا اور دوسری طرف سے وہ لڑکی والے دونوں نے کیا کر لیا؟ قبول کر لیا، تو ایک ہی عقد میں دو نکاح کروا دیے۔ تو اگر وکیل نے دونوں نکاح ایک ہی عقد کے اندر کروائے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں کہ وکیل نے موکل کی مخالفت کر دی، موکل نے تو ایک نکاح کا کہا تھا اور اس نے ایک ہی عقد میں دو نکاح کروا دیے تو اب ان دونوں میں سے ایک بھی موکل پر لازم نہیں، جیسے فضولی عقد کروائے تو اس کا عقد اس صاحب اجازت پر لازم نہیں ہوتا تو یہ دونوں نکاح بھی اس موکل پر لازم نہیں ہیں بھئی، یہ چاہے تو دونوں کو ہی رد کر دے، یہ چاہے تو دونوں کی اجازت دے دے، اور یہ چاہے تو دونوں نکاحوں میں سے ایک نکاح کی اجازت دے دے اور ایک کو رد کر دے اس کی مرضی ہے کیونکہ یہ وکیل اس کی مخالفت کر رہا ہے تو گویا یہ وکیل نہ رہا بلکہ فضولی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَمَرَ رَجُلًا اور جس نے کسی آدمی کو حکم دیا أَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً کہ اس کا نکاح کروا دے کسی عورت سے، فَزَوَّجَهُ اثْنَتَيْنِ تو اس شخص نے اس کا دو عورتوں سے نکاح کروا دیا فِي عَقْدَةٍ ایک ہی عقد میں، لَمْ تَلْزَمْهُ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا تو اس موکل پر ان دونوں میں سے ایک عورت بھی لازم نہیں ہے، اس پر لازم نہیں کیونکہ یہ عقد فضولی کے عقد کی طرح ہوا بھئی۔ لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى تَنْفِيذِهِمَا لِلْمُخَالَفَةِ، اب وجہ بتائیں گے، دونوں بھی اس پر لازم نہیں اور دونوں میں سے ایک بھی لازم نہیں۔ دونوں تو اس لیے لازم نہیں کیونکہ وکیل نے اس کی مخالفت کی ہے اس نے ایک نکاح کا کہا تھا اس نے دو نکاحوں کا نہیں کہا تھا تو دونوں اس پر لازم نہیں۔ اچھا بھئی چلو اس نے ایک نکاح کا تو کہا تھا ایک تو اس پر لازم ہو جانا چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں، یہاں اب دو نکاح کروائے ہیں تو دونوں میں سے کسی ایک کو ترجیح دی جائے اس کی کوئی وجہ نہیں ہے، دونوں نکاحوں میں سے کسی ایک کو بھی ترجیح دینے کی کوئی وجہ نہیں، بغیر وجہ کے آپ کسی ایک نکاح کو ترجیح نہیں دے سکتے کہ اس عورت کے ساتھ جو نکاح ہوا ہے وہ تو اس پر لازم ہو جائے اور دوسری عورت کے ساتھ جو نکاح ہوا ہے وہ اس پر لازم نہ ہو، وہاں ترجیح کی کوئی وجہ نہیں ہے بھئی، تو لہٰذا کسی ایک متعین کے ساتھ نکاح کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی، اور غیر معین کے ساتھ بھی نکاح کو نافذ قرار نہیں دیا جا سکتا کہ یوں کہا جائے کہ ان دو عورتوں میں سے ایک کے ساتھ نکاح ہو چکا ہے ہاں لا علی التعیین یعنی تعین نہیں ہے کون سی والی سے ہوا ہے لیکن ایک کے ساتھ ہو چکا ہے، بھئی اس میں تو فائدہ ہی کوئی نہیں ہے۔ نکاح کس لیے کیا جاتا ہے تاکہ بیوی مل جائے بھئی گھر آباد ہو جائے آگے اولاد وغیرہ حاصل ہو، تو جب دو عورتوں میں سے ایک لا علی التعیین اس کی بیوی ہے تعین ہی نہیں ہے کون سی والی کے ساتھ نکاح نافذ قرار دیا گیا ہے اور کون سی والی کے ساتھ نکاح نافذ قرار نہیں دیا گیا تو اس کے لیے تو کسی ایک سے بھی صحبت جائز نہیں ہوگی اور نیز وہ عورتیں بھی معلق رہیں گی وہ آگے بھی نکاح نہیں کر سکتیں، لہٰذا کسی ایک متعین میں بھی نکاح کو نافذ قرار نہیں دیا جا سکتا اور کسی ایک غیر متعین میں بھی نکاح کو نافذ قرار نہیں دیا جا سکتا تو اب آخری صورت یہی رہ گئی کہ تفریق کروانا پڑے گی جدائی کروانا پڑے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ دونوں کو نافذ بھی قرار نہیں دے سکتے کیونکہ وکیل نے مخالفت کی ہے، اور دونوں میں سے ایک میں نکاح کو نافذ قرار دیا جائے اس کی بھی پھر دو صورتیں ہیں کہ ایک غیر معین میں نکاح کو نافذ قرار دیا جائے اس کا فائدہ کوئی نہیں، اور اگر کسی ایک معین عورت کے اندر نکاح کو نافذ قرار دے دیا جائے اس کی بھی کوئی وجہ نہیں ہے کیونکہ ترجیح کے لیے کوئی وجہ چاہیے بھئی، تو لہٰذا اب تفریق ہی کروانا پڑے گی۔ ہاں البتہ میں نے بتایا کہ یہ موکل کی مرضی ہے وہ چاہے تو دونوں نکاحوں کی اجازت دے دے اور چاہے تو دونوں میں سے کسی ایک نکاح کی اجازت دے دے بھئی اور چاہے تو دونوں کو رد کر دے۔ تو کہتے ہیں: لَمْ تَلْزَمْهُ وَاحِدَةٌ مِنْهُمَا تو اس پر ان دونوں میں سے ایک بھی لازم نہیں ہے، لِأَنَّهُ لَا وَجْهَ إِلَى تَنْفِيذِهِمَا لِلْمُخَالَفَةِ اس لیے کیونکہ کوئی وجہ نہیں ہے کوئی صورت نہیں ہے ان دونوں کے اندر نکاح کو نافذ قرار دینے کی للمخالفۃ اس لیے کیونکہ وکیل نے موکل کی مخالفت کی ہے، موکل نے تو ایک نکاح کا کہا تھا اس نے دو اکٹھے کروا دیے، وَلَا إِلَى التَّنْفِيذِ فِي إِحْدَاهُمَا غَيْرِ عَيْنٍ اور نہ اس کی کوئی صورت ہے کہ نکاح کو نافذ قرار دے دیا جائے فی احداہما غیر عین ان دو عورتوں میں سے کسی ایک غیر معین کے اندر، اس میں بھی نکاح کو نافذ قرار دینے کی کوئی صورت نہیں لِلْجَهَالَةِ جہالت کی وجہ سے کہ پھر تو پتہ ہی نہیں چلے گا کس عورت کے ساتھ اس کا نکاح نافذ ہے اور کس کے ساتھ نافذ نہیں، وَلَا إِلَى التَّعْيِينِ اور تعین کی بھی کوئی صورت نہیں ہے کہ کسی ایک متعین عورت کے ساتھ نکاح کو نافذ قرار دے دیا جائے لِعَدَمِ الْأَوْلَوِيَّةِ کیونکہ یہاں اولویت نہیں ہے یعنی کوئی ایک بھی ان میں سے قابل ترجیح نہیں ہے، کیسے کسی ایک کو ہم ترجیح دے سکتے ہیں بغیر کسی وجہ کے بھئی، فَتَعَيَّنَتِ التَّفْرِيقُ تو تفریق متعین ہو گئی کہ جدائی کروائی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ وہ صورت ہے جب وہ اجازت نہیں دیتا، جب وہ اجازت نہیں دیتا تو دونوں کو بھی نافذ نہیں کر سکتے اور دونوں میں سے ایک متعین یا غیر متعین کو بھی نافذ نہیں کر سکتے، اگر وہ اجازت دے دے گا پھر تو ہو جائے گا چاہے دونوں سے اجازت دے چاہے کسی ایک سے۔ وَمَنْ أَمَرَهُ أَمِيرٌ بِأَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً فَزَوَّجَهُ أَمَةً لِغَيْرِهِ جَازَ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے دوسرے کو وکیل بنایا کہ کسی عورت سے میرا نکاح کروا دو، اس نے کسی غیر کی باندی سے اس کا نکاح کروا دیا۔ یاد رکھو متن کے اندر باندی ذکر ہوگا کہ باندی سے نکاح کروا دیا، تو باندی سے یہاں باندی ہی نہیں مراد بلکہ غیر کفو مراد ہے، یعنی ہم پلہ عورت کے ساتھ نکاح نہیں کروایا بلکہ غیر کفو عورت کے ساتھ اس آدمی کا نکاح کروا دیا۔ تو اس صورت میں کیا یہ نکاح منعقد ہوا یا منعقد نہیں ہوا؟ تو امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ نکاح منعقد ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ اس حکم دینے والے نے کہا تھا کسی عورت سے میرا نکاح کروا دو، اور باندی بھی تو عورت ہی ہے، آزاد عورت بھی عورت ہوتی ہے اور باندی بھی عورت، تو اس نے امرأۃ کا لفظ بولا، عورت کا لفظ بولا، اور عورت کا لفظ یا امرأۃ کا لفظ تو آزاد عورت پر بھی بولا جاتا ہے اور باندی پر بھی بولا جاتا ہے تو یہ لفظ مطلق ہے، امرأۃ کا لفظ کیا ہے؟ مطلق ہے اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ یہ کفو مراد ہے یا غیر کفو مراد ہے، تو جس میں بھی وہ نکاح کروا دے وکیل، ایک شخص نے دوسرے کو وکیل بنایا ہے تو وہ وکیل چاہے کفو میں نکاح کروائے چاہے غیر کفو میں نکاح منعقد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، اس طرح جب کسی کو کہا جاتا ہے تو وہاں کفو کا ارادہ کیا جاتا ہے کہ برابر کی عورت کے ساتھ میرا نکاح کرواؤ، برابر کے خاندان والی ہو، تو لہٰذا کفو کے اندر ہی نکاح وکیل کروا سکتا ہے، غیر کفو میں کروائے گا تو وہ نکاح منعقد نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَمَرَهُ أَمِيرٌ اور جس کو امیر نے حکم دیا، امیر یعنی حاکم حاکم، جس کو حاکم نے حکم دیا بِأَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً کہ وہ نکاح کروا دے اس کا کسی عورت کے ساتھ، یہ جو امرأۃ کا لفظ آیا نا سارے مسئلے کا دارومدار اس پر ہے، امیر نے کسی کو حکم دیا بِأَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً کہ اس کا نکاح کروائے کسی عورت سے۔ امام صاحب فرماتے ہیں امرأۃ کا لفظ باندی پر بھی بولا جاتا ہے یعنی کفو پر بھی بولا جاتا ہے اور غیر کفو پر بھی، تو وکیل نے موکل کی مخالفت نہیں کی، وکیل نے موکل کے کہنے پر عمل کیا ہے چاہے غیر کفو میں کروایا لیکن اس نے تو امرأۃ کا لفظ بولا تھا اور غیر کفو پر بھی امرأۃ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اور نیز وَمَنْ أَمَرَهُ أَمِيرٌ دیکھو متن کے اندر امیر آیا یعنی حاکم نے کسی آدمی کو حکم دیا پھر بھی نکاح نافذ ہو جائے گا، تو متن کے اندر امیر کہا کوئی آدمی نہیں کہا، کیونکہ جب امیر کا یہ نکاح غیر کفو میں نافذ ہو رہا ہے تو باقیوں کا بطریق اولیٰ نافذ ہوگا غیر کفو کے اندر۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ أَمَرَهُ أَمِيرٌ اور جس کو کسی حاکم نے حکم دیا بِأَنْ يُزَوِّجَهُ امْرَأَةً کہ وہ اس کا نکاح کروا دے کسی عورت سے فَزَوَّجَهُ أَمَةً لِغَيْرِهِ تو اس نے اس کا نکاح کروا دیا کسی دوسرے کی باندی سے، بھئی یہ لِغَيْرِهِ کی قید ضروری ہے، وجہ یہ کہ اگر یہ وکیل اپنی باندی سے نکاح کروائے گا پھر منعقد نہیں ہوگا نکاح، وجہ یہ کہ اپنی باندی سے نکاح کروا رہا ہے وکیل تو یہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے معلوم ہوا یہ اس نکاح سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے، دوسرے آدمی نے تو اس کو وکیل بنایا تھا کہ میرا کیا کرواؤ؟ نکاح کرواؤ یعنی میرے لیے یہ عقد کرواؤ، اور یہ خود اس عقد سے فائدہ اٹھانا چاہ رہا ہے، کس طرح فائدہ اٹھائے گا؟ کہ بھئی دیکھو امیر سے باندی کا نکاح ہو جائے گا تو امیر سے اس آدمی کا بھی تعلق بن جائے گا، یا امیر کی مثال چھوڑو کوئی اور آدمی ہے اس نے کہا تھا اور اس نے اپنی باندی سے اگر نکاح کروایا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اپنا فائدہ سوچ رہا ہے، اس لیے کیونکہ نکاح کے اندر مہر ضرور دینا پڑتا ہے تو اس باندی کو بھی مہر دینا پڑے گا، اگرچہ آزاد عورت کا مہر زیادہ ہوتا ہے اور باندی کا مہر کم لیکن بہرحال مہر تو دینا پڑے گا تو کچھ نہ کچھ مال اس وکیل کو مل جائے گا کیونکہ اس کی اپنی باندی ہے۔ وکیل جب اپنی باندی سے نکاح کروائے گا تو دلوں میں کیا بدگمانی آتی ہے؟ یہ مہر حاصل کرنے کے لیے نکاح کروا رہا ہے اپنی باندی کا کہ مجھے کچھ مال مل جائے، یا اس لیے یہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ باندی سے جو اولاد حاصل ہوگی وہ اسی شخص کے غلام یا باندیاں ہوں گے۔ یاد رکھو اولاد جو ہے نا غلامی اور آزادی میں ماں کے تابع ہوتی ہے، اگر ماں آزاد تو اولاد بھی آزاد، اور اگر ماں باندی ہے تو پھر اس سے جو اولاد حاصل ہوگی وہ بھی سب غلام اور باندیاں ہوں گے اور وہ اسی شخص کے غلام اور باندیاں ہوں گے جس کی یہ باندی تھی۔ تو یہ جو وکیل اگر اپنی باندی کا نکاح کروائے گا اس شخص سے تو اس باندی سے جو اولاد حاصل ہوگی وہ اسی وکیل کے غلام اور باندیاں بنیں گے، تو لہٰذا اگر اپنی باندی سے نکاح کروائے گا تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ اپنا فائدہ حاصل کرنا چاہ رہا ہے لہٰذا اس صورت میں تو نکاح منعقد نہیں ہوگا، لیکن جب غیر کی باندی سے نکاح کروایا ہے اب دلوں میں بدگمانی نہیں آتی لہٰذا یہ نکاح منعقد ہو جائے گا امام صاحب کے نزدیک۔ تو کہتے ہیں: فَزَوَّجَهُ أَمَةً لِغَيْرِهِ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تو اس وکیل نے اس امیر کا نکاح کروا دیا کسی دوسرے کی باندی سے تو یہ امام صاحب کے نزدیک جائز ہے، رُجُوعًا إِلَى إِطْلَاقِ اللَّفْظِ وَعَدَمِ التُّهْمَةِ رجوع کرتے ہوئے لفظ کے مطلق ہونے کی طرف اور تہمت کے نہ ہونے کی طرف۔ ایک تو یہ امرأۃ کا لفظ مطلق آیا ہے، اس آدمی نے کیا کہا؟ کسی عورت سے میرا نکاح کر دو، اور امرأۃ کا لفظ جیسے کفو والی عورت پر بولا جاتا ہے غیر کفو والی عورت یا باندی وغیرہ پر بھی بولا جاتا ہے، اور نیز غیر کی باندی سے نکاح کروایا ہے لہٰذا دلوں میں کوئی بدگمانی بھی نہیں آتی، تو لفظ کے مطلق ہونے کی طرف دیکھتے ہوئے اور تہمت نہیں ہے لہٰذا اس اعتبار سے امام صاحب فرماتے ہیں یہ نکاح جائز ہے اور منعقد ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے کہ جَازَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ رُجُوعًا إِلَى إِطْلَاقِ اللَّفْظِ وَعَدَمِ التُّهْمَةِ، یہ امام صاحب کے نزدیک جائز ہے لفظ کے مطلق ہونے کی طرف رجوع کرتے ہوئے اور اسی طرح عدم تہمت کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ اس میں کوئی تہمت نہیں ہے بھئی۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ إِلَّا أَنْ يُزَوِّجَهُ كُفْئًا اور صاحبین رحمہما اللہ فرماتے ہیں جائز نہیں ہے یہ نکاح مگر یہ کہ اس کا نکاح کروائے کفو سے، ہم پلہ سے۔ کفو میں، برابر لوگوں میں نکاح کروائے گا تو نکاح ہوگا۔ دلیل ان کی: لِأَنَّ الْمُطْلَقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمُتَعَارَفِ اس لیے کیونکہ جو مطلق ہوتا ہے وہ پھر جاتا ہے، پلٹ جاتا ہے الی المتعارف متعارف کی طرف۔ متعارف کا معنی ہے جو رائج ہے اور شائع ہے، لوگوں کے اندر رائج ہے اور شائع ہے بھئی، اور وہ کیا ہے؟ وَهُوَ التَّزَوُّجُ بِالأَكْفَاءِ اور وہ ہم پلہ کے ساتھ نکاح کرنا ہے بھئی۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ لوگ عموماً ہم پلہ سے ہی نکاح کرتے ہیں، غیر کفو میں نکاح نہیں کرتے، لہٰذا اگرچہ امرأۃ کا لفظ مطلق تھا لیکن لوگوں کے اندر کیا رائج ہے کہ وہ کس کے ساتھ نکاح کرتے ہیں؟ ہم پلہ عورتوں سے نکاح کرتے ہیں لہٰذا اس کو بھی اسی متعارف پر محمول کیا جائے گا اور متعارف تو کس میں نکاح ہے؟ ہم پلہ اور کفو کے اندر، لہٰذا کفو کے ساتھ ہی نکاح مراد ہے، کفو میں نکاح کروائے گا تو ہوگا، غیر کفو میں کروائے گا تو نکاح نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں دیکھیے: لِأَنَّ الْمُطْلَقَ يَنْصَرِفُ إِلَى الْمُتَعَارَفِ اس لیے کیونکہ مطلق جو ہے وہ پلٹ جاتا ہے متعارف یعنی رائج اور شائع کی طرف، وَهُوَ التَّزَوُّجُ بِالأَكْفَاءِ اور وہ ہم پلہ کے ساتھ نکاح ہے، قُلْنَا اب جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ امام صاحب کی طرف سے: قُلْنَا ہم جواب دیتے ہیں: الْعُرْفُ مُشْتَرَكٌ، تو جواب دیتے ہیں العرف مشترک کہ عرف تو مشترک ہے۔ آپ نے کہا کہ عرف کیا ہے؟ لوگوں میں متعارف کیا ہے؟ لوگوں میں شائع اور رائج کیا ہے کہ وہ کفو میں نکاح کرتے ہیں، تو صاحب ہدایہ جواب دے رہے ہیں امام صاحب کی طرف سے: نہیں، لوگوں میں دونوں رائج ہیں، لوگ کفو میں بھی نکاح کرتے ہیں اور غیر کفو میں بھی نکاح کرتے ہیں، تو قُلْنَا ہم کہتے ہیں الْعُرْفُ مُشْتَرَكٌ عرف تو مشترک ہے، عرف کہتے ہیں عام لوگوں کی عادت کو، کہ عام لوگوں کی عادت تو مشترک ہے یعنی وہ کفو اور غیر کفو دونوں جگہ نکاح کرتے ہیں، أَوْ هُوَ عُرْفٌ عَمَلِيٌّ یا یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں یا یہ عرف عملی ہے، فَلَا يَصْلُحُ مُقَيِّدًا لہٰذا یہ اس کے لیے مقید اور مخصص نہیں بن سکتا۔ یاد رکھو بھئی یاد رکھو، عرف کہتے ہیں عام لوگوں کی عادت اور عام لوگوں کا طریقہ، اور یہاں بات چل رہی ہے تخصیص کی، امرأۃ کا لفظ ذکر کیا کہ کسی امرأۃ سے میرا نکاح کروا دو، امام صاحب فرماتے ہیں چاہے کفو میں کروا دے چاہے غیر کفو میں کروا دے نکاح منعقد ہو جائے گا، صاحبین فرماتے ہیں نہیں یہاں امرأۃ سے مراد وہ امرأۃ ہے جو اس کا کفو ہو، اس کے برابر کی ہو، ہم پلہ ہو، تو معلوم ہوا وہ امرأۃ کے لفظ کی تخصیص کر رہے ہیں کس کے ساتھ؟ اس امرأۃ کے ساتھ جو کفو ہے۔ ویسے تو امرأۃ کا لفظ مطلق ہے تو یہاں تخصیص کی بات چل رہی ہے، تو یاد رکھو تخصیص کے سلسلے میں عرف دو قسم پر ہے: ایک عرف لفظی ہے اور ایک عرف عملی ہے۔ عرف لفظی یہ ہے کہ عرف یعنی عام لوگ جو ہیں کسی لفظ کو خاص کر دیں بعض افراد کے ساتھ، ایک لفظ عام ہے اس کے بہت سارے افراد ہیں لیکن عام لوگ اس لفظ کو اسی کے افراد میں سے بعض افراد کے ساتھ خاص کر دیں، جیسے اس کی مثال ہے مثلاً دَابَّةٌ، دابۃ عربی زبان میں زمین پر چلنے والے ہر جاندار کو کہتے ہیں، لیکن عربوں کے ہاں اب یہ رائج ہو گیا، کثیر الاستعمال ہو گیا ان حیوانات کے لیے جن پر سواری کی جاتی ہے یا بوجھ لادا جاتا ہے یعنی گھوڑا، گدھا، خچر وغیرہ۔ تو اب دیکھو دابہ کا لفظ تو عام تھا ہر جاندار کے لیے تھا لیکن پھر اس کو عربوں نے خاص کر دیا بعض جانداروں کے ساتھ یعنی جو بوجھ اٹھانے والے ہیں جن پر سواری کی جاتی ہے، تو اس کو کہتے ہیں تخصیص، کہ لفظ تو عام ہو لیکن عام لوگ اس کو استعمال بعض افراد کے ساتھ کرنے لگیں، تو اب جب بھی دابہ کا لفظ بولا جاتا ہے اس سے مراد سواری وغیرہ کا جانور ہوتا ہے بھئی۔ اسی طرح دوسری مثال لے لو مَالٌ، مال کا لفظ ہر وہ چیز جو مال و دولت ہے جس کی کچھ مالیت ہے اس پر مال کا لفظ بولا جاتا ہے چاہے وہ سامان تجارت ہے، درہم ہیں، دینار ہیں وغیرہ، تو یہ مال کا لفظ عام تھا لیکن زمانہ جاہلیت کے اندر یہ لفظ خاص کر دیا تھا اونٹوں کے ساتھ عربوں نے، یعنی اونٹوں پر مال کا لفظ بولتے تھے کیونکہ یہ ان کی سب سے بڑی دولت تھی بھئی، تو یہ بھی مال کے افراد میں سے ایک فرد تھا تو اسی کے ساتھ انہوں نے اس لفظ کو خاص کر دیا، تو دیکھو مال کا لفظ تو عام تھا ہر چیز جس کی مالیت ہے وہ اس کے اندر داخل ہو رہی تھی، اونٹ بھی اس کے اندر داخل ہو رہے تھے لیکن عربوں نے اس کو خاص کر دیا ان اونٹوں کے ساتھ یعنی بعض افراد کے ساتھ، تو یہ ہے عرف لفظی کی مثال۔ دابہ بھی کس کی مثال ہے؟ عرف لفظی کی کہ دابہ کا لفظ اب وہ خاص جو ہے گھوڑے گدھے اور خچر پر بولتے ہیں، اور مال کا لفظ بھی زمانہ جاہلیت میں یہ بھی عرف لفظی کی مثال ہے کہ وہ اس کو صرف اونٹوں پر بولتے تھے باقی اموال پر نہیں۔ اور ایک ہوتا ہے عرف عملی، عرف عملی یہ ہے کہ لوگ کسی چیز کی تخصیص کر دیں اپنے عمل کے ذریعے، کیا کریں؟ عمل، وہاں لفظ نہیں ہوتا، مثلاً دیکھو نئے کپڑے پہننا، نئے کپڑے سارا سال پہنے جا سکتے ہیں لیکن عام لوگوں کی عادت کیا ہے کہ وہ نئے کپڑے عید کے موقع پر پہنتے ہیں، تو دیکھو یہاں کوئی لفظ وغیرہ نہیں ہے ہاں وہ نئے کپڑے پہننے کا جو عمل ہے اس کی لوگوں نے تخصیص کر دی ہے عید کے ساتھ۔ بھئی آج کل تو اللہ کی نعمتیں اتنی زیادہ ہو گئیں اور کپڑے عام ہو گئے لوگ سارا سال نئے کپڑے پہنتے رہتے ہیں لیکن قدیم زمانے میں تو کپڑے بڑی مشکل سے ملتے تھے کپڑے ہاتھ سے بنے جاتے تھے تو لوگ صرف عید ہی کے موقع پر نئے کپڑے پہنتے تھے، تو اب دیکھو نئے کپڑے پہننا وہ تو عام ہے کسی بھی وقت پہنے جا سکتے ہیں لیکن عرف عملی کیا تھا؟ لوگوں نے اس کو خاص کر دیا تھا عید کے ساتھ کہ عید کے موقع پر ہی عموماً نئے کپڑے پہنتے تھے، تو یہ کیا ہے؟ عرف عملی کی مثال ہے، یہاں کوئی لفظ وغیرہ نہیں بس لوگوں کا عمل ہے کہ انہوں نے تخصیص کر دی ہے نئے کپڑوں کی عید کے ساتھ، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو عرف کتنی قسم پر ہوا؟ دو: ایک عرف لفظی ہے جس میں عرف والے لفظ کو استعمال کرتے ہیں کسی خاص معنی کے لیے، اور ایک عرف عملی ہے وہاں لفظ نہیں ہوتا بس لوگوں کا عمل ہوتا ہے ایک۔ تو اب جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ، صاحبین نے کیا کہا تھا کہ ایک شخص نے دوسرے کو وکیل بنایا ہے میرا نکاح کروا دو تو یہاں امرأۃ کا لفظ اگرچہ مطلق ہے لیکن مطلق کو متعارف پر محمول کیا جاتا ہے اور لوگ عموماً ہم پلہ عورت کے ساتھ نکاح کرتے ہیں، تو اس کا پہلا جواب دیا کہ عرف مشترک ہے کفو میں بھی نکاح کیا جاتا ہے اور غیر کفو میں بھی، یہ دوسرا جواب دے رہے ہیں کہ آپ دلیل میں عرف عملی کو پیش کر رہے ہیں، بات چل رہی ہے لفظ امرأۃ کی تو آپ کو دلیل میں عرف لفظی کو پیش کرنا چاہیے کہ دیکھو امرأۃ کا لفظ لوگ کفو میں استعمال کرتے ہیں ایسی مثالیں دینی چاہیے تھیں لیکن آپ نے لوگوں کے عمل کو دلیل کے طور پر پیش کیا، تو جس چیز کی بحث ہے دلیل میں بھی اسی کو پیش کرنا چاہیے، لفظ کی بحث ہے تو دلیل بھی لفظ ہی ہونا چاہیے، آپ دلیل میں عمل کو پیش کر رہے ہیں تو لہٰذا یہ عرف عملی اس لفظ امرأۃ کے لیے مقید اور مخصص نہیں بن سکتا، اس کے ذریعے اس میں تخصیص پیدا نہیں ہو سکتی۔ بھئی دیکھو نا امرأۃ کا لفظ مطلق ہے اور آپ صاحبین کیا فرما رہے ہیں کہ یہاں امرأۃ سے کیا مراد ہے؟ ایسی امرأۃ مراد ہے جو کفو میں سے ہو، معلوم ہوا وہ اس امرأۃ کی تخصیص کر رہے ہیں، اس کو مقید کر رہے ہیں کس کے ساتھ؟ کفو کے ساتھ، اور دلیل میں کیا پیش کر رہے ہیں؟ عرف عملی، تو عرف عملی کے ذریعے آپ اس مطلق کو مقید نہیں کر سکتے، یہ معنی ہے: أَوْ هُوَ عُرْفٌ عَمَلِيٌّ فَلَا يَصْلُحُ مُقَيِّدًا یا یہ عرف عملی ہے جو آپ نے ذکر کیا کہ لوگ کفو میں نکاح کرتے ہیں تو یہ عرف عملی ہے لہٰذا یہ اس لفظ امرأۃ کے لیے مقید اور مخصص نہیں بن سکتا، یہ اس میں تخصیص پیدا نہیں کر سکتا کہ آپ کہیں کہ یہ امرأۃ کا لفظ خاص ہے کفو کے ساتھ۔ وَذَكَرَ فِي الْوَكَالَةِ: أَنَّ اعْتِبَارَ الْكَفَاءَةِ فِي هَذَا اسْتِحْسَانٌ عِنْدَهُمَا اور امام محمد رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا ہے فی الوکالۃ کتاب الوکالہ میں، اس سے مراد کتاب الوکالہ ہے جو مبسوط میں ذکر فرمائی ہے امام محمد رحمہ اللہ نے۔ مبسوط پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب ہے بھئی، اس کے اندر کتاب الوکالہ کے اندر کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا ہے، تو کہتے ہیں: وَذَكَرَ فِي الْوَكَالَةِ اور امام محمد رحمہ اللہ نے کتاب الوکالہ جو ہے مبسوط کے اندر اس میں ذکر کیا ہے: أَنَّ اعْتِبَارَ الْكَفَاءَةِ فِي هَذَا اسْتِحْسَانٌ عِنْدَهُمَا کہ کفاءت کا اعتبار کرنا اس صورت میں استحسان ہے صاحبین کے نزدیک۔ بھئی دیکھیے، دیکھیے اس سے پہلے کفاءت کی فصل چل رہی تھی اور آپ نے پڑھا تھا کہ کفاءت مردوں میں معتبر ہے عورتوں میں کفاءت معتبر نہیں، یعنی عورت کا نکاح کروایا جائے تو کفو میں کروایا جائے کیونکہ عورت ادنیٰ شخص کی حاکمیت کو پسند نہیں کرتی، تو مرد میں کفاءت معتبر ہے عورتوں میں کفاءت معتبر نہیں، لیکن اس مسئلے میں عورتوں کے اندر کفاءت کا اعتبار کیا جا رہا ہے، صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ وکیل کو اس شخص کا نکاح ایسی عورت سے کروانا چاہیے جو اس مرد کی کفو ہو اس کے ہم پلہ ہو بھئی، تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کی کتاب الوکالہ کے اندر یہ ذکر فرمایا ہے کہ جو صاحبین نے اس مسئلے کے اندر عورت کی کفاءت کا اعتبار کیا ہے یہ استحسان ہے۔ اس مسئلے میں ویسے تو عورت میں کفاءت کا اعتبار نہیں لیکن اس مسئلے کے اندر جو عورت کی کفاءت کا اعتبار کیا ہے صاحبین نے وہ استحسان ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا استحسان کسے کہتے ہیں: استحسان وہ متفق علیہ دلیل ہے جس کے مقابلے میں قیاس آ جائے، مثلاً آیت ہے آیت کے مقابلے میں قیاس آ جائے، یا حدیث ہے اور اس کے مقابلے میں قیاس آ جائے، یا اجماع ہے اور اس کے مقابلے میں قیاس آ جائے، اب ظاہر سی بات ہے ترجیح تو آیت کو ہوگی، حدیث کو ہوگی اور اجماع کو ہوگی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ لیکن ان کو استحسان کہیں گے، یہ جو آیت ہے یا حدیث ہے یا اجماع جس کے مقابلے میں کیا آیا؟ قیاس، تو اس آیت کو ترجیح ہوگی لیکن اس کو استحسان کہیں گے، اسی طرح اس حدیث کو ترجیح ہوگی لیکن اس حدیث کو اب کیا کہیں گے؟ استحسان، یا اسی طرح اجماع کے مقابلے میں قیاس آئے تو اجماع کو ترجیح ہوتی ہے کیونکہ اجماع تو قطعی دلیل ہے لیکن اس اجماع کو اب استحسان کہیں گے۔ لیکن زیادہ تر میں نے بتایا تھا کہ استحسان کا اطلاق قیاس خفی پر ہوتا ہے، اور قیاس، قیاس یاد رکھو قیاس عقلی دلیل کو کہتے ہیں، اور یہ عقلی دلیل دو قسم پر ہو سکتی ہے: وہ کبھی قیاس جلی ہوگا اور کبھی قیاس خفی۔ قیاس جلی، جلی کا معنی ہے ظاہر، یعنی عقلی دلیل ظاہر ہے عقل فوراً وہاں تک پہنچ جاتی ہے تو اس کو قیاس جلی کہتے ہیں، اور بعض اوقات بات گہری ہوتی ہے خوب غور و فکر کرنا پڑتا ہے پھر ذہن وہاں تک پہنچتا ہے اس کو قیاس خفی کہتے ہیں، تو استحسان کا زیادہ تر اطلاق قیاس خفی پر ہوتا ہے، لیکن قیاس خفی کو بھی استحسان تب کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاس جلی آ رہا ہو، اگر قیاس خفی کے مقابلے میں قیاس جلی نہ ہو پھر جتنا مرضی گہرا قیاس ہو اس کو قیاس ہی کہیں گے استحسان نہیں کہیں گے۔ اور میں نے یہ بھی بتایا تھا کہ فتویٰ ہمیشہ استحسان پر ہوتا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے اسی لیے اس کو استحسان کہتے ہیں، مستحسن کا معنی پسندیدہ، تو استحسان کو استحسان اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ پسندیدہ ہوتا ہے اس میں لوگوں کے لیے راحت اور آسانی ہوتی ہے، اور علماء فرماتے ہیں کہ فتویٰ ہمیشہ استحسان پر ہوتا ہے، تو صرف بیس بائیس مسائل ایسے ہیں جہاں قیاس پر فتویٰ ہے ورنہ ہر جگہ استحسان پر فتویٰ ہوتا ہے کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے یہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ اب دیکھو ویسے تو عورتوں کے اندر کفاءت معتبر نہیں لیکن صاحبین یہاں پر جو کفاءت کا اعتبار کر رہے ہیں یہ استحسان ہے، یہ کیا ہے؟ یعنی یہ قیاس خفی ہے بھئی، اور قیاس خفی کو بھی استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں کیا موجود ہو؟ قیاس جلی، اور یہاں قیاس جلی موجود ہے وہی جو امام صاحب کی دلیل ہے، امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ امرأۃ کا لفظ مطلق ہے لہٰذا چاہے کفو میں نکاح کروائے چاہے غیر کفو میں یہ نکاح منعقد ہونا چاہیے بھئی، تو قیاس تو تقاضا کر رہا ہے دونوں جگہ نکاح ہونا چاہیے، لیکن استحسان، قیاس خفی بتلاتا ہے کہ نہیں یہاں بھی عورت کے اندر کفاءت کا اعتبار کرنا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَذَكَرَ فِي الْوَكَالَةِ: أَنَّ اعْتِبَارَ الْكَفَاءَةِ فِي هَذَا اسْتِحْسَانٌ عِنْدَهُمَا اور امام محمد رحمہ اللہ نے مبسوط کی کتاب الوکالہ میں ذکر فرمایا ہے کہ اس مسئلے میں جو عورتوں کی کفاءت کا اعتبار کیا گیا ہے یہ صاحبین کے نزدیک استحسان ہے، اب اس کی وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں قیاس خفی کیا ہے گہری بات کیا ہے؟ لِأَنَّ كُلَّ أَحَدٍ لَا يَعْجِزُ عَنِ التَّزَوُّجِ بِمُطْلَقِ الزَّوْجِ، پہلے اس کو سمجھ لو، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ کیونکہ مطلقاً کہیں پر بھی نکاح کرنا اس سے تو کوئی عاجز نہیں ہوتا، ہاں کفو کے اندر نکاح کرنا ذرا مشکل ہوتا ہے، غیر کفو میں نکاح کرنا کوئی مشکل نہیں، ایک شخص نکاح کرنا چاہتا ہے تو غیر کفو کے اندر تو اس کو فوراً ہی رشتہ مل جائے گا کوئی بڑی عمر والی مل جائے گی، کوئی بوڑھی مل جائے گی، کوئی ادنیٰ چھوٹے خاندان والی مل جائے گی، تو وہ مشکل نہیں ہوتا لیکن کفو کے اندر نکاح کیا ہوتا ہے؟ مشکل ہوتا ہے، تو اس کے اندر لوگ دوسروں سے مدد طلب کرتے ہیں، تو یہ جو شخص یہ جو امیر دوسرے آدمی کو کہہ رہا ہے میرا نکاح کروا دو تو یہ کفو کے اندر نکاح کرنا چاہتا ہے اسی لیے مدد طلب کر رہا ہے، اگر غیر کفو میں امیر نکاح کرنا چاہتا وہ تو اس کے لیے کوئی مشکل ہی نہیں تھا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو لہٰذا استحساناً یہاں کفاءت کا بھی اعتبار کیا جائے گا کیونکہ غیر کفو کے اندر نکاح کسی کے لیے مشکل نہیں ہوتا، کفو کے اندر صرف نکاح مشکل ہوتا ہے اور اسی میں دوسروں سے مدد طلب کی جاتی ہے، تو یہاں پر جب کسی کو وکیل بنا رہا ہے اور مدد طلب کر رہا ہے معلوم ہوا یہ کفو میں نکاح کرنا چاہتا ہے لہٰذا یہاں کفاءت معتبر ہوگی عورتوں کے اندر بھی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ كُلَّ أَحَدٍ لَا يَعْجِزُ عَنِ التَّزَوُّجِ بِمُطْلَقِ الزَّوْجِ اس لیے کیونکہ ہر ایک وہ عاجز نہیں ہوتا عن التزوج کہ وہ نکاح کر لے بمطلق الزوج مطلق زوج سے، یاد رکھو زوج کا لفظ خاوند اور بیوی دونوں پر بولا جاتا ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کا زوج ہیں ایک دوسرے کا جوڑا ہیں، بیوی کے لیے جوڑا کون ہے؟ خاوند، اور خاوند کے لیے جوڑا کیا ہے؟ بیوی، تو زوج کا معنی جوڑا یہ میاں اور بیوی دونوں پر بولا جاتا ہے۔ تو دیکھو عورت بھی اگر غیر کفو میں نکاح کرنا چاہے فوراً اس کو رشتہ مل جائے گا، اسی طرح مرد بھی غیر کفو میں نکاح کرنا چاہے تو وہ اس کے لیے کوئی مشکل نہیں ہے، ہاں مشکل ہوتی ہے تو کس کے اندر؟ کفو کے اندر، یہ معنی ہے: لِأَنَّ كُلَّ أَحَدٍ لَا يَعْجِزُ عَنِ التَّزَوُّجِ بِمُطْلَقِ الزَّوْجِ اس لیے کیونکہ ہر ایک وہ عاجز نہیں ہوتا کہ مطلق زوج سے نکاح کر لے یعنی مطلق زوج جو چاہے کفو ہو یا غیر کفو، فَكَانَتِ الِاسْتِعَانَةُ فِي التَّزَوُّجِ بِالْكُفْءِ، استعانت کا معنی ہے مدد طلب کرنا، فکانت الاستعانۃ تو یہ مدد طلب کرنا ہوگا فی التزوج بالکفء کفو میں نکاح میں، کفو کے اندر نکاح میں یہ مدد طلب کرنا ہوگا یہ جو وکیل بنایا ہے، وَاللَّهُ أَعْلَمُ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بَابُ الْمَهْرِ جی اب مہر کا بیان شروع ہوا بھئی۔ یاد رکھو یاد رکھو نکاح کے اندر مہر ضرور آئے گا، کوئی بھی شخص کسی عورت سے نکاح کرنا چاہے تو مہر ضرور آئے گا، بغیر مہر کے نکاح نہیں ہو سکتا بھئی۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ محرمات کا ذکر فرماتے ہیں وہ عورتیں جن سے نکاح حرام ہے اور اس کے بعد آگے اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ یعنی ان عورتوں کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، پہلے محرمات کا ذکر جن سے نکاح کی کوئی صورت نہیں اور اس کے بعد آگے اللہ فرما رہے ہیں وَأُحِلَّ لَكُمْ مَا وَرَاءَ ذَلِكُمْ ان کے علاوہ اور عورتیں تمہارے لیے حلال ہیں، أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ کہ ان کو تم تلاش کرو اپنے مالوں کے ذریعے، معلوم ہوا مہر دینا پڑے گا، مال خرچ کرنا پڑے گا ویسے نکاح نہیں کر سکتے۔ اسی طرح آگے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ مِنْكُمْ طَوْلًا أَنْ يَنْكِحَ الْمُحْصَنَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ فَمِنْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ مِنْ فَتَيَاتِكُمُ الْمُؤْمِنَاتِ، اور جو شخص تم میں سے آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا تو پھر وہ کس سے نکاح کر لے؟ باندیوں سے نکاح کر لے، جو آزاد عورتوں سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا یعنی اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو وہ باندی سے نکاح کر لے، کیونکہ آزاد عورت کا مہر زیادہ ہوتا ہے اور باندی کا مہر کم، تو جو شخص آزاد عورت سے نکاح کی قدرت نہیں رکھتا یعنی اس کے پاس اتنا مال نہیں ہے تو وہ باندی سے نکاح کر لے معلوم ہوا مال دینا پڑے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ مہر دینا پڑے گا بھئی۔ تو مہر جو ہے وہ نکاح میں ضرور آئے گا۔ اب سوال پیدا ہوتا ہے کیا نکاح کے اندر بھی مہر کا ذکر کرنا ضروری ہے؟ مہر آئے گا تو ضرور، آپ ذکر کریں یا نہ کریں، لیکن کیا بغیر مہر کو ذکر کیے نکاح ہو جائے گا یا نہیں؟ تو یاد رکھو مہر کو ذکر نہ کیا جائے پھر بھی نکاح ہو جائے گا، البتہ مہر خود بخود وہاں آ جائے گا اور پھر وہ مہر مثل آئے گا، یعنی اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے۔ یعنی جس عورت سے نکاح کیا جا رہا ہے اسی کے خاندان میں اس جیسی عورت کا جو مہر ہوتا ہے وہ مہر آ جائے گا، تو کہتے ہیں: قَالَ: صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَيَصِحُّ النِّكَاحُ وَإِنْ لَمْ يُسَمَّ فِيهِ مَهْرًا اور نکاح صحیح ہے اگرچہ اس کے اندر نکاح کرنے والا مہر کو ذکر نہ کرے، لِأَنَّ النِّكَاحَ عَقْدُ انْضِمَامٍ وَازْدِوَاجٍ لُغَةً فَيَتِمُّ بِالزَّوْجَيْنِ، جی صاحب ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں بھئی۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ نکاح جو ہے اس کے مفہوم کے اندر مال کا معنی ہی نہیں ہے، لہٰذا وہاں مال کو اور مہر کو ذکر کرنا ضروری نہیں ہے، نکاح تو عقد انضمام ہے، انضمام کا معنی مل جانا، جڑ جانا، اسی طرح یہ عقد ازدواج ہے، ازدواج کا معنی بھی جوڑا ہو جانا یا یوں کہو شادی ہو جانا۔ تو یہ ملنے والے اور شادی والے عقد کا نام ہے، ملنے والے اور شادی والے یا یوں کہو جوڑا ہونے والے عقد کا نام ہے، اس کے مفہوم میں مال داخل نہیں، اس کا کیا معنی ہے؟ مل جانا اور جوڑا ہو جانا، اور اس کے لیے زوجین کافی ہیں بھئی، ایک مرد اور ایک عورت، جب یہ عقد کیا جائے گا ان میں انضمام آ جائے گا یہ جڑ گئے، مل گئے یعنی میاں بیوی بن گئے، یا اسی طرح یہ عقد ازدواج ہے جوڑا ہونا، اور جوڑا بننے کے لیے کیا چاہیے؟ ایک مرد اور ایک عورت چاہیے جو آپس میں جوڑا بن جائیں میاں بیوی بن جائیں، تو لہٰذا لہٰذا یہ عقد نکاح یہ ملنے اور جوڑا ہونے والا عقد ہے تو اس میں صرف زوجین کی ضرورت ہے کیونکہ زوجین ہوں گے تو جوڑا بنے گا، زوجین ہوں گے تو دونوں آپس میں ملیں گے اور میاں بیوی بنیں گے، لہٰذا مال وغیرہ اس کے مفہوم میں اور اس کے معنی میں داخل ہی نہیں ہے بھئی، تو مال کا ذکر بھی ضروری نہیں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النِّكَاحَ عَقْدُ انْضِمَامٍ وَازْدِوَاجٍ لُغَةً اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے انضمام یعنی ملنے کا عقد ہے وَازْدِوَاجٍ اور جوڑ کا عقد ہے، نکاح جو ہے، پھر ترجمہ سنیے: لِأَنَّ النِّكَاحَ عَقْدُ انْضِمَامٍ وَازْدِوَاجٍ لُغَةً اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے ملنے اور جوڑا ہونے کا عقد ہے لغةً عربی زبان کے اعتبار سے، عربی زبان کے اعتبار سے نکاح صرف اس عقد کا نام ہے جس کے لیے صرف زوجین چاہیے جن کو جوڑا بنایا جا رہا ہے، فَيَتِمُّ بِالزَّوْجَيْنِ لہٰذا یہ عقد تام ہو جائے گا زوجین یعنی میاں بیوی کے ذریعے، ان کے علاوہ کسی مال وغیرہ کی یہاں حاجت نہیں۔ ثُمَّ الْمَهْرُ وَاجِبٌ شَرْعًا پھر یہ جو مہر ہے یہ شرعاً واجب ہے۔ بھئی نکاح کے اپنے مفہوم میں مال کا کوئی معنی نہیں ہاں لیکن شریعت نے مہر کو واجب کیا ہے، شرعاً مہر وہاں ضرور آئے گا کیونکہ ابھی گزر گیا: أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ کہ اور عورتوں میں کیا کرنا پڑے گا؟ مال خرچ کرنا پڑے گا یعنی مہر دینا پڑے گا، تو شرعاً یہ واجب ہے۔ یا یوں کہو یا یوں کہو کہ یہ جو مہر ہے یہ نکاح کا حکم ہے، مہر نکاح کا حکم ہے، اور حکم ہمیشہ عقد کے بعد آیا کرتا ہے، جیسے آپ بیع و شراء کرتے ہیں جیسے ہی آپ ایجاب اور قبول کریں گے تو مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا، تو یہ مشتری مبیع کا مالک بنتا ہے یہ بیع کا حکم ہے، تو بیع پہلے پائی جائے گی اور ساتھ ہی اگلے لمحے کے اندر وہ مشتری مبیع کا مالک بن جائے گا، تو حکم ہمیشہ عقد کے بعد آیا کرتا ہے، پہلے عقد بیع ہوگا اور پھر ساتھ ہی مشتری کیا بن جائے گا؟ مالک بن جائے گا۔ تو یہاں پر بھی یہ جو مہر ہے یہ عقد نکاح کا حکم ہے، عقد نکاح جیسے ہی ہوگا خود بخود کیا آ جائے گا وہاں؟ مہر آ جائے گا، اس کو ذکر کرنا کوئی ضروری نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی کہ حکم ہمیشہ عقد کے بعد آیا کرتا ہے۔ کہتے ہیں: ثُمَّ الْمَهْرُ وَاجِبٌ شَرْعًا إِبَانَةً لِشَرَفِ الْمَحَلِّ پھر مہر جو ہے وہ شرعاً واجب ہے اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے۔ اب وجہ بھی ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی شرعاً کیوں واجب ہے؟ شریعت نے مہر کیوں واجب کیا؟ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: إِبَانَةً، ابانت کا معنی ہے اظہار اظہار یعنی ظاہر کرنا، إِبَانَةً لِشَرَفِ الْمَحَلِّ شرف کا معنی معزز ہونا، محل یعنی جگہ اور مراد بضعہ ہے یعنی عورت کی شرمگاہ۔ شریعت نے مہر کیوں واجب کیا؟ إِبَانَةً لِشَرَفِ الْمَحَلِّ وہ جو محل ہے یعنی وہ جو بضعہ ہے اس کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے۔ بھئی وجہ یہ کہ انسان جو ہے انسان اشرف المخلوقات ہے انسان معزز اور مکرم ہے تو ہر انسانی جز بھی کیا ہے؟ معزز ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو بضعہ یہ بھی ایک عورت کا ایک عضو ہے لہٰذا یہ بھی معزز ہے، تو اس کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے شریعت نے مہر واجب کیا ہے، شریعت بتلانا چاہتی ہے کہ یہ محل کوئی حقیر چیز نہیں ہے کہ بغیر مال کے ہی آپ کو حاصل ہو جائے اور آپ کے لیے حلال ہو جائے نہیں، بلکہ یہ محل معزز اور محترم ہے یہاں تمہیں مال خرچ کرنا پڑے گا پھر ہی یہ تمہارے لیے حلال ہوگا ویسے یہ تمہارے لیے حلال نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْمَهْرُ وَاجِبٌ شَرْعًا إِبَانَةً لِشَرَفِ الْمَحَلِّ فَلَا يُحْتَاجُ إِلَى ذِكْرِهِ لِصِحَّةِ النِّكَاحِ، پھر مہر جو ہے وہ شرعاً واجب ہے اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے فَلَا يُحْتَاجُ إِلَى ذِكْرِهِ لِصِحَّةِ النِّكَاحِ لہٰذا حاجت نہیں ہے مہر کے ذکر کرنے کی نکاح کے صحیح ہونے کے لیے، یہ شرعاً واجب ہے خود نکاح کے مفہوم میں مہر داخل نہیں بھئی۔ وَكَذَا إِذَا تَزَوَّجَهَا بِشَرْطِ أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا دوسری صورت، پہلی صورت تو بیان کر دی کہ مہر آئے گا ضرور آپ بے شک ذکر نہ کریں یہ شرعاً واجب ہے۔ بھئی اگر کوئی شخص مہر کی باقاعدہ نفی کر دے، ایک عورت سے نکاح کر رہا ہے اور کہتا ہے کہ میں مہر نہیں دوں گا تمہیں، باقاعدہ اس نے نفی کر دی مہر کی تو کیا اس صورت میں مہر آئے گا یا نہیں؟ تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے بھئی ہم نے آپ کو بتلا دیا یہ مہر یہ شریعت نے واجب کیا ہے، کسی کو یہ حق نہیں ہے کہ حق شرع کو ساقط کرے یا ختم کرے، تو بے شک وہ نفی کر دے اس کے نفی کرنے سے شریعت کا حق ساقط نہیں ہوگا وہاں مہر آ جائے گا بھئی خود بخود۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا تَزَوَّجَهَا اور اسی طرح اگر اس عورت سے نکاح کیا بِشَرْطِ أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا اس شرط پر کہ اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہوگا یعنی اس صورت میں بھی یہی مسئلہ ہے مہر ضرور آئے گا، لِمَا بَيَّنَّا اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ یہ شریعت نے واجب کیا ہے۔ وَفِيهِ خِلَافُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى اور اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو نکاح ہے یہ عقد معاوضہ ہے، یہ نکاح کیا ہے؟ عقد معاوضہ ہے یعنی یہ بیع کی طرح ہے، اور اس کے اندر جو مہر ہوتا ہے وہ ثمن کی طرح ہے، ثمن کی طرح ہے، اور جیسے کوئی شخص بیع کرے اور اس میں شرط لگا دے کہ میں ثمن نہیں دوں گا تو پھر بیع ہوتی ہی نہیں، بیع کے اندر تو ثمن ضروری ہے، تو جیسے کوئی شخص بیع کے اندر شرط لگا دے میں ثمن نہیں دوں گا تو وہ بیع ہوتی ہی نہیں، اسی طرح اگر خاوند نکاح کرتا ہے اور کہتا ہے میں مہر نہیں دوں گا تو یہ نکاح ہی نہیں ہوگا۔ توجہ ہے؟ تو یہ نکاح ہی نہیں ہوگا اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب مہر کو ذکر نہ کیا جائے تب بھی نکاح نہیں ہونا چاہیے، بھئی دیکھیے نا ہم نے بیان کر دیا ہمارے نزدیک مہر کو ذکر نہ کرو پھر بھی نکاح ہو جائے گا اور خود بخود مہر آ جائے گا وہاں مہر مثل، اسی طرح اگر کوئی شخص باقاعدہ مہر کی نفی کر دے باقاعدہ نفی کر دے میں مہر دوں گا ہی نہیں پھر بھی نکاح ہو جائے گا اور خود بخود مہر مثل وہاں پر آ جائے گا، جبکہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر مہر کو ذکر نہ کیا جائے بالکل خاموشی سے نکاح کر لیا اور مہر کو ذکر ہی نہیں کیا پھر تو نکاح ہو جائے گا، لیکن اگر مہر کی باقاعدہ صراحتاً نفی کر دی کہ مہر میں دوں گا ہی نہیں تو اس صورت میں نکاح ہی نہیں ہوگا بھئی۔ وجہ یہ کہ ان کے نزدیک یہ نکاح عقد معاوضہ ہے یہ بیع کی طرح ہے، اور یہ جو مہر دیتا ہے خاوند یہ ثمن کی طرح ہے، اور ثمن کے نہ دینے کی شرط اگر بیع میں لگائی جائے تو بیع بالاتفاق باطل ہے تو یہ نکاح بھی کیا ہوگا جس میں مہر نہ دینے کی شرط لگائی ہے؟ یہ بھی باطل ہوگا۔ اس پر ان پر اشکال ہوتا ہے کہ یہ آپ کے نزدیک عقد معاوضہ ہے یعنی بیع کی طرح ہے تو بیع کے اندر تو ثمن کا ذکر ضروری ہے اگر ثمن ذکر نہ کریں، ایک ہے مہر سے خاموشی اختیار کر لینا ذکر ہی نہ کرنا، اور ایک ہے باقاعدہ اس کی نفی کرنا دونوں میں فرق ہے، توجہ ہے؟ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب باقاعدہ نفی کرے گا تب نکاح ہی نہیں ہوگا، ہاں لیکن اگر خاموشی سے نکاح کیا مہر کو ذکر ہی نہیں کیا بس یہ نہیں کہا نہیں دوں گا بلکہ خاموش رہا مہر کے بارے میں بات ہی کوئی نہیں کی، تو امام مالک رحمہ اللہ پر اشکال ہوتا ہے کہ جب مہر سے خاموشی اختیار کی پھر بھی تو نکاح نہیں ہونا چاہیے کیونکہ بیع کی جائے اور اس میں ثمن کو سرے سے ذکر ہی نہ کیا جائے تب بھی بیع نہیں ہوتی، ثمن کی نفی سے بھی بیع نہیں ہوتی اور ثمن کے بارے میں خاموشی ہو پھر بھی بیع نہیں ہوتی، تو لہٰذا جب مہر کی نفی کی صورت میں آپ کے نزدیک نکاح نہیں ہو رہا تو مہر سے خاموشی کی صورت میں بھی نکاح نہیں ہونا چاہیے، تو وہ اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی وہ تو اس کے بارے میں تو نص آ گئی، میں نے بتایا نص قرآن اور حدیث کو کہتے ہیں، کہ وہ تو نص کے اندر ذکر آ گیا کہ بغیر مہر ذکر کیے بھی نکاح ہو جاتا ہے، کس طرح؟ کہتے ہیں قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً، کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم طلاق دے دو اپنی ان عورتوں کو جن کو تم نے چھوا نہیں ہے یعنی جن سے تم نے ابھی صحبت نہیں کی، جن عورتوں سے بھی تم نے صحبت نہیں کی ان کو بھی تم طلاق دے سکتے ہو، أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً یا جن کے لیے تم نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا۔ لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم اپنی ان بیویوں کو طلاق دے دو مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ جن سے تم نے صحبت نہیں کی أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً یا جن کے لیے تم نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا، معلوم ہوا جس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا اس کو بھی طلاق دے سکتے ہو، اور طلاق تو ہمیشہ نکاح کے بعد آیا کرتی ہے، معلوم ہوا مہر مقرر نہیں کیا تھا پھر بھی نکاح ہو گیا ہے اب تم طلاق دے سکتے ہو، تو اس نص سے پتہ چل رہا ہے کہ اگر مہر کو ذکر نہ کیا جائے پھر بھی نکاح ہو جائے گا، اس لیے ہم نے یہاں قیاس کو ترک کر دیا، یہ جواب کس کی طرف سے چل رہا ہے؟ امام مالک کی طرف سے۔ امام مالک رحمہ اللہ پر اعتراض کیا ہوتا تھا کہ مہر کی نفی کی صورت میں اگر نکاح نہیں ہوتا تو مہر سے خاموشی کی صورت میں بھی نکاح نہیں ہونا چاہیے تو انہوں نے کہا کہ مہر سے خاموشی کی صورت میں نکاح ہو جائے گا وہاں ہم نے قیاس ترک کر دیا کیونکہ وہ نص سے ثابت ہو رہا تھا کہ مہر بھی مقرر نہ کیا ہو پھر بھی تم عورتوں کو طلاق دے سکتے ہو، معلوم ہوا نکاح منعقد ہو چکا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَفِيهِ خِلَافُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، وہ فرماتے ہیں اگر مہر کی باقاعدہ نفی کی جائے گی تو نکاح ہی نہیں ہوگا، دلیل ان کی سمجھ میں آ گئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ مہر جو ہے وہ نکاح کا حکم ہے ہم نے بیان کر دیا، مہر کیا ہے؟ نکاح کا حکم ہے اور حکم عقد عقد کے بعد آیا کرتا ہے، زیادہ سے زیادہ اس شخص نے یہ کیا کہ میں مہر نہیں دوں گا اس نے ایک شرط فاسد ذکر کر دی اور شرط فاسد سے یاد رکھو نکاح فاسد نہیں ہوتا۔ بھئی یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا، ایک ہے بیع اور ایک ہے نکاح، یاد رکھو بیع میں اگر آپ کوئی شرط فاسد لگائیں گے ایسی شرط لگائیں گے جو عقد کے مقتضا کے خلاف ہے تو اس صورت میں وہ بیع ہی فاسد ہو جائے گی، مثلاً آپ اپنے ساتھی کو ایک گاڑی فروخت کرتے ہیں کہ یہ گاڑی میں آپ کو دس لاکھ روپے میں فروخت کرتا ہوں لیکن شرط یہ ہے دس دن تک میں استعمال کروں گا اس گاڑی کو پھر اس کے بعد دوں گا، تو دیکھو یہ آپ نے ایسی شرط لگا دی کہ عقد اس کا تقاضا نہیں کر رہا، عقد تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جیسے ہی عقد ہوا اب مبیعہ مشتری کے حوالے کر دو، تو جب بھی ایسی شرط لگائی جائے جو عقد کے مقتضا کے خلاف ہو تو بیع فاسد ہو جاتی ہے، لیکن اگر نکاح کے اندر شرط فاسد لگا دی تو یاد رکھو نکاح صحیح ہو جائے گا اور وہ شرط فاسد ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ تفصیل یاد رکھو، تفصیل یاد رکھو، نکاح میں تین قسم کی شرطیں ہو سکتی ہیں: یا تو وہ ایسی شرط ہوگی جو مقتضائے عقد کے مطابق ہوگی، عقد بھی اس کا تقاضا کر رہا ہے آپ بھی وہی شرط لگا رہے ہیں، مثلاً ایک عورت ایک آدمی سے نکاح کرتی ہے اور کہتی ہے شرط یہ ہے تم مجھے نفقہ بھی دو گے، تم مجھے مہر بھی دو گے، بھئی عقد بھی تو اسی کا تقاضا کر رہا ہے کہ خاوند جو ہے وہ نفقہ بھی دیتا ہے بیوی کو اور مہر بھی دیتا ہے، تو لہٰذا یہ تو اس نے ایسی شرط لگائی جو مقتضائے عقد کے مطابق ہے، عقد بھی اس کا تقاضا کر رہا ہے، تو یہ شرط تو مقتضائے عقد کے مطابق ہے اس سے تو چاہے ذکر کرے یا نہ کرے دونوں صورتوں میں نفقہ بھی دینا پڑے گا اور مہر بھی دینا پڑے گا تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا، تو ایسی شرط لگانا نکاح میں جو مقتضائے عقد کے مطابق تو اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ اور اگر ایسی شرط لگائی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، مثلاً نکاح کرتے ہوئے خاوند کہتا ہے میں تمہیں مہر نہیں دوں گا، نہیں بھئی مہر تو تمہیں دینا پڑے گا بھئی تو یہ ایسی شرط لگا رہا ہے جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے، یا اسی طرح یا اسی طرح نکاح کرتے ہوئے عورت خاوند کو کہتی ہے کہ میں نکاح تمہارے ساتھ کرتی ہوں لیکن شرط یہ ہے تمہارے پاس طلاق دینے کا کوئی اختیار نہیں ہوگا تم مجھے طلاق زندگی بھر نہیں دے سکو گے، تو یہ تو مقتضائے عقد کے خلاف شرط لگا رہی ہے، نکاح تو تقاضا کرتا ہے کہ خاوند کے پاس طلاق کا حق ہونا چاہیے بھئی، لہٰذا جب نکاح کے اندر مقتضائے عقد کے خلاف کوئی شرط لگائی جائے تو وہ شرط فاسد ہے اور نکاح صحیح ہو جائے گا۔ بیع کے اندر شرط فاسد لگاتے تھے تو بیع ہی فاسد ہو جاتی تھی لیکن نکاح کے اندر شرط فاسد لگائیں گے تو نکاح فاسد نہیں ہوگا نکاح ٹھیک ہو جائے گا شرط فاسد ہو جائے گی۔ اور اگر ایسی شرط لگائی نکاح میں جو مقتضائے عقد کے خلاف نہیں ہے، مثلاً بیوی نے کہا میں تم سے نکاح کرتی ہوں لیکن شرط یہ ہے تم ہمیشہ مجھے اسی شہر میں رکھو گے کسی اور شہر میں لے کر نہیں جاؤ گے، تو اگر ایسی شرط لگا دی جو مقتضائے عقد کے خلاف نہیں ہے تو پھر یاد رکھو اس میں فقہاء فرماتے ہیں کہ اس کو دیانۃً پورا کرنا ضروری ہے، یعنی یہ اس بندے اور اللہ کے درمیان کا معاملہ ہے اس کو یہ شرط پوری کرنی چاہیے، قضاءً اس پر یہ لازم نہیں ہے، قاضی اس پر یہ حکم نہیں لگا سکتا کہ تمہیں اسی شہر میں رکھنا پڑے گا، تو قضاءً یہ شرط لازم نہیں ہوئی لیکن دیانۃً کیا ہو گئی اس آدمی پر؟ لازم ہو گئی، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ قضاءً بھی اس پر یہ اب یہ لازم ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حاصل کلام کیا نکاح میں کتنی قسم کی شرطیں ہو سکتی ہیں؟ تین قسم کی: یا تو شرط ایسی ہوگی کہ خود عقد بھی اس کا تقاضا کر رہا ہے تو اس کے ذکر کرنے یا نہ کرنے سے کوئی اثر نہیں پڑتا، یا ایسی شرط ذکر کر دی جو مقتضائے عقد کے خلاف ہے تو شرط فاسد ہو جائے گی اور نکاح صحیح ہو جائے گا، اور اگر ایسی شرط ذکر کی جو مقتضائے عقد کے خلاف نہیں ہے تو وہ اس پر دیانۃً لازم ہے قضاءً لازم نہیں ہے جبکہ بعض کہتے ہیں قضاءً بھی لازم ہے۔ تو ہم جواب دے رہے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کو، امام مالک رحمہ اللہ کیا فرماتے تھے اگر نکاح میں باقاعدہ مہر کی نفی کی تو نکاح ہوگا ہی نہیں، ہم کہتے ہیں کہ نکاح میں باقاعدہ مہر کی نفی کی تو یہ شرط فاسد لگا دی اور شرط فاسد سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نکاح ہو جائے گا اور وہ شرط فاسد ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اور باقی آپ نے اس مہر کو قیاس کیا تھا ثمن پر کہ بیع کے اندر ثمن کا ذکر ضروری ہے اگر ثمن کے نہ ہونے کی شرط لگاؤ گے تو بیع ہی نہیں ہوتی تو اس کا بھی ہم جواب دیتے ہیں کہ ثمن جو ہے وہ تو بیع کا رکن ہے بھئی، ثمن کیا ہے؟ بیع کا رکن ہے، بائع مبیعہ دیتا ہے تو مشتری کیا دے گا؟ ثمن دے گا، تو ثمن تو بیع کا رکن ہے لہٰذا اس لیے اس کا ذکر ضروری ہے، جبکہ مہر کے بارے میں ہم نے بتا دیا کہ مہر یہ نکاح کا رکن نہیں ہے یہ شرعاً واجب ہے بھئی، یہ نکاح کا حکم ہے عقد کے بعد واجب ہو جائے گا اگر ذکر نہ کیا جائے، بات سمجھ میں آ گئی۔ یہ معنی ہے: وَفِيهِ خِلَافُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ وَأَقَلُّ الْمَهْرِ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ جی یاد رکھو ہمارے نزدیک کم سے کم مہر کی مقدار دس درہم ہے۔ دس درہم ہے، اور زیادہ کی کوئی حد نہیں جتنا بھی زیادہ مہر رکھنا چاہے کوئی رکھ سکتا ہے لیکن حد سے زیادہ مہر پسندیدہ نہیں ہے کہ خاوند کے لیے ادائیگی بوجھ بن جائے، بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا زیادہ مہر بھی پسندیدہ نہیں، تو بہرحال زیادہ کی کوئی حد نہیں ہے اور کم سے کم مہر دس درہم ہونا چاہیے، دس درہم اس سے کم نہیں۔ اور یاد رکھو یہ درہم چاندی کا ہوتا ہے اور ایک درہم کی مقدار ہے: تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ ایک درہم کتنا ہوتا ہے؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ بھئی تفصیل یاد رکھو: بھئی آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، آٹھ رتیاں ہوں تو یہ ایک ماشہ بنتا ہے، اور بارہ ماشے ہوں تو یہ ایک تولہ بنتا ہے، بارہ ماشے ہوں تو۔ تو ایک درہم درہم چاندی کا ہے اور کتنا وزن ہوتا ہے؟ تین ماشے، ایک رتی اور خمس رتی یعنی رتی کا پانچواں حصہ۔ تو دس درہم ہیں اب اس کا ہم حساب لگا لیتے ہیں کہ یہ تولوں میں کتنا بنتا ہے، تو دس درہم ہیں ہر درہم میں ہمیں تین ماشے مل رہے ہیں پورے پورے، تو 10 تیا 30، تیس ماشے ہو گئے، اور اس کے بعد اس کے بعد پھر ہر درہم میں ایک رتی بھی ہے اور خمس رتی بھی ہے تو دس رتیاں بھی ہمیں پوری مل گئیں، ٹھیک ہے؟ اور پھر ہر درہم میں رتی کا پانچواں حصہ ہے تو پانچ درہموں میں جا کے پھر ایک پوری رتی بن جائے گی اور دس درہموں میں دو رتیاں ہو گئیں، تو دس رتیاں پہلے تھیں اور دو یہ رتیاں ہو گئیں بارہ رتی، یعنی ہمارے پاس تیس ماشے اور بارہ رتی ہو گئے، توجہ ہے؟ اور آٹھ رتیاں ہوں تو ایک ماشہ بنتا ہے، آٹھ رتی ہو تو ایک ماشہ، تو بارہ رتی کا کتنے ماشے بن گیا؟ ڈیڑھ ماشہ، ڈیڑھ ماشہ، تو گویا تیس ماشے پہلے تھے ڈیڑھ ماشہ اور ہو گیا ساڑھے اکتیس ماشے ہمارے پاس کل بن گئے۔ اب اس کے ہم تولے بنا لیتے ہیں تو ہر تولے میں بارہ ماشے ہوتے ہیں، تو بارہ دونی چوبیس، بارہ تیا چھتیس یہ تو زیادہ ہو رہا ہے، تو بارہ دونی چوبیس، دو تولے پورے ہو گئے اور باقی کتنے بچ گئے؟ ساڑھے اکتیس میں سے چوبیس نکال دو ساڑھے سات، ساڑھے سات ماشے باقی بچ گئے، دو تولے پورے اور ساڑھے سات ماشے، اور ساڑھے سات ماشے میں سے چھ ماشے ہوں تو یہ آدھا تولہ بن گیا، آدھا تولہ، تو یہ ڈھائی تولے ہو گئے اور ڈیڑھ ماشہ، ڈھائی تولے اور ڈیڑھ ماشہ ڈیڑھ ماشہ، تو یعنی یہ تقریباً پونے تین تولے کے قریب بن گیا، پورے پونے تین تولے تو نہیں، اگر کتنے ہوتے؟ اگر تین ماشے ہوتے نا پھر پونے تین بن اس وقت ڈھائی تولے اور ڈیڑھ ماشہ ہے، اگر ڈھائی تولے اور تین ماشے ہوتے تو پھر پونے تین بن جانا تھا پونے تین تولے، تو یہ پونے تین تولے سے کچھ کم ہے، اور یاد رکھو چاندی جو ہے اس کی قیمت بدلتی رہتی ہے، آج کل چاندی کا فی تولہ پاکستان میں تقریباً ڈھائی ہزار کا ہے، چوبیس پچیس سو کا ایک تولہ چاندی ہے، تو یہ بن گئے تقریباً پونے تین تولے کے قریب لگا لیں یہ کوئی سات ہزار کے قریب ساڑھے چھ یا سات ہزار کے قریب روپے بن جاتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اچھی خاصی رقم ہے۔ آج کل تو کچھ نہیں آج کل تو بجلی کے بل آتے ہیں، گیس کے بل، پانی کے بل آتے ہیں اور ہر چیز میں حکومت نے ٹیکس لگائے ہیں تو یہ پتہ ہی نہیں چلتا لیکن قدیم زمانے میں یہ دس درہم اچھی خاصی رقم ہوتی تھی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَأَقَلُّ الْمَهْرِ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ اور کم سے کم مہر جو ہے وہ دس درہم ہے، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ثَمَنًا فِي الْبَيْعِ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَهْرًا لَهَا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، عورت جتنا مرضی مہر مقرر کرنا چاہے کر سکتی ہے چاہے زیادہ مقرر کرے چاہے دس درہم سے بھی کم، پانچ درہم مقرر کر لے، دو درہم مقرر کر لے، ایک درہم مقرر کر لے، یہ اس کی مرضی ہے۔ وجہ یہ کہ وہ فرماتے ہیں کہ یہ مہر عورت کا حق ہے، یہ مہر کس کا حق ہے؟ عورت کا حق ہے تو جب آپ کا اپنا حق ہے تو آپ اس میں جیسے مرضی کمی بیشی کریں، آپ ایک چیز بیچنا چاہتے ہیں تو آپ چاہے سو روپے کی بیچیں چاہے آپ دس روپے کی بیچیں کوئی آپ پر اعتراض نہیں کر سکتا کیونکہ آپ کی چیز ہے، توجہ ہے؟ گاڑی آپ کی ہے دس لاکھ کی آپ بیچنا چاہیں اور آپ چاہیں تو کسی کو دس ہزار میں بیچ دیں، صاحب حق کی مرضی ہوتی ہے تو یہاں پر بھی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مہر عورت کا حق ہے، جو چیز بیع کے اندر ثمن بننے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کو مہر مقرر کیا جا سکتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پانچ درہم بھی کیا ہے؟ ثمن بن سکتے ہیں کسی بیع میں لہٰذا پانچ درہم بھی ہو سکتا ہے، ایک درہم بھی ثمن بن سکتا ہے بیع کے اندر تو ایک درہم بھی عورت اس پر راضی ہو جائے یا اس سے بھی کم پر راضی ہو، تو بہرحال جو چیز بیع میں ثمن بن سکتی ہے ان کے نزدیک وہ نکاح میں مہر بھی بن سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ ثَمَنًا فِي الْبَيْعِ يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَهْرًا لَهَا لِأَنَّهُ حَقُّهَا فَيَكُونُ التَّقْدِيرُ إِلَيْهَا، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ چیز کہ جو بیع کے اندر جس کا ثمن بننا جائز ہو يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مَهْرًا لَهَا وہ اس عورت کے لیے مہر بھی بن سکتی ہے لِأَنَّهُ حَقُّهَا اس لیے کیونکہ مہر جو ہے اس عورت کا حق ہے فَيَكُونُ التَّقْدِيرُ إِلَيْهَا تو اس کو مقرر کرنا اسی کے سپرد ہے۔ یاد رکھو قَدَّرَ يُقَدِّرُ تَقْدِير اس کا معنی اندازہ کرنا بھی اور اس کا معنی مقرر کرنا بھی، تو موقع محل کے مطابق جہاں جو معنی مناسب بنتا ہو وہ ترجمہ اس کا کریں گے، تو یہاں تقدیر کا کیا معنی کر لیں گے؟ مقرر کرنا، فَيَكُونُ التَّقْدِيرُ إِلَيْهَا تو اس مہر کو مقرر کرنا الیہا اس عورت کے سپرد ہے وہ جتنا مقرر کرنا چاہے چاہے دس درہم سے زیادہ چاہے دس درہم سے کم مقرر کر سکتی ہے وہ۔ وَلَنَا: قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”لَا مَهْرَ أَقَلُّ مِنْ عَشَرَةٍ“، اور ہماری دلیل جو ہے ہم کیا کہتے ہیں دس درہم سے مہر کم نہیں، وَلَنَا ہماری دلیل جو ہے قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”لَا مَهْرَ أَقَلُّ مِنْ عَشَرَةٍ“ کہ کوئی مہر دس سے کم نہیں ہے یعنی دس درہم سے مہر کم نہیں ہے، وَلِأَنَّهُ حَقُّ الشَّرْعِ وُجُوبًا إِظْهَارًا لِشَرَفِ الْمَحَلِّ فَيُقَدَّرُ بِمَا لَهُ خَطَرٌ وَهُوَ الْعَشَرَةُ اسْتِدْلَالًا بِنِصَابِ السَّرِقَةِ، اور نیز اس لیے کیونکہ یہ مہر جو ہے یہ شریعت کا حق ہے وجوباً وجوب کے اعتبار سے، یہ مہر کس نے واجب قرار دیا ہے؟ شریعت نے واجب قرار دیا ہے تو وجوب کے اعتبار سے یہ شریعت کا حق ہے إِظْهَارًا لِشَرَفِ الْمَحَلِّ اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے، فَيُقَدَّرُ بِمَا لَهُ خَطَرٌ لہٰذا اس کو مقرر کیا جائے گا، یا یوں کہیں یا اس کا اندازہ لگایا جائے گا بما ایسی چیز کے ساتھ لَهُ خَطَرٌ جس کی کوئی اہمیت ہو، جس کی کوئی حیثیت اور وقعت ہو، جس کو کچھ شمار بھی کیا جائے جس کو کچھ مال شمار کیا جاتا ہے اور وہ دس درہم ہے بھئی۔ بھئی صاحب ہدایہ نے نقلی دلیل بھی ذکر کر دی کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا، اور نیز اب عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں کہ قیاس بھی یہی تقاضا کرتا ہے کہ مہر جو ہے وہ کم از کم اتنا مال ہو جس کی کوئی حیثیت ہو۔ کیونکہ یہ شریعت نے واجب کیا ہے اور کس لیے واجب کیا ہے؟ اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے، کہ وہ محل اتنا مہین اور حقیر نہیں ہے کہ بغیر مال کے ہی تمہارے لیے حلال ہو جائے تمہیں کچھ مال خرچ کرنا پڑے گا، تو لہٰذا شریعت نے اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے مال کو واجب کیا ہے تو مال اتنا ہونا چاہیے جس کی لوگوں کے نزدیک کچھ حیثیت اور اہمیت بھی ہو اور وہ دس درہم ہے، میں نے بتایا قدیم زمانے میں دس درہم اچھی خاصی رقم ہوتی تھی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ اب یہ عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ حَقُّ الشَّرْعِ وُجُوبًا إِظْهَارًا لِشَرَفِ الْمَحَلِّ اور اس لیے کیونکہ یہ جو مہر ہے یہ شریعت کا حق ہے وجوب کے اعتبار سے إِظْهَارًا لِشَرَفِ الْمَحَلِّ اس محل کے معزز ہونے کے اظہار کے لیے فَيُقَدَّرُ بِمَا لَهُ خَطَرٌ لہٰذا اس کا اندازہ لگایا جائے گا اتنی مقدار کے ساتھ جس کی کوئی اہمیت ہو وَهُوَ الْعَشَرَةُ اور وہ دس درہم ہیں بھئی، اسْتِدْلَالًا بِنِصَابِ السَّرِقَةِ استدلال کرتے ہوئے چوری کے نصاب سے، دلیل پکڑتے ہوئے چوری کے نصاب سے۔ یاد رکھو یاد رکھو جب کوئی شخص چوری کرتا ہے تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا لیکن ہر چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا بلکہ کم از کم اتنا مال چوری کرے جس کی کوئی اہمیت ہو بھئی اور وہ دس درہم ہے بھئی، دس درہم یا اس سے زیادہ کی کوئی چوری کرے گا تو شرعاً اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اور اگر دس درہم سے کم چوری کرتا ہے تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، معلوم ہوا ایک انسانی عضو کی کم سے کم قیمت دس درہم ہے۔ کم سے کم قیمت کتنی ہے؟ دس درہم ہے، دس درہم کی چوری ہوگی تو ہاتھ کاٹا جائے گا اس سے کم میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، تو معلوم ہوا انسانی عضو کی کم سے کم قیمت دس درہم ہے اور بضعہ وہ بھی ایک انسانی عضو ہے لہٰذا اس کے بھی حلال ہونے کے لیے کم سے کم کتنا مال آئے گا؟ دس درہم ضرور آئے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: وَهُوَ الْعَشَرَةُ اسْتِدْلَالًا بِنِصَابِ السَّرِقَةِ اور وہ مقدار جو ہے دس ہے چوری کے نصاب سے استدلال کرتے ہوئے۔ وَلَوْ سَمَّى أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةٍ فَلَهَا الْعَشَرَةُ عِنْدَنَا، وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَهْرُ الْمِثْلِ؛ لِأَنَّ تَسْمِيَةَ مَا لَا يَصْلُحُ مَهْرًا كَعَدَمِهِ صورت مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر دس درہم سے بھی کم مقرر کر دیا مثلاً پانچ درہم مقرر کر دیا کہ میں تم سے نکاح کرتا ہوں لیکن کتنا مہر دوں گا؟ پانچ درہم مہر دوں گا، تو ہمارے نزدیک پانچ نہیں اس کو دس ہی دینے پڑیں گے کیونکہ دس درہم سے کم مہر نہیں ہو سکتا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں یہاں مہر مثل آ جائے گا، یعنی اس عورت کے خاندان میں اس جیسی عورتوں کو جو مہر ہوتا ہے وہ اس کو دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ سَمَّى أَقَلَّ مِنْ عَشَرَةٍ اور اگر مہر کو ذکر کیا دس سے کم فَلَهَا الْعَشَرَةُ عِنْدَنَا تو اس عورت کے لیے دس درہم ہی ہوں گے ہمارے نزدیک، ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک دس درہم دینے پڑیں گے۔ وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ: مَهْرُ الْمِثْلِ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس عورت کے لیے مہر مثل ہوگا، لِأَنَّ تَسْمِيَةَ مَا لَا يَصْلُحُ مَهْرًا كَعَدَمِهِ امام زفر کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں، امام زفر فرماتے ہیں کہ ایسی چیز کو مہر ذکر کرنا جو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتی یہ اسی طرح ہے جیسے مہر کو ذکر ہی نہیں کیا گیا۔ اس شخص نے پانچ درہم کو مہر ذکر کیا ہے اور پانچ درہم تو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے مہر کو اس نے ذکر ہی نہیں کیا، اور جب مہر کو ذکر نہ کیا جائے تو مہر مثل آیا کرتا ہے لہٰذا یہاں بھی کیا آ جائے گا؟ مہر مثل آ جائے گا وہ اس شخص کو دینا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مثلاً دیکھو ایسی چیز ذکر کی جیسے خنزیر اور شراب، یاد رکھو مسلمان نہ خنزیر اور شراب کا خود مالک بن سکتا ہے اور نہ دوسرے کو مالک بنا سکتا ہے، یعنی مسلمان کے لیے شراب اور خنزیر کا نہ تملک جائز ہے اور نہ تملیک جائز ہے۔ شراب اور خنزیر کسی اور کی ملکیت میں تھی اور مسلمان کی ملکیت میں داخل ہو جائے؟ نہیں بھئی، مسلمان کے لیے شراب یا خنزیر کا تملک جائز ہی نہیں ہے، یعنی اس کی ملکیت میں داخل ہو جائیں ایسا ہو ہی نہیں سکتا۔ اور اگر اور اگر یہ شراب یا خنزیر اس کی ملکیت میں پہلے سے داخل ہیں تو پھر یہ کسی اور کو مالک بنا دے؟ نہیں بھئی یہاں تملیک بھی نہیں کر سکتا، نہ تملک کر سکتا ہے اور نہ تملیک۔ مثلاً دیکھو پہلے سے ہی مالک ہو کہ کسی مسلمان کے پاس انگور کا رس تھا، مسلمان کے پاس انگور کا رس تھا اور وہ پڑے پڑے شراب میں تبدیل ہو گیا تو اب دیکھو یہ پہلے سے اس کا مالک ہے مسلمان، یہ نہیں کہ اب اس کی ملکیت میں شراب داخل ہوئی ہے، اس انگور کے رس کا وہ پہلے سے ہی مالک تھا اب مسلمان اس کو بیچنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، شراب کو مسلمان نہ بیچ سکتا ہے نہ خرید سکتا ہے، نہ تملیک کر سکتا ہے نہ تملک کر سکتا ہے، لہٰذا اس کو یا تو وہ سرکے میں بدلنا پڑے گا اس کو، وہ سرکے میں بدل دے، دھوپ میں رکھنا پڑے گا یا نمک ڈالنا پڑے گا تو وہ سرکہ بن جائے گا پھر اس کا استعمال اس کے لیے جائز ہو جائے گا اور پھر اس کا بیچنا بھی اس کے لیے جائز ہو جائے گا۔ یا دوسری صورت لے لیں، خنزیر کا مالک ہے پہلے سے ہی ایک مسلمان، مثلاً ایک شخص کافر تھا اس کے پاس بہت سارے خنزیر تھے وہ ان کا مالک ہے اب وہ مسلمان بن گیا اب دیکھو خنزیر اس کی ملکیت میں موجود ہیں، تو یہ کسی دوسرے کو مالک بنانا چاہتا ہے، بیچنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی تملیک نہیں کر سکتا۔ ضابطہ سمجھ میں آیا؟ مسلمان کے لیے شراب اور خنزیر میں نہ تملک جائز ہے اور نہ تملیک۔ اب صورت مسئلہ یہ ہے: دلیل چل رہی ہے امام زفر رحمہ اللہ کی، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مہر میں ایسی چیز کو ذکر کیا جائے جو مہر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتی تو وہاں مہر مثل آتا ہے، چنانچہ فرماتے ہیں اگر ایک شخص ایک مسلمان نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مہر کے اندر شراب یا خنزیر ذکر کر دیے گئے، اور یہ شراب اور خنزیر یہ تو مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے تو وہاں بالاتفاق ہمارے سب ائمہ کے نزدیک مہر مثل آتا ہے۔ شراب یا خنزیر میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں تو وہاں پھر کیا آئے گا؟ مہر مثل، تو وہ فرماتے ہیں امام زفر کہ دیکھا جو چیز مہر بننے کی صلاحیت نہ رکھتی ہو اگر اس کو مہر بنائیں گے تو وہاں مہر مثل آتا ہے، تو یہاں پر بھی اس نے پانچ درہم ذکر کیے ہیں اور پانچ درہم تو مہر بننے کی صلاحیت نہیں رکھتے لہٰذا یہاں بھی کیا آ جائے گا؟ مہر مثل آ جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ ہمارے ائمہ کیا فرماتے ہیں کہ یہ دس درہم پورے کر دیے جائیں گے، یہاں دس درہم دینے پڑیں گے اس آدمی کو، اس نے پانچ ذکر کیے ہیں لیکن دس سے کم تو مہر نہیں ہو سکتا لہٰذا اس کو پورا کر دیا جائے گا دس درہم اس آدمی کو دینے پڑیں گے۔ جبکہ امام زفر کیا فرماتے ہیں؟ مہر مثل دینا پڑے گا۔ اختلاف سمجھ میں آ گیا؟ آگے دیکھیے: وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی: وَلَنَا أَنَّ فَسَادَ هَذِهِ التَّسْمِيَةِ لِحَقِّ الشَّرْعِ، بھئی ادھر دیکھیے میں نے بتایا تھا کہ یہ جو مہر ہے یہ شریعت نے واجب کیا ہے، اب یاد رکھو یہ جو مہر ہے مہر، یہ حق شرع بھی ہے اور یہ عورت کا بھی حق ہے۔ یہ واجب کس نے قرار دیا؟ شریعت نے، اور نیز کم سے کم کتنا ہونا چاہیے؟ دس درہم، تو دیکھو یہ شریعت کا بھی حق ہے، اور یہ عورت کا بھی حق ہے، وصول کس نے کرنا ہے؟ عورت نے، اور اس کی مقدار تھوڑی یا زیادہ جتنا بھی رکھنا چاہے عورت رکھ سکتی ہے ہاں دس درہم سے کم نہیں رکھ سکتی، تو یہ جو مہر ہے یہ حق شرع بھی ہے اور عورت کا بھی حق ہے۔ اب یہاں پر اب یہاں پر اس شخص نے پانچ درہم میں نکاح کیا ہے لہٰذا ایسی صورت اختیار کی جائے گی کہ دونوں کا حق ادا ہو جائے، شریعت کا حق بھی ادا ہو جائے، عورت کا حق بھی ادا ہو جائے، اور اس کی یہ صورت ہے کہ اس مہر کو بڑھا کر دس تک پہنچا دیا جائے، جب دس درہم ہو جائے گا شریعت کا حق بھی ادا ہو گیا، شریعت بھی کیا کہتی ہے کم سے کم مہر کتنا ہونا چاہیے؟ دس درہم، تو شریعت کا حق بھی ادا ہو گیا اور عورت کا حق بھی ادا ہو گیا کیونکہ وہ عورت جب پانچ درہم پر راضی تھی تو دس پر تو وہ بطریق اولیٰ راضی ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ فَسَادَ هَذِهِ التَّسْمِيَةِ لِحَقِّ الشَّرْعِ کہ اس تسمیہ کا فاسد ہونا شریعت کے حق کی وجہ سے تھا، سَمَّى يُسَمِّي تَسْمِيَة کا معنی ہے ذکر کرنا، یا اسی کا ترجمہ کر لیں مقرر کرنا، انہوں نے پانچ درہم ذکر کیے تھے یا یوں کہیں انہوں نے پانچ درہم مقرر کیے تھے تو یہ تسمیہ بار بار آگے لفظ آئے گا تو ہم اس کا ترجمہ مقرر کرنے کے کر لیں گے، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ فَسَادَ هَذِهِ التَّسْمِيَةِ لِحَقِّ الشَّرْعِ کہ اس مقرر کرنے کا فاسد ہونا جو تھا شریعت کے حق کی وجہ سے تھا کیونکہ دس درہم سے کم ذکر کیا تھا انہوں نے، وَقَدْ صَارَ مَقْضِيًّا بِالْعَشَرَةِ اور تحقیق یہ حق شرع ادا ہو جائے گا دس کے ذریعے اگر اس کو بڑھا کر کتنا کر دیا جائے؟ دس، تو اس سے شریعت کا حق بھی ادا ہو جائے گا، فَأَمَّا مَا يَرْجِعُ إِلَى حَقِّهَا اور باقی وہ جو اس عورت کے حق کی طرف جو چیز لوٹتی ہے فَقَدْ رَضِيَتْ بِالْعَشَرَةِ لِرِضَاهَا بِمَا دُونَهَا تو تحقیق وہ دس پر بھی راضی ہوگی وہ عورت اس لیے کیونکہ وہ تو دس سے کم پر بھی راضی تھی، تو دونوں کا حق ادا ہو گیا۔ وَلَا مُعْتَبَرَ بِعَدَمِ التَّسْمِيَةِ، ہاں امام زفر رحمہ اللہ نے اس کو کس پر قیاس کیا تھا؟ عدم تسمیہ پر، انہوں نے فرمایا تھا جب ایسی چیز کو مہر ذکر کیا جائے جس میں مہر بننے کی صلاحیت ہی نہیں ہے تو یہ اسی طرح ہے جیسے مہر کو ذکر ہی نہیں کیا، اور جب مہر کو ذکر ہی نہ کیا جائے تو مہر مثل آیا کرتا ہے تو ان چیزوں میں بھی مہر مثل آ جائے گا۔ تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ نہیں بھئی آپ اس ذکر کو عدم ذکر پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ایک جیسے نہیں، تسمیہ اور چیز ہے عدم تسمیہ اور چیز ہے، تو آپ اس تسمیہ کو عدم تسمیہ پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ آگے اس کی بتلائیں گے، وجہ یہ ہے کیونکہ بعض اوقات عورت کا نکاح کیا جا رہا ہے اور وہ رشتہ اچھا ہے عورت بھی وہاں نکاح چاہتی ہے، اب نکاح کے اندر مہر کو ذکر نہ کیا جائے پھر بھی عورت راضی ہو جاتی ہے گویا عورت اپنی سخاوت کا اظہار کر رہی ہے کہ میں اتنی معزز اور محترم ہوں اور میری سخاوت کا یہ حال ہے کہ میں اپنے آپ کو بغیر کسی عوض کے اپنے خاوند کے سپرد کر رہی ہوں بھئی، میرے مقابلے میں روپیہ اور پیسہ کیا چیز ہے؟ روپے یا پیسے کی کوئی بھی مقدار میری قیمت نہیں ہو سکتی، تو عدم تسمیہ کی صورت میں بھی وہ نکاح پر راضی ہو جائے گی، لیکن اگر مہر کو تھوڑا ذکر کیا جائے تو اس میں تو وہ اہانت محسوس کرے گی کہ اتنا تھوڑا سا مہر بھئی؟ تو اس پر وہ کبھی راضی نہیں ہوگی، تو تسمیہ میں تھوڑا مہر ہو اور عدم تسمیہ میں مہر سرے سے ذکر ہی نہ ہو تو آپ نے اس تسمیہ کو اس قلیل مال کے تسمیہ کو کس پر قیاس کیا تھا؟ عدم تسمیہ پر، ہم نے بتا دیا کہ نہیں دونوں میں فرق ہے۔ عدم تسمیہ میں تو عورت جو ہے اپنے معزز ہونے اور اپنی سخاوت کا اظہار کرتے ہوئے راضی ہو جائے گی لیکن تھوڑے مال پر وہ راضی نہیں ہوگی تو دونوں میں فرق ہے، لہٰذا آپ تسمیہ کو عدم تسمیہ پر قیاس نہیں کر سکتے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا مُعْتَبَرَ بِعَدَمِ التَّسْمِيَةِ اور کوئی اعتبار نہیں ہے عدم تسمیہ کا، ذکر نہ کرنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے لِأَنَّهَا قَدْ تَرْضَى بِالتَّمْلِيكِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ تَكَرُّمًا اس لیے کیونکہ کبھی کبھار عورت راضی ہو جاتی ہے بالتملیك مالک بنانے پر یعنی اس شخص اس خاوند کو اپنا مالک بنا رہی ہے مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ بغیر کسی عوض کے تَكَرُّمًا، بھئی تکرم کا مادہ ہے ک ر م، کرم، اور کرم کہتے ہیں سخاوت کو، تو تکرم باب تفعل ہے اور باب تفعل کے اندر تکلف والا معنی ہوتا ہے یعنی بتکلف کوئی کام کرنا، تو کرم کا کیا معنی تھا؟ سخاوت، تو تکرم کا معنی ہوگا بتکلف سخاوت کرنا یعنی بناوٹی سخاوت کرنا یعنی اپنی سخاوت کا اظہار کرنا، کیا کرنا؟ تو عورت بھی دیکھو بغیر مہر کو ذکر کیے اس کا نکاح کروایا جا رہا ہے اور وہ بھی اس نکاح پر خوش ہے تو وہ بھی اپنے معزز ہونے اور اپنی سخاوت کا اظہار کرتے ہوئے اسی طرح راضی ہے کہ میں تو اتنی معزز اور مکرم ہوں اور میری سخاوت اور فیاضی کا تو یہ عالم ہے کہ میں بغیر کسی عوض کے ہی اپنے خاوند کو اپنا مالک بنا رہی ہوں: لِأَنَّهَا قَدْ تَرْضَى بِالتَّمْلِيكِ مِنْ غَيْرِ عِوَضٍ تَكَرُّمًا اس لیے کیونکہ کبھی کبھار عورت راضی ہو جاتی ہے مالک بنانے پر بغیر کسی عوض کے اپنے تکرم اپنے سخاوت اور فیاضی کا اظہار کرنے کے لیے، وَلَا تَرْضَى فِيهِ بِالْعِوَضِ الْيَسِيرِ اور وہ اس میں تھوڑے سے عوض پر راضی نہیں ہوگی۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا تَجِبُ خَمْسَةٌ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ، وَعِنْدَهُ تَجِبُ الْمُتْعَةُ كَمَا إِذَا لَمْ يُسَمِّ شَيْئًا یاد رکھو ایک خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے اس میں پھر چار صورتیں بنتی ہیں، یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں یہ بار بار آگے ان چیزوں کا ذکر ہوتا رہے گا۔ جب بھی کوئی خاوند اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے وہاں چار صورتیں بنتی ہیں: یا تو جب نکاح کیا تھا مہر مقرر کیا ہوگا یا مہر مقرر نہیں کیا ہوگا، مہر مقرر نہ کریں تو پھر مہر مثل آ جایا کرتا ہے مہر تو ضرور آئے گا، توجہ ہے؟ تو خاوند نے بیوی کو طلاق دی ہے یہاں چار صورتیں ہو سکتی ہیں کہ جب نکاح ہوا تھا مہر کو ذکر کیا گیا تھا یا مہر کو ذکر نہیں کیا گیا تھا مہر کو مقرر نہیں کیا گیا تھا، اور پھر ان دونوں میں سے ہر ایک میں دو دو صورتیں ہیں کہ یہ جو طلاق دے رہا ہے یہ رخصتی سے پہلے طلاق دے گا یعنی صحبت سے پہلے ہی طلاق دے رہا ہے یا صحبت کے بعد طلاق دے رہا ہوگا۔ تو کل کتنی صورتیں؟ چار، کہ جب نکاح کیا تھا مہر مقرر کیا تھا یا مہر مقرر نہیں کیا تھا، پھر دونوں کے اندر دو دو صورتیں ہیں مثلاً مہر مقرر نہیں کیا مہر مقرر نہیں کیا تو اب اس کو طلاق دے رہا ہے تو یہ صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے یا صحبت کے بعد طلاق دے رہا ہے، توجہ ہے؟ اور دوسری صورت اگر مہر مقرر کیا تھا تو وہاں پر بھی صحبت سے پہلے طلاق دے گا یا صحبت کے بعد طلاق دے گا۔ اب اتنا تو آپ کو پتہ چل گیا کہ نکاح کے اندر مہر ضرور آئے گا، اگر کوئی مہر مقرر کیا ہے وہی دینا پڑتا ہے اور اگر مقرر نہیں کیا تو پھر مہر مثل آ جایا کرتا ہے، پھر یاد رکھو اگر مہر مقرر کیا ہے تو پھر صحبت سے پہلے طلاق دے گا یا صحبت کے بعد، اگر صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے اور مہر مقرر کیا تھا تو پھر نصف مہر دینا پڑے گا، اور اگر صحبت کے بعد طلاق دیتا ہے پھر پورا مہر دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور مہر مقرر کیا تھا مثلاً دو لاکھ روپے مہر مقرر کیا تھا، بعد میں یہ شخص اس عورت کو طلاق دیتا ہے، اگر یہ اس صحبت کرنے سے پہلے طلاق دے رہا ہے تو مقررہ مہر کا نصف یعنی ایک لاکھ اس کو دینا پڑے گا، اور اگر صحبت کر چکا ہے اور اب طلاق دیتا ہے تو پھر اس کو پورا مہر یعنی دو لاکھ دینے پڑیں گے۔ اور دوسری صورت اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا اور خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے تو پھر وہاں بھی وہی دو صورتیں یا صحبت کی ہوگی یا صحبت نہیں کی، اگر صحبت کر لی ہے تو پھر مہر مثل دینا پڑے گا، اور اگر صحبت نہیں کی مہر بھی مقرر نہیں تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے تو پھر یاد رکھو اس صورت میں متعہ دینا پڑے گا۔ کیا دینا پڑے گا؟ متعہ دینا پڑے گا، یہ آگے ذکر آنے والا ہے بھئی صاحب ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے، متعہ تین کپڑوں کا نام ہے، تین کپڑے دینے پڑیں گے جیسے عربوں کے ہاں تین کپڑے کیا تھے؟ ان کے ہاں ایک لمبی قمیص ہوتی ہے، دوپٹہ ہوتا ہے اور ایک بڑی چادر، یہ تین کپڑے دینے پڑیں گے، اور ہمارے ہاں ہمارے ہاں یوں کہو چار کپڑے دینے پڑیں گے، ایک سوٹ یعنی شلوار قمیص اور دوپٹہ اور اس کے ساتھ ایک بڑی چادر دینی پڑے گی۔ تو یہ متعہ دینا پڑے گا کس عورت کو؟ جس کو صحبت سے پہلے طلاق دے رہا ہے اور مہر مقرر نہیں کیا تھا۔ پھر دہرا لیں بھئی یہ بار بار آئے گا، ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے تو وہ مہر مقرر کرے گا نکاح میں یا مہر مقرر نہیں کرے گا، اگر مہر مقرر کرتا ہے پھر طلاق دیتا ہے تو اگر صحبت سے پہلے طلاق دی تو نصف مہر دینا پڑے گا جو مقرر کیا تھا اور اگر صحبت کے بعد طلاق دی تو پورا مہر دینا پڑے گا۔ اور اگر مہر مقرر نہیں کیا تھا تو پھر اگر صحبت کے بعد طلاق دیتا ہے تو مہر مثل دینا پڑے گا، اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے تو وہاں متعہ دینا پڑے گا یعنی تین کپڑے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب دیکھو یہی مسئلہ چل رہا ہے، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور دس درہم سے کم مہر مقرر کیا تھا، توجہ ہے؟ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور دس درہم سے کم مہر مقرر کیا ہے تو ہمارے تینوں ائمہ کیا فرماتے ہیں کہ مہر بڑھا کر دس درہم کر دیا جائے گا، امام زفر فرماتے ہیں نہیں مہر مثل وہاں پر آ جائے گا۔ اب اس عورت کو صحبت سے پہلے یہ شخص اگر طلاق دے دیتا ہے صحبت سے پہلے طلاق دے دیتا ہے تو ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں اس صورت میں وہ جو دس درہم تھے اس کا نصف یعنی پانچ درہم دینے پڑیں گے۔ ہمارے تینوں ائمہ کیا فرماتے ہیں اگر صحبت سے پہلے اس عورت کو طلاق دیتا ہے تو کتنے دینے پڑیں گے؟ پانچ درہم یعنی مہر تو اصل میں دس سے بھی کم رکھا تھا لیکن پھر ہم نے بڑھا دیا کتنا کر دیا؟ دس، کیونکہ دس سے کم تو مہر نہیں ہو سکتا تو مہر دس درہم ہو چکا ہے اب اس عورت کو صحبت سے پہلے وہ طلاق دیتا ہے تو اسی مہر کا نصف ہو جائے گا اور وہ کتنا ہے؟ پانچ درہم دینے پڑیں گے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں متعہ دینا پڑے گا یعنی وہ تین کپڑے دینے پڑیں گے، کیوں؟ کیونکہ ان کے نزدیک اس عورت میں اس عورت میں مہر دس درہم نہیں آیا ان کے نزدیک بلکہ مہر مثل آیا تھا اور جہاں مہر مثل آتا ہے وہاں پر اگر طلاق دی جائے صحبت سے پہلے تو متعہ دینا پڑتا ہے، وہاں ابھی بات ہوئی تھی کہ مہر مقرر نہیں کیا تو پھر کیا آئے گا؟ مہر مثل، لیکن اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ دینا پڑتا ہے اس عورت کو، تو امام زفر فرماتے ہیں یہاں بھی اس عورت کو متعہ دینا پڑے گا صرف تین کپڑے دینے پڑیں گے متعہ دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی کہتے ہیں: وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا اور اگر اسی شخص نے طلاق دے دی اس عورت کو قبل الدخول بہا اس سے صحبت کرنے سے پہلے تَجِبُ خَمْسَةٌ عِنْدَ عُلَمَائِنَا الثَّلَاثَةِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ تو پانچ درہم واجب ہوں گے ہمارے تینوں علماء تینوں فقہاء کے نزدیک، وَعِنْدَهُ تَجِبُ الْمُتْعَةُ اور امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک متعہ واجب ہوگا كَمَا إِذَا لَمْ يُسَمِّ شَيْئًا جیسے کہ خاوند نے کوئی چیز ذکر نہ کی ہو، یعنی کوئی مہر جب ذکر نہ کرے اور صحبت سے پہلے طلاق دے تو وہاں متعہ آتا ہے تو یہاں پر بھی متعہ ہی آئے گا، بات سمجھ بھی آ رہی ہے کہ نہیں۔ وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشَرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا یاد رکھو مہر جتنا مقرر کیا جائے اور وہ خاوند صحبت کر لے تو وہ مہر پکا ہو گیا اب وہ پورا مہر دینا پڑے گا، صحبت سے پہلے اگر طلاق دے گا تو نصف مہر دینا پڑے گا لیکن اگر صحبت کر لی تو پھر پورا مہر، اسی طرح اگر خاوند کا انتقال ہو گیا تو بھی خاوند کے مال میں سے پورا مہر عورت کو دلایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشَرَةً فَمَا زَادَ اور جس نے مہر مقرر کیا دس درہم فما زاد یا اس سے زیادہ، دس یا دس سے زیادہ مہر مقرر کیا فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا تو اس شخص پر پورا مسمیٰ ہو گیا یعنی جس کو ذکر کیا تھا وہ مقررہ مہر اس خاوند پر واجب ہوگا إِنْ دَخَلَ بِهَا اگر خاوند نے اس بیوی سے صحبت کر لی أَوْ مَاتَ عَنْهَا یا اس کو چھوڑ کر وہ مرا۔ مَاتَ کا صلہ عَنْ آ جائے تو اس کا معنی ہے چھوڑ کر مرنا: مَاتَ زَيْدٌ عَنِ امْرَأَةٍ، زید بیوی کو چھوڑ کر مرا یعنی زید کا انتقال ہو گیا اور بیوی زندہ ہے، یا مَاتَ زَيْدٌ عَنْ وَلَدٍ، زید اولاد کو چھوڑ کر مرا، مات کا صلہ عن آئے تو اس کا معنی ہے چھوڑ کر مرنا۔ تو کہتے ہیں أَوْ مَاتَ عَنْهَا یا خاوند بیوی کو چھوڑ کر مرا تو بیوی کو پورا مہر دینا پڑے گا، توجہ ہے؟ بھئی یاد رکھو ایک شخص ہے اس نے ایک عورت سے نکاح کیا اور مثلاً ایک لاکھ مہر مقرر کیا تو جب اس عورت سے یہ صحبت کر لے گا تو اب یہ ایک لاکھ پکا ہو گیا اب یہ مہر اس کو دینا پڑے گا، لیکن اگر ابھی صحبت بھی نہیں کی صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا تو بھی خاوند کے مال میں سے پورا ایک لاکھ مہر اس عورت کو دلایا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو عورت کو مہر الگ دیں گے اور وراثت میں باقی پھر مال جو بچے گا اس میں وراثت میں اس کا حصہ الگ ہوگا، یہ تو گویا خاوند کے ذمے اس کا قرض تھا بھئی تو یہ قرض پورا مال پورا مہر عورت کو دلایا جائے گا۔ توجہ ہے؟ پھر دیکھیے کہتے ہیں: وَمَنْ سَمَّى مَهْرًا عَشَرَةً فَمَا زَادَ فَعَلَيْهِ الْمُسَمَّى إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا اور جس نے دس درہم یا زیادہ مہر مقرر کیا تو خاوند پر وہ مقررہ مہر واجب ہو جائے گا إِنْ دَخَلَ بِهَا اگر اس نے اس عورت سے صحبت کر لی أَوْ مَاتَ عَنْهَا یا خاوند اس کو چھوڑ کر مرا، لِأَنَّهُ بِالدُّخُولِ يَتَحَقَّقُ تَسْلِيمُ الْمُبْدَلِ وَبِهِ يَتَأَكَّدُ الْبَدَلُ، کہتے ہیں دیکھو جب خاوند نے صحبت کر لی تو اب تو بدل دینا پڑے گا، بدل بھئی دیکھو نکاح ہوتا ہے نکاح کے اندر خاوند عورت سے نفع اٹھانے کا مالک بن جاتا ہے وہ اس سے صحبت کر سکتا ہے نفع اٹھا سکتا ہے، تو جب اس نے صحبت کر لی تو اس نے تو مبدل وصول کر لیا یعنی عوض وصول کر لیا، جب عوض وصول کر لیا تو اب بدل یعنی مہر اس کو پورا دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ مہر بدل ہے کس چیز کا؟ اس عورت سے صحبت کا یعنی اس عورت سے فائدہ اٹھانے کا یہ بدل ہے، اور فائدہ یہ اٹھا چکا ہے اس نے صحبت کر لی ہے تو اب اس کو بدل یعنی عوض پورا دینا پڑے گا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ بِالدُّخُولِ يَتَحَقَّقُ تَسْلِيمُ الْمُبْدَلِ وَبِهِ يَتَأَكَّدُ الْبَدَلُ اس لیے کیونکہ صحبت کرنے سے يَتَحَقَّقُ پایا گیا تَسْلِيمُ الْمُبْدَلِ مبدل کا سپرد کرنا، مبدل وہ عورت نے اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا تو مبدل کا سپرد کرنا پایا گیا وَبِهِ يَتَأَكَّدُ الْبَدَلُ اور اس سے بدل جو ہے وہ پکا ہو جاتا ہے اب وہ بدل دینا پڑے گا۔ وَبِالْمَوْتِ يَنْتَهِي النِّكَاحُ نِهَايَتَهُ یاد رکھو یاد رکھو موت کی وجہ سے نکاح اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، موت کی وجہ سے عقد اپنی انتہا کو پہنچ گیا اپنے اختتام کو پہنچ گیا اب اس کے ٹوٹنے کی کوئی صورت نہیں، اپنی انتہا کو پہنچ کر عقد ختم ہو گیا، توجہ ہے؟ ایک ہے ختم ہونا ایک ہے عقد کا ٹوٹ جانا دونوں میں فرق ہے، طلاق دے گا تو وہ عقد ٹوٹ جاتا ہے لیکن جب موت آئی تو ٹوٹا نہیں بلکہ یہ عقد اپنے اختتام کو پہنچ گیا یعنی یہ عقد ہوا ہی اتنی دیر کے لیے تھا بھئی اور یہ اپنے اختتام تک پہنچ گیا، جب اختتام تک پہنچ گیا تو اس کے سارے احکامات اب پکے ہو گئے یعنی اب مہر بھی پورا دینا پڑے گا عدت کا جو نفقہ ہے وہ بھی دینا پڑے گا اور وراثت وغیرہ بھی اب جاری ہوگی اب ان چیزوں سے محروم کرنے کی کوئی صورت نہیں، یعنی اختتام تک پہنچ کر ختم ہو گیا ہے۔ تو طلاق دیں تب عقد ٹوٹ جاتا ہے اور موت آئے تو عقد اپنی اختتام تک اور انتہا تک پہنچ جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَبِالْمَوْتِ يَنْتَهِي النِّكَاحُ نِهَايَتَهُ اور موت کی وجہ سے نکاح اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے، وَالشَّيْءُ بِانْتِهَائِهِ يَتَقَرَّرُ وَيَتَأَكَّدُ اور کوئی چیز جو ہے اپنی انتہا کی وجہ سے اپنے اختتام کی وجہ سے يَتَقَرَّرُ وَيَتَأَكَّدُ وہ ثابت ہو جاتی ہے اور پختہ ہو جاتی ہے، تو یہ نکاح بھی کیا ہوا؟ اب پکا ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَالشَّيْءُ بِانْتِهَائِهِ يَتَقَرَّرُ وَيَتَأَكَّدُ فَيَتَقَرَّرُ بِجَمِيعِ مَوَاجِبِهِ، اور شے جو ہے اپنے انتہا کی وجہ سے اپنے اختتام کی وجہ سے يَتَقَرَّرُ ثابت ہو جاتی ہے وَيَتَأَكَّدُ اور پکی ہو جاتی ہے فَيَتَقَرَّرُ بِجَمِيعِ مَوَاجِبِهِ تو یہ نکاح بھی ثابت ہو جائے گا اپنے تمام موجبات کے ساتھ، اپنے تمام احکام کے ساتھ اب یہ ثابت ہو جائے گا، یہ اپنی انتہا کو پہنچ گیا اب اس کے سارے احکام ثابت ہو جائیں گے یعنی وہ مہر جو تھا وہ بھی اب دینا پڑے گا، عدت کا جو نفقہ ہے وہ بھی دینا پڑے گا اور وراثت بھی جاری ہوگی اب ان چیزوں سے محروم کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے بھئی۔ وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْخَلْوَةِ فَلَهَا نِصْفُ الْمُسَمَّى؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} الْآيَةَ اب یہ وہی بات ذکر کرنے لگے ہیں، میں نے آپ کو کیا بتلایا؟ اگر مہر مقرر نہیں کیا، مہر مقرر نہیں کیا اور نکاح کر لیا تو کیا آ جائے گا؟ مہر مثل، اور صحبت کر لے گا تو یہی مہر مثل پکا ہو جائے گا وہ دینا پڑے گا، اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو نصف، مہر مقرر نہیں کیا اور صحبت سے پہلے طلاق دیتا ہے اب کیا آئے گا؟ بھئی مہر مقرر ہی کچھ نہیں کیا تھا تو نصف کس کا دیں گے؟ ہاں تو اس صورت میں متعہ دینا پڑتا ہے۔ توجہ ہے؟ پھر سمجھو اگر نکاح کیا ہے اور مہر مقرر نہیں کیا تو خود بخود مہر مثل آ جاتا ہے لیکن اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو پھر متعہ دینا پڑے گا تین کپڑے دینے پڑیں گے، اور اگر صحبت کر لی ہے تو پھر مہر مثل ہی دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی یا خاوند مر گیا تو بھی مہر مثل ہی دینا پڑے گا۔ اور اگر نکاح کرتے ہوئے مہر کو مقرر کیا ہے باقاعدہ مثلاً ایک لاکھ یا دو لاکھ تو پھر اگر صحبت کر لی تو پھر پورا مہر دینا پڑے گا اور اگر صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو جو مقرر کیا ہے اس کا نصف دینا پڑے گا۔ اب وہی بات بیان کر رہے ہیں: وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْخَلْوَةِ فَلَهَا نِصْفُ الْمُسَمَّى اور اگر خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی قَبْلَ الدُّخُولِ صحبت کرنے سے پہلے وَالْخَلْوَةِ اور تنہائی سے پہلے، خلوت کا معنی تنہائی بھئی اور خلوت سے مراد یہاں خلوت صحیحہ ہے یعنی کامل تنہائی۔ یاد رکھو شریعت میں بہت سے احکام کے اندر خلوت صحیحہ کا بھی وہی حکم ہے جو وطی یعنی صحبت کا ہے، یعنی جیسے صحبت کرنے سے مہر پکا ہو جاتا ہے وہ پورا اب خاوند کو دینا پڑے گا اسی طرح اگر خلوت صحیحہ پائی گئی یعنی کامل تنہائی پائی گئی تو بھی پورا مہر دینا پڑے گا۔ کامل تنہائی یہ ہے کہ مرد اور عورت ایسی جگہ پر اکٹھے ہو گئے ایسی جگہ پر ان کو تنہائی میسر آ گئی جہاں صحبت سے کوئی چیز مانع نہیں، مثلاً دروازہ بھی بند ہے اور مثلاً خاوند یا بیوی میں سے کوئی بہت شدید بیمار بھی نہیں ہے اور نیز دونوں میں سے کوئی حالت احرام وغیرہ میں بھی نہیں ہے یا اسی طرح بیوی جو ہے حیض کی حالت میں بھی نہیں ہے، تو دیکھو کسی قسم کا کوئی مانع موجود نہیں صحبت کرنے سے، اس کو کہتے ہیں خلوت صحیحہ، اس کو کیا کہتے ہیں؟ خلوت صحیحہ کہتے ہیں اور اب خاوند بے شک صحبت نہ کرے صرف خلوت صحیحہ پائی گئی خاوند نے صحبت نہیں کی لیکن پھر بھی خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ وجہ یہ کہ عورت کے بس میں تو اتنا ہی تھا اس نے اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا، اس نے تو اپنے آپ کو خاوند کے سپرد کر دیا ہے تو لہٰذا جب اس نے اپنے آپ کو سپرد کر دیا ہے تو اب خاوند چاہے صحبت کرے یا نہ کرے اب اس کو وہ پورا مہر دینا پڑے گا جو اس نے بدل مقرر کیا تھا، تو یہ تھی خلوت صحیحہ بھئی۔ اب دیکھیے کتاب پر کہتے ہیں: وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْخَلْوَةِ اور اگر خاوند نے بیوی کو طلاق دے دی صحبت سے پہلے اور خلوت سے پہلے، صحبت کر لی پھر بھی پورا مہر، خلوت صحیحہ پائی گئی بے شک صحبت نہیں کی لیکن پھر بھی پورا مہر دینا پڑے گا، لیکن اگر اس نے طلاق دے دی صحبت اور خلوت صحیحہ سے پہلے فَلَهَا نِصْفُ الْمُسَمَّى تو عورت کے لیے نصف مسمیٰ ہوگا یعنی مقررہ مہر کا نصف بھئی۔ اور دلیل کیا؟ لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} الْآيَةَ، اور اگر تم ان عورتوں کو طلاق دے دو ان کو چھونے سے پہلے، ان سے صحبت کرنے سے پہلے اگر تم ان کو طلاق دے دو اور آگے اللہ فرماتے ہیں: {وَقَدْ فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً} اس حال میں کہ تم نے ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو، اگر تم ان عورتوں کو چھونے سے پہلے یعنی ان کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ان کو طلاق دے دو اور تم نے ان کے لیے کوئی مہر مقرر کیا ہوا تھا، {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} تو وہ جو تمہارا مقرر کیا ہوا ہے اس کا نصف، یعنی اس کا یعنی نصف جب مہر مقرر کیا تھا اور صحبت سے پہلے طلاق دے دو تو نصف دینا پڑے گا اس مقررہ کا، دلیل سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} الْآيَةَ، الآیۃ بھئی یاد رکھو اس کو آپ منصوب بھی پڑھ سکتے ہیں اور مرفوع بھی، مرفوع پڑھیں گے تو یہ مبتدا بنے گا: اَلْآيَةُ مَعْرُوفَةٌ یہ آیت معلوم ہے، یہ آیت کیا ہے؟ معلوم ہے ہم نے کچھ حصہ ذکر کر دیا آپ باقی حصہ خود پڑھ لیجیے، تو الآیۃ ہوا مبتدا اور معلومۃ یا معروفۃ اس کی خبر ہے تو اس پر رفع پڑھیں گے الآیۃ پر، اور آپ چاہیں تو اس پر نصب پڑھیں أَيِ: اقْرَأِ الْآيَةَ تو یہ مفعول بہ بن جائے گا اقرأ فعل امر کے لیے کہ آپ پڑھ لیجیے الآیۃ اس آیت کو، ہم نے تھوڑا سا حصہ ذکر کیا آپ باقی آیت پڑھ لیجیے۔ وَالْأَقْيِسَةُ مُتَعَارِضَةٌ، فَفِيهِ تَفْوِيتُ الزَّوْجِ الْمِلْكَ عَلَى نَفْسِهِ بِاخْتِيَارِهِ، وَفِيهِ عَوْدُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ إِلَيْهَا سَالِمًا، فَكَانَ الْمَرْجِعُ فِيهِ النَّصَّ اور قیاس جو ہیں یہاں باہم متعارض ہیں، اَقْیِسَہ جمع ہے قیاس کی، تو صیغہ صاحب ہدایہ نے جمع والا استعمال کیا لیکن مراد اس سے دو قیاس ہیں، اور کبھی کبھار تثنیہ پر بھی جمع کا اطلاق کر دیا جاتا ہے، تثنیہ کے لیے بھی جمع کا صیغہ استعمال کر لیا جاتا ہے کیونکہ تثنیہ بھی جمع ہی ہے عربی زبان کے اعتبار سے، تثنیہ بھی کیا ہے؟ جمع، کیونکہ جمع میں تین افراد جمع ہوتے ہیں تو تثنیہ میں دو افراد جمع ہو رہے ہیں تو اس میں بھی دیکھو جمع والا معنی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَقْيِسَةُ مُتَعَارِضَةٌ اور قیاس باہم متعارض ہیں یعنی ایک دوسرے کے مخالف ہیں، بھئی اس جگہ کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر دو قیاس آپس میں متعارض ہیں مخالف ہیں، دیکھو ایک عورت سے ایک شخص کا نکاح ہوا اور مہر مقرر کیا تھا پھر اس عورت کو صحبت سے پہلے خاوند طلاق دیتا ہے تو نص کے اندر تو آ گیا کہ اس کو نصف مہر وہ جو مقررہ مہر تھا اس کا نصف دینا پڑے گا لیکن اب قیاس کیا تقاضا کرتا ہے وہ بیان فرما رہے ہیں صاحب ہدایہ۔ تو یاد رکھو کہتے ہیں دونوں قیاس آپس میں متعارض ہیں، ایک قیاس کی طرف ہم دیکھیں تو وہ ہمیں بتلاتا ہے کہ پورا مہر دینا چاہیے خاوند کو، اور دوسرے قیاس کی طرف ہم دیکھیں تو وہ تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے، تو دونوں قیاس کیا ہیں آپس میں متعارض۔ مثلاً دیکھو ایک قیاس یہ ہے کہ خاوند کو پورا مہر دینا چاہیے، بے شک صحبت سے پہلے طلاق دی ہے لیکن خاوند کو پورا مہر دینا چاہیے، کیوں؟ بھئی خاوند کو پورا مہر کیوں دینا چاہیے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ خاوند نے اپنی مرضی سے اپنے اختیار سے عورت کو طلاق دی ہے اور خاوند اس عورت کا مالک بن چکا تھا یعنی اس سے نفع اٹھانے کا مالک بن چکا تھا اب اس میں عورت کا تو کوئی قصور نہیں ہے اس کو چھوڑنے کا اختیار خاوند کے پاس تھا اور اس نے اپنی مرضی سے ایک چیز پر سے اپنی ملکیت ختم کر دی، تو اس میں عورت کا تو کوئی قصور نہیں ہے لہٰذا جو آپس میں عوض طے ہوا تھا وہ خاوند کو پورا دینا چاہیے کیونکہ یہ جو اس نے اپنی ملکیت ختم کی ہے اس کے اندر یہ اس نے اپنے اختیار سے ختم کی ہے اس میں عورت کا کوئی دخل نہیں لہٰذا پورا عوض یعنی پورا مہر دینا چاہیے، ایک قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ دوسرا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے وجہ یہ کہ خاوند نے یہ جو مہر دینا تھا یہ اس عورت سے نفع اٹھانے کا عوض تھا اور خاوند نے تو نفع اس سے اٹھایا ہی نہیں، وہ جو معقود علیہ وہ جس چیز پر عقد ہوا تھا کہ خاوند اس سے نفع اٹھائے گا وہ معقود علیہ تو عورت کے پاس صحیح سلامت واپس رہا بھئی، خاوند نے تو اس سے فائدہ ہی نہیں اٹھایا، تو جب عورت کا معقود علیہ اس کے اپنے پاس سلامت رہا تو اس کو عوض بھی نہیں ملنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: وَالْأَقْيِسَةُ مُتَعَارِضَةٌ فَفِيهِ تَفْوِيتُ الزَّوْجِ الْمِلْكَ عَلَى نَفْسِهِ بِاخْتِيَارِهِ یہ پہلا قیاس ہے، ففیہ تو اس کے اندر یہ جو خاوند نے طلاق دی ہے صحبت سے پہلے تفویت الزوج خاوند نے فوت کر دیا ہے الملک ملکیت کو علی نفسہ اپنی ذات پر، خاوند کو جو ملکیت حاصل تھی وہ اس نے خود جو ہے وہ فوت کر دی ہے، علی ضرر کے لیے آتا ہے علی نفسہ اپنی ذات کے خلاف، خاوند نے یہ جو ملکیت فوت کی ہے ملکیت یوں کہو ضائع کی ہے یہ اپنی ذات کے خلاف کی ہے باختیارہ اپنے اختیار سے، تو اپنے اختیار سے ملکیت کو اس نے چھوڑا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ففیہ تو اس کے اندر تفویت الزوج الملک خاوند کا ملکیت کو فوت کرنا ہے علی نفسہ اپنی ذات کے خلاف باختیارہ اپنے اختیار سے، یہ تقاضا کر رہا ہے کہ پورا مہر دینا چاہیے بھئی اس نے ملکیت خود اپنی مرضی سے ختم کی ہے۔ وَفِيهِ عَوْدُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ إِلَيْهَا سَالِمًا اور نیز اس میں عَوْدُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ وہ چیز جس پر عقد کیا گیا تھا اس کا لوٹنا ہے إِلَيْهَا عورت کی طرف سَالِمًا صحیح سلامت، یعنی عورت سے منافع بضع کا فائدہ اٹھانا تھا اس خاوند نے وہ تو منافع بضع اس کے پاس صحیح سلامت رہے خاوند نے ان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو معقود علیہ اس کے پاس واپس صحیح سلامت لوٹ آیا، یہ تقاضا کرتا ہے کہ عورت کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے، تو کہتے ہیں: وَفِيهِ عَوْدُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ إِلَيْهَا سَالِمًا فَكَانَ الْمَرْجِعُ فِيهِ النَّصَّ اور اس کے اندر معقود علیہ کا عورت کے پاس واپس لوٹنا ہے سالم ہو کر فکان المرجع فیہ النص تو اس کے اندر رجوع جو ہے نص کی طرف ہوگا، دونوں قیاسوں میں آپس میں ٹکراؤ ہے ایک قیاس تقاضا کرتا ہے پورا مہر دینا چاہیے دوسرا قیاس تقاضا کرتا ہے کچھ بھی نہیں دینا چاہیے تو دونوں قیاس باہم متعارض ہوئے لہٰذا اب ہمیں نص کی طرف ہی رجوع کرنا پڑے گا اور ہم نص پر عمل کریں گے یعنی قرآن پر اور قرآن میں کیا آیا؟ {فَنِصْفُ مَا فَرَضْتُمْ} جو تم نے مقرر کیا تھا اس کا نصف دے دو۔ اب یہاں اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحب ہدایہ جب قرآن کے اندر ایک بات آ گئی تو پھر اس کے مقابلے میں قیاس کے تو ذکر کی کوئی حاجت ہی نہیں، قیاس تو عقلی دلیل ہے جب قرآن اور حدیث میں ایک حکم ہمیں نہیں ملتا پھر ہم قیاس کرتے ہیں، جب یہاں قرآن کے اندر ایک حکم موجود تھا تو پھر قیاس پیش کرنے کی کیا حاجت؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ لیکن یاد رکھو یہ صاحب ہدایہ ہیں بھئی انسان ان کی کتاب دیکھتا ہے حیران رہ جاتا ہے بھئی حیران رہ جاتا ہے، تو پھر بعض شارحین نے جواب دیا کہ یہاں صاحب ہدایہ نے قیاس اس لیے ذکر فرمایا کہ قرآن سے تو ایک حکم معلوم ہو گیا تھا اب سوال پیدا ہوا کہ اے صاحب ہدایہ قرآن سے تو ایک بات ہمیں پتہ چل گئی کیا ہماری عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے یا نہیں کرتی؟ دیکھو قرآن اور حدیث میں احکام ذکر ہوتے ہیں چاہے ہماری عقل ان کی تائید کرے یا تائید نہ کرے، تو بعض چیزیں تو ہماری عقل میں آ جاتی ہیں عقل بھی یہی فیصلہ کرتی ہے کہ اسی طرح ہونا چاہیے لیکن بعض چیزیں ہماری عقل میں نہیں آتیں تو عمل تو انہی پر کرنا ہے بے شک ہماری عقل میں نہ آئیں، تو سوال پیدا ہوا اے صاحب ہدایہ قرآن سے تو یہ حکم معلوم ہو گیا تھا کیا ہماری عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے؟ تو صاحب ہدایہ نے جواب دیا کہ یہاں پر دو قیاس ہیں اور دونوں آپس میں متعارض ہیں، ایک قیاس تقاضا کرتا ہے کہ پورا کا پورا مہر دینا چاہیے اور ایک قیاس تقاضا کرتا ہے کہ کچھ بھی نہیں دینا چاہیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ بعض شارحین نے تقریر کی کہ قرآن سے تو حکم کا پتہ چل گیا تھا اب صاحب ہدایہ یہ بتلانا چاہ رہے تھے کہ کیا قیاس سے بھی تائید ہوتی ہے یا نہیں؟ تو بتلایا قیاس میں آپس میں خود ہی ٹکراؤ ہے یہاں پر، قیاس میں یہاں ٹکراؤ ہے تو یہاں نص ہی پر عمل ہے قیاس پر عمل یہاں نہیں ہے بھئی۔ کبھی تو قیاس بھی تائید کر دیتا ہے تو نص پر بھی عمل ہو رہا ہے اور قیاس پر بھی عمل ہو رہا ہے لیکن یہاں صرف نص پر ہی عمل ہو سکتا ہے قیاس میں آپس میں ٹکراؤ ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ جبکہ بعض شارحین نے یہاں اور تقریر کی، وہ فرماتے ہیں کہ یہاں یہاں قیاس تو یہ تقاضا کر رہا ہے کہ عورت کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے کیونکہ خاوند نے اس سے نفع نہیں اٹھایا جب نفع نہیں اٹھایا تو خاوند کو مہر بھی نہیں دینا پڑے گا لیکن نص میں چونکہ آ گیا اس لیے ہمیں نصف مہر دینا پڑے گا۔ قیاس تو تقاضا کر رہا تھا اسے کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے لیکن نص میں آ گیا نصف دینا پڑے گا تو اس لیے نصف دے گا خاوند، تو صاحب ہدایہ بتلانا چاہتے ہیں نہیں نہیں قیاس دونوں طرف کے موجود ہیں صرف ایک طرف کا قیاس یہاں نہیں ہے، ایک قیاس اگر یہ تقاضا کر رہا ہے کہ کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے عورت کو تو دوسرا قیاس یہ بھی تقاضا کر رہا ہے کہ خاوند کو پورا مہر دینا چاہیے کیونکہ اس نے اپنے اختیار سے اس ملکیت کو ختم کیا ہے بھئی، یہ بات بعض شارحین نے تقریر کی، لیکن ملا عبد الغفور رحمہ اللہ نے میں نے بتلایا جو شاگرد ہیں ملا جامی رحمہ اللہ کے انہوں نے عجیب تقریر کی یہاں انسان حیران رہ جاتا ہے، وہ فرماتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو آیت ہے یہ عام مخصوص البعض ہے، یہ کیا ہے؟ عام مخصوص البعض ہے، اور عام مخصوص البعض ظنی ہوتا ہے اور اس میں قیاس کے ذریعے اور تخصیص بھی کی جا سکتی ہے وہاں قیاس کی طرف رجوع کیا جا سکتا ہے، تو لہٰذا یہ آیت بھی چونکہ عام مخصوص البعض ہے تو یہاں بھی قیاس کی طرف رجوع کیا جا سکتا تھا لیکن صاحب ہدایہ نے بتایا کہ نہیں یہاں قیاس باہم متعارض ہیں دونوں طرف کے قیاس ہیں ایک طرف کا قیاس یہاں نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھو تفصیل کلام یاد رکھو بھئی دیکھو ایک ہوتا ہے عام جس میں ایک عام حکم دیا جائے اور پھر اس میں سے بعض افراد کی تخصیص کر لی جاتی ہے اس کو کہتے ہیں عام مخصوص البعض یعنی ایسا عام جس میں سے بعض افراد کی تخصیص کر دی گئی۔ دیکھو مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں درجہ ثالثہ کے ہر طالب علم کو ہزار ہزار روپے دے دینا مگر زید، عمر اور بکر کو مت دینا، تو دیکھو یہ عام مخصوص البعض ہے۔ پہلے میں نے عام حکم دیا درجہ ثالثہ کے ہر طالب علم کو ہزار ہزار روپے دے دینا دیکھو یہ حکم عام ہے درجہ ثالثہ کا ہر طالب علم اس میں آ گیا، لیکن پھر میں نے کچھ کی تخصیص کر دی کہ ان میں سے زید، عمر اور بکر کو نہیں دینا، تو یہ عام کیا ہے؟ عام مخصوص البعض، اور یاد رکھو یہ جو عام مخصوص البعض ہوتا ہے یہ ظنی ہوتا ہے قطعی نہیں، عام مخصوص البعض کیا ہوتا ہے؟ ظنی ہوتا ہے قطعی نہیں، وہاں قیاس کے ذریعے آپ اور بھی تخصیص کر سکتے ہیں۔ مثلاً میں نے کیا کہا درجہ ثالثہ کے ہر طالب علم کو ہزار دینا لیکن زید عمر بکر کو نہ دینا، اب یہ عام مخصوص البعض ہوا یہ ظنی بن گیا، اور جب یہ ظنی بن گیا تو قیاس کے ذریعے اس میں آپ اور بھی تخصیص کر سکتے ہیں، چنانچہ آپ نے غور کیا کہ بھئی یہ زید، عمر، بکر ان کو اس حکم سے کیوں نکالا گیا؟ وجہ کیا ہے؟ ان کو پیسے کیوں نہیں دینے؟ آپ نے غور کیا تو پتہ چلا انہوں نے امتحان میں شرکت نہیں کی مثلاً، اب آپ کو علت پتہ چل گئی، جب آپ کو علت پتہ چل گئی تو اگر یہی علت آپ کو کسی اور طالب علم میں ملتی ہے تو آپ اس کو بھی اس حکم سے نکال سکتے ہیں آپ اس کو بھی پیسے نہ دیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دیکھو اب آپ اپنی عقل کے ذریعے فیصلہ کر رہے ہیں کہ اس نے بھی امتحان نہیں دیا لہٰذا اس کو بھی نہیں دینا، یہ دوسرے نے بھی امتحان نہیں دیا لہٰذا اس کو بھی نہیں دینا، تو دیکھا عام مخصوص البعض ظنی بن جاتا ہے اور قیاس کے ذریعے وہاں مزید تخصیص جائز ہوتی ہے۔ تو یہاں پر بھی اللہ کیا فرما رہے ہیں کہ جب مہر مقرر کیا ہو اور صحبت سے پہلے طلاق دے دو تو کتنا دو؟ نصف، یہ عام حکم ہے۔ جب مہر مقرر کیا ہو اور صحبت سے پہلے طلاق دو تو کتنا دو؟ نصف، یعنی جب بھی مہر مقرر کیا ہو اور صحبت سے پہلے طلاق دو گے تو نصف دینا پڑے گا، تو یہ ایک عام حکم ہے لیکن یہاں بھی کچھ افراد کی تخصیص ہے، اگر شراب یا خنزیر مقرر کیے تھے تو شراب اور خنزیر جب مقرر کیے تو اس صورت میں ان کا نصف نہیں دینا پڑے گا کیونکہ وہ تو مہر بن ہی نہیں سکتے، تو دیکھا اس حکم سے کچھ افراد نکل گئے یا نہیں؟ جب کچھ افراد کی تخصیص ہو گئی تو یہ حکم عام مخصوص البعض بن گیا، جب یہ عام مخصوص البعض بن گیا تو یہ ظنی بن گیا تو یہاں اس کے ساتھ قیاس کو پیش کیا جا سکتا ہے، تو صاحب ہدایہ نے اس لیے یہاں پر قیاس کو پیش فرمایا لیکن ساتھ ہی بتایا کہ قیاس یہاں کسی ایک جانب کا نہیں ہے دونوں طرف کا قیاس موجود ہے، ایک قیاس تقاضا کرتا ہے سارا مہر دینا چاہیے دوسرا قیاس تقاضا کرتا ہے کچھ بھی نہیں دینا چاہیے، تو قیاس متعارض ہیں لہٰذا اب اور کوئی صورت نہیں اس نص پر ہی عمل کیا جائے گا وہ جو عام مخصوص البعض ہے وہ جو ظنی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ جی اب پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں وَالْأَقْيِسَةُ مُتَعَارِضَةٌ اور قیاس جو ہیں وہ باہم متعارض ہیں یعنی ایک دوسرے کے مخالف ہیں، فَفِيهِ تَفْوِيتُ الزَّوْجِ الْمِلْكَ عَلَى نَفْسِهِ بِاخْتِيَارِهِ اس کے اندر خاوند جو ہے ملکیت کو فوت کر رہا ہے اپنی ذات کے خلاف اپنے اختیار سے تو پورا مہر دینا چاہیے، وَفِيهِ عَوْدُ الْمَعْقُودِ عَلَيْهِ إِلَيْهَا سَالِمًا اور اس کے اندر عورت کے جو معقود علیہ ہے وہ اس کے پاس صحیح سلامت واپس آ گیا تو یہ تقاضا کرتا ہے اس کو کچھ بھی نہیں ملنا چاہیے، فَكَانَ الْمَرْجِعُ فِيهِ النَّصَّ تو اس کے اندر رجوع نص ہی کی طرف ہوگا یہاں قیاس سے تخصیص وغیرہ نہیں ہو سکتی۔ وَشَرَطَ أَنْ يَكُونَ قَبْلَ الْخَلْوَةِ؛ لِأَنَّهَا كَالدُّخُولِ عِنْدَنَا عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى اور صاحب قدوری نے اوپر متن میں یہ بھی شرط لگائی کہ یہ طلاق خلوت سے پہلے ہونی چاہیے، بھئی اوپر متن میں آیا تھا نا: وَإِنْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ وَالْخَلْوَةِ، خلوت کی بھی قید لگائی تھی، تو کہتے ہیں: وَشَرَطَ أَنْ يَكُونَ قَبْلَ الْخَلْوَةِ اور صاحب قدوری نے یہ بھی شرط لگائی کہ یہ طلاق خلوت سے پہلے ہونی چاہیے لِأَنَّهَا كَالدُّخُولِ عِنْدَنَا اس لیے کیونکہ خلوت صحیحہ بھی ہمارے نزدیک صحبت ہی کی طرح ہے عَلَى مَا نُبَيِّنُهُ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، اس وجہ سے جو ہم آگے ان شاء اللہ بیان کریں گے یہ عنقریب اس کا ذکر بھی آ جائے گا بھئی۔ قَالَ: وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا أَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا بھئی پیچھے صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ نکاح کے اندر مہر ضرور آئے گا، مہر ضرور آئے گا اور آپ مہر کو ذکر کریں یا نہ کریں نکاح صحیح ہو جائے گا، چاہے آپ مہر کی نفی ہی کر دیں پھر بھی نکاح صحیح ہو جائے گا، تو مہر نے تو ضرور آنا ہے تو اگر مہر کو ذکر نہیں کیا تو پھر مہر میں کیا چیز آئے گی؟ تو میں آپ کو پہلے بتا چکا کہ اس صورت میں کیا آئے گا؟ مہر مثل آئے گا یعنی یہ جو عورت ہے اس کے خاندان میں اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے وہ یہاں پر مہر آ جائے گا اس کو مہر مثل کہتے ہیں۔ یعنی اس کے خاندان میں اس جیسی کوئی عورت ہو اگر یہ نکاح کے وقت کنواری تھی وہ بھی کیا ہو؟ کنواری ہو، یہ اگر حسین و جمیل ہے وہ بھی کیا ہو؟ حسین و جمیل ہو، اسی طرح جو صفات اس کے اندر ہیں وہ صفات اس کے اندر بھی ہوں، تو اس کا جو مہر ہوتا ہے اس کے خاندان میں اس جیسی عورت کا جو مہر ہوتا ہے وہ اس کو مہر ملے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ قَالَ: صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ تَزَوَّجَهَا وَلَمْ يُسَمِّ لَهَا مَهْرًا اور اگر خاوند نے اس عورت سے نکاح کیا اور اس کے لیے مہر ذکر نہیں کیا یعنی مہر پر خاموشی اختیار کی، أَوْ تَزَوَّجَهَا عَلَى أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا یا اس عورت سے نکاح کیا علی، علی شرط کے لیے آتا ہے، أَوْ تَزَوَّجَهَا یا اس عورت سے نکاح کیا عَلَى أَنْ لَا مَهْرَ لَهَا اس شرط پر کہ اس کے لیے کوئی مہر نہیں ہوگا، فَلَهَا مَهْرُ مِثْلِهَا تو اس عورت کے لیے کیا ہوگا؟ اس کا مہر مثل ہوگا إِنْ دَخَلَ بِهَا أَوْ مَاتَ عَنْهَا اگر خاوند نے اس سے صحبت کر لی أَوْ مَاتَ عَنْهَا یا اس کو چھوڑ کر مرا۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ شَيْءٌ فِي الْمَوْتِ، وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى أَنَّهُ يَجِبُ فِي الدُّخُولِ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ موت کی صورت میں کچھ بھی واجب نہیں، اگر خاوند نے مہر مقرر نہیں کیا اور نکاح کر لیا ہے یا مہر کی نفی کر دی ہے اور نکاح کر لیا ہے اور صحبت سے پہلے ہی خاوند کا انتقال ہو گیا تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کچھ بھی نہیں دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجِبُ شَيْءٌ فِي الْمَوْتِ کہ موت کی صورت میں کوئی چیز واجب نہیں ہوگی، وَأَكْثَرُهُمْ عَلَى أَنَّهُ يَجِبُ فِي الدُّخُولِ اور اکثر شوافع جو ہیں وہ اس بات پر ہیں کہ صحبت کی صورت میں واجب ہو جائے گا۔ یعنی موت کی صورت میں تو کچھ نہیں واجب لیکن اگر صحبت کر لی ہے اور مہر مقرر نہیں کیا تھا تو پھر مہر مثل واجب ہو جائے گا۔ لَهُ: امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے: أَنَّ الْمَهْرَ خَالِصُ حَقِّهَا کہ یہ جو مہر ہے یہ خالص اس عورت کا حق ہے فَتَتَمَكَّنُ مِنْ نَفْيِهِ ابْتِدَاءً تو یہ قادر ہے اس بات پر کہ وہ اس کی نفی کر دے ابتداء سے ہی، كَمَا تَتَمَكَّنُ مِنْ إِسْقَاطِهِ انْتِهَاءً جیسے یہ قادر ہے اس بات پر کہ انتہاءً اس کو ساقط کر دے، بھئی دیکھیے یاد رکھو ہمارے نزدیک ابتداءً مہر جو ہے حق المراء بھی ہے اور حق الشرع بھی ہے، لہٰذا نکاح کرو گے مہر ضرور آئے گا، اگر ذکر کر دیا اچھی بات ہے اگر ذکر نہ کیا تو مہر مثل آ جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ کیونکہ یہ حق شرع بھی ہے اور حق المراء بھی ہے۔ تو یہ ہے ابتداءً، ابتدائے نکاح میں یہ جو مہر ہوتا ہے یہ حق شرع بھی ہے اور حق المراء اس عورت کا بھی حق ہے، جبکہ بقاء کے اعتبار سے یعنی بعد میں اب یہ صرف عورت کا حق بن جائے گا، لہٰذا بعد میں اگر عورت مہر کو معاف کرنا چاہے کہ سارا مہر ہی معاف کر دیتی ہے میں کچھ لیتی نہیں، بھئی بعد میں اب یہ خالص عورت کا حق بن گیا ہے لہٰذا وہ معاف کر سکتی ہے۔ لیکن ابتدائے نکاح کے اندر وہ کہے کہ نہیں میں مہر کے بغیر ہی نکاح کرنا چاہتی ہوں، نہیں بھئی ابتدائے نکاح میں یہ مہر خالص عورت کا حق نہیں ہے بلکہ شریعت کا بھی حق ہے لہٰذا مہر تو ضرور آئے گا۔ تو عند الاحناف ابتداءً مہر حق شرع بھی ہے اور حق المراء بھی ہے، اور بقاءً یا انتہاءً یہ جو مہر ہے یہ صرف کس کا حق ہے؟ عورت کا حق ہے وہ اس کو سارا معاف کر سکتی ہے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ اس ابتداء کو قیاس کرتے ہیں انتہاء پر، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مہر عورت کا حق ہے خالص اور جیسے انتہاءً عورت پورا مہر معاف کر سکتی ہے تو ابتداءً بھی یہ عورت ہی کا حق ہے وہ پورا مہر ابتداء سے ہی ساقط کر دے کہ میں بغیر مہر کے نکاح کرتی ہوں تو وہ کر سکتی ہے کیونکہ یہ خالص عورت کا حق ہے، ہم کہتے ہیں نہیں ابتداءً یہ حق شرع بھی ہے، ابتداءً ابتداء میں معاف نہیں کر سکتی مہر ضرور آئے گا نکاح کے اندر ذکر نہ بھی کرے تو مہر مثل آ جائے گا، ہاں بعد میں پھر یہ عورت کا حق بن گیا بعد میں وہ پورا مہر معاف کر سکتی ہے۔ تو کہتے ہیں: لَهُ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے أَنَّ الْمَهْرَ خَالِصُ حَقِّهَا کہ یہ مہر جو ہے خالص اس عورت کا حق ہے فَتَتَمَكَّنُ مِنْ نَفْيِهِ ابْتِدَاءً تو یہ عورت قادر ہے کہ اس مہر کی نفی کر دے ابتداء سے ہی یعنی ابتدائے نکاح سے ہی، كَمَا تَتَمَكَّنُ مِنْ إِسْقَاطِهِ انْتِهَاءً جیسے کہ عورت قادر ہے کہ وہ اس مہر کو ساقط کر سکتی ہے انتہاءً یعنی انتہاء کے اعتبار سے ساقط کر سکتی ہے معاف کر سکتی ہے، تو جب انتہاء میں معاف کر سکتی ہے تو شروع میں بھی معاف کر سکتی ہے۔ وَلَنَا: أَنَّ الْمَهْرَ وُجُوبًا حَقُّ الشَّرْعِ عَلَى مَا مَرَّ، وَإِنَّمَا يَصِيرُ حَقًّا لَهَا فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ فَتَمْلِكُ الْإِبْرَاءَ دُونَ النَّفْيِ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ مہر جو ہے یہ وجوب کے اعتبار سے شریعت کا حق ہے علی ما مر اس وجہ سے جو بات گزر گئی، قرآن میں اللہ کیا فرماتے ہیں: أَنْ تَبْتَغُوا بِأَمْوَالِكُمْ کہ اپنے مالوں کے ذریعے بیویوں کو تلاش کرو گے تو لہٰذا یہ حق شرع ہے، وَإِنَّمَا يَصِيرُ حَقًّا لَهَا فِي حَالَةِ الْبَقَاءِ اور یہ مہر عورت کا حق ہو جاتا ہے فی حالۃ البقاء بقائے نکاح کی صورت میں، بعد میں یہ کیا ہے؟ عورت کا حق بن جاتا ہے فَتَمْلِكُ الْإِبْرَاءَ دُونَ النَّفْيِ لہٰذا عورت معاف کرنے کی تو مالک ہے نفی کی مالک نہیں، یعنی بعد میں عورت مہر کو معاف کرنا چاہے اب یہ خالص اس کا حق ہے معاف کر سکتی ہے لیکن ابتداء سے ہی مہر کی نفی کر دے کہ مہر آئے گا ہی نہیں، نہیں اس کی نفی نہیں کر سکتی کیونکہ وہ حق شرع ہے، تو یہ معنی ہے: فَتَمْلِكُ الْإِبْرَاءَ دُونَ النَّفْيِ تو یہ عورت معاف کرنے کی مالک ہے یعنی بعد میں معاف کر سکتی ہے دون النفی نفی یعنی شروع سے ابتداء سے ہی نفی کر دے ایسا نہیں کر سکتی۔ وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَلَهَا الْمُتْعَةُ تو یہ اس کو بھی پچھلے متن سے جوڑیں، بات کیا چل رہی ہے؟ اگر مہر مقرر نہیں کیا یا مہر کی نفی کر دی پھر بھی کیا دینا پڑے گا؟ مہر مثل، ابھی بات گزری، جبکہ اگر اسی عورت کو صحبت سے پہلے طلاق دے تو کیا دینا پڑے گا؟ متعہ دینا پڑے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ وہی اب ذکر کر رہے ہیں: وَلَوْ طَلَّقَهَا قَبْلَ الدُّخُولِ بِهَا فَلَهَا الْمُتْعَةُ اور اگر اس عورت کو جس کا مہر مقرر نہیں کیا تھا اس کو اگر خاوند نے طلاق دے دی قبل الدخول بہا اس کے ساتھ صحبت کرنے سے پہلے ہی فَلَهَا الْمُتْعَةُ تو اس عورت کے لیے کیا ہے؟ متعہ ہے، لِقَوْلِهِ تَعَالَى دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ متعہ کیوں دینا پڑے گا؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: {وَمَتِّعُوهُنَّ} اور ان عورتوں کو تحفہ دو، ان عورتوں کو نفع دے دو کچھ تحفہ دے دو، {عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ} موسع یعنی مالدار بھئی، علی الموسع مالدار پر واجب ہے قدرہ اس کے بقدر، یعنی اگر مالدار ہے تو اعلیٰ کپڑے دے اور اگر غریب اور تنگدست ہے تو ادنیٰ کپڑے دے دے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ پوری آیت دیکھ لیجیے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {لَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ إِنْ طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ مَا لَمْ تَمَسُّوهُنَّ أَوْ تَفْرِضُوا لَهُنَّ فَرِيضَةً وَمَتِّعُوهُنَّ عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ مَتَاعًا بِالْمَعْرُوفِ حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ}، کہ تم پر کوئی حرج نہیں ہے اگر تم اپنی ان عورتوں کو طلاق دو جن کو تم نے ابھی چھوا نہیں یعنی جن سے ابھی صحبت نہیں کی یا جن کا تم نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا، وہ عورتیں جن کا تم نے کوئی مہر مقرر نہیں کیا تو ان کو طلاق دینے میں کوئی حرج نہیں یعنی تم طلاق دے سکتے ہو، اور ان کو نفع دے دو یعنی ان کو تحفہ دے دو، مالدار پر اس کے بقدر ہے اور جو تنگدست ہے یعنی غریب ہے اس پر اس کے بقدر ہے یعنی تحفہ، بات سمجھ میں آ گئی؟ مالدار اپنی وسعت کے بقدر تحفہ دے گا اور غریب اپنی وسعت کے بقدر تحفہ دے گا، متاعاً بالمعروف نفع دینا ہے اچھے طریقے سے، حقاً علی المحسنین اور یہ احسان کرنے والوں پر نیکی کرنے والوں پر حق ہے، یہ نیکی کرنے والوں پر حق ہے کہ وہ تحفہ دیں اس طرح اگر عورت کا مہر مقرر نہیں کیا اور اس کو طلاق دیتے ہیں، طلاق دے سکتے ہیں لیکن ان کو کوئی تحفہ دے دیں۔ ثُمَّ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَاجِبَةٌ رُجُوعًا إِلَى الْأَمْرِ پھر یہ متعہ واجب ہے ہمارے نزدیک رجوعاً الی الامر امر کی طرف رجوع کرتے ہوئے، بھئی آیت کے اندر امر کا صیغہ اللہ نے استعمال فرمایا ہے: {وَمَتِّعُوهُنَّ}، یہ دیکھو امر کا صیغہ ہے ان عورتوں کو نفع دے دو، ان عورتوں کو تحفہ دے دو، تو یہ امر کا صیغہ آیا ہے اور امر وجوب کے لیے آتا ہے لہٰذا یہ متعہ دینا ہمارے نزدیک واجب ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ هَذِهِ الْمُتْعَةُ وَاجِبَةٌ رُجُوعًا إِلَى الْأَمْرِ پھر یہ متعہ واجب ہے ہمارے نزدیک امر کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ یہ امر کا صیغہ ہے یہاں پر، وَفِيهِ خِلَافُ مَالِكٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اس میں امام مالک رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ متعہ دینا مستحب ہے واجب نہیں، وہ کہتے ہیں دیکھو قرآن میں اللہ نے کیا فرمایا: {حَقًّا عَلَى الْمُحْسِنِينَ} کہ یہ حق ہے کس پر؟ نیکی کرنے والوں پر، معلوم ہوا متعہ دینے والوں کو محسنین کہا گیا نیکی کرنے والے، اور کسی کے ساتھ نیکی کرنا واجب نہیں ہوتا، احسان اور نیکی کسی کے ساتھ کرنا واجب نہیں آپ کی مرضی ہے نیکی کریں یا نیکی نہ کریں، تو دیکھا یہ محسنین کا لفظ بتلا رہا ہے کہ یہ متعہ مستحب ہے واجب نہیں، یہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ ایک تو {وَمَتِّعُوهُنَّ} امر کا صیغہ آیا اور امر کس لیے آتا ہے؟ وجوب کے لیے، پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: {عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ} یہاں علیٰ آیا اور علیٰ لزوم اور وجوب کے لیے آتا ہے، مثلاً میں آپ پر کوئی کام واجب کرنا چاہتا ہوں تو میں آپ کو کہوں گا: عَلَيْكَ أَنْ تَفْعَلَ هَذَا، آپ پر واجب ہے ایسا کرنا آپ پر لازم ہے ایسا کرنا، تو علیٰ کس لیے آتا ہے؟ لزوم اور وجوب کے لیے، تو یہاں بھی علیٰ آیا، اور نیز اسی طرح متاعاً بالمعروف مفعول مطلق آ گیا، مفعول مطلق ضَرَبْتُهُ ضَرْبًا یہ مفعول مطلق کس لیے آتا ہے؟ اس فعل میں تاکید پیدا کر دیتا ہے اس میں زور پیدا کر دیتا ہے، تو دیکھو یہاں مَتِّعُو کے بعد متاعاً مفعول مطلق آیا اس نے اس میں تاکید پیدا کر دی زور پیدا کر دیا، معلوم ہوا دینا ضروری ہے اللہ تعالیٰ زور دے رہے ہیں بات سمجھ میں آ رہی ہے، اور نیز اور نیز حقاً آ گیا آگے حقاً، معلوم ہوا یہ نیکی کرنے والوں پر حق ہے اور حق کی ادائیگی بھی واجب ہوتی ہے، تو ہمارے نزدیک امر کا صیغہ آیا، اسی طرح علیٰ آیا، اسی طرح متاعاً مفعول مطلق آیا اور اسی طرح حقاً آیا یہ ساری چیزیں وجوب پر دلالت کر رہی ہیں۔ اور باقی آپ نے کہا تھا محسنین کے لفظ سے پتہ چل رہا ہے نیکی کرنے والے اور نیکی تو واجب نہیں ہوتی تو اس کا بھی ہم جواب دیتے ہیں کہ مطلب یہ ہے کہ جو لوگ جو واجب کو بھی ادا کرتے ہیں، محسنین سے مراد وہ ہیں جو واجب کو ادا کرتے ہیں اور کچھ مزید زائد بھی اپنی طرف سے دیتے ہیں یہ ہیں محسنین بھئی، واجب پر بھی عمل کرتے ہیں اور کچھ مزید احسان بھی کرتے ہیں نیکی کرتے ہیں کچھ زائد بھی اپنی طرف سے دے دیتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہمارے نزدیک یہ واجب ہے۔ وَالْمُتْعَةُ: ثَلَاثَةُ أَثْوَابٍ مِنْ كِسْوَةِ مِثْلِهَا، وَهِيَ دِرْعٌ وَخِمَارٌ وَمِلْحَفَةٌ اور متعہ جو ہے وہ تین کپڑے ہیں اس جیسی عورت کے کپڑوں میں سے، یعنی اس جیسی عورتیں جس طرح کے کپڑے استعمال کرتی ہیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ اگر متوسط درجے کی ہے تو متوسط، اگر مالدار ہے تو اعلیٰ دینا پڑے گا، غریب ہے تو ادنیٰ دینا پڑے گا۔ وَهِيَ دِرْعٌ، درع یہ قمیص کو کہتے ہیں لمبی قمیص، وَهِيَ دِرْعٌ اور وہ تین کپڑے جو ہیں درع بڑی قمیص ہے، وَخِمَارٌ اور دوپٹہ ہے، وَمِلْحَفَةٌ اور اوڑھنی ہے یعنی بڑی چادر ہے۔ وَهَذَا التَّقْدِيرُ مَرْوِيٌّ عَنْ عَائِشَةَ وَابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، وَقَوْلُهُ: ”مِنْ كِسْوَةِ مِثْلِهَا“ إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ يُعْتَبَرُ حَالُهَا، وَهُوَ قَوْلُ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمُتْعَةِ الْوَاجِبَةِ؛ لِقِيَامِهَا مَقَامَ مَهْرِ الْمِثْلِ، وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ حَالُهُ عَمَلًا بِالنَّصِّ وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ}، ثُمَّ هِيَ لَا تُزَادُ عَلَى نِصْفِ مَهْرِ مِثْلِهَا، وَلَا تُنْقَصُ عَنْ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ، وَيُعْرَفُ ذَلِكَ فِي الْأَصْلِ اور یہ اندازہ روایت کیا گیا ہے حضرت عائشہ اور حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھئی، انہوں نے متعہ کا اندازہ ان تین کپڑوں سے لگایا ہے، تو یہ تین کپڑے دینے پڑیں گے۔ اور صاحب قدوری کا یہ جو قول ہے: مِنْ كِسْوَةِ مِثْلِهَا، یہ جو لفظ انہوں نے استعمال کیے اس کے اندر إِشَارَةٌ إِلَى أَنَّهُ يُعْتَبَرُ حَالُهَا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ عورت کی حالت معتبر ہے، یعنی عورت کی حیثیت دیکھی جائے گی کہ عورت کس خاندان کی ہے۔ وَهُوَ قَوْلُ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمُتْعَةِ الْوَاجِبَةِ اور یہی قول ہے امام کرخی رحمہ اللہ کا متعہ واجبہ میں، وہ فرماتے ہیں عورت کی حالت کے مطابق تین کپڑے دینے پڑیں گے، لِقِيَامِهَا مَقَامَ مَهْرِ الْمِثْلِ اس لیے کیونکہ یہ مہر مثل کے قائم مقام ہے اور مہر مثل میں تو بالاتفاق عورت کی حالت دیکھی جاتی ہے لہٰذا متعہ میں بھی عورت کی حالت دیکھی جائے گی۔ آگے صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَالصَّحِيحُ أَنَّهُ يُعْتَبَرُ حَالُهُ عَمَلًا بِالنَّصِّ اور صحیح یہ ہے کہ مرد کی حالت معتبر ہے نص پر عمل کرتے ہوئے، وَهُوَ قَوْلُهُ تَعَالَى اور نص کیا ہے؟ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: {عَلَى الْمُوسِعِ قَدَرُهُ وَعَلَى الْمُقْتِرِ قَدَرُهُ} مالدار پر اس کے بقدر ہے اور تنگدست اور غریب پر اس کے بقدر ہے، معلوم ہوا مرد کی حالت معتبر ہے، کس کی حالت معتبر ہے؟ مرد کی حالت معتبر ہے یہ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں دونوں کی حالت کی رعایت کی جائے گی، دونوں کی حالت کی رعایت کی جائے گی اس لیے کیونکہ قرآن کے اندر مرد کی حالت تو ذکر ہے کہ مرد کی حالت کا اعتبار ہے لیکن عورت کی حالت کا بھی اعتبار ہے یا نہیں یہ تو قرآن میں ذکر نہیں لہٰذا عورت کی حالت کا اعتبار کرنے کی وہاں نفی نہیں ہے، تو دونوں کی حالت کا اعتبار کیا جائے گا یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں۔ لہٰذا اگر دونوں مالدار ہیں تو پھر تو مالداروں والا متعہ دے گا، اگر دونوں تنگدست ہیں اور غریب ہیں تو پھر غریبوں والا متعہ دے گا، اور دونوں میں سے اگر ایک مالدار ہے اور ایک غریب ہے تو پھر متوسط درجے کا متعہ دیا جائے گا، یہ بعض فقہاء فرماتے ہیں بات سمجھ میں آ گئی۔ ثُمَّ هِيَ لَا تُزَادُ عَلَى نِصْفِ مَهْرِ مِثْلِهَا وَلَا تُنْقَصُ عَنْ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ پھر یہ جو متعہ ہے اس کو بڑھایا نہیں جائے گا اس عورت کے نصف مہر مثل پر، اس کے نصف مہر مثل پر اس کو بڑھایا نہیں جائے گا، وَلَا تُنْقَصُ عَنْ خَمْسَةِ دَرَاهِمَ اور نیز پانچ درہم سے اس کو کم بھی نہیں کیا جائے گا۔ بھئی دیکھیے جب مہر مقرر کرتے تھے تو نصف مہر آتا تھا، توجہ ہے؟ لہٰذا یہاں پر مہر مقرر ہی نہیں کیا، جب مقرر ہی نہیں کیا تو پھر اگر صحبت کر لی تو مہر مثل آ جائے گا، اور صحبت سے پہلے طلاق دے دی تو متعہ آئے گا، تو یہ متعہ بھی نصف مہر مثل سے زائد نہیں ہونا چاہیے یعنی نصف مہر مثل سے زائد ہونا لازم نہیں ہے، نصف مہر مثل سے زائد ہونا لازم نہیں ہے کہ زبردستی خاوند کو کہا جائے کہ نہیں اس سے نصف سے زیادہ کا دینا پڑے گا نہیں نہیں، زیادہ جتنا وہ دینا چاہے وہ خاوند کی مرضی ہے بھئی لیکن بہرحال لازم نہیں ہے نصف سے زائد دینا۔ اور مہر کم سے کم کتنا ہوتا ہے؟ دس درہم، اور دس درہم کا نصف کتنا ہے؟ پانچ درہم، تو لہٰذا پانچ درہم سے بھی کم نہیں ہونا چاہیے کسی حال میں متعہ کو، بات سمجھ میں آ گئی۔ وَيُعْرَفُ ذَلِكَ فِي الْأَصْلِ اور یہ بات معلوم ہوتی ہے اصل یعنی مبسوط سے، اصل سے کیا مراد ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کی کتاب مبسوط۔ کہتے ہیں مبسوط سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ نصف مہر مثل سے زائد ہونا لازمی نہیں اور پانچ درہم سے کم نہیں ہونا چاہیے متعہ کو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ حل ہو گیا، چلیے بس بھئی: هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 26 of 160