Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-038

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 15 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 78
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ قَالَ: ”وَمَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ ثُمَّ قَتَلَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا زَوْجُهَا فَلَا مَهْرَ لَهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَا: عَلَيْهِ الْمَهْرُ لِمَوْلَاهَا اعْتِبَارًا بِمَوْتِهَا حَتْفَ أَنْفِهَا، وَهَذَا لِأَنَّ الْمَقْتُولَ مَيِّتٌ بِأَجَلِهِ فَصَارَ كَمَا إِذَا قَتَلَهَا أَجْنَبِيٌّ“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو مسئلہ بتلایا تھا کہ آقا اگر اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے، تو کیا یہ اجازت صرف نکاحِ جائز کو شامل ہوگی یا نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہوگی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ آقا نے یہ جو اجازت دی ہے نکاح کی، تو تزوج اور نکاح کا لفظ مطلق ہے، یہ نکاحِ جائز کو بھی شامل ہے اور نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہے؛ کیونکہ یہ لفظ مطلق ہے اور ”الْمُطْلَقُ يَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ“۔ لہٰذا غلام اگر نکاحِ فاسد بھی کر لے اور پھر اس کے بعد وطی کر لے، تو اس پر جو مہر لازم آئے گا، وہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے۔ کیونکہ آقا نے نکاح کی اجازت دی ہے اور وہ نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہے امام صاحب کے نزدیک۔ تو غلام نے یہ جو نکاحِ فاسد کیا اور صحبت کر لی، تو اس صحبت کی وجہ سے جو مہر غلام پر آیا ہے، وہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے۔ آقا کے حق میں ظاہر ہے، لہٰذا آقا کو یہ دین ادا کرنا پڑے گا۔ اس کی اجازت سے یہ دین غلام پر آیا ہے اور اگر آقا ادا نہیں کرتا تو پھر اسی غلام کو بیچا جائے گا اور جو پیسے وصول ہوں گے، اس کے ذریعے یہ مہر ادا کیا جائے گا اور اگر پیسے باقی بچ گئے تو وہ آقا کے حوالے کر دیے جائیں گے۔ تو دیکھا! غلام پر آنے والا دین آقا کے حق میں ظاہر ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ یعنی آقا کی اجازت سے یہ دین آیا ہے۔ آقا سبب بنا ہے اس دین کے آنے کا، لہٰذا اس صورت میں پھر یہ دین آقا کو ادا کرنا ہوتا ہے۔ اگر آقا ادا نہیں کرے گا تو آقا ہی کے اس غلام کو بیچا جائے گا، دیکھو یہ غلام بھی تو آقا ہی کا مال ہے بھئی! لہٰذا اس غلام کو بیچا جائے گا اور اس کے ذریعے ادائیگی کی جائے گی۔ اگر سارا دین ادا ہو سکا تو سارا ادا کیا جائے گا اور اگر سارا ادا نہ ہو سکا تو جس قدر ادا ہو سکا وہ دین ادا کر دیا جائے گا، اور اگر ادائیگی کے بعد کچھ مال بچ جائے تو پھر وہ آقا کے حوالے کیا جائے گا۔ تو بات سمجھ میں آ گئی؟ آقا کے حق میں دین کے ظاہر ہونے کا کیا معنی ہے؟ کہ آقا کے مال میں سے اس کی ادائیگی کی جائے گی، وہ خود ادا کر دے یا پھر اس کے اس غلام کو بیچ کر اس کو ادا کیا جائے گا بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ آقا نے اپنے غلام کو جب اجازت دی ہے نکاح کی تو یہ نکاحِ فاسد کو بھی شامل ہے، تو نکاحِ فاسد اور پھر اس کے بعد صحبت کرنے کی وجہ سے جو مہر آیا ہے، وہ آقا کے حق میں بھی ظاہر ہے۔ لہٰذا وہ آقا کو ادا کرنا پڑے گا۔ اگر وہ ادا نہیں کرتا تو پھر اس غلام کو بیچا جائے گا اور اس کے ذریعے یہ مہر ادا کیا جائے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ آقا جب اپنے غلام کو نکاح کی اجازت دے تو وہ صرف نکاحِ صحیح کو شامل ہوتی ہے وہ اجازت، نکاحِ فاسد کو شامل نہیں۔ لہٰذا یہ جو غلام نے نکاحِ فاسد کیا اور وطی کی اور اس کی وجہ سے اس پر مہر آیا، اس کی تو آقا نے اجازت ہی نہیں دی تھی، لہٰذا یہ دین آقا کے حق میں ظاہر نہیں۔ لہٰذا آقا پر اس کی ادائیگی بھی ضروری نہیں اور نہ اس غلام کو بیچ کر اس مہر کو ادا کیا جائے گا، بلکہ یہ دین صرف غلام پر ہی ہے۔ تو اگر کبھی زندگی میں غلام آزاد ہو گیا تو پھر اس کے بعد اس غلام سے اس دین کا مطالبہ کیا جائے گا اور وہ پیسے کما کر لا کر دے گا اور ادائیگی کرے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ آقا نکاح کی اجازت دے تو یہ نکاحِ فاسد کو شامل نہیں۔ وہ فرماتے ہیں وجہ یہ ہے کہ نکاح کے ذریعے مقصود یہ ہوتا ہے کہ کوئی شخص اپنے آپ کو پاک دامن بنا دے اور اپنے آپ کو حرام سے محفوظ کر لے، لیکن یہ مقصد نکاحِ فاسد کے ذریعے تو حاصل نہیں ہو سکتا۔ نکاحِ فاسد میں تو وہ عورت اس شخص پر پھر بھی حرام ہی رہتی ہے، تو نکاحِ صحیح کا جو مقصد ہے وہ نکاحِ فاسد سے حاصل نہیں ہو سکتا، لہٰذا آقا کی اجازت نکاحِ فاسد کو شامل نہیں ہے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ آقا نے جو لفظ ذکر کیا تھا نکاح کا، وہ مطلق ہے اور ”الْمُطْلَقُ يَجْرِي عَلَى إِطْلَاقِهِ“۔ لہٰذا غلام کو نکاحِ صحیح کی بھی اجازت ہوگی اور نکاحِ فاسد کی بھی اجازت ہوگی۔ اور باقی صاحبین نے جو ذکر کیا کہ نکاحِ فاسد کے ذریعے نکاحِ صحیح کے مقاصد حاصل نہیں ہوتے، اس کا بھی جواب دیا کہ نکاحِ فاسد کے ذریعے بھی نکاح کے بعض مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں؛ جیسے اگر اس عورت نے بچے کو جنم دیا تو وہ اسی خاوند کا شمار ہوگا۔ نکاحِ فاسد کے بعد بھی عورت نے اگر بچے کو جنم دیا تو وہ اسی خاوند کا شمار ہوگا، دیکھو نسب ثابت ہو رہا ہے نکاحِ فاسد کی وجہ سے۔ اور نیز نکاحِ فاسد میں وطی کے بعد اگر جدائی کروائی جائے گی تو پھر اس کے بعد عورت پر عدت بھی واجب ہوگی جیسے نکاحِ صحیح میں عورت پر عدت واجب ہوتی ہے جدائی کے بعد۔ اور نیز نکاحِ صحیح میں جیسے آدمی پر مہر واجب ہوتا ہے، نکاحِ فاسد میں بھی صحبت کے بعد خاوند پر مہر واجب ہوگا، تو دیکھو نکاح کے بعض مقاصد جو ہیں وہ نکاحِ فاسد کے ذریعے بھی حاصل ہو رہے ہیں۔ اس کے بعد پھر دوسرا مسئلہ ذکر کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے کہ ایک شخص نے اپنے ماذون لہ غلام جس پر قرضے چڑھ چکے ہیں، جو مدیون ہے، اس کا نکاح کروایا، تو کیا آقا نکاح کروا سکتا ہے اپنے مدیون غلام کا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ ہاں! آقا کے لیے جائز ہے، وہ اپنے مدیون ماذون لہ غلام کا نکاح کروا سکتا ہے؛ کیونکہ یہ آقا کا مال ہے یہ غلام اور ہر ایک جو ہے اپنے مال کی اور اپنی چیز کی بہتری اور اصلاح چاہتا ہے۔ تو یہاں پر بھی جو آقا کو شریعت نے غلام کے نکاح کی اجازت دی ہے، اس اعتبار سے کہ وہ اپنے مال کی اصلاح کر سکے بھئی۔ کیونکہ اگر یہ غلام زنا میں مبتلا ہو گیا تو پھر اس صورت میں اس پر حد جاری ہوگی اور حد کی صورت میں غلام کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے، جان بھی جا سکتی ہے اور کوئی اور نقصان بھی پہنچ سکتا ہے۔ تو غلام آقا کا مال ہے اور ہر ایک کو اپنے مال کی اصلاح کا حق ہوتا ہے، تو آقا کے لیے بھی جائز ہوگا وہ اپنے اس ماذون لہ مدیون غلام کا نکاح کروا سکتا ہے۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ بھئی اس صورت میں تو جو مدیون ہیں ان کا حق باطل ہو رہا ہے۔ اس لیے کیونکہ مثلاً اگر وہ قرض خواہ پانچ افراد تھے، تو اس غلام کو بیچا جائے گا اور جو پیسے ملیں گے وہ ان پانچ افراد میں تقسیم کیے جائیں گے، لیکن اب یہ نکاح کے بعد عورت کا مہر بھی غلام کے ذمے آ گیا، تو اب وہی غلام کے پیسے اب پانچ کے بجائے چھ افراد میں تقسیم ہوں گے، اس عورت کو بھی اس کا حصہ دیا جائے گا، تو اس کی وجہ سے تو سب کے حصوں میں کمی آ جائے گی۔ تو یہ تو آقا دوسروں کے حق کو باطل کر رہا ہے اس نکاح کے ذریعے! تو اس کا بھی جواب دیا صاحبِ ہدایہ نے کہ بھئی دوسروں کا حق باطل کرنا اگر قصداً ہو تو پھر یہ جائز نہیں ہوتا، لیکن یہاں دوسروں کا حق قصداً باطل نہیں ہو رہا بلکہ ضمناً باطل ہو رہا ہے۔ اصل میں تو یہ اجازت شریعت نے اس کو اس لیے دی ہے کہ وہ اپنے مال کی اصلاح کر سکے، اپنے مال کا خیال رکھ سکے، لیکن اس کی وجہ سے اگر ضمناً کسی کا حق بھی باطل ہو رہا ہو تو اس کی طرف نظر نہیں کی جائے گی؛ کیونکہ یہاں اصل مقصود اپنے مال کی اصلاح کا ہے، اصل مقصود دوسروں کے حق کو باطل کرنا نہیں ہے بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ کوئی شخص اگر اپنی باندی کا نکاح کروا دے، تو آقا پر لازم نہیں ہے کہ باندی سے خدمت لینا چھوڑ دے اور اسے اپنے خاوند کے سپرد کر دے کہ خاوند کے پاس ہی رہا کرو، میری خدمت کی کوئی حاجت نہیں۔ یہ آقا پر لازم نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ آقا کا حق اعلیٰ ہے؛ کیونکہ آقا باندی کی پوری ذات کا مالک ہے اور خاوند جو ہے اس کا حق ادنیٰ ہے؛ کیونکہ وہ صرف باندی کے منافع کا مالک ہے۔ تو ادنیٰ حق کی وجہ سے اعلیٰ حق کو ساقط نہیں کیا جائے گا۔ باندی نکاح کے باوجود آقا کی خدمت کرتی رہے گی اور خاوند سے کہا جائے گا کہ جب موقع مل جائے تو تب اپنی بیوی سے صحبت کر لیا کرو۔ اور پھر یہ بھی بتلایا تھا آپ کو صاحبِ ہدایہ نے، اگر آقا نے اجازت دے دی باندی کو کہ اپنے خاوند کے پاس رہا کرو، اس کے پاس ٹھکانہ دے دیا اور اپنی خدمت کا حق چھوڑ دیا، ساقط کر دیا، تو اس صورت میں پھر خاوند کے ذمے ہے کہ وہ اب اپنی اس بیوی جو باندی ہے اس کو نفقہ بھی دے گا اور سکنیٰ یعنی رہائش بھی دے گا، یہ خاوند کی ذمہ داری ہوگی۔ اس لیے کیونکہ عورت کا یہ جو نفقہ ہوتا ہے، وہ احتباس کی وجہ سے ہوتا ہے کہ عورت اپنے آپ کو گھر میں خاوند کے لیے روک کر رکھتی ہے۔ عورت اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھتی ہے، تو اس کو کہتے ہیں احتباس بھئی، روکنا، روکنا۔ تو یہ اپنے آپ کو روک کر رکھتی ہے۔ تو یہ جو نفقہ خاوند کے ذمے ہوتا ہے، یہ عورت کے اس احتباس کی وجہ سے ہوتا ہے کہ اس نے اس خاوند کی خاطر اپنے آپ کو روک کر رکھا ہوا ہے۔ تو جب احتباس پایا جائے گا تو خاوند پر نفقہ بھی ہوگا، اس کو نفقہ دینا پڑے گا اور اگر احتباس نہیں تو پھر اس صورت میں خاوند پر نفقہ بھی نہیں۔ تو یہاں پر جب آقا کے پاس وہ رہ رہی ہے تو احتباس پایا جا رہا ہے، لہٰذا خاوند پر نفقہ بھی واجب ہوگا۔ اور نیز اگر آقا نے اپنی خدمت کا حق ساقط کر دیا اور باندی کو خاوند کے پاس رہنے دیا، تو کیا ایک دفعہ اجازت دینے کے بعد دوبارہ آقا اس سے خدمت لے سکتا ہے؟ کہتے ہیں: ہاں! آقا دوبارہ بھی اس سے خدمت لے سکتا ہے، جیسے نکاح کی وجہ سے آقا کا حق ساقط نہیں ہوا تھا، اسی طرح اجازت دینے سے بھی آقا کا حق ساقط نہیں ہے، وہ دوبارہ اس کا مطالبہ کر سکتا ہے اور دوبارہ باندی سے خدمت لے سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر آخر میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ ہمارے نزدیک، احناف کے نزدیک غلام اور باندی پر آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، وہ جہاں چاہے ان کا نکاح کروا سکتا ہے، چاہے ان کی مرضی ہو یا مرضی نہ ہو۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی ایک روایت امام صاحب سے بھی ہے کہ آقا کو غلام پر ولایتِ اجبار نہیں۔ وجہ یہ کہ آقا جو اپنے غلام کا مالک ہوتا ہے وہ مال ہونے کے اعتبار سے ہوتا ہے اور شریعت نے غلام کو جو نکاح کی اجازت دی ہے وہ آدمی اور انسان ہونے کی حیثیت سے دی ہے، تو آقا غلام کا مالک ہے اور اعتبار سے اور غلام کو نکاح کی اجازت ہے اور اعتبار سے۔ لہٰذا آقا کو غلام پر جبراً نکاح کروانے کی ولایت حاصل نہیں ہوگی بھئی۔ ہاں البتہ باندی پر بالاتفاق آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہے، وہ جہاں چاہے اس کا نکاح کروا سکتا ہے۔ وجہ یہ کہ یہ باندی جو ہے اس کے منافع کا مالک آقا ہے، وہ اس کے ساتھ صحبت کر سکتا ہے، تو وہ ان منافع کا مالک دوسروں کو بھی بنا سکتا ہے کہ کسی اور سے اس باندی کا نکاح کروا دے، تو پھر باندی اپنے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی اور آقا کے لیے پھر حرام ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تو امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب تھا اور امام صاحب کی ایک روایت تھی کہ غلام پر آقا کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں، لیکن میں نے بتایا: ”عِنْدَ الْأَحْنَافِ“ غلام پر آقا کو ولایتِ اجبار حاصل ہے اور نیز باندی پر بھی۔ وجہ یہ کہ یہ غلام اور باندی آقا کا مال ہیں اور ہر ایک کو اپنی ملکیت کی اصلاح کا حق دیا ہے شریعت نے کہ وہ اپنی ملکیتی چیزوں کا خیال رکھے، ان کو بہتر سے بہتر طریقے سے رکھے، تو غلام اور باندی کے نکاح کی اجازت ہوگی آقا کو؛ کیونکہ اس کے اندر ان کی اصلاح ہے، اس کی وجہ سے وہ اس زنا سے محفوظ ہو جائیں گے جو ہلاکت یا نقصان تک پہنچا سکتا ہے۔ کیونکہ اگر زنا کریں گے تو حد جاری ہوگی اور حد ہلاکت یا نقصان تک پہنچائے گی، تو آقا کو حق ہے کہ وہ اپنے اس مال کو زنا سے محفوظ رکھنے کے لیے ان کا نکاح کروائے جہاں چاہے بھئی۔ اور اگر یہ غلام اور باندی مکاتب ہیں، اگر مکاتب اور مکاتبہ ہیں تو وہ بھی اپنے آقا کی اجازت کے بغیر کہیں نکاح نہیں کر سکتے، لیکن اگر آقا ان کا نکاح کروانا چاہتا ہے تو پھر یاد رکھو ان کی اجازت اور رضامندی ضروری ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو مکاتب اور مکاتبہ ہیں، یہ تصرف کے حق میں آزاد لوگوں کی طرح ہو چکے ہیں۔ میں نے بتایا تھا کہ جیسے ہی عقدِ کتابت ہوگا، مکاتب آزاد آدمیوں کی طرح ہو گیا، آقا اس سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا بلکہ یہ جائے گا اور جا کر پیسے کما کر لائے گا، ادا کرے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا۔ تو یہ مکاتب اور مکاتبہ تصرف کے اندر کس کی طرح ہو چکے ہیں؟ آزاد لوگوں کی طرح، اور آزاد مرد اور عورت پر تو کسی کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہوتی، لہٰذا اس مکاتب اور مکاتبہ پر بھی آقا کو ولایتِ اجبار حاصل نہیں ہوگی بھئی، بلکہ اگر آقا ان کا نکاح کروانا چاہتا ہے تو ان کی رضامندی بھی ضروری ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”قَالَ: وَمَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ ثُمَّ قَتَلَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا زَوْجُهَا فَلَا مَهْرَ لَهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“. صورتِ مسئلہ یہ ہے: ایک شخص نے اپنی باندی کا کسی سے نکاح کروا دیا اور پھر باندی کی ابھی رخصتی نہیں کی تھی، ابھی بیوی کو خاوند کے حوالے نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی آقا نے اس باندی کو قتل کر دیا۔ تو دیکھو، یہ جب باندی کا نکاح کروایا جاتا ہے تو نکاح سے مہر آئے گا اور یاد رکھو وہ مہر آقا کا حق ہے، وہ مہر آقا کو ملتا ہے، لیکن یہاں پر تو آقا نے باندی کو خاوند کے حوالے کرنے سے پہلے ہی قتل کر دیا ہے، تو کیا اس صورت میں آقا کو مہر دلایا جائے گا خاوند سے یا مہر نہیں دلایا جائے گا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس باندی کو خاوند کے حوالے کرنے سے جو مانع بنا ہے، وہ آقا ہے۔ باندی کو، بیوی کو خاوند کے حوالے کرنے سے کون مانع بنا ہے؟ آقا مانع بنا ہے۔ لہٰذا جب آقا مانع بن گیا ہے تو آقا کو بھی اب مہر نہیں دلایا جائے گا۔ خاوند کے ذمے نہیں ہے کہ وہ آقا کو مہر دے؛ کیونکہ آقا مانع بن گیا۔ جب اس نے باندی کو خاوند کے حوالے نہیں کیا تو خاوند پر بھی اب بدل نہیں آئے گا بھئی۔ خاوند کو جب مبدل نہیں ملا تو اب بدل بھی خاوند پر نہیں آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ اور امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ”وَمَنْ زَوَّجَ أَمَتَهُ“ اور جس شخص نے اپنی باندی کا نکاح کروایا ”ثُمَّ قَتَلَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا زَوْجُهَا“ پھر آقا نے اس باندی کو قتل کر دیا قبل اس کے کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت کرے ”فَلَا مَهْرَ لَهَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ تو اس باندی کے لیے کوئی مہر نہیں ہوگا امام صاحب کے نزدیک، یعنی آقا کو کچھ نہیں ملے گا؛ کیونکہ اسی نے باندی کو قتل کیا ہے، وہ مانع بن گیا۔ ”وَقَالَا: عَلَيْهِ الْمَهْرُ لِمَوْلَاهَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ اس خاوند پر مہر ہوگا لِمَوْلَاهَا اس باندی کے آقا کے لیے کہ خاوند مہر ادا کرے گا۔ بھئی وجہ کیا؟ ”اعْتِبَارًا بِمَوْتِهَا حَتْفَ أَنْفِهَا“ قیاس کرتے ہوئے بِمَوْتِهَا حَتْفَ أَنْفِهَا اس باندی کی طبعی موت پر۔ بھئی اگر باندی طبعی موت مرتی، خود اس کا انتقال ہوتا، تو اس صورت میں تو بالاتفاق جو ہے وہ خاوند کو مہر دینا پڑتا ہے؛ کیونکہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے تو نکاح اپنے اختتام کو پہنچ جاتا ہے اور اس صورت میں مہر پکا ہو جاتا ہے۔ تو جیسے طبعی موت کی صورت میں خاوند کو مہر ضرور دینا پڑتا ہے، یہاں آقا کے قتل کی صورت میں بھی خاوند کو مہر ضرور دینا پڑے گا۔ تو صاحبین اس آقا کے قتل کو طبعی موت پر قیاس کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں دیکھو! جیسے طبعی موت اپنے مقررہ وقت پر آتی ہے، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی کو قتل کرتا ہے تو دراصل اس کی عمر ہی اتنی لکھی ہوئی تھی۔ اگر یہ قاتل اس کو قتل نہ بھی کرتا تو بھی اسی وقت اس شخص کی موت آنی تھی۔ تو وہ اس قتل کو بھی کس پر قیاس کرتے ہیں؟ طبعی موت پر؛ کیونکہ طبعی موت میں جیسے کسی کی زندگی پوری ہو جاتی ہے، قتل پر بھی اس کی زندگی پوری ہو جاتی ہے، اس کی زندگی لکھی ہی اتنی ہوئی تھی بھئی۔ تو وہ فرماتے ہیں کہ طبعی موت میں تو بالاتفاق خاوند کو مہر دینا پڑتا ہے، تو قتل کے اندر بھی وہ اپنے مقررہ وقت پر ہی باندی مری ہے، تو اس صورت میں بھی خاوند کو پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”اعْتِبَارًا بِمَوْتِهَا حَتْفَ أَنْفِهَا“۔ بھئی عربی میں کہتے ہیں: ”مَاتَ فُلَانٌ حَتْفَ أَنْفِهِ“۔ حتف، حتف ہلاکت کو کہتے ہیں، ہلاک ہونا۔ اور انف، انف ناک کو کہتے ہیں۔ عربوں کا عقیدہ تھا کہ کوئی شخص اگر طبعی موت مرتا ہے تو اس کی روح ناک سے نکلتی ہے، اور جب کوئی شخص کسی دوسرے کو قتل کرتا ہے تو جہاں پر قاتل نے اس کو زخم لگایا ہے، وہاں سے اس کی روح نکلتی ہے۔ تو مقتول کی روح زخم سے نکلتی ہے، جبکہ جو شخص طبعی موت مرتا ہے، اس کی روح ناک سے نکلتی ہے، یہ زمانہ جاہلیت کے اندر عربوں کا عقیدہ تھا۔ تو جو شخص طبعی موت مرتا، تو اس کے لیے وہ کہتے تھے: ”مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ“، ”مَاتَ حَتْفَ أَنْفِهِ“ وہ اپنی ناک کی ہلاکت مرا ہے۔ وہ اپنی ناک، دیکھو نا ”حَتْفَ أَنْفِهِ“ اپنی ناک کی ہلاکت، وہ اپنی، اپنی ناک کی موت مرا ہے، یوں کہو۔ ”مَاتَ فُلَانٌ حَتْفَ أَنْفِهِ“ فلاں اپنی ناک کی موت مرا ہے، یعنی طبعی موت مرا ہے۔ کیا ترجمہ کریں گے؟ طبعی موت مرا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَا: عَلَيْهِ الْمَهْرُ لِمَوْلَاهَا“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ خاوند پر مہر ہوگا لِمَوْلَاهَا اس باندی کے آقا کے لیے ”اعْتِبَارًا بِمَوْتِهَا حَتْفَ أَنْفِهَا“ قیاس کرتے ہوئے اس باندی کی طبعی موت پر ”وَهَذَا لِأَنَّ الْمَقْتُولَ مَيِّتٌ بِأَجَلِهِ“ اور یہ اس لیے لِأَنَّ الْمَقْتُولَ مَيِّتٌ بِأَجَلِهِ، اجل کہتے ہیں مقررہ وقت کو، وہ قیاس کیوں کرتے ہیں بھئی؟ اس قتل کو وہ طبعی موت پر کیوں قیاس کرتے ہیں؟ میں نے بتلا دیا۔ کیونکہ قتل بھی کیا ہے تو دراصل اس شخص کا وقت ہی اتنا مقرر تھا بھئی! تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ اس وجہ سے ہے، یعنی طبعی موت پر اس لیے قیاس کرتے ہیں ”لِأَنَّ الْمَقْتُولَ مَيِّتٌ بِأَجَلِهِ“ اس لیے کیونکہ مقتول جو ہے وہ مرا ہے بِأَجَلِهِ اپنے وقتِ مقررہ پر، اپنے وقتِ مقررہ پر وہ مرا ہے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا قَتَلَهَا أَجْنَبِيٌّ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کسی اجنبی نے اس کو قتل کیا ہو۔ بھئی کوئی اجنبی قتل کرے باندی کو، پھر تو بالاتفاق خاوند کو مہر دینا پڑے گا؛ کیونکہ اس میں آقا کا کوئی قصور نہیں، کوئی قصور نہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: جیسے کوئی اجنبی اس باندی کو قتل کرے تو اس صورت میں پورا مہر دینا پڑے گا، تو اسی طرح اگر آقا بھی قتل کر دے گا تو پورا مہر دینا پڑے گا؛ کیونکہ اس باندی کی عمر لکھی ہی اتنی تھی۔ ”وَلَهُ: أَنَّهُ مَنَعَ الْمُبْدَلَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ آقا نے روک لیا المبدل مبدل کو، یعنی منافعِ بضع کو آقا نے روک لیا قبل التسلیم ادائیگی سے پہلے ہی۔ منافعِ بضع جو ہیں خاوند کے حوالے کرنے سے پہلے ہی آقا نے روک دیے باندی کو قتل کر کے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَنَعَ الْمُبْدَلَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ آقا نے مبدل کو روک لیا ہے سپرد کرنے سے پہلے ہی ”فَيُجَازَى بِمَنْعِ الْبَدَلِ“ تو اس کو بدلہ دیا جائے گا بدل کو روک کر، بدل کے روکنے کے ساتھ اس کو بدلہ دیا جائے گا کہ اس کو بدل یعنی مہر نہیں دیا جائے گا ”كَمَا إِذَا ارْتَدَّتِ الْحُرَّةُ“ جیسے کہ کوئی آزاد عورت مرتد ہو جائے، العیاذ باللہ! بھئی یاد رکھو، ایک شخص ایک عورت سے نکاح کرتا ہے اور یہ عورت بعد میں مرتد ہو جاتی ہے، تو نکاح اس صورت میں فسخ ہو جائے گا بھئی، نکاح ختم ہو جائے گا اور اس عورت کو قید میں ڈالا جائے گا یہاں تک کہ وہ توبہ کر لے یا اسی قید میں اس کا انتقال ہو جائے بھئی۔ اگر کوئی مرد مرتد ہوگا تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی استحباب کے طریقے پر اور پھر اگر وہ واپس مسلمان نہیں ہوتا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، لیکن مرتَدّہ عورت کو قتل نہیں کیا جاتا، اس کو جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اور یہ بھی یاد رکھیں اگر اس کا کسی سے نکاح ہوا تھا تو نکاح بھی فسخ ہو جائے گا بھئی۔ اس کا مرتد ہوتے ہی نکاح فسخ ہو جائے گا۔ اب ایک عورت مرتَدّہ ہوئی اور اس کا نکاح ہو چکا تھا، تو اگر خاوند نے صحبت کر لی تھی، پھر تو صحبت کی وجہ سے ہی مہر پکا ہو گیا تھا، وہ مرتَدّہ ہونے کے بعد بھی اسی کو ملے گا بھئی، پھر تو خاوند کے ذمے آ چکا ہے، لیکن یہاں ذکر کر رہے ہیں کہ صحبت سے پہلے عورت مرتَدّہ ہو گئی اور صحبت سے پہلے اگر جدائی آ جائے تو پھر نصف مہر دیا جاتا ہے، پھر نصف مہر دیا جاتا ہے، لیکن یاد رکھو یہاں مرتَدّہ یہ عورت ہوئی ہے، یہاں مانع عورت کی طرف سے آیا ہے، جدائی عورت کی طرف سے آئی ہے، لہٰذا اس عورت کو نصف مہر بھی نہیں ملے گا؛ کیونکہ یہ مانع بن گئی تسلیمِ بضع سے۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ جیسے مرتَدّہ جو ہے بالاتفاق اس کو مہر نہیں ملے گا؛ اس لیے کیونکہ وہ مانع خود بنی ہے، اسی طرح یہاں پر بھی آقا خود مانع بنا ہے منافعِ بضع سپرد کرنے سے، لہٰذا آقا کو مہر نہیں ملے گا۔ تو امام صاحب اس آقا کو قیاس کرتے ہیں مرتَدّہ پر۔ تو جیسے مرتَدّہ مانع بنتی ہے تو اس کو مہر نہیں دیا جاتا، تو یہ آقا بھی مانع بن گیا ہے، اس کو بھی مہر نہیں دیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر دیکھ لیجیے ترجمہ: ”وَلَهُ: أَنَّهُ مَنَعَ الْمُبْدَلَ قَبْلَ التَّسْلِيمِ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ آقا نے سپرد کرنے سے پہلے ہی مبدل کو روک لیا ہے ”فَيُجَازَى بِمَنْعِ الْبَدَلِ“ تو آقا کو بدلہ دیا جائے گا بدل کو روک کر ”كَمَا إِذَا ارْتَدَّتِ الْحُرَّةُ“ جیسے کہ آزاد عورت جو ہے مرتد ہو جائے، العیاذ باللہ! ”وَالْقَتْلُ فِي أَحْكَامِ الدُّنْيَا جُعِلَ إِتْلَافًا حَتَّى وَجَبَ الْقِصَاصُ وَالدِّيَةُ“۔ جی صاحبین نے آقا کے قتل کو قیاس کیا تھا طبعی موت پر اور طبعی موت کے اندر تو بالاتفاق مہر دینا پڑتا ہے، ہے، لہٰذا آقا کے قتل کی صورت میں بھی مہر دینا پڑے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں، آپ آقا کے قتل کو طبعی موت پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ طبعی موت کے اندر تو کوئی دنیاوی احکام نہیں ہیں لیکن قتل کے اندر تو دنیاوی احکام موجود ہیں، قتل کو تو لوگ اہلاک شمار کرتے ہیں کہ اس نے فلاں کی جان لے لی ہے، فلاں کو ہلاک کر دیا ہے، تو قتل کو لوگ طبعی موت کی طرح شمار نہیں کرتے۔ اور قتل کے اندر تو اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہو تو وہاں قصاص آتا ہے بھئی، اس قاتل کو بھی بدلے میں قتل کیا جائے گا، اور اگر غلطی سے قتل ہوا تھا تو پھر وہاں دیت آیا کرتی ہے بھئی۔ تو معلوم ہوا آپ قتل کو طبعی موت پر قیاس نہیں کر سکتے، کیونکہ طبعی موت کے تو کوئی دنیاوی احکام نہیں ہیں لیکن قتل کے تو دنیاوی احکام موجود ہیں، قتل کو تو اہلاک شمار کیا جاتا ہے کہ اس نے دوسرے کی جان لے لی ہے اور اس صورت میں دنیاوی احکام آتے ہیں، اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو قصاص آتا ہے اور غلطی سے قتل کیا ہے تو دیت آتی ہے، لہٰذا دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں، لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ کہتے ہیں: ﴿وَالْقَتْلُ فِي أَحْكَامِ الدُّنْيَا﴾ اور قتل جو ہے دنیاوی احکام میں ﴿جُعِلَ إِتْلَافًا﴾ اس کو اتلاف قرار دیا گیا ہے۔ اتلاف کا معنی ہے تلف کرنا، ہلاک کرنا، یعنی اس کو طبعی موت شمار نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو اہلاک شمار کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْقَتْلُ فِي أَحْكَامِ الدُّنْيَا جُعِلَ إِتْلَافًا﴾ اور قتل جو ہے دنیاوی احکام میں اس کو اہلاک قرار دیا گیا ہے ﴿حَتَّى وَجَبَ الْقِصَاصُ وَالدِّيَةُ﴾ یہاں تک کہ اس کی وجہ سے قصاص اور دیت واجب ہوتے ہیں ﴿فَكَذَا فِي حَقِّ الْمَهْرِ﴾ تو اسی طرح مہر کے حق میں بھی ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ مہر کے حق میں بھی اس قتل کو طبعی موت شمار نہیں کیا جائے گا بلکہ اہلاک شمار کیا جائے گا کہ اس نے باندی کو کیا کیا ہے؟ ہلاک کیا ہے یا مانع بنا ہے منافع بضع سپرد کرنے سے، لہٰذا آقا کو بھی یہ بدلہ دیا جائے گا کہ اب مہر اس کو نہیں ملے گا، مہر کو اس سے روک لیا جائے گا بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَإِنْ قَتَلَتْ حُرَّةٌ نَفْسَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا زَوْجُهَا﴾ اب دوسری صورت ہے۔ ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کر لیا اور رخصتی سے پہلے ہی اس عورت نے خودکشی کر لی، تو کیا اس عورت کو مہر ملے گا یا نہیں؟ کیونکہ آپ نے ضابطہ پڑھا ہے کہ خاوند صحبت کر لے تب بھی مہر پکا ہوتا ہے اور میاں بیوی میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے پھر بھی مہر پکا ہو جاتا ہے، مہر دینا پڑتا ہے۔ تو اس عورت نے خودکشی کی ہے، اس نے بھی تو منافع بضع کو روکا ہے خاوند کے حوالے کرنے سے پہلے، تو کیا اس کو مہر ملے گا یا نہیں ملے گا؟ تو وہاں ہمارے ائمہ فرماتے ہیں: اس عورت کو مہر ملے گا۔ وجہ یہ ہے کیونکہ یہ خودکشی جو ہے اس کا کوئی دنیاوی حکم نہیں ہے، اس کی وجہ سے کسی پر قصاص یا دیت وغیرہ نہیں آتی، کوئی دنیاوی حکم نہیں ہے، لہٰذا اس کو طبعی موت کی طرح شمار کیا جائے گا، جیسے طبعی موت کا کوئی حکم نہیں ہوتا اس کا بھی کوئی دنیاوی حکم نہیں ہے، اور طبعی موت کے اندر تو بالاتفاق پورا مہر دینا پڑتا ہے تو یہاں بھی پورا مہر دینا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قَتَلَتْ حُرَّةٌ نَفْسَهَا﴾ اور اگر قتل کر دیا کسی آزاد عورت نے ﴿نَفْسَهَا﴾ اپنے آپ کو، اپنی ذات کو ﴿قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا زَوْجُهَا﴾ قبل اس کے کہ خاوند اس کے ساتھ صحبت کرے ﴿فَلَهَا الْمَهْرُ﴾ تو اس صورت میں عورت کے لیے مہر ہو گا اور وہ اس کے پھر وارثوں کو ملے گا کیونکہ یہ خود تو خودکشی کر چکی ہے بھئی۔ ﴿فَلَهَا الْمَهْرُ﴾ تو اس عورت کے لیے مہر ہو گا ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ امام زفر فرماتے ہیں: نہیں، یہ عورت جس نے خودکشی کی ہے یہ بھی مانع بن گئی، اس نے بھی منافع بضع خاوند کے حوالے نہیں کیے۔ تو یہ عورت مانع بن گئی اور جو بھی مبدل سے مانع بنے گا اس کو بھی بدل یعنی مہر نہیں ملے گا بھئی۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مرتَدہ پر، جیسے مرتَدہ مانع بن گئی تھی منافع بضع خاوند کے سپرد کرنے سے تو لہٰذا اس کے لیے بھی بدل روک لیا جائے گا یعنی مہر اسے نہیں ملے گا۔ اسی طرح اگر آقا اپنی باندی کو قتل کر دے جیسے اوپر مسئلہ متن میں بیان ہوا تو امام صاحب کے نزدیک آقا اگر اپنی باندی کو قتل کر دے خاوند کے سپرد کرنے سے پہلے تو اس صورت میں آقا کو بھی مہر نہیں ملتا، کیونکہ آقا مانع بن گیا ہے۔ جیسے مرتَدہ مانع بنی تھی اسی طرح یہ آقا بھی کیا بن گیا؟ مانع بن گیا۔ جب یہ مبدل کے لیے مانع بن گئے تو ان سے بھی بدل کو روک لیا جائے گا یعنی مہر ان کو نہیں ملے گا۔ تو بات چل رہی تھی کوئی آزاد عورت ہے وہ خودکشی کر لیتی ہے، عند الاحناف اس عورت کو مہر ملے گا جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہ عورت ہی مانع بن گئی ہے لہٰذا اس کو بھی مہر نہیں ملے گا۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مرتَدہ پر اور وہ آقا جس نے باندی کو قتل کیا ہو، اور مرتَدہ کو تو مہر نہیں ملتا، اسی طرح وہ آقا جو اپنی باندی کو قتل کر دے اس کو بھی مہر نہیں ملتا کیونکہ وہ مانع بن گئے ہیں، تو یہ خودکشی کرنے والی بھی مانع بن گئی ہے لہٰذا اس کو بھی مہر نہیں ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللّٰهُ هُوَ يَعْتَبِرُهُ بِالرِّدَّةِ﴾ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مرتد ہونے پر ﴿وَبِقَتْلِ الْمَوْلَى أَمَتَهُ﴾ اور آقا کے اپنے باندی کو قتل کرنے پر۔ وہ اس کو قیاس کرتے ہیں مرتد ہونے پر اور آقا کے اپنے باندی کے قتل کرنے پر۔ ﴿وَالْجَامِعُ مَا بَيَّنَّاهُ﴾ اور علت جامعہ وہ ہے جو ہم نے بیان کر دی کہ ان میں سے ہر ایک مانع بن رہا ہے۔ لہٰذا جب یہ مبدل میں مانع بنے ہیں تو بدل کو بھی ان سے روک لیا جائے گا۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ جِنَايَةَ الْمَرْءِ عَلَى نَفْسِهِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی ذات پر جو جنایت کرتا ہے، یعنی اپنے آپ کو نقصان دیتا ہے یا اپنے آپ کو قتل کرتا ہے، تو ﴿غَيْرُ مُعْتَبَرَةٍ فِي حَقِّ أَحْكَامِ الدُّنْيَا﴾ یہ دنیاوی احکام کے حق میں غیر معتبر ہے، یعنی اس کی وجہ سے کوئی دنیاوی حکم نہیں آتا، نہ قصاص آتا ہے اور نہ دیت وغیرہ آتی ہے ﴿فَشَابَهَ مَوْتَهَا حَتْفَ أَنْفِهَا﴾ تو یہ اپنے آپ کو قتل کرنا یہ مشابہ ہو گیا اپنی طبعی موت کے۔ تو یہ عورت کا اپنے آپ کو قتل کرنا اس کی اپنی طبعی موت کے مشابہ ہو گیا ﴿بِخِلَافِ قَتْلِ الْمَوْلَى أَمَتَهُ﴾۔ امام زفر نے کس پر قیاس کیا تھا؟ کہ آقا اپنی باندی کو قتل کر دیتا ہے تو وہاں اس کو مہر نہیں ملتا کیونکہ آقا مانع بن گیا ہے، اسی طرح یہ عورت بھی مانع بن گئی ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، دونوں میں فرق ہے۔ عورت نے خودکشی کی ہے تو اس کی موت طبعی موت کی طرح ہے کیونکہ وہاں پر کوئی دنیاوی حکم نہیں آتا، لیکن آقا اگر اپنی باندی کو قتل کرتا ہے تو یاد رکھو اس صورت کے اندر دنیاوی احکام آتے ہیں، چنانچہ آقا پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ اس نے اپنی باندی کو قتل کیا ہے تو اس پر کفارہ واجب ہو گا، اور کفارۂ قتل یاد رکھو وہ ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے مسلسل رکھنا پڑیں گے۔ قتل کا کفارہ کیا ہے کہ ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ مسلسل روزے رکھنا پڑیں گے، تو یہاں پر آقا پر بھی کفارہ آئے گا۔ لیکن اگر جان بوجھ کر قتل کیا ہے تو قصاص نہیں آئے گا آقا پر، اور اگر غلطی سے قتل کیا ہے تو دیت آتی ہے وہ دیت بھی آقا پر نہیں آئے گی۔ اس لیے کیونکہ قصاص اور دیت جو ہے وہ اس کے لیے مطالب چاہیے، مطالبہ کرنے والا بھئی۔ کیا چاہیے؟ مطالبہ کرنے والا چاہیے۔ یہ باندی اس آقا کی تھی تو مطالبہ کرنے والا بھی کون بنے گا؟ یہی آقا۔ اور مطالبہ یہ کرے گا بھی کس سے؟ اپنے آپ سے، کیونکہ قاتل تو یہ خود ہے، تو یہی آقا مطالب بھی بن جائے گا اور مطالب بھی بن جائے گا اور ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا بھئی۔ لہٰذا اس لیے قصاص اور دیت نہیں آئیں گے۔ اور نیز اس لیے بھی کہ یہ ضابطہ یاد رکھنا کہ یہ جو حدود اور قصاص ہیں یہ ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتے ہیں۔ حد، جو شرعی سزائیں جو اللہ کی طرف سے مقرر ہیں، ادنیٰ شبہ بھی آ جائے تو حد کیا ہوتی ہے؟ ساقط ہو جاتی ہے۔ اسی طرح قصاص بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ اور یہاں پر بھی یہ باندی اس آقا کی تھی، یہ آقا اس کا مالک تھا تو اپنی ملکیت ہونے کی وجہ سے آقا سے قصاص ساقط ہو جائے گا، کیونکہ اپنی ملکیت کو تلف کیا ہے، اپنی ملکیت کو ختم کیا ہے اور اپنا نقصان کیا ہے تو اپنی ملکیت کو تلف کرنے اور اپنی ملکیت کو ہلاک کرنے کی وجہ سے آقا پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ بھئی دیکھو قتل کی وجہ سے کبھی کفارہ آتا ہے، کبھی قصاص آتا ہے اور کبھی دیت آتی ہے۔ آقا پر قصاص اور دیت تو نہیں آ سکتے اس لیے کیونکہ اس صورت میں مطالب اور مطالب ایک ہی شخص بنے گا اور ایک ہی شخص مطالب اور مطالب نہیں ہو سکتا، مطالبہ کرنے والا اور ہونا چاہیے اور جس سے مطالبہ کیا جا رہا ہے وہ اور ہونا چاہیے، اور نیز قصاص اس لیے بھی ساقط ہو جائے گا کہ یہ باندی اس کا اپنا مال تھا بھئی، تو اپنی ملکیت کو تلف کرنے اور اپنی ملکیت کو ہلاک کرنے کی وجہ سے آقا پر قصاص نہیں آئے گا بھئی۔ یہ اسی طرح ہے جیسے باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے۔ یاد رکھو اگر باپ اپنے بیٹے کو قتل کر دے تو وہاں قصاص نہیں آتا۔ قصاص نہیں آتا، وجہ یہ کہ وہاں پر بھی شبۂ ملک ہے بھئی، کیونکہ حضور علیہ السلام کے پاس ایک صحابی تشریف لائے اور اپنے بیٹے کی شکایت کی کہ وہ مجھ سے مال کو چھپا کر رکھتا ہے، تو حضور علیہ السلام نے ان کے بیٹے کو بلوایا اور ان سے کہا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ تو اور تیرا مال تیرے باپ کے ہیں بھئی۔ تو دیکھو اس حدیث کی وجہ سے شبۂ ملک آ گیا کہ بیٹا بھی کیا ہے؟ باپ کی ملکیت ہے تو اس شبۂ ملک کی وجہ سے اب باپ پر سے قصاص ساقط ہو جائے گا۔ تو جب شبۂ ملک کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اس مسئلے کے اندر تو آقا نے اپنی باندی قتل کی ہے جہاں شبۂ ملک نہیں ہے بلکہ باقاعدہ اس کی اپنی ملک ہے، وہ اس کا اپنا مال ہے، تو جب شبۂ ملک کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے تو اپنی ملکیت ہونے کی صورت میں تو بطریق اولیٰ قصاص ساقط ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور نیز نیز قرآن میں ہے ماں باپ کے بارے میں: ﴿فَلَا تَقُلْ لَهُمَا أُفٍّ﴾ کہ ماں باپ کو اف بھی نہ کہو، تو اگر باپ پر قصاص آئے گا تو باپ کو تو اس قصاص کی وجہ سے تکلیف ہو گی، ظاہر سی بات ہے جب قتل کیا جائے گا تو تکلیف ہو گی، اور یہ تکلیف کا سبب کون بنا؟ بیٹے کا قتل، تو لہٰذا گویا بیٹے کی طرف سے تکلیف آئی، تو جب اف کہنے سے منع کیا گیا ہے، اف کی تکلیف دینے سے منع کیا گیا ہے تو قتل کی تکلیف سے بطریق اولیٰ منع ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اچھا تو بات کیا چل رہی تھی کہ آقا اپنی باندی کو قتل کرے تو وہاں قصاص بھی نہیں آئے گا اور دیت بھی نہیں آئے گی، البتہ کفارہ آئے گا۔ کفارہ آئے گا، اور کفارہ کیا ہے کہ ایک مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا یا ساٹھ روزے مسلسل رکھنا پڑیں گے۔ تو بات چل رہی تھی امام زفر رحمہ اللہ نے خودکشی کو آقا کے قتل پر قیاس کیا تھا، ہم نے کہا نہیں، خودکشی تو طبعی موت کی طرح ہے اس کا کوئی دنیاوی حکم نہیں ہے جبکہ آقا کا قتل اس میں تو دنیاوی احکام آتے ہیں بھئی، چنانچہ آقا پر کفارہ واجب ہو جاتا ہے، تو لہٰذا دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جائے گا۔ خودکشی طبعی موت کی طرح ہے اور آقا کا اپنی باندی کو قتل کرنا یہ طبعی موت کی طرح نہیں ہے، اس میں دنیاوی احکام یعنی کفارہ آتا ہے۔ اور نیز انہوں نے قیاس کیا تھا مرتد ہونے پر، جیسے مرتَدہ جو ہے وہ مانع بن گئی، وہ فرماتے ہیں یہ خودکشی کرنے والی بھی مانع بن گئی تو اس کو بھی مہر نہیں ملے گا، ہم کہتے ہیں نہیں آپ مرتَدہ پر بھی اس کو قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ مرتَدہ کے اندر بھی دنیاوی احکام آتے ہیں، وہ جب مرتَدہ ہوتی ہے تو دیکھو نکاح فسخ ہو جاتا ہے اس کا، اور نیز نیز اس کو جیل میں ڈالا جاتا ہے، قید میں ڈالا جاتا ہے تو مرتَدہ کے اندر دنیاوی احکام ہیں اور خودکشی کرنے والی میں دنیاوی احکام نہیں ہیں، تو لہٰذا آپ اس خودکشی کرنے والی کو مرتَدہ پر قیاس نہیں کر سکتے کیونکہ دونوں میں فرق ہے بھئی، ایک میں دنیاوی احکام ہیں اور ایک میں دنیاوی احکام نہیں ہیں بھئی۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ جِنَايَةَ الْمَرْءِ عَلَى نَفْسِهِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ کسی شخص کی جنایت اپنی ذات پر ﴿غَيْرُ مُعْتَبَرَةٍ فِي حَقِّ أَحْكَامِ الدُّنْيَا﴾ یہ دنیاوی احکام کے سلسلے میں غیر معتبر ہے، کوئی شخص اپنی ذات پر جنایت کرے تو یہ دنیاوی احکام کے سلسلے میں غیر معتبر ہے، دنیاوی احکام نہیں آتے ﴿فَشَابَهَ مَوْتَهَا حَتْفَ أَنْفِهَا﴾ تو اس عورت کا اپنے آپ کو قتل کرنا یہ مشابہ ہو گیا اس کی اپنی طبعی موت کے ﴿بِخِلَافِ قَتْلِ الْمَوْلَى أَمَتَهُ﴾ بخلاف آقا کے اپنے باندی کو قتل کرنا ﴿لِأَنَّهُ يُعْتَبَرُ فِي أَحْكَامِ الدُّنْيَا﴾ وہ دنیاوی احکام کے سلسلے میں معتبر ہے ﴿حَتَّى تَجِبُ الْكَفَّارَةُ عَلَيْهِ﴾ یہاں تک کہ آقا پر کفارہ واجب ہوتا ہے۔ بھئی یاد رکھنا یہاں پر بھی حتّٰی نصب نہیں دے گا، یہاں پر بھی حتّٰی نصب نہیں دے گا، میں نے بتلایا تھا کہ حتّٰی کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ حتّٰی کا مابعد جو ہے وہ مستقبل ہونا چاہیے حتّٰی کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور دوسری شرط یہ ہے کہ حتّٰی جو ہے سببیت یا غایت کا فائدہ دے، اور یہاں یہ شرطیں پوری نہیں ہیں لہٰذا حتّٰی نصب نہیں دے گا، حتّٰی کے بعد أَنْ مقدر نہیں ہو گا۔ آگے دیکھیے بھئی: ﴿وَإِذَا تَزَوَّجَ أَمَةً فَالْإِذْنُ فِي الْعَزْلِ إِلَى الْمَوْلَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى أَنَّ الْإِذْنَ إِلَيْهَا﴾ بھئی یہاں عزل کا مسئلہ آیا۔ عزل اسے کہتے ہیں کہ انسان بیوی کے ساتھ صحبت کرے اور اخراج منی خارج میں کرے تاکہ عورت حاملہ نہ ہو، تاکہ کہیں حمل نہ ٹھہر جائے۔ تو حمل سے اپنے آپ کو بچانے کے لیے خارج کے اندر منی کا اخراج کرنا اس کو عزل کہتے ہیں بھئی۔ اب ایک شخص اپنی بیوی سے عزل کرتا ہے تو یاد رکھو یہ جو اولاد ہے یہ بیوی کا بھی حق ہے، صرف خاوند کا حق نہیں بلکہ بیوی کا بھی حق ہے تو اس کے اندر بیوی کی اجازت ضروری ہے۔ اب مسئلہ یہ کہ ایک شخص نے ایک باندی سے نکاح کیا ہے تو اس باندی سے عزل کرنے میں کیا اس باندی سے اجازت لینا ہو گی یا اس کے آقا سے اجازت لینا ہو گی؟ یعنی خاوند کوئی ایسی صورت اختیار کرتا ہے جس سے عورت کو حمل نہ ٹھہر سکے تو کیا اس کے لیے اس باندی سے، یہ جو اس کی منکوحہ ہے، اس سے اجازت لینا پڑے گی یا اس کے آقا سے اجازت لینا پڑے گی؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو باندی سے اولاد پیدا ہوتی ہے یہ بھی اسی آقا کے غلام اور باندیاں ہوتے ہیں۔ توجہ ہے؟ میں نے بتایا تھا کہ اولاد آزادی اور غلامی کے اندر ماں کے تابع ہوتی ہے، اگر ماں آزاد ہے تو اولاد آزاد، اور اگر ماں باندی ہے تو اولاد بھی غلام اور باندیاں ہوں گے، تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس باندی سے جو اولاد ہو گی وہ اسی آقا کے غلام اور باندیاں ہوں گے، معلوم ہوا وہ اس آقا کا حق ہیں۔ یہ اس کی اولاد کیا ہے؟ آقا کا حق ہے، لہٰذا یہاں عزل کرنے میں باندی سے اجازت نہیں لینا پڑے گی بلکہ آقا سے اجازت لینا پڑے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، یہاں پر یہ صحبت جو ہے یہ اس باندی کا حق ہے، حتّٰی کہ اگر مثلاً دیکھو ایک شخص نے ایک آزاد، دوسری صورت دیکھ لیں، ایک شخص نے ایک آزاد عورت سے نکاح کیا ہے تو یاد رکھو اب یہ اس شخص کی منکوحہ ہے اور صحبت اب اس عورت کا حق ہے، خاوند پر لازم ہے کہ اس کے ساتھ صحبت کرے۔ اگر خاوند ویسے ہی اس کو روک کر رکھتا ہے، اس کو چھوڑتا بھی نہیں اور صحبت بھی نہیں کرتا تو پھر اس صورت میں اس کی بیوی قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے اور پھر قاضی خاوند کو حکم دے گا وطی کا۔ تو لہٰذا جیسے آزاد عورت جو ہے وطی کے سلسلے میں مطالبہ کر سکتی ہے، بھئی دلیل چل رہی ہے صاحبین کی، صاحبین فرماتے ہیں کہ جیسے آزاد عورت جو ہے وہ قاضی کے پاس جا کر وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے اسی طرح وطی باندی کا حق ہے، حتّٰی کہ یہ قاضی کے پاس جا کر بھی وطی کا مطالبہ کر سکتی ہے، جیسے آزاد بیوی جو ہے وہ قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے یہ باندی بھی قاضی کے پاس جا کر مطالبہ کر سکتی ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ وطی اس باندی کا حق ہے۔ جب یہ اس باندی کا حق ہے تو یہاں پر عزل کے اندر بھی خاوند کو اسی سے اجازت لینا پڑے گی، جبکہ امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ باندی سے پیدا ہونے والی اولاد وہ آقا کا حق ہے لہٰذا وہاں آقا سے اجازت لینا پڑے گی۔ مسئلہ سمجھ میں آیا؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا تَزَوَّجَ أَمَةً﴾ اور جب کسی شخص نے کسی باندی سے نکاح کر لیا ﴿فَالْإِذْنُ فِي الْعَزْلِ إِلَى الْمَوْلَى﴾ تو عزل کے اندر اجازت جو ہے وہ آقا کے سپرد ہو گی یعنی آقا سے اجازت لینا پڑے گی ﴿عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ﴾ امام صاحب کے نزدیک، ﴿وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى أَنَّ الْإِذْنَ إِلَيْهَا﴾ اور صاحبین کے نزدیک اجازت اسی منکوحہ باندی کے سپرد ہے، اسی سے اجازت لی جائے گی ﴿لِأَنَّ الْوَطْءَ حَقُّهَا﴾ اس لیے کیونکہ وطی جو ہے یہ اس باندی کا حق ہے ﴿حَتَّى ثَبَتَ لَهَا وِلَايَةُ الْمُطَالَبَةِ﴾ یہاں تک کہ اس کے لیے مطالبے کی ولایت بھی ثابت ہے، یہ قاضی کے پاس جا کر بھی مطالبہ کر سکتی ہے ﴿وَفِي الْعَزْلِ تَنْقِيصُ حَقِّهَا﴾ اور عزل کے اندر تو اس کے حق میں کمی کرنا ہے، خاوند کیا کر رہا ہے؟ عزل کے ذریعے اس کے حق میں کمی کرنا چاہتا ہے، ﴿فَيُشْتَرَطُ رِضَاهَا كَمَا فِي الْحُرَّةِ﴾ تو اسی منکوحہ باندی کی رضامندی شرط ہو گی جیسے کہ آزاد عورت میں ہے کہ اگر آزاد عورت منکوحہ ہو تو عزل میں اس سے اجازت لینا پڑے گی۔ ﴿بِخِلَافِ الْأَمَةِ الْمَمْلُوكَةِ﴾ بخلاف اس باندی کے جو اس کی مملوکہ ہو، وطی کرنے والے کی اپنی مملوکہ ہو، اس باندی کے ﴿لِأَنَّهُ لَا مُطَالَبَةَ لَهَا﴾ اس کے لیے کوئی مطالبہ نہیں ہے۔ بھئی باندی کے ساتھ آقا کے لیے صحبت جائز ہوتی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ آقا ضرور اس سے صحبت کرے، باندی کو تو عموماً کام کاج کے لیے رکھا جاتا ہے، لہٰذا آقا کی مرضی ہے صحبت کرے یا نہ کرے، حتّٰی کہ یہ جو عام باندی ہے یہ مطالبہ بھی نہیں کر سکتی قاضی کے پاس جا کر وطی کا۔ معلوم ہوا یہ وطی اس کا حق نہیں ہے۔ تو لہٰذا جب وطی اس کا حق نہیں ہے تو اس مملوکہ باندی کے اندر عزل کے لیے اجازت لینے کی بھی آقا کو ضرورت نہیں ہے۔ ﴿بِخِلَافِ الْأَمَةِ الْمَمْلُوكَةِ﴾ بخلاف وہ باندی جو اس وطی کرنے والے کی مملوکہ ہو ﴿لِأَنَّهُ لَا مُطَالَبَةَ لَهَا﴾ اس کے لیے کوئی مطالبہ نہیں ہے یعنی اسے مطالبے کا حق نہیں ہے ﴿فَلَا يُعْتَبَرُ رِضَاهَا﴾ لہٰذا اس کی رضامندی بھی معتبر نہیں ہے۔ ﴿وَجْهُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ﴾ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے، وہ جو متن میں آیا تھا، متن میں آیا تھا امام صاحب کیا فرماتے ہیں کہ منکوحہ باندی سے خاوند عزل کرنا چاہتا ہے تو کس سے اجازت لینا پڑے گی؟ اس کے آقا سے، اس کے آقا سے اجازت لینا پڑے گی، تو اس کی اب وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ ﴿وَجْهُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ أَنَّ الْعَزْلَ يُخِلُّ بِمَقْصُودِ الْوَلَدِ﴾ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ عزل جو ہے اس کی وجہ سے خلل آتا ہے مقصود ولد کے اندر۔ یہ مقصود مضاف ہے الولد مضاف الیہ ہے اور یہ اضافت بیانی ہے۔ اضافت بیانی کسے کہتے ہیں؟ جس میں مضاف الیہ مضاف کا بیان کرتا ہے۔ مضاف کیا ہے؟ مقصود۔ ذرا اضافت کو توڑ دیں کہ عزل خلل ڈالنے والا ہے مقصود میں، بھئی وہ مقصود کیا ہے؟ ﴿الْوَلَدِ﴾ وہ جو ولد ہے، نکاح کے ذریعے وہ جو بچہ مقصود ہوتا ہے اس میں عزل کی وجہ سے خلل آئے گا، بچہ نہیں ہو سکے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَجْهُ ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ أَنَّ الْعَزْلَ يُخِلُّ بِمَقْصُودِ الْوَلَدِ﴾ ظاہرِ روایت کی وجہ یہ ہے کہ عزل جو ہے خلل ڈالنے والا ہے اس مقصود میں جو کہ ولد ہے ﴿وَهُوَ حَقُّ الْمَوْلَى﴾ اور وہ ولد تو آقا کا حق ہے ﴿فَيُعْتَبَرُ رِضَاهُ﴾ لہٰذا اس لیے آقا کی رضامندی معتبر ہو گی، اس سے اجازت لینا پڑے گی ﴿وَبِهَذَا فَارَقَتِ الْحُرَّةَ﴾ اور اس وجہ سے یہ منکوحہ باندی جدا ہو گئی آزاد عورت سے۔ صاحبین نے اس منکوحہ باندی کو کس پر قیاس کیا تھا؟ آزاد بیوی پر، اور جیسے یہ وطی آزاد عورت کا حق ہوتا ہے حتّٰی کہ اسے مطالبے کا بھی حق ہے اسی طرح وہ فرماتے ہیں کہ یہ منکوحہ باندی سے جو وطی ہے یہ اس باندی کا بھی حق ہے حتّٰی کہ یہ بھی مطالبہ کر سکتی ہے۔ تو اس منکوحہ باندی کو انہوں نے کس پر قیاس کیا تھا؟ آزاد عورت پر، اور آزاد عورت کے اندر تو خاوند اس کی مرضی کے بغیر عزل نہیں کر سکتا تو اس باندی کے اندر بھی اس کی مرضی کے بغیر عزل نہیں کر سکتا، تو اس کا جواب دے رہے ہیں: ﴿وَبِهَذَا فَارَقَتِ الْحُرَّةَ﴾ اور اس دلیل سے یہ باندی جدا ہو گئی آزاد عورت سے، دونوں میں فرق آ گیا۔ بھئی ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کرتے ہیں، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا۔ تو یہاں کہتے ہیں ہم نے یہ جو ہم نے دلیل ذکر کی اس سے دونوں میں فرق ہو گیا کہ منکوحہ باندی کے اندر جو اولاد ہے وہ آقا کا حق ہے اور آزاد منکوحہ کے اندر جو اولاد ہے وہ اس آزاد عورت کا اپنا حق ہے، تو دونوں مختلف ہو گئیں، ایک میں اولاد آقا کا حق اور دوسری میں اولاد اس کا اپنا حق، تو دونوں جب الگ الگ ہیں تو ایک کو دوسرے پر آپ قیاس نہیں کر سکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَبِهَذَا فَارَقَتِ الْحُرَّةَ﴾ اور اس دلیل سے یہ جو منکوحہ باندی ہے یہ جدا ہو گئی آزاد عورت سے یعنی دونوں میں فرق آ گیا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 38 of 160