آگے سبق دیکھیے بھئی:
قَالَ: ”وَوَقْفُ الْمُشَاعِ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّ الْقِسْمَةَ مِنْ تَمَامِ الْقَبْضِ، وَالْقَبْضُ عِنْدَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ فَكَذَا تَتِمَّتُهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ، لِأَنَّ أَصْلَ الْقَبْضِ عِنْدَهُ شَرْطٌ فَكَذَا مَا يَتِمُّ بِهِ“.
بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے وقف کے بارے میں پڑھنا شروع کیا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وقف اسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اپنا مکان ہے یا باغ ہے یا کوئی کھیت ہے یا کوئی دکان وغیرہ اس کو اللہ کے راستے میں وقف کر دیتا ہے کہ اس کی آمدنی فقراء اور مساکین پر خرچ کی جائے اور یہ صدقہ جاریہ ہے جب تک وہ چیز موجود رہے گی تو اس وقف کرنے والے کو اس کا اجر و ثواب ملتا رہے گا اور آپ نے یہ بھی پڑھا کہ جائیداد کو وقف کرنے کے بعد اس میں کسی قسم کا تصرف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے اندر رجوع نہیں ہو سکتا، اسے بیچا نہیں جا سکتا اور اسے ہبہ نہیں کیا جا سکتا۔ نیز یہ جو وقف ہے اس کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی صحیح نہیں ہے۔ مثلاً کوئی شخص کہتا ہے کہ اگر اس سفر سے میں خیریت سے واپس آ گیا تو میری طرف سے میری یہ زمین وقف ہے، تو یہ تو وقف کو شرط کے ساتھ معلق کر رہا ہے اور وقف کو شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح نہیں۔ ہاں البتہ خود وقف میں کوئی شرط لگانا یہ جائز ہے، مثلاً کوئی شخص اپنا باغ وقف کرتا ہے لیکن یہ شرط لگاتا ہے کہ جب تک میں زندہ ہوں اس کی ساری آمدنی میں استعمال کرتا رہوں گا اور میرے مرنے کے بعد اس کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے، تو اس طرح وقف کے اندر اس کی ساری آمدنی کی یا بعض آمدنی کی شرط لگانا اپنے لیے یا اپنی اولاد وغیرہ کے لیے یہ جائز ہے بھئی۔
اور میں نے بتلایا تھا کہ وقف کے لیے ضروری ہے کہ وقف کرنے والا آزاد، عاقل، بالغ ہو۔ البتہ اس میں اسلام کی شرط نہیں ہے۔ اگر ذمی بھی کوئی زمین یا جائیداد وقف کرتا ہے تو وہ وقف ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہاں پر امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک وقف لازم نہیں ہوتا، وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا، جبکہ صاحبین کے نزدیک وقف جو ہے لازم ہو جاتا ہے اور واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور پھر بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو امام صاحب کا صاحبین کے ساتھ وقف کے معاملے میں اختلاف ہے یہ جواز اور عدم جواز کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک وقف جائز ہی نہیں جبکہ صاحبین کے نزدیک وقف جائز ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ صحیح قول یہ ہے کہ یہ جو امام صاحب کا صاحبین سے اختلاف ہے یہ جواز یا عدم جواز کا نہیں بلکہ لزوم اور عدم لزوم کا ہے۔ امام صاحب کے نزدیک کسی چیز کو وقف کیا جائے تو وہ وقف لازم نہیں ہوتا جبکہ صاحبین کے نزدیک وقف لازم ہو جاتا ہے۔
اور پھر صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا کہ امام صاحب کے نزدیک واقف کی ملکیت وقف سے ختم نہیں ہوتی مگر صرف دو صورتوں میں: ایک تو یہ کہ حاکم اس کا فیصلہ کر دے اور دوسری صورت یہ ہے کہ واقف اس کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے، تو پھر واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ مثلاً ایک شخص نے اپنا باغ وقف کیا تھا اور کسی کو نگران بنایا تھا، بعد میں اس میں وہ رجوع کرتا ہے اور اس نگران سے کہتا ہے کہ یہ باغ اب میرے حوالے کر دو میں نے رجوع کر لیا ہے، لیکن نگران اسے قاضی کے پاس لے گیا اور قاضی نے اس وقف کے لازم ہونے کا فیصلہ کر دیا کہ یہ وقف تمہاری ملکیت سے نکل چکا ہے، یہ لازم ہو چکا ہے، لہٰذا اب تم اس میں رجوع نہیں کر سکتے، تو قاضی جب فیصلہ کر دے گا تو وقف جو ہے وہ واقف کی ملکیت سے نکل جائے گا۔ یا اسی طرح واقف اگر وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کرے تو اس صورت میں بھی وقف اس کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، صاحبِ قدوری نے یہ ذکر کیا۔ لیکن میں نے آپ کو بتایا کہ واقف اگر وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کرے تو کیا امام صاحب کے نزدیک اس واقف کی ملکیت سے یہ وقف نکلے گا یا نہیں؟ تو اس میں فقہاء کا اختلاف ہے۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ واقف جب وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک بھی یہ وقف واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے جیسا صاحبِ قدوری نے ذکر کیا، لیکن دیگر فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، واقف جو ہے وقف کو اپنی موت کے ساتھ بھی معلق کر دے پھر بھی یہ اس کی ملکیت سے نہیں نکلتا، ہاں البتہ یہ لازم ہو جاتا ہے، یہ وصیت کے درجے میں ہو جاتا ہے جیسے وصیت لازم ہوتی ہے اور ثلث کے اندر نافذ ہوتی ہے اسی طرح یہ وقف بھی لازم ہو جاتا ہے، البتہ یہ واقف کی ملکیت سے نہیں نکلے گا۔ معلوم ہوا امام صاحب کے نزدیک صرف ایک صورت میں یہ وقف واقف کی ملکیت سے نکلتا ہے جب حاکم اس کا فیصلہ کر دے۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صرف زبان سے کہنے سے ہی وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور میں نے بتایا تھا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ ہے بھئی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے اس وقت نکلے گا جب واقف اس کو کسی متولی کے قبضے میں دے دے گا کیونکہ یہاں قبضہ ضروری ہے جیسے ہبہ اور صدقہ کے اندر قبضہ ضروری ہوتا ہے پھر ہی ہبہ اور صدقہ تام ہوتا ہے اسی طرح وقف کے اندر بھی قبضہ ضروری ہے، تو جب واقف کسی کو نگران بنا دے اور اس کے قبضے میں یہ زمین یا جائیداد دے دے گا تو اب جو ہے واقف کی ملکیت ختم ہو جائے گی بھئی۔
اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ عربی زبان میں وقف کا معنی ہے روکنا۔ وقف کا معنی ہے روکنا، اور امام صاحب کے نزدیک وقف اسے کہتے ہیں کہ کسی معین چیز کو واقف کی ملکیت پر روکنا اور اس کے منافع کو صدقہ کر دینا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ شریعت کے اندر وقف اسے کہتے ہیں کہ کسی معین چیز کو روکنا اللہ کی ملکیت کا حکم لگا کر کہ اللہ تعالیٰ اس کے مالک ہو چکے ہیں، اس کو وقف کہتے ہیں اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ وقف کا لفظ دونوں کو شامل ہے کیونکہ وقف کا معنی ہے روکنا اور امام صاحب بھی وقف کا معنی حبس العین کے ساتھ کر رہے ہیں اور صاحبین بھی وقف کا معنی حبس العین کے ساتھ کر رہے ہیں، تو لہٰذا وقف کا لفظ دونوں قولوں کو شامل ہے۔ لفظ کے ذریعے کسی ایک کے قول کو بھی ترجیح نہیں دی جا سکتی لہٰذا دلیل کے ذریعے ترجیح دی جائے گی اور پھر بتلایا کہ صاحبین فرماتے ہیں کہ وقف کرنے سے وقف لازم ہو جاتا ہے اور واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے چنانچہ وہ دلیل کے طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ذکر فرماتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی ایک بڑی عمدہ زمین تھی جسے ثَمْغ کہا جاتا تھا جس میں بہت اعلیٰ کھجور کے درخت تھے، تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اس کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے کہ یا رسول اللہ! میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے: ”تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا، لَا يُبَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ“ کہ اس کی اصل کو صدقہ کر دو کہ نہ اس کو بیچا جا سکے، نہ اس میں وراثت جاری ہو اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکے اور اس کے پھل کو خرچ کیا جائے۔ تو دیکھو اس حدیث سے معلوم ہوا کہ وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، اسی لیے اس کو بیچا بھی نہیں جا سکتا، اس میں وراثت بھی جاری نہیں ہو سکتی اور اس کو ہبہ بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اگر وقف واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا پھر تو یہ چیزیں جائز ہونی چاہیے تھیں، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور لازم ہو جاتا ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے صاحبین کی عقلی دلیل بھی ذکر کی تھی کہ بعض اوقات انسان چاہتا ہے کہ اپنے وقف کو لازم کر دے تاکہ اسے ہمیشہ اس کا اجر و ثواب ملتا رہے، تو انسان محتاج ہے وقف کے لازم ہونے کا اور انسان کی اس حاجت کو پورا کرنا ممکن بھی ہے کہ اس وقف پر سے اس کی ملکیت کو ختم کر دیا جائے اور اس کی ملکیت اللہ کے لیے قرار دے دی جائے اور اس کی نظیر بھی شریعت میں موجود ہے جیسے مسجد ہے۔ مسجد پر بھی کسی کی ملکیت نہیں ہوتی، مسجد خالص اللہ کے لیے ہوتی ہے اور بندوں کا اسے اپنے منافع کے لیے استعمال کرنا جائز نہیں ہے۔ تو شریعت میں ایک چیز کی نظیر بھی موجود ہے اور انسان وقفِ لازم کا محتاج بھی ہے تو لہٰذا وقفِ لازم کی گنجائش ہونی چاہیے۔
اور پھر یہاں اشکال ہوتا تھا کہ مسجد بھی تو وقف ہی ہے، تو صاحبین وقف کے لزوم کو ثابت کرنا چاہتے ہیں مسجد کے ذریعے، تو گویا ایک وقف کو وہ قیاس کر رہے ہیں دوسرے وقف پر، کسی چیز کو اپنے ہی اوپر قیاس نہیں کیا جاتا بلکہ غیر چیز پر قیاس کیا جاتا ہے، تو اس کا بھی جواب ذکر ہوا تھا کہ یہ جو مسجد ہے اگرچہ یہ وقف ہے لیکن یہ خاص نوع کا وقف ہے کہ یہ خالص اللہ کے لیے ہو جاتی ہے اور بندوں کے منافع اس سے منقطع ہو جاتے ہیں لہٰذا مسجد کو بندوں کے منافع کے لیے استعمال کرنا یعنی رہائش کے لیے یا کرائے پر دینے کے لیے یا سامان وغیرہ رکھنے کے لیے، اس کے لیے اس کو استعمال نہیں کیا جا سکتا، تو مسجد جب ایک خاص قسم کا وقف ہے تو باقی اوقاف کو مسجد پر قیاس کرنا صحیح ہے بھئی۔
اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل ذکر فرمائی تھی کہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ وقف لازم نہیں ہوتا کیونکہ حدیث میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”لَا حُبُوسَ عَنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى“. میں نے بتلایا حُبُوس جمع ہے حبیس کی اور حبیس بمعنی محبوس کے ہے۔ یاد رکھو یہ جو وقف ہے جو چیز وقف کر دی جائے، مثلاً کسی نے باغ وقف کر دیا تو اس باغ کو بھی وقف کہتے ہیں لیکن یہ وقف بمعنی موقوف کے ہے۔ جیسے خلق بمعنی مخلوق کے، تو یہاں پر وقف کے باب کے اندر جو چیز وقف کر دی جاتی ہے اس کو بھی وقف کہتے ہیں، اس کا نام ہی وقف پڑ گیا لیکن یہ حقیقت میں وقف نہیں ہے بلکہ موقوف ہے تو موقوف کا نام ہی وقف ہو گیا ہے بھئی۔ تو حدیث میں آتا ہے: ”لَا حُبُوسَ عَنْ فَرَائِضِ اللَّهِ تَعَالَى“ کہ اللہ نے وارثوں کے جو حصے مقرر فرمائے ہیں مورث کا مال اس سے روکا نہیں جا سکتا۔ تو حدیث سے معلوم ہوا کہ وقف جو ہے وہ واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا کیونکہ اگر واقف کی ملکیت سے نکل جائے پھر تو اس میں وراثت جاری نہیں ہو سکتی، لیکن حدیث سے پتہ چل رہا ہے کہ اللہ نے وارثوں کے جو حصے مقرر فرمائے ہیں ان سے کسی مال کو روکا نہیں جا سکتا، معلوم ہوا وقف لازم نہیں ہوتا واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا اور اس میں وراثت جاری ہوتی ہے بھئی۔
اور نیز دوسری نقلی دلیل جو ہے وہ قاضی شریح کا قول ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی دلیل کے طور پر، قاضی شریح فرماتے ہیں: ”جَاءَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبَيْعِ الْحُبُوسِ“ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جو ہیں وہ حبوس کی یعنی اوقاف کی بیع کے ساتھ تشریف لائے۔ گزشتہ امتوں کے اندر اوقاف کی بیع جائز نہیں تھی لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی شریعت میں اوقاف کی بیع کو لے کر آئے یعنی اس شریعت میں اوقاف کی بیع جائز ہے اور اوقاف کی بیع تب ہی جائز ہو سکتی ہے جب یہ وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نہ نکلا ہو، اگر یہ وقف واقف کی ملکیت سے نکل گیا ہے اور لازم ہو گیا ہے پھر تو اس کے اندر بیع جائز نہیں ہو سکتی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے امام صاحب کی طرف سے تین عقلی دلیلیں ذکر فرمائی تھیں:
پہلی عقلی دلیل یہ ذکر فرمائی کہ یہ جو وقف ہے اس کے اندر ابھی بھی بندے کی ملکیت ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ اس وقف کے ساتھ بندوں کے حقوق کا تعلق ہے۔ جب مالک نے اس وقف کے منافع فقراء پر صدقہ کر دیے ہیں تو فقراء کا حق وابستہ ہو گیا اس وقف کے ساتھ اور انسان کا حق کسی چیز کے ساتھ وابستہ ہو یہ دلیل ہوتی ہے کہ یہ چیز انسان کی مملوک ہے، تو معلوم ہوا یہ وقف بھی مملوک ہے انسان کا، لیکن اب کس کا مملوک ہے؟ کیا واقف کا ہے یا کسی اور کا ہے؟ تو کہتے ہیں کسی اور کا تو قطعاً نہیں ہو سکتا تو یہی ماننا پڑے گا کہ اس میں ابھی بھی واقف ہی کی ملکیت ہے، چنانچہ اسی لیے اس وقف کے اندر تمام تصرفات کا مالک وہی ہوتا ہے، وہ تمام تصرفات کا وہی مالک ہوتا ہے، وہی نگران مقرر کرتا ہے، تو معلوم ہوا یہ وقف جو ہے یہ عاریت کے مثل ہو گیا جس میں اصل چیز کا مالک تو وہی شخص ہوتا ہے جس کی وہ چیز ہے البتہ وہ منافع کا مالک کسی اور کو بنا دیتا ہے، تو یہ وقف بھی کس کی طرح ہوا؟ عاریت کی طرح ہوا۔
اور پھر دوسری دلیل ذکر فرمائی تھی کہ یہ جو واقف ہے یہ چاہتا ہے کہ اس وقف کا ثواب اس کو ہمیشہ ملتا رہے اور اس وقف کا ثواب ہمیشہ اس کو تب ہی مل سکتا ہے جب یہ وقف ابھی بھی اس کی ملکیت میں ہو تو پھر اس کے منافع کے صدقے کا اسے ثواب ملتا رہے گا۔ اگر یہ وقف اس واقف کی ملکیت سے نکل گیا ہے پھر تو وہ مالک ہی نہ رہا تو پھر تو منافع کے صدقے کا اسے ثواب بھی نہیں مل سکتا۔
اور تیسری دلیل ذکر کی تھی کہ اس لیے کیونکہ وقف میں واقف کی ملکیت ختم ہو جائے اور یہ وقف لازم ہو جائے یہ ممکن نہیں ہے کیونکہ اس صورت میں زوالِ ملک لا الیٰ مالک لازم آئے گا کہ واقف کی ملکیت ایک چیز سے ختم ہو گئی اور آگے اس کا کوئی مالک بھی نہیں بنا اور یہ تو مشروع نہیں ہے جیسے سائبہ جانور بھئی۔ میں نے بتلایا تھا کہ جاہلیت کے زمانے میں بتوں کے نام پر جانوروں کو آزاد چھوڑ دیا جاتا تھا تعلیق کرتے ہوئے، مثلاً کوئی شخص بیمار ہوتا تو کہتا اگر میں اس بیماری سے تندرست ہو گیا تو میری طرف سے یہ اونٹ یا اونٹنی سائبہ ہے، یا اسی طرح کوئی شخص سفر پر جا رہا ہوتا تو وہ کہتا کہ اگر میں اس سفر سے خیریت سے واپس آ گیا تو میری طرف سے میرا یہ اونٹ یا میری اونٹنی سائبہ ہے، اور یہ جو سائبہ جانور ہوتا تھا اس کو بتوں کے نام پر اس طرح آزاد کر دیتے تھے اور اس کا وہ بے انتہا احترام کرتے تھے یہاں تک کہ وہ ان سے کسی قسم کا نفع نہیں اٹھاتے تھے، نہ اس پر سوار ہوتے تھے، نہ اس پر بوجھ لادتے تھے اور نہ اس کے دودھ سے نفع اٹھاتے تھے، اور نیز کسی کے پانی پر یا کسی کی چراگاہ پر اس قسم کا اونٹ یا اونٹنی آ جاتی تو اس کو روکا نہیں جاتا تھا، تو وہ ان کا بے انتہا احترام کرتے تھے، لیکن قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: {مَا جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ} کہ اللہ نے یہ یہ جو جانور ہیں بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام یہ اللہ نے مقرر نہیں فرمائے، یہ تم نے اپنی طرف سے جھوٹی باتیں گھڑ لی ہیں، اللہ نے اس قسم کا کوئی حکم نہیں دیا، معلوم ہوا یہ جو سائبہ ہے اور یہ وصیلہ، حام وغیرہ ہیں یہ سب غیر مشروع ہیں بھئی۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں یہ جو سائبہ تھا یہ بھی جاہلیت کے اندر اس میں بھی زوالِ ملک لا الیٰ مالک اس کو شمار کیا جاتا تھا کہ مالک اس کو آزاد چھوڑ دیتا تھا کہ میں نے اس پر سے اپنی ملکیت ختم کر دی ہے اور کوئی اس کا مالک بھی نہیں ہوتا تھا، تو لہٰذا اگر وقف کے اندر بھی اس طرح مانا جائے کہ اس میں واقف کی ملکیت ختم ہو گئی ہے لیکن کوئی اس کا مالک نہیں ہے تو اس صورت میں تو زوالِ ملک لا الیٰ مالک لازم آئے گا اور یہ غیر مشروع ہے جیسے کہ سائبہ ہوتا تھا بھئی۔
البتہ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اگر زوالِ ملک لا الیٰ مالک جائز نہیں ہے، مشروع نہیں ہے، پھر تو اعتاق بھی جائز نہیں ہونا چاہیے کہ کوئی شخص اپنے غلام یا باندی کو آزاد کرتا ہے تو اس میں بھی زوالِ ملک لا الیٰ مالک ہے بھئی، اپنی ملکیت آقا نے ختم کر دی اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بھی نہیں بنایا، تو بتلایا تھا کہ نہیں، یہ جو اعتاق ہے یہ زوالِ ملک نہیں ہے، یہ اسقاطِ ملک ہے، ملکیت کو ختم کر دینا۔ وجہ یہ ہے کہ انسان کے اندر اصل آزادی ہے اور یہ جو غلام بنا یا باندی بنی یہ کسی عارض کی وجہ سے پیش آیا، تو لہٰذا جب غلام کو آزاد کیا جاتا ہے تو اس پر سے مالک اپنی ملکیت ختم کر دیتا ہے، جب مالک نے اس پر سے اپنی ملکیت ختم کر دی تو گویا اس نے اپنا مال تلف کر دیا، تو اس نے اپنا مال تلف کر دیا، ضائع کر دیا اور ہلاک کر دیا، حالانکہ وقف کے اندر تو مال کو ہلاک نہیں کیا جاتا بلکہ اس کے منافع کو فقراء پر صدقہ کیا جاتا ہے، تو اعتاق میں اتلاف ہے اور وقف میں اتلاف نہیں ہے لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ یا یوں کہو کہ وقف میں اگر اس کو لازم قرار دیا جائے تو اس صورت میں زوالِ ملک لا الیٰ مالک لازم آئے گا کہ ایک چیز مملوک ہے اور مالک کوئی نہیں ہے جبکہ غلام کو جب آزاد کیا وہ تو مملوک ہی نہ رہا سرے سے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو دونوں میں فرق ہے۔
اور نیز صاحبین نے اس عام وقف کو قیاس کیا تھا مسجد کے وقف پر، تو جواب دیا کہ نہیں، آپ مسجد پر عام وقف کو قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ مسجد تو خالص اللہ کے لیے ہو جاتی ہے چنانچہ بندوں کے لیے اس سے نفع اٹھانا، مسجد کو اپنے اور کاموں کے اندر استعمال میں لانا یہ ان کے لیے جائز نہیں ہوتا۔ تو لہٰذا مسجد سے تو بندے کا حق منقطع ہو جاتا ہے لیکن عام وقف سے تو بندے کا حق منقطع نہیں ہوتا، اس کے منافع سے فقراء وغیرہ فائدہ اٹھاتے ہیں بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو متن میں صاحبِ قدوری نے ذکر فرمایا کہ امام صاحب کے نزدیک دو صورتوں کے اندر وقف سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے، ایک تو یہ کہ حاکم اس کا فیصلہ کر دے یعنی قاضی اس کا فیصلہ کر دے اور دوسرا یہ کہ واقف اس کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ان دو باتوں میں سے جو پہلی بات ہے کہ حاکم فیصلہ کرے تو امام صاحب کے نزدیک ملکیت ختم ہو جاتی ہے تو یہ قول تو صحیح ہے۔ وجہ یہ ہے کہ قاضی جب کسی مجتہد فیہ مسئلے کے اندر فیصلہ کر دے تو وہ فیصلہ لازم ہو جاتا ہے۔ مجتہد فیہ مسئلہ وہ ہوتا ہے جس میں اجتہاد کی گنجائش ہوتی ہے، بعض فقہاء اس میں ایک بات کی طرف گئے ہیں تو دوسرے فقہاء دوسری بات کی طرف گئے ہیں، تو یہ جو مجتہد فیہ مسئلہ ہو اس کے اندر جب قاضی فیصلہ کر دیتا ہے تو گویا قاضی نے اختلاف کو ختم کر دیا، فقہاء کے دو گروہ تھے بعض کی رائے ایک تھی بعض کی رائے دوسری تھی، جب قاضی نے فیصلہ کر دیا تو گویا اس نے دونوں کے اختلاف کو ختم کر دیا کہ بات اس طرح ہے! قاضی نے کیا کر دیا؟ فیصلہ کر دیا تو اختلاف کو ختم کر دیا، تو لہٰذا جب قاضی مجتہد فیہ مسئلے میں فیصلہ کر دے تو وہ لازم ہو جاتا ہے اور وہ اختلاف اٹھ جاتا ہے، تو یہاں پر بھی یہ جو وقف ہے یہ لازم ہوتا ہے یا نہیں؟ اور اس پر سے واقف کی ملکیت ختم ہوتی ہے یا نہیں؟ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف تھا، تو یہ اجتہادی مسئلہ تھا اور پھر قاضی نے اس میں فیصلہ کر دیا کہ یہ وقف لازم ہے اور یہ واقف کی ملکیت سے نکل گیا ہے، تو قاضی کے فیصلے نے اختلاف کو ختم کر دیا، تو یہاں گویا فقہاء کا اختلاف ختم ہو گیا، جیسے قاضی کسی جھگڑے میں فیصلہ کرتا ہے تو وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے اسی طرح مجتہد فیہ مسئلے کے اندر بھی فقہاء کا آپس میں اختلاف ہوتا ہے تو جب قاضی فیصلہ کرتا ہے تو وہ اختلاف ختم ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی جب قاضی فیصلہ کرے گا تو پھر وہ وقف جو ہے لازم ہو جائے گا اور واقف کی ملکیت سے نکل جائے گا۔
لیکن متن میں جو دوسری بات آئی تھی کہ امام صاحب کے نزدیک اگر واقف وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دے تو اس صورت میں بھی وقف واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتایا کہ نہیں، اس میں فقہاء کا اختلاف ہے کہ واقف اگر وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کرے تو کیا امام صاحب کے نزدیک یہ وقف واقف کی ملکیت سے نکلے گا یا نہیں نکلے گا؟ تو اس میں فقہاء کا پھر اختلاف ہے، تو کہتے ہیں صحیح قول یہی ہے کہ اس صورت میں وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نہیں نکلے گا، ہاں البتہ لازم ہو جائے گا یعنی اب اس میں واقف رجوع نہیں کر سکتا جیسے کوئی وصیت کی جاتی ہے تو وہ وصیت موت کے بعد لازم ہو جاتی ہے کیونکہ وصیت کرنے والا تو مر چکا ہے، اسی طرح یہ وقف بھی جو ہے وصیت کے درجے میں لازم ہو جائے گا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو متن کے اندر حاکم کا لفظ آیا اس سے قاضی مراد ہے، اس لیے کیونکہ حَكَمَ يَحْكُمُ حُكْمًا عربی زبان میں اس کا معنی ہوتا ہے فیصلہ کرنا۔ قاضی بھی فیصلے کرتا ہے اور بعض اوقات دو آدمی کسی تیسرے آدمی کو اپنے درمیان فیصل بنا دیتے ہیں کہ ہمارا یہ جھگڑا ہے آپ ہم دونوں میں فیصلہ کر دیجیے، آپ جو بھی فیصلہ کریں گے ہمیں قبول ہو گا، تو یہ بھی حاکم ہے لیکن اس کو بادشاہ نے مقرر نہیں کیا یہ تو ان دو آدمیوں نے آپس کے جھگڑے کے لیے اس کو حاکم بنا دیا ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ جو متن کے اندر حاکم کا ذکر آیا اس سے مراد وہ حاکم اور وہ قاضی ہے جسے بادشاہ نے مقرر کیا ہو اور باقی وہ شخص جسے فیصلے کے لیے دو آدمیوں نے آپس میں مقرر کیا ہے تو وہ اگر مجتہد فیہ مسئلے کے اندر ایک قول کے مطابق فیصلہ کر دے گا تو اس سے وہ قول لازم نہیں ہو گا اور اس کی وجہ سے اختلاف ختم نہیں ہو گا بلکہ قاضی اس کے فیصلے کو باطل کر سکتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر مرض الموت میں کوئی شخص وقف کرتا ہے تو امام طحاوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں امام صاحب کے نزدیک صحت کی حالت میں وقف کیا جائے تو وہ تو لازم نہیں ہوتا لیکن مرض الموت میں کوئی شخص وقف کرے تو وہ لازم ہو جاتا ہے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتایا کہ نہیں، صحیح قول یہی ہے کہ امام صاحب کے نزدیک چاہے حالتِ صحت میں وقف کیا جائے چاہے مرض الموت میں وقف کیا جائے وہ لازم نہیں ہوتا، اس میں رجوع بھی ہو سکتا ہے اور اس میں بیع اور ہبہ بھی ہو سکتی ہے بھئی۔
اور پھر بتلایا تھا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک واقف جب وقف کرے گا تو زبان سے کہنے سے ہی اس کی ملکیت وقف پر سے ختم ہو جاتی ہے جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں صرف زبان سے کہنے کی وجہ سے واقف کی ملکیت وقف سے ختم نہیں ہو گی بلکہ یہاں پر وہ واقف جو ہے اس وقف کا مالک اللہ تعالیٰ کو بنا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ جو ہے اس کو قصداً تو مالک نہیں بنایا جا سکتا لیکن ضمناً مالک بنایا جا سکتا ہے جیسے کہ زکوٰۃ اور صدقے میں ہے، زکوٰۃ اور صدقے کے اندر زکوٰۃ اور صدقہ یہ اللہ کے لیے دیا جاتا ہے، یہ اللہ کا حق ہے لیکن فقیر کو جب زکوٰۃ اور صدقے کا مالک بنا دیا گیا تو فقیر کو مالک بنانے کے ضمن میں گویا اللہ کو مالک بنا دیا گیا، تو یہاں وقف کے اندر بھی اللہ کو مالک بنانا مقصود ہے اور وہ ویسے تو نہیں ہو سکتا تو کسی متولی کے قبضے کے ضمن میں اللہ کا قبضہ بھی، اللہ کا مالک ہونا بھی ثابت ہو جائے گا لہٰذا متولی کے سپرد کرنا ضروری ہے۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ جب وقف صحیح ہو جائے ہمارے ائمہ کے اختلاف پر یعنی جو تفصیل پیچھے گزر گئی اس کے مطابق جب وقف صحیح ہو جائے تو وقف واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے لیکن موقوف علیہ کی ملکیت میں داخل نہیں ہوتا۔ مثلاً زید نے کہا کہ میرا یہ باغ وقف ہے اس کی آمدنی عمرو پر خرچ کی جائے، تو زید ہوا واقف اور عمرو ہوا موقوف علیہ جس کے لیے زید نے اپنا باغ وقف کیا ہے، تو عمرو جو ہے وہ اس باغ کا مالک نہیں بنا۔ اگر عمرو اس باغ کا مالک بن جاتا پھر تو اس کے لیے بیچنا بھی جائز ہوتا جیسے اس کے لیے اپنی باقی مملوکہ چیزیں بیچنا جائز ہیں لیکن اس کے لیے تو بیچنا جائز نہیں، معلوم ہوا وہ ابھی بھی اس وقف کا مالک نہیں، اور نیز اگر یہ موقوف علیہ جو ہے وہ اس وقف کا مالک بن گیا تھا پھر تو یہ وقف اس سے آگے کسی دوسرے کی طرف منتقل نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن اگر پہلے مالک نے کسی دوسرے کی طرف منتقل ہونے کی شرط لگائی ہو تو یہ وقف اس دوسرے کی طرف منتقل ہوتا ہے، معلوم ہوا کہ وہ موقوف علیہ اس کا مالک نہیں بنا۔ مثلاً دیکھو زید نے اپنا باغ وقف کیا کہ میرے اس باغ کی آمدنی پانچ سال تک عمرو کو دی جائے اور پھر پانچ سال تک خالد کو دی جائے اور پھر پانچ سال تک بکر کو دی جائے اور اس کے بعد پھر اس کی آمدنی عام فقراء پر خرچ کی جائے، تو دیکھو یہاں پہلا جو مالک ہے اس نے عمرو، خالد اور بکر کے لیے کچھ کچھ وقت کے لیے وقف کے منافع متعین کیے ہیں لہٰذا اگر اگر یہ موقوف علیہ اس کے مالک بن جاتے مثلاً پہلا موقوف علیہ جو عمرو ہے اگر وہ اس باغ کا مالک بن جاتا پھر تو یہ اس کا مملوک ہو جاتا لیکن یہاں پر وہ وقف منتقل ہو رہا ہے دوسرے کی طرف، معلوم ہوا موقوف علیہ اس کا مالک نہیں بنا بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ جو متن میں آیا ”وَإِذَا صَحَّ“ اس سے مراد ہے ”ثَبَتَ“ بھئی، جب وقف ثابت ہو جائے اور جب وقف ثابت ہو جائے تو امام صاحب کے نزدیک تو وقف ثابت ہو جاتا ہے لیکن لازم نہیں ہوتا۔ ثابت ہونا اور چیز ہے، لازم ہونا اور چیز ہے، تو متن میں ثابت ہونے کا ذکر آیا ہے اور وقف کے ثابت ہونے سے تو واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی لیکن متن میں تو آ رہا ہے کہ جب وقف ثابت ہو جائے تو واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، تو صاحبِ ہدایہ نے کہا کہ معلوم ہوا یہ جو متن میں آیا ”خَرَجَ عَنْ مِلْكِ الْوَاقِفِ“ کہ یہ وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نکل جائے گا، یہ صاحبین کا قول ہے، یہ صاحبین کا قول ہے کیونکہ صاحبین کے نزدیک جب وقف ثابت ہو جاتا ہے تو وہ لازم ہو جاتا ہے اور واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے جبکہ امام صاحب کے نزدیک تو وہ واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر:
قَالَ: ”وَوَقْفُ الْمُشَاعِ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لِأَنَّ الْقِسْمَةَ مِنْ تَمَامِ الْقَبْضِ، وَالْقَبْضُ عِنْدَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ فَكَذَا تَتِمَّتُهُ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ“.
