آگے سبق دیکھیے بھئی:
"فَصْلٌ فِي الشِّرْكَةِ الْفَاسِدَةِ: وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ فِي الِاحْتِطَابِ وَالِاصْطِيَادِ، وَمَا اصْطَادَهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَوْ احْتَطَبَهُ فَهُوَ لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ، وَعَلَى هَذَا الِاشْتِرَاكُ فِي أَخْذِ كُلِّ شَيْءٍ مُبَاحٍ؛ لِأَنَّ الشِّرْكَةَ مُتَضَمِّنَةٌ مَعْنَى الْوَكَالَةِ، وَالتَّوْكِيلُ فِي أَخْذِ الْمَالِ الْمُبَاحِ بَاطِلٌ."
بھئی گزشتہ سبق میں شرکتِ عنان کے مسائل ذکر ہو رہے تھے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ عند الاحناف شرکت کے اندر دونوں شریکوں کا مال ملانا ضروری نہیں ہے۔ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ عقدِ شرکت کے اندر دونوں شریکوں کا اپنے مال کو اس طرح پر ملا دینا کہ دونوں میں سے کسی کے مال کی پہچان نہ ہو سکے کہ کون سا کس کا مال ہے، تو اس طریقے پر دونوں مالوں کو ملانا یہ ضروری ہے، یہ شرط ہے، امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک۔ لہٰذا ان کے نزدیک اگر دونوں شریکوں کے مال کی جنس الگ ہوئی، یعنی ایک کی طرف سے درہم اور دوسرے کی طرف سے دینار، یا دونوں کے مالوں کی صفت الگ الگ ہوئی، یعنی ایک کی طرف سے سفید درہم ہیں اور دوسرے کی طرف سے کالے درہم ہیں، تو اس صورت میں اگر ان کو ملا بھی دیا جائے پھر بھی ان کی پہچان ہوتی ہے۔ لہٰذا اس صورت میں بھی شرکت جائز نہیں ہوگی۔ وہ فرماتے ہیں کہ دراصل یہ جو نفع ہے یہ مال کی فرع ہے، اور نفعے کے اندر اس لیے شرکت آتی ہے کہ دونوں کی مال کے اندر شرکت ہوتی ہے، اور مال کے اندر شرکت تبھی آئے گی جب دونوں اپنے اپنے مال کو آپس میں ملا دیں گے۔
تو وہ فرماتے ہیں یہ جو نفع ہے یہ مال کی فرع ہے، اور اس عقد کا جو محل ہے وہ مال ہے، یعنی مال معقود علیہ ہے، اس پر عقد کیا ہے دونوں نے۔ لہٰذا اسی لیے اس عقد کی نسبت اس مال کی طرف کی جاتی ہے، اور اسے عقد الشركۃ کہتے ہیں، أَيْ عَقْدُ الشِّرْكَةِ الْمَالِ، شرکتِ مال والا عقد۔ تو یہ جو مال دونوں نے ملایا ہے اس میں شرکت ہے، تو عقد کی نسبت بھی اسی کی طرف کی جاتی ہے اور اس کو عقد الشركۃ کہا جاتا ہے، اور نیز اسی لیے وہ فرماتے ہیں کہ اس عقدِ شرکت کے اندر راس المال کا متعین ہونا ضروری ہے، کیونکہ اس کے ذریعے جب ثمن کی ادائیگی کی جائے گی تو مبیع سے پھر آگے جو نفع حاصل ہوگا اس کے اندر بھی دونوں کی شرکت ہوگی۔ کیونکہ جب ادائیگی مالِ مشترکہ سے کی گئی ہے تو نفع میں بھی دونوں شریک ہوں گے۔
اس پر اشکال ہوتا تھا کہ مضاربت کے اندر بھی تو نفعے کے اندر دونوں کی شرکت ہوتی ہے، حالانکہ وہاں پر تو صرف رب المال کی طرف سے مال ہے، مضارب کی طرف سے تو کوئی مال نہیں، تو اس کا بھی جواب دیا کہ یہ جو عقدِ مضاربت ہے یہ شرکت ہے ہی نہیں۔ یہاں پر جو مضارب جو ہے وہ نفعے کا مستحق ہوتا ہے وہ اپنے عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔ تو مضاربت کے اندر تو شرکت نہیں ہے، لیکن شرکتِ عنان میں تو شرکت ہے بھئی۔ چنانچہ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ یہ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کا بڑا ضابطہ ہے کہ یہ جو نفع ہے یہ مال کی فرع ہے۔ اس لیے دونوں مالوں کا ایک جنس کا ہونا بھی ضروری، دونوں مالوں کا ملانا بھی ضروری، اور نیز نفعے کے اندر کمی بیشی بھی جائز نہیں، جتنا جس کا مال ہوگا اتنا ہی نفع میں اس کا حصہ ہوگا، اور نیز اسی لیے وہ فرماتے ہیں شرکۃ الصنائع جائز نہیں ہے، کیونکہ اس کے اندر مال ہی نہیں ہوتا اور نفع تو فرع ہے مال کی۔ تو لہٰذا ان کے نزدیک شرکۃ الصنائع بھی جائز نہیں۔
جبکہ ہمارے نزدیک یہ جو نفع ہے یہ مال کی فرع نہیں بلکہ یہ عقد کی فرع ہے۔ یہ جو دونوں شریکوں نے آپس میں عقدِ شرکت کیا ہے نفع اس عقد کی فرع ہے، کیونکہ اس عقد کی وجہ سے دونوں ایک دوسرے کے وکیل بن گئے۔ تو دونوں شریکوں میں سے جو بھی کوئی تصرف کرتا ہے، بیع وغیرہ والا، تو اس نصف تصرف کے اندر وہ اصیل ہے، اپنی طرف سے تصرف کر رہا ہے، اور نصف تصرف میں وہ دوسرے کی طرف سے وکیل ہے، تو لہٰذا اس کی وجہ سے نفعے کے اندر شرکت آ جائے گی۔ تو معلوم ہوا ہمارے نزدیک یہ جو نفع ہے یہ عقد کی فرع ہے، مال کی فرع نہیں، اور باقی امامِ شافعی اور امامِ زفر رحمہما اللہ فرماتے تھے کہ اس عقد کی نسبت مال کی طرف کی جاتی ہے اور اس کو عقد الشركۃ کہتے ہیں، تو اس کا ہم جواب دیتے ہیں کہ یہ جو عقد ہے اس عقد کا نام ہی شرکت ہے، تو اس عقد کو مال میں شرکت کی وجہ سے عقدِ شرکت نہیں کہتے بلکہ اس عقد کا نام ہی شرکت ہے۔ لہٰذا اس عقد کے اندر شرکت والا معنی ہونا چاہیے، اور شرکت والا معنی یہاں موجود ہے کہ جو بھی دونوں میں سے کوئی تصرف کرتا ہے دوسرا اس میں اس کے ساتھ شریک ہوتا ہے بھئی۔ لہٰذا جب اس عقد کا نام شرکت ہے تو اس میں مال کی شرکت ضروری نہیں۔
اور نیز دوسری دلیل احناف کی یہ ذکر کی صاحبِ ہدایہ نے کہ یہ جو درہم اور دینار ہیں یہ تعیین سے بھی متعین نہیں ہوتے۔ یہاں تک کہ دونوں شریک کسی کے ساتھ بیع و شراء کریں تو اس میں یہی مالِ شرکت دینا متعین نہیں ہے بلکہ اس میں اور مال بھی دیا جا سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا عینِ راس المال کی وجہ سے نفع حاصل نہیں ہوتا بلکہ یہ نفع تصرف کی وجہ سے حاصل ہوتا ہے۔ تو جب مال کو ملائے بغیر ہی تصرف کے اندر شرکت پائی گئی تو اس تصرف سے جو نفع حاصل ہوگا اس کے اندر بھی شرکت پائی گئی بغیر مال کو ملائے ہوئے ہی۔ تو یہ شرکت عقدِ مضاربت کی طرح ہو گئی، جیسے عقدِ مضاربت کے اندر مال ملائے بغیر ہی مضارب جو ہے وہ نفعے کا مستحق ہوتا ہے، تو یہاں عقدِ شرکت میں بھی دونوں مال نہ ملائیں پھر بھی دونوں نفعے کے مستحق ہوں گے کیونکہ دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں بھئی۔
لہٰذا ہمارے نزدیک جب دونوں شریکوں کا آپس میں مال کو ملانا ضروری نہیں تو مال کا ایک جنس کا ہونا بھی ضروری نہیں، اور نیز نفع میں برابری بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ نفع مال کی فرع نہیں ہے، اور نیز نفعے کا مال کے برابر ہونا بھی ضروری نہیں ہے کیونکہ نفع مال کی فرع نہیں ہے، اور نیز شرکۃ الصنائع بھی ہمارے نزدیک جائز ہو گئی کیونکہ ہمارے نزدیک نفع جو ہے وہ مال کی فرع نہیں ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر دو آدمی آپس میں عقدِ شرکت کر لیں اور اس کے اندر ایک کے لیے معین دراہم کی شرط لگا دیں کہ مثلاً نفعے میں سے بیس درہم زید کے ہوا کریں گے اور باقی نفعے کو آدھا آدھا تقسیم کریں گے، تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ بھی جائز نہیں، کیونکہ کسی کے لیے معین دراہم کی شرط لگانا یہ تو عقدِ شرکت کو ختم کر دیتا ہے، اس کی وجہ سے تو شرکت ہی ختم ہو گئی۔ شرکت کا مقصد جو تھا وہ نفعے کے اندر شرکت تھا، تو ہو سکتا ہے سارا نفع ہی بیس درہم ہو تو وہ سارا تو زید لے جائے گا تو نفعے کے اندر تو شرکت نہ پائی گئی، لہٰذا کسی کے لیے معین درہموں کی شرط لگانا صحیح نہیں، یہ اسی طرح ہے جیسے مزارعت کے اندر بھئی، کھیتی باڑی کے اندر دو آدمی آپس میں شرکت کر لیتے ہیں اور اس کے اندر آپس میں طے کر لیتے ہیں مثلاً ایک شریک کہتا ہے کہ سو من گندم جو اولاً حاصل ہوگی وہ میری ہوگی اور باقی گندم کے اندر ہم دونوں شریک ہوں گے، تو یہ بھی درست نہیں ہے، اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے ساری پیداوار ہی سو من گندم ہو، وہ تو پھر ایک شریک لے جائے گا، اس میں تو پھر شرکت ہی ختم ہو گئی بھئی۔ تو معلوم ہوا کسی کے لیے معین درہموں یا معین پیداوار کی شرط لگانا یہ عقدِ شرکت کو باطل کر دیتا ہے، لہٰذا یہ شرط لگانا صحیح نہیں ہے بھئی۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ ان دونوں شریکوں کو کس کس تصرف کا حق حاصل ہوگا، تو بتلایا یہ دونوں بطورِ بضاعت کے بھی اپنا مال کسی کو دے سکتے ہیں۔ میں نے بتلایا تھا بضاعت اسے کہتے ہیں کہ ایک شخص کسی تاجر کو اپنا مال دے دیتا ہے کہ اس مال کو اپنے ساتھ تجارت کے اندر لگاؤ بطورِ سرمائے کے، اور اس مال سے جو نفع حاصل ہوگا وہ سارا اس مال والے ہی کا ہوگا، تو اس کو کیا کہتے ہیں؟ بضاعت۔ تو اس کے اندر دیکھو وہ جو تاجر ہے وہ اس مال والے کے لیے مفت میں کام کر رہا ہے اور اس کو اس کے مال کا پورا نفع ادا کر رہا ہے۔ تو لہٰذا یہ جائز ہے بھئی، اور اسی طرح یہ دونوں شریک کسی کے پاس مال بطورِ امانت کے رکھوانا چاہتے ہوں تو یہ بھی ان کے لیے جائز ہے، اسی طرح اگر دونوں شریک جو ہیں وہ کسی کو مضاربت کے طور پر مالِ شرکت دینا چاہتے ہیں تو یہ بھی ان کے لیے جائز ہے، اسی طرح یہ دونوں شریک بیع و شراء میں کسی کو وکیل بناتے ہیں تو یہ بھی ان کے لیے جائز ہے بھئی، اور نیز دونوں کا قبضہ جو ہوگا مالِ شرکت پر وہ امانت والا قبضہ ہوگا، لہٰذا اگر کسی کے پاس مالِ شرکت ہلاک ہو گیا تو اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی۔
اور پھر اس کے بعد ہم نے شرکۃ الصنائع کے بارے میں پڑھا تھا، میں نے آپ کو بتلایا تھا شرکۃ الصنائع بھئی، صنائع جمع ہے صناعۃ کی اور صناعت کاریگری کو کہتے ہیں، تو دو کاریگر یا دو پیشے والے آدمی آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں کو جو بھی مال ملے گا ہم اس کو قبول کریں گے اور دونوں اس کام کو کیا کریں گے، دونوں مل کر اس کام کو کیا کریں گے اور نفعے کو آپس میں تقسیم کیا کریں گے، تو اس کو شرکۃ الصنائع کہتے ہیں، اور اسی طرح اس کا نام شرکۃ التقبل بھی ہے کہ دونوں عمل کو قبول کرتے ہیں، اور نیز اسی طرح اس شرکت کا نام شرکۃ الاعمال بھی ہے کہ دونوں عمل کرتے ہیں، اور اسی طرح اس شرکت کا نام شرکۃ الابدان بھی ہے کہ دونوں بدن عمل کے اندر شریک ہوتے ہیں۔ مثلاً دو درزیوں نے آپس میں عقد کر لیا یا دو دھوبیوں نے آپس میں عقد کر لیا، بلکہ دونوں کا ایک پیشے والا ہونا بھی ضروری نہیں، ایک درزی ہے اور دوسرا دھوبی ہے، یا ایک دھوبی ہے اور ایک رنگریز ہے، یہ آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں کہ دونوں لوگوں سے کام لیں گے، یعنی دھوبی جو ہے وہ دھوبیوں والا کام بھی قبول کرے گا اور درزیوں والا بھی، دھوبیوں والا کام خود کرے گا اور درزیوں والا کام اپنے شریک کے سپرد کرے گا، اور وہ دوسرا شریک جو درزی ہے وہ درزیوں والا کام بھی قبول کرے گا اور اپنے شریک کے لیے دھوبیوں والا کام بھی قبول کرے گا اور وہ دھوبیوں والا کام اپنے شریک کے سپرد کرے گا اور پھر نفعے کے اندر دونوں آپس میں شریک ہوں گے، تو بتلایا کہ یہ جو شرکۃ الصنائع ہے یہ ہمارے نزدیک جائز ہے بھئی، جبکہ امامِ زفر اور امامِ شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جائز نہیں ہے بھئی۔
اور نیز صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ ہمارے نزدیک یہ بھی جائز ہے کہ دونوں عمل کے اندر نصف نصف کی شرط لگا دیں کہ آدھا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور آدھا کام دوسرے کو، یعنی دونوں میں سے ہر ایک جس کام کو بھی قبول کرے گا وہ دونوں پر آدھا آدھا ہوگا، آدھا کام ایک کو کرنا پڑے گا اور آدھا کام دوسرے کو، اور نفعے کے اندر وہ کمی بیشی کی شرط لگا دیتے ہیں، مثلاً کام تو کرنا ہے پچاس پچاس فیصد لیکن ایک کا نفع جو ہے وہ ستر فیصد ہوگا اور دوسرے کا نفع صرف تیس فیصد ہوگا، تو یہ بھی ہمارے نزدیک جائز ہے، اور بتلایا تھا کہ یہ استحساناً جائز ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ یہ جائز نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ ضمان عمل کے بقدر ہے، دونوں میں سے ہر ایک نصف عمل کا ضامن ہوا ہے، تو ضمان عمل کے بقدر ہے تو اس عمل سے زائد نفعے کی شرط لگانا یہ تو ربح ما لم یضمن کی خرابی اس میں لازم آتی ہے۔ یاد رکھو، یاد رکھو، کوئی شخص نفعے کا مستحق تبھی بنتا ہے جب ایک چیز کا ضمان بھی اس پر آتا ہو، اگر ایک چیز کا ضمان ایک آدمی پر نہیں آتا تو وہ اس چیز کا نفع بھی نہیں لے سکتا۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی دونوں پر نصف نصف کام کا ضمان آ رہا ہے، تو لہٰذا قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ نفعے کے اندر بھی دونوں کا نصف نصف حصہ ہونا چاہیے، اگر زیادہ کی شرط لگائیں گے تو ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آئے گی، اور ربح ما لم یضمن تو جائز نہیں، جیسے شرکتِ وجوہ کے اندر بھئی، شرکتِ وجوہ کے اندر بھئی۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ شرکتِ وجوہ یہ ہے کہ دو آدمی ہیں ان کے پاس مال تو نہیں ہے لیکن تاجروں کا ان پر اعتماد ہے، تاجر ان کی عزت کرتے ہیں، تو یہ آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں ادھار مال لیا کریں گے تاجروں سے اور پھر آگے بیچ کر جو نفع کمایا کریں گے اس کو آپس میں تقسیم کر لیا کریں گے، تو اس کو شرکتِ وجوہ کہتے ہیں، اور یاد رکھو شرکتِ وجوہ کے اندر نفع بقدرِ ضمان آئے گا، یعنی دونوں جو تاجروں سے ادھار مال لیتے ہیں اگر آپس میں یہ طے کیا کہ یہ جو بھی مال ہم ادھار لیں گے آدھا آدھا ضمان دونوں پر آئے گا، اگر یہ مال ضائع ہوا تو آدھا آدھا ضمان دونوں پر آئے گا تو نفع بھی آدھا آدھا ہی آپس میں تقسیم کریں گے، اور اگر آپس میں یہ طے کیا کہ ہم جو بھی مال ادھار لیں گے اس میں سے دو حصوں کا ضامن ایک شریک ہوگا اور ایک حصے کا ضامن دوسرا شریک ہوگا، یعنی تین حصے کر دیے ضمان کے، تو پھر اس صورت میں نفع بھی اسی طرح ہوگا، جس کا حصہ ضمان کے اندر دگنا ہے نفعے کے اندر بھی اس کا حصہ دگنا ہوگا بھئی۔ تو معلوم ہوا شرکتِ وجوہ کے اندر جتنا ضمان اسی کے بقدر نفع بھی ہوگا، تو وہاں ضمان سے کم یا زیادہ نفعے کی شرط لگانا صحیح نہیں ہے۔
تو بات چل رہی تھی کہ یہ شرکتِ اعمال جو ہے، یہ شرکۃ الصنائع جو ہے، اس کے اندر دونوں آپس میں عمل کو تو آدھا آدھا طے کر لیتے ہیں لیکن نفعے کے اندر کمی بیشی کی شرط لگا دیتے ہیں تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے یہ جائز نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس صورت میں ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آتی ہے جیسے شرکتِ وجوہ کے اندر ہے، تو یہ شرکۃ الصنائع بھی کس کی طرح ہو گیا؟ شرکتِ وجوہ کی طرح، جیسے اس کے اندر ضمان سے زائد نفعے کی شرط لگانا صحیح نہیں تو شرکۃ الصنائع میں بھی ضمان سے زائد نفعے کی شرط لگانا صحیح نہیں ہونا چاہیے، لیکن صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ استحساناً یہ جائز ہے۔ وجہ یہ کہ یہ جو شرکۃ الصنائع کے اندر مال آ رہا ہے یہ نفع ہے ہی نہیں، نفع تو اسے کہتے ہیں کہ اصل کی اور نفعے کی جنس ایک ہی ہو، اصل بھی مال ہے اور نفع بھی مال ہے تو اس کو نفع کہتے ہیں، لیکن اگر اصل کی جنس اور ہے اور نفعے کی جنس اور ہے تو اس کو نفع نہیں کہتے۔ جیسے یہاں پر، یہاں اصل مال نہیں ہے کیونکہ دونوں عمل کر رہے ہیں، دونوں نے کوئی مال نہیں آپس میں ملایا، تو یہاں اصل ہے عمل اور نفع جو ہے وہ ہے مال، تو لہٰذا یہ نفع ہے ہی نہیں، یہ دراصل اجرت ہے بھئی، اور اجرت میں تو کمی بیشی ہو سکتی ہے۔ اجرت کی قیمت تو جو آپس میں طے کر لی جائے اتنی مقرر ہوتی ہے، جیسے ایک مزدور آپ کے پاس آتا ہے، آپ اسے کام دکھاتے ہیں کہ یہ کام آپ کو کرنا ہے تو وہ آپ سے کہتا ہے میں پندرہ سو روپے اس کام کے لوں گا، آپ دوسرا مزدور لاتے ہیں تو وہ کہتا ہے میں یہی کام آپ کو ہزار روپے میں کر دوں گا، تو دیکھو دونوں میں سے ہر ایک اپنے کام کی قیمت لگا رہا ہے، تو آپ جس کے ساتھ راضی ہو جائیں گے گویا وہ اس کے عمل کی قیمت ہو گئی، تو یہاں پر بھی دونوں شریک عمل کریں گے اور کام کریں گے اور دونوں نے اپنے اپنے عمل کی جو قیمت لگا دی، زید نے اپنے عمل کی قیمت ستر فیصد لگائی ہے اور عمرو نے اپنے عمل کی قیمت تیس فیصد لگائی ہے تو جب باہمی رضامندی سے یہ طے ہو گیا تو لہٰذا نفعے کی کمی بیشی طے کرنا حرام نہیں ہوگا بھئی۔ دونوں آپس میں برابر عمل کی شرط لگائیں اور نفعے کی کمی بیشی کی شرط لگائیں یہ حرام نہیں ہوگا، جبکہ اس کے مقابلے میں شرکتِ وجوہ جو ہے، شرکتِ وجوہ کے اندر تو دونوں ادھار مال لاتے ہیں تو گویا جو مال وہ لائے ہیں وہ بھی مال ہے اور جو نفع آیا وہ بھی مال ہے، تو وہاں جنس ایک ہے، لہٰذا وہاں تو نفع ہوتا ہے، لہٰذا وہاں تو نفع ضمان کے بقدر ہونا چاہیے ورنہ ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آئے گی، جبکہ یہاں پر تو نفع ہے ہی نہیں بلکہ یہ تو عمل کی اجرت ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ دونوں شریکوں میں سے ہر ایک جس عمل کو بھی قبول کر لے گا دوسرے پر بھی وہ عمل لازم ہو جائے گا، اسے کرنا پڑے گا، اور نیز دونوں میں سے ہر ایک اجرت کا مطالبہ بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً زید اور عمرو دونوں درزی ہیں، دونوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا، یعنی شرکۃ الصنائع بھئی، اور پھر زید کے پاس ایک آدمی کوئی کپڑے سینے کے لیے لایا تو یہ عمل صرف زید پر نہیں لازم بلکہ عمرو پر بھی لازم ہے، وہ عمرو سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے، اور نیز اجرت کا مطالبہ بھی دونوں کر سکتے ہیں، کام زید نے لیا ہے لیکن اجرت کا مطالبہ عمرو بھی کر سکتا ہے۔ معلوم ہوا کام کے اندر اور اجرت کے مطالبے میں دونوں برابر ہیں بھئی، اور اسی طرح اجرت دینے والا ان دونوں میں سے جس کو بھی اجرت دے دے وہ بری ہو جائے گا، اجرت ادا ہو جائے گی، کام اس نے زید کو دیا تھا اور اجرت وہ عمرو کو دیتا ہے تو بھی اس کا ذمہ بری ہو گیا، اس نے اجرت ادا کر دی بھئی۔
