آگے سبق دیکھیے بھئی: كِتَابُ الْحُدُودِ۔ قَالَ: الْحَدُّ لُغَةً: هُوَ الْمَنْعُ، وَمِنْهُ الْحَدَّادُ لِلْبَوَّابِ، وَفِي الشَّرِيعَةِ: هُوَ الْعُقُوبَةُ الْمُقَدَّرَةُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى حَتَّى لَا يُسَمَّى الْقِصَاصُ حَدًّا؛ لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ، وَلَا التَّعْزِيرُ؛ لِعَدَمِ التَّقْدِيرِ، وَالْمَقْصَدُ الْأَصْلِيُّ مِنْ شَرْعِهِ الْاِنْزِجَارُ عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ، وَالطَّهَارَةُ لَيْسَتْ أَصْلِيَّةً فِيهِ بِدَلِيلِ شَرْعِهِ فِي حَقِّ الْكَافِرِ۔
بھئی گزشتہ سبق میں ہم نے باب الیمین فی القتل والضرب وغیرہ پڑھا تھا بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر ایک شخص یہ قسم کھا لیتا ہے کہ اگر میں نے فلاں کی پٹائی کی تو میرا غلام آزاد ہے، تو اس صورت میں یہ قسم اس شخص کی زندگی پر محمول ہوگی یعنی جس کی پٹائی کو اس نے ذکر کیا ہے۔ وجہ یہ کہ پٹائی اس فعل کو کہتے ہیں جو بدن سے متعلق ہو اور جس کی وجہ سے بدن کو تکلیف ہو، اور یہ تکلیف جو ہے یہ تو صرف زندہ کو ہو سکتی ہے مردہ کو نہیں، لہٰذا یہ قسم بھی محمول ہوگی اس شخص کی زندگی پر۔
میں نے آپ کو بتلایا تھا کہ اگر قسم کھانے والا کسی ایسے فعل کی قسم کھائے جو زندگی کے ساتھ خاص ہو، مثلاً لذت ہے، یا خوشی ہے، یا غم ہے، یا تکلیف دینا وغیرہ، تو پھر اس صورت میں یہ قسم زندگی پر محمول ہوگی۔ اور اگر قسم کھانے والے نے کسی ایسی بات پر قسم اٹھائی کہ جو زندہ اور مردہ دونوں کے درمیان مشترک ہے، تو پھر اس صورت میں یہ قسم زندہ کو بھی شامل ہوگی اور مردہ کو بھی، جیسے اس کی مثال کل کے سبق میں آئی تھی کہ ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ میں فلاں کو غسل نہیں دوں گا، تو پھر اس صورت میں چاہے زندہ کو غسل دے چاہے مردہ کو غسل دے دونوں صورتوں میں یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔
اور یہ بھی مسئلہ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ وہ اپنی بیوی کی پٹائی نہیں کرے گا اور پھر اس نے اس کے بال کھینچے یا اس کا گلا دبایا یا اس کو دانتوں سے کاٹا، تو پھر اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا، جبکہ بعض فقہاء فرماتے ہیں کہ اگر یہ اس نے ہنسی مذاق کے ساتھ یہ فعل کیے ہیں تو پھر حانث نہیں ہوگا بھئی، اور علماء نے اس قول کو ترجیح دی ہے بھئی۔
اور اسی طرح ایک شخص نے اگر قسم اٹھائی کہ اگر میں فلاں کو قتل نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق ہے، اور حال یہ ہے کہ فلاں مر چکا ہے اور اس کو بھی پتہ ہے کہ وہ مر چکا ہے، تو اس صورت میں کہتے ہیں یہ قسم منعقد ہو گئی اور پھر فوراً ہی یہ حانث بھی ہو گیا اور اس کی بیوی کو طلاق ہو گئی۔ وجہ یہ کہ اس کو بھی علم ہے کہ وہ فلاں مر چکا ہے لیکن پھر بھی یہ قسم ممکن ہے بایں طور کہ اللہ تعالیٰ اس شخص کو دوبارہ زندہ فرما دیں، تو معلوم ہوا یہ قسم فی ذاتہ ممکن ہے، البتہ عادۃً یہ محال ہے اس لیے فوراً یہ حانث ہو جائے گا۔ قسم منعقد ہو جائے گی کیونکہ فی ذاتہ یہ ممکن ہے اور پھر یہ فوراً حانث ہو جائے گا کیونکہ عادۃً ایسا محال ہے بھئی۔ اور اگر اس شخص کو یہ علم نہیں تھا کہ وہ مر چکا ہے تو پھر اس صورت کے اندر یہ حانث نہیں ہوگا کیونکہ قسم ہی منعقد نہیں ہوئی طرفین کے نزدیک، کیونکہ طرفین کے نزدیک قسم کے منعقد ہونے کے لیے اس کا پورا کرنا ممکن ہونا چاہیے پھر ہی قسم منعقد ہوتی ہے ویسے منعقد نہیں ہوتی، اور جب وہ شخص مر چکا ہے اور اسے علم نہیں ہے اور یہ کہتا ہے کہ اگر میں نے فلاں کو قتل نہ کیا تو میری بیوی کو طلاق ہے تو اب ایسے قتل کا تصور ہی نہیں کیا جا سکتا کیونکہ اس صورت میں اس نے اس کی پہلی زندگی پر قسم کھائی ہے اور وہ تو ختم ہو چکی ہے لہٰذا اس کی قسم ممکن ہی نہیں ہے، حتیٰ کہ اگر اللہ تعالیٰ بھی اس کو دوبارہ زندہ فرما دیں تو یہ تو دوسری زندگی ہے وہ جو پہلی زندگی تھی وہ زندگی تو نہیں ہے بھئی۔
اور پھر اس کے بعد ہم نے باب الیمین فی تقاضی الدراہم پڑھا بھئی۔ صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلایا کہ اگر کوئی شخص یہ قسم کھا لے کہ میں فلاں کا دین قریبی زمانے میں ادا کروں گا تو یہ قسم ایک مہینے سے کم پر محمول ہوگی، ایک مہینے سے کم میں ادا کر دے گا تو قسم پوری ہو گئی اور اگر مہینہ پورا ہو گیا تو پھر اس صورت میں یہ شخص حانث ہو جائے گا۔ اور اگر کسی شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں فلاں کا دین دیر سے ادا کروں گا تو یہ قسم جو ہے مہینے یا مہینے سے زیادہ پر محمول ہوگی لہٰذا مہینے سے پہلے اگر اس نے ادا کر دیا تو یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔
اور اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اج فلاں کا دین ضرور ادا کروں گا پھر اس نے کچھ درہم ادا کر دیے، وہ درہم زیوف تھے یعنی ان میں کچھ کھوٹ زیادہ تھا، یا نبہرجہ تھے یعنی زیوف سے بھی بڑھ کر ان میں کھوٹ تھا، یا وہ درہم کسی اور کے تھے تو ان تمام صورتوں میں اس نے اپنی قسم پوری کر لی کیونکہ بے شک وہ درہم زیوف ہیں لیکن کہلاتے تو درہم ہی ہیں، اور بے شک وہ درہم جو ہیں نبہرجہ ہیں لیکن کہلاتے تو درہم ہی ہیں، اور بے شک وہ درہم کسی اور کے ہیں لیکن ہیں تو درہم، اور اس نے قسم کھائی تھی ادائیگی کی تو اس نے بھی ان دراہم کو ادا کر دیا ہے، جب ادا کر دیا تو قسم پوری ہو گئی۔ لہٰذا اب وہ شخص جس نے ان درہموں پر قبضہ کیا تھا یعنی وہ جو قرض خواہ تھا اس نے بعد میں دیکھا کہ یہ زیوف ہیں یا نبہرجہ ہیں یا کسی اور کے ہیں اور اس نے وہ درہم واپس کر دیے تو قسم ایک دفعہ پوری ہو چکی ہے تو اس کے واپس کرنے سے وہ قسم کا پورا کرنا کوئی فسخ نہیں ہوگا، وہ ختم نہیں ہوگا بھئی۔ اور اگر قرض خواہ نے وصول ہونے کے بعد دیکھا تو وہ تو رصاص تھے، یعنی رصاص میں نے بتایا ایک دھات ہے جس سے برتن وغیرہ بنائے جاتے ہیں، یا اس نے دیکھا کہ یہ درہم تو ستوقہ ہیں بھئی، میں نے بتایا ستوقہ وہ درہم ہے جو پیتل یا تانبے کا ہوتا ہے اور اوپر چاندی کی تہہ چڑھا دی جاتی ہے، تو رصاص اور ستوقہ یہ تو درہم ہیں ہی نہیں بھئی، لہٰذا اس صورت میں ادائیگی نہیں ہوئی جب ادائیگی نہیں ہوئی تو یہ حانث ہو گیا بھئی۔
اور اگر اس نے اپنا غلام اس آدمی کو بیچ دیا ادائیگی کے طور پر اور پھر مقاصہ کر لیا دین کا تو اس صورت میں بھی ادائیگی ہو جائے گی لیکن اس میں شرط ہے کہ وہ شخص غلام پر قبضہ کر لے، اس لیے کیونکہ جب وہ قبضہ کرے گا تو اس پر بھی دین پکا ہو جائے گا۔ اس وقت تو مقروض پر دین پکا ثابت ہے اور جب قرض خواہ نے اس کا غلام خرید لیا تو اس پر غلام کے جو ثمن تھے وہ ثابت ہو گئے، لیکن وہ ثمن جب تک وہ غلام پر قبضہ نہیں کرے گا وہ پکے ثابت نہیں ہیں وہ ساقط بھی ہو سکتے ہیں کیونکہ ہو سکتا ہے یہ غلام اس کے حوالے کرنے سے پہلے ہی مقروض کے پاس مر جائے، تو اس صورت میں تو اس پر دین ثابت نہیں ہوگا، جب دین ثابت نہیں ہوگا تو مقاصہ نہ ہو سکے گا۔ لہٰذا وہ غلام پر قبضہ بھی کر لے تو پھر اس صورت میں مقاصہ ہو جائے گا اور یہ اپنی قسم پوری کرنے والا ہو گیا، لیکن اگر قرض خواہ نے وہ قرضہ معاف کر دیا تو کہتے ہیں پھر اس صورت میں یہ قسم پوری کرنے والا نہیں اور نیز حانث بھی نہیں ہوا کیونکہ اب قرض کی ادائیگی کی صورت ہی نہ رہی، اس نے تو کیا کہا تھا کہ اج اگر میں نے قرض ادا نہ کیا، اب جب قرض ہی ختم ہو گیا تو ادائیگی ہو ہی نہیں سکتی بھئی، تو لہٰذا اس نے قسم پوری بھی نہیں کی اور حانث بھی نہیں ہوا کیونکہ یمین ہی باطل ہو گئی کیونکہ جب یمین کو پورا کرنا ممکن ہی نہ رہے تو وہ باطل ہو جاتی ہے۔
تو یہ بھی اس کوزے والے مسئلے کی مثل ہو گیا کیونکہ ابھی دن باقی ہے اور اس سے پہلے ہی یمین کا پورا کرنا ناممکن ہو گیا۔ جیسے کوزے والے مسئلے میں وہ قسم کھاتا تھا کہ اج میں اس کوزے کا پانی ضرور پیوں گا اور پانی موجود ہے اور شام سے پہلے کسی نے وہ پانی گرا دیا تو اب دن کے آخر میں اس قسم کا پورا کرنا ممکن ہی نہ رہا لہٰذا وہاں پر وہ قسم ختم ہو جائے گی باطل ہو جائے گی۔ تو یہاں پر بھی اس نے قسم کھائی تھی کہ اج میں اپنا دین ضرور ادا کروں گا، تو یہاں پر بھی جب اس شخص نے دین معاف کر دیا تو دن کے آخر حصے میں دین کی ادائیگی ممکن ہی نہ رہی تو لہٰذا یمین ختم ہو گئی۔ تو اس نے قسم پوری بھی نہیں کی کیونکہ ادائیگی نہیں کی اور حانث بھی نہیں ہوا کیونکہ یمین ہی باطل ہو گئی ختم ہو گئی۔ صورت سمجھ میں آ گئی۔
اس کے بعد ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اپنا دین متفرق طور پر وصول نہیں کروں گا اور پھر کچھ دین متفرق طور پر وصول کر لیا تو کہتے ہیں یہ حانث نہیں ہے جب تک یہ سارا دین متفرق طور پر وصول نہ کر لے، اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا تھا کہ میں اپنا دین متفرق طور پر وصول نہیں کروں گا، اور تو اس صورت میں اس نے دین کی اپنی طرف نسبت کی ہے تو وہ سارا اس کا دین مراد ہوگا، تو اس میں اب دو شرطیں ہیں: ایک تو یہ کہ وہ سارا دین وصول کرے اور دوسرا یہ کہ وہ متفرق طور پر ہو، تو پھر یہ حانث ہوگا۔ تو اگر کچھ دین اس نے متفرق طور پر وصول کیا ہے تو جب تک پورا دین وصول نہیں اس وقت تک یہ حانث بھی نہیں ہے۔
اور اگر اس نے اپنے دین پر اس طرح قبضہ کیا کہ ان کو دو یا تین مرتبہ الگ تول کر وصول کیا تو کہتے ہیں اس کو تفریق نہیں کہتے کیونکہ درہم، دینار جو ہیں ان کو بعض اوقات وزن کرنا پڑتا ہے اور ایک ہی مرتبہ سب کا وزن ممکن نہیں رہتا تو پھر لہٰذا اس صورت میں اگر کسی اور کام میں درمیان میں مشغول نہ ہوئے تو پھر اس کو تفریق نہیں کہیں گے، اور اگر وزن کرنے کے درمیان کسی اور کام میں مشغول ہوئے تو اس کو تفریق کہیں گے اور اس صورت میں یہ حانث ہو جائے گا بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ ذکر فرمایا کہ اگر میرے لیے سو درہم کے علاوہ ہوئے تو میری بیوی کو طلاق ہے اور پھر جب دیکھا گیا تو اس کے پاس صرف پچاس درہم تھے، تو الفاظ کو دیکھیں تو الفاظ تقاضا کرتے ہیں کہ اس کو حانث ہونا چاہیے، اس لیے کیونکہ اس نے کیا کہا ہے کہ میرے پاس اگر سو درہم کے علاوہ کچھ ہوا، معلوم ہوا سو درہم تو ضرور ہیں اس سے زائد نہیں ہیں، تو اس کے پاس سو درہم کا ہونا ضروری ہے قسم کے پورا ہونے کے لیے لیکن دیکھا گیا تو اس کے پاس تو صرف پچاس درہم ہیں بھئی، تو الفاظ کو دیکھیں تو حانث ہونا چاہیے لیکن کہتے ہیں حانث نہیں ہوگا عرف کی وجہ سے، کیونکہ عرف کے اندر جب اس طرح کا کلام کیا جاتا ہے تو اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میرے پاس اس سے زیادہ مال نہیں ہے، اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا اتنا پورا مال ہے میرے پاس بلکہ مطلب ہوتا ہے اس سے زیادہ مال میرے پاس نہیں ہے، اتنا ہے یا اس سے کم ہے بھئی، تو لہٰذا یہ حانث نہیں ہوگا۔ اور نیز جب اس نے سو کا استثناء کیا تو سو کا استثناء ہو گیا اس کے سارے اجزاء کے ساتھ بھئی، اور پچاس بھی کیا ہے سو کے اجزاء میں سے ہے بھئی، لہٰذا جب سو کا استثناء ہوا تو سو کے اجزاء کا بھی استثناء ہو گیا بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے مسئلہ بتلایا کہ اگر کوئی شخص کسی کام کو نہ کرنے کی قسم کھائے تو پھر اس کام کو ہمیشہ کے لیے چھوڑنا ہوگا، اگر ایک دفعہ بھی اس کو کرے گا تو حانث ہو جائے گا۔ اور اگر کسی کام کے کرنے کی قسم اٹھائی تو یہ صرف ایک دفعہ کرنے پر محمول ہے، ایک دفعہ بھی وہ کام کر لے گا تو اس کی قسم پوری ہو جائے گی بھئی۔
اور پھر صاحب ہدایہ نے بتلایا کسی شہر کے والی نے کچھ لوگوں سے قسم لی کہ کوئی بھی شہر میں فساد پھیلانے والا داخل ہو تو تم مجھے اطلاع دو گے، اور انہوں نے قسم اٹھا لی تو یہ قسم کس حالت پر محمول ہوگی؟ تو بتلایا جب تک یہ والی موجود ہے، جب تک اس کے پاس یہ عہدہ ہے تو اس حالت پر یہ قسم محمول ہوگی، اور اگر وہ والی مر گیا یا اس کو معزول کر دیا گیا تو اب وہ قسم بھی باطل ہو جائے گی کیونکہ اب اطلاع دینے کا کوئی فائدہ ہی نہیں ہے بھئی۔
اور اسی طرح ایک شخص نے قسم اٹھائی کہ واللہ میں اپنا غلام فلاں کو ہبہ کروں گا پھر اس نے اس کو ہبہ کیا لیکن اس نے قبول نہیں کیا تو کہتے ہیں پھر بھی اس کی قسم پوری ہو گئی، پھر بھی اس کی قسم پوری ہو گئی بھئی، جبکہ امام زفر فرماتے ہیں کہ نہیں جب تک وہ قبول نہیں کرے گا یہ ہبہ کرنے والا نہیں، وہ ہبہ کو قیاس کرتے ہیں بیع پر۔ ہبہ بھی تملیک کا نام ہے دوسرے کو مالک بنانا اور بیع بھی تملیک کا نام ہے تو جیسے بیع کے اندر قبول ضروری ہوتا ہے اسی طرح ہبہ کے اندر بھی قبول ضروری ہے، لیکن ہم کہتے ہیں نہیں بیع جو ہے وہ عقد معاوضہ ہے اس لیے وہاں جانبین سے فعل چاہیے جبکہ ہبہ جو ہے وہ عقد تبرع ہے وہ صرف متبرع پر پورا ہو جاتا ہے، حتیٰ کہ اگر کوئی شخص کسی کو ہبہ کرے اور دوسرا قبول نہ کرے پھر بھی عربی میں کہتے ہیں ”وَهَبَ وَلَمْ يَقْبَلْ“ کہ اس نے ہبہ کیا اور دوسرے نے قبول نہیں کیا تو اس کو پھر بھی ہبہ کہا جاتا ہے بھئی، اور نیز اس لیے کیونکہ ہبہ کے ذریعے اپنی سخاوت کا اظہار مقصود ہوتا ہے، تو جب یہ متبرع ہبہ کر رہا ہے تو اس کی سخاوت کا اظہار ہو گیا لہٰذا اب اس میں دوسرے کے قبول کی ضرورت نہیں ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
اور اسی طرح صاحب ہدایہ نے بتلایا کہ کسی شخص نے اگر قسم اٹھائی کہ وہ ریحان نہیں سونگھے گا اور اس نے پھر گلاب یا چمبیلی کو سونگھا تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اور اگر کسی نے بنفشہ کی قسم کھائی کہ میں بنفشہ نہیں خریدوں گا تو یہ قسم بنفشہ کے تیل پر محمول ہوگی بھئی کیونکہ عرف میں اس سے بنفشہ کا تیل مراد لیا جاتا ہے۔ میں نے بتایا اس کا دارومدار عرف پر ہے، ہر علاقے کا اپنا عرف ہوتا ہے تو اس کے مطابق ہی اس کو دیکھا جائے گا۔