بھئی اب مشاع کے وقف کے بارے میں صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے۔ سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ مشاع کسے کہتے ہیں؟ مشاع کا معنی ہے پھیلا ہوا یعنی غیر تقسیم شدہ۔ مثلاً زید اور عمرو مل کر کچھ زمین خرید لیتے ہیں، زید نے بھی آدھے پیسے ملائے، عمرو نے بھی آدھے پیسے ملائے اور ان دونوں نے مل کر کچھ زمین خرید لی، تو دیکھو اس زمین کے اندر زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے لیکن کون سا حصہ زید کا ہے اور کون سا حصہ عمرو کا ہے؟ ابھی تک تقسیم نہیں ہوئی لہٰذا زمین کے کسی ایک جز کے بارے میں بھی ہم نہیں کہہ سکتے کہ یہ زید کا ہے یا یہ عمرو کا ہے۔ زید اور عمرو دونوں کا حصہ اس پوری زمین کے اندر پھیلا ہوا ہے، تو اس کو کہتے ہیں مشاع بھئی۔ زید کا حصہ اس زمین کے اندر نصف ہے لیکن وہ نصف حصہ مشاع ہے یعنی پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے۔ اسی طرح عمرو کا حصہ بھی اس زمین کے اندر نصف ہے لیکن اس کا حصہ بھی مشاع ہے یعنی پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے۔ زمین کا کوئی بھی جز لے لیں، ہر جز کے اندر زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ، زمین کے کسی ایک جز، زمین کے کسی ایک ٹکڑے کے بارے میں بھی آپ نہیں کہہ سکتے کہ یہ صرف زید کا ہے یا یہ صرف عمرو کا ہے بلکہ دونوں کا حصہ پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے، اس کو کہتے ہیں مشاع بھئی۔ تو مشاع کا کیا معنی؟ پھیلا ہوا، غیر تقسیم شدہ۔ تو اس زمین میں عمرو کا بھی حصہ ہے، زید کا بھی حصہ ہے لیکن یہ حصہ مشاع ہے، پھیلا ہوا ہے، غیر تقسیم شدہ ہے۔ پھر بعد میں جب دونوں تقسیم کر لیں گے نصف زمین زید لے لے گا اور نصف زمین عمرو لے لے گا تو اب دونوں کا حصہ الگ الگ ہو گیا، اب دونوں کا حصہ الگ الگ ہو گیا۔ تو پہلے جو دونوں کا حصہ پھیلا ہوا تھا پوری زمین میں اس کو مشاع کہتے ہیں۔
اب مشاع حصے کا وقف جائز ہے یا نہیں؟ مثلاً زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی ہے، زمین کے اندر دونوں کا حصہ ہے اور زید اپنا حصہ وقف کرنا چاہتا ہے، تو زید اپنا مشاع حصہ وقف کرنا چاہتا ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ تو یاد رکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف بھی جائز ہے۔ مشاع کا وقف بھی جائز ہے، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مشاع چیز کا وقف جائز نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ امام محمد رحمہ اللہ کا مذہب آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں ان کے نزدیک وقف تب لازم ہوتا ہے جب وہ واقف وہ زمین یا وہ جائیداد کسی متولی کے قبضے میں دے دے اور وہ متولی اس پر قبضہ کر لے تو پھر وقف جو ہے تام ہوتا ہے، وقف پورا ہوتا ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف تب تام ہوتا ہے جب اس پر متولی قبضہ کر لے اور جب ایک شخص کا حصہ الگ ہی نہیں ہے بلکہ مشاع ہے پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے تو متولی اس پر قبضہ بھی نہیں کر سکتا۔ جب متولی اس حصے پر پوری طرح قبضہ نہیں کر سکتا تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف بھی جائز نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز ہے کہ زید اور عمرو دونوں نے مل کر زمین خریدی اور زید اپنا غیر تقسیم شدہ یعنی مشاع حصہ وقف کر دیتا ہے تو یہ جائز ہے اور پھر بعد میں دونوں اس کو کیا کر سکتے ہیں؟ تقسیم کر سکتے ہیں یا اسی طرح اس زمین کو چلنے دیں اور اس زمین سے جو آمدنی حاصل ہوا کرے اس کو پھر تقسیم کر لیا کریں، نصف آمدنی عمرو کی ہو جائے گی اور نصف آمدنی جو زید کے حصے کی تھی وہ فقراء میں تقسیم کر دی جائے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع چیز کا وقف جائز ہے کیونکہ بعد میں بھی تقسیم کی جا سکتی ہے یا بعد میں آپس میں باہمی اتفاق سے اسی طرح زمین کو چلنے دیا جائے کہ جو آمدنی حاصل ہو وہ تقسیم کر لی جائے، نصف جو ہے دوسرے شریک کی ہو جائے اور یہ واقف کا جو حصہ ہے وہ فقراء پر تقسیم کر دیا جائے، بات سمجھ میں آ گئی۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، مشاع حصے کا وقف جائز نہیں ہے، وہ اس کو قیاس کرتے ہیں ہبہ اور صدقے پر۔ یاد رکھو ہبہ اور صدقہ اس میں بھی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اس میں قبضہ ضروری ہے۔ آپ کسی کو کوئی تحفہ دیں تو صرف زبان سے کہنے سے وہ دوسرا شخص اس تحفے کا مالک نہیں بنتا جب تک وہ اس پر قبضہ نہ کر لے، میرے سامنے یہ کتاب موجود ہے میں آپ سے کہتا ہوں یہ کتاب میں نے آپ کو تحفے کے طور پر دے دی تو صرف میرے کہنے سے آپ مالک نہیں بنیں گے جب تک آپ اس کتاب کو اپنے قبضے میں نہیں لے لیتے، اسی طرح صدقہ بھی صرف کہنے سے صدقہ نہیں ہو جاتا، فقیر کو آپ فقیر پر صدقہ کرتے ہیں تو جب فقیر اس صدقے پر قبضہ کر لے گا پھر فقیر اس صدقے کا مالک بنے گا بھئی۔ معلوم ہوا صدقہ اور ہبہ جو ہے اس کے اندر قبضہ ضروری ہے بھئی، جبکہ مشاع حصے پر تو کامل قبضہ نہیں ہو سکتا بھئی، تو لہٰذا مشاع حصے کا ہبہ بھی جائز نہیں اور مشاع حصے کا صدقہ بھی جائز نہیں۔ زید اپنا مشاع حصہ کسی کو تحفے کے طور پر دینا چاہتا ہے یا کسی فقیر پر صدقہ کرنا چاہتا ہے؟ نہیں بھئی، مشاع چیز کا ہبہ بھی جائز نہیں اور صدقہ بھی جائز نہیں کیونکہ ہبہ اور صدقہ میں قبضہ ضروری ہوتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع حصے کے اندر جیسے ہبہ اور صدقہ جائز نہیں اسی طرح مشاع حصے کے اندر وقف بھی جائز نہیں ہو گا۔
ہاں البتہ اگر وہ چیز ایسی ہے کہ اگر اس کو تقسیم کیا جائے تو پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی تو پھر مشاع حصے کا وقف بھی جائز ہے اور پھر اس طرح مشاع حصے کا ہبہ اور صدقہ بھی جائز ہے۔ مثلاً مثلاً دو آدمیوں نے ایک حمام بنایا بھئی، حمام جس میں غسل کیا جاتا ہے، تو دو آدمیوں نے حمام بنایا اب ان دونوں میں سے ایک جو ہے اپنے حصے کو ہبہ کرنا چاہتا ہے یا اپنے حصے کو صدقہ کرنا چاہتا ہے تو اب یہ مشاع چیز کا ہبہ اور صدقہ بھی یہاں پر جائز ہے، وجہ یہ کہ حمام تو چھوٹی چیز ہے اگر اس کو تقسیم کر دیا جائے گا پھر تو یہ کسی کام کا نہیں رہے گا، پھر تو اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھایا جا سکتا، یا اسی طرح پن چکی ہے بھئی، پن چکی اسے کہتے ہیں کہ پہاڑوں کے اندر اوپر سے پانی بڑی رفتار سے نیچے کی طرف آتا ہے تو اس کے اوپر ایک چھوٹا سا کمرہ بنا لیا جاتا ہے اور اس کے اندر ایک وزنی پتھر رکھ دیا جاتا ہے جو پانی کی وجہ سے تیزی سے گھومتا ہے بھئی اور پھر اس پر گندم وغیرہ پیسی جاتی ہے، آٹا پیسا جاتا ہے تو اس کو پن چکی کہتے ہیں۔ یہ جو پانی کی مدد سے چکی چل رہی ہے اس کو کیا کہتے ہیں؟ پن چکی کہتے ہیں، اور یہ بھی دیکھو ایک چھوٹا سا کمرہ ہوتا ہے اور اس کے اندر چھوٹی سی ایک پن چکی ہے تو اس کو بھی تقسیم نہیں کیا جا سکتا یعنی اگر تقسیم کر لیا جائے گا تو پھر اس کا کوئی فائدہ نہیں رہے گا بھئی، تو لہٰذا مشاع حصے کا ویسے تو ہبہ اور صدقہ جائز نہیں لیکن اگر وہ چیز اتنی چھوٹی ہے کہ اگر اس کو تقسیم کر دیا جائے تو اس کا فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے تو پھر اس صورت میں مشاع حصے کا ہبہ اور صدقہ دونوں جائز ہیں لہٰذا حمام اور پن چکی ان کے اندر مشاع حصے کا ہبہ اور صدقہ بھی جائز ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ویسے تو مشاع چیز کے اندر ہبہ اور صدقہ جائز نہیں لہٰذا وہاں وقف بھی جائز نہیں ہو گا لیکن اگر وہ چیز بہت چھوٹی ہے کہ اگر تقسیم کیا جائے تو اس کا فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے تو پھر اس میں مشاع حصے کا ہبہ اور صدقہ بھی جائز ہے، جب اس میں مشاع حصے کا صدقہ اور ہبہ جائز ہے تو پھر اس میں مشاع کا وقف بھی جائز ہو گا۔
تو خلاصہ یہ نکلا کہ اگر وہ چیز ایسی ہے کہ جس کو تقسیم کیا جا سکتا ہے اور تقسیم کرنے کے بعد بھی اس سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے جیسے زمین ہے، باغ ہے، بڑا مکان ہے تو ایسی چیز کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جائز نہیں ہے۔ اور اگر وہ چیز ایسی ہے کہ جس کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا کہ اگر تقسیم کر دیا جائے تو اس کا فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے تو ایسی چیز کے اندر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مشاع کا وقف جائز ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مشاع کا وقف جائز ہے۔ چلو بھئی، وقت ہو گیا، سبق یہیں پر موقوف کرتے ہیں۔ وَصَلَّى اللَّهُ تَعَالَى عَلَى نَبِيِّنَا مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ۔
جائز ہے، تو پھر اس میں مشاع وقف بھی جائز ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
دیکھیے بھئی، قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "وَوَقْفُ الْمُشَاعِ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"، مشاع کا وقف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، "لِأَنَّ الْقِسْمَةَ مِنْ تَمَامِ الْقَبْضِ"، اِدھر دیکھیے، بھئی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر قبضہ ضروری تھا۔ متولی قبضہ کرے پھر وہ لازم ہو گا، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تو وقف کے اندر متولی کا قبضہ ضروری نہیں، اس کے بغیر بھی وقف لازم ہو جاتا ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر اصلِ قبضہ شرط نہیں ہے، تو وہ چیز جس کے ذریعے قبضہ تام ہو جائے یعنی تقسیم کرنا، یہ بھی ان کے نزدیک شرط نہیں ہو گا۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "وَوَقْفُ الْمُشَاعِ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، کہ مشاع چیز کا وقف جائز ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، "لِأَنَّ الْقِسْمَةَ مِنْ تَمَامِ الْقَبْضِ"، اس لیے کیونکہ تقسیم کرنا یہ قبضے کے تام کرنے میں سے ہے، بھئی زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی ہے، جب تقسیم کریں گے تو پھر قبضہ تام ہو جائے گا۔ قبضہ تو ویسے بھی دونوں کا زمین پر ہے، زمین دونوں نے خرید لی ہے، لیکن قبضہ تام نہیں، قبضہ کامل نہیں، کامل قبضہ تب ہو گا جب زید اپنا حصہ الگ کر لے اور عمرو اپنا حصہ الگ کر لے، اب دونوں کا قبضہ اپنے اپنے حصے پر تام ہو گیا، کامل ہو گیا۔ توجہ ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے اندر قبضہ شرط ہی نہیں ہے، جب اصلِ قبضہ شرط نہیں تو تمامِ قبضہ بھی شرط نہیں ہو گا، قبضے کا پورا ہونا بھی شرط نہیں ہو گا۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: "لِأَنَّ الْقِسْمَةَ مِنْ تَمَامِ الْقَبْضِ"، اس لیے کیونکہ تقسیم کرنا یہ قبضے کو پورا کرنے میں سے ہے، "وَالْقَبْضُ عِنْدَهُ لَيْسَ بِشَرْطٍ"، اور قبضہ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شرط نہیں ہے، "فَكَذَا تَتِمَّتُهُ"، تو اسی طرح قبضے کا تتمہ یعنی قبضے کو پورا کرنا یہ بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک شرط نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
"وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا يَجُوزُ"، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز نہیں ہے، "لِأَنَّ أَصْلَ الْقَبْضِ عِنْدَهُ شَرْطٌ"، اس لیے کیونکہ اصلِ قبضہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک شرط ہے، "فَكَذَا مَا يَتِمُّ بِهِ"، تو اسی طرح وہ چیز جس کے ذریعے قبضہ تام ہو وہ بھی شرط ہو گا، "وَهَذَا فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ"، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ یہ جو امام ابو یوسف اور امام محمد رحمہما اللہ کا اختلاف ہے یہ ان چیزوں میں ہے جو تقسیم کا احتمال رکھتی ہیں یعنی جو تقسیم ہو سکتی ہیں، اور باقی وہ چیز جو تقسیم ہی نہیں ہو سکتی جیسے کہ حمام ہے یا پن چکی ہے تو وہ دونوں کے نزدیک جائز ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَهَذَا فِيمَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ"، اور یہ اختلاف جو ہے اس چیز کے بارے میں ہے جو تقسیم کا احتمال رکھتی ہے، "فَأَمَّا فِيمَا لَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ"، تو باقی وہ چیز جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی، "فَيَجُوزُ مَعَ الشُّيُوعِ"، تو اس کے اندر وقف جائز ہے شیوع کے باوجود، "عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَيْضًا"، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی۔ جو چیز تقسیم کو قبول نہیں کرتی معنی یہ ہے تقسیم کیا جائے تو اس کا فائدہ ہی ختم ہو جاتا ہے، تو اس کے اندر تو امام محمد رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ شیوع کے باوجود اس میں وقف جائز ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فَأَمَّا فِيمَا لَا يَحْتَمِلُ الْقِسْمَةَ"، باقی وہ چیز جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی، "فَيَجُوزُ مَعَ الشُّيُوعِ"، تو اس کے اندر وقف جائز ہے شیوع کے باوجود، "عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَيْضًا"، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی، "لِأَنَّهُ يَعْتَبِرُهُ بِالْهِبَةِ وَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ"، اس لیے کیونکہ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں ہبہ اور صدقۂ منفذہ پر۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ مشاع چیز کے اندر ہبہ اور صدقہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں قبضہ ضروری ہوتا ہے، لیکن اگر کوئی چیز ایسی ہے کہ اس کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا تو اس میں ہبہ اور صدقہ جائز ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جو چیز تقسیم کو قبول نہیں کرتی جب اس میں ہبہ اور صدقہ جائز ہے تو اس میں وقف بھی جائز ہو گا۔ یہ معنی ہے: "لِأَنَّهُ يَعْتَبِرُهُ بِالْهِبَةِ وَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ"، اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ اس کو قیاس کرتے ہیں ہبہ اور صدقۂ منفذہ پر، ہبہ اور صدقۂ منفذہ پر اس وقف کو قیاس کرتے ہیں جو اس چیز میں ہو جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی۔
یہاں بھئی صاحبِ ہدایہ نے صدقہ کے ساتھ منفذہ کی قید بڑھا دی، یاد رکھو نَفَّذَ يُنَفِّذُ تَنْفِيذ کا معنی ہے پورا کرنا، کسی چیز کی تکمیل کرنا۔ تو صدقۂ منفذہ وہ ہے جو پورا کر دیا جائے، وہ صدقہ جو پورا کر دیا جائے۔ بھئی دیکھیے، یہ جو وقف ہے یہ بھی صدقہ ہے، البتہ یہ صدقۂ موقوفہ ہے، اس میں دوسرے کو ایک چیز کا مالک نہیں بنایا جاتا بلکہ صرف اس کے منافع کا مالک بنایا جاتا ہے۔ تو وقف بھی صدقہ ہے لیکن یہ صدقۂ موقوفہ ہے کہ اس کے اندر اصل جو ہے وہ موقوف ہوتی ہے، وہ روکی ہوئی ہوتی ہے اور صرف منافع کا صدقہ ہوتا ہے بھئی۔ جبکہ ایک ہے صدقۂ منفذہ، مثلاً ایک آدمی اپنے حصے کی زمین کا مالک فقیر کو بنا دیتا ہے، ایک شخص اپنے حصے کی زمین کا مالک فقیر کو بنا دیا، اب دیکھو یہ صدقۂ منفذہ ہے یعنی یہ صدقہ پورا کر دیا گیا فقیر کو اس زمین ہی کا مالک بنا دیا گیا۔ جبکہ صدقۂ موقوفہ یعنی وقف کے اندر فقیر کو اس صدقے کا مالک نہیں بنایا جاتا صرف اس کے منافع کا مالک بنایا جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وہ چیز جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی تو اس کے اندر مشاع کے اندر بھی وقف جائز ہے، اور وقف بھی کیا ہے؟ صدقہ، اور اس کو وہ قیاس کرتے ہیں ہبہ پر اور صدقۂ منفذہ پر، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "لِأَنَّهُ يَعْتَبِرُهُ بِالْهِبَةِ وَالصَّدَقَةِ الْمُنَفَّذَةِ"، اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ اس وقف کو قیاس کرتے ہیں ہبہ پر اور اس صدقے پر جس کو پورا کر دیا جائے، "إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ وَالْمَقْبَرَةِ"، مگر مسجد اور مقبرہ میں۔ یہ استثنا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول سے۔ اوپر متن میں آیا تھا کہ "وَوَقْفُ الْمُشَاعِ جَائِزٌ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، مشاع چیز کا وقف امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جائز ہے، "إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ وَالْمَقْبَرَةِ"، مگر مسجد اور مقبرہ میں، مسجد اور قبرستان میں، مقبرہ کا کیا معنی؟ قبرستان۔ مسجد اور قبرستان میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں مشاع حصے کا وقف جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ وَالْمَقْبَرَةِ"، مگر مسجد اور قبرستان میں، "فَإِنَّهُ لَا يَتِمُّ مَعَ الشُّيُوعِ"، اس لیے کیونکہ یہ تام نہیں ہوتا شیوع کے ساتھ۔ یہ مسجد اور قبرستان والا وقف جو ہے یہ شیوع کے ساتھ تام نہیں ہو سکتا بھئی۔ ایک چیز کو خالص اللہ کے لیے کرنا ہے تو جب اس میں شیوع موجود ہے تو یہ تام نہیں ہو سکتا۔ میں نے بتلایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف بھی جائز ہے، کس طرح؟ کہ اس زمین کی پیداوار حاصل ہو گی اور پھر اس پیداوار کو تقسیم کر لیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ مثلاً زید اور عمرو کی مشترکہ زمین تھی، زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا، تو زمین ابھی بھی دونوں میں اسی طرح مشترکہ رہے، پھر بھی وقف جائز ہے اور یوں کر لیا جائے گا کہ زمین سے جو بھی پیداوار حاصل ہو گی نصف جو ہے وہ تو عمرو لے لے گا اور وہ نصف جو وقف حصے کا بنتا ہے وہ فقراء میں تقسیم کر دیا جائے گا، یا اس کے اندر مہایأت کر لی جائے گی بھئی، یا اس میں مہایأت کر لی جائے گی، مہایأت کہتے ہیں کہ دو آدمیوں میں کہ ایک چیز کے اندر شرکت ہے اور وہ اسی شرکت پر اتفاق کر لیتے ہیں کہ یوں کریں گے کہ یہ میری اور آپ کی مشترکہ زمین ہے، یوں کرتے ہیں باری باری سے نفع اٹھاتے ہیں، اسی طرح سلسلہ چلاتے ہیں، مثلاً ایک سال آپ اس میں فصلیں کاشت کیا کریں اور جتنی پیداوار ہو گی وہ آپ کی ہے، اور ایک سال پھر اس میں میں کاشت کیا کروں گا اور جتنی پیداوار ہو گی وہ میری ہو گی بھئی، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہایأت بھئی، هَايَأَ يُهَايِئُ مُهَايَأَةً، یہ آگے لفظ صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے بھئی، تو لہٰذا امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں مشاع حصے کا وقف بھی جائز ہے، وہاں دو صورتیں بن سکتی ہیں کہ جو بھی آمدنی آئے اس کو پھر بعد میں تقسیم کر لیا جائے، نصف حصہ شریک کا ہو جائے گا اور نصف حصہ وقف کا ہو جائے گا جو فقراء میں تقسیم کر دیا جائے گا، یا مہایأت کر لی جائے کہ ایک سال زمین جو ہے وہ شریک استعمال کیا کرے اور ایک سال جو زمین ہے وہ متولی اس سے پیداوار حاصل کر کے اس کو فقراء میں تقسیم کر دیا کرے۔ توجہ ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مشاع کا وقف بھی جائز ہے کیونکہ مشاع ہونے کے باوجود اس سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے، جبکہ مسجد اور قبرستان جو ہیں یہ مشاع ہوں تو پھر اس صورت میں وقف تام نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ یہ خالص اللہ کے لیے ہونے سے مانع ہو گا، اور نیز یہاں مہایأت بھی نہیں کی جا سکتی، وہ بھی انتہائی قبیح ہے، مہایأت کر لی جائے کہ ایک سال تک یہ مسجد رہے گی اس میں نمازیں پڑھی جائیں گی اور پھر ایک سال آپ اس کو کھیتی باڑی وغیرہ کے لیے استعمال کر لینا، پھر اگلے سال پھر دوبارہ یہ مسجد کے طور پر استعمال کر لیں گے اور پھر اس سے اگلے سال آپ پھر کھیتی باڑی کے لیے استعمال کر لینا، یا ایک سال کے لیے یہ زمین جو ہے آپ اس میں کھیتی باڑی کر لینا اور ایک سال اسے قبرستان کے طور پر استعمال کر لیں گے اور اس طرح باری باری سلسلہ چلتا رہے گا، تو کہتے ہیں مسجد اور قبرستان کے سلسلے میں مہایأت بھی انتہائی قبیح ہے، انتہائی قبیح ہے لہٰذا یہاں مہایأت کی بھی صورت نہیں ہے، لہٰذا مسجد اور قبرستان کے لیے جو وقف ہے وہ مشاع میں جائز نہیں، چاہے وہ زمین تقسیم کا احتمال رکھتی ہو چاہے تقسیم کا احتمال نہ رکھتی ہو، کسی صورت میں بھی مسجد اور قبرستان کے سلسلے میں مشاع کا وقف جائز نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: "إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ وَالْمَقْبَرَةِ"، مگر مسجد اور قبرستان میں، "فَإِنَّهُ لَا يَتِمُّ مَعَ الشُّيُوعِ"، اس لیے کیونکہ یہ وقف تام نہیں ہوتا شیوع کے ساتھ، "فِيمَا لَا يَحْتَمِلُ أَيْضًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، اس چیز میں بھی جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک، بھئی مثلاً زمین کا بڑا چھوٹا ٹکڑا ہے جو تقسیم کا احتمال ہی نہیں رکھتا یعنی اگر تقسیم کریں گے تو پھر وہ کسی کام کا نہیں رہے گا، تو اس کے اندر تو امام محمد رحمہ اللہ بھی مشاع کے وقف کے قائل تھے لیکن مسجد اور قبرستان کے مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ مشاع کا وقف جائز قرار نہیں دیتے حتی کہ زمین کا وہ چھوٹا ٹکڑا جہاں تقسیم ہو ہی نہیں سکتی اس کے اندر بھی وہ مسجد اور قبرستان کے لیے وقف کے جواز کے قائل نہیں ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: "فِيمَا لَا يَحْتَمِلُ أَيْضًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ"، اس چیز میں جو تقسیم کا احتمال نہیں رکھتی اس میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یعنی اس میں وقف تام نہیں ہو سکتا، "لِأَنَّ بَقَاءَ الشِّرْكَةِ يَمْنَعُ الْخُلُوصَ لِلَّهِ تَعَالَى"، اس لیے کیونکہ شرکت کا باقی رہنا يَمْنَعُ الْخُلُوصَ لِلَّهِ تَعَالَى یہ خالص اللہ کے لیے ہونے سے مانع ہے۔ جب شرکت موجود ہے تو خالص اللہ کے لیے نہیں ہو سکتی یہ چیز بھئی۔ "لِأَنَّ بَقَاءَ الشِّرْكَةِ يَمْنَعُ الْخُلُوصَ لِلَّهِ تَعَالَى"، اس لیے کیونکہ شرکت کا باقی رہنا یہ خالص اللہ کے لیے ہونے سے مانع ہے، جب تک شرکت موجود ہے ایک چیز خالص اللہ کے لیے نہیں ہو سکتی، خالص اللہ کے لیے وہ تب ہی ہو سکتی ہے جب اس میں شرکت نہ ہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ بَقَاءَ الشِّرْكَةِ يَمْنَعُ الْخُلُوصَ لِلَّهِ تَعَالَى"، اس لیے کیونکہ شرکت کا باقی رہنا یہ خالص اللہ کے لیے ہونے سے مانع ہے، "وَلِأَنَّ الْمُهَايَأَةَ فِيهِمَا فِي غَايَةِ الْقُبْحِ"، مہایأت میں نے بتلایا بھئی دو آدمیوں کے درمیان زمین مشترکہ ہے اور وہ اسی طرح اس پر اتفاق کر لیتے ہیں کہ اس زمین کو اسی طرح چلنے دیتے ہیں اور باری باری سے نفع اٹھاتے ہیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مہایأت، باہم اتفاق کر لینا اور موافقت کر لینا۔ تو مہایأت کا معنی ہے باہم موافقت کر لینا اور اتفاق کر لینا بھئی۔