اور پھر یہ بھی بتلایا تھا کہ یہ جو عمل کا دونوں سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے اور یہ جو اجرت کا دونوں مطالبہ کر سکتے ہیں، یہ شرکتِ مفاوضہ کے اندر تو یہ بات ظاہر ہے لیکن شرکتِ عنان میں یہ استحساناً ہے۔ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا جہاں باب الشركۃ ہم نے شروع کیا تھا وہاں صاحبِ قدوری نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو شرکت ہے یہ چار قسم پر ہے: شرکتِ مفاوضہ، شرکتِ عنان، شرکۃ الصنائع اور شرکۃ الوجوہ بھئی، لیکن بعض علماء دوسری تقسیم کرتے ہیں اور وہ زیادہ بہتر ہے بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ شرکت جو ہے یا تو مال میں ہوگی یا عمل میں ہوگی یا وجوہ کے اندر ہوگی۔ شرکت یا مال میں ہوگی یا عمل میں ہوگی یا وجوہ کے اندر ہوگی، اور پھر ان تینوں میں سے ہر ایک یا مفاوضہ ہوگی یا عنان، مفاوضہ کے اندر برابری ہوتی ہے اور عنان کے اندر برابری نہیں ہوتی۔ تو لہٰذا شرکۃ الصنائع کے اندر اگر ہر چیز کی برابری کی شرط لگا دی کہ دونوں جو ہیں عمل کے اندر بھی برابر ہوں گے، نفعے اور نقصان میں بھی برابر ہوں گے، معلوم ہوا یہ شرکۃ الصنائع جو ہے یہ شرکتِ مفاوضہ ہے، تو جب ہر چیز میں برابری ہے تو معلوم ہوا دونوں سے عمل کا مطالبہ بھی ہو سکتا ہے اور نیز دونوں اجرت کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیں۔ تو دونوں سے عمل کا مطالبہ ہونا اور دونوں کا اجرت کا مطالبہ کرنا یہ مفاوضہ میں تو ہے، لیکن عنان کے اندر تو دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں، کفیل نہیں ہوتے، لیکن یہاں استحساناً جو ہے وہ کفالت ثابت ہو جائے گی۔ وجہ یہ کہ یہاں شرکۃ الصنائع کے اندر دونوں شریکوں میں سے جو بھی کسی عمل کو قبول کرتا ہے دوسرے پر بھی اس کا ضمان آتا ہے، دوسرے سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اسی لیے تو دوسرا اجرت کا بھی مستحق بنتا ہے، لہٰذا یہ جو شرکۃ الصنائع جو ہے عنان کے طریقے پر ہو یہ بھی مفاوضہ کے قائم مقام ہے، یعنی اس میں برابری ہوگی کہ دونوں سے عمل کا بھی مطالبہ ہو سکتا ہے اور دونوں اجرت کا بھی مطالبہ کر سکتے ہیں۔ البتہ باقی چیزوں کے اندر یہ شرکتِ عنان جو ہے یہ مفاوضہ کی طرح نہیں ہے، مفاوضہ میں تو ایک شریک پر جو دین لازم آتا تھا وہ دوسرے پر بھی لازم ہو جاتا تھا لیکن یہاں شرکۃ الصنائع کے اندر جو شرکتِ عنان ہے وہ شرکتِ مفاوضہ کے درجے میں ہے دو چیزوں میں: ایک عمل کے ضمان میں اور دوسرا اجرت کے مطالبے میں، باقی دین وغیرہ کسی ایک پر لازم ہوتا ہے تو وہ دوسرے پر لازم نہیں ہوگا، یعنی باقی چیزوں میں یہ شرکتِ عنان شرکتِ مفاوضہ کی طرح نہیں ہے اس شرکۃ الصنائع کے اندر بھئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے شرکتِ وجوہ کے بارے میں بتلایا تھا کہ شرکتِ وجوہ اسے کہتے ہیں کہ دو آدمی آپس میں عقد کر لیتے ہیں، ادھار مال لیتے ہیں تاجروں سے اور پھر اس کو آگے بیچتے ہیں اور نفعے کے اندر دونوں شریک ہوتے ہیں، اس کو شرکتِ وجوہ کہتے ہیں، اور اس کو شرکتِ وجوہ اس لیے کہتے ہیں کیونکہ یہاں تاجروں سے ادھار مال لیا جاتا ہے اور وجوہ جو ہے وجاہت سے ہے اور وجاہت عزت کو کہتے ہیں، اور تاجر ادھار اسی کو مال دیں گے جن کی تاجروں کے ہاں عزت ہوگی، تاجروں کا جن پر اعتماد ہوگا، ہر ایک کو تو وہ ادھار مال نہیں دیں گے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ شرکتِ وجوہ کے اندر دونوں شریک جو بھی چیز ادھار خریدتے ہیں تاجروں سے اس کے اندر دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں اور دونوں پر ضمان آتا ہے، اور البتہ اس کے اندر جتنا جتنا ضمان دونوں پر آئے گا نفعے کے اندر بھی اتنا ہی حصہ ہوگا، نفعے کے اندر کمی بیشی جائز نہیں ہے بھئی، اور اگر نفعے کے اندر کمی بیشی کی شرط بھی لگا دی تو وہ شرط باطل ہے، مال کے بقدر ہی دونوں نفعے کے مستحق ہوں گے۔ مثلاً زید اور عمرو نے عقدِ شرکت کر لیا کہ ہم تاجروں سے ادھار مال لیں گے اور ہر ایک پر پچاس فیصد ضمان آئے گا، اگر نقصان ہوا تو پچاس فیصد ضمان زید پر آئے گا اور پچاس فیصد ضمان عمرو پر آئے گا، تو نفعے کے اندر بھی اسی طرح دونوں کا حصہ پچاس پچاس فیصد ہوگا، اگر نفعے کے اندر زیادتی کی شرط لگا دی مثلاً زید کہتا ہے کہ میں ستر فیصد نفع لوں گا تو یہ شرط باطل ہے، نفعے کے اندر بھی دونوں کا حصہ ضمان کے بقدر ہی ہوگا یعنی پچاس پچاس فیصد۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اور وجہ یہ ہے کہ نفعے میں برابری اس لیے آئے گی کیونکہ کوئی شخص نفعے کا جو مستحق بنتا ہے یا تو وہ مال کی وجہ سے بنتا ہے یا عمل کی وجہ سے یا ضمان کی وجہ سے، جیسے مضاربت کے اندر رب المال جو ہے وہ نفعے کا مستحق ہے اپنے مال کی وجہ سے، اور مضارب نفعے کا مستحق ہے اپنے عمل کی وجہ سے، اور بعض اوقات کوئی آدمی نفعے کا مستحق ہوتا ہے ضمان کی وجہ سے، جیسے کوئی کاریگر ہے اس کے پاس اور لوگ بھی کام سیکھنے کے لیے آتے ہیں تو وہ کاریگر لوگوں سے کام لیتا ہے اور اپنے پاس سیکھنے والے شاگردوں کو وہ کام حوالے کرتا ہے نصف نفعے کے بدلے، نصف استاد خود رکھ لیتا ہے اور نصف ان کام کرنے والوں کو دے دیتا ہے، تو یہاں پر بھی جو استاد نصف نفعے کا مستحق ہو رہا ہے وہ ضمان کی وجہ سے ہے کیونکہ اس کام کا ضمان استاد پر ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا نفعے کا مستحق انسان تین چیزوں کی وجہ سے بنتا ہے: یا تو مال کی وجہ سے، یا عمل کی وجہ سے، یا ضمان کی وجہ سے، ان کے علاوہ کسی اور وجہ سے انسان نفعے کا مستحق نہیں بنتا۔ اور شرکتِ وجوہ جو ہے اس کے اندر جو انسان نفعے کا مستحق بنتا ہے وہ ضمان کی وجہ سے بنتا ہے، کیونکہ وہ تاجروں سے ادھار مال لایا ہے، اس پر ضمان آ رہا ہے، تو لہٰذا یہاں پر نفعے کا ضمان کے بقدر ہونا ضروری ہے ورنہ ربح ما لم یضمن کی خرابی لازم آئے گی بھئی، اور ربح ما لم یضمن یہ تو صرف مضاربت کے اندر جائز ہے، مضارب نفعے کے اندر حصہ لیتا ہے اگرچہ نقصان ہو جائے تو ضمان مضارب پر نہیں آتا سارا نقصان رب المال پر آتا ہے، تو ربح ما لم یضمن صرف مضاربت کے اندر جائز ہے بھئی۔ اور جبکہ شرکتِ وجوہ جو ہے وہ مضاربت کے معنی میں نہیں ہے، اس لیے کیونکہ شرکتِ وجوہ میں دونوں شریک کام کریں گے اور اگر نقصان ہوا تو ضمان بھی دونوں پر آئے گا، جبکہ مضاربت کے اندر صرف مضارب کام کرتا ہے اور اگر نقصان ہو تو نقصان صرف رب المال پر آتا ہے، تو لہٰذا یہ جو شرکتِ وجوہ ہے یہ مضاربت کی طرح نہیں ہے، مضاربت کے اندر تو ربح ما لم یضمن جائز ہے لیکن شرکتِ وجوہ کے اندر ربح ما لم یضمن جائز نہیں کیونکہ یہ کسی بھی اعتبار سے مضاربت کی طرح نہیں ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا کس طرح مضاربت کی طرح نہیں ہے کہ شرکتِ وجوہ میں دونوں کو عمل کرنا پڑتا ہے اور اگر نقصان بھی ہوا تو دونوں پر آئے گا، جبکہ مضاربت میں ایک کو کام کرنا پڑتا ہے اور نقصان بھی ہو تو ایک ہی پر آتا ہے، دوسرے پر نقصان نہیں آتا۔ تو شرکتِ وجوہ کسی بھی اعتبار سے مضاربت کی طرح نہیں، لہٰذا مضاربت کی طرح یہاں ربح ما لم یضمن جائز نہیں ہوگا۔
جبکہ شرکتِ عنان جو ہے وہ مضاربت کی طرح ہے بایں لحاظ کہ شرکتِ عنان کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے مال میں عمل کرتے ہیں، دونوں شریکوں نے مال ملا دیا، مثلاً زید اور عمرو نے شرکتِ عنان کر لیا، دونوں نے اپنا مال ملا دیا، تو زید بھی تجارت کر رہا ہے اس مالِ مشترکہ میں اور عمرو بھی اس مالِ مشترکہ میں تجارت کر رہا ہے، تو زید اس مالِ مشترکہ میں عمل کر رہا ہے اور اس کا مال بھی ہے، تو اس مال کے اندر زید عمل کر رہا ہے اصیل ہونے کے اعتبار سے، اور دوسرے شریک کے مال میں بھی کام کر رہا ہے اس کی طرف سے وکیل ہونے کی وجہ سے۔ تو شرکتِ عنان میں دونوں شریک جو ہیں وہ ایک دوسرے کے مال میں عمل کرتے ہیں وکیل ہونے کی وجہ سے، جیسے مضاربت کے اندر مال رب المال کا ہوتا ہے اور عمل جو ہے وہ مضارب کرتا ہے، تو مضارب دوسرے کے مال میں عمل کر رہا ہے اس کی طرف سے وکیل ہونے کی وجہ سے۔ تو مضاربت میں بھی ایک شخص دوسرے شخص کے مال میں عمل کرتا ہے، اسی طرح شرکتِ عنان میں بھی دونوں شریک ایک دوسرے کے مال میں عمل کرتے ہیں، تو یہ شرکتِ عنان مضاربت کی طرح ہوئی، اور مضاربت میں تو ربح ما لم یضمن جائز ہے تو شرکتِ عنان میں بھی ربح ما لم یضمن جائز ہوگا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
یہاں ایک اعتراض ہوتا ہے۔ اعتراض یہ کہ آپ نے ہمیں بتایا کہ مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن لازم آتا ہے اور ربح ما لم یضمن تو جائز ہی نہیں، لیکن مضاربت میں خلافِ قیاس ربح ما لم یضمن جائز ہے کیونکہ حدیثِ مبارکہ سے اس کا ثبوت ہے بھئی، تو جو چیز خلافِ قیاس ہو اس پر تو دوسری چیز کو قیاس نہیں کیا جا سکتا بھئی۔ قیاس تو اس چیز پر کیا جاتا ہے جو خود عقل کے مطابق ہو، جب ایک چیز عقل کے مطابق ہے تو دوسری چیز کو بھی اس پر قیاس کر لیا جاتا ہے، اور ایک چیز ہماری عقل میں ہی نہیں آ رہی، ہمیں اس کی وجہ ہی سمجھ میں نہیں آ رہی تو اس کے ساتھ دوسری چیز کو کیسے ملایا جا سکتا ہے؟ تو مضاربت کے اندر ربح ما لم یضمن جائز ہے خلافِ قیاس بھئی، تو جب مضاربت خود خلافِ قیاس ہے تو عنان کو مضاربت پر قیاس کرتے ہوئے عنان کے اندر بھی ربح ما لم یضمن جائز قرار نہیں دیا جا سکتا، حالانکہ آپ فرما رہے ہیں کہ عنان کو بھی مضاربت والا حکم دے دیا گیا، جیسے مضاربت میں ربح ما لم یضمن جائز ہے اسی طرح عنان میں بھی ربح ما لم یضمن جائز ہوگا۔
تو جواب یاد رکھنا، جواب یاد رکھنا کہ ہم عنان کو ملا رہے ہیں مضاربت کے ساتھ، یعنی عنان کو وہی حکم دے رہے ہیں جو مضاربت کا ہے، تو اس کے لیے ضروری ہے کہ مضاربت جو ہے اس کو بھی خلافِ قیاس قرار نہ دیا جائے۔ لہٰذا ہم یوں کہیں گے، ادھر دیکھیے، کہ بھئی یہاں مضاربت کو بھی قیاس کے مطابق قرار دیا جائے گا پھر ہی عنان کو مضاربت والا حکم دیا جا سکتا ہے، اور وہ اس طرح کہ مضاربت کے اندر مال تو رب المال کا ہے اور نفعے کا مستحق مضارب بھی بن رہا ہے حالانکہ اس کا کوئی مال نہیں ہے لیکن پھر بھی وہ نفعے کا مستحق بن رہا ہے، وہ دراصل اپنے عمل کی وجہ سے نفعے کا مستحق بن رہا ہے، اور جب اپنے عمل کی وجہ سے نفعے کا مستحق بن رہا ہے تو اس اعتبار سے مضاربت خلافِ قیاس نہیں بلکہ قیاس کے مطابق ہے بھئی، کیونکہ کوئی شخص عمل کرے تو اس کو اجرت دی جاتی ہے بھئی، جیسے اجارے کے اندر ہے بھئی، آپ ایک مزدور کو لاتے ہیں وہ آپ کے لیے عمل کرتا ہے تو آپ اس کو اس کی اجرت دیتے ہیں، لہٰذا مضاربت کے ساتھ عنان اسی صورت میں ملایا جا سکتا ہے جب مضاربت کو بھی قیاس کے مطابق قرار دے دیا جائے، اور مضاربت قیاس کے مطابق ہے بایں لحاظ کہ مضاربت کے اندر مضارب جو نفعے کا مستحق بن رہا ہے وہ اپنے عمل کی وجہ سے بن رہا ہے، تو جب اپنے عمل کی وجہ سے مضارب نفعے کا مستحق بن رہا ہے تو مضاربت خلافِ قیاس نہ رہی، قیاس کے مطابق ہو گئی، جب یہ قیاس کے مطابق ہوئی تو اس پر عنان کو قیاس کرنا صحیح ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب آئیے آج کے سبق پر:
"فَصْلٌ فِي الشِّرْكَةِ الْفَاسِدَةِ: وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ فِي الِاحْتِطَابِ وَالِاصْطِيَادِ، وَمَا اصْطَادَهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَوْ احْتَطَبَهُ فَهُوَ لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ"
بھئی اب شرکتِ فاسدہ کا بیان آ گیا۔ صاحبِ ہدایہ شرکتِ فاسدہ کے احکام بیان کریں گے۔ مثلاً ایک ایسی چیز ہے کہ اس کے اندر شرکت جائز ہی نہیں ہے لیکن دو آدمی اس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے، یا کوئی ایسی چیز ہے کہ اس میں شرکت تو جائز ہے لیکن دونوں نے اس کے اندر کوئی ایسی شرط لگا دی جس کی وجہ سے وہ شرکت فاسد ہو گئی تو پھر اس کا کیا حکم ہے، تو صاحبِ ہدایہ وہ تفصیل اس فصل میں بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: "فَصْلٌ فِي الشِّرْكَةِ الْفَاسِدَةِ" یہ فصل ہے شرکتِ فاسدہ کے بیان میں۔ "وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ فِي الِاحْتِطَابِ وَالِاصْطِيَادِ" اور جائز نہیں ہے شرکت لکڑیاں اکٹھی کرنے میں اور شکار کرنے میں۔ احتطاب بھئی، احتطاب کا معنی ہے لکڑیاں لانا، لکڑیاں اکٹھی کرنا، جنگل سے لکڑیاں لانا جلانے کے لیے، اس کو کیا کہتے ہیں؟ احتطاب بھئی، اور اصطیاد کا معنی ہے شکار کرنا بھئی۔ اب یاد رکھو، جنگل کی لکڑیاں مباح ہیں سب کے لیے بھئی، جو بھی ان لکڑیوں کو لے آئے گا وہ ان کا مالک بن جائے گا، اسی طرح شکار کرنا بھی ہر ایک کے لیے مباح ہے، جو بھی شکار کو پکڑ لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، اور یاد رکھنا مباح چیزوں کے اندر شرکت جائز نہیں ہے، مباح چیزوں میں شرکت جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: "وَلَا يَجُوزُ الشِّرْكَةُ فِي الِاحْتِطَابِ وَالِاصْطِيَادِ" اور جائز نہیں ہے شرکت لکڑیاں اکٹھی کرنے میں اور شکار کرنے میں، "وَمَا اصْطَادَهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا" اور وہ جو دونوں میں سے ہر ایک نے شکار کیا، "أَوْ احْتَطَبَهُ" یا وہ لکڑیاں جو دونوں میں سے ہر ایک نے اکٹھی کیں، "فَهُوَ لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ" تو وہ اسی کی ہیں نہ کہ اس کے ساتھی کی، دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کیا تھا کہ بھئی جنگل سے جو بھی لکڑیاں تم لاؤ گے آدھی تمہاری ہوں گی آدھی میری، اور میں بھی جنگل سے جو لکڑیاں لاؤں گا آدھی میری ہوں گی اور آدھی تمہاری ہوں گی، تو کہتے ہیں نہیں یہ عقدِ شرکت جائز ہی نہیں ہے، لہٰذا جو بھی لکڑیاں لائے گا وہ اسی کی ہوں گی، اس کے شریک کا اس میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ یہ معنی ہے کہ "وَمَا اصْطَادَهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا" اور وہ جو دونوں میں سے ہر ایک شکار کر لے، "أَوْ احْتَطَبَهُ" یا دونوں میں سے ہر ایک جو لکڑیاں لے آئے، "فَهُوَ لَهُ دُونَ صَاحِبِهِ" تو وہ اسی کی ہیں نہ کہ اس کے ساتھی کی، "وَعَلَى هَذَا الِاشْتِرَاكُ فِي أَخْذِ كُلِّ شَيْءٍ مُبَاحٍ" اور اسی پر ہے ہر مباح چیز کے لینے میں اشتراک، یعنی ہر مباح چیز کے لینے میں جو بھی اشتراک کیا جائے، جو بھی عقد کیا جائے وہ بھی اسی پر ہے یعنی اس کا بھی یہی حکم ہے، یعنی وہ جائز نہیں ہے۔ مثلاً دو آدمی آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں پہاڑ سے پتھر لائیں گے، میں بھی جو پتھر لایا اس میں آدھا حصہ میرا ہوگا اور آدھا تمہارا، اور دوسرا شریک بھی اگر پتھر لایا تو اس میں آدھا حصہ اس کا ہوگا اور آدھا حصہ اس کے شریک کا ہوگا، یا دونوں آپس میں عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں پہاڑ سے مٹی لائیں گے اور جو بھی پہاڑ سے مٹی لائے گا تو دوسرے کا بھی اس کے اندر حصہ ہوگا، تو آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ مباح چیز کے لینے میں اشتراک جائز نہیں، جو وہ مٹی یا پتھر لائے گا وہی اس کا مالک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: "وَعَلَى هَذَا الِاشْتِرَاكُ فِي أَخْذِ كُلِّ شَيْءٍ مُبَاحٍ" اور اسی پر ہے اشتراک ہر مباح چیز کے لینے میں، "لِأَنَّ الشِّرْكَةَ مُتَضَمِّنَةٌ مَعْنَى الْوَكَالَةِ" اس لیے کیونکہ شرکت جو ہے وہ متضمن ہوتی ہے وکالت کے معنی کو، شرکت کے اندر وکالت والا معنی ہوتا ہے، دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل ہوتے ہیں، اور مباح چیز کے اندر دوسرے کو وکیل بنانا جائز نہیں، جب وکیل بنانا ہی جائز نہیں تو شرکت کی تو بنیاد ہی وکالت پر تھی لہٰذا شرکت بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: "لِأَنَّ الشِّرْكَةَ مُتَضَمِّنَةٌ مَعْنَى الْوَكَالَةِ" اس لیے کیونکہ یہ شرکت جو ہے یہ وکالت کے معنی کو متضمن ہے یعنی اس کے ضمن میں، اس کے اندر وکالت والا معنی ہوتا ہے، "وَالتَّوْكِيلُ فِي أَخْذِ الْمَالِ الْمُبَاحِ بَاطِلٌ" اور وکیل بنانا، توکیل کا کیا معنی ہے؟ دوسرے کو وکیل بنانا، "وَالتَّوْكِيلُ فِي أَخْذِ الْمَالِ الْمُبَاحِ بَاطِلٌ" اور مالِ مباح کے لینے میں دوسرے کو وکیل بنانا باطل ہے۔ توجہ ہے؟ اب دعویٰ یہ ہے کہ مباح چیز کے لینے میں دوسرے کو وکیل بنانا باطل ہے، اس پر دو دلیلیں ذکر کریں گے صاحبِ ہدایہ: ایک تو یہ کہ مؤکل کا دوسرے کو مباح چیز کے لانے کا حکم دینا یہ حکم ہی صحیح نہیں ہے، توجہ ہے؟ مؤکل، وہ جو وکیل بنانے والا ہے، مؤکل کا وکیل کو حکم دینا کہ مباح چیز لے کر آؤ میرے لیے یہ حکم صحیح ہی نہیں، کیونکہ وکیل اس چیز کے اندر بنایا جاتا ہے جس کا انسان مالک ہو، جس پر انسان کو ولایت حاصل ہو، مثلاً آپ کی گاڑی ہے تو آپ اس گاڑی کے مالک ہیں اور آپ کو اس گاڑی پر ولایت ہے، آپ اس کو بیچنا چاہیں بیچ سکتے ہیں، آپ کسی کو ہبہ کرنا چاہیں ہبہ کر سکتے ہیں، تو دیکھو گاڑی آپ کی ملکیت بھی ہے اور اس کے بیچنے اور ہبہ کرنے کی ولایت بھی آپ ہی کو حاصل ہے، زید کو یہ ولایت حاصل نہیں ہے، لہٰذا اب آپ زید کو بھی یہ ولایت دے دیتے ہیں کہ جاؤ بھئی میری یہ گاڑی بیچ کر آ جاؤ، تو اب دیکھو زید تو اس گاڑی کا مالک بھی نہیں تھا، اس کو اس کے بیچنے کا اختیار بھی نہیں تھا، یہ اختیار گاڑی کے مالک نے اسے دے دیا کہ جاؤ جا کر یہ گاڑی بیچ کر آؤ بھئی، توجہ ہے؟ تو لہٰذا جب بھی کسی کو وکیل بنایا جاتا ہے تو ایسی چیز میں وکیل بنایا جاتا ہے جس پر مؤکل کو ولایت حاصل ہو، جبکہ مباح چیز پر تو مؤکل کو ولایت حاصل ہی نہیں ہے، تو جب خود مؤکل کو اس پر ولایت حاصل نہیں ہے تو وہ دوسرے کو اس پر کیا ولایت دے گا! بھئی بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا مالِ مباح کے لینے میں توکیل باطل ہے۔
