آگے سبق دیکھیے بھئی:
بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ
قَالَ: ”وَإِذَا خَرَجَ جَمَاعَةٌ مُمْتَنِعِينَ أَوْ وَاحِدٌ يَقْدِرُ عَلَى الِامْتِنَاعِ فَقَصَدُوا قَطْعَ الطَّرِيقِ فَأُخِذُوا قَبْلَ أَنْ يَأْخُذُوا مَالًا وَيَقْتُلُوا نَفْسًا حَبَسَهُمُ الْإِمَامُ حَتَّى يُحْدِثُوا تَوْبَةً“
بھئی گذشتہ سبق کے اندر ”بَابُ مَا يُحْدِثُ السَّارِقُ فِي السَّرِقَةِ“ ہم نے شروع کیا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ بعض اوقات چور جو ہے مالِ مسروقہ کے اندر کوئی تبدیلی کر دیتا ہے یا اس میں اپنی کوئی کاریگری دکھاتا ہے، تو جس کی وجہ سے اس مالِ مسروقہ کے اندر کمی آ جاتی ہے یا اس کے اندر زیادتی آ جاتی ہے یعنی اس کی قیمت بڑھ جاتی ہے۔ تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا اگر چور اس قسم کی تبدیلی مالِ مسروقہ کے اندر کر دے؟ تو صاحبِ ہدایہ اس کو بیان فرما رہے ہیں اس باب کے اندر۔
پہلا مسئلہ صاحبِ ہدایہ نے ذکر فرمایا کہ اگر ایک شخص چوری کرنے گیا اور وہیں پر اس نے اس مال کے اندر کثیر نقصان کر دیا اور پھر اس چیز کو لے کر وہاں سے نکلا، تو طرفین فرماتے ہیں کہ اگر اس مال کی قیمت اس کثیر نقصان کے بعد بھی دس درہم یا اس سے زیادہ ہے، تو اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس کثیر نقصان کی وجہ سے اس مالِ مسروقہ کے اندر چور کے لیے سببِ ملکیت پیدا ہو چکا ہے، اور جب کوئی شخص ایسے مال کو چرائے کہ جس کے اندر اس کے لیے سببِ ملکیت پیدا ہو چکا ہو تو اس کا ہاتھ نہیں کاٹا جاتا۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر کوئی شخص کسی کی کوئی چیز غصب کر لے اور اس کے اندر وہ نقصان پیدا کرے، تو اگر وہ تھوڑا سا نقصان ہے تو پھر اس صورت میں مالک کو وہی چیز واپس لینا پڑے گی اور اس کے ساتھ وہ نقصان کا ضمان لے لے گا۔ معلوم ہوا اس صورت کے اندر مالک اس غاصب کو اس چیز کا مالک جبراً نہیں بنا سکتا۔ جبکہ اگر اس کے مقابلے میں اس غاصب نے اس چیز کے اندر کثیر نقصان کر دیا، تو پھر اس صورت میں شریعت نے مالک کو اختیار دیا ہے کہ وہ چاہے تو یہی چیز واپس لے لے اور اس کے ساتھ نقصان کا ضمان بھی غاصب سے وصول کر لے، اور اگر مالک چاہے تو یہ چیز اسی غاصب کے پاس چھوڑ دے کہ یہ تم ہی رکھو، تم ہی اس کے مالک ہو گئے ہو، مجھے میری چیز کی پوری قیمت ادا کر دو۔ تو معلوم ہوا نقصانِ کثیر کی صورت میں مالک غاصب کو اس چیز کا مالک بنا سکتا ہے۔ تو یہی بات امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب چور نے اس چیز کے اندر نقصانِ کثیر کر دیا تو اب یہاں احتمال آ گیا کہ مالک جو ہے وہ اس چیز کی پوری قیمت لے لے اور اسی کو اس مال کا مالک بنا دے، تو سببِ ملکیت آ گیا اس چور کے لیے اس مال میں سببِ ملکیت آ گیا۔ اور ضابطہ ہے کہ جب مالِ مسروقہ کے اندر چور کے لیے سببِ ملکیت آ جائے تو اس کا ہاتھ قطع نہیں کیا جا سکتا۔
وہ فرماتے ہیں یہ اسی طرح ہے جیسے ایک مشتری نے بائع سے وہ مبیعہ چوری کر لیا جس کے اندر بائع نے خیارِ شرط رکھا ہوا تھا۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ بعض اوقات بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک اپنے لیے خیارِ شرط رکھ لیتا ہے کہ میں یہ بیع تو تمہارے ساتھ کر لیتا ہوں لیکن مجھے دو تین دن تک اختیار ہوگا، میں اس بیع کو فسخ کرنا چاہوں تو فسخ بھی کر سکتا ہوں۔ اور میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر خیارِ شرط جو ہے وہ مشتری رکھے تو مبیعہ مشتری کی ملک میں داخل ہو جاتا ہے، اور اگر خیارِ شرط بائع رکھے تو پھر مبیعہ مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوتا۔ تو یہاں پر بھی خیارِ شرط بائع نے رکھا ہے، جب بائع نے رکھا ہے تو مبیعہ مشتری کی ملک میں داخل نہیں ہوا، اور اس مبیعے کو مشتری نے چوری کر لیا۔ تو بالاتفاق اس مشتری کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا، کیونکہ یہ اگرچہ اس مبیعے کا مالک تو نہیں لیکن اس مبیعے کے اندر اس کے لیے سببِ ملک پیدا ہو چکا ہے کیونکہ اس نے اس چیز کی بیع کی ہے باقاعدہ بھئی۔ تو احتمال ہے کہ یہ مالک بن جائے اگر بائع نے بیع فسخ نہ کی بھئی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے اس مشتری کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ اس کے لیے مالِ مسروقہ میں سببِ ملکیت آ چکا ہے، اسی طرح یہ جو چور جس نے کثیر پھٹن والا کپڑا اٹھایا اس کے لیے بھی اس مال کے اندر سببِ ملکیت آ چکا ہے بھئی۔
جبکہ طرفین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں، ہمیں آپ کی بات تسلیم نہیں ہے۔ یہ جو خرقِ کثیر کے ساتھ چیز کو اٹھانا ہے یہ سببِ ملک نہیں ہے بلکہ یہ سببِ ضمان ہے، اس کی وجہ سے اس آدمی پر ضمان آئے گا اور اگر مالک نے ضمان لینے کو اختیار کر لیا تو پھر یہ چور اس مال کا مالک بن جائے گا۔ تو بہرحال اس کثیر پھٹن والا اخذ جو ہے یہ سببِ ضمان ہے، سببِ ملکیت نہیں۔ یہ کیا ہے؟ سببِ ضمان ہے۔ ہاں وہ الگ بات ہے کہ یہ ضمان پھر ملکیت تک پہنچا دے گا۔ تو اس طرح کا اخذ جو ہے وہ ضمان کا سبب ہے اور وہ ضمان جو ہے وہ ملکیت تک پہنچا سکتا ہے اگر مالک نے ضمان لینے کو اختیار کر لیا۔ کیونکہ اس صورت میں جب مالک ضمان لے رہا ہے تو مالک ضمان کا مالک بن گیا، تو کہنا پڑے گا چور جو ہے وہ مالِ مسروقہ کا مالک بن گیا، ورنہ تو دونوں بدلین کا ایک ہی ملکیت میں جمع ہونا لازم آئے گا۔ اگر آپ کہیں کہ ضمان ادا کرنے کے باوجود چور اس مالِ مسروقہ کا مالک نہیں بنا، تو معلوم ہوا مالِ مسروقہ کا مالک وہ مسروق منہ ہے اور ضمان کا مالک بھی وہ مسروق منہ ہو گیا، تو بدل اور مبدل دونوں کا مالک ایک ہی شخص ہو گیا حالانکہ ایسا نہیں ہو سکتا۔ بدل اور مبدل جو ہیں وہ ایک شخص کی ملکیت میں جمع نہیں ہو سکتے۔ تو معلوم ہوا اس خرقِ کثیر کے ساتھ اس کپڑے کو اٹھانا یہ سببِ ضمان ہے، سببِ ملکیت نہیں۔ ہاں البتہ یہ ضمان ملکیت تک پہنچا سکتا ہے۔
لہٰذا آپ کو اس مسئلے کو مشتری کے مسئلے پر قیاس نہیں کرنا چاہیے، مشتری کے مسئلے میں تو وہاں سببِ ملکیت پیدا ہو گیا تھا کیونکہ اس نے باقاعدہ بیع کی تھی اور بیع کو وضع ہی ملکیت کے لیے کیا گیا ہے، جب کوئی شخص کوئی چیز خریدتا ہے تو اس کا مالک بن جاتا ہے۔ لہٰذا آپ کا اس چور کے مسئلے کو مشتری کے مسئلے پر قیاس کرنا صحیح نہیں، کیونکہ مشتری کے مسئلے میں سببِ ملک ہے اور اس چور کے مسئلے میں سببِ ملک نہیں ہے بلکہ سببِ ضمان ہے۔ بلکہ اس مسئلے کو قیاس کرنا چاہیے بائع کے مسئلے پر کہ صورت یہ کہ ایک بائع نے ایک عیب دار مبیعہ مشتری کو فروخت کر دیا اور آپ جانتے ہیں کہ عیب کی وجہ سے مبیعہ بائع کو واپس کیا جا سکتا ہے، تو معلوم ہوا یہ عیب جو ہے یہ سببِ رد ہے۔ اس کی وجہ سے وہ چیز واپس کی جا سکتی ہے بائع کو، اور بائع کو جب وہ چیز واپس کی جائے گی اور اپنے ثمن لے لیے جائیں گے تو بائع دوبارہ اس عیب دار مبیعے کا مالک بن جائے گا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ معلوم ہوا عیب سببِ رد ہے اور یہ رد پہنچا دیتا ہے ملکیت تک، لیکن بہرحال عیب سببِ رد ہے خود سببِ ملکیت نہیں۔ تو لہٰذا یہ بائع جس نے عیب دار مبیعہ فروخت کیا ہے، یہ بائع اگر اس مبیعے کو چوری کر لے تو بالاتفاق اس بائع کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس لیے کیونکہ اس مبیعے کے اندر سببِ رد تو موجود ہے، سببِ ملک موجود نہیں ہے۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو اس میں سببِ ملک موجود نہیں ہے، جیسے اس چور کے مسئلے میں سببِ ضمان تو موجود ہے، سببِ ملکیت موجود نہیں ہے، تو اس کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اور پھر صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی بتلایا کہ یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ جب مالک اسی چیز کو واپس لے لے اور ساتھ نقصان کا ضمان بھی وصول کر لے، پھر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا طرفین کے نزدیک اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ کے نزدیک ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا۔ اور اگر مالک نے وہ کپڑا چور ہی کے پاس چھوڑ دیا کہ یہ کپڑا تم ہی رکھو، مجھے اس کی قیمت دے دو، تو پھر اس صورت میں جب وہ پورے کپڑے کا ضمان لے رہا ہے تو چور کے لیے اس مال کے اندر سببِ ملکیت آ گیا، لہٰذا اس صورت میں بالاتفاق پھر اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا۔ اور نیز صاحبِ ہدایہ نے یہ بھی آپ کو بتلایا کہ یہ جو اختلاف گزرا اور جتنی تفصیلات ذکر ہوئیں، یہ اس صورت میں ہے جب چور نے نقصانِ کثیر کیا ہو اس چیز کے اندر، کیونکہ اگر نقصانِ قلیل کیا ہے تو پھر اس صورت کے اندر مالک جو ہے پوری چیز کا ضمان نہیں لے سکتا بلکہ مالک کو وہی چیز واپس لینا پڑے گی اور ساتھ وہ نقصان کا ضمان بھی لے گا، تو چور کے لیے اس صورت میں سببِ ملک نہیں پایا گیا۔ جب سببِ ملک نہیں پایا گیا تو اس صورت میں بالاتفاق سب کے نزدیک ہاتھ کاٹا جائے گا بھئی۔ معلوم ہوا نقصانِ قلیل کے اندر بالاتفاق چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ یہاں چور کے لیے سببِ ملکیت موجود نہیں ہے بھئی۔
اور پھر میں نے آپ کو یہ بھی بتلایا تھا کہ یہاں آپ کے ذہن میں اشکال آئے گا کہ آپ نے کہا کہ طرفین کے نزدیک ہاتھ اس صورت میں کاٹا جائے گا جب مالک اس چیز کو واپس لے لے اور ساتھ وہ جو چور نے نقصان کیا ہے اس کا ضمان بھی لے لے، تو پھر معلوم ہوا اس صورت میں ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور مالک وہ نقصان کا ضمان بھی لے لے گا، حالانکہ آپ نے ہمیں بتایا تھا کہ ضمان اور قطع اکٹھے نہیں ہو سکتے۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ مالک یہ جو ضمان لے رہا ہے یہ اس چوری کی وجہ سے ضمان نہیں لے رہا، بلکہ یہ چور نے ایک الگ فعل کیا چوری سے پہلے کہ اس نے کپڑے کو پھاڑ دیا ہے۔ تو معلوم ہوا یہ ضمان چوری کا نہیں ہے بلکہ وہ اس الگ جرم کا ہے جو چور نے چوری سے پہلے کیا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا اس ضمان کے ساتھ قطع جمع ہو سکتی ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے بتلایا تھا کہ اگر ایک شخص جو ہے چوری کرنے کے لیے گھر میں داخل ہوا اور وہاں ایک بھیڑ بکری موجود تھی، اس چور نے اس کو ذبح کیا اور پھر اس کو لے کر گھر سے نکل آیا، تو اس صورت میں بھی چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جائے گا اگرچہ اس گوشت کی قیمت دس درہم سے زیادہ ہی کیوں نہ ہو۔ وجہ یہ ہے کہ آپ نے ضابطہ پڑھا تھا کہ وہ چیزیں جو جلدی خراب ہو جاتی ہیں جنہیں محفوظ کر کے نہیں رکھا جا سکتا، تو ان کے اندر قطع نہیں ہے اور یہ گوشت بھی انہی چیزوں میں سے ہے، یہ بھی جلدی خراب ہو جاتا ہے، تو اس میں بھی قطع نہیں ہوگا۔
اور اس کے بعد پھر صاحبِ ہدایہ نے وہ صورت ذکر فرمائی کہ جس کے اندر چور مال کے اندر ایسی تبدیلی کرتا ہے جس میں ہمارے ائمہ کا آپس میں اختلاف ہے، مثلاً ایک چور نے نصاب کے بقدر سونا یا چاندی چوری کیا اور پھر اس کو درہم اور دینار کی شکل دے دی۔ تو امام صاحب کے نزدیک اس تبدیلی کے باوجود ان درہموں اور دیناروں کا مالک یہی مسروق منہ ہے، جبکہ صاحبین فرماتے ہیں کہ یہاں چور نے بڑی تبدیلی پیدا کر دی اس چیز کے اندر، یہاں تک کہ اس چیز کا نام ہی بدل گیا، پہلے اس کو سونا اور چاندی کہتے تھے اب اس کو درہم اور دینار کہتے ہیں، تو نام ہی بدل گیا، نیز مقاصد بدل گئے، سونا اور چاندی اس کے تو اور بھی مقاصد ہیں زیور وغیرہ بنائے جاتے ہیں، زیب و زینت کے لیے ان کو استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ درہم اور دینار ان کے ذریعے تو بیع و شراء کی جاتی ہے، تو دونوں کے مقاصد بھی الگ الگ ہیں، لہٰذا چور اس مال کا مالک بن گیا۔ چور اس مال کا مالک بن گیا تو اگر یہ چور پکڑا گیا تو یہ درہم اور دینار مالک کو واپس نہیں کیے جائیں گے صاحبین کے قول کے مطابق۔ جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں کہ اگرچہ اب اس کا نام بدل گیا ہے، اب اس کو درہم اور دینار کہتے ہیں، لیکن یہ نام لازمی نہیں ہے، ان درہم اور دینار کو دوبارہ پگھلا کر عام سونے اور چاندی کی شکل دی جا سکتی ہے، اور نیز یہ چیز بھی وہی ہے حکم کے اعتبار سے، جیسے درہم اور دینار جو ہیں وہ ثمن ہیں اسی طرح سونا اور چاندی جو ہیں وہ بھی ثمن ہیں، ان کو پیدا ہی بطورِ ثمن کے کیا ہے، تو لہٰذا درہم اور دینار اگر ثمن ہیں تو سونا اور چاندی بھی ثمن ہی ہیں بھئی۔ اور نیز ان کو آسانی سے پہلی حالت کی طرف واپس بدلا جا سکتا ہے، تو لہٰذا ابھی بھی مالک کا حق ان سے منقطع نہیں ہوا۔ اور پھر یہ بھی بتلایا صاحبِ ہدایہ نے کہ اگر یہ چور پکڑا گیا تو امام صاحب کے نزدیک اس کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور یہ درہم اور دینار بھی واپس کیے جائیں گے کیونکہ یہ ابھی بھی اسی مالک کے ہیں بھئی۔ تو امام صاحب کے قول پر تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا، کیونکہ ان کے نزدیک جب چور اس کا مالک نہیں بنا تو اس کا ہاتھ کاٹنا صحیح ہے۔ جبکہ صاحبین کے نزدیک کیا چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا یا نہیں کاٹا جائے گا؟ تو فقہاء دونوں طرف گئے ہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اس چور کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ یہ ہاتھ کے کاٹنے سے پہلے ہی اس چیز کا مالک بن چکا ہے۔ جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ نہیں، اس چور کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ اس کی کاریگری کی وجہ سے اب یہ چیز ہی بدل گئی، پہلے عام سونا اور چاندی تھی اور اب یہ درہم اور دینار ہیں، تو چور جس چیز کا مالک بنا ہے وہ اور ہے اور جو اس نے چوری کی تھی وہ اور ہے، تو جس چیز کو چوری کیا تھا عین اس چیز کا تو یہ مالک نہیں بنا، یہ تو دوسری چیز کا مالک بنا ہے، لہٰذا اس صورت میں بھی اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
اور اس کے بعد پھر ہم نے مسئلہ پڑھا کہ مثلاً ایک شخص ایک سفید کپڑا چوری کر لیتا ہے اور پھر اس کو سرخ رنگ دے دیتا ہے، تو اس صورت میں شیخین رحمہما اللہ کے نزدیک چور اس کپڑے کا مالک بن گیا، کیونکہ چور کا حق اس کپڑے میں ظاہر کے اعتبار سے بھی آ گیا کہ کپڑے کا رنگ بدل گیا، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی اس کے اندر چور کا حق آ گیا کہ کپڑے کی قیمت بڑھ گئی مثلاً پہلے دس درہم کا تھا اب یہ پندرہ درہم کا ہو گیا ہے۔ تو شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں اگر یہ چور پکڑا گیا تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا، البتہ یہ کپڑا اس سے واپس نہیں لیا جائے گا کیونکہ یہ چور اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے۔ اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے اور اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو گیا تو پھر چور سے ضمان نہیں لیا جائے گا کیونکہ قطع اور ضمان اکٹھے نہیں ہو سکتے، تو جب چور کا ہاتھ کاٹا گیا ہے تو اب اس سے ضمان نہیں لیا جا سکتا۔ اور میں نے بتلایا تھا اس پر آپ کے ذہنوں میں اشکال پیدا ہوگا کہ اگر چور اس کپڑے کا مالک بن گیا ہے، شیخین رحمہما اللہ کیا فرماتے ہیں کہ اگر یہ کپڑا چور کے پاس موجود ہوا تو واپس نہیں لیا جائے گا، معلوم ہوا چور اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے، جب مالک بن چکا ہے تو پھر تو چور کا ہاتھ نہیں کاٹنا چاہیے، لیکن شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ تو میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ وجہ یہ ہے کہ جو چیز چور نے چوری کی تھی وہ اور تھی، جس کا مالک بنا ہے وہ اور ہے، چوری جو کیا تھا وہ سفید کپڑا تھا اور سفید کپڑے کا تو یہ مالک نہیں بنا، یہ تو سرخ کپڑے کا مالک بنا ہے۔ تو جو چیز چوری کی تھی اس کا مالک نہیں اور جس چیز کا مالک بنا ہے وہ اور چیز ہے، لہٰذا اس چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔
جبکہ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس چور سے یہ کپڑا لے لیا جائے گا اور اس مالک کو واپس کیا جائے گا، یعنی امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک چور کی اس کاریگری کے باوجود مالک کا حق اس کپڑے سے ختم نہیں ہوا، لہٰذا یہ کپڑا مالک کو واپس کیا جائے گا۔ البتہ اس رنگ کی وجہ سے کپڑے کی قیمت بڑھ گئی ہے تو وہ جو قیمت بڑھی ہے وہ مالک سے لے کر پھر اس چور کو دلا دی جائے گی۔ اور امام محمد رحمہ اللہ اس مسئلے کو قیاس کرتے ہیں غصب پر۔ غصب کے اندر اگر ایک شخص دوسرے کا اسی طرح کپڑا چوری کر لے اور پھر اس کو رنگ دے دے، تو وہاں پر وہ رنگ دینے کی وجہ سے وہ شخص اس کپڑے کا مالک نہیں بنتا بلکہ وہ کپڑا واپس کرنا پڑے گا اسے اور اس رنگ کی وجہ سے کپڑے کی قیمت میں جو زیادتی آئی ہے وہ مالک سے وصول کر لے گا۔ تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں جس طرح غصب کے مسئلے کے اندر رنگ دینے کی وجہ سے غاصب کپڑے کا مالک نہیں بنتا تو چوری کے اندر بھی چور اس کپڑے کا مالک نہیں بنے گا، اور علتِ جامعہ یہ ہے کہ اصل جو ہے وہ کپڑا ہے اور رنگ جو ہے وہ اس کا وصف ہے، اس کے تابع ہے۔ تو کپڑا جو مالک کا حق ہے یعنی اصل ہے جب وہ موجود ہے تو صرف وصف کی وجہ سے چور یا غاصب کو اس کا مالک قرار نہیں دیا جا سکتا۔
جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں پر چور مال کا مالک بن چکا ہے اور غصب کے مسئلے میں غاصب مالک نہیں بنتا، تو دونوں مسئلوں میں فرق ہے، لہٰذا آپ ایک کو دوسرے پر قیاس نہیں کر سکتے۔ وجہ یہ کہ چوری کے مسئلے کے اندر جب چور نے کپڑے کو رنگ دے دیا تو اب کپڑے کی صورت کے اعتبار سے بھی چور کا حق آ گیا کپڑے میں کہ کپڑے کا رنگ بدل گیا، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی چور کا حق آ گیا کپڑے کے اندر کیونکہ کپڑے کی قیمت بڑھ گئی۔ تو صورتاً بھی چور کا حق آ گیا کپڑے میں کہ اس کا رنگ بدل گیا، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی چور کا حق آ گیا کپڑے کے اندر کہ اس کپڑے کی قیمت بڑھ گئی۔ جبکہ مالک کا حق جو ہے وہ صرف صورت کے اعتبار سے ہے، معنیٰ کے اعتبار سے نہیں۔ کیا معنی صورت کے اعتبار سے؟ یعنی چیز تو وہی ہے، کپڑا تو وہی ہے، تو لہٰذا اس اعتبار سے دیکھا جائے تو مالک کا حق ابھی بھی اس کپڑے کے اندر ہے۔ لیکن معنیٰ کے اعتبار سے مالک کا حق نہیں ہے، کیا معنی؟ یعنی اگر یہ کپڑا چور کے پاس ہلاک ہو جائے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ معلوم ہوا معنیٰ کے اعتبار سے مالک کا حق ختم ہو چکا ہے اور صورت کے اعتبار سے مالک کا حق باقی ہے۔ تو مالک کا حق صرف صورت کے اعتبار سے ہے، معنیٰ کے اعتبار سے نہیں۔ اور چور کا حق صورت کے اعتبار سے بھی ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی ہے۔ صورت کے اعتبار سے کس طرح؟ کہ وہ رنگ ظاہر نظر آ رہا ہے۔ اور معنیٰ کے اعتبار سے چور کا حق کس طرح ہے؟ کہ اس کپڑے کی قیمت بڑھ گئی ہے، حتیٰ کہ اگر یہ کپڑا مالک کو واپس کیا جائے گا تو جو زائد پیسے ہیں وہ چور کو دلائے جائیں گے بھئی۔ تو یہاں پر مالک کا حق صرف صورتاً باقی ہے اور چور کا حق صورتاً بھی ہے اور معناً بھی ہے، لہٰذا اس لیے چور کو ترجیح دی جائے گی اور کہیں گے کہ چور ہی اس کپڑے کا مالک بن گیا۔ توجہ ہے؟ اور یہ خیال رکھنا صورت اور معنیٰ یہ دونوں جگہ لفظ آ رہا ہے تو آپ ایک ہی معنی نہ کریں۔ جب ہم چور کی نسبت سے صورت اور معنیٰ کہیں تو صورت سے کیا مراد ہے؟ وہ جو رنگ ہمیں نظر آ رہا ہے، اور معنیٰ سے کیا مراد ہے؟ اس کی قیمت ہے۔ صورت بھی رنگ بھی موجود ہے اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی چور کا حق آ گیا کہ کپڑے کی قیمت بڑھ گئی۔ اور جب مالک کے بارے میں ہم صورت اور معنیٰ کا لفظ بولتے ہیں تو وہاں صورت سے مراد ہے کپڑا، کہ صورتاً یہ وہی چیز ہے، وہی کپڑا ہے، اور معنیٰ سے مراد قیمت ہے بھئی کہ چور کے پاس اگر یہ مال ہلاک ہو جائے تو چور پر ضمان نہیں آئے گا۔ تو معلوم ہوا صرف صورت کے اعتبار سے مالک کا حق ہے، معنیٰ کے اعتبار سے مالک کا حق نہیں، تو اس لیے ہم نے چور کو ترجیح دی کہ چور اس مال کا مالک بن گیا کیونکہ اس کا حق صورتاً بھی ہے اور معناً بھی ہے جبکہ مالک کا حق صرف صورتاً ہے معناً نہیں ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں غصب کے اندر غاصب اور مالک دونوں کا حق صورتاً بھی ہے اور معناً بھی ہے۔ کس طرح؟ غاصب کا حق صورتاً کس طرح ہے؟ وہی جو پہلے بیان ہوا کہ کپڑے کا رنگ بدل چکا ہے تو صورت کے اعتبار سے بھی غاصب کا حق آ گیا کپڑے میں، اور معنیٰ کے اعتبار سے بھی غاصب کا حق آ گیا کس طرح؟ کہ کپڑے کی قیمت بڑھ گئی، اگر یہ کپڑا وہ واپس کرے گا تو جو قیمت بڑھی ہے وہ مالک سے وصول کرے گا۔ تو معلوم ہوا غاصب کا حق اس مغصوبہ کپڑے کے اندر صورتاً بھی ہے اور معناً بھی ہے۔ جبکہ اسی طرح مالک کا حق بھی صورتاً اور معناً دونوں اعتبار سے ہے۔ مالک کا حق صورتاً کس طرح ہے؟ کہ وہی کپڑا ہے کہ یہ وہی کپڑا ہے، ذات تو وہی ہے صرف وصف یعنی رنگ بدلا ہے۔ اور نیز مالک کا حق معنیٰ کے اعتبار سے بھی ہے کہ اگر غاصب کے پاس یہ کپڑا ہلاک ہو گیا تو غاصب کو ضمان دینا پڑے گا جبکہ چور کو ضمان نہیں دینا پڑتا تھا۔ تو وہاں صرف مالک کا حق صورتاً تھا معناً نہیں، لیکن یہاں غصب کے اندر مالک کا حق صورتاً بھی ہے کہ وہی کپڑا ہے، اور معناً بھی ہے کہ اگر غاصب کے پاس یہ کپڑا ہلاک ہوا تو غاصب کو ضمان دینا پڑے گا۔ تو معلوم ہوا غصب کے اندر غاصب کا حق بھی صورتاً اور معناً ہے اور مالک کا حق بھی صورتاً اور معناً ہے، تو پھر ہم نے مالک کی جانب کو ترجیح دے دی کہ ابھی بھی مالک کا حق اس چیز سے ختم نہیں ہوا، یہی کپڑا واپس کرنا پڑے گا اور جو قیمت بڑھی ہے وہ غاصب کو دلا دی جائے گی۔ تو ہم نے مالک کی جانب کو ترجیح دے دی، کیوں مالک کی جانب کو ترجیح دی؟ وجہ یہ ہے کہ کپڑا تو وہی ہے، کپڑا تو وہی ہے، غاصب نے صرف اس کا وصف بدلا ہے، تو چیز جب وہی ہے مالک کا حق بھی صورتاً اور معناً، غاصب کا حق بھی صورتاً اور معناً، لیکن بہرحال چیز تو وہی ہے اصل کپڑا ہے، رنگ تو اس کا وصف ہے، تو ہم نے اصل کا اعتبار کرتے ہوئے اس کو مالک ہی کا حق قرار دے دیا۔ فرق سمجھ میں آیا؟ تو لہٰذا آپ چور کے مسئلے کو غصب کے مسئلے پر قیاس نہیں کر سکتے۔
اور پھر اس کے بعد صاحبِ ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا تھا کہ اگر چور نے اس کپڑے کو سیاہ رنگ دے دیا یعنی اس کپڑے کو کالا رنگ دے دیا، تو اس صورت میں دونوں مذہبوں کے مطابق یہ کپڑا ابھی بھی مالک ہی کا ہے، یعنی امام صاحب کے نزدیک بھی یہ کپڑا مالک ہی کا ہے اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ کپڑا مالک ہی کا ہے۔ البتہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ چاہے سرخ رنگ دیا جائے چاہے کالا رنگ دیا جائے دونوں صورتوں میں ایک ہی مسئلہ ہے کہ چور اس کپڑے کا مالک بن چکا ہے۔ جبکہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک یہ کپڑا مالک کو واپس کیا جائے گا۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے نزدیک یہ جو کالا رنگ ہے اس سے کپڑے کی قیمت بڑھی نہیں ہے بلکہ کم ہو گئی ہے، تو یہ نقصان ہے اور نقصان کی صورت میں تو چور چیز کا مالک نہیں بنتا، لہٰذا یہ چیز یہ کپڑا مالک ہی کو واپس دلایا جائے گا۔ جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جیسے سرخ رنگ سے کپڑے کے اندر زیادتی آ جاتی تھی اسی طرح کالے رنگ کی وجہ سے بھی کپڑے کے اندر زیادتی آ گئی، تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں جیسے سرخ رنگ میں زیادتی آئی تھی کالے رنگ کے اندر بھی زیادتی آ گئی ہے، اور جیسے سرخ رنگ کے اندر چور ہی اس کپڑے کا مالک بن گیا تھا کالے رنگ کے اندر بھی چور ہی اس کپڑے کا مالک بن گیا ہے۔ جبکہ امام محمد رحمہ اللہ بھی اپنے اصل پر ہی چلے ہیں، امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک کہ کپڑے کو سرخ رنگ دے دیں پھر بھی مالک کا حق اس سے ختم نہیں ہوتا تو یہ کالا رنگ دے دیا جائے تو یہ بھی کپڑے کے اندر زیادتی ہے، اس کی وجہ سے بھی مالک کا حق اس کپڑے سے ختم نہیں ہوگا۔ لہٰذا امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام محمد رحمہ اللہ دونوں کے نزدیک یہ کپڑا مالک کو واپس کیا جائے گا، لیکن دونوں کی علت الگ الگ ہے۔ امام صاحب کے نزدیک اس لیے واپس کیا جائے گا کیونکہ کالا رنگ نقصان ہے اور نقصان کی وجہ سے جو ہے چور اس چیز کا مالک نہیں بن سکتا، اور امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک علت الگ ہے، وہ فرماتے ہیں کالے رنگ سے بھی کپڑے میں زیادتی ہی آئی ہے لیکن زیادتی کی وجہ سے چور اس چیز کا مالک نہیں بن سکتا، یہ چیز مالک کو واپس کرنا پڑے گی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اب آئیے آج کے سبق پر: ”بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ“۔ جی ”بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ“، میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ قطعِ طریق جو ہے وہ ڈاکے کو کہتے ہیں بھئی۔ ایک سرقۂ صغریٰ ہے جس کی تفصیل پیچھے گزر گئی اور ایک سرقۂ کبریٰ ہے اور وہ ڈاکے کو کہتے ہیں۔ اور صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ سرقہ کے اندر خفیہ ہونا اور پوشیدہ ہونا ضروری ہوتا ہے، تو جس طرح عام چوری جو ہے مال کے مالک کی نگاہوں سے چھپ کر کی جاتی ہے اسی طرح یہ جو سرقۂ کبریٰ ہے یعنی قطعِ طریق، یہ بھی امام اور حاکم جو ہے اس کی نظروں سے چھپ کر کی جاتی ہے تو یہاں بھی چھپنے اور پوشیدہ ہونے کا معنی موجود ہے، کیونکہ راستوں کی حفاظت وہ خلیفہ اور حاکم کی ذمہ داری ہے بھئی۔
پھر اس کے بعد یاد رکھیں کہ چوری کو سرقۂ صغریٰ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا نقصان کچھ محدود لوگوں کو ہوتا ہے، یعنی جن کا مال چوری ہوا ہے صرف انہی کا نقصان ہے۔ جبکہ ڈاکے کو سرقۂ کبریٰ اس لیے کہتے ہیں کہ اس کا نقصان تمام مسلمانوں کو ہوتا ہے۔ بھئی جب راستے میں ڈاکہ پڑے گا تو لوگ اس راستے کا رخ ہی نہیں کریں گے، تو سارے تجارتی معاملات وغیرہ خراب ہو جائیں گے اور سارے لوگوں کو نقصان ہوگا بھئی، تو لہٰذا اس لیے اس ڈاکے کو سرقۂ کبریٰ کہتے ہیں کہ اس میں تمام مسلمانوں کا نقصان ہوتا ہے۔ اور نیز اس لیے بھی اس کو سرقۂ کبریٰ کہتے ہیں کیونکہ اس کی سزا بڑی سخت ہے، اس میں ڈاکو کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا ہے اور اس کا پاؤں بھی کاٹا جاتا ہے، جبکہ عام چوری کے اندر صرف چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے۔
اور پھر یاد رکھنا یہ ڈاکوؤں کا ہاتھ اور پاؤں کاٹا جائے گا، ان پر حد قائم کی جائے گی تو اس کی شرائط ہیں بھئی۔ علماء وہ شرائط بیان فرماتے ہیں، دیکھیے یہ میری کتاب میں حاشیے کے اندر یہ شرائط ذکر کی گئی ہیں۔ حاشیہ تو طویل ہے، ہم صرف اس کے اندر جو شرائط ہیں وہ دیکھ لیتے ہیں۔ پہلا حاشیہ بھئی، اس کے اندر ذکر فرماتے ہیں کہ قطعِ طریق کے اندر جو حد جاری کی جائے گی اس کی پہلی شرط یہ ہے کہ وہ جو ڈاکو ہیں وہ طاقتور ہوں یعنی ڈاکہ ڈالنے کی قوت ہو ان کے اندر کہ عام لوگ ان کا مقابلہ نہیں کر سکتے، تو لہٰذا پہلی شرط یہ ہے کہ ڈاکوؤں کو طاقت اور قوت حاصل ہو بھئی۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ یہ جو ڈاکہ ہے یہ شہر سے باہر ہو بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اردو کے اندر شہر کے اندر جو مال چھینا جائے اسلحے کے زور پر اس کو بھی ڈاکہ کہتے ہیں اور جنگل کے اندر اسلحے کے زور پر جو مال چھینا جائے اسے بھی ڈاکہ کہتے ہیں، لیکن عربی زبان کے اندر شہر کے اندر اسلحے کے زور پر مال چھینا جائے تو اس کو انتہاب کہتے ہیں اور یہ شخص منتہب کہلاتا ہے لٹیرا بھئی کہ اس نے مال لوٹا ہے، اور جنگل کے اندر جو شخص مال لوٹتا ہے اسلحے کے زور پر اس کو قطعِ طریق کہتے ہیں اس کو ڈاکہ کہتے ہیں، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو پہلی شرط کیا؟ کہ وہ جو ڈاکو ہیں ان کو قوت اور طاقت حاصل ہو، کوئی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتا وہاں پر۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ ڈاکہ جو ہے وہ شہر سے باہر ہونا چاہیے بھئی۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ ڈاکہ دار الاسلام میں ہونا چاہیے پھر ہی حد جاری کی جا سکتی ہے۔ اور چوتھی شرط یہ ہے کہ وہ جو مال انہوں نے اٹھایا ہے وہ ہر ایک کو نصاب کے بقدر پہنچے یعنی جتنے ڈاکو ہیں وہ جو مال انہوں نے اٹھایا ہے اس مال کو ان ڈاکوؤں پر تقسیم کریں تو ہر ڈاکو کے حصے میں کم از کم دس درہم ضرور آئیں تو پھر ہی ان پر حد جاری کی جائے گی بھئی۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ ان ڈاکوؤں کے اندر کوئی بچہ یا مجنون یا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان میں سے کسی آدمی کا قریبی محرم رشتہ دار نہ ہو، ڈاکوؤں کے اندر کوئی بچہ یا مجنون یا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان لوگوں میں سے کسی کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ان ڈاکوؤں میں نہ ہو بھئی، ورنہ بچہ یا مجنون ان پر تو حد جاری نہیں کی جا سکتی اور نیز وہ قریبی محرم رشتہ دار نے بھی جب اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا مال لوٹا ہے تو پھر وہاں پر بھی حد جاری نہیں کی جا سکتی، تو جب بعض افراد پر حد جاری نہیں کی جا سکتی تو باقیوں سے بھی حد ساقط ہو جائے گی بھئی، تو یہ تھی پانچویں شرط بھئی۔ اور چھٹی شرط یہ ہے کہ یہ ڈاکو توبہ سے پہلے پکڑے جائیں۔ اگر انہوں نے ڈاکہ بھی ڈالا ہے لیکن بعد میں انہوں نے توبہ کر لی، جب ان کو پکڑا گیا تو یہ توبہ کر چکے تھے، ان پر نیک لوگوں کے آثار نظر آ رہے تھے کہ معلوم ہوا واقعی یہ سیدھے راستے پر آ چکے ہیں، تو پھر اس صورت کے اندر ان پر حد جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ نص کے اندر یہ ذکر آیا ہے۔ آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر فرمائیں گے۔ نص کے اندر استثناء ہے اگر یہ توبہ کر لیں۔ تو معلوم ہوا قطعِ طریق کے اندر یعنی ڈاکہ ڈالا جائے اگر جنگل کے اندر تو اس میں ڈاکو کا ہاتھ بھی کاٹا جائے گا اور پاؤں بھی کاٹا جائے گا، لیکن اس کی چھ شرطیں ہیں بھئی۔ دوبارہ دہرا لیں، پہلی شرط کیا ہے؟ کہ وہ ڈاکوؤں کو طاقت اور قوت حاصل ہو۔ اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ شہر سے دور ہوں۔ اور تیسری شرط یہ ہے کہ وہ دار الاسلام میں ہوں۔ اور چوتھی شرط یہ ہے کہ ہر ایک کے حصے میں نصاب کے بقدر مال آئے۔ اور پانچویں شرط یہ ہے کہ ان ڈاکوؤں کے اندر کوئی بچہ، مجنون یا کوئی قریبی محرم رشتہ دار نہ ہو ان لوگوں کا جن پر ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے۔ اور چھٹی شرط یہ ہے کہ یہ ڈاکو توبہ کرنے سے پہلے پکڑے جائیں، پھر ان پر حد جاری کی جائے گی، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو توبہ کی صورت میں ڈاکوؤں سے حد ساقط ہو جاتی ہے، اس کا ذکر باقاعدہ نص کے اندر آتا ہے۔ لیکن باقی حدود کے اندر باقی حدود توبہ سے بھی ساقط نہیں ہوں گی بھئی، ان کے اندر چاہے توبہ بھی کر لے پھر بھی اگر وہ مجرم پکڑا جائے تو اس پر حد جاری کی جائے گی۔
تو کہتے ہیں ”بَابُ قَطْعِ الطَّرِيقِ“ یہ باب ہے قطعِ طریق یعنی ڈاکے کے بیان میں۔
”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا خَرَجَ جَمَاعَةٌ مُمْتَنِعِينَ“ ترجمہ غور سے سنیے گا بھئی۔ ”قَالَ“ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا خَرَجَ جَمَاعَةٌ“ اور جب ایک جماعت نکلی ”مُمْتَنِعِينَ“ اس حال میں کہ وہ بچنے والے ہیں۔ یہ لفظی ترجمہ کر رہا ہوں۔ امتناع کا معنی ہے رکنا، باز آنا، کسی چیز سے بچنا۔ لیکن مراد یہ ہے کہ ان کا کوئی مقابلہ کرے تو یہ اس سے بچ سکتے ہیں یعنی ان میں اتنی قوت ہے کہ مقابلہ کر سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں ”وَإِذَا خَرَجَ جَمَاعَةٌ مُمْتَنِعِينَ“ اور جب ایک جماعت نکلی اس حال میں کہ وہ بچنے والے ہیں، یہ تو لفظی ترجمہ تھا اب با محاورہ ترجمہ کر لیں، با محاورہ کیا ترجمہ کریں گے؟ کہ وہ مقابلہ کر سکتے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَإِذَا خَرَجَ جَمَاعَةٌ مُمْتَنِعِينَ“ اور جب ایک جماعت نکلی اس حال میں کہ وہ مقابلہ کر سکتے ہیں ”أَوْ وَاحِدٌ يَقْدِرُ عَلَى الِامْتِنَاعِ“ یا ایک آدمی نکلا جو قادر ہے امتناع پر یعنی مقابلہ کرنے پر، کہ کوئی اس کے سامنے آئے تو یہ اس کا مقابلہ کر سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”أَوْ وَاحِدٌ يَقْدِرُ عَلَى الِامْتِنَاعِ“ یا ایک ایسا آدمی نکلا جو مقابلہ کرنے پر قادر ہے، یا یوں کہو وہ اپنا بچاؤ کرنے پر قادر ہے، اس کو قوت حاصل ہے۔ ”فَقَصَدُوا قَطْعَ الطَّرِيقِ“ تو انہوں نے قطعِ طریق کا ارادہ کیا، ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ کیا۔ ”فَأُخِذُوا قَبْلَ أَنْ يَأْخُذُوا مَالًا وَيَقْتُلُوا نَفْسًا“ بھئی یاد رکھو، یہاں آپ کو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہ جو ڈاکو ہیں ان پر حد جاری کی جائے گی اور یہاں کل چار صورتیں بنتی ہیں بھئی:
ایک صورت یہ ہے کہ ڈاکو آئے انہوں نے قافلے کو گھیرے میں لے لیا لیکن ابھی انہوں نے مال بھی نہیں لوٹا تھا اور کسی کو قتل بھی نہیں کیا تھا، اس سے پہلے ہی مدد آ پہنچی اور ان کو پکڑ لیا گیا۔
دوسری صورت یہ ہے کہ انہوں نے مال لے لیا تھا اور پھر بعد میں پکڑے گئے، قتل تو نہیں کیا لیکن مال لے لیا تھا۔
تیسری صورت یہ ہے کہ انہوں نے مال نہیں لیا صرف قتل کیا تھا، قتل کیا تھا اور اس کے بعد یہ پکڑے گئے۔
