آگے سبق دیکھیے بھئی۔
”قَالَ: وَإِنْ حُفِرَ لَهَا فِي الرَّجْمِ جَازَ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حَفَرَ لِلْغَامِدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا إِلَى صَدْوَتِهَا، وَحَفَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِشُرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ، وَإِنْ تُرِكَ لَا يَضُرُّهُ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يَأْمُرْ بِذَلِكَ، وَهِيَ مَسْتُورَةٌ بِثِيَابِهَا، وَالْحَفْرُ أَحْسَنُ؛ لِأَنَّهُ أَسْتَرُ“۔
بھئی گزشتہ سبق میں ”فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ وَإِقَامَتِهِ“ ہم نے شروع کی تھی۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو حد قائم کرنے کا طریقہ بتلایا کہ اگر زانی جو ہے وہ محصن ہے تو اس کو رجم کیا جائے گا، اور میں نے بتلایا تھا کہ محصن جو ہے رجم کے اندر، رجم کے معاملے میں محصن اس کو کہتے ہیں جس میں سات چیزیں پائی جائیں، سات شرطیں ہیں بھئی۔ ایک یہ کہ وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو، اور پھر اس کے بعد بیوی سے اس نے صحبت بھی کی ہو، اور بیوی بھی اسی کی طرح محصنہ ہو بھئی۔
تو پھر اس صورت کے اندر اگر زانی محصن ہے تو پھر اس کو رجم کیا جائے گا یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ اور دلیل اس کی یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رجم فرمایا تھا اور وہ محصن تھے۔ اور اسی طرح ایک حدیث کے اندر آتا ہے کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے مگر تین وجہ سے، اور ان میں سے ایک وجہ جو ہے محصن ہونے کے بعد زنا کرنا ہے، اور دوسری وجہ جو ہے اسلام کے بعد مرتد ہونا، اور تیسری وجہ جو ہے کسی کو ناحق قتل کر دینا۔ اور نیز اس پر صحابہ کا اجماع ہے کہ جب زانی محصن ہو تو اس کو رجم کیا جائے گا۔
چنانچہ رجم کے لیے قاضی جو ہے اس زانی کو کھلے میدان میں لے کر نکلے گا، اور اگر یہ زنا گواہوں سے ثابت ہوا ہے تو گواہ جو ہیں وہ رجم کی ابتدا کریں گے۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ گواہوں کا ابتدا کرنا یہ شرط ہے، اور شرط ہے تو مشروط ہے، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں۔ لہٰذا اگر گواہوں نے رجم سے انکار کر دیا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ رجوع کر رہے ہیں اپنی گواہی سے، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی، لیکن اس کی وجہ سے خود ان گواہوں پر حدِ قذف جاری نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ انہوں نے زبان سے رجوع نہیں کیا بلکہ صرف ان کے فعل کو ہم نے دلیل بنا دیا۔ اور اسی طرح اگر یہ گواہ غائب ہو گئے یا یہ گواہ جو ہیں مر گئے تو اس صورت میں بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ اور اگر یہ گواہ بیمار ہیں، اتنے بیمار ہیں کہ رجم کر ہی نہیں سکتے تو پھر بھی ان کو وہاں لایا جائے گا اور پھر وہاں پر جو حاکم یا قاضی ہے وہ ابتدا کرے گا رجم کی ان کی موجودگی میں۔ تو گواہوں سے رجم کی ابتدا کروانا یہ حیلہ ہے کہ کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ“ کہ حدود کو شبہوں کی وجہ سے ٹال دیا کرو، ان کو چھوڑ دیا کرو۔
تو لہٰذا بعض اوقات کوئی آدمی گواہی دیتے ہوئے تو جرأت کر لیتا ہے اور جھوٹی گواہی دے دیتا ہے، لیکن جب رجم کا موقع آیا، اب ایک انسانی جان جا رہی ہے اور اس کو پتھر مار مار کر قتل کیا جائے گا تو اس کو خوف آ جاتا ہے اور اس وقت وہ رجوع کر لیتا ہے بھئی۔
اور اگر زانی کا زنا جو ہے وہ اقرار سے ثابت ہوا ہے تو پھر جو حاکم ہے، جو قاضی ہے وہ ابتدا کرے گا، کیونکہ حضور علیہ السلام نے غامدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو چنے کے دانے کے برابر ایک چھوٹی سی کنکری مار کر رجم کی ابتدا فرمائی تھی، اور انہوں نے بھی زنا کا اعتراف کیا تھا۔
اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ رجم کی وجہ سے جب مجرم مر جائے تو پھر اس کو غسل بھی دیا جائے گا، کفن بھی دیا جائے گا، اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جائے گی بھئی۔
اور اگر وہ زانی محصن نہیں ہے، البتہ آزاد ہے تو پھر اس کی حدِ زنا جو ہے وہ سو کوڑے ہیں۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ“ کہ زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد ان دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے لگاؤ۔ اور یہ آیت تو مطلق ہے لیکن محصن کے حق میں یہ منسوخ ہے ایک دوسری آیت کی وجہ سے جو علماء ذکر فرماتے ہیں کہ ”الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا أَلْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ“، کہ یہ بھی آیت ہے البتہ اس کی تلاوت منسوخ ہو گئی لیکن اس کا حکم ابھی بھی باقی ہے۔ تو یہ آیت جو ہے یہ ناسخ ہے محصن کے حق میں اس حکم کے لیے جو ”الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي“ آیت کے اندر ذکر کیا گیا ہے۔ اور نیز میں نے بتایا تھا یہ آیت بھی ناسخ ہے اور نیز حضور علیہ السلام کا عمل بھی ناسخ ہے، آپ نے بھی محصن کو کوڑے نہیں لگائے بلکہ اس کو رجم فرمایا۔
اور پھر یہ بھی بتلایا آپ کو کہ یہ ضرب جو لگائی جائے گی یہ درمیانے درجے کی ضرب ہو گی، نہ بہت سخت ضرب ہو اور نہ ہی بہت ہلکی ضرب ہو بلکہ متوسط درجے کی ضرب، حتیٰ کہ کوڑا لگانے والا اپنے ہاتھ کو سر سے اونچا نہیں کرے گا بھئی۔ اور اگر کوڑے پر کوئی گرہیں پڑی ہوئی ہیں یا اس کی شاخیں وغیرہ ہیں تو ان کو ہٹا دیا جائے گا۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اس ضرب کی بنیاد سختی پر ہے، لہٰذا مرد کو یہ ضرب لگائی جائے تو اس کی قمیص اتار لی جائے گی کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی اسی کا حکم دیتے تھے بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں حدِ قذف جو ہے اس کے اندر جب ضرب لگائی جائے گی تو وہاں مرد کی قمیص نہیں اتاری جائے گی۔
اور پھر یہ بھی بتایا صاحبِ ہدایہ نے کہ یہ ضربیں ایک ہی عضو پر نہیں لگائی جائیں گی ورنہ تو وہ عضو تلف ہو جانے کا خطرہ ہے بھئی۔ مثلاً ہاتھ پر مار رہے ہیں یا پاؤں پر مار رہے ہیں تو وہ ہاتھ یا پاؤں تو شل ہو جائے گا بھئی، ضائع ہو جائے گا، لہٰذا پورے بدن پر پھیلا کر ضربیں لگائی جائیں گی۔ البتہ سر، چہرے اور شرمگاہ پر یہ ضربیں نہیں لگائیں گے، کیونکہ شرمگاہ پر ضرب لگائیں گے وہ تو موت تک پہنچا دے گا، اور سر اور چہرہ یہ تو مجمعِ حواس ہیں ان میں تمام حواس انسان کے جمع ہیں، اور اسی طرح چہرہ جو ہے وہ حسن کا مرکز ہے، تو ان پر ضربیں نہیں لگائیں گے۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سر پر بھی ایک ضرب لگائی جائے گی بھئی۔
پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ حدود کے اندر جو ضربیں لگائی جائیں گی وہ مرد کو کھڑا کر کے اس کو ضربیں لگائی جائیں گی اور عورت کو بٹھا کر ضربیں لگائی جائیں گی بھئی۔
اور اگر غلام پر حدِ زنا ثابت ہو گئی تو پھر اس صورت میں غلام کو آزاد کے مقابلے میں نصف، نصف مقدار کی سزا دی جائے گی یعنی پچاس کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ جبکہ غلام یا باندی کو زنا کی وجہ سے رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ رجم کے لیے محصن ہونا ضروری ہے، اور محصن کے اندر ایک شرط یہ تھی کہ وہ آزاد ہونا چاہیے بھئی۔ تو غلام اور باندی ان کو صرف کوڑے لگائیں گے اور وہ بھی نصف مقدار یعنی پچاس کوڑے لگائے جائیں گے۔
اور پھر یہ بھی بتلایا کہ عورت کو جب حدِ زنا لگائی جائے گی تو اس نے اگر کوئی موٹے کپڑے پہنے ہوئے ہیں یعنی کوٹ وغیرہ یا سویٹر ہے یا پوستین کوئی پہنی ہوئی ہے تو وہ چیزیں اتار لی جائیں گی اور باقی اسی طرح کپڑوں کے اندر اس کو زمین پر بٹھا کر یہ ضربیں لگائی جائیں گی بھئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
”قَالَ: وَإِنْ حُفِرَ لَهَا فِي الرَّجْمِ جَازَ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حَفَرَ لِلْغَامِدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا إِلَى صَدْوَتِهَا، وَحَفَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِشُرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ“
یاد رکھو عورت کو اگر رجم کیا جا رہا ہے تو بہتر یہ ہے اس کے لیے گڑھا کھودا جائے، اور پھر اس گڑھے کے اندر سینے تک اس کو دبا دیا جائے اور پھر اس کے بعد اسے رجم کیا جائے کیونکہ اس میں عورت کے لیے ستر زیادہ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں ”وَإِنْ حُفِرَ لَهَا فِي الرَّجْمِ جَازَ“ اور اگر عورت کے لیے گڑھا کھود دیا گیا رجم کے اندر تو یہ جائز ہے، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حَفَرَ لِلْغَامِدِيَّةِ إِلَى صَدْوَتِهَا“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے گڑھا کھودا قبیلۂ غامد کی عورت کے لیے اس کی چھاتی تک، ”وَحَفَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِشُرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی شراحہ ہمدانیہ کے لیے گڑھا کھودا۔ شراحہ ہمدانیہ بھئی یہ کوئی عورت تھیں، انہوں نے حضرت علی کے زمانے میں، انہوں نے بھی اعتراف کیا تھا زنا کا کہ مجھ پر حد لگا کر مجھے پاک کر دیا جائے، تو ان کے لیے بھی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے گڑھا کھدوایا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَحَفَرَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لِشُرَاحَةَ الْهَمْدَانِيَّةِ“ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی گڑھا کھودا تھا شراحہ ہمدانیہ کے لیے۔
”وَإِنْ تُرِكَ لَا يَضُرُّهُ“ اور اگر اس گڑھا کھودنے کو ترک کر دیا گیا تو یہ اس رجم کو کوئی نقصان نہیں دیتا، اس کی وجہ سے رجم میں کوئی نقصان نہیں آیا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ تُرِكَ لَا يَضُرُّهُ“ اور اگر گڑھا کھودنے کو ترک کر دیا گیا تو یہ بھی کوئی نقصان نہیں دیتا، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَأْمُرْ بِذَلِكَ“ کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس کا حکم نہیں دیا۔ گڑھا کھودنا کوئی لازم نہیں ہے، اگر چھوڑ دیا، اگر گڑھا نہ بھی کھودا تو کوئی حرج نہیں کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس کا حکم نہیں دیا۔
یاد رکھو شارحین یہاں فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ کے کلام کے اندر یہاں تناقض ہے کیونکہ پچھلی سطر میں ہی انہوں نے فرمایا ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حَفَرَ لِلْغَامِدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا“ کہ حضور علیہ السلام نے غامدیہ کے لیے گڑھا کھودا، تو کھودنے کی نسبت حضور کی طرف ہے لیکن یہ بات ظاہر ہے کہ حضور نے خود گڑھا نہیں کھودا بلکہ صحابہ کو حضور نے حکم دیا، لیکن حضور کی طرف کھودنے کی نسبت اس لیے کی کیونکہ حضور علیہ السلام حکم دینے والے تھے، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ فعل کی نسبت آمر کی طرف کر دی جاتی ہے، تو معلوم ہوا ایک سطر پہلے صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ حضور علیہ السلام نے گڑھا کھودنے کا حکم دیا تھا، اور اگلی سطر میں فرما رہے ہیں ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَأْمُرْ بِذَلِكَ“ کہ حضور علیہ السلام نے اس کا حکم نہیں دیا۔ تو یہ تو دونوں باتوں میں تناقض ہے، پچھلی سطر سے پتہ چلا حضور نے گڑھا کھودنے کا حکم دیا تھا غامدیہ کے لیے اور یہاں فرما رہے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے گڑھا کھودنے کا حکم نہیں دیا، تو شارحین فرماتے ہیں یہاں صاحبِ ہدایہ سے ذہول ہو گیا، کیونکہ ایک سطر پہلے ہی تو انہوں نے کہا ہے کہ حضور نے حکم دیا تھا اور اب فرما رہے ہیں کہ حضور نے حکم نہیں دیا، تو بعض علماء نے پھر اس کا یہ جواب دیا کہ ”لَمْ يَأْمُرْ“ سے مراد ہے ”لَمْ يُوجِبْ“ بھئی، حضور علیہ السلام نے اس کا حکم نہیں دیا یعنی حضور نے اس کو واجب نہیں فرمایا، کیونکہ امر جو ہے وہ وجوب کے لیے آتا ہے، اس کے ذریعے کسی پر کسی کام کو لازم کیا جاتا ہے، تو یہ ہے امر کا حقیقی معنی، تو یہاں پر ”لَمْ يَأْمُرْ“ کس معنی میں ہے؟ یعنی ”لَمْ يُوجِبْهُ“ کہ حضور علیہ السلام نے اس کو واجب نہیں فرمایا۔
تو کہتے ہیں ”وَإِنْ تُرِكَ لَا يَضُرُّهُ“ اور اگر اس گڑھا کھودنے کو ترک کر دیا گیا تو بھی یہ کوئی نقصان نہیں دیتا اس رجم کو، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَأْمُرْ بِذَلِكَ“ کیونکہ حضور علیہ السلام نے اس کا حکم نہیں دیا یعنی اس کو واجب قرار نہیں دیا، ”وَهِيَ مَسْتُورَةٌ بِثِيَابِهَا“ اور یہ عورت بھی چھپی ہوئی ہے اپنے کپڑوں کے ساتھ۔ عقلی دلیل بھی ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ گڑھا کھودنا کوئی ضروری نہیں ہے، گڑھے کی وجہ سے ستر زیادہ ہونا تھا لیکن اگر گڑھا نہیں ہے تو بھی کوئی حرج نہیں کیونکہ اس عورت نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں، اس کپڑوں کے اندر یہ مستور ہے، لہٰذا گڑھا کھودنا کوئی ضروری نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَهِيَ مَسْتُورَةٌ بِثِيَابِهَا“ اور یہ عورت جو ہے وہ بھی چھپی ہوئی ہے اپنے کپڑوں کے ساتھ، ”وَالْحَفْرُ أَحْسَنُ“ اور گڑھا کھودنا بہتر ہے ”لِأَنَّهُ أَسْتَرُ“ کیونکہ اس میں زیادہ ستر ہے عورت کے لیے۔
”وَيُحْفَرُ إِلَى الصَّدْرِ لِمَا رَوَيْنَا“ اور یہ گڑھا کھودا جائے گا سینے تک اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی کہ حضور علیہ السلام نے غامدیہ کے لیے گڑھا کھدوایا تھا ”إِلَى صَدْوَتِهَا“ اس کے سینے تک۔
آگے دیکھیے:
”وَلَا يُحْفَرُ لِلرَّجُلِ؛ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا حَفَرَ لِمَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، وَلِأَنَّ مَبْنَى الْإِقَامَةِ عَلَى التَّشْهِيرِ فِي الرِّجَالِ“ اور مرد کے لیے گڑھا نہیں کھودا جائے گا، ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ مَا حَفَرَ لِمَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ کیونکہ حضور علیہ السلام نے ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے لیے گڑھا نہیں کھودا، ”وَلِأَنَّ مَبْنَى الْإِقَامَةِ عَلَى التَّشْهِيرِ فِي الرِّجَالِ“ اور اس لیے کیونکہ حد قائم کرنے کی بنیاد تشہیر پر ہے مردوں میں۔ مردوں میں جو حد قائم کی جاتی ہے اس کی بنیاد تشہیر پر ہے کہ اس کی زیادہ سے زیادہ شہرت ہو، اور زیادہ شہرت جو ہے وہ اس مرد کو کھڑا کر کے اس کو رجم کرنے میں ہے، گڑھا کھود کر اس میں دبانے میں تشہیر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ مَبْنَى الْإِقَامَةِ عَلَى التَّشْهِيرِ فِي الرِّجَالِ“ اور اس لیے کیونکہ مردوں کے اندر حد قائم کرنے کی بنیاد تشہیر پر ہے، ”وَالرَّبْطُ وَالْإِمْسَاكُ غَيْرُ مَشْرُوعٍ“۔ ربط بھئی، رَبَطَ يَرْبِطُ رَبْط کا معنی ہے باندھنا، اور امساک کا معنی ہے روکنا۔ کہتے ہیں ”وَالرَّبْطُ وَالْإِمْسَاكُ غَيْرُ مَشْرُوعٍ“ اور مرد کو باندھنا اور اس کو روکنا غیر مشروع ہے، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ مرد کو کھڑا کر کے اس کو کوڑے لگائے جائیں گے، مرد کو باندھنا یا اس کو روکنا یعنی گڑھا وغیرہ جب کھود لیں گے وہ اب بھاگ بھی نہیں سکتا، تو مرد کو باندھنا یا روکنا یہ غیر مشروع ہے، یہ جائز نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَا يُقِيمُ الْمَوْلَى الْحَدَّ عَلَى عَبْدِهِ إِلَّا بِإِذْنِ الْإِمَامِ“
یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ آقا اپنے غلام پر خود بھی حد قائم کر سکتا ہے۔ آقا اپنے غلام پر خود بھی حد قائم کر سکتا ہے، قاضی کے پاس جانے کی یا قاضی سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ جبکہ ہم کہتے ہیں کہ نہیں، آقا اپنے غلام پر قاضی اور حاکم کی اجازت کے بغیر خود حد قائم نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں ”وَلَا يُقِيمُ الْمَوْلَى الْحَدَّ“ اور آقا جو ہے حد قائم نہیں کر سکتا ”عَلَى عَبْدِهِ“ اپنے غلام پر ”إِلَّا بِإِذْنِ الْإِمَامِ“ مگر حاکم کی اجازت سے۔
”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى رَحْمَةً وَاسِعَةً: لَهُ أَنْ يُقِيمَهُ؛ لِأَنَّ لَهُ وِلَايَةً مُطْلَقَةً عَلَيْهِ كَالْإِمَامِ بَلْ أَوْلَى“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَهُ أَنْ يُقِيمَهُ“ آقا کے لیے جائز ہے کہ وہ غلام پر یہ حد قائم کر سکتا ہے ”لِأَنَّ لَهُ وِلَايَةً مُطْلَقَةً عَلَيْهِ كَالْإِمَامِ“ اس لیے کیونکہ آقا کو مطلق ولایت حاصل ہوتی ہے اپنے غلام پر حاکم کی طرح، جیسے حاکم کو لوگوں پر ولایت حاصل ہوتی ہے اسی طرح آقا کو بھی اپنے غلام پر مطلقاً ولایت حاصل ہے ”بَلْ أَوْلَى“ بلکہ آقا کی زیادہ ولایت ہے بھئی۔ آقا کی ولایت زیادہ ہے اس لیے کیونکہ آقا اپنے غلام کے اندر وہ تصرفات بھی کر سکتا ہے جو حاکم بھی نہیں کر سکتا، یعنی آقا جب چاہے اپنے غلام کو بیچ سکتا ہے، چاہے تو کسی اور کو ہبہ وغیرہ کر سکتا ہے لیکن حاکم کے لیے تو جائز نہیں ہے کہ کسی دوسرے کے غلام کو بیچے یا کسی کو ہبہ کرے بھئی۔ تو معلوم ہوا آقا کو اپنے غلام پر حاکم کی طرح ولایت حاصل ہے بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ولایت حاصل ہے، لہٰذا جیسے حاکم کے لیے لوگوں پر حد جاری کرنا جائز ہے تو آقا کے لیے بھی اپنے غلام پر حد جاری کرنا جائز ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ لَهُ وِلَايَةً مُطْلَقَةً عَلَيْهِ كَالْإِمَامِ بَلْ أَوْلَى“ اس لیے کیونکہ آقا کو اپنے غلام پر مطلق ولایت ہوتی ہے امام کی طرح بلکہ اس سے بڑھ کر بھئی، ”لِأَنَّهُ يَمْلِكُ مِنَ التَّصَرُّفِ فِيهِ مَا لَا يَمْلِكُهُ الْإِمَامُ“ اس لیے کیونکہ آقا اپنے غلام میں ایسے تصرف کا مالک ہے کہ جس کا امام بھی مالک نہیں، یعنی آقا اس کو بیچ سکتا ہے یا ہبہ کر سکتا ہے۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يَمْلِكُ مِنَ التَّصَرُّفِ فِيهِ مَا لَا يَمْلِكُهُ الْإِمَامُ“ اس لیے کیونکہ آقا اپنے غلام کے اندر ایسے تصرف کا بھی مالک ہے کہ امام جس کا مالک نہیں ہے، ”فَصَارَ كَالتَّعْزِيرِ“ تو یہ حد بھی تعزیر کی طرح ہو گئی۔ یہ حد بھی کس کی طرح ہوئی؟ تعزیر کی طرح، اور تعزیر؟ تعزیر کا معنی تو ہے سزا دینا اور وہ تو قاضی کی رائے کے سپرد ہوتی ہے، اور بالاتفاق آقا اپنے غلام کو سزا دے سکتا ہے، اگر غلام کوئی غلطی وغیرہ کرتا ہے تو آقا اس کو سزا دے سکتا ہے یعنی آقا کو تعزیر کا اختیار ہے۔ تو جب آقا کو تعزیر کا اختیار ہے تو یہ حد بھی کس کی طرح ہو گئی؟ تعزیر کی طرح، تو آقا کو اس حد کا بھی اختیار ہو گا۔ تو کہتے ہیں ”فَصَارَ كَالتَّعْزِيرِ“ تو یہ حد بھی تعزیر کی طرح ہو گئی۔
”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ حضور علیہ السلام کا قول ہے، آنحضور نے فرمایا: ”أَرْبَعٌ إِلَى الْوُلَاةِ“۔ ”أَرْبَعٌ إِلَى الْوُلَاةِ“ ولاۃ جمع ہے والی کی، والی کہتے ہیں حاکم کو۔ چار چیزیں حاکموں کے سپرد ہیں، یہ حدیث میں آتا ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَذَكَرَ مِنْهَا الْحُدُودَ“ اور ان چار چیزوں میں حضور نے حدود کو بھی ذکر فرمایا۔ چار چیزیں حاکموں کے سپرد ہیں اور ان میں حضور نے حدود کو بھی ذکر فرمایا، معلوم ہوا حد قائم کرنا صرف حاکم کا کام ہے، لہٰذا آقا اپنے غلام پر حاکم کی اجازت کے بغیر حد قائم نہیں کر سکتا۔
یہ حاشیے میں حدیث دی ہوئی ہے بھئی، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”أَرْبَعَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالْحُدُودُ، وَالْقِصَاصُ“۔ چار چیزیں بادشاہ کے سپرد ہیں: الصلاۃ یعنی نماز بھئی، نماز قائم کرنا یعنی امامت کرنا، امامت کرنا یہ بادشاہ کا حق ہے، وہ امامت کرے گا، وہ نماز پڑھائے گا یا وہ کسی کو خود مقرر کرے اپنا نائب تو وہ نماز پڑھائے گا۔ اسی طرح زکوٰۃ ہے، زکوٰۃ وصول کرنا یہ بادشاہ کا حق ہے، اور اسی طرح حدود ہیں، حدود قائم کرنا بادشاہ کا حق ہے، اسی طرح قصاص ہے، قصاص قائم کرنا یہ بادشاہ کا حق ہے بھئی۔ تو ”أَرْبَعَةٌ إِلَى السُّلْطَانِ: الصَّلَاةُ، وَالزَّكَاةُ، وَالْحُدُودُ، وَالْقِصَاصُ“ نماز، زکوٰۃ، حدود اور قصاص بھئی۔ اور بعض حدیثوں میں قصاص کی جگہ قضاء کا ذکر بھی ہے بھئی کہ چوتھی چیز کیا ہے؟ قضا یعنی لوگوں کے درمیان فیصلہ کرنا، کہ بادشاہ خود فیصلہ کرے یا کسی کو اپنا نائب مقرر کرے فیصلہ کرنے کے لیے، تو یہ قاضی مقرر کرنا بھی بادشاہ کے سپرد ہے۔
اب دیکھیے کتاب پر:
”وَلَنَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: أَرْبَعٌ إِلَى الْوُلَاةِ، وَذَكَرَ مِنْهَا الْحُدُودَ“ اور ہماری دلیل حضور علیہ السلام کا قول ہے: چار چیزیں حاکموں کے سپرد ہیں، اور ان چار چیزوں میں حضور علیہ السلام نے حدود کو بھی ذکر فرمایا۔ ”وَلِأَنَّ الْحَدَّ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى“ اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ: اور اس لیے کیونکہ حد اللہ کا حق ہے، ”لِأَنَّ الْمَقْصَدَ مِنْهَا إِخْلَاءُ الْعَالَمِ عَنِ الْفَسَادِ“ اس لیے کیونکہ حد کے ذریعے مقصد جو ہے وہ عالم کو خالی کرنا ہے فساد سے۔ اخلاء، أَخْلَى يُخْلِي إِخْلَاء کا معنی خالی کرنا۔ ”لِأَنَّ الْمَقْصَدَ مِنْهَا إِخْلَاءُ الْعَالَمِ عَنِ الْفَسَادِ“ اس لیے کیونکہ حد قائم کرنے سے جو مقصد ہے وہ عالم کو خالی کرنا ہے فساد سے، ”وَلِهَذَا لَا يَسْقُطُ بِإِسْقَاطِ الْعَبْدِ“ اور اسی لیے حد جو ہے وہ ساقط نہیں ہوتی بندے کے ساقط کرنے سے۔ میں نے ذکر کیا تھا کہ حد اللہ کی طرف سے مقرر ہے، کسی کو معاف کرنے کا اختیار نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلِهَذَا لَا يَسْقُطُ بِإِسْقَاطِ الْعَبْدِ“ اور اسی لیے حد جو ہے بندے کے معاف کر دینے سے معاف نہیں ہوتی، ”فَيَسْتَوْفِيهِ مَنْ هُوَ نَائِبٌ عَنِ الشَّرْعِ، وَهُوَ الْإِمَامُ أَوْ نَائِبُهُ“ تو اس حد کو وصول کرے گا وہ شخص جو شریعت کی طرف سے نائب ہے، اور وہ حاکم ہے یا اس حاکم کا جو نائب ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”وَلِهَذَا لَا يَسْقُطُ بِإِسْقَاطِ الْعَبْدِ“ اور اسی لیے یہ جو حد ہے یہ کسی بندے کے ساقط کرنے سے ساقط نہیں ہوتی، ”فَيَسْتَوْفِيهِ مَنْ هُوَ نَائِبٌ عَنِ الشَّرْعِ، وَهُوَ الْإِمَامُ أَوْ نَائِبُهُ“ تو اس حد کو وصول کرے گا وہ شخص جو شریعت کی طرف سے نائب ہے، اور وہ امام ہے یعنی مسلمانوں کا حاکم یعنی خلیفہ ہے یا اس امام کا جو نائب ہے بھئی۔
