Back to Approved List Submit New
✨ Approved Transcription

الهداية جزء ثاني · dars-131

Version 1 · Text format · 📄 Original
👤 Contributor محمد ساجد اکرم
📍 Location پاکپتن, Pakistan
📅 Approved Date 16 Oct 2026
📄 File Type TEXT
Status ★★★★★ Excellent
👁️ Total Views 67
📂 Choose Format:
⭐ ★★★★★ Excellent TEXT
📝

Transcription Content

Download TEXT TEXT
فَصْلٌ: إِذَا أَمَّنَ رَجُلٌ حُرٌّ أَوِ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ كَافِرًا أَوْ جَمَاعَةً أَوْ أَهْلَ حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ صَحَّ أَمَانُهُمْ، وَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قِتَالُهُمْ، وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“. بھئی گزشتہ سبق کے اندر ہم باب کیفیت القتال پڑھ رہے تھے۔ صاحبِ ہدایت قتال کا اور جہاد کا طریقہ بیان فرما رہے تھے۔ صاحبِ ہدایت نے آپ کو بتلایا کہ مسلمان مجاہدین جو ہیں جب کسی علاقے پر حملہ آور ہوں اور کسی شہر کو یا کسی قلعے کو گھیرے میں لے لیں، تو پھر فوراً ہی ان پر حملہ نہیں کریں گے بلکہ وہ پہلے دشمن کو اسلام کی طرف دعوت دیں گے۔ اگر انہوں نے اسلام کو قبول کر لیا تو پھر ان کے ساتھ لڑائی نہیں کی جائے گی۔ اور اگر انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا تو پھر ان کو جزیہ ادا کرنے کی طرف بلایا جائے گا کہ جزیہ ادا کرو۔ اگر انہوں نے جزیہ کو قبول کر لیا تو ان کے بھی وہی حقوق ہوں گے جو مسلمانوں کے حقوق ہیں، یعنی جیسے مملکتِ اسلامیہ کے اندر مسلمان کی جان اور مال محفوظ ہیں اسی طرح ان ذمیوں کا جان اور مال بھی محفوظ ہوگا بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بیان فرمایا کہ اگر دشمن کو اس سے پہلے اسلام کی دعوت نہیں پہنچی، پھر تو امام کے لیے جائز ہی نہیں ہے ان سے لڑائی کرنا جب تک امام ان کو دعوت نہ دے دے بھئی۔ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام جو ہیں لشکر کے جو امیر ہوتے تھے ان کو یہی وصیت فرمایا کرتے تھے کہ کفار کو لا الہ الا اللہ کی شہادت کی طرف دعوت دینا۔ اور نیز اس دعوت کی وجہ سے ان کفار کو بھی پتہ چل جائے گا کہ ہم ان کے ساتھ دین کی وجہ سے لڑنے آئے ہیں، مال وغیرہ چھیننے کے لیے نہیں۔ تو ہو سکتا ہے وہ اس دعوت کو قبول کر لیں اور مسلمان ہو جائیں تو جنگ کی مشقت سے سب لوگ بچ جائیں گے بھئی۔ اور اگر امام نے ان کے ساتھ لڑائی کی بغیر دعوت دیے ہی تو پھر اس صورت میں گو گناہگار ہوگا بھئی، البتہ ضمان وغیرہ نہیں آئے گا۔ اس لیے کیونکہ یہاں پر دشمن کی جانوں اور مالوں کی عصمت نہیں ہے۔ جانوں اور مالوں کی عصمت جو ہے وہ دو چیزوں کی وجہ سے آتی ہے: یا تو دین کی وجہ سے یا دار الاسلام کی وجہ سے۔ جو مسلمان ہیں ان کی جان اور مال محفوظ ہوتی ہے چاہے وہ مملکتِ اسلامیہ میں ہوں چاہے وہ دار الحرب میں ہوں، اور ذمی جو ہیں ان کی بھی جان اور مال محفوظ ہوتی ہے کیونکہ وہ دار الاسلام کے اندر رہتے ہیں۔ تو جان اور مال کی حفاظت کے لیے یا تو ایمان ہونا چاہیے یا دار الاسلام ہونا چاہیے، اور دشمن کے پاس نہ تو ایمان اور اسلام ہے اور نہ وہ دار الاسلام ہے۔ لہٰذا اگر ان سے جنگ کی جائے بغیر دعوت کے تو امام گناہگار تو ہوگا البتہ ضمان وغیرہ نہیں آئے گا کیونکہ ان دشمن کی جانوں اور مالوں کی عصمت نہیں ہے بھئی۔ اور اگر دشمن کو اسلام کی دعوت پہلے سے پہنچ چکی ہے پھر بھی مستحب یہ ہے کہ امام جو ہے ان کو اسلام کی دعوت دے، لیکن یہ واجب نہیں ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو المصطلق پر حملہ فرمایا تھا اور وہ بنو المصطلق والے غفلت میں تھے۔ وجہ یہ کہ ان کو اسلام کی دعوت پہلے سے ہی پہنچ چکی تھی تو حضور علیہ السلام نے دوبارہ ان کو دعوت نہیں دی، معلوم ہوا دوبارہ دعوت دینا واجب نہیں ہے بھئی۔ تو امام جو ہے پہلے دشمنوں کو اسلام کی دعوت دے گا اور اگر وہ انکار کرتے ہیں پھر جزیہ کی طرف بلائے گا، اگر وہ جزیہ قبول کرنے سے بھی انکار کریں تو پھر امام اللہ کی مدد طلب کرتے ہوئے ان مشرکین پر حملہ کر دے گا۔ پھر جنگ کے اندر ہر وہ طریقہ جائز ہے جس کے ذریعے دشمن کی قوت کو ختم کیا جا سکے، ان کی جمعیت کو ٹکڑے ٹکڑے کیا جا سکے بھئی۔ چنانچہ مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ منجنیقوں کے ذریعے ان پر بڑے بڑے پتھر برسائیں، مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ ان کے اوپر دریا کا یا بند کا پانی چھوڑ دیں ان کی زمینوں وغیرہ کو اس میں غرق کر دیں، مسلمانوں کے لیے جائز ہے کہ ان کے درختوں کو کاٹ دیں ان کی فصلوں کو تباہ کر دیں یا ان کو آگ لگا دیں، اس لیے کیونکہ ان سب چیزوں کی وجہ سے دشمن کی قوت ختم ہو جائے گی بھئی۔ اور پھر آپ نے یہ بھی مسئلہ پڑھا کہ اگر ان دشمنوں کے پاس کوئی مسلمان قیدی موجود ہے یا وہاں پر کوئی مسلمان تاجر موجود ہے تو پھر بھی ان پر تیر برسانے میں اور ان پر پتھر برسانے میں کوئی حرج نہیں ہے، ان پر تیر برسانا بھی جائز اور پتھر برسانا بھی جائز۔ وجہ یہ ہے کہ جہاد کے ذریعے ضررِ عام دور ہوگا۔ اور اگر وہ مسلمان قیدی یا تاجر کو نقصان پہنچتا ہے تو وہ ضررِ خاص ہے، یعنی صرف انہی کو نقصان ہوگا، تو لہٰذا ضررِ خاص کے بجائے ضررِ عام کو دور کرنا اولیٰ ہے۔ لہٰذا مسلمانوں کو ان دشمنوں پر تیر اندازی اور پتھر پھینکنے کی اجازت ہوگی۔ اور اگر ان کفار نے مسلمان بچوں کو یا مسلمان قیدیوں کو ڈھال بنا لیا، ان کو آگے کر دیا کہ اگر آپ تیر چلائیں گے یا پتھر پھینکیں گے تو پہلے ان کو لگے گا، کہتے ہیں پھر بھی مسلمان تیر اندازی سے اور پتھر پھینکنے سے نہیں رکیں گے۔ البتہ تیر پھینکتے ہوئے یا پتھر پھینکتے ہوئے وہ کفار کا ارادہ کریں گے بھئی۔ اور اس کے اندر اگر مسلمان قیدیوں کو یا بچوں کو کوئی نقصان بھی پہنچا تو اس صورت میں کوئی دیت وغیرہ بھی نہیں آئے گی اور کوئی کفارہ بھی نہیں آئے گا، اس لیے کیونکہ جہاد فرض ہے اور فرض کے اندر ضمان نہیں آ سکتا بھئی۔ اور نیز میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ حسن ابن زیاد رحمہ اللہ وہ فرماتے ہیں کہ اگر دشمن کے پاس مسلمان قیدی یا تاجر موجود ہو تو پھر اس صورت میں ان پر تیر وغیرہ چلانا جائز نہیں ہے، اور اگر ان کو تیر لگ گیا اس مسلمان قیدی یا تاجر کو تو پھر اس صورت میں ضمان بھی آئے گا، تیر مارنے والے پر ضمان آئے گا۔ اور انہوں نے اس کو قیاس کیا تھا بھوک کی حالت پر، جیسے بھوک کی حالت میں اپنی جان بچانے کے لیے ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کا مال کھانا جائز ہے لیکن اس پر ضمان آتا ہے بھئی، اس کو ضمان دینا پڑے گا جتنا مال اس نے کھایا ہے۔ اسی طرح جہاد کے اندر بھی اگر ضرورت کی وجہ سے تیر اندازی کی اجازت دی گئی ہے تو اس کی وجہ سے اگر کسی مسلمان کا نقصان ہوگا تو اس کا ضمان دینا پڑے گا۔ تو اس کا بھی جواب دیا تھا کہ جہاد کی حالت کو بھوک کی حالت پر قیاس نہیں کیا جا سکتا، اس لیے کیونکہ بھوک کی حالت میں احیائے نفس ہے، نفس کو بچانا ہے، نفس کو زندگی دینا ہے، اور جہاد کے اندر اتلافِ نفس ہے، نفس کو ہلاک کرنا ہے۔ اور احیائے نفس کے لیے تو انسان ضمان دینے پر راضی ہو جاتا ہے کہ اس کی جان بچ رہی ہے تو وہ ضمان دینے پر راضی ہوگا بھئی، لیکن اتلافِ نفس کے اندر کہ کسی دوسرے کو ہلاک کرے تو اس کے اندر اگر ضمان آئے گا تو مجاہد تو ضمان کے خوف سے جہاد سے ہی رک جائے گا بھئی۔ لہٰذا جہاد کے اندر اگر مسلمان قیدی یا تاجر کو نقصان پہنچا تو اس کا کوئی ضمان نہیں آئے گا مجاہدین پر۔ اور پھر صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بتلایا کہ اگر مسلمانوں کا لشکر بڑا ہو تو اس میں بوڑھی عورتیں بھی جہاد کے لیے نکل سکتی ہیں اور اس کے اندر قرآن کو بھی لے کر مجاہدین نکل سکتے ہیں، لیکن اگر مجاہدین کا چھوٹا دستہ ہے تو پھر اس کے اندر عورتیں بھی نہیں نکلیں گی اور اس کے اندر وہ قرآن کو لے کر بھی نہیں نکل سکتے، اس لیے کیونکہ اگر یہ قرآن دشمن کے ہاتھ آ گیا پھر تو وہ اس قرآن کی توہین کریں گے مسلمانوں کو غضبناک کرنے کے لیے بھئی۔ اور یہ بوڑھی عورتیں جب بڑے لشکر کے ساتھ نکلیں تو جو کام ان کے مناسب ہوا یہ وہ کام سر انجام دیں گی، جیسے کھانا پکانا ہے یا پانی پلانا ہے یا زخمیوں کی دیکھ بھال کرنا ہے اور ان کا علاج معالجہ کرنا ہے۔ البتہ یہ لڑائی میں حصہ نہیں لے سکتیں کیونکہ اگر یہ لڑائی میں حصہ لیں گی تو اس سے دشمن دلیل پکڑے گا کہ معلوم ہوا مسلمان کمزور ہو گئے ہیں، ان کے پاس مرد ہی باقی نہیں ہیں لڑنے والے، اب ان کی عورتیں لڑنے کے لیے آ رہی ہیں، تو لہٰذا عورتیں جو ہیں بغیر ضرورت کے لڑائی کے اندر حصہ نہیں لیں گی بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بتلایا کہ ویسے تو عورت کے لیے خاوند کی اجازت کے بغیر اور غلام کے لیے آقا کی اجازت کے بغیر جہاد کے لیے نکلنا جائز نہیں، لیکن اگر دشمن کسی علاقے پر کسی شہر پر حملہ کر دے تو پھر اس علاقے والوں پر جہاد فرضِ عین ہو جاتا ہے، تو پھر عورت خاوند کی اجازت کے بغیر لڑائی کے لیے نکل سکتی ہے اور اسی طرح غلام جو ہے آقا کی اجازت کے بغیر لڑائی کے لیے نکل سکتا ہے۔ اور صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بتلایا کہ جہاد کے اندر مسلمانوں کو دھوکہ نہیں دینا چاہیے، بدعہدی نہیں کرنی چاہیے، اگر کفار سے کوئی معاہدہ ہوا ہے تو اس معاہدے کو نہیں توڑنا چاہیے، اور نیز جہاد کے اندر مسلمانوں کو مالِ غنیمت کے اندر خیانت نہیں کرنی چاہیے۔ اسی طرح مثلہ کرنے سے بھی شریعت نے منع فرمایا ہے کہ دشمن کو قتل کرنے کے بعد اس کا چہرہ بگاڑ دیا جائے، اس کی آنکھیں پھوڑ دی جائیں، کان کاٹ دیے جائیں، ہونٹ کاٹ دیے جائیں، ناک کاٹ دی جائے، اس کو مثلہ کہتے ہیں اور شریعت نے اس سے منع فرمایا ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے جہاد کا ایک اور ضابطہ بھی ذکر فرمایا کہ جہاد کے اندر دشمن کی عورتوں کو یا بچوں کو یا بہت بوڑھے افراد جو ہیں یا ان میں جو اپاہج اور اندھے ہیں ان کو قتل نہیں کیا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہ لوگ جنگ نہیں کر سکتے، جب یہ جنگ نہیں کر سکتے تو ان کا قتل کرنا بھی جائز نہیں ہوگا۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ جو ہیں بوڑھے شخص اور اپاہج اور اندھے کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں یہ بھی کافر ہیں لہٰذا ان کا قتل بھی جائز ہوگا، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں، قتل کو مباح کرنے والی چیز جو ہے وہ جنگ ہے اور یہ لوگ جنگ نہیں کر سکتے لہٰذا ان کا قتل بھی جائز نہیں ہوگا بھئی۔ ہاں البتہ اگر یہ جو بوڑھا ہے یا اپاہج ہے یا اندھا ہے ان کی جنگی معاملات کے اندر رائے ہے اور یہ جنگی امور کے ماہر ہیں اور کفار ان کے مشورے پر چلتے ہیں تو پھر اس صورت میں ان کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ یا عورت اگر ان کی ملکہ ہے تو پھر عورت کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے، اس لیے کہ پوری قوم کو لڑائی پر ابھارنے والا اور تیار کرنے والا وہ بادشاہ یا ملکہ ہی ہوتی ہے، تو لہٰذا اگر عورت ملکہ ہے تو اس کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے بھئی۔ اور نیز دشمن کے بچے اور مجنون کو ویسے تو قتل نہیں کیا جا سکتا لیکن اگر یہ لڑائی کے اندر شامل ہیں، یہ بچہ یا مجنون لڑ رہے ہیں مسلمانوں کے ساتھ، تو پھر ان کو بھی قتل کیا جا سکتا ہے۔ اور پھر صاحبِ ہدایت نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر کسی شخص کے مقابلے میں اس کا باپ آ جائے جو مشرکین کی طرف سے لڑنے کے لیے آیا ہے تو پھر اس شخص کو کوشش کرنی چاہیے کہ باپ کو خود نہ قتل کرنا پڑے بھئی، اس لیے کیونکہ اللہ نے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنے کا حکم دیا ہے، تو یہ کوشش کرے کہ کسی طرح اسے یہ گناہ کا کام سر انجام نہ دینا پڑے، لیکن اگر مجبوری ہو جائے کہ باپ اس کے سامنے آ گیا اور باپ اسے اب قتل کرنا چاہتا ہے تو اب جان بچانے کی اور کوئی صورت نہیں سوائے اس کے کہ باپ کو وہ قتل کر دے، تو اس صورت میں پھر اس کے لیے باپ کا قتل جائز ہوگا۔ کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے مسلمان باپ جو ہے اپنے بیٹے پر تلوار نکال لے اور اسے قتل کرنا چاہے اور بیٹے کے لیے اپنی جان بچانے کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے کہ وہ اپنے باپ کو قتل کر دے تو پھر اس بیٹے کے لیے باپ کا قتل جائز ہو جاتا ہے، تو جب اس حالت میں مسلمان باپ کا قتل جائز ہے تو مشرک باپ کا قتل بطریقِ اولیٰ جائز ہوگا اس صورت کے اندر۔ اور پھر اس کے بعد ہم نے بَابُ الْمُوَادَعَةِ وَمَنْ يَجُوزُ أَمَانُهُ شروع کیا تھا۔ صاحبِ ہدایت نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر امام کی رائے یہ ہو کہ دشمن سے صلح کر لی جائے تو اس میں مسلمانوں کا فائدہ ہے، تو امام جو ہے دشمن کے ساتھ صلح کر سکتا ہے، اور اگر کچھ مدت کے بعد امام کی رائے یہ ہوئی کہ اب اگر ہم صلح پر چلتے رہیں گے تو مسلمانوں کا نقصان ہوگا، اب معاہدے کو توڑنے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے تو پھر امام جو ہے معاہدہ توڑ بھی سکتا ہے، لیکن اس میں بھی امام کے لیے دشمن کو دھوکہ دینا جائز نہیں، لہٰذا امام اگر معاہدہ توڑنا چاہتا ہے تو دشمن کو معاہدہ توڑنے کی اطلاع دے گا، اور اطلاع دینے کے بعد فوراً ہی امام ان پر حملہ نہیں کرے گا بلکہ اتنی مدت انتظار کرے گا کہ جس کے اندر یہ معاہدہ ٹوٹنے کی خبر سارے دشمنوں تک پہنچ جائے بھئی، سارے دشمنوں تک، پھر اس کے بعد امام ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ اور اگر عہد شکنی کی ابتدا دشمن نے کی ہے یعنی دشمن نے معاہدہ توڑا ہے تو پھر اس صورت میں اب امام ان پر حملہ کر سکتا ہے، اب ان کو معاہدہ توڑنے کی اطلاع دینے کی ضرورت نہیں کیونکہ معاہدہ تو خود دشمن ہی توڑ چکا ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ جس طرح امام کے لیے بغیر مال کے صلح کرنا جائز ہے اسی طرح امام کے لیے مال لے کر بھی صلح کرنا جائز ہے جبکہ مسلمانوں کو اس کی حاجت ہو۔ مسلمانوں کو اگر مال کی حاجت ہے تو امام دشمنوں سے مال لے کر ان سے صلح کر سکتا ہے، لیکن اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت نہیں ہے تو پھر مال لے کر صلح کرنا امام کے لیے جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ یہ جو جہاد کیا جا رہا ہے یہ اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے ہے، مال لینے کے لیے یہ جہاد نہیں کیا جا رہا بھئی۔ اور پھر صاحبِ ہدایت نے یہ مسئلہ بھی ذکر فرمایا کہ مسلمانوں میں سے اگر کچھ لوگ مرتد ہو گئے اور پھر انہوں نے کسی شہر پر قبضہ کر لیا تو امام کے لیے ان کے ساتھ بھی صلح کرنا جائز ہے، وجہ یہ کہ اس کی وجہ سے ان کو مہلت مل جائے گی تو امید ہے شاید یہ غور و فکر کر کے دوبارہ مسلمان ہو جائیں، تو اس اعتبار سے ان کے ساتھ صلح کرنا جائز، البتہ ان سے جزیہ لینا جائز نہیں ہے بھئی۔ اور اگر دشمن نے مسلمانوں کو گھیر لیا اور پھر انہوں نے صلح کے بدلے مسلمانوں سے مال طلب کیا تو امام کے لیے جائز نہیں ہے کہ دشمن کو مال دے صلح کے اندر، اس لیے کیونکہ اس کے اندر مسلمانوں کی ذلت ہے اور اس کے اندر مسلمانوں کا عیب دشمن کے حوالے کیا جا رہا ہے، لہٰذا یہ جائز نہیں۔ ہاں اگر ہلاکت کا خوف ہے دشمن بہت زیادہ طاقت کے اندر ہے تو پھر اس صورت کے اندر ہلاکت سے بچنا تو واجب ہے جس طریقے سے بھی ہو سکے، تو پھر مال دے کر بھی امام صلح کر سکتا ہے بھئی۔ اور صاحبِ ہدایت نے یہ بھی بتلایا کہ دشمن کے ہاتھ اسلحہ بیچنا جائز نہیں ہے، اس لیے کیونکہ یہ اسلحہ ان کی قوت کا باعث بنے گا اور اس کو مسلمانوں کے خلاف ہی استعمال کریں گے۔ اگرچہ دشمن کے ساتھ صلح ہی کیوں نہ ہو پھر بھی ان پر اسلحہ نہیں بیچا جا سکتا، اس لیے کیونکہ یہ صلح تو گزر ہی جائے گی یا کسی وقت ٹوٹ جائے گی یہ صلح، تو پھر اس صورت میں وہ اس قوت کو ہمارے خلاف ہی استعمال کریں گے۔ البتہ غلہ اور کپڑے وغیرہ دشمن کو بیچنا جائز ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ اب آئیے آج کے سبق پر: فَصْلٌ: إِذَا أَمَّنَ رَجُلٌ حُرٌّ أَوِ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ كَافِرًا أَوْ جَمَاعَةً أَوْ أَهْلَ حِصْنٍ أَوْ مَدِينَةٍ صَحَّ أَمَانُهُمْ اس فصل کے اندر صاحبِ ہدایت یہ بیان فرمائیں گے کہ مسلمانوں کی طرف سے کون کون کفار کو امان دے سکتا ہے۔ صاحبِ ہدایت آپ کو بتلائیں گے کہ ہر مومن کو اللہ نے بڑی اونچی شان دی ہے، یہاں تک کہ اگر ایک آزاد مرد ہو یا آزاد عورت ہے وہ بھی کفار کے پورے شہر کو امان دے سکتی ہے۔ تو ایک عام مومن مرد یا عورت اگر پورے شہر کو بھی امان دے دیں تو اس پورے شہر والوں کو امان مل جائے گا اور مسلمانوں کے لیے ان سے لڑائی کرنا جائز نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: فَصْلٌ: إِذَا أَمَّنَ رَجُلٌ حُرٌّ أَوِ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ جب امان دے دے کوئی آزاد مرد أَوِ امْرَأَةٌ حُرَّةٌ یا کوئی آزاد عورت كَافِرًا کسی ایک کافر کو أَوْ جَمَاعَةً یا کافروں کی جماعت کو أَوْ أَهْلَ حِصْنٍ یا قلعے والوں کو، ایک مرد یا عورت ہے اور سارے قلعے والوں کو اس نے امان دے دیا أَوْ مَدِينَةٍ مدینہ کا عطف ہے حصن پر اور حصن پر اہل کا لفظ داخل ہے تو لہٰذا یہ مدینۃٍ مجرور ہوگا، اَی اَھْلَ مَدِیْنَۃٍ، اور اگر ایک مسلمان مرد یا عورت پورے شہر والوں کو امان دے دے صَحَّ أَمَانُهُمْ تو ان کا امان صحیح ہے بھئی۔ أَمَانُهُمْ یہ ہم ضمیر راجع ہے کفار کو بھئی، اس لیے کیونکہ پیچھے ذکر ہوا امان دینے والا ایک مرد ہے یا ایک عورت ہے اور یہ ہم ضمیر تو جمع کی ہے، معلوم ہوا امان مصدر کی اضافت ہو رہی ہے مفعول کی طرف: صَحَّ أَمَانُهُمْ اس ایک مرد کا ان کفار کو امان دینا صحیح ہے۔ وَلَمْ يَكُنْ لِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ قِتَالُهُمْ اور جائز نہیں ہے مسلمانوں میں سے کسی ایک کے لیے بھی قِتَالُهُمْ ان سے لڑائی کرنا۔ وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور اصل اس کے اندر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“. بھئی حدیث کا ترجمہ توجہ سے سن لیجیے گا بھئی، اس کا ترجمہ ذرا مشکل ہے۔ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ“ کہ مسلمان جو ہیں ان کے خون برابر ہیں۔ تَكَافَأَ يَتَكَافَأُ تَكَافُؤًا کا معنی ہے برابر ہونا۔ ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ“ مسلمانوں کے خون برابر ہیں یعنی قصاص اور دیتوں کے اعتبار سے۔ قصاص اور دیتوں کے اعتبار سے تمام مسلمانوں کے خون برابر ہیں چاہے کوئی بڑے اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتا ہو چاہے کوئی معمولی خاندان سے تعلق رکھتا ہو، سب کے خون برابر ہیں قصاص اور دیتوں کے معاملے میں۔ یعنی چاہے اعلیٰ کو کوئی جان بوجھ کر قتل کرے چاہے ادنیٰ کو، دونوں صورتوں میں قصاص آئے گا۔ اور چاہے اعلیٰ کو غلطی سے قتل کرے یا ادنیٰ کو غلطی سے قتل کرے، دونوں صورتوں میں پوری دیت آئے گی بھئی۔ جبکہ مشرکین کا طریقہ یہ تھا کہ ان میں اگر کسی بڑے آدمی کو کوئی قتل کر دیتا تھا تو وہ قصاص کے اندر صرف اس ایک آدمی اس قاتل کو قتل نہیں کرتے تھے بلکہ بدلے کے طور پر اس قبیلے کے کئی افراد کو قتل کرتے تھے۔ لیکن اسلام نے بتلا دیا کہ نہیں، تمام مسلمانوں کا خون برابر ہے چاہے کوئی اعلیٰ خاندان والا ہو چاہے کوئی ادنیٰ خاندان والا ہو بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ“ مسلمان جو ہیں ان کے خون برابر ہیں۔ ”وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“ حدیث کا یہ حصہ بھئی اس کا ترجمہ مشکل ہے، یہ ذرا خوب توجہ سے سمجھ لیں بھئی۔ سَعَى يَسْعَى کا معنی ہوتا ہے کوشش کرنا۔ بِذِمَّتِهِمْ یاد رکھو ذمہ کا معنی ہوتا ہے امان بھئی، امان۔ یا اسی طرح ذمہ داری، یا اسی طرح ذمہ کا معنی ہے عہد بھئی یعنی معاہدہ کرنا، اور اسی طرح ذمہ کا معنی ضمان کے بھی ہیں بھئی۔ تو جو ترجمہ آپ کو مناسب لگے۔ ”وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ“ اور سعی یعنی کوشش کر سکتا ہے مسلمانوں کی ذمہ داری میں، مسلمانوں کے امان میں أَدْنَاهُمْ جو ان میں کم سے کم ہے۔ مسلمانوں کے امان کے اندر جو ان میں سے کم سے کم ہے وہ بھی سعی کر سکتا ہے یعنی وہ بھی امان دے سکتا ہے۔ یعنی مسلمانوں کا امان ان میں سے جو کم سے کم ہے یعنی ایک فرد، اس کے بھی ہاتھ میں ہے، وہ مسلمانوں کے لیے اس امان دینے میں کوشش کر سکتا ہے اور تمام مسلمانوں پر اس امان کی پابندی لازمی ہوگی۔ تو مسلمانوں کے امان کے اندر جو مسلمانوں کے اندر کم سے کم جو ہے یعنی ایک فرد، وہ بھی کوشش کر سکتا ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ“ اور سعی کر سکتا ہے مسلمانوں کے امان کے اندر ادناہم ان میں جو کم سے کم ہے۔ پھر حدیث کا ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اور اصل اس حکم کے اندر حضور علیہ السلام کا قولِ مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”الْمُسْلِمُونَ تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ“ کہ مسلمان جو ہیں ان کے خون برابر ہیں یعنی قصاص اور دیتوں کے معاملے میں، ”وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ“ اور مسلمانوں کے امان میں سعی کر سکتا ہے أَدْنَاهُمْ ان میں سے جو کم سے کم ہے یعنی ایک فرد بھی۔ تو حدیث یہیں تک تھی بھئی۔ آگے دیکھیے: أَيْ أَقَلُّهُمْ یعنی کم سے کم، دیکھو صاحبِ ہدایت ادناہم کا معنی بیان کر رہے ہیں۔ ادناہم کا کیا معنی ہے؟ کم سے کم۔ تو کہتے ہیں: أَيْ أَقَلُّهُمْ یعنی ان میں جو کم سے کم ہے وَهُوَ الْوَاحِدُ اور وہ ایک ہے۔ بھئی یاد رکھنا، صاحبِ ہدایت نے ادناہم کا معنی کیا اقلہم، جو ان میں کم سے کم ہے۔ اب یہ ادنیٰ یاد رکھو یہ اسم تفضیل ہے۔ یہاں دو احتمال ہیں بھئی: یہ اسم تفضیل دناءت سے بھی ہو سکتا ہے اور یہ اسم تفضیل دنو سے بھی ہو سکتا ہے۔ دَنُؤَ يَدْنُؤُ دُنُوءًا یہ مہموز ہے دیکھو آخر میں ہمزہ ہے، دَنُؤَ يَدْنُؤُ دُنُوءًا اور اس کا معنی ہے گھٹیا ہونا، کم درجے والا ہونا۔ تو ادنیٰ کا معنی ہوگا جو سب سے کم درجے والا ہے، جو سب سے گھٹیا ہے۔ اور اسی طرح ادنیٰ جو ہے یہ دنو سے بھی ہو سکتا ہے یعنی واوی ہو، دَنَا يَدْنُو دُنُوًّا اس کے معنی ہوتے ہیں قریب ہونا، نزدیک ہونا۔ تو ادنیٰ کا معنی ہوا جو سب سے قریب ہے، اور اسی طرح یہ سب سے کم کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ادنیٰ اسم تفضیل ہے، اگر یہ دُنُوءًا سے ہو یعنی مہموز سے ہو تو اس کا معنی ہے سب سے کم درجے والا، اور اگر یہ ادنیٰ دَنَا يَدْنُو دُنُوًّا سے ہو تو اس کا معنی ہے جو سب سے کم ہے۔ جو سب سے کم ہے۔ تو معلوم ہوا ادناہم کے اندر دو احتمال آ گئے۔ یا تو ادناہم کا معنی ہے جو مسلمانوں میں سب سے کم درجے والا ہے۔ مسلمانوں کے امان میں جو مسلمانوں میں سب سے کم درجے والا ہے وہ بھی کوشش کر سکتا ہے، وہ بھی امان دے سکتا ہے، اور سب سے کم درجے والا تو غلام ہے۔ کوئی مسلمان غلام جو ہے وہ آزاد کے مقابلے میں کم درجے والا ہے، تو امام محمد رحمہ اللہ اس حدیث کو دلیل بناتے ہیں کہ کوئی مسلمان غلام بھی امان دے سکتا ہے۔ توجہ ہے؟ یہ مسئلہ آگے صاحبِ ہدایت بھی بیان فرمائیں گے۔ یاد رکھو آپ کو صاحبِ ہدایت بتلائیں گے کہ مسلمان غلام دو قسم کے ہو سکتے ہیں: ایک مسلمان غلام وہ ہے جس کو آقا جہاد میں لڑائی کی اجازت نہیں دیتا، اور ایک مسلمان غلام وہ ہے کہ جس کا آقا اسے لڑائی کی اور جہاد کی اجازت دے دیتا ہے۔ تو معلوم ہوا ایک غلام ہے محجور علیہ، اس پر پابندی ہے وہ جہاد پر نہیں جا سکتا، اور ایک غلام ہے ماذون لہ۔ پہلے ہم نے ماذون لہ کا کیا ترجمہ پڑھا تھا؟ وہ غلام جسے آقا نے تجارت کی اجازت دی ہو۔ لیکن یہاں بات جہاد کی چل رہی ہے، تو یہاں ماذون لہ سے مراد وہ غلام ہے جس کو اس کے آقا نے جہاد کی اجازت دی ہے، اور محجور علیہ غلام سے مراد وہ غلام ہے جس کو آقا نے جہاد کی اجازت نہیں دی۔ تو آگے چل کر صاحبِ ہدایت بتلائیں گے ہمارے ائمہ کا آپس میں اختلاف ہے بھئی: امام صاحب فرماتے ہیں کہ وہ غلام جسے آقا نے جہاد کی اجازت دی ہے وہ تو کفار کو امان دے سکتا ہے لیکن جسے آقا نے جہاد کی اجازت نہیں دی وہ کفار کو امان بھی نہیں دے سکتا۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاہے غلام کو آقا نے جہاد کی اجازت نہ دی ہو پھر بھی یہ امان دے سکتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ یہاں پر ادناہم کا معنی کرتے ہیں جو ان میں سب سے معمولی ہے۔ مسلمانوں کے زمان کے اندر جو مسلمانوں میں سب سے کم درجے والا ہے وہ بھی کوشش کر سکتا ہے اور وہ تو مسلمان غلام ہے، تو وہ بھی امان دے سکتا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ ادناہم کے اندر دونوں احتمال آ گئے۔ ادناہم کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ ان مسلمانوں میں جو کم سے کم ہے یعنی ایک فرد، اور ادناہم کا یہ معنی بھی ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے اندر جو سب سے کم درجے والا ہے یعنی غلام۔ تو صاحبِ ہدایت نے ادناہم کا معنی اقلہم کے ساتھ کیا، یہ احتراز ہے امام محمد رحمہ اللہ کی تفسیر سے، انہوں نے ادناہم کا کیا معنی کیا ہے؟ جو کم سے کم درجے والا ہے یعنی غلام جو ہے وہ بھی امان دے سکتا ہے۔ تو صاحبِ ہدایت فرماتے ہیں: وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ اور مسلمانوں کے امان میں کوشش کر سکتا ہے ان میں جو کم سے کم ہے، أَيْ أَقَلُّهُمْ یعنی جو ان میں کم سے کم ہے وَهُوَ الْوَاحِدُ اور وہ ایک ہے، وَلِأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ فَيَخَافُونَهُ یہاں سے اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں۔ پہلے نقلی دلیل ذکر کی، حدیث کو ذکر کیا، اب عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ اور اس لیے کیونکہ مسلمانوں کا ہر فرد جو ہے مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ وہ اہل قتال میں سے ہے، وہ لڑائی والوں میں سے ہے، وہ لڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے، وہ لڑنے جائے یا نہ جائے لیکن اس میں لڑنے کی صلاحیت موجود ہے، تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ اور اس لیے کیونکہ ہر مسلمان جو ہے وہ اہل قتال ہے یعنی وہ لڑائی کی صلاحیت رکھتا ہے فَيَخَافُونَهُ تو کفار اس سے ڈرتے ہیں۔ بھئی یاد رکھو امان وہ مسلمان دے سکتا ہے جس سے کفار ڈرتے ہیں، جس سے کفار خوف کھاتے ہیں، کیونکہ امان دے کر اس کے خوف کو دور کیا جائے گا۔ لہٰذا اگر وہ خوف نہیں رکھتے کسی سے تو وہ شخص انہیں امان بھی نہیں دے سکتا۔ مثلاً دار الحرب کے اندر ایک حربی مسلمان ہو گیا اور وہ دار الحرب میں رہتا ہے تو اس سے تو حربی خوف نہیں کھاتے، وہ تو انہی کے پاس رہتا ہے اس سے تو حربی خوف نہیں کھاتے، لہٰذا آپ کو بتلائیں گے وہ امان نہیں دے سکتا۔ تو امان صرف وہی مسلمان دے سکتا ہے جس سے حربی خوف کھاتے ہوں، اور یہ امان دے گا تو ان کا خوف دور ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّهُ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ فَيَخَافُونَهُ اور اس لیے کیونکہ ہر مسلمان جو ہے وہ لڑائی کرنے والوں میں سے ہے فَيَخَافُونَهُ تو کفار جو ہیں اس سے ڈرتے ہیں، إِذْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَنَعَةِ، مَنَعَةِ کا معنی میں نے بتلایا تھا طاقت اور قوت کے بھی اور لشکر کے بھی، یہاں منعۃ کا ترجمہ لشکر کے ساتھ کر لیں بھئی، تو کہتے ہیں: إِذْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَنَعَةِ اس لیے کیونکہ ہر مسلمان جو ہے وہ لشکر والوں میں سے ہے۔ مسلمان چاہے لشکر میں شامل ہو یا نہ ہو لیکن اس میں صلاحیت ہے وہ لشکر والوں میں شامل ہو سکتا ہے، مرد تو شامل ہو سکتا ہے لڑائی کے لیے اور عورت شامل ہو سکتی ہے کھانا پکانے یا اور خدمت کے لیے، تو معلوم ہوا ہر آزاد مسلمان مرد یا عورت جو ہے وہ لشکر والوں میں سے ہے یعنی لشکر والوں میں شامل ہونے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ تو کہتے ہیں: إِذْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَنَعَةِ اس لیے کیونکہ ہر مسلمان جو ہے وہ لشکر والوں میں سے ہے، جب لشکر والوں میں سے ہے تو لشکر والوں سے تو حربی خوف کھاتے ہیں بھئی، مسلمانوں کے لشکر سے تو حربی خوف کھاتے ہیں، تو یہ معنی ہے: إِذْ هُوَ مِنْ أَهْلِ الْمَنَعَةِ اس لیے کیونکہ ہر مسلمان جو ہے وہ لشکر والوں میں سے ہے فَيَتَحَقَّقُ الْأَمَانُ مِنْهُ لہٰذا امان ثابت ہو سکتا ہے ہر مسلمان کی طرف سے لِمُلَاقَاتِهِ مَحَلَّهُ اس لیے کیونکہ امان نے ملاقات کر لی اپنے محل سے۔ امان کس کو دیا جائے گا؟ جو خوف رکھتا ہے، جو مسلمانوں سے ڈرتا ہے بھئی، اور امان دینے والا وہ شخص ہو جس کا خوف ہے اس کے دل میں۔ تو ہر مسلمان مرد یا عورت جو ہے وہ لشکر والوں میں سے ہے، اور جب لشکر والوں میں سے ہے تو ان سے حربی خوف کھاتے ہیں، تو جب کوئی بھی آزاد مرد یا عورت حربی کو امان دے گا تو اس امان نے اپنے محل سے یعنی محل خوف سے ملاقات کر لی، ڈرنے والے سے۔ ہر حربی کیا ہے؟ محل امان ہے کیونکہ وہ خوف رکھتا ہے مسلمانوں کا۔ توجہ ہے؟ تو امان دینے والا طاقتور ہونا چاہیے، اس کا خوف ہونا چاہیے، اور امان کس کو دیا جاتا ہے؟ جس کے دل میں خوف ہوتا ہے۔ تو جب مسلمان نے امان دیا تو امان نے ملاقات کر لی محل خوف سے، لہٰذا یہ امان صحیح ہوا، یہ امان صحیح ہوا۔ یہ معنی ہے: لِمُلَاقَاتِهِ مَحَلَّهُ اس وجہ سے کہ امان نے ملاقات کر لی اپنے محل سے، ثُمَّ يَتَعَدَّى إِلَى غَيْرِهِ پھر یہ امان متعدی ہو جائے گا اس کے علاوہ کی طرف۔ بھئی امان تو ایک مسلمان نے دیا ہے لیکن پھر یہی امان متعدی ہو جائے گا باقی مسلمانوں کی طرف بھی اور تمام مسلمانوں کی طرف سے اس حربی کو امان مل جائے گا۔ بھئی باقیوں کی طرف کیوں متعدی ہوگا؟ کہتے ہیں آپ دیکھتے نہیں رمضان کا چاند جو ہے وہ دو چار مسلمان دیکھتے ہیں تو ان دو چار پر اولاً رمضان کا روزہ فرض ہوا اور پھر یہی حکم متعدی ہو جاتا ہے تمام مسلمانوں کی طرف بھئی، اور سارے مسلمانوں پر رمضان کا روزہ فرض ہو جاتا ہے، تو یہاں پر بھی امان ایک مرد یا عورت نے دیا ہے لیکن پھر یہ متعدی ہو جائے گا تمام مسلمانوں کی طرف اور تمام مسلمانوں کی طرف سے اس آدمی کو اس حربی کو امان مل جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ثُمَّ يَتَعَدَّى إِلَى غَيْرِهِ پھر یہ امان متعدی ہو جائے گا اس مسلمان کے علاوہ دوسرے مسلمانوں کی طرف، وَلِأَنَّ سَبَبَهُ لَا يَتَجَزَّأُ یہاں سے دوسری دلیل دے رہے ہیں کہ ہر مسلمان امان دے سکتا ہے۔ بھئی یاد رکھو یہ جو ایمان ہے اس میں تقسیم نہیں ہو سکتی، کوئی شخص یا تو مومن ہوگا یا غیر مومن ہوگا، یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں یہ آدمی تھوڑا سا مومن ہے اور تھوڑا سا کافر ہے، نہیں بھئی ایمان میں تقسیم نہیں ہو سکتی، یا تو ایمان ہے یا ایمان نہیں ہے بھئی۔ اسی طرح یاد رکھو بھئی امان کے اندر بھی تقسیم نہیں ہو سکتی کہ کچھ مسلمانوں کی طرف سے امان ہو اور باقیوں کی طرف سے امان نہ ہو، لہٰذا جب امان ہوگا تو تمام مسلمانوں کی طرف سے ہوگا، یہ اسی طرح ہے جیسے نکاح کی ولایت۔ آپ جانتے ہیں کہ صغیر یا صغیرہ پر ان کے باپ دادا کو ولایت نکاح حاصل ہوتی ہے اور اگر باپ دادا نہ ہوں تو پھر اس کے جو قریبی رشتہ دار ہیں یعنی بھئی ان کو ولایت نکاح حاصل ہوگی، اب صورت یہ ہے ایک صغیر یا صغیرہ ہے اور ان کے تین چار بھئی ہیں جو بالغ ہیں تو اب یاد رکھو یہاں پر ان سب کو ولایت نکاح حاصل ہوگی، ان میں سے جو بھی ان کا نکاح کروا دے گا تو وہ نکاح ہو جائے گا، ہاں البتہ اس صغیر یا صغیرہ کو بالغ ہونے کے بعد اختیار مل جائے گا وہ چاہیں تو اس نکاح کو فسخ کر سکتے ہیں۔ تو اب صورت یہ ہے ایک صغیر یا صغیرہ ہے اور اس کے مثلاً چار بھئی بالغ ہیں تو ان سب کو ولایت نکاح حاصل ہوگی، ولایت نکاح میں تقسیم نہیں ہو سکتی، ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تھوڑی سی ولایت ایک بھئی کو حاصل ہے، تھوڑی سی دوسرے کو حاصل ہے اور تھوڑی سی تیسرے اور چوتھے کو حاصل ہے، نہیں، ولایت نکاح حاصل ہوگی تو پوری پوری ولایت نکاح ہر ایک کو حاصل ہے، جو بھی نکاح کروا دے گا ان میں سے پہلے تو نکاح منعقد ہو جائے گا۔ تو جیسے ایمان میں تقسیم نہیں، جیسے ولایت نکاح کے اندر تقسیم نہیں، اسی طرح امان میں بھی تقسیم نہیں ہے، جب مسلمان ایک مسلمان امان دے دے گا تو تمام مسلمانوں کی طرف سے امان ہو جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ سَبَبَهُ لَا يَتَجَزَّأُ اور اس لیے کیونکہ امان کا جو سبب ہے لَا يَتَجَزَّأُ وہ تقسیم نہیں ہو سکتا وَهُوَ الْإِيمَانُ اور وہ ایمان ہے، وَكَذَا الْأَمَانُ لَا يَتَجَزَّأُ اور اسی طرح امان جو ہے وہ بھی تقسیم نہیں ہو سکتا فَيَتَكَامَلُ تو وہ کامل ہو جائے گا، جب ایک بھی مسلمان امان دے گا تو وہ امان سب کی طرف سے کامل ہو جائے گا پورا ہو جائے گا، كَوِلَايَةِ الْإِنْكَاحِ جیسے کہ نکاح کرنے کی ولایت ہے کہ تمام ولی جو ہیں ان میں سے ہر ایک کو پوری پوری ولایتِ انکاح ہوگی۔ تو یہ معنی ہے: كَوِلَايَةِ الْإِنْكَاحِ جیسے نکاح کروانے کی ولایت ہے کہ اس کے اندر تقسیم نہیں ہو سکتی تو ہر ولی کو پوری پوری ولایت حاصل ہوگی۔ آگے دیکھیے: قَالَ: إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي ذَلِكَ مَفْسَدَةٌ فَيَنْبِذُ إِلَيْهِمْ ہاں اگر یہ امان کے اندر فساد ہو اور نقصان ہو مسلمانوں کا، پھر امام جو ہے اس کو رد کر دے گا۔ امام کیا کرے گا اس امان کو؟ رد کر دے گا لیکن اس کے اندر بھی ان کو اطلاع دے گا، ان دشمنوں کو پہلے اطلاع دے گا کہ ہمارے آدمی نے آپ کو امان دی تھی لیکن ہماری طرف سے تمہیں امان حاصل نہیں ہے، ان کو اطلاع دے دے گا۔ تو کہتے ہیں: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: إِلَّا أَنْ يَكُونَ فِي ذَلِكَ مَفْسَدَةٌ مگر یہ کہ اس امان کے اندر فساد ہو یعنی مسلمانوں کا کوئی نقصان ہو فَيَنْبِذُ إِلَيْهِمْ تو امام جو ہے اس امان کو ان کی طرف پھینک دے گا، یعنی یہ جو امان دیا ہے، یہ جو امان کا معاہدہ کیا ہے اس معاہدے کو امام ان کی طرف پھینک دے گا۔ توجہ ہے؟ ان کی طرف پھینک دے گا یعنی ان کو اطلاع دے دے گا کہ یہ جو مسلمان نے تمہیں امان دیا ہے ہم اس کے پابند نہیں ہیں ہماری طرف سے تمہیں امان نہیں ہے۔ تو امان کے اندر اگر مسلمانوں کا نقصان ہوا فَيَنْبِذُ إِلَيْهِمْ تو امام جو ہے اس امان کو ان کی طرف پھینک دے گا یعنی ان کو اطلاع دے دے گا، كَمَا إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ بِنَفْسِهِ جیسے کہ امام خود کفار کو امان دے ثُمَّ رَأَى الْمَصْلَحَةَ فِي النَّبْذِ پھر اس کی رائے یہ ہو کہ مصلحت جو ہے اس امان کو توڑنے میں ہے، وَقَدْ بَيَّنَّاهُ اور تحقیق اس کو ہم نے بیان کر دیا۔ صاحبِ ہدایت فرماتے ہیں کہ اگر ایک مسلمان نے امان دی ہے اس کے اندر اگر مسلمانوں کا نقصان ہو تو امام اس امان کو اور اس معاہدے کو توڑ دے گا اور ان کو اطلاع دے دے گا، کہتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے پیچھے ہم نے بیان کیا تھا کہ امام خود بھی صلح کر سکتا ہے کفار کے ساتھ اور اگر بعد میں امام کو نظر آیا کہ صلح کو توڑنے میں مسلمانوں کا فائدہ ہے تو امام معاہدہ توڑ کر ان کی طرف پھینک دے گا یعنی ان کو اطلاع دے دے گا اور پھر ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح یہاں پر بھی اگر کسی مسلمان نے امان دے دی اور اس امان کے اندر مسلمانوں کا کوئی نقصان ہو رہا تھا، مثلاً کسی مسلمان نے قلعے والوں کو امان دے دی اور مسلمانوں کو معلوم ہے کہ قلعے والوں کے پاس اسلحہ وغیرہ بہت زیادہ ہے یا وہ جاسوس قسم کے لوگ ہیں، وہ تو مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں گے، تو اس صورت کے اندر امام جو ہے اس امان کو توڑ سکتا ہے اور ان کو اطلاع دے کر ان پر حملہ کر سکتا ہے۔ آگے فرماتے ہیں: وَإِذَا أَمَّنَهُمْ صَبِيٌّ يَعْقِلُ أَوْ عَبْدٌ مَأْذُونٌ لَهُ فِي الْقِتَالِ جَازَ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ أَمَانُ الصَّبِيِّ بِحَالٍ، لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ، وَلَنَا أَنَّهُ أَمَانٌ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ فِي مَحَلِّهِ فَيَصِحُّ كَمَا مِنْ الْبَالِغِ، وَهَذَا لِأَنَّ الصَّبِيَّ مِنْ أَهْلِ الدِّينِ، وَالْأَمَانُ حَقُّ الدِّينِ إِذْ هُوَ حَقْنُ الدَّمِ الْمُسْتَبَاحِ بِالْكُفْرِ، وَالْقُدْرَةُ عَلَى الْقِتَالِ غَيْرُ شَرْطٍ، أَلَا تَرَى أَنَّ أَمَانَ الْمَرْأَةِ جَائِزٌ، وَلِأَنَّهُ يَصِلُ إلَيْهِ خَوْفُهُمْ لِتَكْثِيرِهِ سَوَادَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَّا عَقْدُ الْعَبْدِ فَنَذْكُرُهُ فِي الْفَصْلِ الَّذِي يَلِيهِ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى. کہتے ہیں صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِذَا أَمَّنَهُمْ صَبِيٌّ يَعْقِلُ اور جب ان کفار کو امان دے صَبِيٌّ يَعْقِلُ کوئی سمجھدار بچہ أَوْ عَبْدٌ مَأْذُونٌ لَهُ فِي الْقِتَالِ یا ایسا غلام جس کو لڑائی کی اجازت دی گئی ہو جَازَ تو اس کا امان دینا جائز ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يَجُوزُ أَمَانُ الصَّبِيِّ بِحَالٍ کسی بھی حال میں بچے کا امان دینا جائز نہیں ہے لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْقِتَالِ اس لیے کیونکہ بچہ اہل قتال میں سے نہیں ہے۔ بھئی مسئلہ یہ ہے کہ سمجھدار بچہ جس کی عقل پختہ ہے، ناسمجھ نہیں ہے، سمجھدار بچہ کفار کو امان دے سکتا ہے یا نہیں دے سکتا؟ تو امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بچہ کفار کو امان نہیں دے سکتا، بچہ کسی بھی حال میں کفار کو امان نہیں دے سکتا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ امان وہ شخص دے سکتا ہے جو اہل قتال ہو یعنی جو لڑائی کے قابل ہو اور لڑائی کی صلاحیت رکھتا ہو کیونکہ جو لڑائی کی صلاحیت رکھے گا کفار اس سے ڈریں گے اور بچہ جو ہے وہ تو لڑائی کی صلاحیت نہیں رکھتا تو کفار اس سے خوف بھی نہیں کھائیں گے، تو جب خوف نہیں کھائیں گے تو اس کے امان سے ان کا خوف کیسے دور ہوگا؟ لہٰذا بچے کا امان دینا صحیح نہیں ہے، یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ہے۔ اور احناف فرماتے ہیں کہ سمجھدار بچے کا امان دینا صحیح ہے اور اس کے امان کی پابندی تمام مسلمانوں پر لازم ہوگی۔ احناف کی دلیل: کہتے ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّهُ أَمَانٌ صَدَرَ مِنْ أَهْلِهِ فِي مَحَلِّهِ کہ یہ ایسا امان ہے جو صادر ہوا ہے اپنے اہل کی طرف سے اپنے محل کے اندر فَيَصِحُّ كَمَا مِنْ الْبَالِغِ لہٰذا یہ امان صحیح ہو جائے گا جیسے کہ بالغ سے صحیح ہو جاتا ہے۔ بالغ سے امان دینا صحیح ہو جاتا ہے، اسی طرح سمجھدار بچے سے بھی امان دینا صحیح ہو جائے گا۔ کیسے اپنے اہل سے صادر ہوا اور اپنے محل میں صادر ہوا؟ کہتے ہیں: وَهَذَا لِأَنَّ الصَّبِيَّ مِنْ أَهْلِ الدِّينِ اور یہ اس لیے کیونکہ بچہ جو ہے وہ اہل دین میں سے ہے، دین والوں میں سے ہے، مسلمان ہے، وَالْأَمَانُ حَقُّ الدِّينِ اور امان جو ہے وہ دین کا حق ہے، إِذْ هُوَ حَقْنُ الدَّمِ الْمُسْتَبَاحِ بِالْكُفْرِ اس لیے کیونکہ امان کیا ہے؟ حَقْنُ الدَّمِ الْمُسْتَبَاحِ بِالْكُفْرِ اس خون کو بچانا ہے جو کفر کی وجہ سے مباح ہو چکا تھا، اس خون کو محفوظ کرنا ہے جو کفر کی وجہ سے مباح ہو چکا تھا۔ تو جب امان دینا دین کا حق ہے اور بچہ دین کا اہل ہے تو معلوم ہوا بچہ امان دینے کا بھی اہل ہوا بھئی، بچہ امان دینے کا بھی اہل ہوا۔ پھر بچے کے امان نے محل سے ملاقات کی یا نہیں کی؟ کہتے ہیں ہاں بالکل بچے کے امان نے بھی محل سے ملاقات کر لی کیونکہ محل کیا ہے؟ خوف ہے، کفار کا ڈرنا۔ اور بچے سے بھی کفار ڈرتے ہیں، کہتے ہیں بچے سے کیسے ڈرتے ہیں؟ اس لیے کیونکہ بچہ مسلمانوں کے لشکر میں شامل ہو کر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کو بڑھاتا ہے اور جب مسلمانوں کا لشکر بڑا نظر آئے گا تو کفار مسلمانوں سے ڈریں گے۔ تو بچے نے مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کو بڑھایا تو اس بچے کی وجہ سے بھی کفار پر رعب اور دبدبہ طاری ہوا تو معلوم ہوا کفار اس بچے سے بھی ڈرتے ہیں۔ تو بچے نے جب امان دیا تو اس امان نے بھی محل سے یعنی محل خوف سے ملاقات کر لی تو اس بچے کا امان دینا بھی صحیح ہو گیا۔ اور رہا امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ کہنا کہ بچہ اہل قتال نہیں ہے تو احناف فرماتے ہیں کہ امان دینے کے لیے قتال پر قدرت اور لڑائی کی صلاحیت شرط نہیں ہے۔ دلیل؟ کہتے ہیں عورت دیکھو، عورت تو لڑائی نہیں کر سکتی لیکن اس کا امان دینا بالاجمال صحیح ہے، سب کے نزدیک عورت کا امان دینا جائز ہے۔ جب عورت قتال کی صلاحیت نہ رکھنے کے باوجود امان دے سکتی ہے تو سمجھدار بچہ بھی قتال کی صلاحیت نہ رکھنے کے باوجود امان دے سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَالْقُدْرَةُ عَلَى الْقِتَالِ غَيْرُ شَرْطٍ اور لڑائی پر قدرت یہ شرط نہیں ہے أَلَا تَرَى أَنَّ أَمَانَ الْمَرْأَةِ جَائِزٌ کیا آپ دیکھتے نہیں کہ عورت کا امان دینا جائز ہے، وَلِأَنَّهُ يَصِلُ إلَيْهِ خَوْفُهُمْ اور اس لیے کیونکہ کفار کا خوف بچے تک بھی پہنچتا ہے لِتَكْثِيرِهِ سَوَادَ الْمُسْلِمِينَ اس بچے کے مسلمانوں کی جماعت اور لشکر کو زیادہ کرنے کی وجہ سے۔ سَوَادُ الْمُسْلِمِينَ کا معنی ہے مسلمانوں کی جماعت، مسلمانوں کا لشکر۔ اس لیے کیونکہ یہ بچہ مسلمانوں کے لشکر اور مسلمانوں کی جماعت کو زیادہ کرتا ہے تو اس کی وجہ سے کفار پر رعب طاری ہوتا ہے۔ وَأَمَّا عَقْدُ الْعَبْدِ فَنَذْكُرُهُ فِي الْفَصْلِ الَّذِي يَلِيهِ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى اور بہرحال غلام کا امان دینا، غلام کا عقد کرنا، فَنَذْكُرُهُ فِي الْفَصْلِ الَّذِي يَلِيهِ تو اس کو ہم اس کے بعد والی فصل میں ذکر کریں گے إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ آگے فرماتے ہیں: فَإِنْ كَانَ الصَّبِيُّ لَا يَعْقِلُ فَلَا يَجُوزُ أَمَانُهُ لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ التَّصَرُّفَاتِ الشَّرْعِيَّةِ، وَكَذَا الْمَجْنُونُ وَالْمَعْتُوهُ. کہتے ہیں: فَإِنْ كَانَ الصَّبِيُّ لَا يَعْقِلُ پس اگر بچہ ایسا ہو جو سمجھ نہیں رکھتا، ناسمجھ بچہ ہے، فَلَا يَجُوزُ أَمَانُهُ تو اس کا امان دینا جائز نہیں ہے لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ التَّصَرُّفَاتِ الشَّرْعِيَّةِ اس لیے کیونکہ وہ شریعت کے تصرفات کا اہل نہیں ہے۔ بچہ جو ناسمجھ ہے وہ شریعت کے تصرفات کا اہل نہیں ہے، اس کی بیع و شراء صحیح نہیں ہوتی، اس کے اور تصرفات صحیح نہیں ہوتے تو اس کا امان دینا بھی صحیح نہیں ہوگا۔ وَكَذَا الْمَجْنُونُ وَالْمَعْتُوهُ اور اسی طرح مجنون اور معتوہ کا بھی امان دینا جائز نہیں ہے۔ مجنون کہتے ہیں پاگل کو اور معتوہ کہتے ہیں کم عقل کو جس کی عقل ناقص ہو۔ تو پاگل اور کم عقل کا امان دینا بھی جائز نہیں ہوگا کیونکہ وہ بھی تصرفاتِ شرعیہ کے اہل نہیں ہیں۔ آگے فرماتے ہیں: وَإِنْ أَمَّنَهُمْ مُسْلِمٌ تَاجِرٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ أَوْ أَسِيرٌ جَازَ، وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: لَا يَجُوزُ، لِأَنَّ خَوْفَهُمْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِمَا إِذْ لَا مَنَعَةَ لَهُمَا، وَلَنَا أَنَّ خَوْفَهُمْ يَتَعَلَّقُ بِهِمَا مِنْ حَيْثُ أَنَّهُمَا يَدُلَّانِ عَلَى عَوْرَاتِهِمْ أَوْ يَقْتُلَانِ غِيلَةً أَوْ يَنْضَمَّانِ إلَى جَيْشِ الْمُسْلِمِينَ فَيُقَاتِلَانِ، بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ ذِمِّيًّا تَاجِرًا أَوْ أَسِيرًا حَيْثُ لَا يَجُوزُ أَمَانُهُ، لِأَنَّهُ لَا يَثْبُتُ لَهُ حَقُّ الْأَمَانِ، لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الدِّينِ. کہتے ہیں صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَإِنْ أَمَّنَهُمْ مُسْلِمٌ تَاجِرٌ فِي دَارِ الْحَرْبِ أَوْ أَسِيرٌ جَازَ اور اگر کفار کو امان دے کوئی مسلمان تاجر دار الحرب کے اندر یا مسلمان قیدی جَازَ تو ان کا امان دینا جائز ہے۔ وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لَا يَجُوزُ جائز نہیں ہے لِأَنَّ خَوْفَهُمْ لَا يَتَعَلَّقُ بِهِمَا اس لیے کیونکہ کفار کا خوف ان دونوں کے ساتھ متعلق نہیں ہوتا إِذْ لَا مَنَعَةَ لَهُمَا اس لیے کیونکہ ان دونوں کے پاس کوئی قوت اور لشکر نہیں ہے۔ بھئی مسئلہ یہ ہے کہ ایک مسلمان تاجر ہے وہ تجارت کے لیے دار الحرب گیا ہوا ہے، کافروں کے ملک میں گیا ہوا ہے، اور وہاں اس نے کسی حربی کو یا کافروں کو امان دے دی، یا ایک مسلمان ہے جو کافروں کی قید میں ہے، دار الحرب میں قیدی ہے اور اس نے کسی حربی کو امان دے دی تو کیا اس مسلمان تاجر کا اور مسلمان قیدی کا امان دینا صحیح ہوگا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مسلمان تاجر اور مسلمان قیدی کا امان دینا جائز نہیں ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے کہ امان وہ دے سکتا ہے جس سے کفار ڈرتے ہوں، اور یہ مسلمان تاجر اور مسلمان قیدی تو خود کافروں کے قبضے میں ہیں، دار الحرب میں ہیں، کافروں کے رحم و کرم پر ہیں، ان کے پاس کوئی لشکر اور قوت نہیں ہے تو کفار ان سے خوف نہیں کھاتے، جب خوف نہیں کھاتے تو ان کا امان دینا بھی صحیح نہیں ہوگا۔ اور احناف فرماتے ہیں کہ مسلمان تاجر اور مسلمان قیدی کا امان دینا جائز ہے اور اس امان کی پابندی تمام مسلمانوں پر لازم ہوگی۔ احناف کی دلیل: کہتے ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل یہ ہے أَنَّ خَوْفَهُمْ يَتَعَلَّقُ بِهِمَا کہ کفار کا خوف ان دونوں کے ساتھ متعلق ہوتا ہے، کفار ان دونوں سے بھی ڈرتے ہیں۔ کیسے ڈرتے ہیں؟ تین وجوہات ذکر کیں: نمبر ایک: مِنْ حَيْثُ أَنَّهُمَا يَدُلَّانِ عَلَى عَوْرَاتِهِمْ اس حیثیت سے کہ یہ دونوں مسلمان مسلمانوں کے لشکر کو ان کفار کے عیوب اور کمزوریوں پر مطلع کر سکتے ہیں، ان کے کمزور راستوں کی نشاندہی کر سکتے ہیں۔ عَوْرَات کہتے ہیں کمزوریوں کو، پوشیدہ باتوں کو۔ کفار کو یہ ڈر ہوتا ہے کہ یہ تاجر اور قیدی ہمارے راز اور ہماری کمزوریاں مسلمانوں کے لشکر کو بتا دیں گے۔ نمبر دو: أَوْ يَقْتُلَانِ غِيلَةً یا یہ ڈر ہوتا ہے کہ یہ موقع پا کر دھوکے سے کسی کافر کو قتل کر دیں گے۔ غِيلَةً کہتے ہیں دھوکے سے قتل کرنا۔ اور نمبر تین: أَوْ يَنْضَمَّانِ إلَى جَيْشِ الْمُسْلِمِينَ فَيُقَاتِلَانِ یا یہ ڈر ہوتا ہے کہ یہ موقع پا کر مسلمانوں کے لشکر سے جا ملیں گے اور پھر مسلمانوں کے ساتھ مل کر ہمارے خلاف لڑائی کریں گے۔ تو ان تین وجوہات کی بنا پر کفار اس مسلمان تاجر اور مسلمان قیدی سے بھی ڈرتے ہیں، تو جب کفار ان سے ڈرتے ہیں تو ان کا امان دینا بھی محل خوف سے ملاقات کر گیا، لہٰذا ان کا امان دینا بھی صحیح ہو گیا۔ آگے فرماتے ہیں: بِخِلَافِ مَا إذَا كَانَ ذِمِّيًّا تَاجِرًا أَوْ أَسِيرًا بخلاف اس صورت کے کہ جب وہ تاجر یا قیدی ذمی ہو، حَيْثُ لَا يَجُوزُ أَمَانُهُ اس طور پر کہ اس کا امان دینا جائز نہیں ہوگا لِأَنَّهُ لَا يَثْبُتُ لَهُ حَقُّ الْأَمَانِ اس لیے کیونکہ اس ذمی کے لیے امان دینے کا حق ثابت نہیں ہوتا لِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِ الدِّينِ اس لیے کیونکہ وہ اہل دین میں سے نہیں ہے۔ یعنی اگر کوئی ذمی تاجر ہے جو دار الحرب میں تجارت کے لیے گیا یا ذمی قیدی ہے تو وہ کفار کو امان نہیں دے سکتا کیونکہ وہ خود کافر ہے، وہ اہل دین میں سے نہیں ہے اور امان دینا دین کا حق ہے، تو جب وہ اہل دین ہی نہیں ہے تو وہ امان بھی نہیں دے سکتا۔ آگے فرماتے ہیں: وَلَوْ أَمَّنَهُمْ حَرْبِيٌّ أَسْلَمَ فِي دَارِ الْحَرْبِ وَلَمْ يُهَاجِرْ إلَيْنَا لَا يَجُوزُ أَمَانُهُ لِأَنَّهُ لَا مَنَعَةَ لَهُ بِالْمُسْلِمِينَ، فَلَا يَخَافُونَهُ، وَهُوَ مَعْنَاهُ. کہتے ہیں: وَلَوْ أَمَّنَهُمْ حَرْبِيٌّ أَسْلَمَ فِي دَارِ الْحَرْبِ اور اگر ان کفار کو امان دے دے کوئی حربی جو دار الحرب میں مسلمان ہوا وَلَمْ يُهَاجِرْ إلَيْنَا اور اس نے ہماری طرف یعنی دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی لَا يَجُوزُ أَمَانُهُ تو اس کا امان دینا جائز نہیں ہے۔ لِأَنَّهُ لَا مَنَعَةَ لَهُ بِالْمُسْلِمِينَ اس لیے کیونکہ اس کے پاس مسلمانوں کے ذریعے کوئی قوت اور لشکر نہیں ہے فَلَا يَخَافُونَهُ تو وہ کفار اس سے ڈرتے نہیں ہیں، وَهُوَ مَعْنَاهُ اور یہی اس کا معنی ہے۔ بھئی مسئلہ یہ ہے کہ ایک حربی کافر تھا دار الحرب کے اندر، وہ دار الحرب کے اندر ہی مسلمان ہو گیا لیکن اس نے دار الاسلام کی طرف ہجرت نہیں کی، وہیں دار الحرب میں اپنے کافر رشتہ داروں اور قبیلے والوں کے ساتھ رہتا ہے اور اس نے کسی حربی کو امان دے دی تو کیا اس کا امان دینا صحیح ہوگا؟ فرماتے ہیں کہ اس کا امان دینا صحیح نہیں ہے کیونکہ وہ انہی کے درمیان میں رہتا ہے، مسلمانوں کی طرف اس نے ہجرت نہیں کی، مسلمانوں کے لشکر کے ساتھ اس کا کوئی تعلق قائم نہیں ہوا، اس لیے کفار اس سے کوئی خوف نہیں کھاتے، وہ اس کو اپنا ہی ایک فرد سمجھتے ہیں جو مسلمان ہو گیا ہے، تو جب اس سے خوف ہی نہیں کھاتے تو اس کا امان دینا صحیح نہیں ہوگا کیونکہ امان وہ دے سکتا ہے جس سے حربی خوف کھاتے ہوں۔ اور اگلی عبارت کا تعلق دوسرے حصے سے ہے، سبق کا یہ حصہ یہیں پر مکمل ہوا۔ لیکن اگر اس کی رائے بعد میں بدل جائے کہ صلح کے اندر تو مسلمانوں کا نقصان ہے، تو امام اس معاہدے کو بھی توڑ سکتا ہے۔ تو جیسے امام اپنی امان کو توڑ سکتا ہے، اسی طرح دوسرے کی دی ہوئی امان کو بھی توڑ سکتا ہے۔ یہ معنی ہے۔ ”كَمَا إِذَا أَمَّنَ الْإِمَامُ بِنَفْسِهِ“ جیسے کہ امام خود امان دے، ”ثُمَّ رَأَى الْمَصْلَحَةَ فِي النَّبْذِ“ پھر وہ مصلحت سمجھے ”فِي النَّبْذِ“ اس امان کو توڑنے میں، ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق اس کو ہم نے بیان کر دیا۔ ”وَلَوْ حَاصَرَ الْإِمَامُ حِصْنًا“ اور اگر امام کسی قلعے کا محاصرہ کر لے، کسی قلعے کو گھیرے میں لے لے، ”وَأَمَّنَ وَاحِدٌ مِنَ الْجَيْشِ“ اور امان دے دے لشکر میں سے کوئی ایک آدمی، لشکر والوں میں سے کوئی ایک آدمی کفار کو امان دے دے، ”وَفِيهِ مَفْسَدَةٌ“ اس حال میں کہ اس امان کے اندر فساد ہو یعنی نقصان ہو مسلمانوں کا، ”يَنْبِذُ الْإِمَامُ الْأَمَانَ“ تو امام جو ہے اس امان کو پھینک دے گا، یعنی اس امان کو توڑ دے گا، ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی بھئی۔ ”وَيُؤَدِّبُهُ الْإِمَامُ“ اور امام جو ہے اس شخص کی تادیب کرے گا، وہ جو لشکر والا جس نے امان دیا تھا اس کی امام تادیب کرے گا یعنی اس کو کچھ سزا وغیرہ دے گا، ”لِافْتِيَاتِهِ عَلَى رَأْيِهِ“ امام کی رائے پر سبقت کرنے کی وجہ سے۔ بھئی اس شخص کو امام کی رائے کا انتظار کرنا چاہیے تھا کہ امام ان لوگوں کو امان دیتا ہے یا نہیں۔ تو اس نے امام کی رائے پر سبقت کر لی، لہٰذا اس کو امام تادیب کرے گا اس کو کچھ سزا دے گا بھئی۔ تو افتیات کا کیا معنی؟ سبقت کرنا، سبقت کرنا۔ اور نیز اسی طرح یاد رکھو افتیات کا معنی ہے کسی پر اپنی رائے تھوپنا، یعنی زبردستی کسی پر اپنی رائے تھوپ دینا اس کو بھی افتیات کہتے ہیں۔ تو یہ ترجمہ بھی آپ یہاں کر سکتے ہیں ”لِافْتِيَاتِهِ عَلَى رَأْيِهِ“ اس لیے کیونکہ اس نے امام کی رائے پر اپنی رائے تھوپ دی۔ تو کہتے ہیں: ”وَيُؤَدِّبُهُ الْإِمَامُ“ امام اس شخص کی تادیب کرے گا یعنی اس کو کچھ سزا دے گا ”لِافْتِيَاتِهِ عَلَى رَأْيِهِ“ اس وجہ سے کہ امام کی رائے پر اس نے سبقت کی ہے۔ ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِيهِ نَظَرٌ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب اس امان کے اندر مصلحت ہو، نظر کا یہاں کیا ترجمہ کریں؟ مصلحت۔ جب اس امان کے اندر مصلحت ہو یعنی مسلمانوں کا فائدہ ہو۔ ایک لشکر والے نے کفار کو امان دی ہے لیکن اس امان کے اندر مسلمانوں کا فائدہ ہے، پھر امام اس کو اسی طرح چلنے دے گا اور اس شخص کو سزا بھی نہیں دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِيهِ نَظَرٌ“ بخلاف اس کے کہ جب اس امان کے اندر مصلحت ہو، ”لِأَنَّهُ رُبَّمَا تَفُوتُ الْمَصْلَحَةُ بِالتَّأْخِيرِ“ اس لیے کیونکہ بسا اوقات مصلحت فوت ہو جاتی ہے تاخیر کی وجہ سے۔ مصلحت تاخیر کی وجہ سے فوت ہو جاتی ہے تو اس شخص نے جلدی سے اسی لیے امان دے دی، امام کی رائے کا انتظار نہیں کیا کیونکہ اگر یہ انتظار کرتا تو مصلحت فوت ہو جاتی۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ رُبَّمَا تَفُوتُ الْمَصْلَحَةُ بِالتَّأْخِيرِ“ اس لیے کیونکہ بسا اوقات مصلحت جو ہے وہ فوت ہو جاتی ہے تاخیر کی وجہ سے، ”فَكَانَ مَعْذُورًا“ تو یہ شخص عذر والا ہے۔ یا معذور کا ترجمہ کر لیں جس کا عذر قبول کیا جائے، ”فَكَانَ مَعْذُورًا“ تو اس شخص کے عذر کو قبول کیا جائے گا۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ ذِمِّيٍّ“ یہاں سے بتلا رہے ہیں کہ کون کون امان نہیں دے سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ ذِمِّيٍّ“ اور ذمی کا امان جائز نہیں ہے۔ ذمی کفار کو امان نہیں دے سکتا۔ وجہ یہ کہ یہ ذمی یہ بھی کافر ہے اور جن کو امان دے رہا ہے وہ بھی کافر ہیں، تو وہ اسی کے اعتقاد والے ہو گئے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ معلوم ہوا یہ ان کو فائدہ پہنچانا چاہتا ہے۔ ہونا تو کیا چاہیے؟ مسلمانوں کا فائدہ سوچنا چاہیے لیکن یہ ذمی ان کفار کا فائدہ سوچ رہا ہے، تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے اس لیے اس کا امان صحیح نہیں بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ ذِمِّيٍّ“ اور ذمی کا امان جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ مُتَّهَمٌ بِهِمْ“ اس لیے کیونکہ ذمی جو ہے ان کفار کے بارے میں متہم ہے، یعنی اس پر تہمت آتی ہے، دلوں میں بدگمانی آتی ہے۔ تہمت کا معنی بدگمانی کے بھی اور اسی طرح الزام کے بھی۔ ”لِأَنَّهُ مُتَّهَمٌ بِهِمْ“ اس لیے کیونکہ ان کفار کے بارے میں اس ذمی پر الزام آتا ہے کہ معلوم ہوا ان کو فائدہ دینا چاہتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ مُتَّهَمٌ بِهِمْ“ اس لیے کیونکہ یہ ذمی جو ہے ان کفار کے بارے میں متہم ہے یعنی اس پر الزام آتا ہے، ”وَكَذَا لَا وِلَايَةَ لَهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اور نیز اسی طرح اس ذمی کو مسلمانوں پر ولایت حاصل نہیں ہے۔ ذمی کو تو مسلمانوں پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے تو اگر اس کے امان کو تسلیم کر لیا جائے تو گویا آپ نے اس کو ولایت دے دی کہ اس کا امان تمام مسلمانوں پر نافذ ہوگا حالانکہ اس کو تو مسلمانوں پر ولایت حاصل نہیں ہے لہٰذا اس کا امان بھی صحیح نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَكَذَا لَا وِلَايَةَ لَهُ عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اور اسی طرح ذمی کو مسلمانوں پر کوئی ولایت حاصل نہیں ہے۔ قال صاحب القدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا أَسِيرٍ وَلَا تَاجِرٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ“، ”وَلَا أَسِيرٍ“ اس کا عطف ماقبل میں جو ذمی آیا تھا اس پر ہے بھئی۔ متن کی عبارت ذرا جوڑیں: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ ذِمِّيٍّ“ اور ذمی کا امان بھی جائز نہیں، ”وَلَا أَسِيرٍ وَلَا تَاجِرٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ“ اور اسی طرح کسی قیدی کا امان بھی صحیح نہیں، ”وَلَا تَاجِرٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ“ اور نہ ہی کسی ایسے تاجر کا امان صحیح ہے ”يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ“ جو ان کفار پر داخل ہوتا ہے، یعنی ان کے پاس آتا جاتا ہے بھئی۔ کفار کے پاس اگر کوئی مسلمان قیدی موجود ہے وہ ان کفار کو امان دے دیتا ہے، نہیں بھئی مسلمان قیدی ان کو امان نہیں دے سکتا۔ اسی طرح کوئی مسلمان تاجر ان کفار کے پاس آتا جاتا ہے تجارت کے لیے تو اس مسلمان تاجر کا امان بھی صحیح نہیں ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے ان کا امان کیوں نہیں صحیح؟ تو آپ کو بتلائیں گے صاحبِ ہدایہ بھئی، کہ یہ جو کفار کے پاس مسلمان قیدی ہے اس سے تو یہ خوف ہی نہیں کھاتے، تو یہ اگر امان بھی دے گا تو امان نے اپنے محل سے یعنی محلِ خوف سے ملاقات نہیں کی۔ میں نے بتلایا تھا امان دینے والا ایسا آدمی ہونا چاہیے جس سے کفار ڈرتے ہوں، تو لہٰذا جب یہ امان دے گا تو ان لوگوں کو امان دے رہا ہے جو اس سے ڈرتے ہیں تو امان محلِ خوف سے ملاقات کرے گا تو ان کو امان ہو جائے گا۔ لیکن جو قیدی خود ان کی قید میں موجود ہے اس سے تو وہ خوف نہیں کھاتے، لہٰذا یہ ان کو امان بھی دے تو امان نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی۔ اور اسی طرح مسلمان تاجر جو ہے وہ بھی ان کے پاس آتا جاتا ہے تو اس سے بھی یہ خوف نہیں کھاتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا أَسِيرٍ“ اور اسی طرح قیدی کا امان بھی جائز نہیں ہے، ”وَلَا تَاجِرٍ يَدْخُلُ عَلَيْهِمْ“ اور اسی طرح ایسے تاجر کا امان بھی جائز نہیں ہے جو ان پر داخل ہوتا ہے یعنی ان کے پاس آتا جاتا ہے، ”لِأَنَّهُمَا مَقْهُورَانِ تَحْتَ أَيْدِيهِمْ“ اس لیے کیونکہ وہ تو مقہور ہیں ان کے قبضے کے تحت۔ بھئی یہ مسلمان قیدی بھی ان کے قبضے میں ہے اور مسلمان تاجر بھی جب وہاں جاتا ہے تو گویا ان کے قبضے میں ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمَا مَقْهُورَانِ تَحْتَ أَيْدِيهِمْ“ اس لیے کیونکہ یہ دونوں جو ہیں یہ ان کے قبضے کے تحت مقہور ہیں، ”فَلَا يَخَافُونَهُمَا“ لہٰذا وہ حربی جو ہیں ان سے خوف نہیں کھاتے، وہ ان سے ڈرتے نہیں ہیں، ”وَالْأَمَانُ يَخْتَصُّ بِمَحَلِّ الْخَوْفِ“ اور امان تو خاص ہے محلِ خوف کے ساتھ۔ محلِ خوف ہوگا تو امان بھی صحیح ہوگا۔ اگر محلِ خوف ہی نہیں ہے وہ ڈرتے ہی نہیں ہیں ایک آدمی سے تو اس کا امان بھی صحیح نہیں ہے۔ ”وَلِأَنَّهُمَا يُجْبَرَانِ عَلَيْهِ“ اور اس لیے کہ یہ جو مسلمان قیدی یا مسلمان تاجر ہے ان پر وہ جبر کر سکتے ہیں، ان پر وہ ”وَلِأَنَّهُمَا يُجْبَرَانِ عَلَيْهِ“ اور اس لیے کیونکہ ان دونوں پر وہ جبر کر سکتے ہیں، ”فَيَعْرَى الْأَمَانُ عَنِ الْمَصْلَحَةِ“ تو یہ امان تو فائدے سے خالی ہوگا۔ اس میں تو مسلمانوں کا فائدہ نہیں ہوگا اگر انہوں نے جبراً امان لیا ہے ان سے۔ ”وَلِأَنَّهُمْ كُلَّمَا اشْتَدَّ الْأَمْرُ عَلَيْهِمْ“ اور نیز اس لیے کیونکہ جب بھی کفار پر معاملہ سخت ہوگا یعنی مسلمان ان کو گھیرے میں لیں گے، ”يَجِدُونَ أَسِيرًا أَوْ تَاجِرًا“ تو وہ کسی قیدی یا تاجر کو پا لیں گے، ”فَيَتَخَلَّصُونَ بِأَمَانِهِ“ تو یہ چھٹکارا پا لیں گے اس کے امان کے ذریعے، اس سختی سے وہ چھٹکارا پا لیں گے اس مسلمان تاجر یا قیدی کے امان کے ذریعے، ”فَلَا يَنْفَتِحُ لَنَا بَابُ الْفَتْحِ“ تو ہمارے لیے غلبے کا دروازہ نہیں کھلے گا، ہم ان پر غلبہ نہیں پا سکیں گے۔ اگر مسلمان قیدی یا تاجر کا امان بھی معتبر ہو پھر تو جب بھی مسلمان ان کو گھیرے میں لیں گے وہ کسی مسلمان قیدی یا تاجر کے ذریعے امان لے لیا کریں گے تو مسلمان ان پر غلبہ نہیں پا سکیں گے۔ تو یہ معنی ہے کہ ”فَيَتَخَلَّصُونَ بِأَمَانِهِ“ تو وہ اس کے امان کے ذریعے چھٹکارا حاصل کر لیں گے ”فَلَا يَنْفَتِحُ لَنَا بَابُ الْفَتْحِ“ تو ہمارے لیے فتح اور غلبے کا دروازہ نہیں کھلے گا۔ ”وَمَنْ أَسْلَمَ فِي دَارِ الْحَرْبِ“ اور وہ شخص جو دار الحرب کے اندر مسلمان ہوا ”وَلَمْ يُهَاجِرْ إِلَيْنَا“ اور اس نے ہماری طرف ہجرت نہیں کی وہیں پر رہتا ہے، ”لَا يَصِحُّ أَمَانُهُ“ اس کا امان بھی صحیح نہیں ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ امان خاص ہے محلِ خوف کے ساتھ اور جو مسلمان ہو کر وہیں پر رہ رہا ہے اس سے تو وہ حربی خوف نہیں کھاتے بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ الْعَبْدِ الْمَحْجُورِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ مَوْلَاهُ فِي الْقِتَالِ وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَصِحُّ“ بھئی اب وہ عبدِ محجور علیہ کا مسئلہ آگیا۔ میں نے آپ کو بتلا دیا کہ ایک وہ غلام ہے جس کو آقا نے لڑائی کی اجازت نہیں دی تو یہ عبدِ محجور علیہ ہے، اور ایک وہ غلام ہے جس کو اس کے آقا نے لڑائی کی اجازت دی ہے تو یہ عبدِ ماذون لہ فی القتال ہے بھئی۔ تو یاد رکھو یہ عبدِ ماذون لہ فی القتال یہ تو بالاتفاق ہمارے ائمہ کے نزدیک امان دے سکتا ہے کیونکہ یہ لشکر والوں میں سے ہے اور لشکر والوں سے دشمن خوف کھاتا ہے بھئی۔ لیکن یہ عبدِ محجور جو ہے اس کے بارے میں امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ عبدِ محجور بھی امان دے سکتا ہے اس کا امان بھی معتبر ہے، جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں نہیں عبدِ محجور امان نہیں دے سکتا اس کا امان معتبر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ أَمَانُ الْعَبْدِ الْمَحْجُورِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور عبدِ محجور کا امان جائز نہیں ہے امام صاحب کے نزدیک ”إِلَّا أَنْ يَأْذَنَ لَهُ مَوْلَاهُ فِي الْقِتَالِ“ مگر یہ کہ اس غلام کو اس کا آقا اجازت دے دے لڑائی کی، ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى يَصِحُّ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کا امان بھی صحیح ہے، اس عبدِ محجور کا امان بھی صحیح ہے۔ ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے، وہ بھی فرماتے ہیں کہ عبدِ محجور امان دے سکتا ہے۔ جبکہ یاد رکھو امام ابو یوسف رحمہ اللہ ان کے بارے میں دو روایتیں ہیں۔ ایک روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ امام صاحب کے ساتھ ہیں اور دوسری روایت سے پتہ چلتا ہے کہ وہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَأَبُو يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى مَعَهُ فِي رِوَايَةٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام محمد رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں ”فِي رِوَايَةٍ“ ایک روایت میں، ”وَمَعَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ فِي رِوَايَةٍ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے ساتھ ہیں ”فِي رِوَايَةٍ“ ایک روایت میں۔ آگے دیکھیے: ”لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل آگئی کہ عبدِ محجور امان دے سکتا ہے۔ کہتے ہیں: ”لِمُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ“ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل جو ہے ”قَوْلُهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ“ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمانِ مبارک ہے کہ آپ نے فرمایا: ”أَمَانُ الْعَبْدِ أَمَانٌ“ غلام کا امان بھی امان ہے، غلام کا امان بھی امان ہے، معلوم ہوا غلام امان دے سکتا ہے۔ اور یہاں غلام مطلق ذکر ہے اس میں ماذون لہ کی کوئی قید موجود نہیں۔ تو کہتے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل حضور علیہ السلام کا یہ قول ہے ”أَمَانُ الْعَبْدِ أَمَانٌ“ کہ غلام کا امان بھی امان ہے، ”رَوَاهُ أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ“ اس کو روایت کیا ہے حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے۔ ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ بھئی میری کتاب میں ہے: ”وَلِأَنَّهُ مُؤَمَّنٌ مُمْتَنِعٌ“، مؤمَّن بھئی، مؤمَّن کا معنی ہے امان دینے والا اور مومن کا معنی ہے ایمان والا۔ تو یہ مؤمَّن یہاں صحیح نہیں ہے بھئی، مؤمِن لفظ ہونا چاہیے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ امام محمد رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے بھئی۔ اب یہ دوسری عقلی دلیل آگئی امام محمد رحمہ اللہ کی طرف سے۔ پہلی نقلی دلیل تھی حدیث کو ذکر کیا اور یہ دوسری عقلی دلیل ہے۔ وہ فرماتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ اور اس لیے کیونکہ یہ عبدِ محجور جو ہے یہ بھی مومن ہے مسلمان ہے، ”مُمْتَنِعٌ“ اور قوت والا ہے۔ یہ مسلمان ہے اور قوت والا ہے۔ ممتنع بھئی، امْتَنَعَ يَمْتَنِعُ اِمْتِنَاع کا معنی ہے بچنا اور رکنا۔ اور یہ لفظ پیچھے بھی گزرا تھا جہاں ڈاکوؤں کا بیان کیا تھا صاحبِ ہدایہ نے، کہ وہ لوگ جو قطعِ طریق کریں وہ ممتنع ہونے چاہییں یعنی جو اپنا بچاؤ کر سکیں یعنی مقابلہ کر سکیں، کوئی بھی مقابلے میں آئے تو اس کا مقابلہ کر سکیں یعنی وہ قوت والے ہوں۔ تو یہاں بھی ممتنع کا معنی ہے قوت والے۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ اور اس لیے کیونکہ یہ عبدِ محجور بھی مومن ہے اور قوت والا ہے، بھئی دو شرطیں ہیں امان دینے کے لیے امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امان دینے والا مومن ہونا چاہیے، ذمی نہیں۔ اور نیز وہ قوت والا ہونا چاہیے، کمزور نہیں، کیونکہ قوت والا ہوگا تو اس کے امان دینے سے ان کا خوف دور ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ اور اس لیے کیونکہ یہ عبدِ محجور جو ہے یہ بھی مومن ہے اور قوت والا ہے، ”فَيَصِحُّ أَمَانُهُ“ تو اس کا امان بھی صحیح ہے، ”اعْتِبَارًا بِالْمَأْذُونِ لَهُ فِي الْقِتَالِ وَبِالْمُؤَبَّدِ مِنَ الْأَمَانِ“ امام محمد رحمہ اللہ اس عبدِ محجور کو قیاس کرتے ہیں عبدِ ماذون پر۔ وہ عبدِ ماذون جس کو آقا نے لڑنے کی اجازت دی ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے عبدِ ماذون جو ہے وہ بھی ایمان والا ہے اور وہ بھی قوت والا ہے تو اس کا امان صحیح ہے، تو اسی طرح یہ عبدِ محجور بھی ایمان والا بھی ہے اور قوت والا بھی ہے اس کا امان بھی صحیح ہے۔ اور نیز امام محمد رحمہ اللہ اس عبدِ محجور کے امان کو قیاس کرتے ہیں امانِ مؤبد پر۔ کس پر؟ امانِ مؤبد۔ یاد رکھو امان دو قسم پر ہے: ایک امانِ موقت ہے جو کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے اور ایک امانِ مؤبد ہے جو ہمیشہ کے لیے ہوتا ہے اور جو ذمیوں کو حاصل ہوتا ہے۔ ذمیوں کو کس قسم کا امان ہے؟ امانِ مؤبد ہے، ہمیشہ کے لیے ہے، کیونکہ وہ مملکتِ اسلامیہ کے اندر رہتے ہیں اور مملکتِ اسلامیہ نے ان کو امان دیا ہے ان کی ذمہ داری لی ہے بھئی۔ تو یہ جو ذمیوں کو امان ملا ہوا ہے مملکتِ اسلامیہ میں یہ امانِ مؤبد ہے ہمیشہ کے لیے۔ اور یہ جو جنگ کے اندر بعض لوگوں کو امان دیا جاتا ہے یہ امانِ موقت ہے کچھ وقت کے لیے ہوتا ہے پھر وہ وقت گزر جائے تو امان ختم ہو جاتا ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ جو عبدِ محجور ہے بالاتفاق ہمارے تمام ائمہ کے نزدیک یہ امانِ مؤبد دے سکتا ہے۔ بھئی ایک حربی ہے ایک حربی ہے وہ دار الاسلام میں آ کر رہنا چاہتا ہے ہمیشہ کے لیے ذمی بن کر رہنا چاہتا ہے، تو ہمارے تینوں ائمہ کے نزدیک کوئی غلام بھی اس کو امان دے دے تو اس کا ذمی بننا صحیح ہے، یہ ذمی بن جائے گا۔ یہ ذمی بن جائے گا اور وہ امان دینے والا غلام چاہے عبدِ محجور ہو اور چاہے عبدِ ماذون ہو۔ تو معلوم ہوا عبدِ محجور کا امانِ مؤبد دینا بالاتفاق صحیح ہے۔ جب عبدِ محجور کا امانِ مؤبد صحیح ہے تو امانِ موقت تو بطریقِ اولیٰ صحیح ہونا چاہیے جو کچھ مدت کے لیے ہے۔ تو امام محمد رحمہ اللہ اس عبدِ محجور کو قیاس کرتے ہیں عبدِ ماذون پر، عبدِ ماذون جو ہے وہ امان دے سکتا ہے کیونکہ وہ مومن بھی ہے اور قوت والا بھی ہے تو یہ عبدِ محجور بھی امان دے سکتا ہے کیونکہ یہ بھی مومن بھی ہے اور قوت والا بھی ہے بھئی۔ اور نیز وہ اس امانِ موقت کو قیاس کرتے ہیں امانِ مؤبد پر، کہ جیسے عبدِ محجور امانِ مؤبد دے سکتا ہے بالاتفاق تو وہ امانِ موقت بھی دے سکتا ہے۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ اور اس لیے کیونکہ عبدِ محجور جو ہے وہ مومن ہے اور قوت والا ہے، ”فَيَصِحُّ أَمَانُهُ“ تو اس کا امان صحیح ہے، ”اعْتِبَارًا بِالْمَأْذُونِ لَهُ فِي الْقِتَالِ“ قیاس کرتے ہوئے عبدِ ماذون لہ فی القتال پر، ”وَبِالْمُؤَبَّدِ مِنَ الْأَمَانِ“ اور قیاس کرتے ہوئے مؤبد امان پر۔ ”فَالْإِيمَانُ“ دیکھو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ یہ جو پیچھے آیا ”وَلِأَنَّهُ مُؤْمِنٌ مُمْتَنِعٌ“ کہ یہ لفظ مؤمَّن نہیں ہے بلکہ مومن ہے، دیکھو خود صاحبِ ہدایہ کے کلام سے بھی معلوم ہو رہا ہے۔ کہتے ہیں: ”فَالْإِيمَانُ“ یہ جو ہم نے ایمان کی شرط لگائی، اور آگے فرمائیں گے ”وَالِامْتِنَاعُ“ اور یہ جو ہم نے ممتنع یعنی قوت والا ہونے کی شرط لگائی اس کی کیا وجہ ہے؟ اب وہ بتائیں گے۔ کہتے ہیں: ”فَالْإِيمَانُ لِكَوْنِهِ شَرْطًا لِلْعِبَادَةِ“ تو ایمان جو ہے وہ عبادت کے لیے شرط ہونے کی وجہ سے ہے کہ ہم نے بھی ایمان کی شرط لگائی کیونکہ عبادت کے لیے ایمان کا ہونا شرط ہے، ”وَالْجِهَادُ عِبَادَةٌ“ اور جہاد بھی عبادت ہے لہٰذا امان دینے والا مومن ہونا چاہیے۔ ”وَالِامْتِنَاعُ“ اور امتناع جو ہے، اور امتناع اس لیے ”لِتَحَقُّقِ إِزَالَةِ الْخَوْفِ بِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ذریعے خوف کا دور کرنا پایا جائے گا۔ جب امان دینے والا قوت والا ہوگا تو اس کے امان دینے سے دشمن کا خوف ختم ہو جائے گا، تو لہٰذا مومن ہونا بھی ضروری اور ممتنع ہونا بھی ضروری ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَالِامْتِنَاعُ لِتَحَقُّقِ إِزَالَةِ الْخَوْفِ بِهِ“ اور امتناع جو ہے وہ اس لیے کیونکہ اس کی وجہ سے خوف کا دور کرنا پایا جائے گا۔ ”وَالتَّأْثِيرُ إِعْزَازُ الدِّينِ وَإِقَامَةُ الْمَصْلَحَةِ فِي حَقِّ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ علتِ جامعہ ذکر کر رہے ہیں امام محمد رحمہ اللہ کے قیاس کی۔ امام محمد رحمہ اللہ نے عبدِ محجور کو قیاس کیا تھا عبدِ ماذون لہ پر اور انہوں نے امانِ موقت کو قیاس کیا تھا امانِ مؤبد پر، تو اس کی علتِ جامعہ کیا ہے؟ تو وہ بیان کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَالتَّأْثِيرُ“ اور مؤثر ہونا ”إِعْزَازُ الدِّينِ“، میں نے بتلایا تھا اعزاز کا معنی ہے قوت دینا، طاقتور بنانا، ”إِعْزَازُ الدِّينِ“ دین کو قوت دینا، ”وَإِقَامَةُ الْمَصْلَحَةِ“ اور مصلحت قائم کرنا ”فِي حَقِّ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ مسلمانوں کی جماعت کے حق میں۔ یعنی جب یہ امان دیں گے تو دشمن کا شر دفع ہو جائے گا، دشمن کا شر دفع ہو جائے گا تو دین کو قوت حاصل ہو جائے گی اور نیز مسلمانوں کو فائدہ پہنچے گا کیونکہ دشمن کا شر دفع ہو گیا۔ تو معلوم ہوا کہ جب عبدِ ماذون لہ امان دے گا تو اس کی وجہ سے جس طرح دین کو قوت حاصل ہوتی ہے اور مسلمانوں کو فائدہ ہوتا ہے کہ دشمن کا شر دفع ہو گیا، اسی طرح عبدِ محجور بھی جب امان دے گا تو دین کو قوت حاصل ہوگی اور دشمن کا شر دفع ہو جائے گا۔ اور نیز جس طرح امانِ مؤبد کے اندر، امانِ مؤبد کے اندر وہ ذمی جب دار الاسلام کے اندر آ گیا تو اسلام کو قوت حاصل ہو گئی، وہ پہلے حربی تھا اب ذمی بن گیا اس کا شر ختم ہو گیا۔ تو جس طرح امانِ مؤبد کے اندر یعنی ذمی بنانے کے اندر دشمن کا شر دفع ہو جاتا ہے تو دین کو قوت حاصل ہو جاتی ہے اور تمام مسلمانوں کو فائدہ پہنچتا ہے، اسی طرح امانِ موقت کے اندر بھی دشمن کا شر دفع ہوگا اور دین کو قوت حاصل ہوگی اور تمام مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے علتِ جامعہ۔ تو کہتے ہیں: ”وَالتَّأْثِيرُ“ اور وہ چیز جو مؤثر ہے یعنی اثر ڈالنے والی ہے، ”إِعْزَازُ الدِّينِ“ وہ دین کو قوت دینا ہے ”وَإِقَامَةُ الْمَصْلَحَةِ فِي حَقِّ جَمَاعَةِ الْمُسْلِمِينَ“ اور مسلمانوں کی جماعت کے حق میں مصلحت قائم کرنا ہے یعنی ان کو فائدہ پہنچانا ہے بھئی۔ ”إِذِ الْكَلَامُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ کلام اسی جیسی حالت کے بارے میں ہو رہا ہے۔ بات یہ چل رہی ہے کہ یہ امان ایسا ہونا چاہیے جس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو، جس میں مسلمانوں کا نقصان ہو اس کی بات یہاں نہیں ہو رہی۔ وہ تو اگر کوئی مسلمان وہ امان دے گا بھی تو امام اس کو رد کر دے گا اور دشمن کو اطلاع دے دے گا کہ ہماری طرف سے تمہیں کوئی امان نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِذِ الْكَلَامُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ“ اس لیے کیونکہ کلام اسی جیسی حالت کے بارے میں ہے، بھئی پیچھے آیا نا کہ علتِ جامعہ کیا ہے، آپ نے عبدِ محجور کو قیاس کیا عبدِ ماذون لہ پر اور آپ نے امانِ موقت کو قیاس کیا امانِ مؤبد پر، علتِ جامعہ کیا ہے کہ اس سے دین کو قوت حاصل ہوگی اور مسلمانوں کو فائدہ ہوگا۔ تو وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ بھئی مسلمانوں کو فائدہ ہوگا اس لیے کیونکہ یہ کلام اسی قسم کے امان کے بارے میں چل رہا ہے جس میں مسلمانوں کا فائدہ ہو بھئی۔ یہ معنی ہے: ”إِذِ الْكَلَامُ فِي مِثْلِ هَذِهِ الْحَالَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ کلام اسی جیسی حالت کے بارے میں ہے۔ ”وَإِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ امام محمد رحمہ اللہ کے دلائل چل رہے ہیں، امام محمد رحمہ اللہ پر اعتراض ہوتا ہے: اگر عبدِ محجور کا امان صحیح ہے تو پھر تو اس کو لڑائی کی بھی اجازت ہونی چاہیے حالانکہ اس کو لڑائی کی اجازت نہیں ہے جب تک اس کا آقا اسے اجازت نہ دے دے۔ تو اس کی وجہ ذکر کرنے لگے ہیں۔ کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“، مسابقت کہتے ہیں مقابلہ کرنا، مراد ہے جہاد اور لڑائی بھئی۔ ”وَإِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ اور یہ عبدِ محجور جو ہے یہ مقابلے کا مالک نہیں یعنی کفار کا مقابلہ خود نہیں کر سکتا بغیر آقا کی اجازت کے، ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْطِيلِ مَنَافِعِ الْمَوْلَى“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر آقا کے منافع کو معطل کرنا ہے۔ یہ غلام اگر جہاد پر جائے گا تو ادھر آقا کے منافع معطل ہو جائیں گے، آقا کی خدمت وغیرہ کے سارے کام رہ جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ اور یہ عبدِ محجور جو ہے یہ لڑائی کا مالک نہیں ہے ”لِمَا فِيهِ مِنْ تَعْطِيلِ مَنَافِعِ الْمَوْلَى“ اس وجہ سے کہ اس کے اندر آقا کے منافع کو معطل کرنا ہے، ”وَلَا تَعْطِيلَ فِي مُجَرَّدِ الْقَوْلِ“ اور صرف قول کے اندر تو تعطیل نہیں، یعنی اگر عبدِ محجور امان دے گا تو امان دینے کے اندر تو آقا کے منافع معطل نہیں ہوں گے، امان تو صرف زبان سے دے دے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا تَعْطِيلَ فِي مُجَرَّدِ الْقَوْلِ“ اور صرف قول کے اندر تو تعطیل نہیں ہے یعنی آقا کے منافع کو معطل کرنا نہیں ہے تو لہٰذا عبدِ محجور کو امان دینے کی اجازت ہوگی۔ آگے دیکھیے: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ مَحْجُورٌ عَنِ الْقِتَالِ“ اب امام صاحب کی دلیل آگئی۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ محجور عن القتال ہے، یہ لڑائی نہیں کر سکتا اس پر پابندی ہے تو لہٰذا یہ امان بھی نہیں دے سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام صاحب کی دلیل یہ ہے ”أَنَّهُ مَحْجُورٌ عَنِ الْقِتَالِ“ کہ یہ محجور عن القتال ہے یعنی اس کو قتال سے روکا گیا ہے، ”فَلَا يَصِحُّ أَمَانُهُ“ لہٰذا اس کا امان دینا صحیح نہیں ہے، ”لِأَنَّهُمْ لَا يَخَافُونَهُ“ اس لیے کیونکہ کفار اس سے ڈرتے نہیں ہیں۔ کیوں نہیں ڈرتے؟ کیونکہ یہ اہلِ لشکر نہیں ہے، یہ لشکر میں بغیر اجازت کے جا ہی نہیں سکتا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُمْ لَا يَخَافُونَهُ“ اس لیے کیونکہ کفار اس سے ڈرتے نہیں ہیں، ”فَلَمْ يُلَاقِ الْأَمَانُ مَحَلَّهُ“ لہٰذا امان نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی۔ اس نے تو امان دیا لیکن یہ امان تو تب صحیح ہوتا اگر وہ کفار اس سے ڈرتے، وہ محلِ خوف ہوتے۔ لیکن وہ تو محلِ خوف ہی نہیں ہیں تو امان نے محلِ خوف سے ملاقات نہیں کی لہٰذا اس امان کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَمْ يُلَاقِ الْأَمَانُ مَحَلَّهُ“ تو لہٰذا اس کے امان نے اپنے محل سے ملاقات نہیں کی، ”بِخِلَافِ الْمَأْذُونِ لَهُ فِي الْقِتَالِ“ بخلاف وہ غلام جو ماذون لہ فی القتال ہے، ”لِأَنَّ الْخَوْفَ مِنْهُ مُتَحَقِّقٌ“ اس لیے کیونکہ اس کی طرف سے خوف جو ہے وہ تو پایا جا رہا ہے، وہ تو اہلِ لشکر ہے اس سے تو کفار خوف کھاتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ الْخَوْفَ مِنْهُ مُتَحَقِّقٌ“ اس لیے کیونکہ اس سے خوف جو ہے وہ ثابت ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ إِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ یہاں سے دوسری وجہ ذکر کر رہے ہیں کہ عبدِ ماذون لہ جو ہے وہ لڑائی کر سکتا ہے لہٰذا وہ امان بھی دے سکتا ہے، لیکن عبدِ محجور لہ لڑائی نہیں کر سکتا تو وہ امان بھی نہیں دے سکتا کیونکہ امان بھی ایک قسم کی لڑائی ہے۔ جیسے لڑائی کی وجہ سے دشمن کا شر دفع ہو جاتا ہے اسی طرح امان کی وجہ سے بھی دشمن کا شر دفع ہو جاتا ہے، معلوم ہوا امان بھی ایک قسم کی لڑائی ہے اور لڑائی کی تو عبدِ محجور کو اجازت نہیں لہٰذا اس کو امان کی بھی اجازت نہیں ہوگی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ إِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ اور نیز اس لیے کیونکہ عبدِ محجور جو ہے وہ لڑائی کا مالک نہیں ہے، ”لِمَا أَنَّهُ تَصَرُّفٌ فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ یہ آقا کے حق کے اندر تصرف ہے، اگر عبدِ محجور لڑائی کرے گا یہ تو آقا کے حق میں تصرف کر رہا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”لِمَا أَنَّهُ تَصَرُّفٌ فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ یہ لڑائی جو ہے یہ تو آقا کے حق میں تصرف ہے، ”عَلَى وَجْهٍ“ ایسے طریقے پر ”لَا يَعْرَى عَنِ احْتِمَالِ الضَّرَرِ فِي حَقِّهِ“ کہ یہ خالی نہیں ہے نقصان کے احتمال سے آقا کے حق میں۔ یہ عبدِ محجور اگر لڑائی کرے گا تو یہ تو آقا کے حق میں تصرف کر رہا ہے اور یہ تصرف بھی ایسے طریقے پر کر رہا ہے جس میں نقصان بھی ہو سکتا ہے، اگر اس کو کسی نے قتل کر دیا تو آقا کا مال ضائع ہو جائے گا بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ إِنَّمَا لَا يَمْلِكُ الْمُسَابَقَةَ“ اور اس لیے کیونکہ عبدِ محجور لڑائی کا مالک نہیں ہے ”لِمَا أَنَّهُ تَصَرُّفٌ فِي حَقِّ الْمَوْلَى“ اس لیے کیونکہ یہ آقا کے حق میں تصرف ہے ”عَلَى وَجْهٍ“ ایسے طریقے پر ”لَا يَعْرَى عَنِ احْتِمَالِ الضَّرَرِ فِي حَقِّهِ“ کہ یہ آقا کے حق میں نقصان کے احتمال سے خالی نہیں ہے اس میں نقصان ہو سکتا ہے، ”وَالْأَمَانُ نَوْعُ قِتَالٍ“ اور امان دینا یہ بھی ایک قسم کی لڑائی ہے کہ اس کی وجہ سے بھی دشمن کا شر دفع ہوگا، ”وَفِيهِ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور امان دینے کے اندر بھی وہ چیز ہے جو ہم نے ذکر کر دی۔ جیسے عبدِ محجور کی لڑائی کے اندر آقا کو نقصان پہنچ سکتا ہے اسی طرح یہ عبدِ محجور کے امان دینے میں بھی نقصان کا احتمال ہے۔ لیکن کس کا نقصان؟ عام مسلمانوں کا نقصان۔ اگر یہ امان دے گا تو اس کو تو جنگ کا تجربہ ہی نہیں ہے لہٰذا یقیناً یہ غلطی کرے گا امان دینے میں، اور جب غلطی کرے گا تو عام مسلمانوں کو نقصان ہوگا۔ تو جب آقا کے نقصان کی وجہ سے اس کو لڑائی کی اجازت نہیں ہے تو تمام مسلمانوں کے نقصان کی وجہ سے اس کو امان کی اجازت بھی نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: ”وَفِيهِ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور اس کے امان دینے میں اس نقصان کا احتمال ہے جو ہم نے ذکر کر دیا، ”لِأَنَّهُ قَدْ يُخْطِئُ“ اس لیے کیونکہ یہ غلطی کر سکتا ہے، یہ عبدِ محجور امان دینے میں غلطی کر سکتا ہے، ”بَلْ هُوَ الظَّاهِرُ“ بلکہ یہی ظاہر ہے کہ یہ غلطی ہی کرے گا، ”وَفِيهِ سَدُّ بَابِ الِاسْتِغْنَامِ“ اور اس کے اندر غنیمتیں حاصل کرنے کے دروازے کو بند کرنا ہے۔ اس کے اندر تمام مسلمانوں کا نقصان ہے بھئی، کیا نقصان ہے تمام مسلمانوں کا؟ کہ اس کی وجہ سے غنیمتیں حاصل کرنے کا دروازہ بند ہو جائے گا۔ جب اس نے امان دے دیا مسلمان لڑائی نہیں کر سکتے، غنیمتیں حاصل نہیں کر سکتے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِيهِ سَدُّ بَابِ الِاسْتِغْنَامِ“ اور اس کے اندر غنیمتیں طلب کرنے کا دروازہ بند ہو جائے گا لہٰذا اس عبدِ محجور کو امان دینے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ”بِخِلَافِ الْمَأْذُونِ“ بخلاف عبدِ ماذون کے ”لِأَنَّهُ رَضِيَ بِهِ“ کیونکہ اس کا آقا تو خود اس امان پر راضی ہے۔ ”لِأَنَّهُ“ ہا ضمیر کس کو راجع ہے؟ اس عبدِ ماذون لہ کے آقا کو۔ بھئی عبدِ ماذون لہ وہ امان دے سکتا ہے کیونکہ اس کا آقا اس امان دینے پر راضی ہے۔ توجہ ہے؟ یا یوں کہیں کیونکہ اس کا آقا اس ضرر پر راضی ہے، جب آقا نے خود اس کو لڑائی کی اجازت دے دی حالانکہ اس لڑائی میں تو آقا کا نقصان ہو سکتا تھا لیکن آقا خود اپنے نقصان پر راضی ہے۔ یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ الْمَأْذُونِ“ بخلاف عبدِ ماذون کے ”لِأَنَّهُ رَضِيَ بِهِ“ اس لیے کیونکہ اس کا آقا تو خود اس نقصان پر راضی ہے، ”وَالْخَطَأُ نَادِرٌ“ اور اس کی طرف سے خطا نادر ہوگی بھئی۔ عبدِ محجور کو تو لڑائی کا تجربہ نہیں لہٰذا وہ امان دینے میں غلطی کرے گا لیکن یہ عبدِ ماذون لہ اس کو تو لڑائی کا تجربہ ہو چکا ہے لہٰذا اس کی طرف سے غلطی ہو ایسا نادر ہی ہوگا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْخَطَأُ نَادِرٌ“ اور اس کی خطا جو ہے وہ نادر ہوگی ”لِمُبَاشَرَتِهِ الْقِتَالَ“ اس وجہ سے کہ یہ لڑائی کو سرانجام دے چکا ہے، ”وَبِخِلَافِ الْمُؤَبَّدِ“ اور بخلاف امانِ مؤبد کے۔ بھئی امام محمد رحمہ اللہ نے عبدِ محجور کو قیاس کیا تھا عبدِ ماذون لہ پر اور امانِ موقت کو قیاس کیا تھا امانِ مؤبد پر۔ تو پہلے قیاس کا تو جواب دے دیا کہ آپ عبدِ محجور کو عبدِ ماذون لہ پر قیاس نہیں کر سکتے اس لیے کیونکہ عبدِ ماذون لہ جو ہے اس سے دشمن ڈرتا ہے جبکہ عبدِ محجور جو ہے وہ تو لشکر کا حصہ نہیں اس سے دشمن ڈرتا نہیں ہے، اور نیز اس لیے کیونکہ عبدِ محجور جو ہے اس کو لڑائی کی اجازت نہیں تو اس کو امان کی بھی اجازت نہیں ہوگی اور نیز اگر اس کو اجازت ہوگی تو اس میں تو مسلمانوں کا نقصان ہے، جبکہ عبدِ ماذون جو ہے اس کو جب لڑائی کی اجازت ہے اس کا آقا اس نقصان پر راضی ہے تو اس کو امان کی بھی اجازت ہوگی اور نیز اس سے غلطی ہونے کا احتمال بھی کم ہے کیونکہ وہ خود لڑائی میں حصہ لے چکا ہے بھئی۔ تو لہٰذا آپ کا عبدِ محجور کو عبدِ ماذون پر قیاس کرنا صحیح نہیں کیونکہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ اور دوسرا امام محمد رحمہ اللہ نے امانِ موقت کو قیاس کیا تھا امانِ مؤبد پر، اب اس کا جواب دے رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ الْمُؤَبَّدِ“ اور بخلاف امانِ مؤبد کے ”لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنِ الْإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ وہ تو اسلام کا نائب ہے۔ امانِ مؤبد تو اسلام کا نائب ہے، بھئی کیا معنی اسلام کا نائب ہے؟ کہتے ہیں بھئی جس طرح اسلام کوئی لے آئے تو اس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح اگر کوئی ذمی بن جائے تو اس کے ساتھ بھی لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔ معلوم ہوا یہ امانِ مؤبد جو ہے یعنی ذمی بننا یہ اسلام کا خلیفہ ہے، اسلام کا نائب ہے۔ جیسے اسلام سے لڑائی ختم ہوتی ہے ذمی بننے سے بھی اس آدمی کے ساتھ لڑائی ختم ہو جاتی ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَبِخِلَافِ الْمُؤَبَّدِ“ اور بخلاف امانِ مؤبد کے ”لِأَنَّهُ خَلَفٌ عَنِ الْإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ امانِ مؤبد اسلام کا نائب ہے، ”فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الدَّعْوَةِ إِلَيْهِ“ تو یہ اس کو اسلام کی دعوت دینے کے درجے میں ہے۔ بھئی یاد رکھو، دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا یہ کام ہر مسلمان کر سکتا ہے حتیٰ کہ عبدِ محجور کو بھی ولایت حاصل ہے وہ بھی دوسروں کو اسلام کی دعوت دے سکتا ہے۔ تو لہٰذا یہاں پر جو عبدِ محجور کسی کو امانِ مؤبد دیتا ہے اس کو ذمی بناتا ہے، تو یہ ذمی بنانا یہ تو اسلام کا نائب ہے اس کی وجہ سے لڑائی ختم ہو جائے گی، تو یہ ذمی بنانا اسلام کی دعوت کے درجے میں ہے اور اسلام کی دعوت جو ہے اس کی ولایت تو عبدِ محجور کو حاصل ہوتی ہے تو ذمی بنانے کی ولایت بھی اسے حاصل ہوگی بھئی۔ آپ کے ذہن میں سوال پیدا ہوگا کہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ اسلام کی دعوت دینے کے درجے میں کس طرح ہے؟ بھئی دیکھیے، جس طرح اسلام کی دعوت دینے میں کسی کو اسلام کی دعوت دی جائے تو اس کے اندر دعوت دینے والے کا بھی فائدہ ہے اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کا بھی فائدہ ہے۔ جو دعوت دے رہا ہے اس کو بھی فائدہ ہے اخروی فائدہ ہے، اور جس کو دعوت دی جا رہی ہے اس کا بھی فائدہ ہے اگر وہ مسلمان ہو جاتا ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اسی طرح ذمی بنانے کے اندر بھی دونوں کا فائدہ ہے، اس لیے کیونکہ جب وہ حربی ذمی بن جائے گا تو اس کا شر دفع ہو جائے گا۔ اب وہ مسلمانوں کے ساتھ لڑائی کرنے والا نہیں، تو مسلمانوں کو بھی فائدہ ہوا اور خود ذمی کو بھی فائدہ ہو گیا کہ اب اس کے ساتھ بھی کوئی لڑائی نہیں کرے گا، اسے قتل نہیں کیا جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو جس طرح دعوت کے اندر دونوں کا فائدہ ہوتا ہے اسی طرح ذمی بنانے میں بھی دونوں کا فائدہ ہے تو معلوم ہوا یہ ذمی بنانا کس کی طرح ہے؟ دعوت کی طرح ہے، اور دوسروں کو اسلام کی دعوت دینا عبدِ محجور کو اس کی ولایت تو حاصل ہے لہٰذا اس کو امانِ مؤبد دینے کی ولایت بھی حاصل ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”فَهُوَ بِمَنْزِلَةِ الدَّعْوَةِ إِلَيْهِ“ تو یہ امانِ مؤبد جو ہے یہ اس حربی کو دعوت دینے کے درجے میں ہے اور اس کی تو عبدِ محجور کو اجازت ہے تو امانِ مؤبد کی بھی اسے اجازت ہوگی۔ ”وَلِأَنَّهُ مُقَابَلٌ بِالْجِزْيَةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ جزیہ کے مقابل ہے۔ بھئی قَابَلَ يُقَابِلُ مُقَابَلَة کا معنی ہے ایک چیز کا دوسری چیز کے ساتھ مقابلہ کرنا، ایک چیز کو دوسری چیز کے ساتھ ملانا یعنی اس کے ساتھ مقابلہ کرنا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مُقَابَلٌ بِالْجِزْيَةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو امانِ مؤبد ہے یہ جزیہ کے مقابل ہے یعنی اس کی وجہ سے مسلمانوں کو نفع ہوگا کہ جزیہ حاصل ہوگا۔ جزیہ حاصل ہوگا، تو اس میں مسلمانوں کا نفع ہے بھئی۔ لہٰذا اس امان کی اجازت عبدِ محجور کو ہوگی۔ جبکہ امانِ موقت کے اندر تو مسلمانوں کا ضرر ہے، لہٰذا اس کی اجازت نہیں ہوگی۔ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّهُ مُقَابَلٌ بِالْجِزْيَةِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ امانِ مؤبد جو ہے یہ تو جزیہ کے مقابل ہے۔ ”وَلِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ“ یہ تیسرا فرق بیان کر رہے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ عِنْدَ مَسْأَلَتِهِمْ ذٰلِكَ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جو امانِ مؤبد ہے، ”مَفْرُوضٌ“ اس کو تو فرض کیا گیا ہے ”عِنْدَ مَسْأَلَتِهِمْ ذٰلِكَ“ جب کفار اس کو مانگیں، جب کفار امانِ مؤبد کا سوال کریں یعنی وہ یہاں دار الاسلام میں آ کر ذمی بن کر رہنا چاہتے ہیں تو امام پر اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو امان دیں، کیونکہ اس کی وجہ سے دشمن کا شر دفع ہوگا، اب یہ حربی نہیں رہے گا، اب یہ ہم سے لڑنے والا نہیں رہے گا، اس کا شر دور ہو جائے گا، اور نیز اس کے ذریعے مال بھی حاصل ہوگا، یہ جزیہ ادا کرے گا سالانہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ مَفْرُوضٌ عِنْدَ مَسْأَلَتِهِمْ ذٰلِكَ“ اور اس لیے کیونکہ یہ امانِ مؤبد جو ہے اس کو تو فرض کیا گیا ہے جب کافر اس کا سوال کریں، ”وَإِسْقَاطُ الْفَرْضِ نَفْعٌ“ اور فرض کو ساقط کرنا نفع ہے۔ فرض کا ذمے سے ساقط ہو جانا یہ بھی تو نفع ہے بھئی، فائدہ ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آگئی؟ کہ فرض ادا ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِسْقَاطُ الْفَرْضِ نَفْعٌ“ اور فرض کو ساقط کرنا یہ نفع ہے، ”فَافْتَرَقَا“ تو دونوں جدا ہو گئے، یعنی عبدِ محجور عبدِ ماذون لہٗ سے جدا ہو گیا اور امانِ موقت امانِ مؤبد سے جدا ہو گیا، یعنی دونوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ تو ایک جیسی چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس کیا جاتا ہے، دو مختلف چیزوں کو ایک دوسرے پر قیاس نہیں کیا جاتا بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”فَافْتَرَقَا“ یہ دونوں جدا ہو گئے بھئی۔ تو یہاں صاحبِ ہدایہ نے تین فرق بیان کیے امانِ مؤبد میں اور امانِ موقت میں۔ امانِ مؤبد کی تو عبدِ محجور کو اجازت ہوگی لیکن امانِ موقت کی اجازت نہیں ہوگی۔ امانِ مؤبد کی اجازت کیوں ہوگی؟ کیونکہ وہ اسلام کا خلیفہ ہے، اسلام کا نائب ہے۔ جیسے اسلام لانے سے جنگ ختم ہو جاتی ہے، اسی طرح امانِ مؤبد سے یعنی ذمی بن جانے سے بھی ان کے ساتھ جنگ ختم ہو جاتی ہے۔ تو لہٰذا یہ کفار کو دعوت دینے کے درجے میں ہوا، اور دعوت دینا تو عبدِ محجور کے لیے بھی جائز ہے، لہٰذا اس کو امانِ مؤبد دینا بھی جائز ہوگا۔ اور نیز دوسرا فرق یہ ہے کہ امانِ مؤبد کے اندر مسلمانوں کا فائدہ ہے کہ ان کو جزیہ حاصل ہوگا جبکہ امانِ موقت کے اندر تو مسلمانوں کا نقصان ہے کہ غنیمتوں کا دروازہ بند ہوگا۔ اور تیسرا فرق یہ بیان کیا کہ امانِ مؤبد جو ہے وہ تو فرض ہے مسلمانوں پر اور امام پر، کہ اگر کفار جو ہیں وہ ذمی بن کر دار الاسلام میں رہنا چاہیں تو امام پر اور مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان کو امان دیں اور ان کو ذمی بنائیں، کیونکہ اس کی وجہ سے ان کا شر ختم ہو جائے گا۔ تو لہٰذا امانِ مؤبد یہ تو فرض ہے اور امانِ موقت تو فرض نہیں، لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ تو معلوم ہوا امانِ مؤبد کے اندر ہر اعتبار سے فائدہ ہی فائدہ ہے، لہٰذا عبدِ محجور کو امانِ مؤبد کی تو ولایت حاصل ہوگی لیکن امانِ موقت کی ولایت حاصل نہیں کیونکہ وہاں پر ظاہر یہی ہے کہ اس سے مسلمانوں کو نقصان ہوگا بھئی۔ آگے دیکھیے: ”وَلَوْ أَمَّنَ الصَّبِيُّ وَهُوَ لَا يَعْقِلُ لَا يَصِحُّ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اگر مسلمانوں کا کوئی بچہ جو ہے وہ کفار کو امان دے دے۔ پیچھے تو ذکر کیا تھا کہ آزاد مرد یا عورت جو ہیں وہ امان دے سکتے ہیں۔ تو مسلمان بچہ کیا امان دے سکتا ہے یا نہیں؟ تو آپ کو بتلائیں گے کہ مسلمان بچہ اگر بہت چھوٹا ہے تو اس کے امان کا کوئی اعتبار نہیں، اور اگر وہ مسلمان بچہ بڑا ہے، سمجھدار ہے، تو پھر اس کے اندر دیکھیں گے کہ اس کو لڑائی کی اجازت ہے یا نہیں۔ امام اس کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے یا اجازت نہیں دیتا؟ اگر امام اس کو لڑنے کی اجازت نہیں دیتا تو پھر اس کے اندر بھی امام صاحب اور امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، جیسے عبدِ محجور کے اندر اختلاف تھا۔ اور اگر امام اس کو لڑنے کی اجازت دیتا ہے تو پھر اس صورت میں بالاتفاق اس کا امان صحیح ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَوْ أَمَّنَ الصَّبِيُّ وَهُوَ لَا يَعْقِلُ“ اور اگر کسی بچے نے امان دیا اس حال میں کہ وہ عاقل نہیں ہے یعنی سمجھدار نہیں ہے، ”لَا يَصِحُّ“ تو اس کا امان صحیح نہیں ہے، ”كَالْمَجْنُونِ“ جیسے کہ مجنون ہے کہ اس کا بھی امان صحیح نہیں ہے، ”وَإِنْ كَانَ يَعْقِلُ“ اور اگر وہ بچہ عقل رکھتا ہے یعنی سمجھدار ہے ”وَهُوَ مَحْجُورٌ عَنِ الْقِتَالِ“ اس حال میں کہ وہ محجور عن القتال ہے، اس کو لڑائی سے روکا گیا ہے، ”فَعَلَى الْخِلَافِ“ تو یہ بھی اسی اختلاف پر ہے، یعنی اس میں بھی امام صاحب اور امام محمد رحمہ اللہ کا اختلاف ہے، ”وَإِنْ كَانَ مَأْذُونًا لَهُ فِي الْقِتَالِ“ اور اگر یہ بچہ ایسا ہے کہ ماذون لہ فی القتال ہے یعنی امام نے اس کو اجازت دی ہے لڑائی کی، ”فَالْأَصَحُّ أَنَّهُ يَصِحُّ بِالِاتِّفَاقِ“ تو زیادہ صحیح قول یہی ہے کہ بالاتفاق اس کا امان صحیح ہے۔ بات سمجھ میں آگئی؟ آگے دیکھیے: ”بَابُ الْغَنَائِمِ وَقِسْمَتِهَا“ یہ باب ہے غنیمتوں اور ان کی تقسیم کے بیان میں، کہ غنیمتیں امام کس طرح تقسیم کرے گا۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا فَتَحَ الْإِمَامُ بَلْدَةً عَنْوَةً“ اور جب امام فتح کر لے کسی شہر کو ”عَنْوَةً“ زبردستی بھئی، زورِ بازو کے ذریعے، قوت کے ذریعے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا فَتَحَ الْإِمَامُ بَلْدَةً عَنْوَةً“ اور جب امام فتح کر لے کسی شہر کو زبردستی ”أَيْ قَهْرًا“ یہ معنی بیان کر رہے ہیں صاحبِ ہدایہ عنوۃ کا، قہراً کا معنی بھی کسی سے کوئی چیز زبردستی لے لینا، یعنی اس کو مغلوب کر دینا۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا فَتَحَ الْإِمَامُ بَلْدَةً عَنْوَةً“ اور جب امام کسی شہر کو فتح کر لے عنوۃ ”أَيْ قَهْرًا“ ان کو مغلوب کرتے ہوئے، ”فَهُوَ بِالْخِيَارِ“ تو امام کو اختیار ہے ”إِنْ شَاءَ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ“ چاہے تو اس شہر کو تقسیم کر دے مسلمانوں کے درمیان، یعنی اس شہر کی زمینیں وغیرہ جو ہیں وہ مسلمانوں میں تقسیم کر دے۔ یاد رکھو بھئی، یہاں آیا ”إِنْ شَاءَ قَسَّمَهَا“ یہ آپ بابِ تفعیل سے بھی پڑھ سکتے ہیں: ”قَسَّمَ يُقَسِّمُ تَقْسِيمٌ“، تقسیم کا معنی بھی تقسیم کرنا، اور آپ چاہیں تو اس کو مجرد سے بھی پڑھ سکتے ہیں: ”إِنْ شَاءَ قَسَمَهَا“، ”قَسَمَ يَقْسِمُ“ کا معنی بھی ہے تقسیم کرنا۔ تو دونوں طرح آپ پڑھ سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”فَهُوَ بِالْخِيَارِ“ تو امام کو اختیار ہے، ”إِنْ شَاءَ قَسَّمَهَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ“ چاہے تو اس شہر کو تقسیم کر دے مسلمانوں کے درمیان، ”كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِخَيْبَرَ“ جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کے بارے میں کیا، یعنی جیسے وہاں حضور علیہ السلام نے زمینوں کو مسلمانوں کے درمیان تقسیم فرمایا تھا تو یہاں بھی امام تقسیم کر سکتا ہے۔ یاد رکھو یہ خیبر کا لفظ غیر منصرف ہے، یہ جگہوں کے نام عموماً غیر منصرف ہوتے ہیں، ایک تو علمیت ہوتی ہے اور ایک تانیث بھئی، کیونکہ جو بھی شہر ہے یا جو بھی ملک ہے وہ بقعۃ کی تاویل میں، بقعہ کہتے ہیں زمین کا ٹکڑا، تو بقعہ کی تاویل میں وہ مؤنث بھی ہے اور علم بھی ہے تو وہ غیر منصرف ہوتا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”كَمَا فَعَلَ رَسُولُ اللّٰهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ بِخَيْبَرَ“ جیسے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر میں کیا، ”وَإِنْ شَاءَ أَقَرَّ أَهْلَهُ عَلَيْهِ“ اور اگر امام چاہے تو اس شہر والوں کو ہی اس پر برقرار رکھے یعنی ان سے زمینیں نہ لے، ”وَوَضَعَ عَلَيْهِمُ الْجِزْيَةَ“ اور ان پر جزیہ مقرر کر دے ”وَعَلَى أَرَاضِيهِمُ الْخَرَاجَ“ اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کر دے۔ بھئی ایک ہے عشر اور ایک ہے خراج۔ عشر جو ہے وہ مسلمان پر آتا ہے، ہر فصل کے اندر اس فصل کا دسواں حصہ اس کو بطورِ زکوٰۃ کے دینا پڑے گا۔ اور اگر اس زمین پر اس کا خرچہ ہوتا ہے تو پھر نصفِ عشر اس کو بطورِ زکوٰۃ کے دینا پڑے گا۔ جبکہ کفار کی زمین پر خراج آتا ہے اور وہ زمینوں کے اعتبار سے مختلف ہوتا ہے، جتنی اعلیٰ زمین ہوگی تو خراج بھی کچھ زیادہ ہوگا بھئی۔ اور خراج جو ہے اس میں پیداوار کو نہیں دیکھا جائے گا، بس سالانہ ٹیکس وہ اس کو ادا کرنا پڑے گا، چاہے وہ کوئی فصل کاشت کرے یا فصل کاشت نہ کرے، اس کو ہر حال میں وہ خراج ادا کرنا پڑے گا۔ تو کہتے ہیں کہ چاہے تو ان لوگوں کو انہی زمینوں پر برقرار رکھے اور ان پر جزیہ مقرر کر دے ”وَعَلَى أَرَاضِيهِمُ الْخَرَاجَ“ اور ان کی زمینوں پر خراج مقرر کر دے، ”كَذٰلِكَ فَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ بِسَوَادِ الْعِرَاقِ بِمُوَافَقَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ اور اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا تھا سوادِ عراق کے بارے میں، ”بِمُوَافَقَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ“ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی موافقت سے۔ بھئی یاد رکھو، سوادِ عراق بھئی، یہ عراق کا بہت بڑا علاقہ تھا اور بڑا ہی سرسبز و شاداب علاقہ تھا اور یہاں کی زمینیں بڑی اعلیٰ اور عمدہ قسم کی تھیں اور خوب پیداوار دیتی تھیں۔ تو اس سوادِ عراق کا جو علاقہ تھا اس کی زمینیں بہت اعلیٰ تھیں اور اس کو سوادِ عراق اسی وجہ سے کہتے تھے، سواد کا معنی ہے سیاہی، سیاہی۔ اور آپ بھی جانتے ہیں کہ جہاں سبزہ اور درخت وغیرہ بہت زیادہ ہوں تو سبزے اور درخت کے گہرے سبز رنگ کی وجہ سے وہاں کچھ سیاہی سی معلوم ہوتی ہے، تو یہ زمین بھی چونکہ خوب سرسبز و شاداب تھی تو اسی لیے اس کو سوادِ عراق کہا جاتا تھا بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں یہ علاقہ فتح ہوا۔ اس سے پہلے طریقہ یہ تھا کہ جب بھی کسی علاقے کو فتح کیا جاتا تھا تو وہاں کی زمینوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم کر دیا جاتا تھا، لیکن یہاں پر سوادِ عراق کے اس عظیم علاقے کو جب فتح کر لیا گیا تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو ہیں ان کی تسلی نہیں ہو رہی تھی اس بات پر کہ اس زمین کو مجاہدین میں تقسیم کر دیا جائے۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے یہی تھی کہ اس کی وجہ سے بعد والوں کے لیے مشکلات پیدا ہوں گی۔ چنانچہ آپ نے صحابۂ کرام کو جمع کیا اور ان سے مشورہ کیا، حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ آپ اس زمین کو مجاہدین میں تقسیم نہ کریں، اس زمین کو آپ مسلمانوں کے لیے روک لیں، ان زمینوں پر خراج مقرر کر دیں اور ان کے رہنے والے جو ہیں ان پر جزیہ مقرر کر دیں، تو اس خراج اور جزیے کی وجہ سے موجودہ مسلمانوں کو بھی فائدہ ہوگا اور آنے والے مسلمانوں کو بھی فائدہ ہوگا۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی یہ رائے بڑی پسند آئی اور فرمانے لگے کہ یہ ہے رائے بھئی، یہ ہے رائے۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس زمین کو مجاہدین میں تقسیم نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جبکہ ادھر مسلمانوں میں سے بھی بعض مسلمان وہ اس کی مخالفت کر رہے تھے، جیسے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور اسی طرح کچھ اور لوگ تھے بھئی، بعضوں نے ایک آدھ اور بھی صحابی ذکر فرمائے ہیں، یہ بڑی سخت مخالفت کر رہے تھے، یہ کہتے تھے کہ یہ علاقہ ہم نے فتح کیا ہے جہاد کے ذریعے اور حضور علیہ السلام نے خیبر کے اندر مجاہدین کے اندر زمینیں تقسیم فرما دی تھیں، لہٰذا یہ زمینیں بھی مجاہدین کے درمیان تقسیم کی جائیں، اور بڑی شدت کے ساتھ مخالفت کر رہے تھے، بڑی شدت کے ساتھ۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب کبار صحابہ سے مشورہ کر لیا، اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انصار جو مدینے کے رہنے والے تھے ان کے بڑے بڑے لوگوں کو جمع کیا اور ان سے کہنے لگے: میں تم سے ایک بات کے سلسلے میں مشورہ کرنا چاہتا ہوں لیکن دیکھو تم نے مجھے نہیں دیکھنا اور میری رائے کو نہیں دیکھنا، بلکہ جو بات تمہیں حق معلوم ہو وہ رائے تم نے مجھے دینی ہے۔ تمہیں معلوم ہے کہ میں نے کبھی کسی کا حق نہیں دبایا، لیکن اس بات کی وجہ سے کچھ لوگ مجھ پر یہ الزام لگا رہے ہیں کہ آپ ہمارا حق دبا رہے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ اور پھر حضرت عمر ان سے فرمانے لگے کہ اس طرح عراق کا بہت بڑا علاقہ فتح ہوا ہے اور وہاں کی بڑی اعلیٰ قسم کی زمینیں ہیں، اور میں اس زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم نہیں کرنا چاہتا، وجہ یہ کہ اس کی وجہ سے بعد والے مسلمان بڑی تکلیف میں مبتلا ہو جائیں گے۔ جو جو علاقے فتح ہوتے جا رہے ہیں اگر ہم یہ ساری زمینیں انہی مجاہدین میں تقسیم کرتے چلے جائیں تو بعد والوں کے لیے تو کچھ بھی نہیں بچے گا، اور نیز بعد میں تو مملکت کی ضروریات پوری کرنا مشکل ہو جائیں گی۔ مملکت کے اندر بڑے بڑے شہروں کو چلانا ہوتا ہے، اس کے لیے بھی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے، اور نیز اسی طرح لشکر کے لیے بھی اخراجات اور خرچے کی ضرورت ہوتی ہے، تو اگر ہم یہ زمینیں اس وقت ان مجاہدین میں تقسیم کر دیں گے تو بعد میں آنے والی حکومتیں بہت مشکل میں پڑ جائیں گی، مملکت کی ضروریات پوری نہیں ہو سکیں گی، ان کے لیے یہ خرچے پورے کرنا مشکل ہو جائے گا۔ تو لہٰذا میں نے ارادہ کیا ہے کہ ان زمینوں کو مجاہدین کے درمیان تقسیم نہ کروں بلکہ اس کو اسی طرح تمام مسلمانوں کا مشترکہ مال بنا کر باقی رکھوں کہ ان زمینوں سے خراج وصول کرتے رہیں گے اور ان کے رہنے والوں سے جزیہ وصول ہوتا رہے گا۔ تو وہ انصار بھی کہنے لگے کہ آپ کی رائے بالکل صحیح ہے۔ تو انصار نے بھی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تائید کر دی۔ لیکن ادھر وہ لوگ بڑی مخالفت کر رہے تھے تو چنانچہ بعض علماء نے لکھا ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شدید تکلیف پہنچی تو آپ نے ان کے لیے بددعا بھی کی کہ اے اللہ، میرے لیے بلال اور اس کے ساتھیوں سے کافی ہو جا۔ چنانچہ کہتے ہیں اسی ایک سال کے اندر اندر ہی سب کا انتقال ہو گیا بھئی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ عظیم فیصلہ فرمایا جس کا آج بھی علماء کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یہ بہت عظیم فیصلہ فرمایا اور اس کے بڑے دور رس اثرات ہوئے۔ واقعی اگر یہ زمینیں مجاہدین میں تقسیم کرتے چلے جاتے تو پھر بعد میں مملکتوں کا نظام چلانا مشکل ہو جاتا۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وہ زمینیں انہی لوگوں کے پاس رہنے دیں اور ان پر جزیہ بھی مقرر کر دیا۔ اور یہ سوادِ عراق کا علاقہ کتنا بڑا تھا اور اس کی زمینیں کتنی اعلیٰ تھیں، اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات سے ایک سال قبل یہ خراج آنا شروع ہو گیا بھئی۔ تو پہلی مرتبہ جو خراج آیا وہ دس کروڑ درہم تھے بھئی۔ اندازہ لگائیے، دس کروڑ درہم! اور درہم بھی چھوٹے درہم نہیں تھے، عام درہم تو تین ماشے، ایک رتی اور خمسِ رتی کا ہوتا ہے یعنی تقریباً سوا تین ماشے کا ہوتا ہے ایک درہم، لیکن یہ درہم، یہ ساڑھے چار ماشے کے تھے یعنی ایک دینار کے برابر بڑے تھے بھئی۔ تو اس قسم کے دس کروڑ درہم بطورِ خراج کے پہلی مرتبہ موصول ہوئے۔ اور یہ وہ زمانہ تھا کہ جب دو چار درہموں کے اندر پورے گھر کا بہترین خرچہ چل جاتا تھا مہینے بھر کے لیے بھئی۔ تو آپ اندازہ لگائیے کہ جب دو چار درہم کے ساتھ پورے گھر کا مہینے بھر کا خرچہ چل جاتا ہو تو وہاں پر دس کروڑ درہم اور درہم بھی اعلیٰ قسم والے بڑے درہم ہوں تو یہ کتنی زیادہ دولت بنتی ہے بھئی! تو دو تین درہم کے اندر پورے گھر کا مہینے کا انتظام ہوتا ہو اور اس زمانے کے اندر دس کروڑ درہم آرہے ہیں اور یہ سلسلہ پھر چلتا ہی رہا بھئی، تو اندازہ لگائیے کتنی دولت آ رہی تھی اور تمام مسلمانوں کو اس کا فائدہ پہنچ رہا تھا کیونکہ یہ ساری رقم بیت المال میں جمع ہوتی تھی اور مسلمانوں کی تمام ضروریات اس کے ذریعے پوری کی جاتی تھیں بھئی۔ تو یہی ذکر فرما رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں: ”كَذٰلِكَ فَعَلَ عُمَرُ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُ بِسَوَادِ الْعِرَاقِ“ اور اسی طرح کیا تھا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سوادِ عراق کے بارے میں ”بِمُوَافَقَةٍ مِنَ الصَّحَابَةِ رَضِيَ اللّٰهُ تَعَالَى عَنْهُمْ“ صحابۂ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی موافقت سے، یعنی صحابہ کی موافقت سے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایسا فرمایا۔ اور نیز، نیز اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور علیہ السلام نے خیبر کے اندر جو زمینوں کو تقسیم فرمایا تھا اس کو عام صحابہ بھی کوئی قطعی فیصلہ نہیں سمجھتے تھے کہ ہمیشہ ہی ایسا کرنا پڑے گا، اگر عام صحابہ بھی اس کو حضور کا قطعی فیصلہ سمجھتے تو وہ کبھی بھی اس رائے پر جمع نہ ہوتے بھئی۔ تو کہتے ہیں حضرت عمر نے یہ فیصلہ فرمایا ”وَلَمْ يُحْمَدْ مَنْ خَالَفَهُ“ اور تعریف نہیں کی گئی ان کی جنہوں نے اس کی مخالفت کی تھی، جنہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی اس کی تعریف نہیں کی گئی، اس کو عام صحابہ نے پسند نہیں فرمایا۔ ”وَفِي كُلٍّ مِنْ ذٰلِكَ قُدْوَةٌ“ قدوہ کہتے ہیں بھئی پیشوا بھئی، جس کا اتباع کیا جائے، تو جو پیشوا ہو، قابلِ اتباع نمونہ ہو اس کو قدوہ کہتے ہیں۔ اور یاد رکھو یہ ”قُدْوَةٌ“ کا لفظ مثلث الفاء ہے، یعنی فاء کلمہ جو ہے یعنی قاف، اس پر تینوں طرح کی حرکتیں عرب پڑھتے ہیں: قُدوۃ، قَدوۃ اور قِدوۃ۔ کہتے ہیں: ”وَفِي كُلٍّ مِنْ ذٰلِكَ قُدْوَةٌ“ اور ان میں سے ہر ایک کے اندر پیشوا ہے، یعنی چاہے زمینوں کو تقسیم کیا جائے، چاہے زمینوں کو انہی لوگوں کے پاس رہنے دیا جائے اور اس پر خراج مقرر کر دیا جائے، دونوں کے اندر پیشوا ہیں، یعنی ایک حضور علیہ السلام کا فعل ہے تو دوسرا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل ہے، اور حضور علیہ السلام نے بھی ہمیں حکم دیا ہے کہ میرا اور میرے خلفائے راشدین کا اتباع کرو بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي كُلٍّ مِنْ ذٰلِكَ قُدْوَةٌ“ تو ان میں سے ہر ایک کے اندر یعنی تقسیم میں یا برقرار رکھنے میں، اس میں پیشوا موجود ہے، ”فَيَتَخَيَّرُ“ تو امام کو اختیار ہوگا۔ ”وَقِيلَ الْأَوْلَى هُوَ الْأَوَّلُ عِنْدَ حَاجَةِ الْغَانِمِينَ“ اور کہا گیا ہے: ”الْأَوْلَى هُوَ الْأَوَّلُ“ کہ بہتر جو ہے وہ پہلا طریقہ ہے یعنی کہ تقسیم کر دیا جائے ”عِنْدَ حَاجَةِ الْغَانِمِينَ“ جب غنیمت حاصل کرنے والوں کو حاجت ہو یعنی مسلمانوں کو مال کی حاجت ہو تو پھر تقسیم کرنا بہتر ہے، ”وَالثَّانِي عِنْدَ عَدَمِ الْحَاجَةِ“ اور دوسرا طریقہ یعنی انہی لوگوں کو برقرار رکھنا اور خراج مقرر کرنا، یہ بہتر ہے ”عِنْدَ عَدَمِ الْحَاجَةِ“ جس وقت مسلمانوں کو حاجت نہ ہو، ”لِيَكُونَ عُدَّةً فِي الزَّمَانِ الثَّانِي“ عُدّۃ کہتے ہیں ضرورت کے لیے تیار کی ہوئی چیز، تو کہتے ہیں: ”لِيَكُونَ عُدَّةً فِي الزَّمَانِ الثَّانِي“ تاکہ یہ دوسرے زمانے کے اندر یعنی بعد والے زمانے کے اندر ضرورت کے لیے کام آنے والی چیز ہو۔ ”وَهٰذَا فِي الْعَقَارِ“ اور یہ ان لوگوں کو جو برقرار رکھنا ہے، ”فِي الْعَقَارِ“ غیر منقولہ جائیداد کے اندر ہے۔ یاد رکھو، یہ جو مال ہے یہ دو قسم پر ہے: کچھ مال وہ ہے جسے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے، جیسے یہ گھر کا سارا سامان ہے، مویشی وغیرہ ہیں، ان سب چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جا سکتا ہے۔ اور کچھ چیزیں وہ ہیں جن کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا، اس کو عقار کہتے ہیں یعنی غیر منقولہ جائیداد بھئی، جیسے زمین ہے، کھیت ہے، فیکٹری ہے، دکان ہے، گھر ہے، یہ ساری چیزیں جو ہیں ان میں سے کسی کو بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کیا جا سکتا تو ان کو عقار کہتے ہیں یعنی غیر منقولہ جائیداد۔ تو کہتے ہیں: ”وَهٰذَا فِي الْعَقَارِ“ اور یہ غیر منقولہ جائیداد میں ہے، یعنی کفار کو اس پر برقرار رکھا جا سکتا ہے۔ ”أَمَّا فِي الْمَنْقُولِ الْمُجَرَّدِ لَا يَجُوزُ الْمَنُّ بِالرَّدِّ عَلَيْهِمْ“ اور باقی منقولِ مجرد جو ہے، منقولِ مجرد یعنی جو محض منقولی ہیں۔ بھئی یاد رکھو، اگر زمینوں پر ہم انہی کفار کو برقرار رکھتے ہیں ذمی بنا کر، تو ان زمینوں میں کھیتی باڑی کرنے کے لیے اور کاشت کرنے کے لیے کچھ سامان کی بھی ضرورت ہوگی، جیسے ہل چلانے کے لیے ہل کی ضرورت ہوگی، بیج کی ضرورت ہوگی تاکہ فصل اگائی جا سکے، اور اسی طرح بیل وغیرہ اور ضرورت کی چیزیں ہوں گی، تو یہ بھی منقولی چیزیں ہیں لیکن یہ زمین کے تابع ہیں۔ تو اگر کفار کو ہم انہی زمینوں پر باقی رکھتے ہیں تو سارا کچھ ان سے ہم نہیں لے لیں گے، اگر سارا مال ہم نے ان سے چھین لیا تو پھر وہ کاشتکاری کیسے کریں گے بھئی؟ ان کے پاس جب ہل بھی نہیں ہے، بیل بھی نہیں ہیں، بیج بھی نہیں ہیں، تو وہ کس طرح کاشتکاری کے کام کو جاری رکھیں گے؟ تو یہ جو چیزیں ہیں جو زمین کے تابع ہیں یہ بھی منقولی ہیں لیکن یہ اس زمین کے تابع ہیں۔ اور باقی چیزیں وہ منقولِ مجرد ہیں یعنی وہ زمین کے تابع نہیں ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”أَمَّا فِي الْمَنْقُولِ الْمُجَرَّدِ“ تو باقی منقولِ محض مال جو ہے اس کے اندر ”لَا يَجُوزُ الْمَنُّ بِالرَّدِّ عَلَيْهِمْ“ احسان جائز نہیں ہے ان پر رد کرتے ہوئے، بھئی یاد رکھو، قدیم زمانے کے اندر جب کسی علاقے پر لوگ قبضہ کرتے تو وہاں کی تمام زمینوں اور جائیدادوں پر بھی قبضہ کر لیتے تھے اور وہاں کے رہنے والوں کو یا تو قتل کر دیتے یا اپنے غلام اور باندیاں بنا دیتے تھے۔ تو یہاں پر مسلمانوں نے جب اس علاقے پر فتح حاصل کی ہے تو انہی لوگوں کو ان زمینوں پر برقرار رکھا تو یہ معلوم ہوا مسلمان ان پر احسان کر رہے ہیں کہ ان کی زمینیں انہی کے پاس رہنے دیں۔ تو زمینوں کے اندر تو یہ احسان جائز ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فعل سے ثابت ہے، لیکن اس کے علاوہ اور جو منقولی مال ہے وہ بھی انہی لوگوں کے پاس رہنے دیا جائے ان پر احسان کرتے ہوئے، کہتے ہیں یہ جائز نہیں ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”أَمَّا فِي الْمَنْقُولِ الْمُجَرَّدِ“ اور باقی وہ چیزیں جو منقولِ محض ہیں یعنی زمین کے تابع نہیں ہیں، ”لَا يَجُوزُ الْمَنُّ“ اس کے اندر ان لوگوں پر احسان جائز نہیں ہے ”بِالرَّدِّ عَلَيْهِمْ“ ان کو واپس لوٹا کر، ان کو واپس لوٹا کر ان پر احسان کرنا جائز نہیں ہے، ”لِأَنَّهُ لَمْ يَرِدْ بِهِ الشَّرْعُ فِيهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے ساتھ شریعت وارد نہیں ہوئی ان چیزوں میں، کہ ان پر احسان کیا جائے اور یہ مال وغیرہ انہی کے پاس رہنے دیا جائے، شریعت نے اس کا حکم نہیں دیا، لہٰذا یہ احسان ان پر نہیں کیا جائے گا۔ ”وَفِي الْعَقَارِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور غیر منقولہ جائیداد میں امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں۔ بھئی ہمارے نزدیک تو امام کو اختیار ہے جب کسی علاقے کو فتح کیا تو چاہے ان زمینوں کو مجاہدین میں تقسیم کر دے، چاہے انہی لوگوں کو ان زمینوں پر برقرار رکھے اور ان پر خراج اور جزیہ مقرر کر دے۔ توجہ ہے؟ تو ہمارے نزدیک تو امام کو اختیار ہے، لیکن امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، امام کو یہاں اختیار نہیں ہے، یہ ساری زمینیں مجاہدین میں تقسیم کرنا پڑیں گی، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی خیبر کی زمینیں مجاہدین میں تقسیم فرمائی تھیں بھئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَفِي الْعَقَارِ خِلَافُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللّٰهُ“ اور غیر منقولہ جائیداد کے اندر امام شافعی رحمہ اللہ اختلاف فرماتے ہیں، ”لِأَنَّ فِي الْمَنِّ إِبْطَالَ حَقِّ الْغَانِمِينَ أَوْ مِلْكِهِمْ“ اس لیے کیونکہ احسان کرنے میں، منّ کسے کہتے ہیں؟ منّ، نون مشدد ہے، منّ کا معنی احسان، ”لِأَنَّ فِي الْمَنِّ“ اس لیے کیونکہ احسان کرنے میں ”إِبْطَالَ حَقِّ الْغَانِمِينَ“ غنیمت حاصل کرنے والوں کے حق کو باطل کرنا ہے ”أَوْ مِلْكِهِمْ“ یا ان کی ملکیت کو باطل کرنا ہے۔ بھئی یاد رکھو، جب مسلمان جہاد کے لیے دار الحرب چلے گئے تو وہاں پر جو مالِ غنیمت ان کو حاصل ہو یا جو زمینیں ان کو حاصل ہوں تو عند الاحناف مجاہدین اس مال کے اور ان زمینوں کے مالک نہیں بنے، ہاں جب مجاہدین اس مال کو دار الاسلام لے آئیں گے پھر مالک بن جائیں گے۔ تو عند الاحناف مجاہدین کو جو مالِ غنیمت حاصل ہو تو جب تک مجاہدین دار الحرب میں ہیں تو مجاہدین اس مال کے مالک نہیں بنے، ہاں ان کا حق آ گیا ہے اس مال کے اندر، مجاہدین کا حق آ گیا ہے اور مالک یہ نہیں بنے۔ مالک کب بنیں گے؟ جب وہ اس مال کو لے کر دار الاسلام آ جائیں گے، تو اب تمام مجاہدین اس مال کے مالک بن جائیں گے بھئی۔ جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ دار الحرب کے اندر جو مالِ غنیمت مسلمانوں کو حاصل ہو مجاہدین وہیں پر اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ تو کیا فرق ہوا ہمارا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا؟ امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک مجاہدین دار الحرب میں ہی مالِ غنیمت کے مالک بن گئے، جبکہ ہمارے نزدیک مجاہدین دار الحرب میں مالِ غنیمت کے مالک نہیں بنے، اس مال کے اندر صرف مجاہدین کا حق آ گیا ہے، مالک وہ تب بنیں گے جب وہ اس مال کو دار الاسلام منتقل کر لیں گے۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل ذکر ہو رہی ہے، امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اے احناف! اے احناف! اگر یہ زمینیں جو ہیں انہی کفار کے پاس رہنے دی جائیں گی تو تمہارے نزدیک اس کے اندر مجاہدین کا حق آ چکا ہے تو گویا آپ مجاہدین کے حق کو باطل کر رہے ہیں، اور ہمارے نزدیک مجاہدین اس کے مالک بن چکے ہیں تو گویا مجاہدین کی ملکیت کو باطل کیا جا رہا ہے، اور دونوں میں سے ایک چیز بھی صحیح نہیں، کسی کے حق کو باطل کرنا یا کسی کی ملکیت کو باطل کرنا صحیح نہیں ہے۔ لہٰذا یہ زمینیں جو مجاہدین کے قبضے میں آئی ہیں ان کو مجاہدین ہی میں تقسیم کیا جائے گا۔ دلیل سمجھ میں آ رہی ہے؟ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل چل رہی ہے، وہ فرماتے ہیں: ”لِأَنَّ فِي الْمَنِّ“ اس لیے کیونکہ احسان کرنے میں، کون سا احسان؟ کہ دشمن کے پاس ہی یہ زمینیں رہنے دی جائیں، تو اس احسان کے اندر ”إِبْطَالَ حَقِّ الْغَانِمِينَ“ غنیمت والوں کا حق باطل کرنا ہے ”أَوْ مِلْكِهِمْ“ یا ان کی ملکیت کو باطل کرنا ہے۔ اگر یہ زمینیں انہی کے پاس آپ رہنے دیں گے اور ان پر احسان کریں گے تو اس کی وجہ سے اے احناف تمہارے نزدیک بھی یہ صحیح نہیں کیونکہ آپ غنیمت والوں کا حق باطل کر رہے ہیں، اور ہمارے نزدیک بھی یہ صحیح نہیں کیونکہ اس صورت میں غنیمت والوں کی ملکیت کو باطل کرنا لازم آئے گا۔ یہ معنی ہے: ”لِأَنَّ فِي الْمَنِّ“ اس لیے کیونکہ احسان کرنے میں ”إِبْطَالَ حَقِّ الْغَانِمِينَ“ غنیمت والوں کے حق کو باطل کرنا ہے یعنی احناف کے نزدیک ”أَوْ مِلْكِهِمْ“ یا ان کی ملکیت کو باطل کرنا ہے یعنی امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک۔ ”فَلَا يَجُوزُ مِنْ غَيْرِ بَدَلٍ يُعَادِلُهُ“ لہٰذا یہ ابطالِ حق جائز نہیں ہوگا ”مِنْ غَيْرِ بَدَلٍ“ بغیر کسی ایسے بدل کے ”يُعَادِلُهُ“ جو اس کے برابر ہو۔ مجاہدین کا یہ حق یا ان کی یہ ملکیت باطل نہیں کی جائے گی، ہاں اس کا کوئی عوض آ جائے جو اس کے برابر ہو پھر ان کا یہ حق یا ملکیت باطل کی جا سکتی ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”فَلَا يَجُوزُ مِنْ غَيْرِ بَدَلٍ يُعَادِلُهُ“ لہٰذا غنیمت والوں کے اس حق کو یا ان کی اس ملکیت کو باطل کرنا جائز نہیں ہے بغیر کسی ایسے بدل کے جو اس کے برابر ہو۔ ”وَالْخَرَاجُ غَيْرُ مُعَادِلٍ لِقِلَّتِهِ“ اور خراج جو ہے وہ تو اس کے برابر نہیں ہے ”لِقِلَّتِهِ“ اس کے قلیل ہونے کی وجہ سے۔ اے احناف، اگر آپ یہ کہتے ہیں زمینیں انہی کے پاس رہنے دیتے ہیں اور ان زمینوں کا خراج وصول کریں گے، تو خراج تو بڑا تھوڑا سا ہوتا ہے۔ ایک زمین ہے اور ایک اس کے اوپر پورے سال میں چند درہم ملیں گے، تو زمین کے مقابلے میں تو یہ کچھ بھی نہیں ہے۔ تو لہٰذا معلوم ہوا خراج وہ عوض تو ہے اس حق یا ملکیت کا، لیکن یہ تو بڑا تھوڑا سا عوض ہے، یہ تو اس کے برابر نہیں، لہٰذا اس خراج کے عوض میں ان غنیمت والوں کے حق کو یا ان کی ملکیت کو باطل کرنا صحیح نہیں ہے بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَالْخَرَاجُ غَيْرُ مُعَادِلٍ لِقِلَّتِهِ“ اور خراج جو ہے وہ تو ان زمینوں کے برابر نہیں ہے ”لِقِلَّتِهِ“ اپنے قلیل ہونے کی وجہ سے۔ ”بِخِلَافِ الرِّقَابِ“ یہاں سے صاحبِ ہدایہ امام شافعی رحمہ اللہ پر ہونے والے ایک اعتراض کا جواب دے رہے ہیں۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ جو مجاہدین نے جو علاقہ فتح کیا ہے ان زمینوں کے اندر مجاہدین کی ملکیت آ گئی، لہٰذا مجاہدین کی اس ملکیت کو باطل نہیں کیا جا سکتا، اس زمین پر انہی کفار کو برقرار نہیں رکھا جا سکتا، تو یہی اعتراض تو ان کفار کی گردنوں کے بارے میں بھی ہوتا ہے، کیونکہ مسلمانوں نے اس علاقے کو فتح کیا ہے تو یہ جتنے کفار مرد اور عورتیں ہیں ان کو بھی تو غلام اور باندیاں بنایا جاتا ہے، تو ان کی گردنوں کے یعنی ان کی ذات کے اندر بھی تو مجاہدین کا حق آ گیا ہے، ان کی ذات میں بھی تو مجاہدین کا حق آ گیا ہے تو لہٰذا ان کو تو ذمی بنانے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے، لیکن آپ فرماتے ہیں ان کو ذمی بنایا جا سکتا ہے۔ ان کو ذمی بنایا جا سکتا ہے، تو اگر ان کو آپ ذمی قرار دیں گے تو گویا ان کے اندر جو مجاہدین کی ملکیت آئی تھی اس کو آپ نے باطل کر دیا، تو اگر زمین کے سلسلے میں مجاہدین کی ملکیت کو باطل نہیں قرار دیا جا سکتا تو یہ جو کفار مرد اور عورتیں ہیں ان کے اندر بھی مجاہدین کے حق کو باطل قرار نہیں دینا چاہیے۔ تو اس کا جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کی طرف سے صاحبِ ہدایہ، اور فرماتے ہیں کہ نہیں، یہ جو کفار مرد اور عورتیں جو ہیں ان کی گردنوں کے اندر یعنی ان کی ذاتوں کے اندر مجاہدین کا حق نہیں آیا۔ ان کے اندر مجاہدین کا حق نہیں آیا، چنانچہ اسی لیے امام کے لیے جائز ہے کہ وہ ان تمام بالغ مردوں کو قتل کروا سکتا ہے۔ وہ ان بالغ مردوں کو قتل کروا سکتا ہے، اگر مجاہدین کی ملکیت ان کی گردنوں میں ثابت ہوتی تو امام کے لیے ان کا قتل جائز ہی نہ ہوتا، لیکن امام کے لیے ان تمام کفار کو قتل کرنا جائز ہے، معلوم ہوا ان کفار کے اندر مجاہدین کی ملکیت نہیں آئی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الرِّقَابِ“ بخلاف گردنوں کے، ”لِأَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَبْطُلَ حَقَّهُمْ رَأْسًا بِالْقَتْلِ“ ”لِأَنَّ لِلْإِمَامِ“ اس لیے کیونکہ امام کے لیے جائز ہے ”أَنْ يَبْطُلَ حَقَّهُمْ“ کہ وہ ان مجاہدین کے حق کو باطل کر دے ”رَأْسًا“ سرے سے ہی ”بِالْقَتْلِ“ قتل کے ذریعے۔ تو ان گردنوں کے اندر مجاہدین کی ملکیت یا حق نہیں آیا، اسی لیے تو امام کے لیے ان تمام کو قتل کروانا بھی جائز ہے، تو جب امام کے لیے قتل کروانا جائز ہے تو عوض کے بدلے ان کو چھوڑ دینا کہ تم جزیہ ادا کیا کرو، یہ تو بطریقِ اولیٰ جائز ہوگا۔ جب قتل جائز ہے تو عوض لے کر ان کو چھوڑنا بطریقِ اولیٰ جائز ہوگا کیونکہ اس میں تو فائدہ بھی ہے مسلمانوں کا۔ تو کہتے ہیں پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ الرِّقَابِ“ بخلاف ان کفار کی گردنوں کے، ”لِأَنَّ لِلْإِمَامِ أَنْ يَبْطُلَ حَقَّهُمْ رَأْسًا“ اس لیے کیونکہ امام کے لیے جائز ہے کہ وہ ان غنیمت والوں کے حق کو سرے سے ہی باطل کر دے ”بِالْقَتْلِ“ قتل کے ذریعے۔ یہ امام شافعی رحمہ اللہ کی دلیل تھی یہاں تک بھئی۔ حاصلِ کلام کیا ہوا؟ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ زمین کے اندر مجاہدین کا حق آ چکا ہے یا ملکیت آ چکی ہے، اس کو باطل نہیں کیا جا سکتا، اور گردنوں کے اندر مجاہدین کی ملکیت اور حق نہیں آیا، لہٰذا اس کا اعتراض آپ ہم پر نہیں کر سکتے۔ اب ہم جواب دے رہے ہیں، کہتے ہیں: ”وَالْحُجَّةُ عَلَيْهِمْ مَا رَوَيْنَاهُ“ اور امام شافعی رحمہ اللہ کے خلاف جو حجت ہے، جو دلیل ہے، ”مَا رَوَيْنَاهُ“ وہ ہے جس کو ہم نے روایت کر دیا، یعنی وہ جو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فعل ہے کہ انہوں نے عراق والوں کو ہی ان زمینوں پر برقرار رکھا تھا بھئی۔ ”وَلِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا“ یہاں سے دوسرا جواب دے رہے ہیں امام شافعی رحمہ اللہ کو، کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا“ اور نیز اس لیے کیونکہ اس کے اندر مصلحت ہے، انہی کفار کو ان زمینوں پر ہم باقی رکھیں گے تو اس میں مصلحت ہے، مسلمانوں کا فائدہ ہے، ”لِأَنَّهُمْ كَالْأَكَرَةِ الْعَامِلَةِ لِلْمُسْلِمِينَ الْعَالِمَةِ بِوُجُوهِ الزِّرَاعَةِ“، اَکَرَہ جمع ہے اکّار کی، اکّار کہتے ہیں کاشتکار اور کسان کو، تو امام شافعی رحمہ اللہ کو دوسرا جواب دے رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہتے ہیں کہ اگر انہی کفار کو ان زمینوں پر برقرار رکھا جائے گا تو اس میں مسلمانوں کا فائدہ بھی ہے کیونکہ وہ کفار جو ہیں وہ ان زمینوں کے معاملات سے اچھی طرح واقف ہیں، چونکہ یہ اسی علاقے کے رہنے والے ہیں، انہی کی یہ زمینیں ہیں تو ان زمینوں کو کس طرح آباد کرنا ہے اور سنبھالنا ہے وہ خوب اچھی طرح جاننے والے ہیں۔ تو یہ مسلمانوں کے لیے بطورِ کاشتکار کے کام کیا کریں گے اور اس سے مملکت کو آمدنی حاصل ہوگی بھئی، اور نیز خرچہ بھی نہیں ہوگا، اس لیے کیونکہ کاشتکاری کے لیے بھی خرچہ کرنا پڑتا ہے، بیج کا انتظام کرنا پڑے گا، بیلوں کا انتظام کرنا پڑے گا، ہل کا انتظام کرنا پڑے گا، اور نیز کام کرنے کے لیے بعض اوقات اور لوگوں کو بھی اجرت پر لانا پڑتا ہے، لیکن جب یہ کاشتکاری کریں گے تو مسلمان ان خرچوں سے بھی آزاد ہو گئے، تو بغیر خرچوں کے ہی آمدنی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا، لہٰذا اس کے اندر مسلمانوں کا فائدہ ہے بھئی۔ اور نیز یہ بھی یاد رکھنا کہ اگر مجاہدین کو ہم یہ زمینیں دے دیں گے تو مجاہدین تو جہاد چھوڑ کر کاشتکاری میں مصروف ہو جائیں گے، تو لہٰذا اس لیے بھی یہ زمینیں مجاہدین کو دینا مناسب نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ فِيهِ نَظَرًا“ اور اس لیے کیونکہ اس کے اندر مصلحت ہے، ”لِأَنَّهُمْ كَالْأَكَرَةِ الْعَامِلَةِ لِلْمُسْلِمِينَ“ میں نے بتلایا آپ کو اکرہ جمع ہے اکار کی اور یہ کاشتکار اور کسان کو کہتے ہیں، ”لِأَنَّهُمْ كَالْأَكَرَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ کاشتکاروں کی طرح ہوں گے ”الْعَامِلَةِ لِلْمُسْلِمِينَ“ جو مسلمانوں کے لیے کام کریں گے ”الْعَالِمَةِ بِوُجُوهِ الزِّرَاعَةِ“ جو جاننے والے ہوں گے زراعت کے طریقوں کو۔ یہ مسلمانوں کے لیے کام کریں گے اور زراعت کے طریقوں کو جاننے والے ہوں گے بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: ”لِأَنَّهُمْ كَالْأَكَرَةِ الْعَامِلَةِ لِلْمُسْلِمِينَ الْعَالِمَةِ بِوُجُوهِ الزِّرَاعَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ ایسے کاشتکار ہوں گے جو مسلمانوں کے لیے کام کریں گے، زراعت کے طریقوں کو جاننے والے ہوں گے۔ یہ کام کریں گے اور زراعت کے طریقوں سے واقف ہوں گے۔ ”وَالْمُؤَنُ مُرْتَفِعَةٌ“ مُؤَن جمع ہے مُؤْنَةٌ کی، یہ بوجھ کو کہتے ہیں، بوجھ اور تکلیف کو، یعنی مشقت وغیرہ۔ یہاں مراد خرچے ہیں۔ مراد کیا ہیں؟ خرچے، یعنی کیونکہ کاشتکاری کے لیے بھی خرچے چاہیے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْمُؤَنُ مُرْتَفِعَةٌ“ اور خرچے جو ہیں وہ بھی اٹھ جائیں گے یعنی ختم ہو جائیں گے، بغیر خرچوں کے آمدنی کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ ”مَعَ مَا أَنَّهُ يَحْظَى بِهِ الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدُ“ حَظِيَ يَحْظَى، بھئی ظاء کے ساتھ ہے طاء ظاء، حَظِيَ يَحْظَى کا معنی ہے کسی چیز کو حاصل کرنا، کسی چیز کو پا لینا۔ کہتے ہیں ”مَعَ مَا أَنَّهُ يَحْظَى بِهِ“ ساتھ اس کے کہ حصہ حاصل کر لیں گے ”الَّذِينَ يَأْتُونَ مِنْ بَعْدُ“ جو اس کے بعد آئیں گے، یعنی بعد والے مسلمان بھی اس کے اندر اپنا حصہ حاصل کریں گے۔ ”وَالْخَرَاجُ وَإِنْ قَلَّ حَالًا“ امام شافعی رحمہ اللہ کو جواب دے رہے ہیں۔ انہوں نے فرمایا تھا کہ خراج تو بڑا تھوڑا سا ہوتا ہے، لہٰذا یہ ان زمینوں کا عوض نہیں ہو سکتا۔ تو اس کا جواب دیں گے کہ بھئی خراج اگرچہ اس وقت تھوڑا ہے لیکن نتیجے کے اعتبار سے بڑا ہے کہ یہ سلسلہ مسلسل چلتا رہے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَالْخَرَاجُ وَإِنْ قَلَّ حَالًا“ اور خراج جو ہے وہ اگرچہ حال کے اعتبار سے تھوڑا ہے، یعنی فی الحال اگرچہ تھوڑا ہے ”فَقَدْ جَلَّ مَآلًا“ تو تحقیق وہ بڑا ہے نتیجے کے اعتبار سے ”لِدَوَامِهِ“ دائمی ہونے کی وجہ سے۔ ”وَإِنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِالرِّقَابِ وَالْأَرَاضِي“ اور اگر امام نے ان لوگوں پر احسان کیا، بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ یہ بتلا رہے ہیں کہ اگر امام جو ہے ان زمینوں پر انہی کفار کو برقرار رکھتا ہے تو کاشتکاری کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے وہ انہی کے پاس رہنے دے، سارا کچھ ان سے چھین کر نہ لے آئے بھئی۔ اگر سارا کچھ چھین لیا ان سے تو پھر وہ کاشتکاری کیسے کریں گے بھئی؟ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِالرِّقَابِ وَالْأَرَاضِي“ اور اگر امام نے ان پر احسان کیا رقاب اور زمینوں میں، رقاب میں احسان کیا یعنی ان کو یعنی ان کو غلام نہیں بنایا اسی طرح ذمی بنا کر آزاد چھوڑ دیا، اور زمینوں کے بارے میں بھی احسان کیا کہ زمینیں انہی کے پاس رہنے دیں اور ان پر خراج مقرر کر دیا۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ مَنَّ عَلَيْهِمْ بِالرِّقَابِ وَالْأَرَاضِي“ اور اگر امام نے ان پر احسان کیا گردنوں اور زمینوں کے سلسلے میں ”يَدْفَعُ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمَنْقُولَاتِ“ تو منقولات میں سے بھی ان کے حوالے کر دے ”بِقَدْرِ مَا“ اتنی مقدار ”يَتَهَيَّأُ لَهُمُ الْعَمَلُ“ کہ ان کے لیے عمل کرنا ممکن ہو جائے، اتنی چیزیں ان کے سپرد کر دے کہ ان کے لیے کاشتکاری کرنا ممکن ہو جائے۔ تَهَيَّأَ يَتَهَيَّأُ کے معنی ہیں تیار ہونا اور اسی طرح ممکن ہونا، تو یہاں اس کا ترجمہ ہم کریں گے ممکن ہونا۔ تو کہتے ہیں ”يَدْفَعُ إِلَيْهِمْ مِنَ الْمَنْقُولَاتِ بِقَدْرِ مَا يَتَهَيَّأُ لَهُمُ الْعَمَلُ“ تو امام منقولی چیزیں ان کے حوالے کر دے اتنی مقدار کہ ان کے لیے عمل کرنا ممکن ہو جائے ”لِيَخْرُجَ عَنْ حَدِّ الْكَرَاهَةِ“ تاکہ یہ کراہت کی حد سے نکل جائے۔ اگر امام ان کے لیے کچھ بھی نہیں چھوڑتا تو یہ تو مکروہ ہے بھئی، تو امام کاشتکاری کے ضروری اسباب ان کے لیے چھوڑ دے تاکہ کراہت کی حد سے نکل جائے۔ ”قَالَ: وَهُوَ فِي الْأُسَارَى بِالْخِيَارِ“ اُسَارَى جمع ہے اَسِیر کی، اور اس میں ہمزہ پر ضمہ بھی صحیح اور فتحہ بھی صحیح، اُسَارَى ہمزہ پر ضمہ ہے یا اَسَارَى ہمزہ پر فتحہ ہے، دونوں طرح صحیح ہے بھئی۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَهُوَ فِي الْأُسَارَى بِالْخِيَارِ“ اور امام جو ہے قیدیوں کے بارے میں اس کو اختیار ہے ”إِنْ شَاءَ قَتَلَهُمْ“ اگر چاہے تو ان کو قتل کر دے ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَدْ قَتَلَ“ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے بھی قتل فرمایا۔ بھئی روایات میں آتا ہے کہ فتحِ مکہ کے موقع پر حضور علیہ السلام نے تمام لوگوں کو امان دے دیا لیکن چند ایک کے قتل کا حکم دیا، جیسے ابنِ خطل۔ ابنِ خطل یہ ایک شاعر تھا اور حضور علیہ السلام کی ہجو میں اور مذمت میں اشعار کہتا تھا بھئی۔ تو جب مسلمانوں نے مکہ فتح کر لیا، ہر ایک کو حضور امان دیتے چلے جا رہے ہیں، تو اس موقع پر کچھ مسلمان آئے کہ یا رسول اللہ! ابنِ خطل جو ہے وہ بیت اللہ کے پردوں سے لپٹا ہوا ہے، بیت اللہ کے پردوں کے ساتھ لٹک رہا ہے، تو ہم اس کا کیا کریں؟ تو حضور نے فرمایا اس کو قتل کر دو۔ تو معلوم ہوا قیدیوں کو قتل کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ قَدْ قَتَلَ وَلِأَنَّ فِيهِ حَسْمَ مَادَّةِ الْفَسَادِ“ اور نیز اس لیے کیونکہ قتل کے اندر فساد کے مادے کو کاٹنا ہے، حَسَمَ يَحْسِمُ کا معنی کاٹ دینا ختم کر دینا۔ تو اس لیے کیونکہ قتل کرنے میں فساد کے مادے کو کاٹ دینا ہے ختم کر دینا ہے۔ ”وَإِنْ شَاءَ اسْتَرَقَّهُمْ“ اور اگر امام چاہے تو ان قیدیوں کو غلام بنا لے، ان قیدیوں کو غلام بنا لے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ شَاءَ اسْتَرَقَّهُمْ لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ شَرِّهِمْ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر ان کے شر کو دور کرنا ہے ”مَعَ وُفُورِ الْمَنْفَعَةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ“ ساتھ نفع کی کثرت کے اہلِ اسلام کے لیے۔ اگر امام ان کو قتل کرے گا تو ان کا شر دور ہو جائے گا، اور اگر امام ان کو غلام بنائے گا تو ان کا شر بھی دور ہو گیا کیونکہ اب یہ حربی نہیں ہیں بلکہ مسلمانوں کے غلام ہیں، تو ان کا شر بھی دور ہو گیا اور مسلمانوں کو بھی فائدہ حاصل ہو گیا کہ ان کو غلام مل گئے۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ دَفْعَ شَرِّهِمْ مَعَ وُفُورِ الْمَنْفَعَةِ لِأَهْلِ الْإِسْلَامِ“ اس لیے کیونکہ غلام بنانے میں ان کے شر کو دور کرنا ہے ساتھ نفع کے کثیر ہونے کے اہلِ اسلام کے لیے، کہ اہلِ اسلام کے لیے نفع بڑھ گیا بھئی، نفع کثیر ہو گیا کہ اب یہ مسلمانوں کی خدمت کریں گے۔ ”وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُمْ أَحْرَارًا ذِمَّةً لِلْمُسْلِمِينَ“ اور اگر امام چاہے تو ان قیدیوں کو آزاد ہی چھوڑ دے مسلمانوں کے لیے بطورِ ذمی کے، مسلمانوں کے لیے بطورِ ذمی کے ان کو آزاد ہی چھوڑ دے۔ تو کہتے ہیں ”وَإِنْ شَاءَ تَرَكَهُمْ أَحْرَارًا ذِمَّةً لِلْمُسْلِمِينَ لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دی کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی عراق والوں کی زمینیں انہی کے پاس رہنے دیں اور ان کو ذمی بنا دیا۔ ”إِلَّا فِي مُشْرِكِي الْعَرَبِ وَالْمُرْتَدِّينَ“ مگر مشرکینِ عرب اور مرتدین جو ہیں، جو لوگ مرتد ہو جائیں ان کو غلام بنانے کی یا ان کو چھوڑنے کی اجازت نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا فِي مُشْرِكِي الْعَرَبِ“ بھئی ”فِي مُشْرِكِي الْعَرَبِ“ اصل میں کیا تھا؟ ”فِي مُشْرِكِينَ الْعَرَبِ“ اور پھر نون اضافت کی وجہ سے گر گیا۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا فِي مُشْرِكِي الْعَرَبِ وَالْمُرْتَدِّينَ“ مگر عرب کے جو مشرکین ہیں اور جو مرتد ہیں، یعنی اس میں امام کو اختیار نہیں ہوگا، باقی قیدیوں میں تو اختیار ہے کہ ان کو وہ غلام بھی بنا سکتا ہے اور ویسے بھی آزاد چھوڑ سکتا ہے لیکن عرب کے مشرکین اور جو مرتد ہیں ان میں امام کو اختیار نہیں ہے ”عَلَى مَا نُبَيِّنُ إِنْ شَاءَ اللهُ تَعَالَى“ اس وجہ سے جو ہم بیان کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ، آگے باب الجزیہ میں صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے۔ ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ“ اور امام کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ ان کو دار الحرب واپس بھیج دے۔ بھئی یہ مشرکینِ عرب اور مرتدین کی بات نہیں ہو رہی، جو ماقبل میں بات چل رہی تھی، اور قیدی جو ہیں، اور جو قیدی مسلمانوں کے ہاتھ آئے ہیں جہاد کے اندر، ان میں امام کو یہ اجازت نہیں ہے کہ ان کو واپس دار الحرب جانے دے، اس لیے کیونکہ اگر یہ واپس دار الحرب جائیں گے تو یہ تو پھر مسلمانوں کے خلاف لڑنے آ جائیں گے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يَجُوزُ أَنْ يَرُدَّهُمْ إِلَى دَارِ الْحَرْبِ لِأَنَّ فِيهِ تَقْوِيَتَهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر ان کو مسلمانوں کے خلاف قوت دینا ہے، تو یہ تو گویا دار الحرب والوں کو قوت دی جا رہی ہے مسلمانوں کے خلاف۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ تَقْوِيَتَهُمْ عَلَى الْمُسْلِمِينَ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر تو مسلمانوں کے خلاف ان کو قوت دینا ہے۔ ”فَإِنْ أَسْلَمُوا لَا يَقْتُلُهُمْ“ اگر یہ جو قیدی ہیں یہ مسلمان ہو جاتے ہیں پھر امام ان کو قتل نہیں کروا سکتا۔ ویسے تو امام کو اختیار ہے وہ ان قیدیوں کو قتل کر سکتا ہے لیکن اگر وہ مسلمان ہو گئے تو اب ان کو قتل نہیں کر سکتا۔ کہتے ہیں ”فَإِنْ أَسْلَمُوا لَا يَقْتُلُهُمْ لِانْدِفَاعِ الشَّرِّ بِدُونِهِ“ اس لیے کیونکہ قتل کے بغیر ہی شر دور ہو گیا۔ ان کا شر دور ہو گیا، یہ مسلمان ہو گئے ہیں، اب یہ مسلمانوں کو نقصان نہیں پہنچائیں گے۔ ”وَلَهُ أَنْ يَسْتَرِقَّهُمْ“ اور امام کے لیے جائز ہے کہ ان کو غلام بنا لے بھئی۔ کچھ قیدی مسلمان ہو گئے تو اب امام ان کو قتل تو نہیں کروا سکتا لیکن ان کو غلام بنا سکتا ہے۔ بھئی کیا وجہ ہے غلام کیوں بنا سکتے ہیں؟ یہ تو مسلمان ہو گیا ہے! کہتے ہیں بھئی یہ قیدی بننے کے بعد مسلمان ہوا ہے، جب ہم نے اس کو پکڑا تھا یہ حربی تھا، تو لہٰذا اس میں غلامی کا سبب پایا جا رہا ہے۔ حربی مسلمانوں کے ہاتھ آ جائیں تو مسلمان ان کو غلام بنا سکتے ہیں، تو جب ہم نے پکڑا تھا یہ اس وقت حربی تھا تو اس میں غلامی کا سبب موجود ہے۔ تو اب اسلام بے شک لے آیا لیکن یہ قید ہونے کے بعد اسلام لایا ہے، تو غلامی کا سبب ابھی بھی موجود ہے لہٰذا امام ان کو غلام بنا سکتا ہے۔ ہاں اگر یہ پکڑے جانے سے پہلے مسلمان ہو جائیں تو پھر اس صورت میں ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُ أَنْ يَسْتَرِقَّهُمْ تَوْفِيرًا لِلْمَنْفَعَةِ بَعْدَ انْعِقَادِ سَبَبِ الْمِلْكِ“ توفیر للمنفعة، وَفَّرَ يُوَفِّرُ توفیر کا معنی ہے کثیر کرنا، بڑھا دینا۔ ”تَوْفِيرًا لِلْمَنْفَعَةِ“ فائدے کو بڑھانے کے لیے ”بَعْدَ انْعِقَادِ سَبَبِ الْمِلْكِ“ بعد اس کے کہ ملکیت کا سبب بھی منعقد ہو چکا ہے۔ ملکیت کا سبب بھی منعقد ہو چکا ہے کہ جب ہم نے ان کو پکڑا تھا یہ حربی تھے، تو ان کو غلام بنائیں گے تو فائدہ بڑھ جائے گا مسلمانوں کے لیے۔ تو یہ معنی ہے: امام ان کو غلام بنا سکتا ہے نفع کو بڑھانے کے لیے ملکیت کا سبب منعقد ہو جانے کے بعد ”بِخِلَافِ إِسْلَامِهِمْ قَبْلَ الْأَخْذِ“ بخلاف اس کے کہ یہ مسلمان ہو جائیں پکڑے جانے سے پہلے ”لِأَنَّهُ لَمْ يَنْعَقِدِ السَّبَبُ بَعْدُ“ کیونکہ اس کے بعد تو سبب منعقد نہیں ہوا۔ جب یہ پکڑے جانے سے پہلے ہی مسلمان ہو گئے تو اب غلام بنانے کا سبب نہیں پایا گیا، غلام بنانے کا سبب کیا تھا؟ کہ حربی ہونے کی حالت میں ان کو پکڑا جائے، اور جب یہ مسلمان ہو گئے ہیں تو اب غلامی کا سبب نہیں لہٰذا ان کو غلام نہیں بنایا جا سکتا۔ یہ معنی ہے: ”بِخِلَافِ إِسْلَامِهِمْ قَبْلَ الْأَخْذِ لِأَنَّهُ لَمْ يَنْعَقِدِ السَّبَبُ بَعْدُ“۔ ”وَلَا يُفَادِي بِالْأُسَارَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ، وَقَالَا: يُفَادِي بِهِمْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ“ بھئی فادَى يُفادِي مفاداة کا معنی ہے فدیہ لے کر قیدی کو آزاد کرنا، یعنی مال لے کر قیدی کو چھوڑنا اس کو بھی فادَى يُفادِي مفاداة کہتے ہیں، اور اسی طرح اپنے قیدیوں کے رہائی کے بدلے میں دشمن کے قیدیوں کو آزاد کرنا اس کو بھی مفاداة کہتے ہیں، اور یہاں یہی معنی مراد ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُفَادِي بِالْأُسَارَى عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللهُ“ اور امام جو ہے اپنے قیدیوں کے بدلے دشمن کے قیدیوں کو آزاد نہیں کر سکتا امام صاحب کے نزدیک ”وَقَالَا: يُفَادِي بِهِمْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ“ اور صاحبین فرماتے ہیں کہ امام جو ہے وہ مسلمان قیدیوں کے بدلے میں دشمن کے قیدیوں کو آزاد کر سکتا ہے۔ اور بھئی یاد رکھنا یہ متن کے اندر تو ذکر ہوا کہ امام صاحب کے نزدیک اپنے قیدیوں کے بدلے دشمن کے قیدیوں کو چھوڑنا یہ امام کے لیے جائز نہیں ہے، لیکن سیرِ کبیر میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ امام صاحب کی زیادہ ظاہر روایت یہی ہے کہ امام اپنے قیدیوں کے بدلے دشمن کے قیدیوں کو آزاد کر سکتا ہے۔ امام صاحب کی زیادہ ظاہر روایت یہی ہے جو صاحبین کا مذہب ہے، معلوم ہوا یہ ہمارے تینوں ائمہ کا مذہب ہے بھئی کہ امام اپنے قیدیوں کے بدلے میں دشمن کے قیدیوں کو آزاد کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَقَالَا: يُفَادِي بِهِمْ أُسَارَى الْمُسْلِمِينَ وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ”لِأَنَّ فِيهِ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ“ اس لیے کیونکہ اس کے اندر مسلمان کو چھڑانا ہے۔ جب ہم دشمن کے قیدی کو چھوڑیں گے تو وہ ہمارے قیدی کو چھوڑ دے گا، تو دیکھو اس میں ہم نے ایک مسلمان کو دشمن کی قید سے چھڑا لیا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّ فِيهِ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ وَهُوَ أَوْلَى مِنْ قَتْلِ الْكَافِرِ أَوِ الِانْتِفَاعِ بِهِ“ اور یہ کسی کافر کو قتل کرنے یا اس سے فائدہ اٹھانے کے مقابلے میں بہتر ہے۔ بھئی ایک صورت یہ ہے کہ امام قیدی کو قتل کر دے، ایک صورت یہ ہے کہ مسلمان قیدی کو غلام بنا لے اور غلام بنائے گا تو مسلمانوں کو فائدہ ہوگا، لیکن قیدی کو قتل کرنے یا اس سے فائدہ اٹھانے کے بجائے بہتر کیا ہے کہ اس کے ذریعے مسلمان قیدی کو چھڑا لیا جائے بھئی۔ یہ معنی ہے، کہتے ہیں ”وَهُوَ أَوْلَى مِنْ قَتْلِ الْكَافِرِ أَوِ الِانْتِفَاعِ بِهِ“ اور مسلمان کو چھڑانا بہتر ہے کافر کو قتل کرنے کے مقابلے میں اور کافر سے فائدہ اٹھانے کے مقابلے میں، یعنی غلام بنا کر اس سے فائدہ اٹھایا جائے اس کے مقابلے میں مسلمان کو چھڑانا بہتر ہے۔ ”وَلَهُ أَنَّ فِيهِ مَعُونَةَ الْكَفَرَةِ“ امام صاحب کی دلیل یہ ہے کہ اس کے اندر دشمن کی مدد ہے، معونت کہتے ہیں مدد کو، کفرة جمع ہے کافر کی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَهُ أَنَّ فِيهِ مَعُونَةَ الْكَفَرَةِ“ کہ اس کے اندر کافروں کی مدد ہے، یعنی اگر ان کے قیدیوں کو ہم چھوڑیں گے تو اس سے تو کافروں کی مدد ہوگی ”لِأَنَّهُ يَعُودُ حَرْبًا عَلَيْنَا“ اس لیے کیونکہ وہ ہم پر دشمن بن کر لوٹے گا۔ یہ دشمن کا قیدی جسے ہم آزاد کریں گے یہ کل کو ہمارے خلاف ہی دشمن بن کر آئے گا اور ہمارے ساتھ لڑائی کرے گا۔ تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ يَعُودُ حَرْبًا عَلَيْنَا“ میں نے آپ کو بتلایا تھا عربی میں کہتے ہیں هُوَ حَرْبٌ عَلَيَّ، وہ میرا دشمن ہے، تو حرب کے ساتھ علیٰ کا صلہ لاتے ہیں اور اس کے معنی دشمن کے ہوتے ہیں، تو یہاں بھی اسی طرح ہے: ”لِأَنَّهُ يَعُودُ حَرْبًا عَلَيْنَا“ اس لیے کیونکہ ان کا یہ قیدی ہمارے خلاف دشمن بن کر لوٹے گا ”وَدَفْعُ شَرِّ حِرَابِهِ خَيْرٌ مِنِ اسْتِنْقَاذِ الْأَسِيرِ الْمُسْلِمِ“۔ حِرَاب، حراب کا معنی ہے جنگ بھئی۔ ”وَدَفْعُ شَرِّ حِرَابِهِ خَيْرٌ مِنِ اسْتِنْقَاذِ الْأَسِيرِ الْمُسْلِمِ“ اور اس قیدی کی جنگ کے شر کو دور کرنا وہ بہتر ہے مسلمان قیدی کو چھڑانے کے مقابلے میں۔ یہ جو دشمن کا قیدی ہے اس کو قتل کرنا یا اس کو غلام بنا کر رکھنا وہ بہتر ہے کیونکہ اس کی وجہ سے اس کے جنگ کا اور لڑائی کا شر دور ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں ”وَدَفْعُ شَرِّ حِرَابِهِ خَيْرٌ مِنِ اسْتِنْقَاذِ الْأَسِيرِ الْمُسْلِمِ“ اور اس دشمن کے قیدی کی جنگ کے شر کو دور کرنا یہ بہتر ہے مسلمان قیدی کو چھڑانے سے۔ بھئی صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر ایک ہی معنی کو صاحبِ ہدایہ کو دو تین جگہ ذکر کرنا پڑے تو وہ عموماً ہر ایک کے لیے الگ لفظ استعمال کرتے ہیں۔ تو دیکھو اوپر آیا تھا ”لِأَنَّ فِيهِ تَخْلِيصَ الْمُسْلِمِ“، اس میں مسلمان کو چھڑانا ہے۔ اب دوبارہ وہی چھڑانے کے لیے اب استنقاذ کا لفظ لا رہے ہیں صاحبِ ہدایہ، کہ یہ بہتر ہے ”مِنِ اسْتِنْقَاذِ الْأَسِيرِ الْمُسْلِمِ“ مسلمان قیدی کو چھڑانے سے۔ ”لِأَنَّهُ إِذَا بَقِيَ فِي أَيْدِيهِمْ كَانَ ابْتِلَاءً فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ مسلمان قیدی جب انہی کے قبضے میں باقی رہے گا تو یہ آزمائش ہے اس مسلمان قیدی کے حق میں۔ بھئی یہاں سے صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ اگر مسلمان قیدی انہی کے پاس ہم رہنے دیں تو اس بیچارے قیدی کا نقصان ہے لیکن وہ نقصان صرف اسی قیدی کا ہے، لیکن اگر ہم کفار کے قیدی کو چھوڑیں گے اس مسلمان قیدی کے بدلے میں تو کفار کا یہ قیدی کل ہمارے ساتھ ہی لڑنے کے لیے آئے گا تو اس میں تمام مسلمانوں کا نقصان ہے۔ تو ایک صورت میں ضررِ خاص ہے جب مسلمان قیدی ان کے پاس ہی رہے، اور دوسری صورت میں اگر مسلمان قیدی چھڑاتے ہیں تو پھر ضررِ عام ہے تمام مسلمانوں کو نقصان ہوگا کہ وہ قیدی کل ہمارے خلاف لڑنے آ جائے گا۔ تو لہٰذا ضررِ عام سے بچنا اولیٰ ہے ضررِ خاص کے مقابلے میں، لہٰذا مسلمان قیدی کے بدلے میں ان کے قیدی کو آزاد نہیں کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ إِذَا بَقِيَ فِي أَيْدِيهِمْ كَانَ ابْتِلَاءً فِي حَقِّهِ غَيْرَ مُضَافٍ إِلَيْنَا“ یاد رکھو اَضَافَ يُضِيفُ إِضَافَةً اس کا ایک معنی ہے نسبت کرنا، ایک چیز کی دوسرے کی طرف نسبت کرنا، اور اسی طرح اَضَافَ يُضِيفُ إِضَافَةً کا معنی اضافہ کرنا اور بڑھانا بھی ہے، کسی چیز میں اضافہ کرنا اور اس کو بڑھانا بھی، اور یہاں یہی معنی مراد ہے کہ مسلمان قیدی ان کے پاس رہے گا تو صرف اسی کا نقصان ہے یہ نقصان ہماری طرف نہیں بڑھے گا، یعنی عام مسلمانوں کو اس کا نقصان نہیں ہوگا صرف اسی قیدی کو نقصان ہے۔ لیکن ان کے قیدی کو اگر ہم چھوڑیں گے تو اس کا نقصان تمام مسلمانوں کو ہوگا۔ تو یہ معنی ہے: ”كَانَ ابْتِلَاءً فِي حَقِّهِ“ تو یہ صرف اس مسلمان قیدی کے حق میں آزمائش ہوگی ”غَيْرَ مُضَافٍ إِلَيْنَا“ ہماری طرف یہ نہیں بڑھے گی، یہ آزمائش ہماری طرف نہیں بڑھے گی ہمیں نہیں پہنچے گی۔ ”وَالْإِعَانَةُ بِدَفْعِ أَسِيرِهِمْ إِلَيْهِمْ مُضَافٌ إِلَيْنَا“ اور ان کی مدد کرنا ان کے قیدی کو ان کے حوالے کر کے یہ ہماری طرف بڑھے گا، اس کا نقصان ہماری طرف بڑھے گا تمام مسلمانوں کو اس کا نقصان پہنچے گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ یا یہاں مضاف کا ترجمہ نسبت کے کر لیں بلکہ یہی زیادہ مناسب ہے کہ یہاں پر مضاف کا ترجمہ منسوب ہونے کے کر لیں، اس لیے کیونکہ پیچھے اعانت کا ذکر ہے۔ دیکھو ”وَالْإِعَانَةُ بِدَفْعِ أَسِيرِهِمْ إِلَيْهِمْ“ یہ ہے مبتدا اور ”مُضَافٌ إِلَيْنَا“ یہ ہے خبر۔ تو ترجمہ سنو: ”وَالْإِعَانَةُ بِدَفْعِ أَسِيرِهِمْ إِلَيْهِمْ“ اور ان کے قیدی کو ان کے حوالے کر کے ان کی مدد کرنا ”مُضَافٌ إِلَيْنَا“ یہ ہماری طرف منسوب ہوگا کہ ہم نے ان کی مدد کی ہے۔ تو یہاں پر مضاف کا معنی منسوب ہونے کے ہی صحیح بنتا ہے، دوسرا معنی یہاں صحیح نہیں بنتا کہ یہ ہماری طرف بڑھے گا، کیونکہ مبتدا کیا ہے؟ اعانت، یہ جو ہم نے ان کی مدد کی ہے ان کا قیدی چھوڑا ہے۔ ”مُضَافٌ إِلَيْنَا“ یہ ہماری طرف بڑھے گی؟ کیا ان کی مدد بڑھ کر ہم تک پہنچے گی یا یہ جو ہم نے مدد کی ہے اس کی نسبت ہماری طرف ہوگی؟ نسبت ہماری طرف ہوگی، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو صاحبِ ہدایہ کی فصیح و بلیغ عبارتیں چل رہی ہیں، پیچھے بھی مضاف الینا کو ذکر کیا اور پھر دوبارہ بھی مضاف الینا کو ذکر کیا لیکن ایک جگہ مضاف الینا کا معنی ہے کہ وہ نقصان ہماری طرف بڑھے گا، اور دوسری جگہ مضاف الیہ کا معنی یہ ہے کہ یہ جو ہم نے مدد کی ہے یہ ہماری طرف منسوب ہوگی کہ یہ جو ہم نے ان کی مدد کی ہے ان کا قیدی چھوڑا ہے یہ مدد ہماری طرف منسوب ہوگی کہ ہم نے ان کی مدد کی ہے، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو یہ معنی ہے: ”وَالْإِعَانَةُ بِدَفْعِ أَسِيرِهِمْ إِلَيْهِمْ مُضَافٌ إِلَيْنَا“ اور ان کے قیدی کو ان کے حوالے کرنے کے ذریعے جو مدد ہے یہ ہماری طرف منسوب ہوگی۔ ”أَمَّا الْمُفَادَاةُ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ لَا يَجُوزُ فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الْمَذْهَبِ لِمَا بَيَّنَّا“ دوسری صورت کہ قیدی کو فدیہ لے کر آزاد کیا جائے، مسلمان کفار سے مال لیتے ہیں اور اس کے بدلے میں ان کے قیدی کو آزاد کر دیتے ہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ احناف کے مذہب میں جو مشہور روایت ہے اس کے مطابق مال لے کر دشمن کے قیدی کو آزاد کرنا جائز نہیں ہے۔ تو کہتے ہیں ”أَمَّا الْمُفَادَاةُ بِمَالٍ يَأْخُذُهُ مِنْهُمْ“ اور باقی دشمن کے قیدی کو آزاد کرنا ایسے مال کے بدلے میں جو امام ان سے لے لے، امام ان سے مال لے کر ان کے قیدی کو آزاد کر دے ”لَا يَجُوزُ فِي الْمَشْهُورِ مِنَ الْمَذْهَبِ“ تو یہ جائز نہیں ہے اس میں جو کہ مشہور ہے یعنی کہ مذہب، یعنی وہ جو احناف کا مذہب میں جو مشہور روایت اور مشہور قول ہے اس کے مطابق یہ جائز نہیں ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ ہم دشمن کے قیدی کو چھوڑیں گے تو یہ تو کل ہمارے ہی خلاف لڑنے آ جائے گا تو یہ تو گویا ہم ان کی مدد کر رہے ہیں۔ ”وَفِي السِّيَرِ الْكَبِيرِ أَنَّهُ لَا بَأْسَ بِهِ إِذَا كَانَ بِالْمُسْلِمِينَ حَاجَةٌ“ اور سیرِ کبیر میں ہے کہ مال لے کر آزاد کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں ہے جب مسلمانوں کو حاجت ہو، اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہے تو پھر دشمن کے قیدیوں کو مال لے کر آزاد کرنا جائز ہے ”اسْتِدْلَالًا بِأُسَارَى بَدْرٍ“ بدر کے قیدیوں سے استدلال کرتے ہوئے۔ سیرِ کبیر میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر مسلمانوں کو مال کی حاجت ہے تو مال لے کر دشمن کے قیدیوں کو چھوڑنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور وہ استدلال فرماتے ہیں بدر کے قیدیوں سے کہ ان کو بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فدیہ لے کر چھوڑ دیا تھا۔ یاد رکھو بدر کے اندر مسلمانوں نے دشمن کے ستر آدمیوں کو ان کے بڑے بڑے سرداروں کو قید کر لیا اور پھر صحابہ سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مشورہ فرمایا ان قیدیوں کے بارے میں، تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، اور اسی طرح اکثر صحابہ کی رائے بھی یہی تھی، جبکہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمانے لگے کہ نہیں ان سب کو قتل کر دیا جائے، ہر شخص اپنے رشتہ دار کو قتل کرے، حضور علیہ السلام اپنے رشتہ دار کو قتل کریں، علی اپنے رشتہ دار کو قتل کریں، میں اپنے رشتہ دار کو قتل کروں گا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ چونکہ جلالی طبیعت رکھتے تھے اور کفر کے خلاف بہت سخت تھے تو انہوں نے یہ مشورہ دیا، لیکن بہرحال اکثر صحابہ کی یہی رائے تھی کہ ان قیدیوں کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے، چنانچہ حضور علیہ السلام نے پھر یہی فیصلہ فرمایا۔ تو اس پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آیتیں نازل ہوئیں بھئی، یہ حاشیے کے اندر دی ہوئی ہیں ان پر نظر رکھیے بھئی۔ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”مَا كَانَ لِنَبِيٍّ أَنْ يَكُونَ لَهُ أَسْرَى حَتَّى يُثْخِنَ فِي الْأَرْضِ تُرِيدُونَ عَرَضَ الدُّنْيَا وَاللهُ يُرِيدُ الْآخِرَةَ وَاللهُ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ۞ لَوْلَا كِتَابٌ مِنَ اللهِ سَبَقَ لَمَسَّكُمْ فِيمَا أَخَذْتُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ“ کہ کسی پیغمبر کے مناسب نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی رہیں یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب اچھی طرح خون بہا دے، تم لوگ دنیاوی ساز و سامان چاہتے ہو اور اللہ آخرت چاہتے ہیں اور اللہ زبردست قوت والے حکمت والے ہیں، اگر اللہ کی طرف سے لکھا ہوا حکم مقدم نہ ہو چکا ہوتا تو البتہ تم کو پہنچتا اس بات کی وجہ سے جو تم نے اختیار کی ہے عذابِ عظیم بڑا عذاب یعنی بڑی سزا۔ اگر اللہ کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو تمہارے اس بات کو اختیار کرنے کی وجہ سے اللہ کی طرف سے تمہیں سخت سزا پہنچتی۔ اگر اللہ کی طرف سے پہلے فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا، اس سے کیا مراد ہے؟ تو بعض مفسرین فرماتے ہیں اس میں اشارہ ہے اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف جس میں اللہ فرماتے ہیں کہ جب تک تم میں یہ پیغمبر موجود ہیں میں تمہیں عذاب نہیں دوں گا۔ تو یہاں بھی اسی کی طرف اشارہ ہے کہ یہ بات تو اللہ کی ناراضگی کی تھی لیکن اللہ نے سزا اس لیے نہیں دی کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں میں موجود ہیں بھئی۔ جبکہ بعضوں نے کہا کہ اس کے ذریعے اشارہ ہے اس بات کی طرف کہ اگر اللہ کی طرف سے یہ مقدر نہ ہوتا کہ ان کفار میں سے بھی بعض لوگ بعد میں مسلمان ہو جائیں گے، تو اگر اللہ کی طرف سے یہ فیصلہ نہ ہو چکا ہوتا تو اس بات کی وجہ سے تمہیں سخت سزا ملتی۔ پھر آگے اللہ فرماتے ہیں: ”فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا وَاتَّقُوا اللهَ إِنَّ اللهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ“ پس تم کھاؤ اس میں سے جو تمہیں غنیمت ملی ہے بطورِ پاکیزہ حلال کے، یعنی یہ غنیمت جو تمہیں ملی ہے یہ تمہارے لیے پاکیزہ اور حلال ہے تم اس کو کھا سکتے ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، یقیناً اللہ بہت بخشنے والے اور نہایت مہربان ہیں۔ تو دیکھو اگرچہ یہ بات اللہ کے غضب کا باعث تھی لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ نے ان مسلمانوں کے لیے اس مال کو کھانا حلال فرما دیا اور اس کو پاکیزہ حلال مال قرار دے دیا کہ ”فَكُلُوا مِمَّا غَنِمْتُمْ حَلَالًا طَيِّبًا“، کہ وہ غنیمت جو تم نے حاصل کی ہے اسے بطورِ پاکیزہ مال کے کھاؤ۔ تو اللہ نے اس مال کو مسلمانوں کے لیے حلال فرما دیا۔ تو اللہ کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں تو حضور علیہ السلام رونے لگ پڑے اور تمام صحابہ بھی رو رہے ہیں، اور حضور علیہ السلام فرمانے لگے: اگر اللہ کا عذاب نازل ہوتا تو عمر اور سعد ابن معاذ کے علاوہ اور کوئی نہ بچتا۔ معلوم ہوا حضرت سعد ابن معاذ جو قبیلۂ اوس کے سردار تھے ان کی بھی یہی رائے تھی بھئی۔ تو حضور علیہ السلام فرمانے لگے کہ اگر اللہ کا عذاب نازل ہوتا تو ہم میں سے صرف عمر اور سعد ابن معاذ ہی بچتے بھئی۔ تو معلوم ہوا کہ اس معاملے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی رائے حق تھی بھئی، اور اس سے ایک اور بات بھی معلوم ہو گئی کہ پیغمبر سے بھی اجتہادی خطا ہو سکتی ہے لیکن وہ اجتہادی خطا پر برقرار نہیں رہتا بلکہ اللہ کی طرف سے فوراً ہی حق کو ظاہر کر دیا جاتا ہے بھئی۔ تو بہرحال اللہ نے غضب کے باوجود مسلمانوں کو اس کی اجازت دے دی بھئی، معلوم ہوا مسلمانوں کو حاجت ہو تو فدیہ لے کر دشمن کے قیدی کو چھوڑا جا سکتا ہے۔ تو یہ معنی ہے: ”اسْتِدْلَالًا بِأُسَارَى بَدْرٍ“ بدر کے قیدیوں سے استدلال کرتے ہوئے۔ ”وَلَوْ كَانَ أَسْلَمَ الْأَسِيرُ فِي أَيْدِينَا“ بھئی صورت یہ ہے کہ وہ جو دشمن کے قیدی ہم نے پکڑے تھے ان میں سے ایک قیدی مسلمان ہو گیا، تو کیا اس مسلمان قیدی کے بدلے میں دشمن سے ہم اپنے قیدی چھڑوا سکتے ہیں؟ کہتے ہیں نہیں، اس کا تو کوئی فائدہ ہی نہیں ہے، آپ جس کو چھڑوا رہے ہیں وہ بھی مسلمان ہے اور جس کو حوالے کریں گے وہ بھی مسلمان ہے بھئی۔ ہاں البتہ یہ جو قیدی مسلمانوں کے پاس ہے اور مسلمان ہو گیا ہے اگر یہ خود اس پر راضی ہے اور اس کو اپنے اسلام پر اطمینان ہے کہ کفار اس کو دوبارہ کافر بنانے کی کوشش نہیں کریں گے تو پھر جائز ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَوْ كَانَ أَسْلَمَ الْأَسِيرُ فِي أَيْدِينَا لَا يُفَادَى بِمُسْلِمٍ أَسِيرٍ فِي أَيْدِيهِمْ“ اور اگر کوئی قیدی مسلمان ہو گیا ہمارے قبضے میں تو اس مسلمان قیدی کو فدیے میں نہیں دیا جائے گا اس مسلمان قیدی کے بدلے میں جو ان کے قبضے میں ہے ”لِأَنَّهُ لَا يُفِيدُ“ اس لیے کیونکہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہے ”إِلَّا إِذَا طَابَتْ نَفْسُهُ بِهِ“ مگر یہ کہ جب اس کی اپنی ذات اس پر راضی ہو، جب یہ قیدی جو ان کے حوالے کیا جا رہا ہے جب وہ خود اس پر خوش ہے اور راضی ہے پھر اس طرح کیا جا سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”إِلَّا إِذَا طَابَتْ نَفْسُهُ بِهِ وَهُوَ مَأْمُونٌ عَلَى إِسْلَامِهِ“ اور نیز وہ اپنے اسلام پر بھی مامون ہو، اس کو اپنے اسلام پر بھی اطمینان ہو کہ کفار اسے دوبارہ کافر بنانے کی کوشش نہیں کریں گے پھر جائز ہے۔ ”قَالَ: وَلَا يَجُوزُ الْمَنُّ عَلَيْهِمْ“ اور ان قیدیوں پر احسان کرنا جائز نہیں ہے۔ قیدیوں پر احسان کرنا جائز نہیں ہے یعنی یہ کہ قیدیوں کو ویسے ہی مفت میں چھوڑ دیا جائے، ان کے بدلے نہ تو مسلمان قیدیوں کو آزاد کروایا ہے اور نہ ان کے بدلے میں مال لیا ہے، تو یاد رکھو یہ جائز نہیں ہے، اس طرح سے ان پر احسان کرنا جائز نہیں ہے۔ تو قال صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ الْمَنُّ عَلَيْهِمْ“ اور ان پر احسان جائز نہیں ہے ”أَيْ عَلَى الْأُسَارَى“ یعنی ان قیدیوں پر، هم ضمیر کس کو راجع ہے؟ اساریٰ کو بھئی۔ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يَجُوزُ الْمَنُّ عَلَيْهِمْ أَيْ عَلَى الْأُسَارَى خِلَافًا لِلشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللهُ“ بخلاف امام شافعی رحمہ اللہ کے ”فَإِنَّهُ يَقُولُ: مَنَّ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى بَعْضِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ“ کیونکہ وہ فرماتے ہیں کہ حضور علیہ السلام نے احسان فرمایا تھا یومِ بدر والے دن بعض قیدیوں پر۔ غزوۂ بدر کے کچھ قیدیوں پر حضور علیہ السلام نے احسان فرمایا تھا کہ ان کو بغیر عوض کے ہی آزاد کر دیا تھا، تو معلوم ہوا بغیر عوض کے بھی قیدی کو آزاد کرنا جائز ہے۔ یہ معنی ہے: ”فَإِنَّهُ يَقُولُ: مَنَّ رَسُولُ اللهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ عَلَى بَعْضِ الْأُسَارَى يَوْمَ بَدْرٍ“، حضور علیہ السلام نے احسان فرمایا یومِ بدر والے دن بعض قیدیوں پر اور بغیر عوض کے ہی ان کو آزاد کر دیا۔ ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾“ اور ہماری دلیل جو ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے کہ تم لوگ مشرکین کو قتل کرو جہاں تم انہیں پالو۔ تو دیکھو اس آیت کے اندر مطلقاً مشرکین کے قتل کا حکم دیا جا رہا ہے، معلوم ہوا مشرکین کے ساتھ احسان کی اجازت نہیں ہے، امام ان کو ویسے احسان کے طور پر آزاد نہیں کر سکتا۔ تو کہتے ہیں ”وَلَنَا قَوْلُهُ تَعَالَى: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ وَلِأَنَّهُ بِالْأَسْرِ وَالْقَسْرِ يَثْبُتُ حَقُّ الِاسْتِرْقَاقِ فِيهِ“ یہاں سے عقلی دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ مشرکین کے قیدیوں کو احسان کرتے ہوئے ویسے ہی بغیر عوض کے آزاد کرنا جائز نہیں ہے۔ کہتے ہیں ”وَلِأَنَّهُ بِالْأَسْرِ“ اَسر بھئی ہمزہ اور سین ہے، أَسَرَ يَأْسِرُ أَسْرًا کا معنی ہے قیدی بنانا، اور قَسر بھئی قاف ہے دو نقطوں والا اور سین ہے، قَسَرَ يَقْسِرُ قَسْرًا کا معنی ہے مغلوب کرنا۔ قَسَرَ يَقْسِرُ قَسْرًا کا کیا معنی ہے؟ مغلوب کرنا۔ تو صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں: ”وَلِأَنَّهُ بِالْأَسْرِ وَالْقَسْرِ يَثْبُتُ حَقُّ الِاسْتِرْقَاقِ فِيهِ“ اور اس لیے کیونکہ قیدی بنانے اور مغلوب کرنے کی وجہ سے اس کے اندر غلام بنانے کا حق ثابت ہو چکا ہے۔ جب حربی پر ہم نے غلبہ پا لیا ہے اور اس کو قید کر لیا ہے تو اب اس کو غلام بنانے کا حق ثابت ہو چکا ہے، جب ہم نے ایک حربی کو پکڑا ہے تو اس کو غلام بنایا جا سکتا ہے، اس کے اندر غلامی کا حق ثابت ہو گیا ہے۔ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّهُ بِالْأَسْرِ وَالْقَسْرِ يَثْبُتُ حَقُّ الِاسْتِرْقَاقِ فِيهِ فَلَا يَجُوزُ إِسْقَاطُهُ بِغَيْرِ مَنْفَعَةٍ وَعِوَضٍ“ لہٰذا اس حق کو ساقط کرنا جائز نہیں ہے بغیر کسی نفع اور عوض کے۔ جب وہ حربی جس کو ہم نے قید کیا ہے جب اس کے اندر غلامی کا حق ثابت ہو چکا ہے تو اس حق کو بغیر نفع کے اور بغیر عوض کے باطل کرنا اور ساقط کرنا صحیح نہیں ہے۔ یہ معنی ہے: ”فَلَا يَجُوزُ إِسْقَاطُهُ بِغَيْرِ مَنْفَعَةٍ وَعِوَضٍ“۔ ”وَمَا رَوَاهُ مَنْسُوخٌ بِمَا تَلَوْنَا“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ منسوخ ہے اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ غزوۂ بدر میں بعض قیدیوں کو حضور علیہ السلام نے بغیر عوض کے ویسے ہی احسان کرتے ہوئے آزاد کیا تھا، تو ہم جواب دیتے ہیں کہ وہ حدیث جو ہے یہ اس آیت کی وجہ سے منسوخ ہے، یہ جو آیت ہم نے دلیل کے طور پر ذکر کی: ﴿فَاقْتُلُوا الْمُشْرِكِينَ حَيْثُ وَجَدْتُمُوهُمْ﴾ کہ مشرکین کو قتل کر دو جہاں کہیں بھی تم ان کو پالو۔ تو یہ آیت بعد میں نازل ہوئی ہے تو اس نے اس حکم کو منسوخ کر دیا کیونکہ اس آیت کے اندر مطلقاً مشرکین کو قتل کرنے کا حکم ہے، معلوم ہوا ان پر احسان کرتے ہوئے انہیں آزاد نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہ معنی ہے: ”وَمَا رَوَاهُ مَنْسُوخٌ بِمَا تَلَوْنَا“ اور وہ حدیث جس کو امام شافعی رحمہ اللہ نے روایت کیا وہ منسوخ ہے اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔
160 approved lectures · 131 of 160