اور چوتھی صورت یہ ہے کہ انہوں نے مال بھی لیا ہے اور قتل بھی کیا ہے اور اس کے بعد اب پکڑے گئے ہیں۔
تو ان صورتوں کے اندر ان کی سزا بھی مختلف ہوگی جو صاحبِ ہدایہ آگے بیان فرمائیں گے۔
...بیان فرمائیں گے۔
تو کہتے ہیں: ”فَقَصَدُوا قَطْعَ الطَّرِيقِ“ تو انہوں نے قطعِ طریق یعنی ڈاکہ ڈالنے کا ارادہ کیا، ”وَأُخِذُوا قَبْلَ أَنْ يَأْخُذُوا مَالًا“ تو ان کو پکڑ لیا گیا قبل اس کے کہ وہ مال لے لیتے، ”وَيَقْتُلُوا نَفْسًا“ اور قبل اس کے کہ وہ کسی جان کو قتل کر دیتے، مال لینے سے یا کسی کو قتل کرنے سے پہلے ہی وہ پکڑے گئے، تو اس صورت میں ”حَبَسَهُمُ الْإِمَامُ“ امام جو ہے ان کو قید میں ڈال دے گا، ”حَتَّى يُحْدِثُوا تَوْبَةً“ یہاں تک کہ یہ توبہ کر لیں، اور ان پر توبہ کے اثرات نظر آنے لگیں، نیکی کے اثرات ان پر نظر آنے لگیں، واقعی معلوم ہو کہ یہ لوگ بدل گئے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى يُحْدِثُوا تَوْبَةً“ یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں۔
”وَإِنْ أَخَذُوا مَالَ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اور اگر انہوں نے کسی مسلمان یا ذمی کا مال لے لیا۔ بھئی مسلمان یا ذمی کے مال کو ذکر کر رہے ہیں، وجہ یہ کہ جس طرح دار الاسلام میں مسلمان کی جان اور مسلمان کا مال ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے، اسی طرح ذمی جو ہیں، ذمی کا مال اور جان بھی دار الاسلام میں محفوظ ہے کیونکہ ہم نے ان سے عہدِ ذمہ کیا ہوا ہے، ہم ان سے سالانہ جزیہ لیتے ہیں اور ان کی جان اور مال کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں، تو معلوم ہوا مسلمان اور ذمی کا مال دار الاسلام کے اندر ہمیشہ کے لیے محفوظ ہے۔ جبکہ اس کے مقابلے میں ایک مستأمن ہے، مستأمن مثلاً وہ حربی جو دار الحرب میں رہتا ہے لیکن امان لے کر ہمارے ملک میں آ گیا ہے، اب یہ جو مستأمن ہے اس کا مال ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہے بلکہ جتنی دیر کے لیے امان لے کر یہ آیا ہے اتنی دیر تک اس کا مال محفوظ ہے۔ تو معلوم ہوا مسلمان اور ذمی کے مال کی حرمت مؤبد ہے اور مستأمن کے مال کی حرمت مؤبد نہیں ہے، لہٰذا اگر کوئی مستأمن کا مال لوٹتا ہے، اس کے اوپر ڈاکہ ڈالتا ہے تو یاد رکھو اس پر پھر ڈاکے کی حد جاری نہیں کی جائے گی، اگر اکیلے مستأمن پر کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے تو اس پر حد جاری نہیں کی جائے گی، اس کو سزا وغیرہ تو دی جائے گی لیکن بہرحال حد جاری نہیں کی جائے گی، اس لیے کیونکہ آپ جانتے ہیں حد جو ہے شبہے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے اور یہ جو مستأمن ہے اس کا مال تو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہے، تو اس مال کے محفوظ ہونے میں شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے، تو اسی لیے یہاں پر مسلمان اور ذمی کو ذکر کیا صاحبِ ہدایہ نے۔
کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَخَذُوا مَالَ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اور اگر ان ڈاکوؤں نے کسی مسلمان یا ذمی کا مال لے لیا، ”وَالْمَأْخُوذُ إِذَا قُسِمَ عَلَى جَمَاعَتِهِمْ“ اور وہ مال جس کو لیا گیا ہے اگر اس مال کو ان ڈاکوؤں کی جماعت پر تقسیم کیا جائے، ”أَصَابَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا“ تو پہنچتا ہے، ”كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ“ ان میں سے ہر ایک کو، ”عَشَرَةُ دَرَاهِمَ“ دس درہم، ”فَصَاعِدًا“ یا زیادہ، ان میں سے ہر ایک کو دس درہم یا زیادہ پہنچتے ہیں۔ بھئی میری کتاب میں ”عَشَرَةَ دَرَاهِمَ“، عَشَرَةَ پر نصب ہے، یہ درست نہیں ہے بھئی، یہ عَشَرَةُ فاعل ہے أَصَابَ کا۔ کیا چیز پہنچی ہے؟ دس درہم پہنچے ہیں، اور کس کو پہنچے ہیں؟ ہر ایک کو بھئی، تو كُلَّ وَاحِدٍ یہ ہے مفعول بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْمَأْخُوذُ إِذَا قُسِمَ عَلَى جَمَاعَتِهِمْ“ اور وہ مال جس کو لیا گیا ہے جب اس کو تقسیم کر دیا جائے ان ڈاکوؤں کی جماعت پر تو ”أَصَابَ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمْ عَشَرَةُ دَرَاهِمَ فَصَاعِدًا“ تو ان میں سے ہر ایک کے حصے میں دس درہم یا زیادہ آتے ہیں، ”أَوْ مَا تَبْلُغُ قِيمَتُهُ ذَلِكَ“ یا جس کی قیمت اس تک پہنچتی ہے، مثلاً جو مال لوٹا ہے وہ درہم یا دینار نہیں ہے بلکہ اور مال ہے لیکن اس مال کی قیمت لگائی جائے تو ہر ڈاکو کے حصے میں دس درہم یا اس سے زیادہ آتے ہیں، یہ معنی ہے ”أَوْ مَا تَبْلُغُ قِيمَتُهُ ذَلِكَ“ یا ایسا مال ہے کہ اس کی قیمت اس دس درہم تک پہنچتی ہے۔
”قَطَعَ الْإِمَامُ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ اب دیکھو بھئی، انہوں نے مال لوٹا ہے، ڈاکہ ڈالا ہے، تو اب ان پر حد جاری کرے گا امام۔ تو کہتے ہیں: ”قَطَعَ الْإِمَامُ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ تو امام ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے گا مخالف جانب سے، یعنی دایاں ہاتھ کاٹا جائے گا تو بایاں پاؤں کاٹا جائے گا، اس لیے کیونکہ اگر ایک ہی طرف کے ہاتھ اور پاؤں کاٹ دیے جائیں گے تو پھر چلنے کا جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”قَطَعَ الْإِمَامُ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ تو امام جو ہے ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دے گا۔
”وَإِنْ قَتَلُوا“ اب تیسری صورت آ گئی، ”وَإِنْ قَتَلُوا وَلَمْ يَأْخُذُوا مَالًا“ اور اگر ان ڈاکوؤں نے قتل تو کیا ہے لیکن مال نہیں لیا، ”قَتَلَهُمُ الْإِمَامُ حَدًّا“ تو ان کو امام قتل کر دے گا باعتبارِ حد کے۔ ان کو امام حد کے اعتبار سے قتل کر دے گا، یعنی آگے صاحبِ ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے کہ یہ جو ان کو قتل کیا جائے گا یہ بطورِ حد کے ہے، لہٰذا اگر مقتول کے اولیاء معاف کرنا بھی چاہیں تو اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، یہ کوئی قصاص کے طور پر نہیں قتل کیا جا رہا بلکہ بطورِ حد کے قتل کیا جا رہا ہے، لہٰذا یہاں کسی کو معاف کرنے کی اجازت نہیں بھئی۔
تو تین صورتیں ذکر ہو گئیں: ایک صورت کیا کہ اگر یہ مال لوٹنے سے یا قتل کرنے سے پہلے ہی پکڑے گئے تو پھر امام ان کو جیل میں ڈال دے گا۔ دوسری صورت یہ ہے کہ انہوں نے صرف مال لوٹا ہے تو پھر امام ان کا ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے گا۔ اور تیسری صورت یہ ہے کہ انہوں نے صرف قتل کیا ہے مال نہیں لوٹا تو اس صورت میں امام ان کو قتل کروا دے گا۔ اور چوتھی صورت آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے کہ انہوں نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے بھئی۔
آگے دیکھیے، کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى“ اور اس حد کے اندر اصل جو ہے وہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول ہے، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ”إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ“ اور وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں، ”وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا“ اور وہ زمین کے اندر فساد پھیلاتے ہیں، ان کی جزا یہی ہے، ”إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ“ ان لوگوں کی جزا یہی ہے۔ تو اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ”إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الْأَرْضِ فَسَادًا“ کہ ان لوگوں کی جزا یہی ہے جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد مچاتے ہیں، کیا جزا ہے؟ وہ اب آگے آ رہی ہے: ”أَنْ يُقَتَّلُوا“ یہ کہ ان کو قتل کیا جائے، ”أَوْ يُصَلَّبُوا“ یا ان کو سولی دی جائے، ”أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ یا یہ کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دیے جائیں، ”أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ“ یا ان کو زمین سے دور کر دیا جائے یعنی جیل میں ڈال دیا جائے۔ اور فقہاء فرماتے ہیں کہ ”أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ“ کا معنی ہے کہ ان کو جلاوطن کر دیا جائے، ان ڈاکوؤں کو جلاوطن کر دیا جائے جس علاقے میں رہتے ہیں وہاں سے ان کو نکال دیا جائے، ہم کہتے ہیں نہیں، اگر اس علاقے سے نکال بھی دیں ان کو تو یہ دوسری جگہ جا کر فساد پھیلائیں گے، تو لہٰذا یہاں زمین سے نفی کرنے سے مراد یہ ہے کہ ان کو جیل میں ڈال دیا جائے تاکہ تمام زمین والے ان کے شر سے محفوظ ہو جائیں، تو جب جیل میں ڈال دیا تو زمین سے دور ہو گئے، اب زمین والے ان کے فساد سے محفوظ ہو گئے۔
بات سمجھ میں آ گئی، تو وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے جنگ کرتے ہیں اور زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ان کے لیے چار سزائیں ذکر ہوئیں بھئی، پھر دیکھو: پہلی سزا کیا ”أَنْ يُقَتَّلُوا“ کہ ان کو قتل کیا جائے، ”أَوْ يُصَلَّبُوا“ دوسری سزا یہ کہ ان کو سولی دی جائے، ”أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ تیسری سزا یہ کہ ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دیے جائیں، ”أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ“ اور چوتھی سزا یہ کہ ان کو زمین سے دور کر دیا جائے یعنی ان کو قید میں ڈال دیا جائے بھئی۔
بھئی سب سے پہلے یہ سولی کو سمجھ لیں کہ ان کو سولی دے دی جائے۔ سولی کا طریقہ یہ ہے، علماء فرماتے ہیں کہ زمین میں ایک سیدھی لکڑی گاڑ دی جائے اور پھر اس لکڑی کے اوپر ایک لکڑی باندھی جائے اور اس پر اس ڈاکو کے ہاتھ باندھ دیے جائیں، اور اس سے ذرا نیچے ایک اور لکڑی باندھی جائے اور اس پر ڈاکو کے پاؤں باندھ دیے جائیں۔ توجہ ہے؟ ایک سیدھی لکڑی ہے اور اس کے اوپر دو لکڑیاں لگا دی گئیں، ایک لکڑی کے ساتھ ڈاکو کے ہاتھ باندھ دیے گئے اور دوسری لکڑی کے ساتھ ڈاکو کے پاؤں باندھ دیے گئے، اور پھر اس کے بعد بعض فرماتے ہیں کہ قتل کرنے کے بعد ان کو اس طرح سولی دے دی جائے، پہلے قتل کر دیا جائے اور پھر ان کو اس طرح سولی دے دی جائے اور اس طرح ان کو کئی دن تک لٹکا رہنے دیا جائے تاکہ تمام لوگوں کے لیے عبرت کا نشان بن جائیں بھئی۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں ان کو قتل کرنے کے بعد سولی نہیں دیں گے بلکہ ان کو زندہ سولی دیں گے اور پھر ان کے پیٹ اور سینے پر نیزے مار مار کر ان کو قتل کر دیا جائے گا، اور پھر اسی طرح ان کو کئی دن تک لٹکا رہنے دیا جائے گا تاکہ لوگوں کے لیے خوب عبرت کا باعث بن جائیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ ہے سولی۔
تو اللہ فرما رہے ہیں، اللہ نے چار سزائیں ذکر فرما دیں: یا تو ان کو قتل کیا جائے یا سولی دی جائے یا مخالف جانب سے ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دیے جائیں یا ان کو زمین سے دور کر دیا جائے۔ تو بعض ائمہ جیسے امام مالک رحمہ اللہ ہیں وہ فرماتے ہیں کہ یہاں جو ”أَوْ“ آیا ہے، ”أَوْ“ اختیار کے لیے ہوتا ہے، تو امام کو اختیار ہے ان چاروں سزاؤں میں سے جو سزا بھی دینا چاہے وہ دے سکتا ہے، جو سزا بھی وہ دینا چاہے دے سکتا ہے۔ ڈاکو پکڑے گئے ہیں چاہے وہ ڈاکے سے پہلے پکڑے گئے ہیں، چاہے صرف مال لوٹا ہے، چاہے صرف قتل کیا ہے اور چاہے قتل بھی کیا ہے اور مال بھی لوٹا ہے، تو امام کو اختیار ہے جس قسم کی سزا بھی وہ دینا چاہے وہ دے سکتا ہے کیونکہ قرآن کے اندر چاروں سزاؤں کے درمیان ”أَوْ“ کا لفظ آ رہا ہے کہ یہ کر لو یا یہ کر لو یا یہ کر لو، چاروں کے درمیان اس طرح ذکر ہے۔
ہم کہتے ہیں نہیں، یہاں یہ جو ”أَوْ“ آیا ہے یہ اختیار کے لیے نہیں ہے بلکہ یہ تقسیم کے لیے ہے، تقسیم کے لیے ہے کہ جس قسم کا جرم ہو اس کے مطابق سزا دو۔ اگر جرم کم درجے کا ہے تو سزا بھی ہلکی دو، مثلاً صرف لوگوں کو ڈرایا ہے اور قتل سے اور مال لوٹنے سے پہلے ہی پکڑے گئے ہیں تو اب صرف ان کو جیل میں ڈال دو، اور اگر انہوں نے قتل کیا ہے تو ان کو بھی قتل کر دو، اور اگر انہوں نے صرف مال لوٹا ہے تو صرف ان کے ہاتھ اور پاؤں کٹوا دو، اور اگر انہوں نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے تو پھر اس صورت کے اندر امام کو اختیار ہے، وہ آگے صاحبِ ہدایہ ذکر فرمائیں گے کہ وہ ان کے ہاتھ پاؤں بھی کٹوا دے اور پھر قتل کروا دے، یا ہاتھ اور پاؤں کٹوا دے اور سولی دے دے، یا صرف قتل کروا دے یا صرف سولی دے دے، چار اختیار ہیں امام کو۔ وہ ڈاکو جو مال بھی لوٹیں اور قتل بھی کریں ان کے اندر آگے صاحبِ ہدایہ بیان فرمائیں گے وہاں امام کو چار اختیار ہیں: صرف ان کو قتل کروا دے یا صرف ان کو سولی دے دے، یا اس قتل اور سولی کے ساتھ ہاتھ پاؤں کاٹنے کو بھی ملا دے، ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹے اور قتل بھی کر دے، یا ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹے اور سولی بھی دے دے، تو چاروں کا اختیار ہوگا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو ہم کہتے ہیں کہ یہاں یہ جو ”أَوْ“ آیا ہے یہ تقسیم کے لیے آیا ہے، یہاں تقسیم کے لیے آیا ہے کہ اگر جرم ہلکا ہو تو سزا بھی ہلکی دی جائے گی اور جرم اگر سخت ہو تو سزا بھی سخت دی جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصْلُ فِيهِ قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ} الْآيَةَ“ أَيْ اقْرَأِ الْآيَةَ کہ باقی آیت آپ پڑھ لیجیے بھئی، ”وَالْمُرَادُ مِنْهُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ التَّوْزِيعُ عَلَى الْأَحْوَالِ“ بھئی اور فقہاء تو فرماتے ہیں یہاں ”أَوْ“ جو ہے وہ اختیار دینے کے لیے آیا ہے لیکن ہمارے نزدیک یہ ”أَوْ“ کس لیے ہے؟ تقسیم کے لیے ہے۔ توجہ ہے؟ لیکن ہماری بات کوئی قطعی تو نہیں ہے، ہماری بات قطعی تو نہیں ہے، ہاں ہمارے فقہاء کو یہ سمجھ میں آیا کہ یہ ”أَوْ“ یہاں پر اختیار کے لیے نہیں ہے بلکہ تقسیم کے لیے ہے، چنانچہ اسی لیے صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے کہ یہاں پر اس سے مراد تقسیم ہے ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور باقی اللہ ہی خوب جانتے ہیں، ہمیں تو یہ بات سمجھ میں آئی ہے، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ معنی ہے: ”وَالْمُرَادُ مِنْهُ“ اور اس سے مراد جو ہے ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ ہی خوب جانتے ہیں، اس سے مراد جو ہے ”التَّوْزِيعُ عَلَى الْأَحْوَالِ“ وہ تقسیم ہے احوال پر کہ جس قسم کا حال ہو اس کے مطابق سزا ہوگی، ”وَهِيَ أَرْبَعَةٌ“ اور یہ احوال تو چار ہیں، ”هَذِهِ الثَّلَاثَةُ الْمَذْكُورَةُ“ یہ مذکورہ تین، یہ تین جو اوپر متن میں ذکر ہو گئے: ایک صورت کیا تھی کہ صرف ڈرایا ہے نہ مال لوٹا ہے اور نہ قتل کیا ہے، دوسری صورت جو ہے کہ صرف مال لوٹا ہے، تیسری صورت جو ہے صرف قتل کیا ہے، یہ تین صورتیں بیان ہو گئیں، اور چوتھی صورت جس میں مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے وہ آگے بیان کریں گے۔
تو کہتے ہیں: یہ چار احوال ہیں، ”هَذِهِ الثَّلَاثَةُ الْمَذْكُورَةُ“ یہ تین جو ذکر ہو گئے، ”وَالرَّابِعَةُ نَذْكُرُهَا إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى“ اور چوتھی حالت وہ ہے جس کو ہم ان شاء اللہ تعالیٰ ذکر کریں گے، ”وَلِأَنَّ الْجِنَايَاتِ تَتَفَاوَتُ عَلَى الْأَحْوَالِ“ اور اس لیے کیونکہ جرم جو ہیں وہ مختلف ہوتے ہیں احوال پر، ایک جرم اور طرح ہے دوسرا جرم اور طرح ہے تو ان کے احوال مختلف ہیں، تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ الْجِنَايَاتِ تَتَفَاوَتُ عَلَى الْأَحْوَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ جرم جو ہیں وہ ان احوال پر مختلف ہیں، ”فَاللَّائِقُ تَغَلُّظُ الْحُكْمِ بِتَغَلُّظِهَا“ تو لائق یہ ہے، مناسب یہ ہے کہ حکم سخت ہونا چاہیے جرم کے سخت ہونے کی وجہ سے، جرم سخت ہو تو حکم بھی سخت ہونا چاہیے، تو کہتے ہیں ”فَاللَّائِقُ تَغَلُّظُ الْحُكْمِ بِتَغَلُّظِهَا“ تو مناسب یہ ہے کہ حکم سخت ہونا چاہیے جنایت کے سخت ہونے کی وجہ سے۔
