Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-116

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 17 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 60
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
اگے سبق دیکھیے بھئی: "فَإِنْ لَمْ يُحَدَّ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ حَتَّى رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ حُدُّوْا جَمِيْعًا وَسَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْمَشْهُوْدِ عَلَيْهِ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: حُدَّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً لِأَنَّ الشَّهَادَةَ تَأَكَّدَتْ بِالْقَضَاءِ فَلَا يَنْفَسِخُ إِلَّا فِيْ حَقِّ الرَّاجِعِ كَمَا إِذَا رَجَعَ بَعْدَ الْإِمْضَاءِ"۔ بھئی گزشتہ سبق میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص کے زنا پر چار افراد نے گواہی دی۔ البتہ ان چار گواہوں میں سے دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ عورت نے اپنی مرضی سے زنا پر قدرت دی ہے اور دو گواہ یہ کہتے ہیں کہ مرد نے عورت کے ساتھ زبردستی کی ہے، تو پھر اس صورت میں امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان دونوں سے حد ساقط ہو جائے گی، یعنی نہ مرد کو حد لگائی جائے گی اور نہ عورت کو حد لگائی جائے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ صرف مرد کو حد لگائی جائے گی۔ وجہ یہ کہ چاروں گواہوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ اس آدمی نے زنا کیا ہے۔ البتہ دو گواہ اس آدمی کا ایک اور جرم یعنی اکراہ بھی بیان کر رہے ہیں کہ اس نے زبردستی کی ہے۔ تو بہرحال چاروں گواہ اس آدمی کے زنا پر متفق ہیں، لہٰذا اس آدمی کو حد لگائی جائے گی۔ جبکہ عورت کو حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ عورت پر حدِ زنا اسی وقت واجب ہوگی جب اس نے اپنی رضامندی سے زنا پر قدرت دی ہو، اور یہاں پر عورت کی رضامندی پر چار گواہ موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا عورت کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر مشہود بہ ہی مختلف ہو گیا۔ اس لیے کیونکہ دو گواہ جو ہیں وہ زنا بالرضا کی گواہی دے رہے ہیں اور دو گواہ زنا بالاكراہ کی گواہی دے رہے ہیں، اور زنا بالرضا اور زنا بالاكراہ یہ الگ الگ چیزیں ہیں، یہ اکٹھی نہیں ہو سکتیں۔ تو معلوم ہوا گواہوں کے دونوں فریقوں کا مشہود بہ الگ الگ ہے۔ دو گواہوں کا مشہود بہ ہے زنا بالرضا اور دو گواہوں کا مشہود بہ ہے زنا بالاكراہ۔ تو کسی ایک زنا پر بھی چار گواہوں کا نصاب پورا نہیں ہے، لہٰذا اس وجہ سے حد دونوں سے ساقط ہو جائے گی۔ اور نیز اس لیے حد ساقط ہو جائے گی امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو دو گواہ جو عورت کی رضامندی پر گواہی دے رہے ہیں یہ دراصل تہمت لگا رہے ہیں ان دونوں پر، لہٰذا ان پر حدِ قذف آنی چاہیے۔ لیکن وہ جو دو گواہ ہیں اکراہ والے ان کی وجہ سے عورت کا محصنہ ہونا ساقط ہو گیا۔ معلوم ہوا عورت سے زنا ہوا ہے چاہے بے شک زبردستی زنا ہوا ہے، تو وہ عورت گناہ گار تو نہیں لیکن بہرحال اب وہ زنا سے پاک دامن نہ رہی، تو لہٰذا وہ محصنہ نہ رہی۔ اور جب وہ غیر محصنہ ہوئی تو اس پر زنا کا الزام لگانے والے پر حدِ قذف بھی نہیں آ سکتی۔ اور جب اس عورت کی وجہ سے ان دو گواہوں پر حدِ قذف نہیں آ سکتی تو زانی مرد کی وجہ سے بھی ان دو گواہوں پر حدِ قذف نہیں آ سکتی کیونکہ زنا مرد اور عورت کا ایک ہی فعل ہے۔ تو ان دونوں میں سے جب ایک کی وجہ سے گواہوں پر حدِ قذف نہیں آ سکتی تو دوسرے کی وجہ سے بھی حدِ قذف ان پر ثابت نہیں کی جا سکتی۔ تو یہ جو دو گواہ ہیں یہ فریقِ مخالف بن گئے۔ کیا بن گئے؟ فریقِ مخالف بن گئے کیونکہ یہ ان پر رضامندی کا الزام لگا رہے ہیں، اور فریقِ مخالف کی گواہی تو معتبر نہیں۔ تو ان دو گواہوں کی گواہی کالعدم ہو گئی۔ جب ان کی گواہی کالعدم ہو گئی تو مرد کے زنا پر بھی چار گواہ نہ ہوئے، تو لہٰذا مرد پر بھی حدِ زنا جاری نہیں کی جائے گی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر چار گواہوں نے ایک مرد اور عورت کے زنا پر گواہی دی، البتہ انہوں نے جگہیں الگ الگ بیان کیں۔ مرد اور عورت وہی ہیں، دو گواہ کہتے ہیں اس مرد نے اس عورت کے ساتھ فلاں مقام پر زنا کیا اور دوسرے گواہ کہتے ہیں کہ اس مرد نے اس عورت کے ساتھ فلاں مقام پر زنا کیا، الگ الگ جگہیں ذکر کرتے ہیں، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو دونوں سے حد ساقط ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ جگہ بدلنے کی وجہ سے زنا بدل گیا۔ تو ہر زنا پر گویا صرف دو گواہ ہیں۔ تو جب ہر زنا پر دو گواہ ہیں تو گواہوں کا نصاب پورا نہیں کیونکہ گواہ تو چار ہونے چاہیے تھے، لہٰذا کسی ایک پر بھی حد نہیں آئے گی۔ اور خود گواہوں پر حدِ قذف بھی نہیں آئے گی اس لیے کیونکہ ان کے اپنے گمان میں تو وہ ایک ہی زنا کی گواہی دے رہے ہیں۔ عورت بھی ایک ہے، مرد بھی ایک ہے، ایک ہی زنا کی بات کر رہے ہیں، البتہ صرف فرق جو آ رہا ہے وہ جگہ کی وجہ سے آ رہا ہے۔ تو صورت اور عورت کے ایک ہونے کے اعتبار سے ایک زنا ہونے کا شبہ ہوتا ہے اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جایا کرتی ہے، لہٰذا ان گواہوں پر حدِ قذف ثابت نہیں ہوگی۔ اور اگر ان چار گواہوں نے آپس میں اختلاف کیا جگہ کا لیکن ایک ہی کمرے کے اندر، دو گواہ کمرے کا ایک حصہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں زنا ہوا ہے اور دوسرے دو گواہ کمرے کا دوسرا حصہ بیان کرتے ہیں کہ یہاں زنا ہوا ہے، تو اس صورت میں صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ حد جاری کی جائے گی، اس لیے کیونکہ یہاں تطبیق اور توفیق ممکن ہے، یعنی دونوں گواہوں کے قولوں کو ایک دوسرے کا موافق بنانا ممکن ہے کہ یوں کہا جائے کہ ابتدائے زنا ایک کنارے پر ہوئی تو انتہائے زنا دوسرے کنارے پر ہوئی حرکت کرنے کی وجہ سے بھئی۔ اور نیز اگر کمرہ چھوٹا ہے اور درمیان میں دونوں زنا کر رہے ہیں تو ہر ایک نے اس کو اپنے قریب سمجھا، لہٰذا ہر ایک کو جو معلوم ہوا اس نے اس کے مطابق گواہی دے دی بھئی۔ اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر ایک مرد اور عورت کے زنا پر چار گواہوں نے گواہی دی کہ اس نے فلاں وقت کے اندر فلاں جگہ پر اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہے اور چار دوسرے گواہوں نے بعینہٖ وہی وقت ذکر کیا کہ اس نے اسی عورت کے ساتھ اسی وقت کے اندر فلاں مقام پر زنا کیا، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو مرد اور عورت پر حد واجب نہیں ہوگی۔ اس لیے کیونکہ ایک ہی مرد اور عورت ایک ہی وقت کے اندر دو مختلف جگہ پر زنا نہیں کر سکتے۔ تو ان گواہوں کے دونوں فریقوں میں سے ایک فریق تو قطعی اور یقینی طور پر جھوٹا ہے۔ البتہ اس کی تعین نہیں ہے کہ کون سا والا جھوٹا ہے، تو لہٰذا دونوں کی گواہی میں شبہ آ گیا کہ معلوم نہیں یہ والے جھوٹے ہیں یا معلوم نہیں یہ دوسرے والے جھوٹے ہیں، اور شبہے کی وجہ سے حد ثابت نہیں ہو سکتی۔ اور نیز ان دونوں گواہوں میں سے کسی پر حدِ قذف بھی نہیں آئے گی کیونکہ ہو سکتا ہے دونوں میں سے کوئی ایک سچا ہو بھئی، لیکن اس کی بھی تعین نہیں کہ ان دونوں میں سے کون سچا ہے۔ تو لہٰذا سچا ہونے کے شبہے کی وجہ سے حدِ قذف بھی جاری نہیں کی جائے گی ان پر۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر ایک عورت کے زنا پر چار گواہ آ گئے لیکن جب اس عورت کو عورتوں نے دیکھا تو اسے باکرہ پایا، تو اس صورت میں بھی مرد اور عورت سے حد ساقط ہو جائے گی، اس لیے کیونکہ زنا کی وجہ سے عورت کی بکارت باقی نہیں رہ سکتی۔ اس کے بعد میں نے آپ کو گواہوں کی اقسام بتلائی تھیں کہ گواہی کے اعتبار سے گواہ چار قسم کے ہیں۔ کچھ گواہ وہ ہیں جو اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر، اور وہ وہ گواہ ہیں کہ جن میں پانچ صفتیں پائی جائیں: آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اور عادل ہو یعنی قابلِ اعتماد۔ تو یہ جو گواہ ہیں یہ اہلِ تحمل بھی ہیں اور اہلِ ادا بھی ہیں کامل طور پر۔ اور اگر گواہ فاسق ہیں یعنی عادل نہیں ہیں، آزاد بھی ہیں، عاقل بھی ہیں، بالغ بھی ہیں، مسلمان بھی ہیں، لیکن عادل نہیں ہیں، قابلِ اعتماد نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں یعنی اللہ کے احکام کی نافرمانی کرتے رہتے ہیں، تو پھر اس صورت کے اندر یاد رکھو یہ اہلِ تحمل اور اہلِ ادا ہیں تو لیکن ناقص طور پر۔ جبکہ اندھے اور محدود فی القذف یہ اہلِ تحمل تو ہیں لیکن اہلِ ادا نہیں، یعنی یہ گواہ بن تو سکتے ہیں لیکن گواہی دے نہیں سکتے، اگر قاضی کے پاس گواہی دیں گے تو قاضی ان کی گواہی قبول نہیں کرے گا کیونکہ یہ ادائے شہادت کے اہل نہیں ہیں بھئی۔ اور کچھ گواہ وہ ہیں کہ جو نہ اہلِ تحمل ہیں اور نہ اہلِ ادا ہیں، نہ وہ گواہ بن سکتے ہیں نہ وہ گواہی دے سکتے ہیں اور وہ چار قسم کے افراد ہیں: غلام ہو، یا نابالغ ہو، یا مجنون ہو، یا کافر ہو۔ تو یہ جو ہیں نہ اہلِ تحمل ہیں اور نہ اہلِ ادا ہیں۔ اب صورتِ مسئلہ یہ کہ ایک شخص کے خلاف چار آدمیوں نے گواہی دے دی لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ چاروں تو غلام ہیں، اور غلام نہ تو اہلِ تحمل ہیں اور نہ اہلِ ادا ہیں۔ یا بعد میں پتہ چلا کہ یہ چاروں محدود فی القذف ہیں، اور محدود فی القذف جو ہیں وہ تو اہلِ ادا نہیں ہیں، اہلِ تحمل تو ہیں لیکن اہلِ ادا نہیں ہیں۔ یا ان چار گواہوں میں سے کوئی ایک غلام نکلا یا کوئی ایک جو ہے محدود فی القذف نکلا، تو پھر اس صورت کے اندر ان سب کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ ان کی گواہی سے زنا ثابت نہیں کیونکہ زنا کے ثبوت کے لیے کم از کم چار گواہ چاہییں اور وہ چاروں بھی عادل ہونے چاہییں بھئی۔ تو لہٰذا ان گواہوں کو حد لگائی جائے گی، البتہ مشہود علیہ یعنی جس کے خلاف گواہی دی ہے اس کو حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ ان کی گواہی سے زنا ثابت نہیں ہو سکتا۔ اور اگر گواہی دینے والے فاسق ہیں تو فاسقوں کی گواہی سے زنا ثابت نہیں ہو سکتا، تو لہٰذا مشہود علیہ کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ اور خود ان فاسق گواہوں کو بھی حد نہیں لگائی جائے گی کیونکہ گواہی کا نصاب پورا ہے، تو یہ اگرچہ فاسق ہیں لیکن پھر بھی احتمال ہے ہو سکتا ہے سچ بول رہے ہوں، تو گواہی کا نصاب پورا ہے، گواہ صرف فاسق ہیں، تو پھر ان گواہوں کو حد نہیں لگائی جائے گی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر گواہوں کی تعداد چار سے کم ہو تو پھر یہ گواہی ہے ہی نہیں، یہ قذف ہے، یہ تہمت لگا رہے ہیں زنا کی، لہٰذا ان کو حد لگائی جائے گی بھئی۔ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر چار گواہوں نے کسی آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس آدمی پر حدِ زنا بھی جاری کر دی گئی اور پھر اس کے بعد پتہ چلا کہ ان گواہوں میں سے ایک غلام تھا یا ایک محدود فی القذف تھا، تو اس صورت میں ان سب کو حدِ قذف لگائی جائے گی کیونکہ یہ قذف ہے شہادت نہیں ہے بھئی۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر یہ حد لگانے کی وجہ سے، مثلاً شادی شدہ تھا پھر تو رجم کیا گیا ہے اور اگر غیر شادی شدہ تھا تو پھر زنا کی حد کے طور پر سو کوڑے لگائے گئے ہیں۔ اب جب معلوم ہوا کہ ایک گواہ غلام تھا یا معلوم ہوا کہ ایک گواہ محدود فی القذف تھا تو یہ بات یقینی طور پر معلوم ہو گئی کہ قاضی سے فیصلے میں غلطی ہوئی ہے۔ لہٰذا جب قاضی سے فیصلے میں غلطی ہوئی ہے تو اگر اس شخص کو رجم کیا گیا تھا تو پھر اس صورت کے اندر ضمان جو ہے بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ یہ غلطی قاضی سے ہوئی ہے اور قاضی مسلمانوں کے لیے عمل کر رہا ہے، مسلمانوں کے لیے بیٹھا ہوا ہے اور ان کے مسائل حل کر رہا ہے، لہٰذا ضمان بھی مسلمانوں کے مال میں سے یعنی بیت المال سے ادا کیا جائے گا بھئی۔ اور یہ بالاتفاق ہے یہ مسئلہ صاحبین اور امام صاحب کے نزدیک۔ یعنی اگر بعد میں پتہ چلا کہ ان گواہوں میں سے ایک گواہ غلام تھا یا محدود فی القذف تھا تو اس صورت کے اندر ہمارے تینوں ائمہ فرماتے ہیں کہ قاضی کے فیصلے کا غلط ہونا یقینی طور پر ثابت ہو گیا، اس آدمی کو رجم کیا گیا ہے، ایک جان ضائع ہوئی ہے، اور قاضی کے غلط فیصلے کی وجہ سے جان ضائع ہوئی ہے، لہٰذا بیت المال سے ضمان ادا کیا جائے گا۔ تو یہ مسئلہ اتفاقی ہے ہمارے تینوں ائمہ کے درمیان۔ لیکن اگر اس کے مقابلے میں اگر حد جو تھی وہ ضرب تھی کوڑے لگانا اور پھر کوڑے لگانے کی وجہ سے وہ آدمی زخمی ہو گیا یا وہ آدمی ہلاک ہو گیا، تو پھر اس صورت کے اندر یہ جو ضمان آئے گا یہ بھی بیت المال پر آئے گا صاحبین کے نزدیک، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، اس صورت میں کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ اس صورت میں کوئی ضمان نہیں آئے گا اس لیے کیونکہ یہ غلطی جلاد کی ہے۔ جلاد کو ایسی ضرب لگانے کا حکم دیا تھا قاضی نے جس کے اندر دوسرے کو زخم بھی نہ لگیں اور دوسرا ہلاک بھی نہ ہو۔ لہٰذا جب جلاد نے ایسی ضرب لگائی جس سے زخم لگا یا دوسرا ہلاک ہو گیا تو جلاد کا یہ فعل قاضی کی طرف منتقل نہیں ہوگا کیونکہ قاضی نے تو اسے ایسی ضرب لگانے کا حکم نہیں دیا۔ معلوم ہوا یہ جلاد جو ہے کوڑے لگانے میں ماہر نہیں ہے۔ تو اس صورت میں جلاد پر ضمان آنا چاہیے لیکن جلاد پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا ورنہ تو ورنہ تو لوگ جو ہیں حد قائم کرنے سے ہی رک جائیں گے کہ کہیں اگر ہم سے غلطی ہو گئی تو ہمیں جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو یہ امام صاحب فرماتے ہیں۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ قاضی نے جلاد کو مطلقِ ضرب لگانے کا حکم دیا تھا، جس قسم کی بھی چاہے ضرب ہو، چاہے صرف تکلیف دینے والی ہو، چاہے زخمی کرنے والی ہو، اور چاہے ہلاک کرنے والی ہو، تو جلاد کو مطلق ضرب کا حکم تھا جو ہر قسم کی ضرب کو شامل ہے۔ تو لہٰذا جلاد کا فعل قاضی کی طرف منتقل ہوگا اور جب جلاد کا فعل قاضی کی طرف منتقل ہو گیا اور قاضی تو مسلمانوں کے لیے عمل کر رہا ہے، لہٰذا مسلمانوں کے مال میں سے ہی اس کا ضمان ادا کیا جائے گا۔ لیکن اس کے مقابلے میں اگر گواہوں نے رجوع کر لیا، پہلی صورت کیا تھی گواہوں کا پتہ چلا کہ وہ غلام ہیں یا محدود فی القذف ہیں، انہوں نے رجوع نہیں کیا تو پھر اس صورت میں بیت المال پر ضمان آئے گا صاحبین فرماتے ہیں، جبکہ اگر گواہوں نے رجوع کر لیا تو پھر ضمان ان گواہوں پر آئے گا، ان کی غلطی کی وجہ سے یہ نقصان ہوا ہے بھئی۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ چاہے گواہوں کے بارے میں پتہ چلے کہ یہ غلام ہیں یا محدود فی القذف ہیں، چاہے یہ گواہی سے رجوع کر لیں، ہر حال کے اندر کسی پر بھی ضمان نہیں آئے گا کیونکہ ضمان تو اصل میں جلاد پر آنا چاہیے تھا لیکن اس پر ضمان کو واجب نہیں کیا جا سکتا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے شہادت علی الشہادت کو بیان فرمایا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بعض اوقات گواہ کو اگر کوئی عذر ہے وہ قاضی کے پاس حاضر نہیں ہو سکتا، یعنی شدید بیمار ہے یا وہ سفر پر جا رہا ہے، تو اس صورت میں وہ اپنی گواہی پر گواہ بنا سکتا ہے، ہر گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ بنا لے۔ ہر گواہ اپنی گواہی پر دو گواہ بنا لے، تو جو اصل گواہ ہیں ان کو کہیں گے شہودِ اصل اور دوسرے گواہ جن کو شہودِ اصل نے اپنی گواہی پر گواہ بنایا ہے ان کو شہودِ فرع کہیں گے۔ شہودِ فرع بھئی۔ تو لہٰذا یہ شہودِ فرع پھر قاضی کے پاس جاتے ہیں اور پھر اس مسئلے کی گواہی دیتے ہیں بھئی، اور شریعت نے ضرورت کی وجہ سے اس کی اجازت دی ہے۔ البتہ حدود کے مسئلے کے اندر شہادت علی الشہادت جائز نہیں ہے بھئی، اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ جس طرح حدود کے مسئلے میں شہادت علی الشہادت جائز نہیں ہے اسی طرح قصاص کے مسئلے میں بھی شہادت علی الشہادت جائز نہیں ہے۔ اس لیے کیونکہ حدود بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں اور قصاص بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے، لہٰذا حدود اور قصاص کے مسئلے میں شہادت علی الشہادت جائز نہیں ہے۔ تو اب زنا کے مسئلے میں چار گواہ قاضی کے پاس آ گئے اور انہوں نے شہادت علی الشہادت دی، تو یہ تو حدود کا مسئلہ ہے تو قاضی ان کی گواہی قبول نہیں کرے گا، ان کو رد کر دے گا۔ اور بعد میں پھر شہودِ اصل آ گئے گواہی دینے، تو کہتے ہیں اب شہودِ اصل کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی۔ اس لیے کیونکہ شہودِ اصل کی گواہی ایک مرتبہ رد ہو چکی ہے۔ وہ جو شہودِ فرع کو قاضی نے رد کیا تھا، وہ شہودِ فرع ان شہودِ اصل ہی کے تو قائم مقام تھے کیونکہ انہوں نے ہی ان کو حکم دیا تھا اور انہوں نے ہی ان کو ذمہ دار بنایا تھا۔ تو لہٰذا وہ ایک مرتبہ شہودِ اصل کی گواہی بعض اعتبار سے رد ہو چکی ہے، تو اب دوبارہ اسی مسئلے میں شہودِ اصل کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا۔ اور میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ حدود کے مسئلے میں ہے کہ شہودِ فرع کی گواہی رد ہو جائے تو شہودِ اصل کی گواہی بھی قبول نہیں کی جائے گی، لیکن اور مسائل کے اندر اگر شہودِ فرع کی گواہی رد ہو جائے تو پھر بھی شہودِ اصل کی گواہی قبول کی جا سکتی ہے بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر چار آدمیوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس آدمی کو رجم کر دیا گیا۔ بعد میں ان گواہوں میں سے ایک نے رجوع کر لیا تو صرف اس ایک کو حد لگائی جائے گی اور اس ایک پر ربعِ دیت کا ضمان آئے گا۔ کیونکہ ایک آدمی کی جان گئی ہے اور جان ناحق جائے تو وہاں دیت آیا کرتی ہے اور یہاں پر چار گواہ ہیں تو اس دیت کو ان پر تقسیم کریں گے تو ہر گواہ کے حصے میں ربعِ دیت آ رہی ہے، تو ایک نے رجوع کیا ہے تو اس کو حد بھی لگائی جائے گی حدِ قذف اور نیز اس پر ربعِ دیت کا ضمان بھی واجب کیا جائے گا بھئی۔ جبکہ امامِ شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر اس رجوع کرنے والے پر مال نہیں واجب کیا جائے گا بلکہ اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا کیونکہ ان گواہوں کی گواہی کی وجہ سے ایک آدمی کی جان گئی ہے بھئی۔ لیکن ہمارے نزدیک جو ہے اس ایک گواہ پر ربعِ دیت آئے گی۔ دوسرا گواہ بھی رجوع کر لے اگر تو اس پر بھی ربعِ دیت آ جائے گی اور اس کو بھی حد لگائی جائے گی۔ تو ہمارے نزدیک یہ رجوع کرنے والے گواہوں کو حد بھی لگائی جائے گی اور ان پر ضمان بھی آئے گا۔ جبکہ امامِ زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان پر ضمان تو آئے گا لیکن ان رجوع کرنے والوں پر حد نہیں آئے گی۔ اس لیے کیونکہ یہ جو رجوع کرنے والے ہیں یا تو ان کو آپ قاذف الحی قرار دیں گے یا آپ ان کو قاذف المیت قرار دیں گے۔ قاذف الحی یعنی زندہ پر تہمت لگانے والے، قاذف المیت یعنی مردہ پر تہمت لگانے والے۔ تو ایک گواہ نے رجوع کر لیا، تو یا تو آپ یوں شمار کریں گے کہ اس نے جب گواہی دی تھی اس وقت ہی اس نے تہمت لگائی تھی، تو یہ قاذف الحی ہوا، تو اس صورت میں بھی اس پر حدِ قذف نہیں آتی کیونکہ حدِ قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی اور وہ زندہ مر چکا ہے، جب مر چکا ہے تو حدِ قذف بھی ساقط ہو چکی ہے، لہٰذا قاذف الحی ہونے کی صورت میں آپ اس رجوع کرنے والے گواہ کو حدِ قذف نہیں لگا سکتے۔ اور اگر آپ اس کو قاذفِ میت قرار دیتے ہیں کہ اس نے فی الحال رجوع کیا ہے اور اس وقت تو وہ مرجوم مر چکا ہے تو یہ قاذف المیت ہوا، تو پھر بھی اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جا سکتی، اس لیے کیونکہ یہ قذف کر رہا ہے یعنی زنا کی تہمت لگا رہا ہے ایک ایسے شخص پر جو مرجوم بحکم القاضی ہے، جس کو قاضی کے حکم کی وجہ سے رجم کیا گیا ہے اور قاضی کے حکم کی وجہ سے جس کو رجم کیا گیا ہے معلوم ہوا اس نے زنا کیا تھا، تو معلوم ہوا وہ محسن نہ رہا، پاک دامن نہ رہا، جب پاک دامن نہ رہا تو اب اس پر تہمت لگانے والے پر حدِ قذف بھی جاری نہیں کی جا سکتی۔ اس کو تو قاضی کے فیصلے کی وجہ سے رجم کیا گیا تھا اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وہ شخص جو مرجوم بحکم القاضی ہے اس پر اگر عام لوگوں میں سے کوئی اس کو زانی کہتا ہے یا زنا کا الزام اس پر لگاتا ہے اس مرنے والے پر، تو مرنے والے کی اولاد بھی اس شخص پر حدِ قذف کا مطالبہ نہیں کر سکتی، کیونکہ وہ شخص مرجوم بحکم القاضی ہے عام لوگوں کے حق میں۔ اور مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے۔ مرجوم بحکم القاضی تو وہ ہے جسے قاضی نے زنا کی وجہ سے رجم کروایا ہے، تو وہ زنا سے پاک دامن نہ رہا، معلوم ہوا اس نے زنا کیا تھا، تو لہٰذا وہ محسن نہیں ہے، اور غیر محسن پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف واجب نہیں ہوتی بھئی۔ اس لیے مرجوم بحکم القاضی پر کوئی زنا کی تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں کی جا سکتی بھئی۔ اور یہ جو گواہ ہے جس نے رجوع کیا ہے تو اگرچہ اس کے رجوع کرنے سے یہ پتہ چل گیا کہ معلوم ہوا اس شخص کو ناحق قتل کیا گیا تھا، اگرچہ پتہ چل گیا کہ اس شخص کو ناحق قتل کیا گیا تھا، اس نے زنا نہیں کیا تھا، لیکن پھر بھی ہے تو وہ مرجوم بحکم القاضی، اور اس کی وجہ سے کم از کم شبہ تو آ گیا، اگرچہ وہ اس کا محسن ہونا تو ساقط نہیں ہوا قاضی کی غلطی کی وجہ سے لیکن بہرحال شبہ تو آ گیا اور شبہے کی وجہ سے بھی حد ساقط ہو جایا کرتی ہے، تو امام زفر فرماتے ہیں کہ جیسے کوئی عام آدمی اس مرجوم بحکم القاضی پر تہمت لگائے تو اس پر حدِ قذف جاری نہیں ہو سکتی، تو یہ رجوع کرنے والا بھی اگر آپ اس کو قاذف المیت بھی قرار دے دیں تو اس نے قذف جو کیا ہے، جو تہمت لگائی ہے وہ مرجوم بحکم القاضی پر لگائی ہے، لہٰذا کم از کم یہاں شبہ تو ضرور آ گیا اور شبہے کی وجہ سے اب اس کو بھی حد نہیں لگائی جا سکتی۔ تو چاہے آپ اس رجوع کرنے والے کو قاذف الحی قرار دیں، چاہے آپ اس کو قاذف المیت قرار دیں، کسی صورت میں بھی اس پر حد ثابت نہیں ہوتی بھئی۔ جبکہ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ جب اس گواہ نے رجوع کر لیا تو اس کی گواہی فسخ ہو گئی۔ جب اس کی گواہی فسخ ہو گئی تو اسی گواہی پر تو قاضی کے فیصلے کی بنیاد تھی، تو قاضی کا فیصلہ بھی فسخ ہو گیا، لیکن اسی رجوع کرنے والے کے حق میں، باقیوں کے حق میں نہیں۔ کیونکہ باقیوں نے جو گواہی دی تھی اس کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل جائے تو وہ گواہی پکی ہو جاتی ہے۔ چنانچہ اسی لیے چار میں سے ایک نے رجوع کر لیا تو باقیوں کو حد نہیں لگائیں گے کیونکہ ان کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے، اگرچہ گواہوں کی تعداد اب کم ہو رہی ہے لیکن پھر بھی ان کی گواہی پکی ہو گئی، مضبوط ہو گئی کیونکہ اس کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب اس ایک گواہ نے رجوع کیا تو اس کی شہادت فسخ ہو گئی، جب شہادت فسخ تو اسی شہادت پر بنیاد تھی قاضی کے فیصلے کی، تو اس آدمی کے حق میں قاضی کا فیصلہ بھی فسخ ہو گیا۔ قاضی کا فیصلہ بھی فسخ ہو گیا یا یوں کہیں قاضی کا فیصلہ کالعدم ہو گیا، ایسے ہو گیا جیسے ہے ہی نہیں۔ تو معلوم ہوا جب اس کے حق میں قاضی کا فیصلہ ہی فسخ ہو گیا تو وہ شخص اس کے حق میں مرجوم بحکم القاضی نہ رہا۔ اوروں کے حق میں تو وہ مرجوم بحکم القاضی ہے لیکن رجوع کرنے والے کے حق میں وہ مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے۔ جب وہ مرجوم بحکم القاضی نہیں ہے تو اب اس قاذفِ میت کو حد لگائی جائے گی۔ ہم نے اس کو قاذفِ میت قرار دیا، ہم نے اس کو قاذفِ میت قرار دیا لیکن یہاں پر کسی قسم کا شبہ نہیں ہے کیونکہ اس کی گواہی فسخ ہو چکی اور گواہی پر بنیاد تھی قاضی کے فیصلے کی، قاضی کا فیصلہ بھی کالعدم ہو گیا گویا ہے ہی نہیں۔ جب قاضی کا فیصلہ ہی نہیں ہے تو مرجوم بحکم القاضی بھی نہیں۔ مرجوم بحکم القاضی کا کیا معنی؟ مرجوم وہ جس کو رجم کیا گیا ہے، بحکم القاضی قاضی کے فیصلے سے۔ تو جب قاضی کا فیصلہ نہیں تو قاضی کے فیصلے سے جو مرجوم ہے وہ بھی نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو جب حکمِ قاضی نہیں تو مرجوم بحکم القاضی بھی نہیں ہے اسی رجوع کرنے والے کے حق میں، لہٰذا اس کے حق میں کوئی شبہ نہیں، اس نے جو زنا کی تہمت لگائی ہے یہاں مرجوم بحکم القاضی ہونے کا کوئی شبہ نہیں، جب شبہ نہیں تو اس کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ جبکہ اس کے مقابلے میں اور لوگوں کے حق میں وہ مرجوم بحکم القاضی ہے، تو وہ اگر اس کو زنا کی تہمت لگاتے ہیں تو ان کو حد نہیں لگائی جائے گی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: "فَإِنْ لَمْ يُحَدَّ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ حَتَّى رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ حُدُّوْا جَمِيْعًا وَسَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْمَشْهُوْدِ عَلَيْهِ، وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى: حُدَّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً"۔ بھئی گزشتہ سبق میں آخر میں آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر قاضی کے فیصلے کے بعد اس شخص کو رجم کر دیا گیا تو قاضی کے فیصلے کی وجہ سے سب گواہوں کی گواہی پکی ہو گئی۔ لہٰذا ان گواہوں میں سے ایک نے رجوع کیا تو صرف اس رجوع کرنے والے گواہ کو حد لگائی جائے گی اور اس پر ربعِ دیت بھی آ جائے گی ضمان کے طور پر۔ لیکن اب آج آپ کو بتائیں گے کہ یہ وہ صورت تھی جب قاضی نے فیصلہ بھی کر دیا تھا اور حد بھی نافذ ہو گئی تھی۔ لیکن اگر گواہوں میں سے کسی نے رجوع کر لیا قاضی کے فیصلے سے پہلے یا قاضی نے فیصلہ تو کر دیا لیکن ابھی حد نافذ نہیں ہوئی، اور آپ پڑھ چکے ہیں کہ حدود کے مسئلے میں حد کو نافذ کرنا یہ بھی قضا کا حصہ ہے، یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے۔ تو لہٰذا قاضی نے فیصلہ کر دیا، حد ابھی نافذ نہیں ہوئی، ان گواہوں میں سے کسی نے رجوع کر لیا، تو یہ بھی اسی طرح ہے گویا قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی رجوع کر لیا۔ اور قاضی کے فیصلے سے پہلے اگر گواہ رجوع کر لیں اور گواہی کا نصاب کم ہو جائے تو پھر یاد رکھو سب کو حد لگائی جاتی ہے۔ مثلاً چار گواہ قاضی کے پاس آئے تھے زنا کے مسئلے میں، انہوں نے گواہی دے دی اور ابھی قاضی نے فیصلہ نہیں کیا کہ ایک گواہ نے رجوع کر لیا۔ جب ایک نے رجوع کر لیا تو پتہ چلا گواہی کا نصاب پورا نہیں، جب نصاب پورا نہیں معلوم ہوا باقی سارے بھی تہمت لگا رہے ہیں، وہ گواہ نہیں ہیں، لہٰذا سب کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ پچھلے مسئلے کے اندر وہ آدمی کو رجم کر دیا گیا تھا، حد کا فیصلہ بھی ہوا تھا اور قاضی نے نافذ بھی کروا دی تھی، اور نافذ کرنا یہ بھی قاضی کے فیصلے کا حصہ ہے، تو گویا قاضی کا فیصلہ پکا ہو چکا تھا اور جب قاضی کا فیصلہ ہو گیا، پورا ہو گیا، تو معلوم ہوا ان کی گواہی بھی پکی ہو گئی۔ جب گواہی پکی ہو گئی تو صرف رجوع کرنے والے کو حد لگائیں گے اور صرف اسی پر ضمان آئے گا، باقیوں کو حد بھی نہیں لگائیں گے اور ان پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔ لیکن یہاں پر دوسری صورت ہے کہ گواہوں میں سے کسی گواہ نے قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی رجوع کر لیا یا قاضی کے فیصلے کے بعد رجوع کیا لیکن حد کے نافذ ہونے سے پہلے رجوع کر لیا، اور حد کا نافذ کرنا بھی تو قضائے قاضی کا حصہ ہے، تو حد کے نافذ کرنے سے پہلے بھی رجوع کر لے تو یوں سمجھو گویا قاضی کے فیصلے سے پہلے ہی رجوع کر لیا، اور اس صورت میں اگر گواہی کا نصاب کم ہو گیا تو ان سب کو حدِ قذف لگائی جائے گی۔ معلوم ہوا یہ شہادت تھی ہی نہیں، یہ قذف تھا بھئی ہر لحاظ سے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ لَمْ يُحَدَّ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ" اور اگر مشہود علیہ پر حد نہیں لگائی گئی، وہ جس کے خلاف انہوں نے زنا کی گواہی دی ہے ابھی اس پر حد نہیں لگائی گئی، اس سے پہلے ہی گواہ رجوع کر لیتے ہیں اور اب شہادت کا نصاب پورا نہیں ہو رہا تو سب کو حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: "فَإِنْ لَمْ يُحَدَّ الْمَشْهُوْدُ عَلَيْهِ حَتَّى رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ" اور مشہود علیہ کو حد نہیں لگائی گئی تھی یہاں تک کہ ان گواہوں میں سے ایک نے رجوع کر لیا، "حُدُّوْا جَمِيْعًا" تو ان سب کو حد لگائی جائے گی، "وَسَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْمَشْهُوْدِ عَلَيْهِ" اور مشہود علیہ سے بھی حد ساقط ہو جائے گی، مشہود علیہ سے بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ "وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللهُ" اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: "حُدَّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً" کہ صرف رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی، باقیوں کو حد نہیں لگائی جائے گی۔ اور اس کی وجہ امام محمد رحمہ اللہ یہ بتلاتے ہیں: "لِأَنَّ الشَّهَادَةَ تَأَكَّدَتْ بِالْقَضَاءِ" اس لیے کیونکہ قاضی کے فیصلے کے ساتھ شہادت پکی ہو چکی ہے۔ یہاں پر قاضی نے فیصلہ تو کر دیا ہے، صرف حد ابھی نافذ نہیں ہوئی تو فیصلے سے شہادت پکی ہو چکی ہے، "فَلَا يَنْفَسِخُ إِلَّا فِيْ حَقِّ الرَّاجِعِ" لہٰذا یہ شہادت صرف رجوع کرنے والے کے حق میں فسخ ہوگی، باقیوں کے حق میں فسخ نہیں ہوگی۔ "كَمَا إِذَا رَجَعَ بَعْدَ الْإِمْضَاءِ" جیسا کہ اس صورت میں جب کہ حد کے نفاذ کے بعد رجوع کیا تھا تو وہاں پر صرف رجوع کرنے والے کے حق میں شہادت فسخ ہوئی تھی باقیوں کے حق میں نہیں، یہاں بھی صرف رجوع کرنے والے کے حق میں فسخ ہوگی۔ چلیے باقی انشاء اللہ کل پڑھیں گے۔ ”الرَّاجِعُ خَاصَّةً“ کہ خاص طور پر رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی۔ کون سی صورت بیان ہو رہی ہے؟ کہ گواہوں میں سے ایک نے رجوع کیا ہے یا دو نے رجوع کیا ہے، اور قاضی فیصلہ کر چکا ہے، لیکن ابھی اس نے حد کو نافذ نہیں کیا۔ تو قاضی فیصلہ کر چکا ہے اس کے بعد رجوع کر رہے ہیں، لیکن نافذ کرنا بھی قضا کا حصہ ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں یوں سمجھو گویا قاضی نے ابھی فیصلہ کیا ہی نہیں۔ جب فیصلہ کیا ہی نہیں اور کوئی رجوع کر لے تو سب کو حد لگائی جاتی ہے، تو یہاں بھی سب کو حد لگائی جائے گی۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قاضی فیصلہ کر چکا ہے اگرچہ نافذ نہیں کیا، لیکن فیصلہ تو کر چکا ہے، اور اس فیصلے کی وجہ سے اب گواہوں کی گواہی پکی ہو گئی۔ جب گواہوں کی گواہی پکی ہو گئی تو صرف رجوع کرنے والے کو حد لگائیں گے، باقیوں کو حد نہیں لگائیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى: يُحَدُّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً“ کہ رجوع کرنے والے کو ہی خاص طور پر حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّ الشَّهَادَةَ تَأَكَّدَتْ بِالْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ ان کی گواہی پکی ہو گئی ”بِالْقَضَاءِ“ قضا کی وجہ سے، قاضی کے فیصلے کی وجہ سے ان کی گواہی پکی ہو گئی، ”فَلَا يَنْفَسِخُ“ لہٰذا یہ گواہی فسخ نہیں ہو گی، ”إِلَّا فِي حَقِّ الرَّاجِعِ“ مگر صرف رجوع کرنے والے کے حق میں، ”كَمَا إِذَا رَجَعَ بَعْدَ الْإِمْضَاءِ“ جیسے کہ گواہ رجوع کر لے حد کو نافذ کرنے کے بعد۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جب قاضی فیصلہ کر دے تو گواہی پکی ہو جاتی ہے، اسی لیے جب حد نافذ کر دی اور اس کے بعد کوئی ایک رجوع کرتا ہے تو صرف اس کو حد لگاتے ہیں، باقیوں کو حد نہیں لگاتے، تو یہاں بھی قاضی کا فیصلہ ہو چکا ہے، اگرچہ ابھی نافذ نہیں ہوا۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا رَجَعَ بَعْدَ الْإِمْضَاءِ“ جیسے کہ حد کو نافذ کرنے کے بعد کوئی گواہ رجوع کر لے تو صرف اسی کو حد لگاتے ہیں۔ ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْإِمْضَاءَ مِنَ الْقَضَاءِ“ کہ حد کو نافذ کرنا بھی یہ قضا میں سے ہے۔ جی۔ حد کو نافذ کرنا بھی یہ قضائے قاضی کا حصہ ہے، تو جب تک نافذ نہیں یوں سمجھو گویا ابھی قاضی نے فیصلہ ہی نہیں کیا۔ تو شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ حد کا نافذ کرنا یہ بھی قضا کا حصہ ہے، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے ان گواہوں میں سے ایک نے رجوع کر لیا قضا سے پہلے ہی، اور قضا سے پہلے رجوع کرنے کی صورت میں تو بالاتفاق سب پر حد آتی ہے، تو یہاں پر بھی نافذ کرنے سے پہلے اگر رجوع کر لیا ہے تو سب پر حد آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا إِذَا رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ جیسے کہ ان گواہوں میں سے کوئی ایک رجوع کر لے قاضی کے فیصلے سے پہلے، ”وَلِهٰذَا سَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ“ اور اسی لیے حد جو ہے مشہود علیہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ شیخین رحمہما اللہ جواب دے رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کو۔ امام محمد رحمہ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ کہ قاضی جب فیصلہ کر دے، ابھی نافذ تو نہیں کیا، لیکن فیصلہ تو کر دیا ہے، لہٰذا اب جب رجوع کوئی کرے گا تو صرف اسی کو حد لگائیں گے، باقیوں کو حد نہیں لگائیں گے، تو شیخین فرماتے ہیں کہ حدود کے مسئلے میں حد کا نافذ کرنا بھی قضا کا حصہ ہے۔ اسی لیے تو جب قاضی فیصلہ کر دے کہ اس آدمی کو رجم کیا جائے یا اس کو سو کوڑے لگائے جائیں، لیکن ابھی نافذ نہیں کی، اس سے پہلے گواہوں میں سے ایک بھی رجوع کر لے تو حد ساقط ہو جاتی ہے۔ حالانکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قاضی جب ایک مسئلے میں فیصلہ کر دے، گواہ بے شک رجوع کر لیں قاضی کا فیصلہ نہیں ٹوٹے گا۔ ہاں، اگر نقصان کسی کا ہوا ہے وہ نقصان اب وہ رجوع کرنے والے کو بھرنا پڑے گا، اس پر ضمان آ جائے گا۔ تو شیخین فرماتے ہیں قاضی کے فیصلے کے بعد حد کے نافذ کرنے سے پہلے اگر کوئی گواہ رجوع کر لے تو حد ہی ساقط ہو جاتی ہے، معلوم ہوا ابھی قاضی کا فیصلہ پورا ہوا ہی نہیں، اگر قاضی کا فیصلہ پورا ہو چکا تھا تو پھر ایک دفعہ حد کا فیصلہ ہونے کے بعد اب اس فیصلے کو ختم نہیں کیا جا سکتا، لیکن حد ساقط ہو رہی ہے، قاضی کا فیصلہ ختم ہو رہا ہے، معلوم ہوا حدود کے مسئلے میں حد کا نافذ کرنا بھی یہ قضا کا حصہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِهٰذَا سَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ“ اور اسی لیے حد جو ہے مشہود علیہ سے ساقط ہو جاتی ہے اگر قضائے قاضی کے بعد بھی کوئی رجوع کرے امضا سے پہلے۔ ”وَلَوْ رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ الْقَضَاءِ حُدُّوا جَمِيعًا“ اور اگر قضا سے پہلے ان میں سے کوئی ایک بھی رجوع کر لے تو سب کو حد لگائی جاتی ہے۔ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ امام محمد رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں کہ جس طرح قضائے قاضی سے پہلے اگر کوئی گواہ رجوع کر لے تو سارے گواہوں کو حد لگائی جاتی ہے، تو اسی طرح نافذ کرنے سے پہلے بھی اگر کوئی رجوع کر لے گا تو اسی طرح سمجھیں گے جیسے قضائے قاضی سے پہلے اس نے رجوع کر لیا ہے، اور اس صورت میں بھی سب کو حد لگائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ رَجَعَ وَاحِدٌ مِنْهُمْ قَبْلَ الْقَضَاءِ حُدُّوا جَمِيعًا“ اور اگر قاضی کے فیصلے سے پہلے ان میں سے کوئی ایک رجوع کر لیتا تو سب کو حد لگائی جاتی، تو یہاں پر بھی سب کو حد لگائی جائے گی۔ ”وَقَالَ زُفَرُ رَحِمَهُ اللّٰهُ: يُحَدُّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً“ اور امام زفر رحمہ اللہ بھی فرماتے ہیں کہ رجوع کرنے والے کو ہی خاص طور پر حد لگائی جائے گی۔ امام زفر بھی امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں، البتہ دلیل الگ الگ ہے دونوں کی۔ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل یہ تھی کہ قاضی کے فیصلے کی وجہ سے گواہی پکی ہو گئی، لہٰذا صرف رجوع کرنے والے کو حد لگائیں گے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں صرف رجوع کرنے والے کو حد لگائی جائے گی لیکن دلیل ان کی الگ ہے۔ وہ فرماتے ہیں صرف اس ایک نے رجوع کیا ہے، لہٰذا باقیوں کے معاملے میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، اپنی ذات کے حق میں تو اس کا رجوع صحیح ہے لیکن دوسروں کے حق میں اس کا رجوع صحیح نہیں، یعنی صرف اس ایک نے رجوع کیا ہے تو اسی کو حد لگائیں گے باقیوں کو حد نہیں لگائیں گے، باقیوں کے حق میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی کہ باقیوں کو بھی جھوٹا قرار دے دیا جائے۔ اس نے رجوع کر لیا ہے تو اس کے رجوع کی وجہ سے اب باقیوں کو بھی جھوٹا قرار دے دیا جائے؟ نہیں، ایسا نہیں کیا جائے گا، صرف یہ جھوٹا ہے، باقیوں کے حق میں اس کی تصدیق نہیں کی جائے گی، لہٰذا باقیوں کی گواہی اپنی جگہ پر قائم ہے، لہٰذا صرف اس کو حد لگائی جائے گی، باقی گواہوں کو حد نہیں لگائی جائے گی بھئی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُحَدُّ الرَّاجِعُ خَاصَّةً“ کہ رجوع کرنے والے کو ہی خاص طور پر حد لگائی جائے گی، ”لِأَنَّهُ لَا يُصَدَّقُ عَلَى غَيْرِهِ“ اس لیے کیونکہ رجوع کرنے والے کی تصدیق نہیں کی جائے گی دوسروں کے خلاف۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ كَلَامَهُمْ قَذْفٌ فِي الْأَصْلِ“ کہ ان گواہوں کا کلام اصل میں قذف ہی ہے، ”وَإِنَّمَا يَصِيرُ شَهَادَةً بِاتِّصَالِ الْقَضَاءِ بِهِ“ اور قاضی کے فیصلے کے ساتھ ملنے سے ہی یہ گواہی بنے گا۔ ہم کہتے ہیں یہ جو گواہوں نے گواہی دی ہے یہ تہمت ہی ہے جب تک قاضی کا فیصلہ ان کے ساتھ نہ ملے، اور جب تک قاضی نے ابھی حد جاری نہیں کی تو قاضی کا فیصلہ ابھی پورا نہیں ہوا، لہٰذا ان سب کی گواہی ابھی گواہی نہیں بنی، جب گواہی نہیں بنی تو تہمت ہے اور تہمت کی صورت میں سب کو حد لگائی جاتی ہے۔ تو ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ ان گواہوں کا کلام تو اصل میں قذف ہی ہے، یعنی وہ زنا کی تہمت لگا رہے ہیں، ”وَإِنَّمَا يَصِيرُ شَهَادَةً بِاتِّصَالِ الْقَضَاءِ بِهِ“ اور قاضی کا فیصلہ ساتھ ملنے کی وجہ سے ہی یہ گواہی بنے گا، ”فَإِذَا لَمْ يَتَّصِلْ“ جب ان کے ساتھ قاضی کا فیصلہ نہیں ملا، یعنی ابھی قاضی کا فیصلہ پورا ہی نہیں ہوا، حد نافذ ہی نہیں ہوئی، تو جب قاضی کا فیصلہ ان کے کلام کے ساتھ نہیں ملا ”بَقِيَ قَذْفًا“ تو ان کا کلام قذف ہو کر ہی باقی رہا، ”فَيُحَدُّونَ“ تو ان سب کو حد لگائی جائے گی۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ كَانُوا خَمْسَةً فَرَجَعَ أَحَدُهُمْ فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمْ“ اس سے پہلے آپ نے مسئلہ پڑھا تھا کہ اگر چار گواہوں کی وجہ سے ایک آدمی کو رجم کر دیا گیا اور ایک نے رجوع کیا ہے تو صرف اسی ایک رجوع کرنے والے کو حد بھی لگے گی اور اس پر ضمان بھی آئے گا۔ اب صورت یہ ہے کہ گواہ جو تھے وہ پانچ یا چھ تھے، ان میں سے ایک یا دو رجوع کر لیتے ہیں، تو کیا ان کو حد لگائی جائے گی اور کیا ان پر ضمان آئے گا؟ اس آدمی کو رجم کیا جا چکا ہے۔ کہتے ہیں نہیں بھئی، اگرچہ ایک یا دو نے رجوع کر لیا لیکن ابھی بھی چار گواہ باقی ہیں، شہادت کا نصاب پورا ہے، اور جب شہادت کا نصاب پورا ہے تو لہٰذا پورا حق موجود ہے، ان کی گواہی کی وجہ سے ہی کیا تھا؟ قاضی نے فیصلہ کیا تھا، تو ابھی بھی پورا کا پورا حق موجود ہے، لہٰذا کسی پر حد نہیں۔ ہاں، اگر ایک اور آدمی بھی رجوع کر لیتا ہے تو اب شہادت کا نصاب کم ہو گیا، جب شہادت کا نصاب کم ہو گیا تو اب جتنے رجوع کرنے والے تھے ان سب کو حد لگائی جائے گی۔ مثلاً گواہی دی تھی پانچ افراد نے، پہلے ایک نے رجوع کیا تو اس کو حد نہیں لگائیں گے کیونکہ ابھی بھی پورا کا پورا حق باقی ہے، چار گواہ موجود ہیں۔ اگر ایک اور رجوع کر لیتا ہے اب شہادت کا نصاب کم ہو گیا، تو اب صرف یہ رجوع کرنے والے جو دونوں ہیں ان کو حد لگائی جائے گی، باقی تین کو نہیں، کیونکہ ان کی گواہی کے ساتھ قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانُوا خَمْسَةً“ اور اگر وہ گواہ پانچ تھے ”فَرَجَعَ أَحَدُهُمْ“ تو ان میں سے ایک نے رجوع کر لیا، یعنی رجم کے بعد، ”فَلَا شَيْءَ عَلَيْهِمْ“ تو ان پر کچھ بھی نہیں، باقیوں پر کچھ بھی نہیں آئے گا، ”لِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ كُلُّ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ افراد جن کی شہادت کی وجہ سے سارا حق باقی ہے، وہ افراد ابھی بھی باقی ہیں جن کی شہادت کی وجہ سے سارا حق باقی ہے یعنی ابھی بھی چار گواہ موجود ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ كُلُّ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ افراد کہ باقی ہے جن کی شہادت کی وجہ سے سارا حق، ”وَهُوَ شَهَادَةُ الْأَرْبَعِ“ اور وہ چار افراد کی گواہی ہے کہ اس کی وجہ سے حق باقی ہے۔ ”فَإِنْ رَجَعَ آخَرُ“ اور اگر ایک اور نے بھی رجوع کر لیا ”حُدَّا“ تو اب ان دونوں کو حد لگائی جائے گی۔ ایک نے تو پہلے رجوع کیا تھا اس پر حد نہیں کیونکہ ابھی بھی شہادت کا نصاب پورا ہے، لیکن اگر ایک اور رجوع کر لیتا ہے اب شہادت کا نصاب کم ہو گیا، تو لہٰذا اب ان دونوں کو حد لگائی جائے گی۔ تو یہ معنی ہے: ”فَإِنْ رَجَعَ آخَرُ حُدَّا“ اگر ایک اور نے رجوع کر لیا تو اب ان دونوں کو حد لگائی جائے گی ”وَغَرِمَا رُبْعَ الدِّيَةِ“ اور یہ دونوں ضامن ہوں گے ربع دیت کے۔ یہ دونوں ضامن ہوں گے ربع دیت کے، بھئی ربع دیت کیوں؟ ایک پر ربع دیت آنی چاہیے تھی، آپ دونوں پر ملا کر ربع دیت واجب کر رہے ہیں؟ کہتے ہیں بھئی ابھی بھی تین گواہ موجود ہیں، حد کے لیے کتنے گواہ چاہیے تھے؟ چار، اور گواہ کل کتنے تھے؟ پانچ۔ تو پانچ میں سے دو نے رجوع کیا ہے، تین گواہ تو ابھی بھی باقی ہیں، تو جو باقی ہیں ان کا اعتبار ہے، تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے۔ تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے تو جو باقی رہ گئے ان کا اعتبار ہے رجوع کرنے والوں کا اعتبار نہیں، تو تین چوتھائی حق ابھی بھی باقی ہے، صرف ایک چوتھائی حق کم ہو گیا، تو وہ ایک چوتھائی حق دونوں رجوع کرنے والوں پر آ جائے گا، وہ دونوں کو مل کر ادا کرنا ہو گا بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَغَرِمَا رُبْعَ الدِّيَةِ“ اور یہ دونوں رجوع کرنے والے ضامن ہوں گے دیت کے چوتھے حصے کے۔ ”أَمَّا الْحَدُّ فَلِمَا ذَكَرْنَا“ تو حد جو ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، ان پر حد بھی آئے گی، حد بھی آئے گی اس لیے کیونکہ ان کی شہادت قذف بن گئی۔ پیچھے بتلایا تھا نا ان کو ہم نے قاذف المیت قرار دے دیا ہے، تو یہ قاذف المیت ہو گئے کیونکہ ان کی شہادت تو قذف بن گئی اور فی الحال قذف بنی ہے جبکہ وہ آدمی مر چکا ہے، تو یہ قاذف المیت ہوئے لہٰذا ان پر حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْحَدُّ فَلِمَا ذَكَرْنَا“ تو ان پر حد آئے گی اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، ”وَأَمَّا الْغَرَامَةُ فَلِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْحَقِّ“ اور باقی غرامہ بھئی، غرامہ میں نے آپ کو بتلایا جرمانے کو کہتے ہیں، ”وَأَمَّا الْغَرَامَةُ“ اور باقی جرمانہ جو ہے یعنی ان کو دیت کا چوتھا حصہ ادا کرنا پڑے گا، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْغَرَامَةُ فَلِأَنَّهُ بَقِيَ مَنْ يَبْقَى بِشَهَادَتِهِ ثَلَاثَةُ أَرْبَاعِ الْحَقِّ“ اور باقی جرمانہ جو ہے وہ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ افراد کہ جن کی گواہی کی وجہ سے تین چوتھائی حق باقی ہے، ابھی بھی وہ افراد باقی ہیں جن کی گواہی کی وجہ سے تین چوتھائی حق باقی ہے بھئی۔ اور باقی جرمانہ جو ہے وہ اس لیے کیونکہ باقی ہیں وہ افراد کہ جن کی گواہی کی وجہ سے تین چوتھائی حق باقی ہے، ”وَالْمُعْتَبَرُ بَقَاءُ مَنْ بَقِيَ لَا رُجُوعُ مَنْ رَجَعَ“ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ بَقَاءُ مَنْ بَقِيَ لَا رُجُوعُ مَنْ رَجَعَ“ اور وہ جو معتبر ہے یعنی جس کا اعتبار کیا جاتا ہے ”بَقَاءُ مَنْ بَقِيَ“ وہ باقی رہنے والوں کا باقی رہنا معتبر ہے، رجوع کرنے والوں کا رجوع معتبر نہیں۔ جیسے میں نے ابھی بتایا، پانچ گواہ تھے، ایک نے رجوع کر لیا، تو باقی کتنے؟ چار، لہٰذا اس ایک پر نہ حد آئے گی اور نہ اس پر ضمان آئے گا کیونکہ معتبر باقی رہنے والے ہیں، رجوع کرنے والے معتبر نہیں ہیں بھئی۔ آسان لفظوں میں یوں کہو باقی رہنے والے معتبر ہیں، رجوع کرنے والے معتبر نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ بَقَاءُ مَنْ بَقِيَ“ اور معتبر جو ہے وہ باقی رہنے والوں کی بقا ہے، من بقی؟ وہ جو باقی ہیں۔ باقی رہنے والوں کی بقا، معتبر جو ہے وہ باقی رہنے والوں کی بقا ہے یعنی ان کا باقی رہنا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمُعْتَبَرُ بَقَاءُ مَنْ بَقِيَ لَا رُجُوعُ مَنْ رَجَعَ“ اور معتبر جو ہے وہ باقی رہنے والوں کا باقی رہنا ہے نہ کہ رجوع کرنے والوں کا رجوع، ”عَلَى مَا عُرِفَ“ اس وجہ سے جو جانا گیا ہے یعنی جو کتاب الشہادات کے اندر جانا گیا ہے کہ باقی رہنے والے معتبر ہیں، رجوع کرنے والے معتبر نہیں ہیں بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَزُكُّوا فَرُجِمَ فَإِذَا الشُّهُودُ مَجُوسٌ أَوْ عَبِيدٌ فَالدِّيَةُ عَلَى الْمُزَكِّينَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ بھئی گزشتہ سبق میں میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ زنا کے مسئلے کے اندر گواہ تین قسم کے ہو سکتے ہیں: کچھ ہیں شہود زنا جو قاضی کے پاس جا کر زنا کی گواہی دیتے ہیں، کچھ ہیں شہود تزکیہ، زکّٰی یزکّی تزکیہ کا معنی ہے دوسرے کو پاک بتانا یعنی پاک قرار دینا، یہاں مراد ہے عادل قرار دینا، تو یہ ہیں شہود تزکیہ جنہوں نے گواہوں کو عادل قرار دیا ہے، اور تیسری قسم کے گواہ جو ہیں وہ شہود احصان ہیں جو کسی آدمی کے محسن ہونے کی گواہی دیتے ہیں کہ یہ شادی شدہ ہے یا غیر شادی شدہ ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا شہود احصان اگر رجوع کر لیں تو پھر اس صورت میں ان پر کوئی ضمان نہیں، لیکن اگر شہود زنا یا شہود تزکیہ رجوع کر لیں تو پھر ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا“ اور اگر چار آدمیوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی ”فَزُكُّوا“ تو ان کا تزکیہ کیا گیا یعنی ان کو پاک قرار دیا گیا، قاضی نے ان کی تعدیل کروائی خفیہ خط لکھے کچھ عادل لوگوں کو اور ان کے بارے میں پتہ کروایا اور انہوں نے جواب دیا کہ یہ گواہ عادل ہیں بھئی، یہ گواہ قابل اعتماد ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَزُكُّوا“ تو ان کا تزکیہ کیا گیا ”فَرُجِمَ“ تو پھر اس شخص کو رجم کر دیا گیا ”فَإِذَا الشُّهُودُ مَجُوسٌ أَوْ عَبِيدٌ“ تو اچانک وہ گواہ جو تھے مجوسی تھے یا غلام تھے، بعد میں پتہ چلا یہ گواہ تو مجوسی ہیں یا یہ گواہ تو غلام ہیں بھئی، اور مجوسی تو کافر ہے اور کافر تو مسلمان کے خلاف نہ اہل تحمل ہے نہ اہل شہادت ہے، اسی طرح غلام بھی نہ اہل تحمل ہے اور نہ اہل شہادت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا الشُّهُودُ مَجُوسٌ أَوْ عَبِيدٌ فَالدِّيَةُ عَلَى الْمُزَكِّينَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو دیت جو ہے تزکیہ کرنے والوں پر آئے گی امام صاحب کے نزدیک۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ معلوم ہوا قاضی نے غلطی کی ہے، اور قاضی نے جو غلطی کی ہے وہ ان تزکیہ کرنے والوں کی تعدیل کی وجہ سے کی ہے، لہٰذا ضمان ان پر آئے گا۔ متن میں صرف اتنا مسئلہ ذکر ہے کہ ضمان ان تزکیہ کرنے والوں پر آئے گا، لیکن صاحب ہدایہ وضاحت فرمائیں گے کہ اصل صورت یہ ہے کہ تزکیہ کرنے والوں پر ضمان تب آئے گا جب وہ رجوع کر لیں۔ جب تزکیہ کرنے والے رجوع کر لیں، جب وہ خود اقرار کریں کہ یہ ہمیں پتہ تھا یہ مجوسی اور غلام ہیں، ہم نے پھر بھی ان کو عادل بتایا، تو پھر اس صورت میں ان پر ضمان آئے گا ورنہ ویسے ان پر ضمان نہیں ہو گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَالدِّيَةُ عَلَى الْمُزَكِّينَ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ تو دیت جو ہے وہ تزکیہ کرنے والوں پر آئے گی امام صاحب کے نزدیک، ”مَعْنَاهُ“ اس قول کا معنی یہ ہے اب صاحب ہدایہ وضاحت فرمائیں گے کہ تزکیہ کرنے والوں پر کب ضمان آئے گا؟ جب وہ رجوع کریں۔ کہتے ہیں: ”مَعْنَاهُ إِذَا رَجَعُوا عَنِ التَّزْكِيَةِ“ اس قول کا معنی یہ ہے جب تزکیہ کرنے والے تزکیہ سے رجوع کر لیں۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى: هُوَ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ ضمان بیت المال پر آئے گا۔ وہ فرماتے ہیں ضمان بیت المال پر آئے گا، شہود تزکیہ پر ضمان نہیں آ سکتا، انہوں نے تو گواہوں کی اچھی صفتیں بیان کیں، انہوں نے تو گواہوں کی اچھی صفتیں بیان کیں کہ یہ آزاد ہیں، دیکھو یہ تو اچھی صفت ہے، یہ مسلمان ہیں یہ اچھی صفت ہے، یا اسی طرح یہ عادل ہیں یہ ساری کیا ہیں؟ اچھی صفت، اور کسی کی اچھی صفت بیان کرنے پر اس پر ضمان واجب نہیں کیا جا سکتا۔ صاحبین فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے شہود احصان۔ شہود احصان جو قاضی کے پاس آ کر گواہی دیتے ہیں کہ یہ شخص محسن ہے یا محسن نہیں، اور اس کے لیے کتنی شرائط ہیں محسن کے لیے؟ احصان رجم کے لیے کتنی شرائط ہیں؟ سات شرائط ہیں آپ پڑھ چکے ہیں کہ وہ شخص جس پر زنا کا الزام ہے وہ آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اس نے نکاح صحیح کیا ہو، اور نکاح صحیح کے بعد بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور بیوی اور خاوند دونوں محسن ہوں بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں شہود احصان جب رجوع کر لیں تو پھر بالاتفاق ان پر ضمان نہیں آتا۔ امام صاحب بھی فرماتے ہیں شہود احصان اگر رجوع کر لیں گے تو ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ کیوں نہیں آئے گا ضمان؟ کیونکہ شہود احصان نے تو صرف اچھی صفتیں بیان کی ہیں، تعریف کی ہے کہ یہ آدمی آزاد ہے، یہ مسلمان ہے، اس نے نکاح صحیح کیا ہے اور بیوی سے صحبت کی ہے، اور بیوی اور خاوند دونوں محسن ہیں، یہ ساری تو وہ اچھی صفتیں بیان کر رہے ہیں۔ تو جیسے شہود احصان اچھی صفتیں بیان کرتے ہیں اور وہ رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں ہوتا، اسی طرح شہود تزکیہ جو ہیں انہوں نے بھی اچھی صفتیں ہی بیان کی تھیں گواہوں کے اندر، تو لہٰذا وہ بھی اگر رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ شہود تزکیہ بھی شہود احصان کی طرح ہیں، جیسے شہود احصان اچھی صفتیں بیان کرتے ہیں اسی طرح شہود تزکیہ نے بھی اچھی صفتیں بیان کی ہیں، اور صرف فرق اتنا ہے کہ شہود احصان نے مشہود علیہ کے اندر اچھی صفتیں بیان کی تھیں جس کے خلاف گواہی دی جا رہی تھی، اس میں اچھی صفتیں بیان کی تھیں شہود احصان نے، اور شہود تزکیہ جو ہیں انہوں نے گواہوں کے اندر اچھی صفتیں بیان کی ہیں، تو جیسے شہود احصان پر رجوع کی صورت میں ضمان نہیں آتا شہود تزکیہ پر بھی رجوع کی صورت میں ضمان نہیں آئے گا، یہ صاحبین فرماتے ہیں، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ نہیں، شہود تزکیہ اگر رجوع کریں گے تو ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَهُمَا اللّٰهُ تَعَالَى: هُوَ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ ضمان جو ہے وہ بیت المال پر آئے گا، بیت المال پر آئے گا یعنی شہود تزکیہ پر ضمان نہیں آئے گا بلکہ بیت المال پر ضمان آئے گا، شہود تزکیہ نے تو اچھی صفتیں بیان کی ہیں۔ ”وَقِيلَ: هٰذَا إِذَا قَالُوا تَعَمَّدْنَا التَّزْكِيَةَ مَعَ عِلْمِنَا بِحَالِهِمْ“ اور کہا گیا ہے یہاں سے صاحب ہدایہ محل اختلاف بیان کر رہے ہیں کہ یہ جو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے کہ شہود تزکیہ پر ضمان آئے گا یا نہیں آئے گا؟ یہ اس وقت ہے جب شہود تزکیہ رجوع کریں اور خود کہیں کہ ہمیں ان گواہوں کا پتہ تھا کہ یہ غلام ہیں یا مجوسی ہیں، پھر بھی ہم نے جان بوجھ کر تزکیہ کیا تھا، علم کے باوجود ہم نے جان بوجھ کر تزکیہ کیا تھا، اس صورت میں ہے صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف، جبکہ اگر شہود تزکیہ کہیں ہم سے غلطی ہو گئی تو پھر بالاتفاق ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ شہود تزکیہ کیا کہتے ہیں؟ ہم سے غلطی ہو گئی، یعنی ہم تو سمجھے تھے فلاں آدمی ہے اس لیے ہم نے عادل کہہ دیا، یہ تو کوئی اور آدمی تھے، تو اس صورت میں یاد رکھو بالاتفاق شہود تزکیہ پر ضمان نہیں۔ تو امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف کس صورت میں ہے؟ جب شہود تزکیہ رجوع کر لیں اور بتائیں کہ ہمیں علم تھا کہ یہ غلام یا مجوسی ہیں، ہم نے پھر بھی ان کا تزکیہ کیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَقِيلَ: هٰذَا إِذَا قَالُوا“ اور کہا گیا ہے کہ یہ اختلاف اس وقت ہے جب وہ شہود تزکیہ نے کہا ”تَعَمَّدْنَا التَّزْكِيَةَ مَعَ عِلْمِنَا بِحَالِهِمْ“ کہ ہم نے جان بوجھ کر تزکیہ کیا باوجود اس کے کہ ہمیں ان گواہوں کی حالت کا علم تھا۔ ”لَهُمَا“ اب صاحبین کی دلیل آ گئی، ”لَهُمَا“ صاحبین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُمْ أَثْنَوْا عَلَى الشُّهُودِ خَيْرًا“ کہ شہود تزکیہ جو ہیں انہوں نے گواہوں پر تعریف کی ہے خیر کی، اثنٰی یثنی اثناء کا معنی تعریف کرنا، ”أَنَّهُمْ أَثْنَوْا عَلَى الشُّهُودِ خَيْرًا“ کہ یہ شہود تزکیہ جو ہیں انہوں نے تو شہود زنا پر خیر کی تعریف کی ہے، انہوں نے شہود زنا کی تعریف کی ہے کہ یہ عادل ہیں، مسلمان ہیں، آزاد ہیں، یہ تو انہوں نے تعریف کی ہے، تو شہود تزکیہ نے شہود زنا پر خیر کی تعریف کی ہے، ”فَصَارَ كَمَا إِذَا أَثْنَوْا عَلَى الْمَشْهُودِ عَلَيْهِ خَيْرًا“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے انہوں نے تعریف کی ہو مشہود علیہ پر خیر کی، مشہود علیہ کی تعریف کی ہو خیر کے ساتھ، ”بِأَنْ شَهِدُوا عَلَى إِحْصَانِهِ“ بایں صورت کہ انہوں نے اس کے محسن ہونے پر گواہی دی ہو۔ تو یہ تزکیہ کرنے والوں نے گواہوں کی تعریف کی ہے، یہ اسی طرح ہے جیسے یہ مشہود علیہ کی تعریف کریں یعنی شہادت احصان دیں بھئی، یعنی محسن ہونے پر گواہی دیں بھئی۔ ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشَّهَادَةَ إِنَّمَا تَصِيرُ حُجَّةً عَامِلَةً بِالتَّزْكِيَةِ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ شہود تزکیہ پر ضمان آئے گا، وجہ یہ کہ یہ جو قاضی نے شہود زنا کی گواہی قبول کی وہ شہود تزکیہ کی وجہ سے، اگر وہ تزکیہ نہ کرتے تو قاضی ان شہود زنا کی گواہی بھی قبول نہ کرتا، تو شہود زنا وہ ہیں علت قاضی کے حکم کی، کوئی گواہ زنا کی گواہی آ کر دیتا ہے تو پھر قاضی فیصلہ کرتا ہے حد کا، تو شہود زنا جو قاضی کے سامنے گواہی دے رہے ہیں یہ ہیں قاضی کے فیصلے کی علت، اور تزکیہ کرنے والوں کے تزکیے کی وجہ سے ان کی گواہی کو قاضی نے قبول کیا ہے تو گویا وہ علۃ العلہ کے درجے میں ہیں۔ شہود تزکیہ علۃ العلہ کے درجے میں ہیں، ان کا تزکیہ ہو گا تو قاضی شہود زنا کی گواہی قبول کرے گا، ان کا تزکیہ نہیں تو قاضی شہود زنا کی گواہی بھی قبول نہیں کرے گا، تو معلوم ہوا شہود تزکیہ کی گواہی جو ہے وہ علۃ العلہ کے درجے میں ہے یعنی وہ علت کی علت ہے بھئی۔ تو ”وَلَهُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الشَّهَادَةَ إِنَّمَا تَصِيرُ حُجَّةً عَامِلَةً بِالتَّزْكِيَةِ“ کہ گواہی جو ہے وہ ایسی حجت بن جاتی ہے جو عمل کرنے والی ہو تزکیہ کی وجہ سے۔ گواہی حجت بن جاتی ہے اور عمل دکھاتی ہے اپنا وہ تزکیہ کی وجہ سے۔ تو وہ امام صاحب فرماتے ہیں: ”أَنَّ الشَّهَادَةَ إِنَّمَا تَصِيرُ حُجَّةً عَامِلَةً بِالتَّزْكِيَةِ“ کہ گواہی جو ہے وہ حجت عاملہ بن جاتی ہے تزکیہ کی وجہ سے، ”فَكَانَتِ التَّزْكِيَةُ فِي مَعْنَى عِلَّةِ الْعِلَّةِ“ تو تزکیہ جو ہے وہ علۃ العلہ کے معنی میں ہے، ”فَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهَا“ تو حکم کی نسبت اس کی طرف کی جائے گی یعنی اس رجم کی نسبت شہود تزکیہ کی طرف کی جائے گی کہ ان کے تزکیے کی وجہ سے اس کو رجم کیا گیا۔ تو لہٰذا اس حکم کی نسبت تزکیہ کی طرف کی جائے گی، ”بِخِلَافِ شُهُودِ الْإِحْصَانِ“ بخلاف شہود احصان کے، ”لِأَنَّهُ مَحْضُ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ وہ تو محض شرط ہے۔ صاحبین نے شہود تزکیہ کو قیاس کیا تھا شہود احصان پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں صاحب ہدایہ امام صاحب کی طرف سے کہ آپ شہود تزکیہ کو شہود احصان پر قیاس نہیں کر سکتے، شہود تزکیہ تو علۃ العلہ کے درجے میں ہیں لیکن شہود احصان تو علۃ العلہ کے درجے میں نہیں، شہود احصان کی وجہ سے کوئی اس پر حد زنا جاری نہیں کی گئی بلکہ حد زنا تو اس کے زنا کی وجہ سے جاری کی گئی ہے، تو شہود احصان وہ صرف شرط کے درجے میں ہیں، وہ صرف شرط کے درجے میں ہیں یعنی جیسے شرط سے ایک شے کی معرفت ہوتی ہے، اس کی پہچان ہو جاتی ہے، جیسے خاوند نے بیوی سے کہا کہ اگر تو اس گھر میں گئی تو تجھے طلاق ہے، تو بیوی اس گھر میں جائے گی تو طلاق ہو جائے گی، تو دیکھو اس گھر میں جانا یہ کیا تھا؟ شرط، اور جب اس گھر میں گئی تو اس شرط نے پہچان کروا دی کہ طلاق ہو گئی، اس شرط نے کیا کیا؟ پہچان کروا دی، صرف اس گھر میں جانے کی وجہ سے طلاق نہیں ہوئی، طلاق تو خاوند کے ”أَنْتِ طَالِقٌ إِنْ دَخَلْتِ الدَّارَ“ کی وجہ سے ہوئی ہے لیکن شرط نے صرف پہچان کروائی ہے کہ وہ طلاق اب ہو گئی ہے، تو شرط تو صرف پہچان کرواتی ہے، اور محسن ہونا یہ بھی پہچان کرواتا ہے کہ اس آدمی کو کون سی حد زنا لگائی جائے، اس کو رجم کیا جائے یا اس کو کوڑے لگائے جائیں؟ تو معلوم ہوا شہادت احصان جو ہے وہ علۃ العلہ کے درجے میں نہیں ہے بلکہ وہ صرف شرط کے درجے میں ہے، لہٰذا اگر شہود احصان رجوع کر لیں تو ان پر ضمان نہیں آ سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ شُهُودِ الْإِحْصَانِ“ بخلاف محسن ہونے کے جو گواہ ہیں ”لِأَنَّهُ مَحْضُ الشَّرْطِ“ اس لیے کیونکہ محسن ہونا یہ تو صرف شرط ہے۔ ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِذَا شَهِدُوا بِلَفْظَةِ الشَّهَادَةِ أَوْ أَخْبَرُوا“ بھئی وہ شہود تزکیہ جو ہیں، وہ چاہے شہادت کا لفظ ذکر کریں، چاہے خبر دینے کا۔ بھئی دیکھو جب گواہ گواہی دینے کے لیے قاضی کے پاس آتا ہے، تو وہ یہ نہیں کہتا کہ مجھے اس بات کا پتہ ہے، بلکہ وہ کہتا ہے میں گواہی دیتا ہوں۔ تو گواہی کا لفظ ذکر کرنا ضروری ہوتا ہے شہادت کے اندر۔ تو یہ جو شہود تزکیہ ہیں، کیا ان کی شہادت کے اندر بھی شہادت کا لفظ ہوگا تو پھر ہی ان پر ضمان آئے گا یا جس طرح بھی وہ خبر دے دیں؟ کہتے ہیں نہیں، ان کی شہادت کے اندر شہادت کا لفظ ہونا ضروری نہیں۔ چاہے یہ لفظ ذکر کر دیں کہ میں شہادت دیتا ہوں، چاہے یہ لفظ ذکر کر دیں کہ میں خبر دیتا ہوں، دونوں صورتوں میں ایک ہی حکم ہے۔ جب یہ رجوع کر لیں گے، تو ان پر ضمان آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِذَا شَهِدُوا بِلَفْظَةِ الشَّهَادَةِ أَوْ أَخْبَرُوا“ اور کوئی فرق نہیں ہے کہ جب یہ شہادت کے لفظ کے ساتھ گواہی دیں یا یہ خبر دیں۔ ”وَهَذَا إِذَا أَخْبَرُوا بِالْحُرِّيَّةِ وَالْإِسْلَامِ“ اچھا بھئی! یاد رکھو، یہ جو امام صاحب کے نزدیک شہود تزکیہ پر ضمان آئے گا، یہ اس وقت آئے گا جب شہود تزکیہ نے بتلایا تھا کہ یہ گواہ جو ہیں آزاد ہیں، یہ گواہ مسلمان ہیں اور بعد میں پتہ چلا یہ مسلمان نہیں یا یہ آزاد نہیں۔ پھر اس صورت میں ان پر ضمان آئے گا۔ اور اگر شہود تزکیہ نے صرف اتنا لکھا تھا کہ یہ عادل ہیں، اور وہ گواہ غلام ظاہر ہوئے، تو پھر وہ رجوع بھی کر لیں پھر بھی ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ بھئی کیوں؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ انہوں نے صرف اتنا لکھا ہے عادل ہے، اور عادل کسے کہتے ہیں؟ جو دین پر چلنے والا ہے، جو سچ بولنے والا ہے، اور یہ تو غلام بھی ایسا ہو سکتا ہے کہ دین پر چلنے والا ہو اور سچ بولنے والا ہو بھئی۔ تو لہٰذا اس صورت میں پھر ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهَذَا“ اور یہ جو ضمان واجب ہوگا امام صاحب کے نزدیک یہ اس وقت ہے ”إِذَا أَخْبَرُوا بِالْحُرِّيَّةِ وَالْإِسْلَامِ“ جب شہود تزکیہ جو ہیں آزادی اور اسلام کی خبر دیں۔ ”أَمَّا إِذَا قَالُوا“ اور باقی جب شہود تزکیہ نے یہ کہا ”إِنَّهُمْ عُدُولٌ“ کہ یہ عادل ہیں ”وَظَهَرُوا عَبِيدًا“ اور وہ غلام ظاہر ہوئے ”فَلَا يَضْمَنُونَ“ تو پھر یہ ضامن نہیں ہوں گے ”لِأَنَّ الْعَبْدَ قَدْ يَكُونُ عَدْلًا“ اس لیے کیونکہ غلام بھی کبھی کبھار عادل ہوتا ہے۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا ضَمَانَ عَلَى الشُّهُودِ“ بھئی یہ جو شہود زنا تھے، جنہوں نے گواہی دی تھی زنا کی، ان پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ بھئی شہود تزکیہ نے تو رجوع کر لیا، تو یہ جو شہود زنا تھے، جو غلام تھے یا مجوسی تھے، ان پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ کہتے ہیں نہیں، ان پر ضمان نہیں آئے گا۔ اس لیے کیونکہ ان کا کلام شہادت ہی نہیں۔ جب ان کا کلام شہادت ہی نہیں، تو لہٰذا ان پر ضمان بھی نہیں۔ ہاں انہوں نے شہادت دی ہوتی، تو پھر ان پر ضمان بھی آنا تھا۔ انہوں نے شہادت دی ہوتی تو ان پر ضمان آنا تھا، لیکن ان کا کلام تو شہادت نہیں ہے۔ انہوں نے بے شک شہادت دی ہے لیکن وہ حقیقت میں شہادت نہیں، کیونکہ ان میں ادا کی اہلیت ہی نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا ضَمَانَ عَلَى الشُّهُودِ“ اور شہود زنا پر ضمان نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ لَمْ يَقَعْ كَلَامُهُمْ شَهَادَةً“ اس لیے کیونکہ ان شہود زنا کا کلام جو ہے وہ شہادت ہو کر واقع نہیں ہوا، ان میں تو شہادت کی اہلیت ہی نہیں۔ لہٰذا ان کا کلام بھی شہادت نہیں۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ آپ کہہ رہے ہیں کہ ان کا کلام شہادت نہیں، حالانکہ اس کے ساتھ قضائے قاضی مل چکی ہے، اور آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ گواہ کی گواہی کے ساتھ جب قضائے قاضی مل جائے تو پھر وہ شہادت ہوتی ہے، اور آپ یہاں فرما رہے ہیں کہ ان کا کلام شہادت ہی نہیں ہے۔ تو جواب یاد رکھنا کہ ان کا کلام شہادت نہیں ہے اس لیے کیونکہ کہتے ہیں یقینی طور پر پتہ چل گیا کہ قاضی سے غلطی ہوئی ہے۔ قاضی نے جو ان کی گواہی قبول کی ہے وہ یقینی طور پر قاضی سے غلطی ہوئی ہے۔ جب قاضی سے یقینی طور پر غلطی ہوئی ہے تو قاضی کا فیصلہ کالعدم ہوا، گویا قاضی کا فیصلہ یہاں ہے ہی نہیں، اور جب قاضی کا فیصلہ ہے ہی نہیں تو ان کا کلام بھی شہادت نہیں بنا۔ توجہ ہے؟ اگر قاضی کا فیصلہ ہوتا تو پھر ان کا کلام شہادت بن جاتا، لیکن قاضی کے فیصلے کا تو یہاں اعتبار ہی نہیں ہے، یوں سمجھو قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں، اور جب قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں تو ان کا کلام بھی شہادت نہ بنا۔ یہ معنی ہے کہ گواہوں پر ضمان نہیں آئے گا: ”لِأَنَّهُ لَمْ يَقَعْ كَلَامُهُمْ شَهَادَةً“ اس لیے کیونکہ ان گواہوں کا کلام جو ہے وہ شہادت ہو کر واقع نہیں ہوا ”وَلَا يُحَدُّونَ حَدَّ الْقَذْفِ“ اور ان گواہوں کو حد قذف بھی نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُمْ قَذَفُوا حَيًّا“ اس لیے کیونکہ انہوں نے تہمت لگائی تھی زندہ آدمی پر ”وَقَدْ مَاتَ“ اور تحقیق وہ تو مر چکا ہے، اسے تو رجم کر دیا گیا ”فَلَا يُورَثُ عَنْهُ“ تو لہٰذا یہ قذف جو ہے اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی اس کی طرف سے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حد قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی، تو انہوں نے زندہ آدمی پر تہمت لگائی تھی، زندہ آدمی پر تہمت لگائی تھی اور وہ آدمی تو مر چکا ہے، اور اب ان پر حد قذف جاری نہیں کی جا سکتی۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ وہ آدمی رجم کر دیا گیا اور رجم کرنے کے بعد اب پتہ چلا کہ ان کی گواہی صحیح نہیں تھی، شہود تزکیہ نے رجوع کر لیا ہے، تو آپ نے ان کو قاذف حی قرار دیا، زندہ پر تہمت لگانے والا، حالانکہ یہ تو قاذف میت ہے، جیسے پچھلے مسئلے میں آپ نے ہمیں بتلایا تھا کہ چار آدمیوں کی گواہی کی وجہ سے ایک آدمی کو رجم کر دیا گیا اور پھر ایک آدمی نے رجوع کر لیا، تو پھر یہ قاذف میت ہے، اور جب قاذف میت ہے تو اس پر حد قذف جاری ہوگی۔ اور یہاں پر آپ کہہ رہے ہیں کہ یہ قاذف حی ہے، یعنی زندہ پر تہمت لگانے والا ہے، اور وہ آدمی تو مر چکا ہے اور جب مقذوف مر جائے تو حد قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی۔ تو آپ اس کو قاذف میت کیوں نہیں قرار دیتے؟ توجہ ہے؟ جب مقذوف کے مرنے کے بعد گواہ رجوع کرتے تھے تو ان کو قاذف میت آپ قرار دیتے تھے، اور یہاں اس کو قاذف حی قرار دے رہے ہیں، اس کو بھی قاذف میت قرار دینا چاہیے۔ تو اس کا جواب یاد رکھنا کہ گواہ کو ہم قاذف میت اس وقت قرار دیتے تھے جب گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر لیتا تھا، اور یہاں تو ان کی گواہی ہی نہیں ہے، ابھی میں نے آپ کو بتلایا کہ ان کی گواہی جو ہے وہ گواہی ہی نہیں ہے، کیونکہ قاضی کا فیصلہ غلط تھا، قاضی کے فیصلے کا کوئی اعتبار نہیں۔ جب قاضی کے فیصلے کا کوئی اعتبار نہیں، تو اس قاضی کے فیصلے سے ہی تو ان کے کلام نے گواہی بننا تھا، تو ان کا کلام بھی گواہی نہیں، تو جب گواہ گواہی کے بعد رجوع کرتا ہے، توجہ ہے؟ جب گواہ گواہی کے بعد رجوع کرتا ہے، تو وہ جو اس نے شروع کے اندر گواہی دی تھی، وہی گواہی پلٹ کر تہمت بن جاتی ہے، قذف بن جاتی ہے۔ لیکن یہاں پر یہ جو مجوسی یا غلام ہیں ان کا کلام تو شہادت بنا ہی نہیں، ان کا کلام تو شہادت بنا ہی نہیں، لہٰذا وہ جو ان کا کلام تھا اس کی وجہ سے ان کو قاذف میت بھی نہیں قرار دیا جا سکتا، کیونکہ وہ شہادت نہیں تھی، اسی شہادت نے پلٹ کر قذف بننا تھا۔ وہ جو زندگی میں انہوں نے گواہی دی تھی اسی نے پلٹ کر قذف بننا تھا، لیکن وہ تو شہادت ہی نہیں، جب وہ شہادت ہی نہیں تو وہ پلٹ کر قذف بھی نہیں بنے گی بھئی۔ گواہ کو قاذف میت تب قرار دیا جاتا ہے جب وہ اپنی گواہی سے رجوع کر لیتا ہے، اور یہ جو مجوسی ہیں یا غلام ہیں، انہوں نے تو اپنی گواہی سے رجوع نہیں کیا، یہ تو صرف وہ جو تزکیہ کرنے والے گواہ ہیں انہوں نے رجوع کیا ہے۔ تو لہٰذا گواہ جب اپنی گواہی سے رجوع کر لیتا ہے تو اس کو قاذف میت قرار دیا جاتا ہے، لیکن یہاں پر تو ان گواہوں نے رجوع نہیں کیا، لہٰذا ان کو قاذف میت بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا وجہ ہے گواہ رجوع کر لے تو آپ اس کو قاذف میت قرار دیتے ہیں، اور اگر وہ رجوع نہیں کرتا، ویسے پتہ چل جائے کہ غلام ہے یا مجوسی ہے تو آپ اسے قاذف میت قرار نہیں دیتے، یہ فرق کیوں کرتے ہیں آپ؟ اشکال سمجھ میں آ رہا ہے کہ یہ دونوں میں آپ فرق کیوں کرتے ہیں؟ تو جواب یاد رکھنا کہ وجہ یہ ہے کہ جب گواہ رجوع کرتا ہے، تو وہ جو اس نے شروع کے اندر گواہی دی تھی وہی گواہی پلٹ کر قذف بن جاتی ہے، وہ زنا کا الزام بن جاتی ہے، گواہی رہتی ہی نہیں ہے۔ تو گواہ جب بھی رجوع کرتا ہے تو وہ جو اس نے ماضی کے اندر گواہی دی تھی اس مسئلے میں، وہی گواہی پلٹ کر زنا کا الزام یعنی قذف بن گئی۔ جبکہ یہ جو غلام اور مجوسی ہیں، ان کی تو گواہی گواہی ہی نہیں تھی ہم نے آپ کو بتلا دیا، تو وہ پلٹ کر قذف کیسے بنے گی بھئی؟ ان کی گواہی تو گواہی ہی نہیں تھی، کیونکہ قاضی نے یقینی طور پر غلط فیصلہ کیا ہے، تو قاضی کا فیصلہ کالعدم ہے، اس کا کوئی اعتبار ہی نہیں، جب قاضی کا فیصلہ ہی کالعدم ہے تو قاضی کے فیصلے سے ہی تو ان کی گواہی گواہی بن رہی تھی، تو ان کی گواہی بھی گواہی نہیں، وہ ان کا کلام ہی تھا صرف، گواہی نہیں تھی۔ جب صرف کلام تھا وہ تو انہوں نے زندہ آدمی پر زنا کی تہمت لگائی تھی، اور وہ زندہ آدمی تو مر چکا ہے، اس کو تو رجم کر دیا گیا ہے، لہٰذا ان پر حد قذف بھی ثابت نہیں ہوگی۔ بات سمجھ میں آئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَلَا ضَمَانَ عَلَى الشُّهُودِ“ اور گواہوں پر ضمان نہیں ہوگا ”لِأَنَّهُ لَمْ يَقَعْ كَلَامُهُمْ شَهَادَةً“ اس لیے کیونکہ ان کا کلام شہادت ہو کر واقع نہیں ہوا ”وَلَا يُحَدُّونَ حَدَّ الْقَذْفِ“ اور ان کو حد قذف بھی نہیں لگائی جائے گی ”لِأَنَّهُمْ قَذَفُوا حَيًّا وَقَدْ مَاتَ“ اس لیے کیونکہ انہوں نے ایک زندہ آدمی پر تہمت لگائی تھی اور تحقیق وہ مر چکا ہے ”فَلَا يُورَثُ عَنْهُ“ لہٰذا یہ حد قذف اس سے موروث نہیں ہوگا، یعنی اس میں وراثت جاری نہیں ہوگی۔ حاصل کلام پھر سمجھ لیں یہ مشکل مقام تھا۔ بھئی دیکھو، شہود تزکیہ نے رجوع کر لیا ہے، تو شہود تزکیہ پر تو ضمان آئے گا۔ تو یہ جو غلام یا مجوسی تھے، کیا ان پر ضمان نہیں آئے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ نہیں، ان پر ضمان نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ ان کا کلام شہادت ہی نہیں بنا۔ اگر ان کا کلام شہادت ہوتا تو پھر ہی ان پر ضمان آنا تھا، لیکن ان کا تو ویسے ہی کلام تھا، شہادت نہیں تھی۔ بھئی کیوں شہادت نہیں تھی؟ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ شہادت کے ساتھ جب قاضی کا فیصلہ مل جاتا ہے تو وہ شہادت پکی ہو جاتی ہے، مضبوط ہو جاتی ہے، تو یہ جو غلام یا مجوسی گواہ تھے، ان کی گواہی کے ساتھ بھی قاضی کا فیصلہ مل چکا ہے، تو ان کی شہادت مضبوط ہو چکی ہے، اور آپ ہمیں کہہ رہے ہیں کہ ان کا کلام شہادت ہی نہیں، تو اس کا بھی جواب میں نے ذکر کیا کہ یہاں پر یہ جو غلام اور مجوسی ہیں یہ تو اہلِ شہادت ہی نہیں ہیں، جب یہ اہلِ شہادت نہیں ہیں تو معلوم ہوا قاضی کا فیصلہ یقینی طور پر غلط تھا، جب قاضی کا فیصلہ یقینی طور پر غلط ہے تو یوں سمجھو گویا قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں، جب قاضی کا فیصلہ ہوا ہی نہیں تو پھر ان کا کلام بھی شہادت نہیں بنا۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ ان پر حد قذف بھی جاری نہیں ہوگی کیونکہ انہوں نے ایک زندہ آدمی پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور اس وقت وہ مر چکا ہے، اور حد قذف کے اندر وراثت جاری نہیں ہوتی۔ اس پر پھر اشکال ہوا کہ آپ نے ان کو قاذف الحی قرار دیا، آپ نے اس کو قاذف المیت کیوں نہیں قرار دیا؟ قاذف المیت کیوں نہیں قرار دیا؟ جیسے پچھلے مسئلے کے اندر آپ نے ہمیں بتلایا تھا کہ رجم کے بعد اگر کوئی گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر لے تو وہ قاذف میت ہوتا ہے اور اس پر حد جاری کی جاتی ہے، تو اس کا جواب میں نے بتلایا کہ قاذف میت اس وقت ہم قرار دیتے ہیں جب گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر لے، اور یہ جو غلام اور مجوسی ہیں انہوں نے تو اپنی گواہی سے رجوع نہیں کیا، یہ تو صرف مزکی جو ہیں، جو تزکیہ کرنے والے ہیں انہوں نے رجوع کیا ہے بھئی، انہوں نے تو اپنی گواہی سے رجوع نہیں کیا۔ اس پر پھر اشکال ہوا کہ کیا وجہ ہے کہ گواہ اگر اپنی گواہی سے رجوع کر لے تو پھر آپ اسے قاذف میت قرار دیتے ہیں، اور اگر گواہ کے بارے میں پتہ چل جائے کہ وہ غلام ہے یا مجوسی ہے تو پھر آپ اس کو قاذف میت قرار نہیں دیتے، اس کی کیا وجہ ہے؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ جب گواہ گواہی سے رجوع کرتا ہے تو وہ جو اس نے ماضی کے اندر شہادت دی تھی، وہی شہادت قذف بن جاتی ہے، وہی شہادت قذف بن جاتی ہے، اور غلام اور مجوسی جو ہیں انہوں نے جو شہادت دی تھی ہم نے بتا دیا وہ تو شہادت ہی نہیں ہے، تو وہ پلٹ کر قذف بھی نہیں بنے گی۔ بات سمجھ میں آگئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَأَمَرَ الْقَاضِي بِرَجْمِهِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ چار گواہوں نے گواہی دے دی ایک آدمی کے خلاف زنا پر، اور قاضی نے اس کے رجم کا فیصلہ کر دیا۔ یاد رکھو جب قاضی کسی کے رجم کا فیصلہ کر دے یا کسی کے قتل کا فیصلہ کر دے کہ اس کو قتل کر دیا جائے یا اس کو رجم کر دیا جائے، تو وہ شخص مباح الدم بن جاتا ہے۔ یاد رکھو مملکتِ اسلامیہ کے اندر چاہے مسلمان ہے چاہے غیر مسلم ہے سب محفوظ الدم ہیں۔ مملکتِ اسلامیہ سب کے جان و مال کی حفاظت کرتی ہے، تو مملکتِ اسلامیہ میں مسلمان بھی محفوظ الدم اور ذمی بھی محفوظ الدم، کوئی اگر ان کو قتل کرے گا تو اسے بھی قتل کیا جائے گا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو لیکن یہاں پر جب قاضی کسی کے بارے میں فیصلہ کر دے کہ اس کو رجم کیا جائے گا یا اس کو قتل کیا جائے گا تو یہ شخص محفوظ الدم نہ رہا، بلکہ یہ مباح الدم ہوا، اس کا خون مباح ہو گیا، اس کا خون حلال ہو گیا۔ اب اگر اس کو کوئی قتل کر دے یا کوئی اس کا ہاتھ پاؤں کاٹ دے تو پھر اس شخص پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ عام آدمی کو تو کوئی قتل کر دے تو پھر وہاں یا قصاص آتا ہے یا دیت آتی ہے، لیکن یہ جو شخص جس کے بارے میں قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے یا رجم کر دیا جائے، یہ مباح الدم ہو چکا ہے، اس کا خون حلال ہو چکا ہے، کوئی اگر اس کو قتل کر دے یا اس کا ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دے تو اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آگئی؟ اب صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک آدمی کے خلاف چار آدمیوں نے زنا کی گواہی دے دی، قاضی نے اسے رجم کرنے کا فیصلہ کر دیا۔ جب قاضی نے فیصلہ کر دیا یہ شخص اب مباح الدم ہو گیا، اس کا خون حلال ہو گیا۔ اس کے بعد ابھی اس کو رجم نہیں کیا تھا کہ اس سے پہلے ہی ایک شخص نے اس کو قتل کر دیا، تو پھر اس آدمی پر کوئی ضمان نہیں آتا، لیکن بعد میں پتہ چلا کہ یہ جو گواہ تھے یہ تو غلام تھے۔ یہ گواہ تو غلام تھے، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر قاتل پر دیت واجب ہوگی۔ اس صورت میں قاتل پر دیت واجب ہوگی، کیونکہ اتنا پتہ چل گیا کہ اس شخص کو بلاوجہ ہی قتل کیا گیا ہے بھئی۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا اس آدمی پر قصاص آنا چاہیے تھا کیونکہ اس نے تلوار سے اس کو قتل کیا ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا کہ کوئی شخص دوسرے شخص کو آلۂ قتل کے ذریعے قتل کر دے تو پھر وہاں قصاص لیا جاتا ہے، تو قاتل نے بھی تلوار سے قتل کیا ہے تو قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے اس قاتل کو بھی قتل کرنا چاہیے، لیکن استحساناً اس کو قتل نہیں کیا جائے گا بلکہ اس پر دیت آئے گی۔ وجہ یہ کہ اس نے اس کو مباح الدم سمجھ کر قتل کیا۔ اس نے اس کو مباح الدم سمجھ کر قتل کیا کیونکہ قاضی کا فیصلہ موجود تھا کہ اس کو رجم کر دیا جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا“ اور جب چار گواہوں نے گواہی دے دی ایک آدمی کے خلاف زنا کی ”فَأَمَرَ الْقَاضِي بِرَجْمِهِ“ تو قاضی نے حکم دیا اس کو رجم کرنے کا ”فَضَرَبَ رَجُلٌ عُنُقَهُ“ عنق کہتے ہیں گردن کو ”فَضَرَبَ رَجُلٌ عُنُقَهُ“ تو ایک آدمی نے اس کی گردن مار دی، گردن مارنے سے مراد ہے قتل کرنا، کیونکہ عموماً تلوار کے ذریعے جب قتل کیا جاتا ہے تو گردن پر تلوار ماری جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں ”فَضَرَبَ رَجُلٌ عُنُقَهُ“ تو ایک آدمی نے اس کی گردن مار دی ”ثُمَّ وُجِدَ الشُّهُودُ عَبِيدًا“ پھر گواہوں کو غلام پایا گیا ”فَعَلَى الْقَاتِلِ الدِّيَةُ“ تو قاتل پر دیت واجب ہوگی ”وَفِي الْقِيَاسِ يَجِبُ الْقِصَاصُ“ اور قیاس میں تو اس پر قصاص واجب ہونا چاہیے ”لِأَنَّهُ قَتَلَ نَفْسًا مَعْصُومَةً بِغَيْرِ حَقٍّ“ اس لیے کیونکہ اس نے قتل کیا ہے نفسًا ایک ایسی جان کو معصومةً جو محفوظ ہے۔ معصوم کا کیا معنی؟ محفوظ بھئی۔ انبیاء معصوم ہیں، کیا معنی؟ یعنی وہ گناہوں سے اور معاصی سے محفوظ ہیں، انبیاء سے گناہ نہیں ہو سکتے بھئی، تو معصوم کا معنی ہے محفوظ۔ تو یہاں اس نے قتل کیا ہے معصوم جان کو یعنی ایک محفوظ جان کو، جو محفوظ الدم ہے جس کا خون محفوظ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ قَتَلَ نَفْسًا مَعْصُومَةً بِغَيْرِ حَقٍّ“ اس لیے کیونکہ اس نے ایک معصوم جان کو قتل کیا ہے ناحق طور پر، تو اس کو بھی قتل کرنا چاہیے، قیاس یہ تقاضا کرتا ہے۔ ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے ”أَنَّ الْقَضَاءَ صَحِيحٌ ظَاهِرًا وَقْتَ الْقَتْلِ“ کہ یہ قاضی کا فیصلہ صحیح ہے ظاہری اعتبار سے قتل کے وقت۔ بھئی جس وقت اس شخص نے قتل کیا، اس وقت تک تو یہ علم نہیں تھا کہ یہ گواہ غلام ہیں۔ تو اس وقت تک تو قاضی کا فیصلہ صحیح تھا ظاہر کے اعتبار سے، پھر جب پتہ چلا کہ یہ گواہ غلام ہیں، پھر پتہ چلا قاضی کا فیصلہ صحیح نہیں۔ تو اس نے جب قتل کیا اس وقت ظاہری اعتبار سے قاضی کا فیصلہ صحیح تھا، اس وقت تک ابھی گواہوں کے غلام ہونے کا پتہ نہیں چلا تھا، لہٰذا اس لیے اس پر قصاص نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَوَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ أَنَّ الْقَضَاءَ صَحِيحٌ ظَاهِرًا وَقْتَ الْقَتْلِ“ استحسان کی وجہ یہ ہے کہ قاضی کا یہ فیصلہ صحیح ہے قتل کے وقت ظاہری اعتبار سے ”فَأَوْرَثَ شُبْهَةً“ تو اس نے شبہ پیدا کر دیا، اس قضائے قاضی نے شبہ پیدا کر دیا کہ یہ مباح الدم ہو چکا ہے بھئی۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَتَلَهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ ہاں اگر قضائے قاضی سے پہلے کوئی اس شخص کو قتل کرے گا تو پھر اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا بھئی۔ کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَتَلَهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ“ بخلاف اس کے کہ جب وہ اس کو قاضی کے فیصلے سے پہلے قتل کر دے تو وہاں قصاص آئے گا ”لِأَنَّ الشَّهَادَةَ لَمْ تَصِرْ حُجَّةً بَعْدُ“ اس لیے کیونکہ گواہی وہ حجت نہیں بنی اس کے بعد۔ بھئی گواہوں نے گواہی آ کر دے دی قاضی کے پاس کہ یہ شادی شدہ آدمی ہے، اس نے زنا کیا ہے، قاضی نے ابھی فیصلہ نہیں کیا تھا اس سے پہلے ہی ایک آدمی نے اس زنا کرنے والے کو قتل کر دیا، تو یہاں تو شہادت تو ہو چکی ہے، لیکن شہادت حجت تب بنتی ہے جب اس کے ساتھ قاضی کا فیصلہ ملے، لہٰذا یہاں پر، یہاں پر کسی قسم کا شبہ نہیں ہے، تو اس قاتل کو قتل کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا قَتَلَهُ قَبْلَ الْقَضَاءِ لِأَنَّ الشَّهَادَةَ لَمْ تَصِرْ حُجَّةً بَعْدُ“ بخلاف اس کے کہ جب قاتل اس کو قاضی کے فیصلے سے پہلے قتل کر دے، اس لیے کیونکہ ان کی گواہی ابھی تک حجت نہیں بنی بعدُ شہادت کے بعد، شہادت دینے کے بعد بھی ان گواہوں کی گواہی ابھی شہادت نہیں بنی جب تک قاضی فیصلہ نہیں کرے گا۔ ”وَلِأَنَّهُ ظَنَّهُ مُبَاحَ الدَّمِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس قاتل نے تو اس آدمی کو مباح الدم سمجھا تھا ”مُعْتَمِدًا عَلَى دَلِيلٍ مُبِيحٍ“ اعتماد کرتے ہوئے ایک مباح کرنے والی دلیل پر۔ ایک دلیل موجود تھی جو اس آدمی کے قتل کو مباح کر رہی تھی، اور وہ قضائے قاضی تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ ظَنَّهُ مُبَاحَ الدَّمِ مُعْتَمِدًا عَلَى دَلِيلٍ مُبِيحٍ“ اور اس لیے کیونکہ قاتل نے اس شخص کو مباح الدم سمجھا تھا ایک مباح کر دینے والی دلیل پر اعتماد کرتے ہوئے ”فَصَارَ كَمَا إِذَا ظَنَّهُ حَرْبِيًّا“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس شخص نے اس کو حربی سمجھا ہو ”وَعَلَيْهِ عَلَامَتُهُمْ“ اور حال یہ ہے کہ اس پر حربیوں کی علامت بھی ہو۔ بھئی ایک آدمی دوسرے آدمی کو قتل کر دیتا ہے، وہ سمجھتا ہے شاید یہ حربی ہے کیونکہ اس کے کپڑوں پر حربیوں کی ایک علامت موجود تھی، تو یاد رکھو اس صورت میں بھی قاتل پر قصاص نہیں آئے گا کیونکہ اس نے ایک دلیل پر اعتماد کیا ہے جو بتلا رہی تھی کہ یہ حربی ہے۔ اگرچہ وہ حربی نہیں تھا لیکن اس کے لباس یا کپڑوں پر کوئی نشانی موجود تھی جو حربیوں کے کپڑوں پر ہوتی ہیں، تو اس نے اس دلیل پر اعتماد کرتے ہوئے اس کو قتل کر دیا تو اس صورت میں بھی یاد رکھو قصاص نہیں آئے گا، صرف دیت آئے گی اس قاتل پر بھئی۔ تو یہاں پر بھی اسی طرح اس قاتل پر قصاص نہیں آئے گا بلکہ دیت آئے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَمَا إِذَا ظَنَّهُ حَرْبِيًّا وَعَلَيْهِ عَلَامَتُهُمْ“ تو یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے اس قاتل نے اس کو حربی سمجھا ہو اور حال یہ تھا کہ اس پر حربیوں کی علامت بھی تھی بھئی۔ ”وَتَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ“ اور دیت جو ہے وہ اس قاتل کے مال میں واجب ہوگی۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو دیت آتی ہے یہ سارے قبیلے والوں پر آتی ہے، اور یہ تین سال میں ادا کرنا پڑتی ہے، تین سال میں، یعنی ایک سال کے اندر بھی ثلث، دوسرے سال کے اندر بھی ثلث، اور تیسرے سال کے اندر بھی ثلث دیت ادا کی جائے گی، لیکن، لیکن یہ قتل عمد ہے، اس آدمی نے جان بوجھ کر دوسرے کو قتل کیا ہے۔ تو قیاس تو تقاضا کر رہا تھا اس کو بھی قتل کر دیا جائے، لیکن استحساناً اس سے قصاص ساقط ہو گیا، کیونکہ جس طرح حدود شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں اسی طرح قصاص بھی شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتا ہے۔ تو لہٰذا شبہے کی وجہ سے قصاص تو ساقط ہو گیا اور اس کی جگہ دیت آ گئی، لیکن یہ دیت قتل عمد کی وجہ سے آئی ہے، جان بوجھ کر قتل کرنے کی وجہ سے آئی ہے، لہٰذا یہ اس کو خود ہی ادا کرنا ہوگی، اس کے اندر قبیلے والے اس کے مددگار نہیں ہوں گے۔ یاد رکھو یہ جو قبیلے والے ہیں یہ اس آدمی کے مددگار بنتے ہیں لیکن اس وقت جب اس نے غلطی سے قتل کیا ہو۔ اگر ایک آدمی نے جان بوجھ کر قتل کیا ہے پھر سارے جرم کا بوجھ اسی کو اٹھانا پڑے گا، قبیلہ اس کی مدد نہیں کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَجِبُ الدِّيَةُ فِي مَالِهِ“ اور دیت جو ہے اسی قاتل کے مال میں واجب ہوگی ”لِأَنَّهُ عَمْدٌ“ اس لیے کیونکہ یہ قتل عمد ہے ”وَالْعَوَاقِلُ لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ اور عاقلہ جو ہیں وہ قتل عمد کی دیت ادا نہیں کرتے۔ عَقَلَ يَعْقِلُ کا معنی ہے دیت ادا کرنا۔ دیت ادا کرنے والے عاقلہ بھئی، عاقلہ، جمع کیا ہے؟ عواقل۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعَوَاقِلُ لَا تَعْقِلُ الْعَمْدَ“ اور عاقلہ جو ہیں وہ قتل عمد کی دیت ادا نہیں کرتے ”وَيَجِبُ ذَلِكَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ“ اور یہ دیت جو ہے تین سالوں میں واجب ہوگی، یعنی تین سالوں میں ادا کی جائے گی تین قسطیں کر کے ”لِأَنَّهُ وَجَبَ بِنَفْسِ الْقَتْلِ“ اس لیے کیونکہ یہ واجب ہوئی ہے نفس قتل کی وجہ سے۔ یاد رکھو جو مال نفس قتل کی وجہ سے واجب ہو وہ تین سال میں ادا کرنا پڑتا ہے، لیکن وہ مال جو صلح وغیرہ کی وجہ سے واجب ہو وہ پھر، وہ اسی وقت ادا کرنا پڑتا ہے، اس میں اتنی تین سال کی مدت نہیں ہوگی۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے آدمی کو قتل کر دیا، اب قصاص میں اس قاتل کو بھی قتل کیا جائے گا لیکن اس قاتل کے ساتھ مقتول کے اولیاء نے صلح کر لی کہ ہمیں آپ پچاس لاکھ روپے دے دیں تو ہم آپ سے قصاص نہیں لیتے، تو چنانچہ آپس میں صلح ہو گئی۔ اب یہ جو مال واجب ہوا ہے قاتل پر یہ نفس قتل کی وجہ سے واجب نہیں ہوا بلکہ صلح کی وجہ سے واجب ہوا ہے، لہٰذا اس کے اندر تین سال کی مدت نہیں ہوگی، یہ فوری ادا کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجِبُ ذَلِكَ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ لِأَنَّهُ وَجَبَ بِنَفْسِ الْقَتْلِ“ اور یہ مال واجب ہوگا تین سالوں میں، اس لیے کیونکہ یہ مال واجب ہوا ہے نفس قتل کی وجہ سے۔ آگے دیکھیے: ”وَإِنْ رَجَمَ ثُمَّ وُجِدُوا عَبِيدًا فَالدِّيَةُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ یہی مسئلہ ہے بھئی، ایک آدمی کے خلاف چار آدمیوں نے گواہی دی اور قاضی نے اسے رجم کرنے کا فیصلہ کر دیا، اب یہ آدمی مباح الدم بن گیا۔ پہلے صورت کیا تھی کہ ایک آدمی نے اس کو تلوار سے قتل کیا، اب صورت یہ ہے کہ اسی آدمی نے اس کو رجم کر دیا، قاضی کا فیصلہ کرنے کے بعد اس آدمی نے اس کو پتھر مار مار کر قتل کر دیا اور پھر بعد میں پتہ چلا کہ یہ جو گواہ تھے یہ تو غلام تھے۔ تو پھر اس صورت کے اندر دیت جو ہے اس قاتل پر نہیں آئے گی بلکہ بیت المال پر آئے گی، کیونکہ قاضی کی غلطی کی وجہ سے اس آدمی کی جان گئی ہے، یہ گواہ تو گواہ بن ہی نہیں سکتے تھے کیونکہ یہ تو غلام تھے۔ بھئی اس قاتل جس نے رجم کیا ہے اس پر کیوں نہیں دیت آتی؟ کہتے ہیں بھئی اس نے تو قاضی کے حکم کی تعمیل کی ہے، قاضی نے بھی فیصلہ کیا تھا رجم کرنے کا اور اس نے بھی اس کو رجم کیا ہے، جبکہ پچھلے مسئلے میں اس نے قاضی کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی، کیونکہ قاضی نے تو رجم کرنے کا حکم دیا تھا نہ کہ تلوار سے قتل کرنے کا، تو پچھلے مسئلے میں اس نے قاضی کے حکم کی تعمیل نہیں کی تھی اس لیے وہاں دیت اسی قاتل پر آئی، لیکن یہاں پر اس نے قاضی کے حکم کی تعمیل کی ہے کہ رجم کیا ہے، تو لہٰذا دیت بیت المال پر آئے گی، کیونکہ بہرحال قاضی سے غلطی ہوئی، یہ گواہ تو غلام تھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ رَجَمَ“ تو یہاں رَجَمَ اس کو فعل معروف پڑھنا ہے بھئی، کہتے ہیں ”وَإِنْ رَجَمَ“ اور اگر اس آدمی نے اس کو رجم کر دیا، جس کے خلاف قاضی نے رجم کا فیصلہ کیا ہے اس کو رجم کر دیا اس آدمی نے ”ثُمَّ وُجِدُوا عَبِيدًا“ پھر وہ گواہ غلام پائے گئے ”فَالدِّيَةُ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ“ تو دیت جو ہے وہ بیت المال پر ہوگی ”لِأَنَّهُ امْتَثَلَ أَمْرَ الْإِمَامِ“ اس لیے کیونکہ اس آدمی نے تو امام کے حکم کی تعمیل کی ہے، اِمْتَثَلَ يَمْتَثِلُ اِمْتِثَال کا معنی ہے حکم کی تعمیل کرنا، فرمانبرداری کرنا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ امْتَثَلَ أَمْرَ الْإِمَامِ“ یہ جو رجم کرنے والا ہے اس نے امام کے حکم کی تعمیل کی ہے ”فَنُقِلَ فِعْلُهُ إِلَيْهِ“ لہٰذا اس آدمی کا فعل منتقل ہو جائے گا امام کی طرف، اور امام تو مسلمانوں کے لیے کام کر رہا ہے، لہٰذا مسلمانوں کے مال میں سے ضمان دیا جائے گا۔ ”وَلَوْ بَاشَرَهُ بِنَفْسِهِ“ اور اگر امام خود اس رجم کو سرانجام دیتا ”تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ لِمَا ذَكَرْنَا“ تو اس صورت میں بھی دیت جو ہے بیت المال میں واجب ہوتی لما ذکرنا اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، کہ جلاد کا فعل کس کی طرف منتقل ہوتا ہے؟ قاضی کی طرف۔ تو اگر امام خود بھی اس آدمی کو رجم کرتا اور بعد میں گواہوں کے بارے میں پتہ چلتا کہ یہ تو غلام ہیں، تو اس صورت کے اندر بھی یہ ضمان کس پر آنا تھا؟ بیت المال پر۔ تو جب کسی نے قاضی کے حکم کی تعمیل کی ہے تو وہ بھی قاضی ہی کے فعل کی طرح ہے، تو وہ ضمان بیت المال پر آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ بَاشَرَهُ بِنَفْسِهِ تَجِبُ الدِّيَةُ فِي بَيْتِ الْمَالِ لِمَا ذَكَرْنَا كَذَا هَذَا“ اور اگر امام خود اس رجم کو سرانجام دے دیتا تو اس صورت میں بھی دیت جو ہے بیت المال پر واجب ہوتی اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی، کذا ھذا تو اسی طرح یہ بھی ہے، یعنی اس آدمی کا فعل بھی قاضی کی طرف منتقل ہو جائے گا اور ضمان بیت المال سے ادا کیا جائے گا۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا ضَرَبَ عُنُقَهُ“ بخلاف اس کے کہ جب اس نے اس آدمی کی گردن ماری تھی، یعنی اس کو قتل کیا تھا تو پھر خود اس قاتل کو دیت ادا کرنا پڑی ”لِأَنَّهُ لَمْ يَأْتَمِرْ أَمْرَهُ“ اس لیے کیونکہ اس نے قاضی کے حکم کی فرمانبرداری نہیں کی تھی وہاں پر، تو اس کا فعل قاضی کی طرف وہاں منتقل نہیں ہوگا۔ ہوگا، جب قاضی کی طرف منتقل نہیں ہے، اس کا اپنا فعل ہے تو دیت بھی اسی قاتل پر آئے گی بھئی۔ اس صورت میں جب اس نے اس کو تلوار سے قتل کیا تھا۔ ﴿وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا﴾ اور جب گواہوں نے گواہی دی ایک آدمی کے خلاف زنا کی، ﴿وَقَالُوا﴾ اور وہ گواہ کہتے ہیں: ﴿تَعَمَّدْنَا النَّظَرَ﴾ کہ ہم نے جان بوجھ کر دیکھا۔ بھئی صورت مسئلہ یہ ہے کہ گواہ جو ہیں گواہی دینے آئے زنا کی، تو ظاہر سی بات ہے کہ یہ زنا کی گواہی تب ہی دیں گے جب انہوں نے اس مرد اور عورت کی شرمگاہ کی طرف دیکھا ہو۔ اور جان بوجھ کر کسی کی شرمگاہ کی طرف دیکھنا یہ تو انسان کو فاسق بنا دیتا ہے، تو یہ گواہ اگر کہیں ہم نے جان بوجھ کر دیکھا ہے، تو پھر تو یہ فاسق بن گئے، پھر تو ان کی گواہی قبول نہیں کرنی چاہیے۔ کہتے ہیں نہیں، پھر بھی ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ اس لیے کیونکہ تحمل شہادت کے لیے دیکھنا ضروری تھا۔ زنا کے بارے میں گواہی دینے کے لیے دیکھنا ضروری تھا، اس کے بغیر تو کوئی گواہ بن ہی نہیں سکتا زنا پر۔ تو یہاں ضرورت کی وجہ سے ان کا دیکھنا جائز ہو گیا، جیسے طبیب یا دائی جو ہے اس کے لیے شرمگاہ کی طرف دیکھنا جائز ہو جاتا ہے۔ ایک ڈاکٹر ہے اور ایک شخص کی شرمگاہ پر کوئی زخم وغیرہ ہے تو اس ڈاکٹر کے لیے شرمگاہ کی طرف دیکھنا جائز، اسی طرح دائی بھئی دائی، وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت موجود ہوتی ہے، وہ بھی اس عورت کی شرمگاہ پر اس کی نظر پڑتی ہے لیکن اس کے لیے بھی دیکھنا جائز ہے ضرورت کی وجہ سے۔ تو جیسے ڈاکٹر یا طبیب جو ہے اور اسی طرح دائی ہے اس کے لیے ضرورت کی وجہ سے شرمگاہ کی طرف دیکھنا جائز ہے، اسی طرح ان گواہوں کے لیے بھی زنا کا گواہ بننے کے لیے شرمگاہ کی طرف دیکھنا جائز ہے، لہٰذا اس سے یہ فاسق نہیں بنیں گے اور ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا شَهِدُوا عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا وَقَالُوا تَعَمَّدْنَا النَّظَرَ قُبِلَتْ شَهَادَتُهُمْ﴾ اور جب گواہوں نے گواہی دی کسی آدمی کے خلاف زنا کی اور انہوں نے کہا کہ ہم نے جان بوجھ کر نظر کی، تو پھر بھی ان کی گواہی قبول کی جائے گی۔ ﴿لِأَنَّهُ يُبَاحُ النَّظَرُ لَهُمْ لِضَرُورَةِ تَحَمُّلِ الشَّهَادَةِ﴾ اس لیے کیونکہ ان کے لیے دیکھنا مباح ہے تحمل شہادت کی ضرورت کی وجہ سے، ﴿فَأَشْبَهَ الطَّبِيبَ وَالْقَابِلَةَ﴾ تو یہ مشابہ ہو گیا طبیب اور قابِلہ یعنی دائی کے، دائی وہ عورت جو بچے کی پیدائش کے وقت موجود ہو۔ تو یہ مشابہ ہو گیا طبیب اور قابلہ کے، تو ان کے لیے شرمگاہ کی طرف ضرورت کی وجہ سے دیکھنا جائز ہوا تو اس سے یہ فاسق نہ ہوئے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ بھئی دیکھیے، یہاں پر استحسان کا ذکر آیا بھئی۔ میں نے پہلے بھی کتاب کے شروع میں ذکر کیا تھا کہ استحسان کسے کہتے ہیں؟ اب چونکہ کافی وقت گزر گیا، ایک دفعہ پھر میں دہرا دیتا ہوں تاکہ آپ کے ذہن میں بات تازہ ہو جائے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ استحسان اس متفق علیہ دلیل کو کہتے ہیں کہ جس کے مقابلے میں قیاس آئے۔ یعنی ایک مسئلے کے اندر آپ ایک آیت ذکر کرتے ہیں اور دوسرا شخص قیاس ذکر کرتا ہے، تو یہاں پر دیکھو یہ جو آیت ہے اس کو ترجیح ہوگی اور اس کو استحسان کہیں گے۔ یا ایک مسئلے کے اندر آپ حدیث کو دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں یا اجماع کو دلیل کے طور پر ذکر کرتے ہیں اور دوسری طرف مخالف جو ہے وہ قیاس کو دلیل کے طور پر ذکر کرتا ہے، تو یہ جو متفق علیہ دلیل ہے یعنی آیت یا حدیث ہے یا اجماع ہے، اس کو استحسان کہیں گے۔ لیکن استحسان تب ہی کہیں گے جب اس کے مقابلے میں قیاس موجود ہو۔ تو استحسان وہ متفق علیہ دلیل ہے جس کے مقابلے میں قیاس آئے۔ لیکن زیادہ تر استحسان کا اطلاق جو ہے قیاس خفی پر ہوتا ہے۔ یاد رکھو، ایک ہے قیاس جلی اور ایک ہے قیاس خفی۔ قیاس جلی اسے کہتے ہیں جس میں زیادہ غور و فکر کرنا نہیں پڑتا، ذہن فوراً وہاں تک پہنچ جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں قیاس جلی۔ جلی کا معنی ہے ظاہر، یعنی بات ظاہر ہوتی ہے، ذہن فوراً وہاں تک پہنچ جاتا ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ہے ایک قیاس خفی۔ خفی کا معنی پوشیدہ، یعنی قیاس خفی کے اندر بات پوشیدہ ہوتی ہے اور گہری ہوتی ہے تو سوچنا پڑتا ہے، غور و فکر کرنا پڑتا ہے، پھر وہاں تک ذہن پہنچتا ہے۔ تو قیاس جلی وہ ہے جہاں تک فوراً ذہن پہنچ جائے اور قیاس خفی وہ ہے جہاں غور و فکر کرنا پڑتا ہو۔ تو میں نے بتلایا کہ استحسان کا لفظ زیادہ تر قیاس خفی کے لیے بولا جاتا ہے، لیکن قیاس خفی کو بھی استحسان تب کہتے ہیں جب اس کے مقابلے میں قیاس جلی موجود ہو۔ ایک طرف قیاس خفی ہے اور ایک طرف قیاس جلی ہے، تو اس قیاس خفی کو استحسان کہیں گے کیونکہ اس کے مقابلے میں قیاس جلی موجود ہے۔ اور اگر قیاس خفی کے مقابلے میں قیاس جلی نہ ہو، پھر جتنا مرضی گہرا قیاس ہو، اس کو قیاس ہی کہتے ہیں، استحسان نہیں کہتے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور استحسان کو استحسان اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہ پسندیدہ ہوتا ہے، اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے۔ تو استحسان کا معنی پسندیدہ ہونا، تو اسی لیے اس کو استحسان کہتے ہیں کیونکہ اس میں لوگوں کے لیے آسانی ہوتی ہے، یہ پسندیدہ ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ ہے استحسان بھئی۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا فَأَنْكَرَ الْإِحْصَانَ وَلَهُ امْرَأَةٌ قَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ فَإِنَّهُ يُرْجَمُ﴾ صورت مسئلہ یہ کہ چار آدمیوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی اور اس شخص نے اپنے محسن ہونے کا انکار کیا کہ میں محسن نہیں ہوں، یعنی میرے اندر احصان والی باقی صفات تو موجود ہیں لیکن میں نے بیوی کے ساتھ صحبت نہیں کی، لہٰذا مجھے رجم کی سزا نہیں ملنی چاہیے بلکہ مجھے کوڑے لگنے کی سزا ملنی چاہیے، لیکن اس آدمی کی بیوی ایک بچے کو جنم دے چکی ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو، جب بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت ہے تو معلوم ہوا یہ بیوی کے ساتھ صحبت کر چکا ہے، تو اس آدمی کو رجم کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: ﴿وَإِذَا شَهِدَ أَرْبَعَةٌ عَلَى رَجُلٍ بِالزِّنَا﴾ اور جب چار گواہوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی، ﴿فَأَنْكَرَ الْإِحْصَانَ﴾ تو اس مشہود علیہ نے محسن ہونے کا انکار کیا، ﴿وَلَهُ امْرَأَةٌ قَدْ وَلَدَتْ مِنْهُ﴾ اور اس آدمی کی ایک بیوی ہے جو اس آدمی سے ایک بچے کو جنم دے چکی ہے، ﴿فَإِنَّهُ يُرْجَمُ﴾ تو اس آدمی کو رجم کیا جائے گا۔ ﴿مَعْنَاهُ﴾ اس قول کا معنی یہ ہے، بھئی متن کے اندر آیا تھا ﴿فَأَنْكَرَ الْإِحْصَانَ﴾ اس آدمی نے محسن ہونے کا انکار کیا، اس کا کیا معنی ہے؟ صاحبِ ہدایہ وضاحت فرمائیں گے کہ معنی یہ ہے کہ اس شخص نے بیوی کے ساتھ صحبت ہونے کا انکار کیا ہے، باقی چیزوں کا انکار نہیں کیا۔ تو کہتے ہیں: ﴿مَعْنَاهُ أَنَّهُ يُنْكِرُ الدُّخُولَ بَعْدَ وُجُودِ سَائِرِ الشَّرَائِطِ﴾ اس قول کا معنی یہ ہے کہ اس شخص نے صحبت کا انکار کیا ہے محسن ہونے کی باقی شرائط کے پائے جانے کے بعد۔ ﴿لِأَنَّ الْحُكْمَ بِثَبَاتِ النَّسَبِ مِنْهُ حُكْمٌ بِالدُّخُولِ عَلَيْهِ﴾ اس لیے کیونکہ اس آدمی سے نسب کے ثابت ہونے کا حکم یہ اس آدمی پر صحبت کرنے کا حکم ہے۔ جب اس بچے کا نسب اس آدمی سے ثابت ہو گیا، معلوم ہوا اس آدمی نے صحبت کی ہے، تو بچے کے نسب کے ثابت ہونے کا حکم اس آدمی پر لگانا، وہ اس آدمی پر صحبت کرنے کا حکم لگانا ہے بھئی۔ یہ معنی ہے ﴿لِأَنَّ الْحُكْمَ بِثَبَاتِ النَّسَبِ مِنْهُ حُكْمٌ بِالدُّخُولِ عَلَيْهِ﴾ اس لیے کیونکہ اس آدمی سے اس بچے کے نسب کے ثابت ہونے کا حکم لگانا، یہ اس آدمی پر صحبت کرنے کا حکم لگانا ہے۔ ﴿وَلِهَذَا لَوْ طَلَّقَهَا يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ﴾ اور اسی لیے اگر اس آدمی نے اپنی اس بیوی کو طلاق دے دی تو یہ طلاق اپنے پیچھے رجوع کو لائے گی۔ بھئی آپ نے پڑھا ہے کہ خاوند اگر اپنی بیوی کو طلاق دے صحبت کے بعد، تو پھر اس کے بعد اس عورت پر عدت آتی ہے اور پھر اس عدت کے اندر خاوند رجوع بھی کر سکتا ہے۔ لیکن اگر خاوند نے صحبت نہیں کی اور اس سے پہلے بیوی کو طلاق دے دے، تو پھر اس صورت میں اس عورت پر کوئی عدت نہیں ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہاں پر جب بچے کا نسب ثابت ہو گیا تو معلوم ہوا اس آدمی کی صحبت بھی ثابت ہو گئی اور اسی وجہ سے اگر یہ آدمی اپنی اس بیوی کو طلاق دے گا تو اس کے بعد اسے رجوع کا بھی حق ہوگا کیونکہ یہ اس عورت سے صحبت کر چکا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلِهَذَا لَوْ طَلَّقَهَا يُعَقِّبُ الرَّجْعَةَ﴾ اور اسی لیے اگر یہ آدمی اپنی اس بیوی کو طلاق دے تو یہ طلاق اپنے پیچھے رجوع کو لائے گی۔ ﴿وَالْإِحْصَانُ يَثْبُتُ بِمِثْلِهِ﴾ اور محسن ہونا اس جیسی دلیلوں سے ثابت ہو جاتا ہے۔ ﴿فَإِنْ لَمْ تَكُنْ وَلَدَتْ مِنْهُ﴾ اگر وہ عورت جو ہے اس نے اس آدمی سے بچے کو جنم نہیں دیا، عورت نے تو بچے کو جنم نہیں دیا لیکن ایک مرد اور دو عورتیں آئیں اور انہوں نے گواہی دے دی کہ یہ شخص محسن ہے، تو پھر اس صورت کے اندر بھی اس کا محسن ہونا ثابت ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ لَمْ تَكُنْ وَلَدَتْ مِنْهُ وَشَهِدَ عَلَيْهِ بِالْإِحْصَانِ رَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ رُجِمَ﴾ اور اگر اس کی بیوی نے بچے کو جنم نہیں دیا اس خاوند سے اور اس آدمی کے خلاف محسن ہونے کی گواہی دے دی ایک مرد اور دو عورتوں نے، تو اس آدمی کو بھی رجم کیا جائے گا، ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ وَالشَّافِعِيِّ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى﴾ بخلاف امام زفر اور امام شافعی کے۔ ﴿فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَرَّ عَلَى أَصْلِهِ أَنَّ شَهَادَتَهُنَّ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ فِي غَيْرِ الْأَمْوَالِ﴾ پس امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں وہ چلے ہیں اپنے ضابطے پر کہ ان عورتوں کی گواہی غیر مقبول ہے یعنی قبول نہیں کی جائے گی مال کے علاوہ میں۔ بھئی یاد رکھو، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں عورتوں کی گواہی صرف مال کے مسئلے میں قبول کی جائے گی اور کسی مسئلے کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں۔ صرف مالی معاملات میں عورت کی گواہی کو قبول کیا جائے گا اور کسی معاملے میں قبول نہیں کیا جائے گا۔ تو یہاں پر بھی محسن ہونے کا معاملہ ہے، یہ تو مالی معاملہ نہیں ہے، لہٰذا یہاں پر عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَالشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَرَّ عَلَى أَصْلِهِ أَنَّ شَهَادَتَهُنَّ غَيْرُ مَقْبُولَةٍ فِي غَيْرِ الْأَمْوَالِ﴾ تو امام شافعی رحمہ اللہ اپنے ضابطے پر چلے ہیں کہ ان عورتوں کی گواہی غیر مقبول ہے یعنی قبول نہیں کی جائے گی مال کے علاوہ میں۔ ﴿وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّهُ شَرْطٌ فِي مَعْنَى الْعِلَّةِ﴾ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ محسن ہونا شرط ہے فی معنی العلہ جو علت کے معنی میں ہے۔ یہ محسن ہونا ایسی شرط ہے جو علت کے معنی میں ہے، جو علت کی طرح ہے۔ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ محسن ہونا یہ رجم کے لیے شرط ہے لیکن یہ ایسی شرط ہے جو علت کے معنی میں ہے۔ جیسے کسی شخص کو رجم کیوں کیا جاتا ہے؟ زنا کی وجہ سے، تو جیسے زنا علت ہے رجم کی یا جیسے زنا علت ہے سو کوڑے لگانے کی، اسی طرح محسن ہونا یہ ہے تو شرط لیکن یہ علت کے درجے میں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس آدمی کی سزا سخت ہو جائے گی۔ اگر وہ غیر محسن ہوا تو اس کو سو کوڑے لگیں گے لیکن اگر اس کا محسن ہونا ثابت ہو جائے تو اب اس کو رجم کیا جائے گا، معلوم ہوا محسن ہونے کی وجہ سے اس کی سزا سخت ہو گئی، تو محسن ہونا علت کی طرح ہوا۔ اور علت جو ہے یعنی زنا، اس پر تو صرف مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے عورتوں کی گواہی اس میں قبول نہیں کی جاتی، تو اسی طرح یہ شرط جو علت کے درجے میں ہے، اس میں بھی صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی، عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ پھر سمجھیں، پھر سمجھیں، امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ محسن ہونا، یہ بھی علت کی طرح ہے کیونکہ جس طرح علت یعنی وہ جو زنا ہے، حدِ زنا کی علت کیا ہوتی ہے؟ زنا، زنا کیا ہے اس لیے حدِ زنا جاری کی جائے گی، تو امام زفر فرماتے ہیں کہ یہ محسن ہونے کی جو صفت ہے، یہ شرط ہے لیکن یہ علت کے درجے میں ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس آدمی کی سزا سخت ہو جائے گی اور اسے رجم کر دیا جائے گا۔ تو یہ علت کے درجے میں ہے اور علت پر تو گواہی جو ہے صرف مردوں کی قبول کی جاتی ہے، زنا کے مسئلے میں صرف مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے، تو علت کے مسئلے میں جب صرف مردوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے تو یہ شرط جو علت کے معنی میں ہے اس کے اندر بھی صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی، عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَزُفَرُ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَقُولُ: إِنَّهُ شَرْطٌ فِي مَعْنَى الْعِلَّةِ﴾ اور امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ محسن ہونا ایسی شرط ہے جو علت کے معنی میں ہے، ﴿لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَتَغَلَّظُ عِنْدَهُ﴾ اس لیے کیونکہ جرم جو ہے وہ سخت ہو جاتا ہے عندہ ای عند الاحصان، جب آدمی محسن ہو، تو محسن ہوتے وقت جرم سخت ہو جاتا ہے تو سزا بھی سخت ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْجِنَايَةَ تَتَغَلَّظُ عِنْدَهُ﴾ اس لیے کیونکہ زنا کا جرم جو ہے وہ سخت ہو جاتا ہے محسن ہوتے وقت، ﴿فَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ﴾ تو حکم کی نسبت اسی کی طرف کی جاتی ہے۔ بھئی کوئی محسن زنا کرے تو اسے رجم کیا جاتا ہے، تو اس رجم کی نسبت محسن ہونے کی طرف کی جاتی ہے، لوگ کہتے ہیں کہ اس کو محسن ہونے کی وجہ سے رجم کیا گیا، تو یہ معنی ہے ﴿فَيُضَافُ الْحُكْمُ إِلَيْهِ﴾ تو رجم کرنے کے حکم کی نسبت اسی محسن ہونے کی طرف کی جاتی ہے، ﴿فَأَشْبَهَ حَقِيقَةَ الْعِلَّةِ﴾ تو یہ حقیقتِ علت کے مشابہ ہو گیا۔ یہ محسن ہونا حقیقتِ علت کے مشابہ ہوا اور حقیقتِ علت کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں، تو اس شرط کے اندر بھی عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿فَأَشْبَهَ حَقِيقَةَ الْعِلَّةِ فَلَا تُقْبَلُ شَهَادَةُ النِّسَاءِ فِيهِ﴾ تو یہ محسن ہونا حقیقتِ علت یعنی زنا کے مشابہ ہو گیا لہٰذا اس کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ﴿فَصَارَ كَمَا إِذَا شَهِدَ ذِمِّيَّانِ عَلَى ذِمِّيٍّ زَنَى عَبْدُهُ الْمُسْلِمُ أَنَّهُ أَعْتَقَهُ قَبْلَ الزِّنَا فَلَا تُقْبَلُ لِمَا ذَكَرْنَا﴾ امام زفر کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ یہ اسی طرح ہو گیا جیسے دو ذمی جو ہیں وہ ایک ذمی کے خلاف گواہی دیں کہ اس نے اپنے مسلمان غلام کو آزاد کیا ہے زنا سے پہلے۔ بھئی دیکھو، یاد رکھو، ذمی جو ہیں ان کی گواہی مسلمان کے خلاف تو قبول نہیں کی جاتی لیکن اگر کسی مقام پر مسلمان کے حق میں گواہی کی ضرورت پڑے تو ذمی وہاں گواہی دے سکتا ہے۔ اب ایک شخص ہے، ذمی ہے، اس کا ایک مسلمان غلام ہے اور دو ذمی آدمیوں نے قاضی کے پاس آ کر گواہی دی کہ اس ذمی نے اپنے مسلمان غلام کو آزاد کر دیا ہے، تو یاد رکھو، اس گواہی کے اندر مسلمان کا فائدہ ہے، اس کو آزادی مل رہی ہے، لہٰذا بالاتفاق یہ گواہی قبول کی جائے گی۔ معلوم ہوا دو ذمی اگر ایک ذمی کے خلاف گواہی دیں کہ اس نے اپنے مسلمان غلام کو آزاد کر دیا ہے تو ان دو ذمیوں کی گواہی کو قبول کیا جائے گا۔ لیکن صورت یہ ہے کہ اس ذمی کے مسلمان غلام نے زنا کیا ہے اور آپ جانتے ہیں کہ غلام اگر زنا کرے تو اس کو رجم نہیں کیا جاتا بلکہ اس کو آزاد آدمی کے مقابلے میں نصف کوڑے لگائے جاتے ہیں یعنی پچاس کوڑے، تو ایک ذمی کے مسلمان غلام نے زنا کر لیا اور پھر دو ذمی اس ذمی کے خلاف گواہی دینے آگئے کہ اس نے اپنے اس غلام مسلمان کو آزاد کر دیا ہے لیکن زنا سے پہلے آزاد کیا ہے۔ اب یاد رکھو، اگر زنا سے پہلے یہ آزاد ہے تو معلوم ہوا اس نے آزاد ہونے کی حالت میں زنا کیا ہے، تو اس کو اب سزا کے طور پر سو کوڑے لگیں گے۔ تو یہاں پر یاد رکھو، ان ذمیوں کی گواہی مسلمان غلام کی آزادی کے لیے قبول کی جاتی ہے لیکن یہاں پر ان ذمیوں کی گواہی کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے، تو لہٰذا یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ ان ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ کیا گواہی دے رہے ہیں؟ کہ اس ذمی نے اس مسلمان غلام کو زنا سے پہلے آزاد کیا تھا۔ تو ویسے آزادی پر گواہی دیتے تو یہ گواہی قبول کی جاتی، لیکن اس گواہی کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے، لہٰذا اس لیے یہ گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ دیکھو یہاں پر بھی ذمیوں کی گواہی قبول کی جا رہی تھی، لیکن جب اسی گواہی کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے تو اس کو قبول نہیں کیا جا رہا کیونکہ یہ علت کے درجے میں ہے۔ یہ گواہی علت کے درجے میں ہو گئی، اسی طرح محسن ہونا بھی علت کے درجے میں ہے، اس کی وجہ سے زانی کی سزا بڑھ جاتی ہے لہٰذا اس میں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی۔ تو امام زفر فرماتے ہیں: ﴿فَصَارَ كَمَا إِذَا شَهِدَ ذِمِّيَّانِ﴾ تو کہتے ہیں یہ اسی طرح ہو گیا جیسے دو ذمی گواہی دیں ﴿عَلَى ذِمِّيٍّ زَنَى عَبْدُهُ الْمُسْلِمُ﴾ کسی ایسے ذمی کے خلاف کہ جس کے مسلمان غلام نے زنا کیا ہے، دیکھو ذِمِّيٍّ نکرہ ہے اور اس کے بعد زَنَى فعل آ رہا ہے تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا، اور موصوف صفت کا ترجمہ کیسے کرتے ہیں؟ موصوف سے پہلے ایسا یا ایسی کا لفظ لاتے ہیں بھئی، تو ترجمہ سنیے بھئی: کہتے ہیں: ﴿كَمَا إِذَا شَهِدَ ذِمِّيَّانِ عَلَى ذِمِّيٍّ زَنَى عَبْدُهُ الْمُسْلِمُ﴾ جیسے گواہی دیں دو ذمی آدمی ایک ایسے ذمی کے خلاف کہ جس کے مسلمان غلام نے زنا کیا ہے، اور یہ گواہی دیں ﴿أَنَّهُ أَعْتَقَهُ قَبْلَ الزِّنَا﴾ کہ اس ذمی نے اس مسلمان غلام کو زنا سے پہلے آزاد کیا ہے، ﴿فَلَا تُقْبَلُ﴾ تو ان ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی ﴿لِمَا ذَكَرْنَا﴾ اسی وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ اس گواہی کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے تو یہ علت پر گواہی کے درجے میں ہوئی۔ اور علت پر گواہی وہ تو ذمیوں کی قبول نہیں کی جاتی۔ کوئی ذمی اگر مسلمان کے خلاف زنا کی گواہی دیں تو ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ تو جیسے مسلمان کے خلاف ذمیوں کی گواہی علت پر قبول نہیں کی جاتی، اسی طرح یہاں پر بھی ان ذمیوں کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے تو یہاں بھی ان ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ یہ شرط بھی علت کے درجے میں ہے۔ بھئی وہ گواہی تو صرف مسلمان کی آزادی کی دے رہے ہیں، کس چیز کی گواہی دے رہے ہیں؟ مسلمان کی آزادی کی، لیکن آزادی شرط تھی سو کوڑوں کے لیے، ویسے تو پچاس کوڑے لگیں گے، تو یہ گواہی شرط پر ہے لیکن یہ شرط کس درجے میں ہے؟ علت کے درجے میں ہے، اس کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے، تو لہٰذا اس پر بھی ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی، جیسے مسلمان کے خلاف زنا پر ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جاتی۔ اسی طرح یہ شرط جو علت کے درجے میں ہے، اس پر بھی ذمیوں کی گواہی مسلمان کے خلاف قبول نہیں کی جائے گی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو یہ معنی ہے ﴿فَلَا تُقْبَلُ لِمَا ذَكَرْنَا﴾ تو ان ذمیوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دی کہ یہ شرط ہے لیکن علت کے معنی میں ہے، اس کی وجہ سے مسلمان کی سزا بڑھ رہی ہے بھئی۔ ﴿وَلَنَا﴾ اب ہماری دلیل آگئی۔ ﴿وَلَنَا أَنَّ الْإِحْصَانَ عِبَارَةٌ عَنِ الْخِصَالِ الْحَمِيدَةِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ محسن ہونا یہ عبارت ہے اچھی صفات سے، خصالِ حمیدہ، قابلِ تعریف صفات۔ ہم کہتے ہیں کہ محسن ہونا عبارت ہے قابلِ تعریف صفات سے۔ بھئی جہاں حدود کی بات شروع ہوئی تھی، وہاں احصان الرجم صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ احصان الرجم کے اندر سات شرطیں ہیں کہ وہ شخص آزاد ہو، عاقل ہو، بالغ ہو، مسلمان ہو، اس نے نکاحِ صحیح کیا ہو، اور اس نکاحِ صحیح کے بعد اس نے بیوی سے صحبت بھی کی ہو، اور خاوند اور بیوی دونوں صفتِ احصان پر ہوں۔ تو ہم کہتے ہیں کہ احصان کے اندر جتنی صفات ذکر کی گئی ہیں، یہ تو ساری اچھی صفات ہیں، یہ ساری تو اچھی صفات ہیں اور نیز یہ ساری صفات جو ہیں یہ زنا سے روکنے والی ہیں۔ وہاں ہم نے بیان کیا تھا کہ یہ احصان کی صفات، یہ زنا سے روکنے والی ہیں، اس لیے جب یہ صفات پائی جائیں گی تو پھر سزا بھی سخت دی جائے گی کہ اتنی چیزیں روکنے والی موجود تھیں پھر بھی اس آدمی نے زنا کیا ہے، تو پھر وہاں سخت سزا دی جاتی ہے۔ تو ہم کہتے ہیں کہ محسن ہونا یہ عبارت ہے قابلِ تعریف صفات سے، اور نیز یہ وہ صفات ہیں جو زنا سے روکنے والی ہیں، جب یہ زنا سے روکنے والی ہیں تو یہ زنا کے درجے میں نہیں۔ امام زفر نے کیا بتلایا تھا؟ کہ محسن ہونا شرط ہے لیکن یہ بھی علت کے درجے میں ہے یعنی زنا کے درجے میں ہے، اور جیسے زنا پر عورتوں کی گواہی قبول نہیں، لہٰذا اس محسن ہونے میں بھی عورتوں کی گواہی قبول نہیں کیونکہ یہ شرط علت کے درجے میں ہے۔ ہم کہتے ہیں نہیں، محسن ہونا علت کے درجے یعنی زنا کے درجے میں نہیں ہے کیونکہ یہ صفات تو قابلِ تعریف ہیں اور یہ تو زنا سے روکنے والی ہیں، اور جو چیز ایک چیز سے روکنے والی ہو وہ اس کے درجے میں کیسے ہو سکتی ہے بھئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَنَا أَنَّ الْإِحْصَانَ عِبَارَةٌ عَنِ الْخِصَالِ الْحَمِيدَةِ﴾ اور ہماری دلیل یہ ہے کہ محسن ہونا یہ عبارت ہے قابلِ تعریف صفات سے، ﴿وَأَنَّهَا مَانِعَةٌ مِنَ الزِّنَا عَلَى مَا ذَكَرْنَا﴾ اور نیز یہ صفات جو ہیں یہ زنا سے روکنے والی ہیں اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیں بھئی، ﴿فَلَا يَكُونُ فِي مَعْنَى الْعِلَّةِ﴾ لہٰذا محسن ہونا علت یعنی زنا کے معنی میں نہیں ہے، ﴿وَصَارَ كَمَا إِذَا شَهِدُوا بِهِ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْحَالَةِ﴾ اور یہ اسی طرح ہو گیا جیسے انہوں نے محسن ہونے کی گواہی دی ہو اس حالت کے علاوہ میں۔ بھئی دیکھیے، مسئلہ یہ چل رہا ہے کہ چار گواہوں نے ایک آدمی کے خلاف زنا کی گواہی دی ہے اور پھر ایک مرد اور دو عورتوں نے اس کے محسن ہونے کی گواہی دی ہے، تو یہاں پر امام زفر فرماتے ہیں کہ یہاں عورتوں کی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ اس کی وجہ سے اس آدمی کی سزا بڑھ رہی ہے، اس کو کوڑوں کے بجائے رجم کیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ اس مسئلے کو چھوڑ دیجیے ذرا، عام کسی مقام پر کسی شخص کے محسن ہونے پر گواہی کی ضرورت پیش آگئی، زنا کا مسئلہ نہیں ہے، رجم کرنے کا مسئلہ نہیں، کسی اور مقام پر ایک مرد اور دو عورتوں نے گواہی دی کہ یہ شخص محسن ہے، تو وہاں پر بالاتفاق ان عورتوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے، تو جب کسی اور مقام پر محسن ہونے کے لیے عورتوں کی گواہی قبول کی جاتی ہے تو یہاں پر بھی محسن ہونے کے لیے عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَصَارَ كَمَا إِذَا شَهِدُوا بِهِ فِي غَيْرِ هَذِهِ الْحَالَةِ﴾ اور یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے ان سب نے اس کے محسن ہونے کی گواہی دی ہو اس حالت کے علاوہ کے اندر۔ ﴿بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ﴾ بخلاف اس کے جو امام زفر رحمہ اللہ نے ذکر کیا، امام زفر رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ یہ اسی طرح ہو گیا جیسے دو ذمی گواہی دیں ایک ذمی کے خلاف کہ اس نے اپنے مسلمان غلام کو زنا سے پہلے آزاد کیا ہے، تو یہ صورت اس کے برعکس ہے، امام زفر نے کیا فرمایا تھا یہ عورتوں کی گواہی بھی ان ذمیوں کی گواہی کی طرح ہو گئی اور وہ ذمیوں کی گواہی قبول نہیں تو یہ عورتوں کی گواہی بھی قبول نہیں، ہم کہتے ہیں نہیں یہ صورت مختلف ہے، وجہ یہ ہے کہ یہاں پر جو ذمی گواہی دے رہے ہیں اس کا مسلمان انکار کر رہا ہے، جب مسلمان انکار کر رہا ہے تو ذمیوں کی گواہی مسلمان کے خلاف قبول نہیں کی جا سکتی، یا اس وجہ سے کہ اس گواہی سے مسلمان کا نقصان ہوگا تو اس لیے گواہی قبول نہیں کی جائے گی، اگر اس کے اندر مسلمان کا نقصان نہ ہوتا تو یہ گواہی بھی قبول کر لی جاتی۔ تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ مَا ذَكَرَ لِأَنَّ الْعِتْقَ يَثْبُتُ بِشَهَادَتِهِمَا﴾ بخلاف اس کے جو امام زفر رحمہ اللہ نے ذکر فرمایا اس لیے کیونکہ مسلمان غلام کی آزادی دو ذمیوں کی گواہی سے ثابت ہو جاتی ہے، ﴿وَإِنَّمَا لَا يَثْبُتُ بِسَبْقِ التَّارِيخِ﴾ اور یہاں پر تاریخ کے مقدم ہونے کی وجہ سے مسلمان کی آزادی اس سے ثابت نہیں ہوگی، ﴿لِأَنَّهُ يُنْكِرُهُ الْمُسْلِمُ﴾ اس لیے کیونکہ مسلمان اس تاریخ کے مقدم ہونے کا انکار کر رہا ہے، وہ اس تاریخ کے مقدم ہونے کا انکار کر رہا ہے لہٰذا ذمیوں کی گواہی مسلمان کے خلاف ہو گئی، اور جب مسلمان کے خلاف ہوئی تو اب قبول نہیں کی جائے گی، ﴿أَوْ يَتَضَرَّرُ بِهِ الْمُسْلِمُ﴾ یا اس وجہ سے کہ اس کی وجہ سے مسلمان کو نقصان ہوگا، اور ذمیوں کی گواہی سے مسلمان کو نقصان ہو تو یہ گواہی قبول نہیں کی جاتی بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿فَإِنْ رَجَعَ شُهُودُ الْإِحْصَانِ لَا يَضْمَنُونَ عِنْدَنَا﴾ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ زنا کے معاملے میں تین قسم کے گواہ ہو سکتے ہیں: ایک شہودِ زنا ہیں، ایک شہودِ تزکیہ ہیں، اور ایک شہودِ احصان ہیں، اور شہودِ احصان اگر رجوع کر لیں تو پھر ان پر ضمان نہیں آتا، جبکہ شہودِ تزکیہ یا شہودِ زنا جو ہیں وہ رجوع کر لیں تو ان پر ضمان آتا ہے۔ تو وہی مسئلہ اب ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ﴿فَإِنْ رَجَعَ شُهُودُ الْإِحْصَانِ لَا يَضْمَنُونَ عِنْدَنَا﴾ اور اگر شہودِ احصان جو ہیں وہ رجوع کر لیں تو ہمارے نزدیک وہ ضامن نہیں ہوں گے، ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے، وہ فرماتے ہیں یہ ضامن ہوں گے۔ ﴿وَهُوَ فَرْعُ مَا تَقَدَّمَ﴾ اور یہ اختلاف بھی فرع ہے ماقبل والے اختلاف کی، یہ اختلاف بھی فرع ہے ماقبل والے اختلاف کی بھئی۔ ہمارے نزدیک ضمان نہیں اس لیے کیونکہ انہوں نے صرف شرط کی گواہی دی ہے، اور شرط کی وجہ سے تو ان پر ضمان نہیں آ سکتا، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ یہ شرط ایسی ہے جو علت کے معنی میں ہے، لہٰذا جب یہ علت کے معنی میں ہے تو جیسے علت کے اندر کوئی گواہ رجوع کرتا ہے تو اس پر ضمان آتا ہے، تو یہ شہودِ احصان اگر رجوع کریں گے تو ان پر بھی ضمان آئے گا۔ یہ معنی ہے: ﴿خِلَافًا لِزُفَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ فَرْعُ مَا تَقَدَّمَ﴾ بخلاف امام زفر رحمہ اللہ کے اور یہ اختلاف بھی فرع ہے ماقبل والے اختلاف کی، یہ اختلاف بھی فرع ہے ماقبل والے اختلاف کی بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ چلیے بس بھئی، ھذا ھو المراد واللہ اعلم بحقیقۃ الکلام۔
160 approved lectures · 116 of 160