تو کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ الْمُهَايَأَةَ فِيهِمَا فِي غَايَةِ الْقُبْحِ"، اس لیے کیونکہ مسجد اور قبرستان میں مہایأت کرنا یہ انتہا درجے کا قبیح ہے، یہ انتہا درجے کا برا ہے، "بِأَنْ يُقْبَرَ فِيهِ الْمَوْتَى سَنَةً وَيُزْرَعَ سَنَةً"، یہ با تصویریہ ہے، صورت بتلا رہے ہیں کہ مہایأت کر لی جائے وہ کس طرح ہو گی، کہتے ہیں: "بِأَنْ يُقْبَرَ فِيهِ الْمَوْتَى سَنَةً"، بایں صورت کہ اس میں مردے دفنائے جائیں گے سَنَةً ایک سال، "وَيُزْرَعَ سَنَةً"، اور ایک سال اس میں کھیتی باڑی کی جائے گی، تو یہ تو انتہائی قبیح ہے بھئی کہ ایک زمین باری باری اس طرح استعمال کرتے ہیں کہ ایک سال مردے دفنایا کریں گے اور ایک سال اس میں کھیتی باڑی کی جائے، "وَيُصَلَّى فِيهِ فِي وَقْتٍ"، اور ایک وقت اس کے اندر نماز پڑھی جائے، "وَيُتَّخَذَ إِصْطَبْلًا فِي وَقْتٍ"، اور ایک وقت اس کو اصطبل بنایا جائے کہ اس میں گھوڑے وغیرہ باندھے جائیں۔ ایک مشاع حصہ ہے لیکن وہ زمین چھوٹی ہے اگر تقسیم کرتے ہیں تو پھر وہ کسی کام کی نہیں رہتی، تو بھی اس مشاع کے اندر مسجد اور قبرستان کا وقف صحیح نہیں ہے بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: "وَلِأَنَّ الْمُهَايَأَةَ فِيهِمَا فِي غَايَةِ الْقُبْحِ"، اس لیے کیونکہ اس مسجد اور قبرستان کے اندر باہمی موافقت کر لینا یہ انتہائی قبیح ہے، "بِأَنْ يُقْبَرَ فِيهِ الْمَوْتَى سَنَةً وَيُزْرَعَ سَنَةً"، بایں صورت کہ ایک سال اس کے اندر مردے دفنائے جائیں اور ایک سال اس میں کھیتی باڑی کی جائے، "وَيُصَلَّى فِيهِ فِي وَقْتٍ وَيُتَّخَذَ إِصْطَبْلًا فِي وَقْتٍ"، اور ایک وقت اس میں نماز پڑھی جائے اور ایک وقت اس کو گھوڑوں کا اصطبل بنایا جائے، "بِخِلَافِ الْوَقْفِ"، بخلاف وقف کے۔ ایک تو مسجد اور قبرستان کا وقف ہے وہ وہ مشاع میں جائز نہیں ہے، ہاں اور عام وقف مشاع میں جائز ہے، میں نے بتلایا کہ وہاں مہایأت بھی کی جا سکتی ہے اور وہاں پیداوار بھی حاصل ہو تو اس پیداوار کو بھی تقسیم کیا جا سکتا ہے دونوں صورتیں ہیں۔ کہتے ہیں: "بِخِلَافِ الْوَقْفِ"، بخلاف عام وقف کے، "لِإمْكَانِ الِاسْتِغْلَالِ"، اس لیے کیونکہ نفع حاصل کرنا ممکن ہے، "وَقِسْمَةِ الْغَلَّةِ"، اور غلے کو تقسیم کرنا ممکن ہے، غلہ یعنی آمدنی اور پیداوار۔ تو کہتے ہیں: "بِخِلَافِ الْوَقْفِ"، بخلاف زمین اور قبرستان کے علاوہ اور جو وقف ہے کہ وہ جائز ہے مشاع کے اندر، "لِإمْكَانِ الِاسْتِغْلَالِ وَقِسْمَةِ الْغَلَّةِ"، اس وجہ سے کہ آمدنی حاصل کرنا اور اس آمدنی کو تقسیم کرنا ممکن ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: "وَلَوْ وَقَفَ الْكُلَّ ثُمَّ اسْتُحِقَّ جُزْءٌ مِنْهُ بَطَلَ فِي الْبَاقِي عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى"، بھئی انہوں نے آپ کو بتلا دیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع چیز کا وقف جائز نہیں ہے، اور یہ بھی پھر یاد رکھنا کہ یہ جو شیوع ہے یہ دو قسم پر ہے بھئی: ایک شیوعِ اصلی اور ایک شیوعِ طاری۔ شیوعِ اصلی اسے کہتے ہیں جو وقف کے وقت سے ہی شیوع موجود تھا، اور ایک شیوعِ طاری ہے کہ بعد میں شیوع آ جائے، مثلاً دیکھو زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی ہے تو دونوں نے پیسے ملائے اور کچھ زمین خرید لی، ابھی انہوں نے آپس میں تقسیم نہیں کی اور زید اپنا حصہ وقف کرنا چاہتا ہے تو یہ وقف جائز نہیں امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کیونکہ زید کا حصہ الگ نہیں ہے وہ پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے، پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے زمین کے ہر ہر جز میں زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے، تو یہ جس وقت زید وقف کر رہا ہے اس وقت سے ہی زید کا حصہ مشاع ہے، اس کے اندر شیوع ہے بھئی، اس کے اندر شیوع ہے، تو یاد رکھو جو شیوع وقف کے وقت ہی موجود ہو اس کو شیوعِ اصلی کہتے ہیں، اور ایک شیوع وہ ہے جو وقف کرتے وقت تو نہیں تھا لیکن بعد میں شیوع آ گیا تو وہ اس کو شیوعِ طاری کہتے ہیں بھئی، اس کو شیوعِ طاری کہتے ہیں، طَرَأَ يَطْرَأُ کے معنی ہیں پیش آنا، عارض ہونا، تو طاری کا معنی ہوا پیش آنے والا، جو عارض ہوا ہے۔ تو شیوع دو قسم پر: ایک شیوعِ اصلی اور ایک شیوعِ طاری۔ شیوعِ اصلی جو ہے وہ وقف کے منافی ہے کہ وقف کرتے وقت ہی شیوع ہو تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع حصے میں وقف جائز نہیں، لیکن اگر بعد میں شیوع آ جائے تو اس کی وجہ سے پہلے والا وقف باطل نہیں ہو گا۔
دیکھو مثال سے وضاحت ہو گی، صورت مثلاً یہ ہے کہ زید کا ایک باغ ہے، زید نے وہ وقف کر دیا، زید نے وہ وقف کر دیا، بعد میں ایک اور آدمی نے کچھ عرصے کے بعد دعویٰ کر دیا کہ اس باغ میں تو میرا بھی حصہ ہے، اور قاضی کے پاس گیا اور اس نے گواہ پیش کر دیے، پتہ چلا واقعی باغ کے اندر نصف حصہ اس آدمی کا ہے، تو یاد رکھو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ وقف باطل ہے، یہ وقف باطل ہے، وجہ یہ ہے کہ جس وقت زید نے باغ کو وقف کیا معلوم ہوا اس وقت بھی شیوع موجود تھا، اس وقت بھی شیوع موجود تھا، زید کا حصہ الگ نہیں تھا زید کا حصہ پورے باغ میں پھیلا ہوا تھا اور اس آدمی کا حصہ بھی پورے باغ میں پھیلا ہوا تھا، اگرچہ اس وقت علم نہیں تھا کسی کو کہ یہاں پر زید کا حصہ مشاع ہے، یہاں شیوع موجود ہے، اگرچہ کسی کو علم نہیں تھا لیکن وقف کرتے وقت شیوع موجود تو تھا لہٰذا لہٰذا یہ شیوعِ اصلی ہے اور شیوعِ اصلی سے وقف باطل ہو جاتا ہے، تو لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف باطل ہے۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کسی کو زید یہ باغ ہبہ کر دے اور بعد میں کوئی مستحق نکل آیا اور پتہ چلا کہ یہ باغ تو زید اور اس آدمی کے درمیان مشترکہ ہے اور مشاع چیز کا ہبہ تو جائز نہیں لہٰذا جیسے یہ ہبہ باطل ہو گا اسی طرح اس باغ کے اندر وقف بھی باطل ہو گا کیونکہ شیوعِ اصلی ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔
اور دوسرا ایک ہے شیوعِ طاری بھئی جو بعد میں پیش آئے، شیوعِ طاری سے یاد رکھو وقف اور ہبہ پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ مثلاً زید نے اپنا باغ کسی کو ہبہ کر دیا تحفے کے طور پر دے دیا، اب دیکھو یہ سارے باغ کا مالک زید ہے کسی اور کا حصہ اس باغ میں نہیں ہے، تو جس وقت زید نے ہبہ کیا یہاں پر کوئی شیوع نہیں ہے، زید سارے باغ کا مالک ہے، لیکن بعد میں کچھ عرصے کے بعد زید نے نصف باغ کے اندر رجوع کر لیا اور آپ جانتے ہیں ہبہ کے اندر رجوع جائز ہے، تو زید نے پورا باغ کسی کو ہبہ کر دیا تھا اور اس میں کسی اور کا حصہ نہیں تھا صرف زید کا باغ تھا، تو جس وقت ہبہ کیا اس وقت کوئی شیوع نہیں، لیکن بعد میں زید نے نصف باغ کے اندر رجوع کر لیا تو اب شیوع آ گیا لیکن یہ شیوعِ طاری ہے جو ہبہ کے بعد پیش آیا ہے، اور شیوعِ طاری کی وجہ سے ہبہ باطل نہیں ہوتا، اور نیز شیوعِ طاری کی وجہ سے وقف بھی باطل نہیں ہوتا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
یا دوسری مثال لے لیں شیوعِ طاری کی، مثلاً ایک آدمی مرض الموت میں مبتلا ہے اور آپ جانتے ہیں مرض الموت میں وارثوں کا حق بھی مال کے ساتھ متعلق ہو جاتا ہے، لہٰذا مرض الموت میں کوئی شخص کسی کو ہبہ کرنا چاہے تو ثلث سے زیادہ ہبہ نہیں کر سکتا، اسی طرح ثلث سے زیادہ وقف بھی نہیں کر سکتا یعنی اپنے مال کا صرف تیسرا حصہ وہ وقف کر سکتا ہے یا ہبہ کر سکتا ہے جبکہ باقی دو ثلث جو ہیں وہ وارثوں کا حق ہے، کیونکہ یہ شخص مرض الموت میں مبتلا ہو چکا ہے زندگی میں تو اس کو اپنے سارے مال کا اختیار تھا جہاں مرضی خرچ کرتا لیکن اب یہ مرنے والا ہے اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہونے والا ہے اب وارثوں کا حق مال سے متعلق ہو گیا، لہٰذا اب یہ اپنے مال کے تیسرے حصے سے زیادہ کسی کو تحفہ بھی نہیں دے سکتا اور تیسرے حصے سے زیادہ کو وقف بھی نہیں کر سکتا۔ تو ایک شخص مرض الموت میں مبتلا ہے اس نے اپنا ایک باغ وقف کر دیا یا اپنا ایک باغ اس نے کسی کو تحفے کے طور پر دے دیا مرض الموت میں ہی، چنانچہ وہ باغ جو ہے وہ اس متولی کے سپرد کر دیا گیا یا موہوب لہ کے سپرد کر دیا گیا اور پھر اس شخص کا انتقال ہو گیا، بعد میں وارثوں نے دیکھا کہ ہمارے مورث کا تو اور کوئی مال ہے ہی نہیں، صرف یہی ایک باغ ہے اس کا مال یا اور مال ہے بھی لیکن وہ تھوڑا سا ہے، تو یہ جو باغ جو اس نے وقف کیا یا یہ باغ جو اس نے ہبہ کیا ہے یہ ثلث میں سے نہیں پورا ہو سکتا، یہ ثلث میں سے پورا نہیں ہو سکتا، تو وارث رجوع کر سکتے ہیں اس باغ کے اندر کہ اس کے اندر ہمارا جتنا حصہ بنتا ہے وہ ہمیں دیا جائے، مثلاً صرف یہی باغ تھا اور کوئی مال نہیں تھا تو معلوم ہوا اس میں سے دو ثلث جو ہے وہ وارثوں کا حق ہے، دو تہائی وارثوں کا حق ہے، تو وارثوں نے دو تہائی باغ میں رجوع کر لیا۔ اب دیکھو اب اس باغ کے اندر شیوع آ گیا، ایک حصہ وہ موہوب لہ کا ہے یا یا ایک حصہ وقف رہ گیا اور باقی دو حصے وارثوں کے ہو گئے، ابھی تقسیم نہیں کی، شیوع آ گیا باغ کے اندر لیکن یہ شیوع ہبہ کے وقت نہیں تھا یا یہ شیوع وقف کے وقت نہیں تھا یہ ابھی آیا ہے، یہ شیوع ابھی آیا ہے تو یہ شیوعِ طاری ہے، اور شیوعِ طاری کی وجہ سے وقف یا ہبہ باطل نہیں ہوتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: "وَلَوْ وَقَفَ الْكُلَّ"، اور اگر کسی شخص نے ساری چیز جو ہے وقف کر دی، "ثُمَّ اسْتُحِقَّ جُزْءٌ مِنْهُ"، پھر اس میں سے ایک جز کا استحقاق نکل آیا یعنی کوئی اور اس کا مستحق نکل آیا، "بَطَلَ فِي الْبَاقِي عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ"، تو باقی کے اندر بھی وقف باطل ہو جائے گا کیونکہ شیوع آ گیا اور یہ شیوع وقف کے وقت سے ہی موجود تھا، اگرچہ علم نہیں تھا لیکن شیوع موجود تھا وقف کے وقت سے ہی اور یہ شیوعِ اصلی ہے اور شیوعِ اصلی کے ساتھ تو وقف جائز نہیں، تو یہ معنی ہے کہ "بَطَلَ فِي الْبَاقِي عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ"، کہ باقی حصے کے اندر بھی وقف باطل ہو جائے گا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، بھئی کچھ حصہ تو کسی اور کا نکل آیا اور باقی حصے میں بھی وقف کیا ہو جائے گا؟ باطل ہو جائے گا۔ یہ معنی ہے: "بَطَلَ فِي الْبَاقِي عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ"، باقی حصے کے اندر بھی وقف باطل ہو جائے گا، "لِأَنَّ الشُّيُوعَ مُقَارِنٌ"، اس لیے کیونکہ یہ شیوع جو ہے مقارن ہے یعنی ملا ہوا ہے، جس وقت وقف کیا تھا اس وقت سے ہی یہ شیوع اس چیز کے ساتھ ملا ہوا ہے یعنی یہ شیوعِ اصلی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الشُّيُوعَ مُقَارِنٌ"، اس لیے کیونکہ یہ شیوع جو ہے ملا ہوا تھا وقف کے ساتھ یعنی یوں کہو یہ اصلی ہے، "كَمَا فِي الْهِبَةِ"، جیسے کہ ہبہ کے اندر ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا بھئی کہ ہبہ کے اندر بھی شیوعِ اصلی ہو تو ہبہ باطل اور شیوعِ طاری ہو تو ہبہ باطل نہیں، اسی طرح وقف کے اندر بھی اگر شیوعِ اصلی ہے تو پھر وقف باطل اور اگر شیوعِ طاری ہے تو وقف باطل نہیں۔ تو یہ معنی ہے: "لِأَنَّ الشُّيُوعَ مُقَارِنٌ كَمَا فِي الْهِبَةِ"، اس لیے کیونکہ یہ شیوع جو ہے مقارن تھا یعنی ملا ہوا تھا، "كَمَا فِي الْهِبَةِ"، جیسے کہ ہبہ کے اندر ہے، اس میں بھی شیوعِ اصلی ہو تو ہبہ جائز نہیں ہوتا بھئی۔
"بِخِلَافِ مَا إِذَا رَجَعَ الْوَاهِبُ فِي الْبَعْضِ"، بخلاف اس کے کہ جب ہبہ کرنے والا رجوع کر لے بعض کے اندر، ایک شخص نے دوسرے کو اپنا باغ ہبہ کر دیا تحفے کے طور پر دے دیا، دیکھو ہبہ کرتے وقت اس میں کوئی شیوع نہیں، اور بعد میں یہ ہبہ کرنے والا کچھ حصے میں رجوع کر لیتا ہے کہ نصف باغ میں میں رجوع کرتا ہوں تو اب اس ہبہ میں شیوع آیا لیکن یہ ہبہ کرتے وقت شیوع نہیں تھا بلکہ یہ اس وقت آیا ہے تو یہ شیوعِ طاری ہے اور اس کی وجہ سے ہبہ باطل نہیں ہو گا۔ کہتے ہیں: "بِخِلَافِ مَا إِذَا رَجَعَ الْوَاهِبُ فِي الْبَعْضِ"، بخلاف اس کے کہ جب ہبہ کرنے والا بعضِ ہبہ کے اندر رجوع کر لے، "أَوْ رَجَعَ الْوَارِثُ فِي الثُّلُثَيْنِ بَعْدَ مَوْتِ الْمَرِيضِ"، یا وارث جو ہے وہ دو ثلث کے اندر رجوع کر لے مریض کے مرنے کے بعد، "وَقَدْ وَهَبَ أَوْ وَقَفَ فِي مَرَضِهِ"، اس حال میں کہ اس نے تحقیق ہبہ کیا تھا یا وقف کیا تھا اپنے مرض الموت میں، مریض نے مرض الموت میں وقف کیا تھا یا ہبہ کیا تھا اور بعد میں پتہ چلا اور کوئی مال نہیں تو وارث دو ثلث میں رجوع کرتا ہے تو یہ شیوعِ طاری ہے اور شیوعِ طاری سے ہبہ اور وقف باطل نہیں ہوتے۔ تو کہتے ہیں: "أَوْ رَجَعَ الْوَارِثُ فِي الثُّلُثَيْنِ بَعْدَ مَوْتِ الْمَرِيضِ"، یا وارث جو ہے وہ مریض کے مرنے کے بعد دو ثلث کے اندر رجوع کر لے، "وَقَدْ وَهَبَ أَوْ وَقَفَ فِي مَرَضِهِ"، اور تحقیق اس مریض نے ہبہ کیا تھا یا وقف کیا تھا اپنے مرض الموت میں، "وَفِي الْمَالِ ضِيقٌ"، اور اس حال میں کہ مال کے اندر تنگی ہے، مال کے اندر تنگی ہے یعنی یہ جو باغ اس نے وقف کیا ہے یا ہبہ کیا ہے یہ ثلث سے پورا نہیں ہو رہا اور پھر وارثوں نے اس میں رجوع کر لیا، تو کہتے ہیں: "وَفِي الْمَالِ ضِيقٌ"، اور مال کے اندر تنگی ہے، "لِأَنَّ الشُّيُوعَ فِي ذَلِكَ طَارِئٌ"، اس لیے کیونکہ اس کے اندر جو شیوع ہے وہ طاری ہے یعنی بعد میں پیش آیا ہے۔
"وَلَوْ اسْتُحِقَّ جُزْءٌ مُمَيَّزٌ"، دوسری صورت بھئی، ایک آدمی نے اپنا باغ وقف کر دیا یا کسی کو تحفے کے طور پر دے دیا اور پھر بعد میں باغ کے ایک معین حصے کا کوئی اور مستحق نکل آیا، پہلے جو شخص مستحق نکلا تھا اس کا حصہ پورے باغ میں پھیلا ہوا تھا تو وہاں شیوع تھا اور وقف اور ہبہ کے وقت سے ہی شیوع تھا لہٰذا وہ ہبہ اور وقف باطل، لیکن اب دوسری صورت ہے کہ کوئی شخص باغ کے ایک معین حصے کا مستحق نکل آیا، مثلاً ایک آدمی نے آ کر دعویٰ کر دیا کہ اس باغ کا فلاں کونہ جو ہے اس کے اندر ایک کنال زمین میری ہے اور پھر وہ قاضی کے پاس چلا گیا اور گواہ پیش کر دیے تو معلوم ہوا اس باغ کے اندر دوسرے کا بھی حصہ تھا لیکن وہ حصہ پھیلا نہیں ہوا تھا بلکہ وہ ایک معین حصہ تھا لہٰذا اس صورت میں باقی باغ کے وقف یا ہبہ میں کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ یہاں شیوع ہے ہی نہیں۔ یوں سمجھیں گے شروع سے ہی زید نے وہ ایک کنال ٹکڑا چھوڑ کر باقی سارا باغ وقف کیا تھا، تو ابتدا سے ہی شیوع یہاں نہیں ہے، وقف کرتے وقت بھی شیوع نہیں تھا یا ہبہ کرتے وقت بھی شیوع نہیں تھا، لہٰذا کسی معین حصے کا کوئی مستحق نکل آئے تو اس کی وجہ سے ہبہ یا وقف پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
تو کہتے ہیں: "وَلَوْ اسْتُحِقَّ جُزْءٌ مُمَيَّزٌ بِعَيْنِهِ"، ممیز کا معنی ہے جدا بھئی، جدا۔ "وَلَوْ اسْتُحِقَّ جُزْءٌ مُمَيَّزٌ بِعَيْنِهِ"، اور اگر کسی معین جدا جز کا کوئی مستحق نکل آیا، "لَمْ يَبْطُلْ فِي الْبَاقِي"، تو باقی کے اندر وقف جو ہے وہ باطل نہیں ہو گا، "لِعَدَمِ الشُّيُوعِ"، شیوع نہ ہونے کی وجہ سے، "وَلِهَذَا جَازَ فِي الِابْتِدَاءِ"، اور اسی وجہ سے ابتدا میں بھی یہ جائز ہے۔ بھئی ادھر دیکھیے، زید نے اپنا باغ وقف کیا تھا اس کے ایک کنارے پر ایک کنال کا حصہ تھا اس پہ کس نے دعویٰ کر دیا کہ یہ ایک کنال حصہ تو میرا ہے بھئی، تو یہاں پر دیکھو شیوع نہیں، تو معلوم ہوا زید نے باغ کے اس حصے کو چھوڑ کر باقی حصہ وقف کیا تھا اور جیسے ابتداءً یہ جائز ہے کہ کوئی شخص اپنی ساری زمین وقف نہ کرے بلکہ اس کا کچھ معین حصہ وقف کر دے تو یہاں بھی اسی طرح یہ جائز ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَلِهَذَا جَازَ فِي الِابْتِدَاءِ"، اور اسی طرح ابتدا کے اندر بھی جائز ہے کہ کوئی شخص اپنی پوری زمین وقف نہ کرے بلکہ اس میں سے کچھ معین حصہ وقف کر دے کہ یہ والا حصہ میں وقف کرتا ہوں۔
"وَعَلَى هَذَا الْهِبَةُ وَالصَّدَقَةُ الْمَمْلُوكَةُ"، اور اسی پر ہے ہبہ اور صدقۂ مملوکہ بھی۔ یعنی ہبہ اور صدقۂ مملوکہ جو ہے اس کے اندر بھی اگر پھیلے ہوئے حصے کا استحقاق نکل آیا، کسی نے کسی کو ہبہ کیا تھا یا کسی نے کوئی باغ فقیر کو صدقہ کیا تھا اور کوئی اور مستحق نکل آیا اور اس کا حصہ پورے باغ میں پھیلا ہوا ہے، مثلاً وہ کہتا ہے کہ ثلث حصہ تو میرا ہے پورے باغ میں، تو اب اس نے جو ثلث کا دعویٰ کیا ہے وہ پھیلا ہوا ہے پورے باغ میں کوئی الگ حصے کا اس نے دعویٰ نہیں کیا، تو یہ ہبہ اور صدقۂ مملوکہ بھی باطل ہے، اور اگر اس باغ کے اندر جو کسی نے ہبہ کیا ہے یا صدقہ کیا ہے اگر اس کے کسی معین جز کا کوئی مستحق نکل آیا تو اس کی وجہ سے یہ ہبہ اور صدقہ باطل نہیں ہو گا۔ یہ معنی ہے: "وَعَلَى هَذَا الْهِبَةُ وَالصَّدَقَةُ الْمَمْلُوكَةُ"، اور اسی پر ہبہ اور صدقۂ مملوکہ بھی ہے۔
بھئی یہاں صاحبِ ہدایہ نے صدقہ کے ساتھ مملوکہ کی قید لگائی جیسے اوپر صدقہ کے ساتھ منفذہ کی قید لگائی تھی، میں نے آپ کو بتلایا کہ یہ دراصل احتراز ہے وقف سے، کیونکہ وقف بھی صدقہ ہے، وقف بھی صدقہ ہے، البتہ وقف صدقۂ موقوفہ ہے یعنی اس میں کسی کو مالک نہیں بنایا جاتا بلکہ اس جائیداد کو اللہ کے لیے روک لیا جاتا ہے اور اس کے منافع جو ہیں وہ فقراء پر صدقہ کیے جاتے ہیں۔ تو وقف بھی صدقہ ہے لیکن صدقۂ موقوفہ ہے یعنی وقف کیا ہوا صدقہ ہے، کیا ہے؟ وقف کیا ہوا صدقہ ہے، روکا ہوا صدقہ ہے۔ جبکہ ایک ہے صدقۂ منفذہ یا صدقۂ مملوکہ، صدقۂ منفذہ میں نے بتایا نَفَّذَ يُنَفِّذُ تَنْفِيذ کا معنی پورا کرنا یعنی وہ صدقہ جو پورا کر دیا گیا ہے روکا نہیں گیا، پورا باغ ہی کسی غریب کو دے دیا تو یہ صدقۂ منفذہ ہے، اس غریب کو باغ کے منافع کا مالک نہیں بنایا بلکہ پورے باغ ہی کا مالک بنا دیا، یہ کیا ہے؟ صدقۂ منفذہ، یہ اسی کو صدقۂ مملوکہ بھی کہیں گے کہ یہ ایسا صدقہ ہے کہ اس فقیر کو اس کا مالک بنا دیا گیا ہے۔ تو وہ صدقہ جس میں فقیر کو اس جائیداد کا مالک بنا دیا جائے اس کو صدقۂ منفذہ بھی کہتے ہیں اور صدقۂ مملوکہ بھی، جبکہ وقف جو ہے وہ صدقۂ موقوفہ ہے بھئی۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ نے جو صدقہ کے ساتھ مملوکہ کی قید لگائی اس کے ذریعے احتراز ہے وقف سے، اس کے ذریعے احتراز ہے وقف سے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَعَلَى هَذَا الْهِبَةُ وَالصَّدَقَةُ الْمَمْلُوكَةُ"، اور اسی پر ہبہ اور صدقۂ مملوکہ بھی ہے۔
آگے دیکھیے: "قَالَ: وَلَا يَتِمُّ الْوَقْفُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى حَتَّى يَجْعَلَ آخِرَهُ بِجِهَةٍ لَا تَنْقَطِعُ أَبَدًا"، بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک ضروری ہے کہ وقف جو ہے اس طریقے پر کیا جائے کہ اس کا آخر ایسا ہو جو منقطع ہونے والا نہ ہو، جو ختم ہونے والا نہ ہو، ورنہ وقف صحیح نہیں ہے۔ اگر کسی نے وقف کی ایسی جہت بیان کی کہ جو منقطع ہونے والی ہے، ختم ہونے والی ہے تو طرفین کے نزدیک یہ وقف صحیح نہیں ہے، صحیح نہیں ہے، وقف مؤبد ہونا چاہیے، مثلاً ایک آدمی اپنا باغ وقف کرتا ہے کہ میرے اس باغ کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے، تو طرفین فرماتے ہیں یہ وقف صحیح نہیں، وجہ یہ کہ زید تو ہمیشہ رہنے والا نہیں ہے یہ تو کچھ سال تک زندہ رہے گا اس وقت تک تو اس پر ہم آمدنی خرچ کرتے رہیں گے اور پھر جب زید کا انتقال ہو جائے گا تو وقف کے خرچ کرنے کی جہت ہی ختم ہو گئی، وقف کس پر اب خرچ کیا جائے؟ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وقف کا آخر ایسی جہت ہونی چاہیے جو ختم ہونے والی نہ ہو، مثلاً ایک آدمی اپنا باغ وقف کرتا ہے کہ اس کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے، اب فقراء یہ تو ایسی جہت ہے جو ختم ہونے والی نہیں ہے ہمیشہ فقراء پر اس کی آمدنی کو خرچ کیا جائے یہ ممکن ہے بھئی، یا ایک آدمی اپنے باغ کو وقف کرتا ہے کہ اس کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے اور جب زید کا انتقال ہو جائے تو پھر اس باغ کی آمدنی فقراء پر خرچ کی جائے، دیکھو اب اس نے ایسی جہت بیان کی جو منقطع ہونے والی نہیں ہے، پہلی جہت کیا ذکر کی زید اور اس کے بعد فقراء کو ذکر کیا اور اس طرح یہ وقف کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہ سکتا ہے بھئی، تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وقف کا آخر وہ ایسی جہت ہونی چاہیے جو منقطع ہونے والی نہ ہو، وقف کو مؤبد ہونا چاہیے یعنی ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے بھئی۔