اب آئیے اج کے سبق پر: كِتَابُ الْحُدُودِ۔ قَالَ: الْحَدُّ لُغَةً: هُوَ الْمَنْعُ، وَمِنْهُ الْحَدَّادُ لِلْبَوَّابِ، وَفِي الشَّرِيعَةِ: هُوَ الْعُقُوبَةُ الْمُقَدَّرَةُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى۔
بھئی یاد رکھو شریعت میں سزائیں جو ہیں وہ دو قسم کی ہیں۔ قاضی جو سزا دیتا ہے مجرموں کو وہ دو قسم کی سزائیں ہیں بھئی: کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیر کہتے ہیں، عَزَّرَ يُعَزِّرُ تَعْزِيرًا بھئی۔ تو قاضی جو سزائیں دیتا ہے یا یوں کہیں شریعت میں جو سزائیں ہیں وہ دو قسم کی ہیں: کچھ کو حدود کہتے ہیں اور کچھ کو تعزیر کہتے ہیں۔ یاد رکھو حدود وہ سزائیں ہیں جو اللہ کی طرف سے باقاعدہ مقرر ہیں، جیسے چوری کی سزا یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹا جاتا ہے، جیسے غیر شادی شدہ اگر زنا کر لے تو اس کو سزا یہ ہے کہ اسے سو کوڑے لگائے جاتے ہیں مرد اور عورت کو سو سو کوڑے لگائے جاتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص کسی پر تہمت لگا دے زنا کی تو اس کو اسی کوڑے لگائے جاتے ہیں، اسی طرح اگر کوئی شخص ڈاکہ ڈالتا ہے تو اس صورت میں اس کا ایک ہاتھ اور مخالف سمت کا پاؤں کاٹا جاتا ہے تو یہ ہے حدود بھئی، یہ اللہ کی طرف سے یہ سزائیں مقرر ہیں بھئی۔ اور جبکہ باقی سزائیں جو ہیں وہ قاضی کی صوابدید پر ہیں، قاضی اپنی مرضی سے وہ سزائیں دیتا ہے کسی کو کم دے کسی کو زیادہ دے اس میں قاضی کی مرضی ہے، وہ باقی سزائیں اللہ کی طرف سے مقرر نہیں۔ تو حدود کے علاوہ جو باقی سزائیں ہیں ان کو تعزیر کہا جاتا ہے۔
اور یاد رکھو یہ جو حدود ہیں یہ کل چھ ہیں بھئی۔ حدود چھ ہیں بھئی، چھ سزائیں ہیں جن کو حدود کہا جاتا ہے، چھ سزائیں ہیں:
نمبر ایک: حدِ زنا بھئی۔ شادی شدہ اگر زنا کرے گا تو اسے رجم کیا جائے گا، اسے سنگسار کیا جائے گا پتھر مار مار کر اسے قتل کر دیا جائے گا، اور اگر غیر شادی شدہ زنا کرے تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں گے، یہ ہے حدِ زنا۔
دوسری ہے: حدِ شربِ خمر، شراب پینے کی حد۔ یاد رکھو جو بھی شراب پیئے گا اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے، اس کو اسی کوڑے لگائے جائیں گے، جبکہ بعض روایات میں ہے کہ حدِ شربِ خمر ابتداء میں چالیس کوڑے تھے اور بعد میں حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں اسے اسی کوڑے کر دیا گیا اور اس پر تمام صحابہ کا اتفاق ہو گیا، اجماع ہو گیا، تو حدِ شربِ خمر جو ہے یہ اسی کوڑے ہیں بھئی۔ جبکہ غلام کی سزا آزاد کے مقابلے میں نصف ہوتی ہے تو غلام کو چالیس کوڑے لگیں گے بھئی حدِ شربِ خمر کے طور پر۔ تو پہلی جو ہے وہ حدِ زنا ہے، دوسری جو ہے حدِ شربِ خمر ہے،
تیسری ہے: حدِ سُکر من غیر الخمر، حدِ سکر، س ک ر، چھوٹا کاف ہے س ک ر، سکر کہتے ہیں نشے کو، حدِ سکر من غیر الخمر، شراب کے علاوہ کوئی اور نشہ آور مشروب استعمال کیا جس سے نشہ ہو جائے تو اس صورت میں بھی اسی کوڑے سزا ہے بھئی۔ تو شراب پینے کی حد الگ ہے، شراب کے اندر یاد رکھو شراب کے اندر نشے کی بھی شرط نہیں ہے، کوئی شخص ایک قطرہ شراب کا بھی پی لے گا اور قاضی کے پاس یہ بات ثابت ہو جائے تو اس پر حدِ شربِ خمر جاری ہوگی، جبکہ اور نشہ آور مشروب پیئے گا تو اس میں اس میں نشے کو دیکھا جائے گا، اگر نشہ ہوا تو وہ حد آئے گی اگر نشہ نہیں تو وہ حد بھی نہیں آئے گی بھئی۔ تو ایک حد کیا ہے حدِ زنا، دوسری حدِ شربِ خمر، تیسری حدِ سکر من غیر الخمر، خمر کے علاوہ کسی اور چیز سے نشہ ہو۔
اور چوتھی حد ہے: حدِ قذف بھئی، کسی پر زنا کی تہمت لگائی تو اس کو بھی اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور عِنْدَ الْأَحْنَافِ اس کی آئندہ کبھی گواہی قبول نہیں کی جائے گی کیونکہ قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ کہ ان کی کبھی بھی گواہی قبول نہ کرو، عِنْدَ الْأَحْنَافِ یہ بھی حد کا حصہ ہے بھئی۔
اور پانچویں حد ہے: حدِ سرقہ بھئی، چوری کی حد کہ چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے بھئی۔
اور چھٹی حد جو ہے: حدِ قطعِ طریق ہے۔ حدِ قطعِ طریق، قَطْعٌ کا معنی ہے کاٹنا، طَرِيقٌ راستے کو کہتے ہیں، قطعِ طریق راستہ کاٹنا، مراد ڈاکہ ہے بھئی۔ تو ڈاکے کی سزا یہ ہے کہ ڈاکہ ڈالنے والے کا ایک ہاتھ کاٹا جاتا ہے اور اس کے دوسری جانب کا پاؤں کاٹا جاتا ہے، تو ایک ہی جانب کے ہاتھ اور پاؤں نہیں کاٹے جاتے ورنہ تو اس شخص کے لیے چلنا ہی ناممکن ہو جائے گا۔ ایک طرف کا پاؤں کٹا ہے تو اس طرف کا ہاتھ تو سلامت ہوگا تو اس طرف لاٹھی پکڑ کر چل لے گا لیکن اگر اسی طرف کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جائے پھر تو یہ اس طرف لاٹھی بھی پکڑ کر نہیں چل سکتا بھئی۔
تو یہ کل چھ حدود ہیں: حدِ زنا، حدِ شربِ خمر، حدِ سکر من غیر الخمر، حدِ قذف اور حدِ سرقہ اور حدِ قطعِ طریق بھئی۔ تو یہ چھ حدود ہیں یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہیں جبکہ ان کے علاوہ باقی جو سزائیں ہیں وہ تعزیر کہلاتی ہیں بھئی۔
یاد رکھو یہ حدود جمع ہے حد کی، كِتَابُ الْحُدُودِ بھئی، یہ حدود جمع ہے حد کی اور عربی زبان میں حد کا معنی ہے روکنا، منع کرنا۔ صاحب ہدایہ بھی آپ کو بتلائیں گے بھئی، حد کا معنی ہے روکنا اور منع کرنا۔ چنانچہ کہتے ہیں جب کوئی شخص کسی چیز کو روکے تو عربی میں کہتے ہیں: ”حَدَدْتُ الشَّيْءَ“ میں نے اس چیز کو روک دیا۔ اسی طرح زمین کی ملکیت کو بھی حدود کہتے ہیں، کسی شخص کی زمین ہوتی ہے وہ اس کی حدود بیان کرتا ہے کہ یہاں سے یہاں تک ہے بھئی، تو یہ زمین کے حدود کو بھی حدود اس لیے کہتے ہیں کہ یہ مانع ہوتی ہیں دخولِ غیر سے، وہ حد مانع ہوتی ہے دخولِ غیر سے، یا اس لیے ان کو حدود کہتے ہیں کہ یہ مانع ہوتی ہیں دو ملکیتوں کے آپس میں ملنے سے۔ دو ملکیتوں کے آپس میں ملنے سے یہ مانع ہوتی ہیں، ایک شخص کی زمین کی ایک حد ہے اس سے آگے دوسرے کی زمین شروع ہو رہی ہے تو یہ جو حد ہے یہ روک رہی ہے دونوں کی زمینوں کو آپس میں ملنے سے۔ تو حد کا معنی ہے روکنا بھئی، روکنا بھئی۔
اور یہ شرعی حدود کو شرعی حدود کیوں کہتے ہیں؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ حدود بھی مانع ہیں مجرم کے لیے بھی اور لوگوں کے لیے بھی، یہ شرعی حدود مانع ہیں مجرم کے لیے بھی اور لوگوں کے لیے بھی، بطورِ عبرت یہ مانع بن جائے گی اور لوگ اس سزا کے خوف سے وہ جرم نہیں کریں گے۔ تو شرعی حدود ان جرائم سے لوگوں کو روکنے والی ہیں اس لیے ان کو حدود کہا جاتا ہے۔
اور یاد رکھو صاحب ہدایہ حد کی تعریف کریں گے، حد کسے کہتے ہیں؟ اور آپ کو بتلائیں گے: ”هُوَ الْعُقُوبَةُ الْمُقَدَّرَةُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى“ کہ حد وہ سزا ہے جو بطورِ اللہ کے حق کے مقرر ہو، حد وہ سزا ہے هُوَ الْعُقُوبَةُ، عقوبت سزا کو کہتے ہیں، کہ حد وہ سزا ہے الْمُقَدَّرَةُ جو مقرر ہو حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى اللہ کے حق کے طور پر۔ تو حد کے اندر دو چیزیں ہوتی ہیں: ایک تو یہ کہ اس کی مقدار مقرر ہے اللہ کی طرف سے اور دوسرا یہ کہ یہ اللہ کا حق ہے یہ بندوں کا حق نہیں ہے بھئی۔ تو دو چیزیں ہیں حد کے اندر: ایک تو یہ کہ یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے تو لہٰذا حد میں کسی قسم کی کمی بیشی نہیں ہو سکتی، قاضی یا حاکم کے لیے بھی کسی قسم کی اس میں کمی کرنا حرام ہے کیونکہ یہ اللہ کی طرف سے مقرر ہے بھئی۔ اور نیز دوسری بات یہ ذکر ہوئی تعریف کے اندر کہ یہ اللہ کا حق ہے بھئی، تو معلوم ہوا حد جو ہے یہ حق اللہ ہے اس لیے حدود میں سفارش بھی جائز نہیں ہے بھئی، حتیٰ کہ خود صاحبِ حق بھی حد معاف نہیں کر سکتا جب حاکم تک بات پہنچ جائے۔ جب حاکم تک بات پہنچ جائے تو پھر حد کے اندر کوئی سفارش نہیں کی جا سکتی، حتیٰ کہ صاحبِ حق بھی معاف نہیں کر سکتا۔ مثلاً ایک شخص نے چوری کی اور وہ مالک نے بعد میں اس کو پکڑ لیا بھئی اور اس نے بھی چوری کا اقرار کر لیا اور پھر یہ مسئلہ قاضی کے پاس پہنچ گیا، قاضی کے پاس لے گئے اس کو، تو قاضی نے جب چوری ثابت ہو گئی گواہ آ گئے تو پھر قاضی نے اس کے ہاتھ کاٹنے کا فیصلہ کر دیا۔ اب وہ جو مالک تھا اس کو ترس آنے لگا کہ اب اس بیچارے کا ہاتھ کاٹا جائے گا تو وہ اب قاضی سے سفارش کرتا ہے کہ آپ اس کی سزا میں کمی کر دیں، تو یاد رکھو کوئی اب اس کی سزا میں کمی نہیں کر سکتا، یا وہ شخص کہتا ہے کہ قاضی صاحب بس میں اس کو معاف کرتا ہوں آپ اس کو معاف کر دیں، تو نہیں یاد رکھو یہ اب اس کو کوئی معاف نہیں کر سکتا یہ اللہ کا حق ہے۔ تو قاضی اس سے کہے گا کہ بھئی اگر آپ نے معاف کرنا تھا تو میرے پاس معاملہ لانے سے پہلے ہی اس کو وہیں معاف کر دیتے، اب جب میرے پاس معاملہ آ گیا ہے اب میرا بھی کوئی اختیار نہیں ہے، مجھے یہ سزا نافذ کرنا پڑے گی کیونکہ یہ اللہ کا حق ہے، اللہ کی طرف سے مقرر ہے، میں اس میں نہ کمی بیشی کر سکتا ہوں اور نہ اس کو معاف کر سکتا ہوں۔
اور یہ بھی یاد رکھنا، یہ بھی یاد رکھنا کہ حد کا معاملہ نہایت نازک ہے، حد انتہا درجے کی سزائیں ہیں بھئی، بے انتہا سخت سزائیں ہیں، دیکھو چوری کرنے والے کا ہاتھ کاٹ دیا جاتا ہے، زنا کرنے والا اگر شادی شدہ ہے اس کو رجم کر دیا جاتا ہے، ڈاکو ہے تو اس کا ایک ہاتھ اور ایک پاؤں کاٹ دیا جاتا ہے، تو یہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں لہٰذا معمولی شبہے سے بھی حد ساقط ہو جائے گی۔ ادنیٰ شبہ بھی آ گیا حد کے اندر تو حد ساقط ہو جائے گی بھئی، بخلاف تعزیر کے کہ وہ شبہے کی وجہ سے ساقط نہیں ہوتی بھئی۔ تو حد جو ہے ادنیٰ شبہے سے بھی ساقط ہو جاتی ہے، چنانچہ علماء فرماتے ہیں: ”الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ“، الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ، اِنْدَرَأَ يَنْدَرِئُ کے معنی ہیں مٹ جانا، ختم ہو جانا، ”الْحُدُودُ تَنْدَرِئُ بِالشُّبُهَاتِ“ کہ حدود جو ہیں وہ شبہوں کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہیں، ختم ہو جاتی ہیں، تو ذرا بھی شبہ آ گیا تو حد ساقط ہو جائے گی بھئی۔
اور پھر اس میں یہ بھی یاد رکھیں کہ حد چونکہ انتہا درجے کی سزائیں ہیں تو تعزیر جو ہے، تعزیر جو ہے وہ حد سے کم ہونی چاہیے، تعزیر حد کے برابر یا حد سے زیادہ نہیں بلکہ حد سے کم ہونی چاہیے، اور حد تو کم سے کم چالیس کوڑے ہیں جیسے حدِ شربِ خمر بھئی۔ میں نے آپ کو بتلایا کہ بعض روایات میں آتا ہے کہ ابتداء میں حدِ خمر چالیس کوڑے تھی، یا اسی طرح غلام کو جو حدِ شربِ خمر لگائی جائے گی وہ نصف ہوگی تو وہ بھی چالیس کوڑے ہے، تو تعزیر کو حد سے کم ہونا چاہیے لہٰذا تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہو سکتی ہے، حد سے کم از کم ایک کوڑا ضرور کم ہوگا بھئی، تو تعزیر زیادہ سے زیادہ انتالیس کوڑے ہونی چاہیے بھئی۔
البتہ بعض اوقات عام سزاؤں سے لوگ نہیں رکتے، عام سزاؤں سے لوگ نہیں رکتے تو پھر سیاسۃً تعزیر بالقتل بھی جائز ہے کہ قاضی قتل کی سزا دے دے۔ تو بعض اوقات لوگ ایک جرم سے باز نہیں آتے سزا معمولی ہونے کی وجہ سے تو قاضی سیاسۃً تعزیر بالقتل بھی کر سکتا ہے۔ مثلاً ملاوٹ کی سزا معمولی سی ہے، اب اس علاقے کے لوگ ملاوٹ سے باز ہی نہیں آ رہے، بہت سمجھایا لیکن کسی طرح وہ ملاوٹ سے نہیں رکتے، تو قاضی کے لیے جائز ہے دو تین آدمیوں کو قتل کروا دے۔ تو جب دو تین کو قتل کی سزا ملے گی تو سارے لوگ خوف کی وجہ سے رک جائیں گے بھئی، تو یہ سیاسۃً ہے بھئی، تو سیاسۃً تعزیر بالقتل بھی جائز ہے بھئی۔
اب دیکھیے بھئی کتاب پر: كِتَابُ الْحُدُودِ، یہ حدود کی کتاب ہے۔ قَالَ: الْحَدُّ لُغَةً: هُوَ الْمَنْعُ، قَالَ اس قال سے مراد صاحب ہدایہ ہیں بھئی۔ قَالَ: الْحَدُّ لُغَةً: هُوَ الْمَنْعُ، صاحب ہدایہ فرماتے ہیں کہ حد جو ہے عربی زبان کے اعتبار سے اس کا معنی منع کرنا ہے، وَمِنْهُ الْحَدَّادُ لِلْبَوَّابِ، اور اسی سے حداد بھی ہے بواب کے لیے، بواب جو ہے دربان بھئی، وہ شخص جو دروازے پر کھڑا ہوتا ہے دربان ہے چوکیدار ہے اور اس کی اجازت کے بغیر کوئی اندر نہیں آ سکتا، تو اس دربان کو بھی حداد کہتے ہیں، حداد کہتے ہیں کیونکہ یہ بھی لوگوں کو اندر آنے سے منع کرتا ہے۔ تو کہتے ہیں: وَمِنْهُ الْحَدَّادُ لِلْبَوَّابِ اور اسی سے بواب کے لیے حداد کا نام ہے، وَفِي الشَّرِيعَةِ: هُوَ الْعُقُوبَةُ الْمُقَدَّرَةُ حَقًّا لِلَّهِ تَعَالَى اور شریعت کے اندر حد جو ہے وہ سزا ہے جو بطورِ اللہ کے حق کے مقرر ہو، حَتَّى لَا يُسَمَّى الْقِصَاصُ حَدًّا یہاں تک کہ قصاص کو حد نہیں کہتے لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ اس لیے کیونکہ قصاص جو ہے وہ بندے کا حق ہے۔ بھئی میں نے بتلایا دونوں چیزوں کا ہونا ضروری ہے: ایک تو یہ کہ اللہ کا حق ہو اور دوسرا یہ کہ وہ مقرر ہو، تو لہٰذا قصاص نکل گیا کیونکہ قصاص جو ہے وہ اللہ کا حق نہیں ہے بلکہ وہ بندے کا حق ہے، چنانچہ اسی لیے مقتول کے اولیاء قاتل کو معاف بھی کر سکتے ہیں اور مقتول کے اولیاء قصاص کے بجائے مال بھی لے سکتے ہیں صلح کر کے، تو معلوم ہوا قصاص حق العبد ہے بھئی تو قصاص حد کی تعریف سے نکل گیا، اور اسی طرح تعزیر بھی نکل گئی، تعزیر اس لیے کیونکہ تعزیر قاضی کی صوابدید پر ہے اس کی کوئی مقدار مقرر نہیں ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: حَتَّى لَا يُسَمَّى الْقِصَاصُ حَدًّا لِأَنَّهُ حَقُّ الْعَبْدِ، وَلَا التَّعْزِيرُ لِعَدَمِ التَّقْدِيرِ، اور تعزیر کو بھی حد نہیں کہتے مقرر نہ ہونے کی وجہ سے۔