”أَمَّا الْحَبْسُ فِي الْأُولَى“ تو قید کرنا جو ہے پہلی صورت میں، پہلی صورت میں ہم نے کیا کہا کہ صرف ڈرایا ہے تو قید کر دیں گے اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں ”أَمَّا الْحَبْسُ فِي الْأُولَى“ تو پہلی صورت کے اندر جو قید کرنا ہے، ”فَلِأَنَّهُ الْمُرَادُ بِالنَّفْيِ الْمَذْكُورِ“ تو وہی قید ہی مراد ہے اس مذکورہ نفی سے، قرآن کے اندر جو اللہ نے فرمایا ”أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الْأَرْضِ“ اس سے یہی قید کرنا ہی مراد ہے۔ کہتے ہیں: ”فَلِأَنَّهُ الْمُرَادُ بِالنَّفْيِ الْمَذْكُورِ“ اس لیے کیونکہ قید کرنا ہی مراد ہے اس مذکورہ نفی سے، ”لِأَنَّهُ نَفْيٌ عَنْ وَجْهِ الْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ یہ قید کرنا یہ زمین کے اوپر سے ان کو دور کرنا ہے، ”بِدَفْعِ شَرِّهِمْ عَنْ أَهْلِهَا“ زمین والوں سے ان کے شر کو دور کرتے ہوئے۔ یہ جب ہم ان کو قید میں ڈالیں گے تو زمین والوں سے ان کا شر دور ہو جائے گا، پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ نَفْيٌ عَنْ وَجْهِ الْأَرْضِ“ اس لیے کیونکہ قید کرنا یہ زمین کے اوپر سے ان کو دور کرنا ہے، ”بِدَفْعِ شَرِّهِمْ عَنْ أَهْلِهَا“ زمین والوں سے ان کے شر کو دور کرتے ہوئے، ”وَيُعَزَّرُونَ أَيْضًا“ اور ان کو تعزیر بھی کی جائے گی یعنی ان کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے، ”لِمُبَاشَرَتِهِمْ مُنْكَرَ الْإِخَافَةِ“ مباشرت کا معنی ہے سرانجام دینا، منکر کا معنی ہے ناپسندیدہ، اخافت کا معنی ہے کسی کو ڈرانا، خوفزدہ کرنا، تو ان کو تعزیر بھی کی جائے گی: ”لِمُبَاشَرَتِهِمْ مُنْكَرَ الْإِخَافَةِ“ اس وجہ سے کہ انہوں نے ڈرانے دھمکانے کا ناپسندیدہ کام سرانجام دیا ہے۔ انہوں نے ڈرانے دھمکانے کا ناپسندیدہ کام سرانجام دیا ہے تو ان کو کوڑے بھی لگائے جائیں گے اور قید میں بھی ڈال دیں گے۔
آگے دیکھیے: ”وَشَرَطَ الْقُدْرَةَ عَلَى الِامْتِنَاعِ“ اور صاحبِ قدوری نے امتناع پر قادر ہونے کی شرط لگائی، کہ یہ لوگ مقابلے کی قدرت رکھتے ہوں، طاقت رکھتے ہوں۔ تو کہتے ہیں ”وَشَرَطَ الْقُدْرَةَ عَلَى الِامْتِنَاعِ“ اور صاحبِ قدوری نے مقابلہ کرنے کی قدرت کی شرط لگائی، ”لِأَنَّ الْمُحَارَبَةَ لَا تَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالْمَنَعَةِ“ اس لیے کیونکہ جنگ نہیں پائی جا سکتی مگر طاقت اور قوت کے ذریعے، بھئی محاربہ قرآن میں آیا ہے نا ”وَالَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللَّهَ“، تو محاربہ کے لیے تو قوت ضروری ہے، بغیر قوت کے تو جنگ اور لڑائی نہیں ہو سکتی، اور یاد رکھو یہاں آیا ”إِلَّا بِالْمَنَعَةِ“، مَنَعَة کہتے ہیں طاقت اور قوت کو۔ کہتے ہیں ”لِأَنَّ الْمُحَارَبَةَ لَا تَتَحَقَّقُ إِلَّا بِالْمَنَعَةِ“ اس لیے کیونکہ جنگ جو ہے وہ طاقت اور قوت کے بغیر نہیں ہو سکتی۔
”وَالْحَالَةُ الثَّانِيَةُ كَمَا بَيَّنَّاهَا لِمَا تَلَوْنَاهُ“ اور دوسری حالت جیسے کہ ہم نے اس کو بیان کر دیا، کہ صرف مال لیا ہے تو ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے، تو کہتے ہیں جیسے ہم نے اس کو بیان کیا کہ اس میں ہاتھ اور پاؤں کاٹیں گے ”لِمَا تَلَوْنَاهُ“ اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، تو کہتے ہیں: ”وَالْحَالَةُ الثَّانِيَةُ كَمَا بَيَّنَّاهَا لِمَا تَلَوْنَاهُ“ اور دوسری حالت جیسے کہ ہم نے بیان کر دیا وہ اس آیت کی وجہ سے ہے جو ہم نے تلاوت کی، ”وَشَرَطَ أَنْ يَكُونَ الْمَأْخُوذُ مَالَ مُسْلِمٍ أَوْ ذِمِّيٍّ“ اور صاحبِ قدوری نے شرط لگائی کہ وہ مال جو لیا گیا ہے وہ کسی مسلمان یا ذمی کا مال ہونا چاہیے، ”لِيَكُونَ الْعِصْمَةُ مُؤَبَّدَةً“ تاکہ اس مال کی عصمت مؤبد ہو ہمیشہ کے لیے ہو، وہ مال ہمیشہ کے لیے محترم اور محفوظ ہو، ”وَلِهَذَا لَوْ قَطَعَ الطَّرِيقَ عَلَى الْمُسْتَأْمَنِ“ اور اسی لیے اگر کسی نے ڈاکہ ڈالا مستأمن پر، ”لَا يَجِبُ الْقَطْعُ“ تو اس صورت میں پھر قطع واجب نہیں ہوگی یعنی حد واجب نہیں ہوگی کیونکہ اس کا مال ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں ہے۔
”وَشَرَطَ كَمَالَ النِّصَابِ“ اور صاحبِ قدوری نے نصاب کے کامل ہونے کی شرط لگائی، ”فِي حَقِّ كُلِّ وَاحِدٍ“ ان ڈاکوؤں میں سے ہر ایک کے حق میں، کہ ان میں سے ہر ایک کے حق میں پورا نصاب آنا چاہیے، ”كَيْ لَا يُسْتَبَاحَ طَرَفُهُ“ تاکہ کہیں اس کے عضو کو مباح نہ سمجھا جائے، ”إِلَّا بِتَنَاوُلِهِ مَا لَهُ خَطَرٌ“ مگر اس مال کے لینے کی وجہ سے جس کی اہمیت ہو۔ بھئی آپ پڑھ چکے ہیں چوری کے اندر بھی چور کا ہاتھ تب کاٹیں گے جب اس نے ایسا مال چرایا ہو جس کی اہمیت ہو اور وہ دس درہم ہے ہمارے نزدیک، دس درہم جو ہے یہ اچھا خاصا مال ہے بھئی۔ تو یہاں ڈاکے کے اندر بھی ضروری ہے کہ ہر ایک کے حصے میں دس درہم آئیں اس لیے کیونکہ ہم نے ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹنے ہیں، تو معمولی مال کے اندر ان کے ہاتھ اور پاؤں کی عصمت کو ساقط قرار نہیں دیا جا سکتا، تو کہتے ہیں: ”كَيْ لَا يُسْتَبَاحَ طَرَفُهُ“ تاکہ مباح نہ سمجھا جائے اس ڈاکو کے عضو کو، ”إِلَّا بِتَنَاوُلِهِ مَا لَهُ خَطَرٌ“ مگر اس مال کے لے لینے سے جس کی اہمیت ہے۔
”وَالْمُرَادُ قَطْعُ الْيَدِ الْيُمْنَى وَالرِّجْلِ الْيُسْرَى“ اور مراد جو ہے، یہ جو متن میں آیا تھا کہ ان کے اعضاء مخالف جانب سے کاٹے جائیں گے اس سے مراد کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَالْمُرَادُ قَطْعُ الْيَدِ الْيُمْنَى وَالرِّجْلِ الْيُسْرَى“ اور اس سے مراد جو ہے دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں کا کاٹنا ہے، ”كَيْ لَا يُؤَدِّيَ إِلَى تَفْوِيتِ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ“ تاکہ کہیں یہ جنسِ نفع کے فوت کرنے تک نہ پہنچا دے۔ یعنی ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب کے کاٹیں گے ایک ہی جانب کے نہیں کاٹیں گے ورنہ تو جنسِ نفع ہی ختم ہو جائے گا چلنے کا، یہ معنی ہے کہ کاٹنے سے مراد دائیں ہاتھ اور بائیں پاؤں کا کاٹنا ہے: ”كَيْ لَا يُؤَدِّيَ إِلَى تَفْوِيتِ جِنْسِ الْمَنْفَعَةِ“ تاکہ کہیں یہ اس ڈاکو کے جنسِ نفع کے فوت کرنے تک نہ پہنچا دے۔
”وَالْحَالَةُ الثَّالِثَةُ كَمَا بَيَّنَّاهَا لِمَا تَلَوْنَاهُ“ اور تیسری حالت، بھئی تیسری حالت کیا تھی کہ انہوں نے صرف قتل کیا ہے اور اس صورت میں امام بھی ان کو قتل کروائے گا بطورِ حد کے، تو کہتے ہیں: ”وَالْحَالَةُ الثَّالِثَةُ كَمَا بَيَّنَّاهَا“ اور تیسری حالت جیسے کہ ہم نے بیان کر دیا کہ اس میں قتل کیا جائے گا، ”لِمَا تَلَوْنَاهُ“ اس آیت کی وجہ سے جو ہم نے تلاوت کی، ”وَيُقْتَلُونَ حَدًّا“ اور ان کو جو قتل کیا جائے گا یہ بطورِ حد کے ہے، ”حَتَّى لَوْ عَفَا الْأَوْلِيَاءُ عَنْهُمْ“ یہاں تک کہ اس مقتول کے اولیاء نے اگر معاف کر دیا، ”لَا يُلْتَفَتُ إِلَى عَفْوِهِمْ“ تو ان کی معافی کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی، ”لِأَنَّهُ حَقُّ الشَّرْعِ“ اس لیے کیونکہ یہ قتل جو ہے یہ شریعت کا حق ہے، یہ بطورِ حد کے قتل کیا جا رہا ہے۔
”وَالرَّابِعَةُ“ اور چوتھی حالت جو ہے، میں نے بتلایا تھا چوتھی حالت کیا ہے کہ مال بھی لے لیں اور قتل بھی کریں۔ تو کہتے ہیں: ”وَالرَّابِعَةُ: إِذَا قَتَلُوا وَأَخَذُوا الْمَالَ“ اور چوتھی حالت جو ہے جب وہ قتل بھی کریں اور مال بھی لے لیں، ”فَالْإِمَامُ بِالْخِيَارِ“ تو امام کو اختیار ہے: ”إِنْ شَاءَ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ وَقَتَلَهُمْ أَوْ صَلَبَهُمْ“ اگر چاہے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دے اور قتل کر دے یا سولی دے دے، ”وَإِنْ شَاءَ قَتَلَهُمْ وَإِنْ شَاءَ صَلَبَهُمْ“ اور اگر چاہے تو ان کو صرف قتل کر دے اور اگر چاہے تو ان کو صرف سولی دے دے۔
جی، صَلَبَ يَصْلُبُ کا معنی بھی سولی دینا اور صَلَّبَ يُصَلِّبُ تَصْلِيب کا معنی بھی سولی دینا، تو آپ اس کو صَلَبَهُمْ بھی پڑھ سکتے ہیں اور صَلَّبَهُمْ بھی پڑھ سکتے ہیں۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ اگر انہوں نے مال بھی لوٹا ہے اور قتل بھی کیا ہے تو امام کو اختیار ہے چار چیزوں کا: وہ چاہے تو صرف ان کو قتل کروا دے، وہ چاہے تو صرف سولی دے دے، اور وہ چاہے تو اس قتل یا سولی کے ساتھ ہاتھ پاؤں کے کٹوانے کو بھی جمع کر دے کہ ہاتھ پاؤں بھی کاٹے اور قتل بھی کر دے یا ہاتھ پاؤں بھی کاٹے اور سولی بھی دے دے، وہی بیان کر رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں اگر انہوں نے مال بھی لیا ہے اور قتل بھی کیا ہے تو ”فَالْإِمَامُ بِالْخِيَارِ“ تو امام کو اختیار ہے، ”إِنْ شَاءَ قَطَعَ أَيْدِيَهُمْ وَأَرْجُلَهُمْ مِنْ خِلَافٍ“ اگر چاہے تو ان کے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے کٹوا دے، ”وَقَتَلَهُمْ“ اور اس کے ساتھ ان کو قتل بھی کر دے، ”أَوْ صَلَبَهُمْ“ یا اس کے ساتھ ان کو سولی بھی دے دے، ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹے اور سولی بھی دے دے، ”وَإِنْ شَاءَ قَتَلَهُمْ“ اور اگر چاہے تو صرف ان کو قتل کروا دے ہاتھ پاؤں نہ کٹوائے، ”وَإِنْ شَاءَ صَلَبَهُمْ“ اور اگر چاہے تو ان کو صرف سولی دے دے ہاتھ اور پاؤں نہ کٹوائے۔
”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ: يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ وَلَا يُقْطَعُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ قتل کے ساتھ ہاتھ پاؤں نہیں کاٹے جا سکتے یا اسی طرح سولی کے ساتھ ہاتھ پاؤں نہیں کاٹے جا سکتے، تو کہتے ہیں ”وَقَالَ مُحَمَّدٌ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”يُقْتَلُ أَوْ يُصْلَبُ وَلَا يُقْطَعُ“ کہ قتل کیا جائے گا یا سولی دی جائے گی اور ہاتھ اور پاؤں نہیں کاٹے جائیں گے، ”لِأَنَّهُ جِنَايَةٌ وَاحِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ڈاکہ جو ہے ایک ہی جرم ہے، ”فَلَا تُوجِبُ حَدَّيْنِ“ لہٰذا یہ دو حدیں واجب نہیں کر سکتا۔ ڈاکہ ایک فعل ہے تو لہٰذا ایک ہی حد آئے گی، آپ ہاتھ اور پاؤں بھی کاٹ دیں تو یہ تو ایک حد یہ ہو گئی اور پھر قتل کر دیں یا سولی دے دیں یہ تو دو حدیں آپ نے اس میں جمع کر دیں، تو کہتے ہیں ”لِأَنَّهُ جِنَايَةٌ وَاحِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ ڈاکہ ایک ہی جرم ہے، ”فَلَا تُوجِبُ حَدَّيْنِ“ تو یہ دو حدوں کو ثابت نہیں کرتا، ”وَلِأَنَّ مَا دُونَ النَّفْسِ يَدْخُلُ فِي النَّفْسِ فِي بَابِ الْحَدِّ“ اور اس لیے کیونکہ نفس سے جو کم ہوتا ہے وہ نفس کے اندر داخل ہو جاتا ہے حد کے باب میں۔ بھئی یاد رکھو، اگر ایک آدمی پر دو حدیں آ رہی ہیں، ایک حد کے اندر مثلاً اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا اس نے چوری کی ہے، اور دوسری حد کے اندر اس کو رجم کیا جائے گا کیونکہ یہ محسن ہے اور اس نے زنا کیا ہے، تو اس صورت میں یاد رکھو ہمارے فقہاء فرماتے ہیں کہ اب جب اس کو رجم کرنا ہے تو ہاتھ کاٹنے کی ضرورت نہیں کیونکہ جب اس کو رجم کریں گے جب اس کی جان چلی گئی تو اس کے اندر ہی عضو بھی چلا گیا، بات سمجھ میں آ گئی؟ تو لہٰذا جب دو حدیں جمع ہو جائیں، ایک میں اس مجرم کی جان جا رہی ہے اور دوسرے میں جان سے کم ہے تو پھر اسی جان لینے پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”وَلِأَنَّ مَا دُونَ النَّفْسِ“ اور اس لیے کیونکہ نفس سے جو کم سزا ہوتی ہے، ”يَدْخُلُ فِي النَّفْسِ“ وہ نفس کی سزا میں ہی داخل ہو جاتی ہے، ”فِي بَابِ الْحَدِّ“ حد کے باب میں، ”كَحَدِّ السَّرِقَةِ وَالرَّجْمِ“ جیسے کہ چوری اور رجم کی حد ہے، کہ اگر چوری اور رجم اکٹھے ہو گئے تو صرف رجم پر ہی اکتفاء کیا جائے گا۔
آگے دیکھیے: ”وَلَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے، امام محمد رحمہ اللہ تو فرماتے تھے کہ صرف ان کو قتل کر دیا جائے یا سولی دے دی جائے گی اس کے ساتھ ہاتھ اور پاؤں نہیں کاٹے جائیں گے، جبکہ شیخین رحمہما اللہ فرماتے ہیں نہیں اس کے ساتھ ہاتھ اور پاؤں کو بھی کاٹا جا سکتا ہے، تو اب اس کی دلیل دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں ”وَلَهُمَا“ شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ هَذِهِ عُقُوبَةٌ وَاحِدَةٌ“ کہ یہ ایک ہی سزا ہے، یہ جو ہاتھ اور پاؤں کاٹا جائے اور پھر قتل کیا جائے یا ہاتھ اور پاؤں کاٹا جائے اور پھر سولی دی جائے یہ ایک ہی سزا ہے اگرچہ کئی امور ہیں، ہاتھ بھی کاٹیں گے، پاؤں بھی کاٹیں گے اور قتل بھی کریں گے تو چیزیں تو کئی ہیں لیکن سزا ایک ہی ہے، ایسا نہیں کہ الگ الگ سزائیں ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَهُمَا“ اور شیخین رحمہما اللہ کی دلیل یہ ہے کہ ”أَنَّ هَذِهِ عُقُوبَةٌ وَاحِدَةٌ“ کہ یہ ایک ہی سزا ہے، ”تَغَلَّظَتْ لِتَغَلُّظِ سَبَبِهَا“ جو سخت ہو گئی ہے اس کے سبب کے سخت ہونے کی وجہ سے۔ چونکہ اس سزا کا سبب بڑا سخت ہے یعنی جرم بڑا سخت ہے اس لیے سزا بھی بڑی سخت ہے لیکن ہے ایک ہی سزا۔ بھئی اس کا سبب کیا ہے؟ کہتے ہیں ”وَهُوَ تَفْوِيتُ الْأَمْنِ عَلَى التَّنَاهِي بِالْقَتْلِ وَأَخْذِ الْمَالِ“ اور وہ امن کو ختم کرنا ہے آخری حد تک قتل اور مال لینے کے ذریعے، یعنی جب ان ڈاکوؤں نے قتل بھی کیا ہے اور مال بھی لوٹا ہے تو انہوں نے امن کو ختم کیا آخری حد تک بھئی، اس سے زیادہ تو اور کچھ ہو ہی نہیں سکتا تھا تو یہ آخری حد تک چلے گئے امن کو ختم کرنے کے لیے۔ تو کہتے ہیں ”وَهُوَ تَفْوِيتُ الْأَمْنِ عَلَى التَّنَاهِي بِالْقَتْلِ وَأَخْذِ الْمَالِ“ اور وہ امن کو ختم کرنا ہے آخری حد تک قتل اور مال لینے کے ذریعے، ”وَلِهَذَا كَانَ قَطْعُ الْيَدِ وَالرِّجْلِ مَعًا فِي الْكُبْرَى حَدًّا وَاحِدًا“ کہتے ہیں اسی وجہ سے تو چور کا صرف ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور ڈاکو کا ہاتھ بھی کاٹا جاتا ہے اور پاؤں بھی، تو ہاتھ اور پاؤں کاٹنے کا یہ مطلب نہیں ہے یہ دو سزائیں ہیں، سرقۂ صغریٰ کے اعتبار سے تو یہ دو سزائیں ہیں، ہاتھ کا کاٹنا الگ حد پاؤں کا کاٹنا الگ حد چوری کے اندر، لیکن ڈاکے کے اندر یہ ایک ہی حد ہے کیونکہ جرم بڑا سخت ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے ”وَلِهَذَا كَانَ قَطْعُ الْيَدِ وَالرِّجْلِ مَعًا“ اور اسی وجہ سے ہاتھ اور پاؤں کا اکٹھا کاٹنا، ”فِي الْكُبْرَى“ سرقۂ کبریٰ کے اندر، ”حَدًّا وَاحِدًا“ یہ ایک ہی حد ہے، ”وَإِنْ كَانَ فِي الصُّغْرَى حَدَّيْنِ“ اگرچہ یہ سرقۂ صغریٰ کے اندر دو حدیں ہیں۔
”وَالتَّدَاخُلُ فِي الْحُدُودِ لَا فِي حَدٍّ وَاحِدٍ“ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے تھے کہ اگر دو حدیں جمع ہو جائیں، ایک میں جان جا رہی ہے اور ایک میں جان سے کم ہے تو پھر جان لینے پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا یعنی ان حدود میں تداخل کر دیا جائے گا۔ ہم کہتے ہیں کہ الگ الگ حدود ہوں ان میں تو تداخل ہو سکتا ہے، ایک ہی حد کے اندر تداخل نہیں ہو سکتا۔ مثلاً ایک شخص نے زنا کیا ہے اور اس کی حد ہے سو کوڑے، تو اب امام تداخل کر دے اور کہے بھئی اس کو ایک ہی کوڑا لگا دو سب کا تداخل ہو گیا، نہیں بھئی، ایک حد کے اندر تداخل نہیں ہوتا، دو یا زیادہ حدوں کے اندر تداخل ہو سکتا ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَالتَّدَاخُلُ فِي الْحُدُودِ لَا فِي حَدٍّ وَاحِدٍ“ اور تداخل کئی حدود میں ہوتا ہے ایک حد میں نہیں، ”ثُمَّ ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ التَّخْيِيرَ بَيْنَ الصَّلْبِ وَتَرْكِهِ“ پھر بھئی متن میں آیا تھا کہ امام کو اختیار ہے، امام کو اختیار ہے کہ چاہے قتل پر ہی اکتفاء کر لے اور چاہے سولی دے دے۔ تو متن سے معلوم ہوا امام کو قتل اور سولی میں اختیار ہے، تو صاحبِ ہدایہ بتلائیں گے یہ ظاہرِ روایت ہے اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں صرف قتل پر اکتفاء نہیں کیا جا سکتا سولی بھی دینا پڑے گی تاکہ لوگوں کو خوب اچھی طرح عبرت ہو جائے۔
تو کہتے ہیں ”ثُمَّ ذَكَرَ فِي الْكِتَابِ التَّخْيِيرَ بَيْنَ الصَّلْبِ وَتَرْكِهِ“ اور پھر صاحبِ قدوری نے کتاب کے اندر سولی دینے اور سولی کو چھوڑنے کے درمیان تخییر کو ذکر کیا کہ سولی دے یا سولی کو چھوڑ دے اس میں امام کو اختیار ہے، ”وَهُوَ ظَاهِرُ الرِّوَايَةِ“ اور یہی ظاہرِ روایت ہے، ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ أَنَّهُ لَا يَتْرُكُهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ امام جو ہے سولی دینے کو نہیں چھوڑ سکتا، ”لِأَنَّهُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ“ کیونکہ سولی منصوص علیہ ہے اس پر نص لائی گئی ہے، نص کے اندر اس کا ذکر ہے۔ تو کہتے ہیں کہ امام اس سولی کو نہیں چھوڑ سکتا ”لِأَنَّهُ مَنْصُوصٌ عَلَيْهِ“ کیونکہ سولی منصوص علیہ ہے یعنی نص کے اندر اس کا ذکر کیا گیا ہے، ”وَالْمَقْصُودُ التَّشْهِيرُ“ اور اس سولی کے ذریعے مقصود جو ہے وہ تشہیر ہے کہ اس بات کی خوب اچھی طرح شہرت ہو جائے، ”لِيَعْتَبِرَ بِهِ غَيْرُهُ“ تاکہ عبرت حاصل کریں اس کے ذریعے اور لوگ۔ تو کہتے ہیں ”لِيَعْتَبِرَ بِهِ غَيْرُهُ“ تاکہ اس کے علاوہ اور لوگ اس کے ذریعے عبرت حاصل کریں، ”وَنَحْنُ نَقُولُ: أَصْلُ التَّشْهِيرِ بِالْقَتْلِ“ اور ہم کہتے ہیں کہ اصل تشہیر قتل کے ذریعے ہی ہے، جب اس کو قتل کر دیا گیا تو شہرت ہوگی سب تک بات پہنچے گی، ”وَالْمُبَالَغَةُ بِالصَّلْبِ“ اور سولی دینے کے ذریعے تو مبالغہ ہوگا، اصل تشہیر تو قتل کے ذریعے ہی ہے ہاں سولی دے گا تو زیادہ شہرت ہو جائے گی، سولی دے گا تو زیادہ شہرت ہو جائے گی، تو جب اصل شہرت قتل کے ذریعے حاصل ہو گئی تو سولی دینا امام...
