Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-082

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 81
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
وَالنَّفَقَةُ لِكُلِّ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ إِذَا كَانَ صَغِيرًا فَقِيرًا أَوْ كَانَتْ امْرَأَةً بَالِغَةً فَقِيرَةً أَوْ كَانَ ذَكَرًا بَالِغًا فَقِيرًا زَمِنًا أَوْ أَعْمَى، لِأَنَّ الصِّلَةَ فِي الْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَاجِبَةٌ دُونَ الْبَعِيدَةِ، وَالْفَاصِلُ أَنْ يَكُونَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایت نے آپ کو بتلایا تھا کہ کسی آدمی پر اس کے ماں باپ اور اس کے تمام اجداد اور تمام جدات کا نفقہ واجب ہوگا جب وہ فقیر ہوں، اگرچہ ان کا دین اس آدمی سے مختلف ہی کیوں نہ ہو بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے دلیل ذکر فرمائی تھی کہ ماں باپ چاہے کافر ہی کیوں نہ ہوں، پھر بھی نفقہ جو ہے اس مسلمان شخص پر آئے گا، کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا، کہ والدین کے ساتھ رہو دنیا میں معروفاً اچھے طریقے کے ساتھ۔ تو اللہ نے والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کا حکم دیا ہے، اور کوئی شخص خود تو اللہ کی نعمتوں کے اندر زندگی گزار رہا ہو اور والدین کو بھوک سے مرنے کے لیے چھوڑ دے، تو یہ تو اچھے طریقے میں سے نہیں ہے جبکہ اللہ نے تو والدین کے ساتھ اچھے طریقے سے رہنے کا حکم دیا ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ آیت جو ہے حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے والدین کے بارے میں نازل ہوئی۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایمان لے آئے، اور یہ والدہ کے سب سے محبوب بیٹے تھے۔ تو لہٰذا ان کی والدہ کو جب پتہ چلا کہ میرا بیٹا جو ہے وہ مسلمان ہو گیا ہے، تو انہوں نے سعد سے کہا کہ اب میں نہ کسی سائے میں بیٹھوں گی اور نہ ہی میں کھاؤں گی پیوں گی جب تک تم اس دین کو چھوڑ نہیں دیتے۔ چنانچہ تین دن گزر گئے بھئی، اسی طرح نہ تو کسی سائے میں بیٹھ رہی ہیں اور نہ کچھ کھا رہی ہیں نہ پی رہی ہیں، یہاں تک کہ ان پر بے ہوشی طاری ہونے لگی بھئی۔ حضرت سعد ابن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ انہوں نے تین دن تک تو صبر کیا لیکن جب والدہ کی یہ حالت دیکھی تو حضور علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور یہ شکایت پیش فرمائی۔ تو اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي، اور اگر تمہارے والدین تم پر زور ڈالیں کہ تم میرے ساتھ شریک بناؤ، مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ، اس چیز کو جس کی تمہارے پاس کوئی دلیل نہیں ہے، فَلَا تُطِعْهُمَا، تو ان کی فرماں برداری مت کرنا، وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا، اور ان کے ساتھ دنیا میں اچھے طریقے سے رہو بھئی۔ تو معلوم ہوا والدین جب گناہ کا یا شرک وغیرہ کا حکم دیں تو ان کی بات نہیں مانی جائے گی، لیکن ان کو رد بھی کیا جائے تو بھی اچھے طریقے سے رد کیا جائے جس سے ان کو تکلیف نہ ہو بھئی۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے پھر بتلایا کہ یہ تو ماں باپ کا حکم تھا اور اسی طرح اجداد اور جدات بھی ہیں بھئی، کیونکہ یہ اجداد بھی آبا میں سے ہیں، یہ بھی انسان کے اب ہیں، البتہ درمیان میں واسطہ آ جاتا ہے۔ اور اسی طرح جدات جو ہیں وہ انسان کی امہات میں سے ہیں بھئی، البتہ درمیان میں واسطہ آ جاتا ہے۔ تو لہٰذا یہ ماں باپ کے قائم مقام ہیں اور ماں باپ کا نفقہ انسان پر ہر حال میں آتا ہے، تو اگر یہ اجداد اور جدات بھی فقراء ہوں تو ان کا نفقہ بھی انسان پر آئے گا چاہے دین مختلف ہی کیوں نہ ہو۔ اور نیز اس لیے کیونکہ یہ سبب بنے ہیں اس شخص کو زندگی دینے کا، لہٰذا یہ بھی مستحق ہیں کہ ان کو بھی زندگی دی جائے یعنی ان کے نفقے کا انتظام کیا جائے جب ان کے پاس نفقہ نہ ہو بھئی۔ البتہ یہ شرط ہے کہ ان کا نفقہ اس وقت انسان پر واجب ہوگا جب یہ فقیر ہوں، اس لیے کیونکہ اگر یہ مالدار ہیں تو پھر تو انسان کا نفقہ اپنے ہی مال میں واجب ہوتا ہے، کسی اور کے مال میں اس کو واجب نہیں کیا جا سکتا۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اختلافِ دین کی صورت میں صرف بیوی اور اصول اور فروع، ان کا نفقہ انسان پر آتا ہے بھئی۔ بیوی کا تو نفقہ اس لیے آئے گا کیونکہ اس کے ساتھ عقدِ نکاح کیا ہے، انسان نے خود اپنے اوپر اس کے نفقے کو لازم کیا ہے، تو وہاں جب احتباس موجود ہے تو وہاں اس کا نفقہ بھی دینا پڑے گا۔ جبکہ باقی جو ہیں، اصول اور فروع، وہاں پر جزئیت والا تعلق ہے کہ یہ سب ایک دوسرے کا جز ہیں بھئی۔ بیٹا باپ کا جز ہے تو باپ بیٹے کا جز ہے بھئی۔ دونوں ایک دوسرے کے جز ہیں نا، بیٹا کس کا جز؟ باپ کا، تو ظاہر سی بات ہے باپ کس کا جز؟ بیٹے کا جز ہے۔ تو ان میں جزئیت والا تعلق ہے، اور انسان کا جز اس کی اپنی ذات کے درجے میں ہوتا ہے، اور جیسے انسان کی اپنی ذات کا خرچہ اس کے اپنے اوپر ہی آتا ہے، کفر سے اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا، اسی طرح اپنے جز کا نفقہ بھی اسی انسان پر آئے گا، اس کفر کی وجہ سے اس پر کوئی فرق نہیں پڑے گا بھئی۔ البتہ یہ اس وقت ہے کہ جب یہ اصول اور فروع ذمی ہوں بھئی۔ اگر یہ حربی ہیں دار الحرب میں رہتے ہیں تو پھر ان کا نفقہ اس شخص پر واجب نہیں ہوگا بھئی۔ اس لیے کیونکہ جو لوگ ہم سے دین کے معاملے میں لڑائی کرتے ہیں، ان کے ساتھ اللہ نے نیکی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ اور اسی طرح دو بھئی ہیں، ایک مسلمان ہے اور ایک غیر مسلم ہے، تو اس صورت میں ایک کا نفقہ دوسرے پر واجب نہیں ہوگا۔ اس لیے کیونکہ نفقے کا تعلق وراثت سے ہے بھئی۔ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، کہ وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے، یعنی اگر بچے کا باپ زندہ نہیں ہے تو اس کے وارث پر اس کا نفقہ آئے گا بھئی۔ جبکہ ایک بھئی مسلمان ہے اور ایک غیر مسلم ہے، تو پھر یہ تو ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے، جب یہ ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے تو لہٰذا ان کا ایک دوسرے پر نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں آزادی، آزادی جو ہے مثلاً کوئی اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنتا ہے تو مالک بنتے ہی اگلے لمحے کے اندر ہی وہ آزاد ہو جاتا ہے، چاہے اس قریبی محرم رشتہ دار کا دین الگ ہی کیوں نہ ہو۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ نفقے کے اندر تو آپ نے شرط لگائی کہ دونوں کا دین ایک ہونا چاہیے، لیکن قریبی محرم رشتہ دار کی آزادی کے معاملے کے اندر آپ نے دین کے ایک ہونے کی شرط نہیں لگائی، تو اس فرق کی وجہ کیا ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ بھئی یہ جو نفقے کا تعلق وراثت سے ہے وہ خود قرآن سے ثابت ہے: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، اور جبکہ قریبی محرم رشتہ دار کا آزاد ہونا یہ حدیث سے ثابت ہے۔ حدیث میں آیا ہے: مَنْ مَلَكَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنْهُ عَتَقَ عَلَيْهِ، جو اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مالک بنا وہ اس پر آزاد ہو جائے گا۔ تو یہاں پر حدیث کے اندر دیکھو دین کے مختلف ہونے کو ذکر نہیں کیا گیا، جبکہ نفقے کا تعلق وراثت سے ہے، اور وراثت کے اندر تو جب دین مختلف ہو تو ایک دوسرے کے وارث نہیں بنتے تو نفقہ بھی نہیں آئے گا۔ اور پھر عقلی دلیل بھی ذکر فرمائی تھی صاحبِ ہدایہ نے بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ یہ جو قریبی رشتہ داری ہے یہ احسان کو واجب کرتی ہے، اور دین ایک ہو تو اس صورت میں اس میں اور زیادہ تاکید آ جاتی ہے، یعنی یہ علتِ مؤکدہ بن گئی بھئی۔ قریبی رشتہ داری یہ علت ہے احسان کی، اور اگر دین بھی ایک ہو تو اس کے اندر تاکید آ گئی، اور زیادہ زور آ گیا کہ اس رشتہ دار سے اچھا سلوک کرو۔ تو لہٰذا جب دین بھی ایک ہو تو اب یہ علتِ مؤکدہ بن گئی۔ تو ایک ہے نفسِ علت یعنی قریبی رشتہ داری، اور ایک ہے علتِ مؤکدہ کہ قریبی رشتہ داری کے ساتھ دین بھی ایک ہو۔ اور دوسری طرف دیکھیں تو وہاں پر قریبی رشتہ دار کا کوئی مالک بنے تو یہ دوامِ ملکیت جو ہے یہ قطعِ رحمی کا سبب ہے۔ اگر اس ملکیت کو دائم قرار دیا جائے کہ قریبی محرم رشتہ دار آزاد نہیں ہوگا بلکہ یہ اسی کا مملوک رہے گا، پھر تو اس کے اندر قطعِ رحمی ہے بھئی، رشتے کو توڑنا ہے بھئی، اور اسلام نے تو رشتے کو توڑنے سے منع کیا ہے۔ تو دیکھو دوامِ ملک جو ہے اس کی وجہ سے بھی قطعِ رحمی آتی ہے، اور حرمانِ نفقہ کی وجہ سے بھی قطعِ رحمی آتی ہے، لیکن دوامِ ملکیت وہ قطعِ رحمی میں بڑھ کر ہے وہ اعلیٰ ہے، اور حرمانِ نفقہ وہ قطعِ رحمی کے اندر ادنیٰ ہے بھئی۔ تو لہٰذا جو اعلیٰ ہے اس کو دور کرنا ضروری ہے، تو وہ نفسِ علت کے ذریعے ہی دور ہو جائے گا اور ختم ہو جائے گا۔ لہٰذا قریبی محرم رشتہ دار ہے تو جیسے ہی مالک بنے گا تو علت یعنی قریبی رشتہ داری پائی گئی یعنی قریبی رشتہ دار بھی ہے اور محرم بھی ہے، تو وہ فوراً آزاد ہو جائے گا۔ جبکہ حرمانِ نفقہ وہ قطعِ رحمی کے اندر ادنیٰ ہے، تو صرف علت کافی نہیں اس کو دور کرنے کے لیے بلکہ علتِ مؤکدہ چاہیے بھئی۔ ایسی علت چاہیے جس میں تاکید ہو، زور ہو، قوت ہو، تو اس کے لیے علتِ مؤکدہ جو ہے وہ اس کو دور کر دے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا دونوں میں فرق آ گیا، نفقے اور آزادی میں فرق آ گیا کہ نفقے کے اندر علتِ مؤکدہ ہونا ضروری ہے پھر ہی نفقہ واجب ہوگا، اور آزادی جو ہے اس کے اندر نفسِ علت بھی کافی ہے، نفسِ علت یعنی قریبی رشتہ داری موجود ہے تو آزادی ثابت ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ والدین کے نفقے میں اولاد کے ساتھ کوئی اور رشتہ دار شریک نہیں ہوگا۔ ایک شخص جو ہے اس کے والدین فقیر ہیں محتاج ہیں اور یہ مالدار ہے، تو یہ فقیر ماں باپ کا نفقہ اسی اولاد پر ہی آئے گا، کسی اور رشتہ دار پر نہیں آئے گا بھئی۔ وجہ اس کی یہ ہے کیونکہ یہ جو ماں باپ ہیں ان کے لیے تاویل کی گئی ہے انسان کے مال میں حدیث کے ذریعے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ فقہاء فرماتے ہیں کہ باپ کا مال الگ ہوتا ہے اور اولاد کا مال الگ ہوتا ہے، لیکن حدیث کے اندر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی سے فرمایا: أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ، کہ تم اور تمہارا مال تمہارے باپ کے ہیں۔ تو حقیقت کے اندر تو مال الگ ہے لیکن حضور علیہ السلام نے اولاد کے مال کو بھی باپ کا مال قرار دیا۔ تو جب اولاد کا مال موجود ہے تو اس کا مطلب ہے باپ مالدار ہے، کیونکہ اولاد کا مال اسی کا مال ہے۔ تو جب اولاد کا مال موجود ہے تو باپ مالدار ہوا، جب باپ مالدار ہے تو وہ اپنے اسی مال میں سے کھائے گا، کسی اور رشتہ دار پر اس کا نفقہ نہیں آئے گا۔ اسی لیے کہا کہ اولاد پر اس کا نفقہ آئے گا کیونکہ یہ اس کے مال کے درجے میں ہے بھئی۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ حدیث کے اندر بیٹے کے مال کو باپ کا مال قرار دیا گیا، تو اس کا تو تقاضا یہ ہے کہ باپ کو بیٹے کے سارے مال کا مالک ہونا چاہیے، بیٹے کے سارے مال کا مالک ہونا چاہیے، تو اس کا جواب دیتے ہیں کہ بھئی اور احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ باپ حاجت اور ضرورت کے وقت مال کا مالک بنتا ہے، ویسے مالک نہیں بنتا۔ چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حدیث ہے، وہ فرماتی ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: إِنَّ أَوْلَادَكُمْ هِبَةٌ لَكُمْ، کہ تمہاری اولاد تمہارے لیے اللہ کی عطا ہے، اللہ کا تحفہ ہے، يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ، اللہ جس کو چاہتے ہیں مؤنث اولاد نصیب فرماتے ہیں اور جس کو چاہتے ہیں مذکر اولاد نصیب فرماتے ہیں، وَأَمْوَالُهُمْ لَكُمْ، اور یہ جو اولاد کے مال ہیں یہ بھی تمہارے لیے ہیں، إِذَا احْتَجْتُمْ إِلَيْهَا، جب تم اس کے محتاج ہو جاؤ۔ جب تم محتاج ہو جب تمہیں حاجت ہو تو پھر یہ اولاد کا مال بھی تمہارا مال ہے۔ معلوم ہوا باپ کا مال الگ ہے، ہاں احتیاج کے وقت وہ اولاد کے مال کا مالک بن جاتا ہے بھئی۔ نیز اسی طرح قرآن کے اندر میت کا وارث اگر بیٹا اور باپ ہوں، تو بیٹے کی موجودگی میں میت کے باپ کو چھٹا حصہ ملتا ہے، سدس ملتا ہے۔ تو اگر باپ بیٹے کے مال کا مالک تھا، پھر تو اس میت کے سارے مال کا مالک اسی باپ کو ہونا چاہیے، لیکن اللہ نے باپ کو سارے مال کا مالک قرار نہیں دیا، باپ کے لیے صرف چھٹا حصہ ہے اور باقی مال اس میت کے بیٹے کا ہوگا۔ معلوم ہوا حقیقت کے اندر باپ بیٹے کے مال کا مالک نہیں ہے، صرف ضرورت اور حاجت کے وقت وہ مالک بنتا ہے۔ اور نیز دوسری دلیل صاحبِ ہدایہ نے یہ ذکر فرمائی کہ یہ جو اولاد ہے یہ ماں باپ کا جز ہے، لوگوں میں یہ سب سے زیادہ قریب ہیں اپنے ماں باپ کے، جب یہ سب سے زیادہ قریب ہیں تو ماں باپ کا نفقہ بھی انہی پر واجب ہونا چاہیے کسی اور پر نہیں۔ اور ماں باپ کے نفقے میں مذکر اور مؤنث اولاد برابر ہیں ظاہرِ روایت کے مطابق۔ یعنی ماں باپ فقیر اور محتاج ہیں اور ان کا ایک بیٹا اور بیٹی ہیں اور دونوں مالدار ہیں، تو اس صورت میں نصف نفقہ بیٹے پر آئے گا اور نصف نفقہ بیٹی پر آئے گا۔ جبکہ امام سرخسی رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے جو وہ امام صاحب سے نقل فرماتے ہیں کہ والدین کا نفقہ اولاد پر میراث کے بقدر آئے گا۔ اور ایک شخص کا انتقال ہو اور اس کا بیٹا بھی ہو اور بیٹی بھی موجود ہو تو بیٹے کو بیٹی کے مقابلے میں دگنا حصہ ملتا ہے: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، بیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ ملتا ہے، تو لہٰذا نفقے کے اندر بھی بیٹے پر بیٹی کے مقابلے میں دگنا خرچہ آئے گا۔ لہٰذا اگر ہزار روپیہ دونوں کے ایک دن کا خرچہ ہے تو اس ہزار کے تین حصے کیے جائیں گے، ایک حصہ بیٹی پر آئے گا اور دو حصے بیٹے پر آئیں گے، یہ امام سرخسی رحمہ اللہ کی روایت کے اندر ہے جو انہوں نے امام صاحب سے نقل فرمائی ہے بھئی۔ لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ صحیح قول وہی ہے جو ظاہرِ روایت کے اندر آ گیا کہ بیٹا اور بیٹی دونوں برابر ہیں بھئی۔ بیٹا اور بیٹی دونوں برابر ہیں اس لیے کیونکہ یہ علت دونوں کو شامل ہے۔ یہ جو حدیث میں تاویل کی گئی اور یہ جو لوگوں میں سب سے زیادہ قریب ہیں، تو اس کے اندر بیٹا اور بیٹی دونوں شامل ہیں۔ تو یوں کہو کہ جو صاحبِ ہدایہ نے علت بیان فرمائی وہ علت دونوں کو شامل ہے، بیٹے کو بھی اور بیٹی کو بھی، لہٰذا دونوں پر نفقہ برابری کے ساتھ آئے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: وَالنَّفَقَةُ لِكُلِّ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ إِذَا كَانَ صَغِيرًا فَقِيرًا أَوْ كَانَتْ امْرَأَةً بَالِغَةً فَقِيرَةً أَوْ كَانَ ذَكَرًا بَالِغًا فَقِيرًا زَمِنًا أَوْ أَعْمَى۔ بھئی اب اور رشتہ دار جو ہیں، ان کا نفقہ کس صورت میں انسان پر آئے گا اور کس صورت میں نہیں آئے گا، اب اس کو صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں۔ یاد رکھو کوئی بھی رشتہ دار ہے اور وہ تنگدست ہے تو آپ فوراً یہ حکم نہ لگا دینا کہ اس کا نفقہ اس مالدار آدمی پر آئے گا۔ اس لیے کیونکہ اگر ایک شخص بالغ ہے اور وہ کام کاج کر سکتا ہے، اپنی کمائی کر سکتا ہے، تو پھر اس صورت میں چاہے وہ تنگدست ہی کیوں نہ ہو، اس کا نفقہ کسی پر واجب نہیں کیا جائے گا، اس کو خود کما کر اپنے نفقے کا انتظام کرنا پڑے گا۔ تو لہٰذا کن کن صورتوں میں اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ کسی پر آئے گا، اب صاحبِ ہدایہ وہ بیان فرمائیں گے۔ تو اس میں یاد رکھنا، سب سے پہلے تو دو چیزوں کا ہونا ضروری ہے کہ وہ رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو۔ کہ وہ رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو، یہ دو شرطیں تو ہونا ضروری ہیں۔ اور اس کے بعد پھر تیسری شرط کہ ان کا فقیر اور تنگدست ہونا بھی ضروری ہے۔ اور پھر اس کے بعد دیکھیں گے کہ اگر وہ رشتہ، وہ جو قریبی محرم رشتہ دار ہے جو فقیر ہے وہ یا بالغ ہوگا یا نابالغ ہوگا۔ اگر وہ نابالغ ہے تو اس کا خرچہ اس قریبی محرم رشتہ دار پر آئے گا، اگر وہ نابالغ ہیں کیونکہ جب وہ نابالغ ہے تو وہ محتاج ہے، اس کے پاس مال بھی نہیں ہے تو اس کا خرچہ انسان کو دینا پڑے گا۔ اور اگر وہ قریبی محرم رشتہ دار جو فقیر ہے، وہ اگر مؤنث ہے تو پھر اس صورت میں بھی اس کا نفقہ انسان پر واجب ہوگا چاہے وہ بالغہ ہی کیوں نہ ہو، اس لیے کیونکہ جب وہ عورت ہے تو وہ محتاج ہے، جب محتاج ہے تو اس حاجت کی وجہ سے اب اس کا نفقہ اس انسان پر واجب ہوگا۔ اور اگر وہ جو رشتہ دار قریبی محرم رشتہ دار ہے جو فقیر ہے، اگر وہ مرد ہے تو اس صورت میں میں نے بتلا دیا کہ پھر اس صورت میں اگر وہ کمانے کے قابل ہے تو اس کا خرچہ کسی پر نہیں آئے گا، وہ اس کو خود محنت کرنا پڑے گی، لیکن اگر وہ اپاہج ہے یا اندھا ہے، وہ بالغ مرد جو ہے وہ اپاہج ہے یا اندھا ہے تو پھر اس کا خرچہ اس قریبی محرم رشتہ دار پر آ جائے گا۔ معلوم ہوا ایسا قریبی محرم رشتہ دار جو فقیر ہے اس کا خرچہ انسان پر آئے گا، لیکن یا تو وہ قریبی محرم رشتہ دار وہ صغیر ہونا چاہیے نابالغ ہو، اگر بالغ ہے تو وہ عورت ہو، وہ عورت ہو مؤنث ہو، اور اگر وہ بالغ مرد ہے تو پھر اس صورت میں نفقہ آئے گا جب وہ اپاہج ہو یا اندھا ہو، کیونکہ جب وہ اپاہج ہے یا وہ اندھا ہے تو وہ محتاج ہوا بھئی، لہٰذا اس کا نفقہ بھی انسان پر آ جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَالنَّفَقَةُ لِكُلِّ ذِي رَحِمٍ مَحْرَمٍ، اور نفقہ واجب ہوگا ہر قریبی محرم رشتہ دار کے لیے، إِذَا كَانَ صَغِيرًا فَقِيرًا، جب وہ ایسا نابالغ ہو جو فقیر ہو، أَوْ كَانَتْ امْرَأَةً بَالِغَةً فَقِيرَةً، یا ایسی عورت ہے جو بالغہ ہے فقیرہ ہے، أَوْ كَانَ ذَكَرًا، یا وہ ایسا مرد ہے، بَالِغًا فَقِيرًا، جو بالغ ہے فقیر ہے، زَمِنًا أَوْ أَعْمَى، زَمِن کہتے ہیں اپاہج کو بھئی، اَعْمٰی کہتے ہیں اندھے کو، تو کہتے ہیں: أَوْ كَانَ ذَكَرًا بَالِغًا فَقِيرًا زَمِنًا أَوْ أَعْمَى، یا ایسا مرد ہو جو بالغ ہو فقیر ہو اور اپاہج ہو یا اندھا ہو، لِأَنَّ الصِّلَةَ فِي الْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَاجِبَةٌ دُونَ الْبَعِيدَةِ۔ بھئی متن کے اندر پہلی قید آئی تھی کہ وہ قریبی محرم رشتہ دار ہو۔ قریبی محرم رشتہ دار ہو۔ یاد رکھو قریبی رشتہ دار کا نفقہ انسان پر واجب ہوتا ہے، دور کے رشتہ دار کا نفقہ واجب نہیں ہوتا۔ اب قریبی رشتہ دار کون سا ہے اور دور والا رشتہ دار کون سا ہے اس کا پتہ کیسے چلے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اس کا پتہ محرمیت سے چلے گا، اگر وہ رشتہ دار محرم بھی ہے آپ کا، یعنی اس کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوتا کسی صورت میں بھی، تو اس صورت میں معلوم ہوا وہ آپ کا قریبی رشتہ دار ہے، اور اگر رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں معلوم ہوا وہ قریبی رشتہ دار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الصِّلَةَ فِي الْقَرَابَةِ الْقَرِيبَةِ وَاجِبَةٌ دُونَ الْبَعِيدَةِ، اور اس لیے کیونکہ احسان جو ہے وہ قریبی رشتہ داری میں واجب ہے، دُونَ الْبَعِيدَةِ، نہ کہ دور کی رشتہ داری میں، وَالْفَاصِلُ أَنْ يَكُونَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، اور وہ چیز جو فرق کرنے والی ہے، قریب کی اور دور کے رشتہ داری میں جو چیز فرق کرنے والی ہے، تو کہتے ہیں: وَالْفَاصِلُ أَنْ يَكُونَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، اور وہ چیز جو قریبی اور دور کی رشتہ داری میں فرق کرنے والی ہے: أَنْ يَكُونَ ذَا رَحِمٍ مَحْرَمٍ، وہ ایسا قریبی رشتہ دار ہو جو محرم ہو، تو قریبی رشتہ دار بھی ہو اور محرم بھی ہو معلوم ہوا یہ قریبی رشتہ دار ہے۔ وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: اور تحقیق اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، اور وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے، یعنی اگر نابالغ اولاد کے باپ کا انتقال ہو چکا ہے تو اس کے جو رشتہ دار ہیں ان پر اسی باپ کی طرح ذمہ داری ہے، وہ اس بچے کے نفقے کا انتظام کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، اور وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے، وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت میں ہے: وَعَلَى الْوَارِثِ ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ مِثْلُ ذَلِكَ۔ بھئی یہ قرآن کے اندر تو ہے: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، جبکہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت کے اندر وارث کے بعد ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ کا لفظ بھی موجود ہے۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت میں وارث کے لفظ کے بعد ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ کا لفظ بھی موجود ہے، معلوم ہوا وارث سے کون سا وارث مراد ہے؟ جو قریبی محرم رشتہ دار ہے۔ تو کہتے ہیں: وَفِي قِرَاءَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، اور حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت میں ہے: وَعَلَى الْوَارِثِ ذِي الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ، اور ایسا وارث جو قریبی محرم رشتہ دار ہے، مِثْلُ ذَلِكَ، اس پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے۔ تو یہ حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت ہے اور اس کے اندر وارث کے ساتھ قریبی محرم رشتہ دار ہونے کی قید بھی موجود ہے بھئی۔ تو یہ قراءت مشہور ہے اور یہ بیان بن سکتی ہے قرآن کے لیے، تو لہٰذا قرآن کے اندر تو مطلق وارث کا ذکر آیا لیکن یہ جو حضرت عبداللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی قراءت ہے یہ خبرِ مشہور کے درجے میں ہے، اور خبرِ مشہور کے ذریعے کتاب اللہ پر زیادتی جائز ہے، تو یہ قراءت بیان بن جائے گی اس آیت کے لیے بھئی، اور آیت کے اندر بھی جو وارث آیا اس وارث سے کیا مراد لیں گے؟ وہ وارث جو قریبی محرم رشتہ دار ہو۔ آگے دیکھیے: ثُمَّ لَا بُدَّ مِنْ الْحَاجَةِ، پھر حاجت کا ہونا ضروری ہے۔ بھئی ایک آدمی پر آپ دوسرے کا نفقہ واجب کر رہے ہیں تو اس آدمی کا محتاج ہونا ضروری ہے، اس کی حاجت کا ہونا ضروری ہے، پھر ہی آپ اس کا نفقہ دوسرے پر واجب کر سکتے ہیں۔ اور حاجت کا پتہ کس سے چلے گا؟ کہتے ہیں نابالغ کوئی ہو تو نابالغ ہونے سے بھی اس کے محتاج ہونے کا پتہ چل گیا۔ اگر مؤنث ہے تو مؤنث ہونے سے بھی اس کے محتاج ہونے کا پتہ چل گیا۔ اسی طرح اگر کوئی اپاہج ہے یا اندھا ہے تو اس کی وجہ سے بھی اس کے محتاج ہونے کا پتہ چل گیا۔ لہٰذا ان صورتوں میں نفقہ واجب ہوگا جب وہ قریبی محرم رشتہ دار وہ نابالغ ہو، یا مؤنث ہو، یا اپاہج یا اندھا ہو تو پھر نفقہ واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ لَا بُدَّ مِنْ الْحَاجَةِ، اور پھر حاجت کا ہونا بھی ضروری ہے یعنی نفقے کے واجب کرنے میں، وَالصِّغَرُ وَالْأُنُوثَةُ وَالزَّمَانَةُ وَالْعَمَى أَمَارَةُ الْحَاجَةِ، وَالصِّغَرُ اور نابالغ ہونا، وَالْأُنُوثَةُ اور مؤنث ہونا یعنی عورت ہونا، وَالزَّمَانَةُ، زمانہ یہ وہی بھئی اوپر متن میں آیا تھا: أَوْ كَانَ ذَكَرًا بَالِغًا فَقِيرًا زَمِنًا، زَمِن کسے کہتے ہیں؟ اپاہج کو، تو زمانت یہ کہتے ہیں اپاہج ہونا، یہ مصدر ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالزَّمَانَةُ اور اسی طرح اپاہج ہونا، وَالْعَمَى اور اندھا ہونا، أَمَارَةُ الْحَاجَةِ یہ محتاج ہونے کی علامت ہیں، لِتَحَقُّقِ الْعَجْزِ، عاجزی کے پائے جانے کی وجہ سے، کہ جب یہ چیزیں پائی جائیں گی تو یہ لوگ اپنے نفقے سے عاجز ہوں گے۔ نابالغ ہے وہ بھی اپنے نفقے سے عاجز ہے، اور اسی طرح مؤنث ہے عورت ہے تو وہ بھی اپنے نفقے سے عاجز ہے، اور اسی طرح اپاہج ہے یا اندھا ہے وہ بھی اپنے نفقے سے عاجز ہے، تو ان کا نفقہ انسان پر واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں یہ سب جو ہیں: أَمَارَةُ الْحَاجَةِ لِتَحَقُّقِ الْعَجْزِ، یہ محتاج ہونے کی علامت ہیں عاجزی کے پائے جانے کی وجہ سے، فَإِنَّ الْقَادِرَ عَلَى الْكَسْبِ غَنِيٌّ بِكَسْبِهِ، کسب کہتے ہیں کمائی کو، محنت وغیرہ کر کے کمائی کرنا اس کو کسب کہتے ہیں، اور غنی کہتے ہیں مالدار کو۔ کہتے ہیں: فَإِنَّ الْقَادِرَ عَلَى الْكَسْبِ، اس لیے کیونکہ جو شخص کمائی پر قادر ہو، غَنِيٌّ بِكَسْبِهِ، وہ اپنی کمائی کے ذریعے مالدار ہے۔ بھئی ایک آدمی کا قریبی محرم رشتہ دار ہے لیکن وہ بالغ ہے اور وہ اپاہج یا اندھا نہیں ہے، وہ خود محنت کر کے اپنا نفقہ کما سکتا ہے، تو اگرچہ یہ تنگدست ہے لیکن کمانے کے تو قابل ہے لہٰذا اس کی کمائی ہی مالداری کے قائم مقام ہے بھئی، لہٰذا اس کا نفقہ کسی پر واجب نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّ الْقَادِرَ عَلَى الْكَسْبِ غَنِيٌّ بِكَسْبِهِ، اس لیے کیونکہ وہ شخص جو کمائی پر قادر ہوتا ہے وہ اپنی کمائی کے ذریعے مالدار ہے تو اس کا نفقہ واجب نہیں ہوگا، بِخِلَافِ الْأَبَوَيْنِ، بخلاف ماں باپ کے۔ یاد رکھو ماں باپ اگر وہ اگر فقیر ہیں غریب ہیں اور وہ کمانے کے بھی قابل ہیں، لیکن پھر بھی ان کا نفقہ واجب ہوگا۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے اور قریبی محرم رشتہ دار ہو جب وہ کمانے کے قابل ہو تو اس کا نفقہ انسان پر واجب نہیں ہوتا، اور ماں باپ جو ہیں وہ چاہے کمانے کے قابل ہی کیوں نہ ہوں لیکن جب وہ فقیر ہیں تو ان کا نفقہ پھر بھی انسان پر واجب ہو جاتا ہے؟ تو جواب دے رہے ہیں کہ ماں باپ جب غریب ہیں وہ اگرچہ محنت کر کے اپنے لیے کما سکتے ہیں لیکن محنت کرنے میں ان کو تھکن اور مشقت لاحق ہوگی، اور ہمیں تو والدین کو تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے، لہٰذا کمائی پر قدرت کے باوجود ان کا نفقہ اولاد پر واجب ہوگا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْأَبَوَيْنِ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمَا تَعَبُ الْكَسْبِ، تعب کا معنی ہے تھکن اور مشقت بھئی۔ بِخِلَافِ الْأَبَوَيْنِ لِأَنَّهُ يَلْحَقُهُمَا تَعَبُ الْكَسْبِ، بخلاف ماں باپ کے اس لیے کیونکہ ماں باپ جو ہیں ان کو کمائی کی مشقت پیش آئے گی، وَالْوَلَدُ مَأْمُورٌ بِدَفْعِ الضَّرَرِ عَنْهُمَا، اور حال یہ ہے کہ اولاد کو تو حکم دیا گیا ہے کہ ماں باپ سے تکلیف کو دور کرے، لہٰذا جب اولاد مالدار ہے تو اب ماں باپ کو کمائی پر مجبور نہیں کیا جائے گا بلکہ اولاد پر ان کا نفقہ آئے گا۔ تو کہتے ہیں: وَالْوَلَدُ مَأْمُورٌ بِدَفْعِ الضَّرَرِ عَنْهُمَا، اور اولاد کو تو حکم دیا گیا ہے والدین سے تکلیف کو دور کرنے کا، فَتَجِبُ نَفَقَتُهُمَا مَعَ قُدْرَتِهِمَا عَلَى الْكَسْبِ، تو والدین کا نفقہ واجب ہوگا باوجود ان کے کمائی پر قدرت کے۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَيَجِبُ ذَلِكَ عَلَى مِقْدَارِ الْمِيرَاثِ وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ۔ قال، قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَيَجِبُ ذَلِكَ عَلَى مِقْدَارِ الْمِيرَاثِ، اور یہ نفقہ واجب ہوگا میراث کی مقدار کے بقدر، وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ، اور اس پر مجبور کیا جائے گا۔ بھئی یہ پھر متن کو متن سے جوڑیں، متن میں پیچھے کیا آیا تھا؟ کہ ہر قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ انسان پر واجب ہوگا جب وہ نابالغ ہو یا مؤنث ہو یا اپاہج اور اندھا ہو، تو پھر اس صورت میں اس کا نفقہ انسان پر آئے گا اور یہ نفقہ میراث کے بقدر آئے گا۔ کس کے بقدر آئے گا؟ میراث کے بقدر، یعنی قریبی محرم رشتہ دار جو ہے میراث کے اندر اس کا جتنا حصہ بن رہا ہے نفقے کا خرچہ بھی اس پر اتنا ہی آئے گا۔ مثلاً ایک شخص جو ہے وہ تنگدست ہے اور وہ اپاہج ہے، ایک شخص تنگدست ہے اور اپاہج ہے اور اس کا ایک بھئی ہے اور ایک بہن ہیں اور وہ مالدار ہیں، تو دونوں پر نفقہ آئے گا، کیونکہ یہ جو اپاہج بھئی ہے یہ ان کا قریبی محرم رشتہ دار بھی ہے اور فقیر بھی ہے، اور ان پر نفقہ وراثت کے بقدر آئے گا۔ اگر ان کے اس اپاہج بھئی کا انتقال ہو جائے اور صرف یہی دو رشتہ دار ہیں اس کا ایک بھئی اور ایک بہن ہیں تو یہ دونوں اس کے وارث بنیں گے، اور میراث ان میں اس طرح تقسیم ہوگی کہ بھئی کو بہن کے مقابلے میں دگنا مال ملے گا: لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ، بھئی کو بہن کے مقابلے میں دگنا حصہ ملے گا، تو لہٰذا نفقے کے اندر بھی بھئی کا حصہ بہن کے مقابلے میں دگنا ہوگا۔ یعنی کل نفقہ جو ہے اس کے تین حصے کیے جائیں گے، ایک حصہ بہن کے ذمے ہوگا اور دو حصے بھئی کے ذمے ہوں گے، صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو یہ معنی ہے: قَالَ: وَيَجِبُ ذَلِكَ عَلَى مِقْدَارِ الْمِيرَاثِ وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور یہ رشتہ داروں کا نفقہ جو واجب ہوگا یہ میراث کی مقدار پر ہوگا اور اس پر مجبور کیا جائے گا، یعنی قضاءً ان کو حکم دیا جائے گا۔ اگر وہ اپاہج بھئی ہے اور یہ دوسرے بھئی اور بہن جو مالدار ہیں وہ اس کی مدد نہیں کر رہے اور وہ اپاہج بھئی قاضی کے پاس آ گیا، تو قاضی ان کو مجبور کرے گا ان کو حکم دیا جائے گا کہ اس اپاہج پر خرچ کریں۔ یہ معنی ہے: وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ، اور اس خرچ کرنے پر ان کو مجبور کیا جائے گا۔ لِأَنَّ التَّنْصِيصَ، اب وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ اس متن میں دو باتیں ذکر کیں: ایک تو یہ بات ذکر کی کہ یہ نفقہ میراث کے بقدر واجب ہوگا، اور دوسری بات یہ ذکر کی کہ اس نفقے کی ادائیگی پر ان کو مجبور کیا جائے گا یعنی قاضی بھی مجبور کر سکتا ہے اگر وہ تنگدست جو ہے قاضی کے پاس آ جائے۔ تو اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ میراث کے بقدر کیوں واجب ہوگا نفقہ بھئی؟ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَارِثِ تَنْبِيهٌ عَلَى اعْتِبَارِ الْمِقْدَارِ۔ تنصیص بھئی ص کے ساتھ ہے: نَصَّ يُنَصِّصُ تَنْصِيص، کا معنی ہے تصریح کرنا۔ کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَارِثِ، اس لیے کیونکہ وارث پر تصریح کرنا، بھئی دیکھیے نا آیت کے اندر وارث کے لفظ پر تصریح کی گئی تھی: وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَلِكَ، وارث پر بھی اسی کے مثل ذمہ داری ہے، تو آیت کے اندر وارث کی تصریح کی گئی ہے اس کو صراحۃً ذکر کیا گیا ہے، اور یاد رکھو یہ جو وارث ہے، وارث یہ اسم فاعل ہے یہ مشتق ہے، اور آپ ضابطہ پڑھ چکے ہیں مشتق پر جو حکم لگایا جائے اس کی علت مشتق منہ ہوتا ہے، تو وارث پر نفقہ واجب کیا جا رہا ہے معلوم ہوا اس کی علت وراثت ہے بھئی۔ اس کی علت وراثت ہے، تو جو جتنا وارث بن رہا ہے اسی کے بقدر اس پر نفقہ بھی آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَارِثِ تَنْبِيهٌ عَلَى اعْتِبَارِ الْمِقْدَارِ، اس لیے کیونکہ آیت کے اندر وارث پر جو تصریح کی گئی ہے یہ مقدار کے اعتبار پر تنبیہ ہے، یہ مقدار کے اعتبار پر تنبیہ کی گئی ہے یعنی یہاں مقدار معتبر ہے وارث ہونے کے اعتبار سے۔ وارث ہونے کے اعتبار سے مقدار معتبر ہے، جس کو وراثت میں زیادہ حصہ ملے گا اس پر نفقہ بھی زیادہ آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّنْصِيصَ عَلَى الْوَارِثِ، اس لیے کیونکہ وارث پر تصریح کرنا، تَنْبِيهٌ عَلَى اعْتِبَارِ الْمِقْدَارِ، یہ مقدار کے معتبر ہونے پر تنبیہ ہے، یعنی مقدار کے معتبر ہونے پر تنبیہ کی جا رہی ہے یعنی بقدرِ وراثت مقدار واجب ہوگی وارث پر بھئی۔ وَلِأَنَّ الْغُرْمَ بِالْغُنْمِ، وَلِأَنَّ الْغُرْمَ، غرم کہتے ہیں نقصان اور ضمان کو بھئی، اور غُنْم، غنم کہتے ہیں فائدے اور نفعے کو۔ فقہ کا مشہور ضابطہ ہے کہ الْغُرْمُ بِالْغُنْمِ، کہ نقصان جو ہے وہ فائدے کے بدلے میں ہے۔ ایک شخص کو ایک چیز کا فائدہ پہنچ رہا ہے تو اس کا نقصان بھی اسی شخص کو برداشت کرنا پڑے گا۔ ایک آدمی دوسرے کا وارث بن رہا ہے یعنی اس کو نفع حاصل ہوگا تو خرچہ بھی اسی پر آئے گا اس کا زندگی میں اگر وہ تنگدست ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْغُرْمَ بِالْغُنْمِ، اور اس لیے کیونکہ جو ضمان ہوتا ہے یا یوں کہیں جو نقصان ہوتا ہے بِالْغُنْمِ وہ نفعے کے مقابلے میں ہے، نقصان جو ہے وہ نفعے کے مقابلے میں ہے، تو یعنی خرچ کرنا وہ میراث کے مقابلے میں ہے۔ نفعے سے کیا مراد لیں؟ میراث، اور نقصان سے کیا مراد لیں؟ خرچ کرنا، تو خرچ کرنا کس کے مقابلے میں ہے؟ میراث کے مقابلے میں ہے بھئی، یہ شخص وارث بنے گا اس کو نفع ہوگا تو خرچہ بھی اسی کے اوپر آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْغُرْمَ بِالْغُنْمِ، اور اس لیے کیونکہ نقصان جو ہے یا یوں کہیں کہ ضمان جو ہے بِالْغُنْمِ وہ فائدے کے مقابلے میں ہوتا ہے، وَالْجَبْرُ لِإِيفَاءِ حَقٍّ مُسْتَحَقٍّ۔ مستحق کا معنی ہے واجب بھئی، واجب۔ بھئی اوپر متن میں آیا تھا کہ یہ جو نفقہ واجب ہوگا قریبی محرم رشتہ دار پر یہ میراث کے بقدر ہوگا بھئی، اور وَيُجْبَرُ عَلَيْهِ اور اس خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے گا بھئی۔ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ مجبور کیوں کیا جائے گا، قاضی کیوں جبراً اس رشتہ دار کو حکم دے گا؟ کہتے ہیں: وَالْجَبْرُ لِإِيفَاءِ حَقٍّ مُسْتَحَقٍّ، ایفاء کا معنی ہے ادائیگی، مستحق کا معنی ہے واجب، وَالْجَبْرُ لِإِيفَاءِ حَقٍّ مُسْتَحَقٍّ، اور یہ جو خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے گا یہ واجب حق کو ادا کرنے کے لیے ہے۔ جب یہ قریبی محرم رشتہ دار ہے اور اس پر اس کا نفقہ واجب ہو رہا ہے، تو وہ چیز جو انسان پر واجب ہو اس پر قاضی اس کو مجبور کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْجَبْرُ لِإِيفَاءِ حَقٍّ مُسْتَحَقٍّ، اور یہ جو خرچ کرنے پر مجبور کیا جائے گا یہ واجب حق کو ادا کرنے کے لیے ہے۔ قَالَ: وَتَجِبُ نَفَقَةُ الِابْنَةِ الْبَالِغَةِ وَلِلِابْنِ الزَّمِنِ عَلَى أَبَوَيْهِ أَثْلَاثًا۔ بھئی یہ آگے متن ہے بھئی، اور قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں۔ قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَتَجِبُ نَفَقَةُ الِابْنَةِ الْبَالِغَةِ، اور بالغ بیٹی کا نفقہ واجب ہوگا، وَلِلِابْنِ الزَّمِنِ، اور اسی طرح اپاہج بیٹے کا نفقہ واجب ہوگا، عَلَى أَبَوَيْهِ، اس کے ماں باپ پر، أَثْلَاثًا، تین حصے کر کے۔ تین حصے کر کے اس کا نفقہ واجب ہوگا۔ ایک آدمی ہے اس کی بالغ بیٹی ہے یا اس کا اپاہج بیٹا ہے اور وہ بالغ ہے۔ توجہ ہے؟ بھئی نابالغ اولاد ہو اس کا تو سارا خرچہ باپ پر واجب ہوتا ہے، لیکن اگر بالغ بیٹی ہے اور وہ فقیر ہے یا بالغ بیٹا ہے لیکن وہ اپاہج ہے تو ان کا نفقہ اب کن پر آئے گا؟ تو یہاں متن کے اندر ذکر ہے کہ ان کا نفقہ ماں باپ دونوں پر واجب ہوگا اور میراث کے بقدر واجب ہوگا۔ اگر ایک آدمی کا انتقال ہو اور صرف اس کے ماں باپ زندہ ہیں تو ماں کو ثلث تیسرا حصہ ملتا ہے اور باقی سارا مال باپ لے جاتا ہے یعنی دو ثلث باپ کو مل جاتا ہے۔ جب ایک آدمی کے رشتہ داروں میں سے صرف ماں باپ زندہ ہیں تو ماں کو کتنا حصہ ملے گا؟ ثلث، اور باپ کو دو ثلث یعنی دو تہائی حصہ باپ کو ملے گا۔ تو چنانچہ یہ جو متن کے اندر آیا کہ نفقہ بھی ماں باپ پر اسی کے بقدر آئے گا، بالغ بیٹی کے لیے یا اپاہج بالغ بیٹے کا جو نفقہ ہے اس کے تین حصے کیے جائیں گے، دو حصے باپ کو ادا کرنے پڑیں گے اور ایک حصہ ماں کو، یعنی میراث کے بقدر ہوگا۔ یہ تو متن میں آیا، لیکن آگے چل کر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ ظاہرِ روایت یہ ہے، ظاہرِ روایت یہ ہے کہ ان کا خرچہ صرف باپ پر آئے گا۔ جیسے صغیر کا، نابالغ کا خرچہ جو ہے صرف باپ پر ہوتا ہے، تو اسی طرح بالغ بیٹی جو ہے یا اپاہج بالغ بیٹا جو ہے ان کا نفقہ بھی صرف باپ پر ہی آئے گا بھئی۔ کیونکہ جب یہ محتاج ہیں تو یہ صغیر کی طرح ہو گئے، اور صغیر کا خرچہ تو صرف باپ پر آتا تھا تو ان کا خرچہ بھی صرف باپ پر آئے گا، اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی کہ اپنی اولاد کا خرچہ صرف باپ پر آتا ہے چاہے نابالغ ہو، چاہے بالغ ہو اور مؤنث ہو یا اپاہج ہو بھئی۔ تو متن میں دوسری روایت ہے بھئی، پہلے وہ ذکر کریں گے: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَتَجِبُ نَفَقَةُ الِابْنَةِ الْبَالِغَةِ وَلِلِابْنِ الزَّمِنِ عَلَى أَبَوَيْهِ أَثْلَاثًا، اور بالغ بیٹی اور اپاہج بیٹے کا نفقہ واجب ہوگا عَلَى أَبَوَيْهِ اس کے ماں باپ پر أَثْلَاثًا تین حصے کر کے، عَلَى الْأَبِ الثُّلُثَانِ، باپ پر دو تہائی واجب ہوگا، وَعَلَى الْأُمِّ الثُّلُثُ، اور ماں پر ایک تہائی، لِأَنَّ الْمِيرَاثَ لَهُمَا عَلَى هَذَا الْمِقْدَارِ، اس لیے کیونکہ ان کی میراث بھی اسی مقدار پر ہے۔ ایک آدمی کا انتقال ہو اور صرف ماں باپ زندہ ہیں تو ان میں میراث بھی اسی طرح تقسیم ہوگی، باپ کو ماں کے مقابلے میں دگنا مال ملے گا۔ قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ، اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں، قَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ رِوَايَةُ الْخَصَّافِ وَالْحَسَنِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ یہ جو متن کے اندر صاحبِ قدوری نے روایت ذکر فرمائی یہ امام خصاف اور امام حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے جو وہ امام صاحب سے نقل فرماتے ہیں۔ یہ روایت امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ سے نقل فرمائی ہے امام خصاف نے اور امام حسن ابن زیاد رحمہما اللہ نے بھئی، جبکہ ظاہرِ روایت میں کیا ہے کہ سارا خرچہ باپ پر آئے گا۔ کہتے ہیں: هَذَا الَّذِي ذَكَرَهُ رِوَايَةُ الْخَصَّافِ وَالْحَسَنِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ۔ رِوَايَةُ الْخَصَّافِ وَالْحَسَنِ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور یہ جو صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا، یہ امام خصاف اور امام حسن ابن زیاد رحمہما اللہ کی روایت ہے۔ وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ اور ظاہرِ روایت میں یہ ہے کہ كُلُّ النَّفَقَةِ عَلَى الْأَبِ کہ سارا نفقہ باپ پر ہوگا لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ﴾، ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ﴾ اور بچے کے باپ پر واجب ہے ﴿رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ﴾ ان بیویوں کا رزق بھی اور ان کے کپڑے بھی۔ تو جب بچے کی وجہ سے ماؤں کا رزق باپ پر واجب ہے تو بچے کا رزق بطریقِ اولیٰ باپ پر واجب ہوگا بھئی۔ تو معلوم ہوا اولاد کا رزق باپ کے ذمے ہوتا ہے جب وہ محتاج ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ﴾ اور باپ پر ان عورتوں کا رزق بھی ہے اور ان کے کپڑے بھی ہیں، وَصَارَ كَالْوَلَدِ الصَّغِيرِ اور یہ اپاہج بیٹا بھی نابالغ بیٹے کی طرح ہو گیا۔ یہ جب اپاہج بیٹا ہے تو یہ محتاج ہوا تو یہ بھی کس کی طرح ہوا؟ نابالغ بیٹے کی طرح۔ اور نابالغ اولاد کا تو نفقہ صرف باپ پر ہوتا ہے، تو اس اپاہج بیٹے کا نفقہ بھی صرف باپ پر ہوگا اور اسی طرح بالغ بیٹی کا بھی بھئی۔ آگے دیکھیے: وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُولَى اب فرق کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ بھئی ظاہرِ روایت میں تو کیا آیا؟ کہ نابالغ اولاد کا نفقہ جیسے صرف باپ پر ہوتا ہے، اسی طرح بالغ اولاد اگر محتاج ہے تو ان کا نفقہ بھی صرف باپ پر آئے گا۔ تو معلوم ہوا ظاہرِ روایت میں بالغ اور نابالغ میں کوئی فرق نہیں کیا گیا۔ لیکن امام خصاف والی روایت لیں تو اس میں فرق کیا گیا ہے کہ نابالغ کا خرچہ سارا باپ پر ہے اور بالغ بیٹی ہے یا اپاہج بالغ بیٹا ہے تو اس کا نفقہ ماں باپ دونوں پر ہے۔ معلوم ہوا امام خصاف رحمہ اللہ کی روایت میں بالغ اولاد اور نابالغ اولاد میں فرق کیا گیا ہے۔ نابالغ کا خرچہ صرف باپ پر اور بالغ کا خرچہ ماں باپ دونوں پر۔ تو یہ فرق کیوں کیا گیا؟ اب اس کی وجہ بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُولَى اور پہلی روایت پر فرق کی وجہ جو ہے وہ یہ ہے: أَنَّهُ اجْتَمَعَتْ لِلْأَبِ فِي الصَّغِيرِ وِلَايَةٌ وَمُؤْنَةٌ، مُؤْنَةٌ کہتے ہیں مشقت کو اور اس سے مراد ہے اس سے خرچہ بھئی، خرچہ۔ بھئی نابالغ اولاد کا خرچہ بھی باپ پر ہوتا ہے اور ولایت بھی باپ کو ان پر حاصل ہوتی ہے، باپ جہاں چاہے ان کا نکاح کر سکتا ہے۔ تو باپ کو نابالغ اولاد پر ولایت بھی حاصل ہے اور ان کا خرچہ بھی باپ کے ذمے ہے۔ لیکن بالغ اولاد پر باپ کو ولایت حاصل نہیں تو دونوں میں فرق ہے، لہٰذا نابالغ کا خرچہ تو باپ پر آئے گا لیکن بالغ کا خرچہ سارا باپ پر نہیں آئے گا بلکہ ماں پر بھی آئے گا۔ یہ فرق بیان فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ امام خصاف رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق۔ تو کہتے ہیں: وَوَجْهُ الْفَرْقِ عَلَى الرِّوَايَةِ الْأُولَى تو پہلی روایت پر فرق کی وجہ یہ ہے أَنَّهُ اجْتَمَعَتْ لِلْأَبِ فِي الصَّغِيرِ کہ باپ کے لیے جمع ہو گئیں نابالغ میں وِلَايَةٌ وَمُؤْنَةٌ ولایت بھی اور خرچہ بھی۔ یعنی اس کا سارا خرچہ بھی کس پر ہے؟ باپ پر۔ تو نابالغ کے لیے باپ میں جمع ہو گئیں وِلَايَةٌ وَمُؤْنَةٌ ولایت بھی اور خرچہ بھی حَتَّى وَجَبَتْ عَلَيْهِ صَدَقَةُ الْفِطْرِ یہاں تک کہ باپ پر ہی واجب ہے اس نابالغ اولاد کا صدقۂ فطر، فَاخْتَصَّ بِنَفَقَتِهِ تو لہٰذا باپ خاص ہو گیا اس نابالغ کے نفقے کے ساتھ، اسی کو خرچ کرنا پڑے گا، وَلَا كَذَلِكَ الْكَبِيرُ اور بڑا جو ہے یعنی بالغ جو ہے وہ تو ایسا نہیں ہے لِانْعِدَامِ الْوِلَايَةِ فِيهِ کیونکہ اس کے اندر باپ کی ولایت معدوم ہے، باپ کو اس پر ولایت حاصل نہیں۔ باپ ایسا نہیں کر سکتا کہ جہاں چاہے ان کا نکاح کروا دے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا كَذَلِكَ الْكَبِيرُ اور جو بالغ ہے وہ ایسا نہیں ہے لِانْعِدَامِ الْوِلَايَةِ فِيهِ کہ اس کے اندر باپ کی ولایت معدوم ہے فَتُشَارِكُهُ الْأُمُّ تو لہٰذا باپ کے ساتھ ماں شریک ہوگی، اس بالغ کے نفقے میں باپ کے ساتھ ماں بھی شریک ہوگی۔ وَفِي غَيْرِ الْوَالِدِ يُعْتَبَرُ قَدْرُ الْمِيرَاثِ بھئی یہاں تک کیا بات ہوئی؟ کہ امام خصاف رحمہ اللہ کی روایت کے مطابق تو بالغ اولاد کے خرچے میں ماں باپ دونوں شریک ہوں گے، لیکن ظاہرِ روایت میں ہے کہ جیسے نابالغ اولاد کا خرچہ باپ پر ہوتا ہے اسی طرح بالغ اولاد کا خرچہ بھی صرف باپ پر ہوگا۔ اور میں نے بتایا اسی پر فتویٰ بھی ہے بھئی، اسی پر فتویٰ بھی ہے۔ البتہ باپ کے علاوہ باقی رشتہ داروں میں میراث کی مقدار معتبر ہے۔ وہاں سارا خرچہ کسی ایک رشتہ دار پر نہیں آئے گا بلکہ وہاں میراث کی مقدار کو دیکھا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَفِي غَيْرِ الْوَالِدِ يُعْتَبَرُ قَدْرُ الْمِيرَاثِ اور باپ کے علاوہ اور رشتہ داروں میں میراث کی مقدار معتبر ہے حَتَّى تَكُونَ نَفَقَةُ الصَّغِيرِ عَلَى الْأُمِّ، یہاں یاد رکھو یہ حَتَّى نصب نہیں دے گا کیونکہ حَتَّى کے نصب دینے کی شرائط یہاں پوری نہیں ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: حَتَّى تَكُونُ نَفَقَةُ الصَّغِيرِ عَلَى الْأُمِّ وَالْجَدِّ أَثْلَاثًا یہاں تک کہ نابالغ کا خرچہ ماں اور دادا پر تین حصے ہوگا۔ بھئی دیکھیے بھئی، ظاہرِ روایت میں بتلا دیا کہ اگر باپ زندہ ہے تو پھر بالغ اور نابالغ اولاد کا سارا خرچہ باپ پر ہی آئے گا۔ لیکن اگر باپ کا انتقال ہو جائے اب اس صغیر کی ماں بھی زندہ ہے اور اس کا دادا بھی زندہ ہے تو آپ پڑھ چکے ہیں کہ جب باپ کا انتقال ہو جائے تو دادا اس کے قائم مقام ہوتا ہے لیکن یہاں پر دادا باپ کے قائم مقام نہیں ہوگا بلکہ ماں اور دادا دونوں پر نفقہ آئے گا۔ ظاہرِ روایت میں آپ کو بتلا دیا کہ اولاد نابالغ ہو یا بالغ ہو سارا خرچہ باپ پر، لیکن باپ کے علاوہ کوئی اور رشتہ دار ہیں تو ان پر سارا نفقہ نہیں آئے گا بلکہ میراث کے بقدر آئے گا۔ یہاں تک کہ باپ کا اگر انتقال ہو گیا اور باپ کی جگہ اب دادا موجود ہے تو دادا پر سارا خرچہ نہیں آئے گا بلکہ دادا پر میراث کے بقدر خرچہ آئے گا۔ لہٰذا ایک آدمی کا انتقال ہو اور اس کی ماں بھی زندہ ہے اور دادا بھی زندہ ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو ماں کو تیسرا حصہ ملتا ہے جبکہ باقی مال دادا لے جائے گا بھئی، تو دادا کو ماں کے مقابلے میں دگنا مال ملا ہے لہٰذا نفقے کا خرچہ بھی ماں اور دادا پر اسی طرح آئے گا۔ دادا پر ماں کے مقابلے میں دگنا خرچہ آئے گا۔ یہ معنی ہے: حَتَّى تَكُونُ نَفَقَةُ الصَّغِيرِ عَلَى الْأُمِّ وَالْجَدِّ أَثْلَاثًا یہاں تک کہ نابالغ کا خرچہ ماں اور دادا پر تین حصے ہو کر ہوگا، یعنی ایک تہائی ماں پر اور دو تہائی دادا پر۔ وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ عَلَى الْأَخَوَاتِ الْمُتَفَرِّقَاتِ الْمُوسِرَاتِ أَخْمَاسًا عَلَى قَدْرِ الْمِيرَاثِ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی ہے اور وہ تنگ دست ہے اور اپاہج ہے اور اس کی تین بہنیں ہیں وہ تینوں مالدار ہیں لیکن وہ تینوں بہنیں مختلف ہیں۔ ایک حقیقی بہن ہے اور ایک علاتی بہن ہے اور ایک اخیافی بہن ہے۔ آپ نے پڑھا کہ حقیقی بہن اس کو کہتے ہیں کہ یہ بھئی اور بہن دونوں کے ماں باپ ایک ہی ہوں۔ تو یہ اس بھئی کی حقیقی بہن ہوئی۔ اور اگر دونوں کا باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ الگ ہیں، یعنی ایک آدمی کی دو بیویاں ہیں اور ایک بیوی سے بیٹا ہوا اور دوسری سے بیٹی تو یہ آپس میں علاتی بھئی بہن ہیں، دونوں کے باپ تو ایک ہے لیکن مائیں الگ الگ ہیں۔ اور بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ماں ایک ہوتی ہے اور باپ الگ الگ ہوتا ہے، مثلاً ایک عورت نے زید سے نکاح کیا تھا اس سے بیٹا ہوا، پھر زید کا انتقال ہوا اس عورت نے بعد میں کسی اور سے نکاح کر لیا اور اس سے بیٹی ہوئی، تو اب یہ جو بھئی بہن ہیں ان کی ماں ایک ہے لیکن باپ الگ الگ ہے تو ان کو اخیافی بھئی بہن کہتے ہیں۔ تو حقیقی بہن وہ ہے جو ماں باپ شریک ہے، علاتی بہن جو صرف باپ شریک ہے، اور اخیافی بہن جو ماں شریک ہے۔ اب ایک آدمی کا اگر انتقال ہو جائے اور اس کی ایک حقیقی بہن ہے، ایک علاتی بہن ہے اور ایک اخیافی بہن ہے تو ان میں میراث اس طرح تقسیم ہوگی کہ حقیقی بہن جو ہے اس کو نصف ملے گا اور علاتی بہن جو ہے اس کو سدس ملے گا اور اخیافی بہن کو بھی سدس ملے گا۔ بلکہ یہ نقشے کی صورت آپ بنا لیں کاپی پر پھر بات آپ کے لیے واضح ہو جائے گی بھئی۔ بھئی ایک سیدھی لکیر کھینچیے، یہ میت ہے۔ میت ہے اور اس میت کے نیچے تینوں بہنوں کو الگ الگ ہم نے لکھنا ہے۔ پہلے کنارے کے نیچے لکھ دیجیے: حقیقی بہن، درمیان میں لکھیے کچھ فاصلے پر: علاتی بہن اور پھر آخری کنارے کے نیچے لکھ لیجیے: اخیافی بہن۔ اور یاد رکھو جب حقیقی بہن اکیلی ہو تو اس کو نصف ملتا ہے تو حقیقی بہن کے نیچے نصف لکھ لیجیے۔ اور علاتی بہن جب وہ حقیقی بہن کے ساتھ آ جائے تو پھر اس کو سدس ملتا ہے۔ یہ ایک حقیقی بہن ہے اس کے ساتھ علاتی بہن آ گئی۔ اگر دو حقیقی بہنیں ہوتیں تو پھر اس علاتی بہن کو کچھ بھی نہیں ملنا تھا کیونکہ مؤنث کو زیادہ سے زیادہ دو تہائی دیا جا سکتا ہے تو وہ دو تہائی دو بہنوں نے لے جانا تھا، لیکن یہاں تو ایک بہن ہے حقیقی بہن۔ تو حقیقی بہن کا کتنا حصہ لکھا؟ نصف۔ اور علاتی بہن کے نیچے لکھ لیجیے سدس بھئی، تو اس کا حصہ سدس ہوا۔ یہ نصف اور سدس کو ملائیں تو دیکھیں یہ ثلثان بن جاتا ہے، دو تہائی، اور مؤنث کو زیادہ سے زیادہ دو تہائی ہی دیا جاتا ہے۔ اور پھر اخیافی بہن، اخیافی بہن کے نیچے بھی سدس لکھ دیجیے، اس کا حصہ بھی چھٹا حصہ ہے۔ اخیافی بھئی بہن جب ایک ہوں تو ان کو سدس ملتا ہے۔ تو یہاں دو قسم کے حصے آ گئے سارے مسئلے میں، ایک نصف آیا اور اس کے ساتھ سدس بھی آ گیا۔ اور نصف اور سدس جب ایک مسئلے کے اندر اکٹھے ہو جائیں تو مسئلہ چھ سے بناتے ہیں۔ تو لہٰذا یہ مسئلہ چھ سے بنائیے، یہ جہاں پر آپ نے حقیقی بہن لکھا تھا اس کنارے پر لکیر کے اوپر جو ہے وہ چھ لکھ لیجیے۔ اس سے ہم مسئلہ بنا رہے ہیں، چھ سے ہم نے مسئلہ بنایا اور چھ کا نصف ہم نے دینا ہے حقیقی بہن کو، تو چھ کا نصف کتنا؟ تین۔ تو یہ تین حقیقی بہن کا حصہ ہوا، تو حقیقی بہن کے نیچے تین لکھ لیجیے۔ اور چھ کا سدس یعنی چھٹا حصہ وہ کتنا ہے؟ ایک، تو وہ ایک جو ہے یہ حصہ ہوا علاتی بہن کا، تو علاتی بہن کے نیچے ایک لکھ لیجیے۔ اسی طرح اخیافی بہن کا حصہ بھی سدس ہے اور چھ کا سدس ایک ہے تو اس کے نیچے بھی ایک لکھ لیجیے۔ اب دیکھو ہم نے مسئلہ بنایا چھ سے لیکن جو نیچے حصے دیے حقیقی بہن کو تین، علاتی بہن کو بھی ایک اور اخیافی بہن کو بھی ایک، ان کو جمع کر لیں: 3 + 1 + 1، تین اور ایک اور ایک یہ جمع کیا تو یہ پانچ بن گئے، تو مسئلہ بنایا تھا چھ سے اور کل حصے نیچے بن رہے ہیں پانچ۔ تو لہٰذا یہاں چھ کے ساتھ تھوڑا سا فاصلہ دے کر لکھ دیجیے: رَدٌّ، را اور دال بھئی رد، اور پھر اس رد سے تھوڑے سے فاصلے پر پانچ لکھ لیجیے۔ یعنی مسئلہ بنایا تھا چھ سے لیکن پھر اس کا رد ہو گیا کس کی طرف؟ پانچ کی طرف۔ تو اب مسئلہ مکمل ہوا۔ معلوم ہوا ایک آدمی کا انتقال ہو اور اس کی ایک حقیقی بہن زندہ ہو، ایک علاتی بہن زندہ ہو اور ایک اخیافی بہن زندہ ہو تو کل مال کے پانچ حصے کریں گے اور پانچ میں سے تین حصے حقیقی بہن کے ہوں گے، ایک حصہ علاتی بہن کا ہوگا اور ایک حصہ اخیافی بہن کا ہوگا۔ تو یہ ہے میراث کی تقسیم بھئی۔ اور اب ہم جو صورت کر رہے ہیں کہ بھئی جو ہے وہ اپاہج ہے اور تنگ دست ہے اور اس کی تین بہنیں ہیں: ایک حقیقی بہن ہے، ایک علاتی بہن ہے اور ایک اخیافی بہن ہے، تو ان پر میراث کے بقدر ہی خرچہ آئے گا۔ لہٰذا اس اپاہج معذور اور فقیر بھئی کا جو نفقہ ہے اس کے پانچ حصے کیے جائیں گے، تین حصے حقیقی بہن کو ادا کرنے ہوں گے، ایک حصہ علاتی بہن کو ادا کرنا ہوگا اور ایک حصہ اخیافی بہن کو۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ، اور یہ بھی یاد رکھنا تنگ دست ہونے کے ساتھ ساتھ اس بھئی کا اپاہج یا اندھا ہونا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر یہ اپاہج یا اندھا نہیں ہے پھر تو یہ خود کما سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ جو ہے عَلَى الْأَخَوَاتِ الْمُتَفَرِّقَاتِ الْمُوسِرَاتِ وہ مختلف قسم کی مالدار بہنوں پر أَخْمَاسًا پانچ حصے ہو کر واجب ہوگا عَلَى قَدْرِ الْمِيرَاثِ میراث کے بقدر۔ مُوسِر کہتے ہیں خوشحال کو، مالدار کو۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ عَلَى الْأَخَوَاتِ الْمُتَفَرِّقَاتِ الْمُوسِرَاتِ وہ مالدار مختلف قسم کی بہنوں پر أَخْمَاسًا پانچ حصے ہو کر وہ نفقہ واجب ہوگا عَلَى قَدْرِ الْمِيرَاثِ میراث کے بقدر۔ غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ فِي الْجُمْلَةِ لَا إِحْرَازُهُ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو نفقہ وارثوں پر آئے گا اس میں حقیقۃً وارث ہونے کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے۔ وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے۔ ایک آدمی میں وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہے تو اس پر نفقہ واجب ہوگا، چاہے حقیقت میں اس کو بعد میں کچھ بھی مال نہ ملے کیونکہ حقیقۃً اس کو کتنا مال ملے گا یہ تو ابھی پتہ ہی نہیں ہے۔ یاد رکھو وراثت اسی کو ملتی ہے جو میت کی موت کے وقت زندہ ہو۔ ایک آدمی کا انتقال ہوا اس کا بیٹا زندہ ہے تو یہ بیٹا اس کا وارث بنے گا، لیکن اگر یہ بیٹا اس میت کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا تو پھر یہ وارث نہیں بنے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی جو نفقہ آئے گا اس میں وارث ہونے کی صلاحیت کو دیکھا جائے گا، حقیقۃً وارث ہونے کو نہیں دیکھا جائے گا کیونکہ حقیقۃً وارث ہونے کا تو ابھی پتہ ہی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ پہلے انتقال کر جائے پھر تو یہ وارث ہی نہیں بنے گا بھئی۔ نیز اسی طرح بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرا وارث محروم ہو جاتا ہے، مثلاً مرنے والے کا بیٹا بھی ہے اور پوتا بھی موجود ہے تو پھر یاد رکھو جب بیٹا موجود ہو تو پوتے کو کچھ بھی نہیں ملتا، تو دیکھو بیٹے کی وجہ سے پوتا محروم ہو گیا، محجوب ہو گیا۔ اور بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصے میں کمی آ جاتی ہے، مثلاً مرنے والے کی ماں کو ثلث ملتا ہے، تیسرا حصہ، لیکن اگر مرنے والے کی اولاد موجود ہے یا مرنے والے کے دو بھئی بہن موجود ہیں تو پھر ماں کو ثلث نہیں ملتا پھر چھٹا حصہ ملتا ہے یعنی سدس بھئی۔ تو دیکھو اولاد کی وجہ سے ماں کا حصہ ثلث سے کم ہو کر سدس ہو گیا، یا مرنے والے کے دو بھئی بہن زندہ ہیں تو ان کی وجہ سے ماں کا حصہ ثلث سے کم ہو کر سدس ہو گیا۔ تو معلوم ہوا بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرا وارث جو ہے محروم ہو جاتا ہے یا اسی طرح بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصے میں کمی آ جاتی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر جو نفقہ واجب ہوگا ایک شخص کا دوسرے شخص پر اس میں وارث ہونے کی صلاحیت کو دیکھا جائے گا، حقیقت میں وہ وارث بنتا ہے یا نہیں بنتا اس کو نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ علاوہ اس کے کہ وہ چیز جو معتبر ہے أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ وہ وارث ہونے کی صلاحیت ہے فِي الْجُمْلَةِ مجموعی اعتبار سے لَا إِحْرَازُهُ نہ کہ وراثت کو سمیٹنا۔ أَحْرَزَ يُحْرِزُ إِحْرَاز کے معنی ہیں سمیٹ لینا، جمع کر لینا، یعنی حقیقت کے اندر وارث بننا، وراثت کو سمیٹ لینا یہاں اس کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے بھئی۔ دیکھو آگے صاحبِ ہدایہ مثال ذکر فرمائیں گے اس سے خوب وضاحت ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ فِي الْجُمْلَةِ لَا إِحْرَازُهُ علاوہ اس کے کہ وہ چیز جو معتبر ہے وہ وارث ہونے کی صلاحیت ہے مجموعی اعتبار سے، اس وراثت کو سمیٹنا جو ہے وہ معتبر نہیں ہے۔ فَإِنَّ الْمُعْسِرَ إِذَا كَانَ لَهُ خَالٌ وَابْنُ عَمٍّ صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک آدمی ہے، اپاہج ہے اور تنگ دست ہے اور اس کا ماموں بھی زندہ ہے اور اس کے چچا کا بیٹا بھی زندہ ہے۔ اب ماموں جو ہے وہ قریبی محرم رشتہ دار ہے جبکہ چچا کا بیٹا وہ رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں ہے بھئی۔ تو اس آدمی کا نفقہ ماموں پر واجب ہوگا، اس آدمی کا نفقہ ماموں پر واجب ہوگا کیونکہ وہ قریبی محرم رشتہ دار ہے، چچا کا بیٹا قریبی محرم رشتہ دار نہیں ہے بھئی، کیونکہ چچا کی بیٹی سے تو نکاح جائز ہوتا ہے بھئی تو معلوم ہوا چچا کی جو اولاد ہے وہ محرم نہیں ہے بھئی۔ اب دیکھو اگر اس شخص کا انتقال ہو جائے تو چچا کا بیٹا عصبہ ہونے کی وجہ سے سارا مال لے جائے گا۔ اس کا انتقال ہوا، صرف اس کا ماموں زندہ ہے اور چچا کا بیٹا زندہ ہے تو چچا کا بیٹا سارا مالِ میراث لے جائے گا اور ماموں جو ہے اس کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے لہٰذا اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو دیکھو حقیقتِ میراث کو دیکھا جائے تو حقیقۃً تو چچا کا بیٹا وارث بن رہا ہے، ماموں تو وارث نہیں بن رہا، لہٰذا سارا نفقہ کس پر آنا چاہیے تھا؟ چچا کے بیٹے پر، لیکن شریعت نے چچا کے بیٹے پر نفقہ واجب نہیں کیا بلکہ ماموں پر نفقہ واجب کیا ہے۔ معلوم ہوا یہاں حقیقتِ میراث کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت معتبر ہے اور ماموں میں بھی وارث ہونے کی صلاحیت ہے، اگر یہ چچا کا بیٹا نہ ہوتا تو پھر ماموں وارث بن جاتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: فَإِنَّ الْمُعْسِرَ إِذَا كَانَ لَهُ خَالٌ وَابْنُ عَمٍّ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تنگ دست جو ہے جب اس کا ماموں اور چچا کا بیٹا ہو تَكُونُ نَفَقَتُهُ عَلَى خَالِهِ تو اس تنگ دست کا نفقہ اس کے ماموں پر ہوگا وَمِيرَاثُهُ يُحْرِزُهُ ابْنُ عَمِّهِ اور جبکہ اس کی میراث جو ہے اس کو جمع کر لے گا اس کے چچا کا بیٹا، یعنی میراث ساری وہ لے جائے گا۔ تو حقیقتِ میراث کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت معتبر ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: وَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ دین مختلف ہو تو اس صورت میں صرف بیوی اور اصول اور فروع کا نفقہ انسان پر واجب ہوتا ہے، جبکہ ان کے علاوہ اگر کوئی اور قریبی محرم رشتہ دار ہے وہاں اگر دین مختلف ہے تو ان کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ اور قریبی محرم رشتہ داروں پر جو نفقہ واجب ہوتا ہے وہ میراث کے بقدر ہوتا ہے اور جب دین مختلف ہے پھر تو ایک دوسرے کے وارث ہی نہیں بن سکتے، جب وارث ہی نہیں بنیں گے تو نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ اور یہ قریبی محرم رشتہ داروں کا نفقہ واجب نہیں ہوگا دین کے مختلف ہونے کے ساتھ لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ وراثت کی اہلیت کے باطل ہونے کی وجہ سے کہ اب ان میں وراثت کی اہلیت ہی نہیں جب دین مختلف ہے بھئی، وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ اور وراثت کا اعتبار ضروری ہے، وراثت کا اعتبار ضروری ہے۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ اس لیے کیونکہ وراثت کی اہلیت باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار تو ضروری ہے۔ وَلَا تَجِبُ عَلَى الْفَقِيرِ اچھا بھئی، یہ جو قریبی محرم رشتہ دار ہیں ان کا نفقہ تب واجب ہوگا جب دین بھی ایک ہو اور نیز یہ آدمی جو ہے یہ تنگ دست نہ ہو، یہ خود خوشحال ہو، مالدار ہو پھر ہی اس پر دوسرے کا نفقہ واجب ہوگا۔ اگر یہ خود ہی فقیر ہے پھر تو یہ خود محتاج ہے تو اس پر کسی دوسرے کا نفقہ واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: وَلَا تَجِبُ عَلَى الْفَقِيرِ اور یہ نفقہ فقیر پر بھی واجب نہیں ہوگا لِأَنَّهَا تَجِبُ صِلَةً اس لیے کیونکہ یہ نفقہ واجب ہوا ہے بطورِ احسان کے وَهُوَ يَسْتَحِقُّهَا عَلَى غَيْرِهِ اور یہ فقیر یہ تو خود احسان کا مستحق ہے غیر پر کہ اس کے ساتھ احسان کیا جائے، فَكَيْفَ تُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ تو کیسے اس پر نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے؟ تُسْتَحَقُّ کا کیا معنی کر لیں گے یہاں؟ واجب کرنا۔ فَكَيْفَ تُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ تو اس فقیر پر نفقہ کیسے واجب کیا جا سکتا ہے؟ بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ وَوَلَدِهِ الصَّغِيرِ بھئی قریبی محرم رشتہ داروں کا نفقہ مالدار پر تو واجب کیا جا سکتا ہے لیکن تنگ دست پر واجب نہیں کیا جا سکتا، لیکن بیوی اور نابالغ اولاد ان کا نفقہ تو ہر حال میں انسان کو دینا پڑے گا چاہے وہ تنگ دست ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس نے خود اس عورت سے نکاح کیا ہے بھئی۔ تو جب عورت سے نکاح کیا ہے تو عورت کا خرچہ بھی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اس کا خرچہ بھی اس پر آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ وَوَلَدِهِ الصَّغِيرِ بخلاف بیوی اور نابالغ اولاد کا نفقہ لِأَنَّهُ الْتَزَمَهَا اس لیے کیونکہ وہ اس آدمی نے خود اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ وہ نفقہ اولاد اور بیوی کا نفقہ خود اپنے اوپر لازم کیا ہے بِالْإِقْدَامِ عَلَى الْعَقْدِ عقدِ نکاح پر پیش قدمی کر کے۔ جب اس نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے تو اس نے خود عقد کے ذریعے اس کے نفقے کو اپنے اوپر واجب کر لیا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ الْتَزَمَهَا اس لیے کیونکہ اس تنگ دست نے بیوی کے نفقے کو خود اپنے اوپر لازم کیا ہے بِالْإِقْدَامِ عَلَى الْعَقْدِ عقدِ نکاح پر پیش قدمی کر کے إِذِ الْمَصَالِحُ لَا تَنْتَظِمُ دُونَهَا اس لیے کیونکہ نکاح کی جو مصلحتیں ہیں ان کا انتظام نہیں ہو سکتا نفقے کے بغیر۔ نکاح کی مصلحتوں کا انتظام نفقے کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور آپ اپنا گھر بسا کر رکھنا چاہتے ہیں تو نفقہ آپ کو دینا پڑے گا۔ إِذِ الْمَصَالِحُ لَا تَنْتَظِمُ دُونَهَا اس لیے کیونکہ نکاح کی جو مصلحتیں ہیں ان کا انتظام نفقے کے بغیر نہیں ہو سکتا وَلَا يَعْمَلُ فِي مِثْلِهَا الْإِعْسَارُ اور تنگ دستی اس جیسی چیزوں میں عمل نہیں کرتی۔ یہ آدمی بے شک تنگ دست ہے لیکن بیوی اور نابالغ اولاد کا نفقہ دینا پڑے گا کیونکہ وہ اس نے خود عقد کے ذریعے اپنے اوپر لازم کیا ہے۔ جب ایک چیز کو آدمی اپنے اوپر خود لازم کر دے پھر اس میں تنگ دستی وغیرہ کو نہیں دیکھا جاتا، اس نے خود لازم کیا ہے اس کو دینا پڑے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: وَلَا يَعْمَلُ فِي مِثْلِهَا الْإِعْسَارُ اور اس جیسی چیزوں کے اندر تنگ دستی عمل نہیں کرتی۔ ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا اچھا بھئی بات چل رہی ہے کہ قریبی محرم رشتہ دار اگر وہ تنگ دست ہے اور وہ اپاہج وغیرہ ہے تو پھر اس کا نفقہ دوسرے قریبی محرم رشتہ دار پر واجب ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ قریبی محرم رشتہ دار مالدار ہو۔ اب مالداری کی کیا تعریف ہے؟ مالداری سے یہاں کیا مراد ہے؟ تو اس میں یاد رکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا۔ کس کو؟ نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا، یعنی ایک آدمی کے پاس نصابِ زکوٰۃ کے بقدر مال موجود ہے تو اس کا مطلب ہے یہ مالدار ہے، اور نصابِ زکوٰۃ کتنا ہے؟ ساڑھے باون تولے چاندی۔ ایک آدمی کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مالِ نامی موجود ہو، مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال موجود ہو۔ اور مالِ نامی میں کیا کیا داخل ہے؟ سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ مالِ نامی میں کیا کیا داخل ہے؟ سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ ایک آدمی کے پاس سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت موجود ہے، ان ساروں کی قیمت لگائیں گے اور اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچ گئی تو یہ نصاب کے بقدر مال ہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ ہے وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب بھئی، وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں نصاب معتبر ہے، جس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہوگا وہ مالدار شمار ہوگا اور جب وہ مالدار ہے تو اس پر اپنے غریب محتاج قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر نصاب کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ قدرت کو دیکھا جائے گا کہ یہ شخص اس کے نفقے پر قادر ہے یا نہیں۔ اس کے اس شخص کے نفقے پر قادر ہے یا نہیں۔ اور اس کا پتہ اس طرح چلے گا کہ مہینے کے اندر مثلاً اس کو تنخواہ ملتی ہے، ماہانہ آمدنی ہے اس کی، تو اس ماہانہ آمدنی میں سے اس آدمی کا اپنا خرچہ اور اس کے بیوی بچوں کا خرچہ نکال کر اگر زائد مال بچتا ہے تو معلوم ہوا یہ مالدار ہے۔ اس کا اور اس کے بیوی بچوں کا خرچہ نکال کر اگر کچھ مال زائد بنتا ہے معلوم ہوا یہ مالدار ہے، اس پر دوسرے کا نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے۔ اور اگر یہ کاریگر ہے، روزانہ کمائی کرتا ہے تو پھر اس روزانہ کی کمائی کو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ کمائی اس کی اور بیوی بچوں کے روزانہ کے خرچے سے زائد ہے تو اس کو مالدار شمار کیا جائے گا اور اس پر نفقہ واجب کر دیا جائے گا قریبی محرم رشتہ دار کا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے نصابِ زکوٰۃ کا اعتبار کیا، وجوبِ زکوٰۃ کے نصاب کا اعتبار کیا اور امام محمد رحمہ اللہ نے قدرت کا اعتبار کیا کہ وہ شخص دوسرے کی مدد پر قادر ہو یعنی اس کے پاس کچھ زائد مال ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ، یسار کہتے ہیں مالداری کو، کہتے ہیں: ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ اور پھر یہ جو مالداری ہے اس کا اندازہ لگایا گیا ہے نصاب کے ذریعے فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ اس روایت میں جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کی گئی ہے، وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا، أَنَّهُ قَدَّرَهُ کہ انہوں نے اس مالداری کا اندازہ لگایا ہے بِمَا يَفْضُلُ وہ جو زائد ہو عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا اپنے اور اپنے گھر والوں کے نفقے سے باعتبار مہینے کے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے أَنَّهُ قَدَّرَهُ کہ انہوں نے مالداری کا اندازہ لگایا ہے بِمَا يَفْضُلُ اس چیز کے ساتھ جو زائد ہو عَلَى نَفَقَةِ نَفْسِهِ اپنے نفقے پر وَعِيَالِهِ اور اپنے گھر والوں کے نفقے پر، اپنے اہل و عیال کے نفقے پر جو زائد ہو شَهْرًا باعتبار مہینے کے، یعنی ایک مہینے کے جو خرچے میں سے جو زائد ہو اس کے پاس، أَوْ بِمَا يَفْضُلُ یا انہوں نے اس کا اندازہ لگایا ہے وہ جو زائد ہو عَنْ ذَلِكَ اس نفقے پر مِنْ كَسْبِهِ الدَّائِمِ كُلَّ يَوْمٍ وہ جو اس کی دائمی کمائی ہے ہر روز۔ اگر وہ کاریگر ہے تو ہر روز وہ جو کما رہا ہے تو اس کے اپنے نفقے اور اہل و عیال کے نفقے سے زائد مال ہے اس کے پاس تو یہ دوسرے کو نفقہ دینے پر قادر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ ذَلِكَ یا وہ جو زائد ہو اس اپنے اور بیوی بچوں کے نفقے پر مِنْ كَسْبِهِ الدَّائِمِ كُلَّ يَوْمٍ وہ جو اس کی دائمی کمائی ہے ہر روز لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ إِنَّمَا هُوَ الْقُدْرَةُ دُونَ النِّصَابِ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو معتبر ہے حقوق العباد کے اندر، یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، قدرت کو دیکھا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی میں نصاب کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ قدرت کو دیکھا جاتا ہے، بلکہ قدرت کو دیکھا جاتا ہے۔ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے قرضہ لیا ہے تو اب یہ قرضہ اس کو واپس کرنا پڑے گا، تو اب اس میں یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ جو مقروض ہے اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے یا نہیں، نہیں، یہ دیکھیں گے اس کے پاس تھوڑا سا بھی زائد مال ہے جس کے ذریعے قرض کی ادائیگی کر سکتا ہے تو اس کو وہ ادائیگی کرنا پڑے گی بھئی۔ نصاب کو یہاں نہیں دیکھیں گے۔ ایک شخص پر دوسرے کا حق واجب ہے تو وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، اس کے اندر اس کی مالداری کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس کی قدرت کو دیکھا جائے گا، جب وہ قادر ہے تو اس کو ادا کرنا پڑے گا بھئی۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں: لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ إِنَّمَا هُوَ الْقُدْرَةُ دُونَ النِّصَابِ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو حقوق العباد کے اندر معتبر ہے وہ قدرت ہے نہ کہ نصاب، فَإِنَّهُ لِلتَّيْسِيرِ کیونکہ نصاب جو ہوتا ہے وہ تو آسانی کے لیے ہوتا ہے۔ نصاب تو کس لیے ہوتا ہے؟ آسانی کے لیے ہوتا ہے تاکہ زکوٰۃ وغیرہ آسانی سے ادا کر دے اور باقی سارا مال اس آدمی کے پاس بچ جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِنَّهُ لِلتَّيْسِيرِ اس لیے کیونکہ نصاب جو ہوتا ہے وہ آسانی کے لیے ہوتا ہے، وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ فتویٰ پہلے قول پر ہے یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر، کہ مالداری میں کس کو دیکھیں گے؟ نصاب کو دیکھیں گے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو وجوبِ زکوٰۃ کے نصاب کے ساتھ اندازہ لگاتے ہیں لیکن فتویٰ اس پر ہے کہ معتبر تو نصاب ہی ہے لیکن وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب نہیں حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب۔ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب نہیں بلکہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب۔ یاد رکھو بھئی، یہاں دو قسم کے نصاب ہیں۔ ایک نصاب ہے وجوبِ زکوٰۃ کا اور ایک نصاب ہے حرمانِ زکوٰۃ کا۔ وجوبِ زکوٰۃ یعنی جس آدمی کے پاس اتنا مال ہو اتنا نصاب کے بقدر اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے۔ اور حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب یعنی ایک آدمی کے پاس اس نصاب کے بقدر مال ہو تو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ تو ایک نصاب کس چیز کا ہے؟ وجوبِ زکوٰۃ کا اور ایک نصاب ہے حرمانِ زکوٰۃ کا۔ تو یاد رکھو نصاب تو دونوں کا ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر ہے۔ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی اور حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ وجوبِ زکوٰۃ آئے گا صرف مالِ نامی میں۔ وجوبِ زکوٰۃ کس میں آئے گا؟ مالِ نامی میں، یعنی ایسا مال جو بڑھنے والا ہے، جس میں بڑھنے کی صلاحیت ہے اور وہ چار چیزیں ہیں میں نے بتلایا: سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ ایک آدمی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے، تھوڑی سی چاندی ہے، تھوڑے سے روپے ہیں اور کچھ سامانِ تجارت ہے، لیکن ان ساروں کو جمع کریں، ان کی قیمت لگائیں تو وہ ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر بنتی ہے تو اس مال پر جب سال گزرے گا تو اس آدمی پر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی۔ لیکن اگر ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہوئی اس مالِ نامی کی قیمت تو پھر اس شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ تو دیکھو اس کے اندر صرف مالِ نامی کو دیکھا ہے یعنی سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ اس آدمی کے اور مال کو نہیں دیکھنا۔ جبکہ حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں حاجتِ اصلیہ سے جو زائد چیزیں ہیں ان کو بھی ملایا جاتا ہے۔ آپ کس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور کس کو نہیں؟ تو یاد رکھو مستحقِ زکوٰۃ وہ شخص ہے کہ اس کے پاس اپنی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال نہ ہو۔ ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال نہ ہو، مثلاً ایک آدمی ہے اس کے پاس کچھ مال تو موجود ہے لیکن وہ ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہے تو یہ آدمی زکوٰۃ کا مستحق ہے، اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے بھئی۔ لیکن یہاں پر صرف مالِ نامی کو نہیں دیکھنا، جو ضرورت اور حاجت سے زائد سامان ہے اس کو بھی ساتھ ملائیں گے۔ اب مثلاً اس آدمی کے پاس مالِ نامی جو ہے یعنی سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت ان کی جب قیمت لگائی جائے تو وہ ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہے، لیکن کچھ زائد چیزیں اس آدمی کے پاس موجود ہیں جو اس کی ضرورت سے زائد ہیں۔ مثلاً کچھ زائد برتن اس نے گھر میں رکھے ہوئے ہیں تو اب ان برتنوں کی قیمت بھی ساتھ لگائیں گے۔ کچھ اور چیزیں اس کے پاس زائد پڑی ہیں ضرورت سے، ان کی بھی قیمت لگائیں گے اور اگر ان ساروں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر بن گئی تو معلوم ہوا یہ آدمی مستحقِ زکوٰۃ نہیں، یہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب ہے۔ تو حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں صرف مالِ نامی کو نہیں دیکھیں گے بلکہ ضرورتِ اصلیہ سے زائد مال کو بھی دیکھیں گے۔ اب حاجتِ اصلیہ سے زائد مال کسے کہیں گے؟ تو یاد رکھنا کہ وہ سامان جو سارا سال کسی بھی طرح انسان کے کام میں نہ آئے یہ سب حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے، اس کو بھی ساتھ ملائیں گے۔ مثلاً ایک آدمی ہے بھئی اس کے پاس گھر میں کچھ اس نے برتن قیمتی رکھے ہوئے ہیں اور سارا سال ان برتنوں کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی، تو معلوم ہوا یہ اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ہیں۔ تو ان کی بھی قیمت ساتھ ملائی جائے گی۔ اور اسی طرح اگر کچھ چیزیں مثلاً انسان نے آسائش کے لیے رکھی ہوئی ہیں، اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں، مثلاً حاجت تو ایک سائیکل کی ہے اس نے دو سائیکلیں رکھی ہوئی ہیں تو دوسری سائیکل بھی کیا ہوئی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوئی، تو ان زائد چیزوں کی یا اس آسائش کے لیے رکھی ہوئی چیزوں کی بھی قیمت لگائی جائے گی۔ تو معلوم ہوا حرمانِ صدقہ کے اندر ضرورتِ اصلیہ اور حاجتِ اصلیہ سے زائد جو چیزیں ہیں ان کی قیمت بھی ملائی جائے گی۔ مثلاً ایک ایسی چیز ہے جو سال بھر اس کے استعمال میں ہی نہیں آتی اس نے ویسے ہی رکھی ہوئی ہے، یا مثلاً ضرورت سے زائد کوئی چیز رکھی ہوئی ہے یا آسائش اور سہولت کے لیے کچھ چیزیں جو ہیں رکھی ہوئی ہیں تو وہ ان چیزوں کی بھی قیمت ملائی جائے گی حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حرمانِ زکوٰۃ میں چاہے مالِ نامی ہو چاہے غیرِ نامی ساروں کی قیمت لگائی جائے گی اور وہ اگر ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچ جائے تو یہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب پورا ہو گیا، یہ شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ جبکہ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے کہ مالِ نامی کو صرف دیکھیں گے اور وہ چار چیزیں ہیں، ان کو دیکھیں گے یعنی سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت، صرف ان کو دیکھیں گے اور یہ ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ واجب ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ اور فتویٰ جو ہے پہلے قول پر ہے یعنی مالداری میں نصاب کو دیکھا جائے گا، لَكِنَّ النِّصَابَ نِصَابُ حِرْمَانِ الصَّدَقَةِ لیکن یہ نصاب جو ہے حرمانِ صدقہ کا نصاب ہے۔ صدقہ یعنی زکوٰۃ بھئی، عربی میں زکوٰۃ کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صدقہ کہتے ہیں بھئی۔ پھر ایک صدقۂ واجبہ ہے ایک غیرِ واجبہ، صدقۂ واجبہ جیسے زکوٰۃ وغیرہ اور صدقۂ غیرِ واجبہ کوئی شخص اپنی مرضی سے فقراء کو کوئی مال وغیرہ دیتا ہے یہ صدقۂ غیرِ واجبہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: لَكِنَّ النِّصَابَ نِصَابُ حِرْمَانِ الصَّدَقَةِ لیکن وہ نصاب جو معتبر ہے وہ حرمانِ صدقہ کا نصاب ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔ اور اس کی تین بہنیں ہیں، ایک حقیقی بہن ہے، ایک علاتی بہن ہے اور ایک اخیافی بہن ہے، تو ان پر میراث کے بقدر ہی خرچہ آئے گا۔ لہٰذا اس اپاہج معذور اور فقیر بھئی کا جو نفقہ ہے اس کے پانچ حصے کیے جائیں گے، تین حصے حقیقی بہن کو ادا کرنے ہوں گے، ایک حصہ علاتی بہن کو ادا کرنا ہوگا اور ایک حصہ اخیافی بہن کو، بات سمجھ میں آگئی، تو یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ“ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ، اور یہ بھی یاد رکھنا، تنگ دست ہونے کے ساتھ ساتھ اس بھئی کا اپاہج یا اندھا ہونا بھی ضروری ہے، کیونکہ اگر یہ اپاہج یا اندھا نہیں ہے پھر تو یہ خود کما سکتا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ“ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ جو ہے، ”عَلَى الْأَخَوَاتِ الْمُتَفَرِّقَاتِ الْمُوسِرَاتِ“ وہ مختلف قسم کی مالدار بہنوں پر، ”أَخْمَاسًا“ پانچ حصے ہو کر واجب ہوگا، ”عَلَى قَدْرِ الْمِيرَاثِ“ میراث کے بقدر۔ موسر کہتے ہیں خوشحال کو مالدار کو، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَنَفَقَةُ الْأَخِ الْمُعْسِرِ“ اور تنگ دست بھئی کا نفقہ، ”عَلَى الْأَخَوَاتِ الْمُتَفَرِّقَاتِ الْمُوسِرَاتِ“ وہ مالدار مختلف قسم کی بہنوں پر، ”أَخْمَاسًا“ پانچ حصے ہو کر وہ نفقہ واجب ہوگا، ”عَلَى قَدْرِ الْمِيرَاثِ“ میراث کے بقدر۔ ”غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ فِي الْجُمْلَةِ لَا إِحْرَازُهُ“ یہاں سے صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ جو نفقہ وارثوں پر آئے گا اس میں حقیقتاً وارث ہونے کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے، وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے، ایک آدمی میں وارث ہونے کی صلاحیت موجود ہے تو اس پر نفقہ واجب ہوگا۔ چاہے حقیقت میں اس کو بعد میں کچھ بھی مال نہ ملے، کیونکہ حقیقتاً اس کو کتنا مال ملے گا یہ تو ابھی پتہ ہی نہیں ہے، یاد رکھو وراثت اسی کو ملتی ہے جو میت کی موت کے وقت زندہ ہو، ایک آدمی کا انتقال ہوا اس کا بیٹا زندہ ہے تو یہ بیٹا اس کا وارث بنے گا، لیکن اگر یہ بیٹا اس میت کی زندگی میں ہی فوت ہو گیا تھا تو پھر یہ وارث نہیں بنے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی جو نفقہ آئے گا اس میں وارث ہونے کی صلاحیت کو دیکھا جائے گا، حقیقتاً وارث ہونے کو نہیں دیکھا جائے گا، کیونکہ حقیقتاً وارث ہونے کا تو ابھی پتہ ہی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ پہلے انتقال کر جائے پھر تو یہ وارث ہی نہیں بنے گا بھئی۔ نیز اسی طرح بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرا وارث محروم ہو جاتا ہے، مثلاً مرنے والے کا بیٹا بھی ہے اور پوتا بھی موجود ہے، تو پھر یاد رکھو جب بیٹا موجود ہو تو پوتے کو کچھ بھی نہیں ملتا، تو دیکھو بیٹے کی وجہ سے پوتا محروم ہو گیا، محجوب ہو گیا، اور بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصے میں کمی آ جاتی ہے، مثلاً مرنے والے کی ماں کو ثلث ملتا ہے، تیسرا حصہ، لیکن اگر مرنے والے کی اولاد موجود ہے یا مرنے والے کے دو بھئی بہن موجود ہیں تو پھر ماں کو ثلث نہیں ملتا پھر چھٹا حصہ ملتا ہے یعنی سدس بھئی، تو دیکھو اولاد کی وجہ سے ماں کا حصہ ثلث سے کم ہو کر سدس ہو گیا، یا مرنے والے کے دو بھئی بہن زندہ ہیں تو ان کی وجہ سے ماں کا حصہ ثلث سے کم ہو کر سدس ہو گیا، تو معلوم ہوا بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرا وارث جو ہے محروم ہو جاتا ہے یا اسی طرح بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصے میں کمی آ جاتی ہے، تو لہٰذا یہاں پر جو نفقہ واجب ہوگا ایک شخص کا دوسرے شخص پر اس میں وارث ہونے کی صلاحیت کو دیکھا جائے گا، حقیقت میں وہ وارث بنتا ہے یا نہیں بنتا اس کو نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ“ علاوہ اس کے کہ وہ چیز جو معتبر ہے، ”أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ“ وہ وارث ہونے کی صلاحیت ہے، ”فِي الْجُمْلَةِ“ مجموعی اعتبار سے، ”لَا إِحْرَازُهُ“ نہ کہ وراثت کو سمیٹنا، احرز یحرز احراز کے معنی ہیں سمیٹ لینا، جمع کر لینا، یعنی حقیقت کے اندر وارث بننا، وراثت کو سمیٹ لینا، یہاں اس کا اعتبار نہیں ہے، بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت کا اعتبار ہے بھئی۔ دیکھو آگے صاحب ہدایہ مثال ذکر فرمائیں گے، اس سے خوب وضاحت ہو جائے گی، کہتے ہیں: ”غَيْرَ أَنَّ الْمُعْتَبَرَ أَهْلِيَّةُ الْإِرْثِ فِي الْجُمْلَةِ لَا إِحْرَازُهُ“ علاوہ اس کے کہ وہ چیز جو معتبر ہے وہ وارث ہونے کی صلاحیت ہے مجموعی اعتبار سے، اس وراثت کو سمیٹنا جو ہے وہ معتبر نہیں ہے۔ ”فَإِنَّ الْمُعْسِرَ إِذَا كَانَ لَهُ خَالٌ وَابْنُ عَمٍّ“ صورت مسئلہ یہ: ایک آدمی ہے اپاہج ہے اور تنگ دست ہے، اور اس کا ماموں بھی زندہ ہے اور اس کے چچا کا بیٹا بھی زندہ ہے، اب ماموں جو ہے وہ قریبی محرم رشتہ دار ہے، جبکہ چچا کا بیٹا وہ رشتہ دار تو ہے لیکن محرم نہیں ہے بھئی، تو اس آدمی کا نفقہ ماموں پر واجب ہوگا، اس آدمی کا نفقہ ماموں پر واجب ہوگا کیونکہ وہ قریبی محرم رشتہ دار ہے، چچا کا بیٹا قریبی محرم رشتہ دار نہیں ہے بھئی، کیونکہ چچا کی بیٹی سے تو نکاح جائز ہوتا ہے بھئی، تو معلوم ہوا چچا کی جو اولاد ہے وہ محرم نہیں ہے بھئی۔ اب دیکھو اگر اس شخص کا انتقال ہو جائے تو چچا کا بیٹا عصبہ ہونے کی وجہ سے سارا مال لے جائے گا، اس کا انتقال ہوا صرف اس کا ماموں زندہ ہے اور چچا کا بیٹا زندہ ہے، تو چچا کا بیٹا سارا مال میراث لے جائے گا، اور ماموں جو ہے اس کے ساتھ رشتہ، اس کے ساتھ رشتہ ماں کے واسطے سے ہے، لہٰذا اس کو کچھ بھی نہیں ملے گا، تو دیکھو حقیقتِ میراث کو دیکھا جائے تو حقیقتاً تو چچا کا بیٹا وارث بن رہا ہے، ماموں تو وارث نہیں بن رہا، لہٰذا سارا نفقہ کس پر آنا چاہیے تھا؟ چچا کے بیٹے پر، لیکن شریعت نے چچا کے بیٹے پر نفقہ واجب نہیں کیا بلکہ ماموں پر نفقہ واجب کیا ہے، معلوم ہوا یہاں حقیقتِ میراث کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت معتبر ہے، اور ماموں میں بھی وارث ہونے کی صلاحیت ہے، اگر یہ چچا کا بیٹا نہ ہوتا تو پھر ماموں وارث بن جاتا، بات سمجھ میں آگئی، تو یہ معنی ہے۔ ”فَإِنَّ الْمُعْسِرَ إِذَا كَانَ لَهُ خَالٌ وَابْنُ عَمٍّ“ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ تنگ دست جو ہے جب اس کا ماموں اور چچا کا بیٹا ہو، ”تَكُونُ نَفَقَتُهُ عَلَى خَالِهِ“ تو اس تنگ دست کا نفقہ اس کے ماموں پر ہوگا، ”وَمِيرَاثَهُ يُحْرِزُهُ ابْنُ عَمِّهِ“ اور جبکہ اس کی میراث جو ہے اس کو جمع کر لے گا اس کے چچا کا بیٹا، یعنی میراث ساری وہ لے جائے گا، تو حقیقتِ میراث کا اعتبار نہیں ہے بلکہ وارث ہونے کی صلاحیت معتبر ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ“ بھئی صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ دین مختلف ہو تو اس صورت میں صرف بیوی اور اصول اور فروع کا نفقہ انسان پر واجب ہوتا ہے، جبکہ ان کے علاوہ اگر کوئی اور قریبی محرم رشتہ دار ہے وہاں اگر دین مختلف ہے تو ان کا نفقہ واجب نہیں ہوگا۔ وجہ یہ کہ اور قریبی محرم رشتہ داروں پر جو نفقہ واجب ہوتا ہے وہ میراث کے بقدر ہوتا ہے، اور جب دین مختلف ہے پھر تو ایک دوسرے کے وارث ہی نہیں بن سکتے، جب وارث ہی نہیں بنیں گے تو نفقہ بھی واجب نہیں ہوگا، تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَجِبُ نَفَقَتُهُمْ مَعَ اخْتِلَافِ الدِّينِ“ اور یہ قریبی محرم رشتہ داروں کا نفقہ واجب نہیں ہوگا دین کے مختلف ہونے کے ساتھ، ”لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ“ وراثت کی اہلیت کے باطل ہونے کی وجہ سے کہ اب ان میں وراثت کی اہلیت ہی نہیں جب دین مختلف ہے بھئی، ”وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ“ اور وراثت کا اعتبار ضروری ہے، وراثت کا اعتبار ضروری ہے۔ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: ”لِبُطْلَانِ أَهْلِيَّةِ الْإِرْثِ وَلَا بُدَّ مِنِ اعْتِبَارِهِ“ اس لیے کیونکہ وراثت کی اہلیت باطل ہو گئی اور اس کا اعتبار تو ضروری ہے۔ ”وَلَا تَجِبُ عَلَى الْفَقِيرِ“ اچھا بھئی یہ جو قریبی محرم رشتہ دار ہیں ان کا نفقہ تب واجب ہوگا جب دین بھی ایک ہو، اور نیز یہ آدمی جو ہے یہ تنگ دست نہ ہو، یہ خود خوشحال ہو، مالدار ہو، پھر ہی اس پر دوسرے کا نفقہ واجب ہوگا۔ اگر یہ خود ہی فقیر ہے پھر تو یہ خود محتاج ہے تو اس پر کسی دوسرے کا نفقہ واجب نہیں کیا جا سکتا، تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَجِبُ عَلَى الْفَقِيرِ“ اور یہ نفقہ فقیر پر بھی واجب نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهَا تَجِبُ صِلَةً“ اس لیے کیونکہ یہ نفقہ واجب ہوا ہے بطورِ احسان کے، ”وَهُوَ يَسْتَحِقُّهَا عَلَى غَيْرِهِ“ اور یہ فقیر یہ تو خود احسان کا مستحق ہے غیر پر، کس کے ساتھ احسان کیا جائے، ”فَكَيْفَ تُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ؟“ تو کیسے اس پر نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے؟ تستحق کا کیا معنی کر لیں گے یہاں؟ واجب کرنا، ”فَكَيْفَ تُسْتَحَقُّ عَلَيْهِ؟“ تو اس فقیر پر نفقہ کیسے واجب کیا جا سکتا ہے؟ ”بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ وَوَلَدِهِ الصَّغِيرِ“ بھئی قریبی محرم رشتہ داروں کا نفقہ مالدار پر تو واجب کیا جا سکتا ہے لیکن تنگ دست پر واجب نہیں کیا جا سکتا، لیکن بیوی اور نابالغ اولاد ان کا نفقہ تو ہر حال میں انسان کو دینا پڑے گا چاہے وہ تنگ دست ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ اس نے خود اس عورت سے نکاح کیا ہے بھئی، تو جب عورت سے نکاح کیا ہے تو عورت کا خرچہ بھی اور اس سے جو اولاد پیدا ہوگی اس کا خرچہ بھی اس پر آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ نَفَقَةِ الزَّوْجَةِ وَوَلَدِهِ الصَّغِيرِ“ بخلاف بیوی اور نابالغ اولاد کے نفقہ کے، ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَهَا“ اس لیے کیونکہ وہ اس آدمی نے خود اپنے اوپر لازم کیا ہے، وہ نفقہ، اولاد اور بیوی کا نفقہ خود اپنے اوپر لازم کیا ہے، ”بِالْإِقْدَامِ عَلَى الْعَقْدِ“ عقدِ نکاح پر پیش قدمی کر کے، جب اس نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے تو اس نے خود عقد کے ذریعے اس کے نفقے کو اپنے اوپر واجب کر لیا، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ الْتَزَمَهَا“ اس لیے کیونکہ اس تنگ دست نے بیوی کے نفقے کو خود اپنے اوپر لازم کیا ہے، ”بِالْإِقْدَامِ عَلَى الْعَقْدِ“ عقدِ نکاح پر پیش قدمی کر کے، ”إِذِ الْمَصَالِحُ لَا تَنْتَظِمُ دُونَهَا“ اس لیے کیونکہ نکاح کی جو مصلحتیں ہیں ”لَا تَنْتَظِمُ دُونَهَا“ ان کا انتظام نہیں ہو سکتا نفقے کے بغیر۔ نکاح کی مصلحتوں کا انتظام نفقے کے بغیر نہیں ہو سکتا، ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور آپ اپنا گھر بسا کر رکھنا چاہتے ہیں تو نفقہ آپ کو دینا پڑے گا۔ ”إِذِ الْمَصَالِحُ لَا تَنْتَظِمُ دُونَهَا“ اس لیے کیونکہ نکاح کی جو مصلحتیں ہیں ان کا انتظام نفقے کے بغیر نہیں ہو سکتا، ”وَلَا يَعْمَلُ فِي مِثْلِهَا الْإِعْسَارُ“ اور تنگ دستی اس جیسی چیزوں میں عمل نہیں کرتی۔ یہ آدمی بے شک تنگ دست ہے لیکن بیوی اور نابالغ اولاد کا نفقہ دینا پڑے گا کیونکہ وہ اس نے خود عقد کے ذریعے اپنے اوپر لازم کیا ہے، جب ایک چیز کو آدمی اپنے اوپر خود لازم کر دے پھر اس میں تنگ دستی وغیرہ کو نہیں دیکھا جاتا، اس نے خود لازم کیا ہے اس کو دینا پڑے گا بھئی، یہ معنی ہے: ”وَلَا يَعْمَلُ فِي مِثْلِهَا الْإِعْسَارُ“ اور اس جیسی چیزوں کے اندر تنگ دستی عمل نہیں کرتی۔ ”ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا“ اچھا بھئی بات چل رہی ہے کہ قریبی محرم رشتہ دار اگر وہ تنگ دست ہے اور وہ اپاہج وغیرہ ہے تو پھر اس کا نفقہ دوسرے قریبی محرم رشتہ دار پر واجب ہوگا، لیکن شرط یہ ہے کہ یہ قریبی محرم رشتہ دار مالدار ہو، اب مالداری کی کیا تعریف ہے؟ مالداری سے یہاں کیا مراد ہے؟ تو اس میں یاد رکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس میں نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا، کس کو؟ نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا، یعنی ایک آدمی کے پاس نصابِ زکوٰۃ کے بقدر مال موجود ہے تو اس کا مطلب ہے یہ مالدار ہے، اور نصابِ زکوٰۃ کتنا ہے؟ ساڑھے باون تولے چاندی۔ ایک آدمی کے پاس ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مالِ نامی موجود ہو، مالِ نامی یعنی بڑھنے والا مال موجود ہو، اور مالِ نامی میں کیا کیا داخل ہے؟ سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ مالِ نامی میں کیا کیا داخل ہے؟ سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ ایک آدمی کے پاس سونا چاندی کرنسی اور مالِ تجارت موجود ہے، ان ساروں کی قیمت لگائیں گے، اور اگر ان کی قیمت ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچ گئی تو یہ نصاب کے بقدر مال ہے اور اس پر سال گزر جائے تو زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، توجہ ہے؟ تو یہ ہے وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب بھئی، وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں نصاب معتبر ہے، جس کے پاس نصاب کے بقدر مال موجود ہوگا وہ مالدار شمار ہوگا، اور جب وہ مالدار ہے تو اس پر اپنے غریب محتاج قریبی محرم رشتہ دار کا نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر نصاب کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ قدرت کو دیکھا جائے گا، کہ یہ شخص اس کے نفقے پر قادر ہے یا نہیں۔ اس کا پتہ اس طرح چلے گا کہ مہینے کے اندر مثلاً اس کو تنخواہ ملتی ہے، ماہانہ آمدنی ہے اس کی، تو اس ماہانہ آمدنی میں سے اس آدمی کا اپنا خرچہ اور اس کے بیوی بچوں کا خرچہ نکال کر اگر زائد مال بچتا ہے تو معلوم ہوا یہ مالدار ہے۔ اس کا اور اس کے بیوی بچوں کا خرچہ نکال کر اگر کچھ مال زائد بنتا ہے تو معلوم ہوا یہ مالدار ہے، اس پر دوسرے کا نفقہ واجب کیا جا سکتا ہے، اور اگر یہ کاریگر ہے، روزانہ کمائی کرتا ہے تو پھر اس روزانہ کی کمائی کو دیکھا جائے گا کہ اگر وہ کمائی اس کی اور بیوی بچوں کے روزانہ کے خرچے سے زائد ہے تو اس کو مالدار شمار کیا جائے گا اور اس پر نفقہ واجب کر دیا جائے گا قریبی محرم رشتہ دار کا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے نصابِ زکوٰۃ کا اعتبار کیا، وجوبِ زکوٰۃ کے نصاب کا اعتبار کیا، اور امام محمد رحمہ اللہ نے قدرت کا اعتبار کیا کہ وہ شخص دوسرے کی مدد پر قادر ہو یعنی اس کے پاس کچھ زائد مال ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ“ یسار کہتے ہیں مالداری کو، کہتے ہیں: ”ثُمَّ الْيَسَارُ مُقَدَّرٌ بِالنِّصَابِ“ اور پھر یہ جو مالداری ہے اس کا اندازہ لگایا گیا ہے نصاب کے ذریعے، ”فِيمَا رُوِيَ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اس روایت میں جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت کی گئی ہے، ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهُ قَدَّرَهُ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا“ کہ انہوں نے اس مالداری کا اندازہ لگایا ہے بما یفضل وہ جو زائد ہو، ”عَنْ نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ شَهْرًا“ اپنے اور اپنے گھر والوں کے نفقے سے باعتبار مہینے کے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے، ”أَنَّهُ قَدَّرَهُ“ کہ انہوں نے مالداری کا اندازہ لگایا ہے، ”بِمَا يَفْضُلُ“ اس چیز کے ساتھ جو زائد ہو، ”عَلَى نَفَقَةِ نَفْسِهِ وَعِيَالِهِ“ اپنے نفقے پر اور اپنے گھر والوں کے نفقے پر، اپنے اہل و عیال کے نفقے پر جو زائد ہو، ”شَهْرًا“ باعتبار مہینے کے، یعنی ایک مہینے کے خرچے میں سے جو زائد ہو اس کے پاس، ”أَوْ بِمَا يَفْضُلُ“ یا انہوں نے اس کا اندازہ لگایا ہے وہ جو زائد ہو، ”عَنْ ذَلِكَ“ اس نفقے پر، ”مِنْ كَسْبِهِ الدَّائِمِ كُلَّ يَوْمٍ“ وہ جو اس کی دائمی کمائی ہے ہر روز۔ اگر وہ کاریگر ہے تو ہر روز وہ جو کما رہا ہے تو اس کے اپنے نفقے اور اہل و عیال کے نفقے سے زائد مال ہے اس کے پاس تو یہ دوسرے کو نفقہ دینے پر قادر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَوْ بِمَا يَفْضُلُ عَنْ ذَلِكَ“ یا وہ جو زائد ہو اس اپنے اور بیوی بچوں کے نفقے پر، ”مِنْ كَسْبِهِ الدَّائِمِ كُلَّ يَوْمٍ“ وہ جو اس کی دائمی کمائی ہے ہر روز۔ ”لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ إِنَّمَا هُوَ الْقُدْرَةُ دُونَ النِّصَابِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو معتبر ہے حقوق العباد کے اندر، یہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ نصابِ زکوٰۃ کو دیکھا جائے گا، اور جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں قدرت کو دیکھا جائے گا، اس لیے کیونکہ حقوق العباد کی ادائیگی میں نصاب کو نہیں دیکھا جاتا بلکہ قدرت کو دیکھا جاتا ہے، بلکہ قدرت کو دیکھا جاتا ہے، ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے قرضہ لیا ہے تو اب یہ قرضہ اس کو واپس کرنا پڑے گا، تو اب اس میں یہ نہیں دیکھیں گے کہ یہ جو مقروض ہے اس کے پاس نصاب کے بقدر مال ہے یا نہیں، نہیں یہ دیکھیں گے اس کے پاس تھوڑا سا بھی زائد مال ہے جس کے ذریعے قرض کی ادائیگی کر سکتا ہے تو اس کو وہ ادائیگی کرنا پڑے گی بھئی، نصاب کو یہاں نہیں دیکھیں گے۔ ایک شخص پر دوسرے کا حق واجب ہے تو وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، اس کے اندر اس کی مالداری کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس کی قدرت کو دیکھا جائے گا، جب وہ قادر ہے تو اس کو ادا کرنا پڑے گا بھئی، تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ إِنَّمَا هُوَ الْقُدْرَةُ دُونَ النِّصَابِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جو حقوق العباد کے اندر معتبر ہے وہ قدرت ہے نہ کہ نصاب، ”فَإِنَّهُ لِلتَّيْسِيرِ“ کیونکہ نصاب جو ہوتا ہے وہ تو آسانی کے لیے ہوتا ہے، نصاب تو کس لیے ہوتا ہے؟ آسانی کے لیے ہوتا ہے تاکہ زکوٰۃ وغیرہ آسانی سے ادا کر دے اور باقی سارا مال اس آدمی کے پاس بچ جائے بھئی، تو کہتے ہیں: ”فَإِنَّهُ لِلتَّيْسِيرِ“ اس لیے کیونکہ نصاب جو ہوتا ہے وہ آسانی کے لیے ہوتا ہے۔ ”وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ“ صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ فتویٰ پہلے قول پر ہے یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر، کہ مالداری میں کس کو دیکھیں گے؟ نصاب کو دیکھیں گے۔ لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ تو وجوبِ زکوٰۃ کے نصاب کے ساتھ اندازہ لگاتے ہیں، لیکن فتویٰ اس پر ہے کہ معتبر تو نصاب ہی ہے لیکن وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب نہیں، حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب۔ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب نہیں بلکہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب۔ یاد رکھو بھئی یہاں دو قسم کے نصاب ہیں، ایک نصاب ہے وجوبِ زکوٰۃ کا اور ایک نصاب ہے حرمانِ زکوٰۃ کا۔ وجوبِ زکوٰۃ یعنی جس آدمی کے پاس اتنا مال ہو اتنا نصاب کے بقدر اور اس پر سال گزر جائے تو اس پر زکوٰۃ واجب ہوتی ہے، اور حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب یعنی ایک آدمی کے پاس اس نصاب کے بقدر مال ہو تو اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ تو ایک نصاب کس چیز کا ہے؟ وجوبِ زکوٰۃ کا، اور ایک نصاب ہے حرمانِ زکوٰۃ کا۔ تو یاد رکھو نصاب تو دونوں کا ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر ہے، وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی اور حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب بھی ساڑھے باون تولے چاندی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ وجوبِ زکوٰۃ آئے گا صرف مالِ نامی میں، وجوبِ زکوٰۃ کس میں آئے گا؟ مالِ نامی یعنی ایسا مال جو بڑھنے والا ہے جس میں بڑھنے کی صلاحیت ہے، اور وہ چار چیزیں ہیں میں نے بتلایا: سونا، چاندی، کرنسی اور مالِ تجارت۔ ایک آدمی کے پاس تھوڑا سا سونا ہے، تھوڑی سی چاندی ہے، تھوڑے سے روپے ہیں اور کچھ سامانِ تجارت ہے، لیکن ان ساروں کو جمع کریں ان کی قیمت لگائیں تو وہ ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر بنتی ہے تو اس مال پر جب سال گزرے گا تو اس آدمی پر زکوٰۃ واجب ہو جائے گی، لیکن اگر ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہوئی اس مالِ نامی کی قیمت تو پھر اس شخص پر زکوٰۃ واجب نہیں۔ تو دیکھو اس کے اندر صرف مالِ نامی کو دیکھا ہے یعنی سونا چاندی کرنسی اور مالِ تجارت، اس آدمی کے اور مال کو نہیں دیکھنا۔ جبکہ حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں حاجتِ اصلیہ سے جو زائد چیزیں ہیں ان کو بھی ملایا جاتا ہے۔ آپ کس کو زکوٰۃ دے سکتے ہیں اور کس کو نہیں؟ تو یاد رکھو مستحقِ زکوٰۃ وہ شخص ہے کہ اس کے پاس اپنی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال نہ ہو، ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر مال نہ ہو۔ مثلاً ایک آدمی ہے اس کے پاس کچھ مال تو موجود ہے لیکن وہ ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہے تو یہ آدمی زکوٰۃ کا مستحق ہے اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے بھئی، لیکن یہاں پر صرف مالِ نامی کو نہیں دیکھنا، جو ضرورت اور حاجت سے زائد سامان ہے اس کو بھی ساتھ ملائیں گے۔ اب مثلاً اس آدمی کے پاس مالِ نامی جو ہے یعنی سونا چاندی کرنسی اور مالِ تجارت ان کی جب قیمت لگائی جائے تو وہ ساڑھے باون تولے چاندی سے کم ہے، لیکن کچھ زائد چیزیں اس آدمی کے پاس موجود ہیں جو اس کی ضرورت سے زائد ہیں، مثلاً کچھ زائد برتن اس نے گھر میں رکھے ہوئے ہیں تو اب ان برتنوں کی قیمت بھی ساتھ لگائیں گے، کچھ اور چیزیں اس کے پاس زائد پڑی ہیں ضرورت سے ان کی بھی قیمت لگائیں گے، اور اگر ان ساروں کی قیمت ملا کر ساڑھے باون تولے چاندی کے برابر بن گئی تو معلوم ہوا یہ آدمی مستحقِ زکوٰۃ نہیں، یہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب ہے۔ تو حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں صرف مالِ نامی کو نہیں دیکھیں گے بلکہ ضرورتِ اصلیہ سے زائد مال کو بھی دیکھیں گے۔ اب حاجتِ اصلیہ سے زائد مال کسے کہیں گے؟ تو یاد رکھنا کہ وہ سامان جو سارا سال کسی بھی طرح انسان کے کام میں نہ آئے یہ سب حاجتِ اصلیہ سے زائد ہے، اس کو بھی ساتھ ملائیں گے۔ مثلاً ایک آدمی ہے بھئی اس کے پاس گھر میں کچھ اس نے برتن قیمتی رکھے ہوئے ہیں اور سارا سال ان برتنوں کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی تو معلوم ہوا یہ اس کی ضرورتِ اصلیہ سے زائد ہیں، تو ان کی بھی قیمت ساتھ ملائی جائے گی۔ اور اسی طرح اگر کچھ چیزیں مثلاً انسان نے آسائش کے لیے رکھی ہوئی ہیں، اس کی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہیں، مثلاً حاجت تو ایک سائیکل کی ہے اس نے دو سائیکلیں رکھی ہوئی ہیں تو دوسری سائیکل بھی کیا ہوئی حاجتِ اصلیہ سے زائد ہوئی تو ان زائد چیزوں کی یا اس آسائش کے لیے رکھی ہوئی چیزوں کی بھی قیمت لگائی جائے گی۔ تو معلوم ہوا حرمانِ صدقہ کے اندر ضرورتِ اصلیہ اور حاجتِ اصلیہ سے زائد جو چیزیں ہیں ان کی قیمت بھی ملائی جائے گی، مثلاً ایک ایسی چیز ہے جو سال بھر اس کے استعمال میں ہی نہیں آتی، اس نے ویسے ہی رکھی ہوئی ہے، یا مثلاً ضرورت سے زائد کوئی چیز رکھی ہوئی ہے، یا آسائش اور سہولت کے لیے کچھ چیزیں جو ہیں رکھی ہوئی ہیں تو ان چیزوں کی بھی قیمت ملائی جائے گی حرمانِ زکوٰۃ کے نصاب میں، بات سمجھ میں آگئی۔ تو حرمانِ زکوٰۃ میں چاہے مالِ نامی ہو چاہے غیر نامی، ساروں کی قیمت لگائی جائے گی، اور وہ اگر ساڑھے باون تولے چاندی تک پہنچ جائے تو یہ حرمانِ زکوٰۃ کا نصاب پورا ہو گیا، یہ شخص زکوٰۃ کا مستحق نہیں ہے۔ جبکہ وجوبِ زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے کہ مالِ نامی کو صرف دیکھیں گے، اور وہ چار چیزیں ہیں ان کو دیکھیں گے یعنی سونا چاندی کرنسی اور مالِ تجارت، صرف ان کو دیکھیں گے اور یہ ساڑھے باون تولے چاندی کے بقدر ہوں اور ان پر سال گزر جائے تو پھر زکوٰۃ واجب ہوگی، بات سمجھ میں آگئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْفَتْوَى عَلَى الْأَوَّلِ“ اور فتویٰ جو ہے پہلے قول پر ہے یعنی مالداری میں نصاب کو دیکھا جائے گا، ”لَكِنَّ النِّصَابَ نِصَابُ حِرْمَانِ الصَّدَقَةِ“ لیکن یہ نصاب جو ہے حرمانِ صدقہ کا نصاب ہے، صدقہ یعنی زکوٰۃ بھئی، عربی میں زکوٰۃ کو بھی کیا کہتے ہیں؟ صدقہ کہتے ہیں بھئی، پھر ایک صدقہ واجبہ ہے ایک غیر واجبہ، صدقہ واجبہ جیسے زکوٰۃ وغیرہ اور صدقہ غیر واجبہ کوئی شخص اپنی مرضی سے فقراء کو کوئی مال وغیرہ دیتا ہے یہ صدقہ غیر واجبہ ہے بھئی، تو کہتے ہیں: ”لَكِنَّ النِّصَابَ نِصَابُ حِرْمَانِ الصَّدَقَةِ“ لیکن وہ نصاب جو معتبر ہے وہ حرمانِ صدقہ کا نصاب ہے، بات سمجھ میں آگئی۔ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.
160 approved lectures · 82 of 160