وَالْمَقْصَدُ الْأَصْلِيُّ مِنْ شَرْعِهِ الْاِنْزِجَارُ عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ، انزجار بھئی، اِنْزَجَرَ يَنْزَجِرُ اِنْزِجَارٌ کا معنی ہے رکنا، باز آنا، یہ باب انفعال ہے زجر سے، زجر سے باب انفعال ہے اور باب انفعال لازمی ہوتا ہے تو انزجار کا یہ معنی نہیں دوسرے کو روکنا بلکہ انزجار کا معنی ہے خود رکنا اور باز آ جانا۔ اب اس کا مقصد کیا ہے ان حدود کا؟ میں نے بتلا دیا تاکہ مجرم اور لوگ جو ہیں وہ ان جرائم سے باز آ جائیں۔ کہتے ہیں: وَالْمَقْصَدُ الْأَصْلِيُّ مِنْ شَرْعِهِ الْاِنْزِجَارُ عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ اور اصلی مقصد جو ہے ان حدود کی مشروعیت سے الْاِنْزِجَارُ وہ باز آنا ہے، وہ رکنا ہے عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ اس چیز سے جس سے لوگوں کو نقصان ہوتا ہے، الْاِنْزِجَارُ عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ باز آنا اس چیز سے جس سے لوگوں کو نقصان ہوتا ہے، چاہے لوگوں کی جان کا نقصان ہو چاہے مال کا نقصان ہو چاہے عزت کا نقصان ہو، ان تمام افعال سے رکنا جس سے لوگوں کو جانی، مالی یا عزت کا نقصان پہنچ رہا ہو بھئی۔ جیسے دیکھو مثلاً حدِ زنا کی وجہ سے جان کی حفاظت ہوگی، عورتوں کی جان کی حفاظت ہوگی، یا اسی طرح حدِ قذف جو ہے کسی پر زنا کی تہمت لگانا تو حدِ قذف کی وجہ سے لوگوں کی عزت کی حفاظت ہوگی کوئی کسی پر زنا کا الزام نہیں لگا سکے گا بھئی کہ کہیں مجھ پر حدِ قذف نہ جاری ہو جائے بھئی، اور اسی طرح حدِ سرقہ ہے چوری کی حد ہے اس کی وجہ سے لوگوں کے مال کی حفاظت ہوگی بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْمَقْصَدُ الْأَصْلِيُّ مِنْ شَرْعِهِ الْاِنْزِجَارُ عَمَّا يَتَضَرَّرُ بِهِ الْعِبَادُ اور اس حد کی مشروعیت کا اصلی مقصد جو ہے وہ رکنا ہے اس فعل سے جس سے لوگوں کو نقصان ہوتا ہو، وَالطَّهَارَةُ لَيْسَتْ أَصْلِيَّةً فِيهِ بِدَلِيلِ شَرْعِهِ فِي حَقِّ الْكَافِرِ۔
بھئی صاحب ہدایہ نے آپ کو بتلا دیا کہ یہ حدود کی مشروعیت کا اصلی مقصد یہ ہے کہ جرم کرنے والا اور باقی لوگ جو ہیں وہ اس قسم کے افعال سے باز آ جائیں، مجرم کو جب ایک دفعہ سزا مل گئی وہ دوبارہ ایسا نہیں کرے گا اور نیز لوگ اس کی حالت کو دیکھ کر عبرت پکڑیں گے اور کوئی اور بھی یہ جرم نہیں کرے گا تو یہ ہے حدود کا مقصدِ اصلی۔ جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ حدود کا مقصد یہ ہے کہ وہ آدمی اس گناہ سے پاک ہو جائے، اس شخص نے ایک بڑا گناہ کیا ہے لہٰذا اس پر جب حد جاری ہوگی تو اس کا گناہ معاف ہو جائے گا آخرت میں اب اس کا مواخذہ نہیں ہوگا کیونکہ اس کو اس کے جرم کی سزا مل چکی ہے بھئی۔ لیکن صاحب ہدایہ فرما رہے ہیں کہ نہیں، یہاں حدود کے اندر طہارت اصل نہیں ہے یعنی مقصدِ اصلی طہارت نہیں ہے بلکہ مقصدِ اصلی اس مجرم کو اور لوگوں کو جرم سے روکنا ہے بھئی، تو مقصدِ اصلی جو ہے وہ گناہ سے پاکی نہیں ہے۔ اور دلیل اس کی ذکر کریں گے صاحب ہدایہ کہ وجہ یہ کہ یہ حدود کافر کے حق میں بھی مشروع ہیں، کافر بھی یہ جرم کرے گا تو اس پر بھی یہ حد جاری ہوگی اور کافر کے بارے میں تو یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اس کا گناہ معاف ہو گیا کیونکہ کافر تو اپنے کفر میں ڈوبا ہوا ہے، اس کا کفر اس کے ساتھ جڑا ہوا ہے تو حد اس کے لیے کیسے گناہ کو ختم کرنے والی ہو سکتی ہے؟ تو کافر کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ حد جاری ہونے کی وجہ سے اس کا گناہ ختم ہو گیا۔ تو معلوم ہوا حد کے اندر مقصدِ اصلی وہ لوگوں کو گناہ سے روکنا ہے، اصل مقصد گناہ سے پاک کرنا نہیں ہے۔ ہاں البتہ اگر اس جرم کرنے والے نے جس پر حد جاری ہو رہی ہے اس نے سچی توبہ کر لی ہے تو پھر اس صورت میں یہ حد اس کو گناہ سے پاک کرنے والی ہے، اس حد کی وجہ سے اس کا یہ جرم مٹ گیا ختم ہو گیا، اس حد کے جاری ہونے کی وجہ سے اس کا یہ جرم مٹ گیا اور ختم ہو گیا بھئی، اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو پھر اس صورت میں یہ حد اس کو گناہ سے پاک کرنے والی نہیں ہے بھئی۔
تو صاحب ہدایہ فرماتے ہیں: وَالطَّهَارَةُ لَيْسَتْ أَصْلِيَّةً فِيهِ اور طہارت یعنی گناہوں سے پاکی جو ہے وہ حد کے اندر اصل نہیں ہے بِدَلِيلِ شَرْعِهِ فِي حَقِّ الْكَافِرِ اس دلیل سے کہ یہ کافر کے حق میں بھی مشروع ہے، یہ حد جو ہے کافر کے حق میں بھی مشروع ہے کافر کو بھی یہی سزا دی جاتی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ حد کے اندر طہارت اصل نہیں ہے اس کی وجہ سے گناہ معاف نہیں ہوگا الا یہ کہ وہ شخص توبہ کر لے، تو توبہ کر لے اور حد جاری ہو جائے تو پھر اس کا گناہ معاف ہو گیا اور اگر وہ توبہ نہیں کرتا تو اس کا گناہ معاف نہیں ہے تو پھر یہ حد اس کے لیے طہارت نہیں بنے گی اس گناہ سے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَالطَّهَارَةُ لَيْسَتْ أَصْلِيَّةً فِيهِ بِدَلِيلِ شَرْعِهِ فِي حَقِّ الْكَافِرِ اس دلیل سے کہ کافر کے حق میں بھی یہ حد مشروع ہے۔
آگے دیکھیے: قَالَ: الزِّنَا يَثْبُتُ بِالْبَيِّنَةِ وَالْإِقْرَارِ۔ تو اب حدود میں سے سب سے پہلے زنا اور اس کی حد بیان کرنے لگے ہیں صاحب ہدایہ بھئی۔ قَالَ یہ قال سے مراد صاحب قدوری ہیں بھئی۔ قَالَ صاحب قدوری فرماتے ہیں: الزِّنَا يَثْبُتُ بِالْبَيِّنَةِ وَالْإِقْرَارِ کہ زنا ثابت ہو جاتا ہے بینہ اور اقرار کے ذریعے، زنا ثابت ہو جاتا ہے بینہ اور اقرار کے ذریعے۔ مثلاً چار گواہ قاضی کے پاس آ گئے اور آ کر انہوں نے گواہی دے دی کہ فلاں شخص نے زنا کیا ہے تو دیکھو یہ بینہ یعنی گواہی کے ذریعے زنا ثابت ہو گیا اب اس شخص پر حدِ زنا جاری کی جائے گی، یا وہ شخص خود آ کر اقرار کر لیتا ہے کہ میں نے یہ گناہ کیا ہے مجھ پر حد جاری کر دی جائے تو معلوم ہوا زنا جو ہے وہ دو طریقوں سے ثابت ہوتا ہے: یا گواہوں کے ذریعے یعنی بینہ کے ذریعے اور یا اس شخص کے اقرار کے ذریعے۔
آگے دیکھیے: فَالْبَيِّنَةُ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ شُهُودٍ، پس بینہ یہ ہے کہ اس شخص پر چار گواہ گواہی دیں، زنا کے اندر چار گواہوں کا ہونا ضروری ہے، باقی تمام معاملات میں دو گواہ کافی ہوتے ہیں لیکن زنا چونکہ بڑی سنگین بات ہے اور اس کی سزا بھی بڑی سنگین ہے تو شریعت نے یہاں چار گواہوں کو شرط قرار دیا ہے۔ تو کہتے ہیں: فَالْبَيِّنَةُ أَنْ يَشْهَدَ عَلَيْهِ أَرْبَعَةُ شُهُودٍ، پس بینہ یہ ہے کہ اس پر چار گواہ گواہی دیں عُدُولٌ جو قابلِ اعتماد ہوں، عادل ہوں، رِجَالٌ مرد ہوں، عورتیں نہ ہوں بھئی، زنا کی گواہی کے اندر عورتوں کی گواہی قبول نہیں، چاروں کے چاروں مرد ہونے چاہئیں، يُعَايِنُونَ ذَلِكَ مِنْهُ اس حال میں کہ وہ اس فعل کا اس سے مشاہدہ کر رہے ہوں، معاینہ انہوں نے کیا ہو یعنی دیکھا ہو، یہ نہ ہو کہ انہوں نے دونوں کو ایک لحاف میں یا ایک چارپائی پر دیکھا ہو، نہیں بلکہ باقاعدہ اس فعل کا انہوں نے مشاہدہ کیا ہو تب ان کی گواہی قبول ہوگی، فَيَشْهَدُونَ عَلَيْهِ بِالزِّنَا پس وہ اس پر زنا کی گواہی دیں، يُعَايِنُونَ ذَلِكَ مِنْهُ اس حال میں کہ وہ اس سے اس فعل کا مشاہدہ کر رہے ہوں فَيَشْهَدُونَ عَلَيْهِ بِالزِّنَا پس وہ اس پر زنا کی گواہی دیں فَيَصِفُونَهُ تو وہ اس کی صفت بیان کریں، قاضی ان سے پوچھے گا کہ زنا کس طرح کیا اس نے؟ تو وہ اس فعل کی کیفیت بیان کریں گے کیونکہ ہو سکتا ہے ان کو غلط فہمی ہوئی ہو اور وہ کسی اور چیز کو زنا سمجھ بیٹھے ہوں، تو قاضی ان سے زنا کی صفت اور کیفیت پوچھے گا، فَيَصِفُونَهُ پس وہ اس زنا کی کیفیت بیان کریں گے، وَيَقُولُونَ: رَأَيْنَا فَرْجَهُ فِي فَرْجِهَا اور وہ کہیں گے کہ ہم نے اس مرد کے عضو کو اس عورت کے عضو کے اندر دیکھا ہے کَالْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ جیسے سرمہ دانی کے اندر سلائی ہوتی ہے، کالمِیل، میل سلائی کو کہتے ہیں بھئی، سرمہ لگانے والی سلائی، کالمِیل سلائی کی طرح فی المکحلہ سرمہ دانی میں، تو جب وہ اس طرح صراحت کریں گے اور چاروں کے چاروں اس طرح گواہی دیں گے تو اب اس پر حدِ زنا جاری ہوگی بھئی۔
وَالْإِقْرَارُ أَنْ يُقِرَّ بِالزِّنَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي أَرْبَعَةِ مَجَالِسَ، اور اقرار یہ ہے کہ وہ شخص زنا کا اقرار کرے چار مرتبہ چار مجلسوں میں، یہ نہیں کہ ایک ہی مجلس میں اس نے چار دفعہ اقرار کر لیا، نہیں، چار الگ الگ مجلسوں میں وہ چار مرتبہ اقرار کرے گا تو تب اس کے اقرار سے زنا ثابت ہوگا بھئی، کُلَّمَا أَقَرَّ طَرَدَهُ الْحَاكِمُ جب بھی وہ اقرار کرے گا حاکم اس کو ڈانٹ کر بھگا دے گا، طرد کا معنی ہے ہانکنا، بھگانا، حاکم اس کو ڈانٹ دے گا کہ جاؤ یہاں سے، تم پاگل تو نہیں ہو گئے، تم نے کوئی اور فعل کیا ہوگا تم اس کو زنا سمجھ رہے ہو، اس طرح حاکم اس کو ڈانٹے گا تاکہ وہ اقرار سے باز آ جائے بھئی، کیونکہ حدود کے اندر پردہ پوشی مطلوب ہے بھئی، تو حاکم اس کو ڈانٹے گا کُلَّمَا أَقَرَّ طَرَدَهُ الْحَاكِمُ، فَقَالَ لَهُ الْحَاكِمُ فِي الرَّابِعَةِ: پس جب وہ چوتھی مجلس میں چوتھی مرتبہ اقرار کرے گا تو حاکم اس سے پوچھے گا: مَا الزِّنَا؟ زنا کیا ہے؟ وَكَيْفَ هُوَ؟ اور وہ کس طرح کا ہوتا ہے؟ وَأَيْنَ زَنَى؟ اور اس نے کہاں زنا کیا؟ وَبِمَنْ زَنَى؟ اور کس عورت کے ساتھ زنا کیا؟ یہ چار سوالات حاکم اس سے کرے گا تاکہ زنا پوری طرح واضح ہو جائے اور کسی قسم کا کوئی شبہ باقی نہ رہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔
وہ بینہ اور اقرار سے ثابت ہو جاتا ہے بھئی۔ تو قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: اَلزِّنَا يَثْبُتُ بِالْبَيِّنَةِ وَالْإِقْرَارِ کہ زنا ثابت ہو جاتا ہے بینہ اور اقرار کے ذریعے، وَالْمُرَادُ ثُبُوتُهُ عِنْدَ الْإِمَامِ، صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں: وَالْمُرَادُ کہ صاحبِ قدوری کی مراد یہ ہے ثُبُوتُهُ عِنْدَ الْإِمَامِ یعنی زنا کا ثبوت جو ہے امام یعنی حاکم کے پاس ہو جاتا ہے بینہ اور اقرار سے۔
متن میں تو کیا آیا؟ اَلزِّنَا يَثْبُتُ بِالْبَيِّنَةِ وَالْإِقْرَارِ زنا ثابت ہو جاتا ہے بینہ اور اقرار سے، کہتے ہیں اس کا یہ معنی نہیں ہے کہ زنا کا وجود آ جاتا ہے بینہ اور اقرار کی وجہ سے، وجود تو وہ زانی اور مزنیہ کا جو فعل تھا اس کی وجہ سے زنا تو ثابت ہو چکا ہے، البتہ قاضی کے پاس بینہ اور اقرار کے ذریعے ثابت ہو جاتا ہے۔ توجہ ہے؟ تو ثابت ہونے سے زنا کا وجود نہیں مراد کہ بینہ اور اقرار سے زنا کا وجود ہو جائے گا، نہیں بھئی وجود تو وہ زانی اور مزنیہ کا فعل تھا بھئی، وہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے، تو پھر ثابت ہونے سے کیا مراد ہے؟ کہ زنا بینہ اور اقرار سے ثابت ہوتا ہے حاکم کے پاس، قاضی کے پاس بھئی۔
وَالْمُرَادُ ثُبُوتُهُ عِنْدَ الْإِمَامِ اور صاحبِ قدوری کی جو مراد ہے وہ زنا کا امام کے پاس ثابت ہونا ہے، لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ دَلِيلٌ ظَاهِرٌ اس لیے کیونکہ بینہ جو ہے وہ ظاہری دلیل ہے، بینہ کیا ہے؟ ظاہری دلیل ہے، قرآن میں اللہ فرماتے ہیں آگے صاحبِ ہدایہ بھی ذکر کریں گے: ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾ تو ان پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔ تو بینہ جو ہے لِأَنَّ الْبَيِّنَةَ دَلِيلٌ ظَاهِرٌ اس لیے کیونکہ بینہ جو ہے وہ ظاہری دلیل ہے، وَكَذَا الْإِقْرَارُ اور اسی طرح اقرار بھی دلیل ہے بھئی، لِأَنَّ الصِّدْقَ فِيهِ مُرَجَّحٌ، بھئی میری کتاب میں ہے مُرَجِّحٌ بھئی ج کے نیچے زیر ہے، یہ کتابت کی غلطی ہے بھئی، یہ مُرَجَّحٌ ہونا چاہیے لفظ بھئی اسمِ مفعول، لِأَنَّ الصِّدْقَ فِيهِ مُرَجَّحٌ اس لیے کیونکہ سچ جو ہے اقرار کے اندر راجح ہے۔
بھئی ایک آدمی قاضی کے پاس آ کر اقرار کرتا ہے کہ میں نے زنا کیا ہے مجھ پر حد جاری کر دی جائے، تو اس کے اقرار میں سچ کا بھی احتمال ہے، جھوٹ کا بھی احتمال ہے، لیکن سچ جو ہے راجح ہے بھئی یہاں پر، سچ کو ترجیح ہے، خاص طور پر جب ایک ایسا معاملہ ہے جس میں اس آدمی کو بدنی نقصان بھی ہو گا اور اس کی عزت کو بھی نقصان ہو گا۔ بدنی نقصان ہو گا اس پر سزا جاری ہو گی، اور عزت کا بھی نقصان ہو گا کہ لوگوں کے اندر بھی اس کی عزت خراب ہو گی کہ اس نے یہ جرم کیا ہے بھئی۔ تو اقرار کے اندر دونوں احتمال ہیں سچ کا بھی اور جھوٹ کا بھی، لیکن سچ راجح ہے جھوٹ کے مقابلے میں۔
تو کہتے ہیں: وَكَذَا الْإِقْرَارُ اور اسی طرح اقرار جو ہے وہ بھی ظاہری دلیل ہے لِأَنَّ الصِّدْقَ فِيهِ مُرَجَّحٌ اس لیے کیونکہ اقرار کے اندر سچ جو ہے وہ راجح ہے، لَا سِيَّمَا فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِثُبُوتِهِ مَضَرَّةٌ وَمَعَرَّةٌ، مَضَرَّةٌ ضاد کے ساتھ ہے بھئی، مَضَرَّةٌ کہتے ہیں نقصان اور تکلیف کو، ضرر سے ہے، ضرر۔ مَضَرَّةٌ کا کیا معنی؟ نقصان اور تکلیف۔ اور مَعَرَّةٌ، مَعَرَّةٌ بھی تکلیف کو کہتے ہیں اور اسی طرح عیب کو بھی کہتے ہیں، تو مَضَرَّةٌ کا معنی تکلیف کے کر لیں اور مَعَرَّةٌ کا معنی عیب کے کر لیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: لَا سِيَّمَا فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِثُبُوتِهِ مَضَرَّةٌ وَمَعَرَّةٌ خاص طور پر اس چیز کے اندر کہ جس کے ثابت ہونے کے ساتھ بدنی نقصان اور عزت میں عیب ثابت ہو، خاص طور پر ایسی چیز میں کہ اس چیز کے ثابت ہونے سے بدنی نقصان ہوتا ہو اور عزت میں بھی عیب لگتا ہو، تو خاص طور پر ایسے مقام پر اقرار کے اندر سچ راجح ہے بھئی۔
پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: لَا سِيَّمَا فِيمَا يَتَعَلَّقُ بِثُبُوتِهِ مَضَرَّةٌ وَمَعَرَّةٌ، لَا سِيَّمَا خاص طور پر فِيمَا ایسی چیز کے اندر يَتَعَلَّقُ بِثُبُوتِهِ کہ اس کے ثابت ہونے کے ساتھ متعلق ہو، کیا متعلق ہو؟ مَضَرَّةٌ وَمَعَرَّةٌ تکلیف اور عیب بھئی۔