”بِخِلَافِ التَّعْزِيرِ؛ لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ“ بخلاف تعزیر کے کیونکہ وہ بندے کا حق ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے اس حد کو قیاس کیا تھا تعزیر پر، اور تعزیر تو بالاتفاق آقا کے لیے جائز ہے، وہ اپنے غلام کو سزا دے سکتا ہے، ہم کہتے ہیں نہیں، آپ حد کو تعزیر پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ حد حق اللہ ہے اور تعزیر حق العبد ہے، تو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ التَّعْزِيرِ؛ لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ“ بخلاف تعزیر کے کیونکہ تعزیر جو ہے وہ تو بندے کا حق ہے، ”وَلِهَذَا يُعَزَّرُ الصَّبِيُّ وَحَقُّ الشَّرْعِ مَوْضُوعٌ عَنْهُ“ اور اسی وجہ سے بچے کو تعزیر کی جاتی ہے یعنی بچے کو سزا دی جاتی ہے اور حال یہ ہے کہ بچے سے شریعت کا حق اٹھا لیا گیا ہے۔ بھئی بچہ تو شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے لیکن بچے کو سزا دی جاتی ہے، والدین کیا کرتے ہیں؟ بچہ کوئی غلطی کرتا ہے تو اس کو سزا دیتے ہیں، معلوم ہوا یہ تعزیر بندے کا حق ہے، یہ شریعت کا حق نہیں، اگر شریعت کا حق ہوتا پھر تو بچے کو سزا نہیں دی جا سکتی تھی کیونکہ بچہ جو ہے وہ تو شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا يُعَزَّرُ الصَّبِيُّ وَحَقُّ الشَّرْعِ مَوْضُوعٌ عَنْهُ“ اور اسی لیے بچے کو تعزیر کی جاتی ہے یعنی اس کو سزا دی جاتی ہے اور حال یہ ہے کہ شریعت کا حق تو بچے سے اٹھا لیا گیا ہے یعنی وہ تو شرعی احکام کا مکلف نہیں ہے۔
”قَالَ: وَإِحْصَانُ الرَّجْمِ أَنْ يَكُونَ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا مُسْلِمًا قَدْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً نِكَاحًا صَحِيحًا وَدَخَلَ بِهَا وَهُمَا عَلَى صِفَةِ الْإِحْصَانِ“
اب إحصان الرجم کی تعریف آ گئی متن کے اندر بھئی۔ تو صاحبِ قدوری إحصان الرجم کی تعریف کر رہے ہیں، اور احصان کے ساتھ رجم کی قید بڑھا دی: ”إِحْصَانُ الرَّجْمِ“۔ وجہ یہ کہ ایک احصان القذف ہے بھئی، احصان القذف، آپ نے پڑھا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص پر زنا کی تہمت لگا دے تو اس پر حدِ قذف جاری ہوتی ہے، لیکن یاد رکھو حدِ قذف میں ضروری ہے کہ جس شخص پر زنا کا الزام لگایا ہے وہ محصن ہونا چاہیے، وہ؟ جیسے حدِ زنا کے اندر رجم اس شخص کو کیا جائے گا جو محصن ہو گا، تو یہ محصن اور ہے اور وہ قذف کے مسئلے میں محصن اور ہے۔ تو دونوں میں فرق کرنے کے لیے اضافت کر دیتے ہیں، رجم کے اندر جو محصن ہونا ہے اس کو کہتے ہیں إحصان الرجم، اور قذف کے اندر جو محصن ہونا ہے اس کو کہتے ہیں إحصان القذف۔
تو إحصان الرجم میں نے آپ کو بتلایا تھا اس میں سات شرطیں ہیں کہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، صحیح نکاح کیا ہو، تو نکاحِ صحیح کے ذریعے نکاحِ فاسد کو نکال دیا، نکاحِ فاسد کے ذریعے اگر کوئی شخص کسی عورت سے صحبت کر لیتا ہے یہ محصن نہیں ہے، تو نکاحِ صحیح کیا ہو، اور چھٹی شرط یہ ہے کہ نکاح کے بعد بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور ساتویں شرط یہ ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں یعنی عورت بھی آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان ہو، اس نے بھی نکاحِ صحیح کیا ہے اور اس کے ساتھ اس نکاحِ صحیح کے بعد خاوند نے صحبت کی ہے۔ یہ ہے إحصان الرجم بھئی۔
جبکہ إحصان القذف جو ہے، إحصان القذف کے اندر ان میں سے پہلی چار شرطیں ہیں اور اس کے علاوہ ایک پانچویں شرط یہ ہے کہ وہ زنا سے پاک دامن ہو کہ وہ پاک دامن ہو، مرد یا عورت جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے۔ ایک آدمی نے دوسرے آدمی پر زنا کا الزام لگایا تو اس الزام لگانے والے کو حدِ قذف لگائی جائے گی لیکن شرط یہ ہے کہ وہ جس پر الزام لگایا ہے وہ محصن ہو یعنی وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو اور زنا سے پاک دامن ہو۔ پھر دہرائیں، إحصان القذف کتنی چیزیں ہیں؟ پانچ، چار یہی ہیں اور پانچویں ہے کہ زنا سے پاک دامن ہو۔ پہلی شرط کیا؟ آزاد، پھر عاقل، بالغ، مسلمان اور زنا سے پاک دامن ہو۔
لہٰذا ایک آدمی نے زنا کیا تھا اور اس پر زنا ثابت ہو گیا تھا اور اس پر حدِ زنا جاری ہو چکی ہے، اسے سو کوڑے لگ چکے ہیں، اگر اس کو کوئی زانی کہتا ہے تو اب یہ زانی کہنے والے پر حدِ قذف نہیں آئے گی کیونکہ وہ حقیقت بیان کر رہا ہے، یہ شخص بھی کیا ہے حقیقت میں؟ زانی ہے بھئی۔ تو اس نے ناپسندیدہ فعل اگرچہ کیا اس کو زانی کہا لیکن بہرحال اس کی وجہ سے حدِ قذف نہیں لگے گی کیونکہ وہ دوسرا شخص محصن نہیں ہے، وہ آزاد بھی ہے، عاقل بھی ہے، بالغ بھی ہے، مسلمان بھی ہے لیکن وہ زنا سے پاک دامن نہیں ہے۔
یا اسی طرح ایک شخص نے نکاحِ فاسد کر لیا، بغیر گواہوں کے نکاح کر لیا اور عورت سے صحبت بھی کر لی، یا کسی عورت سے عدت کے اندر نکاح کر لیا اور صحبت بھی کر لی تو یہ نکاحِ فاسد ہے، اور نکاحِ فاسد تو باطل ہے اس کا تو کوئی اعتبار نہیں ہے، تو یہ جو اس نے صحبت کی ہے یہ زنا ہے۔ اگرچہ اس پر حد جاری نہیں ہو گی کیونکہ اس کا خیال ہے میں نے تو صحیح نکاح کیا ہے لیکن ہے تو یہ زنا ہی، لہٰذا اس جیسے شخص کو بھی جس نے نکاحِ فاسد کے بعد اس عورت سے صحبت کی ہے اس کو بھی اگر کوئی زانی کہہ دے گا تو یہ زانی کہنے والے پر حدِ قذف نہیں بھئی، کیونکہ وہ حقیقت بیان کر رہا ہے، اگرچہ اس نے برا لفظ کہا ہے اس طرح اسے نہیں کہنا چاہیے تھا لیکن بہرحال حدِ قذف اس پر لازم نہیں ہو گی کیونکہ وہ ایک حقیقت بیان کر رہا ہے۔
تو معلوم ہوا إحصان الرجم کے اندر سات شرطیں ہیں، اور إحصان القذف کے اندر پانچ شرطیں ہیں، چار یہی پہلی چار شرطیں اور ایک یہ ہے کہ وہ زنا سے پاک دامن ہو۔ اور یہ جو پہلی چار شرطیں ہیں یہ وہی شرطیں ہیں جو گواہی کے لیے ضروری تھیں، آپ نے کتاب النکاح کے شروع میں پڑھا تھا کہ نکاح کے انعقاد کے لیے ضروری ہے کہ کم از کم دو گواہ اس میں موجود ہوں، اس نکاح میں دو گواہ ہونے چاہییں، اور گواہوں کی کیا شرطیں ذکر کی تھیں؟ آزاد، عاقل، بالغ اور مسلمان ہو بھئی۔
تو صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِحْصَانُ الرَّجْمِ أَنْ يَكُونَ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا مُسْلِمًا“ اور إحصان الرجم یہ ہے کہ وہ شخص آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، ”قَدْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً نِكَاحًا صَحِيحًا“ اور تحقیق اس نے ایک عورت سے نکاحِ صحیح کیا ہو، ”وَدَخَلَ بِهَا“ اور اس نے اس عورت سے صحبت بھی کی ہو، ”وَهُمَا عَلَى صِفَةِ الْإِحْصَانِ“ اور اس حال میں کہ وہ میاں بیوی دونوں احصان کی صفت پر ہوں یعنی دونوں محصن ہوں بھئی۔
اب ایک ایک قید کا فائدہ بتلائیں گے کہ یہ عاقل ہونے کی شرط کیوں ہے، بالغ ہونے کی شرط کیوں ہے، آزاد ہونے کی شرط کیوں ہے، مسلمان ہونے کی شرط کیوں ہے، نکاحِ صحیح کی شرط کیوں ہے، تو یہ ساری قیدیں جو ہیں ان کے فائدے بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں ”فَالْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ شَرْطٌ لِأَهْلِيَّةِ الْعُقُوبَةِ“ تو عقل کا ہونا اور بالغ ہونا یہ شرط ہے سزا کی اہلیت کے لیے۔ سزا کا اہل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ عاقل بالغ ہو، اگر کوئی مجنون ہے یا کوئی بچہ ہے وہ تو سزا کا مستحق نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَالْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ شَرْطٌ لِأَهْلِيَّةِ الْعُقُوبَةِ“ تو عقل اور بلوغ جو ہیں وہ شرط ہیں سزا کی اہلیت کے لیے، ”إِذْ لَا خِطَابَ دُونَهُمَا“ اس لیے کیونکہ ان کے علاوہ تو خطاب نہیں ہے۔
خطاب بھئی میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، خطاب وہ کلام ہے جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ خطاب۔ یہ جو میں آپ کے سامنے تقریر کر رہا ہوں یہ خطاب ہے، آپ کی طرف متوجہ ہو کر میں یہ تقریر کر رہا ہوں۔ تو وہ کلام جو غیر کی طرف متوجہ ہو کر کیا جائے اسے خطاب کہتے ہیں۔ اور یہاں خطاب سے مراد اللہ اور اس کے رسول کا خطاب ہے، اللہ اور رسول شرعی احکام کا حکم دیتے ہیں تو وہ احکام کن کے لیے ہوتے ہیں؟ عاقل اور بالغ کے لیے بھئی۔ تو معلوم ہوا خطاب کس کے لیے ہے؟ عاقل اور بالغ کے لیے ہے، ان کے علاوہ یعنی مجنون یا بچے کے لیے خطاب نہیں ہے۔ یہ معنی ہے ”إِذْ لَا خِطَابَ دُونَهُمَا“ کیونکہ ان دونوں کے علاوہ تو خطاب نہیں ہے۔
”وَمَا وَرَاءَهُمَا يُشْتَرَطُ لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ بِوَاسِطَةِ تَكَامُلِ النِّعْمَةِ“ بھئی عاقل بالغ ہونے کی شرط کیوں ہے؟ اس کی وجہ تو صاحبِ ہدایہ نے ذکر کر دی۔ آگے فرماتے ہیں کہ ان کے علاوہ جو باقی پانچ شرطیں ہیں وہ اس لیے ہیں تاکہ جرم کامل ہو جائے، کامل درجے کا جرم ہے، اور کامل درجے کا جرم تب ہو گا جب کامل درجے کی نعمتیں موجود ہیں۔ جب کامل درجے کی نعمتیں موجود ہیں پھر بھی ایک آدمی جرم کرتا ہے تو یہ اس نے بہت بڑا جرم کیا، اس نے کامل درجے کا جرم کیا ہے لہٰذا اس کو سزا بھی کامل درجے کی ملنی چاہیے بھئی، اور اس کو رجم کرنا چاہیے بھئی۔ تو عاقل بالغ ہونے کے علاوہ تو خطاب ہی نہیں، عاقل بالغ ہی تو مکلف ہیں انہی کے لیے تو سارے شرعی احکام ہیں، جبکہ ان کے علاوہ باقی شرطیں جو لگائی گئیں إحصان الرجم کے اندر وہ اس لیے ہیں تاکہ نعمتیں کامل ہو جائیں، اور جب نعمتیں کامل ہوں گی اس کے بعد جب جرم پایا گیا تو وہ جرم بھی بڑا ہی کامل درجے کا ہے تو لہٰذا اس میں سزا بھی کامل درجے کی آئے گی۔
تو کہتے ہیں ”وَمَا وَرَاءَهُمَا“ اور یہ عقل اور بلوغ کے علاوہ جو ہیں ”يُشْتَرَطُ“ ان کی شرط لگائی گئی ہے ”لِتَكَامُلِ الْجِنَايَةِ بِوَاسِطَةِ تَكَامُلِ النِّعْمَةِ“ جنایت کے کامل ہونے کے لیے نعمت کے کامل ہونے کے واسطے سے، ”إِذْ كُفْرَانُ النِّعْمَةِ يَتَغَلَّظُ عِنْدَ تَكَثُّرِهَا“ اس لیے کیونکہ نعمت کی ناشکری جو ہے وہ سخت ہوتی ہے نعمتوں کی کثرت کے وقت۔ جب نعمتوں کی کثرت ہے اس وقت کوئی ناشکری کرتا ہے تو یہ سخت ناشکری ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”إِذْ كُفْرَانُ النِّعْمَةِ“ اس لیے کیونکہ نعمتوں کی ناشکری جو ہے ”يَتَغَلَّظُ عِنْدَ تَكَثُّرِهَا“ وہ سخت ہوتی ہے نعمتوں کی کثرت کے وقت، ”وَهَذِهِ الْأَشْيَاءُ مِنْ جَلَائِلِ النِّعَمِ“ اور یہ چیزیں جو ہیں یہ بڑی نعمتوں میں سے ہیں: آزاد ہونا، مسلمان ہونا، پھر نکاحِ صحیح کر لینا، اللہ نے اتنے اسباب دے دیے کہ نکاحِ صحیح بھی کر لیا، پھر اس کے بعد بیوی بھی اللہ نے صحیح دی کہ اس کے ساتھ اس نے صحبت بھی کر لی، اور پھر اس کے بعد بیوی بھی اسی کی طرح اس میں بھی یہ ساری صفتیں موجود تھیں، تو یہ ساری بڑی بڑی نعمتیں ہیں، ان کی وجہ سے اب اگر یہ جرم کرے گا تو وہ جرم بھی بڑے درجے کا ہو گا۔
تو کہتے ہیں ”وَهَذِهِ الْأَشْيَاءُ مِنْ جَلَائِلِ النِّعَمِ“ اور یہ جو چیزیں ہیں یہ بڑی نعمتوں میں سے ہیں، ”وَقَدْ شُرِعَ الرَّجْمُ بِالزِّنَا عِنْدَ اسْتِجْمَاعِهَا“ اور تحقیق رجم بالزنا جو ہے اس کو مشروع کیا گیا ہے، زنا کی وجہ سے جو رجم ہے اس کو مشروع کیا گیا ہے ان چیزوں کے جمع ہونے کے وقت۔
جب یہ ساری چیزیں جمع ہو جائیں اس وقت زنا کی وجہ سے رجم کو مشروع کیا گیا ہے۔ فَيُنَاطُ بِهِ، تو اس استجماع پر اس حکم کا مدار ہوگا۔ جس میں یہ اوصاف جمع ہوں گے تو اس پر ہی رجم والا حکم آئے گا۔ اور جس میں ان میں سے کسی ایک وصف کے اندر بھی کمی آ گئی تو معلوم ہوا نعمتوں میں کمی آ گئی۔ جب نعمتوں میں کمی آ گئی تو جرم کے اندر بھی اسی کے بقدر کمی آ گئی۔ لہٰذا پھر اس کو رجم نہیں کیا جائے گا پھر اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ جی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ کہتے ہیں: وَقَدْ شُرِعَ الرَّجْمُ بِالزِّنَا عِنْدَ اسْتِجْمَاعِهَا فَيُنَاطُ بِهِ، وَقَدْ شُرِعَ الرَّجْمُ بِالزِّنَا، اور زنا کی وجہ سے رجم کو مشروع کیا گیا ہے، عِنْدَ اسْتِجْمَاعِهَا، ان چیزوں کے جمع ہوتے وقت، فَيُنَاطُ بِهِ، ناط ینوط کے معنی ہیں متعلق کرنا، وابستہ کرنا، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ متعلق کرنا، اس کے ساتھ جوڑ دینا۔ فَيُنَاطُ بِهِ، تو ان چیزوں کے جمع ہونے کے ساتھ ہی رجم کا تعلق ہوگا۔ جی۔ ان چیزوں کے ساتھ ہی رجم کا تعلق ہوگا، یعنی انہی چیزوں پر رجم کا مدار ہوگا۔ اگر یہ صفات اس مرد اور عورت میں موجود ہیں تو پھر وہ محسن ہیں ان کو رجم کیا جائے گا، اور اگر یہ صفات ان میں موجود نہیں تو پھر وہ محسن نہیں لہٰذا ان کو رجم بھی نہیں کیا جائے گا۔ فَيُنَاطُ بِهِ، تو انہی چیزوں کے جمع ہونے پر رجم کا مدار ہوگا، یہ چیزیں ہیں تو رجم ہوگا، یہ چیزیں نہیں تو رجم بھی نہیں۔
بِخِلَافِ الشَّرَفِ وَالْعِلْمِ، بخلاف شرف اور علم کے۔ شرف بھئی! شَرُفَ يَشْرُفُ شَرَفًا وَشَرَافَةً، اس کا معنی ہے معزز ہونا، اور عموماً اس سے مراد جو ہے خاندانی حسب نسب ہوتا ہے بھئی۔ کوئی کسی شخص کا خاندان بہت بڑا ہے، تو یہ جو خاندانی حسب نسب ہے اس کو شرافت کہتے ہیں۔ تو یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے ہمیں بتلایا کہ یہ بڑی نعمتیں ہیں، یعنی آزاد ہونا، مسلمان ہونا، نکاحِ صحیح وغیرہ یہ بڑی نعمتیں ہیں۔ حالانکہ خاندانی شرافت بھی تو بہت بڑی نعمت ہے، کوئی کسی بڑے خاندان سے تعلق رکھتا ہے تو یہ بھی بڑی اللہ کی نعمت ہے بھئی۔ اور اسی طرح کسی شخص کو اللہ علم نصیب فرما دیتے ہیں تو علم بھی بہت بڑی نعمت ہے۔ تو خاندانی شرافت اور علم جو ہے ان کو ان شرائط کے اندر ذکر نہیں کیا گیا حالانکہ انہیں بھی ذکر کرنا چاہیے تھا۔ تو صاحبِ ہدایہ جواب دیں گے کہ ہاں آپ کی بات ٹھیک ہے، خاندانی شرافت اور علم بڑی نعمت ہے، لیکن بہرحال رجم کے معاملے میں شریعت نے ان کا اعتبار نہیں کیا۔ جی۔ رجم کے معاملے میں شریعت نے ان کا اعتبار نہیں کیا لہٰذا ہم اپنی رائے کے ذریعے شرعی حکم پر اضافہ نہیں کر سکتے۔ جی۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الشَّرَفِ وَالْعِلْمِ، بخلاف خاندانی شرافت کے اور علم کے، لِأَنَّ الشَّرْعَ مَا وَرَدَ بِاعْتِبَارِهِمَا، اس لیے کیونکہ شریعت وارد نہیں ہوئی ان دونوں کے اعتبار کے ساتھ، یعنی شریعت نے ان دونوں کا اعتبار نہیں کیا رجم کے معاملے میں۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الشَّرْعَ مَا وَرَدَ بِاعْتِبَارِهِمَا، اس لیے کیونکہ شریعت وارد نہیں ہوئی ان دونوں کے اعتبار کے ساتھ، وَنَصْبُ الشَّرْعِ بِالرَّأْيِ مُتَعَذِّرٌ، وَنَصْبُ الشَّرْعِ، اور شریعت کو قائم کرنا یعنی شرعی احکام کو ثابت کرنا، بِالرَّأْيِ، رائے کے ذریعے، مُتَعَذِّرٌ، یہ متعذر ہے یہ ممکن نہیں۔ ہم اپنی عقل کے ذریعے شرعی احکام ثابت کرنا شروع کر دیں ایسا نہیں ہو سکتا، بلکہ شریعت نے جس چیز کا جیسا حکم دیا ہے ہمیں اسی طرح اس پر عمل کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: وَنَصْبُ الشَّرْعِ بِالرَّأْيِ مُتَعَذِّرٌ، اور شریعت کو قائم کرنا یعنی شرعی احکام کو ثابت کرنا، بِالرَّأْيِ مُتَعَذِّرٌ، رائے کے ذریعے یہ متعذر ہے۔
آگے دیکھیے: وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ مُمَكِّنَةٌ مِنَ النِّكَاحِ الصَّحِيحِ، یہ دوسری دلیل آ گئی۔ پہلی دلیل کیا تھی؟ کہ عقل اور بلوغ کے علاوہ یہ جو باقی پانچ چیزیں ہیں یہ بڑی بڑی نعمتیں ہیں۔ جب نعمتیں بڑی ہیں تو ان کی موجودگی میں جرم کیا ہے تو سزا بھی بڑی ملے گی یعنی رجم کیا جائے گا۔ اب دوسری دلیل دے رہے ہیں کہ عقل اور بلوغ کے علاوہ یہ جو پانچ چیزیں ہیں یہ زنا سے روکنے والی ہیں۔ آزاد ہونا، مسلمان ہونا، نکاحِ صحیح کا ہونا، اور بیوی کے ساتھ صحبت کرنا، اور اسی طرح میاں بیوی دونوں کا محسن ہونا، یہ وہ ساری چیزیں ہیں جو زنا کو روکنے والی ہیں، زنا کو روکنے کا سبب ہیں۔ زنا کو روکنے کا سبب ہیں، کیونکہ جب آزاد ہے تو زنا کی طرف جانے کی ضرورت نہیں نکاح کر لو، آپ جہاں چاہیں نکاح کر سکتے ہیں۔ اور پھر جب نکاحِ صحیح کر لیا ہے تو نکاحِ صحیح کا میسر آ جانا یہ بھی زنا سے روکنے والا ہے، جب نکاحِ صحیح کر لیا اب زنا کی طرف جانے کی ضرورت نہیں۔ اور اسی طرح بیوی کے ساتھ صحبت کر لینا تو بیوی سے جب صحبت کر لے گا تو دیکھو حلال طریقے سے اپنی خواہش پوری کر لی لہٰذا یہ چیز بھی زنا سے روکنے والی ہے۔ اسی طرح اس کے بعد مسلمان ہونا، جب مسلمان بھی ہے تو غیر مسلم بھی زنا کو حرام سمجھتے ہیں، زنا کو برا کہتے ہیں، تو جب غیر مسلم زنا کو برا کہتے ہیں تو مسلمان ہونے کی حالت میں تو زنا کی حرمت اور بھی بڑھ گئی بھئی، تو لہٰذا معلوم ہوا مسلمان ہونا یہ بھی زنا سے روکنے والا ہے۔ تو یہ سارے اسباب ہیں زنا سے روکنے والے۔ تو جب زنا سے روکنے والے اتنے اسباب موجود ہیں اس کے بعد بھی کوئی شخص جرم کرے تو اس کی سزا بھی سخت ہونی چاہیے بھئی، اس لیے اس کو پھر رجم کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ مُمَكِّنَةٌ مِنَ النِّكَاحِ الصَّحِيحِ، اور اس لیے کیونکہ آزادی جو ہے مُمَكِّنَةٌ، وہ قدرت دینے والی ہے، مِنَ النِّكَاحِ الصَّحِيحِ، نکاحِ صحیح کی۔ آزادی جو ہے وہ انسان کو قدرت دے دیتی ہے وہ نکاحِ صحیح کر سکتا ہے جہاں چاہے کوئی اس کو روکنے والا نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحُرِّيَّةَ مُمَكِّنَةٌ مِنَ النِّكَاحِ الصَّحِيحِ، اور اس لیے کیونکہ آزادی جو ہے وہ نکاحِ صحیح کی قدرت دینے والی ہے، وَالنِّكَاحُ الصَّحِيحُ مُمَكِّنٌ مِنَ الْوَطْءِ الْحَلَالِ، اور نکاحِ صحیح جو ہے وہ قدرت دیتا ہے حلال وطی کی، وَالْإِصَابَةُ شِبَعٌ بِالْحَلَالِ، أَصَابَ يُصِيبُ إِصَابَةً کا معنی ہے پہنچنا، مراد ہے بیوی تک پہنچنا یعنی اس سے صحبت کرنا۔ شِبَعٌ، شِبَعٌ کا معنی ہے سیر ہو جانا، پیٹ کا بھر جانا۔ کہتے ہیں: وَالْإِصَابَةُ شِبَعٌ بِالْحَلَالِ، اور بیوی تک پہنچ جانا یعنی اس سے صحبت کر لینا، شِبَعٌ بِالْحَلَالِ، یہ حلال کے ذریعے سیر ہو جانا ہے، یعنی حلال کے ذریعے اپنی خواہش کو پورا کر لینا ہے، وَالْإِسْلَامُ يُمَكِّنُهُ مِنْ نِكَاحِ الْمُسْلِمَةِ، اور اسلام جو ہے اس کو قدرت دیتا ہے مسلمان عورت سے نکاح کی، وَيُؤَكِّدُ اعْتِقَادَ الْحُرْمَةِ، اور اسلام جو ہے وہ پکا کر دیتا ہے حرمت کے اعتقاد کو، یعنی عام غیر مسلم بھی نکاح کو حرام سمجھتے ہیں، برا سمجھتے ہیں، لیکن اسلام تو زنا کے حرام ہونے کے اعتقاد کو اور بھی زیادہ پکا کر دیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَيُؤَكِّدُ اعْتِقَادَ الْحُرْمَةِ، اور اسلام جو ہے زنا کے حرام ہونے کے اعتقاد کو پکا کر دیتا ہے، فَيَكُونُ الْكُلُّ مَزْجَرَةً عَنِ الزِّنَا، مَزْجَرَة کہتے ہیں رکاوٹ کا ذریعہ، رکاوٹ کا ذریعہ، روکنے کا سبب، دور کرنے کا سبب۔ فَيَكُونُ الْكُلُّ، تو یہ ساری چیزیں جو ہیں، مَزْجَرَةً، یہ روکنے کا ذریعہ ہیں، یہ دور کرنے کا ذریعہ ہیں، عَنِ الزِّنَا، زنا سے۔ یہ ساری چیزیں زنا سے روکنے کا ذریعہ ہیں بھئی۔
وَالْجِنَايَةُ بَعْدَ تَوَفُّرِ الزَّوَاجِرِ، زَوَاجِر جمع ہے زَاجِر کی، اور زاجر کہتے ہیں ڈانٹنے والی چیز، دھمکانے والی چیز، دھمکانے والی چیز۔ تو کہتے ہیں: وَالْجِنَايَةُ بَعْدَ تَوَفُّرِ الزَّوَاجِرِ، اور جرم کا ہونا دھمکانے والی چیزوں کی کثرت کے بعد، اتنی ساری دھمکانے والی اور روکنے والی چیزیں موجود ہیں اس کے بعد جرم کرنا، أَغْلَظُ، یہ زیادہ سخت ہے۔ جی۔ یہ جرم زیادہ سخت ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْجِنَايَةُ بَعْدَ تَوَفُّرِ الزَّوَاجِرِ أَغْلَظُ، اور دھمکانے والی چیزوں کے کثیر ہونے کے بعد جرم کرنا أَغْلَظُ، یہ بڑا سخت ہے۔
وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي اشْتِرَاطِ الْإِسْلَامِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ وہ ہماری مخالفت کرتے ہیں اسلام کی شرط لگانے میں، وَكَذَا أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي رِوَايَةٍ، اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک روایت میں۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محسن ہونے میں اسلام شرط نہیں ہے۔ اس شخص یا اس کی بیوی کا مسلمان ہونا شرط نہیں ہے، اور اسی طرح کی ایک روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے بھی آئی ہے۔ اور وہ دلیل دیتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے دو یہودیوں کو زنا کی وجہ سے رجم فرمایا تھا، اور یہودی دیکھو وہ تو غیر مسلم ہیں لیکن پھر بھی حضور نے رجم فرمایا، معلوم ہوا رجم کے اندر اسلام کی شرط نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي اشْتِرَاطِ الْإِسْلَامِ، اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں اسلام کے شرط ہونے میں، وَكَذَا أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي رِوَايَةٍ، اور اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ ایک روایت میں، لَهُمَا، ان دونوں کی دلیل جو ہے، مَا رُوِيَ، وہ حدیث ہے جس کو روایت کیا گیا ہے، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجَمَ يَهُودِيَّيْنِ قَدْ زَنَيَا، کہ حضور علیہ السلام نے دو یہودیوں کو رجم فرمایا قَدْ زَنَيَا، جنہوں نے زنا کیا تھا۔
قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: كَانَ ذَلِكَ بِحُكْمِ التَّوْرَاةِ، ہم جواب دیتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے یہ جو یہودیوں کو رجم فرمایا تھا وہ تورات کے حکم سے رجم فرمایا تھا۔ تو چنانچہ حضور علیہ السلام نے یہودیوں سے پوچھا تھا کہ تمہارے ہاں زنا کی کیا سزا ہے تورات کے اندر؟ تو انہوں نے رجم ذکر کیا تھا، تو اس تورات کے حکم کی وجہ سے حضور علیہ السلام نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ لیکن بعد میں پھر یہ حکم منسوخ ہو گیا اور حضور علیہ السلام کو اللہ کے نازل کردہ احکام کے مطابق ہی فیصلہ کرنے کا حکم دیا گیا۔ قُلْنَا، ہم کہتے ہیں: كَانَ ذَلِكَ بِحُكْمِ التَّوْرَاةِ، کہ یہ یہودیوں کو رجم کرنا تورات کے حکم سے تھا، ثُمَّ نُسِخَ، پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا۔ حاشیے کے اندر دلیل ذکر کی گئی ہے نسخ کی، کہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَأَنِ احْكُمْ بَيْنَهُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، اور ان لوگوں کے درمیان فیصلہ فرمائیے بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ، اس چیز کے ساتھ جو اللہ نے نازل فرمائی ہے۔ تو اس آیت کے ذریعے اس قسم کی چیزوں کو منسوخ کر دیا گیا بھئی، کہ آئندہ جو بھی آپ فیصلہ لوگوں میں فرمائیں وہ اللہ کے نازل کیے ہوئے احکام یعنی قرآن کے مطابق فرمائیں۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ نُسِخَ، پھر اس کو منسوخ کر دیا گیا، يُؤَيِّدُهُ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اس نسخ کی تائید ہوتی ہے حضور علیہ السلام کے اس قول سے کہ آپ نے فرمایا: مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ، جس نے اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرایا تو وہ محسن نہیں ہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محسن نہیں ہے۔
آگے دیکھیے: وَالْمُعْتَبَرُ فِي الدُّخُولِ الْإِيلَاجُ فِي الْقُبُلِ عَلَى وَجْهٍ يُوجِبُ الْغُسْلَ، بھئی اب چھٹی شرط آئی تھی کہ نکاحِ صحیح کے بعد خاوند بیوی سے صحبت بھی کر لے، اس صحبت کرنے سے کیا مراد ہے؟ تو اب بتلا رہے ہیں صحبت کا معنی یہ ہے کہ کچھ نہ کچھ دخول پایا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُعْتَبَرُ فِي الدُّخُولِ، اور وہ جو معتبر ہے دخول کے اندر، الْإِيلَاجُ، وہ داخل کرنا ہے، فِي الْقُبُلِ، عورت کے اگلے مقام میں، عَلَى وَجْهٍ يُوجِبُ الْغُسْلَ، ایسے طریقے پر کہ وہ غسل کو واجب کر دے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کتاب الطہارت کے اندر کہ غسل اس وقت واجب ہوگا جب التقائے ختانتین ہو، یعنی مرد اور عورت کی شرمگاہیں مل جائیں، اور وہاں آپ نے پڑھا تھا کہ شرمگاہوں سے ملنا صرف ان کا ملنا مراد نہیں ہے بلکہ کچھ نہ کچھ دخول بھی پایا جائے، تو وہی دخول یہاں بھی معتبر ہے۔ بیوی کے ساتھ صحبت کی ہے کچھ معمولی سا بھی دخول پایا گیا تو یہ معتبر ہے بھئی، اور اس سے آدمی محسن ہو جائے گا۔
تو کہتے ہیں، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَالْمُعْتَبَرُ فِي الدُّخُولِ، اور وہ چیز جو دخول کے اندر معتبر ہے، الْإِيلَاجُ فِي الْقُبُلِ، وہ عورت کے اگلے مقام میں داخل کرنا ہے، عَلَى وَجْهٍ يُوجِبُ الْغُسْلَ، ایسے طریقے پر کہ وہ غسل کو واجب کر دے۔
وَشَرَطَ صِفَةَ الْإِحْصَانِ فِيهِمَا، ساتویں قید کی تشریح کر رہے ہیں، ساتویں قید احصانِ رجم کے اندر یہ تھی کہ میاں بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں یعنی دونوں محسن ہوں۔ اب اس کی تشریح کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وَشَرَطَ صِفَةَ الْإِحْصَانِ فِيهِمَا، اور صاحبِ قدوری نے احصان کی صفت کی شرط لگائی ہے فِيهِمَا، میاں بیوی دونوں کے اندر، عِنْدَ الدُّخُولِ، صحبت کے وقت، حَتَّى لَوْ دَخَلَ بِالْمَنْكُوحَةِ الْكَافِرَةِ أَوِ الْمَمْلُوكَةِ أَوِ الْمَجْنُونَةِ أَوِ الصَّبِيَّةِ لَا يَكُونُ مُحْصَنًا، بھئی جب خاوند بیوی سے صحبت کرے تو اس وقت میاں بیوی دونوں کو محسن ہونا چاہیے۔ دونوں کو محسن ہونا چاہیے، حتی کہ اگر بیوی محسنہ نہیں ہے یعنی اس شخص نے یہودی عورت یا عیسائی عورت سے نکاح کیا ہے اور اس کے اندر تو اسلام کی صفت نہیں ہے، اور اسلام تو ضروری تھا محسن ہونے کے لیے، تو اس شخص نے اپنی عیسائی یا یہودی عورت کے ساتھ صحبت کر لی ہے تو اس صورت میں یہ آدمی محسن نہیں۔ حالانکہ اس آدمی میں باقی تمام شرائط پوری ہیں، یہ آزاد بھی ہے، عاقل بھی ہے، بالغ بھی ہے، مسلمان بھی ہے، اس نے نکاحِ صحیح بھی کیا ہے اس یہودی یا عیسائی عورت سے، اور پھر اس نے اس کے ساتھ صحبت بھی کی ہے، لیکن ساتویں شرط جو تھی کہ دونوں صفتِ احصان پر ہوں وہ نہیں پائی جا رہی کیونکہ عورت مسلمان نہیں ہے، تو اس صورت میں یہ مرد بھی محسن نہ ہوا۔ جب یہ محسن نہ ہوا اس قسم کا آدمی اگر زنا کرے اور وہ ثابت ہو جائے تو اسے رجم نہیں کیا جائے گا۔
یا اسی طرح اس شخص نے نکاح تو کیا ایک عورت سے لیکن وہ عورت جو ہے باندی ہے۔ اب نکاحِ صحیح بھی کر لیا ہے، صحبت بھی کر لی ہے، لیکن دونوں صفتِ احصان پر نہیں ہیں کیونکہ عورت جو ہے وہ تو باندی ہے وہ تو آزاد نہیں ہے حالانکہ محسن ہونے کے لیے آزاد ہونا شرط ہے۔ لہٰذا اس قسم کا آدمی جو اپنی منکوحہ باندی کے ساتھ صحبت کر چکا ہے، اپنی منکوحہ بیوی جو باندی ہے اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہے، یہ اگر زنا کر لے اور زنا ثابت ہو جائے تو اس کو بھی رجم نہیں کیا جائے گا کیونکہ میاں بیوی دونوں میں صفتِ احصان نہیں۔
اسی طرح کسی شخص نے نکاح کیا ہے اور اس کی بیوی نابالغہ ہے، اور نابالغہ ہونے کی حالت میں یہ اس سے صحبت کر لیتا ہے تو اس صحبت سے بھی یہ شخص یہ آدمی محسن نہیں بنے گا کیونکہ اس کی بیوی نابالغہ ہے بھئی۔
یا اسی طرح ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا اور بعد میں وہ مجنونہ ہو گئی اور پھر اس کے بعد اس نے اسی مجنونہ کے ساتھ صحبت کر لی تو اس مجنونہ کے ساتھ صحبت کرنے سے بھی یہ شخص محسن نہیں ہوگا کیونکہ بیوی غیر عاقلہ ہے، بیوی کو بھی محسنہ ہونا چاہیے تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: وَشَرَطَ صِفَةَ الْإِحْصَانِ فِيهِمَا عِنْدَ الدُّخُولِ، اور صاحبِ قدوری نے میاں بیوی دونوں کے اندر احصان کی صفت کی شرط لگائی ہے صحبت کے وقت، حَتَّى لَوْ دَخَلَ بِالْمَنْكُوحَةِ الْكَافِرَةِ، یہاں تک کہ اگر کسی نے اگر صحبت کر لی اپنی کافرہ منکوحہ سے، أَوِ الْمَمْلُوكَةِ، یا اپنی ایسی منکوحہ سے جو مملوکہ ہے یعنی باندی ہے، أَوِ الْمَجْنُونَةِ، یا صحبت کر لی اپنی ایسی منکوحہ سے جو مجنونہ ہے یعنی غیر عاقلہ ہے، أَوِ الصَّبِيَّةِ، یا صحبت کر لی اپنی ایسی منکوحہ سے جو صبیہ ہے یعنی نابالغہ ہے، لَا يَكُونُ مُحْصَنًا، تو یہ شخص محسن نہیں ہوگا، کیونکہ محسن ہونے کے لیے ضروری تھا کہ میاں بیوی دونوں میں صفتِ احصان پائی جائے۔
وَكَذَا إِذَا كَانَ الزَّوْجُ مَوْصُوفًا بِإِحْدَى هَذِهِ الصِّفَاتِ، اور اسی طرح ہوگا جب خاوند جو ہے ان صفات میں کسی ایک کے ساتھ موصوف ہو۔ یعنی جیسے خاوند کے محسن ہونے کے لیے بیوی کا محسنہ ہونا ضروری، اسی طرح بیوی کے محسنہ ہونے کے لیے بھی خاوند کا محسن ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا ایک عورت ہے وہ آزاد بھی ہے، عاقل بھی ہے، بالغ بھی ہے، مسلمان بھی ہے، اس نے نکاحِ صحیح بھی کیا ہوا ہے اور اس کے بعد خاوند نے اس کے ساتھ صحبت بھی کر لی ہے لیکن اس کا خاوند کافر ہے، یا اس کا خاوند نابالغ ہے، یا اس کا خاوند مجنون ہے، یا اس کا خاوند جو ہے وہ غلام ہے، تو ان تمام صورتوں کے اندر یہ عورت بھی محسنہ نہیں۔ لہٰذا اس قسم کی عورت بھی اگر زنا کر لے اور وہ ثابت ہو جائے تو اس کو رجم نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یہاں پر انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اگر خاوند کے اندر ان صفات میں سے کوئی صفت ہوئی مثلاً خاوند کافر ہوا یا غلام ہوا یا مجنون ہوا یا بچہ ہوا اور اس نے بیوی کے ساتھ صحبت کر لی تو مسلمان بیوی کا محسنہ ہونا ثابت نہیں ہوگا۔ تو یہاں آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ بیوی مسلمان ہو اور خاوند کافر ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے بھئی؟ بیوی مسلمان ہو اور خاوند غلام ہو یہ بھی ہو سکتا ہے، بیوی مسلمان ہے بالغہ ہے اور خاوند نابالغ ہے یہ بھی ہو سکتا ہے، بیوی مسلمان ہے اور خاوند جو ہے وہ مجنون ہے یہ بھی ہو سکتا ہے، لیکن بیوی مسلمان ہو اور خاوند کافر ہو یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ تو یاد رکھنا فقہاء فرماتے ہیں اس کی صورت بھی ممکن ہے۔ وہ صورت یہ کہ خاوند اور بیوی دونوں جو ہیں وہ کافر تھے، خاوند اور بیوی دونوں کافر تھے اور پھر اس کے بعد بیوی مسلمان ہو گئی، اور آپ جانتے ہیں جب بیوی مسلمان ہو جائے تو پھر اس کے بعد قاضی جو ہے خاوند پر اسلام کو پیش کرتا ہے، اور اگر خاوند اسلام سے انکار کر دے تو پھر اس صورت کے اندر ان کے درمیان قاضی جدائی کا فیصلہ کر دیتا ہے۔ تو اب صورت یہ ہے میاں بیوی دونوں کافر تھے پھر بیوی جو ہے مسلمان ہو گئی، اور ابھی قاضی نے جدائی کا فیصلہ نہیں کیا، ابھی قاضی تک مسئلہ نہیں پہنچا اور اس سے پہلے ہی اس خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی، اور اس سے پہلے تو ابھی تک یہ میاں بیوی ہیں۔ جب تک قاضی نے دونوں میں جدائی کا فیصلہ نہیں کیا تب تک تو یہ میاں بیوی ہیں۔ لہٰذا اب بیوی مسلمان ہے اور خاوند کافر ہے، اور دونوں میں نکاحِ صحیح ہو چکا ہے، اور اس خاوند نے بیوی سے صحبت کر لی تو اس سے اس عورت کا محسنہ ہونا ثابت نہیں ہوگا۔ محسنہ ہونا ثابت نہیں ہوگا۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے: وَكَذَا إِذَا كَانَ الزَّوْجُ مَوْصُوفًا بِإِحْدَى هَذِهِ الصِّفَاتِ، اور اسی طرح ہوگا جب خاوند جو ہے وہ موصوف ہو ان صفات میں کسی ایک کے ساتھ یعنی اس میں کفر ہو یا غلامی ہو یا جنون ہو یا وہ نابالغ ہو، تو اگرچہ اب نکاح بھی موجود ہے صحبت بھی موجود ہے لیکن یہ عورت محسنہ نہیں بنے گی۔ تو اگر خاوند میں ان صفات میں سے کوئی صفت موجود ہے: وَهِيَ حُرَّةٌ مُسْلِمَةٌ عَاقِلَةٌ بَالِغَةٌ، اور حال یہ ہے کہ یہ عورت تو آزاد ہے، مسلمان ہے، عاقلہ ہے، بالغہ ہے، تو پھر بھی یہ محسنہ نہیں ہوگی۔
لِأَنَّ النِّعْمَةَ بِذَلِكَ تَتَكَامَلُ، اس لیے کیونکہ نعمت جو ہے ان چیزوں کے ذریعے کامل ہوتی ہے، اور خاوند کے اندر ان چیزوں میں سے کسی چیز کی کمی ہے یا بیوی میں ان صفات میں سے کسی صفت کے اندر کمی ہے تو نعمت کامل نہیں۔ بیوی اگر کافرہ ہے یا مجنونہ ہے یا نابالغہ ہے یا مملوکہ ہے تو نعمت کامل نہیں۔ اب کیوں نہیں کامل؟ بیوی میں اگر یہ صفات ہوں تو نعمت کیوں نہیں کامل؟ اب اس کی وجہ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وجہ یہ اگر بیوی مجنونہ ہے تو مجنونہ کے ساتھ تو صحبت کرنے سے انسان کی طبیعت نفرت کرتی ہے بھئی، لہٰذا نعمت کامل نہیں۔ اور اگر بیوی جو ہے نابالغہ ہے تو نابالغہ کے ساتھ بھی صحبت کرنے کی طرف طبیعت کم ہی راغب ہوتی ہے، کیونکہ جب وہ نابالغہ ہے تو خود اس کے اندر شہوت نہیں ہے، تو مرد کے اندر بے شک شہوت ہے لیکن بیوی کے اندر تو شہوت نہیں ہے لہٰذا اس کی شہوت نہ ہونے کی وجہ سے طبیعت بھی اس کے ساتھ صحبت کرنے کی طرف مائل نہیں ہوتی۔ اور نیز اسی طرح اگر وہ منکوحہ جو ہے وہ باندی ہے تو اس کی طرف بھی صحبت کرنے کی طرف طبیعت کم مائل ہوتی ہے، وجہ یہ کہ خاوند کو خوف ہوتا ہے کہیں ایسا نہ ہو میری اولاد ہو جائے اس سے، اگر میری اولاد ہو گئی وہ تو مملوک ہوں گے غلام اور باندیاں ہوں گے بھئی، تو اس وجہ سے بیوی اگر مملوکہ ہے تو اس کی طرف بھی صحبت کرنے کی طرف طبیعت کم مائل ہوتی ہے۔ اور اسی طرح اگر بیوی کافرہ ہے یعنی یہودیہ یا عیسائی ہے تو اس کے ساتھ بھی خاوند کا جوڑ اور ربط صحیح نہیں، وہاں بھی صحیح محبت نہیں ہو سکتی۔ تو لہٰذا نعمت کے کامل ہونے کے لیے ضروری ہے کہ بیوی جو ہے آزاد بھی ہو، عاقل بھی ہو، بالغ بھی ہو اور مسلمان بھی ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النِّعْمَةَ بِذَلِكَ تَتَكَامَلُ، اس لیے کیونکہ نعمت اس کے ذریعے کامل ہوتی ہے، إِذِ الطَّبْعُ يُنَفِّرُ عَنْ صُحْبَةِ الْمَجْنُونَةِ، صحبت کا معنی ہے ساتھ رہنا، إِذِ الطَّبْعُ يُنَفِّرُ عَنْ صُحْبَةِ الْمَجْنُونَةِ، اس لیے کیونکہ طبیعت جو ہے وہ نفرت کرتی ہے مجنونہ کے ساتھ رہنے سے، وَقَلَّمَا يُرْغَبُ فِي الصَّبِيَّةِ، اور بہت کم رغبت کی جاتی ہے نابالغہ کے اندر، لِقِلَّةِ رَغْبَتِهَا، اس کی اپنی رغبت کے کم ہونے کی وجہ سے، کیونکہ اس کو رغبت نہیں وہ بالغہ نہیں اس میں شہوت نہیں ہے، وَفِي الْمَنْكُوحَةِ الْمَمْلُوكَةِ، اور اسی طرح وہ منکوحہ جو مملوکہ ہے یعنی باندی ہے اس کے اندر بھی طبیعت کم راغب ہوتی ہے، حَذَرًا عَنْ رِقِّ الْوَلَدِ، اولاد کی غلامی سے بچنے کے لیے، اولاد کی غلامی سے بچنے کے لیے مملوکہ کے ساتھ بھی صحبت کرنے کی طرف طبیعت کم مائل ہوتی ہے بھئی۔ وَلَا ائْتِلَافَ مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي الدِّينِ، ائتلاف کا معنی ہے جڑنا بھئی، وَلَا ائْتِلَافَ، اور جوڑ نہیں ہوتا، مَعَ الِاخْتِلَافِ فِي الدِّينِ، دین میں اختلاف کی وجہ سے، یعنی خاوند اور بیوی میں کامل درجے کا جوڑ اور کامل درجے کی محبت نہیں ہو سکتی جب دونوں کے دین مختلف ہوں بھئی۔
وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي الْكَافِرَةِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں کافرہ کے اندر، وہ فرماتے ہیں کہ بیوی اگرچہ کافرہ ہی کیوں نہ ہو یعنی یہودیہ عیسائی ہی کیوں نہ ہو، اس بیوی کے ساتھ بھی خاوند صحبت کر لے گا تو وہ محسن بن جائے گا۔ وہ محسن بن جائے گا، ہم کہتے ہیں نہیں وہ محسن نہیں بنے گا۔ تو کہتے ہیں: وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يُخَالِفُنَا فِي الْكَافِرَةِ، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں کافرہ کے بارے میں، وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِ مَا ذَكَرْنَا، اور دلیل ان کے خلاف وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ جب بیوی کافرہ ہو تو خاوند اور بیوی میں کامل درجے کا جوڑ اور ربط نہیں آ سکتا، کامل درجے کی محبت نہیں آ سکتی، تو یہ دلیل ہے۔ اور نیز ہماری دلیل جو ہے: وَقَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضور علیہ السلام کا یہ قول بھی ہماری دلیل ہے کہ حضور نے فرمایا: لَا تُحْصِنُ الْمُسْلِمَ، کہ مسلمان کو محسن نہیں بنا سکتی، الْيَهُودِيَّةُ وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ، نہ تو یہودی بیوی اور نہ عیسائی بیوی۔ یہودی یا عیسائی بیوی مسلمان کو محسن نہیں بنا سکتی۔ وَلَا الْحُرَّ الْأَمَةُ، اور آزاد کو باندی، آزاد انسان کو باندی محسن نہیں بنا سکتی۔ وَلَا الْحُرَّةَ الْعَبْدُ، اور آزاد عورت کو غلام محسنہ نہیں بنا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے حدیث کا: حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: لَا تُحْصِنُ الْمُسْلِمَ الْيَهُودِيَّةُ وَلَا النَّصْرَانِيَّةُ، مسلمان کو محسن نہیں بنا سکتی نہ یہودی بیوی اور نہ عیسائی بیوی، وَلَا الْحُرَّ الْأَمَةُ، اور نہ آزاد کو باندی محسن بنا سکتی ہے، وَلَا الْحُرَّةَ الْعَبْدُ، اور نہ آزاد عورت کو غلام محسنہ بنا سکتا ہے۔
آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْمُحْصَنِ بَيْنَ الرَّجْمِ وَالْجَلْدِ، بھئی جو غیر شادی شدہ ہو اس کو کوڑے لگائے جائیں گے، اور جو شادی شدہ ہو اس کو رجم کیا جائے گا۔ لیکن یہ رجم اور کوڑے لگانے کو کسی میں جمع نہیں کریں گے۔ یعنی کسی زانی کو کوڑے بھی لگائے جائیں اور پھر اس کے بعد اس کو رجم بھی کر دیا جائے ایسا نہیں کیا جائے گا کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایسا نہیں فرمایا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْمُحْصَنِ، کہ جمع نہیں کیا جائے گا محسن کے اندر، بَيْنَ الرَّجْمِ وَالْجَلْدِ، رجم اور کوڑے لگانے کو، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لَمْ يَجْمَعْ، کیونکہ حضور علیہ السلام نے ان کو جمع نہیں فرمایا، وَلِأَنَّ الْجَلْدَ يَعْرَى عَنِ الْمَقْصُودِ مَعَ الرَّجْمِ، یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں۔ نقلی دلیل تو ذکر کر دی کہ کوڑے لگانے اور رجم کو جمع نہیں کریں گے کیونکہ حضور نے جمع نہیں فرمایا، اور عقلی دلیل بھی کہتے ہیں وجہ یہ کیونکہ اگر رجم کے ساتھ آپ کوڑے لگائیں گے تو کوڑے تو مقصود سے خالی ہو گئے۔ کوڑے لگانے کا تو کوئی مقصد ہی نہیں بنتا۔ وجہ یہ کہ سزا کا مقصد ہے لوگوں کو عبرت ہو جائے اور مجرم بھی آئندہ کے لیے رک جائے۔ لوگوں کو بھی عبرت ہو اور مجرم بھی رک جائے۔ تو یہاں پر ایک طرف ہیں کوڑے اور ایک طرف ہے رجم، کس سے زیادہ عبرت ہوگی لوگوں کو؟ رجم سے زیادہ عبرت ہوگی لوگوں کو، تو جب رجم کیا جا رہا ہے تو کوڑے لگانے کی کیا ضرورت ہے؟ اور جو مجرم ہے، مجرم کو تو کوڑے اس وقت لگائے جاتے ہیں جب اس کو رجم نہ کرنا ہو تاکہ خود اس مجرم کو بھی عبرت ہو جائے یہ آئندہ یہ جرم نہ کرے۔ مجرم کو کوڑے لگانے کا مقصد کیا ہوتا ہے؟ کہ لوگوں کے رکنے کے ساتھ ساتھ یہ خود بھی رک جائے، آئندہ یہ جرم نہ کرے۔ لیکن جب آپ نے اس کو کوڑے لگانے کے بعد رجم بھی کرنا ہے تو کوڑے لگانے کا مقصد تو یہاں ختم ہی ہو گیا، اس مجرم نے تو زندہ ہی نہیں رہنا تو اس کو کوڑوں کے ذریعے روکنا کیسے ہوگا بھئی؟
تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْجَلْدَ يَعْرَى عَنِ الْمَقْصُودِ، عَرِيَ يَعْرَى کا معنی خالی ہونا، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْجَلْدَ يَعْرَى عَنِ الْمَقْصُودِ مَعَ الرَّجْمِ، اور اس لیے کیونکہ کوڑے لگانا یہ مقصود سے خالی ہے مَعَ الرَّجْمِ، رجم کے ساتھ۔ جب رجم کے ساتھ کوڑے لگا رہے ہیں تو یہ مقصود سے خالی ہے، یعنی خود لوگوں کو بھی جو عبرت ہو رہی ہے وہ تو رجم سے زیادہ ہو رہی ہے، اور خود مجرم جو ہے اس نے تو زندہ ہی نہیں رہنا تو اس کے لیے بھی یہ زجر کا باعث نہیں ہیں کوڑے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْجَلْدَ يَعْرَى عَنِ الْمَقْصُودِ مَعَ الرَّجْمِ، اس لیے کیونکہ کوڑے لگانا وہ مقصود سے خالی ہیں رجم کے ساتھ، لِأَنَّ زَجْرَ غَيْرِهِ يَحْصُلُ بِالرَّجْمِ، اس لیے کیونکہ مجرم کے علاوہ اور لوگوں کو دھمکانا يَحْصُلُ بِالرَّجْمِ، وہ تو رجم سے ہی حاصل ہو جائے گا، إِذْ هُوَ فِي الْعُقُوبَةِ أَقْصَاهَا، اس لیے کیونکہ وہ سزا کے اندر انتہا درجے کا ہے۔ اس لیے کیونکہ یہ رجم جو ہے یہ سزا کے اندر انتہا درجے تک پہنچا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: إِذْ هُوَ فِي الْعُقُوبَةِ أَقْصَاهَا، اس لیے کیونکہ رجم جو ہے سزا کے اندر أَقْصَاهَا، آخری درجے کی سزا ہے، وَزَجْرُهُ لَا يَحْصُلُ بَعْدَ هَلَاكِهِ، اور یہ جو زانی ہے خود اس کا زجر تو حاصل نہیں ہوا اس کے ہلاک ہو جانے کے بعد۔ کوڑے لگانے کا مقصد تو کیا تھا؟ کہ مجرم کو بھی زجر ہو جائے وہ آئندہ ایسا نہ کرے، وہ تو حاصل نہیں ہوا کیونکہ یہ تو رجم کی وجہ سے ہلاک ہی ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: وَزَجْرُهُ لَا يَحْصُلُ بَعْدَ هَلَاكِهِ، اور زانی کا زجر جو ہے یعنی زانی کی ڈانٹ یا زانی کو دھمکانا وہ تو حاصل نہیں ہوا اس کے ہلاک ہو جانے کے بعد۔
قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْبِكْرِ بَيْنَ الْجَلْدِ وَالنَّفْيِ، جَلْد کا معنی ہے کوڑے لگانا، اور نَفْي کا معنی ہے جلاوطن کرنا۔ کسی شخص کو اپنے علاقے اور وطن سے نکال دینا اس کو جلاوطنی کہتے ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْبِكْرِ بَيْنَ الْجَلْدِ وَالنَّفْيِ، اور جمع نہیں کیا جائے گا بکر کے اندر، یاد رکھو بکر کا معنی ہے غیر شادی شدہ، چاہے مرد ہو چاہے عورت ہو۔ بکر کا کیا معنی؟ غیر شادی شدہ، چاہے مرد ہو اور چاہے عورت دونوں کے لیے یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْبِكْرِ، اور جمع نہیں کیا جائے گا غیر شادی شدہ میں، بَيْنَ الْجَلْدِ وَالنَّفْيِ، کوڑے لگانے اور جلاوطنی میں۔ یعنی غیر شادی شدہ کے لیے جلاوطنی اور کوڑے لگانا دونوں کو جمع نہیں کریں گے۔
جبکہ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر شادی شدہ کو کوڑے بھی لگائیں گے اور اس کو جلاوطن بھی کیا جائے گا، اور یہ جلاوطن کرنا باقاعدہ حد کا حصہ ہے۔ یہ باقاعدہ حد کا حصہ ہے، ہم کہتے ہیں نہیں یہ جلاوطن کرنا حد کا حصہ نہیں ہے۔ ہاں بعض صحابہ سے، بعض خلفائے راشدین سے جلاوطنی منقول ہے، انہوں نے کوڑے لگانے کے بعد جلاوطن بھی کیا تھا، لیکن ہم کہتے ہیں کہ ان کا یہ عمل سیاسۃً تھا۔ ان کا یہ عمل سیاسۃً تھا، سیاست کہتے ہیں ملکی معاملات کی تدبیر و انتظام کو۔ ملکی معاملات کی تدبیر و انتظام کو سیاست کہتے ہیں، کہ ملکی معاملات کیسے چلانے ہیں اس تدبیر اور انتظام کو سیاست کہتے ہیں، یعنی اس حکمتِ عملی کو سیاست کہتے ہیں۔ تو لہٰذا ہم کہتے ہیں وہ جو صحابہ اور خلفائے راشدین نے جلاوطن فرمایا تھا وہ سیاسۃً جلاوطن فرمایا تھا، تو وہ تو خلیفہ کی رائے کے سپرد ہے۔ اگر وہ سمجھتا ہے صرف کوڑے لگانا کافی نہیں بلکہ جلاوطن بھی کرنا چاہیے تو وہ سیاسۃً جلاوطن بھی کر سکتا ہے، لیکن خود جلاوطنی یہ حد کا حصہ نہیں ہے بھئی۔
قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَلَا يُجْمَعُ فِي الْبِكْرِ بَيْنَ الْجَلْدِ وَالنَّفْيِ، اور غیر شادی شدہ کے بارے میں جمع نہیں کیا جائے گا کوڑوں کو اور جلاوطنی کو، وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَجْمَعُ بَيْنَهُمَا حَدًّا، اور امام شافعی ان دونوں کو جمع فرماتے ہیں حَدًّا، باعتبار حد کے، لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے اس قول کے، وہ دلیل میں حضور علیہ السلام کا یہ قول ذکر فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے فرمایا: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، کہ غیر شادی شدہ غیر شادی شدہ کے ساتھ، بکر کا کیا معنی؟ غیر شادی شدہ، کہ الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ، غیر شادی شدہ غیر شادی شدہ کے ساتھ، یعنی جب زنا کر لے، غیر شادی شدہ جب غیر شادی شدہ کے ساتھ زنا کر لے، تو جَلْدُ مِائَةٍ، تو سو کوڑے ہیں، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اور ایک سال کی جلاوطنی ہے۔ عام کا کیا معنی؟ سال۔ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اور ایک سال کی جلاوطنی ہے، وَلِأَنَّ فِيهِ حَسْمَ بَابِ الزِّنَا، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے بھئی، ایک تو وہ حدیث ذکر کرتے ہیں: الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ، اور دوسرا وہ عقلی دلیل بھی دیتے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِيهِ حَسْمَ بَابِ الزِّنَا، حَسَمَ يَحْسِمُ حَسْمًا سین کے ساتھ ہے، حَسَمَ يَحْسِمُ حَسْمًا کا معنی ہے کاٹنا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِيهِ حَسْمَ بَابِ الزِّنَا، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جلاوطنی کے اندر زنا کے دروازے کو کاٹنا ہے، جلاوطنی میں زنا کے دروازے کو کاٹنا ہے، جلاوطنی کی وجہ سے زنا ختم ہو جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ جو زنا ہوتا ہے عموماً مصاحبت، جان پہچان اور تعلق کی وجہ سے ہوتا ہے، تو جب یہ نئی جگہ چلا گیا وہاں اب اس کا کوئی جان پہچان والا نہیں، کسی کے ساتھ تعلق وغیرہ نہیں ہے تو زنا کے اسباب ختم ہو جائیں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِيهِ حَسْمَ بَابِ الزِّنَا، اس لیے کیونکہ جلاوطنی کے اندر زنا کے دروازے کو کاٹنا ہے یعنی اس کو ختم کرنا ہے، لِقِلَّةِ الْمَعَارِفِ، جان پہچان کے کم ہونے کی وجہ سے، لِقِلَّةِ الْمَعَارِفِ، جان پہچان کی کمی کی وجہ سے۔
اب ہماری دلیل آ گئی۔ وَلَنَا، اور ہماری دلیل جو ہے، قَوْلُهُ تَعَالَى، وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے: فَاجْلِدُوا، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ، تو یہاں پر الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي کے بعد یہ فا لائی گئی ہے، اور یہ فا وہ ہے جو جزا پر داخل ہوتی ہے۔ یہ وہ فا ہے جو جزا پر داخل ہوتی ہے، تو لہٰذا اس فا کے بعد جو ذکر ہے وہ ہے جزا۔ اور فا کے بعد تو فَاجْلِدُوا صرف کوڑے لگانے کا ذکر ہے، یہاں تو جلاوطنی کا ذکر نہیں ہے، لہٰذا معلوم ہوا صرف کوڑے لگانا یہ حد ہے، جلاوطنی حد کا حصہ نہیں ہے۔ یہ تھی دلیل ایک طریقے پر کہ فا کے بعد جزا کا ذکر ہے۔
سزا ذکر ہے۔ تو فا کے بعد جو ذکر کیا جاتا ہے وہی جزا ہوتی ہے۔ معلوم ہوا زنا کی سزا سو کوڑے ہی ہیں۔ یہ ایک طریقے سے تھی دلیل۔ دوسرے طریقہ یہ ہے کہ فا کے بعد صرف کوڑے لگانے کو ذکر کیا گیا ہے۔ دیکھو دونوں دلیلیں بالکل ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ ایک میں فا کو دلیل بنایا، ایک میں فا کے مابعد جو ذکر ہے اس کو دلیل بنایا۔ پہلی دلیل یہ کہ یہ فا جزا والی ہے۔ تو یہی جزا ہوگی جو فا کے بعد ہے، اور کوئی چیز جزا نہیں ہوگی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ فا کے بعد صرف کوڑے لگانا ہی ذکر ہوا ہے، لہٰذا وہی سزا ہوگی اور کوئی سزا نہیں ہوگی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ بس معمولی سا فرق ہے کہ ایک تو یہ کہ یہ فا جو ہے، یہ فا جزا پر داخل ہوتی ہے۔ معلوم ہوا یہی جزا ہے اور نہیں۔ اور دوسرے انداز میں یوں کہو کہ یہاں صرف کوڑے لگانا ہی ذکر ہے اور کوئی چیز ذکر ہی نہیں۔ اگر حد کا حصہ کچھ اور ہوتا تو اللہ اس کو بھی ذکر فرماتے، لیکن اللہ نے جلاوطنی کو ذکر نہیں فرمایا، معلوم ہوا وہ حد کا حصہ نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاجْلِدُوهُمْ﴾ جَعَلَ الْجَلْدَ كُلَّ الْمُوجَبِ رُجُوعًا إِلَى حَرْفِ الْفَاءِ۔ موجب کہتے ہیں مقتضا اور حکم کو۔ موجب کا کیا معنی؟ مقتضا اور حکم۔ اس زنا کا حکم کیا ہے؟ کوڑے لگانا۔ اس زنا کا مقتضا کیا ہے؟ یہ زنا کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ کوڑے لگانے کا۔ تو کہتے ہیں: جَعَلَ الْجَلْدَ، اللہ تعالیٰ نے کوڑوں کو قرار دیا كُلَّ الْمُوجَبِ، سارا مقتضا۔ اللہ نے کوڑوں ہی کو سارا مقتضا قرار دیا ہے اس زنا کا۔ یعنی یوں کہو، اللہ تعالیٰ نے اس زنا کا سارا حکم اس کوڑے لگانے کو ہی قرار دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: جَعَلَ الْجَلْدَ كُلَّ الْمُوجَبِ، اللہ تعالیٰ نے کوڑے لگانے کو ہی سارا حکم قرار دیا ہے رُجُوعًا إِلَى حَرْفِ الْفَاءِ، حرفِ فا کی طرف رجوع کرتے ہوئے۔ حرفِ فا کی طرف رجوع کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ یہاں فا ہے تو معلوم ہوا اللہ نے صرف کوڑے لگانے کو ہی اس زنا کا حکم قرار دیا ہے۔ یہ معنی ہے رُجُوعًا إِلَى حَرْفِ الْفَاءِ، حرفِ فا کی طرف رجوع کرتے ہوئے أَوْ إِلَى كَوْنِهِ كُلَّ الْمَذْكُورِ، یا اس بات کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ یہی سارا کچھ مذکور ہے۔ کہ کوڑے لگانا ہی سارا مذکور ہے، اس کے ساتھ جلاوطنی مذکور نہیں، لہٰذا جلاوطنی حد کا حصہ نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ إِلَى كَوْنِهِ كُلَّ الْمَذْكُورِ، یا اس بات کی طرف رجوع کرتے ہوئے کہ کوڑے لگانا ہی وہ سارا ہے جس کو ذکر کیا گیا ہے۔
وَلِأَنَّ فِي التَّغْرِيبِ فَتْحَ بَابِ الزِّنَا، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے: جلاوطن کریں گے تو زنا کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، جلاوطن کریں گے تو زنا کا دروازہ کھل جائے گا۔ انہوں نے کہا تھا کہ زنا تعلقات کی وجہ سے ہوتا ہے، آپس میں ہم نشینی سے ہوتا ہے، اور جب کسی کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہی نہیں، ہم نشینی ختم ہو گئی تو زنا بھی ختم۔ ہم کہتے ہیں: نہیں، یہاں جب اس کو جلاوطن کر دیا، یہ تو زنا کا دروازہ کھل گیا بھئی! اس لیے کیونکہ جب تک یہ اپنے علاقے میں تھا تو اس کو اپنے خاندان والوں سے، اپنے قبیلے والوں سے حیا تھی، تو وہ حیا اور شرم مانع بنتی تھی زنا سے۔ لیکن اب نئے علاقے میں چلا گیا، وہاں تو کوئی اس کا جاننے والا نہیں ہے، کسی سے کوئی شرم و حیا اس کو محسوس نہیں ہوگی تو یہ تو زنا کا دروازہ اور زیادہ کھل جائے گا۔ اور نیز وہاں پر اگر اسی طرح جلاوطن کیا جائے، مثلاً عورت کو جلاوطن کیا ہے، تو اب وہاں پر اس کے لیے اسبابِ معاش ہی نہیں ہے۔ وہ کہاں سے کمائے؟ کہاں سے کھائے؟ لہٰذا یہ تو اس کے لیے زنا کا دروازہ کھل گیا، اور اسی معاش کی وجہ سے ہی بعض عورتیں زنا کو اپنا پیشہ بنا لیتی ہیں۔
تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي التَّغْرِيبِ فَتْحَ بَابِ الزِّنَا، اور اس لیے کیونکہ جلاوطنی کے اندر زنا کا دروازہ کھولنا ہے لِانْعِدَامِ الِاسْتِحْيَاءِ مِنَ الْعَشِيرَةِ، اس لیے کیونکہ حیا معدوم ہے مِنَ الْعَشِيرَةِ، خاندان والوں سے۔ خاندان اور قوم والوں سے حیا نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ وہ وہاں پر موجود ہی نہیں ہیں۔ تو لِانْعِدَامِ الِاسْتِحْيَاءِ مِنَ الْعَشِيرَةِ، خاندان والوں سے حیا کے نہ ہونے کی وجہ سے کیونکہ وہاں وہ خاندان والے موجود ہی نہیں۔ ثُمَّ فِيهِ قَطْعُ مَوَادِّ الْبَقَاءِ، اور نیز اس کے اندر بقا کے مادوں کو کاٹنا ہے۔ جلاوطنی میں تو بقا کے مادے یعنی روزی اور معاش کو کاٹنا ہے۔ کہتے ہیں: ثُمَّ فِيهِ قَطْعُ مَوَادِّ الْبَقَاءِ، اور پھر اس کے اندر بقا کے مادے یعنی روزی اور معاش کو کاٹنا ہے۔ فَرُبَّمَا تَتَّخِذُ زِنَاهَا مَكْسَبَةً، مَكْسَبَہ اور مَكْسِبَہ، سین کے فتحہ اور کسرہ دونوں کے ساتھ جائز ہے، اور یہ کہتے ہیں ذریعۂ کمائی کو۔ کمائی کا جو ذریعہ ہو۔ تو کہتے ہیں: فَرُبَّمَا تَتَّخِذُ زِنَاهَا مَكْسَبَةً، تو بسا اوقات وہ زنا کو ہی اپنی کمائی کا ذریعہ بنا لیتی ہے وَهُوَ مِنْ أَقْبَحِ وُجُوهِ الزِّنَا، اور یہ زنا کی بدترین اسباب میں سے ہے۔ یہ زنا کے بدترین اسباب میں سے ہے کہ اس کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مِنْ أَقْبَحِ وُجُوهِ الزِّنَا، اور زنا کو کمائی کا ذریعہ بنانا، یہ زنا کے بدترین اسباب میں سے ہے۔
وَهَذِهِ الْجِهَةُ مُرَجَّحَةٌ لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ: كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً۔ كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے بھئی۔ كَفَى بِالنَّفْيِ، آپ نے پڑھا ہے کہ كَفَى کے فاعل پر کبھی با کو زائد بڑھا دیتے ہیں، تو یہ بِالنَّفْيِ با کی وجہ سے مجرور ہے لفظاً، لیکن محلاً یہ مرفوع ہے، یہ كَفَى کا فاعل ہے۔ تو كَفَى بِالنَّفْيِ کس معنی میں ہے؟ كَفَى النَّفْيُ کے معنی میں، کہ جلاوطنی کافی ہے فِتْنَةً، باعتبار فتنہ ہونے کے۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جلاوطنی ہی باعتبار فتنے کے کافی ہے، یعنی یہ اتنا بڑا فتنہ ہے، یہی کافی ہے اس کے لیے۔ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، کہ جلاوطنی ہی فتنے کے اعتبار سے کافی ہے۔
اب یاد رکھو، یہاں جو عبارت آئی: وَهَذِهِ الْجِهَةُ مُرَجَّحَةٌ، یہ جو مُرَجَّحَةٌ کا لفظ آیا، شارحین فرماتے ہیں اس کو اسمِ فاعل پڑھنا بھی صحیح، یعنی مُرَجِّحَةٌ، اور اس کو اسمِ مفعول یعنی مُرَجَّحَةٌ پڑھنا بھی صحیح ہے۔ دونوں صورتوں میں معنی صحیح ہوتا ہے۔ پہلے ذرا اس کو اسمِ مفعول پڑھ لیں۔ اس صورت میں معنی زیادہ واضح ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَهَذِهِ الْجِهَةُ، اور یہ والی جو جہت ہے۔ توجہ ہے نا؟ ایک جہت ذکر کی امام شافعی رحمہ اللہ نے کہ جلاوطنی زنا کا دروازہ بند کر دیتا ہے، اور ایک جانب اور ایک جہت ہم نے ذکر کی کہ جلاوطنی جو ہے وہ زنا کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ تو ہماری والی جو جہت ہے، ہماری والی جو جانب ہے، یعنی یہ جو ہم نے علت بیان کی کہ جلاوطنی جو ہے یہ تو زنا کے دروازے کو کھول دیتی ہے، اس سے معلوم ہوا جلاوطنی ایک فتنہ ہے۔ تو لہٰذا یہ جو ہم نے علت بیان کی، یہ مُرَجَّحَةٌ ہے، یہ راجح ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے بھی۔ بھئی امام شافعی رحمہ اللہ نے بھی ایک علت ذکر کی کہ جلاوطنی جو ہے زنا کے دروازے کو بند کر دیتی ہے، ہم نے بھی علت ذکر کی کہ جلاوطنی جو ہے وہ زنا کے دروازے کو کھول دیتی ہے، اور ہماری جو علت ہے اس کی تائید ہوتی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول سے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی فرمایا ہے: كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، کہ جلاوطنی ہی فتنے کے اعتبار سے کافی ہے بھئی۔ تو ہماری علت کی تائید ہوتی ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے، تو ہماری علت مُرَجَّحَةٌ ہے۔ ہماری علت مُرَجَّحَةٌ ہے یعنی اس کو ترجیح ہے، یہ راجح ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَهَذِهِ الْجِهَةُ مُرَجَّحَةٌ، اور یہ والی جہت جو ہے، یہ والی جانب، علت کی یہ والی جانب جو ہم نے بیان کی، مُرَجَّحَةٌ، یہ راجح ہے لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وجہ سے کہ آپ نے فرمایا: كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، کہ جلاوطنی کافی ہے باعتبار فتنہ کے۔
آپ ذرا اس کو پڑھیں مُرَجِّحٌ بھئی، اسمِ فاعل پڑھیں۔ پھر اس صورت میں معنی یہ ہے: وَهَذِهِ الْجِهَةُ، اور یہ جہت جو ہم نے بیان کی، یہ جانب جو ہم نے علت کے طور پر بیان کی، مُرَجِّحَةٌ، یہ ترجیح دے رہی ہے لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کو۔ ہماری علت سے حضرت علی کے قول کے صحیح ہونا بھی پتہ چل رہا ہے۔ ہماری دلیل سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کا صحیح ہونا بھی پتہ چل رہا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جو جلاوطنی کو فتنہ قرار دیا ہے وہ اسی اعتبار سے ہے جو ہم نے ذکر کیا ہے بھئی۔ تو ہماری علت سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے صحیح ہونے کا پتہ چلتا ہے۔ بلکہ زیادہ بہتر الفاظ میں یوں کہو کہ ہماری اس علت کی وجہ سے، ہم نے جو علت بیان کی کہ جلاوطنی زنا کا دروازہ کھول دیتی ہے، ہماری یہ علت سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وضاحت ہو گئی۔ اس سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وضاحت ہو گئی کہ انہوں نے جو فرمایا ہے كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، کہ جلاوطنی جو ہے وہ کافی ہے باعتبار فتنہ ہونے کے، یعنی جلاوطنی خود ہی ایک بہت بڑا فتنہ ہے، اور ہم نے جو علت بیان کر دی اس سے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی وضاحت ہو گئی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: وَهَذِهِ الْجِهَةُ مُرَجِّحَةٌ، اور ہماری والی جو جہت ہے وہ ترجیح دینے والی ہے لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کو کہ آپ نے فرمایا: كَفَى بِالنَّفْيِ فِتْنَةً، کہ جلاوطنی کافی ہے فتنہ ہونے کے اعتبار سے۔
آگے دیکھیے: وَالْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ كَشَطْرِهِ۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے حدیث ذکر فرمائی تھی کہ کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطن بھی کیا جائے گا کہ حدیث میں آیا ہے: ”الْبِكْرُ بِالْبِكْرِ جَلْدُ مِائَةٍ وَتَغْرِيبُ عَامٍ“۔ اب اس کا بھی جواب دے رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں: وَالْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ كَشَطْرِهِ، کہ یہ حدیث منسوخ ہے كَشَطْرِهِ، جیسے کہ اس حدیث کا دوسرا حصہ۔ یہ پوری حدیث نہیں ہے۔ آگے دیکھو، آگے حدیث کا دوسرا حصہ بھی ذکر ہو رہا ہے: وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور وہ حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ“۔ الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ، کہ شادی شدہ اگر شادی شدہ کے ساتھ زنا کرے جَلْدُ مِائَةٍ، تو سو کوڑے لگانا ہے وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ، اور پتھروں سے رجم کرنا ہے۔ پتھروں سے رجم کرنا ہے۔ اور امام شافعی رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ رجم کے ساتھ کوڑے نہیں جمع کیے جائیں گے۔ حالانکہ اس حدیث کے دوسرے حصے سے تو معلوم ہو رہا ہے کہ رجم کے ساتھ کوڑے بھی لگائے جائیں گے، اور اس کے قائل تو امام شافعی رحمہ اللہ بھی نہیں ہیں۔ معلوم ہوا دوسرا حصہ ان کے نزدیک بھی منسوخ ہے۔ تو جس طرح دوسرا حصہ منسوخ ہے، اسی طرح ہم کہتے ہیں پہلا حصہ بھی منسوخ ہے قرآن کی آیت کے ذریعے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾، یہاں صرف کوڑوں کا ذکر ہے، اس کے ساتھ جلاوطنی کا ذکر نہیں ہے۔ تو آیت کے ذریعے یہ حدیث کا پہلا حصہ بھی منسوخ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَالْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ كَشَطْرِهِ۔ شطر کہتے ہیں کسی چیز کا جز، کسی چیز کا آدھا حصہ۔ تو کہتے ہیں: وَالْحَدِيثُ مَنْسُوخٌ كَشَطْرِهِ، اور یہ حدیث منسوخ ہے جیسے کہ اس کا جز جو ہے وہ منسوخ ہے وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور اس حدیث کا دوسرا جز جو ہے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے: ”الثَّيِّبُ بِالثَّيِّبِ جَلْدُ مِائَةٍ وَرَجْمٌ بِالْحِجَارَةِ“، کہ شادی شدہ شادی شدہ کے ساتھ زنا کرے تو اس کی سزا جو ہے سو کوڑے ہیں اور پتھروں سے رجم کرنا ہے وَقَدْ عُرِفَ طَرِيقُهُ فِي مَوْضِعِهِ، اور تحقیق اس نسخ کے طریقے کو جانا گیا ہے اپنے مقام میں۔ وَقَدْ عُرِفَ طَرِيقُهُ فِي مَوْضِعِهِ، اس نسخ کے طریقوں کو اپنے مقام میں جانا گیا ہے، یعنی آپ تفاسیر کے اندر دیکھ لیں جہاں آیت ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي﴾ کا ذکر آتا ہے، وہاں پر یہ تفصیل علماء ذکر فرماتے ہیں، یا اسی طرح اصولِ فقہ کے اندر جہاں ناسخ اور منسوخ کی بحث آتی ہے وہاں علماء اس کو ذکر فرماتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے: وَقَدْ عُرِفَ طَرِيقُهُ فِي مَوْضِعِهِ، اور اس نسخ کے طریقے کو اپنے مقام میں جانا گیا ہے یعنی تفاسیر میں اور کتبِ اصولِ فقہ میں۔
إِلَّا أَنْ يَرَى الْإِمَامُ فِي ذَلِكَ مَصْلَحَةً، مگر یہ کہ امام جو ہے اس جلاوطنی کے اندر کوئی مصلحت دیکھے۔ جو حاکم ہے اگر وہ جلاوطنی کے اندر مصلحت سمجھتا ہے تو وہ کوڑے لگانے کے ساتھ جلاوطن بھی کر سکتا ہے لیکن یہ بطورِ تعزیر کے ہے اور بطورِ سیاست کے ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَرَى الْإِمَامُ فِي ذَلِكَ مَصْلَحَةً، مگر یہ کہ امام جو ہے یعنی مسلمانوں کا حاکم اور خلیفہ جو ہے وہ اس جلاوطنی کے اندر کوئی مصلحت دیکھے فَيُغَرِّبَهُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى، تو وہ اس کو جلاوطن کر دے علی قدر ما یری، اتنی مقدار جتنی اس کی رائے ہو۔ جتنا وہ مناسب سمجھے، چھ مہینے یا سال، جتنا بھی جلاوطن کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے۔ فَيُغَرِّبَهُ، غرّب یغرّب تغریب کا معنی ہے جلاوطن کرنا۔ فَيُغَرِّبَهُ عَلَى قَدْرِ مَا يَرَى، تو وہ اس کو جلاوطن کر دے اتنی مقدار جتنی اس کی رائے بنے وَذَلِكَ تَعْزِيرٌ وَسِيَاسَةٌ، اور یہ تعزیر ہے اور سیاست ہے، یعنی یہ حد کا حصہ نہیں ہے۔ لِأَنَّهُ قَدْ يُفِيدُ فِي بَعْضِ الْأَحْوَالِ، اس لیے کیونکہ جلاوطنی بھی بعض احوال میں فائدہ دیتی ہے فَيَكُونُ الرَّأْيُ فِيهِ إِلَى الْإِمَامِ، تو اس کے اندر جو رائے ہے وہ امام کے سپرد ہے جیسے اس کی رائے بنے۔ وَعَلَيْهِ يُحْمَلُ النَّفْيُ الْمَرْوِيُّ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، اور اسی پر وہ جلاوطنی محمول ہے جس کو روایت کیا گیا ہے بعضِ صحابہ سے۔ بعض صحابہ نے جو جلاوطن کیا تھا ہم کہتے ہیں وہ تعزیر کے طور پر اور سیاست کے طور پر کیا تھا۔ تو کہتے ہیں: وَعَلَيْهِ يُحْمَلُ النَّفْيُ الْمَرْوِيُّ عَنْ بَعْضِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ، اور اسی پر وہ جلاوطنی محمول ہے جس کو بعضِ صحابہ سے روایت کیا گیا ہے۔
وَإِذَا زَنَى الْمَرِيضُ وَحَدُّهُ الرَّجْمُ رُجِمَ۔ صورتِ مسئلہ یہ: اگر مریض نے زنا کر لیا اور زنا ثابت ہو گیا تو کیا اس بیماری کے اندر ہی اس کو حد جاری کی جائے گی یا تندرست ہونے کے بعد حد جاری کی جائے گی؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ اگر اس کی حد رجم ہے تو پھر اس کی تندرستی کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ رجم میں تو اس نے ہلاک ہی ہو جانا ہے، لہٰذا اسی طرح بیماری کی حالت میں ہی رجم کر دیا جائے گا۔ اور اگر اس کی حد جو ہے کوڑے ہیں تو پھر اس کی تندرستی کا انتظار کیا جائے گا کیونکہ بیماری کے اندر اگر آپ نے کوڑے لگائے پھر تو یہ ہلاک ہی ہو جائے گا اور کوڑے لگانے کا مقصد تو اس کو ہلاک کرنا نہیں ہے۔ رجم کا تو مقصد ہی اس کو ہلاک کرنا ہے، وہ چاہے بیماری میں لگا دو، اس میں اس نے ہلاک ہی ہونا ہے ہر حال میں۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا زَنَى الْمَرِيضُ، اور جب مریض زنا کر لے وَحَدُّهُ الرَّجْمُ، اور اس کی حد جو ہے وہ رجم ہو رُجِمَ، تو اس کو رجم کر دیا جائے گا لِأَنَّ الْإِتْلَافَ مُسْتَحَقٌّ، کیونکہ اس کو تلف کرنا، اس کو ہلاک کرنا، وہ استحقاق اس کا ہو چکا ہے فَلَا يَمْتَنِعُ بِسَبَبِ الْمَرَضِ، تو لہٰذا رجم جو ہے وہ ممنوع نہیں ہوگا مرض کی وجہ سے۔ وَإِنْ كَانَ حَدُّهُ الْجَلْدَ لَمْ يُجْلَدْ، اور اگر اس مریض کی حد جو ہے وہ کوڑے ہیں لَمْ يُجْلَدْ، تو پھر اس کو کوڑے نہیں لگائے جائیں گے حَتَّى يَبْرَأَ، یہاں تک کہ یہ تندرست ہو جائے كَيْ لَا يُفْضِيَ إِلَى الْهَلَاكِ، تاکہ کہیں یہ کوڑے اس کو ہلاکت تک نہ پہنچا دیں۔ وَلِهَذَا لَا يُقَامُ الْقَطْعُ عِنْدَ شِدَّةِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ، اور اسی ہلاکت کے خوف کی وجہ سے ہی لا یقام القطع، ہاتھ کاٹنے کو قائم نہیں کیا جائے گا یعنی چوری میں ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا عِنْدَ شِدَّةِ الْحَرِّ وَالْبَرْدِ، شدید گرمی اور شدید سردی کے وقت۔ اگر شدید سردی ہے یا شدید گرمی ہے تو اس وقت چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا ورنہ تو یہ ہاتھ کا کاٹنا اسے موت تک پہنچا دے گا بھئی، اور حالانکہ وہ اس کو ہلاک کرنا تو یہاں مقصود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِهَذَا، اور اسی ہلاکت کے خوف کی وجہ سے لَا يُقَامُ الْقَطْعُ، ہاتھ کاٹنے کو قائم نہیں کیا جائے گا عِنْدَ شِدَّةِ الْحَرِّ، شدید گرمی کے وقت وَالْبَرْدِ، اور شدید سردی کے وقت۔
وَإِذَا زَنَتِ الْحَامِلُ لَمْ تُحَدَّ حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا۔ صورت یہ: ایک عورت حاملہ ہے، اس نے زنا کر لیا یا زنا کی وجہ سے وہ حاملہ ہو گئی تو پھر اس صورت میں اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی یہاں تک کہ یہ بچے کو جنم دے دے۔ کیونکہ اس عورت کا تو قصور ہے لیکن بچے کا تو کوئی قصور نہیں، لہٰذا جب یہ بچے کو جنم دے دے اس کے بعد اس پر حد جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا زَنَتِ الْحَامِلُ، اور جب حاملہ زنا کر لے، میں نے بتلایا چاہے زنا کے وقت ہی حاملہ ہو، چاہے زنا سے حاملہ ہو جائے، دونوں کا یہی حکم ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا زَنَتِ الْحَامِلُ، اور جب حاملہ عورت زنا کر لے لَمْ تُحَدَّ، تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی حَتَّى تَضَعَ حَمْلَهَا، یہاں تک کہ وہ اپنے حمل کو جنم دے دے لِكَيْ لَا يُؤَدِّيَ إِلَى هَلَاكِ الْوَلَدِ، تاکہ کہیں یہ حد جو ہے بچے کی ہلاکت تک نہ پہنچا دے وَهُوَ نَفْسٌ مُحْتَرَمَةٌ، اس حال میں کہ وہ بچہ جو ہے وہ بھی ایک محترم جان ہے۔ اس عورت کا تو قصور ہے لیکن بچے کا تو کوئی قصور نہیں، لہٰذا جب یہ بچے کو جنم دے دے اس کے بعد اس پر حد جاری کی جائے گی۔