جاتا ہے جس کی ولایت اس موکل کو حاصل ہوتی ہے اور وکیل کو اس کی ولایت حاصل نہیں ہوتی۔ اور یہاں پر مالِ مباح کا لینا، وہ تو سب کے لیے جائز ہے بھئی۔ زید جائے، وہ بھی لا سکتا ہے، عمرو جائے، وہ بھی لا سکتا ہے اور جو لائے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا۔ لہٰذا مباح چیز کے لینے میں دوسرے کو وکیل بنانا صحیح ہی نہیں ہے بھئی، کیونکہ نہ اس موکل کی ملکیت ہے اور نہ اس کو اس کی ولایت حاصل ہے۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ دعویٰ کیا تھا؟ کہ مباح چیز کے لینے میں توکیل باطل ہے بھئی۔ تو مباح چیز کے لینے میں توکیل باطل ہے: ”لِأَنَّ أَمْرَ الْمُوَكِّلِ بِهِ غَيْرُ صَحِيحٍ“، اس لیے کیونکہ موکل کا اس مباح چیز کو لینے کا حکم دینا ”غَيْرُ صَحِيحٍ“، یہ صحیح نہیں۔ موکل کا اس مباح چیز کے لینے کا حکم دینا یہ صحیح ہی نہیں، کیونکہ موکل کو نہ اس چیز پر ملکیت حاصل ہے اور نہ اس پر ولایت حاصل ہے بھئی۔ لہٰذا موکل کا حکم دینا ہی صحیح نہیں۔ موکل کا وکیل بنانا ہی صحیح نہیں ہے۔ یہ ایک دلیل ہو گئی۔
دوسری دلیل: وکیل کا وکیل بننا بھی صحیح نہیں ہے۔ موکل کا وکیل بنانا بھی نہیں صحیح اور وکیل کا وکیل بننا بھی نہیں صحیح، یہ دوسری دلیل ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ وجہ یہ کہ وکیل جو ہے وہ تو کسی انسان کا نائب ہوتا ہے اور نائب اسی چیز میں ہوگا جس کا خود وکیل کو اختیار نہیں تھا بھئی۔ خود وکیل کو اس کا اختیار نہیں تھا، تو دوسرا اس کو پھر وہ اختیار دے دیتا ہے۔ مثلاً زید آپ کی گاڑی نہیں بیچ سکتا تھا، لیکن آپ نے اس کو اختیار دے دیا کہ جاؤ جا کر یہ گاڑی بیچ کر آ جاؤ بھئی۔ تو لہٰذا وکیل جو ہے وہ موکل کا نائب ہوتا ہے اور نائب اسی چیز میں بن سکتا ہے جس کا وکیل کو خود اختیار نہ ہو بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْوَكِيلُ يَمْلِكُهُ“، اور وکیل جو ہے وہ بھی مباح چیز کا مالک بن جاتا ہے ”بِدُونِ أَمْرِهِ“، موکل کے حکم کے بغیر ہی۔ وکیل خود بھی مباح چیز کا مالک بن جاتا ہے موکل کے کہے بغیر ہی۔ ”فَلَا يَصْلُحُ نَائِبًا عَنْهُ“، لہٰذا وکیل جو ہے موکل کی طرف سے نائب نہیں ہو سکتا۔ اس مباح چیز کے لانے میں اس کی طرف سے نائب نہیں ہو سکتا، تو معلوم ہوا یہاں وکالت درست نہیں۔ جب وکالت درست نہیں تو شرکت بھی صحیح نہیں، کیونکہ شرکت میں تو وکالت ہوتی ہے۔
دعویٰ سمجھ میں آیا؟ دعویٰ کیا تھا؟ کہ مباح چیز کے لینے میں وکیل بنانا صحیح نہیں، کیونکہ موکل کا وکیل بنانا صحیح نہیں اور وکیل کا وکیل بننا صحیح نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْمِلْكُ لَهُمَا بِالْأَخْذِ وَالْإِحْرَازِ الْمُبَاحَ“، اب یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ مباح چیز کے اندر وکیل بنانا تو صحیح نہیں، تو مباح چیز کا مالک کیسے بنا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلا رہے ہیں کہ مباح چیز کا مالک جو ہے، اس چیز کو لے لینے سے، اس کو اٹھا لینے سے، اس کو جمع کر لینے سے انسان اس کا مالک بن جاتا ہے۔ لہٰذا جس نے لکڑیاں جمع کیں وہ لکڑیوں کا مالک ہے، جس نے شکار پکڑا وہ شکار کا مالک ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْمِلْكُ لَهُمَا“، اور یہ دونوں شریکوں کے لیے ملکیت ثابت ہوگی ”بِالْأَخْذِ وَإِحْرَازِ الْمُبَاحِ“، ”بِالْأَخْذِ“، لے لینے سے، کہ اس چیز کو لے لیں، اس مباح چیز کو لے لیں، اس کو اٹھا لیں، ”وَإِحْرَازِ الْمُبَاحِ“، اور اس مباح چیز کو جمع کر لینے سے۔ احراز، اَحْرَزَ يُحْرِزُ اِحْرَاز کا معنی ہے: جمع کر لینا بھئی، سمیٹ لینا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا يَثْبُتُ الْمِلْكُ لَهُمَا بِالْأَخْذِ وَإِحْرَازِ الْمُبَاحِ“، اور ان دونوں کے لیے ملکیت ثابت ہوگی اس مباح چیز کو لینے سے اور اس کو سمیٹ لینے سے۔
”فَإِنْ أَخَذَاهُ مَعًا“، اب یہاں تین صورتیں بنتی ہیں۔ دو آدمیوں نے آپس میں مباح چیز کے لینے پر عقدِ شرکت کر لیا۔ اب یہ شرکت تو درست نہیں ہے۔ تو اب دونوں وہ چیز لینے جاتے ہیں: یا تو دونوں مل کر ان چیزوں کو اکٹھا کریں گے، تو پھر تو دونوں کی ملکیت ہے، نصف ایک کی اور نصف دوسرے کی، اور اگر دونوں میں سے ایک نے ان چیزوں کو جمع کیا، دوسرے نے کوئی عمل نہیں کیا، تو جو عمل کرنے والا ہے وہی مالک ہوگا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ جمع تو ایک نے کیا ہے لیکن دوسرے نے مدد کی ہے صرف، تو جو جمع کرنے والا ہے، جو سمیٹنے والا ہے وہ ہے مالک اور وہ جو مدد کرنے والا ہے اس کو اس کی اجرت ملے گی۔
مثلاً کیا مدد کی؟ مثلاً ایک خاص قسم کے پودے یہ جمع کر رہے ہیں۔ تو ایک ان پودوں کو اکھاڑتا جا رہا ہے اور دوسرا ان کو جمع کر رہا ہے۔ تو یاد رکھو، جو جمع کر رہا ہے، جو سمیٹ رہا ہے، وہ ہے مالک بھئی۔ کیونکہ مباح چیز کو جو جمع کر لے اور سمیٹ لے وہ مالک بن جاتا ہے۔ تو لہٰذا جمع کرنے والا ہوا مالک، اور اکھاڑنے والا جو ہے وہ ہے مددگار۔ لہٰذا اس کو اس کے کام کے، اس کے عمل کی اجرت دی جائے گی بھئی۔ یا دوسری صورت لے لیں: ایک ہی شخص اکھاڑ بھی رہا ہے اور جمع بھی کر رہا ہے ان پودوں کو، جبکہ دوسرا شریک پھر بعد میں ان ساروں کو اٹھا کر اس کے ساتھ بازار میں لے آتا ہے۔ تو یاد رکھو اس صورت کے اندر بھی، جس نے اکھاڑا اور جمع کیا ہے وہ ہے مالک اور جنگل سے اس کو بازار تک لانے والا اس نے صرف لانے کے اندر مدد کی ہے، تو اس کو اس کے لانے کی اجرت دی جائے گی۔ تو اگر دونوں نے جمع کیا تو دونوں مالک، اگر ایک نے جمع کیا ہے اور دوسرے نے کوئی کام نہیں کیا تو جمع کرنے والا سارے کا مالک ہے، اور اگر ایک نے جمع کیا ہے اور دوسرے نے مدد کی ہے تو جمع کرنے والا مالک اور مدد کرنے والے کو اس کی اجرت دی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ أَخَذَاهُ مَعًا“، اگر ان دونوں نے اس مباح چیز کو اکٹھا لیا ”فَهُوَ بَيْنَهُمَا نِصْفَانِ“، تو یہ ان دونوں کے درمیان آدھی آدھی ہوگی۔ یعنی آدھی آدھی کے دونوں مالک ہوں گے۔ ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي سَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ“، اس وجہ سے کہ دونوں برابر ہیں استحقاق کے سبب میں۔ مباح چیز کا مستحق کوئی کیسے بنتا ہے؟ جو اس کو لے لے، جو اس کو جمع کر لے، وہ مالک بنتا ہے۔ تو سببِ استحقاق میں دونوں برابر ہیں، دونوں نے جمع کیا ہے تو دونوں مالک ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لِاسْتِوَائِهِمَا فِي سَبَبِ الِاسْتِحْقَاقِ“، بوجہ دونوں کے برابر ہونے کے استحقاق کے سبب کے اندر۔ ”وَإِنْ أَخَذَهُ أَحَدُهُمَا“، اور اگر ان دونوں میں سے ایک نے اس مباح چیز کو لیا ہے ”وَلَمْ يَعْمَلْ الْآخَرُ شَيْئًا“، اور دوسرے نے کوئی عمل نہیں کیا ”فَهُوَ لِلْعَامِلِ“، تو یہ ساری مباح چیز جو ہے اس عامل کی ہے جو عمل کر رہا ہے۔ جس نے عمل نہیں کیا اس کا کوئی حصہ نہیں بھئی۔
”وَإِنْ عَمِلَ أَحَدُهُمَا“، اور اگر ان دونوں میں سے ایک نے عمل کیا ہے ”وَأَعَانَهُ الْآخَرُ فِي عَمَلِهِ“، اور دوسرے نے اس کے عمل میں اس کی مدد کی ہے، ”بِأَنْ قَلَعَهُ“، یہ باء تصویریہ ہے، صورت بتلا رہے ہیں کہ کیسے دوسرے نے مدد کی، کہتے ہیں: ”بِأَنْ قَلَعَهُ أَحَدُهُمَا“، بایں صورت کہ ان دونوں میں سے ایک نے اس کو اکھاڑا ہے ”وَجَمَعَهُ الْآخَرُ“، اور دوسرے نے اس کو جمع کیا ہے، تو جمع کرنے والا مالک اور اکھاڑنے والا مددگار ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“، توجہ ہے؟ عبارت پہ نظر ہے؟ ”أَوْ قَلَعَهُ“، یا اس نے اس کو اکھاڑا ہے ”وَجَمَعَهُ“، اور اس کو جمع کیا ہے ”وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“، اور دوسرے نے اس کو اٹھایا ہے۔ دوسرے نے اس کو اٹھایا ہے، یعنی اٹھا کر بازار تک یا بستی تک لے کر آیا ہے۔ تو یاد رکھو، یہاں ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ“، ان دونوں کے اندر جو ضمیر ہے وہ پیچھے راجع ہوگی جو پیچھے ”أَحَدُهُمَا“ آیا: ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ أَحَدُهُمَا“، کہ ان دونوں میں سے ایک نے ان کو اکھاڑا بھی ہے اور جمع بھی کیا ہے ”وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“، اور دوسرے نے ان کو اٹھایا ہے بھئی، وہ اٹھا کر اس کو لایا ہے بھئی۔
بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہدایہ کے بعض نسخوں میں عبارت اسی طرح ہے: ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“، یعنی ”قَلَعَ“ اور ”جَمَعَ“ کے اندر ضمیر لوٹانی پڑے گی پیچھے ”أَحَدُهُمَا“ کی طرف۔ جبکہ ہدایہ کے بعض نسخوں میں ”قَلَعَ“ اور ”جَمَعَ“ کے بعد باقاعدہ ”أَحَدُهُمَا“ الگ ذکر ہے، اور وہ عبارت زیادہ مناسب ہے، یعنی بالکل واضح ہے بھئی۔ لیکن بہرحال دونوں طرح کی عبارتیں ہدایہ کے نسخوں میں موجود ہیں۔ بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے: ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ أَحَدُهُمَا وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“۔ توجہ ہے؟ تو یہاں ”قَلَعَ“ اور ”جَمَعَ“ کے بعد ”أَحَدُهُمَا“ ذکر ہے بعض ہدایہ کے نسخوں میں۔
تو کہتے ہیں: ”أَوْ قَلَعَهُ وَجَمَعَهُ“، یا دونوں میں سے ایک نے اس کو اکھاڑا اور اس کو جمع کیا ”وَحَمَلَهُ الْآخَرُ“، اور دوسرے نے اس کو اٹھایا ”فَلِلْمُعِينِ أَجْرُ الْمِثْلِ“، تو مددگار کے لیے اجرِ مثل ہوگا، یعنی اس جیسے کام کی جو اجرت بنتی ہے وہ اس کو ملے گی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلِلْمُعِينِ أَجْرُ الْمِثْلِ“، تو مددگار کے لیے اجرِ مثل ہوگا، ”بَالِغًا مَا بَلَغَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“، جہاں تک بھی وہ پہنچے امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک۔ بھئی یاد رکھیے، آپ کو بتلائیں گے: امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مددگار کو اس کے عمل کی اجرت دی جائے گی، جتنی بھی یہ اجرت ہو دینا پڑے گی۔ مثلاً جو پودے وہ اکھاڑ کر لائے ان کی قیمت بنتی ہے بیس درہم اور یہ جو مددگار تھا، اس جیسے کام کی اجرت، مثلاً اس نے سارا دن اس کے ساتھ مدد کی ہے تو اس کے سارے دن کی اجرت بنتی ہے تیس درہم۔ اب وہ جو پودے لائے وہ ہیں بیس درہم کے، لیکن اس دوسرے مددگار کی اجرت کتنی بنتی ہے؟ تیس درہم۔ یعنی وہ مباح چیز کی ساری قیمت سے بھی بڑھ کر اجرت بن رہی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ساری اجرت دینی پڑے گی، جتنی بھی بن رہی ہے۔ چاہے اس مباح چیز کے ثمن سے زیادہ ہی اجرت کیوں نہ بنے، بہرحال وہ ساری اجرت دینا پڑے گی۔
جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دوسرے کو اس کے عمل کی اجرت دی جائے گی، لیکن یہ اجرت اس مباح چیز کے ثمن کے نصف سے زائد نہیں ہونی چاہیے۔ یہ پودے جو لے کر آئے یہ کتنے کے فروخت ہوئے؟ بیس درہم کے، تو بیس کا نصف جو ہے وہ دس بنتا ہے۔ تو دوسرے کو اس کے عمل کی اجرت دی جائے گی لیکن وہ دس درہم سے زیادہ نہیں دی جائے گی۔ زیادہ سے زیادہ کتنی دیں گے؟ دس درہم اس کو اجرت دیں گے۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ دس درہم سے زیادہ کیوں نہیں دیں گے؟ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نصف پر وہ خود راضی تھا بھئی۔ بھئی جب دونوں نے عقدِ شرکت کیا تھا تو کیا فیصلہ ہوا تھا؟ کہ جو بھی مالِ مباح لائیں گے آدھا تمہارا ہوگا، آدھا میرا ہوگا۔ معلوم ہوا اس نے خود ہی اس کے ساتھ طے کر لیا تھا کہ جو بھی ثمن حاصل ہوں گے آدھے آدھے تقسیم کریں گے، تو اس کا مطلب ہے دس درہم پر وہ دوسرا شریک خود ہی راضی ہے۔ لہٰذا دس سے جو زائد اجرت بنتی ہے اس کے عمل کی، گویا اس نے خود ہی ساقط کر دی ہے کہ میں اتنے میں ہی راضی ہوں۔ لہٰذا اس کو اس مباح چیز کے ثمن کے نصف کے بقدر زیادہ سے زیادہ اجرت دی جائے گی، اس سے زیادہ اجرت نہیں دی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”فَلِلْمُعِينِ أَجْرُ الْمِثْلِ“، تو مددگار کے لیے اجرِ مثل ہوگا، یعنی اس جیسے کاموں کی جو اجرت ہوتی ہے وہ اس مددگار کے لیے ہوگی ”بَالِغًا مَا بَلَغَ عِنْدَ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“، جہاں تک بھی وہ اجرت پہنچے امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک۔ ”وَعِنْدَ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ لَا يُجَاوَزُ بِهِ نِصْفُ ثَمَنِ ذَلِكَ“، اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک اس کے ذریعے تجاوز نہیں کیا جائے گا ”نِصْفُ ثَمَنِ ذَلِكَ“، اس مباح چیز کے نصف ثمن پر۔ اس مباح چیز کے نصف ثمن پر تجاوز نہیں کریں گے، کیونکہ نصف پر وہ خود راضی ہو چکا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لَا يُجَاوَزُ بِهِ نِصْفُ ثَمَنِ ذَلِكَ“، تو تجاوز نہیں کیا جائے گا اس اجرت کے ذریعے اس مباح چیز کے نصف ثمن پر۔ ”وَقَدْ عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ“، اور تحقیق یہ بات اپنے مقام میں جانی گئی ہے۔ اس بات کا پتہ اپنے محل سے چلتا ہے۔ یہ جو امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جتنی بھی اجرت ہوئی وہ دینا پڑے گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نصف ثمن سے زائد اجرت نہیں دی جائے گی، اس کا پتہ اپنے محل سے چلتا ہے۔ تو شارحین فرماتے ہیں: اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ کا اشارہ ہے اجارۂ فاسدہ کے باب کی طرف۔ اس کے ذریعے اشارہ ہے اجارۂ فاسدہ کے باب کی طرف۔ تو یہ شارحین فرماتے ہیں: ”وَقَدْ عُرِفَ فِي مَوْضِعِهِ“، اس کا پتہ اپنے محل سے چلتا ہے، اس کے ذریعے اشارہ ہے اجارۂ فاسدہ کے باب کی طرف بھئی۔ جبکہ بعض شارحین فرماتے ہیں کہ اس کے ذریعے صاحبِ ہدایہ کا جو اشارہ ہے وہ مبسوط کی کتاب الشرکۃ کی طرف ہے۔ مبسوط کی کتاب الشرکۃ کی طرف ہے، وہاں سے پتہ چلتا ہے کہ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک جب شرکت فاسد ہو گئی ہے تو جتنی اجرت بنتی ہے وہ عمل کرنے والے کو دی جائے گی اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک نصف ثمن سے زائد اجرت نہیں دی جائے گی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَإِذَا اشْتَرَكَا وَلِأَحَدِهِمَا بَغْلٌ وَلِلْآخَرِ رَاوِيَةٌ يَسْتَقِي عَلَيْهَا الْمَاءَ“، صورتِ مسئلہ یہ بھئی: دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا۔ ایک کے پاس خچر ہے اور ایک کے پاس پانی کا مشکیزہ ہے۔ مشکیزہ جو چمڑے کا ہوتا ہے جس میں پانی وغیرہ لایا جاتا ہے۔ تو دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا، ایک کا خچر ہے، ایک کے پاس پانی کا مشکیزہ ہے۔ یہ عقد کیا کہ ہم دونوں دریا سے پانی لایا کریں گے اور پھر جو اجرت ملے گی، وہ اجرت ہم دونوں آپس میں تقسیم کر لیا کریں گے۔ تو یاد رکھو یہ اجارۂ فاسد ہے۔ یہ اجارہ فاسد ہے۔ کیوں فاسد ہے؟ وجہ یہ کہ یہ پانی کے لانے پر شرکت کر رہے ہیں اور پانی تو مباح ہے، جو پانی لے آئے گا وہ پانی اسی کا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”قَالَ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا اشْتَرَكَا“، اور جب دو آدمی آپس میں شریک ہو گئے ”وَلِأَحَدِهِمَا بَغْلٌ“، اور ان دونوں میں سے ایک کا خچر ہے ”وَلِلْآخَرِ رَاوِيَةٌ“، اور دوسرے کا مشکیزہ ہے۔ یاد رکھو راویہ بھئی، راویہ اصل میں اس اونٹ کو کہتے جس پر پانی لایا جاتا تھا۔ جس اونٹ پر پانی لایا جاتا تھا اس کو راویہ کہتے تھے، لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ نام اس مشکیزے کا پڑ گیا جس کے اندر وہ پانی لاتے تھے بھئی۔ تو یہاں راویہ سے مراد مشکیزہ ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَلِلْآخَرِ رَاوِيَةٌ“، اور دوسرے کا مشکیزہ ہے ”يَسْتَقِي عَلَيْهَا الْمَاءَ“، جس پر وہ پانی لاتا ہے ”فَالْكَسْبُ بَيْنَهُمَا“، تو کمائی ان دونوں کے درمیان ہوگی۔ یہ ابھی آپس میں عقدِ شرکت کر رہے ہیں۔ دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا، ایک کا خچر ہے اور ایک کا پانی کا مشکیزہ ہے جس پر پانی لائیں گے تو ”فَالْكَسْبُ بَيْنَهُمَا“، اور کمائی دونوں کے درمیان تقسیم ہوگی، یہ ابھی خود آپس میں عقدِ شرکت کر رہے ہیں، ابھی حکم نہیں آیا۔ ”فَالْكَسْبُ بَيْنَهُمَا“ سے یہ نہ سمجھیں کہ صاحبِ ہدایہ حکم بتلا رہے ہیں کہ کمائی دونوں میں تقسیم ہوگی، نہیں نہیں، یہ ابھی وہ خود آپس میں طے کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ اور یاد رکھنا، یہاں آیا ”يَسْتَقِي“، اِسْتَقَى يَسْتَقِي کے معنی ہوتے ہیں: پانی لانا بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”قَالَ“، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا اشْتَرَكَا“، جب دو آدمیوں نے آپس میں شرکت کر لی ”وَلِأَحَدِهِمَا بَغْلٌ“، اور ان دونوں میں سے ایک کا خچر ہے ”وَلِلْآخَرِ رَاوِيَةٌ يَسْتَقِي عَلَيْهَا الْمَاءَ“، اور دوسرے کا مشکیزہ ہے جس پر پانی لائیں گے ”فَالْكَسْبُ بَيْنَهُمَا“، تو کمائی دونوں کے درمیان ہوگی، یہ آپس میں وہ طے کر رہے ہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لَمْ تَصِحَّ الشَّرِكَةُ“، تو یہ شرکت صحیح نہیں ہے ”وَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلَّذِي اسْتَقَى“، اور کمائی ساری اسی کی ہوگی جو پانی لایا۔ ساری کمائی کس کی ہوگی؟ جو پانی لایا۔ آپ نے پڑھا کہ مباح چیز کو جو جمع کر لے، جو سمیٹ لے، جو لے لے، وہ اس کا مالک ہوتا ہے۔ تو جو پانی لایا ہے وہ ہے اس پانی کا مالک بھئی، تو ساری کمائی اسی کی ہوگی اور دوسرے کو اجرت دی جائے گی۔ اگر دوسرے کا خچر ہے تو خچر کی جو اجرت بنتی ہے وہ دی جائے گی اور اگر دوسرے کا مشکیزہ ہے تو اس کو مشکیزے کی اجرت دی جائے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلَّذِي اسْتَقَى“، اور کمائی ساری اسی کی ہوگی جو پانی لایا ہے ”وَعَلَيْهِ أَجْرُ مِثْلِ الرَّاوِيَةِ“، اور اس پر اجرِ مثل ہوگا مشکیزے کا، یعنی اس جیسے مشکیزے کی جو اجرت بنتی ہے وہ ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَلَيْهِ أَجْرُ مِثْلِ الرَّاوِيَةِ“، اور اس پر جو ہے مشکیزے کی اجرتِ مثل ہوگی ”إِنْ كَانَ الْعَامِلُ صَاحِبَ الْبَغْلِ“، اگر عمل کرنے والا خچر والا ہے۔ وہ جس نے عمل کیا ہے اگر وہ خچر والا ہے تو مشکیزے والے کو مشکیزے کی اجرت دے گا۔ ”وَإِنْ كَانَ صَاحِبَ الرَّاوِيَةِ“، اور اگر عمل کرنے والا مشکیزے والا ہے ”فَعَلَيْهِ أَجْرُ مِثْلِ الْبَغْلِ“، تو اس پر خچر کی اجرِ مثل ہے، اس جیسے خچر کی جو اجرت بنتی ہے وہ اجرت دینا پڑے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ صَاحِبَ الرَّاوِيَةِ“، اور اگر جو عمل کرنے والا ہے وہ مشکیزے والا ہے ”فَعَلَيْهِ أَجْرُ مِثْلِ الْبَغْلِ“، تو اس پر خچر کا اجرِ مثل ہے۔
”أَمَّا فَسَادُ الشَّرِكَةِ“، یہاں تک تو متن تھا، اب شرح آ گئی۔ بھئی، متن میں آیا کہ یہ شرکت صحیح نہیں ہے، یہ شرکت باطل ہے، فاسد ہے۔ تو اب اس کی وجہ بیان کریں گے اور پھر بیان کریں گے کہ پانی ایک کا ہے اور دوسرے کو اجرت کیوں دینا پڑے گی، وہ بھی پھر بیان کریں گے۔ پہلے فساد کو بیان کریں گے، کہتے ہیں: ”أَمَّا فَسَادُ الشَّرِكَةِ“، تو شرکت کا فاسد ہونا جو ہے ”فَلِانْعِقَادِهَا عَلَى إِحْرَازِ الْمُبَاحِ“، اس وجہ سے کہ یہ شرکت منعقد ہوئی ہے مباح چیز کے جمع کرنے پر ”وَهُوَ الْمَاءُ“، اور وہ مباح چیز پانی ہے اور مباح پر تو شرکت صحیح نہیں، تو یہ شرکت فاسد ہے۔
”وَأَمَّا وُجُوبُ الْأَجْرِ“، اور باقی اجرت کا واجب ہونا ”فَلِأَنَّ الْمُبَاحَ إِذَا صَارَ مِلْكًا لِلْمُحْرِزِ“، اس لیے کیونکہ مباح چیز جب ملکیت بن گئی جمع کرنے والے کے لیے، جب مباح چیز جمع کرنے والے کی ملکیت بن گئی، بھئی وہ کون ہے جمع کرنے والا؟ کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْمُسْتَقِي“، اور وہ پانی لانے والا ہے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”وَأَمَّا وُجُوبُ الْأَجْرِ“، اور باقی اجرت کا واجب ہونا ”فَلِأَنَّ الْمُبَاحَ إِذَا صَارَ مِلْكًا لِلْمُحْرِزِ“، اس لیے کیونکہ مباح چیز جب سمیٹنے والے کی ملکیت ہو گئی ”وَهُوَ الْمُسْتَقِي“، اور وہ سمیٹنے والا جو ہے وہ پانی لانے والا ہے ”وَقَدْ اسْتَوْفَى مَنَافِعَ مِلْكِ الْغَيْرِ“، اور تحقیق اس نے غیر کی ملکیت کے منافع وصول کیے ہیں۔ اس نے غیر کی چیز سے نفع اٹھایا ہے تو لہٰذا اس کو اس کی اجرت دینا پڑے گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَقَدْ اسْتَوْفَى مَنَافِعَ مِلْكِ الْغَيْرِ“، اور تحقیق اس نے جو ہے غیر کی ملکیت کے منافع وصول کیے ہیں ”وَهُوَ الْبَغْلُ أَوِ الرَّاوِيَةُ“، اور وہ خچر یا مشکیزہ ہے۔ دونوں میں سے ایک عمل کر رہا ہے نا، اگر خچر والا عمل کر رہا ہے تو اس نے دوسرے کے مشکیزے سے نفع اٹھایا ہے اور اگر مشکیزے والا پانی لایا ہے تو اس نے دوسرے کے خچر سے نفع اٹھایا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْبَغْلُ أَوِ الرَّاوِيَةُ“، اور دوسرے کی جو ملکیت ہے وہ خچر یا مشکیزہ ہے اور اس سے اس نے فائدہ اٹھایا ہے ”بِعَقْدٍ فَاسِدٍ“، عقدِ فاسد کے ذریعے ”فَيَلْزَمُهُ أَجْرُهُ“، تو اس پر اس کی اجرت لازم ہوگی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے: ”وَكُلُّ شَرِكَةٍ فَاسِدَةٍ فَالرِّبْحُ فِيهَا عَلَى قَدْرِ الْمَالِ“، بھئی یہاں تک تو یہ بتلایا کہ مباح چیز پر شرکت صحیح نہیں، وہ شرکت فاسد ہے اور اس کا کیا حکم ہے وہ بیان کر دیا۔ اب اگر ایک ایسی چیز ہے کہ اس پر شرکت صحیح ہے بھئی، مثلاً دو آدمی آپس میں شرکتِ مفاوضہ یا عنان کر لیتے ہیں تجارت کے اندر بھئی۔ تو اب تجارت کے اندر تو شرکت صحیح ہے، لیکن شرکت کے اندر انہوں نے کوئی ایسی شرط لگا دی جو شرکت کے خلاف ہے، جو شرکت کو باطل کرنے والی ہے۔ مثلاً زید اور عمرو نے آپس میں عقدِ شرکت کر لیا۔ زید نے کہا کہ نفع میں سے پہلے دس درہم جو ہوں گے وہ میرے ہوں گے اور باقی کا نفع ہم دونوں آپس میں تقسیم کریں گے۔ تو آپ پڑھ چکے کہ کسی کے لیے معین درہموں کی شرط لگانا یہ صحیح نہیں، کیونکہ یہ شرط شرکت کو باطل کرنے والی ہے۔ ہو سکتا ہے نفع ہی دس درہم ہو، تو پھر تو وہ سارا زید لے جائے گا تو عمرو کے لیے تو کچھ بھی نہیں بچے گا۔ تو دیکھو نفع کے اندر شرکت ہی ختم ہو جاتی ہے کسی کے لیے معین درہموں کی شرط لگانے سے۔
تو لیکن اگر دو آدمیوں نے اس طرح عقدِ شرکت کر لیا اور اس طرح کی شرط لگا دی تو پھر کیا حکم ہے؟ تو کہتے ہیں: یہ شرکت فاسد ہے۔ یہ شرکت فاسد ہے اور اس صورت کے اندر اب جو نفع دونوں میں تقسیم ہوگا وہ مال کے بقدر تقسیم ہوگا۔ توجہ ہے؟ بے شک انہوں نے کمی بیشی کی شرط لگائی تھی۔ زید نے کہا تھا پہلے دس درہم میرے ہوں گے اور باقی نفع کے اندر ستر فیصد میرا ہوگا اور تیس فیصد عمرو کا ہوگا، تو اس صورت کے اندر جب یہ شرکت فاسد ہو گئی تو کمی بیشی کی شرط بھی فاسد ہو گئی۔ اب جتنا دونوں کا مال ہے اسی کے بقدر دونوں نفع کے مستحق ہوں گے۔ اگر مال آدھا آدھا ہے تو نفع بھی آدھا آدھا ہی ہوگا۔
تو کہتے ہیں: ”وَكُلُّ شَرِكَةٍ فَاسِدَةٍ“، اور ہر وہ شرکت جو فاسد ہے ”فَالرِّبْحُ فِيهَا عَلَى قَدْرِ الْمَالِ“، تو نفع اس کے اندر مال کے بقدر ہوگا ”وَيَبْطُلُ شَرْطُ التَّفَاضُلِ“، اور کمی بیشی کی جو شرط ہے وہ باطل ہوگی ”لِأَنَّ الرِّبْحَ فِيهَا تَابِعٌ لِلْمَالِ“، اس لیے کیونکہ جو نفع ہے ”فِيهَا“، اس شرکتِ فاسدہ میں، جو نفع ہے اس شرکتِ فاسدہ میں ”تَابِعٌ لِلْمَالِ“، وہ مال کے تابع ہے۔
ادھر دیکھیے، یہ بات پیچھے بیان ہو چکی ہے: امام زفر اور امام شافعی رحمہما اللہ کے نزدیک یہ جو نفع ہوتا ہے یہ مال کی فرع ہے، لہٰذا جس کا جتنا مال اسی کے بقدر نفع بھی ہوگا۔ جبکہ عند الاحناف جو ہے، یہ نفع جو ہے یہ عقد کی فرع ہے۔ نفع عقد کی فرع ہے، لیکن یہ اس وقت ہے جب شرکت صحیح ہو۔ اگر شرکت فاسد ہو گئی تو ہمارے نزدیک بھی یہ جو نفع آئے گا اب یہ مال کی فرع ہے۔ جب یہ مال کی فرع ہے تو جس شریک کا جتنا مال ہے، نفع میں بھی اس کا اتنا ہی حصہ ہوگا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الرِّبْحَ فِيهَا تَابِعٌ لِلْمَالِ“، اس لیے کیونکہ شرکتِ فاسدہ کے اندر جو نفع ہے وہ مال کے تابع ہے ”فَيَتَقَدَّرُ بِقَدْرِهِ“، تو یہ نفع مقرر ہوگا اسی کے بقدر ”كَمَا أَنَّ الرَّيْعَ تَابِعٌ لِلْبَذْرِ فِي الْمُزَارَعَةِ“، رَيْعٌ بھئی، ريع کہتے ہیں پیداوار کو بھئی۔ ريع، زمین سے جو پیداوار حاصل ہو، فصل وغیرہ حاصل ہو۔ اور بَذْرٌ، بذر بھئی، یہ بیج کو کہتے ہیں۔ مثلاً بھئی دو آدمی آپس میں مزارعت کے اندر عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں مل کر کھیتی باڑی کریں گے اور جو پیداوار حاصل ہوگی اس میں ہم دونوں شریک ہوں گے۔ البتہ دونوں نے آپس میں ایک ایسی شرط لگا دی جو عقدِ شرکت کے منافی ہے۔ مثلاً ایک شریک کہتا ہے کہ جو بھی پیداوار حاصل ہوگی، پہلے سو من جو پیداوار ہوگی وہ میری ہوگی اور باقی جتنی پیداوار ہوگی وہ ہم دونوں آپس میں آدھی آدھی تقسیم کریں گے۔ تو یہاں ایک کے لیے معین پیداوار کی شرط لگانا، تو یہ تو شرکت کے منافی ہے بھئی، کیونکہ ہو سکتا ہے ساری پیداوار ہی سو من حاصل ہو، پھر وہ تو ایک شریک لے جائے گا، دوسرے کو تو کچھ بھی نہیں ملے گا۔ تو یہ ایسی شرط ہے جو شرکت کے منافی ہے، شرکت کو ختم کرنے والی ہے۔ تو اگر اس طرح کی شرط لگا دی دو شرکت کرنے والوں نے کھیتی باڑی کے اندر، تو یاد رکھو یہ شرکت فاسد ہو گئی۔ جب شرکت فاسد ہو گئی تو اب یاد رکھو، یہ ساری فصل اس آدمی کی ہوگی جس کا بیج تھا۔ دونوں شریکوں میں سے جس کا بیج تھا یہ ساری فصل اسی کی ہوگی، کیونکہ یہ جو پیداوار ہے، یہ جو فصل ہے یہ بیج کی فرع ہے۔ بیج ہے اصل اور پیداوار اس کی فرع۔ لہٰذا ساری فصل جو ہے وہ بیج والے کی ہوگی اور دوسرے شریک کو اس کی اجرت دی جائے گی۔ اس نے جو اتنے مہینے جو کام کیا، اس کی جتنی اجرت بنتی ہے وہ اس کو دی جائے گی۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا جب مزارعت کے اندر شرکت باطل ہو جائے تو وہاں پر بھی پیداوار جو ہے وہ بیج کے تابع ہوتی ہے۔ اسی طرح شرکتِ مال کے اندر بھی جب شرکت فاسد ہو جائے تو نفع جو ہے وہ مال کے تابع ہوگا۔ نفع مال کے تابع ہوگا۔ یہ معنی ہے: ”كَمَا أَنَّ الرَّيْعَ تَابِعٌ لِلْبَذْرِ“، جیسے کہ پیداوار جو ہے وہ بیج کے تابع ہوتی ہے ”فِي الْمُزَارَعَةِ“، مزارعت کے اندر۔
”وَالزِّيَادَةُ إِنَّمَا تُسْتَحَقُّ بِالتَّسْمِيَةِ“، بھئی ادھر دیکھیے۔ انہوں نے آپ کو بتلایا اگر شرکت فاسد ہو گئی تو نفع دونوں کے راس المال کے بقدر ہوگا۔ اور وہ جو کمی بیشی کی شرط لگائی تھی اب اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ اب اسی کو بیان کر رہے ہیں: نفع کے اندر تو کمی بیشی کی شرط لگائی تھی نا، مثلاً زید نے کہا تھا میں ستر فیصد نفع لوں گا اور عمرو کو تیس فیصد نفع دوں گا، تو یہ جو نفع کے اندر کمی بیشی تھی یہ آپس میں طے کرنے کی وجہ سے تھی، کہ انہوں نے آپس میں اتنا مقرر کیا تھا۔ تو جب عقد ہی فاسد تو یہ تسمیہ اور یہ مقرر کرنا بھی فاسد ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالزِّيَادَةُ إِنَّمَا تُسْتَحَقُّ بِالتَّسْمِيَةِ“، اور یہ زیادتی جو ہے اس کا استحقاق ہوتا ہے تسمیہ کی وجہ سے، یعنی ذکر کرنے کی وجہ سے، ”وَقَدْ فَسَدَتْ“، اور یہ تسمیہ جو ہے یعنی ذکر کرنا اور مقرر کرنا یہ تو فاسد ہو گیا عقد کے فاسد ہونے کی وجہ سے، ”فَبَقِيَ الِاسْتِحْقَاقُ عَلَى قَدْرِ رَأْسِ الْمَالِ“، تو لہٰذا راس المال کے بقدر استحقاق باقی رہا۔ تو جس کا جتنا راس المال ہے، نفع کے اندر بھی اس کا اتنا ہی حصہ ہوگا بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَإِذَا مَاتَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ أَوْ ارْتَدَّ وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“، صورتِ مسئلہ یہ: دو آدمیوں نے آپس میں عقدِ شرکت کیا ہے اور پھر دونوں میں سے ایک کا انتقال ہو گیا۔ یاد رکھو، انتقال ہوتے ہی عقدِ شرکت باطل ہو گیا۔ وجہ یہ کہ شرکت کی بنیاد وکالت پر ہے، دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں۔ اور جب ایک کا انتقال ہو گیا تو اس کی طرف سے وکالت بھی ختم ہو گئی۔ اب تو وہ زندہ ہی نہیں تو اس کی طرف سے دوسرا وکیل کیسے ہو سکتا ہے؟ لہٰذا جب وکالت ختم تو عقدِ شرکت بھی ختم بھئی۔
اور پھر موت دو قسم پر ہے، آپ پڑھ چکے ہیں: ایک موتِ حقیقی ہے کہ ایک آدمی حقیقتاً مر جائے۔ اور ایک موتِ حکمی بھی آپ پڑھ چکے ہیں اگر کوئی شخص مرتد ہو جائے اور بھاگ کر دار الحرب چلا جائے اور پھر قاضی کے پاس مسئلہ پہنچا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ لکھ دیا کہ یہ بھاگ کر دار الحرب جا چکا ہے تو آپ پڑھ چکے ہیں قاضی کا یہ فیصلہ بھی موت کے حکم میں ہے بھئی، موت کے درجے میں ہے۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا مَاتَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ“، اور جب دونوں شریکوں میں سے ایک مر گیا ”أَوْ ارْتَدَّ“، یا دونوں شریکوں میں سے ایک العیاذ باللہ مرتد ہو گیا ”وَلَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“، اور وہ دار الحرب سے جا ملا ”بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“، تو اس صورت میں شرکت باطل ہو جائے گی ”لِأَنَّهَا تَتَضَمَّنُ الْوَكَالَةَ“، اس لیے کیونکہ شرکت جو ہے وکالت کو متضمن ہوتی ہے ”وَلَا بُدَّ مِنْهَا“، اور وکالت کا ہونا ضروری ہے ”لِيَتَحَقَّقَ الشَّرِكَةُ“، تاکہ شرکت پائی جائے ”عَلَى مَا مَرَّ“، اس وجہ سے جو بات پیچھے گزر گئی کہ وکالت ہوگی تو نفع میں شرکت آئے گی۔ ”وَالْوَكَالَةُ تَبْطُلُ بِالْمَوْتِ“، اور وکالت جو ہے وہ تو موت کی وجہ سے باطل ہو جاتی ہے ”وَكَذَا بِالِالْتِحَاقِ مُرْتَدًّا“، اور اسی طرح مرتد ہو کر دار الحرب جا ملنے سے بھی، اسی طرح مرتد ہو کر دار الحرب جانے سے بھی وکالت باطل ہو جاتی ہے ”إِذَا قَضَى الْقَاضِي بِلَحَاقِهِ“، جب قاضی اس کے دار الحرب سے جا ملنے کا فیصلہ کر دے ”لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ بھی موت کے درجے میں ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“، اس وجہ سے جو ہم نے پہلے بیان کر دیا۔ پیچھے بھئی مرتدوں کے احکام بیان فرمائے تھے صاحبِ ہدایہ نے، باب احکام المرتدین کے اندر بھئی، وہاں صاحبِ ہدایہ نے یہ بات ذکر فرمائی تھی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ بِمَنْزِلَةِ الْمَوْتِ“، اس لیے کیونکہ قاضی کا یہ فیصلہ جو ہے وہ اس مرتد کی موت کے درجے میں ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ مِنْ قَبْلُ“، اس وجہ سے جو ہم نے ماقبل میں بیان کر دیا۔
”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِذَا عَلِمَ الشَّرِيكُ بِمَوْتِ صَاحِبِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ“، بھئی دیکھیے، یہاں سے آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ وکیل کو وکالت سے ہٹانا، یعنی معزول کرنا، یہ جو عزل ہے یہ دو قسم پر ہے: ایک عزلِ حکمی اور ایک عزلِ قصدی۔ عزلِ قصدی، یعنی ارادے سے معزول کرنا، اس میں وکیل کو علم ہونا ضروری ہے۔ مثلاً دیکھو بھئی، زید نے عمرو کو اپنا وکیل بنایا کہ جاؤ جا کر میرے لیے ایک گاڑی خرید کر لے آؤ۔ عمرو جو ہے گاڑی خریدنے چلا گیا اور ادھر زید کا ارادہ بدل گیا، تو اس نے کسی شخص سے کہا کہ جاؤ جا کر عمرو کو منع کرو میرے لیے گاڑی نہ خریدے۔ تو معلوم ہوا زید نے عمرو کو وکالت سے معزول کر دیا ہے اور یہ عزلِ قصدی ہے، اپنے ارادے سے زید عمرو کو معزول کر رہا ہے وکالت سے۔ لہٰذا اس کے اندر عمرو کو علم ہونا ضروری ہے۔ عمرو کو جب یہ بات پہنچے گی پھر ہی وہ وکالت سے معزول ہوگا، اس سے پہلے وہ وکالت سے معزول نہیں، اس سے پہلے اگر اس نے گاڑی خرید لی تو اس گاڑی کے ثمن اب موکل ہی کے ذمے ہیں، کیونکہ موکل کے کہنے پر اس نے یہ گاڑی خریدی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ معلوم ہوا عزلِ قصدی کے اندر وکیل تب معزول ہوگا جب اس کو معزول کیے جانے کا پتہ چل جائے، اس کو علم ہو جائے۔
جبکہ ایک عزلِ حکمی ہے، یعنی معزول ہونے کا حکم لگا دیا جاتا ہے جیسے موت کی وجہ سے۔ ایک آدمی نے دوسرے کو وکیل بنایا، جاؤ میرے لیے گاڑی خرید کر لاؤ اور ادھر موکل کا انتقال ہو گیا، تو یاد رکھو موکل کے مرتے ہی وکیل خود بخود معزول ہو گیا۔ اب وہ وکیل نہ رہا اور یہ عزل کون سا ہے؟ عزلِ حکمی ہے، یعنی معزول ہونے کا حکم لگایا جاتا ہے اور یاد رکھو عزلِ حکمی کے اندر وکیل کو علم ہونا ضروری نہیں ہے۔ لہٰذا زید نے عمرو کو کہا جاؤ جا کر میرے لیے گاڑی خرید کر لے آؤ، عمرو گاڑی خریدنے چلا گیا، ادھر زید کا انتقال ہو گیا تو عزلِ حکمی پایا گیا، لہٰذا عمرو کی وکالت ختم ہو گئی۔ اگرچہ بے شک اس کو زید کے مرنے کا پتہ نہیں لیکن پھر بھی یہ وکالت سے معزول ہو چکا ہے۔ اب اگر عمرو نے کوئی گاڑی خریدی تو یہ گاڑی عمرو ہی کی ہوگی، کیونکہ زید تو مر چکا ہے بھئی، لہٰذا زید کے مال میں سے وہ اس گاڑی کے ثمن وصول نہیں کر سکتا۔
تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا إِذَا عَلِمَ الشَّرِيكُ بِمَوْتِ صَاحِبِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ“، اور کوئی فرق اس میں نہیں ہے کہ شریک کو اس اپنے ساتھی کی موت کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ جب ایک شریک مر گیا تو وکالت ختم، اور وکالت ختم تو شرکت بھی ختم، تو دوسرے شریک کو اپنے ساتھی کے مرنے کا علم ہو یا علم نہ ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَهُمَا“، اور اس بات میں کوئی فرق نہیں ہے ”إِذَا عَلِمَ الشَّرِيكُ بِمَوْتِ صَاحِبِهِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ“، کہ شریک کو اپنے ساتھی کی موت کا علم ہو یا علم نہ ہو ”لِأَنَّهُ عَزْلٌ حُكْمِيٌّ“، اس لیے کیونکہ یہ عزلِ حکمی ہے۔ یہ عزلِ حکمی ہے، بھئی عزلِ حکمی ہے یعنی یہ موکل نے اپنے ارادے سے اس کو معزول نہیں کیا بلکہ دوسری چیز کے ضمن میں عزل آ رہا ہے، یعنی موت کے ضمن میں عزل آ رہا ہے، لہٰذا اس کے اندر علم کا ہونا ضروری نہیں۔
تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ عَزْلٌ حُكْمِيٌّ“، یہ عزلِ حکمی ہے، یعنی یہ دوسری چیز کے ضمن میں آ رہا ہے، قصداً اس کو معزول نہیں کیا گیا۔ ”فَإِذَا بَطَلَتِ الْوَكَالَةُ“، تو جب وکالت باطل ہو گئی ”بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“، تو شرکت بھی باطل ہو جائے گی ”بِخِلَافِ مَا إِذَا فَسَخَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ الشَّرِكَةَ“، بخلاف اس کے کہ جب دونوں شریکوں میں سے ایک نے شرکت کو فسخ کر دیا۔ ایک نے کیا کہا؟ آج کے بعد میری طرف سے شرکت ختم، تو اب یہاں پر جب شرکت ختم ہوگی تو وکالت بھی ختم ہوگی اور یہاں، یہاں عزلِ قصدی ہے لہٰذا دوسرے کو علم ہونا ضروری ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا فَسَخَ أَحَدُ الشَّرِيكَيْنِ الشَّرِكَةَ“، بخلاف اس کے کہ جب دونوں شریکوں میں سے ایک نے شرکت کو ختم کر دیا ”حَيْثُ يَتَوَقَّفُ عَلَى عِلْمِ الْآخَرِ“، کیونکہ یہ موقوف ہے دوسرے کے علم پر ”لِأَنَّهُ عَزْلٌ قَصْدِيٌّ“، اس لیے کیونکہ یہ عزلِ قصدی ہے۔ ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“، اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟
آگے دیکھیے: ”فَصْلٌ: وَلَيْسَ لِأَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ أَنْ يُؤَدِّيَ زَكَاةَ مَالِ الْآخَرِ إِلَّا بِإِذْنِهِ“، بھئی اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ شرکت کے کچھ مسائل بیان کریں گے۔ یہ جو شرکت ہے یہ تجارت کے لیے کی جاتی ہے تاکہ مال کے اندر زیادتی ہو، نفع کمایا جائے۔ تو اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایہ کچھ ایسے مسائل بیان کریں گے...