وَالْوُصُولُ إِلَى الْعِلْمِ الْقَطْعِيِّ مُتَعَذِّرٌ اور پہنچنا إِلَى الْعِلْمِ الْقَطْعِيِّ قطعی علم تک مُتَعَذِّرٌ وہ تو متعذر ہے ممکن نہیں ہے۔ بھئی زنا حقیقت میں زانی اور مزنیہ نے کیا ہے یا نہیں کیا، حقیقتِ علم تک پہنچنا ممکن نہیں ہے کیونکہ زنا چھپا کر کیا جاتا ہے، تو لہذا ظاہری دلیل پر ہی اکتفاء کرنا پڑے گا اور ظاہری دلیل جو ہے وہ گواہ ہیں یا اس آدمی کا اقرار ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَالْوُصُولُ إِلَى الْعِلْمِ الْقَطْعِيِّ مُتَعَذِّرٌ اور قطعی علم تک پہنچنا ممکن نہیں ہے فَيُكْتَفَى بِالظَّاهِرِ تو ظاہر پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا یعنی بینہ یا اقرار پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا۔
قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَالْبَيِّنَةُ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَةٌ مِنَ الشُّهُودِ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ بِالزِّنَا، اب بینہ کا بیان شروع ہوا، یاد رکھو یاد رکھو زنا کے معاملے میں چار گواہ ہونے چاہئیں۔ چار گواہ۔ ایک اور قیمتی بات بھی یاد رکھنا، یاد رکھو میں نے آپ کو بتلایا حدود کا معاملہ بڑا نازک ہے، ادنیٰ شبہے سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے، تو یاد رکھنا حدود کے مسئلے میں عورتوں کی گواہی سرے سے قبول ہی نہیں ہے، حدود کے اندر صرف عادل مردوں کی گواہی ہی قبول کی جائے گی، حدود کے مسئلے میں صرف مردوں کی گواہی قبول کی جائے گی۔
قَالَ، صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَالْبَيِّنَةُ أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَةٌ مِنَ الشُّهُودِ عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ بِالزِّنَا کہ بینہ وہ یہ ہے أَنْ تَشْهَدَ أَرْبَعَةٌ مِنَ الشُّهُودِ کہ چار گواہ جو ہیں وہ گواہی دیں عَلَى رَجُلٍ وَامْرَأَةٍ کسی مرد اور عورت پر بِالزِّنَا زنا کی۔ زنا کے باب میں بینہ یہ ہے کہ چار مرد جو ہیں وہ گواہی دیں کسی مرد اور عورت پر زنا کی۔ اور دلیل کیا ہے؟ کہتے ہیں: لِقَوْلِهِ تَعَالَى اللہ تعالیٰ کے اس قول کی وجہ سے: ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾، اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ اگر تمہاری عورتوں میں سے کوئی بدکاری کرے ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ﴾ تو تم ان پر گواہ بنا لو ﴿أَرْبَعَةً﴾ چار ﴿مِنْكُمْ﴾ اپنے میں سے۔ تم اپنے میں سے چار گواہ ان پر بنا لو، تو دیکھو چار گواہوں کا ذکر آیا ہے قرآن میں بھئی زنا کے مسئلے میں۔ تو کہتے ہیں قرآن میں اللہ فرماتے ہیں: ﴿فَاسْتَشْهِدُوا عَلَيْهِنَّ أَرْبَعَةً مِنْكُمْ﴾ کہ تم ان عورتوں پر اپنے میں سے چار گواہ بنا لو۔
وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى اور اللہ فرماتے ہیں قرآن میں: ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾، ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ پھر وہ چار گواہ نہ لے کر آئیں۔ بھئی دیکھیے یہ قرآن کے اندر اللہ تعالیٰ حدِ قذف کو بیان فرماتے ہیں: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ﴾ اور وہ لوگ جو پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ پھر وہ چار گواہ نہ لے کر آئیں ﴿فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً﴾ تو پھر ان کو اسی کوڑے لگاؤ ﴿وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا﴾ اور ان کی گواہی کبھی قبول نہ کرو ﴿وَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ﴾ اور یہی لوگ فاسق ہیں۔ تو دیکھو یہاں پر بھی چار گواہوں کو ذکر کیا ہے اللہ نے زنا کی تہمت کے معاملے میں، تو معلوم ہوا زنا کے اندر کم از کم کتنے گواہ چاہئیں؟ چار گواہ بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى اور اللہ قرآن میں فرماتے ہیں: ﴿ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ﴾ پھر وہ چار گواہ نہ لے کر آئیں۔
آگے دیکھیے: وَقَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِلَّذِي قَذَفَ امْرَأَتَهُ اور حضور علیہ السلام نے اس شخص سے فرمایا جس نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی تھی: ”ائْتِ بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ عَلَى صِدْقِ مَقَالَتِكَ“ ائْتِ بِأَرْبَعَةٍ کہ چار گواہ لے کر آؤ يَشْهَدُونَ عَلَى صِدْقِ مَقَالَتِكَ جو تمہاری بات کی سچائی پر گواہی دیں۔ ایک صحابی نے اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگایا بھئی، تو حضور علیہ السلام نے ان سے فرمایا: ائْتِ بِأَرْبَعَةٍ يَشْهَدُونَ عَلَى صِدْقِ مَقَالَتِكَ کہ چار گواہ لے کر آؤ جو تمہاری بات کی سچائی کی گواہی دیں ورنہ تم پر حد جاری ہو گی۔ تو دیکھو یہاں پر بھی چار گواہوں کا ذکر ہے حدیث کے اندر، معلوم ہوا زنا کے مسئلے میں کم از کم چار گواہ چاہئیں بھئی۔
آگے دیکھیے: وَلِأَنَّ فِي اشْتِرَاطِ الْأَرْبَعَةِ يَتَحَقَّقُ مَعْنَى السَّتْرِ اور نیز اس لیے کیونکہ چار کی شرط لگانے کے اندر ستر کا معنی پایا جائے گا، ستر کا معنی پایا جائے گا۔ بھئی اسلام جو ہے لوگوں کے عیب چھپانے کا حکم دیتا ہے، ان کو پھیلانے سے روکتا ہے، تو جب چار گواہوں کی شرط ہو گی تو اس کے اندر ستر کا معنی آ گیا کیونکہ چار گواہوں کا ہونا تو بڑا ہی مشکل کام ہے۔ تو کہتے ہیں: وَلِأَنَّ فِي اشْتِرَاطِ الْأَرْبَعَةِ يَتَحَقَّقُ مَعْنَى السَّتْرِ اور اس لیے کیونکہ چار کی شرط لگانے میں ستر کا یعنی چھپانے کا معنی پایا جائے گا، وَهُوَ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ اور چھپانا جو ہے وہ مندوب الیہ ہے یعنی اس کی دعوت دی گئی ہے وہ مستحب ہے، چھپانا مستحب ہے پسندیدہ ہے۔ کہتے ہیں: وَهُوَ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ اور وہ مندوب الیہ ہے کیونکہ کہتے ہیں حدیث میں آتا ہے کہ: ”مَنْ سَتَرَ عَلَيْهِمَا سَتَرَهُ اللَّهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ“ کہ جو ان پر پردہ ڈالے گا تو اللہ دنیا اور آخرت میں اس پر پردہ ڈالیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَهُوَ مَنْدُوبٌ إِلَيْهِ اور یہ مندوب الیہ ہے یعنی پسندیدہ ہے اس کی طرف دعوت دی گئی ہے، وَالْإِشَاعَةُ ضِدُّهُ اور اشاعت اس کی ضد ہے، پھیلانا۔ ایک ہے گناہ کا چھپانا اور ایک ہے گناہ کا پھیلانا، تو گناہ کا چھپانا مستحب ہے پسندیدہ ہے اور گناہ کا پھیلانا یہ اس کی ضد ہے تو یہ مذموم ہے بھئی ناپسندیدہ ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَالْإِشَاعَةُ ضِدُّهُ اور گناہ کو پھیلانا جو ہے ضدہ وہ اس ستر کی ضد ہے بھئی۔
بھئی دیکھیے یہاں پر آپ کے ذہنوں میں سوال پیدا ہو گا کہ زنا کے معاملے کے اندر تو اللہ نے چار گواہوں کا حکم دیا ہے لیکن قتل جو ہے، قتل، ایک مسلمان کو قتل کر دینا یہ تو زنا سے بھی بڑا جرم ہے، اس کے اندر تو چار گواہوں کی شرط نہیں ہے تو اس میں کیا نکتہ ہے؟ کیا حکمت ہے کہ قتل کے لیے دو گواہ ہی کافی ہیں لیکن زنا کے لیے چار گواہ چاہئیں؟ تو وجہ یہ علماء فرماتے ہیں کہ قتل ایسا فعل ہے جو ایک آدمی سے بھی ہو سکتا ہے، ایک آدمی بھی دوسرے کو قتل کر سکتا ہے، تو ایک کے فعل کے لیے دو گواہ کافی ہیں، جبکہ زنا جو ہے وہ مرد اور عورت کا فعل ہے، دو افراد کا فعل ہے، تو دونوں کی طرف سے دو دو گواہ چاہئیں اس لیے اس کے اندر چار گواہوں کا حکم دیا شریعت نے۔
آگے دیکھیے: کہتے ہیں: وَإِذَا شَهِدُوا يَسْأَلُهُمُ الْإِمَامُ عَنِ الزِّنَا مَا هُوَ وَكَيْفَ هُوَ وَأَيْنَ زَنَى وَمَتَى زَنَى وَبِمَنْ زَنَى۔ اب بھئی یاد رکھو جب گواہ زنا کے لیے آ گئے، وہ زنا پر گواہی دے رہے ہیں تو امام ان سے، حاکم اور قاضی ان سے پانچ سوال پوچھے گا بھئی۔ پوچھے گا: زنا کسے کہتے ہیں؟ یہ بھی معلوم ہے یا نہیں؟ اور پھر پوچھے گا: زنا کیسے کیا جاتا ہے؟ یہ بھی پوچھے گا، اور پھر پوچھے گا: اس نے کہاں زنا کیا؟ اور پھر پوچھے گا: کب زنا کیا ہے یعنی کتنا زمانہ گزر گیا ہے اس کے زنا کو؟ اور یہ بھی پوچھے گا: کس سے زنا کیا؟ تو پانچ سوال پوچھے گا قاضی ان سے۔
پہلا سوال کیا کہ زنا کسے کہتے ہیں؟ وجہ یہ کہ بہت سے لوگوں کو زنا کی حقیقت کا ہی نہیں پتہ ہوتا، وہ ہر حرام وطی کو زنا سمجھتے ہیں، وہ ہر حرام وطی کو زنا سمجھتے ہیں حالانکہ ہر حرام وطی تو زنا نہیں ہے، مثلاً بیوی کے ساتھ بیوی کے ساتھ حیض کے ایام میں وطی کرنا حرام ہے لیکن یہ زنا نہیں ہے، یہ زنا نہیں، تو حرام ہونا عام ہے، زنا بھی حرام وطی ہے لیکن اس کے علاوہ بھی حرام وطی ہو سکتی ہے، تو بعض لوگ ہر حرام وطی کو زنا سمجھتے ہیں تو اس لیے ان گواہوں سے پوچھا جائے گا کہ زنا کسے کہتے ہیں بھئی، کہ جانتے بھی ہو یا نہیں زنا کسے کہتے ہیں۔ اور پھر ان سے پوچھے گا کہ زنا کیسے کیا جاتا ہے؟ تو اس کے اندر بھی وہ بتلائیں گے کہ زنا کے اندر دخول کیا جاتا ہے، دخول کیا جاتا ہے، اس لیے کیونکہ میں نے بتایا لوگوں کو اس کی حقیقت کا ہی نہیں پتہ، بعض لوگ صرف دواعیِ جماع کو ہی زنا قرار دے دیتے ہیں، ایک شخص نے ایک عورت سے غلط تعلق قائم کیا تو اس نے دخول تو نہیں کیا لیکن اور افعال کیے تو اس کو بھی وہ زنا ہی سمجھتے ہیں۔ تو لہذا قاضی ان سے پوچھے گا یہ بتاؤ زنا کسے کہتے ہیں، وہ بتلائیں کہ زنا اسے کہتے ہیں کہ عورت کے اگلے مقام میں جماع کیا جائے ایسی عورت جس میں اس کی ملکیت نہیں ہے اور نہ کسی قسم کا شبہ ہے بھئی۔
یہ آپ کے حاشیے میں گزشتہ صفحے پر جہاں زنا کا ذکر آیا تھا وہاں زنا کی تعریف دی ہوئی ہے باقاعدہ بھئی کہ زنا جو ہے: اَلزِّنَا قَضَاءُ الْمُكَلَّفِ شَهْوَتَهُ فِي قُبُلِ امْرَأَةٍ خَالِيَةٍ عَنِ الْمِلْكَيْنِ وَشُبْهَتِهِمَا وَشُبْهَةِ الِاشْتِبَاهِ، کہ زنا جو ہے وہ مکلف کا، مکلف کسے کہتے ہیں؟ عاقل بالغ، ہر عاقل بالغ مکلف ہے، مکلف کا کیا معنی؟ ذمہ دار ہے، اس پر شرعی احکام لاگو ہوتے ہیں۔ تو زنا کہتے ہیں: اَلزِّنَا قَضَاءُ الْمُكَلَّفِ کہ کوئی عاقل بالغ پوری کرے شَهْوَتَهُ اپنی شہوت کو فِي قُبُلِ امْرَأَةٍ کسی عورت کے اگلے مقام میں خَالِيَةٍ عَنِ الْمِلْكَيْنِ جو دونوں قسم کی ملکیتوں سے خالی ہو یعنی نہ اس کی بیوی ہو اور نہ اس کی باندی ہو، دونوں طرح کی ملکیتوں سے خالی ہو، وَشُبْهَتِهِمَا اور نیز وہاں شبہِ ملکیت بھی نہ ہو، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے تو آپ پڑھ چکے ہیں وہاں شبہ آ گیا کیونکہ حدیث میں حضور نے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ اور آپ نے پڑھا ہے کہ ادنیٰ شبہے کی وجہ سے بھی حد ساقط ہو جاتی ہے۔ تو زنا کسے کہتے ہیں کہ کسی عاقل بالغ کا عورت کے اگلے مقام میں اپنی شہوت کو پورا کرنا اور وہ عورت بھی ایسی ہے کہ نہ وہ اس کی بیوی ہے اور نہ اس کی باندی ہے اور نہ وہاں کسی قسم کا شبہ موجود ہے بھئی۔ تو قاضی ان سے پوچھے گا کہ زنا کسے کہتے ہیں، اور پھر پوچھے گا کہ زنا کیسے کیا جاتا ہے؟ کیسے کیا جاتا ہے، یہ نہ ہو وہ صرف شرمگاہوں کے ملانے کو یا دواعیِ جماع کو ہی زنا سمجھ رہے ہوں، تو وہ جب بیان کر دیں کہ زنا کے اندر باقاعدہ دخول کیا جاتا ہے اب معلوم ہوا کہ ان کو زنا کی حقیقت کا علم ہے بھئی۔
اور پھر قاضی ان سے پوچھے گا: اس نے کہاں زنا کیا تھا؟ یہ بھی پوچھے گا بھئی، وجہ یہ کہ حد کا معاملہ ہے، نازک معاملہ ہے تو پوری کوشش کی جائے گی کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے، کسی طرح حد کو ٹال دیا جائے۔ تو لہذا پوچھے گا کہ اس نے کہاں زنا کیا تھا کیونکہ ہو سکتا ہے اس نے زنا دار الحرب میں کیا ہو، اور دار الحرب کے اندر زنا کیا جائے تو یاد رکھو وہ تو ہماری مملکت کے تحت نہیں آتا تو وہاں کیے ہوئے زنا پر حد جاری نہیں ہو سکتی بھئی۔ اور پھر ان سے قاضی پوچھے گا: مَتَى زَنَى اس نے کب زنا کیا تھا؟ کس زمانے میں کیا تھا؟ وجہ یہ کہ ہو سکتا ہے یہ پرانی بات ہو بھئی، ہو سکتا ہے یہ پرانی بات ہو لہذا قاضی پوچھے گا، اور یاد رکھو جب زنا پرانا ہو گیا تو اب اس پر گواہی کی وجہ سے حد جاری نہیں کی جا سکتی، اور وہ کتنی مدت ہے؟ تو صاحبین فرماتے ہیں ایک ماہ۔ اگر گواہ کہتے ہیں جی یہ ایک ماہ پرانی بات ہے تو یہ تو بات پرانی ہو چکی اب حد جاری نہیں کی جائے گی، بھئی کیوں نہیں حد جاری کی جائے گی؟ کہتے ہیں وجہ یہ کہ اب ان کی گواہی میں شبہ آ گیا، ان کی گواہی میں شبہ آ گیا، کس طرح شبہ آیا؟ کہتے ہیں بھئی ایک مہینہ گزر گیا ہے اور یہ آج آ کر گواہی دے رہے ہیں معلوم ہوا شروع میں ان کا ارادہ یہ تھا کہ اس پر پردہ ڈال دیتے ہیں کسی کو نہیں بتاتے۔ شروع میں ان کا یہ ارادہ تھا، بعد میں اب ان کی کوئی نئی دشمنی اس آدمی سے بن گئی ہے اور اب یہ گواہی دینے آ گئے ہیں۔ اگر ان کو شریعت کی فکر تھی، اللہ کے احکام کو نافذ کرنے کی فکر تھی تو پھر تو اسی وقت آتے بھئی، معلوم ہوا کسی نئی دشمنی نے ان کو گواہی دینے پر ابھارا ہے، دلوں میں یہ بدگمانی آتی ہے، لہذا ایک مہینہ گزر چکا ہے تو بات پرانی ہو گئی اب حد جاری نہیں کی جا سکتی۔ لیکن یاد رکھو یہ وہ صورت ہے کہ جب گواہ اتنی دور نہ رہتے ہوں، اگر گواہ اتنی دور رہتے ہیں کہ وہاں سے آتے آتے ہی مہینہ لگ جاتا ہے تو پھر اس پر گواہی کو سنا جائے گا بھئی۔ تو صاحبین کے نزدیک یہ جو پرانا ہونے کا زمانہ ہے یہ ایک مہینہ ہے بھئی، اور جبکہ بعض علماء فرماتے ہیں کہ چھ ماہ ہے بھئی، یہ مدت کتنی ہے؟ چھ ماہ بھئی۔
اور پھر قاضی پوچھے گا: بِمَنْ زَنَى کہ کس عورت کے ساتھ اس نے زنا کیا تھا؟ کس عورت کے ساتھ زنا کیا تھا؟ وجہ یہ کہ بعض اوقات نہ گواہوں کو پتہ ہوتا ہے اور نہ جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے اس کو پتہ ہوتا ہے، وہاں شبہ پایا جاتا ہے۔ مثلاً باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی تھی، آپ نے تو ہدایہ وغیرہ پڑھی ہے آپ کو تو مسئلے کا پتہ ہے لیکن ہر آدمی کو تو اس مسئلے کا پتہ نہیں، تو ایک باپ نے اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لی تھی اور گواہ اس کو پکڑ کر لے آئے کہ اس نے زنا کیا ہے، حالانکہ یہاں تو شبہ موجود ہے، بیٹے کے بارے میں حضور علیہ السلام نے ایک صحابی سے فرمایا: ”أَنْتَ وَمَالُكَ لِأَبِيكَ“ اس کی وجہ سے شبہ آ گیا بھئی۔ تو لہذا قاضی یہ تمام سوالات پوچھے گا تاکہ کسی طرح حد کو ٹالا جا سکے بھئی۔
تو کہتے ہیں: وَإِذَا شَهِدُوا اور جب وہ گواہ گواہی دیں يَسْأَلُهُمُ الْإِمَامُ عَنِ الزِّنَا مَا هُوَ وَكَيْفَ هُوَ وَأَيْنَ زَنَى وَمَتَى زَنَى وَبِمَنْ زَنَى، تو قاضی ان سے پوچھے گا زنا کے بارے میں کہ ما ھو کہ زنا کیا ہے، وکیف ھو اور زنا کیسے کیا جاتا ہے، واین زنیٰ اور اس نے کہاں زنا کیا تھا، ومتیٰ زنیٰ اور اس نے کب زنا کیا تھا، وبمن زنیٰ اور اس نے کس کے ساتھ زنا کیا تھا۔ لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اسْتَفْسَرَ مَاعِزًا عَنِ الْكَيْفِيَّةِ وَعَنِ الْمَزْنِيَّةِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے اسْتَفْسَرَ مَاعِزًا حضور علیہ السلام نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا تھا، بھئی حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھئی یہ صحابی رسول ہیں، یہ حضور علیہ السلام کے پاس تشریف لائے اور کہنے لگے یا رسول اللہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھے گناہ سے پاک کر دیجیے، تو حضور علیہ السلام نے حضور علیہ السلام نے ان سے رخ پھیر لیا، اور یہ چلے گئے، پھر آ گئے اور پھر کہا یا رسول اللہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجیے، حضور علیہ السلام نے پھر ان سے رخ پھیر لیا، یہ پھر چلے گئے، پھر اس کے بعد دوبارہ آئے اور پھر کہا یا رسول اللہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجیے، حضور علیہ السلام نے پھر رخ پھیر لیا یہ چلے گئے، اور چوتھی مرتبہ پھر یہ آئے کہ یا رسول اللہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجیے، تو پھر اس کے بعد حضور علیہ السلام نے ان سے یہ باتیں پوچھیں۔ حضور علیہ السلام نے ان سے زنا وغیرہ اس کی کیفیت کے بارے میں پوچھا اور کس سے زنا کیا ہے یہ پوچھا، تو یہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور یہ شادی شدہ تھے بھئی، لہذا جب چار دفعہ اقرار کر لیا انہوں نے تو ان کا زنا ثابت ہوا اور پھر حضور علیہ السلام نے ان کو رجم کرنے کا حکم دیا بھئی، رجم کرنے کا، تو پھر ان کو رجم کر دیا گیا۔
یاد رکھو صحابہ سے، صحابہ سے اس طرح کی جو غلطیاں ہوئیں صحابہ سے اس طرح کی جو غلطیاں ہوئیں اس کے سلسلے میں ہمارے اکابر کا بڑا پیارا مذہب ہے۔ ہمارے اکابر کا مذہب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تکوینی طور پر صحابہ سے یہ غلطیاں کروائیں، وجہ یہ کہ اسلام جو ہے ایک کامل دین ہے، زندگی کے ہر شعبے میں انسان کی رہنمائی کرتا ہے اور یہ دین قیامت تک کے آنے والے لوگوں کے لیے ہے، تو لہذا اس کے اندر جہاں اور چیزوں کی مثالیں موجود تھیں حضور علیہ السلام کے زمانے میں وہاں ضرورت تھی کہ سزاؤں کا نظام بھی لوگوں کے سامنے رہے کہ اسلام میں یہ سزائیں ہیں اور ان کو اس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ تکوینی طور پر بعض صحابہ سے اللہ نے ایسی غلطیاں کروائیں کہ پھر ان پر وہ سزا نافذ کرنا پڑی اور وہ قیامت تک کے لوگوں کے لیے نمونہ بن گیا کہ اسلام کے اندر اس طرح کی سزائیں ہیں اور ان کو اس طرح نافذ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ آپ دیکھیے تو سہی حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ، بھئی یہ خود آ رہے ہیں حضور کے پاس کہ مجھ سے زنا ہو گیا ہے مجھے پاک کر دیجیے، حالانکہ ان کو بھی پتہ ہے میں شادی شدہ ہوں مجھے رجم کیا جائے گا۔ تو کس کی اتنی ہمت ہو سکتی ہے کہ خود اپنے آپ کو رجم کے لیے پیش کرے؟ گناہ ہو بھی جائے وہ اللہ سے رو رو کر معافیاں طلب کرتا رہے گا لیکن یہ حضور علیہ السلام کے تربیت یافتہ لوگ تھے جو خود اپنے آپ کو بڑی سے بڑی سزا کے لیے بھی پیش کر رہے ہیں تاکہ اللہ ان سے راضی ہو جائے۔ تو صحابہ کے بارے میں ہمارے اکابر کا بڑا پیارا مذہب ہے کہ صحابہ سے اگر اس طرح کی کوئی غلطیاں بھی ہوئی ہیں وہ تکوینی طور پر اللہ نے کروائیں تاکہ اسلامی سزائیں عملی طور پر بھی لوگوں کے سامنے آ جائیں بھئی۔
تو کہتے ہیں: لِأَنَّ النَّبِيَّ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ اسْتَفْسَرَ مَاعِزًا عَنِ الْكَيْفِيَّةِ وَعَنِ الْمَزْنِيَّةِ اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا زنا کی کیفیت کے بارے میں اور وہ عورت جس سے زنا کیا تھا اس کے بارے میں، وَلِأَنَّ الِاحْتِيَاطَ فِي ذَلِكَ وَاجِبٌ اور اس لیے کیونکہ اس پوچھنے میں احتیاط واجب ہے، اس میں احتیاط واجب ہے، لِأَنَّهُ عَسَاهُ غَيْرَ الْفِعْلِ فِي الْفَرْجِ عَنَاهُ، یہ ترجمہ توجہ سے سمجھ لیں: لِأَنَّهُ عَسَاهُ غَيْرَ الْفِعْلِ فِي الْفَرْجِ عَنَاهُ اس لیے کیونکہ ہو سکتا ہے یہ شخص جس کے خلاف گواہی دی جا رہی ہے یہ جو اقرار کر رہا ہے لِأَنَّهُ عَسَاهُ اس لیے کیونکہ شاید یہ آدمی جو ہے غَيْرَ الْفِعْلِ فِي الْفَرْجِ عورت کی شرمگاہ کے علاوہ فعل کو عَنَاهُ اس کا ارادہ کر رہا ہو، عورت کی شرمگاہ میں دخول کے علاوہ کسی اور فعل کا ارادہ کر رہا ہو، ہو سکتا ہے اس کو زنا کی حقیقت کا ہی پتہ نہ ہو، وہ صرف مثلاً عورت کے ساتھ گلے ملنے کو یا بوسہ لینے کو ہی ہو سکتا ہے زنا سمجھ رہا ہو، اس لیے اس سے پوری تفصیل پوچھی جائے گی کہ جانتے بھی ہو زنا کسے کہتے ہیں بھئی۔ ترجمہ سمجھ میں آیا؟ لِأَنَّهُ عَسَاهُ غَيْرَ الْفِعْلِ فِي الْفَرْجِ عَنَاهُ اس لیے کیونکہ شاید اس نے شرمگاہ میں فعل کے علاوہ جو ہے اس کا عَنَاهُ اس کا ارادہ کیا ہو۔
أَوْ زَنَى فِي دَارِ الْحَرْبِ یا ہو سکتا ہے اس نے دار الحرب میں زنا کیا ہو اور اس صورت میں بھی حد واجب نہیں ہوتی، أَوْ فِي الْمُتَقَادِمِ مِنَ الزَّمَانِ، تقادم کا معنی ہے پرانا ہونا، أَوْ فِي الْمُتَقَادِمِ مِنَ الزَّمَانِ یا اس نے کچھ پرانے زمانے کے اندر جو ہے زنا کیا ہو، اور میں نے بتایا کہ یہ صاحبین کے نزدیک ایک ماہ ہے، ایک ماہ اگر گزر گیا تو اس کا مطلب ہے بات پرانی ہو چکی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ فِي الْمُتَقَادِمِ مِنَ الزَّمَانِ یا اس نے پرانے زمانے میں کیا ہو زنا یعنی زمانہ زیادہ گزر چکا ہے، أَوْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ لَا يَعْرِفُهَا هُوَ وَلَا الشُّهُودُ، أَوْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ یا اس کے لیے وہاں ایسا شبہ ہے لَا يَعْرِفُهَا هُوَ وَلَا الشُّهُودُ جسے وہ خود بھی نہیں جانتا اور نہ گواہ جانتے ہیں، جیسے باپ اپنے بیٹے کی باندی سے صحبت کر لے، اب اس کو بھی نہیں پتہ اور اس کے گواہوں کو بھی نہیں پتہ کہ یہاں پر شبہ موجود تھا یہاں حد جاری نہیں ہو سکتی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ لَا يَعْرِفُهَا هُوَ وَلَا الشُّهُودُ، شبہ نکرہ ہے اور نکرہ کے بعد لَا يَعْرِفُهَا فعل آ رہا ہے تو یہ اس کے لیے صفت بنے گا، تو کہتے ہیں: أَوْ كَانَتْ لَهُ شُبْهَةٌ یا اس شخص کے لیے وہاں ایسا شبہ ہو لَا يَعْرِفُهَا هُوَ وَلَا الشُّهُودُ جسے وہ خود بھی نہیں جانتا اور گواہ بھی نہیں جانتے كَوَطْءِ جَارِيَةِ الِابْنِ جیسے کہ بیٹے کی باندی سے وطی۔
فَيُسْتَقْصَى فِي ذَلِكَ، اِسْتَقْصَى ق ہے دو نقطوں والا اور ص ہے، اِسْتَقْصَى يَسْتَقْصِي اِسْتِقْصَاءٌ کا معنی ہے کسی مسئلے میں انتہائی تحقیق کرنا، کسی مسئلے میں انتہائی تحقیق کرنا۔ فَيُسْتَقْصَى فِي ذَلِكَ تو اس کے اندر پوری تحقیق کی جائے گی اِحْتِيَالًا لِلدَّرْءِ، اِحْتِيَالًا حیلہ کرنے کے لیے لِلدَّرْءِ اس حد کو ٹالنے کے لیے۔ دَرْءٌ کا معنی ہے دور کرنا، ختم کرنا، احتیال کا معنی ہے حیلہ کرنا، اِحْتِيَالًا لِلدَّرْءِ اس حد کے دور کرنے کا حیلہ کرنے کے لیے کہ اس حد کے دور کرنے کا حیلہ ہو جائے کسی طرح بھئی۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: فَيُسْتَقْصَى فِي ذَلِكَ اِحْتِيَالًا لِلدَّرْءِ تو اس میں پوری تحقیق کی جائے گی اس حد کو دور کرنے کا حیلہ کرتے ہوئے، حد کو دور کرنے کا حیلہ کرتے ہوئے کہ کسی طرح حد ساقط ہو جائے۔
آگے دیکھیے: فَإِذَا بَيَّنُوا ذَلِكَ پس جب وہ گواہ یہ بیان کر دیں وَقَالُوا اور وہ گواہ کہیں: رَأَيْنَاهُ وَطِئَهَا فِي فَرْجِهَا كَالْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ کہ ہم نے اس آدمی کو دیکھا کہ اس نے اس عورت سے وطی کی فِي فَرْجِهَا اس عورت کی شرمگاہ میں یعنی اگلے مقام میں كَالْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ جیسے کہ سلائی ہوتی ہے سرمہ دانی میں۔ دیکھو عینِ دخول کو بیان کر رہے ہیں، کس کو؟ عینِ دخول کو کہ اس نے زنا کس طرح کیا تھا جیسے سلائی سرمہ دانی میں داخل ہوتی ہے۔ معلوم ہوتا ہے شریعت یہ چاہتی ہے کہ کسی نہ کسی طرح یہ حد ٹل جائے، کسی نہ کسی طرح یہ حد ٹل جائے، یہاں تک کہ گواہ یہ بھی بیان کریں کہ ہم نے عینِ دخول ہوتے ہوئے دیکھا، ہم نے عینِ دخول ہوتا ہوا دیکھا اور اتنا کون دیکھ سکتا ہے بھئی! معلوم ہوا کہ زنا جب بھی ثابت ہو گا وہ اقرار ہی سے ثابت ہو سکتا ہے، گواہی کے ذریعے ثابت ہونا بڑا ہی مشکل ہے زنا کا۔ تو وَقَالُوا اور انہوں نے کہا: رَأَيْنَاهُ وَطِئَهَا فِي فَرْجِهَا كَالْمِيلِ فِي الْمُكْحُلَةِ کہ ہم نے اس کو دیکھا کہ اس نے اس عورت کی شرمگاہ میں وطی کی جیسے کہ سلائی ہوتی ہے سرمہ دانی میں، وَسَأَلَ الْقَاضِي عَنْهُمْ اور قاضی ان گواہوں کے بارے میں پوچھے۔
بھئی گواہوں کا عادل ہونا ضروری ہے اور پھر یہ تو حد کا معاملہ ہے اس میں اور بھی زیادہ احتیاط کی جائے گی، لہذا یہاں پر گواہوں کے بارے میں قاضی پوشیدہ طور پر بھی پتہ کروائے گا کہ یہ عادل لوگ ہیں یا نہیں، اور ظاہری طور پر بھی پتہ کروائے گا کہ یہ عادل ہیں یا نہیں۔ اور معاملات میں جب گواہ ہوں تو وہاں پر پوشیدہ طور پر پتہ نہیں کروایا جاتا لیکن یہاں باقاعدہ پوشیدہ طور پر بھی پتہ کروایا جائے گا۔ چنانچہ قاضی، چنانچہ قاضی یہ جو گواہ آئے ہیں ان کے جاننے والوں کو خط لکھے گا چھپا کر، اور جاننے والے بھی جو عادل ہیں، جو خود کیا ہیں؟ عادل ہیں، قابلِ اعتماد نیک لوگ ہیں سچے لوگ ہیں ان کو قاضی خط لکھے گا کہ یہ فلاں آدمی جو فلاں کا بیٹا ہے فلاں جگہ رہتا ہے وغیرہ، پوری نشانیاں لکھ دے گا تاکہ وہ پڑھنے والا پہچان لے کہ کس آدمی کی بات ہو رہی ہے، تو یہ فلاں آدمی جو ہے یہ یہاں زنا کے معاملے میں گواہی دینے آیا ہے، آپ اس کے بارے میں کیا جانتے ہیں؟ یہ عادل ہے یا عادل نہیں؟ اگر یہ عادل ہے تو نیچے لکھ دو یہ عادل ہے، اور اگر عادل نہیں ہے تو کچھ بھی نہ لکھو خالی چھوڑ دو اس جگہ کو یا لکھ دو کہ اللہ جانتا ہے۔ تو چنانچہ اس طرح وہ خفیہ طور پر ان گواہوں کا پتہ کروائے گا کہ یہ عادل ہیں یا عادل نہیں ہیں بھئی، اور پھر علانیہ بھئی سب کے سامنے بھی پتہ کروائے گا، چنانچہ پھر اس عادل جس نے خفیہ طور پر تصدیق کر دی تھی کہ یہ عادل ہے ان کو سامنے بھی بلوائے گا اور وہ سب کے سامنے کہیں گے کہ ہاں یہ ہے وہ آدمی جس کے بارے میں ہم نے لکھا تھا کہ یہ عادل ہے۔ تو پوشیدہ طور پر بھی قاضی تعدیل کروائے گا اور ظاہری طور پر بھی، علانیہ طور پر بھی تعدیل کروائے گا۔
تو کہتے ہیں جب یہ بیان کر دیں وَسَأَلَ الْقَاضِي عَنْهُمْ اور قاضی ان کے بارے میں پوچھے فَعُدِّلُوا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تو ان گواہوں کی تعدیل کر دی گئی یعنی انہیں عادل قرار دیا گیا فِي السِّرِّ پوشیدہ طور پر بھی وَالْعَلَانِيَةِ اور علانیہ طور پر بھی، حَكَمَ بِشَهَادَتِهِمْ تو قاضی ان کی گواہی پر فیصلہ کر دے گا۔ آپ نے پڑھا ہے گواہ کا عادل ہونا ضروری ہے، عادل کا کیا معنی؟ قابلِ اعتماد بھئی، قابلِ اعتماد یعنی سچا آدمی ہے اور دین پر عمل کرتا ہے، اور میں نے آپ کو بتلایا تھا تعریف باقاعدہ لکھوائی تھی کہ عادل کسے کہتے ہیں؟ جو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے، صغیرہ پر اصرار نہیں کرتا، صغیرہ ہو تو جاتے ہیں لیکن کبھی کبھار ہوتے ہیں، تو کبیرہ گناہوں سے بچتا ہے، صغیرہ گناہوں پر اصرار نہیں کرتا اور نیز گھٹیا افعال سے بھی اپنے آپ کو بچاتا ہے، مثلاً مثلاً راستے میں بیٹھ کر کھانا پینا یا راستے میں کہیں پیشاب آ جائے وہیں راستے میں ایک طرف پیشاب کر دینا، دیکھو یہ گھٹیا افعال ہیں، معزز آدمی ایسا نہیں کرتا۔
تو کہتے ہیں: وَسَأَلَ الْقَاضِي عَنْهُمْ قاضی ان کے بارے میں پوچھے گا فَعُدِّلُوا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تو ان کی تعدیل کی گئی فِي السِّرِّ پوشیدہ طور پر وَالْعَلَانِيَةِ اور ظاہری طور پر، حَكَمَ بِشَهَادَتِهِمْ تو پھر قاضی فیصلہ کر دے گا ان کی گواہی پر۔ تو معلوم ہوا سب سے پہلے گواہوں کا چار ہونا ضروری ہے، چار گواہ ہوں، اس کے بعد آ کر وہ گواہی دیتے ہیں اور قاضی ان سے وہ پانچ چیزیں پوچھے گا، وہ ساری پانچ چیزیں انہوں نے بیان کر دیں، گواہی ہو گئی سارا گزر گیا، اب اس کے بعد قاضی فوراً فیصلہ نہیں کرے گا بلکہ قاضی ان گواہوں کا پتہ کروائے گا خفیہ طور پر بھی اور ظاہری طور پر بھی، تو گواہی کے بعد یہ پتہ کروائے گا اور پھر گواہی کے بعد پتہ چل گیا یہ سارے گواہ عادل ہیں، اب قاضی فیصلہ لکھے گا کہ اس شخص پر حدِ زنا جاری کر دی جائے بھئی۔