وَإِنْ كَانَ حَدُّهَا الْجَلْدَ، اور اگر یہ جو حاملہ ہے اس کی حد کوڑے لگانا ہے لَمْ تُجْلَدْ، تو اس کو کوڑے نہیں لگائے جائیں گے حَتَّى تَتَعَالَى مِنْ نِفَاسِهَا، یہاں تک کہ یہ اپنے نفاس سے نکل آئے۔ تعلی کا معنی: بلند ہونا، مراد ہے نکلنا۔ تو کہتے ہیں: اگر یہ حاملہ جو ہے اس کی حد کوڑے لگانا ہے تو اس کو حد نہیں لگائیں گے حَتَّى تَتَعَالَى مِنْ نِفَاسِهَا، یہاں تک کہ یہ اپنے نفاس سے اٹھ جائے أَيْ تَرْتَفِعَ، معنی بیان کر رہے ہیں تَتَعَالَى کا کیا معنی ہے؟ أَيْ تَرْتَفِعَ، یہاں تک کہ وہ اس نفاس سے اٹھ جائے يُرِيدُ بِهِ تَخْرُجُ مِنْهُ، صاحبِ ہدایہ وضاحت فرما رہے ہیں کہ نفاس سے اٹھنے کا کیا معنی؟ کہتے ہیں: يُرِيدُ بِهِ، اس کے ذریعے صاحبِ قدوری ارادہ فرما رہے ہیں تَخْرُجُ مِنْهُ، کہ وہ عورت جو ہے نفاس سے نکل آئے، نفاس اس کا ختم ہو جائے۔ لِأَنَّ النِّفَاسَ نَوْعُ مَرَضٍ، اس لیے کیونکہ نفاس بھی ایک قسم کا مرض ہے فَيُؤَخَّرُ إِلَى زَمَانِ الْبُرْءِ، لہٰذا حد کو مؤخر کیا جائے گا اس عورت کی تندرستی کے زمانے تک بِخِلَافِ الرَّجْمِ، بخلاف رجم کے۔ اگر اس عورت کی حد رجم ہے تو بچے کی پیدائش کے بعد پھر نفاس کے گزرنے کا انتظار نہیں کیا جائے گا کیونکہ اس نے ہلاک ہی ہونا ہے بھئی۔ کہتے ہیں: بِخِلَافِ الرَّجْمِ، بخلاف رجم کے لِأَنَّ التَّأْخِيرَ لِأَجْلِ الْوَلَدِ، اس لیے کیونکہ وہاں پر تاخیر تھی وہ بچے کی وجہ سے تھی وَقَدِ انْفَصَلَ، اور تحقیق بچہ جدا ہو چکا ہے، بچے کی پیدائش ہو چکی ہے، اب نفاس کے اندر بھی عورت کو رجم کیا جا سکتا ہے۔
وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: اور امام صاحب سے روایت ہے أَنَّهُ يُؤَخَّرُ إِلَى أَنْ يَسْتَغْنِيَ وَلَدُهَا عَنْهَا، کہ حد کو مؤخر کیا جائے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں: حاملہ نے زنا کیا ہے تو پھر بچے کو جنم دے دے، پھر بھی حد جاری نہیں کریں گے یہاں تک کہ بچہ بے نیاز ہو جائے، یعنی خود کھانے پینے لگے اور اپنے کام خود کرنے لگے، یعنی سات آٹھ سال کی عمر تک بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام صاحب سے روایت ہے أَنَّهُ يُؤَخَّرُ إِلَى أَنْ يَسْتَغْنِيَ وَلَدُهَا عَنْهَا، کہ رجم کو مؤخر کیا جائے گا یہاں تک کہ بچہ جو ہے اپنی ماں سے بے نیاز ہو جائے یعنی اپنے کام خود کرنے لگے إِذَا لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَقُومُ بِتَرْبِيَتِهِ، جب کوئی ایک بھی موجود نہ ہو جو اس کی تربیت کرے۔ جب کوئی بھی اور تربیت کرنے والا نہ ہو پھر اس صورت میں مؤخر کیا جائے گا اتنا، اور اگر کوئی اور بچے کی تربیت کرنے والا ہے پھر اتنا مؤخر نہیں کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: إِذَا لَمْ يَكُنْ أَحَدٌ يَقُومُ بِتَرْبِيَتِهِ، جب کوئی ایک بھی نہ ہو جو اس بچے کی تربیت کرے لِأَنَّ فِي التَّأْخِيرِ صِيَانَةَ الْوَلَدِ عَنِ الضَّيَاعِ، اس لیے کیونکہ مؤخر کرنے میں صِيَانَةَ الْوَلَدِ، بچے کو بچانا ہے عَنِ الضَّيَاعِ، ضائع ہونے سے۔ بچے کو ضائع، کیونکہ بچے کی اگر کوئی تربیت کرنے والا نہیں ہے اور آپ پھر بھی عورت کو رجم کر دیتے ہیں تو یہ تو بچے کو آپ نے ضائع کر دیا، وہ بچہ تو ہلاک ہو جائے گا، کون اس کا خیال رکھے گا؟ کون اس کی تربیت کرے گا؟ لہٰذا کوئی تربیت کرنے والا نہ ہو تو پھر بچے کی حفاظت کے لیے رجم کو مؤخر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ فِي التَّأْخِيرِ صِيَانَةَ الْوَلَدِ عَنِ الضَّيَاعِ، اس لیے کیونکہ رجم کو مؤخر کرنے میں بچے کی حفاظت ہے ضائع ہونے سے۔
وَقَدْ رُوِيَ، اور تحقیق روایت کیا گیا ہے أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ لِلْغَامِدِيَّةِ، کہ حضور علیہ السلام نے بھی غامدیہ سے فرمایا تھا بَعْدَمَا وَضَعَتْ، بعد اس کے کہ جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تھا: ”ارْجِعِي حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَلَدُكِ“، کہ تو واپس چلی جا یہاں تک کہ تیرا بچہ جو ہے بے نیاز ہو جائے۔ غامدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خود حضور کے پاس آئیں کہ میں نے زنا کیا ہے، مجھے پاک کر دیجیے، اور پھر بتلانے لگی کہ یا رسول اللہ! میں زنا سے حاملہ ہوں۔ تو پھر حضور علیہ السلام نے ان کو واپس بھیجا یہاں تک کہ وہ بچے کو جنم دے دیں۔ اور پھر جب وہ بچے کو جنم دے دیا، وہ لے آئیں تو پھر حضور نے کہا کہ واپس لے جاؤ یہاں تک کہ یہ روٹی وغیرہ کھانے لگے۔ پھر وہ دو ڈھائی سال کے بعد پھر بچے کو لے کر تشریف لائیں، بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا، کہنے لگی یا رسول اللہ! اب یہ خود کھاتا پیتا ہے۔ اور بعض روایات میں آتا ہے کہ پھر دوبارہ حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا کہ واپس چلی جاؤ یہاں تک کہ یہ بچہ بے نیاز ہو جائے یعنی اپنے کام خود کرنے لگے، تو اس وقت ایک صحابی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں اس بچے کی دیکھ بھال کی ذمہ داری لیتا ہوں، تو پھر حضور علیہ السلام نے غامدیہ کو رجم کرنے کا حکم دیا۔ تو اس روایت میں ذکر ہے کہ حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا تھا: ”ارْجِعِي حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَلَدُكِ“، کہ تو واپس چلی جا یہاں تک کہ تیرا بچہ بے نیاز ہو جائے۔ تو اس روایت کی وجہ سے امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر بچے کی دیکھ بھال کرنے والا اور کوئی نہ ہو تو پھر جب تک بچہ بے نیاز نہیں ہو جاتا، یعنی تقریباً سات آٹھ سال کی عمر تک نہیں پہنچ جاتا، اس وقت تک اس عورت کو رجم نہیں کیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَقَدْ رُوِيَ، تحقیق روایت کیا گیا ہے أَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَالَ لِلْغَامِدِيَّةِ، کہ حضور علیہ السلام نے غامدیہ سے فرمایا بَعْدَمَا وَضَعَتْ، بعد اس کے کہ جب اس نے بچے کو جنم دے دیا تھا کہ ”ارْجِعِي حَتَّى يَسْتَغْنِيَ وَلَدُكِ“، کہ تو واپس چلی جا یہاں تک کہ بچہ بے نیاز ہو جائے۔
ثُمَّ الْحُبْلَى تُحْبَسُ إِلَى أَنْ تَلِدَ إِنْ كَانَ الْحَدُّ ثَابِتًا بِالْبَيِّنَةِ۔ یاد رکھو اگر زنا جو ہے وہ گواہی کے ذریعے ثابت ہوا ہے اور یہ عورت حاملہ ہے تو پھر اس کو قید میں ڈالیں گے، کہیں یہ بھاگ نہ جائے۔ کہیں یہ بھاگ نہ جائے۔ اور اگر زنا اس کے اپنے اقرار سے ثابت ہوا ہے پھر قید میں نہیں ڈالیں گے۔ پھر قید میں نہیں ڈالیں گے، وجہ یہ کہ قید میں ڈالنے کا فائدہ ہی کوئی نہیں ہے کیونکہ آپ نے پڑھا ہے کہ وہ زنا جو اقرار سے ثابت ہو جائے اس کے اندر اقرار کرنے والا جب چاہے رجوع کر سکتا ہے۔ وہ ایک دفعہ کہہ دے گا میں نے زنا نہیں کیا تو ساتھ ہی حد ساقط ہو جائے گی، تو لہٰذا اس کو قید میں ڈالنے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ثُمَّ الْحُبْلَى تُحْبَسُ إِلَى أَنْ تَلِدَ، پھر حاملہ جو ہے اس کو قید میں ڈالا جائے گا یہاں تک کہ وہ بچے کو جنم دے دے إِنْ كَانَ الْحَدُّ ثَابِتًا بِالْبَيِّنَةِ، اگر یہ حد ثابت ہوئی ہے گواہی کے ذریعے كَيْ لَا تَهْرُبَ، تاکہ کہیں یہ بھاگ نہ جائے بِخِلَافِ الْإِقْرَارِ، بخلاف اقرار کے لِأَنَّ الرُّجُوعَ عَنْهُ عَامِلٌ، اس لیے کیونکہ اقرار سے رجوع کرنا وہ تو عمل کرنے والا ہے، وہ تو عمل کرتا ہے حد کو ساقط کرنے میں عمل کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الْإِقْرَارِ، بخلاف اقرار کے لِأَنَّ الرُّجُوعَ عَنْهُ عَامِلٌ، اس لیے کیونکہ اقرار سے رجوع کرنا وہ تو عمل کرتا ہے یعنی حد کو ساقط کرنے میں فَلَا يُفِيدُ الْحَبْسُ، تو لہٰذا قید کرنا فائدہ نہیں دے گا۔ وَاللَّهُ أَعْلَمُ، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔
بَابُ الْوَطْءِ الَّذِي يُوجِبُ الْحَدَّ وَالَّذِي لَا يُوجِبُهُ
یہ باب ہے اس وطی کے بیان میں جو حد کو واجب کرتی ہے اور اس وطی کے بیان میں جو حد کو واجب نہیں کرتی۔ یاد رکھو اس باب کے اندر صاحبِ ہدایہ آپ کو اور گہرائی کے اندر لے جائیں گے اور بتلائیں گے کون سی وطی حد کو واجب کرتی ہے اور کون سی وطی حد کو واجب نہیں کرتی۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الْوَطْءِ الَّذِي يُوجِبُ الْحَدَّ، یہ باب ہے اس وطی کے بیان میں جو حد کو واجب کرتی ہے وَالَّذِي لَا يُوجِبُهُ، اور اس وطی کے بیان میں جو حد کو واجب نہیں کرتی۔
قَالَ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: الْوَطْءُ الْمُوجِبُ لِلْحَدِّ هُوَ الزِّنَا، کہ وہ وطی جو حد کو واجب کرتی ہے وہ زنا ہے۔ وہ وطی جو حد کو واجب کرتی ہے اس کو زنا کہتے ہیں۔ وَأَنَّهُ فِي عُرْفِ الشَّرْعِ وَاللِّسَانِ، اور وہ شریعت کے عرف میں اور اہل لسان کے عرف میں، یعنی عربی زبان والوں کے عرف میں، آگے تعریف کرنے لگے ہیں، شریعت میں بھی زنا اس کو کہتے ہیں اور اہل لسان بھی زنا اس کو کہتے ہیں، آگے تعریف کر رہے ہیں، وہ یہ ہے: وَطْءُ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ، کہ مرد کا عورت سے وطی کرنا فِي الْقُبُلِ، اس عورت کے اگلے مقام میں فِي غَيْرِ الْمِلْكِ، غیر ملکیت کے اندر کہ اس عورت پر اس کو نہ ملک نکاح ہو اور نہ ملک یمین ہو، یعنی نہ اس کی منکوحہ ہو نہ اس کی باندی ہو۔ وَشُبْهَةِ الْمِلْكِ، اور نیز وہ شبہ ملک کے علاوہ ہو، اس میں شبہ ملک بھی نہ ہو، جیسے حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں۔ تو یہاں پر بیٹے کی باندی سے اگر باپ صحبت کرتا ہے تو یہاں شبہ ملک موجود ہے۔ تو لہٰذا اس صورت میں آپ نے پڑھا ہے باپ پر حد نہیں آئے گی بلکہ عین صحبت سے پہلے باپ اس باندی کا مالک بن جائے گا اور پھر باپ کو باندی کی قیمت دینا پڑے گی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: قَالَ، صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: الْوَطْءُ الْمُوجِبُ لِلْحَدِّ هُوَ الزِّنَا، کہ وہ وطی جو حد کو واجب کرتی ہے وہ زنا ہے وَأَنَّهُ فِي عُرْفِ الشَّرْعِ وَاللِّسَانِ، اور زنا جو ہے شریعت کے عرف میں اور اہل لسان کے عرف میں وَطْءُ الرَّجُلِ الْمَرْأَةَ فِي الْقُبُلِ فِي غَيْرِ الْمِلْكِ وَشُبْهَةِ الْمِلْكِ، وہ کسی مرد کا کسی عورت سے وطی کرنا ہے عورت کے اگلے مقام میں یعنی ملک اور شبہ ملک کے علاوہ میں، یعنی وہاں نہ ملک ہو اور نہ شبہ ملک ہو بھئی۔
تو گویا تین قیدیں ہیں یہاں پر، تین قیدیں۔ ایک تو یہ کہ وطی عورت سے کی جائے۔ دوسرا یہ کہ وہ وطی عورت کے اگلے مقام میں ہو۔ اور تیسری قید یہ کہ وہاں پر نہ ملک ہو اور نہ شبہ ملک ہو۔ یہ تین قیدیں ضروری ہیں پھر ہی وہ زنا کہلائے گا۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: لِأَنَّهُ فِعْلٌ مَحْظُورٌ، محظور بھئی یہ دیکھو ظا کے ساتھ ہے، طا ظا۔ محظور کا معنی ممنوع بھئی۔ آپ کو میں نے بتلایا تھا: ”الضَّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ“، یہ ظا کے ساتھ ہے، ضرورت مباح کر دیتی ہے ممنوع چیزوں کو۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ فِعْلٌ مَحْظُورٌ، اس لیے کیونکہ زنا جو ہے یہ ایک ممنوع فعل ہے وَالْحُرْمَةُ عَلَى الْإِطْلَاقِ عِنْدَ التَّعَرِّي عَنِ الْمِلْكِ وَشُبْهَتِهِ، بھئی یہاں سے یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ زنا اس وطی کو کہیں گے کہ جو ملکیت سے بھی خالی ہو اور شبہ ملکیت سے بھی خالی ہو۔ وہاں کسی قسم کا شبہ ملکیت بھی نہ پایا جائے۔ وجہ یہ کہ حد انتہا درجے کی سزا ہے۔ حد انتہا درجے کی سزا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ جس عورت سے زنا کیا ہے اس شخص نے، وہ ملکیت سے خالی ہونے کے علاوہ شبہ ملکیت سے بھی خالی ہو۔ توجہ ہے؟ یہ کیا ذکر کر رہے ہیں؟ ملکیت سے خالی ہو یہ بات تو سب کو علم ہے، لیکن شبہ ملکیت سے بھی خالی ہونا ضروری ہے کیونکہ زنا کی حد انتہا درجے کی سزا ہے، تو لہٰذا صرف ملکیت سے خالی ہونا کافی نہیں بلکہ شبہ ملکیت سے خالی ہونا بھی ضروری ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: لِأَنَّهُ فِعْلٌ مَحْظُورٌ، اس لیے کیونکہ یہ زنا جو ہے ایک ممنوع فعل ہے وَالْحُرْمَةُ عَلَى الْإِطْلَاقِ، اور علی الاطلاق حرمت عِنْدَ التَّعَرِّي عَنِ الْمِلْكِ وَشُبْهَتِهِ، یہ اس وقت ہوتی ہے جب ملکیت اور شبہ ملکیت دونوں سے خالی ہو۔ جب وہ وطی ملکیت سے بھی خالی ہو اور شبہ ملکیت سے بھی خالی ہو اس وقت علی الاطلاق حرمت ہے۔
بھئی دیکھیے! ایک ہے ملکیت، ایک ہے شبہ ملکیت۔ ایک جگہ پر آدمی کی ملکیت نہیں ہے تو یہاں وطی حرام ہے، وطی حرام، لیکن علی الاطلاق حرمت یعنی کامل درجے کی حرمت وہاں آئے گی جہاں ملکیت بھی نہ ہو اور شبہ ملکیت بھی نہ ہو۔ مثلاً باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی، تو یہاں ملکیت تو نہیں لیکن شبہ ملکیت تو ہے، شبہ ملکیت تو ہے، تو باپ کے لیے یہ وطی حرام تو تھی لیکن علی الاطلاق حرام نہیں ہے، کامل درجے کی حرمت نہیں ہے کیونکہ حلت کا شبہ موجود ہے۔ حلت کا شبہ موجود ہے اور جب تک شبہ بھی موجود ہے علی الاطلاق حرمت نہیں ہے، کامل درجے کی حرمت نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: وَالْحُرْمَةُ عَلَى الْإِطْلَاقِ عِنْدَ التَّعَرِّي عَنِ الْمِلْكِ وَشُبْهَتِهِ، اور علی الاطلاق حرمت جو ہے وہ ملکیت اور شبہ ملکیت سے خالی ہوتے وقت ہوتی ہے، اس وقت علی الاطلاق حرمت ہوتی ہے بھئی۔
يُؤَيِّدُ ذَلِكَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، اور اس کی تائید ہوتی ہے حضور علیہ السلام کے اس قول سے بھی کہ آپ نے فرمایا: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ“۔ دَرَأَ يَدْرَأُ کے معنی ہوتے ہیں ہٹانا، دور کر دینا، چھوڑ دینا۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ“، کہ تم لوگ حدود کو چھوڑ دو بِالشُّبُهَاتِ، شبہوں کی وجہ سے۔ تم لوگ حدود کو دور کر دو شبہوں کی وجہ سے۔ تو اس سے بھی اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ شبہ بھی پایا جائے تو پھر وہ زنا نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ثُمَّ الشُّبْهَةُ نَوْعَانِ: شُبْهَةٌ فِي الْفِعْلِ وَتُسَمَّى شُبْهَةَ اشْتِبَاهٍ، وَشُبْهَةٌ فِي الْمَحَلِّ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً۔ بھئی یہ جگہ سمجھ لیجیے بھئی، یہ ذرا مشکل مقام ہے۔ یاد رکھو آپ کو بتلائیں گے کہ شبہ جو ہے وہ دو قسم پر ہوتا ہے: ایک کو شبہ فی الفعل کہتے ہیں اور ایک کو شبہ فی المحل کہتے ہیں۔ ایک کو شبہ فی الفعل کہتے ہیں، ایک کو شبہ فی المحل کہتے ہیں۔ شبہ فی الفعل وہ ہے جو انسان کے اپنے گمان کی وجہ سے آتا ہے۔ شبہ فی الفعل وہ ہے جو انسان کے اپنے گمان کی وجہ سے آتا ہے، اس کو شبہ فی الظن بھی کہتے ہیں۔ شبہ فی الفعل کا دوسرا نام کیا؟ شبہ فی الظن۔ تو شبہ فی الظن وہ ہے جو انسان کے اپنے گمان کی وجہ سے آتا ہے، وہاں پر کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہوتی۔ جبکہ شبہ فی المحل وہ ہے جو کسی شرعی دلیل کی وجہ سے آتا ہے۔ شبہ فی المحل، اس محل میں، محل کیا ہے زنا کا؟ وہ موطوءہ ہے جس سے وطی کی گئی ہے۔ اس محل میں ہی شبہ آ گیا ہے کہ یہ حرام ہے یا حرام نہیں ہے، اور شرعی دلیل کی وجہ سے وہ شبہ آیا ہے۔ تو ایک قسم کیا ہے؟ شبہ فی الفعل، جو انسان کے اپنے گمان کی وجہ سے شبہ آ جائے۔ اور ایک شبہ وہ ہے جو کسی شرعی دلیل کی وجہ سے آ جائے اور اس کو شبہ فی المحل کہتے ہیں بھئی۔ تو شبہ فی الفعل جو ہے اس کو شبہ فی الظن بھی کہتے ہیں اور اس کو شبۂ اشتباہ بھی کہتے ہیں۔ یہ اس کو شبۂ اشتباہ بھی کہتے ہیں کہ یہ اشتباہ ہو گیا تھا اس آدمی کو، اس اشتباہ کی وجہ سے شبہ آ گیا۔ اور شبہ فی المحل جو ہے وہ شرعی دلیل کی وجہ سے آتا ہے اور اس کو شبہ فی الملک بھی کہتے ہیں کہ وہاں ملکیت کی وجہ سے وہاں شبہ آ گیا۔
اب یاد رکھنا، شبہ فی الفعل جو ہے یہ بندے کے گمان کی وجہ سے شبہ آ جاتا ہے۔ مثلاً بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی۔ بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی۔ پہلے مسئلہ برعکس تھا، باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کی تھی تو ہم نے کہا تھا حد
نہیں آئے گی، کیونکہ حضور نے فرمایا ہے: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ تو یہاں پر اس باندی کے اندر حلال ہونے کا شبہ آ گیا جی کہ باپ کے لیے حلال ہے، شبہ کس سے آیا؟ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے، حضور نے فرمایا ہے: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ جی تو یہ شبہ کس کی وجہ سے آیا؟ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے، تو یہ شبہ فی المحل ہے۔ یہ جو محل ہے، یہ جو موطوءہ ہے یعنی یہ جو بیٹے کی باندی ہے، اس کے اندر اس کے اندر حلال ہونے کا بھی شبہ آ گیا جی اور کس وجہ سے آیا؟ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے۔ تو باپ جب بیٹے کی باندی سے صحبت کرے گا، تو یہ یہاں شبہ فی المحل ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا باپ پر حد نہیں آئے گی۔ جی
جبکہ اس کے برعکس کریں ذرا مسئلہ، بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی، جی بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی۔ اب بیٹے سے پوچھا گیا: آپ نے باپ کی باندی سے کیوں صحبت کی؟ تو بیٹا کہتا ہے: یہ تو میرے باپ کی باندی ہے، میں تو سمجھ رہا تھا یہ میرے لیے حلال ہے۔ جی تو یہ جو شبہ آیا، یہ کسی شرعی دلیل کی وجہ سے نہیں آیا بلکہ اس آدمی کے اس بیٹے کے اپنے گمان اور خیال کی وجہ سے آیا ہے۔ تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ شبہ فی الفعل، یعنی اس کو اس فعل میں شبہ لگ گیا تھا۔ جی اس کو اس فعل میں شبہ لگ گیا تھا، تو اس کو شبہ فی الفعل بھی کہتے ہیں اور شبہ فی الظن۔ میں بار بار دہرا رہا ہوں ان کے نام تاکہ ذہن نشین ہو جائیں۔ جہاں شبہ فی المحل آئے، آپ فوراً سمجھ جائیں کون سا شبہ مراد ہے، وہ شبہ جو شرعی دلیل کی وجہ سے آئے اور شبہ فی الفعل وہ شبہ ہے جو اپنے گمان کی وجہ سے آئے ایک فعل کے اندر بھئی۔ جی تو بیٹے سے پوچھا گیا: آپ نے اس باندی سے کیوں صحبت کی؟ اس نے کہا: میں تو سمجھا تھا یہ میرے باپ کی باندی ہے اور میں تو باپ کی تمام چیزیں استعمال کرتا ہوں تو میں سمجھا میرے لیے یہ باندی بھی حلال ہو گی، میں نے اس لیے صحبت کر لی۔ یاد رکھو! اس صورت میں بیٹے پر حد نہیں آئے گی، جی کیونکہ اس کا اپنا خیال تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے۔ جی
اور نیز یہ یاد رکھو، یہ اس آدمی کا اپنا گمان ہے کوئی شرعی دلیل نہیں، لہٰذا یہ شبہ صرف وہیں معتبر ہے جہاں یہ شبہ آ سکتا ہے۔ جی یہ شبہ یہ شبہ فی الفعل صرف وہیں معتبر ہو گا جہاں شبہ آ سکے، جیسے باپ بیٹا، باپ بیٹا ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، لہٰذا یہاں ممکن ہے بیٹے کو شبہ ہو گیا ہو، جی کیونکہ یہ محلِ شبہ بھی ہے، جی یہ شبہے کا مقام بھی ہے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں۔ یا اسی طرح بیٹے نے ماں کی باندی سے صحبت کر لی جی اور ماں اور بیٹے جو ہیں، وہ بھی ایک دوسرے کا مال ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، ان میں بے تکلفی ہوتی ہے، تو یہ بھی شبہے کا محل ہے۔ جی لہٰذا اگر بیٹے سے پوچھا گیا: آپ نے ماں کی باندی سے کیوں صحبت کی؟ بیٹا کہتا ہے: میں تو سمجھا تھا کہ یہ میری ماں کی باندی ہے، میرے لیے حلال ہے، لہٰذا اس صورت میں بیٹے پر حد نہیں آئے گی بھئی، کیونکہ یہ شبہے کا محل ہے۔ یا اسی طرح خاوند اپنی بیوی کی باندی سے صحبت کر لیتا ہے اور خاوند اور بیوی ایک دوسرے کا مال ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، ان میں بے تکلفی ہوتی ہے۔ خاوند سے پوچھا گیا: آپ نے بیوی کی باندی سے کیوں صحبت کی؟ اس نے کہا: میں تو سمجھا تھا میرے لیے حلال ہے۔ جی تو اس صورت میں خاوند پر حد نہیں آئے گی، لیکن یہ جو صورتیں میں نے ذکر کیں، بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کی یا بیٹے نے ماں کی باندی سے صحبت کی یا خاوند نے بیوی کی باندی سے صحبت کی، یاد رکھو! یہ شبہ صرف اس آدمی کے گمان کی وجہ سے آیا ہے، یہاں کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے۔ تو یہاں بندے کے گمان کا دخل ہے، جی یہ شبہ فی الفعل کے اندر بندے کے رائے کا دخل ہے۔ اگر بندے کی رائے یہ تھی کہ یہ میرے لیے حلال ہے، تو اس پر حد نہیں آئے گی، جی کیونکہ اس کے خیال میں حلال ہے، اس کو شبہ ہو گیا تھا۔ اور اگر بندے کی یہ رائے ہے کہ میرے لیے یہ حرام ہے، بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی، پوچھا گیا: کیوں صحبت کی؟ کہنے لگا کہ مجھے پتہ تھا یہ میرے لیے حرام ہے، پھر بھی میں نے صحبت کر لی، تو یاد رکھو! بیٹے پر حد جاری ہو گی۔ جی کیونکہ یہاں شبہ کس کی وجہ سے آیا تھا؟ بیٹے کے اپنے خیال کی وجہ سے، لیکن اس کا تو یہ خیال ہے میرے لیے حرام ہے، معلوم ہوا کوئی شبہ نہیں تھا اس کے حرام ہونے میں، لہٰذا بیٹے پر حد جاری کی جائے گی۔ یا بیٹے نے ماں کی باندی سے صحبت کی یا خاوند نے بیوی کی باندی سے صحبت کی، پوچھا گیا: کیوں صحبت کی؟ کہنے لگے: ہمیں پتہ تھا یہ حرام ہے، ہم نے پھر بھی صحبت کر لی، تو حد جاری ہو گی۔ کیونکہ یہاں شبہ کس وجہ سے آیا تھا؟ ان کے اپنے گمان سے اور یہاں اب ان کا اپنا گمان ہی یہ ہے کہ یہ ان کے لیے حرام ہے، تو کسی قسم کا شبہ موجود نہیں۔ شبہے نے آنا تھا کس وجہ سے آنا تھا؟ ان کے اپنے گمان کی وجہ سے، لیکن ان کا تو اپنا ہی گمان یہ ہے کہ یہ میرے لیے حرام، تو کوئی شبہ نہیں آیا، جب شبہ نہیں آیا تو حد جاری کر دی جائے گی۔ جی لیکن اگر یہ کہتے ہیں کہ ہمارا تو خیال تھا یہ ہمارے لیے حلال ہے، تو اب ان کے خیال کی وجہ سے شبہ آ گیا، تو اب حد جاری نہیں کی جائے گی۔
