Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-117

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 62
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی۔ بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأُخِذَ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَكَذَلِكَ إِذَا أَقَرَّ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ، لِأَنَّ جِنَايَةَ الشُّرْبِ قَدْ ظَهَرَتْ وَلَمْ يَتَقَادَمِ الْعَهْدُ، وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ“. بھئی، گزشتہ سبق کے اندر حد زنا کے اندر گواہوں کے رجوع سے متعلق مسائل ذکر ہو رہے تھے۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ گواہوں کی گواہی کے ساتھ جب قاضی کا فیصلہ مل جائے تو وہ گواہی مضبوط ہو جاتی ہے۔ اور آپ کو انہوں نے یہ بھی بتلایا کہ قضاء قاضی کے اندر ہی حد کا نافذ کرنا بھی داخل ہے۔ تو جب تک حد کو نافذ نہیں کیا، تب تک گویا قضاء ابھی پوری طرح قضاء ابھی پوری طرح نہیں ہوئی بھئی۔ تو لہٰذا چار گواہوں نے ایک شخص کے خلاف زنا پر گواہی دی اور پھر اس شخص کو رجم کر دیا گیا۔ تو اس صورت کے اندر اگر ان گواہوں میں سے کوئی ایک رجوع کرتا ہے، تو صرف اسی رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی اور اس پر ربع دیت کا ضمان بھی آئے گا اور حد اس کو اس لیے لگائی جائے گی کیونکہ یہ قاذف المیت ہوا بھئی۔ جبکہ باقی جو گواہ ہیں ان کو حد بھی نہیں لگائی جائے گی اور ان پر ضمان بھی نہیں آئے گا کیونکہ ان کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے تو وہ گواہی مضبوط ہو چکی ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں اگر گواہوں میں سے کسی نے رجوع کر لیا قاضی کے فیصلے سے پہلے یا قاضی کے فیصلے کے بعد رجوع کیا لیکن ابھی حد نافذ نہیں کی تھی، تو جب تک حد نافذ نہیں کی تو یہ بھی اسی طرح ہے جیسے انہوں نے قاضی کے فیصلے سے پہلے رجوع کیا ہو۔ تو اس صورت کے اندر تمام گواہوں کو حد لگائی جائے گی، اس لیے کیونکہ شہادت کا نصاب پورا نہ رہا بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے آپ کو یہ مسئلہ بھی بتلایا کہ گواہی کے اندر جب گواہ رجوع کرتے ہیں تو وہاں پر رجوع کرنے والوں کا اعتبار نہیں ہے بلکہ جو باقی ہیں ان کا اعتبار کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر پانچ آدمیوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس آدمی کو رجم کر دیا گیا اور اس کے بعد ایک گواہ نے رجوع کر لیا، تو اب اس رجوع کرنے والے کو نہیں دیکھا جائے گا بلکہ جو گواہ باقی ہیں ان کو دیکھا جائے گا اور وہ تو ابھی بھی شہادت کا نصاب پورا ہے، پورا کا پورا حق باقی ہے، لہٰذا اس رجوع کرنے والے پر کوئی سزا نہیں۔ لیکن اگر ایک اور گواہ نے بھی رجوع کر لیا، تو اب شہادت کا نصاب کم ہو گیا، لہٰذا اب یہ جو دونوں رجوع کرنے والے ہیں ان دونوں کو حد لگائی جائے گی اور ان دونوں پر ربع دیت کا ضمان آئے گا جو ان دونوں پر تقسیم ہو جائے گا، کیونکہ تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے بھئی۔ اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر شہود تزکیہ نے رجوع کر لیا تو اس صورت میں جو دیت ہے وہ شہود تزکیہ پر آئے گی بھئی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ شہود تزکیہ اگر رجوع بھی کر لیں تو ان پر ضمان نہیں آئے گا کیونکہ شہود تزکیہ بھی شہود احسان کی طرح ہیں۔ جس طرح شہود احسان نے مشہود علیہ کے اندر احسان والی صفات کی گواہی دی تھی یعنی اچھی صفات کی گواہی دی تھی، اسی طرح شہود تزکیہ نے بھی گواہوں کے اندر اچھی صفات کی گواہی دی ہے۔ تو اچھی صفات کی گواہی دینے کی وجہ سے تو کسی پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ شہود تزکیہ اگر تزکیہ نہ کرتے تو پھر ان شہود زنا کی گواہی بھی قاضی قبول نہ کرتا، تو لہٰذا معلوم ہوا یہ شہود تزکیہ کی جو گواہی ہے یہ علت العلت کے درجے میں ہے۔ شہود زنا کی گواہی وہ علت کے درجے میں ہے، اور شہود تزکیہ کی گواہی علت العلت کے درجے میں ہے، تو لہٰذا شہود تزکیہ بھی جب رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ اب صورت مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے ایک آدمی کے خلاف گواہی دے دی اور اس کو زنا میں رجم کر دیا گیا اور پھر بعد میں پتہ چلا کہ یہ گواہ تو غلام تھے یا مجوسی تھے، اور شہود تزکیہ نے اپنی گواہی سے رجوع کر لیا، انہوں نے کہا کہ ہم جانتے تھے کہ یہ غلام یا مجوسی ہیں پھر بھی ہم نے جان بوجھ کر تزکیہ کیا تھا، تو ان شہود تزکیہ پر تو ضمان آئے گا۔ لیکن یہ جو گواہی دینے والے غلام تھے یا جو مجوسی تھے، ان پر ضمان نہیں آئے گا، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ ان کا کلام گواہی نہیں بنا، اگر ان کا کلام گواہی ہوتا تو پھر ان پر ضمان بھی آتا، لیکن ان کا کلام تو گواہی بنا ہی نہیں بھئی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں پچھلے مسئلے میں بتلایا تھا کہ اگر گواہ کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل جائے تو وہ گواہی مضبوط ہو جاتی ہے، اور یہاں پر بھی قاضی کا فیصلہ ہو چکا ہے تو چاہے یہ غلام ہیں چاہے مجوسی ہیں ان کی گواہی پکی ہو چکی ہے، لیکن پھر بھی آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کا کلام گواہی ہی نہیں ہے۔ تو اس کا بھی میں نے جواب ذکر کیا تھا کہ یہ جو غلام اور مجوسی ہیں، ان میں تو شہادت کی اہلیت ہی نہیں ہے، ان میں شہادت کی اہلیت ہی نہیں ہے، تو معلوم ہوا قاضی نے جو فیصلہ کیا تھا وہ قطعی اور یقینی طور پر غلط تھا۔ جب قاضی کا فیصلہ قطعی طور پر غلط تھا تو وہ کالعدم ہو گیا، یوں سمجھو قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں۔ جب قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں تو ان کا کلام بھی شہادت نہیں بنا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ یہ جو غلام یا مجوسی گواہ تھے ان کو حد قذف بھی نہیں لگائی جائے گی، اس لیے کیونکہ انہوں نے زندہ آدمی پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور وہ مر چکا ہے، اور حد قذف کے اندر تو وراثت جاری نہیں ہوتی، لہٰذا ان کو حد قذف نہیں لگائی جائے گی۔ اس پر اشکال ہوا کہ اس آدمی کے مرنے کے بعد پتہ چلا ہے کہ ان کی گواہی صحیح نہیں تھی تو ان کو تو قاذف میت قرار دینا چاہیے لیکن آپ ان کو قاذف الحی قرار دیتے ہیں، اس کی کیا وجہ ہے؟ تو اس کا جواب میں نے بتلایا تھا کہ وجہ یہ ہے کہ قاذف المیت ہم تب قرار دیتے ہیں جب گواہ رجوع کر لے، اور یہاں پر تو یہ غلام یا مجوسی جو ہیں انہوں نے رجوع نہیں کیا، ان کی تو گواہی گواہی ہی نہیں ہے بھئی، گواہی ہوتی تو رجوع بھی کرتے۔ تو یہاں ان کا رجوع نہیں، جب ان کا رجوع نہیں تو یہ قاذف میت بھی نہیں ہو سکتے بھئی۔ اس پر پھر اشکال ہوا کہ یہ کیا وجہ ہے؟ گواہ رجوع کرے تو آپ اس کو قاذف میت قرار دیتے ہیں اور گواہ کے غلام یا مجوسی ہونے کا پتہ چلے تو پھر آپ اسے قاذف میت قرار نہیں دیتے، یہ فرق آپ کیوں کرتے ہیں؟ تو میں نے بتلایا تھا کہ وجہ یہ ہے کہ جب گواہ رجوع کرتا ہے تو وہ جو ماضی کے اندر اس نے گواہی دی تھی اس مسئلے میں، وہی گواہی پلٹ کر قذف بن جاتی ہے۔ اور غلام اور مجوسی جو ہے، اس کا تو وہ کلام شہادت ہی نہیں بنا تھا تو وہ پلٹ کر قذف بھی نہیں بنے گا، لہٰذا اس کو ہم قاذف میت بھی قرار نہیں دے سکتے۔ زیادہ سے زیادہ یہی کہہ سکتے ہیں کہ جب وہ شخص زندہ تھا اس وقت انہوں نے زنا کی تہمت لگائی تھی، اور اب تو وہ مر چکا ہے تو اب حد قذف جاری نہیں کی جا سکتی کیونکہ حد قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر اس کے بعد آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ جب قاضی کسی کے قتل کا فیصلہ کر دے یا رجم کا فیصلہ کر دے تو وہ شخص مباح الدم بن جاتا ہے، یعنی اس کا خون حلال ہو جاتا ہے، اس سے پہلے وہ محفوظ الدم تھا، یعنی اس کا خون محفوظ تھا۔ اگر کوئی اس کو قتل کرتا تو اس پر قصاص یا دیت آتی۔ لیکن یہاں پر جب قاضی نے ایک آدمی کے قتل کا یا رجم کا فیصلہ کر دیا تو یہ محفوظ الدم نہ رہا، یہ مباح الدم بن گیا، اس کا خون حلال ہو گیا۔ اس کے بعد ایک آدمی نے اس شخص کو قتل کر دیا تلوار کے ذریعے، اور پھر پتہ چلا کہ وہ جو گواہ تھے وہ تو غلام تھے، ان میں تو شہادت کی اہلیت ہی نہیں تھی، تو پھر اس صورت میں قصاص تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اس آدمی نے اس کو بے گناہ قتل کیا ہے لہٰذا اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے، لیکن استحساناً اس آدمی کو قصاص میں قتل نہیں کیا جائے گا، البتہ اس پر دیت واجب ہو جائے گی۔ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ جس وقت اس آدمی نے اس کو قتل کیا اس وقت ظاہری اعتبار سے قاضی کا فیصلہ صحیح تھا بھئی اور یہ مباح الدم ہو چکا تھا، تو اس نے قاضی کے فیصلے پر اعتماد کرتے ہوئے قتل کیا کہ یہ تو مباح الدم ہو چکا ہے، تو لہٰذا اس کی وجہ سے شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے، لہٰذا قصاص تو ساقط ہو گیا لیکن اس کو اب پوری دیت ادا کرنا پڑے گی بھئی۔ اور یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ دیت اب پورے قبیلے والوں پر نہیں آئے گی، اسی آدمی کے مال میں سے ادا کی جائے گی، کیونکہ قبیلے والے دیت کے ادا کرنے میں تب شریک ہوتے ہیں جب قتل کے اندر غلطی ہوئی ہو، کسی نے غلطی سے قتل کیا ہو تو سارا قبیلہ پھر اس کی مدد کرتا ہے، لیکن اگر کوئی جان بوجھ کر جرم کرتا ہے اور کسی کو قتل کرتا ہے تو وہاں پر قبیلہ دیت کی ادائیگی میں اس کے ساتھ شریک نہیں ہوتا۔ اور نیز یہ جو مال آیا ہے اس شخص پر پوری دیت ادا کرنا پڑے گی اس کو، یہ نفس قتل کی وجہ سے آیا ہے اور جو نفس قتل کی وجہ سے جو مال واجب ہوتا ہے اس کو تین سال کی مدت میں ادا کرنا ہوتا ہے، یعنی ہر سال دیت کا تیسرا حصہ یہ شخص ادا کرے گا اور تین سال کے اندر مکمل ادائیگی کرے گا بھئی۔ اور اگر قاضی کے رجم کے فیصلے کے بعد اس آدمی نے اس شخص کو جس کو قاضی نے رجم کرنے کا حکم دیا ہے، وہ جو مجرم ہے، اس شخص نے اس مجرم کو رجم کر دیا اور پھر بعد میں پتہ چلا کہ وہ جو گواہ تھے وہ تو غلام تھے، تو پھر اس صورت میں دیت بیت المال پر آئے گی، اس رجم کرنے والے آدمی پر نہیں کیونکہ اس نے تو قاضی کے حکم کی تعمیل کی ہے، قاضی نے بھی رجم کا حکم دیا تھا اور اس نے بھی رجم کیا ہے۔ جبکہ پچھلے مسئلے میں تو اس نے قاضی کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی، قاضی نے رجم کا حکم دیا تھا، تلوار سے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا، تو تلوار سے قتل کرنے کی صورت میں اس قاتل پر دیت آئے گی اور اگر رجم کرتا ہے تو پھر دیت بیت المال پر آئے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور پھر صاحب ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر چار گواہوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس نے محسن ہونے کا انکار کیا، اور حال یہ ہے کہ اس کی بیوی ہے اور اس سے اس کا ایک بچہ بھی ہو چکا ہے، جب بچے کا نسب اس سے ثابت ہے تو معلوم ہوا یہ صحبت کر چکا ہے، لہٰذا اس کا محسن ہونا ثابت ہو گیا، لہٰذا اس کو رجم کیا جائے گا۔ یا اسی طرح اگر اس کے محسن ہونے پر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دے دی اس صورت میں بھی اس کو رجم کیا جائے گا۔ جبکہ امام زفر اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے اس کا محسن ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا تو ضابطہ ہے کہ مالی معاملات کے علاوہ اور معاملات میں عورتوں کی گواہی قبول ہی نہیں کی جائے گی، تو یہ بھی غیر مالی معاملہ ہے لہٰذا یہاں بھی عورت کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ احسان کی گواہی دے رہے ہیں لیکن یہاں پر محسن ہونا جو ہے وہ بھی علت کے درجے میں ہے، محسن ہونا ویسے تو شرط ہے رجم کے لیے لیکن یہ ایسی شرط ہے جو علت کے درجے میں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس شخص کی سزا بڑھ رہی ہے۔ تو محسن ہونا بھی علت کے درجے میں ہے یعنی زنا کے درجے میں ہے، اور جیسے زنا پر صرف مردوں کی گواہی قبول کی جاتی تھی تو محسن ہونے پر بھی صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی بھئی۔ ہم جواب دیتے ہیں کہ نہیں، محسن ہونا یہ تو خصال حمیدہ سے عبارت ہے، محسن ہونا اچھی صفات کا نام ہے، اور نیز یہ ساری صفات ایسی ہیں جو زنا سے روکنے والی ہیں تو لہٰذا محسن ہونا علت یعنی زنا کے درجے میں بھی نہیں ہے، تو اس پر گواہی وہ زنا پر گواہی کے درجے میں نہ ہوئی، لہٰذا اس میں عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ جیسے اس کے علاوہ کسی اور مقام پر اگر محسن ہونے کے لیے گواہی کی ضرورت پڑی تو جیسے وہاں پر عورتوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے تو یہاں پر بھی محسن ہونے کے لیے عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی بھئی۔ اور پھر آخر میں صاحب ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر شہود احسان رجوع کر لیں تو پھر اس صورت کے اندر ان پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ میں نے بتلایا تھا ہمارے نزدیک اگر شہود احسان رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں کیونکہ انہوں نے صرف اچھی صفات کی گواہی دی ہے۔ ہاں البتہ شہود زنا یا شہود تزکیہ رجوع کر لیں تو پھر ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ اب آئیے اج کے سبق پر: بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأُخِذَ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ فَعَلَيْهِ الْحَدُّ، وَكَذَلِكَ إِذَا أَقَرَّ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ اج ہم پڑھیں گے: ”بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ“. شرب کا معنی ہے پینا، لیکن یہاں پر مراد نشہ آور مشروب کو پینا ہے، جیسے شراب ہے یا شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب جس کی وجہ سے جس کی وجہ سے نشہ ہو جائے۔ بھئی کتاب الحدود کے آغاز میں میں نے بتلایا تھا کہ کل حدود چھ ہیں بھئی، ایک حد زنا ہے، ایک حد قذف ہے، ایک حد شرب خمر ہے، ایک حد سکر من غیر الخمر ہے، اور اسی طرح ایک حد سرقہ ہے اور ایک حد قطع طریق ہے، یعنی ڈاکے کی حد جو ہے، تو کل حدود چھ ہیں، ان میں سے جو دو حدود ہیں ان کا بیان یہاں پر ہوگا۔ حد شرب خمر اور حد سکر من غیر الخمر، یعنی شراب پینے کی وجہ سے جو حد آئے یا اسی طرح کوئی اور نشہ آور مشروب پیا اور اس کی وجہ سے حد آئے تو دونوں یہاں بیان ہوں گے، اسی لیے صاحب ہدایہ نے باب کا عنوان دیا: ”بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ“، یہ باب ہے نشہ آور مشروب کے پینے کی حد کے بیان میں۔ شرب کا ویسے معنی تو ہے پینا، لیکن یہاں نشہ آور مشروب کو پینا مراد ہے، چاہے وہ شراب ہو اور چاہے شراب کے علاوہ کوئی اور چیز ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ حَدِّ الشُّرْبِ“، یہ باب ہے نشہ آور مشروب کے پینے کی حد کے بیان میں۔ ”وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأُخِذَ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ“، بھئی یاد رکھو، اگر کوئی شخص شراب پی لیتا ہے تو اس پر حد واجب ہوگی، اس کے اندر نشہ ہونے کی بھی شرط نہیں ہے، لیکن اگر کوئی اور نشہ آور مشروب پیتا ہے تو وہاں نشے کی شرط ہے، نشہ ہوگا تو پھر اس صورت میں حد آئے گی، اور اگر نشہ نہیں تو پھر حد بھی نہیں۔ تو شراب کے پینے میں نشے کو نہیں دیکھا جائے گا، کوئی شخص شراب کا ایک قطرہ بھی پی لے گا تو حد شرب خمر اس پر واجب ہو جائے گی، لیکن اور کوئی مشروب پیتا ہے تو وہاں نشہ ہونا شرط ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَأُخِذَ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ“، اور جس نے شراب پی تو اس کو پکڑا گیا اس حال میں کہ شراب کی بو موجود تھی، ”رِيحُهَا“ یہ ھا ضمیر جو مؤنث کی ہے یہ راجع ہے خمر کو، خمر جو ہے عربی میں مؤنث سماعی ہے تو اس کی طرف واحد مؤنث کی ضمیر راجع کی، تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ“، کہ جس شخص نے شراب پی، ”فَأُخِذَ“، تو اس کو پکڑا گیا، ”وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ“، اس حال میں کہ شراب کی بو موجود تھی، اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی، ”أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ“، یا اس کو لے کر آئے لوگ اس حال میں کہ وہ مدہوش تھا، وہ نشے میں تھا، ”فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ“، بھئی دیکھو، یاد رکھو گہری بات ہے یہاں وہ سمجھ لو، کسی کے منہ سے شراب کی بو آئے تو اس کی وجہ سے اس پر حد واجب نہیں ہوگی، یا کوئی نشے کے اندر ہے تو اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہوگی، بلکہ شراب کے پینے پر یا نشہ آور مشروب کے پینے پر گواہی بھی ہونی چاہیے، کسی نے اس کو شراب پیتے ہوئے دیکھا ہے یا نشہ آور مشروب پیتے ہوئے دیکھا ہے، یا یہ خود اقرار کر لیتا ہے کہ میں نے شراب پی ہے یا میں نے فلاں نشہ آور مشروب پیا ہے۔ تو صرف بو کی وجہ سے بھی حد نہیں اور صرف نشے کی وجہ سے بھی حد نہیں، بلکہ اس کے ساتھ کیا ضروری ہے؟ گواہی ضروری ہے یا اقرار ضروری ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ اب دیکھو یہ متن کے اندر یہ سب بیان کریں گے، کہتے ہیں: جس نے شراب پی اور اس کو پکڑا گیا اور اس کی بو موجود تھی، ”أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ“، یا اس کو لے کر آئے اس حال میں کہ وہ مدہوش تھا، اب فوراً حد کا حکم نہیں لگانا بلکہ کیا چاہیے؟ گواہ چاہیے یا اقرار، وہ بھی اب بیان کر رہے ہیں: ”أَوْ جَاءُوا بِهِ سَكْرَانَ“، یا اس کو لے کر آئے اس حال میں کہ وہ مدہوش تھا، ”فَشَهِدَ الشُّهُودُ عَلَيْهِ بِذَلِكَ“، تو پھر گواہوں نے بھی اس پر گواہی دے دی، ”فَعَلَيْهِ الْحَدُّ“، تو اس پر حد ہے، ”وَكَذَلِكَ إِذَا أَقَرَّ“، اور اسی طرح جب اس نے اقرار کیا، ”وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ“، اور اس شراب کی بو موجود تھی، تو پھر اس کو حد لگائی جائے گی۔ اور اگر نشے میں تھا اور اس میں وہ اقرار کر رہا ہے کہ ہاں میں نے نشہ آور مشروب پیا ہے، پھر یہ اقرار معتبر نہیں بھئی، پھر یہ اقرار معتبر نہیں ہے، وجہ یہ کہ نشے کے اندر تو زیادہ احتمال ہے جھوٹ بولنے کا، اس کو ہوش ہی نہیں ہے پوری طرح، تو لہٰذا نشے کے اندر اگر وہ نشہ آور مشروب کے پینے کا اقرار کرتا ہے تو پھر اس صورت میں حد نہیں آئے گی۔ ہاں البتہ اگر اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے، نشے میں نہیں ہے، شراب کی بو آ رہی ہے اور یہ شراب پینے کا اقرار کرتا ہے، پھر اس پر حد آئے گی۔ چنانچہ اسی لیے دیکھو: ”وَكَذَلِكَ إِذَا أَقَرَّ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ“، اور اسی طرح ہے حکم یعنی حد واجب ہوگی جب وہ اقرار کر لے اور شراب کی بو موجود ہو، اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہو۔ نشے کو نہیں ذکر کیا کہ وہ اقرار کرے اور نشہ موجود ہو، نہیں، کیونکہ آگے چل کر آپ کو خود صاحب ہدایہ بھی بتلائیں گے کہ نشے کی حالت میں اگر کوئی شخص ایسی حد کا اقرار کرے جو خالص اللہ کا حق ہے، جو خالص اللہ کا حق ہے، تو وہ ثابت نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ إِذَا أَقَرَّ وَرِيحُهَا مَوْجُودَةٌ“، اور اسی طرح ہے جب اس شخص نے اقرار کر لیا اس حال میں کہ شراب کی بو موجود تھی، ”لِأَنَّ جِنَايَةَ الشُّرْبِ قَدْ ظَهَرَتْ“، اب وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ حد کیوں واجب ہوگی؟ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ جِنَايَةَ الشُّرْبِ قَدْ ظَهَرَتْ“، اس لیے کیونکہ نشہ آور مشروب پینے کا جرم جو ہے وہ ظاہر ہو گیا ہے، ”وَلَمْ يَتَقَادَمِ الْعَهْدُ“، اور زمانہ بھی پرانا نہیں ہوا، زمانہ بھی زیادہ نہیں گزرا کہ اس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے یا وہ مدہوش ہے نشے میں ہے، تو دیکھو زمانہ بھی زیادہ نہیں گزرا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ جِنَايَةَ الشُّرْبِ قَدْ ظَهَرَتْ وَلَمْ يَتَقَادَمِ الْعَهْدُ“، اس لیے کیونکہ شرب کا جرم جو ہے وہ تحقیق ظاہر ہو گیا ہے اور زمانہ بھی پرانا نہیں ہوا، ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور اس کے اندر اصل جو ہے حضور علیہ السلام کا قول ہے، یعنی وجوب حد کے سلسلے میں اصل کیا ہے؟ حضور علیہ السلام کا قول ہے، اس سے پتہ چلتا ہے کہ حد واجب ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“، اور حد کے واجب ہونے میں اصل جو ہے وہ حضور علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”وَمَنْ شَرِبَ الْخَمْرَ فَاجْلِدُوهُ فَإِنْ عَادَ فَاجْلِدُوهُ“، اور جو شخص شراب پی لے تو اس کو کوڑے لگاؤ، اگر وہ پھر لوٹے تو پھر کوڑے لگاؤ، یعنی اگر دوبارہ شراب پیے تو دوبارہ کوڑے لگاؤ۔ اور اسی طرح یاد رکھو بعض روایات میں آتا ہے اگر وہ چوتھی مرتبہ پھر اسی طرح کرے تو اسے قتل کر دو۔ چوتھی مرتبہ اسی طرح کرے یعنی شراب پیے تو اسے قتل کر دو، لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، قتل نہیں کیا جائے گا، جتنی مرتبہ بھی کوئی شخص شراب پیے ہر مرتبہ حد ہی لگائی جائے گی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ حدیث کے اندر تو حضور علیہ السلام فرما رہے ہیں کہ چوتھی مرتبہ شراب پی لے تو اس کو قتل کر دو، تو اس کا جواب دیتے ہیں فقہاء کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اگر وہ شخص اس شراب کو حلال سمجھتا ہو، اسے بار بار منع کیا جا رہا ہے لیکن وہ اس کے حرام ہونے کو تسلیم ہی نہیں کر رہا، تو اس کے لیے یہ حکم ہے کہ اس کو قتل کر دو، کیونکہ شراب کی حرمت تو قرآن سے ثابت ہے بھئی، تو لہٰذا جب وہ شراب کی حرمت کا انکار کر رہا ہے تو وہ مرتد ہو گیا، وہ کافر ہو گیا، اور مرتد جو ہوتا ہے وہ واجب القتل ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَقَرَّ بَعْدَ ذَهَابِ رَائِحَتِهَا لَمْ يُحَدَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، بھئی یاد رکھو، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ اگر اس شراب کی بو منہ سے ختم ہو گئی یا نشہ ختم ہو گیا، تو پھر اس کے بعد حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ بات پرانی ہو گئی۔ اگر اس شخص کے منہ سے شراب کی بو ختم ہو گئی یا اس کا نشہ ختم ہو گیا، تو پھر حد نہیں لگائیں گے کیونکہ بات پرانی ہو گئی، کیونکہ حدود کا مسئلہ بڑا نازک ہے، لہٰذا پوری کوشش کی جائے گی کہ کسی طرح حدود کو ٹال دیا جائے بھئی، کیونکہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ بِالشُّبُهَاتِ“، کہ تم شبہوں کی وجہ سے حدود کو ٹال دیا کرو۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَقَرَّ بَعْدَ ذَهَابِ رَائِحَتِهَا لَمْ يُحَدَّ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، اور اگر اس شخص نے اقرار کیا بعد اس کے کہ جب شراب کی بو جا چکی تھی، تو اس کو حد نہیں لگائی جائے گی شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُحَدُّ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں حد لگائی جائے گی، چاہے نشہ ختم ہو گیا چاہے شراب کی بو ختم ہو گئی پھر بھی حد لگائی جائے گی۔ آگے صاحب ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے، امام محمد رحمہ اللہ اس حد شرب کو قیاس کرتے ہیں حد زنا پر، اور حد زنا کے اندر بات پرانی تب ہوگی جب ایک مہینہ گزر جائے، تو یہاں پر بھی وہ ایک مہینے کا اعتبار کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ بو کے ختم ہونے سے یا نشے کے ختم ہونے سے بات پرانی نہیں ہوئی، لہٰذا حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: يُحَدُّ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد لگائی جائے گی، ”وَكَذَلِكَ إِذَا شَهِدُوا عَلَيْهِ بَعْدَ مَا ذَهَبَ رِيحُهَا“، بھئی پہلے تو بتلایا اگر یہ اقرار کرے اور بو ختم ہو چکی ہے تو پھر حد نہیں آئے گی، اور اب بتلا رہے ہیں اگر گواہ گواہی دینے ائیں اور اس شراب کی بو اس کے منہ سے ختم ہو چکی ہے، تو اس صورت میں بھی شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ بات پرانی ہو گئی لہٰذا حد جاری نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ إِذَا شَهِدُوا عَلَيْهِ“، اور اسی طرح ہے جب گواہ اس کے خلاف گواہی دیں، ”بَعْدَ مَا ذَهَبَ رِيحُهَا“، بعد اس کے کہ جب شراب کی بو جا چکی تھی، تو حد نہیں لگائی جائے گی ”عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“، شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُحَدُّ“، اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد لگائی جائے گی، چاہے بو ختم ہونے کے بعد بھی گواہ گواہی دیں تو حد لگائی جائے گی۔ ”فَالتَّقَادُمُ يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ بِالِاتِّفَاقِ“، یہاں سے صاحب ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ زمانہ زیادہ گزر جائے، بات پرانی ہو جائے، تو اس صورت میں حد شرب بھی ساقط ہو جائے گی بالاتفاق۔ شیخین رحمہما اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بات جب پرانی ہو جائے گی تو حد شرب ساقط ہو جائے گی، چاہے حد شرب خمر ہو چاہے حد سکر من غیر الخمر ہو، دونوں حدود جو ہیں وہ بات پرانی ہو جائے تو ساقط ہو جائیں گی۔ لیکن کس کو پرانا کہیں گے اور کس کو پرانا نہیں کہیں گے؟ اس میں اختلاف ہے۔ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں: اگر نشہ ختم ہوا یا شراب کی بو ختم ہو گئی تو بات پرانی ہو گئی، جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نہیں، جب ایک مہینہ گزرے گا پھر بات پرانی ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَالتَّقَادُمُ يَمْنَعُ قَبُولَ الشَّهَادَةِ بِالِاتِّفَاقِ“، تو زمانے کا پرانا ہونا یہ قبول شہادت کو منع کرتا ہے بالاتفاق، ”غَيْرَ أَنَّهُ مُقَدَّرٌ بِالزَّمَانِ عِنْدَهُ“، مگر یہ کہ اس کا اندازہ لگایا گیا ہے زمانے کے ساتھ عندہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک، ”اعْتِبَارًا بِحَدِّ الزِّنَا“، حد زنا پر قیاس کرتے ہوئے، ”وَهَذَا“، اور یہ اس وجہ سے، کہ زمانے کے ساتھ اندازہ کیوں لگایا جائے گا؟ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّ التَّأْخِيرَ يَتَحَقَّقُ بِمُضِيِّ الزَّمَانِ“، اور یہ اس لیے کیونکہ تاخیر جو ہے وہ ثابت ہو جائے گی زمانے کے گزرنے سے، زمانے کے گزرنے سے تاخیر ثابت ہو جائے گی، ”وَالرَّائِحَةُ قَدْ تَكُونُ مِنْ غَيْرِهِ“، اور بو تو کبھی کبھار کسی اور چیز سے بھی ہو سکتی ہے، شراب جیسی بو تو کسی اور چیز کی بھی ہو سکتی ہے، لہٰذا بو کا اعتبار نہیں کیا جائے گا بلکہ زمانے کا اعتبار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالرَّائِحَةُ قَدْ تَكُونُ مِنْ غَيْرِهِ“، اور بو جو ہے وہ تو شراب کے علاوہ کسی اور چیز سے بھی ہو سکتی ہے، ”كَمَا قِيلَ“، جیسے کہ کہا گیا ہے، آگے شاعر کا شعر پیش کر رہے ہیں، شاعر کہتا ہے: يَقُولُونَ لِي: انْكَهْ! شَرِبْتَ مُدَامَةً فَقُلْتُ لَهُمْ: لَا، بَلْ أَكَلْتُ السَّفَرْجَلَا ”يَقُولُونَ لِي: انْكَهْ!“، یاد رکھو نَكِهَ يَنْكِهُ اور اسی طرح نَكَہَ يَنْكَہُ، باب فتح بھی ہے اور باب سمع بھی ہے۔ نکہ ینکہ کا معنی ہے کسی کے منہ یا ناک کے قریب سانس لینا، کسی کے منہ یا ناک کے قریب سانس لینا تاکہ اس کو منہ کی بو کا پتہ چلے۔ دیکھو عربی میں ایک ہی لفظ ہے اس کے لیے: ”نَكِهَ“، اس نے فلاں کے منہ کے قریب سانس لیا۔ اردو میں اس کا کوئی مترادف نہیں ہے، دیکھو مجھے کتنا لمبا ترجمہ کرنا پڑ رہا ہے: کسی کے منہ کے قریب سانس لینا، اور عربی میں کہیں گے: ”نَكِهَ“. ابھی بھی شاید بعض کو بات سمجھ میں نہ آئی ہو۔ یہ اسی طرح ہے جیسے دیکھو، جیسے مضمضہ اور استنشاق۔ مضمضہ اس کا مترادف اردو میں موجود ہے، مضمضہ کا معنی ہے کلی کرنا، کلی کرنا، اب آپ کو یہ نہیں کہنا پڑے گا منہ میں پانی لینا اور پھر منہ کے اندر اس کو گھمانا اور پھر اس کو گرا دینا، دیکھو کتنا لمبا ترجمہ ہے، لیکن آپ کو اردو میں مختصر کہنا پڑتا ہے کہ اس نے کلی کر لی۔ لیکن استنشاق جو ہے اس کا اردو میں کوئی مترادف نہیں۔ اردو میں استنشاق کا ہم کیا معنی کرتے ہیں؟ ناک میں پانی ڈالنا، دیکھو پورا لمبا ترجمہ کر رہے ہیں، جبکہ وہاں ہم نے ترجمہ کیا تھا کلی کرنا، منہ میں پانی ڈالنا یہ ترجمہ ہم نے نہیں کیا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے، نکہ ینکہ کا معنی ہے کسی کے منہ کے قریب سانس لینا تاکہ اس کو منہ کی بو کا پتہ چل جائے۔ اور ”شَرِبْتَ مُدَامَةً“، مدامہ یاد رکھو شراب کو کہتے ہیں، مدامہ کسے کہتے ہیں؟ شراب کو بھئی۔ اور سفرجل کا لفظ آگے آ رہا ہے، سفرجل یاد رکھو اس کو اردو میں بہی کہتے ہیں، بہی بھی کہتے ہیں اور بہی دانہ بھی، یاد رکھو یہ بھی سیب اور ناشپاتی کی طرح کا ایک پھل ہے، البتہ ناشپاتی کے زیادہ قریب ہے، تو یہ ایک پھل ہے بھئی۔ تو شاعر کہتا ہے: ”يَقُولُونَ لِي“، کہ وہ مجھ سے کہہ رہے ہیں: ”انْكَهْ!“، یعنی اپنا منہ سنگھواؤ، منہ کے قریب سانس لو تاکہ ہمیں تمہارے منہ کی بو کا پتہ چلے، ”شَرِبْتَ مُدَامَةً“، تو نے شراب پی ہے، لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں منہ سنگھواؤ بھئی، ”شَرِبْتَ مُدَامَةً“، تو نے شراب پی ہے، ”فَقُلْتُ لَهُمْ“، تو میں نے ان سے کہا: ”لَا“، نہیں، ”بَلْ أَكَلْتُ السَّفَرْجَلَا“، بلکہ میں نے بہی کھائی ہے، میں نے بہی پھل کھایا ہے، یہ اس کی بو ہے، شراب کی بو نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”يَقُولُونَ لِي“، وہ لوگ مجھ سے کہہ رہے ہیں: ”انْكَهْ!“، کہ منہ کے قریب سانس لو یعنی تاکہ ہمیں بو کا پتہ لگ جائے، ”شَرِبْتَ مُدَامَةً“، تو نے شراب پی ہے، ”فَقُلْتُ لَهُمْ لَا“، تو میں نے ان سے کہا نہیں، ”بَلْ أَكَلْتُ السَّفَرْجَلَا“، بلکہ میں نے تو بہی پھل کھایا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں بو کا اعتبار نہیں ہے، بو کبھی شراب کے علاوہ کسی اور چیز کی بھی ہو سکتی ہے، جیسے اس شعر کے اندر شاعر بیان کر رہا ہے کہ میرے منہ سے جو بو آ رہی ہے وہ شراب کی نہیں ہے بلکہ سفرجل کی ہے اگرچہ اس کی بو بھی شراب جیسی ہے لیکن یہ شراب نہیں ہے۔ بہر حال میں نے شراب نہیں پی۔ آگے دیکھیے: ”وَعِنْدَهُمَا يُقَدَّرُ بِزَوَالِ الرَّائِحَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس زمانے کے پرانا ہونے کا اندازہ لگایا جائے گا ”بِزَوَالِ الرَّائِحَةِ“ بو کے ختم ہونے کے ساتھ۔ ”لِقَوْلِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ فِيهِ“ اس وجہ سے کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے اس بارے میں، وہ فرماتے ہیں: ”فَإِنْ وَجَدْتُمْ رَائِحَةَ الْخَمْرِ فَاجْلِدُوهُ“۔ حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”فَإِنْ وَجَدْتُمْ رَائِحَةَ الْخَمْرِ“ اگر تم شراب کی بو پاؤ، یعنی کسی نے شراب پی ہے اور تم اس کے منہ سے شراب کی بو پاؤ ”فَاجْلِدُوهُ“ تو پھر اس کو کوڑے لگاؤ۔ معلوم ہوا شراب کی بو آ رہی ہو منہ سے پھر ہی حد لگائی جائے گی، ورنہ بات پرانی ہو چکی ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں ”فَإِنْ وَجَدْتُمْ رَائِحَةَ الْخَمْرِ“ کہ اگر تم شراب کی بو پاؤ ”فَاجْلِدُوهُ“ تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ ”وَلِأَنَّ قِيَامَ الْأَثَرِ مِنْ أَقْوَى دَلَالَةٍ عَلَى الشُّرْبِ“ اب یہاں سے عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل بھی ذکر کر رہے ہیں شیخین رحمہما اللہ کے مذہب کی تائید میں۔ ایک تو نقلی دلیل ذکر کر دی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بھئی، اور عقلی دلیل بھی۔ کہتے ہیں عقل بھی اس کی تائید کرتی ہے کہ بو کا اعتبار ہونا چاہیے، زمانے کا اعتبار نہیں ہونا چاہیے۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ قِيَامَ الْأَثَرِ مِنْ أَقْوَى دَلَالَةٍ عَلَى الشُّرْبِ“، اثر کہتے ہیں نشان کو۔ اثر کسے کہتے ہیں؟ نشان اور علامت۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ قِيَامَ الْأَثَرِ“ اس لیے کیونکہ نشان کا موجود ہونا، علامت کا موجود ہونا ”مِنْ أَقْوَى دَلَالَةٍ عَلَى الشُّرْبِ“ یہ شرب پر سب سے قوی دلیلوں میں سے ہے۔ یہ شرب پر کسی نے نشہ آور مشروب پیا ہے، تو اس پر سب سے قوی دلیلوں میں سے اس شرب کا اثر ہے، اس کی نشانی ہے، اس کی علامت ہے اور جب علامت کے ذریعے پتہ چل سکتا ہے تو زمانے کی طرف ہم نہیں جائیں گے کیونکہ زمانے کی طرف اس وقت جاتے ہیں جب نشانی کا اعتبار کرنا ممکن نہ رہے۔ جب نشانی کا اعتبار کرنا ممکن نہ رہے پھر زمانے کا اعتبار کرتے ہیں اور یہاں تو نشانی کا اعتبار کیا جا سکتا ہے، نشانی موجود ہے کہ اس شراب پینے والے کے منہ سے شراب کی بو آتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِأَنَّ قِيَامَ الْأَثَرِ“ اور اس لیے کیونکہ نشان کا موجود ہونا ”مِنْ أَقْوَى دَلَالَةٍ عَلَى الشُّرْبِ“ یہ شرب پر سب سے قوی دلیلوں میں سے ہے ”وَإِنَّمَا يُصَارُ إِلَى التَّقْدِيرِ بِالزَّمَانِ“ اور زمانے کے ساتھ اندازہ لگانے کی طرف اس وقت جایا جاتا ہے ”عِنْدَ تَعَذُّرِ اعْتِبَارِهِ“ جب اس نشان کا اعتبار ممکن نہ رہے۔ جب نشانی کا اعتبار ممکن نہ رہے پھر زمانے کی طرف جاتے ہیں۔ ”وَالتَّمْيِيزُ بَيْنَ الرَّوَائِحِ مُمْكِنٌ لِلْمُسْتَدِلِّ“، امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ بو تو کسی اور چیز کی بھی ہو سکتی ہے، بو کی وجہ سے تو لوگوں کو اشتباہ بھی لگ سکتا ہے، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ بھئی جس شخص کو بو کی پہچان نہیں ہوگی یعنی جاہل ہوگا بو سے، اس کو تو اشتباہ لگ سکتا ہے، لیکن جس کو بو کی پہچان ہوگی اس کو اشتباہ نہیں لگ سکتا، وہ منہ سونگھتے ہی فوراً بتا دے گا کہ اس نے شراب پی ہے یا نہیں پی۔ تو کہتے ہیں ”وَالتَّمْيِيزُ بَيْنَ الرَّوَائِحِ مُمْكِنٌ“ اور مختلف چیزوں کی جو بو ہوتی ہے ان کے درمیان فرق ممکن ہے۔ روائح جمع ہے رائحہ کی۔ ”وَالتَّمْيِيزُ بَيْنَ الرَّوَائِحِ مُمْكِنٌ“ اور مختلف چیزوں کی جو بو ہوتی ہے اس کے درمیان فرق ممکن ہے ”لِلْمُسْتَدِلِّ“ استدلال کرنے والے کے لیے۔ جو استدلال کرتا ہے، جو اس کو دلیل بناتا ہے، یعنی جس کو پہچان ہے، اس کے لیے مختلف قسم کی بوؤں میں فرق کرنا ممکن ہوتا ہے۔ ”وَإِنَّمَا تَشْتَبِهُ عَلَى الْجُهَّالِ“ اور یہ مختلف قسم کی جو بو ہے یہ تو جاہلوں پر مشتبہ ہوتی ہے، یعنی جن کو ان کی پہچان نہیں ہے بھئی۔ ”وَأَمَّا الْإِقْرَارُ فَالتَّقَادُمُ لَا يُبْطِلُهُ“ اور باقی اقرار جو ہے، بھئی یہ تو شہادت کی بات تھی کہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں جب تک بو آ رہی ہے یا نشے میں ہے تو حد آئے گی، شہادت قبول کی جائے گی۔ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک مہینے کا اعتبار کیا جائے گا۔ اور باقی اگر کوئی شخص اقرار کرتا ہے تو کیا اقرار میں بھی بو کا اعتبار ہے شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک یا نہیں؟ تو یاد رکھو، شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اقرار کے اندر بھی بو کا اعتبار کیا جائے گا۔ اگر یہ اقرار کر رہا ہے اور منہ سے شراب کی بو نہیں آ رہی تو پھر بات پرانی ہو چکی ہے بھئی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، زنا کے اندر بات پرانی بھی ہو جائے پھر بھی اقرار معتبر ہوتا ہے، لہٰذا یہاں پر بھی بات پرانی ہو جائے پھر بھی اقرار معتبر ہوگا۔ تو کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْإِقْرَارُ فَالتَّقَادُمُ لَا يُبْطِلُهُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور باقی اقرار جو ہے تو اس کے اندر پرانا ہونا وہ اس اقرار کو باطل نہیں کرتا امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک ”كَمَا فِي حَدِّ الزِّنَا“ جیسے کہ حدِ زنا کے اندر ہے ”عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ“ اس وجہ سے کہ جو تقریر گزر گئی۔ یاد رکھو، قَرَّرَ يُقَرِّرُ تقریر کا معنی ہے ثابت کرنا۔ تو ”عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ“ اس وجہ سے کہ اس کا اثبات گزر گیا۔ ہم نے پیچھے ثابت کیا تھا کہ زنا کے اندر اگر اقرار کے اندر زمانہ زیادہ بھی گزر جائے پھر بھی اس کو قبول کیا جائے گا کیونکہ کوئی شخص اپنے آپ سے دشمنی نہیں کرتا، اقرار کے اندر دلوں میں بدگمانی نہیں آتی بھئی۔ گواہ دیر سے آئیں وہاں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ یہ شاید اب دشمنی کی وجہ سے آئے ہیں، لیکن اقرار اگر پرانا بھی ہو جائے تو وہاں کسی قسم کی بدگمانی دلوں میں نہیں آتی۔ تو یہی بیان کر رہے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پرانا ہونا یہ اقرار کو باطل نہیں کرتا ”كَمَا فِي حَدِّ الزِّنَا“ جیسے کہ حدِ زنا کے اندر ہے ”عَلَى مَا مَرَّ تَقْرِيرُهُ“ اس وجہ سے کہ اس کی تقریر یعنی اس کا اثبات گزر گیا۔ ”وَعِنْدَهُمَا لَا يُقَامُ الْحَدُّ إِلَّا عِنْدَ قِيَامِ الرَّائِحَةِ“ اور شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک حد قائم نہیں کی جائے گی مگر جس وقت شراب کی بو موجود ہو۔ اگر کوئی اقرار بھی کرتا ہے پھر بھی حد قائم نہیں کی جائے گی مگر اسی وقت جب اس کی شراب کی بو اس کے منہ سے آ رہی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعِنْدَهُمَا لَا يُقَامُ الْحَدُّ“ شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک اس اقرار کرنے والے پر حد قائم نہیں کی جائے گی ”إِلَّا عِنْدَ قِيَامِ الرَّائِحَةِ“ مگر جس وقت شراب کی بو موجود ہو ”لِأَنَّ حَدَّ الشُّرْبِ ثَبَتَ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اس لیے کیونکہ حدِ شرب جو ہے یہ صحابہ کے اجماع کی وجہ سے ثابت ہے ”وَلَا إِجْمَاعَ إِلَّا بِرَأْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے بغیر تو اجماع نہیں ہو سکتا۔ بھئی دیکھیے، یہ جو حدِ شرب ہے یہ اجماعِ صحابہ سے ثابت ہے۔ اجماعِ صحابہ کا معنی ہے تمام صحابہ نے اس پر اتفاق کیا۔ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی جلیل القدر صحابہ میں سے ہیں تو معلوم ہوا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی یہی رائے تھی، کیونکہ اگر وہ اختلاف کرتے پھر تو اجماع ہی نہیں ہو سکتا تھا۔ تو اجماع ہوا، معلوم ہوا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بھی یہی رائے تھی اور وہی حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرما رہے ہیں، پیچھے ان کا قول آیا: ”فَإِنْ وَجَدْتُمْ رَائِحَةَ الْخَمْرِ فَاجْلِدُوهُ“ کہ اگر تم شراب کی بو پاؤ اس آدمی سے تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ معلوم ہوا انہوں نے بو کو شرط قرار دیا ہے کوڑے لگانے کے لیے۔ دیکھو، شرط ذکر کر رہے ہیں وہ: ”فَإِنْ وَجَدْتُمْ رَائِحَةَ الْخَمْرِ“ اگر تم شراب کی بو پاؤ ”فَاجْلِدُوهُ“ تو اس کو کوڑے لگاؤ۔ تو معلوم ہوا کہ یہ حدِ شرب جو ہے یہ صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے اور صحابہ کے اجماع میں معلوم ہوا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی شامل ہیں اور ان کی رائے تو یہ ہے کہ جب بو آ رہی ہو تب ہی کوڑے لگاؤ۔ پھر دیکھ لیجیے دلیل، کہتے ہیں ”لِأَنَّ حَدَّ الشُّرْبِ ثَبَتَ بِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اس لیے کیونکہ حدِ شرب جو ہے وہ صحابہ کے اجماع سے ثابت ہے ”وَلَا إِجْمَاعَ إِلَّا بِرَأْيِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور اجماع نہیں ہو سکتا حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے کے بغیر ”وَقَدْ شَرَطَ قِيَامَ الرَّائِحَةِ“ اور تحقیق انہوں نے تو بو کے موجود ہونے کی شرط لگائی ہے ”عَلَى مَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی، اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کی یعنی ان کا جو قول ہم نے ذکر کیا۔ بھئی یہاں ایک اور اہم قیمتی بات یاد رکھنا، صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک حدِ شرب کے معاملے میں ایک مہینہ گزر جائے تو پھر بات پرانی ہے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نشہ ختم ہو جائے یا منہ سے شراب کی بو ختم ہو جائے تو بات پرانی ہو گئی۔ تو صاحبِ ہدایہ نے شیخین رحمہما اللہ کے قول کو ترجیح دی ہے، لیکن عام علماء جو ہیں وہ امام محمد رحمہ اللہ کے قول کو یہاں ترجیح دیتے ہیں کہ امام محمد رحمہ اللہ کا قول اس سلسلے میں راجح ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ أَخَذَهُ الشُّهُودُ وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْهُ أَوْ هُوَ سَكْرَانُ“ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ گواہوں نے ایک شخص کو شراب پیتے ہوئے دیکھا یا کوئی اور نشہ آور مشروب پیتے ہوئے دیکھا اور انہوں نے اس کو پکڑ لیا اور اس کو قاضی کے پاس لے گئے، لیکن قاضی کا علاقہ دور تھا وہاں تک پہنچتے پہنچتے شراب کی بو ختم ہو گئی یا وہ نشہ ختم ہو گیا، تو کیا اب بھی حد قائم کی جائے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں اب تو عذر موجود ہے۔ اب تو عذر موجود ہے، لہٰذا اب حد قائم کی جائے گی۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ أَخَذَهُ الشُّهُودُ“ اور اگر گواہوں نے اس آدمی کو پکڑا ”وَرِيحُهَا يُوجَدُ مِنْهُ“ اس حال میں کہ شراب کی بو اس سے آ رہی تھی ”أَوْ هُوَ سَكْرَانُ“ یا اس حال میں کہ وہ مدہوش تھا ”فَذَهَبُوا بِهِ مِنْ مِصْرٍ إِلَى مِصْرٍ فِيهِ الْإِمَامُ“ تو وہ اس کو لے کر چلے ایک شہر سے ایک ایسے شہر کی طرف جس میں امام ہے حاکم ہے ”فَانْقَطَعَ ذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْتَهُوا بِهِ“ تو وہ بو یا وہ نشہ جو ہے منقطع ہو گیا قبل اس کے کہ وہ امام تک پہنچتے ”حُدَّ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو اس صورت میں حد لگائی جائے گی ان سب کے قول میں، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے قول میں پھر حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”حُدَّ فِي قَوْلِهِمْ جَمِيعًا“ تو ہمارے تینوں ائمہ کے قول میں حد لگائی جائے گی ”لِأَنَّ هَذَا عُذْرٌ“ اس لیے کیونکہ یہ عذر ہے ”كَبُعْدِ الْمَسَافَةِ فِي حَدِّ الزِّنَا“ جیسے کہ مسافت کی دوری تھی زنا کی حد میں۔ وہاں پر بھی اگر گواہ ایک ماہ یا اس سے زیادہ دور رہتے ہیں پھر یہ عذر ہے بھئی، پھر ان کی گواہی بھی وہاں حدِ زنا میں قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”كَبُعْدِ الْمَسَافَةِ فِي حَدِّ الزِّنَا“ جیسے کہ مسافت کی دوری تھی حدِ زنا میں ”وَالشَّاهِدُ لَا يُتَّهَمُ بِهِ فِي مِثْلِهِ“ اور گواہ جو ہے اس پر کوئی الزام نہیں لگایا جاتا اس جیسے عذروں میں۔ ”وَمَنْ سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ حُدَّ“، سَكِرَ يَسْكَرُ کے معنی ہیں نشہ ہونا، نشے میں مدہوش ہونا۔ ”وَمَنْ سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ حُدَّ“، نبیذ بھئی، یاد رکھو نبیذ جو ہے یہ عرب کشمش کھجور وغیرہ سے نبیذ بناتے تھے۔ کشمش یا کھجور وغیرہ اور بعض چیزیں تھیں ان سے نبیذ بناتے تھے، ان چیزوں کو وہ پانی میں ڈال دیتے تھے اور پھر بعض اوقات ان کو تھوڑا سا پکاتے بھئی، کوئی خاص ان کے طریقے تھے، جس کی وجہ سے اس کے اندر بھی نشہ آ جاتا تھا۔ اس نبیذ میں بھی نشہ آ جاتا تھا اور پھر اس کو وہ نشے کے طور پر استعمال کرتے تھے بھئی، نشے کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ تو لہٰذا اگر کسی کو نبیذ سے نشہ ہو جائے، نبیذ سے نشہ ہو جائے، تو اس صورت میں اس کو بھی حد لگائی جائے گی اور میں نے بتلایا کہ اس کے اندر گواہوں کا اس کو نبیذ پیتے ہوئے یعنی نشہ آور مشروب پیتے ہوئے دیکھنا بھی ضروری ہے۔ اس کو نشے کی حالت میں پکڑا گیا تو اس صورت میں حد نہیں آئے گی بلکہ یا گواہی ضروری یا اقرار بھی ضروری۔ تو اگر اس کو کسی نے نبیذ پیتے ہوئے دیکھا ہے اور یہ نشے میں بھی ہے پھر تو حد جاری کی جائے گی، اور اگر صرف نشے میں یہ آدمی ملا اور اس سے پوچھا کیا کیا ہے کیوں نشے میں ہو، اس نے کہا میں نے نبیذ پی ہے، تو پھر اس صورت میں حد ثابت نہیں ہوگی کیونکہ میں نے بتلایا تھا کہ یہ نشے میں ہے، نشے میں تو اور بھی زیادہ احتمال ہے جھوٹ بولنے کا۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ حُدَّ“ اور جس شخص کو نشہ ہو گیا نبیذ سے اس کو بھی حد لگائی جائے گی، لیکن یاد رکھو یہاں جو نبیذ کا لفظ آیا اس سے صرف نبیذ ہی نہیں مراد بلکہ ہر نشہ آور مشروب مراد ہے۔ میں نے بتلایا عرب کے طریقے تھے کئی قسم سے یہ نشہ آور مشروب وہ بناتے تھے بھئی، تو ہر نشہ آور مشروب اس میں داخل ہے۔ تو جس کو بھی نبیذ سے نشہ ہوا اس کو حد لگائی جائے گی ”لِمَا رُوِيَ“ اس حدیث کی وجہ سے جو روایت کی گئی ہے ”أَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ أَقَامَ الْحَدَّ عَلَى أَعْرَابِيٍّ“ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حد قائم کی تھی ایک ایسے دیہاتی پر، اعرابی دیہاتی بھئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حد قائم کی تھی ”عَلَى أَعْرَابِيٍّ“ ایک ایسے دیہاتی پر ”سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ“ جس کو نبیذ سے نشہ ہو گیا تھا، جو نبیذ سے مدہوش ہو گیا تھا۔ ”وَنُبَيِّنُ الْكَلَامَ فِي حَدِّ السُّكْرِ وَمِقْدَارِ حَدِّهِ الْمُسْتَحَقِّ عَلَيْهِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ”وَنُبَيِّنُ الْكَلَامَ“ اور ہم کلام بیان کریں گے یعنی ہم ذکر کریں گے ”فِي حَدِّ السُّكْرِ“، سکر کہتے ہیں نشے کو، ”فِي حَدِّ السُّكْرِ“ نشے کی حد میں۔ بھئی آگے نشے کی حد بیان کریں گے۔ ایک نشہ ہے، ایک نشہ یہ ہے کہ آدمی ہذیان بولنے لگے، ہذیان کہتے ہیں لا عقلی کی باتیں کرنا، جیسے ایک آدمی کا عقلی توازن درست نہ رہے، وہ بے کار کی باتیں کر رہا ہے جن کا کوئی معنی کوئی مفہوم نہیں ہے اور کوئی مقصد نہیں ہے ان باتوں کے کرنے کا، تو یہ ہے ہذیان۔ توجہ ہے؟ تو اگر ایک شخص نشہ آور مشروب پیتا ہے اور اس کی وجہ سے اسے اتنا نشہ چڑھ گیا کہ وہ ہذیان بول رہا ہے، کبھی کچھ بولتا ہے کبھی کچھ، لا یعنی بے مقصد باتیں کر رہا ہے، کبھی ٹھیک بات بھی کر دیتا ہے اور کبھی بے کار اور فضول باتیں بھی کر رہا ہے، تو اس کو کہتے ہیں اس آدمی کو نشہ ہو گیا ہے۔ اور بعض اوقات نشہ اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ آدمی کو مرد اور عورت کی بھی پہچان نہیں رہتی، اسے یہ بھی نہیں پتہ چلتا یہ مرد ہے یا عورت ہے، اسے زمین اور آسمان کا بھی پتہ نہیں چلتا، اتنا زیادہ نشہ ہو جاتا ہے۔ تو نشے کی کتنی مقدار معتبر ہے؟ ہذیان والی جو شروع میں ہی آ جاتی ہے یا وہ آخری حد جس کے اندر زمین اور آسمان کا بھی پتہ نہیں چلتا؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں چونکہ حد کا معاملہ ہے لہٰذا آخری حد کا اعتبار کریں گے، جس کو اتنا نشہ ہو جائے کہ جس کو مرد اور عورت کی پہچان نہیں، زمین اور آسمان کا پتہ نہیں چل رہا، اس کو حد لگائی جائے گی اور اس سے کم جو ہے وہ تو کبھی کبھی ٹھیک بات بھی بیچ میں کر دیتا ہے تو اس پر تو کبھی کبھی صحیح ہونے کا بھی شبہ ہوتا ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا اس کو حد نہیں لگائیں گے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں نہیں، جب وہ ہذیان بولنے لگے، وہ ملا جلا کلام کر رہا ہے، کبھی ہذیان بولتا ہے، کبھی کوئی ایک آدھ بار ٹھیک کر دیتا ہے، تو عرف کے اندر اسی آدمی کو لوگ مدہوش کہتے ہیں لہٰذا نشہ پایا گیا، اس کو بھی حد لگائی جائے گی۔ تو یہ معنی ہے۔ کہتے ہیں ”وَنُبَيِّنُ الْكَلَامَ فِي حَدِّ السُّكْرِ“ اور ہم کلام بیان کریں گے نشے کی حد میں، نشے کی حد میں کہ کس حد تک ہو تو یہ نشہ ہے اور اس پر حد آئے گی بھئی، ”وَمِقْدَارِ حَدِّهِ الْمُسْتَحَقِّ عَلَيْهِ“ اور وہ حد جس کا استحقاق ہو چکا ہے اس کی مقدار کے بارے میں بھی، اس کی مقدار کے بارے میں بھی، آگے صاحبِ ہدایہ حد کی مقدار بھی بتلائیں گے کہ اسی کوڑے لگائے جائیں گے، اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ توجہ ہے؟ یہ عبارت پھر دیکھو: ”وَنُبَيِّنُ الْكَلَامَ فِي حَدِّ السُّكْرِ وَمِقْدَارِ حَدِّهِ الْمُسْتَحَقِّ عَلَيْهِ“، صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں۔ ایک جگہ انہوں نے کہا ”فِي حَدِّ السُّكْرِ“ اور آگے کہتے ہیں ”وَمِقْدَارِ حَدِّهِ“ ای مقدار حد السکر، تو کیا معنی ہے؟ پہلے حدِ سکر سے کیا مراد ہے؟ نشے کی حد، کتنا نشہ ہو، اور دوسری حد سے کیا مراد ہے؟ حدِ شرب، یعنی وہ جو اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ تو کہتے ہیں ”وَنُبَيِّنُ الْكَلَامَ فِي حَدِّ السُّكْرِ“ اور ہم کلام ذکر کریں گے نشے کی حد کے بارے میں بھی ”وَمِقْدَارِ حَدِّهِ الْمُسْتَحَقِّ عَلَيْهِ“ اور نشے کی اس حد کی مقدار میں بھی جس کا استحقاق ہو چکا ہے جس کا یہ شخص حقدار ہو چکا ہے ”إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا حَدَّ عَلَى مَنْ وُجِدَ مِنْهُ رَائِحَةُ الْخَمْرِ“، میں نے آپ کو بتلایا تھا ایک آدمی کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے تو اس پر حد نہیں لگائیں گے بلکہ گواہی یا اقرار بھی ضروری ہے۔ توجہ ہے؟ اب وہی بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَلَا حَدَّ عَلَى مَنْ وُجِدَ مِنْهُ رَائِحَةُ الْخَمْرِ“ اور حد نہیں ہے اس شخص پر جس سے شراب کی بو پائی گئی، یعنی جس کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہے اس پر حد نہیں ہے ”أَوْ تَقَيَّأَهَا“ یا اس نے شراب کی قے کی، ایک آدمی نے قے کی بھئی، شراب کی قے کی تو اس پر بھی حد نہیں ہے بھئی۔ کیوں نہیں ہے؟ آگے بتلائیں گے۔ کہتے ہیں بھئی اگر بو آ رہی ہے منہ سے تو پھر بھی حد نہیں کیونکہ بو کے اندر تو اور چیزوں کا بھی احتمال ہے، ہو سکتا ہے کسی اور چیز کی بو ہو، اور اگر اس نے قے کی ہے شراب کی پھر بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ ہو سکتا ہے اس کو کسی نے زبردستی پلائی ہو یا ہو سکتا ہے یہ اضطرار کی حالت میں مجبوری کی حالت میں اس نے شراب پی ہو۔ آپ نے پڑھا ہے کہ اگر انسان کو کھانے کو کچھ نہیں ملا اور اب اگر وہ کچھ نہیں کھاتا تو اس کی جان ہی چلی جائے گی تو اس صورت میں حرام چیز بھی اس کے لیے حلال ہو جاتی ہے کہ اس حرام میں سے وہ اتنی تھوڑی سی مقدار استعمال کر سکتا ہے جس سے اس کی جان بچ جائے۔ تو لہٰذا اس نے شراب کی قے کی ہے، ہو سکتا ہے کسی نے اسے زبردستی شراب پلائی ہو اور ہو سکتا ہے اس نے مجبوری کی وجہ سے جان بچانے کے لیے کچھ شراب پی ہو۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا حَدَّ عَلَى مَنْ وُجِدَ مِنْهُ رَائِحَةُ الْخَمْرِ أَوْ تَقَيَّأَهَا“ اور حد نہیں ہے اس شخص پر جس سے شراب کی بو پائی گئی یا اس نے شراب کی قے کی ”لِأَنَّ الرَّائِحَةَ مُحْتَمِلَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جو شراب کی بو ہے یہ احتمال رکھنے والی ہے، یعنی اس میں اور چیزوں کا بھی احتمال ہے ”وَكَذَا الشُّرْبُ قَدْ يَقَعُ عَنْ إِكْرَاهٍ وَاضْطِرَارٍ“ اور اسی طرح شراب کا پینا یہ بھی کبھی کبھار اکراہ اور اضطرار کی وجہ سے بھی ہوتا ہے ”فَلَا يُحَدُّ السَّكْرَانُ“ لہٰذا اس مدہوش کو حد نہیں لگائی جائے گی ”حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُ سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ“ یہاں تک کہ یہ بات معلوم ہو جائے کہ اس کو نبیذ سے نشہ ہوا ہے، یعنی نشہ آور مشروب پینے سے نشہ ہوا ہے۔ ایک تو یہ پتہ چل جائے کہ نبیذ پینے سے یعنی نشہ آور مشروب پینے سے نشہ ہوا ہے ”وَشَرِبَهُ طَوْعًا“ اور یہاں تک یہ پتہ چل جائے کہ اس نے رضامندی سے پی ہے۔ رضامندی سے پینے کا بھی پتہ چلے اور نبیذ کا بھی پتہ چلے کہ نبیذ ہی پی ہے کوئی اور چیز نہیں ہے بھئی۔ کیونکہ آگے چل کر آپ کو بتائیں گے بعض چیزیں حلال ہیں اور ان کی وجہ سے اگر نشہ ہو جائے تو پھر حد نہیں آئے گی، جیسے بھنگ ہے۔ بھنگ، اس کی وجہ سے نشہ ہو جائے تو حد نہیں آئے گی بھئی۔ اگرچہ فاسق لوگ اس کو بھی نشے کے لیے استعمال کرتے ہیں، تو اس کے اندر حد تو نہیں ہے البتہ قاضی سزا دے سکتا ہے جو سزا مناسب سمجھے بھئی۔ کہتے ہیں ”فَلَا يُحَدُّ السَّكْرَانُ حَتَّى يُعْلَمَ أَنَّهُ سَكِرَ مِنَ النَّبِيذِ وَشَرِبَهُ طَوْعًا“ تو مدہوش کو حد نہیں لگائی جائے گی یہاں تک کہ یہ معلوم ہو جائے کہ یہ نبیذ پینے سے مدہوش ہوا ہے اور یہ معلوم ہو جائے کہ اس نے رضامندی سے اس کو پیا ہے ”لِأَنَّ السُّكْرَ مِنَ الْمُبَاحِ لَا يُوجِبُ الْحَدَّ“ اس لیے کیونکہ مباح چیز کے پینے سے نشہ ہونا یہ حد کو واجب نہیں کرتا ”كَالْبَنْجِ“ جیسے کہ بھنگ ہے، بنج، بنج سے مراد کیا ہے؟ بھنگ، وہی گاف جو ہے عربی میں جیم کے ساتھ بدل گیا بھئی۔ ”وَلَبَنِ الرِّمَاكِ“، یاد رکھو رماک جمع ہے رمکۃ کی، اور رمکہ عرب جو ہیں بعض اوقات غیر عربی نسل کے گھوڑے اور گھوڑیاں بھی رکھتے تھے خاص مقاصد کے لیے، تو یہ رمکہ یہ جو ہے غیر عربی جو گھوڑی ہے، رمکہ غیر عربی نسل کی جو گھوڑی ہے اس کو رمکہ کہتے ہیں اور جمع رماک ہے۔ اور اس کا دودھ حلال ہے، آپ پڑھ چکے ہیں کہ گھوڑا جو ہے وہ حلال ہے، امام صاحب نے اس کو مکروہ قرار دیا ہے لیکن مکروہ بھی اس کے معزز ہونے کی وجہ سے اس کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ گھوڑا جنگی جانور ہے جنگوں میں استعمال کیا جاتا ہے، تو اس لیے امام صاحب نے اس کو مکروہ قرار دیا تاکہ کہیں لوگ اس کو عام ذبح نہ کرنا شروع کر دیں۔ تو لہٰذا گھوڑی کا دودھ جو ہے وہ حلال ہے، اور کوئی اس کا خاص طریقہ ہوگا جس سے اس کے اندر بھی نشہ آ جاتا ہوگا تو اب یہ کسی نے یہ گھوڑی کا دودھ پیا اور اس کو نشہ ہو گیا تو اس پر بھی حد جاری نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ السُّكْرَ مِنَ الْمُبَاحِ لَا يُوجِبُ الْحَدَّ كَالْبَنْجِ وَلَبَنِ الرِّمَاكِ“ اس لیے کیونکہ مباح چیز کے استعمال سے نشے کا ہونا یہ حد کو ثابت نہیں کرتا جیسے کہ بھنگ ہے اور جیسے کہ گھوڑیوں کا دودھ ہے ”وَكَذَا شُرْبُ الْمُكْرَهِ لَا يُوجِبُ الْحَدَّ“ اور اسی طرح مجبور کا پینا یہ بھی حد کو واجب نہیں کرتا۔ ایک آدمی نے تلوار نکالی اور دوسرے سے کہا یہ شراب پیو ورنہ میں تمہیں قتل کرتا ہوں یا میں تمہارا ہاتھ کاٹتا ہوں، تو مکرَہ نے شراب پی لی تو اس صورت میں بھی حد واجب نہیں، یہ معنی ہے۔ ”وَكَذَا شُرْبُ الْمُكْرَهِ لَا يُوجِبُ الْحَدَّ“ اور اسی طرح مجبور کا شراب پینا یہ حد کو واجب نہیں کرتا ”وَلَا يُحَدُّ حَتَّى يَزُولَ عَنْهُ السُّكْرُ“۔ بھئی ایک آدمی ہے اس نے نشہ آور مشروب پیا اور گواہ بھی موجود ہیں اور اس کو قاضی کے پاس بھی لے آئے جبکہ ابھی نشہ موجود تھا، تو قاضی نے حد جاری کرنے کا حکم دے دیا، لیکن جب تک یہ نشے میں ہے حد نہیں لگائی جائے گی، اس لیے کیونکہ اس وقت تو وہ سرور میں ڈوبا ہوا ہے، اس کو ضرب بھی لگائیں گے اس کو پوری تکلیف نہیں ہوگی بھئی، لہٰذا جب نشہ ختم ہو جائے پھر ضرب لگائیں گے تاکہ خوب تکلیف ہو اس کو۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُحَدُّ“ اور اس کو حد بھی نہیں لگائیں گے ”حَتَّى يَزُولَ عَنْهُ السُّكْرُ“ یہاں تک کہ اس سے نشہ دور ہو جائے ”تَحْصِيلًا لِمَقْصُودِ الِانْزِجَارِ“، انزجار کا معنی ہے رکنا بھئی، ”تَحْصِيلًا لِمَقْصُودِ الِانْزِجَارِ“ تاکہ رکنے کا مقصد حاصل کر لیا جائے۔ بھئی اگر ابھی آپ اس کو ضرب لگائیں گے اس کو تو پوری تکلیف نہیں ہوگی، یہ تو باز نہیں آئے گا، یہ تو رکے گا نہیں، تو انزجار یعنی رکنا اور باز آنا حاصل نہ ہوا، لہٰذا جب نشہ ختم ہو جائے اب ضرب لگاؤ اب رکنا حاصل ہوگا، اب اس کو عبرت ہوگی آئندہ ایسا نہیں کرے گا اور لوگوں کو بھی عبرت ہوگی وہ بھی ایسا نہیں کریں گے۔ تو کہتے ہیں کہ جب اس سے نشہ ختم ہو جائے پھر حد لگائیں گے ”تَحْصِيلًا لِمَقْصُودِ الِانْزِجَارِ“ باز آ جانے کا جو مقصد ہے اس کو حاصل کرنے کے لیے۔ ”وَحَدُّ الْخَمْرِ وَالسُّكْرِ فِي الْحُرِّ ثَمَانُونَ سَوْطًا“، ”وَحَدُّ الْخَمْرِ وَالسُّكْرِ“ اور شراب کی حد جو ہے اور اسی طرح نشے کی جو حد ہے ”فِي الْحُرِّ“ آزاد آدمی میں ”ثَمَانُونَ سَوْطًا“ وہ اسی کوڑے ہیں۔ دیکھو حد الخمر بھی بیان کر دی ”وَحَدُّ السُّكْرِ“ اور نشے کی حد بھی بیان کر دی، دونوں کا ایک ہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَحَدُّ الْخَمْرِ وَالسُّكْرِ فِي الْحُرِّ ثَمَانُونَ سَوْطًا“ اور شراب اور نشے کی جو حد ہے ”فِي الْحُرِّ“ آزاد آدمی میں ”ثَمَانُونَ سَوْطًا“ وہ اسی کوڑے ہیں۔ آزاد آدمی کی قید لگائی کیونکہ غلام کی سزا نصف ہوتی ہے، تو غلام کو چالیس کوڑے لگائے جائیں گے بھئی۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حضور علیہ السلام کے زمانے میں شراب پینے والے کو چالیس کوڑے لگائے جاتے تھے اور بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں اس کو بڑھا دیا اور تمام صحابہ کا اس پر اجماع ہو گیا بھئی۔ تو کہتے ہیں آزاد آدمی کے اندر شراب اور نشے کی جو حد ہے وہ اسی کوڑے ہیں ”لِإِجْمَاعِ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے اجماع کی وجہ سے۔ ”يُفَرَّقُ عَلَى بَدَنِهِ كَمَا فِي حَدِّ الزِّنَا عَلَى مَا مَرَّ“ اور یہ جو اسی کوڑے ہیں یہ اس آدمی کے بدن کے ایک ہی حصے پر نہیں لگائیں گے بلکہ بدن پر پھیلا کر لگائیں گے، اس لیے کیونکہ اگر ایک ہی عضو پر آپ اسی کوڑے لگائیں گے تو کہیں ایسا نہ ہو وہ عضو ہی تلف ہو جائے، ایسا نہ ہو وہ عضو ہی تلف ہو جائے اور ضائع ہو جائے۔ تو کہتے ہیں ”يُفَرَّقُ عَلَى بَدَنِهِ“ یہ کوڑے جو ہیں تقسیم کیے جائیں گے اس کے بدن پر ”كَمَا فِي حَدِّ الزِّنَا“ جیسے کہ حدِ زنا میں ہے ”عَلَى مَا مَرَّ“ اس وجہ سے جو بات گزر گئی کہ اگر ایک ہی عضو کو لگائیں گے وہ تو شل ہو جائے گا بھئی۔ ”ثُمَّ يُجَرَّدُ فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الرِّوَايَةِ“ پھر اس کو ننگا کیا جائے گا یعنی قمیص اتاری جائے گی۔ آپ حدِ زنا کے اندر بھی پڑھ چکے ہیں کہ جس کو کوڑے لگائے جا رہے ہیں اگر وہ مرد ہے تو اس کی قمیص اتار لی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”ثُمَّ يُجَرَّدُ فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الرِّوَايَةِ“ پھر اس آدمی کو قمیص سے ننگا کیا جائے گا مشہور روایت کے مطابق ”وَعَنْ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يُجَرَّدُ إِظْهَارًا لِلتَّخْفِيفِ“ اور امام محمد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کو ننگا نہیں کیا جائے گا یعنی اس کی قمیص نہیں اتاری جائے گی نرمی کو ظاہر کرنے کے لیے، نرمی کو ظاہر کرنے کے لیے۔ بھئی دیکھو اگر قمیص پہنی ہوگی تو بھی ضرب کے اندر کچھ نہ کچھ تخفیف آ گئی، تکلیف کے اندر کچھ نہ کچھ کمی آ جائے گی اور جب قمیص بھی ہٹا دیں گے ننگی کمر پر ضرب لگے گی تو اس میں تکلیف زیادہ ہوگی، تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”لَا يُجَرَّدُ“ اس کو ننگا نہیں کیا جائے گا یعنی اس کی قمیص نہیں اتاری جائے گی ”إِظْهَارًا لِلتَّخْفِيفِ“ تخفیف کے ظاہر کرنے کے لیے، اس ضرب کے ہلکا ہونے کو ظاہر کرنے کے لیے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ بِهِ نَصٌّ“ اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ کوئی نص وارد نہیں ہوئی۔ ”لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ بِهِ نَصٌّ“ اس کے ساتھ کوئی نص وارد نہیں ہوئی، اس کا کیا معنی ہے؟ صاحبِ ہدایہ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل ذکر فرما رہے ہیں کہ اس کی قمیص نہیں اتاری جائے گی تخفیف کا اظہار کرنے کے لیے نرمی کا اظہار کرنے کے لیے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ بِهِ نَصٌّ“ کیونکہ اس کے ساتھ نص وارد نہیں ہوئی، تو بعض شارحین فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ کوئی قطعی نص اس کے بارے میں نہیں آئی، صحابہ سے تو شرب کی حد ثابت ہے لیکن خود کوئی قطعی نص قران اور حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ ”لَمْ يَرِدْ بِهِ نَصٌّ“ سے مراد جو ہے شرب کی حد کی طرف اشارہ نہیں کہ حدِ شرب ثابت نہیں ہے قطعی نص سے، بلکہ ارادہ ہے تجرید کی طرف، یہ کپڑے اتارنے کے بارے میں کوئی قطعی نص موجود نہیں ہے کہ اس کی قمیص اتاری جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ بِهِ نَصٌّ“ اس لیے کیونکہ اس تجرید پر قمیص اتارنے پر کوئی نص وارد نہیں ہے۔ ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ أَنَّا أَظْهَرْنَا التَّخْفِيفَ مَرَّةً فَلَا يُعْتَبَرُ ثَانِيًا“ اور مشہور قول کی وجہ یہ ہے، بھئی بتلایا تھا نا کہ مشہور روایت کے مطابق اس کو ننگا کیا جائے گا یعنی اس کی قمیص اتار لیں گے، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ کیوں کیا وجہ ہے اس کی قمیص کیوں اتاری جائے گی؟ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّا أَظْهَرْنَا التَّخْفِيفَ مَرَّةً فَلَا يُعْتَبَرُ ثَانِيًا“ کہ ہم نے ایک دفعہ تخفیف کو ظاہر کر دیا، ہم نے ایک مرتبہ تخفیف کو ظاہر کر دیا، ہم نے سو کوڑے نہیں مقرر کیے زنا کی طرح بلکہ کم تعداد رکھی یعنی اسی کوڑے مقرر کیے ہیں، تو عدد کے اندر ہم نے ایک دفعہ تخفیف ظاہر کر دی، جب عدد میں تخفیف آ گئی اب صفت کے اندر تخفیف نہیں کریں گے کہ قمیص کے ساتھ ہی لگائیں بلکہ قمیص اتار کر ضرب لگائی جائے گی۔ عدد میں تو ہم نے تخفیف کر دی اب صفت میں تخفیف نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّا أَظْهَرْنَا التَّخْفِيفَ“ کہ ہم نے تخفیف ظاہر کر دی ”مَرَّةً“ ایک مرتبہ ”فَلَا يُعْتَبَرُ ثَانِيًا“ لہٰذا دوبارہ تخفیف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا کہ صفت میں بھی نرمی کر دیں۔ توجہ ہے؟ بھئی یہاں یہ صاحبِ ہدایہ کے کلام پر نظر کریں، فرما رہے ہیں مشہور روایت کی وجہ یہ ہے ”أَنَّا أَظْهَرْنَا التَّخْفِيفَ مَرَّةً“ ہم نے ایک دفعہ تخفیف کر دی، یہ ہم سے کون مراد ہے؟ ہم نے ایک مرتبہ تخفیف کر دی، تو جواب یہ کہ صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں گویا صاحبِ ہدایہ جو ہیں اجماع کرنے والے وں کی زبان سے بات کر رہے ہیں، وہ صحابہ جنہوں نے اجماع کیا تھا، گویا وہ کہہ رہے ہیں: ہم نے ایک دفعہ عدد میں تخفیف کر دی، اب صفت کے اندر ہم تخفیف نہیں کریں گے بھئی۔ تو معلوم ہوا یہ کن کی زبان میں بات ہو رہی ہے؟ اجماع کرنے والوں کی زبان میں۔ کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الْمَشْهُورِ“ اور مشہور قول کی وجہ یہ ہے: ”أَنَّا أَظْهَرْنَا التَّخْفِيفَ مَرَّةً“ کہ ایک مرتبہ ہم نے تخفیف ظاہر کر دی، ”فَلَا يُعْتَبَرُ ثَانِيًا“ تو دوبارہ اب اس تخفیف کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ عَبْدًا“ اور وہ جو شخص ہے جس نے شراب پی ہے یا نشہ آور مشروب پیا ہے، اگر وہ غلام ہے، ”فَحَدُّهُ أَرْبَعُونَ“ تو اس کی حد جو ہے چالیس کوڑے ہیں، ”لِأَنَّ الرِّقَّ مُنَصِّفٌ عَلَى مَا عُرِفَ“ اس لیے کیونکہ غلامی جو ہے مُنَصِّفٌ، وہ تنصیف کرنے والی ہے، وہ چیزوں کو آدھا کرنے والی ہے، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جس کو جان لیا گیا، یعنی جو تفصیل ہم پیچھے بیان کر چکے یا جو تفصیل اصول فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے بھئی، کہ غلامی کی وجہ سے حکم کے اندر نرمی آ جاتی ہے، کمی آ جاتی ہے، تنصیف ہو جاتی ہے، یعنی آدھا ہو جاتا ہے حکم بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ أَقَرَّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ أَوِ السَّكَرِ“ یہاں سُکْر نہیں پڑھنا بھئی، یہاں سَکَر پڑھنا، سَکَر۔ سین پر بھی فتحہ اور کاف پر بھی فتحہ۔ یاد رکھو سُکْر کا معنی ہے نشہ، جی۔ سُکْر، سین پر ضمہ اور کاف ساکن، سُکْر کا کیا معنی؟ نشہ، اور سَکَر؟ سَکَر نشہ آور مشروب کو کہتے ہیں۔ جی۔ سُکْر: نشہ، اور سَکَر: نشہ آور مشروب۔ اور پھر بالخصوص نشہ آور مشروب کے اندر بھی کہتے ہیں یہ تازہ کھجوروں کا رس ہوتا ہے، اس کو کسی خاص طریقے سے بناتے ہیں جس سے اس کے اندر نشہ آ جاتا ہے، تو وہ مراد ہے۔ جی۔ وہ جو تازہ کھجور کا جو رس ہے اور اس سے جو نشہ آور مشروب بنایا ہے، اس کو سَکَر کہتے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ أَقَرَّ بِشُرْبِ الْخَمْرِ أَوِ السَّكَرِ“ اور جس شخص نے اقرار کیا شراب پینے کا، ”أَوِ السَّكَرِ“ یا اس خاص نشہ آور مشروب کے پینے کا، ”ثُمَّ رَجَعَ“ پھر اس نے رجوع کر لیا۔ ایک دفعہ اقرار کیا پھر رجوع کر لیا، ”لَمْ يُحَدَّ“ اس کو بھی حد نہیں لگائیں گے، ”لِأَنَّهُ خَالِصُ حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ یہ حد شرب جو ہے یہ خالص اللہ کا حق ہے۔ جی۔ ”وَيَثْبُتُ الشُّرْبُ بِشَهَادَةِ شَاهِدَيْنِ“ اور نیز یہ شرب ثابت ہو جاتا ہے دو گواہوں کی گواہی سے۔ بھئی زنا کے اندر تو چار گواہ چاہیے تھے، لیکن یہاں شرب کے اندر دو گواہ بھی کافی ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَثْبُتُ الشُّرْبُ بِشَهَادَةِ شَاهِدَيْنِ“ اور شرب جو ہے ثابت ہو جاتا ہے دو گواہوں کی گواہی سے، ”وَيَثْبُتُ بِالْإِقْرَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً“ اور شرب ثابت ہو جاتا ہے ایک مرتبہ کے اقرار سے۔ بھئی زنا کے اندر تو چار اقرار چاہیے تھے چار الگ الگ مجلسوں میں، لیکن شرب کے اندر ایک ہی اقرار کافی ہے۔ جی۔ ایک ہی اقرار۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَثْبُتُ بِالْإِقْرَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً“ اور شرب ثابت ہو جائے گا ایک ہی مرتبہ کے اقرار سے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْإِقْرَارُ مَرَّتَيْنِ“ کہ یہاں پر بھی دو مرتبہ اقرار شرط ہے۔ جی۔ وہ فرماتے ہیں شرب کے اندر گواہ دو چاہیے تو اقرار بھی دو ہونے چاہیے الگ الگ مجلسوں میں۔ جیسے شراب کی حد میں چار گواہ ضروری تھے تو وہاں اقرار بھی چار الگ الگ مجلسوں میں ضروری تھا۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حد کا معاملہ ہے اور نازک معاملہ ہے، لہٰذا جیسے زنا میں چار گواہوں کی وجہ سے چار اقرار ضروری تھے تو یہاں پر دو گواہوں کی وجہ سے دو اقرار ضروری ہوں گے الگ الگ مجلس میں۔ اسی طرح چوری کا معاملہ ہے، ہمارے نزدیک چوری کے اندر دو گواہوں کی گواہی سے چوری بھی ثابت ہو جائے گی اور ایک دفعہ کے اقرار سے بھی چوری ثابت ہو جائے گی، جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ چوری کے مسئلے میں بھی فرماتے ہیں کہ یہاں گواہ دو چاہیے تو اقرار بھی دو چاہیے الگ الگ مجلس میں، پھر ہی حد سرقہ ثابت ہو گی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: أَنَّهُ يُشْتَرَطُ الْإِقْرَارُ مَرَّتَيْنِ، وَهُوَ نَظِيرُ الِاخْتِلَافِ فِي السَّرِقَةِ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اس کے اندر بھی دو مرتبہ اقرار شرط ہے، اور یہ سرقہ کے اندر اختلاف کی نظیر ہے، یعنی یہ اختلاف بھی اسی اختلاف کے مثل ہے۔ ”وَسَنُبَيِّنُهَا هُنَاكَ إِنْ شَاءَ اللَّهُ“ اور عنقریب ہم اس کو وہاں پر بیان کریں گے، آگے حد سرقہ آئے گی وہاں یہ اختلاف صاحب ہدایہ ذکر کریں گے۔ ”وَلَا يُقْبَلُ فِيهِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ“ اور حد شرب کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی مردوں کے ساتھ، یعنی ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دینا چاہتی ہیں حد شرب کے لیے، کہتے ہیں نہیں، یہاں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حدود کے مسئلے میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُقْبَلُ فِيهِ شَهَادَةُ النِّسَاءِ مَعَ الرِّجَالِ“ اور حد شرب کے اندر عورتوں کی گواہی مردوں کے ساتھ قبول نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّ فِيهِ شُبْهَةَ الْبَدَلِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر بدل ہونے کا شبہ ہے، عورتوں کی گواہی میں بدل ہونے کا شبہ ہے، ”وَتُهْمَةَ الضَّلَالِ وَالنِّسْيَانِ“ اور نیز اس کے اندر بھولنے کی بدگمانی دلوں میں آتی ہے بھئی۔ جی۔ بھولنے کی بدگمانی یا بھولنے کا الزام آتا ہے یہاں پر بھئی۔ بھئی دیکھو، یہ جگہ سمجھ لیں: ”لِأَنَّ فِيهِ شُبْهَةَ الْبَدَلِيَّةِ“ عورتوں کی گواہی میں بدل ہونے کا شبہ ہے بھئی۔ بھئی اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتے ہیں کہ معاملات کے اندر دو آدمیوں کو گواہ بنا لیا کرو، جی۔ اپنے درمیان جو معاملات ہیں اس میں دو آدمیوں کو گواہ بنا لیا کرو، ”فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ“ اگر دو آدمی نہ ہوں، ”فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ“ تو پھر ایک مرد اور دو عورتیں جو ہیں ان کو گواہ بنا لیا کرو، ”مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ“ جن کو تم پسند کرو گواہوں میں سے۔ جی۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو ان گواہوں میں سے گواہ بنا لو جنہیں تم پسند کرتے ہو، ”أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا“ اگر ان میں سے ایک عورت بھول جائے، ”فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى“ تو دوسری عورت اس کو یاد کروا دے گی۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو قرآن کے اندر ہے: ”فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ“ اگر دو مرد نہ ہوں، جی۔ ”فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ“ تو ایک مرد اور دو عورتیں۔ جی۔ اس آیت سے شبہ ہوتا ہے کہ جب دو مردوں کو گواہ بنانے سے ہم عاجز آ جائیں، جی۔ مرد صرف ایک ہی ہے تو پھر ساتھ دو عورتوں کو بھی گواہ بنا سکتے ہیں، یعنی وہ دو عورتیں ایک مرد کے قائم مقام ہیں، اس کا بدل ہیں بھئی۔ جی۔ توجہ ہے؟ اس کا بدل ہیں بھئی۔ ”فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ“ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، تو نص سے، قرآن سے شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ جو دو عورتیں ہیں یہ اس ایک مرد سے بدل ہیں۔ جی۔ دوسرا مرد نہیں ہے تو اس کی جگہ دو عورتیں آ گئیں یعنی یہ اس کا بدل ہیں۔ جی۔ لیکن فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر ایک مسئلے میں مرد گواہ موجود ہیں، جی۔ پھر بھی اگر آپ ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ کے طور پر پیش کریں پھر بھی ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ مثلاً میرے اور زید کے درمیان بیع ہوئی تھی، جی۔ اور زید جو ہے اس بیع کا انکار کر رہا ہے، اور دو مرد بھی گواہ موجود ہیں اور دو عورتیں بھی گواہ موجود ہیں، تو فقہاء فرماتے ہیں چاہے ان دونوں مردوں کو بطور گواہ کے پیش کر دیں پھر بھی ٹھیک ہے، بات ثابت ہو جائے گی، اور چاہیں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا کر پیش کر دیں پھر بھی بات ثابت ہو جائے گی۔ تو دیکھو یہاں پر ہم دو مردوں سے عاجز نہیں، ان کو ہم گواہ کے طور پر پیش کر سکتے ہیں، لیکن پھر بھی فقہاء فرماتے ہیں عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ جی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو حقیقت میں تو یہ جو عورتیں ہیں یہ مرد سے بدل نہیں۔ جی۔ حقیقت میں یہ عورتیں مرد سے بدل نہیں ہیں، لیکن نص سے تو شبہ ہوتا ہے کہ شاید یہ دو عورتیں ایک مرد سے بدل ہیں، تو بدل ہونے کا شبہ آ گیا، جی۔ عورتوں کی گواہی میں بدل ہونے کا شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، لہٰذا عورتوں کی گواہی کی وجہ سے حد ثابت نہیں ہو گی۔ تو یہ معنی ہے کہ عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّ فِيهَا شُبْهَةَ الْبَدَلِيَّةِ“ اس لیے کیونکہ عورتوں کی گواہی میں بدل ہونے کا شبہ ہے بھئی۔ بدل تو نہیں، جی۔ لیکن بدل ہونے کا شبہ ہے، آیت سے شبہ پڑتا ہے بھئی۔ جی۔ تو اس لیے عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اور نیز اس لیے: ”وَتُهْمَةَ الضَّلَالِ وَالنِّسْيَانِ“ یاد رکھو ضَلَّ يَضِلُّ کا ایک معنی ہے بھول جانا، جی۔ اور یہی معنی قرآن کے اندر بھی مراد ہے، قرآن میں اسی آیت میں آگے کیا آتا ہے؟ ”أَنْ تَضِلَّ إِحْدَاهُمَا“ اگر ان دونوں میں سے ایک عورت بھول جائے، ”فَتُذَكِّرَ إِحْدَاهُمَا الْأُخْرَى“ تو اس کو دوسری عورت یاد کروا دے گی۔ جی۔ تو یہاں آیا ”تُهْمَةَ الضَّلَالِ“ بھئی، ضلال کا معنی ہے بھول جانا۔ تو کہتے ہیں: ”وَتُهْمَةَ الضَّلَالِ وَالنِّسْيَانِ“ اور ان کے اندر بھول جانے کی بدگمانی ہوتی ہے، جی۔ عورتوں میں بھول جانے کی بدگمانی ہوتی ہے کہ یہ گواہی دے رہی ہیں، ہو سکتا ہے یہ بھول گئی ہوں بھئی۔ تو ضلال کا معنی بھی بھول جانا، ”وَالنِّسْيَانِ“ نسیان کا معنی بھی بھول جانا، تو یہ جو ”وَالنِّسْيَانِ“ آیا یہ عطف تفسیری ہے، جی۔ یہ نسیان ماقبل میں ضلال کا لفظ آیا اسی کا معنی بیان کر رہا ہے بھئی۔ تو ایک صورت یہ تھی کہ صاحب ہدایہ یوں فرماتے: ”وَتُهْمَةَ الضَّلَالِ أَيِ النِّسْيَانِ“، حرفِ ”أَيْ“ لے کر آتے تفسیر کے لیے، لیکن صاحب ہدایہ چونکہ ادیب ہیں تو انہوں نے عطف تفسیری کے ساتھ اس کا معنی ذکر کر دیا ادیبانہ انداز میں بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتُهْمَةَ الضَّلَالِ وَالنِّسْيَانِ“ اور بھول جانے کی بدگمانی کی وجہ سے کہ اس کے اندر عورتوں کی گواہی میں بھول جانے کی بدگمانی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَالسَّكْرَانُ الَّذِي يُحَدُّ“ اب وہ نشے کی حد بیان کریں گے جو میں نے پہلے بیان کر دیا کہ صاحبین کے نزدیک نشہ یہ ہے کہ آدمی ہذیان بکنے لگے، لاعقلی کی باتیں کرنے لگے، اور امام صاحب کے نزدیک نشہ یہ ہے کہ آدمی کو زمین اور آسمان کا پتہ ہی نہیں چل رہا۔ ”وَالسَّكْرَانُ الَّذِي يُحَدُّ“ اور وہ مدہوش جس کو حد لگائی جائے، سکران وہ مدہوش اور نشے میں جو آدمی ہے، وہ کتنا مدہوش ہے کہ اس کو حد لگائی جائے گی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالسَّكْرَانُ الَّذِي يُحَدُّ هُوَ الَّذِي لَا يَعْقِلُ مَنْطِقًا“ اور وہ مدہوش جس کو حد لگائی جائے گی وہ آدمی ہے جو منطق کو یعنی کلام کو نہیں سمجھتا، یعنی اس کی عقل بالکل کام نہیں کر رہی، وہ باتوں کو بالکل نہیں سمجھ رہا، ”لَا قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا“ نہ تھوڑا اور نہ زیادہ بھئی، ”وَلَا يَعْقِلُ الرَّجُلَ مِنَ الْمَرْأَةِ“ اور نہ وہ مرد کو پہچان رہا ہے عورت کے مقابلے میں، یعنی وہ مرد اور عورت کے درمیان فرق کرنے پر بھی اب قادر نہیں ہے، اتنے نشے میں ہے، اس کو زمین اور آسمان کا بھی پتہ نہیں چل رہا کہ زمین کیا ہے اور آسمان کیا ہے۔ ”وَقَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ“ اس سے مراد صاحب ہدایہ ہیں۔ متن میں کیا آیا؟ وہ نشہ جس کی وجہ سے حد ہو جائے وہ نشہ ہے جس کی وجہ سے آدمی بات سمجھتا ہی نہیں ہے، نہ اس کو تھوڑی بات سمجھ میں آتی ہے نہ زیادہ، اور نہ اس کو زمین اور آسمان کا پتہ چلتا ہے، وہ مرد اور عورت میں فرق نہیں کر سکتا، یعنی عقل بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ اور میں نے بتلایا تھا کہ یہ شرط امام صاحب کے نزدیک ہے، جی۔ عقل کا پورے طور پر ختم ہو جانا یہ کس کے نزدیک ہے؟ امام صاحب کے نزدیک ہے، اب وہی صاحب ہدایہ بیان کریں گے کہ یہ جو متن میں آیا یہ امام صاحب کا قول ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ الْعَبْدُ الضَّعِيفُ: وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اللہ کا کمزور بندہ کہتا ہے اور یہ جو ہے یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، ”وَقَالَا: هُوَ الَّذِي يَهْذِي“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ مدہوش وہ ہے: ”يَهْذِي“ جو ہذیان بکتا ہے، جو اول فول گفتگو کرتا ہے، یعنی جو ایسی باتیں کر رہا ہے جیسے وہ شخص کرتا ہے جس کا عقلی توازن درست نہ ہو بھئی، یعنی لایعنی اور بیکار فضول باتیں کر رہا ہے اس کو ہذیان کہتے ہیں۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: ”هُوَ الَّذِي يَهْذِي“ کہ مدہوش وہ شخص ہے جو ہذیان بکتا ہے، ”وَيَخْتَلِطُ كَلَامُهُ“ اور اس کا کلام ملا جلا ہوتا ہے، جی۔ اس کا کلام ملا جلا ہوتا ہے، کبھی لاعقلی کی باتیں کرنے لگتا ہے اور کبھی ٹھیک باتیں کرنے لگتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَخْتَلِطُ كَلَامُهُ“ اور اس کا کلام جو ہے ملا جلا ہوتا ہے، ”لِأَنَّهُ هُوَ السَّكْرَانُ فِي الْعُرْفِ“ اس لیے کیونکہ یہی مدہوش ہے عرف میں، اسی کو لوگ مدہوش کہتے ہیں کہ یہ نشے میں ہے۔ ”وَإِلَيْهِ مَالَ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ رَحِمَهُمُ اللَّهُ“ اور اسی کی طرف مائل ہوئے ہیں اکثر فقہاء۔ صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں اکثر فقہاء جو ہیں وہ صاحبین کے قول کی طرف گئے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِلَيْهِ مَالَ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ“ اور اسی کی طرف اکثر فقہاء مائل ہوئے ہیں، ”وَلَهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی، ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ يُؤْخَذُ فِي أَسْبَابِ الْحُدُودِ بِأَقْصَاهَا“ ”أَنَّهُ يُؤْخَذُ“ کہ اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، یاد رکھو أَخَذَ يَأْخُذُ کا معنی ہے پکڑنا بھی، أَخَذَ يَأْخُذُ کا معنی سزا دینا بھی، أَخَذَ يَأْخُذُ کا معنی مؤاخذہ کرنا بھی، تو ”يُؤْخَذُ“ اس کو پکڑا جائے گا یعنی اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا۔ تو ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا: ”فِي أَسْبَابِ الْحُدُودِ بِأَقْصَاهَا“ حدود کے اسباب میں آخری کنارے کے، جی۔ حدود کے اسباب میں سے جو آخری کنارے کا سبب ہے اس کے ساتھ اس کا مؤاخذہ ہو گا، یعنی انتہا درجے کا جب نشہ ہو گا تب ہی اس پر حد جاری کی جائے گی کیونکہ حدود کا معاملہ بڑا نازک ہے بھئی۔ تو ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے: ”أَنَّهُ يُؤْخَذُ فِي أَسْبَابِ الْحُدُودِ بِأَقْصَاهَا دَرْءًا لِلْحَدِّ“ کہ اس آدمی کا مؤاخذہ کیا جائے گا حدود کے اسباب کے اندر انتہا درجے کے اسباب کے ذریعے، حد کو ٹالنے کے لیے، ”دَرْءًا لِلْحَدِّ“ حد کو ٹالنے کے لیے، ”وَ نِهَايَةُ السُّكْرِ“ اور نشے کی انتہا یہ ہے: ”أَنْ يَغْلِبَ السُّرُورُ عَلَى الْعَقْلِ“ کہ سرور اس کی عقل پر غالب آ جائے، ”فَيَسْلُبَهُ التَّمْيِيزَ بَيْنَ شَيْءٍ وَشَيْءٍ“ تو یہ سرور جو ہے سلب کر دے یعنی ختم کر دے التمییز، فرق کرنے کو، بین شیء و شیء، ایک چیز اور دوسری چیز میں، یعنی سرور اتنا اس کی عقل پر غالب آ جائے کہ وہ ایک چیز کا دوسری چیز سے فرق نہ کر سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَ نِهَايَةُ السُّكْرِ: أَنْ يَغْلِبَ السُّرُورُ عَلَى الْعَقْلِ فَيَسْلُبَهُ التَّمْيِيزَ بَيْنَ شَيْءٍ وَشَيْءٍ، وَمَا دُونَ ذَلِكَ لَا يَعْرَى عَنْ شُبْهَةِ الصَّحْوِ“ اور نشے کی انتہا یہ ہے کہ سرور اس کی عقل پر غالب آ جائے تو ایک چیز کا دوسری چیز سے فرق کرنا جو ہے اس کو وہ سرور سلب کر لے، اس کو ختم کر دے، اور جو نشہ اس سے کم ہو گا وہ خالی نہیں ہے ہوش کے شبہے سے۔ صَحَا يَصْحُو صَحْوًا کا معنی ہے ہوش میں آنا، جی۔ صَحَا يَصْحُو صَحْوًا کا کیا معنی ہے؟ ہوش میں آنا یعنی نشے کا ختم ہونا، ”وَمَا دُونَ ذَلِكَ“ اور اس سے جو کم نشہ ہو گا، ”لَا يَعْرَى“ وہ خالی نہیں ہے، ”عَنْ شُبْهَةِ الصَّحْوِ“ ہوش کے شبہے سے۔ اس سے کم نشہ ہو گا تو اس میں تو ہوش کا بھی شبہ ہے کہ یہ آدمی ہوش میں ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْقَدَحِ الْمُسْكِرِ فِي حَقِّ الْحُرْمَةِ مَا قَالَا بِالْإِجْمَاعِ“ تو دیکھیے بھئی نشے کی دو تعریفیں کر دیں، امام صاحب کے نزدیک نشے سے مراد یہاں انتہا درجے کا نشہ ہے اور صاحبین کے نزدیک نشے سے وہ مراد ہے جسے عرف میں نشہ کہا جاتا ہے کہ آدمی جو ہے ملا جلا کلام کرنے لگے۔ تو اب حرمت کا مسئلہ آیا بھئی، جی۔ حرمت کا مسئلہ۔ یاد رکھو یہ جو نبیذ ہے نا یہ کشمش، کھجور وغیرہ اور چیزوں سے عرب جو ہے نبیذ بناتے تھے۔ یہ صرف نشے کے لیے ہی نہیں بناتے تھے بلکہ قوت اور طاقت کے لیے بھی بناتے تھے۔ کوئی شخص بیمار ہوتا یا کمزور ہوتا تو اسے نبیذ تیار کر کے پلاتے تھے تاکہ وہ جلد سے جلد قوت حاصل کر لے اور اس کی صحت بحال ہو جائے۔ جی۔ تو یہ نبیذ طاقت اور قوت کے لیے بھی استعمال کی جاتی تھی بھئی۔ تو لہٰذا اب مثلاً یہ نبیذ تیار کی اور ایسی نبیذ ہے جو نشہ آور ہے، جی۔ اب اس کے اندر بھی دیکھو اس کو ایک گلاس پیتے ہی فوراً آدمی کو نشہ نہیں ہوتا مثلاً، جی۔ دو گلاس پیے پھر بھی نشہ نہیں ہوتا، جی۔ تیسرا گلاس پیے تو اب وہ نشہ ہو جاتا ہے، جی۔ یعنی وہ ہذیان بکنے لگتا ہے، وہ ملا جلا کلام کرنے لگتا ہے، اور چوتھا گلاس بھی پی لے تو پھر انتہا درجے کا نشہ ہو جاتا ہے تو پھر زمین اور آسمان کا فرق بھی اس سے نہیں ہوتا بھئی۔ جی۔ توجہ ہے؟ تو نشے کے اندر تو امام صاحب نے آخری حد بیان کی ہے، لیکن حرام ہونے میں انہوں نے صاحبین کے قول کو اختیار کیا ہے۔ بھئی دیکھو، ایک نشہ آور مشروب ہے لیکن ایک یا دو گلاس پینے سے نشہ نہیں ہوتا، یہ قوت تو دے گا لیکن اس سے نشہ نہیں ہو گا۔ ہاں، تیسرا گلاس پیے تو وہ صاحبین نے جو بیان کیا تھا اس درجے کا نشہ ہے۔ چوتھا گلاس پیے تو اس درجے کا نشہ ہے جو امام صاحب نے بیان کیا، انتہا درجے کا نشہ۔ جی۔ تو اس مشروب کے کتنے گلاس پینا جائز ہو گا؟ کوئی آدمی پی سکتا ہے یا نہیں پی سکتا؟ تو یاد رکھو دو گلاس سے تو نشہ نہیں ہوتا، اس میں تو اختلاف ہی نہیں ہے، وہ کوئی بھی آدمی پینا چاہے پی سکتا ہے کیونکہ دو گلاس سے نشہ نہیں ہو گا، لیکن تیسرے گلاس سے وہ کم درجے کا نشہ ہو جائے گا، تو امام صاحب نے یہاں صاحبین کے قول کو اختیار کیا اور وہ فرماتے ہیں یہ تیسرے گلاس سے نشہ ہو رہا ہے لہٰذا یہ حرام ہے۔ جی۔ یہ تیسرا گلاس پینا ہی حرام ہے بھئی، جی۔ کیونکہ اس کی وجہ سے نشہ ہو رہا ہے۔ حالانکہ کتنا نشہ ہو رہا ہے؟ جو صاحبین نے بیان کیا تھا۔ امام صاحب نے جو حد بیان کی وہ تو چوتھے گلاس میں آئے گا وہ نشہ، لیکن امام صاحب نے چوتھے گلاس کو حرام قرار نہیں دیا بلکہ یہاں تیسرے گلاس کو ہی حرام قرار دیا بطورِ احتیاط کے، کیونکہ حرام اور حلال کی بات چل رہی ہے تو احتیاط اسی میں ہے کہ تیسرے گلاس کو ہی حرام قرار دے دیا جائے۔ جی۔ اور وہاں حد کا مسئلہ تھا تو وہاں پر انتہا درجے کا نشہ بیان کیا کیونکہ وہاں حد کا مسئلہ تھا تو وہاں احتیاط کا تقاضا یہ تھا کہ انتہا درجے کے نشے کا اعتبار کیا جائے، اور یہاں پر حرام اور حلال کا مسئلہ ہے تو یہاں احتیاط اس میں ہے کہ کم درجے پر ہی حرام ہونے کا حکم لگا دیا جائے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْقَدَحِ الْمُسْكِرِ“ قدح پیالے کو کہتے ہیں، ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْقَدَحِ الْمُسْكِرِ فِي حَقِّ الْحُرْمَةِ“ اور حرمت کے حق میں نشہ آور پیالے کے اندر، وہ نشہ معتبر ہے: ”مَا قَالَا بِالْإِجْمَاعِ“ جو صاحبین نے کہا ہے بالإجماع، یعنی اس میں ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے۔ جی۔ پیالے کے حرام ہونے میں وہ مقدار ہے جو صاحبین نے کہی ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ فِي الْقَدَحِ الْمُسْكِرِ فِي حَقِّ الْحُرْمَةِ مَا قَالَا بِالْإِجْمَاعِ“ اور کہتے ہیں کہ حرمت کے بارے میں نشہ آور پیالے کے اندر بالإجماع وہ نشہ معتبر ہے جو صاحبین نے کہا ہے، وہ نشہ معتبر ہے جو صاحبین نے کہا ہے، یعنی جس میں وہ ہذیان بکنے لگتا ہے اور ملا جلا کلام کرتا ہے بھئی۔ ”أَخْذًا بِالِاحْتِيَاطِ“ احتیاط کو لیتے ہوئے۔ ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَعْتَبِرُ ظُهُورَ أَثَرِهِ فِي مِشْيَتِهِ وَحَرَكَاتِهِ وَأَطْرَافِهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ تعالیٰ اعتبار کرتے ہیں کہ اس نشے کا اثر ظاہر ہو جائے اس آدمی کے چلنے میں اور اس کی حرکات و سکنات میں اور اس کے اعضاء میں۔ جی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نشے کے اندر اس کے اثر کے ظاہر ہونے کا اعتبار کرتے ہیں کہ وہ آدمی جس نے نشہ کیا ہے اس کے چلنے میں، اس کے حرکات و سکنات میں اور اس کے اعضاء پر نشے کا اثر ظاہر ہو رہا ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَعْتَبِرُ ظُهُورَ أَثَرِهِ فِي مِشْيَتِهِ وَحَرَكَاتِهِ وَأَطْرَافِهِ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ اس نشے کے اثر کے ظاہر ہونے کا اعتبار کرتے ہیں اس آدمی کے چلنے میں اور اس کی حرکات میں اور اس کے اعضاء میں، ”وَهَذَا مِمَّا يَتَفَاوَتُ“ اور یہ تو ان چیزوں میں سے ہے جو مختلف ہوتی ہے، ”فَلَا مَعْنَى لِاعْتِبَارِهِ“ لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے اس کا اعتبار کرنے کا۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ نے جس چیز کا اعتبار کیا ہے اس کو رد کر رہے ہیں، کوئی وجہ نہیں ہے ان کا اعتبار کیا جائے کیونکہ یہ لوگوں کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہیں۔ بعض اوقات ایک آدمی نے نشہ کیا ہوتا ہے لیکن وہ بالکل ٹھیک طریقے سے چل رہا ہوتا ہے اور بعض اوقات ایک آدمی ہوش میں ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ ڈولتا ہوا چل رہا ہوتا ہے یا اس کے اعضاء ڈول رہے ہوتے ہیں، لہٰذا اس کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَهَذَا مِمَّا يَتَفَاوَتُ فَلَا مَعْنَى لِاعْتِبَارِهِ“ اور یہ تو ان چیزوں میں ہے جو مختلف ہوتی ہے، لہٰذا کوئی سبب نہیں ہے کہ اس کا اعتبار کیا جائے، ”وَلَا يُحَدُّ السَّكْرَانُ بِإِقْرَارِهِ عَلَى نَفْسِهِ“ اور حد نہیں لگائی جائے گی مدہوش کو اپنے خلاف اقرار کی وجہ سے۔ جی۔ اگر کوئی مدہوش آدمی اپنے خلاف اقرار کر لیتا ہے کہ میں نے چوری کی ہے یا نشے میں ہے اور کہتا ہے میں نے شراب پی ہے، تو یہ اقرار معتبر نہیں کیونکہ حد شرب بھی کیا ہے؟ خالص اللہ کا حق، اور اسی طرح زنا کا اقرار کر لیتا ہے نشے کے اندر، تو حد زنا بھی خالص اللہ کا حق ہے، تو یہ حدود اس کی وجہ سے ثابت نہیں ہوں گی بھئی۔ جی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُحَدُّ السَّكْرَانُ بِإِقْرَارِهِ عَلَى نَفْسِهِ“ اور مدہوش کو حد نہیں لگائی جائے گی اپنے خلاف اقرار کرنے کی وجہ سے، ”لِزِيَادَةِ احْتِمَالِ الْكَذِبِ فِي إِقْرَارِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اقرار کے اندر جھوٹ کا زیادہ احتمال ہے، ”فَيُحْتَالُ لِدَرْئِهِ“ لہٰذا حیلہ کیا جائے گا اس حد کو ٹالنے کے لیے، کہ یہ تو نشے میں بول رہا ہے، اس کو ہوش نہیں، لہٰذا اس نے جو نشے میں زنا کا اقرار کیا ہے یا چوری کا اقرار کیا ہے یا شراب پینے کا اقرار کیا ہے اس کی وجہ سے اس کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَيُحْتَالُ لِدَرْئِهِ“ تو حیلہ کیا جائے گا اس کی حد کو دور کرنے کے لیے، ”لِأَنَّهُ خَالِصُ حَقِّ اللَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ یہ خالص اللہ کا حق ہے، ”بِخِلَافِ حَدِّ الْقَذْفِ“ بخلاف حد قذف کے۔ اگر وہ نشے میں کہتا ہے کہ میں نے فلاں پر زنا کا الزام لگایا تھا، تو اب یاد رکھو اس کا اعتبار ہے بھئی، جی۔ کیونکہ حد قذف خالص اللہ کا حق نہیں ہے بلکہ اس میں بندے کا بھی حق ہے بھئی، اور نیز اس کا اعتبار زجراً بھی کیا جائے گا بطور ڈانٹ اور بطور سزا کے۔ جیسے مدہوش آدمی اپنی بیوی کو طلاق دے تو طلاق بھی واقع ہو جاتی ہے، مدہوش آدمی اپنے غلام کو آزاد کرے تو وہ غلام بھی آزاد ہو جاتا ہے، تو جیسے بطور ڈانٹ کے اور بطور سزا کے مدہوش کے دیگر تصرفات نافذ ہو جاتے ہیں، بطور سزا کے کہ اس نے خود نشہ کیا ہے تو یہ تصرفات نافذ قرار دیے جاتے ہیں، تو اسی طرح یہاں پر بھی بطور ڈانٹ کے اس حد قذف کا اعتبار کیا جائے گا اور اس کی وجہ سے اس پر حد قذف جاری کی جائے گی بھئی۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ حَدِّ الْقَذْفِ لِأَنَّ فِيهِ حَقَّ الْعَبْدِ“ بخلاف حد قذف کے اس لیے کیونکہ حد قذف کے اندر بندے کا حق ہے، ”وَالسَّكْرَانُ فِيهِ كَالصَّاحِي“ اور بندے کے حق کے بارے میں جو مدہوش ہوتا ہے، ”كَالصَّاحِي“ وہ بھی ہوش والے کی طرح ہوتا ہے، بندے کے حق میں مدہوش بھی ہوش والے کی طرح ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ فِيهِ حَقَّ الْعَبْدِ وَالسَّكْرَانُ فِيهِ كَالصَّاحِي عُقُوبَةً عَلَيْهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر بندے کا حق ہے اور مدہوش آدمی بھی بندے کے حق کے سلسلے میں ہوش والے آدمی کی طرح ہی ہے اس پر بطورِ سزا کے، یعنی بطور سزا کے بندے کے حقوق کے سلسلے میں اس کے ساتھ ہوش والے آدمی کا معاملہ کیا جائے گا۔ تو حد قذف لگائی ہے، بے شک نشے میں تھا لیکن ہوش والے آدمی والا معاملہ کیا جائے گا اور اس پر حد قذف جاری کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالسَّكْرَانُ فِيهِ كَالصَّاحِي عُقُوبَةً عَلَيْهِ كَمَا فِي سَائِرِ تَصَرُّفَاتِهِ“ اور مدہوش بھی جو ہے بندے کے حق کے سلسلے میں ہوش والے آدمی کی طرح ہے، اس پر بطور سزا کے جیسا کہ مدہوش جو ہے اپنے باقی تصرفات میں ہے، یعنی وہ بیوی کو طلاق دے گا مدہوش تو بھی واقع ہو جائے گی بطور سزا کے کہ تم نے نشہ کیوں کیا، اور غلام کو آزاد کرے گا تو وہ بھی آزاد ہو جائے گا بطور سزا کے کہ تم نے نشہ کیوں کیا۔ ”وَلَوِ ارْتَدَّ السَّكْرَانُ لَا تَبِينُ مِنْهُ امْرَأَتُهُ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی نشے میں ہے اور نشے کے اندر وہ کفریہ کلمات کہتا ہے، تو کیا وہ مرتد ہو گیا؟ تو کہتے ہیں نہیں، مرتد ہونے کا تعلق اعتقاد سے ہے اور اعتقاد کے لیے عقل چاہیے، بغیر عقل کے اعتقاد نہیں ہو سکتا، لہٰذا مدہوش آدمی کے مرتد ہونے کا کوئی اعتبار نہیں، اور جب وہ مرتد نہیں ہوا تو اس کا اور اس کی بیوی کے درمیان جو نکاح ہے وہ بھی نہیں ٹوٹا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَوِ ارْتَدَّ السَّكْرَانُ لَا تَبِينُ مِنْهُ امْرَأَتُهُ“ اور اگر سکران مرتد ہو گیا یعنی اس نے کلمۂ کفر کہا تو اس کی بیوی اس سے جدا نہیں ہوتی یعنی اس کا نکاح نہیں ٹوٹتا، ”لِأَنَّ الْكُفْرَ مِنْ بَابِ الِاعْتِقَادِ“ اس لیے کیونکہ کفر جو ہے وہ اعتقاد کے باب سے ہے، ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مَعَ السُّكْرِ“ لہٰذا اعتقاد نہیں پایا جا سکتا نشے کے ساتھ۔ اعتقاد کے لیے تو عقل کا ہونا ضروری ہے، تو لہٰذا جب نشہ ہے معلوم ہوا اس وقت کوئی اعتقاد نہیں تو لہٰذا اس ارتداد کا بھی کوئی اعتبار نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا يَتَحَقَّقُ مَعَ السُّكْرِ“ تو اعتقاد جو ہے وہ نشے کے ساتھ نہیں پایا جا سکتا، ”وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ اور یہ قول ہے طرفین رحمہما اللہ کا، یہ طرفین رحمہما اللہ کا قول ہے کہ مدہوش کا ارتداد معتبر نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ، وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ تَكُونُ رِدَّةً“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کا قول ہے، اور ظاہر روایت میں ہے کہ مدہوش کا ارتداد جو ہے یہ بھی ارتداد ہے، یہ بھی ارتداد ہے، یہ ظاہر روایت میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ تَكُونُ رِدَّةً“ اور ظاہر روایت میں ہے کہ مدہوش کا ارتداد بھی ارتداد ہے۔ یاد رکھو علماء لکھتے ہیں کہ یہ جو آخری ایک دو جملے آئے: ”وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى وَفِي ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ تَكُونُ رِدَّةً“ یہ جو ایک دو جملے کی عبارت آئی، یہ ہدایہ کے عام نسخوں میں نہیں ہے بھئی، یہ ہدایہ کے اکثر نسخوں میں یہ عبارت نہیں ہے بھئی، چند ایک نسخوں میں یہ عبارت موجود ہے۔ اور یاد رکھو علماء، فقہاء فرماتے ہیں کہ مدہوش کے ارتداد کا کوئی اعتبار نہیں ہے، مدہوش آدمی، نشے والا آدمی اگر وہ کلماتِ کفر بھی کہہ دے اس کی وجہ سے وہ کافر نہیں ہوتا بھئی۔ آگے دیکھیے بھئی: ”بَابُ حَدِّ الْقَذْفِ“ ”وَإِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ رَجُلًا مُحْصَنًا أَوِ امْرَأَةً مُحْصَنَةً بِصَرِيحِ الزِّنَا وَطَالَبَ الْمَقْذُوفُ بِالْحَدِّ حَدَّهُ الْحَاكِمُ ثَمَانِينَ سَوْطًا إِنْ كَانَ حُرًّا“ اب بھئی باب حد القذف آ گیا۔ یاد رکھو قذف جو ہے، قذف کا عربی زبان میں معنی ہے پھینکنا، کوئی بھی چیز پھینکنا، چاہے کسی پر کوئی الزام لگایا جائے چاہے کسی پتھر وغیرہ چیز کو پھینکا جائے، تو قذف کا معنی ہے پھینکنا بھئی۔ اور اصطلاحِ شریعت میں قذف اسے کہتے ہیں کہ کسی محسن پر زنا کا الزام لگایا جائے، جی۔ محسن، پاک دامن مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگایا جائے اس کو قذف کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”بَابُ حَدِّ الْقَذْفِ“ یہ باب ہے حد قذف کے بیان میں، ”وَإِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ رَجُلًا مُحْصَنًا أَوِ امْرَأَةً مُحْصَنَةً“ اور جب ایک شخص نے ایک محسن آدمی یا ایک محسنہ عورت پر زنا کی تہمت لگائی، ”بِصَرِيحِ الزِّنَا“ صریح زنا کے ساتھ، تہمت لگائی صریح زنا کے ساتھ۔ تو یاد رکھو ایک ہے صریح الفاظ زنا کے، کہ فلاں نے زنا کیا ہے، جی۔ اور بعض اوقات اور لفظوں کے ساتھ بھی حد قذف ثابت ہو جائے گی، مثلاً ایک آدمی دوسرے سے کہتا ہے: تو اپنے باپ کا نہیں ہے، جی۔ تو اپنے باپ کا نہیں ہے، تو اس میں دیکھو صریح زنا کا لفظ تو ذکر نہیں ہے لیکن حقیقت میں یہ بھی زنا ہی کا الزام ہے اس کی ماں پر، جی۔ یہ بھی زنا کا الزام ہے اس کی ماں پر بھئی۔ تو صریح زنا سے مراد ہے جس میں زنا کا لفظ باقاعدہ ذکر کرے بھئی، جی۔ یہ اسی طرح خاوند اپنی اولاد کی نفی کرے، جی۔ کہ یہ میری اولاد نہیں، تو یہ بھی دراصل زنا ہی کا الزام ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ رَجُلًا مُحْصَنًا“ ”مُحْصَنًا أَوْ امْرَأَةً مُحْصَنَةً بِصَرِيحِ الزِّنَا“ اور جب کوئی شخص جو ہے صاف الفاظ کے اندر زنا کا الزام لگائے کسی پاک دامن مرد پر یا کسی پاک دامن عورت پر ”وَطَالَبَ الْمَقْذُوفُ بِالْحَدِّ“ اور وہ شخص جس کو تہمت لگائی گئی ہے اس نے حد کا مطالبہ کیا۔ بھئی یہ تہمت لگانے والا یہ ہے قاذف، اسم فاعل، قاذف۔ اور جس کو تہمت لگائی ہے وہ مرد یا عورت وہ ہے مقذوف بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَطَالَبَ الْمَقْذُوفُ بِالْحَدِّ“ اور وہ شخص جس کو تہمت لگائی گئی اس نے حد کا مطالبہ کیا ”حَدَّهُ الْحَاكِمُ ثَمَانِينَ سَوْطًا“ تو حاکم اس کو حد لگائے گا اسی کوڑے ”إِنْ كَانَ حُرًّا“ اگر وہ آزاد ہے اور اگر غلام ہے تو نصف یعنی چالیس کوڑے بھئی۔ کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى“ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ﴾ اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام لگاتے ہیں۔ بھئی قرآن کے اندر یہاں آیا ”يَرْمُونَ“ اور رَمْيٌ کا معنی ہے پھینکنا، لیکن آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہاں پر اس سے مراد جو ہے بالاتفاق، علماء کا اتفاق ہے، اس رمی سے مراد زنا کا الزام ہے بھئی۔ اور نیز خود قرآن کے اندر بھی اس پر دلیل موجود ہے۔ آگے قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ پھر وہ چار گواہوں کو لے کر نہ آئیں، اور چار گواہ تو زنا کے معاملے میں ہوتے ہیں۔ معلوم ہوا یہاں جو رمی کا ذکر آیا قرآن میں اس سے مراد زنا کا الزام ہے بھئی۔ تو قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کا الزام لگائیں، پھر وہ چار گواہوں کو نہ لے کر آئیں، تو پھر ان کو اسی کوڑے لگاؤ، اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ تو یہ گواہی کا قبول نہ کرنا یہ بھی باقاعدہ حد کا حصہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ تَعَالَى: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ﴾ إِلَى أَنْ قَالَ: ﴿فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ الْآيَةَ“ یعنی ”اِقْرَإِ الْآيَةَ“ تو آپ اس پر نصب بھی پڑھ سکتے ہیں یہ مفعول بہ ہے، یا ”اَلْآيَةُ مَعْلُومَةٌ“ اس پر آپ رفع بھی پڑھ سکتے ہیں مبتدا بنا لیں۔ ”وَالْمُرَادُ الرَّمْيُ بِالزِّنَا بِالْإِجْمَاعِ“ اور اس رمی سے مراد جو ہے رمی بالزنا ہے بالاجماع۔ اس پھینکنے سے مراد زنا کا الزام لگانا ہے بالاجماع۔ ”وَفِي النَّصِّ إِشَارَةٌ إِلَيْهِ“ اور نص یعنی آیت کے اندر بھی اس کی طرف اشارہ ہے ”وَهُوَ اشْتِرَاطُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ“ اور وہ چار گواہوں کی شرط ہے ”إِذْ هُوَ مُخْتَصٌّ بِالزِّنَا“ اس لیے کیونکہ چار گواہوں کی شرط یہ تو خاص ہے زنا کے ساتھ۔ ”وَيُشْتَرَطُ مُطَالَبَةُ الْمَقْذُوفِ“ بھئی متن میں آیا تھا ”وَطَالَبَ الْمَقْذُوفُ بِالْحَدِّ“ کہ جس پر تہمت لگی ہے وہ مطالبہ کرے تو پھر حد لگائی جائے گی۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مقذوف کا مطالبہ ضروری ہے، اس کا مطالبہ اور اس کا دعویٰ ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَيُشْتَرَطُ مُطَالَبَةُ الْمَقْذُوفِ“ اور مقذوف کا مطالبہ شرط ہے ”لِأَنَّ فِيهِ حَقَّهُ“ اس لیے کیونکہ اس حدِ قذف کے اندر اس کا حق ہے ”مِنْ حَيْثُ دَفْعِ الْعَارِ“ عار کہتے ہیں ہر وہ چیز جو باعثِ شرم ہو، جو باعثِ عیب ہو، جو باعثِ طعنہ ہو، اس کو کیا کہتے ہیں؟ عار بھئی۔ ہر وہ چیز جو باعثِ شرم ہو، باعثِ طعنہ ہو، باعثِ عیب ہو اس کو کیا کہتے ہیں عربی میں؟ عار کہتے ہیں۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ حَقَّهُ مِنْ حَيْثُ دَفْعِ الْعَارِ“ اس لیے کیونکہ حدِ قذف کے اندر مقذوف کا حق ہے عار دور کرنے کے اعتبار سے۔ بھئی ایک آدمی کو کسی نے زانی کہا ہے تو اب یہ اس کے لیے عار کی بات ہوگی اگر وہ حدِ قذف کا مطالبہ نہ کرے، کل اس کو اور لوگ بھی کہیں گے، تو وہ حد کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ حَقَّهُ مِنْ حَيْثُ دَفْعِ الْعَارِ“ اس لیے کیونکہ حدِ قذف کے اندر اس مقذوف کا حق ہے عار کو دور کرنے کے اعتبار سے۔ ”وَإِحْصَانُ الْمَقْذُوفِ لِمَا تَلَوْنَا“ بھئی متن میں قید آئی تھی ”وَإِذَا قَذَفَ الرَّجُلُ رَجُلًا مُحْصَنًا أَوِ امْرَأَةً مُحْصَنَةً“ کہ محسن مرد یا عورت پر کسی نے تہمت لگائی، تو یہ محسن ہونا کیوں ضروری ہے مقذوف کا؟ کہتے ہیں اس کا پتہ آیت سے ہی چل رہا ہے۔ آیت میں آیا تھا: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ﴾ تو دیکھو محصنات کی قید موجود ہے آیت میں۔ معلوم ہوا محسن مرد یا عورت پر زنا کا الزام لگاؤ تو پھر ہی حدِ قذف آئے گی، ویسے نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَإِحْصَانُ الْمَقْذُوفِ لِمَا تَلَوْنَا“ اور مقذوف کا محسن ہونا یہ اس آیت کی وجہ سے ہے جو ہم نے تلاوت کی۔ ”قَالَ: وَيُفَرَّقُ عَلَى أَعْضَائِهِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں اور یہ جو اسی کوڑے ہیں یہ تقسیم کیے جائیں گے اس قاذف کے اعضاء پر، یعنی ایک ہی جگہ پر نہیں لگائیں گے ”لِمَا مَرَّ فِي حَدِّ الزِّنَا“ اس وجہ سے جو حدِ زنا میں بات گزر گئی کہ اگر ایک ہی جگہ کوڑے لگائیں گے تو اس کا تو وہ عضو ہی تلف ہو جائے گا، شل ہو جائے گا۔ ”وَلَا يُجَرَّدُ مِنْ ثِيَابِهِ“ اور نیز اس کو کپڑوں سے ننگا بھی نہیں کیا جائے گا، جس کو حدِ قذف لگائی جا رہی ہے اس کی قمیص نہیں اتاری جائے گی۔ وجہ یہ ہے کہ اس حد کا جو سبب ہے، یعنی جو زنا کا الزام ہے وہ قطعی نہیں ہے۔ اس نے جو زنا کا الزام لگایا ہے وہ قطعی نہیں ہے۔ کیا معنی قطعی نہیں ہے؟ مطلب بھئی اس کو کوڑے کیوں لگا رہے ہیں؟ کہ اس نے زنا کا الزام لگایا ہے، تو اس میں ہو سکتا ہے سچا ہو۔ ہو سکتا ہے اس دوسرے شخص نے زنا کیا ہے لیکن اس کے پاس گواہ موجود نہیں، تو لہٰذا یہ جو اس کوڑے لگانے کا سبب ہے یعنی زنا کا الزام، یہ قطعی اور یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ الزام نہ ہو یہ تو حقیقت ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُجَرَّدُ مِنْ ثِيَابِهِ لِأَنَّ سَبَبَهُ غَيْرُ مَقْطُوعٍ بِهِ“ اور اس کو ننگا نہیں کیا جائے گا اپنے کپڑوں سے اس لیے کیونکہ حدِ قذف کا جو سبب ہے وہ قطعی اور یقینی نہیں ہے، ہو سکتا ہے یہ سچا ہو ”فَلَا يُقَامُ عَلَى الشِّدَّةِ“ لہٰذا یہ حد قائم نہیں کی جائے گی سختی پر، یعنی سخت ضربیں نہیں لگائیں گے۔ کیا معنی سخت ضربیں؟ یعنی قمیص نہیں اتاریں گے، جب قمیص نہیں اتاری تو ضرب اتنی سخت نہ رہی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَلَا يُقَامُ عَلَى الشِّدَّةِ“ تو یہ حدِ قذف سختی پر قائم نہیں کی جائے گی ”بِخِلَافِ حَدِّ الزِّنَا“ بخلاف حدِ زنا کے کہ وہاں پر تو باقاعدہ چار گواہوں کے ذریعے اس کا فعلِ زنا ثابت ہو چکا ہے، وہ قطعی ہے، یقینی ہے بھئی۔ ”غَيْرَ أَنَّهُ يُنْزَعُ عَنْهُ الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ“ میں نے آپ کو بتلایا تھا ”فَرْوٌ“ یہ پوستین کو کہتے ہیں، یہ جو جانور کی جو کھال ہوتی ہے اس کو دباغت دے کر جیکٹ یا کوٹ وغیرہ بنا لیا جاتا ہے، تو اردو میں اس کو کہتے ہیں پوستین بھئی، اور عربی میں اس کو کہتے ہیں فَرْوٌ بھئی۔ اور حَشْوٌ میں نے آپ کو بتلایا تھا یہ ویسے روئی کو کہتے ہیں، روئی جیسی چیز جس کو دوسری چیزوں کے اندر بھرا جائے، لیکن مراد وہ کوٹ یا وہ کپڑا ہے جس کے اندر روئی کو بھرا گیا ہے۔ تو لہٰذا یہ جو قاذف ہے جس کو حدِ قذف لگائی جا رہی ہے اس سے موٹے کپڑے اتار لیں گے، کوئی پوستین ہے یا موٹا کوٹ یا جیکٹ، سویٹر وغیرہ، موٹی چیز پہنی ہوئی ہے وہ اتار لیں گے، البتہ قمیص نہیں اتاریں گے۔ کیونکہ اگر یہ موٹا کپڑا اس کے بدن پر ہوا پھر تو اسے ضرب کی تکلیف ہی محسوس نہیں ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”غَيْرَ أَنَّهُ يُنْزَعُ عَنْهُ الْفَرْوُ وَالْحَشْوُ“ علاوہ یہ کہ اس سے اتار لیا جائے گا پوستین اور موٹے کپڑوں کو ”لِأَنَّ ذَلِكَ يَمْنَعُ إِيصَالَ الْأَلَمِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ روکے گا کہ اس کو تکلیف پہنچے۔ ”وَإِنْ كَانَ الْقَاذِفُ عَبْدًا جُلِدَ أَرْبَعِينَ سَوْطًا“ اور اگر تہمت لگانے والا غلام ہے تو اس کو چالیس کوڑے لگائے جائیں گے ”لِمَكَانِ الرِّقِّ“ لِمَكَانِ الرِّقِّ أَيْ لِوُجُودِ الرِّقِّ، غلامی کے پائے جانے کی وجہ سے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”مَكَان“ مصدر ہے بمعنی وجود کے اور صاحبِ ہدایہ یہ جگہ جگہ استعمال فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں غلام کو چالیس کوڑے لگائے جائیں گے ”لِمَكَانِ الرِّقِّ“ غلامی پائے جانے کی وجہ سے۔ ”وَالْإِحْصَانُ أَنْ يَكُونَ الْمَقْذُوفُ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا مُسْلِمًا عَفِيفًا عَنْ فِعْلِ الزِّنَا“ اب احصان القذف بیان کر رہے ہیں۔ محسن بھئی، محسن کسے کہیں گے؟ کہ اس کے اندر کیا کیا صفات ہوں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ احصان القذف یہ ہے کہ اس مرد یا عورت میں جس پر زنا کا الزام لگایا گیا ہے اس میں پانچ صفات پائی جائیں: نمبر ایک وہ آزاد ہو، نمبر دو عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور زنا سے پاک دامن ہو۔ تو پانچ شرطیں ہیں احصان القذف کے لیے، کون کون سی؟ آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان، اور زنا سے پاک دامن۔ جبکہ احصان الرجم کے اندر سات شرطیں تھیں بھئی: آزاد، عاقل، بالغ، مسلمان، نکاحِ صحیح کیا ہو، پھر بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور میاں بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْإِحْصَانُ أَنْ يَكُونَ الْمَقْذُوفُ حُرًّا عَاقِلًا بَالِغًا مُسْلِمًا عَفِيفًا عَنْ فِعْلِ الزِّنَا“ اور محسن ہونا یہ ہے کہ مقذوف جو ہے وہ آزاد ہو، وہ عقل والا ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور فعلِ زنا سے پاک دامن ہو۔ یہ پانچ شرطیں ہیں احصان القذف کے لیے۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْحُرِّيَّةُ“ تو آزادی جو ہے، بھئی اب یہ شرطیں کیوں لگائی ہیں احصان القذف کے اندر یہ پانچ شرطیں؟ تو اب وہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْحُرِّيَّةُ فَلِأَنَّهُ يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ الْإِحْصَانِ“ تو آزادی جو ہے اس لیے کیونکہ آزادی پر احسان کا لفظ بولا جاتا ہے، آزاد کو بھی محسن کہتے ہیں، تو اس کے اندر آزادی ضروری ہے بھئی۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْحُرِّيَّةُ فَلِأَنَّهُ يُطْلَقُ عَلَيْهِ اسْمُ الْإِحْصَانِ“ تو آزادی جو ہے اس لیے کیونکہ آزادی پر احسان کا اسم بولا جاتا ہے، ”قَالَ اللَّهُ تَعَالَى: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ﴾“ اللہ قران میں فرماتے ہیں، اللہ سزا کا ذکر فرما رہے ہیں تو فرماتے ہیں: ﴿فَعَلَيْهِنَّ﴾ ان باندیوں کے اوپر ﴿نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ﴾ نصف ہے وہ جو آزاد عورتوں پر ہے ﴿مِنَ الْعَذَابِ﴾ یعنی سزا۔ ان باندیوں پر آدھی سزا ہے اس کے مقابلے میں جو آزاد عورتوں پر ہے، تو یہاں دیکھو محصنات سے کون مراد ہیں؟ آزاد عورتیں۔ معلوم ہوا محسن کا معنی آزاد کے ہیں، آزادی کو بھی احسان کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ مِنَ الْعَذَابِ﴾ ”أَيِ الْحَرَائِرِ“ یعنی آزاد، یہ صاحبِ ہدایہ محصنات کا معنی کر رہے ہیں، ”أَيِ الْحَرَائِرِ“ یعنی آزاد عورتیں۔ ”وَالْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ“ اور عقل اور بلوغ کی شرط کیوں لگائی محسن ہونے میں؟ اب وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَالْعَقْلُ وَالْبُلُوغُ لِأَنَّ الْعَارَ لَا يَلْحَقُ بِالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اور عاقل ہونا اور بالغ ہونا اس لیے کیونکہ عار جو ہے وہ بچے اور مجنون کو لاحق نہیں ہوتا۔ عار جو ہے وہ بچے اور مجنون کو لاحق نہیں ہو سکتا، کیوں؟ ”لِعَدَمِ تَحَقُّقِ فِعْلِ الزِّنَا مِنْهُمَا“ اس لیے کیونکہ ان دونوں سے فعلِ زنا نہیں ہو سکتا۔ آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ فعلِ زنا وہ ہے جس سے شریعت نے روکا ہے اور جس کو کرنے والا گناہ گار ہوتا ہے، اور بچہ اور مجنون تو مکلف ہی نہیں ہیں تو وہاں جب مکلف نہیں ہیں تو شریعت نے ان کو روکا بھی نہیں اور اس فعل کے کرنے سے یہ گناہ گار بھی نہیں ہوں گے، تو معلوم ہوا بچے اور مجنون کا جو فعل ہے وہ زنا نہیں، جب وہ زنا نہیں، جب وہ زنا کر ہی نہیں سکتے تو ان کو زانی کہہ بھی دیا جائے یہ ان کے لیے کوئی شرم اور عار کی بات نہیں کیونکہ یہ فعل تو یہ کر ہی نہیں سکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں باقی عقل اور بالغ ہونے کی شرط جو ہے ”لِأَنَّ الْعَارَ لَا يَلْحَقُ بِالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ لِعَدَمِ تَحَقُّقِ فِعْلِ الزِّنَا مِنْهُمَا“ اس لیے کیونکہ عار جو ہے وہ بچے اور مجنون کو لاحق نہیں ہوتا اس لیے کیونکہ ان دونوں سے زنا کا فعل ثابت نہیں ہو سکتا۔ ”وَالْإِسْلَامُ“ اور اسلام کی بھی شرط لگائی کہ مسلمان ہونا چاہیے محسن کو، کہتے ہیں ”لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ اس کی وجہ حضور علیہ السلام کا قول ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ أَشْرَكَ بِاللَّهِ فَلَيْسَ بِمُحْصَنٍ“ جس نے اللہ کے ساتھ شریک بنایا تو وہ محسن نہیں ہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ شرک کیا وہ محسن نہیں ہے، معلوم ہوا محسن کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔ اور نیز پانچویں شرط یہ تھی کہ وہ محسن زنا سے پاک دامن ہو، اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَالْعِفَّةُ لِأَنَّ غَيْرَ الْعَفِيفِ لَا يَلْحَقُهُ الْعَارُ وَكَذَا الْقَاذِفُ صَادِقٌ فِيهِ“ اور پاک دامن ہونا، کہتے ہیں اس لیے کیونکہ جو زنا سے پاک دامن نہیں ہے جس نے زنا کیا ہے تو اس کو تو اگر زانی کہہ بھی دیا جائے اس کے لیے کوئی عار کی بات نہیں ہے، اور نیز اگر پاک دامن نہیں ہے اور اس کو کوئی زانی کہہ دے تو اس پر حد اس لیے بھی نہیں جاری کی جائے گی کیونکہ وہ زانی کہنے والا وہ تو سچ بول رہا ہے، وہ تو کوئی الزام تو نہیں لگا رہا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْعِفَّةُ لِأَنَّ غَيْرَ الْعَفِيفِ لَا يَلْحَقُهُ الْعَارُ وَكَذَا الْقَاذِفُ صَادِقٌ فِيهِ“ اور پاک دامن ہونا اس لیے کیونکہ جو زنا سے پاک دامن نہیں ہے اس کو زانی کہنے سے کوئی عار بھی لاحق نہیں ہوتا، اور اسی طرح یہ الزام لگانے والا اس الزام میں سچا ہے یعنی واقعی یہ زانی ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَمَنْ نَفَى نَسَبَ غَيْرِهِ وَقَالَ: لَسْتَ لِأَبِيكَ فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ بھئی ایک آدمی نے دوسرے سے نسب کی نفی کی اور کہا: تو اپنے باپ کا نہیں ہے، تو اس صورت میں حد جاری کی جائے گی، معلوم ہوا یہ اس کی ماں پر زنا کا الزام لگا رہا ہے بھئی۔ کیونکہ نسب کی نفی کر رہا ہے، نسب کی نفی کر رہا ہے معلوم ہوا زنا کا الزام لگا رہا ہے۔ کہتے ہیں ”وَمَنْ نَفَى نَسَبَ غَيْرِهِ وَقَالَ: لَسْتَ لِأَبِيكَ فَإِنَّهُ يُحَدُّ“ اور جس نے کسی دوسرے کے نسب کی نفی کی اور کہا تو اپنے باپ کا نہیں ہے تو اس کو حد لگائی جائے گی۔ تو اس کو حد لگائی جائے گی معلوم ہوا وہ آدمی اس کی ماں پر زنا کی تہمت لگا رہا ہے، لیکن اسی وقت حد لگائی جائے گی اگر اس آدمی کی ماں محسنہ ہو۔ یعنی آزاد بھی ہے اور مسلمان بھی ہے، کہتے ہیں ”وَهَذَا إِذَا كَانَتْ أُمُّهُ حُرَّةً مُسْلِمَةً“ اور یہ حد اس وقت آئے گی جس وقت اس کی ماں آزاد اور مسلمان ہو ”لِأَنَّهُ فِي الْحَقِيقَةِ قَذْفٌ لِأُمِّهِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو نسب کی نفی کی ہے یہ حقیقت میں اس کی ماں پر تہمت ہے، زنا کا الزام ہے، تو اس کا محسنہ ہونا ضروری ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ النَّسَبَ إِنَّمَا يُنْفَى عَنِ الزَّانِي لَا عَنْ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ نسب کی نفی زنا کرنے والے سے کی جاتی ہے نہ کہ کسی دوسرے سے۔ نسب کی نفی کس سے کی جاتی ہے؟ زنا کرنے والے سے۔ یعنی یوں کہو، یوں کہو بعض شارحین فرماتے ہیں کہ یہاں پر دراصل صرف ماں پر زنا کا الزام نہیں ہے، ماں اور باپ دونوں پر زنا کا الزام ہے کیونکہ نسب کی نفی کر رہا ہے تو اپنے باپ کا نہیں ہے، تو نسب کی نفی کی اور نسب کی نفی کس سے کی جاتی ہے؟ زانی سے۔ معلوم ہوا تیرے باپ نے تیری ماں سے زنا کیا تھا، تو زنا کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی تو نسب کی نفی تو زنا کرنے والے سے ہوتی ہے، تو بعض شارحین نے لکھا یہ دراصل دونوں پر الزام ہے ماں اور باپ پر بھی، لیکن چونکہ ایک ہی لفظ ہے لہٰذا ایک ہی حد آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ النَّسَبَ إِنَّمَا يُنْفَى عَنِ الزَّانِي لَا عَنْ غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ نسب کی جو نفی کی جاتی ہے وہ زنا کرنے والے سے کی جاتی ہے نہ کہ کسی اور سے۔ باپ سے نسب کی نفی کی ہے معلوم ہوا باپ کو زانی قرار دے رہا ہے۔ ”وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ فِي غَضَبٍ: لَسْتَ بِابْنِ فُلَانٍ“ اور جس شخص نے کسی دوسرے کو غصے میں کہا تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے ”لِأَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ“ اس باپ کو جس کے ساتھ اس کو پکارا جاتا ہے۔ بھئی مثلاً زید کا بیٹا ہے، دوسرا آدمی اس کو کہتا ہے تو زید کا بیٹا نہیں ہے، تو دیکھو اس باپ کو ذکر کیا جس کی طرف اس بچے کی نسبت کی جاتی ہے کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ بیٹا کس کا ہے؟ زید کا، اور اس نے بھی کیا کہا: تو زید کا بیٹا نہیں ہے۔ تو آگے چل کر آپ کو بتلائیں گے کہ اگر یہ غصے میں کہا ہے، معلوم ہوا زنا کا الزام لگا رہا ہے، گالی دے رہا ہے۔ اور اگر اور اگر غصہ نہیں ہے ویسے اس کو کہتا ہے تو زید کا بیٹا نہیں ہے، تو پھر یاد رکھو اس صورت میں یہ زنا کا الزام نہیں ہے بلکہ یہ اس کو ملامت کر رہا ہے کہ تجھ میں اپنے باپ والی صفات نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَمَنْ قَالَ لِغَيْرِهِ فِي غَضَبٍ: لَسْتَ بِابْنِ فُلَانٍ لِأَبِيهِ الَّذِي يُدْعَى لَهُ يُحَدُّ“ اور جس شخص نے کسی دوسرے کو غصے میں کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یعنی اس کا وہ باپ جس کے ساتھ اس بچے کو پکارا جاتا ہے تو اس آدمی پر حد لگائی جائے گی ”وَلَوْ قَالَ فِي غَيْرِ غَضَبٍ لَا يُحَدُّ“ اور اگر یہ بات اس نے غیرِ غضب میں کہی ہے یعنی غصے کے علاوہ کہی ہے تو پھر حد نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّ عِنْدَ الْغَضَبِ يُرَادُ بِهِ حَقِيقَتُهُ سَبًّا لَهُ“ اس لیے کیونکہ غضب کی حالت میں اس کلام کے حقیقی معنی کا ارادہ کیا جاتا ہے اس آدمی کو گالی دیتے ہوئے ”وَفِي غَيْرِهِ يُرَادُ بِهِ الْمُعَاتَبَةُ“ اور غضب کے علاوہ کے اندر اس کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے ملامت کرنے کا ”بِنَفْيِ مُشَابَهَتِهِ أَبَاهُ فِي أَسْبَابِ الْمُرُوءَةِ“ اس کے باپ سے اس کے مشابہت کی نفی کرتے ہوئے مروت کے اسباب میں۔ اس کو ملامت کر رہا ہے باپ سے مشابہت کی نفی کرتے ہوئے مروت کے اسباب میں۔ یعنی جیسے تیرے باپ کے اندر مروت ہے یعنی اعلیٰ صفات موجود ہیں، تیرے اندر اس جیسی صفات نہیں ہیں بھئی۔ تو مروت کہتے ہیں یاد رکھو، کمالِ رجولیت کو۔ کامل مرد ہونا یہ ہے مروت بھئی، تو کامل مرد کی جو صفات ہیں وہ مراد ہیں یعنی اچھے اخلاق مراد ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي غَيْرِهِ يُرَادُ بِهِ الْمُعَاتَبَةُ بِنَفْيِ مُشَابَهَتِهِ أَبَاهُ فِي أَسْبَابِ الْمُرُوءَةِ“ اور غضب کے علاوہ اس لفظ کے ذریعے ارادہ کیا جاتا ہے ملامت کرنے کا، اس کے باپ سے اس کے مشابہت کی نفی کرتے ہوئے مروت کے اسباب میں، یعنی مروت کے اسباب میں اس کے مشابہت کی نفی کی جا رہی ہے باپ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ قَالَ: لَسْتَ بِابْنِ فُلَانٍ يَعْنِي جَدَّهُ لَمْ يُحَدَّ“ اور اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے، دادا کا ذکر کرتا ہے: بھئی تو اپنے دادا کا بیٹا نہیں ہے، کہتے ہیں اس صورت میں بھی حد نہیں آئے گی کیونکہ وہ حقیقت بیان کر رہا ہے وہ تو دادا کا بیٹا نہیں ہے، اپنے باپ کا بیٹا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ: لَسْتَ بِابْنِ فُلَانٍ يَعْنِي جَدَّهُ لَمْ يُحَدَّ لِأَنَّهُ صَادِقٌ فِي كَلَامِهِ“ اور کسی شخص نے دوسرے سے کہا کہ تو فلاں کا بیٹا نہیں ہے یعنی اس کا دادا جو ہے، تو اس آدمی کو بھی حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کیونکہ یہ آدمی اپنے کلام میں سچا ہے ”وَلَوْ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ لَا يُحَدُّ أَيْضًا“ ایک آدمی نے دوسرے سے کہا: اے زید کے بیٹے! حالانکہ زید تو اس کا دادا ہے، تو اب تو حد آنی چاہیے؟ کہتے ہیں نہیں پھر بھی حد نہیں آئے گی، دادا کی طرف بھی نسبت کر دی جاتی ہے مجازاً بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ نَسَبَهُ إِلَى جَدِّهِ لَا يُحَدُّ أَيْضًا لِأَنَّهُ قَدْ يُنْسَبُ إِلَيْهِ مَجَازًا“ اور اگر کسی نے اس آدمی کی نسبت کر دی اس کے دادا کی طرف تو اس کو بھی حد نہیں لگائی جائے گی اس لیے کیونکہ دادا کی طرف بھی کبھی کبھار نسبت کر دی جاتی ہے مجازاً، جیسے قرآن میں بھی اللہ فرماتے ہیں: ﴿يَا بَنِي آدَمَ﴾ اے آدم کے بیٹو! اب حضرت آدم علیہ السلام تو ہمارے دادا گزرے ہیں بھئی، تو ان کی طرف نسبت کر دی جاتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ لَهُ: يَا ابْنَ الزَّانِيَةِ وَأُمُّهُ مَيِّتَةٌ مُحْصَنَةٌ“ اور اگر کسی شخص نے دوسرے سے کہا: اے زانیہ کے بیٹے! اور حال یہ ہے کہ اس کی ماں مر چکی ہے اور وہ محسنہ تھی، ماں مر چکی ہے اور محسنہ تھی، تو پھر یاد رکھو اس صورت کے اندر بیٹا حد کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا حدِ قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی، لہٰذا جس شخص پر زنا کا الزام لگایا ہے وہ خود تو حد کا مطالبہ کر سکتا ہے لیکن وہ مر جائے تو پھر اس کی اولاد حد کا مطالبہ نہیں کر سکتی۔ تو زندگی کے اندر جب کسی شخص پر زنا کا الزام لگایا جائے تو صرف وہی مطالبہ کر سکتا ہے، اس کی اولاد مطالبہ نہیں کر سکتی، زندگی میں بھی نہیں کر سکتی اور مرنے کے بعد بھی نہیں کر سکتی، جس شخص پر زنا کا الزام لگا ہے وہی مطالبہ کرے گا۔ لیکن اگر مرنے کے بعد جو ہے کسی نے کسی کے ماں یا باپ پر زنا کا الزام لگایا، پھر تو وہ شخص زندہ ہی نہیں ہے، اور اگر وہ شخص یا عورت جس پر زنا کا الزام لگایا وہ محسن تھے تو پھر ان کی اولاد یا اسی طرح ان کے اصول، اصول اور فروع، یعنی جو اوپر کی طرف ہے دادا پردادا وغیرہ اور نیچے کی طرف جو ہیں پوتا پوتی وغیرہ اور نواسہ نواسی وغیرہ یہ سب، تو یہ جو اصول اور فروع ہیں جن میں پیدائش والا رشتہ ہے یہ سب حد کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ایک شخص کا انتقال ہو چکا ہے، وہ محسن ہے، کسی نے اس پر زنا کا الزام لگا دیا، تو یہ جو مرنے والا ہے اس کے اوپر کی طرف باپ دادا وغیرہ جو اصول ہیں اور اسی طرح نیچے کی طرف جو اولاد ہیں، بیٹا پوتا وغیرہ یا بیٹی نواسی وغیرہ، یہ سب کیا کر سکتے ہیں؟ حد کا مطالبہ کر سکتے ہیں اس لیے کیونکہ اس نے اس شخص پر زنا کا الزام لگایا ہے جو مر چکا ہے اور محسن ہے، تو اب اس کے اصول اور فروع مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ قَالَ لَهُ: يَا ابْنَ الزَّانِيَةِ وَأُمُّهُ مَيِّتَةٌ مُحْصَنَةٌ فَطَالَبَ الِابْنُ بِحَدِّهِ حُدَّ الْقَاذِفُ لِأَنَّهُ قَذَفَ مُحْصَنَةً بَعْدَ مَوْتِهَا“ اور اگر ایک شخص نے دوسرے سے کہا: اے زانیہ کے بیٹے! اس حال میں کہ اس کی ماں مر چکی ہے اور محسنہ ہے، تو بیٹے نے اس کی حد کا مطالبہ کیا تو الزام لگانے والے کو حد لگائی جائے گی اس لیے کیونکہ اس نے محسنہ پر تہمت لگائی ہے اس کی موت کے بعد۔ ”وَلَا يُطَالِبُ بِحَدِّ الْقَذْفِ“ اچھا بھئی میت پر اگر قذف لگایا جائے، میت پر زنا کا الزام لگایا جائے تو کون کون حد کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ جو اصول اور فروع ہیں وہ مطالبہ کر سکتے ہیں کیونکہ اس کی وجہ سے نسب میں عیب آئے گا، کیا آئے گا؟ نسب میں عیب آئے گا، اور نسب کے اندر عیب آنا یہ اصول کے لیے بھی عیب کی بات ہے اور فروع کے لیے بھی عیب کی بات ہے، اس لیے یہ سب مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُطَالِبُ بِحَدِّ الْقَذْفِ لِلْمَيِّتِ إِلَّا مَنْ يَقَعُ الْقَدْحُ فِي نَسَبِهِ بِقَذْفِهِ“ اور میت کی حدِ قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا مگر وہ کہ طعن آتا ہو اس کے نسب میں۔ بھئی ایک تھا قَدَحٌ دال پر فتحہ چند سطریں قبل گزرا، قَدَحٌ پیالے کو کہتے ہیں اور اگر دال ساکن ہو قَدْحٌ تو یہ طعنے کو کہتے ہیں۔ تو میت کے لیے کوئی حدِ قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتا ”إِلَّا مَنْ يَقَعُ الْقَدْحُ فِي نَسَبِهِ بِقَذْفِهِ“ مگر وہ شخص کہ جس کے نسب میں طعنہ آتا ہو اس کے تہمت لگانے کی وجہ سے۔ ”مَنْ يَقَعُ الْقَدْحُ فِي نَسَبِهِ بِقَذْفِهِ“ اس کی تہمت کی وجہ سے اس کے نسب میں طعنہ آتا ہو وہ مطالبہ کر سکتا ہے، ”وَهُوَ الْوَالِدُ وَالْوَلَدُ“ اور وہ والد ہے اور ولد اور اولاد ہے۔ والد سے صرف والد نہیں مراد، اوپر کی طرف سارے اصول مراد ہیں۔ اور ولد سے صرف اولاد نہیں مراد بلکہ نیچے تک اولاد اور اولاد کی اولاد سب مراد ہیں، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا ولد کا لفظ مذکر اور مونث دونوں پر بولا جاتا ہے، تو بیٹا یا بیٹی، پوتا یا پوتی، نواسہ یا نواسی یہ سارے مطالبہ کر سکتے ہیں، اسی طرح سارے اصول جو ہیں دادا نانا وغیرہ یہ سب مطالبہ کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ الْوَالِدُ وَالْوَلَدُ لِأَنَّ الْعَارَ يَلْتَحِقُ بِهِ لِمَكَانِ الْجُزْئِيَّةِ“ اور وہ والد اور ولد ہے اس لیے کیونکہ عار ان کو لاحق ہوتا ہے، ان کو بھی عار لاحق ہوتا ہے، ان کے لیے بھی یہ طعنے اور شرم کی بات ہے ”لِمَكَانِ الْجُزْئِيَّةِ أَيْ لِوُجُودِ الْجُزْئِيَّةِ“ یہاں بھی مکان کس معنی میں؟ وجود کے معنی میں، ”لِمَكَانِ الْجُزْئِيَّةِ أَيْ لِوُجُودِ الْجُزْئِيَّةِ“ جزئیت پائے جانے کی وجہ سے، کہ یہ سب کیا ہیں ایک دوسرے کا جز ہیں، ان کے درمیان پیدائش والا رشتہ ہے بھئی۔ ”فَيَكُونُ الْقَذْفُ مُتَنَاوِلًا لَهُمْ مَعْنًى“ تو یہ قذف جو ہے یہ اس کو بھی شامل ہے معنی کے اعتبار سے۔ بھئی دیکھیے ایک آدمی مر چکا ہے وہ محسن تھا، اس پر کسی نے زنا کا الزام لگایا تو اس کے اصول اور فروع جو ہیں وہ سب حدِ قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں، کیوں؟ کیونکہ ان کے لیے بھی یہ عار کی بات ہے، ان کے لیے بھی یہ عار کی بات ہے، تو گویا معنی کے اعتبار سے ان کو بھی تہمت لگائی ہے اس نے۔ تہمت لگانے والے نے تو صرف میت کو تہمت لگائی ہے لیکن باقیوں کے لیے بھی یہ عار کا باعث ہے، تو باقیوں کے لیے صورت کے اعتبار سے تو باقیوں پر اس نے تہمت نہیں لگائی لیکن معنی کے اعتبار سے اس نے سب پر تہمت لگائی ہے کیونکہ یہ سب کے لیے باعثِ عار ہے بھئی، تو یہ معنی ہے ”فَيَكُونُ الْقَذْفُ مُتَنَاوِلًا لَهُمْ مَعْنًى“ تو یہ قذف جو ہے ان اصول اور فروع کو بھی شامل ہے معنی کے اعتبار سے۔ ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَثْبُتُ حَقُّ الْمُطَالَبَةِ لِكُلِّ وَارِثٍ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مطالبے کا حق ثابت ہے ہر وارث کے لیے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک ہر وارث جو ہے اس کو مطالبے کا حق ہے۔ یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ حدِ قذف کے اندر وراثت جاری ہوتی ہے، لہٰذا ایک آدمی پر کسی نے زنا کا الزام لگایا اس کا انتقال ہو گیا، ہمارے نزدیک حدِ قذف ساقط ہو گئی، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک اس کی اولاد حدِ قذف کا مطالبہ کر سکتی ہے کیونکہ حدِ قذف کے اندر بھی وراثت جاری ہوتی ہے امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يَثْبُتُ حَقُّ الْمُطَالَبَةِ لِكُلِّ وَارِثٍ لِأَنَّ حَدَّ الْقَذْفِ يُورَثُ عِنْدَهُ عَلَى مَا نُبَيِّنُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک کہ مطالبے کا حق ثابت ہے ہر وارث کے لیے اس لیے کیونکہ حدِ قذف جو ہے اس میں وراثت جاری ہوتی ہے ان کے نزدیک اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے، ”وَعِنْدَنَا وِلَايَةُ الْمُطَالَبَةِ لَيْسَ بِطَرِيقِ الْإِرْثِ بَلْ لِمَا ذَكَرْنَاهُ“ اور ہمارے نزدیک کہ مطالبے کی جو ولایت ہے وہ وراثت کے طریقے پر نہیں ہے بلکہ اس طریقے پر ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، کہ ایک آدمی پر زنا کا الزام لگایا ہے تو یہ باقی اصول اور فروع جو ہیں ان کے لیے بھی طعنے کا باعث ہے یعنی معنی کے اعتبار سے ان پر بھی یہ تہمت ہے تو وہ حدِ قذف کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ ”وَلِهَذَا يَثْبُتُ عِنْدَنَا لِلْمَحْرُومِ عَنِ الْمِيرَاثِ بِالْقَتْلِ“ اور اسی لیے ہمارے نزدیک کہ حدِ قذف کا مطالبہ ثابت ہوتا ہے اس شخص کے لیے بھی جو میراث سے محروم ہو قتل کی وجہ سے۔ آپ نے پڑھا ہے وارث اپنے مورث کو قتل کر دے تو پھر اس کو میراث نہیں ملتی، اس کو میراث، تو اس قسم کا بیٹا جس نے اپنے باپ کو قتل کیا تھا اب یہ باپ کا وارث تو نہیں بن سکا لیکن اگر باپ پر کوئی زنا کا الزام لگائے اور وہ جو مقتول باپ تھا وہ محسن تھا تو یہ بیٹا اس کے حدِ قذف کا مطالبہ کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا يَثْبُتُ عِنْدَنَا لِلْمَحْرُومِ عَنِ الْمِيرَاثِ بِالْقَتْلِ“ اور اسی لیے ہمارے نزدیک یہ مطالبے کا حق ثابت ہوتا ہے اس شخص کے لیے بھی جو میراث سے محروم ہے قتل کی وجہ سے، ”وَيَثْبُتُ لِوَلَدِ الْبِنْتِ كَمَا يَثْبُتُ لِوَلَدِ الِابْنِ“ اور اسی طرح یہ مطالبے کا حق ثابت ہوتا ہے بیٹی کی اولاد کے لیے بھی یعنی نواسے نواسیاں وغیرہ جیسا کہ بیٹے کی اولاد کے لیے بالاتفاق یہ مطالبہ اس مطالبے کا حق ثابت ہے وہ مطالبہ کر سکتے ہیں، ”خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں نسب کو دیکھا جائے گا اور جو بیٹی کی اولاد ہوتی ہے اس کی نسبت تو اس آدمی کی طرف نہیں ہوتی بلکہ ان کے دادا کی طرف نسبت کی جاتی ہے، یہ تو بچوں کا نانا ہے، یہ تو بچوں کا نانا ہے، بیٹی کی اولاد ہے نا، تو نسب تو دادا کی طرف سے چلتا ہے نانا کی طرف سے نہیں چلتا، اس لیے نانا کی حدِ قذف کا مطالبہ بیٹی کی اولاد نہیں کر سکتی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، بیٹی کی اولاد کے ساتھ بھی پیدائش والا رشتہ ہے، ان کا نسب والا رشتہ ہے، اور نسب دونوں طرف سے چلتا ہے، اگرچہ نسبت مرد کی طرف کی جاتی ہے لیکن چلتا دونوں طرف سے ہے، چنانچہ اسی لیے جب کسی کے ماں کا خاندان بھی بڑا ہو اور باپ کا خاندان بھی بڑا ہو تو کہتے ہیں کہ یہ شخص جو ہے کریم الطرفین ہے، دونوں طرف سے معزز خاندانوں سے تعلق رکھتا ہے ماں کی طرف سے بھی اور باپ کی طرف سے بھی۔ تو کہتے ہیں ”خِلَافًا لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام محمد رحمہ اللہ کے، ”وَيَثْبُتُ لِوَلَدِ الْوَلَدِ حَالَ قِيَامِ الْوَلَدِ خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ ہمارے نزدیک بھئی ایک آدمی ہے وہ مر چکا ہے، اس پر کسی نے زنا کا الزام لگایا، اس کا بیٹا بھی زندہ ہے اور پوتا یا نواسے وغیرہ بھی زندہ ہیں، تو پوتے اور نواسے بھی مطالبہ کر سکتے ہیں حدِ قذف کا، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں جب بیٹا یا بیٹی خود موجود ہیں، اولاد خود موجود ہے تو اولاد کی اولاد مطالبے کا حق نہیں رکھتی بھئی۔ ہم کہتے ہیں نہیں، جیسے اولاد کے لیے یہ بات عار کی باعث تھی اسی طرح یہ زنا کا الزام اولاد کی اولاد کے لیے بھی عار کا باعث ہے تو وہ بھی مطالبہ کر سکتے ہیں۔ تو یہ معنی ہے ”وَيَثْبُتُ لِوَلَدِ الْوَلَدِ حَالَ قِيَامِ الْوَلَدِ“ اور اولاد کی اولاد کے لیے بھی یہ مطالبے کا حق ثابت ہے اولاد کی موجودگی کی حالت میں بھی، اولاد کی موجودگی کی حالت میں بھی اولاد کی اولاد کے لیے یہ مطالبے کا حق ثابت ہے ”خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ چلیے بس بھئی ”هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ“.
160 approved lectures · 117 of 160