تو کہتے ہیں: قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: "وَلَا يَتِمُّ الْوَقْفُ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى"، کہ وقف تام نہیں ہوتا طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک، "حَتَّى يَجْعَلَ آخِرَهُ"، یہاں تک کہ اس وقف کے آخر کو کر دے، "بِجِهَةٍ"، ایسی جہت میں، ایسی جانب میں، "لَا تَنْقَطِعُ أَبَدًا"، جو کبھی بھی منقطع نہ ہوتی ہو، جو کبھی بھی ختم نہ ہو، "وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِذَا سَمَّى فِيهِ جِهَةً تَنْقَطِعُ جَازَ"، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب واقف نے اس وقف میں ایسی جہت ذکر کر دی جو منقطع ہو جائے گی پھر بھی یہ وقف جائز ہے۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر واقف نے وقف کی ایسی جہت
ذکر کر دی جو منقطع ہو جائے گی، ختم ہو جائے گی، پھر بھی وقف جائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی نے کہا کہ میرا یہ باغ وقف ہے، اس کی آمدنی زید پر خرچ کی جائے۔ اب زید، زید کا تو کچھ عرصے کے بعد انتقال ہو جائے گا بھئی، تو یہ ایسی جہت ذکر کی جو منقطع ہونے والی ہے۔ طرفین کے نزدیک یہ وقف صحیح نہیں، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ وقف صحیح ہے۔
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ وقف صحیح ہے اور جب وہ جہت منقطع ہو جائے گی، اس کے بعد یہ وقف عام فقراء کے لیے ہو جائے گا، پھر اس کی آمدنی عام فقراء پر خرچ کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں:
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ:“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”إِذَا سَمَّى فِيهِ جِهَةً تَنْقَطِعُ“
کہ جب واقف نے اس وقف کے اندر ایسی جانب ذکر کر دی جو منقطع ہو جائے گی
”جَازَ“
تو یہ بھی جائز ہے
”وَصَارَ بَعْدَهَا لِلْفُقَرَاءِ“
اور اس جہت کے بعد وہ وقف فقراء کے لیے ہو جائے گا
”وَإِنْ لَمْ يُسَمِّهِمْ“
اگرچہ اس واقف نے ان کو ذکر نہ کیا ہو۔
توجہ ہے متن پر؟ ذرا عبارت پہ نظر رکھنا بھئی! سب سے پہلے صاحب قدوری نے طرفین کا مذہب ذکر کیا کہ ان کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہے اور پھر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا مذہب ذکر کیا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کی اگر کوئی ایسی جہت ذکر کر دی کہ وہ منقطع ہو جائے گی، وہ ختم ہو جائے گی، پھر بھی وقف جائز ہے۔ پھر بھی یہ وقف جائز ہے اور اس کے بعد یہ کس کے لیے ہو جائے گا؟ فقراء کے لیے ہو جائے گا۔
آگے دیکھیے:
”لَهُمَا“
اب طرفین کی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ طرفین کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا یعنی ہمیشہ کے لیے ہونا شرط ہے، ضروری ہے۔
”لَهُمَا“
طرفین کی دلیل یہ ہے:
”أَنَّ مُوجَبَ الْوَقْفِ“
کہ وقف کا جو مقتضا ہے، یاد رکھو موجب کا معنی ہوتا ہے مقتضا، یعنی وقف جس چیز کا تقاضا کر رہا ہے وہ ہے وقف کا موجب بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”لَهُمَا أَنَّ مُوجَبَ الْوَقْفِ“
طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وقف کا جو مقتضا ہے
”زَوَالُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ“
وہ ملکیت کا ختم ہونا بغیر تملیک کے۔ یعنی وقف سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور کوئی اور بھی اس کا مالک نہیں بنتا، تو وقف تقاضا کرتا ہے زوالِ ملک بدونِ تملیک کا، یا یوں کہو زوالِ ملک لا الیٰ مالک، کہ اس وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جائے اور آگے کوئی اور بھی اس کا مالک نہ بنے بھئی۔ تو طرفین کے نزدیک وقف کس چیز کا تقاضا کرتا ہے؟ زوالِ ملک لا الیٰ مالک کا، یا یوں کہیں زوالِ ملک بدونِ تملیک کا۔
توجہ ہے؟ اور زوالِ ملک جو ہے وہ ہمیشہ مؤبد ہوتا ہے، جیسے غلام کو آزاد کر دیا جائے، غلام کو آزادی مل جائے تو وہ آزادی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے بھئی، تو لہٰذا وقف کے اندر بھی جب زوالِ ملک ہے تو وقف کو بھی مؤبد ہونا چاہیے۔ اگر وقف مؤبد نہیں ہے تو معلوم ہوا وقف جس چیز کا تقاضا کر رہا تھا وہ نہیں پائی گئی اور جب وہ چیز نہیں پائی گئی تو وقف بھی صحیح نہیں ہے بھئی۔
پھر دیکھ لیجیے ترجمہ:
”لَهُمَا أَنَّ مُوجَبَ الْوَقْفِ زَوَالُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ“
طرفین کی دلیل یہ ہے کہ وقف کا جو مقتضا ہے وہ ملکیت کا ختم ہونا ہے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے
”وَأَنَّهُ يَتَأَبَّدُ“
اور یہ زوالِ ملک جو ہوتا ہے یہ ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے
”كَالْعِتْقِ“
جیسے کہ آزادی ہے
”فَإِذَا كَانَتِ الْجِهَةُ يُتَوَهَّمُ انْقِطَاعُهَا“
پس جب وقف کی جو جہت ہے، اس کے منقطع ہونے کا وہم ہوتا ہو، اگر وقف کی ایسی جہت بیان کی جس کے منقطع ہونے کا وہم ہوتا ہے کہ یہ جہت تو ختم ہو جائے گی، تو اس صورت میں معلوم ہوا وقف کا مقتضا نہیں پایا گیا۔ وقف تو کس چیز کا تقاضا کر رہا تھا؟ کہ زوالِ ملک ہو اور زوالِ ملک ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، تو معلوم ہوا وقف ہمیشہ کے لیے ہونے کا تقاضا کر رہا تھا۔ تو اگر ایسی جہت ذکر کر دی جو ہمیشہ کے لیے نہیں ہے تو وقف کا مقتضا نہیں پایا گیا، لہٰذا وقف باطل ہوگا۔ تو کہتے ہیں:
”فَإِذَا كَانَتِ الْجِهَةُ يُتَوَهَّمُ انْقِطَاعُهَا“
تو جب اس وقف کی جہت جو ہے اس کے منقطع ہونے کا وہم ہوتا ہو
”لَا يَتَوَفَّرُ عَلَيْهِ مُقْتَضَاهُ“
تو اس پر وقف کا مقتضا حاصل نہیں ہوتا۔
توجہ ہے؟ توفر کا معنی ہے میسر ہونا۔ توفر کا کیا معنی؟ میسر ہونا یعنی حاصل ہونا۔
”لَا يَتَوَفَّرُ عَلَيْهِ مُقْتَضَاهُ“
تو اس پر تو وقف کا مقتضا حاصل نہیں ہوتا۔ ادھر دیکھیے! اگر وقف کی جو جہت بیان کی ہے وہ ہمیشہ کے لیے نہیں ہے، منقطع ہونے والی ہے، تو اس پر تو وقف کا مقتضا حاصل نہیں ہو رہا، وقف تو مؤبد ہونے کا تقاضا کر رہا تھا۔ معنی سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں:
”فَإِذَا كَانَتِ الْجِهَةُ يُتَوَهَّمُ انْقِطَاعُهَا لَا يَتَوَفَّرُ عَلَيْهِ مُقْتَضَاهُ“
جب وقف کی جو جہت ہے اس کے منقطع ہونے کا وہم ہوتا ہو تو اس پر تو وقف کا مقتضا حاصل نہیں ہوتا
”فَلِهٰذَا كَانَ التَّوْقِيتُ مُبْطِلًا لَهُ“
توقیت کہتے ہیں وقت متعین کرنا، وقت کی مقدار بیان کرنا۔ تو کہتے ہیں:
”فَلِهٰذَا كَانَ التَّوْقِيتُ مُبْطِلًا لَهُ“
تو اسی لیے وقت کا مقرر کرنا یہ وقف کو باطل کر دیتا ہے۔ وقف کے لیے کوئی وقت مقرر کر دیا جائے کہ میں دس سال کے لیے وقف کر رہا ہوں یا بیس کے لیے یا پچاس کے لیے یا سو سال کے لیے میں اسے وقف کر رہا ہوں، تو یہ جو توقیت ہے یہ وقف کو باطل کر دیتی ہے، کیونکہ وقف جو ہے تابید کا تقاضا کرتا ہے کہ ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ تو یہ معنی ہے:
”فَلِهٰذَا كَانَ التَّوْقِيتُ مُبْطِلًا لَهُ“
اسی لیے وقت کا مقرر کرنا یہ وقف کو باطل کر دیتا ہے
”كَالتَّوْقِيتِ فِي الْبَيْعِ“
جیسے بیع کے اندر وقت متعین کرنا۔ بھئی آپ کسی کو اپنی چیز بیچتے ہیں تو دیکھو وہ بیچنا ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے، چند دن کے لیے بیع نہیں ہوتی کہ یہ چیز میں نے آپ کو دس دن کے لیے بیچی ہے، دس دن کے بعد آپ کو واپس دینی پڑے گی۔ نہیں بھئی! بیع جب بھی کی جاتی ہے وہ ہمیشہ کے لیے کی جاتی ہے۔ تو جیسے بیع کے اندر وقت کو مقرر کر دیا جائے تو بیع باطل ہوتی ہے، اسی طرح وقف کے اندر بھی اگر وقت مقرر کر دیا جائے تو وقف بھی باطل ہے بھئی۔ یہ معنی ہے:
”كَالتَّوْقِيتِ فِي الْبَيْعِ“
جیسے بیع کے اندر توقیت ہے۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وقف جو ہے وہ زوالِ ملک کا تقاضا کرتا ہے اور زوالِ ملک مؤبد ہوتی ہے، لہٰذا وقف بھی مؤبد ہونا چاہیے، ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ یہاں تک طرفین رحمہما اللہ کے مذہب کی تفصیل تھی بھئی اور ان کی دلیل ذکر تھی بھئی۔ طرفین یعنی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ۔
یہاں اشکال ہوتا ہے کہ یہ جو اوپر انہوں نے کہا: ”لَهُمَا أَنَّ مُوجَبَ الْوَقْفِ زَوَالُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ“ کہ وقف جو ہے وہ تقاضا کرتا ہے زوالِ ملکیت کا بغیر تملیک کے، وقف کے اندر ملکیت ختم ہو جاتی ہے واقف کی، تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ابھی ہمیں پیچھے بتایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی۔ وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم نہیں ہوتی، چنانچہ جہاں کتاب الوقف شروع ہوئی تھی وہیں پر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ امام صاحب کے نزدیک وقف کہتے ہیں ”حَبْسُ الْعَيْنِ عَلَى مِلْكِ الْوَاقِفِ“ ایک معین چیز کو روک لینا واقف کی ملکیت پر۔ معلوم ہوا وقف کرنے والے کی ملکیت وقف پر سے ختم نہیں ہوتی اور یہاں آپ دلیل ذکر فرما رہے ہیں ”لَهُمَا“ کہ طرفین کے نزدیک ”أَنَّ مُوجَبَ الْوَقْفِ زَوَالُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ“ کہ وقف کا جو مقتضا ہے وہ زوالِ ملک بدونِ تملیک ہے، زوالِ ملک ہے یعنی واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے، حالانکہ یہ تو امام صاحب کا مذہب نہیں ہے لیکن آپ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ امام صاحب کا بھی مذہب ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کا بھی مذہب ہے۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟
تو یاد رکھنا پھر شارحین جواب دیتے ہیں کہ وقف کے بارے میں امام صاحب سے دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت وہ ہے جو پیچھے گزر گئی کہ وقف واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا، البتہ امام صاحب سے ایک روایت امام محمد رحمہ اللہ کے مثل بھی آئی ہے کہ وقف جو ہے وہ واقف کی ملکیت سے نکل جاتا ہے، تو یہ جو دلیل ذکر کی یہ امام صاحب کے اس دوسرے قول پر مبنی ہے۔ تو امام صاحب کا دوسرا قول امام محمد رحمہ اللہ کی طرح ہوا، تو معلوم ہوا دونوں کے نزدیک وقف کے اندر واقف کی ملکیت وقف پر سے ختم ہو جاتی ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو یہ تو بعض شارحین نے جواب دیا کہ یہاں پر یہ جو دلیل ذکر کی یہ امام صاحب کے دوسرے قول پر مبنی ہے، جبکہ بعض شارحین یہ جواب دیتے ہیں کہ یہاں پر بھی وہ صورت بنا لیں جب امام صاحب کے نزدیک وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور جہاں کتاب الوقف شروع کی تھی وہاں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب حاکم فیصلہ کر دے تو امام صاحب کے نزدیک وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ تو یہاں پر بھی وہ صورت بنا لیں جب حاکم فیصلہ کر دے وقف کے لازم ہونے کا، تو اس صورت میں امام صاحب کے نزدیک بھی واقف کی ملکیت ختم اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو ویسے ہی وقف جب صحیح ہو جائے تو واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ تو اس صورت میں پھر معلوم ہوا دونوں کے نزدیک وقف پر سے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اور یہ تابید کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ وقف ہمیشہ کے لیے ہونا چاہیے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے:
”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ ذرا پھر متن پر آئیے بھئی! متن کے اندر آیا تھا: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِذَا سَمَّى فِيهِ جِهَةً تَنْقَطِعُ جَازَ“ کہ جب واقف نے وقف کے اندر ایسی جہت ذکر کر دی جو منقطع ہو جائے گی، پھر بھی وقف جائز ہے۔ پھر بھی وقف جائز ہے۔ تو اب فقہاء کے دو گروہ ہو گئے بھئی۔ بعض فرمانے لگے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا شرط ہی نہیں ہے، وقف کچھ مدت کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیے بھی کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے تو متن میں آیا: ”إِذَا سَمَّى فِيهِ جِهَةً تَنْقَطِعُ جَازَ“ اگر ایسی جہت ذکر کر دی جو منقطع ہونے والی ہے، پھر بھی وقف جائز ہے۔ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہی نہیں ہے بھئی، وقف کا مؤبد ہونا ضروری نہیں ہے۔
لیکن بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، وقف کا مؤبد ہونا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک شرط ہے۔ ہاں، فرق صرف اتنا ہے طرفین کے نزدیک مؤبد ہونے کو لفظوں میں بھی ذکر کرے کہ یہ میں ہمیشہ کے لیے وقف کر رہا ہوں، ایسی جہت ذکر کرے جو کبھی بھی ختم ہونے والی نہ ہو بھئی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جب بھی کوئی شخص وقف کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے ہی ہوگا، چاہے وہ ہمیشہ رہنے والی جہت کو ذکر کرے یا نہ کرے۔ وہ چاہے منقطع ہونے والی جہت کو ذکر کر دے، پھر بھی وہ وقف ہمیشہ کے لیے ہی ہوگا اور وہ جہت جب ختم ہو جائے گی تو اس کے بعد وہ وقف عام فقراء کے لیے ہو جائے گا۔
توجہ ہے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کے بارے میں فقہاء کے دو گروہ ہیں بھئی۔ بعض فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا شرط ہی نہیں، لیکن صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ صحیح قول یہی ہے کہ وقف کا مؤبد ہونا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک شرط ہے، البتہ صرف فرق اتنا ہے کہ طرفین کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا لفظوں میں بھی ذکر کیا جائے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا لفظوں میں ذکر کیا جائے یا نہ کیا جائے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا بھئی۔
تو اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل ذکر کریں گے ان فقہاء کے قول کے مطابق جو فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ التَّقَرُّبُ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ وقف کے ذریعے جو مقصود ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے، کہ وقف کے ذریعے جو مقصود ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے۔ بھئی دیکھو انسان نیکی کرتا ہے تو اسے اجر و ثواب ملتا ہے اور اس کے درجات اونچے ہوتے ہیں اور اسے اللہ کا قرب حاصل ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنی نیکیاں زیادہ کرتا جائے گا اتنا ہی اللہ کا قرب زیادہ ملتا چلا جائے گا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو وقف ہے اس کے ذریعے مقصد یہ ہے کہ انسان کو اللہ کا قرب حاصل ہو جائے اور اللہ کا قرب دونوں صورتوں میں ملتا ہے، چاہے آپ وقف مؤبد کریں چاہے کچھ عرصے کے لیے کریں۔ مثلاً ایک آدمی نے اپنی زمین صرف دس سال کے لیے وقف کی ہے تو دس سال تک اس کو ثواب ملتا رہے گا اور خوب اس کے درجات بلند ہو جائیں گے، اور ایک آدمی نے ہمیشہ کے لیے اپنی زمین جو ہے وقف کی ہے تو اسے ہمیشہ اجر و ثواب ملتا رہے گا، اس کے درجات بلند ہوتے چلے جائیں گے اور اللہ کا قرب اسے حاصل ہوتا چلا جائے گا بھئی۔
توجہ ہے؟ بعض فقہاء کی رائے یہ ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری نہیں ہے، کیونکہ وقف کے ذریعے مقصد ہے اللہ کا قرب حاصل کرنا، تو وقف چاہے تھوڑی مدت کے لیے کیا جائے یا ہمیشہ کے لیے کیا جائے دونوں صورتوں میں اللہ کا قرب حاصل ہوگا۔ ہاں، جب مؤبد ہوگا تو تب ذرا زیادہ قرب حاصل ہو جائے گا، لیکن بہرحال دونوں صورتوں میں اللہ کا قرب ملے گا، یعنی اجر و ثواب ملے گا چاہے وہ وقف ہمیشہ کے لیے ہو یا ہمیشہ کے لیے نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلِأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: أَنَّ الْمَقْصُودَ هُوَ التَّقَرُّبُ إِلَى اللّٰهِ تَعَالَى وَهُوَ مُوَفَّرٌ عَلَيْهِ“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ وقف کے ذریعے جو مقصد ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے، وفّر یوفّر توفیر کا معنی ہے پورا حصہ دینا، موفّر جس کو پورا حصہ دیا جائے، یعنی جو پوری طرح حاصل ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں کہ وقف کے ذریعے جو مقصد ہے وہ اللہ کا قرب حاصل کرنا ہے اور وہ وقف پر حاصل ہو جاتا ہے۔ وہ وقف پر حاصل ہو جاتا ہے، جب وقف کرے گا تو چاہے کچھ مدت کے لیے کرے چاہے زیادہ مدت کے لیے کرے، دونوں میں اللہ کا قرب ہے۔ ہاں، مؤبد کرے گا تو ذرا زیادہ قرب ملے گا اور موقت کرے گا تو ذرا کم قرب ملے گا لیکن بہرحال قرب تو دونوں میں حاصل ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَهُوَ مُوَفَّرٌ عَلَيْهِ“
اور یہ مقصد جو ہے یہ اس وقف پر پوری طرح حاصل ہو جاتا ہے
”لِأَنَّ التَّقَرُّبَ تَارَةً يَكُونُ فِي الصَّرْفِ إِلَى جِهَةٍ تَنْقَطِعُ“
اس لیے کیونکہ اللہ کا قرب حاصل ہونا کبھی کبھار یہ اس صورت میں ہوگا کہ اس وقف کو خرچ کیا جائے ایسی جہت میں جو منقطع ہونے والی ہے۔ اگر وقف کو ایسی جہت میں خرچ کیا جائے جو منقطع ہونے والی ہے تو اس صورت میں بھی اللہ کا قرب تو حاصل ہوگا۔ اگرچہ ہمیشہ کے لیے تو نہیں لیکن اللہ کا قرب تو حاصل ہو رہا ہے۔ تو کہتے ہیں:
”لِأَنَّ التَّقَرُّبَ تَارَةً يَكُونُ فِي الصَّرْفِ إِلَى جِهَةٍ تَنْقَطِعُ وَمَرَّةً بِالصَّرْفِ إِلَى جِهَةٍ تَتَأَبَّدُ“
اس لیے کیونکہ اللہ کا قرب حاصل ہونا کبھی کبھار خرچ کرنے سے ہوگا ایسی جہت میں جو منقطع ہونے والی ہے اور اللہ کا قرب کبھی کبھار ایسی جہت کے اندر خرچ کرنے سے حاصل ہوگا جو ہمیشہ کے لیے ہوگی
”فَيَصِحُّ فِي الْوَجْهَيْنِ“
لہٰذا وقف صحیح ہوگا دونوں صورتوں میں، چاہے ہمیشہ کے لیے ہو چاہے کچھ وقت کے لیے ہو بھئی۔
یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کی دلیل تھی بعض فقہاء کے قول کے مطابق۔ اب دوسرا قول ذکر کر رہے ہیں:
”وَقِيلَ: إِنَّ التَّأْبِيدَ شَرْطٌ بِالْإِجْمَاعِ“
اور کہا گیا ہے کہ وقف کا مؤبد ہونا تو بالاجماع شرط ہے۔ اجماع سے تمام امت کے فقہاء کا اجماع مراد نہیں ہے بلکہ ہمارے ائمہ کا اجماع اور اتفاق مراد ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَقِيلَ: إِنَّ التَّأْبِيدَ شَرْطٌ بِالْإِجْمَاعِ“
اور کہا گیا ہے کہ وقف کا مؤبد ہونا یہ بالاتفاق شرط ہے یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک
”إِلَّا أَنَّ عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ لَا يُشْتَرَطُ ذِكْرُ التَّأْبِيدِ“
مگر یہ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تابید کو ذکر کرنا شرط نہیں ہے، وقف کے مؤبد ہونے کو ذکر کرنا شرط نہیں ہے
”لِأَنَّ لَفْظَةَ الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ مُنْبِئَةٌ عَنْهُ“
امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کوئی شخص وقف کرے گا تو وقف کا لفظ یا صدقہ کا لفظ وہ زبان سے کہے گا اور وقف اور صدقے کا لفظ وہ خود ہی مؤبد ہونے کی خبر دیتا ہے، کیونکہ وقف بھی ہمیشہ ہی کے لیے کیا جاتا ہے اور صدقہ بھی ہمیشہ کے لیے کیا جاتا ہے، تو جب وقف یا صدقے کا لفظ خود مؤبد ہونے پر دلالت کر رہا ہے تو علیحدہ سے اس کو ذکر کرنے کی ضرورت نہیں، یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔
کہتے ہیں:
”لِأَنَّ لَفْظَةَ الْوَقْفِ وَالصَّدَقَةِ مُنْبِئَةٌ عَنْهُ“
اس لیے کیونکہ وقف اور صدقے کا جو لفظ ہے وہ اس تابید کی خبر دیتا ہے، وقف اور صدقے کے لفظ سے ہی تابید کا پتہ چلتا ہے
”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ إِزَالَةُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ كَالْعِتْقِ“
اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ جو وقف ہے یہ ملکیت کو ختم کرنا ہے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے، جیسے کہ آزادی ہے، غلام آزاد ہوتا ہے تو وہاں کسی دوسرے کو اس کا مالک نہیں بنایا جاتا، تو جیسے آزادی میں زوالِ ملک ہے بدونِ تملیک، اسی طرح وقف میں بھی زوالِ ملک ہے بدونِ تملیک، اور جیسے آزادی ہمیشہ کے لیے ہوتی ہے تو اسی طرح وقف بھی ہمیشہ کے لیے ہوگا۔ تو یہ معنی ہے:
”لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ إِزَالَةُ الْمِلْكِ بِدُونِ التَّمْلِيكِ كَالْعِتْقِ“
اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ جو وقف ہے یہ واقف کی ملکیت کو ختم کرنا ہے بغیر کسی دوسرے کو مالک بنائے جیسے کہ آزادی ہے
”وَلِهٰذَا قَالَ فِي الْكِتَابِ“
تو یہ فقہاء فرماتے ہیں کہ یہ جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا کہ وقف کی ایسی جہت ذکر کر دی جائے جو منقطع ہونے والی ہے پھر بھی وقف صحیح ہوتا ہے۔
بھئی دیکھیے! میں نے بتلایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے مذہب کے بارے میں فقہاء کے دو گروہ ہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہی نہیں ہے، لیکن بعض فرماتے ہیں کہ وقف کا مؤبد ہونا ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ضروری ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہے، چنانچہ وہ فرماتے ہیں اسی لیے تو متن میں ذرا دیکھیے، متن میں جہاں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ذکر ہوا وہیں پر آگے ہے: ”وَصَارَ بَعْدَهَا لِلْفُقَرَاءِ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّهِمْ“ کہ اس جہت کے منقطع ہو جانے کے بعد وہ وقف عام فقراء کے لیے ہو جائے گا اگرچہ اس واقف نے ان کا ذکر نہ کیا ہو۔ تو صاحبِ قدوری کا یہ قول یہ بتلا رہا ہے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف مؤبد ہی ہوتا ہے، چاہے واقف اس کو ذکر کرے یا ذکر نہ کرے بھئی۔