...پر لازم نہیں ہوگا۔
”وَنَحْنُ نَقُولُ“ اور ہم کہتے ہیں، ”أَصْلُ التَّشْهِيرِ بِالْقَتْلِ“ کہ اصل تشہیر قتل کے ذریعے ہے، ”وَالْمُبَالَغَةُ بِالصَّلْبِ“ اور سولی دینے کے ذریعے مبالغہ ہے، ”فَيُخَيَّرُ فِيهِ“ تو اس میں امام کو اختیار ہوگا۔
”ثُمَّ قَالَ“ پھر صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُصْلَبُ حَيًّا“۔ میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ جب ڈاکوؤں کو سولی دی جائے گی تو بعض علماء فرماتے ہیں ان کو قتل کیا جائے گا اور پھر سولی دے دی جائے گی، یعنی اس لکڑی پر ان کو لٹکا دیا جائے گا کئی دن کے لیے، جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ نہیں سولی پر ان کو زندہ ہی لٹکایا جائے گا اور پھر ان کے پیٹ اور سینے پر نیزے مار مار کر ان کو قتل کر دیا جائے گا۔
تو کہتے ہیں ”ثُمَّ قَالَ“ پھر صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَيُصْلَبُ حَيًّا“ اور ان کو زندہ ہی سولی دی جائے گی، ”وَيُبْعَجُ بَطْنُهُ“ بَعَجَ يَبْعَجُ کے معنی ہوتے ہیں پھاڑنا، ”وَيُبْعَجُ بَطْنُهُ“ اور پھر اس ڈاکو کے پیٹ کو پھاڑا جائے گا، ”بِالرُّمْحِ“ نیزے کے ذریعے، ”إِلَى أَنْ يَمُوتَ“ یہاں تک کہ وہ مر جائے، ”وَمِثْلُهُ عَنِ الْكَرْخِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور اسی کے مثل روایت کیا گیا ہے امام کرخی سے بھی۔ صاحب قدوری نے بھی یہی ذکر کیا کہ زندہ سولی دیں گے اور امام کرخی سے بھی اسی کے مثل نقل کیا گیا ہے کہ زندہ کو سولی دیں گے۔
”وَعَنِ الطَّحَاوِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام طحاوی رحمہ اللہ سے روایت کیا گیا ہے کہ ”أَنَّهُ يُقْتَلُ ثُمَّ يُصْلَبُ“ کہ اس ڈاکو کو قتل کیا جائے گا پھر سولی دی جائے گی، ”تَوَقِّيًا عَنِ الْمُثْلَةِ“ مثلہ سے بچنے کے لیے۔
مثلَہ بھئی آپ جانتے ہیں، مثلہ یہ ہے کہ مرنے والے کے کان کاٹ دیے، ناک کاٹ دی، ہونٹ کاٹ دیے، اس کی آنکھیں نکال دیں تو اس کو کہتے ہیں مثلہ، یعنی شکل بگاڑ دینا، شکل بگاڑ دینا۔ تو امام طحاوی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ان کو قتل کیا جائے گا اور پھر سولی دے دی جائے گی، یعنی پیٹ میں نیزے مار مار کر ان کو قتل نہیں کریں گے ورنہ تو یہ مثلہ ہو جائے گا، اور مثلہ سے تو شریعت نے منع کیا ہے بھئی۔
تو یاد رکھو علماء جواب دیتے ہیں کہ بھئی نیزے کے ذریعے پیٹ پھاڑنا یہ مثلہ نہیں کہلاتا، عربوں کی عادت تھی وہ نیزے کے ذریعے بھی قتل کرتے تھے دوسروں کو اور اس کو وہ مثلہ نہیں کہتے تھے، لہٰذا یہ مثلہ نہیں ہے، ان کو زندہ سولی دے کر ان کو نیزے کے ذریعے قتل کیا جائے گا۔ اور اگر آپ کی بات مان لی جائے کہ یہ مثلہ ہے، تو اس کا بھی جواب کہتے ہیں کہ اگر یہ مثلہ بھی ہے تو یہ خاص قسم کا مثلہ ہے اور وہ مثلہ جس سے منع کیا گیا تھا اس سے اس کا استثناء ہے۔ اور مثلہ کی اجازت تو نہیں لیکن اس مثلہ کی اجازت ہے، بات سمجھ میں آگئی؟
”وَعَنِ الطَّحَاوِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام طحاوی رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”أَنَّهُ يُقْتَلُ ثُمَّ يُصْلَبُ“ کہ اس ڈاکو کو قتل کیا جائے گا پھر سولی دی جائے گی، ”تَوَقِّيًا عَنِ الْمُثْلَةِ“ مثلہ سے بچنے کے لیے، ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ، پہلا قول کیا آیا کہ ان کو زندہ سولی دی جائے گی، تو کہتے ہیں ”وَجْهُ الْأَوَّلِ“ پہلے قول کی وجہ، ”وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اور وہ قول زیادہ صحیح ہے، پہلا قول زیادہ صحیح ہے، امام طحاوی کی روایت بھی صحیح لیکن پہلی روایت زیادہ صحیح ہے۔ تو کہتے ہیں ”وَجْهُ الْأَوَّلِ وَهُوَ الْأَصَحُّ“ اس حال میں کہ وہ زیادہ صحیح ہے کہ ”أَنَّ الصَّلْبَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ“ کہ اس طریقے پر سولی دینا، ”أَبْلَغُ فِي الرَّدْعِ“ یہ زیادہ بہتر ہے، ”فِي الرَّدْعِ“ منع کرنے میں۔ یہ زیادہ بہتر ہے منع کرنے میں، بھئی اس کی وجہ سے لوگوں کو زیادہ عبرت حاصل ہوگی اور کوئی آئندہ ڈاکہ ڈالنے کی جرأت نہیں کرے گا۔ تو کہتے ہیں ”أَنَّ الصَّلْبَ عَلَى هَذَا الْوَجْهِ“ اس طریقے پر سولی دینا، ”أَبْلَغُ فِي الرَّدْعِ“ یہ بہتر ہے منع کرنے میں، ”وَهُوَ الْمَقْصُودُ بِهِ“ اور منع کرنا ہی اس کے ذریعے مقصود ہے کہ کوئی اور ڈاکہ نہ ڈالے۔
”قَالَ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَلَا يُصْلَبُ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ“ اور ان کو تین دن سے زیادہ سولی نہیں دی جائے گی، یعنی تین دن تک ان کو لٹکا رہنے دیں گے اور پھر ان کو وہاں سے ہٹا دیں گے، وجہ یہ کہ تین دن کے بعد ان سے بدبو آنا شروع ہو جائے گی اور جس کی وجہ سے لوگوں کو تکلیف ہوگی۔ تو کہتے ہیں ”وَلَا يُصْلَبُ أَكْثَرَ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ“ اور تین دن سے زیادہ سولی نہیں دی جائے گی، ”لِأَنَّهُ تَتَغَيَّرُ بَعْدَهَا“ اس لیے کیونکہ اس کے بعد اس ڈاکو کا بدن متغیر ہو جائے گا یعنی اس کا بدن خراب ہو جائے گا، ”فَيَتَأَذَّى النَّاسُ بِهِ“ تو اس سے لوگوں کو اذیت ہوگی، لوگوں کو تکلیف ہوگی، لہٰذا اس کے بعد اس کو دور کر دیں گے۔
”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے، امام ابو یوسف رحمہ اللہ میں نے بتلایا تھا کہ یہ قاضی القضاۃ تھے، یہ چیف جسٹس تھے بھئی، وہ فرماتے ہیں کہ ”أَنَّهُ يُتْرَكُ عَلَى خَشَبَةٍ“ کہ اس کو چھوڑ دیا جائے گا لکڑی پر، ”حَتَّى يَتَقَطَّعَ“ یہاں تک کہ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے، ”وَيَسْقُطَ“ اور گر جائے۔ ٹکڑے ٹکڑے ہو کر گر جائے تاکہ خوب لوگوں کو عبرت ہو جائے بھئی، مدت تک وہاں لٹکا ہوا ہے تو آئندہ کبھی کسی کی جرأت نہ ہوگی بھئی۔
بھئی یاد رکھو کسی بھی ملک کی ترقی کے لیے سب سے اہم چیز جو ہے، ایک انصاف ہے اور ایک وہاں امن و امان ہے۔ جس ملک میں انصاف ہو اور جس ملک میں امن و امان ہو وہ اتنی رفتار سے ترقی کرتا ہے کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا۔ چنانچہ طالبان کا جب پہلا زمانہ تھا جب ملا عمر رحمہ اللہ حیات تھے اور ان کی خلافت کا زمانہ تھا، اس زمانے کے اندر جہاں جہاں طالبان قبضہ کرتے جاتے تھے وہاں پر شرعی حدود نافذ کر دیتے تھے بھئی۔ حالانکہ ابھی طالبان نے پورے افغانستان پر قبضہ نہیں کیا تھا، وہ حالت جنگ میں تھے، بے سرو سامانی کی حالت میں تھے، لیکن جس جس علاقے میں قبضہ کرتے جاتے تھے شرعی حدود کو نافذ کرتے چلے جاتے تھے، اور وہ افغانستان جو سالہا سال سے جنگوں کے اندر ڈوبا ہوا تھا، بے انتہا غربت تھی، لیکن اس کے باوجود اسلامی شریعت کی برکات اتنی تھیں کہ چوری اور ڈاکے کا نشان ختم ہو گیا۔ لوگ اپنا سامان کھلے عام لے کر پھرتے تھے، کسی کو فکر ہی نہیں ہوتی تھی کہ کوئی میرے سامان کو ہاتھ بھی لگا سکتا ہے۔ چنانچہ والد صاحب رحمہ اللہ نے زندگی کی جو آخری تقریر فرمائی وفات سے بیس پچیس دن قبل اس کے اندر بھی انہوں نے واقعہ ذکر فرمایا کہ ایک آدمی افغانستان گیا اسی زمانے کے اندر، تو وہ آدمی خود بتلاتا ہے کہ میں قندھار پہنچا، وہاں میرا کوئی جاننے والا تھا، اس نے کہا تھا کہ آپ جب پہنچ جائیں گے میں وہاں آپ کو لینے کے لیے موجود ہوں گا۔ تو کہتے ہیں لیکن وہاں قندھار کے اندر جب میں بس سے اترا تو وہ شخص ابھی تک مجھے لینے نہیں آیا تھا، معلوم نہیں کوئی عذر پیش آگیا یا کیا وجہ تھی، اب میں پریشان ہو گیا۔ پاکستان سے میں وہاں گیا ہوں اور مجھے نہ اس علاقے کی نہ جگہوں کا پتہ ہے، نہ کہ اور کسی سے واقفیت ہے بھئی، تو کہتے ہیں اب میں بڑا پریشان ہو گیا۔ شہر کے اندر سڑک کے کنارے کھڑا ہوں، سامان میرے پاس موجود ہے۔ تو ایک آدمی سے میں نے پوچھا کہ بھئی فلاں جگہ میں جانا چاہتا ہوں، تو اس نے مجھے راستہ وغیرہ سمجھایا اور کہنے لگا کہ آپ چلے جاؤ اور سامان یہیں چھوڑ دو، واپس آکر سامان لے لینا۔ تو کہتے ہیں میں نے اس کی طرف یوں حیرت سے دیکھا کہ یہ آدمی ٹھیک ہے یا پاگل ہے؟ بھئی پاکستان میں آپ کو اس طرح کوئی کہے کہ اپنا سامان یہیں چھوڑ کے چلے جاؤ سڑک کے کنارے اور پھر آکر لے لینا، تو آپ یقیناً اس کو پاگل ہی سمجھیں گے۔ اس آدمی نے جب مجھے یوں کہا تو میں نے ایک دم حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور میں نے کہا یہ کیسی بات کر رہے ہو؟ بھئی یہ سامان ہے اس کے اندر قیمتی چیزیں ہیں اور آپ کہہ رہے ہیں یہیں چھوڑ کر چلے جاؤ؟ تو وہ آدمی کہنے لگا کہ اگر اس کے اندر نوٹ بھی ہیں تو نکال کر اوپر رکھ دو، لیکن کوئی پتھر رکھ دو کہ ہوا وغیرہ سے آپ کے وہ نوٹ نہ اڑیں، تین دن کے بعد بھی آؤ گے تو یہ سامان یہیں پڑا ملے گا، کسی کی جرأت نہیں ہے کہ تمہارے سامان کو ہاتھ لگا دے بھئی۔ یہ اسلامی نظام کی برکات تھیں بھئی۔ یہاں تک کہ اخبارات کے اندر بھی یہ بات آئی تھی کہ جرمنی والوں نے باقاعدہ طالبان کے وفد کو بلوایا، جرمنی والے کہنے لگے کہ آپ حالتِ جنگ میں ہیں لیکن آپ کے ملک میں اتنا امن و امان ہے کہ کوئی ایک آدمی بھی جرم نہیں کرتا، اور ہمارے پاس تمام وسائل ہیں، ہم نے پولیس کو ہر طرح کا اسلحہ دیا ہوا ہے، ہر طرح کے کمپیوٹر اور گاڑیاں اور ہیلی کاپٹر سب کچھ دیا ہوا ہے، اور ان پر ہم کروڑوں ڈالر خرچ کرتے ہیں، لیکن پھر بھی ہمارے ملک میں جرم ہیں کہ بڑھتے ہی جا رہے ہیں، تو اس کی وجہ کیا ہے؟ تو طالبان نے کہا کہ یہ ہمارا کوئی کمال نہیں، یہ تو شریعت کا کمال ہے۔ معلوم ہوا آج بھی شریعت کو اگر نافذ کر دیا جائے تو اس ملک میں اتنا امن و امان آ جائے گا کہ جس کا تصور نہیں کیا جا سکتا، اور وہ ملک اتنی رفتار سے ترقی کرے گا کہ جسے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ بھئی دیکھو جہاں امن و امان نہیں ہوتا اور انصاف نہیں ہوتا تو وہاں لوگ اپنا مال باہر نکالتے ہوئے ڈرتے ہیں کہ اگر میں نے مال باہر نکالا تو مجھے کوئی لوٹ نہ لے، یا کسی تاجر سے میرا واسطہ پڑا وہ میرا مال دبا کر ہی نہ بیٹھ جائے۔ یہاں تو ایسا ہی ہے پاکستان کے اندر، آپ کسی کے ساتھ بھی کوئی مالی معاملہ کرتے ہیں تو پھر آپ کے پیسے واپس ملنا مشکل ہو جاتا ہے، لیکن جہاں انصاف ہو اور امن و امان ہو پھر وہاں پر لوگ مال گھر کے اندر نہیں رکھتے کہ یہ تو سال گزرے گا مجھے ہر سال زکوٰۃ دینی پڑے گی اور مال تو کم ہی ہوتا چلا جائے گا، وہ ہر شخص کوشش کرتا ہے کہ اپنا مال میں کہیں پر خرچ کروں تاکہ یہ مال بڑھتا چلا جائے، جس کی وجہ سے فیکٹریاں اور کارخانے بنتے ہیں، لوگوں کو روزگار ملتا ہے اور ملک بڑی رفتار سے ترقی کرتا چلا جاتا ہے بھئی۔ چنانچہ ماہرین فرماتے ہیں کہ اگر طالبان کو دس پندرہ سال کا عرصہ مل جاتا کہ وہ امن و امان کے ساتھ حکومت کرتے اور یہ امریکی اور یہودی شرارت نہ کرتے ان کی حکومت ختم کرنے کی، تو پھر طالبان نے اتنی رفتار سے ترقی کرنی تھی کہ ساری دنیا کی توجہ کا مرکز بن جانا تھا انہوں نے چند سالوں میں۔ بات سمجھ میں آگئی؟ جیسے میں نے بتایا بھی کہ طالبان ابھی حالتِ جنگ میں تھے اور جرمنی والے ان کو بلا رہے ہیں کہ آئیے ہمیں بھی ذرا مشورہ دیجیے کہ کس طرح ہم ان جرائم پر قابو پا سکتے ہیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے: ”أَنَّهُ يُتْرَكُ عَلَى خَشَبَةٍ حَتَّى يَتَقَطَّعَ وَيَسْقُطَ“ کہ اس ڈاکو کو اس لکڑی پر ہی لٹکا رہنے دیا جائے گا یہاں تک کہ یہ ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور گر جائے، ”لِيَعْتَبِرَ بِهِ غَيْرُهُ“ تاکہ اور لوگوں کو اس سے عبرت ہو، ”قُلْنَا“ ہم کہتے ہیں: ”حَصَلَ الِاعْتِبَارُ بِمَا ذَكَرْنَاهُ“ کہ عبرت حاصل ہوگئی اس چیز سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ تین دن تک لٹکا رہے تو اس سے بھی لوگوں کو عبرت حاصل ہوگئی، ”وَالنِّهَايَةُ غَيْرُ مَطْلُوبَةٍ“ اور اس انتہا تک پہنچنا مطلوب نہیں ہے۔ لوگوں کو عبرت حاصل ہو چکی ہے جس کو ہم نے ذکر کر دیا کہ جب تین دن تک لٹکایا ہے تو لوگوں کو اچھی خاصی عبرت ہو چکی ہے، ”وَالنِّهَايَةُ غَيْرُ مَطْلُوبَةٍ“ اور اس انتہا تک پہنچنا مطلوب نہیں ہے، محض لوگوں کو ڈرانا دھمکانا ہے کہ وہ جرائم سے باز آ جائیں، اس حد تک پہنچانا مطلوب نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”قَالَ: وَإِذَا قُتِلَ الْقَاطِعُ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ فِي مَالٍ أَخَذَهُ“ صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَإِذَا قُتِلَ الْقَاطِعُ“ اور جب ڈاکو کو قتل کر دیا گیا، جب ڈاکو کو بطور حد کے قتل کر دیا گیا اور اس نے کسی کا مال لوٹا تھا، تو کہتے ہیں پھر ضمان نہیں آئے گا۔ ضمان نہیں آئے گا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے بھئی۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا قُتِلَ الْقَاطِعُ فَلَا ضَمَانَ عَلَيْهِ فِي مَالٍ أَخَذَهُ“ اور جب ڈاکو کو قتل کر دیا گیا تو اس ڈاکو پر کوئی ضمان نہیں ہے اس مال کے اندر جو اس نے لیا تھا، ”اعْتِبَارًا بِالسَّرِقَةِ الصُّغْرَى“ سرقہ صغریٰ پر قیاس کرتے ہوئے، ”وَقَدْ بَيَّنَّاهُ“ اور تحقیق اس کو ہم نے بیان کیا تھا کہ قطع اور ضمان جمع نہیں ہو سکتے تو یہاں پر بھی جب حد جاری ہوگئی تو ضمان اس کے ساتھ نہیں آئے گا۔
آگے دیکھیے: ”فَإِنْ بَاشَرَ الْقَتْلَ أَحَدُهُمْ“ بَاشَرَ يُبَاشِرُ کے معنی ہیں سرانجام دینا، ”فَإِنْ بَاشَرَ الْقَتْلَ“ اگر قتل کو سرانجام دیا ہے، ”أَحَدُهُمْ“ ان ڈاکوؤں میں سے ایک نے، ”أُجْرِيَ الْحَدُّ عَلَيْهِمْ بِأَجْمَعِهِمْ“ تو حد جاری کی جائے گی ان سب پر۔ اگر ایک ڈاکو نے بھی قتل کیا ہے تو ان ساروں کو حد کے اندر قتل کیا جائے گا۔ کہتے ہیں: ”فَإِنْ بَاشَرَ الْقَتْلَ أَحَدُهُمْ“ اگر ان ڈاکوؤں میں سے ایک نے قتل سرانجام دیا ہے، ”أُجْرِيَ الْحَدُّ عَلَيْهِمْ بِأَجْمَعِهِمْ“ تو حد ان سب پر جاری کی جائے گی، ”لِأَنَّهُ جَزَاءُ الْمُحَارَبَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ حد جو ہے یہ محاربہ کی جزا ہے، یہ اللہ اور رسول کے ساتھ جنگ ہے ان کے احکام کی نافرمانی ہے تو یہ اس کی جزا ہے، ”وَهِيَ تَتَحَقَّقُ بِأَنْ يَكُونَ الْبَعْضُ رِدْءًا لِلْبَعْضِ“ اور یہ جنگ پائی جاتی ہے بایں صورت کہ ان میں سے بعض جو ہیں، رِدْءًا وہ مددگار ہوتے ہیں، لِلْبَعْضِ بعض کے۔ بھئی ڈاکو جب ڈاکہ ڈالتے ہیں تو سارے مل کر سامان نہیں لوٹتے، کچھ سامان لوٹتے ہیں کچھ ویسے مدد کے لیے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔ یا کچھ ڈاکو اگر قتل کرتے ہیں تو سارے مل کر تو قتل نہیں کرتے، کچھ مددگار ہوتے ہیں اور کچھ قتل کرتے ہیں، تو یہ سارے مددگار ہیں ایک دوسرے کے لہٰذا سب کو قتل کیا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ جَزَاءُ الْمُحَارَبَةِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو حد کے اندر سب کو قتل کیا جائے گا یہ محاربہ یعنی جنگ کرنے کا بدلہ ہے، ”وَهِيَ تَتَحَقَّقُ بِأَنْ يَكُونَ الْبَعْضُ رِدْءًا لِلْبَعْضِ“ اور یہ محاربہ پایا جاتا ہے بایں صورت کہ یہ ایک دوسرے کے مددگار ہوتے ہیں، ”حَتَّى إِذَا زَلَّتْ أَقْدَامُهُمْ“ یہاں تک کہ جب ان کے قدم پھسلتے ہیں، یعنی جب کسی ایک طرف یہ کمزور پڑ گئے بھئی کوئی ان کے مقابلے کے لیے آ گیا تو سارے وہاں اکٹھے ہو کر اس کا مقابلہ کرتے ہیں، یہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”حَتَّى إِذَا زَلَّتْ أَقْدَامُهُمْ“ یہاں تک کہ جب ان کے قدم پھسلتے ہیں، ”انْحَازُوا إِلَيْهِمْ“ اِنْحَازَ يَنْحَازُ کے معنی ہیں جمع ہونا، اکٹھے ہونا، کہتے ہیں ”حَتَّى إِذَا زَلَّتْ أَقْدَامُهُمْ انْحَازُوا إِلَيْهِمْ“ یہاں تک کہ ان کے جب قدم پھسلتے ہیں تو وہ ان کی طرف اکٹھے ہو جاتے ہیں، ”وَإِنَّمَا الشَّرْطُ الْقَتْلُ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ“ اور شرط جو تھی وہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے قتل تھا، ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“ اور وہ تو پایا گیا۔ اس حد کے جاری کرنے کی شرط کیا تھی کہ ان میں سے کسی ایک کی طرف سے قتل پایا جائے، جب قتل پایا گیا تو اب شرط پوری ہوگئی، جب شرط پوری ہوگئی تو اب حد سب پر نافذ کی جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَإِنَّمَا الشَّرْطُ الْقَتْلُ مِنْ وَاحِدٍ مِنْهُمْ“ اور اس حد کی شرط جو ہے ان میں سے کسی ایک کی جانب سے قتل کا ہونا تھا، ”وَقَدْ تَحَقَّقَ“ اور وہ قتل تو پایا گیا۔