مسائل بیان فرمائیں گے، جن کا تعلق شرکت سے تو ہے لیکن تجارت سے ان کا تعلق نہیں۔ اس سے ما قبل شرکت کے وہ مسائل ذکر ہو رہے تھے جن کا تعلق تجارت سے تھا۔ اب کچھ وہ مسائل ذکر ہوں گے جن کا تعلق شرکت سے تو ہے لیکن تجارت سے نہیں، تو ان کو الگ اس فصل میں ذکر کریں گے۔ جیسے ایک شریک دوسرے کو کہتا ہے کہ تمہیں اجازت ہے میری طرف سے میری زکوٰۃ ادا کر دیا کرو بھئی۔ اب دیکھو زکوٰۃ کا ادا کرنا یہ تو کوئی تجارت کا کام نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: فَصْلٌ. وَلَيْسَ لِأَحَدِ الشَّرِيكَيْنِ، اور دونوں شریکوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی جائز نہیں ہے، أَنْ يُؤَدِّيَ زَكَاةَ مَالِ الْآخَرِ، کہ وہ دوسرے کے مال کی زکوٰۃ ادا کرے، إِلَّا بِإِذْنِهِ، مگر اس کی اجازت سے، لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ جِنْسِ التِّجَارَةِ، اس لیے کیونکہ یہ ادائے زکوٰۃ جو ہے، یہ جنسِ تجارت میں سے نہیں ہے۔ لہٰذا اس کی اجازت دونوں کو نہیں ہوگی۔ دونوں ایک دوسرے کے وکیل تو ہیں، لیکن تجارت کے کاموں میں ایک دوسرے کے وکیل ہیں۔ ادائے زکوٰۃ میں ایک دوسرے کے وکیل نہیں، الّا یہ کہ وہ ایک دوسرے کو باقاعدہ اجازت دے دیں، پھر اس میں وہ وکیل بن جائیں گے بھئی۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ جِنْسِ التِّجَارَةِ، اس لیے کیونکہ زکوٰۃ دینا جو ہے یہ تجارت کی جنس میں سے نہیں ہے، فَإِنْ أَذِنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ، بھئی صورت یہ ہے، دونوں شریکوں نے ایک دوسرے کو اجازت دے دی کہ تم میری طرف سے میری زکوٰۃ ادا کر سکتے ہو۔ اور پھر دونوں نے زکوٰۃ ادا کر دی۔ زید ایک جگہ تھا، اس نے وہاں زکوٰۃ ادا کر دی؛ عمرو دوسری جگہ تھا، اس نے وہاں زکوٰۃ ادا کر دی۔ تو کیا اب کسی پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو یاد رکھو، امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگر دونوں میں سے ایک نے پہلے زکوٰۃ ادا کی ہے اور دوسرے نے بعد میں، تو جس نے پہلے ادا کی، وہ زکوٰۃ ادا ہو گئی۔ اور جس نے بعد میں زکوٰۃ ادا کی ہے، اس پر ضمان آئے گا۔ کیونکہ یہ زکوٰۃ کس میں سے ادا کر رہے ہیں؟ مالِ مشترکہ میں سے۔ جب مالِ مشترکہ میں سے زکوٰۃ ادا ہو چکی ہے اور دوسرا پھر ادا کر رہا ہے، تو یہ جو دوبارہ ادا کر رہا ہے یہ تو زکوٰۃ نہ ہوئی، جب زکوٰۃ نہ ہوئی اور اس نے ادا کی ہے، تو اس پر ضمان آئے گا۔ اس شریک پر ضمان آئے گا۔ اور اگر دونوں نے اکٹھی زکوٰۃ ادا کی ہے ایک ہی وقت کے اندر، یا وقت تو ایک نہیں ہے، وقت تو الگ الگ ہے لیکن پتہ نہیں چل رہا کہ کس نے پہلے ادا کی ہے اور کس نے بعد میں، تو اس کو بھی اکٹھا ہی شمار کیا جاتا ہے۔ تو جب اکٹھا شمار کیا گیا، تو اب دونوں میں سے ہر ایک پر اپنے ساتھی کے حصے کا ضمان آئے گا۔ زید نے اپنی بھی زکوٰۃ ادا کی اور عمرو کی طرف سے بھی ادا کی، اور عمرو نے اپنی بھی زکوٰۃ ادا کی اور زید کی طرف سے بھی ادا کی، تو دونوں نے اکٹھی ادا کی ہے، تو زید نے جو زکوٰۃ اپنی ادا کی وہ ادا ہو گئی، اور عمرو کی جو زکوٰۃ اس نے ادا کی ہے اب وہ اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ اسی طرح عمرو نے اپنی جو زکوٰۃ ادا کی وہ تو ادا ہو گئی، اور زید کی طرف سے جو اس نے زکوٰۃ ادا کی، اس کا اب اس کو ضمان دینا پڑے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک ہے۔
کہتے ہیں: فَإِنْ أَذِنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِصَاحِبِهِ، تو اگر دونوں شریکوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو اجازت دے دی، أَنْ يُؤَدِّيَ زَكَاتَهُ، کہ وہ اس کی زکوٰۃ ادا کر سکتا ہے، فَأَدَّى كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا، پھر دونوں میں سے ہر ایک نے زکوٰۃ ادا کر دی، فَالثَّانِي ضَامِنٌ، تو دوسرا جو ہے وہ ضامن ہو گا۔ دونوں نے زکوٰۃ ادا کی، لیکن ایک نے پہلے ادا کی اور دوسرے نے بعد میں، تو جو ثانی ہے، جو دوسرے نمبر والا ہے جس نے بعد میں ادا کی ہے، وہ ضامن ہو گا، عَلِمَ بِأَدَاءِ الْأَوَّلِ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ، چاہے اس کو پہلے کی ادا کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ امام صاحب کے نزدیک دوسرے پر ہر حال میں ضمان آئے گا، چاہے اس کو پہلے کی ادائے زکوٰۃ کا علم ہو یا علم نہ ہو۔
وَهَذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى، اور یہ امام صاحب کے نزدیک ہے، وَقَالَا، اور صاحبین فرماتے ہیں: لَا يَضْمَنُ إِذَا لَمْ يَعْلَمْ، کہ جب ثانی کو علم نہ ہو تو اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ جب ثانی کو علم ہی نہیں ہے، تو اس پر ضمان بھی نہیں۔ یہ کس کے نزدیک؟ صاحبین کے نزدیک۔
وَهَذَا إِذَا أَدَّيَا عَلَى التَّعَاقُبِ، تعاقب کا معنی ہے یکے بعد دیگرے ہونا، ایک چیز کا دوسری چیز کے بعد ہونا۔ تو یہاں پر بھی ایک نے پہلے ادا کی ہے اور دوسرے نے بعد میں، یعنی تعاقب کے طریقے پر زکوٰۃ ادا کی گئی ہے، تو امام صاحب کے نزدیک ثانی ضامن ہو گا، اور صاحبین کے نزدیک ثانی کو جب علم نہ ہو تو وہ ضامن نہیں ہو گا۔ اور یہ جو ثانی پر ضمان آئے گا امام صاحب کے نزدیک، یہ اس وقت ہے جب دونوں نے تعاقب یعنی یکے بعد دیگرے زکوٰۃ ادا کی ہے۔
أَمَّا إِذَا أَدَّيَا مَعًا، اور باقی وہ صورت کہ جب دونوں نے اکٹھی زکوٰۃ ادا کی ہے، ضَمِنَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا نَصِيبَ صَاحِبِهِ، تو ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے حصے کا ضامن ہو گا۔ جب دونوں نے اکٹھی زکوٰۃ ادا کی ہے تو امام صاحب کے نزدیک دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے حصے کا ضامن ہو گا، جبکہ صاحبین کے نزدیک جب دونوں نے اکٹھی زکوٰۃ ادا کی ہے تو کسی پر ضمان نہیں آئے گا۔
آگے دیکھیے: وَعَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ الْمَأْمُورُ بِأَدَاءِ الزَّكَاةِ إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى الْفَقِيرِ بَعْدَمَا أَدَّى الْآمِرُ بِنَفْسِهِ، بھئی اب ذرا شرکت کے مسئلے کو ایک طرف رکھیں۔ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ زید نے عمرو کو کچھ مال دیا کہ میری طرف سے یہ زکوٰۃ جو ہے فقیر کو ادا کر دو۔ عمرو وہ مال لے کر چلا گیا بھئی۔ ادھر زید کے پاس کوئی اور فقیر آ گیا تو زید نے اپنی زکوٰۃ اس فقیر کو ادا کر دی۔ ادھر وکیل نے وہ جو مال اس کو دیا گیا تھا وہ اس نے کسی فقیر کو دے دیا۔ اب ظاہر سی بات ہے زکوٰۃ تو ایک دفعہ ادا ہوتی ہے، دو دفعہ تو ادا نہیں ہوتی، لہٰذا موکل نے جب خود ادا کر دی تو وہ تو زکوٰۃ ہو گئی، اب جو وکیل ادا کرے گا وہ زکوٰۃ نہیں ہوئی۔ تو اس صورت کے اندر کیا اس وکیل پر ضمان آئے گا یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ وکیل جو ہے اس نے موکل کی مخالفت کی ہے، اور وکیل جب موکل کی مخالفت کرے تو اس پر ضمان آتا ہے، لہٰذا وکیل پر ضمان آئے گا۔ کیونکہ موکل نے تو اسے جو مال دیا تھا وہ اسے بطورِ زکوٰۃ کے دینے کا حکم دیا تھا، اور زکوٰۃ تو موکل نے خود ادا کر دی، تو اب جب وکیل اس مال کو فقیر کے حوالے کرے گا، فقیر کو اس کا مالک بنائے گا، تو یہ تو زکوٰۃ ادا نہ ہوئی، حالانکہ موکل نے تو وکیل کو زکوٰۃ ادا کرنے کا حکم دیا تھا، تو وکیل نے موکل کی مخالفت کر دی۔ اور جب وکیل موکل کی مخالفت کرے تو وکیل پر ضمان آتا ہے۔ یاد رکھو یہ اہم ضابطہ ہے، آپ ایک آدمی کو کسی چیز کے لیے وکیل بناتے ہیں، اگر وکیل آپ کے کہنے پر عمل کرے تو پھر تو اس پر کوئی ضمان نہیں، لیکن اگر وکیل نے موکل کی مخالفت کر دی تو پھر وکیل پر ضمان آتا ہے۔ مثلاً میں نے وکیل کو ایک لاکھ روپیہ دیا کہ یہ جا کر زید کو دے دو، اور وکیل گیا اور اس نے وہ مال جو ہے وہ عمرو کو دے دیا، تو یاد رکھو وکیل نے موکل کی مخالفت کی ہے، لہٰذا وکیل پر ضمان آئے گا، اب اسے یہ ایک لاکھ روپیہ ادا کرنا پڑے گا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں موکل نے وکیل کو زکوٰۃ ادا کرنے کا کہا تھا لیکن وکیل نے جو ادا کیا وہ تو زکوٰۃ نہیں کیونکہ زکوٰۃ تو موکل نے خود ہی ادا کر دی تھی، تو وکیل نے موکل کی مخالفت کر دی اور وکیل نے جب موکل کی مخالفت کی ہے تو وکیل پر ضمان آئے گا۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، وکیل نے موکل کی کوئی مخالفت نہیں کی، وکیل کے بس میں جتنا تھا وہ وکیل نے کیا، اس کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں۔ وکیل کے بس میں صرف اتنا تھا کہ یہ جو مال اس کو دیا ہے موکل نے، وکیل اس مال کا مالک کسی فقیر کو بنا دے، کسی غریب اور مسکین کو یہ مال دے دے، وکیل کے اختیار میں صرف اتنا تھا۔ باقی یہ جو ادائیگی ہے یہ زکوٰۃ بھی بن جائے یہ وکیل کے اختیار میں نہیں، کیونکہ اس ادائیگی کا زکوٰۃ بننا یہ تو موکل کی نیت پر موقوف ہے۔ موکل زکوٰۃ کی نیت کرے گا تو یہ زکوٰۃ ہو گی، موکل زکوٰۃ کی نیت نہیں کرے گا تو یہ زکوٰۃ بھی نہیں ہو گی۔ لہٰذا معلوم ہوا وکیل کے اختیار میں صرف فقیر کو مالک بنانا ہے اور وکیل نے وہ کام کیا، اس نے بھی کیا کیا فقیر کو اس مال کا مالک بنا دیا۔ باقی اس ادائیگی کا زکوٰۃ ہونا یہ تو وکیل کے اختیار میں ہی نہیں تھا، لہٰذا وکیل کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی۔ وکیل کو جس کام کا کہا گیا تھا کہ اس مال کا مالک فقیر کو بنا دو، وکیل نے وہ کام کر دیا، تو جب وکیل نے موکل کی مخالفت نہیں کی تو اس پر کوئی ضمان بھی نہیں آئے گا۔ یہ کس کے نزدیک ہے؟ صاحبین کے نزدیک بھئی۔
دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: وَعَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ، اور اسی اختلاف پر ہے، الْمَأْمُورُ بِأَدَاءِ الزَّكَاةِ، وہ شخص جس کو ادائے زکوٰۃ کا حکم دیا گیا ہے، یعنی جس کو ادائے زکوٰۃ کا وکیل بنایا گیا ہے، إِذَا تَصَدَّقَ عَلَى الْفَقِيرِ، جب وہ اس مال کو فقیر پر صدقہ کر دے، بَعْدَمَا أَدَّى الْآمِرُ بِنَفْسِهِ، بعد اس کے کہ وہ جو آمر ہے، وہ جو حکم دینے والا ہے، یعنی وہ جو موکل ہے، جب اس موکل نے خود وہ زکوٰۃ ادا کر دی، تو اس میں بھی اختلاف ہے۔ موکل نے وکیل کو مال دیا کہ جاؤ جا کر میری طرف سے زکوٰۃ ادا کر دو، وکیل وہ مال لے کر چلا گیا اور ادھر موکل نے خود بھی زکوٰۃ ادا کر دی۔ اب وکیل نے جا کر زکوٰۃ ادا کی تو وہ تو زکوٰۃ نہ ہوئی، تو امام صاحب کے نزدیک ضمان آئے گا اور صاحبین کے نزدیک ضمان نہیں آئے گا۔
لَهُمَا، صاحبین کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ مَأْمُورٌ بِالتَّمْلِيكِ مِنَ الْفَقِيرِ، کہ یہ جو وکیل ہے، اس کو فقیر کو مالک بنانے کا حکم دیا گیا ہے۔ یاد رکھو بھئی مَلَّكَ يُمَلِّكُ تَمْلِيكًا، اس کا معنی ہے دوسرے کو مالک بنانا، اور اس تملیک کا صلہ مِنْ آتا ہے، جس کو مالک بنایا جاتا ہے اس پر مِنْ داخل کرتے ہیں، جیسے میں نے ایک چیز کا مالک عمرو کو بنا دیا تو میں کہوں گا: مَلَّكْتُ مِنْ عَمْرٍو، میں نے عمرو کو مالک بنا دیا۔ تو تملیک کا صلہ کیا آتا ہے؟ مِنْ، اور مِنْ اس شخص پر داخل ہوتا ہے جس کو مالک بنایا گیا ہے۔ تو یہاں پر بھی تملیک کا صلہ مِنْ آ رہا ہے اور مِنْ کس پر داخل ہے؟ مِنَ الْفَقِيرِ، فقیر کو اس زکوٰۃ کا یا اس مال کا مالک بنایا جا رہا ہے۔
تو کہتے ہیں: لَهُمَا، صاحبین کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ مَأْمُورٌ بِالتَّمْلِيكِ مِنَ الْفَقِيرِ، کہ یہ جو وکیل ہے، اس کو فقیر کو مالک بنانے کا حکم دیا گیا ہے، وَقَدْ أَتَى بِهِ، اور تحقیق یہ اس حکم کو بجا لایا، اس نے اس حکم کو پورا کر دیا، فَلَا يَضْمَنُ لِلْمُوَكِّلِ، لہٰذا وکیل جو ہے موکل کے لیے ضامن نہیں ہو گا۔ وکیل کی طرف سے کوئی کوتاہی نہیں ہوئی، وکیل کو صرف اتنا کہا گیا تھا کہ اس مال کو بطورِ زکوٰۃ کے ادا کر دو، یعنی فقیر کو اس مال کا مالک بنا دو، اور اس نے فقیر کو اس مال کا مالک بنا دیا۔ جو کوتاہی ہوئی ہے وہ موکل کی طرف سے ہوئی ہے، جب اس نے اپنا مال وکیل کو بطورِ زکوٰۃ کی ادائیگی کے دے دیا تھا، تو پھر موکل نے خود کیوں زکوٰۃ ادا کی؟ تو کوتاہی موکل کی طرف سے ہے، وکیل کی طرف سے نہیں۔ جب وکیل کی طرف سے کوتاہی نہیں ہے تو وکیل پر ضمان بھی نہیں آئے گا۔
فَلَا يَضْمَنُ لِلْمُوَكِّلِ، لہٰذا یہ جو وکیل ہے یہ موکل کے لیے ضامن نہیں ہو گا۔ وَهَذَا، اور یہ وکیل پر ضمان کا نہ آنا اس لیے ہے، لِأَنَّ فِي وُسْعِهِ التَّمْلِيكَ، اس لیے کیونکہ وکیل کی گنجائش میں مالک بنانا ہے کہ وہ فقیر کو مالک بنا دے، لَا وُقُوعَهُ زَكَاةً، اس کا زکوٰۃ ہو کر واقع ہونا یہ اس وکیل کی گنجائش اور اختیار میں نہیں ہے بھئی، لِتَعَلُّقِهِ بِنِيَّةِ الْمُوَكِّلِ، اس وجہ سے کہ اس کا تعلق موکل کی نیت سے ہے۔ موکل کی نیت پر اس بات کا دارومدار ہے کہ یہ تملیک زکوٰۃ بن جائے، وکیل کے اختیار میں یہ نہیں ہے۔
وَإِنَّمَا يُطْلَبُ مِنْهُ مَا فِي وُسْعِهِ، اور وکیل سے تو اسی چیز کو طلب کیا گیا جو اس کی گنجائش میں ہے۔ وکیل سے تو اسی چیز کو طلب کیا جا سکتا ہے جو اس کی گنجائش میں ہو، اور جو چیز وکیل کی گنجائش اور اختیار میں ہی نہیں، اس کا وکیل سے مطالبہ بھی نہیں ہو سکتا۔ تو وکیل کی گنجائش میں تھا فقیر کو مالک بنانا اور اس نے وہ کام کر دیا، اور وکیل کی گنجائش اور اختیار میں نہیں تھا کہ یہ تملیک زکوٰۃ بن جائے، لہٰذا وکیل سے اس کا مطالبہ بھی نہیں۔ جب وکیل سے اس کا مطالبہ ہی نہیں، تو معلوم ہوا وکیل نے کوئی مخالفت کی ہی نہیں، اس سے صرف یہ مطالبہ تھا کہ فقیر کو اس مال کا مالک بنا دو، اور اس نے وہ کام پورا کر دیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَإِنَّمَا يُطْلَبُ مِنْهُ مَا فِي وُسْعِهِ، اور وکیل سے تو اسی چیز کا مطالبہ ہو سکتا ہے جو اس کی گنجائش میں ہو، لہٰذا وکیل نے موکل کی کوئی مخالفت نہیں کی بھئی۔
وَصَارَ كَالْمَأْمُورِ بِذَبْحِ دَمِ الْإِحْصَارِ، اور یہ شخص جس کو زکوٰۃ کی ادائیگی کا حکم دیا گیا تھا، یہ اسی شخص کی طرح ہو گیا جس کو دمِ احصار کے ذبح کا حکم دیا گیا ہو۔ بھئی احصار، أَحْصَرَ يُحْصِرُ إِحْصَارًا کا معنی ہے روکنا اور قید کرنا۔ آپ کتاب الحج کے اندر پڑھ چکے ہیں بھئی کہ جب کوئی شخص حج پر جاتا ہے تو وہ احرام باندھتا ہے، اور یاد رکھو احرام ان دو کپڑوں کا نام نہیں ہے، بلکہ احرام اس حالت کا نام ہے جس میں انسان پر بہت سی پابندیاں آ جاتی ہیں۔ مثلاً وہ اپنے ناخن نہیں کاٹ سکتا، وہ اپنے بال نہیں کاٹ سکتا، وہ خوشبو نہیں لگا سکتا، وہ بیوی سے صحبت نہیں کر سکتا، اور انہی پابندیوں میں سے ایک پابندی یہ بھی ہے کہ جو مرد حالتِ احرام میں ہو وہ سلے ہوئے کپڑے نہیں پہن سکتا، تو اسے دو چادریں پہننی پڑتی ہیں۔ تو ان چادروں کو بھی احرام کہہ دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت میں احرام یہ چادریں نہیں ہیں، بلکہ احرام اس شخص کی اس حالت کا نام ہے۔ تو جب ایک شخص حج پر جاتا ہے تو احرام کی نیت کر لیتا ہے، اور جب احرام کی نیت کر لیتا ہے اس کے بعد اس پر یہ ساری پابندیاں لاگو ہو جاتی ہیں۔ وہ نہ ناخن کاٹ سکتا ہے، نہ بال کاٹ سکتا ہے، نہ خوشبو لگا سکتا ہے، نہ بیوی کے قریب جا سکتا ہے، نہ سلے ہوئے کپڑے پہن سکتا ہے۔ تو اس حالت کو احرام کہتے ہیں بھئی۔