تو حاصلِ کلام یہ، ایک وہ شبہ ہے جو شریعت کی طرف سے آئے، کسی شرعی دلیل کی وجہ سے، وہاں پر یاد رکھو بندے کی رائے کا کوئی دخل نہیں جی اور ایک شبہ جو ہے وہ جو بندے کے ظن اور گمان کی وجہ سے آتا ہے، اس میں بندے کے گمان کا دخل ہے۔ اگر بندے کا گمان ہے کہ یہ میرے لیے حلال ہے، جی تو پھر اس صورت میں حد نہیں۔ اور اگر بندے کا یہ گمان ہے کہ یہ تو میرے لیے حرام ہے، تو پھر اس صورت میں حد آ جائے گی، کیونکہ شبہ آ ہی اس کے اپنے گمان کی وجہ سے رہا تھا، لیکن یہاں تو شبہ ہی نہیں ہے کیونکہ اس کا اپنا گمان بھی یہی ہے کہ یہ میرے لیے حرام ہے۔ تو معلوم ہوا بندے کی رائے شبہ فی الفعل کے اندر تو معتبر ہے، شبہ فی فی المحل کے اندر بندے کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں کیونکہ وہاں شرعی دلیل موجود ہے۔ مثلاً ادھر دیکھیے، باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی، جی باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی، تو آپ نے پڑھا ہے کہ یہاں حدیث میں آیا ہے: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ لہٰذا اس وجہ سے باپ پر حد نہیں آئے گی، معلوم ہوا یہ شبہ فی المحل ہے۔ یہ جو محل ہے، یہ جو بیٹے کی باندی ہے، اسی محل کے حرام ہونے میں شبہ ہے، جی لہٰذا جب یہ شبہ فی المحل ہوا، تو اس کے اندر بندے کے گمان کا کوئی دخل نہیں۔ باپ سے پوچھا گیا: آپ نے کیوں صحبت کی بیٹے کی باندی سے؟ جی باپ کہتا ہے بھئی: مجھے پتہ تھا یہ میرے لیے حرام ہے، میں نے پھر بھی وطی کر لی۔ کہتے ہیں: پھر بھی حد نہیں آئے گی۔ پھر بھی باپ پر حد نہیں آئے گی، کیوں نہیں آئے گی؟ کیونکہ یہاں شبہ جو آیا ہے، وہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے، وہاں بندے کو نہیں دیکھا جائے گا، اس کے رائے اور گمان کو نہیں دیکھا جائے گا بھئی۔ تو جہاں شبہ جو ہے اپنے گمان کی وجہ سے آ جائے، وہاں پر آدمی کے اپنی رائے کا اعتبار ہے جی اور جہاں پر شبہ شرعی دلیل کی وجہ سے آئے، وہاں بندے کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہے اور میں نے یہ بھی بتلایا کہ شبہ فی الفعل جو ہے، جو بندے کی رائے کی وجہ سے شبہ آتا ہے، یہ اسی جگہ پر آئے گا جو شبہے کا محل بھی ہو، جی جیسے میں نے مثالیں ذکر کیں، بیٹا باپ کی باندی سے صحبت کرتا ہے یا بیٹا ماں کی باندی سے صحبت کرتا ہے یا ایک خاوند بیوی کی باندی سے صحبت کرتا ہے، تو یہ سب آپس میں ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، تو یہ شبہے کا محل ہے۔ یہاں شبہ پڑ سکتا ہے واقعی بھئی، یہاں واقعی حقیقت میں کسی کو شبہ پڑ سکتا ہے، لیکن جو شبہے کا محل نہ ہو، وہاں پھر حد ہی آ جائے گی۔ مثلاً ایک بھئی نے بھئی کی باندی سے صحبت کر لی جی یا ایک شخص نے چچا کی باندی سے صحبت کر لی، اب بھئی دو بھائیوں کے مال میں تو اتنی بے تکلفی نہیں ہوتی کہ وہ ایک دوسرے کا مال کھلا استعمال کریں۔ ایک شخص اور اس کے چچا میں تو اتنی بے تکلفی نہیں ہوتی، لہٰذا یہ شبہے کا محل ہی نہیں ہے۔ جی لہٰذا یہاں اس نے بھئی کی باندی سے صحبت کی ہے، پوچھا گیا: کیوں صحبت کی ہے؟ کہتے ہیں: میں تو سمجھا تھا میرے لیے حلال ہے، نہیں بھئی! یہ تو شبہے کا محل ہی نہیں ہے، لہٰذا یہاں حد ہی جاری ہو گی۔ جی تو شبہ فی الفعل وہیں معتبر ہے جو شبہے کا مقام بھی ہو، جہاں شبہ ہو سکتا ہے۔ جی بات سمجھ میں آ گئی۔
جی دیکھیے اب کتاب پر، کہتے ہیں:
”ثُمَّ الشُّبْهَةُ نَوْعَانِ:“
پھر یہ شبہ جو ہے یہ دو قسم پر ہے:
”شُبْهَةٌ فِي الْفِعْلِ“
ایک شبہ جو ہے فعل میں،
”وَتُسَمَّى شُبْهَةَ اشْتِبَاهٍ،“
اور اس کو شبۂ اشتباہ بھی کہتے ہیں، شبۂ اشتباہ جی شبۂ اشتباہ اس آدمی کے لیے ہے جس کو اشتباہ ہوا ہے، جس کو اشتباہ نہیں اس کے لیے شبہ بھی نہیں۔ جی بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی، اگر بیٹے کو اشتباہ تھا تو حد نہیں اور اگر بیٹے کو اشتباہ نہیں ہے، اس کو پتہ ہے یہ میرے لیے حرام ہے، تو حد آ جائے گی۔ جی تو اس کو شبۂ اشتباہ کہتے ہیں، کیونکہ اس میں دار و مدار اس آدمی کے اشتباہ پر ہے، اشتباہ ہے تو شبہ بھی ہے اور اشتباہ نہیں تو شبہ بھی نہیں، لہٰذا حد جاری ہو گی۔ جی تو کہتے ہیں:
”وَتُسَمَّى شُبْهَةَ اشْتِبَاهٍ، وَشُبْهَةٌ فِي الْمَحَلِّ“
اور اس کو شبۂ اشتباہ بھی کہتے ہیں اور دوسری قسم جو ہے شبہ فی المحل ہے اور میں نے بتایا اس کا دوسرا نام شبہ فی الملک بھی ہے، شبہ فی الملک بھئی یعنی ملکیت میں شبہ آ جائے۔ کہتے ہیں:
”وَشُبْهَةٌ فِي الْمَحَلِّ“
اور دوسرا شبہ فی المحل ہے، شبہ فی المحل کیا معنی؟ یعنی اس محل میں ہی شبہ آ گیا ہے، اس موطوءہ کے ساتھ صحبت کے حرام ہونے میں شبہ آ گیا کیونکہ ایک شرعی دلیل موجود ہے جو حلت کا پتہ دے رہی ہے۔ جی تو کہتے ہیں:
”وَشُبْهَةٌ فِي الْمَحَلِّ وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً،“
اور دوسری قسم شبہ جو ہے وہ شبہ فی المحل ہے اور اس کو شبۂ حکمیہ کہتے ہیں، اس کو شبۂ حکمیہ کہتے ہیں، یعنی یہاں حلال ہونے کا شبہ ہوتا ہے، جی حلال ہونے کا حکم لگایا جائے، اس کا شبہ ہوتا ہے۔ جیسے حضور علیہ السلام نے فرمایا صحابی سے: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیٹے کا مال الگ ہوتا ہے، باپ کا مال الگ ہوتا ہے کیونکہ یہ بھی احادیث سے ہی ثابت ہے بھئی۔ جی بات سمجھ میں آ گئی، جیسے باپ کو بیٹے کا وارث قرار دیا گیا ہے، اگر باپ بیٹے کے مال کا مالک ہے جی پھر تو سارا مال باپ کو ملنا چاہیے مرنے کے بعد، لیکن اور وارثوں کو بھی ملتا ہے اور باپ کو بھی تھوڑا حصہ ملتا ہے، معلوم ہوا باپ بیٹے کے مال کا مالک نہیں ہے بھئی۔ تو لہٰذا اور احادیث سے پتہ چلا کہ بیٹے کی باندی باپ کے لیے حرام ہے، لیکن یہ جو حدیث ہے ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، اس حدیث کو اگر صرف دیکھیں، ذرا ان دوسری احادیث کو ایک طرف کر دیں، صرف ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ اس حدیث کو دیکھیں تو اس سے تو یوں معلوم ہو رہا ہے یہ باندی حلال ہے باپ کے لیے، جی تو دیکھا حلال ہونے کا شبہ آ رہا ہے اس حدیث کی وجہ سے اور اگر اور احادیث نہ ہوتیں تو ہم حلال ہی قرار دے دیتے بھئی۔ تو اس لیے اس کو شبۂ حکمیہ کہتے ہیں۔ کیا معنی شبۂ حکمیہ؟ یعنی حلال کا حکم ہونے کا شبہ ہوتا ہے، جی حلال کا حکم لگانے کا شبہ ہوتا ہے کہ اس پر حلال ہونے کا حکم لگا دیا جائے۔
تو کہتے ہیں:
”وَتُسَمَّى شُبْهَةً حُكْمِيَّةً، فَالْأُولَى تَتَحَقَّقُ“
اور یہ دوسری قسم جو شبہ فی المحل ہے، اس کو شبۂ حکمیہ بھی کہتے ہیں۔ پس پہلا شبہ جو ہے یعنی شبہ فی الفعل،
”تَتَحَقَّقُ فِي حَقِّ مَنِ اشْتَبَهَ عَلَيْهِ؛“
وہ ثابت ہوتا ہے اس شخص کے حق میں جس کو اشتباہ ہو جائے، پہلا شبہ فی الفعل اس شخص کے حق میں ثابت ہے جس کو اشتباہ ہو جائے، اس لیے اس کو شبۂ اشتباہ کہتے ہیں اور جس کو اشتباہ نہ ہو، اس کے حق میں وہ شبہ بھی ثابت نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں:
”فَالْأُولَى تَتَحَقَّقُ فِي حَقِّ مَنِ اشْتَبَهَ عَلَيْهِ؛“
تو پہلی قسم شبہ کی جو ہے وہ ثابت ہو گی اس شخص کے حق میں جس کو اشتباہ ہو جائے،
”لِأَنَّ مَعْنَاهُ“
اس لیے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے، بھئی اشتباہ ہو جائے کیا معنی؟ کہتے ہیں:
”لِأَنَّ مَعْنَاهُ أَنْ يَظُنَّ غَيْرَ الدَّلِيلِ دَلِيلًا،“
اس لیے کیونکہ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ بیٹھے۔ جی بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی اور کہتا ہے: میں تو سمجھا تھا میرے لیے حلال ہے۔ بھئی آپ کیسے سمجھے تھے آپ کے لیے حلال ہے؟ کہتے ہیں: باپ میری چیزیں استعمال کرتا ہے، میں باپ کی چیزیں استعمال کرتا ہوں، تو میرا تو خیال تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے، تو دیکھو اس نے غیرِ دلیل کو دلیل سمجھ لیا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ مَعْنَاهُ“ کیونکہ اس کا معنی یہ ہے یعنی جس کو اشتباہ ہو جائے اس کا معنی یہ ہے: ”أَنْ يَظُنَّ غَيْرَ الدَّلِيلِ دَلِيلًا،“ کہ وہ غیرِ دلیل کو دلیل سمجھے،
”وَلَا بُدَّ مِنَ الظَّنِّ“
اور گمان کا ہونا ضروری ہے
”لِتَحَقُّقِ الِاشْتِبَاهِ،“
اشتباہ کے پائے جانے کے لیے۔ اشتباہ تبھی ہو گا جب اس آدمی کا یہ گمان ہے کہ یہ میرے لیے حلال ہے، جی تو حد ساقط ہو جائے گی، لیکن اگر اس آدمی کو اشتباہ ہی نہیں ہے، جی گمان ہی نہیں ہے حلال ہونے کا، تو پھر حد بھی ساقط نہیں ہو گی۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا بُدَّ مِنَ الظَّنِّ لِتَحَقُّقِ الِاشْتِبَاهِ،“ اور اس آدمی کا گمان ضروری ہے اشتباہ کے ثابت ہونے کے لیے۔
”وَالثَّانِيَةُ تَتَحَقَّقُ لِقِيَامِ الدَّلِيلِ النَّافِي لِلْحُرْمَةِ فِي ذَاتِهِ“
اور دوسری قسم جو شبہ کی ہے، وہ ثابت ہوتا ہے بوجہ ایک ایسی دلیل کے پائے جانے کے جو حرمت کی نفی کر رہی ہوتی ہے اپنی ذات کے اعتبار سے۔ وہ دلیل اپنی ذات کے اعتبار سے حرمت کی نفی کر رہی ہے۔ بھئی حضور علیہ السلام نے صحابی سے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ یہ حدیث اپنی ذات کے اعتبار سے حرمت کی نفی کر رہی ہے قطع نظر اور دلیلوں سے، اور دلیلیں موجود ہیں جو بتلاتی ہیں کہ بیٹے کا مال الگ ہے، باپ کا مال الگ ہے، لیکن اور دلیلوں سے قطع نظر صرف اس دلیل کو دیکھیں تو یہ دلیل اپنی ذات کے اعتبار سے بتلا رہی ہے کہ بیٹے کی باندی باپ کے لیے حرام نہیں ہے۔ جی تو یہ ایسی دلیل ہے جو اپنی ذات کے اعتبار سے حرمت کی نفی کر رہی ہے۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں:
”وَالثَّانِيَةُ تَتَحَقَّقُ لِقِيَامِ الدَّلِيلِ النَّافِي لِلْحُرْمَةِ فِي ذَاتِهِ،“
اور دوسری قسم کا جو شبہ ہے وہ ثابت ہوتی ہے بوجہ ایک ایسی دلیل کے پائے جانے کے جو اپنی ذات کے اعتبار سے حرمت کی نفی کر رہی ہوتی ہے،
”وَلَا تَتَوَقَّفُ عَلَى ظَنِّ الْجَانِي وَاعْتِقَادِهِ،“
جانی، جنایت کرنے والا۔ ”وَلَا تَتَوَقَّفُ عَلَى ظَنِّ الْجَانِي وَاعْتِقَادِهِ،“ اور یہ جو دوسری قسم کا شبہ ہے، یہ جنایت کرنے والے کے گمان اور اس کے اعتقاد پر موقوف نہیں ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ شبہ فی الفعل جو بندے کے گمان سے پیدا ہوتا ہے، اس میں بندے کے گمان کا دخل ہے۔ اگر بندے کا گمان ہے حلال ہونے کا، تو پھر تو یہ شبہ ہے۔ اگر بندے کا گمان حلال ہونے کا نہیں تو یہاں شبہ بھی نہیں۔ جبکہ شبہ فی المحل جو ہے، وہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے، یہاں بندے کے گمان کا کوئی دخل نہیں، بندہ چاہے حلال سمجھے یا حرام سمجھے اس سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔ جی دونوں صورتوں میں حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ ایک شرعی دلیل موجود ہے جو حرمت کی نفی کر رہی ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلَا تَتَوَقَّفُ عَلَى ظَنِّ الْجَانِي وَاعْتِقَادِهِ،“ اور یہ جو دوسری قسم کا شبہ ہے، یہ جنایت کرنے والے کے گمان اور اس کے اعتقاد پر موقوف نہیں ہے۔
”وَالْحَدُّ يَسْقُطُ بِالنَّوْعَيْنِ“
اور حد جو ہے دونوں قسم کے شبہوں سے ساقط ہو جاتی ہے
”لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ،“
حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ حدیث میں آیا: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ“ شبہوں کی وجہ سے حدود کو چھوڑ دیا کرو، حدود کو ختم کر دیا کرو، وہاں کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی کہ شبہ فی المحل ہو یا شبہ فی الفعل ہو، تو حدیث مطلق ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْحَدُّ يَسْقُطُ بِالنَّوْعَيْنِ لِإِطْلَاقِ الْحَدِيثِ،“ اور حد جو ہے وہ ساقط ہو جاتی ہے دونوں قسم کے شبہوں سے حدیث کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔
”وَالنَّسَبُ يَثْبُتُ فِي الثَّانِيَةِ إِذَا ادَّعَى الْوَلَدَ“
اور یہ جو دوسری قسم کا شبہ ہے یعنی جو شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے، یہاں پر نسب بھی ثابت ہو جائے گا اگر وہ وطی کرنے والا دعویٰ کر دے۔ باپ نے بیٹے کی باندی سے صحبت کی اور اس سے اولاد پیدا ہوئی اور باپ نے کہا: یہ میری اولاد ہے، تو نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ یہاں جو شبہ آیا تھا وہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا تھا۔ جبکہ پہلی قسم جو ہے شبہ فی الفعل، وہاں اگر دعویٰ بھی کر دے پھر بھی نسب ثابت نہیں ہو گا کیونکہ وہاں کوئی دلیل ہے ہی نہیں، البتہ اس سے صرف اپنے گمان کی وجہ سے ایک شبہ آیا تھا تو اس کی وجہ سے حد تو ساقط ہو جائے گی، لیکن نسب ثابت نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں:
”وَالنَّسَبُ يَثْبُتُ فِي الثَّانِيَةِ إِذَا ادَّعَى الْوَلَدَ، وَلَا يَثْبُتُ فِي الْأُولَى وَإِنِ ادَّعَاهُ؛“
اور نسب ثابت ہو جائے گا دوسری قسم کے شبہے میں جب وہ وطی کرنے والا بچے کا دعویٰ کر دے اور پہلی قسم کے اندر نسب ثابت نہیں ہو گا اگرچہ وہ اس نسب کا دعویٰ کر دے،
”لِأَنَّ الْفِعْلَ تَمَحَّضَ زِنًى فِي الْأُولَى،“
اس لیے کیونکہ فعل جو ہے وہ محض زنا ہے پہلی شبہے کی صورت میں۔ پہلی شبہے کی صورت میں وہ محض زنا ہی ہے، وہاں کسی قسم کی حلت کی دلیل موجود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْفِعْلَ تَمَحَّضَ زِنًى فِي الْأُولَى،“ اس لیے کیونکہ وہ فعل جو ہے وہ محض زنا ہے پہلی شبہے کی صورت میں۔
”وَإِنَّمَا يَسْقُطُ الْحَدُّ“
اور حد جو ساقط ہوئی ہے، پہلے شبہے میں بھی حد ساقط ہو جاتی ہے تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَسْقُطُ الْحَدُّ“ اور حد جو ساقط ہوئی ہے
”لِأَمْرٍ رَاجِعٍ إِلَيْهِ“
وہ ایک ایسی چیز کی وجہ سے جو اس زنا کرنے والے کی طرف لوٹ رہا ہے، حد اس لیے ساقط ہوئی کہ ایک ایسی چیز موجود ہے جو اسی زانی کی طرف لوٹ رہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَسْقُطُ الْحَدُّ لِأَمْرٍ رَاجِعٍ إِلَيْهِ“ اور یہ جو حد ساقط ہوئی ہے وہ ایک ایسی چیز کی وجہ سے ہے جو اسی زانی کی طرف لوٹ رہی ہے،
”وَهُوَ اشْتِبَاهُ الْأَمْرِ عَلَيْهِ،“
اور وہ اس پر معاملے کا مشتبہ ہونا۔ اس زانی پر معاملہ مشتبہ ہو گیا تھا اس لیے حد ساقط ہو گئی ورنہ اس کا یہ فعل محض زنا ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ اشْتِبَاهُ الْأَمْرِ عَلَيْهِ،“ اور وہ اس زانی پر معاملے کا مشتبہ ہونا ہے،
”وَلَمْ يَتَمَحَّضْ فِي الثَّانِيَةِ“
اور یہ فعل جو ہے صرف زنا نہیں ہے دوسرے شبہے کی صورت میں۔ شبہ فی المحل کی صورت میں یہ جو فعل کیا ہے، یہ جو وطی کی ہے، یہ محض زنا نہیں ہے اس لیے کیونکہ یہاں پر باقاعدہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے حلال ہونے کا شبہ ہوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَمْ يَتَمَحَّضْ فِي الثَّانِيَةِ“ اور دوسری صورت کے اندر فعل محض زنا نہیں ہے۔
آگے دیکھیے:
”فَشُبْهَةُ الْفِعْلِ فِي ثَمَانِيَةِ مَوَاضِعَ:“
پس شبۂ فعل جو ہے وہ آٹھ جگہوں میں ہے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ شبہ فی الفعل تو آٹھ جگہ آتا ہے، البتہ شبہ فی المحل وہ چھ جگہیں ہیں، تو اب پہلے شبہ فی الفعل کی تفصیل بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَشُبْهَةُ الْفِعْلِ فِي ثَمَانِيَةِ مَوَاضِعَ:“ پس شبۂ فعل جو ہے وہ آٹھ جگہوں میں ہے:
”جَارِيَةُ أَبِيهِ، وَأُمِّهِ، وَزَوْجَتِهِ،“
یہ جو جاریہ کا لفظ آیا، یہاں سے اب دیکھو وہ تفصیل بیان ہو رہی ہے ان آٹھ جگہوں کی، یعنی ماقبل میں اجمالاً ذکر کیا کہ وہ آٹھ جگہیں ہیں اور پھر آگے ایک ایک کو تفصیل سے بیان کر رہے ہیں، تو یاد رکھو جب بھی اجمال کے بعد تفصیل آ جائے تو وہاں پر تو وہاں پر تین قسم کے اعراب جائز ہوتے ہیں۔ جی تین قسم کے اعراب جائز ہوتے ہیں، رفع بھی جائز، نصب بھی جائز اور بدل بنانا بھی جائز۔ جی رفع بھی جائز، نصب بھی جائز اور بدل بنانا بھی جائز ہے۔ رفع اس لیے: ”جَارِيَةُ أَبِيهِ“ أي ”أَحَدُهَا جَارِيَةُ أَبِيهِ“، جی تو مبتدا محذوف ہے ”أَحَدُهَا“، ان جگہوں میں سے ایک جگہ جو ہے ”جَارِيَةُ أَبِيهِ“ وہ باپ کی باندی ہے، جی تو ”أَحَدُهَا“ یہ مرفوع مبتدا ہے اور ”جَارِيَةُ أَبِيهِ“ یہ اس کی خبر ہے اور خبر مرفوع ہوتی ہے۔ یا اس کو مفعول بنا لیں ”أَعْنِي“ فعل کے لیے، ”أَعْنِي“ میری مراد جو ہے ”جَارِيَةَ أَبِيهِ“، پیچھے ذکر کیا وہ آٹھ جگہیں ہیں وہ کون سی آٹھ جگہیں ہیں؟ ”أَعْنِي جَارِيَةَ أَبِيهِ“ یعنی باپ کی باندی اور آگے باقی جگہوں کی تفصیل، تو یہ منصوب ہو گا ”أَعْنِي“ کے لیے مفعول بہ ہے بھئی اور تیسری صورت یہ ہے کہ ماقبل سے بدل بنائیں گے، تو ماقبل میں ”فِي ثَمَانِيَةِ مَوَاضِعَ“ وہ مجرور ہے اس پر ”فِي“ جارہ داخل ہے، تو یہاں ”جَارِيَةِ أَبِيهِ“ اس پر جر بھی جائز ہے کیونکہ بدل اور مبدل منہ کا ایک ہی اعراب ہوتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ”فَشُبْهَةُ الْفِعْلِ فِي ثَمَانِيَةِ مَوَاضِعَ:“ پس شبۂ فعل جو ہے وہ آٹھ جگہوں میں ہوتا ہے:
”جَارِيَةُ أَبِيهِ،“
باپ کی باندی،
”وَأُمِّهِ،“
یہ ”أُمِّهِ“ کا عطف ہے ”أَبِيهِ“ پر اور ”أَبِيهِ“ کی طرف اضافت ہو رہی ہے جاریہ کی، أي ”جَارِيَةُ أُمِّهِ“ اور ماں کی باندی،
”وَزَوْجَتِهِ،“
اس ”زَوْجَتِهِ“ کا عطف بھی ”أَبِيهِ“ پر ہے، أي ”جَارِيَةُ زَوْجَتِهِ“ یعنی اپنی بیوی کی باندی۔ یہ تین جگہیں ہو گئیں: ”جَارِيَةُ أَبِيهِ وَجَارِيَةُ أُمِّهِ وَجَارِيَةُ زَوْجَتِهِ“، یہ تین مقامات ہو گئے۔
”وَالْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ،“
اور وہ عورت جس کو تین طلاقیں دی گئی ہیں اس حال میں کہ یہ عدت میں ہے۔ جی ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں اور عدت کے اندر اس کے ساتھ پھر صحبت کر لی، جی عدت کے اندر صحبت کر لی۔ اب یہ محض زنا ہے، لیکن وہ کہتا ہے بھئی: میں تو سمجھا تھا ابھی بھی جب تک عدت ہے یہ میرے لیے حلال ہے کیونکہ خرچہ بھی میں دے رہا ہوں اور رہائش بھی اس کو میں نے دی ہوئی ہے اور نیز اس کو میں باہر نکلنے سے بھی روک سکتا ہوں۔ جی تو لہٰذا یہ مطلقۂ ثلاث کے ساتھ خاوند عدت کے اندر صحبت کر لے اور کہے کہ میرا تو خیال تھا میرے لیے حلال ہے، تو یہ شبہ فی الفعل ہے، اس کو اشتباہ ہو گیا تھا، جی تو لہٰذا اس پر حد جاری نہیں ہو گی اور اگر وہ کہتا ہے: مجھے پتہ تھا میرے لیے حرام ہے، میں نے پھر بھی وطی کر لی، تو یاد رکھو اس صورت میں اس پر حدِ زنا جاری ہو گی۔ جی تو کہتے ہیں: ”وَالْمُطَلَّقَةُ ثَلَاثًا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ،“ اور وہ مطلقہ جس کو تین طلاقیں دی گئی ہیں اس حال میں کہ یہ عدت میں ہو،
”وَبَائِنًا بِالطَّلَاقِ عَلَى مَالٍ“
”بَائِنًا“ اس کا عطف ہے ”ثَلَاثًا“ پر، أي ”وَالْمُطَلَّقَةُ بَائِنًا بِالطَّلَاقِ عَلَى مَالٍ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ یا ایک عورت ہے اس کو طلاقِ بائن دی گئی ہے مال کے عوض، جی یعنی اس سے خلع کر لیا۔ آپ نے پڑھا خلع بھی طلاقِ بائن کے حکم میں ہے، لیکن میں نے آپ کو بتلایا تھا خلع کے اندر طلاق کا لفظ نہیں ہوتا، جی لیکن اگر باقاعدہ طلاق کا لفظ ذکر کر دیا اور مال لیا کہ میں تمہیں اتنے مال کے بدلے طلاق دیتا ہوں تو پھر اس کو طلاق علی عوض کہتے ہیں۔ تو بہرحال چاہے خلع ہو چاہے مال لے کر طلاق دے دے، یہ طلاقِ بائن ہے بھئی اور طلاقِ بائن کے اندر بھی رہائش اور نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے، تو عدت کے اندر اس نے اس سے صحبت کر لی اور پھر کہتا ہے: میرا تو خیال تھا کہ میں خرچہ بھی دے رہا ہوں، رہائش بھی میں نے دی ہوئی ہے تو میں سمجھا تھا جب تک عدت پوری نہیں ہوتی یہ میرے لیے حلال ہے۔ تو یہ شبۂ اشتباہ ہے، اس کو اشتباہ ہو گیا تھا، لہٰذا حد ساقط ہو جائے گی اور اگر یہ کہتا ہے: مجھے پتہ تھا میرے لیے حرام ہے، میں نے پھر بھی وطی کر لی، تو اس صورت میں اس پر حد جاری ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَبَائِنًا بِالطَّلَاقِ عَلَى مَالٍ“ اور وہ مطلقۂ بائنہ جس کو مال پر طلاق دی گئی ہو ”وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ اس حال میں کہ یہ عدت میں ہے،
”وَأُمُّ وَلَدٍ أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“
یہ چھٹا مقام آ گیا بھئی، ”وَأُمُّ وَلَدٍ أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ اور وہ امِ ولد کہ جسے اس کا آقا آزاد کر دے۔ بھئی امِ ولد وہ باندی ہے جسے آقا نے کہا ہے: تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے، لیکن آقا نے مرنے سے پہلے زندگی میں ہی اس کو آزاد کر دیا اور آپ پڑھ چکے ہیں پیچھے کہ امِ ولد اس صورت میں امِ ولد عدت گزارے گی اور تین حیض عدت گزارے گی پھر آگے نکاح کر سکتی ہے، جب تک آگے وہ نکاح بھی نہیں کر سکتی۔ تو یہ جو امِ ولد ہے جس کو آقا نے آزاد کر دیا ہے، اس کے ساتھ آقا نے عدت کے اندر صحبت کر لی، تو اس کا بھی وہی حکم ہے جو مطلقۂ ثلاث کا تھا کیونکہ یہاں پر بھی اس امِ ولد کی رہائش اور خرچہ آقا کے ذمے ہے عدت کے اندر، تو لہٰذا اگر آقا کو اشتباہ تھا تو حد ساقط اور اگر اشتباہ نہیں تھا تو حد جاری ہو گی کیونکہ یہ شبہ فی الفعل ہے، یہاں کوئی شرعی دلیل موجود نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأُمُّ وَلَدٍ أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ اور وہ امِ ولد جسے اس کے آقا نے آزاد کر دیا ہو اس حال میں کہ یہ عدت میں ہے،
”وَجَارِيَةُ الْمَوْلَى فِي حَقِّ الْعَبْدِ،“
اور آقا کی باندی غلام کے حق میں۔ بھئی ایک شخص ہے اس کی ایک باندی ہے اور ایک غلام بھی ہے، اس شخص کے غلام نے اپنے آقا کی باندی سے صحبت کر لی جی اور کہنے لگا: میں تو سمجھا تھا یہ میرے لیے حلال ہے، وجہ یہ کہ آقا غلام میں بے تکلفی ہوتی ہے، غلام کا سارا خرچہ آقا کے ذمے ہوتا ہے، وہ آقا کی چیزیں وغیرہ استعمال کرتا ہے، تو لہٰذا غلام کہتا ہے کہ یہ تو میرے آقا کی باندی تھی، میں سمجھا تھا میرے لیے حلال ہے اس لیے میں نے صحبت کر لی، تو یہ بھی شبۂ اشتباہ ہے بھئی۔ تو اگر اس کا یہ گمان تھا تو حد ساقط، حد نہیں آئے گی اور اگر اس کا یہ خیال تھا کہ یہ میرے لیے حرام ہے پھر بھی اس نے وطی کر لی، تو پھر حد جاری ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَجَارِيَةُ الْمَوْلَى فِي حَقِّ الْعَبْدِ،“ اور آقا کی باندی اس آقا کے غلام کے حق میں،
”وَالْجَارِيَةُ الْمَرْهُونَةُ فِي حَقِّ الْمُرْتَهِنِ فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الْحُدُودِ؛“