اور اگر ان کی تعدیل نہ کی گئی، پتہ چلا یہ تو فاسق ہیں یا ان میں ایک دو فاسق ہیں تو پھر اس صورت میں قاضی حد کا فیصلہ نہیں کرے گا۔ قاضی حد کا فیصلہ نہیں کرے گا، اور ان کو بھی حدِ قذف نہیں لگائے گا کہ تم جھوٹ بول رہے ہو، کیونکہ انہوں نے تو اپنی گواہی سے رجوع نہیں کیا تو بے شک یہ گواہ فاسق ہیں، عادل نہیں ہیں بلکہ فاسق ہیں، پھر بھی ہو سکتا ہے یہ سچ بول رہے ہوں لیکن بہرحال معاملہ حد کا ہے، غیرِ فاسق کی گواہی کو قبول نہیں کیا جائے گا اس پر فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔
اور یہ بھی یاد رکھنا اگر گواہوں میں سے کوئی رجوع کر لیتا ہے، بھئی رجوع کرنا گواہ رجوع کر لیتا ہے، کیا معنی؟ معنی یہ ہے کہ گواہ اپنی گواہی سے رجوع کر لیتا ہے کہ قاضی صاحب میں نے جھوٹ بولا تھا، میں نے جھوٹی گواہی دی تھی، تو یہ ہے گواہ کا رجوع بھئی، اس نے اپنی گواہی سے رجوع کر لیا اور پھر اس صورت میں اس گواہ پر حدِ قذف جاری ہو گی۔ کہ اس نے ایک مسلمان پر زنا کی تہمت لگائی تھی، اس پر حدِ قذف جاری ہو گی، اسی کوڑے لگائے جائیں گے اور اس کی گواہی بھی اب زندگی بھر کے لیے کبھی قاضی قبول نہیں کرے گا۔ اور باقی حد ساقط ہو گی یا نہیں؟ کہتے ہیں بھئی پھر اس صورت میں باقی گواہوں کو دیکھا جائے گا، مثلاً ایک یا زیادہ گواہوں نے رجوع کر لیا تو دیکھا جائے گا باقی گواہ کتنے ہیں، اگر باقی چار گواہ پھر بھی پورے ہو رہے ہیں پھر تو حد اسی طرح رہے گی، اور اگر گواہ چار سے کم ہو گئے تو پھر باقی سب پر بھی حدِ قذف جاری ہو جائے گی۔ باقی سب پر بھی حدِ قذف جاری ہو جائے گی اور وہ حد بھی ساقط ہو جائے گی اس ملزم پر سے بھئی۔
اب پھر ترجمہ دیکھ لیجیے، کہتے ہیں: وَسَأَلَ الْقَاضِي عَنْهُمْ اور قاضی ان گواہوں کے بارے میں پوچھے گا فَعُدِّلُوا فِي السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ تو ان گواہوں کی تعدیل کر دی گئی یعنی انہیں عادل قرار دیا گیا فِي السِّرِّ پوشیدہ طور پر بھی وَالْعَلَانِيَةِ اور اعلانیہ طور پر بھی، حَكَمَ بِشَهَادَتِهِمْ تو قاضی ان کی گواہی پر فیصلہ کر دے گا، وَلَمْ يَكْتَفِ بِظَاهِرِ الْعَدَالَةِ فِي الْحُدُودِ اور قاضی اکتفاء نہیں کرے گا ان کی ظاہری عدالت پر حدود میں۔ قاضی گواہوں کی ظاہری عدالت پر اکتفاء نہیں کرے گا۔ بھئی یہ جو گواہ آئے ہیں یہ مسلمان ہیں اتنا تو سب کو پتہ ہے، اور مسلمان مسلمان تو سچ ہی بولتا ہے بھئی، تو اس کا مسلمان ہونا یہ ظاہری طور پر اس کی عدالت کو بیان کر رہا ہے کہ یہ آدمی عادل ہے۔ جب ایک آدمی مسلمان ہے تو ظاہر یہی ہے کہ یہ سچ بول رہا ہے تو یہ ہے ظاہری عدالت یعنی ظاہری طور پر اس آدمی کا اس گواہ کا قابلِ اعتماد ہونا، لیکن اس ظاہری عدالت پر قاضی اکتفاء نہیں کرے گا کیونکہ مسئلہ حدود کا ہے، لہذا پوشیدہ طور پر بھی اس کی تعدیل کروائے گا اور ظاہری طور پر بھی اس کی تعدیل کروائے گا۔
تو کہتے ہیں: وَلَمْ يَكْتَفِ بِظَاهِرِ الْعَدَالَةِ فِي الْحُدُودِ اور قاضی جو ہے ظاہری عدالت پر اکتفاء نہیں کرے گا حدود کے مسئلے میں، احْتِيَالًا لِلدَّرْءِ حد کو دور کرنے کا حیلہ کرتے ہوئے، حد کو دور کرنے کا حیلہ کرتے ہوئے کہ کسی طرح حد ساقط ہو جائے، تو لہذا پوشیدہ طور پر بھی تعدیل کروائے گا اور ظاہری طور پر بھی۔ قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ، حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ“ ادْرَءُوا الْحُدُودَ کہ تم حدود کو ٹال دو مَا اسْتَطَعْتُمْ جس قدر تم میں استطاعت ہو۔ تم لوگ حدود کو ٹال دیا کرو جس قدر تم میں استطاعت ہو، تو یہ اسی لیے یہ اتنے سوالات بھی قاضی کرے گا اور گواہوں کا پوشیدہ اور ظاہری طور پر بھی پتہ کروائے گا تاکہ کسی طرح حد کو ساقط کر دیا جائے۔ تو کہتے ہیں: قَالَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ادْرَءُوا الْحُدُودَ مَا اسْتَطَعْتُمْ کہ تم حدود کو ٹال دیا کرو جس قدر تم میں استطاعت ہو۔
بِخِلَافِ سَائِرِ الْحُقُوقِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ، بخلاف باقی حقوق کے کہ وہاں پر گواہوں کی ظاہری عدالت پر ہی اکتفاء کر لیا جائے گا کہ یہ مسلمان ہے تو سچ ہی بول رہا ہو گا۔ تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ سَائِرِ الْحُقُوقِ عِنْدَ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ بخلاف باقی حقوق کے امام صاحب کے نزدیک۔
وَتَعْدِيلُ السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ نُبَيِّنُهُ فِي الشَّهَادَاتِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں کہ پوشیدہ طور پر اور ظاہری طور پر تعدیل جو ہے اس کو ہم کتاب الشہادات میں بیان کریں گے ان شاء اللہ۔ تو صاحبِ ہدایہ فرما رہے ہیں کہ کتاب الشہادات کے اندر ہم بیان کریں گے کہ سراً اور علانیۃً تعدیل کیسے کی جاتی ہے بھئی، جبکہ میں نے یہیں پر وہ تفصیل بیان کر دی جو صاحبِ ہدایہ کتاب الشہادات میں بیان فرمائیں گے۔ تو کہتے ہیں: وَتَعْدِيلُ السِّرِّ وَالْعَلَانِيَةِ اور پوشیدہ طور پر اور علانیہ طور پر تعدیل کرنا نُبَيِّنُهُ فِي الشَّهَادَاتِ اس کو ہم شہادات کی کتاب میں بیان کریں گے إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى۔
قَالَ فِي الْأَصْلِ، اصل سے مراد ہے مبسوط بھئی، قَالَ فِي الْأَصْلِ امام محمد رحمہ اللہ مبسوط میں فرماتے ہیں: يَحْبِسُهُ حَتَّى يَسْأَلَ عَنِ الشُّهُودِ لِلِاتِّهَامِ بِالْجِنَايَةِ۔ امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گواہوں نے گواہی دے دی، اب قاضی نے گواہوں کی تعدیل کروانی ہے خفیہ طور پر بھی اور علانیہ بھی، تو اس میں کچھ وقت لگے گا تو جب تک اس ملزم کو قاضی جیل میں رکھے کہ کہیں یہ بھاگ نہ جائے۔ اس ملزم کو قاضی جیل میں رکھے وہ ایک دن یا دو دن لگتے ہیں اس کے پتہ کروانے میں جب تک اس کو جیل میں رکھے کیونکہ حضور علیہ السلام نے بھی ایک آدمی کو قید میں رکھا تھا۔ ایک آدمی اس پر اونٹوں کی چوری کی تہمت لگائی گئی تو حضور علیہ السلام نے ایک دن اس کو قید میں رکھا اور پھر پتہ لگ گیا کہ اس نے چوری نہیں کی، تو حضور علیہ السلام نے ان کو آزاد کیا اور فرمایا: ”اسْتَغْفِرْ لِي“ میرے لیے اللہ سے مغفرت طلب کرو، یعنی میں نے تمہیں ایک دن قید رکھا تھا۔ تو انہوں نے کہا: ”غَفَرَ اللَّهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ“ اللہ آپ کی مغفرت فرمائے اے اللہ کے پیغمبر! تو حضور نے فرمایا: ”وَلَكَ وَقَتْلَكَ فِي سَبِيلِهِ“ اور اللہ آپ کی بھی مغفرت فرمائے اور آپ کا اللہ کے راستے میں قتل ہونا بھی۔ اللہ آپ کی بھی مغفرت فرمائے اور اللہ کے راستے میں آپ کا قتل ہونا بھی، یعنی حضور نے اشارہ فرما دیا کہ تم اللہ کے راستے میں شہید ہو گے بھئی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ وہ جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے بھئی۔
تو امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس آدمی کو قید میں رکھا جائے گا جس پر زنا کا الزام ہے جب تک گواہوں کی تعدیل نہ ہو جائے۔ تو قَالَ فِي الْأَصْلِ امام محمد رحمہ اللہ مبسوط میں فرماتے ہیں: يَحْبِسُهُ حَتَّى يَسْأَلَ عَنِ الشُّهُودِ کہ قاضی اس کو قید کرے گا یہاں تک کہ قاضی پوچھ لے عَنِ الشُّهُودِ گواہوں کے بارے میں لِلِاتِّهَامِ بِالْجِنَايَةِ۔ بھئی جیل میں کیوں رکھے گا قاضی اس کو؟ کہتے ہیں: لِلِاتِّهَامِ بِالْجِنَايَةِ جنایت کا الزام لگانے کی وجہ سے کہ اس پر ایک جرم کا الزام لگایا گیا ہے۔ تو جنایت جرم کو کہتے ہیں اور اتہام کا معنی ہے الزام لگانا، لِلِاتِّهَامِ بِالْجِنَايَةِ جرم کا الزام لگانے کی وجہ سے کہ اس پر جرم کا الزام لگایا گیا ہے، وَقَدْ حَبَسَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ رَجُلًا بِالتُّهْمَةِ اور حضور علیہ السلام نے بھی ایک آدمی کو تہمت کی وجہ سے قید میں رکھا، بِخِلَافِ الدُّيُونِ حَيْثُ لَا يُحْبَسُ فِيهَا قَبْلَ ظُهُورِ الْعَدَالَةِ، بخلاف دیون کے کہ اس کے اندر اس مقروض کو قید میں نہیں ڈالا جائے گا گواہوں کی عدالت ظاہر ہونے سے پہلے۔
بھئی ایک آدمی ہے اس پر لوگوں کے قرضے ہیں وہ قرضے ادا نہیں کر رہا وہ قاضی کے پاس اسے لے آئے اور گواہوں نے گواہی بھی دے دی کہ اس نے فلاں کا یا فلاں کا اتنا اتنا قرضہ ادا کرنا ہے، تو اس صورت میں اب قاضی ان گواہوں کی تعدیل ان گواہوں کا پتہ کرواتا ہے کہ یہ گواہ عادل ہیں یا عادل نہیں ہیں، تو کیا اس دوران اس مقروض کو جیل میں ڈالے گا قاضی؟ کہتے ہیں نہیں اس دوران اس مقروض کو قاضی جیل میں نہیں ڈالے گا۔ تو اس کی کیا وجہ ہے؟ وہ زنا کے مسئلے میں آپ کہتے تھے کہ وہ جو ملزم ہے اس کو جب تک گواہوں کی تعدیل نہیں ہوتی اس کو جیل میں ڈالیں گے، اور یہاں مقروض کے مسئلے میں آپ کہتے ہیں کہ اس کو جیل میں نہیں ڈالا جائے گا؟ تو یاد رکھنا اس کی وجہ یہ ہے کہ حد کے اندر تو اصل سزا بہت زیادہ ہے تو یہ جو جیل میں اس کو رکھیں گے یہ تو معمولی سی سزا ہے اس کے مقابلے میں، لہذا چونکہ اصل سزا بہت بڑی ہے لہذا اس کو جیل میں ڈال دیا جائے گا یہ جیل میں ڈالنا اس کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہے۔ جبکہ وہ جو قرض کا مسئلہ جو ہے اس کے اندر تو آخری درجہ یہی ہے کہ قاضی مقروض کو جیل میں ڈال دیتا ہے، تو وہاں تو انتہائی سزا جو ہے وہ جیل میں ڈالنا ہے تو گواہوں کی تعدیل کے دوران قاضی یہ انتہا درجے کی سزا ابھی سے اس کو نہیں دے گا بھئی۔ تو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ آگے ہم اس کا فرق بیان کریں گے، اور میں نے ان دونوں میں فرق بیان کر دیا۔
تو کہتے ہیں: بِخِلَافِ الدُّيُونِ حَيْثُ لَا يُحْبَسُ فِيهَا قَبْلَ ظُهُورِ الْعَدَالَةِ بخلاف قرضوں کے کیونکہ ان قرضوں کے اندر جو ہے اس مقروض کو قید میں نہیں ڈالا جائے گا ان گواہوں کی عدالت کے ظاہر ہونے سے پہلے، وَسَيَأْتِيكَ الْفَرْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى اور عنقریب آپ کے لیے فرق آ جائے گا ان دونوں میں ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا۔ محشی حضرات فرماتے ہیں کہ صاحبِ ہدایہ نے یہ وعدہ تو فرمایا کہ آگے فرق آ جائے گا لیکن وہ اس کو پورا کرنا بھول گئے بھئی۔ صاحبِ ہدایہ نے شروع میں ذکر فرمایا تھا یہ جو ہدایہ کی چار جلدیں ہیں یہ اصل میں یہ خلاصہ ہے کفایۃ المنتہی کا جو اسی جلدوں میں تھی، تو یہ اسی جلدوں کا خلاصہ چار جلدوں میں انہوں نے لکھا اور کمال کا خلاصہ لکھا کہ انسان حیران رہ جاتا ہے بھئی۔ تو کوئی ایک آدھ بات بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کفایۃ المنتہی میں تو انہوں نے ذکر کی تھی ہدایہ میں بھی ان کا ذکر کرنے کا ارادہ ہو گا لیکن پھر بعد میں اس کو ذکر کرنا بھول گئے بھئی، تو یہاں اس بات کو بھی وہ ذکر کرنا اس فرق کو بیان کرنا بھی وہ بھول گئے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَسَيَأْتِيكَ الْفَرْقُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى اور عنقریب ان دونوں کے درمیان جو فرق ہے وہ آپ کے پاس آ جائے گا ان شاء اللہ تعالیٰ۔
آگے دیکھیے: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالْإِقْرَارُ أَنْ يُقِرَّ الْبَالِغُ الْعَاقِلُ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي أَرْبَعِ مَجَالِسَ مِنْ مَجَالِسِ الْمُقِرِّ كُلَّمَا أَقَرَّ رَدَّهُ الْقَاضِي۔ اب اقرار کو بیان کر رہے ہیں۔ بھئی صاحبِ ہدایہ نے آپ کو بتلایا تھا کہ زنا جو ہے وہ بینہ کے ذریعے ثابت ہو گا یا اقرار کے ذریعے، تو اب اقرار کے ذریعے زنا کیسے ثابت ہو گا اس کو بیان کرنے لگے ہیں۔ یاد رکھو صاحبِ ہدایہ آپ کو بتلائیں گے کہ اقرار سے بھی زنا تب ثابت ہو گا جب اقرار کرنے والا عاقل اور بالغ ہو یعنی مکلف ہو، عاقل اور بالغ ہو یعنی مکلف ہو، اور پھر وہ اپنے اوپر زنا کا اقرار کرے چار مرتبہ۔ باقی معاملات میں ایک دفعہ اقرار ہی کافی ہے لیکن زنا کا معاملہ بڑا نازک ہے لہذا یہاں چار مرتبہ اقرار کرے گا، اور وہ چار مرتبہ بھی مختلف مجلسیں ہوں ایک ہی مجلس میں نہیں کیونکہ ایک ہی مجلس جو ہے وہ تو چیزوں کو متحد کر دیتی ہے، جیسے ایک ہی مجلس میں اگر آپ ایک ہی آیتِ سجدہ کو دس دفعہ بھی تلاوت کر لیں تو آپ پر ایک ہی سجدہ واجب ہو گا بھئی، آپ پر ایک ہی سجدہ واجب ہو گا، تو مجلس جو ہے وہ مختلف چیزوں کو جمع کر دیتی ہے۔ لہذا یہاں پر بھی اقرار جو وہ چار اقرار کرے گا وہ الگ مجلسوں میں کرے گا۔ اگر ایک ہی مجلس میں وہ چار اقرار کرتا ہے تو ان میں تو اتحاد کا شبہ آ جائے گا یہ تو گویا ایک ہی اقرار ہے سارا، اور شبے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جایا کرتی ہے، تو لہذا یہاں چار الگ الگ مجلسوں میں اس کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ اور چار الگ مجلسیں اس اقرار کرنے والے کی مراد ہیں قاضی کی چار مجلسیں نہیں مراد، قاضی کی چاہے وہی ایک مجلس ہے لیکن اس نے ایک دفعہ اقرار کیا پھر چلا گیا پھر دوبارہ آیا پھر چلا گیا تو اس طرح چار اقرار اس نے کر لیے، تو جب ایک دفعہ چلا گیا تو مجلس بدل گئی۔ اور نیز یہ بھی ضروری ہے کہ ہر مرتبہ قاضی جو ہے اس کو واپس بھیج دے اور ناگواری کا اظہار کرے۔ وہ آیا اس نے کہا قاضی صاحب میں نے زنا کیا ہے مجھ پر حد جاری کر دیجیے، تو قاضی اس کو کہے گا جاؤ بھئی اللہ سے مغفرت طلب کرو یہ کیسی بات کر رہے ہو! تو قاضی اس کو بھیج دے گا اور قاضی ناگواری کا اظہار کرے گا بھئی تاکہ کسی طرح یہ چلا جائے اور حد ٹل جائے بھئی۔ لیکن یہ دوبارہ آیا پھر تیسری دفعہ آیا اور پھر جب چوتھی دفعہ آ گیا اور چوتھی دفعہ اس نے اقرار کر لیا تو اب قاضی اس سے وہی سوال پوچھے گا جو پہلے گواہوں سے پوچھے تھے، لیکن گواہوں سے پانچ سوال پوچھتا تھا قاضی ان میں ایک سوال یہ بھی تھا کہ مَتَى زَنَى اس نے کب زنا کیا ہے تاکہ کہیں ایسا نہ ہو بات پرانی ہو، لیکن اقرار کرنے والے سے یہ سوال نہیں پوچھے گا کہ کب زنا کیا ہے کیونکہ یہاں پر دلوں میں بدگمانی نہیں آتی۔ گواہ دیر سے اگر گواہی دے رہے ہیں وہاں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے کہ معلوم ہوا پہلے پردہ ڈالنا چاہتے تھے اور اب کوئی نئی دشمنی بن گئی ہے اب اس لیے اٹھ کر آ گئے ہیں اس کے خلاف گواہی دینے، تو وہاں تو دلوں میں بدگمانی آتی ہے زمانہ زیادہ گزرنے کی وجہ سے لیکن اقرار کے مسئلے میں تو زمانہ زیادہ گزرنے سے دلوں میں کوئی بدگمانی نہیں آتی لہذا زمانے کا سوال نہیں پوچھے گا بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی۔