تو اب آئیے سبق پر، کہتے ہیں:
”وَلِهٰذَا قَالَ فِي الْكِتَابِ فِي بَيَانِ قَوْلِهِ:“
اور اسی وجہ سے کتاب یعنی قدوری کے اندر صاحبِ قدوری نے فرمایا امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو بیان کرتے ہوئے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کو بیان کرتے ہوئے صاحبِ قدوری نے فرمایا:
”وَصَارَ بَعْدَهَا لِلْفُقَرَاءِ وَإِنْ لَمْ يُسَمِّهِمْ“
کہ اس جہت کے بعد وہ وقف عام فقراء کے لیے ہو جائے گا اگرچہ واقف ان کو ذکر نہ کرے
”وَهٰذَا هُوَ الصَّحِيحُ“
اور یہی قول صحیح ہے۔ صاحبِ ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ یہی قول صحیح ہے، کہ یعنی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف کا مؤبد ہونا شرط ہے، البتہ ذکر کرنا ضروری نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَهٰذَا هُوَ الصَّحِيحُ“
اور یہی قول صحیح ہے۔
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تابید کو ذکر کرنا شرط ہے۔ تابید کو ذکر کرنا شرط ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو وقف ہے اس کی آمدنی یا جو منافع ہیں ان کو صدقہ کیا جاتا ہے۔ جو زمین وغیرہ وقف کی ہے، اس کے منافع یا آمدنی کو صدقہ کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ ہمیشہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور کچھ وقت کے لیے بھی ہو سکتا ہے، لہٰذا تابید کو ذکر کرنا ضروری ہے۔ اگر وہ تابید کو ذکر نہیں کرتا، مطلقاً وقف ذکر کرتا ہے تو اس کو تابید پر ہم محمول نہیں کر سکتے۔ وقف میں منافع کا یا آمدنی کو صدقہ کیا جاتا ہے اور یہ صدقہ کچھ وقت کے لیے بھی ہو سکتا ہے اور ہمیشہ کے لیے بھی ہو سکتا ہے، تو ایک آدمی مطلقاً اس وقف کو ذکر کرے تو اس کو تابید پر آپ محمول نہیں کر سکتے کیونکہ یہاں دونوں احتمال موجود ہیں۔ کچھ وقت کے لیے ہونے کا بھی احتمال ہے اور ہمیشہ کے لیے ہونے کا بھی احتمال ہے، تو آپ اس کو تابید پر محمول نہیں کر سکتے بغیر کسی دلیل کے، تو اس کے لیے دلیل چاہیے کہ وقف کرنے والا خود اس کو ذکر کرے بھئی۔
تو کہتے ہیں:
”وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: ذِكْرُ التَّأْبِيدِ شَرْطٌ“
اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تابید کو ذکر کرنا شرط ہے
”لِأَنَّ هٰذَا صَدَقَةٌ بِالْمَنْفَعَةِ أَوْ بِالْغَلَّةِ“
اس لیے کیونکہ یہ جو وقف ہے یہ نفع یا آمدنی کا صدقہ ہے، وقف میں کیا کیا جاتا ہے؟ منافع یا آمدنی کو صدقہ کیا جاتا ہے۔
بھئی ادھر دیکھیے! وقف کے اندر بعض اوقات آمدنی صدقہ کی جاتی ہے اور بعض اوقات نفع صدقہ کیا جاتا ہے۔ آمدنی صدقہ جیسے میں نے مثال ذکر کر دی، ایک آدمی نے اپنا باغ وقف کر دیا کہ اس باغ کی جتنی آئندہ آمدنی اور پیداوار ہو وہ فقراء پر خرچ کی جائے، تو یہاں پر کس چیز کو صدقہ کر رہا ہے؟ آمدنی کو اور پیداوار کو۔ اور بعض اوقات منافع کو صدقہ کیا جاتا ہے، مثلاً؟ مثلاً ایک آدمی کا ایک مکان ہے، وہ مکان اس نے وقف کر دیا کہ میرے اس مکان میں آج کے بعد مسافر رہا کریں، میرے اس مکان میں آج کے بعد مسافر رہا کریں، جو بھی مسافر آئے میرے اس مکان میں ٹھہرا کرے، تو اب اس نے اپنے مکان کی کوئی آمدنی نہیں صدقہ کی بلکہ اس کا نفع یعنی اس کی رہائش کو صدقہ کر دیا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تابید کا ذکر شرط ہے:
”لِأَنَّ هٰذَا صَدَقَةٌ بِالْمَنْفَعَةِ أَوْ بِالْغَلَّةِ“
اس لیے کیونکہ یہ جو وقف ہے یہ نفع یا آمدنی کا صدقہ ہے
”وَذٰلِكَ قَدْ يَكُونُ مُؤَقَّتًا وَقَدْ يَكُونُ مُؤَبَّدًا“
اور یہ صدقہ کبھی کبھار تو کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے اور کبھی کبھار ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے
”فَمُطْلَقُهُ لَا يَنْصَرِفُ إِلَى التَّأْبِيدِ“
لہٰذا مطلقِ وقف جو ہے وہ تابید کی طرف نہیں پلٹے گا، بغیر دلیل کے تابید کی طرف اس کو ہم نہیں پھیر سکتے بلکہ واقف کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ یہ معنی ہے:
”فَمُطْلَقُهُ لَا يَنْصَرِفُ إِلَى التَّأْبِيدِ“
تو یہ وقف کا مطلق ہے وہ تابید کی طرف نہیں پھرے گا
”فَلَا بُدَّ مِنَ التَّنْصِيصِ“
لہٰذا تنصیص ضروری ہے۔ نصّ ینصّ تنصیصاً بھئی، صاد کے ساتھ ہے۔ تنصیص کا معنی ہے تصریح کرنا، یعنی صاف لفظوں میں ایک چیز کو ذکر کرنا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں وقف کے اندر آمدنی یا منافع کو صدقہ کیا جاتا ہے اور یہ کچھ وقت کے لیے بھی ہو سکتے ہیں اور ہمیشہ کے لیے بھی، لہٰذا اگر ہمیشہ کے لیے ذکر نہیں کیا تو ہم اسے ہمیشہ کے لیے قرار نہیں دے سکتے، لہٰذا ہمیشہ کے لیے اس کو صدقہ کرنے کی تصریح ضروری ہے کہ اس کو لفظوں میں ذکر کرے، یہ معنی ہے:
”فَلَا بُدَّ مِنَ التَّنْصِيصِ“
لہٰذا اس پر تصریح ضروری ہے کہ یہ چیز میں ہمیشہ کے لیے وقف کر رہا ہوں۔
یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ تو معلوم ہوا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے لیے تین شرطیں ہو گئیں۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے لیے تین شرطیں ہو گئیں: ایک تو شرط یہ تھی کہ وقف کا متولی کے قبضے میں دینا ضروری ہے۔ دوسری شرط یہ تھی کہ وہ وقف مشاع نہیں ہونا چاہیے، وہ وقف مشاع نہیں ہونا چاہیے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک تو مشاع کا وقف بھی جائز ہے لیکن امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع کا وقف جائز نہیں۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک دوسری شرط یہ ہو گئی کہ وہ وقف مشاع نہیں ہونا چاہیے، اور تیسری یہ شرط ہو گئی کہ اس کی جہت ایسی ہو جو کبھی بھی منقطع ہونے والی نہ ہو بھئی۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک وقف کے لیے تین شرطیں ہیں بھئی: ایک تو یہ کہ متولی کا قبضہ ضروری ہے، دوسرا کہ وہ مشاع نہیں ہونا چاہیے، اور تیسرا کہ اس کی جہت ایسی ہو جو کبھی منقطع ہونے والی اور ختم ہونے والی نہ ہو بھئی۔
آگے دیکھیے:
”قَالَ: وَيَجُوزُ وَقْفُ الْعَقَارِ لِأَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَقَفُوهُ“
بھئی یہاں سے اب صاحبِ ہدایہ آپ کو یہ بتلائیں گے کہ کن چیزوں کا وقف جائز ہے اور کن چیزوں کا وقف جائز نہیں؟ تو یاد رکھو ایک تو غیر منقولی چیزیں ہیں یعنی عقار بھئی۔ عقار کا کیا معنی؟ غیر منقولی جائیداد، یعنی وہ چیز جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ نقل نہیں کیا جا سکتا، جیسے باغ ہے، مکان ہے، دکان ہے، فیکٹری ہے اور کھیت ہے، یہ ساری چیزیں یہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کی جا سکتیں تو ان کو عقار کہتے ہیں، یعنی غیر منقولی جائیداد۔ اور اس کے علاوہ باقی چیزیں جو ہیں وہ منقولی ہیں، باقی تمام چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ بڑی سے بڑی مشینری ہی کیوں نہ ہو اس کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے تو وہ منقولی چیزیں کہلاتی ہیں۔ تو یاد رکھو یہ جو عقار ہے یعنی غیر منقولی جائیداد، اس میں تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک اس میں وقف جائز ہے۔ اس کے اندر وقف جائز ہے کیونکہ خلفائے راشدین نے اور دیگر صحابہ نے اپنی جائیدادیں وقف فرمائی تھیں بھئی، تو لہٰذا غیر منقولی جائیداد کے وقف میں کوئی اختلاف نہیں۔ البتہ منقولی چیزیں جو ہیں ان میں وقف ہو سکتا ہے یا نہیں؟ تو یاد رکھو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ منقولی چیزوں میں وقف نہیں ہو سکتا۔ منقولی چیزوں میں وقف نہیں ہو سکتا، وجہ یہ کہ ابھی آپ کو انہوں نے بتلایا کہ طرفین رحمہما اللہ کے نزدیک وقف کا مؤبد ہونا، ہمیشہ کے لیے ہونا شرط ہے اور یہ منقولی چیز یہ تو ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے، یہ کچھ سال تک رہے گی پھر ختم ہو جائے گی۔ اعلیٰ سے اعلیٰ مشینری بھی ہو، کچھ سالوں کے بعد وہ گل کر ختم ہو جائے گی بھئی۔ تو امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک صرف غیر منقولی جائیداد کا وقف جائز ہے، منقولی چیزوں کا وقف مطلقاً جائز ہی نہیں، کسی بھی منقولی چیز کا وقف جائز نہیں ہے۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گھوڑے اور اسلحے کا وقف بھی جائز ہے۔ گھوڑا بھی منقولی ہے، اسلحہ بھی منقولی ہے لیکن ان کا وقف جائز ہے کیونکہ ان کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آیا ہے۔ نیز اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غیر منقولی جائیداد کے تابع کرتے ہوئے منقولی چیز میں بھی وقف جائز ہے۔ مثلاً ایک شخص اپنی غیر منقولی جائیداد وقف کرتا ہے اور اس کے تابع کرتے ہوئے کچھ منقولی چیزوں کو بھی وقف کر دیتا ہے تو پھر اس صورت میں منقولی چیزوں میں بھی وقف صحیح ہو جائے گا۔ منقولی چیزوں میں قصداً تو وقف نہیں ہو سکتا کہ باقاعدہ ارادے سے ان کو وقف کیا جائے لیکن کسی غیر منقولی چیز کے تابع کرتے ہوئے ان میں وقف جائز ہے۔ مثلاً ایک آدمی اپنا کھیت جو ہے یعنی قابلِ کاشت زمین جو ہے اس کو وقف کرتا ہے، اب دیکھو یہ تو عقار ہے، غیر منقولی جائیداد ہے، اس کو تو وقف کرنا جائز ہے، اور اسی کھیت کے تابع کرتے ہوئے وہ اس کھیت میں ہل چلانے کے لیے کچھ بیل ہیں یا کچھ مشینری ہے یا اور آلات وغیرہ ہیں، یا اسی طرح اس کھیت کے اندر ہل چلانے والے جو کاشتکار ہیں جو اسی آدمی کے غلام ہیں، ان سب منقولی چیزوں کو بھی وہ وقف کر دیتا ہے کہ اس زمین کے ساتھ۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں اصل وقف زمین کے اندر ہوا اور باقی چیزوں کے اندر زمین کے تابع ہونے کی وجہ سے ان میں بھی وقف صحیح ہو گیا۔
تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک منقولی چیزوں میں سے گھوڑے اور اسلحے کا وقف جائز ہے کیونکہ اس کا ذکر احادیثِ مبارکہ میں آتا ہے، اور اسی طرح غیر منقولی جائیداد کے تابع کرتے ہوئے بھی بعض منقولی چیزوں میں وقف جائز ہو جائے گا۔ ان کے علاوہ اور کسی منقولی چیز میں وقف جائز نہیں بھئی۔
اور یاد رکھو یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا بھی، یہی قول ہے امام محمد رحمہ اللہ کا بھی، وہ بھی فرماتے ہیں کہ گھوڑے اور اسلحے کے اندر بھی وقف جائز ہے اور اسی طرح غیر منقولی جائیداد کے تابع قرار دیتے ہوئے منقولی چیزوں میں بھی وقف جائز ہوگا اور باقی منقولی چیزوں میں وقف جائز نہیں، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ سے ایک اور روایت بھی آتی ہے، اس میں وہ فرماتے ہیں کہ وہ منقولی چیزیں کہ جن کے وقف میں تعامل جاری ہو یعنی لوگ اس جیسی چیزوں کو وقف کرتے رہتے ہیں تو ان میں بھی وقف جائز ہوگا۔ ان میں بھی وقف جائز ہوگا، جیسے لوگ مسجد کے اندر قرآن لا کر رکھ دیتے ہیں اور وقف کر دیتے ہیں کہ جو بھی اس کو پڑھتا رہے گا انہیں اجر و ثواب ملتا رہے گا، یا اسی طرح بعض لوگ جنازے کی چارپائی وقف کر دیتے ہیں یا اسی طرح جنازے کے اوپر ڈالنے والا کپڑا جو ہے وہ وقف کر دیتے ہیں، تو یہ منقولی چیزیں جو ہیں ان کے اندر تعامل جاری ہے۔ لوگ اس طرح وقف کرتے رہتے ہیں اور جب ایک چیز پر لوگوں کا تعامل ہو تو اس کی وجہ سے بھی قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ منقولی چیز میں وقف جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ منقولی چیز میں وقف جائز ہی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وقف کا مؤبد ہونا یعنی ہمیشہ کے لیے ہونا شرط ہے اور منقولی چیزیں تو مؤبد نہیں ہوتیں، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ منقولی چیزوں میں وقف جائز نہیں ہونا چاہیے، لیکن اگر بعض منقولی چیزوں کے وقف پر لوگوں کا تعامل جاری ہے تو لوگوں کے تعامل کی وجہ سے بھی قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے، لہٰذا جن چیزوں پر لوگوں کا تعامل ہو ان منقولی چیزوں میں بھی وقف جائز ہوگا۔ بات سمجھ میں آگئی؟
جی دیکھیے بھئی کتاب پر:
”قَالَ:“
صاحبِ قدوری فرماتے ہیں:
”وَيَجُوزُ وَقْفُ الْعَقَارِ“
کہ عقار یعنی غیر منقولی جائیداد کا وقف جائز ہے
”لِأَنَّ جَمَاعَةً مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَقَفُوهُ“
اس لیے کیونکہ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی ایک جماعت نے اس عقار کو وقف کیا ہے، انہوں نے اپنی غیر منقولی جائیدادوں کو وقف کیا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے:
”وَلَا يَجُوزُ وَقْفُ مَا يُنْقَلُ وَيُحَوَّلُ“
اور وقف جائز نہیں ہے اس چیز کا جس کو نقل کیا جاتا ہے۔ ینقل اور یحول کا ایک ہی معنی ہے، وہ چیز جس کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہو، یعنی منقولی چیزیں مراد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَلَا يَجُوزُ وَقْفُ مَا يُنْقَلُ وَيُحَوَّلُ“
اور منقولی چیزوں کا وقف جائز نہیں ہے۔
”قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ:“
اس ”قَالَ“ سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ صاحبِ ہدایہ اب وضاحت فرمائیں گے کہ متن میں آیا: ”وَلَا يَجُوزُ وَقْفُ مَا يُنْقَلُ وَيُحَوَّلُ“ منقولی چیزوں کا وقف جائز نہیں ہے، صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو ہے علی الاطلاق امام صاحب کا قول ہے۔ امام صاحب کے نزدیک مطلقاً کسی منقولی چیز کا وقف جائز نہیں کیونکہ وقف کا مؤبد ہونا شرط ہے اور منقولی چیز میں تو تابید نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ: وَهٰذَا عَلَى الْإِرْسَالِ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: اور یہ علی الاطلاق امام صاحب کا قول ہے۔ علی الارسال، ارسال اور اطلاق کا ایک معنی ہے، اطلق یطلق اطلاقاً یا اسی طرح ارسل یرسل ارسالاً، دونوں کا معنی ہے آزاد چھوڑنا، تو یہ منقولی چیزوں میں امام صاحب کا یہ قول ہے علی الاطلاق بھئی، یعنی اس میں کوئی قید نہیں ہے کہ فلاں منقولی چیز میں وقف جائز ہے یا فلاں میں جائز ہے بلکہ علی الاطلاق تمام منقولی چیزوں میں امام صاحب کے نزدیک وقف جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں:
”وَهٰذَا عَلَى الْإِرْسَالِ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“
تو یہ علی الاطلاق امام صاحب کا قول ہے
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِذَا وَقَفَ ضَيْعَةً بِبَقَرِهَا وَأَكَرَتِهَا وَهُمْ عَبِيدُهُ جَازَ“
اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں ضیعۃ ضاد کے ساتھ، یہ کاشت والی زمین کو کہتے ہیں جو قابلِ کاشت ہو جس پر کاشتکاری ہو سکے، ببقرہا بقر کہتے ہیں بیل کو، واکرتہا اکرۃ جمع ہے اکار کی اور اکار کاشتکار کو کہتے ہیں، وہ جو زمین میں ہل چلاتا ہے، زمین کو بوتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں:
”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ: إِذَا وَقَفَ ضَيْعَةً“
امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب کسی شخص نے اپنی قابلِ کاشت زمین کو وقف کیا
”بِبَقَرِهَا وَأَكَرَتِهَا وَهُمْ عَبِيدُهُ جَازَ“
اس کے بیلوں اور اس کے کاشتکاروں کے ساتھ اس حال میں کہ وہ اس کے غلام ہوں، تو یہ بھی جائز ہے۔
...کاشتکار جو ہیں وہ اس کے غلام ہیں، جاز تو یہ جائز ہے۔ تو زمین کے تابع ہو کر یہ بیل اور یہ جو غلام ہیں یا اور کھیتی باڑی کے جو آلات ہیں، ان میں بھی وقف جائز ہے بھئی۔
”وَكَذَا سَائِرُ آلَاتِ الْحِرَاثَةِ“ اور اسی طرح ہیں کھیتی باڑی کے باقی آلات بھی، یعنی ان میں بھی زمین کے تابع ہوتے ہوئے وقف جائز ہو گا۔ حراثت بھئی ث کے ساتھ ہے بھئی، ث۔ حَرَثَ يَحْرُثُ حِرَاثَةً کا معنی ہے کھیتی باڑی کرنا، زمین میں ہل چلانا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا سَائِرُ آلَاتِ الْحِرَاثَةِ“ اور اسی طرح ہیں باقی کھیتی باڑی کے جو آلات ہیں، یعنی ان میں بھی وقف جائز ہے زمین کے تابع ہوتے ہوئے؛ ”لِأَنَّهُ تَبَعٌ لِلْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ چیزیں زمین کے تابع ہیں ”فِي تَحْصِيلِ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ“ اس چیز کے حاصل کرنے میں جو مقصود ہے۔ زمین سے پیداوار مقصود ہوتی ہے اور اس پیداوار کے حاصل کرنے میں یہ زمین کے تابع ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَبَعٌ لِلْأَرْضِ فِي تَحْصِيلِ مَا هُوَ الْمَقْصُودُ“ کہ یہ چیزیں زمین کے تابع ہیں اس چیز کے حاصل کرنے میں جو مقصود ہے۔ ”وَقَدْ يَثْبُتُ مِنَ الْحُكْمِ تَبَعًا مَا لَا يَثْبُتُ مَقْصُودًا“ اور کبھی کبھار بعض حکم جو ہیں وہ تابع ہو کر ثابت ہو جاتے ہیں، جو مقصود ہو کر ثابت نہیں ہو سکتے۔ بھئی دیکھو منقولی چیز کو قصداً تو وقف کرنا جائز نہیں، لیکن زمین کے تابع ان کے اندر وقف جائز ہے۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: بعض اوقات بعض چیزوں کے اندر قصداً ایک حکم ثابت نہیں ہو سکتا، لیکن کسی دوسری چیز کے تابع ہوتے ہوئے ان میں وہ حکم ثابت ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ يَثْبُتُ مِنَ الْحُكْمِ تَبَعًا مَا لَا يَثْبُتُ مَقْصُودًا“ اور کبھی کبھار حکم میں سے تابع ہو کر ثابت ہو جاتے ہیں جو مقصود ہو کر ثابت نہیں ہو سکتے، ”كَالشِّرْبِ فِي الْبَيْعِ“ جیسے کہ بیع کے اندر پانی کی باری ہے۔ شرب کہتے ہیں پانی کی باری کو۔ مثلاً زید اور عمرو کی زمین ہے اور ایک چھوٹی سی نہر آ رہی ہے اور اس سے یہ دونوں باری باری اپنی زمین کو سیراب کرتے ہیں۔ تو دیکھو اس پانی کی باری میں زید کا بھی حصہ ہے اور عمرو کا بھی حصہ ہے۔ تو یہ زید اور عمرو جو ہیں یہ اس پانی کی باری کو بیچنا چاہتے ہیں، نہیں بھئی، پانی کی باری کوئی وجودی چیز نہیں ہے، یہ صرف ان کا ایک حق ہے، لہٰذا اس کو اکیلا بیچنا جائز نہیں۔ لیکن زمین کے تابع وہ پانی کی اس باری کو بیچ سکتے ہیں۔ مثلاً زید اپنی زمین بیچتا ہے تو زمین کے تابع وہ پانی کی اس باری کو بھی بیچ سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالشِّرْبِ فِي الْبَيْعِ“ جیسے کہ پانی کی باری ہے بیع کے اندر ”وَالْبِنَاءِ فِي الْوَقْفِ“ اور جیسے کہ عمارت ہے وقف میں۔ بناء بھئی عمارت کو کہتے ہیں۔ بھئی دیکھیے یہ عمارت جو ہے یہ منقولی چیز ہے۔ عمارت منقولی چیز ہے، عمارت کو آپ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کر سکتے ہیں کہ اس عمارت کو گرا دیا جائے اور پھر اس کے ملبے کو دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے، تو معلوم ہوا عمارت منقولی چیز ہے۔ اور آپ نے پڑھ لیا کہ منقولی چیزوں کے اندر تو وقف جائز نہیں ہے، لیکن اگر ایک شخص اپنی زمین وقف کرتا ہے اور اس زمین کے اندر عمارت بھی موجود ہے، تو زمین کے تابع ہو کر اس عمارت کا وقف بھی جائز ہو جائے گا۔ تو اصل وقف کس میں ہو گا؟ زمین میں، اور عمارت جو ہے وہ زمین کے تابع ہو کر وقف ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو بات یہ چل رہی ہے کہ بعض اوقات ایک حکم جو ہے وہ تابع ہو کر تو ثابت ہو جاتا ہے لیکن مقصود ہو کر ثابت نہیں ہوتا، جیسے پانی کی باری مقصود کرتے ہوئے بیچی جائے تو پھر نہیں بیچ سکتے، لیکن زمین کے تابع اسے بیچ سکتے ہیں۔ عمارت جو ہے اس کا وقف مقصوداً جائز نہیں ہے لیکن زمین کے تابع اس عمارت کا وقف بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالشِّرْبِ فِي الْبَيْعِ وَالْبِنَاءِ فِي الْوَقْفِ“ جیسے کہ پانی کی باری ہے بیع کے اندر اور جیسے کہ عمارت ہے وقف کے اندر۔