”قَالَ: وَالْقَتْلُ“ قَالَ اور صاحب قدوری فرماتے ہیں: ”وَالْقَتْلُ وَإِنْ كَانَ بِعَصًا“ اور وہ قتل اگرچہ لاٹھی کے ذریعے ہو، ”أَوْ بِحَجَرٍ“ یا پتھر کے ذریعے ہو، ”أَوْ بِسَيْفٍ“ یا تلوار کے ذریعے ہو، ”فَهُوَ سَوَاءٌ“ تو یہ برابر ہے، یعنی یہ قتل چاہے پتھر کے ذریعے ہو چاہے لکڑی یا چاہے تلوار کے ذریعے، یہ سب برابر ہیں، ”لِأَنَّهُ يَقَعُ قَطْعًا“ بھئی دیکھیے، عام حالات کے اندر اگر کوئی شخص دوسرے کو قتل کرتا ہے تو قصاص صرف اس صورت میں آتا ہے جب اس نے آلۂ قتل کے ساتھ دوسرے کو قتل کیا ہو۔ اگر اس نے لاٹھیاں مار مار کے کسی دوسرے کو قتل کیا ہے یا اس نے اس کا گلا دبا کر اسے قتل کیا ہے تو پھر اس صورت میں یاد رکھو پھر قصاص نہیں آتا بلکہ دیت آتی ہے، قصاص نہیں آتا بلکہ دیت آتی ہے، لیکن یہاں پر، یہاں پر یہ جس طریقے سے بھی قتل کر دیں ان کو بھی قتل کیا جائے گا۔ تو یہ معنی ہے کہتے ہیں: ”وَالْقَتْلُ وَإِنْ كَانَ بِعَصًا أَوْ بِحَجَرٍ أَوْ بِسَيْفٍ فَهُوَ سَوَاءٌ“ اور یہ قتل اگرچہ لاٹھی کے ذریعے ہو یا پتھر کے ذریعے یا تلوار کے ذریعے تو یہ سب برابر ہیں، ”لِأَنَّهُ يَقَعُ قَطْعًا لِلطَّرِيقِ“ اس لیے کیونکہ یہ قتل جو ہے قطعِ طریق ہو کر واقع ہوا ہے، ”بِقَطْعِ الْمَارَّةِ“ گزرنے والوں کا راستہ کاٹ کر۔ مَارَّة: مر یمر کا معنی گزرنا، مَارَّة: گزرنے والے۔ کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ يَقَعُ قَطْعًا لِلطَّرِيقِ“ اس لیے کیونکہ یہ جو قتل ہے یہ ڈاکہ ہو کر واقع ہوا ہے، ”بِقَطْعِ الْمَارَّةِ“ گزرنے والوں کا راستہ کاٹ کر، بات سمجھ میں آگئی؟
آگے دیکھیے: ”وَإِنْ لَمْ يَقْتُلِ الْقَاطِعُ وَلَمْ يَأْخُذْ مَالًا“ بھئی اب یہ پانچویں صورت آگئی۔ پانچویں صورت آگئی، ایک صورت کیا تھی کہ انہوں نے ابھی مال بھی نہیں لیا اور قتل بھی نہیں کیا اور اس سے پہلے ہی پکڑ لیے گئے۔ دوسری صورت تھی انہوں نے صرف مال لیا ہے۔ تیسری صورت تھی کہ صرف قتل کیا ہے۔ چوتھی صورت یہ تھی کہ مال بھی لیا ہے اور قتل بھی کیا ہے۔ اب پانچویں صورت آگئی کہ انہوں نے مال تو نہیں، مال بھی نہیں لیا، قتل بھی نہیں کیا، لیکن کسی کو زخمی کیا ہے، کسی کا ہاتھ یا پاؤں کاٹ دیا ہے یا ویسے زخمی کیا ہے، تو یہ پانچویں صورت آگئی۔ تو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ نے تو ہمیں بتایا تھا چار صورتیں ہیں، اور یہ اب آپ پانچویں اور چھٹی صورت بھی آگے ذکر کر رہے ہیں؟ تو یاد رکھنا کہ یہ چار صورتیں تھیں حد کے اعتبار سے، ان چار صورتوں میں حد آئے گی، اور یہ جو پانچویں اور چھٹی صورت ہے اس کے اندر حد نہیں آئے گی۔ تو جو صاحبِ ہدایہ نے پیچھے صورتیں ذکر کیں وہ مطلقاً ویسے ذکر نہیں کیں، وہ حد کے اعتبار سے ذکر کی تھیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ لَمْ يَقْتُلِ الْقَاطِعُ“ اور اگر ڈاکو نے قتل نہیں کیا، ”وَلَمْ يَأْخُذْ مَالًا“ اور مال بھی نہیں لیا، ”وَقَدْ جَرَحَ“ اور اس نے زخمی کیا ہے، ”اقْتُصَّ مِنْهُ فِيمَا فِيهِ الْقِصَاصُ“ اچھا بھئی، یاد رکھو اگر کوئی آدمی کسی کو زخمی کرے، توجہ ہے؟ زخمی کرے یا ہاتھ پاؤں وغیرہ کاٹ دے، تو جہاں پر مماثلت ہو سکے تو قصاص لیا جائے گا اور مماثلت نہ ہو سکے تو پھر قصاص نہیں لیا جائے گا۔ مثلاً ایک آدمی نے دوسرے کا ہاتھ کلائی کے جوڑ سے کاٹ دیا، اب کلائی کے جوڑ سے تو دوسرے آدمی کا ہاتھ بھی کاٹا جا سکتا ہے، توجہ ہے؟ لہٰذا اس صورت میں قصاص آئے گا اور اس مجرم کا بھی ہاتھ کاٹا جائے گا۔ لیکن اگر مجرم نے کلائی کے درمیان سے ہاتھ کاٹا ہے، اور کلائی کے درمیان تو ہڈی ہے اور ہڈی تو سخت چیز ہے وہاں تو برابری نہیں ہو سکتی، آپ ایسا نہیں کر سکتے کہ جس طرح جس جگہ سے مجرم نے ہڈی توڑی تھی آپ بعینہٖ اسی جگہ سے ہڈی توڑ دیں، ایسا نہیں ہو سکتا۔ کچھ نہ کچھ وہ قطع ادھر ادھر ہو جائے گی کیونکہ سخت چیز ہے، کیونکہ ہڈی سخت چیز ہے تو بعینہٖ اسی طرح کاٹنا ممکن نہیں۔ تو معلوم ہوا یہاں مماثلت نہیں ہو سکتی، تو جس زخم کے اندر یا جس قطع کے اندر برابری نہ ہو سکے وہاں پھر قصاص نہیں آتا بلکہ وہاں پھر ارش دینا پڑتا ہے، ارش یا دیت بھئی، بات سمجھ میں آگئی؟ پوری انسانی جان کا جو بدل ہے وہ دیت کہلاتا ہے اور زخم وغیرہ کے اندر جو مال آئے وہ ارش کہلاتا ہے۔
تو کہتے ہیں کہ اس ڈاکو نے قتل بھی نہیں کیا، مال بھی نہیں لیا، ”وَقَدْ جَرَحَ“ اور اس نے زخمی کیا ہے، ”اقْتُصَّ مِنْهُ“ تو اس ڈاکو سے قصاص لیا جائے گا، ”فِيمَا فِيهِ الْقِصَاصُ“ ان زخموں کے اندر جن کے اندر قصاص ہوتا ہے، ”وَأُخِذَ الْأَرْشُ مِنْهُ“ اور اس ڈاکو سے ارش یعنی ضمان لیا جائے گا، ”مِمَّا فِيهِ الْأَرْشُ“ جن زخموں کے اندر ارش یعنی ضمان آتا ہے، ”وَذَلِكَ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ“ اور یہ قصاص لینا یا یہ ارش لینا اولیاء کے ذمے ہے۔ یہ قصاص لینا اور یہ ارش لینا یہ اولیاء کے سپرد ہے، کیا معنی اولیاء؟ یعنی وہ لوگ جن کو زخمی کیا گیا ہے، جو اس قصاص کے ولی ہیں، جو اس ارش کے ولی ہیں، اور قصاص کا ولی کون ہے؟ جس کا ہاتھ کاٹا گیا ہے، جس کو زخمی کیا گیا ہے۔ تو یہ قصاص یا ارش لینا ان زخموں کے اولیاء کے یعنی وہ زخمی ہونے والوں کے سپرد ہے، وہ چاہیں تو قصاص لے لیں اور چاہیں تو معاف کر دیں، بات سمجھ میں آگئی؟ یہ معنی ہے: ”وَذَلِكَ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ“ اور یہ قصاص اور ارش وصول کرنا ان زخموں کے اولیاء کے سپرد ہے یعنی وہ لوگ جن کو زخمی کیا گیا ہے، وہ یہ قصاص یا ارش لیں گے۔
اس لیے کیونکہ یہاں پر اس جرم کے اندر حد نہیں ہے۔ اس جرم میں حد نہیں ہے، جب حد نہیں ہے تو اب حق العبد ظاہر ہو گیا، لہٰذا اب حق العبد کے مطابق سلوک کیا جائے گا اور وہ جو زخمی ہوئے ہیں وہ اپنا قصاص یا ارش وصول کریں گے۔ تو کہتے ہیں: ”وَذَلِكَ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ لِأَنَّهُ لَا حَدَّ فِي هَذِهِ الْجِنَايَةِ“ اس لیے کیونکہ اس جرم کے اندر حد نہیں ہے، معلوم ہوا حقِ شریعت نہیں ہے، جب حقِ شریعت نہیں ہے تو اب بندے کا حق ظاہر ہو گیا تو وہ اپنا حق وصول کر سکتا ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا حَدَّ فِي هَذِهِ الْجِنَايَةِ“ اس لیے کیونکہ اس جرم کے اندر حد نہیں ہے، ”فَظَهَرَ حَقُّ الْعَبْدِ“ تو بندے کا حق ظاہر ہو گیا، ”وَهُوَ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اور وہ وہ ہے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ قصاص کی صورت میں قصاص لے لے اور ارش کی صورت میں ارش لے لے، ”فَيَسْتَوْفِيهِ الْوَلِيُّ“ تو اس حق کو وصول کر لے گا ولی۔ یعنی وہ شخص جو زخمی ہوا ہے، جو زخمی ہوا ہے وہی قصاص کا ولی ہے یا وہی ارش کا ولی ہے وہ جو زخمی ہے، تو وہ جو ولی ہے وہ اس قصاص یا ارش کو وصول کرے گا بھئی، یہ معنی ہے ”فَيَسْتَوْفِيهِ الْوَلِيُّ“ تو اس قصاص یا ارش کو ولی جو ہے وہ وصول کر لے گا۔
”وَإِنْ أَخَذَ مَالًا ثُمَّ جَرَحَ“ چھٹی صورت بھئی، چھٹی صورت کہ اگر مال بھی لیا ہے ڈاکو نے اور زخمی بھی کیا ہے، تو کہتے ہیں اس صورت کے اندر پھر اس پر حد جاری کی جائے گی، اس صورت میں حد جاری کی جائے گی اور یوں سمجھو یہ وہی دوسری صورت ہے کیونکہ مال لیا ہے، کیا کیا ہے؟ مال، اور مال لینے کی صورت میں ڈاکو کا ہاتھ اور پاؤں کاٹے جاتے ہیں مخالف جانب سے۔ البتہ مال کا ضمان نہیں آتا جب حد نافذ کر دی جائے، تو یہاں بھی ڈاکو نے زخم لگایا ہے کسی کو، کسی کا ہاتھ پاؤں کاٹ دیا ہے یا اس کو زخمی کیا ہے، تو یہ یاد رکھو نفس سے جو کم جرم ہوتا ہے کسی کی جان میں، نفس سے کم جرم ہوتا ہے کسی کی جان کے اندر تو اس کے ساتھ مال والا برتاؤ کیا جاتا ہے، تو لہٰذا یہاں پر جب ڈاکو کا ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹ دیے گئے تو حد وصول کر لی گئی، اور جب حد وصول کر لی جائے تو پھر ضمان نہیں آتا، اور اس نے یہ جو زخمی کیا ہے، ہاتھ یا پاؤں کاٹا ہے، یہ جان سے کم جرم ہے، اور جب جان سے کم جرم ہے تو اس کا حکم بھی مال والا ہے، اور جب ڈاکو سے حد وصول کر لی جائے تو اس پر مال کا ضمان نہیں آتا، تو اس زخم کا ضمان بھی ڈاکو پر نہیں آئے گا۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أَخَذَ مَالًا“ اور اگر اس ڈاکو نے مال لے لیا، ”ثُمَّ جَرَحَ“ پھر زخمی کیا، ”قُطِعَتْ يَدُهُ وَرِجْلُهُ“ تو اس کے ہاتھ اور پاؤں کو کاٹا جائے گا، ”وَبَطَلَتِ الْجِرَاحَاتُ“ اور یہ زخم جو ہیں یہ باطل ہو جائیں گے یعنی ان کا ضمان نہیں آئے گا، ”لِأَنَّهُ لَمَّا وَجَبَ الْحَدُّ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى“ اس لیے کیونکہ جب یہ حد واجب ہوگئی بطور اللہ کے حق کے، ”سَقَطَتْ عِصْمَةُ النَّفْسِ“ تو جان کی جو عصمت اور حفاظت ہے وہ ساقط ہوگئی، ”حَقًّا لِلْعَبْدِ“ بطور بندے کے حق کے۔ بندے کے حق کے طور پر جان کی عصمت ساقط ہوگئی، جیسے چوری کے اندر، عین چوری سے پہلے مال کی عصمت منتقل ہو جاتی تھی اللہ کی طرف، تو وہاں پر جو مال کی عصمت تھی وہ بطور بندے کے حق کے نہیں تھی، تو یہاں پر بھی جان کی جو عصمت ہے وہ بطور بندے کے حق کے باقی نہ رہی، کس کی طرف منتقل ہوگئی؟ اللہ کی طرف منتقل ہوگئی، یہ معنی ہے: ”لِأَنَّهُ لَمَّا وَجَبَ الْحَدُّ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى سَقَطَتْ عِصْمَةُ النَّفْسِ حَقًّا لِلْعَبْدِ“ اس لیے کیونکہ یہ حد جب اللہ کے حق کے طور پر واجب ہوگئی تو بندے کے حق کے طور پر نفس کی عصمت جو ہے وہ ساقط ہوگئی، ”كَمَا يَسْقُطُ عِصْمَةُ الْمَالِ“ جیسے کہ مال کی عصمت ساقط ہو جاتی ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَإِنْ أُخِذَ بَعْدَ مَا تَابَ“ اب یہاں سے موانع ذکر کر رہے ہیں، وہ چیزیں کہ اگر ڈاکے کے اندر وہ پیش آ گئیں تو پھر اب حد جاری نہیں کی جا سکتی، اور پہلی صورت بتلائیں گے کہ اگر ڈاکوؤں نے توبہ کر لی تھی اس کے بعد پکڑے گئے تو اب حد ساقط ہو چکی ہے، اور اس کا ذکر نص کے اندر آتا ہے۔ قرآن کے اندر اللہ فرماتے ہیں، اسی آیت میں جس کے اندر ڈاکوؤں کی سزا ذکر ہے اسی آیت میں آگے اللہ فرماتے ہیں کہ ”ذَٰلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا“ کہ یہ ان ڈاکوؤں کے لیے دنیا میں رسوائی ہے، یہ جو ان کو سزا دی جائے گی یہ دنیا میں ان کے لیے رسوائی ہے، ”وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ“ اور آخرت میں ان کے لیے بڑا عذاب ہے، ”إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا“ مگر وہ لوگ جنہوں نے توبہ کر لی، ”مِنْ قَبْلِ أَنْ تَقْدِرُوا عَلَيْهِمْ“ قبل اس کے کہ تم ان پر قادر ہوتے، یعنی تمہارے قابو میں آنے سے پہلے انہوں نے توبہ کر لی، ”فَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ“ تو جان لو کہ اللہ بہت بخشنے والے اور بہت رحم کرنے والے ہیں۔ تو نص سے یہ بات معلوم ہو رہی ہے کہ ڈاکو قابو میں آنے سے پہلے اگر توبہ کر لیں تو ان سے حد ساقط ہو جائے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أُخِذَ بَعْدَ مَا تَابَ“ اور اگر اس ڈاکو کو پکڑا گیا توبہ کرنے کے بعد، ”وَقَدْ قَتَلَ عَمْدًا“ اور تحقیق اس نے جان بوجھ کر قتل کیا تھا ڈاکے کے اندر، ”فَإِنْ شَاءَ الْأَوْلِيَاءُ قَتَلُوهُ“ بھئی دیکھیے، اگر ڈاکو نے توبہ کر لی ہے لیکن اس نے ڈاکے میں قتل کیا تھا، تو اب حد تو نہیں آ سکتی کیونکہ انہوں نے توبہ کر لی ہے، تو اب بندے کا حق ظاہر ہو جائے گا اور اس نے قتل کیا تھا تو اب مقتول کے اولیاء اس کو بھی قصاص میں قتل کر سکتے ہیں، اور چاہے تو معاف کر سکتے ہیں، اور چاہے تو صلح کر کے مال بھی لے سکتے ہیں بھئی۔ اور یہ بھی یاد رکھنا کہ قصاص قتلِ عمد میں آتا ہے، کوئی جان بوجھ کر آلۂ قتل کے ساتھ دوسرے کو قتل کرے تو پھر قصاص آتا ہے، اور قتلِ خطا کے اندر دیت آتی ہے وہاں قصاص نہیں آتا، تو اگر اس ڈاکو نے جان بوجھ کر دوسرے کو آلۂ قتل سے قتل کیا تھا پھر تو مقتول کے اولیاء قصاص لے سکتے ہیں، اور اگر ڈاکو سے غلطی سے ایک آدمی قتل ہو گیا تھا تو پھر یہ قصاص نہیں لے سکتے پھر دیت ہی لینا پڑے گی۔
تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ أُخِذَ بَعْدَ مَا تَابَ“ اور اگر اس ڈاکو کو توبہ کے بعد پکڑا گیا، ”وَقَدْ قَتَلَ عَمْدًا“ اس حال میں کہ اس نے جان بوجھ کر قتل کیا تھا، ”فَإِنْ شَاءَ الْأَوْلِيَاءُ“ تو اگر مقتول کے اولیاء چاہیں، ”قَتَلُوهُ“ تو وہ اس کو قتل کر دیں قصاص کے طور پر، ”وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا عَنْهُ“ اور اگر چاہیں تو اس کو معاف کر دیں، ”لِأَنَّ الْحَدَّ فِي هَذِهِ الْجِنَايَةِ لَا يُقَامُ بَعْدَ التَّوْبَةِ“ اس لیے کیونکہ حد جو ہے اس جرم کے اندر وہ قائم نہیں کی جا سکتی توبہ کے بعد، ”لِلِاسْتِثْنَاءِ الْمَذْكُورِ فِي النَّصِّ“ اس استثناء کی وجہ سے جو نص میں ذکر کیا گیا ہے، نص کے اندر ان کا استثناء ذکر ہے، اور میں نے بتایا یہ صرف اسی جرم کے اندر ہے، اور حدود کے اندر توبہ بھی کر لے پھر بھی حد جاری کی جائے گی۔
آگے دیکھیے: ”وَلِأَنَّ التَّوْبَةَ تَتَوَقَّفُ عَلَى رَدِّ الْمَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ توبہ جو ہے یہ موقوف ہے مال کے واپس لوٹانے پر، ”وَلَا قَطْعَ فِي مِثْلِهِ“ اور اس جیسی چیزوں کے اندر قطع نہیں ہوتا۔ بھئی یہ توبہ موقوف ہے مال کے واپس کرنے پر، ڈاکو کی توبہ تب پوری ہوگی جب وہ مال واپس کر دے گا، اور جب مال واپس کر دے گا تو پھر ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کیونکہ خصومت ختم ہوگئی، اور آپ نے پڑھا تھا چوری کے مسئلے میں کہ چوری کے اندر ہاتھ تبھی کاٹا جا سکتا ہے کہ جب آخر تک خصومت رہے، اور یہاں پر بھی توبہ تب پوری ہوگی جب ڈاکو مال واپس کرے گا، اور جب مال واپس کر دیا تو خصومت ختم ہوگئی، اور جب خصومت ختم ہو جائے تو پھر اس صورت میں قطع نہیں کیا جا سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟ تو پہلے صاحبِ ہدایہ نے نقلی دلیل ذکر کی کہ اگر یہ ڈاکو توبہ کر لیں تو پھر ان پر حد جاری نہیں کی جائے گی کیونکہ نص کے اندر اس کا استثناء ذکر ہے بھئی، اور اب دوسری دلیل ذکر کر رہے ہیں کہ اس وجہ سے بھی توبہ کے بعد ڈاکوؤں کا ہاتھ نہیں کاٹا جا سکتا کہ توبہ کے اندر مال کا واپس کرنا ضروری ہے، اور جب ڈاکو مال واپس کر دیں گے تو لہٰذا خصومت ختم ہوگئی، جب خصومت ختم ہوگئی تو اب قطع نہیں ہو سکتا، بات سمجھ میں آگئی؟
تو صاحبِ ہدایہ نے دو دلیلیں ذکر کیں: ایک نقلی اور ایک عقلی۔ اس پر علماء اعتراض کرتے ہیں کہ اے صاحبِ ہدایہ! ہمیں یہ بتائیے کہ اس توبہ کے اندر مال کا واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اس توبہ کے اندر مال کا واپس کرنا ضروری ہے یا نہیں؟ اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ مال کا واپس کرنا ضروری نہیں ہے توبہ کے اندر تو پھر تو آپ کی یہ دلیل ہی صحیح نہیں ہے، آپ نے کیا کہا کہ توبہ موقوف ہے مال کے واپس لوٹانے پر، حالانکہ توبہ کے اندر تو مال کا لوٹانا ضروری نہیں، توجہ ہے؟ پھر سنیں: بعض علماء اعتراض کرتے ہیں کہ اے صاحبِ ہدایہ! آپ ہمیں یہ بتائیں، توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ اگر توبہ کے اندر مال کا واپس کرنا ضروری نہیں تو پھر یہ دلیل ہی آپ کی صحیح نہیں ہے، اس میں تو آپ کہہ رہے ہیں مال کا لوٹانا ضروری ہے، اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے تو پھر تو یہ کوئی الگ دلیل نہ ہوئی، پیچھے جو نص کے اندر توبہ کا ذکر آیا تھا معلوم ہوا اس توبہ کے اندر بھی مال کا لوٹانا ضروری تھا تو وہ توبہ تو پیچھے ذکر ہو چکی تھی، اس میں بھی مال کا لوٹانا ہے، تو پھر یہ تو کوئی الگ دلیل نہ ہوئی، اس کا ذکر تو پیچھے ہی ہو چکا ہے اور آپ اس کو ایک الگ دلیل کے طور پر ذکر کر رہے ہیں۔ اعتراض سمجھ میں آیا؟
پھر سمجھیں: صاحبِ ہدایہ پر اعتراض ہوتا ہے کہ آپ ہمیں یہ بتائیے، توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے یا ضروری نہیں؟ اگر توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہی نہیں ہے تو پھر آپ دلیل کیسے پیش کر رہے ہیں کہ توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے؟ اور اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ نہیں توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے، تو پھر تو یہ کوئی الگ دلیل نہ ہوئی، پیچھے جو نص کے اندر توبہ کا ذکر آیا تھا معلوم ہوا اس کے اندر بھی مال کا لوٹانا ضروری تھا، تو یہ بھی وہی دلیل ہے، آپ اسی دلیل کو دوبارہ ذکر کر رہے ہیں حالانکہ یہ تو کوئی نئی دلیل نہیں ہے۔
تو اس کا جواب دیتے ہیں علماء کہ یہاں دراصل علماء و فقہاء کے دو گروہ ہیں بھئی: بعض علماء و فقہاء فرماتے ہیں کہ اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری نہیں ہے، جیسے عام توبہ کے اندر ہوتا ہے کہ انسان کو اپنے فعل پر ندامت ہوتی ہے، وہ اللہ سے توبہ اور استغفار کرتا ہے اور آئندہ کے لیے پکا ارادہ کرتا ہے کہ میں دوبارہ ایسا نہیں کروں گا، تو جیسے عام توبہ ہوتی ہے اس کے اندر بھی مال کا لوٹانا ضروری نہیں، یعنی نفسِ توبہ کے لیے مال کا لوٹانا ضروری نہیں ہے، باقی وہ بندوں کا حق وہ معاف نہیں ہوگا توبہ کی وجہ سے، صرف حد ساقط ہو گئی ہے، باقی بندوں کا مال جو اس نے لوٹا ہے وہ دینا پڑے گا، وہ حق العبد ہے بھئی، توجہ ہے؟ تو بعض علماء فرماتے ہیں کہ اس توبہ کے اندر بھی مال کا لوٹانا ضروری نہیں ہے، مال لوٹائے بغیر بھی توبہ ہو جائے گی، اور بعض علماء فرماتے ہیں کہ...
اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے۔ یہ ڈاکو وہ سارا مال واپس لوٹا دے ان لوگوں کو جن کا مال اس نے لوٹا تھا، پھر ہی توبہ ہو گی اور پھر ہی اس سے حد ساقط ہو گی۔ تو یہاں فقہاء کے دو گروہ ہیں۔ بعض فقہاء فرماتے ہیں: اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے۔ بعض کہتے ہیں: اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری نہیں۔ تو صاحبِ ہدایہ نے یہاں دونوں قولوں کو جمع کر دیا، دونوں کو ذکر کر دیا۔ نص کے اندر جو توبہ تھی وہ ایک دلیل ہے یعنی اس میں وہ توبہ ذکر ہے کہ جن کے نزدیک مال کا لوٹانا ضروری نہیں۔ اور یہ دوسروں کی دلیل ہے جن کے نزدیک مال کا لوٹانا ضروری ہے تو گویا یہ ایک الگ مستقل دلیل ہو گئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ یہ معنی ہے: ”وَلِأَنَّ التَّوْبَةَ يَتَوَقَّفُ عَلَىٰ رَدِّ الْمَالِ“ اور اس لیے کیونکہ یہ توبہ موقوف ہے مال کے واپس کرنے پر، ”وَلَا قَطْعَ فِي مِثْلِهِ“ اور اس جیسی چیزوں میں تو قطع نہیں ہوتا، یعنی جس کے اندر خصومت ختم ہو جائے بھئی۔
”فَظَهَرَ حَقُّ الْعَبْدِ فِي النَّفْسِ وَالْمَالِ“ تو جب حد ساقط ہو گئی توبہ کی وجہ سے تو حقِ شرع تو ساقط ہوا لیکن حق العبد اب ظاہر ہو گیا۔ تو کہتے ہیں: ”فَظَهَرَ حَقُّ الْعَبْدِ فِي النَّفْسِ وَالْمَالِ“ تو اب بندے کا حق ظاہر ہو گیا نفس اور مال میں، ”حَتَّىٰ يَسْتَوْفِيَ الْوَلِيُّ الْقِصَاصَ أَوْ يَعْفُوَ“ یہاں تک کہ ولی جو ہے وہ قصاص وصول کر سکتا ہے ”أَوْ يَعْفُوَ“ یا وہ معاف کر سکتا ہے۔ اب اختیار ولی کے ہاتھ میں آ گیا۔ اگر اس ڈاکو نے کوئی قتل کیا تھا تو ولی قصاص لے سکتا ہے یا یہ معاف بھی کر سکتا ہے اور اگر ڈاکو نے مال لوٹا تھا تو اس کا ضمان دینا پڑے گا۔ تو یہ معنی ہے: ”حَتَّىٰ يَسْتَوْفِيَ الْوَلِيُّ الْقِصَاصَ أَوْ يَعْفُوَ“ یہاں تک کہ ولی جو ہے وہ قصاص وصول کر سکتا ہے یا وہ معاف کر سکتا ہے، ”وَيَجِبُ الضَّمَانُ“ اور اس توبہ کرنے والے ڈاکو پر ضمان واجب ہو گا ”إِذَا هَلَكَ فِي يَدِهِ أَوِ اسْتَهْلَكَ“ جب وہ مال اس کے پاس ہلاک ہوا ہو ”أَوِ اسْتَهْلَكَ“ یا اس نے خود ہلاک کیا ہو۔
یہاں پھر اعتراض ہوتا ہے: آپ نے ہمیں کہا کہ اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری ہے، پھر ہی توبہ ہو گی، پھر ہی حد ساقط ہو گی تو جب سارا مال لوٹا دیا، توبہ ہو گئی، حد ساقط ہو گئی تو اب کس چیز کا ضمان دینا ہے؟ مال تو وہ سارا لوٹا چکا ہے۔ توجہ ہے؟ تو جواب اس کا یہ کہ یہ ان فقہاء کے قول پر ہے جن کے نزدیک اس توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری نہیں ہے۔ جب توبہ کے اندر مال کا لوٹانا ضروری نہیں تو ویسے ہی توبہ معتبر ہو گئی لیکن بہرحال اگر اس نے مال لوٹا ہے تو وہ ضمان دینا پڑے گا بھئی۔ یہ معنی ہے: ”وَيَجِبُ الضَّمَانُ إِذَا هَلَكَ فِي يَدِهِ أَوِ اسْتَهْلَكَ“ اور ضمان واجب ہو گا جب وہ مال اس چور کے قبضے میں ہلاک ہو جائے یا یہ خود اس کو ہلاک کر دے۔
”وَإِنْ كَانَ مِنَ الْقُطَّاعِ صَبِيٌّ أَوْ مَجْنُونٌ“ یہ دوسرا مانع آ گیا کہ جب حد ساقط ہو جائے گی۔ ایک مانع کیا تھا؟ کہ ڈاکو توبہ کر لے تو حد ساقط ہو جاتی ہے۔ اور دوسرا مانع میں نے بتلایا تھا کہ ان ڈاکوؤں کے اندر اگر کوئی بچہ یا مجنون یا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو ان لوگوں کا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِنْ كَانَ مِنَ الْقُطَّاعِ صَبِيٌّ أَوْ مَجْنُونٌ“ اور اگر ان ڈاکوؤں میں سے کوئی بچہ ہوا ”أَوْ مَجْنُونٌ“ یا کوئی مجنون ہوا ”أَوْ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَقْطُوعِ عَلَيْهِ“ یا قریبی محرم رشتہ دار ہوا مقطوع علیہ کا، قریبی محرم رشتہ دار ہوا مقطوع علیہ کا۔ بھئی، یہ جو ڈاکہ ڈالنے والا ہے یہ ہے قاطع اور جس پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے وہ ہے مقطوع علیہ بھئی۔ تو کہتے ہیں اگر ان ڈاکوؤں میں کوئی بچہ ہوا یا مجنون ہوا ”أَوْ ذُو رَحِمٍ مَحْرَمٍ مِنَ الْمَقْطُوعِ عَلَيْهِ“ یا مقطوع علیہ کا قریبی محرم رشتہ دار ہوا، ”سَقَطَ الْحَدُّ عَنِ الْبَاقِينَ“ تو باقیوں سے بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ ”فَالْمَذْكُورُ فِي الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ تو کہتے ہیں یہ جو ذکر کیا گیا ہے، ”فَالْمَذْكُورُ فِي الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ“ یہ جو بچے اور مجنون کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے، ”قَوْلُ أَبِي حَنِيفَةَ وَزُفَرَ رَحِمَهُمَا اللَّهُ“ یہ امامِ اعظم ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ کا قول ہے۔ ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَوْ بَاشَرَ الْعُقَلَاءُ يُحَدُّ الْبَاقُونَ“ ”وَعَلَىٰ هَٰذَا السَّرِقَةُ الصُّغْرَىٰ“۔ امام ابو یوسف رحمہ اللہ اختلاف کرتے ہیں، وہ فرماتے ہیں کہ ڈاکوؤں کے اندر اگر بچہ یا مجنون ہوا تو پھر دیکھا جائے گا کہ یہ مال لوٹنے کا کام اس بچے یا مجنون نے کیا ہے یا کسی عاقل بالغ ڈاکو نے کیا ہے، یا اسی طرح اگر قتل کیا ہے تو یہ قتل بچے یا مجنون نے کیا ہے یا کسی عاقل بالغ نے کیا ہے؟ تو کہتے ہیں جس نے یہ مال لوٹنے یا قتل کا فعل کیا وہ ہو گا اصل اور باقی ہوں گے اس کے تابع۔ تو اگر اصل پر حد آ سکتی ہے تو اصل پر حد آ جائے گی اور تابع کو نہیں دیکھا جائے گا اور اگر اصل پر ہی حد نہیں آ سکتی تو پھر تابع پر بھی حد نہیں آئے گی۔ مثلاً دیکھو، وہ مال جو ہے بچے اور مجنون نے لوٹا ہے لیکن ساتھ ان کے اور عاقل بالغ بھی تھے تو جب مال بچے اور مجنون نے لوٹا ہے تو یہ بچہ اور مجنون ہوئے اس ڈاکے کے اندر اصل اور باقی عاقل بالغ جو ہیں وہ ان کے ہیں تابع اور اصل کے اوپر تو قطع نہیں آ سکتا کیونکہ بچے اور مجنون کو تو سزا نہیں دی جا سکتی بھئی۔ تو جب بچہ اور مجنون جو اصل ہیں، جو جرم کرنے والے ہیں، جب ان پر قطع نہیں آ سکتی تو ان کے جو تابع ہیں اور عاقل بالغ جو ان کے ساتھ ہیں ان پر بھی حد نہیں آئے گی۔ اور اگر اس کا برعکس ہوا کہ مال لوٹنے والے عاقل اور بالغ ہیں اور عاقل اور بالغ پر تو حد آ سکتی ہے تو عاقل بالغ جو ہیں ان پر حد آئے گی اور وہ جو بچہ اور مجنون جو ان کے تابع ہیں ان میں اگر خلل آ بھی گیا ہے تو اس سے کوئی خرابی لازم نہیں آتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ لَوْ بَاشَرَ الْعُقَلَاءُ“ کہ اگر سرانجام دیا عاقلوں بالغوں نے، یعنی انہوں نے یہ ڈاکہ سرانجام دیا ہے، ”أَنَّهُ لَوْ بَاشَرَ الْعُقَلَاءُ“ کہ اگر عاقل بالغ لوگوں نے سرانجام دیا تو ”يُحَدُّ الْبَاقُونَ“ تو باقیوں کو حد لگائی جائے گی، یعنی بچے اور مجنون کے علاوہ، ”وَعَلَىٰ هَٰذَا السَّرِقَةُ الصُّغْرَىٰ“ اور اسی اختلاف پر ہے سرقۂ صغریٰ بھی۔ سرقۂ صغریٰ کے اندر بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ اسی طرح اختلاف فرماتے ہیں۔ آپ نے مسئلہ پڑھا تھا اگر ایک ہی گھر کے اندر کئی چور داخل ہو گئے اور پھر وہاں سے مال لے کر نکلے تو اگر ان میں اگر کوئی بچہ ہے یا مجنون ہے تو پھر سب سے حد ساقط ہو جائے گی جبکہ امام ابو یوسف رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ وہاں بھی دیکھا جائے گا کہ یہ چوری کا فعل کرنے والا اگر بچہ اور مجنون ہے تو یہ ہوئے اصل تو ان پر حد نہیں آ سکتی تو باقیوں پر بھی حد نہیں آئے گی اور اگر بچہ اور مجنون ویسے ساتھ ہیں، چوری کا فعل کرنے والے اور لوگ ہیں تو وہ تو اصل ہیں ان پر تو حد آ سکتی ہے تو ان پر حد آئے گی اور بچہ اور مجنون جو ان کے تابع ہیں ان میں اگر خلل آ گیا ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے بھئی۔
تو کہتے ہیں: ”وَعَلَىٰ هَٰذَا السَّرِقَةُ الصُّغْرَىٰ“ اور اسی اختلاف پر ہے سرقۂ صغریٰ بھی، یعنی اس میں بھی امام ابو یوسف رحمہ اللہ امام صاحب سے اختلاف کرتے ہیں۔ ”لَهُ“ امام ابو یوسف رحمہ اللہ کی دلیل یہ ہے ”أَنَّ الْمُبَاشِرَ أَصْلٌ“ کہ اس فعل کو سرانجام دینے والا وہ اصل ہے ”وَالرِّدْءَ تَابِعٌ“ اور جو مددگار ہے وہ اس کے تابع ہے ”وَلَا خَلَلَ فِي مُبَاشَرَةِ الْعَاقِلِ“ اور عاقل آدمی کے اس فعل کو سرانجام دینے میں کوئی خلل نہیں۔ اگر عاقل نے یہ ڈاکہ ڈالا ہے تو عاقل پر حد آئے گی، البتہ بچہ اور مجنون تو اس کے تابع ہیں، تابع کے اندر خلل کا کوئی اعتبار نہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَلَا خَلَلَ فِي مُبَاشَرَةِ الْعَاقِلِ“ اور عاقل بالغ کے اس فعل کو سرانجام دینے میں تو کوئی خلل نہیں ہے ”وَلَا عِبْرَةَ بِالْخَلَلِ فِي التَّبَعِ“ اور تابع کے اندر خلل کے آنے کا کوئی اعتبار نہیں ہے ”وَفِي عَكْسِهِ يَنْعَكِسُ الْمَعْنَىٰ وَالْحُكْمُ“ اور اس کے برعکس صورت کے اندر منعکس ہو جائے گا، یعنی برعکس ہو جائے گا المعنیٰ یعنی علت اور الحکم اور حکم۔ اس کے برعکس ہونے کی صورت میں حکم اور علت بدل جائیں گے کہ اگر بچے اور مجنون نے فعل سرانجام دیا ہے ڈاکے کا تو پھر یہ ہیں اصل اور عاقل بالغ جو ان کے ساتھ ہیں وہ ہیں تابع اور جب اصل پر حد نہیں آ سکتی تو تابع پر بھی حد نہیں آئے گی۔ یہ معنی ہے: ”وَفِي عَكْسِهِ“ اور اس کے برعکس صورت کے اندر ”يَنْعَكِسُ الْمَعْنَىٰ وَالْحُكْمُ“ کہ علت اور حکم جو ہیں وہ برعکس ہو جائیں گے۔
”وَلَهُمَا“ اب امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام زفر رحمہ اللہ کی دلیل آ گئی، وہ فرماتے ہیں ”أَنَّهُ جِنَايَةٌ وَاحِدَةٌ“ کہ یہ ڈاکہ سارا کا سارا ایک ہی جرم ہے ”قَامَتْ بِالْكُلِّ“ اور یہ سب کے ساتھ قائم ہے، یعنی یہ سب ڈاکہ ڈالنے والے ہیں، ”فَإِذَا لَمْ يَقَعْ فِعْلُ بَعْضِهِمْ مُوجِبًا“ تو ان میں سے بعض کا فعل جب وہ حد کو واجب کرنے والا نہیں ہے، بعض کا فعل یعنی بچے اور مجنون کا فعل جب وہ حد کو واجب کرنے والا نہیں ہے ”كَانَ فِعْلُ الْبَاقِينَ بَعْضَ الْعِلَّةِ“ تو باقی ڈاکوؤں کا جو فعل ہے وہ تو بعضِ علت ہے۔ وہ تو بعضِ علت ہے، یعنی دیکھو گویا پورے ڈاکے کا فعل یہ جو عاقل بالغ ہیں انہوں نے نہیں کیا، کچھ انہوں نے کیا ہے اور کچھ وہ بچے اور مجنون نے کیا ہے، تو اگر پورے ڈاکے کا فعل یہ عاقل بالغ کرتے تو پھر ان پر حد نے آنا تھا لیکن اب تو بچہ اور مجنون بھی ساتھ شامل ہیں تو معلوم ہوا کچھ ڈاکہ عاقل بالغ کی طرف سے پایا گیا اور کچھ ڈاکہ مجنون اور بچے کی طرف سے پایا گیا تو لہٰذا عاقل بالغ کی طرف سے ڈاکہ مکمل نہیں تو معلوم ہوا پوری علت نہیں ہے اس ڈاکے کی، جب پوری علت اور سبب نہیں ہے وہ اس ڈاکے کی تو ان پر حد بھی نہیں آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَإِذَا لَمْ يَقَعْ فِعْلُ بَعْضِهِمْ مُوجِبًا“ تو ان میں سے بعض کا فعل جو ہے جب وہ حد کو واجب کرنے والا ہو کر واقع نہیں ہوا ”كَانَ فِعْلُ الْبَاقِينَ بَعْضَ الْعِلَّةِ“ تو باقیوں کا فعل جو ہے وہ تو علت کا بعض ہے، یعنی وہ تو بعضِ علت ہے، پوری علت نہیں ہے ”وَبِهِ لَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ“ اور اس کی وجہ سے حد کا حکم ثابت نہیں ہو سکتا ”فَصَارَ كَالْخَاطِئِ مَعَ الْعَامِدِ“ تو یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خطا کرنے والا جان بوجھ کر کرنے والے کے ساتھ۔
بھئی یاد رکھو، کوئی جان بوجھ کر کسی کو آلۂ قتل سے قتل کرے تو اس کو قتل کیا جاتا ہے، لہٰذا ایک آدمی نے دوسرے کو جان بوجھ کر تیر مارا اور وہ ہلاک ہو گیا تو اس قاتل سے قصاص لیا جائے گا لیکن صورت یہ ہے کہ اس قاتل کا تیر اور ایک اور آدمی کا تیر دونوں اکٹھے اس مقتول کو لگے۔ یہ قاتل نے تو جان بوجھ کر تیر مارا تھا اور دوسرا کسی اور چیز کو تیر مار رہا تھا وہ غلطی سے آ کر اس آدمی کو لگ گیا۔ تو اب اس آدمی کے قتل میں یہ جان بوجھ کر تیر مارنے والا اور وہ غلطی کرنے والا دونوں شریک ہو گئے۔ تو گویا جس نے جان بوجھ کر تیر چلایا ہے اس کی طرف سے پورا قتل نہیں پایا گیا، جب پورا قتل اس کی طرف سے نہیں پایا گیا تو اس کو اب قصاص میں قتل بھی نہیں کیا جا سکتا۔ تو یہاں بھی اسی طرح ہے کہ بچہ اور مجنون جب ساتھ ہیں تو عاقل بالغ کی طرف سے پورا ڈاکہ نہیں پایا گیا بلکہ بعضِ ڈاکہ پایا گیا تو لہٰذا ان پر حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ تو کہتے ہیں: ”فَصَارَ كَالْخَاطِئِ مَعَ الْعَامِدِ“ یہ اسی طرح ہو گیا جیسے خطا کرنے والا جان بوجھ کر کرنے والے کے ساتھ ہو یعنی دونوں اکٹھے ہو گئے قتل میں۔
”وَأَمَّا ذُو الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ فَقَدْ قِيلَ“ اچھا بھئی، انہوں نے آپ کو بتلایا کہ اگر ڈاکوؤں میں کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہوا ان لوگوں کا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے تو پھر بھی حد ساقط ہو جائے گی تو اس کی کیا وجہ ہے؟ تو بعض فقہاء فرماتے ہیں: یہ اس صورت میں ہے جب وہ مال جس کو انہوں نے لوٹا ہے مشترکہ تھا، وہ مال کیا تھا؟ مشترکہ تھا۔ مثلاً قافلے والوں نے مل کر سامان خریدا ہے پیسے ملا کر، مثلاً گندم خرید کر لا رہے ہیں اور یہ ساری گندم ان سب قافلے والوں کی مشترکہ ہے، تو اس کے اندر اس آدمی کا بھی حصہ ہے جس کا قریبی محرم رشتہ دار ڈاکوؤں کے ساتھ آیا ہے، تو اس قریبی محرم رشتہ دار نے ڈاکوؤں کے ساتھ مل کر وہ مال لوٹا ہے جس میں اس کے رشتہ دار کا بھی حصہ ہے کیونکہ مالِ مشترکہ تھا۔ تو اس صورت میں کہتے ہیں پھر حد سب سے ساقط ہو جائے گی لیکن آپ کو بتلائیں گے زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ مال کا مشترکہ ہونا ضروری نہیں ہے بلکہ مطلقاً جب ڈاکوؤں کے اندر کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو قافلے والوں میں سے کسی آدمی کا تو پھر چاہے مشترکہ مال لوٹیں، چاہے اور مال لوٹیں تمام صورتوں کے اندر حد ساقط ہو جائے گی کیونکہ قریبی محرم رشتہ دار پر حد نہیں آ سکتی تو باقیوں پر بھی حد نہیں آ سکتی۔
تو کہتے ہیں: ”وَأَمَّا ذُو الرَّحِمِ الْمَحْرَمِ فَقَدْ قِيلَ“ اور باقی قریبی محرم رشتہ دار ”فَقَدْ قِيلَ“ تو تحقیق کہا گیا ہے ”تَأْوِيلُهُ“ کہ اس کی تاویل یہ ہے، یعنی ان باقی لوگوں سے جو حد ساقط ہو جاتی ہے اس کی تاویل یہ ہے ”إِذَا كَانَ الْمَالُ مُشْتَرَكًا بَيْنَ الْمَقْطُوعِ عَلَيْهِمْ“ کہ جس وقت وہ مال مشترکہ ہو ان مقطوع علیہم کے درمیان۔ وہ جتنے مقطوع علیہم ہیں یعنی جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان کے درمیان وہ مال مشترکہ ہو تو اب جب سب کا مال مشترکہ ہے تو اس آدمی کے رشتہ دار کا حصہ بھی اس کے اندر آ گیا تو لہٰذا اس ذو رحم کے حق میں شبہ آ گیا اور جب شبہ آیا تو اس سے حد ساقط ہوئی اور جب اس سے حد ساقط ہوئی تو باقیوں سے بھی حد ساقط ہو گئی، اس لیے کیونکہ اس نے وہ مال لوٹا ہے جو اس کے اپنے قریبی محرم رشتہ دار کا تھا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”فَقَدْ قِيلَ“ تو تحقیق کہا گیا ہے ”تَأْوِيلُهُ“ اس حد کے ساقط ہونے کی تاویل یہ ہے ”إِذَا كَانَ الْمَالُ مُشْتَرَكًا بَيْنَ الْمَقْطُوعِ عَلَيْهِمْ“ کہ جس وقت وہ مال مشترکہ ہو ان لوگوں کے درمیان جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے، ”وَالْأَصَحُّ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے ”أَنَّهُ مُطْلَقٌ“ کہ یہ حد کا ساقط ہونا مطلقاً ہے، چاہے مالِ مشترکہ کو لوٹیں چاہے غیر مشترکہ کو لوٹیں تمام صورتوں میں جب ڈاکوؤں کے اندر ان کا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو تو پھر حد ساقط ہو جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَالْأَصَحُّ“ اور زیادہ صحیح قول یہ ہے ”أَنَّهُ مُطْلَقٌ“ کہ یہ حد کا ساقط ہونا مطلق ہے ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ وَاحِدَةٌ“ اس لیے کیونکہ یہ ڈاکہ یہ سارا ایک ہی جرم ہے ”عَلَىٰ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا۔ اوپر بھئی یہیں پر ایک سطر پہلے امام زفر اور امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کی دلیل گزری تھی: ”وَلَهُمَا أَنَّهُ جِنَايَةٌ وَاحِدَةٌ قَامَتْ بِالْكُلِّ“، تو وہاں انہوں نے بتلایا تھا کہ ایک ہی جرم ہے البتہ کئی افراد مل کر اس کو سرانجام دے رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ ”لِأَنَّ الْجِنَايَةَ وَاحِدَةٌ عَلَىٰ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اس لیے کیونکہ یہ جرم جو ہے ایک ہی ہے اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا، ”فَالِامْتِنَاعُ فِي حَقِّ الْبَعْضِ“ تو حد کا ممتنع ہو جانا بعضوں کے حق میں ”يُوجِبُ الِامْتِنَاعَ فِي حَقِّ الْبَاقِينَ“ یہ ثابت کرتا ہے حد کے ممتنع ہونے کو باقیوں کے حق میں بھی۔ جب ایک پر حد نہیں آ سکتی تو باقیوں پر بھی حد نہیں آ سکتی۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ ایک ہی جرم کے اندر آپ بعض لوگوں پر حد جاری کریں اور بعض پر حد جاری نہ کریں۔ تو یہ معنی ہے: ”فَالِامْتِنَاعُ فِي حَقِّ الْبَعْضِ“ تو بعضوں کے حق میں حد کا ممتنع ہونا ”يُوجِبُ الِامْتِنَاعَ فِي حَقِّ الْبَاقِينَ“ یہ باقیوں کے حق میں بھی حد کے ممتنع ہونے کو ثابت کرتا ہے ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِيهِمْ مُسْتَأْمَنٌ“۔
