Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-110

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 71
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ وَإِقَامَتِهِ۔ وَإِذَا وَجَبَ الْحَدُّ وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا رَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى يَمُوتَ، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَجَمَ مَاعِزًا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وَقَدْ أُحْصِنَ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ: ”وَزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ“، وَعَلَى هَذَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب الحدود شروع کی تھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شرعی سزائیں دو قسم کی ہیں: کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیرات کہتے ہیں۔ حدود وہ سزائیں ہیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں بطور اللہ کے حق کے، اور وہ چھ ہیں بھئی: نمبر ایک: حدِ زنا، نمبر دو: حدِ شربِ خمر یعنی شراب پینے کی حد، نمبر تین ہے: حدِ سکر من غیر الخمر یعنی شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب استعمال کر لیا تو اس پر بھی حد لگائی جائے گی، اور حدِ شربِ خمر بھی اسّی کوڑے ہے اور حدِ سکر من غیر الخمر یہ بھی اسّی کوڑے ہے۔ البتہ شراب کے اندر نشے کو نہیں دیکھا جائے گا، کوئی شخص اگر ایک قطرہ بھی شراب کا پی لیتا ہے اور قاضی کے پاس بات ثابت ہو جاتی ہے تو اس پر حد جاری کی جائے گی، جبکہ شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب استعمال کرتا ہے تو اس میں نشہ ہونا شرط ہے، نشہ ہوگا تو پھر ہی حد جاری ہو سکتی ہے۔ اور چوتھی حد ہے: حدِ قذف بھئی، حدِ قذف بھی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اسّی کوڑے بھی ہیں اور اس کے ساتھ تمام زندگی کے لیے اس شخص کی گواہی اب قاضی قبول نہیں کرے گا۔ اور پانچویں حد ہے: حدِ سرقہ بھئی، چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔ اور چھٹی حد ہے: حدِ قطعِ طریق بھئی، یعنی ڈاکہ ڈالنے کی حد بھئی، اور اس میں ڈاکو کا ایک ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور مخالف سمت کا پاؤں کاٹا جاتا ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ عربی زبان میں حد کا معنی ہے روکنا اور منع کرنا، اور اصطلاحِ شریعت میں وہ سزا ہے جو بطور اللہ کے حق کے مقرر ہو، تو اس میں دو چیزیں ضروری ہیں: ایک تو اس کا مقرر ہونا اور دوسرا اللہ کے حق کے طور پر ہونا۔ لہٰذا قصاص جو ہے حد کی تعریف سے نکل گیا اس لیے کیونکہ قصاص جو ہے وہ بندے کا حق ہے، مقتول کے اولیاء اس کو معاف بھی کر سکتے ہیں اور مال بھی لے سکتے ہیں صلح کر کے۔ جبکہ دوسری قسم کی سزائیں تعزیرات کہلاتی ہیں اور وہ قاضی کی صوابدید پر ہیں، قاضی جتنا مناسب سمجھے اتنی سزا دے سکتا ہے۔ البتہ میں نے بتلایا تھا کہ یہ جو حد ہے یہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں تو ان کا معاملہ بڑا نازک ہے، یہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہیں، چنانچہ علماء فرماتے ہیں: ”الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ“ کہ حدود جو ہیں شبہوں کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، جبکہ تعزیر جو ہے وہ شبہے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی۔ اور نیز تعزیر جو ہے اس کی مقدار حد سے کم ہونی چاہیے، لہٰذا زیادہ سے زیادہ تعزیر جو ہے وہ انتالیس کوڑے تک ہو سکتی ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ حدود کے اندر اصل مقصد یہ ہے تاکہ لوگ اس جرم سے باز آ جائیں، جرم کرنے والا بھی آئندہ کبھی یہ جرم کرنے کی جرات نہ کرے اور لوگوں کو بھی عبرت حاصل ہو وہ بھی یہ جرم نہ کریں۔ بعض علماء نے لکھا کہ اس تعزیر کا مقصد یہ ہے تاکہ وہ شخص اس گناہ سے پاک ہو جائے، اس نے یہ گناہ کیا ہے تو جب اس پر حد جاری ہوگی تو اس کا یہ گناہ ختم ہو جائے گا اب آخرت میں اس کا مواخذہ نہیں ہوگا اس پر، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ گناہ سے پاکی اصل نہیں ہے اور دلیل اس کی یہ ہے کہ کافر کے حق میں بھی یہ حد مشروع ہے، کافر پر بھی حد جاری کی جائے گی اور کافر جو ہے اس کے بارے میں تو ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کا گناہ معاف ہو گیا ہے کیونکہ اس کا کفر اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے وہ کفر کے اندر ڈوبا ہوا ہے، لہٰذا یہ حد کیسے اس کے گناہ کو ختم کر سکتی ہے؟ اس کے بعد سب سے پہلے زنا اور اس کی حد کو بیان کرنا شروع کیا صاحبِ ہدایہ نے اور بتلایا کہ زنا جو ہے زنا اسے کہتے ہیں کہ کوئی مکلف یعنی عاقل بالغ اپنی شہوت پوری کرے عورت کے اگلے مقام میں اور وہ عورت ملکِ نکاح سے بھی خالی ہو اور ملکِ یمین سے بھی خالی ہو یعنی نہ تو اس کی منکوحہ ہو اور نہ ہی اس کی مملوکہ باندی ہو اور نہ ہی وہاں کسی اور قسم کا کوئی شبہ موجود ہو، تو اس قسم کی حرام وطی کو زنا کہتے ہیں، اور زنا جو ہے بینہ سے بھی ثابت ہو سکتا ہے اور اقرار کے ذریعے بھی۔ اور زنا کے اندر بینہ جو ہے وہ یہ ہے کہ چار مرد گواہی دیں، چار عادل آدمی، تو پھر زنا ثابت ہوگا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدود کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں، حدود کے معاملات میں صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی اور مرد بھی عادل ہونا چاہیے، مرد بھی عادل ہونا چاہیے اگر مرد عادل نہیں ہے تو پھر حد ثابت نہیں ہوگی، وجہ یہ کہ یہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں تو ادنیٰ سا بھی شبہ کسی چیز میں آ گیا تو حد ساقط ہو جائے گی، اور نیز حدیث میں بھی آتا ہے کہ تم حدود کو شبہوں کے ذریعے ٹال دیا کرو، لہٰذا کوشش کی جائے گی کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے اور اس شخص کو یہ سخت ترین سزا نہ دی جائے۔ لہٰذا زنا کے لیے چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے بھئی، چار گواہوں کا۔ اور پھر جب وہ گواہ گواہی دینے آئیں تو قاضی ان سے پانچ سوال پوچھے گا: قاضی ان سے پوچھے گا کہ زنا کسے کہتے ہیں؟ اور زنا کیسے کیا جاتا ہے؟ اور اس شخص نے کہاں زنا کیا تھا؟ اور کس زمانے میں اس نے زنا کیا ہے؟ اور کس عورت کے ساتھ اس نے زنا کیا ہے؟ یہ پانچ سوال پوچھے گا۔ تو پہلا سوال یہ ہے کہ زنا کسے کہتے ہیں؟ اور دوسرا سوال ہے کہ یہ کیسے کیا جاتا ہے؟ میں نے بتلایا کہ وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کو بھی زنا کی حقیقت کا پتہ نہیں ہوتا بھئی، حتیٰ کہ وہ اجنبیہ عورت کے ساتھ اگر کوئی گلے بھی مل لے گا یا اس کا بوسہ بھی لے لے گا وہ اس کو بھی زنا سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ اپنی جگہ گناہ ہے لیکن یہ زنا نہیں ہے، اس کی وجہ سے حدِ زنا جاری نہیں ہوگی بھئی۔ تو حدِ زنا وہ ہے کہ جس کے اندر دخول پایا جائے بھئی۔ تو قاضی ان سے پوچھے گا کہ زنا کسے کہتے ہیں، اس لیے کیونکہ میں نے بتایا کہ بعض لوگ حرام وطی کو ہی زنا سمجھتے ہیں، حالانکہ ہر حرام وطی زنا نہیں ہے، جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے حیض کے ایام میں صحبت کر لے اب یہ وطی حرام تو ہے لیکن زنا نہیں ہے بھئی۔ اور پھر قاضی ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ اس نے کہاں زنا کیا، کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے دار الحرب میں زنا کیا ہو اور دار الحرب میں کسی نے زنا کیا ہو تو اس پر حد جاری نہیں کی جا سکتی کیونکہ دار الحرب ہماری حکومت کے تحت نہیں آتا، وہاں ہمارے خلیفہ کا حکم جاری نہیں ہو سکتا بھئی۔ اور نیز قاضی یہ بھی پوچھے گا کہ اس نے کب زنا کیا، وجہ یہ کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ بات پرانی ہو گئی ہو، اور جب بات پرانی ہو گئی تو اب اس زنا کی وجہ سے بھی حد جاری نہیں کی جا سکتی، اور وہ کتنا زمانہ ہے؟ تو صاحبین فرماتے ہیں ایک مہینہ، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں چھ مہینے۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا وجہ یہ کہ دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ اتنا وقت گزر گیا ہے معلوم ہوا گواہوں کا ارادہ شروع میں یہ تھا کہ وہ اس پر پردہ ڈال دیں لیکن پھر بعد میں کوئی نئی دشمنی پیدا ہوئی ہے جس کی وجہ سے اب یہ گواہی دینے آ گئے ہیں، اگر ان کو اللہ کی حدود کا اتنا خیال ہوتا تو شروع میں ہی فوراً آ جاتے۔ اور میں نے بتایا یہ بھی اس صورت میں ہے کہ جب ان کے آنے کی جگہ جو ہے وہ ایک ماہ کی دوری پر نہ ہو، اگر وہ جگہ ہی اتنی دور ہے کہ وہاں سے آتے آتے کافی عرصہ لگ جاتا ہے تو پھر اس صورت میں ان کی گواہی کو سنا جائے گا بھئی۔ اور پھر یہ بھی پوچھا جائے گا کہ کس عورت سے زنا کیا ہے، اس لیے کیونکہ بعض اوقات وہاں پر شبہ موجود ہوتا ہے کہ خود گواہوں کو اور وہ شخص جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے ان کو بھی شبہے کا علم نہیں ہوتا، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے تو یہاں شبہے کی وجہ سے باپ پر حد جاری نہیں کی جا سکتی بھئی، کیونکہ حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا تھا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“۔ تو پھر جب گواہ یہ سارا کچھ بیان کر دیں تو پھر اس کے بعد قاضی جو ہے ان گواہوں کے بارے میں پتہ کروائے گا، سراً بھی پتہ کروائے گا اور علانیہ بھی، یعنی پوشیدہ طور پر بھی اور لوگوں کے سامنے علانیہ بھی۔ پوشیدہ تعدیل کیسے کروائے گا؟ اس کی صورت یہ ہے کہ قاضی جو ہے خط لکھے گا ایسے عادل آدمی کو جو گواہ کو جانتا ہے بھئی اور اس سے پوچھے گا یہ آدمی زنا کے مسئلے میں گواہی دینے آیا ہے، کیا یہ عادل ہے یا عادل نہیں؟ تو اگر وہ عادل ہوا تو وہ شخص اس کے نیچے لکھ دے گا کہ یہ عادل ہے، اور اگر وہ عادل نہیں ہے تو وہ تعدیل کرنے والا اس جگہ کو خالی چھوڑ دے گا یا لکھ دے گا اللہ جانتا ہے۔ تو اس طرح قاضی تعدیل کروائے گا، یہ ہے پوشیدہ طور پر۔ اور پھر علانیہ بھی تعدیل کروائے گا کہ ان تعدیل کرنے والوں کو بلوائے گا اور ان کے سامنے اس گواہ کو کھڑا کرے گا اور وہ کہیں گے کہ ہاں یہ ہے وہ آدمی جس کی ہم نے تعدیل کی تھی۔ یہ سب اس لیے کیا جائے گا کہ کسی طرح حد کو ٹالا جا سکے، تو جب ان گواہوں کا عادل ہونا ثابت ہو جائے گا تو پھر قاضی پھر حد کا فیصلہ کر دے گا بھئی۔ اور اگر گواہوں کی تعدیل نہ ہوئی یعنی معلوم ہوا کہ یہ گواہ تو فاسق ہیں یا ان میں سے چند ایک فاسق ہیں اور جو عادل ہیں ان کی تعداد چار تک نہیں پہنچ رہی تو پھر اس صورت کے اندر حد ثابت نہیں ہوگی بھئی، اور قاضی یہ حد والی سزا نہیں دے گا اور نیز ان گواہوں پر بھی کوئی حدِ قذف وغیرہ جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ بے شک وہ فاسق ہیں لیکن انہوں نے گواہی سے تو رجوع نہیں کیا ہو سکتا ہے وہ سچے ہوں۔ اور گواہی سے رجوع کرنا میں نے بتلایا کہ گواہی سے رجوع اسے کہتے ہیں کہ گواہ کہہ دیتا ہے کہ میں نے جھوٹی گواہی دی تھی مجھ سے غلطی ہو گئی، میں نے جھوٹ بولا، تو دیکھو یہ گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر رہا ہے، تو اگر کوئی گواہ رجوع کر لے گا تو پھر اس صورت میں اس گواہ پر حدِ قذف جاری ہوگی کہ اس نے ایک مسلمان پر زنا کی تہمت لگائی ہے، تو اس کو اسّی کوڑے بھی لگیں گے اور آئندہ زندگی بھر کبھی اب قاضی اس کی گواہی قبول نہیں کرے گا بھئی۔ تو اگر کوئی گواہ رجوع کر لے اس کو تو حدِ قذف لگے گی، تو باقیوں پر بھی حدِ قذف جاری ہوگی یا نہیں؟ تو اس میں یاد رکھنا باقی گواہوں کی تعداد کو دیکھا جائے گا، اگر باقی گواہ ابھی بھی چار ہیں، مثلاً چھ سات یا دس افراد آئے تھے گواہ کے طور پر تو پھر اگر ابھی بھی چار گواہ موجود ہیں تو پھر باقیوں پر حدِ قذف جاری نہیں ہوگی، اور اگر باقی گواہ جو رہ گئے ہیں وہ چار سے کم ہو گئے ہیں، وہ تین رہ گئے یا دو رہ گئے تو اس کا مطلب ہے سب نے جھوٹ بولا ہے کیونکہ چار گواہ پورے نہیں ہیں، تو باقی رہ جانے والے گواہوں پر بھی حدِ قذف جاری ہوگی اگرچہ انہوں نے رجوع نہیں کیا، اگرچہ انہوں نے رجوع نہیں کیا لیکن پھر بھی ان پر حدِ قذف جاری ہوگی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ گواہوں نے گواہی دے دی ہے اب قاضی ان کی تعدیل کروائے گا سراً بھی اور علانیہ بھی، تو اس میں بھی ہو سکتا ہے دو دن چار دن لگ جائیں تو جب تک جو یہ جو ملزم ہے جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے اس کو قاضی قید میں رکھے گا تاکہ کہیں یہ بھاگ نہ جائے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اقرار کے ذریعے بھی زنا ثابت ہو جاتا ہے لیکن اس کے اندر بھی پانچ شرطیں ہیں بھئی، پانچ شرطیں: ایک تو یہ کہ وہ اقرار کرنے والا عاقل بالغ ہو کیونکہ بچے اور مجنون کے قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے، اور نیز وہ چار مرتبہ اقرار کرے، اور وہ چار دفعہ اقرار چار الگ الگ مجلسوں میں ہو، اور وہ چار مجلسیں اقرار کرنے والے کی ہوں نہ کہ قاضی کی بھئی، قاضی کی چاہے وہی ایک مجلس ہو لیکن اقرار کرنے والے کی چار الگ مجلسیں ہوں، اور نیز پانچویں قید یہ ہے کہ وہ جب بھی آئے جب بھی اقرار کرے تو قاضی جو ہے اس کو رد کر دے، اس کو ڈانٹ دے، ناپسندیدگی کا اظہار کرے اور اسے واپس لوٹا دے کہ بھئی اللہ سے توبہ کرو، اللہ سے مغفرت طلب کرو اور ڈانٹ کر اس کو واپس لوٹا دے۔ تو پھر جب چار مرتبہ اس کا اقرار پورا ہو جائے تو پھر اس کے بعد قاضی اس سے وہی سوالات پوچھے گا جو قاضی گواہوں سے پوچھتا تھا، البتہ اب اس میں یہ نہیں پوچھے گا کہ کب کیا ہے زنا، کیونکہ گواہوں کے مسئلے میں اگر بات پرانی ہوتی تھی تو دلوں میں بدگمانی آتی تھی لیکن اقرار کے معاملے میں اگر بات پرانی بھی ہو جائے تو دلوں میں بدگمانی نہیں آتی۔ البتہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ اگر زمانے کے بارے میں بھی پوچھ لے تو بھی جائز ہے اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے بچپن میں زنا کیا ہو اور بچپن کے زنا پر تو حد جاری نہیں ہو سکتی بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ اقرار کرنے والا اپنے اقرار سے رجوع بھی کر سکتا ہے اور جب یہ اقرار سے رجوع کرے گا تو حد ساقط ہو جائے گی، چاہے حد جاری ہونے سے پہلے ہی یہ رجوع کر لے چاہے جب حد جاری ہو رہی ہے بیچ میں اس نے درمیان میں رجوع کر لیا تو اس صورت میں بھی اس کے رجوع کو قبول کر لیا جائے گا اور اس کا راستہ چھوڑ دیا جائے گا۔ اور جب چوتھی مرتبہ میں وہ اقرار کر لے تو یہ بھی مستحب ہے کہ قاضی اسے رجوع کرنے کی تلقین کرے کہ بھئی ہو سکتا ہے آپ نے بوسہ لیا ہوگا یا آپ نے ہاتھ سے چھوا ہوگا، تو اس طریقے پر قاضی اسے رجوع کی تلقین کرے گا بھئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ وَإِقَامَتِهِ، وَإِذَا وَجَبَ الْحَدُّ وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا رَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى يَمُوتَ۔ فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ وَإِقَامَتِهِ، اس فصل میں صاحبِ ہدایہ طریقہ بیان فرمائیں گے کہ حد کیسے جاری کی جائے گی، حد کیسے جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ، کیفیت کا معنی یہاں کر لیں صورت کے، فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ أَيْ فِي صُورَةِ الْحَدِّ، یہ فصل ہے حد کی صورت کے بیان میں وَإِقَامَتِهِ اور اس کے قائم کرنے کے بیان میں کہ کس صورت میں، کس طریقے پر حد قائم کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ فِي كَيْفِيَّةِ الْحَدِّ وَإِقَامَتِهِ یہ فصل ہے حد کی صورت اور اس کے قائم کرنے کے بارے میں، وَإِذَا وَجَبَ الْحَدُّ اور جب حد ثابت ہو جائے، حد جب واجب ہو جائے وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا اور زنا کرنے والا محصن ہے رَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى يَمُوتَ تو قاضی اس کو رجم کرے گا پتھروں سے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ محصن بھئی! یاد رکھو آپ پڑھ چکے ہیں کہ زنا کرنے والا اگر شادی شدہ ہے تو اس کو رجم کیا جائے گا اور اگر غیر شادی شدہ ہے تو پھر سو کوڑے لگائے جائیں گے، جبکہ غلام یا باندی جو ہیں یاد رکھو ان کو رجم نہیں کیا جاتا، اگر ان میں سے کوئی زنا کر لیتا ہے تو ان کی سزا صرف یہ ہے کہ انہیں کوڑے لگائے جائیں گے اور غلام یا باندی کی سزا آزاد کے مقابلے میں نصف ہوتی ہے تو غلام یا باندی کو پچاس کوڑے لگائے جائیں گے بطور حدِ زنا کے۔ تو شادی شدہ آدمی ہو تو اس کو رجم کیا جاتا ہے، تو اب اس شادی شدہ سے کیا مراد ہے؟ تو یاد رکھو صاحبِ ہدایہ بھی آگے چل کر ایک دو صفحے بعد بیان فرمائیں گے، شادی شدہ کو محصن کہتے ہیں، کیا کہتے ہیں؟ محصن، آسان لفظوں میں معنی کر دیا جاتا ہے شادی شدہ کے، حالانکہ اس میں سات شرطیں ہیں بھئی، احصان الرجم اس کے اندر سات شرطیں ہیں کہ وہ شخص جو ہے: 1. آزاد ہو، 2. عاقل ہو، 3. بالغ ہو، 4. مسلمان ہو، 5. اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو، 6. اور پھر اس کے بعد اس نے اپنی بیوی سے صحبت بھی کی ہو، 7. اور ساتویں شرط یہ ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں محصن ہوں، دونوں صفتِ احصان پر ہوں۔ توجہ ہے؟ پھر سنو، آگے صاحبِ ہدایہ بھی بیان کریں گے لیکن ابھی سے اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ محصن وہ ہے جس میں سات شرطیں پائی جائیں، اس کو رجم کیا جائے گا، جس شخص کے اندر ان میں سے ایک شرط بھی کم ہو گئی اس کو پھر سنگسار نہیں کریں گے اسے رجم نہیں کریں گے بلکہ اس کو سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو محصن وہ ہے جس میں سات شرطیں پائی جائیں: پہلی شرط یہ کہ وہ آزاد ہو یعنی غلام نہ ہو، دوسری شرط عاقل ہو معلوم ہوا مجنون نہ ہو، تیسری شرط ہے کہ وہ بالغ ہو معلوم ہوا کہ بچہ نہ ہو، اور چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ مسلمان ہو معلوم ہوا کافر ذمی وغیرہ نہ ہو، اور پانچویں شرط یہ ہے کہ اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو، اور چھٹی شرط یہ ہے کہ اس نکاحِ صحیح کے بعد اس نے بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور ساتویں شرط یہ ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں یعنی جو صفتیں خاوند میں تھیں آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور نکاحِ صحیح یہی ساری شرطیں اس کی بیوی میں بھی ہوں: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو اور اس نکاحِ صحیح میں خاوند نے اس کے ساتھ صحبت بھی کی ہو۔ تو پھر اس صورت میں یہ شخص محصن کہلائے گا، اور جب محصن ہے اور اس نے زنا کیا ہے تو اب اس کو رجم کیا جائے گا۔ وجہ یہ کہ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جب یہ شخص آزاد ہے تو دیکھو اللہ کا اس پر کتنا بڑا انعام ہے کہ یہ کسی کا غلام نہیں آزاد ہے، عاقل ہے اللہ نے عقل بھی دی ہے، بالغ ہے مکلف بھی ہے افعال کا، اور نیز یہ مسلمان بھی ہے اور پھر اس کو نکاحِ صحیح بھی اس نے کیا اللہ نے اس کو اتنی توفیق دی کہ اس نے نکاحِ صحیح بھی کر لیا اس کے لیے بھی اللہ نے اسباب دے دیے، پھر اس کے بعد اس نے اس نکاحِ صحیح کے بعد اپنی بیوی سے صحبت بھی کر لی اور بیوی بھی اس کو اسی قسم کی ملی ہے جو آزاد بھی ہے، عاقل، بالغ، مسلمان ہے یعنی اس میں بھی یہ ساری چیزیں اس کے اندر بھی پائی جا رہی ہیں، اس کے بعد بھی یہ شخص اگر زنا کرتا ہے تو یہ بہت بڑا جرم کر رہا ہے بھئی۔ اس کے بعد بھی یہ زنا کر رہا ہے تو بہت بڑا جرم کر رہا ہے لہٰذا اب سزا بھی اتنی ہی سخت ہوگی تاکہ معاشرے کے اندر آئندہ کسی کو جرات نہ ہو اس قسم کا جرم کرنے کی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا وَجَبَ الْحَدُّ اور جب حد واجب ہو جائے وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا اور زنا کرنے والا محصن ہو، شادی شدہ ہو رَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى يَمُوتَ تو اس کو قاضی رجم کرے گا پتھروں سے یہاں تک کہ وہ مر جائے۔ تو رجم کا طریقہ یاد رکھو، رجم کا طریقہ یہ ہے کہ لوگ آ کر صفیں بنا لیں گے، صفیں بنا لیں گے اور پھر پہلی صف والے رجم کریں گے، پھر جب وہ کر چکے پھر وہ ہٹ جائیں گے پھر دوسری صف والے آئیں گے پھر تیسری صف والے آئیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ لیکن یاد رکھو اگر یہ حدِ زنا گواہی کی وجہ سے ثابت ہوئی ہے تو ابتدا گواہوں سے کروائیں گے، اس کے بعد پھر باقی لوگ صف در صف رجم کریں گے، ابتدا کس سے کروائیں گے؟ گواہوں سے۔ تو گواہوں کا ابتدا کرنا ہمارے نزدیک شرط ہے، اور شرط ہے تو مشروط ہے شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں، تو گواہ آئیں گے پہلے گواہ رجم کریں گے وہ پتھر ماریں گے اس کے بعد پھر باقی لوگ شروع کریں گے۔ وجہ یہ کہ بعض اوقات کوئی آدمی جھوٹی گواہی کی جرات کر لیتا ہے لیکن جب ایک شخص کو پتھر مار مار کر قتل کیا جائے گا تو اس وقت اس کو خوف آ جاتا ہے اور وہ اپنی گواہی سے بعض اوقات رجوع کر لیتا ہے، تو یہ سب حیلے ہیں کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے، تو اس لیے گواہوں سے ابتدا کروائی جائے گی کہ شاید ان میں سے کوئی انکار کر دے اور حد ٹل جائے۔ تو اگر گواہوں نے پتھر مارنے سے انکار کر دیا، قاضی کہہ رہا ہے شروع کرو پتھر مارو، وہ پتھر ہی نہیں مار رہے، تو یاد رکھو حد ساقط ہو گئی، معلوم ہوا گواہوں نے رجوع کر لیا ہے، گواہ پتھر نہیں مار رہے معلوم ہوا انہوں نے رجوع کر لیا ہے لیکن ان گواہوں پر حدِ قذف بھی جاری نہیں ہوگی کیونکہ انہوں نے کوئی زبان سے رجوع نہیں کیا صرف پتھر مارنے سے انکار کیا ہے۔ اور اگر یہ گواہ اس دن غائب ہو گئے پھر بھی یاد رکھو حد ساقط ہو گئی، اور اگر یہ گواہ اس سے پہلے مر گئے پھر بھی حد ساقط ہو گئی یاد رکھو، دیکھو شریعت کا نظام کتنی کوشش ہے کہ کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے۔ ہاں اگر یہ بہت زیادہ مریض ہیں یہ پتھر مارنے سے ہی عاجز ہیں تو پھر اس صورت میں پھر اس صورت میں ان کی ابتدا شرط نہیں، لیکن اگر یہ بیمار بھی ہیں ان کو وہاں منگوایا جائے گا بلوایا جائے گا اور ان کے سامنے پھر قاضی جو ہے وہ ابتدا کرے گا یا حاکم جو ہے وہ ابتدا کرے گا تو اس وقت بھی ان کو وہاں بلوایا جائے گا بھئی کہ شاید یہ کیا کر لیں؟ رجوع کر لیں، کسی طرح اس حد کو ٹال دیا جائے بھئی، طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ لہٰذا جب گواہی سے زنا ثابت ہو تو پتھر مارنے کی ابتدا گواہوں سے کی جائے گی، اور اگر اقرار کی وجہ سے زنا ثابت ہوا ہے اس آدمی نے خود اقرار کیا تھا تو پھر اس صورت میں ابتدا وہ قاضی یا جو حاکم ہے وہ ابتدا کرے گا اور پھر اس کے بعد باقی لوگ بھی رجم شروع کر دیں گے۔ طریقہ سمجھ میں آ گیا۔ تو کہتے ہیں: وَإِذَا وَجَبَ الْحَدُّ اور جب حد واجب ہو جائے وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا اور زنا کرنے والا محصن ہے، محصن میں نے بتلایا کسے کہتے ہیں جو سات شرطیں ہیں، کیا شرطیں ہیں؟ آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان اور نکاحِ صحیح کیا ہو اور چھٹی شرط ہے نکاحِ صحیح کے بعد صحبت بھی کی ہو بیوی سے، اور ساتویں شرط ہے کہ خاوند اور بیوی دونوں کے اندر یہ ساری صفتیں ہوں یعنی دونوں آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان ہوں اور نکاحِ صحیح کیا ہو اور نکاحِ صحیح کے بعد صحبت کی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَكَانَ الزَّانِي مُحْصَنًا اور زنا کرنے والا محصن ہو، شادی شدہ ہو رَجَمَهُ بِالْحِجَارَةِ حَتَّى يَمُوتَ تو اس کو قاضی رجم کرے گا پتھروں سے یہاں تک کہ وہ مر جائے، لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَجَمَ مَاعِزًا اس لیے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو رجم فرمایا وَقَدْ أُحْصِنَ اس حال میں کہ وہ محصن تھے، حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ محصن تھے، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ اور نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشہور حدیث میں فرمایا ہے: ”وَزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ“، ”وَزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ“۔ یہ حاشیے میں پوری حدیث دی ہوئی ہے بھئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ“ کہ کسی مسلمان کا خون حلال نہیں ہے ”إِلَّا بِإِحْدَى ثَلَاثٍ“ مگر تین چیزوں میں سے ایک کی وجہ سے، اور وہ تین چیزیں کیا ہیں؟ نمبر ایک: ”زِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ“ کہ محصن ہونے کے بعد وہ زنا کر لے، ”وَارْتِدَادٌ بَعْدَ إِسْلَامٍ“ یا اسلام لانے کے بعد وہ مرتد ہو جائے، ”وَقَتْلُ نَفْسٍ بِغَيْرِ حَقٍّ“ یا وہ ناحق طور پر وہ کسی کو قتل کرے تو اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو مسلمان کا خون صرف تین وجہ سے حلال ہو سکتا ہے بھئی: ایک یہ کہ وہ محصن ہونے کے بعد زنا کر لے، یا مسلمان ہونے کے بعد وہ مرتد ہو جائے، یا وہ کسی کا ناحق قتل کر دے، اس کے علاوہ کسی اور وجہ سے مسلمان کو قتل کرنا جائز نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ اور معروف حدیث میں حضور علیہ السلام نے فرمایا، یعنی حدیث معروف ہے سب کو علم ہے، تو کہتے ہیں: وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ الْمَعْرُوفِ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشہور حدیث میں فرمایا: ”وَزِنًى بَعْدَ إِحْصَانٍ“ اور محصن ہونے کے بعد زنا کرنا، وَعَلَى هَذَا إِجْمَاعُ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ اور اسی پر اجماع ہے صحابہ کا یعنی اس رجم پر صحابہ کا اجماع ہے کہ اگر زنا کرنے والا محصن ہو تو اسے رجم کیا جائے گا، اس پر تمام صحابہ کا اجماع ہے۔ قَالَ، اس قال سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَيُخْرِجُهُ إِلَى أَرْضِ فَضَاءٍ، فضاء کا معنی وسیع اور کشادہ، وَيُخْرِجُهُ إِلَى أَرْضِ فَضَاءٍ اور قاضی اس شخص کو، اس زانی کو لے کر نکلے گا ایسی زمین کی طرف، فضاء جو کھلی ہو یعنی کسی کھلے میدان میں اس کو لے کر جائے گا، وَيَبْتَدِئُ الشُّهُودُ بِرَجْمِهِ اور گواہ ابتدا کریں گے اس کے رجم کی، ثُمَّ الْإِمَامُ پھر اس کے بعد حاکم، ثُمَّ النَّاسُ پھر اس کے بعد لوگ بھئی۔ كَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وَلِأَنَّ الشَّاهِدَ قَدْ يَتَجَاسَرُ عَلَى الْأَدَاءِ اور اس لیے کیونکہ گواہ جو ہے قَدْ يَتَجَاسَرُ کبھی جرات کر لیتا ہے عَلَى الْأَدَاءِ گواہی کی ادائیگی پر یعنی جھوٹی گواہی کی ادائیگی پر بعض اوقات گواہ جرات کر لیتا ہے، ثُمَّ يَسْتَعْظِمُ الْمُبَاشَرَةَ، اِسْتَعْظَمَ يَسْتَعْظِمُ کے معنی ہیں بڑا سمجھنا، ثُمَّ يَسْتَعْظِمُ الْمُبَاشَرَةَ پھر اس کو سرانجام دینے کو وہ بڑا سمجھتا ہے، دوسرے کو پتھر مار کر قتل کرنا اس کو وہ بڑا سمجھتا ہے تو خوف آ جاتا ہے اور اس کو وہ رجوع کر لیتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الشَّاهِدَ قَدْ يَتَجَاسَرُ عَلَى الْأَدَاءِ ثُمَّ يَسْتَعْظِمُ الْمُبَاشَرَةَ فَيَرْجِعُ اور اس لیے کیونکہ گواہ جو ہے کبھی جرات کر لیتا ہے جھوٹی گواہی کی ادائیگی پر پھر وہ اس کو سرانجام دینے کو بڑا سمجھتا ہے تو رجوع کر لیتا ہے، فَكَانَ فِي بَدَاءَتِهِ احْتِيَالٌ لِلدَّرْءِ تو لہٰذا اس گواہ کے ابتدا کرنے میں حیلہ ہے لِلدَّرْءِ حد کو ٹالنے کا، اس میں حد کو ٹالنے کا حیلہ ہے کہ کسی طرح یہ رجوع کر لے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يُشْتَرَطُ بَدَاءَتُهُ کہ گواہ کے ابتدا کرنے کی شرط نہیں ہے اعْتِبَارًا بِالْجَلْدِ، قیاس کرتے ہوئے کوڑوں پر، کوڑے لگانا۔ امام شافعی رحمہ اللہ اس رجم کو قیاس کرتے ہیں کوڑے لگانے پر، اور کوڑے لگانا اس میں تو گواہ کی شرط نہیں ہے۔ عِنْدَ الْأَحْنَافِ بھی کوڑے لگانا اس میں بھی گواہوں کے کوڑے لگانے کی شرط نہیں ہے، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح زانی کو جب کوڑے لگائے جاتے ہیں تو وہاں ابتدا گواہوں سے نہیں کی جاتی تو یہاں رجم کے اندر بھی پتھر مارنے کی ابتدا گواہوں سے نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يُشْتَرَطُ بَدَاءَتُهُ اعْتِبَارًا بِالْجَلْدِ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں گواہ کی ابتدا شرط نہیں ہوگی قیاس کرتے ہوئے کوڑے لگانے پر، قُلْنَا ہم کہتے ہیں: كُلُّ أَحَدٍ لَا يُحْسِنُ الْجَلْدَ کہ ہر ایک اچھی طرح کوڑے نہیں لگا سکتا، ہر ایک اچھی طرح کوڑے نہیں لگا سکتا۔ یاد رکھو آگے چل کر آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو کوڑے لگائے جائیں گے سو کوڑے، یہ بھی پوری طاقت سے نہیں مارنے بھئی، پوری طاقت سے مارو تو وہ تو آدمی ہی مر جائے گا سو کوڑوں کے اندر، لہٰذا کوڑے بھی متوسط درجے کے مارنے ہیں، متوسط درجے کی ضرب ہونی چاہیے حتیٰ کہ کوڑے کو جب اوپر اٹھائے مارنے کے لیے تو سر سے اوپر ہاتھ بھی نہیں جانا چاہیے۔ دیکھو اگر پوری طاقت سے ضرب لگانا چاہے تو ہاتھ کو سر سے اوپر لے جاتا ہے پھر پوری قوت سے ضرب لگاتا ہے لیکن یہاں پر جب کوڑے لگائے جا رہے ہیں تو ہاتھ کو سر سے اوپر نہیں لے جا سکتے، تو دیکھو یہ متوسط درجے کی ضرب ہے، کچھ تکلیف ہو اور کچھ لوگوں کے لیے عبرت کا سامان بن جائے، اس آدمی کو قتل کرنا اور ہلاک کرنا مقصود نہیں ہے لہٰذا پوری طاقت سے کوڑے نہیں لگائے جائیں گے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے گواہوں سے کوڑے لگانے کی ابتدا کی جائے یہ شرط نہیں ہے اسی طرح گواہوں سے رجم کی ابتدا بھی شرط نہیں ہے، ہم کہتے ہیں کوڑے ہر ایک اچھی طرح نہیں لگا سکتا، گواہوں کی اگر ہم شرط لگا دیں کہ انہوں نے ہی کوڑے لگانے ہیں تو ہو سکتا ہے یہ تو کہیں زیادہ زور سے کوڑے نہ لگائیں وہ شخص کہیں ہلاک ہی نہ ہو جائے، لہٰذا اس لیے ہم نے کہا کہ کوڑوں کے اندر گواہوں سے ابتدا شرط نہیں ہے بھئی۔ تو قُلْنَا ہم کہتے ہیں: كُلُّ أَحَدٍ لَا يُحْسِنُ الْجَلْدَ فَرُبَّمَا يَقَعُ مُهْلِكًا کہ ہر ایک اچھی طرح کوڑے نہیں لگا سکتا تو بسا اوقات کوڑے لگانا مہلک ہو جاتا ہے یعنی اس کی وجہ سے دوسرے کی جان چلی جاتی ہے، وَالْإِهْلَاكُ غَيْرُ مُسْتَحَقٍّ اور ہلاک کرنا یہ تو غیر مستحق ہے، ہلاک کرنے کا تو یہ حقدار نہیں ہے کہ اس کو ہلاک کر دیا جائے، تو کہتے ہیں: وَالْإِهْلَاكُ غَيْرُ مُسْتَحَقٍّ اور ہلاک کرنا اس کا تو استحقاق نہیں ہے اس آدمی کا، وَلَا كَذَلِكَ الرَّجْمُ اور رجم تو اس طرح نہیں ہے اس میں تو دوسرے کو ہلاک کرنا ہی مقصد ہے بھئی، تو کہتے ہیں: وَلَا كَذَلِكَ الرَّجْمُ اور رجم تو ایسا نہیں ہے لِأَنَّهُ إِتْلَافٌ کیونکہ رجم جو ہے وہ تو ہلاک کرنا ہے، وہ تو تلف کرنا ہے۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِنِ امْتَنَعَ الشُّهُودُ مِنَ الِابْتِدَاءِ اور اگر باز رہے گواہ ابتدا کرنے سے، اگر رک گئے گواہ ابتدا کرنے سے سَقَطَ الْحَدُّ تو حد ساقط ہو جائے گی لِأَنَّهُ دَلَالَةُ الرُّجُوعِ کیونکہ یہ رجوع کی دلیل ہے، یہ رجوع کی دلیل ہے، البتہ حدِ قذف ان پر نہیں آئے گی کیونکہ انہوں نے زبان سے رجوع نہیں کیا بھئی۔ وَكَذَا إِذَا مَاتُوا اور اسی طرح حد ساقط ہو جائے گی جب گواہ مر جائیں أَوْ غَابُوا یا وہ غائب ہو جائیں فِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ ظاہرِ روایت میں ہے لِفَوَاتِ الشَّرْطِ شرط کے فوت ہو جانے کی وجہ سے، اور گواہوں سے ابتدا تو شرط تھی بھئی، شرط نہیں تو مشروط بھی نہیں ہے۔ البتہ میں نے بتایا اگر گواہ بہت زیادہ بیمار ہیں وہ ابتدا کر ہی نہیں سکتے تو پھر ان کو وہیں پر لے آئیں گے اور ان کے سامنے جو ہے وہ قاضی جو ہے ابتدا کرے گا یا حاکم ہے وہ ابتدا کرے گا۔ آگے دیکھیے: وَإِنْ كَانَ مُقِرًّا، اور اگر یہ زانی محصن جو ہے یہ مقر ہے اقرار کرنے والا ہے یعنی زنا اس کے اقرار سے ثابت ہوا ہے تو پھر حاکم یا قاضی وہ ابتدا کرے گا رجم کی، وَإِنْ كَانَ مُقِرًّا اور اگر وہ زانی محصن جو ہے وہ اقرار کرنے والا ہے ابْتَدَأَ الْإِمَامُ ثُمَّ النَّاسُ تو امام ابتدا کرے گا پھر لوگ، كَذَا رُوِيَ عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اسی طرح روایت کیا گیا ہے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے، وَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْغَامِدِيَّةَ بِحَصَاةٍ مِثْلِ الْحِمِّصَةِ، یہ غامدیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا یہ قبیلہ غامد کی ایک عورت تھیں تو یہ حضور علیہ السلام کے پاس خود تشریف لائیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھ پر حد جاری کر دیجیے مجھے پاک کر دیجیے، تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ اللہ سے مغفرت طلب کرو اور توبہ کرو اور بھیج دیا، اور پھر یہ دوبارہ آئیں تو اور پھر آخر کہنے لگیں کہ یا رسول اللہ! واللہ میں زنا سے حاملہ ہوں، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ ابھی تم چلی جاؤ جب بچے کو جنم دے دو تو پھر آنا۔ چنانچہ وہ چلی گئیں اور پھر جب انہوں نے بچے کو جنم دے دیا تو پھر حضور کے پاس آئیں بچے کو بھی انہوں نے اٹھایا ہوا تھا اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! میں نے بچے کو جنم دے دیا ہے اب مجھ پر حد جاری فرما دیجیے اور مجھے اس گناہ سے پاک فرما دیجیے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ اس بچے کو پھر لے جاؤ اور اس کو پورے دو سال تک دودھ پلاؤ یہاں تک کہ یہ کچھ کھانے پینے کے قابل ہو جائے۔ چنانچہ وہ اس بچے کو لے گئیں دودھ پلاتی رہیں اور اس کے بعد پھر دو ڈھائی سال کے بعد بچے کو لے کر آئیں کہ جب وہ روٹی کے کھانے کے قابل ہو گیا تھا، پھر دوبارہ حضور کے پاس آئیں وہ بچے کو بھی اٹھایا ہوا تھا اور بچے کے ہاتھ میں روٹی کا ٹکڑا تھا اور کہنے لگیں یا رسول اللہ! یہ اب روٹی کھانے کے قابل ہو گیا ہے اب مجھ پر حد جاری فرما دیجیے اور مجھے پاک کر دیجیے، تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ نہیں یہاں تک کہ یہ بچہ بے نیاز ہو جائے یعنی اپنے افعال خود سرانجام دینے لگے یعنی سات آٹھ سال کا ہو جائے تو پھر اس کے بعد آنا۔ تو ایک صحابی نے عرض کیا یا رسول اللہ! بچے کا خیال میں رکھوں گا، تو پھر اس کے بعد حضور علیہ السلام نے انہیں رجم کرنے کا حکم دیا، چنانچہ ان کے لیے زمین میں گڑھا کھودا گیا تو ان کو سینے تک گڑھے میں دبا دیا گیا اور پھر اس کے بعد ان کو رجم کیا گیا اور ابتدا حضور علیہ السلام نے فرمائی کیونکہ یہ زنا خود اقرار سے ثابت ہوا تھا اور جب زنا خود اقرار سے ثابت ہو تو جو امام یا قاضی ہوتا ہے وہ ابتدا کرتا ہے، چنانچہ روایات میں آتا ہے حضور علیہ السلام نے چنے کے دانے کے برابر ایک بہت چھوٹی سی کنکری ان کو ماری بھئی، اور پھر اس کے بعد اور لوگوں نے رجم شروع کر دیا بھئی۔ تو وہی ذکر فرما رہے ہیں کہ: وَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْغَامِدِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا بِحَصَاةٍ، حصاة بھئی صاد کے ساتھ ہے اور گول تا ہے آخر میں، حصاة کنکری کو کہتے ہیں بھئی چھوٹا پتھر، مِثْلِ الْحِمِّصَةِ، حِمِّصَةٌ حا کے نیچے کسرہ ہے اور میم مشدد ہے اور اس میم پر کسرہ بھی جائز ہے اور فتحہ بھی: حِمِّصَةٌ بھی اور حِمَّصَةٌ بھی، تو یہ چنے کے دانے کو کہتے ہیں بھئی، تو دیکھو چنے کا دانہ کتنا چھوٹا سا ہوتا ہے اس کے برابر چھوٹی سی کنکری حضور علیہ السلام نے ان کو ماری۔ تو کہتے ہیں: وَرَمَى رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ الْغَامِدِيَّةَ بِحَصَاةٍ مِثْلِ الْحِمِّصَةِ اور حضور علیہ السلام نے غامدیہ عورت کو چنے کے دانے کے برابر کنکری ماری، وَكَانَتْ قَدِ اعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا اور تحقیق انہوں نے زنا کا اعتراف کیا تھا یعنی یہ زنا اقرار سے ثابت ہوا تھا تو اس صورت میں پھر امام ابتدا کرتا ہے اس لیے حضور علیہ السلام نے ابتدا کی۔ وَيُغْسَلُ وَيُكَفَّنُ وَيُصَلَّى عَلَيْهِ، اور اس کو غسل دیا جائے گا اور کفن پہنایا جائے گا اور اس پر نمازِ جنازہ پڑھی جائے گی۔ اور پھر اس کو غسل بھی دیا جائے گا، یہ جس کو رجم کر دیا گیا ہے اس کو غسل بھی دیا جائے گا، تو اس کو يُغْسَلُ بھی پڑھ سکتے ہیں اور يُغَسَّلُ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: وَيُغْسَلُ اور پھر اس کو غسل دیا جائے گا جب یہ مر جائے، وَيُكَفَّنُ اور کفن دیا جائے گا، وَيُصَلَّى عَلَيْهِ اور اس پر نماز بھی پڑھی جائے گی۔ تو رجم کرنے کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اب اس کو غسل بھی نہیں دیں گے اور کفن دفن بھی نہیں کریں گے، نہیں بھئی، غسل بھی دیں گے اور کفن دفن بھی کریں گے۔ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِمَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ، بوجہ حضور علیہ السلام کے جو آپ نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں فرمایا کہ: ”اصْنَعُوا بِهِ كَمَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ“ کہ ان کے ساتھ بھی اس طرح کرو جس طرح تم اپنے مردوں سے کرتے ہو۔ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو جب رجم کر دیا گیا، حضور علیہ السلام نے فرمایا ان کے ساتھ بھی ایسے ہی کرو جیسے تم اپنے مردوں سے کرتے ہو یعنی ان کو غسل بھی دو، کفن بھی دو، نمازِ جنازہ بھی پڑھو اور ان کو دفن کرو۔ تو حضور علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا: اصْنَعُوا بِهِ كَمَا تَصْنَعُونَ بِمَوْتَاكُمْ کہ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی کرو جیسے کہ تم اپنے مردوں سے کرتے ہو۔ وَلِأَنَّهُ قُتِلَ بِحَقٍّ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں، نقلی دلیل تو ذکر فرما دی کہ حدیث میں آیا ہے اور عقلی دلیل بھی کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ قُتِلَ بِحَقٍّ کیونکہ اس کو حق میں قتل کیا گیا ہے، اس کو حق کے ساتھ قتل کیا گیا ہے بھئی، یہ اللہ کا حکم تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ قُتِلَ بِحَقٍّ اور اس لیے کیونکہ جس کو رجم کیا گیا ہے اس کو حق کے ساتھ قتل کیا گیا ہے، فَلَا يَسْقُطُ الْغُسْلُ كَالْمَقْتُولِ قِصَاصًا لہٰذا اس کا غسل ساقط نہیں ہوگا کالمقتول قصاصاً جیسے وہ شخص جس کو قتل کر دیا جائے بطورِ قصاص کے۔ جیسے قصاص میں کسی کو قتل کر دیا جائے تو اس کو بھی اسی طرح غسل بھی دیا جاتا ہے، کفن بھی دیا جاتا ہے اور اس کی نمازِ جنازہ بھی ادا کی جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَسْقُطُ الْغُسْلُ كَالْمَقْتُولِ قِصَاصًا تو لہٰذا اس کا غسل ساقط نہیں ہوگا جیسے کہ وہ شخص جسے قصاصاً قتل کر دیا جائے، وَصَلَّى النَّبِيُّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى الْغَامِدِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهَا بَعْدَمَا رُجِمَتْ، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غامدیہ پر نمازِ جنازہ ادا فرمائی بعد اس کے کہ جب اسے رجم کر دیا گیا تھا۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْصَنًا وَكَانَ حُرًّا فَحَدُّهُ مِائَةُ جَلْدَةٍ، بھئی اب غیرِ محصن کی حد بیان کرنے لگے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ اگر زنا کرنے والا غیر شادی شدہ ہے تو اس کو سو کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ مُحْصَنًا اور اگر زنا کرنے والا محصن نہیں ہے وَكَانَ حُرًّا اور آزاد ہے فَحَدُّهُ مِائَةُ جَلْدَةٍ تو اس کی حد جو ہے وہ سو کوڑے ہیں، لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي فَاجْلِدُوا كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ﴾، الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي زنا کرنے والی عورت اور زنا کرنے والا مرد فَاجْلِدُوا پس تم لوگ کوڑے لگاؤ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا ان دونوں میں سے ہر ایک کو مِائَةَ جَلْدَةٍ سو کوڑے، تو معلوم ہوا غیرِ محصن کی سزا وہ سو کوڑے ہیں بھئی۔ إِلَّا أَنَّهُ انْتَسَخَ فِي حَقِّ الْمُحْصَنِ، یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں، اعتراض یہ ہوتا ہے کہ قرآن کے اندر تو مطلقاً ذکر ہے: الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي، زنا کرنے والی عورت ہو یا زنا کرنے والا مرد، یہاں تو کوئی فرق نہیں کیا گیا شادی شدہ میں اور غیر شادی شدہ میں، معلوم ہوا چاہے شادی شدہ ہو چاہے غیر شادی شدہ ہو سب کی سزا یہی سو کوڑے ہیں؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہ حکم جو ہے شادی شدہ کے بارے میں منسوخ ہے۔ یہ حکم شادی شدہ کے بارے میں منسوخ ہے، ایک تو آیت ہے بھئی، یہ میرے حاشیے میں دی ہوئی ہے بھئی، میرے حاشیے میں۔ کہتے ہیں: وَهِيَ اور وہ یہ ہے: ”الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ“، الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ کہ شادی شدہ مرد اور شادی شدہ عورت إِذَا زَنَيَا جب یہ دونوں زنا کریں فَارْجُمُوهُمَا تو ان دونوں کو رجم کرو، الْبَتَّةَ قطعی طور پر، نَكَالًا مِنَ اللَّهِ، نکال سزا کو کہتے ہیں، نَكَالًا مِنَ اللَّهِ اللہ کی طرف سے بطورِ سزا کے، وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ اور اللہ زبردست ہیں اور حکمت والے ہیں۔ تو یاد رکھو علماء فرماتے ہیں کہ یہ جو آیت ہے الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ إِذَا زَنَيَا فَارْجُمُوهُمَا الْبَتَّةَ نَكَالًا مِنَ اللَّهِ وَاللَّهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ، کہ یہ بھی آیت ہے۔ یہ بھی آیت ہے البتہ اس کی تلاوت منسوخ ہو چکی ہے، تو اس کی تلاوت تو منسوخ ہو چکی ہے لیکن اس کا حکم ابھی بھی باقی ہے۔ تو یہ آیت الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ اس کے اندر شادی شدہ مرد اور عورت جب وہ زنا کر لیں ان کا حکم بیان کیا گیا ہے، تو معلوم ہوا یہ آیت ناسخ ہے بھئی۔ چنانچہ الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي کا حکم عام تھا لیکن اس میں سے شادی شدہ کے حق میں یہ حکم منسوخ ہو گیا، البتہ شادی شدہ کے علاوہ جتنے ہیں ان کا یہی حکم ہوگا کہ اگر وہ زنا کر لیں تو انہیں سو کوڑے لگائے جائیں گے، لیکن شادی شدہ کے حق میں یہ سو کوڑوں والا حکم منسوخ ہو گیا ہے ان کو رجم کیا جائے گا، ایک تو یہ آیت ہے ناسخ الشَّيْخُ وَالشَّيْخَةُ، اور نیز حضور علیہ السلام کا عمل بھی۔ حضور علیہ السلام نے بھی شادی شدہ جو زنا کرنے والے تھے ان کو رجم فرمایا ان کو کوڑے نہیں لگائے، تو یہ آیت بھی ناسخ اور حضور علیہ السلام کا عمل بھی الزَّانِيَةُ وَالزَّانِي کے حکم کے لیے ناسخ ہے شادی شدہ لوگوں کے حق میں۔ تو کہتے ہیں: إِلَّا أَنَّهُ انْتَسَخَ فِي حَقِّ الْمُحْصَنِ مگر یہ کہ اس آیت کا حکم منسوخ ہے فی حق المحصن شادی شدہ کے حق میں، فَبَقِيَ فِي حَقِّ غَيْرِهِ مَعْمُولًا بِهِ تو یہ حکم باقی ہے غیروں کے حق میں معمول بہ ہو کر، یہ جو سو کوڑوں کا حکم ہے محصن کے حق میں یہ حکم منسوخ ہے اور باقیوں کے حق میں یہ حکم یہ سو کوڑوں والا حکم معمول بہ ہو کر باقی ہے یعنی اس پر عمل کیا جائے گا۔ یہ معنی ہے: فَبَقِيَ فِي حَقِّ غَيْرِهِ مَعْمُولًا بِهِ تو باقیوں کے حق میں یہ سو کوڑوں والا حکم باقی ہے معمول بہ ہو کر۔ يَأْمُرُ الْإِمَامُ بِضَرْبِهِ بِسَوْطٍ لَا ثَمَرَةَ لَهُ ضَرْبًا مُتَوَسِّطًا، يَأْمُرُ الْإِمَامُ بِضَرْبِهِ امام حکم دے گا اس کی ضرب کے لگانے کا بِسَوْطٍ، سَوط کوڑے کو کہتے ہیں، ایسے کوڑے کے ساتھ لَا ثَمَرَةَ لَهُ جس کا ثمرہ نہ ہو، ضَرْبًا مُتَوَسِّطًا متوسط درجے کی ضرب۔ غیر شادی شدہ کو جب کوڑے لگائے جائیں تو امام یہ سو کوڑے لگانے کا حکم دے گا لیکن یہ متوسط درجے کی ضرب ہونی چاہیے، بہت سخت ضرب نہیں ہونی چاہیے، اور نیز اس کوڑے کا ثمرہ بھی نہ ہو، اس کوڑے کا ثمرہ بھی نہ ہو۔ اب اس ثمرہ نہ ہونے کا کیا معنی ہے؟ اس سے کیا مراد ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ثمرہ سے مراد اس کوڑے کی گرہیں ہیں بھئی۔ بعض اوقات چمڑے کے درمیان گرہ پڑی ہوتی ہے، درمیان میں کسی جگہ تھوڑا سا موٹا ہے، جیسے بھئی؟ جیسے ایک شاخ ہوتی ہے، شاخ پر سے جگہ جگہ اور شاخیں نکلتی ہیں، تو وہ جو اور شاخیں نکل رہی ہیں آپ ان کو کاٹ بھی دیں پھر بھی اس شاخ کے اوپر وہ اس کی گرہ بنی سی رہ گئی بھئی۔ تو یہ اگر اس طرح کے کوڑے کے ساتھ کسی کی پٹائی کی جائے گی جس میں گرہیں پڑی ہوں گی تو اس سے اس کو زیادہ تکلیف ہوگی بھئی، لہٰذا ایسا کوڑا ہونا چاہیے جس میں گرہیں نہ پڑی ہوں، اور اگر کوئی گرہیں بیچ میں پڑی ہوئی ہیں، اگر بعض جگہ یہ کوڑا موٹا ہے تو ان گرہوں کو ختم کیا جائے گا پھر اس کے بعد اس کوڑے سے پٹائی کی جائے گی۔ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ ثمرہ سے مراد یہ گرہیں ہیں بھئی۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ ثمرہ سے مراد یہ ہے کہ اس چمڑے کے ساتھ کوئی دُم وغیرہ نہ ہو، یعنی بعض اوقات ایک مرکزی چمڑا ہے اور اس کے ساتھ پھر بعض اوقات باریک باریک ایک دو اور چمڑے ساتھ لگے ہوتے ہیں دم کی طرح، تو اس صورت میں تو جب آپ ایک ضرب لگائیں گے تو یہ تو اس کو تین چیزیں اکٹھی لگ رہی ہیں یہ تو گویا تین ضربیں ہو گئیں۔ مراد یہ ہے کہ کوڑے کی اور شاخیں نہ ہوں، بعض اوقات ایک ہی کوڑا ہوتا ہے لیکن اس کے ساتھ اور شاخیں سی بھی بنی ہوئی ہیں، تو ایسا کوڑا بھی نہیں ہونا چاہیے کیونکہ وہ اگر آپ ایک ضرب لگائیں گے وہ تو ایک ضرب نہیں ہوگی اگر دو شاخیں ساتھ اور ہیں تو یہ تو گویا تین ضربیں آپ نے اکٹھی لگا دیں! ایک مرکزی کوڑا ہے اور اس کے ساتھ دو باریک باریک دم بنی ہوئی ہے تو اب یہ تو ایک ضرب نہ ہوئی، آپ جب بھی یہ ضرب لگائیں گے یہ تو گویا تین ضربیں آپ نے لگا دیں، تو بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ثمرہ سے مراد یہ ہے کہ اس چمڑے میں گرہیں نہ پڑی ہوں اور بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ ثمرہ سے مراد یہ ہے کہ اس چمڑے کی کوئی اور دم وغیرہ ساتھ نہ ہو بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: يَأْمُرُ الْإِمَامُ بِضَرْبِهِ بِسَوْطٍ لَا ثَمَرَةَ لَهُ ضَرْبًا مُتَوَسِّطًا، امام اس کی ضرب کا حکم دے گا ایسے کوڑے کے ساتھ جس کا ثمرہ نہ ہو، متوسط درجے کی ضرب، لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ لَمَّا أَرَادَ أَنْ يُقِيمَ الْحَدَّ كَسَرَ ثَمَرَتَهُ، اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب ارادہ فرمایا حد قائم کرنے کا، كَسَرَ ثَمَرَتَهُ تو انہوں نے اس کوڑے کے ثمرے کو توڑ دیا یعنی اس کی گرہوں کو توڑ دیا یا اس کی جو دم وغیرہ تھی اس کو توڑ دیا۔ وَالْمُتَوَسِّطُ بَيْنَ الْمُبَرِّحِ وَغَيْرِ الْمُؤْلِمِ، مُبَرِّحٌ بھئی، ضربِ مبرح کہتے ہیں سخت پٹائی کرنا، بری طرح مارنا یعنی سخت تکلیف دینے والی ضرب لگانا، اور غَيْرُ الْمُؤْلِمِ وہ ضرب جو تکلیف دینے والی نہ ہو۔ بھئی متن میں آیا تھا کہ امام جو ہے حکم دے گا ایسی ضرب لگانے کا جو متوسط درجے کی ہو، اب متوسط سے کیا مراد ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ ایک وہ ضرب ہے جو پوری قوت کے ساتھ لگائی جائے اور ایک وہ ضرب ہے جو بڑی ہی ہلکی ہے جس کی وجہ سے دوسرے کو کوئی تکلیف ہی نہیں ہوتی، تو ضربِ متوسط ان دونوں کے بیچ میں ہو یعنی ایسی ضرب بھی نہ ہو کہ بے انتہا تکلیف دینے والی ہو اور ایسی ضرب بھی نہ ہو کہ جس کی وجہ سے اس کو کوئی تکلیف ہی محسوس نہ ہو بلکہ متوسط درجے کی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمُتَوَسِّطُ بَيْنَ الْمُبَرِّحِ وَغَيْرِ الْمُؤْلِمِ، اور متوسط ضرب وہ ہے جو سخت تکلیف دینے والی ضرب اور وہ ضرب جو تکلیف دینے والی نہ ہو ان کے بیچ میں ہو۔ لِإِفْضَاءِ الْأَوَّلِ إِلَى الْهَلَاكِ، اس لیے کیونکہ پہلی قسم جو ہے وہ تو ہلاکت تک پہنچا دے گی، اگر سخت ضربیں لگاؤ گے یہ تو وہ انسان مر جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِإِفْضَاءِ الْأَوَّلِ إِلَى الْهَلَاكِ اس وجہ سے کہ پہلی قسم جو ہے وہ ہلاکت تک پہنچا دے گی، وَخُلُوِّ الثَّانِي عَنِ الْمَقْصُودِ اور دوسری قسم جو ہے وہ تو مقصود سے خالی ہے، وَهُوَ الِانْزِجَارُ اور وہ اس کا رکنا ہے، باز آنا ہے۔ بھئی دیکھو یہ ضرب لگانے کا مقصد کیا ہے کہ مجرم بھی آئندہ اس فعل سے باز آ جائے، لوگوں کو بھی عبرت ہو اور یہ مجرم بھی آئندہ اس جرم سے باز آ جائے، اس سے رک جائے۔ تو اگر آپ اس کو دوسری قسم کی ضرب لگاتے ہیں یعنی غیرِ مؤلم جس سے اس کو تکلیف ہی نہیں ہو رہی تو پھر تو یہ جرم سے باز نہیں آئے گا بھئی، تو مقصود حاصل نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَخُلُوِّ الثَّانِي عَنِ الْمَقْصُودِ اور اس وجہ سے کہ دوسری قسم کی ضرب یعنی غیرِ مؤلم ضرب جو ہے وہ مقصود سے خالی ہے، اور مقصود کیا ہے؟ کہتے ہیں: وَهُوَ الِانْزِجَارُ وہ اس کا رکنا ہے اور باز آنا ہے جرم سے۔ وَيُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ، اور اس سے اس کے کپڑے اتارے جائیں گے۔ یاد رکھو ایک وہ ضرب ہے جو حدِ زنا میں لگائی جاتی ہے، ایک وہ ضرب ہے جو حدِ قذف میں لگائی جاتی ہے۔ حدِ زنا کے اندر بھی متوسط ضرب، حدِ قذف کے اندر بھی متوسط ضرب، لیکن فرق یہ ہے کہ حدِ زنا میں قمیص وغیرہ بھی اتار لی جائے گی اگر مرد ہے۔ مرد ہے تو اس کی قمیص بھی اتار لی جائے گی البتہ تہبند یا شلوار اسی طرح پہنے رہے گا تاکہ اس کا ستر چھپا رہے بھئی، تو قمیص اتار لی جائے گی اور پھر ضرب لگائی جائے گی حدِ زنا میں، لیکن اگر حدِ قذف جاری کی جا رہی ہے تو پھر قمیص نہیں اتاری جائے گی البتہ کوئی موٹے کپڑے وغیرہ پہنے ہیں تو وہ اتار لیے جائیں گے، کوئی کوٹ پہنا ہوا ہے یا سویٹر پہنا ہوا ہے یا کوئی اور چیز پہنی ہے وہ اتار لی جائے گی کیونکہ اگر وہ چیزیں پہنی ہوں پھر تو ضرب کی تکلیف ہی محسوس نہیں ہوگی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ تو مردوں کا حکم ہے، مرد کی قمیص اتار لی جائے گی، جبکہ عورت جو ہے اس کے اندر صرف اگر اس نے کوئی موٹی چیز پہنی ہوئی ہے سویٹر یا کوٹ وغیرہ وہ اتار لی جائے گی باقی اسی طرح اس کو کپڑوں میں ضرب لگائی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُنْزَعُ عَنْهُ ثِيَابُهُ اور اس شخص سے اس کے کپڑے اتار لیے جائیں گے، مَعْنَاهُ دُونَ الْإِزَارِ، معنی اس کا یہ ہے کہ ازار کے علاوہ یعنی شلوار یا تہبند کے علاوہ اور کپڑے اتار لیے جائیں گے، لِأَنَّ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ كَانَ يَأْمُرُ بِالتَّجْرِيدِ فِي الْحُدُودِ، اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تجرید کا حکم دیتے تھے حدود میں۔ تجرید کا معنی ہے ننگا کرنا، مراد ہے صرف یہاں قمیص اتارنا۔ اس لیے کیونکہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ حدود کے اندر تجرید کا حکم دیتے تھے، وَلِأَنَّ التَّجْرِيدَ أَبْلَغُ فِي إِيصَالِ الْأَلَمِ إِلَيْهِ اور اس لیے کیونکہ ننگا کرنا یہ زیادہ اچھا ہے تکلیف پہنچانے میں، ورنہ تو قمیص ہوگی تو کچھ نہ کچھ تکلیف کم ہوگی، جب قمیص بھی نہیں ہوگی تو اب تکلیف زیادہ ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ التَّجْرِيدَ أَبْلَغُ فِي إِيصَالِ الْأَلَمِ إِلَيْهِ اور اس لیے کیونکہ ننگا کرنا یہ زیادہ اچھا ہے تکلیف پہنچانے میں، وَهَذَا الْحَدُّ مَبْنَاهُ عَلَى الشِّدَّةِ فِي الضَّرْبِ اور یہ جو حد ہے یعنی حدِ زنا، مَبْنَاهُ عَلَى الشِّدَّةِ اس کی بنیاد شدت پر ہے فِي الضَّرْبِ ضرب میں، کہ ضرب میں شدت ہو یعنی تھوڑی سی سخت ضرب لگے اور وہ قمیص اتارنے سے ہوگا کہ قمیص اتار لیں گے تو ضرب ذرا سخت لگے گی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا الْحَدُّ مَبْنَاهُ عَلَى الشِّدَّةِ فِي الضَّرْبِ اور یہ جو حد ہے اس کی بنیاد ضرب میں شدت پر ہے، وَفِي نَزْعِ الْإِزَارِ كَشْفُ الْعَوْرَةِ اور بتلایا کہ ازار نہیں اتاریں گے، تہبند یا شلوار نہیں اتاریں گے کیونکہ اس صورت میں تو کشفِ عورت ہوگا، ستر کھل جائے گا بھئی اور اس کا چھپانا واجب ہے بھئی۔ کہتے ہیں: وَفِي نَزْعِ الْإِزَارِ كَشْفُ الْعَوْرَةِ فَلْيَتَوَقَّاهُ اور ازار یعنی تہبند کے اتارنے میں کشفِ عورت ہے، شرمگاہ کا کھلنا ہے، فَلْيَتَوَقَّاهُ لہٰذا اس سے بچنا چاہیے۔ وَيُفَرَّقُ الضَّرْبُ عَلَى أَعْضَائِهِ، اور ضرب کو تقسیم کیا جائے گا اس کے اعضاء پر، یعنی ایک ہی عضو پر ساری ضربیں نہیں لگائیں گے۔ ایک ہی عضو پر ساری ضربیں نہیں لگائیں گے کہیں ایسا نہ ہو وہ عضو ہی ضائع ہو جائے، لہٰذا جسم پر متفرق جگہوں پر ضربیں لگائیں گے بھئی، پورے جسم پر پھیلائیں گے، لیکن آپ کو بتائیں گے سر، چہرے اور شرمگاہ پر ضرب نہیں لگائیں گے۔ سر، چہرے اور شرمگاہ پر ضرب نہیں لگائیں گے ان کے علاوہ باقی جسم پر ضربیں پھیلا کر لگائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَيُفَرَّقُ الضَّرْبُ عَلَى أَعْضَائِهِ اور ضرب کو پھیلایا جائے گا اس کے اعضاء پر، لِأَنَّ الْجَمْعَ فِي عُضْوٍ وَاحِدٍ قَدْ يُفْضِي إِلَى التَّلَفِ اس لیے کیونکہ ضربوں کو جمع کر لینا ایک ہی عضو میں قد یفضی الی التلف یہ کبھی پہنچا دیتا ہے ہلاکت تک یعنی وہ عضو ہی ہلاک ہو جاتا ہے، وَالْحَدُّ زَاجِرٌ لَا مُتْلِفٌ اور حد جو ہے وہ تو ڈانٹنے والی ہے لا متلف ہلاک کرنے والی نہیں، اس حد کا مقصد ڈانٹنا ہے اس کو ہلاک کرنا نہیں ہے۔ قَالَ: إِلَّا رَأْسَهُ وَوَجْهَهُ وَفَرْجَهُ، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: إِلَّا رَأْسَهُ سوائے اس کے سر کے، وَوَجْهَهُ اور اس کے چہرے کے، وَفَرْجَهُ اور اس کی شرمگاہ کے۔ یعنی یہ ضرب اس کے بدن پر اس کے اعضاء پر پھیلا دی جائے گی لیکن اس کے سر، چہرے اور شرمگاہ کو بچایا جائے گا ان پر ضرب نہیں لگائیں گے۔ دلیل کیا؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّذِي أَمَرَهُ بِضَرْبِ الْحَدِّ بوجہ حضور علیہ السلام کے جو آپ نے حکم دیا اس شخص کو جو حد کی ضرب لگا رہا تھا، حضور علیہ السلام نے اسے حکم دیا: ”اتَّقِ الْوَجْهَ وَالْمَذَاكِيرَ“ کہ چہرے سے اور شرمگاہ سے بچو، چہرے اور شرمگاہ سے بچو بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّذِي أَمَرَهُ بِضَرْبِ الْحَدِّ: اتَّقِ الْوَجْهَ وَالْمَذَاكِيرَ، بوجہ حضور علیہ السلام کے قول کے جو آپ نے اس آدمی سے فرمایا جس کو حد کی ضرب لگانے کا حکم دیا تھا، حضور علیہ السلام نے فرمایا: اتَّقِ الْوَجْهَ وَالْمَذَاكِيرَ کہ چہرے اور شرمگاہ سے بچو۔ مذاکیر یاد رکھو یہ جمع ہے ذَكَرٌ کی، اور یاد رکھو ذَكَرٌ عربی زبان میں مرد کی شرمگاہ کو بھی ذَكَرٌ کہتے ہیں اور اسی طرح نر جو ہے نر یعنی مذکر اس کو بھی ذَكَرٌ کہتے ہیں، تو جو مذکر ہو اس کو بھی ذَكَرٌ کہتے ہیں۔ البتہ پھر جمع کے اندر فرق کیا جاتا ہے: اگر ذَكَرٌ سے مراد مرد ہے، نر ہے یعنی مذکر ہے تو پھر اس کی جمع ذُكُورٌ لائی جاتی ہے، ذُكُورٌ، اور اگر ذَكَرٌ سے مراد مرد کی شرمگاہ ہے تو اس کی جمع مَذَاكِيرُ لائی جاتی ہے، تو پھر جمع سے فرق ہو جاتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں حضور علیہ السلام نے اس ضرب لگانے والے سے کہا: اتَّقِ الْوَجْهَ وَالْمَذَاكِيرَ کہ چہرے اور شرمگاہ سے بچو۔ تو یہاں جمع کا لفظ استعمال فرمایا حضور علیہ السلام نے حالانکہ چہرہ مفرد ہے تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ شرمگاہ کو بھی مفرد ذکر ہونا چاہیے تھا لیکن حضور علیہ السلام نے جمع فرمایا، علماء فرماتے ہیں مراد شرمگاہ اور اس کے ارد گرد کی ساری جگہ ہے اس لیے حضور علیہ السلام نے جمع کا صیغہ استعمال فرمایا۔ آگے دیکھیے: وَلِأَنَّ الْفَرْجَ مَقْتَلٌ اور اس لیے کیونکہ شرمگاہ جو ہے وہ تو محلِ قتل ہے، شرمگاہ پر ضرب لگائے گا وہ دوسرا آدمی تو ہلاک ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْفَرْجَ مَقْتَلٌ اور اس لیے کیونکہ شرمگاہ جو ہے وہ تو محلِ قتل ہے، وَالرَّأْسَ مَجْمَعُ الْحَوَاسِّ اور سر جو ہے وہ تو مجمعِ حواس ہے، اس میں تو انسان کے سارے حواس جمع ہیں، سارے حواس جمع ہیں دیکھو کانوں کے ذریعے سنتے ہیں ہم وہ بھی اسی سر اور چہرے میں، ناک کے ذریعے ہم سونگھتے ہیں، آنکھوں کے ذریعے ہم دیکھتے ہیں، زبان کے ذریعے ہم چکھتے ہیں تو سارے حواس یہیں پر جمع ہیں اور نیز عقل بھی یہیں پر ہے تو اگر یہاں پر ضرب لگائیں گے تو کہیں ایسا نہ ہو عقل نہ زائل ہو جائے یا ان حواس میں سے کوئی ضائع نہ ہو جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالرَّأْسَ مَجْمَعُ الْحَوَاسِّ اور سر جو ہے وہ تو مجمعِ حواس ہے، وَكَذَا الْوَجْهُ اور اسی طرح چہرہ بھی ہے وہ بھی مجمعِ حواس ہے، وَهُوَ مَجْمَعُ الْمَحَاسِنِ أَيْضًا اور چہرہ جو ہے محاسن کا بھی مجمع ہے، مجمع ہے یعنی حسن والی چیزیں چہرے میں جمع ہیں بھئی، تو لہٰذا چہرے پر ضرب نہ لگائے۔ فَلَا يُؤْمَنُ فَوَاتُ شَيْءٍ مِنْهَا بِالضَّرْبِ، فَلَا يُؤْمَنُ لہٰذا مامون نہیں ہوں گے، محفوظ نہیں ہوگا فَوَاتُ شَيْءٍ مِنْهَا ان میں سے کسی چیز کا فوت ہونا بِالضَّرْبِ ضرب کی وجہ سے۔ یعنی سر یا چہرے پر اگر ضرب لگائی جائے تو پھر کہیں ایسا نہ ہو ان چیزوں میں سے کوئی چیز ضائع ہو جائے، فوت ہو جائے۔ یہ معنی ہے: فَلَا يُؤْمَنُ، يُؤْمَنُ کا ترجمہ کر لیں محفوظ ہونے کے یا مامون ہونے کے، فَلَا يُؤْمَنُ تو لہٰذا مامون نہیں ہوگا فَوَاتُ شَيْءٍ مِنْهَا کہ ان میں سے کوئی چیز فوت ہو جائے، ان میں سے کسی چیز کا فوت ہو جانے سے ہم مامون نہیں ہوں گے بِالضَّرْبِ ضرب کی وجہ سے، وَذَلِكَ إِهْلَاكٌ مَعْنًى اور یہ بھی معنیٰ کے اعتبار سے ہلاک کرنا ہے۔ اگر ضرب کی وجہ سے اس کی بینائی چلی گئی یا اس کی گویائی چلی گئی یا اس کی شنوائی چلی گئی، سننے کی طاقت چلی گئی تو گویا آپ نے تو اس کو ہلاک ہی کر دیا بھئی، لہٰذا اس لیے سر اور چہرے پر بھی ضرب نہیں لگائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَذَلِكَ إِهْلَاكٌ مَعْنًى اور ان چیزوں میں سے کسی چیز کا فوت ہو جانا یہ تو معنیٰ کے اعتبار سے ہلاک کرنا ہے، فَلَا يُشْرَعُ حَدًّا لہٰذا یہ بطورِ حد کے مشروع نہیں ہوگا، ان میں سے کوئی چیز جائز نہیں ہوگی۔ وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُضْرَبُ الرَّأْسُ أَيْضًا، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سر پر بھی ضرب لگائیں گے، رَجَعَ إِلَيْهِ اس قول کی طرف انہوں نے رجوع فرمایا، پہلے وہ بھی فرماتے تھے کہ سر پر ضرب نہیں لگائیں گے پھر انہوں نے اس کی طرف رجوع فرمایا کہ سر پر بھی ضرب لگائیں گے، وَإِنَّمَا يُضْرَبُ سَوْطًا ایک ہی کوڑا لگائیں گے سر پر۔ کیوں؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے، حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: ”اضْرِبُوا الرَّأْسَ فَإِنَّ فِيهِ شَيْطَانًا“ کہ سر پر مارو کیونکہ اس میں شیطان ہے۔ تو کسی کے بارے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ فرمایا تھا کہ اس کے سر پر مارو کہ سر میں بھی شیطان ہے۔ تو جب امام ابو یوسف رحمہ اللہ کو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول پہنچا تو آپ نے پھر رجوع کیا کہ سر پر بھی ایک ضرب لگائی جائے بھئی۔ لیکن یہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کا قول ہے جبکہ ہمارے دیگر ائمہ فرماتے ہیں سر پر ضرب نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: اضْرِبُوا الرَّأْسَ فَإِنَّ فِيهِ شَيْطَانًا کہ سر پر ضرب لگاؤ کیونکہ اس میں شیطان ہے، قُلْنَا ہم کہتے ہیں: تَأْوِيلُهُ اس کی تاویل یہ ہے: أَنَّهُ قَالَ ذَلِكَ فِيمَنْ أُبِيحَ قَتْلُهُ کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس شخص کے بارے میں یہ فرمایا تھا أُبِيحَ قَتْلُهُ جس کا قتل مباح تھا، جس کا قتل مباح تھا یعنی اس کو قتل کیا جا رہا تھا بھئی۔ وَيُقَالُ اور یہ بھی کہا جاتا ہے: إِنَّهُ وَرَدَ فِي حَرْبِيٍّ کہ یہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول وارد ہوا ہے ایک ایسے حربی کے بارے میں كَانَ مِنْ دُعَاةِ الْكَفَرَةِ جو کفار کے داعیوں میں سے تھا، وہ عام کافر نہیں تھا اور لوگوں کو بھی کفر کی طرف دعوت دیتا تھا، تو یہ اس حربی کے بارے میں ہے، معلوم ہوا اس کو قتل کرنے کا بھی حکم دیا اور فرمایا کہ اس کے سر پر بھی ضرب لگاؤ۔ تو کہتے ہیں: وَيُقَالُ إِنَّهُ وَرَدَ فِي حَرْبِيٍّ كَانَ مِنْ دُعَاةِ الْكَفَرَةِ اور کہا جاتا ہے کہ یہ والا قول وارد ہوا ہے ایک ایسے حربی کے بارے میں جو کافروں کے داعیوں میں سے تھا، وَالْإِهْلَاكُ فِيهِ مُسْتَحَقٌّ اور ہلاک کرنا اس کے اندر مستحق تھا یعنی وہ ہلاک کرنے کا مستحق ہو چکا تھا۔ وَيُضْرَبُ فِي الْحُدُودِ كُلِّهَا قَائِمًا غَيْرَ مَمْدُودٍ، اور ضرب لگائی جائے گی تمام حدود میں قَائِمًا اس حال میں کہ وہ شخص کھڑا ہو، وہ جو مجرم ہے اس کو کھڑا کر کے ضرب لگائی جائے گی بھئی۔ یہ مردوں کا حکم ہے اور عورتوں کو بٹھا کر ضرب ان کو لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَيُضْرَبُ فِي الْحُدُودِ كُلِّهَا قَائِمًا اور تمام حدود کے اندر کھڑے کر کے ضرب لگائی جائے گی، غَيْرَ مَمْدُودٍ اس حال میں کہ ممدود نہ ہو۔ اس حال میں کہ وہ غیرِ ممدود ہو، غیرِ ممدود کا کیا معنی؟ یہ آگے تفصیل بیان فرمائیں گے صاحبِ ہدایہ۔ بعض علماء فرماتے ہیں غیرِ ممدود کا معنی یہ ہے کہ بعض اوقات یوں کیا جاتا ہے کہ مجرم کو زمین پر لٹایا جاتا ہے، پاؤں کی طرف سے ایک شخص پکڑ لیتا ہے، سر کی طرف سے دوسرا آدمی پکڑ لیتا ہے اور اس طرح کھینچ کر انہوں نے اس کو زمین پر لٹایا ہوا ہے، مَدٌّ کا کیا معنی؟ کھینچنا، غیرِ ممدود جس کو کھینچا نہ گیا ہو، تو اس طرح زمین پر لٹا کر اور کھینچ کر پکڑنا اس طرح نہیں کیا جائے گا بلکہ اس کو کھڑا کر کے ضربیں لگائی جائیں گی۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں غیرِ ممدود کا معنی یہ ہے کہ وہ جو کوڑے لگانے والا ہے وہ اپنا ہاتھ اپنے سر سے اوپر نہیں لے کے جائے گا، اگر سر سے اوپر لے کے گیا یہ تو اس نے کوڑے کو خوب کھینچ دیا ہے اب تو بڑی سخت ضرب لگے گی، لہٰذا سر سے اوپر ہاتھ کو نہیں کھینچ سکتا۔ اور بعضوں نے کہا کہ غیرِ ممدود کا معنی یہ ہے کہ ضرب لگانے والا جب ضرب لگائے تو ضرب لگا کر پھر ایک دم وہ واپس کھینچتا ہے اس کوڑے کو، تو ایک تو ضرب لگی ہے اور پھر ساتھ ہی جب وہ واپس کھینچے گا تو وہ جلد پر رگڑ بھی لگے گی، اس کی بھی تکلیف ہوگی، سمجھ میں بات آ رہی ہے؟ ضرب لگاتے ہی پھر ساتھ ہی کوڑے کو واپس کھینچنا، اس سے ضرب بھی لگی اور ضرب کے بعد جب واپس کوڑے کو کھینچا تو اس بیچارے کی کمر پر زبردست رگڑ بھی لگ جائے گی بھئی۔ تو ایسی ضرب لگائے جس میں کوڑے کو اس طرح واپس نہ کھینچے۔ تو یہ تین معنی بیان کریں گے خود صاحبِ ہدایہ بھی: ایک کیا معنی کہ اس کو لٹا کر زمین پر دونوں طرف سے کھینچا جائے اور پھر مارا جائے ایسا نہ ہو، یا بعضوں نے کہا یہ معنی ہے کہ کوڑا مارتے ہوئے کوڑے کو سر سے اوپر نہ کھینچے، اور بعضوں نے کہا یہ معنی ہے کہ ضرب لگانے کے بعد اس کی جلد پر کوڑے کو واپس نہ کھینچے ورنہ تو اس سے اس کو زیادہ تکلیف ہوگی۔ تو کہتے ہیں: وَيُضْرَبُ فِي الْحُدُودِ كُلِّهَا قَائِمًا غَيْرَ مَمْدُودٍ اور ضرب لگائی جائے گی تمام حدود کے اندر اس حال میں کہ وہ شخص کھڑا ہو، غیرِ ممدود اور وہ غیرِ ممدود ہو، لِقَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کے کہ انہوں نے فرمایا: ”يُضْرَبُ الرِّجَالُ فِي الْحُدُودِ قِيَامًا وَالنِّسَاءُ قُعُودًا“ کہ مردوں کو حدود میں مارا جائے گا اس حال میں کہ وہ کھڑے ہوں اور عورتوں کو مارا جائے گا اس حال میں کہ وہ بیٹھی ہوئی ہوں۔ وَلِأَنَّ مَبْنَى إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى التَّشْهِيرِ اور اس لیے کیونکہ حد قائم کرنے کی بنیاد تشہیر پر ہے کہ حد کی شہرت ہونی چاہیے، حد کی شہرت ہونی چاہیے لوگوں کو پتہ چلے تاکہ لوگ آئندہ یہ جرم نہ کریں۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ مَبْنَى إِقَامَةِ الْحَدِّ عَلَى التَّشْهِيرِ اور اس لیے کیونکہ حد قائم کرنے کی بنیاد تشہیر پر ہے، وَالْقِيَامُ أَبْلَغُ فِيهِ اور قیام اس میں زیادہ اچھا ہے، کھڑے کر کے پٹائی کریں گے تو سب کو نظر آئے گا دور دور تک بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْقِيَامُ أَبْلَغُ فِيهِ اور قیام اس میں زیادہ اچھا ہے، ثُمَّ قَوْلُهُ غَيْرَ مَمْدُودٍ پھر جو امام محمد رحمہ اللہ کا قول متن میں آیا تھا غَيْرَ مَمْدُودٍ، اس کا کیا معنی ہے؟ اب وہ تین معنی بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ قَوْلُهُ غَيْرَ مَمْدُودٍ فَقَدْ قِيلَ: الْمَدُّ أَنْ يُلْقَى عَلَى الْأَرْضِ وَيُمَدَّ، تو تحقیق کہا گیا ہے کہ مد یہ ہے یعنی کھینچنا یہ ہے أَنْ يُلْقَى عَلَى الْأَرْضِ کہ اس مجرم کو زمین پر ڈال دیا جائے وَيُمَدَّ اور اس کو کھینچا جائے كَمَا يُفْعَلُ فِي زَمَانِنَا جیسے کہ ہمارے زمانے میں کیا جاتا ہے یعنی ایک طرف سے ایک آدمی پکڑ کر کھینچتا ہے اور دوسری طرف سے دوسرا آدمی۔ وَقِيلَ: أَنْ يُمَدَّ السَّوْطُ فَيَرْفَعَهُ الضَّارِبُ فَوْقَ رَأْسِهِ، اور کہا گیا ہے کہ کھینچنے کا معنی یہ ہے أَنْ يُمَدَّ السَّوْطُ کہ کوڑے کو کھینچا جائے فَيَرْفَعَهُ الضَّارِبُ تو پٹائی کرنے والا اس کو بلند کرے فَوْقَ رَأْسِهِ اپنے سر کے اوپر بھئی۔ وَقِيلَ اور کہا گیا ہے کہ کھینچنے کا معنی یہ ہے: أَنْ يُمَدَّهُ بَعْدَ الضَّرْبِ کہ اس کوڑے کو کھینچے بعد الضرب ضرب لگانے کے بعد یعنی اس کی جلد پر تاکہ رگڑ لگ جائے۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ أَنْ يُمَدَّهُ بَعْدَ الضَّرْبِ اور کہا گیا ہے کہ کھینچنا یہ ہے کہ ضرب لگانے کے بعد اس کوڑے کو کھینچا جائے، وَذَلِكَ كُلُّهُ لَا يُفْعَلُ اور یہ سب جو ہیں لَا يُفْعَلُ یہ نہیں کیے جائیں گے، لِأَنَّهُ زِيَادَةٌ عَلَى الْمُسْتَحَقِّ اس لیے کیونکہ یہ زائد ہے مستحق پر، جس سزا کا یہ شخص مستحق ہے یہ اس پر زائد سزا ہے یہ نہیں دی جائے گی۔ وَإِنْ كَانَ عَبْدًا جَلَدَهُ خَمْسِينَ جَلْدَةً، اور اگر وہ زنا کرنے والا غلام ہے یا اسی طرح باندی ہے تو جَلَدَهُ خَمْسِينَ جَلْدَةً تو اس کو پچاس کوڑے لگائے گا قاضی، لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ﴾، باندیوں کے بارے میں اللہ فرماتے ہیں: فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ، کہ فَعَلَيْهِنَّ ان باندیوں پر نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ نصف ہے اس کا جو آزاد پاک دامن عورتوں پر ہے، ان باندیوں پر اس کا نصف ہے مِنَ الْعَذَابِ یعنی کہ سزا، ان باندیوں پر آزاد عورتوں کے مقابلے میں نصف سزا ہے اور اس سے مراد کوڑے ہیں کیونکہ رجم کی تو تنصیف نہیں ہو سکتی، تو غلام اور باندیوں کو تو میں نے بتایا رجم کیا ہی نہیں جائے گا کیونکہ احصانِ رجم کے اندر شرط تھی کہ وہ آزاد ہونے چاہئیں اور غلام اور باندیاں تو آزاد نہیں ہیں تو ان کی سزا کوڑے ہیں اور وہ بھی نصف ہیں آزاد کے مقابلے میں یعنی پچاس کوڑے۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى: فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ، اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: تو ان باندیوں پر نصف ہے اس کا جو پاک دامن آزاد عورتوں پر ہے سزا یعنی کہ سزا، نَزَلَتْ فِي الْإِمَاءِ یہ آیت جو ہے باندیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے تو یہی حکم غلاموں کا بھی ہے، غلاموں کا بھی یہی حکم ہے۔ وَلِأَنَّ الرِّقَّ مُنَقِّصٌ لِلنِّعْمَةِ فَيَكُونُ مُنَقِّصًا لِلْعُقُوبَةِ، بھئی نکاح کے مسئلے میں ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ غلامی تنصیف کرتی ہے، چیز کو ادھا کر دیتی ہے: نعمت ہو وہ بھی ادھی ہو جائے گی اور سزا ہو وہ بھی ادھی ہو جائے گی، چنانچہ آزاد آدمی چار نکاح کر سکتا ہے زیادہ سے زیادہ، غلام میں تنصیف ہو گئی غلام زیادہ سے زیادہ دو نکاح کر سکتا ہے۔ اور آزاد آدمی جو ہے اس کو سو کوڑے لگیں گے تو غلام کو پچاس کوڑے لگیں گے، تو جب نعمت کے اندر تنصیف ہو رہی ہے تو سزا کے اندر بھی تنصیف ہوگی یعنی ادھی ہو جائے گی۔ کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الرِّقَّ مُنَقِّصٌ لِلنِّعْمَةِ، مُنَقِّصٌ کا معنی ہے کمی کرنے والا، وَلِأَنَّ الرِّقَّ مُنَقِّصٌ لِلنِّعْمَةِ اور اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے وہ کمی کرنے والی ہے نعمت میں فَيَكُونُ مُنَقِّصًا لِلْعُقُوبَةِ تو یہ سزا میں بھی کمی کرنے والی ہوگی۔ لِأَنَّ الْجِنَايَةَ عِنْدَ تَوَافُرِ النِّعَمِ أَفْحَشُ، لِأَنَّ الْجِنَايَةَ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جرم جو ہے عِنْدَ تَوَافُرِ النِّعَمِ نعمتوں کی کثرت کے وقت أَفْحَشُ زیادہ برا ہوتا ہے۔ جب نعمتیں کثیر ہیں اس کے بعد جرم کیا جائے تو یہ زیادہ برا ہے لہٰذا اس کی سزا بھی زیادہ ہوگی، تو آزاد آدمی جرم کرے گا تو سو کوڑے لگیں گے، اور جب نعمتیں کم ہیں تو سزا بھی اسی کے بقدر کم ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ الْجِنَايَةَ عِنْدَ تَوَافُرِ النِّعَمِ أَفْحَشُ فَيَكُونُ أَدْعَى إِلَى التَّغْلِيظِ، اس لیے کیونکہ جرم جو ہے نعمتوں کی کثرت کے وقت زیادہ برا ہوتا ہے تو وہ زیادہ دعوت دینے والا ہے سختی کی طرف، وہ جرم جو نعمتوں کی زیادتی کے وقت کیا جائے وہ زیادہ برا ہے تو وہ زیادہ دعوت دیتا ہے کہ سختی کی جائے، یہ معنی ہے: فَيَكُونُ أَدْعَى إِلَى التَّغْلِيظِ تو لہٰذا یہ جرم جو ہے زیادہ دعوت دیتا ہے سختی کرنے کی۔ وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ، اور اس حد کے اندر مرد اور عورت برابر ہیں یعنی مرد کو بھی سو کوڑے لگیں گے عورت کو بھی سو کوڑے لگیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَالرَّجُلُ وَالْمَرْأَةُ فِي ذَلِكَ سَوَاءٌ اور مرد اور عورت اس حد میں برابر ہیں لِأَنَّ النُّصُوصَ تَشْمَلُهُمَا اس لیے کیونکہ نصوص دونوں کو شامل ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا نَصٌّ جو ہے قرآن اور حدیث کو کہتے ہیں تو قرآن اور حدیث کی جو نصوص ہیں وہ دونوں کو شامل ہیں، ان میں جو احکام ہیں وہ دونوں کو شامل ہیں بھئی۔ غَيْرَ أَنَّ الْمَرْأَةَ لَا يُنْزَعُ مِنْ ثِيَابِهَا إِلَّا الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ، مگر یہ کہ عورت جو ہے اس سے اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے إِلَّا الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ سوائے فرو اور حشو کے۔ فَرْوٌ، فَرْوٌ کہتے ہیں پوستین کو۔ فَرْوٌ پوستین، پوستین بھئی آپ جانتے ہیں یہ جانوروں کو ذبح کرنے کے بعد ان کے چمڑے کو دباغت دے کر کپڑے کی طرح کوٹ وغیرہ بنا لیتے ہیں، اس کو کہتے ہیں فَرْوٌ۔ یہ جو جانوروں کا چمڑا ہے اس کو دباغت دے کر کپڑے کی طرح نرم بنا لیا جاتا ہے اور اس کے کوٹ اور جیکٹیں وغیرہ یہ چیزیں بنائی جاتی ہیں سردی سے بچنے کے لیے اس کو فَرْوٌ کہتے ہیں، اور اردو میں اس کو پوستین کہتے ہیں۔ اور حَشْوٌ، حَشْوٌ ویسے تو وہ چیز ہے جو کسی میں بھری جائے جیسے روئی جو ہے، روئی کو رضائی میں بھی بھرا جاتا ہے، روئی کو تکیے میں بھی بھرا جاتا ہے، اسی طرح جیکٹ وغیرہ ان چیزوں میں بھی روئی وغیرہ چیزوں کو بھرا جاتا ہے تاکہ سردی محسوس نہ ہو بھئی، تو حَشْوٌ اس چیز کو کہتے ہیں جس کو دوسری چیزوں میں بھرا جائے جیسے روئی وغیرہ، لیکن مراد یہاں وہ کپڑا ہے جس کے اندر روئی وغیرہ کو بھرا جائے، تو موٹا کپڑا سردی وغیرہ کا جو ہے وہ مراد ہے بھئی، جیکٹ وغیرہ۔ تو کہتے ہیں عورت سے اس کے کپڑے نہیں اتارے جائیں گے إِلَّا الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ مگر پوستین اور موٹے کپڑے، کوٹ جیکٹ وغیرہ جو ہے وہ اتار لیں گے، لِأَنَّ فِي تَجْرِيدِهَا كَشْفَ الْعَوْرَةِ اس لیے کیونکہ عورت کو ننگا کرنے میں کشفِ عورت ہے، اس کا ستر کھلے گا، وَالْفَرْوُ وَالْحَشْوُ يَمْنَعَانِ وُصُولَ الْأَلَمِ إِلَى الْمَضْرُوبِ، بھئی یہ فرو اور حشو کو کیوں دور کریں گے عورت سے؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ اگر یہ کوٹ وغیرہ پہنا ہوگا پھر تو اسے ضرب کی تکلیف ہی نہیں ہوگی، تو کہتے ہیں: وَالْفَرْوُ وَالْحَشْوُ يَمْنَعَانِ وُصُولَ الْأَلَمِ إِلَى الْمَضْرُوبِ اس لیے کیونکہ یہ پوستین اور کوٹ وغیرہ جو ہیں یہ روکتے ہیں تکلیف کے پہنچنے کو مضرب تک، وَالسَّتْرُ حَاصِلٌ بِدُونِهِمَا اور ستر تو ان کے بغیر بھی حاصل ہے، عورت نے کپڑے وغیرہ تو پہنے ہوئے ہیں تو ان کو اتار بھی دیں گے تو ستر پھر بھی حاصل ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالسَّتْرُ حَاصِلٌ بِدُونِهِمَا فَيُنْزَعَانِ، تو ستر ان کے علاوہ بھی حاصل ہے فَيُنْزَعَانِ لہٰذا ان کو اتار لیا جائے گا۔ وَتُضْرَبُ جَالِسَةً، اور عورت کو ضرب لگائی جائے گی اس حال میں کہ وہ بیٹھی ہوئی ہو لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، پیچھے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول آیا تھا کہ حدود کے اندر مردوں کی پٹائی کی جائے گی ان کے کھڑے ہونے کی حالت میں اور عورتوں کی پٹائی کی جائے گی ان کے بیٹھنے کی حالت میں، تو لہٰذا عورتوں کو بٹھا کر ان کو کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَتُضْرَبُ جَالِسَةً لِمَا رَوَيْنَا اور عورت کی پٹائی کی جائے گی اس حال میں کہ وہ بیٹھی ہو اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، وَلِأَنَّهُ أَسْتَرُ لَهَا اور نیز اس لیے کیونکہ اس میں اس کے لیے زیادہ ستر ہے بٹھا کر ضرب لگانے میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 110 of 160