Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-149

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 58
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی۔ كِتَابُ الْمَفْقُوْدِ ”إِذَا غَابَ الرَّجُلُ فَلَمْ يُعْرَفْ لَهُ مَوْضِعٌ، وَلَا يُعْلَمُ أَحَيٌّ هُوَ أَمْ مَيِّتٌ، نَصَبَ الْقَاضِي مَنْ يَحْفَظُ مَالَهُ، وَيَقُومُ عَلَيْهِ، وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ؛ لِأَنَّ الْقَاضِيَ نُصِبَ نَاظِرًا لِكُلِّ عَاجِزٍ عَنِ النَّظَرِ لِنَفْسِهِ، وَالْمَفْقُودُ بِهَذِهِ الصِّفَةِ، فَصَارَ كَالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“. بھئی، گزشتہ سبق میں ہم نے کتاب الاباق پڑھی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ أَبَقَ يَأْبِقُ إِبَاقًا کا معنی ہے بھاگ جانا اور یہ بالخصوص غلام کے بھاگ جانے کے لیے استعمال ہوتا ہے بھئی۔ آپ نے پڑھا کہ یہ جو عبدِ آبق ہے، یہ جو بھاگا ہوا غلام ہے، یہ بھی لقطہ کے درجے میں ہے۔ اور جیسے لقطہ کو کوئی شخص اٹھاتا ہے تو اس میں دونوں احتمال ہیں، ہو سکتا ہے وہ اپنے لیے اٹھا رہا ہو تو پھر یہ غصب کے درجے میں ہے، اور اگر وہ مالک کو پہنچانے کے لیے اٹھا رہا ہے تو پھر وہ امانت کے حکم میں ہے۔ تو جیسے وہاں لقطہ کے اندر اگر مالک کے لیے اٹھائے تو وہاں گواہ بنانا چاہیے تو پھر وہ امانت کے حکم میں ہو گا۔ اسی طرح اگر کسی کا کوئی غلام بھاگ گیا ہے اور اس کو کوئی شخص پکڑ لے تو اس کو بھی گواہ بنانے چاہئیں۔ اور پھر وہ اس غلام کو حاکم کے پاس یا اس کے نائب کے پاس یا قاضی کے پاس لے جائے، اس لیے کیونکہ وہ خود تو اس غلام کی حفاظت کرنے پر قادر نہیں ہے۔ چنانچہ قاضی اس غلام کو جیل میں ڈال دے گا اور پھر انتظام کیا جائے گا آقا تک اس بھاگے ہوئے غلام کو پہنچانے کا۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ جو شخص بھی بھاگا ہوا غلام آقا کے پاس واپس لے کر آئے تو آقا کو اسے جُعل دینا پڑے گا، یعنی خرچہ اور اجرت جو ہے وہ اسے دینا پڑے گی۔ اگر وہ غلام کو تین دن یا اس سے زیادہ مسافت سے لے کر آیا ہے تو اس کا جعل چالیس درہم ہو گا۔ اور اگر اس سے کم مسافت سے لے کر آیا ہے تو اسی کے حساب سے ہو گا، یا تو دونوں آپس میں صلح کر لیں یا قاضی کی رائے کے مطابق عمل کر لیں یا چالیس کو تقسیم کر دیا جائے تین دنوں پر بھئی، اور اس حساب سے جتنے دن کی مسافت سے لایا ہے اتنا خرچہ اس کو دے دیا جائے۔ اور اگر بھاگے ہوئے غلام کی قیمت چالیس درہم سے کم ہے تو پھر امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ غلام کی قیمت سے ایک درہم کم جو ہے وہ جعل دے دیا جائے گا تاکہ آقا کے لیے بھی فائدہ ثابت ہو جائے، مثلاً غلام اگر پینتیس درہم کا ہے اور آقا کو چالیس درہم دینے پر مجبور کیا جائے تو اس میں تو آقا کا نقصان ہے۔ تو لہٰذا غلام کی قیمت سے ایک درہم کم جو ہے وہ جعل ادا کر دیا جائے گا واپس لانے والے کو۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مقدار نص سے ثابت ہے، لہٰذا اس میں کوئی کمی بیشی نہیں کی جا سکتی۔ تو زیادتی تو بالکل ہی جائز نہیں ہے، البتہ کمی کے اندر اگر دونوں آپس میں راضی ہو جاتے ہیں، صلح کر لیتے ہیں تو کمی کی جا سکتی ہے اور اس کو یوں شمار کیا جائے گا جیسے وہ واپس لانے والے نے کچھ حصہ معاف کر دیا ہے۔ اور اگر آقا کے گھر والوں میں سے کوئی اس غلام کو لے کر آتا ہے، یعنی اس کی اولاد لے آتی ہے یا اس کا باپ لے آتا ہے یا میاں بیوی میں سے کوئی ایک جو ہے وہ غلام کو واپس لے کر آیا ہے، تو پھر اس صورت میں اگر اولاد لائی ہے یا میاں بیوی میں سے کوئی ایک غلام کو واپس لے کر آیا ہے تو اس کے لیے جعل نہیں ہو گا۔ اور اگر آقا کا باپ جو ہے وہ اس غلام کو لے کر آیا ہے، تو اگر اس کا باپ اگر اسی کے زیرِ کفالت ہے تو پھر اس صورت میں باپ کے لیے بھی جعل نہیں ہو گا، اس لیے کیونکہ کسی شخص کا غلام جب بھاگ جائے تو عادتاً اپنے اہل و عیال کے ذریعے ہی اسے تلاش کیا جاتا ہے اور اسے واپس لایا جاتا ہے۔ اور اگر وہ شخص جو غلام کو واپس لا رہا تھا، اگر اس سے غلام بھاگ گیا یا اس کے پاس غلام مر گیا تو پھر اس پر کوئی ضمان وغیرہ نہیں آئے گا اگر اس نے اس غلام کو پکڑتے ہوئے اس پر گواہ بنائے تھے کہ یہ میں آقا کے لیے پکڑ رہا ہوں، کیونکہ اس صورت میں یہ غلام امانت کے درجے میں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ اگر کوئی شخص بھاگے ہوئے غلام کو آقا کے پاس لاتا ہے اور آقا اس غلام پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی اس کو آزاد کر دیتا ہے، تو یہ اعتاق بھی حکماً قبضہ شمار ہو گا اور یوں سمجھا جائے گا جیسے آقا نے پہلے غلام پر قبضہ کیا اور پھر اسے آزاد کر دیا، لہٰذا اس صورت میں بھی آقا کو جعل دینا پڑے گا۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی شخص کوئی غلام خریدے اور وہ مشتری اس غلام پر قبضہ کرنے سے پہلے ہی اس کو آزاد کر دے تو وہ غلام آزاد ہو جائے گا اور حکماً مشتری کا قبضہ شمار کیا جائے گا، یوں سمجھا جائے گا جیسے مشتری نے بیع کے بعد غلام پر قبضہ کیا اور پھر اسے آزاد کر دیا۔ اسی طرح اگر آقا نے غلام پر قبضہ کرنے سے پہلے اسی واپس لانے والے کے ہاتھ اسے بیچ دیا تو اس صورت میں بھی حکماً آقا کا قبضہ شمار ہو گا اور اسے جعل دینا پڑے گا بھئی۔ اس پر یہاں اشکال ہوتا ہے کہ حدیث کے اندر تو ایسی چیز کو بیچنے سے منع کیا گیا ہے جس پر ابھی انسان نے قبضہ نہ کیا ہو۔ تو آقا نے ابھی اپنے غلام پر قبضہ نہیں کیا اور اسی لانے والے کے ہاتھ بیچ رہا ہے، یہ تو اس نہی کے تحت آ گیا۔ تو اس کا جواب دیا کہ نہیں، یہ جو غلام کو واپس لایا ہے، اس کا غلام کو آقا کے سپرد کرنا یہ حقیقۃً بیع نہیں بلکہ بعض اعتبار سے یہ بیع جیسا ہے، لہٰذا یہ اس نہی کے تحت داخل نہیں ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ طرفین کے نزدیک اس بھاگے ہوئے غلام کو جب کوئی شخص پکڑے تو وہاں پر بھی گواہ بنانا ضروری ہیں۔ اگر اس نے اس غلام کو پکڑتے ہوئے گواہ نہیں بنائے تو یوں سمجھا جائے گا اس نے غلام کو اپنے لیے پکڑا ہے کہ خود اس سے خدمت وغیرہ لیتا رہے گا۔ لہٰذا یہ شخص اگر غلام کو واپس لائے گا تو اس کے لیے جعل نہیں ہو گا، کیونکہ یہ جو غلام کو واپس لا رہا ہے صرف اپنے سے اب ضمان کو ساقط کرنا چاہتا ہے، کیونکہ اگر آقا کو خبر مل گئی تو اس پر ضمان آئے گا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر وہ بھاگا ہوا غلام جو ہے وہ اس آقا نے کسی کے پاس رہن رکھوایا تھا، تو وہ جو خرچہ ہے وہ مرتہن کے ذمے آئے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ رہن مضمون ہوتا ہے بقدرِ دین بھئی۔ دین کے بقدر مضمون ہوتا ہے رہن اور دین سے جو زائد قیمت ہے وہ امانت کے حکم میں ہوتی ہے۔ لہٰذا وہ جو غلام جسے رہن رکھوایا ہے اگر اس کی قیمت دین کے برابر ہے یا دین سے کم ہے تو سارا ہی غلام مضمون ہے تو سارا خرچہ اسی مرتہن پر آئے گا، یہ جو جعل ہے بھئی۔ اور اگر اس غلام کی قیمت دین سے زیادہ ہے تو جتنا حصہ امانت ہے غلام کا وہ خرچہ پھر راہن پر آئے گا۔ یہ غلام جس کی قیمت دین سے زیادہ ہے اور اس کو رہن رکھوایا گیا اور مرتہن سے یہ بھاگ گیا تو جعل جو ہے اس کا کچھ حصہ مرتہن پر آئے گا اور کچھ حصہ راہن پر آئے گا۔ مثلاً ایک شخص نے دس لاکھ روپے دین لیا اور اس کے بدلے اپنا بیس لاکھ روپے والا غلام بطورِ رہن کے رکھوا دیا۔ تو یہ غلام نصف جو ہے یہ تو مضمون ہے اور نصف اس مرتہن کے پاس امانت ہے۔ پھر مرتہن سے یہ غلام بھاگ گیا اور کوئی اس کو واپس لے کر آیا سفر کی مسافت سے، تو اب یہ جو چالیس درہم ہیں یہ وہ مضمون اور امانت حصے پر تقسیم کیے جائیں گے۔ تو نصف حصہ غلام کا مضمون تھا تو نصف جعل مرتہن پر آئے گا، اور نصف حصہ امانت تھا تو وہ اس غلام کے اصل مالک یعنی راہن پر آئے گا۔ تو نصف نصف جعل دونوں کو ادا کرنا پڑے گا۔ اور اس کے بعد پھر آپ نے اس آبق غلام کے بارے میں پڑھا جو مدیون تھا۔ مثلاً آقا نے اپنے غلام کو تجارت کی اجازت دے دی تو یہ عبدِ ماذون لہ جو ہے اس پر تجارت میں دین آ گیا۔ تو آپ اس کے اندر یاد رکھو آقا کو اختیار ہوتا ہے چاہے تو وہ اس غلام کو اپنے پاس ہی رکھ لے اور ساروں کے دیون ادا کر دے، اور چاہے تو اس غلام کو بیچ دے اور پھر اس کے ثمن کے ذریعے دیون ادا کر دے، یہ آقا کا اختیار ہے۔ تو عبدِ مدیون اگر آقا کے پاس سے بھاگ گیا اور پھر اس کو کوئی پکڑ کر لے آیا، تو اس کا جعل جو ہے اگر آقا اس غلام کو اپنے پاس رکھتا ہے تو جعل بھی آقا کو دینا پڑے گا، اور اگر آقا یہ غلام بیچ کر دین ادا کرنا چاہتا ہے تو جعل بھی اسی غلام کے ثمن میں سے وصول کیے جائیں گے۔ پہلے ثمن میں سے جعل وصول کر لیا جائے گا اور پھر باقی جو ثمن بچیں گے وہ جو قرض خواہ ہیں ان کے درمیان تقسیم کر دیے جائیں گے بھئی۔ اسی طرح اگر کوئی غلام جنایت کر لے تو آپ جانتے ہیں کہ اس کے اندر بھی آقا کو اختیار ہوتا ہے، یا تو وہ جنایت کا ضمان جو ہے وہ آقا ادا کر دے اور غلام کو اپنے پاس ہی رکھ لے، اور چاہے تو وہ جو جنایت کے اولیاء ہیں یہ غلام انہی کے حوالے کر دے۔ تو یہ جنایت والا غلام اگر بھاگ گیا اور پھر اسے کوئی پکڑ کر لے آیا تو اگر آقا اس غلام کو خود رکھ کر جنایت کا ضمان ادا کرتا ہے تو پھر جعل بھی آقا ہی کو دینا پڑے گا، اور اگر یہ آقا جو ہے یہ جنایت کے اندر اس غلام ہی کو اس جنایت والوں کے سپرد کرتا ہے تو جعل بھی انہی کے ذمے ہو گا۔ اسی طرح صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر آقا نے اپنا غلام کسی کو تحفے کے طور پر دے دیا اور پھر اس موہوب لہ سے یہ غلام بھاگ گیا اور پھر یہ غلام واپس لایا گیا تو اس غلام کا جو جعل ہے وہ موہوب لہ ہی کو دینا پڑے گا، چاہے بعد میں آقا اس غلام کے اندر رجوع ہی کیوں نہ کر لے، پھر بھی جو جعل ہے وہ موہوب لہ پر آئے گا۔ اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جب آقا اس غلام کو واپس لے گا موہوب لہ سے تو غلام کا نفع تو اصل میں آقا کو حاصل ہوا کہ اس نے غلام واپس لے لیا۔ تو اس کا جواب دیا کہ یہاں دو چیزیں ہیں: ایک ہے اس غلام کا واپس لانا، اور پھر اس غلام کے واپس لانے کے بعد موہوب لہ کا اس کے اندر اپنے تصرف کو چھوڑ دینا۔ کیونکہ غلام کو واپس لانے کے بعد اگر موہوب لہ اس غلام کو بیچ دیتا یا کسی کو تحفے کے طور پر دے دیتا تو پھر آقا واپس نہیں لے سکتا تھا کیونکہ موہوب لہ کی ملکیت ختم ہو گئی تھی۔ توجہ ہے؟ میں نے آپ کو بتایا تھا کہ ہبہ کے اندر واہب رجوع کر سکتا ہے جب تک موہوب لہ کی اس ہبہ پر ملکیت باقی ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر بھی جب غلام واپس لایا گیا تو موہوب لہ کو اختیار تھا، وہ اس غلام کو بیچ سکتا تھا، کسی کو تحفہ دے سکتا تھا، لیکن اس نے اس غلام میں اپنا تصرف نہیں کیا، اپنا تصرف چھوڑ دیا۔ تو آقا کو جو غلام کا ہبہ واپس لینے کا فائدہ ہوا ہے، وہ اس موہوب لہ کے اپنے تصرف کو چھوڑنے کی وجہ سے حاصل ہوا ہے۔ لہٰذا اسی کی طرف نسبت کی جائے گی آقا کے فائدے کی۔ کہ یہ جو موہوب لہ نے اپنا تصرف چھوڑا ہے اس کی وجہ سے آقا کو فائدہ ہوا ہے، غلام کو واپس لانے کی وجہ سے وہ جو فائدہ ہے اس کی نسبت موہوب لہ کی طرف ہی ہو گی، تو وہ جعل موہوب لہ سے ہی لیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ اگر کسی بچے کا غلام تھا وہ بھاگ گیا تو جعل بھی بچے کے مال میں سے ادا کیا جائے گا۔ اور اگر بچے کا کوئی وصی ہے، کوئی نگران ہے اور یہ غلام وغیرہ اس کے قبضے میں ہے، تو اس صورت میں اگر یہ غلام بھاگ گیا اور خود یہی وصی اس کو پکڑ کر لایا تو وصی کے لیے اس کا جعل نہیں ہو گا کیونکہ وصی ہی تو اس کا نگران ہے، کیونکہ جو بھی غلام کو لائے گا وہ وصی کے حوالے کرے گا۔ تو اس صورت میں گویا غلام جس کو واپس کیا جائے گا وہ بھی ہے وصی، اور واپس لانے والا بھی ہے وصی، تو اگر وصی کے لیے جعل لازم کیا جائے یہ تو ایسے ہی ہو گا جیسے وصی اپنے لیے اپنے ہی اوپر جعل واجب کر رہا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ لہٰذا اس وصی کو جعل نہیں ملے گا۔ اب آئیے آج کے سبق پر: كِتَابُ الْمَفْقُوْدِ مفقود بھئی، فَقَدَ يَفْقِدُ فَقْدًا کا معنی ہے کسی چیز کا گم ہو جانا، کسی چیز کا کھو دینا، تو اس کو فقد کہتے ہیں۔ تو مفقود کا معنی ہوا گم شدہ، وہ شخص جو گم ہو گیا ہے، جس کا پتہ نہیں چل رہا کہ کہاں چلا گیا۔ تو کہتے ہیں: ”كِتَابُ الْمَفْقُوْدِ“ یہ کتاب ہے مفقود کے بیان میں۔ ”إِذَا غَابَ الرَّجُلُ فَلَمْ يُعْرَفْ لَهُ مَوْضِعٌ وَلَا يُعْلَمُ أَحَيٌّ هُوَ أَمْ مَيِّتٌ“ یہاں سے مفقود کی تعریف کر رہے ہیں کہ مفقود کہتے کسے ہیں؟ یاد رکھو مفقود وہ آدمی ہے جو غائب ہو گیا ہے، اب یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ کہاں چلا گیا ہے اور یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا مردہ ہے، تو اس شخص کو مفقود کہتے ہیں۔ اب اس کی بیوی کا کیا حکم ہے؟ وہ کب تک انتظار کرے اس کا؟ اور کب اسے آگے نکاح کی اجازت ہو گی؟ اور اس کے مال کا کیا حکم ہے؟ کب تک اس کے مال کو روکا جائے؟ اور کب اس کے مال کو پھر اس کے وارثوں کی طرف منتقل کیا جائے؟ تو یہ سارے احکام صاحبِ ہدایہ یہاں بیان فرمائیں گے۔ تو مفقود وہ آدمی ہے جو غائب ہو گیا، وہ کہاں چلا گیا جگہ کا بھی پتہ نہیں، اور وہ زندہ ہے یا مردہ ہے یہ بھی علم نہیں ہے۔ تو آپ کو بتلائیں گے ایسا آدمی ہو تو قاضی اس کے مال کے لیے کوئی نگران مقرر کر دے گا۔ قاضی کسی آدمی کو نگران مقرر کر دے گا جو اس کے مال کی حفاظت کرے گا اور اس کی نگرانی کرے گا اور اس کے حقوق وصول کرے گا بھئی۔ مثلاً کسی سے دین وصول کرنا تھا اس آدمی نے تو اب یہ جو نگران ہے یہ اس کا دین وصول کرے گا، نیز اس کی آمدنی آ رہی ہے بھئی، اس کے کھیت ہیں، فصلیں ہیں، تو یہ ساری چیزوں کی وہ نگرانی کرے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا غَابَ الرَّجُلُ“ جب کوئی آدمی غائب ہو جائے، ”فَلَمْ يُعْرَفْ لَهُ مَوْضِعٌ“ تو اس کی جگہ کا بھی علم نہیں ہے، ”وَلَا يُعْلَمُ أَحَيٌّ هُوَ أَمْ مَيِّتٌ“ اور یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ وہ زندہ ہے یا مردہ ہے، ”نَصَبَ الْقَاضِي مَنْ يَحْفَظُ مَالَهُ“ تو قاضی مقرر کرے گا کسی ایسے شخص کو جو اس مفقود کے مال کی حفاظت کرے، ”وَيَقُومُ عَلَيْهِ“ اور اس کے مال پر قائم رہے، یعنی اس کے مال کی نگرانی کرے، اس کے مال کی حفاظت کرے اور مال کی نگرانی کرے، ”وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ“ اور اس مفقود کے حق کو وصول کرے، مثلاً کسی سے دین وغیرہ لینا ہے، اور یہ جو نگران ہے یہ اس مفقود کے حق کو وصول کرے گا، ”لِأَنَّ الْقَاضِيَ نُصِبَ نَاظِرًا“ اس لیے کیونکہ قاضی جو ہے اس کو شفقت کرنے والے کے طور پر مقرر کیا گیا ہے۔ قاضی کس لیے مقرر کیا گیا ہے؟ تاکہ وہ لوگوں پر شفقت کرے، لوگوں کے کاموں کی نگرانی کرے اور ان کا خیال رکھے، ان کی رعایت رکھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْقَاضِيَ نُصِبَ نَاظِرًا“ اس لیے کیونکہ قاضی جو ہے اس کو بطورِ نگران کے مقرر کیا گیا ہے، ”لِكُلِّ عَاجِزٍ عَنِ النَّظَرِ لِنَفْسِهِ“ ہر وہ شخص جو عاجز ہے اپنی ذات کے لیے نگرانی سے، ہر وہ شخص جو اپنی ذات کے لیے نگرانی سے عاجز ہے جو خود نگرانی وغیرہ نہیں کر سکتا، ”وَالْمَفْقُودُ بِهَذِهِ الصِّفَةِ“ اور وہ شخص جو گم ہو گیا ہے وہ بھی اسی صفت پر ہے، یعنی وہ بھی اپنے مال وغیرہ کی نگرانی سے عاجز ہے، ”فَصَارَ كَالصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ اور یہ گم شدہ شخص جو ہے یہ بھی بچے اور مجنون کی طرح ہو گیا۔ تو جیسے ان کے مال کے لیے کوئی نگرانی کرنے والا چاہیے، اس کے مال کے لیے بھی نگرانی کرنے والا چاہیے۔ ”وَفِي نَصْبِ الْحَافِظِ لِمَالِهِ وَالْقَائِمِ عَلَيْهِ نَظَرٌ لَهُ“ اور اس کے مال کے لیے حفاظت کرنے والا مقرر کرنے میں اور اس کے مال کے لیے نگرانی کرنے والا مقرر کرنے میں اس گم شدہ آدمی پر شفقت ہے۔ اس کے مال کی حفاظت کے لیے کسی کو مقرر کر دیا جائے، اس کے مال کی نگرانی کے لیے کسی کو مقرر کر دیا جائے، اس میں اس پر شفقت ہے، لہٰذا قاضی اس کے لیے کسی شخص کو مقرر کرے گا۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”وَفِي نَصْبِ الْحَافِظِ لِمَالِهِ وَالْقَائِمِ عَلَيْهِ نَظَرٌ لَهُ“ اور اس کے مال کے لیے حفاظت کرنے والا اور نگرانی کرنے والا مقرر کرنے میں اس آدمی پر شفقت ہے، یعنی اس کا لحاظ رکھنا ہے، اس کی رعایت رکھنا ہے، تو لہٰذا قاضی کسی کو مقرر کرے گا۔ ”وَقَوْلُهُ: وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ“ بھئی، اوپر متن میں آیا تھا کہ قاضی کسی آدمی کو مقرر کرے گا جو اس کے مال کی حفاظت کرے گا، اس کی نگرانی کرے گا، ”وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ“ اور اس کا حق وصول کرے گا۔ تو اب اس کی وضاحت کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ: وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ، لَا خَفَاءَ أَنَّهُ يَقْبِضُ غَلَّاتِهِ“ اور صاحبِ قدوری کا جو قول آیا ”وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ“ کہ یہ نگرانی کرنے والا اس غائب آدمی کے حق کو وصول کرے گا، ”لَا خَفَاءَ أَنَّهُ يَقْبِضُ غَلَّاتِهِ“ غلّات جمع ہے غلّۃ کی اور یہ آمدنی کو کہتے ہیں۔ غلّہ کسے کہتے ہیں؟ آمدنی کو، اور تو جمع ہے غلّات بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”لَا خَفَاءَ أَنَّهُ يَقْبِضُ غَلَّاتِهِ“ اس بات میں کوئی خفا نہیں ہے کہ یہ نگرانی کرنے والا اس غائب شدہ آدمی کی آمدنیوں پر قبضہ کرے گا، ”وَالدَّيْنَ الَّذِي أَقَرَّ بِهِ غَرِيمٌ مِنْ غُرَمَائِهِ“ غریم، بھئی یاد رکھو، غریم قرض خواہ کو بھی کہتے ہیں اور قرض دار کو بھی کہتے ہیں۔ زید نے کسی آدمی کو دس لاکھ روپے قرض دیا تو زید ہے قرض خواہ، یہ کیا کرے گا؟ اس سے واپس قرض کا مطالبہ کرے گا۔ اور جس کو قرض دیا وہ ہے قرض دار۔ تو عربی زبان میں غریم کا لفظ دونوں پر بولا جاتا ہے، یعنی یہ اضداد میں سے ہے۔ قرض دینے والے کو بھی غریم کہتے ہیں، یعنی قرض خواہ، اور جس پر قرض آ گیا ہے اس کو بھی غریم کہتے ہیں، یعنی قرض دار۔ تو کہتے ہیں کہ یہ اس کے آمدنیوں پر قبضہ کرے گا، ”وَالدَّيْنَ الَّذِي أَقَرَّ بِهِ غَرِيمٌ مِنْ غُرَمَائِهِ“ اور اس کے اس دین پر بھی جس کا اقرار کیا ہے اس کے قرض داروں میں سے کسی قرض دار نے۔ وہ جو شخص غائب ہے، اس کا قرضہ ہے کسی آدمی پر، کسی آدمی نے قرضہ ادا کرنا ہے اس غائب شدہ آدمی کو، تو یہ قرض دار جو ہیں ان سے دین بھی یہی نگران وصول کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ ترجمہ پھر دیکھ لیجیے: ”لَا خَفَاءَ أَنَّهُ يَقْبِضُ غَلَّاتِهِ وَالدَّيْنَ“ دیکھو، ”وَالدَّيْنَ“ اس کا عطف ہے ماقبل میں ”غَلَّاتِهِ“ پر، اور ”غَلَّاتِهِ“ یہ منصوب ہے، اس پر کسرہ آ رہا ہے، آپ یہ نہ سمجھیں یہ مجرور ہے۔ یہ جمع مؤنث سالم ہے اور اس کا نصب آتا ہی کسرہ کی صورت میں ہے، تو ”غَلَّاتِهِ“ یہ بھی منصوب اور ”وَالدَّيْنَ“ جو معطوف ہے وہ بھی منصوب، یہ مفعول واقع ہو رہے ہیں۔ کہتے ہیں صاحبِ قدوری کا جو اوپر قول آیا کہ ”وَيَسْتَوْفِي حَقَّهُ“ کہ یہ اس کے حق کو وصول کرے گا، ”لَا خَفَاءَ“ اس بات میں کوئی پوشیدگی نہیں ”أَنَّهُ يَقْبِضُ غَلَّاتِهِ“ کہ یہ نگران جو ہے یہ اس کی آمدنیوں پر قبضہ کرے گا ”وَالدَّيْنَ“ اور اس کے ان دیون پر بھی قبضہ کرے گا ”الَّذِي أَقَرَّ بِهِ غَرِيمٌ مِنْ غُرَمَائِهِ“ جس کا اقرار کیا ہے اس کے قرض داروں میں سے کسی قرض دار نے، جس کا اقرار کیا ہے قرض دار نے اس کو بھی وصول کرے گا۔ ہاں، اگر کوئی قرض دار وہ اقرار ہی نہیں کرتا تو پھر یہ اس سے خصومت نہیں کر سکتا، خصومت نہیں کر سکتا۔ آگے آپ کو بتلائیں گے بھئی، کیونکہ یہ قاضی کی طرف سے صرف قبضے کا وکیل ہے کہ وہ جو غائب آدمی ہے اس کے قرضوں وغیرہ پر یہ قبضے وغیرہ کر سکتا ہے، لیکن خصومت اور مقدمے بازی نہیں کر سکتا۔ تو اسی لیے کہا وہ دین جس کا قرض داروں میں سے کوئی قرض دار اقرار کر لے، ”لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْحِفْظِ“ اس لیے کیونکہ یہ بھی حفاظت کے باب سے ہے۔ کسی کی آمدنیوں اور قرضوں پر قبضہ کرنا یہ بھی کس میں سے ہے؟ حفاظت کے باب میں سے ہے، اسی سے وہ چیزیں محفوظ ہوں گی، ورنہ تو محفوظ نہیں رہیں گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مِنْ بَابِ الْحِفْظِ“ اس لیے کیونکہ یہ بھی حفاظت کے باب میں سے ہے۔ ”وَيُخَاصِمُ فِي دَيْنٍ وَجَبَ بِعَقْدِهِ“ اور یہ خصومت کر سکتا ہے، مقدمہ کر سکتا ہے، ”فِي دَيْنٍ“ ایسے دین میں ”وَجَبَ بِعَقْدِهِ“ جو اس کے اپنے عقد کی وجہ سے واجب ہوا ہے۔ بھئی، یہ جو نگران ہے، اگر اس کو کسی وجہ سے کوئی چیز بیچنی پڑی ہے، خریدنی پڑی ہے اس کے لیے، مثلاً اس کے کھیت ہیں ان میں فصلیں کاشت کرنی ہیں وغیرہ، تو کوئی چیز خریدتا ہے یا بیچتا ہے، تو یہ نگران کو عقد کرنا پڑا، تو اس عقد کے اندر یہ خصومت کر سکتا ہے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ بیع و شراء وغیرہ کے اندر جو عقد کیا جاتا ہے، تو عقد کرنے والا جو ہے حقوقِ عقد کا تعلق اسی سے ہوتا ہے، ثمن دینا بھی اس کے ذمے اور مبیع کو وصول کرنا بھی اسی کے ذمے ہوتا ہے، لہٰذا یہ عقد چونکہ اس نگران نے کیے ہیں تو ان میں وہ خصومت کر سکتا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَيُخَاصِمُ فِي دَيْنٍ وَجَبَ بِعَقْدِهِ“ اور یہ نگران جو ہے خصومت کر سکتا ہے اس دین میں جو اس کے اپنے عقد کی وجہ سے واجب ہوا ہے، ”لِأَنَّهُ أَصِيلٌ فِي حُقُوقِهِ“ اس لیے کیونکہ وہ اس عقد کے حقوق میں اصیل ہے۔ اس عقد کے حقوق میں اصیل ہے کیونکہ اس نے خود یہ عقد کیا ہے، اور بیع و شراء وغیرہ کے اندر حقوقِ عقد کا تعلق عاقد سے ہوتا ہے، تو یہ نگران خود عاقد ہے تو یہ اصیل ہوا، اس عقد میں اصیل ہوا، حقوقِ عقد کا تعلق اسی سے ہے، ثمن بھی یہی ادا کرے گا اور مبیع بھی یہی ادا کرے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ اس عقد کے اندر اصیل ہے بھئی۔ حقیقت میں تو وکیل ہے، حقیقت میں تو وکیل ہے لیکن بہرحال ان عقدوں کے حقوق کا تعلق وکیل سے ہی ہوتا ہے تو وکیل ہی اصیل ہوتا ہے ان عقدوں کے اندر بھئی۔ کچھ عقد ایسے ہیں کیونکہ حقوق کا تعلق مؤکل سے ہوتا ہے، ایک آدمی کو دوسرے نے بھیجا کہ فلاں جگہ جا کر میرا نکاح کروا دو، تو یہاں نکاح کے حقوق کا تعلق مؤکل سے ہوتا ہے، لیکن بیع و شراء میں تو حقوق کا تعلق وکیل سے ہوتا ہے تو وکیل ہی گویا اصیل ہے حقوق کے اندر بھئی۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ أَصِيلٌ فِي حُقُوقِهِ“ اس لیے کیونکہ یہ عقد جو اس نے خود سرانجام دیا ہے اس کے حقوق کے اندر یہ شخص یہ نگران اصیل ہے۔ ”وَلَا يُخَاصِمُ فِي الَّذِي تَوَلَّاهُ الْمَفْقُودُ“ اور یہ نگران خصومت نہیں کر سکتا اس عقد کے اندر جس کا متولی مفقود تھا۔ یہ نگران جو عقد اس نے خود کیا ہے اس میں تو یہ خصومت کر سکتا ہے، لیکن جو عقد اس غائب آدمی نے کیے تھے، جن کا متولی وہ غائب آدمی تھا، یعنی اس نے وہ عقد سرانجام دیے تھے، ان عقود کے اندر یہ نگران خصومت نہیں کر سکتا، یہ ان میں خصومت نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا يُخَاصِمُ فِي الَّذِي تَوَلَّاهُ الْمَفْقُودُ“ اور یہ نگران خصومت نہیں کر سکتا اس عقد کے اندر جس کا متولی مفقود تھا، یعنی جس کو مفقود نے سرانجام دیا تھا۔ ”وَلَا فِي نَصِيبٍ لَهُ فِي عَقَارٍ أَوْ عُرُوضٍ فِي يَدِ رَجُلٍ“ بھئی، عقار، عقار آپ پڑھ چکے ہیں غیر منقولہ جائیداد، جیسے قابلِ کاشت زمین ہے یعنی کھیت وغیرہ، باغ ہے، گھر ہے، دکان ہے، فیکٹری ہے، یہ چیزیں جنہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا ان کو عقار کہتے ہیں، یعنی غیر منقولہ جائیداد۔ اب وہ جو غائب آدمی ہے اس کی کچھ زمین کسی دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے، یا وہ غائب آدمی کا کچھ سامان ہے، سامانِ تجارت وغیرہ ہے یا کچھ مویشی کسی دوسرے آدمی کے قبضے میں ہیں، تو ان کے اندر بھی یہ نگران خصومت نہیں کر سکتا۔ توجہ ہے؟ غائب آدمی کی کچھ جائیداد کسی دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے یا غائب آدمی کا کچھ سامان ہے یعنی مویشی وغیرہ ہیں یا سامانِ تجارت دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے، تو اس کے اندر یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ یہ معنی ہے: ”وَلَا فِي نَصِيبٍ لَهُ“ اور اسی طرح یہ خصومت نہیں کر سکتا اس غائب آدمی کے حصے میں، ”فِي عَقَارٍ أَوْ عُرُوضٍ“ ایسی غیر منقولہ جائیداد میں یا ایسے سامان میں، ”فِي يَدِ رَجُلٍ“ جو کسی دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے، چاہے امانت کے طور پر ہے یا جس طرح بھی دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے، یہ نگران غیر منقولہ جائیداد اور اس سامان میں جو دوسرے آدمی کے قبضے میں ہے یہ نگران غائب کی طرف سے خصومت نہیں کر سکتا بھئی۔ بھئی، کیا وجہ؟ کیوں نہیں خصومت کر سکتا؟ ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَالِكٍ وَلَا نَائِبٍ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ نہ تو یہ نگران اس مال کا مالک ہے اور نہ مالک کی طرف سے نائب ہے۔ مالک کی طرف سے نائب اور وکیل بھی نہیں ہے، توجہ ہے؟ تو نہ یہ مالک ہے اور نہ مالک کا نائب یعنی نہ وکیل وغیرہ ہے، لہٰذا یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَيْسَ بِمَالِكٍ وَلَا نَائِبٍ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ نہ تو یہ اس مال کا مالک ہے اور نہ مالک کی طرف سے یہ نائب ہے، ”وَإِنَّمَا هُوَ وَكِيلٌ بِالْقَبْضِ مِنْ جِهَةِ الْقَاضِي“ یہ تو صرف وکیل بالقبض ہے قاضی کی طرف سے۔ اسے تو قاضی نے وکیل بنایا ہے غائب کی طرف سے تاکہ اس کے مال وغیرہ اور دیون پر اور آمدنیوں پر قبضہ کرے اور حفاظت سے رکھے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا هُوَ وَكِيلٌ بِالْقَبْضِ مِنْ جِهَةِ الْقَاضِي“ اور یہ تو قبضے کا وکیل ہے قاضی کی جانب سے، ”وَأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْخُصُومَةَ بِلَا خِلَافٍ“ اور یہ خصومت کا مالک نہیں ہے بغیر کسی اختلاف کے۔ بھئی، یاد رکھو، وکیل بالقبض ایک ہوتا ہے قاضی کی طرف سے، جیسے یہاں قاضی نے اس غائب آدمی کے لیے ایک وکیل بنا دیا کہ تم اس غائب آدمی کی آمدنیوں پر بھی قبضہ کرو اور اس کے وہ دیون جو مقروض خود جو ہیں ان کا اقرار کر رہے ہیں وہ بھی وصول کرو اور محفوظ رکھو اپنے پاس، تو یہ قبضے کا وکیل ہوا، کس نے مقرر کیا ہے؟ قاضی نے۔ اور ایک وکیل بالقبض ہے جسے مالک مقرر کرتا ہے، مثلاً آپ نے زید سے دس لاکھ روپے وصول کرنے ہیں، آپ نے اپنا ایک وکیل بھیجا کہ جاؤ جا کر زید سے میرے دس لاکھ روپے وصول کر کے لاؤ، تو یہ جو وکیل ہے یہ آپ کی طرف سے، مالک کی طرف سے مقرر ہے اور یہ کس چیز کا وکیل ہے؟ قبضے کا وکیل ہے کہ جا کر اس دین پر قبضہ کرے، اس کو وصول کرے۔ تو ایک وکیل بالقبض ہے قاضی کی طرف سے، اور ایک وکیل بالقبض ہوتا ہے مالک کی طرف سے۔ یاد رکھو، وہ قبضے کا وکیل جسے مالک نے مقرر کیا ہے، کیا یہ وکیل خصومت کر سکتا ہے یا نہیں؟ مثلاً آپ نے وکیل کو بھیجا جاؤ زید سے میرے دس لاکھ روپے وصول کر کے لاؤ، اور آپ کا وکیل زید کے پاس گیا دس لاکھ روپے وصول کرنے، زید نے انکار کر دیا، وہ پیسے نہیں دے رہا وکیل کو، تو کیا آپ کا یہ جو وکیل بالقبض ہے کیا یہ زید سے مقدمہ کر سکتا ہے؟ کیا خصومت کر سکتا ہے؟ تو اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک مالک کا وکیل بالقبض جو ہوتا ہے وہ خصومت کر سکتا ہے، جبکہ صاحبین کے نزدیک مالک کا وکیل بالقبض خصومت نہیں کر سکتا۔ توجہ ہے؟ تو وہ وکیل بالقبض جسے مالک نے بنایا ہو اس میں صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ امام صاحب کے نزدیک یہ وکیل جو ہے خصومت کر سکتا ہے اور صاحبین کے نزدیک یہ وکیل خصومت نہیں کر سکتا۔ تو اس کے اندر تو اختلاف ہے، لیکن وہ وکیل بالقبض جسے قاضی نے مقرر کیا ہے جیسے اس گم شدہ آدمی کے لیے قاضی نے وکیل مقرر کیا ہے، اس میں تو ہمارے تینوں ائمہ کا اتفاق ہے، یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ اس میں تینوں ائمہ کا اتفاق ہے کہ قاضی کا مقرر کیا ہوا وکیل بالقبض خصومت نہیں کر سکتا۔ ہاں مالک کا مقرر کیا ہوا وکیل بالقبض جو ہے اس کے اندر امام صاحب کے نزدیک وہ خصومت کر سکتا ہے اور صاحبین کے نزدیک وہ خصومت نہیں کر سکتا۔ یہی بیان کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا هُوَ وَكِيلٌ بِالْقَبْضِ مِنْ جِهَةِ الْقَاضِي وَأَنَّهُ لَا يَمْلِكُ الْخُصُومَةَ بِلَا خِلَافٍ“ اس لیے کیونکہ یہ نگران جو ہے یہ قبضے کا وکیل ہے قاضی کی جانب سے، اور یہ خصومت کا مالک نہیں ہے بغیر کسی اختلاف کے، یعنی بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ خصومت کا مالک نہیں ہے، یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ ”إِنَّمَا الْخِلَافُ فِي الْوَكِيلِ بِالْقَبْضِ مِنْ جِهَةِ الْمَالِكِ فِي الدَّيْنِ“ اور وہ جو اختلاف ہے وہ اس وکیل بالقبض میں ہے جو مالک کی طرف سے ہوتا ہے دین کے اندر، یعنی وہ وکیل جو دین کے قبضے کے اندر مالک کی طرف سے وکیل ہوتا ہے اس میں اختلاف ہے۔ یہ جو وکیل بالقبض ہے قاضی کی جانب سے اس میں تو کوئی اختلاف نہیں، یہ تو بالاتفاق خصومت نہیں کر سکتا۔ تو یہ معنی ہے: ”إِنَّمَا الْخِلَافُ فِي الْوَكِيلِ بِالْقَبْضِ مِنْ جِهَةِ الْمَالِكِ فِي الدَّيْنِ“ کہ اختلاف تو اس وکیل بالقبض کے بارے میں ہے جو مالک کی طرف سے ہوتا ہے دین کے بارے میں۔ ”وَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ“ اور جب معاملہ ایسا ہی ہے، یعنی یہ وکیل بالقبض جسے قاضی نے مقرر کیا ہے جب یہ خصومت نہیں کر سکتا، ”فَيَتَضَمَّنُ الْحُكْمُ بِهِ قَضَاءً عَلَى الْغَائِبِ، وَأَنَّهُ لَا يَجُوزُ“ اور جب معاملہ ایسا ہی ہے کہ قاضی کا وکیل جو ہے یہ خصومت کا مالک نہیں ہے، تو اس کا حکم دینا قضاء علی الغائب ہے، اور یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ یاد رکھو، یاد رکھو، فقہ کا اہم ضابطہ ہے: قضاء علی الغائب جائز نہیں۔ قاضی کسی غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا۔ دو آدمیوں میں مقدمہ چل رہا ہے تو دونوں کا موجود ہونا ضروری ہے یا ان کے نائب کا موجود ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو قاضی کے پاس جب دو آدمی اپنا جھگڑا لے کر آتے ہیں تو وہاں مقصد ہوتا ہے جھگڑے کو ختم کرنا، اور جھگڑا تب ہی ختم ہو گا جب دونوں موجود ہوں۔ فریق موجود ہوں گے۔ اگر دونوں فریق نہیں ہیں، صرف ایک فریق ہے پھر تو جھگڑا ختم نہیں ہو گا بھئی۔ لہٰذا قاضی غائب کے خلاف فیصلہ نہیں کر سکتا۔ قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے۔ چنانچہ اسی لیے آپ بھی دیکھتے ہیں، آج کل بھی عدالتوں کے اندر کوئی فیصلے ہوتے ہیں تو باقاعدہ مجرم کو لایا جاتا ہے عدالت کے اندر اور پھر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا كَانَ كَذٰلِكَ“ اور جب معاملہ ایسا ہی ہے، یعنی قاضی کا وکیل خصومت کا مالک نہیں ہے، ”يَتَضَمَّنُ الْحُكْمَ بِهِ“ تو اس کا حکم دینا متضمن ہے، یعنی اگر قاضی اس کا حکم دے دے، قاضی اس خصومت کا حکم دے دے تو یہ حکم متضمن ہو گا، ”قَضَاءً عَلَى الْغَائِبِ“ غائب کے خلاف فیصلہ کرنے کو، ”وَأَنَّهُ لَا يَجُوزُ“ اور غائب کے خلاف تو فیصلہ جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَنَّهُ لَا يَجُوزُ“ اور وہ تو جائز نہیں ہے، ”إِلَّا إِذَا رَآهُ الْقَاضِي وَقَضَى بِهِ لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ تو آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلا دیا کہ قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے، لہٰذا قاضی کا وکیل خصومت نہیں کر سکتا، کیونکہ قضاء علی الغائب جائز نہیں ہے۔ ”إِلَّا إِذَا رَآهُ الْقَاضِي“ مگر جب قاضی کی یہ رائے ہو، ”وَقَضَى بِهِ“ اور وہ اس کا فیصلہ کر دے، کہ یہ خصومت کر سکتا ہے۔ یہ آدمی، یہ جو میرا وکیل ہے، یہ خصومت کر سکتا ہے، یعنی قضاء علی الغائب کا قاضی فیصلہ کر رہا ہے، تو کہتے ہیں اس صورت میں پھر قاضی کا فیصلہ نافذ ہو جائے گا۔ وجہ یہ کہ یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے۔ عند الاحناف قضاء علی الغائب جائز نہیں، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے۔ لہٰذا اگر قاضی مجتہد فیہ مسئلے کے اندر اس کی ایک رائے بنتی ہے، اس کے مطابق وہ فیصلہ کر دے گا تو یاد رکھو وہ قاضی کا فیصلہ صحیح ہو جائے گا، اور نافذ ہو گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”إِلَّا إِذَا رَآهُ الْقَاضِي“ مگر یہ کہ جب قاضی کی یہ رائے بنے، ”وَقَضَى بِهِ“ اور قاضی اس کا فیصلہ کر دے، تو پھر یہ نافذ ہو جائے گا، ”لِأَنَّهُ مُجْتَهَدٌ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ یہ مسئلہ مجتہد فیہ ہے، یہ قضاء علی الغائب یہ مجتہد فیہ ہے، اس میں اجتہاد کی گنجائش ہے اور جب قاضی نے ایک فیصلہ کر دیا ہے تو قاضی کا یہ فیصلہ صحیح ہے، نافذ ہو جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”ثُمَّ مَا كَانَ يُخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادُ يَبِيعُهُ الْقَاضِي“ بھئی وہ شخص جو غائب ہے، اس کا بعض مال ایسا ہے کہ اس کے خراب ہونے کا خدشہ ہے تو قاضی اس کے بیچنے کا حکم دے گا۔ یعنی جو چیزیں زیادہ عرصہ نہیں رکھی جا سکتیں، خراب ہو جاتی ہیں قاضی ان کو بیچ دے گا اور جو چیزیں زیادہ عرصے تک محفوظ رکھی جا سکتی ہیں تو قاضی ان کو بیچنے کا حکم نہیں دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ مَا كَانَ يُخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادُ“ پھر وہ چیزیں کہ جن کے فاسد ہونے کا خوف ہے، ”يَبِيعُهُ الْقَاضِي“ قاضی اس کو بیچ دے گا، ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ حِفْظُ صُورَتِهِ“ اس لیے کیونکہ قاضی پر مشکل ہو گیا ہے ان کی صورت کی حفاظت کرنا۔ قاضی پر ان کی صورت کی حفاظت کرنا مشکل ہو گیا ہے کیونکہ وہ زیادہ دیر محفوظ رہتی ہی نہیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ تَعَذَّرَ عَلَيْهِ حِفْظُ صُورَتِهِ“ اس لیے کیونکہ قاضی پر ان کی صورت کی حفاظت کرنا ممکن نہیں رہا، ”فَيَنْظُرُ لَهُ“ تو قاضی اس پر شفقت کرے گا، ”بِحِفْظِ الْمَعْنَى“ معنیٰ کے اعتبار سے حفاظت کرتے ہوئے۔ ”فَيَنْظُرُ لَهُ بِحِفْظِ الْمَعْنَى“ تو قاضی اس کی نگرانی کرے گا، ”بِحِفْظِ الْمَعْنَى“ معنیٰ کی حفاظت کرتے ہوئے۔ یعنی اس کی قیمت کو اس کے لیے محفوظ رکھے گا، اس کو بیچ دے گا۔ تو صورۃً تو قاضی کے لیے حفاظت ممکن نہ تھا، وہ چیز خراب ہونے والی تھی لیکن معنًی تو حفاظت ممکن ہے کہ اس کی قیمت کو محفوظ رکھ لیا جائے۔ یہ معنی ہے: ”فَيَنْظُرُ لَهُ بِحِفْظِ الْمَعْنَى“ تو قاضی اس کی رعایت کرے گا اس کے معنیٰ یعنی قیمت کی حفاظت کرتے ہوئے۔ ”وَلَا يَبِيعُ مَا لَا يُخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادُ“ اور قاضی نہیں بیچے گا وہ مال کہ جس کے خراب ہونے کا خوف نہیں ہے، ”فِي نَفَقَةٍ وَلَا غَيْرِهَا“ نفقے میں اور نفقے کے علاوہ میں۔ بھئی دیکھو، قاضی نے اسی مال میں سے اس شخص کے بیوی بچوں پر بھی خرچ کرنا ہے۔ کیونکہ بیوی بچوں کا خرچہ بھی اس غائب شدہ آدمی پر واجب تھا۔ تو نفقے وغیرہ یا کسی اور چیز کے اندر قاضی ان چیزوں کو نہیں بیچے گا جن کو محفوظ رکھنا ممکن ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَبِيعُ مَا لَا يُخَافُ عَلَيْهِ الْفَسَادُ“ اور قاضی نہیں بیچ سکتا جس کے خراب ہونے کا خوف نہیں ہے، ”فِي نَفَقَةٍ“ نہ تو نفقے میں، ”وَلَا غَيْرِهَا“ اور نہ نفقے کے علاوہ کسی اور چیز میں، ”لِأَنَّهُ لَا وِلَايَةَ لَهُ عَلَى الْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ قاضی کو کوئی ولایت حاصل نہیں ہے اس غائب آدمی پر، ”إِلَّا فِي حِفْظِ مَالِهِ“ مگر اس کے مال کی حفاظت کے اندر۔ قاضی کی ذمہ داری صرف اس کے مال کی حفاظت ہے، جیسے مرضی تصرف کرنا چاہے یہ اختیار قاضی کو نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں اس لیے کیونکہ قاضی کو غائب پر ولایت نہیں سوائے اس کی مال کی حفاظت میں، ”فَلَا يَسُوغُ لَهُ تَرْكُ حِفْظِ الصُّورَةِ“ لہٰذا قاضی کے لیے گنجائش نہیں ہے صورت کی حفاظت کو ترک کرنا۔ یعنی جن چیزوں کو اسی صورت پر محفوظ رکھنا ممکن ہے تو قاضی ان کی صورت کی حفاظت کو چھوڑ دے اور ان کو بیچ دے تو قاضی کے لیے اس کی گنجائش نہیں ہے بھئی۔ کہتے ہیں: ”فَلَا يَسُوغُ لَهُ“ قاضی کے لیے گنجائش نہیں ہے، ”تَرْكُ حِفْظِ الصُّورَةِ“ اس مال کی صورت کی حفاظت کو چھوڑنے کی، ”وَهُوَ مُمْكِنٌ“ اور حال یہ ہے کہ صورت کی حفاظت ممکن بھی ہے، یعنی ان چیزوں میں ممکن ہے تو پھر قاضی اسی طرح محفوظ رکھے گا۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُنْفِقُ عَلَى زَوْجَتِهِ وَأَوْلَادِهِ“ اور قاضی خرچ کرے گا اس غائب آدمی کی بیوی پر اور اس کی اولاد پر، ”مِنْ مَالِهِ“ اسی غائب آدمی کے مال میں سے، ”وَلَيْسَ هٰذَا الْحُكْمُ مَقْصُورًا عَلَى الْأَوْلَادِ“ اور یہ حکم اولاد پر بند نہیں ہے۔ قصر کا کیا معنیٰ؟ قصر کا معنیٰ ہے بند کرنا، یعنی حصر کرنا۔ بھئی دیکھو متن میں آیا کہ اس کی بیوی پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرے گا تو یہ وہ غائب آدمی جو ہے اگر اس کے ماں باپ بھی فقیر ہیں تو اس ماں باپ کا خرچہ بھی اسی کے مال میں واجب تھا۔ تو لہٰذا یہ جو متن میں اولاد کا ذکر آیا تو یہ حکم صرف اولاد ہی کا نہیں ہے بلکہ تمام اصول و فروع کا ہے جو غریب ہیں۔ توجہ ہے؟ بھئی یہ مسئلہ بڑی تفصیل سے پیچھے ذکر ہوا تھا کتاب النفقات کے اندر جہاں بیوی کا نفقہ ذکر ہوا تھا وہیں پر صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ انسان کے اصول اور فروع، اصول یعنی اوپر کی طرف جو ہیں، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اگر یہ فقیر ہیں تو ان پر بھی خرچ کرنا اسی آدمی کی ذمہ داری ہے اور جو اس آدمی کے فروع ہیں یعنی اولاد اور اولاد کی اولاد جو ہے وہ بھی اگر نابالغ ہیں اور ان کا کوئی مال نہیں ہے تو ان سب کا خرچہ اسی آدمی پر ہو گا۔ توجہ ہے؟ تو حاصلِ کلام یہ کہ بیوی کا خرچہ تو ہر حال میں خاوند پر آئے گا کیونکہ بیوی کے ساتھ اس کا نکاح ہوا ہے، بیوی نے اپنے آپ کو خاوند کے لیے گھر میں روک کر رکھا ہے تو بیوی کا خرچہ تو ہر حال میں خاوند پر آئے گا چاہے بیوی خود ہی مالدار کیوں نہ ہو، پھر بھی اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہے۔ اسی طرح یاد رکھو، انسان کے اصول اور فروع یعنی جن کے ساتھ ولادت والا رشتہ ہے ان کا خرچہ بھی انسان پر ہوتا ہے لیکن یہ اس وقت ہے جب ان کا اپنا مال نہ ہو۔ جس وقت ان کا اپنا مال نہ ہو، لیکن اگر ایک شخص کی نابالغ اولاد ہے اور ان کا اپنا مال موجود ہے یا اس شخص کے اصول ہیں اوپر والدین ہیں، نانا، دادا وغیرہ ہیں، اگر ان کا اپنا مال موجود ہے تو اصل یہی ہے کہ انسان کا خرچہ اپنے مال میں ہوتا ہے لہٰذا ان کا خرچہ پھر اس آدمی پر نہیں آئے گا۔ اگر وہ اصول اور فروع جو ہیں ان کا اپنا مال موجود ہے تو پھر ان کا خرچہ اس آدمی پر نہیں آئے گا، لیکن اگر ان کا اپنا مال نہیں ہے، یعنی اصول جو ہیں مثلاً دیکھو، اصول ہیں اور وہ غریب ہیں ان کا اپنا مال نہیں تو ان کا خرچہ اس آدمی پر آئے گا اور فروع کے اندر وہ فروع جو نابالغ ہیں، وہ بچے جو نابالغ ہیں یا اسی طرح جو اولاد میں جو مؤنث ہیں چاہے وہ بالغ ہی کیوں نہ ہوں، وہ بھی کمانے سے عاجز ہیں تو ان کا بھی خرچہ اس آدمی پر آئے گا اگر ان کا کوئی مال نہیں ہے۔ اور جو نیچے اولاد کے اندر جو بالغ ہیں مرد، اگر وہ اپاہج یا اندھے وغیرہ ہیں تو پھر ان کا خرچہ اس آدمی پر آئے گا اور اگر وہ خود کمانے کے قابل ہیں پھر چاہے ان کے پاس مال نہ ہو پھر بھی اس آدمی پر ان کا خرچہ نہیں ہے۔ تفصیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُنْفِقُ عَلَى زَوْجَتِهِ وَأَوْلَادِهِ مِنْ مَالِهِ“ اور قاضی اس شخص کی بیوی اور اس کی اولاد پر اس کے مال میں سے خرچ کرے گا، ”وَلَيْسَ هٰذَا الْحُكْمُ مَقْصُورًا عَلَى الْأَوْلَادِ“ اور یہ حکم اولاد پر بند نہیں ہے، ”بَلْ يَعُمُّ جَمِيعَ قَرَابَةِ الْوِلَادِ“ بلکہ یہ حکم عام ہے، ”جَمِيعَ قَرَابَةِ الْوِلَادِ“ ولادت والے سارے رشتوں میں۔ ولادت والے سارے رشتوں میں یہ حکم عام ہے یعنی اس میں تمام اصول اور فروع داخل ہو گئے۔ ”وَالْأَصْلُ“ اور اصل یہ ہے، ضابطہ یہ ہے، ”أَنَّ كُلَّ مَنْ يَسْتَحِقُّ النَّفَقَةَ فِي مَالِهِ حَالَ حَضْرَتِهِ بِغَيْرِ قَضَاءِ الْقَاضِي“ بھئی یاد رکھو، یہ جو بیوی کا خرچہ ایک آدمی پر آتا ہے اس میں کسی قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں۔ کسی قاضی کے فیصلے کی ضرورت نہیں ہے۔ اسی طرح یہ اپنے اصول اور فروع جو میں نے بیان کیے جن کا مال نہیں ہے، اولاد کے اندر جو نابالغ ہیں یا بالغ عورتیں ہیں اولاد کے اندر مؤنث ہیں لیکن بالغ ہیں یا بالغ مذکر ہیں لیکن وہ خود کما نہیں سکتے، اپاہج ہیں یا اندھے ہیں تو اولاد کے اندر ان سب کا خرچہ اس شخص پر ہو گا۔ اور یاد رکھو ان میں کسی قضائے قاضی کی بھی ضرورت نہیں، یہ مسئلہ آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں۔ جبکہ اس کے علاوہ اور جو رشتہ دار ہیں، مثلاً ایک آدمی کا بھئی غریب ہے، اس کا کوئی مال نہیں اور وہ معذور یا اپاہج ہے، خود بھی مال نہیں کما سکتا تو اس کا خرچہ اس آدمی پر آئے گا لیکن اس میں ضروری ہے یا تو وہ اپنی رضامندی سے دے رہا ہو یا اگر وہ نہیں دے رہا تو پھر قضائے قاضی کے ذریعے اس پر یہ خرچہ لازم کیا جائے گا۔ تو جن کے ساتھ ولادت والا رشتہ ہے ان کے خرچے انسان پر آتے ہیں اور وہاں کسی قضائے قاضی کی ضرورت نہیں۔ اگر قاضی کو وہاں کبھی فیصلہ کرنا بھی پڑ جائے تو وہ دراصل قاضی کا فیصلہ نہیں، قاضی صرف مدد کر رہا ہے۔ مثلاً ایک آدمی کی نابالغ اولاد ہے یا بیوی ہے اور وہ ان پر خرچ نہیں کر رہا تو وہ قاضی کے پاس آ گئے کہ یہ ہمارا خرچہ نہیں دے رہا، تو قاضی کے کہنے کی وجہ سے خرچہ واجب نہیں ہوا، خرچہ تو اس آدمی پر پہلے سے واجب تھا، قاضی نے صرف ان کی مدد کی ہے۔ اس خرچے کے وصولی میں ان کی مدد کی ہے۔ تو معلوم ہوا یہ جو بیوی اور اصول اور فروع ہوتے ہیں ان کا خرچہ بغیر قضائے قاضی کے ہی مالدار آدمی پر واجب ہوتا ہے۔ لیکن ان کے علاوہ اور رشتہ دار جو ہیں جن کے ساتھ ولادت والا رشتہ نہیں ہے، جیسے بھئی ہے یا خالہ ہے یا ماموں وغیرہ بھئی، اب ان کے ساتھ ولادت والا رشتہ نہیں ہے تو یہ اگر غریب ہیں اور ان کے پاس کوئی مال نہیں، تو اگر یہ مؤنث ہے اور بالغہ ہے یا مذکر ہے لیکن وہ اپاہج یا معذور ہے یا اندھا ہے تو پھر ان کا خرچہ قاضی اس شخص پر واجب کرے گا۔ یہ قاضی کے پاس آ گئے اور قاضی نے پھر ان کے حق میں فیصلہ کر دیا۔ تو معلوم ہوا جن سے ولادت والا رشتہ ہے وہاں قضائے قاضی کی کوئی ضرورت نہیں اور جن سے ولادت والا رشتہ نہیں ان کا خرچہ بھی انسان پر آتا ہے لیکن وہاں قضائے قاضی کی ضرورت ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ تو یہاں جو آیا کہ قاضی اس غائب شدہ آدمی کی بیوی پر بھی خرچ کرے گا اور اولاد پر بھی خرچ کرے گا، تو صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ صرف اولاد کا یہ حکم نہیں ہے بلکہ جن سے بھی ولادت والا رشتہ ہے چاہے اصول ہیں چاہے فروع ہیں سب اس حکم کے اندر داخل ہیں بھئی۔ اب ضابطہ آگے صاحبِ ہدایہ بتلانے لگے ہیں کہ جن پر قضائے قاضی کے بغیر خرچ کرنا واجب ہے تو یہ غائب کے مال میں سے قاضی ان کا نفقہ دیتا رہے گا۔ کیونکہ یہ نفقہ تو پہلے سے ہی واجب ہے، اس میں کسی قضائے قاضی کی ضرورت نہیں۔ اور جن کے نفقے میں قضائے قاضی کی ضرورت ہوتی ہے، توجہ ہے؟ ان کا خرچہ اگر قاضی نے پہلے مقرر کیا تھا، یعنی غائب شدہ آدمی موجود تھا اور اس وقت اس کی خالہ آ گئی جو غریب ہے اس کے پاس مال نہیں، یا اس کا ماموں ہے اور وہ معذور اور اپاہج ہے وہ قاضی کے پاس آ گئے، یا اس کا بھئی ہے، بالغ ہے لیکن معذور اور اپاہج ہے وہ قاضی کے پاس آ گئے، اور ابھی یہ شخص غائب نہیں ہوا تھا، قاضی نے فیصلہ کر دیا کہ ان کو بھی خرچہ تمہیں دینا پڑے گا۔ تمہیں ان کا خرچہ بھی اٹھانا پڑے گا۔ تو اگر قاضی نے پہلے فیصلہ کیا تھا اس آدمی کی موجودگی میں اور اب یہ شخص غائب ہے تو بھی قاضی ان لوگوں کو بھی خرچہ دیتا رہے گا۔ اسی غائب کے مال میں سے دیتا رہے گا۔ لیکن اگر قاضی نے یہ فیصلہ پہلے نہیں کیا تھا اور اس شخص کے غائب ہونے کے بعد اب اس کی جو خالہ ہے جس کے پاس مال نہیں یا ماموں یا بھئی ہے اور وہ اپاہج اور معذور ہیں یا اندھے ہیں، تو قاضی اب ان کو خرچہ نہیں دے سکتا، کیونکہ قاضی اگر اب ان کو خرچہ دے گا اور حال یہ ہے کہ مال کا مالک غائب ہے تو یہ قضاء علی الغائب ہو جائے گا اور قضاء علی الغائب تو قاضی کو اجازت نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ أَنَّ كُلَّ مَنْ يَسْتَحِقُّ النَّفَقَةَ“ اور اصل اور ضابطہ یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نفقے کا مستحق ہے، ”فِي مَالِهِ حَالَ حَضْرَتِهِ“ اس غائب آدمی کے مال میں، اس کی موجودگی کی حالت میں، ابھی تو غائب ہے لیکن جو موجودگی کی حالت میں نفقے کا مستحق ہے، ”بِغَيْرِ قَضَاءِ الْقَاضِي“ قاضی کے فیصلے کے بغیر ہی، ”يُنْفِقُ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ“ تو قاضی ان پر خرچ کرے گا اس غائب کے مال میں سے، ”عِنْدَ غَيْبَتِهِ“ جب وہ آدمی غائب ہے۔ جب موجودگی میں نفقہ بغیر قضائے قاضی کے واجب تھا تو اب بھی قاضی ان پر غیبت کی صورت میں بھی ان پر خرچ کرے گا۔ ”لِأَنَّ الْقَضَاءَ حِينَئِذٍ يَكُونُ إِعَانَةً“ اس لیے کیونکہ قاضی کا فیصلہ اس وقت صرف اعانت ہے۔ قاضی اگر فیصلہ کرتا بھی ہے بیوی یا بچوں کے خرچے کا تو وہ صرف مدد کر رہا ہے، حقیقت میں تو وہ شریعت نے ویسے ہی واجب کیے ہوئے ہیں، اس میں کسی قضائے قاضی کی ضرورت نہیں۔ تو اس آدمی کے موجودگی میں جیسے اس پر ان کا خرچہ واجب تھا تو غیر موجودگی میں بھی قاضی ان کو دیتا رہے گا۔ ”وَكُلَّ مَنْ لَا يَسْتَحِقُّهَا فِي حَضْرَتِهِ“ اور ہر وہ رشتہ دار کہ جو اس آدمی کی موجودگی میں خرچے کا مستحق نہیں تھا، ”إِلَّا بِالْقَضَاءِ“ مگر قضائے قاضی سے، ”لَا يُنْفِقُ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ فِي غَيْبَتِهِ“ تو قاضی اس پر خرچ نہیں کرے گا اس غائب آدمی کے مال میں سے اس شخص کی غیر موجودگی میں۔ وہ موجود ہوتا تو پھر تو قاضی فیصلہ کر سکتا تھا، اس کے بھئی اور ماموں وغیرہ کے لیے، لیکن اب تو وہ غائب ہے اور قاضی نے اس وقت فیصلہ نہیں کیا تھا تو اب بھی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَكُلَّ مَنْ لَا يَسْتَحِقُّهَا فِي حَضْرَتِهِ“ اور ہر وہ رشتہ دار جو نفقے کا مستحق نہیں ہے اس شخص کی موجودگی میں، ”إِلَّا بِالْقَضَاءِ“ مگر قاضی کے فیصلے کے ذریعے، ”لَا يُنْفِقُ عَلَيْهِ مِنْ مَالِهِ فِي غَيْبَتِهِ“ تو قاضی اس پر خرچ نہیں کرے گا اس غائب آدمی کے مال میں سے اس شخص کی غیر موجودگی میں، ”لِأَنَّ النَّفَقَةَ حِينَئِذٍ تَجِبُ بِالْقَضَاءِ“ اس لیے کیونکہ خرچہ اس وقت پھر واجب ہوتا ہے قضاء کی وجہ سے، یعنی قاضی کے فیصلے کی وجہ سے، ”وَالْقَضَاءُ عَلَى الْغَائِبِ مُمْتَنِعٌ“ اور غائب کے خلاف فیصلہ جو ہے وہ تو ممتنع ہے۔ ”فَمِنَ الْأَوَّلِ“ اب بیان کرنے لگے ہیں بھئی، پہلی قسم کے افراد کون سے ہیں؟ میں نے بیان کر دیا کہ جن میں قضائے قاضی کی ضرورت نہیں، وہ اصول ہیں اور فروع ہیں اور بیوی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَمِنَ الْأَوَّلِ“ تو پہلی قسم میں سے جو ہیں، ”الْأَوْلَادُ الصِّغَارُ“ نابالغ اولاد ہے، ”وَالْإِنَاثُ مِنَ الْكِبَارِ“ اور مؤنث ہیں بالغوں میں سے، اولاد میں سے جو بالغ مؤنث ہیں کیونکہ وہ مال نہیں کما سکتیں، ”وَالزَّمْنَى مِنَ الذُّكُورِ الْكِبَارِ“ زَمْنٰی جمع ہے زَمِن کی، اور زَمِن کہتے ہیں اپاہج اور معذور کو۔ کہتے ہیں: ”وَالزَّمْنَى مِنَ الذُّكُورِ الْكِبَارِ“ اور مذکر بالغوں میں سے جو اپاہج ہیں تو ان کا خرچہ اس پر آئے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا پھر سن لیں، یاد رکھو بیوی کا خرچہ ہر حال میں اس خاوند پر آتا ہے چاہے بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو، لیکن نابالغ اولاد ہے یا اصول ہیں ان کا خرچہ انسان پر تب آتا ہے جب ان کا اپنا مال نہ ہو۔ اگر ان کا اپنا مال ہے تو ان کا خرچہ انہی کے مال میں سے ہو گا، کسی دوسرے پر نہیں آئے گا کیونکہ اصل اور ضابطہ یہی ہے کہ انسان کا خرچہ اپنے مال میں سے ہوتا ہے، کسی دوسرے کے مال میں سے نہیں ہوتا۔ تو یہ پہلی قسم تھے۔ ”وَمِنَ الثَّانِي“ اور دوسری قسم جو ہے، یعنی جو قاضی کے فیصلے کے بغیر نفقے کے مستحق نہیں ہیں، وہ جو ہیں ”الْأَخُ“ بھئی ہے، ”وَالْأُخْتُ“ اور بہن ہے، ”وَالْخَالُ“ اور ماموں ہے، ”وَالْخَالَةُ“ اور خالہ ہے بھئی۔ اسی طرح چچا اور پھوپھی وغیرہ بھی ہیں بھئی۔ ”وَقَوْلُهُ مِنْ مَالِهِ“ بھئی متن میں آیا پیچھے، یہ جو ابھی متن گزرا: ”قَالَ: وَيُنْفِقُ عَلَى زَوْجَتِهِ وَأَوْلَادِهِ مِنْ مَالِهِ“ اسی غائب کے مال میں سے قاضی ان پر خرچ کرے گا۔ اس مال سے کون سا مال مراد ہے؟ تو کہتے ہیں اس کے مال سے مراد درہم اور دینار وغیرہ ہیں کہ ان میں سے قاضی خرچہ دے سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَوْلُهُ مِنْ مَالِهِ“ اور صاحبِ قدوری کا قول جو آیا: ”مِنْ مَالِهِ“، ”مُرَادُهُ الدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ“ اس سے صاحبِ قدوری کی مراد درہم اور دینار ہیں، دنانیر بھئی دیکھو یہ جمع تکسیر ہے دینار کی، اور آپ نے ضابطہ پڑھا ہے: ”التَّصْغِيرُ وَالتَّكْسِيرُ يَرُدَّانِ الْأَشْيَاءَ إِلَى أُصُولِهَا“ کہ کسی لفظ کی اصل کا آپ نے پتہ چلانا ہو تو اس کی تصغیر کو دیکھ لیتے ہیں یا اس کی جمع تکسیر کو دیکھ لیتے ہیں، تو دینار کی جمع تکسیر کیا ہے؟ دنانیر، اور دنانیر کے اندر دو نون ہیں۔ اور دینار میں تو ایک نون ہے، معلوم ہوا دینار میں بھی اصل میں دو نون تھے، اصل میں تھا دِنَّار، پھر ایک نون کو یاء سے بدل دیا گیا تخفیف کے لیے، تو کیا بن گیا؟ دینار بھئی۔ تو کہتے ہیں صاحبِ قدوری کے اس سے مراد درہم اور دینار ہیں، ”لِأَنَّ حَقَّهُمْ فِي الْمَطْعُومِ وَالْمَلْبُوسِ“ اس لیے کیونکہ یہ بیوی اور اولاد وغیرہ کا حق جو ہے، ”فِي الْمَطْعُومِ“ یہ کھائی جانے والی چیز میں ہے، ”وَالْمَلْبُوسِ“ اور پہنے جانے والی چیز میں ہے۔ اگر کھائی جانے والی چیز یعنی غلہ موجود ہے تو قاضی اسی میں سے دے گا، اور اگر کپڑے موجود ہیں تو قاضی انہی میں سے ان کو کپڑے دے گا، لیکن اگر اس آدمی کے مال میں غلہ یا کپڑے نہیں ہیں تو پھر ان کی قیمت دینا پڑے گی اور ظاہر سی بات ہے قیمت تو درہم اور دینار وغیرہ کے ذریعے ہی دی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ حَقَّهُمْ فِي الْمَطْعُومِ وَالْمَلْبُوسِ“ اس لیے کیونکہ ان لوگوں کا حق جو ہے کھائی جانے والی چیزوں میں اور پہنی جانے والی چیزوں میں ہے، ”فَإِذَا لَمْ يَكُنْ ذٰلِكَ فِي مَالِهِ“ جب اس غائب آدمی کے مال میں یہ چیزیں نہیں ہیں، یعنی مطعوم اور ملبوس نہیں ہیں، ”يُحْتَاجُ إِلَى الْقَضَاءِ بِالْقِيمَةِ“ تو حاجت ہو گی کہ قیمت کا فیصلہ کیا جائے، ”وَهِيَ النَّقْدَانِ“ اور قیمت تو یہ نقدیاں ہی ہیں بھئی، درہم اور دینار وغیرہ۔ ”وَالتِّبْرُ بِمَنْزِلَتِهِمَا فِي هٰذَا الْحُكْمِ“ تبر کہتے ہیں سونے اور چاندی کا ٹکڑا۔ بھئی یہ جو درہم اور دینار ہیں، ان کی تو خاص شکل ہوتی ہے، ان پر تو مہر لگی ہوتی ہے باقاعدہ، لیکن عام سونا اور چاندی جو ہے ان پر تو مہر نہیں لگی ہوتی۔ تو کیا ان کا بھی یہی حکم ہے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ سونے اور چاندی کا ٹکڑا بھی اسی حکم میں ہے۔ کہتے ہیں: ”وَالتِّبْرُ بِمَنْزِلَتِهِمَا فِي هٰذَا الْحُكْمِ“ اور سونے اور چاندی کا جو ٹکڑا ہے وہ بھی درہم اور دینار کے درجے میں ہی ہے اس حکم کے اندر، ”لِأَنَّهُ يَصْلُحُ قِيمَةً كَالْمَضْرُوبِ“ اس لیے کیونکہ یہ سونے چاندی کا ٹکڑا جو ہے یہ بھی قیمت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، ”كَالْمَضْرُوبِ“ جیسے کہ وہ سونا اور چاندی جن پر مہر لگائی گئی ہے۔ مضروب جس پر مہر لگائی گئی ہے، یعنی درہم اور دینار مراد ہیں، تو یہ سونے چاندی کا ٹکڑا بھی قیمت بننے کی صلاحیت رکھتا ہے جیسے کہ مہر لگے ہوئے سونا اور چاندی ہیں یعنی درہم اور دینار ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَصْلُحُ قِيمَةً كَالْمَضْرُوبِ“ اس لیے کیونکہ یہ سونے چاندی کا ٹکڑا جو ہے یہ بھی قیمت ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے، ”كَالْمَضْرُوبِ“ جیسے کہ وہ سونا اور چاندی جن پر مہر لگائی گئی ہو۔ ”وَهٰذَا إِذَا كَانَتْ فِي يَدِ الْقَاضِي“ بھئی یہ جو ان رشتہ داروں پر خرچ کیا جائے گا، یہ اس صورت میں ہے جب یہ درہم اور دینار قاضی کے قبضے میں ہوں۔ قاضی کے قبضے میں ہوں، وہ غائب جو تھا اس نے خود اپنا کچھ مال قاضی کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا تھا بھئی، تو اب اس میں سے قاضی خرچ کرے گا۔ لیکن اگر قاضی کے قبضے میں یہ مال نہیں ہے اور کسی شخص کے پاس اس غائب آدمی کی امانت ہے یا کسی شخص کے اوپر اس غائب آدمی کا دین ہے، اس نے اس غائب آدمی کا دین ادا کرنا ہے تو پھر ان سے مال لے کر بھی قاضی خرچ کر سکتا ہے لیکن دو شرطیں ہیں۔ وہ آدمی غائب ہے اور اس کے بیوی بچوں پر خرچ کرنا ہے، قاضی کے پاس تو مال نہیں اس کا، لیکن ایک اور آدمی کے پاس مال بطورِ امانت کے ہے یا ایک اور آدمی کے پاس اس غائب آدمی کا مال بطورِ دین کے ہے، تو اس صورت میں ضروری ہے کہ وہ شخص جس کے پاس امانت ہے یا وہ شخص جس کے اوپر دین ہے، وہ اس مال کا بھی اقرار کریں اور ان بیوی بچوں کا بھی اقرار کریں کہ یہ اسی غائب کے بیوی بچے ہیں۔ توجہ ہے؟ اس غائب کے بیوی بچوں کا بھی اقرار کریں اور اس مال کا بھی اقرار کریں کہ ہمارے پاس اس نے اتنا مال امانت رکھوایا ہے یا ہمارے اوپر اس کا مال دین ہے۔ توجہ ہے؟ یا قاضی کو ان چیزوں کا پتہ ہے، قاضی کو پتہ ہے کہ یہ اس غائب آدمی کے بیوی بچے ہیں یا قاضی کو پتہ ہے کہ اس آدمی کے پاس اس غائب آدمی کی امانت ہے یا دین ہے، تو پھر بھی قاضی فیصلہ کر سکتا ہے۔ اور اگر ان دو چیزوں میں سے ایک کا علم نہیں یا دونوں کا ہی علم نہیں پھر قاضی فیصلہ نہیں کر سکتا۔ مثلاً وہ آدمی جن کے پاس امانت ہے یا جن کے اوپر دین ہے، وہ امانت یا دین کا تو اقرار کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس امانت موجود ہے اس غائب آدمی کی، لیکن وہ ان بیوی بچوں کا اقرار نہیں کر رہے، وہ کہتے ہیں ہم نہیں جانتے یہ اس آدمی کے بیوی بچے ہیں یا نہیں۔ وہ دین کا اقرار کر رہے ہیں اور قاضی کو پتہ ہے یہ اسی آدمی کے بیوی بچے ہیں تو پھر بھی قاضی خرچ کرنے کا حکم دے گا۔ لیکن اگر یہ اسی کے بیوی بچے ہیں اس کا قاضی کو بھی نہیں پتہ اور وہ دین یا امانت والے کو بھی نہیں پتہ پھر قاضی خرچ کرنے کا حکم نہیں دے سکتا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا إِذَا كَانَتْ فِي يَدِ الْقَاضِي“ اور یہ ان بیوی بچوں پر خرچ کرنا اس وقت ہو گا جب یہ مال قاضی کے قبضے میں ہو، ”فَإِنْ كَانَتْ وَدِيعَةً أَوْ دَيْنًا“ اور اگر یہ مال کسی آدمی کے پاس امانت یا دین ہے، ”يُنْفِقُ عَلَيْهِمْ مِنْهُمَا“ تو قاضی ان پر خرچ کرے گا ان دونوں مالوں میں سے یعنی امانت یا ودیعت میں سے، ”إِذَا كَانَ الْمُودَعُ وَالْمَدْيُونُ مُقِرَّيْنِ“ اس وقت جب وہ مودَع بھئی جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے، ”وَالْمَدْيُونُ“ اور وہ شخص جس پر قرضہ ہے، ”إِذَا كَانَ الْمُودَعُ وَالْمَدْيُونُ مُقِرَّيْنِ بِالدَّيْنِ وَالْوَدِيعَةِ“ جب وہ مودَع اور مدیون وہ دونوں اقرار کر رہے ہوں دین اور ودیعت کا، ”وَالنِّكَاحِ وَالنَّسَبِ“ اور نکاح اور نسب کا۔ وہ آدمی جس کے پاس امانت ہے یا اس پر دین ہے، وہ اس دین یا ودیعت کا بھی اقرار کر رہا ہے اور اس بات کا بھی اقرار کر رہا ہے کہ یہ اسی آدمی کے بیوی بچے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذَا كَانَ الْمُودَعُ وَالْمَدْيُونُ مُقِرَّيْنِ بِالدَّيْنِ وَالْوَدِيعَةِ وَالنِّكَاحِ وَالنَّسَبِ“ جب مودَع اور مدیون جو ہیں وہ اقرار کر رہے ہوں دین اور ودیعت کا بھی اور نکاح اور نسب کا بھی۔ نکاح کا اقرار کر رہے ہیں کہ ہاں یہ اسی آدمی کی بیوی ہے، نسب کا اقرار کر رہے ہیں کہ ہاں یہ اسی آدمی کے بچے ہیں۔ تو دین اور ودیعت کا بھی اقرار کر رہے ہیں اور ان کے بیوی بچے ہونے کا بھی اقرار کر رہے ہیں، پھر قاضی ان پر خرچ کرے گا۔ کہتے ہیں: ”وَهٰذَا إِذَا لَمْ يَكُونَا ظَاهِرَيْنِ عِنْدَ الْقَاضِي“ یہ اس وقت ہے جب یہ دونوں چیزیں قاضی کے پاس ظاہر نہ ہوں۔ بھئی ادھر دیکھیے، اگر قاضی کو خود پتہ ہے کہ وہ جو غائب آدمی ہے اس کی امانت فلاں آدمی کے پاس موجود ہے یا اس غائب آدمی کا دین فلاں آدمی کے پاس ہے، اور قاضی کو یہ بھی پتہ ہے یہ اسی غائب کے بیوی بچے ہیں، جب قاضی کو خود ان دونوں چیزوں کا پتہ ہے پھر اس مودَع اور مدیون سے کسی اقرار کی ضرورت نہیں۔ توجہ ہے؟ قاضی کو خود پتہ ہے کہ غائب آدمی نے اس آدمی کے پاس امانت رکھوائی تھی یا اس آدمی پر غائب کا قرضہ ہے، اور قاضی اس غائب کے بیوی بچوں کو بھی جانتا ہے، پھر اس مدیون اور مودَع سے کسی اقرار کی حاجت نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَهٰذَا إِذَا لَمْ يَكُونَا ظَاهِرَيْنِ عِنْدَ الْقَاضِي“ اور یہ اقرار کی حاجت اس وقت ہو گی جب یہ دونوں باتیں قاضی کے پاس ظاہر نہ ہوں، ”فَإِنْ كَانَا ظَاهِرَيْنِ فَلَا حَاجَةَ إِلَى الْإِقْرَارِ“ اگر یہ دونوں باتیں قاضی کے پاس ظاہر ہیں، قاضی کو دین اور ودیعت کا بھی علم ہے اور نکاح اور نسب کا بھی علم ہے تو کوئی حاجت نہیں ہے اقرار کی۔ توجہ ہے؟ یہاں پر دیکھو چار چیزیں ذکر ہو رہی ہیں لیکن صاحبِ ہدایہ تثنیہ کی ضمیر استعمال کر رہے ہیں۔ غائب آدمی کا کچھ مال دوسرے آدمی کے پاس امانت ہے یا دین ہے، تو دین اور امانت کو ایک ہی چیز شمار کر لیا یعنی اس غائب آدمی کا کچھ مال ہے کسی کے پاس، چاہے وہ ودیعت ہے چاہے دین ہے۔ اور دوسری طرف وہ لوگ جن پر خرچ کیا جائے گا وہ بیوی ہے اور بچے ہیں، ان کو بھی ایک ہی شمار کر لیا جن پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ تو یہ تثنیہ کی ضمیر لوٹا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ قاضی کو اس ودیعت اور دین یہ ایک چیز اور بیوی اور نسب یہ دوسری چیز، جب ان دونوں کا پتہ ہو پھر ان آدمیوں سے اقرار کروانے کی ضرورت نہیں۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَهٰذَا إِذَا لَمْ يَكُونَا ظَاهِرَيْنِ عِنْدَ الْقَاضِي فَإِنْ كَانَا ظَاهِرَيْنِ فَلَا حَاجَةَ إِلَى الْإِقْرَارِ“ اور یہ اقرار کی حاجت اس وقت ہو گی جب یہ دونوں چیزیں قاضی کے پاس ظاہر نہ ہوں، اگر یہ دونوں چیزیں قاضی کے پاس ظاہر ہیں تو پھر ان کے اقرار کی کوئی حاجت نہیں ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا ظَاهِرًا يُشْتَرَطُ الْإِقْرَارُ بِمَا لَيْسَ بِظَاهِرٍ“ اور اگر ان دونوں چیزوں میں سے ایک چیز ظاہر ہے تو شرط ہو گا اقرار اس چیز کا جو ظاہر نہیں ہے۔ تو جو چیز ظاہر نہیں، جس چیز کا قاضی کو پتہ نہیں، اس کا اقرار کروا لے گا ان آدمیوں سے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا ظَاهِرًا“ اور اگر ان دونوں چیزوں میں سے ایک ظاہر ہے یعنی قاضی کو اس کا علم ہے، ”يُشْتَرَطُ الْإِقْرَارُ بِمَا لَيْسَ بِظَاهِرٍ“ تو شرط ہو گا اقرار کرنا اس چیز کا جو ظاہر نہیں ہے۔ ”هٰذَا هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں: ”هٰذَا هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے۔ تو اس کے ذریعے احتراز کیا امام زفر رحمہ اللہ کے قول سے۔ انہوں نے کہا ”هٰذَا هُوَ الصَّحِيحُ“ یہی قول صحیح ہے جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں نہیں، اگر یہ مودَع یا مدیون اقرار بھی کر لیں پھر بھی ان کا اقرار غائب آدمی کے خلاف حجت اور دلیل نہیں بن سکتا، لہٰذا ان کے اقرار کی وجہ سے بیوی بچوں پر خرچ نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن کہتے ہیں صحیح یہی ہے کہ خرچ کیا جا سکتا ہے جب وہ اقرار کر لیں دونوں کا یا قاضی کو دونوں چیزوں کا علم ہو۔ آگے دیکھیے: ”فَإِنْ دَفَعَ الْمُودَعُ بِنَفْسِهِ“ بھئی یہ تو وہ صورت تھی کہ قاضی کے حکم پر یہ مودَع یا مدیون اب اس کے بیوی بچوں پر خرچ کریں گے، لیکن اگر وہ مودَع اور مدیون قاضی کے حکم کے بغیر خود ہی اس کے بیوی بچوں پر خرچ کرتے ہیں تو یاد رکھو اس خرچ کرنے میں وہ متبرع ہیں، یوں سمجھا جائے گا وہ اپنی جیب سے ادا کر رہے ہیں۔ لہٰذا اگر وہ غائب شخص واپس آ گیا تو وہ کہہ سکتا ہے کہ تم نے میری اجازت کے بغیر میرا مال کیوں خرچ کیا؟ تمہیں پورا مال دینا پڑے گا، تو ان کو وہ پورا مال دینا پڑے گا۔ توجہ ہے؟ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ دَفَعَ الْمُودَعُ بِنَفْسِهِ“ اور اگر مودَع نے خود وہ مال دیا، ”أَوْ مَنْ عَلَيْهِ الدَّيْنُ“ یا اس شخص نے دیا جس کے اوپر دین تھا، ”بِغَيْرِ أَمْرِ الْقَاضِي“ قاضی کے حکم کے بغیر ہی، ”يَضْمَنُ الْمُودَعُ“ تو وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے وہ ضامن ہو گا، ”وَلَا يَبْرَأُ الْمَدْيُونُ“ اور اسی طرح وہ قرضدار جو ہے وہ بھی قرض سے بری نہیں ہو گا، اسے قرض ادا کرنا پڑے گا، ”لِأَنَّهُ مَا أَدَّى إِلَى صَاحِبِ الْحَقِّ“ اس لیے کیونکہ اس نے وہ حق ادا نہیں کیا صاحبِ حق کو، ”وَلَا إِلَى نَائِبِهِ“ اور نہ اس کے نائب یعنی وکیل وغیرہ کو۔ کیونکہ مودَع نے امانت مالک یا اس کے نائب کو ادا نہیں کی اور مدیون نے بھی قرضہ مالک یا اس کے نائب کو ادا نہیں کیا، لہٰذا ان کو وہ ادا کرنا پڑے گا۔ ان کے پاس تو امانت رکھوائی گئی تھی یا ان پر تو قرضہ تھا، تو ان کو ولایت نہیں تھی کہ وہ مالک کی اجازت کے بغیر اس کے گھر والوں پر اسے خرچ کریں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مَا أَدَّى إِلَى صَاحِبِ الْحَقِّ وَلَا إِلَى نَائِبِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے وہ حق ادا نہیں کیا صاحبِ حق کو اور نہ اس کے نائب کو، ”بِخِلَافِ مَا إِذَا دَفَعَ بِأَمْرِ الْقَاضِي“ بخلاف اس صورت کے کہ جب انہوں نے قاضی کے حکم پر یہ مال دیا ہو، ”لِأَنَّ الْقَاضِيَ نَائِبٌ عَنْهُ“ اس لیے کیونکہ قاضی جو ہے اس غائب کی طرف سے نائب ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ الْمُودَعُ وَالْمَدْيُونُ جَاحِدَيْنِ أَصْلًا“ بھئی اگر وہ صاحبِ ودیعت انکار کر رہا ہے کہ میرے پاس اس غائب آدمی نے کوئی امانت رکھوائی ہی نہیں، یا وہ مدیون انکار کر رہا ہے کہ میرے اوپر تو اس غائب آدمی کا کوئی دین نہیں ہے، تو کیا اس کے بیوی بچے وغیرہ جو ہیں یہ خصومت کر سکتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، یہ اس کے ساتھ خصومت نہیں کر سکتے بھئی۔ ”وَإِنْ كَانَ الْمُودَعُ وَالْمَدْيُونُ جَاحِدَيْنِ أَصْلًا“ تو اگر وہ مودَع یا مدیون جو ہے وہ سرے سے مال ہی کا انکار کر رہے ہیں... دین یا امانت کا انکار کر رہے ہیں یا وہ اس عورت کے بیوی ہونے یا ان بچوں کے اولاد ہونے کا انکار کر رہے ہیں، تو کیا اس کے یہ بیوی بچے اس کے ساتھ خصومت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، یہ اس کے ساتھ خصومت نہیں کر سکتے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْمُوْدَعُ وَالْمَدْيُونُ جَاحِدَيْنِ أَصْلًا“ جحد کا معنیٰ ہے انکار کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ الْمُوْدَعُ وَالْمَدْيُونُ جَاحِدَيْنِ“ اور اگر وہ شخص جس کے پاس امانت رکھوائی گئی ہے یا وہ شخص جس کے اوپر قرضہ ہے، اگر وہ انکار کر رہے ہیں ”أَصْلًا“ أَيْ: قَطْعًا قطعی طور پر انکار کر رہے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی امانت یا ہمارے اوپر کوئی دین نہیں ہے، ”أَوْ كَانَا جَاحِدَيْنِ الزَّوْجِيَّةَ وَالنَّسَبَ“ یا وہ بیوی ہونے اور نسب کا انکار کر رہے ہیں۔ یا دوسری صورت، وہ امانت یا دین کا تو اقرار کر رہے ہیں لیکن اس غائب کے بیوی بچوں کا انکار کر رہے ہیں کہ ہم نہیں جانتے یہ اس کے بیوی بچے ہیں یا نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: اگر وہ اس مال کا انکار کر رہے ہیں ”أَوْ كَانَا جَاحِدَيْنِ الزَّوْجِيَّةَ وَالنَّسَبَ“ یا یہ بیوی ہونے اور نسب کا انکار کر رہے ہیں، ”لَمْ يَنْتَصِبْ أَحَدٌ مِنْ مُسْتَحِقِّي النَّفَقَةِ خَصْمًا فِي ذٰلِكَ“ ”لَمْ يَنْتَصِبْ أَحَدٌ“ تو کوئی ایک بھی قائم نہیں ہوگا، ”مِنْ مُسْتَحِقِّي النَّفَقَةِ“ اصل میں تھا: ”مِنْ مُسْتَحِقِّينَ“ اور نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ ”مِنْ مُسْتَحِقِّي النَّفَقَةِ“ وہ جو نفقے کے مستحق ہیں، کوئی ایک بھی ان میں سے قائم نہیں ہو سکتا، ”خَصْمًا فِي ذٰلِكَ“ اس معاملے کے اندر فریق مخالف ہو کر۔ اگر وہ جو مودع یا مدیون ہیں وہ اگر امانت کا انکار کرتے ہیں یا وہ ان کے بیوی بچوں کے ہونے کا انکار کرتے ہیں، تو ان میں سے کوئی بھی ان کا فریق مخالف ہو کر خصومت نہیں کر سکتا۔ یہ معنیٰ ہے۔ تو اگر وہ اس کا انکار کرتے ہیں ”لَمْ يَنْتَصِبْ أَحَدٌ مِنْ مُسْتَحِقِّي النَّفَقَةِ“ تو نفقے کے مستحقین میں سے کوئی ایک بھی قائم نہیں ہو سکتا، ”خَصْمًا فِي ذٰلِكَ“ اس چیز میں فریق مخالف ہو کر۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اس کا فریق مخالف نہیں بن سکتا، ”لِأَنَّ مَا يَدَّعِيهِ لِلْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں غائب کے لیے۔ وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ یہ فریق مخالف کیوں نہیں بن سکتے؟ کہتے ہیں: وجہ یہ کہ بیوی بچے ہونے کی وجہ سے ان کا خرچہ آئے گا لیکن وہ خرچہ اسی امانت یا دین کے اندر ہونا ضروری نہیں ہے۔ وہ تو کسی بھی مال سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ اس غائب آدمی کے بیوی بچے ان کا نفقہ ادا کرنا ہے لیکن وہ نفقہ تو اسی امانت کے مال میں سے یا اسی دین کے مال میں سے دینا ضروری نہیں ہے۔ وہ تو غائب آدمی کے کسی بھی مال میں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ لہٰذا وہ مدیون اور اس مودع کے یہ فریق مخالف نہیں بن سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ مَا يَدَّعِيهِ لِلْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں یعنی بیوی اور اولاد ہونے کا ”لِلْغَائِبِ“ غائب کے لیے کہ یہ غائب کے لیے جس چیز کے یعنی اس کے بیوی اور اولاد ہونے کا جو دعویٰ کر رہے ہیں، ”لَمْ يَتَعَيَّنْ“ وہ متعین نہیں ہے، وہ بیوی اور اولاد ہونا متعین نہیں ہے ”سَبَبًا“ بطورِ سبب کے ”لِثُبُوتِ حَقِّهِ“ اس کا حق ثابت ہونے میں، یعنی اس دین اور ودیعت میں اس کا حق ثابت ہو جائے، ”وَهُوَ النَّفَقَةُ“ اور وہ نفقہ ہے۔ توجہ ہے؟ یہ عبارت ذرا مشکل ہے، بہرحال کہنا یہ چاہتے ہیں صاحبِ ہدایہ کہ یہ بیوی بچوں میں سے کوئی بھی فریق مخالف بن کر اس مدیون اور مودع کے ساتھ خصومت نہیں کر سکتا، اس لیے کیونکہ ان کا بیوی بچے ہونے کی وجہ سے خرچہ لازم آئے گا، تو ان کا غائب کے بیوی بچے ہونا یہ متعین نہیں ہے بطورِ سبب کے کہ اسی مال میں سے ان کا خرچہ آئے گا، بلکہ ان کا خرچہ تو اس غائب کے دوسرے مال میں سے بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّ مَا يَدَّعِيهِ لِلْغَائِبِ“ اس لیے کیونکہ جس چیز کا یہ دعویٰ کر رہے ہیں غائب کے لیے کہ یہ اس کے بیوی بچے ہیں تو یہ ان کا بیوی بچے ہونا ”لَمْ يَتَعَيَّنْ سَبَبًا لِثُبُوتِ حَقِّهِ“ یہ بطورِ سبب کے متعین نہیں ہے ان کے حق کے ثابت ہونے کے لیے، ”وَهُوَ النَّفَقَةُ“ اور ان کا حق کیا ہے؟ وہ ان کا نفقہ ہے، اس کے لیے یہ بطورِ سبب کے متعین نہیں ہے، ”لِأَنَّهَا كَمَا تَجِبُ فِي هٰذَا الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ جس طرح یہ نفقہ جو ہے اس مال کے اندر واجب ہو سکتا ہے، ”تَجِبُ فِي مَالٍ آخَرَ لِلْمَفْقُودِ“ تو یہ اس گمشدہ آدمی کے دوسرے مال میں بھی واجب ہو سکتا ہے، تو اسی مال کے اندر اس کا متعین ہونا ثابت نہیں ہو سکتا۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ“ غائب آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان کیا قاضی جدائی کروائے گا یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے بھئی کہ قاضی غائب آدمی اور اس کی بیوی میں جدائی نہیں کروائے گا۔ یہاں تک کہ اتنے سال گزر جائیں کہ جب یقین ہو جائے کہ وہ آدمی مر چکا ہوگا تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کرے گا اور پھر اس کے بعد وہ عورت عدت گزارے گی اور پھر اس کے بعد وہ آگے نکاح کرنا چاہے تو نکاح کر سکتی ہے۔ توجہ ہے؟ اور کتنی عمر میں اس کے مرنے کا یقین ہوگا؟ تو آگے آپ کو بتلائیں گے، جب اس آدمی کے تمام ہم عمر مر جائیں، جب تمام ہم عمر مر گئے تو ظاہر یہی ہے وہ بھی مر گیا ہوگا، لہٰذا اب نکاح کے ٹوٹنے کا حکم لگایا جائے گا۔ جبکہ بعض روایات میں ہے سو سال، یہاں تک کہ اس آدمی کی عمر سو سال تک پہنچ جائے اور سو سال تک تو کم ہی کوئی پہنچتا ہے، تو اب قاضی فیصلہ کرے گا اس آدمی کے مرنے کا۔ اور بعض روایات میں ہے کہ نوے سال جب اس آدمی کی عمر ہو جائے تو پھر اب معلوم ہوا تو ظاہر یہی ہے لوگوں کی عمر اتنی نہیں ہوتی، تو پھر اب اس آدمی کی بھی موت کا فیصلہ کر دے گا اور اس کے بعد اس کی بیوی جو ہے آگے نکاح کر سکتی ہے۔ تو یہ احناف کے مشکل مسائل میں سے ہے بھئی کہ جہاں پر خاوند اگر گم ہو گیا ہے نہ اس کی جگہ کا پتہ ہے نہ زندگی اور موت کا پتہ ہے تو وہ عورت تمام زندگی بیٹھی رہے گی، وہ آگے نکاح نہیں کر سکتی بھئی۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص غائب ہو جائے اور اس کا کچھ اتہ پتہ معلوم نہیں ہے تو پھر جب چار سال گزر جائیں تو اس کے بعد پھر قاضی ان میں جدائی کا فیصلہ کروا دے گا اور اس کے بعد پھر عورت عدتِ وفات گزارے گی اور پھر اس کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر لے۔ اور آج کل احناف بھی اسی پر فتویٰ دیتے ہیں۔ احناف بھی امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر ہی فتویٰ دیتے ہیں ضرورت اور حاجت کی وجہ سے۔ دیکھیے بھئی: ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ“ اور قاضی جدائی نہیں کروا سکتا اس غائب آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان، ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللّٰهُ تَعَالَى:“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”إِذَا مَضَى أَرْبَعُ سِنِينَ“ کہ جب چار سال گزر جائیں، ”يُفَرِّقُ الْقَاضِي بَيْنَهُ وَبَيْنَ امْرَأَتِهِ“ تو قاضی جدائی کروا دے گا اس غائب آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان، ”وَتَعْتَدُّ عِدَّةَ الْوَفَاةِ“ اور وہ عورت وفات کی عدت گزارے گی، ”ثُمَّ تَزَوَّجُ مَنْ شَاءَتْ“ پھر اس کے بعد وہ نکاح کر لے گی جس سے وہ چاہے، ”لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ هٰكَذَا قَضَى“ اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا تھا ”فِي الَّذِي اسْتَهْوَاهُ الْجِنُّ بِالْمَدِينَةِ“ ”اِسْتَهْوٰى يَسْتَهْوِي“ کے معنیٰ ہیں کسی کو تابعِ فرمان بنا لینا، کسی کو تابعِ فرمان بنا لینا یعنی کسی کو قابو کر لینا، تو کہتے ہیں: اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فیصلہ فرمایا تھا ”فِي الَّذِي اسْتَهْوَاهُ الْجِنُّ بِالْمَدِينَةِ“ جس کو جنوں نے تابعِ فرمان بنا لیا تھا مدینہ میں، یعنی جس کو جنوں نے قابو کر لیا تھا بھئی۔ یہ روایات میں آتا ہے بھئی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک عورت آئی اور اس نے کہا کہ میرے خاوند عشاء کی نماز پڑھنے کے لیے گھر سے نکلے اور پھر اس کے بعد سے ان کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لوگوں سے پوچھا تو لوگوں نے بھی کہا کہ واقعی ایسا ہی ہے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس عورت سے کہا کہ تم چار سال انتظار کرو۔ چنانچہ وہ چار سال تک انتظار کرتی رہی۔ اس کے بعد پھر وہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آئی، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پھر لوگوں سے پوچھا، لوگوں نے کہا کہ ہاں ابھی تک اس کے خاوند کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے بھئی، تو پھر اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان کے درمیان جدائی کروا دی اور پھر اس عورت نے کہیں اور نکاح کر لیا بھئی۔ اور پھر کہتے ہیں: بعد میں کچھ عرصے کے بعد وہ آدمی دوبارہ واپس آ گیا اور اس نے کہا کہ مجھے جنات اٹھا کر لے گئے تھے بھئی، اور پھر اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس آدمی کو اختیار دیا کہ وہ اس بیوی کو لینا چاہتا ہے یا اس کا مہر ادا کر دے اگر وہ اس بیوی کو واپس نہیں لینا چاہتا۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو امام مالک رحمہ اللہ اسی واقعے کو بطورِ دلیل کے ذکر کرتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ هٰكَذَا قَضَى“ اس لیے کیونکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایا تھا ”فِي الَّذِي اسْتَهْوَاهُ الْجِنُّ بِالْمَدِينَةِ“ اس شخص کے بارے میں کہ جس کو جنوں نے قابو کر لیا تھا مدینہ میں، یا یوں کہیں جس کو جنوں نے تابعِ فرمان بنا لیا تھا مدینہ میں، ”وَكَفَى بِهِ إِمَامًا“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کافی ہیں بطورِ امام کے، یہ کس کی دلیل چل رہی ہے؟ امام مالک رحمہ اللہ کی۔ کہتے ہیں: حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بطورِ امام ہونے کے کافی ہیں یعنی ہم ان کی اقتدا کرتے ہیں، ”وَلِأَنَّهُ مَنَعَ حَقَّهَا بِالْغَيْبَةِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ امام مالک رحمہ اللہ کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: وجہ یہ ہے کہ خاوند نے بیوی کا حق روک لیا ہے، خاوند نے بیوی کا حق روک لیا ہے، اس لیے کیونکہ صحبت کے اندر بیوی کا بھی حق ہوتا ہے، تو خاوند نے بیوی کے حق کو روک لیا ہے تو قاضی ان کے درمیان جدائی کروا دے گا جیسے وہ شخص جو ایلاء کر لیتا ہے یا وہ شخص جو عنین ہوتا ہے۔ ایلاء آپ پڑھ چکے ہیں کہ کوئی شخص اگر اپنی بیوی کے پاس چار ماہ تک نہ جانے کی قسم کھا لے تو اس کو ایلاء کہتے ہیں۔ چار ماہ یا اس سے زیادہ کی قسم کھا لے تو یہ شخص اگر اس چار ماہ کے دوران بیوی سے صحبت کر لے تو اس پر صرف قسم کا کفارہ آئے گا اور بیوی بچ جائے گی، لیکن اگر چار مہینے گزر گئے اور اس نے بیوی سے صحبت نہ کی تو بیوی طلاقِ بائن کے ساتھ اس سے جدا ہو جائے گی اور پھر بیوی جہاں نکاح کرنا چاہے کر سکتی ہے عدت کے بعد بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ ہے ایلاء۔ اور ایک ہے عنین بھئی، عنین نامرد کو کہتے ہیں جو بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر نہ ہو۔ تو اگر کوئی شخص عنین ہے اور بیوی نے آ کر قاضی کے پاس مقدمہ کر دیا تو قاضی اس خاوند کو ایک سال کی مہلت دے گا۔ اگر ایک سال کے اندر اس شخص نے اپنا علاج کروا لیا اور وہ بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر ہو گیا تو پھر تو قاضی ان کو اسی طرح رہنے دے گا ورنہ قاضی ان دونوں کے درمیان جدائی کروا دے گا۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح ایلاء کرنے والے نے بیوی کا حق روک لیا تو شریعت نے چار ماہ کے بعد جدائی کا حکم دے دیا کہ بیوی خاوند سے جدا ہو گئی، اور جیسے عنین نے بیوی کا حق روک لیا ہے یعنی وہ بیوی سے صحبت پر قادر نہیں تو وہاں پر بھی ایک سال کے بعد قاضی جدائی کروا دیتا ہے۔ تو لہٰذا ہم نے ایلاء والے سے عدد لے لیا، وہاں چار مہینے تھے تو وہاں سے ہم نے چار کا عدد لے لیا، اور عنین کو قاضی ایک سال کی مہلت دیتا ہے تو اس سے ہم نے سال لے لیا، تو ہم نے چار سال کا حکم لگا دیا۔ اگر کوئی شخص غائب ہو گیا ہے تو بیوی چار سال انتظار کرے اور اس کے بعد پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَنَعَ حَقَّهَا بِالْغَيْبَةِ“ اور اس لیے کیونکہ وہ شخص جو غائب ہوا ہے اس نے بیوی کا حق روک لیا ہے غائب ہونے کی وجہ سے، ”فَيُفَرِّقُ الْقَاضِي بَيْنَهُمَا“ تو قاضی ان دونوں میں جدائی کروا دے گا ”بَعْدَمَا مَضَى مُدَّةٌ“ بعد اس کے کہ جب مدت گزر جائے یعنی چار سال، ”اعْتِبَارًا بِالْإِيلَاءِ وَالْعُنَّةِ“ قیاس کرتے ہوئے ایلاء پر ”وَالْعُنَّةِ“ اور عنین ہونے پر، ”وَبَعْدَ هٰذَا الِاعْتِبَارِ“ اور اس اعتبار کے بعد یعنی ایلاء اور عنین پر قیاس کرنے کے بعد، ”أَخَذَ الْمِقْدَارَ مِنْهُمَا“ تو امام مالک رحمہ اللہ نے یہ مقدار ان دونوں سے لے لی، یہ چار سال والی مقدار ان دونوں پر جب قیاس کیا تو ان دونوں سے یہ مقدار لے لی چار سال والی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”وَبَعْدَ هٰذَا الِاعْتِبَارِ“ اور اس قیاس کرنے کے بعد ”أَخَذَ الْمِقْدَارَ مِنْهُمَا“ امام مالک رحمہ اللہ نے ان دونوں سے یہ چار سال والی مقدار لے لی، ”الْأَرْبَعَةَ مِنَ الْإِيلَاءِ“ چار کا عدد لے لیا ایلاء سے ”وَالسِّنِينَ مِنَ الْعُنَّةِ“ اور سال جو ہے وہ عنین ہونے سے لے لیے، ”عَمَلًا بِالشَّبَهَيْنِ“ عمل کرتے ہوئے دونوں مشابہتوں پر، کہ اس مفقود کی مشابہت ہے ایلاء والے کے ساتھ بھی اور عنین کے ساتھ بھی کہ دونوں نے بیوی کے حق کو روکا ہے۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ اور ہماری دلیل جو ہے: ”قَوْلُهُ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةِ الْمَفْقُودِ:“ حضور علیہ السلام کا قول ہے جو آپ نے ایک گمشدہ آدمی کی بیوی کے بارے میں فرمایا، حضور نے فرمایا: ”إِنَّهَا امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ ”إِنَّهَا امْرَأَتُهُ“ کہ یہ اسی شخص کی بیوی ہے ”حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ یہاں تک کہ اس کے پاس بیان آ جائے۔ ایک آدمی غائب ہو گیا تھا، حضور علیہ السلام نے اس کی بیوی کے بارے میں فرمایا: ”إِنَّهَا امْرَأَتُهُ“ کہ یہ اسی شخص کی بیوی ہے، ”حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ یہاں تک کہ اس کے پاس بیان آ جائے یعنی وضاحت آ جائے، یعنی خاوند کی موت کا پتہ چل جائے یا خاوند کی طرف سے طلاق دینے کا پتہ چل جائے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ یہاں تک کہ اس کے پاس بیان آ جائے، ”وَقَوْلُ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ فِيهَا“ اور نیز ہماری دلیل جو ہے اسی مفقود کی بیوی کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ”هِيَ امْرَأَةٌ“ کہ یہ ایک ایسی عورت ہے ”اُبْتُلِيَتْ“ جو آزمائش میں ڈال دی گئی ہے۔ ”هِيَ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ“، ”هِيَ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ“ کہ یہ ایسی عورت ہے جس کو آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے، ”فَلْتَصْبِرْ حَتَّى يَسْتَبِينَ مَوْتٌ أَوْ طَلَاقٌ“ ”فَلْتَصْبِرْ“ پس چاہیے کہ یہ صبر کرے ”حَتَّى يَسْتَبِينَ مَوْتٌ أَوْ طَلَاقٌ“ یہاں تک کہ واضح ہو جائے موت یا طلاق۔ تو حضور علیہ السلام نے بھی کہا کہ یہ اسی شخص کی بیوی ہے جب تک اس کے پاس بیان نہ آ جائے اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسی مسئلے کے اندر فرمایا کہ یہ عورت آزمائش میں ڈال دی گئی ہے، اب اسے صبر کرنا پڑے گا یہاں تک کہ اسے موت یا طلاق کا پتہ چل جائے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”خَرَجَ بَيَانًا لِلْبَيَانِ الْمَذْكُورِ فِي الْمَرْفُوعِ“ بھئی، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حضور علیہ السلام کا قول ہو تو اس کو حدیثِ مرفوع کہتے ہیں اور صحابی کا قول ہو تو اس کو حدیثِ موقوف کہتے ہیں اور تابعی کا قول ہو تو اس کو حدیثِ مقطوع کہتے ہیں۔ تو حدیثِ مرفوع کے اندر بیان کا لفظ آیا تھا: ”إِنَّهَا امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ یہاں تک کہ اس کے پاس بیان آ جائے۔ اب اس بیان سے کیا مراد ہے؟ حدیث کے اندر کوئی وضاحت نہیں۔ حدیثِ مرفوع میں کوئی وضاحت نہیں، تو حضور علیہ السلام نے یہ جو بیان کا لفظ ذکر فرمایا یہ مجمل ہے، اس کے اندر اجمال ہے تفصیل نہیں۔ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جو قول ہے وہ اس کے لیے بیان ہے۔ مجمل کے لیے کیا چاہیے؟ بیان چاہیے، اس کی وضاحت چاہیے، تو حضور علیہ السلام کے قول میں اجمال تھا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول میں اس کی تفصیل آ گئی، یہ اس کے لیے بیان ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”خَرَجَ بَيَانًا“ تو یہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول بیان ہو کر واقع ہوا ہے ”لِلْبَيَانِ الْمَذْكُورِ فِي الْمَرْفُوعِ“ وہ جو بیان کا لفظ مذکور تھا مرفوع حدیث کے اندر۔ ”وَلِأَنَّ النِّكَاحَ“ یہاں سے عقلی دلیل دے رہے ہیں۔ احناف کی دلیل چل رہی ہے تو پہلے نقلی دلیل ذکر کی اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ النِّكَاحَ عُرِفَ ثُبُوتُهُ“ کہتے ہیں: اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے ”عُرِفَ ثُبُوتُهُ“ اس کا ثابت ہونا تو معروف ہے، اس کے ثابت ہونے کو تو جانا گیا ہے یعنی سب کو پتہ ہے اس غائب آدمی کا اس عورت سے نکاح ہوا تھا، یعنی نکاح تو یقینی چیز ہے۔ نکاح تو یقینی چیز ہے اور غائب ہونا اس کی وجہ سے نکاح نہیں ٹوٹتا۔ بھئی، ایک آدمی ایک دو سال تین سال غائب رہے اور پھر واپس آ جائے تو اس کی وجہ سے دیکھو نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔ معلوم ہوا غائب ہونا یہ اس سے جدائی ثابت نہیں ہوتی بھئی، اور غائب ہونے کے دوران موت کا صرف ایک احتمال ہے کوئی یقینی چیز نہیں۔ لہٰذا موت کے صرف احتمال کی وجہ سے جدائی ثابت نہیں کی جا سکتی، کیونکہ موت کے ہونے میں شک ہے اور نکاح کا ہونا یقینی ہے اور فقہ کا ضابطہ ہے ”الْيَقِينُ لَا يَزُولُ إِلَّا بِالْيَقِينِ“ یقین یقین ہی کے ذریعے زائل ہو سکتا ہے، یعنی یقینی چیز یقینی چیز کے ذریعے ہی ختم ہو سکتی ہے، یقین جو ہے وہ شک کے ذریعے باطل نہیں ہو سکتا۔ تو نکاح کا ہونا یقینی اور اس غائب کا مرنا وہ اس میں شک ہے تو شک کے ذریعے وہ یقینی چیز یعنی نکاح کو باطل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ النِّكَاحَ عُرِفَ ثُبُوتُهُ“ اور اس لیے کیونکہ نکاح جو ہے اس کے ثابت ہونے کو جانا گیا ہے یعنی سب کو معلوم ہے اس غائب آدمی کا اس عورت سے نکاح ہوا تھا، ”وَالْغَيْبَةُ لَا تُوجِبُ الْفُرْقَةَ“ اور غائب ہو جانا یہ تو جدائی کو ثابت نہیں کرتا، ”وَالْمَوْتُ فِي حَيِّزِ الِاحْتِمَالِ“ اور موت بھی جو ہے احتمال کے محل میں ہے۔ حیز کا معنیٰ محل اور جگہ۔ ”وَالْمَوْتُ فِي حَيِّزِ الِاحْتِمَالِ“ اور موت جو ہے وہ احتمال کے محل میں ہے یعنی موت کا تو صرف احتمال ہے کوئی یقینی نہیں، وہ غائب آدمی کی موت کا صرف احتمال ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَوْتُ فِي حَيِّزِ الِاحْتِمَالِ“ اور موت تو احتمال کے محل میں ہے، ”فَلَا يُزَالُ النِّكَاحُ بِالشَّكِّ“ تو لہٰذا نکاح زائل نہیں ہو سکتا شک کی وجہ سے۔ ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ“ یہاں سے جواب دے رہے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کی دلیل کا۔ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فیصلے کو ذکر فرمایا تھا بطورِ دلیل کے کہ انہوں نے چار سال کے بعد جدائی کا فیصلہ کیا تھا۔ کہتے ہیں: ”وَعُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ رَجَعَ إِلَى قَوْلِ عَلِيٍّ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے رجوع فرما لیا تھا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قول کی طرف، ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْإِيلَاءِ“ یہاں سے ان کے قیاس کا جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے اس مفقود کے مسئلے کو قیاس کیا تھا ایلاء اور عنین ہونے پر، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ آپ غائب ہونے کو ایلاء پر قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ ایلاء جو تھا یہ جاہلیت میں فوری طلاق شمار ہوتی تھی۔ اگر کوئی شخص یہ قسم کھا لیتا کہ واللہ میں چار ماہ یا چار ماہ سے زیادہ تک اپنی بیوی کے پاس نہیں جاؤں گا تو اس کو اسی وقت طلاق شمار کیا جاتا تھا۔ شریعت نے یہ حکم برقرار رکھا، شریعت میں بھی یہ طلاق ہی ہے البتہ شریعت نے مدت مقرر کر دی کہ فوری طلاق نہیں ہے، چار مہینے کے بعد طلاق ہو جائے گی اگر اس نے اس قسم کو نہ توڑا، تو جاہلیت میں یہ ایلاء طلاقِ معجل تھا اور شریعت نے اس کو طلاقِ مؤجل بنا دیا، تو ایلاء تو طلاق کے معنیٰ میں ہے اور کسی آدمی کا غائب ہو جانا یہ تو طلاق کے معنیٰ میں کسی بھی اعتبار سے نہیں ہے، لہٰذا آپ غائب ہونے کو ایلاء پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِالْإِيلَاءِ“ اور ایلاء پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، ”لِأَنَّهُ كَانَ طَلَاقًا مُعَجَّلًا“ اس لیے کیونکہ ایلاء جاہلیت کے اندر طلاقِ معجل تھا یعنی فوری طلاق شمار ہوتا تھا، ”فَاعْتُبِرَ فِي الشَّرْعِ مُؤَجَّلًا“ تو شریعت میں اس کو طلاقِ مؤجل شمار کیا گیا کہ یہ مدت کے بعد طلاق ہوگی، ”فَكَانَ مُوجِبًا لِلْفُرْقَةِ“ تو ایلاء جو ہے یہ جدائی کو ثابت کرتا ہے، یہ طلاق کے حکم میں ہے لیکن غائب ہونا یہ تو طلاق کے حکم میں نہیں ہے بھئی، ”وَلَا بِالْعُنَّةِ“ اور آپ اس غائب ہونے کو عنین ہونے پر بھی قیاس نہیں کر سکتے۔ امام مالک رحمہ اللہ نے غائب ہونے کو قیاس کیا تھا عنین پر، ہم کہتے ہیں: نہیں، جو شخص غائب ہے وہاں واپسی کی امید ہے کیونکہ بعض اوقات لوگ غائب ہوتے ہیں اور پھر واپس آ جاتے ہیں، لیکن عنین پر جب ایک سال گزر جائے اور ایک آدمی ٹھیک نہ ہو تو پھر کم ہی ایسا ہوتا ہے کہ وہ آدمی دوبارہ ٹھیک ہو سکے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا بِالْعُنَّةِ“ اور اس غائب ہونے کو آپ عنین ہونے پر بھی قیاس نہیں کر سکتے، ”لِأَنَّ الْغَيْبَةَ تُعْقِبُ الْأَوْبَةَ“ یا ”تُعَقِّبُ الْأَوْبَةَ“ ”لِأَنَّ الْغَيْبَةَ“ اس لیے کیونکہ غائب ہونا ”تُعْقِبُ الْأَوْبَةَ“ ”آبَ يَئُوبُ أَوْبًا“ اور ”أَوْبَةً“ کا معنیٰ ہے واپس لوٹنا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَيْبَةَ تُعْقِبُ الْأَوْبَةَ“ اس لیے کیونکہ غائب ہونا یہ اپنے پیچھے واپس لوٹنے کو لاتا ہے، غائب ہونے کے بعد واپسی ہوتی ہے یعنی واپسی کی امید ہوتی ہے اور لوگ واپس آ جاتے ہیں۔ تو یہ آپ چاہے ”أَعْقَبَ يُعْقِبُ“ بابِ افعال سے پڑھ لیں یا ”عَقَّبَ يُعَقِّبُ تَعْقِیْب“ بابِ تفعیل سے پڑھ لیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْغَيْبَةَ تُعَقِّبُ الْأَوْبَةَ“ اس لیے کیونکہ غائب ہونا اپنے پیچھے واپس لوٹنے کو لاتا ہے، ”وَالْعُنَّةُ قَلَّمَا تَنْحَلُّ“ اور عنین ہونا بہت کم ٹھیک ہوتا ہے، ”بَعْدَ اسْتِمْرَارِهَا سَنَةً“ ایک سال تک مسلسل رہنے کے بعد۔ اگر عنین ہونے کی بیماری پورا سال رہی پھر اس کے بعد کم ہی کوئی ٹھیک ہوتا ہے بھئی۔ تو ”اِنْحَلَّ يَنْحَلُّ“ کے معنیٰ ہیں کھل جانا، یہاں مراد ہے ٹھیک ہو جانا یعنی مرض کا دور ہو جانا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْعُنَّةُ قَلَّمَا تَنْحَلُّ“ اور عنین ہونا بہت کم دور ہوتا ہے ”بَعْدَ اسْتِمْرَارِهَا سَنَةً“ بعد اس کے کہ ایک سال تک یہ مسلسل رہے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَإِذَا تَمَّ لَهُ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً“ اب وہ احناف کے اقوال آ گئے۔ عند الاحناف غائب آدمی اور اس کی بیوی کے درمیان قاضی جدائی کا فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ”قَالَ:“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا تَمَّ لَهُ مِائَةٌ وَعِشْرُونَ سَنَةً“ اور جب اس آدمی کے ایک سو بیس سال پورے ہو جائیں ”مِنْ يَوْمِ وُلِدَ“ اس دن سے جب وہ پیدا ہوا تھا، یعنی اس کی پیدائش سے ایک سو بیس سال پورے ہو جائیں یعنی اس کی عمر ایک سو بیس سال ہو جائے، ”حَكَمْنَا بِمَوْتِهِ“ تو اب ہم اس کی موت کا فیصلہ کریں گے۔ ”قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ:“ اس سے مراد صاحبِ ہدایہ ہیں۔ ”قَالَ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ:“ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَهٰذِهِ رِوَايَةُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ کہ یہ جو متن کے اندر آیا یہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے امام صاحب سے۔ کیا فرماتے ہیں؟ کہ مفقود کی زندگی جب ایک سو بیس سال کو پہنچ جائے تو پھر اس وقت اس کی موت کا حکم لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذِهِ رِوَايَةُ الْحَسَنِ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور یہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ کی روایت ہے امام صاحب سے، ”وَفِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ“ اور ظاہرِ مذہب میں ”يُقَدَّرُ بِمَوْتِ الْأَقْرَانِ“ کہ اس کو مقرر کیا جائے گا یا اس کا اندازہ لگایا جائے گا ”بِمَوْتِ الْأَقْرَانِ“ ہم عمروں کی موت سے۔ وہ جو مفقود ہے جب اس کے سارے ہم عمر مر جائیں تو اب اس مفقود پر بھی موت کا حکم لگایا جائے گا، کیونکہ عادۃً ایسا کم ہی ہوتا ہے کہ کسی کے ہم عمر مر جائیں اور وہ زندہ رہے، تو لہٰذا اس پر بھی موت کا حکم لگایا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي ظَاهِرِ الْمَذْهَبِ يُقَدَّرُ بِمَوْتِ الْأَقْرَانِ“ اور ظاہرِ مذہب میں اس کا اندازہ لگایا جائے گا اس کے ہم عمروں کی موت کے ساتھ، ”وَفِي الْمَرْوِيِّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اب یہ تیسرا قول آ گیا، ”وَفِي الْمَرْوِيِّ عَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور وہ جو روایت کیا گیا ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ”بِمِائَةِ سَنَةٍ“ اس کا اندازہ سو سال کے ساتھ لگایا جائے گا، ”وَقَدَّرَهُ بَعْضُهُمْ بِتِسْعِينَ“ اور بعضوں نے اس کا اندازہ نوے سال کے ساتھ لگایا ہے۔ بعضوں نے اس کا اندازہ نوے سال کا لگایا ہے کہ نوے سال کو جب اس مفقود کی عمر پہنچ جائے تو تب اس پر موت کا حکم لگایا جائے گا۔ ”وَالْأَقْيَسُ أَنْ لَا يُقَدَّرَ بِشَيْءٍ“ ”وَالْأَقْيَسُ“ اسمِ تفضیل ہے بھئی، اسمِ تفضیل۔ یاد رکھو یہ جو اسمِ تفضیل آتا ہے یہ اسمِ فاعل سے آتا ہے۔ ”اَضْرَبُ“ کیا معنیٰ؟ زیادہ ضارب، کسی کے مقابلے میں زیادہ ضارب، دیکھو ضارب اسمِ فاعل ہے۔ یہ اسی طرح ”اَسْمَعُ“ یعنی زیادہ سامع، زیادہ سننے والا۔ توجہ ہے؟ لیکن بہت ہی کم اور نادر ہوتا ہے کہ اسمِ مفعول سے اسمِ تفضیل آ جائے، جیسے ”اَشْهَرُ“ اشہر یاد رکھو یہ اسمِ فاعل سے نہیں آیا بلکہ یہ اسمِ مفعول سے آیا ہے، اشہر کا معنیٰ زیادہ مشہور بھئی۔ دیکھو مشہور مفعول دیکھو یہ اسمِ مفعول سے آیا ہے۔ تو اسمِ تفضیل عام طور پر اسمِ فاعل سے آتا ہے اس کے اندر زیادتی کو بیان کرتا ہے کسی کے مقابلے میں، اور اسمِ مفعول سے اسمِ تفضیل آ جائے ایسا نہایت نادر اور شاذ ہوتا ہے، جیسے میں نے مثال ذکر کر دی اشہر بمعنیٰ زیادہ مشہور کے۔ اسی طرح یہ ”اَقْيَسُ“ یہ اسمِ تفضیل ہے اور یہ بھی اسمِ مفعول سے آیا ہے یعنی مقیس سے۔ اسمِ مفعول جیسے ”بَاعَ يَبِيعُ“ سے اسمِ مفعول کیا آتا ہے؟ ”مَبِيعٌ“۔ توجہ ہے؟ اسی طرح ”قَاسَ يَقِيسُ“ سے ”مَقِيسٌ“، تو یہ اس سے اسمِ تفضیل ہے بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَالْأَقْيَسُ أَنْ لَا يُقَدَّرَ بِشَيْءٍ“ اور بہتر قیاس یہ ہے، ترجمہ کیا کریں؟ ”وَالْأَقْيَسُ“ بہتر قیاس یہ ہے۔ ”وَالْأَقْيَسُ أَنْ لَا يُقَدَّرَ بِشَيْءٍ“ اور بہتر قیاس یہ ہے کہ کسی چیز کے ساتھ اس کا اندازہ نہ لگایا جائے، یعنی احوال کے مطابق دیکھا جائے۔ احوال کے مطابق دیکھا جائے، کوئی مقرر نہ کیا جائے سو سال یا نوے سال، بس جس زمانے کے لوگ ہیں اس زمانے کی عمر کا اعتبار کر لیا جائے گا بھئی۔ جیسے آج کل بھئی عام طور پر عام لوگوں کی عمر ستر سے اسی سال تک ہوتی ہے بھئی، اس سے زیادہ عمر کم ہی کسی کی ہوتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَقْيَسُ أَنْ لَا يُقَدَّرَ بِشَيْءٍ“ اور بہتر قیاس یہ ہے کہ کسی چیز کے ساتھ مقرر نہ کیا جائے، ”وَالْأَرْفَقُ أَنْ يُقَدَّرَ بِتِسْعِينَ“ ”اَرْفَقُ“ بھئی رفق سے ہے، رفق کہتے ہیں نرمی کرنا۔ ”رَفَقَ يَرْفُقُ“ کا معنیٰ ہے نرمی کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَرْفَقُ“ اور زیادہ نرمی جو ہے وہ اس میں ہے ”أَنْ يُقَدَّرَ بِتِسْعِينَ“ کہ اس کا اندازہ لگایا جائے نوے سال کے ساتھ، اور نیچے میری کتاب میں بین السطور ہے ”وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى“ اور اسی پر فتویٰ ہے بھئی۔ البتہ میں نے بتایا، آج کل احناف ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں، اگر ایک شخص غائب ہو گیا ہے اور اس کا کچھ اتہ پتہ معلوم نہیں تو چار سال بعد اس کی بیوی کا اس سے جدائی کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَإِذَا حَكَمَ بِمَوْتِهِ“ اور جب قاضی اس غائب شخص کی موت کا فیصلہ کر دے، ”اعْتَدَّتِ امْرَأَتُهُ عِدَّةَ الْوَفَاةِ“ تو اس کی بیوی جو ہے وفات کی عدت گزارے گی ”مِنْ ذٰلِكَ الْوَقْتِ“ اس وقت سے، جب قاضی فیصلہ کرے گا اس کے بعد یہ وفات کی عدت گزارے گی چار مہینے اور دس دن اور اس کے بعد پھر وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَقُسِمَ مَالُهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ الْمَوْجُودِينَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ“ بھئی، یاد رکھو، یاد رکھو، یہ جو مفقود ہے یہ اپنے حق میں زندہ شمار ہوگا اور دوسروں کے حق میں مردہ شمار ہوگا۔ یہ اہم ضابطہ ہے۔ مفقود اپنے حق میں زندہ شمار اور دوسروں کے حق میں مردہ شمار ہوگا۔ لہٰذا اس کی جائیداد تقسیم نہیں کریں گے، اس میں وراثت جاری نہیں کریں گے، یہ زندہ شمار ہوگا جب تک قاضی فیصلہ نہیں کر دیتا۔ اور دوسروں کے حق میں یہ مردہ شمار ہوگا، لہٰذا یہ دوسروں کا وارث نہیں بنے گا بھئی۔ اس کے رشتہ داروں میں سے اگر کوئی مر جاتا ہے تو یہ وارث نہیں بنے گا بھئی۔ آگے دیکھیے، مسائل آئیں گے صاحبِ ہدایہ اور وضاحت فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَقُسِمَ مَالُهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ الْمَوْجُودِينَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ“ اور اس غائب آدمی کا مال تقسیم کر دیا جائے گا ”بَيْنَ وَرَثَتِهِ الْمَوْجُودِينَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ“ اس کے ان وارثوں کے اندر جو اس وقت موجود ہوں، جب اس کی موت کا فیصلہ کیا گیا اس وقت اس کے جو وارث زندہ ہیں وہ وارث بنیں گے، کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ وارث وہ آدمی بنتا ہے جو مورث کی موت کے وقت زندہ ہو۔ تو جب قاضی نے اس غائب آدمی کی موت کا فیصلہ کیا، اب جو اس کے وارث زندہ ہیں صرف وہ وارث بنیں گے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: کہتے ہیں: ”وَقُسِمَ مَالُهُ بَيْنَ وَرَثَتِهِ“ اور تقسیم کر دیا جائے گا اس غائب آدمی کا مال اس کے وارثوں میں، ”الْمَوْجُودِينَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ“ جو اس وقت یعنی قاضی کے فیصلے کے وقت موجود ہیں یعنی زندہ ہیں، ”كَأَنَّهُ مَاتَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ مُعَايَنَةً“ گویا کہ یہ مفقود اسی وقت مرا ہے معاینۃً باعتبار مشاہدے کے، یعنی جیسے ایک آدمی کی موت کا آدمی خود مشاہدہ کرتا ہے تو یہاں بھی اس کو اسی طرح سمجھا جائے گا جیسے حقیقۃً اس کی موت ابھی ہوئی ہے۔ ”كَأَنَّهُ مَاتَ فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ مُعَايَنَةً“ تو گویا کہ یہ مفقود جو ہے اسی قاضی کے فیصلے کے وقت مرا ہے معاینۃً باعتبار مشاہدے کے، ”إِذِ الْحُكْمِيُّ مُعْتَبَرٌ بِالْحَقِيقِيِّ“ اس لیے کیونکہ موتِ حکمی جو ہے اس کو قیاس کیا جاتا ہے موتِ حقیقی پر۔ یہ قاضی کا فیصلہ موتِ حکمی ہے لیکن موتِ حکمی کو بھی کس پر قیاس کرتے ہیں؟ موتِ حقیقی پر۔ یہ معنیٰ ہے۔ ”إِذِ الْحُكْمِيُّ مُعْتَبَرٌ بِالْحَقِيقِيِّ“ اس لیے کیونکہ موتِ حکمی کو قیاس کیا جاتا ہے موتِ حقیقی پر، ”وَمَنْ مَاتَ قَبْلَ ذٰلِكَ لَمْ يَرِثْ مِنْهُ“ اور جو کوئی اس سے پہلے مر گیا ”لَمْ يَرِثْ مِنْهُ“ وہ اس مفقود سے وارث نہیں بنے گا۔ قاضی کے فیصلے سے پہلے اگر مفقود کے وارثوں میں سے کوئی مر جائے تو یوں سمجھیں گے کہ مفقود کی زندگی میں ہی وہ مر گیا اور جب مفقود... خود کی زندگی میں مر گیا ہے تو اس کو مالِ وراثت نہیں ملے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَمَنْ مَاتَ قَبْلَ ذٰلِكَ﴾ اور مفقود کے وارثوں میں سے جو کوئی اس سے پہلے مر جائے ﴿لَمْ يَرِثْ مِنْهُ﴾ تو وہ وارث نہیں بنے گا اس مفقود سے ﴿لِأَنَّهُ لَمْ يُحْكَمْ بِمَوْتِهِ فِيهَا﴾ اس لیے کیونکہ اس کے اندر مفقود کی موت کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا ﴿فَصَارَ كَمَا إِذَا كَانَتْ حَيَاتُهُ مَعْلُومَةً﴾ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے کہ اس کی زندگی معلوم تھی۔ جیسے کہ اس کی زندگی معلوم تھی، لہٰذا اس دوران قاضی کے فیصلے سے پہلے کوئی مرا ہے تو وہ یوں سمجھیں گے مفقود کی زندگی میں مرا ہے، اور جب مفقود کی زندگی میں مرا ہے تو وہ اس کے وارث نہیں بنیں گے بھئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَا يَرِثُ الْمَفْقُودُ أَحَدًا مَاتَ فِي حَالِ فَقْدِهِ﴾ اور یہ مفقود خود بھی کسی کا وارث نہیں بنے گا جو اس کے غائب ہونے کی حالت میں مر گیا۔ جی، مفقود کے غائب ہونے کی حالت میں جو مر گیا، مفقود اس کا وارث نہیں بنے گا، یعنی اس مال کا مالک نہیں بنے گا۔ ہاں البتہ مال اس کے لیے روک کر رکھا جائے گا کہ شاید یہ واپس آ جائے بھئی۔ اس کے لیے مال روک کر رکھا جائے گا، تو باقی وارث جو ہیں وہ تو اپنے حصے کے مالک بن جائیں گے، لیکن یہ اپنے مورث کے مال میں سے اپنی میراث کا مالک نہیں بنے گا۔ ہاں وہ مال اس کے لیے روک کر رکھا جائے گا کہ شاید یہ واپس آ جائے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے ﴿وَلَا يَرِثُ الْمَفْقُودُ أَحَدًا﴾ اور مفقود کسی ایسے رشتہ دار کا وارث نہیں بنے گا ﴿مَاتَ فِي حَالِ فَقْدِهِ﴾ کہ جو اس مفقود کے غائب ہونے کی حالت میں مر گیا ہو۔ ﴿لِأَنَّ بَقَاءَهُ حَيًّا فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ﴾ اس لیے کیونکہ مفقود کا زندہ ہو کر باقی رہنا اس وقت میں ﴿بِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ﴾ وہ استصحابِ حال سے تھا۔ جی۔ استصحابِ حال، استصحاب بھئی، یہ مصاحبت سے ہے، یعنی کسی کا ساتھی ہونا۔ استصحابِ حال کہتے ہیں: ”إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ“، یعنی ایک چیز کو باقی رکھنا اسی حالت پر جس حالت پر وہ ماضی میں تھی۔ ”إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ“، ایک چیز کو باقی رکھنا اسی وصف پر جس وصف پر وہ ماضی کے اندر تھا بھئی۔ مثلاً دیکھو، مثال سے وضاحت ہو گی۔ جنگل کے اندر ایک شخص جا رہا ہے، اب اس کو وضو کی حاجت پیش آ گئی، اور تو کوئی پانی وغیرہ نہیں، کوئی بستی نہیں، جنگل میں ایک جگہ کچھ پانی کھڑا ہوا ہے۔ اب اس کے اندر پتے وغیرہ، تنکے تو پڑے ہوئے ہیں، لیکن معلوم نہیں یہ پانی پاک ہے یا پاک نہیں۔ تو یاد رکھو، اس صورت میں فقہاء فرماتے ہیں، استصحابِ حال کو دلیل بنایا جائے گا اور پانی کو پاک قرار دیا جائے گا۔ جی۔ استصحابِ حال کو دلیل بنایا جائے گا، اور استصحابِ حال کسے کہتے ہیں؟ ”إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ“، بلکہ اور آسان لفظوں میں یوں سمجھو، استصحاب کے اندر سین طلب کے لیے ہے، مصاحبت کو طلب کرنا، ساتھی بننے کو طلب کرنا۔ یعنی حال کو آپ ماضی کا ساتھی بنا دیتے ہیں۔ ایک چیز پر حال کے اندر آپ وہی حکم لگا دیتے ہیں جو ماضی کے اندر تھا، تو آپ نے حال کو ساتھی بنا دیا، کس کا؟ ماضی کا۔ ماضی میں جو حکم ثابت تھا وہی حکم آپ نے اس زمانۂ حال میں بھی اس پر لگا دیا۔ اب دیکھو، یہ جو جنگل کے اندر پانی تھا، یہ پانی کہاں سے آیا؟ یہ بارش کا پانی ہے بھئی، اور بارش کا پانی تو پاک ہوتا ہے۔ معلوم ہوا جس وقت یہ پانی جمع ہوا تھا اس وقت یہ پاک پانی تھا، تو جب اس وقت پاک تھا تو آج بھی اس کو پاک قرار دیا جائے گا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استصحابِ حال، یعنی حال کو ہم نے ماضی کا ساتھی بنا دیا۔ حال پر بھی وہی حکم لگا دیا جو ماضی کے اندر اس پانی کا حکم تھا، ماضی کے اندر یہ پانی پاک تھا کیونکہ بارش کا پانی تھا، اور آج بھی اس پر یہی حکم لگا دیا۔ اس کو کیا کہتے ہیں؟ استصحابِ حال۔ ”إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ“، ایک چیز کو باقی رکھنا اسی وصف پر جس وصف پر وہ ماضی کے اندر تھا بھئی۔ اور یاد رکھو، یہ جو استصحابِ حال ہے یہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، اثبات کی دلیل نہیں بن سکتا۔ یہ استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، اثبات کی دلیل نہیں۔ دیکھو، یہاں پر بھی اس پانی کے نجس ہونے کو دفع کر دیا، تو لہٰذا استصحابِ حال جو ہے وہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، وہ کسی حکم کو آنے نہ دے، جیسے یہاں پر پانی کے نجس ہونے کا حکم نہیں آیا۔ تو استصحابِ حال کسی حکم کو روکنے کے لیے تو دلیل بن سکتا ہے، لیکن کسی چیز کے اثبات کے لیے دلیل نہیں بن سکتا۔ توجہ ہے؟ بات چل رہی تھی کہ مفقود کے غائب ہونے کے دوران اس کے جو رشتہ دار مر رہے ہیں، یہ ان کا وارث نہیں بنے گا۔ بھئی کیوں نہیں وارث بنے گا؟ کہتے ہیں یہ جو غائب آدمی ہے اس کو ہم نے ابھی بھی زندہ شمار کیا ہے، لیکن کس دلیل کے ذریعے؟ استصحابِ حال کے ذریعے، کہ جب یہ غائب ہوا تھا تب تو زندہ تھا، آج بھی یوں سمجھو یہ زندہ ہے، اور استصحابِ حال دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے۔ چنانچہ استصحابِ حال اس کے وارثوں کو نہیں آنے دے گا، اس کا مال روک کر رکھیں گے، اس کے وارثوں کو نہیں دیں گے۔ استصحابِ حال دفع کی دلیل بن گیا، اس کے مال میں وراثت کو وہ جاری نہیں ہونے دے رہا، لیکن خود یہ کسی دوسرے کا وارث بن جائے؟ تو استصحابِ حال وہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، استحقاقِ میراث کی دلیل نہیں بن سکتا کہ اس کا وارث ہونا ثابت ہو جائے۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّ بَقَاءَهُ حَيًّا فِي ذٰلِكَ الْوَقْتِ﴾ اس لیے کیونکہ اس غائب آدمی کا زندہ باقی رہنا اس وقت کے اندر ﴿بِاسْتِصْحَابِ الْحَالِ﴾ یہ استصحابِ حال سے ہے، ﴿وَهُوَ لَا يَصْلُحُ حُجَّةً فِي الِاسْتِحْقَاقِ﴾ اور استصحابِ حال جو ہے یہ حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا مستحق ہونے میں، کہ یہ مال کا مستحق ہو جائے، اس کی ملکیت ثابت ہو جائے، تو استصحابِ حال جو ہے وہ استحقاق کے لیے حجت بننے کی صلاحیت نہیں رکھتا، ہاں دفع کی صلاحیت وہ رکھتا ہے۔ چنانچہ اسی لیے استصحابِ حال کی وجہ سے اس کو زندہ شمار کیا جائے گا اور کوئی وارث اس کے مال کا مالک نہیں بنے گا، اس کا مال اسی کے لیے روک کر رکھا جائے گا۔ تو استصحابِ حال دفع کی دلیل بنا یعنی اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل نہیں ہوا استصحابِ حال کی وجہ سے، بات سمجھ میں آ گئی؟ ﴿وَكَذٰلِكَ لَوْ أُوصِيَ لِلْمَفْقُودِ وَمَاتَ الْمُوصِي﴾ اور اسی طرح اگر اس غائب آدمی کے لیے وصیت کی گئی۔ یاد رکھو، علماء فرماتے ہیں: ”الْوَصِيَّةُ أُخْتُ الْمِيرَاثِ“۔ وصیت میراث کی بہن ہے، یعنی جیسے کسی آدمی کے مرنے کے بعد اس کی میراث جاری ہوتی ہے اسی طرح اس کے مرنے کے بعد اس کی وصیت نافذ ہوتی ہے۔ اور جیسے کسی آدمی کے مرنے کے بعد میراث صرف ان لوگوں کو ملے گی جو زندہ ہیں، جو لوگ مرنے کے وقت زندہ ہیں وہ وارث بنیں گے، اسی طرح جس آدمی کے لیے وصیت کی ہے اس کا بھی موت کے وقت زندہ ہونا ضروری ہے۔ اگر وہ وصیت کرنے والے کی زندگی میں ہی وہ آدمی مر گیا جس کے لیے وصیت کی تھی تو یاد رکھو وہ وصیت باطل ہو جائے گی۔ ایک آدمی نے وصیت کی: میرے مرنے کے بعد زید کو دس لاکھ روپے دے دینا، تو یاد رکھو زید کو یہ دس لاکھ روپے اس آدمی کے مرنے کے بعد ملیں گے، اور اس کے لیے ضروری ہے کہ جس وقت اس آدمی کا انتقال ہو زید زندہ ہونا چاہیے۔ اگر زید اس آدمی کی زندگی میں ہی مر گیا تو اس آدمی کی یہ وصیت باطل ہے۔ توجہ ہے؟ تو ”الْوَصِيَّةُ أُخْتُ الْمِيرَاثِ“، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جیسے یہ شخص جو غائب ہے، جیسے یہ اپنے رشتہ داروں کا وارث نہیں بن سکتا، اسی طرح اگر اس کے لیے کسی نے وصیت کی ہے تو اس کو وصیت کا مال بھی نہیں ملے گا۔ کیونکہ اس آدمی کو جو زندہ شمار کیا جاتا ہے وہ استصحابِ حال کے ذریعے کیا جاتا ہے، اور استصحابِ حال وہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، مال کے مستحق ہونے کی دلیل نہیں بن سکتا۔ تو یہ اس وصیت کے مال کا مالک نہیں بنے گا، ہاں اس کے لیے وہ مال روک کر رکھا جائے گا کہ شاید یہ زندہ ہو اور واپس آ جائے، تو وہ وصیت کا مال اس کے لیے روک کر رکھا جائے گا، البتہ یہ اس کا مالک نہیں بنے گا۔ تو بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ کہ مفقود اپنے رشتہ داروں میں سے کسی کا وارث نہیں بنے گا، یعنی یہ مالِ میراث اس کی طرف منتقل نہیں ہو گا، یہ اس کا مالک شمار نہیں ہو گا، ہاں البتہ اس کے لیے مالِ وراثت روک کر رکھا جائے گا۔ یہ معنی ہے: ﴿وَكَذٰلِكَ لَوْ أُوصِيَ لِلْمَفْقُودِ﴾ اور اسی طرح ہے اگر وصیت کی گئی اس غائب آدمی کے لیے ﴿وَمَاتَ الْمُوصِي﴾ اور وہ وصیت کرنے والے کا انتقال ہو گیا۔ ﴿ثُمَّ الْأَصْلُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ مَعَ الْمَفْقُودِ وَارِثٌ لَا يُحْجَبُ بِهِ﴾ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں۔ آپ نے پڑھ لیا کہ مفقود کے رشتہ داروں میں سے اگر کسی کا انتقال ہو جائے تو مفقود اس کا وارث نہیں بنے گا، میں نے بتلایا وارث نہ بننے کا معنی یہ ہے کہ وہ اس مالِ میراث کا مالک نہیں بنے گا، ہاں البتہ مفقود کے لیے مال روک کر رکھا جائے گا۔ اب کتنا مال اس کے لیے روک کر رکھا جائے گا اور اس کا کیا ضابطہ اور طریقہ ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ اس کو بیان فرمانے لگے ہیں۔ توجہ ہے؟ مفقود کے لیے اس کے مورث کا مال روک کر رکھا جائے گا، تو کتنا مال روک کر رکھا جائے گا اور اس کا کیا طریقہ ہے؟ اب صاحبِ ہدایہ وہ بیان فرما رہے ہیں۔ اس سے پہلے ایک دو باتیں سمجھ لیجیے۔ بھئی، آپ نے سراجی کے اندر پڑھا ہو گا کہ ایک ہے حجبِ حرمان اور ایک ہے حجبِ نقصان۔ ایک وارث کی وجہ سے بعض اوقات دوسرا وارث پورے طور پر محروم ہو جاتا ہے، اس کو کہتے ہیں حجبِ حرمان۔ حجب کا معنی روکنا، تو حجبِ حرمان یعنی دوسرے کو اس طریقے سے روکا کہ اسے پورے طور پر محروم کر دیا۔ اور ایک ہے حجبِ نقصان، کہ بعض اوقات ایک وارث کی وجہ سے دوسرے وارث کے حصے میں کمی آ جاتی ہے، اس کو کہتے ہیں حجبِ نقصان بھئی، کہ دوسرے کے حصے کو روکا اور اس طریقے پر کہ اس میں کمی کی ہے، اس کو پورے طور پر محروم نہیں کیا۔ مثلاً دیکھو، آپ جانتے ہیں کہ واسطہ کے ہوتے ہوئے ذو الواسطہ کو نہیں ملتا۔ جیسے ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کا بیٹا بھی زندہ اور بیٹے کا بیٹا یعنی پوتا بھی زندہ ہے، تو اب جب بیٹا موجود ہے تو پوتے کو کچھ بھی نہیں ملے گا، تو اس کو کہیں گے حجبِ حرمان، کہ بیٹے نے پوتے کو بالکل محروم کر دیا، تو یہ حجبِ حرمان ہے۔ اور بعض اوقات ایک وارث دوسرے وارث کے حصے میں کمی کر دیتا ہے، جیسے ماں کو ثلث ملتا ہے، تیسرا حصہ۔ مرنے والے کے مال میں سے ماں کو تیسرا حصہ ملتا ہے، لیکن اگر مرنے والے کی اولاد موجود ہے تو پھر ماں کو چھٹا حصہ ملتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو دیکھو، اس مرنے والے کی اولاد نے ماں کا حصہ ثلث سے کم کر کے سدس کر دیا، اس کو کہتے ہیں حجبِ نقصان۔ یا جیسے بیوی ہے، بیوی کو مرنے والے کے مال میں سے چوتھا حصہ ملتا ہے یعنی ربع، لیکن اگر مرنے والے کی اولاد بھی موجود ہے تو پھر بیوی کو آٹھواں حصہ ملتا ہے یعنی ثمن۔ تو دیکھو، اولاد نے اس مرنے والے کی بیوی کے حصے کو ربع سے کم کر کے ثمن یعنی آٹھواں حصہ کر دیا۔ معلوم ہوا یہ حجب دو قسم پر ہے: ایک حجبِ حرمان ہے اور ایک حجبِ نقصان ہے۔ جس کے حصے میں کمی ہوئی ہے وہ بھی محجوب ہے، جس کو پورے طور پر محروم کر دیا گیا وہ بھی محجوب ہے، لیکن یاد رکھو عام طور پر محجوب کا لفظ اس وارث کے لیے استعمال ہوتا ہے جو پورے طور پر میراث سے محروم ہو جائے۔ جیسے میت کی اولاد نے میت کی ماں کے حصے میں کمی کر دی، ماں محجوب تو ہے، یہاں حجبِ نقصان ہے، لیکن ماں کو محجوب نہیں کہیں گے کیونکہ اس کو مال بہرحال مل تو رہا ہے بھئی، اگرچہ کم ملا ہے لیکن مال ملا تو ہے۔ ہاں البتہ پوتے پوتیاں جو ہیں، بیٹے کی وجہ سے میراث سے پورے طور پر محروم ہو گئے، تو ان پوتے پوتیوں کو محجوب کہیں گے۔ حاصلِ کلام یہ کہ حجب دو قسم پر ہے: ایک حجبِ حرمان ہے اور ایک حجبِ نقصان ہے۔ معلوم ہوا محجوب بھی دو قسم پر ہو گیا: ایک محجوب ہے جس کے حصے میں صرف کمی آئی ہے، اور ایک محجوب وہ ہے جو پورے طور پر میراث سے محروم ہو گیا ہے، تو دونوں محجوب ہیں، لیکن محجوب کا لفظ عام طور پر اس وارث کے لیے بولا جاتا ہے جو میراث سے پورے طور پر محروم ہو جائے۔ تو بیٹے کی وجہ سے پوتے پوتیاں پورے طور پر میراث سے محروم ہو گئے، تو ان پوتے پوتیوں کو محجوب کہیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اب یہاں مسئلہ ذکر ہو رہا تھا کہ مفقود کے لیے کتنا مال روک کر رکھا جائے گا؟ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو ضابطہ بتلائیں گے، کہ اگر مفقود کی وجہ سے کسی وارث کے حصے میں کمی آ رہی ہے، مثلاً اگر مفقود کو شمار نہیں کرتے تو اس وارث کو زیادہ حصہ ملتا ہے، لیکن اگر مفقود کو شمار کریں تو اس وارث کو کم حصہ ملتا ہے، تو اس قسم کے وارث کو کمتر حصہ دے دیں گے۔ توجہ ہے؟ ایک وارث ہے، اگر مفقود کو شمار نہ کریں اسے زیادہ مال ملتا ہے، اور اگر مفقود کو شمار کریں تو اسے کم مال ملتا ہے، تو اس وارث کو کمتر مال دے دیا جائے گا اور باقی مال مفقود کے لیے روک لیا جائے گا۔ اور اسی طرح اگر بعض وارث ایسے ہیں کہ اگر مفقود کو شمار نہ کریں تو ان کو مال ملتا ہے، اور اگر مفقود کو شمار کریں تو پھر ان کو مال نہیں ملتا، وہ پورے طور پر محجوب اور محروم ہو جاتے ہیں، تو ان وارثوں کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا، باقی سارا مال مفقود کے لیے روک لیا جائے گا کہ شاید مفقود زندہ واپس آ جائے۔ تو حاصلِ کلام کیا؟ کہ اگر مفقود کی وجہ سے کسی وارث کے حصے میں کمی آتی ہے تو اس وارث کو کم حصہ ہی دیں گے، یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے۔ اور اسی طرح وہ وارث کہ جو مفقود کی وجہ سے پورے طور پر محروم ہو جاتا ہے تو یہاں بھی یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے اور اس وارث کو کچھ بھی نہیں دیں گے، اور یہ سارا مال مفقود کے لیے روک کر رکھیں گے کہ شاید مفقود زندہ واپس آ جائے۔ اور اگر مفقود زندہ واپس نہ آیا اور قاضی نے اس کی موت کا فیصلہ کر دیا، تو پھر اس کے بعد یہ مال جو ہے ان وارثوں کو دے دیا جائے گا جن سے یہ مال روکا گیا تھا۔ توجہ ہے؟ تو دیکھیے بھئی، کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ الْأَصْلُ﴾ پھر ضابطہ یہ ہے، یعنی مفقود کے لیے جو مال روکا جائے گا اس کا ضابطہ بتلا رہے ہیں، کہتے ہیں: ﴿ثُمَّ الْأَصْلُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ مَعَ الْمَفْقُودِ وَارِثٌ لَا يُحْجَبُ بِهِ﴾ پھر ضابطہ یہ ہے کہ اگر مفقود کے ساتھ کوئی ایسا وارث ہے جو مفقود کی وجہ سے محجوب نہیں ہوتا یعنی پورے طور پر محروم نہیں ہوتا، ﴿وَلٰكِنَّهُ يَنْتَقِصُ حَقُّهُ بِهِ﴾ لیکن مفقود کی وجہ سے اس کا حق کم ہو جاتا ہے، ﴿يُعْطَى أَقَلَّ النَّصِيبَيْنِ﴾ تو اس وارث کو دو حصوں میں سے کم تر دے دیا جائے گا۔ مفقود کی وجہ سے اگر وارث کے حصے میں کمی آ رہی ہے تو اس وارث کو کم حصہ دے دیا جائے گا، یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ﴿ثُمَّ الْأَصْلُ أَنَّهُ لَوْ كَانَ مَعَ الْمَفْقُودِ وَارِثٌ لَا يُحْجَبُ بِهِ وَلٰكِنَّهُ يَنْتَقِصُ حَقُّهُ بِهِ يُعْطَى أَقَلَّ النَّصِيبَيْنِ﴾ پھر ضابطہ یہ ہے کہ اگر مفقود کے ساتھ کوئی ایسا وارث ہے جو مفقود کی وجہ سے محجوب نہیں ہوتا یعنی محروم نہیں ہوتا، لیکن مفقود کی وجہ سے اس کا حق کم ہو جاتا ہے، تو اس وارث کو دو حصوں میں سے جو کم ہے وہ دے دیا جائے گا، ﴿وَيُوقَفُ الْبَاقِي﴾ اور باقی کا مال موقوف رکھا جائے گا، یعنی اس مفقود کے لیے روک لیا جائے گا، ﴿وَإِنْ كَانَ مَعَهُ وَارِثٌ يُحْجَبُ بِهِ﴾ اور اگر مفقود کے ساتھ کوئی ایسا وارث ہے جو مفقود کی وجہ سے محجوب ہو جاتا ہے یعنی پورے طور پر محروم ہو جاتا ہے، ﴿لَا يُعْطَى أَصْلًا﴾ تو اس کو سرے سے مال دیا ہی نہیں جائے گا۔ اس کو سرے سے مال دیا ہی نہیں جائے گا، کہتے ہیں: ﴿لَا يُعْطَى أَصْلًا﴾ تو اس کو قطعی طور پر مال دیا ہی نہیں جائے گا۔ ﴿بَيَانُهُ﴾ بیان اس کا یہ ہے، بھئی آگے صاحبِ ہدایہ صورتِ مسئلہ کے ذریعے اس کی وضاحت کریں گے کہ کس طرح مفقود کے لیے مال روک کر رکھا جائے گا۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ صورتِ مسئلہ یہ ہے کہ ایک شخص کا انتقال ہوا ہے اور اس کی دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے اور یہ بیٹا مفقود ہے۔ مرنے والے کی دو بیٹیاں ہیں اور ایک بیٹا ہے اور یہ مفقود ہے۔ اسی طرح اس مرنے والے کا ایک پوتا بھی ہے اور ایک پوتی بھی ہے۔ ایک پوتا بھی ہے اور ایک پوتی بھی ہے۔ تو یاد رکھو، یہ جو بہنیں ہیں، اگر مرنے والے کی صرف ایک بیٹی ہو، کوئی بھئی وغیرہ نہ ہو، تو پھر اس بیٹی کو نصف مال ملتا ہے، اور اگر مرنے والے کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں اور کوئی بیٹا نہیں ہے تو پھر ان بیٹیوں کو دو تہائی مال ملتا ہے۔ مرنے والے کی دو یا زیادہ بیٹیاں ہیں، بیٹا کوئی بھی نہیں، تو ان بیٹیوں کو دو تہائی مال ملتا ہے جسے پھر وہ آپس میں تقسیم کر لیتی ہیں برابر برابر بھئی۔ تو اب یہاں پر اگر اس مفقود کو شمار نہ کریں، یوں کہیں اس مرنے والے کی صرف دو بیٹیاں ہیں اور پوتا پوتی ہیں، تو بیٹیوں کو ثلثان ملے گا۔ مفقود کو ہم نے شمار نہیں کیا، صرف دو بیٹیوں کو شمار کیا تو ان کو ثلثان ملنا چاہیے۔ لیکن اگر ان کے ساتھ مفقود کو بھی شمار کر لیں کہ وہ بھی موجود ہے، تو پھر اس صورت میں یاد رکھو، بیٹے کو بیٹیوں سے دگنا مال ملتا ہے، یعنی یوں کہو بیٹے کو دو بیٹیوں کے برابر مال ملتا ہے۔ تو دو بیٹیاں ہیں اس مرنے والے کی اور یہ مفقود جو اس کو ہم نے شمار کر لیا یہ بھی دو بیٹیوں کے برابر، تو مال کو ان میں نصف نصف تقسیم کر دیں گے، یعنی جو دو بیٹیاں ہیں نصف مال ان کو مل جائے گا اور نصف مال جو ہے اس مفقود کو مل جائے گا کہ یہ بھی دو بیٹیوں کے برابر ہے۔ معلوم ہوا اگر مفقود کو شمار نہ کریں تو ان دو بہنوں کو دو ثلث مال ملے گا، اور اگر مفقود کو بھی شمار کریں تو ان بہنوں کا حصہ کم ہو جائے گا، اب ان کو صرف نصف مال ملے گا۔ اور اسی طرح یہ جو میت کے پوتا اور پوتی ہیں، اگر مفقود کو بھی شمار کریں کہ میت کا بیٹا بھی موجود ہے اور پوتے پوتیاں بھی موجود ہیں، تو یاد رکھو جب بیٹا موجود ہو تو پوتے پوتیوں کو کچھ بھی نہیں ملتا۔ اور اگر مفقود کو شمار نہ کریں کہ مثلاً مفقود کا انتقال ہو چکا ہے اور مرنے والے کے پوتا اور پوتی موجود ہیں، تو پھر اس صورت میں ان کو مال ملتا ہے بھئی۔ اوپر جو دو بیٹیوں سے مال بچے گا وہ باقی مال یہ پوتا پوتی آپس میں تقسیم کر لیں گے۔ صورت سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو ایک شخص کا انتقال ہوا، اس کی دو بیٹیاں زندہ ہیں، ایک بیٹا اس کا مفقود ہے، اور اس کے پوتا اور پوتی بھی موجود ہیں۔ اگر ہم اس مفقود کو شمار کریں تو بیٹیوں کا حصہ کم ہو رہا ہے، تو لہٰذا بیٹیوں کو کمتر حصہ دے دیں گے، یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے۔ اور مفقود موجود ہو تو پوتے پوتیوں کو کچھ بھی نہیں ملتا، لہٰذا پوتے پوتیوں کو کچھ بھی نہیں دیں گے، یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے۔ تو یہ جتنا مال بچ گیا ہے یہ سارا روک کر رکھ لیا جائے گا کہ شاید مفقود زندہ واپس آ جائے۔ اگر وہ زندہ واپس آ گیا تو یہ مال اس کو دے دیں گے، اور اگر وہ زندہ واپس نہ آیا اور قاضی نے اس کی موت کا فیصلہ کر دیا، تو پھر یہ مال جن سے روکا گیا تھا ان کے حوالے کر دیا جائے گا۔ صورت سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ﴿بَيَانُهُ رَجُلٌ مَاتَ عَنْ ابْنَتَيْنِ﴾ بیان اس کا یہ ہے کہ ایک آدمی اپنی دو بیٹیوں کو چھوڑ کر مرا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ماتَ کا صلہ عَنْ آ جائے، ”مَاتَ عَنْ ابْنَتَيْنِ“، تو اس کا معنی ہوتا ہے چھوڑ کر مرنا۔ عربی میں کہتے ہیں: ”مَاتَ عَنْ زَوْجَةٍ“ کہ وہ آدمی بیوی کو چھوڑ کر مرا ہے، یعنی بیوی زندہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿بَيَانُهُ رَجُلٌ مَاتَ عَنْ ابْنَتَيْنِ﴾ بیان اس کا یہ ہے کہ ایک آدمی دو بیٹیاں چھوڑ کر مرا ہے ﴿وَابْنٍ مَفْقُودٍ﴾ اور ایک مفقود بیٹا ﴿وَابْنِ ابْنٍ﴾ اور ایک بیٹے کا بیٹا ﴿وَبِنْتِ ابْنٍ﴾ اور ایک بیٹے کی بیٹی، یعنی پوتا پوتی۔ مرنے والا دو بیٹیاں، ایک مفقود بیٹا، اور پوتا پوتی چھوڑ کر مرا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿رَجُلٌ مَاتَ عَنْ ابْنَتَيْنِ وَابْنٍ مَفْقُودٍ وَابْنِ ابْنٍ وَبِنْتِ ابْنٍ وَالْمَالُ فِي يَدِ الْأَجْنَبِيِّ﴾ اور اس مرنے والے کا مال ایک اجنبی کے قبضے میں ہے، مثلاً مرنے والے نے اپنا مال کسی کے پاس بطورِ امانت کے رکھوایا ہوا تھا، یا مرنے والے کا مال کسی کے اوپر دین ہے اس نے ادا کرنا ہے، تو اب یہ مال ان وارثوں میں تقسیم کرنا ہے۔ تو یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے، تو بیٹیوں کو نصف مال دے دیں گے جس کو وہ آپس میں تقسیم کر لیں گی، اور پوتے پوتی کو کچھ بھی نہیں ملے گا بھئی، اور باقی بچنے والا سارا مال اسی آدمی کے پاس موقوف رہے گا کہ شاید وہ مفقود واپس آ جائے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَالْمَالُ فِي يَدِ الْأَجْنَبِيِّ وَتَصَادَقُوا عَلَى فَقْدِ الِابْنِ﴾ اور انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کی بیٹے کے مفقود ہونے پر۔ وہ آدمی جس کے پاس مال ہے اور اسی طرح جو وارث ہیں سب نے اتفاق کیا کہ ایک بیٹا مفقود ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَتَصَادَقُوا عَلَى فَقْدِ الِابْنِ وَطَلَبَتْ الِابْنَتَانِ الْمِيرَاثَ﴾ اور ان دونوں بیٹیوں نے اپنی میراث کا مطالبہ کیا ﴿تُعْطَيَانِ النِّصْفَ﴾ تو ان بیٹیوں کو نصف دیں گے۔ مفقود اگر نہ ہوتا تو ان کو دو ثلث دیتے، لیکن یوں سمجھیں گے مفقود موجود ہے، اس کو شمار کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ﴿تُعْطَيَانِ النِّصْفَ لِأَنَّهُ مُتَيَقَّنٌ بِهِ﴾ تو ان بیٹیوں کو نصف مال دے دیں گے کیونکہ نصف مال تو یقینی ہے۔ بھئی اگر مفقود کو شمار نہ کریں تو بیٹیوں کو دو تہائی مال ملتا ہے۔ مثلاً دیکھو، فرض کریں کل مال چھ درہم ہے، فرض کریں۔ اگر مفقود کو شمار کریں تو بیٹیوں کو چھ میں سے نصف یعنی تین درہم ملتے ہیں، اور اگر مفقود کو شمار نہ کریں تو بیٹیوں کو دو تہائی یعنی چھ میں سے چار درہم ملتے ہیں۔ چھ کا نصف کتنا؟ تین، اور چھ کا دو ثلث کتنا؟ چار۔ تو دیکھو، اس چار کے اندر بھی تین موجود ہے۔ معلوم ہوا ان بیٹیوں کو تین درہم یعنی نصف ملنا تو یقینی ہے، زائد کے اندر شک ہے۔ تو یہ معنی ہے، کہتے ہیں ان بیٹیوں کو نصف مال دے دیں گے: ﴿لِأَنَّهُ مُتَيَقَّنٌ بِهِ﴾ اس لیے کیونکہ وہ تو یقینی ہے ﴿وَيُوقَفُ النِّصْفُ الْآخَرُ﴾ اور باقی کا نصف جو ہے وہ موقوف رکھا جائے گا ﴿وَلَا يُعْطَى وَلَدُ الِابْنِ﴾ اور بیٹے کی اولاد کو نہیں دیا جائے گا۔ بیٹے کی جو اولاد ہے یعنی پوتا پوتی، ان کو مال نہیں دیا جائے گا کیونکہ جب بیٹا موجود ہو تو پوتا پوتی کو کچھ نہیں ملتا، تو بیٹے کو موجود شمار کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُعْطَى وَلَدُ الِابْنِ لِأَنَّهُمْ يُحْجَبُونَ بِالْمَفْقُودِ لَوْ كَانَ حَيًّا﴾ اور اس بیٹے کی جو اولاد ہے یعنی پوتا پوتی جو ہیں ان کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا اس لیے کیونکہ وہ مفقود کی وجہ سے محجوب ہو جاتے اگر وہ زندہ ہوتا۔ اگر مفقود زندہ ہوتا اور موجود ہوتا تو یہ پوتا پوتی محجوب ہو جاتے، ان کو کچھ بھی نہ ملتا۔ تو کہتے ہیں: ﴿لِأَنَّهُمْ يُحْجَبُونَ بِالْمَفْقُودِ لَوْ كَانَ حَيًّا فَلَا يَسْتَحِقُّونَ الْمِيرَاثَ بِالشَّكِّ﴾ تو یہ میراث کے مستحق نہیں ہوں گے شک کی وجہ سے۔ کیونکہ مفقود تو غائب ہے، معلوم نہیں وہ زندہ ہے یا زندہ نہیں۔ اگر وہ زندہ ہے تو ان کو کچھ نہ ملتا، اور اگر وہ زندہ نہیں ہے تو ان کو مال مل جاتا، تو ان کے میراث کے مستحق ہونے میں شک آ گیا۔ یہ معنی ہے: ﴿فَلَا يَسْتَحِقُّونَ الْمِيرَاثَ بِالشَّكِّ﴾ تو لہٰذا یہ جو بیٹے کی اولاد ہے یعنی پوتا پوتی، یہ میراث کے مستحق نہیں ہوں گے شک کی وجہ سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اور بھئی یہاں پر آیا: ﴿وَالْمَالُ فِي يَدِ الْأَجْنَبِيِّ﴾ کہ یہ مال اجنبی آدمی کے قبضے میں تھا۔ یہ مال اجنبی آدمی کے قبضے میں تھا تو دونوں بیٹیوں کو نصف دے دیں گے اور پوتے پوتی کو کچھ بھی نہیں دیں گے، باقی سارا مال اسی اجنبی کے پاس رہے گا اس کو موقوف رکھا جائے گا کہ شاید وہ مفقود زندہ واپس آ جائے۔ تو یہ جو اجنبی کے ہاتھ میں مال کے ہونے کی قید لگائی، وجہ یہ ہے کہ اگر یہ سارا مال بیٹیوں کے قبضے میں ہوتا، ایک آدمی کا انتقال ہو گیا اور اس کا سارا مال بیٹیوں کے قبضے میں ہے، تو پھر ان کو بھی بتلا دیا جاتا کہ آپ کا حصہ نصف ہے اور پوتے پوتیوں کو بھی کچھ بھی نہیں دینا، باقی کا مال روک کر رکھنا ہے، لیکن وہ مال جو مفقود کے لیے روکا گیا ہے وہ انہی بیٹیوں کے پاس رہنے دیا جاتا، ان سے لے کر کسی اور آدمی کو نہیں دیا جائے گا۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا اس لیے اجنبی کی قید لگائی کہ اگر اجنبی کے ہاتھ میں ہے مال تو اسی کے پاس رہے گا اور اس سے لے کر بیٹیوں کے حوالے نہیں کریں گے، لیکن اگر بیٹیوں کے پاس مال ہے تو پھر اس مال کو لے کر کسی اور کے حوالے نہیں کیا جائے گا بھئی۔ اور یہ بھی قید لگائی: ﴿وَتَصَادَقُوا عَلَى فَقْدِ الِابْنِ﴾ کہ انہوں نے آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کر دی بیٹے کے مفقود ہونے پر۔ وہ اجنبی جس کے قبضے میں مال ہے وہ بھی کہتا ہے اس مرنے والے کا ایک بیٹا مفقود ہے، اور جو وارث ہیں بیٹیاں وغیرہ جو ہیں وہ بھی کیا کہتے ہیں کہ ان کا ایک بھئی مفقود ہے۔ تو صاحبِ ہدایہ نے آپس میں ایک دوسرے کی تصدیق کی قید بھی لگائی، وجہ یہ کہ اگر وہ شخص جس کے قبضے میں مال ہے وہ اقرار کر لیتا ہے کہ مفقود تو پہلے سے ہی مر چکا ہے، اپنے باپ کے مرنے سے پہلے ہی مر چکا ہے، تو پھر اس صورت کے اندر اس اجنبی کو مجبور کیا جائے گا کہ بیٹیوں کو بھی ان کا پورا حصہ دے دے یعنی دو ثلث دے، اور باقی کا مال پوتے پوتی میں تقسیم کرے بھئی، اس کو اب مال روکنے کی اجازت نہیں ہو گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ آگے دیکھیے: ﴿وَلَا يُنْزَعُ مِنْ يَدِ الْأَجْنَبِيِّ إِلَّا إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ خِيَانَةٌ﴾ بھئی وہ جو مرنے والے کا مال تھا، وہ ایک اجنبی آدمی کے ہاتھ میں ہے۔ تو کیا اس اجنبی سے وہ مال لے لیا جائے گا، باقی کا مال جو موقوف رکھا گیا ہے؟ کہتے ہیں نہیں، وہ مال اسی کے پاس رہے گا، إلّا یہ کہ اس آدمی کی خیانت ظاہر ہو جائے کہ وہ مال کے اندر دھوکہ کر رہا ہے، استعمال کر رہا ہے، تو پھر اس صورت میں اس سے مال لے کر کسی اور عادل آدمی کے پاس رکھوا دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَلَا يُنْزَعُ مِنْ يَدِ الْأَجْنَبِيِّ إِلَّا إِذَا ظَهَرَتْ مِنْهُ خِيَانَةٌ﴾ اور وہ مال جو ہے جس کو موقوف رکھا گیا ہے اس کو اس اجنبی کے قبضے سے نہیں چھینا جائے گا مگر یہ کہ جب اس آدمی کی طرف سے خیانت ظاہر ہو جائے۔ ﴿وَنَظِيرُ هٰذَا الْحَمْلُ﴾ اور اس کی نظیر حمل ہے، اس کی نظیر حمل ہے۔ یاد رکھو، اگر ایک آدمی کا انتقال ہوتا ہے اور اس کی بیوی حاملہ ہے تو اس حمل کے لیے بھی وراثت روک کر رکھی جائے گی۔ یہ حمل بھی وارث بنے گا بھئی، اس مرنے والے کے مال کا حقدار ہو گا۔ تو کتنا حصہ روکا جائے گا حمل کے لیے؟ تو امام صاحب کی ایک روایت ہے کہ چار بیٹوں کا حصہ روک کر رکھیں گے، کیونکہ بعض اوقات ایک ہی حمل سے چار بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت ہے کہ دو بیٹوں کا حصہ روک کر رکھا جائے گا حمل کے لیے، ہو سکتا ہے دو بیٹے پیدا ہو جائیں۔ جبکہ فتویٰ اس پر ہے کہ صرف ایک بیٹے کا حصہ روکا جائے گا۔ ہاں اگر زیادہ بیٹے ہو گئے تو پھر اسی قدر باقی وارثوں سے مال واپس لے کر یہ جو حمل جن کی پیدائش ہوئی ہے ان کا حصہ ان کو دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَنَظِيرُ هٰذَا الْحَمْلُ﴾ اور یہ شخص جو غائب ہے اس کی نظیر حمل ہے، جیسے مفقود کے لیے مال روکا جاتا ہے اسی طرح حمل کے لیے بھی مال روکا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَنَظِيرُ هٰذَا الْحَمْلُ فَإِنَّهُ تُوقَفُ لَهُ مِيرَاثُ ابْنٍ وَاحِدٍ عَلَى مَا عَلَيْهِ الْفَتْوَى﴾ اور اس مفقود کی نظیر جو ہے وہ حمل ہے، اس لیے کیونکہ حمل کے لیے بھی ایک بیٹے کی میراث موقوف رکھی جاتی ہے بوجہ اس قول کے جس پر فتویٰ ہے۔ ﴿وَلَوْ كَانَ مَعَهُ وَارِثٌ آخَرُ إِنْ كَانَ لَا يَسْقُطُ بِحَالٍ وَلَا يَتَغَيَّرُ بِالْحَمْلِ يُعْطَى كُلَّ نَصِيبِهِ﴾ اور اگر اس حمل کے ساتھ کوئی اور وارث بھی ہے، اگر وہ وارث جو ہے کسی بھی حال میں ساقط نہیں ہوتا یعنی ہر حال میں اس کو میراث ملے گی اور حمل کی وجہ سے اس کا حصہ بدلتا بھی نہیں ہے، تو اس کو سارا حصہ دے دیا جائے گا، کیونکہ حمل کی وجہ سے اس کے حصے پر کوئی اثر ہی نہیں پڑ رہا، نہ وہ محروم ہو رہا ہے نہ کمی آ رہی ہے، حمل ہو پھر بھی اتنا حصہ، حمل نہ ہو پھر بھی اتنا حصہ، تو اس کو پورا حصہ دے دیں گے۔ تو یہ معنی ہے: ﴿يُعْطَى كُلَّ نَصِيبِهِ﴾ تو اس کو پورا حصہ دے دیں گے۔ ﴿وَإِنْ كَانَ مِمَّنْ تَسْقُطُ بِالْحَمْلِ لَا يُعْطَى﴾ اور اگر وہ وارث ایسا ہے کہ حمل کی وجہ سے وہ ساقط ہو سکتا ہے تو اس کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا۔ ﴿وَإِنْ كَانَ مِمَّنْ يَتَغَيَّرُ بِهِ يُعْطَى الْأَقَلَّ لِلتَّيَقُّنِ بِهِ كَمَا فِي الْمَفْقُودِ﴾ اور اگر ایسا وارث ہے کہ اس کا حصہ حمل کی وجہ سے بدلتا ہے یعنی اس کا حصہ حمل کی وجہ سے کم ہو جائے گا، تو اس وارث کو دو حصوں میں سے جو کم تر ہے وہ دے دیا جائے گا کیونکہ وہ تو یقینی ہے، جیسے کہ مفقود کے مسئلے میں ہے۔ ﴿وَقَدْ شَرَحْنَاهُ فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهَى بِأَتَمَّ مِنْ هٰذَا﴾ اور تحقیق اس کی شرح کی ہے ہم نے کفایۃ المنتہیٰ میں اس سے زیادہ تام طریقے سے۔ صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ ہدایہ ماخوذ ہے کفایۃ المنتہیٰ سے، اور کفایۃ المنتہیٰ وہ اسی متن کی شرح ہے، البتہ وہ اسی (80) جلدوں پر مشتمل تھی۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ اس متن کی جو بڑی شرح ہے کفایۃ المنتہیٰ، اس کے اندر ہم نے اس کی اور زیادہ وضاحت اور اور زیادہ شرح کی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ﴿وَقَدْ شَرَحْنَاهُ فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهَى بِأَتَمَّ مِنْ هٰذَا﴾ اور تحقیق کفایۃ المنتہیٰ میں ہم نے اس کی شرح کی ہے اس سے زیادہ کامل طریقے سے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 149 of 160