اور پھر یاد رکھو، جب ایک شخص حج پر جا رہا ہے اور اس نے احرام کی نیت کر لی تو احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں، لیکن درمیان میں کوئی ایسی رکاوٹ آ گئی کہ اب یہ شخص حج پر نہیں جا سکتا۔ ورنہ ویسے تو یہ حج پر جاتا، وہاں حج کے افعال کرتا اور پھر جب حج کے افعال کر لیتا تو اس کے بعد پھر یہ احرام ختم ہوتا ہے اور بال کٹوائے جاتے ہیں اور احرام کی پابندیاں ختم ہو جاتی ہیں۔ لیکن اگر درمیان میں رکاوٹ آ گئی، اب ایک شخص جا ہی نہیں سکتا حج پر، تو اس کو محصر کہتے ہیں۔ أَحْصَرَ يُحْصِرُ إِحْصَارًا کا معنی ہے بند کرنا اور روکنا، تو یہ شخص بھی محصر ہے یعنی اس کو حج سے روک دیا گیا ہے، کوئی رکاوٹ آ گئی ہے۔ مثلاً راستے میں ڈاکوؤں کا خطرہ ہے، اب کوئی بھی قافلہ آگے جا ہی نہیں رہا، تو یہ شخص کیا ہو گیا؟ محصر۔ اور یہ حالتِ احرام میں ہے، اب یہ اپنا احرام کیسے اتارے؟ اپنے احرام کی پابندیاں کیسے ختم کرے؟ تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ یہ شخص حرم کے اندر کوئی قربانی کروا دے، یعنی ایک دم دے دے۔ دم کا کیا معنی؟ خون بھئی، یعنی قربانی ایک جانور کی اس کو کرنا پڑے گی۔ یہ وہاں پر جب قربانی کروا دے گا، مثلاً کسی کو پیغام بھجوا دیا کہ میری طرف سے فلاں تاریخ کو قربانی کر دینا اور اس کی طرف سے وہاں اس جانور کی قربانی کر دی جائے گی، تو اب یہ احرام اتار سکتا ہے، اب اس پر سے احرام کی پابندیاں ختم ہو جائیں گی۔ تو یہ جو محصر ہے، اس کو حرم میں قربانی کروانا پڑے گی پھر ہی یہ احرام سے نکل سکتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ کہ جب ایک شخص احرام کی نیت کر لے اور احرام کی پابندیاں شروع ہو جائیں، تو اب اس احرام کی پابندیوں سے نکلنے کی صرف دو ہی صورتیں ہیں۔ یا تو یہ شخص وہ عبادت پوری کرے، یعنی حج کا احرام باندھا ہے، جا کر حج کے تمام افعال سرانجام دے دے اور پھر اس کے بعد بال کٹوا کر احرام کی پابندیوں سے نکل جائے، اور دوسری صورت یہ اگر وہ حج پر نہیں جا سکتا تو پھر اس احرام سے نکلنے کی صورت یہ ہے کہ یہ شخص مکہ میں، حرم کے اندر ایک جانور کی قربانی کروا دے، اس کو دمِ احصار کہتے ہیں۔ تو جب اس جانور کی قربانی وہاں پر کر دی جائے گی تو پھر اس کے بعد یہ شخص، یہ جو محصر ہے، یہ احرام کی پابندیوں سے نکل سکتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟
اب صورت یہ ہے، ایک آدمی حج پر جا رہا تھا اور اس نے احرام کی نیت کر لی ہے اور احرام کی پابندیاں شروع ہو گئیں، اور پھر کوئی رکاوٹ آ گئی، اب یہ آگے حج پر نہیں جا سکتا، اس نے پیغام بھجوایا کسی آدمی کو کہ مکہ میں میری طرف سے ایک جانور کی قربانی کر دے۔ چنانچہ وہ پیغام اس نے بھجوا دیا، لیکن ادھر وہ جو رکاوٹ تھی وہ رکاوٹ ختم ہو گئی اور یہ شخص حج تک پہنچ گیا۔ تو یہ وہاں پر حج کے افعال سرانجام دیتا ہے اور پھر اس کے بعد یہ حلال ہو جاتا ہے، یعنی یہ سر کے بال کٹوا کر احرام کی پابندیوں سے نکل جاتا ہے۔ تو جب اس شخص نے حج کر لیا اور پھر احرام سے نکل گیا تو اب احرام سے نکلنے کے لیے دم یعنی قربانی کی ضرورت نہ رہی۔ لیکن ادھر اس نے جس کو جانور کی قربانی کے لیے وکیل بنایا تھا، اس نے اس موکل کے حج کرنے کے بعد موکل کی طرف سے قربانی کر دی۔ موکل کا احصار ختم ہو گیا، وہ خود ہی حج کرنے چلا گیا۔ جب اس نے حج کے افعال کر لیے اور سر کے بال کٹوا کر احرام کی پابندیوں سے نکل گیا تو اب تو دمِ احصار کی کوئی حاجت نہ رہی، لیکن اس کے باوجود وہ جو اس کا وکیل تھا اس نے اس جانور کی قربانی کر دی۔ تو یاد رکھو، اس صورت میں وکیل کی یہ قربانی دمِ احصار ہو کر واقع نہیں ہوئی۔ کیونکہ یہ شخص تو محصر رہا ہی نہیں، اس نے تو خود آ کر حج کر لیا، تو وکیل کو تو اس نے دمِ احصار کی قربانی کا حکم دیا تھا، لہٰذا وکیل کی یہ قربانی دمِ احصار ہو کر واقع نہ ہوئی کیونکہ احصار تو ختم ہو چکا اور موکل حج کر کے احرام سے نکلا ہے، تو وکیل کی یہ قربانی اگرچہ دمِ احصار ہو کر واقع نہیں ہوئی مگر پھر بھی اس وکیل پر اس قربانی کا ضمان نہیں آئے گا بھئی۔ اس قربانی کا ضمان نہیں آئے گا۔
تو صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ شخص جس کو دمِ احصار کے ذبح کا حکم دیا گیا تھا، جیسے اس پر ضمان نہیں آئے گا، اسی طرح مامور بہ ادائے زکوٰۃ جو ہے، اس پر بھی ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبین اس مامور بہ ادائے زکوٰۃ کو قیاس کرتے ہیں مامور بذبح دمِ احصار پر۔ وہ شخص جس کو دمِ احصار کے ذبح کا حکم دیا گیا ہے، اور جیسے وہ مامور بذبح دمِ احصار والا، وہ آمر کے حج کرنے کے بعد بھی اگر وہ اس حیوان کو ذبح کر دے گا تو اس پر ضمان نہیں آتا، تو یہاں پر بھی مامور بہ ادائے زکوٰۃ جو ہے، اگر وہ آمر کی ادائے زکوٰۃ کے بعد بھی یہ زکوٰۃ ادا کرے گا تو اس پر ضمان نہیں آنا چاہیے۔
تو کہتے ہیں: وَصَارَ كَالْمَأْمُورِ بِذَبْحِ دَمِ الْإِحْصَارِ، اور یہ مامور بہ ادائے زکوٰۃ ہو گیا اس شخص کی طرح جو مامور بذبح دمِ احصار ہے، یعنی جس کو دمِ احصار کے ذبح کا حکم دیا گیا ہے، إِذَا ذَبَحَ، جب یہ مامور ذبح کرتا ہے، بَعْدَمَا زَالَ الْإِحْصَارُ وَحَجَّ الْآمِرُ، بعد اس کے کہ جب احصار ختم ہو گیا تھا، وہ رکاوٹ ختم ہو گئی تھی اور آمر نے حج کر لیا تھا، لَمْ يَضْمَنِ الْمَأْمُورُ عَلِمَ أَوْ لَا، مامور ضامن نہیں ہو گا، چاہے اس کو آمر کے حج کرنے کا علم ہو یا علم نہ ہو۔ علم ہو، پھر بھی وہ ذبح کر دے گا جانور کو، تو اس پر ضمان نہیں آئے گا بھئی، کیونکہ اس کو جو حکم دیا گیا تھا وہ اس نے کر دیا۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں تک صاحبین کی دلیل تھی۔ اب آگے امام صاحب کی دلیل آ رہی ہے۔
وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے، أَنَّهُ مَأْمُورٌ بِأَدَاءِ الزَّكَاةِ، کہ یہ جو وکیل تھا اس کو تو ادائے زکوٰۃ کا حکم دیا گیا تھا، وَالْمُؤَدَّى لَمْ يَقَعْ زَكَاةً، اور وہ جو اس وکیل نے ادائیگی کی ہے وہ تو زکوٰۃ ہو کر واقع نہیں ہوئی، فَصَارَ مُخَالِفًا، تو یہ جو وکیل ہے یہ موکل کی مخالفت کرنے والا ہو گیا، وَهَذَا، اور یہ اس وجہ سے، لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الْأَمْرِ إِخْرَاجُ نَفْسِهِ عَنْ عُهْدَةِ الْوَاجِبِ، اس لیے کیونکہ اس حکم کے ذریعے جو مقصود ہے، وہ اپنے آپ کو نکالنا ہے واجب کی ذمہ داری سے۔ بھئی ادھر دیکھیے، امام صاحب فرماتے ہیں کہ آمر نے، موکل نے جب خود زکوٰۃ ادا کر دی اور پھر اس کے بعد وکیل ادا کر دیتا ہے، تو وکیل نے آمر کی مخالفت کی ہے بھئی۔ وکیل نے آمر کی مخالفت کی ہے، اس لیے کیونکہ آمر نے جو اس کو زکوٰۃ کے ادا کرنے کا حکم دیا تھا اس کا مقصد یہ تھا کہ میرے اوپر سے واجب ساقط ہو جائے، میری طرف سے زکوٰۃ ادا ہو جائے، میرے اوپر زکوٰۃ واجب ہے میرے اوپر سے یہ واجب ساقط ہو جائے، ختم ہو جائے، اور وکیل نے جب مال فقیر کو دیا تو یہ واجب تو پہلے ہی ساقط ہو چکا تھا، تو وکیل کی ادائیگی سے مقصد حاصل نہ ہوا۔ جب مقصد حاصل نہ ہوا، تو معلوم ہوا وکیل نے موکل کی مخالفت کی ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الْمَقْصُودَ مِنَ الْأَمْرِ إِخْرَاجُ نَفْسِهِ عَنْ عُهْدَةِ الْوَاجِبِ، اس لیے کیونکہ آمر کی طرف سے جو یہ حکم تھا زکوٰۃ کی ادائیگی کا، اس کا مقصد اپنے آپ کو واجب کی ذمہ داری سے نکالنا تھا، لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ لَا يَلْتَزِمُ الضَّرَرَ إِلَّا لِدَفْعِ الضَّرَرِ، اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ وہ اپنے اوپر نقصان کو لازم نہیں کرے گا، مگر ضرر کو دور کرنے کے لیے۔ بھئی ادھر دیکھیے، جب کوئی شخص زکوٰۃ ادا کرتا ہے، تو دیکھو اس کو نقصان ہو رہا ہے، اس کا مال کم ہو رہا ہے۔ زکوٰۃ ادا کرنے میں کیا ہے؟ دنیاوی اعتبار سے ضرر ہے، اخروی تو فائدہ ہے لیکن دنیاوی ضرر ہے کہ اس کا مال کم ہو رہا ہے۔ لیکن اگر زکوٰۃ ادا نہیں کرے گا، تو اخروی ضرر ہے کہ واجب اس کے ذمے میں باقی رہے گا۔ لہٰذا یہ جو آمر ہے، یہ وکیل کو کہہ رہا ہے جا کر میری طرف سے زکوٰۃ ادا کر دو، تو ظاہر یہی ہے کہ یہ جو آمر یعنی موکل دنیاوی نقصان کو اپنے اوپر لازم کر رہا ہے، وہ اخروی ضرر کو دور کرنے کے لیے ہے۔ یہ دنیاوی نقصان وہ کیوں برداشت کر رہا ہے؟ آخرت کے نقصان کو دور کرنے کے لیے، ورنہ تو آخرت میں مواخذہ ہو گا، اس کی پکڑ ہو گی۔ اور مجھے بتائیے، وکیل جب اس کی طرف سے مال ادا کرتا ہے، تو کیا اس ادائیگی کی وجہ سے جو نقصان ہوا، اس نقصان کی وجہ سے کیا اخروی نقصان دور ہوا؟ نہیں، اخروی نقصان تو پہلے ہی دور ہو چکا ہے، یہ خود ہی زکوٰۃ ادا کر چکا ہے، تو اس کے ذمے سے واجب ساقط ہو چکا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا وکیل کی ادائیگی کی وجہ سے اخروی نقصان کو دور کرنے والا مقصد حاصل نہیں، لہٰذا وکیل نے آمر کی مخالفت کر دی تو اس پر ضمان آئے گا بھئی۔
دیکھیے صاحبِ ہدایہ اور بہترین الفاظ میں اس کو ذکر فرمائیں گے: کہتے ہیں: لِأَنَّ الظَّاهِرَ أَنَّهُ لَا يَلْتَزِمُ الضَّرَرَ إِلَّا لِدَفْعِ الضَّرَرِ، اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ یہ جو آمر ہے یہ اپنے اوپر دنیاوی نقصان کو لازم نہیں کر رہا مگر اخروی ضرر کو دور کرنے کے لیے، وَهَذَا الْمَقْصُودُ حَصَلَ بِأَدَائِهِ، اور یہ اخروی نقصان کو دور کرنے کا جو مقصد ہے یہ حاصل ہو گیا آمر کے خود ادا کرنے سے، موکل کے خود ادا کرنے سے، وَعَرِيَ أَدَاءُ الْمَأْمُورِ عَنْهُ، اور مامور کی ادائیگی تو اس دفعِ ضرر سے یا اس مقصد سے خالی ہو گئی، فَصَارَ مَعْزُولًا، تو وہ وکیل جو ہے معزول ہو گیا۔ جب موکل نے خود زکوٰۃ ادا کر دی، تو وکیل معزول ہو گیا ادائے زکوٰۃ سے۔ اور یہ عزل، عزلِ حکمی ہے۔ عزلِ حکمی کسے کہتے تھے؟ دوسری چیز کے ضمن میں جو عزل آ جائے اس کو عزلِ حکمی کہتے ہیں، اور ایک عزلِ قصدی ہوتا ہے باقاعدہ ارادے سے کسی کو معزول کرنا۔ توجہ ہے؟ تو یہاں پر بھی جب موکل نے خود ہی زکوٰۃ ادا کر دی، تو وکیل خود بخود معزول ہو گیا۔ موکل نے اپنی زبان کے ذریعے وکیل کو معزول نہیں کیا ہے، بلکہ اپنے فعل کے ذریعے وکیل کو معزول کیا ہے، تو یہ عزلِ حکمی ہوا، اور عزلِ حکمی کے اندر آپ پڑھ چکے ہیں وکیل کو علم ہونا ضروری نہیں ہے بھئی۔ عزلِ قصدی میں علم ہونا ضروری ہے، عزلِ حکمی میں علم ہونا ضروری نہیں۔ لہٰذا جب موکل نے خود زکوٰۃ ادا کر دی تو وکیل معزول ہو گیا، اور وکیل معزول ہوا اور کون سا معزول ہے؟ معزولِ حکمی ہے، لہٰذا اس کو علم ہونا بھی ضروری نہیں۔ اس کے بعد بھی وکیل اگر ادا کرتا ہے، تو وکیل پر ضمان آئے گا امام صاحب کے نزدیک۔
تو کہتے ہیں: فَصَارَ مَعْزُولًا، تو وہ مامور جو ہے وہ معزول ہو گیا، عَلِمَ أَوْ لَمْ يَعْلَمْ، چاہے اس کو علم ہو یا علم نہ ہو، لِأَنَّهُ عَزْلٌ حُكْمِيٌّ، اس لیے کیونکہ یہ عزلِ حکمی ہے، وَأَمَّا دَمُ الْإِحْصَارِ، اب یہاں سے صاحبین کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ صاحبین نے یہ مامور بہ ادائے زکوٰۃ کو قیاس کیا تھا مامور بذبح دمِ احصار پر، تو اس کا جواب دے رہے ہیں، اور دو جواب دیں گے: ایک جوابِ انکاری اور ایک جوابِ تسلیمی۔ جوابِ انکاری یہ کہ صاحبین نے کیا کہا تھا کہ یہ مامور بہ ادائے زکوٰۃ کس کی طرح ہے؟ مامور بذبح دمِ احصار کی طرح ہے بھئی۔ اور جیسے مامور بذبح دمِ احصار جو ہے، وہ آمر کے حج کرنے کے بعد بھی اگر اس جانور کو ذبح کرتا ہے تو اس پر ضمان نہیں آئے گا، چاہے اس مامور بذبح دمِ احصار کو علم ہو یا علم نہ ہو، اسی طرح یہ مامور بہ ادائے زکوٰۃ جو ہے، یہ بھی اگر موکل کے ادائے زکوٰۃ کے بعد یہ خود زکوٰۃ ادا کرتا ہے، تو اس مامور بہ ادائے زکوٰۃ پر بھی ضمان نہیں آئے گا، چاہے اس کو موکل کی ادائے زکوٰۃ کا علم ہو یا علم نہ ہو، کسی صورت میں اس پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ امام صاحب کی طرف سے صاحبین کو جواب دے رہے ہیں، دو جواب دیں گے: ایک جوابِ انکاری اور ایک جوابِ تسلیمی۔ پہلا جوابِ انکاری ہے کہ ہمیں آپ کی بات تسلیم نہیں ہے کہ مامور بذبح دمِ احصار پر ضمان نہیں آئے گا۔ بلکہ اس کے اندر بھی امام صاحب کے نزدیک اس پر ضمان آئے گا۔ لہٰذا اگر آپ مامور بہ ادائے زکوٰۃ جو ہے اس کو مامور بذبح دمِ احصار پر قیاس بھی کر لیں پھر بھی آپ کا مدعا ثابت نہیں ہوتا، کیونکہ جیسے مامور بہ ادائے زکوٰۃ کے اندر امام صاحب کے نزدیک ضمان آتا ہے، اسی طرح مامور بذبح دمِ احصار کے اندر بھی امام صاحب کے نزدیک ضمان آتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو پہلا جواب انکاری دیا کہ ہمیں آپ کی یہ بات تسلیم ہی نہیں ہے کہ مامور بذبح دمِ احصار پر ضمان نہیں آئے گا۔ اور دوسرا جواب تسلیمی دیا کہ اگر ہم آپ کی بات تسلیم کر لیں کہ مامور بذبح دمِ احصار جو ہے، اس پر ضمان کسی صورت نہیں آتا، چاہے اسے علم ہو یا علم نہ ہو، لیکن مامور بہ ادائے زکوٰۃ پر ضمان آئے گا، تو اس صورت میں معلوم ہوا امام صاحب نے دونوں میں فرق کیا ہے۔ امام صاحب نے دونوں میں فرق کیا ہے تو اب وہ پھر آگے بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: وَأَمَّا دَمُ الْإِحْصَارِ فَقَدْ قِيلَ هُوَ عَلَى هَذَا الِاخْتِلَافِ، اور باقی دمِ احصار جو ہے، تو تحقیق کہا گیا ہے کہ وہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی امام صاحب اسی طرح صاحبین سے اختلاف کرتے ہیں، وَقِيلَ بَيْنَهُمَا فَرْقٌ، اور کہا گیا ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے۔ یہ تسلیمی جواب دے رہے ہیں کہ مامور بہ ادائے زکوٰۃ پر تو ضمان آئے گا امام صاحب کے نزدیک، لیکن مامور بذبح دمِ احصار پر ضمان نہیں آئے گا امام صاحب کے نزدیک، تو دونوں میں فرق ہے، اب وہ فرق بیان کریں گے۔ تو کہتے ہیں: وَقِيلَ بَيْنَهُمَا فَرْقٌ وَوَجْهُهُ أَنَّ الدَّمَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَيْهِ، اور کہا گیا ہے کہ دونوں کے درمیان فرق ہے، اور وجہ اس کی یہ ہے کہ دم جو ہے اس پر واجب نہیں ہے۔ یہاں سے فرق بیان کریں گے کہ ایک مامور بہ ادائے زکوٰۃ ہے، ایک مامور بذبح دمِ احصار ہے، دونوں میں فرق ہے۔ جب دونوں میں فرق ہے تو صاحبین کا ایک کو دوسرے پر قیاس کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ اور فرق کیسے ہے؟ کہتے ہیں دیکھو، فرق یہ ہے کہ ادائے زکوٰۃ تو واجب ہے، اس کو تو ہر حال میں ادا کرنا ہے، اور دمِ احصار جو ہے وہ واجب نہیں ہے، وہ ابھی تک واجب نہیں، وہ کب واجب ہو گا؟ جب حج نہ کر سکے، اور ہو سکتا ہے اگر یہ آدمی صبر کر لے اور کچھ عرصے کے بعد وہ رکاوٹ ختم ہو جائے تو یہ خود...