”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَعَهُ فِيهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اس میں۔ امام محمد رحمہ اللہ بھی اس مسئلے میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں کہ غیر منقولی کے تابع منقولی کا وقف بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَعَهُ فِيهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں ان منقولی چیزوں کے وقف میں؛ ”لِأَنَّهُ لَمَّا جَازَ إِفْرَادُ بَعْضِ الْمَنْقُولِ بِالْوَقْفِ عِنْدَهُ فَلَأَنْ يَجُوزَ الْوَقْفُ فِيهِ تَبَعًا أَوْلَى“ بھئی ادھر دیکھیے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک جیسے یہ زمین کے تابع یہ بیل وغیرہ کے اندر وقف جائز ہے، اسی طرح امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک گھوڑے اور اسلحے کا وقف بھی جائز ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب گھوڑے اور اسلحے کا وقف جائز ہے، حالانکہ یہ منقولی چیزیں ہیں، تو ان کا وقف علیحدہ جائز ہے زمین کے تابع کرتے ہوئے نہیں، جب ان کا علیحدہ وقف جائز ہے، اسی طرح وہ چیزیں جن کے اندر لوگوں کا تعامل ہے، جیسے قرآن وقف کرتے ہیں، یہ جنازے کی چارپائی وغیرہ وقف کرتے ہیں، تو جب ان کو علیحدہ وقف کرنا جائز ہے تو عقار کے تابع کرتے ہوئے منقولی میں وقف بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَعَهُ فِيهِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اس میں؛ ”لِأَنَّهُ لَمَّا جَازَ إِفْرَادُ بَعْضِ الْمَنْقُولِ بِالْوَقْفِ عِنْدَهُ“ اس لیے کیونکہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب بعض منقولی چیزوں کا وقف جدا کرنا جائز ہے، افراد کا کیا معنی؟ جدا کرنا، یعنی اکیلی منقولی چیزوں کا وقف بھی جائز ہے، گھوڑے کا وقف کیا جاتا ہے یا اسلحے کو وقف کیا جاتا ہے یا قرآن ہے، جنازے کی چارپائی ہے، اب دیکھو ان کو اکیلا وقف کرنا جائز ہے، تو جب ان کو اکیلا وقف کرنا جائز ہے تو منقولی چیز کو غیر منقولی کے تابع وقف کرنا بطریق اولیٰ جائز ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَمَّا جَازَ إِفْرَادُ بَعْضِ الْمَنْقُولِ بِالْوَقْفِ عِنْدَهُ فَلَأَنْ يَجُوزَ الْوَقْفُ فِيهِ تَبَعًا أَوْلَى“ اس لیے کیونکہ جب بعض منقولی چیزوں کا وقف علیحدہ جائز ہے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، تو یہ کہ وہ وقف اس میں تابع ہو کر جائز ہو، یہ بطریق اولیٰ ہو گا۔ یہ بطریق اولیٰ ہو گا۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يَجُوزُ حَبْسُ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ“ کراع بھئی گھوڑوں اور اسلحے کے مجموعے کو کہتے ہیں، لیکن یہاں اسلحے کا ذکر الگ ہے تو یہاں کراع سے کیا مراد ہے؟ گھوڑے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجُوزُ حَبْسُ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ“ کہ گھوڑوں اور اسلحے کا حبس جائز ہے۔ گھوڑوں اور اسلحے کا حبس جائز ہے، اور حبس سے مراد ہے وقف بھئی، کیونکہ وقف کا بھی کیا معنی ہے؟ حبس یعنی روکنا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”يَجُوزُ حَبْسُ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ“ کہ گھوڑوں اور اسلحے کا وقف جائز ہے ”مَعْنَاهُ“ اس حبس کا معنی جو ہے ”وَقْفُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ متن کا معنی بیان فرما رہے ہیں۔ متن میں تو آیا ”يَجُوزُ حَبْسُ الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ“، حبس کا لفظ آیا، صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں حبس سے مراد وقف ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”مَعْنَاهُ“ کہ حبس کا جو معنی ہے ”وَقْفُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ“ اللہ کے راستے میں اس کو وقف کرنا ہے، ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَهُ فِيهِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں ”عَلَى مَا قَالُوا“ اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ بھئی اوپر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا کہ ان کے نزدیک زمین کے تابع بیلوں کا اور کاشتکار غلاموں کا وقف بھی جائز ہے، اور اس مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ بھی ان کے ساتھ تھے، اور یہاں ذکر کیا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک گھوڑوں اور اسلحے کا وقف جائز ہے، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی اس مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، معلوم ہوا دونوں کا ایک ہی قول ہے۔ دونوں کا ایک ہی قول ہے۔ یہ دونوں چیزیں جو اوپر ذکر ہوئیں: گھوڑے اور اسلحہ اور دوسرا زمین کے تابع جو ہے بیل وغیرہ کا وقف، اس میں دونوں کا قول ایک ہی ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَهُ فِيهِ عَلَى مَا قَالُوا“ کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ بھی اس مسئلے میں امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اس وجہ سے جو فقہاء نے فرمایا ہے۔ یعنی دونوں کے قول کو الگ ذکر کرنے کی کوئی حاجت نہیں تھی، دونوں کا قول الگ الگ ذکر کیا گیا، لیکن دونوں کا قول ایک ہی ہے۔ توجہ ہے؟ اوپر امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی بات ذکر کی اور کہا امام محمد رحمہ اللہ ان کے ساتھ ہیں اس مسئلے میں، اب آگے امام محمد رحمہ اللہ کا قول ذکر کیا اور کہا امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس مسئلے میں ان کے ساتھ ہیں، معلوم ہوا دونوں کا قول ایک ہی ہے بھئی۔ یہ تو امام محمد رحمہ اللہ کا ایک قول ہے جو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے موافق ہے، آگے دوسرا قول بھی ان کا آگے آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مَعَهُ فِيهِ عَلَى مَا قَالُوا“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ اس وقت کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، ”وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے۔ یہ جو گھوڑے اور اسلحے کا وقف جائز قرار دیا گیا ہے یہ استحسان ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے ان کا وقف جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ وقف کا مؤبد ہونا ضروری ہے، ہمیشہ کے لیے ہونا ضروری ہے، اور گھوڑا اور اسلحہ تو مؤبد نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ“ اور یہ استحسان ہے ”وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَجُوزَ لِمَا بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“ اور قیاس تو یہ ہے کہ یہ جائز نہیں ہونا چاہیے اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں بیان کر دیا کہ وقف کا مؤبد ہونا شرط ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ اب استحسان کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ استحسان جو ہے اس متفق علیہ دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں قیاس آئے۔ مثلاً قیاس ایک بات کا تقاضا کر رہا ہے اور قرآن کی آیت سے دوسری بات کا پتہ چل رہا ہے تو اس آیت کو استحسان کہیں گے۔ اس آیت کو استحسان کہیں گے، یا حدیث سے ایک بات کا پتہ چل رہا ہے اور قیاس دوسری بات کا تقاضا کر رہا ہے تو اس کو بھی استحسان کہیں گے۔ یہ جو حدیث ہے یہ کیا ہے؟ استحسان۔ تو استحسان اس متفق علیہ دلیل کا نام ہے جس کے مقابلے میں قیاس آئے، تو آیت کو استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاس ہو، حدیث کو استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاس ہو، لیکن زیادہ تر استحسان کا استعمال جو ہے وہ قیاسِ خفی کے لیے ہوتا ہے۔ قیاسِ خفی، میں نے بتلایا تھا ایک قیاسِ خفی ہے، ایک قیاسِ جلی ہے۔ قیاسِ خفی وہ ہے جس میں بات گہری ہوتی ہے، خوب غور کرنا پڑتا ہے پھر انسان اس بات تک پہنچتا ہے، اور قیاسِ جلی وہ ہے جہاں بات خوب ظاہر ہوتی ہے، زیادہ سوچنا نہیں پڑتا، انسان فوراً اس بات تک پہنچ جاتا ہے بھئی۔ تو استحسان جو ہے وہ اس متفق علیہ دلیل کو کہتے ہیں جس کے مقابلے میں قیاس آئے، لیکن زیادہ تر استحسان جو ہے وہ قیاسِ خفی پر بولا جاتا ہے، لیکن میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ قیاسِ خفی کو بھی استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی ہو۔ قیاسِ جلی ایک بات کا تقاضا کر رہا ہے، قیاسِ خفی دوسری بات کا تقاضا کر رہا ہے، تو اس قیاسِ خفی کو استحسان کہیں گے کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاسِ جلی موجود ہے۔ لیکن اگر قیاسِ خفی کے مقابلے میں قیاسِ جلی موجود نہیں، پھر جتنا مرضی گہرا قیاس ہو اس کو قیاس ہی کہتے ہیں، استحسان نہیں کہتے۔ تو حاصلِ کلام یہ ہے کہ استحسان کے مقابلے میں قیاس کا ہونا ضروری ہے، چاہے آیت ہو، چاہے حدیث ہو، چاہے قیاسِ خفی ہو، لیکن ان کے مقابلے میں قیاس ہو گا تو پھر ہی ان کو استحسان کہیں گے۔ چنانچہ اسی لیے دیکھیے، یہاں آیا: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی جو وجہ ہے ”الْآثَارُ الْمَشْهُورَةُ فِيهِ“ وہ اس کے اندر مشہور احادیث ہیں بھئی۔ وہ اس کے اندر مشہور احادیث ہیں، دیکھو احادیث کو استحسان کہا جا رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور ان احادیث کو استحسان کیوں کہہ رہے ہیں؟ کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاس آ رہا ہے، اگر ان کے مقابلے میں قیاس نہ ہوتا تو ان احادیث کو استحسان بھی نہ کہتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ: الْآثَارُ الْمَشْهُورَةُ فِيهِ“ استحسان کی وجہ جو ہے وہ اس کے بارے میں مشہور احادیث ہیں، ”مِنْهَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ ان احادیث میں سے حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وَأَمَّا خَالِدٌ فَقَدْ حَبَسَ أَدْرُعًا وَأَفْرَاسًا لَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”وَأَمَّا خَالِدٌ“ تو خالد جو ہے ”فَقَدْ حَبَسَ“ أَيْ فَقَدْ وَقَفَ، حبس کس معنی میں ہے؟ وقف کے معنی میں ہے، تو حضور فرماتے ہیں: ”وَأَمَّا خَالِدٌ“ تو خالد جو ہے ”فَقَدْ حَبَسَ“ تحقیق اس نے وقف کیا ہے ”أَدْرُعًا وَأَفْرَاسًا لَهُ“ اپنی زرہیں اور گھوڑے، ادرع جمع ہے دِرْعٌ کی، اور دِرْع کہتے ہیں لوہے کی قمیص بھئی، وہ جو جنگوں کے اندر جالی والی وہ لوہے کی قمیص پہنی جاتی تھی تلوار کے وار سے بچنے کے لیے اس کو دِرْع کہتے ہیں، اور جمع کیا ہے؟ ادرع بھئی، اور اسی طرح اس کی جمع دُرُوعٌ بھی آتی ہے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں کہ خالد بن ولید جو ہیں، تحقیق انہوں نے وقف کیا ہے اپنے گھوڑوں اور زرہوں کو اللہ کے راستے میں۔ یہ بھئی روایات میں آتا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھیجا زکوٰۃ وصول کرنے کے لیے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تشریف لائے تو انہوں نے صدقہ دینے سے انکار کر دیا، اسی طرح بعض نے اور نے بھی انکار کیا صدقہ دینے سے، تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ جب واپس تشریف لائے تو حضور علیہ السلام کو بتلایا، تو حضور علیہ السلام حضرت خالد بن ولید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمانے لگے کہ خالد بن ولید سے تم اگر صدقہ طلب کر رہے ہو یہ تو تم ظلم کر رہے ہو، انہوں نے تو پہلے ہی اپنی اتنی زرہیں اور اتنے گھوڑے اللہ کے راستے میں وقف کر دیے ہیں بھئی، یعنی وہ تو پہلے ہی ادا کر چکے ہیں۔ تو اس حدیث سے پتہ چلا اسلحہ اور گھوڑے وقف کرنا جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے فرمایا: ”وَأَمَّا خَالِدٌ فَقَدْ حَبَسَ أَدْرُعًا وَأَفْرَاسًا لَهُ“ تو یہاں بھی حبس کا کیا معنی ہے؟ وقف بھئی، تحقیق انہوں نے تو اپنی زرہیں اور اپنے گھوڑے جو ہیں وہ وقف کیے ہیں ”فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ اللہ کے راستے میں۔ تو حدیث یہیں تک ہے، حضور علیہ السلام کے الفاظ یہیں تک ہیں، آگے دوسری حدیث آ رہی ہے: ”وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حَبَسَ دُرُوعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ اور اسی طرح حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہیں جو ہیں وہ اللہ کے راستے میں وقف کی تھیں، ”وَيُرْوَى: وَأَكْرَاعَهُ“ بھئی یہ میری کتاب میں ہے: ”وَيُرْوَى: وَأَكْرَاعَهُ“، اکراعہ سے پہلے واؤ موجود ہے، یاد رکھو یہ درست نہیں ہے، ہدایہ کے دیگر نسخوں میں یہاں واؤ نہیں ہے اور یہاں واؤ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ صاحبِ ہدایہ بتلانا یہ چاہتے ہیں کہ یہ جو پیچھے حضرت طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث گزری: ”وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حَبَسَ دُرُوعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ اس حدیث کی بعض روایات میں دُرُوعَهُ کی جگہ أَكْرَاعَهُ کا لفظ آیا کہ طلحہ نے ”حَبَسَ أَكْرَاعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى“ انہوں نے اپنے گھوڑے جو ہیں وہ اللہ کے راستے میں وقف کیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَطَلْحَةُ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ حَبَسَ دُرُوعَهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ تَعَالَى، وَيُرْوَى: أَكْرَاعَهُ“ اور طلحہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی زرہیں اللہ کے راستے میں وقف کیں اور دُرُوعَهُ کی جگہ أَكْرَاعَهُ بھی روایت کیا گیا ہے۔ ”وَالْكُرَاعُ الْخَيْلُ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ کراع کا معنی بیان فرما رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْكُرَاعُ الْخَيْلُ“ اور کراع جو ہے وہ گھوڑے ہیں، یاد رکھو خيل جو ہے، خيل ایک گھوڑے کو نہیں کہتے بلکہ گھوڑوں کی جماعت کو کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْكُرَاعُ الْخَيْلُ“ اور کراع جو ہے وہ گھوڑے ہیں ”وَيَدْخُلُ فِي حُكْمِهِ الْإِبِلُ“ اور اسی کے حکم میں اونٹ بھی داخل ہیں، یعنی جیسے گھوڑوں کا وقف جائز ہے تو اس حکم میں اونٹ بھی داخل ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَيَدْخُلُ فِي حُكْمِهِ الْإِبِلُ“ اور ان گھوڑوں کے حکم میں اونٹ بھی داخل ہیں یعنی ان کو بھی وقف کیا جا سکتا ہے، ”لِأَنَّ الْعَرَبَ يُجَاهِدُونَ عَلَيْهَا“ اس لیے کیونکہ عرب جو ہیں ان اونٹوں پر بھی جہاد کیا کرتے تھے، ”وَكَذَا السِّلَاحُ يُحْمَلُ عَلَيْهَا“ اور اسی طرح وہ اسلحہ بھی ہے جو ان پر لادا جاتا ہے، یعنی اسلحے کو وقف کرنا بھی صحیح ہے جو ان پر لادا جاتا ہے۔
آگے دیکھیے بھئی: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يَجُوزُ وَقْفُ مَا فِيهِ تَعَامُلٌ مِنَ الْمَنْقُولَاتِ“ بھئی اب امام محمد رحمہ اللہ کا دوسرا قول آ گیا۔ امام محمد رحمہ اللہ کا پہلا قول امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق تھا، اور دوسرے قول کے مطابق امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہ منقولی چیزیں جن کے وقف کرنے میں لوگوں کا تعامل جاری ہے، لوگ اس طرح کی چیزیں وقف کرتے رہتے ہیں تو ان میں بھی وقف جائز ہو گا، جیسے قرآن ہے اور جنازے کی چارپائی وغیرہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى أَنَّهُ يَجُوزُ وَقْفُ مَا فِيهِ تَعَامُلٌ مِنَ الْمَنْقُولَاتِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وقف جائز ہے ان منقولی چیزوں میں بھی جن میں لوگوں کا تعامل ہے، ”كَالْفَأْسِ وَالْمَرِّ وَالْقَدُومِ وَالْمِنْشَارِ وَالْجِنَازَةِ وَثِيَابِهَا وَالْقُدُورِ وَالْمَرَاجِلِ وَالْمَصَاحِفِ“ بھئی اب وہ کچھ چیزیں ذکر کر دیں جن میں لوگوں کا تعامل جاری ہے، وہ ان چیزوں کو وقف کرتے ہیں۔ جیسے کہتے ہیں فَأْسٌ، فأس کہتے ہیں بھئی کلہاڑا، بھئی کلہاڑا جس کے ذریعے لکڑیاں کاٹی جاتی ہیں بھئی، اور اسی طرح مَرٌّ، مَرٌّ کہتے ہیں پھاوڑا بھئی، یہ ایک قسم کی بڑی کدال ہے بھئی، کدال وہ جس کے دونوں جانب نوکدار ہوتی ہے اور سخت زمین ہو تو اس کو کدال کے ذریعے کھودتے ہیں، تو اسی طرح جو بڑی کدال ہو اس کو مَرٌّ کہتے ہیں بھئی۔ اسی طرح قَدُوم بھئی، قدوم یہ ترکھان کا ایک آلہ ہے، ترکھان بھئی بڑھئی جو لکڑی سے چیزیں بناتا ہے، اس کا ایک آلہ ہے جس کے ذریعے وہ لکڑیوں کو چھیلتا ہے اور ان کو ہموار کرتا ہے، اس کو قدوم کہتے ہیں، اردو میں اس کو تیشہ یا بسولہ کہتے ہیں، ترکھان کا تیشہ یا بسولہ، تو عربی میں اس کو قدوم کہتے ہیں۔ مِنْشَار بھئی، منشار آری کو کہتے ہیں جس کے ذریعے ترکھان لکڑی کو کاٹتا ہے بھئی۔ ”وَالْجِنَازَةِ“ اور جنازہ جو ہے یہ جنازے کی چارپائی کو کہتے ہیں۔ ”وَثِيَابِهَا“ اور ثیاب یعنی وہ جنازے کی چارپائی کا جو کپڑا ہے، میت کے اوپر جو کپڑا ڈالا جاتا ہے۔ ”وَالْقُدُورِ“ قدور جمع ہے قِدْر کی، اور قدر ہانڈی کو کہتے ہیں جس میں کھانا وغیرہ بناتے ہیں۔ ”وَالْمَرَاجِلِ“ مراجِل جمع ہے مِرْجَل کی، اور مرجل بھی ہانڈی کو کہتے ہیں، تو قدر بھی ہانڈی اور مرجل بھی ہانڈی، البتہ بعض شارحین نے پھر فرق کیا ہے کہ قدر جو ہے وہ عام ہے چاہے وہ مٹی کی ہانڈی ہو چاہے تانبے یا پیتل وغیرہ کی ہانڈی ہو، اور جبکہ مرجل جو ہے وہ پیتل یا تانبے کی جو ہانڈی ہے اس کو مرجل کہتے ہیں۔ ”وَالْمَصَاحِفِ“ اور مصاحف جمع ہے مُصْحَف کی، اور مصحف جو ہے وہ قرآن کو کہتے ہیں۔ تو یہ وہ سب منقولی چیزیں ہیں کہ ان کے وقف میں تعامل جاری ہے، لوگ یہ چیزیں وقف کرتے رہتے ہیں۔ بعض لوگ کیا کرتے ہیں کلہاڑا، آری وغیرہ یہ چیزیں دیہات میں مخصوص جگہ پر لا کر رکھ دیتے ہیں تو جس کسی کو بھی ضرورت ہوتی ہے ان کو لے جاتا ہے، استعمال کرتا ہے اور پھر واپس لا کر رکھ دیتا ہے، تو ان چیزوں کے وقف میں لوگوں کا تعامل جاری ہے، لہٰذا امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان کا وقف بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْفَأْسِ“ جیسے کہ کلہاڑی ہے، ”وَالْمَرِّ“ اور جیسے کہ پھاوڑا ہے، ”وَالْقَدُومِ“ اور جیسے کہ تیشہ ہے، ”وَالْمِنْشَارِ“ اور جیسے کہ آری ہے، ”وَالْجِنَازَةِ وَثِيَابِهَا“ اور جیسے جنازے کی چارپائی ہے اور اس کا کپڑا ہے، ”وَالْقُدُورِ وَالْمَرَاجِلِ“ اور جیسے کہ ہانڈیاں ہیں، جیسے کہ ہانڈیاں ہیں، ”وَالْمَصَاحِفِ“ اور جیسے کہ قرآن ہیں، کہ ان کے وقف میں لوگوں کا تعامل جاری ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کے اندر بھی وقف جائز ہے، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ منقولی چیزیں ہمیشہ رہنے والی نہیں ہیں، لہٰذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان کے اندر وقف جائز نہیں ہونا چاہیے، اور قیاس کو صرف نص کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے۔ قیاس کو نص کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے، نص کے اندر جب ایک بات آ جائے تو پھر قیاس کو نہیں دیکھا جاتا، لیکن یہاں ان چیزوں کے اندر تو نص نہیں ہے، لہٰذا یہاں قیاس پر ہی عمل کیا جائے گا اور ان چیزوں کا وقف جائز نہیں ہو گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى لَا يَجُوزُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ان چیزوں کا وقف جائز نہیں ہے؛ ”لِأَنَّ الْقِيَاسَ إِنَّمَا يُتْرَكُ بِالنَّصِّ“ اس لیے کیونکہ قیاس جو ہے اس کو نص کی وجہ سے چھوڑا جاتا ہے ”وَالنَّصُّ وَرَدَ فِي الْكُرَاعِ وَالسِّلَاحِ“ اور نص جو ہے وہ تو صرف گھوڑوں اور اسلحے کے بارے میں آئی ہے ”فَيَقْتَصِرُ عَلَيْهِ“ لہٰذا یہ حکم بھی اسی نص پر ہی بند رہے گا اور منقولی چیزوں کو ان پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: الْقِيَاسُ قَدْ يُتْرَكُ بِالتَّعَامُلِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس کو کبھی کبھار لوگوں کے تعامل کی وجہ سے بھی چھوڑ دیا جاتا ہے، لوگوں کے درمیان ایک چیز پر عمل جاری ہو تو اس کی وجہ سے بھی قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے، اور لوگوں میں ان چیزوں پر عمل جاری ہے، لہٰذا یہاں بھی قیاس کو ترک کر دیا جائے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”الْقِيَاسُ قَدْ يُتْرَكُ بِالتَّعَامُلِ كَمَا فِي الِاسْتِصْنَاعِ“ کہ قیاس جو ہے اس کو کبھی کبھار تعامل کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے کہ کسی چیز کو آرڈر پر بنوانے میں ہے، جیسے کسی چیز کے بنوانے کو طلب کرنے میں ہے۔ استصناع بھئی، کسی چیز کے بنانے کو طلب کرنا، یہ سین کس لیے ہے؟ یہ جو استصناع کے شروع میں سین ہے، یہ سین کس لیے ہے؟ طلب کے لیے ہے، تو استصناع کا معنی ہے کسی چیز کے بنانے کو، کسی چیز کی صنعت کو طلب کرنا، یعنی آرڈر پر کوئی چیز بنوانا، مثلاً آپ موچی کے پاس جاتے ہیں اور آپ اپنے پاؤں کا ناپ اسے دیتے ہیں کہ اس ناپ کے مطابق مجھے جوتے بنا دیجیے، اور آپ کے اور موچی کے درمیان ان جوتوں کی بیع ہو جاتی ہے اور کچھ پیسے آپ ایڈوانس میں ہی دے کر آ جاتے ہیں، توجہ ہے؟ تو اس کو استصناع کہتے ہیں یہ جو آرڈر پر چیز بنوائی جاتی ہے، اور یاد رکھو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے یہ جائز نہیں ہونا چاہیے، یہ استصناع جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ آپ جس چیز کی بیع موچی کے ساتھ کر رہے ہیں، جس جوتے کی بیع آپ موچی کے ساتھ کر رہے ہیں وہ جوتے تو ابھی معدوم ہیں، ان کا وجود ہی نہیں ہے اور معدوم چیز کی بیع تو جائز نہیں ہوتی، لہٰذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ استصناع جائز نہیں ہونا چاہیے، لیکن امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ لوگوں کا تعامل جاری ہے، لوگ اس طرح کرتے رہتے ہیں تو تعامل کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: الْقِيَاسُ قَدْ يُتْرَكُ بِالتَّعَامُلِ كَمَا فِي الِاسْتِصْنَاعِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قیاس جو ہے اس کو کبھی کبھار لوگوں کے تعامل کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ہے جیسے کسی چیز کا بنوانا، ”وَقَدْ وُجِدَ التَّعَامُلُ فِي هَذِهِ الْأَشْيَاءِ“ اور تحقیق تعامل پایا گیا ہے ان چیزوں کے اندر یہ جو اوپر ذکر ہو گئیں، لہٰذا تعامل کی وجہ سے ان کا وقف جائز ہو گا بھئی۔