اور وہ باندی جس کو رہن رکھوایا گیا ہے مرتہن کے حق میں ”فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الْحُدُودِ“ کتاب الحدود کی روایت میں۔ بھئی دیکھو ایک شخص نے دوسرے سے قرض لیا اور بطورِ رہن کے اس کے پاس اپنی باندی رکھوا دی۔ تو یاد رکھو یہ جو رہن رکھوانے والا ہے اس کو کہتے ہیں راہن اور جس کے پاس اس نے یہ باندی رہن رکھوائی ہے وہ ہے مرتہن۔ تو اب اس مرتہن نے اس مرہونہ باندی سے صحبت کر لی اور کہتا ہے: میرا تو خیال تھا کہ یہ باندی میرے لیے حلال ہے، تو یاد رکھو یہ شبہ فی الفعل ہے، لہٰذا اس مرتہن پر حد نہیں آئے گی اور اگر اس کا یہ خیال ہے کہ یہ میرے لیے حلال ہے تو پھر اس صورت میں اس پر حد آئے گی۔ جی تو مرہونہ باندی کے ساتھ مرتہن صحبت کر لے تو یہ بھی شبہ فی الفعل ہے یعنی یہ بھی شبۂ اشتباہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْجَارِيَةُ الْمَرْهُونَةُ فِي حَقِّ الْمُرْتَهِنِ“ اور مرتہن کے حق میں یہ مرہونہ باندی، اس کے ساتھ بھی وطی کیا ہے؟ اس کے ساتھ اگر وہ وطی کر لے تو وہ شبہ فی الفعل کے اندر داخل ہے۔ ”فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الْحُدُودِ“ کتاب الحدود کی روایت میں۔ یاد رکھو یہ جو مرہونہ باندی ہے مرتہن کے پاس اور مرتہن اس باندی سے صحبت کر لیتا ہے، یہ شبہ فی الفعل ہے یا یہ شبہ فی المحل ہے؟ تو اس بارے میں امام محمد رحمہ اللہ سے دو روایتیں ہیں۔ ایک کتاب الحدود کی روایت ہے جیسے یہاں ذکر ہو رہا ہے ”فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الْحُدُودِ“ اور یہ صاحبِ ہدایہ کون سے مقامات ذکر فرما رہے ہیں؟ جہاں شبہ فی الفعل ہوتا ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ نے یہ جو مرتہن مرہونہ باندی سے صحبت کر لے، اس کو کتاب الحدود کے اندر شبہ فی الفعل میں ذکر فرمایا جی اور کتاب الرہن کے اندر امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو شبہ فی المحل کے اندر ذکر فرمایا۔ جی تو اس میں دونوں روایتیں ہیں، یہ جو مرتہن مرہونہ باندی سے صحبت کرے اس کے بارے میں دو روایتیں ہیں: ایک روایت کے مطابق یہ شبہ فی الفعل ہے اور ایک روایت کے مطابق یہ شبہ فی المحل ہے اور علماء نے اس روایت یہ جو شبہ فی الفعل والی روایت ہے یعنی کتاب الحدود والی جو روایت ہے، اس کو زیادہ صحیح قرار دیا ہے۔ جی کتاب الرہن والی روایت بھی صحیح، لیکن کتاب الحدود والی روایت زیادہ صحیح ہے۔
اور یہ شبہ کس طرح ہے؟ یہ شبہ فی الفعل کس طرح ہے اور یہ شبہ فی المحل کس طرح ہے؟ جی کہتے ہیں: دیکھو یہ شبہ فی المحل اس طرح ہے کہ یہ جو مرتہن نے باندی کو رکھا ہے، یہ کس لیے رکھا ہے؟ اپنا قرضہ وصول کرنے کے لیے، لہٰذا اگر مرتہن کے پاس یہ باندی ہلاک ہو گئی، جی توجہ سے سنو، مرتہن کے پاس اگر یہ باندی ہلاک ہو گئی، تو یوں ہی سمجھا جائے گا مرتہن نے اپنا قرضہ وصول کر لیا جی اور ابھی سے نہیں وصول کر لیا، یوں سمجھیں گے جس وقت اس کے پاس باندی رکھوائی گئی تھی بطورِ رہن کے، اس وقت سے ہی اس نے اپنا دین وصول کر لیا تھا۔ جی باندی تو ابھی ہلاک ہوئی ہے مرتہن کے پاس، لیکن یوں سمجھا جائے گا اس نے اپنے دین پر قبضہ کر لیا، وصول کر لیا اور کب وصول کیا تھا؟ جس دن باندی پر اس نے قبضہ کیا تھا۔ جی توجہ ہے؟ تو اس قبضے کی طرف نسبت کی جائے گی، معلوم ہوا اس وقت سے ہی یہ باندی اس کی مملوک ہو چکی ہے۔ جب اس وقت سے ہی باندی مملوک ہو چکی ہے تو یہ جب صحبت کر رہا ہے تو اپنی مملوکہ باندی سے صحبت کر رہا ہے، لہٰذا یہاں شبہ فی المحل آ گیا۔ توجہ ہے؟ شریعت نے اس مرتہن کے مالک ہونے کا اعتبار کیا کہ یہ اس باندی کا مالک بن گیا تھا، کب سے مالک بنا تھا؟ جب اس نے اس باندی پر قبضہ کیا تھا، معلوم ہوا جب سے اس کے قبضے میں آئی تھی یہ اسی کی مملوکہ باندی تھی، تو یہ تو اپنی مملوکہ باندی سے صحبت کر رہا ہے، تو یہ شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا، لہٰذا یہ شبہ فی المحل ہے۔ اس لیے امام محمد رحمہ اللہ نے اس کو کتاب الرہن کے اندر شبہ فی المحل قرار دیا ہے بھئی۔ جی جبکہ کتاب الحدود کی روایت اس کو فقہاء اور علماء نے زیادہ صحیح کہا ہے اور اس کے مطابق یہ شبہ فی الفعل ہے۔ یہ شبہ فی الفعل ہے، وجہ یہ وجہ یہ کہ مرتہن جو ہے باندی کے ہلاک ہونے کے بعد یوں سمجھا جائے گا گویا اس نے اپنا قرضہ وصول کر لیا ہے۔ جی تو جب باندی کے ہلاک ہونے کے بعد یہ اپنا قرضہ وصول کرنے والا شمار ہو رہا ہے تو معلوم ہوا اس سے پہلے باندی سے نفع اٹھانا اس کے لیے جائز نہیں ہے بھئی۔ ہلاکت کے بعد ملکیت ثابت ہو گی، جی ہلاکت سے پہلے تو ملکیت ثابت نہیں۔ بے شک ہلاکت کے بعد ملکیت کی نسبت اس زمانے کی طرف کی جائے گی جس وقت باندی پر قبضہ کیا تھا، لیکن جب تک باندی ہلاک نہیں اس وقت تک یہ مالک بھی نہیں، تو لہٰذا اس باندی سے نفع اٹھانا بھی اس کے لیے جائز نہیں، لہٰذا یہ جو صحبت کر رہا ہے یہ محض زنا ہی ہے۔ تو یہاں اگر اس کو اشتباہ ہوا ہے پھر تو حد ساقط ہو گی اور اگر اس کو اشتباہ نہیں تھا تو پھر حد بھی ساقط نہیں ہو گی یعنی یہ شبہ فی الفعل ہے بھئی۔ جی تو کہتے ہیں: ”وَالْجَارِيَةُ الْمَرْهُونَةُ فِي حَقِّ الْمُرْتَهِنِ“ اور مرتہن کے حق میں یہ مرہونہ باندی ”فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الْحُدُودِ؛“ کتاب الحدود کی روایت میں اور میں نے بتایا علماء نے اس کو زیادہ صحیح کہا ہے کہ یہ شبہ فی الفعل ہی ہے بھئی۔
”فَفِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ لَا حَدَّ إِذَا قَالَ ظَنَنْتُ أَنَّهَا تَحِلُّ لِي،“
تو ان جگہوں کے اندر حد نہیں ہو گی جب وہ یہ کہے کہ میرا تو یہ گمان تھا ”أَنَّهَا تَحِلُّ لِي“ کہ یہ میرے لیے حلال ہے،
”وَلَوْ قَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ وَجَبَ الْحَدُّ؛“
اور اگر اس نے کہا کہ میں تو جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے ”وَجَبَ الْحَدُّ“ تو حد واجب ہو گی۔
”وَالشُّبْهَةُ فِي الْمَحَلِّ فِي سِتَّةِ مَوَاضِعَ:“
اور شبہ فی المحل جو ہے وہ چھ جگہوں کے اندر ہے:
”جَارِيَةُ ابْنِهِ،“
اپنے بیٹے کی باندی۔ اب شبہ فی المحل بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ، سب سے پہلا مقام ہے ”جَارِيَةُ ابْنِهِ“ اپنے بیٹے کی باندی اور اپنے بیٹے کی باندی اس کے بارے میں تو حدیث ہے ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“، اس حدیث کی وجہ سے شبۂ ملکیت آتا ہے۔ تو کہتے ہیں چھ جگہوں کے اندر شبہ فی المحل ہے: نمبر ایک ”جَارِيَةُ ابْنِهِ“،
”وَالْمُطَلَّقَةُ طَلَاقًا بَائِنًا بِالْكِنَايَاتِ،“
اور وہ مطلقہ جس کو طلاقِ بائن دی گئی ہو کنایات کے ذریعے سے۔ جی بھئی آپ نے پڑھا تھا کہ طلاق کے کچھ الفاظ صریح ہیں اور کچھ کنایات ہیں بھئی۔ صریح لفظ کے اندر نیت کی بھی ضرورت نہیں ہوتی، خاوند نے بیوی سے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا تو خاوند سے نیت نہیں پوچھی جائے گی کیونکہ یہاں ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کا اور کوئی معنی ہی نہیں ہے، طلاق فوراً واقع ہو جائے گی، جبکہ کچھ الفاظ کنایات ہیں یعنی جہاں گول مول بات کی جاتی ہے، وہاں طلاق کا بھی معنی ہوتا ہے اور غیرِ طلاق کا بھی معنی ہوتا ہے، جیسے ”أَنْتِ بَائِنٌ“، خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ تو جدا ہے، اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ میں نے تجھے طلاق دے دی ہے تو مجھ سے جدا ہے اور اس کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ تو عادتوں کے اندر اور عورتوں سے جدا ہے یا تو حسن و جمال میں اور عورتوں سے جدا ہے، تو کنائے کے اندر اور معنی کا بھی احتمال ہوتا ہے، تو آپ نے پڑھا تھا کہ عند الاحناف صرف تین کنایات ایسے ہیں جن سے طلاقِ رجعی ہوتی ہے، باقی
باقی تمام کنایات سے طلاق بائن ہوتی ہے اور باقی تمام کنایات میں اگر تین کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں بھی ہو جائیں گی۔ تو البتہ صرف تین کنائے ایسے ہیں جن سے طلاق رجعی ہوگی عند الاحناف۔ پہلا: ”اِعْتَدِّيْ“، تو عدت گزار۔ دوسرا: ”اِسْتَبْرِئِيْ رَحِمَكِ“، تو اپنے رحم کو صاف کر لے اور تیسرا: ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“، تو ایک ہے، تو اکیلی ہے۔ تو یہ تین کنایات ہیں: ”اِعْتَدِّيْ“، ”اِسْتَبْرِئِيْ رَحِمَكِ“ اور ”أَنْتِ وَاحِدَةٌ“، ان کے ذریعے طلاق رجعی ہے اور باقی تمام کنایات کے ذریعے طلاق بائن بھی ہے اور ان کے اندر اگر کوئی شخص تین طلاقوں کی نیت کرے گا تو تین طلاقیں بھی واقع ہو جائیں گی۔
یاد رکھو، یہ جو کنایات کا مسئلہ ہے اس میں صحابہ کے اندر ہی اختلاف پایا جاتا تھا۔ بعض صحابہ فرماتے تھے: کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاق رجعی ہوتی ہے اور طلاق رجعی کے بعد تو عدت کے اندر خاوند کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے اور خاوند صحبت کر لیتا ہے تو رجوع ہو جاتا ہے۔ جبکہ بعض صحابہ کی رائے یہ تھی کہ کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاق بائن ہوتی ہے۔ کنایات کے ذریعے ہمیشہ طلاق بائن ہوتی ہے۔ تو صحابہ کے اندر ہی اس کا اختلاف تھا۔ لہٰذا ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دے دی کنائے کے ذریعے مثلاً کہا: ”أَنْتِ بَائِنٌ“ طلاق کی نیت کی، تو عند الاحناف طلاق بائن ہو گئی بھئی اور پھر اور پھر اس نے اس عورت کے ساتھ صحبت کر لی عدت کے اندر، تو اب یہاں حد نہیں آئے گی کیونکہ شرعی دلیل موجود ہے کہ صحابہ کے اندر بھی اس کا اختلاف پایا جاتا تھا بھئی۔
تو یہ معنی ہے: ”وَالْمُطَلَّقَةُ طَلَاقًا بَائِنًا بِالْكِنَايَاتِ“ اور وہ مطلقہ جس کو کنایات کے ساتھ طلاق بائن دی گئی ہو ”وَالْجَارِيَةُ الْمَبِيعَةُ فِي حَقِّ الْبَائِعِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ اور وہ باندی جس کو بیچا گیا ہے بائع کے حق میں سپرد کرنے سے پہلے۔ بھئی دیکھیے، ایک شخص نے اپنی باندی کسی کو فروخت کر دی کہ میں تمہیں اپنی باندی فروخت کرتا ہوں، دونوں کے درمیان بیع ہو گئی۔ ابھی اس نے باندی اس کے سپرد نہیں کی، اس نے سپرد کرنے سے پہلے باندی سے صحبت کر لی۔ یاد رکھو اس صورت میں اس شخص پر حد زنا جاری نہیں ہوگی۔ اس شخص پر حد زنا، یہ بائع جو ہے بیچنے والا، اس نے باندی مشتری کے حوالے کرنے سے پہلے اس کے ساتھ صحبت کر لی تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ آپ کہیں گے، آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے۔ بیع کرتے ہی مشتری مبیع کا مالک بن جاتا ہے، تو یہ باندی اگرچہ ابھی تک بائع کے پاس ہے لیکن مالک تو مشتری بن چکا ہے لہٰذا اس کے ساتھ صحبت کرنے پر حد زنا جاری ہونی چاہیے، تو جواب یہ کہ نہیں، یہاں ایک شرعی دلیل موجود ہے۔ شرعی دلیل کیا؟ یاد رکھو اگر مبیعہ مشتری کے حوالے کرنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو بیع ہی ختم ہو جاتی ہے۔ بیع ہی ختم ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا ابھی بائع کی ملکیت ختم نہیں ہوئی۔ اگر بائع کی ملکیت ختم ہو گئی تھی اور مشتری مالک بن گیا تھا تو پھر تو چاہے مبیعہ مر بھی جائے بیع ختم نہیں ہونی چاہیے بھئی۔ نہیں، توجہ۔ دیکھو مبیعہ اگر مشتری کے حوالے نہیں کیا اور اس سے پہلے ہی مبیعہ ہلاک ہو جائے تو بیع ہی ختم ہو جاتی ہے۔ اگر مشتری مالک بن گیا تھا پھر تو بیع کو ختم نہیں ہونا چاہیے تھا بھئی۔ مشتری مالک بن چکا ہے تو مشتری کی چیز ہلاک ہوئی ہے، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت میں بیع ہی ختم ہو جائے گی۔ گویا بیع ان کے درمیان ہوئی ہی نہیں، یوں سمجھو بائع ہی کی چیز ہلاک ہوئی ہے تو لہٰذا مشتری کو ثمن بھی نہیں دینے پڑیں گے، تو یہ دلیل ہے معلوم ہوا ابھی بھی بائع کی ملکیت ہے۔ معلوم ہوا مبیعہ حوالے کرنے سے پہلے اگر مبیعہ مر گیا تو بائع ہی کی چیز ہلاک ہو گئی۔ اب مشتری کو ثمن نہیں دینے پڑیں گے کیونکہ بیع ہی ختم ہو گئی۔ تو جب مبیعہ حوالے کرنے سے پہلے ہلاک ہو جائے تو یوں سمجھا جاتا ہے بائع ہی کی چیز ہلاک ہوئی ہے، معلوم ہوا ابھی بھی بائع کی ملکیت تھی، اسی لیے تو یہ شمار کیا گیا کہ بائع کی چیز ہلاک ہوئی ہے۔ تو اس دلیل سے شبہ پیدا ہو گیا اور یہ شبہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا اور وہ شرعی دلیل جو میں نے ذکر کر دی کہ بائع کے سپرد کرنے سے پہلے مبیعہ اگر اس کے پاس ہلاک ہو جائے تو شرعاً وہ بیع ختم ہو جاتی ہے، تو معلوم ہوا یہاں ایک شرعی دلیل موجود ہے بائع کی ملکیت پر بھئی، جس سے شبہ ہوتا ہے شاید یہ باندی ابھی بھی اس کے لیے حلال ہے بھئی اور یہ شبہ کس کی وجہ سے آیا؟ باقاعدہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے، لہٰذا بائع نے اگر اس باندی سے صحبت کر بھی لی تو بھی حد نہیں آئے گی۔
یہ معنی ہے: ”وَالْجَارِيَةُ الْمَبِيعَةُ فِي حَقِّ الْبَائِعِ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ اور وہ باندی جس کو بیچا گیا ہے بائع کے حق میں سپرد کرنے سے پہلے ”وَالْمَمْهُورَةُ فِي حَقِّ الزَّوْجِ قَبْلَ الْقَبْضِ“، ممہورہ بھئی، وہ باندی جسے مہر قرار دیا ہے، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے، ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور اپنی باندی کو مہر مقرر کیا ہے کہ بطور مہر کے میں تمہیں یہ باندی دوں گا۔ چنانچہ یہ مہر مقرر کر کے خاوند نے اس عورت سے نکاح کر لیا اور پھر یہ باندی بیوی کو دینے سے پہلے خاوند نے اس باندی سے صحبت کر لی، تو یاد رکھو خاوند پر حد نہیں آئے گی۔ خاوند پر حد نہیں آئے گی کیونکہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید ابھی بھی یہ خاوند کی ملکیت اس میں ہے۔ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے ابھی بھی شبہ ہوتا ہے کہ خاوند کی ابھی بھی اس کے اندر ملکیت ہے اور وہ دلیل کیا؟ وہ دلیل یہ، توجہ سے سنو بھئی، وہ دلیل یہ کہ یہ جو مہر ہے، مہر، مہر میں ایک طرف سے تو خاوند مال دے رہا ہے اور بیوی کی طرف سے تو مال نہیں ہے۔ تو جب صرف خاوند کی طرف سے مال ہے تو یوں سمجھو یہ عقد معاوضہ ہے ہی نہیں، یہ تو عقد تبرع ہے بھئی۔ یہ عقد معاوضہ ہے ہی نہیں بلکہ عقد تبرع، خاوند ویسے ہی اپنی طرف سے باندی اس عورت کو دے رہا ہے کیونکہ اس کی طرف سے تو بدلے میں مال نہیں آ رہا۔ تو جب خاوند ویسے ہی اپنی طرف سے مال دے رہا ہے تو یہ تو ہبہ کے درجے میں ہوا اور ہبہ کے اندر جب تک وہ دوسرا آدمی اس ہبہ پر قبضہ نہ کرے وہ مالک نہیں بنتا، تو لہٰذا جب تک اس بیوی نے اس خاوند کی باندی پر قبضہ نہیں کیا وہ مالک نہیں بنی، ابھی بھی اس خاوند کی ملکیت باقی ہے۔ تو اس وجہ سے شبہ پیدا ہو گیا۔ یہ جو مہر ہے یہ دیکھا جائے تو ہبہ کے درجے میں ہے جس کی وجہ سے شبہ آ گیا کہ شاید ابھی بھی خاوند مالک ہے، تو اس کی وجہ سے اب خاوند نے صحبت کر لی ہے تو اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔
تو یہ معنی ہے: ”وَالْمَمْهُورَةُ فِي حَقِّ الزَّوْجِ قَبْلَ الْقَبْضِ“ اور وہ باندی جس کو مہر مقرر کیا گیا ہے خاوند کے حق میں قبضے سے پہلے، یعنی بیوی کے قبضے سے پہلے ”وَالْمُشْتَرَكَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ“ اور وہ باندی جو اس آدمی اور غیر کے درمیان مشترک ہے۔ بھئی صورت یہ: ایک باندی ہے اور دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب باندی دو یا زیادہ آدمیوں کے درمیان مشترک ہو تو کسی ایک کے لیے بھی اس کے ساتھ صحبت جائز نہیں ہے، لیکن پھر ان میں سے ایک اس کے ساتھ صحبت کر لیتا ہے تو یاد رکھو اس صورت میں حد نہیں آئے گی۔ اگرچہ اس نے حرام فعل کیا لیکن حد نہیں آئے گی، وجہ یہ کہ اس کی ملکیت باندی کے اندر موجود ہے اور یہ ملکیت تو حلت کا تقاضا کر رہی ہے، تو لہٰذا ایک شرعی دلیل موجود ہے کہ اس آدمی کی باندی میں ملکیت موجود ہے اور ملکیت حلال ہونے کا تقاضا کرتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُشْتَرَكَةُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ غَيْرِهِ“ اور وہ باندی جو مشترک ہو اس وطی کرنے والے کے درمیان اور غیر کے درمیان ”وَالْمَرْهُونَةُ فِي حَقِّ الْمُرْتَهِنِ فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الرَّهْنِ“ اور مرہونہ باندی مرتہن کے حق میں کتاب الرہن کی روایت میں۔ مرہونہ باندی مرتہن کے حق میں، کتاب الحدود کے اندر یہ ذکر ہے کہ یہ شبہ فی الفعل کے قبیل سے ہے اور کتاب الرہن کے اندر ذکر ہے کہ یہ شبہ فی المحل کے قبیل سے ہے، تو یہاں بھی اس کو ذکر کر دیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَرْهُونَةُ فِي حَقِّ الْمُرْتَهِنِ فِي رِوَايَةِ كِتَابِ الرَّهْنِ“ اور مرتہن کے حق میں مرہونہ باندی کتاب الرہن کی روایت میں ”فَفِي هَذِهِ الْمَوَاضِعِ لَا يَجِبُ الْحَدُّ“ تو ان جگہوں کے اندر حد واجب نہیں ہوگی ”وَإِنْ قَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ“ اگرچہ وہ شخص یہ کہے کہ میں جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے کیونکہ یہاں شبہ جو آیا ہے وہ باقاعدہ ایک شرعی دلیل کی وجہ سے آیا ہے لہٰذا یہاں اس بندے کی رائے کی طرف نہیں دیکھا جائے گا اور اس سے کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
آگے دیکھیے: ”ثُمَّ الشُّبْهَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَثْبُتُ بِالْعَقْدِ“، یہ اب ایک تیسری قسم کا شبہ آ گیا، عام فقہاء کے نزدیک شبہے دو ہی قسم کے ہیں: ایک شبہ فی الفعل اور ایک شبہ فی المحل۔ جبکہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک تیسری قسم بھی شبہ کی ہے جو عقد کی وجہ سے آئے۔ جب ایک شخص ایک عورت سے عقد کر لیتا ہے تو اس کی وجہ سے شبہ آ جاتا ہے چاہے وہ عورت اس کے لیے ہمیشہ کے لیے حرام ہی کیوں نہ ہو، مثلاً ایک شخص نے اپنی رضاعی بہن سے نکاح کر لیا۔ اب یہ رضاعی بہن بھی حقیقی بہن کی طرح ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہوتی ہے، لیکن اس شخص نے تو اس سے عقد کیا ہے، اس عقد کی وجہ سے شبہ آ گیا۔ جب شبہ آ گیا تو لہٰذا اب اس شخص پر حد جاری نہیں کی جائے گی جبکہ دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر اس کو رضاعت کا پتہ تھا، اس کو پتہ تھا یہ میرے لیے حرام ہے پھر یہ عقد کرتا ہے تو اس صورت میں اس پر حد جاری کی جائے گی، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اس عقد کی وجہ سے شبہ آ چکا ہے اور جب شبہ آ گیا ہے تو اب حد جاری نہیں کی جائے گی۔ معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک عقد کی وجہ سے جو شبہ آئے وہ بھی شبہ فی المحل کی طرح ہے۔ جیسے شبہ فی المحل کے اندر اس بندے کی رائے کا کوئی اعتبار نہیں ہے اسی طرح امام صاحب بھی فرماتے ہیں جب عقد کیا ہے تو وہ بندہ چاہے کہے کہ مجھے پتہ تھا میرے لیے حرام ہے پھر بھی اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الشُّبْهَةُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى تَثْبُتُ بِالْعَقْدِ“، پھر یہ شبہ یا یوں کریں، اشبہ سے مراد شبہ فی المحل مراد لے لیں، تیسری قسم نہ بنائیں، یہ شبہ فی المحل ہی میں داخل ہے البتہ اور علماء اس کے قائل نہیں، امام صاحب اس کے قائل ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ الشُّبْهَةُ“ پھر یہ والا جو شبہ ہے یعنی شبہ فی المحل ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَثْبُتُ بِالْعَقْدِ“ امام صاحب کے نزدیک یہ عقد کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتا ہے ”وَإِنْ كَانَ مُتَّفَقًا عَلَى تَحْرِيمِهِ“ اگرچہ اتفاق کیا گیا ہو اس عقد کے حرام ہونے پر۔ اگرچہ اس عقد کے حرام ہونے پر سب کا اتفاق ہو پھر بھی اگر عقد کر لیتا ہے تو شبہ آ جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مُتَّفَقًا عَلَى تَحْرِيمِهِ“ اگرچہ اس عقد کے حرام ہونے پر اتفاق کیا گیا ہو ”وَهُوَ عَالِمٌ بِهِ“ اور حال یہ ہے کہ وہ شخص بھی اس حرمت کو جانتا ہے پھر بھی یہ شبہ فی المحل ہے، اس کی وجہ سے حد جاری نہیں ہوگی ”وَعِنْدَ الْبَاقِينَ“ اور باقی علماء کے نزدیک ”لَا تَثْبُتُ إِذَا عَلِمَ بِتَحْرِيمِهِ“ کہ یہ شبہ جو ہے ثابت نہیں ہوگا جب وہ شخص اس عقد کے حرام ہونے کو جانتا ہے ”وَيَظْهَرُ ذَلِكَ فِي نِكَاحِ الْمَحَارِمِ“ اور یہ ظاہر ہوتا ہے محرموں سے نکاح کے اندر، یہ شبہ ظاہر ہوتا ہے محرموں سے نکاح کے اندر ”عَلَى مَا يَأْتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو آپ کے پاس آ جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ، یعنی آگے صاحبِ ہدایہ اس کی صورت بھی بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَظْهَرُ ذَلِكَ فِي نِكَاحِ الْمَحَارِمِ عَلَى مَا يَأْتِيكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہ شبہ جو ہے محرموں کے نکاح میں ظاہر ہوتا ہے اس وجہ سے جو آپ کے پاس آ جائے گی یعنی جو آپ کے سامنے ذکر کی جائے گی ان شاء اللہ تعالیٰ۔
