Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-068

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 65
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
دیکھیے بھئی سبق آگے: ”وَمَنْ خَالَعَ ابْنَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ بِمَالِهَا لَمْ يَجُزْ عَلَيْهَا، لِأَنَّهُ لَا نَظَرَ لَهَا فِيهِ، إِذِ الْبُضْعُ فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ، وَالْبَدَلُ مُتَقَوَّمٌ، بِخِلَافِ النِّكَاحِ، لِأَنَّ الْبُضْعَ مُتَقَوَّمٌ عِنْدَ الدُّخُولِ، وَلِهَذَا يُعْتَبَرُ خُلْعُ الْمَرِيضَةِ مِنَ الثُّلُثِ، وَنِكَاحُ الْمَرِيضِ بِمَهْرِ الْمِثْلِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“. بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا اگر خاوند نے بیوی سے کہا: ”أَنْتِ طَالِقٌ عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنِّي بِالْخِيَارِ“ ”أَوْ عَلَى أَنَّكِ بِالْخِيَارِ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“، بیوی سے کہا کہ تجھے طلاق ہے ایک ہزار درہم کی شرط پر اور مجھے اختیار ہوگا تین دن تک، تو اپنے لیے خیارِ شرط رکھ لیا تین دن تک۔ اور یا بیوی کو خیارِ شرط دیا کہ تجھے ایک ہزار درہم کی شرط پر طلاق ہے اور ساتھ تجھے تین دن کا اختیار ہے، تم اس کو فسخ کرنا چاہو تو فسخ کر سکتی ہو، تو بیوی نے قبول کر لیا۔ تو قبول کر لیا، تو امام صاحب کے نزدیک اگر خاوند نے خیارِ شرط اپنے لیے رکھا ہے تو وہ خیار باطل ہے۔ طلاق تو واقع ہو جائے گی البتہ خاوند کا اپنے لیے خیار رکھنا باطل ہے۔ اور اگر بیوی کے لیے خیار رکھا ہے تو بیوی کا خیار جائز ہے۔ تو اگر اس نے اس مدت کے دوران اس طلاق کو باطل کر دیا تو طلاق باطل ہو جائے گی اور عوض بھی کچھ نہیں آئے گا۔ اور اگر مدت گزر گئی اور اس نے اس کو باطل نہ کیا تو طلاق بھی واقع ہو گئی اور اس پر ایک ہزار بھی لازم ہو گئے۔ تو امام صاحب کے نزدیک خاوند کے لیے خیار جائز نہیں، بیوی کے لیے خیار رکھنا جائز ہے۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، خیار نہ خاوند کے لیے جائز ہے نہ بیوی کے لیے جائز ہے، لہٰذا دونوں صورتوں میں خیار تو باطل ہو جائے گا۔ البتہ بیوی نے قبول کر لیا ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی اور بیوی پر ایک ہزار درہم لازم ہو جائیں گے۔ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ جو خیارِ شرط ہے اس کو وضع کیا گیا ہے فسخ کے لیے، اور یہاں نہ خاوند کا فعل فسخ کو قبول کرتا ہے اور نہ بیوی کا فعل جو ہے فسخ کو قبول کرتا ہے۔ خاوند کا فعل تعلیق ہے یعنی یمین ہے، اور یمین ایک دفعہ ہو جائے تو اس سے رجوع نہیں ہو سکتا یعنی اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ خاوند نے کیا کہا کہ تجھے طلاق ہے ایک ہزار کی شرط پر، تو دیکھو یہ یمین ہے تعلیق ہے، لہٰذا یہ فسخ نہیں ہو سکتی، لہٰذا خاوند کا اپنے لیے خیار رکھنا جائز نہیں۔ اور بیوی نے جو ہے قبول کیا ہے یعنی فعلِ شرط کو وجود دیا۔ کس کو؟ فعلِ شرط کو۔ آپ کے ذہن میں بار بار یہ مسائل ذکر ہو رہے ہیں شاید آپ کے ذہن میں خیال آ رہا ہو کہ بیوی کے قبول کی تو شرط نہیں ذکر کی، اس نے تو ہزار درہم کی شرط رکھی ہے، تو جواب یہ کہ بات وہی ہے وہ ہزار درہم بیوی پر لازم ہونے ہیں اور کسی کے مرضی کے بغیر اس پر مال لازم نہیں ہو سکتا، تو گویا بیوی کا قبول کرنا ضروری ہے۔ بیوی قبول کرے گی تو پھر لہٰذا اس پر یہ ہزار لازم ہوں گے ویسے لازم نہیں، تو لہٰذا بیوی نے قبول کیا ہے اور قبول شرط تھا تو شرط کو بیوی نے وجود دیا، اور شرط کو ایک دفعہ وجود دے دیا جائے تو پھر اس سے بھی رجوع نہیں ہو سکتا، اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ لہٰذا بیوی نے کہہ دیا مجھے قبول ہے تو ساتھ ہی طلاق ہو گئی اور اس پر ہزار درہم بھی لازم ہو گئے۔ بعد میں بیوی کہتی ہے نہیں نہیں، میں اپنے قول سے رجوع کرتی ہوں، نہ مجھے طلاق کی حاجت ہے اور نہ میں تمہیں پیسے دوں گی، نہیں بھئی! آپ نے فعلِ شرط کو وجود دے دیا اب طلاق بھی ہو گئی اور آپ پر ہزار درہم بھی لازم ہو گئے۔ تو شرط کو جب ایک دفعہ وجود دے دیا جائے تو اس میں رجوع نہیں ہو سکتا یعنی اس کو فسخ نہیں کیا جا سکتا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں خاوند کا فعل ہے یمین، وہ بھی فسخ کو قبول نہیں کرتا، اور بیوی کا فعل جو ہے وجودِ شرط ہے کہ اس نے شرط کو وجود دیا ہے، وہ بھی فسخ کو قبول نہیں کرتا، اور خیارِ شرط تو فسخ کے لیے ہوتا ہے، لہٰذا یہاں خیار آ ہی نہیں سکتا نہ خاوند کے لیے اور نہ بیوی کے لیے۔ لہٰذا خیار تو باطل ہو گیا۔ البتہ عورت نے چونکہ قبول کر لیا ہے تو طلاق بھی واقع ہو گئی اور اس پر ایک ہزار درہم بھی لازم ہو گئے۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ خلع کے اندر دو جانبیں ہیں۔ بیوی کی طرف سے دیکھیں تو یہ بیع ہے، وہ مال دے کر اپنی ذات کو خاوند سے خرید رہی ہے اپنے آپ کو آزاد کروا رہی ہے، اور خاوند کی طرف سے دیکھیں تو یہ یمین ہے۔ خاوند کیا کر رہا ہے؟ ایک ہزار کی شرط پر طلاق کو معلق کر رہا ہے۔ تو لہٰذا بیوی کی طرف سے جب یہ یمین ہے تو بیوی کے لیے خیارِ شرط بھی جائز ہوگا جیسے بیع کے اندر مشتری کے لیے خیارِ شرط جائز ہوتا ہے، تو یہاں بھی بیوی کے لیے خیارِ شرط جائز ہوگا، اور نیز اس کی دلیل بھی موجود ہے کہ بیوی کے لیے یہ بیع کے درجے میں ہے کہ اگر بیوی خلع کی بات کرتی ہے تو بیوی رجوع بھی کر سکتی ہے۔ خاوند جب خلع کی بات کرے کہ میں تجھ سے خلع کرتا ہوں ایک ہزار کی شرط پر، تو پھر اس صورت کے اندر یہ یمین ہے، خاوند اس سے رجوع نہیں کر سکتا، اور نیز یہ مجلس پر بھی بند نہیں ہے، تو مجلس کے بعد بھی عورت اس کو قبول کر سکتی ہے۔ جبکہ بیوی کی طرف سے اگر خلع کی بات آئے یا طلاق علی العوض کی بات آئے تو یہ بیع ہے۔ بیع ہے اور بیع کے اندر ایجاب جو ہے وہ مجلس تک ہی رہتا ہے، مجلس کے اندر قبول ضروری ہے، اور نیز ایجاب کے اندر رجوع بھی ہو سکتا ہے۔ تو لہٰذا بیوی کے لیے تو خیارِ شرط جائز ہوگا، خاوند کے لیے خیارِ شرط جائز نہیں کیونکہ خاوند کی طرف سے یہ یمین ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو یہ بھی بتلایا کہ اگر آقا غلام کی آزادی کو اسی طرح ایک ہزار پر معلق کرتا ہے تو وہاں بھی یہی صورت ہوگی۔ آقا اگر اپنے لیے خیارِ شرط رکھے گا تو وہ درست نہیں ہے کیونکہ آقا کی طرف سے یہ یمین ہے، اور اگر غلام کے لیے خیارِ شرط رکھے گا تو غلام کے لیے یہ بیع کے درجے میں ہے کہ وہ مال دے کر اپنے آپ کو چھڑوا رہا ہے آزاد کروا رہا ہے، تو غلام کے لیے خیارِ شرط جائز ہوگا بھئی۔ اور پھر اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ جس شخص نے اپنی بیوی سے کہا کہ میں نے کل تجھے طلاق دی تھی ایک ہزار درہم کی شرط پر تو تو نے قبول نہیں کیا تھا، بیوی کہتی ہے نہیں میں نے قبول کر لیا تھا، تو اس صورت میں خاوند کا قول معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ خاوند تعلیق کا اقرار کر رہا ہے اور تعلیق کا اقرار کرنے سے شرط کا اقرار لازم نہیں آتا بھئی، تعلیق خاوند نے کرنی ہے اور شرط کو بیوی نے وجود دینا ہے، تو تعلیق کا اقرار کرنے سے یہ لازم نہیں آتا کہ شرط بھی اس کے ساتھ ضروری ہو بھئی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص دوسرے شخص سے کہتا ہے کہ یہ غلام میں نے تمہیں کل ایک ہزار درہم کے بدلے بیچا تھا تو تم نے قبول نہیں کیا تھا، تو وہ خریدار کہتا ہے نہیں میں نے قبول کر لیا تھا، تو اس صورت کے اندر جو خریدار ہے اس کا قول معتبر ہے۔ وجہ یہ کہ جب بیچنے والے نے کہا کہ میں نے کل تمہیں یہ غلام بیچا تھا تو بیچنے کے اندر ایجاب بھی ہوتا ہے اور قبول، ویسے تو بیچنا یعنی بیع والا فعل نہیں پایا جاتا، تو جب اس نے بیع کا اقرار کر لیا تو ساتھ ہی دوسرے کے قبول کا بھی اقرار کر لیا، اور پھر بعد میں اب کہتا ہے کہ تو نے قبول نہیں کیا تھا تو اب اس قبول سے وہ رجوع کرنا چاہتا ہے، تو ایک دفعہ جب چیز کا اقرار کر لیا جائے تو پھر اس سے رجوع نہیں ہو سکتا بھئی۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو یہاں پر مشتری کا قول معتبر ہوگا جبکہ پہلے مسئلے میں خاوند کا قول معتبر ہوگا بھئی۔ اور پھر اس کے بعد مبارات کا ذکر آیا تھا۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ مبارات بھئی یہ براءت سے ہے۔ کس سے ہے؟ براءت سے بابِ مفاعلہ ہے۔ براءت کا معنی ہے بری کرنا، معاف کرنا۔ تو مبارات یعنی دونوں جانب سے براءت آئے بھئی، دونوں ایک دوسرے کے حقوق معاف کر دیں، اس کو کیا کہتے ہیں؟ مبارات۔ خاوند بیوی کے تمام حقوق معاف کر دیتا ہے اور بیوی خاوند کے تمام حقوق معاف کر دیتی ہے یعنی وہ جو نکاح سے متعلق ہیں، اس کے اندر مثلاً خاوند کے ذمے مہر ہے یا کوئی نفقہ وغیرہ ہے جو قاضی نے مقرر کیا تھا اور اس نے ابھی تک ادا نہیں کیا، تو یہ سارے حقوق مبارات کے اندر معاف۔ اسی طرح امام صاحب فرماتے ہیں خلع کا بھی یہی حکم ہے۔ مبارات میں بھی نکاح سے متعلق تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں اور خلع کے اندر بھی نکاح سے متعلق تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مبارات اور خلع میں کوئی حق ساقط نہیں ہوگا سوائے ان حقوق کے جن کو یہ باقاعدہ ذکر کر دیں، تو جن کو یہ ذکر کریں گے وہ معاف ہوں گے، جن کو ذکر نہیں کریں گے وہ معاف نہیں ہوں گے بھئی۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ وہ مبارات کے اندر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں اور خلع کے اندر امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ مبارات مطلق ہے اور اس کے ساتھ کوئی قید نہیں، یہ تو تقاضا کرتا ہے دونوں کا ایک دوسرے پر ہر ہر حق ساقط ہونا چاہیے، لیکن ہم نے اس کو نکاح کے ساتھ خاص کر دیا اس لیے کیونکہ نکاح کا جھگڑا چل رہا ہے اس وقت، لہٰذا بیع و شراء کی وجہ سے میاں بیوی پر اگر ایک دوسرے کے لیے مال واجب تھا وہ اسی طرح رہے گا البتہ نکاح کے حقوق ایک دوسرے سے ساقط ہو جائیں گے۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جس طرح مبارات مطلق ہے اسی طرح خلع بھی مطلق ہے، اور خلع کا معنی ہے جدا ہونا، تو یہاں پر بھی کامل جدائی تب آئے گی جب طلاق کے ساتھ ساتھ نکاح کے حقوق بھی ایک دوسرے سے ساقط ہو جائیں، پھر کامل طور پر جدائی آ گئی۔ تو لہٰذا چاہے مبارات ہو چاہے خلع، یہ جب مطلق ہے تو دونوں کے ایک دوسرے پر تمام حقوق ساقط ہو جائیں گے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: ”وَمَنْ خَالَعَ ابْنَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ بِمَالِهَا لَمْ يَجُزْ عَلَيْهَا“ صورتِ مسئلہ یہ کہ باپ نے اپنی نابالغ بیٹی کا کہیں نکاح کروا دیا تھا، اب بعد میں کسی وجہ سے وہ اس رشتے کو ختم کرنا چاہتا ہے تو بیٹی کی طرف سے باپ جو ہے وہ خلع کرتا ہے۔ باپ جو ہے وہ بیٹی کی طرف سے خلع کرتا ہے اور خلع کے اندر وہ بیٹی ہی کا مال دینا چاہتا ہے، مثلاً وہ نابالغ بیٹی ہے لیکن اس کو کہیں سے مال مل گیا، مثلاً اس کی ماں کا انتقال ہوا تو اس کی وراثت میں مال اس کو ملا، یا کسی اور رشتہ دار نے وصیت کی تھی کہ میرے مرنے کے بعد میری جائداد میں سے اتنا مال اس صغیرہ کو دے دینا، تو اب صغیرہ کا مال ہے۔ اب باپ خلع کے اندر صغیرہ کا مال دینا چاہتا ہے، کہتے ہیں یہ جائز نہیں۔ تو باپ صغیرہ کا مال نہیں دے سکتا خلع کے اندر۔ وجہ یہ کہ باپ کو شریعت نے صغیر اور صغیرہ کے مال پر ولایت دی ہے۔ باپ کو صغیر اور صغیرہ کے مال پر شریعت نے ولایت دی ہے، ضرورت کے مطابق باپ ان کے مال میں سے ان پر خرچ کر سکتا ہے، ان کے لیے کوئی چیز خرید سکتا ہے، ان کی کوئی چیز بیچ سکتا ہے، لیکن اس میں نقصان نہیں ہونا چاہیے بھئی۔ تو شریعت نے باپ کو جو یہ صغیر اور صغیرہ کے مال پر ولایت دی ہے یہ شفقت کی وجہ سے ہے، اور یہاں خلع کے اندر وہ صغیرہ کا مال دے گا تو اس میں کوئی شفقت نہیں، اور جب شفقت نہیں تو باپ کو یہاں ولایت بھی حاصل نہیں، جہاں شفقت ہوگی باپ کو ولایت ہوگی، جہاں شفقت نہیں باپ کو ولایت بھی نہیں۔ بھئی یہاں شفقت کس طرح نہیں ہے؟ کہتے ہیں دیکھو خلع کے اندر بضع ملکیت سے نکلتا ہے، خاوند بضع پر سے اپنی ملکیت ختم کر رہا ہے، اور آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ملکیت سے نکلتے وقت بضع غیرِ متقوم ہوتا ہے۔ جب کوئی شخص نکاح کرتا ہے یعنی بضع ملکیت کے اندر داخل ہوتا ہے وہاں تو مہر دینا ضروری ہے، مہر کے بغیر بضع ملکیت میں داخل نہیں ہو سکتا، تو بضع جو ہے ملکیت میں داخل ہوتے وقت تو متقوم ہے لیکن ملکیت سے نکلتے وقت متقوم نہیں۔ تو اس وقت خلع ہو رہا ہے بضع ملکیت سے نکل رہا ہے اور یہ غیرِ متقوم ہے، اور اس کے بدلے میں باپ صغیرہ کا مال دینا چاہتا ہے اور مال تو متقوم ہے، تو ایک متقوم چیز ادا کرنا غیرِ متقوم چیز کے لیے اس میں کسی بھی لحاظ سے شفقت نہیں ہے، لہٰذا باپ کو یہ ولایت حاصل نہیں ہوگی بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَمَنْ خَالَعَ ابْنَتَهُ وَهِيَ صَغِيرَةٌ بِمَالِهَا“ اور جس نے اپنی بیٹی کا خلع کیا اس حال میں کہ وہ صغیرہ ہے یعنی نابالغہ ہے، اور یہ خلع کیا ہے ”بِمَالِهَا“ اس بیٹی کے مال کے عوض، ”لَمْ يَجُزْ عَلَيْهَا“ تو یہ اس بیٹی پر جائز نہیں، باپ اس کا مال نہیں دے سکتا۔ ”لِأَنَّهُ لَا نَظَرَ لَهَا فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر بیٹی کے لیے کوئی شفقت نہیں ہے، ”إِذِ الْبُضْعُ فِي حَالَةِ الْخُرُوجِ غَيْرُ مُتَقَوَّمٍ“ اس لیے کیونکہ بضع جو ہے ملکیت سے نکلنے کی حالت میں غیرِ متقوم ہوتا ہے اس کی کوئی قیمت نہیں ہوتی، ”وَالْبَدَلُ مُتَقَوَّمٌ“ اور جو بدل باپ دے گا یعنی جو صغیرہ کا مال دے گا وہ تو متقوم ہے، تو غیرِ متقوم کے لیے متقوم کو خرچ کرنا یہ اس میں کسی طرح بھی شفقت نہیں ہے۔ ”بِخِلَافِ النِّكَاحِ لِأَنَّ الْبُضْعَ مُتَقَوَّمٌ عِنْدَ الدُّخُولِ“ بخلاف نکاح کے، اس لیے کیونکہ بضع متقوم ہوتا ہے ”عِنْدَ الدُّخُولِ“ ملکیت میں داخل ہوتے وقت۔ بھئی اس کے مقابلے میں باپ اپنے نابالغ بیٹے کا نکاح کرواتا ہے، اور نکاح کرواتا ہے اسی نابالغ بیٹے کے مال کے عوض، یعنی مہر میں وہی بیٹے کا مال دیا جائے گا بیوی کو، تو یہ جائز ہے۔ وجہ یہ کہ نکاح کے اندر بضع ملکیت میں داخل ہوتا ہے اور بضع ملکیت میں داخل ہوتے وقت تو متقوم ہے، لہٰذا باپ اگر بیٹے کا مال بطورِ مہر کے لگا رہا ہے تو دوسری طرف سے بھی ایک متقوم چیز آ رہی ہے، لہٰذا مہرِ مثل تک ایسا کرنا جائز ہے۔ یعنی باپ نابالغ بیٹے کا نکاح کرواتا ہے اور کتنا مہر مقرر کرتا ہے؟ مہرِ مثل تک یا اس سے کم، پھر تو جائز ہے، مہرِ مثل سے زائد میں جائز نہیں ہے کیونکہ اس میں شفقت نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ النِّكَاحِ“ بخلاف نکاح کے ”لِأَنَّ الْبُضْعَ مُتَقَوَّمٌ عِنْدَ الدُّخُولِ“ کہ بضع متقوم ہوتا ہے ملکیت میں داخل ہوتے وقت، لہٰذا اس کی ولایت باپ کو حاصل ہوگی بھئی۔ ”وَلِهَذَا يُعْتَبَرُ خُلْعُ الْمَرِيضَةِ مِنَ الثُّلُثِ وَنِكَاحُ الْمَرِيضِ بِمَهْرِ الْمِثْلِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ کہتے ہیں اسی وجہ سے اگر ایک عورت ہے وہ مرض الموت میں مبتلا ہے اور وہ اپنے خاوند سے خلع کرتی ہے اور خلع کے اندر مال دینا چاہتی ہے، تو خلع کر رہی ہے اور خلع کے اندر تو بضع ملکیت سے نکلتا ہے اور بضع کا ملکیت سے نکلنا غیرِ متقوم ہے بھئی۔ تو جب یہ غیرِ متقوم ہے اور وہ مرض الموت میں جو عورت ہے وہ مال دینا چاہتی ہے تو یوں سمجھا جائے گا گویا یہ مفت میں مال دے رہی ہے۔ کیا کر رہی ہے؟ مفت میں، حالانکہ یہ مرض الموت میں مبتلا ہے اور مرض الموت میں وارثوں کا حق اس کے مال کے ساتھ متعلق ہو چکا ہے، اب کچھ دنوں کے بعد یہ مال ان کی طرف منتقل ہونے والا ہے، تو مرض الموت میں جو خلع کر رہی ہے عورت تو یہ اسی طرح ہوا جیسے وہ مال مفت میں دے رہی ہے، تو لہٰذا یہ ثلث تک جائز ہوگا اس سے زائد مال میں نہیں۔ وہ اپنے مال کے ثلث تک جو ہے اس پر خلع کر سکتی ہے اس سے زائد میں نہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے وصیت۔ وصیت میں بھی کسی کو ویسے ہی مال دیا جاتا ہے تو وہ بھی جیسے صرف ثلث تک جائز ہوتی ہے اس سے زیادہ کی وصیت جائز نہیں، تو یہاں پر بھی عورت جو مرض الموت میں مبتلا ہے وہ خلع کر کے خاوند سے جان چھڑانا چاہتی ہے تو وہ ثلث تک ہی جائز ہوگا، اس سے زیادہ مال پر وہ خلع نہیں کر سکتی۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک مرد ہے وہ مرض الموت میں مبتلا ہے اور مرض الموت کے اندر وہ ایک عورت سے نکاح کرتا ہے بھئی، اور نکاح کے اندر مہر دینا پڑتا ہے۔ تو اب یہاں پر بضع چونکہ ملکیت میں داخل ہو رہا ہے تو وہ متقوم ہے، تو خاوند پر جو مہر لازم آئے گا وہ مفت میں نہیں لازم آ رہا بلکہ بدلے میں ایک متقوم چیز آ رہی ہے، لہٰذا مہرِ مثل تک، بضع کی قیمت کتنی ہے؟ مہرِ مثل ہوتی ہے اس جیسی عورتوں کا جو مہر ہوتا ہے، تو لہٰذا یہاں مہرِ مثل تک خاوند کا یہ نکاح جائز ہوگا، چاہے اس میں خاوند کا سارا مال ہی کیوں نہ ختم ہو جائے، کیونکہ یہاں پر جو خاوند مرض الموت میں ہے نکاح کر رہا ہے اس پر مہر لازم ہو رہا ہے لیکن مہر مفت میں لازم نہیں ہو رہا بلکہ بدلے میں ایک متقوم چیز آ رہی ہے متقوم چیز کا وہ مالک بن رہا ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَلِهَذَا يُعْتَبَرُ خُلْعُ الْمَرِيضَةِ مِنَ الثُّلُثِ“ اور اسی لیے مریضہ کا خلع معتبر ہے ثلثِ مال میں سے، ”وَنِكَاحُ الْمَرِيضِ بِمَهْرِ الْمِثْلِ مِنْ جَمِيعِ الْمَالِ“ اور مریض یعنی وہ شخص جو مرض الموت میں مبتلا ہے اس کا نکاح معتبر ہے مہرِ مثل کے بدلے میں تمام مال میں سے۔ ”وَإِذَا لَمْ يَجُزْ“ جی اب پھر متن والے مسئلے پر آئیے۔ باپ اپنی نابالغ صغیرہ بیٹی کا خلع کرتا ہے اسی کے مال کے ساتھ تو وہ انہوں نے آپ کو بتلا دیا: ”لَمْ يَجُزْ عَلَيْهَا“ وہ اس بیٹی پر جائز نہیں یعنی اس کے مال کو باپ خرچ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَجُزْ“ اور جب یہ خلع جائز نہیں ہے، ”لَا يَسْقُطُ الْمَهْرُ“ تو مہر ساقط نہیں ہوگا۔ ابھی آپ کو بتایا بھئی صاحبِ ہدایہ نے گزشتہ مسئلے کے اندر کہ امام صاحب کے نزدیک خلع کے اندر میاں بیوی کے جتنے حقوق ایک دوسرے پر ہیں وہ سب ساقط ہو جائیں گے، حتیٰ کہ مہر اگر ابھی تک ادا نہیں کیا وہ بھی کیا ہو جائے گا؟ ساقط ہو جائے گا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی باپ نے خلع کیا ہے خاوند کے ساتھ، تو یہ خلع جائز نہیں، جب خلع جائز نہیں تو بیٹی کا جو مہر ہے خاوند کے ذمے وہ ساقط نہیں ہوگا، خاوند کو وہ مہر دینا پڑے گا بھئی، باپ کے ساقط کرنے سے وہ ساقط نہیں ہوگا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا لَمْ يَجُزْ“ اور جب یہ خلع جائز نہیں ہے، ”لَا يَسْقُطُ الْمَهْرُ“ تو مہر ساقط نہیں ہوگا یعنی خاوند کو دینا پڑے گا، ”وَلَا يَسْتَحِقُّ مَالَهَا“ اور خاوند بھی اس صغیرہ کے مال کا مستحق نہیں ہوگا۔ باپ نے تو خلع کیا کہ صغیرہ کے مال میں سے میں تمہیں ہزار درہم دوں گا لیکن خاوند اس صغیرہ کے مال کا مستحق نہیں ہے کیونکہ اس طرح خلع کرنا جائز ہی نہیں ہے کہ باپ غیرِ متقوم کے بدلے متقوم ہزار درہم ادا کر رہا ہے، تو ”وَلَا يَسْتَحِقُّ مَالَهَا“ تو خاوند جو ہے وہ صغیرہ کے مال کا مستحق نہیں ہوگا۔ ”ثُمَّ يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي رِوَايَةٍ، وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَقَعُ“ بھئی اب باپ نے خلع تو کر لیا لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا یہ خلع جائز نہیں، لہٰذا مہر بھی ساقط نہیں وہ بھی خاوند کے ذمے ہے اس کو ادا کرنا پڑے گا، اور نیز خاوند مال کا مستحق بھی نہ ہوا صغیرہ پر، لیکن کیا طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ تو کہتے ہیں اس سلسلے میں دو روایتیں ہیں فقہائے کرام کی۔ امام محمد رحمہ اللہ نے تو متن میں صرف اتنا لکھا ہے: ”لَمْ يَجُزْ عَلَيْهَا“ یہ اس پر جائز نہیں، معلوم ہوا باپ اس طرح مال نہیں دے سکتا اس کا، لیکن کیا طلاق بھی واقع ہو گی یا نہیں؟ تو بعض فقہا فرماتے ہیں ہاں طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق واقع ہو جائے گی اس لیے کیونکہ خاوند نے خلع کیا ہے ایک ہزار کی شرط پر اس صغیرہ کے مال میں سے، توجہ ہے، اور باپ نے کیا کر لیا؟ قبول کر لیا، تو یہ گویا خاوند نے ہزار درہم کے عوض خلع کو معلق کیا تھا باپ کے قبول کرنے پر، اور باپ نے قبول کر لیا، اور جب شرط پائی گئی تو مشروط یعنی طلاق بھی واقع ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اگرچہ مال لازم نہیں ہوا صغیرہ پر، لیکن طلاق کے لیے جو شرط تھی وہ تو پائی گئی، جب شرط پائی گئی تو طلاق بھی واقع ہو گئی بھئی۔ جبکہ دیگر فقہا فرماتے ہیں دوسری روایت یہ ہے کہ طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ یہ خلع ہو رہا ہے صغیرہ کا اور اس کے اندر صغیرہ کا قبول چاہیے بھئی، کس کا؟ صغیرہ کا، اور باپ اس کی طرف سے اس کا نائب ہو کر قبول کر رہا ہے حالانکہ شرط کے اندر نیابت جاری نہیں ہوتی، شرط میں کوئی ایک شخص دوسرے کا نائب نہیں ہو سکتا۔ مثلاً خاوند نے بیوی سے کہا کہ تجھے میں ایک ہزار کی شرط پر طلاق دیتا ہوں، ایک ہزار درہم کی شرط پر میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، اب بغیر قبول کیے تو یہ ہزار درہم بیوی پر لازم نہیں ہے۔ بیوی ابھی نہیں بولی کہ اس کی کوئی سہیلی ساتھ بیٹھی ہے یا اس کی والدہ بیٹھی ہوئی ہیں یا کوئی اور بیٹھا ہوا ہے اس کا قریبی عزیز، وہ جواب دیتا ہے کہ میں اس کی طرف سے قبول کرتا ہوں، اس بیوی کی طرف سے میں قبول کرتا ہوں، دیکھو اب وہ نائب بن گیا اس کا، لیکن شرط کے اندر نیابت جاری نہیں ہوتی، شرط کے اندر ایک شخص دوسرے کا نائب نہیں ہو سکتا بھئی۔ بیوی ہی کا قبول ضروری ہے، اس کے نائب کے قبول سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ یا دوسری مثال لے لیں اس سے اور بات آپ کو سمجھ میں آ جائے گی، خاوند نے بیوی سے کہا اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے۔ تو بیوی کی طرف سے کوئی رشتہ دار بولتا ہے کہتا ہے میں اس کی طرف سے نائب ہو کر گھر میں جاتا ہوں، تو آپ کیا حکم لگائیں گے کہ یہ نائب کے جانے سے طلاق واقع ہوگی؟ نہیں ہوگی، کیونکہ خاوند نے بیوی کے جانے پر طلاق معلق کی ہے، اور شرط کے اندر کوئی کسی کا نائب نہیں ہو سکتا، جس کی شرط لگائی گئی ہے اسی کو وہ فعل کرنا پڑے گا بھئی۔ تو یہاں پر بھی خلع کس کا ہو رہا ہے؟ بیٹی کا، اور قبول کون کر رہا ہے؟ باپ، اور باپ نائب ہونے کے اعتبار سے قبول کر رہا ہے، اور شرط کے اندر تو نیابت جاری نہیں ہوتی، کوئی کسی کا نائب نہیں ہو سکتا، چنانچہ بعض فقہا فرماتے ہیں طلاق واقع نہیں ہوگی بھئی، باپ کے قبول کرنے سے طلاق واقع نہیں ہوگی۔ جبکہ بعض فقہا نے بتلایا کہ خاوند باپ کے ساتھ بات کر رہا ہے تو باپ کی قبولیت کی وہ شرط لگا رہا ہے اور باپ نے تو قبول کر لیا ہے لہٰذا طلاق واقع ہو جائے گی۔ اور صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ والا قول زیادہ صحیح ہے جو پہلا قول تھا کہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ طلاق واقع ہو جائے گی، یہ زیادہ صحیح ہے، دوسرا قول بھی صحیح ہے لیکن یہ والا زیادہ صحیح ہے۔ کہتے ہیں: ”ثُمَّ يَقَعُ الطَّلَاقُ فِي رِوَايَةٍ“ پھر طلاق واقع ہو جائے گی ایک روایت میں، ”وَفِي رِوَايَةٍ لَا يَقَعُ“ اور ایک روایت میں ہے کہ طلاق واقع نہیں ہوگی، ”وَالْأَوَّلُ أَصَحُّ“ اور پہلا قول زیادہ صحیح ہے یعنی طلاق واقع ہو جائے گی۔ دوسرا قول بھی صحیح ہے وہ غلط نہیں ہے، وہ بھی صحیح ہے لیکن پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔ وجہ کیا پہلا قول زیادہ صحیح کیوں؟ تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَعْلِيقٌ بِشَرْطِ قَبُولِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ طلاق کو معلق کرنا ہے باپ کے قبول کرنے کی شرط پر، خاوند نے طلاق کی تعلیق کی ہے باپ کے قبول کی شرط پر، تو لہٰذا باپ نے تو قبول کر لیا ہے اور جب شرط پائی گئی تو مشروط بھی پایا گیا۔ ”فَيُعْتَبَرُ بِالتَّعْلِيقِ بِسَائِرِ الشُّرُوطِ“ تو اس کو قیاس کیا جائے گا باقی شرطوں کے ساتھ تعلیق پر، باقی شرطوں کے ساتھ جو تعلیق کی جائے اس پر اس کو قیاس کیا جائے گا بھئی۔ ”فَيُعْتَبَرُ“ تو اس کو قیاس کیا جائے گا ”بِالتَّعْلِيقِ بِسَائِرِ الشُّرُوطِ“ باقی شرطوں کے ساتھ تعلیق پر، باقی شرطوں کے ساتھ تعلیق پر اس کو قیاس کیا جائے گا اور وہاں جب شرط پائی جائے تو مشروط بھی آ جاتا ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ خَالَعَهَا عَلَى أَلْفٍ عَلَى أَنَّهُ ضَامِنٌ فَالْخُلْعُ وَاقِعٌ وَالْأَلْفُ عَلَى الْأَبِ“ دوسری صورت: باپ جو ہے وہ ضامن بن گیا خلع کے عوض کا، کہ میں دوں گا میں ضامن ہوں بھئی۔ تو یاد رکھو اس صورت کے اندر خلع واقع ہو جائے گا۔ پہلی صورت میں صغیرہ کے مال میں سے ہی خلع کر رہا تھا اور اب باپ خود ضامن بن گیا ہے، اور یاد رکھو ضامن بننے کا یہ معنی نہیں ہے کہ اصل مال صغیرہ پر آیا ہے اور باپ صرف ایک ضامن بن گیا ہے، نہیں نہیں، صغیرہ پر خاوند مال کا مستحق ہو ہی نہیں سکتا بھئی۔ صغیرہ پر خاوند مال کا مستحق ہو ہی نہیں سکتا بھئی، وجہ یہ کہ وہ صغیرہ ہے نابالغہ ہے ناسمجھ ہے بھئی، تو لہٰذا اس پر یہ گویا ایک طرح کا جرمانہ لازم آ رہا ہے اس کا مال جائے گا، وہ تو متقوم ہے اور بضع ملکیت سے نکلتے ہوئے وہ تو غیرِ متقوم ہوتا ہے، اسی لیے اس گزشتہ مسئلے میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ خاوند صغیرہ کے مال کا مستحق نہیں بنے گا، لیکن یہاں ضمانت باپ دے رہا ہے۔ تو ضامن کس کو کہتے ہیں کہ اصل مال کسی اور پر ہو اور ضامن سے بھی مطالبہ ہو سکے، لیکن یہاں اصل مال ہی باپ پر آ جائے گا۔ اصل مال ہی کس پر آ جائے گا؟ باپ پر آ جائے گا، تو لہٰذا یہاں پر ضامن ہونے کا یہ معنی نہیں کہ وہ اس کا کفیل بن گیا ہے بیٹی کا، بلکہ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نے اپنے اوپر ہی مال کو لازم کر لیا وہ ادا کرے گا خاوند کو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَالَعَهَا عَلَى أَلْفٍ“ اور اگر خاوند نے خلع کر لیا صغیرہ سے ہزار کی شرط پر ”عَلَى أَنَّهُ ضَامِنٌ“ اس شرط پر کہ باپ جو ہے وہ ضامن ہوگا وہ بدلِ خلع ادا کرے گا، ”فَالْخُلْعُ وَاقِعٌ“ تو خلع واقع ہو جائے گا ”وَالْأَلْفُ عَلَى الْأَبِ“ اور وہ ہزار باپ پر لازم ہوں گے، ”لِأَنَّ اشْتِرَاطَ بَدَلِ الْخُلْعِ عَلَى الْأَجْنَبِيِّ صَحِيحٌ فَعَلَى الْأَبِ أَوْلَى“ وجہ یہ کہ بدلِ خلع کی شرط لگانا اجنبی پر یہ جائز ہے تو باپ پر بطریقِ اولیٰ جائز ہے۔ ایک اجنبی شخص ہے، خاوند کیا کہتا ہے کہ یہ فلاں آدمی جو ہے اگر یہ تمہارا بدلِ خلع ہزار درہم قبول کرتا ہے تو میں تمہارے ساتھ خلع کرتا ہوں، اس اجنبی نے کہا میں قبول کرتا ہوں، تو اس پر ایک ہزار لازم ہو گئے اور خلع ہو گیا۔ تو جب اجنبی جو ہے وہ خلع کا بدل اپنے اوپر لازم کر سکتا ہے تو اجنبی کی تو شفقت ناقص ہے، جب وہ اپنے اوپر بدلِ خلع کو لازم کر سکتا ہے تو باپ کی شفقت تو کامل ہے وہ بطریقِ اولیٰ بیٹی کے بدلِ خلع کو اپنے اوپر لازم کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ اشْتِرَاطَ بَدَلِ الْخُلْعِ عَلَى الْأَجْنَبِيِّ صَحِيحٌ“ اس لیے کیونکہ بدلِ خلع کی شرط لگانا اجنبی پر یہ صحیح ہے ”فَعَلَى الْأَبِ أَوْلَى“ تو باپ پر یہ بطریقِ اولیٰ صحیح ہوگا۔ ”وَلَا يَسْقُطُ مَهْرُهَا“ ہاں اس بیٹی کا مہر نہیں ساقط ہوگا، خلع تو ٹھیک ہو گیا، خلع کا عوض تو باپ نے دینا ہے لیکن بیٹی کا مہر خاوند پر سے ساقط نہیں۔ حالانکہ خلع کے اندر تمام حقوق ساقط ہو جاتے ہیں، لیکن یہاں بیٹی کا حق جو ہے یعنی اس کا مہر وہ خاوند پر سے ساقط نہیں، اس لیے کیونکہ باپ کو یہ ولایت نہیں کہ وہ اس مہر کو ساقط کرے، باپ اس کے مہر کو ساقط نہیں کر سکتا، وجہ یہ کہ اس میں صغیرہ کا نقصان ہے بھئی، اس مہر کو معاف کرنے میں صغیرہ پر کوئی شفقت نہیں ہے۔ ہاں اگر باپ مہر کا بھی ضامن بنتا ہے کہ جو تمہارے اوپر جتنا مہر بنتا ہے وہ میں ادا کر دوں گا اپنی بیٹی کو، تو پھر خاوند سے مہر ساقط ہو جائے گا اب باپ کو ادا کرنا پڑے گا۔ باپ خاوند پر سے نابالغہ بیٹی کا مہر ساقط نہیں کر سکتا کیونکہ اس میں شفقت نہیں ہے، جب شفقت نہیں ہے تو باپ کو اس مہر کو معاف کرنے کی ولایت بھی حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَسْقُطُ مَهْرُهَا“ اور اس نابالغہ کا مہر ساقط نہیں ہوگا خاوند سے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَدْخُلْ تَحْتَ وِلَايَةِ الْأَبِ“ اس لیے کیونکہ یہ باپ کی ولایت کے تحت داخل نہیں، باپ کو یہ اختیار نہیں ہے کیونکہ اس میں کوئی شفقت نہیں ہے۔ ”وَإِنْ شَرَطَ الْأَلْفَ عَلَيْهَا تَوَقَّفَ عَلَى قَبُولِهَا إِنْ كَانَتْ مِنْ أَهْلِ الْقَبُولِ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند باپ کے ساتھ خلع کرتا ہے اس کی نابالغہ بیٹی کے بارے میں، لیکن خاوند شرط یہ لگاتا ہے کہ آپ کی بیٹی قبول کرے، اگر آپ کی بیٹی قبول کرتی ہے خلع ایک ہزار کی شرط پر، تو خاوند نے بیٹی کی قبولیت کی شرط لگا دی، اور بیٹی سمجھدار ہے، ہے تو نابالغہ لیکن سمجھدار ہے اس کو نکاح کا اور خلع کا علم ہے، اس کو پتہ ہے خلع کے اندر کچھ مال دے کر جان چھڑائی جاتی ہے خاوند سے، تو بیٹی پھر قبول کر لیتی ہے۔ خاوند نے خلع کی قبولیت کی شرط کس پر لگا دی؟ بیٹی پر، تو یاد رکھو بیٹی جب قبول کر لے گی تو خلع ہو گیا، طلاق ہو گئی۔ لیکن بیٹی پر مال نہیں لازم ہوگا بھئی، ہم پہلے بتا چکے ہیں، مال لازم نہیں، اور نیز خاوند پر سے مہر بھی ساقط نہیں ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَرَطَ الْأَلْفَ عَلَيْهَا“ اور اگر خاوند نے ایک ہزار کی شرط لگا دی ”عَلَيْهَا“ اس صغیرہ پر، ”تَوَقَّفَ عَلَى قَبُولِهَا“ تو یہ خلع موقوف رہے گا اس صغیرہ کے قبول کرنے پر ”إِنْ كَانَتْ مِنْ أَهْلِ الْقَبُولِ“ اگر وہ اہلِ قبول میں سے ہے یعنی قبول کی صلاحیت رکھتی ہے، وہ اس خلع وغیرہ کو سمجھتی ہے، تو یہ معنی ہے ”إِنْ كَانَتْ مِنْ أَهْلِ الْقَبُولِ“ اگر وہ نابالغہ جو ہے اہلِ قبول میں سے ہے یعنی اس خلع وغیرہ کو وہ سمجھتی ہے، اتنی عقل وہ رکھتی ہے، تو پھر اس کے قبول سے طلاق واقع ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَبِلَتْ وَقَعَ الطَّلَاقُ“ اگر اس نے قبول کر لیا تو طلاق واقع ہو جائے گی ”لِوُجُودِ الشَّرْطِ“ شرط پائے جانے کی وجہ سے۔ خاوند نے بھی خلع کو معلق کیا تھا کس پر؟ بیٹی کے قبول پر، تو شرط پائی گئی تو مشروط بھی پایا گیا تو طلاق واقع ہو جائے گی۔ لیکن ”وَلَا يَجِبُ الْمَالُ“ مال واجب نہیں ہوگا، ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ أَهْلِ الْغَرَامَةِ“ غرامت کہتے ہیں تاوان کو، تاوان اور جرمانہ، ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ أَهْلِ الْغَرَامَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ اہلِ تاوان میں سے نہیں ہے، اس پر جرمانہ لازم نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ بضع خروج کے وقت غیرِ متقوم ہے اور اس پر جو بدلِ خلع آئے گا وہ گویا جرمانے کے طور پر آ رہا ہے، بدلے میں دوسری طرف سے کوئی مال حاصل نہیں ہو رہا دوسری طرف سے تو بضع ملکیت سے نکل رہا ہے اور ملکیت سے نکلتے وقت تو بضع متقوم نہیں، اور بیٹی کو جو مال دینا پڑے گا وہ تو متقوم اور ادھر سے جو چیز آ رہی ہے وہ غیرِ متقوم، تو یہ گویا جرمانہ ہی ہو گیا نا ایک طرح کا، لیکن یہ صغیرہ پر جرمانہ واجب نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا لَيْسَتْ مِنْ أَهْلِ الْغَرَامَةِ“ اس لیے کیونکہ صغیرہ جو ہے وہ اہلِ تاوان میں سے نہیں ہے۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ قَبِلَهُ الْأَبُ عَنْهَا فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ اور اگر باپ قبول کر لیتا ہے صغیرہ کی طرف سے تو اس میں دو روایتیں ہیں۔ بھئی خاوند نے اس صغیرہ کے قبول کرنے کی شرط لگائی تھی، لیکن صغیرہ کے بجائے اگر باپ قبول کرتا ہے تو اس میں کہتے ہیں دو روایتیں ہیں، وہی دو روایتیں جو میں نے اوپر بیان کر دیں۔ ایک روایت یہ کہ باپ قبول کر سکتا ہے کیونکہ اس میں صرف فائدہ ہی فائدہ ہے، صغیرہ کا نقصان نہیں ہے بھئی، نقصان نہیں ہے۔ وجہ یہ کہ صغیرہ پر مال نے تو آنا نہیں، ہاں طلاق ہو جانی ہے، توجہ ہے؟ تو جیسے صغیرہ کو کوئی ہدیہ دے، کوئی تحفہ دے، تو باپ اس کو قبول کر سکتا ہے کیونکہ اس میں صغیرہ کا فائدہ ہی فائدہ ہے نقصان نہیں، تو یہاں پر بھی خاوند سے صغیرہ کی جان چھوٹ رہی ہے اور اس پر مال بھی واجب نہیں ہو رہا تو باپ بھی قبول کر سکتا ہے کیونکہ صغیرہ اہلِ غرامت نہیں، اس پر مال تو آ نہیں سکتا، تو صرف نفع ہے اس کی جان چھوٹ رہی ہے تو وہ باپ بھی قبول کر سکتا ہے۔ اور جبکہ دوسری روایت یہ ہے کہ باپ قبول کرے تو پھر طلاق واقع نہیں ہوگی۔ وجہ یہ کہ شرط کے اندر نیابت جاری نہیں ہوتی، جس کی شرط لگائی ہے اسی کا قبول کرنا ضروری ہے، کوئی اس کا نائب بن کر قبول نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ قَبِلَهُ الْأَبُ عَنْهَا“ اور اگر باپ قبول کر لے صغیرہ کی طرف سے ”فَفِيهِ رِوَايَتَانِ“ تو اس میں دو روایتیں ہیں۔ ”وَكَذَا إِنْ خَالَعَهَا عَلَى مَهْرِهَا وَلَمْ يَضْمَنِ الْأَبُ الْمَهْرَ تَوَقَّفَ عَلَى قَبُولِهَا، فَإِنْ قَبِلَتْ طُلِّقَتْ وَلَا يَسْقُطُ الْمَهْرُ“ صورتِ مسئلہ یہ: خاوند نے صغیرہ سے خلع کیا ہے مہر کے بدلے کہ میں تمہاری جان چھوڑتا ہوں تم اپنا مہر ساقط کر دو مجھ پر سے، تو یہ خلع کر لیا۔ تو اس کے اندر باپ کو تو ولایت نہیں ہے وہ تو صغیرہ کے مہر کو خاوند سے ساقط نہیں کر سکتا۔ اب اس میں دو صورتیں ہیں: یا تو باپ اس مہر کا ضامن بنے گا یا ضامن نہیں بنے گا۔ اگر باپ ضامن نہیں بنا تو پھر خلع تو ہو جائے گا، طلاق تو ہو جائے گی، اور صغیرہ پر مال بھی واجب نہیں اور خاوند پر سے مہر ساقط نہیں ہوگا۔ ساقط نہیں، طلاق ہوگئی لیکن مہر اس کو ابھی بھی ادا کرنا پڑے گا۔ اور قبل الدخول کتنا مہر دینا پڑتا ہے؟ نصف مہر۔ صحبت سے پہلے اگر طلاق ہوجائے تو کتنا مہر دینا پڑتا ہے؟ نصف مہر، تو وہ شوہر کے ذمے ابھی بھی باقی ہے۔ اور اگر باپ ضامن بن گیا خاوند کی طرف سے بیٹی کے لیے کہ میں مہر ادا کر دوں گا، تو اب خاوند پر سے وہ مہر ساقط ہوا اور کس کے ذمے آگیا؟ باپ کے ذمے آگیا۔ اب وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا۔ اور کتنا ادا کرنا پڑے گا؟ وہ آپ کو بتلائیں گے نصف مہر، کیونکہ صحبت سے پہلے طلاق واقع ہو تو کتنا مہر آتا ہے خاوند پر؟ نصف مہر، اور وہی اسی کا ضمان دیا ہے باپ نے تو باپ کو بھی نصف مہر ہی دینا پڑے گا۔ مسئلہ سمجھ میں آگیا؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا إِنْ خَالَعَهَا عَلَى مَهْرِهَا﴾ اور اسی طرح اگر خاوند نے خلع کر لیا اس صغیرہ سے ﴿عَلَى مَهْرِهَا﴾ اس کے مہر کی شرط پر، ﴿وَلَمْ يَضْمَنِ الْأَبُ الْمَهْرَ﴾ اور حال یہ ہے کہ باپ جو ہے وہ مہر کا ضامن نہیں ہے، ﴿تَوَقَّفَ عَلَى قَبُولِهَا﴾ تو اس صورت میں یہ خلع اس صغیرہ کے قبول پر موقوف رہے گا۔ ﴿فَإِنْ قَبِلَتْ﴾ اگر اس نے قبول کر لیا ﴿طُلِّقَتْ﴾ تو طلاق ہوجائے گی، ﴿وَلَا يَسْقُطُ الْمَهْرُ﴾ لیکن مہر ساقط نہیں ہوگا، وہ خاوند کو دینا پڑے گا۔ ﴿وَإِنْ قَبِلَ الْأَبُ عَنْهَا﴾ اور اگر باپ نے اس کی طرف سے قبول کر لیا اسی مسئلے میں، خاوند نے کس شرط پر خلع کیا ہے؟ مہر کی شرط پر۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قَبِلَ الْأَبُ عَنْهَا﴾ اور اگر باپ نے صغیرہ کی طرف سے قبول کر لیا ﴿فَعَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ تو یہ بھی ان دو روایتوں پر ہے۔ ایک روایت کیا؟ کہ طلاق نہیں ہوگی، کیونکہ شرطوں میں نیابت جاری نہیں ہوتی۔ اور دوسری روایت کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی، باپ قبول کر سکتا ہے اس لیے کیونکہ اس میں صغیرہ کا نفع ہی نفع ہے، اس میں کوئی نقصان نہیں ہے بھئی، تو باپ قبول کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِنْ قَبِلَ الْأَبُ عَنْهَا فَعَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ اگر باپ نے اس صغیرہ کی طرف سے قبول کر لیا ﴿فَعَلَى الرِّوَايَتَيْنِ﴾ تو یہ بھی ان دو روایتوں پر ہے۔ ﴿وَإِنْ ضَمِنَ الْأَبُ الْمَهْرَ﴾ اور اگر باپ مہر کا ضامن ہوگیا، باپ نے خاوند سے خلع کیا اور صغیرہ کے مہر کا ضامن ہوگیا ﴿وَهُوَ أَلْفُ دِرْهَمٍ﴾ اس حال میں کہ مہر کتنا تھا؟ ایک ہزار درہم تھا، ﴿طُلِّقَتْ﴾ تو اس صورت میں طلاق ہو جائے گی، ﴿لِوُجُودِ قَبُولِهِ﴾ اس لیے کیونکہ باپ کا قبول کرنا پایا گیا، باپ نے خاوند سے خلع کیا ہے نا تو باپ کے قبول کی اس نے شرط لگائی ہے، تو باپ نے قبول کر لیا تو خلع ہوگیا، ﴿طُلِّقَتْ﴾ اس صغیرہ کو طلاق ہوجائے گی، ﴿لِوُجُودِ قَبُولِهِ﴾ باپ کی قبولیت کے پائے جانے کی وجہ سے، ﴿وَهُوَ الشَّرْطُ﴾ اور وہی تو شرط تھی، وہی تو شرط تھی۔ تو آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ یہاں پر صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ﴿لِوُجُودِ قَبُولِهِ وَهُوَ الشَّرْطُ﴾ کہ باپ کا قبول پایا گیا اور یہی شرط تھی۔ پیچھے آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ صغیرہ کا خلع کیا جا رہا ہے تو صغیرہ کا قبول کرنا شرط ہے، اسی لیے بعض فقہاء کیا فرماتے ہیں کہ باپ نائب ہو کر قبول کرے گا تو شرط میں تو نیابت جاری نہیں ہوتی، لہٰذا طلاق ہی واقع نہیں ہوگی۔ اور یہاں پر صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: ﴿لِوُجُودِ قَبُولِهِ﴾ کیونکہ باپ کا قبول کرنا پایا گیا ﴿وَهُوَ الشَّرْطُ﴾ اور وہی تو شرط تھا، تو لہٰذا طلاق ہو جائے گی۔ تو جواب یاد رکھنا بھئی، یہاں پر باپ مہر کا ضامن بن رہا ہے۔ جب مہر باپ کے ذمے آئے گا تو باپ کا قبول کرنا ضروری ہے، یہاں پر صغیرہ کا قبول کرنا ضروری نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہاں چونکہ باپ کے اوپر مال آرہا ہے اور جس پر مال آتا ہے اس کا قبول کرنا ضروری ہوتا ہے، تو باپ نے قبول کر لیا تو شرط پائی گئی تو طلاق واقع ہوگئی۔ ﴿لِوُجُودِ قَبُولِهِ﴾ اس لیے کیونکہ باپ کا قبول کرنا پایا گیا، ﴿وَهُوَ الشَّرْطُ﴾ اور وہی تو شرط تھی، ﴿وَيَلْزَمُهُ خَمْسُمِائَةٍ اسْتِحْسَانًا وَفِي الْقِيَاسِ يَلْزَمُهُ الْأَلْفُ﴾۔ اچھا، باپ ضامن ہو گیا ہے مہر کا اور مہر تو مقرر کیا تھا ایک ہزار درہم، تو اب باپ کو کتنا دینا پڑے گا؟ باپ پورے مہر کا ضامن ہوا ہے صغیرہ کے لیے اور پورا مہر تو ہزار درہم ہے، تو آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں ایک قیاس ہے اور ایک استحسان ہے۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے جتنا مہر مقرر کیا گیا تھا وہ سارا اب باپ کے ذمے ہے۔ باپ مہر کا ضامن ہوا ہے نا، اور مہر کتنا تھا؟ ہزار درہم، تو وہ ہزار درہم اب باپ کو ادا کرنے پڑیں گے صغیرہ کو۔ لیکن استحساناً باپ پر صرف پانچ سو درہم آئیں گے۔ کتنے آئیں گے؟ پانچ سو درہم آئیں گے، اس لیے کیونکہ یہ طلاق صحبت سے پہلے واقع ہو رہی ہے، اور صحبت سے پہلے جو طلاق آئے اس میں کتنا آتا ہے؟ نصف مہر آتا ہے، تو خاوند کے ذمے پانچ سو درہم آ رہے تھے اور باپ نے اسی کو اپنے ذمے لے لیا تو اب وہ پانچ سو درہم کس کو ادا کرنے پڑیں گے؟ باپ کو ادا کرنے پڑیں گے۔ تو یہ استحساناً ہے۔ قیاس کیا تقاضا کرتا ہے؟ کہ جتنا مہر مقرر کیا تھا یعنی ہزار درہم وہ سارا دینا پڑے گا، لیکن استحساناً پانچ سو درہم آئیں گے یہاں پر۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَيَلْزَمُهُ خَمْسُمِائَةٍ اسْتِحْسَانًا﴾ اور باپ پر پانچ سو درہم لازم ہوں گے استحساناً، یہ بطورِ استحسان کے ہیں، ﴿وَفِي الْقِيَاسِ يَلْزَمُهُ الْأَلْفُ﴾ اور قیاس کے اندر باپ پر ہزار درہم لازم ہوں گے۔ ﴿وَأَصْلُهُ فِي الْكَبِيرَةِ﴾ اور اصل اس کی جو ہے کبیرہ کے اندر ہے۔ یہ جو مسئلہ ذکر کیا گیا اس کی اصل کبیرہ، بالغہ عورت کے اندر ہے۔ ﴿إِذَا اخْتَلَعَتْ قَبْلَ﴾ بھئی دیکھو، ایک کبیرہ ہے، وہ خاوند سے خلع کرتی ہے مہر پر اور صحبت سے پہلے۔ صحبت سے پہلے عورت جو ہے وہ خاوند سے خلع کرتی ہے مہر پر بھئی، اور مہر اس کا مثلاً ہزار درہم تھا۔ تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ صحبت سے پہلے خلع کر رہی ہے اور صحبت سے پہلے خاوند پر کتنا آتا ہے؟ نصف مہر، تو پانچ سو درہم۔ اور عورت کے ذمے کتنا آچکا ہے؟ ایک ہزار آچکا ہے، کیونکہ مہر مقرر کتنا کیا تھا؟ ایک ہزار مقرر کیا تھا۔ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ مہر پر عورت نے خلع کیا ہے تو عورت پر ہزار آیا اور خاوند کے ذمے پانچ سو درہم تھے، وہ نصف مہر جو ادا کرنا ہے، تو پانچ سو تو پانچ سو سے کٹ گئے۔ پانچ سو تو پانچ سو کے مقابلے میں آگئے، وہ تو ساقط ہوگئے عورت پر سے۔ خاوند نے کتنے دینے ہیں؟ پانچ سو۔ عورت نے کتنا دینا ہے؟ ایک ہزار۔ تو پانچ سو تو پانچ سو کے مقابلے میں ساقط ہو جائیں گے اور باقی پانچ سو عورت کے ذمے رہ جائے گا، وہ زائد بیوی کو ادا کرنے پڑیں گے، کیونکہ اس نے خلع کس پر کیا ہے؟ اپنے مہر پر۔ تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ کبیرہ صحبت سے پہلے جب خاوند سے خلع کرے اپنے مہر کے عوض تو عورت کو پانچ سو درہم دینے پڑیں گے، جب ہزار درہم مہر رکھا ہو بھئی۔ لیکن استحساناً عورت کو کچھ بھی ادا نہیں کرنا پڑے گا۔ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ خاوند جب مہر پر خلع کرتا ہے تو دراصل اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ میرے ذمے کچھ نہیں آنا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَأَصْلُهُ فِي الْكَبِيرَةِ﴾ اور اصل اس کی کبیرہ کے اندر ہے یعنی بالغہ عورت کے اندر ہے، ﴿إِذَا اخْتَلَعَتْ قَبْلَ الدُّخُولِ عَلَى أَلْفٍ﴾ جب وہ خلع کر لے صحبت سے پہلے ایک ہزار کی شرط پر، ﴿وَمَهْرُهَا أَلْفٌ﴾ اور حال یہ ہے کہ اس کا مہر بھی ایک ہزار ہے، ﴿فَفِي الْقِيَاسِ عَلَيْهَا خَمْسُمِائَةٍ زَائِدَةٌ﴾ تو قیاس کے اندر اس عورت پر پانچ سو زائد ہوں گے۔ عورت نے کتنے پر خلع کیا ہے؟ مہر پر، اور مہر کتنا تھا؟ ہزار۔ تو عورت پر ہزار آیا اور خاوند پر کتنا ہے؟ پانچ سو، نصف مہر ہے، تو ہزار میں سے پانچ سو ساقط ہو گئے اور باقی پانچ سو رہ گئے وہ دینے پڑیں گے، یہ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ ﴿وَفِي الِاسْتِحْسَانِ لَا شَيْءَ عَلَيْهَا﴾ اور استحسان کے اندر بیوی پر کچھ بھی نہیں ہے، ﴿لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ عَادَةً حَاصِلُ مَا يَلْزَمُ لَهَا﴾ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے عادتاً عام طور پر، حاصل اس کا جو خاوند پر لازم آتا ہے۔ بھئی دیکھیے، دراصل خاوند جب مہر پر خلع کرتا ہے تو اس کا یہ مقصد نہیں ہوتا کہ وہ زائد عورت سے وصول کرنا چاہتا ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میرے اوپر جتنا بھی عورت کا مہر آ رہا ہے وہ ساقط ہونا چاہیے، میرے ذمے کچھ نہیں آنا چاہیے۔ اور جب اس وقت تو خلع جو ہو رہا ہے وہ صحبت سے پہلے ہے بھئی، اور جب صحبت سے پہلے ہے تو خاوند پر کتنا لازم ہے؟ نصف مہر، تو ہزار کا نصف کتنا ہے؟ پانچ سو۔ تو گویا خاوند پر اس وقت پانچ سو درہم مہر آ رہا ہے اور خاوند اس سے اپنی جان چھڑانا چاہتا ہے، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ جو عورت نے خلع کیا ہے مہر کے عوض وہ اس مہر کے عوض خلع ہے، جو نکاح میں مقرر کیا تھا اس مہر کے عوض خلع نہیں ہے، بلکہ یہ جو خاوند کے ذمے آ رہا ہے خاوند اس سے جان چھڑانا چاہتا ہے تو لہٰذا گویا عورت نے بھی پانچ سو پر ہی خلع کیا ہے۔ تو یہ پانچ سو جو ہے وہ جو خاوند کے ذمے نصف مہر پانچ سو ہے وہ یہ دونوں ایک دوسرے کے عوض کٹ جائیں گے، ختم ہو جائیں گے۔ عورت کے ذمے بھی کتنا آگیا؟ پانچ سو۔ اور خاوند کے ذمے بھی کتنا تھا؟ پانچ سو۔ تو پانچ سو پانچ سو سے کٹ گیا، اب دیکھو خاوند کے ذمے کچھ بھی نہیں ہے۔ تو لہٰذا قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس صورت میں عورت پر پورا مہر آنا چاہیے اور اس میں سے نصف مہر تو خاوند کے ذمے ہے وہ کٹ جائے گا اور پانچ سو عورت کو دینے پڑیں گے۔ لیکن استحساناً یہاں کسی پر کچھ بھی نہیں آئے گا، نہ خاوند کے ذمے کچھ ہے اور نہ بیوی کے ذمے کچھ ہے، کیونکہ یہ خلع اتنے ہی مال میں سمجھا جائے گا جو اس وقت خاوند کے ذمے آ رہا ہے، اور وہ تو نصف مہر ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ يُرَادُ بِهِ عَادَةً﴾ اس لیے کیونکہ اس طرح کے خلع کے ذریعے عادتاً یہ مراد ہوتا ہے ﴿حَاصِلُ مَا يَلْزَمُ لَهَا﴾ وہ جو عورت کے لیے خاوند پر لازم ہوگا اس کا حاصل، اس کا حاصل جو ہے اس پر خلع کیا جا رہا ہے۔ آگے دیکھیے: بَابُ الظِّهَارِ یاد رکھو ظہار عربی زبان میں ظہار اسے کہتے ہیں کہ خاوند اپنی بیوی سے کہے: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾۔ ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾ اس کو کہتے ہیں ظہار عربی زبان میں، کہ تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت بھئی۔ یہ ہے عربی زبان کے اعتبار سے ظہار کا معنی۔ اور یاد رکھو زمانۂ جاہلیت کے اندر اس کو طلاق شمار کیا جاتا تھا اور ایسی طلاق جس کی وجہ سے حرمتِ مغلظہ یعنی حرمتِ مؤبدہ آجاتی تھی۔ طلاق ہوگئی، یہ عورت خاوند سے جدا ہوگئی اور ایسی حرمت آئی ہے اب ہمیشہ کے لیے یہ عورت اس خاوند پر حرام ہے، اب یہ دوبارہ اس سے زندگی بھر نکاح نہیں کر سکتا بھئی۔ تو زمانۂ جاہلیت کے اندر اس ظہار کو ایسی طلاق شمار کیا جاتا تھا جس کی وجہ سے حرمتِ مؤبدہ آتی تھی، ہمیشہ کی حرمت آجاتی تھی۔ جبکہ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ ظہار جو ہے اصطلاحِ شریعت کے اندر وہ یہ ہے کہ اپنی بیوی کو تشبیہ دی جائے ایسی محرمہ عورت کے ساتھ جو علی التابید حرام ہو خاوند پر، جو ہمیشہ کے لیے حرام ہے اس کے ساتھ تشبیہ دی جائے، مثلاً ماں ہے، بہن ہے، بیٹی ہے، پھوپھی ہے، خالہ ہے، یہ سب کیا ہیں؟ یہ محرم ہیں۔ یہ سب عورتیں محرم ہیں، ان کے ساتھ نکاح کی کوئی صورت نہیں، تو یہ حرام ہیں انسان پر علی التابید ہمیشہ کے لیے۔ تو بیوی کو ان عورتوں سے تشبیہ دینا جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہیں اس کو ظہار کہتے ہیں۔ اس تشبیہ کو ظہار کہتے ہیں اصطلاحِ شریعت میں۔ تو عربی زبان میں ظہار کسے کہتے ہیں؟ خاوند کا بیوی سے کہنا: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾، اس کو ظہار کہتے ہیں۔ اور اصطلاحِ شریعت میں اپنی حلال بیوی کو ان عورتوں کے ساتھ تشبیہ دینا جو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاوند پر حرام ہوں اس کو ظہار کہتے ہیں بھئی۔ تو زمانۂ جاہلیت کے اندر یہ ظہار طلاق بھی تھا اور حرمتِ مؤبدہ بھی تھی۔ لیکن شریعت نے اس کو بدل دیا اس کے حکم کو کہ یہ طلاق نہیں ہے، یہ نکاح کو ختم نہیں کرے گی۔ البتہ حرمت آئے گی، کیا آئے گی؟ حرمت، لیکن یہ حرمت مؤبد نہیں ہوگی بلکہ موقت ہوگی کچھ وقت کے لیے، اور وہ کب تک؟ کہتے ہیں جب کفارہ دے دے گا۔ کفارہ دے دے گا تو پھر حرمت ختم ہو جائے گی، جب تک کفارہ نہیں دے گا تو حرمت بھی ختم نہیں ہوگی بھئی۔ اور یہاں ایک قیمتی بات یاد رکھنا کہ ظہار کی وجہ سے جو حرمت آتی ہے وہ زوجِ ثانی بھی ختم نہیں کر سکتا۔ یہ خاوند اگر اس بیوی کو طلاق دے دے اور اس نے ظہار کیا ہوا ہے، اور اس بیوی نے کسی اور سے نکاح کر لیا اور پھر بعد میں اس نے طلاق دی یا اس کا انتقال ہوا، اب بیوی اس کے پاس آگئی تو بھی یہ بیوی اب اس کے لیے حلال نہیں، کیونکہ اس کے ساتھ اس نے ظہار کیا ہوا ہے، لہٰذا کفارہ دینا پڑے گا پھر یہ بیوی حلال ہوگی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ دیکھو ظہار کی حرمت جو ہے اس کو زوجِ ثانی بھی ختم نہیں کر سکتا۔ دیکھیے صاحبِ ہدایہ اس کو اور بہترین الفاظ میں بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: بَابُ الظِّهَارِ ﴿وَإِذَا قَالَ الرَّجُلُ لِامْرَأَتِهِ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾ اور جب کسی شخص نے اپنی بیوی سے کہا: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾ کہ تو مجھ پر اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت، یعنی جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے تو بھی مجھ پر اسی طرح حرام ہے، ﴿فَقَدْ حَرُمَتْ عَلَيْهِ﴾ تو تحقیق یہ بیوی اس شخص پر حرام ہوگئی، ﴿لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا وَلَا مَسُّهَا وَلَا تَقْبِيلُهَا﴾ اور جائز نہیں ہے اس شخص کے لیے اس بیوی سے صحبت، اس کے ساتھ صحبت بھی جائز نہیں، ﴿وَلَا مَسُّهَا﴾ اور اس کو چھونا بھی جائز نہیں، ﴿وَلَا تَقْبِيلُهَا﴾ اور اس کا بوسہ لینا بھی جائز نہیں، تو دیکھو وطی بھی حرام ہوگئی، صحبت بھی حرام ہوگئی اور دواعیِ وطی جو ہیں وہ بھی حرام ہوگئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لَا يَحِلُّ لَهُ وَطْؤُهَا وَلَا مَسُّهَا وَلَا تَقْبِيلُهَا﴾ کہ اس خاوند کے لیے اب اس بیوی کی صحبت بھی جائز نہیں اور نہ اس کو چھونا جائز ہے اور نہ اس کا بوسہ لینا، ﴿حَتَّى يُكَفِّرَ عَنْ ظِهَارِهِ﴾ یہاں تک کہ یہ اپنے ظہار سے کفارہ دے دے، ﴿لِقَوْلِهِ تَعَالَى﴾ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے، اللہ پاک فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے، ﴿إِلَى أَنْ قَالَ﴾ یہاں تک کہ آگے اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ تو ایک گردن کا یعنی ایک غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ قبل اس کے کہ باہم ایک دوسرے کو چھوئیں، قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، اس سے پہلے ایک غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا۔ بھئی دیکھیے، یہاں تو آیت کا کچھ حصہ ذکر فرمایا صاحبِ ہدایہ نے، تو قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں بھئی سورۂ مجادلہ کے اندر: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ اور وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے ﴿ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا﴾ پھر وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں ﴿لِمَا قَالُوا﴾ اس بات سے جو انہوں نے کہی ہے، انہوں نے تو کیا کہا تھا بیوی سے کہ تو مجھ پر اسی طرح حرام ہے جیسے میری ماں، تو ﴿ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا﴾ پھر وہ رجوع کرنا چاہتے ہیں اس بات سے جو انہوں نے کہی ہے ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ تو پھر ایک غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے قبل اس کے کہ باہم دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ﴿ذَلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ﴾ اس بات کی تم کو نصیحت کی جاتی ہے، ﴿وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ﴾ اور اللہ جو کچھ تم عمل کرتے ہو اس سے باخبر ہے، ﴿فَمَنْ لَمْ يَجِدْ﴾ پس جو غلام یا باندی کو نہ پائے یعنی جس کو غلام یا باندی میسر نہ ہو ﴿فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ تو اس پر دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ باہم ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے، ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ﴾ پس جو اس کی استطاعت نہ رکھے یعنی ساٹھ روزے بھی نہیں رکھ سکتا، بیمار ہے، مریض ہے، ﴿فَمَنْ لَمْ يَسْتَطِعْ﴾ جو ان کی استطاعت نہیں رکھتا ﴿فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، ﴿ذَلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ﴾ یہ اس لیے تاکہ تم ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے رسول پر، ﴿وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّهِ﴾ اور یہ اللہ کی بیان کی ہوئی حدیں ہیں، ﴿وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ﴾ اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے۔ تو دیکھو اس آیت کے اندر ظہار کا کفارہ ذکر کیا گیا ہے کہ جو شخص ظہار کر لے اور پھر وہ اب اس کی صحبت کو اپنے لیے حلال کرنا چاہتا ہے تو غلام یا باندی کو آزاد کرنا پڑے گا صحبت سے پہلے، اور اگر غلام یا باندی میسر نہیں جیسے آج کل کے زمانے میں غلام اور باندیوں کا وجود ہی نہیں تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے، اور یہ بھی صحبت سے پہلے ہونے چاہئیں، اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو کوئی بیمار ہے یا بہت بوڑھا ہے تو پھر اس صورت میں ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا، دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا، کیونکہ ایک انسان کو دن میں دو مرتبہ کھانے کی حاجت ہوتی ہے، تو ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلا دے تو اس کے بعد پھر بیوی حلال ہو جائے گی۔ دیکھیے بھئی اب کتاب پر، کہتے ہیں: ﴿لِقَوْلِهِ تَعَالَى: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ إِلَى أَنْ قَالَ: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾، ﴿وَالظِّهَارُ كَانَ طَلَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ﴾ اور ظہار جو ہے یہ طلاق تھی زمانۂ جاہلیت میں، طلاق بھی تھی اور حرمتِ مؤبدہ بھی تھی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالظِّهَارُ كَانَ طَلَاقًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ﴾ اور ظہار جو ہے یہ طلاق تھی زمانۂ جاہلیت میں، ﴿فَقَرَّرَ الشَّرْعُ أَصْلَهُ﴾ تو شریعت نے اس کی اصل کو برقرار رکھا، یعنی اس کو تحریم ہی رکھا، ہاں طلاق اس کو قرار نہیں دیا، اور تحریمِ مؤبد کے بجائے اس کو تحریمِ موقت بنا دیا کہ یہ تحریم ہے کچھ وقت کے لیے ہے اور وہ یہ کہ آپ کفارہ ادا کر دیں تو یہ تحریم ختم ہو جائے گی۔ ﴿فَقَرَّرَ الشَّرْعُ أَصْلَهُ وَنَقَلَ حُكْمَهُ إِلَى تَحْرِيمٍ مُؤَقَّتٍ بِالْكَفَّارَةِ﴾ اور شریعت نے اس ظہار کے حکم کو منتقل کر دیا ﴿إِلَى تَحْرِيمٍ﴾ ایسی تحریم کی طرف ﴿مُؤَقَّتٍ بِالْكَفَّارَةِ﴾ جو موقت ہے کفارے کے ساتھ، جو مقید ہے یعنی جس کا وقت کفارے کے ساتھ جب کفارہ ادا کر دے گا تو وہ تحریم ختم ہو جائے گی۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَنَقَلَ حُكْمَهُ إِلَى تَحْرِيمٍ مُؤَقَّتٍ بِالْكَفَّارَةِ﴾ اور شریعت نے اس ظہار کا حکم نقل کر دیا، اس کو منتقل کر دیا ﴿إِلَى تَحْرِيمٍ﴾ ایسی تحریم کی طرف ﴿مُؤَقَّتٍ بِالْكَفَّارَةِ﴾ کہ جو مقید ہے کفارے کے ساتھ یعنی جس کا وقت مقید ہے کفارے کے ساتھ، جب کفارہ دے دے گا تو تحریم ختم ہو جائے گی، ﴿وَغَيْرِ مُزِيلٍ لِلنِّكَاحِ﴾ اور یہ تحریم جو ہے نکاح کو زائل کرنے والی نہیں ہے، یعنی یہ طلاق نہیں ہے۔ تحریم آئے گی لیکن طلاق بھی نہیں ہے اور نیز تحریمِ مؤبد بھی نہیں ہے بلکہ موقت ہے بھئی، کفارے کے ذریعے یہ تحریم ختم ہو جائے گی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَهَذَا لِأَنَّهُ جِنَايَةٌ﴾ اور یہ اس لیے کیونکہ یہ جنایت ہے، یہ جو خاوند نے بات کی ہے اس نے جرم کیا ہے، کیا کیا ہے؟ وہ جرم کیا ہے، ﴿لِكَوْنِهِ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ وَزُورًا﴾، منکر کہتے ہیں ناپسندیدہ کو اور زور، زور کہتے ہیں جھوٹ کو، ﴿لِكَوْنِهِ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ ناپسندیدہ بات ہے ﴿وَزُورًا﴾ اور جھوٹ ہے۔ خاوند نے جرم کیا ہے، اس نے انتہائی ناپسندیدہ بات کہی ہے اور جھوٹ کہا ہے، کیا جھوٹ ہے؟ کہ تو مجھ پر اسی طرح حرام ہے جیسے میری ماں مجھ پر حرام ہے، یہ جھوٹ ہے نا، بیوی تو حرام نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ اس نے انتہائی ناپسندیدہ بات کہی ہے اور جھوٹ کہا ہے، ﴿فَيُنَاسِبُ الْمُجَازَاةُ عَلَيْهَا بِالْحُرْمَةِ﴾ تو لہٰذا مناسب ہوا کہ اس کو بدلہ دیا جائے اس پر ﴿بِالْحُرْمَةِ﴾ حرمت کے ساتھ۔ تو مناسب یہ ہے کہ اس جنایت کی وجہ سے اب خاوند کو حرمت کے ساتھ بدلہ دیا جائے کہ اب بیوی حرام ہوگئی، ﴿وَارْتِفَاعُهَا بِالْكَفَّارَةِ﴾ اور اس جنایت کا اٹھنا یا اس حرمت کا اٹھنا ﴿بِالْكَفَّارَةِ﴾ کس کے ذریعے ہوگا؟ کفارے کے ذریعے ہوگا، ﴿ثُمَّ الْوَطْءُ إِذَا حَرُمَ حَرُمَ بِدَوَاعِيهِ﴾۔ پھر متن میں بتلایا تھا بھئی کہ وطی بھی حرام ہوگئی اور دواعیِ وطی بھی حرام ہوگئے۔ اب اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ بھی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ الْوَطْءُ إِذَا حَرُمَ﴾ کہ وطی جب حرام ہوگئی ﴿حَرُمَ بِدَوَاعِيهِ﴾ تو دواعیِ وطی کے ساتھ وہ حرام ہوئی، وطی حرام ہوئی دواعیِ وطی کے ساتھ یعنی وہ چیزیں جو وطی کی طرف لے جانے والی ہیں یعنی شہوت سے چھونا یا بوسہ لینا وغیرہ وہ بھی حرام ہوگئے، ﴿كَيْ لَا يَقَعَ فِيهِ﴾ تاکہ کہیں وہ اس وطی کے اندر واقع نہ ہوجائے، کہیں وہ وطی کے اندر واقع نہ ہوجائے۔ کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ الْوَطْءُ إِذَا حَرُمَ حَرُمَ بِدَوَاعِيهِ﴾ کہتے ہیں پھر جب وطی حرام ہوگی تو وہ دواعیِ وطی کے ساتھ حرام ہوگی یعنی بیوی کو شہوت سے ہاتھ لگانا یا شہوت سے بوسہ لینا وغیرہ یہ بھی جائز نہیں ہوگا تاکہ کہیں ایسا نہ ہو یہ دواعیِ وطی وطی تک پہنچا دیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ لہٰذا وطی بھی حرام اور دواعیِ وطی بھی حرام۔ کہتے ہیں: یہ اسی طرح ہے جیسے احرام، احرام کی حالت جب انسان حج یا عمرے کے لیے جاتا ہے تو اس وقت جیسے وطی حرام ہو جاتی ہے احرام کی حالت میں اسی طرح دواعیِ وطی بھی حرام ہو جاتے ہیں کہ کہیں ایسا نہ ہو یہ دواعیِ وطی اسے کہاں تک نہ پہنچا دیں؟ وطی تک نہ پہنچا دیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ الْوَطْءُ إِذَا حَرُمَ حَرُمَ بِدَوَاعِيهِ﴾ پھر وطی جب حرام ہوگئی تو وہ اپنے دواعی کے ساتھ حرام ہوگئی، ﴿كَيْ لَا يَقَعَ فِيهِ﴾ تاکہ کہیں وہ شخص اس وطی میں واقع ہی نہ ہوجائے، دواعیِ وطی کی وجہ سے وطی میں واقع ہی نہ ہوجائے، ﴿كَمَا فِي الْإِحْرَامِ﴾ جیسے کہ احرام کے اندر ہے، وہاں بھی وطی حرام ہے تو ساتھ دواعیِ وطی بھی حرام ہیں، کہیں وہ وطی میں واقع ہی نہ ہوجائے۔ ﴿بِخِلَافِ الْحَائِضِ وَالصَّائِمِ﴾ بخلاف حیض والی کے اور روزہ دار کے۔ حیض اور روزے میں یاد رکھو دواعیِ وطی منع نہیں۔ حیض اور روزے کی حالت میں دواعیِ وطی منع نہیں، وجہ یہ؟ وجہ یہ کہ ان کا وقوع کثیر ہوتا ہے۔ روزے رکھنے ہیں تو پورا دیکھو رمضان کا مہینہ روزے رکھنے پڑیں گے، اگر خاوند اور بیوی پر دواعیِ وطی کی بھی پابندی لگا دی جائے تو وہ مشکل میں اور تنگی میں پڑ جائیں گے، تو لہٰذا وہاں دواعیِ وطی کی اجازت ہے، یا اسی طرح حیض کی حالت، حیض بھی ہر مہینے آتا ہے بھئی، تو وہاں حیض اور روزہ چونکہ یہ بکثرت ہوتے ہیں اس لیے ان کے اندر وطی تو ممنوع ہے دواعیِ وطی ممنوع نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الْحَائِضِ وَالصَّائِمِ﴾ بخلاف حیض والی کے اور روزہ دار کے، ﴿لِأَنَّهُ يَكْثُرُ وُجُودُهُمَا﴾ اس لیے کیونکہ ان دونوں کا وجود بکثرت ہوتا ہے، حیض بھی ہر مہینے آتا ہے اور روزے بھی پورا مہینہ رکھنے پڑتے ہیں رمضان کے، تو ان کا وجود کثرت سے ہوتا ہے، ﴿فَلَوْ حَرُمَ الدَّوَاعِي يُفْضِي إِلَى الْحَرَجِ﴾ تو اگر دواعیِ وطی حرام ہوگئے تو یہ حرج تک پہنچائے گا، میاں بیوی تنگی اور مشکل میں پڑ جائیں گے، ﴿وَلَا كَذَلِكَ الظِّهَارُ وَالْإِحْرَامُ﴾ اور ظہار اور احرام وہ تو ایسے نہیں ہیں یعنی وہ تو کثرت سے واقع نہیں ہوتے۔ ﴿فَإِنْ وَطِئَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ اسْتَغْفَرَ اللَّهَ تَعَالَى﴾، ﴿فَإِنْ وَطِئَهَا قَبْلَ أَنْ يُكَفِّرَ﴾ اگر وطی کر لی کفارہ دینے سے پہلے، خاوند نے کفارہ دینے سے پہلے وطی کر لی، ﴿اسْتَغْفَرَ اللَّهَ تَعَالَى﴾ تو اللہ سے استغفار کرے، اللہ سے توبہ کرے، ﴿وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ غَيْرُ الْكَفَّارَةِ الْأُولَى﴾ اور کوئی چیز اس پر نہیں ہے پہلے کفارے کے علاوہ۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر کوئی شخص کفارے سے پہلے صحبت کر لے گا تو پھر اس پر دو کفارے آجائیں گے، ایک کفارہ تو ظہار کی وجہ سے اور ایک کفارہ آئے گا کفارے سے پہلے صحبت کرنے کی وجہ سے، تو دو کفارے آجائیں گے۔ لیکن عند الاحناف کفارہ وہی ایک رہے گا، یہ اس نے بہت بڑا گناہ کیا ہے یہ کفارے سے پہلے صحبت کر لی تو یہ توبہ استغفار کرے اور دوبارہ ایسا نہ کرے اور کفارہ ادا کرے، اس کے بعد پھر بیوی حلال ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا شَيْءَ عَلَيْهِ غَيْرُ الْكَفَّارَةِ الْأُولَى﴾ اور پہلے کفارے کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے خاوند پر، ﴿وَلَا يُعَابِدُ حَتَّى يُكَفِّرَ﴾، عاود یعابد کا معنی ہے دوبارہ کرنا، ﴿وَلَا يُعَابِدُ﴾ اور دوبارہ ایسا نہ کرے ﴿حَتَّى يُكَفِّرَ﴾ یہاں تک کہ کفارہ دے دے، ﴿لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّذِي وَاقَعَ فِي ظِهَارِهِ قَبْلَ الْكَفَّارَةِ﴾ بوجہ حضور علیہ السلام کے جو آپ نے فرمایا للذی اس شخص سے ﴿وَاقَعَ فِي ظِهَارِهِ﴾، واقع کا معنی ہے صحبت کرنا، ﴿لِلَّذِي وَاقَعَ فِي ظِهَارِهِ﴾ جس نے جماع کر لیا تھا اپنے ظہار میں ﴿قَبْلَ الْكَفَّارَةِ﴾ کفارہ دینے سے پہلے، تو وہ شخص جس نے کفارہ دینے سے پہلے اپنی بیوی سے صحبت کر لی تھی تو اسے حضور علیہ السلام نے فرمایا، کیا فرمایا؟ یہ آگے ذکر آ رہا ہے: ﴿اسْتَغْفِرِ اللَّهَ﴾ کہ اللہ سے مغفرت مانگو، اللہ سے توبہ کرو، ﴿وَلَا تَعُدْ حَتَّى تُكَفِّرَ﴾ اور دوبارہ نہ کرنا یہاں تک کہ کفارہ دے دو، ﴿وَلَوْ كَانَ شَيْءٌ آخَرُ وَاجِبًا لَبَيَّنَهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ﴾ اگر کوئی اور چیز واجب ہوتی تو حضور علیہ السلام اس کو بیان فرماتے، حضور نے اور کوئی چیز بیان نہیں فرمائی صرف استغفار کا حکم دیا۔ قال آگے صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ﴿قَالَ: وَهَذَا اللَّفْظُ لَا يَكُونُ إِلَّا ظِهَارًا﴾ اور یہ جو لفظ ہیں، یہ جو متن میں آئے تھے: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾، یہ ظہار ہی ہے۔ یہ ظہار ہی ہے، اس میں طلاق وغیرہ اور چیز کسی چیز کی نیت صحیح نہیں، کیونکہ یہ ظہار کے الفاظ ہیں۔ تو کہتے ہیں قال صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ﴿وَهَذَا اللَّفْظُ لَا يَكُونُ إِلَّا ظِهَارًا﴾ یہ لفظ جو ہیں نہیں ہیں مگر ظہار ہی، ﴿لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِيهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ لفظ ظہار کے بارے میں صریح ہیں، ان میں اور کوئی معنی نہیں تو ان سے ظہار ہی ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ صَرِيحٌ فِيهِ﴾ کیونکہ یہ لفظ ظہار میں صریح ہے، اس میں اور کوئی معنی نہیں تو لہٰذا یہ ظہار ہی ہوگا اس سے۔ ﴿وَلَوْ نَوَى بِهِ الطَّلَاقَ لَا يَصِحُّ﴾ اور اگر اس کے ذریعے خاوند نے طلاق کی نیت کی تو صحیح نہیں۔ طلاق کی نیت کرے گا وہ بھی صحیح نہیں، ایلاء کی نیت کرے گا وہ بھی صحیح نہیں، کیونکہ یہ لفظ ظہار کے بارے میں صریح ہے بھئی۔ ﴿وَلَوْ نَوَى بِهِ الطَّلَاقَ لَا يَصِحُّ﴾ اور اگر ان لفظوں کے ذریعے خاوند نے طلاق کی نیت کی تو یہ صحیح نہیں، ﴿لِأَنَّهُ مَنْسُوخٌ فَلَا يَتَمَكَّنُ مِنَ الْإِتْيَانِ بِهِ﴾، ﴿لِأَنَّهُ مَنْسُوخٌ﴾ اس لیے کیونکہ اس کا طلاق ہونا منسوخ ہو چکا ہے، زمانۂ جاہلیت میں یہ طلاق تھی لیکن شریعت نے اس کے طلاق ہونے کو منسوخ کر دیا، اور جب شریعت نے ایک چیز کو منسوخ کر دیا ہے تو آدمی اس چیز کو اب ثابت نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ مَنْسُوخٌ﴾ کیونکہ اس کا طلاق ہونا منسوخ ہے، ﴿فَلَا يَتَمَكَّنُ مِنَ الْإِتْيَانِ بِهِ﴾ تو یہ شخص قادر نہیں ہے اس کو لانے پر، یعنی جس چیز کو شریعت نے منسوخ کر دیا ہے یہ اس کو اب لانے پر قادر نہیں یعنی طلاق کو اس کے ذریعے ثابت نہیں کر سکتا بھئی۔ ﴿وَإِذَا قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ كَبَطْنِ أُمِّي﴾ ظہار کا معنی سمجھ میں آگیا، اس کا حکم بھی آپ کو پتہ چل گیا کہ کفارہ ادا کر دے گا تو بیوی پھر حلال ہو جائے گی۔ البتہ اس سے نکاح نہیں ٹوٹے گا، عورت حرام ہو گئی نکاح نہیں ٹوٹا۔ اب مزید الفاظ بھئی، اور کس کس چیز کے اندر تشبیہ دے گا تو ظہار ثابت ہوگا اور کن چیزوں میں تشبیہ دے گا تو ظہار ثابت نہیں ہوگا اور نیز ظہار کے مختلف قسم کے الفاظ کہ ان کا کیا حکم ہوگا؟ وہ صاحبِ ہدایہ تفصیل بیان فرما رہے ہیں۔ ﴿وَإِذَا قَالَ﴾ اور جب خاوند نے کہا: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَبَطْنِ أُمِّي﴾، ظہر یعنی پشت کے بجائے بطن یعنی پیٹ کو ذکر کیا، کہ خاوند بیوی سے کہتا ہے: ﴿أَنْتِ عَلَيَّ كَبَطْنِ أُمِّي﴾ کہ تو مجھ پر ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کا پیٹ، ﴿أَوْ كَفَخِذِهَا﴾ فخذ کہتے ہیں ران کو بھئی ران، یہ گھٹنے سے اوپر کا جو حصہ ہے، ﴿أَوْ كَفَخِذِهَا﴾ کہ تو میرے لیے اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی ران، ﴿أَوْ كَفَرْجِهَا﴾ تو میرے لیے اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی شرمگاہ، ﴿فَهُوَ مُظَاهِرٌ﴾ تو یہ شخص ظہار کرنے والا ہے۔ بھئی پشت کے بجائے اگر پیٹ یا ران یا شرمگاہ کو ذکر کرتا ہے یہ سب بھی کیا ہیں؟ ظہار ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَهُوَ مُظَاهِرٌ﴾ تو یہ شخص ظہار کرنے والا ہے، ﴿لِأَنَّ الظِّهَارَ لَيْسَ إِلَّا تَشْبِيهَ الْمُحَلَّلَةِ بِالْمُحَرَّمَةِ﴾ اس لیے کیونکہ ظہار نہیں ہے مگر محللہ کو یعنی وہ عورت جو حلال ہے یعنی بیوی، وہ بیوی کو تشبیہ دینا بالمحرمۃ حرام عورت کے ساتھ، ﴿وَهَذَا الْمَعْنَى يَتَحَقَّقُ فِي عُضْوٍ لَا يَجُوزُ النَّظَرُ إِلَيْهِ﴾ اور یہ والا معنی یعنی یہ تشبیہ والا معنی ﴿يَتَحَقَّقُ﴾ یہ پایا جاتا ہے ﴿فِي عُضْوٍ﴾ ایسے عضو میں بھی ﴿لَا يَجُوزُ النَّظَرُ إِلَيْهِ﴾ کہ جس کی طرف دیکھنا جائز نہ ہو۔ یہ وہ اعضاء ذکر کیے جن کی طرف دیکھنا جائز نہیں، یہ ران اور پیٹ وغیرہ ان کی طرف دیکھنا جائز نہیں، تو ان اعضاء کے اندر بھی محللہ کو تشبیہ دینا محرمہ کے ساتھ پایا گیا بھئی۔ محللہ کے اندر تو ان اعضاء کی طرف دیکھنا جائز تھا لیکن محرمات کے اندر تو ان اعضاء کی طرف دیکھنا جائز نہیں، تو لہٰذا محللہ کی تشبیہ لازم آئی کس کے ساتھ؟ محرمہ کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا الْمَعْنَى يَتَحَقَّقُ فِي عُضْوٍ لَا يَجُوزُ النَّظَرُ إِلَيْهِ﴾ اور یہ والا معنی یعنی تشبیہ والا معنی، یعنی حلال کو حرام کے ساتھ تشبیہ دینے والا معنی ان اعضاء میں بھی پایا جا رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا الْمَعْنَى﴾ اور یہ والا معنی جو ہے ﴿يَتَحَقَّقُ فِي عُضْوٍ﴾ یہ پایا جاتا ہے ایسے عضو میں ﴿لَا يَجُوزُ النَّظَرُ إِلَيْهِ﴾ کہ جس کی طرف دیکھنا جائز نہ ہو، ﴿وَكَذَا إِذَا شَبَّهَهَا بِمَنْ لَا يَحِلُّ لَهُ النَّظَرُ إِلَيْهَا عَلَى التَّأْبِيدِ مِنْ مَحَارِمِهِ﴾، ﴿مِثْلُ أُخْتِهِ أَوْ عَمَّتِهِ أَوْ أُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ﴾۔ بھئی صرف ماں کے ساتھ تشبیہ دینا ضروری نہیں بلکہ کسی بھی محرم کے ساتھ تشبیہ دے دے جو ہمیشہ کے لیے انسان پر حرام ہو، یعنی بیٹی ہے، بہن ہے، خالہ ہے، پھوپھی ہے وغیرہ، دادی ہے، نانی ہے، پوتی ہے، نواسی ہے، یہ ساری جو ہیں جو محرم ہیں جن کے ساتھ حرمتِ مؤبدہ ہے ان کے ساتھ تشبیہ دینا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكَذَا إِذَا شَبَّهَهَا﴾ اور اسی طرح ہے جب ظہار کرنے والے نے بیوی کو تشبیہ دی ﴿بِمَنْ لَا يَحِلُّ لَهُ النَّظَرُ إِلَيْهَا﴾ کہ جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔ اسی طرح ہے، توجہ سے یہ عبارت سمجھ لو بھئی: ﴿وَكَذَا إِذَا شَبَّهَهَا﴾ اسی طرح اگر ظہار کرنے والے نے اپنی بیوی کو تشبیہ دی ﴿بِمَنْ﴾ اس عورت کے ساتھ ﴿لَا يَحِلُّ لَهُ النَّظَرُ إِلَيْهَا﴾ کہ جس کی طرف دیکھنا جائز نہیں ہے۔ بھئی ماں، بہن، بیٹی، ان سب کی طرف تو دیکھنا جائز ہے؟ یاد رکھو یہاں مضاف محذوف نکالنا پڑے گا، یہاں کیا آیا: ﴿لَا يَحِلُّ لَهُ النَّظَرُ إِلَيْهَا أَيْ إِلَى أَعْضَائِهَا﴾، ﴿لَا يَحِلُّ النَّظَرُ إِلَى أَعْضَائِهَا﴾۔ کہ وہ عورتیں جن کے ان مذکورہ اعضا کی طرف دیکھنا جائز نہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وہ عورتیں۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَا إِذَا شَبَّهَهَا اور اسی طرح ہے جب خاوند نے تشبیہ دی اپنی بیوی کو بِمَنْ لَا يَحِلُّ لَهُ النَّظَرُ ان عورتوں کے ساتھ کہ حلال نہیں ہے اس خاوند کے لیے دیکھنا إِلَيْهَا، أَيْ: إِلَىٰ أَعْضَائِهَا ان کی طرف، یعنی ان کے اعضا کی طرف یعنی جو ذکر پیچھے ہو گئے تھے عَلَى التَّأْبِيدِ مِنْ مَحَارِمِهِ اور جو محارم میں سے ہیں علی التابید ہمیشہ کے لیے۔ تو عَلَى التَّأْبِيدِ مِنْ مَحَارِمِهِ جو تابید کے طریقے پر اس کے محارم میں سے ہیں۔ وہ محرم عورتیں جو ہمیشہ کے لیے حرام ہیں، ان کے ان اعضا کے ساتھ تشبیہ دینا۔ اس کے ذریعے مطلقہ ثلاث کو نکال دیا۔ ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں، یہ بھی اس پر حرام ہو گئی۔ یہ عورت بھی کیا ہو گئی؟ محرمہ تو ہے لیکن ہمیشہ کے لیے حرام نہیں، اگر بیچ میں زوج ثانی آئے گا یہ پھر پہلے خاوند کے لیے حلال ہو جائے گی۔ تو اس مطلقہ ثلاث کے ساتھ تشبیہ دے اپنی بیوی کو تو پھر اس سے ظہار ثابت نہیں ہو گا۔ مِثْلُ أُخْتِهِ أَوْ عَمَّتِهِ جیسے کہ اس کی بہن ہے، أَوْ عَمَّتِهِ یا اس کی پھوپھی ہے، أَوْ أُمِّهِ مِنَ الرَّضَاعَةِ یا اس کی رضاعی ماں ہے، خاوند کی رضاعی ماں ہے اس کے ساتھ تشبیہ دیتا ہے، اور رضاعی ماں بھی کیا ہوتی ہے؟ انسان پر ہمیشہ کے لیے حرام ہوتی ہے۔ لِأَنَّهُنَّ فِي التَّحْرِيمِ الْمُؤَبَّدِ كَالْأُمِّ اس لیے کیونکہ یہ بھی تحریم مؤبد کے اندر ماں کی طرح ہیں، یہ سب عورتیں بھئی بہن ہے، پھوپھی ہے، رضاعی ماں وغیرہ۔ لِأَنَّهُنَّ فِي التَّحْرِيمِ الْمُؤَبَّدِ كَالْأُمِّ اس لیے کیونکہ یہ عورتیں بھی تحریم مؤبد کے اندر ماں کی طرح ہیں۔ وَكَذَلِكَ إِذَا قَالَ: اور اسی طرح ہے حکم جب خاوند نے یہ کہا: رَأْسُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي رَأْسُكِ بیوی کے سر کو تشبیہ دے رہا ہے۔ رَأْسُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، أَوْ فَرْجُكِ یا فَرْجُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي یا وَجْهُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي یا رَقَبَتُكِ کہ رقبہ کہتا ہے۔ تو دیکھو کچھ الفاظ عربی زبان میں ایسے ہیں جن کے ذریعے پورے انسان کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ راس بول کر پورا انسان مراد لیتے ہیں، راس القوم قوم کے سردار کو کہتے ہیں۔ اسی طرح راس کا لفظ ہے اور یا فرج شرم گاہ بول کر پوری عورت مراد لی جاتی ہے، یا وجہ چہرہ بول کر پورا انسان مراد ہوتا ہے، یا اسی طرح رقبہ بول کر پورا انسان مراد ہوتا ہے جیسے ابھی ذکر آیا: فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ۔ تو رقبہ بول کر پورا غلام یا باندی مراد ہے۔ تو اگر بیوی کے ایسے عضو کو بھی تشبیہ دے دی تو اس صورت کے اندر بھی ظہار ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَكَذَلِكَ إِذَا قَالَ: رَأْسُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي، أَوْ فَرْجُكِ یا تیری شرم گاہ اسی طرح ہے، أَوْ وَجْهُكِ یا تیرا چہرہ، أَوْ رَقَبَتُكِ یا تمہاری گردن، أَوْ نِصْفُكِ، أَوْ ثُلُثُكِ یا تیرا نصف یا تیرا ثلث، یہ میرے لیے اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت بھئی۔ تو ایسے جز کو ذکر کیا جو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے۔ اب نصف جو ہے یہ پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے، ہر ہر عضو کا نصف بھئی۔ یا ثلث کہہ دیا تو ہر ہر عضو کا ثلث۔ تو ایسا جز ذکر کیا خاوند نے جو پورے بدن میں پھیلا ہوا ہے تو اس سے بھی ظہار ثابت ہو جائے گا۔ نِصْفُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي یا ثُلُثُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي۔ کہتے ہیں: لِأَنَّهُ يُعَبَّرُ بِهَا عَنْ جَمِيعِ الْبَدَنِ اس لیے کیونکہ ان کے ساتھ تعبیر کیا جاتا ہے پورے بدن کو۔ یہ راس یا فرج یا وجہ یا رقبہ کے ذریعے پورے بدن کو تعبیر کیا جاتا ہے۔ وَيَثْبُتُ الْحُكْمُ فِي الشَّائِعِ اور پھر یہ جو نصفک اور ثلثک اس کے اندر تشبیہ دے رہا ہے، تو کہتے ہیں بھئی یہاں جب کہا: نِصْفُكِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي تیرا نصف میرے اوپر ایسے ہی ہے جیسے میری ماں کی پشت، تو نصف کے اندر حرمت آ گئی اور پھر یہ حرمت سرایت کر جائے گی اور پوری عورت کے اندر ہی حرمت آ جائے گی، پوری عورت ہی خاوند پر حرام۔ اسی طرح اگر ثلث کہتا ہے تو ثلث خاوند پر حرام ہوا، بیوی کا تیسرا حصہ، لیکن وہ پھر سرایت کر جائے گا، متعدی ہو جائے گا اور پوری بیوی ہی خاوند پر حرام ہو جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: وَيَثْبُتُ الْحُكْمُ فِي الشَّائِعِ اور یہ حرمت والا حکم ثابت ہو جائے گا في الشائع اس جز میں جو پھیلا ہوا ہے، ثُمَّ يَتَعَدَّىٰ پھر یہ حکم متعدی ہو جائے گا یعنی سارے بدن میں آ جائے گا، كَمَا بَيَّنَّاهُ فِي الطَّلَاقِ جیسے ہم نے طلاق میں بیان کیا تھا۔ طلاق میں بھی اگر خاوند بیوی سے کہتا ہے: نصفک طالق یا ثلثک طالق، تو وہاں بھی نصف پہ طلاق آتی تھی اور پھر سرایت کر کے باقی بدن میں بھی طلاق آ جاتی تھی۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي اب خاوند بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي تو میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں۔ پہلے کیا تھا؟ كَظَهْرِ أُمِّي جیسے میری ماں کی پشت۔ اب صرف کیا کہتا ہے؟ مِثْلُ أُمِّي کہ أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي کہ تو میرے لیے ایسے ہی ہے جیسے میری ماں، أَوْ كَأُمِّي مثل کے بجائے کاف کا لفظ لے آتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ كَأُمِّي تو ایسے ہی ہے میرے لیے جیسے میری ماں۔ تو اب اس کا کیا حکم ہو گا؟ وہ بیان کریں گے۔ کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي، أَوْ كَأُمِّي: يُرْجَعُ إِلَىٰ نِيَّتِهِ تو اس صورت میں خاوند کی نیت کی طرف رجوع کیا جائے گا، اس سے نیت پوچھی جائے گی کہ وہ کس اعتبار سے تشبیہ دے رہا ہے بیوی کو ماں کے ساتھ۔ تو کہتے ہیں: يُرْجَعُ إِلَىٰ نِيَّتِهِ رجوع کیا جائے گا خاوند کی نیت کی طرف لِيَنْكَشِفَ حُكْمُهُ تاکہ اس کا حکم ظاہر ہو جائے، کھل جائے۔ اس کا حکم نیت سے پتہ چل جائے گا کہ اس کا کیا ارادہ تھا، پھر اس کے مطابق حکم کا بھی پتہ چل جائے گا۔ تو کہتے ہیں اس کی نیت کی طرف رجوع کیا جائے گا: لِيَنْكَشِفَ حُكْمُهُ تاکہ اس کا حکم ظاہر ہو جائے۔ فَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ الْكَرَامَةَ اگر خاوند کہتا ہے: میں نے تو عزت کا ارادہ کیا تھا، میں نے تو عزت کا ارادہ کیا تھا، میں تو اپنی بیوی سے یہ کہہ رہا تھا کہ جیسے میری ماں میرے لیے معزز ہے اور عزت والی ہے، تو بھی میری گھر والی ہے، میرے لیے عزت والی ہے۔ تو پھر کہتے ہیں اس کی بات قبول کی جائے گی، اس کی وجہ سے حرمت نہیں آئے گی بھئی۔ اس لیے کیونکہ عزت کے طور پر تشبیہ کو کثرت سے استعمال کیا جاتا ہے۔ عزت کے طور پر تشبیہ کو بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ آپ بھی دیکھتے ہیں کسی شخص کے پاس کوئی آدمی جاتا ہے مشورہ کرنے کے لیے کہ میں آپ کے پاس مشورہ کرنے آیا ہوں، آپ میرے والد کے مثل ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو تشبیہ دی جاتی ہے عزت کے طور پر۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ الْكَرَامَةَ فَهُوَ كَمَا قَالَ اگر خاوند نے کہا کہ میرا ارادہ تو عزت کا تھا، تو یہ ایسے ہی ہو گا جیسے خاوند نے کہا۔ لِأَنَّ التَّكْرِيمَ بِالتَّشْبِيهِ اس لیے کیونکہ تشبیہ کے ذریعے عزت کرنا فَاشٍ فِي الْكَلَامِ یہ کلام کے اندر رائج ہے۔ فاش سے ہے، فاش کا معنی ہے جو خوب رائج ہو، پھیلا ہوا ہے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّكْرِيمَ بِالتَّشْبِيهِ اس لیے کیونکہ تشبیہ کے ذریعے عزت فَاشٍ فِي الْكَلَامِ یہ کلام کے اندر رائج ہے کثرت کے ساتھ۔ وَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ الظِّهَارَ فَهُوَ ظِهَارٌ اور اگر خاوند کہتا ہے کہ میں نے تو ظہار کا ارادہ کیا تھا تو یہ ظہار ہے، لِأَنَّهُ تَشْبِيهٌ بِجَمِيعِهَا بھئی خاوند نے کیا کہا تھا؟ أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي اور پہلے ظہار والا جملہ: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وہاں ماں کی پشت کے ساتھ تشبیہ دیتا تھا بیوی کو، اور یہاں پوری ماں کے ساتھ تشبیہ دے رہا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي تو جب ایک عضو کے ساتھ تشبیہ کے اندر حرمت آتی تھی، تو پوری ماں کے ساتھ تشبیہ میں بھی حرمت آ جائے گی۔ لیکن چونکہ کہتے ہیں یہ صریح نہیں ہے۔ یہ لفظ: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي یہ ظہار کے اندر صریح نہیں، اس کے اندر دیکھو عزت والا معنی بھی آ سکتا ہے، تو لہٰذا اس لیے یہاں نیت پوچھی جائے گی بھئی۔ اور وہ جو لفظ تھا: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي وہ تو ظہار کے اندر صریح ہے اور صریح کے اندر نیت پوچھنے کی بھی حاجت نہیں ہوتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ تَشْبِيهٌ بِجَمِيعِهَا اس لیے کیونکہ یہاں بیوی کو تشبیہ دینا ہے پوری ماں کے ساتھ، وَفِيهِ تَشْبِيهٌ بِالْعُضْوِ اور پورے کے ساتھ تشبیہ کے اندر عضو کی بھی تشبیہ آ گئی، اس کی بھی تشبیہ آ گئی، لَكِنَّهُ لَيْسَ بِصَرِيحٍ لیکن یہ لفظ جو ہے ظہار کے اندر صریح نہیں ہے، اس میں عزت والا معنی بھی ہے، فَيَفْتَقِرُ إِلَى النِّيَّةِ تو یہ قول محتاج ہو گا نیت کا۔ اس میں نیت کو دیکھا جائے گا۔ وَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ فَهُوَ طَلَاقٌ بَائِنٌ اور اگر خاوند کہتا ہے: میں نے تو طلاق کا ارادہ کیا تھا، أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي کے ذریعے، وَإِنْ قَالَ: أَرَدْتُ الطَّلَاقَ اور اگر خاوند نے کہا کہ میں نے طلاق کا ارادہ کیا تھا، فَهُوَ طَلَاقٌ بَائِنٌ تو یہ طلاق بائن ہے، لِأَنَّهُ تَشْبِيهٌ بِالْأُمِّ فِي الْحُرْمَةِ تو اس لیے کیونکہ یہ حرام ہونے کے اندر ماں کے ساتھ تشبیہ ہے، فَكَأَنَّهُ قَالَ: گویا کہ خاوند نے یوں کہا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي یہ اسی طرح ہے گویا خاوند نے کیا کہا ہے؟ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ کہا ہے، اور أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ کہا جائے اور طلاق کی نیت کی جائے تو اس سے طلاق بائن ہوتی ہے، تو یہاں بھی کیا ہو گی؟ طلاق بائن۔ تو کہتے ہیں: فَكَأَنَّهُ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ، وَنَوَى الطَّلَاقَ تو گویا کہ خاوند نے یوں کہا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ اور اس نے طلاق کی نیت کی ہے۔ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ اور اگر اس کی کوئی نیت نہیں تھی، خاوند کہتا ہے: میری تو کوئی نیت نہیں تھی، بس میں نے یہ بات کہہ دی بیوی کو۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَلَيْسَ بِشَيْءٍ اور اگر خاوند کی کوئی نیت نہیں تھی تو یہ کچھ بھی نہیں ہے یعنی اس سے کوئی طلاق وغیرہ یا ظہار نہیں ہو گا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، لِاحْتِمَالِ الْحَمْلِ عَلَى الْكَرَامَةِ اس لیے کیونکہ اس کو عزت پر بھی محمول کرنے کا احتمال ہے۔ تو کہتے ہیں: لِاحْتِمَالِ الْحَمْلِ عَلَى الْكَرَامَةِ اس لیے کیونکہ اس کو کرامت پر محمول کرنے کا بھی احتمال ہے۔ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَكُونُ ظِهَارًا اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ ظہار ہو گا۔ اگر خاوند کہتا ہے: میری کوئی نیت نہیں تھی، بغیر نیت کے میں نے کہا: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي یا كَأُمِّي تو امام محمد فرماتے ہیں یہ ظہار ہو گا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يَكُونُ ظِهَارًا یہ ظہار ہو گا، لِأَنَّ التَّشْبِيهَ بِعُضْوٍ مِنْهَا لَمَّا كَانَ ظِهَارًا اس لیے کیونکہ ماں کے ایک عضو کے ساتھ تشبیہ دینا جب وہ ظہار ہے، فَالتَّشْبِيهُ بِجَمِيعِهَا أَوْلَىٰ تو پوری ماں کے ساتھ تشبیہ دینا یہ بطریق اولیٰ ظہار ہو گا۔ وَإِنْ عَنَىٰ بِهِ التَّحْرِيمَ لَا غَيْرُ اگر خاوند سے پوچھا گیا: آپ کی کیا نیت تھی؟ اس نے کیا کہا: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي تو خاوند کہتا ہے: میری حرام کرنے کی نیت تھی۔ میری نیت حرام کرنے کی تھی۔ اب ایلاء، اس میں بھی بیوی حرام ہوتی ہے، وہ قسم کھا کر اپنے اوپر بیوی کو کیا کرتا ہے؟ حرام۔ اور ظہار کے اندر بھی بیوی انسان پر حرام ہو جاتی ہے۔ تو اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس نے حرام کرنے کی نیت کی ہے، حرام ایلاء میں بھی بیوی ہو جاتی ہے، حرام ظہار میں بھی ہو جاتی ہے، لیکن ایلاء میں ادنیٰ درجے کی حرمت آتی ہے اور ظہار میں اعلیٰ درجے کی حرمت آتی ہے۔ اور جب ایک چیز کے اندر دو احتمال ہوں، ایک ادنیٰ اور ایک اعلیٰ، تو ادنیٰ تو یقینی ثابت ہے اور اعلیٰ کا احتمال ہوتا ہے، لہٰذا ادنیٰ ثابت ہو جائے گا، اس کو ہم ایلاء شمار کریں گے۔ اس کو ہم کیا شمار کریں گے؟ ایلاء شمار کریں گے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کو ہم ظہار شمار کریں گے۔ کیا شمار کریں گے؟ ظہار شمار کریں گے۔ مثلاً خاوند نے کیا کہا: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي نیت پوچھی گئی: آپ کی کیا نیت ہے؟ گزشتہ مسئلہ گزرا، اگر خاوند کی کوئی نیت نہ ہو تو شیخین کے نزدیک کچھ نہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ظہار۔ اور اگر خاوند کہتا ہے: میری نیت حرام کرنے کی تھی، میں بیوی کو اپنے اوپر حرام کرنا چاہتا تھا، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایلاء سے بھی بیوی حرام ہوتی ہے، ظہار سے بھی حرام ہوتی ہے اور ادنیٰ درجہ ہے ایلاء کا اور اعلیٰ درجہ ہے ظہار کا، لہٰذا ادنیٰ پر اس کو محمول کریں گے۔ نیت کیا کی ہے خاوند نے؟ حرام کرنے کی۔ توجہ ہے؟ حرام کرنے کی نیت کی ہے خاوند نے اور خاوند نے تعین وغیرہ نہیں کی، تو پھر اس صورت میں ہم اس کو ایلاء پر محمول کریں گے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، یہاں تشبیہ ہے بھئی اور تشبیہ ظہار میں ہوتی ہے، لہٰذا اس کو ہم ظہار پر محمول کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ عَنَىٰ بِهِ التَّحْرِيمَ لَا غَيْرُ اور اگر خاوند نے اس کے ذریعے بیوی کو حرام کرنے کا ارادہ کیا، لا غیر اس کے علاوہ کا نہیں، فَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ هُوَ إِيلَاءٌ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ ایلاء ہے، لِيَكُونَ الثَّابِتُ بِهِ أَدْنَى الْحُرْمَتَيْنِ تاکہ وہ چیز جو اس کے ذریعے ثابت ہو وہ دو حرمتوں میں سے ادنیٰ درجے والی ہو، دو حرمتوں میں سے ادنیٰ درجے والی حرمت ثابت ہو جائے۔ بھئی دیکھیے! ایلاء بھی حرام اور ظہار بھی حرام، لیکن ظہار جو ہے وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے، اور ایلاء اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں۔ ایلاء کے اندر ایک انسان قسم کھاتا ہے کہ میں چار ماہ یا اس سے زیادہ تک اپنی بیوی سے صحبت نہیں کروں گا۔ تو یہاں خود یہ قسم کھانے میں کوئی خرابی نہیں ہے، لیکن اس کی وجہ سے اللہ کے نام کی بے حرمتی لازم آ رہی ہے۔ اب یہ صحبت کرے گا تو اللہ کے نام کی بے حرمتی لازم آئے گی بھئی، اس لیے اسے شریعت نے منع کیا ہے۔ تو خود بذاتہ ایلاء کی ذات میں نہیں خرابی، بلکہ اس کی وجہ سے اللہ کے نام کی بے حرمتی ہوتی ہے، تو معلوم ہوا ایلاء میں جو حرمت ہے وہ لعینہ نہیں ہے، لذاتہ نہیں ہے، ایلاء کی ذات حرام نہیں ہے، اس میں حرمت کس وجہ سے آئی؟ اللہ کے نام کی بے حرمتی ہو گی۔ اللہ کے نام کی؟ تو اس میں جو حرمت آئی ہے وہ غیر کی وجہ سے آئی ہے۔ معلوم ہوا ایلاء حرام لعینہ نہیں بلکہ حرام لغیرہ ہے، غیر کی وجہ سے حرام ہے کہ اس میں اللہ کے نام کی بے حرمتی ہے۔ جبکہ ظہار وہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے۔ ظہار کسے کہتے ہیں؟ خاوند بیوی سے کہتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي تو اسی طرح ہے جیسے میری ماں کی پشت۔ تو دیکھو انتہائی ناپسندیدہ کلام اور جھوٹ بول رہا ہے، یہ تو بیوی ہے، یہ تو حلال ہے، یہ تو ماں کی طرح حرام نہیں، تو لہٰذا یہ ظہار اپنی ذات کے اعتبار سے ہی حرام ہے کیونکہ اس میں جھوٹ اور ناپسندیدہ بات ہے۔ تو ایلاء اپنی ذات کے اعتبار سے حرام نہیں بلکہ اللہ کے نام کی بے حرمتی ہوتی ہے اس لیے حرام ہے، اور ظہار اپنی ذات کے اعتبار سے حرام ہے۔ اور نیز ایلاء کے اندر صحبت کر لی جائے ایلاء ختم ہو جاتا ہے، اور ظہار کے اندر صحبت کرے گا تو ظہار نہیں ختم ہو گا بلکہ جرم اور بڑھ گیا بھئی کہ اس نے گناہ کیا بھئی، کفارے سے پہلے بیوی سے صحبت کر لی بھئی۔ اور نیز کفارۂ ظہار کیا ہے؟ کم از کم ساٹھ روزے رکھنا پڑیں گے، اور کفارۂ ایلاء کیا ہے؟ کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلائے گا یا کپڑے پہنائے گا یا تین روزے رکھے گا۔ تو ایلاء میں صرف تین روزے آتے ہیں اور ظہار میں ساٹھ روزے مسلسل آتے ہیں۔ نیز کفارۂ ظہار میں ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا، جبکہ ایلاء کے اندر دس مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو ہر اعتبار سے ایلاء کیا ہے؟ اس کی حرمت ادنیٰ ہے، ایک تو وہ حرام لعینہ نہیں بلکہ حرام لغیرہ ہے بھئی، اور جبکہ ظہار وہ حرام لعینہ ہے، اور ایلاء جو ہے وطی سے ختم ہو جاتا ہے اور ظہار بغیر کفارہ دیے ختم نہیں ہوتا بھئی۔ تو لہٰذا اس لیے ایلاء کی حرمت کم ہے تو ہم اس پر محمول کر لیں گے، یہ کون فرماتے ہیں؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ۔ وَعِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: ظِهَارٌ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ظہار، کہ اگر خاوند نے تحریم کی نیت کی ہے تو یہ ظہار ہو گا، لِأَنَّ كَافَ التَّشْبِيهِ تَخْتَصُّ بِهِ اس لیے کیونکہ کاف تشبیہ جو ہے وہ خاص ہے ظہار کے ساتھ یعنی تشبیہ کا لفظ استعمال کیا ہے۔ آگے دیکھیے: وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَأُمِّي اب دوسرے الفاظ خاوند نے ذکر کیے۔ پہلا کیا تھا؟ ظہار کس سے ہوتا ہے؟ أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي پھر دوسرا جملہ ذکر کیا تھا: أَنْتِ عَلَيَّ مِثْلُ أُمِّي، أَوْ كَأُمِّي اور اب حرام کا لفظ بھی بڑھا دیتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَأُمِّي تو کہتے ہیں اس کے اندر اگر وہ ظہار کی نیت کرے گا تو ظہار ہو جائے گا، اور اگر طلاق کی نیت کرے گا تو طلاق بھی ٹھیک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلَوْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَأُمِّي، وَنَوَىٰ ظِهَارًا أَوْ طَلَاقًا: فَهُوَ عَلَىٰ مَا نَوَىٰ اور اگر خاوند نے کہا: تو مجھ پر اسی طرح حرام ہے جیسے میری ماں، اور خاوند نے ظہار یا طلاق کی نیت کی، تو یہ اسی پر ہو گا جو اس نے نیت کی ہے۔ اگر ظہار کی نیت کی تو ظہار ہو گیا اور اگر طلاق کی نیت کی تو طلاق بائن ہو گئی، لِأَنَّهُ يَحْتَمِلُ الْوَجْهَيْنِ: اس لیے کیونکہ یہ کلام دونوں صورتوں کا احتمال رکھتا ہے: الظِّهَارَ؛ لِمَكَانِ التَّشْبِيهِ ظہار کا بھی احتمال رکھتا ہے لمکان التشبیہ، ای لوجود التشبیہ۔ میں نے بتلایا تھا کہ صاحب ہدایہ یہ مکان مصدر ہے، اس کو بمعنی وجود کے اس کو عام استعمال کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ظہار کا بھی احتمال رکھتا ہے لمکان التشبیہ، ای لوجود التشبیہ، کہ اس کے اندر تشبیہ موجود ہے، وَالطَّلَاقَ؛ لِمَكَانِ التَّحْرِيمِ اور یہ طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے لمکان التحریم، ای لوجود التحریم۔ تحریم کا وجود پایا جا رہا ہے، کیا کہہ رہا ہے خاوند؟ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ تو یہ تحریم بھی پائی جا رہی ہے تو طلاق کا بھی احتمال آ گیا۔ بھئی تحریم کے ساتھ آگے كَأُمِّي بھی تو کہہ رہا ہے خاوند، تو آپ کو صاحب ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ تشبیہ اسی حرمت کو پکا کر رہی ہے۔ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ اس میں طلاق کی نیت آ گئی، اور كَأُمِّي یہ اسی میں تاکید آ گئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَالطَّلَاقَ؛ لِمَكَانِ التَّحْرِيمِ، وَالتَّشْبِيهُ تَأْكِيدٌ لَهُ اور یہ طلاق کا بھی احتمال رکھتا ہے تحریم کے پائے جانے کی وجہ سے، اور تشبیہ اسی تحریم کی تاکید ہو گی۔ وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَعَلَىٰ قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِيلَاءٌ، وَعَلَىٰ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ: ظِهَارٌ اچھا بھئی یہی جملہ ہے، خاوند نے نیت کوئی نہیں کی: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَأُمِّي کوئی نیت نہیں کی، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ایلاء ہو جائے گا اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کاف تشبیہ موجود ہے، لہٰذا ظہار ہو گا۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ایلاء کیوں ہو گا؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب خاوند نے کوئی نیت نہیں کی اور یہ الفاظ کہے ہیں: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَأُمِّي تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ہم اس کو دو حرمتوں میں سے جو ادنیٰ ہے یعنی ایلاء، اس پر محمول کریں گے۔ دو حرمتیں کون سی ہیں؟ ایک ایلاء اور ایک ظہار، تو ایلاء کم درجے والا ہے وہ تو یقینی ہے، اور اعلیٰ درجے والے کا اس میں احتمال ہے لیکن اس کی تو کوئی نیت نہیں ہے، لہٰذا ادنیٰ پر محمول کر لیں گے تو یہ ایلاء ہو گا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں کہ یہاں کاف تشبیہ موجود ہے اور تشبیہ تو ظہار کے اندر ہوتی ہے، لہٰذا اس کو ظہار پر محمول کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ نِيَّةٌ فَعَلَىٰ قَوْلِ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِيلَاءٌ، وَعَلَىٰ قَوْلِ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ: ظِهَارٌ اور اگر خاوند کی کوئی نیت نہیں تھی تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے قول پر یہ ایلاء ہے، اور امام محمد رحمہ اللہ کے قول پر یہ ظہار ہے، وَالْوَجْهَانِ بَيَّنَّاهُمَا اور یہ دونوں وجہیں ہم نے بیان کر دیں، پیچھے ذکر آیا تھا۔ وَإِنْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي، وَنَوَىٰ بِهِ طَلَاقًا أَوْ إِيلَاءً: لَمْ يَكُنْ إِلَّا ظِهَارًا اب اور الفاظ خاوند استعمال کرتا ہے، کہتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي اب ظہر کا لفظ بھی لے آتا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي تو امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ صریح ہے ظہار کے بارے میں، لہٰذا اس سے ظہار ہی ہو گا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ اس کے اندر چونکہ تحریم کا لفظ بھی اس نے باقاعدہ ذکر کیا ہے، لہٰذا یہاں اس کی نیت پوچھی جائے گی۔ اگر اس نے ظہار کی نیت کی ہے تو ظہار ہو گا، اگر اس نے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق بائن ہو گی، اور اگر اس نے ایلاء کی نیت کی ہے تو ایلاء ہو گا۔ تو کہتے ہیں: وَإِنْ قَالَ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي، وَنَوَىٰ بِهِ طَلَاقًا أَوْ إِيلَاءً: لَمْ يَكُنْ إِلَّا ظِهَارًا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور اگر خاوند نے کہا: تو مجھ پر حرام ہے جیسے میری ماں کی پشت، اور اس نے طلاق یا ایلاء کی نیت کی، تو یہ نہیں ہو گا مگر ظہار ہی، امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب فرماتے ہیں: یہ ظہار میں صریح ہے، كَظَهْرِ أُمِّي کہہ رہا ہے، لہٰذا ظہار ہی ہو گا، اس کی نیت کو نہیں دیکھیں گے۔ وَقَالَا: هُوَ عَلَىٰ مَا نَوَىٰ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ اسی پر ہو گا جو اس نے نیت کی ہے، یہ قول اسی پر محمول کیا جائے گا جو اس نے نیت کی ہے، لِأَنَّ التَّحْرِيمَ يَحْتَمِلُ كُلَّ ذَلِكَ عَلَىٰ مَا بَيَّنَّا اس لیے کیونکہ تحریم جو ہے ان سب کا احتمال رکھتی ہے۔ خاوند نے بھی کیا کہا ہے: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي تو حرام ہونے کو ذکر کیا، تو ایلاء میں بھی بیوی حرام ہوتی ہے اور طلاق بائن سے بھی بیوی کیا ہوتی ہے؟ حرام، اور ظہار سے بھی کیا ہوتی ہے؟ حرام۔ لہٰذا سب کا احتمال ہے تو جو نیت کرے گا وہ ہو گا۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّ التَّحْرِيمَ يَحْتَمِلُ كُلَّ ذَلِكَ عَلَىٰ مَا بَيَّنَّا اس لیے کیونکہ حرام کرنا وہ ان سب کا احتمال رکھتا ہے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ غَيْرَ أَنَّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَىٰ ہاں ایک بات ہے: اگر اس نے طلاق کی نیت کی تو پھر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں طلاق ہو جائے گی، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں اگر خاوند نے طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق بھی ہو گی، ظہار بھی ہو گا، دونوں چیزیں ہو جائیں گی کیونکہ یہ لفظ صریح ہے کس کے بارے میں؟ ظہار کے بارے میں، تو ظہار نے تو ہونا ہی ہے، طلاق بھی ساتھ ہو جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر طلاق کی نیت کی ہے تو طلاق بائن ہو گی ظہار نہیں ہو گا، کیوں؟ کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ظہار ہونے سے پہلے ہی عورت بائنہ ہو چکی ہے۔ بھئی کس طرح؟ کہتے ہیں کیا لفظ کہے تھے؟ نیت کیا کی ہے طلاق کی: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي تو أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ تک جیسے ہی خاوند پہنچا طلاق بائن ہو گئی، بیوی جدا ہو گئی اور اگلا لفظ كَظَهْرِ أُمِّي جب آیا تو طلاق بائن ہو چکی، اور وہ عورت جس کو طلاق بائن ہو چکی اس سے تو ظہار نہیں ہو سکتا، تو ظہار لغو چلا گیا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں ظہار بھی ساتھ ہو جائے گا، طلاق بھی اور ظہار بھی۔ تو چنانچہ شمس الائمہ امام سرخسی رحمہ اللہ نے یہ مسئلہ ذکر فرمایا اور وہ پھر یہ اعتراض ذکر فرماتے ہیں، یہ اعتراض ذکر فرماتے ہیں کہ جب طلاق بائن ہو گئی پھر تو ظہار کا محل ہی نہ رہا، تو علماء فرماتے ہیں اس کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے اس قول پر محمول کیا جائے گا کہ طلاق بائن کے بعد بھی ظہار ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے کو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے اس قول پر محمول کیا جائے گا کہ ان کے نزدیک طلاق بائن کے بعد بھی عدت کے اندر خاوند ظہار کر سکتا ہے، تب ہی یہ مسئلہ طلاق کے ساتھ ساتھ ظہار ثابت ہو سکتا ہے، ورنہ تو طلاق بائن کے بعد تو ظہار نہیں ہو سکتا ویسے بھئی۔ تو ان کے اس قول کو لیا جائے کہ طلاق بائن کے بعد بھی ظہار ہو سکتا ہے تو پھر اس توجیہ پر یہ دونوں چیزیں ہو جائیں گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: غَيْرَ أَنَّ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: إِذَا نَوَى الطَّلَاقَ لَا يَكُونُ ظِهَارًا علاوہ اس کے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب خاوند نے طلاق کی نیت کی تو ظہار نہیں ہو گا، بلکہ صرف طلاق ہو گی، وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَكُونَانِ جَمِيعًا اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک یہ دونوں ہو جائیں گے، ظہار بھی اور طلاق بھی، وَقَدْ عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ اور تحقیق اس بات کو جانا گیا ہے في موضعه اپنے مقام میں، یعنی اس کو ذکر کیا ہے امام سرخسی نے اپنی کتاب مبسوط میں۔ جیسے ایک مبسوط کتاب امام محمد رحمہ اللہ کی ہے، اسی طرح مبسوط کتاب امام سرخسی کی بھی ہے، تو انہوں نے اس کو ذکر فرمایا ہے بھئی۔ اور میں نے بتایا کہ اس کو کس پر محمول کریں گے؟ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی اس روایت پر کہ ان کے نزدیک طلاق بائن والی سے بھی ظہار جائز ہے، اسی روایت پر یہ دونوں چیزیں ہو سکتی ہیں، ویسے دونوں نہیں ہو سکتیں۔ تو کہتے ہیں: وَقَدْ عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ اور اس بات کو اپنے مقام پر جانا گیا ہے، وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، امام صاحب فرماتے تھے اس سے ظہار ہی ہو گا، باقی کوئی نیت کرے بھی وہ سب لغو ہیں بھئی، ان کا اعتبار نہیں کیونکہ یہ لفظ ظہار میں صریح ہیں۔ جب یہ ظہار میں صریح ہیں تو ظہار ہی ہو گا، اس میں طلاق وغیرہ کا احتمال نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّهُ صَرِيحٌ فِي الظِّهَارِ فَلَا يَحْتَمِلُ غَيْرَهُ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ خاوند کے یہ الفاظ ظہار کے بارے میں صریح ہیں تو یہ ظہار کے علاوہ کا احتمال نہیں رکھتے، ثُمَّ هُوَ مُحْكَمٌ فَيُرَدُّ التَّحْرِيمُ إِلَيْهِ خاوند نے کیا کہا: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ كَظَهْرِ أُمِّي تو امام صاحب فرماتے ہیں كَظَهْرِ أُمِّي یہ تو ظہار کے الفاظ ہیں، ان میں ظہار کے علاوہ اور کوئی معنی ہی نہیں ہے، تو یہ لفظ ہوئے محکم۔ محکم کسے کہتے ہیں؟ وہ لفظ جس کا معنی متعین ہو، جس کے اندر اور احتمال نہ ہوں۔ تو كَظَهْرِ أُمِّي یہ ظہار کے اندر محکم ہے، پکا ہے، اس کے اندر اور کوئی معنی نہیں ہے، جبکہ ماقبل والے الفاظ: أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ اس کے اندر طلاق کا بھی احتمال، اس کے اندر ایلاء کا بھی احتمال اور ظہار کا بھی احتمال۔ ظہار میں بھی تو حرام ہو جاتی ہے بیوی، تو أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ کے اندر ایلاء کا بھی احتمال، طلاق کا بھی احتمال، ظہار کا بھی احتمال، تو وہ ہوا محتمل۔ تو أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ کیا ہوا؟ محتمل، اور كَظَهْرِ أُمِّي یہ کیا ہے؟ محکم، اور محتمل کو بھی محکم پر ہی محمول کیا جاتا ہے کیونکہ محکم کے اندر تو اور کوئی معنی نہیں، لیکن محتمل کے اندر تو اس کا معنی بھی موجود ہے، تو اس محتمل کو اسی محکم پر محمول کر لیں گے جیسے کہ اور مقامات پر اسی طرح کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ هُوَ مُحْكَمٌ پھر یہ لفظ جو ہے یہ ظہار والا یہ محکم ہے، فَيُرَدُّ التَّحْرِيمُ إِلَيْهِ تو تحریم کو بھی اسی کی طرف لوٹا دیں گے کہ اس سے بھی اسی کی حرمت مراد ہے، تو أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ سے بھی ظہار والی حرمت ہی مراد ہے، کوئی الگ حرمت مراد نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: وَلَا يَكُونُ الظِّهَارُ إِلَّا مِنَ الزَّوْجَةِ قَالَ، اور امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: وَلَا يَكُونُ الظِّهَارُ إِلَّا مِنَ الزَّوْجَةِ کہ ظہار نہیں ہو سکتا مگر اپنی بیوی سے ہی، حَتَّىٰ لَوْ ظَاهَرَ مِنْ أَمَتِهِ لَمْ يَكُنْ مُظَاهِرًا یہاں تک کہ اگر آقا نے اپنی باندی کے ساتھ ظہار کیا، اور باندی سے کہا: أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي تو لَمْ يَكُنْ مُظَاهِرًا تو یہ ظہار کرنے والا نہیں۔ بھئی کیا وجہ ہے باندی سے کیوں نہیں ظہار ہو سکتا؟ کہتے ہیں بھئی قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ وہ لوگ جو ظہار کر لیتے ہیں اپنی بیویوں سے۔ معلوم ہوا ظہار اپنی بیوی سے ہو سکتا ہے، باندی سے نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَىٰ: ﴿مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿مِنْ نِسَائِهِمْ﴾، وَلِأَنَّ الْحِلَّ فِي الْأَمَةِ تَابِعٌ اور نیز اس لیے کیونکہ حلال ہونا باندی میں تابع ہوتا ہے۔ بھئی ایک تو نقلی دلیل ذکر کر دی کہ بیوی سے ظہار ہو سکتا ہے، باندی سے نہیں کیونکہ قرآن میں کیا ذکر آیا ہے: وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ اور دوسری عقلی دلیل، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ باندی جو ہے، باندی کے اندر حلت تابع ہوتی ہے۔ باندی کے اندر حلت تابع ہوتی ہے۔ یاد رکھو جب کوئی شخص باندی خریدتا ہے تو وہاں صحبت مقصود نہیں ہوتی، اصل میں اس کا مالک بننا مقصود ہوتا ہے۔ اصل مالک بننا مقصود ہے، خرید کر مالک بن جائے گا تو باندی سے عموماً خدمت لی جاتی ہے، گھر کے کام کاج وہ کرتی ہے، تو وہاں اصل مقصود اس کا مالک بننا ہے۔ ہاں، طبعاً صحبت بھی جائز ہو جاتی ہے کیونکہ آقا اس کا مالک ہے بھئی۔ تو وہاں اصل مقصود صحبت نہیں بلکہ اصل مقصود خدمت ہے اور اس کا مالک بننا مقصود ہے، جبکہ بیوی، بیوی کے ساتھ جو نکاح کیا جاتا ہے وہاں مقصود ہی یہ ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے حلال ہو جائے، صحبت جائز ہو جائے۔ تو لہٰذا باندی اور بیوی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ بیوی کے اندر مقصود ہی صحبت ہوتی ہے اور باندی کے اندر صحبت مقصود نہیں، لہٰذا جو حکم بیوی کا ہے وہ حکم باندی کو نہیں دیا جا سکتا بھئی۔ ایک جیسی چیزوں کا حکم ایک ہوتا ہے، دو مختلف چیزوں کا حکم ایک نہیں ہوتا، تو یہاں باندی بیوی سے مختلف ہے۔ نکاح کے ذریعے بیوی میں مقصود ہی اس کا حلال ہونا ہے، جبکہ باندی میں خریدتے ہوئے اصل مقصود اس کا حلال ہونا نہیں ہوتا بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الْحِلَّ فِي الْأَمَةِ تَابِعٌ فَلَا تَلْحَقُ بِالْمَنْكُوحَةِ اور نیز اس لیے کیونکہ حلال ہونا باندی میں تابع ہوتا ہے، لہٰذا یہ منکوحہ یعنی بیوی کے ساتھ لاحق نہیں ہو گی، بیوی والا حکم اس کو نہیں دیا جائے گا۔ بیوی کے ساتھ تو ظہار کیا جا سکتا ہے لیکن باندی سے ظہار نہیں کیا جا سکتا۔ وَلِأَنَّ الظِّهَارَ مَنْقُولٌ عَنِ الطَّلَاقِ دوسری عقلی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں بھئی: ظہار کو زمانۂ جاہلیت میں طلاق شمار کیا جاتا تھا اور طلاق سے اس کو نقل کر لیا گیا، طلاق سے اس کو تحریم موقت کی طرف نقل کر لیا گیا کہ کچھ وقت کے لیے حرمت آتی ہے۔ جبکہ باندی کے اندر تو طلاق ہے ہی نہیں تو وہاں ظہار بھی نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ الظِّهَارَ مَنْقُولٌ عَنِ الطَّلَاقِ اور اس لیے کیونکہ ظہار جو ہے اس کو طلاق سے نقل کیا گیا ہے، وَلَا طَلَاقَ فِي الْمَمْلُوكَةِ اور باندی کے اندر تو طلاق نہیں ہوتی، لہٰذا اس میں ظہار بھی نہیں ہو سکتا۔ آگے دیکھیے: فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً بِغَيْرِ أَمْرِهَا ثُمَّ ظَاهَرَ مِنْهَا ثُمَّ أَجَازَتِ النِّكَاحَ فَالظِّهَارُ بَاطِلٌ صورت مسئلہ یہ: ایک شخص نے ایک عورت سے نکاح کر لیا اس کی اجازت کے بغیر، یعنی نکاح میں وہ فضولی ہے۔ وہ شخص کیا ہے؟ فضولی ہے عورت کی طرف سے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ غیر متعلقہ آدمی جو آپ کی طرف سے کوئی عقد کرے اس کو فضولی کہتے ہیں۔ فضولی فضل سے ہے، زائد زائد۔ مثلاً جیسے زید نے آپ کی گاڑی فروخت کر دی، بیچ دی، تو اب زید کو تو آپ نے وکیل نہیں بنایا کہ آپ کی گاڑی بیچ دے، تو یہ زید فضولی ہوا۔ کیا ہوا؟ فضولی۔ تو فضولی جب کوئی تصرف کرے تو وہ صاحب اختیار کی اجازت پر موقوف ہے۔ زید نے آپ کی گاڑی بیچی ہے، اگر آپ اجازت دیں گے تو یہ بیع منعقد ہو جائے گی، اگر آپ اجازت نہیں دیں گے تو یہ بیع بھی منعقد نہیں ہو گی۔ اب صورت یہ: ایک شخص نے فضولی بن کر ایک عورت سے نکاح کر لیا، کہ اس نے ساتھیوں کے سامنے بیٹھ کر کہا: میں نے فلاں عورت سے اپنا نکاح کر لیا، اور دوسرے ساتھی نے قبول کر لیا کہ میں اس عورت کی طرف سے قبول کرتا ہوں، اور پھر اس عورت نے ابھی اجازت نہیں دی کہ اس نے اس عورت سے ظہار کر لیا۔ کیا کر لیا؟ ظہار۔ بعد میں اس عورت کو نکاح کی خبر پہنچی، اس نے اجازت دے دی۔ تو کیا وہ ظہار جو اس نے نکاح کے بعد کیا تھا، کیا وہ ظہار ہو گیا؟ کہتے ہیں نہیں، وہ ظہار باطل ہے۔ وہ ظہار باطل ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں۔ بھئی کس طرح باطل ہے؟ کہتے ہیں بھئی ظہار کسے کہتے ہیں؟ حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دینا۔ حلال عورت کو حرام عورت کے ساتھ تشبیہ دینا، اور جب اس نے ظہار کیا اس عورت نے تو ابھی تک اجازت ہی نہیں دی تھی، وہ تو اس کے لیے حلال ہی نہیں ہوئی تھی۔ تو حلال کی تشبیہ حرام کے ساتھ لازم نہیں آئی۔ اور نیز ظہار کے اندر جھوٹ ہوتا ہے۔ ظہار میں کیا کہتا ہے؟ ظہار میں جھوٹ ہوتا ہے کہ تو مجھ پر اسی طرح حرام ہے جیسے میری ماں حرام ہے۔ حالانکہ یہ تو جھوٹ ہے، بیوی تو انسان پر حرام نہیں ہوتی لیکن اس عورت سے تو ابھی نکاح ہی نہیں ہوا۔ جب نکاح نہیں ہوا تو وہ بھی حرام ہے۔ جب وہ حرام ہے تو کہہ رہا ہے وہ مجھ پر اسی طرح حرام ہے جیسے میری ماں حرام ہے، یہ تو اس وقت سچ ہے بھئی۔ کیا ہے؟ سچ ہے، جھوٹ بھی نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اگر ایک عورت سے نکاح کیا ہے اور ابھی اس نے اجازت نہیں دی، اس نے ظہار بھی کر لیا تو ظہار باطل ہے۔ بعد میں وہ عورت نکاح کی اجازت دے بھی دے، ظہار ایک مرتبہ باطل ہو چکا ہے، وہ دوبارہ صحیح نہیں ہو سکتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً بِغَيْرِ أَمْرِهَا﴾ اور اگر کسی شخص نے نکاح کر لیا کسی عورت سے ﴿بِغَيْرِ أَمْرِهَا﴾ اس کے حکم کے بغیر، ﴿ثُمَّ ظَاهَرَ مِنْهَا﴾ پھر اس کے ساتھ ظہار کر لیا، ﴿ثُمَّ أَجَازَتِ النِّكَاحَ﴾ پھر اس عورت نے نکاح کی اجازت دے دی، ﴿فَالظِّهَارُ بَاطِلٌ﴾ تو وہ ظہار باطل ہے، ﴿لِأَنَّهُ صَادِقٌ فِي التَّشْبِيهِ وَقْتَ التَّصَرُّفِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو ہے تصرف کے وقت تشبیہ میں سچا ہے۔ جس وقت وہ ظہار والا تصرف کر رہا ہے وہ تشبیہ میں سچا ہے۔ وہ عورت بھی اس پر اسی طرح حرام ہے جیسے اس کی ماں اس پر حرام ہے بھئی۔ ﴿فَلَمْ يَكُنْ مُنْكَرًا مِنَ الْقَوْلِ﴾ تو لہٰذا یہ ناپسندیدہ قول نہ ہوا، ﴿وَالظِّهَارُ لَيْسَ بِحَقٍّ مِنْ حُقُوقِهِ حَتَّى يَتَوَقَّفَ﴾۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ نکاح تو اس نے کر لیا ہے اس عورت سے، اگرچہ اس عورت کی اجازت پر موقوف ہے یہ نکاح، تو جیسے یہ نکاح اس عورت کی اجازت پر موقوف ہے تو یوں کرنا چاہیے یہ ظہار کو بھی اس عورت کی اجازت پر موقوف کر دینا چاہیے۔ آپ کہہ رہے ہیں یہ ظہار باطل ہے۔ اس کے بجائے کیا کہنا چاہیے کہ یہ ظہار موقوف ہے عورت کی اجازت پر، جب عورت اجازت دے گی نکاح ہو جائے گا اور نکاح ہو جائے گا تو ظہار بھی ہو جائے گا۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ نہیں بھئی، ظہار کو نکاح کی اجازت پر موقوف نہیں کر سکتے کیونکہ ظہار نکاح کے حقوق میں سے نہیں ہے۔ ظہار نکاح کے حقوق میں سے نہیں ہے۔ ایک چیز نکاح کے حقوق میں سے ہو وہ تو نکاح کی اجازت پر موقوف ہو سکتی ہے لیکن ایک چیز جو نکاح کے حقوق میں سے ہی نہیں ہے وہ نکاح کی اجازت پر موقوف نہیں ہو سکتی۔ یا یوں کہو، یوں کہو کہ نکاح تو ایک مشروع چیز ہے، جائز چیز ہے اور ظہار تو ایک ممنوع چیز ہے شرعاً بھئی۔ بھئی ممنوع کیوں ہے؟ کیونکہ ناپسندیدہ کلام ہے اور جھوٹ ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو نکاح مشروع چیز ہے اور ظہار غیر مشروع چیز ہے، اور ایک مشروع چیز پر غیر مشروع چیز موقوف نہیں ہو سکتی۔ البتہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے کسی کا غلام غصب کر لیا، توجہ سے سنو، ایک شخص نے کسی کا غلام غصب کر لیا، غصب کر لیا یعنی چھین لیا، اور پھر غاصب نے یہ غلام آگے کسی کو بیچ دیا، مثلاً زید کے ہاتھ بیچ دیا۔ زید نے یہ غلام خریدا، اسے تو نہیں پتا کہ یہ غلام یہ چھین کر لایا ہے۔ زید نے وہ غلام خرید لیا اور زید نے غلام کو آزاد کر دیا۔ تو یاد رکھو فقہاء فرماتے ہیں یہ غلام آزاد نہیں، کیونکہ یہ غلام یہ غاصب کا نہیں تھا، یہ غلام تو وہ جس شخص سے یہ چھین کر لایا ہے اس کا ہے۔ تو اگر وہ شخص جس کا غلام تھا اگر اس نے اس بیع کی اجازت دے دی، یہ جو غاصب نے بیع کی ہے زید کے ساتھ، اگر مغصوب منہ وہ شخص جس سے غلام کو چھینا گیا تھا وہ جو مالک ہے اصل غلام کا، اگر اس نے اس بیع کی اجازت دے دی تو یہ بیع نافذ ہو جائے گی اور جب یہ بیع نافذ ہو جائے گی تو زید کا غلام کو آزاد کرنا بھی نافذ ہو جائے گا، لیکن اگر اس نے اجازت نہ دی تو یہ زید کا عتاق بھی نافذ نہیں۔ تو دیکھو وجہ یہ کہ یہاں پر زید جس نے غلام کو خریدا ہے اس کا مالک بننا موقوف ہو گیا اس آقا کی اجازت پر، اور مالک بننے کے حقوق میں سے یہ حق بھی ہے کہ مالک جب چاہے غلام کو آزاد کر سکتا ہے۔ تو چونکہ عتاق ملکیت کے حقوق میں سے ہے، یا یوں کہو بیع کے حقوق میں سے ہے، خریدار خریدنے کے بعد غلام کو آزاد کر سکتا ہے، تو لہٰذا وہاں تو، تو وہاں تو زید کی ملکیت جیسے اجازت پر موقوف ہے اسی طرح اس کا عتاق بھی اجازت پر موقوف ہو جائے گا، لیکن ظہار کے اندر ایسا نہیں ہے کیونکہ ظہار وہ نکاح کے حقوق میں سے نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالظِّهَارُ لَيْسَ بِحَقٍّ مِنْ حُقُوقِهِ﴾ اور ظہار جو ہے وہ نکاح کے حقوق میں سے کوئی حق نہیں ہے، ﴿حَتَّى يَتَوَقَّفَ﴾ یہاں تک کہ وہ اس نکاح پر موقوف ہو جائے، ﴿بِخِلَافِ إِعْتَاقِ الْمُشْتَرِي مِنَ الْغَاصِبِ﴾، ترجمہ یہاں توجہ سے سنو بھئی، ﴿بِخِلَافِ إِعْتَاقِ الْمُشْتَرِي مِنَ الْغَاصِبِ﴾ بخلاف آزاد کرنا اس شخص کا جس نے خریدا ہے غاصب سے، جس نے غاصب سے خریدا ہے اس کا عتاق جو ہے وہ موقوف رہے گا، وہ صاحبِ حق اجازت دے گا تو یہ عتاق نافذ ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ إِعْتَاقِ الْمُشْتَرِي مِنَ الْغَاصِبِ﴾ بخلاف آزاد کرنا اس شخص کا جس نے خریدا ہے غاصب سے، ﴿لِأَنَّهُ مِنْ حُقُوقِ الْمِلْكِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ عتاق جو ہے یہ ملکیت کے حقوق میں سے ہے۔ تو جب ملکیت اس کی اجازت پر موقوف ہے تو عتاق بھی اس کی اجازت پر موقوف ہو گا بھئی۔ ﴿وَمَنْ قَالَ لِنِسَائِهِ أَنْتُنَّ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي كَانَ مُظَاهِرًا مِنْهُنَّ جَمِيعًا﴾، صورتِ مسئلہ یہ: ایک شخص کی تین یا چار بیویاں ہیں، وہ ان سب سے کہتا ہے: ”﴿أَنْتُنَّ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾ تم سب مجھ پر اسی طرح ہو جیسے میری ماں کی پشت“ تو یاد رکھو سب سے ظہار ہو گیا۔ اب وہ جس عورت کو بھی وہ اپنے لیے حلال کرنا چاہتا ہے تو کفارہ دینا پڑے گا۔ اور وہ چار بیویاں ہیں مثلاً، چاروں کو اگر وہ اپنے لیے حلال کرنا چاہتا ہے تو چار کفارے دینے پڑیں گے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر ایک شخص نے اپنی چار بیویوں سے اکٹھا ایلاء کیا کہ واللہ میں تم سب سے چار مہینے تک صحبت نہیں کروں گا، اور پھر اب وہ چار مہینے تک صحبت نہیں کرے گا تو سب کو طلاق ہو جائے گی، لیکن اگر وہ رجوع کرنا چاہتا ہے اور سب کو حلال کرنا چاہتا ہے تو سب سے صحبت کر لے اور اس پر ایک ہی کفارہ آئے گا۔ اس پر ایک ہی کفارہ آئے گا۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ ظہار کے اندر آپ کہتے تھے چار بیویاں ہیں تو چار کفارے آئیں گے اور یہاں آپ کہتے ہیں ایک ہی کفارہ کافی ہے، حالانکہ چار بیویوں سے اس نے ایلاء کیا ہے۔ تو جواب یہ ہے کہ یہاں اس نے ایک ہی قسم کھائی ہے۔ ایک ہی قسم کھائی ہے تو صرف ایک مرتبہ اللہ کے نام کی بے حرمتی لازم آ رہی ہے، لہٰذا ایک ہی کفارہ دینا پڑے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ قَالَ لِنِسَائِهِ﴾ اور جس شخص نے اپنی بیویوں سے کہا ﴿أَنْتُنَّ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي﴾ کہ تم سب مجھ پر اسی طرح ہو جیسے میری ماں کی پشت، ﴿كَانَ مُظَاهِرًا مِنْهُنَّ جَمِيعًا﴾ تو وہ ان سب سے ظہار کرنے والا ہو گا، ﴿لِأَنَّهُ أَضَافَ الظِّهَارَ إِلَيْهِنَّ﴾ اس لیے کیونکہ اس نے ظہار کی نسبت کی ہے ان سب کی طرف، ﴿فَصَارَ كَمَا إِذَا أَضَافَ الطَّلَاقَ﴾ تو یہ اسی طرح ہے جیسے اس نے طلاق کی نسبت کی ہو۔ خاوند اگر اپنی بیویوں سے کہتا ہے، چار بیویاں ہیں ان سب کو کہتا ہے: ”﴿أَنْتُنَّ مُطَلَّقَاتٌ﴾ یا ﴿أَنْتُنَّ طَوَالِقُ﴾“ تو ساروں کو طلاق ہو جائے گی، ایک ایک طلاق۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جیسے طلاق کی نسبت جتنی بیویوں کی طرف کرے گا سب پر طلاق واقع ہو گی تو ظہار کی بھی نسبت جتنی بیویوں کی طرف کرے گا سب پر ظہار آ جائے گا بھئی۔ تو جتنی بیویوں کی طرف ظہار کی نسبت کرے گا تو ان سب کے بارے میں ظہار ہو جائے گا بھئی۔ ﴿وَعَلَيْهِ لِكُلِّ وَاحِدَةٍ كَفَّارَةٌ﴾ اور خاوند پر ان میں سے ہر ایک کے لیے کفارہ ہے، کفارہ دینا پڑے گا، ﴿لِأَنَّ الْحُرْمَةَ تَثْبُتُ فِي حَقِّ كُلِّ وَاحِدَةٍ﴾ اس لیے کیونکہ حرمت ثابت ہو گئی ان میں سے ہر ایک کے حق میں، ﴿وَالْكَفَّارَةُ لِإِنْهَاءِ الْحُرْمَةِ﴾ اور کفارہ جو ہے وہ حرمت کو ختم کرنے کے لیے ہے، انہٰی ینہی انہاء کا کیا معنی؟ ختم کرنا، ﴿وَالْكَفَّارَةُ لِإِنْهَاءِ الْحُرْمَةِ﴾ اور کفارہ جو ہوتا ہے وہ حرمت کو ختم کرنے کے لیے ہوتا ہے، ﴿فَتَتَعَدَّدُ بِتَعَدُّدِهَا﴾ تو حرمت کے متعدد ہونے سے کفارہ بھی متعدد ہو گا، ﴿بِخِلَافِ الْإِيلَاءِ مِنْهُنَّ﴾ بخلاف ان سب سے ایلاء کرنے کے، ﴿لِأَنَّ الْكَفَّارَةَ فِيهِ لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الِاسْمِ﴾ اس لیے کیونکہ ایلاء کے اندر جو کفارہ آتا ہے ﴿لِصِيَانَةِ حُرْمَةِ الِاسْمِ﴾ وہ اللہ کے نام کی حرمت کی حفاظت کے لیے ہے، اللہ کے نام کی حرمت کو بچانے کے لیے ہے، ﴿وَلَمْ يَتَعَدَّدْ ذِكْرُ الِاسْمِ﴾ اور اللہ کے نام کا ذکر تو متعدد نہیں ہے، ایک ہی اس نے قسم کھائی ہے۔ اور اگر اس نے ہر ایک کے لیے الگ الگ قسم کھائی ہے پھر ہر ایک کے لیے الگ الگ کفارہ بھی دینا پڑے گا بھئی۔ ﴿فَصْلٌ فِي الْكَفَّارَةِ﴾، یہ فصل ہے کفارے کے بیان میں۔ ﴿قَالَ: وَكَفَّارَةُ الظِّهَارِ عِتْقُ رَقَبَةٍ﴾، اور ظہار کا کفارہ جو ہے عتق رقبہ، یعنی اعتاق رقبہ، ایک غلام یا باندی کا آزاد کرنا ہے۔ تو یہاں عتق کس معنی میں ہے؟ اعتاق کے معنی میں ہے، تو یہ مجازی معنی میں ہے۔ تو قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَكَفَّارَةُ الظِّهَارِ عِتْقُ رَقَبَةٍ﴾ اور ظہار کا کفارہ جو ہے ایک رقبہ کا آزاد کرنا ہے یعنی غلام یا باندی کا، ﴿فَإِنْ لَمْ يَجِدْ﴾ پس اگر غلام یا باندی میسر نہ ہو، یعنی غلام یا باندی کو وہ نہ پائے، جیسے آج کل کے زمانے میں غلام اور باندیاں غلام اور باندیوں کا وجود ہی نہیں، ﴿فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ﴾ تو دو متواتر مہینوں کے روزے ہیں، ﴿فَإِنْ لَمْ يَسْتَطِعْ﴾ اگر اس کی بھی وہ استطاعت نہیں رکھتا خاوند بہت زیادہ بیمار ہے، ﴿فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا﴾ تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے، دو وقت کا کھانا، ﴿لِلنَّصِّ الْوَارِدِ فِيهِ﴾ اس نص کی وجہ سے جو اس بارے میں وارد ہوئی ہے، وہ جو آیت جو میں نے ذکر کر دی، ﴿فَإِنَّهُ يُفِيدُ الْكَفَّارَةَ عَلَى هَذَا التَّرْتِيبِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ نص جو ہے وہ کفارے کا فائدہ دیتی ہے اسی ترتیب پر، کہ غلام یا باندی آزاد کرے، اگر غلام یا باندی میسر نہ ہو تو پھر دو ماہ کے مسلسل روزے ہیں اور اگر اس کی بھی استطاعت نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنَّهُ يُفِيدُ الْكَفَّارَةَ عَلَى هَذَا التَّرْتِيبِ﴾ اس لیے کیونکہ نص بھی کفارے کا فائدہ دے رہی ہے اسی ترتیب پر۔ ﴿قَالَ: وَكُلُّ ذَلِكَ قَبْلَ الْمَسِيسِ﴾، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور یہ سب ہاتھ لگانے سے پہلے ہو گا، یعنی یہ کفارہ صحبت سے پہلے دینا پڑے گا بھئی۔ مسیس مس یمس مسیس کا معنی ہے چھونا، چھونا، ہاتھ لگانا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَكُلُّ ذَلِكَ قَبْلَ الْمَسِيسِ﴾ اور یہ سب جو ہے چھونے سے پہلے ہو گا، ﴿وَهَذَا فِي الْإِعْتَاقِ وَالصَّوْمِ ظَاهِرٌ﴾۔ اچھا بھئی، آیت کے اندر آیا تھا غلام یا باندی کا آزاد کرنا یا اسی طرح دو ماہ کے مسلسل جو روزے ہیں ان کے ساتھ تو ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ کی قید ہے کہ غلام یا باندی آزاد کرے ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ باہم ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے، یا اسی طرح غلام یا باندی نہ ملے تو ساٹھ روزے رکھنے پڑیں گے اور وہ بھی ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ کی قید وہاں پر بھی موجود ہے، لیکن ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا وہاں تو ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ کی قید موجود نہیں، لیکن صاحبِ قدوری کیا فرما رہے ہیں؟ کہ تینوں کے اندر ضروری ہے کہ تینوں میں سے ہر ایک کو صحبت سے پہلے ہونا چاہیے۔ اب اس کی وجہ ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا فِي الْإِعْتَاقِ وَالصَّوْمِ ظَاهِرٌ﴾ اور یہ اعتاق اور روزے کے اندر تو یہ بات ظاہر ہے کہ ان میں ﴿مِنْ قَبْلِ أَنْ يَتَمَاسَّا﴾ کی قید ہے لہٰذا ان کو صحبت پر مقدم ہونا چاہیے، تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا فِي الْإِعْتَاقِ وَالصَّوْمِ ظَاهِرٌ لِلتَّنْصِيصِ عَلَيْهِ﴾ اور اعتاق اور صوم کے اندر تو یہ بات ظاہر ہے اس پر تصریح ہونے کی وجہ سے کہ آیت میں اس کی تصریح ہے، ﴿وَكَذَا فِي الْإِطْعَامِ﴾ اور اسی طرح اطعام میں بھی ہو گا یعنی کھانا کھلانے میں بھی، یعنی کھانا کھلانا بھی صحبت سے پہلے ہو گا، ﴿لِأَنَّ الْكَفَّارَةَ فِيهِ مُنْهِيَةٌ لِلْحُرْمَةِ﴾، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ کھانا کھلانا بھی صحبت سے پہلے ہونا چاہیے، وجہ یہ کہ یہ کفارہ ہے اور کفارہ دے گا تو حرمت ختم ہو گی، لہٰذا کفارہ پہلے ہو اور صحبت بعد میں ہو، کفارہ دے دے گا تو حرمت ختم ہو جائے گی پھر صحبت کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْكَفَّارَةَ فِيهِ مُنْهِيَةٌ لِلْحُرْمَةِ﴾ اس لیے کیونکہ اس ظہار کے اندر کفارہ جو ہے وہ حرمت کو ختم کر دیتا ہے، ﴿فَلَا بُدَّ مِنْ تَقْدِيمِهَا عَلَى الْوَطْءِ﴾ لہٰذا ضروری ہے کہ یہ کفارہ جو ہے مقدم ہو وطی پر، ﴿لِيَكُونَ الْوَطْءُ حَلَالًا﴾ تاکہ وطی حلال ہو۔ آگے دیکھیے، قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَتُجْزِئُ فِي الْعِتْقِ الرَّقَبَةُ الْكَافِرَةُ وَالْمُسْلِمَةُ وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ﴾، یاد رکھو عند الاحناف قرآن میں کفارۂ ظہار کے اندر مطلق رقبہ کا ذکر ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾، یہاں مؤمنہ کی قید نہیں ہے، ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ﴾ مؤمنہ کی قید نہیں۔ لہٰذا عند الاحناف کفارے کے اندر چاہے مسلمان غلام یا باندی کو آزاد کیا جائے چاہے کافر غلام یا باندی کو آزاد کیا جائے، دونوں صورتوں میں کفارہ ادا ہو جائے گا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، یہاں پر بھی کفارے میں وہی غلام یا باندی آزاد کیا جا سکتا ہے جو مسلمان ہوں، جو کافر ہوں ان کو آزاد کرنے سے کفارہ ادا نہیں ہو گا بھئی۔ تو لہٰذا کوئی بھی غلام یا باندی آزاد کیا جا سکتا ہے، چاہے مسلمان ہو چاہے کافر ہو، اور چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث، اور چاہے صغیر ہو چاہے کبیر۔ نابالغ غلام کو خرید کر آزاد کر دیتا ہے، وہ بھی کافی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ﴿وَتُجْزِئُ فِي الْعِتْقِ﴾ کہ آزادی کے اندر کافی ہے ﴿الرَّقَبَةُ الْكَافِرَةُ وَالْمُسْلِمَةُ﴾ مسلمان یا کافر رقبہ، ﴿وَالذَّكَرُ وَالْأُنْثَى﴾ اور مذکر اور مؤنث، ﴿وَالصَّغِيرُ وَالْكَبِيرُ﴾ اور صغیر اور کبیر یعنی نابالغ اور بالغ، یہ سب ان میں سے کوئی بھی آزاد کر سکتا ہے، ﴿لِأَنَّ اسْمَ الرَّقَبَةِ يُطْلَقُ عَلَى هَؤُلَاءِ﴾ اس لیے کیونکہ رقبہ کا اسم جو ہے اس کا اطلاق ان پر ہوتا ہے، ﴿إِذْ هِيَ عِبَارَةٌ عَنِ الذَّاتِ الْمَرْقُوقِ الْمَمْلُوكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ اس لیے کیونکہ رقبہ جو ہے عبارۃ یہ عبارت ہے عن الذات اس ذات سے المرقوق جو غلام ہے، المملوک مملوک ہے، من کل وجہ ہر اعتبار سے۔ وہ ذات جو غلام اور مملوک ہے ہر اعتبار سے، یاد رکھو یہ ﴿مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ کا تعلق مرقوق کے ساتھ ہے۔ ﴿مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ کا تعلق مرقوق کے ساتھ ہے، یعنی وہ ذات جو ہر اعتبار سے غلام ہو اور مملوک ہو، وہ رقبہ مراد ہے بھئی۔ بھئی دیکھو، آپ کو صاحبِ ہدایہ آگے چل کر بتائیں گے کہ مدبر، ام ولد اور مکاتب۔ مدبر وہ غلام جس کو آقا نے کہہ دیا کہ میرے مرنے کے بعد تو آزاد ہے۔ ام ولد وہ باندی جس نے بچے کو جنم دیا اور آقا نے کہہ دیا یہ میرا بچہ ہے تو یہ ام ولد بن گئی۔ یاد رکھو یہ جو آزادی ہے یہ مدبر کا حق بن گئی، آقا کے مرنے کے بعد اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے۔ تو یہ مرقوق تو ہے، یہ غلام تو ہے لیکن ہر اعتبار سے نہیں، یہ ہر اعتبار سے اب غلام نہیں رہا، اب یہ عنقریب آزاد ہونے والا ہے، جیسے ہی آقا مرے گا یہ آزاد ہو جائے گا۔ آزادی اس کا حق بن چکی ہے بھئی، اب اس کو کوئی فسخ نہیں کر سکتا۔ اسی طرح ام ولد ہے وہ باندی، وہ بھی آقا کے مرنے کے بعد آزاد ہو جائے گی۔ تو آزادی اس کا حق بن چکی ہے، اس نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے، کوئی اس کے اس حق کو فسخ نہیں کر سکتا۔ تو جب انہوں نے ہر حال میں آزاد ہونا ہے تو اب یہ ہر اعتبار سے غلام نہ رہے بلکہ بعض اعتبار سے آزاد ہیں یعنی آزاد ہونے والے ہیں بھئی۔ جبکہ مکاتب وہ غلام ہے جسے آقا نے کہہ دیا مثلاً کہ دو سال تک ہر مہینے تم ایک لاکھ روپے لے کر آؤ تو تم آزاد ہو۔ یہ جو مکاتب ہے یہ غلام تو پورے طور پر ہے، مرقوق تو کامل طور پر ہے، کیونکہ اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں۔ اگر یہ اتنا مال لے آیا دو سال تک ہر مہینے باقاعدگی سے ایک لاکھ روپیہ لاتا رہا پھر تو دو سال بعد یہ آزاد ہو جائے گا، اور اگر درمیان میں وہ عاجز آ گیا اس رقم کی ادائیگی سے تو آقا قاضی کے پاس چلا جائے گا اور قاضی اس عقدِ کتابت کو فسخ کر دے گا اور یہ غلام پہلے جیسا غلام بن جائے گا۔ یا قاضی کے پاس جانے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، غلام نے خود ہی دو چار مہینے کوشش کی لیکن ایک لاکھ روپیہ وہ کہاں سے کماتا بھئی، آخر تنگ آ کر عاجز آ کر کہنے لگا یہ میرے بس کی بات نہیں ہے۔ لہٰذا جب غلام اپنے عاجزی کا اظہار کر دے گا تو بھی عقدِ کتابت ختم ہو جائے گا۔ جب غلام نے کہہ دیا میں اتنے پیسے نہیں لا سکتا تو عقدِ کتابت کیا ہو جائے گا؟ ختم ہو جائے گا، اور یہ پھر پہلے جیسا عام غلام بن جائے گا اور جتنے پیسے اس نے آقا کو دیے تھے وہ آقا ہی کے ہو گئے بھئی۔ تو یہ جو مکاتب ہے دیکھو اس کا آزاد ہونا یقینی نہیں۔ تو یہ مرقوق تو کامل طور پر ہے، ابھی بھی بعض اعتبار سے یہ آزاد نہیں۔ مدبر بعض اعتبار سے اب کیا ہو چکا؟ آزاد، اور ام ولد بھی بعض اعتبار سے کیا ہو چکی؟ آزاد، کیونکہ ان کی آزادی یقینی ہے۔ لیکن مکاتب کی آزادی تو یقینی نہیں، لہٰذا وہ تو مرقوق ہے من کل وجہ ہر اعتبار سے۔ البتہ یہ جو مکاتب ہے یہ مملوک نہیں ہے کامل طور پر۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جیسے ہی عقدِ کتابت کیا جاتا ہے ساتھ ہی غلام جو ہے وہ اب آزاد لوگوں کی طرح ہو گیا، یعنی آقا اس سے زبردستی خدمت نہیں لے سکتا، اور اگر مکاتبہ عورت ہے تو پھر آقا اس سے صحبت اب نہیں کر سکتا۔ اپنی باندی سے تو انسان صحبت کر سکتا ہے لیکن مکاتبہ سے اب یہ صحبت نہیں کر سکتا۔ یہ جائے گی جا کر پیسے کمائے گی اور ادائیگی کر کے اپنے آپ کو آزاد کروائے گی۔ اسی طرح غلام جو ہے جس کو آقا نے مکاتب بنایا ہے اب وہ بھی پورے طور پر مملوک نہ رہا، آزاد آدمیوں کی طرح ہو گیا، یہ جائے گا اور جا کر پیسے کمائے گا اور اپنے آپ کو آزاد کروائے گا، آقا مکاتب اور مکاتبہ سے جبراً خدمت نہیں لے سکتا۔ اگر وہ خدمت کرتے ہیں وہ ان کی مرضی ہے لیکن جبراً آقا ان سے خدمت نہیں لے سکتا۔ معلوم ہوا یہ مکاتب اور مکاتبہ یہ مرقوق تو کامل طور پر ہیں لیکن مملوک کامل طور پر نہ رہے اب یہ بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ قرآن میں آیا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾، اس رقبہ سے کیا مراد ہے؟ تو رقبہ سے کیا مراد ہے؟ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں: ﴿إِذْ هِيَ عِبَارَةٌ عَنِ الذَّاتِ﴾ کہ رقبہ عبارت ہے ایسی ذات سے ﴿الْمَرْقُوقِ﴾ جو مرقوق ہے ﴿مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ ہر اعتبار سے، اور المملوک مملوک بھی ہے۔ تو یاد رکھو صاحبِ ہدایہ آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے کہ مدبر یا ام ولد ان کو کفارے کے طور پہ آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ مدبر یا ام ولد اس لیے کہ ان کے اندر رقیت کامل نہیں ہے، رقیت ناقص ہو چکی ہے، انہوں نے آزاد ہونا ہے بھئی۔ حالانکہ کامل رقیت والے غلام کو آزاد کرنا پڑے گا کفارے کے اندر، تو مدبر کو بھی آزاد نہیں کر سکتے اور ام ولد کو بھی۔ اگر آزاد کریں گے بھی تو اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا، کیونکہ انہوں نے تو ویسے ہی کچھ عرصے کے بعد آزاد ہونا ہے۔ اور مکاتب جو ہے مکاتب نے اگر کچھ بدلِ کتابت ادا کر دیا ہے پھر مکاتب کو بھی ادا نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر اس نے ابھی ایک روپیہ ادا نہیں کیا، اس سے پہلے ہی آقا اس کو آزاد کرنا چاہتا ہے کفارے کے طور پر، عقدِ کتابت کر لیا، وہ چلا گیا پیسے کمانے، دو چار دن بعد آقا کو اب کفارہ دینے کی ضرورت پیش آ گئی تو آقا اس مکاتب کو جس نے ابھی کوئی ادائیگی نہیں کی اس کو کفارے میں آزاد کر سکتا ہے۔ تو یہ مکاتب مرقوق تو من کل وجہ ہے لیکن مملوک من کل وجہ نہیں ہے لیکن پھر بھی اس کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ شرط ہے اس نے کوئی پیسہ ابھی ادا نہ کیا ہو، اگر اس نے کچھ پیسے ادا کر دیے ہیں پھر تو یہ مفت میں آزاد نہ ہوا، کچھ تو بدل بھی اس نے دے دیا ہے اپنا۔ حالانکہ غلام جو آزاد کرنا ہے وہ خالص اللہ کے لیے آزاد کرنا ہے پورا کا پورا، حالانکہ یہاں تو وہ کچھ بدل ادا کر چکا ہے۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ اسْمَ الرَّقَبَةِ يُطْلَقُ عَلَى هَؤُلَاءِ﴾ اس لیے کیونکہ رقبہ کا اسم ان سب پر بولا جاتا ہے، چاہے کافر ہو چاہے مسلمان، چاہے مذکر ہو چاہے مؤنث، چاہے نابالغ ہو چاہے بالغ ہو، صغیر کبیر سب پر بھئی، ﴿إِذْ هِيَ عِبَارَةٌ عَنِ الذَّاتِ الْمَرْقُوقِ الْمَمْلُوكِ مِنْ كُلِّ وَجْهٍ﴾ اس لیے کیونکہ یہ عبارت ہے اس ذات سے جو غلام ہے ہر اعتبار سے اور مملوک ہے، میں نے بتایا من کل وجہ کا تعلق کس سے ہے؟ مرقوق سے، تو وہ ذات جو مرقوق ہے ہر اعتبار سے اور مملوک ہے۔ ﴿وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُخَالِفُنَا فِي الْكَافِرَةِ﴾ اور امام شافعی رحمہ اللہ ہماری مخالفت کرتے ہیں کافرہ کے اندر، یعنی رقبۂ کافرہ آزاد نہیں کر سکتے، کافر غلام یا باندی کو آزاد نہیں کر سکتے، ﴿وَيَقُولُ الْكَفَّارَةُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى﴾ اور وہ فرماتے ہیں کہ یہ کفارہ جو ہے اللہ کا حق ہے، ﴿فَلَا يَجُوزُ صَرْفُهُ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ﴾ تو جائز نہیں ہے کہ اس اللہ کے حق کو پھیر دیا جائے ﴿إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ﴾ اللہ کے دشمن کی طرف۔ کافر تو اللہ کا دشمن ہے، اللہ کی توحید کا اقرار نہیں کرتا، لہٰذا اس کی طرف اس کفارے کو پھیرنا جائز نہیں ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، ﴿وَيَقُولُ الْكَفَّارَةُ حَقُّ اللَّهِ تَعَالَى﴾ وہ فرماتے ہیں کہ کفارہ اللہ کا حق ہے، ﴿فَلَا يَجُوزُ صَرْفُهُ إِلَى عَدُوِّ اللَّهِ﴾ لہٰذا اس اللہ کے حق کو اللہ کے دشمن کی طرف پھیرنا جائز نہیں، ﴿كَالزَّكَاةِ﴾ جیسے کہ زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ اللہ کا حق ہے تو صرف مسلمانوں کو دی جا سکتی ہے، کافر جو اللہ کا دشمن ہے اس کو نہیں دی جا سکتی۔ ﴿وَنَحْنُ نَقُولُ الْمَنْصُوصُ عَلَيْهِ إِعْتَاقُ الرَّقَبَةِ وَقَدْ تَحَقَّقَ﴾، اور ہم کہتے ہیں منصوص علیہ جو ہے یعنی جس پر نص لائی گئی ہے ﴿إِعْتَاقُ الرَّقَبَةِ﴾ وہ رقبہ کا آزاد کرنا ہے، ﴿وَقَدْ تَحَقَّقَ﴾ اور تحقیق وہ پائی گئی۔ ہم کہتے ہیں قرآن میں مطلق آیا ہے: ﴿فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ﴾، اس کے ساتھ مؤمنہ کی قید نہیں، تو کافر کو بھی آزاد کرے گا تو تحریرِ رقبہ تو پائی گئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَنَحْنُ نَقُولُ الْمَنْصُوصُ عَلَيْهِ إِعْتَاقُ الرَّقَبَةِ﴾ ہم کہتے ہیں کہ وہ چیز جس پر نص لائی گئی ہے وہ اعتاقِ رقبہ ہے، ﴿وَقَدْ تَحَقَّقَ﴾ اور کافر کو بھی آزاد کریں گے تو اعتاقِ رقبہ پائی گئی ہے، ﴿وَقَصْدُهُ مِنَ الْإِعْتَاقِ التَّمَكُّنُ مِنَ الطَّاعَةِ﴾ اور کفارہ دینے والے کا ارادہ جو ہو گا اعتاق سے ﴿التَّمَكُّنُ﴾ وہ قادر ہونا ہے ﴿مِنَ الطَّاعَةِ﴾ اطاعت یعنی اسلام پر۔ کفارہ دینے والا کیا نیت کرتا ہے؟ کہ یہ کافر غلام یا باندی ہے، میں اس کو آزاد کر رہا ہوں، اب اللہ نے اس کو آزادی جیسی نعمت دی ہے تو بطور شکرانے کے اس کو اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور اسلام قبول کرنا چاہیے۔ اس کو اسلام قبول کرنا چاہیے کیونکہ غلامی تو موت کی طرح ہے بھئی، غلام کے تو کوئی حقوق نہیں ہوتے، اس کو تو جانوروں کی طرح بیچا جاتا ہے خریدا جاتا ہے، تو اس کو اللہ نے آزادی دی ہے تو بطور شکر کے اس کو اب اللہ کی اطاعت کرنی چاہیے اور مسلمان ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَصْدُهُ مِنَ الْإِعْتَاقِ﴾ اور آقا کا ارادہ اعتاق کے ذریعے ﴿التَّمَكُّنُ مِنَ الطَّاعَةِ﴾ وہ قادر ہونا ہے اطاعت پر یعنی اسلام کے ذریعے، ﴿ثُمَّ مُقَارَفَتُهُ الْمَعْصِيَةَ يُحَالُ بِهِ إِلَى سُوءِ اخْتِيَارِهِ﴾۔ مقارفت کا معنی ہے مبتلا ہونا۔ آقا تو اس نیت سے کافر کو آزاد کر رہا ہے کہ اس کو اب مسلمان ہونا چاہیے، لیکن اگر وہ پھر بھی کفر پر رہتا ہے تو یہ اس کا اپنا برا اختیار ہے، اس کا اپنا برا فیصلہ ہے، اس کے اندر آزاد کرنے والے کا کوئی دخل نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ مُقَارَفَتُهُ الْمَعْصِيَةَ﴾ پھر اس معتق کا مبتلا ہونا ﴿الْمَعْصِيَةَ﴾ نافرمانی میں یعنی گناہ میں یعنی کفر میں، ﴿ثُمَّ مُقَارَفَتُهُ الْمَعْصِيَةَ﴾ پھر اس کافر غلام یا باندی کا گناہ میں مبتلا ہونا یعنی کفر میں ہی مبتلا رہنا، ﴿يُحَالُ بِهِ﴾ اس کو حوالہ کیا جائے گا ﴿إِلَى سُوءِ اخْتِيَارِهِ﴾ اس کے برے اختیار کی طرف کہ اس نے برا فیصلہ کیا، بری چیز کو اختیار کیا ہے بھئی۔ ﴿وَلَا تُجْزِئُ الْعَمْيَاءُ وَلَا الْمَقْطُوعَةُ الْيَدَيْنِ أَوِ الرِّجْلَيْنِ﴾، بھئی یاد رکھو، کفارے کے اندر غلام کو آزاد کرنا ہے چاہے کافر ہو چاہے مسلمان ہو، چاہے بالغ ہو چاہے نابالغ ہو، لیکن اس کی جنسِ نفع کوئی جنسِ نفع ختم نہ ہو۔ مثلاً ایک غلام ہے اندھا ہے دونوں آنکھوں سے بھئی، اس کو کچھ دکھائی ہی نہیں دیتا، تو اس کے تو جنسِ نفع ہی ختم ہو چکا ہے اور جب جنسِ نفع ختم ہے تو یوں سمجھو بعض اعتبار سے یہ ہلاک ہی ہو چکا ہے۔ بعض اعتبار سے یہ کیا ہے؟ یہ ہلاک ہے، تو ہمیں تو صحیح غلام آزاد کرنے کا حکم ہے بھئی، لہٰذا اس طرح کا غلام آزاد کریں تو اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ یا ایک غلام ہے اس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں تو چیزوں کو پکڑنے کی جنسِ نفع ہی ختم ہو چکی ہے تو بعض اعتبار سے گویا یہ ہلاک ہی ہو چکا ہے۔ یا ایک غلام ہے اس کے دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہیں تو اس کے چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو چکا ہے تو یوں سمجھیں گے بعض اعتبار سے یہ ہلاک ہی ہو چکا ہے بھئی۔ اور یا ایک غلام ہے اس کو سنائی ہی نہیں دیتا بالکل، یعنی بچپن سے ہی بہرا ہے اور گونگا بھی ہے، کیونکہ جو بچپن سے بہرا ہو وہ گونگا بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے کبھی الفاظ سنے ہی نہیں تو بول بھی نہیں سکتا بھئی۔ تو لہٰذا اگر کوئی بچپن سے ہی بہرا ہے تو اس کو بھی آزاد نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر کوئی اونچا سنتا ہے، اس غلام کو آزاد کیا جا سکتا ہے۔ اگر کسی کا ایک ہاتھ کٹا ہوا ہے دوسرا ہاتھ تو ٹھیک ہے، چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع تو ختم نہیں ہے بھئی، لہٰذا اس کو بھی آزاد کر سکتے ہیں۔ ایک پاؤں کٹا ہوا ہے اس کو بھی آزاد کر سکتے ہیں۔ مخالف طرف سے ایک طرف کا ہاتھ کٹا ہے دوسری طرف کا پاؤں کٹا ہوا ہے اس کو بھی آزاد کر سکتے ہیں، کیونکہ نہ چلنے کا جنسِ نفع ختم ہے نہ چیزوں کو پکڑنے کا جنسِ نفع ختم ہے۔ ایک ہاتھ بھی سلامت ہے چیزوں کو پکڑ سکتا ہے، ایک پاؤں بھی سلامت ہے چل بھی سکتا ہے۔ بھئی دیکھو یاد رکھو، ایک ہی جانب کے ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوں یہ شخص نہیں چل سکتا۔ اس کے چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو گیا۔ وجہ یہ کہ اگر ہاتھ ایک طرف کا کٹا ہوا ہے اور پاؤں دوسری طرف کا تو جس طرف کا پاؤں کٹا ہے اس طرف کا تو ہاتھ صحیح ہے، اس طرف لاٹھی پکڑ کر وہ چل لے گا۔ لیکن اگر اسی طرف کا ہاتھ بھی کٹا ہے اور اسی طرف کا پاؤں بھی کٹا ہے تو یہ لاٹھی پکڑ کر بھی نہیں چل سکتا، تو ایسا غلام بھی جائز نہیں۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ ایک ہاتھ یا ایک پاؤں کٹا ہو یا مخالف سمت کے ہاتھ پاؤں کٹے ہوں تو اس کو کفارے میں آزاد کرنا جائز ہے، یعنی جنسِ نفع ختم نہیں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَا تُجْزِئُ الْعَمْيَاءُ﴾ عمیاء کہتے ہیں اندھی بھئی، اندھی۔ رقبہ کی بات چل رہی ہے نا اس لیے مؤنث صفت لائے، ﴿وَلَا تُجْزِئُ الْعَمْيَاءُ﴾ اور اندھی رقبہ کافی نہیں ہے، ﴿وَلَا الْمَقْطُوعَةُ الْيَدَيْنِ أَوِ الرِّجْلَيْنِ﴾ اور نہ ہی وہ رقبہ جس کے دونوں ہاتھ یا دونوں پاؤں کٹے ہوئے ہوں، ﴿لِأَنَّ الْفَائِتَ جِنْسُ الْمَنْفَعَةِ﴾ اس لیے کیونکہ اس کا جنسِ نفع ہی فوت ہو چکا ہے، ﴿وَهِيَ الْبَصَرُ أَوِ الْبَطْشُ أَوِ الْمَشْيُ﴾ اور وہ دیکھنا ہے، عمیاء ہے تو اس میں دیکھنے کا نفع ختم، ﴿أَوِ الْبَطْشُ﴾ پکڑنا، جس کے دونوں ہاتھ کٹے ہوئے ہیں اس کے پکڑنے کا نفع ختم ہے، ﴿أَوِ الْمَشْيُ﴾ یا چلنا ہے، جس کے دونوں پاؤں کٹے ہیں اس کے چلنے کا نفع ختم ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْفَائِتَ جِنْسُ الْمَنْفَعَةِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ فوت کر چکا ہے جنسِ نفع کو ہی، ﴿وَهِيَ الْبَصَرُ﴾ اور وہ دیکھنا ہے، ﴿أَوِ الْبَطْشُ﴾ یا پکڑنا ہے، ﴿أَوِ الْمَشْيُ﴾ یا چلنا ہے، ﴿وَهُوَ الْمَانِعُ﴾ اور یہ جنسِ نفع کا فوت ہو جانا یہ مانع ہے، یہ کفارے سے مانع ہے بھئی۔ ﴿وَأَمَّا إِذَا اخْتَلَّتِ الْمَنْفَعَةُ فَهُوَ غَيْرُ مَانِعٍ﴾ اور اگر نفع کے اندر خلل آ جائے خرابی آ جائے، یعنی ایک ہاتھ کٹا ہے اگر پکڑنے کے نفع میں کمی آ گئی ہے لیکن بہرحال دوسرے ہاتھ سے تو چیزیں پکڑ سکتا ہے، یا ایک آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا دوسری آنکھ سے تو دکھائی دیتا ہے، یا ایک پاؤں کٹا ہوا ہے لیکن دوسرا پاؤں تو موجود ہے، تو نفع کے اندر خلل آیا ہے نفع پورے طور پر فوت نہیں ہوا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَأَمَّا إِذَا اخْتَلَّتِ الْمَنْفَعَةُ﴾ اور اگر نفع میں خلل آیا ہے خرابی آئی ہے، ﴿فَهُوَ غَيْرُ مَانِعٍ﴾ تو یہ مانع نہیں ہے، ﴿حَتَّى يَجُوزُ الْعَوْرَاءُ﴾، یاد رکھو یہاں پر بھی حتیٰ نصب نہیں دے گا کیونکہ حتیٰ کے نصب دینے کی یہاں شرائط پوری نہیں، لہٰذا يجوزُ پر رفع پڑھیں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّى يَجُوزُ الْعَوْرَاءُ﴾ یہاں تک کہ عوراء جائز ہے، عوراء کہتے ہیں کانا جسے ایک آنکھ سے دکھائی نہیں دیتا، اور عوراء مؤنث صفت ذکر کی، ای الرقبۃ العوراء بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿حَتَّى يَجُوزُ الْعَوْرَاءُ﴾ یہاں تک کہ کانی رقبہ جو ہے وہ جائز ہے، ﴿وَمَقْطُوعَةُ إِحْدَى الْيَدَيْنِ وَإِحْدَى الرِّجْلَيْنِ مِنْ خِلَافٍ﴾ اور اسی طرح وہ رقبہ بھی جس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کٹا ہوا ہے من خلافٍ مخالف جانب سے، ﴿لِأَنَّهُ مَا فَاتَ جِنْسُ الْمَنْفَعَةِ بَلِ اخْتَلَّتْ﴾ اس لیے کیونکہ اس کا جنسِ نفع فوت نہیں ہوا بلکہ اس میں خلل آیا ہے، ﴿بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَتَا مَقْطُوعَتَيْنِ مِنْ جَانِبٍ وَاحِدٍ﴾ بخلاف اس صورت کے کہ یہ ہاتھ اور پاؤں کٹے ہوئے ہوں من جانب واحد ایک ہی جانب سے، ﴿حَيْثُ لَا يَجُوزُ﴾ کیونکہ یہ جائز نہیں ہے، ﴿لِفَوَاتِ جِنْسِ مَنْفَعَةِ الْمَشْيِ﴾ چلنے کا جو جنسِ نفع ہے اس کے فوت ہو جانے کی وجہ سے، ﴿إِذْ هُوَ عَلَيْهِ مُتَعَذِّرٌ﴾ اس لیے کیونکہ چلنا اب اس پر متعذر ہے، یہ شخص چل نہیں سکتا جس کا ہاتھ اور پاؤں ایک ہی طرف کے کٹے ہوئے ہیں۔ ﴿وَيَجُوزُ الْأَصَمُّ﴾ اور بہرا جائز ہے، اصم ص کے ساتھ کسے کہتے ہیں؟ بہرے کو، ﴿وَيَجُوزُ الْأَصَمُّ﴾ اور بہرا جائز ہے، ﴿وَالْقِيَاسُ أَنْ لَا يَجُوزَ﴾ اور قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ بہرا جائز نہیں ہونا چاہیے، ﴿وَهُوَ رِوَايَةُ النَّوَادِرِ﴾ اور یہ نوادر کی روایت ہے کہ یہ جائز نہیں ہونا چاہیے، ﴿لِأَنَّ الْفَائِتَ جِنْسُ الْمَنْفَعَةِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ جنسِ منفعت کو فوت کر چکا ہے، ﴿إِلَّا أَنَّا اسْتَحْسَنَّا الْجَوَازَ﴾ مگر ہم نے جواز کو پسند کیا ہے، جواز کو استحسان کہا ہے ہم نے اس کو پسند کیا ہے، ﴿لِأَنَّ أَصْلَ الْمَنْفَعَةِ بَاقٍ﴾ اس لیے کیونکہ اصلِ نفع باقی ہے۔ بھئی اصلِ نفع کس طرح باقی ہے وہ بہرا ہے؟ کہتے ہیں: ﴿فَإِنَّهُ إِذَا صِيحَ عَلَيْهِ﴾ صیح صاح یصیح کے معنی ہوتے ہیں چیخنا ص کے ساتھ، ﴿فَإِنَّهُ إِذَا صِيحَ عَلَيْهِ﴾ اس لیے کیونکہ بہرے پر جب چیخا جاتا ہے ﴿لَيَسْمَعُ﴾ تو وہ سن لیتا ہے، یعنی خوب اونچی آواز سے بولیں تو وہ سن لیتا ہے، تو اس طرح کا بہرا جائز ہے، ﴿حَتَّى لَوْ كَانَ بِحَالٍ﴾ حتیٰ کہ اگر یہ بہرا ایسے حال پر ہوا ﴿لَا يَسْمَعُ أَصْلًا﴾ کہ سرے سے وہ سنتا ہی نہیں ہے ﴿بِأَنْ وُلِدَ أَصَمَّ﴾ بایں صورت کہ وہ بہرا پیدا ہوا ہے ﴿وَهُوَ الْأَخْرَسُ﴾ اور وہ گونگا ہے، جب پیدائشی بہرا ہے ﴿وَهُوَ الْأَخْرَسُ﴾ اور وہ گونگا ہے، ﴿لَا يُجْزِئُهُ﴾ تو یہ رقبہ اس کے لیے کافی نہیں ہے۔ ﴿وَلَا يَجُوزُ مَقْطُوعُ إِبْهَامَيِ الْيَدَيْنِ﴾، ابہام انگوٹھے کو کہتے ہیں، تو اصل میں تھا ابہامین تثنیہ ہے پھر نون اضافت سے گر گیا۔ کہتے ہیں: ﴿وَلَا يَجُوزُ مَقْطُوعُ إِبْهَامَيِ الْيَدَيْنِ﴾ اور دونوں ہاتھوں کے دونوں انگوٹھے جس کے کٹے ہوئے ہوں وہ جائز نہیں ہے، ﴿لِأَنَّ قُوَّةَ الْبَطْشِ بِهِمَا﴾ اس لیے کیونکہ چیزوں کو پکڑنے کی قوت انگوٹھوں کے ذریعے ہوتی ہے، ﴿فَبِفَوَاتِهَا يَفُوتُ جِنْسُ الْمَنْفَعَةِ﴾ تو انگوٹھوں کے فوت ہو جانے سے جنسِ نفع فوت ہو جاتا ہے۔ ہاتھوں میں پکڑنے کی قوت کیوں ہے؟ انگوٹھے کی وجہ سے، ایک طرف انگلیاں ہوتی ہیں تو دوسری طرف انگوٹھا ہوتا ہے، اگر انگوٹھا کٹا ہو گا تو ہم کوئی چیز نہیں پکڑ سکتے، لہٰذا جس کے دونوں انگوٹھے کٹے ہوئے ہیں دونوں ہاتھوں کے تو اس کو بھی کفارے میں آزاد کرنا کافی نہیں ہے، اس سے کفارہ ادا نہیں ہو گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 68 of 160