Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-142

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 74
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
آگے سبق دیکھیے بھئی: ”بَابُ أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ“ ”قَالَ: وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُسْلِمُ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ عُرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ، فَإِنْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ كُشِفَتْ عَنْهُ؛ لِأَنَّهُ عَسَاهُ اعْتَرَتْهُ شُبْهَةٌ فَتُزَاحُ، وَفِيهِ دَفْعُ شَرِّهِ بِأَحْسَنِ الْأَمْرَيْنِ“. بھئی گزشتہ سبق میں ہم فصل پڑھ رہے تھے جس کے اندر صاحبِ ہدایہ نے بنو تغلب سے متعلقہ احکام ذکر فرمائے۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ بنو تغلب جو ہے یہ عرب کے عیسائیوں کا ایک قبیلہ تھا، یہ ذمی تھے لیکن ان کے احکام باقی ذمیوں سے مختلف ہیں۔ لہٰذا اس لیے ان کے احکام کو صاحبِ ہدایہ نے الگ فصل میں ذکر فرمایا۔ تو یہ بنو تغلب والے جو تھے یہ عرب کا عیسائی قبیلہ تھا، حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ان لوگوں کو جزیہ ادا کرنے کی دعوت دی تو انہوں نے جزیہ ادا کرنے سے انکار کر دیا اور کہنے لگے کہ ہم بھی عرب ہیں اور یہ بات ہمارے لیے بہت عار کا باعث ہو گی کہ ہم کسی کو جزیہ ادا کریں۔ البتہ جو آپ اپنے لوگوں سے یعنی مسلمانوں سے جو زکوٰۃ لیتے ہیں ہم اس کا دگنا مال دینے کو تیار ہیں لیکن ہم جزیہ ادا نہیں کریں گے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابتدا میں انکار فرمایا کہ میں مشرک سے زکوٰۃ نہیں لے سکتا۔ لیکن پھر بعض صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے مشورے کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس بات پر راضی ہو گئے اور فرمانے لگے کہ یہ جزیہ ہی ہے تم لوگ اس کو جو بھی نام دو۔ اور صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ مال جو ہے بنو تغلب کی عورتوں سے لیا جائے گا البتہ ان کے بچوں سے نہیں لیا جائے گا، اس لیے کیونکہ صلح جو ہے وہ دگنی زکوٰۃ پر واقع ہوئی تھی اور زکوٰۃ جو ہے وہ عورتوں کے مال پر تو واجب ہوتی ہے لیکن بچوں کے مال پر واجب نہیں ہوتی، اس لیے بنو تغلب کے بچوں سے یہ مال نہیں لیا جائے گا۔ جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور اسی طرح امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہ قول ہے کہ یہ مال جو ہے بنو تغلب کی عورتوں سے بھی نہیں لیا جائے گا، جس طرح ان کے بچوں سے یہ مال نہیں لیا جاتا ان کی عورتوں سے بھی یہ مال نہیں لیا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ جزیہ ہی ہے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی اسے جزیہ ہی قرار دیا تھا اور فرمایا تھا کہ یہ جزیہ ہی ہے تم لوگ اسے جو بھی نام دو۔ اور نیز وہ فرماتے ہیں کہ اس کے مصرف سے بھی پتہ چلتا ہے کہ یہ جزیہ ہے، جس طرح جزیہ عام مسلمانوں کی مصلحتوں پر خرچ کیا جاتا ہے اسی طرح یہ مال جو بنو تغلب سے لیا جاتا ہے یہ بھی عام مسلمانوں کی مصلحتوں پر خرچ کیا جاتا ہے، معلوم ہوا یہ جزیہ ہی ہے۔ اور جب یہ جزیہ ہے تو جزیہ تو عورتوں اور بچوں سے نہیں لیا جاتا لہٰذا بنو تغلب کی عورتوں سے بھی یہ مال نہیں لیا جائے گا۔ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہ مال صلح کی وجہ سے واجب ہوا ہے، یہ جزیہ نہیں ہے، تو جب یہ صلح کی وجہ سے واجب ہوا ہے تو صلح کا مال تو عورت سے بھی وصول کیا جا سکتا ہے اور نیز مصرف کی وجہ سے بھی اس کو جزیہ قرار نہیں دیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ یہ مصرف تو صرف جزیے کا نہیں ہے بلکہ یہ مصرف تو خراج کا بھی ہے، اسی طرح وہ مالِ فئے ہے جو بغیر لڑائی کے مسلمان حاصل کریں اس کا بھی یہی مصرف ہے، لہٰذا اس کا مصرف جزیے والا ہونے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ جزیہ ہے کیونکہ یہ مصرف تو اور مالوں کا بھی ہے بھئی۔ اور نیز اس مال کی وصولی میں جزیے والی شرائط بھی نہیں ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جزیہ نہیں ہے کیونکہ جزیہ تو اذلال اور ذلت کے طریقے پر وصول کیا جاتا ہے لیکن اس مال کی وصولی میں تو یہ شرط نہیں ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ تغلبی کا جو آزاد کردہ غلام ہے اس پر جزیہ اور خراج مقرر کیا جا سکتا ہے جس طرح قریشی کے آزاد کردہ غلام پر جزیہ اور خراج مقرر کیا جا سکتا ہے، جبکہ امام زفر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ تغلبی کا جو آزاد کردہ غلام ہے اس سے یہ جزیہ اور یہ خراج دگنا کر کے وصول کیا جائے گا، اور وہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”إِنَّ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْهُمْ“ کہ کسی قوم کا آزاد کردہ غلام وہ اسی قوم میں سے ہوتا ہے، چنانچہ اسی لیے جس طرح ہاشمی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اسی طرح ہاشمی کے آزاد کردہ غلام کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں، تو معلوم ہوا آزاد کردہ غلام جو ہے اس کا وہی حکم ہوتا ہے جو اس کے آقا کا ہوتا ہے اور بنو تغلب والوں سے تو دگنی زکوٰۃ لی جاتی ہے تو لہٰذا ان کے غلاموں سے بھی دگنا جزیہ اور دگنا خراج لیا جائے گا۔ جبکہ ہم جواب میں کہتے ہیں کہ یہاں دو چیزیں ہیں، ایک ہے تخفیف اور ایک ہے تشدید۔ تخفیف یعنی کسی حکم کے اندر آقا کے لیے نرمی ہے تو پھر اس صورت میں وہ حکم اس کے آزاد کردہ غلام کے لیے ثابت نہیں ہو گا، اور اگر کسی حکم کے اندر تشدید ہے یعنی سختی کی گئی ہے تو اگر تشدید والا حکم آقا کے لیے ثابت ہو گا تو وہ اس کے آزاد کردہ غلام کے لیے بھی ثابت ہو گا، اور یہاں پر یہ جو بنو تغلب والوں سے دگنی زکوٰۃ لی جاتی ہے اس کے اندر تخفیف ہے چنانچہ اسی لیے یہ اذلال کے طریقے پر وصول نہیں کی جاتی اور اسی وجہ سے بنو تغلب والے اس دگنی زکوٰۃ کے دینے پر تو راضی ہو گئے تھے لیکن جزیہ کے دینے پر راضی نہیں تھے، معلوم ہوا اس دگنی زکوٰۃ کے اندر تخفیف ہے اور ہم نے بتا دیا کہ آقا کے لیے تخفیف والا حکم ہو تو وہ اس کے آزاد کردہ غلام کے لیے ثابت نہیں ہوتا، چنانچہ اسی لیے کوئی مسلمان آقا جو ہے وہ اپنے عیسائی غلام کو آزاد کر دے، اب مسلمان آقا جو ہے اس سے تو جزیہ وصول نہیں کیا جاتا تو یہ اس کے حق میں تخفیف ہے نرمی ہے لیکن یہ تخفیف والا حکم اس کے آزاد کردہ عیسائی غلام کے لیے ثابت نہیں ہو گا اور اس سے جزیہ وصول کیا جائے گا۔ جبکہ ہاشمی کے آزاد کردہ غلام کی جو آپ نے مثال ذکر کی کہ ہاشمی کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں تو اس کے آزاد کردہ غلام کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں، تو ہم کہتے ہیں کہ وہ زکوٰۃ کی حرمت کا مسئلہ ہے اور حرمتیں جو ہیں وہ شبہے سے بھی ثابت ہو جایا کرتی ہیں، لہٰذا ہاشمی کے آزاد کردہ غلام کے لیے بھی زکوٰۃ کی حرمت ثابت ہو جائے گی۔ اور نیز ہاشمی آقا کو زکوٰۃ نہ دینا اس کے اندر تشدید ہے، اس پر سختی ہے کہ وہ بے شک محتاج ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کو زکوٰۃ نہیں دی جا سکتی، تو جب یہ تشدید ہے تو اس کے اندر آزاد کردہ غلام بھی اپنے آقا کے ساتھ شریک ہوتا ہے، تو لہٰذا اس لیے اس ہاشمی کے آزاد کردہ غلام کو زکوٰۃ دینا حرام ہو گا بھئی۔ اس پر پھر اشکال ہوتا ہے کہ آپ نے ہمیں بتایا شبہے کی وجہ سے حرمت ثابت ہو جاتی ہے پھر تو اگر ایک مالدار آقا اپنے غلام کو آزاد کرے تو آقا کے لیے زکوٰۃ لینا حرام ہے پھر تو اس کے اس آزاد کردہ غلام کے لیے بھی زکوٰۃ لینا حرام ہونا چاہیے چاہے وہ غریب ہی کیوں نہ ہو، کیونکہ حرمت جو ہے وہ شبہے کی وجہ سے بھی ثابت ہو جاتی ہے، تو اس کا جواب بھی صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ یہ جو مالدار آقا ہے یہ اپنی ذات کے اعتبار سے زکوٰۃ کا اہل ہے یعنی اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے البتہ اس وقت ایک مانع موجود ہے اور وہ اس کی مالداری ہے، اگر یہ مالدار نہ ہوتا تو اس کو بھی زکوٰۃ دینا جائز ہوتا، جبکہ اس کا آزاد کردہ جو غلام ہے اس کے اندر تو یہ مالداری والا مانع موجود نہیں لہٰذا اس کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ہاشمی جو ہے وہ تو زکوٰۃ کا اہل ہی نہیں ہے اس کو تو زکوٰۃ دی ہی نہیں جا سکتی اس لیے کیونکہ یہ زکوٰۃ تو میل کچیل ہے اور ہاشمی جو ہے اس کو تو اس کے معزز ہونے کی وجہ سے لوگوں کے اس میل کچیل سے بچایا گیا ہے بھئی، لہٰذا ہاشمی کے آزاد کردہ غلام کا بھی یہی حکم ہو گا کہ اس کو بھی زکوٰۃ دینا جائز نہیں ہو گا۔ اور اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے خراج اور جزیہ وغیرہ کا مصرف بیان فرمایا کہ یہ جو خراج ہے یا اسی طرح جزیہ ہے یا بنو تغلب والوں سے جو مال حاصل ہو یا دار الحرب والوں نے کوئی امام کو تحفے وغیرہ دیے ہوں تو یہ سارا بیت المال کا مال ہے اور اسے مسلمانوں کی مصلحت کے کاموں میں خرچ کیا جائے گا، تو اس کے ذریعے سرحدوں کو مضبوط کیا جائے گا، مسلمانوں کے راستے اور پل وغیرہ اس کے ذریعے بنائے جائیں گے اور نیز مسلمانوں کے لیے جو کام کرنے والے ہیں جیسے قاضی ہیں، علماء ہیں اور انتظامی کام کرنے والے لوگ ہیں ان سب کو بھی ضرورت کے بقدر مال ان کو دیا جائے گا جس کے ذریعے ان کا گزر بسر ہو سکے بھئی۔ اور اسی طرح وہ مسلمان جو جہاد میں مصروف ہیں ان کو اور ان کی اولاد کو بھی اس میں سے بقدرِ ضرورت مال دیا جائے گا، اس لیے کیونکہ اولاد کا خرچہ باپ پر ہوتا ہے تو اگر یہ غازیوں کی اولاد کو نہیں دیا جائے گا پھر تو غازی تو اپنی اولاد کے لیے مال کمانے کے اندر مشغول ہو جائیں گے تو وہ لڑائی کے لیے پھر فارغ نہیں ہو سکیں گے، تو لہٰذا غازیوں کو بھی دیا جائے گا اور ان کی اولاد کو بھی۔ اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ غازیوں وغیرہ کو یہ جو مال دیا جاتا ہے یہ بطورِ عطیہ اور انعام کے دیا جاتا ہے، خلیفہ پر ان کا دینا واجب نہیں ہے، لہٰذا اگر سال کے بیچ میں کسی غازی کا انتقال ہو جائے تو اس کا حصہ ساقط ہو جائے گا بھئی۔ اور پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ ہمارے زمانے میں جو اہل عطاء ہیں وہ قاضی، مدرس اور مفتی وغیرہ ہیں بھئی، ان سب کی معاشی ضروریات کو بیت المال سے پورا کیا جائے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ أَحْكَامِ الْمُرْتَدِّينَ“ یہ باب ہے مرتدوں کے احکام کے بیان میں۔ اس باب میں صاحبِ ہدایہ وہ مسلمان جو مرتد ہو جائیں ان کے احکام بیان فرمائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کی ارتداد سے حفاظت فرمائے۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُسْلِمُ عَنِ الْإِسْلَامِ وَالْعِيَاذُ بِاللهِ“ بھئی آپ یہاں جگہ جگہ دیکھیں گے یہاں پر صاحبِ ہدایہ جو ہیں ”وَالْعِيَاذُ بِاللهِ“ ذکر فرمائیں گے۔ ہمارے بزرگوں کا یہ طریقہ ہے کہ جہاں ارتداد کا ذکر آتا ہے تو وہاں اس ارتداد سے اللہ کی پناہ مانگتے ہیں بھئی۔ وجہ یہ ہے کہ ارتداد اتنی خوفناک چیز ہے کہ اس کی وجہ سے ساری نیکیاں برباد ہو جاتی ہیں اور اسی حالت میں اگر موت آ گئی تو ہمیشہ کے لیے وہ شخص جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ: وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُسْلِمُ عَنِ الْإِسْلَامِ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اور جب کوئی مسلمان اسلام سے مرتد ہو جائے، ”وَالْعِيَاذُ بِاللهِ“ اور ہم اللہ سے اس کی پناہ مانگتے ہیں، تو جب کوئی مسلمان مرتد ہو جائے، ”عُرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ“ تو اس پر اسلام کو پیش کیا جائے گا۔ ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ“ اگر اس مرتد کا کوئی شبہ ہے، اسلام کے بارے میں کوئی شبہ اور اعتراض وغیرہ ہے، ”كُشِفَتْ عَنْهُ“ تو اس اعتراض کو دور کیا جائے گا۔ کشف کے معنی ہوتے ہیں کھولنا، تو مراد ہے دور کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ كُشِفَتْ عَنْهُ“ بھئی اس کے اعتراض کو شبہے کا نام دیا، اس لیے کیونکہ اسلام جو ہے نہایت جامع دین ہے تو اگر کسی کے دل میں اعتراض آتا بھی ہے وہ دراصل اس کی لاعلمی کی وجہ سے ہے، تو یہ شبہ ہی ہے، حقیقت میں اعتراض نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ كُشِفَتْ عَنْهُ“ اگر اس مرتد ہونے والے کا کوئی شبہ ہے تو اس شبہے کو دور کیا جائے گا، ”لِأَنَّهُ عَسَاهُ اعْتَرَتْهُ شُبْهَةٌ فَتُزَاحُ“ ”اعْتَرَى يَعْتَرِي“ کے معنی ہیں پیش آنا، اور ”فَتُزَاحُ“، ”أَزَاحَ يُزِيحُ إِزَاحَةً“ کا معنی ہے دور کرنا۔ ”لِأَنَّهُ عَسَاهُ“ اس لیے کیونکہ شاید اس کو، ”اعْتَرَتْهُ شُبْهَةٌ“ کوئی شبہ اس کو پیش آ گیا ہو، ”فَتُزَاحُ“ تو اس شبہے کو دور کیا جائے گا۔ معنی سمجھ میں آ گیا؟ پھر عبارت دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُ عَسَاهُ اعْتَرَتْهُ شُبْهَةٌ فَتُزَاحُ“ اس لیے کیونکہ شاید اس کو کوئی شبہ پیش آ گیا ہو تو اس شبہے کو دور کیا جائے گا، ”وَفِيهِ دَفْعُ شَرِّهِ بِأَحْسَنِ الْأَمْرَيْنِ“ اور اس کے اندر اس کے شر کو دور کرنا ہے دو امروں میں سے جو بہتر ہے اس کے ذریعے، بھئی کوئی شخص مرتد ہوا ہے تو ایک صورت یہ ہے کہ وہ اسلام قبول کر لے تو اس صورت میں بھی اس کا شر ختم ہو گیا وہ دوبارہ مسلمان ہو گیا، یا اس کو قتل کر دیا جائے گا اس صورت میں بھی اس کا شر ختم ہو جائے گا، تو اسلام اور قتل ان دونوں میں سے بہتر کیا ہے؟ اسلام ہے۔ لہٰذا یہاں اگر اس کا شبہ دور کر دیا جائے گا تو اسلام کی وجہ سے اس کا شر دور ہو گیا۔ تو یہ معنی ہے کہ دو چیزوں میں سے جو بہتر تھی اس کے ذریعے اس کا شر دور ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيهِ دَفْعُ شَرِّهِ بِأَحْسَنِ الْأَمْرَيْنِ“ اور اس کے اندر اس کے شر کو دور کرنا ہے دو چیزوں میں سے بہتر چیز کے ذریعے، ”إِلَّا أَنَّ الْعَرْضَ عَلَى مَا قَالُوا غَيْرُ وَاجِبٍ“ بھئی یہاں صاحبِ قدوری کی عبارت میں اوپر آیا تھا کہ: ”وَإِذَا ارْتَدَّ الْمُسْلِمُ عَنِ الْإِسْلَامِ عُرِضَ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ“ کہ اس پر اسلام پیش کیا جائے گا۔ تو بظاہر عبارت سے یوں لگتا ہے کہ مرتد پر اسلام کا پیش کرنا واجب ہے تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اسلام کا پیش کرنا واجب نہیں ہے۔ کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّ الْعَرْضَ عَلَى مَا قَالُوا غَيْرُ وَاجِبٍ“ مگر یہ کہ اسلام کا پیش کرنا بوجہ اس کے جو فقہاء نے فرمایا ہے، ”غَيْرُ وَاجِبٍ“ یہ واجب نہیں ہے، ”لِأَنَّ الدَّعْوَةَ بَلَغَتْهُ“ اس لیے کیونکہ اسلام کی دعوت اسے پہنچ چکی ہے، یہ تو پہلے مسلمان تھا بھئی، تو لہٰذا اسلام کی دعوت تو اسے پہنچ چکی ہے، لہٰذا اب دوبارہ دعوت دینا واجب نہیں ہے، ہاں البتہ مستحب ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيُحْبَسُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ ”قَالَ“ اور صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُحْبَسُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ کہ اس مرتد کو قید کیا جائے گا تین دن تک، ”فَإِنْ أَسْلَمَ وَإِلَّا قُتِلَ“ ”فَإِنْ أَسْلَمَ“ اگر یہ اسلام لے آیا، آگے جزا محذوف ہے ”فَبِهَا“ تو اچھی بات ہے۔ اگر یہ اسلام لے آیا تو اچھی بات ہے، تو کہتے ہیں: ”فَإِنْ أَسْلَمَ وَإِلَّا قُتِلَ“ اگر یہ اسلام لے آیا تو اچھی بات ہے، ”وَإِلَّا قُتِلَ“ بھئی میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”إِلَّا“ سے پہلے واو آ جائے تو یہ ”إِلَّا“ حرفِ استثناء نہیں ہوتا بلکہ ”إِنْ“ اور ”لَا“ سے مرکب ہوتا ہے، أَيْ: ”وَإِنْ لَمْ يَكُنْ كَذَلِكَ“ اور اگر ایسا نہ ہوا یعنی وہ اسلام نہ لایا، ”قُتِلَ“ تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ پھر دیکھ لیجیے: ”قَالَ: وَيُحْبَسُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ أَسْلَمَ وَإِلَّا قُتِلَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین دن قید کیا جائے گا، تو اگر وہ اسلام لے آیا تو اچھی بات ہے ورنہ اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اب جامع صغیر کی عبارت ذکر کر رہے ہیں، جیسے کہ صاحبِ ہدایہ کی عادت ہے کہ اگر جامع صغیر کی عبارت اگر قدوری سے مختلف ہو یا اس میں کوئی اور فائدہ ہو تو اس کو بھی وہ ذکر فرماتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ: الْمُرْتَدُّ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ حُرًّا كَانَ أَوْ عَبْدًا، فَإِنْ أَبَى قُتِلَ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے: ”الْمُرْتَدُّ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْإِسْلَامُ“ کہ مرتد جو ہے اس پر اسلام پیش کیا جائے گا، ”حُرًّا كَانَ أَوْ عَبْدًا“ چاہے وہ مرتد ہونے والا آزاد ہو یا غلام ہو، ”فَإِنْ أَبَى“ اگر اس نے انکار کر دیا یعنی اسلام قبول نہیں کیا، ”قُتِلَ“ تو اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ یہ جامع صغیر کی عبارت ہے۔ بھئی قدوری کی عبارت سے پتہ چلا کہ مرتد کو فوراً قتل نہیں کریں گے، اس کو تین دن قید میں رکھیں گے اور پھر بھی اگر وہ اسلام نہیں لاتا تو قتل کر دیں گے۔ لیکن جامع صغیر سے پتہ چلا کہ اس کو تین دن کی مہلت نہیں دیں گے، مرتد ہوا ہے اسی وقت اسلام پیش کیا جائے گا اگر وہ انکار کرتا ہے تو قتل کر دیا جائے گا۔ تو صاحبِ ہدایہ اب بتلائیں گے کہ یہ جو صاحبِ قدوری نے تین دن کی مہلت کی بات کی ہے وہ اس صورت میں ہے جب وہ مرتد ہونے والا خود مہلت طلب کرے کہ مجھے کچھ وقت دے دو میں غور کرتا ہوں، تو پھر اس کو وقت دیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُ الْأَوَّلِ“ اور پہلے قول کی تاویل جو ہے وہ یہ ہے، پہلا قول کس کا تھا؟ صاحبِ قدوری کا۔ کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُ الْأَوَّلِ أَنَّهُ يَسْتَمْهِلُ“ اور پہلے قول کی تاویل اور تفسیر یہ ہے کہ ”أَنَّهُ يَسْتَمْهِلُ“ کہ وہ مرتد جو ہے وہ مہلت طلب کرتا ہے، ”اسْتَمْهَلَ“ یہ بابِ استفعال ہے اور اس کے اندر سین عموماً طلب کے لیے آتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَتَأْوِيلُ الْأَوَّلِ أَنَّهُ يَسْتَمْهِلُ فَيُمْهَلُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ“ اور پہلے قول کی تاویل اور تفسیر یہ ہے کہ وہ مرتد جو ہے وہ مہلت طلب کرتا ہے تو اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی، ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ ضُرِبَتْ لِإِبْلَاءِ الْأَعْذَارِ“ بھئی دیکھیے یہاں آیا: ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ ضُرِبَتْ“، ضرب کا ایک معنی ہوتا ہے بیان کرنا، یہاں پر یہی معنی ہے ضرب کا۔ ”إِبْلَاءٌ“، ”أَبْلَى يُبْلِي إِبْلَاءً“ کا معنی ہے آزمانا، اور اعذار جمع ہے عذر کی۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ ضُرِبَتْ لِإِبْلَاءِ الْأَعْذَارِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو تین دن ہیں یہ ایسی مدت ہے جس کو بیان کیا گیا ہے، ”لِإِبْلَاءِ الْأَعْذَارِ“ عذروں کی آزمائش کے لیے۔ یہ تین دن کی مدت ایسی ہے جس کو عذروں کی آزمائش کے لیے بیان کیا گیا ہے، یعنی اگر کسی کو کوئی عذر ہو تو تین دن کے اندر وہ اپنے عذر کو دور کر سکتا ہے تین دن کا وقت دیا جا سکتا ہے بھئی۔ اسی لیے اس مرتد کو تین دن کا وقت دیا گیا ہے۔ یا جیسے بیع کے اندر، ایک شخص دوسرے سے بیع کرنا چاہتا ہے اور دوسرا جو ہے وہ تیار نہیں ہے تو پھر وہ اس کے ساتھ خیارِ شرط پر بیع کر لیتا ہے کہ چلو آپ سوچ لینا تین دن تک بیع کو آپ فسخ کرنا چاہیں تو کر سکتے ہیں، تو دیکھو وہاں پر بھی خیارِ شرط کے اندر تین دن کا وقت دیا جاتا ہے جس میں وہ اپنے عذر کو دور کر سکتا ہے، بھئی اس کو شک ہے نا کہ اس بیع کے اندر کہیں مجھے نقصان نہ ہو جائے، تو تین دن کے اندر وہ پوری طرح مشورہ وغیرہ اپنے ساتھیوں سے کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں، اس کو تین دن کی مہلت دی جائے گی: ”لِأَنَّهَا مُدَّةٌ ضُرِبَتْ لِإِبْلَاءِ الْأَعْذَارِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو تین دن ہیں یہ ایسی مدت ہے جس کو عذروں کی آزمائش کے لیے بیان کیا گیا ہے، ”وَعَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُمَا اللهُ تَعَالَى أَنَّهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ يُؤَجِّلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ طَلَبَ ذَلِكَ أَوْ لَمْ يَطْلُبْ“ اور شیخین رحمہما اللہ سے روایت ہے کہ مستحب یہ ہے کہ امام اس کو مہلت دے تین دن کی، وہ مرتد اس کو طلب کرے یا نہ طلب کرے۔ تو تین قول آ گئے بھئی احناف کے سلسلے میں: قدوری کی روایت کے مطابق تین دن کی مہلت دی جائے گی لیکن وہ اس وقت ہے جب وہ خود مہلت طلب کرے۔ امام محمد رحمہ اللہ کی جامع صغیر کی عبارت سے معلوم ہوا کہ اس کو مہلت نہیں دی جائے گی اس پر اسلام وہیں پیش کریں گے وہ انکار کرتا ہے تو قتل کر دیا جائے گا۔ اور شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ مستحب یہ ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دی جائے چاہے وہ مہلت کا مطالبہ کرے یا نہ کرے بھئی۔ تو یہ تین قول آ گئے۔ اب آگے چوتھا قول امام شافعی رحمہ اللہ کا ذکر فرمائیں گے۔ یاد رکھو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مرتد کو تین دن کی مہلت دینا واجب ہے۔ تین دن کی مہلت دینا واجب ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنِ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ تَعَالَى أَنَّ عَلَى الْإِمَامِ أَنْ يُؤَجِّلَهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ، وَلَا يَحِلُّ لَهُ أَنْ يَقْتُلَهُ قَبْلَ ذَلِكَ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام پر واجب ہے کہ اس کو تین دن کی مہلت دے اور امام کے لیے جائز نہیں ہے کہ اس تین دن سے پہلے اس کو قتل کر دے، ”لِأَنَّ ارْتِدَادَ الْمُسْلِمِ يَكُونُ عَنْ شُبْهَةٍ ظَاهِرًا“ ”لِأَنَّ ارْتِدَادَ الْمُسْلِمِ“ اس لیے کیونکہ مسلمان کا مرتد ہونا، ”يَكُونُ عَنْ شُبْهَةٍ“ وہ شبہے کی وجہ سے ہو گا، ”ظَاهِرًا“ ظاہری طور پر، ظاہر یہی ہے کہ مسلمان مرتد ہو رہا ہے تو وہ کسی شبہے اور اعتراض کی وجہ سے مرتد ہو رہا ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ ارْتِدَادَ الْمُسْلِمِ يَكُونُ عَنْ شُبْهَةٍ ظَاهِرًا“ اس لیے کیونکہ ظاہر یہی ہے کہ مسلمان کا مرتد ہونا کسی شبہے کی وجہ سے ہو گا، ”فَلَا بُدَّ مِنْ مُدَّةٍ يُمْكِنُهُ التَّأَمُّلُ فَقَدَّرْنَاهَا بِالثَّلَاثِ“ لہٰذا ایسی مدت کا ہونا ضروری ہے کہ اس کے لیے غور و فکر کرنا ممکن ہو تو اس کا اندازہ ہم نے لگایا تین دن کے ساتھ۔ ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا قول ہے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ“ کہ اے مسلمانو! تم مشرکین کو قتل کر دو، ”مِنْ غَيْرِ قَيْدِ الْإِمْهَالِ“ اس آیت میں مہلت دینے کی قید نہیں ہے۔ اللہ کیا فرماتے ہیں؟ ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ“ کہ تم مشرکوں کو قتل کر دو، ”مِنْ غَيْرِ قَيْدِ الْإِمْهَالِ“ بغیر مہلت دینے کی قید کے، اللہ نے یہ ذکر فرمایا ہے۔ ”وَكَذَا قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“ اور اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا قولِ مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“ جو اپنے دین کو بدل دے تو اس کو تم قتل کر دو۔ ”مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“ کہ جو اپنے دین کو بدل دے تو تم اس کو قتل کر دو۔ ”وَلِأَنَّهُ كَافِرٌ حَرْبِيٌّ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں احناف کی۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ كَافِرٌ حَرْبِيٌّ“ اس لیے کیونکہ یہ جو مرتد ہے یہ کافرِ حربی ہے۔ یہ کیا ہے؟ کافرِ حربی ہے۔ بھئی دیکھو، ایک کافر وہ ہے جو دار الاسلام کے اندر ذمی بن کر رہتا ہے، تو ایک کافر ہوا ذمی، اور ایک حربی وہ ہے جو امان لے کر دار الاسلام آتا ہے اور اس کو مستأمن کہتے ہیں، اور یہ جو مرتد ہونے والا ہے یہ نہ ذمی ہے نہ مستأمن ہے، تو جب یہ نہ ذمی ہے اور نہ مستأمن ہے تو معلوم ہوا پھر یہ حربی ہے بھئی۔ اور حربی جو ہے حربی کو تو قتل کرنا جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ كَافِرٌ حَرْبِيٌّ بَلَغَتْهُ الدَّعْوَةُ فَيُقْتَلُ لِلْحَالِ مِنْ غَيْرِ اسْتِمْهَالٍ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو مرتد ہے یہ ایسا حربی کافر ہے کہ اس کو دعوت پہنچ چکی ہے، ”فَيُقْتَلُ لِلْحَالِ“، للحال أَيْ في الحال، تو اس کو فی الحال ہی قتل کر دیا جائے گا، ”مِنْ غَيْرِ اسْتِمْهَالٍ“ مہلت طلب کرنے کے بغیر، اس کو فوراً قتل کر دیا جائے گا مہلت طلب کرنے کے بغیر یعنی جب یہ مہلت طلب نہ کرے تو پھر اس کو فوراً قتل کر دیا جائے گا۔ معنی سمجھ میں آیا؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَيُقْتَلُ لِلْحَالِ مِنْ غَيْرِ اسْتِمْهَالٍ“ اور مہلت طلب نہ کرنے کی صورت میں اس کو فی الحال ہی قتل کر دیا جائے گا، ”وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ تَأْخِيرُ الْوَاجِبِ لِأَمْرٍ مَوْهُومٍ“ یہاں سے ایک شبہے کا جواب دے رہے ہیں کہ بھئی اس کو مہلت دینی چاہیے، ہو سکتا ہے یہ واپس مسلمان ہو جائے۔ کہتے ہیں بھئی اس کا مسلمان ہونا یقینی نہیں وہمی ہے، اور وہمی چیز کی وجہ سے ایک واجب چیز کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مرتد ہوا ہے تو اس کا قتل واجب ہو چکا ہے اور اس کا مسلمان ہونا وہمی ہے تو وہمی چیز کی وجہ سے واجب چیز یعنی اس کے قتل کو مؤخر نہیں کیا جا سکتا۔ کہتے ہیں: ”وَهَذَا لِأَنَّهُ لَا يَجُوزُ تَأْخِيرُ الْوَاجِبِ لِأَمْرٍ مَوْهُومٍ“ اور یہ اس لیے کیونکہ واجب کو مؤخر کرنا جائز نہیں ہے ایک وہمی چیز کی وجہ سے۔ ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ“ اور کوئی فرق نہیں ہے آزاد اور غلام کے درمیان، یعنی چاہے مرتد ہونے والا آزاد ہو چاہے غلام، دونوں کا یہی حکم ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ لِإِطْلَاقِ الدَّلَائِلِ“ اور کوئی فرق نہیں ہے آزاد اور غلام کے درمیان دلیلوں کے مطلق ہونے کی وجہ سے، کہ دلیلیں مطلق ہیں، قرآن میں اللہ نے کیا فرمایا؟ ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ“، یہاں پر کوئی فرق نہیں کیا گیا کہ وہ آزاد ہو یا غلام ہو، اور نیز حضور فرماتے ہیں: ”مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“، جو اپنے دین کو بدلے تو اس کو قتل کر دو، یہاں کوئی آزاد اور غلام کا فرق نہیں کیا گیا تو دلیلیں مطلق ہیں لہٰذا مرتد ہونے والا چاہے آزاد ہو چاہے غلام وہ واجب القتل ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا فَرْقَ بَيْنَ الْحُرِّ وَالْعَبْدِ لِإِطْلَاقِ الدَّلَائِلِ“ اور آزاد اور غلام میں کوئی فرق نہیں ہے دلیلوں کے مطلق ہونے کی وجہ سے۔ ”وَكَيْفِيَّةُ تَوْبَتِهِ أَنْ يَتَبَرَّأَ عَنِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا سِوَى الْإِسْلَامِ؛ لِأَنَّهُ لَا دِينَ لَهُ“ اور اس مرتد کی توبہ کی کیفیت یعنی اس کا طریقہ یہ ہے کہ: ”أَنْ يَتَبَرَّأَ عَنِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا“ کہ یہ براءت کا اظہار کرے تمام دینوں سے۔ بھئی مرتد اگر دوبارہ مسلمان ہوتا ہے تو کلمۂ شہادت کے ساتھ اس پر یہ بھی لازم ہے کہ وہ باقی دینوں سے براءت کا اظہار کرے کہ باقی کسی اور دین سے میرا تعلق نہیں ہے، میں تمام دینوں کو چھوڑتا ہوں، ان سے بیزاری کا اظہار کرے، تو کہتے ہیں: ”وَكَيْفِيَّةُ تَوْبَتِهِ أَنْ يَتَبَرَّأَ عَنِ الْأَدْيَانِ كُلِّهَا سِوَى الْإِسْلَامِ“ اور مرتد کی توبہ کی کیفیت اور طریقہ یہ ہے کہ وہ باقی تمام دینوں سے بری ہو جائے، ان سے براءت کا اظہار کرے، ”سِوَى الْإِسْلَامِ“ اسلام کے علاوہ، ”لِأَنَّهُ لَا دِينَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ مرتد کا کوئی دین نہیں ہے، مرتد کا کوئی دین نہیں ہے۔ اس پر سوال پیدا ہوتا ہے کہ ظاہر سی بات ہے مرتد نے اسلام کو چھوڑا ہے تو وہ کسی اور دین پر گیا ہو گا، تو یاد رکھو پہلی بات تو یہ کہ اسلام کو چھوڑنے کے ساتھ لازم نہیں ہے کسی اور دین پر جانا، لیکن اگر وہ کسی اور دین پر بھی گیا ہے پھر بھی وہ دین معتبر نہیں ہے یوں سمجھیں گے مرتد کا کوئی بھی دین نہیں ہے۔ بھئی کیوں؟ باقی دینوں کا کیوں نہیں اعتبار؟ کہتے ہیں وجہ یہ ہے کہ اس کو ہم زندہ ہی نہیں چھوڑیں گے، اس کو تو قتل کر دیا جائے گا، تو اس نے اگر کوئی اور دین اختیار کیا بھی ہے اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔ تو یہ معنی ہے ”لِأَنَّهُ لَا دِينَ لَهُ“ اس لیے کیونکہ مرتد کا کوئی دین نہیں ہے۔ ”وَلَوْ تَبَرَّأَ عَمَّنِ انْتَقَلَ إِلَيْهِ كَفَاهُ“ اور اگر اس نے براءت اختیار کر لی اس دین سے جس کی طرف یہ منتقل ہوا ہے، ”كَفَاهُ“ تو یہ بھی کافی ہے۔ اگر یہ کسی دین کی طرف منتقل ہوا ہے تو اگر صرف اس دین سے براءت کا اظہار کر دے تو یہ بھی کافی ہے، کلمۂ شہادت بھی کہے گا اور اس دین کے چھوڑنے کا اور اس سے لا تعلقی کا اظہار بھی کرے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ تَبَرَّأَ عَمَّنِ انْتَقَلَ إِلَيْهِ كَفَاهُ لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ اور اگر اس نے براءت کا اظہار کیا اس دین سے جس کی طرف یہ منتقل ہوا ہے ”كَفَاهُ“ تو یہ بھی کافی ہے ”لِحُصُولِ الْمَقْصُودِ“ مقصود حاصل ہونے کی وجہ سے، کہ مقصود حاصل ہو گیا اس نے اسلام کے علاوہ اور دین سے براءت کا اظہار کر دیا بھئی۔ بھئی یہاں تک بات سمجھ میں آ گئی؟ یہاں اعتراض ہوتا ہے کہ صاحبِ ہدایہ نے جو ہمارے دلائل ذکر فرمائے اس سے معلوم ہوا کہ مرتد اگر مہلت طلب نہ کرے تو اس کو فوراً قتل کر دیا جائے گا، چنانچہ فرمایا قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ“، اور نیز حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”مَنْ بَدَّلَ دِينَهُ فَاقْتُلُوهُ“ بھئی، تو معلوم ہوا مرتد کو فوراً قتل کر دیا جائے گا، تو حالانکہ پیچھے شیخین رحمہما اللہ کا قول ذکر ہوا کہ مرتد کو مہلت دینا مستحب ہے۔ تو علماء جواب دیتے ہیں کہ یہاں جو صاحبِ ہدایہ نے دلیل دی یہ قیاس ہے بھئی۔ قیاس یہ تقاضا کرتا ہے کہ مرتد کو ایک دفعہ دعوت پہنچ چکی ہے لہٰذا اس کو مہلت دینے کی کوئی حاجت نہیں، اس پر اسلام کو پیش کرو اور انکار کرتا ہے تو قتل کر دیا جائے بھئی۔ جبکہ شیخین رحمہما اللہ کا قول جو ہے وہ استحسان پر مبنی ہے، وہ کیا ہے؟ استحسان پر مبنی ہے، تو قیاس یہ تقاضا کرتا ہے اس کو مہلت نہیں دینی چاہیے اور شیخین رحمہما اللہ کا قول جو ہے وہ استحسان پر مبنی ہے بھئی، اور آپ جانتے ہیں کہ عموماً استحسان کو قیاس پر ترجیح ہوتی ہے بھئی، کوئی بیس بائیس مسائل ہیں جن میں فتویٰ قیاس پر ہے ورنہ عموماً فتویٰ استحسان پر ہوتا ہے، تو یہاں پر بھی شیخین رحمہما اللہ کے قول کو ترجیح ہو گی کیونکہ وہ استحسان ہے بھئی۔ وہ استحسان ہے اس لیے کیونکہ یہ شخص اس نے اسلام کو چھوڑا ہے تو یہ اسلام کی خوبیوں کو جانتا ہے لہٰذا امید ہے کہ یہ شاید واپس لوٹ آئے تو اس لیے اس کو مہلت دی جائے گی بھئی۔ اور نیز یاد رکھنا یہاں امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب جو صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ امام پر واجب ہے مرتد کو تین دن کی مہلت دے، تو شارحین فرماتے ہیں کہ امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی صحیح مذہب یہی ہے کہ مرتد کو مہلت نہیں دی جائے گی، اگر وہ توبہ کر لیتا ہے تو اچھی بات ہے اگر توبہ نہیں کرتا تو اس کو قتل کر دیا جائے گا، تو امام شافعی رحمہ اللہ کے صحیح مذہب کے مطابق مرتد کو مہلت دینا واجب نہیں ہے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: فَإِنْ قَتَلَهُ قَاتِلٌ قَبْلَ عَرْضِ الْإِسْلَامِ عَلَيْهِ كُرِهَ، وَلَا شَيْءَ عَلَى الْقَاتِلِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بیان فرما رہے ہیں کہ اگر کوئی شخص مرتد ہو جاتا ہے اور اس کو اسلام کی دعوت دیے بغیر ہی کوئی دوسرا شخص قتل کر دیتا ہے تو قاتل کا ایسا کرنا مکروہ ہے بھئی، بغیر دعوت کے ہی اس کو قتل کرنا مکروہ ہے اس لیے کیونکہ اس کو دعوت دینا مستحب تھا واجب تو نہیں تھا کیونکہ اسلام کی دعوت تو اس کو پہنچ چکی ہے لیکن مستحب یہ تھا کہ اس کو دعوت دی جاتی تو اس قاتل نے ایک مستحب کام کو چھوڑا ہے اس لیے اس کا یہ فعل مکروہ ہے بھئی، اور البتہ قاتل پر قصاص یا دیت نہیں آئے گی اس لیے کیونکہ کفر کی وجہ سے یہ مرتد مباح الدم ہو چکا ہے اس کی عصمت ختم ہو چکی ہے، تو جب یہ مباح الدم ہو گیا تو اس کے قتل کی وجہ سے اب قصاص یا دیت نہیں آ سکتی بھئی۔ تو ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”فَانْ قَتَلَهُ قَاتِلٌ قَبْلَ عَرْضِ الْإِسْلَامِ عَلَيْهِ“ اور اگر کسی قاتل نے اس مرتد کو قتل کر دیا اس پر اسلام پیش کرنے سے پہلے، ”كُرِهَ“ تو یہ مکروہ ہے، ”وَلَا شَيْءَ عَلَى الْقَاتِلِ“ اور قاتل پر کوئی چیز نہیں آئے گی یعنی اس پر قصاص یا دیت نہیں آئے گی، ”وَمَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ هَاهُنَا تَرْكُ الْمُسْتَحَبِّ“ بھئی متن کے اندر آیا کہ قاتل کا یہ فعل مکروہ ہے بھئی، تو اب اس مکروہ سے کیا مراد ہے؟ آپ جانتے ہیں فقہ کی کتابوں کے اندر مکروہ کا لفظ آئے تو اس سے عموماً مراد مکروہِ تحریمی ہوتا ہے، ایک ہے مکروہِ تحریمی اور ایک ہے مکروہِ تنزیہی، اور آپ جانتے ہیں مکروہِ تحریمی وہ ہے جو حرام کے قریب ہے، حرام تو نہیں لیکن حرام کے قریب ہی ہے، اور دوسرا مکروہِ تنزیہی ہے، مکروہِ تنزیہی جو ہے وہ حلال کے قریب ہے، حلال تو نہیں البتہ حلال کے قریب ہی ہے یعنی صرف ناپسندیدہ ہے۔ تو مکروہِ تنزیہی کا کیا معنی ہوا؟ یعنی وہ چیز ناپسندیدہ ہے۔ تو یہاں بھی متن کے اندر کراہت کا ذکر آیا کہ یہ قاتل جس نے بغیر دعوت دیے ہی مرتد کو قتل کر دیا ہے اس کا یہ عمل مکروہ ہے تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ یہاں کراہت سے مراد کراہتِ تنزیہی ہے اس لیے کیونکہ اس قاتل نے ایک مستحب کام کو چھوڑ دیا، اس نے مرتد کو دعوت نہیں دی اور اس مرتد کو دعوت دینا مستحب ہے واجب نہیں کیونکہ اس کو اسلام کی دعوت پہلے ہی پہنچ چکی ہے، تو اس قاتل نے ایک مستحب کام کو چھوڑا ہے تو یہ مکروہ ہے یعنی مکروہِ تنزیہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ هَاهُنَا تَرْكُ الْمُسْتَحَبِّ“ اور یہاں پر مکروہ ہونے کا معنی جو ہے وہ مستحب کو چھوڑنا ہے، معلوم ہوا یہ کراہت کون سی ہے؟ کراہتِ تنزیہی ہے، مستحب چیز کو چھوڑا ہے اور مستحب کو چھوڑنا ناپسندیدہ ہے بھئی، یہ کوئی حرام کے قریب تو نہیں ہے بھئی، بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ تو کہتے ہیں: ”وَمَعْنَى الْكَرَاهِيَةِ هَاهُنَا تَرْكُ الْمُسْتَحَبِّ“ اور یہاں پر مکروہ ہونے کا جو معنی ہے وہ مستحب کو چھوڑنا ہے، ”وَانْتِفَاءُ الضَّمَانِ؛ لِأَنَّ الْكُفْرَ مُبِيحٌ لِلْقَتْلِ“ اور ضمان کا منتفی ہونا، بھئی متن کے اندر آیا تھا ”وَلَا شَيْءَ عَلَى الْقَاتِلِ“ کہ قاتل پر کوئی چیز نہیں ہے یعنی اس پر ضمان وغیرہ نہیں آئے گا، قصاص بھی نہیں اور دیت بھی نہیں، تو اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں: ”وَانْتِفَاءُ الضَّمَانِ لِأَنَّ الْكُفْرَ مُبِيحٌ لِلْقَتْلِ“ اور ضمان کا منتفی ہونا اس لیے کیونکہ یہ کفر جو ہے قتل کو مباح کرنے والا ہے، اس کفر کی وجہ سے اس مرتد کا قتل مباح ہو گیا ہے، ”وَالْعَرْضُ بَعْدَ بُلُوغِ الدَّعْوَةِ غَيْرُ وَاجِبٍ“ اور اسلام کا پیش کرنا دعوت کے پہنچ جانے کے بعد غیر واجب ہے، وہ واجب نہیں ہے صرف مستحب ہے بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا اگر قاتل نے امام کی اجازت کے بغیر اس مرتد کو قتل کیا ہے تو پھر امام اس قاتل کو کچھ سزا وغیرہ دے گا کہ اس نے امام کی اجازت کے بغیر ایسا فعل کیوں سر انجام دیا۔ آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْمُرْتَدَّةُ فَلَا تُقْتَلُ“ اور مرتدہ جو ہے تو اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ بھئی مرتد کو تو قتل کیا جاتا ہے لیکن مرتدہ عورت کو قتل نہیں کیا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا الْمُرْتَدَّةُ فَلَا تُقْتَلُ“ اور مرتدہ عورت جو ہے اس کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ البتہ یہ یاد رکھنا اگر کسی نے مرتدہ کو قتل کر دیا تو اس... پر بھی کوئی ضمان وغیرہ نہیں آئے گا۔ تو کہتے ہیں: مرتدہ کو قتل نہیں کیا جائے گا۔ ”وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللّٰهُ: تُقْتَلُ لِمَا رَوَيْنَا“ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: تُقْتَلُ کہ اس مرتدہ کو بھی قتل کیا جائے گا ”لِمَا رَوَيْنَا“ اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی۔ حدیث میں کیا آیا تھا؟ ”مَنْ بَدَّلَ دِيْنَهُ فَاقْتُلُوهُ“ جو اپنے دین کو بدلے تو اس کو قتل کر دو، اور یہ حدیث مطلق ہے، اس میں کوئی مرد اور عورت کا فرق نہیں کیا گیا، تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس عورت کو بھی قتل کیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ رِدَّةَ الرَّجُلِ مُبِيْحَةٌ لِلْقَتْلِ“ اب امام شافعی رحمہ اللہ کی عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ مرتد ہونے والا جو مرد ہے اس کو اس لیے قتل کیا جاتا ہے کہ اس نے ارتداد والا جرم کیا ہے اور یہ بڑا سخت جرم ہے، لہٰذا اس کی سزا بھی بڑی سخت آئے گی اور اس کو قتل کیا جائے گا۔ تو یہی جرم عورت نے بھی کیا ہے، تو اس کے لیے بھی اسی طرح کی سخت سزا آئے گی اور اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔ جیسے ارتداد سخت جرم ہے اور اس کی وجہ سے مرد کو قتل کیا جاتا ہے تو عورت بھی اس میں مرد کی طرح ہی ہے، اس نے بھی یہی جرم کیا ہے اور اس کو بھی یہی سزا ملنی چاہیے۔ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ رِدَّةَ الرَّجُلِ مُبِيْحَةٌ لِلْقَتْلِ“ اور اس لیے کیونکہ آدمی کا مرتد ہونا یہ اس کے قتل کو مباح کر دیتا ہے ”مِنْ حَيْثُ إِنَّهُ جِنَايَةٌ مُغَلَّظَةٌ“ اس حیثیت سے کہ یہ سخت جرم ہے ”فَتُنَاطُ بِهَا عُقُوبَةٌ مُغَلَّظَةٌ“ فَتُنَاطُ بِهَا تو اس پر مدار ہوگا، اس جنایت پر مدار ہوگا ”عُقُوبَةٌ مُغَلَّظَةٌ“ سخت سزا کا۔ جرم سخت ہو تو سزا بھی سخت ہوتی ہے، تو یہ مرتد ہونا سخت جرم ہے ”فَتُنَاطُ بِهَا عُقُوبَةٌ مُغَلَّظَةٌ“ تو اس جرم پر مدار ہوگا سخت سزا کا کہ اس کو قتل کیا جائے گا۔ ”وَرِدَّةُ الْمَرْأَةِ تُشَارِكُهَا فِيهَا“ اور عورت کا مرتد ہونا اس کی مشارکت ہے مرد کے مرتد ہونے کے ساتھ فِیْھَا اس جرم کے اندر۔ عورت جب مرتد ہوئی ہے تو عورت کی بھی مشارکت آ گئی مرد کے ساتھ، جیسے مرد مرتد ہوا تھا عورت بھی کیا ہوئی ہے؟ مرتد ہوئی ہے، اور جیسے مرد کا مرتد ہونا سخت جرم تھا عورت کا مرتد ہونا بھی سخت جرم ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”وَرِدَّةُ الْمَرْأَةِ تُشَارِكُهَا فِيهَا“ اور عورت کا مرتد ہونا اس کی مشارکت ہے اس مرد کے ارتداد کے ساتھ سخت جرم ہونے کے اندر ”فَتُشَارِكُهَا فِي مُوجَبِهَا“ تو عورت کا ارتداد جو ہے اس کی بھی مشارکت ہوگی مرد کے ارتداد کے ساتھ فِيْ مُوْجَبِھَا اس کے حکم کے اندر۔ عورت کے ارتداد کی بھی مشارکت ہے کس کے ساتھ؟ مرد کے ارتداد کے ساتھ، تو حکم میں بھی مشارکت ہوگی بھئی۔ ”فَتُشَارِكُهَا فِي مُوجَبِهَا“ تو عورت کے ارتداد کی مشارکت ہوگی مرد کے ارتداد کے ساتھ فِيْ مُوْجَبِھَا اس ارتداد کے حکم میں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ آسان لفظوں میں یوں کہو کہ اس سخت جرم میں عورت کی مشارکت ہے مرد کے ساتھ، تو اس جرم کی سزا میں بھی عورت کی مشارکت ہوگی مرد کے ساتھ۔ یعنی جو سزا مرد کو دی جائے گی وہی سزا عورت کو بھی دی جائے گی۔ مرد کو ارتداد میں قتل کیا جاتا ہے تو عورت کو بھی ارتداد میں قتل کیا جائے گا۔ یا دوسرے لفظوں میں یوں کہیں کہ جس علت کی وجہ سے مرد کو قتل کیا جاتا ہے وہی علت عورت میں بھی موجود ہے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَنَا“ اب ہماری دلیل آ گئی۔ ”وَلَنَا“ ہماری دلیل یہ ہے ”أَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ نَهَى عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ“ ہماری دلیل یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے، لہٰذا مرتدہ کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ تَأْخِيرُ الْأَجْزِيَةِ إِلَى دَارِ الْآخِرَةِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ عقلی دلیل ذکر فرما رہے ہیں احناف کی بھئی۔ مسئلہ چل رہا ہے کہ مرتدہ کو قتل کیا جائے گا یا نہیں؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عورت مرتد ہو جائے تو اس کو بھی قتل کیا جائے گا، جبکہ عند الاحناف مرتد ہونے والی اگر عورت ہے تو اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ ایک تو نقلی دلیل ذکر کر دی صاحبِ ہدایہ نے کہ حضور علیہ السلام نے عورتوں کے قتل سے منع فرمایا ہے۔ اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ تَأْخِيرُ الْأَجْزِيَةِ إِلَى دَارِ الْآخِرَةِ“ بھئی یاد رکھو عند الاحناف اصل یہ ہے کہ دنیا میں سزائیں دینی ہی نہیں چاہییں، سزاؤں کا محل آخرت ہے، دنیا تو دارِ ابتلاء ہے، آزمائش کی جگہ ہے۔ اللہ نے یہاں انسان کو بھیجا ہے بطورِ آزمائش کے کہ کون اس کے احکام پر چلتا ہے اور کون اس کے احکام پر نہیں چلتا، تو لہٰذا سزائیں جو ہیں وہ دنیا میں نہیں دینی چاہییں بلکہ ان کا محل کہاں ہے؟ ان کا محل آخرت ہے۔ آخرت میں اللہ سب کو ان کے عمل کے مطابق بدلہ دیں گے اور سزائیں دیں گے بھئی۔ تو لہٰذا سزاؤں کا محل آخرت ہے، دنیا میں اگر ہم سزائیں دیں گے تو اس آزمائش کے اندر خلل آ جائے گا، اس آزمائش میں خلل آ جائے گا۔ دنیا کے اندر تو ہر شخص کی آزمائش ہو رہی ہے، لہٰذا اس کو اجازت ہونی چاہیے وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے اسے کرنے دینا چاہیے تاکہ پھر اسی کے مطابق اللہ اس کو بدلہ یا سزا دیں بھئی۔ لیکن شریعت نے دنیا میں بھی سزاؤں کا حکم دے دیا بعض مصلحتوں کی وجہ سے۔ بعض مصلحتوں کی وجہ سے شریعت جو ہے اس اصل سے عدول کرتے ہوئے شریعت نے دنیا میں ہی سزاؤں کا حکم دے دیا۔ جیسے شریعت نے قصاص واجب کیا ہے تاکہ لوگوں کی جانوں کی حفاظت ہو سکے، اسی طرح شریعت نے حدِ قذف کو واجب کیا ہے، دنیا کے اندر ہی حد جاری کی جائے گی، وہ لوگوں کی عزتوں کی حفاظت کے لیے کہ کوئی شخص کسی پر زنا کا الزام نہ لگا سکے، اور اسی طرح شریعت نے شراب پینے کی حد مقرر فرمائی ہے دنیا کے اندر ہی تاکہ لوگوں کی عقلوں کی حفاظت ہو سکے، اور اسی طرح شریعت نے زنا کی حد جاری فرمائی ہے تاکہ لوگوں کے نسبوں کی حفاظت ہو سکے، اور اسی طرح شریعت نے چوری کی حد جاری کرنے کا حکم دیا ہے تاکہ لوگوں کے مالوں کی حفاظت ہو سکے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو سزاؤں کے اندر اصل یہ ہے کہ وہ آخرت میں ملنی چاہییں بھئی، آخرت سزاؤں کا محل ہے، لیکن دنیا کے اندر بھی شریعت نے سزاؤں کو مشروع کر دیا بعض مصلحتوں اور فائدوں کی وجہ سے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ تَأْخِيرُ الْأَجْزِيَةِ إِلَى دَارِ الْآخِرَةِ“ اور اس لیے کیونکہ اصل جو ہے وہ یہ ہے کہ سزاؤں کو مؤخر کیا جائے دارِ آخرت تک۔ ترجمہ سمجھ میں آ رہا ہے؟ کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْأَصْلَ“ کیونکہ اصل یہ ہے ”تَأْخِيرُ الْأَجْزِيَةِ“ کہ جزاؤں کو مؤخر کیا جائے ”إِلَى دَارِ الْآخِرَةِ“ دارِ آخرت تک، ”إِذْ تَعْجِيلُهَا يُخِلُّ بِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ“ اس لیے کیونکہ جلدی سزائیں دینا یہ ابتلاء کے معنیٰ کے اندر خلل ڈال دے گا۔ اگر ہم دنیا میں ہی سزائیں دیں گے تو اس کی وجہ سے تو آزمائش کے اندر خلل آ جائے گا، حالانکہ یہ دنیا دارِ آزمائش ہے، لہٰذا ہر شخص کو اجازت ہونی چاہیے وہ جو کچھ کرنا چاہتا ہے کر سکے، آخرت میں پھر اسی کے مطابق اللہ بدلہ یا سزا دیں گے۔ تو کہتے ہیں: ”إِذْ تَعْجِيلُهَا“ اس لیے کیونکہ سزاؤں کا جلدی دینا ”يُخِلُّ بِمَعْنَى الِابْتِلَاءِ“ یہ آزمائش کے معنیٰ میں خلل ڈالتا ہے ”وَإِنَّمَا عُدِلَ عَنْهُ دَفْعًا لِشَرٍّ نَاجِزٍ“ ”وَإِنَّمَا عُدِلَ عَنْهُ“ اور اس سزاؤں کو مؤخر کرنے سے عدول کیا جاتا ہے ”دَفْعًا لِشَرٍّ نَاجِزٍ“ موجود شر کو دور کرنے کے لیے۔ ناجز کا معنیٰ ہے موجود اور حاضر۔ اگر اصل تو یہی ہے کہ سزائیں آخرت میں ملنی چاہییں، لیکن دنیا میں بھی شریعت نے سزاؤں کا حکم دیا ہے اس شر کو دور کرنے کے لیے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا عُدِلَ عَنْهُ“ اور سزاؤں کو مؤخر کرنے سے عدول کیا گیا ”دَفْعًا لِشَرٍّ نَاجِزٍ“ موجود شر کو دور کرنے کے لیے ”وَهُوَ الْحِرَابُ“ اور وہ جنگ ہے۔ اور وہ جنگ ہے، یعنی کوئی شخص مرتد ہوتا ہے تو دنیا میں ہی سزا دی جاتی ہے اور کس لیے؟ اس کے شر کو دور کرنے کے لیے، اور اس کا شر کیا ہے؟ جنگ ہے، کیونکہ جب کوئی آدمی مرتد ہوا تو وہ حربی بن گیا، وہ مسلمانوں سے جنگ کرنے والا ہو گیا تو اس شر کو دور کرنا ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَهُوَ الْحِرَابُ“ اور وہ شر جو ہے وہ جنگ ہے ”وَلَا يَتَوَجَّهُ ذٰلِكَ مِنَ النِّسَاءِ“ اور یہ جنگ جو ہے عورتوں کی طرف سے تو متوجہ نہیں ہوتی۔ اگر کوئی مرد مرتد ہوگا وہ تو حربی بن گیا، اس کی طرف سے تو جنگ ہے مسلمانوں کے ساتھ، لیکن اگر کوئی عورت جو ہے وہ مرتدہ ہوئی ہے تو اس کی طرف سے تو جنگ نہیں ہو سکتی بھئی۔ وجہ یہ کہ عورت کا جو ڈھانچہ ہے، عورت کے جسم کی جو ساخت ہے اس میں جنگ کی صلاحیت ہی نہیں ہے، عورت کو بدنی اعتبار سے اللہ نے بڑا کمزور پیدا کیا ہے بھئی، اس میں جنگ کی صلاحیت ہی نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَتَوَجَّهُ ذٰلِكَ مِنَ النِّسَاءِ“ اور یہ جنگ جو ہے یہ عورتوں کی طرف سے تو متوجہ نہیں ہوتی ”لِعَدَمِ صَلَاحِيَةِ الْبِنْيَةِ“ بنیہ بھئی، بنیہ ڈھانچے اور جسم کی ساخت اور بناوٹ کو کہتے ہیں، ”لِعَدَمِ صَلَاحِيَةِ الْبِنْيَةِ“ عورت کے جسم کی ساخت میں صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے اس کی طرف سے جنگ ہماری طرف متوجہ نہیں ہے ”بِخِلَافِ الرِّجَالِ“ بخلاف مردوں کے کہ ان کی طرف سے جنگ ہماری طرف متوجہ ہو سکتی ہے کیونکہ ان کے جسم کی ساخت جنگ کی صلاحیت رکھتی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الرِّجَالِ“ بخلاف مردوں کے ”فَصَارَتِ الْمُرْتَدَّةُ كَالْأَصْلِيَّةِ“ ”فَصَارَتِ الْمُرْتَدَّةُ“ تو مرتدہ عورت ہو گئی ”كَالْأَصْلِيَّةِ“ أَيْ كَالْكَافِرَةِ الْأَصْلِيَّةِ کافرۂ اصلیہ کی طرح۔ بھئی یہ مرتدہ ہے، یہ تو پہلے مسلمان تھی اب اس نے کفر اختیار کر لیا ہے، اور ایک کافرۂ اصلیہ ہے جو شروع سے ہی کافرہ ہے، وہ عورت جو شروع سے ہی کافرہ ہے۔ تو یہ مرتدہ کافرۂ اصلیہ کی طرح ہو گئی اور کافرۂ اصلیہ تو حربیہ ہی کیوں نہ ہو پھر بھی اس کو قتل نہیں کیا جاتا، تو لہٰذا اس مرتدہ کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا بھئی۔ مرتدہ کس کی طرح ہو گئی؟ مرتدہ وہ عورت جس نے اسلام کو چھوڑا ہے، وہ کس کی طرح ہو گئی؟ کافرۂ اصلیہ کی طرح ہو گئی اور کافرۂ اصلیہ کو تو قتل نہیں کیا جاتا چاہے وہ حربیہ ہی کیوں نہ ہو بھئی، تو یہ مرتدہ بھی جب اس کی طرح ہوئی تو اس کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَتِ الْمُرْتَدَّةُ كَالْأَصْلِيَّةِ“ تو یہ مرتدہ بھی جو ہے کافرۂ اصلیہ کی طرح ہو گئی تو اس کو بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔ ”قَالَ: وَلٰكِنْ تُحْبَسُ حَتَّى تُسْلِمَ“ قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلٰكِنْ تُحْبَسُ“ لیکن اس مرتدہ کو قید کیا جائے گا ”حَتَّى تُسْلِمَ“ یہاں تک کہ یہ مسلمان ہو جائے ”لِأَنَّهَا امْتَنَعَتْ عَنْ إِيفَاءِ حَقِّ اللّٰهِ تَعَالَى بَعْدَ الْإِقْرَارِ“ ”لِأَنَّهَا امْتَنَعَتْ“ اس لیے کیونکہ یہ عورت رک گئی ہے ”عَنْ إِيفَاءِ حَقِّ اللّٰهِ تَعَالَى“ اللہ کا حق ادا کرنے سے ”بَعْدَ الْإِقْرَارِ“ اقرار کرنے کے بعد۔ ایک مرتبہ اس نے اللہ کے حق کا اقرار کر لیا کیونکہ یہ مسلمان تھی، یہ کیا تھی؟ مسلمان تھی تو اس نے اللہ کے حق کا اقرار کر لیا اور اب یہ اس حق کی ادائیگی سے انکار کر رہی ہے تو لہٰذا اس کو مجبور کیا جائے گا حق کی ادائیگی پر کہ دوبارہ مسلمان ہو جاؤ۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهَا امْتَنَعَتْ عَنْ إِيفَاءِ حَقِّ اللّٰهِ تَعَالَى بَعْدَ الْإِقْرَارِ“ اس لیے کیونکہ یہ رک گئی ہے اللہ کے حق کی ادائیگی سے اقرار کر لینے کے بعد ”فَتُجْبَرُ عَلَى إِيفَائِهِ“ تو اس کو اس حق کی ادائیگی پر مجبور کیا جائے گا ”بِالْحَبْسِ“ قید کے ذریعے ”كَمَا فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ“ جیسے کہ حقوق العباد میں ہوتا ہے۔ بھئی حقوق العباد کے اندر بھی اگر کوئی شخص کسی کے حق کا اقرار کر لے اور پھر وہ حق ادا نہیں کرتا تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے حق کے ادا کرنے پر۔ حقوق العباد میں بھی اس کو مجبور کیا جاتا ہے، مثلاً ایک شخص نے دوسرے کا حق دینا ہے، اس کے ذمے دین ہے تو وہ اقرار کر لیتا ہے کہ میرے ذمے اس شخص کا دین باقی ہے اور پھر وہ ادا نہیں کرتا تو اس کو مجبور کیا جائے گا اور جبراً اس سے یہ حق وصول کیا جائے گا۔ اسی طرح یہ مرتدہ عورت جو ہے یہ بھی پہلے مسلمان تھی تو یہ اللہ کے حق کا اقرار کر چکی ہے اور پھر جب یہ مرتدہ ہو گئی تو یہ اللہ کے حق کی ادائیگی سے رک گئی، تو اقرار کے بعد جب کوئی شخص حق کی ادائیگی نہ کرے تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے، اس پر جبر کیا جاتا ہے، اس لیے اس مرتدہ عورت پر بھی جبر کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فِي حُقُوقِ الْعِبَادِ“ جیسے کہ حقوق العباد کے اندر ہوتا ہے۔ ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ بھئی پیچھے قدوری کا متن گزرا تھا کہ ”وَلٰكِنْ تُحْبَسُ حَتَّى تُسْلِمَ“ اس عورت کو قید میں ڈالا جائے گا یہاں تک کہ یہ مسلمان ہو جائے۔ اب جامع صغیر کے اندر کچھ اور فائدہ بھی تھا عبارت کے اندر تو صاحبِ ہدایہ اسے بھی ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَفِي الْجَامِعِ الصَّغِيرِ“ اور جامع صغیر کے اندر ہے ”وَتُجْبَرُ الْمَرْأَةُ عَلَى الْإِسْلَامِ حُرَّةً كَانَتْ أَوْ أَمَةً“ اور عورت کو اسلام پر مجبور کیا جائے گا، آزاد ہو وہ عورت یا باندی ہو ”وَالْأَمَةُ يُجْبِرُهَا مَوْلَاهَا“ اور باندی جو ہے يُجْبِرُھَا مَوْلَاھَا اس کا آقا اسے مجبور کرے گا۔ ”أَمَّا الْجَبْرُ فَلِمَا ذَكَرْنَا“ تو مجبور کرنا جو ہے اس وجہ سے ہے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ عورت مرتد ہو جائے تو اس کو اسلام پر مجبور کریں گے چاہے آزاد ہو یا باندی ہو، تو کیوں مجبور کیا جائے گا؟ کہتے ہیں: وہ جو وجہ ہم نے پیچھے ذکر کر دی کہ یہ عورت اللہ کا حق ادا کرنے سے رک گئی ہے تو اس کو مجبور کیا جائے گا جیسے حقوق العباد کے اندر کوئی حق ادا کرنے سے رک جائے تو اس کو مجبور کیا جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا الْجَبْرُ فَلِمَا ذَكَرْنَا“ تو مجبور کرنا جو ہے اس وجہ سے ہے جو ہم نے ذکر کر دیا ”وَمِنَ الْمَوْلَى“ اور آقا کی جانب سے، یعنی باندی کو آقا مجبور کرے گا، تو یہ آقا کے مجبور کرنے کی قید کیوں لگائی؟ تو اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اس کے اندر دونوں حق جمع ہو جائیں گے: اللہ کا حق بھی اور آقا کا حق بھی۔ وہ آقا مجبور کر رہا ہے کس کے لیے؟ اللہ کے حق کے لیے، اور نیز وہ باندی آقا ہی کے پاس ہے تو آقا اس سے خدمت بھی لے سکتا ہے، تو آقا کے حق کی بھی رعایت ہو گئی کہ وہ اس سے خدمت بھی لے رہا ہے اور آقا اس کو مجبور بھی کر رہا ہے اللہ کے حق کے لیے تو اللہ کے حق کی بھی رعایت ہو گئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو کہتے ہیں: ”وَمِنَ الْمَوْلَى“ اور یہ مجبور کرنا آقا کی طرف سے ہوگا باندی کے لیے ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَقَّيْنِ“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر دونوں حقوں کو جمع کرنا ہے: اللہ کا حق بھی اور آقا کا حق بھی۔ آقا کا کیا حق ہے؟ کہ آقا خدمت لیتا رہے گا، اور اللہ کا کیا حق ہے؟ کہ اس کی وجہ سے یہ اس کو مجبور کرتا رہے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا فِيهِ مِنَ الْجَمْعِ بَيْنَ الْحَقَّيْنِ“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر دونوں حقوں کا جمع کرنا ہے۔ ”وَيُرْوَى“ اور یہ بھی روایت کیا گیا ہے ”تُضْرَبُ فِي كُلِّ أَيَّامٍ“ کہ اس باندی کی پٹائی کی جائے گی ہر روز ”مُبَالَغَةً فِي الْحَمْلِ عَلَى الْإِسْلَامِ“ اسلام پر ابھارنے میں مبالغہ کرتے ہوئے۔ تو کہتے ہیں: ”تُضْرَبُ فِي كُلِّ أَيَّامٍ“ کہ باندی جو ہے اس کی تمام دنوں میں پٹائی کی جائے گی ”مُبَالَغَةً فِي الْحَمْلِ عَلَى الْإِسْلَامِ“ مبالغہ کرتے ہوئے اسلام پر ابھارنے میں۔ آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَيَزُولُ مِلْكُ الْمُرْتَدِّ عَنْ أَمْوَالِهِ بِرِدَّتِهِ زَوَالًا مُرَاعًى فَإِنْ أَسْلَمَ عَادَتْ إِلَى حَالِهَا“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ امام صاحب اور صاحبین کا اختلاف ہے کہ کوئی شخص اگر مرتد ہوتا ہے تو اس کی مملوکہ چیزوں پر سے اس کی ملکیت ختم ہوتی ہے یا نہیں؟ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس مرتد کی ملکیت اپنی تمام مملوکہ چیزوں سے ختم ہو گئی، لیکن یہ ملکیت ختم ہوئی ہے موقوف طریقے پر، یہ ملکیت موقوف طریقے پر ختم ہوئی ہے، یعنی اگر یہ پھر مسلمان ہو گیا تو اس کی ملکیت واپس لوٹ آئے گی۔ جبکہ صاحبین فرماتے ہیں: نہیں، یہ جو شخص مرتد ہوا ہے اس کی ملکیت اپنی چیزوں پر ابھی بھی موجود ہے، مرتد ہونے سے ملکیت زائل نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَيَزُولُ مِلْكُ الْمُرْتَدِّ عَنْ أَمْوَالِهِ بِرِدَّتِهِ زَوَالًا مُرَاعًى“ اور مرتد کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اس کے مالوں سے اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے زَوَالًا مُرَاعًى اور یہ زوال جو ہے موقوف ہوگا۔ یہ ملکیت کا ختم ہونا موقوف طریقے پر ہوگا۔ یاد رکھو رَاعَى يُرَاعِي مُرَاعَاةً کا معنیٰ ہوتا ہے حفاظت کرنا، اس کا معنیٰ ہے حفاظت کرنا، تو زَوَالًا مُرَاعًى ملکیت کا ایسا زائل ہونا مُرَاعًى جو محفوظ ہو، جو محفوظ ہو یعنی موقوف ہو۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَزُولُ مِلْكُ الْمُرْتَدِّ عَنْ أَمْوَالِهِ بِرِدَّتِهِ زَوَالًا مُرَاعًى“ کہ مرتد جو ہے اس کی ملکیت اپنے مالوں سے موقوف طور پر ختم ہو جائے گی اس کے مرتد ہونے کی وجہ سے ”فَإِنْ أَسْلَمَ عَادَتْ إِلَى حَالِهَا“ اگر یہ مسلمان ہو گیا تو عَادَتْ إِلَى حَالِھَا تو اس کے اموال اپنی حالت کی طرف لوٹ آئیں گے، یعنی مالوں پر پھر اس کو ملکیت حاصل ہو جائے گی۔ ”قَالُوا: هٰذَا عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ فقہاء فرماتے ہیں: یہ امام صاحب کے نزدیک ہے ”وَعِنْدَهُمَا لَا يَزُولُ مِلْكُهُ“ اور صاحبین کے نزدیک مرتد کی ملکیت ختم نہیں ہوتی ”لِأَنَّهُ مُكَلَّفٌ مُحْتَاجٌ“ اس لیے کیونکہ مرتد جو ہے وہ مکلف ہے، محتاج ہے۔ مرتد جو ہے مکلف ہے، محتاج ہے۔ بھئی آپ پیچھے پڑھ چکے ہیں بھئی کہ انسان کو اللہ نے مکلف بنایا ہے، اس کے لیے شرعی احکام نازل فرمائے ہیں، اور ان شرعی احکام پر وہ تب ہی عمل کر سکتا ہے جب اس کو معصوم اور محفوظ قرار دیا جائے، اس کے قتل کو حرام قرار دیا جائے، اس لیے کیونکہ وہ زندہ رہے گا تو پھر ہی احکام پر عمل کر سکے گا، اور اگر وہ معصوم اور محفوظ ہی نہیں اس کا قتل ہی جائز ہے تو پھر تو وہ زندہ ہی نہیں رہے گا، جب زندہ نہیں رہے گا تو احکام پر بھی عمل نہیں کر سکے گا۔ تو معلوم ہوا انسان مکلف ہے اور مکلف ہونے کی وجہ سے وہ معصوم اور محفوظ ہے، اور نیز جب یہ مکلف ہے تو یہ محتاج ہوا مال سے نفع اٹھانے کا، اس لیے کیونکہ یہ مال سے نفع اٹھائے گا تب ہی یہ زندہ رہ سکے گا بھئی، کیونکہ وہ چیزوں سے فائدہ اٹھائے گا تو دنیا کے اندر زندگی بسر کر سکے گا اور شرعی احکام پر عمل کر سکے گا۔ تو یہ مال سے نفع اٹھانے کا محتاج ہوا، اور مال سے یہ نفع تب ہی اٹھا سکتا ہے جب مال کو اس کا مملوک قرار دے دیا جائے، مال کو مملوک اور محفوظ قرار دے دیا جائے، تو یہ کسی بھی طریقے سے کوئی چیز حاصل کرتا ہے تو اس چیز کو اس کا مملوک قرار دینا پڑے گا کیونکہ تب ہی یہ اس چیز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ اگر یہ کسی چیز کو حاصل کرتا ہے چاہے بیع کے ذریعے حاصل کرے یا جنگل سے کوئی لکڑیاں لے کر آتا ہے یا جنگل سے شکار پکڑ کر لاتا ہے، اگر یہ کہا جائے کہ یہ شخص ابھی بھی اس کا مالک نہیں ہے پھر تو یہ اس سے نفع نہیں اٹھا سکتا، اس لیے کیونکہ دوسروں کے لیے اس چیز کو لے جانا جائز ہوگا، جب دوسروں کے لیے لے جانا جائز ہوگا تو یہ تو اس چیز سے فائدہ نہیں اٹھا سکے گا۔ تو انسان مکلف ہے اور مکلف ہے تو یہ محتاج بھی ہے مال سے نفع اٹھانے کا، اور جب یہ محتاج ہے مال سے نفع اٹھانے کا تو اس کا مال جو ہے وہ اس کا مملوک ہوگا یعنی معصوم اور محفوظ ہوگا۔ تو مکلف کی جان بھی معصوم اور اس کا مال بھی معصوم اور محفوظ ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبین کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں کہ مرتد جو ہے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوتی ”لِأَنَّهُ مُكَلَّفٌ مُحْتَاجٌ“ اس لیے کیونکہ وہ مکلف ہے اور محتاج ہے، اور جو بھی مکلف اور محتاج ہوتا ہے اس کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوتی۔ یہاں ایک البتہ اشکال آپ کے ذہنوں میں آئے گا کہ یہ شخص تو مرتد ہو چکا ہے تو یہ تو اب معصوم اور محفوظ رہا ہی نہیں، یہ تو مباح الدم ہو چکا ہے۔ کہتے ہیں بھئی: بے شک یہ مباح الدم ہو گیا لیکن مکلف تو ابھی بھی ہے، ابھی بھی شرعی حکم اس کی طرف متوجہ ہے کہ اسلام کے اندر واپس آ جاؤ، اسلام کے اندر واپس آ جاؤ، اور نیز اس کو قتل بھی مکلف ہونے کی وجہ سے ہی کیا جاتا ہے کہ یہ مکلف ہے پھر بھی اسلام کو چھوڑ رہا ہے لہٰذا اس کو قتل کر دیا جائے گا۔ اگر یہ مکلف ہی نہ ہوتا تو پھر اس کے قتل کے حکم دینے کا کیا مطلب تھا؟ توجہ ہے؟ تو لہٰذا معلوم ہوا مرتد مکلف بھی ہے اور مال سے نفع اٹھانے کا محتاج بھی ہے، لہٰذا یہ مال اس کی ملکیت ہی میں رہے گا، مرتد ہونے سے اس کی ملکیت ختم نہیں ہوگی، دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبین فرماتے ہیں کہ مرتد کی ملکیت ختم نہیں ہوتی ”لِأَنَّهُ مُكَلَّفٌ مُحْتَاجٌ“ کیونکہ وہ مکلف ہے، محتاج ہے ”فَإِلَى أَنْ يُقْتَلَ بَقِيَ مِلْكُهُ“ تو یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا جائے اس کی ملکیت باقی رہتی ہے۔ جب تک اس کو قتل نہیں کر دیا جاتا تب تک اس کی ملکیت اس مرتد کی ملکیت باقی رہتی ہے۔ یہ معنی ہے: ”فَإِلَى أَنْ يُقْتَلَ بَقِيَ مِلْكُهُ“ تو یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا جائے اس وقت تک اس کی ملکیت باقی رہتی ہے ”كَالْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِالرَّجْمِ وَالْقِصَاصِ“ جیسے وہ شخص کہ جس کے بارے میں فیصلہ کر دیا گیا ہو رجم اور قصاص کا۔ بھئی ایک آدمی ہے اور اس نے زنا کیا اور وہ محصن ہے، شادی شدہ ہے تو قاضی نے اس کے رجم کرنے کا فیصلہ کر دیا، یا ایک شخص ہے اس نے جان بوجھ کر کسی دوسرے شخص کو آلۂ قتل سے قتل کیا ہے تو قاضی نے قصاص کا فیصلہ کر دیا۔ اب دیکھو یہ شخص جس کے رجم کا یا قصاص کا فیصلہ کیا گیا ہے ان کو بھی قتل کیا جائے گا لیکن ان کی اپنے مال سے ملکیت ختم نہیں ہوتی جب تک ان کو قتل نہ کر دیا جائے۔ تو مرتد بھی اگرچہ قتل کا مستحق ہو چکا ہے لیکن اس کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوگی جب تک اسے قتل نہ کر دیا جائے، بلکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ وہ شخص جس کو رجم اور قصاص کی وجہ سے قتل کیا جائے گا اس کا تو قتل ہونا یقینی ہے اور مرتد وہ تو مسلمان بھی ہو سکتا ہے، اس کا تو قتل ہونا یقینی نہیں، تو وہ لوگ جن کا قتل ہونا یقینی ہے جب ان کی ملکیت اپنے مال سے ختم نہیں ہوتی جب تک آپ ان کو قتل نہیں کر دیتے تو یہ مرتد کی ملکیت بھی ختم نہیں ہوگی جب تک اس کو قتل نہیں کر دیا جاتا۔ دلیل سمجھ میں آ گئی؟ تو وہ فرماتے ہیں: ”كَالْمَحْكُومِ عَلَيْهِ بِالرَّجْمِ وَالْقِصَاصِ“ جیسے کہ وہ شخص جس کے خلاف رجم اور قصاص کا فیصلہ کر دیا جاتا ہے۔ یہاں تک صاحبین کی دلیل تھی۔ ”وَلَهُ“ اب امام صاحب کی دلیل آ گئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ جو مرتد ہے یہ حربی ہے، یہ حربی ہے بھئی اور یہ مغلوب ہے ہمارے قبضے میں ہے۔ جیسے حربی جو ہے ہمارے قبضے میں آ جاتا ہے تو اس کا قتل جائز ہو جاتا ہے اور نیز اس کی اپنے مال پر سے ملکیت ختم ہو جاتی ہے کیونکہ یہ اب ہمارے امام کے اختیار میں ہے چاہے تو اس کو قتل کرے اور چاہے تو اس کو غلام بنا لے، تو جب حربی جو ہے وہ مغلوب ہو جاتا ہے اور ہمارے قابو میں آ جاتا ہے تو جیسے اس کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے اسی طرح اس مرتد کی ملکیت بھی اپنے مال پر سے ختم ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ حَرْبِيٌّ مَقْهُورٌ تَحْتَ أَيْدِينَا حَتَّى يُقْتَلُ“ کہ یہ جو مرتد ہے یہ ایسا حربی ہے مَقْھُوْرٌ تَحْتَ اَیْدِیْنَا جو مغلوب ہے ہمارے قبضے کے تحت ”حَتَّى يُقْتَلُ“ یہاں تک کہ اس کو قتل کیا جاتا ہے۔ یاد رکھو یہاں پر بھی یہ ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا، ”يُقْتَلُ“ پر رفع پڑھیں گے۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ ”حَتَّى“ کے نصب دینے کے لیے دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ ”حَتَّى“ کا مابعد وہ مستقبل ہونا چاہیے ”حَتَّى“ کے ماقبل کی طرف نسبت کرتے ہوئے، اور نیز وہ ”حَتَّى“ غایہ یا سببیہ کا فائدہ دے بھئی، تو یہاں شرائط پوری نہیں لہٰذا یہ ”حَتَّى“ نصب نہیں دے گا۔ تو ”وَلَهُ أَنَّهُ حَرْبِيٌّ مَقْهُورٌ تَحْتَ أَيْدِينَا حَتَّى يُقْتَلُ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ یہ جو مرتد ہے یہ ایسا حربی ہے جو ہمارے قبضے کے تحت مغلوب ہے یہاں تک کہ اس کو قتل کیا جائے گا ”وَلَا قَتْلَ إِلَّا بِالْحِرَابِ“ اور قتل تو نہیں کیا جاتا مگر جنگ کی وجہ سے ہی۔ بھئی نفسِ کفر کی وجہ سے تو کسی کو قتل نہیں کرتے، صرف کفر کی وجہ سے تو کسی کو قتل نہیں کرتے، دیکھو ذمی دار الاسلام میں رہتے ہیں لیکن ان کو قتل نہیں کیا جاتا، معلوم ہوا نفسِ کفر قتل کا سبب نہیں ہے بلکہ قتل کا سبب حربی ہونا ہے، مسلمانوں کے ساتھ جنگ کرنے والا ہے تو وہ قتل کا مستحق ہے بھئی۔ تو امام صاحب فرماتے ہیں کہ اس کو قتل کیا جاتا ہے ”وَلَا قَتْلَ إِلَّا بِالْحِرَابِ“ اور قتل تو نہیں کیا جاتا مگر جنگ کی وجہ سے ہی، معلوم ہوا یہ حربی ہے اور یہ ایسا حربی ہے جو ہمارے قبضے میں ہے مغلوب ہے تو اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی جیسے حربی کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے۔ ”فَهٰذَا يُوجِبُ زَوَالَ مِلْكِهِ وَمَالِكِيَّتِهِ“ ”فَهٰذَا“ ھٰذَا کے ذریعے اشارہ ہے وہ جو پیچھے ذکر ہوا تھا کہ یہ جو مرتد ہے یہ ایسا حربی ہے جو ہمارے قبضے میں ہے مغلوب ہے، جو ہمارے قبضے میں مغلوب ہے یہ حربی تو اس کی طرف ھٰذَا کے ذریعے اشارہ ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَهٰذَا“ تو یہ حربی کا ہمارے قبضے میں مغلوب ہونا ”يُوجِبُ زَوَالَ مِلْكِهِ وَمَالِكِيَّتِهِ“ یہ ثابت کرتا ہے اس کی ملکیت اور مالکیت کے ختم ہونے کو، اس کی وجہ سے اس کی ملکیت اور مالکیت ختم ہو جاتی ہے، اور یاد رکھنا یہ جو آیا ”مِلْكِهِ وَمَالِكِيَّتِهِ“ یہ عطفِ تفسیری ہے بھئی، یہ جو ”وَمَالِكِيَّتِهِ“ آ رہا ہے اس کے ذریعے اسی ”مِلْكِهِ“ کا معنیٰ بیان فرما رہے ہیں، اس کی ملکیت ختم ہو جاتی ہے یعنی اس کا مالک ہونا ختم ہو جاتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”فَهٰذَا يُوجِبُ زَوَالَ مِلْكِهِ وَمَالِكِيَّتِهِ“ تو یہ حربی کا ہمارے قبضے کے تحت مغلوب ہونا یہ اس کی ملکیت اور مالکیت کے ختم ہونے کو ثابت کرتا ہے ”غَيْرَ أَنَّهُ مَدْعُوٌّ إِلَى الْإِسْلَامِ بِالْإِجْبَارِ عَلَيْهِ“ بھئی امام صاحب کی دلیل چل رہی ہے، یہاں تک امام صاحب کی دلیل اس بات پر مشتمل تھی کہ یہ جو مرتد ہے اس کی ملکیت ختم ہو گئی ہے کیونکہ یہ اس حربی کے مثل ہے جو ہمارے قبضے کے اندر ہے بھئی، یہ اس حربی کی طرح ہے جو ہمارے قبضے کے اندر ہے تو اس کی ملکیت ختم ہو چکی ہے۔ اب آگے بتلائیں گے کہ یہ ملکیت ختم تو ہوئی ہے لیکن موقوف طریقے سے ختم ہوئی ہے، یعنی اگر یہ دوبارہ مسلمان ہو جاتا ہے تو پھر اس کی ملکیت واپس لوٹ آئے گی، اب اس کی دلیل ذکر کریں گے کہ یہ جو ملکیت ختم ہوئی ہے یہ موقوف طریقے پر کیوں ختم ہوئی ہے؟ تو اس کی وجہ بیان کریں گے کہ اس نے اسلام کو چھوڑا ہے لہٰذا اس کو مجبور کیا جائے گا کہ یہ دوبارہ اسلام کی طرف لوٹ آئے اور اس کے واپس لوٹنے کی امید بھی ہے کیونکہ اس کو اسلام کی خوبیوں کا علم ہے بھئی، لہٰذا اس کی ملکیت کامل طریقے پر قطعی طور پر ختم نہیں کی جائے گی بلکہ موقوف طریقے پر ختم کی جائے گی اس لیے کیونکہ اس کے واپس لوٹنے کی امید ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”غَيْرَ أَنَّهُ مَدْعُوٌّ إِلَى الْإِسْلَامِ“ علاوہ اس کے کہ اس مرتد کو بلایا جائے گا اسلام کی طرف ”بِالْإِجْبَارِ عَلَيْهِ“ اس پر جبر کرتے ہوئے، اس پر زبردستی کرتے ہوئے ”وَيُرْجَى عَوْدُهُ إِلَيْهِ“ اور امید کی جاتی ہے اس کے اسلام کی طرف لوٹنے کی ”فَتَوَقَّفْنَا فِي أَمْرِهِ“ تو ہم نے توقف کیا اس کے معاملے میں۔ یاد رکھو توقف کا معنیٰ ہے رک جانا، کسی معاملے میں تردد کرنا، ”فَتَوَقَّفْنَا فِي أَمْرِهِ“ تو ہم اس کے معاملے میں رک گئے، ہم نے توقف کر لیا ”فَإِنْ أَسْلَمَ جُعِلَ هٰذَا الْعَارِضُ كَأَنْ لَمْ يَكُنْ“ ”فَإِنْ أَسْلَمَ“ اگر یہ مسلمان ہو گیا ”جُعِلَ هٰذَا الْعَارِضُ“ تو یہ جو ارتداد والا عارض پیش آیا ہے اس کو ایسے ہی کر دیا جائے گا ”كَأَنْ لَمْ يَكُنْ“ جیسے کہ یہ عارض تھا ہی نہیں ”فِي حَقِّ هٰذَا الْحُكْمِ“ اس زوالِ ملکیت کے حکم کے حق میں۔ اگر یہ دوبارہ مسلمان ہو جاتا ہے تو اس کی ملکیت زائل ہونے کے حق میں یوں ہی سمجھا جائے گا گویا اس کی ملکیت زائل ہی نہیں ہوئی بھئی، بات سمجھ میں آ گئی؟ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”فَإِنْ أَسْلَمَ“ اگر یہ مسلمان ہو جاتا ہے ”جُعِلَ هٰذَا الْعَارِضُ“ تو یہ جو مرتد ہونے کا عارض پیش آیا ہے اس کو ایسے ہی کر دیا جائے گا ”كَأَنْ لَمْ يَكُنْ“ گویا کہ یہ عارض تھا ہی نہیں ”فِي حَقِّ هٰذَا الْحُكْمِ“ اس حکم کے حق میں، یعنی یہ جو زوالِ ملکیت کا حکم ہے اس کے حق میں گویا یہ ارتداد تھا ہی نہیں، یہ اسی طرح ان چیزوں کا مالک ہے ”وَصَارَ كَأَنْ لَمْ يَزَلْ مُسْلِمًا“ اور یہ ایسے ہی ہو گیا كَأَنْ لَمْ يَزَلْ مُسْلِمًا جیسے یہ ہمیشہ سے ہی مسلمان تھا، اگر یہ واپس مسلمان ہو جاتا ہے تو یوں سمجھیں گے یہ ہمیشہ سے مسلمان ہی تھا، اس کا ارتداد بھی لا ارتداد ہے، اس کا کوئی اثر نہیں پڑا اس زوالِ ملکیت کے اندر بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَصَارَ كَأَنْ لَمْ يَزَلْ مُسْلِمًا“ اور یہ ایسے ہی ہو گیا جیسے کہ ہمیشہ سے مسلمان تھا ”وَلَمْ يَعْمَلِ السَّبَبُ“ اور اس سبب نے عمل ہی نہیں کیا۔ بھئی ارتداد سبب ہے زوالِ ملکیت کا، ارتداد کی وجہ سے ملکیت ختم ہو جاتی ہے لیکن جب یہ دوبارہ مسلمان ہو گیا تو گویا یہ ہمیشہ سے ہی مسلمان تھا اور ارتداد نے زوالِ ملکیت میں کوئی عمل ہی نہیں کیا، اس کی ملکیت زائل نہیں ہوئی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَمْ يَعْمَلِ السَّبَبُ“ اور اس سبب نے عمل ہی نہیں کیا۔ ”وَإِنْ مَاتَ أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ وَحَكَمَ بِلَحَاقِهِ اسْتَقَرَّ كُفْرُهُ فَيَعْمَلُ السَّبَبُ عَمَلَهُ وَزَالَ مِلْكُهُ“ اور اگر یہ مر گیا یا اس کو ارتداد پر ہی قتل کر دیا گیا یا یہ دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے جانے کا فیصلہ کر دیا، قاضی نے اس کے دار الحرب جا ملنے کا فیصلہ کر دیا ”اسْتَقَرَّ كُفْرُهُ“ تو اس کا کفر ثابت ہو جائے گا ”فَيَعْمَلُ السَّبَبُ عَمَلَهُ“ تو یہ سبب اب اپنا عمل کرے گا ”وَزَالَ مِلْكُهُ“ اور اس کی ملکیت زائل ہو جائے گی۔ بات سمجھ میں آ رہی ہے؟ اگر وہ مرتد مر گیا کفر پر ہی یا اس کو قتل کر دیا گیا یا وہ دار الحرب چلا گیا اور قاضی نے اس کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دیا، اور آپ جانتے ہیں کہ قاضی جب مرتد کے دار الحرب جانے کا فیصلہ کر دے تو یہ بھی اس کے لیے موت کے درجے میں ہے، گویا مرتد پر موت کا حکم لگا دیا گیا کہ وہ مر چکا ہے۔ تو چاہے مرتد ویسے مر جائے چاہے اس کو قتل کر دیا جائے یا قاضی اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دے یعنی اس پر موتِ حکمی آ جائے تو ان صورتوں میں وہ سبب جو تھا وہ عمل کرے گا اور اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ کون سا سبب؟ اس کا کافرِ حربی ہونا، اس کا کافرِ حربی ہونا عمل کرے گا اور اس کی ملکیت اپنے مال پر سے ختم ہو جائے گی کیونکہ اب تو یہ مر چکا ہے حقیقتاً یا حکماً تو اب مال پر سے ملکیت ختم ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ مَاتَ“ اور اگر وہ مرتد جو ہے وہ مر گیا ”أَوْ قُتِلَ عَلَى رِدَّتِهِ“ یا اس کو اس کے ارتداد پر ہی قتل کر دیا گیا ”أَوْ لَحِقَ بِدَارِ الْحَرْبِ“ یا وہ دار الحرب چلا گیا ”وَحَكَمَ بِلَحَاقِهِ“ اور قاضی نے اس کے دار الحرب جا ملنے کا فیصلہ کر دیا ”اسْتَقَرَّ كُفْرُهُ“ تو اس مرتد کا کفر ثابت ہو جائے گا۔ بھئی جب قاضی نے اس کے دار الحرب چلے جانے کا فیصلہ کر دیا تو اب اس کا کفر ثابت ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَحَكَمَ بِلَحَاقِهِ اسْتَقَرَّ كُفْرُهُ“ اور قاضی نے اس کے دار الحرب سے جا ملنے کا فیصلہ کر دیا تو اسْتَقَرَّ كُفْرُہٗ تو اس کا کفر ثابت ہو گیا ”فَيَعْمَلُ السَّبَبُ عَمَلَهُ“ تو اب وہ سبب جو ہے یعنی اس کا کافرِ حربی ہونا تو یہ سبب جو ہے یہ اپنا عمل کرے گا ”وَزَالَ مِلْكُهُ“ اور اس کی ملکیت ختم ہو جائے گی۔ وہ ملکیت جو پہلے موقوف طریقے پر ختم تھی اب قطعی طور پر ختم ہو جائے گی بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی بھئی؟ حل ہو گیا۔ چلیے بس بھئی، هٰذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللّٰهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
160 approved lectures · 142 of 160