”إِذَا عَرَفْنَا هَذَا“ جب ہم نے یہ جان لیا، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ”إِذَا عَرَفْنَا هَذَا“ جب ہم نے یہ جان لیا، یعنی شبہے کی قسموں کو جان لیا، اب ہم آگے انہی پر یہ مسائل بیان کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا عَرَفْنَا هَذَا“ جب ہم نے یہ جان لیا تو اب ہم ان سے متعلقہ مسائل ذکر کرتے ہیں، اب مسائل ذکر کریں گے۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا“ اور جس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں ”ثُمَّ وَطِئَهَا فِي الْعِدَّةِ“ پھر اس کے ساتھ صحبت کر لی عدت کے اندر ”وَقَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ“ اور وہ کہتا ہے کہ میں جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے ”حُدَّ“ تو اس کو حد لگائی جائے گی، کہتے ہیں: ”لِزَوَالِ الْمِلْكِ الْمُحِلِّلِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“، ”لِزَوَالِ الْمِلْكِ“ اس لیے کیونکہ وہ ملکیت ختم ہو گئی ”الْمُحِلِّلِ“ جو اس عورت کو حلال کرنے والی تھی، ”لِزَوَالِ الْمِلْكِ الْمُحِلِّلِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ“ اس لیے کیونکہ وہ ملکیت جو اس کو حلال کرنے والی تھی وہ ہر اعتبار سے ختم ہو گئی ”فَتَكُونُ الشُّبْهَةُ مُنْتَفِيَةً“ تو شبہ جو ہے وہ منتفی ہے، یہاں کسی قسم کا شبہ موجود نہیں ہے، خود اس نے بھی کہا ہے مجھے بھی کوئی شبہ نہیں تھا حرام ہونے میں، تو ”فَتَكُونُ الشُّبْهَةُ مُنْتَفِيَةً“ تو شبہ منتفی ہے ”وَقَدْ نَطَقَ الْكِتَابُ بِانْتِفَاءِ الْحِلِّ“ اور تحقیق کتاب نے بھی ذکر کیا ہے حلت کے منتفی ہونے کو۔ کتاب اللہ کے اندر بھی اس کے حرام ہونے کو ذکر کیا گیا ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ﴾، ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ اگر خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق بھی دے دی، ”طَلَّقَهَا“ سے کیا مراد ہے؟ تیسری طلاق، ﴿فَإِنْ طَلَّقَهَا﴾ اگر خاوند نے بیوی کو تیسری طلاق دے دی ﴿فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِنْ بَعْدُ حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ تو اس کے بعد یہ عورت اس آدمی کے لیے حلال نہیں یہاں تک کہ یہ کسی اور شخص سے نکاح کر لے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ نَطَقَ الْكِتَابُ بِانْتِفَاءِ الْحِلِّ“ اور اس حلت کے ختم ہونے پر کتاب اللہ نے بھی نطق کیا ہے، کتاب اللہ نے بھی اس کو ذکر کیا ہے، ”وَقَدْ نَطَقَ الْكِتَابُ بِانْتِفَاءِ الْحِلِّ“ اور کتاب اللہ نے بھی بات کی ہے حلت کے منتفی ہونے کی ”وَعَلَى ذَلِكَ الْإِجْمَاعُ“ اور اس پر اجماع ہے، ساری امت کا اجماع ہے کہ تین طلاقوں کے بعد عورت مرد کے لیے مکمل حرام ہو جاتی ہے بھئی۔ ”وَلَا يُعْتَبَرُ قَوْلُ الْمُخَالِفِ فِيهِ“ اور اس کے اندر مخالفت کرنے والے کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے ”لِأَنَّهُ خِلَافٌ لَا اخْتِلَافٌ“ اس لیے کیونکہ یہ خلاف ہے نہ کہ اختلاف۔ بھئی ایک ہے خلاف، ایک ہے اختلاف۔ خلاف وہ ہے جو بغیر دلیل کے ہو، خلاف وہ ہے جو بغیر دلیل کے ہو اور اختلاف وہ ہوتا ہے جو دلیل کے ساتھ ہوتا ہے۔ تو اگرچہ بعضوں نے اس کے اندر بھی اختلاف کیا ہے لیکن وہ خلاف ہے، اختلاف نہیں، یعنی وہ بغیر دلیل کے بات کر رہے ہیں لہٰذا اس کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُعْتَبَرُ قَوْلُ الْمُخَالِفِ فِيهِ“ اور اس کے اندر مخالف کے قول کا اعتبار نہیں کیا جائے گا ”لِأَنَّهُ خِلَافٌ لَا اخْتِلَافٌ“ اس لیے کیونکہ یہ خلاف ہے نہ کہ اختلاف۔
”وَلَوْ قَالَ“ اور اگر یہ شخص کہتا ہے، یہ شخص جس نے تین طلاقیں دینے کے بعد عدت کے اندر بیوی سے صحبت کی ہے، ”وَلَوْ قَالَ“ اگر اس شخص نے کہا: ”ظَنَنْتُ أَنَّهَا تَحِلُّ لِي“ کہ میں نے تو یہ گمان کیا تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”لَا يُحَدُّ“ تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ الظَّنَّ فِي مَوْضِعِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ گمان اپنے محل میں ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ آدمی کو شبہ لگ جائے تو یہ بھی دیکھا جائے گا وہ شبہے کی جگہ بھی ہے یا نہیں، شبہے کی جگہ ہو تو پھر اس کے شبہے کا اعتبار ہے ورنہ اس کے شبہے کا کوئی اعتبار نہیں اور یہ شبہے کا محل ہے، وجہ یہ کہ اس عورت کا کھانا پینا رہائش وغیرہ سب اس مرد کے ذمے ہے لہٰذا کسی آدمی کو شبہ لگ سکتا ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ الظَّنَّ فِي مَوْضِعِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ گمان اپنے محل میں ہے، اپنے مقام میں ہے ”لِأَنَّ أَثَرَ الْمِلْكِ قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ ملکیت کا اثر موجود ہے، یعنی عدت کے اندر بھی ملکیت کا اثر موجود ہے ”فِي حَقِّ النَّسَبِ وَالْحَبْسِ وَالنَّفَقَةِ“ نسب کے حق میں بھی، اور حبس، حبس کا معنی ہے منع کرنا روکنا، اور نفقہ، نفقے کے حق میں بھی۔ بھئی دیکھو، ایک شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دے اور یہ عورت طلاق سے پہلے ہی حاملہ ہو چکی ہے تو اس عورت کی عدت وضع حمل ہے۔ تو تین طلاقیں دینے کے باوجود دیکھو اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت ہو جائے گا اور نیز اس مطلقہ کا، مطلقہ ثلاثہ کا خرچہ بھی عدت کا خاوند کے ذمے ہے، اس کی رہائش بھی خاوند کے ذمے ہے، خاوند اس کو گھر سے باہر جانے سے بھی منع کر سکتا ہے، تو یہ سب نکاح کے اثرات ہیں۔ تو لہٰذا اس لیے کسی کو شبہ ہو سکتا ہے، لیکن یہ یاد رکھنا انہوں نے کہا کہ نسب بھی ثابت ہو جائے گا، یہ وہ صورت ہے جب یہ تین طلاقوں والی تین طلاقوں سے پہلے حاملہ ہے۔ اگر تین طلاقیں دینے کے بعد عدت کے اندر خاوند نے صحبت کر لی اور اس سے وہ عورت حاملہ ہو گئی تو پھر یاد رکھو اس بچے کا نسب نہیں ثابت ہوگا بھئی کیونکہ یہ شبہ فی الفعل ہے اور صاحبِ ہدایہ نے شروع میں بتایا تھا کہ شبہ فی الفعل کے اندر نسب ثابت نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ أَثَرَ الْمِلْكِ قَائِمٌ“ اس لیے کیونکہ اس خاوند کی ملکیت کا اثر عدت میں بھی موجود ہے ”فِي حَقِّ النَّسَبِ“ نسب کے حق میں ”وَالْحَبْسِ“ اور منع کرنے کے حق میں یعنی خاوند اس کو گھر سے باہر جانے سے منع کر سکتا ہے، تو نسب کے حق میں بھی ملکیت قائم ہے، اور منع کرنے کے حق میں بھی ”وَالنَّفَقَةِ“ اور نفقے کے حق میں بھی ”فَاعْتُبِرَ ظَنُّهُ فِي إِسْقَاطِ الْحَدِّ“ لہٰذا اس کے گمان کا اعتبار کیا جائے گا حد کو ساقط کرنے میں۔
”وَأُمُّ الْوَلَدِ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ اور اسی طرح ام ولد جب اس کو اس کا آقا آزاد کر دے ”وَالْمُخْتَلِعَةُ وَالْمُطَلَّقَةُ عَلَى مَالٍ“ اور اسی طرح مختلعہ یعنی وہ عورت جس نے خلع کیا ہے خاوند کے ساتھ، ”وَالْمُطَلَّقَةُ عَلَى مَالٍ“ اور وہ عورت جس کو طلاق دی گئی ہے مال کے عوض ”بِمَنْزِلَةِ الْمُطَلَّقَةِ الثَّلَاثِ“ یہ سب بھی مطلقہ ثلاثہ کے درجے میں ہیں۔ یعنی تین طلاقوں والی کی تفصیل ہم نے بیان کر دی کہ اگر خاوند کو شبہ تھا عدت کے اندر تو حد نہیں اور اگر شبہ نہیں تھا تو حد ہے۔ اسی طرح اگر آقا اپنی ام ولد کو آزاد کر دے اور پھر عدت کے اندر اس سے صحبت کر لے یا ایک عورت نے خلع کیا ہے یا خاوند نے اس کو مال کے بدلے طلاق دی ہے اور اس کے ساتھ خاوند عدت کے اندر صحبت کر لے تو یہ سب بھی اسی قبیل سے ہیں، اسی مطلقہ ثلاثہ کے حکم میں ہیں۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَأُمُّ الْوَلَدِ إِذَا أَعْتَقَهَا مَوْلَاهَا“ اور ام ولد جب اس کو اس کا آقا آزاد کر دے ”وَالْمُخْتَلِعَةُ“ اور خلع کرنے والی ”وَالْمُطَلَّقَةُ عَلَى مَالٍ“ اور مال کی شرط پر جس کو طلاق دی گئی ہے ”بِمَنْزِلَةِ الْمُطَلَّقَةِ الثَّلَاثِ“ یہ بھی مطلقہ ثلاثہ کے درجے میں ہیں ”لِثُبُوتِ الْحُرْمَةِ بِالْإِجْمَاعِ“ بوجہ حرمت کے ثابت ہونے کے بالاجماع، کہ بالاجماع ان سب کی حرمت بھی ثابت ہے جیسے کہ مطلقہ ثلاثہ کی حرمت بالاجماع بھی ثابت ہے اور قرآن سے بھی ثابت ہے بھئی ”وَقِيَامِ بَعْضِ الْآثَارِ فِي الْعِدَّةِ“ اور ملکیت کے بعض آثار موجود ہیں عدت میں۔ اس وجہ سے کہ بالاجماع حرمت بھی ثابت ہے ”وَقِيَامِ بَعْضِ الْآثَارِ فِي الْعِدَّةِ“ اور اس وجہ سے کہ بعض ملکیت کے آثار عدت میں بھی موجود ہیں۔ ان سب کے اندر بھی رہائش دینا بھی انہی کے ذمے ہے، خرچہ دینا بھی ان کے ذمے ہے، باہر جانے سے بھی یہ منع کر سکتے ہیں تو لہٰذا ان سب کے اندر عدت کے اندر خاوند یا آقا کی ملکیت کے اثرات پائے جا رہے ہیں لہٰذا اگر اس کو شبہ ہوا ہے تو یہ شبہ معتبر ہے بھئی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِثُبُوتِ الْحُرْمَةِ بِالْإِجْمَاعِ“ بالاجماع حرمت کے ثابت ہونے کی وجہ سے ”وَقِيَامِ بَعْضِ الْآثَارِ فِي الْعِدَّةِ“ اور اس وجہ سے کہ خاوند کی ملکیت کے بعض اثرات ابھی بھی موجود ہیں عدت میں۔
آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ“، ”خَلِيَّةٌ“ کا معنی ہے آزاد اور ”بَرِيَّةٌ“ کا معنی بھی ہے آزاد۔ خاوند اپنی بیوی سے کہتا ہے: ”أَنْتِ خَلِيَّةٌ“، تو آزاد ہے یا ”أَنْتِ بَرِيَّةٌ“، تو آزاد ہے، تو یاد رکھو یہ کنایہ ہے۔ اس میں طلاق کا معنی بھی ہے اور غیر طلاق کا معنی بھی ہے۔ ایک معنی یہ ہے کہ تو میرے نکاح سے آزاد ہے، یا معنی یہ ہے آج سے تو کام کاج سے آزاد ہے، کام کاج کے لیے میں باندی لے آؤں گا۔ یا اسی طرح خاوند بیوی سے کہتا ہے: ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“، تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے، تو یہ بھی یاد رکھو کنایہ ہے طلاق کا اختیار دینے سے۔ یہ طلاق نہیں دے رہا ”أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ بلکہ اختیار دے رہا ہے لیکن یہ اختیار کا کنایہ ہے تو اس کے ذریعے بھی طلاق بائن واقع ہوگی بھئی۔ تو یہ کنایات ہیں اور کنایات کے اندر اوپر میں نے بتلایا تھا کہ صحابہ کا اختلاف ہے۔ بعض صحابہ فرماتے ہیں کہ تمام کنایات سے طلاق بائن ہوتی ہے اور بعض صحابہ فرماتے ہیں تمام کنایات سے طلاق رجعی ہوتی ہے، لہٰذا یہاں پر بھی ایک شرعی دلیل موجود ہے۔ لہٰذا اگر کنائے کے ذریعے خاوند بیوی کو طلاق دے اور پھر عدت کے اندر اس سے صحبت کر لے تو پھر اس صورت کے اندر اس پر حد جاری نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ لَهَا أَنْتِ خَلِيَّةٌ أَوْ بَرِيَّةٌ“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا کہ تو آزاد ہے ”أَوْ أَمْرُكِ بِيَدِكِ“ یا تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے ”فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا“ تو اس عورت نے اپنی ذات کو پسند کر لیا یعنی جدائی کو اختیار کر لیا ”ثُمَّ وَطِئَهَا فِي الْعِدَّةِ“ پھر خاوند نے اس سے صحبت کر لی عدت میں ”وَقَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ“ اور وہ کہتا ہے کہ میں جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے ”لَمْ يُحَدَّ“ تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی ”لِاخْتِلَافِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ فِيهِ“ اس وجہ سے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کا اس میں اختلاف تھا ”فَمِنْ مَذْهَبِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں سے ہے ”أَنَّهَا تَطْلِيقَةٌ رَجْعِيَّةٌ“ کہ یہ جو کنایات جو ہیں یہ طلاق رجعی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ مذہب تھا، ”وَكَذَا الْجَوَابُ فِي سَائِرِ الْكِنَايَاتِ“ اور اسی طرح ہے جواب تمام کنایوں میں یعنی اسی طرح ہے مسئلہ تمام کنایات کے اندر ”وَكَذَا إِذَا نَوَى ثَلَاثًا“ اور اسی طرح ہے جب وہ خاوند تین کی نیت کرے۔ میں نے بتایا کہ کنایات کے اندر تین کی نیت بھی جائز ہے تو اگر خاوند تین کی نیت کر لے پھر بھی یہی حکم ہے، وجہ یہ کہ بے شک خاوند تین کی نیت کر لے، اختلاف تو صحابہ کا ہے اس کے اندر کہ طلاق بائن ہوگی یا طلاق رجعی ہوگی، تو وہ اختلاف تو اپنی جگہ پر اسی طرح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا نَوَى ثَلَاثًا“ اور اسی طرح اگر اس نے کنائی الفاظ کے ذریعے تین کی نیت کی تو پھر بھی اسی طرح ہوگا مسئلہ ”لِقِيَامِ الِاخْتِلَافِ مَعَ ذَلِكَ“ اس وجہ سے کہ اختلاف موجود ہے باوجود اس تین کی نیت کے۔
آگے دیکھیے: ”وَلَا حَدَّ عَلَى مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ“، صورت یہ: ایک شخص نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کی یا دادا نے اپنے پوتے کی باندی سے صحبت کی، یعنی چاہے اولاد ہو یا اولاد کی اولاد ہو، جس کی بھی باندی سے اوپر کا باپ دادا صحبت کر لے گا تو وہاں حد نہیں آئے گی کیونکہ حضور علیہ السلام نے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ اور دادا پردادا یہ سب بھی کیا ہیں؟ اب ہیں، باپ ہیں، البتہ دور کے باپ ہیں، جیسے اوپر کی دادیاں نانیاں سب مائیں ہیں البتہ ذرا دور کی مائیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا حَدَّ عَلَى مَنْ وَطِئَ جَارِيَةَ وَلَدِهِ وَوَلَدِ وَلَدِهِ“ اور کوئی حد نہیں ہے اس شخص پر جس نے اپنی اولاد کی باندی سے یا اولاد کی اولاد کی باندی سے صحبت کی ”وَإِنْ قَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ“ اگرچہ وہ کہتا ہے کہ میں جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے ”لِأَنَّ الشُّبْهَةَ حُكْمِيَّةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جو شبہ ہے یہ حکمی ہے، یعنی یہ شبہ فی المحل ہے ”لِأَنَّهَا نَشَأَتْ عَنْ دَلِيلٍ“ کیونکہ یہ شبہ دلیل سے پیدا ہوا ہے ”وَهُوَ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اور وہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قولِ مبارک ہے، آپ نے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ کہ تو اور تیرا مال دونوں تیرے باپ کے ہیں ”وَالْأُبُوَّةُ قَائِمَةٌ فِي حَقِّ الْجَدِّ“ اور باپ ہونا دادا کے حق میں بھی ثابت ہے، دادا اور نانا، دادا اور نانا کے حق میں بھی ثابت ہے ”وَيَثْبُتُ النَّسَبُ مِنْهُ“ اور اس سے نسب بھی ثابت ہو جائے گا، اس باپ سے نسب بھی ثابت ہو جائے گا، دادا نانا سے بھی نسب ثابت ہو جائے گا کیونکہ وہ سب بھی اب ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَثْبُتُ النَّسَبُ مِنْهُ“ اور اس باپ سے نسب بھی بچے کا ثابت ہو جائے گا ”وَعَلَيْهِ قِيمَةُ الْجَارِيَةِ“ اور اس پر باندی کی قیمت واجب ہوگی، وہ بیٹے کو ادا کرنا پڑے گی ”وَقَدْ ذَكَرْنَاهُ“ اور تحقیق ہم نے اس کو، اس مسئلے کو ذکر کیا تھا۔
”وَإِذَا وَطِئَ جَارِيَةَ أَبِيهِ أَوْ أُمِّهِ أَوْ زَوْجَتِهِ“ اور جب کسی شخص نے صحبت کر لی اپنے باپ کی باندی سے ”أَوْ أُمِّهِ“ یعنی ماں کی باندی سے ”أَوْ زَوْجَتِهِ“ یا اپنی بیوی کی باندی سے ”وَقَالَ ظَنَنْتُ أَنَّهَا تَحِلُّ لِي“ اور وہ کہتا ہے کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس پر حد نہیں ہے اور آپ نے پڑھا تھا یہ شبہ فی الفعل ہے، شبہ فی الفعل ہے لہٰذا اگر اس کا خیال یہ تھا کہ یہ میرے لیے حرام ہے پھر حد جاری ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ ظَنَنْتُ أَنَّهَا تَحِلُّ لِي“ اور وہ کہتا ہے کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ تو اس پر کوئی حد نہیں ہے ”وَلَا عَلَى قَاذِفِهِ“ اور اس پر تہمت لگانے والے پر بھی حد نہیں ہے۔ بھئی دیکھیے، ایک آدمی نے اپنے باپ کی باندی سے یا ماں کی باندی سے صحبت کر لی یا خاوند نے بیوی کی باندی سے صحبت کر لی اور پھر کہتے ہیں ہم تو سمجھے تھے یہ ہمارے لیے حلال ہے، تو حد تو ساقط ہو جائے گی لیکن یہ جو انہوں نے فعل کیا ہے یہ فعلِ زنا ہی ہے، لہٰذا ان کو اگر کوئی شخص بعد میں زانی کہہ دے، زانی کہہ دے تو اس پر حدِ قذف نہیں آئے گی کیونکہ اب یہ محسن نہ رہے بھئی، یہ زنا سے پاک دامن نہیں رہے بھئی۔ یہ معنی ہے کہ ”فَلَا حَدَّ عَلَيْهِ“ اس پر بھی کوئی حد نہیں ہوگی ”وَلَا عَلَى قَاذِفِهِ“ اور اس پر زنا کی تہمت لگانے والے پر بھی حد نہیں ہوگی ”وَإِنْ قَالَ عَلِمْتُ أَنَّهَا عَلَيَّ حَرَامٌ“ اور اگر اس شخص نے کہا کہ میں جانتا تھا کہ یہ مجھ پر حرام ہے ”حُدَّ“ تو پھر اس کو حد لگائی جائے گی ”وَكَذَا الْعَبْدُ إِذَا وَطِئَ جَارِيَةَ مَوْلَاهُ“ اور اسی طرح غلام جب وہ وطی کر لے اپنے آقا کی باندی سے ”لِأَنَّ بَيْنَ هَؤُلَاءِ انْبِسَاطًا فِي الِانْتِفَاعِ“، انبساط طا کے ساتھ ہے بھئی: اِنْبَسَطَ يَنْبَسِطُ اِنْبِسَاطًا، یہ بے تکلفی کو کہتے ہیں۔ باپ بیٹے کے آپس میں بے تکلفی ہوتی ہے ایک دوسرے کا مال استعمال کرنے میں، اسی طرح میاں بیوی بھی بے تکلفی سے ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، غلام بھی آقا کا مال بے تکلفی سے استعمال کرتا ہے تو ان سب میں انبساط ہوتا ہے، اس وجہ سے کسی کو شبہ لگ سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ بَيْنَ هَؤُلَاءِ“ اس لیے کیونکہ ان لوگوں کے بیچ ”انْبِسَاطًا فِي الِانْتِفَاعِ“ چیزوں سے نفع اٹھانے کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے ”فَظَنُّهُ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مُحْتَمَلٌ“ لہٰذا اس کا گمان نفع اٹھانے میں، محتمل اس کا بھی احتمال ہے، استمتاع یعنی باندی سے نفع اٹھانا، تو باندی سے نفع اٹھانے کا بھی گمان کیا جا سکتا ہے، اس کا بھی احتمال ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَظَنُّهُ فِي الِاسْتِمْتَاعِ مُحْتَمَلٌ“ تو باندی سے نفع اٹھانے کے بارے میں اس کا جو گمان ہے، محتمل اس کا بھی احتمال ہے ”فَكَانَتْ شُبْهَةَ اشْتِبَاهٍ“ تو یہ شبہ اشتباہ ہے یعنی اس کو اشتباہ لگ گیا ”إِلَّا أَنَّهُ زِنًى حَقِيقَةً“ مگر یہ کہ یہ حقیقت میں زنا ہے ”فَلَا يُحَدُّ قَاذِفُهُ“ لہٰذا ان پر زنا کی تہمت لگانے والے کو حد نہیں لگائی جائے گی۔
”وَكَذَا إِذَا قَالَتْ الْجَارِيَةُ“ اور اسی طرح ہے جب باندی نے یہ کہا۔ بھئی دیکھیے، بیٹے نے باپ کی باندی سے صحبت کر لی یا بیٹے نے ماں کی باندی سے صحبت کر لی یا خاوند نے بیوی کی باندی سے صحبت کر لی اور یہ کہتے ہیں ہمیں پتہ تھا یہ ہمارے لیے حرام ہے تو پھر ان پر حد آئے گی لیکن اگر اس باندی نے کہہ دیا کہ میرا تو خیال تھا یہ میرے لیے حلال ہیں اس لیے میں نے ان کو وطی کرنے دی، تو اس صورت میں بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ وجہ یہ کیونکہ جب باندی نے کہہ دیا کہ میں تو سمجھتی تھی کہ یہ وطی حلال ہے، تو اس باندی کے گمان کی وجہ سے باندی پر حد نہیں آ سکتی، جب باندی پر حد نہیں آ سکتی تو اس باندی کے ساتھ وطی کرنے والے پر بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ فعل تو ایک ہی تھا بھئی اور ایک ہی فعل کی وجہ سے ایک پر حد آئے اور ایک پر نہ آئے ایسا نہیں ہو سکتا بھئی، جب حد نہیں آئے گی تو دونوں پر نہیں آئے گی۔ ایک ہی فعل کے اندر ایک پر سے آپ شبہے کی وجہ سے حد کو ساقط کر دیں اور دوسرے پر آپ شبہے کی وجہ سے حد کو ساقط نہ کریں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ جب باندی پر سے شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو رہی ہے تو اس کے ساتھ جس شخص نے وطی کی ہے اس پر سے بھی حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ فعل تو ایک ہی ہے، ایک ہی فعلِ زنا ہوا ہے تو جب ایک پر سے حد شبہے کی وجہ سے ساقط ہو گئی تو دوسرے پر سے بھی شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَتْ الْجَارِيَةُ“ اور اسی طرح ہوگا مسئلہ یعنی حد نہیں آئے گی جب باندی نے کہا: ”ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَحِلُّ لِي“ کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”وَالْفَحْلُ لَمْ يَدَّعِ“، فحل کہتے ہیں نر کو، نر یعنی مذکر، یعنی مرد مراد ہے، ”وَالْفَحْلُ لَمْ يَدَّعِ“ اور حال یہ ہے کہ مرد نے یہ دعویٰ نہیں کیا، اس نے یہ دعویٰ نہیں کیا کہ میں تو سمجھتا تھا یہ میرے لیے حلال ہے لیکن باندی نے یہ دعویٰ کر دیا کہ میں تو سمجھتی تھی یہ میرے لیے حلال ہے تو اس صورت میں بھی حد نہیں آئے گی ”فِي الظَّاهِرِ“ یعنی ظاہر روایت کے مطابق۔ توجہ ہے، ظاہر روایت کے مطابق جب باندی پر حد نہیں ہے تو وطی کرنے والے پر بھی حد نہیں آئے گی۔ یہ معنی ہے، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَكَذَا إِذَا قَالَتْ الْجَارِيَةُ“ اور اسی طرح ہے مسئلہ جب باندی نے کہا ”ظَنَنْتُ أَنَّهُ يَحِلُّ لِي“ کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”وَالْفَحْلُ لَمْ يَدَّعِ“ اور حال یہ ہے کہ مرد نے یہ دعویٰ نہیں کیا ”فِي الظَّاهِرِ“ یعنی ظاہر روایت میں، اس صورت میں بھی چاہے مرد نے دعویٰ نہ کیا ہو حلال ہونے کا پھر بھی اس پر حد نہیں آئے گی ”لِأَنَّ الْفِعْلَ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ فعل تو ایک ہی ہے بھئی۔
”وَإِنْ وَطِئَ جَارِيَةَ أَخِيهِ أَوْ عَمِّهِ“ اور اگر کسی شخص نے اپنے بھئی کی باندی سے وطی کر لی یا اپنے چچا کی باندی سے وطی کر لی ”وَقَالَ ظَنَنْتُ أَنَّهَا تَحِلُّ لِي“ اور وہ کہتا ہے کہ میرا تو یہ گمان تھا کہ یہ میرے لیے حلال ہے ”حُدَّ“ اس کو حد لگائی جائے گی کیونکہ یہ شبہے کا محل نہیں، بھئی اور چچا کا مال بے تکلفی کے ساتھ استعمال نہیں کیا جاتا بھئی، وہاں بے تکلفی نہیں ہوتی۔ تو کہتے ہیں: ”حُدَّ“ اس کو حد لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُ لَا انْبِسَاطَ فِي الْمَالِ فِيمَا بَيْنَهُمَا“ اس لیے کیونکہ ان کے بیچ میں مال کے اندر بے تکلفی نہیں ہوتی ”وَكَذَا سَائِرُ الْمَحَارِمِ سِوَى الْوِلَادِ لِمَا بَيَّنَّا“ اور اسی طرح باقی محرم بھی ہیں ”سِوَى الْوِلَادِ“ ولادت کے علاوہ ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی۔ ولاد یعنی پیدائش بھئی، جن محرم رشتہ داروں سے پیدائش والا رشتہ ہے ان میں تو مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے، یعنی باپ دادا پردادا یا اسی طرح نانا پرنانا وغیرہ، یا نیچے کی طرف چلے جائیں بیٹا پوتا پڑپوتا ہے یا اسی طرح نواسہ پڑنواسا وغیرہ، ان سب میں پیدائش والا تعلق ہے، ان سب میں پیدائش والا تعلق ہے لہٰذا ان کے اندر تو مال کے اندر بے تکلفی ہوتی ہے لیکن اور باقی جو محرم رشتہ دار ہیں، ماموں ہے یا پھوپھی وغیرہ ہے یا خالہ ہے، ان کے ساتھ محرمیت والا رشتہ تو ہے لیکن پیدائش والا رشتہ نہیں لہٰذا ان کے ساتھ بھی مال کے اندر بے تکلفی نہیں ہوتی لہٰذا ان میں سے کسی کی باندی کے ساتھ کوئی صحبت کرے اور کہے میرا تو یہ خیال تھا یہ میرے لیے حلال ہے پھر بھی اس پر حد جاری کی جائے گی، اسی وجہ سے جو صاحبِ ہدایہ نے بیان کر دی کہ ان کے درمیان مال کے اندر بے تکلفی نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا سَائِرُ الْمَحَارِمِ“ اور اسی طرح باقی محرم بھی ہیں ”سِوَى الْوِلَادِ“ ولادت کے علاوہ جن کے ساتھ محرمیت ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ ان کے ساتھ ولادت والا رشتہ نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی، حل ہو گیا، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