بھئی دوسری صورت، اگر ان قافلے والوں میں کوئی مستأمن ہے جو دار الحرب سے امان لے کر آیا ہے تو اس کا مال تو ہمیشہ کے لیے محفوظ نہیں تو کیا اس کی وجہ سے شبہ نہیں آئے گا؟ کہتے ہیں بھئی اس کی وجہ سے مال کے عصمت میں خلل آیا وہ صرف اس کے مال میں خلل آیا ہے، باقی قافلوں والوں کا مال تو مالِ معصوم ہے ہمیشہ کے لیے تو اس کی وجہ سے حد ساقط نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”بِخِلَافِ مَا إِذَا كَانَ فِيهِمْ مُسْتَأْمَنٌ“ بخلاف اس صورت کے کہ جب ان قافلے والوں کے درمیان یعنی جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے ان کے درمیان کوئی مستأمن ہو، ”لِأَنَّ الِامْتِنَاعَ فِي حَقِّهِ“ اس لیے کیونکہ اس کے حق میں حد کا ممتنع ہونا ”لِخَلَلٍ فِي الْعِصْمَةِ“ وہ اس کے عصمت میں خلل کی وجہ سے ہے کہ اس کی جان اور مال ہمیشہ کے لیے معصوم نہیں ہے ”وَهُوَ يَخُصُّهُ“ اور یہ چیز تو اسی کے ساتھ خاص ہے، یہ جو عصمت کے اندر خلل آیا ہے یہ صرف اسی کے ساتھ خاص ہے تو اس کی وجہ سے باقیوں کی عصمت میں کوئی شبہ نہیں آئے گا۔ ”أَمَّا هُنَا الِامْتِنَاعُ لِخَلَلٍ فِي الْحِرْزِ“ اور باقی یہاں پر جو حد کا ممتنع ہونا ہے ”لِخَلَلٍ فِي الْحِرْزِ“ وہ حرز کے اندر خلل کی وجہ سے ہے۔ بھئی قریبی محرم رشتہ دار ہے، جب قریبی محرم رشتہ دار ڈاکوؤں کے ساتھ ہے تو یاد رکھو یہ قافلہ جو ہے یہ سارا کا سارا ایک ہی حرز ہے اور جیسے قریبی محرم رشتہ دار اپنے رشتہ دار کے حرز میں بلا روک ٹوک آتا جاتا ہے تو یہ قافلہ بھی ایک حرز ہے اور اس کے اندر اس کا رشتہ دار موجود ہے تو جب قریبی محرم رشتہ دار ڈاکوؤں کے ساتھ ہے تو اس کے حق میں یہ حرز باقی نہ رہا، جب حرز باقی نہ رہا تو شبہ آ گیا اور جب اس کے حق میں شبہ آیا تو باقیوں سے بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ یہ معنی ہے: ”أَمَّا هُنَا الِامْتِنَاعُ“ اور باقی یہاں پر حد کا جو ممتنع ہونا ہے، یہاں پر حد کا جو ممتنع ہونا ہے یعنی وہ قریبی محرم رشتہ دار کی وجہ سے جو حد کا ممتنع ہونا ہے ”لِخَلَلٍ فِي الْحِرْزِ“ وہ حرز کے اندر خلل کی وجہ سے ہے ”وَالْقَافِلَةُ حِرْزٌ وَاحِدٌ“ اور قافلہ جو ہے وہ ایک ہی حرز ہے، وہ ایک ہی گھر کے حکم میں ہے۔
”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ صَارَ الْقَتْلُ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ“ اور جب حد ساقط ہو گئی تو قتل جو ہے اولیاء کے سپرد ہو گیا۔ اگر ڈاکوؤں کے اندر بچہ یا مجنون شامل ہے یا کوئی قریبی محرم رشتہ دار شامل ہے ان لوگوں کا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے تو اس صورت میں حد ساقط ہو گئی۔ جب حد ساقط ہو گئی تو اب بندوں کا حق ظاہر ہو گیا تو اگر انہوں نے کسی کو قتل کیا ہے تو مقتول کے اولیاء ان سے قصاص وغیرہ لے سکتے ہیں۔ تو کہتے ہیں: ”وَإِذَا سَقَطَ الْحَدُّ“ اور جب حد ساقط ہو گئی ”صَارَ الْقَتْلُ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ“ تو قتل جو ہے وہ اولیاء کے سپرد ہو گیا ”لِظُهُورِ حَقِّ الْعَبْدِ“ بوجہ بندے کے حق کے ظاہر ہونے کے ”عَلَىٰ مَا ذَكَرْنَاهُ“ اس وجہ سے جو ہم نے ذکر کر دیا کہ جب حد ساقط ہو جائے تو بندے کا حق ظاہر ہو جاتا ہے، ”فَإِنْ شَاءُوا قَتَلُوا“ اگر وہ مقتول کے اولیاء چاہیں تو ان کو قتل کر دیں ”وَإِنْ شَاءُوا عَفَوْا“ اور اگر وہ چاہیں تو ان کو معاف کر دیں۔
”وَإِذَا قَطَعَ بَعْضُ الْقَافِلَةِ الطَّرِيقَ عَلَىٰ الْبَعْضِ“ بھئی صورتِ مسئلہ یہ کہ ڈاکو قافلے کے اندر ہی شامل تھے اور قافلہ جب جنگل میں پہنچا تو وہ ڈاکو تلواریں لے کر نکل آئے اور انہوں نے قافلے کو لوٹ لیا تو کیا اب ان پر حد آئے گی یا نہیں؟ کہتے ہیں: نہیں بھئی، ان پر حد نہیں آئے گی کیونکہ یہ قافلے کے اندر تھے تو یہ تو حرز کے اندر تھے تو ان کے لیے یہ قافلہ حرز نہ رہا۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ تو یہ تیسرا مانع آ گیا حد کے قائم کرنے سے۔ پہلا مانع کیا تھا؟ کہ ڈاکو توبہ کر لیں پکڑے جانے سے پہلے اور دوسرا مانع کہ ان ڈاکوؤں کے اندر کوئی بچہ ہو یا مجنون ہو یا کوئی قریبی محرم رشتہ دار ہو ان لوگوں کا جن پر ڈاکہ ڈالا گیا ہے اور تیسرا مانع یہ ہے کہ وہاں حرز کے اندر خرابی آ جائے۔ کہتے ہیں: ”وَإِذَا قَطَعَ بَعْضُ الْقَافِلَةِ الطَّرِيقَ عَلَىٰ الْبَعْضِ“ اور جب بعضِ قافلے نے راستہ کاٹ دیا بعض پر یعنی انہی میں سے بعض لوگوں نے ڈاکہ ڈال لیا ”لَمْ يَجِبِ الْحَدُّ“ تو حد واجب نہیں ہو گی ”لِأَنَّ الْحِرْزَ وَاحِدٌ“ اس لیے کیونکہ حرز ایک ہی ہے ”فَصَارَتِ الْقَافِلَةُ كَدَارٍ وَاحِدَةٍ“ تو یہ قافلہ جو ہے ایک گھر کی طرح ہو گیا۔
”وَمَنْ قَطَعَ الطَّرِيقَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فِي الْمِصْرِ“ بھئی اب شہر کے اندر ڈاکے کا ذکر آ گیا۔ اگر کوئی شہر کے اندر اسلحے کے زور پر ڈاکہ ڈالتا ہے یا شہر کے قریب بھئی، شہر کے قریب ڈاکہ ڈالتا ہے تو کیا اس صورت میں بھی حد آئے گی یا نہیں؟ تو آپ کو بتائیں گے کہ نہیں، شہر کے اندر اگر کوئی ڈاکہ ڈالے تو وہاں ڈاکو فوراً بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اس لیے کیونکہ لوگوں کی مدد پہنچ جائے گی جبکہ جنگل کے اندر تو کوئی مدد کے لیے آنے والا نہیں ہوتا اور نیز اسی طرح شہر کے قریب اگر کوئی ہے تو وہاں پر بھی مدد پہنچ سکتی ہے لہٰذا وہاں پر بھی حد واجب نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَطَعَ الطَّرِيقَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فِي الْمِصْرِ“ اور جس نے ڈاکہ ڈالا رات کو یا دن کو شہر کے اندر ”أَوْ بَيْنَ الْكُوفَةِ وَالْحِيرَةِ“ کوفہ اور حیرہ، یاد رکھو یہ حیرہ یہ بھی ایک شہر تھا کوفہ کے ساتھ ہی اور یہ بالکل قریب قریب شہر تھے یہاں تک کہ کوفہ اور حیرہ کے باہر کی جانب جو آخری گھر تھے وہ آپس میں تقریباً ملے ہوئے تھے بھئی یعنی بالکل ساتھ ساتھ تھے یہ شہر، تو اس کے بیچ میں اگر کوئی ڈاکہ ڈالتا ہے تو کہتے ہیں اس صورت میں بھی حد واجب نہیں ہو گی۔ تو یہ معلوم ہوا چوتھا مانع آ گیا حد کے واجب کرنے سے کہ شہر کے اندر ڈاکہ ڈالا ہے یا شہر کے قریب ڈاکہ ڈالا ہے تو اس صورت میں بھی حد ثابت نہیں ہو گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ قَطَعَ الطَّرِيقَ لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فِي الْمِصْرِ“ اور جس نے ڈاکہ ڈالا رات کو یا دن کو شہر میں ”أَوْ بَيْنَ الْكُوفَةِ وَالْحِيرَةِ“ یا ڈاکہ ڈالا کوفہ اور حیرہ کے درمیان ”فَلَيْسَ بِقَاطِعِ الطَّرِيقِ“ تو یہ شخص قاطعِ طریق نہیں، یہ ڈاکہ ڈالنے والا نہیں ہے ”اسْتِحْسَانًا“ اور یہ حکم استحساناً ہے کہ یہ ڈاکو نہیں ہے ”وَفِي الْقِيَاسِ يَكُونُ قَاطِعَ الطَّرِيقِ“ اور قیاس کے اندر یہ شخص بھی قاطعِ طریق ہے، یہ بھی ڈاکو ہے ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ہے ”لِوُجُودِهِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ حقیقتاً قطعِ طریق پایا گیا ہے، حقیقتاً ڈاکہ پایا گیا ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: چاہے شہر کے اندر ڈاکہ ڈالے، چاہے شہر کے قریب ڈاکہ ڈالے، حقیقتاً اس ڈاکو نے ڈاکہ ڈالا ہے لہٰذا اس پر حد واجب ہو گی تو قیاس یہی تقاضا کرتا ہے، البتہ استحساناً ہمارے نزدیک اس ڈاکو پر حد ثابت نہیں ہو گی جو شہر میں ڈاکہ ڈالے یا شہر کے قریب ڈاکہ ڈالے۔ تو کہتے ہیں: ”وَفِي الْقِيَاسِ يَكُونُ قَاطِعَ الطَّرِيقِ“ اور قیاس کے اندر یہ شخص ڈاکہ ڈالنے والا ہے ”وَهُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور یہی قول ہے امام شافعی رحمہ اللہ کا بھی ”لِوُجُودِهِ حَقِيقَةً“ اس لیے کیونکہ حقیقتاً ڈاکہ پایا گیا ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اب امام ابو یوسف رحمہ اللہ جو چیف جسٹس گزرے تھے ان کی بات آ گئی۔ کہتے ہیں: ”وَعَنْ أَبِي يُوسُفَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”أَنَّهُ يَجِبُ الْحَدُّ إِذَا كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ وَإِنْ كَانَ بِقُرْبِهِ“ کہ حد واجب ہو گی جب وہ ڈاکہ شہر سے باہر ہو اگرچہ شہر کے قریب ہو۔ بھئی متن میں تو آیا شہر کے قریب ڈاکہ ڈالے پھر بھی حد نہیں اور شہر کے اندر ڈاکہ ڈالے پھر بھی حد نہیں، لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک روایت یہ ہے کہ شہر کے قریب ڈاکہ ڈالے گا تو حد واجب ہو گی۔ تو امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ روایت ہے ”أَنَّهُ يَجِبُ الْحَدُّ إِذَا كَانَ خَارِجَ الْمِصْرِ“ کہ حد واجب ہو گی جب وہ ڈاکہ شہر سے باہر ہو ”وَإِنْ كَانَ بِقُرْبِهِ“ اگرچہ شہر کے قریب ہو ”لِأَنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ الْغَوْثُ“ اس لیے کیونکہ اس کو مدد نہیں پہنچ سکتی، غوث کسے کہتے ہیں؟ مدد کو، مدد۔ تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّهُ لَا يَلْحَقُهُ الْغَوْثُ“ اس لیے کیونکہ یہاں اس کو مدد نہیں پہنچ سکتی ”وَعَنْهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے ایک اور روایت ہے۔ دوسری روایت امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے یہ ہے کہ شہر کے اندر کوئی ڈاکہ ڈالے اس پر بھی ڈاکو کی حد لگائی جائے گی اور شہر کے قریب جو ڈاکہ ڈالے اس کو بھی حد لگائی جائے گی اور یاد رکھو اسی قول پر فتویٰ ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ شہر کے اندر کوئی ڈاکہ ڈالے اس کو بھی حد لگائی جائے گی اور شہر کے قریب کوئی ڈاکہ ڈالے اس کو بھی حد لگائی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: ”وَعَنْهُ“ اور امام ابو یوسف رحمہ اللہ سے روایت ہے ”إِنْ قَاتَلُوا نَهَارًا بِالسِّلَاحِ“ کہ اگر ان ڈاکوؤں نے لڑائی کی دن کے وقت اسلحے کے ساتھ، یعنی شہر میں، دن کے وقت شہر میں اسلحے کے ساتھ لڑائی کی ”أَوْ لَيْلًا بِهِ أَوْ بِالْخَشَبِ“ یا رات کے وقت انہوں نے لڑائی کی اسلحے کے ساتھ ”أَوْ بِالْخَشَبِ“ یا لکڑی کے ساتھ ”فَهُمْ قُطَّاعُ الطَّرِيقِ“ تو یہ ڈاکو ہیں، ان کے ہاتھ اور پاؤں کاٹے جائیں گے۔ بھئی کیا وجہ ہے؟ دن کے وقت اسلحے کی قید لگائی اور رات کے وقت اسلحے کے ساتھ ساتھ لکڑی کے ساتھ اگر لڑائی کی تب بھی وہ ڈاکو ہیں، کہتے ہیں وجہ یہ: ”لِأَنَّ السِّلَاحَ لَا يُلْبِسُ“ اس لیے کیونکہ اسلحہ مہلت نہیں دیتا، البس یلبس کا معنیٰ ٹھہرانا یعنی مہلت دینا، کہتے ہیں: ”لِأَنَّ السِّلَاحَ لَا يُلْبِسُ“ کیونکہ اسلحہ مہلت نہیں دیتا، اسلحے سے تو فوراً ہی کسی آدمی کو قتل کیا جا سکتا ہے، اسلحہ تو فوراً انسان کو موت تک پہنچا دیتا ہے، تو کہتے ہیں: ”لِأَنَّ السِّلَاحَ لَا يُلْبِسُ“ اس لیے کیونکہ اسلحہ مہلت نہیں دیتا ”وَالْغَوْثُ يُبْطِئُ بِاللَّيَالِي“ اور مدد جو ہے وہ دیر سے آتی ہے رات کے وقت۔ رات کے وقت مدد دیر سے آتی ہے لہٰذا لاٹھی کے ساتھ بھی اگر راستہ کاٹا ہے تو یہ بھی ڈاکو ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: ”وَنَحْنُ نَقُولُ“ اور ہم کہتے ہیں ”إِنَّ قَطْعَ الطَّرِيقِ بِقَطْعِ الْمَارَّةِ“ کہ ڈاکہ جو ہے وہ گزرنے والوں کا راستہ کاٹنے سے ہوتا ہے۔ ڈاکہ کسے کہتے ہیں؟ کہ گزرنے والوں کا راستہ کاٹا جائے اور وہ شہر سے باہر ہو گا، ڈاکہ جو ہے وہ راستے کو کاٹنے سے ہو گا تو شہر کے اندر تو راستہ نہیں، راستہ تو باہر ہو گا، توجہ ہے؟ تو لہٰذا وہ سفر کا راستہ جو ہے اس کو کاٹنے کے اوپر ڈاکہ کہا جاتا ہے اور نیز وہ جگہ ایسی ہو کہ جہاں مدد نہ پہنچ سکے اور شہر کے اندر یا شہر کے قریب تو مدد پہنچ سکتی ہے لہٰذا اس صورت میں حد ثابت نہیں ہو گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَنَحْنُ نَقُولُ“ اور ہم کہتے ہیں ”إِنَّ قَطْعَ الطَّرِيقِ“ کہ ڈاکہ جو ہے ”بِقَطْعِ الْمَارَّةِ“ وہ گزرنے والوں کا راستہ کاٹنے سے ہوتا ہے ”وَلَا يَتَحَقَّقُ ذٰلِكَ فِي الْمِصْرِ وَبِقُرْبٍ مِنْهُ“ اور یہ شہر میں یا شہر کے قریب نہیں ہو سکتا ”لِأَنَّ الظَّاهِرَ لُحُوقُ الْغَوْثِ“ اس لیے کیونکہ ظاہر جو ہے مدد کا پہنچنا ہے۔ شہر میں ہو گا یا شہر کے قریب ہو گا وہاں تو مدد پہنچ جائے گی فوراً، ”إِلَّا أَنَّهُمْ يُؤْخَذُونَ بِرَدِّ الْمَالِ“ ہاں اگر شہر کے اندر کسی نے ڈاکہ ڈالا ہے یا شہر کے قریب کسی نے ڈاکہ ڈالا ہے حد تو نہیں آئے گی تو البتہ بندوں کے جو حقوق ہیں وہ وصول کیے جائیں گے یعنی اگر کسی کو قتل کیا ہے تو مقتول کے اولیاء قصاص لے سکتے ہیں اور اگر انہوں نے مال لوٹا ہے تو وہ مال بھی واپس دلایا جائے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”إِلَّا أَنَّهُمْ يُؤْخَذُونَ بِرَدِّ الْمَالِ“ مگر یہ کہ ان کا مؤاخذہ کیا جائے گا مال کو لوٹانے کے ساتھ کہ یہ مال واپس لوٹائیں گے ”إِيصَالًا لِلْحَقِّ إِلَى الْمُسْتَحِقِّ“ مستحق کو اس کا حق پہنچانے کے لیے ”وَيُؤَدَّبُونَ“ اور ان کی تادیب کی جائے گی یعنی ان کو کچھ سزا دی جائے گی، حد تو نہیں آئے گی لیکن ان کو سزا دی جائے گی ”وَيُحْبَسُونَ“ اور ان کو قید میں ڈالا جائے گا ”لِارْتِكَابِهِمُ الْجِنَايَةَ“ اس وجہ سے کہ انہوں نے جرم کا ارتکاب کیا ہے ”وَلَوْ قَتَلُوا“ اور اگر انہوں نے قتل کیا ہے ”فَالْأَمْرُ فِيهِ إِلَى الْأَوْلِيَاءِ“ تو اس کے اندر معاملہ جو ہے اس مقتول کے اولیاء کے سپرد ہے ”لِمَا بَيَّنَّا“ اس وجہ سے جو ہم نے بیان کر دیا کہ جب حد نہ آئے تو پھر حق العبد ظاہر ہو جاتا ہے۔
آگے دیکھیے: ”وَمَنْ خَنَقَ رَجُلًا حَتَّىٰ قَتَلَهُ“ صورت یہ: ایک آدمی نے دوسرے آدمی کا گلا دبا کر اس کو قتل کر دیا تو پھر اس صورت میں یاد رکھو دیت آئے گی بھئی۔ اس مجرم کو ہم قصاص میں قتل نہیں کریں گے، وجہ یہ کہ شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے قصاص ساقط ہو جاتا ہے۔ شبہ یہ کہ معلوم نہیں یہ مجرم اس کو قتل ہی کرنا چاہتا تھا یا ویسے صرف اس کو ڈرا رہا تھا اور ویسے اس نے گلا دبایا تھا تو شبہ آ گیا اور شبہے کی وجہ سے حد ساقط ہو جاتی ہے تو پھر اس صورت میں دیت آئے گی بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَمَنْ خَنَقَ رَجُلًا“ اور جس نے دوسرے آدمی کا گلا دبایا ”حَتَّىٰ قَتَلَهُ“ یہاں تک کہ اس کو قتل کر دیا ”فَالدِّيَةُ عَلَىٰ عَاقِلَتِهِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ“ تو اس قتل کی جو دیت ہے وہ اس مجرم کی عاقلہ پر ہو گی یعنی اس کے قبیلے والے سارے مل کر یہ دیت ادا کریں گے تین سال کے اندر، ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْقَتْلِ بِالْمُثْقَلِ“ اور یہ قتل بالمثقل ہی کا مسئلہ ہے۔ قتل بالمثقل، مثقل کہتے ہیں وزنی چیز۔ بھئی یاد رکھو، قتلِ عمد کے اندر دوسرے کو بھی قصاص میں قتل کیا جاتا ہے اور میں نے بتلایا قتلِ عمد کسے کہتے ہیں کہ کوئی شخص اسلحے کے ذریعے دوسرے کو قتل کرے یا کوئی ایسی چیز ہے جو اسلحے کے قائم مقام ہے مثلاً لوہے کا سریا، لوہے کی ہر چیز جو ہے یاد رکھو وہ موت تک پہنچانے والی ہے لہٰذا وہ بھی اسلحے کے حکم میں ہے، یا اسی طرح کوئی تیز دھار کی چیز ہے مثلاً تیز دھار والی لکڑی ہے بھئی، تیز دھار والا پتھر ہے تو اس صورت کے اندر بھی معلوم ہوا مجرم کا ارادہ ہی قتل کا تھا لہٰذا اس کو بھی قصاص میں قتل کیا جائے گا۔ لیکن اگر کسی اور چیز سے کوئی آدمی دوسرے کو قتل کرتا ہے مثلاً ایک بڑے بھاری پتھر کے ذریعے ایک آدمی نے دوسرے کو قتل کر دیا تو صاحبین فرماتے ہیں: بڑا پتھر کسی کو مارا جائے تو وہ بھی مر جاتا ہے، وہ بچتا نہیں ہے لہٰذا اس کے اندر بھی قصاص آئے گا، یہ بھی قتلِ عمد ہی ہے جبکہ امام صاحب فرماتے ہیں: نہیں، کسی بڑے پتھر کے ساتھ کسی کو قتل کرے تو یہ قتلِ عمد نہیں ہے یہ شبہِ عمد ہے، عمد کے مشابہ تو ہے لیکن قتلِ عمد نہیں لہٰذا اس میں قصاص نہیں آئے گا اس میں دیت آئے گی تو صاحبِ ہدایہ یہی بیان فرما رہے ہیں کہ ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْقَتْلِ بِالْمُثْقَلِ“ اور یہ وزنی چیز کے ساتھ قتل کرنے کا ہی مسئلہ ہے یعنی کسی نے دوسرے آدمی کا گلا دبایا تو امام صاحب کے نزدیک یہ قتلِ عمد نہیں ہے جبکہ صاحبین کے نزدیک یہ بھی قتلِ عمد ہی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: ”وَهِيَ مَسْأَلَةُ الْقَتْلِ بِالْمُثْقَلِ“ اور یہ وزنی چیز کے ساتھ قتل کرنے کا مسئلہ ہے ”وَسَنُبَيِّنُ فِي بَابِ الدِّيَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَىٰ“ اور عنقریب ہم اس کو دیتوں کے باب میں بیان کریں گے، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
”وَإِنْ خَنَقَ فِي الْمِصْرِ غَيْرَ مَرَّةٍ قُتِلَ بِهِ“ بھئی امام صاحب کا مذہب ذکر ہو گیا کہ اگر کوئی شخص دوسرے آدمی کا گلا دبا کر اس کو قتل کر دے تو پھر اس قاتل کو قتل نہیں کیا جائے گا کیونکہ شبہ آ گیا کہ معلوم نہیں اس کا قتل کا ارادہ تھا یا نہیں تھا لہٰذا اس صورت میں دیت آئے گی، لیکن اگر ایک ہی شخص نے کئی آدمیوں کو گلا دبا کر قتل کر دیا تو پھر اس صورت میں اس کو قتل کیا جائے گا، معلوم ہوا یہ آدمی بھی زمین پر فساد پھیلانا چاہتا ہے۔ کہتے ہیں: ”وَإِنْ خَنَقَ فِي الْمِصْرِ“ اور اگر ایک آدمی نے شہر میں گلا دبایا ”غَيْرَ مَرَّةٍ“ ایک مرتبہ سے زیادہ ”قُتِلَ بِهِ“ تو اس کی وجہ سے اس کو قتل کیا جائے گا ”لِأَنَّهُ صَارَ سَاعِيًا فِي الْأَرْضِ بِالْفَسَادِ“ اس لیے کیونکہ یہ زمین کے اندر فساد پھیلانے والا ہو گیا ”فَيُدْفَعُ شَرُّهُ بِالْقَتْلِ“ لہٰذا اس کے شر کو دور کیا جائے گا قتل کے ذریعے ”وَاللَّهُ أَعْلَمُ“ اور اللہ خوب جاننے والے ہیں۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هذا هو المرام والله أعلم بحقيقة الكلام۔