جا کر حج کر سکتا ہے، تو معلوم ہوا اس پر ابھی دم احصار واجب ہی نہیں ہوا۔ تو زکوۃ تو واجب ہو چکی ہے، وہ تو ہر حال میں ادا کرنی ہی کرنی ہے، اور دم احصار تو ابھی واجب ہی نہیں ہوا، لہٰذا دونوں میں فرق آ گیا۔ جب فرق آ گیا تو آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَقِيلَ بَيْنَهُمَا فَرْقٌ﴾ اور کہا گیا ہے کہ ان دونوں میں فرق ہے، ﴿وَوَجْهُهُ أَنَّ الدَّمَ لَيْسَ بِوَاجِبٍ عَلَيْهِ﴾ اور فرق کی وجہ یہ ہے کہ یہ دم احصار جو ہے، اس عامر پر ابھی واجب ہی نہیں ہے، ﴿فَإِنَّهُ يُمْكِنُهُ أَنْ يَصْبِرَ حَتَّى يَزُولَ الْإِحْصَارُ﴾ اس لیے کیونکہ اس شخص کے لیے ممکن ہے کہ یہ صبر کر لے یہاں تک کہ وہ رکاوٹ زائل ہو جائے، ختم ہو جائے، ﴿وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْأَدَاءُ وَاجِبٌ﴾ اور ہمارے مسئلے میں، یعنی ادائے زکوۃ کے مسئلے میں ادا واجب ہے، احصار کے مسئلے میں دم ابھی واجب ہی نہیں، ہو سکتا ہے انتظار کرے تو وہ رکاوٹ ختم ہو جائے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْأَدَاءُ وَاجِبٌ فَعُتُبِرَ الْإِسْقَاطُ مَقْصُودًا فِيهِ﴾ اور ہمارے مسئلے میں، یعنی زکوۃ کے مسئلے میں ادا واجب ہے، لہٰذا اس ادائے زکوۃ کے اندر اسقاط مقصود ہے۔ ادائے زکوۃ کے اندر واجب کا ساقط کرنا مقصود ہے کیونکہ زکوۃ قطعی طور پر واجب ہو چکی ہے، اور جبکہ دم احصار تو ابھی واجب ہی نہیں ہوا، لہٰذا زکوۃ کی ادائیگی کے اندر تو واجب کو ساقط کرنا ہی مقصود ہے کیونکہ زکوۃ واجب ہو چکی ہے، اور دم احصار کے مسئلے میں تو دم احصار ابھی واجب ہی نہیں ہوا تو وہاں واجب کو ساقط کرنا ابھی مقصود ہی نہیں ہے تو دونوں میں فرق ہے۔ لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي مَسْأَلَتِنَا الْأَدَاءُ وَاجِبٌ فَعُتُبِرَ الْإِسْقَاطُ مَقْصُودًا فِيهِ دُونَ دَمِ الْإِحْصَارِ﴾ اور ہمارے مسئلے کے اندر ادا واجب ہے، یعنی زکوۃ کے مسئلے میں ادا واجب ہے، لہٰذا اس ادا کے اندر واجب کو ساقط کرنا مقصود ہے نہ کہ دم احصار میں، کیونکہ وہ ابھی واجب ہی نہیں، تو وہاں واجب کو ساقط کرنا بھی مقصود نہیں ہے تو دونوں میں فرق ہو گیا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
آگے دیکھیے بھئی:
﴿قَالَ: وَإِذَا أَذِنَ أَحَدُ الْمُتَفَاوِضَيْنِ لِصَاحِبِهِ أَنْ يَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَيَطَأَهَا فَفَعَلَ فَهِيَ لَهُ بِغَيْرِ شَيْءٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَرْجِعُ عَلَيْهِ بِنِصْفِ الثَّمَنِ﴾
بھئی صورت مسئلہ یہ کہ دو آدمی جنہوں نے آپس میں شرکت مفاوضہ کا عقد کیا ہوا ہے۔ آپ نے پڑھا ہے کہ شرکت مفاوضہ کے اندر دونوں شریکوں کا مال بھی برابر ہونا چاہیے اور دونوں ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں اور کفیل بھی ہوتے ہیں۔ تو اب دو آدمیوں نے آپس میں شرکت مفاوضہ کا عقد کیا ہوا ہے اور دونوں شریکوں میں سے ایک شریک دوسرے سے کہتا ہے کہ تمہیں اجازت ہے کہ تم کوئی باندی خرید کر اس کے ساتھ وطی کر سکتے ہو۔ چنانچہ جب دوسرے کو اجازت مل گئی تو اس نے مال مشترکہ کے ذریعے ایک باندی کو خریدا اور اس کے ساتھ وطی کر لی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: یہ باندی اسی شخص کی ہو گئی اور اس پر کوئی ضمان وغیرہ نہیں آئے گا اس کے ثمن کا، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہ باندی اس نے مال مشترکہ سے خریدی ہے، لہٰذا اس شخص پر نصف ثمن کا ضمان آئے گا جو اسے اپنے ساتھی کو ادا کرنے ہوں گے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
دیکھیے بھئی: ﴿قَالَ﴾ امام محمد رحمہ اللہ جامع صغیر میں فرماتے ہیں: ﴿وَإِذَا أَذِنَ أَحَدُ الْمُتَفَاوِضَيْنِ لِصَاحِبِهِ﴾ اور جب دو عقد مفاوضہ کرنے والوں میں سے ایک نے اپنے ساتھی کو اجازت دے دی ﴿أَنْ يَشْتَرِيَ جَارِيَةً فَيَطَأَهَا﴾ کہ وہ ایک باندی کو خرید سکتا ہے اور اس سے وطی کر سکتا ہے ﴿فَفَعَلَ﴾ تو دوسرے نے ایسا کر لیا، یعنی مشترکہ مال سے باندی خریدی اور اس کے ساتھ صحبت کر لی، تو کہتے ہیں: ﴿فَهِيَ لَهُ بِغَيْرِ شَيْءٍ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ﴾ تو یہ باندی اسی کی ہے بغیر کسی چیز کے بدلے میں، امام صاحب کے نزدیک، ﴿وَقَالَا رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى: يَرْجِعُ عَلَيْهِ بِنِصْفِ الثَّمَنِ﴾ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ اس کا شریک جو ہے اس پر نصف ثمن کے اندر رجوع کرے گا، کیونکہ یہ باندی اس نے خاص اپنے لیے خریدی اور ادائیگی مال مشترکہ سے کی ہے، اور جب بھی دونوں شریکوں میں سے خاص طور پر اپنے لیے کوئی چیز خریدتا ہے تو دوسرا شریک پھر اس کے نصف ثمن میں اس پر رجوع کر سکتا ہے بھئی۔
یہ معنی ہے ﴿يَرْجِعُ عَلَيْهِ بِنِصْفِ الثَّمَنِ﴾ تو وہ اجازت دینے والا جو ہے وہ اس پر نصف ثمن کے اندر رجوع کرے گا ﴿لِأَنَّهُ أَدَّى دَيْنًا عَلَيْهِ خَاصَّةً﴾ اس لیے کیونکہ اس شریک نے ایسا دین ادا کیا ہے جو خاص طور پر اس کے اوپر تھا، یہ دین اس نے ادا کیا ہے ﴿مِنْ مَالٍ مُشْتَرَكٍ﴾ مال مشترکہ میں سے۔ توجہ ہے؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿لِأَنَّهُ أَدَّى دَيْنًا عَلَيْهِ خَاصَّةً مِنْ مَالٍ مُشْتَرَكٍ فَيَرْجِعُ عَلَيْهِ صَاحِبُهُ بِنَصِيبِهِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ شخص جو ہے اس نے مال مشترکہ میں سے ایسا دین ادا کیا ہے جو خاص طور پر اسی کے اوپر تھا، لہٰذا اس کا ساتھی اس پر رجوع کرے گا اپنے حصے میں ﴿كَمَا فِي شِرَاءِ الطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ﴾ جیسے کہ گندم اور کپڑوں کے خریدنے میں۔
بھئی آپ تفصیل پیچھے پڑھ چکے ہیں بھئی، صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب دو شریک آپس میں شرکت مفاوضہ کر لیں، تو جو بھی بیع و شراء وہ کریں گے وہ اشتراک کے طریقے پر ہو گی۔ لیکن اپنے گھر والوں کا غلہ اور اپنے اور گھر والوں کے جو کپڑے ہیں وہ اس سے مستثنیٰ ہیں۔ لہٰذا اپنے گھر والوں کے لیے کوئی غلہ خریدتا ہے یا کپڑے خریدتا ہے اور ادائیگی جو کر رہا ہے وہ تو مال مشترکہ سے کر رہا ہے، تو اس کا شریک جو ہے اس پر نصف ثمن کے اندر رجوع کرے گا، کیونکہ ادائیگی اس نے مال مشترکہ میں سے کی ہے بھئی۔ تو صاحبین فرماتے ہیں: جیسے اپنے گھر والوں کے لیے غلہ یا کپڑے وغیرہ خریدتا ہے، تو وہ خاص طور پر اپنے لیے خرید رہا ہے اور ادائیگی مال مشترکہ سے کر رہا ہے، اور وہاں پر اس کا شریک نصف کے اندر اس پر رجوع کرتا ہے، تو یہاں پر بھی اسی طرح یہ جو اس شخص نے باندی خریدی ہے، یہ اس نے اپنے لیے خریدی ہے اور ادائیگی مال مشترکہ سے کی ہے، لہٰذا اس کا شریک نصف ثمن میں اس پر رجوع کرے گا بھئی۔
یہ معنی ہے: ﴿كَمَا فِي شِرَاءِ الطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ﴾ جیسے کہ غلے اور کپڑوں کی خریداری میں ہے کہ اس کا شریک نصف میں اس پر رجوع کرتا ہے۔ ﴿وَهَذَا لِأَنَّ الْمِلْكَ وَاقِعٌ لَهُ خَاصَّةً﴾ اور یہ اس وجہ سے، اس لیے کیونکہ اس باندی کی ملکیت خاص طور پر اسی آدمی کے لیے واقع ہوئی ہے۔ یہ جو باندی اس نے خریدی مال مشترکہ کے ذریعے، اس باندی کا صرف یہ خریدار ہی مالک ہے، شریک مالک نہیں، کیونکہ اگر شریک مالک ہوتا، شریک کا بھی اس باندی میں حصہ ہوتا، تو پھر تو اس کے لیے صحبت جائز ہی نہیں تھی باندی کے ساتھ۔ اس کے لیے باندی سے صحبت تبھی جائز ہو سکتی ہے جب یہ اکیلا باندی کا مالک ہو۔ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ اس نے جب باندی کو خریدا تو یہ اکیلا اس باندی کا مالک ہوا، جب اکیلا مالک ہوا تو اب اس کے لیے صحبت جائز ہے۔ تو یہ باندی کا اکیلا مالک ہے اور جو ثمن اس نے ادا کیے ہیں وہ مال مشترکہ میں سے ادا کیے ہیں، لہٰذا اس کا ساتھی نصف ثمن میں اس پر رجوع کر سکتا ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَهَذَا لِأَنَّ الْمِلْكَ وَاقِعٌ لَهُ خَاصَّةً﴾ اور یہ اس وجہ سے، اس لیے کیونکہ اس باندی کی ملکیت خاص طور پر اسی خریدار کے لیے واقع ہوئی ہے، کیونکہ اسی وجہ سے تو صحبت اس کے لیے جائز ہے، ﴿وَالثَّمَنُ بِمُقَابَلَةِ الْمِلْكِ﴾ اور ثمن جو ہیں وہ تو ملکیت کے مقابلے میں ہوتے ہیں۔ جب ملکیت اس کی، تو ثمن بھی اسی پر آنے چاہیے اور یہ ادا تو مال مشترکہ میں سے کر رہا ہے، اور مال مشترکہ میں تو دوسرے شریک کا بھی حصہ ہے، لہٰذا دوسرا شریک نصف ثمن میں اس پر رجوع کرے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ﴿وَالثَّمَنُ بِمُقَابَلَةِ الْمِلْكِ﴾ اور ثمن جو ہیں وہ تو ملکیت کے مقابلے میں ہوتے ہیں، جب ملکیت اس کی ہے تو ثمن بھی اسی پر آنے چاہیے بھئی۔
اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے تھے کہ یہ باندی اسی شریک کی ہو گئی جس نے اس کے ساتھ صحبت کی ہے اور اس پر کوئی ضمان نہیں آئے گا، اس کا شریک نصف ثمن میں اس پر رجوع نہیں کر سکتا۔ وجہ کیا؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ دونوں نے عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے اور عقد مفاوضہ کے اندر یہ طے تھا کہ جو بھی چیز دونوں خریدیں گے وہ دونوں کے درمیان مشترکہ ہو گی۔ لہٰذا اس نے جب باندی خریدی ہے تو یہ باندی بھی دونوں کے درمیان مشترکہ تھی، اور جب باندی مشترکہ تھی تو پھر تو اس کے لیے صحبت جائز ہی نہیں تھی، لہٰذا خریدنے کے بعد دوسرے شریک کی طرف سے ہبہ پایا گیا۔ دوسرے شریک نے تو اس کو اجازت دی تھی کہ باندی خرید کر تم اس کے ساتھ وطی کر سکتے ہو، تو گویا دوسرے شریک نے یوں کہا تھا کہ ایک باندی خرید لو مشترکہ طریقے پر اور پھر اس کے بعد میرا جو حصہ ہوگا وہ تمہیں ہبہ ہے میری طرف سے، اور پھر تم جب پوری باندی کے مالک بن جاؤ گے تو تم اس کے ساتھ صحبت کر لینا۔
تو صاحبین تو یہ فرماتے تھے کہ جب اس نے باندی خریدی ہے، اس وقت سے ہی یہ باندی کا مالک ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، جب باندی خریدی تھی تب وہ مشترکہ تھی۔ وجہ یہ کہ دونوں نے آپس میں عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے اور عقد مفاوضہ کے اندر یہ طے ہوتا ہے کہ جو بھی چیز دونوں خریدیں گے وہ دونوں کے درمیان مشترکہ ہو گی، لہٰذا یہ عقد مفاوضہ کو نہیں بدل سکتے۔ یہ عقد مفاوضہ کو نہیں بدل سکتے، یہ باندی کو خریدیں گے تو وہ مشترکہ ہی رہے گی اور دوسرے کے لیے صحبت جائز نہیں ہو گی الا یہ کہ ہبہ کو مانا جائے کہ دوسرا شریک اپنا حصہ اس کو ہبہ کر دیتا ہے، پھر یہ پوری باندی کا مالک بن جائے گا، پھر اس کے لیے صحبت جائز ہو گی، ویسے تو اس کے لیے صحبت ہی جائز نہیں ہوتی۔ تو لہٰذا یہ جب باندی کو خریدے گا تو یہ خاص طور پر اپنے لیے نہیں خرید رہا، کیونکہ اگر خاص طور پر اپنے لیے خریدنا چاہتا ہے یہ تو مفاوضہ کے مقتضیٰ کو بدل رہا ہے اور مفاوضہ کے مقتضیٰ کو بدلنا کسی کے لیے بھی جائز نہیں، تو جب یہ باندی خریدے گا تو یہ باندی مشترکہ ہو گی۔ اور جس نے اجازت دی تھی اس نے جب خریدنے اور وطی کی اجازت دی تھی گویا یوں کہا تھا کہ ایک مشترکہ باندی خرید لو، پھر میری طرف سے میرا حصہ تمہیں ہبہ ہو جائے گا، تم پوری باندی کے مالک بن جاؤ گے اور پھر تمہارے لیے صحبت جائز ہو جائے گی تو تم اس کے ساتھ صحبت کر لینا۔
تو یہاں باندی کے خریدنے کے بعد ضمناً ہبہ کو ماننا پڑے گا۔ یہاں باندی کو خریدنے کے بعد ضمناً ہبہ کو ماننا پڑے گا، کیونکہ اس کے بغیر وطی حلال ہی نہیں ہو سکتی جب تک کہ پوری باندی کا مالک نہ بن جائے، اور پوری باندی کا مالک وہ صرف ہبہ کے ذریعے بن سکتا ہے اور کوئی صورت نہیں۔ یاد رکھو، یہاں زید کے لیے پوری باندی کی ملکیت چاہیے۔ اور پوری باندی کی ملکیت دوسرے شریک کی طرف سے صرف ہبہ کے ذریعے ہو سکتی ہے اور کوئی صورت نہیں۔ ہبہ کے ذریعے ہو سکتی ہے اور کوئی صورت نہیں۔ اگر دوسرا شریک اپنا حصہ اس کو بیچ دے، پھر بھی وطی حلال نہیں ہوتی۔ عمرو نے زید سے کیا کہا ہے؟ ایک باندی خرید لو، پھر اس کے ساتھ تم وطی کر لینا۔ تو امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: جب یہ باندی خریدے گا وہ تو مشترکہ ہو گی، آدھی باندی کا مالک زید ہے، آدھی کا مالک عمرو ہے۔ زید کو پوری باندی کا مالک تبھی قرار دیا جا سکتا ہے جب عمرو کی طرف سے ہبہ مان لیا جائے۔ اگر عمرو کی طرف سے ہبہ نہیں مانیں گے تو زید پوری باندی کا مالک نہیں، جب پوری باندی کا مالک نہیں تو اس کے لیے صحبت بھی جائز نہیں ہو گی۔
اور ہبہ ہی ماننا پڑے گا، بیع نہیں۔ زید نے باندی خرید لی اور یہ باندی مشترکہ ہے، زید عمرو سے عمرو کا حصہ بھی خرید لیتا ہے، نصف باندی تو ہے ہی زید کی اور نصف عمرو کی ہے، اور زید عمرو سے اس کا حصہ بھی خرید لے، پھر بھی زید کے لیے صحبت جائز نہیں ہو گی۔ بھئی کیوں نہیں جائز؟ کیونکہ زید جب عمرو سے نصف حصہ خریدے گا، تو دونوں کے درمیان عقد مفاوضہ ہے، جو بھی چیز خریدیں گے اس میں دونوں شریک ہوں گے، تو جو نصف خریدے گا اس میں پھر دونوں کا اشتراک آ جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ لہٰذا یہاں پر ایک شریک کو پوری باندی کا مالک تبھی قرار دیا جا سکتا ہے جب دوسرے کی طرف سے ہبہ کو مانا جائے۔ جب دوسرے کی طرف سے ہبہ آ گیا، اب یہ پوری باندی کا مالک بن گیا، لہٰذا اب اس کے لیے صحبت جائز ہو جائے گی، اور جب دوسرے شریک نے اس کو اپنا حصہ ہبہ کیا ہے تو وہ اس سے اب ثمن بھی وصول نہیں کر سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَهُ أَنَّ الْجَارِيَةَ دَخَلَتْ فِي الشَّرِكَةِ عَلَى الْبَتَاتِ﴾ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ باندی جو ہے وہ داخل ہوئی ہے شرکت کے طریقے پر، یعنی باندی دونوں کی ملکیت میں شرکت کے طریقے پر داخل ہوئی ہے ﴿عَلَى الْبَتَاتِ﴾ قطعی طور پر۔ بتات، بھئی یہ تاء پر شد نہیں پڑھنا بھئی، عَلَى الْبَتَاتِ، آخر میں بھی لمبی تاء ہے، عَلَى الْبَتَات۔ تو یہاں تاء کی تخفیف کے ساتھ ہے یہ لفظ، یہ یقین اور قطع کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً ایک شخص کہتا ہے: أَضْرِبُهُ بَتَاتًا، أَضْرِبُهُ بَتَاتًا، میں قطعی طور پر اس کی پٹائی کروں گا، یقینی طور پر میں اس کی پٹائی کروں گا۔ تو یہاں پر بھی امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، صاحبین تو کیا فرماتے تھے؟ صاحبین تو فرماتے تھے کہ جب ایک نے دوسرے کو اجازت دے دی تو دوسرا جب باندی خریدے گا تو وہ ساری باندی اسی کی ہے، امام صاحب فرماتے ہیں: قطعی طور پر یہ باندی دونوں میں مشترکہ ہے، خریدتے ہوئے ایک کی ہو ایسا نہیں ہے بھئی۔ باندی جب خریدیں گے تو قطعی طور پر دونوں میں مشترکہ ہے، لہٰذا صاحبین کا یہ کہنا کہ جس کو اجازت دی گئی ہے وہ خریدے گا تو وہ ساری کا مالک ہو جائے گا، نہیں، بلکہ یہاں جب خریدیں گے دونوں میں مشترکہ ہے، پھر دوسرے کی طرف سے ضمناً ہبہ ماننا پڑے گا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَهُ أَنَّ الْجَارِيَةَ دَخَلَتْ فِي الشَّرِكَةِ عَلَى الْبَتَاتِ جَرْيًا عَلَى مُقْتَضَى الشَّرِكَةِ﴾ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ باندی جو ہے دونوں کی ملکیت میں داخل ہوئی ہے شرکت کے طریقے پر قطعی طور پر، مقتضائے شرکت پر چلتے ہوئے۔ یہ شرکت مفاوضہ اسی کا تقاضا کرتی ہے کہ جو بھی چیز خریدیں گے اس میں دونوں کی شرکت ہو گی، تو ﴿جَرْيًا عَلَى مُقْتَضَى الشَّرِكَةِ﴾ شرکت کے مقتضیٰ پر چلتے ہوئے ﴿إِذْ هُمَا لَا يَمْلِكَانِ تَغْيِيرَهُ﴾ اس لیے کیونکہ دونوں اس بات کے مالک نہیں ہیں کہ اس شرکت کے مقتضیٰ کو بدل دیں، دونوں شرکت کے مقتضیٰ کو نہیں بدل سکتے، شرکت تو کیا تقاضا کرتی ہے؟ جو بھی چیز خریدیں گے وہ دونوں میں مشترکہ ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ﴿إِذْ هُمَا لَا يَمْلِكَانِ تَغْيِيرَهُ فَأَشْبَهَ حَالَ عَدَمِ الْإِذْنِ﴾ اس لیے کیونکہ دونوں جو ہیں شرکت کے مقتضیٰ کو بدلنے کے مالک نہیں ہیں، تو اجازت کی جو حالت ہے وہ مشابہ ہو گئی اجازت نہ ہونے کی حالت کے۔ بھئی جب بغیر اجازت کے باندی خریدیں گے تو وہ دونوں میں مشترکہ ہو گی، تو اجازت کے بعد بھی خریدے گا تو وہ بھی دونوں میں مشترکہ ہو گی، تو یہ اجازت کا دینا بھی کس حالت کی طرح ہو گیا؟ اجازت نہ دینے کی طرح۔ تو یہ معنی ہے ﴿فَأَشْبَهَ حَالَ عَدَمِ الْإِذْنِ﴾ تو یہ مشابہ ہو گیا اجازت نہ دینے کی حالت کے۔