تو دیکھیے: قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: وَالْإِقْرَارُ اور زنا کا اقرار جو ہے وہ یہ ہے أَنْ يُقِرَّ الْبَالِغُ الْعَاقِلُ عَلَى نَفْسِهِ بِالزِّنَا کہ اقرار کرے عاقل بالغ شخص اپنی ذات پر زنا کا أَرْبَعَ مَرَّاتٍ چار مرتبہ فِي أَرْبَعِ مَجَالِسَ چار مجلسوں میں مِنْ مَجَالِسِ الْمُقِرِّ اور یہ چار مجلسیں اقرار کرنے والے کی چار مجلسیں ہوں بھئی، قاضی کی چار مجلسیں مراد نہیں، مِنْ مَجَالِسِ الْمُقِرِّ اقرار کرنے والے کی چار مجلسوں میں، كُلَّمَا أَقَرَّ وہ جب بھی اقرار کرے رَدَّهُ الْقَاضِي قاضی اس کو رد کر دے، قاضی اس کو واپس لوٹا دے بھئی۔
تو یہاں دیکھو پانچ قیدیں ذکر ہو گئیں۔ یہ متن تھا، متن تھا، پانچ قیدیں اقرار کے لیے:
پہلی قید: کہ یہ عاقل بالغ ہو یعنی مکلف ہو۔
دوسری قید: چار مرتبہ اقرار کرے۔
تیسری قید: چار مجلسوں میں الگ الگ مجلسوں میں اقرار کرے۔
چوتھی قید: کہ یہ چار مجلسیں اقرار کرنے والے کی چار مجلسیں مراد ہیں قاضی کی چار مجلسیں مراد نہیں۔
اور پانچویں قید: کہ ہر مرتبہ قاضی اس کو واپس لوٹا دے اور ناگواری کا اظہار کرے، ڈانٹ دے۔
اب صاحبِ ہدایہ ان میں سے ہر ایک کی وجہ ذکر کریں گے کہ یہ پانچوں شرطیں کیوں لگائی گئیں۔ کہتے ہیں: فَاشْتِرَاطُ الْبُلُوغِ وَالْعَقْلِ تو بالغ ہونے اور عقل کی شرط جو ہے اس کی وجہ یہ ہے لِأَنَّ قَوْلَ الصَّبِيِّ وَالْمَجْنُونِ غَيْرُ مُعْتَبَرٍ کہ بچے یا مجنون جو ہے جو پاگل ہے یعنی جس کو عقل ہی نہیں ہے، کہ بچے اور مجنون کا جو قول ہے غَيْرُ مُعْتَبَرٍ اس کا کوئی اعتبار نہیں ہے، أَوْ هُوَ غَيْرُ مُوجِبٍ لِلْحَدِّ یا اس لیے کیونکہ وہ حد کو واجب کرنے والا نہیں، بچہ یا مجنون زنا کا اقرار بھی کر لے تو اس کی وجہ سے حد واجب نہیں ہو سکتی کیونکہ عاقل بالغ ہونا ضروری ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: أَوْ هُوَ غَيْرُ مُوجِبٍ لِلْحَدِّ یا اس وجہ سے کہ بچے اور مجنون کا جو قول ہے وہ حد کو واجب کرنے والا نہیں۔
وَاشْتِرَاطُ الْأَرْبَعِ مَذْهَبُنَا، اور چار اقرار کی جو شرط ہے مَذْهَبُنَا یہ ہمارا مذہب ہے۔ عِنْدَ الْأَحْنَافِ چار دفعہ اقرار ضروری ہے جبکہ امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ نہیں ایک ہی دفعہ اقرار کافی ہے۔ ایک ہی دفعہ اقرار کافی ہے بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَاشْتِرَاطُ الْأَرْبَعِ مَذْهَبُنَا اور چار اقراروں کی شرط لگانا یہ ہمارا مذہب ہے وَعِنْدَ الشَّافِعِيِّ رَحِمَهُ اللَّهُ يُكْتَفَى بِالْإِقْرَارِ مَرَّةً وَاحِدَةً اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک ہی مرتبہ کے اقرار پر اکتفاء کر لیا جائے گا اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْحُقُوقِ باقی حقوق پر قیاس کرتے ہوئے۔ باقی حقوق میں ایک ہی دفعہ اقرار کافی ہوتا ہے، ایک آدمی کہتا ہے میں نے زید کے دس لاکھ روپے دینے ہیں بس ایک ہی اقرار کافی ہے، لیکن یہاں پر چار الگ اقرار ہونے چاہئیں۔ تو امام شافعی رحمہ اللہ اس زنا کے اقرار کو قیاس کرتے ہیں باقی حقوق کے اقرار پر اور وہاں ایک اقرار کافی تو یہاں بھی ایک اقرار کافی ہے۔ تو اعْتِبَارًا بِسَائِرِ الْحُقُوقِ باقی حقوق پر قیاس کرتے ہوئے، وَهَذَا لِأَنَّهُ مُظْهِرٌ اور اس کی وجہ یہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ گواہوں کی تعداد بڑھتی ہے تو بات پر اعتماد بڑھتا چلا جاتا ہے: ایک آدمی گواہی دے تو بات پر اتنا اعتماد نہیں، دو نے گواہی دی تو کافی اعتماد ہو گیا، تین نے دی تو اعتماد اور بڑھ گیا، چار نے گواہی دے دی اور زیادہ دل کو اطمینان ہو گیا کہ بات ایسی ہی ہے، توجہ ہے؟ تو گواہی میں جوں جوں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اس بات پر اطمینانِ قلبی بڑھتا چلا جاتا ہے جبکہ اقرار کے اندر ایسا نہیں ہے: ایک آدمی ایک دفعہ ہی کہے میں نے یہ کام کیا ہے چاہے سو دفعہ کہے بات تو ایک ہی ہے، اقرار کی وجہ سے کوئی قلبی اطمینان بڑھتا نہیں جتنی دفعہ بھی اقرار ہو جائے، تو اس لیے وہ فرماتے ہیں ایک ہی اقرار کافی ہے۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا اور یہ اس وجہ سے لِأَنَّهُ مُظْهِرٌ کیونکہ یہ جو اقرار ہے یہ ظاہر کرنے والا ہے، یہ اس فعل کو ظاہر کرنے والا ہے، وَتَكْرَارُ الْإِقْرَارِ لَا يُفِيدُ زِيَادَةَ الظُّهُورِ اور اقرار کا جو تکرار ہے یہ زیادہ ظاہر ہونے کا فائدہ نہیں دیتا، اس سے کوئی بات زیادہ ظاہر نہیں ہوتی بِخِلَافِ زِيَادَةِ الْعَدَدِ فِي الشَّهَادَةِ بخلاف گواہی کے اندر عدد کی زیادتی کہ اس کے اندر زیادہ ظہور ہوتا چلا جاتا ہے دل کو زیادہ اطمینان ہوتا چلا جاتا ہے بھئی۔
وَلَنَا اب ہماری دلیل آ گئی کہ چار اقرار ضروری ہیں: وَلَنَا اور ہماری دلیل جو ہے حَدِيثُ مَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ وہ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے، فَإِنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَّرَ الْإِقَامَةَ کیونکہ حضور علیہ السلام نے حد قائم کرنے کو مؤخر فرما دیا إِلَى أَنْ تَمَّ الْإِقْرَارُ مِنْهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي أَرْبَعِ مَجَالِسَ یہاں تک کہ اس کی طرف سے اقرار پورا ہو گیا چار مرتبہ چار مجلسوں میں۔ حضور علیہ السلام نے اس کے ایک دفعہ کے اقرار پر حد کا حکم جاری نہیں فرمایا بلکہ حضور نے حد کو مؤخر فرمایا یہاں تک کہ اس نے چار الگ الگ مجلسوں میں چار دفعہ اقرار کر لیا۔ اگر چار سے کم کے اندر ہی اقرار سے حد ثابت ہو گئی تھی تو حضور علیہ السلام ایک شرعی حکم کو اس کے ثابت ہونے کے بعد کبھی بھی مؤخر نہیں کر سکتے تھے، معلوم ہوا جب تک چار اقرار نہیں ہوئے اس پر حد بھی واجب نہیں ہوئی بھئی، اگر واجب ہو چکی ہوتی تو حضور کبھی شرعی حکم کو مؤخر نہ فرماتے۔ پھر ترجمہ دیکھ لیجیے: وَلَنَا حَدِيثُ مَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ اور ہماری دلیل جو ہے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث ہے فَإِنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ أَخَّرَ الْإِقَامَةَ، الْإِقَامَةَ سے مراد ہے حد کا قائم کرنا، اس لیے کیونکہ حضور علیہ السلام نے أَخَّرَ الْإِقَامَةَ حد قائم کرنے کو مؤخر فرما دیا إِلَى أَنْ تَمَّ الْإِقْرَارُ مِنْهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ فِي أَرْبَعِ مَجَالِسَ یہاں تک کہ اس کی طرف سے چار مرتبہ اقرار پورا ہو گیا چار مجلسوں میں، فَلَوْ ظَهَرَ دُونَهَا اگر اس سے کم میں ہی اقرار ظاہر ہو گیا ہوتا، اگر اس سے کم کے اندر ہی اقرار ظاہر ہو گیا ہوتا یعنی اقرار کی وجہ سے وہ اقرار جو حد کو واجب کرنے والا ہے، اگر ان چار سے کم کے اندر ہی اس قسم کا اقرار ظاہر ہو چکا ہوتا لَمَا أَخَّرَهَا تو حضور علیہ السلام کبھی بھی اس کو مؤخر نہ فرماتے، اس حد کے قائم کرنے کو حضور کبھی بھی مؤخر نہ فرماتے لِثُبُوتِ الْوُجُوبِ وجوب ثابت ہونے کی وجہ سے، جب وجوب ثابت ہو چکا ہے تو حضور کبھی بھی اس کو مؤخر نہ فرماتے۔
وَلِأَنَّ الشَّهَادَةَ اخْتُصَّتْ فِيهِ بِزِيَادَةِ الْعَدَدِ فَكَذَا الْإِقْرَارُ، یہ تو تھی نقلی دلیل، نیز عقلی دلیل بھی ہے: عقلی دلیل یہ کہ جب شہادت کے اندر چار کی شرط لگائی گئی ہے عام معاملات سے بڑھ کر گواہوں کی شرط لگائی گئی ہے تو اسی طرح اقرار میں بھی عام اقرار سے بڑھ کر اقرار شرط ہو گا معاملے کی اہمیت کی وجہ سے کہ زنا کا معاملہ بڑا اہم اور بڑا نازک ہے بھئی۔ تو یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ الشَّهَادَةَ اخْتُصَّتْ فِيهِ بِزِيَادَةِ الْعَدَدِ اور نیز اس لیے کیونکہ زنا کے معاملے میں شہادت خاص ہے عدد کی زیادتی کے ساتھ یعنی چار گواہ ہیں، فَكَذَا الْإِقْرَارُ تو اسی طرح اقرار بھی ہو گا إِعْظَامًا لِأَمْرِ الزِّنَا زنا کے معاملے کے اہم ہونے کی وجہ سے، یا یوں ترجمہ کر لیں: إِعْظَامًا لِأَمْرِ الزِّنَا زنا کے معاملے کے سنگین ہونے کی وجہ سے وَتَحْقِيقًا لِمَعْنَى السَّتْرِ اور چھپانے کے معنی کو ثابت کرنے کے لیے۔ چار گواہ ہوں گے، چار گواہوں کی شرط کیوں لگائی گئی؟ اس میں حکمت کیا تھی؟ تاکہ بات چھپ جائے کیونکہ چار گواہ تو ہر جگہ نہیں ہو سکتے، تو اسی طرح اقرار میں بھی چار مرتبہ کی شرط لگائی گئی تاکہ بات کو چھپا لیا جائے بھئی۔ ایک دفعہ اقرار سے ہی اگر حد آ جائے پھر تو بات نہ چھپی، تو تین دفعہ تک کوشش کی جائے گی اور چوتھی مرتبہ میں پھر حد ثابت ہو جائے گی۔
آگے دیکھیے: وَلَا بُدَّ مِنِ اخْتِلَافِ الْمَجَالِسِ لِمَا رَوَيْنَا، اب چار مجلسیں کیوں ہونی چاہئیں؟ اب اس کی وجہ ذکر کر رہے ہیں، کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنِ اخْتِلَافِ الْمَجَالِسِ اور مجلسوں کا اختلاف بھی ضروری ہے لِمَا رَوَيْنَا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، یہ جو ابھی حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حدیث آئی کہ حضور نے جب تک اس کے چار اقرار پورے نہ ہوئے وہ حد جاری نہیں فرمائی۔ تو کہتے ہیں: وَلَا بُدَّ مِنِ اخْتِلَافِ الْمَجَالِسِ لِمَا رَوَيْنَا اور ضروری ہے مجلسوں کا مختلف ہونا اس حدیث کی وجہ سے جو ہم نے روایت کر دی، وَلِأَنَّ لِاتِّحَادِ الْمَجْلِسِ أَثَرًا فِي جَمْعِ الْمُتَفَرِّقَاتِ اور نیز اس لیے کیونکہ مجلس کے ایک ہونے میں، مجلس کا ایک ہونا جو ہے أَثَرًا اس کا اثر ہوتا ہے فِي جَمْعِ الْمُتَفَرِّقَاتِ متفرق چیزوں کو جمع کرنے میں۔ مجلس کا اثر ہوتا ہے متفرق چیزوں کو جمع کرنے میں: مجلس ایک ہے آپ آیتِ سجدہ دس دفعہ پڑھ لیں آپ پر ایک ہی سجدہ واجب ہو گا، معلوم ہوا مجلس ایک ہو تو یہ متفرق چیزوں کو جمع کر دیتی ہے۔ تو یہ معنی ہے: وَلِأَنَّ لِاتِّحَادِ الْمَجْلِسِ أَثَرًا فِي جَمْعِ الْمُتَفَرِّقَاتِ اور اس لیے کیونکہ مجلس کا ایک ہونا اس کا اثر ہوتا ہے متفرق چیزوں کو جمع کرنے میں، فَعِنْدَهُ يَتَحَقَّقُ شُبْهَةُ الِاتِّحَادِ فِي الْإِقْرَارِ، فَعِنْدَهُ أَيْ عِنْدَ اتِّحَادِ الْمَجْلِسِ تو جس وقت مجلس متحد ہو گی یعنی ایک ہی ہو گی يَتَحَقَّقُ تو پھر پایا جائے گا شُبْهَةُ الِاتِّحَادِ ایک ہونے کا شبہ فِي الْإِقْرَارِ اقرار میں۔ اگر ایک ہی مجلس میں وہ چار اقرار کرتا ہے تو ان میں تو اتحاد کا شبہ آ جائے گا یہ تو گویا ایک ہی اقرار ہے سارا، اور شبے کی وجہ سے تو حد ساقط ہو جایا کرتی ہے تو لہذا یہاں چار الگ الگ مجلسوں میں اس کا اقرار کرنا ضروری ہے۔ یہ معنی ہے: فَعِنْدَهُ يَتَحَقَّقُ شُبْهَةُ الِاتِّحَادِ فِي الْإِقْرَارِ تو جس وقت مجلس ایک ہو گی تو اقرار میں ایک ہونے کا شبہ پایا جائے گا۔
وَالْإِقْرَارُ قَائِمٌ بِالْمُقِرِّ، اب وجہ ذکر کرنے لگے ہیں کہ اقرار کرنے والے کی چار مجلسوں کا اعتبار کیوں ہے قاضی کی چار مجلسوں کا کیوں نہیں اعتبار؟ کہتے ہیں: وَالْإِقْرَارُ قَائِمٌ بِالْمُقِرِّ اور اقرار جو ہے وہ تو مقر کے ساتھ قائم ہے، اقرار تو مقر کی صفت ہے اقرار کرنے والے کی تو اسی کی چار مجلسوں کا اعتبار ہے۔ تو کہتے ہیں: وَالْإِقْرَارُ قَائِمٌ بِالْمُقِرِّ اور اقرار جو ہے وہ اقرار کرنے والے کے ساتھ قائم ہے فَيُعْتَبَرُ اخْتِلَافُ مَجْلِسِهِ دُونَ مَجْلِسِ الْقَاضِي تو اسی کی مجلس کے مختلف ہونے کا اعتبار ہے نہ کہ قاضی کی مجلس کے، فَالِاخْتِلَافُ بِأَنْ يَرُدَّهُ الْقَاضِي كُلَّمَا أَقَرَّ فَيَذْهَبُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ، تو اختلافِ مجلس وہ یہ ہے بِأَنْ يَرُدَّهُ الْقَاضِي کہ قاضی اس کو لوٹا دے كُلَّمَا أَقَرَّ جب بھی وہ اقرار کرے فَيَذْهَبُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ تو وہ چلا جائے ایسی جگہ کہ قاضی اس کو نہ دیکھ سکے، یعنی مجلس سے نکل گیا باہر چلا گیا، فَيَذْهَبُ حَيْثُ لَا يَرَاهُ تو وہ ایسی جگہ چلا جائے کہ قاضی اس کو نہ دیکھ سکے ثُمَّ يَجِيءُ فَيُقِرُّ پھر آ جائے پھر اقرار کرے، هُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ یہی روایت ہے امام صاحب سے۔ یعنی اسی مجلس میں بیٹھے ایک طرف سے اٹھ کے دوسری طرف آ جائے یہ مراد نہیں ہے بلکہ باہر نکل جائے یہاں تک کہ قاضی کی نظروں سے چھپ جائے اور پھر دوبارہ آ جائے۔ تو کہتے ہیں: هُوَ الْمَرْوِيُّ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ اور یہی روایت کیا گیا ہے امام صاحب سے لِأَنَّهُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ طَرَدَ مَاعِزًا، طَرَدَ يَطْرُدُ کا معنی ہے ہٹانا، دور کرنا، امام صاحب فرماتے ہیں: لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَرَدَ مَاعِزًا فِي كُلِّ مَرَّةٍ حَتَّى تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ کہ حضور علیہ السلام نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دور کر دیا ہر مرتبہ میں یہاں تک کہ وہ مدینے کی دیواروں میں چھپ گئے۔ حیطَان جمع ہے حَائِطٌ کی دیوار کو کہتے ہیں، اور تَوَارَى يَتَوَارَى کا معنی چھپ جانا۔ حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جب بھی اقرار کیا حضور علیہ السلام نے ان کو دور ہٹا دیا، ان کو دور کر دیا یہاں تک کہ وہ مدینے کی دیواروں میں چھپ گئے یعنی باہر نکل گئے۔ تو کہتے ہیں: لِأَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلَامُ طَرَدَ مَاعِزًا فِي كُلِّ مَرَّةٍ حَتَّى تَوَارَى بِحِيطَانِ الْمَدِينَةِ کیونکہ حضور علیہ السلام نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دور کر دیا ہر مرتبہ یہاں تک کہ وہ چھپ گئے مدینہ کی دیواروں میں۔