”وَعَنْ نُصَيْرِ بْنِ يَحْيَى“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ امام محمد رحمہ اللہ کی تائید فرما رہے ہیں کہ ان منقولی چیزوں میں بھی وقف جائز ہونا چاہیے، چنانچہ فرماتے ہیں کہ نصیر بن یحییٰ یہ احناف کے بڑے فقہاء میں سے ہیں اور یہ شاگرد ہیں حسن بن زیاد رحمہ اللہ کے، اور حسن بن زیاد رحمہ اللہ یہ شاگرد ہیں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے، تو معلوم ہوا یہ جو نصیر بن یحییٰ ہیں یہ امام صاحب کے شاگردوں کے شاگرد ہیں اور بڑے فقہاء میں سے ہیں، اور انہوں نے کہتے ہیں اپنی تمام دینی کتابیں وقف فرما دی تھیں، قرآن پر قیاس کرتے ہوئے کہ جس طرح قرآن کا وقف جو ہے تعامل کی وجہ سے جائز ہے اسی طرح دینی کتابوں کا وقف بھی جائز ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ نُصَيْرِ بْنِ يَحْيَى رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ وَقَفَ كُتُبَهُ“ اور نصیر بن یحییٰ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے اپنی کتابوں کو وقف فرما دیا تھا ”إِلْحَاقًا لَهَا بِالْمَصَاحِفِ“ ان کو قرآن کے ساتھ ملاتے ہوئے، یعنی قرآن پر قیاس کرتے ہوئے، ”وَهَذَا صَحِيحٌ“ اور صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهَذَا صَحِيحٌ“ کہ یہ نصیر بن یحییٰ کا قول صحیح ہے، اور یاد رکھو اسی پر فتویٰ ہے کہ کتابوں وغیرہ کا وقف بھی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا صَحِيحٌ“ اور یہ صحیح ہے ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ يُمْسَكُ لِلدِّينِ“ اس لیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک کو تھاما جاتا ہے دین کے لیے، أَمْسَكَ يُمْسِكُ إِمْسَاكٌ کا معنی ہے کسی چیز کو تھامنا اور ہاتھ سے اٹھانا، تو یہ جس طرح قرآن کو کبھی پڑھنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے، کبھی دوسرے کو سکھانے کے لیے اٹھایا جاتا ہے اور کبھی سیکھنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے، اسی طرح دینی کتابیں بھی ہیں ان کو کبھی پڑھنے کے لیے اٹھایا جاتا ہے، کبھی دوسرے کو سکھانے کے لیے اور کبھی سیکھنے کے لیے، توجہ ہے؟ آگے لفظ آئے گا تعلیم، عَلَّمَ يُعَلِّمُ تَعْلِيمٌ کا معنی ہے دوسرے کو سکھانا جیسے استاد شاگردوں کو سکھاتا ہے تو استاد کی نسبت سے ہے یہ تعلیم، اور شاگرد سیکھ رہے ہیں تو اس کو کہتے ہیں تعلّم، اس کو کیا کہتے ہیں؟ تعلّم۔ تو یہ قرآن اور دینی کتابیں جو ہیں ان کو دین کی وجہ سے اٹھایا جاتا ہے تعلیم دینے کے لیے یا سیکھنے کے لیے یا پڑھنے کے لیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ يُمْسَكُ لِلدِّينِ“ اس لیے کیونکہ قرآن اور یہ جو دینی کتابیں ہیں ان میں سے ہر ایک جو ہے ان کو اٹھایا جاتا ہے دین کے لیے، ”تَعْلِيمًا“ دوسروں کو سکھانے کے اعتبار سے ”وَتَعَلُّمًا“ اور سیکھنے کے اعتبار سے ”وَقِرَاءَةً“ اور پڑھنے کے اعتبار سے۔ ”وَأَكْثَرُ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اکثر شہروں کے جو فقہاء ہیں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہیں، یعنی عام فقہاء جو ہیں وہ بھی امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ان منقولی چیزوں میں بھی وقف کو جائز قرار دیتے ہیں لوگوں کے تعامل کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَكْثَرُ فُقَهَاءِ الْأَمْصَارِ عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور شہروں کے اکثر فقہاء جو ہیں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر ہیں، ”وَمَا لَا تَعَامُلَ فِيهِ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا وَقْفُهُ“ اور یاد رکھو جن چیزوں کے اندر لوگوں کا تعامل نہیں ہے ان منقولی چیزوں کا وقف بھی ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَا لَا تَعَامُلَ فِيهِ لَا يَجُوزُ عِنْدَنَا وَقْفُهُ“ اور وہ منقولی چیزیں جن کے وقف میں لوگوں کا تعامل نہیں ہے تو ان کا وقف ہمارے نزدیک جائز نہیں ہے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ مَا يُمْكِنُ الِانْتِفَاعُ بِهِ مَعَ بَقَاءِ أَصْلِهِ وَيَجُوزُ بَيْعُهُ يَجُوزُ وَقْفُهُ“ اب امام شافعی رحمہ اللہ کا قول آ گیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر اس منقولی چیز کا وقف جائز ہے جس میں دو شرطیں پائی جائیں۔ ہر اس منقولی چیز کا وقف جائز ہے جس میں دو شرطیں پائی جائیں: ایک شرط یہ کہ اس چیز کے باقی رہتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا ممکن ہو، اس چیز کے باقی رہتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا ممکن ہو۔ یاد رکھو یہ جو چیزوں سے ہم نفع اٹھاتے ہیں، بعض چیزوں سے ہم اس طرح نفع اٹھاتے ہیں کہ وہ باقی رہتی ہیں اور بعض چیزوں سے ہم اس طرح نفع اٹھاتے ہیں کہ وہ ختم ہو جاتی ہیں۔ مثلاً دیکھو آپ کے پاس درہم اور دینار ہیں، آپ ان سے نفع اٹھانا چاہتے ہیں تو آپ کو یہ درہم اور دینار خرچ کرنے پڑیں گے، ان کے ذریعے آپ اپنی ضرورت کی ہر چیز خرید سکتے ہیں، تو درہم اور دینار سے جب بھی فائدہ اٹھایا جائے گا ان کو خرچ کرنا پڑے گا، یعنی یہ آپ کے پاس باقی نہیں رہیں گے، آپ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے۔ یا اسی طرح کھانا جو ہم روزانہ کھاتے ہیں، یہ کھانا بھی اس سے بھی ہم نفع اٹھاتے ہیں لیکن اس کو ہم کھائیں گے تب ہی ہم اس سے نفع اٹھا سکتے ہیں، اور جب ہم کھانے کو کھائیں گے وہ تو ختم ہو جائے گا، تو بعض چیزوں سے نفع اٹھایا جاتا ہے تو وہ باقی نہیں رہتیں، اور بعض چیزیں وہ ہیں کہ ان سے باقی رہتے ہوئے بھی نفع اٹھایا جا سکتا ہے جیسے گاڑی ہے، گاڑی کے اندر آپ سفر کرنا چاہتے ہیں آپ سفر کر کے واپس آ جاتے ہیں، دیکھو گاڑی اسی طرح موجود ہے، نفع اٹھایا آپ نے پھر بھی وہ گاڑی باقی ہے، یا آپ یہ جو کپڑے پہنتے ہیں اس سے آپ نفع اٹھاتے ہیں اپنے بدن کو ڈھانپتے ہیں یا زیب و زینت اختیار کرتے ہیں اور پھر نفع اٹھا لیا اور بعد میں بھی یہ کپڑے باقی ہیں بھئی۔ تو بعض چیزوں سے نفع اٹھایا جاتا ہے تو وہ ختم ہو جاتی ہیں اور بعض چیزوں سے نفع اٹھایا جاتا ہے وہ پھر بھی باقی رہتی ہیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہر اس منقولی چیز کا وقف جائز ہے کہ اس کے باقی رہتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا ممکن ہو، اور دوسری شرط یہ ہے کہ اس کا بیچنا جائز ہو، اس کا بیچنا جائز ہو۔ تو جس منقولی چیز میں بھی یہ دو شرطیں پائی جائیں گی اس کا وقف جائز ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ دیکھیے بھئی: ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: كُلُّ مَا يُمْكِنُ الِانْتِفَاعُ بِهِ مَعَ بَقَاءِ أَصْلِهِ وَيَجُوزُ بَيْعُهُ يَجُوزُ وَقْفُهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہر وہ چیز کہ جس سے نفع اٹھانا ممکن ہو اس کی اصل کے باقی رہتے ہوئے اور اس کی بیع بھی جائز ہو تو اس طرح کی منقولی چیز کا وقف جائز ہے۔ توجہ ہے؟ تو یہ جو پہلی شرط لگائی کہ اس چیز کی اصل باقی رہے، اس کے ذریعے احتراز ہے درہم اور دینار سے کہ درہم اور دینار کا وقف جائز نہیں کیونکہ ان سے نفع اٹھایا جائے تو وہ باقی نہیں رہتے۔ اور نیز اس کا بیچنا بھی جائز ہو، اس کے ذریعے دراصل احتراز ہے حمل کی بیع سے۔ عرب جو ہیں بعض اوقات اونٹ یا گھوڑے کے حمل کی بھی بیع کر لیا کرتے تھے، اونٹ یا گھوڑے کے حمل کی بھی بیع کر لیا کرتے تھے، لیکن شرعاً حمل کی بیع جائز نہیں اس لیے کیونکہ معلوم نہیں کہ جانور کا جو پیٹ پھولا ہوا ہے یہ حمل کی وجہ سے ہے یا کسی بیماری وغیرہ کی وجہ سے ہے، تو لہٰذا حمل کا وجود یقینی نہیں لہٰذا اس کی بیع بھی جائز نہیں، جائز نہیں۔ اسی طرح یاد رکھو یہ جو قید لگائی کہ اس کا بیچنا بھی جائز ہو اس کے ذریعے ام ولد کے وقف سے احتراز ہے کیونکہ ام ولد کا بیچنا بھی جائز نہیں، ام ولد وہ باندی جس سے آقا کی اولاد ہوئی اور آقا نے کہہ دیا یہ میری اولاد ہے تو اب یہ باندی آقا کی ام ولد بن گئی اور آقا کے مرنے کے بعد اس نے آزاد ہونا ہے اور ام ولد کو بیچنا جائز نہیں ورنہ تو اس کا حقِ آزادی ضائع ہوتا ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ نے یہ جو دوسری شرط لگائی: ”وَيَجُوزُ بَيْعُهُ“ یہ حمل کو اور ام ولد کو نکالنے کے لیے ہے کہ ان کا وقف جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں کہ اس کی اصل کے باقی ہوتے ہوئے اس سے نفع اٹھانا ممکن ہو اور اس کو بیچنا ممکن ہو تو ”يَجُوزُ وَقْفُهُ“ اس طرح کی چیز کا وقف جائز ہے؛ ”لِأَنَّهُ يُمْكِنُ الِانْتِفَاعُ بِهِ“ اس لیے کیونکہ اس طرح کی چیز سے نفع اٹھانا ممکن ہے، اس طرح کی چیز سے نفع اٹھانا ممکن ہے کہ ایک کے بعد دوسرا نفع اٹھائے، تیسرا نفع اٹھائے، چوتھا نفع اٹھائے تو اس طرح کی چیز جو باقی رہنے والی ہے اس سے دوسرے لوگوں کا نفع اٹھانا ممکن ہے؛ ”فَأَشْبَهَ الْعَقَارَ وَالْكُرَاعَ وَالسِّلَاحَ“ تو لہٰذا یہ چیزیں مشابہ ہو گئیں عقار کے اور نیز یہ چیزیں مشابہ ہو گئیں کراع اور سلاح کے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جو غیر منقولی جائیداد ہے یعنی عقار، اس سے بھی نفع اٹھایا جاتا ہے اور یہ باقی رہتی ہے اور نیز اس کا بیچنا بھی جائز ہے، تو جب یہ دونوں وصف کسی منقولی چیز میں آ گئے تو وہ منقولی چیز بھی عقار کی طرح ہو گئی اور عقار کے اندر تو بالاتفاق وقف جائز ہے تو اس منقولی چیز میں بھی وقف جائز ہو گا۔ اور نیز امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ کسی منقولی چیز میں جب یہ دو وصف پائے جائیں گے تو وہ گھوڑوں اور اسلحے کی طرح ہو گئیں جیسے گھوڑے اور اسلحہ جو ہیں ان کے باقی رہتے ہوئے ان سے نفع اٹھانا بھی جائز اور ان کو بیچنا بھی جائز، تو کسی اور منقولی چیز میں جب یہ وصف آ گئے تو یہ بھی گھوڑے اور اسلحے کی طرح ہو گئیں اور گھوڑے اور اسلحے کا وقف تو جائز ہے تو اس منقولی چیز کا وقف بھی جائز ہو گا۔ معلوم ہوا امام شافعی رحمہ اللہ وہ منقولی چیزیں جن میں یہ دو وصف پائے جائیں ان کو قیاس کرتے ہیں عقار پر اور نیز وہ ان کو قیاس کرتے ہیں کراع اور اسلحہ پر۔
اسلحہ پر یعنی گھوڑوں اور اسلحہ پر۔ بات سمجھ میں آ گئی تو یہ معنی ہے۔ فَأَشْبَهَ الْعَقَارَ وَالْكُرَاعَ وَالسِّلَاحَ تو یہ چیزیں مشابہ ہو گئیں غیر منقولی جائیداد کے اور گھوڑوں اور اسلحہ کے۔ وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، عام منقولی چیزوں کو آپ عقار پر یا کراع اور سلاح پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ الْوَقْفَ فِيهِ لَا يَتَأَبَّدُ مِنْهُ کہ ان چیزوں کے اندر جو وقف ہے لَا يَتَأَبَّدُ مِنْهُ وہ واقف کی طرف سے مؤبد نہیں ہو سکتا عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ ہم کہتے ہیں بھئی وقف مؤبد ہونا چاہیے، وقف مؤبد ہونا چاہیے اور عقار بھی مؤبد ہوتی ہے اور باقی گھوڑے اور اسلحہ اس کے اندر جو وقف جائز ہے وہ خلاف القیاس احادیث مبارکہ کی وجہ سے ہے، اور یہ جو اوپر اور چیزیں ہم نے ذکر کیں، قرآن ہے، جنازے کی چارپائی وغیرہ ہے ان کے اندر بھی وقف جائز ہے وہ لوگوں کے تعامل کی وجہ سے ہے جبکہ اور منقولی چیزیں جو ہیں نہ تو ان میں احادیث وارد ہوئی ہیں اور نہ ان میں لوگوں کا تعامل ہے، لہٰذا ان کے اندر وقف جائز نہیں ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ الْوَقْفَ فِيهِ کہ ان منقولی چیزوں کے اندر جو وقف ہے لَا يَتَأَبَّدُ مِنْهُ وہ واقف کی طرف سے مؤبد نہیں ہو سکتا عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ مؤبد ہونا شرط ہے فَصَارَ كَالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ تو باقی چیزیں جو ہیں وہ درہم اور دینار کی طرح ہو گئیں اور درہم اور دینار میں تو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی وقف جائز نہیں تو باقی منقولی چیزوں میں بھی وقف جائز نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں فَصَارَ كَالدَّرَاهِمِ وَالدَّنَانِيرِ تو باقی چیزیں جو ہیں دراہم اور دنانیر کی طرح ہو گئیں بِخِلَافِ الْعَقَارِ بخلاف غیر منقولی جائیداد کے کہ وہ ہمیشہ رہنے والی ہے لہٰذا عام منقولی چیزوں کو عقار پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں میں فرق ہے، عقار ہمیشہ رہنے والی ہے اور باقی منقولی چیزیں ہمیشہ رہنے والی نہیں، اور نیز آپ باقی منقولی چیزیں جو ہیں ان کو کراع اور اسلحہ پر بھی قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ کراع اور اسلحہ کے اندر تو احادیث آئی ہیں لیکن اور منقولی چیزوں میں تو احادیث نہیں آئیں، اور نیز آپ عام منقولی چیزوں کو قرآن پر یا جنازے کی چارپائی وغیرہ پر بھی قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ یہ جو قرآن اور جنازے کی چارپائی وغیرہ ہے ان کے اندر تو لوگوں کا تعامل ہے اور باقی منقولی چیزوں میں تو لوگوں کا تعامل بھی نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں بِخِلَافِ الْعَقَارِ بخلاف عقار کے کیونکہ وہ تو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ وَلَا مُعَارِضَ مِنْ حَيْثُ السَّمْعِ، توجہ ہے؟ بھئی یہ عبارت پہ نظر رکھیے یہاں ذرا عبارت مشکل ہے۔ وَلَا مُعَارِضَ مِنْ حَيْثُ السَّمْعِ اور کوئی معارض بھی نہیں ہے سمع کے اعتبار سے وَلَا مِنْ حَيْثُ التَّعَامُلِ اور نہ تعامل کے اعتبار سے۔ بھئی ادھر دیکھیے امام شافعی رحمہ اللہ نے عام منقولی چیزوں کو قیاس کیا تھا کراع اور اسلحہ پر تو ہم کہتے ہیں کراع اور اسلحہ جو ہے اس کے اندر تو وقف خلاف القیاس نص کی وجہ سے جائز ہے اور باقی عام منقولی چیزوں میں تو کوئی نص ذکر نہیں ہے، توجہ ہے؟ تو وہی ذکر کر رہے ہیں۔ وَلَا مُعَارِضَ مِنْ حَيْثُ السَّمْعِ اور باقی منقولی چیزوں میں سمع کے اعتبار سے کوئی معارض نہیں ہے۔ گھوڑے اور اسلحہ ان کا وقف جائز ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ان کا وقف جائز نہیں ہونا چاہیے تھا لیکن خلاف القیاس ہم نے اس میں وقف کو جائز کہا کس کی وجہ سے؟ احادیث کی وجہ سے کیونکہ یہاں احادیث جو ہیں وہ قیاس کے معارض ہیں، قیاس کے مقابل ہیں بھئی۔ لیکن عام منقولی چیزوں میں تو قیاس کے مقابل کوئی حدیث وغیرہ نہیں لہٰذا آپ باقی چیزوں کو آپ گھوڑوں اور اسلحہ والا حکم نہیں دے سکتے۔ یہ معنی ہے وَلَا مُعَارِضَ مِنْ حَيْثُ السَّمْعِ اور عام منقولی چیزیں جو ہیں ان میں تو قیاس کا کوئی معارض نہیں ہے سمع کے اعتبار سے، یعنی ان کے بارے میں کوئی حدیث وغیرہ نہیں سنی گئی بھئی۔ وَلَا مِنْ حَيْثُ التَّعَامُلِ اور نیز عام منقولی چیزوں کے اندر تو تعامل کے اعتبار سے بھی قیاس کے مقابل کوئی چیز نہیں ہے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے۔ وَلَا مُعَارِضَ مِنْ حَيْثُ السَّمْعِ اور عام منقولی چیزوں کے اندر تو سمع کے اعتبار سے یعنی سننے کے اعتبار سے کوئی معارض بھی موجود نہیں یعنی کوئی نص نہیں ہے وَلَا مِنْ حَيْثُ التَّعَامُلِ اور عام منقولی چیزوں کے اندر تو تعامل کے اعتبار سے بھی کوئی مقابل موجود نہیں، قیاس کا کوئی مقابل موجود نہیں لہٰذا ان میں وقف جائز نہیں ہوگا۔ فَبَقِيَ عَلَى أَصْلِ الْقِيَاسِ تو عام منقولی چیزیں جو ہیں وہ اصل قیاس پر باقی رہیں گی اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے یہ چیزیں مؤبد نہیں لہٰذا ان میں وقف بھی جائز نہیں ہونا چاہیے۔ آگے دیکھیے وَهَذَا لِأَنَّ الْعَقَارَ يَتَأَبَّدُ یہاں سے بتلا رہے ہیں صاحب ہدایہ مزید وضاحت فرما رہے ہیں کہ اور چیزوں کو عقار اور کراع اور اسلحہ کے ساتھ نہیں ملایا جا سکتا، وجہ یہ کہ عقار ہمیشہ رہنے والی ہے اور گھوڑے اور اسلحہ وہ تو جہاد میں کام آتے ہیں جو دین کا اعلیٰ شعبہ ہے بھئی، دین کا اعلیٰ شعبہ ہے لہٰذا عقار میں اور یہ جو گھوڑے اور اسلحہ ہیں ان کے اندر قربت والا معنی زیادہ ہے دوسری چیزوں کے مقابلے میں لہٰذا اور چیزوں کو ان کا حکم نہیں دیا جا سکتا۔
تو کہتے ہیں وَهَذَا اور یہ اس لیے یعنی اور چیزوں کو ان کے ساتھ نہیں ملا سکتے لِأَنَّ الْعَقَارَ يَتَأَبَّدُ اس لیے کیونکہ غیر منقولی جائیداد وہ ہمیشہ رہتی ہے وَالْجِهَادُ سَنَامُ الدِّينِ اور جہاد جو ہے وہ دین کا اعلیٰ حصہ ہے۔ یاد رکھو سنام کہتے ہیں اونٹ کے کوہان کو، اسی طرح ہر چیز کا جو اوپر والا حصہ ہے اعلیٰ حصہ ہے اس کو بھی سنام کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں وَالْجِهَادُ سَنَامُ الدِّينِ اور جہاد جو ہے وہ دین کا اعلیٰ حصہ ہے فَكَانَ مَعْنَى الْقُرْبَةِ فِيهِمَا أَقْوَى تو ان چیزوں کے اندر قربت والا معنی زیادہ قوی ہے فَلَا يَكُونُ غَيْرُهُمَا فِي مَعْنَاهُمَا تو ان کے علاوہ اور چیزیں جو ہیں وہ ان کے معنی میں نہیں ہو سکتیں، لہٰذا ان میں تو وقف جائز ہوگا اور چیزوں میں وقف جائز نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی، قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَلَا تَمْلِيكُهُ بھئی اب آگے آپ کو بتلائیں گے کہ جب وقف صحیح ہو جائے اور صحیح ہونے سے مراد یہ ہے جب لازم ہو جائے، وقف لازم ہو جائے تو پھر نہ اس کو بیچنا جائز ہے اور نہ کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا جائز ہے۔ نہ اس کو بیچنا جائز اور نہ کسی دوسرے کو مالک بنانا جائز ہے۔ ہاں، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک مشاع حصے کا وقف بھی جائز تھا، مشاع چیز کا وقف بھی جائز تھا تو ان کے قول کے مطابق جب مشاع کا وقف کر دیا اور بعد میں وہ دوسرا شریک کہتا ہے کہ میرا حصہ الگ کر دو اور وہاں پھر تقسیم کرتے ہیں تو پھر وہاں پر تقسیم جائز ہے۔ اور تقسیم کے اندر تملیک بھی لازم آئے گی لیکن پھر بھی یہ جائز ہے بھئی، پھر بھی یہ جائز ہے۔ دیکھیے بھئی آگے مزید وضاحت فرمائیں گے صاحب ہدایہ۔
تو کہتے ہیں قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ اور جب وقف صحیح ہو جائے یعنی جب وقف لازم ہو جائے لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَلَا تَمْلِيكُهُ تو پھر اس وقف کو بیچنا بھی جائز نہیں وَلَا تَمْلِيكُهُ اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں ہے۔ یاد رکھو یہاں صَحَّ کا معنی کریں گے لَزِمَ کے، إِذَا صَحَّ الْوَقْفُ أي إذا لزم الوقف، جب وقف لازم ہو جائے۔ توجہ ہے؟ وجہ یہ کہ امام صاحب کے نزدیک وقف جو ہے واقف کی ملکیت سے نہیں نکلتا۔ ادھر دیکھیے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا مذہب پیچھے بیان ہوا، امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک وقف جب ثابت بھی ہو جائے، وقف جب صحیح بھی ہو جائے پھر بھی لازم نہیں ہوتا اور واقف کی ملکیت سے وہ وقف نہیں نکلتا، لہٰذا واقف اس میں رجوع بھی کر سکتا ہے اور اس کو بیچ بھی سکتا ہے اور اس کو ہبہ بھی کر سکتا ہے، لیکن جب وقف لازم ہو جائے، امام صاحب بھی فرماتے ہیں جب وقف لازم ہو جائے مثلاً حاکم نے اس کا فیصلہ کر دیا، قاضی نے اس کا فیصلہ کر دیا یا واقف نے وقف کو اپنی موت کے ساتھ معلق کر دیا تو اس صورت میں بھی وقف لازم ہو جاتا ہے، تو اس صورت کے اندر جب وقف لازم ہو گیا اب اس میں رجوع بھی جائز نہیں اور اس کو بیچنا بھی جائز نہیں۔ توجہ ہے؟ تو یہاں آیا وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَلَا تَمْلِيكُهُ اور جب وقف صحیح ہو جائے تو اس کا بیچنا بھی جائز نہیں اور کسی دوسرے کو اس کا مالک بنانا بھی جائز نہیں۔
ادھر دیکھیے صاحبین کے نزدیک تو جب وقف صحیح ہو جائے تو وہ لازم ہو جاتا ہے، اور جب لازم ہوتا ہے واقف کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے تو اب نہ اس کو بیچنا جائز اور نہ کسی دوسرے کو مالک بنانا جائز، لیکن امام صاحب کے نزدیک تو وقف کے صحیح ہونے کے ساتھ وقف کا لازم ہونا ضروری نہیں، وقف صحیح ہو اور لازم نہ ہو یہ ہو سکتا ہے، توجہ ہے؟ لیکن یہاں آ رہا ہے کہ جب وقف صحیح ہو جائے تو اس کا بیچنا بھی نہیں جائز اور دوسرے کو مالک بنانا بھی نہیں جائز، تو یہاں صَحَّ کا معنی لَزِمَ کے کرنے پڑیں گے کیونکہ امام صاحب کے نزدیک جب وقف لازم ہو جائے تب اس کا بیچنا جائز نہیں ہوتا، لازم ہونے سے پہلے اس کا بیچنا جائز ہے، تو لہٰذا جب یہاں ہم صَحَّ کا معنی لازم کے کر لیں گے تو اب تینوں ائمہ کے قول کے مطابق بات صحیح ہو جائے گی کہ وقف جب لازم ہو جائے تو اس کا بیچنا جائز نہیں ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک، تو یہاں صَحَّ کا کیا معنی کرنا پڑے گا؟ لَزِمَ کے بھئی۔
قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں وَإِذَا صَحَّ الْوَقْفُ اور جب وقف لازم ہو جائے لَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ وَلَا تَمْلِيكُهُ تو نہ تو اس کو بیچنا جائز ہے اور نہ دوسرے کو اس کا مالک بنانا إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُشَاعًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مگر یہ کہ وہ وقف مشاع ہو یعنی پھیلا ہوا ہو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فَيَطْلُبَ الشَّرِيكُ الْقِسْمَةَ تو شریک نے تقسیم کا مطالبہ کر دیا۔ زید اور عمرو نے مل کر زمین خریدی ہے اور زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا، زید کا حصہ مشاع ہے پھیلا ہوا ہے، زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا، اب عمرو نے مطالبہ کیا کہ میرا حصہ الگ کر دو، اب میرا حصہ الگ کر دو تو پھر اس صورت میں امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اب مقاسمہ جائز ہے، اب مقاسمہ جائز ہے۔ مقاسمہ کا معنی ہوتا ہے کسی سے اپنا حصہ لینا۔ کسی سے اپنا حصہ لینا اس کو کہتے ہیں مقاسمہ۔ دو آدمیوں میں ایک زمین مشترکہ ہے وہ اس کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں تو اس کو کہتے ہیں مقاسمہ کہ ہر ایک نے اپنا حصہ الگ کر لیا۔
تو کہتے ہیں إِلَّا أَنْ يَكُونَ مُشَاعًا عِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ مگر یہ کہ وقف جو ہے مشاع ہو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک فَيَطْلُبَ الشَّرِيكُ الْقِسْمَةَ تو اس واقف کے شریک نے تقسیم کا مطالبہ کیا فَيَصِحَّ مُقَاسَمَتُهُ تو پھر اس وقف کا مقاسمہ صحیح ہے، پھر اس وقف کا مقاسمہ صحیح ہے۔ أَمَّا امْتِنَاعُ التَّمْلِيكِ فَلِمَا بَيَّنَّا وَأَمَّا جَوَازُ الْقِسْمَةِ فَلِأَنَّهَا تَمْيِيزٌ وَإِفْرَازٌ کہتے ہیں أَمَّا امْتِنَاعُ التَّمْلِيكِ باقی تملیک کا ممتنع ہونا کہ وقف کا مالک کسی دوسرے کو نہیں بنایا جا سکتا وہ اس وجہ سے ہے جو ہم نے ماقبل میں بیان کر دیا، وہ جو حدیث پیچھے گزری تھی، حضور علیہ السلام نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا: ”تَصَدَّقْ بِأَصْلِهَا، لَا يُبَاعُ وَلَا يُورَثُ وَلَا يُوهَبُ“ کہ اس کی اصل کو صدقہ کر دو کہ نہ اس کو بیچا جا سکے، نہ اس میں وراثت جاری ہو اور نہ اس کو ہبہ کیا جا سکے۔ تو اس حدیث سے پتہ چلا کہ وقف کا مالک کسی دوسرے کو نہیں بنایا جا سکتا، نہ اس کو بیچا جا سکتا ہے، نہ ہبہ کیا جا سکتا ہے اور نہ اس میں وراثت جاری ہوتی ہے۔