﴿غَيْرَ أَنَّ الْإِذْنَ يَتَضَمَّنُ هِبَةَ نَصِيبِهِ مِنْهُ﴾ مگر یہ کہ یہ جو اجازت ہے، یہ متضمن ہے اپنا حصہ اس کو ہبہ کرنے کو۔ یہ جو دوسرے نے اجازت دی تھی کہ تم ایک باندی خرید کر اس سے وطی کر لو، تو یہ اجازت متضمن ہے ہبہ کو، معلوم ہوا خریدنے کے بعد اس کا حصہ اس کی طرف سے ہبہ ہو جائے گا۔ ﴿غَيْرَ أَنَّ الْإِذْنَ يَتَضَمَّنُ هِبَةَ نَصِيبِهِ مِنْهُ﴾ مگر یہ کہ اجازت جو ہے، جو دوسرے نے اجازت دی تھی کہ خرید کر باندی سے وطی کر لو، مگر یہ کہ اجازت جو ہے وہ دوسرے شریک کے حصے کے ہبہ کو متضمن ہے اس کی جانب سے۔ اجازت دی تھی، گویا کہہ دیا تھا کہ خرید لینا اور پھر میرا حصہ میری طرف سے تمہیں ہبہ ہو جائے گا۔ تو ﴿غَيْرَ أَنَّ الْإِذْنَ يَتَضَمَّنُ هِبَةَ نَصِيبِهِ مِنْهُ لِأَنَّ الْوَطْءَ لَا يَحِلُّ إِلَّا بِالْمِلْكِ﴾ مگر یہ کہ یہ جو اجازت ہے، یہ دوسرے کے حصے کے ہبہ کو متضمن ہے اس کی طرف سے، اس لیے کیونکہ وطی جو ہے وہ حلال نہیں ہو سکتی مگر ملکیت کے ذریعے، کہ یہ پوری باندی کا مالک بن جائے پھر ہی وطی حلال ہو سکتی ہے۔ تو جب دوسرے نے اجازت دی ہے: خرید لو اور وطی کر لینا، معلوم ہوا کہنے کا مطلب یہ ہے: خرید لینا اور پھر میری طرف سے میرا حصہ تمہیں ہبہ ہو جائے گا، تم ساری کے مالک بن جاؤ گے، پھر تم وطی کر سکتے ہو۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ الْوَطْءَ لَا يَحِلُّ إِلَّا بِالْمِلْكِ وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اس لیے کیونکہ وطی جو ہے وہ حلال نہیں ہو سکتی مگر ملکیت کے ذریعے، اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملکیت کو ثابت کیا جائے بیع کے ذریعے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملکیت کو ثابت کیا جائے بیع کے ذریعے۔
صاحبین تو کیا فرماتے تھے؟ جب دوسرے نے اجازت دے دی ہے تو جب یہ مال مشترکہ سے باندی خریدے گا بھی، تو یہ اکیلا ہی اس کا مالک بنے گا۔ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، دوسرے نے بے شک اجازت دے دی ہے لیکن یہ خریدے گا تو باندی مشترکہ ہی ہو گی، کیونکہ یہ مفاوضہ کا مقتضیٰ ہے، مفاوضہ اسی کا تقاضا کرتا ہے، اور یہ مفاوضہ کے مقتضیٰ کو بدل نہیں سکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس وطی کے حلال ہونے کو بیع کے ذریعے ثابت کیا جائے۔ تو ﴿إِثْبَاتِهِ﴾ کی ہا ضمیر یا تو وطی کے حلال ہونے کی طرف راجع کر دیں یا یہ ضمیر راجع کر دیں ملکیت کی طرف۔ ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملکیت کو ثابت کر دیا جائے بیع کے ذریعے۔
صاحبین تو کیا فرماتے تھے؟ کہ جب ایک شریک نے دوسرے کو اجازت دے دی ہے، تو جب وہ باندی کو خریدے گا تو وہ اکیلا ہی ساری باندی کا مالک ہو جائے گا۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، خریدنے سے ساری باندی کی ملکیت اسی کے لیے ثابت ہو جائے، یہ مقتضائے مفاوضہ کے خلاف ہے۔ دونوں نے آپس میں عقد مفاوضہ کیا ہوا ہے اور اس کو یہ دونوں بدل نہیں سکتے، لہٰذا جو بھی چیز خریدیں گے وہ دونوں کے درمیان مشترکہ ہو گی۔ تو لہٰذا بیع کے ذریعے ساری ملکیت ایک ہی شریک کے لیے ثابت نہیں کی جا سکتی۔ یہ معنی ہے ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ بیع کے ذریعے اس ملکیت کو ثابت کیا جائے۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟
اب ذرا عبارت پہ نظر رکھنا: ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾، بیع کا کیا معنی ہے؟ بیچنا۔ اور دونوں میں سے ایک شریک نے باندی کو خریدا ہے۔ تو صاحب ہدایہ کو کہنا چاہیے تھا کہ خریدنے سے ساری ملکیت اس کے لیے ثابت نہیں ہو سکتی، لیکن صاحب ہدایہ بیع کو ذکر فرما رہے ہیں، بیع کے ذریعے ساری باندی کی ملکیت ایک کے لیے ثابت نہیں ہو سکتی۔ بھئی ادھر دیکھیے، زید اور عمرو میں عقد شرکت ہوا ہے، اور عمرو نے زید سے کہا کہ تم ایک باندی خرید لو اور پھر تم اس کے ساتھ وطی کر لینا، تو عمرو نے زید کو اجازت دے دی اور زید نے پھر ایک باندی خریدی۔ اب مجھے بتائیے، زید نے شراء والا فعل کیا ہے یا بیع والا فعل کیا ہے؟ ظاہر سی بات ہے، زید نے باندی خریدی ہے، تو زید نے شراء والا فعل کیا ہے، اور جو باندی کا پرانا مالک تھا اس نے بیع والا فعل کیا۔ توجہ ہے؟ تو اس شریک کا فعل تو شراء ہے، بیع نہیں، لیکن صاحب ہدایہ کیا فرما رہے ہیں؟ ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس ملکیت کو ثابت کیا جائے ﴿بِالْبَيْعِ﴾ کس کے ذریعے؟ بیع کے ذریعے، حالانکہ صاحب ہدایہ کو کیا کہنا چاہیے تھا؟ شراء کے ذریعے۔ زید نے باندی خریدی ہے، تو شراء کے ذریعے ساری باندی کا مالک زید بن جائے، اس کی کوئی وجہ نہیں، یعنی ایسا نہیں ہو سکتا۔
تو یہاں پر شریک نے شراء والا فعل کیا ہے لیکن صاحب ہدایہ بیع کا لفظ ذکر فرما رہے ہیں، تو بعض شارحین پھر فرماتے ہیں کہ یہ جو عقد ہوا شریک اور باندی کے پرانے مالک کے درمیان، شریک کی طرف سے دیکھیں تو یہ شراء ہے، اور اس باندی کے پرانے مالک کی طرف سے دیکھیں تو یہ بیع ہے، تو اس اعتبار سے اس کو صاحب ہدایہ نے بیع کہہ دیا، یہ جو بیع کی ہے باندی کے مالک نے شریک کے ساتھ بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لیکن ایک اور جواب بھی دیا جا سکتا ہے یہاں، اور وہ یہ کہ آپ پڑھ چکے ہیں کہ یہ بیع اور شراء اضداد میں سے ہیں۔ اضداد وہ الفاظ جن کے متضاد معانی ہوتے ہیں، ایک ہی لفظ کا معنی سردی بھی ہو اور گرمی بھی ہو تو اس کو کہیں گے یہ لفظ اضداد میں سے ہے، ایک ہی لفظ کا معنی صبح بھی ہو اور شام بھی ہو تو ہم کہیں گے یہ لفظ اضداد میں سے ہے۔ اسی طرح یہ جو بیع اور شراء ہیں یہ اضداد میں سے ہیں، بیع کا معنی بیچنا بھی اور خریدنا بھی، البتہ بیع زیادہ تر استعمال جو ہے بیچنے میں ہوتا ہے لیکن اس کا معنی خریدنے کے بھی ہے۔ اسی طرح شراء جو ہے وہ بھی اضداد میں سے ہے، اس کا معنی بھی خریدنے کے بھی اور بیچنے کے بھی، البتہ وہ زیادہ تر خریدنے میں استعمال ہوتا ہے۔ صاحب ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات چل رہی ہیں، تو یہاں صاحب ہدایہ نے جو بیع کا لفظ ذکر کیا اس بیع سے شراء مراد ہے، کیونکہ دونوں شریکوں میں سے ایک نے کیا کیا ہے؟ باندی کو خریدا ہے، بیع بول کر یہاں شراء مراد ہے، کیونکہ بیع کا ایک معنی شراء بھی ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ اس ملکیت کو ثابت کیا جائے ﴿بِالْبَيْعِ﴾ أَيْ بِالشِّرَاءِ، یعنی خریدنے کے ذریعے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
یا ایک اور بھی جواب دیا جا سکتا ہے، صاحب ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارات ہیں بھئی۔ بھئی دیکھیے، بھئی دیکھیے، یہاں پر عمرو نے زید کو اجازت دی ہے کہ تم ایک باندی خرید کر اس کے ساتھ صحبت کر سکتے ہو، تو اب یہاں امام صاحب کے نزدیک جب باندی خریدیں گے تو دونوں کے درمیان مشترکہ ہے، اور پھر اس شراء کے بعد عمرو کی طرف سے ضمناً ہبہ مان لیا جائے گا کہ عمرو نے اپنا حصہ ہبہ کر دیا، تو ہبہ کے ذریعے ہی زید پھر ساری باندی کا مالک بن سکتا ہے، ہبہ کے علاوہ اور کوئی صورت نہیں ہے کہ زید ساری باندی کا مالک بن جائے۔ مثلاً اگر عمرو جو ہے اپنا حصہ زید کو ہبہ نہیں کرتا بلکہ عمرو اپنا نصف حصہ زید کو بیچ دیتا ہے، عمرو اپنے حصے کی بیع کر دیتا ہے زید کے ساتھ، توجہ ہے؟ پھر صورت سنو: زید نے ایک باندی خرید لی، یہ باندی زید اور عمرو دونوں میں مشترکہ ہے، نصف حصے کا مالک زید، نصف کا مالک عمرو، اور عمرو کیا چاہتا ہے؟ کہ زید ساری باندی کا مالک بن جائے تاکہ اس کے لیے صحبت جائز ہو جائے، تو اگر عمرو اپنا نصف حصہ زید کے ہاتھ بیچ دیتا ہے، پھر بھی زید کے لیے وطی حلال نہیں۔ پھر بھی زید کے لیے وطی حلال نہیں، کیونکہ زید جب باندی کے بقیہ نصف حصے کو عمرو سے خریدے گا، تو دونوں میں عقد مفاوضہ ہے اور اس میں یہ طے تھا کہ جو بھی چیز خریدیں گے وہ دونوں میں مشترکہ ہو گی، تو جب زید عمرو کا نصف حصہ اس سے خریدے گا تو اس نصف حصے میں پھر دونوں کی شرکت ہو جائے گی۔ تو عمرو اگر اپنا حصہ زید کے ہاتھ بیچ بھی دے، پھر بھی زید کے لیے باندی سے صحبت جائز نہیں ہوتی۔ تو لہٰذا یہاں زید کے لیے اگر پوری ملکیت ثابت کرنی ہے تو وہ بیع کے ذریعے ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ بیع کے ذریعے ثابت ہو ہی نہیں سکتی۔ کون سی بیع مراد ہے؟ عمرو کا اپنا حصہ بیچنا زید کے ہاتھ۔ تو اگر عمرو اپنا نصف حصہ زید کو بیچ بھی دے، پھر بھی زید پوری باندی کا مالک نہیں اور اس کے لیے وطی حلال نہیں ہوتی۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ﴾ اور بیع کے ذریعے ملکیت ثابت کرنے کی کوئی صورت نہیں ہے، کیونکہ بیع کر بھی لیں، پھر بھی اس میں دونوں کی شرکت رہے گی بھئی۔ تو لہٰذا یہاں ہبہ ہی کو ماننا پڑے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو ایک صورت میں ہم نے بیع سے مراد وہ والی بیع مراد لی، وہ جو شریک نے باندی کو خریدا تھا باندی کے پرانے مالک سے، اور دوسری صورت میں اس بیع سے وہ بیع مراد لے لیں کہ اگر دوسرا شریک اپنا حصہ اس شریک کے ہاتھ بیچ دے۔ صورت بھی سمجھ میں آ رہی ہے کہ نہیں؟
تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا وَجْهَ إِلَى إِثْبَاتِهِ بِالْبَيْعِ لِمَا بَيَّنَّا أَنَّهُ يُخَالِفُ مُقْتَضَى الشَّرِكَةِ﴾ اور کوئی وجہ نہیں ہے کہ ملکیت کو بیع کے ذریعے ثابت کیا جائے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ مقتضائے شرکت کے مخالف ہے، کیونکہ دونوں میں شرکت مفاوضہ ہے اور وہ تقاضا کرتا ہے کہ جو بھی چیز خریدیں گے، جتنا حصہ بھی خریدیں گے دونوں کے درمیان مشترکہ ہو گا بھئی۔ ﴿فَأَثْبَتْنَاهُ بِالْهِبَةِ الثَّابِتَةِ فِي ضِمْنِ الْإِذْنِ﴾ لہٰذا ہم نے ملکیت کو ثابت کر دیا اس ہبہ کے ذریعے جو اجازت کے ضمن میں ثابت ہے۔ جب ایک نے دوسرے کو اجازت دے دی تھی کہ باندی خرید کر تم اس سے وطی کر سکتے ہو، تو اس اجازت کے ضمن میں ہبہ آ گیا، گویا اس نے یوں کہا کہ ایک باندی خریدو اور پھر اس میں میرا حصہ بھی میری طرف سے تمہیں ہبہ ہے اور پھر تم پوری باندی کے مالک بن جاؤ گے اور تم پھر اس کے ساتھ صحبت کر لینا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے ﴿فَأَثْبَتْنَاهُ بِالْهِبَةِ الثَّابِتَةِ فِي ضِمْنِ الْإِذْنِ﴾ تو لہٰذا ہم نے اس ملکیت کو ثابت کیا اس ہبہ کے ذریعے جو اجازت کے ضمن میں ثابت ہے ﴿بِخِلَافِ الطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ﴾۔
بھئی ادھر دیکھیے، صاحبین نے اس باندی کے خریدنے کو قیاس کیا تھا کپڑوں اور غلے کے خریدنے پر، اور آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ عقد مفاوضہ کے اندر دونوں شریک جو بھی چیز خریدتے ہیں اس میں دونوں شریک ہوتے ہیں، ہاں اپنے گھر والوں کے غلے اور کپڑوں میں یہ شریک نہیں ہوتے۔ ان دونوں میں سے جو بھی اپنے گھر والوں کے لیے غلہ خریدتا ہے یا اپنے اور اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے خریدتا ہے تو وہ اسی کے لیے ہیں، اور ادائیگی تو وہ مال مشترکہ سے کر رہا ہے، لہٰذا اس میں پھر اس کا ساتھی نصف ثمن میں اس پر رجوع کرے گا۔ تو صاحبین فرماتے تھے: جیسے اپنے گھر والوں کے لیے غلہ اور کپڑے خریدے تو خریدنے والا ہی اس کا مالک ہوتا ہے، اس میں دونوں کی شرکت نہیں ہوتی، اسی طرح جب ایک شریک نے دوسرے کو اجازت دے دی تو جب باندی خریدے گا تو اس باندی میں بھی شرکت نہیں ہو گی، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ وہاں پر کہ وہاں پر وہ جو غلہ اور کپڑے کی خریداری ہے اس میں جو شرکت نہیں ہوتی وہ ضرورت کی وجہ سے ہے، کیونکہ ہر انسان کھانے پینے اور کپڑوں کا محتاج ہے، تو ضرورت اور حاجت کی وجہ سے یہ کپڑوں اور غلے کا استثناء کر دیا گیا کہ اپنے گھر والوں کے لیے جو غلہ اور کپڑے خریدے گا اس میں شرکت نہیں ہو گی، تو اس کو شرکت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ضرورت کی وجہ سے، اور یہاں باندی کے اندر تو کوئی ایسی ضرورت نہیں ہے کہ اس کو مستثنیٰ قرار دیا جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ لہٰذا باندی کو جب خریدیں گے تو وہ دونوں کے درمیان مشترکہ ہی ہو گی بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿بِخِلَافِ الطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ لِأَنَّ ذَلِكَ مُسْتَثْنًى عَنْهَا لِلضَّرُورَةِ﴾ بخلاف غلے اور کپڑوں کے، اس لیے کیونکہ یہ تو شرکت سے مستثنیٰ ہے ضرورت کی وجہ سے، ﴿فَيَقَعُ الْمِلْكُ لَهُ خَاصَّةً بِنَفْسِ الْعَقْدِ﴾ تو ان کے اندر ملکیت جو ہے اس خریدنے والے کے لیے ہی خاص طور پر ثابت ہو گی بنفس عقد، یعنی بیع کے ذریعے ہی۔ ادھر دیکھیے، دو آدمیوں نے آپس میں عقد شرکت کیا ہوا ہے، زید اپنے گھر والوں کے لیے غلہ خریدتا ہے یا اپنے اور گھر والوں کے لیے کپڑے خریدتا ہے، تو بیع کے وقت سے ہی زید اس سارے کا مالک ہو گا کیونکہ یہ مستثنیٰ ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ﴿فَيَقَعُ الْمِلْكُ لَهُ خَاصَّةً بِنَفْسِ الْعَقْدِ﴾ تو ملکیت خاص طور پر اس خریدنے والے کے لیے ہی ثابت ہو گی، یعنی اس غلے اور کپڑوں میں، بنفس عقد یعنی بیع کے ذریعے ہی، جیسے ہی یہ خریدے گا تو اسی کے لیے ملکیت ثابت ہو گی، بعد میں ہبہ وغیرہ کی کوئی ضرورت نہیں ہے بھئی، تو اسی کے لیے ملکیت ثابت ہو گی نفس عقد سے ہی۔ ﴿وَكَانَ مُؤَدِّيًا دَيْنًا عَلَيْهِ مِنْ مَالِ الشَّرِكَةِ﴾ ادھر دیکھیے، جب اپنے گھر والوں کا غلہ اور کپڑے وہ شرکت سے مستثنیٰ ہیں، لہٰذا جب اپنے گھر والوں کے لیے غلہ اور کپڑے خریدے گا، تو مال کے اندر تو دونوں کی شرکت ہے سارے مال میں، تو جب یہ مال کے ذریعے ادائیگی کرے گا تو ادائیگی تو مال مشترکہ سے کر رہا ہے، لہٰذا اس وجہ سے دوسرا شریک اس پر نصف کے اندر رجوع کرے گا، جبکہ باندی کو جب خریدا تھا تو باندی تو مشترکہ تھی لیکن دوسرے نے اپنا حصہ ہبہ کر دیا، اب وہ نصف میں رجوع نہیں کر سکتا بھئی۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَكَانَ مُؤَدِّيًا دَيْنًا عَلَيْهِ مِنْ مَالِ الشَّرِكَةِ﴾ اور یہ خریدنے والا ادا کرنے والا ہو گیا اس دین کو جو اس کے اوپر تھا مال شرکت میں سے، اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کے لیے کپڑا خریدا ہے اور مال مشترکہ سے ادائیگی کر رہا ہے تو دوسرا ساتھی بعد میں اس پر رجوع کرے گا۔ تو یہ معنی ہے: ﴿وَكَانَ مُؤَدِّيًا دَيْنًا عَلَيْهِ مِنْ مَالِ الشَّرِكَةِ﴾ تو یہ شخص وہ دین جو اس کے اوپر تھا اس کو ادا کرنے والا ہو گیا مال شرکت میں سے، ﴿وَفِي مَسْأَلَتِنَا قَضَى دَيْنًا عَلَيْهِمَا لِمَا بَيَّنَّا﴾ اور جبکہ ہمارے مسئلے میں، یعنی باندی کے مسئلے میں، ﴿قَضَى دَيْنًا عَلَيْهِمَا﴾ کہ اس نے جو دین ادا کیا ہے وہ دونوں پر تھا، باندی تو دونوں میں مشترکہ تھی تو لہٰذا قیمت جب ادا کر رہا ہے تو یہ، تو یہ دین ایک پر تھا یا دونوں پر تھا؟ دونوں پر تھا، تو لہٰذا اس وجہ سے اس کا ساتھی اس پر رجوع نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَفِي مَسْأَلَتِنَا قَضَى دَيْنًا عَلَيْهِمَا لِمَا بَيَّنَّا﴾ اور ہمارے مسئلے کے اندر کہ اس نے ایسا دین ادا کیا ہے جو دونوں پر تھا، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ یہ باندی مشترکہ تھی دونوں کی۔
﴿وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ أَيَّهُمَا شَاءَ بِالِاتِّفَاقِ﴾ اب یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں: ایک شریک نے دوسرے شریک کو اجازت دی کہ ایک باندی خرید کر تم اس سے وطی کر سکتے ہو، اس نے باندی خریدی اور اس سے وطی کر لی، تو اب بائع کیا اسی سے ثمن کا مطالبہ کرے گا جس نے باندی خریدی ہے یا اس کے شریک سے بھی ثمن کا مطالبہ کر سکتا ہے؟ تو جواب دیں گے کہ ہم آپ کو پہلے بتا چکے، عقد مفاوضہ کے اندر دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوتے ہیں، تو دونوں سے اس ثمن کا مطالبہ ہو سکتا ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ باندی کا مالک دونوں سے باندی کے ثمن کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
تو کہتے ہیں: ﴿وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ أَيَّهُمَا شَاءَ بِالِاتِّفَاقِ﴾ اور اس باندی کے بیچنے والے کے لیے جائز ہے کہ وہ ثمن لے لے ان دونوں میں سے جس سے بھی چاہے، بالاتفاق بھئی، یعنی ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک ثمن کا مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ أَيَّهُمَا شَاءَ بِالِاتِّفَاقِ﴾ اور کہتے ہیں بالاتفاق بائع کے لیے جائز ہے کہ وہ ثمن لے لے ان دونوں میں سے جس سے چاہے، ﴿لِأَنَّهُ دَيْنٌ وَجَبَ بِسَبَبِ التِّجَارَةِ﴾ اس لیے کیونکہ یہ ایسا دین ہے جو تجارت کی وجہ سے واجب ہوا ہے، ایسا دین ہے جو تجارت کی وجہ سے واجب ہوا ہے بھئی، باندی کو خریدا ہے اور تجارت میں بھی کیا ہوتی ہے؟ بیع و شراء ہوتی ہے، تو یہ دین جو باندی کے ثمن آئے ہیں یہ تجارت کی وجہ سے آئے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُ دَيْنٌ وَجَبَ بِسَبَبِ التِّجَارَةِ وَالْمُفَاوَضَةُ تَضَمَّنَتِ الْكَفَالَةَ﴾ اس لیے کیونکہ یہ جو باندی کے ثمن ہیں یہ ایسا دین ہے جو تجارت کی وجہ سے واجب ہوا ہے اور شرکت مفاوضہ جو ہے وہ کفالت کو متضمن ہوتی ہے، دونوں شریک ایک دوسرے کے کفیل ہوتے ہیں، یعنی ضامن ہوتے ہیں، دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے، ﴿فَصَارَ كَالطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ﴾ تو یہ طعام اور کسوہ کی طرح ہو گئے۔ طعام اور کسوہ دونوں میں سے ایک خریدتا تھا اپنے گھر والوں کے لیے لیکن پھر بھی مطالبہ دونوں سے ہو سکتا تھا، یہاں پر بھی دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے ﴿فَصَارَ كَالطَّعَامِ وَالْكِسْوَةِ﴾ تو یہ باندی بھی غلے اور کپڑوں کی طرح ہو گئی، جیسے ان کے ثمن کا مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے اس باندی کے ثمن کا مطالبہ بھی دونوں سے ہو سکتا ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