آگے دیکھیے: قَالَ بھئی اس قَالَ سے مراد صاحبِ قدوری ہیں، قَالَ صاحبِ قدوری فرماتے ہیں: فَإِذَا تَمَّ إِقْرَارُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ سَأَلَهُ عَنِ الزِّنَا مَا هُوَ وَكَيْفَ هُوَ وَأَيْنَ زَنَى وَبِمَنْ زَنَى، جب اس کا اقرار چار مرتبہ پورا ہو جائے تو قاضی اس سے زنا کے بارے میں پوچھے، اب وہ قاضی سوالات کرے گا۔ جب چار مرتبہ اقرار پورا ہو گیا اس کے بعد قاضی یہ سوالات کرے گا، پہلی تین مرتبہ میں تو قاضی ڈانٹ کر اس کو دور کر دے گا بھئی۔ تو کہتے ہیں: فَإِذَا تَمَّ إِقْرَارُهُ أَرْبَعَ مَرَّاتٍ جب اس کا اقرار چار مرتبہ پورا ہو جائے سَأَلَهُ عَنِ الزِّنَا تو قاضی اس سے زنا کے بارے میں پوچھے گا کہ مَا هُوَ کہ زنا کیا ہوتا ہے، وَكَيْفَ هُوَ اور وہ کیسے کیا جاتا ہے، وَأَيْنَ زَنَى اور کہاں اس نے زنا کیا ہے، وَبِمَنْ زَنَى اور کس عورت سے زنا کیا ہے، فَإِذَا بَيَّنَ ذَلِكَ لَزِمَهُ الْحَدُّ تو جب وہ یہ بیان کر دے تو اس پر حد لازم ہو گئی لِتَمَامِ الْحُجَّةِ حجت کے پورا ہو جانے کی وجہ سے کہ حجت پوری ہو گئی اب حد لازم ہو گئی۔
تو صاحبِ قدوری نے ذکر کیا کہ قاضی یہ سوال کرے گا لیکن مَتَى زَنَى اس کو ذکر نہیں کیا کہ کب زنا کیا تھا یعنی زمانے کے بارے میں نہیں پوچھے گا۔ تو کہتے ہیں: وَمَعْنَى السُّؤَالِ عَنْ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ بَيَّنَّاهُ فِي الشَّهَادَةِ، وَمَعْنَى السُّؤَالِ میں نے بتلایا معنی کا لفظ علت اور سبب کے معنی میں عام استعمال ہوتا ہے فقہ کی کتابوں میں، کہتے ہیں: وَمَعْنَى السُّؤَالِ عَنْ هَذِهِ الْأَشْيَاءِ اور ان چیزوں کے بارے میں سوال جو ہے اس کا سبب جو ہے بَيَّنَّاهُ فِي الشَّهَادَةِ اس کو ہم نے شہادت میں بیان کر دیا پچھلے صفحے پر ہم نے اس کو بیان کر دیا، وَلَمْ يَذْكُرِ السُّؤَالَ فِيهِ عَنِ الزَّمَانِ اور اس اقرار کے اندر صاحبِ قدوری نے زمانے کے سوال کو ذکر نہیں کیا وَذَكَرَهُ فِي الشَّهَادَةِ اور شہادت کے مسئلے میں زمانے کے سوال کو ذکر کیا لِأَنَّ تَقَادُمَ الْعَهْدِ يَمْنَعُ الشَّهَادَةَ دُونَ الْإِقْرَارِ اس لیے کیونکہ زمانے کا پرانا ہونا یہ شہادت کو تو منع کرتا ہے اقرار کو منع نہیں کرتا۔ وَقِيلَ لَوْ سَأَلَهُ جَازَ لِجَوَازِ أَنَّهُ زَنَى فِي صِبَاهُ، اور کہا گیا ہے کہ اگر قاضی اس سے بھی زمانے کے بارے میں پوچھ لے تو یہ جائز ہے، صِبَا ص کے ساتھ ہے بچپنے کو کہتے ہیں، تو کہا گیا ہے کہ اگر قاضی اس اقرار کرنے والے سے بھی زمانے کے بارے میں پوچھ لے تو یہ جائز ہے لِجَوَازِ أَنَّهُ زَنَى فِي صِبَاهُ اس لیے کیونکہ ممکن ہے اس نے بچپن میں زنا کیا ہو اور بچپن میں زنا کیا ہو پھر تو حد ثابت نہیں ہوتی۔
آگے دیکھیے: فَإِنْ رَجَعَ الْمُقِرُّ عَنْ إِقْرَارِهِ قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ أَوْ فِي وَسَطِهِ قُبِلَ رُجُوعُهُ وَخُلِّيَ سَبِيلُهُ۔ یاد رکھو جب زنا اقرار سے ثابت ہوا ہے اور قاضی نے فیصلہ کر دیا اس پر حد جاری کر دی جائے، اور پھر حد قائم ہونے سے پہلے اس نے رجوع کر لیا یا حد کے دوران بیچ میں اس نے رجوع کر لیا تو اس صورت میں بھی اس کے رجوع کو قبول کیا جائے گا اور اس کو جانے دیں گے۔ قاضی نے فیصلہ کر دیا حد کا اور حد ابھی اس پر لگائی نہیں گئی اس سے پہلے ہی اس نے رجوع کر لیا تب بھی اس کو چھوڑ دیں گے، یا اس پر حد لگانا شروع کر دی گئی مثلاً کوڑے لگا رہے ہیں اور اس نے درمیان میں رجوع کر لیا تو بھی اس کے رجوع کو قبول کیا جائے گا اور اسے چھوڑ دیں گے۔ تو کہتے ہیں: فَإِنْ رَجَعَ الْمُقِرُّ عَنْ إِقْرَارِهِ اور اگر اقرار کرنے والے نے اپنے اقرار سے رجوع کر لیا قَبْلَ إِقَامَةِ الْحَدِّ حد قائم کرنے سے پہلے أَوْ فِي وَسَطِهِ یا حد کے بیچ میں قُبِلَ رُجُوعُهُ تو اس کے رجوع کو قبول کیا جائے گا وَخُلِّيَ سَبِيلُهُ اور اس کے راستے کو خالی کر دیا جائے گا، راستے کو خالی کرنا مراد ہے چھوڑ دینا، وَخُلِّيَ سَبِيلُهُ اور اس کے راستے کو خالی کر دیا جائے گا یعنی اسے چھوڑ دیا جائے گا۔
وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ أَبِي لَيْلَى: يُقِيمُ عَلَيْهِ الْحَدَّ، اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اور یہی قول ہے ابن ابی لیلیٰ کا۔ ابن ابی لیلیٰ بھئی یہ بھی بہت بڑے فقیہ گزرے ہیں اور قدیم فقہاء میں سے ہیں بھئی، ان کی وفات ہوئی ہے ایک سو اڑتالیس ہجری میں، پیدائش ہوئی ہے چھہتر ہجری میں اور وفات ہوئی ہے ایک سو اڑتالیس ہجری میں، یہ بھی کبار فقہاء میں سے تھے بھئی اور یہ تابعی ہیں بھئی، تابعی ہیں، یہ بھی کوفہ کے رہنے والے تھے اور یہ تیس سال سے زائد تک کوفہ کے قاضی رہے بھئی۔ تو ان کا اور امام شافعی رحمہ اللہ کا یہ قول ہے کہ اس کے رجوع کو قبول نہیں کیا جائے گا، ایک دفعہ حد کا فیصلہ ہو گیا اب یہ رجوع کر لے تو رجوع سے اب کوئی اثر نہیں پڑے گا اب حد قائم کی جائے گی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ اور امام شافعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں وَهُوَ قَوْلُ ابْنِ أَبِي لَيْلَى اور یہی قول ہے ابن ابی لیلیٰ کا: يُقِيمُ عَلَيْهِ الْحَدَّ کہ قاضی اس پر حد قائم کرے گا یعنی رجوع کے باوجود قاضی اس پر حد قائم کرے گا لِأَنَّهُ وَجَبَ الْحَدُّ بِإِقْرَارِهِ اس لیے کیونکہ حد واجب ہو چکی ہے اس کے اقرار کی وجہ سے فَلَا يَبْطُلُ بِرُجُوعِهِ وَإِنْكَارِهِ تو اس کے رجوع کرنے اور انکار کرنے سے اب وہ حد باطل نہیں ہو سکتی كَمَا إِذَا وَجَبَ بِالشَّهَادَةِ جیسے کہ حد جب شہادت کی وجہ سے واجب ہو۔ بھئی جیسے گواہوں کی وجہ سے جب حد ثابت ہو جائے تو وہاں پر اگر وہ انکار کرتا ہے تو اس کے انکار کو نہیں دیکھا جاتا، تو یہاں پر بھی اس کے اقرار کی وجہ سے جب ایک دفعہ حد ثابت ہو گئی ہے تو اب اس کے انکار کو یا رجوع کو نہیں دیکھا جائے گا۔ تو کہتے ہیں: كَمَا إِذَا وَجَبَ بِالشَّهَادَةِ جیسے کہ حد جب گواہی کی وجہ سے ثابت ہو جائے تو اس کے انکار کو نہیں دیکھا جاتا، وَصَارَ كَالْقِصَاصِ وَحَدِّ الْقَذْفِ اور یہ قصاص اور حدِ قذف کی طرح ہو گیا۔ یاد رکھو قصاص اگر اقرار سے ثابت ہوا ہے، ایک آدمی نے اقرار کر لیا کہ میں نے زید کو قتل کیا تھا اور قاضی نے قصاص کا حکم دے دیا اب بعد میں یہ قاتل انکار کرتا ہے رجوع کرتا ہے تو اس صورت میں اس قاتل کے انکار کو نہیں دیکھا جائے گا، یا اسی طرح کسی پر حدِ قذف ثابت ہو گئی، کسی نے اقرار کیا کہ میں نے فلاں پر زنا کی تہمت لگائی تھی اور اس پر حدِ قذف ثابت ہو گئی بھئی، قاضی نے فیصلہ کر دیا اب بعد میں یہ رجوع کر لیتا ہے تو یہاں اس کے رجوع کی طرف نہیں دیکھا جائے گا بلکہ اس پر حدِ قذف جاری کی جائے گی۔ تو معلوم ہوا قصاص اور حدِ قذف یہ اقرار سے ثابت ہو جائیں اور یہ بعد میں رجوع بھی کر لے تو اس کے رجوع اور انکار کو نہیں دیکھا جاتا، تو اسی طرح حدِ زنا بھی ہے وہاں بھی ایک دفعہ اقرار کے بعد جب رجوع کر رہا ہے تو اس کے رجوع کو نہیں دیکھا جائے گا جیسے قصاص اور حدِ قذف میں اس کے انکار کو نہیں دیکھا جاتا۔ تو کہتے ہیں: وَصَارَ كَالْقِصَاصِ وَحَدِّ الْقَذْفِ اور یہ حدِ زنا جو ہے قصاص کی طرح اور حدِ قذف کی طرح ہو گئی۔
وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الرُّجُوعَ خَبَرٌ مُحْتَمِلٌ لِلصِّدْقِ كَالْإِقْرَارِ، ہم کہتے ہیں کہ اس نے جو اقرار کیا تھا وہ بھی خبر تھی اور یہ جو رجوع کر رہا ہے یہ بھی خبر ہے: ایک طرف وہ کہہ رہا ہے میں نے یہ کام کیا ہے دوسری طرف اب وہ کہہ رہا ہے میں نے نہیں کیا، تو شبہ آ گیا، جب شبہ آ گیا تو حد تو شبے کی وجہ سے ساقط ہو جاتی ہے۔ اور باقی آپ نے اس کو قیاس کیا تھا قصاص پر اور آپ نے اس کو قیاس کیا تھا حدِ قذف پر کہ وہاں وہ رجوع کر بھی لے پھر بھی وہ قصاص یا حدِ قذف جاری کی جائے گی، تو ہم کہتے ہیں وہاں دراصل اس کو جھٹلانے والے موجود ہوتے ہیں۔ وہاں جھٹلانے والے موجود ہوتے ہیں: یہ حدِ زنا جو ہے یہ حق اللہ ہے یہ خالص اللہ کا حق ہے، اور جبکہ قصاص وہاں تو مقتول کے اولیاء بھی موجود ہیں وہ حق العبد ہے، اور حدِ قذف وہاں پر بھی جن پر تہمت لگائی تھی وہ بھی موجود ہیں، تو قصاص میں اور حدِ قذف میں یہ رجوع کر رہا ہے پہلے اقرار کر لیا تھا اب کہتا ہے نہیں میں نے ایسا نہیں کیا تو یہاں دوسرے لوگ اس کو جھٹلانے والے موجود ہیں، وہ جو فریقِ مخالف ہیں وہ اس کو جھٹلا رہے ہیں تو جھٹلانے والے موجود ہیں اس لیے اس کے رجوع کو قبول نہیں کیا جائے گا جبکہ زنا کے مسئلے میں جب یہ رجوع کر رہا ہے اس کو جھٹلانے والا کوئی موجود نہیں کیونکہ حدِ زنا تو خالص اللہ کا حق ہے بھئی۔ وَلَنَا ہماری دلیل یہ ہے: أَنَّ الرُّجُوعَ خَبَرٌ مُحْتَمِلٌ لِلصِّدْقِ كَالْإِقْرَارِ کہ رجوع جو ہے وہ بھی ایسی خبر ہے جو سچ کا احتمال رکھتی ہے كَالْإِقْرَارِ جیسے کہ اقرار ہے، وَلَيْسَ أَحَدٌ يُكَذِّبُهُ فِيهِ اور اس کے اندر کوئی ایک شخص بھی نہیں ہے جو اس کو جھٹلا رہا ہو، اس رجوع میں کوئی آدمی نہیں ہے جو اس کو جھٹلا رہا ہو، فَيَتَحَقَّقُ الشُّبْهَةُ فِي الْإِقْرَارِ تو اقرار کے اندر شبہ ثابت ہو جاتا ہے بِخِلَافِ مَا فِيهِ حَقُّ الْعَبْدِ وَهُوَ الْقِصَاصُ وَحَدُّ الْقَذْفِ بخلاف وہ چیز جو بندے کا حق ہے اور وہ قصاص ہے اور حدِ قذف ہے لِوُجُودِ مَنْ يُكَذِّبُهُ بوجہ پائے جانے اس شخص کے جو اس کو جھٹلا رہا ہے کہ وہاں فریقِ مخالف موجود ہیں جو اس کے رجوع کو جھٹلا رہے ہیں۔ تو کہتے ہیں: لِوُجُودِ مَنْ يُكَذِّبُهُ بوجہ پائے جانے کے اس شخص کے جو اس کو جھٹلا رہا ہے وَلَا كَذَلِكَ مَا هُوَ خَالِصُ حَقِّ الشَّرْعِ اور وہ چیز جو خالص شریعت کا حق ہے وہ ایسی نہیں ہے یعنی حدِ زنا ایسی نہیں ہے بھئی۔
آگے دیکھیے: وَيُسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُلَقِّنَ الْمُقِرَّ الرُّجُوعَ فَيَقُولَ لَهُ لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ قَبَّلْتَ۔ اچھا بھئی اقرار کرنے والے نے چار دفعہ اقرار کر لیا، چار دفعہ اقرار کر لیا اب قاضی اس سے وہ سوال وغیرہ بھی پوچھتا ہے پھر بھی کہتے ہیں مستحب یہ ہے قاضی اس کو تلقین کرے کہ رجوع کر لو، اور چار دفعہ اقرار کے بعد بھی رجوع کرے گا ہمارے نزدیک وہ رجوع معتبر ہے بھئی، تو لہذا چار دفعہ اقرار کر لیا ہے پھر بھی مستحب ہے کہ قاضی اس کو رجوع کی تلقین کرے اور کہے بھئی تم نے زنا نہیں کیا ہو گا تم نے صرف اس کو چھوا ہو گا ہاتھ لگایا ہو گا یا صرف تم نے بوسہ لیا ہو گا، بات سمجھ میں آ گئی۔ تو کہتے ہیں: وَيُسْتَحَبُّ لِلْإِمَامِ أَنْ يُلَقِّنَ الْمُقِرَّ الرُّجُوعَ اور امام کے لیے مستحب ہے کہ وہ اقرار کرنے والے کو تلقین کرے رجوع کرنے کی فَيَقُولَ لَهُ تو اس سے کہے: ”لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ قَبَّلْتَ“ شاید تم نے ہاتھ لگایا ہو گا یا بوسہ لیا ہو گا لِقَوْلِهِ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ لِمَاعِزٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ بوجہ حضور علیہ السلام کے فرمانِ مبارک کے جو آپ نے حضرت ماعز رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے فرمایا کہ: ”لَعَلَّكَ لَمَسْتَهَا أَوْ قَبَّلْتَهَا“ کہ شاید تم نے ہاتھ لگایا ہو گا یا بوسہ لیا ہو گا۔
وَقَالَ فِي الْأَصْلِ، اصل سے مراد ہے یہاں مبسوط بھئی، وَقَالَ فِي الْأَصْلِ اور امام محمد رحمہ اللہ مبسوط میں فرماتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ لَهُ الْإِمَامُ اور مناسب ہے امام کے لیے کہ وہ یوں کہے: ”لَعَلَّكَ تَزَوَّجْتَهَا أَوْ وَطِئْتَهَا بِشُبْهَةٍ“۔ قاضی اس کو تلقین کرے رجوع کی کس طریقے پر؟ یوں کہے بھئی شاید تم نے اس سے نکاح کیا ہو گا زنا نہیں کیا ہو گا بلکہ نکاح کیا ہو گا، یا شاید تم نے شبے میں وطی کی ہو گی، تو اس طرح قاضی اس کو تلقین کرے رجوع کی۔ تو کہتے ہیں: وَقَالَ فِي الْأَصْلِ اور امام محمد رحمہ اللہ مبسوط میں فرماتے ہیں: وَيَنْبَغِي أَنْ يَقُولَ لَهُ الْإِمَامُ اور مناسب یہ ہے کہ امام اس سے کہے: لَعَلَّكَ تَزَوَّجْتَهَا کہ شاید تم نے اس سے نکاح کیا ہو گا أَوْ وَطِئْتَهَا بِشُبْهَةٍ یا تم نے اس عورت سے شبے میں وطی کی ہو گی، وَهَذَا قَرِيبٌ مِنَ الْأَوَّلِ فِي الْمَعْنَى۔ صاحبِ ہدایہ فرماتے ہیں متن میں تو آیا کہ یوں کہے: لَعَلَّكَ لَمَسْتَ أَوْ قَبَّلْتَ متن میں تو یہ آیا اور مبسوط میں امام محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یوں کہے: لَعَلَّكَ تَزَوَّجْتَهَا أَوْ وَطِئْتَهَا بِشُبْهَةٍ تو یہ تو دونوں الفاظ مختلف ہیں دونوں جگہ، تو صاحبِ ہدایہ بتلا رہے ہیں کہ یہ بھی اس پہلی بات کے قریب ہی ہے یعنی دونوں کا معنی اور مقصود ایک ہی ہے کہ وہ رجوع کی تلقین کر رہے ہیں بھئی۔ تو کہتے ہیں: وَهَذَا قَرِيبٌ مِنَ الْأَوَّلِ اور یہ والا قول بھی پہلے قول کے قریب ہی ہے فِي الْمَعْنَى معنی کے اعتبار سے یعنی اس میں بھی رجوع کی تلقین ہی ہے جیسے پہلے قول کے اندر جو متن میں آیا اس میں رجوع کی تلقین ہے بھئی۔ بات سمجھ میں آ گئی؟ حل ہو گیا؟ چلیے بس بھئی، هَذَا هُوَ الْمَرَامُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِحَقِيقَةِ الْكَلَامِ۔