تو کہتے ہیں أَمَّا امْتِنَاعُ التَّمْلِيكِ فَلِمَا بَيَّنَّا تو دوسرے کو مالک بنانے کا ممتنع ہونا یہ اس وجہ سے ہے جو ہم نے بیان کر دیا وَأَمَّا جَوَازُ الْقِسْمَةِ اور باقی تقسیم کا جائز ہونا، بتلایا کہ اگر ایک شریک تقسیم کا مطالبہ کرے تو پھر مقاسمہ جائز ہے، اب اس کی وجہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں وَأَمَّا جَوَازُ الْقِسْمَةِ اور باقی تقسیم کا جائز ہونا فَلِأَنَّهَا تَمْيِيزٌ وَإِفْرَازٌ اس لیے کیونکہ یہ جدا کرنا ہے، تمییز اور افراز کا ایک ہی معنی ہے۔ تمییز کا معنی جدا کرنا، افراز کا معنی بھی جدا کرنا اپنا حصہ الگ کرنا۔ بھئی یاد رکھو جب بھی ایک چیز دو آدمیوں کے درمیان مشترکہ ہو اور وہ اس کو آپس میں تقسیم کریں تو وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی۔ افراز بھی اور مبادلہ بھی۔ افراز یعنی اپنا حصہ الگ کرنا اور مبادلہ یعنی کچھ حصے کا آپس میں تبادلہ کر لینا۔ مثلاً زید اور عمرو نے گندم خرید لی، پیسے ملائے اور ملا کر گندم خرید لی، اب یہ گندم دونوں کے درمیان مشترکہ ہے۔ گندم کا کوئی ایک دانہ بھی ایسا نہیں ہے جس کے بارے میں آپ کہہ سکیں کہ یہ صرف زید کا ہے یا یہ صرف عمرو کا ہے، نہیں بھئی، گندم کے ہر ہر دانے میں دونوں شریک ہیں، گندم کے ہر ہر جز میں دونوں شریک ہیں۔ پھر یہ دونوں اس کو آپس میں تقسیم کرتے ہیں، آدھی گندم زید نے لے لی اور آدھی گندم عمرو نے لے لی۔ تو دیکھو زید کے حصے میں جو گندم آئی ہے یہ ساری زید کی نہیں تھی، کچھ حصہ تو زید کا تھا اور کچھ حصہ اس میں عمرو کا تھا۔ اسی طرح عمرو کے حصے میں جو گندم آئی ہے وہ بھی ساری عمرو کی نہیں تھی، کچھ حصہ اس میں عمرو کا تھا اور کچھ حصہ اس میں زید کا تھا، توجہ ہے؟ تو لہٰذا زید اور عمرو نے گندم آپس میں تقسیم کر لی تو زید کے حصے میں جو گندم آئی ہے اس میں سے کچھ حصہ تو تھا ہی زید کا تو اس کو کہیں گے افراز، زید نے اپنا حصہ الگ کر لیا، زید نے اپنا حصہ عمرو سے الگ کر لیا تو یہ ہے افراز۔ اور یہ جو زید کی گندم ہے اس میں سے کچھ حصہ عمرو کا تھا لیکن زید نے عمرو کا حصہ لے لیا اور بدلے میں عمرو کی گندم کے اندر جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ اس نے عمرو کو دے دیا۔ زید کی گندم میں کچھ حصہ عمرو کا تھا اور عمرو کی گندم میں کچھ حصہ زید کا تھا تو اس کا دونوں نے آپس میں تبادلہ کر لیا۔ زید کی گندم میں جو عمرو کا حصہ بنتا تھا وہ زید نے لے لیا اور بدلے میں عمرو کی گندم میں جو زید کا حصہ بنتا تھا وہ زید نے عمرو کو دے دیا۔ توجہ ہے؟ تو جو گندم زید کے حصے میں آئی ہے اس میں کچھ حصہ تو تھا ہی زید کا تو اس اعتبار سے دیکھیں تو یہاں تقسیم کے اندر افراز پایا گیا، زید نے اپنا حصہ الگ کیا ہے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے یہ جو گندم زید کے حصے میں آئی ہے اس میں کچھ حصہ عمرو کا تھا تو اس اعتبار سے دیکھیں تو مبادلہ بھی پایا گیا ہے۔
تو جب بھی ایک مشترکہ چیز کو دو آدمی آپس میں تقسیم کرتے ہیں تو وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی ہوتا ہے۔ البتہ یاد رکھنا کہ یہ جو چیز جس کو انہوں نے آپس میں تقسیم کیا اگر یہ مثلیات میں سے ہے تو یہاں پر افراز غالب ہے، یہاں پر افراز غالب ہے۔ مثلیات بھئی مکیلات، موزونات اور معدودات متقاربۃ۔ مکیلات وہ چیزیں جن کو خاص پیمانوں میں ماپ کر بیچا جاتا ہے جیسے دودھ کو ایک خاص برتن میں ماپ کر بیچتے ہیں، جیسے قدیم زمانے کے اندر گندم کو ایک خاص پیمانے کے اندر، ایک برتن کے اندر ماپ کر بیچا جاتا تھا تو یہ ہے مکیلات بھئی۔ اور کچھ چیزیں موزونات ہیں جن کو وزن کر کے بیچا جاتا ہے اور کچھ چیزیں معدودات ہیں جن کو گن کر بیچا جاتا ہے جیسے آپ بازار سے انڈے خریدتے ہیں تو گن کر خریدتے ہیں تو ان کو کہتے ہیں معدودات متقاربۃ، اور یہ ایک دوسرے کے قریب قریب ہوتی ہیں۔ جیسے دو انڈے ہیں دونوں بالکل ایک جیسے نہیں ہوں گے، کچھ نہ کچھ فرق ہوگا لیکن اس فرق کو شمار ہی نہیں کرتے، دونوں کو ایک ہی جیسا سمجھا جاتا ہے تو ان کو معدودات متقاربۃ کہتے ہیں یعنی ایسی گنی جانے والی چیزیں جو ایک دوسرے کے قریب قریب ہیں۔ تو یہ جو مکیلات ہیں، موزونات ہیں اور معدودات متقاربۃ ہیں یہ مثلیات کہلاتی ہیں کیونکہ ان کا مثل بازار سے مل جاتا ہے، جبکہ ان کے علاوہ اور باقی تمام چیزیں جو ہیں وہ ذوات القیم کہلاتی ہیں یعنی وہ قیمت والی ہیں ان کا مثل بازار سے نہیں ملتا بھئی۔
لہٰذا زید اور عمرو نے گندم خریدی اور گندم مثلیات میں سے ہے، اس کو انہوں نے آپس میں تقسیم کیا اور جب بھی ایک چیز کو دو ساتھی آپس میں تقسیم کریں وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی۔ تو یہاں جب گندم دونوں نے تقسیم کی تو افراز بھی پایا گیا کہ زید نے اپنا کچھ حصہ الگ کیا ہے اور مبادلہ بھی پایا گیا کہ زید نے عمرو کا کچھ حصہ لے کر بدلے میں اپنا کچھ حصہ عمرو کو دے دیا ہے، توجہ ہے؟ تو جب بھی تقسیم کی جائے وہاں افراز بھی ہوتا ہے اور مبادلہ بھی لیکن اگر وہ چیز مثلیات میں سے ہو تو وہاں افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے، وہاں افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے۔ یوں سمجھا جائے گا یہ جو زید اور عمرو نے گندم تقسیم کی ہے یوں سمجھیں گے کہ یہاں صرف افراز ہے، زید کے حصے میں جو گندم آئی ہے یہ ساری تھی ہی زید کی، زید نے اپنا حصہ الگ کر لیا۔ عمرو کے حصے میں جو گندم آئی ہے وہ ساری گندم تھی ہی عمرو کی، عمرو نے اپنا حصہ الگ کر لیا، یہاں مبادلہ ہے ہی نہیں۔ یہاں افراز ہی افراز ہے۔ تو مثلیات کے اندر تقسیم ہو تو وہاں افراز کو غالب قرار دیا جاتا ہے اسے افراز سمجھا جاتا ہے اگرچہ وہاں مبادلہ بھی ہوتا ہے۔ جبکہ ذوات القیم چیزوں کے اندر جب تقسیم کی جائے تو یاد رکھو وہاں مبادلہ غالب ہے، وہاں مبادلہ غالب ہے۔
جیسے زید اور عمرو دونوں نے مل کر ایک زمین خریدی ہے تو اب دیکھو زمین کے اندر زید اور عمرو دونوں کا حصہ ہے اور ابھی دونوں نے تقسیم نہیں کیا تو زید کا حصہ بھی پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے، عمرو کا حصہ بھی پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے اور پھر بعد میں دونوں آپس میں تقسیم کرتے ہیں، تو آدھی زمین زید نے لے لی اور آدھی عمرو نے لے لی۔ جو زمین زید کے حصے میں آئی ہے کچھ حصہ تو اس میں تھا ہی زید کا اور کچھ حصہ عمرو کا بھی تھا۔ اور اسی طرح عمرو کے جو حصے میں جو زمین آئی ہے اس میں کچھ حصہ تھا ہی عمرو کا اور کچھ حصہ زید کا تھا۔ تو زید کے حصے میں جو زمین آئی اس میں زید کا کچھ اپنا حصہ تھا اور کچھ حصہ عمرو کا تھا اور وہ عمرو کا حصہ زید نے لے لیا اور بدلے میں عمرو کی زمین میں جو زید کا حصہ آتا تھا وہ اس نے عمرو کو دے دیا۔ تو یہاں زمین کی جب تقسیم کی تو یہاں بھی افراز بھی ہے اور مبادلہ بھی ہے، لیکن زمین ذوات القیم میں سے ہے اور ذوات القیم کے اندر جو ہے مبادلہ غالب ہوتا ہے تو یہاں یوں سمجھیں گے دونوں نے آپس میں مبادلہ کیا ہے، جو زمین زید کے حصے میں آئی ہے وہ کچھ تو تھی ہی زید کی اور کچھ کا اس نے عمرو کے ساتھ مبادلہ کر لیا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مثلیات میں تقسیم ہو تو اس کو افراز قرار دیا جاتا ہے، وہاں یوں سمجھتے ہیں مبادلہ ہوا ہی نہیں، اور ذوات القیم کے اندر تقسیم ہو تو اس میں مبادلے کو غالب قرار دیا جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔
اب ادھر دیکھیے بھئی، مسئلہ چل رہا ہے وقف کا۔ زید اور عمرو میں ایک زمین مشترکہ تھی، زید اور عمرو دونوں کا حصہ پوری زمین میں پھیلا ہوا ہے، زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا، زید نے اپنا حصہ وقف کر دیا۔ اب بعد میں عمرو مطالبہ کرتا ہے کہ میرا حصہ الگ کر دو، میرا حصہ الگ کر دو، تو دونوں جب زمین کو تقسیم کریں گے اور زمین کس میں سے ہے؟ ذوات القیم میں سے، اور ذوات القیم میں جب تقسیم ہو تو وہاں مبادلہ غالب ہوتا ہے تو یہاں گویا مبادلہ ہوا، گویا زید نے اپنی کچھ زمین دے کر عمرو کی کچھ زمین لے لی تو یہ مبادلہ ہوا اور یہ تو مبادلہ وقف کے اندر لازم آ رہا ہے۔ مبادلہ وقف کے اندر، زید نے تو اپنا سارا حصہ وقف کر دیا تھا لیکن زید نے عمرو کا کچھ حصہ لے لیا اور اپنا حصہ جو وقف تھا وہ عمرو کو دے دیا، معلوم ہوا وقف حصے کا مالک عمرو کو بنا دیا اور وقف حصے کا مالک تو کسی دوسرے کو نہیں بنایا جا سکتا، توجہ ہے؟
تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق جب کوئی مشاع کو وقف کر دے اور پھر وہاں تقسیم کی جائے تو وہاں مبادلہ لازم آتا ہے لیکن وہاں اس کو مبادلہ نہیں سمجھیں گے، افراز سمجھیں گے وقف کی وجہ سے۔ ویسے تو اس کو مبادلہ سمجھا جاتا ہے کیونکہ زمین ذوات القیم میں سے ہے لیکن یہ چونکہ وقف کا مسئلہ ہے لہٰذا یہاں اس کو افراز قرار دیا جائے گا۔ یوں سمجھیں گے زید نے جو زمین الگ کی ہے یہی زمین وقف تھی یہاں مبادلہ ہے ہی نہیں، اور جو زمین عمرو کے حصے میں آئی ہے وہ عمرو ہی کا حصہ تھا یہاں مبادلہ ہوا ہی نہیں، جب مبادلہ ہی نہیں ہوا تو یہ تقسیم جائز ہے۔ ورنہ اگر مبادلہ کو دیکھیں پھر تو دوسرے کو وقف کا مالک بنانا لازم آ رہا ہے اور وہ تو جائز نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں وَأَمَّا جَوَازُ الْقِسْمَةِ اور باقی تقسیم کا جائز ہونا فَلِأَنَّهَا تَمْيِيزٌ وَإِفْرَازٌ اس لیے کیونکہ یہ جدا کرنا ہے اور اپنا حصہ الگ کرنا ہے۔
غَايَةُ الْأَمْرِ غایت امر یہ ہے، انتہائی امر یہ ہے یعنی حاصل کلام یہ ہے، حاصل کلام یہ کہتے ہیں غَايَةُ الْأَمْرِ یعنی حاصل کلام یہ ہے یہاں سے صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ اگرچہ یہ زمین کا معاملہ ہے، زمین ذوات القیم میں سے ہے اور یہاں جب تقسیم کی جائے گی تو یہاں مبادلہ آئے گا لیکن اس کو مبادلہ سمجھیں گے نہیں بلکہ اس کو بھی افراز قرار دیں گے۔ اب یہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں غَايَةُ الْأَمْرِ اور اس معاملے کی انتہا یہ ہے یعنی حاصل کلام یہ ہے أَنَّ الْغَالِبَ فِي غَيْرِ الْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ کہ غیر مکیل اور غیر موزون کے اندر غالب جو ہے مَعْنَى الْمُبَادَلَةِ وہ مبادلہ کا معنی ہوتا ہے۔ مکیلات اور موزونات میں تو افراز غالب ہوتا ہے، توجہ ہے؟ مثلیات کسے کہتے ہیں؟ مکیلات، موزونات اور معدودات متقاربۃ، اور مثلیات کے اندر تقسیم کے اندر افراز غالب ہوتا ہے، اور غیر مکیل اور غیر موزون چیز میں مبادلہ غالب ہوتا ہے لیکن یہاں وقف کی وجہ سے مبادلہ نہیں قرار دیں گے اسے بلکہ افراز قرار دیں گے۔
تو کہتے ہیں غَايَةُ الْأَمْرِ حاصل کلام یہ ہے أَنَّ الْغَالِبَ فِي غَيْرِ الْمَكِيلِ وَالْمَوْزُونِ کہ غیر مکیل اور غیر موزون کے اندر غالب جو ہوتا ہے مَعْنَى الْمُبَادَلَةِ وہ مبادلے کا معنی ہوتا ہے إِلَّا أَنَّا فِي الْوَقْفِ جَعَلْنَا الْغَالِبَ مگر یہ کہ وقف کے اندر ہم نے غالب قرار دیا مَعْنَى الْإِفْرَازِ افراز کے معنی کو، وقف کے اندر ہم نے افراز کے معنی کو غالب قرار دیا نَظَرًا لِلْوَقْفِ وقف کی رعایت رکھتے ہوئے، وقف کی رعایت رکھتے ہوئے فَلَمْ يَكُنْ بَيْعًا وَتَمْلِيكًا لہٰذا یہ بیع اور تملیک نہیں ہے، یہ بیع اور تملیک نہیں ہے، یہ بیع بھی نہیں اور تملیک بھی نہیں۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا ذوات القیم چیز کے اندر جب تقسیم کی جائے گی تو وہاں مبادلہ غالب ہے، وہاں مبادلہ غالب ہے۔ جب زید اور عمرو میں ایک مشترکہ زمین ہو اور وہ اس کو آپس میں تقسیم کریں گے تو زید نے عمرو کی کچھ زمین لے لی اور بدلے میں اپنی کچھ زمین عمرو کو دے دی تو دیکھو مبادلہ پایا گیا اور یہ مبادلۃ المال بالمال ہے، زید کی طرف سے بھی زمین ہے اور عمرو کی طرف سے بھی بدلے میں زمین ہے اور زمین مال ہے اور مبادلۃ المال بالمال کو بیع کہتے ہیں، تو معلوم ہوا ذوات القیم کے اندر جب بھی تقسیم ہوگی وہاں مبادلہ ہوگا یعنی یوں کہو وہاں بیع ہوگی اور یہ یوں کہو وہاں تملیک ہوگی کہ دوسرے کو مالک بنایا جا رہا ہے۔ تو صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ ذوات القیم میں ایسا ہی ہوتا ہے لیکن یہاں پر ہم نے اس کو وقف کی وجہ سے افراز قرار دے دیا، جب افراز قرار دے دیا تو نہ یہاں بیع ہے اور نہ یہاں تملیک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں إِلَّا أَنَّا فِي الْوَقْفِ جَعَلْنَا الْغَالِبَ مَعْنَى الْإِفْرَازِ مگر یہ کہ ہم نے وقف کے اندر جو ہے افراز کے معنی کو غالب قرار دے دیا نَظَرًا لِلْوَقْفِ وقف کی رعایت کرتے ہوئے فَلَمْ يَكُنْ بَيْعًا وَتَمْلِيكًا تو لہٰذا یہ جو تقسیم ہے یہ بیع اور تملیک نہیں ہے، جب یہ بیع اور تملیک نہیں ہے تو یہ جائز ہے بھئی۔
آگے دیکھیے ثُمَّ إِنْ وَقَفَ نَصِيبَهُ مِنْ عَقَارٍ مُشْتَرَكٍ فَهُوَ الَّذِي يُقَاسِمُ شَرِيكَهُ اب یہاں سے مقاسمہ بیان کر رہے ہیں۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا مقاسمہ کہتے ہیں کسی سے اپنا حصہ لینا۔ کسی سے اپنا حصہ لینا اس کو کہتے ہیں مقاسمہ، اور یاد رکھو مقاسمے کے لیے ایک مقاسِم چاہیے ایک مقاسَم۔ مقاسِم وہ شخص جو اپنا حصہ لے رہا ہے اور مقاسَم جس سے وہ اپنا حصہ لے رہا ہے۔ تو مقاسمے کے لیے ہمیشہ دو افراد چاہئیں، ایک وہ فرد جو اپنا حصہ لے رہا ہے اور دوسرا وہ فرد جس سے وہ اپنا حصہ لے رہا ہے، تو مقاسمے میں ہمیشہ دو افراد چاہئیں، ایک ہی فرد مقاسمہ نہیں کر سکتا بھئی، ایک ہی فرد مقاسمہ نہیں کر سکتا، یا یوں کہو کہ مقاسمے میں دو افراد کا ہونا ضروری ہے، وجہ یہ کہ ایک وہ ہے جو اپنے حصے کا مطالبہ کرے گا تو وہ ہوگا مطالِب، اور جس سے مطالبہ کرے گا وہ ہوگا مطالَب، اور مطالب اور مطالب ایک ہی شخص نہیں ہو سکتا یہ دونوں الگ الگ ہونے چاہئیں۔ مثلاً زید کہتا ہے میں نے مطالبہ کیا، آپ نے پوچھا کس سے مطالبہ کیا؟ کہتا ہے میں نے اپنے آپ سے ہی مطالبہ کیا، نہیں بھئی یہ نہیں ہو سکتا ورنہ تو اس میں مطالب اور مطالب ایک ہی شخص ہو جائے گا۔ مطالب یعنی مطالبہ کرنے والا اور ہوتا ہے اور جس سے مطالبہ کیا جائے وہ اور ہوتا ہے، اسی طرح مقاسم اور مقاسم بھی الگ الگ ہوتے ہیں، وہ شخص جو اپنا حصہ الگ کرنے والا ہے وہ اور ہے اور جس سے اپنا حصہ الگ کر رہا ہے وہ اور ہوگا بھئی۔
لہٰذا زید اور عمرو کے درمیان مشترکہ زمین تھی۔ ادھر دیکھیے زید نے اپنا حصہ جو مشاع تھا اس کو وقف کر دیا، اب بعد میں عمرو نے کہا کہ میرے ساتھ مقاسمہ کرو، میرا حصہ الگ کر دو، تو اب اس کے ساتھ مقاسمہ کون کرے گا؟ کہتے ہیں بھئی زید خود مقاسمہ کرے گا کیونکہ اس وقف کی ولایت زید کو حاصل ہے، اس وقف کی ولایت زید کو حاصل ہے بھئی، توجہ ہے؟ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک تو مشاع کا وقف ہی جائز نہیں ہے ورنہ ان کے نزدیک تو متولی کو ولایت حاصل ہوتی، متولی کے قبضے میں ہوتی لیکن یہ تو مشاع ہے اس میں تو ان کے نزدیک وقف جائز ہی نہیں، تو یہاں پر مشاع کا وقف کا مسئلہ ہے تو اس مشاع کے اندر جو مقاسمے کی ولایت ہے وہ واقف ہی کو حاصل ہے لہٰذا واقف جو ہے اس دوسرے شریک کے ساتھ مقاسمہ کر لے گا، تو ایک مقاسم بن جائے گا اور دوسرا مقاسم اور اس طرح دونوں حصے الگ کر لیں گے، دیکھیے بھئی۔
تو کہتے ہیں ثُمَّ إِنْ وَقَفَ نَصِيبَهُ مِنْ عَقَارٍ مُشْتَرَكٍ اور پھر اگر کسی نے مشترکہ جائیداد میں سے اپنا حصہ وقف کر دیا فَهُوَ الَّذِي يُقَاسِمُ شَرِيكَهُ تو یہی واقف جو ہے یہی اپنے شریک کے ساتھ مقاسمہ کرے گا لِأَنَّ الْوِلَايَةَ إِلَى الْوَاقِفِ اس لیے کیونکہ اس مقاسمے کی جو ولایت ہے وہ وقف کرنے والے کو ہے، اس کی ولایت وقف کرنے والے کو حاصل ہے لِأَنَّ الْوِلَايَةَ إِلَى الْوَاقِفِ اس لیے کیونکہ اس مقاسمے کی جو ولایت ہے وہ وقف کرنے والے کو حاصل ہے وَبَعْدَ الْمَوْتِ إِلَى وَصِيِّهِ اور اس واقف کی موت کے بعد اس کے جو وصی ہوگا، جو نگران ہوگا اس کو مقاسمے کی ولایت حاصل ہوگی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا یہ خود ہی مقاسمہ کرے گا۔
وَإِنْ وَقَفَ نِصْفَ عَقَارٍ خَالِصٍ لَهُ اب دوسری صورت ہے بھئی، زید کا ایک باغ ہے، زید نے اس باغ میں سے نصف حصہ وقف کر دیا، اور جو وقف کیا ہے وہ مشاع ہے اس کی تعین نہیں کی کہ باغ کا کون سا حصہ میں وقف کر رہا ہوں بلکہ مطلقاً کہا اس باغ کا نصف میں نے وقف کر دیا۔ تو اب یہ سارا باغ زید کا تھا اس میں سے نصف وقف ہو گیا، اب زید اس میں مقاسمہ کرنا چاہتا ہے، اپنا حصہ وقف سے الگ کرنا چاہتا ہے تو زید اکیلا یہ کام نہیں کر سکتا کیونکہ مقاسمے کے لیے دو افراد چاہئیں، تو پھر اب کیسے مقاسمہ کریں گے؟ وقف کرنے والا بھی زید ہے اور باقی کا حصہ بھی زید کا ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں پھر قاضی جو ہے وہ مقاسمہ کرے گا اس کے ساتھ، قاضی اس کے ساتھ مقاسمہ کر لے گا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ ایک صورت ہے۔ تو جب قاضی بھی آ جائے گا تو اب بھی دو افراد ہو گئے۔
یا دوسری صورت یہ ہے کہ زید نے باغ کے اندر نصف مشاع حصہ وقف کیا ہے، باقی کا نصف باغ جس کا زید مالک ہے، زید اس نصف کو کسی اپنے ساتھی کے ہاتھ بیچ دے، اپنے ساتھی کے ہاتھ بیچ دے۔ نصف حصہ زید نے وقف کیا، زید ہوا واقف اور دوسرے نصف کا مالک وہ اس زید کا ساتھی بن گیا تو اب دو افراد ہو گئے یہ آپس میں کیا کر لیں گے؟ مقاسمہ کر لیں گے، جب مقاسمہ ہو گیا اب نصف وقف علیحدہ ہو گیا اور دوسرے ساتھی کا نصف علیحدہ ہو گیا تو زید اس سے دوبارہ اس کا حصہ خرید لے گا۔ اب دیکھو مقاسمہ بھی ہو گیا اور وہ نصف باقی کا زید کے پاس بھی آ گیا، صورت سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں وَإِنْ وَقَفَ نِصْفَ عَقَارٍ خَالِصٍ لَهُ اور اگر کسی نے ایسی نصف جائیداد وقف کر دی خَالِصٍ لَهُ جو خالص اسی وقف کرنے والے کی تھی، یعنی ساری عقار اسی کی تھی اس نے اس میں سے نصف جو ہے وقف کر دی فَالَّذِي يُقَاسِمُهُ الْقَاضِي تو وہ شخص جو اس کے ساتھ مقاسمہ کرے گا وہ قاضی ہے أَوْ يَبِيعُ اب دوسری صورت بتلا رہے ہیں أَوْ يَبِيعُ نَصِيبَهُ الْبَاقِيَ مِنْ رَجُلٍ یا یہ واقف جو ہے اپنا باقی کا حصہ کسی آدمی کے ہاتھ بیچ دے گا ثُمَّ يُقَاسِمُهُ الْمُشْتَرِي پھر وہ مشتری اس کے ساتھ مقاسمہ کر لے گا ثُمَّ يَشْتَرِي ذَلِكَ مِنْهُ پھر یہ واقف اس سے وہ باقی حصہ خرید لے گا، خرید لے گا۔ بھئی کیوں یہ قاضی کا بیچ میں آنا یا دوسرے آدمی کے ہاتھ بیچنا کیوں ضروری ہے؟ کہتے ہیں لِأَنَّ الْوَاحِدَ لَا يَجُوزُ أَنْ يَكُونَ مُقَاسِمًا وَمُقَاسَمًا کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ایک آدمی جو ہے جائز نہیں ہے کہ وہی مقاسم بھی بن جائے اور مقاسم بھی بن جائے۔
وَلَوْ كَانَ فِي الْقِسْمَةِ فَضْلُ دَرَاهِمَ اب دوسری صورت ہے بھئی، بعض اوقات زمین ایسی ہے یا وہ باغ ایسا ہے کہ اس کے دو حصے بنا دیے لیکن ایک حصے کی قیمت کچھ زیادہ بنتی ہے اور دوسرے حصے کی قیمت کچھ کم بنتی ہے، پوری برابر برابر تقسیم ممکن ہی نہیں تھی تو پھر اس طرح کر دیا جاتا ہے کہ ایک حصے کی قیمت زیادہ ہے دوسرے حصے کی قیمت کم ہے تو جس کے حصے کی قیمت زیادہ ہے وہ کچھ درہم اور دینار دوسرے کو دے دیتا ہے تو پھر اس طرح برابری ہو جاتی ہے۔ مثلاً زید کے حصے میں جو زمین آئی وہ وہ 600 درہم کی تھی اور عمرو کے حصے میں جو زمین آئی وہ 400 درہم کی ہے تو زید جو ہے عمرو کو 100 درہم بھی دے دے گا۔ تو اب عمرو کے پاس 400 درہم کی زمین آ گئی اور 100 درہم بھی آ گئے تو یہ 500 درہم اس کا حصہ ہو گیا، اور زید کے حصے میں 600 کی زمین تھی لیکن 100 درہم اس نے عمرو کو دے دیے تو اس کا حصہ بھی 500 درہم کا ہو گیا بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو اب آپ کو بتلائیں گے کہ اگر مقاسمے میں درہموں کو شامل کرنے کی ضرورت پڑی، میں نے بتایا بعض اوقات درہموں کو شامل کرنا پڑتا ہے اس کے بغیر تقسیم برابر ہو ہی نہیں سکتی تو اگر مقاسمے کے اندر درہم اور دینار کو شامل کرنے کی ضرورت پیش آ گئی تو کہتے ہیں اس صورت میں اگر یہ درہم ادھر دیکھیے، یہ درہم اور دینار اگر واقف ادا کرتا ہے پھر تو جائز ہے اور اگر یہ درہم اور دینار واقف لیتا ہے پھر جائز نہیں۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ درہم اور دینار اگر واقف دے رہا ہے، واقف دے رہا ہے معلوم ہوا عمرو سے کچھ زائد زمین لے رہا ہے تو وقف بڑھ جائے گا، اس میں تو فائدہ ہی ہے بھئی۔ لیکن اگر، لیکن اگر واقف کو درہم لینے پڑتے ہیں تقسیم کے اندر تو اس کا مطلب ہے واقف درہم لے رہا ہے اور کچھ وقف زمین عمرو کو دے رہا ہے، کچھ وقف زمین کا مالک عمرو کو بنا رہا ہے اور یہ تو جائز نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا واقف کا درہم لینا تو جائز ہے، درہم دینا جائز نہیں ہے۔
تو کہتے ہیں وَلَوْ كَانَ فِي الْقِسْمَةِ فَضْلُ دَرَاهِمَ تو کہتے ہیں اگر تقسیم کے اندر زائد درہم تھے تو إِنْ أَعْطَى الْوَاقِفَ اگر واقف کو وہ درہم دیے، الْوَاقِفَ دیکھو یہ مفعول ہے، اگر اس دوسرے شریک نے واقف کو درہم دیے تو کہتے ہیں وَلَوْ كَانَ فِي الْقِسْمَةِ فَضْلُ دَرَاهِمَ اور اگر تقسیم کے اندر کچھ زائد درہم تھے فَإِنْ أَعْطَى الْوَاقِفَ تو وہ درہم اگر اس نے واقف کو دیے لَا يَجُوزُ تو یہ جائز نہیں لِامْتِنَاعِ بَيْعِ الْوَقْفِ اس لیے کیونکہ وقف کا بیچنا ممتنع ہے وَإِنْ أَعْطَى الْوَاقِفُ اور اگر واقف نے وہ درہم دیے جَازَ تو پھر یہ جائز ہے وَيَكُونُ بِقَدْرِ الدِّرْهَمِ شِرَاءً اور درہموں کے بقدر شراء ہو جائے گی کہ واقف نے کچھ مزید زمین عمرو سے خرید کر وقف میں شامل کر دی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی۔ هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