Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-061

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 70
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی! ”وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ، وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ طُلِّقَتْ وَاحِدَةً، وَالْأَصْلُ أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ تَكَلُّمٌ بِالْحَاصِلِ بَعْدَ الثُّنْيَا هُوَ الصَّحِيحُ، وَمَعْنَاهُ أَنَّهُ تَكَلُّمٌ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“۔ گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خاوند اپنی بیوی کو طلاقیں دے اور پھر وہ عورت بعد میں کسی اور شخص سے نکاح کر لے اور پھر وہ دوسرا خاوند بھی اس کو چھوڑ دے یا اس کا انتقال ہو جائے اور اس نے پھر پہلے خاوند سے نکاح کر لیا، تو درمیان میں دوسرا خاوند آیا۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہ دوسرا خاوند پہلے خاوند کی تمام طلاقوں کو گرا دے گا اور اب جب دوبارہ یہ پہلے خاوند کے پاس آئی ہے تو یہ پھر تین طلاقوں کا مالک ہو گیا، چاہے اس نے پہلے ایک طلاق دی تھی، چاہے دو دی تھیں اور چاہے تین دی تھیں، تو دوسرا خاوند ان سب کو گرا دے گا اور یہ پہلا خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بن جائے گا۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر پہلے خاوند نے تین طلاقیں دی تھیں تو دوسرا خاوند جو ہے وہ ان تین کو تو گرا دے گا اور پہلا اب جب نکاح کرے گا تو وہ دوبارہ تین طلاقوں کا مالک ہو گا، لیکن اگر پہلے خاوند نے ایک یا دو طلاقیں دی تھیں تو دوسرا خاوند ان ایک یا دو طلاقوں کو نہیں گرائے گا، لہٰذا جب یہ پھر پہلے خاوند کے پاس آئے گی تو وہ صرف باقی طلاقوں کا مالک ہو گا۔ اگر اس نے پہلے ایک دی تھی تو اب یہ صرف دو طلاقوں کا مالک ہے تمام زندگی، اور اگر پہلے اس نے دو دی تھیں تو اب یہ صرف ایک طلاق کا مالک ہے تمام زندگی۔ اور پھر بتلایا کہ صورتِ مسئلہ یہ، ایک شخص نے اپنی بیوی کی تینوں طلاقوں کو معلق کر دیا: ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں۔ اور پھر اس کے بعد وہ تین طلاقیں معلق تھیں اور ادھر خاوند نے اس کو مثلاً دو طلاقیں دے دیں اور پھر یہ عورت بائنہ ہوئی، اس نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور پھر دوبارہ پہلے خاوند کے پاس آئی، تو ابھی بھی تعلیق موجود ہے، لہٰذا یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو شیخین کے نزدیک خاوند دوبارہ تین طلاقوں کا مالک بنا تھا تو وہ تینوں واقع ہو جائیں گی، کیونکہ اس نے تعلیق بھی کیا کی تھی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں، تو تینوں واقع ہو جائیں گی۔ جبکہ امام محمد اور امام زفر رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اب پہلا خاوند صرف باقی طلاقوں کا مالک ہے اور پہلے دو دی تھیں تو اب ایک کا مالک ہے اور یہ عورت جب اس گھر کے اندر جائے گی تو یہ ایک طلاق بھی واقع ہو جائے گی، یعنی تینوں پوری ہو گئیں۔ تعلیق بھی کتنے کی کی تھی؟ تین کی، اور تین میں سے تو دو یہ پہلے ہی دے چکا تھا، ایک اب رہ گئی تھی تو یہ ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے اسی طرح تعلیق کی کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے تین طلاقیں ہیں اور پھر خاوند نے تینوں طلاقیں دے دیں بعد میں، وہ تو اسی طرح معلق ہیں، یہ تین اس نے منجز طلاقیں دے دیں اور پھر اس عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کیا اور پھر اس کا انتقال ہوا، یہ پھر پہلے خاوند کے پاس آ گئی، تو اس صورت کے اندر اب اگر عورت اس گھر میں جائے گی تو ہمارے نزدیک طلاقیں واقع نہیں ہوں گی، اس لیے کیونکہ خاوند نے جو طلاقیں معلق کی تھیں وہ گزشتہ ملکیت کی طلاقیں تھیں بھئی! اور یہ تو نئی ملکیت ہے، لہٰذا یہاں طلاق واقع نہیں ہو گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ خاوند نے مطلق تین طلاقوں کو معلق کیا تھا، لہٰذا اب بھی یہ عورت اس گھر میں جائے گی تو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے ”فَصْلٌ فِي الِاسْتِثْنَاءِ“ ذکر فرمائی بھئی! میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ جو استثناء ہے یا اسی طرح جو تعلیق ہے، یہ بیانِ تغيیر ہیں۔ جب خاوند ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہتا ہے تو فوراً طلاق واقع ہو جاتی ہے، لیکن اگر اسی کے ساتھ آگے وہ تعلیق کر دے ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ تو دیکھو ”إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ نے ماقبل کے سارے کلام کو بدل دیا۔ اب وہ طلاق واقع نہیں ہو رہی بلکہ معلق ہو گئی ہے، جب اس گھر میں جائے گی تب واقع ہو گی۔ تو یہ جو تعلیق ہے یہ بیانِ تغییر ہے بھئی! تعلیق یہ بیانِ تغییر ہے اور اسی طرح استثناء یہ بھی بیانِ تغییر ہے، مثلاً میں کہتا ہوں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ میرے پاس وہ لوگ آئے تھے اور اس سے مراد پانچ افراد ہیں اور ان میں سے ایک زید بھی ہے۔ تو جب میں نے کہا ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ میرے پاس آئے تھے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ زید بھی آیا تھا، لیکن اگر میں استثناء لے آؤں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“ وہ لوگ میرے پاس آئے تھے سوائے زید کے، تو اب معلوم ہوا زید ماقبل کے حکم میں داخل نہیں۔ تو دیکھو اس استثناء نے بھی ماقبل کلام کو بدل دیا۔ صرف ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ ہوتا تو معنی تھا وہ پانچوں افراد آئے ہیں، لیکن ”إِلَّا زَيْدًا“ نے کیا کیا؟ اس کو بدل دیا کہ بتلا دیا کہ ”الْقَوْمُ“ سے مراد یہاں وہ پانچوں افراد نہیں ہیں بلکہ زید کے علاوہ باقی چار افراد مراد ہیں۔ لہٰذا استثناء بھی بیانِ تغییر ہے، البتہ فرق یہ ہے کہ تعلیق جو ہے وہ ماقبل کے کل کو بدل دیتی ہے اور استثناء ماقبل کے جز کو بدلتا ہے، سارے کو نہیں بدلتا بھئی! اور پھر میں نے آپ کو بتلایا کہ استثناء دو قسم پر ہے: ایک استثناءِ اصطلاحی اور ایک استثناءِ عرفی۔ استثناءِ اصطلاحی یہ ہے کہ ”إِلَّا“ اور اس کے اخوات کے ذریعے کسی فرد کو ماقبل افراد کے حکم سے نکال دیا جائے، جیسے ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“، القوم کی طرف مجیئت کے حکم کی نسبت کی گئی تھی کہ یہ لوگ آئے ہیں لیکن زید کو اس میں سے نکال لیا گیا کہ آنے کی نسبت زید کی طرف نہیں ہے، وہ نہیں آیا ہے باقی آئے ہیں۔ تو اس کو استثناءِ اصطلاحی کہتے ہیں جو آپ علمِ نحو میں پڑھ چکے ہیں۔ جبکہ دوسرا استثناءِ عرفی ہے۔ میں نے بتلایا تھا کہ عرف جو ہے وہ عام لوگوں کی عادت کو کہتے ہیں، یعنی عام عرب لوگ جو ہیں ان کی عادت میں استثناء ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ کو کہتے ہیں۔ کلام میں کیا کہہ دینا؟ ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ کہنا، اس کو وہ استثناء کہتے ہیں۔ تو یہ استثناءِ عرفی ہے بھئی! تو یہاں پر چند مسائل استثناءِ عرفی کے بیان فرمائے صاحبِ ہدایہ نے اور اب آگے وہ استثناءِ اصطلاحی کو بھی بیان فرمائیں گے۔ استثناءِ عرفی کی مثال مثلاً ایک شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ تو علماء اور فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ طلاق لغو چلی گئی، یہ واقع نہیں ہو گی، وجہ یہ کہ خاوند نے طلاق کو معلق کر دیا ہے اللہ تعالیٰ کی مشیت اور اللہ کی چاہت کے ساتھ اور اللہ کی مشیت کا تو پتہ نہیں چل سکتا اور جب شرط کا پتہ نہ چل سکے تو جزا بھی واقع نہیں ہوتی بھئی! جزا تو تب ہی واقع ہو گی جب شرط کا یقینی طور پر علم ہو سکے بھئی! تو لہٰذا یہ ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ نے اس طلاق کو لغو کر دیا، ہاں لیکن اس ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ کا ماقبل کلام کے ساتھ ملا ہوا ہونا ضروری ہے، درمیان میں خاوند سکوت نہ کرے، خاموشی اختیار نہ کرے، اگر وہ خاموشی اختیار کر لیتا ہے مثلاً ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا پھر خاموش ہوا، پھر چند لمحوں بعد کہتا ہے ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ تَعَالَىٰ“ تو نہیں اب یہ ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ اس طلاق کو لغو نہیں کر سکتا، وجہ یہ کہ جب اس نے ”أَنْتِ طَالِقٌ“ کہا اور خاموش ہو گیا تو فوراً طلاق واقع ہو گئی اور اب چند لمحوں کے بعد وہ دوبارہ ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ کہہ کر اس طلاق سے رجوع کرنا چاہتا ہے اور حالانکہ جب طلاق ایک دفعہ واقع ہو جائے تو اس میں رجوع نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں، لہٰذا سکوت کے بعد ”إِنْ شَاءَ اللّٰهُ“ کہا جائے تو یہ ماقبل والے کلام کو باطل نہیں کرے گا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی؟ جی، اب آئیے آج کے سبق پر بھئی! ”وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ، وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ طُلِّقَتْ وَاحِدَةً“۔ بھئی! اب صورت یہ ہے کہ خاوند بیوی کو طلاق دیتا ہے اور ساتھ استثناء کو ذکر کرتا ہے اور استثناء تو بیانِ تغییر ہے جو ماقبل کو بدل دیتا ہے۔ مثلاً خاوند بیوی سے کہتا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ تو دیکھو تین طلاقوں میں سے ایک کا استثناء کر دیا، جب ایک کا استثناء کیا تو باقی کتنی طلاقیں بچ گئیں؟ دو طلاقیں، تو دو طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ“ اب دو کا استثناء کر دیا، تو جب دو کا استثناء کر دیا جائے تین سے تو باقی ایک طلاق بچتی ہے، لہٰذا ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ ایک طلاق واقع ہو جائے گی بھئی! تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ“ اور اگر خاوند نے کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ دیکھو یہ استثناءِ اصطلاحی آ گیا بھئی! ”إِلَّا“ اور اس کے اخوات کے ذریعے بعض افراد کو ماقبل کے حکم سے نکال لینا، اس کو کیا کہتے ہیں؟ استثناء بھئی! تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا تجھے تین طلاقیں ہیں ”إِلَّا وَاحِدَةً“ مگر ایک، یعنی ایک کا استثناء کر لیا ”طُلِّقَتْ ثِنْتَيْنِ“ تو اس عورت کو دو طلاقیں ہو جائیں گی، ”وَإِنْ قَالَ أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ“ اور اگر کہا تجھے تین طلاقیں ہیں مگر دو، یعنی دو کا استثناء کر لیا ”طُلِّقَتْ وَاحِدَةً“ تو اس عورت کو ایک طلاق ہو جائے گی، ”وَالْأَصْلُ“ اور اصل یہ ہے، اب ضابطے ذکر فرمائیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آگے تین ضابطے ذکر فرمائیں گے اور ان تین ضابطوں کو جب آپ ملائیں گے تو اس سے پتہ چل جائے گا کہ پہلی صورت میں دو طلاقیں ہوئی ہیں اور دوسری صورت میں ایک طلاق ہوئی ہے۔ یہ جو دو صورتیں ذکر کر دیں متن کے اندر، پہلی صورت کیا تھی؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ ایک کا استثناء کیا، اور دوسری صورت کیا تھی؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ“ دو کا استثناء کیا، تو ان کے بارے میں ضابطے بتلائیں گے۔ دیکھیے بھئی! کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ“ اور اصل یہ ہے یعنی ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ تَكَلُّمٌ بِالْحَاصِلِ بَعْدَ الثُّنْيَا“ کہ استثناء جو ہے وہ تکلم بالحاصل ہے ”بَعْدَ الثُّنْيَا“ أي بعد الاستثناء، ثنیا کا کیا معنی؟ استثناء بھئی! تو استثناء جو ہے وہ تکلم بالحاصل کا نام ہے بعد الثنیا استثناء کے بعد، یعنی استثناء کے بعد جو باقی بچ جائے اس پر تکلم کا نام ہے۔ اس پر تکلم کا نام ہے۔ مثلاً ایک شخص کسی سے کہتا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ فلاں کے مجھ پر دس درہم ہیں ”إِلَّا تِسْعَةً“ مگر نو، تو دس میں سے نو کا استثناء کیا معلوم ہوا ایک درہم ہے اس شخص پر۔ یہ کیا ہے؟ اس شخص پر کیا ہے؟ ایک درہم ہے۔ تو اس شخص کا یہ کلام، دیکھو توجہ سے سنو: ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ یوں کہہ دے تب بھی اس شخص پر ایک درہم ہے اور اگر سیدھا یوں کہہ دے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ فلاں کا مجھ پر ایک درہم ہے تو دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دونوں میں ایک میں عشرہ سے تسعہ کا استثناء کر رہا ہے اور اس صورت میں بھی باقی کیا بچتا ہے؟ ایک، اور ایک سیدھا ایک ہی کو ذکر کر دیتا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ تو دونوں کلاموں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ معلوم ہوا استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے۔ استثناء تکلم بالباقی کا، یعنی مستثنیٰ منہ میں سے مستثنیٰ کو نکال دیا جائے، جو إلا سے پہلے آئے وہ کیا ہے؟ مستثنیٰ منہ، جو إلا کے بعد آئے وہ کیا ہے؟ مستثنیٰ، تو مستثنیٰ منہ میں سے مستثنیٰ کو نکال دیا جائے تو جو باقی بچتا ہے گویا متکلم اس پر کلام کر رہا ہے۔ اور دس میں سے نو نکال دیں تو کتنے بچ گئے؟ ایک، تو گویا متکلم یوں کہہ رہا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“۔ کہا تو اس نے یہ ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ مگر یوں ہی سمجھیں اس نے کیا کہا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ کیونکہ استثناء کس چیز کا نام ہے؟ تکلم بالباقی کا نام ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلا ضابطہ یہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ“ اور اصل یہ ہے ضابطہ یہ ہے ”أَنَّ الِاسْتِثْنَاءَ تَكَلُّمٌ بِالْحَاصِلِ بَعْدَ الثُّنْيَا“ کہ استثناء جو ہے وہ تکلم بالباقی ہے استثناء کے بعد ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ یہی قول صحیح ہے، یہ دراصل رد کر رہے ہیں بعض علماء کے قول کو صاحبِ ہدایہ۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ استثناء جو ہے اگر اثبات سے استثناء کیا جائے تو یہ نفی ہے۔ کس سے؟ اثبات سے استثناء کیا جائے تو یہ نفی ہے اور نفی سے استثناء کیا جائے تو یہ اثبات ہے۔ مثلاً دیکھو میں آپ سے کہتا ہوں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ میرے پاس آئے تھے، مثلاً پانچ افراد کی ایک جماعت ہے اور ان میں زید بھی شامل ہے، وہ لوگ میرے پاس آئے تھے۔ اب دیکھو یہاں پر نفی نہیں ہے، آنے کا ذکر ہے، آنے کی نفی نہیں ہے یہاں پر، توجہ ہے؟ تو ”جَاءَنِي الْقَوْمُ“ میں اثبات ہے ان لوگوں کے آنے کا اثبات ہے، اس سے میں استثناء کرتا ہوں ”جَاءَنِي الْقَوْمُ إِلَّا زَيْدًا“ میرے پاس وہ لوگ آئے مگر زید، معلوم ہوا ماقبل میں اثبات ہے تو یہ استثناء جو آیا ”إِلَّا“ اس کے ذریعے کیا کر رہا ہوں میں؟ مابعد کی نفی کر رہا ہوں۔ معلوم ہوا زید نہیں آیا ہے بھئی! باقی سارے آئے لیکن زید نہیں آیا، تو اثبات کے بعد استثناء کس لیے آتا ہے؟ نفی کے لیے۔ اور اگر ماقبل میں نفی ہے تو إلا کے مابعد اثبات ہو گا، مثلاً میں کہتا ہوں ”مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ میرے پاس نہیں آئے تھے، اس سے پتہ چلا کہ معلوم ہوا زید بھی نہیں آیا ہو گا کیونکہ زید بھی انہی میں سے ایک ہے، لیکن آگے میں فوراً کہتا ہوں ”إِلَّا زَيْدًا“ سوائے زید کے، تو ”مَا جَاءَنِي الْقَوْمُ“ وہ لوگ میرے پاس نہیں آئے ”إِلَّا زَيْدًا“ سوائے زید کے، تو دیکھو ماقبل میں نفی ہے اور إلا کے بعد زید کا اثبات ہے، معلوم ہوا زید آیا ہے اور باقی نہیں آئے۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ استثناء اثبات سے کیا جائے تو وہ نفی ہے اور نفی سے استثناء کیا جائے تو وہ اثبات ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے ان کے قول کو رد کر دیا کہ نہیں استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے۔ استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے، یعنی ماقبل میں سے مستثنیٰ کو نکال دیں تو جو باقی بچ گئے اس پر گویا متکلم تکلم کر رہا ہے، جیسے ایک شخص نے کیا کہا ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ تو دس میں سے نو کا استثناء کرنے کتنا بچا؟ ایک، تو گویا کہنے والے نے یوں ہی کہا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ بھئی! بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی صحیح ہے کہ استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے ”وَمَعْنَاهُ“ اور معنی اس کا یہ ہے ”أَنَّهُ تَكَلُّمٌ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ کہ یہ تکلم بالمستثنیٰ منہ ہے، بھئی دیکھو إلا سے جو پہلے آئے وہ ہے مستثنیٰ منہ، اور إلا کے بعد جو آئے وہ ہے مستثنیٰ۔ اور استثناء کس چیز کا نام ہے؟ ابھی آپ کو بتایا کہ مستثنیٰ منہ میں سے مستثنیٰ کو نکال دیں جو باقی بچے استثناء اس پر تکلم کا نام ہے۔ توجہ ہے؟ استثناء جو ہے وہ مستثنیٰ منہ پر تکلم نہیں ہے، مستثنیٰ منہ سے جو باقی بچ جائے اس پر تکلم ہے۔ جیسے وہ شخص کیا کہتا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ تو مستثنیٰ منہ کیا ہے؟ عشرۃ، عشرۃ، اور اس میں سے استثناء کس کا کیا؟ تسعۃ یعنی نو کا، تو باقی کیا بچا؟ ایک، تو گویا ایک پر اس نے تکلم کیا ہے۔ لیکن صاحبِ ہدایہ تو فرما رہے ہیں ”أَنَّهُ تَكَلُّمٌ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ کہ استثناء جو ہے یہ مستثنیٰ منہ پر تکلم کا نام ہے، کس پر؟ ہاں استثناء مستثنیٰ منہ پر تکلم کا نام ہے کہ گویا کہنے والے نے مستثنیٰ منہ کو ذکر کیا ہے، حالانکہ مستثنیٰ منہ تو یہاں عشرۃ تھا اور حالانکہ اس شخص پر کتنا واجب ہے اس صورت میں؟ جب اس نے کہا ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ تو کتنے واجب ہوئے؟ ایک درہم واجب ہوا کیونکہ دس میں سے نو کا استثناء کریں تو ایک بچتا ہے۔ تو استثناء کس چیز کا نام ہے؟ تکلم بالمستثنیٰ منہ کا نام ہے یا وہ جو باقی من المستثنیٰ منہ ہے اس کا نام ہے؟ جو باقی من المستثنیٰ منہ ہے، تو لہٰذا یہاں جو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”أَنَّهُ تَكَلُّمٌ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ کہ استثناء جو ہے وہ تکلم بالمستثنیٰ منہ کا نام ہے، مراد اس سے وہی ہے جو وہ پیچھے بیان کر چکے کہ یہ استثناء جو ہے یہ تکلم بالباقی من المستثنیٰ منہ، تکلم ہے وہ جو باقی ہے مستثنیٰ منہ سے اس کا نام ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبِ ہدایہ عبارت مختصر لائے، مراد ان کی وہی ہے کہ مستثنیٰ منہ میں سے جو باقی ہے اس پر تکلم کا نام ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَاهُ“ اور معنی اس کا یہ ہے ”أَنَّهُ تَكَلُّمٌ بِالْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ کہ استثناء جو ہے یہ تکلم ہے وہ جو باقی ہے مستثنیٰ منہ میں سے اس پر تکلم کا نام ہے ”إِذْ لَا فَرْقَ بَيْنَ قَوْلِ الْقَائِلِ لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ اس لیے کیونکہ کسی کہنے والے کے اس قول ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ فلاں کا مجھ پر ایک درہم ہے ”وَبَيْنَ قَوْلِهِ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ اور اس کے یہ کہنے میں کہ فلاں کے مجھ پر دس درہم ہیں ”إِلَّا تِسْعَةً“ سوائے نو کے، ان دونوں قولوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ کہہ دے یا ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ کہہ دے دونوں میں کوئی فرق نہیں، دونوں صورتوں میں متکلم پر ایک درہم واجب ہو گا، وہ ایک درہم کا اقرار کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ لَا فَرْقَ بَيْنَ قَوْلِ الْقَائِلِ لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ وَبَيْنَ قَوْلِهِ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ کیونکہ کوئی فرق نہیں ہے کسی کہنے والے کے اس قول ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ اور اس کے قول ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ کے درمیان ”فَيَصِحُّ اسْتِثْنَاءُ الْبَعْضِ مِنَ الْجُمْلَةِ“ تو لہٰذا صحیح ہے بعض کا استثناء کرنا مجموعے میں سے۔ یہ دوسرا ضابطہ آ گیا، پہلا ضابطہ کیا؟ کہ استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے۔ استثناء تکلم بالباقی من المستثنیٰ منہ، مستثنیٰ منہ میں سے جو باقی بچ جائے اس پر تکلم کا نام ہے۔ اب دوسرا ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں کہ لہٰذا کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں کیونکہ کل کا جب کل سے استثناء ہو جائے گا، ماقبل میں بھی عشرہ ذکر، استثناء بھی عشرہ کا کر رہا ہے تو باقی تو کچھ بچا ہی نہیں۔ ایک آدمی کہتا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا عَشَرَةً“ فلاں کے مجھ پر دس درہم ہیں مگر دس درہم، تو یہ تو کل میں سے کل کا استثناء کر رہا ہے، تو کل میں سے جب کل نکال لیں گے تو باقی کچھ بچا ہی نہیں اور استثناء تو کس چیز کا نام تھا؟ تکلم بالباقی کا، تو یہاں باقی بچا ہی نہیں کس پر اس نے تکلم کیا ہے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں، ہاں کل سے بعض کا استثناء صحیح ہے تاکہ کچھ باقی بچ جائے جس کے بارے میں ہم کہہ سکیں کہ یہ متکلم نے اس پر کلام کیا ہے، اس پر اس نے تکلم کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَيَصِحُّ اسْتِثْنَاءُ الْبَعْضِ مِنَ الْجُمْلَةِ“ تو لہٰذا مجموعے میں سے بعض کا استثناء صحیح ہے ”لِأَنَّهُ يَبْقَى التَّكَلُّمُ بِالْبَعْضِ بَعْدَهُ“ اس لیے کیونکہ مجموعے میں سے بعض کا جب استثناء کر لیا جائے تو اس صورت میں بھی تکلم بالبعض باقی رہ جاتا ہے ”بَعْدَهُ“ أي جب آپ کیا کر دیں؟ کل میں سے بعض کا استثناء کر دیں تو اس کے بعد بھی کچھ نہ کچھ تو باقی بچ جاتا ہے لہٰذا تکلم بالبعض باقی رہے گا بھئی! بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَيَصِحُّ اسْتِثْنَاءُ الْبَعْضِ مِنَ الْجُمْلَةِ“ لہٰذا مجموعے میں سے بعض کا استثناء صحیح ہے ”لِأَنَّهُ يَبْقَى التَّكَلُّمُ بِالْبَعْضِ بَعْدَهُ“ اس لیے کیونکہ مجموعے میں سے بعض کا استثناء کرنے کے بعد بھی تکلم بالبعض باقی رہتا ہے ”وَلَا يَصِحُّ اسْتِثْنَاءُ الْكُلِّ مِنَ الْكُلِّ“ اور کل کا استثناء کل سے یہ صحیح نہیں ”لِأَنَّهُ لَا يَبْقَى بَعْدَهُ شَيْءٌ“ اس لیے کیونکہ اس کے بعد کوئی چیز باقی نہیں رہتی ”لِيَصِيرَ مُتَكَلِّمًا بِهِ“ تاکہ وہ شخص اس پر کلام کرنے والا ہو جائے ”وَصَارِفًا لِلَّفْظِ إِلَيْهِ“ اور لفظ کو اس کی طرف پھیرنے والا ہو جائے۔ بھئی ایک شخص نے جب یوں کہا تھا ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا تِسْعَةً“ تو یہاں باقی ایک بچ گیا تھا گویا کہنے والے نے یوں کہا ہے ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“۔ ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ دِرْهَمٌ“ کہا ہے لیکن اگر کل کا کل سے استثناء کرے گا تو باقی تو کچھ بچا ہی نہیں جس کی طرف لفظ کو پھیرا جائے اور یوں کہا جائے اس نے یہ کہا ہے۔ وہاں تو کچھ بچا ہی نہیں ”لِفُلَانٍ عَلَيَّ عَشَرَةٌ إِلَّا عَشَرَةً“، باقی تو کچھ بچا ہی نہیں جس پر اس نے کلام کیا ہو، لہٰذا کل کا کل سے استثناء صحیح نہیں۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا يَبْقَى بَعْدَهُ شَيْءٌ“ اس لیے کیونکہ کل کا کل سے استثناء کرنے کے بعد کوئی چیز باقی نہیں بچتی ”لِيَصِيرَ مُتَكَلِّمًا بِهِ“ تاکہ وہ شخص اس پر تکلم کرنے والا ہو جائے ”وَصَارِفًا لِلَّفْظِ إِلَيْهِ“ اور لفظ کو اس کی طرف پھیرنے والا ہو جائے۔ ”وَإِنَّمَا يَصِحُّ الِاسْتِثْنَاءُ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِهِ“ یہ تیسرا ضابطہ آ گیا کہ استثناء صحیح ہوتا ہے ”إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِهِ“ جب وہ ماقبل کے ساتھ ملا ہوا ہو۔ ماقبل کلام کے ساتھ ملا ہوا ہو، اگر اس کے ساتھ ملا نہیں ہے جدا ہے پھر بھی استثناء صحیح نہیں۔ تو تین ضابطے ہو گئے۔ تین ضابطے ہو گئے۔ پہلا ضابطہ کیا؟ کہ استثناء تکلم بالباقی کا نام ہے۔ دوسرا کہ بعض کا استثناء تو کل سے صحیح ہے لیکن کل کا استثناء کل سے صحیح نہیں۔ اور تیسرا ضابطہ کہ استثناء کو ماقبل کے ساتھ ملا ہوا ہونا چاہیے، درمیان میں فصل نہ ہو، سکوت نہ ہو بھئی! تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَصِحُّ الِاسْتِثْنَاءُ إِذَا كَانَ مَوْصُولًا بِهِ“ اور استثناء صحیح ہو گا جب وہ اس مستثنیٰ منہ کے ساتھ ملا ہوا ہو ”كَمَا ذَكَرْنَا مِنْ قَبْلُ“ جیسے کہ ہم نے پہلے ذکر کر دیا کہ اگر درمیان میں فصل آئے گا پھر تو یہ گویا رجوع کرنا چاہتا ہے اور طلاق میں تو رجوع نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا“ اور جب یہ بات ثابت ہو گئی یعنی یہ تینوں ضابطے ثابت ہو گئے ”فَفِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ“ تو پہلی فصل میں یعنی پہلی صورت میں وہ جو متن میں دو مسئلے ذکر کیے تھے، پہلی صورت کیا؟ خاوند نے بیوی سے کیا کہا؟ ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ کہ تجھے تین طلاقیں ہیں مگر ایک، تو دیکھو یہاں پر مستثنیٰ منہ کیا ہے؟ تین، ثلاثاً، اور مستثنیٰ کیا ہے؟ واحد، ایک، اور تین میں سے ایک کو نکال دیں تو کتنا بچا؟ دو، لہٰذا یہاں دو طلاقیں واقع ہوں گی۔ یہاں دو طلاقیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا ثَبَتَ هَذَا فَفِي الْفَصْلِ الْأَوَّلِ“ جب یہ بات ثابت ہو گئی تو پہلی فصل کے اندر ”الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ ثِنْتَانِ“ مستثنیٰ منہ دو ہیں۔ بھئی مستثنیٰ منہ تو وہاں تین ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا وَاحِدَةً“ تو مستثنیٰ منہ کیا؟ تین، اور صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں کہ مستثنیٰ منہ دو ہیں، تو جواب یہ کہ صاحبِ ہدایہ مختصر عبارت لے کر آئے ہیں، ان کے کہنے کا وہی مطلب ہے جو اوپر بھی انہوں نے ذکر کیا تھا، اوپر بھی مستثنیٰ منہ ذکر کیا اور مراد کیا تھا؟ ”مَا بَقِيَ مِنَ الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“، ”مَا بَقِيَ مِنَ الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ“ تو یہاں پر بھی ما بقیہ جو مستثنیٰ منہ میں سے ہے وہ مراد ہے، اور تین میں سے ایک کا استثناء ہو گیا تو ما بقیہ کتنا ہوا؟ دو، تو وہی بیان کر رہے ہیں کہ پہلی فصل کے اندر ”الْمُسْتَثْنَى مِنْهُ ثِنْتَانِ“ کہ مستثنیٰ منہ دو ہیں، یعنی وہ جو اس میں سے باقی بچ گیا ہے، کس میں سے؟ مستثنیٰ منہ میں سے جو باقی بچ گیا ہے وہ دو ہے ”فَيَقَعَانِ“ تو وہ دونوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی، ”وَفِي الثَّانِي“ اور دوسری فصل میں، دوسری صورت کیا تھی؟ خاوند نے کیا کہا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثِنْتَيْنِ“ تو یہاں مستثنیٰ منہ میں سے دو نکال دیں تو کتنا رہ گیا؟ ایک، تو ایک طلاق واقع ہو گی، تو کہتے ہیں: ”وَفِي الثَّانِي وَاحِدَةٌ“ اور دوسری صورت کے اندر وہ جو مستثنیٰ منہ سے باقی ہے وہ ایک ہے ”فَيَقَعُ وَاحِدَةٌ“ تو ایک طلاق واقع ہو جائے گی۔ ”وَلَوْ قَالَ إِلَّا ثَلَاثًا“ اور اگر خاوند نے ”إِلَّا ثَلَاثًا“ کہا یعنی کل سے کل کا استثناء کیا ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثَلَاثًا“، مستثنیٰ منہ بھی ثلاثاً اور مستثنیٰ بھی ثلاثاً، تو یہ تو استثناء وہ کر رہا ہے کل کا کل سے اور کل کا تو کل سے استثناء صحیح نہیں، دوسرے لفظوں میں یوں کہو اس نے کہا ہے ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا“ تجھے تین طلاقیں ہیں اور ”إِلَّا ثَلَاثًا“ کے ذریعے اب وہ ان تینوں سے رجوع کرنا چاہتا ہے، کیا کرنا چاہتا ہے؟ رجوع، اور طلاق کے اندر تو رجوع ہو نہیں سکتا، تو لہٰذا یہاں جب کل کا کل سے استثناء کیا تو یہ صحیح نہیں ہے، لہٰذا استثناء تو لغو ہو گیا اور وہ تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں بھئی! تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ قَالَ إِلَّا ثَلَاثًا“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا ”إِلَّا ثَلَاثًا“ یعنی ”أَنْتِ طَالِقٌ ثَلَاثًا إِلَّا ثَلَاثًا“ کہا ”يَقَعُ الثَّلَاثُ“ تو تینوں طلاقیں واقع ہو جائیں گی ”لِأَنَّهُ اسْتِثْنَاءُ الْكُلِّ مِنَ الْكُلِّ“ اس لیے کیونکہ یہ کل کا کل سے استثناء ہے ”فَلَمْ يَصِحَّ الِاسْتِثْنَاءُ“ تو یہ استثناء صحیح نہیں ”وَاللّٰهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ ”بَابُ طَلَاقِ الْمَرِيضِ“ یہ باب ہے مریض کی طلاق کے بیان میں۔ یاد رکھو مریض سے یہاں عام مریض مراد نہیں بلکہ وہ شخص مراد ہے جو مرض الموت میں مبتلا ہو۔ جو کس میں مبتلا ہو؟ مرض الموت میں مبتلا ہو، یاد رکھو جب کوئی شخص مرض الموت میں مبتلا ہوتا ہے تو وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔ اب یہ شخص دنیا سے جانے والا ہے اور اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہونے والا ہے، لہٰذا وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا۔ اور مرض الموت کا پتہ کیسے چلے گا؟ تو کہتے ہیں مرض الموت کی کچھ علامتیں تو ہیں، مثلاً کوئی شخص زیادہ ہی بیمار ہو گیا، بستر سے لگ گیا، اب اس کے لیے اٹھنا، چلنا پھرنا اور کام کرنا صحت مند لوگوں کی طرح مشکل ہو گیا اور اس کی حالت بگڑتی جا رہی ہے تو معلوم ہوا یہ مرض الموت ہے۔ اس کا قطعی طور پر پتہ موت سے ہی چلے گا، اسی بیماری سے یہ آدمی مر گیا تو ہم کہیں گے یہ سارا مرض الموت تھا۔ لیکن اگر یہ شخص تندرست ہو گیا تو پھر اس کو مرض الموت شمار نہیں کریں گے۔ اور پھر یاد رکھنا کہ انسان صحت کی حالت میں ہو تو اپنے سارے مال میں جس طرح چاہے وہ تصرف کر سکتا ہے، وہ اپنے سارے مال کو آگ لگانا چاہتا ہے لگا سکتا ہے، وہ اپنا سارا مال کسی کو دینا چاہتا ہے وہ سارا دے سکتا ہے، لیکن جب مرض الموت میں گرفتار ہو گیا اب وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا، لہٰذا اب یہ سارے مال میں تصرف نہیں کر سکتا۔ زیادہ سے زیادہ ثلث میں تصرف کر سکتا ہے یعنی کسی کے لیے وصیت کرتا ہے تو وصیت ثلثِ مال تک دی جاتی ہے اس سے زیادہ نہیں بھئی! کیونکہ اس سے باقی مال میں وارثوں کا حق ہے بھئی! ہاں اگر وارث اجازت دے دیں پھر سارے مال کی وصیت بھی وہ کسی کے لیے کر سکتا ہے کیونکہ مانع کیا تھا؟ وارثوں کا حق بھئی! اور جب انہوں نے خود اجازت دے دی تو انہوں نے خود اپنا حق ساقط کر دیا، تو اب سارے مال کی وصیت بھی کوئی شخص کسی کے لیے کر سکتا ہے۔ اور پھر یاد رکھو، جب کسی شخص کا انتقال ہوتا ہے اس کے مال میں سے سب سے پہلے کفن دفن کا انتظام کیا جاتا ہے، اس کے بعد جو مال بچ جائے اس کے ذریعے اس کے قرضے ادا کیے جائیں گے، چاہے سارا مال ہی قرضوں میں کیوں نہ ختم ہو جائے ساری ادائیگی کی جائے گی تاکہ اس شخص کی آخرت کی منزلیں آسان ہو جائیں۔ تو لہٰذا قرضے ادا کریں گے چاہے سارا مال ہی ختم کیوں نہ ہو جائے، لیکن اگر قرضے نہیں تھے یا تھوڑے تھے باقی مال بچ گیا تو پھر جتنا بچ گیا اس کے ثلث میں وصیت نافذ کریں گے تیسرے حصے میں، اگر اس نے کوئی وصیت کی، اور پھر جو باقی مال بچے گا وہ وارثوں کے درمیان تقسیم ہو گا۔ لہٰذا معلوم ہوا ایک شخص کسی کے لیے اقرار کرتا ہے کہ میں نے فلاں کے اتنے پیسے دینے ہیں، فلاں کے اتنے پیسے دینے ہیں، اس سے میں نے کسی زمانے میں اتنے پیسے لیے تھے، تو صحت کی حالت میں یہ اقرار کرے گا تو وہ پیسے اس پر لازم ہیں دینے پڑیں گے، لیکن اگر مرض الموت کے اندر کوئی شخص یہ اقرار... ...کرتا ہے، تو پھر اس صورت میں یہ بھی دین ہو گیا اس شخص کے ذمے تو آ گیا، لیکن یہ دینِ صحت سے کم درجے کا ہے۔ کچھ دیون وہ ہیں جو اس پر صحت کی حالت میں آئے تھے یا جن پر گواہ موجود ہیں، جن پر گواہ موجود ہوں وہ بھی سب دینِ صحت ہیں، چاہے مرض الموت کی حالت میں ہی دین کیوں نہ لیا ہو اس نے، جب اس پر گواہ موجود ہیں تو یہ سب کیا شمار کریں گے؟ دینِ صحت۔ تو دینِ صحت وہ ہے جس پر گواہ موجود ہوں یا اس نے صحت کی حالت میں اس کا اقرار کیا ہو۔ جبکہ اگر مرض الموت میں اس نے ایک دین کا اقرار کیا ہے کہ فلاں کے میں نے اتنے پیسے دینے ہیں اور اس سے پہلے کسی کو اس کا پتہ نہیں تھا، اس پر گواہ وغیرہ موجود نہیں ہیں، تو پھر یاد رکھو یہ دینِ مرض ہے۔ یہ کیا ہے؟ دینِ مرض بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلا دیا کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کرتے ہیں اور پھر دیون ادا کرتے ہیں چاہے سارا مال ہی کیوں نہ ختم ہو جائے۔ لیکن دیون اگر دو قسم کے ہیں، کچھ دینِ صحت ہیں جن کا اقرار اس نے صحت کی حالت میں کیا تھا یا جن پر گواہ موجود ہیں یا جس کا سب کو پتہ تھا، اور کچھ دیونِ مرض ہیں بھئی جو اس نے مرض کی حالت میں، مرض الموت کی حالت میں اقرار کیا اور اس پر کوئی گواہ نہیں، کسی کو اس کا پہلے پتہ نہیں تھا، تو پھر یاد رکھو قرضے تو سارے ہی ادا کرنے ہیں چاہے دیونِ صحت ہوں چاہے دیونِ مرض، لیکن دیونِ صحت کا درجہ پہلے اور دیونِ مرض کا درجہ بعد میں ہے، لہٰذا پہلے دیونِ صحت ادا کریں گے، اگر وہ سارے ادا ہو گئے اور پیسے بچ گئے تو دیونِ مرض بھی سارے ادا کر دیں گے۔ تو یہ تھی مرض الموت کی کچھ تفصیل میں نے بیان کر دی۔ ایک اور ضابطہ یاد رکھنا بھئی، ایک اور ضابطہ، کہ وارث کے لیے نہ وصیت جائز ہے نہ اقرار جائز ہے۔ جن لوگوں نے اس شخص کا وارث بننا ہے ان کے لیے یہ وصیت کرتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد میرے فلاں بیٹے کو دس لاکھ روپے میرے مال میں سے دے دینا، میں اس کے لیے وصیت کرتا ہوں، نہیں۔ وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ وجہ یہ کہ وارثوں کا حق اللہ تعالیٰ نے مقرر کر دیا ہے، اب آپ چاہتے ہو ایک وارث کو زیادہ مال مل جائے؟ نہیں بھئی، آپ کون ہوتے ہیں اس کو زیادہ مال دینے والے؟ سب کے حصے اللہ نے مقرر کر دیے ہیں تو ان کو ان کے مقررہ حصوں کے مطابق ہی ملے گا، تو وارث کے لیے وصیت جائز نہیں۔ اسی طرح یہ بھی یاد رکھنا، وارث کے لیے اقرار بھی نہیں جائز۔ ایک شخص کہتا ہے اپنے کسی وارث کے بارے میں مثلاً فلاں جو بیٹا ہے اس سے میں نے دس لاکھ روپے قرض لیے تھے، یہ اس کو بعد میں ادا کر دینا بھئی، نہیں بھئی، وارث کے لیے اقرار صحیح نہیں ہے۔ تو وارث کے لیے نہ وصیت جائز نہ اقرار جائز ہے بھئی۔ کیونکہ اصل میں دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ شخص کیا کرنا چاہتا ہے؟ اس ایک وارث کو فائدہ زیادہ دینا چاہتا ہے کہ اس کو زیادہ مال مل جائے بھئی، لہٰذا اس اقرار کو کیا کر دیا جائے گا؟ رد کر دیا جائے گا۔ تو وارث کے لیے وصیت بھی جائز نہیں اور اقرار بھی جائز نہیں ہے۔ اصل میں حدیث میں آتا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ“ وارث کے لیے وصیت نہیں ہے، دیکھا، حدیث میں منع آ گیا، وارث کے لیے وصیت نہیں کی جا سکتی، اور وصیت تو زیادہ سے زیادہ کتنے مال کی ہوتی ہے؟ تیسرے حصے کی، تو جب وارث کے لیے وصیت جائز نہیں ہے تو اقرار بطریقِ اولیٰ جائز نہیں ہو گا، کیونکہ اقرار تو دیون میں آ جائے گا اور دیون تو سارا مال بھی چاہے دیون میں چلا جائے دینا پڑتا ہے بھئی۔ تو جب ثلثِ مال کی وصیت اس کے لیے جائز نہیں ہے تو پھر اقرار بطریقِ اولیٰ جائز نہیں ہو گا۔ تو وارث کے لیے نہ وصیت جائز اور نہ اقرار جائز ہے۔ اب دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ”بَابُ طَلَاقِ الْمَرِيضِ“ یہ باب ہے مریض کی طلاق کے بیان میں۔ ”إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ طَلَاقًا بَائِنًا فَمَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ وَرِثَتْهُ، وَإِنْ مَاتَ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَلَا مِيرَاثَ لَهَا“ بھئی یاد رکھو، کوئی شخص اگر مرض الموت میں گرفتار ہو گیا، بستر سے لگ گیا ہے، بہت زیادہ بیمار ہو گیا ہے اور اب سب کو نظر آ رہا ہے اس کا بچنا مشکل ہے، بیماری بڑھتی جا رہی ہے، یہ اپنے کام کاج اب عام لوگوں کی طرح اٹھ کر صحیح طریقے سے نہیں کر سکتا بھئی، یا تو اٹھنا ہی مشکل ہے اگر اٹھتا بھی ہے تو چند قدم ہی بمشکل چل سکتا ہے، تو اب سب کو نظر آ رہا ہے اس کی موت قریب آ گئی ہے۔ اور مرض الموت میں میں نے آپ کو بتلایا وارثوں کا حق مال کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے۔ اب اس مرض الموت کے اندر یہ شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دیتا ہے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ شخص تو ویسے ہی مرنے والا ہے، معلوم ہوا یہ بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے۔ بھئی آپ نے اگر طلاق دینی ہی تھی تو پہلے زندگی میں طلاق دے دیتے، صحت کی حالت میں طلاق دے دیتے، لیکن اب جب آپ کی موت بالکل سامنے آ گئی ہے، قریب آ گئی ہے، تو اب آپ اس کو طلاقِ بائن دے رہے ہیں، معلوم ہوا آپ اس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، لہٰذا شریعت نے اس کے تصرف کو مؤخر کر دیا۔ طلاقِ بائن، یاد رکھو کوئی شخص جب اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے، اگر وہ طلاقِ رجعی دی ہے اور عدت کے اندر اس آدمی کا انتقال ہو جائے تو پھر وہ عورت اس کی وارثہ بنے گی، کیونکہ طلاقِ رجعی سے تو نکاح نہیں ٹوٹتا بھئی، لیکن اگر طلاقِ بائن دے دے کوئی شخص اپنی بیوی کو تو طلاقِ بائن سے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اس کے بعد اگر دوبارہ اس عورت کو رکھنا ہے تو نئے سرے سے نیا نکاح کرنا پڑے گا اور نیا مہر مقرر کرنا پڑے گا، تو طلاقِ بائن سے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، لہٰذا اب اگر عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے یہ عورت وارثہ نہیں بنتی بھئی۔ جس عورت کو خاوند طلاقِ بائن دے دے وہ اس خاوند کی وارثہ نہیں بنتی کیونکہ نکاح ٹوٹ چکا ہے، طلاقِ بائن دیتے ہی نکاح ختم۔ تو لہٰذا یہ شخص جو ہے، یہ مرض الموت میں بیوی کو طلاقِ بائن دے رہا ہے، معلوم ہوا یہ بیوی کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے، اگر طلاق دینی تھی تو پہلے طلاق دے دیتے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ معلوم ہوا یہ شخص کیا کرنا چاہتا ہے؟ بیوی کو نقصان دینا چاہتا ہے، اگر طلاق دینی تھی تو پہلے صحت کی حالت میں آپ دے دیتے، لیکن اس وقت تو اب آپ مرنے والے ہیں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے، چنانچہ اس وجہ سے شریعت نے اس آدمی کے تصرف کو مؤخر کر دیا۔ طلاقِ بائن سے کیا ہوتا تھا؟ عورت جدا ہوتی تھی اور وارثہ نہیں بنتی تھی، تو یہ شخص اس عورت کے حق کو جو باطل کرنا چاہتا ہے وراثت کے اندر، اس کے اس تصرف کو مؤخر کر دیں گے عدت تک۔ جب تک اس عورت کی عدت ہے یہ وارثہ بنے گی اگر خاوند کا انتقال ہو گیا۔ عدت کے اندر اندر اگر خاوند کا انتقال ہوا تو یہ عورت وارثہ بنے گی، اگرچہ خاوند اسے طلاقِ بائن دے چکا ہے اور طلاقِ بائن سے عورت کا حق وراثت میں ساقط ہو جاتا ہے لیکن یہاں اس کو ساقط نہیں کریں گے بلکہ جب عدت پوری ہو جائے گی اور ابھی تک وہ شخص زندہ ہے پھر اس کا حق ساقط ہو گیا، اب تو عدت بھی گزر گئی، اب تو عدت بھی گزر گئی لہٰذا اب وہ عورت وارثہ نہیں بنے گی جب عدت کے بعد اس خاوند کا انتقال ہو۔ تو کیا حاصلِ کلام کیا ہوا؟ کہ مرض الموت میں کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاقِ بائن بھی دے دے پھر بھی عدت تک وہ وارثہ رہے گی۔ حالانکہ طلاقِ بائن تو دیتے ہی نکاح ختم ہو جاتا ہے پھر عورت وارثہ نہیں بنتی، لیکن یہاں پر اس طلاقِ بائن کے اثر کو مؤخر کر دیا گیا۔ کیوں مؤخر کیا گیا؟ کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی تھی کہ یہ شخص اس عورت کو نقصان دینا چاہتا ہے بھئی۔ تو یاد رکھنا اس باب کے اندر جو مسائل ذکر ہو رہے ہیں ان سب کے اندر طلاقِ بائن کی بات چلے گی، چاہے وہ ذکر کریں یا ذکر نہ کریں، کیونکہ طلاقِ رجعی میں تو عدت کے اندر بالاتفاق عورت وارثہ بنتی ہے، تو طلاقِ بائن کی بات ہو گی، اور نیز یہ بھی یاد رکھنا خاوند کا انتقال عدت کے اندر ہو تب وارثہ بنے گی، اگر عدت کے بعد خاوند کا انتقال ہوا پھر وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فِي مَرَضِ مَوْتِهِ طَلَاقًا بَائِنًا“ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی کو اپنے مرض الموت کے اندر طلاقِ بائن دے دی، ”فَمَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ تو یہ شخص مر گیا اس حال میں کہ یہ عورت ابھی عدت میں ہے، ”وَرِثَتْهُ“ تو یہ عورت اس کی وارثہ بنے گی، اگرچہ نکاح ٹوٹ چکا ہے پھر بھی وارثہ بنے گی، ”وَإِنْ مَاتَ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ فَلَا مِيرَاثَ لَهَا“ اور اگر یہ شخص عدت کے گزرنے کے بعد مرا تو اب اس عورت کے لیے کوئی میراث نہیں ہو گی، کیونکہ عدت بھی گزر چکی ہے بھئی، نکاح پورے طور پر منقطع ہو گیا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا تَرِثُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں وارث نہیں بنے گی، چاہے خاوند کا انتقال عدت میں ہو چاہے خاوند کا انتقال عدت کے بعد ہو، اس لیے کیونکہ اس نے کون سی طلاق دی ہے؟ طلاقِ بائن دی ہے اور طلاقِ بائن سے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، جب نکاح ٹوٹ گیا تو اب یہ عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا تَرِثُ فِي الْوَجْهَيْنِ“ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عورت دونوں صورتوں میں وارثہ نہیں بنے گی یعنی چاہے عدت گزری ہو چاہے نہ گزری ہو، ”لِأَنَّ الزَّوْجِيَّةَ قَدْ بَطَلَتْ بِهَذَا الْعَارِضِ“ اس لیے کیونکہ زوجیت جو ہے وہ باطل ہو گئی، میاں بیوی والا رشتہ کیا ہو گیا؟ ختم ہو گیا۔ ”لِأَنَّ الزَّوْجِيَّةَ قَدْ بَطَلَتْ“ بلکہ یوں کر لیں زوجیت، زوجیت کا معنی ہے زوج ہونا، مصدر ہے نا، یائے مشدد اور گول تا ساتھ ملائی جائے تو مصدر بن جاتا ہے لفظ، تو زوجیت کا کیا معنی ہے؟ زوج ہونا۔ اور زوج خاوند کو بھی زوج کہتے ہیں عربی زبان میں اور بیوی کو بھی زوج کہتے ہیں، تو یہاں زوجیت کا ترجمہ کر لیں بیوی ہونا، جب خاوند نے طلاقِ بائن دی ہے تو بیوی ہونا باطل ہو گیا، اب یہ عورت اس کی بیوی نہیں ہے، نکاح ٹوٹ چکا۔ تو کہتے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وہ وارثہ نہیں بنے گی ”لِأَنَّ الزَّوْجِيَّةَ قَدْ بَطَلَتْ بِهَذَا الْعَارِضِ“ اس لیے کیونکہ بیوی ہونا وہ تحقیق باطل ہو گیا اس عارض کی وجہ سے، یہ جو طلاق پیش آ گئی، ”وَهِيَ السَّبَبُ“ اور بیوی ہونا ہی تو سبب تھا وارث ہونے کا، وہ عورت وارثہ کیوں بن رہی تھی؟ بیوی ہونے کی وجہ سے، تو بیوی ہونا تو باطل ہو گیا، ”وَلِهَذَا لَا يَرِثُهَا إِذَا مَاتَتْ“ اور اسی لیے یہ خاوند بھی اس عورت کا وارث نہیں بنے گا ”إِذَا مَاتَتْ“ جب یہ عورت مر جائے۔ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند مرض الموت میں ہے اور مرض الموت کے اندر اس نے بیوی کو طلاقِ بائن دے دی، اور طلاقِ بائن دے دی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ عورت اس خاوند کی اب وارثہ نہیں بنے گی، چاہے خاوند کا انتقال عدت میں ہو چاہے عدت کے بعد ہو۔ کہتے ہیں کیا آپ دیکھتے نہیں؟ اگر خاوند کا انتقال ہو جائے، عورت عدت میں ہے، اے احناف! آپ کے نزدیک عورت جب تک عدت میں ہے اور خاوند کا انتقال ہو جائے تو عورت وارثہ بنے گی، لیکن اگر عورت عدت میں ہے اور عورت کا انتقال ہو گیا، عدت کے اندر اندر عورت کا انتقال ہو گیا تو اے احناف! آپ بھی کہتے ہو خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا۔ اے احناف! آپ بھی کیا کہتے ہو؟ خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا۔ بھئی اگر بیوی اس کی وارث بن رہی تھی تو خاوند کو بھی اس کا وارث بننا چاہیے۔ آپ نے کیا کہا؟ مرض الموت میں خاوند نے بیوی کو طلاق دی ہے آپ نے کہا عدت کے اندر اگر خاوند کا انتقال ہوا تو بیوی وارث بنے گی، اگر بیوی اس کی وارث بنے گی تو اگر عدت کے اندر عورت کا انتقال ہو گیا خاوند سے پہلے ہی، خاوند مرض الموت میں ہے لیکن انتقال کس کا ہو گیا؟ بیوی کا ہو گیا تو خاوند کو بھی تو اس کا وارث بننا چاہیے آپ کے اصول کے مطابق! لیکن آپ بھی کہتے ہیں اے احناف کہ خاوند اس کا وارث نہیں بنے گا، بیوی وارثہ بنے گی اور خاوند وارث نہیں بنے گا، معلوم ہوا نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے، اگر پورے طور پر نہ ٹوٹا ہوتا تو خاوند بھی وارث بنتا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلِهَذَا لَا يَرِثُهَا إِذَا مَاتَتْ“ اور اسی وجہ سے کہ زوجیت چونکہ ختم ہو چکی ہے اسی وجہ سے ”لَا يَرِثُهَا“ خاوند بھی اس عورت کا وارث نہیں بنے گا ”إِذَا مَاتَتْ“ جب عورت مر جائے یعنی عدت کے اندر۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے، اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہماری دلیل یہ ہے کہ: ”أَنَّ الزَّوْجِيَّةَ سَبَبُ إِرْثِهَا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ“ ہم کہتے ہیں دیکھو، اس نے مرض الموت میں طلاق دی ہے، خاوند نے مرض الموت میں طلاقِ بائن دی ہے اور مرض الموت کے اندر تو عورت کا حق خاوند کے مال سے متعلق ہو چکا تھا۔ مرض الموت میں وارثوں کا حق مال سے متعلق ہو جاتا ہے، تو عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو چکا تھا اور خاوند اب اس کو طلاق دے کر اس کے اس حق کو باطل کرنا چاہتا ہے، لہٰذا اس کی اجازت اسے نہیں دی جائے گی یعنی اس کو مؤخر کر دیا جائے گا عدت کے گزرنے تک بھئی، کہ عدت کے گزرنے تک یہ اس کا حق باطل نہیں، اگر خاوند مر گیا تو یہ وارثہ بنے گی بھئی۔ مسئلہ بھی سمجھ میں آ رہا ہے کہ نہیں؟ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے: ”أَنَّ الزَّوْجِيَّةَ سَبَبُ إِرْثِهَا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ“ کہ زوجیت یعنی بیوی ہونا ”سَبَبُ إِرْثِهَا“ یہ اس عورت کے وارث ہونے کا سبب ہے ”فِي مَرَضِ مَوْتِهِ“ خاوند کے مرض الموت میں۔ خاوند کے مرض الموت میں بیوی ہونا یہ وارث ہونے کا سبب ہے، یہ وارث بن رہی ہے اس کا حق متعلق ہو چکا ہے، توجہ ہے؟ اس کا حق متعلق ہو چکا ہے۔ ”وَالزَّوْجُ قَصَدَ إِبْطَالَهُ“ اور خاوند نے اس کے اس حق کو باطل کرنے کا ارادہ کیا ہے، عورت کا حق متعلق ہو چکا ہے اور خاوند اس کو باطل کرنا چاہتا ہے، تو کہتے ہیں: ”وَالزَّوْجُ قَصَدَ إِبْطَالَهُ“ اور خاوند نے اس سبب کو باطل کرنے کا ارادہ کیا ہے، ”فَيُرَدُّ عَلَيْهِ قَصْدُهُ بِتَأْخِيرِ عَمَلِهِ إِلَى زَمَانِ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ تو لہٰذا خاوند پر اس کے ارادے کو رد کر دیا جائے گا ”بِتَأْخِيرِ عَمَلِهِ“ کہ اس کی طلاق کے عمل کو مؤخر کر دیا جائے گا ”إِلَى زَمَانِ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ عدت کے گزرنے کے زمانے تک، کہ عدت کے گزرنے کے زمانے تک تمہاری طلاق کا عمل مؤخر ہو گیا، یہ وراثت سے محروم نہیں ہو گی جب تک عدت باقی ہے بھئی۔ ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهَا“ دور کرنے کے لیے نقصان کو ”عَنْهَا“ اس عورت سے، ”وَقَدْ أَمْكَنَ“ اور تحقیق ممکن بھی ہے، عورت سے ضرر کو دور کرنا ممکن، بھئی ایک تو صورت یہ ہے کہ عورت غیر مدخول بہا ہے خاوند نے اس سے صحبت ہی نہیں کی ابھی، تو اس قسم کی عورت کو تو خاوند جیسے ہی طلاق دیتا ہے ساتھ ہی وہ بائنہ ہو جاتی ہے اور اس پر عدت بھی نہیں ہوتی، اس پر عدت بھی نہیں ہوتی نکاح پورے طور پر ختم ہو گیا، وہ فوراً اسی وقت کہیں آگے بھی نکاح کر سکتی ہے۔ تو جو غیر مدخول بہا ہے اس کے اندر تو ہم اس طلاق کے اثر کو مؤخر نہیں کر سکتے کیونکہ وہاں عدت ہی نہیں ہے، وہاں عدت ہی نہیں ہے لہٰذا وہاں پر تو اس طلاق کے اثر کو مؤخر کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن مدخول بہا عورت اس کے اندر تو ممکن ہے کہ عدت کے گزرنے تک اس طلاق کے اثر کو مؤخر کر دیا جائے۔ طلاقِ بائن کے ذریعے خاوند کیا کرنا چاہتا تھا؟ عورت کو اس کے حق سے محروم کرنا چاہتا ہے تو اسے کیا کیا جائے گا؟ اس کے اثر کو، اس طلاقِ بائن کے اثر کو مؤخر کر دیا جائے گا کہ عدت کے گزرنے تک۔ تو مدخول بہا میں تو یہ ممکن ہے، غیر مدخول بہا میں ممکن نہیں ہے، تو جہاں ممکن ہے وہاں تو ہم کوشش کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”دَفْعًا لِلضَّرَرِ عَنْهَا“ اس عورت سے نقصان کو دور کرنے کے لیے ”وَقَدْ أَمْكَنَ“ اور تحقیق یہ ممکن بھی ہے، ”لِأَنَّ النِّكَاحَ فِي الْعِدَّةِ يَبْقَى فِي حَقِّ بَعْضِ الْآثَارِ“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے عدت کے اندر ”يَبْقَى“ وہ باقی رہتا ہے ”فِي حَقِّ بَعْضِ الْآثَارِ“ بعض آثار کے حق میں۔ نکاح کے کچھ اثرات باقی رہتے ہیں بھئی، دیکھو خاوند طلاقِ بائن بھی دے دے تو بھی عدت کے دوران نفقہ خاوند ہی کو دینا پڑے گا، رہائش بھی خاوند ہی کے ذمے ہے، نیز خاوند اس کو گھر سے نکلنے سے بھی منع کر سکتا ہے اس دوران، اور نیز اس عدت کے دوران عورت آگے بھی کہیں نکاح نہیں کر سکتی، تو دیکھو عدت کے اندر نکاح کے کچھ اثرات باقی ہوتے ہیں، جب عدت کے اندر نکاح کے کچھ اثرات باقی ہیں تو یہ والا اثر بھی باقی رہے گا کہ وہ عورت وارثہ بنے گی۔ نکاح جب ہوتا ہے تو عورت وارثہ بنتی ہے نا، نہیں توجہ میرا خیال، بھئی دیکھو نا، کسی شخص کی بیوی ہو تو اس کو نفقہ بھی دینا پڑے گا، وہ اس کو رہائش بھی دے گا اور نیز اس کو گھر سے نکلنے سے بھی وہ منع کر سکتا ہے، نیز یہ عورت کہیں اور بھی نکاح نہیں کر سکتی کیونکہ اس شخص کی منکوحہ ہے، تو عورت پر یہ پابندیاں ہوتی ہیں اور خاوند کی کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں، اور جب خاوند طلاق دے دے تو اس وقت تو نکاح ٹوٹ گیا مثلاً طلاقِ بائن دے دی، لیکن پھر بھی نفقہ کس کے ذمے ہے؟ خاوند کے ذمے، تو یہ تو نکاح کا اثر ہے، نفقہ تو بیوی کا ہوا کرتا ہے اور اس سے تو نکاح ٹوٹ چکا ہے لیکن پھر بھی یہ نکاح کا اثر ہے نفقہ دینا پڑے گا، رہائش بھی دینی پڑے گی یہ بھی نکاح کا اثر ہے، رہائش تو بیوی کو دینا پڑتی ہے اور اس کو تو طلاق دے چکا ہے لیکن پھر بھی رہائش دینا پڑے گی معلوم ہوا یہ نکاح کا اثر ہے۔ اسی طرح یہ عورت اگر بچے کو جنم دے گی تو وہ اسی خاوند کا شمار ہو گا اور بچہ تو بیوی جنم دے تو پھر ہی خاوند کا شمار ہوتا ہے ویسے تو خاوند کا شمار نہیں ہوتا، لہٰذا معلوم ہوا یہ بھی نکاح کا اثر ہے، تو نکاح کے بہت سے اثرات باقی ہیں۔ اور نکاح کے اثرات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیوی خاوند کی وارثہ بنتی ہے، تو جب عدت کے اندر نکاح کے اور اثرات باقی ہیں تو یہ وارثہ ہونے والا اثر بھی باقی قرار دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ النِّكَاحَ فِي الْعِدَّةِ يَبْقَى فِي حَقِّ بَعْضِ الْآثَارِ“ اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے عدت میں وہ باقی رہتا ہے بعض آثار کے حق میں، ”فَجَازَ أَنْ يَبْقَى فِي حَقِّ إِرْثِهَا عَنْهُ“ لہٰذا جائز ہے کہ نکاح باقی رہے ”فِي حَقِّ إِرْثِهَا عَنْهُ“ اس خاوند سے اس عورت کے وارثہ ہونے کے حق میں، اس عورت کا اس خاوند کا وارثہ ہونے کے حق میں بھی نکاح کو باقی قرار دیا جائے، نکاح کو باقی قرار دیا جائے عدت تک، ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الِانْقِضَاءِ“ بخلاف عدت کے گزر جانے کے بعد، ”لِأَنَّهُ لَا إِمْكَانَ“ کیونکہ اب ممکن نہیں ہے، جب عدت گزر جاتی ہے پھر نکاح کا کوئی اثر باقی نہیں رہتا لہٰذا وارثہ ہونے کا اثر بھی باقی نہیں رہ سکتا۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ مَا بَعْدَ الِانْقِضَاءِ“ بخلاف عدت کے گزر جانے کے ”لِأَنَّهُ لَا إِمْكَانَ“ کیونکہ وہاں ممکن نہیں ہے، ”وَالزَّوْجِيَّةُ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ لَيْسَتْ بِسَبَبٍ“ اب وہ امام شافعی رحمہ اللہ نے قیاس کیا تھا اس عورت کو خاوند پر، کہ اگر اس مرض الموت کے اندر خاوند نے طلاقِ بائن دے دی ہے اور پھر خاوند سے پہلے بیوی کا انتقال ہو گیا تو اے احناف! آپ کے نزدیک بھی خاوند اس عورت کا وارث نہیں بنے گا، معلوم ہوا نکاح ٹوٹ چکا ہے، جب خاوند اس کا وارث نہیں بن رہا تو عدت کے اندر عورت کو بھی اس کا وارث نہیں بننا چاہیے، توجہ ہے؟ تو اب اس کا جواب دے رہے ہیں کہ خاوند اس لیے وارث نہیں بنے گا کیونکہ مرض الموت میں خاوند مبتلا ہے، توجہ ہے؟ تو بیوی کا حق متعلق ہو گیا خاوند کے مال کے ساتھ، کیونکہ خاوند مرض الموت میں ہے خاوند مرنے والا ہے تو بیوی کا حق متعلق ہو گیا کس سے؟ خاوند کے مال سے، لیکن خاوند کا حق بیوی کے مال سے متعلق نہیں ہے بیوی تو بالکل ٹھیک ٹھاک ہے اس کے تو مرنے کا فی الحال کوئی امکان نہیں، تو مرض الموت میں بیوی کا حق خاوند کے مال سے متعلق ہوتا ہے خاوند کا حق اس کے مال سے متعلق نہیں ہے، جب خاوند کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق نہیں ہے تو لہٰذا خاوند وارث بھی نہیں بنے گا، اور پھر بالخصوص جب طلاق بھی کون دے رہا ہے؟ خاوند دے رہا ہے، گویا خاوند خود اپنا حق ساقط کر رہا ہے، خاوند طلاق نہ دیتا تو اس نے وارث بننا تھا لیکن یہ خود طلاق دے کر اپنے حق کو باطل کر رہا ہے، اول تو اس کا حق ثابت ہی نہیں ہے کیونکہ اگر بیوی مرض الموت میں ہوتی تو پھر خاوند کا حق اس کے مال سے متعلق ہونا تھا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالزَّوْجِيَّةُ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ“ اور خاوند ہونا، یہاں زوجیت کا ترجمہ کر لیں خاوند ہونا، ”وَالزَّوْجِيَّةُ“ اور خاوند ہونا ”فِي هَذِهِ الْحَالَةِ“ اس حالت میں ”لَيْسَتْ بِسَبَبٍ“ یہ سبب نہیں ہے ”لِإِرْثِهِ عَنْهَا“ کہ خاوند اس سے وارث ہو، مرض الموت میں کون مبتلا؟ خاوند، تو بیوی کا حق اس کے مال سے متعلق ہوا ہے خاوند کا حق اس کے مال سے متعلق نہیں، بیوی بھی اگر مرض الموت میں ہوتی پھر خاوند کا بھی اس کے مال سے حق متعلق ہو جاتا لیکن بیوی تو مرض الموت میں مبتلا نہیں لہٰذا خاوند کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالزَّوْجِيَّةُ فِي هَذِهِ الْحَالَةِ لَيْسَتْ بِسَبَبٍ لِإِرْثِهِ عَنْهَا“ اور خاوند ہونا اس حالت میں یہ اس عورت سے وارث ہونے کا سبب نہیں ہے، ”فَتَبْطُلُ فِي حَقِّهِ“ تو لہٰذا یہ وارث ہونے کا سبب جو ہے باطل ہو جائے گا خاوند کے حق میں، ”خُصُوصًا إِذَا رَضِيَ بِهِ“ خاص طور پر جب خاوند خود اس پر راضی ہے، طلاق کس نے دیا؟ خاوند نے، تو معلوم ہوا وہ خود اپنے حق کے باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا بِأَمْرِهَا أَوْ قَالَ لَهَا اخْتَارِي فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا أَوْ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ لَمْ تَرِثْهُ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے مرض الموت میں بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، لیکن خود بیوی کے کہنے پر دی ہیں، بیوی نے مطالبہ کیا مجھے جدا کر دو اپنے آپ سے، مجھے طلاق دے دو، تو اب جدائی جو آئی ہے وہ عورت کی خواہش پر آئی ہے، عورت کے کہنے پر آئی ہے، لہٰذا اب دلوں میں بدگمانی نہیں آتی۔ پہلے تو بدگمانی آتی تھی، خاوند طلاق دیتا تھا عورت نے تو مطالبہ نہیں کیا لیکن خاوند طلاق دے رہا ہے، بھئی آپ نے طلاق دینی تھی تو زندگی میں طلاق دیتے جب آپ صحت مند تھے اب جب آپ مرنے والے ہیں عورت آپ کی وارثہ بننے والی ہے اب آپ معلوم ہوا اس کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، تو دلوں میں بدگمانی آتی تھی۔ لیکن یہاں پر جب عورت خود مطالبہ کر رہی ہے طلاق کا اور خاوند اس کو مرض الموت میں تین طلاقیں دے دیتا ہے اب بدگمانی دلوں میں نہیں آتی بھئی کیونکہ وہ عورت خود مطالبہ کر رہی ہے، لہٰذا اس صورت میں اگر خاوند تین طلاقیں دیتا ہے، طلاقِ بائن، تو عورت وارثہ نہیں بنے گی۔ یا خاوند نے عورت سے کہا مرض الموت میں: ”اخْتَارِي“ تو اپنے نفس کو اختیار کر لے، وہ عورت جواب میں کہتی ہے: ”اخْتَرْتُ نَفْسِي“ میں نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، تو عورت نے خود جدائی کو اختیار کیا ہے، اس کو طلاقِ بائن ہو گئی لہٰذا عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے تو یہ وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ اس نے خود جدائی کو اختیار کیا ہے۔ یا اسی طرح مرض الموت کے اندر عورت خاوند کے ساتھ خلع کر لیتی ہے، میں نے آپ کو بتلایا تھا خلع یہ ہے کہ عورت مال کے عوض خاوند سے جدائی کا مطالبہ کرتی ہے کہ مجھ سے خلع کر لو اور دس لاکھ روپے لے لو، تو یاد رکھو خاوند راضی ہو جائے گا تو فوراً اسی وقت طلاق ہو جائے گی اور اب اس عورت کے ذمے وہ مال آ گیا وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ اور خلع کے اندر طلاق کا لفظ نہیں ہوتا، اگر عورت کہتی ہے مجھے طلاق دے دو دس لاکھ روپے لے کر تو اس کو پھر طلاق علی العوض کہتے ہیں، عوض لے کر طلاق دینا، تو حکم دونوں کا ایک ہی ہے عوض لے کر طلاق دے گا وہ بھی طلاقِ بائن ہو گی، خلع کرے گی وہ بھی بائن ہو گی لیکن بہرحال نام الگ الگ ہیں، تو خلع کے اندر طلاق کا لفظ ذکر نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا مرض الموت میں بیوی نے خاوند سے خلع کر لیا، کتنا مال لے لو اور میرے ساتھ خلع کر لو، خاوند نے قبول کر لیا، تو اس صورت میں بھی عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے تو بھی عورت وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ اس نے خود جدائی کو اختیار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا بِأَمْرِهَا“ اور اگر خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دیں اس کے حکم پر، اس کے کہنے پر، ”أَوْ قَالَ لَهَا اخْتَارِي فَاخْتَارَتْ نَفْسَهَا“ یا خاوند نے اس سے کہا اختیاری تو عورت نے اپنی ذات کو اختیار کر لیا، ”أَوْ اخْتَلَعَتْ مِنْهُ“ یا عورت نے خاوند سے خلع کر لیا، ”ثُمَّ مَاتَ وَهِيَ فِي الْعِدَّةِ“ پھر خاوند کا انتقال ہوا اس حال میں کہ عورت عدت ہی میں ہے، ”لَمْ تَرِثْهُ“ تو یہ عورت اس کی وارثہ نہیں ہو گی، ”لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِإِبْطَالِ حَقِّهَا“ اس لیے کیونکہ عورت خود راضی ہے اپنے حق کو باطل کرنے پر، ”وَالتَّأْخِيرُ لِحَقِّهَا“ اور وہ جو ہم ابطال کو مؤخر کرتے تھے وہ عورت کے حق کی وجہ سے تھا۔ خاوند طلاقِ بائن دیتا ہے مرض الموت میں، تو ہم نے کیا کہا؟ خاوند بیوی کو اگر طلاقِ بائن دے صحت کی حالت میں تو پھر عورت خاوند کی وارثہ نہیں بنتی چاہے عدت ہی میں خاوند کا انتقال کیوں نہ ہو جائے، لیکن مرض الموت میں جب خاوند طلاقِ بائن دے رہا ہے، مرض الموت میں خاوند طلاقِ بائن دے رہا ہے حالانکہ عورت کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے تو خاوند معلوم ہوا اس کے حق کو باطل کرنا چاہتا ہے، تو دلوں میں یہ بدگمانی آتی ہے اس لیے شریعت نے اس کے اس ابطال کو مؤخر کر دیا تھا عدت کے آخر تک، کہ وہ عورت کے حق کا ابطال نہیں کر سکتا اس کو باطل نہیں کر سکتا۔ تو یہاں پر تو عورت خود جدائی کو اختیار کر رہی ہے، جب وہ خود جدائی کو اختیار کر رہی ہے تو اب خاوند کے ابطال کو مؤخر نہیں کیا جائے گا، وہ جیسے ہی طلاق دے گا یا جیسے ہی خلع کرے گا اس عورت کا حق خاوند کے مال سے باطل ہو جائے گا، ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا رَضِيَتْ بِإِبْطَالِ حَقِّهَا“ کیونکہ وہ خود اپنے حق کو باطل کرنے پر راضی ہے ”وَالتَّأْخِيرُ لِحَقِّهَا“ اور وہ جو ہم نے مؤخر کیا تھا خاوند کی طرف سے اس کے حق کو باطل کرنا، اس کو جو ہم نے مؤخر کیا تھا ”لِحَقِّهَا“ وہ تو اس عورت کے حق کی وجہ سے تھا، اب تو یہ خود اپنے حق کو باطل کر رہی ہے۔ ”وَإِنْ قَالَتْ“ دوسری صورت، بیوی نے خاوند سے کہا مجھے طلاقِ رجعی دے دو، مرض الموت میں بیوی کیا مطالبہ کر رہی ہے؟ مجھے طلاقِ رجعی دے دو، خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اور عدت کے اندر ہی خاوند کا انتقال بھی ہو گیا، کہتے ہیں یہ بھی وارثہ بنے گی۔ بھئی یہ کیوں وارثہ بنے گی؟ یہ تو خود طلاق کا مطالبہ کر رہی تھی! کہتے ہیں بھئی یہ طلاقِ رجعی کا مطالبہ کر رہی تھی اور طلاقِ رجعی کے اندر تو عورت وارثہ بنتی ہے، وارثہ بنتی ہے، یہ طلاقِ رجعی کا جب مطالبہ کر رہی ہے معلوم ہوا یہ اپنا حق ساقط کرنے پر راضی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَتْ طَلِّقْنِي لِلرَّجْعَةِ فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا وَرِثَتْهُ“ اور اگر بیوی نے کہا ”طَلِّقْنِي لِلرَّجْعَةِ“ کہ مجھے طلاقِ رجعی دے دے، ”فَطَلَّقَهَا ثَلَاثًا“ تو خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دیں، ”وَرِثَتْهُ“ تو یہ عورت بھی اس کی وارثہ بنے گی عدت کے اندر، ”لِأَنَّ الطَّلَاقَ الرَّجْعِيَّ لَا يُزِيلُ النِّكَاحَ“ اس لیے کیونکہ طلاقِ رجعی جو ہے وہ تو نکاح کو ختم نہیں کرتی، ”فَلَمْ تَكُنْ بِسُؤَالِهَا رَاضِيَةً بِبُطْلَانِ حَقِّهَا“ تو لہٰذا یہ عورت اپنے سوال کی وجہ سے راضی نہیں ہے اپنے حق کے باطل کرنے پر، اس نے جو طلاقِ رجعی کا سوال کیا ہے، طلاقِ رجعی مانگی ہے، اس سے یہ استدلال نہیں کیا جا سکتا کہ یہ عورت اپنا حق باطل کرنے پر راضی ہے بھئی۔ ”فَلَمْ تَكُنْ بِسُؤَالِهَا رَاضِيَةً“ تو عورت نے جو طلاقِ رجعی کا سوال کیا ہے یعنی طلاقِ رجعی کو جو مانگا ہے، طلاقِ رجعی مانگنے کی وجہ سے راضی نہیں ہے ”بِبُطْلَانِ حَقِّهَا“ اپنے حق کے باطل ہونے پر۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ: كُنْتُ طَلَّقْتُكِ ثَلَاثًا فِي صِحَّتِي وَانْقَضَتْ عِدَّتُكِ، فَصَدَّقَتْهُ، ثُمَّ أَقَرَّ لَهَا بِدَيْنٍ أَوْ أَوْصَى لَهَا بِوَصِيَّةٍ فَلَهَا الْأَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے، وہ سب کے سامنے بیوی سے کہتا ہے کہ تمہیں تو میں نے صحت میں تین طلاقیں دے دی تھیں اور تمہاری عدت بھی گزر چکی تھی، اور عورت کہتی ہے ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں، عورت بھی مان لیتی ہے اس کی تصدیق کر دیتی ہے، اور پھر اس کے بعد اسی مرض الموت میں خاوند جو ہے اس عورت کے لیے وصیت کر دیتا ہے کہ میرے مرنے کے بعد اس کو اتنا مال دے دینا یا خاوند اس کے لیے اقرار کر لیتا ہے کہ میں نے کسی زمانے میں اپنی اس بیوی سے دس لاکھ روپے قرض لیے تھے وہ اس کو ادا کر دینا۔ تو پہلے دونوں نے آپس میں اتفاق کر لیا میاں اور بیوی نے کہ صحت میں تین طلاقیں بھی ہو چکی ہیں اور عدت بھی گزر چکی ہے، اور پھر اس کے بعد اسی مرض الموت کے اندر خاوند اس بیوی کے لیے وصیت کر دیتا ہے یا اقرار کر لیتا ہے، آپ جانتے ہیں وارث کے لیے نہ وصیت جائز ہے اور نہ اقرار جائز ہے۔ تو اب اس صورت کے اندر امام صاحب فرماتے ہیں کہ دیکھا جائے گا کہ اگر یہ عورت وارثہ بنتی تو اس کو کتنا مال ملتا اور یہ جو وصیت کی ہے یا یہ جو اقرار کیا ہے یہ کتنا ہے، اگر جو وصیت کی ہے یا جو اقرار کیا ہے وہ اس مالِ میراث کے برابر ہے یا اس سے کم ہے پھر تو اس کی وصیت یا اقرار کو قبول کیا جائے گا، جو وصیت کی ہے یا جو اقرار کیا ہے وہ دے دیں گے کیونکہ وہ اتنا ہی بنتا ہے جتنا میراث میں مال اس کو ملنا تھا یا اس سے کم بن رہا ہے تو وہ دے دیں گے، لیکن اگر یہ وصیت یا اقرار اس میراث سے زیادہ ہے تو پھر زیادہ نہیں دیں گے بلکہ وہ جو اقل ہے وہی دیں گے بھئی۔ حاصلِ کلام یہ امام صاحب یہ فرماتے ہیں کہ عورت میراث میں جتنا حصہ بن رہا ہے اس کو دیکھ لو اور دوسری طرف وصیت اور اقرار کو دیکھ لو، جو کم بنتا ہے وہ اس عورت کو دے دیا جائے گا۔ میراث کم بن رہی ہے تو وہ دے دیں گے، اور اگر وہ وصیت یا اقرار کم ہے تو وہ دے دیں گے۔ وجہ یہ، کیونکہ دراصل دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ شاید یہ میاں بیوی نے آپس میں گٹھ جوڑ کر لیا ہے، یہ ایک دوسرے کے ساتھ مل گئے ہیں، خاوند چاہتا ہے میری بیوی کو زیادہ مال ملے میراث سے اور وہ وصیت بھی نہیں کر سکتا کیونکہ بیوی کے لیے وصیت جائز نہیں وہ تو وارثہ ہے، نیز اس کے لیے اقرار بھی جائز نہیں کیونکہ وہ وارثہ ہے بھئی، تو اب یوں کرتے ہیں کہ ہم دونوں آپس میں طلاق پر کیا کر لیتے ہیں؟ سب کے سامنے اتفاق کر لیں گے، اور جب طلاق اور عدت کے گزرنے پر ہم اتفاق کر لیں گے تو پھر وصیت اور اقرار کا دروازہ کھل جائے گا، پھر میں تمہارے لیے وصیت یا اقرار کر دوں گا زیادہ مال کی۔ تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ معلوم نہیں انہوں نے ایسا کیا ہے یا نہیں لیکن دلوں میں بدگمانی آتی ہے، تو شریعت نے کہا کہ ان دونوں میں سے جو اقل ہو وہ عورت کو دے دو۔ اقل کے اندر تو بدگمانی نہیں ہے بھئی۔ میراث اگر کم بن رہی ہے تو وہ دے دو اور اگر وصیت یا اقرار کم ہے تو وہ دے دو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ قَالَ لَهَا فِي مَرَضِ مَوْتِهِ كُنْتُ طَلَّقْتُكِ ثَلَاثًا فِي صِحَّتِي“ اور اگر خاوند نے بیوی سے کہا اپنے مرض الموت میں کہ میں نے تجھے تین طلاقیں دی تھیں اپنی صحت میں ”وَانْقَضَتْ عِدَّتُكِ“ اور تیری عدت بھی گزر گئی تھی، ”فَصَدَّقَتْهُ“ تو بیوی نے بھی خاوند کی تصدیق کر دی کہ آپ سچ کہہ رہے ہیں، ”ثُمَّ أَقَرَّ لَهَا بِدَيْنٍ أَوْ أَوْصَى لَهَا بِوَصِيَّةٍ“ پھر خاوند نے اس کے لیے کسی دین کا اقرار کیا یا اس کے لیے کوئی وصیت کر دی، ”فَلَهَا الْأَقَلُّ“ تو اس عورت کے لیے کمتر ہوگا، وہ جو کم ہے، ”مِنْ ذَلِكَ“ اس دین یا وصیت میں سے ”وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ اور میراث میں سے۔ دین یا وصیت یا میراث میں سے جو کم ہے وہ اس عورت کو ملے گا۔ تو کہتے ہیں ”فَلَهَا الْأَقَلُّ“ تو اس عورت کے لیے کمتر ہوگا ”مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ اس دین یا وصیت یا میراث میں سے، ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام صاحب کے نزدیک۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى يَجُوزُ إِقْرَارُهُ وَوَصِيَّتُهُ“ صاحبین فرماتے ہیں خاوند کا اقرار اور وصیت جائز ہے۔ خاوند کا اقرار یا وصیت جائز ہے، جب بیوی نے خاوند کی تصدیق کر دی ہے کہ خاوند اس کو تین طلاقیں بھی دے چکا ہے اور عدت بھی گزر چکی ہے تو وہ اجنبیہ بن گئی، وہ اجنبیہ بن گئی، جب وہ اجنبیہ بن گئی ہے تو اجنبیہ کے لیے تو وصیت بھی جائز ہے اور اقرار بھی جائز ہے، لہٰذا اس عورت کو وہی وصیت یا اقرار والا مال دیں گے چاہے جتنا بھی ہوا، چاہے میراث سے کم ہوا چاہے اس سے زیادہ ہی کیوں نہ ہوا، یہی وصیت والا مال اس کو ملے گا یا یہی اقرار والا مال اس کو ملے گا بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے تھے جو اقل ہوگا وہ ملے گا، میراث اور اس وصیت یا اقرار میں سے جو اقل ہے وہ ملے گا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ بھئی یہاں یہ عبارت سمجھ لیں: ”فَلَهَا الْأَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ یاد رکھو یہ ”مِنْ“ یہ ”الْأَقَلُّ“ کا صلہ نہیں ہے۔ یہ ”الْأَقَلُّ“ کا صلہ نہیں، آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ حروفِ جارہ جس کے ساتھ متعلق ہوتے ہیں یہ اس کا صلہ کہلاتے ہیں: ”ضَرَبْتُ زَيْدًا بِالْعَصَا“ میں نے زید کی پٹائی کی لاٹھی سے، تو یہ ”بِالْعَصَا“ جار مجرور متعلق ہے ”ضَرَبْتُ“ کے ساتھ، تو یوں کہیں گے کہ یہ ”بِالْعَصَا“ یہ جو با جارہ ہے یہ صلہ ہے ”ضَرَبْتُ“ کا۔ یہ کیا ہے؟ ”ضَرَبْتُ“ کا صلہ ہے، تو جو حرفِ جر جس فعل یا شبہ فعل سے جڑتا ہے اس کو اس کا صلہ کہتے ہیں۔ تو آپ نے پڑھا ہے اسمِ تفضیل کے استعمال کے تین طریقے ہیں: یا الف لام کے ساتھ ہوگا یا اضافت کے ساتھ ہوگا یا ”مِنْ“ کے ساتھ۔ معلوم ہوا یہ ”مِنْ“ اسمِ تفضیل سے جڑتا ہے تو یہ اس کا صلہ کہلاتا ہے، کیا کہلاتا ہے؟ صلہ۔ تو اسمِ تفضیل کے استعمال کے کتنے طریقے؟ یا الف لام، یا اضافت، یا ”مِنْ“، اور تین میں سے ایک وقت میں ایک ہی طریقے سے یہ استعمال ہو سکتا ہے۔ تو یہاں ”الْأَقَلُّ“ پر الف لام داخل ہے اور آگے ”مِنْ“ بھی آ رہا ہے، تو آپ یہ نہ سمجھیں کہ یہ ”مِنْ“ شاید ”الْأَقَلُّ“ کا صلہ ہے، اسی سے جڑ رہا ہے، اسمِ تفضیل دو طریقوں سے اکٹھا استعمال ہو رہا ہے الف لام اور ”مِنْ“ کے ساتھ، نہیں نہیں۔ یہاں اسمِ تفضیل ”أَقَلُّ“ صرف الف لام کے ساتھ استعمال ہو رہا ہے، اور یہ ”مِنْ“، یہ ”مِنْ“ بیان کے لیے ہے، یہ اس اقل کو بیان کر رہا ہے۔ جب ”مِنْ“ بیان کے لیے آئے تو اس کا ترجمہ عموماً یعنی کے ساتھ کرتے ہیں۔ تو ”فَلَهَا الْأَقَلُّ“ تو اس عورت کو کمتر ملے گا، ”مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ اس دین یا وصیت یا میراث میں سے، ان میں سے جو کمتر ہوگا وہ عورت کو ملے گا، تو یہ ”مِنْ“ کیا ہے؟ یہ اسی ”الْأَقَلُّ“ کا بیان ہے۔ کون سا کمتر بھئی؟ کون سا کمتر ملے گا؟ کہتے ہیں یعنی ان دونوں میں سے جو کمتر ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ”مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ اور یہ جو ”وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ کے ساتھ واو آیا ہے، یاد رکھو یہ واو بمعنیٰ ”أَوْ“ کے ہے۔ واو بمعنیٰ ”أَوْ“ کے ہے، ”أَوْ“ کا کیا معنیٰ؟ یا، یا۔ اور عربی زبان میں واو جو ہے وہ عام استعمال ہوتا رہتا ہے ”أَوْ“ کے معنیٰ میں۔ تو گویا عبارت یوں ہے: ”فَلَهَا الْأَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ أَوْ مِنَ الْمِيرَاثِ“ تو اس عورت کے لیے کمتر ہوگا یعنی اس مال اور میراث میں سے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ بِأَمْرِهَا ثُمَّ أَقَرَّ لَهَا بِدَيْنٍ أَوْ أَوْصَى لَهَا بِوَصِيَّةٍ“ دوسری صورت، خاوند مرض الموت میں مبتلا ہے، بیوی نے مطالبہ کر دیا مجھے تین طلاقیں دے دو، خاوند نے اس کو تین طلاقیں دے دیں، خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اور آپ نے پڑھا کہ اس صورت میں عورت وارثہ نہیں بنتی۔ اب خاوند نے اس کے لیے وصیت کر دی یا اقرار کر دیا تو اس صورت میں ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں جب عورت کے اپنے مطالبے پر خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں اور پھر خاوند نے اس کے لیے وصیت یا دین کا اقرار کیا ہے تو عورت کو اقل ملے گا۔ وصیت و دین اور میراث میں سے جو کمتر ہوگا وہ ملے گا۔ ایک وقت میں ایک چیز ہوگی نا، یا خاوند وصیت کرے گا یا دین، تو وہ وصیت اور میراث کو دیکھیں گے جو کمتر ہو وہ عورت کو دے دیں گے، یا اگر اقرار کیا ہے تو اقرار اور میراث کو دیکھیں گے جو کمتر ہوگا وہ عورت کو ملے گا۔ یہ ہمارے تینوں ائمہ اس میں اتفاق کرتے ہیں۔ پہلی صورت میں اختلاف ہے صاحبین کا اور امام صاحب کا، اس میں اتفاق ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ طَلَّقَهَا ثَلَاثًا فِي مَرَضِهِ بِأَمْرِهَا“ اور اگر خاوند نے بیوی کو تین طلاقیں دے دیں اپنے مرض الموت میں اس عورت کے حکم پر، ”ثُمَّ أَقَرَّ لَهَا بِدَيْنٍ“ پھر خاوند نے اس کے لیے اقرار کر لیا دین کا ”أَوْ أَوْصَى لَهَا بِوَصِيَّةٍ“ یا عورت کے لیے وصیت کر دی، ”فَلَهَا الْأَقَلُّ مِنْ ذَلِكَ“ تو عورت کے لیے کمتر ہوگا، ”مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ ”مِنْ ذَلِكَ أَوْ مِنَ الْمِيرَاثِ“ یہاں بھی واو بمعنیٰ ”أَوْ“ کے ہے اور یہاں بھی ”مِنْ“ بیان کے لیے ہے، کمتر ہوگا بھئی، کمتر وہ کیا ہے کمتر؟ کہتے ہیں ”مِنْ ذَلِكَ وَمِنَ الْمِيرَاثِ“ یعنی اس میں سے اور میراث میں سے، اس میں سے یا میراث میں سے جو کمتر ہوگا وہ عورت کے لیے ہوگا۔ ”فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ ہمارے سب ائمہ کے قول کے مطابق بھئی، ”إِلَّا عَلَى قَوْلِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ مگر امام زفر رحمہ اللہ کے قول میں، ”فَإِنَّ لَهَا جَمِيعَ مَا أَوْصَى وَمَا أَقَرَّ بِهِ“ امام زفر فرماتے ہیں کہ اس عورت کو وہ سارا مال ملے گا جس کی خاوند نے اس کے لیے وصیت کی ہے یا جس کا خاوند نے اس کے لیے اقرار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا عَلَى قَوْلِ زُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ مگر امام زفر رحمہ اللہ کے قول پر، ”فَإِنَّ لَهَا جَمِيعَ مَا أَوْصَى وَمَا أَقَرَّ بِهِ“ اس عورت کے لیے وہ سارا ہوگا جو خاوند نے اس کے لیے وصیت کی ہے یا جس کا اس کے لیے اقرار کیا ہے، ”لِأَنَّ الْمِيرَاثَ لَمَّا بَطَلَ بِسُؤَالِهَا“ اس لیے کیونکہ میراث جب باطل ہو گئی عورت کے سوال کرنے کی وجہ سے، عورت کے مانگنے کی وجہ سے۔ عورت جب طلاق مانگ رہی ہے، جب عورت خود طلاق مانگ رہی ہے مرض الموت میں اب تو دلوں میں بدگمانی نہیں آتی کہ خاوند اس کو نقصان دینا چاہتا ہے، یہ تو خود مانگ رہی ہے طلاق، تو لہٰذا اس صورت میں عورت وارثہ نہیں بنتی۔ جب عورت وارثہ نہیں بنتی تو اب اس کے لیے وصیت بھی جائز ہے اور دین کا اقرار بھی جائز ہے، وہ سارا اس کو ملے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْمِيرَاثَ لَمَّا بَطَلَ بِسُؤَالِهَا“ اس لیے کیونکہ میراث جب وہ باطل ہو گئی عورت کے مانگنے کی وجہ سے، ”زَالَ الْمَانِعُ مِنْ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ وَالْوَصِيَّةِ“ تو وہ جو مانع تھا اقرار اور وصیت کے صحیح ہونے سے، وہ چیز جو اقرار اور وصیت کے صحیح ہونے سے مانع تھی وہ چلی گئی، اور وہ کیا تھا؟ وارث ہونا۔ وارث جو ہوتا ہے اس کے لیے اقرار بھی صحیح نہیں اور اس کے لیے وصیت بھی صحیح نہیں۔ لیکن جب عورت نے خود سوال کیا ہے طلاق کا تو معلوم ہوا اب وہ وارثہ نہیں بنے گی۔ جب وارثہ نہیں بنے گی تو مانع چلا گیا، اس بیوی کے لیے وصیت کیوں جائز نہیں تھی؟ کیونکہ وہ وارثہ بن رہی تھی، لیکن اب تو مانع چلا گیا اب تو اس نے خود طلاق مانگی ہے، جب خود طلاق مانگی ہے تو اب یہ وارثہ نہیں بنے گی، جب وارثہ نہیں بنے گی تو یہ غیر وارثہ ہوئی اور غیر وارث کے لیے تو وصیت بھی جائز ہے اور اقرار بھی جائز ہے۔ یہ معنیٰ ہے، پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: ”لِأَنَّ الْمِيرَاثَ لَمَّا بَطَلَ بِسُؤَالِهَا“ اس لیے کیونکہ میراث جب باطل ہو گئی اس عورت کے مانگنے کی وجہ سے ”زَالَ الْمَانِعُ مِنْ صِحَّةِ الْإِقْرَارِ وَالْوَصِيَّةِ“ تو وہ جو اقرار اور وصیت کے صحیح ہونے سے مانع چیز تھی وہ چلی گئی وہ ختم ہو گئی، یعنی وارث ہونا ختم ہو گیا، اب اقرار بھی صحیح اور وصیت بھی صحیح ہے بھئی۔ حاصلِ کلام یہ، یہاں دو مسئلے ذکر کیے۔ ایک صورت یہ تھی کہ مرض الموت میں خاوند بیوی سے کہتا ہے کہ میں نے تجھے صحت میں تین طلاقیں دی تھیں اور تیری عدت بھی گزر گئی تھی اور عورت بھی اس کی تصدیق کر دیتی ہے، ایک صورت۔ دوسری صورت کہ عورت خود طلاق مانگتی ہے اور خاوند اس کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، اور پھر دونوں صورتوں میں خاوند اس کے لیے وصیت کرتا ہے یا اقرار کرتا ہے۔ خاوند کیا کرتا ہے؟ وصیت کرتا ہے یا اقرار کرتا ہے، تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک دونوں صورتوں میں عورت کو اقل ملے گا۔ وہ جو وصیت یا اقرار ہے اس کو بھی دیکھ لیں گے اور میراث کو بھی دیکھ لیں گے، جو اقل ہوگا عورت کو وہ ملے گا دونوں صورتوں میں۔ جبکہ امام زفر فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں عورت غیر وارثہ ہو گئی، جب غیر وارثہ ہوئی تو اس کے لیے وصیت اور اقرار صحیح، جب وصیت اور اقرار صحیح تو وہ جتنا بھی ہوا اس کو دیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین جو ہیں پہلی صورت میں امام زفر کے ساتھ ہیں کہ جب دونوں نے اتفاق کر لیا کہ خاوند نے صحت میں طلاق دی تھی اور عدت بھی گزر چکی ہے تو اس صورت میں صاحبین امام زفر کے ساتھ ہیں کہ یہاں تو نکاح بھی ٹوٹ چکا ہے عدت بھی گزر چکی ہے لہٰذا عورت کو پوری وصیت یا پورا اقرار جتنا خاوند نے کیا ہے وہ پورا دین دیا جائے گا۔ جبکہ اگر عورت کے مانگنے پر خاوند نے اسے تین طلاقیں دی ہیں تو اور اس صورت میں خاوند نے اقرار یا وصیت کی ہے تو اس صورت میں صاحبین امام صاحب کے ساتھ ہیں، کس کے ساتھ ہیں؟ کہ اقل دیا، امام صاحب تو فرماتے ہیں دونوں صورتوں میں اقل دیں گے، لیکن عورت کے کہنے پر اگر خاوند مرض الموت میں تین طلاقیں دے دیتا ہے یا طلاقِ بائن دے دیتا ہے تو پھر صاحبین امام صاحب کے ساتھ ہیں کہ اقل دیا جائے گا عورت کو بھئی۔ اب ہر ایک کی دلیل ذکر کریں گے، دیکھیے بھئی۔ ”وَوَجْهُ قَوْلِهِمَا فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ صاحبین کے قول کی وجہ پہلے مسئلے میں، پہلے مسئلے میں صاحبین نے امام صاحب سے اختلاف کیا تھا، امام صاحب فرماتے تھے اقل ملے گا اور صاحبین کیا فرماتے ہیں کہ پوری وصیت یا پورا دین ملے گا جس کا اقرار کیا ہے۔ تو اس میں صاحبین کی کیا دلیل ہے وہ اب ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَوَجْهُ قَوْلِهِمَا فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ صاحبین کے قول کی وجہ پہلے مسئلے میں یہ ہے ”أَنَّهُمَا لَمَّا تَصَادَقَا عَلَى الطَّلَاقِ“ جب دونوں باہم متفق ہو گئے طلاق پر ”وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ اور عدت کے گزرنے پر ”صَارَتْ أَجْنَبِيَّةً عَنْهُ“ تو وہ عورت اس خاوند سے اجنبیہ ہو گئی، کیونکہ طلاق بھی ہو چکی ہے اور عدت بھی گزر چکی ہے اور دونوں نے باہم ایک دوسرے کی تصدیق کر دی، ”صَارَتْ أَجْنَبِيَّةً عَنْهُ“ وہ عورت خاوند سے اجنبیہ ہو گئی ”حَتَّى جَازَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا“ یہاں تک کہ اب اس خاوند کے لیے جائز ہو گیا ہے کہ وہ اس کی بہن سے بھی نکاح کر سکتا ہے۔ وہ اجنبیہ بن گئی ہے خاوند اس کی بہن سے بھی نکاح کر سکتا ہے، حالانکہ دو بہنوں کو تو ایک شخص نکاح میں جمع نہیں کر سکتا اس سے تو منع کیا گیا ہے لیکن یہاں بالاتفاق امام صاحب بھی فرماتے ہیں یہ شخص مرض الموت میں ہے لیکن اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ کیونکہ دونوں نے ایک دوسرے کی تصدیق کر دی ہے کہ تین طلاقیں بھی ہوئی تھیں اور عدت بھی گزر چکی ہے تو یہ عورت اجنبیہ بن گئی اور اجنبیہ کی بہن سے تو نکاح جائز ہے۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى جَازَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا“ یہاں تک کہ خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی بہن سے نکاح کر لے، ”فَانْعَدَمَتِ التُّهْمَةُ“ تو تہمت معدوم ہو گئی۔ تہمت کیا ہو گئی؟ معدوم، بدگمانی معدوم ہو گئی، کیا بدگمانی دلوں میں آتی تھی؟ بھئی دونوں نے اتفاق کر لیا کہ طلاق بھی ہو چکی، عدت بھی گزر چکی، اور پھر خاوند اس کے لیے وصیت یا اقرار کرتا ہے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ معلوم ہوا خاوند اس کو زیادہ مال دینا چاہتا ہے، دونوں نے آپس میں مل کر یہ بات طے کی کہ اس طرح ہم کریں گے، ویسے تو میں تمہارے لیے وصیت یا اقرار نہیں کر سکتا لیکن جب طلاق اور عدت کے گزرنے کی بات کر دیں گے تو پھر میرے لیے وصیت اور اقرار کا راستہ کھل جائے گا، تو یہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ لیکن صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں پر بدگمانی نہیں آئے گی، یہاں پر بدگمانی نہیں آئے گی کیونکہ وہ عورت اجنبیہ بن چکی ہے یہاں تک کہ خاوند کے لیے اس کی بہن سے بھی نکاح جائز ہو چکا ہے کیونکہ عدت گزر چکی ہے، جب عدت گزر چکی ہے تو اب دل میں کوئی بدگمانی نہیں آتی کہ خاوند اس کو زیادہ فائدہ دینا چاہتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”حَتَّى جَازَ لَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَ أُخْتَهَا“ یہاں تک کہ خاوند کے لیے جائز ہے کہ وہ اس کی بہن سے نکاح کر لے، ”فَانْعَدَمَتِ التُّهْمَةُ“ تو تہمت معدوم ہو گئی۔ تہمت کیا ہو گئی؟ معدوم، اگر تہمت ہوتی تو بہن سے نکاح جائز نہ ہوتا۔ بھئی اگر، اگر میاں بیوی نے آپس میں گٹھ جوڑ کیا ہو کہ ہم اس طرح کی بات کریں گے کہ میں تمہارے لیے وصیت یا اقرار نہیں کر سکتا ہم دونوں مل کر کیا کر لیں گے؟ ہم دونوں مل کر یہ بات کریں گے کہ میں تمہیں تین طلاقیں بھی دے چکا ہوں اور عدت بھی گزر چکی ہے اور پھر میرے لیے وصیت اور اقرار کا دروازہ کھل جائے گا، اگر یہ بدگمانی دلوں میں آتی ہے کہ ہو سکتا ہے یہ جھوٹ بول رہے ہوں تو پھر تو بہن کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن بہن کے ساتھ نکاح جائز ہے معلوم ہوا یہاں بدگمانی نہیں ہے، اگر بدگمانی ہوتی تو بہن سے نکاح جائز نہ ہوتا، وجہ سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں ”فَانْعَدَمَتِ التُّهْمَةُ“ تو تہمت معدوم ہو گئی، تہمت کیا، بدگمانی کیا آتی تھی؟ وہ اس کو زیادہ دینا چاہتا ہے، وصیت یا اقرار کا راستہ کھولنا چاہتا ہے، تو وہ بدگمانی ختم ہو گئی۔ تو کہتے ہیں ”فَانْعَدَمَتِ التُّهْمَةُ“ تو وہ بدگمانی ختم ہو گئی، میری کتاب میں لکھا ہوا ہے ”التُّهْمَةُ“ کے نیچے ”أَيْ تُهْمَةُ تَفْضِيلِ الزَّوْجَةِ عَلَى بَاقِي الْوَرَثَةِ“، آپ کی کتاب میں ہے؟ جی، تو یہ جو بدگمانی ہے کہ بیوی کو باقی وارثوں پر ترجیح دے رہا ہے اس کو زیادہ مال دینا چاہتا ہے یہ بدگمانی ختم ہو گئی، اگر ایسا ہوتا تو اس کی بہن سے بھی نکاح جائز نہ ہوتا، لیکن اس کی بہن سے نکاح جائز ہے معلوم ہوا یہاں کوئی تہمت نہیں۔ ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ لَهَا“ کہ خاوند کی گواہی قبول کی جائے گی اس عورت کے لیے ”وَيَجُوزُ وَضْعُ الزَّكَاةِ فِيهَا“ اور اس کے اندر زکوٰۃ رکھنا بھی جائز ہے یعنی اس کو زکوٰۃ دینا بھی جائز ہے۔ بھئی یاد رکھو، وہ افراد جن کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں، وہ افراد جن کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں ایک دوسرے کے حق میں ان کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ مثلاً باپ بیٹا ہے، کسی مسئلے کے اندر باپ بیٹے کے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے، نہیں بھئی باپ کی گواہی بیٹے کے حق میں قبول نہیں۔ یا بیٹا کسی مسئلے میں باپ کے حق میں گواہی دینا چاہتا ہے، نہیں بھئی بیٹا باپ کے حق میں گواہی نہیں دے سکتا، وجہ یہ کہ باپ بیٹے کے مفادات مشترکہ ہوتے ہیں، یہ مل کر ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں، ایک دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں، تو یہاں پر دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ باپ کو فائدہ ہوگا تو اس میں بیٹے کا بھی فائدہ ہے اس لیے وہ باپ کے حق میں گواہی دے رہا ہے، یا باپ بیٹے کے حق میں گواہی دے رہا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ بیٹے کو مال ملے گا اس گواہی کی وجہ سے، بیٹے کا فائدہ ہوگا تو باپ کا بھی فائدہ ہے بھئی، تو یہ گویا اپنے فائدے کے لیے گواہی دے رہا ہے لہٰذا اس لیے جن لوگوں کے مفادات مشترکہ ہوں ایک دوسرے کے حق میں گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ ہاں ایک دوسرے کے خلاف قبول کی جائے گی، بیٹا باپ کے خلاف گواہی دینے آتا ہے یہ گواہی قبول کی جائے گی، تو جن لوگوں کے مفادات مشترکہ ہوں ایک دوسرے کے حق میں ان کی گواہی قابلِ قبول نہیں۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ہیں، میاں بیوی کے مفادات مشترکہ ہیں بھئی، یہ دونوں ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کرتے ہیں دوسرے کا مال استعمال کرتے ہیں بھئی، لہٰذا یہاں پر بھی بیوی خاوند کے حق میں گواہی کہیں نہیں دے سکتی اور خاوند بیوی کے حق میں گواہی نہیں دے سکتا کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ تو شاید اپنے فائدے کے لیے گواہی دے رہا ہے، کیونکہ خاوند کا فائدہ ہوگا تو بیوی کا فائدہ ہوگا اور بیوی کا فائدہ ہوگا تو خاوند کا فائدہ ہوگا بھئی۔ لیکن یہاں خاوند کی گواہی اس عورت کے حق میں قبول ہے۔ یہ جو عورت ہے خاوند کے مرض الموت میں دونوں نے اتفاق کر لیا، خاوند کہتا ہے میں نے تجھے صحت میں تین طلاقیں دی تھیں اور عدت بھی گزر گئی تھی، تو اس کے اندر صاحبین فرماتے ہیں یہاں بدگمانی دلوں میں نہیں آتی چنانچہ اسی لیے خاوند کی گواہی بھی اس عورت کے حق میں قبول ہے۔ امام صاحب بھی یہی فرماتے ہیں کہ جب دونوں نے اتفاق کر لیا کہ طلاق بھی ہو گئی ہے عدت بھی گزر گئی ہے اب کسی وجہ سے قاضی کے پاس جا کر خاوند کو گواہی دینی پڑی اس عورت کے حق میں تو امام صاحب بھی فرماتے ہیں گواہی قبول کی جائے گی، کیونکہ تین طلاقیں بھی ہو چکی ہیں اور عدت بھی گزر چکی اب تو نکاح بالکل ہے ہی نہیں یہ اجنبی ہیں اور اجنبیہ کے لیے تو گواہی قبول کی جائے گی بھئی۔ اسی طرح میاں بیوی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے بھئی، جن لوگوں کے مفادات مشترکہ ہوں وہ ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے، باپ اپنی زکوٰۃ بیٹے کو نہیں دے سکتا بیٹا اپنی زکوٰۃ باپ کو نہیں دے سکتا، کیوں؟ کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ تو گویا اپنے آپ ہی کو زکوٰۃ دے رہا ہے، باپ بیٹے کو دے گا تو بیٹے کا مال تو باپ بھی استعمال کرتا ہے تو یہ بھی اس کو استعمال کرے گا۔ اسی طرح میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو زکوٰۃ نہیں دے سکتے کیونکہ میاں بیوی کے مفادات مشترکہ ہیں بھئی، تو یہ تو اسی طرح ہوگا جیسے اپنے آپ کو ہی زکوٰۃ دے رہا ہے کیونکہ دونوں مل کر مال کو استعمال کرتے ہیں۔ لیکن یہاں پر امام صاحب بھی فرماتے ہیں اس عورت کو یہ خاوند زکوٰۃ دے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے، کسی قسم کی بدگمانی نہیں آتی، تو جب نکاح پورے طور پر ٹوٹ چکا ہے تو خاوند اس عورت کی بہن سے بھی نکاح کر سکتا ہے، خاوند اس عورت کو زکوٰۃ بھی دے سکتا ہے اور خاوند اس کے حق میں گواہی بھی دے سکتا ہے، یہ سب چیزیں دلالت کر رہی ہیں کہ یہ عورت اجنبیہ ہو چکی ہے، جب اجنبیہ ہو گئی ہے تو خاوند اس کے لیے جو بھی وصیت کرے یا جو بھی اقرار کرے وہ سارا اس عورت کو ملے گا۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، اقل ملے گا، کیا ملے گا؟ اقل۔ تو کہتے ہیں ”أَلَا تَرَى“ کیا آپ دیکھتے نہیں ”أَنَّهُ تُقْبَلُ شَهَادَتُهُ لَهَا“ کہ اس عورت کے حق میں اس خاوند کی گواہی قبول کی جائے گی ”وَيَجُوزُ وَضْعُ الزَّكَاةِ فِيهَا“ اور جائز ہے زکوٰۃ کا رکھنا اس عورت میں، ”وَضْعُ الزَّكَاةِ“ کا معنیٰ ہے زکوٰۃ رکھنا، مراد ہے زکوٰۃ دینا، کیا مراد ہے؟ دینا۔ یعنی ”يَجُوزُ وَضْعُ الزَّكَاةِ فِيهَا“ خاوند کا اس عورت کو زکوٰۃ دینا بھی جائز ہے۔ اگر یہ اس کی بیوی ہوتی کسی بھی اعتبار سے تو پھر تو زکوٰۃ دینا جائز نہ ہوتا بھئی۔ ”بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ“ بخلاف مسئلہ ثانیہ کے، دوسرے مسئلے میں صاحبین نے امام صاحب کی تائید کی تھی۔ دوسرا مسئلہ کون سا تھا؟ کہ عورت کے مانگنے پر خاوند نے تین طلاقیں دی ہیں اور پھر عدت کے اندر ہی خاوند نے اس کے لیے وصیت کر دی ہے یا اقرار کر دیا ہے تو یہاں صاحبین بھی فرماتے ہیں کہ عورت کو اقل ملے گا۔ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ“ بخلاف دوسرے مسئلہ کے ”لِأَنَّ الْعِدَّةَ بَاقِيَةٌ“ کیونکہ یہاں عدت باقی ہے۔ یہاں کیا باقی ہے؟ عدت باقی ہے، یاد رکھو یہ عدت سببِ تہمت ہے۔ کیونکہ عدت میں ہم نے بتا دیا نکاح کے اثرات باقی رہتے ہیں، اور یہ نکاح ہی تو سبب تھا کس چیز کا؟ کہ اس کے لیے اقرار بھی صحیح نہیں تھا اور اس کے لیے وصیت بھی صحیح نہیں تھی، تو یہاں تہمت کا سبب موجود ہے۔ یہ عدت یہ سببِ تہمت ہے، اس کی وجہ سے دلوں میں بدگمانی آتی ہے بھئی۔ پچھلے مسئلے میں تو خاوند نے کہا تھا میں نے تجھے صحت میں تین طلاقیں بھی دی تھیں اور پھر تیری عدت بھی گزر گئی تھی اور عورت نے تصدیق کر دی، تو وہاں پر تو عدت گزر چکی ہے، جبکہ اس مسئلے کے اندر خاوند نے عورت کے کہنے پر اس کو مرض الموت میں تین طلاقیں دی ہیں اور پھر ابھی عدت چل رہی ہے کہ اسی دوران خاوند نے اس کے لیے وصیت یا اقرار کر لیا، تو صاحبین فرماتے ہیں چونکہ یہاں عدت موجود ہے اور عدت سببِ تہمت ہے اس کی وجہ سے دلوں میں بدگمانی آتی ہے لہٰذا اس تہمت کی وجہ سے اب عورت کو اقل ملے گا۔ عدت کس طرح سببِ تہمت ہے؟ دیکھو اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں۔ بھئی دیکھیے، کوئی شخص دوسرے شخص کا وارث بنتا ہے، وہاں یا تو کوئی سبب پایا جائے گا وارث ہونے کا یا قریبی رشتہ داری ہوگی۔ باپ بیٹا وغیرہ یہ سب کیا ہیں؟ ایک دوسرے کے قریبی رشتہ دار ہیں۔ تو یا تو قریبی رشتہ داری ہوگی یا کوئی سبب پایا جائے گا جس کی وجہ سے ایک شخص دوسرے کا وارث بنتا ہے جیسے نکاح ہے۔ خاوند بیوی کا وارث بنتا ہے اور بیوی خاوند کا وارث بنتی ہے چاہے بالکل الگ الگ خاندانوں سے ہے دونوں کا تعلق، تو دیکھو کوئی رشتہ داری بھی نہیں ہے پھر بھی ایک دوسرے کے وارث بنتے ہیں کس کی وجہ سے؟ اس نکاح کی وجہ سے، تو نکاح بھی سبب ہے وراثت کا۔ تو نکاح بھی وراثت کا سبب ہوا اور قریبی رشتہ داری بھی وراثت کا سبب ہے، اور اپنے وارث کے لیے تو نہ وصیت جائز ہے اور نہ اقرار جائز ہے، معلوم ہوا جب تک نکاح اور قرابت موجود ہے تو نہ وصیت صحیح ہے اور نہ اقرار صحیح ہے۔ تو وصیت اور اقرار کے صحیح نہ ہونے کی وجہ کیا تھی؟ نکاح اور قرابت۔ پھر دہرائیں: کوئی شخص دوسرے شخص کے لیے وصیت یا اقرار نہیں کر سکتا کس صورت میں؟ جب اس کے ساتھ اس کا نکاح ہو یا اس کا وہ قریبی رشتہ دار ہو جس نے وارث بننا ہے۔ تو نکاح اور قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے حکم لگا دیا جاتا ہے کہ یہ اس کے لیے وصیت بھی نہیں کر سکتا اور اقرار بھی نہیں کر سکتا، تو شریعت نے وارث کے لیے اقرار یا وصیت سے منع کیا کیونکہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ معلوم ہوا وارث کے لیے وصیت کرے گا تو اس میں تہمت ہے، اس میں تہمت ہے بھئی۔ لیکن تہمت تو ایک امرِ باطنی ہے بھئی، تہمت تو کیا ہے؟ ایک امرِ باطنی ہے بھئی، یہ دل کی بات ہے کہ پتہ نہیں یہ شخص بدنیتی کر رہا ہے یا بدنیتی نہیں کر رہا، تو وارث کے لیے وصیت بھی جائز نہیں اور اقرار بھی جائز نہیں، اور علت کیا ہے؟ تہمت، لیکن تہمت تو ایک امرِ باطنی ہے، تہمت کا تو پتہ نہیں چل سکتا، یہ تو دل کی بات ہے کہ معلوم نہیں وہ بدنیتی کر رہا ہے یا باوقوع ہی اس نے کسی زمانے میں اس وارث سے کوئی مال لیا تھا جو اس کے ذمہ باقی ہے۔ تو لہٰذا جب حکم کی علت پر انسان مطلع نہ ہو سکے تو پھر حکم کا مدار اس کی دلیل پر ہو جاتا ہے، کس پر؟ اس کی دلیل یا یوں کہیں اس کے سبب پر حکم کا مدار ہو جاتا ہے، اور سبب کیا ہے یہاں پر؟ نکاح اور قریبی رشتہ داری۔ کیونکہ وارث کیوں بنتا ہے؟ یا نکاح کی وجہ سے یا قریبی رشتہ دار ہونے کی وجہ سے، تو لہٰذا نکاح اور قریبی رشتہ داری موجود ہے تو بس یوں سمجھو تہمت موجود ہے۔ نکاح یا قریبی رشتہ داری موجود ہے تو تہمت موجود ہے کیونکہ نکاح اور قریبی رشتہ داری یہ دلیلِ تہمت ہیں، ان کی وجہ سے بدگمانی آتی ہے، یہ ہیں تو ان کی وجہ سے یہ وارث بھی بن رہے ہیں، جب وارث بن رہے ہیں اللہ نے ان کا حق مقرر کیا ہوا ہے تو ان کو تو مال ملنا ہی ملنا ہے پھر بھی ان کے لیے مزید وصیت کر رہا ہے یا اقرار کر رہا ہے معلوم ہوا یہ بدنیتی کر رہا ہے، دلوں میں بدگمانی آتی ہے، تو لہٰذا تہمت کا تو پتہ نہیں چل سکتا لیکن دلیلِ تہمت کیا ہے؟ نکاح یا قریبی رشتہ داری۔ جب نکاح یا قریبی رشتہ داری موجود ہے تو یہ دلیلِ تہمت ہے، اور جب دلیلِ تہمت ہے معلوم ہوا تہمت موجود ہے۔ تہمت کا تو پتہ نہیں چل سکتا لیکن دلیلِ تہمت تو ہے نا، نکاح یا قریبی رشتہ داری تو ہے، تو جب دلیلِ تہمت موجود ہے یوں سمجھیں گے تہمت موجود ہے لہٰذا اقرار بھی جائز نہیں اور وصیت بھی جائز نہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے سفر، سفر کے اندر شریعت نے آسانی کر دی ہے کہ اگر کوئی شخص سفر کے اندر روزہ نہیں رکھ سکتا تو نہ رکھے بعد میں اس کی قضا کر لے، اور اسی طرح سفر کے اندر شریعت نے آسانی کر دی کہ چار رکعت نماز کے بجائے دو رکعت نماز پڑھ لے بھئی، قصر کر لے، اور یہ شریعت نے یہ آسانی کیوں دی؟ کیونکہ سفر میں مشقت ہوتی ہے، تو یہ جو شریعت نے آسانی دی ہے اس کی علت مشقت ہے بھئی، لیکن مشقت تو ایک امرِ باطنی ہے مشقت کا تو پتہ نہیں چل سکتا کہ کسی شخص کو مشقت ہوئی ہے یا مشقت اور تکلیف نہیں ہوئی، کیونکہ بعض لوگوں کو اللہ نے بڑا مضبوط جسم دیا ہوتا ہے وہ کئی کئی دن بھی سفر کر لیں ان کو مشقت کا احساس ہی نہیں ہوتا اور بعض لوگوں کا بدن بڑا کمزور ہوتا ہے وہ تھوڑا سا بھی سفر کر لیں تو ان کو بڑی مشقت ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا یہ جو شریعت نے آسانی والا حکم دیا اس کا سبب اور علت کیا ہے؟ مشقت ہے لیکن مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا، جب مشقت کا پتہ نہیں چل سکتا تو مشقت کی جو دلیل ہے یا مشقت کا جو سبب ہے اسی پر حکم کا مدار کر دیا، اور مشقت کی دلیل کیا ہے؟ سفر۔ مشقت کا سبب کیا ہے؟ سفر۔ تو جب تین دن کا سفر موجود ہے تو یوں سمجھو مشقت موجود ہے کیونکہ دلیلِ مشقت موجود ہے، تین دن کا سفر کیا ہے؟ دلیلِ مشقت، جب دلیلِ مشقت موجود ہے تو پھر مشقت کا اعتبار ساقط ہوا اس کو دیکھنے کی ضرورت نہیں، بس دلیلِ مشقت موجود ہے تو حکم آ جائے گا کہ آپ روزے بعد میں رکھ سکتے ہیں اور آپ چار رکعت کے بجائے دو رکعت پڑھ سکتے ہیں۔ تو جب بھی حکم کی علت پر مطلع ہونا دشوار ہو جائے تو حکم کا مدار سبب پر ہو جاتا ہے یا یوں کہیں حکم کا مدار دلیلِ تہمت پر ہو جاتا ہے۔ اسی طرح یہاں پر شریعت نے منع کیا ہے کہ مورث جو ہے وارث کے لیے، وارث کے لیے اقرار یا وصیت نہیں کر سکتا اور اس کی علت کیا ہے؟ تہمت ہے، لیکن تہمت تو ایک امرِ باطنی ہے اس کا تو پتہ نہیں چل سکتا لہٰذا اس حکم کا مدار جو ہے دلیلِ تہمت پر ہو جائے گا اور دلیلِ تہمت کیا ہے؟ نکاح یا قریبی رشتہ داری۔ نکاح کی وجہ سے وارث بن رہا ہے یا قریبی رشتہ داری کی وجہ سے وارث بن رہا ہے تو معلوم ہوا یہ نکاح اور یہ قریبی رشتہ داری یہ دلیلِ تہمت ہیں بھئی، جب دلیلِ تہمت موجود ہے، نکاح یا قریبی رشتہ داری موجود ہے تو معلوم ہوا تہمت موجود ہے، جب تہمت موجود ہے تو پھر اقرار بھی جائز نہیں اور وصیت بھی جائز نہیں، معلوم ہوا نکاح جو ہے وہ سببِ تہمت ہے، وہ دلیلِ تہمت ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہاں خاوند نے بیوی کے اپنے مطالبے پر مرض الموت میں تین طلاقیں دی ہیں اور عدت کے اندر پھر اس کے لیے اقرار یا وصیت کر رہا ہے، اور عدت کے اندر تو آپ جانتے ہیں کہ نکاح کے بہت سے احکام باقی ہوتے ہیں، عدت کے اندر جو ہے نفقہ بھی خاوند کے ذمے ہوتا ہے، رہائش بھی خاوند کے ذمے ہوتی ہے، عدت کے دوران عورت آگے نکاح بھی نہیں کر سکتی، عدت کے دوران خاوند اسے گھر سے نکلنے سے بھی روک سکتا ہے، عدت کے دوران اگر وہ، اس عدت میں اگر وہ بچے کو جنم دے گی تو اس بچے کا نسب بھی خاوند سے ثابت ہو جائے گا، حالانکہ یہ سب تو بیویوں کے احکام ہیں، یہ سب تو نکاح کے احکام ہیں بھئی، تو معلوم ہوا عدت کے اندر بھی بعض اعتبار سے نکاح موجود ہے، اور نکاح تو کیا تھا؟ دلیلِ تہمت تھا، کیا تھا؟ دلیلِ تہمت تھا، دلیلِ تہمت نکاح موجود ہے تو گویا تہمت موجود ہے، تو یہاں پر بھی عدت کے اندر بعض اعتبار سے نکاح موجود ہے۔ موجود ہے، یعنی دلیلِ تہمت موجود ہے۔ جب دلیلِ تہمت ہے تو گویا تہمت موجود ہے۔ تو اس تہمت کی وجہ سے اب بیوی کو اقل دیں گے میراث میں سے اور یہ جو خاوند نے اس کے لیے اقرار یا وصیت کی ہے۔ اس لیے کیونکہ تہمت جو ہے وہ زیادہ مال دینے کی صورت میں ہے۔ اگر خاوند جو اقرار یا وصیت کر رہا ہے وہ میراث سے زیادہ مال کی کر رہا ہے تو اس صورت میں تہمت ہے۔ اگر میراث کے بقدر وہ وصیت یا اقرار کرتا ہے یا اس سے کم کرتا ہے تو اس میں تہمت موجود نہیں ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا تہمت جو ہے زیادہ مال کی صورت میں ہے، تو اس زیادتی کو لغو قرار دیا جائے گا اور اگر وصیت یا اقرار میراث کے برابر ہے یا اس سے کم ہے تو جو اقل ہو گا وہ عورت کو دیا جائے گا۔ جی۔ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہتر الفاظ میں بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ“ بخلاف دوسرے مسئلے کے۔ مسئلہ ذہن میں ہے کہ عورت نے مرض الموت میں تین طلاق کا مطالبہ کیا اور خاوند نے تین طلاقیں دے دیں اور پھر اس کے بعد خاوند نے وصیت یا اقرار کیا ہے۔ تو کہتے ہیں ”بِخِلَافِ الْمَسْأَلَةِ الثَّانِيَةِ“ بخلاف دوسرے مسئلہ کے ”لِأَنَّ الْعِدَّةَ بَاقِيَةٌ“ کیونکہ عدت یہاں باقی ہے بھئی۔ جی۔ عدت یہاں باقی ہے ”وَهِيَ سَبَبُ التُّهْمَةِ“ اور یہی تہمت کا سبب ہے۔ عدت کس طرح تہمت کا سبب ہے؟ میں نے بتلا دیا۔ کہ عدت کے اندر نکاح کے اثرات باقی ہوتے ہیں۔ نکاح کے اثرات باقی ہوتے ہیں اور شریعت نے منع کیا ہے کہ نکاح اور قریبی قرابت ہو تو وہاں آپ وصیت بھی نہیں کر سکتے اور اقرار بھی نہیں کر سکتے، اور یہاں عدت باقی ہے اور عدت کے اندر خاوند اس کے لیے وصیت یا اقرار کر رہا ہے اور عدت میں تو کیا ہے؟ بعض اعتبار سے نکاح موجود ہے۔ گویا بعض اعتبار سے نکاح موجود ہے اور خاوند اس کے لیے کیا کر رہا ہے؟ وصیت یا اقرار کر رہا ہے تو تہمت موجود ہے یہاں پر۔ اگر خاوند نے اس کے لیے وصیت کرنی ہی تھی تو عدت کے بعد وصیت کرتا۔ لیکن خاوند نے عدت کے اندر وصیت کی ہے تو یہ عدت کیا ہے؟ دلیلِ تہمت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور یہ اس کے لیے وصیت اور اقرار کر رہا ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے، معلوم ہوا یہ اس کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔ جی۔ بات بھی سمجھ میں آئی کہ نہیں؟ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعِدَّةَ بَاقِيَةٌ“ کیونکہ عدت باقی ہے اور وہ وصیت یا اقرار کر رہا ہے ”وَهِيَ سَبَبُ التُّهْمَةِ“ اور یہ تہمت کا سبب ہے، یہ عدت کیا ہے؟ تہمت کا سبب ہے کیونکہ نکاح کے اثرات باقی ہیں ”وَالْحُكْمُ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ التُّهْمَةِ“ اور حکم کا مدار جو ہے وہ تہمت کی دلیل پر ہوگا، حکم کا دار و مدار تہمت کی دلیل پر ہوگا۔ تہمت آ رہی ہے، تہمت کی دلیل موجود ہے، لہٰذا جو اقل ہوگا وہ عورت کو دے دیں گے۔ جی۔ اس دین یا اقرار میں سے یا جو مالِ میراث ہے ان میں سے جو اقل ہے وہ دے دیں گے، کیونکہ اقل کے اندر تو بدگمانی نہیں آتی بھئی۔ دلیل سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْعِدَّةَ بَاقِيَةٌ“ کیونکہ عدت باقی ہے ”وَهِيَ سَبَبُ التُّهْمَةِ“ اور عدت جو ہے یہ تہمت کا سبب ہے ”وَالْحُكْمُ يُدَارُ عَلَى دَلِيلِ التُّهْمَةِ“ اور اس حکم کا دار و مدار جو ہے تہمت کی دلیل پر ہے۔ کون سا حکم؟ کہ اقرار اور وصیت صحیح نہیں، اقرار اور وصیت کے صحیح نہ ہونے کے حکم کا مدار دلیلِ تہمت پر ہے۔ ”وَلِهَذَا يُدَارُ عَلَى النِّكَاحِ وَالْقَرَابَةِ“ اور اسی لیے اس کا مدار جو ہے نکاح اور قرابت پر ہوگا۔ نکاح اور قرابت ہے تو تہمت موجود ہے، جب تہمت ہے تو وصیت اور اقرار صحیح نہیں اور یہاں پر بھی عدت موجود ہے اور عدت کے اندر بھی نکاح کے اثرات ہوتے ہیں، تو لہٰذا یہاں پر بھی دلیلِ تہمت موجود ہے، لہٰذا اس وجہ سے اب وہ جو اقل ہے وہ عورت کو دیں گے۔ اگر وہ اقرار یا وصیت میراث سے زائد ہوا تو وہ زائد نہیں دیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا عِدَّةَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ جب کہ پہلے مسئلے میں تو عدت نہیں تھی۔ یہاں تو دلیلِ تہمت موجود ہے، سببِ تہمت یعنی عدت موجود ہے لیکن پچھلے مسئلے میں جب دونوں نے مل کر اتفاق کیا تھا کہ خاوند کہتا ہے میں نے تمہیں صحت میں تین طلاقیں بھی دے دی تھیں اور تمہاری عدت بھی گزر گئی تھی۔ وہاں پر تو عدت باقی نہیں، تو اس لیے صاحبین نے اس مسئلے کے اندر کہا کہ عورت کو وصیت یا اقرار ہی دے دیں گے جتنا بھی ہوا کیونکہ وہاں سببِ تہمت یعنی عدت موجود نہیں ہے، وہ عورت اجنبیہ بن چکی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا عِدَّةَ فِي الْمَسْأَلَةِ الْأُولَى“ اور پہلے مسئلے میں عدت نہیں تھی ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی اور امام صاحب کے نزدیک دونوں صورتوں میں، دونوں مسئلوں میں بیوی کو اقل دیں گے وصیت و اقرار اور میراث میں سے جو اقل ہوگا وہ ملے گا۔ اب اس کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي الْمَسْأَلَتَيْنِ“ اور امام صاحب کی دلیل دونوں مسئلوں میں وہ یہ ہے ”أَنَّ التُّهْمَةَ قَائِمَةٌ“ کہ تہمت قائم ہے، تہمت موجود ہے ”لِأَنَّ الْمَرْأَةَ قَدْ تَخْتَارُ الطَّلَاقَ“ جی، اب وجہ ذکر کریں گے، دونوں مسئلوں میں تہمت ہے۔ کس طرح؟ کہ خاوند مرض الموت میں بیوی کو کہتا ہے میں نے تجھے صحت میں طلاق دی تھی اور پھر تیری عدت بھی گزر گئی تھی، اور پھر بعد میں اسی مرض الموت میں خاوند اس کے لیے اقرار یا وصیت کر رہا ہے، جی، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ ہو سکتا ہے دونوں نے آپس میں اتفاق کر لیا ہو کہ میں اس طرح کہوں گا تاکہ میرے لیے وصیت اور اقرار کا دروازہ کھل جائے۔ اور اسی طرح دوسرے مسئلے کے اندر مرض الموت کے اندر عورت طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہاں پر بھی شاید اس لیے عورت مطالبہ کر رہی ہے، یہ دونوں آپس میں ملے ہوئے ہیں، عورت اس لیے مطالبہ کر رہی ہے کہ خاوند مجھے طلاقیں دے دے اور پھر خاوند کے لیے وصیت یا اقرار کا راستہ کھل جائے گا بھئی۔ جی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں دونوں مسئلوں میں: ”أَنَّ التُّهْمَةَ قَائِمَةٌ“ کہ تہمت موجود ہے ”لِأَنَّ الْمَرْأَةَ قَدْ تَخْتَارُ الطَّلَاقَ“ اس لیے کیونکہ عورت کبھی کبھار طلاق کو اختیار کر لیتی ہے اپنی رضامندی سے ”لِيَنْفَتِحَ بَابُ الْإِقْرَارِ وَالْوَصِيَّةِ عَلَيْهَا“ تاکہ اس پر اقرار اور وصیت کا دروازہ کھل جائے ”فَيَزِيدَ حَقُّهَا“ تو اس کا حق بڑھ جائے گا۔ جی، عورت نے جو خود مطالبہ کیا ہے وہ اس لیے راضی ہوئی ہے طلاق پر تاکہ اقرار اور وصیت کا دروازہ کھل جائے۔ اور دوسرے مسئلے میں بھی: ”وَالزَّوْجَانِ قَدْ يَتَوَاضَعَانِ عَلَى الْإِقْرَارِ بِالْفُرْقَةِ وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“، ”وَالزَّوْجَانِ قَدْ يَتَوَاضَعَانِ“ اور میاں بیوی کبھی کبھار اتفاق کر لیتے ہیں، یتواضعان: باہم اتفاق کر لینا، ”وَالزَّوْجَانِ قَدْ يَتَوَاضَعَانِ“ اور میاں بیوی کبھی باہم اتفاق کر لیتے ہیں ”عَلَى الْإِقْرَارِ بِالْفُرْقَةِ وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ جدائی اور عدت کے گزرنے کے اقرار پر دونوں باہم کیا کر لیتے ہیں؟ اتفاق کر لیتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالزَّوْجَانِ قَدْ يَتَوَاضَعَانِ“ اور کبھی کبھار میاں بیوی باہم اتفاق کر لیتے ہیں ”عَلَى الْإِقْرَارِ“ اس اقرار پر، اس اقرار پر اتفاق کر لیتے ہیں، کیا اقرار؟ ”بِالْفُرْقَةِ وَانْقِضَاءِ الْعِدَّةِ“ جدائی اور عدت کے گزرنے پر، جی، جدائی اور عدت کے گزرنے کے اقرار پر دونوں باہم اتفاق کر لیتے ہیں ”لِيَبَرَّهَا الزَّوْجُ بِمَالِهِ“، لِیَبَرَّ باء کے فتحہ کے ساتھ بھی صحیح اور لِیَبِرَّھَا، بَرَّ یا بَرَّ کے معنی ہیں حسنِ سلوک کرنا، اچھا سلوک کرنا، ”لِيَبَرَّهَا الزَّوْجُ“ تاکہ خاوند اس کے ساتھ حسنِ سلوک کرے یعنی اچھا سلوک کرے ”بِمَالِهِ“ اپنے مال کے ساتھ ”زِيَادَةً عَلَى مِيرَاثِهَا“ اس کی میراث پر بڑھاتے ہوئے۔ جی، دونوں آپس میں اتفاق کر لیتے ہیں کہ طلاق بھی دے دی ہے اور جدائی بھی ہو گئی ہے تاکہ خاوند اس کے ساتھ نیکی کر سکے اپنے مال کے ذریعے یعنی اس کو اس کے حصے سے زیادہ دے دے بھئی۔ جی۔ یہ معنی ہے ”لِيَبَرَّهَا الزَّوْجُ بِمَالِهِ“ تاکہ خاوند اس کے ساتھ اچھا سلوک کرے اپنے مال کے ذریعے ”زِيَادَةً عَلَى مِيرَاثِهَا“ اس کی میراث پر بڑھا کر۔ ”وَهَذِهِ التُّهْمَةُ فِي الزِّيَادَةِ“ اور یہ بدگمانی صرف زیادتی کی صورت میں ہے، اگر وہ میراث سے زیادہ کی وصیت یا اقرار کرے پھر صرف اس وقت یہ بدگمانی آتی ہے، جی، اور برابر یا کم کی صورت میں یہ بدگمانی نہیں آتی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ التُّهْمَةُ فِي الزِّيَادَةِ“ اور زیادہ کی صورت میں یہ بدگمانی ہے ”فَرَدَدْنَاهَا“ تو ہم نے اس زیادتی کو رد کر دیا ”وَلَا تُهْمَةَ فِي قَدْرِ الْمِيرَاثِ“ اور میراث کے بقدر مقدار میں تو کوئی تہمت نہیں۔ جی، عورت کو ملنا بھی دس لاکھ تھا اور خاوند وصیت بھی کتنے کی کر رہا ہے؟ دس لاکھ کی، تو اس میں تو کوئی بدگمانی نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تُهْمَةَ فِي قَدْرِ الْمِيرَاثِ“ اور میراث کی مقدار کے اندر تو کوئی بدگمانی نہیں ہے ”فَصَحَّحْنَاهُ“ تو اس کو ہم نے صحیح قرار دیا۔ جی۔ جب میراث کے بقدر وصیت یا اقرار صحیح ہے تو میراث سے کم اقرار بطریقِ اولیٰ صحیح ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَحَّحْنَاهُ“ تو میراث کی بقدر کو ہم نے صحیح قرار دے دیا ”وَلَا مُوَاضَعَةَ عَادَةً فِي حَقِّ الزَّكَاةِ وَالتَّزَوُّجِ وَالشَّهَادَةِ“ صاحبین کے قول کا جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین نے کیا ذکر کیا تھا؟ پہلی صورت میں جب دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ خاوند نے اس کو صحت میں طلاقیں دی تھیں اور عدت بھی گزر چکی ہے، تو صاحبین فرماتے تھے یہ اجنبیہ بن گئی ہے حتیٰ کہ اس کی بہن سے بھی نکاح جائز ہے، خاوند اس کے حق میں گواہی بھی دے سکتا ہے اور نیز خاوند اسے زکوٰۃ بھی دے سکتا ہے۔ یہ سب چیزیں بتا رہی ہیں کہ وہ اجنبیہ بن چکی ہے، جب اجنبیہ بن چکی ہے تو اقرار اور وصیت صحیح ہے، اس کو اقرار اور وصیت دیں گے جتنا بھی مال ہو بھئی۔ جی۔ تو اس کا اب جواب دے رہے ہیں کہ بھئی یہ جو مسئلے آپ نے ذکر کیے ان کے حق میں تہمت نہیں ہے اس لیے یہ صحیح ہیں۔ جی، یہ صحیح ہیں، مال کے سلسلے میں بدگمانی آتی ہے اور بیوی کی بہن سے نکاح میں یہ بدگمانی نہیں آتی، جی، یہ بدگمانی نہیں آتی کہ دونوں نے کیا کر لیا ہو گا؟ خاوند اس کی بہن سے نکاح کرنا چاہتا ہے تو دونوں نے اتفاق کر لیا کہ میں اس طرح کہوں گا کہ میں نے تمہیں صحت میں تین طلاقیں دی تھیں اور عدت بھی گزر گئی تھی تو میرے لیے تمہاری بہن سے نکاح کا راستہ کھل جائے گا۔ اس پر تو باہم اتفاق نہیں کریں گے، مال کے سلسلے میں تو اتفاق کریں گے، جی، کہ میں تمہیں طلاق دے دیتا ہوں اور عدت کے گزرنے کا بھی ہم اقرار کر لیتے ہیں، پھر میرے لیے راستہ کھل جائے گا، میں تمہارے لیے زیادہ مال کی وصیت بھی کر سکوں گا اور اقرار بھی کر سکوں گا۔ تو وصیت اور اقرار کے سلسلے میں تو یہ بدگمانی دلوں میں آتی ہے لیکن بہن سے نکاح کے بارے میں دونوں نے اتفاق کر لیا ہو تین طلاقوں کا اور عدت کے گزرنے کا، یہاں بدگمانی نہیں آتی۔ اسی طرح گواہی دینے کے سلسلے میں بھی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی کہ میں تمہارے حق میں گواہی ویسے تو نہیں دے سکتا، ہم یوں کر لیتے ہیں کہ تین طلاقوں کا بھی اقرار کر لیتے ہیں اور عدت کے گزرنے کا بھی اقرار کر لیتے ہیں تو پھر میں تمہارے حق میں گواہی دے سکوں گا۔ تو یہاں بھی بدگمانی نہیں، اس طرح تو کوئی بھی اتفاق نہیں کرتا بھئی۔ اور اسی طرح زکوٰۃ کے حق میں بھی دلوں میں بدگمانی نہیں آتی کہ اس طرح ہم دونوں آپس میں اقرار کر لیں گے کہ میں تمہیں طلاقیں بھی دے چکا ہوں اور عدت بھی گزر گئی ہے، پھر میرے لیے تمہیں زکوٰۃ دینا جائز ہو جائے گا۔ جی، تو اس طرح تو کوئی بھی اتفاق نہیں کرتا۔ تو اقرار اور وصیت کے سلسلے میں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے، یہ بہن سے نکاح ہے یا بیوی کے حق میں گواہی دینا ہے یا بیوی کو زکوٰۃ دینا جائز ہو جائے اس سلسلے میں تو کوئی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُوَاضَعَةَ عَادَةً فِي حَقِّ الزَّكَاةِ وَالتَّزَوُّجِ وَالشَّهَادَةِ“ اور باہمی اتفاق نہیں ہوتا عادۃً عام طور پر ”فِي حَقِّ الزَّكَاةِ“ زکوٰۃ کے حق میں ”وَالتَّزَوُّجِ“ اور بہن سے نکاح کے حق میں ”وَالشَّهَادَةِ“ اور بیوی کے حق میں گواہی، اس کے سلسلے میں تو عموماً عادۃً جو ہے باہم اتفاق نہیں کیا جاتا ”فَلَا تُهْمَةَ فِي حَقِّ هَذِهِ الْأَحْكَامِ“ لہٰذا ان احکام کے حق میں تو کوئی تہمت نہیں ہے، ان احکام کے حق میں کوئی تہمت نہیں لیکن وصیت اور اقرار کے معاملے میں بدگمانی دلوں میں آتی ہے۔ آگے سبق دیکھیے بھئی: ”قَالَ: وَمَنْ كَانَ مَحْصُورًا أَوْ فِي صَفِّ الْقِتَالِ فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا لَمْ تَرِثْهُ، وَإِنْ كَانَ قَدْ بَارَزَ رَجُلًا أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ فِي قِصَاصٍ أَوْ رَجْمٍ وَرِثَتْ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ أَوْ قُتِلَ“ بھئی اب صاحبِ ہدایہ کچھ اور مسائل ذکر فرمائیں گے۔ ضابطہ ان کا سمجھ لیں، ضابطہ: یاد رکھو وہ چیز جس میں ہلاکت غالب ہو، جس میں ہلاک ہونا غالب ہو وہ مرض الموت کے درجے میں ہے۔ جی۔ وہ مرض الموت کے درجے میں ہے اور جس چیز کے اندر سلامتی غالب ہو وہ صحت کے درجے میں ہے۔ لہٰذا ایک شخص قلعے کے اندر بند ہے، دشمن نے قلعے کا گھیراؤ کر لیا، جی، اب یہ شخص قلعے کے اندر بند ہے اور جب قلعے کے اندر انسان ہو تو سلامتی غالب ہوتی ہے۔ تو یہ صحت کے درجے میں ہے۔ لہٰذا یہ شخص اگر اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دیتا ہے تو تو یہاں سلامتی غالب ہے، یہ مرض الموت کے درجے میں نہیں ہے، لہٰذا بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق نہیں۔ جب بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق نہیں ہے تو یہ طلاقِ بائن دے گا تو وہ نکاح فوراً ٹوٹ گیا اور اب عدت کے اندر بھی خاوند کا انتقال ہو جائے تو وہ وارثہ نہیں بنے گی۔ لیکن اس کے برعکس اگر ایک شخص جو ہے میدانِ جنگ کے اندر مقابلے کے لیے اکیلا اترتا ہے، قدیم زمانے میں جنگیں یوں ہوتی تھیں کہ دونوں فوجیں آمنے سامنے آ کر پڑاؤ ڈال لیتیں، پھر ہر روز جو ہے کچھ لوگ لڑنے کے لیے نکلتے، صفیں بناتے اور پھر صبح سے شام تک لڑائی رہتی اور پھر شام کو لڑائی رک جاتی اور لوگ اپنے اپنے زخمیوں کو سنبھالتے بھئی اور مرنے والوں کو سنبھالتے، اور جب لڑائی شروع ہوتی، لڑائی کے آغاز میں، پہلے دن لڑائی کے آغاز میں چند بہادر دشمن کی طرف سے نکلتے اور ادھر سے بھی چند بہادر نکلتے اور پھر ان کا آپس میں مقابلہ ہوتا تھا۔ جیتنے والا دوسرے کو وہیں پر قتل کر دیتا تھا۔ دونوں طرف صفیں بنی ہوئی ہیں اور درمیان میں دو آدمی آپس میں لڑ رہے ہیں بھئی۔ جی۔ تو اس کے اندر دیکھو، اس کے اندر ہلاکت غالب ہے۔ یہ جو تلوار سے مقابلہ کر رہا ہے ایک شخص دوسرے شخص سے، اس میں ہلاکت غالب ہے کیونکہ ایک نے تو مرنا ہے ہر حال میں اور دوسرا بھی عموماً زخمی ہو جائے گا بھئی۔ تو یہ اگر تلوار کے مقابلے کے اندر ایک شخص نکلا ہے اور پھر یہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیتا ہے، تو یہ تو اس نے ایسے موقع پر بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں جس میں ہلاکت غالب ہے، تو یہ مرض الموت کے درجے میں ہے اور مرض الموت کے اندر تو بیوی کا حق اس کے مال سے متعلق ہو جاتا ہے، لہٰذا اگر عدت کے اندر انتقال ہو جاتا ہے تو بیوی وارثہ بنتی ہے، لہٰذا یہاں پر بھی یہ شخص اگر عدت کے اندر مر گیا تو بیوی وارثہ بنے گی۔ اسی طرح اگر ایک شخص لشکر کی صفوں میں موجود ہے، لشکر کے صفوں میں موجود ہے، لڑائی کی تیاری ہو رہی ہے تو اس کے اندر بھی سلامتی غالب ہے کیونکہ اس کے ساتھ پورا لشکر موجود ہے، وہ اکیلا تو نہیں ہے، تو یہ صحت کے درجے میں ہے۔ لہٰذا اس کے اندر اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے گا تو عدت کے اندر بھی اگر یہ مر جائے تو وہ عورت وارثہ نہیں ہو گی بھئی۔ اور جب کہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص ہے اس کو قصاص میں قتل کیا جائے گا یا وہ شادی شدہ تھا اس نے زنا کیا ہے اور وہ ثابت ہو گیا ہے اور اب اس کو رجم کیا جائے گا، تو جب قصاص کے اندر قتل کرنے کے لیے ایک آدمی کو آگے کر دیا گیا یا رجم کے اندر ایک شخص کو قتل کرنے کے لیے آگے کر دیا گیا تو اس حالت میں اگر یہ شخص اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے گا، اس حالت کے اندر تو ہلاکت غالب ہے۔ جی، جب اس کو اب قصاص میں قتل کیا جانا ہے تو اس میں تو ہلاکت غالب ہے، اس کا تو بچنا مشکل ہے بھئی۔ احتمال ہے شاید وہ معاف کر دیں، جی، لیکن بہرحال اس میں بچنا مشکل ہے، تو یہ مرض الموت کے درجے میں ہے۔ تو بیوی کا حق اس کے مال سے متعلق ہو چکا ہے، لہٰذا یہ تین طلاقیں دے بھی دے پھر بھی اگر عدت کے اندر اگر یہ مرتا ہے تو بیوی وارثہ بنے گی۔ ضابطہ سمجھ میں آ گیا۔ ضابطہ کیا؟ کہ جس چیز کے اندر ہلاکت غالب ہو وہ مرض الموت کے حکم میں ہے اور جس چیز کے اندر سلامتی غالب ہو وہ صحت کے حکم میں ہے۔ ”قَالَ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جامع صغیر کے اندر: ”وَمَنْ كَانَ مَحْصُورًا“ اور جو شخص محصور ہوا یعنی قلعے میں بند کیا گیا ہے اس کو، قلعے کا گھیراؤ کیا ہے دشمنوں نے تو لوگ قلعے والے اندر بند ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ كَانَ مَحْصُورًا“ اور جو شخص جو ہے محصور ہے ”أَوْ فِي صَفِّ الْقِتَالِ“ یا وہ لڑائی کی صف میں ہے یعنی لشکر کے اندر ہے ”فَطَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلَاثًا“ اس نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، اس محصور نے یا یہ جو قتال کی صف میں ہے ”لَمْ تَرِثْهُ“ تو یہ بیوی اس کی وارثہ نہیں بنے گی کیونکہ یہ صحت کے حکم میں ہے یہ حالت بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَ قَدْ بَارَزَ رَجُلًا“، بارز یبارز کے معنی ہیں تلوار سے کسی سے مقابلہ کرنا، ”وَإِنْ كَانَ قَدْ بَارَزَ رَجُلًا“ اور اگر کسی شخص نے دوسرے شخص سے تلوار کے ساتھ مقابلہ کیا ”أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ فِي قِصَاصٍ أَوْ رَجْمٍ“ یا اس کو آگے کیا گیا تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے قصاص میں یا رجم میں یعنی سنگساری میں ”وَرِثَتْ“ تو اس صورت میں یہ بیوی اس کی وارثہ بنے گی اگر عدت کے اندر اس کا انتقال ہوا، تو کہتے ہیں ”وَرِثَتْ“ بیوی اس کی وارثہ بنے گی ”إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ أَوْ قُتِلَ“ اگر یہ شخص اسی وجہ میں یعنی اسی سبب سے مر گیا ”أَوْ قُتِلَ“ یا اس کو قتل کر دیا گیا، چاہے اسی سبب سے مرے چاہے کوئی اور اس کو قتل کر دے، جی، دونوں صورتوں کا حکم ایک ہی ہے۔ جیسے ایک شخص مرض الموت میں گرفتار ہے اور مرض الموت میں بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ وابستہ ہو گیا، اس نے بیوی کو تین طلاقیں دیں، آپ نے کیا حکم لگا دیا کہ عدت کے گزرنے تک یہ وارثہ بنے گی، اور پھر چند دن گزرے تھے ایک اور آدمی آیا اس نے اس کو تلوار سے قتل کر دیا، اس مریض کو، اب تو یہ مرض کی وجہ سے نہیں مرا، اس کے قتل کی وجہ سے مرا ہے، لیکن کہتے ہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، چاہے اسی سبب سے مرے چاہے کسی اور سبب سے مرے، بہرحال اگر حالت ایسی ہے جس میں ہلاکت غالب ہے تو وہ مرض الموت والا حکم ہے، چاہے اسی سبب سے مرے چاہے کسی اور سبب سے مرے۔ اور اگر حالت ایسی ہے جس میں سلامتی غالب ہے تو وہ صحت والا حکم ہے۔ بھئی یہ عبارت بھی دیکھ لیں: ”أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ فِي قِصَاصٍ“، جی، یہ جو ”فِي“ آیا ہے یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ کبھی کبھار فی بھی علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے۔ جی۔ فی بھی کس لیے آتا ہے؟ علت بیان کرنے کے لیے آتا ہے، ”لِيُقْتَلَ فِي قِصَاصٍ“ أَيْ: لِيُقْتَلَ لِأَجْلِ قِصَاصٍ، قصاص کی وجہ سے، قصاص کے سبب سے، تو فی بھی سبب بیان کرنے کے لیے آتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ مَا بَيَّنَّا“ اور ضابطہ اس کا وہ ہے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّ امْرَأَةَ الْفَارِّ تَرِثُ اسْتِحْسَانًا“، امرأۃ الفار بھئی یاد رکھو، یہ شخص جو مرض الموت میں گرفتار ہے اور یہ اپنی بیوی کو طلاقِ بائن دیتا ہے اس کو کہتے ہیں زوجِ فار یا رجلِ فار۔ فَرَّ يَفِرُّ فَرًّا وَفِرَارًا فَهُوَ فَارٌّ، فر یفر کا معنی بھاگنا، تو یہ شخص بھی گویا بھاگ رہا ہے، یہ بھاگنا چاہتا ہے، جان چھڑانا چاہتا ہے بیوی کے وارث ہونے سے۔ جی۔ یہ بھاگ رہا ہے یعنی بیوی کو اپنا وارث نہیں بنانا چاہتا تو اس کو کیا کہیں گے؟ رجلِ فار بھئی یا زوجِ فار، اور اس کی بیوی جو ہے وہ امرأۃِ فار ہے یا زوجۂ فار ہے۔ تو یہ مسئلے جتنے ابھی تک ذکر ہو رہے ہیں یہ رجلِ فار کے مسئلے ہیں یا زوجِ فار کے ہیں، یا یوں کہو امرأۃِ فار کے مسئلے ہیں، جی، امرأۃِ فار۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ مَا بَيَّنَّا“ کہ ضابطہ اس کا وہ ہے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّ امْرَأَةَ الْفَارِّ تَرِثُ اسْتِحْسَانًا“ کہ امرأۃِ فار وہ وارثہ بنے گی استحساناً بھئی۔ جی۔ توجہ ہے؟ یاد رکھو یہ جو ہم نے امرأۃِ فار کو وارث قرار دیا ہے یہ استحساناً ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس عورت کو وارثہ نہیں ہونا چاہیے کیونکہ طلاقِ بائن سے نکاح ٹوٹ جاتا ہے۔ جی۔ جیسے امام شافعی رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا تھا کہ جیسے خاوند اس کا وارث نہیں بنتا تو یہ بیوی کو بھی خاوند کا وارث نہیں بننا چاہیے اس حالت میں، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے لیکن استحساناً یہ امرأۃِ فار وارثہ بنے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَصْلُهُ مَا بَيَّنَّا“ اور اصل ضابطہ اس کا وہ ہے جو ہم نے بیان کر دیا ”أَنَّ امْرَأَةَ الْفَارِّ تَرِثُ اسْتِحْسَانًا“ کہ امرأۃِ فار جو ہے جان چھڑانے والے شخص کی بیوی جو ہے وہ استحساناً وارثہ بنے گی ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ حُكْمُ الْفِرَارِ بِتَعَلُّقِ حَقِّهَا بِمَالِهِ“ بھئی فرار کا حکم کب ثابت ہو گا؟ فرار کا معنی بھاگنا، کب کہیں گے خاوند بھاگنا چاہتا ہے؟ یہ اس وقت کہیں گے جب بیوی کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو گیا ہے، یعنی خاوند مرض الموت میں گرفتار ہے، جی، یا ایسی حالت میں ہے جس میں بچنا مشکل ہے بھئی۔ جی۔ تب عورت کا حق اس کے مال سے متعلق ہو گیا ہے، اب یہ طلاق دیتا ہے معلوم ہوا یہ رجلِ فار ہے، جی، یہ جان چھڑانا چاہ رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ حُكْمُ الْفِرَارِ“ اور فرار کا حکم ثابت ہوتا ہے ”بِتَعَلُّقِ حَقِّهَا بِمَالِهِ“ اس عورت کا حق اس خاوند کے مال سے متعلق ہونے کی وجہ سے ”وَإِنَّمَا يَتَعَلَّقُ بِمَرَضٍ يُخَافُ مِنْهُ الْهَلَاكُ غَالِبًا“ اور بیوی کا حق متعلق ہوتا ہے خاوند کے مال سے ”بِمَرَضٍ“ ایسے مرض کی وجہ سے ”يُخَافُ مِنْهُ الْهَلَاكُ غَالِبًا“ جس سے غالباً ہلاک کا خوف ہو، جس میں ہلاک کا خوف غالب ہو ”كَمَا إِذَا كَانَ صَاحِبَ الْفِرَاشِ“ جیسے کہ وہ صاحبِ فراش ہو، جی، یعنی بستر پر لگ گیا ہے، اب عام صحت مند لوگوں کی طرح اپنے کام کاج نہیں کر سکتا تو معلوم ہوا یہ کیا ہے؟ مرض الموت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا كَانَ صَاحِبَ الْفِرَاشِ“ جیسے کہ اس کا خاوند جو ہے وہ صاحب الفراش ہو یعنی بیمار ہے بستر پر لگ گیا ہے ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ لَا يَقُومُ بِحَوَائِجِهِ“ اور وہ یہ کہ خاوند ایسی حالت پر ہو ”لَا يَقُومُ بِحَوَائِجِهِ“ کہ وہ اپنی حاجتیں پوری نہیں کر سکتا ”كَمَا يَعْتَادُهُ الْأَصِحَّاءُ“ جیسے کہ عادت ہوتی ہے تندرست لوگوں کی، اصحاء: تندرست لوگ، یعتاد: جیسے کہ عادت ہوتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ أَنْ يَكُونَ بِحَالٍ“ اور وہ یہ کہ خاوند ایسی حالت پر ہو ”لَا يَقُومُ بِحَوَائِجِهِ كَمَا يَعْتَادُهُ الْأَصِحَّاءُ“ کہ وہ خاوند اپنی حاجتیں پوری نہیں کر سکتا، وہ اپنی حاجتیں سر انجام نہیں دے سکتا ”كَمَا يَعْتَادُهُ الْأَصِحَّاءُ“ جیسے کہ تندرست لوگوں کی عادت ہوتی ہے ”وَقَدْ يَثْبُتُ حُكْمُ الْفِرَارِ بِمَا هُوَ فِي مَعْنَى الْمَرَضِ“ اور اسی طرح کبھی کبھار فرار کا حکم ثابت ہو جاتا ہے ”بِمَا هُوَ فِي مَعْنَى الْمَرَضِ“ ایسی چیز کی وجہ سے بھی جو مرض کے معنی میں ہو ”فِي تَوَجُّهِ الْهَلَاكِ غَالِبًا“ بھئی کس چیز میں مرض کی طرح ہو؟ کہتے ہیں ”فِي تَوَجُّهِ الْهَلَاكِ الْغَالِبِ“ غالب ہلاکت کے متوجہ ہونے میں۔ جی۔ جیسے مرض الموت میں ہلاکت غالب ہوتی ہے، اسی طرح کوئی ایسی حالت آ گئی کہ اس میں بھی ہلاکت غالب ہے، تو یہ بھی کس کی طرح ہو گیا؟ مرض الموت کی طرح۔ تو یہ معنی ہے ”وَقَدْ يَثْبُتُ حُكْمُ الْفِرَارِ“ اور کبھی کبھار فرار کا حکم ثابت ہو جاتا ہے ”بِمَا هُوَ فِي مَعْنَى الْمَرَضِ“ اس چیز کی وجہ سے بھی جو مرض کے معنی میں ہے ”فِي تَوَجُّهِ الْهَلَاكِ الْغَالِبِ“ غالب ہلاکت کے متوجہ ہونے میں ”وَمَا يَكُونُ الْغَالِبُ مِنْهُ السَّلَامَةَ“ اور وہ چیز جس کے اندر سلامتی غالب ہو ”لَا يَثْبُتُ بِهِ حُكْمُ الْفِرَارِ“ اس سے فرار کا حکم ثابت نہیں ہوتا ”فَالْمَحْصُورُ وَالَّذِي فِي صَفِّ الْقِتَالِ“ پس وہ شخص جو محصور ہے، قلعے میں بند کیا گیا ہے ”وَالَّذِي فِي صَفِّ الْقِتَالِ“ اور وہ شخص جو لڑائی کی صف میں ہے ”الْغَالِبُ مِنْهُ السَّلَامَةُ“ غالب ان میں اس سے سلامتی ہے ”لِأَنَّ الْحِصْنَ لِدَفْعِ بَأْسِ الْعَدُوِّ“ حصن کہتے ہیں قلعے کو، صاد کے ساتھ ہے حِصْنٌ، ”لِأَنَّ الْحِصْنَ“ اس لیے کیونکہ قلعہ جو ہے ”لِدَفْعِ بَأْسِ الْعَدُوِّ“ بأس کہتے ہیں سختی اور شدت کو، ”لِأَنَّ الْحِصْنَ لِدَفْعِ بَأْسِ الْعَدُوِّ“ اس لیے کیونکہ قلعہ جو ہے وہ دشمن کی سختی کو دور کرنے کے لیے ہوتا ہے تو قلعہ موجود ہے لہٰذا سلامتی غالب ہے ”وَكَذَا الْمَنَعَةُ“ منعہ لشکر کو کہتے ہیں، اور اسی طرح لشکر بھی ہے، جو شخص لڑائی کی صف میں ہے اس میں بھی سلامتی غالب ہے کیونکہ پورا لشکر موجود ہے ”فَلَا يَثْبُتُ بِهِ حُكْمُ الْفِرَارِ“ تو اس حصر یا صف کے اندر ہونے سے فرار کا حکم ثابت نہیں ہوتا ”وَالَّذِي بَارَزَ أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ“ اور وہ شخص جو تلوار سے مقابلہ کرتا ہے ”أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ“ یا جس کو آگے کیا گیا ہے تاکہ اس کو قتل کر دیا جائے ”الْغَالِبُ مِنْهُ الْهَلَاكُ“ اس کی وجہ سے غالب جو ہے وہ ہلاکت ہی ہے ”فَتَحَقَّقَ بِهِ الْفِرَارُ“ تو اس کی وجہ سے فرار متحقق ہو جائے گا۔ اس حالت میں جب ہلاکت غالب ہے یہ بیوی کو طلاق دے رہا ہے معلوم ہوا یہ اس کو نقصان دینا چاہتا ہے، اپنا وارث نہیں بنانا چاہتا، تو اس صورت میں بھی یہ طلاق دے گا تو فرار ثابت ہو جائے گا یعنی ایسی صورت جس میں ہلاکت غالب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَتَحَقَّقَ بِهِ الْفِرَارُ“ تو اس کی وجہ سے فرار ثابت ہو جائے گا ”وَلِهَذَا أَخَوَاتٌ تُخَرَّجُ عَلَى هَذَا الْحَرْفِ“ اور اس مسئلے کی اور بھی نظیریں ہیں، ”وَلِهَذَا أَخَوَاتٌ“ اس مسئلے کی اور بھی نظیریں ہیں یعنی اس جیسے اور بھی مسائل ہیں ”تُخَرَّجُ عَلَى هَذَا الْحَرْفِ“ جن کی تخریج کی گئی ہے اسی طریقے پر، ”عَلَى هَذَا الْحَرْفِ“ اسی طریقے پر ان کی بھی تخریج کی گئی ہے۔ مثلاً دیکھو کہتے ہیں ایک شخص کشتی میں سوار ہے تو کشتی کے اندر تو سلامتی غالب ہوتی ہے، جی، تو لہٰذا یہ سلامتی کی حالت ہے، اس حال میں یہ تین طلاقیں بیوی کو دے گا اور عدت کے اندر بھی اب اس کا انتقال ہو جائے پھر بھی بیوی وارثہ نہیں بنے گی۔ لیکن اگر طوفان آ گیا بھئی، سمندر میں اگر طوفان آ گیا اب یہ مرض الموت والی حالت آ گئی کیونکہ اس کے اندر ہلاکت غالب ہے۔ جی۔ اسی طرح ایک عورت ہے وہ حاملہ ہے، حاملہ ہے تو یہ حاملہ تو یہ تو صحت والی حالت ہے، لیکن اگر اس کو دردِ زہ شروع ہو گیا، ولادت کا درد شروع ہو گیا تو یہ بھی کس کے حکم میں ہے؟ یہ بھی مرض الموت کے حکم میں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اسی طرح ایک معذور یا اپاہج ہے وہ اگر اپنی حالت پر برقرار ہے یعنی جس طرح وہ معذور یا اپاہج ہے اسی طرح زندگی گزر رہی ہے تو یہ صحت والی حالت ہے، لیکن اگر اس کی بیماری بڑھنا شروع ہو گئی تو یہ مرض الموت کی حالت ہے کیونکہ پہلے ہی معذور اور اپاہج ہے، اب بیماری بڑھتی چلی جا رہی ہے، معلوم ہوا اب اس میں بچنا مشکل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهَذَا أَخَوَاتٌ تُخَرَّجُ عَلَى هَذَا الْحَرْفِ“ اور اس مسئلے کی اور بھی نظیریں ہیں جن کی تخریج کی جاتی ہے اسی طریقے پر ”وَقَوْلُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا یہ جو قول آیا تھا متن میں کہ ”إِذَا مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ أَوْ قُتِلَ“ بھئی متن میں کیا آیا تھا؟ ”وَإِنْ كَانَ قَدْ بَارَزَ رَجُلًا أَوْ قُدِّمَ لِيُقْتَلَ فِي قِصَاصٍ أَوْ رَجْمٍ وَرِثَتْ إِنْ مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ أَوْ قُتِلَ“ یعنی اسی سبب سے وہ مرا یا کسی اور نے اس کو قتل کر دیا گیا، دونوں کا حکم ایک ہی ہے۔ ایک شخص مرض الموت میں گرفتار ہے تو چاہے اس بیماری سے مرے چاہے کوئی اس بیماری میں قتل کر دے دونوں کا حکم ایک ہی ہے وہ اب بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَقَوْلُهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ کا یہ جو قول تھا ”إِذَا مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ أَوْ قُتِلَ“ کہ اسی سبب میں اس کو اسی سبب کی وجہ سے وہ مر گیا، دیکھو یہاں پر بھی فی جو آیا نا، فی تعلیل کے علت کے لیے ہے، ”إِذَا مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ“ أَيْ: بِسَبَبِ ذَلِكَ الْوَجْهِ، تو کہتے ہیں ”إِذَا مَاتَ فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ“ کہ جب وہ شخص مر گیا ”فِي ذَلِكَ الْوَجْهِ“ اسی سبب کی وجہ سے ”أَوْ قُتِلَ“ یا اس کو قتل کر دیا گیا ”دَلِيلٌ“ یہ دلیل ہے ”عَلَى أَنَّهُ لَا فَرْقَ بَيْنَمَا إِذَا مَاتَ بِذَلِكَ السَّبَبِ أَوْ بِسَبَبٍ آخَرَ“ کہ کوئی فرق نہیں ہے اس کے درمیان کہ جب وہ شخص اسی سبب سے مرے ”أَوْ بِسَبَبٍ آخَرَ“ یا کسی دوسرے سبب سے مرے ”كَصَاحِبِ الْفِرَاشِ بِسَبَبِ الْمَرَضِ إِذَا قُتِلَ“ جیسے صاحب الفراش جو ہے بستر پر جو شخص لگا ہوا ہے ”بِسَبَبِ الْمَرَضِ“ مرض کے سبب سے ”إِذَا قُتِلَ“ جب اس کو قتل کر دیا جائے تو دیکھو اب وہ مرض سے تو نہیں مرا دوسرے سبب سے مرا ہے لیکن دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جب ایسی حالت ہو جس کے اندر ہلاکت غالب ہے چاہے پھر وہ اسی سبب سے مرے چاہے کسی اور سبب سے دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے بھئی۔ چلیے بس بھئی، بات سمجھ میں آ گئی، چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 61 of 160