Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-150

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 74
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی، كِتَابُ الشَّرِكَةِ۔ الشَّرِكَةُ جَائِزَةٌ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ وَالنَّاسُ يَتَعَامَلُونَ بِهَا فَقَرَّرَهُمْ عَلَيْهِ۔ قَالَ الشَّرِكَةُ ضَرْبَانِ: شَرِكَةُ أَمْلَاكٍ وَشَرِكَةُ عُقُودٍ، فَشَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ: الْعَيْنُ يَرِثُهَا رَجُلَانِ أَوْ يَشْتَرِيَانِهَا فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي نَصِيبِ الْآخَرِ إِلَّا بِإِذْنِهِ، وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ كَالْأَجْنَبِيِّ۔ بھئی گزشتہ سبق میں ہم کتاب المفقود پڑھ رہے تھے۔ میں نے بتلایا کہ فقد کا معنی ہے کسی چیز کا کھو دینا، کسی چیز کا گم کر دینا۔ تو مفقود وہ شخص جو غائب ہے، جس کی نہ زندگی کا پتہ ہے، نہ موت کا پتہ ہے، نہ یہ پتہ ہے کہ وہ کہاں ہے، تو اس کو مفقود کہتے ہیں۔ اب اس کے مال کا کیا حکم ہے اور اس کی بیوی اس کا کیا حکم ہے؟ تو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ اگر کوئی شخص اس طرح گم ہو جائے کہ اس کا کچھ پتہ نہیں، تو قاضی کسی نگران کو مقرر کر دے گا جو اس کے مال کی حفاظت کرے، اس کی نگرانی کرے اور اس کے حقوق یعنی کوئی دیون وغیرہ ہیں یا امانتیں ہیں ان کو وصول کرے۔ البتہ یہ وکیل جسے قاضی نے مقرر کیا ہے یہ خصومت نہیں کر سکتا ان عقدوں کے اندر، ان دیون کے اندر جو اس مفقود نے سرانجام دیے تھے۔ البتہ یہ نگران خود کوئی عقد وغیرہ کرتا ہے تو ان میں یہ خصومت کر سکتا ہے کیونکہ یہ ان عقدوں میں اصیل ہے بھئی، اصیل ہے۔ اور آپ کو صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا تھا کہ ایک وکیل بالقبض ہے جو قاضی نے مقرر کیا ہے، اور ایک وکیل بالقبض وہ ہے جسے جسے مالک مقرر کرتا ہے۔ تو وہ وکیل بالقبض جسے مالک نے مقرر کیا ہے وہ امام صاحب کے نزدیک اس مدیون سے خصومت کر سکتا ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ نہیں، وہ خصومت نہیں کر سکتا۔ تو معلوم ہوا مالک کا جو وکیل ہے اس کے اندر صاحبین اور امام صاحب کا اختلاف ہے۔ البتہ یہ جو قاضی کا وکیل ہے، یہ جو نگران ہے یہ تو بالاتفاق ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک یہ خصومت نہیں کر سکتا۔ تو قاضی کے وکیل کو خصومت کی اجازت نہیں کیونکہ اس صورت میں قضاء علی الغائب لازم آتی ہے، اور قضاء علی الغائب یعنی غائب آدمی کے خلاف تو قاضی کا فیصلہ درست نہیں ہے۔ البتہ اگر قاضی کسی مسئلے میں غائب کے خلاف فیصلہ دے دے تو وہ نافذ ہوگا، وجہ یہ کہ یہ مجتہد فیہ مسئلہ ہے۔ ہمارے نزدیک تو قضاء علی الغائب جائز نہیں لیکن امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک قضاء علی الغائب جائز ہے۔ معلوم ہوا اس مسئلے میں اجتہاد کی گنجائش ہے، کچھ فقہاء اس کے جواز کی طرف گئے ہیں تو کچھ فقہاء اس کے عدمِ جواز کی طرف گئے ہیں۔ اور مجتہد فیہ مسئلے کے اندر اگر قاضی کی رائے ایک طرف ہو جائے اور وہ اس کا فیصلہ کر دے تو قاضی کا وہ فیصلہ نافذ ہو جاتا ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ کہ وہ جو غائب آدمی ہے اس کے مال کی قاضی حفاظت کرے گا، اور اگر کسی مال کے خراب ہونے کا احتمال ہے تو قاضی اس کو بیچ بھی سکتا ہے۔ اور اس غائب شخص کی بیوی اور اس کے اصول اور فروع میں جو مستحق ہیں نفقے کے قاضی ان پر خرچ بھی کرے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ بیوی کا خرچہ تو ہر حال میں خاوند پر آتا ہے چاہے بیوی مالدار ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ بیوی نے خاوند کے لیے اپنے آپ کو گھر میں روک کر رکھا ہے لہٰذا اس کا خرچہ خاوند کے ذمے ہوگا۔ جبکہ اصول اور فروع جو ہیں یعنی اولاد اور اوپر باپ دادا وغیرہ جو ہیں ان کا خرچہ کسی شخص پر اس وقت آتا ہے جب ان کا مال نہ ہو۔ اگر ایک شخص کی نابالغ اولاد ہے اور ان کا اپنا مال موجود ہے تو پھر یاد رکھو اصل یہی ہے کہ ہر شخص کا خرچہ اس کے اپنے مال میں ہوتا ہے، لہٰذا اس صورت میں اس صغیر کا خرچہ اس کے باپ پر نہیں آئے گا بھئی۔ تو یہ جو بیوی اور اصول اور فروع ہیں ان کا خرچہ بغیر قضائے قاضی کے ہی انسان پر واجب ہوتا ہے جب ان کو حاجت ہو بھئی۔ اور البتہ کچھ قریبی محرم رشتہ دار ایسے ہیں کہ وہاں پر خرچہ قضائے قاضی سے واجب ہوگا بغیر قضائے قاضی کے واجب نہیں ہوگا، جیسے بھئی ہے، چچا ہے، پھوپھی ہے، ماموں ہے، خالہ ہے وغیرہ بھئی۔ تو ان کا خرچہ قضائے قاضی کی وجہ سے واجب ہو سکتا ہے۔ میں نے بتلایا کہ اولاد میں سے یا یہ قریبی محرم رشتہ داروں میں سے اگر بالغہ مؤنث ہے اور اس کا مال نہیں ہے تو اس کا خرچہ اس قریبی رشتہ دار پر آئے گا، اور بالغ مردوں میں سے صرف جو اپاہج ہیں یا معذور ہیں اور ان کے پاس مال نہیں ہے ان کا خرچہ اس آدمی پر آئے گا بھئی۔ تو وہ رشتہ دار جن میں قضائے قاضی کے بغیر ہی انسان پر نفقہ واجب ہوتا ہے یعنی بیوی اور اصول اور فروع جو ہیں ان کا خرچہ تو قاضی ادا کرے گا اس غائب کے مال میں سے۔ البتہ باقی قریبی محرم رشتہ دار اگر ان کے حق میں قاضی اس غائب کی موجودگی میں ہی فیصلہ کر چکا تھا پھر تو قاضی ان کو بھی خرچہ دے گا، لیکن اگر اس غائب شخص کی موجودگی میں قاضی نے یہ فیصلہ نہیں کیا تھا تو اب اس غائب شخص کی غیر موجودگی میں قاضی ان لوگوں کا نفقہ مقرر نہیں کر سکتا کیونکہ یہ قضاء علی الغائب ہے، اور قضاء علی الغائب تو عند الاحناف جائز نہیں ہے بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ یہ تو وہ صورت ہے جب اس غائب آدمی کا مال قاضی کے قبضے میں ہو، اور اگر غائب آدمی کا مال کسی اجنبی کے قبضے میں ہے مثلاً بطورِ امانت کے ہے یا بطورِ دین کے ہے اور وہ اس مال کا بھی اقرار کرتا ہے اور اس غائب کے بیوی بچوں کا بھی اقرار کرتا ہے تو پھر اس صورت میں بھی قاضی حکم دے گا اس اجنبی کو کہ وہ اس غائب کے بیوی بچوں پر خرچ کرے۔ تو یہ اس صورت میں ہے جب وہ اجنبی جس کے پاس امانت یا دین ہے وہ دونوں چیزوں کا اقرار کر رہا ہے۔ اور اگر قاضی کو ان دونوں کا علم ہے تو پھر اس کے اقرار کی کوئی حاجت نہیں۔ اور اگر قاضی کو ان دونوں چیزوں میں سے ایک چیز کا علم ہے یعنی اسے ودیعت یا دین کا علم ہے یا ان بیوی بچوں کا علم ہے کہ یہ اس غائب آدمی کے بیوی بچے ہیں تو پھر اس صورت میں جس چیز کا قاضی کو علم نہیں ہے اس میں اس مدیون یا مودع سے جو ہے اقرار کروا لیا جائے گا، اور پھر قاضی اس کے بیوی بچوں کو نفقہ دینے کا حکم دے گا بھئی۔ لیکن اگر ان دو میں سے کسی چیز کا قاضی کو علم نہیں ہے اور وہ مدیون یا مودع بھی اس کا اقرار نہیں کر رہے تو پھر قاضی اس کے بیوی بچوں پر خرچ کرنے کا حکم نہیں دے سکتا بھئی۔ اور اگر یہ مودع یا مدیون جو ہیں انہوں نے قاضی کے حکم کے بغیر ہی اس غائب کے بیوی بچوں پر خرچ کیا تو پھر یاد رکھو وہ غائب شخص اگر آ جائے تو وہ ان سے ضمان لے سکتا ہے، کیونکہ اس نے یہ چیز ان کے پاس بطورِ امانت کے رکھوائی تھی یا ان پر اس کا دین تھا اور انہوں نے اس غائب شخص کی اجازت کے بغیر ہی اس مال کو خرچ کیا ہے جس کی ان کو ولایت نہیں تھی، تو وہ غائب شخص ان سے وہ پورا مال وصول کر سکتا ہے بھئی۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا کہ قاضی جو ہے غائب شخص اور اس کی بیوی میں جدائی نہیں کروا سکتا۔ البتہ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جب چار سال گزر جائیں تو پھر قاضی اس غائب شخص اور اس کی بیوی کے درمیان جدائی کا فیصلہ کر دے گا اور پھر وہ عورت وفات کی عدت گزارے گی اور اس کے بعد وہ جہاں چاہے نکاح کر سکتی ہے، وجہ یہ کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایسا ہی ایک مسئلہ پیش آیا تھا، ایک آدمی جو ہے وہ غائب ہو گیا تھا اور پھر چار سال کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس کی بیوی کی جدائی کا فیصلہ کیا اور اس کو آگے نکاح کی اجازت دی، اور بعد میں پھر کچھ مدت کے بعد وہ شخص دوبارہ آ گیا اور اس نے ذکر کیا کہ مجھے جنات قابو کر کے لے گئے تھے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فیصلے سے معلوم ہوا کہ چار سال کے بعد قاضی اس غائب شخص کی بیوی کی اس سے جدائی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ اور نیز وہ اس غائب شخص کو قیاس کرتے ہیں عنین پر اور ایلاء کرنے والے پر، جیسے ایلاء کرنے والا وہ شخص جس نے بیوی کے پاس چار مہینے یا اس سے زیادہ نہ جانے کی قسم کھائی ہے تو اس شخص نے بیوی کا حق روک لیا کیونکہ صحبت کے اندر بیوی کا بھی حق ہے، یا اسی طرح جو نامرد ہے جو بیوی کے ساتھ صحبت پر قادر نہیں یعنی عنین جو ہے اس نے بھی بیوی کا حق روک لیا ہے، تو جیسے وہاں قاضی جدائی کا فیصلہ کر سکتا ہے تو یہاں غائب میں بھی قاضی جدائی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔ تو امام مالک رحمہ اللہ نے اس غائب شخص کو قیاس کیا ایلاء کرنے والے پر اور عنین پر۔ اور ایلاء کرنے والا شخص اگر چار ماہ تک بیوی سے صحبت نہ کرے تو وہاں طلاقِ بائن ہو جاتی ہے، تو چار کا عدد ایلاء سے لے لیا اور سال جو ہے وہ عنین سے لے لیا کیونکہ عنین کو ایک سال کی مدت دی جاتی ہے علاج کے لیے۔ تو ان دونوں کو ملایا تو چار سال کی مدت تک اگر غائب شخص نہ آیا تو پھر ان میں جدائی کروا دی جائے گی دونوں مشابہتوں پر عمل کرتے ہوئے۔ اس غائب شخص کی مشابہت ہے ایلاء کرنے والے کے ساتھ بھی اور عنین کے ساتھ بھی۔ جبکہ ہماری دلیل یہ ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک غائب شخص کی بیوی کے بارے میں فرمایا: ”إِنَّهَا امْرَأَتُهُ حَتَّى يَأْتِيَهَا الْبَيَانُ“ کہ یہ اسی شخص کی بیوی ہے جب تک بیان آ جائے۔ پھر حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک قول ہے وہ فرماتے ہیں ایک غائب شخص کی بیوی کے بارے میں: ”هِيَ امْرَأَةٌ ابْتُلِيَتْ فَلْتَصْبِرْ حَتَّى يَسْتَبِينَ مَوْتٌ أَوْ طَلَاقٌ“ کہ یہ ایسی عورت ہے جسے آزمائش میں ڈال دیا گیا ہے، تو اس کو صبر کرنا چاہیے یہاں تک کہ موت یا طلاق کا پتہ چل جائے۔ تو معلوم ہوا حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول جو ہے یہ بیان ہے اس اجمال کی جو حضور علیہ السلام کے قول میں تھا۔ حضور علیہ السلام کے قول میں بیان کا لفظ آیا تھا اور وہ مجمل تھا، تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہ قول اس کے لیے بیان بن کر واقع ہوا ہے۔ معلوم ہوا کہ غائب شخص اور اس کی بیوی میں قاضی جدائی نہیں کروا سکتا۔ اور نیز ہم جواب دیتے ہیں امام مالک رحمہ اللہ کو کہ آپ اس غائب شخص کو ایلاء کرنے والے پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کیونکہ ایلاء تو خود طلاق کے حکم میں ہے جبکہ غائب ہونا یہ تو طلاق کے حکم میں نہیں ہے۔ اور نیز ہم کہتے ہیں کہ آپ اس غائب شخص کو عنین پر بھی قیاس نہیں کر سکتے، اس لیے کیونکہ غائب شخص کی تو واپسی کی امید ہے وہ کسی وقت واپس آ جائے گا جبکہ عنین کے تو تندرست ہونے کا اب احتمال نہیں ہے جب ایک سال تک وہ تندرست نہ ہو سکا۔ اور پھر عند الاحناف جب وہ غائب شخص کی عمر ایک سو بیس سال ہو جائے تو اب معلوم ہوا یقیناً وہ مر چکا ہوگا تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا۔ جبکہ ایک روایت کے مطابق جب اس کے ہم عمر مر جائیں، اور ایک روایت کے مطابق جب اس غائب شخص کی عمر ایک سو سال ہو جائے، اور ایک روایت کے مطابق جب اس غائب شخص کی عمر نوے سال ہو جائے، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ زیادہ مناسب یہ ہے کہ کوئی مقدار بھی یہاں مقرر نہیں کی جائے بلکہ یہ احوالِ زمانہ کے مطابق دیکھا جائے گا کہ کس زمانے میں لوگوں کی عمر کتنی ہوتی ہے، جب اتنا وقت گزر جائے تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا بھئی۔ البتہ میں نے بتایا آج کل احناف ضرورت اور حاجت کی وجہ سے امام مالک رحمہ اللہ کے قول پر فتویٰ دیتے ہیں، اگر ایک شخص غائب ہو گیا ہے اور اس کا کچھ اتہ پتہ معلوم نہیں تو چار سال بعد اس کی بیوی کا اس سے جدائی کا فیصلہ کر دیا جائے گا۔ اور پھر جب قاضی جدائی کا فیصلہ کر دے گا تو یہ قاضی نے موت کا حکم لگا دیا، لیکن یہ موتِ حکمی بھی موتِ حقیقی کے درجے میں ہے، لہٰذا اب یہ جو غائب شخص ہے اس کا مال اس کے وارثوں میں تقسیم کر دیا جائے گا۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو مفقود ہے اپنی ذات کے اعتبار سے یہ اس کو زندہ شمار کیا جاتا ہے اور غیر کے اعتبار سے اس کو مردہ شمار کیا جاتا ہے، لہٰذا یہ زندہ شمار ہے لہٰذا اسی لیے اس کا مال اس کے وارثوں میں تقسیم نہیں ہوگا یہاں تک کہ اتنے سال گزر جائیں جس میں اس کی موت یقینی ہو تو پھر قاضی جدائی کا فیصلہ کرے گا اور پھر اس کے بعد اس کا مال وارثوں کی طرف منتقل ہوگا۔ اور دوسروں کے حق میں یہ مفقود جو ہے مردہ شمار ہوگا، لہٰذا اس کے جن وارثوں کا انتقال ہو جائے تو یہ ان کا وارث نہیں بنے گا یعنی اس مال کا مالک نہیں بنے گا، البتہ اس کا حصہ اس کے لیے موقوف رکھا جائے گا، اس کا حصہ اس کے لیے موقوف رکھا جائے گا کہ شاید یہ واپس آ جائے۔ وجہ یہ کہ مفقود پر جو ہم زندگی کا حکم لگاتے ہیں وہ استصحابِ حال کی وجہ سے ہے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا استصحابِ حال کا معنی یہ ہے حال کو مصاحب بنانا۔ استصحاب میں سین کس لیے ہے؟ طلب کے لیے، مصاحبت کو طلب کرنا یعنی مصاحب بننا، حال کا مصاحب بننا یعنی حال کو ماضی کا مصاحب بنا دیا جاتا ہے، ساتھی بنا دیا جاتا ہے۔ ایک چیز کا جو حکم ماضی میں تھا وہی حکم حال میں بھی دے دیا جاتا ہے، جیسے جنگل کے اندر پانی ملا کسی شخص کو، اب معلوم نہیں یہ پاک ہے یا ناپاک ہے، تو استصحابِ حال کے ذریعے اس پر پاک ہونے کا ہی حکم لگا دیا جائے گا کیونکہ یہ پانی بارش کا پانی ہے اور بارش کا پانی تو پاک ہوتا ہے، تو ماضی کے اندر جب یہ پاک تھا تو فی الحال بھی وہی حکم لگا دیا جائے گا۔ یہ کیا ہے؟ استصحابِ حال، یعنی إِبْقَاءُ مَا كَانَ عَلَى مَا كَانَ، ایک چیز کو باقی رکھنا اسی وصف پر جس وصف پر وہ ماضی کے اندر تھا بھئی۔ اور استصحابِ حال یاد رکھو یہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے اثبات کی دلیل نہیں بن سکتا، اس کے ذریعے کسی چیز کو ثابت نہیں کیا جا سکتا، البتہ اس کے ذریعے کسی حکم کو دفع کیا جا سکتا ہے یعنی اس کو آنے سے روکا جا سکتا ہے۔ تو یہ جو غائب آدمی کو زندہ شمار کیا گیا یہ استصحابِ حال کی وجہ سے، اور استصحابِ حال جو ہے وہ دفع کی دلیل تو بن سکتا ہے، اس کی وجہ سے کوئی اس کے مال کا مالک نہیں بنے گا، لیکن استصحابِ حال جو ہے وہ استحقاقِ ملکیت کا سبب نہیں بن سکتا کہ اس کے ذریعے ملکیت ثابت ہو جائے، لہٰذا یہ جو غائب آدمی ہے یہ اپنے مورث کا وارث نہیں بنے گا یعنی اس مال کا مالک نہیں بنے گا، ہاں البتہ مال اس کے لیے روک کر رکھا جائے گا کہ شاید یہ واپس آ جائے بھئی۔ اور نیز اسی طرح اگر اس غائب شخص کے لیے کسی نے وصیت کی ہے تو اس کے حق میں بھی اس غائب کو مردہ شمار کیا جائے گا تو یہ اس مال کا مالک نہیں بنے گا، کیونکہ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”الْوَصِيَّةُ أُخْتُ الْمِيرَاثِ“ کہ وصیت جو ہے میراث کی بہن ہے، اور میراث جیسے اس کا حکم موت کے بعد جاری ہوتا ہے اسی طرح وصیت کا حکم بھی موت کے بعد جاری ہوتا ہے، اور جو شخص مورث کے مرنے سے پہلے مر چکا ہو وہ وارث نہیں بنتا اسے میراث نہیں ملتی اسی طرح اس کو وصیت بھی نہیں ملتی اگر اس موصیٰ لہٗ کا انتقال پہلے ہو چکا ہو، تو یہاں اس غائب کو مردہ شمار کریں گے لہٰذا یہ اس وصیت کے مال کا بھی مستحق نہیں ہوگا۔ تو اب اس غائب شخص کے لیے وراثت میں سے کتنا مال روکا جائے گا؟ تو بتلایا تھا کہ وہ وارث کہ غائب شخص اگر موجود بھی ہوتا تو اس کی وجہ سے ان کے حصے پر کوئی اثر نہ پڑتا تو ان کو تو ان کا پورا حصہ دے دیا جائے گا کیونکہ ان کے حصے کو تو روکنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے، اور وہ وارث کہ یہ مفقود اگر موجود ہوتا تو ان کے حصے کم ہو جاتے تو پھر ان کو کم حصہ دے دیا جائے گا، اور وہ وارث کہ اگر مفقود موجود ہوتا تو وہ پورے طور پر محروم ہو جاتے تو ان کو کچھ بھی نہیں دیا جائے گا ان کا سارا حصہ روک لیا جائے گا۔ اور یہ اسی طرح ہے جیسے حمل کا مسئلہ ہے، جیسے حمل کے لیے مال کو روک لیا جاتا ہے اسی طرح اس غائب کے لیے بھی مال کو روک لیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: كِتَابُ الشَّرِكَةِ الشَّرِكَةُ جَائِزَةٌ لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بُعِثَ وَالنَّاسُ يَتَعَامَلُونَ بِهَا فَقَرَّرَهُمْ عَلَيْهِ كتاب الشركت بھئی، اس کے اندر صاحبِ ہدایہ شرکت کے مسائل بیان فرمائیں گے۔ صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ شرکت دو قسم پر ہے: ایک شرکتِ املاک ہے اور ایک شرکتِ عقود ہے۔ شرکتِ املاک بھئی یعنی ملکیت کے اندر شریک ہونا۔ جیسے دو آدمی پیسے ملا کر ایک گاڑی خرید لیتے ہیں، دس لاکھ آپ نے ملائے اور دس لاکھ آپ کے ساتھی نے ملائے اور دونوں نے مل کر ایک بیس لاکھ والی گاڑی خرید لی، تو دیکھو اب اس گاڑی میں آپ دونوں ساتھی شریک ہیں، نصف حصہ آپ کا ہے اور نصف حصہ آپ کے ساتھی کا ہے، تو اس کو کہتے ہیں شرکتِ املاک۔ یا اسی طرح دو آدمیوں نے مل کر زمین خرید لی تو اس زمین کے اندر دونوں ساتھی شریک ہیں، زمین کے ہر ہر جز کے اندر دونوں کا حصہ ہے، زمین کا کوئی ایک جز، ایک ٹکڑا بھی ایسا نہیں جس میں دونوں کی شرکت نہ ہو۔ ہاں البتہ جب وہ اس کو تقسیم کر لیں گے کہ یہ نصف زمین آپ کی ہو گئی اور یہ والی نصف زمین میری ہو گئی تو اب دونوں کے حصے الگ ہو گئے، لیکن اس سے پہلے زمین کے ہر ہر جز میں دونوں شریک تھے، اس سے پہلے دونوں میں سے ایک بھی نہیں کہہ سکتا تھا کہ یہ والا حصہ زمین کا میرا ہے کیونکہ ہر ہر جز میں دونوں شریک ہیں، اس کو کہتے ہیں شرکتِ املاک بھئی۔ یا اسی طرح ایک آدمی نے ایک چیز دو آدمیوں کو تحفے میں دے دی، ایک آدمی نے آپ کو اور آپ کے ساتھی کو گاڑی تحفے کے طور پر دے دی تو اب اس گاڑی کے اندر آپ دونوں شریک ہیں۔ یا اسی طرح آپ کی اور زید کی گندم الگ الگ پڑی ہوئی تھی، آپ دونوں نے اس کو ملا دیا، تو دیکھو اب اس گندم کے اندر آپ اور زید دونوں شریک ہو گئے تو یہ کیا ہے؟ شرکتِ املاک کہ ایک چیز کی ملکیت میں شریک ہو جانا۔ اور دوسری ہے شرکتِ عقود بھئی جو یہاں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے اور جس کے لیے یہ باب ذکر کیا جا رہا ہے بھئی۔ شرکتِ عقود یہ ہے کہ دو آدمی آپس میں شرکت کا عقد کر لیں کہ ہم دونوں مل کر کاروبار کریں گے یا مل کر تجارت کریں گے، میں جو بھی بیع و شراء کروں گا تو اس کے اندر اس نفع کے اندر آپ کا بھی حصہ ہوگا، دوسرا کہتا ہے مجھے قبول ہے، تو یہ جو دونوں نے عقد کر لیا آپس میں اور جس کی وجہ سے دونوں نفع کے اندر آپس میں شریک ہوں گے تو اس کو شرکتِ عقود کہتے ہیں۔ جی دیکھیے کتاب پر: كِتَابُ الشَّرِكَةِ یہ کتاب ہے شرکت کے بیان میں۔ الشَّرِكَةُ جَائِزَةٌ شرکت جو ہے وہ جائز ہے۔ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ وَالنَّاسُ يَتَعَامَلُونَ بِهَا لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ شرکت کیوں جائز ہے؟ کہتے ہیں کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا یعنی ان کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا، وَالنَّاسُ يَتَعَامَلُونَ بِهَا اس حال میں کہ لوگ جو ہیں آپس میں شرکت کے معاملات کرتے تھے۔ فَقَرَّرَهُمْ عَلَيْهِ تو حضور علیہ السلام نے ان کو اس پر برقرار رکھا یعنی حضور علیہ السلام نے منع نہیں فرمایا، اور یہ دلیل ہے شرکت کے جائز ہونے کی کیونکہ حضور علیہ السلام شرعی احکام کو لے کر آئے تھے تو اگر یہ شرکت جائز نہ ہوتی تو حضور علیہ السلام اس کو بیان فرماتے، تو حضور علیہ السلام نے شرکت سے منع نہیں فرمایا معلوم ہوا شرکت جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: الشَّرِكَةُ جَائِزَةٌ لِأَنَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُعِثَ وَالنَّاسُ يَتَعَامَلُونَ بِهَا فَقَرَّرَهُمْ عَلَيْهِ شرکت جائز ہے اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام کو بھیجا گیا اور لوگ باہم شرکت کے معاملات کرتے تھے تو حضور علیہ السلام نے لوگوں کو اس پر برقرار رکھا۔ قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: الشَّرِكَةُ ضَرْبَانِ: شَرِكَةُ أَمْلَاكٍ وَشَرِكَةُ عُقُودٍ کہ شرکت دو قسم پر ہے: ایک شرکتِ املاک ہے اور ایک شرکتِ عقود ہے۔ فَشَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ: الْعَيْنُ يَرِثُهَا رَجُلَانِ تو شرکتِ املاک جو ہے، الْعَيْنُ وہ معین چیز، يَرِثُهَا رَجُلَانِ کہ جس کے وارث ہو جائیں دو آدمی۔ بھئی وراثت کے اندر دو بھائیوں کو ایک گاڑی مل گئی یا ایک گھر مل گیا تو دیکھو اس گاڑی اور گھر کے اندر دونوں شریک ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَشَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ: الْعَيْنُ يَرِثُهَا رَجُلَانِ أَوْ يَشْتَرِيَانِهَا تو شرکتِ املاک جو ہے، الْعَيْنُ وہ معین چیز ہے، يَرِثُهَا رَجُلَانِ کہ اس کے وارث ہو جائیں دو آدمی، أَوْ يَشْتَرِيَانِهَا یا وہ معین چیز کہ جسے دو آدمی خرید لیں۔ فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا یہاں سے شرکتِ املاک کا حکم بیان فرما رہے ہیں کہ دیکھو شرکتِ املاک کے اندر ایک ہی چیز کے اندر دو یا زیادہ آدمی شریک ہوتے ہیں، تو ہر شخص جو ہے اپنے حصے میں تو تصرف کر سکتا ہے دوسرے کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا، دوسرے کے حصے میں تصرف نہیں کر سکتا۔ مثلاً دو آدمیوں نے مل کر ایک گاڑی خریدی ہے تو اس گاڑی کے اندر آدھا حصہ ایک کا ہے اور آدھا حصہ دوسرے کا ہے بھئی، تو ان میں سے ہر شریک اپنے حصے میں تصرف کر سکتا ہے۔ یعنی دونوں میں سے ایک شریک اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے کسی تیسرے آدمی کے ہاتھ تو وہ بیچ سکتا ہے۔ مثلاً زید اور عمرو نے دونوں نے مل کر ایک گاڑی خریدی ہے اور دونوں کے آدھے آدھے پیسے تھے تو گاڑی کے اندر نصف حصہ زید کا ہے، نصف حصہ عمرو کا ہے۔ زید اپنا حصہ خالد کے ہاتھ بیچتا ہے اور خالد سے کہتا ہے کہ اس گاڑی کے اندر آدھا حصہ میرا ہے لہٰذا تم اگر یہ میرا حصہ خریدنا چاہتے ہو تو تم خرید لو، اب تم پھر عمرو کے ساتھ شریک ہو جاؤ گے، آدھا حصہ عمرو کا ہوگا اور آدھا کس کا ہو جائے گا؟ خالد کا ہو جائے گا۔ تو دیکھو زید نے اپنا حصہ بیچا ہے لیکن عمرو کے حصے کو زید نہیں بیچ سکتا کیونکہ وہ عمرو کا حصہ ہے اس پر زید کو ولایت حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَلَا يَجُوزُ لِأَحَدِهِمَا أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي نَصِيبِ الْآخَرِ إِلَّا بِإِذْنِهِ تو جائز نہیں ہے دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی کہ وہ دوسرے کے حصے میں تصرف کرے مگر اس کی اجازت سے۔ ہاں اگر وہ دوسرا اجازت دے دیتا ہے کہ میرا حصہ بھی بیچ دو تو یہ زید اپنا اور عمرو دونوں کا حصہ خالد کو بیچ دیتا ہے، تو دیکھو یہ عمرو کی اجازت سے اس کا حصہ بیچا ہے پھر یہ جائز ہے بھئی۔ تو جائز نہیں ہے دونوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی کہ وہ دوسرے کے حصے میں تصرف کرے مگر اس کی اجازت سے۔ وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فِي نَصِيبِ صَاحِبِهِ كَالْأَجْنَبِيِّ اور دونوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کے حصے میں اجنبی کی طرح ہے۔ وَهَذِهِ الشَّرِكَةُ تَتَحَقَّقُ فِي غَيْرِ الْمَذْكُورِ فِي الْكِتَابِ بھئی قدوری کے اندر تو اوپر متن کے اندر آیا، شرکتِ املاک کی مثال ذکر کی صاحبِ قدوری نے: الْعَيْنُ يَرِثُهَا رَجُلَانِ أَوْ يَشْتَرِيَانِهَا، وہ معین چیز کہ جس کے وارث ہو جائیں دو آدمی یا جس کو دو آدمی مل کر خرید لیں۔ تو صرف دو صورتیں ذکر کیں شرکتِ املاک کی: ایک وراثت اور ایک خریدنا بھئی۔ صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ شرکتِ املاک صرف انہی دو چیزوں میں نہیں ہوتی اور چیزوں میں بھی ہوتی ہے بھئی، اور اس کو وہ بیان فرمائیں گے۔ جیسے ایک ہی گاڑی دو آدمیوں کو تحفے کے طور پر دے دی جائے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذِهِ الشَّرِكَةُ اور یہ والی جو شرکت ہے یعنی شرکتِ املاک، تَتَحَقَّقُ فِي غَيْرِ الْمَذْكُورِ فِي الْكِتَابِ یہ پائی جاتی ہے اس چیز کے اندر بھی جو ذکر نہیں کی گئی اس کتاب کے اندر یعنی قدوری کے اندر۔ یہ شرکت ان چیزوں میں بھی پائی گئی جو کتاب میں یعنی قدوری میں ذکر نہیں کی گئی۔ كَمَا إِذَا اتَّهَبَ رَجُلَانِ اب وہ صورتیں ذکر کر رہے ہیں شراء اور وراثت کے علاوہ اور صورتیں۔ كَمَا إِذَا اتَّهَبَ رَجُلَانِ عَيْنًا اتَّهَبَ يَتَّهِبُ کے معنی ہیں ہبہ قبول کرنا۔ كَمَا إِذَا اتَّهَبَ رَجُلَانِ جیسے دو آدمیوں نے ہبہ قبول کر لیا، عَيْنًا کوئی معین چیز کو۔ ایک ہی گاڑی دو آدمیوں کو ہبہ کی گئی اور انہوں نے ہبہ قبول کر لیا، اس گاڑی پر قبضہ کر لیا تو یہ دونوں اس گاڑی کے مالک ہیں اور اس میں شرکتِ املاک ہے بھئی، دونوں کی ملکیت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا اتَّهَبَ رَجُلَانِ عَيْنًا جیسے دو آدمیوں نے ایک معین چیز کو بطورِ ہبہ کے قبول کر لیا، أَوْ مَلَكَاهَا بِالِاسْتِيلَاءِ یا دو آدمی مالک بن گئے ایک معین چیز کے غلبے کے ذریعے سے۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں کہ اہلِ حرب کا مال ہمارے لیے مباح ہے کیونکہ ہم اہلِ حرب سے حالتِ جنگ میں ہیں۔ تو لہٰذا بعض اوقات ان کے لوگ آتے ہیں ہمارے لوگوں کا مال چھین کر لے جاتے ہیں، اور بعض اوقات مسلمانوں میں سے کوئی جاتا ہے اور ان کا مال چھین کر لے آتا ہے۔ تو اب دو مسلمان گئے اور وہ دار الحرب میں سے کسی کا مال چھین کر لے آئے، تو اب یہ دونوں نے مل کر چھینا ہے، مل کر اسے لائے ہیں، لہٰذا یہ دونوں اس میں شریک ہیں تو یہ شرکتِ املاک ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ مَلَكَاهَا بِالِاسْتِيلَاءِ یا وہ دو آدمی کسی معین چیز کے مالک بن گئے غلبے کے ذریعے، أَوِ اخْتَلَطَ مَالُهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ أَحَدِهِمَا یا دونوں کا مال مل گیا، مثلاً زید اور عمرو کی گندم آپس میں مل گئی تو اس صورت میں دونوں اب اس گندم کے اندر شریک ہو گئے، اور اس میں پھر دو صورتیں ہیں: ہو سکتا ہے یہ دونوں اپنی رضامندی سے یہ گندم آپس میں ملا دیں، اس صورت میں بھی شرکتِ املاک آ جائے گی، اور ایک صورت یہ ہے کہ بغیر کسی کے عمل کے وہ دونوں چیزیں آپس میں مل گئیں۔ مثلاً زید کے درہم نیچے پڑے ہوئے تھے اور عمرو کے درہم تھیلی کے اندر تھے، عمرو نے اپنے درہموں کی تھیلی اٹھائی تو وہ تھیلی اچانک پھٹ گئی اور عمرو کے درہم زید کے درہموں میں مل گئے۔ اب درہم تو ایک جیسے ہیں، اب پتہ ہی نہیں کہ کون سے درہم زید کا ہے اور کون سا عمرو کا ہے، تو یہاں پر بھی دونوں کی شرکت آ گئی ان درہموں میں، تو یہ بھی شرکتِ املاک کی مثال ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوِ اخْتَلَطَ مَالُهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ أَحَدِهِمَا یا دونوں کا مال مل گیا دونوں میں سے کسی ایک کے عمل کے بغیر ہی، دونوں میں سے کسی کے عمل کے بغیر ہی دونوں کا مال آپس میں مل گیا جیسے میں نے مثال ذکر کر دی درہموں کی تھیلی پھٹ گئی۔ أَوْ بِخَلْطِهِمَا خَلْطًا يَمْنَعُ التَّمْيِيزَ رَأْسًا یا دونوں کے ملا دینے کی وجہ سے کہ دونوں نے خود ہی اپنے درہم آپس میں ملا دیے یا دونوں نے خود ہی اپنی گندم آپس میں ملا دی بھئی، تو کہتے ہیں: أَوْ بِخَلْطِهِمَا یا ان دونوں کے خود ملا دینے کی وجہ سے، خَلْطًا يَمْنَعُ التَّمْيِيزَ رَأْسًا ایسا ملانا جو جدا کرنے کو منع کرتا ہے قطعی طور پر، یعنی وہ دونوں کی چیزیں ایسی مل گئی ہیں کہ اب جدا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، جیسے زید اور عمرو کی گندم آپس میں مل گئی۔ کچھ گندم زید کی تھی، کچھ عمرو کی تھی، اب دونوں کو جدا کرنا ممکن ہی نہیں ہے، ممکن ہی نہیں ہے۔ أَوْ إِلَّا بِحَرَجٍ یا جدا کرنا ممکن تو ہے لیکن حرج کے ساتھ یعنی بڑا مشکل کام ہے، جیسے مثلاً زید کی گندم تھی اور عمرو کی جو تھی، جو۔ اب گندم اور جو کے دانوں میں فرق ہے بھئی، وہ تو دیکھنے سے ہی پتہ چل جاتا ہے، تو اب زید کی گندم اور عمرو کی جو آپس میں مل گئی، اب ان دونوں کو جدا کرنا ممکن تو ہے لیکن بڑا مشکل کام ہے بھئی، ایک ایک دانے کو الگ کرنا پڑے گا۔ تو لہٰذا دو افراد کے مال کا اس طور پر مل جانا کہ ان کو جدا کرنا ممکن ہی نہ رہے یا جدا کرنا ممکن تو ہے لیکن بہت مشکل کام ہے تو دونوں اس مال میں شریک ہیں، تو یہ شرکتِ املاک ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: أَوِ اخْتَلَطَ مَالُهُمَا مِنْ غَيْرِ صُنْعِ أَحَدِهِمَا یا دونوں کا مال مل گیا دونوں میں سے کسی ایک کے عمل کے بغیر ہی، أَوْ بِخَلْطِهِمَا خَلْطًا يَمْنَعُ التَّمْيِيزَ رَأْسًا یا دونوں کے ایسا ملا دینے کی وجہ سے کہ جدا کرنا ممکن ہی نہیں رہا قطعی طور پر، أَوْ إِلَّا بِحَرَجٍ یا ممکن تو ہے لیکن حرج کے ساتھ ہے۔ وَيَجُوزُ بَيْعُ أَحَدِهِمَا نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ بھئی اوپر متن کے اندر آیا تھا، شرکتِ املاک کی مثال ذکر کی کہ اگر دو آدمی کسی معین چیز کے وارث بن جائیں تو یہ بھی شرکتِ املاک ہے، یا دو آدمی مل کر ایک چیز کو خرید لیں تو یہ بھی شرکتِ املاک ہے، اور شرکتِ املاک کے اندر ایک شریک دوسرے شریک کے حصے میں کوئی تصرف نہیں کر سکتا سوائے اس کی اجازت کے، اس سے اجازت لے لے پھر اس کے حصے میں تصرف کر سکتا ہے، اور ہر شریک دوسرے کے حصے میں اجنبی کی طرح ہے۔ اور اپنے حصے میں اب تصرف وہ کر سکتا ہے، تو صاحبِ ہدایہ آپ کو تفصیل بتلانے لگے ہیں کہ مثلاً شرکتِ املاک کے اندر ایک شریک اپنے حصے میں تصرف کرتا ہے اور اس... کسی دوسرے شریک کے ہاتھ اسے بیچنا چاہتا ہے۔ زید اور عمرو نے مل کر گندم خریدی ہے، پچاس ہزار زید نے ملائے، پچاس ہزار عمرو نے ملائے، دونوں نے مل کر سو من گندم خرید لی۔ اب اس سو میں سے پچاس من زید کے ہیں اور پچاس من عمرو کے ہیں، لیکن دونوں کے دانے ملے ہوئے ہیں۔ ہر ہر دانے میں زید کی بھی شرکت ہے اور عمرو کی بھی شرکت ہے۔ اب زید اپنے حصے کی گندم وہ بھی اپنے شریک یعنی عمرو کو بیچنا چاہتا ہے، تو یاد رکھو اپنے شریک کے ہاتھ بیچنا ہر حال میں جائز ہے۔ اپنے شریک کے ہاتھ بیچنا ہر حال میں جائز ہے، لیکن اگر زید اپنا حصہ کسی تیسرے آدمی کے ہاتھ فروخت کرنا چاہتا ہے یعنی کسی غیر شریک کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے، تو پھر بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ یہاں دو صورتیں بنتی ہیں۔ ایک صورت کے اندر زید اپنا حصہ تیسرے آدمی یعنی خالد کو بیچنا چاہتا ہے، تو زید کو اپنے شریک یعنی عمرو سے اجازت کی کوئی ضرورت نہیں۔ اور بعض صورتوں کے اندر زید کو عمرو سے بھی اجازت لینا پڑے گی۔ توجہ ہے؟ زید اور عمرو نے مل کر گندم خریدی ہے، تو اس گندم کے اندر زید بھی شریک ہے اور عمرو بھی شریک ہے۔ اب زید اپنا حصہ خالد کو بیچنا چاہتا ہے، تو یاد رکھو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے شرکتِ املاک کے اندر بعض صورتوں کے اندر شریک اپنا حصہ تیسرے آدمی کو بیچ سکتا ہے اپنے شریک کی اجازت کے بغیر ہی، یعنی زید عمرو کی اجازت کے بغیر ہی اپنا حصہ خالد کو بیچ سکتا ہے۔ اور بعض صورتوں کے اندر زید کو عمرو سے اجازت لینا پڑے گی، اپنے شریک سے اجازت لینا پڑے گی پھر وہ اپنا حصہ خالد کو بیچ سکتا ہے ویسے نہیں بیچ سکتا۔ توجہ ہے؟ تو اس کی تفصیل بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ کہ اگر یہ جو شرکتِ املاک ہے یہ دونوں نے پیسے ملا کر کوئی چیز خریدی ہے، تو اس چیز کے ہر ہر جز میں دونوں شریک ہیں۔ جیسے زید اور عمرو نے پیسے ملا کر گندم خریدی، تو اس گندم کے ہر ہر دانے میں زید اور عمرو شریک ہیں۔ گندم کے کسی ایک دانے کو بھی پکڑ کر زید یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ صرف میرا ہے، نہیں بھئی، ہر ہر دانے میں زید کا بھی حصہ اور عمرو کا بھی حصہ۔ لہٰذا اس کے اندر زید اگر اپنا حصہ خالد کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے، تو زید کو عمرو کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ زید عمرو سے اجازت لیے بغیر ہی اپنا حصہ خالد کے ہاتھ یعنی ایک غیر شریک کے ہاتھ بیچ سکتا ہے۔ لیکن وہ صورت جس کے اندر زید اور عمرو کا مال آپس میں مل گیا، زید کی گندم الگ تھی، عمرو کی گندم الگ تھی، پھر دونوں نے اس کو آپس میں ملا لیا۔ دونوں نے خود ملایا ہے یا ویسے ہی گندم آپس میں مل گئی، دونوں کی گندم الگ پڑی ہوئی تھی اور کسی شخص نے بے خیالی میں دونوں کو ملا دیا یعنی ان دونوں کا اس کے ملانے میں دخل نہیں۔ اس صورت کے اندر بھی زید اور عمرو دونوں اس گندم میں شریک ہو گئے، لیکن اس صورت میں فرق ہے۔ زید کے دانے الگ تھے، عمرو کے دانے الگ تھے، لہٰذا کوئی ایک دانہ بھی ایسا نہیں ہے جس میں زید اور عمرو دونوں کی شرکت ہو، بلکہ یا تو زید اس کا مالک ہے یا عمرو اس کا مالک ہے۔ اگرچہ اب پتا نہیں چل سکتا، لیکن ہر ہر دانے میں دونوں کی شرکت نہیں ہے۔ کچھ دانے وہ صرف زید کے ہیں اور کچھ دانے صرف عمرو کے ہیں۔ تو اب زید اگر اپنا حصہ کسی تیسرے آدمی کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے، تو زید کے لیے ممکن ہی نہیں ہے اپنے دانے تیسرے آدمی کے ہاتھ بیچ دے۔ زید جب بھی اپنا حصہ الگ کرے گا، تو اس کے اندر کچھ دانے زید کے ہوں گے اور کچھ دانے عمرو کے ہوں گے۔ لہٰذا اس لیے یہاں پر زید کو عمرو سے بھی اجازت لینا پڑے گی کہ میں اپنا حصہ خالد کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہوں۔ اگر عمرو اجازت دے دیتا ہے پھر زید بیچ سکتا ہے، ورنہ خالد کے ہاتھ وہ نہیں بیچ سکتا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ کہ ایک صورت میں جب دونوں نے مل کر گندم خریدی تھی تو ہر ہر دانے میں دونوں شریک تھے، تو وہاں پر جب دونوں گندم کو تقسیم بھی کریں گے کچھ آدھی گندم اگر زید لے لیتا ہے اور آدھی گندم عمرو لے لیتا ہے، تو یوں سمجھیں گے دونوں نے اپنا اپنا حصہ الگ کر لیا ہے۔ لہٰذا زید اپنا حصہ تیسرے آدمی کے ہاتھ بھی بیچ سکتا ہے اور زید آدھی گندم الگ کر کے اسے دے گا، تو یوں ہی سمجھا جائے گا زید اپنا حصہ الگ کر کے اسے دے رہا ہے۔ لیکن وہ صورت جس میں دونوں کے مال مل گئے یا دونوں نے خود آپس میں ملا دیے، اس میں تو ہر ہر دانے میں دونوں کی شرکت نہیں ہے۔ تو وہاں جب بھی ایک ساتھی دوسرے کے حوالے آدھی گندم کرے گا، تو دوسرے شریک کے دانے بھی یقیناً اس کے اندر آئیں گے بھئی، لہٰذا وہاں پھر اپنے شریک سے اجازت لینا ضروری ہے۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ بَيْعُ أَحَدِهِمَا نَصِيبَهُ“ اور دونوں میں سے ہر ایک کے لیے بیچنا جائز ہے، ”نَصِيبَهُ“ اپنے حصے کو، ”مِنْ شَرِيكِهِ“ اپنے شریک کے ہاتھ۔ دونوں صورتیں: زید اور عمرو نے مل کر گندم خریدی ہے اور زید اب اپنا حصہ اپنے ہی شریک یعنی عمرو کو بیچنا چاہتا ہے، یا دونوں نے گندم کے دانے آپس میں ملا دیے، زید کی گندم الگ تھی عمرو کی الگ لیکن دونوں نے ملا دیے، اب زید اپنا حصہ عمرو کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے، تو چاہے دانے ملانے والی صورت ہو چاہے مل کر خریدنے والی صورت ہو، دونوں صورتوں میں ایک شریک اپنا حصہ دوسرے شریک کے ہاتھ بیچ سکتا ہے، اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَجُوزُ بَيْعُ أَحَدِهِمَا نَصِيبَهُ مِنْ شَرِيكِهِ فِي جَمِيعِ الصُّوَرِ“ اور دونوں میں سے ہر ایک کے لیے جائز ہے بیچنا اپنے حصے کو اپنے شریک کے ہاتھ تمام صورتوں میں، ”وَمِنْ غَيْرِ شَرِيكِهِ“ اور اگر یہ کوئی ایک اپنا حصہ بیچتا ہے غیر شریک کے ہاتھ، شریک کون کون ہے؟ زید اور عمرو، اور زید اپنا حصہ کس کو بیچنا چاہتا ہے؟ خالد کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے، اور خالد تو ان کے ساتھ شریک نہیں، تو زید اپنا حصہ خالد کے ہاتھ بیچنا چاہتا ہے جو غیر شریک ہے، تو خلط اور اختلاط کے علاوہ، خلط اور اختلاط کے علاوہ باقی صورتوں میں زید اپنا حصہ خالد کو بیچ سکتا ہے، اسے عمرو سے اجازت لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔ لیکن خلط اور اختلاط کی صورت میں جب دونوں نے دانے ملائے ہیں یا مال آپس میں ملایا ہے، تو وہاں پر زید خالد کے ہاتھ اپنا حصہ بیچنا چاہتا ہے، تو اسے عمرو سے بھی اجازت لینا پڑے گی، کیونکہ زید کے لیے ممکن ہی نہیں ہے اپنا حصہ الگ کر لے، اس میں ضرور عمرو کا بھی مال آئے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمِنْ غَيْرِ شَرِيكِهِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ“ اور غیر شریک کے ہاتھ بھی ہر ایک اپنا حصہ بیچ سکتا ہے، ”بِغَيْرِ إِذْنِهِ“ اپنے شریک کی اجازت کے بغیر ہی، ”إِلَّا فِي صُورَةِ الْخَلْطِ وَالِاخْتِلَاطِ“ مگر وہ صورت کہ جس کے اندر دونوں نے اپنا مال ملایا ہے یا وہ مال خود مل گیا ہے، اس صورت میں دوسرے کی اجازت کے بغیر نہیں بیچ سکتا، ”فَإِنَّهُ لَا يَجُوزُ“ اس کے اندر جائز نہیں ہے کہ غیر شریک کے ہاتھ بیچ دے، ”إِلَّا بِإِذْنِهِ“ مگر اپنے شریک کی اجازت سے، ”وَقَدْ بَيَّنَّا الْفَرْقَ فِي كِفَايَةِ الْمُنْتَهِي“ اور تحقیق ہم نے فرق بیان کیا ہے کفایۃ المنتہی میں۔ صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں ہم نے ان دونوں میں فرق بیان کیا ہے کفایۃ المنتہی میں۔ اور میں نے فرق بیان کر دیا کہ جب دونوں مل کر گندم خریدتے ہیں یا دونوں ہبہ قبول کرتے ہیں یا دونوں وارث بنتے ہیں ایک چیز کے، تو ہر ہر جز میں شریک ہوتے ہیں۔ اور جب دونوں کا مال الگ الگ تھا اور اس کو دونوں آپس میں ملا دیتے ہیں، تو اس کے اندر ہر ہر دانے میں دونوں یا ہر ہر مال کے حصے میں دونوں شریک نہیں ہیں، بلکہ ہر ایک کی چیز الگ ہے، اگرچہ دونوں جدا نہیں کر سکتے اس کو، لیکن ملکیت الگ الگ ہی ہے اس مال کے اندر دونوں کی۔ یہ تو تھا شرکتِ املاک۔ اب شرکتِ عقود کو بیان کرنے لگے ہیں جس کے لیے یہ باب ذکر کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ۔ کہتے ہیں: ”وَالضَّرْبُ الثَّانِي: شَرِكَةُ الْعُقُودِ“ اور دوسری قسم جو ہے، ”شَرِكَةُ الْعُقُودِ“ وہ شرکتِ عقود ہے، ”وَرُكْنُهَا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ“ اور شرکتِ عقود کا رکن ایجاب اور قبول ہے۔ بھئی آپ جانتے ہیں دو آدمیوں کے درمیان جو عقد ہوتا ہے وہ ایجاب اور قبول پر مشتمل ہوتا ہے، تو شرکتِ عقود کے اندر بھی دو آدمی مل کر کاروبار کرنا چاہتے ہیں تو آپس میں عقد کریں گے، اور عقد ایجاب اور قبول کا نام ہے، تو وہی ذکر کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَرُكْنُهَا الْإِيجَابُ وَالْقَبُولُ“ اور شرکتِ عقود کا رکن جو ہے وہ ایجاب اور قبول ہے۔ اب وہ ایجاب اور قبول کیسے ہو گا؟ وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَهُوَ أَنْ يَقُولَ أَحَدُهُمَا: شَارَكْتُكَ فِي كَذَا وَكَذَا“ اور وہ یہ کہ ان دونوں میں سے ایک کہتا ہے: ”شَارَكْتُكَ فِي كَذَا وَكَذَا“ کہ میں تیرے ساتھ شریک ہو گیا اس اس چیز میں یعنی تجارت میں۔ فلاں فلاں تجارت میں، یعنی مل کر ہم کپڑے کی تجارت کریں گے یا فلاں فلاں تجارت کریں گے۔ تو ان میں سے ایک کہتا ہے: ”شَارَكْتُكَ فِي كَذَا وَكَذَا“ کہ میں تیرے ساتھ شریک ہو گیا اس اس چیز میں یعنی اس اس تجارت میں، ”وَيَقُولَ الْآخَرُ: قَبِلْتُ“ اور دوسرا کہتا ہے: ”قَبِلْتُ“ کہ میں نے قبول کر لیا، تو یہ ایجاب اور قبول ہو گیا۔ ”وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ التَّصَرُّفُ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ“ اور اس عقد کی شرط یہ ہے کہ وہ تصرف جس پر عقد کیا جا رہا ہے، وہ تصرف جس پر عقد کیا جا رہا ہے مثلاً تجارت وغیرہ ہے، وہ قابلِ وکالت ہونا چاہیے، اس میں ایک آدمی دوسرے کو وکیل بنا سکے۔ کیونکہ وکالت ضروری ہے پھر ہی شرکت آئے گی۔ مثلاً آپ ایک شخص کے ساتھ عقدِ شرکت کر لیتے ہیں کہ ہم دونوں تجارت کرتے ہیں اور جو بھی نفع کمائیں گے وہ آدھا آدھا تقسیم کریں گے، تو آپ الگ کام کر رہے ہیں آپ کا ساتھی الگ کام کر رہا ہے، لیکن نفع میں ایک دوسرے کے ساتھ شریک ہیں۔ تو یہ تبھی ہو سکتا ہے جب آپ جو بھی عقد کریں، آپ وہ عقد اپنے لیے بھی کر رہے ہوں اور دوسرے کے لیے بطورِ وکیل کے کر رہے ہوں۔ تو اپنے لیے آپ یہ عقد کر رہے ہیں اس اعتبار سے آپ ہوئے اصیل، اور دوسرے شریک کے لیے بھی یہ عقد کر رہے ہیں تو اس اعتبار سے آپ اس کے ہوئے وکیل بھئی۔ تو آپ جو بھی بیع و شراء کریں گے، آپ اس میں اصیل بھی ہیں اور اپنے شریک کے وکیل بھی ہیں، تو اس صورت میں اب جب فائدہ اور نفع حاصل ہو گا تو اس میں دونوں کا حصہ ہو گا کیونکہ یہ عقد آپ نے صرف اپنے لیے نہیں کیا بلکہ اپنے ساتھی کے لیے بھی بطورِ وکیل کے کیا ہے۔ تو معلوم ہوا نفع کے اندر شرکت تبھی ہو سکتی ہے جب اس تصرف کے اندر وکالت جائز ہو۔ اگر وکالت جائز نہیں تو پھر شرکت بھی نہیں ہو سکتی۔ ایک آدمی آپ سے کہتا ہے کہ تم جو شکار کر کے لاؤ گے ہم اس میں دونوں شریک ہوں گے، اور میں بھی جو شکار کر کے لاؤں گا اس میں ہم دونوں شریک ہوں گے، کہتے ہیں: نہیں، یہ شرکت جائز نہیں۔ کیونکہ مباح چیزوں کے جمع کرنے کے اندر وکالت جائز نہیں ہے، جو بھی مباح چیز کو جمع کر لے گا اور اس کو محفوظ کر لے گا وہ اس کا مالک بن جائے گا، جیسے جنگل سے لکڑیاں لانا یا جنگل سے گھاس لانا یا اسی طرح جنگل سے شکار پکڑ کے لانا، تو یہ سب چیزیں مباح ہیں، جو بھی گھاس لائے گا یا لکڑی لائے گا یا شکار کو پکڑے گا وہ اس کا مالک ہو جائے گا۔ تو مباح چیزوں کے اندر توکیل جائز نہیں، دوسرے کو وکیل بنانا جائز نہیں، لہٰذا ان کے اندر عقدِ شرکت جائز نہیں۔ تو لہٰذا جس تصرف پر یہ دونوں آپس میں عقد کر رہے ہیں، وہ تصرف ایسا ہو جس میں دوسرے کو وکیل بنایا جا سکے۔ اگر وکیل نہیں بنا سکتے تو پھر اس میں شرکت بھی صحیح نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ التَّصَرُّفُ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ“ اور اس عقد کی شرط یہ ہے کہ وہ تصرف جس پر عقد کیا گیا ہے، ”عَقْدَ الشَّرِكَةِ“ کون سا عقد؟ شرکت والا عقد۔ بھئی دیکھیے ”عَقْدَ الشَّرِكَةِ“ یہ مفعولِ مطلق ہے ”الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ“ کے لیے، اور مفعولِ مطلق کا الگ ترجمہ نہیں کرتے اس کو ماقبل کے ساتھ ہی ترجمے میں ملا دیتے ہیں، اب ہم اس کو ملا دیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ التَّصَرُّفُ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ“ اور اس عقد کی شرط یہ ہے کہ وہ تصرف جس پر شرکت کا عقد کیا گیا ہے وہ وکالت کے قابل ہونا چاہیے، یعنی وہ وکالت کو قبول کرتا ہو بھئی، وہاں وکیل بنایا جا سکے۔ تو اس کے ذریعے احتراز کیا کس سے؟ یہ شکار کھیلنے سے اور جنگل سے لکڑیاں لانے سے اور جنگل سے گھاس لانے سے، ان میں وکیل نہیں بنایا جا سکتا دوسرے کو تو اس کے اندر شرکت بھی جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَشَرْطُهُ أَنْ يَكُونَ التَّصَرُّفُ الْمَعْقُودُ عَلَيْهِ عَقْدَ الشَّرِكَةِ قَابِلًا لِلْوَكَالَةِ لِيَكُونَ مَا يُسْتَفَادُ بِالتَّصَرُّفِ مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا“ اور اس عقد کی شرط یہ ہے کہ وہ تصرف جس پر شرکت کا عقد کیا گیا ہے وہ وکالت کے قابل ہونا چاہیے یعنی وہ وکالت کو قبول کرتا ہو بھئی، ”لِيَكُونَ مَا يُسْتَفَادُ بِالتَّصَرُّفِ“ تاکہ وہ نفع جو حاصل ہو تصرف کی وجہ سے، ”مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا“ وہ دونوں کے درمیان مشترک ہو۔ توجہ ہے؟ نفع کے اندر شرکت تب آئے گی جب اس میں دوسرا وکیل تو بن سکے۔ تو کہتے ہیں: ”لِيَكُونَ مَا يُسْتَفَادُ“ ”مَا“ سے مراد ہے نفع، تاکہ وہ نفع جو حاصل ہو تصرف کی وجہ سے، ”مُشْتَرَكًا بَيْنَهُمَا“ وہ دونوں شریکوں کے درمیان مشترک ہو جائے، ”فَيَتَحَقَّقَ حُكْمُهُ الْمَطْلُوبُ مِنْهُ“ تو اس صورت میں عقدِ شرکت کا حکم ثابت ہو گا، ”الْمَطْلُوبُ مِنْهُ“ وہ حکم جو اس شرکت سے مطلوب ہے۔ بھئی عقدِ شرکت سے کیا مطلوب ہے؟ نفع کے اندر شرکت۔ دو آدمی آپس میں عقدِ شرکت کرتے ہیں اس کا مقصد کیا ہے؟ تاکہ ایک ساتھی جو نفع کمائے دوسرا بھی اس میں شریک ہو جائے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَيَتَحَقَّقَ حُكْمُهُ الْمَطْلُوبُ مِنْهُ“ تو اس عقدِ شرکت کا وہ حکم پایا جائے گا جو اس عقد کے ذریعے مطلوب ہے یعنی نفع کے اندر شرکت بھئی۔ وکالت ہو گی تو نفع میں شرکت بھی ہو گی، اگر اس میں دوسرا وکیل ہی نہیں بن سکتا تو وہاں نفع میں شرکت بھی نہیں ہو سکتی بھئی۔ آگے دیکھیے: ”ثُمَّ هِيَ أَرْبَعَةُ أَوْجُهٍ: مُفَاوَضَةٌ، وَعِنَانٌ، وَشَرِكَةُ الصَّنَائِعِ، وَشَرِكَةُ الْوُجُوهِ“ پھر یہ شرکتِ عقود جو ہے یہ چار قسم پر ہے: مفاوضہ، اور عنان، اور شرکتِ صنائع—صنائع، کاریگری—شرکتِ صنائع اور ایک ہے شرکتِ وجوہ بھئی۔ ہر ایک کی تفصیل آگے صاحبِ ہدایہ بیان کریں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”ثُمَّ هِيَ أَرْبَعَةُ أَوْجُهٍ: مُفَاوَضَةٌ، وَعِنَانٌ، وَشَرِكَةُ الصَّنَائِعِ، وَشَرِكَةُ الْوُجُوهِ“ پھر یہ شرکتِ عقود چار قسم پر ہے: ایک مفاوضہ ہے، ایک عنان ہے، ایک شرکتِ صنائع ہے اور ایک شرکتِ وجوہ ہے۔ ”فَأَمَّا شَرِكَةُ الْمُفَاوَضَةِ فَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ الرَّجُلَانِ فَيَتَسَاوَيَانِ فِي مَالِهِمَا وَتَصَرُّفِهِمَا وَدِينِهِمَا“ بھئی مفاوضہ، مفاوضہ کا معنی ہے برابری کے، اور یہ شرکتِ مفاوضہ کے اندر بھی دونوں شریکوں میں برابری ہونی چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَمَّا شَرِكَةُ الْمُفَاوَضَةِ“ تو شرکتِ مفاوضہ جو ہے، ”فَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ الرَّجُلَانِ“ وہ یہ کہ دو آدمی شریک ہو جائیں، ”فَيَتَسَاوَيَانِ فِي مَالِهِمَا“ تو یہ دونوں برابر ہوں گے اپنے مال میں، ”وَتَصَرُّفِهِمَا“ اور اپنے تصرف میں، ”وَدِينِهِمَا“ اور اپنے دین میں۔ بھئی شرکتِ مفاوضہ کے اندر ضروری ہے کہ دونوں شریکوں کا مال بھی برابر ہو، ان کا تصرف بھی برابر ہو اور ان کا دین بھی برابر ہو۔ دونوں کا دین بھی برابر ہو۔ مال دونوں کا برابر ہونا چاہیے یعنی وہ مال مراد ہے جس میں شرکت ہو سکے، اور شرکت جو ہے وہ صرف درہم اور دنانیر میں ہے۔ درہم اور دنانیر میں ہو سکتی ہے یا اسی طرح جو رائج کرنسی ہے، فلوسِ نافقہ، جو رائج پیسے ہیں۔ تو درہم، دینار اور رائج کرنسی کے اندر شرکت ہو سکتی ہے، تو یہ دونوں کے یہ مال برابر ہونے چاہئیں۔ تو شرکتِ مفاوضہ اس کے اندر ضروری ہے ایک آدمی کے پاس بیس درہم ہیں تو دوسرے کے پاس بھی بیس درہم ہونے چاہئیں، مال کے اندر دونوں برابر ہوں۔ باقی ایک کے پاس زمین زیادہ ہے ایک کے پاس زمین کچھ کم ہے یا ایک کے پاس گھر کا سامان زیادہ ہے دوسرے کے پاس گھر کا سامان کچھ کم ہے یا ایک کے پاس بکریاں زیادہ ہیں دوسرے کے پاس بکریاں کچھ کم ہیں، تو یہ سامان وغیرہ کو یا زمین اور جائیداد کو نہیں دیکھا جائے گا، صرف یہ درہم اور دینار اور کرنسی کو دیکھا جائے گا۔ درہم اور دینار کے اندر دونوں برابر ہونے چاہئیں۔ دونوں کا مال برابر ہونا چاہیے کیونکہ مفاوضہ، مفاوضہ کا معنی ہے برابر بھئی، دونوں باہم ایک دوسرے کے برابر ہوں۔ تو لہٰذا دونوں مال کے اعتبار سے بھی برابر ہوں، اور نیز تصرف کے اعتبار سے بھی برابر ہوں، جن تصرفات کا ایک کو حق ہے دوسرے کو بھی ان تصرفات کا حق ہو۔ لہٰذا یہ شرکتِ مفاوضہ یہ بالغ اور نابالغ کے درمیان نہیں ہو سکتی۔ دو شریکوں میں سے ایک بالغ ہے اور دوسرا نابالغ ہے ان کے درمیان شرکتِ مفاوضہ نہیں ہو سکتی، وجہ یہ کہ بالغ کو تو ہر قسم کے تصرفات کا حق حاصل ہے اور جو نابالغ ہے جو بچہ ہے اس کو تو ولی کی اجازت کے بغیر تصرفات کا حق نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح آزاد اور غلام کے درمیان بھی یہ عقدِ مفاوضہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ آزاد جو ہے وہ ہر قسم کے تصرفات کا مالک ہوتا ہے جبکہ غلام تو آقا کی اجازت کے بغیر تصرفات کا مالک نہیں ہے، تو لہٰذا عقدِ مفاوضہ کے اندر تصرفات میں برابری ضروری ہے۔ اور نیز دین کے اندر بھی برابری ضروری ہے۔ یعنی ایک مسلمان عقدِ مفاوضہ کرنا چاہتا ہے ذمی کے ساتھ، یہ جائز نہیں، وجہ یہ کہ ذمی جو ہے اس کے لیے تو شراب اور خنزیر کی بیع و شراء جائز ہے لیکن مسلمان کے لیے تو یہ بیع و شراء جائز نہیں، تو دیکھو ذمی جو ہے اس کو بعض وہ تصرف حاصل ہیں جو مسلمان کو حاصل نہیں ہیں، تو لہٰذا ان دونوں کے درمیان بھی عقدِ مفاوضہ درست نہیں۔ ہاں! دو ذمی آپس میں عقدِ مفاوضہ کرتے ہیں، ایک ذمی جو ہے وہ عیسائی ہے اور دوسرا یہودی ہے یا مجوسی ہے، تو ان کے درمیان جو ہے عقدِ مفاوضہ جائز ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“ کہ کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے۔ توجہ ہے؟ تو لہٰذا وہ دین کے اعتبار سے برابر ہیں، چاہے ایک عیسائی ہو یا ایک یہودی ہو یا مجوسی ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَأَمَّا شَرِكَةُ الْمُفَاوَضَةِ فَهِيَ أَنْ يَشْتَرِكَ الرَّجُلَانِ“ تو شرکتِ مفاوضہ یہ ہے کہ دو آدمی شریک ہو جائیں، ”فَيَتَسَاوَيَانِ فِي مَالِهِمَا وَتَصَرُّفِهِمَا وَدِينِهِمَا“ تو یہ دونوں برابر ہوں اپنے مال میں اور اپنے تصرف میں اور اپنے دین میں، ”لِأَنَّهَا شَرِكَةٌ عَامَّةٌ فِي جَمِيعِ التِّجَارَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ عام شرکت ہے تمام تجارتوں میں۔ بھئی یاد رکھو یہ عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں مل کر تجارت کے کام کریں گے، لیکن اس میں یہ ضروری نہیں ہے کہ مل کر کپڑے کا کام کریں گے، نہیں، ایک شریک اپنے طور پر جو بھی کام کرنا چاہتا ہے کرے گا، ہر بیع و شراء کے اندر جو نفع ہو گا دوسرا بھی اس میں شریک ہو گا۔ تو یہ تمام تجارتوں کو شامل ہے، جس قسم کی تجارت بھی دونوں کرنا چاہیں ہر ایک کی مرضی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے اس کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل بھی ہیں، کفیل یعنی ضامن، ضامن۔ کفالت، اردو میں ہم اسے ضمانت کہتے ہیں۔ آپ ایک آدمی کے پاس گئے کہ مجھے کچھ قرض چاہیے، تو اس نے کہا کہ بھئی کسی ضامن کو لے کر آؤ، کوئی ضمانت دے کہ آپ میرا قرض واپس کریں گے، تو آپ زید کو لے گئے کہ یہ میری ضمانت دے گا۔ تو ہم اس کو اردو میں کیا کہتے ہیں؟ ضمانت، اور عربی میں کیا کہتے ہیں؟ کفالت۔ تو یہ جو عقدِ مفاوضہ ہے اس میں دونوں شریک جو بھی عقد کریں گے اس میں دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہیں اور دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی ہیں یعنی ضامن بھی ہیں۔ ضامن ہونے کا فائدہ یہ ہے کہ مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے۔ مثلاً ابھی جیسے میں نے مثال ذکر کی، آپ ایک آدمی کے پاس قرض لینے گئے اس نے کہا کسی ضامن کو لے کر آؤ کوئی آدمی آپ کی ضمانت دے کہ آپ میرا قرض واپس کریں گے، آپ زید کو لے گئے، زید نے جا کر ضمانت دی کہ یہ آدمی آپ کا قرض واپس کر دے گا اگر اس نے ادا نہ کیا تو مجھ سے لے لینا۔ تو اب وہ جو قرض خواہ ہے، بعد میں آپ سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ آپ ہی نے تو قرض لیا تھا اور وہ زید سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے کیونکہ زید نے ضمانت دی تھی۔ توجہ ہے؟ تو معلوم ہوا مال کا مطالبہ اصیل سے بھی ہو سکتا ہے اور کفیل سے بھی ہو سکتا ہے۔ تو عقدِ مفاوضہ کے اندر دونوں ساتھی ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں، مثلاً آپ نے اپنے ساتھی کے ساتھ عقدِ مفاوضہ کر لیا، آپ جو بھی عقد کر رہے ہیں یہ عقد صرف آپ کے لیے نہیں ہے بلکہ آپ کے لیے بھی ہے اور دوسرے ساتھی کے لیے بھی ہے، آپ اس کی طرف سے وکیل بن کر یہ عقد کر رہے ہیں۔ توجہ ہے؟ تو ہر عقد میں آپ اصیل بھی ہیں کیونکہ اپنے لیے بھی عقد کر رہے ہیں اور وکیل بھی ہیں کیونکہ آپ کے ساتھی کے لیے بھی ہے یہ عقد بھئی۔ اور ہر عقد کے اندر آپ کا ساتھی آپ کا ضامن ہے، لہٰذا وہ شخص جس کے ساتھ آپ نے بیع کی ہے تو وہ ثمن کا مطالبہ آپ سے بھی کر سکتا ہے اور آپ کے شریک سے بھی آ کر کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں دونوں برابر ہوں گے مال میں، تصرف میں اور دین میں، ”لِأَنَّهَا شَرِكَةٌ عَامَّةٌ فِي جَمِيعِ التِّجَارَاتِ“ اس لیے کیونکہ یہ عقدِ مفاوضہ جو ہے یہ شرکتِ عامہ ہے تمام تجارتوں میں، یہ ہر تجارت کو شامل ہے۔ میں نے بتایا اس میں کوئی پابندی نہیں کہ آپ فلاں کام کریں گے اور فلاں نہیں کریں گے۔ ”يُفَوِّضُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَمْرَ الشَّرِكَةِ إِلَى صَاحِبِهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ“ ان دونوں میں سے ہر ایک سپرد کرتا ہے شرکت کے معاملے کو اپنے ساتھی کے، علی الاطلاق بغیر کسی قید کے۔ دونوں میں سے ہر ایک شرکت کے معاملے کو اپنے ساتھی کے حوالے کرتا ہے کہ علی الاطلاق، تم جو بھی کام کرنا چاہو تمہیں کام کرنے کی اجازت ہے، تم پر کوئی پابندی نہیں ہے، ہاں البتہ نفع میں میرا بھی حصہ ہو گا۔ اور دوسرے کو بھی اجازت ہوتی ہے اس پر بھی کوئی پابندی نہیں، وہ جو بھی کام کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے، البتہ نفع کے اندر شریک کا بھی حصہ ہو گا۔ یہ معنی ہے: ”يُفَوِّضُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَمْرَ الشَّرِكَةِ إِلَى صَاحِبِهِ عَلَى الْإِطْلَاقِ“ کہ اس کے اندر دونوں میں سے ہر ایک جو ہے شرکت کے معاملے کو سپرد کرتا ہے اپنے ساتھی کے، علی الاطلاق یعنی بغیر کسی قید کے، ”إِذْ هِيَ مِنَ الْمُسَاوَاةِ“ اس لیے کہ مفاوضہ جو ہے مساوات سے ہے معنی کے اعتبار سے، مفاوضہ کا معنی ہے باہم ایک دوسرے کے برابر ہونا۔ ”قَالَ قَائِلُهُمْ“ عربوں میں سے ایک کہنے والا کہتا ہے—یہ ایک شاعر کا شعر ہے اور اس کے اندر بتلائیں گے کہ یہ مفاوضہ جو ہے یہ برابری کے معنی میں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ قَائِلُهُمْ“ عربوں میں سے ایک کہنے والا کہتا ہے: ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ فَوْضَى لَا سَرَاةَ لَهُمْ ... وَلَا سَرَاةَ إِذَا جُهَّالُهُمْ سَادُوا“ ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ“ ”صَلُحَ يَصْلُحُ“ کا معنی ہے ٹھیک ہونا، کسی کا ٹھیک ہونا، درست ہونا، صحیح ہونا۔ ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ“ لوگ ٹھیک نہیں ہو سکتے یعنی ان کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ“ لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ”فَوْضَى“ اس حال میں کہ وہ برابر ہوں، دیکھو یہ ہے ”فَوْضَى“، اسی سے مفاوضہ ہے، اور مادہ کیا ہے؟ ف، و، اور ض، تو فوضى کا معنی بھی برابر ہونا اور مفاوضہ میں بھی باہم ایک دوسرے کی برابری ہوتی ہے بھئی۔ توجہ ہے؟ ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ“ لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ”فَوْضَى“ اس حال میں کہ سارے لوگ برابر ہوں، ”لَا سَرَاةَ لَهُمْ“ ان کا کوئی سردار نہ ہو، ”سَرَاةَ“ بھئی سین کے ساتھ اور آخر میں گول تا ہے، ”سَرَاةَ“ یہ جمع ہے ”سَرِيٌّ“ کی، ”سَرِيٌّ“ سردار کو کہتے ہیں۔ ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ“ کہ لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے، ”فَوْضَى“ اس حال میں کہ وہ برابر ہوں، ”لَا سَرَاةَ لَهُمْ“ ان کا کوئی سردار نہ ہو بھئی۔ شاعر کہتا ہے، شاعر کہتا ہے کہ لوگوں کے معاملات ٹھیک چل ہی نہیں سکتے جب تک ان میں کوئی سردار نہ ہو۔ کوئی لوگوں میں سردار چاہیے کہ آپس میں کسی معاملے میں جھگڑا آئے یا خرابی آئے تو سردار کے پاس معاملے کو لے جا کر اس کی اصلاح کر سکیں، پھر ہی معاملات ٹھیک چلیں گے۔ اگر سارے لوگ آپس میں برابر ہیں ان میں کوئی سردار نہ ہو تو پھر معاملات ٹھیک نہیں چل سکتے پھر تو فتنہ و فساد پھیل جائے گا، ہر شخص کہے گا کہ میں صحیح ہوں اور کوئی ان میں فیصلہ کرنے والا نہیں ہو گا بھئی۔ تو لوگوں کے معاملات بغیر سردار کے ٹھیک نہیں چل سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ فَوْضَى لَا سَرَاةَ لَهُمْ“ اور لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے اس حال میں کہ وہ برابر ہوں ان کا کوئی سردار نہ ہو، ”وَلَا سَرَاةَ إِذَا جُهَّالُهُمْ سَادُوا“ اور کوئی سردار نہیں ہے، ”إِذَا جُهَّالُهُمْ سَادُوا“ جب ان کے جاہل ان کے سردار بن جائیں۔ ”جُهَّالُهُمْ سَادُوا“ جب ان کے جاہل ان کے سردار بن جائیں، اگر جاہل ان کے سردار بن جائیں پھر بھی یوں سمجھو کوئی سردار نہیں ہے، پھر بھی وہاں فتنہ و فساد ہی برپا ہو گا اور ان کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ تو قوموں کی اصلاح کے لیے اور فتنے اور فساد کو دفع کرنے کے لیے قوم میں سردار کا ہونا ضروری ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لَا يَصْلُحُ النَّاسُ فَوْضَى لَا سَرَاةَ لَهُمْ“ کہ لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں ہو سکتے اس حال میں کہ وہ برابر ہوں ان کا کوئی سردار نہ ہو، ”وَلَا سَرَاةَ إِذَا جُهَّالُهُمْ سَادُوا“ اور کوئی سردار نہیں ہے جب وہ جاہلوں کو اپنا سردار بنا لیں۔ آگے دیکھیے بھئی: ”أَيْ مُتَسَاوِينَ“ بھئی میری کتاب میں ہے ”مُتَسَاوِيَيْنِ“، یہ واؤ کے بعد دو یا ہیں بھئی۔ یہ دو یا نہیں ہونی چاہئیں ورنہ تو یہ تثنیہ بن جاتا ہے ”أَيْ مُتَسَاوِيَيْنِ“، حالانکہ یہاں تثنیہ نہیں چاہیے جمع چاہیے۔ کیا چاہیے؟ جمع چاہیے، اور ”مُتَسَاوٍ“ بھئی اس کی جمع کیا ہے؟ ”مُتَسَاوُونَ“، اس کی جمع ”مُتَسَاوُونَ“ ہے اور حالتِ نصبی جری میں ”مُتَسَاوِينَ“ ہے بھئی۔ تو شعر کے اندر ”فَوْضَى“ کا لفظ آیا تھا اور ”فَوْضَى“ کے معنی برابری کے ہیں بھئی اور اسی سے مفاوضہ ہے بھئی، اور یہ ”فَوْضَى“ کا لفظ حال واقع ہو رہا ہے اور حال منصوب ہوتا ہے۔ اسی لیے صاحبِ ہدایہ اس کی تفسیر بھی منصوب لائے ہیں بھئی: ”أَيْ مُتَسَاوِينَ“ تو یہاں ایک یا ہونی چاہیے: ”أَيْ مُتَسَاوِينَ“ یعنی کہ لوگ آپس میں برابر ہوں، تو پھر لوگوں کے معاملات ٹھیک نہیں چل سکتے۔ ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَحْقِيقِ الْمُسَاوَاةِ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً“ یہاں سے پھر اب مفاوضہ کی بات شروع کر دی، درمیان میں صرف وہ شعر ذکر کیا اور مفاوضہ کا معنی بیان کرنے کے لیے کہ مفاوضہ کے معنی برابری کے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ جب مفاوضہ کے معنی برابری کے ہیں تو ابتداءً بھی برابری ضروری اور انتہاءً بھی برابری ضروری۔ یعنی جب عقد کریں اس وقت بھی مال میں بھی برابر ہوں، تصرف میں بھی برابر ہوں اور دین کے اندر بھی برابر ہوں، اور بعد میں جب یہ عقدِ شرکت چل رہا ہے تو اس وقت بھی مال میں بھی برابری ضروری، تصرف میں بھی برابری ضروری اور دین کے اندر بھی برابری ضروری ہے۔ اگر ایک کا بھی مال بڑھ گیا تو عقدِ مفاوضہ باطل ہو جائے گا، اور یاد رکھو اس صورت میں پھر یہ شرکتِ عنان بن جائے گی۔ اگر ایک کا بھی مال بڑھ گیا تو یہ عقدِ مفاوضہ باطل کیونکہ مفاوضہ کے اندر برابری ضروری ہے، جب برابری نہیں تو مفاوضہ بھی نہیں، پھر یہ شرکتِ عنان بن جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”فَلَا بُدَّ مِنْ تَحْقِيقِ الْمُسَاوَاةِ ابْتِدَاءً وَانْتِهَاءً“ لہٰذا برابری کا پایا جانا ضروری ہے ابتدا کے اعتبار سے بھی اور انتہا کے اعتبار سے بھی۔ ابتدا کے اعتبار سے بھی برابری ہونی چاہیے یعنی جب عقدِ مفاوضہ کریں، اور انتہا کے اعتبار سے بھی برابری ہونی چاہیے یعنی بقائے عقد کی حالت میں بھئی۔ تو کہتے ہیں لہٰذا برابری کا ہونا ضروری ہے ابتدا اور انتہا کے اعتبار سے، ”وَذَلِكَ فِي الْمَالِ“ اب بھئی یہ برابری کس چیز میں ہو گی؟ اوپر متن میں بتلایا تھا: مال میں بھی برابری ہو گی، تصرف میں بھی برابری ہو گی اور دین کے اندر بھی برابری ہو گی، اب اس کو بیان کر رہے ہیں: ”وَذَلِكَ فِي الْمَالِ“ اور وہ برابری جو ہے مال کے اندر ہو گی، ”وَالْمُرَادُ بِهِ مَا تَصِحُّ الشَّرِكَةُ فِيهِ“ اور مراد اس سے وہ مال ہے کہ جس کے اندر شرکت صحیح ہو، یعنی درہم اور دینار اور اور رائج کرنسی ہے۔ ”وَلَا يُعْتَبَرُ التَّفَاضُلُ فِيمَا لَا يَصِحُّ الشَّرِكَةُ فِيهِ“ اور زیادتی کا اعتبار نہیں ہے اس مال کے اندر کہ جس کے اندر شرکت صحیح نہیں ہوتی، جیسے سامان ہے یا جانور ہیں یا زمین ہے یا جائیداد وغیرہ ہے۔ لہٰذا سامان اور جانور اور زمین اور جائیداد میں اگر ایک شریک کا مال زیادہ بھی ہو جائے تو اس تفاضل اور زیادتی کا کوئی اعتبار نہیں، اس سے عقدِ مفاوضہ نہیں ٹوٹے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ فِي الْمَالِ وَالْمُرَادُ بِهِ مَا تَصِحُّ الشَّرِكَةُ فِيهِ، وَلَا يُعْتَبَرُ التَّفَاضُلُ فِيمَا لَا يَصِحُّ الشَّرِكَةُ فِيهِ كَالْعُرُوضِ“ جیسے سامان، ”وَالْعَقَارِ“ اور جائیداد، ”وَالسَّوَائِمِ“ اور جانور بھئی، چرنے والے جانور۔ تو ان میں ایک کا مال زیادہ ہو جائے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں، ”فَيَجُوزُ أَنْ يَكُونَ لِأَحَدِهِمَا عَبْدٌ أَوْ دَارٌ لَا لِلْآخَرِ“ تو جائز ہے کہ ان دونوں میں سے ایک کے پاس غلام ہو یا گھر ہو جو دوسرے کے پاس نہ ہو، تو اس سے عقدِ مفاوضہ باطل نہیں ہو گا۔ ”وَفِي التَّصَرُّفِ“ اور اسی طرح تصرف میں بھی برابری ہونی چاہیے، ”حَتَّى لَا تَصِحَّ بَيْنَ حُرٍّ وَعَبْدٍ، وَبَالِغٍ وَصَبِيٍّ“ یہاں تک کہ عقدِ مفاوضہ صحیح نہیں ہے آزاد اور غلام کے درمیان، اور بالغ اور بچے کے درمیان۔ ”وَفِي الدِّينِ“ اور اسی طرح دین میں بھی برابری ضروری ہے، ”حَتَّى لَا تَصِحَّ بَيْنَ مُسْلِمٍ وَكَافِرٍ“ یہاں تک کہ صحیح نہیں ہے مسلمان اور کافر کے درمیان۔ ”فَإِنْ شَرَطَا أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ عَلَى التَّفَاضُلِ لَمْ يَجُزْ“ اور اگر ان دونوں نے شرط لگائی کہ نفع جو ہے وہ زیادتی پر ہو گا یعنی برابر نہیں ہو گا، نفع کے اندر کمی بیشی ہو گی، ایک کا نفع زیادہ ہو گا اور دوسرے کا نفع کم ہو گا، ”لَمْ يَجُزْ“ تو یہ جائز نہیں ہو گا۔ کیونکہ جب مفاوضہ ہے تو برابری ہونی چاہیے اور انہوں نے نفع میں برابری نہیں رکھی بلکہ ایک کا زیادہ اور ایک کا کم رکھا، تو کہتے ہیں مفاوضہ صحیح نہیں ہو گا۔ ”لِفَوَاتِ الْمُسَاوَاةِ فِي حَقِّ الرِّبْحِ“ نفع کے حق میں مساوات اور برابری فوت ہونے کی وجہ سے۔ ”وَهِيَ تَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ وَالْكَفَالَةِ“ اور یہ شرکتِ مفاوضہ جو ہے، یہ منعقد ہوتی ہے وکالت پر اور کفالت پر، یعنی دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور ایک دوسرے کے ضامن بھی ہیں۔ ”لِأَنَّ الْمُفَاوَضَةَ تَقْتَضِي الْمُسَاوَاةَ“ اس لیے کیونکہ مفاوضہ مساوات کا تقاضا کرتا ہے، ”وَلَا تَتَحَقَّقُ“ اور مساوات اور برابری پائی نہیں جا سکتی، ”إِلَّا بِهَا“ مگر کفالت کے ذریعے۔ وکالت کے ساتھ ساتھ جب تک کفالت نہ ہو، برابری پائی نہیں جا سکتی۔ تو اس لیے عقدِ مفاوضہ وکالت پر بھی منعقد ہو گا اور کفالت پر بھی منعقد ہو گا۔ ”إِذْ بِهَا“ اس لیے کیونکہ کفالت کے ذریعے ہی، ”يَسْتَوِيَانِ فِي الْمُطَالَبَةِ“ یہ دونوں شریک برابر ہوں گے مطالبے میں۔ میں نے بتلایا تھا نا کہ ہر ایک سے مطالبہ ہو سکتا ہے اصیل سے بھی اور ضامن سے بھی، تو کفالت کے ذریعے دونوں شریک مطالبے کے اندر برابر ہو جائیں گے، قرض خواہ جس سے چاہے مطالبہ کر لے، دونوں سے مطالبہ ہو سکتا ہے۔ ”إِذْ بِهَا يَسْتَوِيَانِ فِي الْمُطَالَبَةِ وَالدَّرَكِ“ اور تاوان کے اندر، دونوں مطالبے اور تاوان میں برابر ہو جائیں گے، ”فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصِيلًا فِيمَا اشْتَرَاهُ“ تو ان دونوں میں سے ہر ایک اصیل ہو گا اس چیز میں جس کو اس نے خریدا ہے، ”وَكَفِيلًا عَنْ صَاحِبِهِ“ اور اپنے ساتھی کی طرف سے کفیل اور ضامن ہو گا، ”وَوَكِيلًا لَهُ فِيمَا اشْتَرَاهُ صَاحِبُهُ“ اور اپنے ساتھی کی طرف سے وکیل ہو گا اس چیز میں جس کو اس کے ساتھی نے خریدا ہے۔ توجہ ہے؟ ”فَيَكُونُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَصِيلًا فِيمَا اشْتَرَاهُ“ تو ان دونوں میں سے ہر ایک اصیل ہو گا اس چیز میں جس کو اس نے خود خریدا ہے، ”وَكَفِيلًا عَنْ صَاحِبِهِ“ اور اپنے ساتھی کی طرف سے ضامن ہو گا، ”وَوَكِيلًا لَهُ فِيمَا اشْتَرَاهُ صَاحِبُهُ“ اور اپنے ساتھی کی طرف سے وکیل ہو گا اس چیز میں جس کو اس کے ساتھی نے خریدا ہے، یعنی دونوں ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوں گے اور دونوں ایک دوسرے کے ضامن بھی ہوں گے۔ ”وَأَمَّا شَرِكَةُ الْعِنَانِ: فَهُوَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ فِي نَوْعٍ مِنَ التِّجَارَاتِ“ اب یہ شرکتِ عقود کی دوسری قسم بیان کرنے لگے ہیں: شرکتِ عنان۔ کہتے ہیں: ”وَأَمَّا شَرِكَةُ الْعِنَانِ“ اور بہرحال شرکتِ عنان، ”فَهُوَ أَنْ يَشْتَرِكَ اثْنَانِ“ تو وہ یہ ہے کہ دو آدمی شریک ہو جائیں، ”فِي نَوْعٍ مِنَ التِّجَارَاتِ“ تجارت کی کسی ایک قسم میں، تجارت کی کسی خاص نوع میں، مثلاً صرف کپڑے کی تجارت میں شریک ہو جائیں یا صرف جوتوں کی تجارت میں شریک ہو جائیں، ”أَوْ فِي عُمُومِ التِّجَارَاتِ“ یا تمام تجارتوں میں، تجارت کی ہر نوع کے اندر دونوں شریک ہو جائیں، ”وَلَا يَشْتَرِطُ فِيهَا الْمُسَاوَاةُ“ اور اس شرکتِ عنان کے اندر مساوات اور برابری شرط نہیں ہے، یعنی دونوں کے مال میں برابری ضروری نہیں، ایک شریک کا مال زیادہ ہو دوسرے کا کم ہو، کوئی حرج نہیں، عقدِ عنان جائز ہے۔ دونوں کے تصرف میں برابری ضروری نہیں، ایک بالغ ہو دوسرا نابالغ ہو، عقدِ عنان ہو سکتا ہے۔ دونوں کے دین میں برابری ضروری نہیں، ایک مسلمان ہو دوسرا کافر ہو، عقدِ عنان ہو سکتا ہے۔ ”وَلَا يَشْتَرِطُ فِيهَا الْمُسَاوَاةُ فِي الْمَالِ، وَلَا أَنْ يَكُونَ الرِّبْحُ عَلَى قَدْرِ الْمَالِ“ اور نہ یہ شرط ہے کہ نفع مال کی مقدار پر ہو، نفع میں بھی کمی بیشی کر سکتے ہیں۔ جس کا مال زیادہ ہے اس کے لیے نفع کم کر لیں اور جس کا مال کم ہے اس کے لیے نفع زیادہ کر لیں، یہ بھی جائز ہے۔ تو عقدِ عنان کے اندر کسی قسم کی برابری ضروری نہیں ہے بھئی۔ ”وَهِيَ تَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ دُونَ الْكَفَالَةِ“ اور یہ شرکتِ عنان جو ہے، یہ منعقد ہوتی ہے صرف وکالت پر، دون الکفالہ نہ کہ کفالت پر۔ مفاوضہ کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی تھے اور کفیل بھی تھے۔ اور عنان کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل تو ہیں لیکن کفیل نہیں ہیں یعنی ضامن نہیں ہیں۔ لہٰذا جس شریک نے چیز خریدی ہے، بیچنے والا ثمن کا مطالبہ صرف اسی سے کر سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں کر سکتا کیونکہ دوسرا شریک ضامن نہیں ہے بھئی۔ ”لِأَنَّ الْعِنَانَ هُوَ الدَّابَّةُ“ عنان، عنان گھوڑے کی لگام کو کہتے ہیں۔ ”تَقُولُ: عَنَنْتُ الدَّابَّةَ إِذَا حَبَسْتَهَا بِالْعِنَانِ“ تو کہتا ہے: ”عَنَنْتُ الدَّابَّةَ“ جب تو جانور کو روک لے، ”بِالْعِنَانِ“ لگام کے ذریعے۔ ”فَكَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَبَسَ صَاحِبَهُ عَنْ سَائِرِ التَّصَرُّفَاتِ“ تو گویا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو روک دیا ہے باقی تمام تصرفات سے۔ کیونکہ وہ کہتا ہے بھئی صرف کپڑے کی تجارت ہو گی، کپڑے کے علاوہ کسی اور چیز میں تجارت نہیں ہو گی۔ یا کہتا ہے بھئی تجارت تو ہو گی لیکن تمہارے تصرفات کے ہم ضامن نہیں بنیں گے۔ ”فَكَأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا حَبَسَ صَاحِبَهُ عَنْ سَائِرِ التَّصَرُّفَاتِ“ تو گویا کہ ان دونوں میں سے ہر ایک نے اپنے ساتھی کو روک دیا ہے باقی تمام تصرفات سے، ”أَوْ هُوَ مِنْ مُعَانَنَةِ الدَّابَّتَيْنِ إِذَا سَارَتَا مَعًا“ یا یہ عنان جو ہے، یہ ماخوذ ہے ”مُعَانَنَةِ الدَّابَّتَيْنِ“ سے، جب دونوں جانور اکٹھے چلیں یعنی برابر برابر چلیں، ”وَاسْتَوَتْ أَعْنَاقُهُمَا“ اور ان دونوں جانوروں کی گردنیں برابر ہو جائیں۔ ”تَقُولُ: عَارَضْتُهُ وَعَانَنْتُهُ بِمَعْنًى“ تو کہتا ہے: ”عَارَضْتُهُ“ اور ”عَانَنْتُهُ“، یہ دونوں ایک معنی میں ہیں۔ ”فَكَأَنَّهُمَا سَارَا فِي التِّجَارَةِ مَعًا“ تو گویا کہ یہ دونوں چلے ہیں تجارت کے اندر اکٹھے۔ ”أَوْ مِنْ عَنَّ الشَّيْءُ إِذَا ظَهَرَ“ یا یہ عنان ماخوذ ہے ”عَنَّ الشَّيْءُ“ سے، جب کوئی چیز ظاہر ہو جائے، ”إِذْ لَا بُدَّ مِنْ إِظْهَارِ الْمَالِ“ اس لیے کیونکہ مال کا ظاہر کرنا ضروری ہے، ”حَتَّى يَتَصَرَّفَا فِيهِ“ تاکہ یہ دونوں اس مال کے اندر تصرف کر سکیں۔ تو یہ لفظِ عنان کی لغوی تحقیق بیان فرما دی صاحبِ ہدایہ نے۔ ”فَإِذَا صَحَّتِ الشَّرِكَةُ“ پس جب شرکت صحیح ہو جائے، ”فَمَا اشْتَرَاهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَهِيَ بَيْنَهُمَا“ تو جس چیز کو خریدا ہے ان دونوں میں سے ہر ایک نے، ”فَهِيَ بَيْنَهُمَا“ تو وہ چیز ان دونوں شریکوں کے درمیان ہو گی، ”عَلَى مَا شَرَطَا“ اس شرط کے مطابق جو شرط ان دونوں نے لگائی ہے۔ یعنی جس چیز کی دونوں کے درمیان شرکت ہوئی ہے مثلاً کپڑے کی، تو دونوں میں سے جو بھی کپڑا خریدے گا تو وہ دونوں کے درمیان مشترک ہو گا، آدھا آدھا شرط لگائی ہے تو آدھا آدھا ہو گا، ایک کے لیے تہائی اور ایک کے لیے دو تہائی شرط لگائی ہے تو تہائی اور دو تہائی کے اعتبار سے ہو گا۔ ”فَمَا اشْتَرَاهُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا فَهِيَ بَيْنَهُمَا عَلَى مَا شَرَطَا“ تو جس چیز کو ان دونوں میں سے ہر ایک نے خریدا ہے تو وہ ان دونوں کے درمیان ہو گی اس شرط کے مطابق جو شرط ان دونوں نے لگائی ہے، ”وَيُطَالَبُ الْمُشْتَرِي بِالثَّمَنِ دُونَ الْآخَرِ“ اور ثمن کا مطالبہ خریدار سے کیا جائے گا، دوسرے شریک سے نہیں۔ کیوں؟ ”لِأَنَّهُ اشْتَرَاهُ بِالْوَكَالَةِ لَا بِالْكَفَالَةِ“ اس لیے کیونکہ اس نے اس سامان کو خریدا ہے وکالت کے طور پر، نہ کہ کفالت کے طور پر، یعنی دوسرا شریک ضامن نہیں ہے، اس لیے دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ ”وَحُقُوقُ الْعَقْدِ تَرْجِعُ إِلَى الْعَاقِدِ“ اور عقد کے حقوق عاقد کی طرف لوٹتے ہیں، یعنی جو عقد کرنے والا ہے اسی کی طرف لوٹتے ہیں، تو بیع کا معاملہ جس نے کیا ہے ثمن کا مطالبہ بھی اسی سے کیا جائے گا۔ ”فَإِنْ هَلَكَ مَالُ أَحَدِهِمَا قَبْلَ الشِّرَاءِ بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“ اور اگر ہلاک ہو گیا ان دونوں میں سے کسی ایک کا مال، خریدنے سے پہلے، یعنی دونوں نے عقدِ شرکت تو کر لیا لیکن ابھی سامان وغیرہ خریدا نہیں تھا کہ دونوں میں سے کسی ایک کا مال ہلاک ہو گیا، چوری ہو گیا یا جل گیا، تو شرکت باطل ہو جائے گی۔ ”بَطَلَتِ الشَّرِكَةُ“ عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا، ”لِأَنَّ الْمَعْقُودَ عَلَيْهِ قَدْ هَلَكَ قَبْلَ أَنْ يَتَعَلَّقَ بِهِ حَقُّ الشَّرِكَةِ“ اس لیے کیونکہ جس چیز پر عقد کیا گیا تھا وہ چیز ہلاک ہو گئی ہے قبل اس کے کہ اس کے ساتھ شرکت کا حق متعلق ہو، تو اس لیے عقدِ شرکت باطل ہو جائے گا۔ ”وَإِنْ هَلَكَ مَالُهُمَا أَوْ مَالُ أَحَدِهِمَا بَعْدَ الشِّرَاءِ فَالشَّرِكَةُ عَلَى حَالِهَا“ اور اگر ہلاک ہو گیا دونوں کا مال، یا دونوں میں سے کسی ایک کا مال سامان خریدنے کے بعد، تو شرکت اپنی حالت پر برقرار رہے گی۔ سامان خرید لیا تھا، اس کے بعد مال ہلاک ہو گیا تو عقدِ شرکت برقرار رہے گا۔ ”وَالشِّرَاءُ عَلَى مَا شَرَطَا“ اور خریدنا اسی شرط کے مطابق ہو گا جو شرط ان دونوں نے لگائی ہے، ”وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ“ اور خریدار رجوع کرے گا اپنے شریک پر اس کے حصے کے ساتھ، اس سامان میں سے۔ یعنی جو سامان خریدا گیا ہے تو خریدنے والا اپنے ساتھی سے اس کے حصے کے بقدر جو رقم ہے اس کا مطالبہ کرے گا کہ بھئی سامان تو ہم نے خرید لیا تھا، لہٰذا اپنے حصے کا پیسہ مجھے ادا کرو، تو وہ اس سے اپنے حصے کے بقدر پیسہ وصول کرے گا بھئی۔ ”وَيَرْجِعُ الْمُشْتَرِي عَلَى شَرِيكِهِ بِحِصَّتِهِ مِنْ ذَلِكَ“ اور خریدار رجوع کرے گا اپنے شریک پر اس کے حصے کے ساتھ، اس سامان میں سے۔ ”لِأَنَّهُ اشْتَرَى لَهُ بِأَمْرِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے خریدا ہے اس کے لیے اس کے حکم سے، ”فَيَرْجِعُ عَلَيْهِ بِمَا أَدَّى عَنْهُ“ لہٰذا وہ رجوع کرے گا اس پر اس رقم کے ساتھ جو رقم اس نے اس کی طرف سے ادا کی ہے۔ کیونکہ سامان تو خرید لیا تھا، اور خریدار نے اپنے پاس سے رقم ادا کر دی تھی اور اس کے بعد اس کا پیسہ ہلاک ہوا، تو وہ اپنے شریک سے اس کے حصے کی رقم وصول کرے گا بھئی۔ یہ شرکتِ عنان کا کچھ حصہ بیان فرمایا۔ ”فِيمَا لَا يَصِحُّ الشِّرْكَةُ فِيهِ“ جس کے اندر شرکت صحیح نہیں۔ ایک کے پاس سامان زیادہ ہے تو اس زیادتی کا کوئی اعتبار نہیں، یا ایک کے پاس زمین زیادہ ہے تو اس زیادتی کا کوئی اعتبار نہیں، کیونکہ سامان اور زمین کے اندر تو یہاں شرکت نہیں ہو سکتی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يُعْتَبَرُ التَّفَاضُلُ“ اور باہم ایک دوسرے پر زیادتی معتبر نہیں ہے ”فِيمَا لَا يَصِحُّ الشِّرْكَةُ فِيهِ“ اس مال کے اندر جس کے اندر شرکت صحیح نہیں ہے ”وَكَذَا فِي التَّصَرُّفِ“ اور اسی طرح برابری ضروری ہے تصرف کے اندر بھی ”لِأَنَّهُ لَوْ مَلَكَ أَحَدُهُمَا تَصَرُّفًا“ اس لیے کیونکہ اگر دونوں میں سے ایک مالک ہوا تصرفاً ایسے تصرف کا ”لَا يَمْلِكُهُ الْآخَرُ“ کہ دوسرا اس تصرف کا مالک نہیں ہے ”لَفَاتَ التَّسَاوِي“ پھر تو دونوں میں برابری فوت ہو گئی، پھر تو دونوں میں برابری ختم ہو گئی ”وَكَذَلِكَ فِي الدِّينِ“ اور اسی طرح دونوں کے اندر دین میں بھی برابری ضروری ہے ”لِمَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم بیان کریں گے۔ دین کے اندر بھی برابری ضروری ہے اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے۔ میں نے آپ کو وجہ بتلا دی، کیونکہ اگر دین کے اندر برابری نہیں ہوگی تو کافر جو ہے وہ شراب اور خنزیر میں تصرف کر سکتا ہے اور مسلمان تو اس میں تصرف نہیں کر سکتا، تو برابری نہ رہی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَلِكَ فِي الدِّينِ“ اور اسی طرح دین کے اندر بھی برابری جو ہے وہ شرط ہے ”لِمَا نُبَيِّنُهُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جسے ان شاء اللہ ہم بیان کریں گے ”وَهَذِهِ الشِّرْكَةُ جَائِزَةٌ عِنْدَنَا اسْتِحْسَانًا“ اور یہ شرکت ہمارے نزدیک استحساناً جائز ہے۔ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ یہ جو شرکت مفاوضہ ہے یہ استحساناً جائز ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ اسے جائز نہیں ہونا چاہیے۔ وجہ یہ ہے کہ یہاں پر دونوں شریکوں میں سے ہر ایک دوسرے کا وکیل بھی ہے اور کفیل یعنی ضامن بھی ہے، اور دونوں کو اجازت ہے ہر طرح کی تجارت کرنے کی، تو گویا یہ مجہول چیز پر وکالت اور مجہول چیز پر کفالت لازم آ رہی ہے، اور مجہول چیز پر کسی کو وکیل بنانا یا مجہول چیز پر کفیل بننا یہ تو صحیح نہیں ہے بھئی، یہ تو جائز نہیں ہے۔ میں آپ سے کہتا ہوں کہ آپ میری طرف سے وکیل ہیں، تو آپ کہیں گے بھئی کس چیز میں وکیل ہوں؟ مجھے یہ تو بتلا دیجیے۔ تو دیکھو مجہول چیز پر وکیل بنانا صحیح نہیں، کم از کم جنس تو معلوم ہونی چاہیے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں بازار سے میرے لیے کچھ خرید کر لے آؤ، تو آپ کہیں گے بھئی میں کیا لے آؤں آپ کے لیے خرید کر؟ کیونکہ اس کے اندر تو ساری چیزیں داخل ہو جاتی ہیں بھئی۔ میں نے تو کوئی بیان نہیں کیا کہ کیا چیز لے کر آئیں گے، تو یہاں پر کم از کم جنس تو بیان ہونی چاہیے۔ مثلاً میں آپ سے کہتا ہوں میرے لیے گاڑی لے آؤ، اب گاڑی کی بے شمار قسمیں ہیں لیکن بہرحال کم از کم جنس کا تو پتہ چل گیا، یا میں آپ سے کہتا ہوں میرے لیے کپڑا لے آؤ، اب کپڑے بے شمار قسم کے ہیں لیکن کم از کم جنس کا تو پتہ چل گیا۔ تو جنس کا ہی پتہ نہ ہو تو وکیل بننا یا بنانا صحیح نہیں ہے۔ اور اسی طرح مال کا پتہ ہی نہیں ہے تو ضمانت بھی صحیح نہیں، آپ ایک شخص کے لیے ضمانت دیتے ہیں تو کم از کم پتہ تو ہونا چاہیے کس مال کی آپ ضمانت دے رہے ہیں؟ تو مجہول چیز پر کفالت بھی یعنی ضمانت بھی صحیح نہیں اور مجہول چیز کی وکالت بھی صحیح نہیں، اور یہاں پر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور کفیل بھی ہیں اور دونوں کو ہر طرح کے تصرفات کی اجازت ہے، تو گویا ایک شخص جو بھی عقد کرے گا دوسرے کو پتہ ہی نہیں لیکن یہ اس کی طرف سے وکیل بھی ہے اور دوسرا اس کی طرف سے کفیل بھی ہے، تو یہ تو مجہول چیز پر وکیل اور کفیل ہونا لازم آ رہا ہے، اور مجہول چیز پر وکیل ہونا یا کفیل ہونا تو جائز نہیں، لہٰذا قیاس تقاضا کرتا ہے کہ عقد مفاوضہ جائز ہی نہیں ہونا چاہیے، لیکن استحساناً شرکت مفاوضہ کو جائز قرار دیا گیا، اور استحسان کی کیا دلیل ہے؟ وہ آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ کہتے ہیں: ”وَهَذِهِ الشِّرْكَةُ جَائِزَةٌ عِنْدَنَا اسْتِحْسَانًا“ اور یہ شرکت مفاوضہ ہمارے نزدیک استحساناً جائز ہے ”وَفِي الْقِيَاسِ لَا يَجُوزُ“ اور قیاس میں یہ جائز نہیں ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی، یعنی وہ بھی فرماتے ہیں کہ مفاوضہ جائز نہیں ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”لَا أَعْرِفُ مَا الْمُفَاوَضَةُ“ کہ میں نہیں جانتا کہ مفاوضہ کیا ہے۔ امام مالک رحمہ اللہ سے مفاوضہ کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمانے لگے: میں نہیں جانتا مفاوضہ کیا ہے۔ اب اس کا کیا معنی کہ میں نہیں جانتا مفاوضہ کیا ہے؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ جب کوئی عالم کسی چیز کے بارے میں کہے کہ میں اس چیز کو نہیں جانتا، تو دراصل وہ کنایہ کر رہا ہوتا ہے اس چیز کے فاسد ہونے سے۔ جب ایک عالم ایک تصرف کے بارے میں کہے کہ میں نہیں جانتا، تو یہ دراصل کنایہ ہوتا ہے کہ یہ تصرف فاسد ہے، یہ جائز نہیں ہے۔ تو یہ بعض علماء نے امام مالک رحمہ اللہ کے قول کا معنی بیان کیا کہ جو امام مالک رحمہ اللہ نے فرمایا میں مفاوضہ نہیں جانتا، معنی یہ ہے کہ عقد مفاوضہ فاسد ہے، یہ جائز نہیں ہے۔ لیکن دیگر علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، کسی چیز کے نہ جاننے کا اعتراف کرنا اس کو اس چیز کے فاسد ہونے کا حکم قرار نہیں دیا جا سکتا، امام مالک یہ نہیں بیان فرما رہے کہ عقد مفاوضہ فاسد ہے، بلکہ یہاں سوال کرنے والے نے جس عقد مفاوضہ کے بارے میں پوچھا، امام مالک رحمہ اللہ فرمانے لگے: یہ جو مفاوضہ تم بیان کر رہے ہو یہ عقد مفاوضہ تو میں نہیں جانتا، یہ عقد مفاوضہ جو تم بیان کر رہے ہو جس میں دونوں شریکوں کا مال برابر ہونا چاہیے یہ عقد مفاوضہ تو میں نہیں جانتا۔ چنانچہ اسی لیے بعض کبار مالکی فقہاء سے مفاوضہ کا جواز منقول ہے، وہ فرماتے ہیں عقد مفاوضہ جائز ہے، البتہ ان کے نزدیک اس میں مال کی برابری شرط نہیں ہے، اس میں دونوں شریک ایک دوسرے کو تصرف کا حق دیتے ہیں کہ چاہے میں موجود ہوں چاہے میں موجود نہ ہوں تمہیں تصرف کا حق حاصل ہے بھئی، اور تمہارا قبضہ بھی میرے ہی قبضے کی طرح شمار ہوگا، البتہ اس کے اندر مال کی برابری ضروری نہیں ہوتی۔ تو معلوم ہوا امام مالک رحمہ اللہ کے نزدیک بھی مفاوضہ جائز ہے، البتہ ان کے نزدیک اس میں مال کی برابری کی شرط نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَقَالَ مَالِكٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى: لَا أَعْرِفُ مَا الْمُفَاوَضَةُ“ اور امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں نہیں جانتا عقد مفاوضہ کیا ہے ”وَجْهُ الْقِيَاسِ“ اب قیاس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، قیاس تو تقاضا کرتا ہے کہ عقد مفاوضہ جائز نہیں کیونکہ اس میں مجہول چیز پر وکالت اور مجہول چیز پر کفالت لازم آتی ہے اور یہ دونوں جائز نہیں ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الْقِيَاسِ: أَنَّهَا تَضَمَّنَتِ الْوَكَالَةَ بِمَجْهُولِ الْجِنْسِ“ اور قیاس کی وجہ یہ ہے کہ عقد مفاوضہ متضمن ہے مجہول جنس پر وکالت کو، عقد مفاوضہ متضمن ہے مجہول جنس پر وکالت کو، یعنی دونوں ایک دوسرے کو وکیل بنا رہے ہیں اور جنس متعین ہی نہیں ہے کہ کس چیز کے خریدنے میں وکیل بنا رہے ہیں، کیونکہ دونوں کو ہر طرح کی تجارت کی اجازت ہے بھئی، تو تجارت تو متعین ہی نہیں، مال تو متعین ہی نہیں، تو مجہول جنس پر دونوں ایک دوسرے کو وکیل بنا رہے ہیں اور یہ جائز نہیں، اور نیز اسی طرح مجہول چیز پر دونوں ایک دوسرے کے ضامن بن رہے ہیں اور یہ بھی جائز نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”أَنَّهَا تَضَمَّنَتِ الْوَكَالَةَ بِمَجْهُولِ الْجِنْسِ وَالْكَفَالَةَ بِمَجْهُولٍ“ اس وجہ سے کہ یہ شرکت مفاوضہ جو ہے یہ مجہول الجنس پر وکالت کو اور مجہول چیز پر کفالت کو متضمن ہے ”وَكُلُّ ذَلِكَ بِانْفِرَادِهِ فَاسِدٌ“ اور ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ علیحدہ طور پر فاسد ہے، مجہول جنس پر وکالت یہ بھی فاسد اور مجہول چیز پر ضمانت یہ بھی فاسد، تو جب دونوں میں سے ہر ایک علیحدہ علیحدہ فاسد ہے تو دونوں مل جائیں گے تو بھی فاسد ہی رہیں گے یعنی وکالت اور کفالت مجہول چیز پر۔ تو کہتے ہیں: ”وَكُلُّ ذَلِكَ بِانْفِرَادِهِ فَاسِدٌ“ اور یہ مجہول چیز پر وکالت اور مجہول چیز پر کفالت ان دونوں میں سے ہر ایک علیحدہ طور پر فاسد ہے تو مل کر بھی فاسد ہی رہیں گے۔ ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ“ استحسان کی وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ ہمارے نزدیک استحساناً شرکت مفاوضہ جائز ہے، تو کہتے ہیں: ”وَجْهُ الِاسْتِحْسَانِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ“ استحسان کی وجہ جو ہے وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قول ہے، آپ نے فرمایا: ”فَاوِضُوا فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ“ ”فَاوِضُوا“ کہ تم لوگ عقد مفاوضہ کیا کرو ”فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ“ کیونکہ یہ زیادہ بڑا ہے باعتبار برکت کے، یعنی اس میں زیادہ برکت ہے بھئی۔ تو حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”فَاوِضُوا فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلْبَرَكَةِ“ کہ تم عقد مفاوضہ کیا کرو کیونکہ اس میں زیادہ برکت ہے ”وَكَذَا النَّاسُ يُعَامِلُونَهَا مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ“ یہاں سے دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ لوگوں کا اس پر تعامل ہے، مسلمانوں کا اس پر تعامل ہے اور تعامل بھی دلیل ہے کسی چیز کے جائز ہونے کی، تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا النَّاسُ يُعَامِلُونَهَا“ اور اسی طرح لوگ جو ہیں مفاوضہ کا باہم معاملہ کرتے ہیں ”مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ“ بغیر کسی انکار کے، لوگ آپس میں مفاوضہ کے معاملات کرتے ہیں اور فقہاء اس کا انکار نہیں کرتے، اس سے منع نہیں کرتے، معلوم ہوا یہ جائز ہے، تو لوگوں کا عقد مفاوضہ کرنا اور فقہاء کا اس پر انکار اور رد نہ کرنا یہ اس کے جائز ہونے کی دلیل ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا النَّاسُ يُعَامِلُونَهَا مِنْ غَيْرِ نَكِيرٍ“ اور اسی طرح لوگ مفاوضہ کا باہم معاملہ کرتے ہیں بغیر کسی انکار کے یعنی کسی فقیہ کی طرف سے انکار نہیں کیا جاتا ”وَبِهِ يُتْرَكُ الْقِيَاسُ“ اور لوگوں کے اس تعامل کی وجہ سے قیاس کو چھوڑ دیا جاتا ہے، قیاس تو تقاضا کر رہا تھا یہ جائز نہیں ہونا چاہیے لیکن لوگوں کا تعامل بھی موجود ہے اور نیز حدیث بھی موجود ہے تو لہٰذا یہ جائز ہوگا، تو کہتے ہیں: ”وَبِهِ يُتْرَكُ الْقِيَاسُ“ اور لوگوں کے تعامل کی وجہ سے قیاس کو ترک کر دیا جاتا ہے ”وَالْجَهَالَةُ مُتَحَمَّلَةٌ تَبَعًا“ بھئی قیاس کے مطابق عقد مفاوضہ جائز نہیں کیونکہ اس میں جہالت ہے، مجہول چیز پر کفالت اور مجہول چیز پر وکالت ہے اور وہ تو جائز نہیں، تو اس کا بھی جواب دے رہے ہیں کہ یہاں پر جو جہالت آ رہی ہے وہ تابع ہو کر آ رہی ہے، اصل مقصود یہاں پر نفع کے اندر شرکت ہے، اصل مقصود کیا ہے؟ نفع کے اندر شرکت ہے کہ دو آدمی مل کر کاروبار کریں اور نفع کے اندر دونوں شریک ہوں، تو لہٰذا وہ جہالت جو کسی کے تابع ہو کر آ جائے وہ جہالت قابل برداشت ہوتی ہے وہ جائز ہوتی ہے۔ ایک تو ہے چیز کے اندر قصداً جہالت آئے، جیسے میں نے آپ سے کہا آپ میری طرف سے وکیل ہیں، اب دیکھو یہاں پر میں نے قصداً کس چیز کا وکیل بنا رہا ہوں اس کو میں نے ذکر ہی نہیں کیا، تو یہ قصداً جہالت ہے اور قصداً جہالت ہو تو وکالت جائز نہیں ہوتی، لیکن یہاں پر جو جہالت آ رہی ہے وہ عقد مفاوضہ کے تابع ہو کر آ رہی ہے لہٰذا وہ قابل برداشت ہے یعنی جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْجَهَالَةُ مُتَحَمَّلَةٌ تَبَعًا“ اور جہالت جو ہے اس کو برداشت کر لیا جاتا ہے تابع ہو کر ”كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ جیسے کہ عقد مضاربت کے اندر ہے، بھئی مضاربت کے اندر مال ایک شخص کا ہوتا ہے تجارت دوسرا کرتا ہے اور نفع میں دونوں شریک ہوتے ہیں، مثلاً میرے پاس مال ہے لیکن مجھے تجارت نہیں آتی، زید کو تجارت آتی ہے لیکن اس کے پاس مال نہیں ہے، تو میں اسے اپنا مال دیتا ہوں کہ اس کے ذریعے تجارت کرو اور نفع کے اندر ہم دونوں شریک ہوں گے، تو اس کو عقد مضاربت کہتے ہیں، توجہ ہے؟ تو عقد مضاربت میں مال ایک کا ہوتا ہے اور محنت اور عمل دوسرے کا ہوتا ہے، تو اب یہاں پر یہ زید کو میں نے اپنا مال دیا ہے تو زید جو بھی بیع و شراء کر رہا ہے وہ میری طرف سے وکیل ہو کر بیع و شراء کر رہا ہے، تو اس کے اندر دیکھو یہاں توکیل بالمجہول لازم آ رہی ہے، زید کو میں نے مال دیا ہے وہ جو بھی چیزیں خریدے اور بیچے اس کے اندر اس کے نفع میں ہم شریک ہوں گے، تو زید کو میں نے بیع و شراء کے اندر اپنا وکیل بنا دیا ہے مضاربت کے اندر، لیکن کیا چیز وہ خریدے گا؟ کتنا مال خریدے گا؟ کس سے خریدے گا؟ یہ سارا کچھ تو مجہول ہے، وہ تو اس کی مرضی ہے جہاں اس کو مناسب لگے گا وہ چیزیں خریدتا رہے گا اور بیچتا رہے گا، تو یہاں پر بھی دیکھو مضاربت کے اندر بھی دوسرے کو مجہول بیع و شراء پر وکیل بنانا لازم آ رہا ہے، لیکن چونکہ یہ جو جہالت آ رہی ہے یہ تابع ہو کر آ رہی ہے لہٰذا اس کو برداشت کر لیا جاتا ہے اور بالاتفاق مضاربت جائز ہے، یہ معنی ہے ”كَمَا فِي الْمُضَارَبَةِ“ جیسے عقد مضاربت کے اندر ہے کہ اس کے اندر بھی مجہول چیز پر توکیل ہوتی ہے لیکن وہ وہ جائز ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا تَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظَةِ الْمُفَاوَضَةِ لِبُعْدِ شَرَائِطِهَا عَنْ عِلْمِ الْعَوَامِّ“ عوام بھئی، عوام کے اندر یہ میم مشدد ہے بھئی: ”عَنْ عِلْمِ الْعَوَامِّ“۔ یہاں سے صاحبِ ہدایہ بیان فرما رہے ہیں کہ دو افراد جب آپس میں عقد مفاوضہ کریں تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ مفاوضہ کا لفظ ذکر کریں، وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو مفاوضہ کی ساری شرائط کا علم ہی نہیں ہوتا، تو اگر وہ عقد مفاوضہ کرنا چاہتے ہیں تو ان کو ساری شرائط کا تو پتہ نہیں لیکن کم از کم لفظ تو مفاوضہ والا ذکر کریں جس سے پتہ تو چلے کہ یہ عقد مفاوضہ کر رہے ہیں، اور اگر دونوں شریک عقد مفاوضہ ذکر نہیں کرتے لیکن مفاوضہ کی ساری شرطیں ذکر کر دیتے ہیں تو پھر اس صورت میں بھی عقد مفاوضہ ٹھیک ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَنْعَقِدُ إِلَّا بِلَفْظَةِ الْمُفَاوَضَةِ“ اور شرکت مفاوضہ منعقد نہیں ہوگی مگر مفاوضہ کے لفظ سے ”لِبُعْدِ شَرَائِطِهَا عَنْ عِلْمِ الْعَوَامِّ“ اس وجہ سے کہ مفاوضہ کی شرطیں دور ہیں عام لوگوں کے علم سے، عام لوگوں کو اس کی ساری شرطوں کا علم نہیں ہوتا، تو لہٰذا کم از کم نام ذکر کریں ”حَتَّى لَوْ بَيَّنَا جَمِيعَ مَا يَقْتَضِيهِ“ ”بَيَّنَا“ یہ تثنیہ کا صیغہ ہے بھئی ”حَتَّى لَوْ بَيَّنَا“ یہاں تک کہ اگر دونوں نے بیان کر دیا ”جَمِيعَ مَا يَقْتَضِيهِ“ ان ساری شرطوں کو جس کا تقاضا عقد مفاوضہ کر رہا ہے ”يَجُوزُ“ پھر بھی مفاوضہ جائز ہے۔ اگر دونوں شریکوں نے مفاوضہ کی ساری شرطیں تو ذکر کر دیں لیکن لفظِ مفاوضہ ذکر نہیں کیا پھر بھی عقد مفاوضہ ٹھیک ہو جائے گا، اس لیے کیونکہ اگرچہ لفظ ذکر نہیں کیا لیکن معنی تو اسی کا ذکر کر دیا بھئی، معنی یعنی ساری چیزیں تو اسی کی ذکر کر دیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى لَوْ بَيَّنَا جَمِيعَ مَا يَقْتَضِيهِ يَجُوزُ“ یہاں تک کہ ان دونوں نے اس عقد مفاوضہ کی ان تمام چیزوں کو ذکر کر دیا جس کا عقد مفاوضہ تقاضا کرتا ہے ”يَجُوزُ“ تو یہ بھی جائز ہے ”لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْمَعْنَى“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا اعتبار کیا جاتا ہے وہ معنی ہے۔ لفظ اصل نہیں ہے بلکہ معنی اصل ہے، لفظ کے ذریعے تو ایک معنی دوسرے تک پہنچایا جاتا ہے تو لفظ ایک وسیلہ ہے معنی کو پہنچانے کا، تو اصل مقصود معنی ہے، لہٰذا اگر انہوں نے بے شک مفاوضہ کا لفظ ذکر نہیں کیا لیکن اس کی ساری شرطیں وغیرہ ذکر کر کے معنی کے اعتبار سے گویا مفاوضہ ہی کو ذکر کر دیا، اور معنی ہی کا تو اعتبار ہے لہٰذا یہ عقد مفاوضہ صحیح ہو جائے گا، یہ معنی ہے ”لِأَنَّ الْمُعْتَبَرَ هُوَ الْمَعْنَى“ اس لیے کیونکہ وہ چیز جس کا اعتبار کیا جاتا ہے وہ معنی ہے۔ ”قَالَ: فَيَجُوزُ بَيْنَ الْحُرَّيْنِ الْكَبِيرَيْنِ مُسْلِمَيْنِ أَوْ ذِمِّيَّيْنِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں، یہاں سے اب تفصیل بیان فرمانے لگے ہیں، صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقد مفاوضہ کے اندر برابری ضروری ہے، دونوں شریک مال میں بھی برابر ہوں، تصرف میں بھی برابر ہوں اور دین کے اندر بھی برابر ہوں، تو اب وضاحت کر رہے ہیں کہ کس قسم کے دو افراد ہوں تو ان میں عقد مفاوضہ جائز ہو جائے گا کیونکہ ان میں یہ ساری چیزیں موجود ہیں، اور کن افراد کے اندر برابری نہیں ان میں عقد مفاوضہ جائز نہیں۔ تو آپ کو بتلائیں گے کہ دو آزاد مسلمان آپس میں عقد مفاوضہ کرتے ہیں اور یہ دونوں مال کے اندر برابر ہیں تو پھر عقد مفاوضہ جائز ہے، کیونکہ مال میں بھی برابر ہو گئے، تصرف کے اندر بھی دونوں آزاد بالغ مسلمان برابر ہیں اور نیز دین کے اندر بھی برابر ہیں کہ دونوں مسلمان ہیں، یا دو آزاد بالغ ذمی آپس میں عقد مفاوضہ کرتے ہیں تو یہاں پر بھی دونوں ذمی جب مال کے اندر برابر ہیں اور اسی طرح یہ تصرف میں بھی اور دین میں بھی برابر ہیں تو یہ بھی عقد مفاوضہ کر سکتے ہیں، لیکن اگر ایک آزاد ہے اور ایک غلام ہے یا ایک بالغ ہے اور ایک نابالغ ہے تو ان میں عقد مفاوضہ نہیں ہو سکتا کیونکہ یہاں تصرف کے اندر برابری نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَيَجُوزُ بَيْنَ الْحُرَّيْنِ الْكَبِيرَيْنِ“ کہ عقد مفاوضہ جائز ہے دو آزاد بالغوں کے درمیان ”مُسْلِمَيْنِ“ اس حال میں کہ وہ دونوں مسلمان ہوں ”أَوْ ذِمِّيَّيْنِ“ یا اس حال میں کہ دونوں ذمی ہوں ”لِتَحَقُّقِ التَّسَاوِي“ برابری پائے جانے کی وجہ سے، کہ دونوں مسلمان ہیں یا دونوں ذمی ہیں اور آزاد اور بالغ ہیں تو دونوں میں برابری پائی جا رہی ہے۔ ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا كِتَابِيًّا وَالْآخَرُ مَجُوسِيًّا يَجُوزُ أَيْضًا“ بھئی یہ بات میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“، ملت کا معنی ہے دین، ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“ کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے، لہٰذا ایک شخص عیسائی ہے اور ایک شخص یہودی ہے تو دین کے اعتبار سے یہ برابر ہی شمار ہوں گے کیونکہ دونوں کافر ہیں، یا ایک شخص عیسائی ہے اور ایک شخص جو ہے مجوسی ہے تو دین کے اعتبار سے یہ برابر ہی شمار ہوں گے، لہٰذا ایک عیسائی جو ہے وہ ایک یہودی کے ساتھ یا مجوسی کے ساتھ عقد مفاوضہ کرتا ہے تو دونوں کے دین الگ الگ نہیں شمار ہوں گے، یہ دونوں دین کے اعتبار سے برابر شمار ہوں گے تو یہ عقد مفاوضہ کر سکتے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ أَحَدُهُمَا كِتَابِيًّا“ اور اگر وہ دو شریکوں میں سے ایک جو ہے وہ کتابی ہے یعنی اہل کتاب میں سے ہے ”وَالْآخَرُ مَجُوسِيًّا“ اور دوسرا مجوسی ہے ”يَجُوزُ أَيْضًا“ پھر بھی عقد مفاوضہ جائز ہے ”لِمَا قُلْنَا“ اس وجہ سے جو ہم نے کہا کہ یہاں برابری پائی جا رہی ہے بھئی، کیونکہ ”الْكُفْرُ مِلَّةٌ وَاحِدَةٌ“ کفر سارا کا سارا ایک ہی دین ہے۔ ”وَلَا يَجُوزُ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْمَمْلُوكِ“ اور عقد مفاوضہ جائز نہیں ہے آزاد اور غلام کے درمیان ”وَلَا بَيْنَ الصَّبِيِّ وَالْبَالِغِ“ اور اسی طرح عقد مفاوضہ جائز نہیں ہے بچے اور بالغ کے درمیان ”لِانْعِدَامِ الْمُسَاوَاةِ“ برابری نہ ہونے کی وجہ سے، کہ ان میں برابری نہیں، آزاد اور غلام یہ تصرف میں برابر نہیں، اور بچہ اور بالغ یہ بھی تصرف میں برابر نہیں۔ کہتے ہیں: ”لِانْعِدَامِ الْمُسَاوَاةِ“ برابری نہ ہونے کی وجہ سے ”لِأَنَّ الْحُرَّ الْبَالِغَ يَمْلِكُ التَّصَرُّفَ وَالْكَفَالَةَ“ اس لیے کیونکہ آزاد اور بالغ شخص جو ہوتا ہے وہ تصرف کا یعنی تجارت کا بھی مالک ہوتا ہے، اس کو اس تصرف کا حق ہوتا ہے، اس کو اس تصرف کی ولایت ہوتی ہے، اور اسی طرح اس کو کفیل بننے کی بھی ولایت حاصل ہوتی ہے، وہ کسی کو ضمانت دینا چاہے تو ضمانت دے سکتا ہے، یعنی وہ کسی کا کفیل بننا چاہے تو کفیل بن سکتا ہے، تو آزاد بالغ آدمی اس کو تجارت کی بھی ولایت ہے اور کفالت کی بھی ولایت ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْحُرَّ الْبَالِغَ يَمْلِكُ التَّصَرُّفَ وَالْكَفَالَةَ“ اس لیے کیونکہ آزاد بالغ آدمی جو ہے وہ تصرف اور کفالت کا مالک ہے یعنی اسے ان چیزوں کی ولایت حاصل ہے ”وَالْمَمْلُوكُ لَا يَمْلِكُ وَاحِدًا مِنْهُمَا إِلَّا بِإِذْنِ الْمَوْلَى“ اور مملوک تو ان دونوں میں سے کسی ایک چیز کا بھی مالک نہیں ہے مگر اپنے آقا کی اجازت سے، مملوک یعنی غلام جو ہے نہ تو اسے تجارت کی ولایت ہے نہ اسے کسی کا ضامن بننے کی ولایت حاصل ہے، تو لہٰذا آزاد اور غلام میں عقد مفاوضہ نہیں ہو سکتا، آزاد آدمی کو تو تجارت کی بھی ولایت اور کفالت کی بھی ولایت، اور غلام کو تو تجارت اور کفالت کی ولایت نہیں ہوتی مگر اپنے آقا کی اجازت سے، آقا اجازت دے گا تو پھر غلام تجارت کر سکتا ہے یا کسی کا کفیل بن سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَمْلُوكُ لَا يَمْلِكُ وَاحِدًا مِنْهُمَا إِلَّا بِإِذْنِ الْمَوْلَى“ مگر غلام جو ہے وہ ان دونوں میں سے کسی ایک چیز کا بھی مالک نہیں ہوتا مگر اپنے آقا کی اجازت سے۔ تو یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آپ نے بتلایا کہ غلام نہ تو تجارت کی ولایت ہے اسے اور نہ اسے کفالت کی ولایت ہے، لیکن آقا اسے اجازت دے دے پھر تو اسے یہ ولایت حاصل ہو جاتی ہے، تو اگر آقا اپنے غلام کو تجارت کی بھی اجازت دے دے اور کفیل بننے کی بھی اجازت دے دے پھر تو اب آزاد آدمی اور غلام کے اندر برابری آ گئی، آزاد آدمی اور غلام میں برابری آ گئی اب تو دونوں کے درمیان آزاد اور غلام کے درمیان عقد مفاوضہ درست ہونا چاہیے، تو علماء فرماتے ہیں کہ نہیں، اگر آقا اجازت دے دے پھر بھی برابری نہیں آئی، وجہ یہ کہ تجارت کے اندر اگر غلام کو نقصان ہوا اور غلام مدیون بن گیا تو یہ جو مدیون غلام ہے یہ کسی کا کفیل نہیں بن سکتا حتی کہ آقا اس کو اجازت دے دے پھر بھی اس کی کفالت جائز نہیں ہے، بھئی اس کے تو اپنے اوپر دین ہے، دوسروں کے دین کی ضمانت یہ کیسے دے سکتا ہے بھئی؟ توجہ ہے؟ لہٰذا غلام کو آقا اجازت دے بھی دے پھر بھی اس کی آزاد آدمی کے ساتھ کفالت میں برابری نہ آئی، کیونکہ غلام اگر مدیون ہو گیا تجارت میں تو پھر چاہے آقا کی اجازت ہی کیوں نہ ہو پھر بھی وہ کسی کا کفیل اور ضامن نہیں بن سکتا۔ آگے دیکھیے: ”وَالصَّبِيُّ لَا يَمْلِكُ الْكَفَالَةَ“ اور بچہ جو ہے وہ جو ہے وہ کفالت کا مالک نہیں ہوتا، بچہ کسی کا ضامن نہیں بن سکتا کیونکہ بچے سے دین کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رکھو آگے آپ کو بتلائیں گے کہ بچہ تجارت بھی نہیں کر سکتا لیکن اگر اس کا ولی بچے کو اجازت دے دے تو پھر بچہ تجارت کر سکتا ہے، لیکن بچہ کفیل نہیں بن سکتا حتی کہ ولی اجازت دے دے پھر بھی بچہ کسی کی ضمانت نہیں دے سکتا، تو بچے کا کفیل بننا یہ ولی کی اجازت سے بھی جائز نہیں، البتہ ولی تجارت کی اجازت دے تو بچہ تجارت کر سکتا ہے بھئی جب وہ سمجھدار ہے چیزوں کو سمجھتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالصَّبِيُّ لَا يَمْلِكُ الْكَفَالَةَ“ اور بچہ جو ہے وہ کفالت کا مالک نہیں یعنی اسے کفالت کی ولایت نہیں چاہے ولی اجازت ہی کیوں نہ دے دے ”وَلَا يَمْلِكُ التَّصَرُّفَ إِلَّا بِإِذْنِ الْوَلِيِّ“ اور بچہ جو ہے تصرف کا یعنی تجارت کا بھی مالک نہیں ہے مگر اپنے ولی کی اجازت سے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَلَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ“ اور عقد مفاوضہ جائز نہیں ہے مسلمان اور کافر کے درمیان۔ بھئی آپ کو صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ عقد مفاوضہ کرنے والے دونوں شریکوں کا دین کے اندر بھی برابر ہونا ضروری ہے، اگر ایک مسلمان ہے اور دوسرا کافر ہے، ذمی ہے تو ان دونوں کے درمیان بھی عقد مفاوضہ نہیں ہو سکتا، کیونکہ یہاں برابری نہیں ہے، کافر جو ہے وہ شراب اور خنزیر میں تصرف کر سکتا ہے اور مسلمان شراب اور خنزیر میں تصرف نہیں کر سکتا تو برابری نہ رہی، جب برابری نہ رہی تو عقد مفاوضہ کی تو بنیاد ہی برابری پر ہے لہٰذا ان میں عقد مفاوضہ جائز نہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا بَيْنَ الْمُسْلِمِ وَالْكَافِرِ“ اور عقد مفاوضہ جائز نہیں ہے مسلمان اور کافر کے درمیان ”وَهَذَا قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَهُمَا اللَّهُ تَعَالَى“ اور یہ طرفین رحمہما اللہ کا قول ہے، وہ فرماتے ہیں مسلمان اور ذمی میں عقد مفاوضہ جائز نہیں۔ ”وَقَالَ أَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ: يَجُوزُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جائز ہے یعنی مسلمان اور کافر میں عقد مفاوضہ جائز ہے ”لِلتَّسَاوِي بَيْنَهُمَا فِي الْوَكَالَةِ وَالْكَفَالَةِ“ بوجہ اس کے کہ دونوں کے درمیان برابری پائی جا رہی ہے وکالت اور کفالت میں، جیسے مسلمان کے لیے وکیل بننا اور بنانا جائز اسی طرح ذمی کے لیے بھی، اور جیسے مسلمان کے لیے کفیل بننا جائز ہے اسی طرح ذمی کے لیے بھی کفیل بننا جائز ہے، تو وکالت اور کفالت میں برابری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اور کافر کے درمیان عقد مفاوضہ جو ہے جائز ہے ”لِلتَّسَاوِي بَيْنَهُمَا فِي الْوَكَالَةِ وَالْكَفَالَةِ“ اس وجہ سے کہ برابری ہے دونوں کے درمیان وکالت اور کفالت میں ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِزِيَادَةِ تَصَرُّفٍ يَمْلِكُهُ أَحَدُهُمَا“ بھئی طرفین فرماتے تھے کہ مسلمان اور کافر کے درمیان برابری نہیں کیونکہ کافر جو ہے وہ شراب اور خنزیر کی بیع و شراء کر سکتا ہے اور مسلمان یہ تصرف نہیں کر سکتا تو تصرف میں برابری نہ آئی، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: اگر کسی ایک کو کچھ زائد تصرف بھی حاصل ہے تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، لہٰذا مسلمان اور کافر میں عقد مفاوضہ جائز ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِزِيَادَةِ تَصَرُّفٍ“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے ایسے تصرف کی زیادتی کا ”يَمْلِكُهُ أَحَدُهُمَا“ کہ جس کا ان دونوں میں سے ایک مالک ہے، کسی ایسے تصرف کی زیادتی کا کوئی اعتبار نہیں جس کا ان دونوں میں سے ایک مالک ہے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلَا مُعْتَبَرَ بِزِيَادَةِ تَصَرُّفٍ يَمْلِكُهُ أَحَدُهُمَا“ اور کوئی اعتبار نہیں ہے ایسے تصرف کی زیادتی کا کہ ان دونوں میں سے ایک اس کا مالک ہو ”كَالْمُفَاوَضَةِ بَيْنَ الشَّفْعَوِيِّ وَالْحَنَفِيِّ“ جیسے کہ عقد مفاوضہ ہوتا ہے شافعی المسلک اور حنفی کے درمیان۔ شفعوی یہ نسبت ہے امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف، جیسے حنفی نسبت ہے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی طرف، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں تصرف میں برابری ضروری نہیں ہے اگر ایک کو کچھ تصرف زائد بھی حاصل ہے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا جیسے جیسے ایک شافعی المسلک اور ایک حنفی کے درمیان بالاتفاق عقد مفاوضہ جائز ہے اگرچہ شافعی المسلک جو ہے اس کو کچھ زائد تصرف حاصل ہے۔ بھئی دیکھیے یاد رکھیے، جب بھی ذبیحہ کو ذبح کیا جائے گا تو اس پر اللہ کا نام لیا جاتا ہے، لیکن اگر ذبیحہ کو ذبح کرتے ہوئے اگر کسی شخص نے اللہ کا نام نہیں لیا تو یہ ذبیحہ ہوا متروک التسمیہ یعنی جس پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا، تو یہ جو ذبیحہ ہے متروک التسمیہ کیا یہ حلال ہے یا حرام ہے؟ تو آپ تفصیل پڑھ چکے ہیں کہ اگر ذبح کرنے والا اللہ کا نام ذکر کرنا بھول گیا تو پھر اس صورت میں یہ ذبیحہ حلال ہے، اس صورت میں یہ ذبیحہ حلال ہے، لیکن اگر اس نے جان بوجھ کر اللہ کا نام نہیں لیا تو یہ ہوا متروک التسمیہ عمداً یعنی وہ ذبیحہ جس پر جان بوجھ کر بسم اللہ کو چھوڑا گیا ہے، اور آپ پڑھ چکے ہیں عند الاحناف متروک التسمیہ عمداً ذبیحہ جو ہے وہ حرام ہے، وہ غیر متقوم ہو گیا اس کا کھانا بھی حرام اور اس کی بیع و شراء بھی حرام ہے، جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر ذبح کرنے والا جان بوجھ کر بھی اللہ کا نام چھوڑ دے پھر بھی وہ ذبیحہ حلال ہے جب ذبح کرنے والا مسلمان ہے کیونکہ اللہ کا نام تو ہر مسلمان کے دل میں موجود ہے، لہٰذا امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو ذبیحہ ہے جو متروک التسمیہ عمداً ہے یہ حلال ہے اور اس کی بیع و شراء بھی جائز ہے، تو دلیل چل رہی ہے امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی، وہ فرماتے ہیں کہ مسلمان اور کافر کے درمیان عقد مفاوضہ جائز ہے اگرچہ کافر کو کچھ زائد تصرف حاصل ہے لیکن اس کا کوئی اعتبار نہیں، یہ اسی طرح ہے وہ فرماتے ہیں جیسے ایک شافعی المسلک اور حنفی کے درمیان بالاتفاق عقد مفاوضہ جائز ہے اگرچہ شافعی المسلک جو ہے اس کو کچھ زائد تصرف حاصل ہے، وہ متروک التسمیہ عمداً کے اندر بھی تصرف کر سکتا ہے جبکہ عند الاحناف متروک التسمیہ عمداً کے اندر تصرف جائز نہیں ہے وہ حرام ہے وہ مردار ہے بھئی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: ”كَالْمُفَاوَضَةِ بَيْنَ الشَّفْعَوِيِّ وَالْحَنَفِيِّ“ جیسے کہ عقد مفاوضہ ہوتا ہے ایک شافعی اور حنفی کے درمیان ”فَإِنَّهَا جَائِزَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ جائز ہے ”وَيَتَفَاوَتَانِ فِي التَّصَرُّفِ فِي مَتْرُوكِ التَّسْمِيَةِ“ اور یہ دونوں جو ہیں یعنی شافعی اور حنفی یہ تو مختلف ہیں تصرف میں متروک التسمیہ کے اندر تصرف کے اندر، ایک کے نزدیک تصرف جائز ہے دوسرے کے نزدیک جائز نہیں، تو جیسے شافعی اور حنفی کے درمیان مفاوضہ جائز ہے تو مسلمان اور کافر کے درمیان بھی عقد مفاوضہ جائز ہے ”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ“ مگر یہ کہ یہ مکروہ ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی بات چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں مسلمان اور کافر میں عقد مفاوضہ جائز ہے لیکن یہ مکروہ ہے، وجہ یہ کہ عقد مفاوضہ کے اندر دونوں بیع و شراء کریں گے اور کافر کو تو پتہ نہیں ہے کہ کون سے عقد جائز ہیں اور کون سے عقد جائز نہیں ہیں بھئی، تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُ يُكْرَهُ“ مگر یہ کہ یہ مسلمان اور کافر کے درمیان عقد شرکت مکروہ ہے ”لِأَنَّ الذِّمِّيَّ لَا يَهْتَدِي إِلَى الْجَائِزِ مِنَ الْعُقُودِ“ اس لیے کیونکہ وہ شخص جو ذمی ہے اس کی رہنمائی نہیں ہوتی اسے پتہ نہیں چلتا عقدوں میں سے جائز کا۔ اس کی رہنمائی نہیں ہوتی یعنی اسے پتہ نہیں ہوتا عقدوں میں سے کون سے عقد جائز ہیں اور کون سے جائز نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ الذِّمِّيَّ لَا يَهْتَدِي إِلَى الْجَائِزِ مِنَ الْعُقُودِ“، اس لیے کیونکہ ذمی جو ہے اس کی رہنمائی نہیں ہوتی ان عقدوں کی طرف جو جائز ہیں۔ ”وَلَهُمَا“، اب طرفین کی دلیل آ گئی۔ طرفین فرماتے ہیں مسلمان اور کافر کے درمیان عقد مفاوضہ جائز نہیں کیونکہ یہاں تصرف میں برابری نہیں۔ ذمی جو ہے شراب اور خنزیر میں تصرف کر سکتا ہے اور مسلمان یہ تصرف نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“، اور طرفین کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ لَا تَسَاوِيَ فِي التَّصَرُّفِ“، کہ مسلمان اور کافر کے درمیان تصرف میں برابری نہیں ہے۔ ”فَإِنَّ الذِّمِّيَّ لَوِ اشْتَرَى بِرَأْسِ الْمَالِ“، اس لیے کیونکہ ذمی اگر خریدتا ہے ”بِرَأْسِ الْمَالِ“ راس المال کے بدلے، راس المال وہ سرمایہ، وہ جو دونوں نے مال آپس میں ملایا ہے۔ کہتے ہیں ”فَإِنَّ الذِّمِّيَّ لَوِ اشْتَرَى بِرَأْسِ الْمَالِ“، اس لیے کیونکہ ذمی راس المال کے ذریعے اگر خریدتا ہے ”خُمُورًا أَوْ خَنَازِيرَ“، شرابوں کو یا خنزیروں کو ”صَحَّ“، تو یہ اس کا تصرف صحیح ہے۔ ”وَلَوِ اشْتَرَاهَا مُسْلِمٌ لَا يَصِحُّ“، اور اگر مسلمان ان کو خریدتا ہے تو صحیح نہیں، تو تصرف کے اندر برابری نہ رہی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يَجُوزُ بَيْنَ الْعَبْدَيْنِ، وَلَا بَيْنَ الصَّبِيَّيْنِ، وَلَا بَيْنَ الْمُكَاتَبَيْنِ“، یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ دو نابالغ آپس میں عقد مفاوضہ کرتے ہیں یا دو غلام آپس میں عقد مفاوضہ کرتے ہیں، چاہے عام غلام ہے یا چاہے مکاتب ہیں، یہ عقد مفاوضہ صحیح نہیں، کیونکہ عقد مفاوضہ کے اندر دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہوتے ہیں اور ضامن بھی ہوتے ہیں، جبکہ غلام اور بچہ ان کو تو کفالت کی ولایت حاصل نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ بَيْنَ الْعَبْدَيْنِ“، اور عقد مفاوضہ جائز نہیں ہے دو غلاموں کے درمیان ”وَلَا بَيْنَ الصَّبِيَّيْنِ“، اور نہ دو بچوں کے درمیان ”وَلَا بَيْنَ الْمُكَاتَبَيْنِ“، اور نہ دو مکاتبوں کے درمیان ”لِانْعِدَامِ صِحَّةِ الْكَفَالَةِ“، کفالت کے صحیح ہونے کے معدوم ہونے کی وجہ سے، کہ کفالت کا صحیح ہونا یہاں معدوم ہے، کfile نہیں بن سکتے۔ تو کہتے ہیں ”لِانْعِدَامِ صِحَّةِ الْكَفَالَةِ“، کفالت کی صحت کے معدوم ہونے کی وجہ سے۔ ”وَفِي كُلِّ مَوْضِعٍ لَمْ تَصِحَّ الْمُفَاوَضَةُ“، صاحب ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اگر دو آدمی شرکت کرتے ہیں عقد مفاوضہ والی اور وہاں عقد مفاوضہ درست نہیں بن رہا کسی شرط کے نہ پائے جانے کی وجہ سے، تو وہ عقد شرکت خود بخود شرکت عنان بن جائے گا۔ دو آدمی آپس میں شرکت مفاوضہ کرتے ہیں لیکن وہاں مفاوضہ کی شرطیں پوری نہیں، تو وہ خود بخود شرکت عنان بن جائے گا، بشرطیکہ عنان کی شرطیں پوری ہوں۔ تو کہتے ہیں ”وَفِي كُلِّ مَوْضِعٍ“، اور ہر ایسے مقام کے اندر ”لَمْ تَصِحَّ الْمُفَاوَضَةُ“، جہاں مفاوضہ صحیح نہ ہو ”لِفَقْدِ شَرْطِهَا“، مفاوضہ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے، وہ جگہ جہاں مفاوضہ صحیح نہیں مفاوضہ کی شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے، ”وَلَا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ فِي الْعِنَانِ“، اس حال میں کہ عنان میں وہ شرط نہ ہو۔ ایک شرط مفاوضہ میں ضروری تھی وہ نہیں پائی جا رہی اور عنان میں وہ شرط ضروری نہیں، تو پھر یہ عقد مفاوضہ عقد عنان بن جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”كَانَ عِنَانًا“، تو یہ عقد جو ہے عقد عنان ہو جائے گا۔ عبارت پہ نظر ہے؟ پھر عبارت دیکھ لیجیے: ”وَفِي كُلِّ مَوْضِعٍ لَمْ تَصِحَّ الْمُفَاوَضَةُ لِفَقْدِ شَرْطِهَا وَلَا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ فِي الْعِنَانِ كَانَ عِنَانًا“۔ تو یہ درمیان سے یہ نکال دیں ”لِفَقْدِ شَرْطِهَا وَلَا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ فِي الْعِنَانِ“ اور باقی کو جوڑیں تو بات واضح ہو جائے گی۔ ”وَفِي كُلِّ مَوْضِعٍ لَمْ تَصِحَّ الْمُفَاوَضَةُ“، اور ہر ایسا مقام جہاں مفاوضہ صحیح نہ ہو ”كَانَ عِنَانًا“، تو وہ عقد عنان ہو جائے گا۔ ”لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِ الْعِنَانِ“، عنان کی شرطوں کے جمع ہونے کی وجہ سے، کہ وہاں عنان کی شرطیں جمع ہیں۔ ”إِذْ هُوَ قَدْ يَكُونُ خَاصًّا وَقَدْ يَكُونُ عَامًّا“، تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ شرکت مفاوضہ جو ہے وہ تو عام ہوتی ہے تمام تجارتوں میں، وہاں کسی پر کوئی قید نہیں ہوتی کہ فلاں تجارت کرنی ہے اور فلاں تجارت نہیں کرنی، توجہ ہے؟ جبکہ شرکت عنان کے اندر تو عام طور پر تجارت متعین ہوتی ہے کہ دو آدمی مل کر مثلاً کپڑے کی تجارت کرتے ہیں یا دو آدمی مل کر مویشیوں کی تجارت کرتے ہیں یا دو آدمی مل کر برتنوں کی تجارت کرتے ہیں، تو آپ نے کہا شرکت مفاوضہ صحیح نہ رہے تو وہ شرکت عنان بن جائے گا، حالانکہ شرکت عنان تو خاص تجارت کے اندر ہوتی ہے اور مفاوضہ تو عام ہوتی ہے ہر تجارت کے اندر، اس میں دونوں کو ہر تجارت کی اجازت ہوتی ہے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں کہ نہیں، شرکت عنان اس میں بھی تجارت کا خاص ہونا ضروری نہیں، عنان کے اندر بھی دو آدمی آپس میں عقد کر لیتے ہیں اور ایک دوسرے کو اجازت دیتے ہیں کہ آپ جو بھی تجارت کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، بس نفع کے اندر دونوں شریک ہوں گے بھئی۔ تو معلوم ہوا عنان جو ہے جیسے وہ خاص ہو سکتا ہے یعنی خاص تجارت کے اندر، اسی طرح وہ عام بھی ہو سکتا ہے۔ تو عقد مفاوضہ صحیح نہ رہا تو وہ عقد عنان بن جائے گا اور تجارت عام رہے گی اسی طرح بھئی۔ تو کہتے ہیں تو یہ عنان بن جائے گا ”لِاسْتِجْمَاعِ شَرَائِطِ الْعِنَانِ“، عنان کی شرطوں کے جمع ہونے کی وجہ سے، ”إِذْ هُوَ قَدْ يَكُونُ خَاصًّا وَقَدْ يَكُونُ عَامًّا“، اس لیے کیونکہ شرکت عنان جو ہے وہ کبھی خاص ہوتا ہے اور کبھی عام ہوتا ہے یعنی تمام تجارتوں کی اس میں اجازت ہوتی ہے۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَتَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ وَالْكَفَالَةِ“، بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ عقد مفاوضہ کرنے والے دونوں شریک ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور ایک دوسرے کے کفیل بھی ہیں، اب وہی بیان کر رہے ہیں اور آپ کو بتلائیں گے دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوں گے۔ وجہ یہ ہے تاکہ اس مال کے اندر تصرف جائز ہو جائے۔ دونوں نے مال ملایا ہے، دو آدمیوں نے عقد مفاوضہ کیا ہے، مال ملایا ہے، تو آدھا مال ایک کا ہے، آدھا مال دوسرے کا ہے، اس کو انہوں نے ملا دیا۔ تو اس مال کے اندر تصرف کی اجازت تبھی ہو سکتی ہے جب دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوں، تو ہر ایک کو اس مال میں تصرف کی اجازت ہو گی کیونکہ اس میں اس کا اپنا بھی حصہ ہے اور دوسرے کی طرف سے وہ وکیل بھی ہے، اور نیز اسی وجہ سے جو نفع آئے گا اس کے اندر بھی دونوں کی شرکت ہو گی، کیونکہ ان دونوں شریکوں میں سے جو شخص جو بھی عقد کرے گا بیع و شراء والا، تو اس کے اندر وہ اپنے لیے بھی وہ عقد کر رہا ہے اور دوسرے کی طرف سے وکیل ہو کر بھی عقد کر رہا ہے، تو لہٰذا اس میں نفع کے اندر بھی دونوں پھر شریک ہو جائیں گے۔ اور نیز دونوں ایک دوسرے کے کفیل بھی ہوں گے۔ وجہ یہ کہ تجارت کے اندر جب آپ بیع و شراء کرتے ہیں، جب آپ کوئی چیز خریدیں گے تو آپ سے ثمن کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ تو یہاں برابری کے لیے ضروری ہے کہ اگر آپ سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے تو آپ کے شریک سے بھی مطالبہ ہونا چاہیے، پھر ہی برابری رہے گی۔ اگر آپ سے مطالبہ ہو سکتا ہے اور آپ کے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا، یہ تو برابری نہ رہے گی بھئی۔ لہٰذا برابری کے لیے ضروری ہے کہ ثمن اور دین وغیرہ کا مطالبہ دونوں سے ہو سکے اور وہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے جب دونوں ایک دوسرے کے کفیل ہوں ہر عقد کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں ”قَالَ“، صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَتَنْعَقِدُ عَلَى الْوَكَالَةِ وَالْكَفَالَةِ“، اور یہ شرکت مفاوضہ جو ہے یہ منعقد ہوتا ہے وکالت اور کفالت پر۔ اگرچہ وہ وکالت اور کفالت کو ذکر نہ کریں لیکن جب انہوں نے لفظ مفاوضہ کو ذکر کر دیا تو اب دونوں ایک دوسرے کے وکیل بھی ہیں اور کفیل بھی ہیں۔ اب اس کی وجہ کیا ہے؟ کیوں وکیل اور کفیل ہیں؟ میں نے بیان کر دی، صاحب ہدایہ اسی کو اب بیان فرما رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”أَمَّا الْوَكَالَةُ“، تو وکیل ہونا ”فَلِتَحَقُّقِ الْمَقْصُودِ“، تو وہ اس لیے ہے تاکہ مقصود پایا جائے ”وَهُوَ شَرِكَةٌ فِي الْمَالِ“، اور وہ مال کے اندر شرکت ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ بھئی دونوں ایک دوسرے کے وکیل ہوں گے، دونوں نے مال ملایا ہے، ایک آدمی اپنے مال میں تو تصرف کر سکتا ہے، غیر کے مال میں تو تصرف نہیں کر سکتا، تبھی تصرف کر سکتا ہے جب دوسرا اس کو اپنا وکیل بنا دے کہ میری طرف سے بھی تمہیں تصرف کی اجازت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْوَكَالَةُ“، تو وکیل ہونا جو ہے ”فَلِتَحَقُّقِ الْمَقْصُودِ“، تو وہ اس لیے ہے تاکہ مقصود پایا جائے ”وَهُوَ شَرِكَةٌ فِي الْمَالِ“، اور وہ مال کے اندر شرکت ہے ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا، کہ مال میں شرکت ہو گی تو پھر نفع کے اندر بھی شرکت ہو گی، اور نفع میں شرکت ہی تو مقصود ہے بھئی یہاں پر۔ تو کہتے ہیں ”عَلَى مَا بَيَّنَّاهُ“، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ ”وَأَمَّا الْكَفَالَةُ“، اور باقی کفالت پر بھی یہ شرکت منعقد ہو گی ”لِتَحَقُّقِ الْمُسَاوَاةِ“، تاکہ برابری پائی جائے ”فِيمَا هُوَ مِنْ مَوَاجِبِ التِّجَارَاتِ“، اس چیز کے اندر جو تجارت کے مقتضیات میں سے ہے۔ بھئی تجارت کے اندر میں نے آپ کو بتلایا آپ بیع و شراء کرتے ہیں تو آپ پر دین بھی آتا ہے اور آپ سے دین کا مطالبہ بھی ہوتا ہے، تو اب برابری کے لیے ضروری ہے جیسے آپ سے مطالبہ ہو سکے آپ کے ساتھی سے بھی مطالبہ ہو سکے، اور وہ تبھی ہو سکتا ہے جب ہر عقد کے اندر وہ آپ کا کفیل ہو یعنی ضامن ہو بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَأَمَّا الْكَفَالَةُ لِتَحَقُّقِ الْمُسَاوَاةِ“، اور باقی کفالت جو ہے وہ برابری کے پائے جانے کے لیے ہے ”فِيمَا هُوَ مِنْ مَوَاجِبِ التِّجَارَاتِ“، ان چیزوں کے اندر جو تجارت کے مقتضیات ہیں۔ مواجب جمع ہے موجب کی، اور موجب کہتے ہیں مقتضی یعنی جس کا کوئی چیز تقاضا کرے۔ تو تجارت کے جو مقتضیات ہیں یعنی تجارت جن چیزوں کا تقاضا کرتی ہے تاکہ ان میں برابری ہو جائے، تو کہتے ہیں تو کفالت جو ہے وہ اس لیے تاکہ برابری پائی جائے ان چیزوں کے اندر جو تجارت کے مقتضیات ہیں، ”وَهُوَ تَوَجُّهُ الْمُطَالَبَةِ نَحْوَهُمَا جَمِيعًا“، اور وہ یہ کہ مطالبہ جو ہے وہ متوجہ ہو ان دونوں کی طرف۔ دین وغیرہ کا مطالبہ دونوں کی طرف متوجہ ہونا چاہیے پھر ہی برابری ہے، کہتے ہیں ”وَهُوَ تَوَجُّهُ الْمُطَالَبَةِ“، اور وہ جو ہے مطالبے کا متوجہ ہونا ہے ”نَحْوَهُمَا جَمِيعًا“، ان دونوں کی طرف۔ ”قَالَ“، صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَمَا يَشْتَرِيهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“، یہاں سے یہ بیان کر رہے ہیں کہ دونوں شریک جو بھی چیز خریدیں گے وہ شرکت پر ہو گی یعنی اس میں دونوں شریک ہوں گے، البتہ اگر کوئی شریک اپنے گھر والوں کے لیے غلہ وغیرہ خریدتا ہے یا اپنے لیے یا اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے وغیرہ خریدتا ہے تو اس کے اندر شرکت نہیں ہو گی۔ اگرچہ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ جب دونوں نے عقد مفاوضہ کیا ہے تو برابری ضروری ہے، لہٰذا یہ تقاضا کرتی ہے کہ ہر شراء کے اندر دونوں شریک ہوں، جو بھی چیز دونوں میں سے کوئی خریدے گا دونوں کو اس میں شریک ہونا چاہیے، لیکن استحساناً اپنے گھر والوں کا خرچہ اور کپڑے وغیرہ اس سے مستثنیٰ ہیں، کیونکہ انسان ان چیزوں کا محتاج ہے اور اپنے گھر والوں کا خرچہ تو دوسرے ساتھی پر نہیں ڈالا جا سکتا، تو لہٰذا اپنے اور گھر والوں کے خرچے اور کپڑے وغیرہ کے لیے جو چیز وہ خریدتا ہے وہ اس عقد شرکت سے مستثنیٰ ہے بھئی، اس میں دونوں کی شرکت نہیں ہو گی۔ کہتے ہیں ”وَمَا يَشْتَرِيهِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“، اور وہ چیز جو ان دونوں میں سے ہر ایک خریدتا ہے ”تَكُونُ عَلَى الشَّرِكَةِ“، وہ شرکت پر ہو گی یعنی اس میں دونوں شریک ہوں گے ”إِلَّا طَعَامَ أَهْلِهِ وَكِسْوَتَهُمْ“، مگر اپنے گھر والوں کا طعام اور ان کے کپڑے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا طعام کا لفظ جیسے عام کھانے کے لیے بولا جاتا ہے، اسی طرح گندم کو بھی طعام کہتے ہیں، گندم کو بھی طعام کہتے ہیں تو عام طور پر فقہ کی کتابوں میں جب طعام کا لفظ آئے تو اس سے یہ گندم ہی مراد ہوتی ہے بھئی، گندم جو غلہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا طَعَامَ أَهْلِهِ وَكِسْوَتَهُمْ“، مگر اپنے گھر والوں کا غلہ اور ان کے جو کپڑے ہیں ”وَكَذَا كِسْوَتُهُ“، اور اسی طرح اس شریک کے جو اپنے کپڑے ہیں وہ بھی شرکت پر نہیں ہوں گے ”وَكَذَا الْإِدَامُ“، اور اسی طرح جو سالن ہے۔ اپنے لیے یا گھر والوں کے کھانے کے لیے سالن خریدتا ہے تو وہ بھی مستثنیٰ ہو گا، وہ بھی شرکت میں داخل نہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَكَذَا الْإِدَامُ“، اور اسی طرح سالن ہے ”لِأَنَّ مُقْتَضَى الْعَقْدِ الْمُسَاوَاةُ“، اس لیے کیونکہ اس عقد مفاوضہ کا مقتضیٰ جو ہے وہ برابری ہے ”وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَائِمٌ مَقَامَ صَاحِبِهِ فِي التَّصَرُّفِ“، اور ان دونوں میں سے ہر ایک جو ہے وہ اپنے ساتھی کا قائم مقام ہے تصرف کے اندر۔ دونوں میں سے جو بھی تصرف کرتا ہے چاہے بیع والا تصرف ہے چاہے شراء والا، وہ اپنے ساتھی کا قائم مقام ہے، اس کی طرف سے وکیل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا قَائِمٌ مَقَامَ صَاحِبِهِ فِي التَّصَرُّفِ“، اور ان دو شریکوں میں سے ہر ایک اپنے ساتھی کا قائم مقام ہے تصرف میں ”وَكَانَ شِرَاءُ أَحَدِهِمَا كَشِرَائِهِمَا“، اور دونوں میں سے ایک کا خریدنا بھی ایسا ہی ہے جیسے دونوں کا خریدنا ”إِلَّا مَا اسْتَثْنَاهُ فِي الْكِتَابِ“، مگر وہ جس کا استثناء کر دیا صاحب قدوری نے کتاب میں یعنی مختصر القدوری میں۔ قدوری میں استثناء کر دیا پیچھے جو متن آیا کہ اپنے اور اپنے گھر والوں کے کپڑے اور کھانا وغیرہ اس سے مستثنیٰ ہے۔ ”وَكَانَ شِرَاءُ أَحَدِهِمَا كَشِرَائِهِمَا“، اور دونوں میں سے ایک کا خریدنا ایسے ہی ہے جیسے دونوں کا خریدنا ”إِلَّا مَا اسْتَثْنَاهُ فِي الْكِتَابِ“، مگر وہ جس کا استثناء کر دیا صاحب قدوری نے اپنی کتاب میں ”وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ“، اور یہ جو استثناء ہے یہ استحسان ہے۔ ان چیزوں میں شرکت کا نہ ہونا یہ استحسان ہے، قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے کہ ہر چیز میں شرکت ہونی چاہیے۔ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ اسْتِحْسَانٌ“، اور یہ استحسان ہے ”لِأَنَّهُ مُسْتَثْنًى عَنِ الْمُفَاوَضَةِ لِلضَّرُورَةِ“، اس لیے کیونکہ یہ مفاوضہ سے مستثنیٰ ہے ضرورت کی وجہ سے، کیونکہ ہر انسان کھانے پینے اور پہننے کا محتاج ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ مُسْتَثْنًى عَنِ الْمُفَاوَضَةِ لِلضَّرُورَةِ“، اس لیے کیونکہ یہ مستثنیٰ ہے مفاوضہ سے ضرورت کی وجہ سے ”فَإِنَّ الْحَاجَةَ الرَّاتِبَةَ مَعْلُومَةُ الْوُقُوعِ“، حاجت راتبہ بھئی، راتب کہتے ہیں برقرار رہنے والا رزق، جیسے انسان کو دائمی طور پر کھانے پینے کی حاجت ہوتی ہے، ہر روز اسے کھانے کی حاجت ہے، اسی طرح ہمیشہ اسے کپڑے پہننے کی حاجت ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنَّ الْحَاجَةَ الرَّاتِبَةَ“، تو راتبہ کا یہاں معنی کر لیں دائمی بھئی، ”فَإِنَّ الْحَاجَةَ الرَّاتِبَةَ“، اس لیے کیونکہ دائمی حاجت جو ہے ”مَعْلُومَةُ الْوُقُوعِ“، اس کا واقع ہونا معلوم ہے، سب کو پتہ ہے کہ انسان کی یہ دائمی حاجتیں ہیں، یہ کھانے پینے اور پہننے کی بھئی۔ تو کہتے ہیں ”فَإِنَّ الْحَاجَةَ الرَّاتِبَةَ مَعْلُومَةُ الْوُقُوعِ“، اس لیے کیونکہ دائمی حاجت جو ہے اس کا واقع ہونا معلوم ہے ”وَلَا يُمْكِنُ إِيجَابُهُ عَلَى صَاحِبِهِ وَلَا الصَّرْفُ مِنْ مَالِهِ“، بھئی ہر انسان کو یہ کھانے پینے اور کپڑوں کی حاجت ہے اور اپنی حاجت کو دوسرے انسان پر نہیں ڈالا جا سکتا اور نہ اس کے مال میں سے خرچ کیا جا سکتا ہے، تو ہر شریک کا جو اس قسم کا خرچہ ہے وہ اسی پر آئے گا، یہ اس کے ساتھی پر بھی نہیں اور ساتھی کے مال میں سے بھی اس کو ادا نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُمْكِنُ إِيجَابُهُ عَلَى صَاحِبِهِ“، اور اس خرچے کو اپنے ساتھی پر واجب کرنا ممکن نہیں ہے ”وَلَا الصَّرْفُ مِنْ مَالِهِ“، اور نہ اس کے مال میں سے خرچ کرنا ممکن ہے ”وَلَا بُدَّ مِنَ الشِّرَاءِ“، اور خریدنا تو ضروری ہے، ان چیزوں کا خریدنا، یہ غلے اور کپڑوں وغیرہ کا خریدنا تو ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا بُدَّ مِنَ الشِّرَاءِ“، اور خریدنا تو ضروری ہے ”فَيَخْتَصُّ بِهِ ضَرُورَةً“، تو یہ اسی کے ساتھ خاص ہو گا باعتبار ضرورت کے، یہ ضرورت کی وجہ سے اسی کے ساتھ خاص ہو گا ”وَالْقِيَاسُ“، اور قیاس تو یہ ہے ”أَنْ يَكُونَ عَلَى الشَّرِكَةِ لِمَا بَيَّنَّا“، کہ یہ بھی شرکت پر ہونا چاہیے اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا۔ قیاس تو یہ تقاضا کرتا ہے ہر چیز کے خریدنے میں شرکت ہونی چاہیے کیونکہ پھر ہی برابری ہو سکتی ہے بھئی۔ یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ آگے دیکھیے: ”وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ أَيَّهُمَا شَاءَ“، بھئی یہاں سے یہ بتلا رہے ہیں اگر ان دونوں شریکوں میں سے ایک نے اپنے گھر والوں کے لیے کپڑے یا غلہ خرید لیا تو اب یہ غلے اور کپڑے کے جو ثمن دینے ہیں یہ اس پر دین ہو گیا۔ تو کیا اس دین کا مطالبہ اسی شخص سے کیا جائے گا، اسی شریک سے، یا اس کے ساتھی سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے؟ کہتے ہیں مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے۔ اس دین کا مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے، ہاں البتہ اگر اس کے ساتھی نے وہ دین ادا کر دیا تو پھر وہ اس پر رجوع کرے گا، وہ اس پر، مثلاً اس کے ساتھی نے مشترکہ مال میں سے ادائیگی کر دی تو بھئی یہ خرچہ تو یہ تو صرف اس ایک شریک کے گھر والوں کے لیے ہے تو اس کی ادائیگی تو مشترکہ مال سے نہیں ہونی چاہیے، لہٰذا جتنا حصہ اس کا بنتا ہے وہ دوسرے ساتھی سے وصول کر لے گا۔ توجہ ہے؟ دوسرے ساتھی نے مال مشترکہ میں سے ادائیگی کی ہے، تو مال مشترکہ کے اندر تو دونوں کا مال ہے، تو کچھ مال تو اسی شریک کا ہے جس نے گھر والوں کے لیے غلہ خریدا ہے اور کچھ مال دوسرے شریک کا ہے، تو وہ دوسرا شریک اپنے حصے کے بقدر دوسرے پر رجوع کر لے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ أَيَّهُمَا شَاءَ“، کہتے ہیں ”وَلِلْبَائِعِ“، اور بائع کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ“، کہ وہ ثمن کی وجہ سے پکڑ لے ”أَيَّهُمَا شَاءَ“، جس کو بھی ان دونوں میں سے چاہے۔ وہ بائع جس نے دین وصول کرنا ہے، ثمن وصول کرنے ہیں اس گھر والوں کے خرچے کے، تو وہ بائع اس ثمن کے اندر دونوں شریکوں میں سے جس کو بھی چاہے پکڑ سکتا ہے یعنی جس سے بھی چاہے مطالبہ کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلِلْبَائِعِ أَنْ يَأْخُذَ بِالثَّمَنِ“، اور بائع کے لیے جائز ہے کہ وہ ثمن کی وجہ سے پکڑ لے یعنی وہ مطالبہ کر سکتا ہے ”أَيَّهُمَا شَاءَ“، ان دونوں میں سے جس سے بھی چاہے ”الْمُشْتَرِيَ بِالْأَصَالَةِ وَصَاحِبَهُ بِالْكَفَالَةِ“، مشتری کو بھی وہ پکڑ سکتا ہے یعنی اس سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے ”بِالْأَصَالَةِ“، اصیل ہونے کی وجہ سے، کیونکہ مشتری تو اصیل تھا، اسی نے تو یہ غلہ خریدا ہے اس بائع سے، تو بائع مشتری سے بھی مطالبہ کر سکتا ہے اور اس کے شریک سے بھی کر سکتا ہے کیونکہ شریک ہر شراء میں ضامن ہے دوسرے کا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”الْمُشْتَرِيَ بِالْأَصَالَةِ“، تو بائع جو ہے مشتری کو بھی پکڑ سکتا ہے ”بِالْأَصَالَةِ“، اس کے اصیل ہونے کی وجہ سے ”وَصَاحِبَهُ بِالْكَفَالَةِ“، اور اس مشتری کے ساتھی کو بھی پکڑ سکتا ہے کفالت کی وجہ سے۔ ”وَيَرْجِعُ الْكَفِيلُ عَلَى الْمُشْتَرِي بِحِصَّتِهِ بِمَا أَدَّى“، بھئی صورت یہ ہے دونوں شریکوں میں سے ایک نے اپنے گھر والوں کا غلہ خریدا ایک بائع سے اور بائع نے اسی مشتری سے ثمن نہیں وصول کیے بلکہ اس نے اس کے شریک سے ثمن وصول کر لیے، اور شریک نے مال مشترکہ سے ادائیگی کر دی، اور مال مشترکہ کے اندر تو کچھ مال تو دوسرے شریک کا ہے جو مشتری ہے اور کچھ مال اس ساتھی کا ہے، تو یہ اپنے حصے کے مال میں اس دوسرے پر رجوع کر لے گا، اس سے وہ وصول کر لے گا، یہ معنی ہے: ”وَيَرْجِعُ الْكَفِيلُ عَلَى الْمُشْتَرِي“، اور کفیل جو ہے وہ اس مشتری پر رجوع کرے گا ”بِحِصَّتِهِ“، اس کے حصے کے بقدر ”بِمَا أَدَّى“، اس وجہ سے جو اس نے ادا کیا ہے ”لِأَنَّهُ قَضَى دَيْنًا عَلَيْهِ“، اس لیے کیونکہ اس کفیل نے ادا کیا ہے وہ دین جو اس مشتری پر تھا ”مِنْ مَالٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا“، اس مال میں سے جو دونوں کے درمیان مشترک تھا، دین کس پر تھا؟ مشتری پر، وہ جو ایک شریک ہے مشتری ہے، اس نے غلہ خریدا ہے۔ تو وہ دین جو مشتری پر تھا، کفیل نے اس کی ادائیگی کی ہے مال مشترکہ سے، تو لہٰذا کفیل کا جو حصہ بنتا ہے وہ اس دوسرے سے وصول کر لے گا۔ یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ قَضَى دَيْنًا عَلَيْهِ“، اس لیے کیونکہ کفیل نے مشتری پر جو دین تھا اس کو ادا کیا ہے ”مِنْ مَالٍ مُشْتَرَكٍ بَيْنَهُمَا“، اس مال سے جو دونوں کے درمیان مشترک ہے۔ ”قَالَ“، فرماتے ہیں: ”وَمَا يَلْزَمُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الدُّيُونِ بَدَلًا عَمَّا يَصِحُّ فِيهِ الِاشْتِرَاكُ فَالْآخَرُ ضَامِنٌ لَهُ“، یہاں سے صاحب ہدایہ ضابطہ ذکر فرما رہے ہیں کہ دونوں شریکوں پر جو دین لازم آئے تو کس دین کے اندر دوسرے شریک سے اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے اور کس دین کے اندر صرف جس پر دین آیا ہے اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے شریک سے مطالبہ نہیں ہو سکتا؟ تو صاحب ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ وہ دین جو کسی ایسے سبب سے آیا ہے جس میں اشتراک ہو سکتا ہے تو اس کا مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے، اور اگر وہ دین کسی ایسے سبب کی وجہ سے آیا ہے کہ اس میں اشتراک نہیں ہو سکتا تو پھر اس کا مطالبہ جس پر دین آیا ہے اسی سے ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ توجہ ہے؟ دیکھو مثالوں سے وضاحت ہو گی۔ مثلاً ایک شریک نے تجارت کے اندر گاڑی خریدی اور پھر اس گاڑی کو وہ آگے بیچے گا نفع کے ساتھ، تو یہ جو خریدنا ہے اس کے اندر شرکت ہو سکتی ہے۔ آپ ایک گاڑی خریدیں صرف اپنے لیے، یہ بھی ہو سکتا ہے، اور آپ ایک گاڑی خریدیں اپنے اور زید دونوں کے لیے، زید آپ سے کہتا ہے بھئی گاڑی خرید لینا آدھے پیسے میں آپ کو بعد میں دے دوں گا، تو دیکھو یہاں آپ گاڑی خریدتے ہیں اس گاڑی کے خریدنے میں شرکت ہو سکتی ہے، توجہ ہے؟ تو اس گاڑی کے خریدنے کی وجہ سے آپ پر جو دین لازم آیا ہے، آپ کے شریک سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ تو وہ دین جو کسی ایسے سبب کی وجہ سے آیا ہے جس میں اشتراک ہو سکتا ہے تو اس کا مطالبہ دونوں سے ہو سکتا ہے، جو عقد کرنے والا ہے اس سے بھی اور اس کے شریک سے بھی۔ اور بعض اوقات جو دین آتا ہے وہ ایسے سبب کی وجہ سے آتا ہے جس میں شرکت نہیں ہو سکتی، مثلاً دونوں شریکوں میں سے ایک نے کوئی جنایت کر دی، کسی کا ہاتھ کاٹ دیا اور اس کی وجہ سے اب ہاتھ کی دیت ادا کرنا پڑے گی، توجہ ہے؟ ہاتھ کی مثلاً اس نے جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا ہے اور جان بوجھ کر ہاتھ کاٹا جائے تو وہاں قصاص آتا ہے، لیکن اگر قصاص ممکن نہ ہو، برابری نہیں ہو سکتی تو پھر وہاں دیت آتی ہے، اور دیت جو ہے وہ جرم کرنے والے کو ادا کرنا پڑتی ہے، اس کے قبیلے والے ادا نہیں کرتے، توجہ ہے؟ کیونکہ اس نے جان بوجھ کر جرم کیا ہے۔ تو اب دونوں شریک جو ہیں ان میں سے ایک نے کوئی جنایت کر دی اور جنایت کی وجہ سے اس کے اوپر اب دین آ گیا، اب اس کو وہ ضمان دینا پڑے گا، تو یہ ضمان ایک ایسے سبب کی وجہ سے آیا ہے جس میں شرکت نہیں ہو سکتی۔ جرم جس نے کیا ہے اسی پر ضمان آتا ہے، دوسرا اس کے ساتھ ضمان میں شریک نہیں ہو سکتا۔ تو لہٰذا یہ دین جس نے جنایت کی ہے صرف اسی سے مطالبہ ہو سکتا ہے، دوسرے سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ یا جیسے ان دونوں شریکوں میں سے ایک آدمی نکاح کر لیتا ہے تو نکاح کرنے والے پر اب عورت کا مہر لازم ہو گیا، تو یہ مہر جو ہے یہ نکاح کی وجہ سے لازم آیا ہے اور اس کے اندر تو اشتراک نہیں ہو سکتا، لہٰذا اس مہر کا مطالبہ صرف اس نکاح کرنے والے سے ہی ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔ یا اسی طرح خلع ہے، ایک عورت خاوند کو مال دے کر اپنی جان اس سے چھڑاتی ہے تو عورت کو بدل خلع ادا کرنا پڑے گا، یہ اس عورت پر دین بن گیا اور اس عورت نے کسی کے ساتھ عقد مفاوضہ کر رکھا ہے، تو یہ جو بدل خلع عورت پر لازم ہوا اس کا مطالبہ اسی عورت سے ہو سکتا ہے، اس کے شریک سے نہیں ہو سکتا۔ یا اسی طرح دونوں شریکوں میں سے ایک نے قتل عمد کر دیا، جان بوجھ کر قتل کیا اور اس کی وجہ سے قصاص آیا لیکن اس نے مقتول کے اولیاء سے صلح کر لی مال پر بھئی، تو یہ جو صلح کی وجہ سے مال واجب ہوا ہے یہ جو صلح کی وجہ سے مال واجب ہوا ہے یہ صرف جس شریک نے جرم کیا ہے اسی سے اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے، اس کا مطالبہ دوسرے شریک سے نہیں ہو سکتا۔ تو بات سمجھ میں آ گئی؟ تو معلوم ہوا وہ دین جو کسی ایسے سبب کی وجہ سے آئے جس میں شرکت ہو سکتی ہے اس دین کا مطالبہ دونوں شریکوں سے ہو سکتا ہے، لیکن اگر وہ دین ایسے سبب کی وجہ سے آیا ہے جس میں اشتراک نہیں ہو سکتا تو اس کا مطالبہ اسی شریک سے مطالبہ کیا جا سکتا ہے جس پر دین آیا ہے، دوسرے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَمَا يَلْزَمُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الدُّيُونِ“، ”وَمَا يَلْزَمُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا“، اور وہ جو ان دونوں میں سے ہر ایک پر لازم ہو ”مِنَ الدُّيُونِ“، یعنی کہ دیون، یہ دیون یہ بیان ہے ”مَا يَلْزَمُ“ کا۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ایسے موقع پر اس بیان کو مبین کی جگہ لے جائیں ترجمے کے اندر تو بہترین ترجمہ ہو جائے گا، تو اب یہ ”مِنَ الدُّيُونِ“ بیان ہے ”مَا يَلْزَمُ“ کا، تو اس ”مَا“ کی جگہ ہم دیون کا لفظ لے آئیں گے ترجمے میں پھر بہترین ترجمہ ہو جائے گا۔ دیکھیے بھئی، کہتے ہیں ”وَمَا يَلْزَمُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الدُّيُونِ“، اور وہ دیون جو ان دونوں میں سے ہر ایک پر لازم ہوتے ہیں ”بَدَلًا عَمَّا يَصِحُّ فِيهِ الِاشْتِرَاكُ“، اس چیز کے بدلے کے طور پر کہ جس کے اندر اشتراک صحیح ہے یعنی جس میں شرکت ہو سکتی ہے اس کے بدلے کے طور پر، ”فَالْآخَرُ ضَامِنٌ لَهُ“، تو دوسرا بھی اس دین کا ضامن ہے۔ دونوں میں سے جس پر بھی دین لازم آیا وہ ایک ایسی چیز کے بدل کے طور پر ہے جس میں شرکت ہو سکتی ہے، تو پھر اس میں دوسرا بھی اس کا ضامن ہے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”وَمَا يَلْزَمُ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِنَ الدُّيُونِ“، اور وہ دیون جو ان دونوں میں سے ہر ایک پر لازم ہوتے ہیں ”بَدَلًا عَمَّا يَصِحُّ فِيهِ الِاشْتِرَاكُ“، اس چیز کے بدل کے طور پر جس کے اندر اشتراک ہو سکتا ہے ”فَالْآخَرُ ضَامِنٌ لَهُ“، تو دوسرا بھی اس میں اس کا ضامن ہو گا ”تَحْقِيقًا لِلْمُسَاوَاةِ“، مساوات ثابت کرنے کے لیے، کیونکہ پھر ہی مساوات ثابت ہو گی بھئی کہ دونوں سے مطالبہ ہو سکے۔ ”فَمِمَّا يَصِحُّ فِيهِ الِاشْتِرَاكُ“، اب بیان کر رہے ہیں صاحب ہدایہ کن چیزوں میں اشتراک ہو سکتا ہے اور کن چیزوں میں اشتراک نہیں ہو سکتا۔ کہتے ہیں ”فَمِمَّا يَصِحُّ فِيهِ الِاشْتِرَاكُ“، تو وہ چیزیں کہ جن کے اندر اشتراک صحیح ہے ”الشِّرَاءُ وَالْبَيْعُ وَالِاسْتِئْجَارُ“، ”الشِّرَاءُ“ وہ خریدنا ہے ”وَالْبَيْعُ“ اور بیچنا ہے ”وَالِاسْتِئْجَارُ“ اور اجرت پر کوئی چیز لینا۔ دونوں کوئی چیز خریدتے ہیں یا دونوں کوئی چیز بیچتے ہیں یا دونوں اجرت پر کوئی چیز لیتے ہیں، مثلاً کوئی ملازم وغیرہ اجرت پر رکھ لیا، تو ان چیزوں کے اندر شرکت جائز ہے، لہٰذا اس میں دونوں ایک دوسرے کے ضامن ہوں گے اور جو دین ایک پر لازم آئے گا دوسرے سے بھی اس کا مطالبہ ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں وہ چیزیں جن میں اشتراک جائز ہے ”الشِّرَاءُ وَالْبَيْعُ وَالِاسْتِئْجَارُ“، وہ خریدنا اور بیچنا اور کرائے پر لینا ہے، ”وَمِنَ الْقِسْمِ الْآخَرِ“، اور دوسری قسم میں سے یعنی جس میں اشتراک صحیح نہیں ہے ”الْجِنَايَةُ“، وہ جنایت ہے ”وَالنِّكَاحُ“، اور نکاح ہے ”وَالْخُلْعُ“، اور خلع ہے ”وَالصُّلْحُ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ“، اور صلح عن دم العمد ہے ”وَعَنِ النَّفَقَةِ“، اور نفقے پر صلح ہے۔ اور نفقے پر صلح ہے، جیسے آپ جانتے ہیں بھئی خاوند پر بیوی کا نفقہ واجب ہے، لیکن مثلاً ایک خاوند بیوی کو نفقہ ادا نہیں کر رہا اور اس پر میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہوا اور بالاخر دونوں نے ایک معین مقدار پر صلح کر لی، مثلاً خاوند نے کہا کہ میں تمہیں ہر ہفتے کا اتنا نفقہ دیا کروں گا یا ہر مہینے کا میں تمہیں اتنا نفقہ دیا کروں گا، تو یہ نفقہ جو خاوند پر بیوی کے ساتھ صلح کی وجہ سے واجب ہوا ہے یہ خاوند کے ذمے ہے، اگر یہ خاوند ادا نہیں کرے گا تو یہ اس کے ذمے دین ہوتا چلا جائے گا، جیسے قاضی خاوند پر نفقے کو واجب کر دے تو وہ نفقہ خاوند کے ذمے دین ہوتا چلا جاتا ہے، توجہ ہے؟ ویسے تو بیوی کا نفقہ خاوند کے ذمے ہے لیکن اگر خاوند ادا نہیں کرتا تو جوں جوں وقت گزرتا جائے گا تو وہ خاوند کے ذمے دین نہیں ہوتا بھئی، وہ خاوند کے ذمے دین نہیں ہوتا، لیکن اگر نفقے پر صلح ہو جائے کسی معین مقدار پر خاوند اور بیوی کے درمیان یا قاضی اس نفقے کو خاوند پر مقرر کر دے کہ ہر ہفتے کا آپ نے اتنا نفقات بیوی کو دینا ہے، تو ان صورتوں کے اندر اگر خاوند ادا نہیں کرے گا تو جوں جوں وقت گزرتا جائے گا خاوند کے ذمے یہ سارا نفقہ دین ہوتا چلا جائے گا۔ تو یہ نفقہ جو صلح کی وجہ سے خاوند پر واجب ہوا ہے یہ اس کا مطالبہ اسی خاوند سے کیا جا سکتا ہے، اس خاوند کے شریک سے اس کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَالصُّلْحُ عَنْ دَمِ الْعَمْدِ“، اور وہ صلح جو دم عمد سے ہو ”وَعَنِ النَّفَقَةِ“، اور وہ صلح جو نفقے سے ہو کہ خاوند اپنی بیوی سے نفقے پر صلح کر لیتا ہے کوئی معین مال مقرر کر دیتا ہے ہر ہفتے کا یا ہر مہینے کا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی، حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 150 of 160